خوش آمدید

لو اسٹوری فورم ، اردو دنیا کا نمبر ون اردو اسٹوری فورم ، ابھی فورم کےممبر بنیں اور اردو کی بہترین کہانیاں پڑھیں ۔

Register Now!
Welcome image
  • PAID PLANS

    ٹاپ پیکیج
    👑

    PREMIUM

    16000
    چھ ماہ کے لیے
    بہترین ڈیل
    💎

    VIP+

    6000
    چھ ماہ کے لیے
    بنیادی ڈیل

    VIP

    3500
    تین ماہ کے لیے

Spy Thriller سپاٹر۔۔۔۔۔سنائپر پارٹ دو ۔۔۔ریاض عاقب کوہلر


قسط نمبر 71(آخری قسط)
ریاض عاقب کوہلر
اگلے دن ہم ساحل سمندر پر گئے۔ایک لانچ پر پرما کی دو تین ایسی تصاویر نکالیں جیسے اس کی بے خبری میں کھینچی گئی ہوں ۔تصاویر میں لانچ یا ساحل کے ظاہر نہ ہونے کا دھیان رکھاگیاتھا۔
اسی دن وشواس سنگھ کا ایک خاص آدمی تصویروں والے موبائل فون کے ہمراہ سورت روانہ ہو گیا۔ اس کا کام یہ افواہ پھیلانا تھا کہ پرما اور میں کسی نامعلوم لانچ پر بیٹھ کر پاکستان نکل گئے تھے۔دودن کے اندر اس نے اپنا کام بہ احسن خوبی کر دیا تھا۔ہم پیشہ افراد میں رقابت کا مادہ وافر مقدار میں پایا جاتا ہے۔اس نے بھی دو مخالف گروہوں کی دشمنی کا فائدہ اٹھا کر ایک گروہ کو دوسرے پر الزام عائد کرنے پر تیار کیا۔یوں پرما کی تصویر اور اس کے وہاں سے بھاگنے کی افواہ بڑی آسانی سے دشمنوں کے کانوں تک پہنچادی گئی۔
ہمارا سورت کے مضافات میں غائب ہونا،پرما کے اے ٹی ایم کا سورت میں استعمال ہونا اور پھرہمارابحری راستے سے پاکستان نکل بھاگنے کی افواہ اڑنا ایسے تسلسل سے وقوع پذیر ہوا کہ دشمنوں کو ہمارے نکل بھاگنے کا یقین ہو گیا۔اگلے دن میں نے پرماسے وگنیش شکلا کا ای میل ایڈریس پوچھ کر ایک دھمکی آمیز پیغام بھی بھیج دیاتھا۔
”وگنیش شکلا!یقینا تمھیں معلوم ہو گیا ہو گا کہ میری انڈیا آمد کا مقصد فقط پرما انصاری کا حصول تھا۔ تمھارے باپ نے اپنے کالے کرتوتوں کا بھگتان کاٹا ہے۔اس نے لورا براﺅن کے ساتھ غلط کیا جس کا بدلہ لورا نے لے لیا۔ میں لورا کے ساتھ فقط پرما کو اغواءکرنے کی وجہ سے ملا ہوا تھا۔باقی تمھیں اس لیے زندہ چھوڑدیا کہ تمھاری وہ بھانجی آڑے آگئی جسے تم نے قتل و بے عصمت کرانے میں ایڑی چوٹی کا زور لگایا مگر اللہ پاک نے اسے بچا لیا۔ اب مجھے لگتا ہے ہمیں اپنی اپنی راہ ہو لینا چاہیے۔اور بے فکر رہوپرما انصاری کو رندھیر شکلا کی حرام کی دولت و جائیداد سے کوئی غرض ہے نا مطلب۔تمھیں بھی اب پرما کو بھلا کراپنے جرم کی مملکت کی طرف دھیان دینا چاہیے۔ایک اوربات ذہن نشین کر لو،اگر پرما انصاری پر پاکستان میں کوئی حملہ کروانے کی کوشش کی تو اپنے سر کو زیادہ عرصے تک سنائپر کی گولی سے بچا نہیں پاﺅ گے۔میں دعوے نہیں کیا کرتا،نہ لچّر و لغو دھمکیاں دینے کا شوق ہے۔ میں وہی کہتا ہوں جو کرسکتا ہوں اور تمھیں پتا ہونا چاہیے میں نے اپنی گولیوں کو اتنا سدھایا ہوا کہ بھٹکنے کی اہلیت کھو چکی ہیں ۔جدھر چاہتا ہوں وہیں پہنچتی ہیں ۔اور یادرکھنا دوسروں کے پیاروں کوچھیننے والوں کواپنے پیاروں سے ہاتھ دھونا پڑتا ہے۔ باقی تمھارا منوج جوشی والے روپ کا راز بھی میں نے مشتہر نہیں کیا۔اگر میری دوبارہ انڈیا آمد کی وجہ میں تمھاراہاتھ ہوا تو وہ ہاتھ رہے گا،نہ ہاتھ والا اورنہ اس پرکوئی رونے والا۔کم کہے کو زیادہ جانو،خیر اندیش ایس ایس۔“
پیغام کا جواب تو کوئی نہ ملا ،نہ مجھے جواب کی ضرورت تھی۔میرا مقصد ایک تو وگنیش شکلا کو اس کی دولت و جائیداد کے محفوظ ہونے کی تسلی دینا تھی،دوسرا اسے یہ باور کرنا تھا کہ میں کامیابی سے انڈیا سے نکل چکا ہوں ۔
اس مقصد کو وشواس کے حکم پر اس کے آدمی ایک انگریز جوڑے کو اغواءکر کے اس کے خفیہ ٹھکانے پر لے آئے۔لڑکی گوری تھی جبکہ اس کاساتھی سیاہ فام تھا۔اس کے بعد وشواس سنگھ نے نہایت رازداری سے ہمارے شناختی کاغذات بنانے شروع کر دیئے۔ میک اپ کے ماہر کو بلوا کر پرما کا حلیہ انگریز لڑکی کا سابنایا گیا۔بالوں کو سفید ڈائی کیا گیا۔اس کی سرخ و سفید رنگت کو مزید سفید کیا گیا۔آنکھوں کو سبز رنگ کے لینز سے بدلا گیا۔اور بھی کافی ساری تبدیلیوں کے ساتھ وہ برطانیہ کی شہری لگنے لگی تھی۔ آنکھوں پربڑے گول شیشوں کا چشمہ لگا کراس کی شکل بالکل تبدیل ہو گئی تھی۔مجھے سیاہ فام کی شکل دی گئی۔اس کے بعد ہماری تصاویر کھینچ کر مہارت سے پاسپورٹ پر چپکا دی گئیں ۔
آخر ایک دن پرما اور میں ممبئی کے چتر پتی انٹرنیشنل ائیر پورٹ سے اڑان بھر رہے تھے۔ہماری منزل تھائی لینڈ کا شہر بنکاک تھی۔جہاز کے اڑنے تک میرے دل میں پہچان لیے جانے کا اندیشہ موجود رہا۔یقین ہی نہیں آرہا تھا کہ اس جہنم سے بہ خیریت نکل رہاہوں ۔بنکا ک انٹرنیشنل ائرپورٹ سے صحیح سلامت باہر آتے ہوئے میرے قدم خوشی سے زمین پر نہیں پڑ رہے تھے۔آگے کی منازل آسان تھیں ۔اس کے باوجود میں نے احتیاط کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑا تھا۔جی چاہتا تھا ایک لمحہ ضائع کیے بغیر پلوشہ کے پاس پہنچ جاﺅں ۔رات کو اس سے بات کرنے کودل مچلا،مگر پھر سوچا ایک دم اسے حیران کرنے میں زیادہ مزا تھا۔پاکستان واپسی کی مزید تفصیلات قابلِ ذکر واقعے سے خالی ہیں اس لیے صرف نظر کر رہا ہوں ۔البتہ پرما ،وشواس سنگھ کی حویلی میں پہنچنے کے بعد سے ذرا اکھڑی اکھڑی لگ رہی تھی۔محسوس کرنے کے باوجود میں نے اس سے استفسار کرنا مناسب نہیں سمجھا تھا، کہ سیانے کہتے ہیں جس گاﺅں نہ جانا ہو اس کا پتا دریافت کرنا بے وقوفی ہوتی ہے۔
تیسرے دن کراچی ائر پورٹ پر اترتے ہوئے دل خوشی سے بھر گیا تھا۔سچ کہتے ہیں وطن کی ہواﺅں کا نعم البدل جنت الفردوس کے علاوہ کوئی نہیں ہوسکتا۔پاکستان کیا ہے اس کی قدر تب آتی ہے جب ہم پاکستان سے باہر ہوتے ہیں ۔ دل کی وہ حالت تھی کہ گویا...
رہیں گمنام تو بس تجھ سے ہی منسوب رہیں
جانے جائیں تو تیرے نام سے جانے جائیں
ائرپورٹ سے باہر نکل کر سب سے پہلے میں نے مارکیٹ جا کر اپنے اور پرما کے لیے نئے کپڑے خریدے۔اور ایک ہوٹل میں کمرا لے کر میک اپ کو خیر باد کہا اوراصل حلیہ اپنا لیا۔اب پہچانے جانے کا خوف وڈر ہمارے دلوں سے رخصت ہو گیا تھا۔نئے کپڑے پہن کر پر تکلف کھانا کھایا اور ہوٹل سے نکل آئے۔
بس اڈے پہنچے تو راولپنڈی جانے والی بس جانے کو تیا ر تھی ۔ٹکٹ لے کر اندر گھس گئے۔
پرما کراچی،راولپنڈی،اسلام آباد ،لاہور،فیصل آباد،پشاور،کوئٹہ وغیرہ کے بارے سرسری جانتی تھی۔ میں نے بھی راستے میں اسے پاکستان کے محل وقوع کے بارے اچھی خاصی معلومات دی تھیں ۔اس نے میرے علاقے کے بارے بھی پوچھا تھا۔اورمیں نے اسے تلہ گنگ کے بارے بھی تفصیل سے بتادیا تھا۔
بس چلنے کے تھوڑی دیر بعد ہی ڈرائیور نے ایل ای ڈی پر انڈین فلم چلا دی تھی۔لیکن مجھے فلم دیکھنے کے بجائے تصور کی آنکھوں سے پلوشہ کا ممکنہ ردعمل دیکھنے میں زیادہ دلچسپی تھی۔البتہ پرما بولنے پر اس کی طرف متوجہ ہونا پڑا۔
”اگر ہم پہلے آپ کے گھر جانا چاہیں ۔“
میں نے حیران ہوتے ہوئے پوچھا۔”مضائقہ تو کوئی نہیں البتہ وجہ میری سمجھ سے باہر ہے۔“
اس نے دھماکا کیا۔”ہم پلوشہ کو دیکھنا چاہتے ہیں ۔“
”اپنے گھر جا کر ہماری دعوت کرنا ،دونوں بیویوں کے ہمراہ پہنچ جاﺅں گا۔“میں ہنسا۔ ”بلکہ آپ نے مجھے کوئی خصوصی انعام دینے کا بھی وعدہ کیا تھا۔“
”تب ہمیں معلوم نہ تھا کہ آپ شادی شدہ ہیں ۔“دھیرے سے کہتے ہوئے وہ کھڑکی سے باہر دوڑتے مناظر کو گھورنے لگی۔
میں متعجب ہوا۔”کیوں شادی شدہ بندہ انعام کا حق دار نہیں ہوتا۔“
شیشے سے نظریں ہٹا کر اس نے مجھے گھورا۔ ”سچ میں پلوشہ نام کی کوئی ایسی لڑکی ہے جسے آپ بہت محبت کرتے ہیں ۔“
میں نے الجھن امیز لہجے میں پوچھا۔”ہاں پلوشہ کا وجود ایسا ہی یقینی ہے جیسے میں آپ کے سامنے بیٹھا ہوں ۔البتہ آپ کے استفسار نے مجھے ششدر کر دیا ہے۔اور میری سمجھ میں نہیں آرہا کہ مجھے ایسا جھوٹ بولنے کی ضرورت کیوں پیش آئے گی۔“
”ہمیں صرف یہ جاننا ہے کہ اگرہمارے درمیان طبقاتی فرق موجود نہ ہوتا تب بھی پلوشہ نام کی کسی لڑکی کا ذکر کرنے کی ضرورت پڑتی۔“
میں متبسم ہوا۔”ہم پہلے میرے گھر جائیں گے۔اور انصاری صاحب کو بھی وہیں بلوائیں گے۔تاکہ آگے آپ کو خود ہی لے جائے۔“
لمحہ بھر مجھے گھورنے کے بعد اس نے گہرا سانس لیا اور سیٹ کی پشت پر سر ٹیک دیا۔
ہم اگلے دن دوپہر ڈھلے تلہ گنگ اترے۔گھر تک میں نے ٹیکسی کروا لی تھی۔گھر کے دروازے پر اتر کر میں نے سرشاری بھرا گہرا سانس کھینچا ،سفری بیگ کو کندھے پر درست کرکے دروازے کو دھکیلتا ہوا اندر داخل ہو گیا۔تمام صحن ہی میں بیٹھے تھے۔عبداللہ ،امی جان کی گود میں تھا۔روما بغیر چھت کے باورچی خانے میں گھسی ہانڈی بنا رہی تھی،جبکہ عدیل اور پلوشے ان سے ذرا ہٹ کر بیٹھے تھے۔وہ عدیل کو پڑھا رہی تھی۔
دروازے کی کھڑکھڑاہٹ سنتے ہی تمام اس طرف متوجہ ہوئے۔یوں بغیر دستک کوئی اپنا ہی گھر میں داخل ہونے کی جرا¿ت کر سکتا ہے۔مجھ پر نظر پڑتے ہی پہلا نعرہ عدیل نے بلند کیا تھا۔
”لالاجان آگئے۔“وہ چارپائی سے اتر کر بھاگ پڑا تھا۔میری بے تاب نظریں تمام سے لاتعلق پلوشے کی طرف متوجہ تھیں ۔ وہ سرعت سے اپنے کمرے کی طرف بھاگ گئی تھی۔
باقیوں نے اس پر دھیان دیئے بغیر مجھے گھیر لیا تھا۔پھوپھو جان اور امی جان سے پیارلے کر میں ابوجان کی شفقت بھری بانہوں میں سما گیاتھا۔روما ہونٹوں پر خوب صورت مسکراہٹ بکھیرے کھڑی تھی ۔ اس نے مصافحہ کرنے پر اکتفا کیا تھا۔
جذباتی ملاپ کے بعد انھوں نے پرماکو گھیر لیا تھا۔میں پرما کے بارے سرسری تفصیل بتانے لگا،البتہ میرے دل ودماغ پلوشہ کے رویے کو سلجھا رہے تھے ۔اور نگاہیں بار بار خواب گاہ کے دروازے کی جانب اٹھ رہی تھیں ۔ اس کا یوں بھاگ جانا نجانے ناراضی پر مبنی تھا یا کوئی اور وجہ تھی۔مجھے تو امید تھی کہ اس کی خفگی اب تک ختم ہو چکی ہو گی۔
امی جان ،پھوپھوجان اور ابو جان، پرما کا حال احوال پوچھنے لگے۔ تبھی امی جان کی گود سے اٹھا کر روما نے عبداللہ مجھے پکڑایا اور میرے کان کے ساتھ منہ لگا کر شوخ لہجے میں بولی۔”آپ کی واپسی کے لیے نوافل کی منت مانی تھی محترمہ نے وہی پڑھنے بھاگی ہے۔“
باقیوں کو پرما کے ساتھ مصروف گفتگو دیکھ کر میں نے عبداللہ کے گال چومتے ہوئے روما سے پوچھا۔ ”مجھے یاد کرتی تھی۔“
”صرف ایک مہینا اکڑ دکھائی تھی ، اس کے بعدپچھتاوے کی ابتداءہوئی،پھر بھاں بھاں شروع ہوگئی، پھر مناجاتوں کا آغاز ہوا،پھر منتوں کانمبر آیا،پھر نوافل کا زور ہوااور آج کل صدقے خیرات کی باری ہے۔اور اللہ پاک کا شکر کہ اب جھوٹا اجنبی تشریف لے آیاہے۔“آخری الفاظ اس نے ناز بھرے انداز میں کہے تھے۔
”اس سے مل لوں ۔“بے صبر دل کے سامنے ہتھیار ڈالتے ہوئے میں نے روما سے مشورہ مانگا۔
وہ ہنسی۔”میں تو مشورہ دوں گی اب روٹھنے کی باری آپ کی ہے۔“
میں چارپائی چھوڑ کر تھوڑا ایک جانب ہوااور دبے لہجے میں بولا۔”پھر جاﺅاسے بتا دو کہ میں تیسری بھی لے آیا ہوں۔“
روما نے قہقہ لگایا۔”جھوٹے اجنبی کیوں بے چاری مہمان کا ڈراما بنواتے ہو۔“میں نے بھی بے ساختہ قہقہ بلند کیا۔
اسی وقت پرما نے گہری نظروں سے ہماری طرف دیکھا اور پھر پھوپھو کی طرف متوجہ ہو گئی۔
میں نے دل کے واویلے پر ہتھیار پھینکتے ہوئے کہا۔”یار!سچ کہوں تو غلطی میری تھی۔اس لیے میرا ہی جانا بنتا ہے۔“
”ٹھیک ہے جائیں ۔“عبداللہ کو لیتے ہوئے اس نے خوش دلی سے سرہلایا۔وہ صرف چہرے ہی کی نہیں دل کی بھی بہت خوب صورت تھی۔کشمیر جنت نظیر کی باسی وسیع ظرف کی مالک تھی۔
میں دھڑکتے دل کے ساتھ پلوشے کی خواب گاہ کی طرف بڑھ گیا۔دروازے کے پٹ بند تھے۔ دماغ میں اندیشہ کھٹکا کہ شاید دروازہ اندر سے کنڈی ہو مگر ہلکا سا دھکا دینے پر پٹ کھل گیا تھا۔میں نے فوراََ اندر گھس کر دروازہ بند کر دیا۔
وہ مصلے پر بیٹھی تھی۔دونوں ہاتھ دعا کو بلند تھے۔جسم ہولے ہولے لرز رہا تھا جیسے رو رہی ہو۔
میں دھیرے دھیرے چلتا ہوا قریب پہنچااور پھر بے تکلف زمین پر لیٹ کر اس کی گود میں سر رکھ دیا۔ اس کی آنکھیں بند تھیں ،موہنا چہرہ دوپٹے میں یوں دمک رہا تھا جیسے چودھویں کا چاند بدلیوں میں گھرا ہو۔ہونٹ مسلسل ہل کر باور کرا رہے تھے کہ وہ خلوص دل سے اپنے معبود کی بارگاہ میں شکر گزاری کے کلمات ادا کررہی ہے۔ میں اپنی آنکھوں کو عیاشی کروانے لگا۔اس کی گود میں سر رکھنا وہ تعبیر تھی جس کے سپنوں نے انڈیا کے صعوبت خانے میں بھی پیچھا نہیں چھوڑا تھا۔
پھر اس کے دعا کو اٹھے ہاتھ چہرے پر پھرتے ہوئے نیچے آئے۔میرے بالوں میں کنگھی کرتے ہوئے وہ کراہنے کے انداز میں بولی۔”راجو....“اور اس کی سسکیاں بندھ گئیں ۔
”پلیز معاف کرودو۔“اس کے ہاتھوں کو لبوں سے لگاتے ہوئے میں ملتجی ہوا۔
وہ کراہتے ہوئے بولی۔”اتنی دیر بھی لگائی جاتی ہے۔“
”کیسے لوٹتا،تم نے دھتکار جو دیا تھا۔“
”بھول گئے کیا کہا تھا........
میں اگر کہہ بھی دوں چلے جاﺅ
تم میرا اعتبار مت کرنا
”اور طلاق جو مانگی تھی۔“
”تو جو بکواس کروں گی یقین کر لیں گے۔“
میں نے بے بسی بھرے لہجے میں حقیقت اگلی۔”جتنا مشکل اور دشوار یہ مشن لگا کبھی کوئی مشن نہ لگا۔“
”جانتی ہوں ۔“گلوگیر لہجے میں کہتے ہوئے اس کے ہونٹ مجھے ماضی کے خوشگوار اوقات کی یاد دلانے لگے۔
اس کی ورافتگی کا جواب دیتے ہوئے میں نے چاہت سے پوچھا۔”کیا مجھے معافی مل گئی ہے۔“
وہ محجوب ہوئی۔”تنگ نہ کیا کریں ۔جانے کب سے جان سولی پر اٹکی تھی۔اور سچ پوچھیں تو میں نے سردار بھائی کی منت کی تھی کہ مجھے انڈیا بھیج دے تاکہ اپنے راجو کی مدد کو پہنچ سکوں ،مگر وہ نہ مانے۔“
میں اطمینان بھرا سانس لیتے ہوئے بولا۔”اللہ کا شکر ہے سردار نے کوئی کام تو عقل کا کیا ہے۔ورنہ بعید نہ تھا کہ خان صاحب بہن کو ساتھ لے کر انڈیا پہنچ جاتے۔“
اس نے منہ بسورا۔”آپ کو میری تکلیف کا اندازہ نہیں ہے نااس لیے ایسا کہہ رہے ہیں ....“
میں بر جستہ بولا۔”اپنی تکلیف کا تو ہے نا۔“
اچانک دروازے پر دستک ہوئی،میں نے سرعت سے اس کی گود سے سر اٹھایااور اچھل کر چارپائی پر بیٹھتے ہوئے کہا۔”آجائیں ۔“
دروازے کو دھکیلتے ہوئے روما ،پرما کے ہمرا ہ اندر آئی۔
پلوشہ کو گہری نظروں سے دیکھتے ہوئے پرما مجھے مخاطب ہوئی۔”پاپا کو کال کر دی ہے۔“
”کر لیتا ہوں ۔“اسے کہہ کر میں پلوشے کی طرف متوجہ ہوا جو جائے نماز کو تہہ کر کے عجیب سی نظروں سے پرما کو گھورنے لگی تھی ۔
”پلوشے ان سے ملو،راج کماری پرما انصاری ۔انھی کو انڈیا سے لانے گیا تھا۔“
”کیسی ہیں آپ؟“پلوشے نے زبردستی کی مسکراہٹ ہونٹوں پر بکھیرتے ہوئے اس سے مصافحہ کیا۔
”ہم ٹھیک ہیں ۔“اسے سرد مہری سے جواب دے کر وہ میری طرف متوجہ ہوئی۔”راجا !ہم یہاں نہیں رک سکتے آپ پاپا کو کال کریں یا پھر چلتے ہیں ۔“
”راجو جلدی کال کریں ۔“مجھے تنبیہی نظروں سے گھورتے ہوئے پلوشہ باہر نکل گئی۔
میں نے روما کو جھڑکا۔”مہمان سے چائے پانی ہی کاپوچھ لیتے ہیں ۔“
روما شوخی سے بولی۔”مہمان نے چائے پی لی ہے جناب،اب آپ کے فیصلے کا انتظار ہے کہ راجکماری کے پاپا کو یہاں بلوائیں گے یا انھیں گھر پہنچائیں گے۔کیوں کہ مہمان آپ کے غریب خانے پر رکنے پر آمادہ نہیں ہے۔“
میں نے اثبات میں سرہلاتے ہوئے کہا۔”ابوجان سے موبائل فون لے آﺅ۔“کیوں کہ اب پلوشہ مجھے گھر سے جانے کی اجازت کبھی نہ دیتی۔نہ مجھے ہی یہ گوارا تھا۔
روما ۔”جی اچھا۔“کہتے ہوئے باہر نکل گئی۔
”بیٹھیں ۔“میں نے پرما کو بیٹھنے کی دعوت دی۔
بے نیازی ظاہر کرتے ہوئے اس نے کرسی سنبھالی اور خواب گاہ کا جائزہ لینے لگی۔یقینا وہ سادہ سی خواب گاہ ،اس کے معیار سے بہت نیچے تھی۔مگر مجھ سے کوئی پوچھتا تو اس کا نعم البدل کم از کم دنیا میں نظر نہیں آرہا تھا۔وہ میری پلوشے کی خواب گاہ تھی۔وہاں کی ہر شیئے میں پلوشے کے وجود کی مہک رچی بسی تھی۔وہ دیواریں پلوشے کے قہقہوں کی آمین تھیں ،وہ بیڈ اور فرنیچر پلوشے کے ہمراہی تھے،پورے ماحول پر اس کی گنگناہٹ قابض تھی،پھر اس سے دنیا کے سازوسامان سے آراستہ کوئی خواب گاہ بڑھ کیسے سکتی تھی۔البتہ یہ بات میں پرما کو نہیں سمجھا سکتا تھا۔
پرما کو بے رخی پر آمادہ پا کر میں نے بھی مخاطب کرنے کی کوشش نہیں کی تھی۔میری نظریں تپائی پر رکھی اپنی فریم کی ہوئی تصویر پر پڑیں ،جو پہلے وہاں نہیں ہوتی تھی۔
روما موبائل فون لے کر لوٹی ۔میں نے یاداشت کھنگال کر انصاری صاحب کا نمبر برآمد کیا اور مطلوبہ بٹن دبا کر موبائل فون کان سے لگا لیا۔
یقینا انصاری صاحب کے لیے وہ انجان نمبر تھا تبھی کال وصول نہیں کر رہے تھے۔میں نے بھی ہمت نہ ہاری،تیسری کال انھوں نے وصول کی۔
”اسلام علیکم سر!“
”وعلیکم اسلام ،جی؟“یقینا انھوں نے مجھے نہیں پہچانا تھا۔
میں نے تعارف کرایا۔”راجا ذیشان حیدر بات کر رہا ہوں سر۔“
”کک....کیا۔“وہ حیران رہ گئے تھے۔”تم سچ میں ........“
میں قطع کلامی کرتے ہوئے بولا۔”جی سر ،میں سچ میں وہی راجا ہوں جو انصاری صاحب کی پری کو لینے گیا تھا۔اور اب راجکماری غریب خانے پر موجود ہے ۔اور اس کا حکم ہے کہ یہاں سے آگے وہ اپنے پاپا کے ہمراہ جائے گی۔ تبھی آپ کو دعوت دینے کی ہمت جتا رہا ہوں کہ شام کا کھانا غریب خانے پر تناول فرمائیں ۔“
وہ پر جوش لہجے میں بولے۔”مم....میں ابھی ابھی آرہاہوں ....بس کمرے سے نکل آیا ہوں ، اپنا پتا بتاﺅ....اور میرے ڈرائیور کا کھانا بھی تیار کرالینا کیوں کہ شاید میں گاڑی صحیح طریقے سے نہ چلا پاﺅں ۔“
اور میں مسکراتے ہوئے انھیں اپنا پتا لکھوانے لگا۔
٭٭٭٭٭
ہم بہ مشکل شام کی نماز پڑھ کر فارغ ہوئے تھے کہ دروازے پر ہارن کی آواز سنائی دی۔میں دروازے پر پہنچا۔انصاری صاحب پاﺅں میں گھریلو استعمال کے چپل اور شکن زدہ لباس میں کار سے برآمد ہوئے۔ نہ سر کے بال کنگھی اور نہ رکھ رکھاﺅ والی حالت۔پرما کی آمد نے انھیں حواس باختہ کر دیا تھا۔
”کہاں ہے وہ۔“مجھ سے مصافحہ یا معانقہ کرنا انھیں یاد ہی نہیں رہا تھا۔مجھے دیکھتے ہی انھوں نے براہ راست پرما کے بارے استفسار کیا تھا۔
”آئیں سر۔“ان کی حالت کے پیش نظر مجھے بھی کچھ کہنے کی جرات نہیں ہوئی تھی۔پرما اب تک پلوشے کے کمرے ہی میں بیٹھی تھی۔انصاری صاحب بے صبری کا مظاہرہ کرتے ہوئے کمرے کے اندر داخل ہوئے، انھیں دستک دینے اور اجازت مانگنے کے اخلاقیات بھولے ہوئے تھے۔
پرما دروازے کی جانب رخ کیے بیٹھی تھی۔انصاری صاحب کو دیکھتے ہی بے ساختہ کھڑی ہوئی اور۔ ”پاپا....“کا نعرہ لگاتے ہوئے آگے بڑھی۔
”پری !میری جان،میری آنکھوں کی ٹھنڈک،میری روح کا سکون........“رنکھے لہجے میں کہتے ہوئے انصاری صاحب نے اسے بانہوں کے گھیرے میں لے لیا تھا۔
میں نے روما کو باہر آنے کا اشارہ کیا اور ہم انھیں اکیلا چھوڑ کر باہر نکل آئے۔برسوں کے بچھڑے باپ بیٹی سخت جذباتی ہو رہے تھے اور ایسی حالت میں انھیں تنہائی مہیا کرنا ضروری تھا۔
ابوجان ڈرائیور کو بیٹھک میں لے جا کرمہمان نوازی کے تقاضے پورے کررہے تھے۔
میں نے روما کو کھانے وغیرہ لگانے کا کہا اور خودکمرے کے باہر ہی ٹھہر گیا۔
انصاری صاحب آدھے گھنٹے بعد باہر نکلے تھے۔پرما ان کے ہمراہ تھی۔اس مرتبہ وہ جھپٹ کر مجھے ملے۔”شکریہ تو خیر نہیں کہوں گا اور بالکل نہیں کہوں گا۔“مجھے بانہوں کے گھیرے میں بھینچتے ہوئے وہ وارفتگی سے بولے تھے۔
میں مسکرایا۔”سر ضرورت بھی نہیں ہے شکریہ کی ،بس پری وش خفا ہے اس سے معافی دلوا دینا کافی رہے گا۔“
وہ کھل کھلا کر ہنسے۔”ارے واہ....میں سوچ رہا تھا کہ اپنی گڑیا کا نام کیا رکھوں گاپری وش تو بالکل جچتا ہے میری پری کے ساتھ۔“
پرما جلدی سے بولی۔”پاپا،ہمیں اس کا رکھا ہوا نام قبول نہیں ہے۔“
انصاری صاحب نے پوچھا۔”پاپا کی جان !اس جوان نے کیا بد تمیزی کی تاکہ ابھی ابھی سزا سنائیں ۔“
پرما نے منہ بسورا۔”خود اسی سے پوچھ لیں پاپا۔“
”تو ٹھیک ہے،مسٹر ذیشان حیدرتم دو مہینوں کے لیے نوکری سے معطل کیے جاتے ہو۔یہ عرصہ تم گھر میں نظر بند رہو گے۔باقاعدہ احکام تمھیں یونٹ کمانڈنگ آفیسر سنا دے گا۔“
”ٹھیک ہے سر۔“ایڑیاں ملا کر میں نے مودبانہ لہجے میں کہا۔
پلوشہ کسی کونے سے برآمد ہوئی اور گہری سنجیدگی سے بولی۔”سر!بہتر ہو گا اس کا پکا کورٹ مارشل کریں ۔“
پلوشہ کے سر پر ہاتھ رکھتے ہوئے انصاری صاحب نے اندازہ ظاہر کیا۔”یقینا میری بیٹی !ذیشان کی دلھن ہو گی۔“
پلوشہ سعادت مندی سے بولی۔”جی چچا جان! اور میں مذاق نہیں کر رہی سچ میں درخواست کر رہی ہوں ۔“
انھوں نے نفی میں سرہلایا۔”بیٹی !یہ ایک ریٹائرڈ بریگیڈئر کے اختیارات سے باہر ہے۔“
تھوڑی دیر بعد ہم دستر خواں پر بیٹھے تھے۔پلوشہ نے پرما کو اپنے ساتھ چلنے کا کہا ،کیوں کہ مہمانوں کی آمد پر ہمارے ہاں عورتیں اور مرد علیحدہ علیحدہ کھانا کھاتے ہیں ۔مگر نہ تو پرما جانے پر تیار ہوئی اور نہ انصاری صاحب اسے علیحدہ بھیجنے پر راضی تھے۔کھانے کے دوران ہی میں نے انھیں ڈینو کی موت کے بارے آگاہ کیا۔ وہ بس گہرا سانس لے کر رہ گئے تھے۔
کھانے کے بعد انصاری صاحب نے رخصت لینے سے پہلے میرے ماتھے کو چوم کر محبت سے بولے۔ ”دو ماہ چھٹی گزارو،میں وسیم صاحب (ہمارے کمانڈنگ آفیسر)کو بتا دوں گا۔اور اگلے ہفتے سارے گھر والوں کی میرے ہاں دعوت ہے۔ پری وش کی واپسی کی خوشی میں ایک بڑی تقریب کا اہتمام کروں گا۔“
میں ممنونیت سے بولا۔”شکریہ سر۔“
”یہ تمھارا انعام نہیں ہے ۔اس کا اعلان بعد میں کروں گا۔“
پرما معنی خیز لہجے میں بولی۔”چھوڑیں پاپا!یہ بڑے انعام کا حق دار نہیں ہے ۔“
انصاری صاحب کھل کھلا کر ہنس پڑے تھے۔انھیں رخصت کر کے ہم گھر میں آگئے۔
٭٭٭٭٭
اگلے دن بڑی مشکل سے پلوشہ سے اجازت لے کر یونٹ پہنچ گیا۔تکمیل مشن اور ڈینو کی شہادت کے بارے تفصیلی رپورٹ جمع کرائی ،کمانڈنگ آفیسر سے ملاقات کی اور بچھڑے دوستوں سے گپ شپ ہوئی۔ بلاشبہ یونٹ بھی گھر کی طرح ہی ہوتی ہے۔اور ایک فوجی کا تو زیادہ عرصہ گھر کے بجائے یونٹ میں گزرتا ہے۔ تصور صاحب شفقت سے ملے،اب وہ لیفٹیننٹ کا اعزازی رینک لگائے ہوئے تھے۔انھوں نے کرید کرید کر مشن کی تفصیلات پوچھی تھیں ۔دن کیسے گزرا معلوم ہی نہ ہوا۔بڑی مشکل سے بعد از نماز عشاءجان چھوٹی اور میں نے کار گھر کی طرف بھگا دی۔حسب توقع پلوشہ کی آنکھیں ماتھے پر لگی تھیں ۔بقیہ شب اسے مناتے ہی گزری تھی۔
گھر واپسی پر مشن کے سخت و مشکل دن ایک تلخ سپنے کے علاوہ کچھ نظر نہیں آتے تھے۔کہاں زندگی و موت کی کشمکش میں مبتلا شب و روز اور کہاں روماو پلوشہ کی دل بہار معیت۔وقت گزرنے کا پتا ہی نہیں چل رہا تھا۔
انصاری صاحب کے ہاں تقریب میں میں اکیلا ہی گیا تھا۔دوران تقریب پری وش نے مجھے نظر انداز کیے رکھا۔یوں بھی راجکماری کہلانے والی ،اتنے سینئر آفیسر کی بیٹی کا ایک سپاہی سے کیا واسطہ۔البتہ انصاری صاحب نے مجھے مکمل پروٹوکول دیا تھا۔یوں جیسے میں کوئی بہت اہم شخصیت ہوں ۔ہر مہمان سے میرا خصوصی تعارف کرایااور مجھے یوں ساتھ لپٹائے پھرتے رہے گویا ان کا بیٹا ہوں ۔تقریب کے اختتام پر انھوں نے مجھے بااصرارشب بسری کو روک لیا تھا۔رات گئے تک ہم گپیں ہانکتے رہے۔میں نے سارے واقعات تفصیل سے بتائے۔ گو پری بھی انھیں بتا چکی تھی،مگر وہ پورے واقعات سے واقف نہیں تھی۔
ہماری گپوں کے دوران پری بھی پاس بیٹھی رہی ۔البتہ وہ مجھے مخاطب کرنے کی کوشش نہیں کر رہی تھی۔ نہ ہماری گفتگو میں مخل ہوئی۔بس موبائل فون کی سکرین کی طرف متوجہ ہوکر انگلیاں چلاتی رہی۔
انصاری صاحب نے خطیر رقم کا چیک مجھے پکڑایا تھا اور میرے انکار پر سخت ناراضی ظاہر کی مجبوراََ مجھے چیک لینا پڑا۔
کہنے لگے۔”ڈینو کے گھروالوں کواس سے دگنی رقم کا چیک بھجوا دیا ہے۔“
میں دل مسوس کر رہ گیا تھا۔وہ رقم ڈینو کی جان کی قیمت نہیں ہو سکتی تھی۔مگر انصاری صاحب کے بس میں تو ڈینو کے گھر والوں کی دل جوئی اور مالی امداد ہی تھی۔جس سے انھوں نے لاغرضی نہیں برتی تھی۔ہم نے چند لمحے ڈینو کے بارے گفتگو کی اس دوران ان کی بیوی شہناز بیگم کافی بنوا کر لے آئی تھی۔یہ وہی ڈرائینگ روم تھا جہاں چند ماہ پہلے انصاری صاحب اپنی بیٹی کو یاد کر کے آنسو بہا رہے تھے اور آج اللہ پاک کے فضل و کرم سے جان سے پیاری بیٹی ان کے پہلو میں بیٹھی تھی۔جس کے لیے سبب اللہ پاک نے مجھے بنایا تھا۔تبھی وہ اتنی محبت و شفقت سے پیش آرہے تھے۔
دوران گفتگو کہنے لگے۔
”بیٹا !جانتے ہو،پری وش کو انڈیا سے لانے اور شکلا کے وجود سے دھرتی کو نجات دینے سے بھی بڑا کارنامہ پری وش کی غلط فہمی دور کرناتھا۔اس بارے تمھاری جتنی تعریف کروں کم ہے۔ راجپوت کی گفتگو کو ریکارڈ کرنے کا منصوبہ تمھاری ذہانت و سمجھداری کو ظاہر کرتا ہے۔اورپھر جس طرح تم نے پری کو سنبھالا، اس کی جان بچائی،خیال رکھا۔ بلاشک شبہ یہ شکریے یا انعام سے بہت بڑھ کر تھا۔میں اور میری پری ہمیشہ تمھارے مقروض رہیں گے۔“
میں ہنسا۔”سر اس نے وعدہ کیا تھا کہ پاکستان جا کر مجھے منہ مانگا انعام دے گی،مگر یہاں آتے ہی سارے وعدے یوں بھلا دیے ہیں جیسے سیاستدانوں کو الیکشن کے بعد کچھ یاد نہیں رہتا۔“
انصاری صاحب نے بلند بانگ قہقہ لگایا۔”اس بارے میں تو کچھ نہیں کہہ سکتا۔“
وہ برہمی سے بولی۔”پاپا !وہاں اس نے ہم سے کئی بار بدتمیزی کی تھی،ہمارا مذاق اڑایا،پیدل چلایا، سردی و بارش میں سخت زمین پر لٹایا،ہم رات بھربخار میں تڑپتے رہے اور اس کے کان پر جوں بھی نہ رینگی، پوری رات پہاڑوں میں گھسیٹا،کئی مرتبہ ڈانٹا،توہین و تنقیص کی،ڈرایا،جھڑکا،طعنے دیے۔آپ ہی بتائیں ایسا شخص انعام کا حق دار ہو سکتا ہے۔تب کہتا تھا پاکستان جا کر معافی مانگ لوں گا،یہاں ذکر ہی نہیں کیا۔“
انصاری صاحب ہنسی دباتے ہوئے بہ ظاہر سنجیدگی سے میری جانب متوجہ ہوئے۔”کوئی جواب ہے جوان۔“
”سر یہ سارے واقعات حالات کی وجہ سے پیش آئے۔میں اگر خود سوار ہوتا اور اسے پیدل چلاتا تب تو بات تھی،میں بھی تو اس کے ہمراہ پیدل ہی بھاگتا رہا ہوں ۔باقی عبدالخالق نے ہمیں چند دن پناہ دی اس کی بیٹی کو تو اپنا ہیرے کا لاکٹ تحفے میں دے دیا،مگر مجھ سے اتنا خرچا کروانے کے باوجود جھوٹے منہ بھی نہ پوچھا۔اور رہی معافی کی بات تو پہلے ہی دن آپ سے درخواست کی تھی کہ مجھے پری وش سے معافی دلوا دیں ۔“
انصاری صاحب نے میری سفارش کی۔ ”ویسے ،مجبوریاں اور حالات بھی دیکھے جاتے ہیں ۔اس لیے معاف کردو۔بے چارے نے اتنی کوشش و محنت کر کے تمھیں بھارت سے نکالا ہے۔“
وہ سنجیدگی سے بولی۔”پاپا!کسی کسی کو معاف کرنا دشوار ہو جاتا ہے۔بس آپ انھیں منع کر دیں کہ آئندہ ہمارے گھر نہ آیا کرے کیوں کہ ہمارے درمیان موجود طبقاتی فرق ہمیں بے تکلف ہونے کی اجازت نہیں دیتا۔“ یہ کہتے ہوئے اس نے کلائی سے بریسلٹ اور کانوں سے ہیرا جڑے ٹاپس نکالتے ہوئے شیشے کی میز پر رکھے۔”یہ بھی انھیں دے دیجئے گا۔تاکہ اپنی دونوں بیویوں کوقیمتی تحفہ دے سکے۔“یہ کہتے ہی وہ اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئی۔
بات مذاق کی حد عبور کر چکی تھی۔مجھے سبکی محسوس ہوئی لیکن اظہار کی جرات نہ کرسکا۔انصاری صاحب کے لبوں پر کھسیانا تبسم ابھرا۔”اسے کیا ہوا ہے؟“
میں توہین کا کڑوا گھونٹ حلق سے اتارتے ہوئے بولا۔”اسی کو پتا ہوگا۔“
وہ خفت سے بولے۔”بے وقوف بچی سمجھ کر معاف کردینا بیٹا۔“
میں ملتجی ہوا۔”سر!اگر اجازت دیں تو میں گھر چلا جاﺅں ۔پلوشے نے کہا تھا کہ لازماََ واپس لوٹوں ،یہ نہ ہو ناراض ہو جائے۔اب آپ نے یوں بھی آرام کرنا ہے۔“
وہ پھیکی مسکراہٹ سے بولے۔”جیسا مناسب سمجھو۔“
میں نے زبردستی کی مسکراہٹ چہرے پر بکھیرتے ہوئے ان سے الوداعی معانقہ کیا اورپیشہ ورانہ سیلوٹ کر کے نکل آیا۔پرما کے بریسلٹ وغیرہ کو نہ میں نے ہاتھ لگایا تھا نہ انصاری صاحب نے اس بارے کچھ کہا تھا۔ گھڑی کی سوئیاں تین بجے کا ہندسہ عبور کر چکی تھیں ۔پرما کے الجھے ہوئے رویے کو سوچتے ہوئے میں چکلالہ کینٹ سے نکل آیاتھا۔
دوتین دنوں بعد میں نے ڈینو کے گھر جانے کا پروگرام بنایا۔اس کا تعلق حیدر آباد سے تھا۔پلوشہ ، روما، عدیل اور عبداللہ بھی میرے ساتھ ہی گئے تھے۔ڈینو کا گھر شہر کے مضافات میں تھا۔وہ غیر شادی شدہ تھا۔اس کے باپ اور امی سے مل کر میں نے تعزیت کی ساتھ ہی انصاری صاحب سے ملا رقم کا چیک بھی ان کے حوالے کر دیا۔ڈینو ان کا بڑابیٹا تھا۔اس سے چھوٹی ایک بہن اور بھائی اور بھی تھے ۔
تھوڑی دیر ان کے ساتھ گزار کر ہم نکل آئے۔وہاں سے کراچی پہنچے۔دو تین دن وہاں گزارے اور واپس لوٹ آئے۔
اس کے بعد دوماہ کیسے گزرے،قسم لے لو کہ کچھ سمجھ بھی لگی ہو۔بس ایک دن کلینڈر پر نگاہ ڈالی تو اعلان کر رہاتھا کہ وہ گھر میں میرا آخری دن ہے۔اگلے دن میں یونٹ جانے کو تیار تھا۔منیر نیازی کہتا ہے....
صبح صادق کی ہوا میں درد تھا کتنا منیر
ریل کی سیٹی بجی تو دل لہو سے بھر گیا
اور یقینا گھر سے نکلتے وقت ہر فوجی کے گھر والوں کے یہی احساسات ہوتے ہیں ۔نہ معلوم جانے والے نے اپنے قدموں پر یا لوٹنا تھا یا کسی کے کندھوں پر۔صحیح سالم لوٹنا تھا یا بیساکھیوں پر۔اور اگر اللہ پاک کے فضل کرم سے اسے کچھ بھی نہ ہوتا تب بھی جدائی اور اس سے دوری میں وقت کاٹنے کا روح فرسا خیال ہی سکون و آرام کا قاتل بنا رہتا ہے۔
شاکر شجاع آبادی کہتا ہے:۔
تیڈا شاکر اجاں کوئی نکھڑیا نئیں
جیندے نکھڑے ہن اوندا حال تاں پچھ
(شاکر تیرااب تک کوئی بچھڑا نہیں ہے جس کا بچھڑچکا ہے جا کر اس کا حال پوچھو)
اورپاک آرمی کے کام میں کیڑے نکالنے والوں کو میرا یہ پیغام ہے کہ....
جیوں عمر نبھی ہیے شاکر دی
ہک منٹ نبھا ،پتا لگ ویسی
(جیسے شاکر کی زندگی بیتی ہے،ایسے ایک منٹ گزار کر دکھاﺅ پتا لگ جائے گا)
تلہ گنگ بس اڈے تک پلوشہ،روما ،عدیل اور عبداللہ مجھے چھوڑنے آئے تھے۔پلوشہ راولپنڈی تک ساتھ چلنے پر بہ ضد تھی لیکن میں نے انکار کر دیا تھا۔بس چلنے تک وہ کھڑی رہیں ۔
بس ،اڈے سے نکلی اور میں سیٹ سے سر ٹیک کر آگے کاسوچنے لگا۔دوران سروس ایک سنائپر کو آرام و سکون کے لمحات کم ہی نصیب ہوتے ہیں ۔ایک مشن کی تکمیل کا مقصد ہر گز یہ نہیں کہ آگے راوی چین و سکون لکھے گا۔ہماری کہانی کا اختتام روایتی کہانیوں کی طرح ”وہ ہنسی خوشی رہنے لگے۔“کے خوش کن فقرے پر نہیں ہو سکتا۔ جب تک جان باقی ہے،جب تک کچھ کرنے کی سکت جسم میں موجود ہے ،جب تک مادرِوطن کو میری ضرورت ہے، جب تک دشمنوں کی کارروائیاں جاری ہیں ،جب تک غدار سازشوں میں لگے ہیں ،پاکستان کے بیٹے بھی ہاتھ پر ہاتھ دھرے نہیں بیٹھ سکتے۔ اور دشمن کے لیے ہر سپاہی، عہدہ دار اور آفیسر بہ زبان شاعر یہ اعلان کرتا نظر آتا ہے........
میرادشمن مجھے کمزور سمجھنے والا
دیکھے مجھ کو کبھی تاریخ کے آئینے میں
میں نے ہر دور میں توڑا ہے رعونت کا طلسم
میں نے ہر عہد میں اک باب نیا لکھا ہے
میرا دشمن یہ حقیقت نہ فرامو ش کرے
بیعت ظلم و ستم میری روایت ہی نہیں
مجھ کو میدان سے پسپائی کی عادت ہی نہیں
عرصہ بدر میں کردارِ نبی ہوتا ہوں
دشت ِ کربل ہو تو میں ابن علی ہو تا ہوں
آخر میں فقط اتنا ہی کہنا چاہوں گا کہ آنے والے وقت سے ہر شخص انجان و بے خبر ہوتا ہے۔مستقبل کو جاننے والی ذات صرف اللہ پاک کی ہے۔یونٹ میں کون سامشن میرا منتظر تھا،کون سی ذمہ داریاں میری راہ تک رہی تھیں اور آگے کیا کرنا تھااس بارے میں کچھ نہیں جانتا۔زندگی کسی اور معرکے کی اجازت دیتی یا مہلت پوری ہو چکی ہے اس سے میرا ربّ ہی واقف ہے۔پھر آپ سے گفتگو ہو پائے گی یا نہیں اس سے بھی میں ناواقف ہوں ۔مجھ سے کئی گنا بہتر اور تگڑے گمنام ہیرو وطن کی خاک پر قربان ہو چکے ہیں ۔میں خود کو ان کی کف پا کے برابر بھی نہیں سمجھتا۔کسی بھی دور میں وطن خداداد کی حفاظت پر جان قربان کرنے والوں کی تعداد میں کمی نہیں ہوئی ہے اور مجھے فخر ہے کہ اللہ پاک نے مجھ جیسے کمزور،ناکارہ اور بے بس کو بھی اس فہرست میں شامل ہونے کا اعزاز بخشا ہے۔
بس موٹر وے پر چڑھ کر راولپنڈی کی جانب رواں دواں ہوئی اور میں کھڑکی کے شیشے سے دوڑتے مناظر کو دیکھتے ہوئے آنے والے حالات کے لیے خود کو تیار کر نے لگا۔
ختم شد
 

Create an account or login to read stories

You must be a member in order to leave a comment

Create account

Create an account on our community. It's easy!

Log in

Already have an account? Log in here.

New posts
Back
Top