خوش آمدید

لو اسٹوری فورم ، اردو دنیا کا نمبر ون اردو اسٹوری فورم ، ابھی فورم کےممبر بنیں اور اردو کی بہترین کہانیاں پڑھیں ۔

Register Now!
Welcome image
  • PAID PLANS

    ٹاپ پیکیج
    👑

    PREMIUM

    16000
    چھ ماہ کے لیے
    بہترین ڈیل
    💎

    VIP+

    6000
    چھ ماہ کے لیے
    بنیادی ڈیل

    VIP

    3500
    تین ماہ کے لیے

Life Story میں ہوں بدنصیب۔۔۔۔

Joined
Jun 10, 2025
Messages
1,126
Reaction score
55,090
Location
Karachi
Gender
Male
پورے گاؤں میں ایک عجیب سوگ کی کیفیت تھی گاؤں کے سردار شیر دل کی بیٹی کی لاش کو زیادتی کے بعد بڑی نہر کے کنارے پھینک دیا گیا تھا سردار شیر دل نے جب اپنی اکلوتی بیٹی کی برہنہ لاش دیکھی تو سارا گاؤں ان کے غم وغصے کا شکار ہوا تھا تفتیش پر معلوم ہوا کہ گاؤں کے رہائشی خاور کو عابی کے ساتھ واقعہ سے پہلے دیکھا گیا تھا اور اس بات کی تصدیق خاور کی گمشدگی نے کر دی تھی جو اس الم ناک واقعہ۔
کے بعد ایسا غائب ہوا تھا کہ پھر کسی کو اس کی خبر ہی نہ ہوئی تھی بیٹی کو دفنانے کے بعد آج چوتھے دن انہوں نے پنچایت بیٹھائی تھی جس کا فیصلہ خون کے بدلے خون ، زمین یا زر یا پھر زن کے مطابق طے پانا تھا اور زمانے کی رسوم کے مطابق سردار شیر دل نے زن کا مطالبہ کیا تھا جسے رشید (حُرہ کے تایا ) کو ہر حال میں ماننا تھا چونکہ خاوران کا اکلوتا بیٹا تھا اور کوئی بیٹی نہ۔

تھی اور رہا زن کا مطالبہ تو حُرہ کی کفالت چونکہ اس کے تایا کی ذمہ داری تھی اس لیے فیصلے کے مطابق خون بہا میں حُرہ کا نکاح سر دار شیر دل ہمدانی کے بیٹے سردار عباس ہمدانی کے ساتھ ہونا طے پایا یہ خبر گاؤں میں آگ کی مانند پھیلی جسے سنتے ہی حُرہ اور راحت بی بی کے اوسان خطا ہو گئے کیونکہ وہ دونوں ماں بیٹی بہت اچھے سے جانتی تھیں کہ خون بہا میں جانے والی لڑکی کے ساتھ کتنا وحشانہ سلوک رواں رکھا جاتا ہے اس لڑکی کو انتقام کی بھینٹ چڑھا کر نہ صرف اس کی نسوانیت تباہ کی جاتی ہے بلکہ غیر انسانی سلوک رکھنے میں کوئی آڑ نہیں محسوس کی جاتی۔

سر دار عباس ہمدانی بہن کی موت کی خبر سن کے شہر سے جب سے واپس آیا تھا، بپھرے ہوئے شیر کی مانند خاور کو ڈھونڈ رہا تھا مگر پنچایت میں باپ کے فیصلے پر بے یقینی کے عالم میں باپ کو دیکھتا رہ گیا
کیا میری بہن اتنی بے مول ہے جس کے بے رحمانہ قتل پرآپ سودے بازی کر رہے میں بابا جان
وہ باپ کے سامنے نگاہیں نیچی کیے دھیمی آواز مگر سر دانداز میں لفظ چبا چبا کر ادا کرتے ہوئے گویا ہوا
یہ سودے بازی نہیں ہے عباس ۔ ۔ یہی ہوتا آیا ہے ہمیشہ سے اور اب بھی یہی ہوگا ۔ ۔ سر دار شیر دل نے بیٹے کی دھیمی آواز پر فخر سے سر بلند کرتے ہوئے جواب دیا بیشک ان کا بیٹا ہر حال میں ان سے ادب سے مخاطب ہوا کرتا تھا۔

مگر مجھے خون کے بدلے خون چاہیے بابا ۔ ۔
عباس نے شولے برساتی آنکھوں سے زمین کو گھورتے ہوئے اس مرتبہ اپنی بات پر زور دیتے ہوئے
تم بے فکر رہو عباس ۔ ۔ خون کا بدلہ خون ہی ہو گا ۔ ۔
سر دار شیر دل نے عباس کے شانے پر ہاتھ رکھ کر دباؤ ڈالتے ہوئے اسے یقین دہانی کروائی اور پھر
سے اپنی بات جاری رکھی
لڑکی کا اس لیے مطالبہ کیا ہے کہ فی الوقت ہمیں یہی مناسب لگ رہا ہے ۔
مگر میں نکاح نہیں کرو گا ۔ مجھے محض اپنی بہن کا قاتل چاہیے ۔ ۔ لڑکی نہیں چاہیے ۔ ۔ عباس نے صاف الفاظ میں انکار کیا تھا اس کا دل و دماغ ہر گز یہ بات ماننے کو تیار نہ تھا۔
عباس ۔ ۔ اگر لڑکی کے ساتھ نکاح نہیں کرو گے تو بھی ہم خون بہا میں لڑکی ہی لیں گے چاہیے نکاح حویلی کے کسی ملازم کے ساتھ ہی کیوں نہ کروانا پڑا اس لڑکی کا ۔ ۔
سر دار شیر دل نے حتمی فیصلہ کرتے ہوئے گردن اکڑا کر کہا تو عباس نے بے یقینی سے باپ کو پکارا
با با جان ۔ ۔
پھر کیا فیصلہ ہے تمہارا ۔ انہوں نے بات سمیٹتے ہوئے نگاہیں اب عباس کی جھکی آنکھوں پر جمائے پوچھا
آپ جانتے ہیں میری نسبت نورے کے ساتھ طے ہے ۔ عباس نے نگا ہیں اب باپ کے چہرے پر رکھتے ہوئے ان کو یاد دلایا مبادہ وہ بھول تو نہیں رہے۔
اس سے کیا فرق پڑتا ہے ۔ ۔ یہ نکاح محض انتقام ہے ۔ ۔ جبکہ تمہاری شادی میں خودشان و شوکت سے نورے سے کرواؤں گا ۔
سر دار شیر دل نے رخ مکمل عباس کی جانب کرتے ہوئے کہا
بہر حال میں یہ نکاح نہیں کر سکتا ۔ ۔
عباس اپنی بات پر قائم تھا
وجہ ۔ ۔ ؟

مجھے اپنی بہن کے قاتل کے خاندان سے کوئی تعلق نہیں رکھتا بابا ۔ ۔ عباس کے لہجے میں جھلکتی نفرت کو سر دار شیر دل نے باخوبی محسوس کیا
کون کہہ رہا ہے تعلق رکھنے کو ۔ ۔ میں خود بھی نہیں چاہتا کہ تم اس لڑکی سے کوئی تعلق رکھو ۔ ۔
انہوں نے عباس کے کاندھوں کے گردا پنا بازو حمائل کیا
کیا یہ سب ضروری ہے ۔ ۔ ؟؟
عباس نے جھنجھلا کر پوچھا تو سردار شیر دل نے اپنے فرمانبردار ، بہادر اور پر وقار بیٹے کو دیکھتے ہوئے
سرد آہ بھری
اسلام میں چار شادیاں جائز ہیں اور تم دو پر انکار کر رہے ہو۔ ۔
انہوں نے اب التجائیہ انداز میں کہا
چارشادیاں جائز ہیں مگر اس کے بھی اصول ہیں ۔ ۔ برابر کا انصاف رکھنا پڑتا ہے ۔ ۔ اور یہ بہت
نازک معاملہ ہوتا ہے ۔ ۔
عباس نے باپ کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے معاملے کی سنگینی کا احساس دلانا چاہا۔

Read Also Best Story Of 14-sal-ki-namal-short-romantic-urdu-novel/

میرے اکلوتے بیٹے ہو تم عباس – – سر دار ہو تم گاؤں کے ۔۔ سرداروں کی طرح بات کرو ۔ ۔ بتاؤ مجھے نکاح کرو گے یا لوگ اسے تمہاری رکھیل سمجھیں ۔ ۔ سردار شیر دل کی بات پر عباس نے جبڑے سختی سے بھینچ لیے یقینا لفظ ر کھیل سننا اس جیسے غیرت مند مرد کے لیے خاصا اذیت ناک تھا اپنے غصے پر قابو پانے کے لئے عباس نے کرسی کے ہینڈل پر اپنی گرفت سخت سے سخت کر لی یہاں تک کہ اس کا ہاتھ بے تحاشہ سرخ ہو گیا سر دار شیر دل نے جب بیٹے کا ضبط کے باعث سرخ ہوا چہرہ دیکھا تو فاتحانہ انداز میں مسکرائے۔
ہاں تو سردار عباس ہمدانی کیا فیصلہ ہے اب آپ کا ۔ ۔ ؟؟
سر دار شیر دل نے چند لمحوں بعد عباس کو پھر مخاطب کیا تو وہ لب بھینچ کر رہ گیا اور پھر کچھ دیر بعد نکاح شروع ہوا۔
میں نہیں کروں گی نکاح ۔۔
حُرہ کی زبان سے یہ الفاظ ادا ہونے تھے کہ ایک تیس پینتیس سال کی کرخت عورت جو کہ سردار شیر دل کی حویلی کی ملازمہ تھی کے زور دار طمانچے نے حُرہ کے وجود کو زمین بوس کر دیا۔

کے کہا تو نے ۔ ۔ ؟ اک بار پھر سے بول ۔ ۔
ناہید جھک کر حُرہ کے بالوں کو اپنے شکنجے میں سختی سے لیتے ہوئے غرائی کہ شدت درد سے بلکتی حُرہ
کراہنے لگی
شکر کر لڑکی بڑے سردار کا کہ چھوٹے سردار کو راضی کر لیا انہوں نے ۔ ۔ نہیں تو حویلی میں چھوٹے سردار کی رکھیل بن کے رہ جاتی تو ۔ ۔ اور نخرے تو یوں کر رہی ہے تو جیسے آسمانوں سے اتری ہوئی حور ہے ۔ ۔ خبر دار اگر مولوی صاحب کے سامنے نکاح کے لیے انکار کیا تو نے ۔ ۔ اتنا ماروں گی ناتجھے
کہ ساری اکڑ ختم ہو جائے گی تیری ۔ ۔

ناہید مسلسل حُرہ کو جھنجوڑتی ہوئی غرارہی تھی اور حُرہ جیسی دبلی پہلی سی نازک لڑکی اس وقت ناہید کی بے رحمی کا شکار بنی ہوئی تھی وہاں موجود ایک دوسری ملازمہ ناہید کو چاہ کر بھی نہیں روک سکتی تھی جانتی تھی کہ یہ حکم بڑے سردار کا ہوگا
مم میری جج جان لے لو م مگر میں نکاح نہیں کروں گی ۔ ۔
ناہید کے بے رحمانہ تشدد کے بعد بھی حُرہ کی زبان پر یہی الفاظ سن کر ناہید کا غصہ مزید بڑھ گیا۔

ٹھیک ہے ۔ ۔ میں بڑے سردار کو پیغام بھجواتی ہوں کہ یہ لڑکی انکار کر رہی ہے ۔ ۔ اور تو سوچ نہیں سکتی اس کے بعد تیرا کیا حال ہوگا ۔۔ ارے سزا کے طور پر تجھے وحشیوں کے آگے نہ ڈلوا دیا تو میرا نام بدل دینا ۔ ۔
ناہید نے حُرہ کے بالوں کو جھٹکا دیتے ہوئے دھمکی دی اور اس کی معنی خیز بات سن کر حُرہ نے اس پل اپنے لیے موت کی دعا کی
کوئی روشنی کی کرن نظر نہ آتے دیکھ حُرہ نے خاموشی سے نکاح کر لیا بہر حال جو بھی تھا چاہے زندگی مزید کتنی ہی مشکل ہوگی مگر وہ کسی کی رکھیل نہیں بن سکتی تھی۔
کالے جوڑے میں نکاح کے بعد حُرہ کو ناہید ہی گھسیٹی ہوئی گاڑی تک لائی اور کب حویلی کی حدود میں گاڑی داخل ہوئی کب حُرہ کو گھسیٹتے ہوئے حویلی میں لے جایا گیا ہوش اسے تب آیا جب سر دار بی بی۔
کے قدموں میں اسے کسی تحاشہ درد کرتے وجود سے جان نکلتی محسوس کرتی حُرہ نے جب سر اٹھایا تو سر دار بی بی کی زور دار ٹھوکر سے ایک مرتبہ پھر دور جا گری۔
ری ناہید اٹھا اس کو ۔ ۔
سر دار بی بی ( سردار شیر دل کی زوجہ اور سردار عباس کی ماں) اپنے کاندھے پر پھیلائی ہوئی چادر کو درست کرتی ہوئیں دھاڑی وہاں موجود ہر ملازم ان کی دھاڑ پر کانپ گیا ناہید نے فورادرد سے تڑپتی حُرہ کو سختی سے بازو سے پکڑتے ہوئے سردار بی بی کے سامنے کھڑا کیا مگر جسم میں اٹھتی ٹیسوں سے حُرہ کا۔

اپنے پیروں پر کھڑا ہونا مشکل ترین تھا اسی لیے ایک مرتبہ پھر سردار بی بی کے قدموں میں گر پڑی سر دار بی بی نے حُرہ کے کاندھوں سے پکڑتے ہوئے اپنے سامنے کیا اور اسے سر سے پاؤں تک
دیکھنے لگی
کالے منجھے ہوئے لباس میں بڑی سی کالی چادر جو کہ اس ساری کاروائی میں سر سے اتر کر کاندھوں پر آ گئی تھی لمبی چٹیا سے آدھے بال نکلے ہوئے تھے مار پیٹ کے باعث چہرہ اور ہاتھ سرخ ہو رہے تھے مسلسل بہتے آنسو، سردار بی بی کو وہ لڑکی بمشکل سترہ اٹھارہ سال کی لگی تھی ایک پل کو اس لڑکی کی اجڑی بکھر ی حالت دیکھ کر ان کا ہاتھ اپنے دل پر گیا مگر وہ لڑکی ان کی بیٹی کے قاتل کے گھر سے آئی تھی۔
یہ سوچ آتے ہی سر دار بی بی نے حُرہ کے رخسار پر زور سے طمانچہ رسید کیا
تو ایک بات اپنے ذہن میں بیٹھا لے ۔۔ تو میرے بیٹے کے نکاح میں ضرور ہے مگر اس حقیقت کو کبھی فراموش نہ کریں کہ تو خون بہا میں آئی ہوئی ہے ۔ ۔ تو محض انتقام ہے ہمارا ۔ ۔ جس
طرح ظالموں نے میری بیٹی کو مارا ہے نا اس سے برا حال کرے گا میرا عباس تیرا ۔ ۔ سردار بی بی حُرہ کے رخساروں پر پے در پے طمانچہ رسید کرتی دھاڑر ہی تھیں جب چیختی چنگھاڑتی اس کا گلا بیٹھ گیا تو انہوں نے روتی بلکتی حُرہ کو کسی نا پسندیدہ چیز کی طرح زمین پر دے مارا اور اپنے کمرے کی
جانب بڑھ گئی۔
سر دار بی بی کے جانے کے بعد ہر کوئی وہاں سے بوتل کے جن کی طرح غائب ہوا تھا مگر حُرہ نے اپنے قریب آتے کسی کو محسوس کیا جب درد کرتے سر کو دونوں ہاتھوں میں تھام کر تھوڑا بلند کیا تو آنسوؤں کے باعث دھندلائی ہوئی آنکھوں سے سامنے کھڑی ایک نہایت خوبصورت لڑکی کو دیکھنے لگی جو گہرے رنگ کے جوڑے میں سر پر دوپٹہ لیے سینے پر ہاتھ باندھے کھڑی بے تاثر چہرہ لیے حُرہ کے
زخمی وجود کو دیکھ رہی تھی ۔
نورے آہستہ آہستہ قدم اٹھاتی خرہ تک پہنچی تو حُرہ سہم کر اپنے زخمی وجود کو گھسیٹتی پیچھے کو ہوئی رونے میں مزید شدت آگئی تھی کہ اب بے بسی کی انتہا تھی وہ اپنا دفاع بھی نہیں کر سکتی تھی یہاں تو ہر کوئی ہی ظالموں کی صف میں کھڑا تھا اس وقت سامنے کھڑی اس خوبصورت لڑکی کی آنکھوں میں بے چینی اور
اضطراب دیکھ کر حُرہ کا دل کانپنے لگا
یقیناً تمہاری حالت اس وقت قابل رحم ہے مگر ۔ ۔ مگر ۔ ۔ میرے دل میں بہت چاہ کر بھی
تمہارے لئے کبھی بھی نرم گوشہ پیدا نہیں ہو پائے گا ۔ ۔
تھوڑا جھک کر جب نورے جذبات سے عاری انداز میں بولی تو حُرہ کی آنکھیں ڈگمگا گئیں اور وہ بے آوازرونے لگی۔
جاننا چاہوگی کیوں ۔ ۔ ؟؟

نورے نے سوالیہ انداز میں ابرو اچکا کر پوچھا تو حُرہ نے سہم کر اس کے خوبصورت چہرے کو دیکھا بیشک وہ اس پل کوئی بھی بات سمجھنے سے قاصر تھی
تم ہمارے سے پہلے سردار کے نکاح میں آئی ہو ۔ ۔ جانتی ہو بچپن سے دل میں بستے ہیں وہ اور ۔ ۔ اور تم نے آج انجانے میں ہی مگر میرا اعباس حاصل کر لیا یہ بات نورے ہمدانی کو اندر سے کاٹ رہی
ہے ۔
نورے بھیگی آواز میں ہزبانی انداز میں چیخی تو حُرہ نے خوف سے آنکھیں میچ لیں
مم مگر ۔۔ مگر ۔ ۔ عباس کبھی بھی اپنی بہن کے قتل کو فراموش نہیں کریں گے اور اسی بات کی وجہ سے نفرت کریں گے وہ تم سے ۔ ۔ کک کبھی بھی ۔۔ کبھی بھی اپنی اوقات مت بھولنا۔۔ اور میرے حق پر پہلے ہی تم نقب لگا چکی ہو۔
مزید اگر اوقات سے باہر ہوئی تم اپنی تو ۔ ۔ تو بھی مار دوں گی اور
خخ خود بھی مم مر جاؤں گی ۔ ۔
نورے کے چنگھاڑتے ہوئے لہجے پر حُرہ حیرت و پریشانی کے عالم میں اسے دیکھ رہی تھی جو اس
وقت شدید صدمے میں لگ رہی تھی حُرہ کو وہ لڑکی اپنے حواسوں میں نہیں لگ رہی تھی تبھی ایک ملازمہ نورے کے قریب آئی اور اسے تھام لیا۔

بی بی آپ کیوں پریشان ہو رہیں ہیں ۔ ۔ یہ لڑکی آپ کے سامنے کچھ بھی نہیں ہے ۔ ۔ نہ آپ جتنی خوبصورت ہے اور نہ آپ جیسا خاندانی مرتبہ رکھتی ہے ۔ ۔ اور سب سے بڑی بات اس کا تعلق قاتل کے خاندان سے ہے ۔ ۔ چھوٹے سردار تو اس کی طرف دیکھیں گے بھی نہیں ۔ ۔ ملازمہ نورے کو سنبھالتی بول رہی تھی جس کے لیے عباس کا نکاح کرنا کسی صورت قابل قبول نہیں تھا۔

بیشک وہ بری لڑکی نہیں تھی آج تک کبھی بھی حویلی میں اس کی اس قدر بلند آواز نہیں سنی گئی تھی یہاں تک کہ ملازمہ سے بھی نرم اور دھیمے لہجے میں بات کرنے والی نور ے آج پاگلوں کے سے انداز میں رو رہی تھی کہ اسے کرب سے روتے دیکھ کر حُرہ اپنے وجود کے سارے زخموں کے درد بھول کر ساکت آ نکھوں سے اسے تکنے لگی وہ کافی حد تک اس کی باتیں اور رونا سمجھ رہی تھی مگر وہ کیا کر سکتی تھی وہ تو سامنے کھڑی اس لڑکی کو اتنا بھی نہ کہ سکی کہ تم کیوں خوفزدہ ہو رہی ہو خون بہا میں آئی ہوئی لڑکی تو فقط۔
سائیوں کے انتقام کے لیے ہوتی ہے اسے بیوی کون سمجھتا ہے حُرہ زمین پر بیٹھی ٹانگوں کے گرد بازو حمائل کیے روتی ہوئی نورے کو دیکھتی دل میں سوچ رہی تھی جب ایک عورت نے آکر نورے کو گلے سے لگالیا۔
نورے میری بیٹی ایسے کیوں رو کر ماں کو تکلیف دے رہی ہو ۔ ۔ ؟ ناعمہ ہمدانی بیٹی کو سینے سے لگائے تڑپ کر کہہ رہیں تھیں۔
مم ماں جی ۔ ۔ ماں جی یہ لڑکی عباس کی بیوی ہے کیسے برداشت کرلوں میں ۔ ۔
نورے روتے ہوئے اب حُرہ کی جانب انگلی سے اشارہ کرتے ہوئے بولی تو حُرہ گھبرا گئی اور اپنی چادر کو سر پہ درست کرنے لگی نورے کے اشارہ کرنے پہ انھوں نے فرش پر سمٹی بیٹھی لڑکی کو دیکھا
بیٹا خون بہا میں آئی لڑکیاں کسی کی بیویاں نہیں ہوتیں ۔ ۔ وہ صرف ونی ہوتی ہیں ۔ ۔ اور اس لڑکی کی
اوقات کچھ نہیں ہے تمہارے آگے ۔ ۔ تمہارے تایا سر دار تمہاری شادی عباس سے ضرور کروائیں گے تم فکر مت کرو ۔۔ تم بہت عزیز ہوا نہیں ۔ ۔ تم ان کے بھائی کی نشانی ہو ۔ ۔ وہ زیادتی نہیں کریں گے تمہارے ساتھ ۔ ۔ اور عباس پر بھی یقین رکھو آج تک ہمیشہ اس نے تمہارا ساتھ دیا۔

ہے ۔ ۔ جو جگہ تمہاری ہے وہ کوئی نہیں لے سکتا ۔ ۔ یہ معمولی سی لڑکی تو ہر گز نہیں ۔ ۔ نورے کو دونوں بازوؤں سے تھام کر وہ ایک حقارت بھری نگاہ حُرہ کے سوجھے چہرے پر ڈال کر بولی
بیشک سامنے زمین پر بیٹھی لڑکی پر کسی کو بھی ترس آسکتا تھا اگر انجانے میں اس نے ان کی بیٹی کے حق پر ڈاکا نہ ڈالا ہوتا تو اس وقت وہ اس لڑکی کے ساتھ یقیناً ہمدردی سے پیش آتیں مگر یہی دکھ انہیں بے چین کر رہا تھا کہ بہر حال جو بھی ہے وہ لڑکی عباس کے نکاح میں تھی۔
اگر ۔ ۔ اگر عباس نے اسے بیوی مان لیا تو میں مر جاؤں گی ماں جی ۔ ۔ نورے بھرائی آواز میں بولتی ہوئی رونے لگی

کیا تم جانتی نہیں عباس کو ۔ ۔ سرداروں کا خون ہے وہ ۔ ۔ اور یہ لڑکی انتقام کی صورت آئی ہے ۔ ۔ تم دیکھنا یہ لڑکی سونے کی بھی بن جائے مگر حویلی میں کبھی سردار کی بیوی کی حیثیت نہیں مل سکتی اسے
وہ نورے کو سینے سے لگائے سمجھارہیں تھیں جب نورے کچھ سنبھلی تو وہ اسے تھام کر ایک حقارت بھری نگاہ حُرہ و پر ڈال کر جا چکیں تھیں اور زمین پر بیٹھی حُرہ کے دکھوں میں مزید اضافہ ہوا تھا بیشک وہ ان جتنا بلند خاندانی مرتبہ نہیں رکھتی تھی مگر اس قدر ہتک آمیز رویے کی مستحق تو وہ قطعی نہ تھی جو ان سب۔
نے اس سے رواں رکھا تھا اپنی آنے والی زندگی کو سوچتی وہ رونے لگی کیونکہ اسے دلاسہ دینے والی ماں اس سے بہت دور کر دی گئی تھی یہاں تو کوئی اسے حوصلہ دینے والا نہ تھا فقط زخم دینے والے تھے جن کے لیے اسے نا کردہ گناہوں کی سزا دینا واجب تھا۔
چند لمحوں بعد کسی نے آکر اسے اپنے پیچھے آنے کا کہا تو حُرہ اپنی چادر سنبھالتی بمشکل چلتی ہوئی ایک کمرے میں داخل ہوئی ملازمہ اسے اس سٹور نما کمرے میں چھوڑ کر جا چکی تھی حُرہ نے اس نیم اندھیرے نما کمرے کو دیکھا تو وہاں کچھ ٹوٹے ہوئے سامان کے علاوہ ایک چٹائی تھی حُرہ چٹائی پر آ
بیٹھی۔

پہلے جب وہ تایا کے گھر پر تھی تو بابا کو یاد کر کے روتی تھی آج ماں کی یاد زیادہ ستارہی تھی مگر بے بس تھی اپنی بے بسی پر آنسو بہانے لگی ایک دن میں ہی اسے اس کی اوقات بتا دی گئی تھی مگر حُرہ پہلے سے جانتی تھی کہ اس کے ساتھ یہ ظلم ہوں گے اس کا وجود اس وقت زخموں سے چور تھا جسم میں اس قدر درد کی لہریں اٹھ رہیں تھیں کہ حُرہ شدت درد سے کراہ رہی تھی اس فرش پر لیٹنا اسے مزید تکلیف سے دو چار کر رہا تھانہ کوئی تکیہ نہ کوئی چاور ، روشنی بھی تو نہ تھی۔

سرد موسم کے باعث کمرے کی فضاء میں ہلکی سی خنکی تھی مسلسل رونے اور چیخنے کے باعث اس کا گلا درد کر رہا تھا آج سب کا رویہ اسے یاد آ رہا تھا اس قدر ذلت ، حقارت اور ظلم یاد کر کے وہ رونے لگی مگر جو چیز حُرہ کا دل چیر رہی تھی وہ نورے کی باتیں تھیں اس کی باتوں سے صاف ظاہر ہو رہا تھا کہ یقیناً چھوٹے سردار کے ساتھ اس کا کوئی رشتہ تھا اس نے کبھی بھی چھوٹے سردار کو نہیں دیکھا تھا وہ نہیں جانتی تھی کہ وہ کس طرح کا انسان ہے مگر اتنا ضرور جانتی تھی کہ نورے کے ساتھ ان کی شادی ضر ور ہوگی کیونکہ سر دارا اپنی زبان کے بہت پکے ہوتے ہیں اگر نورے کے ساتھ رشتہ طے تھا تو اس کا مطلب ہے کہ نورے سر دار عباس ہمدانی کی بیوی ضرور بنے گی۔
ہاں وہی تو بیوی ہوگی میں تو ونی ہوں نا ۔ ۔
یہ تکلیف دہ سوچ ذہن میں آتے ہی حُرہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی
زندگی پہلے بھی آسان نہیں تھی مگر اب تو دل پہ بوجھ ہی بڑھ گئے تھے
شام کے سائے اترے تو سردار شیر دل نے حویلی میں قدم رکھا جب وہ چلتے ہوئے لاؤنج میں آئے تو حویلی کے ماحول میں عابی کی موت کے باعث چھائی افسردگی ابھی بھی تھی۔ صوفے پر براجمان ہونے کے بعد انہوں نے ملازمہ کو سردار بی بی کو بلانے کا حکم دیا۔ ملازمہ تھوڑی دیر بعد ہی سردار بی بی کے پیچھے دوبارہ حاضر ہوئی۔

سردار شیر دل نے صوفے پر اپنے ساتھ براجمان ہونے والی سردار بی بی کو دیکھا جو بیٹی کی موت کے صدمے میں اس قدر تھیں کہ محض ہر وقت سوگ کے عالم میں رہتیں۔
سلام ۔ ۔
سردار بی بی نے ادب سے نگاہیں جھکا کر کہا تو سردار شیر دل نے سر کو بلایا۔
عباس نہیں آیا آپ کے ساتھ ۔ ۔ ؟
سوال کرتے ہوئے انہوں نے بے چینی سے ادھر ادھر نگاہیں گھمائیں۔
بدلے کی آگ میں جل رہا ہے وہ ۔ ۔ جب تک عابی کے قاتلوں کو اپنے ہاتھوں سے عبرت ناک موت نہیں دے دیتا تب تک چین نہیں آئے گا اسے ۔ ۔
سردار شیر دل اپنے دل کے درد کو عشرت ہمدانی سے بیان کر رہے تھے لیکن ان کی تو ایک بات پر سانس ہی رک گئی تھی
قق قاتلوں ۔ ۔ اس بات کا کیا مطلب ہے سردار جی ۔ ۔ کک کتنے لوگ تھے ۔ ۔
ماں کا دل تھا تو بیٹی کی بے کسی سنتے ہوئے زبان ساتھ نہیں دے رہی تھی یہ انکشاف انہیں مزید دکھ سے دوچار کرنے والا تھا سردار شیر دل نے لب بھینچ لیے یقیناً انہیں یہ بات بتانے سے عباس نے منع کیا تھا
بتائیں نا ۔ ۔ سردار جی ۔ ۔
شوہر کو خاموشی سے خود کو تکتا پا کر سردار بی بی نے بے چینی سے پوچھا
تت تین لوگ ۔ ۔
یہ الفاظ سننے تھے کہ سردار بی بی بلند آواز میں رونے لگیں
کیا بگاڑا تھا میری معصوم بچی نے کسی کا ۔۔ وحشیوں کو رحم نہ آیا ۔ ۔
ہزیانی انداز میں رونے چیختے وہ بولیں تو سردار شیر دل نے ناہید کو اشارہ کیا ناہید سرداار بی بی کے قدموں میں بیٹھ کرانہیں دلاسہ دینے لگی۔کافی دیر بعدلاونج میں ناعمہ اور نورے داخل ہوئیں
نورے کا سرخ رویا رویا چہرہ دیکھ کر سردار شیر دل اور سردار بی بی نے ایک دوسرے کو دیکھا بیشک انہوں نے نورے کو ہمیشہ عابی کی طرح سمجھا تھا وہ دونوں سمجھ چکے تھے کہ نورے کا رونا محض عابی کے لیے نہیں ہے بلکہ عباس کے نکاح کی خبر نے اسے رلا دیا۔

نورے بیٹا یہاں آؤ ۔ ۔ سردار شیر دل نے نورے کو پیار سے دیکھتے ہوئے اپنے ساتھ صوفے پر بیٹھنے کا اشارہ کیا تو نورے دوپٹہ سر پر کرتی سر جھکا کر ان دونوں کے درمیان بیٹھ گئی کسی بھی بات کی وجہ سے پریشان مت ہونا ۔ ۔ آپ کی اور عباس کی شادی ہم دھوم دھام سے کریں گے اب آپ ہی تو ہماری بیٹی ہیں ۔ ۔ سردار شیر دل نے نورے کے سر پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا تو نورے نے سر کو جنبش دی مگر دل میں اٹھتے کرب کا وہ کیا کرتی جو عباس کو کسی صورت بانٹنے کو تیار نہ تھا اور وہ یہ بھی جانتی تھی کہ خون بہا میں آئی لڑکی کو طلاق بھی نہیں دی جاتی۔

ایک پل کو حُرہ کا سوجا رویا ہوا چہرہ اس کی آنکھوں کے سامنے آیا اسے حُرہ کے لیے برا لگا تھا دکھ ہو رہا تھا مگر اس دل کا کیا کرتی جو عباس کے نکاح کا سنتے رو رہا تھا۔

کوئی زور زور سے اس کا شانہ ہلا کر اسے جگا رہا تھا چندپل میں ہی حُرہ نے آنکھیں کھولیں تو سامنے ملازمہ جھکی ہوئی اسے نیند سے جگا رہی تھی حُرہ نے ملنے کی کوشش کی مگر جسم بر ی طرح اکڑا ہوا تھا سارے وجود میں درد کی لہریں اٹھ رہیں تھیں ایک ہاتھ سر پر رکھتے ہوئے وہ قدرے مشکل سے اٹھی
جلدی کرواٹھواور میرے ساتھ چلو ۔ ۔
ملازمہ اس کی چادر اس کے سر پر دیتی عجلت میں بولی حُرہ نے نا سمجھی سے اسے دیکھا
کک کہاں ۔ ۔
بمشکل حلق سے آواز نکلی تھی۔ پیاس کی وجہ سے گلا خشک تھااور سوجے ہوئے زخمی لبوں میں مزید دردہوا
ناہید نے بلایا ہے تمہیں ۔ ۔ جلدی کرو اگر دیر ہو گئی تو تمہارے ساتھ ساتھ میری بھی شامت آجائےگی ۔ ۔ ۔ ۔ اس بار ملازمہ نے کہتے ہوئے حُرہ کو خود ہی سہارا دے کر اٹھا یا اور چلنے لگی اور حُرہ کے حواس مکمل بیدار ہو چکے تھے اس کا دل سوکھے پتے کی مانند لرزنے لگا جانے اب اس کے ساتھ کیا ہونے والا تھا۔

جب وہ ملازمہ کے سہارے پر چلتی اس وسیع باورچی خانے میں داخل ہوئی تو اس کی نظر ہال میں لگی گھڑی پر پڑی جہاں صبح کے پانچ بج رہے تھے
آ گئی مہارانی ۔ ۔
حُرہ کے آتے ہی ناہید اس کی جانب لپکی جبکہ حُرہ سہم کر پیچھے ہوئی
پوری کر لیں نیندیں مہارانی نے ۔ ۔ اب کام پر لگو چلو ۔ ۔ رضیہ اسے سارے کام سمجھا دو ۔ ۔ اگر آگے سے سستی دیکھائی اس نے تو الٹے ہاتھ کا ایک تھپڑ مارنا اسے ۔ ۔ ساری سستی اتر جائے گی
ناہید پاس کھڑی ملازمہ کوحکم دیتی آگے بڑھ گئی اوروہ ملازمہ حُرہ کو سر سے پاوں تک گھورنے لگی
یہ چھٹانک بھر کی لڑکی کہاں کر سکے گی اتنے کام ۔ ۔ اسے تو ہاتھ لگاؤ یہ گرنے کو تیار کھڑی ہے ۔ ۔
سر دار بی بی بھی نا ۔ ۔وہ ملازمہ بڑبڑاتی ہوئی حُرہ تک آئی۔

سن ۔ ۔ اب سے سارے کام تجھے ہی کرنے ہیں ۔ ۔ اگر کوئی گڑبڑ کی تو نے تو یہ موٹی جلادنی تجھے بخشے
گی نہیں ۔ ۔وہ ملازمہ خرہ کو آ نکھیں دکھاتے کام بتانے لگی اور خرہ کے آنسو دل پر گرنے لگے
اس نے خود کو مضبوط کرتے ہوئے سرد آہ بھری اور بے بسی سے خود کو کاموں میں لگا دیا اسے پہلے معلوم تھا کہ اس کے ساتھ یہی سب ہوگا مگر افسوس ہو رہا تھا کہ بنا کسی قصور کے اس پر ظلم ہو رہا تھا مگر چاہ کر بھی وہ مزاحمت نہیں کر سکتی تھی کیونکہ کسی بات سے انکار کرنے یا مخالفت کرنے پر اس کی زندگی مزید مشکل ہو جانی تھی سیاہ چادر کو اچھی طرح اوڑھتے ہوئے اس نے اپنے درد کرتے سر کو نظرانداز کرتی ، بھوک اور پیاس کو پس پشت ڈالتی اس ملازمہ کے حکم کے مطابق سارے کام سر انجام دینےلگی۔

شاید دو ہفتے گزر گئے تھے اسے حویلی میں آئے ہوئے یا اس سے زیادہ مگر اسے ٹھیک طرح دن یاد نہیں تھے کیونکہ اس نے دن رات کا حساب رکھنا ہی چھوڑ دیا تھا
دن بھر اس سے ہر مشقت والا کام کروایا جاتا یہاں تک کہ ملازمہ بھی اکثر اپنے حصے کے کام اسی سے کروانے لگیں تھی وہ بے حس بنی خاموشی سے سب کر دیتی تھی حُرہ نے ایک بات شدت سے محسوس کی تھی کہ یہاں اس کے ساتھ مالک تو برا سلوک کرتے ہی تھے نوکر بھی اسے حقیر سمجھتے تھے مگر وہ کسی کو کچھ جواب نہ دیتی اس کے باوجود سر دار بی بی اور ناہید کا جب دل چاہتا اس پر تشدد کرتی جب دل چاہتا اس کی تذلیل کر دیتی مگر حُرہ نے صبر کر لیا تھا اور زبان پر قفل لگالیا تھا
اس کی ماں کیا کرتی تھیں کہ حُرہ تم بہت صابر ہو مگر تب اس نے کبھی اس بات پر غور نہیں کیا تھا آج
جب ماں کی بات یاد آتی تو بے بسی سے ہنسنے لگتی اور تصور میں ماں کو مخاطب کر کے کہتی ماں یہ صبر نہیں ہے بلکہ بے حسی ہے ۔ ۔ آپ کی بیٹی صابر نہیں ۔ ۔ بے حس بن گئی ہے ۔ ۔

وہ خاموش طبیعت تو پہلے بھی تھی مگر اب تو سوائے لفظ ‘جی ‘ کے کوئی حرف اس کی زبان سے کسی
نے نہ سنا تھا
اس دوران نورے سے اس کا سامنا ہو تا رہتا تھا مگر اس دن کے بعد نورے نے اسے کچھ نہیں کہا
بلکہ وہ ہمیشہ حُرہ کو نظر انداز کرتی تھی
حُرہ بھی اس سے نگاہیں چرائے رہتی تھی ناہید کے ہاتھ نورے کے چند کپڑوں کے جوڑے اسے دیے گئے تھے جسے صبر کا کڑوا گھونٹ سمجھ کر پیتے ہوئے حُرہ نے لے لیے تھے۔

اپنی ماں کی طرف سے اس کا دل ہر وقت بے چین رہتا تھا مگر وہ کیسے مل سکتی تھی یہاں تو کوئی ذرا بر ابراپنے دل میں اس کے لیے گنجائش نہیں رکھتا تھا مگر پھر بھی اس نے ہمت جمع کر کے سردار بی بی
سے التجا کی
س سردار بی بی ۔ ۔ مم مجھے ایک بار میری ماں سے مم ملوا دیں ۔ ۔
سردار بی بی کے قدموں میں بیٹھ کر سر جھکائے حُرہ نے التجا کرتے ہوئے کہا تو ایک ٹھوکر مار کر انہوں نے حقارت سے اسے دیکھا اس کے بعد وہ کافی دیر منتیں کرتی رہی مگر اجازت نہ ملی بلکہ مزید ظلم کے نشان اس کے وجود اور روح پر دیے گئے
خدا کے لیے اتنے ظالم مت بہنیں ۔ ۔ کچھ رحم کریں ۔ ۔ خدا کے لیے سردار بی بی میری ماں مر جائے گی میرے بغیر . اس نے روتے ہوئے دہائی دی تو سر دار بی بی کے اشارے پر ناہید نے حُرہ کو بالوں سے پکڑ کر کھڑا کیا
ہاں تو مر جائے ۔ ۔ اور تو لڑکی ہم سے رحم نہ ہی مانگ تو تیرے لیے اچھا ہے ۔ ۔ سردار بی بی رخ موڑتے ہوئے حقارت سے بولیں تو وہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی
بس ایک بارملنے دیں ۔ ۔ پھر کچھ نہیں مانگوں گی ۔ ۔

اس قدر برے سلوک کے بعد بھی حُرہ نے ہاتھ جوڑتے ہوئے التجا کی کہ ناہیدا اسے بالوں سے گھسیٹتی لاؤنج سے لے گئی وہ چیختی رہی ، دہائیاں دیتی رہی مگر حویلی ہی صرف بڑی تھی یہاں رہنے والوں کے دل بہت چھوٹے تھے۔
جبکہ نورے اور ناعمہ ہمدانی خاموش تماشائی بنی بیٹھی رہیں حُرہ کے ساتھ کیا جانے والا سلوک انہیں برا لگتا تھا مگر وہ دونوں چاہ کر بھی اس سے ہمدردی نہیں کر سکتی تھیں
آج سزا کے طور پر سارا کھانا اکیلے بنانے کی ذمہ داری حُرہ کی تھی جب کھا نا ڈائٹنگ ہال میں لگا رہی تھی آج پہلی مرجہ سردار شیردل کے روبرو آئی تھی جواپنی مخصوص شان و شوکت سے سر براہی کرسی پر براجمان کھانے سے لطف اندوز ہو رہے تھے
یہ آواز میں کیسی آرہیں ہیں ۔ ۔ ؟ ” ڈائننگ ہال میں اس وقت سردار شیر دل ، سردار بی بی ، ناعمہ اور نورے کھانا کھا رہے تھے باقی ملازمین کے ساتھ حُرہ بھی اپنی سیاہ چادر سے اپنا وجود چھپائے پاس سر جھکائے کھڑی تھی جب کچھ
آوازوں پر سردار شیر دل نے نا سمجھی سے سردار بی بی کو دیکھا تو انہوں نے ناہید کو اشارہ کیا اتنے میں
ایک ملازمہ ڈری سہمی ہوئی ڈائٹنگ ہال میں داخل ہوئی
اے کیا ہوا ۔ ۔
سردار بی بی نے ملازمہ کو اپنی کرخت آواز میں مخاطب کیا تو وہ ہڑ بڑا گئی
و و وہ سر دار بی بی وہ ۔ ۔ چھوٹے سردار ۔ ۔
دوسری ملازمہ ہا تھوں میں ٹوٹی ہوئی ٹرے اور گلاس لیے ڈائٹنگ ہال میں داخل ہوئی تو وہ ملازمہ
خاموش ہو گئی۔
ارے منہ سے بول بھی دو کیا ہوا ہے ۔ سر دار شیر دل دھاڑے تو ہال میں موجود سب کانپ گئے حُرہ سختی سے چادر کا کو نا تھا مے سہم گئی
وہ وہ سردار بی بی ۔ ۔ چھوٹے سردار غصے میں تھے ۔ ۔ پہلے کبھی بھی وہ غصہ نہیں کرتے تھے آج تو وہ ۔ ۔ ۔
ملازمہ ڈر کی وجہ سے مزید نہ بول سکی تو دوسری ملازمہ کہنے لگی۔

وہ جی باہر سب کو چھوٹے سر دار مار رہے ہیں ۔ یہ دیکھ کر اس کے ہاتھ سے گلاس چھوٹ گیا
عباس کے ذکر پر وہاں موجود دو نفوس کی دھڑکن معمول سے زیادہ تیز ہوئی تھی اور وہ دو نورے اور حُرہ تھیں۔

نورے کی اتنے دن بعد عباس کی آمد پر کچھ خوشی میں جبکہ حُرہ کی خوف وہر اس کی وجہ سے دل کانپنے لگا ایک یہی سکون تھا اسے کہ کم از کم عباس یہاں نہیں موجود تھا کم از کم وہ کسی کے تو ظلم سے بچی ہوئی تھی مگر اب اس کی حویلی آمد پر حُرہ کے وجود میں کپکپی طاری ہو گئی تھی سردار شیر دل، سردار بی بی ، ناعمہ ہمدانی اور نورے سمیت سب باہر کی سمت چلے گئے تھے مگر حُرہ سانس روکے پیچھے کی جانب قدم کرنے لگی یہاں تک وہ دیوار سے جالگی مگر ملازمہ کے منہ سے ادا ہوئے الفاظ سن کر اس کی خوف وہر اس کے باعث حالت غیر ہونے لگی ۔

وہ سب جب حویلی کے صحن میں پہنچے تو عباس حویلی کے پرانے اور وفادار ملازمین اور گارڈز پر چیخ چنگھاڑ رہا تھا بیشک عباس کا اس طرح بلند آواز میں چلانا حویلی کے مکینوں سمیت نوکروں کو بھی حیرت میں مبتلا کر رہا تھا آج تک کسی نے عباس کو اس قدر طیش میں نہیں دیکھا تھا سردار شیر دل آگے بڑھے اور ایک گارڈ کو عباس کی جارحانہ گرفت سے نکال کر دور کیا۔

کیا ہو گیا ہے عباس ۔ ۔ میرے شیر ۔ ۔
سر دار شیر دل نے بیٹے کو دونوں بازوؤں کے گھیرے میں لیتے ہوئے بلند آواز میں کہا
ایک ایک کو جان سے مار دوں گا بابا میں ۔ ۔ اتنے لوگوں کے پہرے کے باوجود میری بہن کے ساتھ یہ سانحہ کیسے ہو گزرا ۔ ۔ کسی کام کے نہیں ہیں یہ ۔ ۔
عباس غراتا ہوا ایک نظر تمام ملازمین اور گارڈز پر ڈالتا آخر میں باپ کی گرفت سے نکلا
کیوں اپنے آپ کو اس انتقام کی آگ میں جلا رہے ہو ۔ ۔ میں نے کہا تھا نا تمہیں کہ ہم خون کا بدلہ ضرور لیں گے ۔ ۔ پھر کیوں اذیت دے رہے جو خود کو ۔ ۔
عباس کو دکھ سے دیکھتے وہ بولے۔
انہوں نے اپنے ٹھنڈے مزاج بیٹے کو اس قدر طیش کے عالم میں پہلی مرتبہ دیکھا تھا اتنے دن بعد وہ حویلی آیا بھی تو اس قدر عجب حالت میں تھا کہ آنکھیں سوجی ہو ئیں تھیں اور داڑھی بڑھی ہوئی سر دار بی بی بھی بیٹے کو اس قدر غصے میں دیکھ کر تڑپ گئیں جبکہ نورے کی آنکھیں عباس کی یہ بکھری
حالت دیکھ کر بھیگنے لگیں
با با ان لوگوں نے اگر اپنا کام صحیح سے کیا ہوا تو ۔ ۔

اس سے آگے عباس بول ہی نہیں سکا اور قرب کے باعث آنکھیں میچ گیا حویلی کے وسیع صحن میں موجود ہر ذی روح سردار کو پہلی مرتبہ اس طرح دیکھ کر رو پڑا جبکہ ملازمین اور گارڈز عباس کے ڈرو خوف کے باعث کانپ رہے تھے
عباس میرے شیر ۔ ۔ سمبھالو خود کو ۔ ۔ تمہاری ماں مر جائے گی تمہیں اس طرح دیکھ کر ۔ ۔ سردار شیر دل نے عباس کو خود میں بھینچتے ہوئے وہاں کھڑی سردار بی بی کی جانب متوجہ کرتے ہوئے کہا تو عباس کی نگاہیں اپنی ماں کی جانب اٹھیں جو روتی ہوئی غم کی تصویر بنی کھڑی تھیں انہیں دیکھ کر عباس کا دل مزید تڑپ گیا وہ ماں جنہیں اس نے ہمیشہ سج سنور کرشان و شوکت سے حویلی میں حکمرانی کرتے دیکھا تھا آج اجڑی ہوئی حالت میں دیکھ کر دل کو ٹھیس پہنچی اور قدم ماں کی جانب خود بخود بڑھے
انہیں رحم کیوں نہیں آیا میری بیٹی پر ۔ ۔ ؟؟
عباس جب ان کے قریب پہنچا تو وہ سسکتی ہوئیں اس کے سینے سے لگ کر بھرائی آواز میں پوچھنے لگیں۔
نورے ، عباس کے قریب آنے پر نم آنکھوں سے اسے بغور دیکھنے لگی۔
جاری ہے
 
عباس نے غصے سے وہاں موجود سب گارڈز کو دیکھتے ہوئے کہا اور بارعب انداز میں آگے بڑھ گیا جبکہ پیچھے کھڑا شہزاد جی سردار کرتا ہوا جانے لگا جب سردار شیر دل نے اسے اپنی بھاری رعب دار آواز میں پکارا اور ناہید کو خواتین کو اندر لے جانے کا حکم دیا اب حویلی کے صحن میں فقط سردار شیر دل اور شہزاد موجود تھے۔
ایک ایک پل ساتھ رہے ہونا تم میرے بیٹے کے ۔ ۔ ؟؟ سردار شیر دل نے سامنے کھڑے وفادار آدمی سے پوچھا جس کو انہوں نے بچپن سے عباس کے ساتھ رکھا تھا۔
جی بڑے سردار ۔ ۔ آپ کے کہنے کے مطابق میں پل پل چھوٹے سردار کے ساتھ رہا ہوں ۔ ۔ ایک لمحہ بھی انہیں ا کیلیے نہیں چھوڑا ۔
شہزاد نے سر جھکائے ادب سے کہا وہ جانتا تھا اب سردار شیر دل ساری روداد پوچھیں گے۔
اتنے دن کہاں گزارے ۔ ۔ انہوں نے سوال کرتے ہوئے ماتھے پر بل ڈالے۔
شہر میں ۔
جو چھوٹے سردار کے دوست ایس پی ہیں ان سے ملاقاتیں کافی رہتی تھیں چھوٹے سردار کی ۔ ۔ چھوٹی بی بی کے کیس کے تحت ۔ ۔
شہزاد نے ان کے سوال کا جواب دینے کے بعد تفصیلاً بتایا
تو کچھ معلوم ہوا ۔ ۔ خاور کے علاوہ دو اور کون لوگ قاتل ہیں ۔ ۔
انہوں نے بے چینی سے اگلا سوال کیا
جی چھوٹے سردار نے دن رات ایک کر دی انہیں ڈھونڈنے میں ۔ ۔ ایک مل گیا ہے اور جیل میں نیم مردہ حالت میں ہے چھوٹے سردار نے بے رحمی سے اسے مارا ہے ۔ ۔ باقی دو تک بھی جلد ہی مل جاہیں گے شہزاد نے تفصیل سے بتایا۔
تو سر دارشیر دل کے دل کے گوشے میں سکون اترا۔ انہیں عباس پر فخر محسوس ہوا وہ جانتے تھے عباس ضرور ڈھونڈ نکالے گا مگر پریشانی انہیں پھر بھی بے حد ہو رہی تھی کیونکہ عباس کا اس قدر طیش انہوں نے پہلے نہیں دیکھا تھا وہ جانتے تھے ان کا غیرت مند بیٹا بہت تکلیف دہ مرحلے سے گزر رہا ہے اور کوئی حکم سر دار جی ۔ ۔ شہزاد نے سردار شیر دل کو ہنوز خاموش دیکھ کر ذرا سا سر اٹھا کر پوچھا۔
نہیں ۔ ۔ بس تم ہر وقت عباس کے ساتھ رہا کرو جب بھی وہ حویلی سے باہر ہو ۔ ۔
سر دار شیر دل نے حکمیہ انداز میں کہا اور خود حویلی کے اندورنی حصے کی جانب قدم بڑھانے لگے جبکہ
شہزاد سر بلاتا حویلی سے نکل گیا
چھوٹے سر دار ۔ ۔
عباس بڑے بڑے قدم اٹھاتا اپنے کمرے کی جانب بڑھ رہا تھا جب نورے تیز تیز چلتی ہانپتی ہوئی اس
تک پہنچی اور جلدی سے پکارا
نورے کی آواز پر عباس کے قدم پہلے دھیمے ہوئے پھر رک گئے اور پھر مڑ کر اپنا رخ نورے کی جانب کیا سامنے
سر پر دوپٹہ اوڑھے نورے اسی کو دیکھ رہی تھی
السلام علیکم چھوٹے سر کار ۔ ۔
عباس کو مڑتا دیکھ کر نورے نے فورا سنبھلتے ہوئے اسے سلام کیا جس کا جواب عباس نے سر کو ہلا کردیا۔
کیسی ہیں آپ ۔ ۔ ؟
نگاہیں جھکا کر اس بار عباس نے تھکی ہوئی آواز میں پوچھا اس کی بو جھل آواز اس کی بے آرامی کا پتہ دے رہی تھی عباس کے پوچھنے پر نورے کے دل کی دھڑکن تیز ہوئی تھی
آپ کو اس طرح دیکھ کر کیسی ہو سکتی ہوں میں ۔ ۔ ؟
بے خودی کے عالم میں وہ بولی تھی
عباس کے نگاہیں جھکا لینے پر نورے کے دل میں شور برپا ہوا یہ عادت اسے ہمیشہ سے عباس کی پسند تھی کہ کبھی بھی اس نے اس کی جانب نہیں دیکھا تھا بلکہ نگاہیں جھکی ہوتی رہتیں اور انداز احترام سے بھر پور رہتا۔
ہمیں یقین ہے آپ عابی کے قاتل کو اس کے انجام تک ضرور پہنچائیں گے ۔ ۔
عباس کو خاموشی سے نگاہیں جھکا کر سر ہلاتے دیکھ کر نورے پھر سے بولی تو عباس نے ایک سر سری نگاہ نورے پر ڈال کر نگاہوں کا رخ دوسری جانب کرتے ہوئے سر کو اثبات میں جنبش دی۔
آپ کیسے ہیں ۔ ۔ ؟
نورے کا ہمیشہ کی طرح جی چاہ رہا تھا کہ وہ اسی طرح عباس سے باتیں کر کے اس کو دیکھتی رہے یہ پل
طویل ہوتے جائیں اسی لیے ایک بار پھر اس نے عباس کو مخاطب کیا
ٹھیک ۔ ۔
عباس نے یک لفظی جواب دیا اور قمیض کی جیب میں مسلسل وائبریٹ ہوتے موبائل کو نکالا اور کال
کاٹ کر ایس پی حمد کا بھیجا گیا میسج پڑھا اور میسج پڑھ کر عباس کی گردن کی رگیں تن گئیں ایک پل کو
آنکھیں بند کرتے ہوئے دوبارہ کھولیں اور پھر موبائل بند کر کے جیب میں رکھ دیا نورے ، عباس
کی حالت سے مکمل بے خبر تھی
آپ جانتے ہیں ہمارے دل کی پرانی خواہش ہے کہ آپ ہمیں ایک بار آنکھ بھر کر دیکھیں۔ ۔
عباس کی جھکی نگاہوں پر اپنی نگاہیں جمائے نورے کے لبوں سے بے ساختہ یہ الفاظ نکلے تھے جبکہ
عباس نے نورے کی بے باکی پر چونک کر اسے دیکھا مگر اپنی عادت کے مطابق فورا نگاہوں کا رخ دوسری جانب کر لیا۔
مگر میں جانتی ہوں ۔ ۔ میری یہ خواہش تب پوری ہو گی جب ہم دونوں میں محرم رشتہ قائم ہو جائے گا
۔۔ اور یقیناً وہ وقت بہت قریب ہے ۔ ۔
نورے پھر سے بے خودی میں بولی تھی اور عباس کی آنکھوں میں جواب تلاش کرنے لگی تھی مگر عباس نے نگاہیں چرا لیں۔
میں بہت تھکا ہوا ہوں ۔ ۔ پھر ملاقات ہو گی آپ سے ۔ ۔
دھیمی آواز میں کہتے ہوئے عباس نے رخ موڑا اور تیز تیز قدم اٹھاتا آگے بڑھ گیا۔
جبکہ نورے کو اس کے جانے کے بعد احساس ہوا کہ آج اس نے بے خودی میں عباس کے سامنے بہت بول دیا اور اب اسے شرمندگی نے آن گھیر لیا مگر وہ اپنے دل کا کیا کرتی جو پچپن سے عباس کے نام پر دھڑکتا تھا اور عباس کو سامنے دیکھ کر تو بے خود سا ہوا جاتا تھا۔
اے خداہمیں جدامت کرنا ورنہ میں مر جاؤں گی۔
بے ساختہ دعا مانگتے ہوئے اس کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔
اے لڑکی یہاں چھپ کے بیٹھی کیا کر رہی ہے ۔ ۔ چل اٹھ سارا کام ایسے ہی پڑا ہے ۔ ۔ برتن دھو جا کے ۔۔
سب کے اپنے اپنے کمروں میں جانے کے بعد ناہید ڈائننگ ہال میں داخل ہوئی تو دیوار کے ساتھ ٹیک لگائے سکڑی سمٹی بیٹھی حُرہ کو کانپتے ہوئے روتے دیکھ کر پھنکاری تو حُرہ اچھل کر اٹھی اور فوراً باورچی خانے کی جانب بھاگی۔ باورچی خانے میں آکر وہ سینک کے سامنے کھڑی ہوئی اور لمبے لمبے سانس لینے لگی۔ آنسو ہنوز اس کی آنکھوں سے بہ رہے تھے، جسم میں کپکپی بھی ہنوز طاری تھی۔ جب تنفس بہتر ہوا تو ایک نظر آس پاس دیکھا جہاں ایک ملازمہ ڈائننگ ہال سے برتن اکٹھے کر کے لا رہی تھی۔
حُرہ کو حیرانی سے دیکھنے لگی۔ حُرہ نے فوراً چادر درست کی اور اس سے نگاہیں چرائے سینک میں پڑے برتن دھونے لگی۔ مگر دل کی دھڑکن ابھی بھی تیز تھی۔ آہستہ ،
آہستہ کاموں۔
میں مصروف ہو کر وہ کافی بہتر ہو گئی اور اپنے ڈر پر کافی حد تک قابو پا چکی تھی۔ حُرہ کچن کے کام کرنے کے بعد دبے پاؤں اپنے کمرے میں جانے لگی تھی کیونکہ وہ بے حد تھک چکی تھی۔ اس وقت اسے تھوڑا آرام چاہیے تھا مگر اس سے پہلے ناہید کا پیغام آن پہنچا۔
ارے جا کہاں رہی ہو ۔ ۔ اتنے کپڑے دھونے والے پڑے ہیں اور استری بھی کرنے ہیں ۔۔
جلدی کرو حویلی کی پچھلے حصے کی طرف جاؤ رضیہ تمہارا انتظار کر رہی ہے ۔ ۔
ایک ملازمہ نے اس کا بازو پکڑتے ہوئے کہا تو حُرہ سرد آہ بھر کر رہ گئی مردہ قدموں سے چلتے ہوئے وہ
حویلی کے پچھلے حصے کی جانب بڑھی
جب وہ ڈھیروں کپڑے دھو کر تھک کر دوبارہ باورچی خانے کی جانب بڑھ رہی تھی کہ اندر سے آتی کچھ
سر گوشی نما آوازوں نے اسے اپنی جانب متوجہ کیا ایک دل کیا کہ اندر نا جائے اور واپس پلٹ جائے
مگر پھر نا چاہتے ہوئے بھی تجسس کے ہاتھوں مجبور ہو کر وہیں رک گئی
پہلے وعدہ کرو کہ تم کسی کو نہیں بتاؤ گی ۔۔ اگر بات پھیل گئی حویلی میں تو سر دار بی بی تو بعد میں پہلے وہ موٹی ناہید ہی مجھے سولی پے لٹکا دے گی۔
ایک ملازمہ دوسری سے کہہ رہی تھی
ہاں ہاں کسی کو نہیں بتاتی ۔
دوسری ملازمہ نے پہلی سے کہا۔
رات کو خبر آئی تھی اس لڑکی کی ماں کے مرنے کی ۔ ۔ مگر سر دار بی بی نے ناہید کو اس لڑکی کو بتانے سے منع کر دیا ۔ ۔ بھئی خون بہا میں آئی لڑکی ہے پچھلوں سے کیا تعلق ۔ ۔
وہ ملازمہ جانے اور کیا کیا کہ رہی تھی مگر حُرہ تو سنتے ہی سکتے میں آگئی صدمے کی وجہ سے وہ کچھ بول ہی نہ سکی تھی غم ہی اتنا بڑا تھا کہ دنیا میں ایک واحد ماں ہی تو تھی اس کی اب وہ بھی نہ رہی تھی
وہ و ہیں باورچی خانے کے دروازے کے پاس بیٹھتی چلی گئی جب اندرکھڑی ملازمہ کی نگاہ حُرہ پر پڑی وہ فورا لپک کر اس کے قریب آئی


تت تم ۔ ۔ ؟ دھو لیے کپڑے ۔ ۔ ؟ یہاں کیوں بیٹھی ہو ۔ ۔ ؟
حُرہ کا بے حس و حرکت وجود اور خشک آ نکھیں دیکھ کر ملازمہ کے تو جیسے اوسان خطا ہو گئے گھبراہٹ کے باعث ہکلا کر بول رہی تھی مگر حُرہ کے کچھ جواب نہ دینے پر اس نے حُرہ کو بازوؤں سے تھام کر جھنجھوڑا تو چند پل حُرہ نے اسے ساکن آنکھوں سے دیکھا پھر آہستہ آہستہ جب حواس میں آئی تو آنکھوں کے کنارے بھیگنے لگے اور رونے میں شدت آگئی حُرہ بلند آواز میں چلانے لگی آخر غم ہی ایسا تھا۔
ماں ۔ ۔ م میری ماں ۔ ۔ نہیں ہو سکتا ایسا ۔ مجھے جانے دو ۔ ۔ مم ماں ۔ ۔
حُرہ بلند آواز میں روتے ہوئے اٹھنے لگی۔ سنبھالو خود کو۔۔۔ ہوش کرو۔۔۔ جانتی ہو نا حویلی سے ایک قدم بھی باہر نہیں نکالنے دیں گے تمہیں اور زیادہ ظلم کریں گے تم پر خاموش ہو جاؤ۔۔۔ ملازمہ نے حُرہ کو شدت سے روتے دیکھتے ہوئے معاملے کی سنگینی کا احساس دلایا۔ ظالم۔۔۔ بے رحم لوگ۔۔۔ خدا کے قہر سے نہیں ڈرتے یہ لوگ۔۔۔
میرے خدا بنے بیٹھے ہیں۔۔۔ مر گئی ناماں میری۔۔۔ ایک بار جانے دیتے تو کیا تھا۔۔۔ مگر رحم نہیں آیاانہیں۔۔۔ ظالم۔۔۔ گھٹیا۔۔۔ ” حُرہ صدمے سی کیفیت میں چیختی چلاتی جانے کیا کیا بول رہی تھی اسے خود بھی خبر نہیں تھی جب اسے مزید بولنے سے روکنے کے لیے ملازمہ نے اس کے منہ پر ہاتھ رکھ کر نفی میں سر ہلایا۔ ہوش میں آؤ۔۔
۔ مر گئی ماں تو فاتحہ پڑھ لو تم اور سوگ منالو صبح تک لا۔ مگر چیخومت – – رحم کرو خود پر اور ہمارے اوپر۔۔۔ میرے چھوٹے چھوٹے بچے ہیں سردار شیر دل جان سے ماردیں گے۔۔۔ اور تمہاری یہ آہ و بکا سن کر مزید ظلم ہو گا تم پر۔۔۔ رحم کرو اپنے آپ پر۔۔۔ جاؤ اپنے کمرے میں۔ ملازمہ اس کے بازو تھامے اسے سنجیدگی سے مگر سختی سے سمجھا رہی تھی اور پھر ایک پلیٹ میں روٹی سالن اور پانی کا گلاس رکھ کر حُرہ کو ساتھ لیے سب کی نظروں سے بچ کر کمرے کی جانب بڑھی۔
حُرہ کو کمرے میں چٹائی پر بیٹھا کر ایک طرف رکھ کر ایک نظر ہمدردی سے حُرہ کو دیکھ کر دروازہ بند کرتی چلی گئی جبکہ آج ہوئے نقصان پر حُرہ رونے لگی۔ وہ اس طرح تڑپ کر رو رہی تھی کہ اگر کوئی پتھر دل بھی اسے اس طرح سسکتے دیکھ لیتا تو یقینا کچھ رحم تو آجاتا۔ آج اس نے دنیا میں اپنا سب سے زیادہ پیارا رشتہ کھو دیا تھا۔ آج اس کمرے میں وہ روتی چیختی سسکتی رہی تھی۔ ماں کے آخری وقت پر ان کے پاس نہ ہونا، جانے تایا تتائی نے کیا سلوک کیا ہو گا۔ ماں کا آخری دیدار نہ کرنے دینا بھی تو ایک ظلم تھا جو اس کے ساتھ ہوا تھا۔

عباس اپنے کمرے میں داخل ہوا تو کمرہ بالکل تاریکی میں ڈوبا ہوا تھا۔ لائٹ آن کر کے اس نے دروازہ لاک کیا اور سیاہ جیکٹ اتار کر بیڈ پر پھینکی اور طیش کے عالم میں ہاتھ کا مکا بنا کر دیوار پر مارنے لگا۔ بار بار ایس پی احمد کے میسج کی تحریر اس کی آنکھوں کے سامنے آکر اسے بے قابو کر رہی تھی اور مزید طیش میں لے آئی تھی۔ ایک مرتبہ، دو مرتبہ، تین مرتبہ اور جب چوتھی مرتبہ مارنے لگا تو جیب میں موجود موبائل پھر سے وائبریٹ ہوا۔ اس نے اس بار فوراً موبائل نکالا اور بغیر سکرین پر نام دیکھے کان سے لگا لیا۔
یہ سب کیسے ہوا ایس پی؟ وہ کیسے مر گیا؟ دوسری طرف سے کچھ بولنے سے پہلے عباس نے بے چینی سے اپنی بھاری آواز میں پوچھا۔
وعلیکم السلام ۔ ۔
دوسری جانب سے سلام کیا گیا تھا عباس نے اپنے بالوں میں انگلیاں پھنستے ہوئے آنکھیں بلند کر کے سلام کا جواب دیا اور پھر آنکھیں کھول کر قدم قدم چلتا صوفے پر آبیٹھا اور صوفے کی پشت سے ٹیک لگا کر پھر سے آنکھیں موند لیں
ہاں حویلی میں ہی ہوں ۔ عباس نے آنکھیں موندے ہی جواب دیا اسے اندازہ ہو گیا تھا کہ ایس پی احمد کو کچھ معلوم نہیں پڑا
میں ٹھیک ہوں ۔ ۔ تم بتاؤ جو میں پوچھ رہا ہوں ۔ ۔ ؟
دوسری جانب سے شاید اس کا احوال پوچھا یا اس کا جواب دے کر اس نے ذرا سا جھک کر ایک ہاتھ سے اپنے جوتے اتارے اور پھر شرٹ کے بٹن کھولنے لگا
احمد میں نے اسے اتنا نہیں مارا تھا کہ وہ مر جاتا ۔ ۔ تم اس بات کو سیریس لو یار ۔ ۔ کوئی ایسا ہے جس نے تمہاری ناک کے نیچے اس کا قتل کیا ہے ۔ ۔
اب وہ مکمل فون کی جانب متوجہ ہوتے ہوئے سیدھا ہو کر بیٹھ گیا اور سنجیدگی سے کہنے لگا پھر بغیر کوئی بات سنے کال کاٹ کر موبائل سامنے پڑے میز پر پٹخ دیا۔
تین قاتلوں میں سے جو ایک پکڑا گیا تھا اب جیل میں وہ مردہ حالت میں پایا گیا تھا ابھی تو وہ جیل سے ہی آ رہا تھا تب تو وہ قاتل محض بے ہوش ہوا تھا پھر اس کے حویلی پہنچنے سے پہلے وہ کیسے مر سکتا ہے جب نورے اس سے بات کر رہی تھی اس وقت اس نے ایس پی کی کال کاٹ دی تھی۔

اور صرف میسج پڑھا تھا جسے پڑھ کر جانے کیسے اس نے خود پر ضبط کیا تھا اب کمرے میں آکر اس کا دل کر رہا تھا ہر چیز تمس نہس کر دے کچھ دیر سر کو دونوں ہاتھوں میں تمام کر بیٹھا رہا اور پھر صوفے سے اٹھ کر اس نے اپنی شرٹ اتاری اور الماری کی جانب بڑھا الماری کا پٹ کھول کر ٹراؤزر اور شرٹ نکالی اور واشروم میں چلا گیا تھوڑی دیر بعد جب وہ نہا کر واپس آیا تو ڈریسنگ ٹیبل کے دراز سے رومال نکالا اور اپنے سر پر باندھا اور پھر الماری سے مصلہ لے کر بچھایا نماز ادا کرنے کے بعد جب دعا کے لیے ہاتھ اٹھائے۔

عباس جیسا اٹھائیس سال کا مرد اس وقت اپنے خالق کے سامنے بچوں کی طرح بلک بلک کر رو رہا تھا آنکھیں اشک بار تھیں جبکہ لب ساکن تھے میرے مالک یہ کیسی آزمائش ہے ۔ ۔ اتنا بڑا امتحان – ۔ میں اس قابل تو نہیں تھا ۔ ۔ کیوں عزت لوٹی گئی میری بہن کی ۔۔ نہیں برداشت ہو رہی یہ بات مجھ سے ۔ ۔ کیسے صبر کروں ۔ ۔ میرے مالک ۔ ۔ کیسے صبر کروں ۔۔ دیمک کی طرح کاٹ رہی ہے یہ بات مجھے ۔۔۔۔ گاؤں کا سر دارا اپنے مالک سے ہمکلام تھا ۔

عباس وکیل ہونے کے باعث زیادہ تر شہر میں ہی اپنے بنگلے میں رہائش پذیر رہتا تھا حویلی بیس پچیس دن بعد ہی چکر لگاتا تھا اس دوران جب عابی والا سانحہ ہوا تو وہ کورٹ میں کسی کیس کے سلسلے میں موجود تھا یہ الم ناک خبر سن کر ہر چیز چھوڑ کر گاؤں کے لیے روانہ ہوا تھا بہن کو سپر د خاک کرنے کے بعد عباس ایک پل چین سے نہیں بیٹھا تھا۔

اور جیسے جیسے وہ اپنے ایس پی دوست کی مدد سے تحقیق کر رہا تھا اسے کافی کچھ پتا چلا اس دوران اس کا نکاح بھی ہوا مگر اسے اس وقت کسی بات یا کسی چیز سے فرق نہیں پڑ رہا تھا ابھی فقط اسے اپنی بہن کے قاتلوں کو انجام تک پہنچانا تھا میرے مالک ۔ مجھے سکون دے ۔ ۔ میرا دل پھٹ رہا ہے ۔ ۔ میں نے تو آج تک کسی لڑکی کو آنکھ اٹھا کر نہیں دیکھا پھر میری بہن کے ساتھ ایسا کیوں ہوا ۔ ۔

ابھی عباس نم آنکھوں سے خالق کے ساتھ ہمکلام تھا کہ موبائل کے بجنے پر مصلہ سمیٹ کر موبائل کان سے لگایا ہاں ۔ ۔ احمد بولو ۔ ۔ ؟ فون کان سے لگائے وہ پوچھنے لگا ہہم اچھا ۔ ۔ میں نے تمہیں پہلے ہی کہا تھا کوئی قریبی ہے ۔ ۔ خیر تم اپنی کوشش جاری رکھو ۔ ۔ میں کل پھر آؤں گا ۔ ۔ ۔
دیکھنا میں نہیں چھوڑوں گا کسی کو بھی ۔ ۔ آگ لگا دو گا سب کو ۔ ۔ ختم کر دو گا ۔ ۔
دوسری جانب کی گئی بات کے جواب میں عباس نے گرجدار آواز میں کہا اور موبائل بیڈ پر پھینک کر
خود بھی بیڈ پر ڈھے گیا اور نم آنکھیں موند لیں۔۔۔۔
جانے رات اس نے کیسے گزاری تھی کب تک روتی رہی تھی، سسکتی رہی تھی، کبھی ماں کو پکارتی ، کبھی اپنے بابا کو یاد کر کے دھاڑیں مار کر روتی رہی، کبھی تایا تائی کی کی گئیں زیادتی یاد آتی رہیں،کبھی ہر بار دل مارنا یاد آتا رہا، کبھی خواہشات کا دل میں دبانا یاد آرہا تھا تو کبھی خون بہا میں آئی ہوئی لڑکی کا اعزاز یاد آرہا تھا، کبھی سردار بی بی کی حقارت اور نفرت انگیز رویہ یاد آ رہا تھا تو کبھی ناہید کا تشدد، کبھی
نورے کی بے چین اور اضطرابی کیفیت یاد آرہی تھی، تو کبھی نام کے شوہر کی بے خبری، کبھی ماں کا بچھڑنا یاد آرہا تھا تو کبھی ماں کو آخری بار نہ دیکھنے کا افسوس ہو رہا تھا۔

انسانی فطرت ہے جب ایک دکھ ملتا ہے تو پچھلے سارے دکھ بھی تازے ہو جاتے ہیں کچھ یہی معاملہ حُرہ کے ساتھ بھی ہوا تھا آج تو ہر تکلیف، ہر اذیت یاد آرہی تھی۔
وجود پر توز خم تھے ہی اس کے اب روح ہی چھلنی تھی دکھ اتنے تھے کہ کبھی کبھی روتے ہوئے اس کی سانس ہی رک جاتی تھی اس وقت وہ سمجھتی کہ شاید اب مشکل ٹلنے والی ہے مگر پھر سے جب سانسیں بحال ہوتیں تو حُرہ کو سمجھ نہ آتی کہ زندگی بخشنے پر شکر ادا کرے یا موت نہ واقع ہونے پر افسوس کرے۔

جب کوئی مرتا ہے تو لوگ اس کے لواحقین سے اظہار افسوس کرتے ہیں اور کوئی گلے لگا کر دلاسہ دیتا ہے تو کوئی صبر کی دعا۔ مگر ہائے افسوس کہ حُرہ اپنی زندگی میں اس قدر تکلیفیں، رنجشیں، اذیتیں اور محرومیوں سے گزر چکی تھی کہ اب جینے کی آرزو مٹ چکی تھی۔ جہاں اس کی عمر کی لڑکیاں رنگوں سے بھرپور زندگی گزار رہی ہوتی ہیں، اس عمر میں وہ فقط زمانے کی ستم ظریفی سہہ رہی تھی۔

جانے رات کے کس پہر وہ روتی، سسکتی زمین پر سر رکھے لیٹی تھی اور پھر نیند اس کے حواس پر طاری ہوئی تھی۔ پھر اسے کوئی ہوش نہ رہا، صدمے کے باعث سر میں اور سارا دن مشقت بھرے کام کرنے کی وجہ سے جسم میں شدید درد کی لہریں آ رہی تھیں۔ پھر اسے محسوس ہوا جیسے کوئی اسے ہلا رہا ہے اور کچھ بول بھی رہا ہے، مگر اس نے بہت کوشش کی، مگر آنکھیں کھولنے کی سکت رہی نہ حلق سے آواز نکلی۔

معمول کے برعکس صبح حُرہ کو باورچی خانے میں نہ پا کر ناہید نے ملازمہ کو پتہ کرنے کا کہا: یہ مہارانی ابھی تک آئی کیوں نہیں؟ لگتا ہے آج پھر اکڑ آ گئی ہے اس میں۔ جا ذرا بولا کر لا اسے۔ آج تو ساری کی ساری اکڑ نکالتی ہوں میں اس کی۔
ماتھے پر بل ڈالے ملازمہ کو کہا تو وہ بھاگتی ہوئی حُرہ کے کمرے میں آئی۔ دروازہ کھول کر دیکھا تو حُرہ زمین پر سکڑی سمٹی گھڑی بنی پڑی تھی۔ ملازمہ نے اسے ہلایا، اسے پکارا مگر اس کا بخار میں تپتا وجود بے حس و حرکت تھا۔ ملازمہ فوراً الٹے قدم ہولی۔
وہ ناہید بی بی۔ ۔ وہ لڑکی تو بخار میں تپ رہی ہے ۔ ۔ بے ہوش پڑی ہے ۔ ۔ رنگ پیلا زرد ہو گیا ہے جی اس کا ۔ ۔ ایسا لگ رہا ہے جیسے مرنے کے قریب ہے ۔ ۔
ناہید حویلی کے صحن کی جانب بڑھ رہی تھی جب پیچھے سے ہانپتی ہوئی ملازمہ آئی اور حُرہ کی حالت کی بابت بتانے لگی۔
اے کیا بکواس کر رہی ہے کل تک تو بلکل ٹھیک ٹھاک تھی ۔۔ ایک رات میں کیا ہو گیا ۔ ۔ تورک میں خود جاتی ہوں ۔ ۔ بہانے کر رہی ہوگی ۔ ۔
ناہید ملازمہ کی بات سنتے ہی اپنی کہتی ہوئی سٹور کی جانب بڑھی جب سردار بی بی کی آواز دینے پر اس کے قدم رک گئے۔
رہنے دے ناہید ۔ ۔ ایک دو دن چھوڑ دے اسے ۔ ۔ جب ٹھیک ہو جائے تو دوگنا کام کروانا اس سے ۔ ۔
سردار بی بی زینے اترتے ہوئے کرخت آواز میں کہ رہی تھیں۔
جو حکم بی بی ۔ ۔
ان کی بات پر ناہید نے سر بلایا جب وہ دوبارہ بولیں
اور یہ بات یاد رکھیں ناہید وہ مرنی نہیں چاہیے ۔ ۔ کیونکہ میں اسے اپنی نظروں کے سامنے سسکتا ہوا ہر پل دیکھنا چاہتی ہوں ۔ ۔
ان کے لہجے میں حقارت اور نفرت جھلک رہی تھی ناہیدان کی بات سمجھتی جی کہتی آگے بڑھ گئی۔
حُرہ کے کمرے میں حویلی کی حکمیہ کو لے کر گئی اس نے حُرہ کی حالت دیکھ کر افسوس کا اظہار کیا مگر ناہید کے گھورنے پر سر جھکا گئی اور حُرہ کے ماتھے پر حرارت کم کرنے کی غرض سے ٹھنڈے پانی کی پٹیاں کرنے لگی۔

مگر دو دن وہ اپنے ہوش و حواس سے بیگانہ رہی تھی اس دوران وہی حکمیہ اس کا علاج کرتی رہی جب کچھ کھانے پینے اور چلنے پھرنے کے قابل ہوئی تو حویلی سے بلاوا آگیا
حُرہ آنسودل پر گراتی پھر سے اپنے معمول پر آگئی یہ بات تو طے تھی اسے اپنے حصے کے غم مکمل کر کے ہی دنیا سے جانا تھا اور وہ بے حس بنی ایک نظر آسمان کی جانب سر اٹھا کر حسرت بھری نگاہ ڈال کر کام میں لگ گئی۔

آج پھر وہ ساری رات بے چین رہا تھا۔ نیند تو اسے اس سانحے کے بعد ویسے بھی نہیں آتی تھی اور پچھلے کچھ دن سے کیس میں الجھنے کے باعث وہ ٹھیک سے سو ہی نہیں پاتا تھا۔ مگر آج حویلی میں تو اس کا دل عجیب طرح بے چین ہو رہا تھا۔ کتنی ہی دیر بیڈ سے اٹھ کر کمرے میں چکر کاٹتا رہا مگر بے چینی اور بے سکونی بڑھتی ہی جا رہی تھی۔ جب اضطرابی کیفیت برداشت سے باہر ہوئی تو عباس وضو کی غرض سے واشروم کی سمت بڑھا، نماز شب پڑھ کر کچھ اضطرابی کیفیت کم ہوئی۔ پھر کپڑے بدل کر اپنا لیپ ٹاپ اور کچھ کیسز کی فائلز اٹھائیں اور پہلے کمرے سے نکلا، پھر تیز تیز قدم اٹھاتا حویلی سے ہی نکل گیا۔ اسے لگا تھا کہ اتنے دن سے جو بے چینی ہے وہ شاید حویلی جا کر کچھ بہتر ہو جائے، مگر پتہ نہیں کیوں حویلی میں تو وہ زیادہ بے چین ہو رہا تھا۔

اپنی گاڑی نکال کر اس نے کسی بھی گارڈ یا شہزاد کو ساتھ لینے کے بجائے خود گاڑی ڈرائیو کی اور شہر پہنچنے تک سورج نکل آیا تھا۔ اپنے بنگلے میں پہنچ کر اس نے تھوڑا آرام کیا، پھر فریش ہو کر ایس پی احمد کے پاس جا پہنچا جہاں ایس پی احمد کے علاوہ ان دونوں کا مشترکہ دوست عالیان بھی موجود تھا۔
عباس میرے بھائی… حوصلہ رکھ یار… تیرے جیسے صابر بندے کو اس طرح دیکھ کر دکھ ہوتا ہے یار مجھے… پلیز خود کو سنبھال گم سم بیٹھے عباس کو عالیان نے مخاطب کیا تو محض عباس سر ہلا کر پھر سے لیپ ٹاپ پر جھک گیا۔
احمد اور عالیان نے بے بسی سے ایک دوسرے کو دیکھا۔
قاتل جلد مل جائیں گے ہمیں ۔ ۔
احمد نے دھیمی آواز میں اسے تسلی دی۔
کاٹ رہی ہے مجھے یہ بات میں اپنی بہن کی حفاظت نہ کر سکا ۔ ۔
عباس نے لیپ ٹاپ کی سکرین پر نگاہیں جمائے ہوئے کرب کی کیفیت میں کہا جبکہ احمد اور عالیان اس کی آنکھوں کی نمی باخوبی دیکھ چکے تھے۔
تکلف ہورہی ہے۔ خود کو قصور وار مت سمجھے یار، مجھے ایسے ہی ہیں۔ تو ہم تینوں میں سب سے زیادہ حوصلے، ہمت والا، صبر والا بندہ ہے اور اب تجھے ایسے دیکھنا آسان نہیں ہے ہمارے لئے ۔ ۔
عالیان نے عباس کے شانے پر ہاتھ رکھ کر کہا تو عباس نے سر اٹھا کر اسے دیکھا۔
یہ دکھ ایسا ناسور ہے میری زندگی کا جو قبر تک میرے ساتھ جائے گا ۔ ۔
سے کہتے ہوئے عباس نے کرسی کی پشت سے ٹیک لگالی۔
 

Create an account or login to read stories

You must be a member in order to leave a comment

Create account

Create an account on our community. It's easy!

Log in

Already have an account? Log in here.

New posts
Back
Top