قسط نمبر 61
ریاض عاقب کوہلر
میں پوری رفتار سے موٹرسائیکل کو دوڑائے جا رہا تھا۔سرد ہوا میرا مزاج پوچھ رہی تھی۔کار میں ہیٹر آن تھا اور ایک دم ہوا کا سامنا کرنا کافی دشوار لگ رہا تھا۔لڑکے کی جیکٹ گرم تھی لیکن موٹرسائیکل پر بیٹھ کر تیز ہوا کا سامنا کرتے ہوئے وہ جیکٹ اپنی ذمہ داری نبھانے میں کامیاب نہیں ہوپا رہی تھی۔
فرلانگ بھرجاتے ہی ایک لنک روڈبائیں مڑتا نظر آیا۔مجھ سے تین چار گزآگے جانے والے ٹرک نے بایاں انڈیکیٹر جلا کر مڑنے کا عندیہ دیا۔ٹرک کی باڈی خالی نظر آرہی تھی۔ رفتارمزید بڑھا کر میں اس کے بالکل قریب پہنچا اور اپنا کوٹ اس کی باڈی میں اچھال دیا۔تعاقب کرنے والوں کومیں نے نیا ہدف دے دیا تھا۔
میں اس وقت ایسٹرن ایکسپریس ہائی وے پر محو سفر تھا جو آگے جا کر ممبئی ،آگرہ روڈ سے مل جاتی ہے ۔ اگر ممبئی کو نقشے پر دیکھا جائے تو تقریباََایسی چوکورکی شکل میں نظر آئے گا جس کے شرقی و غربی اضلاع طویل ہیں ۔ شمال کی سمت ان دو اضلاع کی نسبت کم طویل ہے اور جنوب کی سمت بالکل چھوٹی رہ جاتی ہے۔اتنی کم کہ شہر کو ایک بے ڈھنگی مثلث سمجھا جا سکتا ہے۔ ایسٹرن ایکسپریس ہائی وے جو شہر کے مغرب کی جانب جا کر ویسٹرن ایکسپریس ہائی پکاری جاتی ہے۔اس سڑک نے شہر کو چاروں اطراف سے گھیرا ہواہے۔ ممبئی کو باقی انڈیا سے ملانے کودو بڑی سڑکیں نکل رہی ہیں ۔ ایک ”ممبئی آگرہ نیشنل ہائی وے “ اور دوسری ممبئی دہلی ہائی وے ہے۔آگے جا کران سڑکوں سے اور کئی سڑکیں نکل کر مختلف شہروں کو جاتی ہیں ۔نجّو نے مجھے ممبئی آگرہ نیشنل ہائی وے کا بتایا تھا۔جبکہ میں اسے پیچھے چھوڑ کر آگے آگرہ روڈ کی طرف بڑھ گیا تھا۔آگرہ روڈ اور آگرہ نیشنل ہائی وے ،ممبئی سے نکلنے والی دو علیحدہ سڑکیں ہیں جوبیس پچیس کلومیٹر آگے جا کر مل جاتی ہیں ۔اوراس سے آگے یہ ممبئی آگرہ نیشنل ہائی وے کہلاتی ہے۔
ایسٹرن ایکسپریس ہائی وے سے میں آگرہ روڈپر چڑھ گیا۔موڑ کاٹتے ہوئے دائیں ہاتھ بڑے پلازے نظر آئے۔میں سڑک سے اتر کر ”لیک سٹی مال“ میں گھس گیا۔چند لمحوں ہی میں بڑا اوور کوٹ، گرم دستانے، مفلر، کنٹوپ وغیرہ خرید کر دوبارہ چل پڑاتھا۔
مجھے جلد از جلد ٹرک تک پہنچنا تھا۔ٹرک کو نکلے کافی دیر گزر گئی تھی۔میں نے نجّو کا نمبر ملا کر موبائل فون ہیلمٹ کے اندر اڑس لیا۔
کال وصول کرتے ہی اس کی بکواس شروع ہو گئی۔”ہیلو باس!یقینا سفر اچھا گزر رہا ہوگا۔دیکھ لو کیسے صوفے جوڑ کر لیٹنے کی جگہ تیار کی ہے،سارے راستے راجکماری کے پہلو میں لیٹنے کا موقع ملے گا۔اب تونجّو کی تعریف کر دو،ایسی رومانوی جگہ بنانے کا انعام مس بھوری کا موبائل فون نمبر تو بنتا ہے........“
اس کی بکواس نہ رکتے دیکھ کر مجھے قطع کلامی کرنا پڑی۔”سنو احمق آدمی ،کرن چاولہ کے آدمی تمھاری تلاش میں نکلے ہوئے ہیں ،بہتر ہوگا چند دنوں کے لیے چھپ جاﺅ۔“
”بب....باس آپ کا میرا،غالباََ ایسا مذاق تو نہیں ہے۔“
”یہ سچ ہے ۔او ریہ بتاﺅتمھارا موبائل فون کنکشن اپنے نام پر ہے۔“
”نہیں باس،ایسی غلطی نہیں کیا کرتا۔“
”رابطہ ختم ہوتے ہی موبائل فون سے چھٹکارا حاصل کرو۔“
”کوئی اور حکم باس۔“وہ پریشان نظر آرہا تھا۔
میں نے ہدایت دی ”اگر پکڑے جاﺅ تووشواس سنگھ کا ذکر بھولے سے بھی نہ کرنا۔البتہ میرے بارے کچھ بھی چھپانے کی ضرورت نہیں ۔پرما کو پہچاننے سے انکار کردینا۔اس کے بجائے کہنا کہ تم لورا براﺅن کومیری ساتھی لڑکی سمجھ رہے تھے۔“
وہ مرے مرے لہجے میں بولا۔”ٹھیک ہے باس!اورجنازے میں شامل ہونے کی پوری کوشش کرنا۔ کہیں یہ نہ ہو کہ....
ع مرے تھے جن کے لیے وہ رہے وضو کرتے۔
کے مصداق جنازے ہی میں شامل نہ ہو پاﺅ۔“
میں اطمینان سے بولا۔”دعا ہی کر سکتا ہوں دوست کہ تمھاری آتما کو شانتی ملے۔“اور اس کا جواب سنے بغیر رابطہ منقطع کیا اور سجاتا کا نمبر ملانے لگا۔ اس نے پہلی ہی گھنٹی پر کال اٹھا لی تھی۔
تشویش بھرے لہجے میں پوچھا۔”ہیلو،آپ ٹھیک تو ہیں ؟“
”الحمداللہ ٹھیک ہوں ۔اور سناﺅ پرما کو تو بٹھا دیا تھا۔“
اس نے اقرار کیا۔”ہاں اسے سوار کرا کے لوٹی ہوں ۔ کافی پریشان تھی،میں نے تسلی دی کہ بے فکر رہوراجا پہنچ جائے گا۔“
میں نے پوچھا۔”ٹرک ڈرائیور سے بات ہوئی تھی؟“
”جی اسے بھی سمجھا دیا تھا کہ آپ راستے میں بیٹھ جائیں گے۔“
”ٹرک پر ترپال وغیرہ بندھا تھا۔“
ڈاکٹر نے واضح نشانی بتائی۔”تیز آتشی رنگ کا ترپال ،ٹرک کی پوری باڈی کو ڈھانپے ہوئے تھا۔“
مطلب کی بات معلوم کر کے میں اسے سمجھانے لگا۔”اب اپنے فلیٹ سے ہمارے رہنے کے سارے نشانات مٹا دینا۔ اور کسی کے سامنے بھولے سے بھی پرما یا میرا ذکر نہ کرنا۔سگے بھائی کو بھی اعتماد میں لینے کی ضرورت نہیں ۔سمجھیں جیسے ہم آپ کی زندگی میں آئے ہی نہیں تھے۔“
وہ ہنسی ۔”میری فکر چھوڑو،اپنا خیال رکھنا۔“
اور میں نے رسمی کلمات کہتے ہوئے رابطہ منقطع کر دیا۔
اس کے بعد ایک دو بار ٹرک ڈرائیور کا نمبر ڈائل کیا مگر اس نے کال نہیں اٹھائی تھی۔
میرے دشمن یقینا اس ٹرک کے پیچھے لگے تھے، جس میں میں نے کوٹ پھینکا تھا۔پہلے ایک دو ناکوں کو میں نے سڑک سے اتر کر گلیوں سے گزرتے ہوئے بائی پاس کیا تھا،لیکن دریائے الہاس کے پل پر لگے ناکے سے گزرنا مجبوری تھی۔البتہ خیریت گزری کہ مجھے زیادہ توجہ کے قابل نہیں سمجھا گیا تھا۔کیوں کہ ایک تو اکیلا تھا۔ دوسرا موٹر سائیکل پر تھا۔
پولیس کے ہمراہ کچھ منحوس صورتیں بھی نظر آئی تھیں ۔ دریائے الہاس کا پل عبور کر کے میں ٹول پلازا سے گزرا۔بھیڑ اتنی زیادہ نہیں تھی۔ ایک بوتھ کے پاس رک کرنوجوان لڑکے کے سامنے میں نے مطلوبہ ٹرک کانمبر لکھ کر رکھا۔”کیا آپ بتا سکتے ہیں اس نمبر کا ٹرک کس وقت یہاں سے گزرا ہے۔“
اس نے جان چھڑانا چاہی۔ ”پتا نہیں بھائی،میں تھوڑی دیر پہلے ہی ڈیوٹی پر آیا ہوں ۔“
”یار ،ساتھ والے سے پوچھ لیں شاید اسے معلوم ہو۔“اس بار میرے ہاتھ میں پانسو کا نوٹ بھی موجود تھا۔
”آپ لوگ بھی نہ بس پیچھے پڑ جاتے ہیں ۔“نوٹ جھپٹتے ہوئے اس نے کمپیوٹر کی بورڈ پر چند انگلیاں ماریں ۔”اس نمبر کی گاڑی یہاں سے نہیں گزری۔“
میں پریشان ہو کر بولا۔”یہ ممبئی آگرہ نیشنل ہائی وے ہے نا؟“
اس نے نفی میں سرہلایا۔”یہ آگرہ روڈ ہے۔
میں تشویش سے بولا۔”تو مجھے پیچھے مڑنا پڑے گا۔“
اس نے نفی میں سرہلاتے ہوئے تسلی دی۔”قریباََ اٹھارہ انیس کلومیٹر آگے جا کر یہ ممبئی آگرہ نیشنل ہائی وے سے مل جائے گا۔“
میں ”شکریہ ۔“کہہ کر آگے بڑھ گیا۔ تھوڑا فاصلہ طے کر کے میں نے ایک پٹرول پمپ سے موٹر سائیکل کی ٹینکی بھروائی اور چل پڑا۔ سردی میں اضافہ ہورہا تھا۔لیکن گرم لباس نے کافی بچت کر لی تھی۔ بمبئی کی آبادی کافی دور دور تک پھیلی ہے۔مضافاتی گاﺅں بھی اب شہر کا حصہ ہی لگتے ہیں ۔ درمیان میں خالی جگہ ہی نہیں ہے۔ کہ شہر اور گاﺅں کی آبادی میں تمیز کی جاسکے۔دو مضافاتی شہر،نوی ممبی اور تھانے تو اب ممبئی میں ضم ہو چکے ہیں اور ان کی علیحدہ علیحدہ پہچان ہی ممکن نہیں رہی۔
دریائے الہاس کا پل عبور کرنے کے بعد ٹریفک کافی کم ہو گئی تھی۔میں نے رفتار اتنی بڑھا لی کہ جتنا تیز موٹرسائیکل کو چلاسکتا تھا۔ ٹرک ڈرائیور کا کال نہ اٹھانا مجھے زیادہ پریشان کر رہا تھا۔دو مردوں کے درمیان اکیلی لڑکی کا ہونا کسی انہونی کا باعث بھی بن سکتا تھا۔مجھ سے غلطی ہوئی تھی۔چاہیے تو یہ تھا کہ میں ڈاکٹر سجاتا ہی کو کہتا کہ وہ ٹرک کے پیچھے پیچھے اپنی کار لے کر چلتی رہے اور جونھی میں ایجنسی سے جان چھڑا لیتا ،سجاتا سے رابطہ کرتا۔اور میرے پہنچنے پر ہم ایک ساتھ ٹرک میں سوار ہو جاتے۔مگر بعض اوقات تیزی میں درستی بھول جاتی ہے۔ تب میں خود پھنسا ہوا تھااور بروقت یہی سوجھا کہ پرما نکل جائے تو مجھے اکیلے ممبئی سے نکلنے میں کوئی مسئلہ نہ ہوگا۔
کبھی ڈرائیور سے اس جرا¿ت کی توقع عبث نظر آتی کہ وہ پرما پر ہاتھ ڈالے گا۔کیوں کہ وہ کمپنی کا ٹرک تھا۔اور پرما کی حیثیت ایک سواری جیسی تھی۔وہ پرما کی اصلیت سے واقف تھا یا نہیں ،اسے امیر لڑکی سمجھتا تھا یا مفلس،یہ بحث بے فائد ہ تھی۔مختصر یہی کہ انھیں پرما کو چھیڑنے کی صورت جواب دینا پڑ جاتا۔اور جب انسان کے دل میں اندیشہ چھپا ہو تو وہ گناہ پر جری نہیں ہوتا۔
ایک اورپریشان کن سوچ نے میرے تجزیئے کی نفی کی۔”مگر اکیلی خوب صورت لڑکی پر گنوار ڈرائیور اور اس کے ساتھی کا رال ٹپکانا بھی بعید از قیاس نہیں ہے۔ عورت کا حسن و شباب جب دماغ پر سوار ہو جائے تومرد عموماََ برے بھلے کی تمیز نہیں کر سکتے۔اگر کچھ ایسا ہو جاتا تو میں ساری زندگی انصاری صاحب یا پرما کو منہ دکھانے کے قابل نہ رہتا۔کیوں کہ ٹرک کا انتظام میری صواب دید پر ہوا تھا۔پرما میری ضمانت پر ٹرک میں اکیلے سوار ہونے پر راضی ہوئی تھی اور اسے پیش آنے والے کسی بھی حادثے کی جواب داری میرے کھاتے میں جانا تھی۔
موٹر سائیکل تیز رفتاری سے آگے بڑھ رہی تھی اور اس سے زیادہ تیز رفتاری سے میری سوچیں محو پرواز تھیں ۔دماغ جب متضاد خیالات کی آما جگاہ بن جائے تو ایسا ہی ہوتا ہے۔
موبائل فون پر کسی کی کال آنے لگی۔موبائل فون اگر ” وائبریشن “پر نہ لگا ہوتا تومجھے گھنٹی نہ سنائی دی ہوتی۔رفتار کم کرتے ہوئے میں نے موبائل فون جیب سے نکالا،اسکرین پر جگن ناتھ ٹرک ڈرائیور لکھا دیکھ کر اطمینان بھری لہر میرے جسم میں دوڑ گئی تھی۔
”مہاراج ،آپ کہاں ہیں ۔“
”مجھے چھوڑو،اپنا بتاﺅ کہ کہاں ہو اور کال کیوں نہیں اٹھا رہے تھے۔“
اس نے کہا۔”میں اٹ گاﺅں ریلوے اسٹیشن سے تین چار کلومیٹر آگے ہوٹل مڈ وے پر رکا ہوا ہوں ۔ اورمعذرت آپ کی گھنٹی نہیں سن سکا تھا ۔“
”پیچھے شاہ پور گاﺅں کا سائن بورڈ پڑھا ہے۔اب کسی سے معلوم کر کے بتاتا ہوں کہاں پہنچ گیا ہوں ۔“اتنی دیر میں میں ایک ہوٹل کے قریب پہنچ گیا تھا،فوراََ پوچھا۔۔”یہ ہوٹل راج کرن ہے۔نام سنا ہوا ہے؟“
”قریب ہی آگئے ہو،ہم نو دس کلومیٹر آگے ہوں گے۔اور ایک چھوٹا سا مسئلہ بھی بن گیا ہے۔“
میں نے بے صبری ظاہر کی۔”کیا ہوا؟....لڑکی تو ٹھیک ہے نا۔“
وہ جلدی سے بولا۔”جی مہاراج وہ بالکل ٹھیک ہے،ہمارا اپنا مسئلہ ہے۔یہاں آجائیں میں سمجھاتا ہوں ۔ہوٹل مڈ وے سڑک کے بائیں یعنی غربی جانب واقع ہے۔“
رابطہ منقطع کر کے میں نے دوبارہ رفتار بڑھا دی۔نو دس کلومیٹر کا فاصلہ دس بارہ منٹ میں طے ہو گیا تھا۔اٹ گاﺅں ریلوے اسٹیشن سے گزر کر میں سڑک کے بائیں جانب متوجہ ہو گیا۔ریلوے اسٹیشن سڑک کے ساتھ ساتھ ہی جا رہی تھی۔جلد ہی ہوٹل مڈ وے کا بورڈ نظر آگیا۔وہاں چند کاریں اورتین ٹرک کھڑے تھے۔ گہرے آتشی رنگ کا ترپال مجھے دورہی سے نظر آگیا تھا۔ٹرک کے قریب میں نے موٹر سائیکل روکی۔ایک دم سکون سا محسوس ہوا تھا۔سردیوں میں موٹر سائیکل کی سواری بلائے جان ہی ہے۔ سڑک کی جانب دو اور آدمی گرم چادریں اوڑھے کرسیوں پر بیٹھے تھے۔یوں لگا جیسے پارکنگ کی نگرانی کر رہے ہوں ۔ایک آدمی ٹرک کے ساتھ کھڑا تھا۔مجھے لگا شاید وہ ڈرائیور یا اس کا مددگار ہے۔بولنے میں پہل اسی نے کی تھی ۔
”انوپ مشرا....؟“میرا نام پکارتے ہوئے اس نے تصدیق چاہی۔
میں نے اثبات میں سرہلادیا۔
”تمھارا ہی انتظار کر رہا تھا۔“
میں نے پوچھا۔”لڑکی کہاں ہے؟“
اس نے ٹرک کی طرف اشارہ کیا۔”اندر ہی ہے۔“
”مسئلہ کیا ہے؟“میں نے ہوٹل کی طرف قدم بڑھانے سے گریز کیا تھا۔
اس نے تیز لہجے میں تفصیل بتائی جس کا لب لباب یہی تھا کہ ،ہوٹل کے مالک کاپانڈے گڈزٹرانسپوررٹ کمپنی کے مالک بھوشن پانڈے کے ساتھ رقم کا کوئی تنازعہ تھا۔اور جب تک پانڈے ہوٹل کے مالک سے بات کر کے مسئلہ حل نہیں کراتا وہ ٹرک کو آگے جانے کی اجازت نہیں دے سکتاتھا۔اپنے دو آدمی اس نے ٹرک روکنے ہی کو بٹھائے ہوئے تھے۔
میں مستفسر ہوا۔”اس مسئلے میں میں کیا کرسکتا ہوں ۔“
وہ صاف گوئی سے بولا۔”اگر آپ کو جلدی ہے تو ہوٹل کے مالک یا پانڈے جی سے آپ کو خود بات کرنا ہوگی۔استاد جگن نے تو چادر اوڑھ کر چارپائی سنبھال لی ہے۔“
میں ایسا کچھ ضرور کرتا اگر میرا ٹرک پر مزید سفر کرنے کا ارادہ ہوتا۔کرن چاولہ سے کچھ بعید نہ تھا کہ کب نجّو کی گردن دبوچ لیتا۔اور اس کے بعد اس ٹرک کو تلاشنا ذرا بھی مشکل نہ ہوتا۔ڈرائیور کا نمبر لے کر فوراََ سے پہلے اس کی جگہ کے بارے معلوم ہوجاتا۔
میں بے پروائی سے بولا۔”ذرا سی زحمت کر کے لڑکی کو نیچے اتارواور اپنے مسائل خود حل کرو۔“
”کیا مطلب؟“اس نے حیرانی ظاہر کی۔
میں طنزیہ لہجے میں بولا۔”جناب میرے پاس پانڈے جی کے معاملات کو دیکھنے کا وقت نہیں ہے تو بہتر ہوگا میں کوئی اور ذریعہ ڈھونڈوں ۔“
اس نے خوشگوار حیرانی سے پوچھا۔”یعنی آپ لڑکی کو ساتھ لے جا رہے ہیں ۔اور آپ ٹرک پر سفر نہیں کریں گے۔“
”ارادہ تو یہی ہے۔اب مہربانی کریں ۔“میں نے ٹرک کی طرف اشارہ کیا۔
بے نیازی سے کندھے اچکاتا ہواوہ ڈرائیور کیبن کے ساتھ جڑی لوہے کی سیڑھی پر پاﺅں رکھتا ہوا اوپر چڑھا۔اور ایک کونے سے ترپال ہٹا کر اس نے پھلجڑی چھوڑی۔”بی بی !نیچے آجاﺅ،تمھارے شوہر آگئے ہیں ۔“
”دماغ تو خراب نہیں ہے،کون شوہر۔“پرما کی تیکھی آواز سن کر میرے لبوں پر مسکراہٹ دوڑ گئی تھی۔
وہ بیزاری سے بولا۔”بی بی ،مجھے کیا پتا شوہر ہے یا کچھ اور ہے،لیکن تمھارا ہی کچھ لگتا تمھیں نیچے بلا رہا ہے۔“
”بات کرنے کی بھی تمیز نہیں ہے۔“وہ پھنکارتے ہوئے باہر آنے لگی۔
”اب مجھے کیا پتا،شوہر کے ساتھ جا رہی ہو یاکسی یار کے ہمراہ بھاگ رہی ہو۔“گنوار کنڈیکٹر نے پرما کے غصے کا بھرپور جواب دیا تھا۔یقینا کسی لڑکی کو ایسا جواب دینا نا مناسب ہی نہیں بے ہودہ بھی تھا۔میں پہلے ان کی نوک جھونک سے محظوظ ہو رہا تھا،کنڈیکٹر کا بدتمیزی بھرا فقرہ سنتے ہی مجھے طیش آگیا تھا۔
اس کے نیچے اترتے ہی میں نے آگے بڑھ کر غصے سے پوچھا۔”تمھیں لڑکیوں سے بات کرنے کا طریقہ کسی نے نہیں سکھایا۔“
وہ بگڑے ہوئے لہجے میں بولا۔”تو لڑکیوں سے بات کرنے کا طریقہ تم سے سیکھنا پڑے گا۔“
میرا ہاتھ پوری قوت سے گھوما۔”چٹاخ“ کی آواز سے ماحول گونج اٹھاتھا۔پتا نہیں میرے تھپڑ میں کون سی قوت در آئی تھی کہ اچھا خاصا صحت مند ہونے کے باوجود وہ ٹرک کی باڈی سے جا ٹکرایا تھا۔
ساتھ ہی میری اطمینان بھری آواز ابھری۔”جواب ہے ہاں ۔“
”تیری تو........“منہ سے مغلظات اگلتا ہواوہ قریب ہوا۔اور پھر اسے معلوم ہی نہ ہوا کہ کیسے دوبارہ اڑتا ہوا ٹرک کی باڈی سے جاٹکرایا،منہ سے زوردار ۔”اوغ۔“نکالتے ہوئے وہ لمبا ہوگیا تھا۔
دو قدم لے کر میں قریب ہوااور گریبان سے پکڑ کراسے ایک جھٹکے سے اوپر اٹھالیا۔ساتھ ہی میرا دایاں ہاتھ گلاک کو لیے جیب سے نمودار ہوا۔سائیلنسر جڑی نال اس کے ماتھے میں چبھوتے ہوئے میں پھنکارا۔”اب بتاﺅ،اپنی دیدی سے کس لہجے میں بات کر رہے تھے؟“
”شش....شما چاہتا ہوں مہاراج....“اس کی ٹانگیں تھرتھرانے لگیں تھیں ۔
”وہ اپنی دیدی سے مانگو۔“اسے جھٹکا دے کر میں نے پرما کی طرف دھکیلا جو سیڑھی کے سہارے احتیاط سے نیچے اتر آئی تھی۔”بولو،دیدی معاف کردو۔“
وہ گڑگڑایا۔”مم....مادام غلطی ہو گئی معاف کر دیں ۔“
میں پستول لہراتے ہوئے دھاڑا۔”دیدی بولو۔“
اس نے فوراََ میرے الفاظ دہرائے۔”دیدی معاف کردو۔“
پرما کے چہرے پر تبسم نمودار ہوا۔یقینا اس کی بے ہودگی پر وہ سخت تپی ہوئی تھی۔لیکن جو درگت میں اس کی بنا چکا تھا اس کے بعد شکوہ باقی نہیں بچتا تھا۔
”اتنی دیر کیوں کر دی۔“اسے نظر انداز کرتے ہوئے وہ مجھے مخاطب ہوئی۔
”لمبی کہانی ہے اطمینان سے بتاﺅں گا۔“
وہ مستفسر ہوئی۔”تو کیا کرنا ہے؟“
اسے خاموش رہنے کا اشارہ کرتے ہوئے میں کنڈیکٹر کو مخاطب ہوا۔”تمھیں شرم و حیا آنا چاہیے۔ یہ تمھاری بیٹی نہیں تو چھوٹی بہن کی ہم عمر ہوگی۔یہ جانے بغیر کہ بے چاری کو کیوں چھپ کر سفر کرنا پڑ رہا ہے تم اپنے دماغ کی غلاظت اگلنے لگے۔ہمیں پٹنہ پہنچانے کی ذمہ داری تم لوگوں کی تھی اورا س کا معاوضا وصول کر چکے ہو۔ پانڈے کے جھگڑوں سے ہمیں کوئی سروکار نہیں۔ لیکن تمھاری مجبوری جانتے ہوئے ہم خاموشی سے اپنی راہ لے رہے ہیں اور تم یہ رویہ دکھا رہے ہو۔“
وہ شرافت کا مظاہرہ کرتا ہوا بولا۔”مہاراج شما کردیں ....سالادماغ سٹک گیا تھا،ہوٹل کے مالک کا غصہ بچی پر اتار دیا۔“
”اب بھاگنے کی کرو۔“میں نے اسے غائب ہونے کا اشارہ کیا۔وہ تیز قدموں سے ہوٹل کی جانب بڑھ گیاتھا۔ٹرک پر نظر رکھنے والے دونوں محافظ شور سن کر قریب آگئے تھے۔لیکن صلح صفائی کی نوبت نہیں آئی تھی اس لیے دور کھڑے دیکھتے رہے۔
”ہمیں چلنا ہوگا۔“میں موٹر سائیکل کی طرف بڑھا۔
وہ شدو مد سے بولی۔”ٹرک ہی ٹھیک تھا ،قسم سے بڑے مزے کی نیند آرہی تھی۔آرام دہ صوفوں پر لیٹے ہوئے لگ رہا تھا فرسٹ کلاس کی برتھ پر لیٹے ہیں ۔“
”جو میں کہا کروں اس پر دھیان دیا کرو۔فی الحال مشورے اور تجاویز اپنے پاس رکھو۔“ موٹرسائیکل کے قریب پہنچ کر میں ہیلمٹ سر پر رکھنے لگا۔
اس نے حیرانی سے آنکھیں پھیلائیں ۔”اس پر سفر کریں گے؟“
میں طنزیہ انداز میں بولا۔”آپ کے پاس کوئی اور سواری ہے توبالکل نہیں ۔“
پاﺅں پٹختے ہوئے اس نے ٹرک کی طرف اشارہ کیا۔”یہ ٹھیک تھا نا۔“
میں نے نفی میں سرہلایا۔”ایسا بس آپ سمجھتی ہیں ۔“
اس نے منہ بسورا۔”ہم آج تک موٹرسائیکل پر نہیں بیٹھے۔“
میں مزاحیہ انداز میں بولا۔”بہت آسان ہے،ایک ٹانگ دائیں ،دوسری بائیں کر کے اپنے پاﺅں پائیدانوں پر رکھ لینے ہیں ۔ ایک ہاتھ میرے کندھے پر رکھ کر سہارا لے لینا ہے اور باقی میرا کام ہے۔“
اس نے آنکھیں نکالیں ۔”اگر یہ مذاق ہے تو بہت بے ہودہ ہے۔ہم راجکماری ہیں اس پھٹ پھٹی پر بیٹھیں گے۔“
دونوں محافظ ہماری ہی طرف متوجہ تھے۔میں بگڑے ہوئے لہجے میں بولا۔”منہ بند رکھواور بولتے وقت سوچنے کی زحمت کر لیا کرو۔“
میری ڈانٹ کھا کر وہ ہکا بکا رہ گئی تھی۔تنفس تیز ہوا،آنکھوں میں نمی ابھری اور نتھنے پھلاتے ہوئے گلوگیر ہوئی۔”تمھارے ساتھ سفر کرتی ہے ہماری جوتی۔ہم راج........“
”خاموش....“قطع کلامی کرتے ہوئے میں دھاڑا۔ وہ سہم گئی تھی۔دو قدم لے کر میں اس کے قریب ہوا۔اور دبے مگر قہر آلود لہجے میں بولا۔”جانتی ہوکتنی مشکل سے جان بچا کر بھاگتے ہوئے یہاں پہنچ رہا ہوں ۔ اور معلوم ہے دشمن کتوں کی طرح ہماری بو سونگھتے ہوئے چاروں طرف پھیلے ہیں ۔نواب زادی، راجکماری،مہارانی اور سیٹھ زادی بننے کا شوق گھر جا کر پورا کرلینا۔اس وقت آپ دشمنوں میں گھری ایک بے کس،کمزوراور بے یارومددگار لڑکی ہیں ۔ نانا کی دولت پر ماموں قابض ہے اور باپ کی دولت تک رسائی نہیں ہے۔توجب تک وہاں نہیں پہنچ جاتیں جو آپ کا مقام و مرتبہ ہے؛زبان کو تالا لگا لو،خواہشات کو پیٹھ پیچھے پھینک دو،تمناﺅں کا گلا گھونٹ دو،آسائشوں کو بھول جاﺅاور من مانی کرنے کا خیال دماغ سے نکال دو۔اس وقت آپ ایک مفلس لڑکی سے بھی گئی گزری ہیں کہ کم از کم اسے جان کا خطرہ لاحق نہیں ہوتا۔“
اس کی آنکھوں میں نمی سے بھر گئی تھی۔گلو گیر لہجے میں بولی۔”ہم پاپا کو بتائیں گے،تم نے بدتمیزی کی اورہم تمھیں تم کہیں گے تم....تم ہو اسی قابل۔کنڈیکٹر کو تو لڑکیوں سے بولنے کا طریقہ سمجھا رہے تھے اپنا لہجہ نظر نہیں آرہا ۔خود میاں فضیحت دوسروں کو نصیحت۔“
میں نے دوٹوک لہجے میں پوچھا۔”چلنا ہے کہ نہیں ۔“
وہ چلا کر بولی۔”بات مت کرو،ہمیں مخاطب کرنے کی ضرورت نہیں ۔اور ہم خود سفر کر سکتے ہیں بچی نہیں ہیں ہم۔“
”آپ کی مرضی۔“میں موٹر سائیکل کی طرف متوجہ ہوا۔اسی وقت ایک تیز رفتارجیپ نمودار ہوئی اس میں چار افراد سوار تھے۔سڑک سے نیچے اترتے وقت جیپ کی بریکیں زور سے چیخی تھیں ۔
میں نے گھبراتے ہوئے کہا۔”نقاب اوڑھ لو۔“
اس نے سردی کی وجہ سے اب تک کالا گاﺅن نہیں اتارا تھا۔مگر نقاب اتار دیا تھا۔جو دوپٹے کی طرح اس کے گلے میں جھول رہا تھا۔ساری زندگی نقاب نہ اوڑھنے والی چہرہ چھپانے کی ایسی ماہر نہیں ہو سکتی تھی کہ تیزی کر پاتی۔ہیلمٹ سر پر رکھ کرمیں نے دایاں ہاتھ جیب میں ڈالااور پستول کے دستے کو قبضے میں لے لیا۔چاروں افراد کی بگڑی ہوئی شکلیں ان کے پیشے کا اعلان کر رہی تھیں ۔
” ٹرک ڈرائیو رکہاں ہے؟“ جیپ سے چھلانگ لگا کر نیچے اترتے ہوئے ایک شخص نے کرسیوں پر بیٹھے دونوں افراد سے دریافت کیا۔ڈرائیور کے علاوہ باقی دو بھی نیچے آگئے تھے۔
”ہوٹل میں ہوگا مہاراج۔“وہ نشست چھوڑتے ہوئے جلدی سے بولے۔
پرما ان کی طرف پیٹھ موڑے اپنے نقاب سے الجھی تھی۔میرے لہجے کا اثر تھا یا جیپ والوں کی شکلوں کا خوف کہ بغیر تکرار کیے وہ میری ہدایت پر عمل کر رہی تھی۔مجھے اس کے ہاتھوں میں ہلکی ہلکی لرزش نظر آئی۔ بلاشبہ موت کا سامنا کرنا بہت مشکل ہے۔وہ نازوں میں پلی ہوئی نواب زادی تھی۔ ایسے حالات سے بے چاری کا کب واسطہ پڑا تھا۔اور میں نے بھی اسے سمجھانے کو ڈانٹا تھا ورنہ انصاری صاحب کی لاڈلی کو یوں مخاطب کرنا مجھے کب گوارا تھا۔
جیپ والوں کاانداز،لہجہ اور ٹرک کے بارے پوچھنا ظاہر کر رہا تھا کہ وہ ہماری ہی تلاش میں تھے۔ اور ٹرک کے بارے استفسار کا مطلب اس کے علاوہ کوئی نہیں ہوسکتا تھا کہ نجّو ،کرن چاولہ کے ہتھے چڑھ گیا تھا۔ اب اس معاملے سے نبٹنے کو دو حل تھے۔یا تو میں کھسکنے کی کرتا کہ انھوں نے ہمیں قابل توجہ نہیں جانا تھا اور ہم موٹر سائیکل پر بیٹھ کر نکل سکتے تھے۔لیکن اس صورت میں ٹرک ڈرائیور سے بات کرتے ہی انھیں ہمارے بارے معلوم ہو جاتا اور وہ تعاقب کر کے مسائل پیدا کر سکتے تھے۔ان کے پاس جیپ تھی جس کی رفتاربہ ہر حال موٹر سائیکل سے زیادہ تھی۔
دوسری صورت یہ تھی کہ ان کا معاملہ نبٹا کر ہم آگے بڑھتے۔یوں کم از کم عارضی طور پر تعاقب سے چھٹکارا مل جاتا۔ہمارے باکسنگ کے استاد صوبیدار نذیر کہا کرتے تھے کہ ”باکسنگ رنگ کی سب سے خوب صورت بات یہ ہوتی ہے کہ ہمیں اپنا مخالف نظر آرہا ہوتا ہے۔اور جب دو مقابل آمنے سامنے آتے ہیں تو جیت عموماََ پہل کرنے والے کے حصے میں آتی ہے۔کیوں حملہ نہ کرنے والے کو دفاع کرنا پڑتا ہے اور یوں اسے مسلسل دفاع کی حکمت علمی اپنا پڑ جاتی ہے جبکہ حملہ کرنے والے کو یورش کا موقع ملتا رہتا ہے۔میں بھی پہل پن ہاتھ میں رکھ کر نہ صرف دشمنوں کو دفاعی حکمت عملی اپنانے پر مجبور کر سکتا تھا،بلکہ ہمیں ترنوالہ سمجھنے کی غلطی بھی ان کے بھیجے سے نکال سکتا تھا۔اس طرح وہ نڈر و بے خوف ہو کر حملہ آور نہ ہوتے۔باقی ہماری موت کا فیصلہ وہ یوں بھی کر چکے تھے۔
البتہ ایک مبہم سا شبہ میرے دل میں چھپا تھاکہ کہیں وہ ٹرک کمپنی کے مالک پانڈے کے بھیجے ہوئے تو نہیں تھے۔ میں نے دفاع کے بجائے جارحانہ حکمت عملی اپنا نا بہتر سمجھا کہ ہم موٹر سائیکل پر ان سے بھاگ نہیں سکتے تھے۔یہ تمام سوچیں ایک لمحے سے بھی قلیل وقت میں میرے دماغ سے گزریں ،میں اپنا شبہ دور کرنے کوفوراََ ان کی طرف متوجہ ہوا۔
”مہاراج ،ٹرک ڈرائیور ایک نوجوان لڑکی کوکسی کے گھر چھوڑنے گیا ہے۔“
”کیا....کس طرف؟“ایک نے فوراََ پوچھا۔
دوسرا بولا۔”استاد وہی کتیا ہے، جس کی اپن کو تلاش ہے۔“
ڈرائیور نے غلاظت اگلی۔”جلدی کرو،کہیں ٹرک ڈرائیو راسے بھگا نہ دے۔اور یاد رکھنا مارنے سے پہلے چھوکری سے تفتیش ضروری ہے۔سب سے پہلے میں پوچھ گچھ کروں گا اس کے بعد باقیوں کی باری آئے گی۔“
تیسرا جو سب سے پہلے جیپ سے اترا تھا مجھے مخاطب ہوتے ہوئے مشکوک لہجے میں بولا۔”ابے سالے توکون ہے۔اور کس رنڈی کو بھگا کر لے جا رہا ہے۔“
جاری ہے
قسط نمبر 62
ریاض عاقب کوہلر
تیسرا جو سب سے پہلے جیپ سے اترا تھا مجھے مخاطب ہوتے ہوئے مشکوک لہجے میں بولا۔”ابے سالے توکون ہے۔اور کس رنڈی کو بھگا کر لے جا رہا ہے۔“
”زمین پر لیٹ جاﺅ۔“ تیز سرگوشی پرما تک پہنچاتے ہوئے میں نے ایک دم پستول نکالتے ہوئے خود کو مخاطب کرنے والے کے پستول والے ہاتھ پر گولی داغی اور پھر باقیوں کی طرف نال کا رخ پھیرتے ہوئے مسلسل لبلبی دباتا گیا۔تینوں کے سر میں گولیاں لگی تھیں ۔اس سرعت اور تیزی سے فائرکرکے اپنے دشمنوں کو ناکارہ کرنا بہترین نشانہ بازی کا مظاہر ہ تھا، لیکن مجھے سراہنے والا کوئی نہ تھا۔اگر لورا براﺅن ساتھ ہوتی تو بے ساختہ پکارتی۔”تم واقعی ایس ایس ہو۔“
پرما ،میری ہدایت سنتے ہی لیٹ گئی تھی۔اس کی سرعت پر مجھے ہنسنے کا موقع بھی نہیں ملا تھا۔
زخمی ہونے والابائیں ہاتھ سے پستول اٹھارہا تھا۔اس کا پستول پکڑنا اور میرا پانچویں بار لبلبی دبانا ایک ساتھ ہوا تھا۔ میں نے جان بوجھ کر پستول کے بجائے اس کے دوسرے ہاتھ کو بھی نشانہ بنا دیا تھا۔
ہلکی سی چیخ مارتے ہوئے وہ اذیت سے کراہنے لگا تھا۔میں مزاحیہ اندازمیں بولا۔
”تم غلط کہہ رہے تھے،غور سے دیکھومیں سالا نہیں بہنوئی ہوں ، اپنی دیدی کو بھی تم نے گھٹیا تخاطب سے پکارا ہے۔آئندہ خیال رکھنا۔اور تمھاری گھٹیا بات تمھارے ساتھیوں کے بھیجے سے نکالنے کو مجھے ان کی کھوپڑیوں میں سوراخ کرنا پڑے۔“
اذیت برداشت کرتے ہوئے وہ برہم ہوا۔”تت....تم بچو گے نہیں ۔“
میں اطمینان سے بولا۔”یہ میرا مسئلہ ہے،تمھارا مسئلہ ہے اپنی جان بچانا ہے اوراس کا بہترین گر ہے سب کچھ پھوٹ دو۔ورنہ اگلوانے کے طریقے مجھے آتے ہیں ۔“یہ کہتے ہی میں ہوٹل مالک کے مقرر کیے ہوئے دونوں آدمیوں کی طرف متوجہ ہوا جو تیز بخار میں مبتلا شخص کی طرح لرز رہے تھے۔
”فوراََ سے پہلے غائب ہو جاﺅ۔اور ہوٹل کا رخ نہ کرنا۔“
”دھنے واد مہاراج....“بیک زبان کہتے ہوئے وہ سڑک کی طرف سرپٹ بھاگ پڑے۔
”آپ بھی اٹھ جائیں ۔“میں نے پاﺅں سے پرما کو ٹہوکا دیا جو سر کے گرد بازو لپیٹے اوندھے منہ لیٹی تھی۔
وہ فوراََ اٹھ کر کپڑے جھاڑنے لگی۔
میں زخمی کی طرف متوجہ ہو اجو مسلسل کراہ رہا تھا۔”کس کے آدمی ہو؟“
”منوج جوشی۔“اس نے جواب میں تاخیر نہیں کی تھی۔
”کہاں سے آرہے ہو؟“
”شاہ پور میں باس کا اڈہ ہے وہاں سے۔“
منوج جوشی اسمگلنگ کی دنیا میں تناور درخت کی حیثیت رکھتا تھا،جس کا تنا تو ممبئی میں تھا لیکن شاخیں پورے انڈیا میں پھیلی ہوئی تھیں ۔چونکہ کاروبار کااصل کرتا دھرتا وگنیش شکلا تھا اس لیے انھیں رندھیر شکلا کی شکل میں سرکاری مدد بھی حاصل تھی۔اور کبھی کبھار بھارت سرکار کی سخت کارروائی پر درخت کی شاخ تراشی تو ہو جاتی تھی،مگر درخت کا تنا اور جڑیں بدستورمحفوظ رہتی تھیں ۔نشہ آور اشیاءکی اسمگلنگ میں لاکھوں کروڑوں نہیں اربوں کھربوں کمائے جاتے ہیں ۔ اور اتنی دولت ہونے کے باوجود اس شقی القلب شخص کادولت کے لیے اپنی معصوم بھانجی کی جان کے درپے ہونا عجیب لگتا تھا۔یقینا رندھیر شکلا کی حرام کی کمائی اتنی زیادہ تھی کہ اس کی دولت و جائیداد سے دست بردار ہونا وگنیش شکلا کو مشکل لگ رہا تھا۔اور اب تو رندھیر شکلا کا سایہ بھی اس کے سر سے اٹھ گیا تھا۔گویا اس کی مشکلات میں اضافہ ہوا تھا۔
میں نے اگلا سوال پوچھا۔”کیا احکامات ملے تھے؟“
”ٹرک کا نمبراور جگہ بتا کر حکم دیا گیا کہ اس میں ایک لڑکی اور لڑکا چھپے ہوں گے دونوں کو موت کے گھاٹ اتارنا ہے اور قتل کرنے سے پہلے لڑکی پر تشدد کر کے آبروریزی بھی کرنی ہے تاکہ یہ خاندانی دشمنی کا شاخسانہ لگے۔“
”اتنے اچھے کام کو آنے والے کی پذیرائی نہ کرنا زیادتی ہوگی۔“زہریلے لہجے میں کہتے ہوئے میں نے لبلبی دبائی ،گولی اس کے ماتھے میں لگی تھی۔
میں نے سرعت سے ان کے ہتھیاروں کا جائزہ لیا۔دو کے پاس تیس بور پستول،ایک کے پاس ویبلے ریوالور اورڈرائیور خالی تھا۔تیس بور کی گولیاں نائن ایم ایم قطر کے پستول میں استعمال نہیں کی جا سکتی تھیں ۔ورنہ ان کی میگزینیں ضرور اٹھا تا۔میں نے وےبلے (Weblay) رےوالوراٹھانے پر اکتفا کیا کہ گلاک کی گولیاں ختم ہونے پر کام آسکتا تھا۔ریوالور بردار کی جیب سے چھے چھے گولیوں کی پلاسٹک کی دو ڈبیاں بھی برآمد ہوئیں جو میں نے اپنی جیب میں ڈال لیں ۔(کچھ قارئین کو شاید ریوالور اور پستول کا فرق نہ پتا ہو۔ان میں بنیادی فرق میگزین اور سلنڈر یعنی چرخی کا ہوتا ہے۔ریوالور میں صرف چھے گولیاں آتی ہیں جو اس کے گول سلنڈر میں بھری جاتی ہیں ۔اور باری باری ایک ایک گولی سامنے آکر فائر ہوتی جاتی ہے۔اگر سلنڈر کے پانچ خانے خالی چھوڑ کر صرف ایک گولی ڈالی جائے اور سلنڈر کو گھما دیا جائے تو ممکن ہے کہ خالی خانہ سامنے آنے کی وجہ سے ہتھیار فائر نہ کرے جبکہ پستول میں ایسا نہیں ہوتا۔اس کی میگزین میں اگر ایک بھی گولی ہو تو وہی فائر ہو گی)
ریوالور بیلٹ میں اڑس کر میں مو¿دبانہ لہجے میں بولا۔”راجکماری پرماملہوترا صاحب!آپ میرے موٹر سائیکل کو اپنی تشریف کی سعادت بخشیں گی یا اپنے لیے مرسڈیز یا ہیلی وغیرہ منگوانا پسند کریں گی۔“
وہ برہم ہوئی۔”اڑا لو مذاق،ایک ایک بات پاپا کو بتائیں گے۔تمھارا کورٹ مارشل نہ کروایاتو ہمارا نام بدل دینا۔“
میں نے کندھوں میں بیگ ڈالتے ہوئے موٹرسائیکل پر بیٹھ کر کک لگائی۔”وہ مرحلہ بعد میں آنا ہے فی الحال اپنے ارادوں سے آگاہ کریں ۔“
وہ خاموشی سے قریب آئی۔بیگ کی وجہ سے سیٹ پر اس کے بیٹھنے کی جگہ کم بچ رہی تھی۔ بھناتے ہوئے بولی۔”بیگ کو تو اپنی گود میں رکھو۔“
”سوری۔“میں نے بیگ اتار کر اپنے سامنے رکھ لیاتھا۔
پیچھے بیٹھتے ہوئے اس نے دونوں ہاتھ میرے کندھوں پر رکھ لیے تھے۔اس کے انداز سے لگ رہا تھا کہ اس کے موٹر سائیکل پر پہلی بار بیٹھنے کی بات سچ تھی۔
گیئر تبدل کرتے ہوئے میں آگے بڑھا اور سڑ ک پر چڑھ گیا۔تھوڑی دیر بعد ہی موٹر سائیکل ہوا میں اڑ رہی تھی۔
”ہمیں سردی لگ رہی ہے۔“کلومیٹر بھر آتے ہی وہ منمنائی۔
رفتار کم کر کے میں نے بریک دبائی اور موٹرسائیکل روک کر اپناکوٹ اتارنے لگا۔
”یہ پہن لو۔“کوٹ اس کے حوالے کر کے میں نے ہیلمٹ اتارا اور نیچے پہنی گرم ٹوپی اتار کر وہ بھی اس کی جانب بڑھا دی۔
بغیرشکریے یا رسمی انکار کے اس نے کوٹ پہن کر ٹوپی بھی اوڑھ لی۔اس کے انداز سے یوں لگتا تھا جیسے اس کی تمام ضرورتوں کا خیال رکھنا،اسے آرام پہچانااور اس کے منہ سے نکلی ہر بات کو پورا کرنا میری ذمہ داری ہو۔ بچپن سے آج تک اس کا ایسے ہی ماحول سے واسطہ پڑا تھا۔خاص کر جب سے وہ رندھیر شکلا کے پاس پہنچی تب سے ملازموں کی فوج پر حکم چلانے کے اتنے مواقع ملے تھے کہ اب وہ عادی ہو چکی تھی۔میں بھی انصاری صاحب کی وجہ سے اسے عزت احترام دے رہاتھا اور اس نے اپنا حق سمجھنا شروع کر دیا تھا۔جبکہ جسے وہ میرا کام سمجھ رہی تھی۔یہ اس کا اپنا کام تھا۔نہ تو میں انصاری صاحب کا ملازم تھا اور نہ پرما سے کوئی تعلق یااس کی میرے نزدیک کوئی اہمیت تھی۔اس کام کا میری نوکری سے بھی کوئی واسطہ نہ تھا کہ ذاتی اغراض و مقاصد کا ملکی سلامتی سے دور کا بھی واسطہ نہیں ہوتا۔ہاں کسی شخص کے ذاتی کام میں اس وجہ سے دلچسپی لینا کہ اس نے وطن کی خاطر بہت قربانیاں دی ہوں یقینااچھی بات ہے۔اورمیرا ،پرما کا خیال رکھنے کی یہی سب سے بڑی وجہ تھی۔اس کے بے ہودہ اعتراضات کو بھی اسی لیے نظر انداز کر جاتا تھا کہ اس کی سوچ و سمجھ پختہ نہیں تھی۔
میں زیادہ سر اس لیے بھی نہیں کھپاتا تھا کہ وہ ایک کمزور لڑکی ہی تھی۔مجھ میں الحمداللہ اتنی برداشت موجود تھی کہ دوسرا کوٹ بھی اتار دیتا تو اسی رفتار سے بے فکر ہو کر موٹر سائیکل چلا سکتا تھا۔پاکستانی سنائپر وں کی تربیت میں موسمی حالات سے لڑنے کی باری سب سے پہلے آتی ہے۔ گرمی ،سردی سے گھبرانے والا سنائپر عملی زندگی میں صفرہوتا ہے۔تربیت کے دوران ہمیں سخت سردیوں میں بہتے نالے سے رینگتے ہوئے گزر کر دوسری جانب کئی کئی گھنٹے ہدف کے انتظار میں لیٹنا ہوتا تھا۔یوں کہ آسمان پر بادل چھائے ہوتے اور پورا دن لباس خشک نہیں ہوتاتھا۔کوئٹہ ایسا شہر ہے جہاں ہر وقت ہوا چلتی رہتی ہے۔ جہاں گرمیوں میں یہ ہوا موسم کو معتدل رکھتی ہے وہیں سردیوں میں ٹھنڈ کو بڑھانے کی وجہ بنتی ہے۔
میں دوبارہ چل پڑا۔فی الحال میرے پاس کوئی لائحہ عمل نہیں رہا تھا۔موٹرسائیکل پر پٹنہ،آگرہ یا دہلی وغیرہ پہنچنا ناممکن نہیں تو دشوار ترین ضرر تھا۔آگرہ تیرہ چودہ سو کلومیٹر دور تھااس سے آگے دہلی دوسو کلومیٹر کے بہ قدر تھا۔مگر وہاں جا کر بھی انڈیا سے نکلنا اتنا آسان نہ ہوتا،کیوں کہ رندھیر شکلا کی اصل رہایش آگرہ میں تھی۔ اور اس علاقے میں اس کا اچھا خاصا اثر رسوخ تھا۔اس کے ناتے وگنیش کی بھی اچھی جان پہچان ہونا تھی۔البتہ اس جانب مزید آگے سفر کر کے میں مقبوضہ کشمیر کے راستے پاکستان جاسکتاتھا۔پہاڑی علاقے میں کئی ایسے خلا مل جاتے ہیں جن سے نفوذ و خروج کرناآسان ہوتا ہے۔(فوجی اصطلاح میں نفوذ کہتے ہیں دشمن کے دفاع میں سے چھپ کر گزرتے ہوئے کسی فوجی آپریشن کو دشمن کے عقب میں پہنچنااور خروج کہتے ہیں تکمیل مشن کے بعد دشمن کی دفاعی لائن سے چھپ کر گزرتے ہوئے واپس آنا)لیکن نازوں میں پلی نرم و نازک لڑکی کا کشمیر کے بلند و بالا پہاڑوں میں سفر کرنا ناممکن تھا۔اور سردیوں میں تو وہ پہاڑ برف کی چادر اوڑھ کر فوجی جوانوں کے گھٹنے لگوا دیتے ہیں تو کوئی عام سی لڑکی انھیں کیسے عبور کر پاتی وہ بھی ان حالات میں کہ دشمن کی نگاہوں سے بچنے کو راستوں سے ہٹ کر چلنا پڑے۔
پٹنہ کا ممبئی سے فاصلہ اٹھارہ سو کلومیٹر ہے۔اگر وہاں تک ٹرک میں محفوظ چلے جاتے تو آگے کا سفر اتنا مشکل نہ ہوتا۔ پٹنہ سے نیپال اور بھوٹان کی سرحد قریب تھی۔اور امید ہے گاڑی وغیرہ مل جاتی۔کسی بڑے شہر میں جا کر ہوائی راستے سے پاکستان یا کسی ایسے ملک میں جہاں سے پاکستان جانا آسان ہوتاپہنچا جا سکتا تھا۔
پرما پہلے پیچھے ہٹ کر بیٹھی تھی ،مگر رفتہ رفتہ سمٹتے ہوئے بالکل جڑ گئی تھی۔ٹھنڈی ہوا نے فاصلوں کو سمیٹ دیا تھا۔کوٹ اتارنے کے بعد ٹھنڈ میرا مزاج بھی پوچھنے لگی تھی۔
ہم بیس پچیس کلومیٹر ہی آئے ہوں گے کہ سڑک پر رکاوٹ دیکھ میرا ماتھا ٹھنکا۔ وہ پولیس چوکی تھی۔ لیکن دو رویہ سڑک(ڈبل روڈ) میں رکاوٹ صرف ہماری جانب لگائی گئی تھی۔ممبئی جانے والی سڑک پر رکاوٹ نظر نہیں آرہی تھی۔ اور یہی وجہ مجھے پہلے سے چوکنا کر گئی تھی۔گومیں ” ہوٹل مڈ وے “ جہاں میں چند دشمنوں کا خاتمہ کر کے آرہا تھاسے فاصلہ پیدا کر کے بڑی سڑک چھوڑنا چاہتا تھا۔ کہ اسی میں بہتری تھی ۔مگر زیادہ دوری پیدا کرنے کے لالچ نے جلدی سڑک نہ چھوڑنے دی اور اب ایک دم پولیس کا نظر آنا اور وہ بھی یوں کہ جیسے میرے انتظار میں بیٹھے ہوں ۔مجھے چونکا گیا تھا۔رات کی وجہ سے میں انھیں دور سے نہیں دیکھ سکا تھا۔ہم سے آگے ایک سوزکی وین جا رہی تھی۔اس کو رکتے دیکھ کر مجھے خطرہ محسوس ہوا۔
میں نے موٹر سائیکل روک کر پرماکو کہا۔”مجھے مضبوطی سے پکڑلوبھاگنا پڑے گا۔“
اس نے میری کمر کے گرد بازو لپیٹ لیے تھے ۔میں نے بایاں پاﺅں نیچے ٹکاتے ہوئے ایک جھٹکے سے کلچ چھوڑااوراپنی جگہ پر موٹر سائیکل موڑ لیا تھا۔یوں کرتے وقت ٹھیک ٹھاک جھٹکا لگتا ہے۔مگر پرما نے مجھے مضبوطی سے تھاما ہوا تھا۔اس لیے گرنے سے بچ گئی تھی البتہ اس کے ہونٹوں سے غیر ارادی طور پر چیخ ضرور نکلی تھی۔
”رک جاﺅ۔“ایک کرخت آواز ابھری ساتھ ہی ہوائی فائر کی آواز سے ماحول گونج اٹھا تھا۔وہ بھی ہمیں بروقت نہیں دیکھ سکے تھے۔مگر اب رکنا اپنی جان گنوانے کے مترادف تھا۔ریس دے کر میں موٹر سائیکل کو زگ زیگ کے انداز میں دوڑانے لگا۔
پرما ہکلائی۔”ہم.... گر جائیں گے۔“وہ سختی سے مجھے چمٹی ہوئی تھی۔جیسے کہاوت ہے کہ.... ”سر منڈاتے ہی اولے پڑ گئے۔“وہ بے چاری بھی پہلی بار موٹر سائیکل پر بیٹھی تھی اور ایسے حالات پیش آگئے تھے۔ مگر اس کے لیے میں آہستگی سے موٹر سائیکل چلاتا تو نہ وہ بچتی نہ میں ۔البتہ جس طرح وہ مجھے چمٹی ہوئی تھی اس حالت میں ،میرے گرنے ہی پر اس کے گرنے کا خطرہ پیدا ہو سکتا تھا اس کے علاوہ نہیں ۔میرے پاس اسے تسلی دینے کا وقت نہیں تھا۔گولیوں کی تڑتڑاہٹ ابھری ،میں نے رفتار مکمل بڑھا دی تھی۔
زور زور سے سیٹی بجنے لگی۔ساتھ ہی کوئی چیخ چیخ کر کہنے لگا۔”زندہ یا مردہ انھیں ہر حالت میں پکڑنا ہے۔“
اچانک سامنے سے تیز روشنیاں میری آنکھوں میں پڑیں ۔پرما نے زور سے چیختے ہوئے میری بغل میں سرگھسیڑدیا۔ اس کا شدت سے کانپنا مجھے محسوس ہورہا تھا۔
رات کے وقت سامنے سے آنے والی تیز روشنی آنکھوں میں پڑنے پر یوں لگتا ہے جیسے گاڑی ہم سے ٹکرا رہی ہو۔اسے بھی کچھ ایسا ہی لگا تھا تبھی ڈر گئی تھی۔وہ ایک ٹرک تھا۔میں اس کے پاس سے گزرا، آگے ہلکا سا موڑتھا۔کلاشن کوفوں کی تڑتڑاہٹ دوبارہ ابھری مگر اس بار گولیوں کا رخ ہمارے بجائے آسمان کی طرف تھا۔
میں اندھا دھند موٹرسائیکل دوڑائے جا رہاتھا۔عقبی فائرنگ ٹانک کا کام دے رہی تھی۔دو تین کلومیٹر پیچھے ایک برساتی نالے کا پل عبور کرتے ہوئے مجھے بائیں ہاتھ یعنی غربی جانب لنک روڈ نظر آیا تھا۔شاید اس طرف کوئی گاﺅں وغیرہ بھی تھا۔ لنک روڈ کے قریب میں دو اڑھائی منٹوں میں پہنچ گیا تھا۔رفتار میں کمی لائے بغیر میں نے دائیں طرف موٹر سائیکل موڑدی۔موٹرسائیکل کی یہی خوبی ہوتی ہے کہ اس پر تیز رفتاری سے حرکت کرنا آسان ہوتا ہے۔لنک روڈ کا بھی نالے پر علیحدہ پل بنا ہوا تھا۔حالاں کہ بڑی سڑک کے پل سے پہلے لنک روڈ نکالا ہوتا تو دوسرے پل کی ضرورت نہ پڑتی۔سڑک ملاپ پرہندی میں گاﺅں کا نام لکھا ہوا نظر آرہا تھا۔جو میں نہیں پڑھ سکتا تھا۔انڈیا میں اردو،ہندی اور رومن انگریزی خط مستعمل ہیں ۔اور سائن بورڈوں پر عموماََہندی یا رومن انگریزی میں لکھا نظر آتا ہے۔
لنک روڈ پر چڑھتے ہی عقب سے گولیوں کی ایک اور بوچھاڑ آئی۔یوں اندھا دھند گولیاں چلنے پر اتفاقاََ گولی لگ جانا قرین قیاس تھا۔کلاشن کوف کی کارگر رینج تین سو میٹر ہے لیکن اس کی گولی بغیر نشانہ سادھے کافی دور تک مار کرتی ہے۔لنک روڈ ،بڑی سڑک سے ہلکانشیب میں تھا۔چھوٹا پل عبور کرتے ہی میں آبادی میں گھس گیا تھا۔سڑک مغرب کو جا رہی تھی ۔میں گلیوں میں گھسنے کے بجائے سڑک ہی پر بڑھتا رہا کہ گلیوں میں پھنسنے کا زیادہ خطرہ تھا۔آگے جا کرسڑک جنوب کو مڑ رہی تھی اور میرا اندازہ تھا کہ چکر کاٹ کر سڑک نے دوبارہ بڑی سڑک سے مل جانا تھا۔ایک راستہ شمال مغرب کو جا رہا تھا،جس پر”کسارا ریلوے اسٹیشن “اور رہنمائی کو تیر کا نشان بنانظر آیا۔ میں اسی راستے پر بڑھ گیا۔عقب میں دو تین گاڑیوں کی روشنیاں نظر آرہی تھیں ۔
ریلوے اسٹیشن میں گھسنے کے بجائے میں ریلوے لائن کے ساتھ آگے بڑھنے لگا۔اس راستے پر کم از کم یہ تسلی ضرورتھی کہ گاڑیاں تیز رفتاری سے پیچھا نہیں کر سکتی تھیں ۔
”ریل گاڑی میں چڑھ جاتے ہیں ۔“پرما نے احمقانہ مشورہ دیا۔
میں چلا کر بولا۔”بے وقوف،اس کا موقع کس نے دینا ہے۔“
میں ریلوے لائن کے ساتھ ساتھ آگے بڑھنے لگا۔سامنے ایک ریل کی تیز چنگھاڑ سنائی دینے لگی۔میں ساتھ سے گزرتا گیا۔راستہ ناہموار ہونے کی وجہ سے رفتار زیادہ تیزنہیں کی جا سکتی تھی۔عقب میں گاڑیوں کی روشنیاں ہنوز دکھائی رہی تھیں جس کا صاف مطلب یہی تھا کہ ہم ان کی نظروں میں تھے۔
آگے ڈھلوان شروع ہوگئی تھی۔ساتھ جھاڑیاں اور درخت بھی نظر آنے لگے۔موٹر سائیکل کی ہیڈ لائیٹ میں دور دور تک درختوں کا نظر آنا ظاہر کر رہا تھا کہ ہم جنگل کے قریب پہنچ چکے تھے۔اور یہ درخت ہمارے لیے زیادہ مفید تھے کہ دشمن گاڑیوں میں صحیح طریقے سے آگے نہ بڑھ پاتے۔ ایسے علاقے میں موٹرسائیکل کی افادیت اور زیادہ بڑھ جاتی ہے۔
اچانک موٹرسائیکل بری طرح ڈگمگائی،پرما کے منہ سے ہلکی سی چیخ نکلی تھی۔میں نے بڑی مشکل سے ہینڈل کو قابو میں کر کے موٹرسائیکل کو گرنے سے بچایا تھا۔اس کے لہرانے کی وجہ پچھلے پہیے کا پنکچر ہونا تھا۔
”حسرت ان غنچوں پر جو بن کھلے مرجھا گئے۔“کے مصداق میں مکمل خوش بھی نہیں ہو پایا تھا کہ نئی مصیبت ”حاضر جناب“ کے نعرے کے ساتھ بن بلائے مہمان کی طرح نازل ہو گئی تھی۔
ایسی جگہ پر موٹرسائیکل کا دھوکا دینا پریشان کرنے والا تھا۔اگر میں اکیلا ہوتا توزیادہ فرق نہ پڑتا۔ پلوشے ،لورا براﺅن ، جینی وغیرہ جیسی کسی لڑکی کا ساتھ ہونا بھی تقویت ہی کا باعث بنتا۔مگر پرما نری مصیبت، مسائل کی جڑ اور بھاری بوجھ تھی۔میری مدد تو خیر کیا کرتی،الٹا اس کی وجہ سے نہ صرف میری رفتار میں کمی آتی بلکہ صحیح طریقے سے جوابی کارروائی بھی نہ کر سکتا۔ایسی صورت حال سے میرا پہلی بار واسطہ پڑ رہا تھا۔ماضی قریب و بعید میں اس سے کئی گنا زیادہ دگرگوں حالات میں بھی اتنی پریشانی نہ ہوئی جو آج ہو رہی تھی۔اکثر حادثات کا مقابلہ میں نے اکیلے کیا تھا،گاہے سردارخان اورپلوشہ وغیرہ کا بھی ساتھ رہا۔انڈیا میں پہلے ڈینو اور بعد میں لورا براﺅن میرے شانہ بہ شانہ رہے۔لیکن وہ تمام تربیت یافتہ وسخت جان تھے۔ان کی موجودی سے مدد ملتی تھی۔جبکہ پرما بی بی کے ساتھ تو ایسے جنگل بیابان میں خالی چلنا کاردار تھا کجا تعاقب میں جانی دشمن ہوتے۔
مجھے موٹر سائیکل سے نیچے اترتا دیکھ کر وہ ہکلائی۔”کک....کیا ہوا؟“
میں نے ایس آر ون کے بیگ کو کندھے میں ڈالتے ہوئے کہا۔”موٹر سائیکل پنکچر ہو گئی ہے۔آگے پیدل جانا ہوگا۔“
”پپ....پیدل....“وہ پریشانی سے بولی۔”ناہموار زمین پر ہم ان میں کیسے حرکت کر پائیں گے۔“یقینااس نے اونچی ایڑی کے سینڈلوں کی طرف اشارہ کیاتھا جو اندھیرے کے باعث نظر نہیں آرہے تھے۔
میں نے بے پروائی سے کندھے اچکاتے ہوئے ایک جانب قدم بڑھائے۔”اس بارے تو آپ کو پتا ہوگا۔میں نے تو ڈاکٹرسجاتاکے ہاں سے چلتے وقت آگاہ کر دیا تھا۔تب فرمایا تھا کہ ایسی صورت حال میں آپ ننگے پاﺅں بھی بھاگ لیں گی۔اب عمل کریں ،کہ دشمن سر پر پہنچنے والے ہیں اور ضائع کرنے کو ایک منٹ بھی نہیں ہے۔“
اس نے رونے کو پر تولے۔”ہمیں کیا پتا تھا ایسی صورت حال سے واسطہ پڑے گا۔“
میں نے اسے جھٹلایا۔”غلط،میں نے واضح طور پر تنبیہ کی تھی۔“
قدم ملانے کی کوشش کرتے ہوئے وہ لجاجت سے بولی۔”آپ تو کمانڈو ہیں ،ننگے پاﺅں بھی دوڑ لیں گے۔اپنے بوٹ ہمیں دے دیں ناں ،ہم پاپا سے کوئی شکایت نہیں کریں گے۔“سر پر افتاد پڑی تھی تو اسے ادب وآداب بھی یاد آگئے تھے اورپرانے مقدمے بھی واپس لینے پر تیار ہو گئی تھی۔
میں اثبات میں سر ہلاتے ہوئے طعنہ زن ہوا۔”ٹھیک ہے مگر آپ کسی دوسرے کی چیز استعمال جو نہیں کرتیں ۔“
وہ سرعت سے بولی۔”آ پ کی کرلیں گے۔“تبھی تھوڑے فاصلے پر تڑتڑاہٹ کی آواز ابھری۔ وہ ہلکی سی چیخ مار کر میرے بازو سے لگ گئی تھی۔
میں نے سختی سے ڈانٹا۔”دوبارہ ڈر کر چیخ ماری تو منہ پر کپڑا باندھ دوں گا۔اب سانس بھی آہستہ لینا ہے۔“
وہ روہانسا ہوئی ۔”سس....سوری۔“
موٹرسائیکل کے بند ہونے کی وجہ سے گھپ اندھیرا چھا گیا تھا۔تعاقب کرنے والوں کی گاڑیوں کی روشنی اب اور زیادہ واضح ہو گئی تھی۔دو گاڑیوں کی روشنی دیکھ کر میں نے اندازہ لگایا کہ وہ کم از کم آٹھ سے دس افراد ہونے تھے۔
میں نے قدم روک کر بیگ سے بوٹ برآمد کیے جو ایسے ہی موقع کے لیے ڈاکٹر سجاتا کے ہاں سے چلتے وقت رکھ لیے تھے۔یہ وہی بوٹ تھے جنھیں وہ ٹھکرا آئی تھی۔اسے معلوم نہیں تھا میں کیا کر رہا ہوں وہ بس سہمی ہوئی سی میرا بازو پکڑ کر کھڑی تھی۔نظریں بار بار عقب میں جلتی روشنیوں کی طرف اٹھ جاتیں جن کا فاصلہ لمحہ بہ لمحہ سمٹتا جا رہا تھا۔دونوں گاڑیاں اب پھیل کر آگے بڑھ رہی تھیں ۔
”یہ جلدی سے پہنو۔“اسے بوٹ پکڑا کر میں نے پستول کی پہلی والی میگزین اتاری اور بھری ہوئی میگزین چڑھا دی۔پہلی والی میگزین میں چار پانچ گولیاں ہی باقی تھیں ۔گلاک نائینٹین کے ساتھ عموماََ تو پندرہ راﺅنڈ والی میگزین لگتی ہے۔ مگر اس میں دس، سترہ،انیس اور تینتیس راﺅنڈ والی میگزینیں بھی دستیاب ہیں ۔میرے پاس پندرہ راﺅنڈ والی دومیگزینیں تھیں ۔ایک بھری ہوئی اور دوسری میں چار پانچ گولیاں ہی بچی تھیں ۔اس کے علاوہ ویبلے ریوالور تھا۔ جس کی اٹھارہ گولیاں میرے پاس تھیں ۔گو کلاشن کو فوں کے مقابلے میں یہ ناکافی ہتھیار تھے۔کیوں کہ ہم عمارتی لڑائی نہیں لڑ رہے تھے۔البتہ ایس آر ون جیسی سنائپر رائفل کی وجہ سے مجھے کافی تقویت حاصل تھی۔
پرما نے جلدی سے سینڈل اتار کر جوتے پاﺅں میں ڈالے اور ہم چل پڑے۔
دو تین قدم چلتے ہی اس نے تبصرہ کیا۔”کافی آرام دہ جوتے ہیں ۔“
”یہ وہی جوتے ہیں جو آپ نے پہننے سے انکار کیا تھا۔“
وہ بھناتے ہوئے بولی۔”جانتے ہیں ،طعنہ دینے کی ضرورت نہیں ہے۔اور شوق سے نہیں بہ حالت مجبوری پہنے ہیں ۔“
”اس وقت بھی یہی سمجھانے کی کوشش کی تھی۔“کہتے ہوئے میں نے رخ شمال مغرب کی جانب موڑ لیا تھا۔کیوں شمال مشرق کی جانب جانے میں یہ خطرہ تھا کہ کہیں دوبارہ سڑک پر نہ جا نکلیں ۔ بڑی سڑک بالکل غیر محفوظ ہو چکی تھی۔اب سڑک پر جگہ جگہ وگنیش شکلا کے غنڈے، کرن چاولہ کے ایجنٹ اور پولیس کے اہلکاروں سے واسطہ پڑنا تھا۔
آگے ڈھلانی علاقہ تھا۔ گو زمین کی ہلکی پھلکی اٹھان توپہلے سے محسوس ہو رہی تھی۔مگر اب اس میں اضافہ ہو گیا تھا۔تھوڑے فاصلے پر پہاڑیوں کے ہیولے ظاہر کر رہے تھے گویا آگے کوہستانی علاقہ تھا۔ ایسے علاقے میں جہاں حرکت میں مشکلات پیش آسکتی تھیں وہیں چھپنے کو بھی زیادہ جگہیں مل جاتی ہیں ۔مگر یہ مسئلہ بھی تھا کہ ایک بار ہمارے چھپنے کی جگہ منظر عام پر آتے ہی وہاں دشمنوں کی بڑی تعداد اکھٹا ہو جاتی۔موٹر سائیکل کا خراب ہونا ہمیں بڑی مصیبت میں پھنسانے والاتھا۔
”ہم اس علاقے کو جانتے ہیں ۔“میرے ساتھ قدم ملانے کی کوشش کرتے ہوئے پرما نے انکشاف کیا۔
میں طنزیہ انداز میں بولا۔”مجھے تو ایسا نہیں لگتا۔“
وہ میرے طنز کو نظر انداز کرتے ہوئے تفصیل بتانے لگی۔”یہاں سے تھوڑی دور آگے لطیف واڑی گاﺅں ہے۔نہایت پسماندہ اور مفلسوں کا مسکن ہے۔لوگ گھاس پھونس اور لکڑیوں سے بنی جھونپڑوں میں رہتے ہیں ۔لطیف واڑی آگرہ روڈ کے قرب ہی واقع ہے۔ ہم دوستوں کے ساتھ دو بار آﺅٹنگ پر آچکے ہیں ۔شمال مغربی جانب موڈک ساگر ڈیم ہے ،اسے لوئر ویترنا بھی کہتے ہیں ۔شمال کی جانب اپر ویترنا ہے۔دونوں کے درمیان دریائے ویترنا بہتا ہے۔آگے سارا جنگل اور پہاڑی علاقہ ہے۔“
میں نے چڑایا۔”لڑکیوں کی سہیلیاں ہوتی ہیں دوست نہیں ۔“
وہ صاف گوئی سے بولی۔”یہ درد سر پاپا یا ہمارے ہونے والے شوہر کے لیے رہنے دو۔باقی مشورہ یہ ہے کہ لطیف واڑی میں چھپنا بہتر رہے گا۔کیوں کہ ہمیں ابھی سے سانس چڑھ گیا ہے۔“
میں نے لہجہ سخت کرتے ہوئے کہا۔”عقل کے ناخن لو،لطیف واڑی کو جاننے والی آپ اکیلی نہیں ہیں ۔ وہ چپے چپے کی تلاشی لیں گے۔ اور کسی گھر میں پناہ لینااپنا سر اوکھلی میں دینے کے مترادف ہے۔“
اس نے رو دینے والے لہجے میں پوچھا۔”آخر پیدل کتنا چلیں گے ؟“
میں ہنسا۔”اس بارے مسﺅل ،سائل سے زیادہ نہیں جانتا۔“
وہ حیرانی سے بولی۔”تو ہم کس سے پوچھیں ؟“
میں نے پست آواز میں مشورہ دیا۔”بس اب آواز نہیں آنا چاہیے۔“
اس نے چپ سادھ لی۔گاڑیاں رک گئی تھیں ۔گولیوں کی تڑتڑاہٹ ابھری،ساتھ ہی کوئی باآواز بلند لبلبی دبانے والے کو ڈانٹ کر منع کرنے لگا۔
ہمارے بیچ فرلانگ سے زیادہ فاصلہ نہیں تھا۔وہ بعینہ موٹرسائیکل کے ساتھ پہنچ کر رکے ہوئے تھے۔ انھیں ہمارے جانے کی سمت معلوم نہ تھی۔اورہماری تلاش میں بکھرنے کے علاوہ ان کے پاس کوئی چارہ نہ تھا۔یوں ان کی طاقت تقسیم ہو جاتی۔علاقے کی مناسبت سے ان سے بچ کر نکل بھاگنا یا مقابلہ کرنانہایت آسان تھا۔ بہ شرط میرے ہمراہ پرما نہ ہوتی۔وہ نیک بخت نہ تو مجھے تیز رفتاری سے بھاگنے دے رہی تھی اور نہ مقابلے کا حوصلہ کرنے دے رہی تھی۔درختوں کی وجہ سے اندھیرا زیادہ محسوس ہو رہا تھا۔جنگلوں و پہاڑوں میں اندھیرے کے اندر حرکت کرنابہت زیادہ تربیت کا متقاضی ہے۔مقامی لوگ اندھیرے میں آسانی سے سفر کر سکتے ہیں ۔ یا ہم جیسے سنائپر جن کی زندگی کا بیش تر حصہ ہی انھی جنگلوں ،پہاڑوں بیابانوں میں گزرا ہو۔
سب سے بڑا مسئلہ علاقے سے ناواقفیت کا ہوتا ہے۔بہ قول پرما کے وہ دو بار وہاں آچکی تھی۔لیکن حرکت کرتے ہوئے اسے سخت دشواری پیش آرہی تھی۔دن کی روشنی اور رات کی تاریکی میں حرکت کرنے کا فن بے چاری کو کہاں آتا تھا۔ صحیح کہتے ہیں زرداروں کی زندگی سے دولت منفی کر دو تو باقی تکالیف ،سختیاں اور اذیتیں ہی بچتی ہیں ۔جبکہ غریبوں کی زندگی پہلے ہی دولت سے تہی ہوتی ہے۔اور پیسے کے بغیر خوشیاں کشید کرنے کا عمل انھیں آتا ہے۔
اچانک پرما کے ہونٹوں سے ہلکی سی چیخ برآمد ہوئی،پتھر سے ٹھوکر کھا کر وہ نیچے گری۔اور گرنے پر بلند بانگ چیخ اس کے ہونٹوں سے برآمد ہوئی تھی۔کیوں کہ ایک کانٹے دار جھاڑی کی شاخوں نے اس کے ہاتھوں کی ملائمت و نزاکت کا خیال رکھے بغیر اپنا کام کر دیا تھا۔
”خاموش۔“دبے لہجے میں کہتے ہوئے میں سرعت سے نیچے بیٹھا۔”دشمن عقب میں ہے بے وقوف۔“
اس نے کراہتے ہوئے گویا انکشاف کیا۔”ہمارے ہاتھوں میں کانٹے چبھ گئے ہیں ۔“
میں نے درشتی سے کہا۔”تو....“
وہ روہانسا ہو کر چلائی۔”تو یہ کہ چیخ خود بہ خود نکل ........“
میں نے ایک دم اس کے ہونٹوں پر ہاتھ رکھا۔”آپ کو مرنے کا کچھ زیادہ ہی شوق ہو چلا ہے۔“
ٹارچ کی روشنی اس طرف آئی۔یقینا پہلے اس کا چیخنا اور پھر چلانا دشمنوں کے کانوں تک پہنچ گیا تھا۔ ”نظر آرہا ہے۔“ اسے ٹارچ کی طرف متوجہ کر کے میں نے بازو سے کھینچا۔”اب اٹھو،وہ اسی طرف چل پڑے ہیں ۔“
وہ اٹھ کر میرے ساتھ قدم ملانے لگی۔میں نے اس کا ہاتھ تھام لیا تھا۔ٹارچ کی روشنی لمحہ بہ لمحہ قریب آرہی تھی۔میں نے رفتار بڑھا دی۔پرما کو سانس چڑھ گیا تھا۔ہانپتے ہوئے پوچھے لگی۔
”کب تک بھاگنا ہوگا؟“
میں اطمینان سے بولا۔”اس بارے صرف اللہ پاک ہی جانتا ہے۔“
وہ چڑ کر بولی۔”آپ تعاقب کرنے والوں کو قتل کیوں نہیں کر دیتے۔“
”رکے تو گھر جائیں گے۔میں اکیلا ہوں ، ان کی تعداد آٹھ دس افراد سے کم نہ ہو گی۔اوروہ رائفلوں سے مسلح ہیں جبکہ میرے پاس پستول ہے۔“
اس نے تشویش ظاہر کی۔”ہم زیادہ دیر نہیں بھاگ سکیں گے۔“
”جب ہرن یا خرگوش کے پیچھے درندہ دوڑتا ہے تو انھیں آرام و سکون کا خیال تبھی آتا ہے جب کسی محفوط مقام پر پہنچ جائیں ۔“
اس نے شگوفہ چھوڑا۔”بھاگ دوڑ میں ہمیں خرگوش،ہر ن کے بجائے بھینس سمجھو۔“
مجھے ہنسی آگئی تھی۔
”ہنسو مت، اکٹھے ہی مریں گے۔“
میں نے حیرانی ظاہر کی۔”میرا نہیں خیال ہم نے کبھی ساتھ مرنے جینے کی قسم کھائی ہو۔“
وہ ہانپتے ہوئے غصے سے بولی۔”تو ہمیں مرنے کو اکیلاچھوڑ جاﺅ گے۔“
اچانک ہمارے عقب سے تڑتڑاہٹ کی آواز ابھری۔گولیاں کافی قریب سے چلائی گئی تھیں ۔ایک گولی تو”شوں “ کی آواز سے میرے سر کے اوپر سے گزری تھی۔میرے قدموں میں تیزی آئی۔پرما کے پیروں میں بھی جان پڑ گئی تھی۔تھوڑا سا آگے جاتے ہی ہم چٹان کے قریب پہنچے۔اس کے ساتھ ہی ایک بڑا سا پتھر پڑا تھا۔
گولیوں کی اگلی تڑتڑاہٹ سے پہلے پتھر کی آڑ لیتے ہوئے میں نے پرما کو بھی کھینچ کر بٹھا دیا تھا۔ اس کا سانس دھونکنی کی مانند چل رہا تھا۔اور دل کی دھڑکن اتنی بلند تھی کہ مجھے واضح سنائی دے رہی تھی۔وہ لیٹنے کے انداز میں ڈھیر ہو گئی۔
اس کے پیروں سے پکڑ کر میں نے اس کا مکمل جسم پتھر کی آڑ میں کرتے ہوئے پوچھا۔”ڈر لگ رہا ہے۔“
وہ برجستہ بولی۔”کیا نہیں ڈرنا چاہیے۔“
”ڈرنے سے بچت ہوتی تو معترض نہ ہوتا۔“اطمینان بھرے لہجے میں کہتے ہوئے میں نے پستول ہاتھ میں پکڑ لیا تھا۔
وہ ہانپتے ہوئے تلخ ہوئی۔”آپ کی تعریفیں سن کر سوچنے لگے تھے کہ شایدہمیں مکھن سے بال کی طرح انڈیا سے نکال کر لے جاﺅ گے۔“
میں نے جواب دیے بغیر قریب آتی روشنی پر نشانہ سادھا۔ٹارچ کی حرکت سے اندازہ ہوا وہ بھاگتے ہوئے آگے بڑھ رہے تھے۔اچانک وہ رکے اور نیچے جھک کر دیکھنے لگے۔یقینا کسی نشانی سے ہمارے جانے کی سمت کاتعین کر رہے تھے۔میرے اندازے میں اب تک وہ پستول کی رینج میں نہیں آئے تھے۔
مجھے جتانے کو وہ خودکلامی کے انداز میں بڑبڑائی ۔”کہتے ہیں دور کے ڈھول سہانے ہوتے ہیں ۔ پاکستانی کمانڈوز سے اتنے کارنامے منسوب کر دیئے جاتے ہیں کہ سچ مچ کے ہیرو لگتے ہیں ،مگر قریب سے دیکھو تو؛ ’تھوتھا چنا باجے گھنا۔‘کی کہاوت پر یقین آجاتا ہے۔“
جاری ہے
قسط نمبر 63
ریاض عاقب کوہلر
مجھے جتانے کو وہ خودکلامی کے انداز میں بڑبڑائی ۔”کہتے ہیں دور کے ڈھول سہانے ہوتے ہیں ۔ پاکستانی کمانڈوز سے اتنے کارنامے منسوب کر دیئے جاتے ہیں کہ سچ مچ کے ہیرو لگتے ہیں ،مگر قریب سے دیکھو تو؛ ’تھوتھا چنا باجے گھنا۔‘کی کہاوت پر یقین آجاتا ہے۔“
اس کے کوسنوں پر مجھے ہنسی آئی ۔”آپ کو کس نے کہا میں کمانڈو ہوں ۔“
وہ بیزاری سے بولی۔”اتنے دنوں سے میڈیا پر یہی تو سننے کو مل رہا ہے ۔“
”یار! میں سنائپر ہوں ۔“
وہ بد تمیزی سے بولی۔”تمھارا یار، بنتی ہے ہماری جوتی۔“
”معذرت۔“دبے لہجے میں کہتے ہوئے میں نے سب سے آگے والے پر شست سادھی۔دو تین ٹارچوں کی روشنی میری معاون و مددگار ثابت ہو رہی تھی۔گلاک کی کارگر رینج پچاس میٹر ہے اور جب میراتجربہ پکارا کہ اب وہ رینج میں ہیں ۔میں نے مسلسل تین بار لبلبی دبادی۔
”ٹھک....ٹھک....ٹھک“ کی آواز میں تین کراہوں کی آواز شامل ہو گئی تھی۔روشنی ساکت ہوئی اور پھر جیسے بھونچال آگیا تھا۔اپنے ساتھیوں کے گرنے پر انھوں نے ایک دم کلاشن کوف کا فائر کھول دیا تھا۔دو گنیں مسلسل گرج رہی تھیں ۔مجھے پہلے سے اندازہ تھا اس لیے فائر کرنے کے ساتھ ہی پتھر کی آڑ میں دبک گیا تھا۔پرما پہلے سے سکڑی سمٹی میرے ساتھ جڑ کر لیٹی تھی۔گولیوں کے پتھر سے ٹکراتے ہی اس کے حلق سے چیخ نکلی۔
میں نے گھبرا کر پوچھا۔”کیا ہوا؟“
وہ کانپتے ہوئے ہکلائی۔”کک....کچھ نہیں ۔“
”فائرنگ روکواوے لڑکی کومار دیا۔“پرما کی چیخنے پر کسی کو غلط فہمی ہوئی تھی۔
جونھی فائرنگ میں وقفہ آیا،میں نے آڑ سے سر نکال کر دشمنوں کی طرف نظرمرکوز کی۔مگر اب انھوں نے ٹارچیں بجھا دی تھیں ۔
یقینا ہمیں گھیرنے یا مارنے کی منصوبہ بندی ہو رہی تھی۔
اچانک ٹارچ روشن ہوئی۔”ٹارچ بجھاﺅ۔“کرخت آواز میں روشنی کرنے والے کو ڈانٹا گیا،شاید ان کے سرغنہ کی آواز تھی۔مگر اسے نصیحت کرنے میں دیر ہو گئی تھی۔کیوں روشنی کی جھلک دیکھتے ہی میں لبلبی دبا چکا تھا۔
نصیحت پر عمل کرنے سے پہلے گلاک کی گولی اس کا مزاج پوچھ چکی تھی۔تیز چیخ کے ساتھ گالیوں اور گولیوں کی بوچھاڑ ایک ساتھ ہم تک پہنچی تھی۔فائر جاری رہنے تک میں نے انتظار کیا اورجونھی فائر رکا میں نے پرما کے کان میں سرگوشی کی۔” آہستہ سے پیچھے کھسکو۔آواز نکالی تو اپنے ساتھ مجھے بھی مروا دو گی۔“
جواب دیئے بغیر وہ کہنیوں پر زور دے کر پیچھے کھسکنے لگی۔گولیوں کی دہشت اورموت کے خوف نے اسے حرکت کرنے کا طریقہ سمجھا دیا تھا۔اور یہ حقیقت ہے کہ جو سبق کتابیں، اساتذہ اور ماں باپ نہ سکھا سکیں وہ عملی زندگی کے چند لمحے سکھا دیتے ہیں ۔
دو تین میٹر پیچھے ہوتے ہی ہمیں چٹان کی آڑ میسر آگئی تھی۔پرما کو بازو سے پکڑ اٹھنے کا اشارہ کرتے ہوئے میں کھڑا ہوااورہم دبے قدموں دور ہٹنے لگے ۔چند قدموں کے بعد ہم نے رفتار بڑھا دی تھی۔
دوبار”ٹخ ٹخ ۔“ہوئی۔شاید ہمیں جانچنے کو فائر کیا گیا تھا،مگر ہمارے اور ان کے درمیان بڑی چٹان تھی۔فرلانگ بھر بھاگنے کے بعد ہلکی سی ڈھلان آئی۔اورپچاس ساٹھ قدم نشیب کے بعد چڑھائی آگئی تھی۔
تھوڑا سا بلند ہوتے ہی پرما ہانپنا شروع ہوگئی تھی۔
وہ زیادہ دیر چپ نہیں رہ سکی تھی۔رنکھے لہجے میں بولی۔”ہم تھک گئے ہیں ۔“
میں اطمینان سے بولا۔”اس مسئلے کا حل کم از کم میرے پاس نہیں ہے۔“
وہ تپتے ہوئے بولی۔”پتا نہیں تم جیسے نکمے سنائپروں کو پاکستان آرمی میں بھرتی کیوں کیا جاتا ہے۔ اور سچ کہوں تو اسی لیے تم ہمیشہ انڈین آرمی سے مار کھاتے ہو۔“
”میں یہ تو نہیں کہتا کہ انڈین چینلز کی خبریں نہ سنا کرو،البتہ اتنی نصیحت ضرور کرنا چاہوں گا کہ ہر خبر اعتبار کرنے کو نہیں ہوتی۔کبھی کبھی حقائق کا سامنا بھی کر لینا چاہیے۔“
”اور حقائق کیا ہیں ۔“وہ ہانپتے ہوئے رک گئی تھی۔
”حقیقت یہ ہے کہ یہاں رک نہیں سکتے۔“فضول بحث سے پہلو تہی کرتے ہوئے میں نے اسے بازو سے پکڑ کر کھینچا۔
وہ روہانسا ہوئی۔”ہم سے نہیں چلا جاتا۔“
”بے وقوف مجھے بھی مرواﺅ گی۔“اسے ڈانتے ہوئے میں نے جھک کر اسے کندھے پر اٹھا لیا تھا۔ اس کا جسم اور قدوقامت بالکل پلوشہ کے مماثل تھا۔پلوشہ کو کندھوں پر اٹھا کر میں کئی کلومیٹر چلتا رہا تھا۔لیکن تب ہمارے تعاقب میں کوئی نہیں تھا۔اور اب دشمن بھوکے درندوں کی طرح تعاقب میں تھے۔میرے کندھوں پر ایس آر ون کا جھولا لدا تھاجس کا مجموعی وزن نو دس کلو گرام کے بہ قدر تو ہوگا۔اس کے ساتھ پینتالیس پچاس کلوگرام کے بہ قدر پرما کا وزن ملا کر پہاڑی پر تیز رفتاری سے چلناٹارزن یا ہرکولیس کے لیے تو ممکن تھا میری یہ اوقات نہیں تھی۔البتہ ہم رکنے کے متحمل نہیں ہو سکتے تھے اس لیے رینگ رینگ کر چلنا بھی رکنے سے بدرجہا بہتر تھا۔
پرما معترض نہیں ہوئی تھی۔اور ہوتی بھی کیسے کہ حالات اسے بھی نظر آرہے تھے۔اس کی قربت یا نزدیکی میرے لیے کوئی معنی نہیں رکھتی تھی۔اور جن حالات میں ہم پھنسے تھے ،ایسے میں تو جان بچانے کے علاوہ کچھ سوجھتا ہی نہیں ہے۔نفسانی خواہشات میں ماحول اہم کردار ادا کرتا ہے۔جب جان کے لالے پڑے ہوں توشیطان بھی پیچھا چھوڑ دیتا ہے۔
اس کا سانس پھولا ہوا تھا۔اور اب میری حالت غیر ہونے لگی تھی۔حسینوں کو گلفام و گل بدن لکھا و پڑھا تو جا سکتا ہے لیکن حقیقت میں جب پھول سا بدن رکھنے والی کو اٹھانا پڑے تو پتا چلتا ہے کہ پھولوں کا بھی وزن ہوتا ہے۔اور پینتالیس کلو کا پھول ہو چاہے بوری،کندھوں پر ایک سا دباﺅ ڈالتے ہیں ۔
سو ڈیڑھ سوفٹ چڑھائی کے بعد میری ہمت جواب دے گئی تھی۔اسے آرام سے نیچے اتار کر میں گہرے سانس لینے لگا۔مشرق کی جانب صبح صادق کی سفیدی نمودار ہو گئی تھی۔دور کسی جگہ سے صبح کی اَذان کی ہلکی ہلکی آواز سنائی دینے لگی۔میں نے عقب کا جائزہ لیا،اب تک ٹارچوں کی روشنی نے بلندیوں کے سفر کا آغاز نہیں کیا تھا۔ شاید وہ کمک کا انتظار کر رہے تھے یا ہمیں گھیرنے کے کسی منصوبے پر عمل پیرا تھے۔یہ بھی ممکن تھا روشنی ہونے کاانتظار کر رہے ہوں ۔کیوں کہ عددی برتری کا صحیح فائدہ وہ روشنی ہونے کی صورت ہی میں اٹھا سکتے تھے۔
پرما کی دلگرفتہ آواز ابھری۔”ہمیں اٹھا کر کب تک چلو گے۔“
میں ہنسا۔ ”میرا خیال ہے کافی آرام ہو گیا ہے،اب آپ کوخود چلنا چاہیے۔“
وہ تلخ ہوئی۔”تمھیں لگتا ہے ہم چل سکتے ہیں ۔“
”نہیں چل سکتیں تو مرنا پڑے گا۔“
”اگر پاکستان زندہ پہنچ گئے تو تمھاری ساری بد تمیزیاں پاپا کے سامنے کھول کر بیان کریں گے۔“
میں متبسم ہوا۔”بد تمیزی تو آپ کر رہی ہیں ۔میں توعزت دے رہا ہوں ۔“
اس نے مشورہ دیا۔”ہمیں کہیں چھپا کر بھی تو ان کا مقابلہ کر سکتے ہو۔“
”گولیوں کے دو دھماکے سنتے ہی آپ نے چیخنا شروع کر دینا ہے۔“چڑھائی کی طرف قدم بڑھاتے ہوئے میں نے اس کا بازو تھام لیا تھا۔
وہ بادل نخواستہ قدم بڑھاتے ہوئے ملتجی ہوئی۔”وعدہ کرتے ہیں نہیں چیخیں گے۔“یقینا اس کی کوشش تھی کہ اسے آرام کرنے کاموقع مل جائے۔
میں نے حقیقت اگلی۔”بے وقوف یہاں جتنی دیر گزرے گی ہمارے لیے خطرہ بڑھتا جائے گا۔ابھی ان کی تعداد کم ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ ان کی تعداد میں اضافہ ہوتاجائے گا۔ ایک پستول اور چند گولیوں کے سہارے آخر میں کتنے آدمیوں سے مقابلہ کر پاﺅں گا۔“
وہ زیر لب کچھ بڑبڑا کر رہ گئی تھی۔میں اسے گھسیٹتا ہوا اوپر لے جانے لگا۔
وہ منمنائی۔”ہمیں گرمی لگ رہی ہے اور سردی بھی۔“ بھاری کوٹ اس نے پہنا ہوا تھا۔اور مسلسل بھاگ دوڑ کی وجہ سے اسے گرمی تو لگنا تھی۔خود میں پسینہ پسینہ ہو رہا تھا۔سردی کے باوجود مشقت ہمیں اس نہج تک لائی تھی۔اور پسینے کی وجہ سے جونھی رکتے سردی لگنے لگتی۔اور حرکت کرنے پر گرمی محسوس ہوتی۔
چند قدم مزید لیتے ہی اس نے کوٹ اتار کر میری طرف بڑھایا۔”یہ کوٹ پکڑو جب ضرورت ہوگی ہم لے لیں گے۔“
میں ہنسا۔”پہننا آپ نے ہے اور اٹھاﺅں میں ۔“
وہ منہ بناتے ہوئے بولی۔”تھوڑی دیر پہلے ہمیں بھی اٹھایا ہوا تھا،کوٹ کا وزن ہم سے تو کم ہی ہو گا۔“
میں نے کوٹ کندھے پر رکھ لیا کہ چوں چرا کی گنجائش نہیں تھی۔وہ حکم دینے کی عادت سے مجبور تھی یامجھ پر اپناکوئی خصوصی استحقاق سمجھ رہی تھی۔اس سے مجھے کوئی غرض نہیں ہونا چاہیے تھی۔بلکہ شکر کرنا چاہیے تھا کہ کم از کم وہ ساتھ چلنے پر تو تیار تھی اور استطاعت و حوصلے سے زیادہ ساتھ دے رہی تھی۔اگر باپ کے پاس نہ لوٹنا چاہتی تو میں کیا کر لیتا۔میرے نزدیک تو انصاری صاحب کی خوشنودی معنی رکھتی تھی۔
کوٹ مجھے پکڑا کر اس نے گاﺅن اتار کر پھینک دیا تھا۔میں نے اعتراض کی ضرورت محسوس نہیں کی تھی۔
پہاڑی کی بلندی تک پہنچنے تک ملگجا اجالا ہوگیا تھا،جو بتدریج روشنی میں تبدیل ہونے لگا۔پرما نے گرم ٹوپی سر سے اتار کر ہاتھ میں پکڑی لی تھی۔اس کی نیلی جینز، سرخ پھولدار قمیص اور جرسی مٹی مٹی ہوگئی تھی۔ جھاڑیوں میں گرنے کی وجہ سے ہاتھوں میں کانٹنے چبھنے کے ساتھ چہرے پر ایک دو ہلکی خراشیں آئی تھیں ۔دائیں گال پر سرخ لکیر جیسی بن گئی تھی۔ماتھے پر بھی ہلکا سا خون لگا ہوا نظر آرہا تھا۔وہ مضمحل اور تھکی تھکی لگ رہی تھی۔ چوٹی پر پہنچتے ہی لمبا پڑتے ہوئے اس نے اعلان کیا۔
”ہم سے مزید چلنے کی توقع کرنا عبث ہو گا۔“
اسے پہاڑی کے دامن میں نظر آنے والے دشمنوں کی طرف متوجہ کرتے ہوئے میں نے کہا۔”پہلے نیچے دیکھ لو،پھر کوئی دعویٰ کرنا۔“
وہ روہانساہوئی۔”یہ کب ہمارا پیچھا چھوڑیں گے۔“
میں صاف گوئی سے بولا۔”جب آپ دنیا چھوڑ دیں گی تب۔“
وہ بد دلی سے بولی۔”اب تو لگتا ہے موت کے دامن ہی میں پناہ لینا پڑے گی۔“
میں بیگ کھول کر ایس آر ون کو جوڑتے ہوئے اعتمادسے بولا۔”جب تک میں زندہ ہوں آپ کو کوئی اور سہارا ڈھونڈنے کی ضرورت نہیں ۔“
وہ سرعت سے بولی۔”سچ میں ۔“نجانے کیوں اس کا لہجہ مجھے معنی خیز لگا تھا۔
میں نے اپنے خلوص کا یقین دلایا۔”ان شاءاللہ۔“اس دوران میرے ہاتھ تیزی سے چل رہے تھے۔چند لمحوں میں ایس آر ون اپنے اصل روپ میں آگئی تھی۔میگزین بھر کر میں نے رائفل پر چڑھائی اور پیچھے لیٹ گیا۔دشمنوں کی پیش قدمی میں رکاوٹ ڈالنے کوان کے دل میں خوف ڈالنا ضروری تھا۔ورنہ ہمیں بے دست و پا سمجھ کر ان کی جرآت و حوصلہ بڑھ جاتا۔
اس نے سادگی سے پوچھا۔”اتنی دور سے انھیں نشانہ بنا لو گے۔“
میں انکساری سے بولا۔”کوشش تو کرنا پڑے گی۔“
”گرینڈ پا پر گولی آپ نے چلائی تھی یا لورا براﺅن نے۔“
میں نے جواب گول مول کیا۔”کسی ایک نے تو چلانا تھی۔“
اس نے تصدیق چاہی۔”کیا سچ میں اڑھائی کلو میٹر کے فاصلے سے گولی چلائی گئی تھی۔“
میں نے اصل فاصلہ بتایا۔”دو کلومیٹر۔“
وہ اطمینان سے بولی۔”پھر تویہ فاصلہ کم ہے۔“
ضروری کارروائی کے بعد میں نے رائفل کا بٹ کندھے میں دبایااورسب سے آگے والے پر شست سادھ لی۔وہ غیر منظم انداز میں چلتے ہوئے جھاڑیاں کھنگالتے آگے بڑھ رہے تھے۔ ہم ایک کم بلند پہاڑ پر موجود تھے۔ لیکن یہ پڑاﺅ عارضی تھا۔بدقسمتی سے ہم کمین گاہ منتخب کرنے کی حالت میں نہیں تھے۔ہمیں تعاقب کرنے والوں کی پیش قدمی میں رکاوٹ ڈال کر آگے بڑھنا تھا۔وہ پھیل کر آگے بڑھ رہے تھے۔یقینا بندوں کے زخمی ہونے کے بعد انھوں نے اندھیرے میں آگے بڑھنے کی غلطی نہیں کی تھی۔ممکن تھا وہ کمک منگوا چکے ہوں ،جو ان کے پاس پہنچنے والی ہو۔یہ گمان بھی بعید از قیاس نہیں تھا کہ سڑک کے ذریعے وہ آگے کا گھیراﺅ کر چکے ہوں ۔ وہ چند غنڈوں کی ٹولی نہیں تھی کہ ان کے پاس وسائل کی کمی ہوتی۔وگنیش شکلا یعنی منوج جوشی جرم کی دنیا کا نامی گرامی شخص تھا۔وہ پوری طاقت کے ساتھ ہمارے خلاف میدان میں اتر چکا تھا۔بلاواسطہ انھیں را کی مدد بھی حاصل تھی۔ گو ممتا دیدی کی وجہ سے را میں میرے بھی ہمدرد پیدا ہو گئے تھے،لیکن وہ کھل کر سامنے نہیں آسکتے تھے۔ جبکہ پولیس تو یوں بھی وگنیش کی زرخرید تھی۔
وہ اکیلی ٹیکری نہیں تھی جسے وہ گھیر لیتے۔ہمیں دوسری جانب گھیرنے کو بھی انھیں پہاڑی کی بلندی ضرور عبور کرنا پڑتی۔
”ایک گولی چلانے کو اتنی دیر لگا دی۔“مجھے سوچ میں کھویا دیکھ کر وہ استفسار کرنے لگی۔
میں نے وضاحت کی۔”سوچ میں نہیں کھویا،ان کے مناسب جگہ پر آنے کا منتظر ہوں ۔اگر یہیں گولی چلا دی تو صرف ایک ہی کو زخمی کر سکوں گا،جبکہ جھاڑیوں سے نکل کر نشیب میں اتر آئے تو تین چار کو نشانہ بنا لوں گا۔“
”زخمی کیوں ؟جان سے مارو ان خبیثوں کو۔“وہ اپنے متعلق ان کے ارادے سن چکی تھی،تبھی صحیح تپی ہوئی تھی۔
میں ہنسا۔”کبھی کبھار دشمن کو زخمی کرنا،ہلاک کرنے سے زیادہ کارآمد رہتا ہے۔“
اس نے حیرانی کا اظہار کیا۔”کیسے؟“
میں نے وضاحت کی۔”قتل ہونے والے کی لاش کو پھینک کر آگے بڑھنا مشکل نہیں ہوتا،لیکن زخمی سنبھالنے کوایک دو آدمی ساتھ چھوڑنا پڑتے ہیں ۔اسی طرح زخمیوں کی چیخ و پکاربھی مورال پر برا اثر ڈالتی ہے۔“
نشیب میں بھی جھاڑیاں موجود تھیں مگر زیادہ گھنی نہیں تھیں ۔میں نے آگے والے کی دائیں ٹانگ پر نشانہ سادھتے ہوئے لبلبی دبا دی۔
وہ نیچے گرا اور پھر ٹانگ کو پکڑ کر دہرا ہو گیا۔اس کی چیخ تو سنائی نہیں دی تھی البتہ کھلا منہ ٹیلی اسکوپ سائیٹ میں نظر آرہا تھا۔
”شاباش،ایک تو گیا۔“پرما کے منہ سے بے ساختہ نکلا۔تب تک میں رائفل کاک کر کے لبلبی دبا چکا تھا۔
وہ چہکی۔”دوسرا بھی۔“
تیسری بار لبلبی دبانے پر باقی جھاڑیوں میں روپوش ہو چکے تھے اور وہاں تین زخمی ہی پڑے تھے۔
پرما نے فیصلہ صادر کیا۔”آپ تو بہت اچھے فائرر ہیں ،بس تمام کوکھلاس کرو تاکہ سفر تو اطمینان سے کر سکیں ۔“
میں نے منہ بنایا۔”کوئی نظر آرہا ہے کہ گولی چلا سکوں ۔“
وہ جلدی سے بولی۔”کب تک چھپیں گے۔“
میں نے منہ بنایا۔”بے وقوف ہمارے پاس اتنا وقت ہی کہاں ہے کہ ان کے دوبارہ سامنے آنے کا انتظار کر سکیں ۔“
وہ دلگرفتگی سے بولی۔”کیا ارادہ ہے۔“
میں ایس آر ون کو سرعت سے بیگ میں منتقل کرتے ہوئے بولا۔”وہ تھوڑی دیر دبکے رہیں گے۔ اس اثناءمیں ہمیں ان سے زیادہ سے زیادہ فاصلہ پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔کیوں کہ جلد ہی انھیں کمک مل جانا ہے۔اور اتنی تعداد میں دشمن پہنچ جائیں گے کہ مقابلہ کرنا ممکن ہی نہیں رہے گا۔“
اس نے منہ بسورا۔”آپ ہمیں مسلسل ڈرا رہے ہیں ۔“
”ہمیں چند قدم رینگ کر عقبی ڈھلان تک پہنچنا ہوگا۔اگر چل کر گئے اور دشمن نے دیکھ لیا تو انھیں ہمارے فرار کا پتا چل جائے گا۔“یہ کہتے ہوئے میں نے بیگ کندھوں میں ڈالا اور رینگتے ہوئے عقبی ڈھلان کے پاس پہنچ گیا۔پرما کو کرالنگ کرنا نہیں آتا تھا۔وہ گھٹنوں کے بل پر چوپائیوں کی طرح چلتے ہوئے میرے پیچھے پہنچ گئی تھی۔محفوظ آڑ میں آتے ہی میں اٹھ کھڑا ہوا۔ڈھلان اترنا اتنا مشکل نہ تھا۔البتہ اسے پھسلنے سے بچانے کو مجھے اس کا ہاتھ تھامنا پڑا۔
روشنی میں سفر کرنا آسان تھا۔ڈھلان میں یوں بھی تیزی سے سفر کیا جا سکتا ہے۔وہ بلندی جس پر ہم گھنٹے سے بھی زیادہ وقت لگا کر چڑھے تھے ،چند منٹ میں طے کر کے نیچے پہنچ گئے۔
اس نے انکشاف کیا۔”ہمیں پیاس لگی ہے اور بھوک بھی محسوس ہو رہی ہے۔“
”صبر کرو۔“اطمینان سے کہتے ہوئے میں آگے بڑھ گیا۔وہ میرے ساتھ قدم ملانے کی کوشش کرتے ہوئے بولی۔
”کیا مطلب صبرکرو۔“
میں اطمینان سے بولا۔”جب کھانے پینے کو کچھ میسر نہ ہو تو ہمارے ہاں بھوکے پیاسے لوگ جو کرتے ہیں ،اسے صبر کہتے ہیں ۔“
وہ تلخی سے بولی۔”کبھی اچھے الفاظ بھی منہ سے نکال لیا کرو،ہر وقت خون جلانے اور دماغ خراب کرنے میں لگے رہتے ہو۔“
میں برہم ہوا۔”ہم بازار میں نہیں پھر رہے،نہ آپ کے ڈرائینگ روم میں براجمان ہیں ،پھر ایسا تقاضا کرنے کی کوئی تُک بنتی ہے۔“
وہ نادم ہوئی۔”ہم نے سوچا شاید بیگ میں کچھ کھانے کو رکھا ہو۔“
میں نے منہ بنایا۔”اچھا مذاق ہے۔“
وہ خاموش ہوگئی تھی۔لیکن اسے خاموش کرانا مسئلے کا حل نہیں تھا۔لامحالہ وہ زیادہ دیر بھوکی پیاسی نہ رہ پاتی۔گو پانی ملنے امید قوی تھی،البتہ کھانے کو کچھ ڈھونڈناکافی دشوار تھا۔
”ہم تھک گئے ہیں ۔“وہ زیادہ مسافت طے نہیں کر سکی تھی ۔ایک بار پھر تھکن کا اعلان کرنے لگی۔بلا شبہ جتنا سوچا تھا اس سے کئی گنا زیادہ مشکلات پیدا کر رہی تھی۔
میں شاکی ہوا۔”آپ سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کر رہیں ۔ جانتا ہوں ایسے حالات سے آپ کاپہلی بار واسطہ پڑ رہا ہے۔لیکن یقین مانو رونے پیٹنے اور واویلا کرنے سے بچت نہیں ہوسکتی۔ہماری پہلی ترجیح جان بچانا ہے۔اس لیے تھوڑا برداشت کرو۔میں بھی تو آپ کے ساتھ ہوں ۔“
اس نے منہ بسورا۔”آپ فوجی ہیں اور ہم نرم ونازک لڑکی ہیں ۔“
میں متبسم ہوا۔”میں نے اتنا وزن بھی تو اٹھایا ہوا ہے۔“
”پلیز ہم سے اور نہیں چلا جاتا۔تھوڑی دیر بیٹھ جاتے ہیں ناں ۔“ملتجی ہوتے ہوئے اس نے قدم روکے اور پھر بغیر میری اجازت کے پھسکڑا مار کر بیٹھ گئی۔
میں نے اسے تھوڑی دیر بیٹھنے دیا ۔وہ گہرے سانس لے کر تھکن اتارنے لگی۔
”پاﺅں کے تلوے،جل رہے ہیں اور درد کر رہے ہیں ۔“اس نے بوٹ اتارنے کو ہاتھ بڑھایا۔
”بوٹ مت اتارو۔“میں نے فوراََ منع کر دیا تھا کیوں کہ ایک بار وہ بوٹ اتار دیتی تو دوبارہ پہننا دشوار ہوجاتا۔ممکن تھا اس کے پاﺅں پر چھالے بنے ہوتے۔سخت پتھریلی زمین پر اتنا زیادہ پیدل چلنے کی وجہ سے چھالوں کا بننا حیران کن نہیں تھا۔ایسا شخص جو کبھی اتنا زیادہ پیدل نہ چلا ہو اس کے پاﺅں کا جلنا، پنڈلیوں میں درد ہونااورپاﺅں کے تلووں پر چھالے بننا عام سی بات ہے۔وہ تو کچھ زیادہ ہی نرم، ملائم و نازک تھی۔امراءکی تو ورزش بھی آرام و آسائش اور مزے والی ہوتی ہے۔موسم کی مناسبت سے جم کا درجہ حرارت ہوتا ہے۔ٹریڈمِل پر دوڑتے ہیں ، فوم پر لیٹ کرہلکا پھلکا ہل جل لینا ہی ان کے نزدیک کافی ہوتا ہے۔جنھیں سردیوں میں ہیٹراور گرمیوں میں اے سی کی سہولت ہر دم ،ہر گھڑی میسر ہو وہ موسم سے لڑنے کی صلاحیت بالکل نہیں رکھتے۔آرام طلبی اور جسمانی آسائشیں انسان کو ناکارہ کر دیتی ہیں ۔سونے پہ سہاگا،ڈبوں کی غذائ،مصنوعی مشروبات اور منرل واٹر کر دیتے ہیں ۔ یوں انسان کے مدافعاتی نظام کی صلاحیت صفر رہ جاتی ہے۔
مگر میرے منع کرنے کے باوجودوہ نہ رکی اور بوٹ اتاردیے۔باریک جرابیں اتارکروہ سرخ ہوتے تلووں پر ہاتھ پھیرتے ہوئے رنکھی ہوئی۔
”چھالے بن گئے ہیں ۔“
میں اطمینان سے بولا”کوئی انہونی بات نہیں ہے،پہاڑی علاقے میں زیادہ چلنے پر چھالے بن جایا کرتے ہیں ۔“
وہ تشویش سے بولی۔”اب ہم چلیں گے کیسے۔“
میں نے درخت کی شاخ سے کانٹا توڑا اور جونھی نیچے بیٹھ کر اس کے پاﺅں کو ہاتھ لگایا،اس نے جلدی سے پاﺅں کھینچنے کی کوشش کی،یقینا وہ میرا ارادہ جان گئی تھی۔
”کچھ نہیں ہوتا،اتنی نزاکت مت دکھاﺅ کہ مجھے ڈانٹنا پڑے۔“
اس نے سہمے ہوئے انداز میں کہا۔”ہم خود چبھوئیں گے۔“
”چھالے کا پانی نہ نکالا تو زخم بن جائے گا۔اور بے فکر رہو،چھالے کی جلد بے جان ہوتی ہے۔“
”جانتے ہیں ،مگر پھر بھی ڈر لگ رہا ہے۔“
”کچھ نہیں ہوتا۔“اس کی پنڈلی پر گرفت بڑھاتے ہوئے میں نے کانٹے کی نوک چھالے میں اتار دی۔
جھرجھری لیتے ہوئے اس نے زور سے ۔”سی....سی۔“کیا،لیکن زیادہ درد نہ ہوتا دیکھ کر چپ سادھ لی۔
کانٹے کو چھالے کے آر پار گزار کر میں نے چند لمحے اندر رہنے دیا تاکہ چھالے کا فاسد پانی جلد سے باہر نکل جائے۔پھر بیگ سے نئی سوتی جرابیں نکال کر اسے پہننے کودیں ۔
جرابیں ڈال کر اس نے بڑی مشکل سے بوٹ پہنے۔ہم نے چار پانچ منٹ آرام کر لیا تھا۔مزید وہاں بیٹھنا مناسب نہیں تھا۔
”اب اٹھ جاﺅ۔“میں کھڑا ہو گیا۔
زمین پر ہاتھ ٹیک کر وہ بڑی مشکل سے کھڑی ہوئی۔چہرے پر بارہ بج رہے تھے۔حالات کی نزاکت اس کی نظر سے بھی اوجھل نہیں تھی۔
چند قدم لیتے ہی اس نے محجوبانہ انداز میں ایک انگلی اٹھائی۔
”ایک منٹ ،ہم ابھی آئے۔“اور ایک گھنی جھاڑی کی طرف بڑھ گئی۔
موقع غنیمت جانتے ہوئے میں نے بیگ نیچے رکھااوراس سے مخالف جانب ایک اور جھاڑی کی طرف بڑھ گیا۔
فطری تقاضے انسان کے ساتھ لازم و ملزوم ہیں ۔اور یہی کمزوریاں ہیں جو انسان کو اس کی حیثیت یاد دلاتی رہتی ہیں ۔انسان نہ بھوک پیاس برداشت کرسکتا ہے اور نہ خوراک کو زیادہ دیر پیٹ کے اندر رکھ سکتا ہے۔
تازہ دم ہوکر ہم دونوں جانے کو تیار ہو گئے۔مگر وہاں سے آگے بڑھنا شاید ہماری قسمت میں نہ تھا۔ میں نے جونھی ایس آر ون کا بیگ کندھوں میں ڈال کر پرما کو چلنے کااشارہ کیا،اچانک جھاڑیوں کی اوٹ سے دو مسلح افراد برآمد ہوئے۔
”راجا۔“پرما سراسیمگی سے چیخی تھی۔یقینا دشمنوں کی کمک پہنچ گئی تھی۔
”خبردار۔“ ایک نے چیختے ہوئے پستول والا ہاتھ سیدھا کرنے کی کوشش کی،مگر میں اسے خبردار کیے بغیر جارحانہ قدم اٹھا چکا تھا۔میری انگلی نے سرعت سے دو مرتبہ لبلبی دبائی دونوں مردہ چھپکلیوں کی طرح نیچے گرے تھے۔
میں پرما کا ہاتھ تھام کرواپس بھاگ پڑا۔وہاں دم بہ دم خطرہ بڑھتا جا رہا تھا۔اور میرے لیے پرما وہ کمبل ثابت ہو رہی تھی جسے نہ چھوڑا جا سکے اور نہ اوڑھا جا سکے۔وہ ایسا بھاری بوجھ تھی جسے کندھوں سے اتارنا ممکن نہ تھا۔
خطرے کو دیکھتے ہی پرما کی ٹانگوں میں بھی بجلی بھر گئی تھی۔وہ میرے ساتھ قدم ملانے کی پوری کوشش کر رہی تھی۔جھاڑیاں جہاں ہماری مددگار تھیں وہیں دکھاﺅکوبھی محدود کر رہی تھیں۔
ہم ڈیڑھ دو سو قدم سے زیادہ فاصلہ طے نہیں کر سکے تھے کہ ایک اور قیامت ٹوٹ پڑی۔ایک جھاڑی کی اوٹ سے نکلتے وقت کوئی پوری قوت سے مجھ سے ٹکرایا تھا۔میں منہ کے بل گرنے لگا۔بڑی مشکل سے چہرے کے سامنے ہاتھ ٹیک کر میں نے تھوبڑے کا بچاﺅ کیا۔پستول میرے ہاتھ سے چھوٹ گیا تھا۔
جب تک سنبھل کر اٹھتادو رائفلیں ہم پر تن چکی تھیں ۔ایک میرے سامنے کھڑا تھا۔بھاری جثے اور لمبی قامت کا دیو نما شخص ،جبکہ عقب میں چھریرے بدن کا جوان تھا۔
بھاری جثے والے نے کرخت لہجے میں دھمکایا۔”ذرا سی غلطی تمھیں نرگ میں پہنچا دے گی۔“
میں گہرا سانس لے کر رہ گیا تھا۔آنکھوں ہی آنکھوں میں ،اپنے اور سامنے والے کا درمیانی فاصلہ ناپا، مگر اس پر حملہ کرنے سے کامیابی ملنے کی امید نہ ہونے کے برابر تھی۔کیوں کہ اس کا دوسرا ساتھی جو میرے عقب میں کھڑا تھا وہ اس اثناءمیں مجھے آسانی سے نشانہ بنا سکتاتھا۔
بھاری جثے والے نے حکم دیا۔”بیگ اتار دو بالک۔“میں نے بیگ نیچے پھینک دیا۔
اگلا حکم ملا۔”پستول کو میری طرف ٹھوکر مارو۔“
میں نے بے چوں و چرا اس کے کہنے پر عمل کیا کہ اب تک گیند اس کے کورٹ میں تھی۔
اس کے لبوں پر تمسخرانہ تبسم ابھرا۔”کیا سوچا تھا،اس بلبل کے ساتھ بھاگنے میں کامیاب ہو جاﺅ گے۔“
میں خاموش رہا۔
”بے فکر رہو،آسان موت تمھارے نصیب میں نہیں ہے۔تم نے میرے بہت سے قیمتی بندے ناکارہ و ضائع کر دیئے ہیں ایک ایک کا پورا انتقام لوں گا۔البتہ تھوڑا صبر کرنا پڑے گاکہ تم سے پہلے اس بلبل کا نمبر ہے جس کی تصویر دیکھ کر میری راتوں کی نیندیں اڑ گئی ہیں اور تمھاری تلاش کو کارندوں کی صوابدید پر چھوڑے بغیر مجھے خود ساتھ آناپڑا۔“
پرما سخت متوحش اور خوفزدہ لگ رہی تھی۔اس کی سہمی ہوئی نظریں غنڈوں کا دیدار کر کے مجھ پر گڑی تھیں ۔کیوں کہ شعوری و لاشعوری طور پر وہ مجھے اپنا محافظ سمجھتی تھی۔اور یہ سمجھنا کچھ غلط بھی نہ تھاکہ میں مسلسل ایسے محافظ کے روپ میں سامنے آرہا تھا،جو نہ صرف اس کی جان بچارہا تھابلکہ ہر ضرورت و تقاضے کا بھی خیال رکھ رہا تھا۔
میرے عقب میں موجود دشمن نے مشورہ دیا۔”باس !نکلنا چاہیے،ورنہ پولیس پہنچ گئی تو صرف انعام کی رقم ہی مل پائے گی،یہ پھول رسائی سے دور ہو جائے گا۔“
باس مکروہ انداز میں بولا۔”یار سنیل!کہیں جانے کا وقت ہے نا مجھ میں اتنا صبر۔جو کچھ ہوگا،یہیں ہوگا۔پولیس آگئی توانھیں بھی بہتی گنگا میں ہاتھ دھونے کا موقع مل جائے گا۔یوں بھی اس معاملے میں پولیس اور ایجنسیوں کی مدد ہمارے ساتھ ہے۔“
”پھر جلدی کرو باس۔“سنیل نے اتفاق کرتے ہوئے میری طرف اشارہ کیا۔”میرا خیال ہے اسے گولی مار دیتے ہیں ۔“
باس زہر خند ہوا۔”اتنی آسان موت اس کی قسمت میں کہاں ۔یہ پہلے اپنی محبوبہ کا انجام اپنی آنکھوں سے دیکھے گا۔پھرہمارے زخمی و مرنے ساتھیوں کا حساب کتاب دے گا۔
میں نے مہلت کے حصول کو انھیں باتوں میں لگانا چاہا۔”میں تمھیں دگنی رقم دے سکتا ہوں ۔“
پرما کی جانب اشارہ کرتے ہوئے باس نے کریہہ قہقہ بلند کیا۔”کیا لگتا ہے،پورن سنگھ پیسوں کی خاطر اس بلبل سے دست بردار ہو جائے گا۔“
میں نے جلدی سے صفائی پیش کی۔”منوج جوشی کو لڑکی چاہیے اور تمھیں رقم۔ اپنی حاجت پوری کر کے اسے منوج جوشی کے حوالے کرنااور رقم بٹور لینا۔اور جتنی رقم منوج جوشی دے گا اس سے دگنی رقم مجھ سے لے لینا۔بلکہ اس لڑکی نے بھی کروڑوں کا زیور پہنا ہے،وہ بھی تمھارا ہوا۔“
پورن سنگھ طنزیہ لہجے میں بولا۔”سالے موت کو سامنے پا کر اپنی محبوبہ ہی سے دست بردار ہو گیا ہے۔“
میں نے بات بنائی۔”میری محبوبہ ہے نہ اس سے کوئی اور رشتا ہے۔ایک شخص نے اسے لانے پر بھاری رقم کی ادائی کا وعدہ کیا تھا۔اگر ناکام ہواتو کون سا آسمان ٹوٹ پڑے گا۔“
پرما بے بسی سے چلائی۔”آپ ایسا نہیں کر سکتے۔بھول گئے ہماری حفاظت کا وعدہ کیا تھا۔“
میں اطمینان سے بولا۔”محترمہ ،پہلے اپنی جان ہوتی ہے۔اور پھر کسی اور کا نمبر لگتا ہے۔“
جاری ہے
قسط نمبر 64
ریاض عاقب کوہلر
میں اطمینان سے بولا۔”محترمہ ،پہلے اپنی جان ہوتی ہے۔اور پھر کسی اور کا نمبر لگتا ہے۔“
”تف ہے تمھاریہ مردانگی پر۔ہم سوچ بھی نہیں سکتے تھے کہ تم اتنے بودے،کمزور و بزدل نکلو گے۔ ذلیل انسان حفاظت نہیں کر سکتے تھے تو وعدہ کیوں کیاتھا۔“
پورن سنگھ نے قہقہ لگایا،سنیل نے اس کا ساتھ دیا تھا۔” واہ،یہاں تو وعدے وقسمیں یاد دلائی جا رہی ہیں ۔ارے میری بلبل، پورن سنگھ کو سامنے پا کر بڑے بڑوں کی شلوار گیلی ہو جاتی ہے اس لونڈے کی حیثیت ہی کیا ہے۔“
پرما طیش میں چلائی۔”ایسے غلیظ اور خبیث شخص سے قول و قرار باندھتی ہے ہماری جوتی۔“
”بکواس بند کرو گھٹیا عورت۔“میں جارحانہ انداز میں اس کی طرف بڑھا۔
”ٹھہرو،رکو....“پورن سنگھ چلایا۔
میں نے ان سنا کرتے ہوئے پرما کی طرف پیش قدمی جاری رکھی۔وہ سہم کر الٹے قدم پیچھے ہٹنے لگی۔ شوخ آنکھوں میں بے یقینی وخوف ابھر آیا۔ لیکن اس تک پہنچنے سے پہلے مجھے زوردار ٹھوکر لگی۔جس میں میری منشا کا گہرا عمل دخل تھا۔میں منہ کے بل نیچے گرنے لگا،کہ کبھی کبھار جیتنے کو گرنا پڑتا ہے۔
زمین سے ٹکرانے تک میرا دایاں ہاتھ ویبلے (Weblay) ریوالورکو قبضے میں کر چکا تھا۔میرا زیادہ دھیان چونکہ ریوالور کی طرف تھا اس لیے زمین سے ٹکرانے پر اچھی خاصی چوٹ لگی تھی۔میرے منہ سے زوردار کراہ نکلی۔
پورن سنگھ اورسنیل نے زوردار قہقہ لگایا تھا۔میری درگت پر انھیں خوشی ہوئی تھی۔
ریوالور میرے دائیں ہاتھ کی گرفت میں چھاتی کے نیچے دبا تھا۔میرے انگوٹھے نے مہارت سے سیفٹی ہٹائی۔اور بایاں ہاتھ زمین پر ٹیک کر میں نے اٹھنے کی اداکاری کی،جسم کے تھوڑا سا اوپر ہوتے ہی میں زوردار جھٹکے سے یوں پلٹا کہ میری پیٹھ زمین سے ٹکرائی اور ریوالور کو دونوں ہاتھوں میں تھامتے ہوئے میری پہلی گولی نے سنیل کی کھوپڑی کو بوسا دیااور پھر برقی کوندے کی طرح نال کو پورن سنگھ کی طرف موڑ کر دو بار لبلبی دبا دی۔
میں نے پورن سنگھ کے دائیں ہاتھ کو نشانہ بنایا تھا۔کیوں کہ اس نے سرعت سے رائفل سیدھی کی تھی۔ اگر اس کے سر میں گولی مارتا تواندیشہ تھا،وہ گولی چلانے میں کامیاب رہتا۔اور بیرل کا رخ میری جانب ہونے کی وجہ سے رائفل کی گولیاں اپنا کام کر جاتیں ۔کیوں کہ اس کا دماغ ختم ہونے سے پہلے انگلی کو ٹریگر پر دباﺅ بڑھانے کا حکم جاری کر چکا ہوتا۔یوں مرتے مرتے بھی اس کی رائفل میرا کام کر جاتی۔
میری تجویز کے نصیب میں آدھی کامیابی لکھی تھی۔کیوں کہ گولیوں کے جھٹکے سے بیرل کا رخ تو تبدیل ہو گیا تھا، البتہ لبلبی دبانے میں وہ کامیاب رہا تھا۔”تڑتڑتڑ “کی آواز سے گولیوں کا چھٹا برآمد ہوا ،لیکن دوبارہ فائر کرنے کے قابل وہ نہیں رہاتھا۔گولیاں اس کی ہاتھ کی پشت میں گھسی تھیں ۔رائفل اس کے ہاتھ سے نیچے گری۔ وہ بے ساختہ دایاں ہاتھ بغل میں داب کر خون روکنے کی کوشش کرنے لگا۔گٹر کی مانند غلاظت اگلنے والے ہونٹوں سے کراہیں خارج ہونے لگیں ۔
”اب بتاﺅ بالک!تم راجکماری کے ساتھ کیا کرنے کا ارادہ رکھتے ہو۔“
وہ ہکلایا۔”ہم معاہدہ کر سکتے ہیں ۔“
میں نے اٹھتے ہوئے استہزائی قہقہ بلند کیا۔”سچ میں ایسا ہی سوچتے ہو۔“ساتھ ہی ریوالور والا ہاتھ سیدھا کیا۔
”نن....نہیں ....پلیز بھگوان کے لیے....“اس نے گڑگڑا کر جان بچانے کی کوشش کی ،مگر وہ ایسا کردار نہ تھا جسے زندہ چھوڑنے کی بابت غور کیا جاسکتا۔لبلبی دبا کر میں دھرتی کا سینہ اس کے گندے وجود سے پاک کیا۔وہ جھٹکا لگنے سے پشت کے بل گرا تھا۔
”آپ بہت برے ہیں ۔“میں جیسے ہی مڑا،وہ آنکھیں نم کرتے ہوئے قریب آئی اور میری چھاتی پر مکا رسیدکرتے ہوئے بولی۔۔”ایسے بکواس کی جاتی ہے۔“
میں شاکی ہوا۔”تو آپ سچ جھوٹ میں تمیز نہیں کر سکتیں ۔“
وہ محجوب ہوئی۔”آپ کے انداز نے ہمیں چکرا دیا تھا۔لگا آپ سچ میں ہمیں ان کے حوالے کرنے والے ہیں ۔“
”وہ مسلح تھے۔انھیں قابو کرنے کو کوئی ترکیب تو کرنا تھی۔اور اب تیاری پکڑوگپ شپ کا وقت نہیں ہے۔“میں بیگ اٹھانے کو بڑھا۔مگر جیسے ہی جھکا اچانک دوڑتے قدموں کی آواز سماعتوں میں پہنچی۔میں جھٹکے سے کھڑا ہوا۔وہ دوافراد تھے۔دونوں ہی مسلح تھے۔
”خبردار۔“آگے والے نے بھاگتے ہوئے پستول سیدھا کرنا چاہا۔مگر میں اس کے دھمکانے سے پہلے لبلبی دبا چکا تھا۔وہ تیز رفتاری سے دوڑتا ہوا میرے کافی قریب پہنچ چکا تھا۔گولی کھانے کے بعد بھی ایک دو قدم لے کر گرا۔مگر اس سے پہلے کہ میں دوبارہ لبلبی دباتا اس کے عقب میں بھاگنے والا میرا پرانا دشمن توپ سے نکلے گولے کی طرح اڑتا ہوا مجھے ٹکرایااور ساتھ لیتا ہوانیچے گر گیا۔یقینا آپ سمجھ گئے ہوں گے کہ پرانے دشمن سے میری کیا مراد ہے۔وہ کرن چاولہ تھا۔اس کا اپنے ساتھی کو آگے رکھنے کا مقصد بھی میری گولی سے بچنا تھا۔
ریوالور میرے ہاتھ سے نکل گیا تھا۔میں نے ،گرتے ہوئے حواسوں کو خیر باد نہیں کہا تھا۔کیوں کہ ذرا سی سستی میرے ہاتھ میں عدم آباد کا ٹکٹ پکڑا سکتی تھی۔کرن چاولہ سخت جان حریف تھا۔اس کے خالی ہاتھ ہونے پر بھی اس پر قابو پانا مشکل تھا تومسلح ہو کر تو بلاشبہ سوا سیر ہوجاتا۔
میں نے فوراََ اس کے پستول والے ہاتھ پر قبضہ جمانے کی کوشش کی۔مگر اس نے ایک جھٹکے سے ہاتھ چھڑایا اور لوٹ لگاتے ہوئے کھڑا ہو گیا۔
میں نے بھی سستی نہ دکھائی اور جیسے ہی اس نے پستول والا ہاتھ سیدھا کیا،تب تک ، نصف اٹھتے ہوئے میں نے زور سے ٹانگ چلائی۔میرا دایاں پاﺅں اس کے پستول والے ہاتھ سے ٹکرایا اور میں دوبارہ پیچھے گر گیا۔پستول اس کے ہاتھ سے نکل کر دور جا گرا تھا۔
میں الٹی قلابازی لے کر اس سے دو قدم دور کھڑا ہو گیا۔ہونٹوں پر تمسخرانہ تبسم لیے وہ مجھے حقارت سے دیکھ رہا تھا۔لحظہ بھر کے انتظار کے بعد اس کے لبوں سے نکلا۔
”تمھیں سالا کہوں یا برادر نسبتی۔“
میں اطمینان سے بولا۔”منہ بولا رشتا ہے، پتا جی یا جیجا جی بھی چل جائے گا۔“
”وہ تو تھوڑی دیر بعد تم کہو گے۔باقی تمھاری دیدی نے بڑی منتیں کی ہیں کہ تمھاری جان بخشی کر دوں ۔اور دیکھ لو اس کے کہنے پر تم پر دور سے گولی نہیں چلائی۔البتہ ہاتھ پاﺅں توڑنے سے اس نے منع نہیں کیا تھااس لیے یہ تکلیف برداشت کرنا پڑے گی سالا جی۔“
میں نے بے پروائی سے کندھے اچکائے۔”خواب دیکھنے پر پابندی نہیں لگائی جاسکتی۔“
اس نے پیش کش کی۔”تمھارا مشن مکمل ہو گیا ہے،اب اس بلبل کو چھوڑ دو،جانے کی اجازت دے دوں گا۔“
پرما افسردگی سے بولی۔”آپ تو گرینڈپا کے دوست تھے ۔“
”دشمن تو تمھارا بھی نہیں ہوں بے بی!اتنی خوب صورت لڑکی سے دشمنی کون کر سکتا ہے۔“
وہ ملتجی ہوئی۔”پلیز ہمیں جانے دو،ورنہ ماما ہمیں قتل کر دے گا۔“
وہ زہر خند ہوا۔”نہیں بے بی !وہ قتل نہیں کرے گا،کیوں کہ اس کے پاس تمھاری کٹی پھٹی اور زیادتی کا شکارلاش جائے گی۔باقی پاکستانی کمانڈو سے عشق لڑا نے کی سزا تو تمھیں کاٹنا پڑے گی۔“
میں نے حیرانی ظاہر کی۔” تم سے اس گھٹیا پن کی توقع نہیں تھی۔“
وہ اوچھے پن سے بولا۔”خود دن رات مزے لوٹ رہے ہو،ہماری باری پراعتراض کیوں ۔“
میں نے اس کی آنکھوں میں جھانکا۔”سچ کہوکیاکسی لڑکی کی مرضی کے بغیر میں ایسا کر سکتا ہوں ۔“
اس نے قہقہ بلند کرتے ہوئے نفی میں سرہلایا۔”جو شخص سنی جیسی لڑکی کو اندھا سمجھتے ہوئے تنہائی میں بھی شرافت کا مظاہرہ کر سکتا ہے اس کے کردار پر چوٹ نہیں کرسکتا۔البتہ مس شکلا پر کافی عرصے سے دل آیا ہوا ہے اور دل تو دل ہی ہوتا ہے نا۔باقی تم نے لورا براﺅن کے ساتھ بھی گل چھرے اڑائے ہیں ، کوئی تو ہمارے لیے بھی چھوڑدو یار!“
”لورا براﺅن اور میرے اکٹھ کے پس پردہ رندھیر شکلا کا قتل تھا۔اور راجکماری کو بے گناہ و معصوم سمجھنے کی وجہ سے اس کی مدد کر رہاہوں کہ بے چاری کا ماموں اس کے قتل پر تلا ہے۔“
کرن چاولہ کے ہونٹوں سے بلند بانگ قہقہ ابلا۔”مجھے بے وقوف بنانے کی ضرورت نہیں ۔وگنیش شکلا تمھاری حقیقت سے انجان ہو سکتا ہے میں نہیں ۔ میں اس لڑکی کی حقیقت سے اچھی طرح واقف ہوں ۔یہ ایک جاسوس کی بیٹی ہے۔اس کا باپ بچ نکلا تھااُس کی خوش قسمتی۔یہ اس کے جرائم کا حساب دیے بغیر کہیں نہیں جا سکتی ۔“
میں نے کہا۔”ہمارا ایک دوسرے سے تعرض کیے بغیر رخصت لینا مناسب ہوگا۔اب تمھیں واضح ہو گیا ہے کہ میں بھارت سرکار کا دشمن نہیں ہوں ۔اس لیے میرا کیس تمھاری عمل داری میں نہیں آتا۔“
وہ اطمینان سے بولا۔”قبول ہے۔چھوکری کو چھوڑکر جا سکتے ہو۔“
میں نے نفی میں سرہلایا۔”مسٹر چاولہ جب تم اچھی طرح جانتے ہو یہ چھوری میرا مشن ہے۔ پھر یہ توقع کیسے کر رہے ہو کہ پاکستانی سنائپر مشن ادھورا چھوڑ دے گا۔“
اس نے کوٹ اتار کر دور پھینکا۔”لڑکی سے دست بردار تو ہونا پڑے گا ،کیوں کہ مقابل کرن چاولہ ہے۔“
”یاد رہے پہلے میں ممتا دیدی کی وجہ سے ہاتھ روک لیا کرتا تھا۔“
اس نے دانت پیسے۔” ہماری لڑائی کی خبر تم تک پہنچنے کا مطلب ہے میرا شک صحیح تھا۔سنی ہی نے تمھیں فرار ہونے میں مدد دی تھی۔“
”یہ معلومات تمھارے کس کام کی۔“میں نے ایک دم گلاک کی طرف چھلانگ لگائی جو چند قدم ہی دور پڑا تھا۔مگر وہ مجھے ایسا موقع دینے کے حق میں بالکل بھی نہیں تھا۔میرے حرکت کرتے ہی وہ برقی کوندے کی طرح اچھلا اور میرے پستول تک پہنچنے سے پہلے اس کی زور دار ٹکر میرے پہلو میں لگی، میں نیچے گرا۔اس کے سر کی ٹکر میرے پہلو میں ہتھوڑے کی طرح لگی تھی،لیکن آرام کا وقت نہیں تھا۔کیوں کہ وہ پستول اٹھانے جھک گیا تھا۔ تکلیف برداشت کرتے ہوئے میں اسپرنگ کی طرح اچھلااور میری جوابی ٹکر نے اسے بھی زمین چاٹنے پر مجبور کر دیا تھا۔
گرتے ہی اس نے کروٹ تبدیل کرکے میرے نیچے سے نکلنے کی کوشش کی لیکن اس کے گھومتے ہی میں ہلکا سا اچھل کر اس پر سوار ہوا،ساتھ ہی میرا زوردار مکا اس کے چہرے کی طرف بڑھا۔جسے اس نے کہنی پر روک لیا۔اور پھر مسلسل میرے دوتین مکے کہنی پر روک کر اس نے میرے دونوں ہاتھ گرفت میں کیے اور اچانک سر کی بھرپور ٹکر میرے چہرے پر رسید کردی۔میرے ہونٹ پھٹ گئے تھے،خون کے نمکین ذائقے نے مجھے ہونٹ پھٹنے کا احساس دلایا،ساتھ ہی میری جوابی ٹکر نے حساب برابر کر دیا تھا۔
میری دوسری ٹکر سے پہلے اس نے پاﺅں سمیٹ کر میرے پیٹ میں ٹیکے اور مجھے پیچھے اچھال دیا۔
نیچے گرتے ہی میں اچھل کر اٹھا،اس نے بھی اٹھنے میں سستی نہیں دکھائی تھی۔ایک دم گھومتے ہوئے اس کی دائیں ایڑی میری گردن کی طرف بڑھی جسے میں نے بہ مشکل داہنی کہنی پر روکا تھا۔وار کر کے وہ رکا نہیں تھا۔دایاں پاﺅں نیچے لگا کر بائیں پاﺅں پر گھوم گیا۔
میں نے قریب ہو کر اس لات کی قوت کو کم کیا اور ران پر گرفت سخت کرتے ہوئے اسے گھماکر دور اچھال دیا۔
ہاتھ نیچے ٹیک کرزمین پر لوٹ لگاتا ہواوہ کھڑا ہو گیا۔بلاشبہ سخت حریف تھااور اس پر قابو پانا آسان نہ تھا۔مقابلے کے طول کھینچنے کا بھی اسے فائدہ تھا کیوں اس کے مددگاروں کے پہنچنے کا امکان زیادہ تھا۔ لڑائی بھڑائی کے معاملے میں پرما بالکل نکمی تھی ورنہ اس کا ہتھیار پررسائی پانا مشکل نہ تھا۔وہاں دو انساس رائفلیں ،ایک ریوالور اور تین پستول بکھرے پڑے تھے۔مگر وہ ہکا بکا سہمی ہوئی کھڑی تھی۔
میں متوجہ کرتا توکرن چاولہ اسے فوراََ بے ہوش کر سکتا تھا۔اس کے لیے تو کرن چاولہ کا ایک مکا ہی کافی رہتا۔
وہ مجھے دھمکانے لگا۔”اب بھی وقت ہے راجے!چھوکری سے دست بردار ہو کر چلے جاﺅ۔تمھیں کرن چاولہ کی صلاحیتوں کا اندازہ نہیں ہے۔“
میں اطمینان سے بولا۔”تمھیں مضبوط کردار کااور بھارت سرکار کا خادم سمجھ کر پہلے واقعی متاثر تھا،مگر پری کے بارے تمھاری گھٹیا گفتگو سن کر محسوس ہوا،تم بھی دوسروں جیسے ہی نیچ، کمینے وکم ظرف ہو۔“
”تمھیں سبق سکھانا ہی پڑے گا۔“غضب ناک ہوتے ہوئے وہ زقند بھر کر قریب ہوا،میں بھی قدم اس کی طرف بڑھا چکا تھا۔اس مرتبہ کا ٹکراﺅ پہلے سے شدید تھا۔میں جلد از جلد اسے ختم کرکے بھاگنے کے چکر میں تھا،تاکہ تلاشی لینے والوں سے دور نکلا جا سکے تو وہ مجھے ناکارہ کر کے پری کے حصول کی کوشش میں تھا۔اور پری کو پانے کے ساتھ جہاں اس کی مذموم خواہشات کی تکمیل ہوتی وہیں اسے بے بہا دولت بھی ملتی۔
ہم ایک دوسرے کو سختی سے رگید رہے تھے۔لاتیں ،مکے،گھونسے،سر کی ٹکریں ،گھٹنے ، کہنیاں ،پاﺅں کے پنجے،ایڑیاں الغرض جسم کا ہر وہ عضو حرکت میں لا رہے تھے جس سے مخالف کو چوٹ پہنچائی جا سکتی ہے۔اس کا پلا آہستہ آہستہ بھاری پڑنے لگا۔میری برداشت ہی تھی کہ اس کی چوٹین سہہ کر جوابی وار کر رہا تھا۔
بنیادی طور پر میں ایک سنائپر ہوں ۔لڑائی بھڑائی کا طریقہ کار جانتا ہوں ،مگرمیری بہترین صلاحیت اچھی نشانہ بازی ہے۔ نشانہ بازی پر زیادہ توجہ دینے کی وجہ سے ہاتھا پائی کو وقت نہیں دے پاتا۔اور لڑائی کی مشق سے دوری آج شدت سے محسوس ہو رہی تھی۔اس کے ساتھ رتجگا اور مسلسل بھاگ دوڑ نے بھی مجھے تھکایا ہوا تھا،جبکہ وہ تازہ دم تھا۔
میرے ہونٹوں ، ناک اورجسم کے کھلے حصوں سے خون بہہ رہا تھا۔پسلیوں پر بھی اچھی خاصی چوٹ لگی تھی۔اس کی مسلسل ٹھوکروں سے بچنے کو کہنیاں استعمال کرنے کی وجہ سے کہنیوں پر خراشیں بھی آئی تھیں اور درد بھی کر رہی تھیں ۔میرے جوابی حملوں کا اثر اس کے جسم سے بھی جھلک رہا تھا۔مگر مجموعی طور پر اس کا پلہ بھاری پڑ رہا تھا۔ شروع ہی سے کسی ہتھیار پر قبضہ جمانے کی کوشش دونوں نے کی تھی ،مگر ہر ایسی کوشش دوسرے کی مداخلت سے ناکام ہوئی تھی۔
جب میرے اعصاب مضمحل ہونے لگے اور محسوس ہوا کہ زیادہ دیر لڑائی جاری نہیں رکھ سکوں گا،تب میں نے جواءکھیلنے کا فیصلہ کیا۔اگر کرن چاولہ کو میرے منصوبے کی بھنک پڑ جاتی تو میرا بے ہوش ہونا یقینی تھا۔دوسری صورت میں میں لڑائی کا اختتام کر سکتا تھا۔اس وقت ہم آمنے سامنے کھڑے گہرے سانس لے کر توانائی بحال کرنے کی کوشش میں تھے۔تھک وہ بھی گیا تھا،مگر اسے مقابلہ کرنے کی جلدی نہ تھی۔وہ جان بوجھ کر لڑائی کو طول دے رہا تھا تاکہ کوئی تلاشی ٹولی ادھر کا رخ کر لے۔مگر اس کی بد قسمتی کہ اب تک کوئی بھی نہیں پہنچا تھا۔
میں نے ایک قدم بڑھاتے ہوئے ٹانگ لہرائی۔گو میں زیادہ تیزی سے اس کی چھاتی میں ٹھوکر مار سکتا،مگر میں نے جان بوجھ کر اسے ٹانگ پکڑنے کا موقع دیا۔کیوں کہ اس سے پہلے بھی وہ دوبار میری ٹانگ پکڑنے میں کامیاب ہوا تھااورہر مرتبہ اس نے مجھے گھما کر عقبی جانب پھینکا تھا۔اس وقت وہ ایسی جگہ کھڑا تھا کہ مجھے عقبی جانب اچھالتا تو میں گلاک کے قریب ہوسکتا تھا۔اور اگر اسے میری ترکیب سے واقفیت ہو جاتی تو وہ کوئی اور چوٹ پہنچا سکتا تھا۔ڈھیلے انداز میں حملہ کرنا مجھے ناقابل تلافی نقصان پہنچا سکتا تھا۔
میں نے چونکہ ایک قدم آگے لے کر گھوم کر لات چلائی تھی،تبھی اسے حملے کی نوعیت آسانی سے معلوم ہو گئی تھی۔اور میرا تو مطمح نظر یہی تھا کہ اسے پہلے سے اندازہ ہو جائے کہ میں اس کی چھاتی میں ایڑی کی ٹھوکر مارنے والا ہوں ۔
اس وقت تو نہیں مگر لمحہ بھر بعد پتا چلا کہ وہ بھی ہتھیار پر قبضہ کرنے کے چکر میں تھا۔اور میں نے اسے یہ موقع فراہم کر دیا تھا۔میری ران پر گرفت جماتے ہوئے اس نے مجھے پوری قوت سے عقب میں اچھالا اور میرے گرنے کا انتظار کیے بغیر اپنے پستول کی طرف بھاگ پڑا جو پرما سے چند قدم دور ہی پڑا تھا۔اور مجھے دور پھینکنے کی وجہ بھی پستول پر قبضہ جمانا ہی تھی۔البتہ اسے یہ معلوم نہیں ہوا تھا کہ وہ میری چال میں آگیا ہے۔میں چونکہ پھینکے جانے کو پہلے سے تیار تھا،اس لیے جیسے ہی اس نے مجھے گھما کر عقب میں پھینکا،ہوا ہی میں گھومتے ہوئے میں نے دایاں ہاتھ کہنی سمیت زمین پر ٹیکا اور لوٹ لگاتے ہوئے گلاک کے قریب پہنچ گیا۔
وہ پستول اٹھانے کو جھک رہا تھا جب کہ میں گلاک پر قبضہ جما چکا تھا۔اس کا ہاتھ گز بھر کا فاصلہ اتنی تیزی سے طے نہیں کر سکا تھا،جتنی سرعت سے دس پندرہ گز کا فاصلہ ،بیرل سے نکل کربے آواز گولی نے طے کر لیاتھا۔گولی کا ہدف پستول تھا اور گولی نے مجھے مایوس نہیں کیا تھا۔پستول دو تین گز دور جا گرا۔
وہ ٹھٹک کر رکا۔ساتھ ہی میری اطمینان بھری آواز گونجی۔”یقینا ہاتھ اٹھانا تمھارے چند سانس بڑھا دے گا۔“
گہرا سانس لیتے ہوئے اس نے کن اکھیوں سے پرما کی جانب دیکھا۔
میں اس کا ارادہ جان گیا تھا۔فوراََ تنبیہ کی۔”ایسا سوچنا بھی مت۔“اور پرما کو ہدایت کی۔”پری، اس سے دور ہٹ جاﺅ۔“
وہ جھری جھری لیتے ہوئے حواسوں میں آئی اور بجائے دور جانے کے بھاگ کر میرے قریب آگئی۔
کرن بولا۔”تم بچ کر نہیں جا سکتے۔“
میں ہنسا۔”مگر ہم سے پہلے تمھارا نمبر پڑ گیا ہے برخوردار۔“
اس نے تاﺅ دلانے والے انداز میں کہا۔”ہمت ہے تو پستول پھینک کر لڑو۔“
میں استہزائی انداز میں بولا۔”ہتھیار کی طرف بڑھنے کی شروعات تم نے کی ہے۔“
اس نے جذباتی دھونس جمائی۔”اپنی دیدی کے ہونے والے شوہر کو قتل کر دو گے۔“
میں نے کہا۔”خود ہی طے کروکس ٹانگ پر گولی کھانا ہے ۔“
”میں وعدہ کرتا ہوں ....آہ....“اس کے بات مکمل ہونے سے پہلے ”ٹھک ۔“کی آواز سے گلاک کی گولی اس کی بائیں ران میں داخل ہو گئی تھی۔وہ تیز کراہ کے ساتھ اپنی ٹانگ کو پکڑ کر گر گیا تھا۔
”تبادلہ خیال کا وقت نہیں ہے جناب!اور بلاشبہ میں ممتا دیدی کا دل نہیں دکھانا چاہتا ورنہ ایک غنڈے موالی کو قتل کرنے میں مجھے کوئی جھجک نہیں ہوگی۔“
ہونٹ بھینچتے ہوئے وہ غرایا۔”میں غنڈہ نہیں میجر کرن چاولہ ہوں ۔“
”منوج جوشی جیسے غنڈے کا کارندہ بن کر تم اپنی حیثیت کھو چکے ہو۔چند سانسوں کی بھیک ممتا دیدی کے نام پر بخش رہا ہوں ۔“
وہ طنزیہ انداز میں مسکرایا۔”اپنی فطرت کااحسان منہ بولی بہن پرنہ تھوپو۔میں اچھی طرح جانتا ہوں تم ہر کسی کو زخمی کرنے پر اکتفا کرتے ہو۔“
”زخمی صرف بھارتی ایجنسیوں کے افراد کو کرتا رہا ہوں کیوں کہ میرے خلاف ان کی کارروائیاں بر حق تھیں ۔کسی غنڈے کو قتل کرنا میرے لیے چنداں دشوار نہیں ہے۔شک ہے تو اپنے ساتھیوں کی لاشوں کو دیکھ لو۔“ اسے حقیقت جتلاتے ہوئے میں نے سرعت سے انساس رائفلوں کو عارضی طور پر ناکارہ کیا۔اپنا ریوالور جیب میں ڈالاکرن چاولہ کا پستول پرما کے حوالے کیا اور بھاگنے کو تیا رہو گیا۔
”اس لڑکی کے دس کروڑ دے سکتاہوں ،تمھیں بھی بہ حفاظت سرحد پار کرا دوں گا۔“کرن چاولہ ران کے زخم پر اپنا کوٹ لپیٹتے ہوئے ہوئے سودے بازی پر اتر آیا تھا۔
”سچ میں ....“میں نے مصنوعی حیرانی ظاہر کی۔
وہ جلدی سے بولا۔”بھگوان کی سوگندھ کھا کر وچن دیتا ہوں کہ دس کروڑدوں گا اور سرحد پار کرانے کی ذمہ داری بھی میری ۔“
”کیا کہتی ہو۔“میں پرما کی طرف متوجہ ہوا۔
وہ بپھر کر بولی۔”آپ اسے گولی کیوں نہیں مار رہے۔“
میں ہنسا۔” اپنی دیدی کی خفگی سے ڈرتا ہوں ،البتہ تم کوشش کر سکتی ہو۔“
”ٹھیک ہے۔“اس نے پستول کا رخ کرن چاولہ کی طرف موڑا۔ اس کا رنگ زرد ہو گیا تھا۔البتہ میں اطمینان سے کھڑا رہا کہ پستول کاک نہیں تھا۔پرما نے اناڑی پن سے ٹریگر دبایا،مگر پستول کاک ہوتا تو گولی چلتی۔
”یہ چل نہیں رہا،اپنے والا پستول ہمیں دو۔“وہ گلاک لینے کو میری طرف بڑھی۔
”دفع کرو میں اس کا بندوبست کرتا ہوں ۔“کرن کے قریب ہو کراس کی پشت کی جانب پھرا۔
”اس کے بدلے تم خاص شخص کی جان بچا ........“جانے وہ کیا پیش کش کرنے جا رہا تھا،مگر میں نے سنے بغیر گلاک کو نال سے پکڑااور دستہ پوری قوت سے اس کے سر پر دے مارا۔
”اوغ۔“ کی آواز سے وہ لڑھک گیا تھا۔اسے عارضی طور پر بے ہوش کرنا ضروری تھا۔اپنی ران کا خون وہ کوٹ لپیٹ کر روک چکا تھا۔اب خون ضائع ہونے سے وہ مر نہیں سکتا تھا۔امید یہی تھی کہ جلد ہی اسے مدد مل جاتی یا وہ خود ہوش میں آکر کسی کو بلا لیتا۔میں نے سرعت سے تمام لاشوں کی تلاشی لے کر نقدی قبضے میں کی اور پرما کو کہا۔
” چلیں ۔“میں نے وہی سمت اختیار کی تھی جدھر سے کرن چاولہ اور اس کے ساتھی نمودار ہوئے تھے۔البتہ رخ ذرا ترچھا موڑ لیا تھا۔
میرے ساتھ قدم ملاتے ہوئے وہ طنزیہ انداز میں بولی۔”آپ کو لاشوں کی جیب سے پیسے نہیں نکالنا چاہیے تھے۔“
میں جھلاتے ہوئے بولا۔”جب کھوپڑی میں بھیجا نہ ہو تو سوچنے کی زحمت کرنا بہتر نہیں ہوتا۔ آپ اپنی محدود عقل پر زور نہ دیں تو مناسب رہے گا۔“
”ہم نے کہا ناں پاکستان جا کرآپ کوساری رقم واپس کردیں گے بلکہ انعام بھی دیں گے۔“
میں نے طنزیہ لہجے میں کہا۔”اور پاکستان پہنچنے تک جو رقم خرچ ہو گی وہ آئے گی کہاں سے؟“
وہ الجھن آمیز لہجے میں بولی۔”آپ کے پاس پیسے موجود تو تھے،اگر ختم ہو گئے ہیں تو میرا لاکٹ بیچ دو۔“
” محترمہ یہاں قدم قدم پر کام نکلوانے کو پیسوں کی ضرورت پڑتی ہے۔صرف ممبئی سے نکلنے کو بیس ہزار ڈالر خرچ ہوئے ہیں اور اتنی رقم خرچ کرنے کے باوجود منصوبہ ناکام رہا۔آپ کو اغواءکرانے کو چار لاکھ معاوضا دیا تھا۔آگے بھی رقم کی ضرورت پڑے گی۔میری جیب ATMمشین نہیں ہے کہ بٹن دبانے پر نوٹ باہر نکلیں گے۔ایسے حالات میں نہ اخلاقیات کا دھیان رہتا ہے اور نہ شریعت کی حدود مدنظر رکھی جاسکتی ہیں ۔ باقی آپ کے زیور بیچنے کس صرافہ بازار میں جاﺅں ؟....کیاہم اس حالت میں ہیں کہ خرید و فروخت کر سکیں ۔“ گہرا سانس لے کر میں نے غصے پر قابو پایا اور نسبتاََ نرم آواز میں بولا۔” اب براہ مہربانی کسی فضول تکرار کے پیچھے نہ پڑ جانا۔ہم اب تک خطرے کی حدود میں ہیں ۔یہ بحث کسی اور وقت کو اٹھا رکھو۔“
وہ ہونٹ بھینچ کر خاموش ہو گئی تھی۔کرن چاولہ سے ٹاکرے نے مجھے صحیح معنوں میں تھکا دیا تھا۔ پورے جسم میں درد ہو رہا تھا۔مگر آرام کرنے کا وقت نہیں تھا۔
ہاتھا پائی کے متعلق ایک بات آپ کے ذہن میں رہے کہ چوٹ لگنے سے انسان کے عضلات اور پٹھوں وغیرہ کا گوشت اندر سے بھی پھٹ جاتا ہے۔اور مرہم پٹی و علاج معالجے کے بعد بھی ٹھیک ہونے میں مہینا ڈیڑھ لگا لیتا ہے۔مگر ایسا عام آدمیوں کے ساتھ ہوتا ہے۔لڑائی بھڑائی کی تربیت حاصل کرنے والوں کے جسمانی اعضاءچوٹیں سہنے کے عادی ہوتے ہیں ۔اورکڑی تربیت سے عضلات و پٹھوں کو اس قابل بنایا جاتا ہے کہ اچھی خاصی ضربات کو برداشت کر سکیں ۔
چلنے کی وجہ سے جسم گرم ہی رہا اورتکلیف کا احساس زیادہ نہ ہوا۔
وہ زیادہ دیر خاموش نہیں رہ پائی تھی۔کہنے لگی۔”چہرے پر لگا خون ہی صاف کر دیتے۔“
میں بے پروائی سے بولا۔”کہیں پانی مل گیا تو دھولوں گا۔“
”یہ لو۔“اس نے جیب سے ہلکے گلابی رنگ کا مخملیں رومال نکال کر میری طرف بڑھایا۔
”شکریہ ۔“رومال پکڑ کر میں چہرے پر پھیرنے لگا۔ماتھے پر خراش آئی تھی۔نچلے ہونٹ پر بھی چوٹ لگی تھی اور ہونٹ اندر سے پھٹ گیا تھا۔دائیں نتھنے کی سوزش بھی کسی ہلکے پھلکے زخم کی نشان دہی کر رہی تھی۔
خون صاف کر کے میں نے رومال پھینک دیا تھا۔
”بد تمیز۔“خفگی بھرے لہجے میں کہتے ہوئے اس نے رومال اٹھا لیا۔”ہم نے پھینکنے کو تو نہیں دیا تھا۔“
میں نے صفائی دی۔”گنداہو گیا تھا۔“
رومال جیب میں ڈالتے ہوئے اس نے منہ بنایا۔”ایسا ہی ہے،مگرہم سے اجازت تو لینا تھی۔یہ کوئی عام رومال نہیں ہے بہت خاص ہے۔“
”اچھا۔“میں نے اسے معنی خیز نظروں سے گھورا۔
”جی۔“مجھے بے باکی سے گھورتے ہوئے اس نے منہ چڑادیا۔
میں نے کہا۔” خاص چیز، عام آدمی کو گندہ کرنے کو نہیں دینا چاہیے تھی۔“
وہ متبسم ہوئی۔”ہماری خاطر آپ نے دس کروڑ ٹھکرادیے اس لیے تھوڑاجذباتی ہو گئے تھے ناں ۔ باقی دھونے سے صاف ہو جائے گا کون سا ہمیشہ کے لیے گندا ہو گیا ہے۔“
میں نے نفی میں سرہلایا۔”آپ کے لیے نہیں انصاری صاحب کے لیے رقم ٹھکرائی ہے۔“
وہ ترشی سے بولی۔”مطلب جو کچھ کر رہے ہو اس کے پس پردہ پاپا ہیں ۔“
میں نے طنزیہ انداز میں پوچھا۔”آپ کو کیا لگتا ہے؟“وہ مجھے کڑی نظروں سے گھور کر رہ گئی تھی۔
میں بے پروائی سے کندھے اچکا کر دائیں بائیں کا جائزہ لینے میں مصروف رہا۔دشمنوں کی آمد کی کوئی سمت متعین نہیں تھی۔اصولاََ کرن چاولہ کے ہمراہ اور بندے ہونا چاہیے تھے۔مگر ریوالور کی چار پانچ گولیاں چلانے کے باوجود کسی کا بھی نہ آناظاہر کر رہا تھا کہ اس کے ہمراہ وہی تین افراد ہی تھے ۔جنھیں میں قتل کر چکا تھا۔ شاید باقی ٹولیاں کسی اور سمت نکل گئی تھیں ۔ویسے ریوالور چلنے کا دھماکا اتنا زیادہ بھی نہیں ہوتا کہ طویل فاصلے تک جائے۔فرلانگ بھر سے دور آواز نہیں جاتی۔
ایک جھاڑیوں کے جھنڈ سے نکلتے ہوئے میری نظرتھوڑے فاصلے پرموجود چند جھونپڑوں پر پڑی۔ لگتا تھا باقی جھونپڑے بھی آگے بنے ہوں گے۔مگر وہاں سے تھوڑے نظر آرہے تھے ۔پرما بھی وہ آبادی دیکھ چکی تھی۔
اس نے خشک ہونٹوں پر زبان پھیری۔”ان سے کھانے پینے کوکچھ ضرور مل جائے گا۔“
میں نے خیال ظاہر کیا۔” یہاں دشمن کی موجودی کو بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔“
”دشمن کا تو پتا نہیں ، لیکن تھوڑی دیر مزید کھانے پینے کو کچھ نہ ملا تو ہمیں مارنے کو دشمن کی ضرورت نہیں پڑے گی۔“
میں نے چوٹ کی۔”ان بے چاروں کے پاس،پیزا ،برگر،چکن سینڈوچ،پنیر،مکھن ،شہد ،ڈبل روٹی،جیم وغیرہ کہاں ملے گا۔“
وہ برہم ہوئی۔”جتنے برے ہو نا،اس سے کئی گنازیادہ بری آپ کی زبان ہے۔“
”سچ ہضم کرنا ہر کسی کے بس میں نہیں ہوتا۔“میں نے اس کے ہاتھ سے پستول لے لیا تھا۔وہ جرمنی کا نائین ایم ایم والتھر P99تھا۔جو ایک بہترین پستول ہے۔اس میں مختلف قطر کے پستول دستیاب ہیں البتہ اس کی نائین ایم ایم کی میگزین میں سولہ گولیوں کی گنجائش ہوتی ہے۔
وہ ترشی سے مستفسر ہوئی۔”کیا مجبوری میں بھی ہمیں اپنی پسند کا خیال رکھناپڑے گا۔“
”پستول چلانے سے پہلے اسے کاک کرنا ضروری ہوتا ہے اور یہ ایسے کاک ہوتا ہے۔“میں فضول بحث ترک کرتے ہوئے ضروری کام کی طرف متوجہ ہوا کہ کم از کم اسے پستول کا استعمال آنا چاہیے تھا۔آج کی جدید عورت پستول چلانا جانتی ہے۔وہ عجیب لڑکی تھی کہ اس بارے بالکل انجان تھی۔حالانکہ اس کے گرد تو ہر وقت مسلح محافظوں کا جمگھٹارہتا تھا۔اور نشانے کی پختگی مشکل کہی جا سکتی ہے پستول کو چلانااتنا مشکل یا انوکھا نہیں ہے کہ اسے سیکھنے میں دقت ہوتی۔
میری غلط فہمی دور کرتے ہوئے اس نے منہ بنایا۔”رہنے دو ،ہم اچھی طرح جانتے ہیں ۔“
میں بھناتے ہوئے بولا۔”جب میں کرن چاولہ کے ساتھ لڑ رہا تھا،تب یہ جاننا کہاں گیا تھا؟.... پھر کہتی ہو میری زبان تلخ ہے۔“
وہ ندامت سے بولی۔”ہم ڈر گئے تھے۔“
”یہ اپنے پاس رکھو،ضرورت پڑ سکتی ہے۔“میں نے پستول اس کی جانب بڑھا دیا۔
وہ نزاکت سے بولی۔”اتنا وزنی پستول ہم کیسے اٹھائیں گے۔ پاس رکھو ضرورت ہوئی تو لے لیں گے۔“
جاری ہے
قسط نمبر 65
ریاض عاقب کوہلر
وہ نزاکت سے بولی۔”اتنا وزنی پستول ہم کیسے اٹھائیں گے۔ پاس رکھو ضرورت ہوئی تو لے لیں گے۔“
”یہ چونچلے اپنے پاپا کے پاس جا کر پورے کرنا۔اور ہتھیار کی ضرورت اچانک پڑتی ہے۔کیوں کہ مصیبت بتا کرنہیں آیا کرتی۔“
اس نے منہ بسورا۔”پہلے آپ اتنے ترش نہیں تھے،اب تو ذرا ذرا سی بات پر بگڑنے لگے ہیں ۔“
میں نرم لہجے میں بولا۔”آپ حالات کو سنجیدگی سے نہیں لے رہیں ۔ہم چاروں طرف سے دشمنوں میں گھرے ہوئے ہیں ۔اور دشمن بھی ایسے جو ہماری جان کے درپے ہیں ۔اور یاد رکھو کہ موڈ میں ماحول کا گہرا عمل دخل ہوتا ہے۔میں آپ کو بچانے کی کوشش کر رہا ہوں ،مجھے فرار ہونے میں دقت و دشواری آپ کی وجہ سے آرہی ہے۔اور آپ ہیں کہ ایک پستول کا وزن اٹھانے کو تیار نہیں ۔باقی موت معین وقت سے پہلے نہیں آسکتی پھر اتنا ڈرنے کی کیا تُک تھی کہ زمین پر پڑا پستول تک آپ سے نہ اٹھایا گیا۔“
وہ حیرانی سے بولی۔”عجیب منطق ہے ۔ایک دن مرنا ہے،اس حقیقت کو جاننے سے موت کا خوف دل سے کیسے نکل سکتاہے۔“
میں چڑتے ہوئے بولا۔”میں نے کہا موت کا وقت مقرر ہے۔“
اس نے نفی میں سرہلایا۔”ہم ایسا نہیں سمجھتے۔ہمارے مطابق انسان اپنی بے وقوفی،حماقت اور غلط منصوبہ بندی کی وجہ سے مرتاہے۔“
بحث کا رخ ایسے موضوع کی طرف مڑ گیا تھاجس پر ان حالات میں بات نہیں کی جا سکتی تھی۔وہ کسی مذہب ہی کو نہیں مانتی تھی تو اسے یہ مسئلہ کیسے سمجھایا جا سکتا تھا۔ہم جھونپڑوں کے قریب پہنچ کر ایک جھاڑی کے عقب میں رک گئے تھے۔جھونپڑے لکڑی و گھاس پھونس سے بنائے گئے تھے اور اوپر مٹی و گار الیپ کر سوراخ وغیرہ بند کر دیئے گئے تھے۔یوں گھاس پھونس و شاخوں کی باڑ نے دیوار کی شکل اختیار کر لی تھی ۔میرا اندازہ صحیح تھا آگے بھی جہاں تک دکھاﺅ ممکن تھا جھونپڑے نظر آرہے تھے۔اور لوگوں کی نقل و حرکت بھی ۔
اسے جھاڑیوں کے عقب میں رکنے کا اشارہ کر کے میں محتاط انداز میں جھونپڑوں کی طرف بڑھا۔ چند قدم لیتے ہی ایک ادھیڑ عمرباریش شخص کی نظر میری طرف اٹھی،قریب آتے ہوئے اس نے نامانوس زبان میں کچھ کہاتھا۔
جواباََمیں ہندی میں بولا۔”مہاراج کوئی جل پان (تھوڑا کھانا پینا)کا بندوبست ہو جائے گا۔“
”بابو،بھوجن تو مل جائے گامگر کیاآپ اکیلے ہیں ۔“ ٹوٹی پھوٹی ہندی میں بولتے ہوئے اس نے میرے عقب میں جھانکا۔میں ایک جھاڑی کی آڑ میں رک گیا تھا تاکہ دوسرے لوگوں کی نظر سے اوجھل رہوں ۔ اس کے استفسار نے مجھے چونکا دیا تھا۔یقینا اسے ہمارے بارے سن گن تھی۔
میں نے ذومعنی انداز میں پوچھا۔”کیا میرے ساتھ کوئی نظر آرہا ہے۔“
دائیں بائیں دیکھ کر وہ دھیرے سے بولا۔”گھنٹا ڈیڑھ پہلے چند آدمی ایک نوجوان جوڑے کی بابت معلومات لیتے ہوئے گزرے ہیں ۔اور شکل و صورت سے وہ اچھے لوگ نہیں لگ رہے تھے۔سارے گھروں کی انھوں نے زبردستی تلاشی بھی لی۔اور دھمکی بھی دی کہ اگر کسی نے انھیں پناہ دی تو ایسا کرنے والے انجام کے ذمہ دار خود ہوں گے۔“
اس کے انداز سے لگا تلاشی لینے والوں کا فعل اسے برا لگا تھا۔غریبوں کی بھی عزت نفس ہوتی ہے۔ اور ان کی مرضی کے بغیر ان کے گھروں میں تاکا جھانکی کرنا،زبردستی تلاشی لینا یقینا انھیں غصہ دلانے کو کافی تھا۔مگر مسلح افراد کے سامنے بے چارے احتجاج نہیں کر سکتے تھے۔بس دل ہی دل میں کڑھ کر رہ گئے تھے۔اور یہی وجہ تھی کہ اس نے پہلی فرصت میں مجھے مطلع کرنے میں دلچسپی لی تھی۔
تلاشی لینے والے کے خلاف اس کے لہجے کی بغاوت محسوس کرتے ہی میں نے کھل کر سامنے آنے کا فیصلہ کیا۔”اگر اعتراف کروں کہ میں وہی شخص ہوں تو کیا سہائتا کی آشا رکھ سکتا ہوں ۔“
وہ معنی خیز لہجے میں بولا۔”آپ نہ بتائیں تب بھی میں پہچان گیا تھا کیوں کہ ان کے پاس آپ دونوں کی تصاویر موجود تھیں جو انھوں نے تمام بستی والوں کو دکھائیں ۔“
”میرے پاس دو دو ہزار کے پانچ نوٹ ہیں ۔ہمیں چھپنے میں مدد دے کر ان پر قبضہ کر سکتے ہو۔“ اس بستی کی حالت دیکھتے ہوئے میں نے جان بوجھ کربہت تھوڑی رقم پیش کش کی تھی۔ مگر رقم سنتے ہی اس کے چہرے پر جو تحیر نمودار ہوا، لگا کہ رقم اس کے اندازے سے کہیں زیادہ تھی۔ وہ ہکلاتے ہوئے بولا۔
”مم....میں نے آج تک دو ہزار کا نوٹ ہاتھ میں نہیں پکڑا۔“
میں نے دوبارہ ترغیب دی۔”تو ایسے پانچ نوٹوں کا مالک بننے کے بارے کیا ارادہ ہے؟“
خوفزدہ انداز میں دائیں بائیں کا جائزہ لیتے ہوئے وہ میرے مزید قریب آیا۔ ”مہاراج وہ بہت خطرناک لوگ تھے۔“
میں نے کہا۔”ضرورہوں گے،مگر ایک بارتلاشی لے گئے ہیں ،امید ہے بار بار تلاشی نہیں لیں گے۔ باقی جب تک تم کسی سے ذکر نہیں کرو گے توانھیں کیسے پتا چلے گاکہ تم نے ہماری مدد کی؟“
اس نے خشک لبوں کو زبان سے تر کرتے ہوئے پوچھا۔”آپ کی استری(بیوی) کہاں ہے۔“
میں نے پچاس ساٹھ قدم دور جھاڑیوں کی جانب اشارہ کیا۔”وہاں چھپی ہے۔“البتہ پرما سے اپنے رشتے کی وضاحت کرنا میں نے ضروری نہیں سمجھا تھا۔
وہ لمحہ بھر سوچ کر بولا”ایک اور بندے کو راز دار بنانا پڑے گا۔“
میں نے پوچھا۔”اعتماد والا ہے۔“
وہ احمقانہ انداز میں بولا۔”پتا نہیں ،مگر اس کے پاس چھپنے کی جگہ موجود ہے۔“
میں نے کہا۔”ہمیں چھپانے کے بجائے کسی طرح یہاں سے نکلنے کا بندوبست کر دو تو انعام کی رقم بڑھا سکتا ہوں ۔“
چند لمحے سوچتے ہوئے اس کی آنکھوں میں تیز چمک ابھری ”ایک طریقہ ہے تو سہی....“
”بولو۔“میں ہمہ تن گوش ہو گیا تھا۔
”کسارا گاﺅں سے سبزی والا ٹرک آتا ہے۔اس میں چھپ کر نکلاجا سکتا ہے۔“
میں نے جلدی سے پوچھا۔”ٹرک کس وقت آتا ہے۔“
وہ جوش سے بولا۔”گھنٹے ڈیڑھ تک پہنچ جائے گا۔“
میں نے تصدیق چاہی۔” ٹرک والا تمھارا دوست ہے؟“
اس نے اثبات میں سرہلایا۔”واقف کار ہے۔میں جانتا ہوں سبزی کی آڑ میں غیر قانونی اشیاءکی بھی ترسیل کرتا رہتا ہے۔پیسے لے کر آپ کی مدد پر آمادہ ہو جائے گا۔“
چند لمحے سوچ کر میں نے اثبات میں سرہلایا۔”ٹھیک ہے۔تمھیں دس ہزار دوں گا اور اسے علیحدہ پیسے دوں گا،تم نے بس ہمارا سودا کرانا ہے۔“
اس کی آنکھوں میں تیز چمک پیدا ہوئی۔ ہم نے چند منٹ میں سارا منصوبہ طے کیا۔اورمیں نے اسے دو ہزار پیشگی ادا کردیئے۔اس کے بعدوہ گھر سے پانی کی بھری ہوئی بوتل اورشاپر میں تین چار روٹیاں لے آیاجن پر ماش کی تھوڑی سی دال چپڑی ہوئی تھی۔
اس سے الوداعی مصافحہ کر کے میں پرما کی طرف بڑھ گیا۔وہ واپس مڑ گیاتھا۔
پرما جھاڑی کے عقب میں پتھریلی زمین پر ڈھیر تھی۔بے چاری اتنی تھکی ہوئی تھی کہ مجھ پر نظر رکھنے کے قابل بھی نہیں رہی تھی۔تبھی قدموں کی چاپ سن کر ایک مرتبہ تو کانپ گئی تھی۔مجھ پر نظر پڑتے ہی اس کے لبوں سے گہرا سانس خارج ہوا تھا۔
میں متبسم ہوا۔”چلیں ۔“
خشک ہونٹوں پر زبان پھیرتے ہوئے وہ ملتجی ہوئی۔”کچھ کھاپی تو لیں ۔“
میں نے پانی کی بوتل اور روٹی کا شاپر اس کی طرف بڑھادیا۔بے صبری سے بوتل کو منہ لگا کراس نے چند بڑے بڑے گھونٹ لیے اور پھر دال سے چپڑی روٹیوں کو جڑ گئی۔اس اشتہاءسے تو کبھی اسے پیزہ ،برگر وغیرہ بھی کھاتے نہیں دیکھا تھا۔سچ کہتے ہیں بھوک ،معیار وکوالٹی سے بے پروا ہوتی ہے۔منرل واٹر پینے والی نوابزادی نے پانی پیتے وقت پوچھا تک نہیں تھا کہ پانی کہاں سے آیا ہے اور صاف ہے بھی یا نہیں ۔
میں نے چند گھونٹ پانی پی لیاالبتہ کھانے کو ہاتھ نہ بڑھایا کہ بھوک برداشت کر سکتا تھا۔جبکہ اس کی توانائی بالکل نچڑ گئی تھی۔امید تھی کھانے کے بعد اس کی حالت کچھ بہتر ہو جاتی۔البتہ سیر ہونے کے بعد غنودگی و کسلمندی حملہ آور ہوتی اور وہ پہلے ہی ہر جگہ ڈھیر ہو رہی تھی ،کھانے کے بعدشاید حرکت کے قابل ہی نہ رہتی۔ گویا صرف بہتری کی امید ہی کی جاسکتی تھی۔
”آپ بھی کھائیں ناں ۔“دوروٹیاں چٹ کرنے کے بعد اسے میرا خیال آیا تھا۔
میں اطمینان سے بولا۔”میں بھوک برداشت کر لوں گا۔“
”ایک کمانڈو کو بھلا بھوک پیاس کی کیا فکر،لیکن پھر بھی تھوڑا سا کھا لو۔“خوب صورت تبسم ہونٹوں پر بکھیرتے ہوئے اس نے تیسری اور آخری روٹی میری جانب بڑھا دی۔
”میرے لیے یہ کافی ہے۔“میں نے آدھی روٹی لے کر باقی اسے واپس کردی تھی۔
عجیب سی نظروں سے مجھے گھورتے ہوئے اس نے روٹی پکڑ لی تھی۔
میں نے دو تین نوالوں سے روٹی کو پیٹ میں منتقل کیااور ”الحمداللہ۔“کہہ کر پانی پینے لگا۔
بوتل لینے کو ہاتھ بڑھاتے ہوئے وہ معنی خیز لہجے میں بولی۔”کیا کہا۔“
میں نے بوتل اس کی طرف بڑھاتے ہوئے کہا۔”اللہ پاک کا شکر ادا کیا ہے کہ اس نے اس حال میں بھی کھانے ،پینے سے محروم نہیں رکھا۔“
وہ معترض ہوئی۔”خشک ٹھنڈی ٹھار باسی روٹیاں اور ابلی ہوئی دال کھا کر شکریہ کرنا بنتا ہے یا گلہ۔“
”تھوڑی دیر پہلے آپ بھوک پیاس سے مرنے کے قریب تھیں ۔اور جب کھانا مل گیا تو دو روٹیاں کھانے تک تو آپ کو اپنے ساتھی کا خیال بھی نہیں رہا تھا۔اگر اچھا نہیں تھا تو کھایا کیوں ۔اگر کھالیا تو اعتراض کیسا۔باقی شکر تو اس لیے کیا کہ وہ ہمارا کھانا مستقل طور پر بند کر سکتا تھا مگر اس نے صرف چند گھنٹے روک کر دوبارہ رزق عطا کر دیا۔شکریہ تو خود بہ خوددل سے نکلنا چاہیے۔ “
اس کی مترنم ہنسی ابھری۔”یار! آپ بات گھما پھرا کر اپنے ڈھب پر لے آتے ہیں ۔“
میں رکھائی سے بولا۔”میں آپ کا یار نہیں ہوں ۔“
بوتل منہ سے لگاتے ہوئے اس نے خفت چھپائی۔”بڑی جلدی موقع مل گیا ہے بدلہ لینے کا۔“
میں نے بوتل اس کے ہاتھ سے جھپٹتے ہوئے موضوع تبدیل کیا۔”زیادہ پانی پی لیا تو چلنا دوبھر ہو جائے گا۔“
وہ منہ بناتے ہوئے بولی۔”وہ تو پہلے سے بنا ہوا ہے۔“
میں نے کھڑے ہو کر اسے اٹھنے میں مدد دینے کو ہاتھ بڑھایا۔ ہاتھ تھامتے ہوئے اس نے چوٹ کی۔” دوست بننے سے انکار کرتے ہوتو ہر لمحہ خیال کیوں رکھتے ہو۔“
میں صاف گوئی سے بولا۔”میں انصاری صاحب کی بیٹی کا خیال رکھ رہا ہوں ۔اس لیے آپ کے اخلاق سے بولنے یا طنز و تشنیع کے تیر چلانے سے مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا۔پاکستان پہنچنے تک میں ہر ممکن کوشش کروں گا کہ آپ کی آسائش و آرام کا خیال رکھ سکوں ۔اس کے بعد شاید ہی کبھی سامنا ہو۔“
اس نے موضوع سے بھاگنا پسند کیا۔ ” یہاں تھوڑی دیر آرام کرنے سے کون سا آسمان ٹوٹ پڑتا۔“
”زیادہ دور نہیں جانا ۔“میں بھی مطلب کی بات کرتا ہوا احتیاط سے آگے بڑھنے لگا۔دو تین سو قدم کا چکر کاٹ کر ہم نسبتاََ نشیب میں پہنچے۔
وہاں ایک درخت کا خشک ٹنڈ منڈ تنا کھڑا تھا اور ساتھ ہی جھاڑیوں کا جھنڈ تھا۔میں پرما کے ساتھ انھی جھاڑیوں میں چھپ گیا۔چند قدم کے فاصلے پر سڑک گزر رہی تھی جو پیچ کھاتے ہوئے پہاڑی سلسلے میں آگے تک چلی گئی تھی۔بلند ڈھلان کی جانب جھونپڑیوں کی بستی تھی۔جس کا پہلا جھونپڑا زیادہ دور نہیں تھا۔وہ جھونپڑا بستی کی واحد دکان تھا۔اسی میں سبزی وغیرہ دستیاب تھی اور اشیائے خوردنوش کا دوسرا سامان بھی میسر تھا۔
ہمیں نصف گھنٹے کے بہ قدر انتظار کرنا پڑا تھا۔اس کے بعد ایک پرانا سا ٹرک سڑک سے کچے راستے پر اترا اوردکان کی طرف بڑھنے لگا۔ اس سے پہلے کافی ٹریفک وہاں سے گزر چکی تھی۔دو جیپوں میں تو مجھے ایسے لوگ نظر آئے تھے جنھیں دیکھتے ہی معلوم ہو گیا تھا کہ وہ خالص ہمارے دشمن ہیں ۔ایک مرتبہ تو میرے جی میں آیا کہ کسی کار یا موٹرسائیکل سوار کو روک کر بھاگنے کی کوشش کرتا ہوں ،مگر پھر رک گیا کیوں کہ شک تھا کہ آگے سڑک پر انھوں نے مورچہ لگایا ہوگا۔ممبئی کی طرف واپس جانے میں بھی بہ ہرحال خطرہ نظر آتا تھا۔
میں نے اونگھتی ہوئی پرما کومتوجہ کیا۔”یہاں سے آگے اس ٹرک پر سفر کریں گے۔“
”کیا۔“اس کی غنودی بھاپ بن گئی تھی۔پر جوش لہجے میں پوچھا۔”آپ نے سچ مچ وہی کہا ناں جوہم سمجھے ہیں ۔“
”ہاں ۔“میں نے اثبات میں سرہلایا۔”دعا کروگنپت رائے اسے منا لے۔“
”کون گنپت؟“
میں نے ادھیڑ عمر گنپت کی طرف اشارہ کیا جو ٹرک کی آواز سن کر دکان کی طرف روانہ تھا۔”اس شخص کی بات کررہا ہوں ۔ہمارے لیے کھانے کا بندوبست بھی اسی نے کیا ہے۔“
اس نے سہم کر پوچھا۔”سڑک پر توہمارے دشمن بھی موجود ہوں گے۔“
میں نے تسلی دینے کے بجائے اثبات میں سر ہلایا۔”خطرہ تو مول لینا پڑے گا۔“وہ گہرا سانس لے کر رہ گئی تھی۔
میں گنپت رائے کی طرف متوجہ ہو گیا جو ٹرک ڈرائیور کو دکاندار سے دور لے جا کر بات کر رہا تھا۔
دکانداراور اس کا مددگار ٹرک سے سبزی کی بوری اور پیٹیاں اتار رہے تھے۔ان کے سامان اتارنے تک ڈرائیور اور گنپت کسی نتیجے پر متفق ہو چکے تھے۔ڈرائیور ٹرک میں بیٹھ گیا جبکہ گنپت پیدل ہماری طرف آنے لگا۔
ٹرک کے موڑ کاٹ کرسڑک کے قریب پہنچنے تک گنپت ہمارے پاس پہنچ چکا تھا۔دکان دار اور اس کا مددگار بڑے جھونپڑے میں غائب ہو چکے تھے۔ ڈرائیور نے ٹرک کچے راستے پر کھڑا کیا اور نیچے اتر کر ہمارے قریب آگیا۔
”بابو!دس ہزار مجھے اور دس ہزار ڈرائیور کو دینے ہوں گے۔“گنپت رائے نے قریب آکر بغیر کسی تمہید کے اپنی مانگ بتائی۔
”ٹھیک ہے۔“میں نے فوراََ قبول کیا کہ وہاں سے نکلنے کو اس سے زیادہ رقم بھی قربان کر سکتا تھا۔ پرما سخت تھکی ہوئی تھی اوراسے مزید گھسیٹنے کے بجائے کسی سواری کا بندوبست مناسب رہتا۔
اسی اثناءمیں پختہ عمر کا ڈرائیور بھی قریب آگیا تھا۔اس کا نام بنسی لال تھا۔پرما کو گہری نظروں سے دیکھتے ہوئے اس نے مجھ سے مصافحہ کیا۔
میری جیب میں کرن چاولہ وغیرہ کی جیب سے نکالے ہوئے تیرہ چودہ ہزار کے بہ قدر روپے موجود تھے۔گنپت رائے کی جانب آٹھ ہزار بڑھاتے ہوئے میں ڈرائیور کو مخاطب ہوا۔
”تمھیں منزل پر پہنچتے ہی اپنا معاوضا مل جائے گا۔“
وہ انکار میں سرہلاتے ہوئے رکھائی سے بولا۔”پیسے پیشگی دینا ہوں گے۔“
اچانک سڑک کی جانب سے تیز ہارن کی آواز سنائی دی۔ہم جھاڑیوں کی آڑ میں تھے۔
پرما کی خوفزدہ آواز ابھری ۔”دشمن پہنچ گئے ہیں ۔“
”فوراََ ٹرک کی طرف جاﺅ اور ایسے ظاہر کرو کہ دکان کی جانب سے آرہے ہو۔“انھیں ہدایت دیتا ہوا میں جھاڑی کی آڑ میں دبک گیا تھا۔انھیں میری بات سمجھ میں آئی تھی یا نہیں ،البتہ وہ جلدی سے سڑک کی جانب بڑھ گئے تھے۔
اوندھے منہ لیٹ کر میں سڑک کی جانب متوجہ ہو گیا۔ایک جیپ سڑک پر رکی ہوئی تھی۔ڈرائیور اور اس کے ہمراہ ایک اور شخص جیپ کے اندر بیٹھا تھا ،جبکہ دو مسلح افراد ٹرک کے ساتھ کھڑے تھے۔بنسی لال اور گنپت کو دیکھتے ہی وہ اس طرف متوجہ ہو گئے تھے۔
”یہاں ٹرک کیوں روکا ہوا ہے اور تم لوگ جھاڑیوں میں کیا کر رہے تھے۔“ان کے قریب آنے کا انتظار کیے بغیر ایک شخص نے درشت لہجے میں پوچھا تھا۔
گنپت رائے نے ہکلاتے ہوئے کہا۔”کک....کچھ نہیں مہاراج۔ہم تو بس آرہے تھے۔“ اس نے باقاعدہ کانپنا شروع کر دیا تھا۔یقینا وہ سادہ لوح دیہاتی تھا۔بے چارے کا واسطہ کبھی غنڈوں وغیرہ سے نہیں پڑا تھا۔ہتھیار بردار شخص کو دیکھتے ہی اس کی سٹی گم ہو گئی تھی۔
ڈرائیور کے ساتھ براجمان شخص نے کہا۔”ٹرک کی تلاشی لو۔“
دونوں مسلح افراد اوپر چڑھ کر سامان کو الٹ پلٹ کرنے لگے۔
”کچھ نہیں ہے باس۔“چند لمحوں بعد وہ ناکام ہو کر نیچے آگئے تھے۔
باس نے نیچے اتر کر گنپت کو انگلی کے اشارے سے قریب بلاتے ہوئے پوچھا۔”تمھارا رنگ کیوں اڑا ہوا ہے؟“
”کک ....کچھ نہیں مہاراج۔یہ ٹرک میرا تو نہیں ہے۔یہ تو بنسی لال کا ہے۔“گنپت سخت خوفزدہ ہو گیا تھا۔
اس کے برعکس بنسی لال پر اعتماد تھا۔بات سنبھالتے ہوئے بولا۔”مہاراج !یہ سادہ سا شخص ہے ، آپ کو دیکھ کر خوفزدہ ہو گیا ہے۔“
باس نے ہونٹوں پر انگلی رکھ کر بنسی لال کو خاموش ہونے کا اشارہ کرتے ہوئے گنپت رائے سے پوچھا۔”سچ سچ بتا دوجھاڑیوں میں کیا کر رہے تھے۔“
”کک....کچھ نہیں ....سرکار....“گنپت نے ہکلاتے ہوئے انکار میں سرہلانا چاہا ،مگر اس کی بات پوری ہونے سے پہلے باس کا ہاتھ گھوما۔”چٹاخ“ کی زوردار آواز ابھری،گنپت رائے کولہوں کے بل نیچے گر گیا تھا۔باس پستول سیدھا کرتے ہوئے غرایا۔”سچ بکتے ہو یا ٹھوک دوں ۔“
”بھگوان کے لیے مہاراج !میں بے قصور ہوں ۔“گنپت باس کے پاﺅں سے لپٹ گیا تھا۔ ”اس نے زبردستی پیسے دیے تھے۔میں نہیں لے رہا تھا۔“گنپت نے جیب سے تمام نوٹ نکال کر باس کے قدموں میں رکھ دیئے تھے۔
”مارے گئے۔“خود کلامی کرتے ہوئے میں پرما کی طرف متوجہ ہوا۔ ”بغیر آواز نکالے وہاں نشیب میں لیٹ جاﺅ،گولیاں چلنے کو ہیں ۔اور یہ جگہ غیر محفوظ ہے۔“جھاڑیوں سے چند قدم کے فاصلے پر نشیبی گڑھا تھا۔جھاڑیاں گولی کو نہیں روک سکتی تھیں اس لیے میں نے یورش کرنے سے پہلے پرما کو محفوظ کرنے کا سوچا۔
بغیر کوئی سوال کیے وہ سرعت سے اٹھی اور جھاڑی کی آڑ میں رہتے ہوئے مذکورہ گڑھے کی طرف بڑھ گئی۔مسلسل معرکہ آرائی سے واسطے کی بدولت اس میں تھوڑی بہت سمجھ داری توآہی گئی تھی۔
میں باس اور گنپت رائے کی طرف متوجہ ہو گیا۔گنپت رائے نے راز اگلنے میں کچھ زیادہ ہی جلد بازی دکھائی تھی۔یہ تو اللہ کا شکر تھا کہ اب تک بازی میرے ہاتھ میں تھی۔
باس ہونٹوں پر زہریلی مسکراہٹ بکھیرتے ہوئے اُکڑوں بیٹھ گیاتھا۔اس کا ہاتھ گنپت کے سر پر پہنچا۔”بھگوان نے منَنُش (انسان)کے بھاگ (قسمت)میں بِپ±تا(مصیبت)نہیں لکھی ہوتی ،مگر لوبھ (لالچ) اسے نرگ (جہنم)کے دَوار ے (دروازے تک)لے جاتی ہے۔“
باس کے انداز سے لگ رہا تھا وہ گنپت کے ڈر تک پہنچ چکا تھا۔مزید دیر کرنا خود کو پھنسانے کے مترادف تھا۔سائیلنسر لگا پستول کافی دیر سے جیب سے نکل کرمیرے دائیں ہاتھ میں منتقل ہو چکا تھا۔ان چاروں کو ہلاک کیے بغیر بھاگنا ممکن نہ تھا۔فاصلہ اتنا زیادہ نہ تھا کہ پستول کی گولی کے ضائع جانے کا خدشہ ہوتا۔ میں نے سب سے پہلے باس پر نشانہ سادھا تھا۔وہ گنپت رائے کی بزدلی پر محظوظ ہو رہا تھا۔اور یقینا اس کا ارادہ بنسی اور گنپت رائے کوپوچھ گچھ کے بعد ہلاک کرنے کا تھا۔کسی مظلوم کی ذرا سی غلطی بھی وہ کہاں برداشت کر سکتے تھے۔
یہ بھی ممکن تھا وہ معلومات اگلوا کر ان سے تعرض نہ کرتا۔مگر اس کی امید چند فیصد ہی تھی۔
باس کے گنپت رائے کے بالوں کو سہلاتے ہوئے ہاتھ نے جیسے ہی یکجا ہو کر اس کے پراگندہ بالوں کو مٹھی میں جکڑا،میں نے لبلبی دبا دی۔
وہ اکڑوں بیٹھا تھا۔ماتھے پر لگنے والی گولی نے اسے کولہوں کے بل نیچے گرایااور زمین پر لمبا ہوتے ہوئے اس کا جسم اذیت سے تڑپنے لگا۔میں اس کا انجام دیکھنے کو رکا نہیں تھا۔فوراََ ہی اپنی شست دوسرے اور پھر تیسرے کی طرف موڑ کر مسلسل لبلبی دباتا گیا۔
ڈرائیور نے عقل مندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے مخالف جانب اترنے کی کوشش کی تھی مگر اس کے نیچے اترنے سے پہلے مجھے گولی چلانے کا موقع مل گیا تھا۔البتہ اس کے جھکے ہونے کی وجہ سے سر کے بجائے اس کی پشت نشانہ بنی تھی۔پہلی گولی اس کی پیٹھ میں لگی،وہ تڑپ کر سیدھا ہوا اور اگلی گولی نے گردن سے پار ہو کراسے اوندھے منہ گرا دیا تھا۔
بنسی رام ٹرک کی آڑ میں ہو گیا تھا ،جبکہ گنپت رائے گھٹے گھٹے انداز میں چیخ رہا تھا۔
میں بھاگ کر جھاڑی سے نکلااور اس کے قریب پہنچتے ہوئے غرایا۔”چپ کرو بے وقوف،تمھاری وجہ سے انھیں قتل کرنا پڑا۔“
”مم....مہاراج!بھگوان کے لیے شما کردو۔“گنپت کی حالت پتلی تھی۔اور دھوتی سے بہتا پانی ظاہر کر رہا تھا کہ معاملہ اس کی برداشت سے باہر ہو گیا تھا۔
میں برہم ہوا۔”یہ پیسے اٹھاﺅ اور فوراََ سے پہلے یہاں سے دفع ہو جاﺅ۔اور اگر کسی سے بھی ذکر کیا تو زندہ نہیں چھوڑوں گا۔“
پیسے مٹھی میں دبا کر وہ بھاگ پڑا تھا۔اتنا خوف زدہ ہونے کے باوجود اس نے پیسوں سے دست برداری گوارا نہیں کی تھی۔اس سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ لوگوں کے لیے دولت کتنی اہمیت کی حامل ہے۔
میں نے پرما کو آواز دی۔”راجکماری آجاﺅ۔“اور ڈرائیور کی لاش اٹھا کر جیپ سے نیچے پھینک دی۔ اس نے چہرے پر مفلر لپیٹا ہوا تھا جو افراتفری میں سیٹ پر گر گیا تھا۔مفلر اٹھا کر میں نے گلے میں ڈال لیا تھا۔سردی کے موسم میں مفلر کا استعمال عام ہو جاتا ہے۔اور شناخت چھپانے کو یہ کارآمد چیز ہے۔
بنسی لال نے جھجکتے ہوئے پوچھا۔”مہاراج اگر اجازت دو تو میں چلا جاﺅں ۔“اس کا چہرہ بھی خوف سے زرد پڑا تھا۔
”بھاگو۔“اسے جانے کا اشارہ کر کے میں دشمنوں کااسلحہ سنبھالنے لگا۔ایک کے پاس کلاشن کوف جبکہ تین کے پاس پستول تھے۔کلاشن کوف جیپ میں رکھ کر میں نے تیس بور پستول جھاڑیوں میں اچھال دیے۔ ایک پستول نائین ایم ایم تھا اس کی میگزین اتار کر جیب میں ڈالی اور اسے بھی پھینک دیا۔اس کی گولیاں میں گلاک میں چلائی جا سکتی تھیں ۔
پرما بھاگتے ہوئے قریب پہنچ گئی تھی۔تمتمائے ہوئے چہرے کے ساتھ اس نے لاشوں کو ایک نظر دیکھا ۔اور میری طرف متوجہ ہو ئی۔
”باڈی میں لیٹ جاﺅ۔“اسے ہدایت دے کر میں نے ڈرائیونگ سیٹ سنبھالی اور اگنیشن میں چابی گھما کر جیپ اسٹارٹ کرنے لگا۔
اس نے بے چوں چرا کیے میری ہدایت پر عمل کیا تھا۔میں نے جیپ ممبئی کی جانب موڑدی ،کیوں کہ آگے جانے میں زیادہ خطرہ تھا۔دشمنوں کا زور پیچھے کی جانب نہیں تھا۔اب مجھے کوئی لنک روڈ تلاش کر کے اس علاقے سے دور جانا تھا۔ کلاشن کوف میں نے گود میں رکھ لی تھی۔پرما کو پیچھے لیٹنے کا اس لیے کہا تھا تاکہ وہ دور سے نظر آکر میری شناخت کی تصدیق نہ کرتی رہے۔
”کنگلے، ان کی جیبوں کی تلاشی کیوں نہیں لی۔“جیپ کے تھوڑا سا آگے بڑھتے ہی میری سماعتوں میں پرما کی شوخی بھری آواز گونجی۔
عقبی شیشے میں دیکھا،وہ دونوں سیٹوں کے درمیا ن بیٹھی میری پیٹھ کو گھو ررہی تھی۔
میں جھلاتے ہوئے بولا۔”باڈی میں اس لیے بیٹھنے کا نہیں کہا کہ سیٹیں گندی ہوتی ہیں ۔“
”اچھا،ہم تو یہی سمجھے تھے۔“وہ مجھے چڑانے کو ہنسی۔
”نیچے لیٹ جاﺅ تاکہ دور سے کسی کو نظر نہ آسکو۔“درشتی سے کہتے ہوئے میں نے بریک پر ہلکا سا دباﺅ ڈال کر رفتار کم کرتے ہوئے موڑ کاٹااور جیپ کے سیدھا ہوتے ہی رفتار بڑھا دی۔
”آپ کے اندیشوں کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ کم بخت سچ ہی نکلتے ہیں ۔“وہ منہ بناتے ہوئے لیٹ گئی تھی۔
میں نے ڈرائیور کا مفلر چہرے کے گرد لپیٹ لیا تھا۔دشمنوں کی لاشیں میں سڑک کنارے ہی چھوڑ آیا تھا۔عام شہریوں سے بعید تھا کہ پولیس کے چکروں میں پڑتے ۔میں نے بھی لاشیں چھپانے میں وقت ضائع نہیں کیا تھا کہ اس کا کوئی خاص فائدہ نظر نہیں آرہا تھا۔ایک تربیت یافتہ شخص تیز رفتاری میں بھی درستی کا خیال رکھتا ہے۔ایک عام آدمی اور ہم میں سوچنے ہی کا فرق ہوتا ہے۔مختلف حوادث و واقعات کا سامنا کر کرکے ہم میں حوصلے و جرا¿ت کے ساتھ بروقت فیصلہ کرنے کی صلاحیت بھی پیدا ہو جاتی ہے۔
چند کلومیٹر کے بعد میرے قریب سے کالے رنگ کی تین کاریں تیز رفتاری سے گزریں ۔مجھے لگا ان میں ایجنسی کے لوگ سوار ہیں ۔وہ ہم سے تعرض کیے بغیر آگے نکل گئے تھے۔مزید چند کلومیٹر جانے کے بعد وہی چوکی آگئی جہاں سے ہم واپس بھاگے تھے۔وہاں چیک پوسٹ قائم تھی۔پولیس کی وردی کے علاوہ تین سول کپڑوں والے بھی نظر آئے۔جب میں قریب پہنچا،تب وہ ممبئی سے آنے والی ایک مسافر بس کی تلاشی کی طرف متوجہ تھے۔میں ان پرسرسری نظر ڈال کر آگے نکل گیا۔وہاں سے بہ خیریت گزرنے پر میں نے بے ساختہ گہرا سانس لیا تھا۔امید نہ تھی کہ اتنی آسانی سے ان کے گھیرے سے نکل جائیں گے۔مگر انھوں نے بنیادی غلطی یہ کی تھی کہ ساری توجہ آگے کی طرف مرکوز رکھی تھی۔ان کے تیئں ہم نے اسی سڑک پر آگے بڑھنا تھا۔یقینا آگے سڑک پر خاطر خواہ رکاوٹوں نے موجود ہونا تھا۔ اس علاقے میں بھی اب بہت زیادہ ٹولیوں نے مٹر گشت شروع کر دی ہو گی۔گمان ہی غالب یہی تھا کہ وہ جلد ہی گنپت رائے تک پہنچ جاتے،مگر اس سے کام کی بات نہیں اگلوا سکتے تھے۔بنسی رام سے بھی راز رکھنا بعید تھا۔اگر وہ دونوں نہ بھی بتاتے تب بھی سڑک کنارے پڑی چار لاشیں زیادہ دیر چھپ نہیں سکتی تھیں ۔ جن گاڑیوں پر مجھے ایجنسی والوں کا شبہ گزرا تھا اگر وہ حقیقت میں ایجنسی ہی کی گاڑیاں تھیں تو اب تک انھیں میرے پیچھے روانہ ہو جانا چاہیے تھا۔اس لحاظ سے اس سڑک پر مزید چلنا مناسب نہ تھا۔ میں کسارا گاﺅں سے ممبئی کی طرف آگیا تھا۔اور تیز رفتاری سے جیپ بھگائے جا رہا تھا۔ساتھ ساتھ میری نگاہیں کسی مناسب مقام کی تلاش میں بھی سرگرداں تھیں ۔دائیں جانب ایک لنک روڈ نظر آیا میں جیپ کی رفتار کم کرتے ہوئے لنک روڈ پر چڑھ گیا۔جانے کس وقت تعاقب والی گاڑیاں پیچھے پہنچ جاتیں اس لیے احتیاط رکھنا ضروری تھا۔
سڑک کے جوانب میں آبادی موجود تھی ۔میں تیز رفتاری سے آگے بڑھتا رہا۔مسلسل جاگتے ہوئے چوبیس گھنٹوں سے زیادہ ہو گئے تھے میری تو خیرتھی پرما کا مسئلہ گھمبیر تھا۔میں کوئی ایسی جگہ ڈھونڈنا چاہ رہا تھا جہاں کم از کم وہ اپنی نیند پوری کر لے۔
جاری ہے
قسط نمبر 66
ریاض عاقب کوہلر
سڑک کے جوانب میں آبادی موجود تھی ۔میں تیز رفتاری سے آگے بڑھتا رہا۔مسلسل جاگتے ہوئے چوبیس گھنٹوں سے زیادہ ہو گئے تھے میری تو خیرتھی پرما کا مسئلہ گھمبیر تھا۔میں کوئی ایسی جگہ ڈھونڈنا چاہ رہا تھا جہاں کم از کم وہ اپنی نیند پوری کر لے۔
سڑک پر ٹریفک کو دیکھ کر مجھے اطمینان ہو گیا تھا کہ جیپ اکیلی ہونے کی وجہ سے لوگوں کی نگاہ کا مرکز نہیں بن سکتی تھی۔ورنہ اکیلی گاڑی کا گزرنا کئی لوگوں کی یاداشت میں ثبت ہو جاتا ہے اور تفتیش کرنے والوں کو اندازہ لگانے میں آسانی رہتی ہے۔اس کے برعکس گاڑیوں کی آمدورفت جاری ہو تو جیب کا گزرنا اتنا عام ہو جاتا ہے کہ مشکل ہی سے کسی کو یاد رہتا ہے۔
ایک جنرل سٹور کے سامنے سے گزرتے ہوئے میں نے کھانے پینے کی اشیاءخریدنے کی نیت سے بریک لگائی۔عقبی جانب دیکھنے پر مجھے ہنسی آگئی تھی۔پرما سیٹوں کے درمیان سکڑی سمٹی گہرے سانس لے رہی تھی۔ نیند بھی عجیب چیز ہے کہ سولی پربھی انسان کا پیچھا نہیں چھوڑتی۔وہ جس طبقے سے تعلق رکھتی تھی اس کا یوں جیپ کی باڈی میں سونا ایک عجوبہ ہی تو تھا۔
اسے جگائے بغیر میں سٹور کی طرف بڑھ گیا۔پانی کی تین چار بوتلیں ،بسکٹ کے پیکٹ، پیسٹری، نمکو، کیک اور ایسی چند اشیاءخرید کر میں واپس مڑ آیا۔آگے کی صورت حال کا کوئی پتا نہیں تھا۔ پرما کے لیے بھوکا پیاسا رہنا بہت مشکل تھا۔اور میں نہیں چاہتا تھا کہ خوراک کی کمی کے باعث وہ چلنے ہی سے رہ جائے۔
سامان کے شاپر میں نے ایس آر ون کے بیگ کے ساتھ اگلی سیٹ پر رکھے اوراگنیشن میں چابی گھمانے لگا۔
پرما زور سے بڑبڑائی، کروٹ لینے کی کوشش میں اس کا ہاتھ سیٹ سے ٹکرایا اور وہ اٹھ بیٹھی۔
انگڑائی لیتے ہوئے مستفسر ہوئی۔”یہ کون سی جگہ ہے۔“
” پتا نہیں ۔“جوس اس کی جانب بڑھا کر میں نے جیپ آگے بڑھا دی۔
جوس پکڑتے ہوئے اس نے پوچھا۔”اب ہم سیٹ پر بیٹھ سکتے ہیں ۔“
میں نے اثبات میں سرہلایا۔”سامان عقبی سیٹ پر رکھ کر آگے آجاﺅ۔“
”شکریہ۔“شوخی سے کہتے ہوئے اس نے ایس آر ون کا بیگ اور خوراک کے شاپر عقبی نشست پر رکھے اور خود آگے بیٹھ گئی۔میں بسکٹ کا ایک بڑا پیکٹ کھول کر معدے کی دلجوئی میں مصروف تھا۔
”برگر وغیرہ نہیں تھے ان کے پاس۔“جنرل سٹور کے سائن بورڈ پر نظر دوڑاتے ہوئے اس نے بسکٹوں کی طرف ہاتھ بڑھایا۔
”پیسٹری ،کیک،چپس وغیرہ بھی لیے ہیں ۔“
”اچھا۔“دلچسپی سے کہتے ہوئے وہ شاپروں کی تلاشی لینے لگی۔تمام شاپر کھنگال کر اس نے چپس کا ایک پیکٹ کھولا ،دونوں پاﺅں ڈیش بورڈ پر رکھے اور سیٹ سے ٹیک لگا کر بائیں ہاتھ سے کھانے لگی۔گاہے گاہے جوس کا گھونٹ بھی بھر لیتی۔اس طبقے کے لوگ ڈبہ پیک غذاﺅں کے زیادہ عادی ہوتے ہیں ۔اور ہم جیسے سفید پوش و مفلس کوجب تک گندم کی روٹی نہ ملے ہماری آنت ہی گیلی نہیں ہوتی۔
بسکٹ کھا کر میں نے پانی کی بوتل کو منہ لگا لیا۔اس دوران ہم ممبئی دہلی ہائے وے پر پہنچ گئے تھے۔ پہلے ہم ممبئی آگرہ نیشنل ہائی وے پر محو سفر تھے۔ممبئی دہلی ہائے وے بھی بڑی سڑک ہے۔مجھے اس پر سفر کرنا مناسب نہ لگااور میں مغرب کی جانب بڑھتا رہا۔ایک پٹرول پمپ سے میں نے جیپ کی ٹینکی بھی بھروا لی تھی۔ وہیں میں نے کلاشن کوف جیپ کی عقبی سیٹ کے نیچے منتقل کر دی۔گو جیپ کے ذریعے ہمیں ڈھونڈنا آسان ہو جاتا لیکن اسے چھوڑنے کی حالت میں بھی نہیں تھااورمجھے کوئی مناسب تجویز بھی نہیں سوجھ رہی تھی ۔
ممبئی دہلی ہائے وے سے آگے بیس پچیس منٹ کے بعد میں نے جیپ کا رخ شمال کی جانب موڑ دیا۔
پرما نے پوچھا۔”اب تو خطرے سے نکل آئے ہیں ناں اور آگے اسی جیپ پر سفر کریں گے۔“
میں نے نفی میں سرہلایا۔”ایسا بالکل بھی نہیں ہے۔“
”پتا ہے آپ کی سب سے بری عادت کیا؟“شاپر کو گود میں رکھ کر وہ کچھ اورکھانے کو ڈھونڈنے لگی۔
میں نے منہ بنایا۔”میری بری ،اچھی عادات سے آپ کو کیا لینا دینا۔“
”اکھٹے سفر کر رہے ہیں اتنا خیال تو رکھنا پڑتا ہے ناں ۔“نمکو کا پیکٹ پسند کر کے اس نے شاپر کو عقبی نشست پر رکھ دیا۔
”مجھے چھوڑیں آپ اپنا ہی خیال رکھ لیں کافی ہے۔“
اس نے تبصرہ کیا۔”اگر مجبوری نہ ہوتی تو یقینا آپ کی معیت میں چند قدم بھی ہمیں لینا دشوار ہو جاتا۔“
میں نے قہقہ بلند کیا۔”چلو کسی بہانے آپ کا ساتھ تو میسر ہوا۔“
وہ مکمل سنجیدگی اور فخر سے بولی۔”اسی لیے تو کہتے ہیں ،اسے اپنی خوش قسمتی جانو اوراپنے خدا کا شکر کرو۔راجکماری پرما کا لمحاتی ساتھ بھی کوئی چھوٹی نعمت نہیں ہے۔“
”اور اگر دعویٰ کروں آپ سے زیادہ میں تنگ ہوں ۔“
اس نے کندھے اچکائے۔”جھوٹ بولنا تو آج کل فیشن ہے۔آپ بھی خود کو تسلی دے لیں ۔“
میں نے سنجیدگی سے جھوٹ اُگلا۔”چند کلومیٹر آگے ایک گاﺅں میں ہمارے جاسوسوں کا بسیرا ہے۔ وہاں تک گزارا کرلو ، آگے آپ کو کسی اور کے ساتھ سفر کرنا ہے۔دونوں کی ایک دوسرے سے جان چھوٹ جائے گی۔“
”کک....کیا مطلب؟“وہ چونکتے ہوئے گڑبڑائی۔
”پشتو میں تو نہیں ،سلیس اردومیں کہا ہے کہ چند کلومیٹر بعد میری خوش قسمتی کا خاتمہ ہو جائے گا۔ وہاں سے آگے آپ کسی اور کے ساتھ جائیں گی۔
اس نے انکار میں سرہلایا۔”نہیں ....نہیں ،ہم آپ کے علاوہ کسی پر اعتبار کرنے کو تیارنہیں ۔“
میں نے بے نیازی ظاہر کی۔”اس معاملے میں مجھے بے بس سمجھو۔“
وہ روہانسا ہوئی۔”ہم کسی اور ساتھ نہیں جانے والے۔“
میری نظر ریلوے اسٹیشن کے سائن بورڈ پر پڑی۔گو ریل کی پٹری ہمارے ساتھ ساتھ جا رہی تھی مگر اسٹیشن کو دیکھ کر مجھے ریلوے میں سفر کا خیال آیاتھا۔ جیپ پر ہر وقت خطرے ہی میں رہتے۔مگر ریلوے اسٹیشن جانے سے پہلے ہمیں کپڑے تبدیل کرنے کی ضرورت تھی۔پرما کی جینز داغدار و مٹی مٹی ہو رہی تھی۔ہلکے گلابی رنگ کی جرسی کی حالت بھی ابتر تھی۔ریشمی بال الجھے ہوئے اور بے رونق لگ رہے تھے۔میرے کپڑوں کی حالت بھی کچھ اچھی نہ تھی۔ان کپڑوں میں ہمارے پہنچانے جانے کا امکان بھی کافی زیادہ تھا۔سہ پہر ڈھل رہی تھی اور سردی میں بھی اضافہ ہونے لگا تھا۔میرا ہلکا پھلکا کوٹ اور پرما کی جرسی سردی کا مقابلہ نہیں کر سکتی تھی۔بڑا اوور کوٹ تو بھاگ دوڑ کی نظر ہو گیا تھا۔
تھوڑے فاصلے پر آبادی نظر آرہی تھی ،میں آگے بڑھ گیا۔ریل یا بس وغیرہ میں سوار ہونے سے پہلے اپنا حلیہ درست کرنا ضروری تھا۔
سات آٹھ کلومیٹر کے بعد ایک اور ریلوے اسٹیشن کا سائن بورڈ نظر آیا۔اس کے ساتھ ہی بوئی سر بس اسٹینڈ کا سائن بورڈ نظر آرہا تھا۔ بس اسٹینڈ دو اڑھائی فرلانگ آگے تھا۔اس کے قریب سے گزر کر میں دائیں بائیں کا جائزہ لیتا ہوا دھیمی رفتار سے چلتا رہا۔کلومیٹر ڈیڑھ کلومیٹرفاصلہ طے کر کے دائیں جانب دکانیں نظر آئیں ۔ میں نے جیپ ادھر ہی موڑ دی۔تھوڑا سا آگے جاتے ہی بی اے آر سی شاپنگ کمپلیکس کی شاندار عمارت نظر آئی۔میں نے جیپ پارکنگ میں روک دی ۔
پرما اب تک منہ سجائے بیٹھی تھی۔”چلو۔“ایس آر ون کابیگ اور شاپر اٹھا کر میں نے اسے نیچے اترنے کا اشارہ کیا۔
”کہہ دیا ناں کسی اور ساتھ نہیں جائیں گے۔“وہ منہ بسورے رونے پر تیار تھی۔
میں شوخ لہجے میں بولا۔”اتنی مشکل سے حفاظت کر کے آپ کو یہاں تک لایا ہوں ،پاگل ہوں جو کسی اور کو سونپ دوں گا۔“
اس کے چہرے پر رونق ابھری۔”سچ۔“خوشی سے چہکتے ہوئے وہ نیچے اتری۔”ہم اچھی طرح جانتے تھے آپ ڈراما کر رہے ہیں ۔“
”اب بتاﺅ خوش قسمت کون ہے؟“شاپنگ کمپلیکس کا رخ کرتے ہوئے میں نے شوخ لہجے میں پوچھا۔
وہ مترنم ہنسی اچھالتے ہوئے بولی۔”آپ اچھی طرح جانتے ہیں ۔“
تھوڑی دیر بعد ہم ضرورت کا سامان خرید کر باہر نکل آئے تھے۔اپنی جیپ اور کلاشن کوف وہیں چھوڑ کر میں نے ایک ٹیکسی روکی اور ڈرائیور کو کسی اچھے سے ہوٹل کا بتا کر اندر گھس گئے۔پندرہ بیس منٹ کی بعد اس نے ہمیں درمیانے درجے کے ایک ہوٹل کے سامنے اتار دیاتھا۔
نیچے اتر کر میں نے ٹیکسی والے کو رخصت کیا۔
پرما نے پرشوق لہجے میں پوچھا۔”رات یہاں گزاریں گے؟“
میں نے نفی میں سرہلایا۔”یہاں لباس وغیرہ تبدیل کر کے نکلتے ہیں ۔“
وہ ملتجی ہوئی۔”ہم سخت تھکے ہوئے ہیں ۔پلیز، آج یہیں رات گزارنے دیں ۔“
میں نے اسے دبے لہجے میں ڈانٹا۔”بے وقوف،دشمن باولے کتوں کی طرح ہماری تلاش میں سرگرداں ہے۔اور کوئی عام دشمن نہیں ہیں زیر زمین حلقوں کے ساتھ سرکاری طاقتیں بھی ہمارے خلاف ہیں ۔“
”آپ سے منت کرنا ہی فضول ہے۔“جھلاتے ہوئے کہہ کر اس نے چپ سادھ لی۔
اپنا شناختی کارڈ استقبالین کی طرف بڑھاتے ہوئے میں بااعتماد لہجے میں بولا۔”مسٹر اینڈ مسز انوپ مشرا،ایک رات کے لیے کمرا چاہیے۔“
”جی سر۔“شناختی کارڈ پکڑ کر وہ رجسٹر میں اندراج کرنے لگا۔ہماری دگرگوں حالت کی وجہ سے اس کے چہرے پر حیرانی نمودار ہوئی تھی مگراس نے استفسار سے گریز کیا تھا۔یہی حیرانی ہمیں خریداری کرتے وقت سیلز مینوں کے چہرے پر بھی نظر آئی تھی۔اور اس ہوٹل میں گھسنے کا مقصد بھی لوگوں کی نگاہوں کا مرکزبننے سے بچنا ہی تھا۔پرما مجھے تیز نظروں سے گھورنے لگی تھی۔ یقینا مسز انوپ مشرا کا لقب اسے پسند نہیں آیا تھا۔لیکن خیریت گزری کہ بے وقوف نے کسی حماقت کا ارتکاب نہیں کیا تھا۔
کرایہ پیشگی وصول کر کے استقبالین نے ایک چابی میری طرف بڑھائی اوررہنمائی کو ایک بیرا ساتھ کر دیا۔
بیرا ہمارا سامان اٹھا کر آگے ہوگیاتھا۔دوسری منزل پر کمرہ نمبر بتیس کے سامنے کھڑے ہوکر بیرے نے مجھ سے چابی لی اور دروازہ کھول دیا۔
درمیانی مالیت کا نوٹ بیرے کو پکڑا کر میں نے اس کاعاجزی بھرا” شکریہ“ وصول کیا۔اور اسے رخصت کر کے دروازہ قفل کر دیا۔
”کیا بکواس کر رہے تھے،ہم مسز انوپ مشراہیں ؟“بیرے کے غائب ہوتے ہی وہ پھٹ پڑی تھی۔
”آپ صرف احمق ہیں ۔“جھلاتے ہوئے کہہ کر، میں نے شاپر سے نئے کپڑے نکالے اور غسل خانے کی طرف بڑھ گیا۔
”ہم جانتے ہیں آپ جیسوں کو،خوب صورت اکیلی لڑکی دیکھی نہیں کہ ڈورے ڈالنے شروع کر دیئے۔“ وہ بالکل سنجیدہ تھی۔
”اس شکل کو کوئی اندھا ہی خوب صورت کہہ سکتا ہے۔اور الحمداللہ میں آنکھوں والا ہوں ۔“غسل خانے کے دروازے پر رک کر میں طنزیہ لہجے میں بولا۔اور اندر گھس کر دروازہ بند کر دیا۔
گرم پانی نے ساری تھکن اتار دی تھی۔نہانے سے پہلے میں نے کلین شیو کر لی تھی۔ہلکا پھلکا ہوکر نکل آیا۔دماغ تازہ دم ہو گیاتھا۔ساتھ ہی شدت کی بھوک محسوس ہوئی،مگر میں وہاں زیادہ دیر گزارنے کے حق میں نہیں تھا۔
پرما صوفے پر ٹیک لگائے بے سدھ لیٹی تھی۔ذرا سا آرام ملتے ہی اسے نیند آگئی تھی۔جب میں اتنی تھکن محسوس کر رہا تھا تو وہ بے چاری میرے مقابلے میں بہت زیادہ نرم و نازک تھی۔اورزندگی میں پہلی بار ایسے حالات سے اس کا واسطہ پڑا تھا۔
مٹی سے داغدار چہرہ ،الجھے ہوئے بال اور میلے کچیلے لباس میں وہ بے حد معصوم اور پیاری لگ رہی تھی۔یوں جیسے چھوٹی سی بچی مٹی میں کھیل کر تھک ہار کر لیٹی ہو۔اگر ذرا بھی گنجائش ہوتی تو میں اسے جگانے کی ہمت نہ جتاتا،مگروہاں زیادہ دیر گزارنا خطرے سے خالی نہ تھا تبھی اس کا بازو ہلا نے لگا۔
اس نے بڑبڑا کر پہلو بدلالیکن آنکھیں بند ہی رہیں ۔
”پرما....پرما....“میں نے زیادہ زور سے اس کا بازو ہلایا۔بڑی مشکل سے اس کی آنکھیں کھلیں ۔ کالی سیاہ آنکھوں میں گہری سرخی چھائی تھی۔شاید ایسی ہی آنکھیں دیکھ کر شاعر نے کہا تھا....
اس کی آنکھوں میں سرخ دھاگے ہیں
رات کس کے نصیب جاگے ہیں
مگر میں اسے شعر سنانے کی حالت میں نہیں تھا ۔اب تک اسے مسز انوپ مشرا کا تخاطب ہضم نہیں ہوا تھا۔ کوئی ایسی کوشش اسے مزید تپا دیتی۔
وہ ملتجی ہوئی۔”پلیز ہمیں تھوڑی دیر سونے دیں ۔“
میں نے نفی میں سر ہلایا۔”بے وقوف نہ بنو۔یہاں سے فی الفور نکلنا ہے۔آپ جلدی سے نہا کر کپڑے تبدیل کریں ،باقی آرام ریل گاڑی میں کر لینا۔“
”ظالم کو چھوٹی سی بچی پر ترس بھی نہیں آتا۔“درشتی سے کہتے ہوئے وہ غسل خانے کی طرف بڑھ گئی۔ مجھے ہنسی آگئی تھی۔اس کے نہانے تک میں نے ایس آرون نئے سفری بیگ میں منتقل کر دی تھی۔رائفل کا اپنا بیگ میلا ہونے کے علاوہ میری پہچان بھی بن سکتا تھا۔ضرورت کا دوسرا سامان بھی بیگ میں ڈال کر میں تیار ہو گیا تھا۔
پرماباہر نکلی تو حلیہ بالکل بدلا ہوا نظر آرہا تھا۔ہلکے بھورے رنگ کے شلوار سوٹ میں وہ تروتازہ اور ایک دم کھلی کھلی لگ رہی تھی۔
”آپ کے دیکھنے سے ہمیں سخت کوفت و چڑہوتی ہے۔“کندھوں تک آتے سنہرے ریشمی بالوں پر تولیہ رگڑتے ہوئے وہ بیڈ کے قریب پہنچی جہاں کالے و سفید رنگ کا قیمتی سوئیٹر اور ایک گرم نسوانی کوٹ پڑا تھا۔
مجھے لگا اس نے تھپڑ کھینچ مارا ہو۔ سرد لہجے میں پوچھا۔”اور اس کی وجہ ۔“
تولیہ بیڈ پر پھینک کر اس نے جرسی اٹھانے کو ہاتھ بڑھائے۔مگر میرے لہجے میں کوئی ایسی بات ضرور تھی کہ وہ فوراََ میری طرف گھومی۔
”ہم مذاق کر رہے تھے،شاید آپ کو برا لگا۔“
”کیا نہیں لگنا چاہیے؟“میرا موڈ برقرار رہا۔
”سوری۔“وہ گھبرا گئی تھی۔
میں رخ موڑتے ہوئے سنجیدگی سے بولا۔”ہمارے پاس وقت نہیں ہے ۔جلدی تیار ہوجاﺅ ۔“
بلاشبہ اس نے بہت بے ہودہ بات کی تھی۔اور میرا برا منانا بالکل غلط نہ تھا۔لیکن برا منانے کا مطلب یہ نہیں تھا کہ میں روٹھ گیا تھا۔میرے لیے اس کی اہمیت فقط اتنی تھی کہ اسے خیریت سے انصاری صاحب تک پہنچانے کا خواہاں تھا۔روٹھنے منانے کا کھیل تو اپنی محبوبہ کے ساتھ کھیلنے میں مزا آتا ہے۔ اور میرے دل کی ملکہ تو وہاں سے بہت دور تلہ گنگ کی پر بہار فضاﺅں میں قہقہے بکھیر رہی تھی۔نجانے اس کے دل کاغبار دھلا بھی تھا کہ اب تک ویسے ہی خفا تھی۔کہتے ہیں جدائی کی گھڑیاں ، ہجر و فراق کے لمحے، طویل فاصلے اور دوری کا عذاب محبوب کے بڑے جرائم اوربھاری لغزشوں کو بھی فراموش کرا دیتا ہے ۔ سات آٹھ ماہ کا عرصہ اتنا مختصر نہ تھا کہ وہ خفگی پر ڈٹی رہ پاتی۔اور بالفرض اب تک اس کا موڈ ویسے کا ویسا ہی تھا تو اس کا مطلب یہی تھاکہ مستقبل میں بھی اس کے راضی ہونے کی امید نہیں تھی۔ایسی صورت میں علیحدگی ہی واحد حل بچتا تھا۔اس کے بار بار طلاق چاہنے کا جواب مسلسل منت سماجت نہیں ہوسکتا تھا۔اگر واقعی اس کے دل میں کوئی ایسی دراڑ پڑ گئی تھی جس کا پر ہونا ممکن نہیں تھا اور وہ مزید میرے ساتھ نہیں چلنا چاہتی تھی تو اس کی خوشیوں کی راہ میں روڑے اٹکانا جائز نہ ہوتا۔
”چلیں ۔“وہ تیار ہو کر میرے سامنے آئی۔جرسی و کوٹ پہن کر اس نے سر پر گرم ٹوپی اوڑھ لی تھی۔گلے میں مفلر نما دوپٹا تھاجو اس نے چہرے کے گرد لپیٹ لیا تھا۔
اسے دیکھے بغیر میں نے بیگ اٹھانے کو ہاتھ بڑھائے۔تبھی ایک دم دروازہ میں چابی گھومنے کی آواز آئی اور پھر دو مسلح افراد دروازے کو دھکیلتے ہوئے اندر گھسے۔
ایک دھاڑا۔”خبردار ،حرکت کرنے کی کوشش تمھیں مہنگی پڑ سکتی ہے۔“
پرما کے حلق سے ہلکی سی چیخ برآمد ہوئی تھی۔سوچنے کی مہلت نہیں تھی۔اور سچ تو یہ ہے کہ ایسے حالات میں تربیت یافتہ افرادسوچنے میں وقت ضائع کرنے کے بجائے شروع کی افراتفری سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتے ہیں ۔کیوں کہ وقت گزرنے کے ساتھ دفاع کرنا مشکل ہوتا جاتا ہے۔ان کا للکارنا،پرما کا چیخنا اور میرے ہاتھ میں موجود بیگ کا گولی کی طرح سامنے والے کی طرف بڑھنا ایک ساتھ ہوا تھا۔
بیگ پھینکتے ہی میرا ہاتھ جیب سے سائیلنسر لگا پستول نکال چکا تھا۔
بیگ سامنے والے کے ہاتھوں پر لگا ،پستول اس کے ہاتھ سے نکل گیا تھا۔وہ پستول اٹھانے جھکا، اس کے پیچھے آنے والے نے سرعت سے پستول سیدھا کرنا چاہامگر اس دوران گلاک کی مزل سے بے زبان گولی نکل کر اس کے پستول والے ہاتھ سے ٹکراتی ہوئی اس کے پیٹ میں گھس چکی تھی۔ہلکی سی چیخ مار کر وہ پیٹ پکڑ کر دہرا ہو گیاتھا۔چونکہ وہ میرے سامنے کھڑا تھا اس وجہ سے گولی اس کے پستول والے ہاتھ کو زخمی کر کے پیٹ میں گھسنے کا باعث بنی تھی۔
دوسری گولی میں نے اس کے دوسرے ساتھی کی پستول پر داغی جو پستول کو گرفت میں لینے میں کامیاب ہو چکا تھا۔گولی لگتے ہی پستول دوبارہ اس کے ہاتھ سے نکل چکاتھا۔
میں نے فوراََ دھمکایا۔”ذرا سی غلط حرکت تمھیں ہمیشہ کو بے حرکت کر سکتی ہے۔“
ان کے وہم و گمان میں بھی یہ صورت حال نہیں تھی۔زخمی آدمی پیٹ کو دونوں ہاتھوں سے دبائے گھنٹوں کے بل بیٹھ گیا تھا۔دوسرا کمر سے خم نکالتے ہوئے سیدھا ہوا۔”بہتر ہوگا گرفتاری دے دو۔“
میں نے قدم لے کر ہاتھ گھمایا۔”چٹاخ۔“ کی آواز سے کمرہ گونج اٹھا تھا۔”کسی نے مشورہ مانگا ہے۔“
وہ گال پر ہاتھ رکھے مجھے کینہ توز نظروں سے دیکھتے ہوئے غرایا۔”باس کے ہاتھ بہت لمبے ہیں ۔ انڈیا کے چپے چپے میں ان کے وفادار موجود ہیں ۔بہتر ہو گا منہ مانگی رقم لے کر لڑکی کو ہمارے حوالے کر دو۔جس ملک کا کہو گے باس اگلے چند گھنٹوں میں تمھیں وہیں پہنچا دے گا۔“
میں نے تصدیق چاہی۔”تو تم وگنیش شکلا کے آدمی ہو۔“
وہ اطمینان سے بولا۔”وگنیش شکلا کو نہیں جانتا،میں انسپکٹر جمشید علی ہوں اورمیرا باس منوج جوشی ہے۔“
میں طنزیہ انداز میں بولا۔”حالانکہ تمھیں بھارت سرکار سے احکامات لینے چاہئیں ۔“
”تم سے مشورہ یا نصیحت نہیں مانگی۔اپنا اکاﺅنٹ نمبر بتاﺅاور لڑکی میرے حوالے کرواگلے پانچ منٹ میں تمھارے اکاﺅنٹ میں منہ مانگی رقم منتقل کر دی جائے گی۔“
میں نپے تلے انداز میں بولا۔”اس کی کیا ضمانت کہ لڑکی تمھارے حوالے کرنے کے بعد مجھے زندہ چھوڑ دیا جائے گا۔“
پرما ایک دم گھبراتے ہوئے بولی۔”آپ ایسا نہیں کر سکتے ۔“
جمشید علی استہزائی نگاہ پرما پر ڈال کر بولا۔”اس کی خوب صورتی تمھیں بہکا نہ دے۔ایسی پریوں کے جھرمٹ تمھارے منتظر ہیں ۔بلکہ اس کے ساتھ بھی جو مرضی آئے کر سکتے ہو۔ہفتہ، دو ہفتے ،مہینا جب تک دل نہ بھرے یہ تمھارے حوالے رہے گی۔جب دل بھر جائے تب ہمارے حوالے کر دینا۔“
”میں نے کوئی اور سوال کیا تھا؟“
”جرم کی دنیا میں زبان ہی کی ضمانت چلتی ہے۔تم ایک بہادراور باصلاحیت جوان ہو اور ایسے افراد کو منوج جوشی ضائع نہیں کیاکرتا۔منہ مانگی رقم کے علاوہ تمھیں بہترین نوکری بھی مل سکتی ہے۔یقین مانوعیاشی کی زندگی گزارو گے اوردنیا ہی میں جنت کے مزے لوٹو گے۔“
”تم مسلمان ہو، اگر منوج جوشی کے بجائے اپنا تعارف بہ طور انسپکٹر کراتے تو زندہ بچ جاتے کہ کسی سرکاری آدمی کو گولی مارنا مجھے مناسب نہیں لگتا۔کیوں کہ وہ سرکاری احکامات کے تابع اور دیش سے وفاداری کی وجہ سے میرے خلاف ہوتا ہے۔ایسے لوگوں کو میں حق بہ جانب سمجھتا ہوں اور دشمنی کے باوجود ان کی رعایت رکھتا ہوں ۔البتہ منوج جوشی کے آدمی کسی رعایت کے مستحق نہیں ۔“یہ کہتے ہی میں نے پستول سیدھا کیا۔
”کک....کیا بے وقوفی کر ....“اس نے ہاتھ اٹھا کر مجھے سمجھانے کی کوشش کی،مگر بے شعور گولی نے اسے بات پوری نہیں کرنے دی تھی۔دھڑام سے نیچے گر کر وہ ایڑیاں رگڑنے لگا۔
اس کا ساتھی گھگیایا۔”پپ....پلیز میرا تعلق پولیس سے ہے ۔آپ میرا........“اگلی گولی نے اسے بھی جمشید علی کے پاس پہنچا دیا تھا۔
”راجے۔“کہتے ہوئے پرما فرطِ جذبات سے بھاگ کر میرے قریب آئی ،مگر اس سے پہلے کہ مجھے لپٹنے میں کامیاب ہوتی میں نے ہاتھ بڑھا کر اسے دور ہی سے روک دیاتھا۔
”اس کی کوئی ضرورت نہیں ۔“رکھائی سے کہتے ہوئے میں جمشید علی اور اس کے ساتھی کی تلاشی لینے لگا۔ان کی نقدی قبضے میں کر کے میں نے جمشید علی کے پستول کی میگزین پر بھی قبضہ جمالیا کہ اس کے پاس نائین ایم ایم پستول تھا۔اور اس کی گولیاں گلاک میں کام آسکتی تھیں ۔
پرما کا چہرہ خفت سے سرخ ہو گیا تھا۔ ایسی نوابزادی جو بزعم خود حسن کا شہکار ہو،رکھ رکھاﺅ والی ہواور مالی لحاظ سے بھی تگڑی ہو،اسے کسی مرد کا دھتکارنا کتنا خفیف و شرمندہ کر سکتا ہے اس کا اندازہ کرنا اتنا بھی مشکل نہیں ہے۔یقینا اس نے سوچا ہو گا کہ اس کے التفات پر میں کھل اٹھوں گا۔مگر بے وقوف، میری پلوشے اور روماکی اہمیت سے ناواقف تھی۔بہ ہرحال میرے لیے اس کا روٹھنا،ماننا،خفا ہونا،ناراض ہونا کسی اہمیت کا حامل نہیں تھا۔
”چلو۔“بیگ کندھے پر لاد کر میں دروازے کی طرف بڑھا۔باہر نکلتے ہی مجھے کھانے کی ٹرالی دکھیلتا ہوا بیرا نظر آگیا۔وہ ایک دروازے کے سامنے پہنچ گیا تھا،اس کے گھنٹی بجانے سے پہلے میں جھپٹ کر قریب ہوا۔
”سنو۔“
”جی سر۔“وہ میری طرف متوجہ ہوا۔
”کیا چاہیے،گولی یا نوٹ۔“میں نے بائیں ہاتھ میں دوہزار کا نوٹ پکڑ کرپستول اس کی آنکھوں کے سامنے لہرایا۔
وہ ہکلایا۔”بب....بھگوان کے لیے میرے چھوٹے چھوٹے بچے ہیں ۔“
” مردم شماری کرنے نہیں آیا۔پوچھا ہے نوٹ چاہیے یا گولی۔“
”آپ کہتے ہیں تو نوٹ لے لیتا ہوں ۔“اس نے جھجکتے ہوئے پیسوں کی طرف ہاتھ بڑھایا۔
”شاباش۔“تعریفی انداز میں کہتے ہوئے میں مطلب پر آیا۔”اب جلدی سے ہوٹل کے عقبی راستے کی طرف ہماری رہنمائی کر دو۔“
”سب سے آخری کمرہ........“اس نے بتانے کو لب ہلائے،میں قطع کلامی کرتا ہوابولا۔
”مہاراج آگے ہو جاﺅ۔“
”جج....جی ....جی ۔“سرعت سے کہتے ہوئے وہ تیز قدموں سے آگے ہو لیا۔گیلری دائیں طرف مڑی اس کا اختتام عقبی جانب لوہے کی سیڑھیوں کے پاس ہوا تھا۔نیچے جھانک کر اپنا اطمینان کرتے ہوئے میں بیرے کو مخاطب ہوا۔
”تمھاری بہتری اسی میں ہے کہ اس ملاقات کا ذکر کسی سے نہ کرنا۔ورنہ پولیس کے لتر کھانے کے ساتھ ان دوہزار روپیوں سے بھی ہاتھ دھو بیٹھو گے۔“
وہ جلدی سے بولا۔”ایسا ہی کروں گا مہاراج۔“
”جو مرضی آئے کرو،میرا کام مشورہ دینا تھا۔“بے پروائی سے کہتے ہوئے میں نیچے اترنے لگا۔
پرما نے بھی میری تقلید کی تھی۔نیچے پہنچ کر میں چھے فٹ کی دیوار کے قریب ہوا،جسے عبور کر کے ہم ہوٹل سے باہر ہوتے۔
”اوپر چڑھو۔“میں نے سہارا دینے کواس کے بازو سے پکڑنا چاہا۔
”ہمیں چھوئیں مت۔“وہ طیش سے بھری ہوئی تھی۔
”جلدی کرودیوار عبور کرنا ہے۔“جھلاتے ہوئے کہہ کر میں نے دیوار کے سرے پر ہاتھ ٹیکے اور اچھل کر اوپر ہو گیا۔
وہ بھی دیوار کے سرے کو پکڑ کر اوپر ہونے کی کوشش کرنے لگی۔مگر اس کے بازوﺅں میں اتنی طاقت نہیں تھی کہ ان کے سہارے اوپر اٹھ سکتی۔
لمحہ بھر کی کوشش کے بعد وہ روہانسا ہوئی۔”ہم سے نہیں چڑھا جا رہا۔“
مطعون کیے بغیر میں نے ہاتھ پکڑ کر اسے اوپر کھینچا اور ایک جھٹکے سے دوسری سمیت نیچے اتار دیا۔
اس کے منہ سے ڈر کر ”ہائے ۔“نکلا تھا۔
جونھی قدم زمین سے ٹکرائے،میں اس کا ہاتھ چھوڑ کر نیچے کودا اور آگے بڑھ گیا۔اندھیرا پھیل چکا تھا۔ اور دکھاﺅ میں کمی آنا ہمارے لیے زیادہ مفید تھا۔
تھوڑی سی تگ و دو کے بعد ہمیں ٹیکسی مل گئی تھی۔سیٹ سنبھالتے ہی میں نے کہا۔”ریلوے اسٹیشن۔“
اس نے اثبات میں سرہلاتے ہوئے ٹیکسی واپس موڑ لی۔
بوئی سر کا شہر ہمارے لیے چوہے دان بننے والا تھااور اس سے پہلے وہاں سے نکلناضروری تھا۔
میرا اندازہ تھا کہ ہمارے مشکوک حلیوں کی اطلاع استقبالین نے ہوٹل منیجر کو دی ہو گی اور اس نے پولیس کو بلانے میں دیر نہیں کی ہو گی۔آگے سے ہڈ حرام انسپکٹر نے سارا کریڈٹ خود لینے کی کوشش کی تاکہ انعام کی خطیر رقم صرف اسی کے ہاتھ آئے۔یہ میرا اندازہ تھا۔ممکن تھا انسپکٹر جمشید کے اور ساتھی بھی ہم سے واقف ہوتے۔
اور یہ تو طے تھا کہ جلد ہی جمشید اور اس کے ساتھی کی لاش تک ہوٹل والوں کی رسائی ہو جاناتھی اور اس کے بعد ہماری تلاش میں شدت آجاتی۔پولیس انسپکٹر کا قتل کوئی چھوٹا معاملہ نہیں تھا۔
اسٹیشن پر اتر کر ریل گاڑی کا پتا کیاتو اب تک گاڑی آنے میں تین گھنٹے رہتے تھے اور اتنی دیر اسٹیشن پر گزارنا ممکن نہ تھا۔ہماری تلاش میں سب سے پہلے بس اڈوں اور ریل اسٹیشن ہی پر چھاپہ پڑنا تھا،بلکہ بس کے مقابل ریل گاڑی زیادہ مشکوک تھی۔
بس اڈہ چند سو میٹر ہی دور تھا۔میں واپس مڑ گیا۔پرما میرے پیچھے ہولی۔خاموشی اس کی خفگی کا مظہر تھی،مگر میرے نزدیک اس کی ناراضی اتنی اہمیت کی حامل نہیں تھی کہ منانے کی ضرورت محسوس کرتا۔ میری ذمہ داری اس کی حفاظت اور خیریت سے پاکستان لے جانے کی تھی نہ کہ اس کی ناز برداری اور لاڈ اٹھانے کی۔
بس کی روانگی میں بھی پون گھنٹے کا وقت پڑا تھا۔ہر گھنٹا بعدبس نکلتی تھی اور ہم پندرہ منٹ لیٹ تھے۔ مجھے کسی جگہ ٹک کر بیٹھنا گوارا نہ تھا۔ایک لوکل بس کنڈیکٹر تارا پور اور وان گاﺅں کی آوازیں لگا رہا تھا۔میں نے ہاتھ کے اشارے سے پرما کو اس طرف بڑھنے کو کہا۔
وہ بے زبان جانور کی طرف میرے پیچھے چل پڑی۔شاید اس روٹ کی وہ آخری بس تھی تبھی کافی رش تھا اور کوئی سیٹ خالی نہیں تھی۔ایک بار تو میرا نیچے اترنے کو جی چاہا مگر پھرحفاظتی نقطہ نظر سے بس کا بہتر ہونا مجھے وہیں ٹکنے پر مجبور کر گیا۔پرما کا واسطہ پہلی بار کسی عوامی سواری سے پڑا تھا،تبھی کوئی سیٹ خالی نہ پا کر وہ سوالیہ نظروں سے مجھے گھورنے لگی۔
میں نے بے پروائی سے کندھے اچکا کر چھت سے منسلک لوہے کے پائپ کو پکڑ لیاتھا۔
ہونٹ بھینچتے ہوئے اس نے نظریں جھکا لی تھیں ۔
جاری ہے
قسط نمبر 67
ریاض عاقب کوہلر
دو تین منٹ بعد بس ہچکولا کھا کر آگے بڑھ گئی ۔گلی میں نو دس سواریاں ہی کھڑی تھیں ۔ان میں پرما سمیت تین عورتیں تھیں ۔کنڈیکٹر ہر سیٹ کے پاس جا کر کرایہ وصولنے لگا۔میری نظر اسی پر تھی۔لوگوں کے کرائے کی ادائی سے مجھے معلوم ہوا کہ بس نے تارا پور سے گزر کر وان گاﺅں جانا تھا۔اور وان آخری سٹاپ تھا۔
میں نے بھی ۔”دو سواریاں ،وان گاﺅں ۔“کہتے ہوئے درمیانی مالیت کا نوٹ کنڈیکٹر کی طرف بڑھادیاتھا۔
بقیہ رقم میری ہاتھ پر رکھ کر وہ آگے بڑھ گیاتھا۔ڈرائیور نے پرشور آواز میں انڈین گانے لگائے ہوئے تھے۔موسیقی کوانسان کے حواس پر قابو پانے کا ملکہ حاصل ہے۔خوب صورت ساز انسان کے جذبات میں ہلچل مچا دیتے ہیں ۔ اور یقینا یہی وجہ ہے کہ دین فطرت میں ساز باجے سے دوری کا حکم دیا گیا ہے۔میں ان بولوں میں کھوکر اپنی من موہنی دلھن کے پاس پہنچ گیا تھا۔وہ ہنس رہی تھی ،کھلا کھلا رہی تھی،مجھ سے اٹھکیلیاں کر رہی تھی ۔میری آنکھیں خود بہ خود بند ہو گئی تھیں تاکہ اسے اچھی طرح دیکھ سکوں ۔
دل کے آئینے میں ہے تصویر یار
جب ذرا گردن جھکا لی دیکھ لی
تین چار کلومیڑ چلے ہوں گے کہ اچانک پرما مجھ سے ٹکرائی اور ساتھ چپک کر کھڑی ہوگئی۔بس کو کوئی جھٹکا بھی نہیں لگا تھا کہ اس کے ٹکرانے کی توجیہہ کی جاسکتی۔نہ وہ ایسا مقام تھا کہ اسے معذرت کی سوجھتی یا اپنے کسی پرانے فعل پر ندامت کی ضرورت پیش آتی۔
میں نے حیرانی و برہمی کی ملی جلی کیفیت سے اسے گھورا۔مگر وہ زیر لب بڑبڑاتے ہوئے پیچھے دیکھ رہی تھی۔تبھی میری نظر نے اس کی نگاہوں کا تعاقب کیا۔اس کے عقب میں بڑی بڑی مونچھوں والا کریہہ شکل کا ایک موٹا تازہ جوان کھڑا تھا۔اس کی خباثت بھری نظریں پرما کے وجود پر گڑی تھیں ۔ ایک لحظے کے ہزارویں حصے میں میں بات کی تہہ تک پہنچ گیا تھا۔وہ پہلے پرما سے کافی دور کھڑا تھا۔مگر پھر آہستہ آہستہ آگے بڑھتا ہوا اس کے قریب پہنچ گیا تھا۔میری آنکھیں بند تھیں تبھی دھیان نہیں دے سکا تھا۔اور اسے پرما کو ناروا انداز میں چھوکر غلاظت اگلنے کا موقع مل گیا تھا۔
افسوس کا مقام یہ ہے کہ صنف نازک کو ایسے واقعات سے آئے روز واسطہ رہتا ہے۔رش میں ،بھیڑ کے مقامات پر ،پبلک ٹرانسپورٹ وغیرہ میں انسانی شکل میں چھپے بھیڑیئے اس حرکت کا ارتکاب کرتے رہتے ہیں ۔ عورت فطرتی شرم و حیا کے باعث خاموش رہتی ہے۔اگر کچھ بول بھی دے تو ڈھٹائی سے کئی جواز اگل دیے جاتے ہیں ۔پرما بے چاری بھی بے بس حوا زادی ہی تو تھی۔
میں نے ایک دم پرما کو بازو سے پکڑ کرگھما کر اپنی دوسری جانب کھڑا کردیاتھا۔کریہہ شکل موٹے کے چہرے پر شیطانی مسکراہٹ ابھری،تاﺅ دلانے والے انداز میں اس نے مونچھوں پر ہاتھ پھیرا۔لیکن وہ ایسا نہ بھی کرتا تب بھی میں اس کا ادھار چکانے کا فیصلہ کر چکا تھا۔کندھوں سے بیگ اتار کر میں پرما کو مخاطب ہوا۔
”بیگ کو پکڑو۔“اورپھر پیچھے گھومتے ہوئے برقی کوندے کی طرح میرا دایاں ہاتھ گھوما،جبڑوں پر لگنے والے بھرپور مکّے نے اسے خون تھوکنے پر مجبور کر دیا تھا۔
”تیری تو....“اس نے مغلظات اگلنے کو ہونٹ کھولنے چاہے،مگر اگلا وار بہت کاری تھا۔میں نے ایک دم اس کی ٹانگوں کے درمیان گھٹنا اٹھا دیا تھا۔
”اوغ ۔“کی دردناک آواز سے وہ جھکا ،میں نے دوسری بار گھٹنا اٹھایااور ٹھوڑی پر لگنے والی زبردست ضرب سے وہ چاروں شانے چت ہو گیا تھا۔دائیں بائیں سیٹوں پر بیٹھے لوگوں کو جب تک ادراک ہوتا وہ انٹا غفیل ہو چکا تھا۔
”کیا ہوا ،خیر تو ہے،لڑو مت ........“وغیرہ جیسی کئی آوازیں بلند ہوئی تھیں ۔
گلی میں کھڑی ایک عورت نفرت بھرے لہجے میں بولی۔”بہت اچھا ہوا ہے۔یہ کمینہ اس کی بیوی کو چھیڑ رہا تھا۔ ایسے کتے بے چاری عورتوں کا جینا دوبھر کر دیتے ہیں ۔“
ایک دو آدمی اسے سنبھالنے لگے۔ڈرائیور نے بس روک دی تھی۔لمحہ بھر بھانت بھانت کی آوازیں ابھریں ۔مضروب سر جھٹکتا ہوا اٹھ بیٹھا۔اس کی ناک اور ہونٹوں سے خون بہہ رہا تھا۔
”تمھیں چھوڑوں گا تو نہیں ۔“اٹھتے ہی اس نے غراتے ہوئے دھمکی دی۔
میں نے بغیر کچھ کہے اس کی طرف قدم بڑھائے،تبھی دو تین آدمیوں نے درمیان میں آکر رکاوٹ ڈال دی تھی۔
میں نے اعلان کیا۔”اگلے اسٹاپ تک اگرتوبس میں رہاتو ماں قسم، بس سے تیری لاش ہی اترے گی۔“
”دیکھ لوں گاتجھے۔“غصیلے انداز میں کہتے ہوئے سورما پیچھے کو کھسکا اور بس کے روانہ ہونے سے پہلے وہ نیچے اتر چکا تھا۔لوگوں کے چہرے پر تبسم آگیا تھا۔
دو لڑکوں نے اپنی سیٹ خالی کرتے ہوئے عقیدت سے مجھے دعوت دی۔”بھیا !آپ بیگم کے ساتھ یہاں آجائیں ۔“
خوش دلی سے ان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے میں نے پرما کو بیٹھنے کا اشارہ کیا۔وہ عجیب نظروں سے مجھے گھور رہی تھی۔میری دعوت پر اس کے ہونٹوں پر خفیف سا تبسم ابھراجسے میں کوئی نام نہیں دے سکا تھا۔
اس کے سیٹ سنبھالتے ہی میں بھی بیٹھ گیاتھا۔بس چل پڑی۔ڈرائیور نے دوبارہ گانے چلا دیے تھے۔ گلوکارہ کی جادو بھری آواز گونجنے لگی....
یہ کیسا سفر ہے، یہ کیسی ہیں راہیں
کہ منزل کی مجھ کو، خبر ہی نہیں ہے
ڈھونڈوں کہاں میں ، سکوں اپنے دل کا
اِدھر بھی نہیں ہے ،اُدھر بھی نہیں ہے
پھر کسی درد نے مجھے کیا بے قرار ہے
ہم کو تم سے پیار ہے.......
ہم کو تم سے پیار ہے..........
پرما مجھ سے جڑ کر بیٹھی تھی ۔اور پھر اس کا ہاتھ دھیرے سے رینگتا ہوامیرے ہاتھ کی پشت پر آگیا۔مجھے حیرت کا جھٹکا لگا تھا۔ چہرہ گھماکردیکھا۔اس کے لبوں پر خوب صورت تبسم کھل رہا تھا۔
”سوری!ہم نے بہت غلط الفاظ کہے تھے۔لیکن ہمارا مقصد آپ کا دل دکھانا نہیں تھا۔ہم تو بس مذاق کر رہے تھے۔پہلے بھی تو کئی بار اس سے ملتے جلتے انداز میں آپ کو چھیڑ چکے ہیں ۔پلیز معاف کردیں ۔“
گہرا سانس لیتے ہوئے میں زبردستی مسکرایا۔”موڈ آپ نے بنایا ہوا ہے اور خفا میں ہوں ۔“
اس نے منہ بسورا۔”کیوں کہ آپ نے ہمارے ذرا سے مذاق پرہماری اتنی توہین کر ڈالی۔“
”بے فکر رہو ایسا کچھ بھی نہیں ہے۔“اس کی ملائم گرفت سے نرمی سے ہاتھ چھڑاکر میں سامنے دیکھنے لگا تھا۔خوب صورت و پرکشش ساز اور سریلی آوازوں کے ملاپ سے تشکیل پانے والے گیت نسوانی جذبات پر کچھ زیادہ ہی اثر انداز ہوتے ہیں ۔اور پرما کا مجھے سوری کہنا انھی جذبات کے مرہون منت تھا۔
تاراپور میں بس تھوڑی دیر رکی۔اس دوران آدھی سواریاں اتر گئی تھیں مزید بیس پچیس منٹ کے سفر کے بعد آخری سٹاپ بھی آگیا تھا۔
وان گاﺅں کی آبادی اتنی زیادہ نہیں تھی۔سواریاں نیچے اترتے ہی گھروں کا رخ کرنے لگیں ۔میں گومگو کی کیفیت میں تھا کہ وہیں کسی کا زبردستی مہمان بنوں یا سفر جاری رکھنا درست ہوگا۔پرما خاموشی سے دائیں بائیں دیکھ رہی تھی۔
بس کے تیز ہارن نے مجھے سوچوں سے نکالا۔جدید ساخت کی بس کو دیکھتے ہی میرا دل خوشی سے دھڑکنے لگا تھا۔اس سے ایک دو سواریاں اتریں ،تبھی میں نے پرما کا ہاتھ تھام کر اندر کی جانب قدم بڑھا دیئے۔
کنڈیکٹر نے خالی سیٹ کی طرف رہنمائی کرکے گویا ہمیں خوش آمدید کہا تھا۔
پرما کو شیشے والی جانب بٹھا کر میں نے ساتھ والی سیٹ سنبھالی۔بس کی حالت دیکھ کر مجھے لگا وہ لمبے روٹ کی بس ہے۔حالانکہ وہ لوکل سڑک تھی۔ممبئی دہلی ہائے وے ہمارے شرقی جانب تقریباََبیس پچیس کلومیٹر دور ہوگی۔
کنڈیکٹر قریب آیا۔”جی باﺅ۔“اس نے ٹکٹ بک نکالی۔
میں مستفسر ہوا۔”یہ کہاں تک جائے گی۔“
وہ ہنسا۔”اپنا بتائیں ،یہ تو بہت آگے تک جائے گی ۔“
میں نے بھی دانتوں کی نمائش کرتے ہوئے کہا۔”ہم نے بھی بہت آگے تک جانا ہے دوست۔“
اس نے انکشاف کیا۔”احمد نگر تک جائیں گے۔“
میں نے حیرانی ظاہر کی۔”لوکل سڑک پر۔“
اس نے نفی میں سرہلایا۔”آمبولی تک لوکل سڑک ہے آگے ممبئی دہلی ہائے وے پر چڑھ جائیں گے۔“
اثبات میں سر ہلاتے ہوئے میں کرایہ پوچھنے لگا۔مطلوبہ کرایہ ادا کر کے میں نے ٹکٹ وصول کیے بیگ کو قدموں میں رکھا کہ ڈگی میں رکھنا نہیں چاہتا تھا اور بس کے اندر بنے خانوں میں آنہیں سکتا تھا۔جسم آرام طلب کر رہا تھا۔آنتوں کی دہائی بھی جاری تھی،مگر جب تک بس کسی ہوٹل پر نہ رکتی پیٹ بھرنے کا نہیں سوچا جا سکتا تھا۔ البتہ کشادہ سیٹ پرآرام کی خواہش کو رام کیا جا سکتا تھا۔ پرما نے تو سیٹ سنبھالتے ہی آنکھیں بند کر لی تھیں ۔ میں نے بھی اس کی تقلید کرنا مناسب سمجھا۔
٭٭٭٭٭
میری آنکھ بس رکنے پر کھلی تھی ۔کچھ سمجھنے سے پہلے دو پولیس والے اندر آکر سواریوں کو دیکھتے ہوئے دھیمے قدموں سے گزرنے لگے۔زیادہ تر سواریوں کی آنکھیں بند تھیں ۔میں نے چہرے پر مفلر درست کر کے سیٹ پر سر ٹیکااورپپوٹوں میں ہلکی سی جھری رکھتے ہوئے آنکھیں موند لیں ۔پولیس والے بس کی عقبی سیٹ تک سرسری جائزہ لے کر اتر گئے۔میں نے اطمینان کا گہرا سانس لیا تھا۔بس دوبارہ چل پڑی۔
پرما میرے کندھے پر سر ٹیکے گہرے سانس لے رہی تھی۔میں دوبارہ سونے کی کوشش کرنے لگا۔مگر نیند آنے سے پہلے بس دوبارہ رک گئی تھی۔شیشے سے باہر جھانکنے پر پتا چلا وہ ہوٹل پر رکے تھے۔اچھی خاصی بھوک محسوس ہو رہی تھی۔ میں نے پر ما کو ہلایاوہ کسمساتے ہوئے اٹھ گئی۔
”کیا ہوا۔“انگڑائی کو بازو اٹھاتے ہوئے اس نے مسکنت سے پوچھا۔
میں نے کہا۔”بس ہوٹل پر رکی ہے،کچھ کھانے کو جی کر رہا ہے تو آجاﺅ۔“
”ہمیں خاص بھوک تو نہیں لگی البتہ کھالیتے ہیں ۔“ وہ کھڑی ہوگئی تھی۔یقینا دوپہر کو گنپت رائے کی لائی باسی روٹیوں اور پھر چپس ،نمکو وغیرہ سے اس کا پیٹ بھرا ہوا تھا۔البتہ میں نے دو تین نوالوں اور بسکٹ کے ایک پیکٹ کے علاوہ کچھ نہیں کھایا تھا۔جبکہ بھاگ دوڑکچھ زیادہ ہی کر لی تھی۔
ہم نیچے اترآئے ۔ٹھنڈی ہوا چل رہی تھی۔جس میں بارش کی نہایت باریک بوندیں بھی شامل تھیں ۔ہم کانپ کر رہ گئے تھے۔
وہ کپکپا کر بولی۔”بہت سردی ہو گئی ہے۔“
میں نے کہا۔”بارش اور ہوا نے کام خراب کر دیا ہے۔“
اس نے بیت الخلاءکی تلاش میں نظریں گھمائیں ۔”ہمیں تازہ دم ہونا ہے۔“
میں ایک بیرے سے رہنمائی لے کر اس طرف بڑھ گیا۔تازہ دم ہو کر ہم نے پرتکلف کھانا کھایااور چائے کی دو دو پیالیاں معدے میں انڈیلیں کہ چائے کی سخت حاجت محسوس ہورہی تھی۔
سواریاں دوبارہ بس میں بیٹھنے لگی تھیں ۔ہم بھی اندر آگئے ۔
”لگتا ہے سورگ(جنت) میں آگئے ہیں ۔“ خوشگوار حدت کو محسوس کرتے ہی ہتھلیاں رگڑتے ہوئے اس نے تبصرہ کیا۔
میں سیٹ سنبھالتے ہوئے ہنسا۔”کیا سورگ پر یقین رکھتی ہو۔“
وہ اطمینان سے بولی۔”ہماری نظر میں ہر وہ موسم ،ماحول اور جگہ جس سے بدن کو راحت ملے سورگ ہے۔“
میں شرارت سے بولا۔”اچھا ،میں تو سمجھا شاید اللہ پاک کی جنت پر یقین لے آئی ہو۔“
”ہمیں نیند آرہی ہے۔“مجھے تیکھی نظروں سے گھورتے ہوئے اس نے سیٹ سے ٹیک لگا کر آنکھیں بند کر لی تھیں ۔
میں بھی آنکھیں میچ کراگلا لائحہ عمل سوچنے لگا۔اور اس کے لیے سارے معاملے کا ازسر نو جائزہ لینا ضروری تھا۔ دشمن میرے اگلے قدم کے بارے جانتے تھے یا نہیں اس بارے صرف اندازہ ہی لگایا جا سکتا تھا۔ نجانے وگنیش شکلا میرے اور پرما کے اکٹھ کو کیا نام دے رہا تھا۔ممکن تھا وہ سمجھتامیں انصاری صاحب کی وجہ سے پرما کا ساتھ دے رہا ہوں ۔یہ بھی امکان تھا کہ اس کے پس پردہ اسے محبت وغیرہ جیسی کوئی بے وقوفی نظر آتی ہو۔ ممتا دیدی کو میں اصلیت بتا چکا تھا۔کرن چاولہ بھی ناواقف نہیں لگتا تھا۔لیکن کرن چاولہ، وگنیش شکلا کو حقیقت بتا چکا تھا یا نہیں اس بارے کچھ نہیں کہا جا سکتا تھا۔کرن چاولہ جیسے لوگ ایسے راز کو ترپ کے پتے کے طور پر چھپا کر ہی رکھتے ہیں ۔جیسے راجپوت مجھے بتا چکا تھا کہ کرن چاولہ کے پاس ایسا مواد موجود تھا جس سے وہ شکلا کو بلیک میل کر سکتا تھا۔تب تو پتا نہیں تھا لیکن اب میں اندازہ لگا سکتا تھا کہ اس مواد میں پرما کی ماں کے قتل کے بارے بھی تفصیل موجود ہونا تھی۔
پہلے میں نے ممبئی آگرہ نیشنل ہائی وے پر فرار ہونے کی کوشش کی تھی اور اب میں ممبئی دہلی ہائے وے پر محو سفر تھا۔دشمنوں کے پاس میرا آخری سراغ بوئی سر شہر کے ہوٹل کا تھا جہاں میں انسپکٹر کو قتل کر کے بھاگا تھا۔ وہاں سے آگے اپنے تیئں تو میں نے کوئی سراغ نہیں چھوڑا تھا،لیکن ڈھونڈنے والے بھی کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کر رہے تھے۔سونے پر سہاگا انعام کی خطیر رقم ،پرما انصاری کا پرکشش و معصوم چہرہ اورجذبات میں ہلچل مچانے والا خوش نما بدن تھا۔وگنیش شکلا نے اپنی براءت ثابت کرنے کو بھانجی کی بے حرمتی و موت تجویز کی تھی ۔لیکن سننے والوں تک وہ بات وگنیش شکلا کے بجائے دوسروں کے واسطے سے پہنچتی تھی اور تلاش کرنے والوں کو ترغیب دینے کو ساری بات کس نے سمجھانا تھی ۔بس مختصراََ بتایا جاتا کہ دولت بھی ہے اور ساتھ پرکشش راجکماری کا شباب بھی ہے۔ دلیل کے طور پر پرما کی تصویر دکھا دی جاتی۔وہ لڑکی جسے رندھیر شکلا کی حیات میں کوئی نظر بھر کر نہیں دے سکتا تھا،اب اسے دیکھنا کیا برتنے کی بھی اجازت دے دی گئی تھی ۔اور اس کمینگی میں کامیاب ہونے والا انعام کا حق دارعلیحدہ ٹھہرتا تھا۔
اگر بہ نظر انصاف دیکھا جاتا تو وگنیش شکلا نے اپنے دامن کو ہلکی چھینٹوں سے بچانے کو اس مصیبت میں گردن پھنسائی تھی۔اگر وہ باپ کی موت کے بعد احتیاط وغیرہ کے چکر میں پڑے بغیر پرما کو قتل کروا دیتا تو نوبت یہاں تک نہ آتی۔لیکن وہ ایسا نہ کر سکا۔اس کی ایک بڑی وجہ میرا اپنے مشن کو راز رکھنا بھی تھا۔رندھیر شکلا، کرن چاولہ اور میرے دوسرے دشمن یہی سمجھتے رہے کہ میں پاکستانی جاسوس ہوں اور اپنا اصل کام پس پشت ڈالے لورا براﺅن کے عشق میں مبتلا ہو کر اس کے ساتھ مل گیا ہوں ۔اس سوچ کو تقویت ڈاکٹر سجاتا کی بے وقوفی نے بھی دی کہ اس کی غلطی کی وجہ سے پرما کو قید سے فرار کا موقع ملا ۔جس سے رندھیر شکلا اور دوسروں نے یہ سمجھا کہ اسے ہم نے اپنا مقصد پورا کرنے کے بعد آزاد کیا ہے۔ رندھیر شکلا کے تیئں ہمارا مقصد دولت کا حصول تھا۔
اس کی موت کے بعد وگنیش شکلا پر یہ انکشاف ہوا کہ ہم دولت کے ساتھ رندھیر شکلا کی موت کے بھی خواہاں تھے۔مگر انصاری صاحب کی ذات تک اسے پھر بھی رسائی نہ ہوئی۔تبھی اس نے ایک تیر سے دو شکار کرنے کا سوچااور پرما کا کانٹا نکالنے کے ساتھ باپ کے قاتل یعنی مجھے بھی انجام کو پہنچانا چاہا۔لیکن اس بے وقوف کو یہ معلوم نہ تھا کہ اس کی وجہ سے میرا کام آسان ہوا تھا۔
دولت و جائیداد بھی انسان کوذلت کی گہرائیوں میں گرا دیتی ہے۔رندھیر شکلا کے گمان میں بھی نہیں ہوگا کہ اپنی نواسی کے نام اتنی زیادہ دولت و جائیداد کر کے وہ اس کی دردناک موت کا انتظام کر رہا ہے۔ البتہ پرما کی خوش بختی تھی کہ اس کے باپ کا مقرر کیا بندہ، یعنی خاکسار اس کی مدد کو موجود تھا۔اور اللہ پاک نے میری کوشش کو کامیابی سے ہمکنار کیا تھا کہ میں نے نہ صرف پرما کو حاصل کر لیا تھا بلکہ اسے اپنا ہمنوا بھی بنا لیا تھا۔اگر اس کے سامنے میں شکلا کا جرم ثابت نہ کر سکتا تو اسے کبھی ساتھ چلنے پر آمادہ نہیں کر سکتا تھا۔یوں مجھے دہری مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا۔
بس تیز رفتاری سے محو سفر تھی اور اس سے کئی گنا زیادہ تیز رفتاری سے خیالات میرے دماغ میں چکرا رہے تھے۔پرما سو گئی تھی ۔اس کا سر دھیرے دھیرے سرکتا ہوا میرے کندھے پر آن ٹکا تھا۔باہر کے موسم کی وجہ سے بس کے اندر کی حدت کچھ زیادہ ہی خوشگوار محسوس ہو رہی تھی۔میرے اندازے میں ہم مہاراشٹر ریاست سے گجرات میں داخل ہو گئے تھے۔جیسے پاکستان میں صوبے کہتے ہیں ،انڈیا میں ریاستیں پکاری جاتی ہیں ۔انڈیا کی اٹھائیس ریاستیں ہیں ۔ممبئی ریاست مہاراشٹر کا دارلخلافہ ہے۔اور گجرات کا دارلخلافہ غالباََ گاندھی نگر ہے۔
اچانک بس کی رفتار کم ہوئی اور ہلکے سے ہچکولے کے ساتھ بس رک گئی۔میں نے کھڑکی کا پردہ ہٹا کر دیکھا۔پولیس چیک پوسٹ کو دیکھتے ہی میں چوکنا ہو گیا تھا۔بس کا دروازہ خود کار انداز میں کھلا۔دو جوان جن میں ایک وردی والا اور دوسرا سادہ کپڑوں میں ملبوس تھااندر داخل ہوئے ۔ڈرائیور نے تیز بتیاں روشن کر دی تھیں ۔ میں نے چہرے پر مفلر درست کرکے سیٹ سے سر ٹیکا اور ادھ کھلی آنکھوں سے ان کی طرف متوجہ ہو گیا۔مگر اس بار معاملہ مختلف نظر آیا۔پہلی سیٹ ہی سے وہ لوگوں کے شناختی کارڈ دیکھنے لگے۔ایک دو کو اٹھا کر اس کی تلاشی بھی لی۔ میں شش وپنج میں پڑ گیا تھاکہ کیا کروں ،بھاگنے کی کوشش یا چپ سادھ کر نصیب آزماﺅں ۔
پرما نے ہلکے سے بڑبڑا کر کروٹ بدلنے کی کوشش کی اور کسمسا کر آنکھیں کھول دیں ۔میں اس کی طرف متوجہ ہوا۔اپنا سر میرے کندھے پر دیکھ کر وہ جھجک کر سیدھی ہوگئی تھی۔
”معذرت،ہمیں نیند میں خیال ہی نہیں رہاتھا۔“اس نے ندامت ظاہر کی۔
میں نے سرگوشی کی۔”آنکھیں بند کر کے دوبارہ لیٹ جاﺅ،پولیس والے چیکنگ کر رہے ہیں ۔“
سرعت سے ٹیک لگاتے ہوئے اس نے آنکھیں موند لیں ۔اس کی تیزی پر میرے ہونٹ ہنسنے کے انداز میں کھل گئے تھے۔ہم سے دوسیٹیں چھوڑ کر ایک نوجوان جوڑا بیٹھا تھا۔پولیس والے نے شناختی کارڈ دیکھنے کے ساتھ لڑکے کی تلاشی بھی لی تھی۔میں ذہنی طور پر ہر قسم کی صورت حال سے نبٹنے کو تیار ہو گیا تھا۔البتہ آخر تک میری کوشش یہی تھی کہ وہ مصیبت خوش اسلوبی سے بغیر کوشش کے ٹل جائے ۔کیوں کہ موسم کی جو صورت حال تھی ایسے میں بس سے باہر نکلنا بہت مشکل لگ رہا تھا۔خاص کر پرما کی حالت پر ترس آرہا تھا کہ بے چاری تھوڑے آرام کے بعد پھر جوکھم میں پڑ جاتی۔
مگر میری خاموش مناجاتیں کام نہیں آئی تھیں ۔قریب آکر پولیس والے نے شناختی کارڈ مانگا۔ شناختی کارڈ اس کی طرف بڑھاتے ہوئے اچانک مجھے یاد آیا کہ ہوٹل کے استقبالیے پربھی میں نے یہی شناختی کارڈ دکھایا تھا۔اور استقبالین نے میرا نام و پتا درج کیا تھا۔اگر میرا شناختی نام،یعنی انوپ مشرا آگے بتایا جا چکا تھا توجان بچنا ناممکنات میں سے تھا۔لحظے کے دسویں حصے میں اس خیال نے میرے دماغ پر دستک دی۔اور اس کی تصدیق رائفل کی ٹھنڈی نال نے کردی تھی۔
شناختی کارڈ پر سرسری نظر دوڑاتے ہی پولیس والے نے کلاشن کوف کی نال میری گردن سے لگا دی تھی۔”ہاتھ اوپر۔“وہ دبنگ لہجے میں بولا۔سول لباس والے نے بھی مجھ پر پستول تان لیا تھا۔
”خیرتو ہے مہاراج۔“میں نے مہلت کے حصول کو لب کھولے۔
پولیس والا دھاڑا۔”سنا نہیں ہاتھ اوپر۔“اس کا اندازخصوصی تربیت یافتہ ہونے کی چغلی کھا رہا تھا۔مجھے لگا وہ اسپیشل پولیس والا ہے۔تبھی تو رائفل کے بجائے کلاشن کوف سے مسلح تھا۔یقینا میرے سابقہ کرتوتوں سے وہ ناواقف نہیں تھے۔تبھی ذرا بھی لچک نہیں دکھا رہے تھے۔
میں نے ہاتھ اوپر کر دیے،سادہ لباس والے نے مہارت سے میری جیبیں تھپتھپائیں اور گلاک کے علاوہ نیفے میں اڑسا ریوالور بھی برآمد کر لیا۔کوئی گنجائش بھی باقی نہیں رہی تھی۔
”کوئی بھی اپنی جگہ سے اٹھنے کی کوشش نہ کرے ۔تمام لوگ آرام سے بیٹھے رہیں ۔“پولیس والا باآواز بلند اعلان کر کے مجھے مخاطب ہوا۔” ذرا سی غلط حرکت تمھیں ہلاکت میں ڈال سکتی ہے۔یونھی ہاتھ بلند کیے باہر آجاﺅ۔“
میں نے قدم سیٹ سے نکالے،سادہ لباس والے نے اس سے پہلے ہی میرے قدموں میں رکھا ایس آر ون کا بیگ اچک لیا تھا۔
”تم بھی باہر آجاﺅلڑکی ۔“وردی والے نے کلاشن کوف کی بیرل سے پرما کو ٹہوکا دیا۔وہ سہمی ہوئی بیٹھی تھی ۔چہرے پر ہوائیاں اڑ رہی تھیں ۔انھوں نے پرما کی تلاشی لینے کی کوشش نہیں کی تھی،بلاشبہ ہمارے بارے وہ تفصیل سے جانتے تھے ۔
صورت حال توقع سے زیادہ خراب ہو گئی تھی ۔غنیمت تھا کہ ان کے پاس ہتھکڑی وغیرہ موجود نہیں تھی اور میرا دماغ جکڑے جانے سے پہلے بھاگنے کی تجویز سوچ رہا تھا۔مگر دونوں پوری طرح چوکنا تھے ۔
”بلرام!تم آگے ہو جاﺅ،یہ ذرا سی بھی غلط حرکت کرے فوراََ گولی چلا دینا۔“باوردی شخص نے سادہ لباس والے کو ہدایت دی۔
بلرام سر ہلاتے ہوئے آگے ہوگیا۔میرا بیگ کندھے میں ڈال کر اس نے پستول کی نال میرے جانب کی اور الٹے قدم پیچھے ہٹنے لگا۔یقینا انھوں نے بس سے نیچے اترنے کا سادہ اور بہترین لائحہ عمل طے کیا تھا۔ میں بیک وقت دو افراد کے نشانے پر تھا۔آگے والے پر حملہ کرتا تو عقب میں چلنے والے کا نشانہ بنتا،پیچھے والے پر ہلہ بولتا تو سامنے والاٹھوک دیتا۔پرما کو انھوں نے لائق ِ توجہ نہیں جانا تھا۔میں بھی پرما سے کوئی توقع نہیں کر سکتا تھا۔ جو کچھ کرنا تھا مجھے ہی کرنا تھا۔
”لڑکی آرام سے چلتی آﺅ،بھاگنے کی کوشش کرنا فضول ہوگا۔“باوردی پولیس والے نے پرما کو دھمکایا، حالانکہ مجھے یہ کوشش فضول لگی تھی ۔کیوں کہ وہ پہلے ہی اتنی خوفزدہ تھی ۔مجھے پٹر پٹر جواب دینے والی کو دشمنوں کو دیکھتے ہی سانپ سونگھ جاتا تھا۔کرن چاولہ اور میری لڑائی کے دوران اسے ہتھیار پر قبضہ جمانے کی مکمل آزادی تھی مگر نیک بخت نے اپنی جگہ سے جنبش بھی نہیں کی تھی۔
بلرام دوتین سیڑھیاں اتر کر بس کے دروازے سے باہر نکلا اور تین چار قدم ہٹ کر کھڑا ہو گیا۔اس کے پستول کا رخ میری جانب تھا۔
میں نے باہر نکل کر سامنے دیکھابیس پچیس قدم دور چیک پوسٹ کا کمرہ تھاجہاں روشنی ہو رہی تھی۔ بلب کی روشنی کے ساتھ آگے کی سرخ لپٹیں بھی نظر آرہی تھیں ۔موسم کا لحاظ رکھتے ہوئے انھوں آگ جلائی ہوئی تھی ۔وہی بیس پچیس قدم کا دورانیہ میرے پاس مہلت تھی۔میز کے گرد چار افراد کرسیاں ڈالے بیٹھے تھے۔وہاں پہنچنے کے بعد مزاحمت کرنے کا سوچا بھی نہیں جا سکتا تھا۔اور میرے بارے تو یقینا انھیں سختی سے احکامات ملے ہوں گے۔یہ بھی ممکن تھا چیک پوسٹ میں پہنچتے ہی مجھے مزید زندہ رہنے کی اجازت نہ دی جاتی۔اور میری موت کے بعد پرما کے ساتھ انھوں نے جو کچھ کرنا تھا وہ پہلے سے طے تھا۔اگلے دن ٹی وی پر دولاشیں دکھائی جاتیں ، ایک مظلوم راجکماری پرما کی جو پاکستانی دہشت گرد کی زیادتی کا شکار ہوئی اور دوسری پاکستانی دہشت گرد کی جسے پولیس کے جیالوں نے زبردست مقابلے کے بعد ہلاک کیا۔
میں دل ہی دل میں اندازہ لگانے لگا کہ بلرام پر حملہ کرنا بہتر تھا یا وردی والے کو نشانہ بنانا مناسب تھا۔
”اسی طرح چلتے رہو ہوشیاری دکھانے کی کوشش تمھیں ناقابل تلافی نقصان پہنچا سکتی ہے۔“ مجھے حکم دے کر اس نے سر موڑے بغیر پرما کو کہا۔”لڑکی تم بھی آگے ........اوغ۔“اس کے حلق سے زور دار کراہ خارج ہوئی تھی۔یوں لگا جیسے اس کے سر پر چوٹ لگائی گئی ہو۔سیکنڈ کے ہزارویں حصے میں میرا دماغ نتیجے پر پہنچ گیا تھا کہ پرما نے عقب سے اس کے سر پر وار کیا تھا۔کرن چاولہ والا پستول اس کے پاس تھا۔یقینا اسی کے دستے سے وردی والا کا سر بجایا گیا تھا۔
میں برقی کوندے کی طرح اچھلا،جب تک بلرام کچھ سمجھنے کے قابل ہوتا میں اس کے ہتھیار والے ہاتھ پر گرفت جما کر نال کا رخ اپنے جسم سے موڑا تاکہ اتفاقی گولی چلنے پر میں نشانہ نہ بن جاﺅں ساتھ ہی میرا گھٹنا اس کے ٹانگوں کے درمیان اٹھ گیا۔
بلرام کے ہونٹوں سے اپنے ساتھی سے بھی بلند کراہ خارج ہوئی تھی۔ایک دم وہ رکوع کے بل جھکا۔اس کے ہاتھ سے پستول جھپٹتے ہوئے میں نے پیچھے دیکھاوردی والااوندھے منہ گر چکا تھا۔پرما پستول کو نال سے تھام کر ہکا بکا کھڑی تھی۔دل چاہا اسے اکیس توپوں کی سلامی پیش کروں ۔اس نے میرا کام نہایت آسان کر دیا تھا۔
پستول کے دستے سے بلرام کا سر بجاتے ہوئے میں اسے انٹا غفیل کیا اور اس کی جیب سے اپنے ہتھیار برآمد کر کے اس کا پستول دور پھینک دیا۔پھر بیگ کو کندھوں میں ڈال کر میں نے وردی والے کے ہاتھوں سے کلاشن کوف لے لی۔
پرما اب تک سراسیمہ سی کھڑی تھی۔میں نے اسے حوصلہ دیتے ہوئے کہا۔”شاباش راجکماری،اب بس میں سوار ہو جاﺅ۔“
بس والوں کو صورت حال کا علم نہیں تھا۔ایک منٹ کے اندر یہ ساری کارروائی مکمل ہوئی تھی۔
پرما لرزتی ہوئی بس میں گھسی۔میں نے دروازے پر کھڑے ہو کر ڈرائیور کو دھمکایا۔”استاد،جان پیاری ہے تو بس چلاﺅ،اڑی کرنے کی کوشش تمھیں ہلاک کر دے گی۔“کلاشن کی نال کو اپنی جانب اٹھا دیکھ کر ڈرائیور نے فوراََ بس چلا دی تھی۔ بھنبھناہٹ بلند ہوئی،لوگ صورت حال جاننے کو بے چین ہوئے ۔اکادکا عورتوں نے رونا شروع کر دیا تھا۔
میں نے احتیاطاََ کلاشن کوف کاک کی۔ تربیت یہی بتاتی ہے کہ سب سے پہلے ہتھیار کا لوڈ ان لوڈ ہونا جانچا جائے۔چونکہ کلاشن کوف پہلے سے کاک تھی اس لیے چیمبر میں موجود گولی ایجکشن سلاٹ کے راستے نکل کر باہر جا گری تھی۔سیفٹی کیچ سنگل فائر پر سیٹ تھا۔بس کے رفتار پکڑنے سے پہلے میں نے وہاں موجود دو جیپوں کے ٹائروں کوباری باری نشانہ بنادیا۔فائر کی آواز اور پھر ٹائر کے دھماکوں نے چیک پوسٹ میں موجود آدمیوں کو سراسیمہ کرنے کے ساتھ بس کی سواریوں کو بھی دہلا دیا تھا۔
عورتوں باآواز بلند چیخنے لگیں ،بچوں نے رونا شروع کر دیا تھا۔
”خاموش....چپ ہو جائیں سب لوگ۔“میں زور سے دھاڑا۔بچوں کا رونا جاری رہا،مگر عورتوں نے لبوں پر ہاتھ رکھ کر چپ سادھ لی تھی۔
میں نے فوراََ اعلان کیا۔”کسی کوبھی نقصان نہیں پہنچایا جائے گا۔ہم نے چند کلومیٹرسے زیادہ بس میں سفر نہیں کرنا۔تمام لوگ بے فکر ہو کر اور آرام سے بیٹھیں ۔ آپ یرغمالی ہیں اور نہ ہم دہشت گرد۔“
جاری ہے
قسط نمبر 68
ریاض عاقب کوہلر
میں نے فوراََ اعلان کیا۔”کسی کوبھی نقصان نہیں پہنچایا جائے گا۔ہم نے چند کلومیٹرسے زیادہ بس میں سفر نہیں کرنا۔تمام لوگ بے فکر ہو کر اور آرام سے بیٹھیں ۔ آپ یرغمالی ہیں اور نہ ہم دہشت گرد۔“
لوگ بے یقینی سے مجھے دیکھ رہے تھے ۔پرما پستول پکڑے حیران کھڑی تھی۔ اس نے دشمن پر تو وار کرکے اسے وقتی طور پر ناکارہ کر دیا تھا،مگر اب صورت حال اس کی سمجھ سے باہر تھی۔یہ بھی اس کاحوصلہ و ہمت تھی کہ اس نے بروقت فیصلہ کرتے ہوئے عمل بھی کر دیا تھا۔
پولیس کی وہ چیک پوسٹ آبادی کے خاتمے پر بنی تھی۔میں نیچے اترنے کو کوئی مناسب مقام تاڑنے لگا۔کیونکہ ہم مسلسل بس میں سفر نہیں کر سکتے تھے۔دشمن کسی اور چیک پوسٹ پر ہمارے منتظر بھی ہو سکتے تھے اور تعاقب کر کے بھی ہمارے پاس پہنچ سکتے تھے۔فلم کی طرح میں لوگوں کو یرغمال بنانے کی ترکیب بھی نہیں سوچ سکتا تھا کہ میڈیا وغیرہ کی آمد سے پہلے وگنیش شکلا کے کارندوں نے پوری بس ہی کو تباہ کر دینا تھا۔جو درندہ اپنی سگی بھانجی کو بے عصمت و قتل کرانے کے درپے تھا اس کے لیے عوام کی کیا اہمیت ہوتی۔
ونڈ سکرین سے سامنے کا علاقہ نظر آرہا تھا۔بس کی تیز روشنیاں کافی دور تک دکھاﺅ کی سہولت دے رہی تھیں ۔ونڈ سکرین پر پڑنے والی باریک بوندیں میرے اندیشوں میں اضافہ کر رہی تھیں ۔خراب موسم میری مشکلات میں اضافہ کرنے والا تھا۔
میں نے ڈرائیور کو لالچ دی۔”جتنی جلدی یہاں سے دور جاﺅ گے اتنا جلدہم سے پیچھا چھوٹے گا۔“
ہونٹ بھینچتے ہوئے اس نے بس کی رفتار میں ممکن حد تک اضافہ کر دیا تھا۔ایک چھوٹی سی آبادی گزری، اس سے دو تین کلومیٹر دور آتے ہی جیسے ایک اور آبادی کے آثار نظر آنے لگے ،میں نے بس رکواکر ڈرائیور کو دروازہ کھولنے کا اشارہ کیا۔
اس نے سرعت سے دروازہ کھولنے کا بٹن دبا دیا۔ہلکی سی آواز سے خود کار دروازہ کھلا اور ہم باہر نکل آئے ۔ڈرائیور نے فوراََ ہی بس آگے بڑھادی تھی۔یقینا اتنی جلدی جان چھوٹنے پر وہ معبودکا شکر کر رہے ہوں گے۔
سردی سے کپکپاتے ہوئے پرما مستفسر ہوئی۔”یہاں کیوں اترے۔“
میں نے سڑک سے نیچے اترتے ہوئے پوچھا۔”تو کیا کرتا۔“
اس نے تجویز اُگلی۔”کسی اور سواری کا انتظام کیے بغیر بس سے اترنا مناسب نہیں تھا۔“
” کیا خیال ہے اگلی چوکیوں کو خبردار نہیں کیا جا چکا ہوگا۔“
”یہ سردی ہماری جان لے لے گی۔“نزاکت سے کہتے ہوئے اس نے کوٹ کی جیبوں میں ہاتھ گھسیڑ لیے۔
میں نے تسلی دی۔”تھوڑا سا پیدل چلتے ہی گرم ہو جائیں گے۔“
وہ منہ بسورتے ہوئے بولی۔” ہماری ٹانگیں بلکہ پورا جسم درد کر رہا ہے۔“
میں ہنسا۔”جب گرم ہوں گے تو جسم کا درد بھی ختم ہو جائے گا۔“
وہ روہانسا ہوئی۔”یہ اچھی رہی،ہماری ہر مشکل کا حل پیدل چلنا ہو گیا۔“
میں اطمینان سے بولا۔”بھاگنا بھی پڑسکتا ہے۔“
اس نے کوفت بھرے لہجے میں کہا۔”بھاگتی ہے ہماری جوتی۔“
میں طنزیہ انداز میں بولا۔”جب دوستوں کی جھلک دکھائی دے گی اور وہ عقب سے گولیاں چلائیں گے تب بے شک آپ آرام آرام بلکہ نزاکت سے چلتے ہوئے آگے بڑھنا۔“
وہ کھل کھلا کر ہنسی۔”ہم آپ کے کندھوں پر سوار ہو جائیں گے۔“
”گویا اپنے ساتھ مجھے بھی مروانے کا ارادہ ہے۔“
وہ گنگنائی۔”اب ہم سفر بنے ہیں تو ہمت سے کام لو۔“
”یہ مذاق کا وقت نہیں ہے۔ہم مصیبت میں گرفتار ہو گئے ہیں ۔جتنا جلدی ہو سکے یہاں سے نکلنا ہو گا۔ سڑک ہمارے لیے بالکل محفوظ نہیں ۔کسی کے گھر بھی پناہ نہیں لے سکتے،کیوں کہ تین چار گھنٹوں کے اندر یہ علاقہ دشمنوں کے گھیرے میں آجائے گا۔“
وہ بے پروائی سے بولی۔”کیسے نکلیں گے،کہاں جائیں گے،کیا کرنا ہے،کب کرنا ہے،کیوں کرنا ہے یہ اور اس جیسے بیسیوں سوالوں کی ذمہ داری ہمارے پاپا نے آپ کو سونپی ہوئی ہے۔اس لیے ہمیں پریشان کرنے کی ضرورت نہیں ۔ہم بس اتنا جانتے ہیں کہ راجا ذیشان حیدرہمارا محافظ ہے۔“
میں نے مطعون کیا۔”اگر ایساہی سمجھتی تو بحث و تکرار کیوں کرتی ہو،چپ چاپ میری بات مان جایا کرو۔“
وہ سرعت سے بولی۔”کب ٹالی ہے۔“
میں ترکی بہ ترکی بولا۔”مانی کب ہے۔“
وہ ہنسی۔”خیر منوا تو آپ لیتے ہیں ۔“
میں نے چپ سادھ لی۔بوئی سر ہوٹل کے ہنگامے کے بعد سے وہ مجھے بدلی بدلی نظر آرہی تھی۔لیکن اس بدلاﺅ کی توجیہہ سے میں قاصر تھا۔
سڑک سے تھوڑا فاصلہ پیدا کر کے ہم روشنیوں کی طرف چل پڑے تھے۔ہوا بدستور چل رہی تھی، جس میں نمی کی مقدار کافی زیادہ تھی۔میں نے گرم جرسی کے ساتھ کالے رنگ کا پیرا شوٹ کے کپڑے والا کوٹ پہنا ہوا تھا جو بارش اور ہوا کے خلاف اچھی خاصی حفاظت مہیا کر رہا تھا۔جبکہ پرما نے بھی جرسی اور اس کے اوپر ایک گرم کوٹ پہنا ہوا تھا۔ مگر اس کے کوٹ نے جلد ہی گیلا ہو کر ناکارہ ہو جانا تھا۔خریداری کے وقت میں بادلوں پر دھیان دے سکا ہوتا تو لازماََ برساتیاں (رین کوٹ)بھی ضرورخریدتا۔
پیدل چلنے کی وجہ سے سردی کی شدت میں کمی تومحسوس ہوئی ،مگر ہوااور بوندیں ہمیں تنگ کرنے پر مائل رہیں ۔دو اڑھائی فرلانگ کا فاصلہ طے کر کے جب روشنیوں کے قریب پہنچے تو صرف دو عمارتیں نظر آئیں ۔ سڑک کے کنارے پٹرول پمپ بنا تھا۔جبکہ اس کے عقب میں تین چار سو میٹر دور ایک زرعی فارم بنا تھا۔ان روشیوں پر سرسری نظر ڈال کر میں کوئی بڑی آبادی سمجھا تھا۔تبھی بس سے اترنے میں جلد بازی کی تھی کہ بڑی آبادی میں پولیس چوکی کا ہونا نظر انداز نہیں کیا جا سکتا تھا۔اور ایسی صورت میں لازماََوہ تیار بیٹھے ہوتے۔مگر یہاں تو پہاڑکی کھودائی میں زندہ تو کیا مرا ہوا چوہا بھی نہیں نکلا تھا۔
مجھے دروازے کو گھورتا دیکھ کر وہ مستفسر ہوئی۔”رک کیوں گئے ؟“
”میں نے سوچاتھا گاﺅں ہے۔اور یہاں سے کوئی سواری وغیرہ مل جائے گی۔“
اس نے امید ظاہر کی۔”شاید فارم میں کوئی گاڑی وغیرہ کھڑی ہو ؟“
”دیکھ لیتے ہیں ۔“میں دیوار کے قریب ہوا جس کی اونچائی آٹھ ساڑھے فٹ کے بہ قدر ہوگی۔ بیگ اتار کر میں نے نیچے رکھا اور اچھل کر دیوار کی کگر پکڑ لی۔ہاتھوں کے بل پر میں آہستہ سے بلند ہوا۔سامنے کی دونوں دیواروں پر دو بڑے بڑے بلب لگے تھے جن کی روشنی سے مکمل صحن نظر آرہا تھا۔مگر صحن میں موٹرسائیکل، کار یا جیپ وغیرہ نظر نہ آئی ۔دو تین لمحے جائزہ لے کر میں نیچے کود گیا۔
پرما بے صبری و اشتیاق سے مستفسر ہوئی۔”کیا رہا؟“
”چلو۔“بیگ اٹھا کر میں چل پڑا۔میراجواب سے پہلو تہی کرنا اسے اچھی طرح باور کرا گیاتھا۔
وہ خاموشی سے میرے پہلو میں چلنے لگی۔میں نے قدم لمبا ہی رکھا تھا کہ جلد از جلد وہاں سے دور نکلنا چاہتا تھا۔پٹرول پمپ کا رخ کرنے کی ہمت مجھے نہیں ہوئی تھی۔
کلو میٹر ادھ چلتے ہی وہ منمنائی۔”ہم تھک گئے ہیں ۔“
میں رکھائی سے بولا۔”اس مسئلے کا حل کم از کم میرے پاس نہیں ہے۔“
وہ تلخ ہوئی۔”آخر کب تک چلنا پڑے گا۔“
میں اطمینان سے بولا۔”جب تک پاکستان نہیں پہنچ جاتے۔“
وہ چیخی۔”تو کیاپاکستان تک پیدل چلیں گے۔“
”کوئی سواری نہ ملی تو چلنا ہی پڑے گا۔“میرے اطمینان میں فرق نہیں آیا تھا۔
وہ برہمی سے بولی۔”ٹھیک ہے ،پھر ہمیں اٹھا کر چلو۔“
میں صاف گوئی سے بولا۔”بھینس کی طرح موٹی تازی لڑکی کو اٹھانے کی ہمت کوئی پہلوان ہی کر سکتا ہے۔“
”کیا....کیا....کیا۔“وہ بپھرتے ہوئے بولی۔”دماغ جگہ پر ہے،ہم وہی ہیں جسے کل کندھے پر اٹھا کر پہاڑ پر چڑھے تھے۔“
میں نے موشگافی کی۔”اور ابھی تک کندھے درد کر رہے ہیں ۔“
وہ غصے سے بولی۔”آپ سے بات کرنا ہی پاپ ہے۔“
”پاپ و پن (گناہ و ثواب)تو دھرم کوماننے والوں کے نزدیک اہمیت رکھتے ہیں کسی اَدھرمی(بے دین)کا اس سے کیا واسطہ۔“
اس نے وضاحت کی۔”ہمارا مطلب تھا بات کرنافضول ہے۔“
”منت کس نے کی ہے۔“میں نے اسے چھیڑنا جاری رکھا کہ یونھی اس کے دماغ سے پیدل چلنے کی مشقت کا احساس کم کیا جا سکتا تھا۔
”ہم نے سنا تھا پاکستانی فوجی بڑے منضبط اور تابع فرمان ہوتے ہیں ۔“
میں ہنسا۔”سنا تو ٹھیک ہے۔“
”تو کیا پاپا نے یہی احکام دیے تھے کہ ہماری خوب بے عزت کرنا، توہین کرنا،طنز و طعنوں کے تیر چلانا، پیدل چلانا،بلکہ گھسیٹنا۔بھوکا پیاسار کھنا،ہر وقت ڈانٹنا، جھڑکنا، کوسنا، دھتکارنا اور سردی و بارش میں ہمارا کباڑا کرنا۔اگر ایسا ہی ہے پھر توہمارا ماموں کے ہاتھوں مرنا بہتر رہے گا۔اور ایسا نہیں ہے تو خاطر جمع رکھو، ایک ایک بات ہمارے دل پر نقش ہے۔پاپا کوپوری تفصیل سے آپ کی زیادتیاں گنوائیں گے۔تب انعام کے بجائے آپ کا کورٹ مارشل نہ ہوا تو پھر کہنا۔“
میں مزاحیہ انداز میں بولا۔” آپ پر جتنا خرچ کر چکا ہوں اگر بریگیڈئر صاحب نے وہ تمام رقم لوٹا دی تو مجھے مزید نوکری کرنے کی ضرورت ہی پیش نہیں آئے گی۔آرام سے دکان کھول کر زندگی گزاروں گا۔“
”جیسے ہم جانتے ہی نہیں کہ سارے چوری،ڈکیتی کے پیسے ہیں ۔“وہ جھگڑے پر تیار تھی۔
میں طنزیہ انداز میں بولا۔”تو کیاچور ڈکیت ،پیسے لوٹ کر آپ جیسی لڑکی پر خرچ کرنے کے مکلّف ہوتے ہیں ۔“
وہ شوخی سے بولی۔”شبہ ہی کیاہے۔اورہمیں دھنے واد بولو کہ آپ کی بھینٹ سوئیکار کر لیتے ہیں ۔“
میں نے قہقہ لگایا۔”اگر بریگیڈئر صاحب کا خیال نہ ہوتا تو کب کا راجکماری صاحب کا سودا کر کے مال و دولت سے لدا پاکستان پہنچ چکا ہوتا۔“
وہ منہ بناتے ہوئے بولی۔”جھوٹ بولنا بھی فن ہے جو ہر کسی کو نہیں آتا۔“
”جھوٹ بولنا تو خیرموجب لعنت ہے۔البتہ میرے دعوے کو جھوٹا سمجھنے کی وجہ سمجھ میں نہیں آئی۔“
وہ وثوق سے بولی۔”ہم جیسے جانتے ہی نہیں کہ آپ کے لیے کتنے اہم ہیں ۔“
میں شدومد سے بولا۔”انکار کب کیا ہے،میں نے تو بس آپ کو اہمیت دینے کی وجہ سے پردہ اٹھایا ہے۔اور یقینا پہلے بھی کئی مرتبہ یہ بتا چکا ہوں ۔“
وہ اٹھلاتے ہوئے بولی۔”وضاحتوں کی زحمت رہنے دیں ۔“
میں موضوع تبدیل کرتے ہوئے بولا۔”ویسے آج آپ کی بدولت جان بچی ہے۔اگر آپ نے ہمت نہ کی ہوتی تو برے پھنس گئے تھے۔“
اس نے منہ بسورا۔”دشمنوں سے زیادہ آپ کے ڈانٹنے کے خوف نے ہمت دی تھی۔“
میں شاکی ہوا۔”لیں جی ایک اور الزام۔“
وہ کھل کھلا کر ہنس دی تھی۔یونھی گپ شپ کرتے ہم نے تین چار کلومیٹر فاصلہ طے کر لیا تھا۔ مگر اب اس کی ہمت بالکل جواب دینے لگی تھی ۔قدم گھسیٹتے ہوئے رفتار مسلسل کم ہورہی تھی ۔ کچھ فاصلے پر پھر روشنیاں نظر آنے لگی تھیں ۔
پرما حسرت سے بولی۔”کاش ،آپ کہیں بقیہ رات اس آبادی میں گزاریں گے۔“
میں نے انکار میں سر ہلایا۔”بے وقوف یہ علاقہ بے حد خطرنا ک ہے۔یہاں رکنا ساری محنت پر پانی پھیر دے گا۔“
وہ رنکھی ہوئی ۔”آخر وہ کون سی جگہ ہو گی جسے آپ محفوظ کہیں گے اور ہم چند گھڑیاں آرام کر سکیں گے۔“
میں ہنسا۔”انڈیامیں ایسی جگہ کا وجود ناپید ہے۔“
”ہم سے اور نہیں چلا جاتا۔“پاﺅں پٹختے ہوئے اس نے قدم روک لیے۔
میں اسے تسلی دینے لگا۔”مذاق کر رہا تھا۔آبادی میں پہنچ کر کوشش کرتا ہوں کہ کوئی سواری مل جائے، تاکہ ایک مشقت سے تو جان چھوٹے۔“
دوبارہ قدم گھسیٹتے ہوئے اس نے پوچھا۔”آپ تھکتے نہیں ہیں ۔“
میں نے فلسفہ بگھارا۔”تھکن تب ہوتی ہے جب آسائش و آرام کو سوچا جائے۔اگر حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے دشمنوں کے ہتھے چڑھنے کی بابت سوچا جائے تو حفاظت کی فکر تھکن کے احساس کو زائل کر دیتی ہے۔“
وہ تیقن سے بولی۔”نجانے کیوں لگتا ہے کہ آپ کے ہوتے ہوئے ہمارا کوئی کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔“
”یہ تو نہیں کہتا کہ ایسا نہ سوچو،البتہ موت کا کوئی بھروسا نہیں کہ کب گلے سے آن پکڑے۔اس لیے کسی اور پر انحصار کرنے کے بجائے حالات کا مقابلہ کرنے کی ہمت اپنے اندر پیدا کرو۔“
وہ استہزائی انداز میں بولی۔”شاید مذاق کر رہے ہو۔“
میں نے نفی میں سرہلایا۔”یہ حقیقت ہے۔“
اسی دم عقبی و دائیں جانب تیز روشنیاں نمودار ہوئیں ۔آگے پیچھے دو گاڑیاں تیز رفتاری سے نزدیکی آبادی کی طرف بڑھ رہی تھیں ۔میں نے فوراََ پرما کا ہاتھ پکڑا اور مڑ کر بھاگا۔پچاس ساٹھ قدم پیچھے چند جھاڑیاں نظر آئی تھیں ۔روشنیوں کو دیکھتے ہوئے پرما کو بھی خطرے کا احساس ہو گیا تھا۔جھاڑیوں کی آڑ لے کر میں رک گیا۔ پرما کا سانس پھول گیا تھا۔پہلے ہی نڈھال تھی ،چند قدم بھاگنے پربے حال ہو گئی تھی ۔
گاڑیوں کی رفتار اور ہموار حرکت سے مجھے اندازہ لگانے میں دقت نہ ہوئی کہ بڑی سڑک اور اس آبادی کو ملانے والالنک روڈ موجود تھا۔
پھولے ہوئے سانسوں کے ساتھ اس نے تصدیق چاہی۔”یہ وہی ہیں ۔“
میں پھیکے انداز میں بولا۔”اس کی طرح کی نجانے کتنی ٹولیاں پورے علاقے میں پھیل گئی ہوں گی۔ اب سمجھ میں آیا میں کیوں کہ رہا تھا کہ یہاں آرام نہیں کر سکتے۔“
اس نے تشویش ظاہر کی۔”اب کیا کریں گے؟“
میں اطمینان سے بولا۔”فی الحال تو یہاں بیٹھ کر آرام کرتے ہیں ۔“
”سچ میں ۔“وہ خوشی سے کھل اٹھی تھی۔
”لمحاتی خوشی ہے۔“میں ہولے سے بڑبڑایا کیوں جانتاتھاکہ چند لمحوں بعد اس نے ٹھنڈ کی دہائی دینے لگ جانا تھا۔چلنے کی وجہ سے ہمارا جسم گرم تھا اس لیے ہوا اور ہلکی پھوار بے اثر لگ رہی تھی۔لیکن رکنے پر سردی نے پوری شدت سے حملہ آور ہونا تھا۔
میرے طنز کو نظر انداز کرتے ہوئے اس نے لجاجت سے پوچھا۔”ہم بیٹھ جائیں ۔“بارش اتنی زیادہ بھی نہیں تھی کہ زمین کیچڑ ہو جاتی،البتہ ہلکی ہلکی گیلی ضرور تھی۔میں نے گاڑیوں کی طرف دیکھا جو آبادی تک پہنچ گئی تھیں ۔موبائل فون نکال کر میں نے سکرین کی ہلکی روشنی میں جھاڑیوں کے نیچے تھوڑی سی خشک جگہ تلاش کی۔پاﺅں سے کانٹوں اور تنکوں وغیرہ کو صاف کیااور پھر اپنا مفلر بچھا کر اسے بیٹھنے کااشارہ کیا۔
”شکریہ۔“ممنونیت سے کہتے ہوئے وہ ڈھے جانے کے انداز میں مفلر پر بیٹھ گئی۔میں نے کندھوں سے بیگ اتار کر جھاڑی کے نیچے رکھا اور اس کے ساتھ کلاشن کوف کھڑی کر کے آبادی کی طرف متوجہ ہوگیا۔
پانچ چھے منٹ بعد ہی میراخدشہ حقیقت کے روپ میں اجاگر ہوا۔اس نے کانپتی آواز میں اعلان کیا۔”ہمیں ،سردی لگ رہی ہے۔“
گہرا سانس لیتے ہوئے میں نے اپنا کوٹ اتارکر اس کی جانب بڑھایا۔”یہ پہن لو۔“
اس نے رسمی انکار کی ضرورت بھی محسوس نہیں کی تھی ۔میں نے کوٹ کے نیچے جرسی پہنی ہوئی تھی۔ لیکن کوٹ اتارتے ہی ایک بار تو کپکپا گیا تھا۔سردی گرمی کو برداشت کرسکنے کا مطلب یہ بھی نہیں ہوتا کہ انسان کو موسم کے اثرات محسوس نہیں ہوتے۔
وہ کوٹ پہن کر جیبوں میں ہاتھ گھسیڑے بیٹھ گئی ۔میں آبادی کی طرف متوجہ ہوا مگر کچھ اندازہ نہیں ہو رہا تھا۔اسی دوران بڑی سڑک کی طرف سے تین چار فائروں کی آواز اٹھی۔میری سماعتوں نے کلاشن کوف کی تڑتڑاہٹ پہچان لی تھی۔اگلے پانچ چھے منٹوں میں روشنیاں اس طرف بڑھتی نظر آئیں ۔میں نے فوراََ کلاشن کوف اٹھائی اور جھاڑیوں میں دبک گیا۔یہ دوسری ٹولی کے افراد تھے۔ہم اسی علاقے میں اترے تھے اور اب یہ علاقہ شکار گاہ کا روپ دھار گیا تھا۔شکاری ٹولیاں قسمت آزمانے کو جوق در جوق اکٹھا ہو رہی تھیں ۔ پرما کی حیثیت سونے کی چڑیا کی سی تھی۔دولت کے ساتھ ایک راجکماری کے شباب کی لالچ کئیوں کو طلب گار بنا گئی تھی۔
نیک بخت میرے پاﺅں کی بھی بیڑی بن گئی تھی۔ورنہ میں کب کا ان کے گھیرے سے نکل چکا ہوتا۔
دوجیپیں پچاس ساٹھ قدم کی دوری پر ہمارے بائیں جانب سے گزر گئی تھیں ۔ہوا کی رفتار میں ذرا سی کمی آئی لیکن بارش تیز ہو گئی تھی۔ہلکی پھورا نے بوندوں کی شکلا اختیار کر لی تھی۔
پرما ذرا سا کھسک کرقریب ہوئی اور مجھ سے جڑ کر بیٹھ گئی۔میں نے بھی دور ہونے کی کوشش نہیں کی تھی۔حالات ایسے تھے ہماری قربت ناگزیر ہوتی جا رہی تھی۔
”ہمیں ڈر لگ رہا ہے۔“میرے کندھے پر سرٹیکتے ہوئے وہ منمنائی۔
اس کا ملائم ہاتھ گرفت میں لے کر میں نے ہولے سے تھپتھپایا۔”سردی تو نہیں لگ رہی۔“
وہ دھیرے سے بولی۔”اب کچھ بہتر ہے۔“
میں نے اندازہ لگاتے ہوئے کہا۔”اچھا تھوڑی دیر آرام کر لو،لگتا ہے کچھ دیر یہیں گزارنا پڑے گی۔“
اس نے تشویش ظاہر کی۔”ہمارا کوٹ توواٹر پروف ہے ،آپ بھیگ جائیں گے۔“
میں ہنسا۔”بہت ڈھیٹ ہوں ۔میری فکر چھوڑو۔“
اس نے اعلان کیا۔”پاکستان پہنچتے ہی ہم آپ کو منہ مانگا انعام دیں گے۔“
میں پھیکی مسکراہٹ سے بولا۔”پاکستان پہنچنا ہی میرے لیے انعام ہے راجکماری۔باقی آپ کو انعام کی خاطر نہیں بچا رہا۔“
وہ ذومعنی لہجے میں بولی۔”ہم جانتے ہیں آپ پیسے کے لالچی نہیں ہیں ۔لیکن انعام ہمیشہ رقم کی صورت تو نہیں ملا کرتا۔کبھی کبھار انسان کی ایسی خواہش بھی پوری کر دی جاتی ہے جس کے وہ صرف خواب دیکھ سکتا ہے ،تعبیر پانے کا سوچ بھی نہیں سکتا۔“
میں دھیرے سے ہنسا۔”اور آپ کے خیال میں میری ایسی کون سی خواہش ہے جس کے صرف خواب دیکھ سکتا ہوں ،تعبیر پانے کی امید نہیں رکھتا۔“
وہ اطمینان سے بولی۔”کیا خیال ہے ہم کچھ نہیں جانتے۔“
میں نے کہا۔” میں نہیں جانتا،اس لیے عرض کی ہے کہ میری معلومات میں اضافہ فرمادیں ۔“
وہ شوخی سے بولی۔”ہم وقت آنے پر بتا دیں گے۔“
تین اور گاڑیاں بڑی سڑک کی طرف نمودار ہوں ۔تینوں پھیل کر آگے بڑھ رہی تھیں ۔راستے میں دو تین جگہوں پرچند جھاڑیاں نظر آئی تھیں ،جو اتنی گھنی بھی نہیں تھیں کہ ان کی تلاش لینے کی ضرورت پڑ سکتی۔ ساروں کا دھیان آبادی کی جانب ہو رہا تھا۔اور ہماری خوش قسمتی تھی کہ آبادی میں داخلے سے پہلے ہی دشمنوں کی گاڑیاں نظر آگئی تھیں ۔اگر گاﺅں میں داخل ہو گئے ہوتے تو زیادہ مشکل میں پھنس سکتے تھے۔گو خطرہ اب بھی کم درجے کا نہیں تھا۔وہاں سے مسلسل گاڑیاں گزر رہی تھیں ۔کوئی بھی اتنے قریب سے گزر سکتا تھا کہ ہماری جھلک اسے دکھ جاتی۔
پرمانے جیبوں میں ہاتھ ڈال کر میرے کندھے پر سر ٹیکا اور آنکھیں بند کر لیں ۔وہ بالکل جڑ کر بیٹھی تھی۔میری زندگی میں ایسے لمحات پہلے بھی کئی بار آچکے تھے کہ نامحرم لڑکی سے اس قدر قرب کی نوبت آجاتی کہ بہکنے کے بے انتہامواقع میسر ہوتے۔مگر اللہ پاک کا خصوصی کرم تھا کہ اس غفور الرحیم ذات نے اس گناہ گار و خطاکار کو ہمیشہ ان لمحات کی شر انگیزی سے محفوظ رکھا۔بلاشبہ انسان محبت کسی ایک ہی سے کرتا ہے لیکن نفسانی خواہشات کی تکمیل کو تعدادکی حد متعین نہیں ہوتی۔اور اس معاملے میں مرد کی فطرت کچھ زیادہ ہی حریص واقع ہوئی ہے۔عورت کو انگارے سے تشبیہ دی جائے تو مرد کو ماچس کی تیلی کہا جائے گا۔جو انگارے سے ٹکراتے ہی بھڑک اٹھتی ہے۔
راجکماری پرما بھی لاکھوں میں ایک تھی ۔شکل و صورت میں بھی بے مثال اور جسمانی کشش میں بھی لاجواب۔اور گزشتہ چند دنوں سے تو مکمل طور پرمیرے رحم وکرم پر تھی۔مگر الحمداللہ اس کی قربت میری خواہشات کو بے لگام نہیں کر سکتی تھی۔
بارش کی ٹپ ٹپ میں ہلکا سا اضافہ ہوا۔بارش رکنے والی نہیں لگ رہی تھی۔دو گاڑیاں آبادی سے باہر نکل کر جنوب کی طرف گامزن نظر آئیں ۔گاڑیوں کی چہل پہل سے یوں لگ رہا تھا گویا انھیں وہاں ہماری موجودی کا یقین ہو۔
اگر میں خود کو دشمنوں کی جگہ پر رکھ کر سوچتا تو ان کی کوششیں جائز لگ رہی تھیں ۔یہ تو طے تھا کہ ہم بس میں بیٹھ کر چوکی سے آگے نکلے تھے۔پھر دوسری چوکی آنے سے پہلے بس سے اتربھی گئے تھے۔گویا دو چوکیوں کا درمیانی علاقہ ہماری پناہ گاہ تھا۔اور اب تمام اسی علاقے کو کھنگالنے میں مصروف تھے۔وہاں قریب قریب جتنی بھی آبادیاں تھیں تمام میں ہلچل مچی ہوئی تھی۔ جبکہ ہم بالکل عام سی جگہ پر چھپے تھے۔نہ وہ جگہ چھپنے کو مناسب تھی اور نہ سردی یا بارش وغیرہ سے کوئی آڑ مہیا کر رہی تھی۔اصولاََ ہمیں فی الفور وہ علاقہ چھوڑ دینا چاہیے تھا۔یا کسی عمارت وغیرہ میں پناہ لینا چاہیے تھی۔اور یہی سوچ انھیں آبادی کھنگالنے میں مصروف کیے ہوئے تھی۔
”ہمیں سردی لگ رہی ہے۔“وہ زیادہ دیر خاموش نہیں رہ سکی تھی۔
”میرے پاس کچھ ایسا نظر آرہا ہے جو آپ کو اوڑھنے کو دے سکوں ۔“نہ چاہتے ہوئے بھی میں تلخ ہو گیا تھا۔
وہ رنکھی ہوئی۔”ہمیں سردی لگ رہی ہے نا،ہم کیا کریں ۔“
میں بھناتے ہوئے بولا۔”صبر....برداشت....حوصلہ اور ہمت کے علاوہ کیا کرنے کا مشورہ دے سکتا ہوں ۔“
وہ گلو گیر ہوئی۔”طنز نہ کریں ،اپنی تکلیف آپ کو نہیں تو کس کو بتائیں گے ۔“
میں نے لہجہ نرم کرنے کی کوشش کی۔”راجکماری صاحب،سوال وہ کرو جو مسﺅل کے دائرہ اختیار میں آتا ہو۔“
وہ برہم ہوئی۔”آپ کے دائرہ اختیار میں بس ہمیں ذلیل و خوار کرنا ہی آتا ہے۔“تھوڑی دیر پہلے ہمارے گن گا رہی تھی ،اب سردی محسوس ہوئی تونیک بخت پھر میرے سر ہو گئی۔میں چپ ہو گیا کہ فضول بحث کی ہمت باقی نہیں رہی تھی۔کم عمر بچی کی سی سوچ رکھنے والی کو کیا سمجھاتا۔ عیش و آرام اور آسائشوں کی عادی نوابزادی میرے لیے نرا درد سر ہی بن گئی تھی۔اس کا سر کندھے سے ہٹا کر میں نے جگہ چھوڑی اور اسے سر ٹیکنے کو بیگ دے کر جھاڑی سے باہر نکل آیا۔سردی دم بہ دم بڑھتی جا رہی تھی۔بارش کی بوندیں بھی زور پکڑنے لگی تھیں ۔اور بدن میں سوئیاں چبھوتی ہوا ان کے ہم رکاب تھی۔
سڑک کی جانب سے نئی گاڑیوں کی روشنی مجھے پھر جھاڑی کے سائبان میں لے آئی تھی۔وہاں کم از کم بارش کی بوندوں سے واجبی سی بچت ہو رہی تھی۔میری سمجھ میں وہاں سے بھاگنے کا کوئی منصوبہ نہیں آرہا تھا۔ایک طریقہ تو یہ تھا کہ میں پرما کو وہیں چھوڑ کر کمین گاہ سے نکلتااور سواری وغیرہ کا بندوبست کر کے لوٹتا۔ قباحت یہ تھی کہ پرما اکیلی رہنے پر کبھی آمادہ نہ ہوتی۔گو اس کی بے خبری میں بھی جا سکتا تھامگر جیسے ہی اسے میرے غائب ہونے کا پتا چلتا وہ ڈر کے مارے کوئی حماقت بھی کر سکتی تھی۔اور پھر یقینی نہیں تھا کہ میں رازداری برتتے ہوئے گاڑی کے حصول میں کامیاب رہتا۔فائرنگ ہوتے ہی میرا بھانڈا پھوٹ جاتااور دشمن جنگلی کتوں کی طرح مجھے گھیر لیتے۔
دوسرا طریقہ یہ تھا کہ میں پرما کے ہمراہ اندھیرے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اس علاقے سے نکلنے کی کوشش کرتا۔لیکن پرما کی جسمانی حالت سے بعید تھا کہ وہ میرا ساتھ دے پاتی،کیوں کہ چند کلومیٹر کے علاقے میں دشمن کی سرگرمیاں زور و شور سے جاری تھیں ۔اس طریقے میں بھی ظاہر ہونے کا خطرہ کافی زیادہ تھا۔ تیسری تجویز یہی تھی کہ میں وہیں بیٹھ کر دشمنوں کی حرکت میں کمی کا انتظار کرتا۔یوں ایک تو پرما تھوڑا آرام کر لیتی۔ دوسرا دشمن بھی مایوس ہو کر کسی اور جانب کا رخ کرلیتا۔البتہ سردی کی اذیت ضرور بھگتنا پڑتی۔گویا مکمل خلاصی کی کوئی صورت نہیں تھی۔
پرما بیگ پر سرٹیکے سکڑی سمٹی لیٹی تھی۔میں بیگ کے دوسری جانب بیٹھ گیا۔وہ کم از کم اس لحاظ سے تو اچھی تھی کہ دو گرم کوٹ اور ایک جرسی پہنے ہوئے تھی۔اس وقت وہ جھاڑی بھی ایک نعمت کا درجہ اختیار کر گئی تھی۔ بارش کی زیادہ تر بوندوں کو گھنے پتوں کی وجہ سے ہمیں ڈھونڈنے میں ناکامی ہو رہی تھی۔ہوا کے خلاف بھی جھاڑی اچھی خاصی آڑ مہیا کی ہوئی تھی۔
وقت اچھا ہو یا برا گزر جاتا ہے۔لمحے سہانے ہوں یا اذیت ناک بیت جاتے ہیں ۔فاصلہ مختصر ہو یا طویل طے ہو جاتا ہے ۔البتہ مشکل اوقات اورخوش کن گھڑیوں کے کٹنے کے احساسات جدا و مختلف ہوتے ہیں ۔ صُعوبت وصل کی شوقین ہوتی ہے اورہمیشہ وفاداری پر مائل رہتی ہے۔جبکہ سکھ ،چین ،آرام و آسائش فطرتی طور پر دغا بازی و بے وفائی کے عادی ہوتے ہیں۔ اور وہ رات صحیح معنوں میں آزمائش کی رات تھی۔کیوں کہ گھنٹے ادھ بعد ہی میری سماعتوں میں پرما ہونکنے کی آواز نے خطرے کی گھنٹی بجائی۔ پہلے میں سمجھا وہ نیند میں ہے لیکن ہونکنے کے ساتھ ”آہ ....افف“ کی آواز نے مجھے ڈرایا کہ اصل معاملہ کچھ اور ہے۔
”کیا ہوا۔“نرم لہجے میں کہتے ہوئے میرا ہاتھ اس کی گرم ٹوپی سے ٹکرا کر ماتھے پر پھسلا۔اور میرا دل اچھل کر حلق میں آگیا۔اس کے جسم سے گویا آگ کی لپٹیں نکل رہی تھیں ۔
”ہمیں سردی لگ رہی ہے۔“اس کی منمناتی آواز نے مجھے جھنجوڑا۔
بیگ پیچھے دھکیل کر میں آگے ہوااور اس کا بالائی جسم گود میں لے لیا۔بغیر کوئی احتجاج کیے اس نے جسم مجھے سونپ دیا تھا۔اس نے دونوں ہاتھ جیبوں میں ٹھونسے ہوئے تھے۔
وہ ہولے سے بڑبڑائی۔”ہم جانتے ہیں ،ہم نہیں بچیں گے۔“
میں نے پھیکے لہجے میں تسلی دی۔”آپ کو کچھ بھی نہیں ہوگا۔بس تھکن اور سردی کی وجہ سے تھوڑی سی حرارت ہو گئی ہے۔اور آپ پریشان ہو گئیں ۔“
وہ گلو گیر ہوئی۔”ہمارا سارا جسم درد کر رہا ہے،سخت سردی لگ رہی ہے۔سر بھی درد سے پھٹ رہا ہے۔“
دایاں بازو اس کے کندھوں کے نیچے رکھ کر میں بائیں ہاتھ سے اس کا سر دبانے لگا۔اس کا ہونکنا جاری تھا۔اور تب مجھے لگامیں انصاری صاحب کی لاڈلی کو بچا نہیں پاﺅں گا۔
جاری ہے
قسط نمبر 69
ریاض عاقب کوہلر
دایاں بازو اس کے کندھوں کے نیچے رکھ کر میں بائیں ہاتھ سے اس کا سر دبانے لگا۔اس کا ہونکنا جاری تھا۔اور تب مجھے لگامیں انصاری صاحب کی لاڈلی کو بچا نہیں پاﺅں گا۔نازوں میں پلی راجکماری، عملی زندگی کی مشکلات کا تختہ مشق بن گئی تھی۔ آسائشوں کی عادی نوابزادی کو سردہوا،بارش اور سردی سے ایک ساتھ مقابلہ کرنا پڑ گیا تھا۔پھولوں کی سیج پر سونے والی کے نصیب میں سخت زمین کی آغوش در آئی تھی۔مرسڈیز،ٹویوٹاپجارو کی مسافر پیدل بھاگتی پھر رہی تھی۔ایسے حالات کو وہ کہاں تک سہتی،کب تک پیدل چلتی،کیسے نیند سے لڑتی،کیسے بھوک برداشت کرتی۔اگر اس کے بجائے میرے ہمراہ کوئی عام مرد بھی ہوتا تو یقینا ہمت ہار چکا ہوتا۔میں تو سنائپر تھا جسے تربیت کی ابتداءکے ساتھ ان حالات سے نہ صرف آگاہ کیا گیا تھا بلکہ ایسے ہی حالات میں زندگی گزارنے کی سخت مشقیں کرائی گئی تھیں ۔اور تربیت کی بھٹی میں تپ کر میں جس حالت میں نکلا عملی زندگی کی آزمائش تربیت سے بھی دو ہاتھ آگے ثابت ہوئی ۔اور پھر عملی زندگی میں میری مشق تسلسل سے جاری رہی۔کبھی بھوک کاٹی،کبھی سردی کے عذاب سے مقابلہ کیا،کبھی دشمنوں کے آگے پیچھے مسلسل بھاگنا پڑا،کبھی گرمی کی شدت سے نبردآزما ہونا پڑااور اب میرے لیے یہ روزمرہ کا کام تھا۔کسی بھی مشن پر روانگی کے وقت میرے احساسات ایسے ہوتے جیسے عام شخص بازار میں خریداری کو جاتا ہے۔فائرنگ کی تڑتڑاہٹ مجھے شادی بیاہ کی پھلجڑیوں جیسی لگتی۔ خطروں کا سامنا کرنا ایسا لگتا جیسے ایک مسافر کو بس کے سفر میں محسوس ہوتا ہے کہ حادثہ ہونے کے خطرے کے باوجود وہ ارد گرد کے مناظر سے محظوظ بھی ہوتا ہے۔ساتھ والی سیٹ پر بیٹھے دوسرے مسافر سے گپ شپ بھی کرتا ہے۔کھاتا پیتا بھی ہے اورنیند آنے پر سوبھی جاتا ہے۔
اس کے جسم سے جیسے آگ کی لپٹیں نکل رہی تھیں ۔اسے ہوش ہی نہیں تھا کہ وہ ایک غیر مرد کی گود میں تھی۔نہ مجھے کوئی ایسا احساس ہورہا تھا ،بلکہ پہلی بار اس سے شدید ہمددری و اپنائیت محسوس ہو رہی تھی۔یوں لگ رہا تھا جیسے کوئی بہت ہی قریبی عزیز تکلیف میں ہو۔مجھے پتا نہیں چل رہا تھا کہ میں ایک دم اس کے لیے اتنا فکر مند کیوں ہو گیا تھا۔حالاں کہ وہ میرے لیے ایک مشن ہی تو تھی۔گو سنائپر کے ننانوے اعشاریہ ننانوے فیصد مشن کسی کی جان لینے کے ہوتے ہیں یہ پہلا مشن تھا کہ مجھے کسی کی جان بچانے کی ذمہ داری سونپ دی گئی تھی۔
وہ طویل رات میں نے ایسے ہی بتا دی۔میں حتی الوسع اسے آرام پہنچانے کی کوشش کرتا رہا۔جبکہ وہ بے حواس سی الٹی سیدھی ہانکتی رہی۔اس کی بہت سی باتیں ایسی تھیں جو تہذیب و اخلاق کے لحاظ سے قابل گرفت تھیں ۔مگر وہ ہوش میں کب تھی کہ اسے مطعون کیا جاتا۔ہوا کے دوش پر تیرتی اَذان کی مقدس آواز بلند ہوئی۔ بارش رک گئی تھی،ہوا بھی مدہم ہو چکی تھی۔البتہ آسمان پر بادل اسی طرح چھائے تھے،کیوں کہ کوشش کے باوجود میری نگاہیں کسی ستارے کی تلاش میں ناکام رہی تھیں ۔
میں اسے نرمی سے بولا۔”اچھا آپ تھوڑی دیر بیگ سے ٹیک لگا لیں میں نماز پڑھ لوں ۔“
وہ مچلتے ہوئے بولی۔”نہیں ہم یہیں ٹھیک ہیں ۔“
میں نے اسے پچکارا۔”پانچ دس منٹ سے زیادہ وقت نہیں لوں گا۔“
وہ چپ رہی۔آہستگی سے اس کے بالائی جسم کے نیچے ایس آر ون کا بیگ رکھ کر میں جھاڑی سے باہر نکل آیا۔بیگ میں پانی کی ایک بوتل موجود تھی،مگر وضو کے لیے وہ پانی استعمال کر لیتا تو پینے کو کچھ نہ بچتا۔اس لیے میں نے گیلی زمین پر تیمم کیا۔اور صبح کی نماز ادا کرنے لگا۔فرض پڑھ کر میں نے دعا کو ہاتھ اٹھائے اوربے نیاز و غنی مالک کی بارگاہ میں دامن پھیلا دیا۔بلاشبہ میں عاجز و کمزور بندہ ان حالات سے نبٹنے کی ہمت نہیں رکھتا تھا۔اور اللہ پاک کی مدد کے بغیر میں نہ کسی قابل تھا اور نہ کچھ کر سکتا تھا۔
دعا مانگ کر میں پھر جھاڑی کے نیچے آگیا۔لگا وہ میری ہی منتظر تھی۔کیوں کہ نقاہت سے سر اٹھاتے ہوئے اس نے زور سے ناک سنکی اور بیگ کو پیچھے دھکیلنے لگی۔بخار سے ٹوٹتا بدن یقینا نرم بستر یا بچھونے وغیرہ کا طلب گار تھا۔اور اس ویرانے میں یہ لوازمات کہاں میسر ہو سکتے تھے۔البتہ میں جتنا ہو سکتا تھا اسے آرام پہنچانے کی کوشش کر رہا تھا۔
میں نے دوبارہ اسے گود میں لٹا لیاتھا۔اس کا بدن جیسے انگارہ بنا تھا۔بخار کم ہونے کے بجائے شاید زیادہ ہو گیا تھا۔دوائی اور گرم بستر کی غیر دستیابی سے اس کی جان جانے کا بھی خطرہ تھا۔ملگجا اجالا پھیلنے کے ساتھ دھند بھی اترنے لگی تھی۔اگر موسم صاف ہو جاتا تو دھوپ سے درجہ حرارت کے ساتھ دکھاﺅ کے حالات بھی بڑھ جاتے۔جبکہ دھند سے جلدی نظروں میں نہیں آسکتے تھے۔
نو دس بجے تک دھند چھٹنے لگی،مگر موسم صاف نہیں ہوا تھا۔بوندیں پھر ٹپکنا شروع ہو گئیں ۔میں نے بیگ سے بسکٹ کا پیکٹ نکال کر پرما کو زبردستی کھلانے لگا۔بہ مشکل تین چار بسکٹ کھا کر اس نے دو تین گھونٹ پانی پیا اور آنکھیں موند لیں ۔سرخ و سفید چہرے پر زردی و ویرانی نے ڈیرے ڈالے تھے۔بالائی بدن میرے زانو پر ٹیکے وہ گٹھڑی بنی تھی۔
بقیہ پیکٹ اپنے معدے میں پہنچا کر میں اس کا سر دبانے لگا۔
وہ دلگرفتگی سے بولی۔”راجا! وعدہ کرو،ہماری لاش کو یونھی پھینک کر نہیں جاﺅ گے۔“
میں ہنسا۔”تو کیا لاش کو کندھے پر اٹھائے رکھوں گا۔“
وہ میرے مذاق کا برا بھی نہیں منا سکی تھی ۔کہنے لگی۔”نہیں ،ہمیں جلا دینا یا دفنا دینا۔“
”ہندو مردہ جلانے کو جو لکڑی استعمال کرتے ہیں وہ تو بہت قیمتی ہوتی ہے اور میرے پاس رقم کہاں کہ اتنا خرچہ برداشت کر سکوں ۔ البتہ دفنا دوں گا۔یا پھر اسی جھاڑی کی لکڑیوں میں جلنا قبول ہے تو کوشش کی جا سکتی ہے۔“
”ہم مذاق کے موڈ میں نہیں ہیں ۔“
میں نے اسے چھیڑنا جاری رکھا۔”آپ کسی مذہب کو تو مانتی نہیں ،پھر جلنے یا دفن ہونے کا مطلب؟“
وہ اداسی سے بولی۔”ہم نہیں چاہتے کوئی ہماری لاش سے کھلواڑ کرے۔“
”بے فکر رہوراجکماری !ان شاءاللہ آپ کو کچھ بھی نہیں ہوگا۔“
وہ ہانپتے ہوئے بولی۔”ہم ہلنے کے بھی قابل نہیں رہے۔یہ بارش ،سردی اور بخار کی دواء کی عدم دستیابی ہمیں زندہ نہیں رہنے دے گی۔اگر اس سے بچ بھی گئے تو دشمن نہیں چھوڑے گا۔“
میں نے شفقت بھرے لہجے میں پچکارا۔”آپ خاموشی سے لیٹی رہیں ۔ان شاءاللہ یہ ساری صعوبتیں اور مشکلات اللہ پاک آسانی میں ڈھال دے گا۔“
وہ طنزیہ انداز میں بولی۔”کیا آپ کا اللہ (پاک) اس کی مدد بھی کرتا ہے جو اسے مانتا نہیں ۔“
میں خلوص سے بولا۔”اللہ پاک تو اپنی مخلوق سے ستر ماﺅں سے بڑھ کر محبت کرتا ہے۔جب ماں اپنی اولاد کی نافرمانی پر بھی اس کے صدقے قربان جاتی ہے تو رحیم و کریم رب اپنی مخلوق کی حماقتوں کونظر اندازکیوں نہیں کرے گا۔“
اس نے ارادہ ظاہر کیا۔”اگر ہم خیریت سے پاکستان پہنچ گئے تو آپ سے آپ کے اللہ (پاک) کے بارے ضرور معلومات لیں گے۔“
”اچھا اب چپ کر کے لیٹو۔اندھیرا پھیلتے ہی یہاں سے نکلیں گے۔امید ہے دشمن ہماری تلاش میں ناکام ہو کر آگے نکل گیا ہوگا۔“
”سچ میں ۔“اس کے بے رونق چہرے پر خوشی نمودار ہوئی اور وہ حسرت سے پوچھنے لگی۔”کیا ہمیں آنے والی رات کو گرم بستر نصیب ہو جائے گا۔“
میرا دل کٹ کر رہ گیا تھا۔رندھیر شکلا نے اربوں کی دولت و جائیداد اس کے نام چھوڑی تھی۔ اور وہ ایک بستر کی حسرت لیے کانٹے دار جھاڑی کے نیچے لیٹی تھی۔اللہ پاک بھی کیسے عجیب انداز میں انسان کو اس کی اوقات یاد دلاتا ہے۔وہ اتنی دولت کی مالک تھی کہ فائیوسٹار ہوٹل کھڑے کھڑے خرید لیتی۔اورلاچار اتنی کہ آرام کو ایک بستر بھی مہیا نہ تھا۔
میں نے اپنی فطرت کے خلاف دعویٰ کیا۔”ہاں میں وعدہ کرتا ہوں ،ان شاءاللہ آج رات تک راجکماری کو گرم بستر مل جائے گا۔“
اس نے تشویش ظاہر کی۔”مگر ہم چل نہیں سکتے۔“
میں نے تسلی دی۔”بے فکر رہو،میں ہوں ناں ، آپ کو اٹھا کر لے جاﺅں گا۔“
”ہمیں آپ پر پورا بھروسا اور اعتماد ہے۔اور یہ بھی جانتے ہیں ہم آپ کے لیے بہت زیادہ اہمیت رکھتے ہیں ۔“وارفتگی سے کہتے ہوئے اس نے تصدیق چاہی۔”ہیں ناں ؟“
”ہاں ۔“اثبات میں سرہلاتے ہوئے میں نے اس کی آنکھوں میں جھانکا۔”انصاری صاحب کی پری بلاشبہ میرے لیے بہت قیمتی ہے۔“
اس نے پر سکون انداز میں آنکھیں موند لی تھیں ۔دوپہر کو بارش کی رفتار میں اضافہ ہو گیا تھا۔اس دوران چند آدمیوں کو میں نے تھوڑے تھوڑے فاصلے پر گزرتے دیکھا تھا۔آبادی کی طرف جانے والی سڑک پر تو سارا دن کافی رونق لگی رہی تھی۔مگر ہم وہاں سے نکلنے کا خطرہ مول نہیں لے سکتے تھے۔کوئی بھی ایسا شخص، جس سے ہم مدد مانگنے کی کوشش کرتے اگر ہمارا شکاری نکلتا تو پھنس جاتے۔
میرامکمل لباس گیلا ہو گیا تھا۔پرما کے بالائی بدن پر تو پیراشوٹ کا کوٹ تھا جس میں پانی نہیں جاتا تھا۔البتہ اس کا بھی زیریں لباس بھیگ گیا تھا۔گھنی جھاڑی ایک حد تک ہی حفاظت مہیا کرسکتی تھی۔
مجھے سخت بھوک محسوس ہورہی تھی۔بیگ میں بسکٹ کے دو تین پیکٹ موجود تھے۔میں نے ایک پیکٹ نکال کر پرما کوکھلانے کی کوشش کی مگر اس سے آدھا بسکٹ بھی نہ کھایا گیا۔میں البتہ پورا پیکٹ چٹ کر گیاتھااور اشتہاءبھی باقی تھی تبھی ایک اور پیکٹ کھول کر جڑ گیا۔
سہ پہر تک بارش ہلکی ہو گئی تھی،مگر پرما کا بخار زور پکڑ گیا تھا۔وہ پھر زور زور سے ہونکنے لگی۔میں نے کوشش کر کے اسے مکمل گود میں سمیٹ لیا تھا۔اور اس سے زیادہ اسے آرام نہیں پہنچا سکتا تھا ۔خود میری حالت رفتہ رفتہ خراب ہوتی جا رہی تھی۔سردی اب مجھے بھی کپکپانے پر مجبور کر رہی تھی ۔اگر میں باہر نکل کر ہلکی پھلکی اٹھک بیٹھک کرتا ،ڈنڈ پیلتا،اچھلتا کودتا تو بدن گرم ہو جاتا،لیکن دور سے دیکھ لیے جانے کا خطرہ موجود تھا۔اور اس وجہ سے مجھے جھاڑی سے نکلنے کی جرات نہیں ہوئی تھی۔
جونھی شام کا ملگجا اندھیرا پھیلا،میں نے ایس آرون کے بیگ سے شاپر میں لپٹی رقم ،بسکٹ کے دو پیکٹ اورپانی بوتل وغیرہ باہر نکالی اور بیگ اٹھا کر جھاڑی سے باہر نکل آیا۔پرما کے بے ہوش وجود کو میں نے زمین پر لٹا دیا تھا۔جانے سے پہلے میں ایس آر ون کو ٹھکانے لگانا چاہتا تھا۔اس نے میرا بہت ساتھ دیا تھا۔ایس آر ون پچاس ساٹھ گولیوں تک درستی سے فائر کر سکتی تھی اور اس پر اب تک میں نے قریباََ تیس ،پینتیس گولیاں فائر کی تھیں ۔گویا بیس کے بہ قدرگولیوں کی مہلت اب تک میسر تھی،لیکن اسے مزید ساتھ پھرانا ممکن نہیں رہا تھا۔پرما اور رائفل میں سے ایک کا انتخاب کرنا پڑگیا تھااور بلاشبہ پرما کی اہمیت زیادہ تھی۔
میں نے بیگ سے ایک مرتبہ رائفل کو نکال کر اس کے پرزوں کو مومی لفافے سمیت بوسا دیا۔ اور پھر بیگ میں ڈال کر زنجیر بندکردی۔پھربیگ کو ایک گڑھے میں ڈال کر گیلی مٹی سے پاٹنے لگا۔تھوڑی سی کوشش کے بعد ایس آر ون ،بیگ سمیت غائب ہو چکی تھی۔مٹی کو برابر کر کے میں نے جھاڑی سے ایک دو شاخیں کاٹیں اور ایس آر ون کی قبر پر گاڑ دیں ۔یوں دیکھنے والے کو لگتا شاید وہ اُگی ہوئی جھاڑیاں ہیں ۔
اس دوران اندھیرا گہرا ہو گیا تھا۔مومی لفافے میں لپٹی رقم میں نے قمیص کی جیب میں منتقل کی وہ میرے لیے بڑی اہمیت کی حامل تھی۔کلاشن کوف کی بیرل کو نیچے کی طرف کر کے میں نے سلنگ کی مددسے کندھے پر لٹکائی اور پرما کو اٹھانے جھاڑی کے نیچے گھس گیا۔وہ بے چاری بے سدھ پڑی تھی۔شدید بخار نے اسے بے ہوش کر رکھا تھا۔اسے احتیاط سے اٹھا کر میں جھکے جھکے باہر آیااور پھراسے اپنے دونوں کندھوں پراوندھے منہ متوازی لٹا دیا۔دوران تربیت ہم مردہ اٹھانے کی کافی مشق کر چکے تھے۔ یوں کسی بھی ساتھی کو لمبے فاصلے تک لے جایا جا سکتا ہے۔پرما تو ہلکی پھلکی لڑکی تھی۔زمین چونکہ ہموار تھی اس لیے مجھے حرکت میں دشواری نہیں ہورہی تھی۔اگر ڈھلان پر چڑھنا ہوتاتو یقینا زیادہ دشواری کا سامنا کرنا پڑجاتا۔
پرما کچھ اول فول بڑبڑانے لگی۔بارش زیادہ تیز ہو گئی تھی۔اب میرا لباس پانی سے شرابور ہو گیا تھا۔لیکن وزن اٹھا کر چلنے کی وجہ سے جسم میں حرارت پیدا ہونے لگی تھی ۔آبادی کلومیٹر ڈیڑھ کلومیٹر دور تھی۔میں سڑک والی جانب سے احتراز برتتے ہوئے اپنا رخ آبادی کے بائیں جانب رکھا۔بارش اور سردی نے آوارہ کتوں کو بھی کونوں کھدروں میں گھسنے پر مجبور کر دیا تھا۔کلومیٹر بھر کا فاصلہ طے کرنے میں ہمیں بیس منٹ لگے تھے۔ اگلا مرحلہ کسی پناہ گاہ کی تلاش تھا۔ نجانے ہماری تلاش میں سرگرداں ٹولیوں نے لوگوں کو دھمکایاتھا،لالچ دی تھی یا دونوں حربے استعمال کیے تھے۔
کسی بھی دروازے کو کھٹکھٹاناایسا ہی تھا جیسے چوہے کا کڑکی میں پھنسی خوراک کو منہ ڈالنا۔چوہے کی جان کھانے کی طلب لیتی ہے اور مجھے پرما کی جان بچانے کا لالچ خطرہ مول لینے پر مجبور کر رہاتھا۔گھنے بادلوں کی وجہ سے تاریکی کی شدت میں اضافہ ہو گیا تھا۔مختلف گھروں کی کھڑکیوں سے جھانکتی روشنی اندھیرے کے خلاف کوئی خاص کارکردگی نہیں دکھا پا رہی تھی۔البتہ میرے لیے اندھیرا زیادہ سود مند تھا۔ایک گلی میں گھس کر میں محتاط اندازمیں آگے بڑھنے لگا۔موسم ایسا تھا کہ بغیر کسی مجبوری کے شاید ہی کوئی گھر سے نکلتا۔
ایک مکان کے سامنے سے گزرتے ہوئے چیخ و پکار سنائی دی۔میاں ،بیوی بحث و تکرار میں لگے تھے۔ اور ایسے الجھے تھے گلی میں بھی ان کی آوازیں واضح سنائی دے رہی تھیں ۔چند گھروں سے بچوں کے قہقے اور چیخنے پکارنے کی آوازیں بلند ہو رہی تھیں ۔ایسے بھی گھر تھے کہ موسیقی سے لطف اندوز ہورہے تھے۔کہیں کہیں ٹی وی کی بلند آواز گلی میں پہنچ رہی تھی۔زندگی کے میلے بغیر کسی رکاوٹ کے جاری تھے۔یہ میلے ہمیشہ جاری ہی رہتے ہیں ۔کیوں کہ کسی ایک یا چند ایک کی تکلیف ،دکھ یا موت سے یہ ہنگامے نہیں رکتے۔
مجھے کوئی مناسب گھر نظر نہیں آرہا تھا کہ دروازہ کھٹکھٹاتا۔بلکہ حقیقت تو یہ ہے کہ کچھ سوجھ ہی نہیں رہا تھا کہ امیرگھرانے،مفلس گھرانے یا درمیانے طبقے کے کسی گھر کو ٹھکانہ بناﺅں ۔
بارش کی رفتار میں مزید اضافہ ہوا۔یوں جیسے سرما کی جھڑی کے بجائے ساون کی موسلادھار بارش ہو۔ایک گھر کے سامنے سے گزرتے ہوئے دروازے میں جھری دیکھ کرمعلوم ہوا دروازہ کھلا تھا۔دو پائیدان طے کر کے میں دروازہ دھکیل کر اندر داخل ہو گیا۔پانی کی پھوہار سے محفوط ہونے پر، سکون محسوس ہوا تھا۔وہ بیٹھک نما کمرہ انسانی وجود سے خالی تھا۔دیوار پر ٹنگی قرآنی آیات کاعکس دیکھتے ہی میرے اطمینان میں اضافہ ہوا تھا۔ لکڑی کی میز پر چند درسی کتب رکھی تھیں ،ساتھ ایک رف پیڈ بھی رکھا تھا۔ایک کتاب درمیان سے کھلی ہوئی اوندھی پڑی تھی ،لگا کوئی چند لمحے پہلے ہی اٹھ کر گیا تھا۔
میں نے پرما کو کندھے سے اتار کر ایک کرسی پر بٹھادیا۔اس کے منہ سے ہلکی ہلکی کراہیں نکل رہی تھیں ۔ وہ اپنے حواسوں میں نہیں تھی۔
مجھے انتظار کی زحمت نہیں اٹھانا پڑی تھی،جلدہی ایک جوان سال لڑکابھاپ اڑاتی پیالی پکڑے اندر آیا۔مجھے دیکھے ہی اسے حیرانی بھرا جھٹکا لگا تھا۔
میں نے گفتگو کی ابتداءکی ۔”معذرت خواہ ہوں آپ کو تکلیف دی، مگر بہ خداایسا مجبوری کی حالت میں کیا۔“
لڑکا حیرت کے جھٹکے سے سنبھلتے ہوئے بولا۔”کیا خدمت کر سکتا ہوں ۔“
میں نے مقصد واضح کیا۔۔”پناہ کی تلاش یہاں تک لائی ہے۔“
وہ صاف گوئی سے بولا۔”اندازہ ہو گیا تھا۔لیکن مجھے نہیں لگتاابوجان اتنا بڑا خطرہ مول لینے کا حوصلہ کریں گے۔“
میں ملتجی ہوا۔”میری بیوی کو سخت بخار ہے،اگر فوری طبی امداد نہ ملی تو اس کی جان جانے کا خدشہ ہے۔ اوریقینا مدد کے طلبگار کو در سے دھتکارنا ایک مسلم کو زیب نہیں دیتا۔“
”کل گاﺅں بھر کے لوگوں کوغنڈوں کی طرف سے دھمکیاں ملی ہیں ۔پولیس والوں نے بھی کسر نہیں چھوڑی۔آپ کو ڈھونڈنے کی خاطر گھر گھر کی یوں تلاشی لی گئی کہ کونوں کھدروں تک کوکھنگالا گیا۔ایسے حالات میں کوئی خود کو جوکھم میں کیسے ڈال سکتا ہے۔“
”کوشش کرنا میری یہاں آمد کا ذکر کسی سے نہ کرنا۔“دلگرفتگی سے کہتے ہوئے میں پرما کو اٹھانے کو جھکا۔
اس نے پیش کش کرتے ہوئے ہمدردی دکھائی۔۔”ابوجان کے علم میں لائے بغیر میں آپ کو ایک رات کے لیے اپنے کمرے میں پناہ دے سکتا ہوں ،لیکن صبح سویرے آپ کو رخصت ہونا پڑے گا۔“
لمحہ بھر سوچ کر میں نے پوچھا۔”گاﺅں میں کوئی ایسا مکان نہیں ہے جہاں میں دو تین دن چھپ کر گزار سکوں ۔“
وہ گہری سوچ میں ڈوب گیا تھا۔تھوڑی دیر بعد بولا۔”ایک راستہ ہے تو سہی،مگر کامیابی یقینی نہیں ہے۔“
اس کا ہچکچانامجھے ناگوار گزرا تھا۔مگر غصے کے اظہار کا حق میرے پاس نہیں تھا تبھی لہجے میں نرمی سموتے ہوئے بولا۔”میرے پاس زیادہ مہلت نہیں ہے۔“
وہ تفصیل سے بتانے لگا۔”اس گلی کا آخری سے پہلا گھر ایک سکھ ،گلشن سنگھ کا ہے۔شبہ کیا جاتا ہے اس کا تعلق خالصتان تحریک سے ہے۔ مجھے اس کے بارے اپنے کلاس فیلوانومان سنگھ سے پتا چلا ہے جو اس کا پڑوسی ہے کہ گلشن سنگھ کے گھر مشکوک افراد کی آمدورفت رہتی ہے۔انومان سنگھ میرا گہرا دوست ہے ۔سچ بتاﺅں تو بیٹھک کا دروازہ اسی کے لیے ہی کھلا رکھا تھا۔وہ روزانہ اس وقت تک پہنچ جاتا ہے،مگر آج شاید بارش کی وجہ سے دیر کر رہا ہے۔خیر میں امید کرتا ہوں کہ گلشن سنگھ آپ کو پناہ دینے کی ہمت کرلے گا۔“
”حالاں کہ یہ ہمت تمھیں کرنا چاہیے تھی۔“گھر کی طرف سے آنے والی ناراضی بھری آواز نے مجھے حیرت سے اچھلنے پر مجبور کر دیا تھا۔ایک ادھیڑ عمر باریش شخص کوٹ سے بارش کی بوندیں جھاڑتااندر گھسا،یقینا وہ باہر کھڑا ہو کر ہماری گفتگو سن رہا تھا۔
”ابو جان !یہ وہ ........“والد کو دیکھتے ہی اس نے صفائی پیش کرنا چاہی۔
اس کا والد قطع کلامی کرتے ہوئے بولا۔”پہچان لیا ہے،تعارف کی ضرورت نہیں ۔اور گلی کا دروازہ بند کر دو۔“
لڑکا سرعت سے دروازے کی سمت بڑھ گیا،جبکہ اس نے میرے قریب آکر مصافحے کو ہاتھ بڑھایا۔
”فدوی کو عبدالخالق کہتے ہیں ۔اور آپ یقینا وہی ہیں جس کی تلاش میں کل ہمارے گاﺅں کا کونہ کونہ چھانا گیا۔“
اس کا ہاتھ تھامتے ہوئے میں دھیرے سے بولا۔”ذیشان حیدر۔“
وہ خلوص دل سے بولا۔”آپ جب تک چاہیں غریب خانے پر قیام کر سکتے ہیں ۔میرے بارے برخوردار کااندازہ ٹھیک نہیں تھا۔“
لڑکا ندامت سے بولا۔”ابو جان !معافی چاہتا ہوں ۔میرا خیال تھا آپ کو میری جسارت ناگوار گزرے گی۔“
”اپنے دوست سے مہمان کی آمد کاذکر بالکل نہ کرنا،کیوں کہ جس راز کی تم خود حفاظت نہیں کر سکے اسے چھپانے کی کسی اور سے توقع کرنا عبث ہوتا ہے۔“اپنے بیٹے کو نصیحت کرکے وہ میری طرف متوجہ ہوا۔ ”میرے ساتھ آئیں ۔“
میں نے پرما کو بازوﺅں میں بھرااور عبدالخالق کے پیچھے بڑھ گیا۔مختصر سا صحن عبور کر کے ہم اندرونی عمارت میں داخل ہوئے۔ایک کمرے کے سامنے کھڑے ہو کر اس نے کنڈی کھولی اور کواڑ کو دھکیلتا ہوااندر گھسااور بتی جلا دی۔اندر دو سنگل بیڈ قریب قریب پڑے تھے۔ان پر گدے اور صاف چادریں بچھی تھیں ۔دو صاف ستھرے لحاف اور تکیے سرھانے کی جانب پڑے تھے۔کمرے کی مجموعی ہیئت سے لگ رہا تھا کہ وہ مہمان خانہ تھا۔پرما کو میں نے لکڑی کی کرسی پر بٹھا دیا تھا کیوں کہ اس کے پانی سے شرابور لباس سے بستر گیلا ہوسکتا تھا۔ کلاشن کوف گلے سے نکال کر میں نے بیڈ کے نیچے دھکیل دی۔
آپ ایک منٹ ٹھہریں میں بچی کے لیے خشک کپڑے لاتا ہوں ۔“پرما پر ہمدردی بھری نگاہ ڈال کر وہ سرعت سے باہر نکل گیا۔اس کی واپس زنانہ شلوار قمیص،گرم بنیان اور جرسی کے ساتھ ہوئی تھی۔
کپڑے بیڈ پر رکھ کر اس نے کہا۔”آپ اس کالباس تبدیل کر دیں ،پھر مجھے آواز دے لینا میں ڈرائینگ روم میں منتظر ہوں ۔“
میرے اثبات میں سر ہلانے پر وہ دروازے کی طرف مڑ گیا۔باہر نکلتے ہوئے اس نے پیچھے دروازہ بند کر دیا تھا۔عبدالخالق کے باہر نکلتے ہی میں نے سرعت سے پرما کے بدن سے لباس اتار کر خشک لباس پہنایااور بستر پر لٹا کر لحاف اوڑھا دیا۔اس دوران میں نے نظروں کو آوارگی کی اجازت نہیں دی تھی۔ مظلوم حوا زادی حالات کا شکار ہو کر اس حالت میں میرے سامنے آئی تھی۔اس کی بے بسی سے ناجائز فائدہ اٹھانا ،یا اس کے بخار سے پھنکتے بے لباس بدن کو دیکھ کر آوارگی کا دامن پکڑنا، گھٹیا پن و بے حیائی کی بدترین مثال تھی۔
پرما کا سانس تیز تیز چل رہا تھا۔یوں جیسے اسے سانس لینے میں تکلیف ہو رہی ہو۔لحاف میں ہوتے ہی وہ زور سے بڑبڑائی ،مگر مجھے کچھ سمجھ نہیں آئی تھی۔میں نے دوسرے بیڈ پر پڑا لحاف بھی اسے اوڑھا دیاتھا۔
اس کے گیلے کپڑوں اور کوٹ سے سامان وغیرہ نکال کر میں نے کپڑے کمرے کے کونے میں رکھ دیے تھے۔کرن چاولہ والا پستول اب تک اس کے کوٹ کی جیب میں تھا۔ فارغ ہوکر میں نے دروازے پر جا کر عبدالخالق کو آواز دی۔وہ میرا ہی منتظر تھا۔اس کی آمد خشک مردانہ لباس کے ساتھ ہوئی۔
”شکریہ“کہہ کر میں نے اس کے ہاتھ سے کپڑے لیے اور مہمان خانے سے ملحقہ غسل خانے میں گھس کر کپڑے تبدیل کر لیے۔خشک لباس پہنتے ہی جسم میں سکون کی لہر دوڑ گئی تھی۔عبدالخالق نے بجلی والا ہیٹر بھی جلا دیا تھا۔
”لگتا ہے آپ کی ساتھی کی طبیعت سخت خراب ہے۔“
”جی چچا جان!آپ کو بالکل ٹھیک لگتا ہے۔اور یقینا ڈاکٹر کا انتظام تو ممکن نہیں ،لیکن بخار کی دوائی اور درد کش گولیاں مل جائیں تو امید ہے اسے سنبھلنے میں مدد ملے گی۔“
اس نے نفی میں سرہلایا۔”گھر میں تو نہیں ہیں البتہ ،اسحاق بیٹے کو بھیج کر منگوا لیتا ہوں ۔“
میں نے حیرانی ظاہر کی۔”کیا اس وقت میڈیکل سٹور کھلا ہوگا؟“
اس نے وضاحت کی ۔”ایک جاننے والے ڈاکٹر کے گھر سے دوائی لے آئے گا۔“
میں لجاجت سے بولا۔”پھر جلدی کریں میری ساتھی کل سے بخار میں پھنک رہی ہے۔“
وہ اثبات میں سرہلاتا ہوا باہر نکل گیا۔تھوڑی دیر بعد لوٹا تو کھانے کے برتن ساتھ تھے۔ میرے سامنے ٹرے رکھتے ہوئے وہ بولا۔”آپ کھانا کھائیں ۔بچی کے لیے بیگم یخنی بنا رہی ہے۔“
اور میں بے تکلفی سے کھانے کو جڑ گیا۔یقینا ہماری آمد کے ساتھ ہی اس نے خاتونِ خانہ کو باورچی خانے گھسنے کا کہہ دیا تھا۔اورمہربان خاتون کو پہلے سے پکے ہوئے کھانے کو گرم کرنے میں اتنی دیر نہیں لگی تھی۔
میرے کھانا کھانے تک وہ چائے بھی لے آیا تھا۔اس دوران اسحاق بھی تین چار قسم کی گولیوں لیے لوٹ آیا تھا۔ڈاکٹر کو اس نے اپنی بہن کے بیمار ہونے کا بتایا تھا۔عبدالخالق کے دو ہی بچے تھے ۔اسحاق اور اس سے ایک سال بڑی بہن عائشہ۔پرما کے پہننے کو عبدالخالق عائشہ ہی کے کپڑے لایا تھا۔
عبدالخالق گرم یخنی لے آیا۔میں نے لحاف ہٹا کر پرما کو دیکھاوہ پہلے سے قدرے بہتر نظر آئی تھی۔ گرم لحاف نے اسے کافی تقویت دی تھی۔میں نے ہاتھ اس کی جلتی ہوئی پیشانی پر رکھا۔اس کی پلکیں وا ہوئیں ۔ مجھے ایک نظر دیکھ کر اس نے دوبارہ آنکھیں بند کر لی تھیں ۔میں نے اس کے سر کے نیچے ایک اور تکیہ رکھا اور یخنی کے ڈونگا لیے اس کے ساتھ بیٹھتے ہوئے نرم لہجے میں بولا۔
”یخنی پی لو۔“
گہرا سانس لیتے ہوئے اس نے پلکوں کی جھالر اٹھا ئی۔”ہماراکچھ بھی کھانے پینے کو دل نہیں چاہ رہا۔“
یخنی کا چمچ بھر کر اس کے ہونٹوں کے قریب لے جاتے ہوئے میں متبسم ہوا۔”آپ دل کی سنتی ہی کیوں ہیں ۔“
منہ بناتے ہوئے اس نے کہا۔”آپ کا مذاق ہمیں آپ سے بھی برا لگتا ہے۔“اور یخنی پینے کو ہونٹ کھول دیے۔دو تین چمچ پی کر اس نے بس کرنا چاہی مگر میں نے زبردستی آدھا پیالہ یخنی اسے پلادی۔پھر نیم گرم دودھ کے ساتھ گولیاں کھلا کر اسے اچھی طرح لحاف اوڑھا دیا۔
عبدالخالق میرے لیے ایک گرم کمبل لے آیا تھا،کیوں کہ میں نے دونوں لحاف پرما کو اوڑھا دیے تھے۔
عبدالخالق نے جانے کو پر تولے۔”آپ بے فکر ہو کر آرام کریں ،کیوں کہ وہ درندے پورے گاﺅں کو اچھی طرح کھنگال گئے ہیں ۔بار بار یہاں کی تلاشی نہیں لے سکتے ۔اورکسی چیز کی ضرورت ہو تو بے تکلفی سے آواز دے لینا۔“
میں ممنونیت سے بولا”اللہ پاک آپ کو بہترین اجر دے۔“
ہونٹوں پر پر خلوص تبسم بکھیرتا ہوا وہ باہر نکل گیا۔دروازہ اندر سے کنڈی کر کے میں نے پرما کی اتاری ہوئی بنیان لی کہ وہ خشک تھی۔ اس سے گلاک، P99والتھراور ویبلے ریوالور صاف کرنے لگا۔تینوں ہتھیاروں کا ایمونیشن خشک کر کے میں نے دوبارہ میگزینوں میں بھرا۔اور کلاشن کو ف کو بھی خشک کر کے رکھ دیا۔پرما کے گہرے سانس اس کے سوجانے کے مظہر تھے۔دوائی میں سکون آور گولی بھی شامل تھی،تبھی وہ آسانی سے سو گئی تھی۔
میں نے بھی کمبل میں روپوش ہو کر آنکھیں موند لیں ۔عارضی پناہ کا دستیاب آنا کسی نعمت سے کم نہ تھا۔ اللہ پاک کی رحمت تھی کہ اتنی آسانی سے ٹھکانہ مل گیا تھا۔اورہماری خوش قسمتی تھی کہ پہلی کوشش ہی میں مسلمان گھرانے سے واسطہ پڑگیا تھا۔
گرم کمبل کی خوشگوار حدت میرے رگ و پے میں سکون بن کر دوڑنے لگی۔گزشتہ رات میری زندگی کی بھیانک راتوں میں سے ایک تھی۔بارش ،ہوا،سردی،بے سکونی،بے چینی اور ساتھ بخار کی شدت میں بے ہوش پرما کو سنبھالنا۔اور آج گرم کمرا،بستر ،عمدہ کھانا ،چائے اور آرام میسر آیا تھا۔مجھے نیند کی سہانی وادیوں میں اترتے دیر نہیں لگی تھی۔
میری آنکھ پرما کے پکارنے پر کھلی تھی۔ اسے پیاس لگی تھی۔میں نے جگ سے پانی کا گلاس بھر کر اسے پلایا۔ساتھ ہی بیت الخلاءکا بھی بتا دیا کہ تقاضا محسوس کرنے پر اسے مجھے اٹھانے کی ضرورت نہ پڑے۔
مگر میری تدبیر کارگر نہیں ہوئی تھی ۔گھنٹا ڈیڑھ بعد اس نے بیت الخلاءکی ضرورت محسوس ہوتے ہی مجھے یہ کہتے ہوئے جگا دیا تھا کہ اس سے چلا نہیں جاتا۔
اسے سہارا دے کر میں غسل خانے کے اندر پہنچایااور باہر نکل آیا۔اس کا بخار پہلے سے کافی بہتر لگ رہا تھا۔
باہر آنے پراسے سہارا دے کر بستر تک لایا اور اس کے لحاف میں گم ہونے پر خود بھی کمبل میں گھس گیا۔
طلوعِ آفتاب کے ساتھ عبدالخالق ناشتا لے آیا تھا۔پرما نے بہ مشکل آدھی ڈبل روٹی کھائی،البتہ چائے کی پوری پیالی پی گئی تھی۔اسے دوائی کھلاکر پھر سلا دیا۔میں نے ڈٹ کر ناشتا کیا۔عبدالخالق نے کہا کہ ہمیں دن بھر کمرے کے اندر ہی بند رہنا پڑے گا۔اور وہ دروازے کو باہر سے قفل کرے گا تاکہ گھر میں کوئی آنے والا اتفاق سے بھی ہمیں نہ دیکھ سکے۔ہمیں کیا مسئلہ ہو سکتا تھا،بغیر ہچکچاہٹ کے منظور کر لیا۔ضرورت کی ہر چیز کمرے موجود تھی ہمیں باہر نکلنے کی حاجت ہی کیاتھی۔
جاری ہے
قسط نمبر 70
ریاض عاقب کوہلر
اگلے دو تین دنوں میں پرما کے بخار کا زورٹوٹ چکا تھا۔مسلسل آرام نے اس کے چہرے کی رونق لوٹا دی تھی۔رخساروں کی سرخی،آنکھوں کی چمک،باتوں کی شوخی،تبسم کا ترنم اور سب سے بڑھ کر زندہ رہنے کی امید جو مشکلات کا سامنا کرنے کا حوصلہ بخشتی ہے۔عبدالخالق کی بیوی ساجدہ، بیٹی اور بیٹے سے کبھی کبھار رات کے وقت گپ شپ ہو جاتی تھی۔اس کی بیٹی پرما کی ہم عمر تھی۔پہلے ہی دن وہ پرما سے گھل مل گئی تھی۔ان حالات میں ایسے مخلص خاندان کی دستیابی کواللہ پاک کی غیبی مدد کے علاوہ کوئی نام نہیں دیا جا سکتا تھا۔اس دوران میں نے عبدالخالق سے ارد گرد کے علاقے کی خاطر خواہ معلومات حاصل کر لی تھی۔ دھامن گاﺅں کے سب سے قریب سورت تھا۔یہ ساحلی شہر ہے اور بالکل سمندر کنارے واقع ہے۔عبدالخالق سے یہ بھی معلوم ہوا تھا کہ ہماری تلاش میں سرگرداں ٹولیاں گاہے گاہے وہاں چکر لگا جاتی تھیں ۔دھامن گاﺅں کے مضافات ہی وہ آخری مقام تھا جہاں ہمارے ہونے کے شواہد ملے تھے۔بس نے ہمیں جس جگہ اتارا تھا وہاں سے ہم چاروں اطراف کوئی بھی سمت اختیار کر سکتے تھے۔البتہ زیادہ گمان سورت شہرجانے کا بنتا تھا۔اور اس کی وجہ اس کے علاوہ کوئی نہ تھی کہ ممبئی سے نکلنے کے بعد سے ہمارا رخ قریباََمسلسل اسی طرف رہا تھا۔
عبدالخالق کو میں اجمالاََ اپنی کہانی سنا چکا تھا اور اس کا مشورہ یہی تھا کہ ہمیں وہاں کچھ عرصہ گزارنا چاہیے۔میں بھی زیادہ نہیں تو ہفتہ ڈیڑھ وہیں گزارنے کے حق میں تھا۔یوں ہماری تلاش کی سرگرمی میں تھوڑا بہت فرق پڑہی جانا تھا۔
”کب تک یہاں رہنا پڑے گا۔“وہاں آئے پانچویں شب تھی جب پرما نے عائشہ وغیرہ کے جانے کے بعداستفسار کیا۔
”آپ کا کیا ارادہ ہے۔“میں نے گیند اس کی طرف پھینکی۔
وہ اطمینان سے بولی۔”ہم چاہتے ہیں جلد از جلد پاپا کے پاس پہنچ جائیں ۔“
میں نے کہا۔”جلدی تو مجھے بھی بہت ہے،بس آپ کے صحت مند ہونے کا منتظر تھا۔“
وہ شوخی سے بولی۔”ہم بالکل ٹھیک ہیں اور اب اپنا لباس خود تبدیل کر سکتے ہیں ۔“
میں نے بات بنائی۔”اسی لیے تو دوبارہ ساجدہ خالہ کو زحمت نہیں دی۔“
وہ ذومعنی لہجے میں بولی۔”اگر سوچتے ہو کہ ہم اس وقت بے ہوش تھے تو آپ سے زیادہ سادہ شخص شاید ہی کوئی ہوگا۔“
میرے چہرے پرخفت نمودار ہوئی۔”آپ جانتی ہیں بہ حالت مجبوری مجھے وہ قدم اٹھانا پڑا تھا۔“
وہ اطمینان سے بولی۔”ہم نے گلہ تو نہیں کیا، آپ کے شکر گزار ہیں ۔بلکہ سچ کہیں توپاپا کے انتخاب پرفخر کرتے ہیں کہ ان لمحات میں بڑوں بڑوں کے قدم ڈگمگا جاتے ہیں اور آپ نے خود پر قابو رکھا۔“
میں نے کہا”اتنی بڑی بڑی باتیں کرنا آپ کو نہیں جچتا۔لگتا ہے راجکماری نہیں کوئی بوڑھی مہارانی بول رہی ہو۔“
کہنے لگی۔”ہم نے آپ کے سر جگ رسید کیا تھا،مگر آپ نے آج تک وجہ نہیں پوچھی۔“
مجھے لگاوہ موضوع تبدیل کرنے کی کوشش کرر ہی ہے۔اس کا ساتھ دیتے ہوئے بولا۔ ”اس میں پوچھنے کو کیا ہے،یقینا بھاگنا چاہتی تھیں اور یہ تو ہر قیدی کا بنیادی حق ہوتا ہے۔“
اس نے نفی میں سرہلایا۔” ہم نے آپ کو پیشگی سزا دی تھی۔کیوں کہ جانتے تھے آپ کچھ ایسا ہی کریں گے۔“یہ کہہ کر وہ مسلسل ہنسنے لگی۔میرے ہونٹوں پر بھی مسکراہٹ دوڑ گئی تھی۔وہ کچھ زیادہ ہی بے تکلفی اور بے باکی کا مظاہرہ کررہی تھی۔یقینا یہ پچھلے چند دنوں کی خدمت کا نتیجہ تھا۔جس طرح اسے بچانے کی کوشش میں میں ہلکان ہوتا رہا تھا،ایسا کوئی بہت زیادہ قریبی ہی کر سکتا ہے۔ورنہ میری بلا سے اسے کچھ بھی ہوجاتا میرے لیے سب سے اہم میری اپنی جان ہونا چاہیے تھی۔اس کے تئیں ایسا سوچنا جائز تھا۔البتہ حقیقت اس کے بر عکس تھی۔ وہ بے چاری یہ نہیں جانتی تھی کہ ایک پاکستانی سپاہی کے لیے سب سے پہلے اپنا مشن ہوتا ہے اور اس کے بعد اس کی جان کا نمبر آتا ہے۔
”اچھا آرام کرو۔“میں اپنے بستر پر لیٹ گیا۔
اس نے نفی میں سرہلایا۔”ہمیں نیند نہیں آرہی۔“
”یقینا یہ میرا درد سر نہیں ہے۔“لحاف میں سر کرتے ہوئے میں نے جان چھڑائی کہ پلوشے سے ملاقات کا وقت ہوا چاہتا تھا۔
اس نے اپنے تئیں دھمکی دی۔”یہ نہ ہو ہم خفا ہوجائیں ۔“
میں نے اطمینان ظاہر کیا۔”مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا ۔“
دو تین آوازیں دے کر وہ بھی لحاف میں ہوگئی تھی۔
٭٭٭٭٭
مزید تین دن وہاں گزارنے کے بعد ہم جانے کو تیار تھے۔البتہ اس سے پہلے چند ضروری انتظامات کر لیے تھے۔دو دن پہلے عبدالخالق کو معقول رقم دے کر میں نے ممبئی میک اپ کا مخصوص سامان لانے بھیجا تھا۔ دھرمودادا کے کارندے کے بتائے ہوئے میک اپ کے سامان کے ضروری لوازمات کا نام یاد کرنے کو مجھے زیادہ محنت نہیں کرنا پڑی تھی۔عبدالخالق کی کامیاب واپسی کے بعد میں نے اسی دن پرما کا حلیہ تبدیل کیا۔اس کے سنہری بالوں کو کالا کر دیا،سرخ و سفید رنگت کو گہرا سانولا اور شفاف گالوں پر چیچک کے داغ بنا دیے تھے۔ستواں ناک کو اسپرنگ ڈال کر موٹاکر دیا،جبڑوں کی ہڈی کو بھی گم شیٹ سے ابھار دیا تھا۔سیاہ آنکھوں کو ویسا ہی رہنے دیا کہ مقامی لوگوں کی اکثریت کی آنکھیں سیاہ تھیں ۔
آئینہ دیکھتے ہی وہ بگڑ گئی تھی۔”ہمیں ایسا بالکل نہیں دکھنا۔“
بے وقوف نہیں بنتے۔“اسے جھڑک کر میں اپنا حلیہ تبدیل کرنے لگا۔کلین شیو کر کے اپنا رنگ میں نے گہرا سیاہ کر دیا تھا۔آنکھوں میں مخصوص محلول ڈال کر سفید ڈھیلوں کو ہلکا سرخ کر دیا تھا۔سر کے بال میں ایک دن پہلے ہی عبدالخالق کے بیٹے اسحاق سے الیکٹرک مشین کے ذریعے چھوٹے چھوٹے کراچکا تھا۔ان بالوں کو متعلقہ لوشن سے چپکاکرایسا کر دیا تھا کہ وہ مکرانیوں کی طرح گھنگرالے لگ رہے تھے۔
میری ہیئت کذائی دیکھ کر پرماکی برہمی دھیمی پڑی تھی۔شام کو عبدالخالق اور اس کے بچوں نے بہ مشکل ہمیں پہچانا تھا۔ہماری حالت پر وہ خوب ہنسے تھے۔پرما ایک بار پھر بگڑ گئی تھی۔مگر میں نے حالات سے ڈرا کر اسے خاموش کرادیا تھا۔ناشک شہر سے سورت جانے والی بسیں دھامن گاﺅں کے درمیان سے ہر گھنٹے بعد گزرتی تھیں ۔اور میں انھی میں سورت تک جانے کا ارادہ رکھتا تھا۔سورت وہاں سے تیس پینتیس کلومیٹر کے بہ قدر تھا۔ دن بھر لوکل ٹریفک بھی ملتی تھی،مگر میں نے لوکل بس میں سفر سے احتراز برتا تھا کہ لوکل بسوں میں اکثریت مقامی افراد کی ہوتی ہے جو ایک دوسرے کو پہچانتے ہیں ۔اور نئے چہرے دیکھ کر وہ چونک سکتے تھے۔گو اس کا بہت زیادہ امکان نہیں تھا،لیکن احتیاط برتنے میں زیادہ بہتری تھی۔
رخصت ہونے سے قبل پرما نے قیمتی لاکٹ اتار کر عائشہ کے گلے میں ڈالتے ہوئے کہا۔”یہ بہت قیمتی ہے،اس میں خالص ہیرا جڑا ہے۔ اسے بیچ کر تم اپنی میڈیکل کی تعلیم کے اخراجات آسانی سے پورے کر لو گی۔“
عبدالخالق نے جلدی سے انکار کرنا چاہا۔”نن ....نہیں بیٹی!اس کا باپ ابھی زندہ ہے اور ........“
پرما قطع کلامی کرتے ہوئے بولی۔”انکل!ہم جانتے ہیں ۔مگر ہماری خوشی اسی میں ہے کہ عائشہ کی تعلیم کے اخراجات ہم برداشت کریں ۔اگر انڈیا چھوڑ کر جانا نہ ہوتا توکوئی اور طریقہ اختیار کرتے ،مگر اب مجبوری ہے۔اور اسے اپنی توہین نہ جانیے گا۔“
عبدالخالق نے چپ سادھ لی تھی۔البتہ ہلکی سی خفت اس کے چہرے پر نمودار ہو گئی تھی۔البتہ ساجدہ خالہ کے چہرے پر مسرت پھیل گئی تھی۔
عائشہ سے گپ شپ کے دوران پرما کو معلوم ہوا تھا کہ وہ ایف ایس سی کے بعد تعلیم کو خیر باد کہنے والی ہے ،کیوں کہ اسے ڈاکٹر بننے کا شوق تھا اورعبدالخالق کے پاس اتنی رقم موجود نہیں تھی کہ میڈیکل کی تعلیم کے اخراجات برداشت کر پاتا۔ عائشہ کے لیے اپنے قیمتی لاکٹ کی قربانی دینا یقینا اس کا اچھا فعل تھا۔سونے کی زنجیر میں جڑے ہیرے کی قیمت لاکھوں میں تھی جو پرما نے بے پروائی وخوش دلی سے اپنی میزبان کے حوالے کر دیا تھا۔ یہ ظاہر کرتا تھا کہ وہ صرف نام کی راجکماری نہ تھی،وسیع قلب بھی رکھتی تھی۔
میں نے الوداعی معانقے کو بازو پھیلائے،تبھی عبدالخالق نے کہا۔”بیٹا!برا نہ مانو تو ایک مشورہ دوں گا۔“
”بولیں چچا جان۔“ان سے معانقہ کر کے میں پیچھے ہٹا۔
کہنے لگے۔”آپ کے کہنے کے مطابق ،دشمن کا زور بھی اسی جانب ہے جدھر آپ کا رخ ہے۔تو ممبئی کیوں نہیں چلے جاتے۔وہاں سے بھی تو بیرون ملک بھاگا جا سکتا ہے۔“
میرے دماغ کو جھٹکا لگا تھا۔اس کا مشورہ رد کرنے کے قابل نہ تھا۔بلا شبہ دشمنوں کا پورا زور اسی جانب تھا۔نجانے دشمنوں کی نظر میں میری منزل کیا تھی البتہ ممبئی سے نکلنے والے دونوں بڑے راستوں یعنی ممبئی آگرہ نیشنل ہائی وے اور ممبئی دہلی ہائی وے پر آگے کی جانب مسلسل رکاوٹیں کھڑی کی جا رہی تھیں ۔گویا انھیں ہمارے ممبئی واپس لوٹنے کی ذرا بھرامید نہیں تھی۔
میرے چہرے پر تذبذب دیکھتے ہوئے اس نے مکرر کہا۔”میری سمجھ میں تو یہی آتا ہے کہ دشمنوں کو اس جانب خوار ہونے دو اورممبئی جا کر دوبارہ کوشش کرو۔“
میں متبسم ہوا۔”آپ کو یہ مشورہ پہلے دینا چاہیے تھا۔“
وہ ہلکی سی خفت سے بولے۔”ایک دم ہی سوجھا ہے تو اگل دیا۔“
میں نے سوالیہ نظروں سے پرما کو دیکھا۔اس نے بے پروائی سے کندھے اچکاتے ہوئے کہا۔ ”ہم کچھ نہیں جانتے۔“
میں نے پوچھا۔”آپ کا کریڈٹ کارڈ کہاں ہے؟“میں اس کے پاس کریڈٹ کارڈدیکھ چکا تھا۔ بلکہ ایک دو بار اس نے استعمال کی بھی دعوت دی تھی،مگر کریڈٹ کارڈ کو استعمال کرنا اپنی لوکیشن ظاہر کرنا تھااس وجہ سے سختی سے منع کر دیا تھا۔
اس نے کوٹ کی جیب سے کریڈٹ کارڈ نکال کر میری آنکھوں کے سامنے لہرایا۔
کارڈ لے کر میں نے پاس ورڈ پوچھا۔جو اس نے فوراََ بتا دیا۔
میں عبدالخالق کی طرف متوجہ ہوا۔”چچا جان !اگر آپ تھوڑی سی ہمت کا مظاہرہ کریں توہماری نصف مشکلات کا خاتمہ کر سکتے ہیں ۔“
اس نے حیرانی ظاہر کی۔”کچھ سمجھا نہیں بیٹا۔“
”اگر کل سورت جاکر آپ اس کارڈ کو اے ٹی ایم مشین میں استعمال کر لیں تو دشمن کو ہماری سورت میں موجودی کا یقین ہو جائے گا۔اور وہ اپنی ساری توجہ ادھر ہی مرکوز کر دے گا۔یوں ہمیں ممبئی میں کم خطرات کا سامنا کرنا پڑے گا۔“
اس نے پوچھا۔”کارڈ کو استعمال کرنے میں کوئی خطرہ ہے؟“
میں نے اثبات میں سر ہلایا۔”اگر بے احتیاطی کرو گے تو یقینا ہوگا۔“
”اور احتیاط برتوں تو؟“
میں اطمینان سے بولا۔”پھر صفر فیصد بھی خطرہ نہیں ہے۔“
”ٹھیک ہے۔“اس نے رضامندی ظاہر کی۔
اسحاق نے پیش کش کی۔”ابوجان کی جگہ اگر میں چلا جاﺅں ۔“
ساجدہ خالہ نے فوراََ ڈانٹا۔”تم رہنے دو۔“
میں نے بھی ساجدہ خالہ کی ہاں میں ہاں ملائی۔”نہیں یار!چچا جان ہی ٹھیک رہیں گے۔“
عبدالخالق چچا مستفسر ہوا۔”آپ احتیاط بتا رہے تھے۔“
میں نے مختصر لفظوں ہدایات دیں ۔”کسی رش والی جگہ پر اے ٹی ایم مشین تاڑنا ہے۔وہاں سیکیورٹی کیمرے کی غیر موجودی کا یقین کر لینا ،اگر کیمرہ موجود ہوتو اے ٹی ایم کیبن میں داخلے سے پہلے چہرے پر مفلر لپیٹ لیناتاکہ آپ کی پہچان نہ ہو سکے۔ پچاس ہزارروپے نکال کر وہاں سے غائب ہوجانا۔کارڈ کو کسی گندے نالے میں پھینک دینا اور پہلی فرصت میں لوٹ آنا۔“
اس نے دلچسپی سے پوچھا۔”ان پچاس ہزار کا کیا کرنا ہے؟“
میں نے قہقہ لگایا۔”ساجدہ خالہ کو اچھی سی شاپنگ کرا دینا۔“
اس نے خیال ظاہر کیا۔”ویسے بہ ظاہر تومجھے کوئی خطرہ نظر نہیں آرہا۔“
”کریڈٹ کارڈ کے استعمال ہوتے ہی تمام ادھر متوجہ ہو جائیں گے۔اب کریڈٹ کارڈ کے استعمال کی خبر ان تک کتنی دیر میں پہنچتی ہے،اس بارے حتمی طور پر کچھ نہیں کہہ سکتا۔اگر ان تک کریڈٹ کارڈ کے استعمال کے اگلے منٹ بھی خبر پہنچ جائے تب بھی اپنے آدمیوں کواس اے ٹی ایم مشین تک پہنچنے کے احکام جاری کرنے اور متعلقہ افراد کے وہاں پہنچنے تک ،آپ دھامن پہنچ چکے ہوں ،یا پہنچنے والے ہوں گے۔اور یاد رہے کارڈ کو کسی نالے وغیرہ میں پھینکنا نہ بھولنا۔“
”ٹھیک ہے۔“اس نے خوش دلی سے سر ہلادیا۔
میں نے پوچھا۔”اب یہ بتائیں ،ممبئی کی گاڑی اس وقت مل جائے گی۔“
اس نے اثبات میں سرہلایا۔”سورت سے ہر گھنٹے ڈیڑھ بعد ممبئی کی گاڑی نکلتی ہے۔“
میں نے کہا۔”تو ہم ابھی روانہ ہوتے ہیں ،آپ کل صبح ہی سورت کا رخ کرنا۔“
رخصت لینے سے پہلے میں نے عبدالخالق کو چند اورمفید مشورے دیے اور وہاں سے نکل آئے۔ انھوں نے اسحاق کو ہمارے ساتھ بھیجنے کی کوشش کی مگر میں نے انکار میں سرہلادیا۔میرے لیے ان کی بتائی ہوئی معلومات ہی کافی تھیں ۔
ہم دیہاتی لباس میں تھے۔کلاشن کوف میں نے دو دن پہلے ہی عبدالخالق کے گھر کے صحن میں دفنا دی تھی،کہ اس کی ضرورت باقی نہیں رہی تھی۔البتہ پستول ہمارے پاس موجود تھے۔
دھامن گاﺅں کے قریب ایک بڑی سڑک تو ممبئی دہلی ہائی وے تھی جہاں سے ہم ہو کر آئے تھے۔وہ قریباََ دھامن گاﺅں سے چار پانچ کلومیٹر شرقی جانب تھی۔دوسری گاﺅں کے غربی جانب تھی اور تقریباََ گاﺅں کے درمیان سے گزر رہی تھی۔وہ بھی آگے جاکر ممبئی دہلی ہائی وے سے مل جاتی تھی۔ویسے تو وہاں سڑکوں کا جال بچھا تھا۔مگر اس کی تفصیل مجھے معلوم نہیں اور نہ جاننے میں دلچسپی ظاہر کی تھی کہ ہماری منزل فی الحال ممبئی تھا۔
بس اڈے پر چند اور سواریاں بھی نظر آئی تھیں ۔میں نے ممبئی کے دو ٹکٹ لیے اور ہم انتظار گاہ میں بیٹھ گئے۔ نو بجے گاڑی نے آنا تھا۔چند ہی منٹ رہتے تھے۔
بس وقت پر پہنچی تھی۔سواریوں میں ہلچل مچی اور تمام بس کی طرف بڑھ گئے۔ہمیں آخری سیٹیں ملی تھیں ۔
بس روانہ ہوئی ،میں مختلف اندیشے دل میں پالے بہ ظاہر بے پروا مگر درحقیقت چوکنا ہو کر بیٹھ گیا تھا۔ ایک دو جگہوں پر سرسری چیکنگ ہوئی ،لیکن کوئی حادثہ پیش نہیں آیا۔خیریت سے ممبئی پہنچ جانا اندازوں کے برخلاف نہیں تھا۔ہم تقریباََڈیڑھ بجے ممبئی پہنچ گئے تھے۔پرما تو سیٹ سے ٹیک لگا کر اچھی خاصی نیند لے چکی تھی۔لیکن میں نے ایسی کوشش نہیں کی تھی ۔
”سجاتا دیدی کے ہاں چلیں گے۔“بس اڈے سے باہر آتے ہوئے اس نے پوچھا۔
میں نے نفی میں سر ہلایااور موبائل فون نکال کر اس نمبر پر کال ملائی جو میں وشواس سنگھ کو دے کر آیاتھا اور جس پر آخری بار پریتو بھابی سے پیغامات کا تبادلہ ہوا تھا۔پریتو بھابی نے کہا تھا کہ وشواس سنگھ کی آمد تک نمبر نے بند ہونا تھا۔گھنٹی جاتے ہی میں نے سکون کا سانس لیا تھا۔دو تین گھنٹیوں کے بعد ہی وشواس سنگھ کی خمار آلود مگر خوشی سے بھرپور آواز سنائی دی۔
”زندہ ہو۔“یقینا اس موبائل پر صرف میری ہی کال نے وصول ہونا تھاتبھی اس نے تعارف نہیں مانگا تھا۔
”جسے اللہ رکھے،اسے کون چکھے۔مارنے والے سے بچانے والا بڑا ہے۔ سانچ کو آنچ کیا ۔مدعی لاکھ برا چاہے تو کیا ہوتا ہے،وہی ہوتا ہے جو منظور خدا ہوتا ہے۔اورجس کا کوئی نہیں اس کا خدا ہوتا ہے........“
وشواس سنگھ قطع کلامی کرتے ہوئے کراہا۔”ربّ دے واسطے چپ کر جا۔“
”جواب تو بنتا ہے۔اور سکھ کو سمجھانا اتنا آسان بھی نہیں ہوتا۔“
”کہاں سے بات کر رہے ہو،آخری اطلاعات تک تمھیں ریاست گجرات میں دیکھا گیا تھا۔“
”سکرواڑی بس اڈے سے باہر نکل رہا ہوں ۔“
وہ خوشی سے چیخا۔”یہ مذاق کا وقت نہیں ہے۔“
”سکھوں سے مذاق کوئی احمق ہی کرے گا اور میں خودکو اچھا بھلا عقل مند سمجھتا ہوں ۔“
وہ کھل کھلا کے ہنسا۔”یار اتنی بڑی خوش خبری سننے کے بعد تمھاری کوئی بھی بکواس بری نہیں لگ سکتی۔“
”تو بتاﺅکیا کروں ۔“
وہ غصے سے بولا۔”بے شرم،میری تو خیر ہے اپنی پریتوبھابی کا گھربھی بھول گیا ہے۔“
”احمق سردار!بہنوں کے گھر بھائیوں کو نہیں بھولتے،میں صرف خطرے کے بارے پوچھ رہا تھا۔“
”آج کل ممبئی میں کتے ،بلے خال ہی نظر آتے ہیں ،البتہ سو¿روں کی کوئی کمی نہیں ہے۔“کتے وہ ایجنسی والوں کو کہتا تھا،سور پولیس والوں کو اور بلونگڑے ڈاکوﺅں کو۔
میں نے کہا۔”ٹھیک ہے ہم آرہے ہیں ۔“اور رابطہ منقطع کر دیا۔
پرما مستفسر ہوئی۔”کون تھا؟“
”ایک دوست ہے۔“مختصر الفاظ میں کہتے ہوئے میں ٹیکسی کی طرف بڑھ گیا۔تھوڑی دیر بعد ہم ممبئی کے مضافات کی طرف روانہ تھے۔
ٹیکسی کو میں نے وشواس سنگھ کی حویلی سے کافی پہلے رخصت کر دیا اور آگے پیدل ہی بڑھ گیا۔
فرلانگ بھر چلتے ہی پرما نے پوچھنے لگی۔”کتنی دور جانا ہوگا۔“
میں اطمینان سے بولا۔”کلومیٹر ،ڈیڑھ مزید چلنا پڑے گا۔“
اس نے منہ بنایا۔”ٹیکسی میں چلے جاتے تو کیا قیامت ٹوٹ پڑتی۔“
میں طنزیہ انداز میں بولا۔”اتنی جلدی بھول گیا ہے کہ کیا قیامت ٹوٹ سکتی ہے۔“
وہ سرعت سے بولی۔”براہ مہربانی ،منہ سے برے شبد نہ نکالا کریں ۔آپ کے اندیشے حقیقت میں ڈھلنے کو دیر نہیں کیاکرتے۔“
”احتیاط کا دامن کبھی ہاتھ سے نہیں چھوڑنا چاہیے۔“
موضوع تبدیل کرتے ہوئے وہ شوخی سے بولی۔”یہ وہی دوست ہے جس کے چہرے پر آپ نے ہماری وجہ سے تھپڑ رسید کیا تھا۔“
میں نے نفی میں سرہلایا۔”وہ دوست نہیں تھا۔“
وہ شرارت سے بولی۔”اپنی محبوبہ سے بھی آپ ہمارے وجہ سے جھگڑتے رہے۔“
”لورا براﺅن میری دوست تھی۔“
اس نے تیکھا انداز اپنایا۔”ہمیں تو نصیحتیں جھاڑتے تھے کہ لڑکیوں کے دوست نہیں سہلیاں ہوتی ہیں اور خود لڑکیوں سے دوستی کا فخریہ اعلان کررہے ہو۔“
میں سنجیدگی سے بولا۔”آپ کی بات سے سرِ مو اختلاف نہ کرنے کے باوجود حقیقت یہی ہے جو بیان کر چکا ہوں ۔صرف لورا براﺅن ہی نہیں ،ایک امریکن لڑکی جینفر ہنڈسلے بھی میرے دوستوں کی گنتی میں سرفہرست ہے۔“
”اور اس کی وجہ۔“وہ بھی سنجیدہ ہوگئی تھی۔
میں نے بے بسی ظاہر کی۔”نہیں جانتا۔اور سچ کہوں تو جینی،لورا سے بھی خوب صورت ہے۔مجھ سے شادی کرنا چاہتی تھی،مگر میں نے انکار کر دیا۔“
اس نے معنی خیز انداز میں پوچھا۔”وجہ کیا ہے جناب،جو اتنی خوب صورت لڑکیوں کو انکار کرنا پڑا۔“
میں اطمینان سے بولا۔”پلوشہ۔“
”کیا....ہم سمجھے نہیں ۔“وہ ششدر رہ گئی تھی۔
”آپ نے وجہ پوچھی تھی ناں ،وہی بتائی ہے۔“
اس نے الجھن آمیز لہجے میں پوچھا۔”پلوشہ کون ہے؟“
میں وارفتگی سے بولا۔”میرے لیے تو میرا سب کچھ ہے۔اور لوگوں کے نزدیک میری بیوی ہے۔“
”آپ شادی شدہ ہیں ۔“قدم روکتے ہوئے اس نے حیرانی ظاہر کی۔
میں اطمینان سے بولا۔”ایک نہیں ،دودو ۔“
اس کی حیرانی سوا ہوئی۔”ہم سمجھے نہیں ۔“
میں متبسم ہوا۔”میری دو بیویاں ہیں ۔“
قدم بڑھاتے ہوئے وہ طعنہ زن ہوئی۔”ہمیں نہیں لگتا ایسا بھونڈا مذاق کرناکمال ہے۔“
میں نے کہا۔”آپ کا غصہ کرنا میرے لیے حیران کن ہے۔“
”رہنے دیں ۔“کہتے ہوئے اس نے اضطراری انداز میں قدموں کی رفتار تیز کی۔
لمبے ڈگ رکھتا ہوا میں اس کے پہلو میں چلتا رہا۔آخری دو تین سو قدم کا فاصلہ ہم نے خاموشی سے طے کیا تھا۔اس کی خاموشی میرے لیے حیران کن تھی۔
وشواس سنگھ گرم چادر لپیٹے حویلی سے باہر منتظر نظر آیا۔ہمارے قریب پہنچتے پر اس نے بازو پھیلا دیے تھے۔
رسمی علیک سلیک کے بعد ہم اس کے ہمراہ اندر گھس گئے۔پریتو بھابی بھی جاگتی نظر آئیں ۔
چند منٹ کی گفتگو کے بعد ہم آرام کو لیٹ گئے۔پرما، پریتو بھابی کے ساتھ لیٹ گئی تھی۔میں اور وشواس سنگھ دوسری خواب گاہ میں سوگئے تھے۔
صبح کی نماز پڑھ کر میں پھر بستر میں ہو گیاتھا۔دوبارہ آنکھ کھلی تو وشواس سنگھ غائب نظر آیا۔تازہ دم ہو کر میں باہر آیا۔تینوں ڈرائینگ روم میں بیٹھے تھے۔پرما اصل حلیے میں تھی۔یقینا زیادہ دیر بدصورت شکل اس سے برداشت نہیں ہوئی تھی۔
مجھے دیکھتے ہی وشواس سنگھ بولا۔”تم بھی تھوبڑے سے کالک اتار لیتے۔“
”رشتا دیکھنے نہیں جارہا ۔“اطمینان بھرے انداز میں کہتے ہوئے میں نے نشست سنبھالی۔
پریتو بھابی نے پوچھا۔”ویر جی،ناشتا یہیں لے آﺅں ۔“
میں نے کہا۔”اگر آپ لوگوں نے کر لیا ہے تو میرا یہیں لے آئیں ۔“وہ اثبات میں سرہلاتے ہوئے اٹھ گئی۔
میں وشواس سنگھ سے خیریت پوچھنے لگا۔اس نے ایجنسی والوں سے ملاقات کا اجمالی حال کہہ سنایا۔اس کے خلاف میری مدد کرنے کا کوئی ٹھوس ثبوت موجود تھانہ مجھ سے تعلق کی مناسب وجہ۔دھرمو دادا کو بھی شامل تفتیش کیا گیا تھا۔مگر ان کی راجپوت دادا سے دشمنی اور پہلی بار غلط فہمی کی بنا پر مجھ سے رابطہ ہونے کے علاوہ کوئی غلطی ثابت نہیں ہوئی تھی۔را کے بڑے زیر زمین حلقوں سے بگاڑ پیدا کرنے کے حق میں نہیں تھے۔ اور دھرمودادا اور وشواس سنگھ کے تعاون کی وجہ سے ایک دو دن کی میزبانی کے بعد انھیں جانے کی اجازت دے دی تھی۔ویسے بھی میں نے ان سے براہ راست کوئی مدد حاصل نہیں کی تھی،تاکہ وہ پھنس نہ جائیں ۔
اس کے بعد میں انڈیا سے خروج کے مسئلہ پر آیا۔”ہمارے نکلنے کے بارے کیا سوچا ہے۔“
اس نے منہ بنایا۔”پہنچے ہو نہیں اور نکلنے کی پہلے پڑ گئی۔“
میں طنزیہ انداز میں بولا۔”سردار جی!تہانوں پریتوبھابی میسر ہے،تے تہاڈا کسی ہور دی تکلیف ول دھیان نہیں جا رہیا۔“
”یار !بیویاں تے، ہوندیاں ہی نرا سردرد نئیں ۔“بیویاں تک بآواز بلند سے کہتے ہوئے اس نے آخری فقرہ سرگوشی میں کہا تھا۔
پرما کھل کھلا کر ہنس دی تھی۔
میں مسکنت سے بولا۔”مگر مصیبت تو یہ ہے کہ اس سر درد کے بغیر چین و آرام بھی تو نہیں ملتا۔یقین مانو،پلوشے سے جھگڑ ے کے بعد یہاں آنا پڑا۔اور کئی مہینوں سے اس سے رابطہ بھی نہیں ہو پایا۔نہ جانے کس حال میں ہوگی۔“
پرماایک دم اٹھ کر باورچی خانے کی طرف بڑھ گئی تھی۔
وشواس سنگھ نے کہا۔”بہتر نہیں ہو گا کہ تھوڑا عرصہ مزید یہیں گزار کر معاملے کو ٹھنڈا کرنے کی کوشش کرو۔“
میں نے نفی میں سرہلایا۔”اب بہترین موقع ہے۔کیوں کہ میں دشمنوں کو دانہ ڈال آیا ہوں ۔“
”وضاحت کرنا پسند کرو گے۔“وشواس سنگھ نے معاملہ جاننا چاہا۔ اور میں نے پرما کے اے ٹی ایم کارڈ کے استعمال کا بتا دیا۔یوں ہمارا سورت میں ہونا ظاہر ہو رہا تھا۔
اس نے پرجوش انداز میں کہا۔”اگرایک کام اور کر لیں تو انھیں مزید بھٹکایا جا سکتا ہے۔“
پریتو بھابی نے میرے سامنے ناشتا لا کر رکھا،مگر میں پُراشتیاق نظروں سے وشواس سنگھ کو گھور رہاتھا۔
”سورت سے اسمگلروں کی لانچیں وغیرہ غیر قانونی طور پر پاکستان جاتی رہتی ہیں ۔اگر ہم یہ افواہ پھیلا دیں کہ ایک نوجوان جوڑا اس راستے پاکستان نکل گیا ہے تو یقیناوہ تمھاری امید کرناچھوڑ دیں گے۔کیسا ہے؟“ تفصیل بتاتے ہوئے اس نے تصدیق چاہی۔
میں بے ساختہ بولا۔” تمھارے سکھ ہونے پرمشتبہ ہونے لگا ہوں ۔“
اس نے منہ بنایا۔”یار میں جانتا ہوں تم کتنے پانی میں ہو،اتنے عقل مند ہوتے تو دو شادیاں نہ کرتے۔“
اور میں قہقہ لگاتے ہوئے ناشتے کی طرف متوجہ ہوگیا۔
جاری ہے