خوش آمدید

لو اسٹوری فورم ، اردو دنیا کا نمبر ون اردو اسٹوری فورم ، ابھی فورم کےممبر بنیں اور اردو کی بہترین کہانیاں پڑھیں ۔

Register Now!
Welcome image
  • PAID PLANS

    ٹاپ پیکیج
    👑

    PREMIUM

    16000
    چھ ماہ کے لیے
    بہترین ڈیل
    💎

    VIP+

    6000
    چھ ماہ کے لیے
    بنیادی ڈیل

    VIP

    3500
    تین ماہ کے لیے

Life Story میں ہوں بدنصیب۔۔۔۔

سردار بی بی کو سینے پر ہاتھ رکھ کر گھر اگر اسانس لیتے دیکھ کر عباس پریشانی کے عالم میں ان کی جانب بڑھا مگر ان کی تو حالت ہی بگڑنے لگی سب ہی پریشان سے سردار بی بی کو پکار رہے تھے مگر ان کی
آنکھیں بند ہونے کے در پہ تھیں
شہزاد گاڑی نکالو ۔ ۔
بلند آواز میں شہزاد کو حکم دیتے ہوئے عباس نے سردار بی بی کو اٹھایا اور باہر کی سمت بڑھے سردار
شیر دل ، ناعمہ ہمدانی اور نورے بھی اس کے پیچھے لیکے جبکہ حُرہ اچانک ہوئی اس کاروائی پر حقیقتاً
پریشان ہو گئی
سردار بی بی کو مائنر اٹیک ہوا تھا جس باعث سب پریشان تھے اگلے چند دن انہیں ہسپتال میں رکھا گیا تھا اس دوران سردار بی بی ہر وقت عباس کو اپنے پاس رکھتیں وہ محض کپڑے بدلنے یا کھانا کھانے حویلی جا تا پھر ہسپتال چلا جاتا تقریباً ایک ہفتہ انہیں ہسپتال رکھا گیا اس دوران عباس کی ایک مرتبہ حُرہ سے حویلی میں سرسری سی ملاقات ہوئی جبکہ باقی گھر والوں کی طرح حُرہ بھی پریشان تھی بیشک سردار بی بی نے ہمیشہ اسے اپنی نفرت اور تشدد کا نشانہ بنایا تھا مگر تھیں تو وہ ایک ماں اور ماں کیا ہوتی ہے یہ کوئی


حُرہ سے پوچھے جو آخری وقت میں اپنی ماں سے بھی نہ مل سکی پھر عباس اس قدر پریشان رہتا تھا کہ حُرہ سردار بی بی کی صحت اور زندگی کی دعائیں مانگنے لگی
اس دن کے بعد ناہید نے پھر کبھی اس سے بد تمیزی سے بات نہیں کی تھی مگر کام وہ پورے اپنے
حصے کے کرتی تھی
دو دن پہلے ہی سردار بی بی کو طبیعت بہتر ہونے پر عباس گھر لے آیا تھا اور پھر فوراً ہی شہر کو روانہ ہو گیا تھا جبکہ آج سردار بی بی نے اپنے کمرے میں نور ےکو بلوایا تھا
ناہید میرے کنگن لے کر آ ۔ ۔
ناہید کو ڈریسنگ ٹیبل کے دراز کی جانب اشارہ کرتے ہوئے سردار بی بی نے حکم دیا اس وقت ناعمہ
اور نور ے دونوں ہی ان کے پاس ان کے کمرے میں موجود تھیں
بی بی جی یہاں تو کنگن نہیں ہیں ۔ ۔
دراز کھنگارنے کے بعد ناہید نے کہا تو سر دار بی بی کے ماتھے پر بل پڑے یہ وہ کنگن تھے جو وہ ہر وقت پہنے رکھتی تھیں بیماری کے دوران ہسپتال میں اتارے گئے تھے
ارے باولی ہو گئی ہے کیا ۔ ۔ یہیں ہوں گے دیکھ صحیح ہے ۔ اسے کہتے ہوئے وہ خود بھی بیڈ سے اٹھ گئیں۔


سردار بی بی آپ بیٹھیں آرام کریں نورے تم دیکھو ذرا ۔ ۔ نامہ نے انہیں اٹھتا دیکھ کر نورے کو کہا تو نورے فوراً اٹھی اور دراز کھنگالنے لگی
یہاں تو نہیں ہیں سردار بی جی ۔ ۔
نورے کا جواب سن کر سر دار بی بی خود اٹھیں اور دیکھنے لگیں مگر بے سود
کہاں جاسکتے ہیں ۔ ۔ ارے ناعمہ ہر وقت پہنے کی عادت تھی مجھے ۔ ۔ زندگی میں پہلی بارا تارے تو سوچا اپنی ہونے والی بہو کو پہناؤں گی اب ۔ ۔ مگر یہ کیا بد شو گنی ہو گئی ۔ ۔ عباس کی دادی نے عباس کے
پیدا ہونے پرمجھے دیے تھے


مگر بی بی آج تک کبھی حویلی میں کوئی چیز ادھر سے ادھر نہیں ہوئی ۔ پھر آج کیسے ہو سکتی ہے ۔ ناہید ، ان کے قریب جا کر کہتی ہے تو سر وار بی بی اس کی بات سن کر ٹھٹک جاتیں ہیں
ہاں ۔ ۔ آج تک کبھی ایسا نہیں ہوا ۔ ۔ تو آج چوری کیسے ہو سکتی ہے ۔ ۔ انہوں نے سر بلاتے ہوئے پر سوچ انداز میں کہا۔


بی بی مجھے سب ملازمین پر بھروسہ ہے مگر وہ جو لڑکی ہے نا اس پر شک ہو رہا ہے ۔ سردار بی بی کے کان کے قریب سر گوشی کرتے ہوئے کہا کہ اس کی آواز اتنی مدھم تھی کہ وہاں موجود نورے اور ناعمہ نہ سن سکیں جبکہ سر دار بی بی یکدم غصے میں بولیں
اس لڑکی کو بلواؤ
پھر اگلے چند لمحوں میں حُرہ ان کے سامنے موجود تھی
اے لڑکی مجھے سچ سچ بتا دے ۔ کہ میرے کنگن تو نے چوری کیے ہیں ۔ ۔ ؟؟ حُرہ کے بال جکڑے وہ دھاڑیں جبکہ ان کی بات سن کر حُرہ کے پیروں سے زمین نکل گئی
نن نہیں ۔ ۔ م میں نے نہیں کی ۔ ۔ مم میں چ چور نہیں ہوں ۔ حُرہ لڑکھڑاتی آواز میں بولی آنکھیں اس کی آنسوؤں سے بھر گئیں
جھوٹ بولی تو زبان کاٹ دوں گی تیری ۔ ۔ بول کہاں ہیں کنگن ۔ ۔ ؟؟
حُرہ کا چہرہ دبو چےوہ دھاڑیں تھیں ناعمہ اور نورے پریشانی سے ساری صورتحال دیکھ رہیں تھیں جبکہ ناہید کے چہرے پر شاطرانہ مسکراہٹ تھی۔


مجھے ن نہیں معلوم ۔ ۔ روتی ہوئی وہ بمشکل بول سکی تھی
گھٹیا ، نیچ خاندان کی لڑکی ہے تو ۔ ۔ تجھ سے کوئی بھی امید کی جا سکتی ہے ۔ ۔ شرافت سے بتا دے
نہیں تو ہاتھ کٹوا دوں گی ۔ ۔
انہوں نے ایک جھٹکے سے اسے زمین پر پھینکتے ہوئے دھمکی دی جبکہ اب حُرہ مسلسل روتے ہوئے نفی میں سر بلا رہی تھی اس کے تو وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ کنگن کہاں ہیں مگر چوری کا الزام لگ
گیا تھا
م میں چ چور نہیں ہوں مجھے کچھ نہیں پتہ۔
حُرہ سسکتی ہوئی کہہ رہی تھی
ناہید میرے کمرے کی صفائی کون کرتا ہے ۔ ۔
سردار بی بی نے مڑ کر ناہید سے پوچھا


یہی کرتی ہے بی بی جی ۔ ۔


ناہید نے فرش پر گری سہمی ہوئی حُرہ کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا
ابھی اس کے کمرے کی تلاشی لیتے ہیں پتہ چل جائے گا کہ چوری کس نے کی ہے ۔ ۔ سر وار بی بی نے کہتے ہوئے حُرہ کا بازو پکڑ کر اپنے ساتھ چلنے لگیں جبکہ ناعمہ نورے اور ناہید بھی ان
کے پیچھے تھیں
کمرے میں داخل ہو کر سردار بی بی نے ملازمہ سے کمرے کی تلاشی لینے کو کہا جبکہ حُرہ سہمی آنکھوں سے ملازمہ کو دیکھ رہی تھی جانے آگے کون کون سے امتحان دینے باقی تھے،۔ چٹائی کے اوپر رکھی حُرہ کی چادر کے پلو سے سردار بی بی کے کنگن اور کچھ نوٹ برامد ہو گئے۔
اور وہاں موجود تمام نفوس اپنی جگہ ساکت ہو گئے تھے حُرہ نے بے یقینی سے ان کنگن کو دیکھا جسے وہ پہلی دفعہ دیکھ رہی تھی
ہاں اب بول کہ تو نے چوری نہیں کی ۔ ۔
سر وار بی بی کنگن ہاتھ میں لیتے ہوئے حُرہ کی جانب مڑتے ہوئے غرائیں


مم میں نے چ چوری نہیں کی ۔ ۔
حُرہ خوف سے چند قدم پیچھے ہوتی ہوئی روتے ہوئے بولی
ہمم اور یہ اتنے سارے پیسے تیرے پاس کہاں سے آئے ۔ ۔ ؟؟ اب انہوں نے نوٹ حُرہ کی جانب اچھالتے ہوئے پوچھا
یہ مجھے ۔ ۔ سس سردار ۔ ۔
لڑکی تو ، تو واقعی بہت بڑی چور ہے میرے کنگن بھی چرا لیے اور اتنے سارے پیسے بھی ۔ ۔ “
حُرہ کے بولنے سے پہلے ہی وہ اس کی بات کاٹ کر بولیں
اچھا اگر تو نے چوری نہیں کی تو یہ تیری چادر کے پلو میں کیا کر رہیں ہیں ۔ ۔
سر دار بی بی کنگن ہاتھ میں لیے دھاڑیں
م مجھے نہیں پتہ ۔ ۔ ہم میں نہیں جانتی ۔ ۔


حُرہ نفی میں سر ہلاتی آنکھوں میں خوف لیے بولی تو سر دار بی بی نے بازو سے جکڑ کر اسے سامنے کیا اور اس کے چہرے پر زور دار طمانچے مارنے لگیں یہ ہولناک منظر دیکھ کر نورے سے رہا نہیں گیا اور آگے بڑھی جب ناعمہ نے اس کا بازو تھام کر اسے روک دیا
اپنے کمرے میں جاؤ نورے ۔ ۔ !” ناعمه دھیمی آواز میں حکمیہ انداز میں بولیں تھیں
ماں وہ ۔ ۔
” تم چلو یہاں سے ۔ نورے نے کچھ بولنا چاہا تھا
جب ناعمہ نے اسے روک دیا اور اسے لے کر کمرے سے نکل گئیں جبکہ سے
پیچھے سردار بی بی حُرہ کو بری طرح مار رہیں تھیں یہاں تک کہ وہ شدت در دسے نڈھال ہو گئی
میرے بیٹے کے ساتھ کے خواب دیکھے نا تو نے تو آ نکھیں نوچ لوں گی تیری ۔ ۔ حُرہ کو فرش پر پٹخ کر وہ دندناتی ہوئی کمرے سے نکل گئیں ان کے پیچھے ناہید بھی لبوں پر مکروہ مسکراہٹ سجائے نکل گئی جبکہ حُرہ بری طرح رونے لگی۔


یا اللہ اور کتنے امتحان باقی ہیں ۔ ۔ اتنی نفرت ۔۔ اتنی حقارت ۔ ۔ اتنے الزام ۔ ۔ اور نہیں برداشت ہو تا مجھ سے ۔ ۔ ماں بابا مجھے اپنے پاس بلالیں پلیز ۔ ۔ اور نہیں سہہ سکتی ۔ ۔ زمین پر اوندھے منہ گری وہ شدت سے رو رہی تھی
مگرا بھی اس کے امتحان باقی تھے ہر ملے گئے دکھ کی طرح اس دکھ ، اذیت کو ساری رات رو لینے کے بعد اسکے طلوع ہونے والے دن پھر سے وہی نفرت ، وہی ذلت اس کی زندگی میں شروع ہو گئی مگر اگلے دودن سزا کے طور پر اسے ایک وقت کا کھانا دیا جاتا کھاتی تو وہ پہلے بھی بچا ہوا تھا اور پھر جب وہ رات کو سارے اپنے ذمے کے کام نبٹا کر اس کمرے میں بچھی چٹائی پر آلیٹی تھی تو اس کی طبیعت اچانک خراب ہونے لگی جی متلی کرنے لگا ، ابکائیاں آنے لگیں، سر بری طرح چکرانے لگا مگر اس بڑی سی حویلی میں کسی کو اس کے دکھوں ، کا احساس نہ تھا جانے ابھی اس کی اور کتنی آزمائشیں باقی تھیں۔


منصور یہ شور کیسا ہے ۔ ۔
وہ اپنے آفس میں بیٹھا کیس کی فائل چیک کر رہا تھا جب اسے باہر کچھ ہل چل محسوس ہوئی
سر وہ ایک عورت اور اس کی بیٹی آپ سے ملنا چاہتی ہیں ۔ ۔ آپ نے ڈسٹرب کرنے سے منع کیا تھا اس لیے میں نے انہیں ویٹ کرنے کو کہا مگر وہ مان ہی نہیں رہیں ۔ ۔


منصور جو کہ اس کا گارڈ تھا عباس کے پوچھنے پر بتانے لگا
اچھا انہیں بھیجو ۔ ۔
عباس نے سامنے رکھی فائل بند کرتے ہوئے حکم دیا کچھ دیر میں ایک عورت اپنی بیٹی کے ساتھ
کمرے میں داخل ہوئی
تشریف رکھئیے ۔۔
عباس نے ایک سرسری سی نگاہ ان پر ڈال کر سامنے رکھیں کرسیوں کی جانب اشارہ کیا عباس کو وہ
عام طبقے سے تعلق رکھنے والی لگ رہی تھیں
ان کے پیچھے کھڑے منصور کو حکم دے کر وہ ان ماں بیٹی کی جانب متوجہ ہوا
جی میں کیا مدد کر سکتا ہوں آپ کی ۔ ۔ ؟
دھیے نرم انداز میں اس نے پوچھا تو ان دونوں ماں بیٹی کی کچھ ہمت بندھی


وکیل صاحب ہم آپ کی فیس ادا نہیں کر سکتے ۔ ۔ مگر میں چاہتی ہوں آپ ہی میری بیٹی کا کیس لڑیں
اس عورت نے اپنی سترہ اٹھارہ سالہ بیٹی کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا
“آپ بتائیں کے مسئلہ کیا ہے ۔ ۔ ؟؟ عباس نے بھر پور سنجیدگی سے پوچھا
میری بیٹی کے ساتھ بڑا ظلم ہوا ہے صاحب ۔ ۔ میں نے سال پہلے اپنے بھائی کے بیٹے کے ساتھ بیاہ دیا تھا اسے ۔ ۔ شادی کے ایک ماہ بعد میرا داماد باہر چلا گیا ۔ ۔ پھر تو جیسے میری بیٹی کی زندگی ہی اجیرن ہو گئی ۔ ۔ مگر صبر کر لیا ہم نے ۔ ۔ لیکن اب تو ظلم کی انتہا ہو گئی ۔ ۔ میری بیٹی کے ساتھ ۔ ۔ وہ عورت بولتے ہوئے رونے لگی تو عباس نے پانی کا گلاس اے دیا اور دوسرا گلاس
عباس نے عبائے میں لپٹی اس لڑکی کی جانب بڑھایا جو چہرہ چھپائے رو رہی تھی
دیور نے ۔ ۔
وہ دکھی ماں پھر سے بمشکل دو لفظ ادا کر پائی تھی کہ رونے لگی جبکہ وہ لڑکی بھی اب اس قدر رونے لگی تھی کہ عباس لب بھینچے سر جھکا گیا یقینا آگے کی بات وہ سمجھ گیا تھا کہ اس لڑکی کے ساتھ کیا ظلم ہوا تھا بے
ساختہ اسے عابی کے ساتھ ہوئے ظلم کا خیال آیا اور سامنے بیٹھی لڑکی میں اسے عابی کا عکس نظر آیا جسکے
باعث اس کا دل پھٹنے لگا
آپ نے مقدمہ درج کروایا ۔ ۔ ؟ چند لمحوں بعد عباس اپنی ذہنی حالت پر قا بو پا پایا تھا تو اس عورت سے پوچھا لگا جو خود بھی رو رہی تھی
ہم اپنی عزت کی خاطر خاموش ہو گئے ۔ ۔
عورت نے آنسو صاف کرتے ہوئے کہا تو عباس نے چونک کر انہیں دیکھا
” کیا مطلب ۔ ۔ ؟ “
نا سمجھی سے پوچھا گیا
آپ کی بیٹی بے قصور ہے ۔ ۔ ظلم اس کے ساتھ ہوا ہے ۔ ۔ اگر عزت خراب ہوئی ہے تو وہ اس شخص کی ہوئی ہے جس نے یہ شرمناک حرکت کی ہے ۔ ۔ کہ اپنی ہی بھا بھی ۔ ۔ !!
دیکھیں یہی تو ہمارے معاشرے کی خرابی ہے کہ جس کے ساتھ یہ ظلم ہوتا ہے ہم اسے ہی کہتے ہیں کہ اس کی عزت خراب ہو گئی ۔ ۔ ہم اس سے ہی نفرت کرنے لگتے ہیں ۔ ۔ جبکہ نفرت کے قابل تو وہ


درندہ ہے ۔ ۔ جس نے یہ انسانیت سے گرمی ہوئی حرکت کی ہے ۔ ۔ آپ کیسے اس ظلم پر خاموش ہو
سکتیں ہیں ۔ ۔ ؟ “
عباس کے لہجے میں درد بول رہا تھاوہ سمجھ سکتا تھا کہ سامنے بیٹھی ماں اور بیٹی کس اذیت سے گزر رہیں عابی کے کیس کی وجہ سے بھی تو سردار شیر دل بھی عزت کی خاطر خاموش ہو گئے تھے اور کتنی مشکل سے اس نے انہیں کیس پر راضی کیا تھا
صاحب انہوں نے دھمکی دی ہے کہ اگر کسی کو بتایا تو وہ میری بیٹی کو بدنام کر دیں گے ۔
وہ عورت دوبارہ بولی
اب بھی تو آپ میرے پاس آئیں ہیں نا ۔ ۔
کتنا عرصہ ہوا اس بات کو ۔ ۔ ؟
عورت کا جھکا سر دیکھ کر عباس نے لب بھینچ لیے پھر اگلا سوال کیا
دو ماہ ۔ ۔
اس عورت کے لہجے میں مزید شرمندگی در آئی تھی


آپ نے میڈیکل تو نہیں کروایا ہوگا ۔ ۔ ؟ ” عباس کے اگلے سوال پوچھنے پر ماں نے پھر سے سر جھکا لیا
ایف آئی آر بھی نہیں کروائی ۔ ۔ ؟؟
توقع کے مطابق تمام جواب پانے کے بعد اگلا سوال پوچھا
یہاں آنے سے پہلے کروائی تھی صاحب ۔ ۔ ۔ آپ نے میری بیٹی سے کوئی سوال تک نہیں کیا ۔ ۔ مگر وہ پولیس والے بہت عجیب سوال کر رہے تھے اس لیے ۔ ۔
وہ ماں بتاتے ہوئے پھر سے رونے لگی جبکہ عباس اس کی بات سمجھ گیا اور خاموش ہو گیا
ظلم کے خلاف جتنا دیر سے اٹھیں گے ۔ ۔ اتنا ہی لمبا اور کٹھن سفر طے کرنا پڑے گا ۔ ۔
عباس نے کہتے ہوئے گہرا سانس لیا اس کے لیجے میں دکھ کی آمیزش واضح تھی
آپ ہماری مدد کریں گے نا ۔ ۔


اس سارے وقت میں پہلی بار وہ لڑکی عباس سے مخاطب ہوئی تھی شاید عباس کا نظریں جھکی رکھنا اور نرمی سے بات کرنے سے اس لڑکی کا حوصلہ کچھ بحال ہوا تھا عباس نے سرد آہ بھری اور اپنی جگہ سے
اٹھا اس لڑکی کے سر پر ہاتھ رکھ کر اثبات میں سر ہلایا ۔


کیا ہوا آج بہت پریشان لگ رہا ہے ۔ ۔ ؟؟
عباس کال نہیں اٹھا رہا تھا تو عالیان اور احمد پریشان سے اس کے بنگلے پہنچ گئے اور عباس کو لاؤنج میں گم سم ساکسی گہری سوچ میں ڈوبا دیکھ کر احمد نے سوال کیا جواباً عباس نے سرسری سا آج آئے کیس کے بارے میں اسے بتا دیا جبکہ عالیان کافی بناتا ہوا سر سری انداز میں سن رہا تھا
عباس اور احمد کو اکثر اپنے کیسز میں ایک دوسرے کی مد دور کار ہوتی تھی اور اس کیس میں بھی اسے احمد کی مدد درکار تھی اسی لیے بتانے لگا جسے سن کر احمد کو افسوس ہوا
اتنا عرصہ ہو گیا تم دونوں کو اس طرح کے کیس حل کرتے ہوئے لیکن آج بھی تم دونوں اپنے پہلے کیس کی طرح ایسے پریشان ہو جاتے ہو جیسے وکٹم سے تم لوگوں کا گہرا رشتہ ہے ۔۔ چل یار ۔۔ دل پر
مت لیا کرو اتنا تم دونوں ۔ ۔ ایسے تو جلدی ہی تم دونوں دل کے مریض بن جاؤ گے ۔ ۔


ان دونوں کے چہرے پر بے انتہا افسردگی دیکھ کر عالیان نے کہا تو احمد اور عباس کواس کا اس وقت مذاق کرنا سخت ناگوار گزرا۔
وہ جو آئے روز تمہیں شدید والی محبت ہو جاتی ہے اس سے دل پہ بہت اچھا اثر پڑتا ہے نا
احمد نے خاصا چڑ کر کہا تو عالیان دانٹ نکالنے لگا۔
یار ایک تو مجھے سمجھ نہیں آتی یہ جو مرد باہر کمانے چلے جاتے ہیں، وہ اپنی بیوی بچوں کو اس ہوس پرست دور میں کسی کے بھروسے کیسے چھوڑ جاتے ہیں؟ چاہے وہ اس کے اپنے گھر والے ہی کیوں نہ ہوں۔ یہ بات کسی صورت صحیح نہیں ہے
اس مرتبہ عالیان نے سنجیدگی سے کہا تو احمد نے بھی اس کی تائید میں سر ہلایا۔


بہت کیس آتے ہیں میرے پاس بھی کہ شوہر آؤٹ آف سٹی ہے یا کنٹری… پیچھے سے اس کے گھر والے اس کی بیوی بچوں سے کیسا سلوک کر رہے ہیں، کن حالات سے وہ گزر رہی ہے… ان جناب کو معلوم ہی نہیں ہوتا۔ اور اگر معلوم ہو تو وہ کس پر یقین کرے، ماں باپ بہن بھائی پر یا بیوی پر؟
احمد نے پھر بات کو جاری رکھتے ہوئے اپنی رائے دی جبکہ عباس خاموشی سے بیٹھا ان دونوں کی باتیں سن رہا تھا، مگر کچھ بولا نہیں۔


ہاں بلکل ٹھیک کہہ رہا ہے تو ۔ ۔ ساری غلطی ہی ایسے مردوں کی ہوتی ہے ۔ ۔ جو دو دو تین تین سال
گھر نہیں آتے ۔ ۔ بھئی بیوی کے بھی کچھ حقوق ہوتے ہیں جو مرد پر لازم ہوتے ہیں ۔ ۔ اب آپ چار
سال محض کمانے کی خاطر بیوی سے دور رہ کر گزارو گے تو ایسی نوکری پر لعنت ہے جو اپنی بیوی بچوں
سے دور رکھے ۔ ۔
عالیان دو ٹوک انداز میں بولا تھا جبکہ احمد نے بھی اس کی بات پر متفق ہوتے ہوئے سر ہلایا
عباس بہت دھیان سے ان دونوں کی باتیں سن رہا تھا بے ساختہ اس کو حُرہ کا خیال آیا تھا جانے کیوں
اچانک اس کا دل ہر شے سے اچاٹ ہو گیا اور حُرہ کا بار بار ڈرا سہما چہرہ اس کی نگاہوں کے سامنے
آنے لگا جو اس کا دل بے چین کرنے لگا ۔


صبح جب اس کی آنکھ کھلی تو شدید نقاہت محسوس ہورہی تھی مگر جانتی تھی کہ اگر ذراسی بھی کسی کام میں دیر ہوئی تو مزید ذلت اور سزا دی جائے گی تبھی خود کو مضبوط کرتی اٹھ بیٹھی۔
یا اللہ میں اتنی سخت جان کیسے ہو سکتی ہوں ۔ ۔ کہ اتنا سب ہونے کے بعد بھی زندہ ہوں ۔ ۔ میرے
بابا تو مجھے ایک کانٹا بھی چبھنے نہیں دیتے تھے ۔۔ اور اب روز اتنی ذلت و رسوائی اور اذیت کے بعد بھی
زندہ ہوں ۔ ۔


چکراتے سر کو ہاتھوں میں گرائے خُرہ بے انتہا اذیت میں مبتلا بولی تھی
پھر چادر اٹھا کر خود پر اوڑھی اور بمشکل اٹھ کھڑی ہوئی چہرے پر ٹھنڈے پانی کے چھینٹے مارے اور چادر
سے چہرہ صاف کرتی لڑکھڑاتے قدموں سے باورچی خانے کی جانب بڑھی رات سے قے کی وجہ سے جو
تھوڑی بہت طاقت تھی جسم میں اب وہ بھی نہیں رہی تھی مگر اپنا درد کر تا وجود گھسیٹے وہ بے حسی کی
چادر اوڑھے ناشتے کی تیاری میں لگ گئی مگر سر شدید چکرانے لگا اور انڈے کو دیکھ کر تو اسے ابکائیاں
آنے لگیں منہ پہ ہاتھ رکھتی وہ واشروم کی جانب بڑھی
یا اللہ اب کیا کروں میں ۔ ۔ یہاں تو کوئی دوائی بھی نہیں دے گا مجھے ۔ ۔ ایسے تو کام نہیں ہو گا مجھ سے
۔۔ کیا کروں ۔ دیوار کا سہارا لیے وہ کھڑی سوچ رہی تھی پھر بمشکل چلتے ہوئے دوبارہ باورچی خانے میں آئی
کاش سر دار بی بی وہ پیسے اس سے نہ لیتی جو عباس نے اسے دیے تھے اگر وہ پیسے بھی اس کے پاس
ہوتے تو کم از کم اپنے لیے دوائی تو منگوالیتی۔۔


سنیں پلیز مجھے کوئی سر درد کی دوائی دے دیں ۔ ہاتھ میں جھاڑو لیے ایک ملازمہ کو دیکھ کر حُرہ نے التجائیہ کہا۔
دیکھو تمہاری کسی بھی طرح مدد کرنا منع ہے ۔ ۔ اگر کسی نے کی تو وہ جان سے جائے گا ۔ ۔ اس لیے میں تو تمہاری مدد نہیں کر سکتی ۔ ۔
ملازمہ نے حُرہ کا زرد رنگ دیکھ کر افسوس سے کہا،
آپ کے پاس درد کم کرنے کی کوئی تو دوا ہوگی ۔ وہی دے دیں ۔ ۔ پلیز کسی کو معلوم نہیں ہو گا ۔ ۔
بات کرتے ہوئے حُرہ کی آواز بھیگ گئی تو ملازمہ کو اس پر بہت ترس آیا مگر سردار بی بی کے خوف کے باعث وہ کچھ بھی کرنے سے قاصر تھی۔
صرف اتنا بتا سکتی ہوں کہ وہ حویلی کے پچھلے طرف ایک دو کمرے نظر آئیں گے، تمہیں وہاں حکیمہ رہتی ہے شاید وہ تمہیں دوائی دیدے ۔ ۔
ملازمہ سرسری انداز میں بتاتی، باورچی خانے سے نکل گئی جبکہ حُرہ کے قدم اب حویلی کی پچھلی جانب تھے۔


وہ کمرے کے باہر کھڑی ہوئی تو اندر روشنی دیکھ کر دروازے پر دستک دینے لگی اور دل میں دعا مانگنے لگی کہ یہ عورت اس کی مدد کر دے۔ تھوڑی دیر بعد بھی جب دروازہ نہ کھلا تو حُرہ مایوس ہو کر واپس جانے لگی۔
کون؟
ایک ادھیڑ عمر کی خاتون نکلی تو حُرہ نے اس کی آواز سن کر اپنا رخ موڑا۔ یہ وہی عورت تھی جس نے بخار میں اس کا علاج کیا تھا۔ وہ عورت بھی حُرہ کو پہچان چکی تھی۔ ادھر ادھر نگاہیں گھمانے کے بعد اس نے حُرہ کو بازو سے پکڑ کر اپنے کمرے میں کیا اور دروازہ بند کر دیا۔
کیا بات ہے لڑکی، تم یہاں کیا کر رہی ہو
م میرا سر بہت درد کر رہا ہے، چکر بھی بہت آ رہے ہیں۔اور۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تو میں کیا کر سکتی ہوں؟ تمہیں یہاں نہیں آنا چاہئے تھا لڑکی۔
حُرہ ابھی دھیمی اور نقاہت بھری آواز میں بول ہی رہی تھی کہ وہ عورت اس کی بات کاٹتی بولی۔


براہ کرم مجھے کوئی دوا دے دیں…
یہ بے بسی کی انتہا تھی کہ سردار کی بیوی ملازمین کی منتیں کر رہی تھی۔ یہ سوچتے ہی پھر سے حُرہ کی آنکھوں کے گوشے پھیلنے لگے۔
تمہاری مدد کرنا حویلی میں جرم ہے… تم جانتی ہو اگر کسی کو معلوم ہوا تو میری پناہ گاہ مجھ سے چھن جائے گی۔
وہ عورت دو ٹوک انداز میں بولی جبکہ اب حُرہ اپنے آنسو صاف کرتی واپس جانے کے لیے مڑی۔
اچھا سنو۔۔
شاید اسے حُرہ کی تکلیف اور بے بسی پر ترس آگیا تھا تبھی ہاتھ پکڑ لیا اور چار پائی پر لیٹنے کا اشارہ کیا۔
اپنے تجربے کے مطابق حُرہ کو دیکھتے ہی وہ سمجھ گئی تھی کہ حُرہ کے ساتھ کیا مسئلہ ہے مگر معائنہ کرنے کے بعد شک پر یقین کی تصدیق ہو گئی۔
تم امید سے ہو۔…
حُرہ کا معائنہ کرنے کے بعد اس عورت نے یقین سے کہا تو خرہ کی سماعتوں میں یہ الفاظ کسی ہتھوڑے کی مانند لگے۔


یہ کیسے ہو سکتا ہے؟ آپ یقین سے کہہ سکتی ہیں؟”
نفی میں سر ہلاتے ہوئے وہ بے یقینی سے بولی۔
“میں سو فیصد یقین سے کہہ رہی ہوں
اس عورت نے خنکی میں بھی چہرے پر آئے پسینے کو دیکھ کر کہا۔
ایسا نہیں ہونا چاہیے تھا۔ سردار بی بی تو مجھے مار دیں گی۔
مسلسل سر ہلاتی حُرہ بولی تھی جبکہ اس کے چہرے پر ایک رنگ آرہا تھا اور ایک جا رہا تھا۔
میں سمجھ سکتی ہوں تو کیا بچہ ضائع کروانا چاہتی ہو۔
وہ عورت دھیمی آواز میں رازداری سے پوچھ رہی تھی جبکہ اس کی بات سن کر حُرہ کے رونگٹے کھڑے ہوگئے۔
ضائع … میں کیسے؟
خوف اور تکلیف کے ملے جلے تاثرات لیے وہ بولی، “بچے کو خود ہی مارنا یہ سوچ ہی اس قدر تکلیف دہ تھی کہ حُرہ رونے لگی۔


پھر چھوٹے سردار کو بتا دو کہ تم امید سے ہو ۔ . اگر بیٹا پیدا کر دیا نا تم نے تو بڑے سردار اور سردار بی بھی شاید تم سے خوش ہو جائیں اور وارث پا کر یقینا خوش ہی ہوں گے وہ ۔
وہ عورت شانے پر ہاتھ رکھے کہنے لگی
اور اگر بیٹی پیدا ہوگئی تو . . ؟
حُرہ نے ڈرتے ہوئے اس سے پوچھا
ارے کیوں ایسی بات نکال رہی ہو زبان سے . . اگر بیٹی پیدا ہوئی تو تمہاری زندگی مزید مشکل ہو جائے گی ۔
یہ رکھو دوا . . اس سے طبیعت بہتر ہو جائے گی تمہاری اب وہ عورت حُرہ کو ایک شاپر تھماتے ہوئے کہہ رہی تھی
کب معلوم ہوگا کہ بیٹا ہے یہ بیٹی . . ؟
شاپر تھامتے ہوئے حُرہ نے ڈرتے ڈرتے پوچھا۔


اس کے لیے تھوڑا صبر کرنا پڑے گا تمہیں ۔ ۔
اس نے دھیمی آواز میں کہا تو حُرہ نے سر ہلایا۔
شکریہ آپ کا بہت ۔ ۔
حُرہ دروازے کی جانب بڑھتے ہوئے گویا ہوئی تو حکمیہ نے محض سر بلایا۔
اگر تم خون بہا میں نہ آئی ہوتی تو یہ خبر سن کر حویلی میں جشن منایا جاتا ۔ ۔
اس عورت کے الفاظ سن کر حُرہ کے اٹھتے قدم وہیں زمین پر تھم گئے اور ایک تیز درد اس کے دل میں پیوست ہوا۔ پھر بغیر کچھ کہے حُرہ آنسو پونچھتے وہاں سے نکل گئی، مگر افسوس کہ کسی نے اسے حکمیہ کے کمرے سے نکلتے دیکھ لیا تھا۔۔۔۔۔۔۔جاری ہے
 
اس عورت کی دی ہوئی دوا کھانے کے بعد حُرہ کی طبیعت کچھ سنبھلی تو اپنے ذمے کے کام نبٹانے لگی مگر یہ خبر جب سے اس نے سنی تھی تب سے اس کے آنسو جیسے تھم گئے تھے یا شاید اپنے وجود میں اس ننھی جان کا تصور کرتے اب حرہ کو صبر آگیا تھا مگر پریشانی تو اس کی مزید بڑھ گئی تھی کیونکہ وہ جانتی تھی یہ خبر حویلی میں طوفان لے کر آئے گی۔

چھوٹے سردار یہ نہیں ہونا چاہیئے تھا ۔۔ حویلی میں تو جب مجھے عزت نہیں دی جاتی تو میری اولاد کو کیسے دی جائے گی ۔ ۔ خدایا

یہ کیسی خوشی ہے جس میں دکھ پوشیدہ ہے ۔ ۔

وہ نہیں جانتی تھی کہ عباس یہ خبر سن کر کیسا تاثر دے گا مگر اس کا اپنا دل بے چین ہو رہا تھا بار بار اس عورت کی بات یاد آرہی تھی کہ بچہ ضائع ۔۔

اور اس سے آگے سوچتے ہوئے خرہ کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے تھے

حُرہ لاؤنج کی صفائی کر رہی تھی جب نورے نے اسے مخاطب کیا تو وہ اس کی جانب متوجہ ہوئی

جی ۔ ۔ ؟

حُرہ اس کی جانب مڑتے ہوئے بولی

کیا نام ہے تمہارا ۔ ۔ ؟

حُرہ کو بغور دیکھتے ہوئے نورے نے پوچھا

حُرہ۔۔۔

حُرہ نے بتاتے ہوئے سر جھکا لیا اسے بے اختیار عباس کا خیال آیا تھا اس سے ہوئی اپنی پہلی ملاقات یاد آئی بے ساختہ اس ملاقات کو یاد کرتے ہوئے اس کا چہرہ حیا کے باعث سرخ ہوا جبکہ نورے نے

اس پل اس کا جھکا چہرہ بغور دیکھا تھا

تم بیمار ہو کیا ۔ ۔ ؟

نورے نے اس کا طائرانہ جائزہ لیتے ہوئے پوچھا

حج جی ۔ ۔ وہ بس ۔ ۔

حُرہ کو سمجھ نہیں آئی کہ کیا جواب دے تبھی بات ادھوری چھوڑ دی۔

کاش تم ہماری زندگیوں میں نہ آئ ہوتی ۔ آج چھوٹے سرکار صرف میرے ہوتے ۔ ۔ نورے کی بات پر حُرہ نے ٹھٹھک کر اسے دیکھا اس کے انداز میں خفگی کے علاوہ کچھ نہیں تھا

آپ کو میرے وجود سے کوئی خطرا نہیں ہے نورے ۔ ۔ میں نہ کبھی سردار اور آپ کے بیچ میں تھی

اور نہ کبھی آؤں گی ۔ ۔

حُرہ نے نگاہیں نورے کے خوبصورت چہرے پر جما کر کہا۔۔

تمہارا وجود اتنا بھی بے ضرر نہیں ہے جس سے بے خبر رہا جائے ۔ ۔

نورے نے حُرہ کے چہرے کو دیکھتے ہوئے کہا جہاں اسے ایک الگ سکون نظر آ رہا تھا اتنی مشکل زندگی کے باوجود چہرے پر سکون ہو نا شاید اس کے صبر کے باعث خالق کی عطا تھی جبکہ حُرہ نورے کی بات کا مطلب سمجھ نہیں سکی تھی۔

میں ہمیشہ اپنی بات پر قائم رہوں گی ۔ ۔ کہ میں آپ کے اور سردار کے بیچ کبھی نہیں آؤں گی ۔ ۔

وہ لہجے میں یقین لیے بولی تھی۔۔۔

تم ہمارے بیچ اسی وقت آگئی تھی جب ان کا تمہارے ساتھ نکاح ہوا تھا ۔ ۔ نورے نے جتا کر کہا تو کچھ پل تو حُرہ کچھ بول ہی نہ سکی۔۔

میں جانتی ہوں کہ تم بہت اذیت سے گزر رہی ہو ۔ ۔ مگر تم یہ نہیں جانتی کہ میں کس اذیت سے گزر رہی ہوں ۔ ۔ یہ سوچ ہی کتنی اذیت ناک ہے کہ جو آپ کا ہو اسے کسی اور کی دسترس میں دیکھنا کتنا تکلیف دہ ہوتا ہے ۔ ۔ اس سے بڑی اذیت کیا ہوگی کہ میں دیکھ کر بھی زندہ ہوں ۔ ۔ نورے نے حُرہ کو خاموش پا کر دوبارہ کہا تو حُرہ نے نفی میں سر ہلایا

ہم میں سمجھ سکتی ہوں ۔ ۔

نہیں سمجھ سکتی تم ۔ ۔ جانتی ہو کیوں ۔ ۔ ؟

نورے نے ہاتھ کے اشارے سے حُرہ کو چپ رہنے کا کہا

کیونکہ تمہیں ہر ظلم کے بدلے میں عباس جیسا ہمسفر ملا ہے ۔ ۔ تمہاری خوش بختی پر رشک آتا ہے

نور ے بول رہی تھی اور حُرہ کے آنسو دل پر گر رہے تھے

لاکھ برا رویہ ہے سب کا تمہارے ساتھ مگر ۔ ۔ تم نہیں جانتی کہ عباس جیسا ہمسفر ہر دکھ کا مداوا ہے

۔ ۔ ہر خزاں میں بہار۔

خیر میں نے اپنا معاملہ خدا پر چھوڑ دیا ہے ۔ ۔ وہ جو کرے مجھے منظور ہے ۔ ۔ حُرہ کے بہتے آنسو دیکھ کر نورے نے بات ختم کر دی اور اپنے آنسو نکلنے سے پہلے لاؤنج سے نکل گئی

جبکہ حُرہ کے کرب سے آنکھیں میچ لیں ۔۔۔۔

سلام سر کار

عباس کو گاڑی سے نکلتا دیکھ کر شہزاد نے فوراً با ادب ہو کر سلام کیا

جبکہ باقی گارڈز اور ملازمین بھی اچانک عباس کی حویلی آمد پر بڑ بڑا گئے اور مؤدب ہو کر کھڑے ہو گئے عباس نے ایک نظر سب پر ڈالی اور اپنا بیگ اور لیپ ٹاپ گاڑی سے نکالا جسے آگے بڑھ کر شہزاد نے تھام لیا اب وہ اپنے کالے کوٹ کا بٹن کھول کر اپنی سفید شرٹ کی آستینیں کہنیوں تک موڑتے

ہوئے ایک نظر ملازمین اور گارڈز پر ڈالتا قدم قدم چلتا آگے بڑھ رہا تھا

وہ آفس سے سیدھا حویلی کے لیے نکل گیا تھا کل عالیان اور احمد کی باتوں کے بعد وہ بہت بے چین ہو گیا تھا رہ رہ کر حُرہ کا خیال ستا رہا تھا

اور شہزاد سب ٹھیک رہا ۔۔؟ کوئی مسئلہ تو نہیں ہوتا ۔ ۔؟ اپنے پیچھے چلتے شہزاد سے سرسری سا پوچھا

جی سر کار سب ٹھیک ہے ۔ ۔ لیکن

شہزاد کہتا کہتا جھجھکتے ہوئے رک گیا تو عباس کے قدم رک گئے عباس کے رکنے پر شہزاد بھی رک گیا

کیا ہوا ۔ ۔ ؟؟ کیا کہنا چاہتے ہو ۔ ۔

عباس ما تھے پر بل ڈالے پوچھ رہا تھا۔۔

” صاحب آپ نے کہا تھا کہ ہر ایک پر نظر رکھنی ہے ۔۔ حویلی میں کون آرہا ہے کون جا رہا ہے ۔ ۔ تو

شہزاد کہتے ہوئے پھر سے رک گیا

“آگے بولو شہزاد ۔ ۔ ؟ کیا بات ہے ۔ ۔ ؟ “

عباس کے لہجے میں سختی تھی جسے محسوس کر کے شہزاد کانپ گیا

سر کار آپ جانتے ہیں میری چھوٹی بہن سردار بی بی کی خدمت کرتی ہے وہ بتا رہی تھی کہ چھوٹی بی بی

کے ساتھ حویلی میں بہت برا سلوک ۔ ۔

شہزاد پھر بتا تا ہوا خاموش ہو گیا اور سر جھکا لیا جبکہ عباس پورا اس کی جانب متوجہ ہو چکا تھا

حُرہ کے بارے میں بات کر رہے ہو تم ۔۔ ؟؟

عباس نے ماتھے پر بل ڈالے پوچھا۔۔

حج جی سر کار ۔ شہزاد نے اثبات میں سر ہلاتے ہوئے کہا ۔۔

ہاں بولو ۔ ۔

حُرہ کے ذکر پر عباس کو تشویش ہوئی تھی

اور پھر شہزاد نے ایک ایک بات جو جو حُرہ کے ساتھ ہو رہا تھا جو حویلی کے مالکان کرتے تھے اور جو ملازمین کرتے تھے سب عباس کے گوش گزار کر دیا کہ کیسے سر دار بی بی اور ناہید نے کتنی مرتبہ اس پر تشدد کیا ، اور اس کے ساتھ نوکروں سے بدتر سلوک کیا جاتا ہے ، وہ کام جو چار ملازمہ مل کر کر نہیں تھیں وہ اکیلی حُرہ سے کروائے جاتے ہیں، سٹور کی طرح کے کمرے میں رکھا گیا ہے اسے جہاں بستر تک میسر نہیں ہے ، یہاں تک کہ چوری کا الزام بھی اس پر لگایا گیا ، پھر سزا کے طور پر اس کا کھانا پینا بند کر دیا گیا ، بات بات پر تذلیل کرنا ،

شہزاد نے سب بتا دیا اور جیسے جیسے وہ بتا تا جارہا تھا عباس کا چہرہ غصے کے باعث سرخ ہو رہا تھا ، گردن کی رگیں تن گئی وہ جبڑے سختی سے بھینچے کھڑا ساری باتیں سن رہا تھا شہزاد نے اپنی بات مکمل کر کے سر اٹھا کر عباس کو دیکھا اور عباس کے چھرے پر سختی دیکھ کر کانپ کر چند قدم پیچھے ہوا

“بابا سر کار کو معلوم ہے یہ سب ۔ عباس نے مٹھیاں سختی سے بھینچے پوچھا

حج جی سر کار ۔۔ اور ۔ ۔ “

شہزاد نے اثبات میں سر ہلاتے ہوئے کہا

اور کیا ۔ ۔

اپنے غصے کو ضبط کیے عباس نے پوچھا

سر کار صبح سویر سے چھوٹی بی بی ۔ ۔ کو حکیمیہ کے کمرے سے نکلتے دیکھا ہے میں نے ۔ ۔ شاید وہ بیمار

ہیں ۔ ۔

شہزاد نے آج صبح کا واقعہ بھی بتا نا مناسب سمجھا جب اس نے حُرہ کو سر تھام کر لڑکھڑاتے قدموں سے چلتے حکمیہ کے کمرے سے نکل کر حویلی کے اندر جاتے دیکھا

عباس نے محض ہنکار بھرا۔

اور تیز تیز قدم اٹھا تاحویلی کی جانب بڑھ گیا جبکہ شہزاد جانتا تھا کہ عباس کتنے غصے میں گیا ہے

ظلم کرتے وقت تو یہ بڑے لوگ خدا بن جاتے ہیں ۔ ۔ کسی غریب کو تو اپنے آگے کچھ سمجھتے ہی نہیں ہیں ۔ اپنے انجام سے نہیں ڈرتے ۔ ۔ اب چھوٹے سر کار سبق سکھائیں گے سب کو ۔ ۔

ایک طرح سے تو وہ ڈر بھی رہا تھا یہ باتیں بتاتے ہوئے ۔۔ جانے سردار کے لیے وہ لڑکی کوئی حیثیت رکھتی بھی ہے یا نہیں ۔ ۔ مگر عباس کا غصہ دیکھ کر اسے اندازہ ہو گیا کہ اس نے عباس کو بتا کر ٹھیک کیا عباس کو یہ سب جاننے کا پورا حق ہے کہ اس کے پیچھے یہاں ہو کیا رہا ہے۔

وہ اپنے اطراف میں دیکھتا ہوا حویلی میں داخل ہوا یقینا اس کی آنکھیں حُرہ کی تلاش میں تھیں لاؤنج کی جانب بڑھا تو اسے محسوس ہوا جیسے حویلی کے تمام مکین لاؤنج میں موجود ہیں۔

عباس جب لاؤنج میں داخل ہوا تو اس کے کانوں میں سردار بی بی کی کرخت آواز پڑی یقیناً وہ کسی کو ڈانٹ رہیں تھیں اور جھٹکا عباس تو تب لگا جب سردار بی بی نے حُرہ کو سخت سست سناتے ہوئے دھتکارا۔

اس سے پہلے حُرہ بری طرح زمین پر کرتی عباس نے آگے بڑھ کر اسے تھام لیا کاندھوں سے تھام کر اپنے سہارے کھڑا کیا اور اسے اپنی سرخ آنکھوں سے دیکھنے لگا۔

وہ کالی چادر کو اچھی طرح اوڑھے ہوئے تھی، جبکہ رنگت زرد ، چہرے پر نیل کے نشان ، آنکھوں سے نکلتے آنسو اس کے سارے غموں کی گواہی دے رہے تھے ایک پل کو عباس نے حُرہ کی حالت دیکھ کر کرب سے آنکھیں میچ لیں لاؤنج میں اس وقت سر دار شیر دل ، سر دار بی بی ، ناعمہ اور نورے سمیت چند ملازمین بھی موجود تھے عباس کو دیکھ کر لاؤنج میں بلکل سناٹا چھا گیا جبکہ حُرہ بھی چونک کر عباس کو دیکھ رہی تھی۔

ع عباس ۔ ۔ ہم میرے بیٹے تت تم ۔ ۔ ؟

سر دار بی بی اپنی نشست سے کھڑی ہوتی ہو ئیں عباس کی جانب بڑھی جب عباس نے ہاتھ کے اشارے سے انہیں وہیں روک دیا جبکہ حُرہ نے عباس کے تیور دیکھ کر پیچھے ہونا چاہا مگر عباس نے اسے اپنے بازو کے گھیرے میں لے کر اپنے ساتھ لگالیا۔

سر دار بی بی اور سردار شیر دل عباس کے سرخ چہرے اور بگڑے تیور دیکھ کر ٹھٹھک گئے

یہ کیا حال بنایا ہوا ہے آپ نے حُرہ ۔ ۔ ؟؟ آپ نے اپنا بلکل بھی خیال نہیں رکھا ۔ ۔ ؟” عباس نے سب کو نظر انداز کر کے حُرہ کے آنسو اپنے ہاتھوں کی پوروں سے صاف کرتے ہوئے نہایت نرمی اور فکر مندی سے پوچھا جبکہ حُرہ نے جواباً اس کے سینے پر سر رکھ دیا اور بے آواز رونے

لگی عباس کو اچانک دیکھ کر مزید اس کا نرم انداز دیکھ کر ہمیشہ کی طرح حُرہ بکھر گئی جبکہ حویلی کے مالکان اور ملازمین یہ منظر دیکھ کر دنگ رہ گئے عباس کا نرم لمس اور انداز وہ بھی حُرہ کے لیے دیکھ کر نورے کے آنسو بہنے لگے

آپ کو اس طرح دیکھ کر کتنی اذیت پہنچی ہے مجھے ۔ ۔ ؟؟ اور جانتی ہیں اس طرح رو کر مجھے مزید تکلیف دے رہی ہیں آپ ۔ ۔

حُرہ کی کمر کے گرد باز و حمائل کرتے ہوئے عباس نرم مگر اتنی بلند آواز میں کہہ رہا تھا کہ وہاں موجود ہر

شخص با آسانی سن رہا تھا

آپ ایک بار مجھے بتا دیتیں حُرہ ۔ ۔ کہ یہ سب ہو رہا ہے آپ کے ساتھ ۔ ۔ مگر نہیں مجھے خود سمجھنا چاہیے تھا کہ ۔ ۔ جو لوگ انسانوں کی انسانیت کے معیار سے گرمی ہوئی رسموں کو زندہ رکھ سکتے ہیں ۔ ۔ وہ کسی بے قصور کے ساتھ غیر انسانی سلوک بھی رواں رکھ سکتے ہیں ۔ ۔

حُرہ کے چہرے پر نیل دیکھ کر وہ بے حد سفاک انداز میں سر دار شیر دل کی جانب دیکھتے ہوئے جتا کر

کہہ رہا تھا۔۔۔

عباس ۔ ۔

سردار شیر نے اسکی بات پرکچھ کہنا چاتا تھا عباس نے جب اس نے ان کی جانب رخ کیا

میں پوچھ سکتا ہوں یہ کیسا سلوک ہو رہا ہے میری بیوی کے ساتھ ۔ ۔ ؟؟

عباس نے بے حد سر وانداز میں پوچھا وہاں موجود تمام ذی روح نہایت توجہ اور حیرانگی سے سب

دیکھ اور سن رہا تھے۔

عباس تمہیں اس لڑکی کے ساتھ ہمدردی کرنے کی ضرورت نہیں ہے ۔ ۔ جانتے ہونا یہ تمہاری بہن

کے قاتل کے خاندان سے ہے ۔ ۔

مزید سر دار بی بی سے برداشت نہیں ہوا تبھی بلند آواز میں دھاڑیں ان کے بیٹے نے ان سے تو ان کا حال بھی نہیں پوچھا تھا اس ونی کے ساتھ ہمدردی دیکھ کر تو جیسے ان کے لیے برداشت کرنا ناممکنات

میں سے تھا۔

قانون کی کسی کتاب میں لکھا ہے کہ قتل اگر ایک شخص نے کیا ہے تو ۔ ۔ سزا سارے خاندان کو دو

عباس نے سر دار بی بی کو دیکھتے ہوئے سپاٹ انداز میں کہا تو سر دار بی بی پہلی مرتبہ اپنے بیٹے کو اس طرح بات کرتا دیکھ کر جیسے سکتے میں آگئی۔

مت بھولو عباس یہ لڑکی خون بہا میں آئی ہے ۔ ۔

اس مرتبہ سر دار شیر دل نے دبی دبی آواز میں بیٹے کو مخاطب کیا

مجھے محض اتنا پتہ ہے کہ یہ لڑکی میرے نکاح میں آئی ہے ۔ ۔ اور میری بیوی ہے ۔ ۔ عباس نے اب باپ کو دیکھتے ہوئے نہایت سر دانداز میں کہا۔

خون بہا میں آئی ہوئی لڑکی صرف ونی ہوتی ہے ۔۔ بیوی کی حیثیت اسے نہیں دی جاتی ۔ ۔

سر دار بی بی نے عباس کو دیکھتے لفظ چبا کر ادا کرتے ہوئے کہا

جس سے نکاح کیا جائے اس کو بیوی کی حیثیت بھی دی جاتی ہے ۔ ۔ اور اس کے ہر طرح سے حقوق

بھی پورے کیے جاتے ہیں ماں جی ۔ ۔

عباس نے انہیں کے انداز میں انہیں جواب دیا

ہم نہیں مانتے اس لڑکی کو تمہاری بیوی ۔۔

سر دار بی بی غصے میں دھاڑیں تھیں

اماں جان کسی کے مانے یا نہ مانے سے کچھ نہیں ہوگا ۔ سارے گاؤں کے سامنے خدا اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے بتائے ہوئے احکامات کے مطابق گواہان کی موجودگی میں نکاح ہوا ہے ۔ ۔ ہر کوئی جانتا ہے کہ حُرہ میرے نکاح میں ہیں ۔ ۔ پھر یہ نکاح چاہے کسی بھی رسم کے تحت ہوا ہو میں

صرف اتنا جانتا ہوں کہ اب حُرہ میری بیوی ہیں ۔ ۔

عباس نے آواز کو اتنا رکھا تھا کہ ہر کوئی سن رہا تھا حُرہ کے لیے عباس کو ڈھال بنا دیکھ کر نورے سمیت ہر کوئی سانس روکے کھڑا تھا۔۔

یہ دشمنوں کی بیٹی ہے عباس ۔ ۔ سر دار بی بی بلند آواز میں بولیں

مگر بے قصور ہے ماں جی ۔ ۔

عباس نے لہجے میں دکھ لیے کہا

میں جان سے ماردوں گی اس لڑکی کو ۔ ۔ اس نے جادو کر دیا ہے میرے بیٹے پر ۔ ۔ سردار بی بی طیش کے عالم میں غرائی ہو ئیں حُرہ کی جانب بڑھیں جب عباس کے الفاظ نے ان کے

قدم وہیں روک دیے۔۔

ذرا سی تکلیف بھی ہوئی اگر حُرہ کو تو یاد رکھئیے گا آپ کا بیٹا پہلے مرے گا ۔

عباس نے اپنے کوٹ کے اندر سے پسٹل نکال کر اپنے ماتھے پر رکھ لی جبکہ حُرہ یہ منظر دیکھ کر خوف

کے مارے کانپنے لگی

عباس ۔ ۔

سر دار بی بی نے عباس کے ماتھے پر پسٹل دیکھ کر بے یقینی سے اسے پکارا

یہ لیں پہلے اپنے بیٹے کو ماریں پھر کسی کو مارئیے گا ۔ ۔

عباس نے پسٹل سردار بی بی کے سامنے کرتے ہوئے پھر سے کہا تو سر دار شیر دل نے آگے بڑھ کر

عباس کے ہاتھوں سے پسٹل لے لی

کیا ہو گیا ہے عباس ۔ ۔ صرف ایک تم کل کائنات ہو ہماری ۔ ۔ اس طرح کر کے کیوں جان نکال

رہے ہو ہماری ۔ ۔

سردار شیر دل تڑپ کر آنکھوں میں آئی نسی صاف کرتے ہوئے بولے

آپ نہیں جانتے بابا جان ۔ ۔ مجھے ماں جی کا یہ روپ دیکھ کر کتنا دکھ ہوا ہے ۔ ۔ آپ جانتے ہیں سے نظریں نہیں ملا پاؤں گا ۔ ۔ کہ میری بیوی ہو کر اسے اتنے درد ناک شب و

روز گزارنے پڑے ہیں ۔ ۔ شرم کا مقام کے ملازمین سردار کی بیوی سے بہتر زندگی گزار رہے ہیں

عباس کے لہجے اور انداز میں درد بول رہا تھا یقیناً اس کا مان اور بھر وسہ ٹوٹا تھا جو اس نے اپنے ماں باپ پے کیا تھا شہزاد کی زبانی حُرہ پر ہوئے ظلم کی داستان سن کر مزید حُرہ کی حالت دیکھ کر اس کا دل تڑپ رہا تھا کہ کس حال میں رہی ہوگی۔

سر دار شیر دل نے بیٹے کے الفاظ سن کر ندامت سے سر جھکا لیا جبکہ عباس نے پھر اپنا رخ حُرہ کی جانب کیا اور اس کے دونوں ہاتھ نرمی سے اپنے دونوں ہاتھوں میں تھام لیے

مجھے معاف کر دیں حُرہ ۔ ۔ آپ کے ساتھ جو بھی ہوتا رہا ہے حویلی میں میری غیر موجودگی میں ۔ ۔ میں کسی کو قصوروار نہیں کہتا اس کے لیے ۔ ۔ کیونکہ یہ صرف میری لا پرواہی کی وجہ سے ہوا ہے ۔ ۔ مجھے

اندھا اعتماد نہیں کرنا چاہیے تھا کسی پے بھی ۔ ۔ پلیز مجھے معاف کر دیں ۔ ۔

عباس اب حُرہ کے سامنے ہاتھ جوڑے کھڑا ہر کسی کی موجودگی کو فراموش کیسے معافی مانگ رہا تھا

جبکہ سر دار شیر دل اور سر دار بی بی حیرت سے اپنے بیٹے کو دیکھ رہے تھے تمام ملازمین سکتے کی کیفیت میں یہ سارا منظر دیکھ رہے تھے یہاں آج تک کسی خاندانی بیوی کو اتنی عزت نہیں دی گئی تھی اور ان کے چھوٹے سردار خون بہا میں آئی ہوئی لڑکی سے ہاتھ جوڑ کر سب کے سامنے ناکردہ گناہ کی معافی مانگ

رہے تھے

س سر کار ۔ ۔

۔۔ حُرہ نے عباس کے جڑے ہاتھوں کو اپنے نرم ہاتھوں میں لیتے ہوئے نفی میں سر بلایا

نہیں حُرہ ۔ ۔ سب کے سامنے آپ کی تذلیل کی گئی ہے اور یہ صرف میری لا پرواہی کی وجہ سے ہوا

ہے اس لیے سب کے سامنے میں آپ سے معافی مانگتا ہوں ۔ ۔ عباس کے لہجے میں شرمندگی تھی جبکہ حُرہ کی آنکھوں میں آنسو آنے لگے شاید ہی اس نے ایسا مرد دیکھا ہو جسے حقیقاً مرد ہونا جچ رہا تھا

عباس تم مرد ہو ۔ ۔ سب کے سامنے اس لڑکی سے معافی کیوں مانگ رہے ہو ۔ ؟ اس مرتبہ سر دار شیر دل سے برداشت نہیں ہوا تو چیختے ہوئے بولے

تم مرد ہو ۔ ۔ تم مرد ہو ۔ ۔ یہی کہ کہہ کر تو ہمارے معاشرے نے مرد کو مرد سے درندہ بنا دیا ہے

۔ ۔ تم مرد ہو ہے ۔تمیں ہر گناہ کی معافی ہے ۔

سوری با با جان مگر میں

ایسا ہی ہوں ۔ ۔ چاہے آپ مجھے سمجھیں یا نہ سمجھیں ۔ ۔ مرد وہ نہیں جسے اونچی آواز یا ہاتھ کا استعمال کر کے بتانا پڑے کہ میں مرد ہوں ۔ ۔ بلکہ میری نظر میں در حقیقت مرد تو وہ ہے جسے دیکھ کر عورت کو تحفظ محسوس ہو جس کا ساتھ پا کر عورت سر شار ہو جائے ۔۔ اور اگر غلطی پر ہو تو نا کے انا کی خاطر خاموش ہو جائے بلکہ اپنی غلطی تسلیم کرے ۔ ۔ “

سر دار شیر دل کی بات سن کر تو جیسے عباس اپنا ضبط کھو گیا تھا مگر انداز مضبوط رکھتے ہوئے اتنی آواز میں وہ بول رہا تھا کہ لاؤنج میں موجود سب لوگ با آسانی سن رہے تھے.

ناہید ۔ ۔

اب عباس نے اپنے پیچھے کچھ فاصلے پر کھڑی ناہید کو بغیر دیکھے پکارا تو وہ ڈر کر دو قدم آگے آئی

حج جی حکم سر کار ۔ ۔ ؟” ڈرتے ہوئے بمشکل وہ بول پائی

اس دن کیا کہا تھا میں نے تمہیں ۔ ۔ ؟ ؟

عباس نے حُرہ کے کپکپاتے ہاتھ کو اپنے ہاتھوں میں مقید کرتے ہوئے ناہید سے پوچھا

آپ نے کہا کہ ک بی بی سے اونچی آوازمیں بات نہیں کرنی ۔ قسم لےلیں سر کار میں نے بی بی جی سے اونچی آواز میں بات بھی کی ہو یا ۔ آپ پوچھ لیں ان سے ۔ا

ناہید عباس کی پشت کو تکتی کا نپتی ہوئی کہہ رہی تھی اور آخر میں اس نے حُرہ کی جانب انگلی سے اشارہ کیا جبکہ حُرہ نے سہم کر عباس کے چہرے کو دیکھا جس کے چہرے پر چٹانوں جیسی سختی تھی

وہ کنگن خزہ کی چادر میں رکھنے کو کس نے کہا تھا تم سے ۔ ۔ ؟

ناہید کی بات نظر انداز کر کے عباس نے پوچھا تو چندیل کے لیے لاؤنج میں سناٹا چھا گیا۔
 
بولو ۔ ۔ ؟؟؟

خاموشی میں ارتعاش عباس کی دھاڑتی آواز نے پیدا کیا جبکہ حویلی کے در و دیوار اس کی دھاڑ پر کانپ گئی ۔

س سر کاروہ ۔ ناہید نگاہیں سردار بی بی کی جانب کرتے ہوئے کا نپتی آواز میں بولی تو عباس نے ہاتھ کے اشارے سے اسے کچھ بھی بولنے سے روک دیا اور خاموش کھڑیں سر دار بی بی کو دیکھا

مجھے اس طرح کی تربیت میری ماں نے دی ہے ۔ ۔ پھر میری ماں ایسا سلوک کسی کی بیٹی کے ساتھ

کیسے کر سکتی ہیں ۔ ۔ ؟ عباس دھیمی آواز میں بولا تھا کہ چند لوگ ہی سن سکے تھے جبکہ حُرہ نےچونک کر عباس کو دیکھا۔

بلاشبہ وہ اتنا بے خبر نہیں ہے جتنا میں سمجھتی تھی حُرہ ، عباس کو دیکھتی کہ دل میں سوچ رہی تھی

جو ہوا ہے ناماں ۔ ۔ ساری زندگی مجھے اس کا افسوس رہے گا ۔ ۔ لیکن اب میں کسی پر بھروسہ نہیں کر

سکتا ۔ ۔

سردار بی بی کو دیکھتے ہوئے عباس دھیمی آواز میں بول رہا تھا

یہاں موجود ہر شخص سن لے ۔ ۔ !! حُرہ میری بیوی ہیں ۔ ۔ اور حُرہ کی حیثیت یہاں ویسی ہی ہے جیسی میری بیوی کی ہونی چاہیے ۔ اگر کسی نے حُرہ سے ذراسی اونچی آواز میں بات کی یا اپنے الفاظ سے بھی تکلیف دی تو اس کے ساتھ میں وہ کروں گا جو ہر گستاخی کرنے والے کے ساتھ ہوتا ہے ۔ ۔

عباس نے تمام ملازمین اور حویلی کے تمام افراد کی جانب ایک نگاہ ڈالتے ہوئے حکمیہ انداز میں کہا اور پھر ناہید کی جانب مڑا

م مجھے معاف کر دیں سر کار مہم میں حکم کی غلام ہوں ۔ ۔ جیسا سر دار کہتے ہیں میں ویسا ہی کرتی ہوں

میری کوئی غلطی نہیں ۔ عباس کو اپنی جانب مڑتا دیکھ کر ناہید اس کے قدموں میں بیٹھ گئی اور ہاتھ جوڑے کہنے لگی جبکہ عباس اس کی بات سمجھ رہا تھا کہ اس نے جو بھی حُرہ کے ساتھ کیا وہ سر دار بی بی نے اسے کرنے کو کہا تھا

تم آج سے خرہ حُرہ ساتھ ہر وقت رہوگی ۔ ۔ حُرہ کواگر کانٹا بھی چبھا تو اس کا جواب تم دوگی مجھے ۔ ۔

عباس نے ناہید کو ہاتھ سے اٹھنے کا اشارہ کرتے ہوئے حکم دیا تو سر دار بی بی نے ماتھے پر بل ڈال کر ناہید کو دیکھا ناہید نے بھی فوراسر داربی بی کو دیکھا

ناہید حویلی کی پرانی ملازمہ تھی اور وہ ہمیشہ سے سردار بی بی کی خدمت میں رہی تھی ان سے وفادار اور اب عباس کا حکم سن کر وہ چونک گئی

جو حکم سر کار آپ کا ۔۔ میں بی بی جی کی ہی خدمت کروں گی ۔ ۔ اور اب آپ کو اور بی بی کو کوئی شکایت کا موقع نہیں دوں گی ۔ ۔

سردار بی بی سے نظریں چرا کر ناہید بولی تھی جبکہ اب عباس سب کو نظر انداز کر تا حُرہ کا ہاتھ مضبوطی سے تھامے اپنے کمرے کی جانب بڑھ گیا

مم مجھے لگ کسی کی ضرورت نہیں ہے

اس ساری صورتحال میں حُرہ پہلی بار عباس سے دھیمی آواز میں مخاطب ہوئی تو عباس نے اس کی بات

سمجھتے ہوئے سر ہلایا

میں جانتا ہوں آپ ڈر رہی ہیں اس سے ۔۔ مگر حُرہ اس کے علاوہ کسی پہ یقین نہیں کر سکتا ۔ ۔ یقین کریں مجھ پر وہ اب کبھی آپ کو نقصان نہیں پہنچائے گی ۔ ۔

عباس نے کچھ سوچتے ہوئے حُرہ کو مطمئن کرنا چاہا جبکہ حُرہ کو تو عباس مرنے کا بھی کہہ دیتا تو آج حُرہ آنکھیں موند کر اس کے حکم کی تکمیل کو چل پڑتی جو عزت آج اس نے حویلی میں اسے دی تھی اس کے بعد حُرہ اپنے مہربان کے لیے کچھ بھی کر سکتی تھی

مجھے معاف کر دیں بی بی جی آئیندہ کوئی گستاخی نہیں ہوگی ۔ ۔ اگر آپ جان بھی مانگیں گی تو میں حاضر

ہوں ۔ ۔ بس ایک موقع دیدیں ۔ ۔

حُرہ کی بات ناہید نے سن لی تھی تبھی ہاتھ جوڑے جھکائے التجا کرنے لگی تو حُرہ نے عباس کو دیکھتے ہوئے اثبات میں سر ہلایا تو ناہید نے تشکر بھری نگاہوں سے خرہ کو دیکھا

عباس اور حُرہ کے لاؤنج سے جانے کے بعد ناہید بھی ان کے پیچھے سر جھکائے چل پڑی جبکہ ان کے جانے کے بعد جیسے لاؤنج میں موجود ہر ایک کا سکتہ ٹوٹا تھا سر دار بی بی سر ہا تھوں میں تھام کر بیٹھ گئیں جبکہ سردار شیر دل بھی ان کے ساتھ بیٹھ گئے ناعمہ بھی روتے ہوئے وہیں بیٹھ گئیں جبکہ نورے کی نگا میں اسی جگہ پر تھیں جہاں ابھی عباس اور حُرہ کھڑے تھے۔

میں نے منع کیا تھا نا تمہیں کہ اس لڑکی کو عباس سے دور رکھنا مگر تم ۔ ۔ سر دار شیر دل ، سر دار بی بی کو دیکھتے ہوئے غرائے مگر وہ خاموش رہیں۔

تمہیں یہ بھی کہا تھا کہ اس لڑکی پر ظلم نہیں کرنا ۔ ۔ مگر تم باز نہیں آئی ۔ ۔ اب بھگتو پھر ۔ ۔

سر دار بی بی پر دھاڑتے وہ تیز تیز قدم اٹھاتے لاؤنج سے نکل گئے

م میرا بیٹا ۔۔ میرے بیٹے پر جادو کر دیا ہے اس نے ۔ ۔

ناعمہ کو دیکھ کر سردار بی بی لہجے میں حُرہ کے لیے نفرت لیے بولیں جبکہ ناعمہ انہیں نظر انداز کرتیں اٹھیں اور نورے کا بازو تھام کر لاؤنج سے نکل گئیں ۔

عباس ، حُرہ کا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لیے اپنے کمرے تک پہنچ چکا تھا اور دروازہ دھکیل کر اندر داخل

ہوا

چھوٹے سر کار چائے لے آؤں آپ دونوں کے لیے ۔ ۔ ؟ ناہید نے دروازے پر کھڑے ہو کر مؤدب انداز میں پوچھا

“مجھے کچھ نہیں چا ہے ۔ ۔

حُرہ کو بیڈ پر بیٹھنے کا اشارہ کرتے ہوئے عباس گویا ہوا

اور بی بی جی آپ ۔ ۔ ؟؟۔۔

ناہید نے اب حُرہ کو مخاطب کیا تو اس نے پہلے عباس کو دیکھا جواب جیب سے موبائل نکال کر اس پر نگاہیں جمائے کھڑا تھا پھر ناہید کو دیکھا جو سر جھکائے با ادب انداز میں کھڑی اس سے مخاطب تھی اور

اس کے جواب کی منتظر تھی

کک کچھ نہیں ۔ ۔

حُرہ نے اپنے لبوں کے ساتھ سر کو بھی جنبش دی

ٹھیک ہے ۔ ۔ ایسا کرو کچھ کپڑے لے لاؤخرہ کے لیے ۔ ۔

حُرہ کے جواب دینے پر عباس نے موبائل پر نگاہیں جمائے ناہید کو حکم دیا

جی سر کار ۔ ۔

ناہید سر کو خم دے کر کہتی دروازہ بند کرتی واپس مڑگئی عباس بھی دروازے کی جانب بڑھا اور لاکڈ کر کے موبائل سائیڈ ٹیبل پر رکھتا اب اپنا کوٹ اتار رہا تھا کوٹ بیڈ پر رکھتا اب وہ بیڈ پر بیٹھی حُرہ کی جانب بڑھا بیڈ پر حُرہ کے برابر بیٹھنے کے بجائے فرش پر بیٹھ کر حُرہ کے دونوں ہاتھوں کو اپنے دونوں ہاتھوں

میں تھام لیا۔

آ آپ پلیز ن نیچے نہ بیٹھیں ۔

عباس کو اپنے قدموں میں بیٹھا دیکھ کر حُرہ ڈرتے ڈرتے بولی

کیوں جانم ۔ ۔ ؟

حُرہ کے چہرے کو دلچسپی سے دیکھتے ہوئے عباس نے سر سر ی انداز میں پوچھا

مم مجھے اچھا نہیں لگ رہا ۔ ۔

عباس کی دل فریب نگاہوں سے گھبرا کر وہ نگاہیں جھکا کر بولی

کیا اچھا نہیں لگ رہا ۔ ۔ ؟

وہ ہمیشہ اس سے ایسے ہی سوال کرتا تھا جیسے بات کو طول دینا چاہتا ہو جیسے جان بوجھ کر وہ حُرہ کو بولنے

کے لیے اکساتا ہو

م میں اوپر بیٹھی ہوں اور آپ نیچے ۔ ۔

عباس کی گہری نگاہوں کو اپنے وجود پر محسوس کرتی وہ جلدی سے بولی

کوئی بات نہیں جانم ۔ ۔

عباس نے ہلکا سا مسکرا کر کہا اور حُرہ کے دونوں ہاتھوں کو اپنے لبوں سے چھونے لگا عباس کا نرم

دہکتا لمس حُرہ کے وجود کو سمٹنے پر مجبور کر گیا

آپ نے مجھے معاف کر دیا نا ۔ ۔ ؟

حُرہ کے چہرے پر شرم و حیا کے رنگ دیکھتا وہ دھیمی آواز میں پوچھ رہا تھا

آپ پلیز بار بار معافی مت مانگیں ۔ مجھے اچھا نہیں لگ رہا ۔ ۔ “

وہ کپکپاتی آواز میں بول رہی تھی اسے عباس کا انداز ہمیشہ کی طرح سرشار کر رہا تھا جبکہ عباس کی نگاہیں اس کے کپکپاتے لبوں اور لرزتی پلکوں پر تھی جو اس کو بہکا رہیں تھیں

لیکن مجھے تو آپ سے شرمندگی ہوری ہے۔ کیا وہ ہوں میں میری لاپرواہی کی وجہ سے آپ کو اتنا کچھ سہنا پڑا ۔ ۔ اب کی بار لہجے میں ندامت لیے وہ بول رہا تھا

پپ پلیز آپ شرمندہ نہ ہوں ۔ ۔ بلکہ میں تو ساری زندگی آ آپ کی احسان مند رہوں گی ۔ ۔ آآپ نے تو رواج ہی بدل دیے ۔ ۔ کوئی ونی کو اتنی عزت دیتا ہے ۔ ۔

حُرہ کہتے ہوئے رونے لگی جبکہ عباس نے ایک گہرا سانس لیا۔

جانم آپ ایسے کیوں کہہ رہی ہیں ۔ ۔ یہ ونی جو ہے یہ بندوں کی بنائی ہوئی رسم ہے ۔ ۔ جبکہ میرے خدا نے آپ کو میری بیوی بنایا ہے ۔ ۔ اب آپ بتائیں میں بندوں کی مانوں یا اپنے خدا کی ۔ ۔ ؟ حُرہ کے آنسو اپنے ہاتھ کے انگوٹھے سے پونچھتا وہ آخر میں اس سے سوال کر رہا تھا

بتائیں کس کی ماننی چاہیے ۔ ۔ خدا کی یا بندوں کی ۔ ۔ ؟

حُرہ کو ہنوز آنسو بہاتے دیکھ کر وہ دوبارہ نرمی سے اس کے رخسار سہلا تا پوچھ رہا تھا

خ خدا کی ۔ ۔

خرہ نے روند ہی آواز میں نگاہیں جھکائے جواب دیا

جی ہاں خدا کی ۔ ۔ اور یہ خون بہا ۔ ۔ ونی ۔ ۔ یہ سب انسانوں کی بنائی ہوئی رسوم ہیں ۔ ۔ جن کا اسلام میں کوئی تصور نہیں ہے ۔ ۔ حقیقت یہ ہے کہ آپ کا میرے ساتھ نکاح ہوا تھا ۔ ۔ اور نکاح کے بعد آپ کی عزت میری عزت، آپ کا درد میر درد، آپ کی پریشانی میری پریشانی ، آپ کا حق ادا کرنا مجھ پہ فرض ہے حُرہ جب آپ نے میرا حق ادا کیا ہے کوئی مزاحمت نہیں کی ۔ ۔ جب آپ اپنی طرف سے حق ادا کر رہیں ہیں نکاح کا تو پھر میں کیسے آپ کے حقوق سے منہ پھیر لوں ۔ ۔ ؟ جانم اب آپ۔

خود سو چیں ۔ ۔ اگر میں پست سوچ رکھتا اور آپ سے جانوروں سے بدتر سلوک کرتا تو کیا یہ مردانگی تھی

وہ بولتا ہوا آخر میں سوال کر رہا تھا جبکہ حُرہ اس کی باتوں کے سحر میں جکڑی اس کی بات پر نفی میں سر

ہلانے لگی تو عباس پھر گویا ہوا

نہیں بلکل نہیں ۔ ۔

عباس اپنے مخصوص دھیمے اور نرم انداز میں بول رہا تھا حُرہ اس کی آنکھوں میں دیکھتی بہت غور سے

اس کی باتیں سن رہی تھی

کسی اور سےپہلے ۔ ۔حُرہ آپ کو خود سمجھنا ہوگا کہ آپکا میرے ساتھ کیا رشتہ ہے ۔ سب پہلے آپ کو خود اپنا رتبہ، اپنا مقام پہچاننا ہوگا ۔ ۔ اپنی حیثیت میری زندگی میں پہچانی ہوگی ۔ ۔ جب آپ خود ہی خود کو ڈی گریڈ کر رہیں ہیں ۔۔ خود کوونی ، خون بہا میں آئی ہوئی سمجھتی رہیں گی تو کسی اور سے کیا اچھے کی امید کی جا سکتی ہے ۔ ۔ ؟؟

عباس اس کے دونوں ہاتھوں کو اپنے ہاتھوں سے نرمی سے سہلاتے ہوئے دھیمی آواز میں بول رہا تھا جبکہ حُرہ بہت توجہ سے اس کی باتیں سن رہی تھی۔

” تقدیر پر یقین رکھتی ہیں ۔ ۔ ؟؟”

پھر رک کر اس نے حُرہ سے سوال کیا حُرہ نے کسی ٹرانس کی طرح اثبات میں سر ہلایا

بس یہ سوچیں کہ ہمیں تقدیر نے اسی طرح ملانا تھا ۔ ۔ اسی طرح نکاح ہونا تھا ہمارا ۔ ۔ اسی طرح

ہماری شادی شدہ زندگی کا آغاز ہونا تھا ۔ ۔ “

بولتے ہوئے وہ رک کر حُرہ کے چہرے کو دیکھنے لگا

” سمجھ رہیں ہیں نا میری باتیں ۔ ۔ ؟؟”

حُرہ کے چہرے کو ہاتھوں میں بھرے اس نے سوال کیا تو حُرہ نے سمجھتے ہوئے سر ہلایا

مم مگر ۔ ۔

حُرہ کہتے کہتے رک گئی

کیا مگر ۔ ۔ ؟؟

عباس نے اس کے جھجکتے ہوئے رک جانے پر پوچھا

م میں آ آپ تک کے قابل نہیں ہوں ۔ ۔ م میرا خاندان آپ کے جتنا اعلیٰ نہیں ہے ۔ ۔

بھیگی آواز میں سر جھکا کر وہ بولی تو عباس نے سرد آہ بھری مطلب اتنا سمجھانے کے باوجود حُرہ صاحبہ کی سوئی ابھی وہیں انگلی ہوئی تھی

حُرہ میری جان یہ سوچ بلکل پست ہے ۔ ۔ آپ ہر لحاظ سے پر فیکٹ ہیں ۔ ۔ آپ جیسی باحیا ، باکردار بیوی خوش بختی سے ملتی ہے ۔۔ عورت کی خوبصورتی اس کی حیا ہے اور پاکیزہ کردار ۔ ۔ اور آپ میں یہ دونوں چیزیں ہیں ایسی معصوم بیوی آج کے دور میں مل گئی تو پھر مجھے اور کیا چاہیے ۔ ۔ عباس بولتے ہوئے اس کی آنکھوں میں آئی نمی صاف کر رہا تھا

” سمجھ آئی میری بات ۔ ۔ ؟

عباس نے بھویں اچکا کر پوچھا تو حُرہ نے سر بلایا

اب تو خود کو ڈی گریڈ نہیں کریں گی نا آپ

عباس نے پھر سوال کیا تو حُرہ نے نفی میں سر بلایا

شکر ہے میری معصوم بیوی کو میری بات سمجھ تو آئی ۔عباس کو پہلے دن ہی اندازہ ہو گیا تھا کہ حُرہ معصوم و سادہ ہے تبھی بہت آسان اور سادہ الفاظ میں اس نے اسے نرمی سے سمجھا یا حُرہ کا چہرہ دیکھ کر اب اندازہ ہو رہا تھا کہ وہ اس کی باتیں سمجھ رہی ہے۔

آپ کتنے اچھے ہیں ۔ ۔ ایسے مرد جن پر مجازی خدا ہونا جچ بھی رہا ہے ۔ ۔ جن کو عورت کا سر کا تاج ہونا جچ رہا ہے ۔ ۔ جو ہر عورت کی عزت کرتے ہیں ۔ ۔ جو میرے باکردار ہونے کی گواہی دے رہے ہیں جنہیں میری سادگی ہی خوبصورت لگتی ہے ۔۔ جو سب کے خلاف ہونے پر بھی میرا ساتھ دے رہے ہیں ۔ ۔ اور میرے دکھوں کو سمیٹ رہے ہیں ۔ ۔ آپ کے ساتھ نے مجھے عزت اور تحفظ دیا

ہے ۔ ۔ میں مرتے دم تک آپ کہ وفادار رہوں گی ۔ ۔

حُرہ ، عباس کی خوبصورت آنکھوں میں دیکھتی بے خودی کے عالم میں بول رہی تھی جبکہ عباس کے

لبوں پر زندگی سے بھر پور مسکراہٹ سجی ہوئی تھی

جب اتنا خوبصورت بول لیتیں ہیں آپ تو پھر اتنا خاموش کیوں رہتی ہیں ۔ ۔ ؟؟

حُرہ کو اپنی جانب پہلی مرتبہ بے خودی کے عالم میں تکتے دیکھ کر عباس کی مسکراہٹ گہری ہو گئی تھی ۔جبکہ حُرہ نے بے اختیار اپنا سر جھکا لیا

آپ بولتی ہی کم ہیں یا ۔ ۔ میرے ساتھ کوئی ناراضگی ہے ۔ ۔ ؟ حُرہ کی خفت مٹانے کی غرض سے عباس نے مسکراتے ہوئے بات کا رخ بدلہ

حج جی ؟ ؟۔۔

حُرہ نے نا سمجھی سے اسے دیکھا

جانم جو دل میں آیا کرے بول دیا کریں ۔ ۔ دل میں کچھ مت رکھا کریں ۔ ۔ عباس مزید بولا تھا جبکہ حُرہ نے محض سر بلایا

چلیں بولیں ۔۔

فرش سے اٹھ کر حُرہ کے برابر بیٹھتے ہوئے وہ گویا ہوا اور اس کے چہرے کے نقوش کو اپنے لبوں سے چھونے لگا چہرے پر نیل کے نشانات پر اپنے لبوں سے مرہم رکھنے لگا یہاں تک کہ حُرہ نے اس کی شرٹ کو اپنی مٹھیوں میں بھینچ لیا اور آنکھیں بھی سختی سے میچ لیں۔

بہت درد ہوا تھا میری جان کو

چہرے پر نیل کے نشانات کو لبوں سے چھوتے ہوئے وہ بوجھل آواز میں پوچھ رہا تھا جبکہ حُرہ دھڑکتے

دل کے ساتھ عباس کے لمس کو محسوس کر رہی تھی

اگین سوری جانم ۔ ۔ اب حُرہ کے بازوؤں سے آستینیں ہٹا کر انگلیوں کے نشانات پر لب رکھتے ہوئے وہ مدھم آواز میں بول رہا تھا جبکہ حُرہ سانسیں رو کے اس کی شدت کو محسوس کر رہی تھی مگر زبان بولنے سے انکاری تھی۔
 
" چلیں بولیں ۔۔!"

بمشکل اپنے ابھرتے جذبات کو قابو کرتے ہوئے حُرہ سے جدا ہوتے ہوئے عباس نے اب اس کے شرم وحیا کے باعث ہوئے سرخ چہرے اور لرزتے وجود کو دلچسپی سے دیکھتے ہوئے دوبارہ بات کو

وہیں سے شروع کیا

لک کیا ۔ ۔ ؟"

حُرہ کا تنفس جب بہتر ہوا تو اس نے مدھم آواز میں پوچھا

"کچھ بھی ۔۔؟"

عباس نے ابنارمل انداز میں پوچھا کہ حُرہ نے اب ناسمجھی سے اسے دیکھا

اچھا یہ بتائیں کہ آپ کی فیملی میں کون کون ہے ۔ ۔ ؟"

وہ حُرہ کو بولنے پر اکسا رہا تھا جبکہ اس کا سوال سن کر حُرہ کے مسکراتے لب سکڑے

ہم ماں تھیں ۔ ۔

آنکھوں میں آئی نمی صاف کرتے ہوئے وہ بمشکل بولی دل میں یہ درد ہمیشہ رہنا تھا کہ وہ اپنی ماں کو

آخری مرتبہ نہ دیکھ سکی

تھیں؟

عباس نے نا سمجھی سے پوچھا

اب نہیں رہیں ۔ ۔ حُرہ بتاتے ہوئے رونے لگی تو عباس نے لب بھینچتے ہوئے اسے اپنے سینے سے لگالیا مہر بان پاتے

ہی وہ مزید بکھر گئی مزید شدت سے رونے لگی

آپ صبر کریں حُرہ ۔ اور

ایم سوری ۔ مجھے نہیں معلوم تھے ان کے لیے دعا کریں ۔۔

پلیز صبر کریں ۔ ۔

وہ لہجےمیں درد لیے بول رہا تھا یہی تو حسرت تھی حُرہ کی کہ کسی نے اس سے افسوس کرنا تو دور صبر کی دعا تک نہیں دی تھی اب عباس کا مہربان لمس پاتے ہی اس کے رونے میں شدت آگئی تھی عباس نے اسے رونے دیا کافی دیر بعد جب وہ کچھ سنبھلی تو عباس نے اس کی جانب پانی کا گلاس بڑھا یا حُرہ نے ہچکیاں لیتے ہوئے چند قطرے پانی کے پیئے اس سے پہلے ہی عباس مزید کچھ بولتا دروازے پر دستک ہوئی تو وہ حُرہ کے ہاتھ سے گلاس لے کر سائیڈ ٹیبل پر رکھتا دروازے کی جانب بڑھا۔

" صاحب یہ ۔ ۔ "

عباس کے دروازہ کھولتے ہی ناہید نے چند شاپر اس کی جانب بڑھائے

" اور کوئی حکم سر کار ۔ ۔ ؟"

ناہید نے مؤدب انداز میں پوچھا

" نہیں ۔ ۔ جاؤ ۔ ۔

نفی میں سر بلا کر عباس نے شاپر حرہ کی جانب بڑھائے جبکہ ناہید دروازہ بند کر کے جاچکی تھی

"جانم پہلےآپ فریش ہوجائیں ۔ پر ڈنر کے لیے جائیں گے ۔

شا پر حرہ کی جانب بڑھاتے ہوئے عباس نے کہا تو حرہ نے فوراً اس کی بات کی تکمیل کی

رات کے کھانے کے وقت وہ دونوں ایک ساتھ ڈائٹنگ ہال میں داخل ہوئے سردار شیر دل اور سردار بی بی کی موجودگی میں حرہ سہم کرو ہیں دروازے پر رک گئی جب عباس نے اس کی سہمی ہوئی۔

آنکھوں میں دیکھا اور حرہ کا ہاتھ مضبوطی سے اپنے ہاتھ میں لے کر اپنے ساتھ کا احساس دلایا حرہ نے عباس کے مسکراتے چہرے کی جانب دیکھا جہاں اسے عباس کا نرم لمس اسے اعتماد بخش رہا تھا حرہ عباس کے ساتھ قدم قدم چلتی کرسیوں کی جانب بڑھ رہی تھی عباس نے اپنے ساتھ والی کرسی پر پہلے حرہ کو بیٹا یا پھر خود بھی اپنی کرسی پر براجمان ہو گیا جبکہ سردار بی بی خونخوار نگاہوں سے حرہ کو دیکھ

رہیں تھیں مگر سردار شیر دل نے انہیں نظر انداز کیا ہوا تھا

ناعمہ بی بی اور نور ے بی بی کو بھی بلوا لو ۔ ۔ ! سر دار شیر دل نے ناہید کو دیکھتے ہوئے کہا

سر کار پیغام بھجوایا تھا مگر ۔ ۔ انہوں نے منع کر دیا ۔ ۔ کھانا ان کے کمرے میں بھیج دیا ہے ۔ ۔ ناہید نے سر جھکائے کہا تو عباس نے لب بھینچ لیے جبکہ سردار شیر دل نے عباس کی جانب متلاشی نگاہوں سے دیکھا جیسے عباس کے تاثرات جانچنے چاہ رہے ہوں مگر عباس اب مصروف ساحرہ کی

پلیٹ میں کھانا نکال رہا تھا

با با سر کار میں چاہتا ہوں ایک چھوٹی سی تقریب ہو جائے تاکہ حرہ کو میں اپنی بیوی کے طور سے متعارف کروا دوں ۔ ۔ جس کو نہیں بھی معلوم اسے بھی معلوم ہو جائے کہ حرہ کی میری زندگی میں کیا حیثیت ہے ۔

کھانا کھانے کے دوران عباس نے سردار شیر دل کو مخاطب کیا جبکہ اس کی بات سن کر سر دار بی بی اور سر دار شیر دل چونک گئے

بہت ہو گیا عباس ۔ ۔ اب کیا ہم اس دو کوڑی کی لڑکی کو اپنے سروں پر بیٹھا دیں ۔ ۔ لوگ کیا کہیں گے کہ اس خون بہا میں آئی وفی کو سر داروں نے بہو مان لیا ۔ ۔ ؟"

سردار بی بی عباس کی بات سن کر سیخ پا ہو ئیں تھیں اور لہجے میں نفرت لیے پھنکاریں

آپ کو معلوم ہے ماں جی لوگ پیٹھ پیچھے کیا کہتے ہیں ۔ ۔ مجھ سے بہتر جانتی ہوں گی آپ تو ۔ ۔ لوگ کہتے ہیں سر دار اتنے ظالم ہیں کہ بے قصور لڑکی کو ظلم کرنے کی خاطر لے گئے ہیں ۔ ۔ ہاں اگر ہم حُرہ کو اس کا حق دیں اور اس کا مقام دیں تو یہی لوگ کہیں گے کہ سر دار کتنے انصاف پسند ہیں ۔ ۔ سزا قا تل کودے رہے ہیں نا کہ لڑکی کو۔

عباس بحث کرنا نہیں چاہتا تھا اسی لیے اپنے ماں اور باپ کو انہیں کے انداز میں سمجھا رہا تھا جبکہ اس کی

بات سن کر سردار شیر دل نے اثبات میں سر ہلایا

عباس بلکل ٹھیک کہہ رہا ہے ۔ ۔ سردار بی بی کی جانب سخت نگاہوں سے دیکھتے وہ انہیں مزید کچھ نہ کہنے یہ تنبیہ کر رہے تھے ۔۔۔

ٹھیک ہے میں سارے انتظام کروا دیتا ہوں ۔ ۔ "

سردار بی بی کے مزید کچھ بولنے سے پہلے ہی سردار شیر دل پھر سے عباس سے ہمکلام ہوئے

" جی با با سر کار ۔ ۔ "

عباس نے ہلکا سا مسکرا کر حُرہ کو دیکھتے ہوئے کہا جو سر جھکائے بیٹھی بظاہر لا تعلق بنی بیٹھی تھی مگر

سب کی گفتگو بہت غور سے سن رہی تھی۔۔۔۔

وہ رات سے جانے کہاں مصروف تھا حُرہ کل رات سے اس کا انتظار کرتی رہی تھی ابھی اسے عباس کو ایک بہت بڑی خبر دینی تھی عباس کے اس قدر اچھے رویے کے بعد حُرہ نے اسے جلد ہی اپنے امید سے ہونے کا ارادہ کیا مگر پھر دوپہر میں ایک لڑکی غالبا وہ بیوٹیشن تھی جو بمع ایک قیمتی جوڑا اور جیولری

ناہید کے ہمراہ حاضر ہوئی

"بی بی جی انہیں سرکار نے بھیجا ہے ۔

حُرہ نے سوالیہ نگاہوں سے ناہید کو دیکھا تو وہ مؤدب سی بولی اور ساتھ ہی ایک چٹ حُرہ کی جانب بڑھائی جسے تھام کر حُرہ نے کھولا۔

یہ سب میں نے خود پسند کیا ہے آپ کے لیے ۔۔ اصل میں پہلی بار کسی لڑکی کے لیے شاپنگ کی ہے تو پتہ نہیں آپ کو پسند آتے ہیں یا نہیں ۔ ۔ میری طرف سے میری جانم کے لیے چھوٹا سا گفٹ ۔ ۔ تحریر کے نیچے عباس کا نام لکھا تھا جبکہ تحریر پڑھتے ہوئے بے ساختہ حُرہ کے لبوں کو دلکش مسکراہٹ

نے چھوا تھا

تمام مہمان آچکے تھے عباس خود عالیان اور احمد کے ساتھ چہرے سے مسکراہٹ سجائے کھڑا تھا جس وقت اس نے اچانک عالیان اور احمد کو اپنی شادی کا سرسری سا بتایا اور ولیمے کی تقریب کی دعوت

دی تو وہ دونوں تو شاک میں آگئے تھے

ا بھی بھی نہ بتاتا ۔ ۔ ایک دو بچے پیدا کر کے پھر ڈبل نیوز دے دیتا کہ تم لوگ چاچو بھی بن گئے ۔ ۔ عالیان جب سے آیا تھا عباس کو ایسی ہی جلی کٹی سنا رہا تھا جب کہ اس کی بات سن کر عباس اور احمد کا جاندار قہقہہ فضاء میں بلند ہوا۔۔

یار بس کراب ۔ ۔ شکر کر ہمارے دوست کے چہرے پر شادی کے بعد مسکراہٹ تو آئی ہے ۔۔

ہمیں اور کیا چاہیے ۔ ۔ "

احمد نے عالیان کے کاندھے پر ہاتھ رکھ کر عباس کے مسکراتے چہرے کی جانب دیکھتے ہوئے کہا

اچھا اب سمجھ آئی کہ تو اتنا خوش خوش کیوں رہنے لگا تھا ۔ ۔ ہماری بھا بھی کے بارے میں سوچ کر

مسکراتا رہتا تھا ہے نا ۔ ۔ ؟؟

عالیان جا نچتی نگاہوں سے عباس کو دیکھتے پوچھنے لگا تھا

" ہاں یہی بات ہے ۔ ۔ "

عباس نے مسکراتے ہوئے کہا تو احمد اور عالیان نے داد دیتی نگاہوں سے ایک دوسرے کو دیکھا

بھئی ہمیں تو بس تیری خوشی چاہیے ۔ ۔ شکر ہے بھائی ۔۔

عالیان اس بار عباس کے گلے لگ کر خوش دلی سے بولا

لو بھا بھی بھی آگئیں ۔ ۔

احمد نے دلہن کو دور سے آتے دیکھا تو ان دونوں کو بھی متوجہ کیا۔

یچ کلر کی نفیس کام سے آراستہ میکسی پہنے ہلکے میک اپ سمیت حُرہ کا نازک سا وجود جیسے کھل گیا تھا جب عباس کی نگاہیں اس پر پڑیں تو پلٹنا ہی بھول گئیں وہ مبہوت ساحُرہ کو دیکھ رہا تھا جبکہ حُرہ نے بھی اپنے سامنے کھڑے عباس کو دیکھا جو بلیک تھری پیس میں اپنی پوری وجاہت کے ساتھ کھڑا اس کا

ہاتھ تھا منے کو آگے بڑھ رہا تھا۔

" یولُکس سٹنگ جانم --!"

حُرہ کے کان میں سر گوشی نما انداز میں کہتے ہوئے عباس نے اس کا کپکپاتا ہاتھ اپنی محبت بھری گرفت میں نرمی سے لے لیا جبکہ عباس کے تعریفی الفاظ سن کر حُرہ نگاہیں جھکائے سر شار ہو گئی

" یہ باتیں واتیں بعد میں کرنا ۔ ۔ پہلے ہمیں اپنی بھا بھی سے ملنے دو ۔ ۔

عباس کو چھیڑنے کے انداز میں عالیان نے کہا تو عباس نے اسے گھوراجبکہ حُرہ نے ذراسی نگاہیں اٹھا

کر عالیان کو دیکھا

السلام علیکم بھا بھی ۔ ۔

احمد نے احترام سے حُرہ کو دیکھ کر سلام کیا اور پھر عالیان نے بھی سر کو خم دیتے ہوئے حُرہ کو سلام کیا جس کا جواب حُرہ نے سر کو ہلا کر دیا۔

بھا بھی ابھی تو میں نے آپ کو آپ کے شوہر کے بہت سے راز بتانے ہیں ۔ ۔ بتانا ہے کہ کیا چیز ہے آپ کا شوہر کتنی لڑکیاں اس کے پیچھے ہیں ۔ ۔ اس پر خاص نظر رکھنی ہے آپ نے ۔ ۔ " عالیان ، احمد کو آنکھ مارتا شوخ انداز حُرہ سے کہہ رہا تھا جبکہ اس کی بات سن کر حُرہ کے مسکراتے لب سکڑ گئے اسے بے ساختہ نورے کا خیال آیا عباس نے بغور حُرہ کا اترا چہرہ دیکھا

حُرہ یہ مذاق کر رہا ہے ۔ ۔ ایسا کچھ نہیں ہے ۔ ۔

خرہ کی نم آنکھوں کو دیکھتے ہوئے عباس نے فورا کہا تو حُرہ نے ڈگمگائی ہوئی آنکھوں سے عباس کو

★★★★★
0.0 (0 ratings)
0 shares

دیکھا۔

میں بلکل مذاق نہیں کر رہا سردار صاحب ۔ ۔ میں بلکل سیریس ہوں ۔ عالیان نے عباس کو دیکھتے ہوئے کاندھے اچکا کر کہا۔۔۔۔

یارشی از سوانوسینٹ ۔ ۔ وہ تیرے مذاق کو سچ سمجھ لیں گی ۔ ۔ عباس نے عالیان کو گھورتے ہوئے کہا تو عالیان اور احمد نے چونک کر حُرہ کو دیکھا

ایسی کوئی بات نہیں ہے جانم ۔ ۔ میری زندگی میں صرف آپ ہیں ۔ ۔ حُرہ کی جانب اپنی جیب سے رومال نکال کر بڑھاتے ہوئے عباس نے دھیمی آواز میں کہا۔

"جی جی بھا بھی عالیان کو تو عادت ہے مذاق کرنے کی ۔ ۔ احمد نے بھی عباس کی بے چاری سی شکل دیکھتے ہوئے کہا" جی جی میں تو عباس کو تنگ کر رہا تھا ۔ ۔ مذاق کے بغیر اصل بات تو یہ ہے کہ آپ کا شوہر انتہائی شریف انسان ہے ۔۔ کوئی بری عادت تک نہیں ہے اس میں ۔ ۔ ایسے بندے سو میں سے کوئی دوفیصد ملیں گے آج کل کے زمانے میں ۔ ۔ "اس مرتبہ عالیان نے سچے دل سے عباس کی تعریف کرتے ہوئے کہا تو احمد اور عباس نے چونک کر اسے دیکھا کیونکہ اتنی شرافت کی امید عالیان سے کی تو نہیں جا سکتی تھی

ویسے عباس تو بھی بہت لکی ہے ۔ بیکوز ایسی انوسینٹ بیوی بھی آج کل کے زمانے میں نہیں ملے گی۔۔

Make for eachother.

عالیان نے بلند آواز میں عباس کو کہا تو حُرہ نے عباس کے مسکراتے چہرے کو دیکھا۔

وہ تقریب کے بعد عباس کے کہنے پہ کمرے میں آچکی تھی کھانا اس نے عباس کے ساتھ ہی کھایا تھا ہنوز سجے سنورے روپ میں بیڈ پہ بیٹھی وہ عباس کا انتظار کر رہی تھی بس دل کر رہا تھا عباس جلدی سے کمرے میں آجائے تاکہ وہ اسے جلد از جلد خوشخبری دےتھکاوٹ کے باعث بیڈ کی پشت سے ٹیک لگا کر ٹانگے دراز کیے وہ آنکھیں موندے بیٹھ گئی۔

جب اسے نورے کی نم آنکھیں بند آنکھوں کو کھولنے پر مجبور کر گئی تھوڑی دیر پہلے اسے تقریب میں نورے نظر آئی تھی مگر اس کی آنکھوں کا درد دیکھ کر حُرہ نے بے چینی سے پہلو بدلہ تھا اور آنکھیں واکرلیں اسی وقت کمرے کا دروازہ کھلا اور عباس بازو پر کوٹ لٹکائے کمرے میں داخل ہوا دروازہ لاکڈ کر کے اس نے ایک مسکراتی نگاہ حُرہ کے دلکش سجے سنورے وجود پر ڈالی اور کوٹ صوفے پر رکھا اور حُرہ کی سمت بڑھا" تھینک یو ۔ ۔

حُرہ کے قریب بیڈ پر اس

کے پاس بیٹھتے ہوئے عباس نے اس کی پیشانی پر محبت بھرا لمس چھوڑا"

فاروٹ ۔ ۔ ؟ "حُرہ نے ہلکا سا مسکرا کر پوچھا۔۔۔۔۔

"میرا ویٹ کرنے کے لیے ۔ ۔ ورنہ میں سمجھ رہا تھا کہ آپ کافی تھکی ہوئی لگ رہیں تھیں تو چینج کر کےریسٹ کر رہی ہوں گی ۔ ۔ "عباس نے سائیڈ ٹیبل کے دراز سے ایک ڈبی نکالتے ہوئے حُرہ کو جواب دیا اورڈبی میں سے ایک خوبصورت سی چین نکال کر خرہ کی گردن میں پہلے سے موجود نکلس اتار کر وہ چین حُرہ کی نازک و خوبصورت گردن میں پہنائی۔

یہ منہ دکھائی ہے آپ کی ۔ ۔ اسے ہمیشہ پہنے رکھیے گا یہ تو ہوا محض ایک تحفہ مگر ہاں ایک اہم بات جو میں آپ کو آج کہنا چاہتا ہوں وہ یہ ہے کہ حُرہ میں بہت بڑے بڑے دعوے نہیں کروں گا مگر میں آج آپ سے وعدہ کرتا ہوں ہمیشہ ہر حال میں آپ کا ساتھ دوں گا ۔ ۔ میری ذات کبھی آپ کے لئے ۔تکلیف کا باعث نہیں بنے گی ۔۔

عباس حُرہ کا چہرہ دونوں ہاتھوں میں تھام کر مضبوط انداز میں بولا تھا اس کی آنکھیں اس کی بات کی سچائی کی عکاسی کر رہیں۔۔۔۔۔

حُرہ کے لبوں پر مسکراہٹ بکھری اور تشکر بھری نگاہوں سے عباس کو دیکھنے لگی وہ یقین نہیں کر پا رہی تھی کہ کیا وہ واقعی اتنی خوش قسمت ہو سکتی ہے جو ایسے شخص کی بیوی ہے جو اس قدر بلند ظرف

رکھتا تھا کہ سب کی مخالفت کے باوجود اپنی بہن کے خون بہا میں آئی ہوئی لڑکی کے تمام حقوق پورے کر رہا تھا اور ہمیشہ اس کے ساتھ کس قدر حسن سلوک کا مظاہرہ کرتا تھانورے نے ٹھیک کہا تھا بیشک وہ بہت بڑی آزمائشوں سے گزر رہی ہے مگر عباس اس کی ہر آزمائش کا مداوا تھا خزاں میں بہار کی طرح تھا زندگی میں اتنے دکھوں کے بعد جہاں عباس کی صورت میں یہ خوشیاں ملیں تھیں۔

تو وہ کیوں کر کفران نعمت کرتی عباس جیسے جیون ساتھی کو پا کر کیوں کر وہ اس سےمنہ موڑ سکتی تھی جو ساری دنیا حتی کہ اپنے ماں باپ سے بھی اس کے حق کی خاطر لڑ رہا تھا اگر اس معاملے میں نورے اسے خود غرض بھی کہتی تو وہ خاموشی سے یہ الزام برداشت کر لیتی مگر عباس کو کبھی نہیں چھوڑ سکتی تھی چاہے کیسے بھی حالات کا سامنا اسے کرنا پڑتا مگر اس مہربان کے سائے سے کبھی دور نہیں جائے گی۔

کہا کیا سوچ رہیں ہیں جانم ۔ ۔ ؟ کیا زیادہ ہینڈ سم لگ رہا ہوں آج ۔ ۔ ؟ حُرہ کو بے خودی سے اپنی جانب تکتا پا کر عباس نے آنکھوں میں شرارت لیے پوچھا تو اس کی آواز پر حُرہ یکدم چونکی مزید عباس کی بات نے اسے سر جھکانے پر مجبور کر دیا" چلیں میں ہی کہہ دیتا ہوں ۔ ۔ آپ اتنی پیاری لگ رہیں ہیں کہ بس نہیں چل رہا خود پہ کہ روکوں خود کو۔۔

حُرہ کا دلکش سراپا عباس کو بار بار بہکا رہا تھا اور اس کی قربت پر مچل رہا تھا تبھی گہری نگاہوں سے دیکھتے ہوئے عباس نے ذو معنی انداز میں کہا اور حُرہ کے چہرے پر جھکا اس سے پہلے وہ کوئی شرارت کر حُرہ نے گھبرا کر اس کے سینے پر ہاتھ رکھا

"وو وہ مجھے آپ سے بات کرنی ہے ۔ ۔ !"حُرہ چہرہ موڑے بولی جبکہ دونوں ہاتھ ہنوز عباس کے سینے پر تھے"

جی بولیں ۔ ۔ ؟ "عباس نے اس کی جھکی پلکوں کو تکتے ہوئے کہا

دل کے ہاتھوں

مجبورر ہو کر ایک تہیہ دل میں کرتی اسنے عباس کو دیکھا جواس کے بولنے کا منتظرتھا ۔

وہ مجھے اا ایک بات پوچھنی ہے آپ سے ۔ ۔ ؟"عباس کی آنکھوں میں دیکھتی وہ مدھم آواز میں بولی انداز میں خوف تھا جیسے اگر عباس کا جواب اس کے دل کی دعا سے بر عکس ہوا تو کیا وہ واقعی خوش قسمت ہوتی یا پھر۔۔۔۔

" جی جی جان پوچھیں ۔ ۔ ؟

پہلی بار خود سے حُرہ اس سے کچھ پوچھنا چاہتی تھی پھر وہ کیوں کر انکار کر سکتا تھا فوراً اس کو اجازت دیتا اس کے بولنے کا انتظار کرنے لگا" و و وہ آپ اور نورے ۔۔۔۔۔ میرا مطلب نورے کے ساتھ آپ کا رشتہ !! ۔ ۔

مجھے لگتا ہے میں نے ان کی جگہ لے لی ہے ۔ ۔ !"حُرہ نے آنکھیں اور سر جھکاتے ہوئے ندامت سے کہا تو اس کی بات سن کر عباس نے ایک گھرا سانس لیا یہ وہ معاملہ تھا جس کے بارے میں اگر عباس سوچتا تھا تو اس کی سوچیں مفلوج ہو جاتیں تھی وہ جانتا تھا نورے محبت کی راہ کی مسافر تھی اور اس میں اس کا قصور نہیں تھا وہ بچپن سے اس کے نام کے ساتھ جڑا ہوا تھاعباس کی خاموشی پر خرہ نے سر اٹھا کر اس کا بے تاثر چہرہ دیکھا۔۔

تو خود بخود اس کی آنکھیں بھیگنے لگی حُرہ کے سسکنے پر عباس چونک کر اس کی جانب متوجہ ہوا

میری جان - - میری بات غور سے سنیں اور سمجھیں ۔ ۔ نورے اور میرے درمیان محرم رشتہ نہیں ہے ۔۔ اس لیے آپ یقین کریں میں نے ان کے بارے میں کبھی نہیں سوچا ۔ ۔ ہاں میرا شرعی رشتہ آپ کے ساتھ ہے ۔ ۔ اس لیے میں آپ کے بارے میں سوچتا ہوں ۔ ۔ آپ بے فکر ہو جائیں نورے کے ساتھ کبھی زیادتی نہیں ہوگی ۔ ۔ مگر آپ پلیز اس میں خود کو بلیم نہیں کریں کیونکہ کوئی کسی کی جگہ نہیں لے سکتا ۔ ۔ اور میں نے سمجھایا تھا نا آپ کو کہ یہ سب تقدیر کے فیصلے ہوتے ہیں ۔ ۔

کون کس کے نصیب میں آتا ہے یہ خدا کا فیصلہ ہے ۔ ۔ سو پلیز آئندہ آپ اس بارے میں بات مت کیجیئے گا ۔ ۔ "وہ حُرہ کے دونوں ہاتھوں پر دباؤ ڈالتا نرمی سے اس کی آنکھوں میں دیکھتا سمجھا رہا تھا مگر آخر میں اس کا انداز تنبہی تھا جسے حُرہ با خوبی سمجھ گئی کہ وہ آئندہ اس موضوع پر بات نہیں کرنا چاہتا"

حج جی ۔ ۔ !"حُرہ نے سر ہلاتے ہوئے یک لفظی جواب دیاکیا ہوا کچھ اور بھی کہنا چاہتی ہیں ۔ ۔ ؟"حُرہ کو دوبارہ لب وا کرتے پھر جھجھک کر لبوں کو کاٹتے دیکھ کر عباس نے پھر پوچھا

حج جی مجھے آپ کو ک کچھ بتانا ہے ۔

.حُرہ نے لبوں کو حرکت دی۔

جی جانم ۔ ۔ بولیں ۔ ۔ ؟ کیا بات کرنی ہے میری جان کو ۔ ۔ ؟

وہ اس کے اتنے قریب تھا کہ بات کرتے ہوئے اس کے لب حُرہ کے رخسار کو چھورہے تھے مگر حُرہ کس طرح بات کرتی وہ ایک تو اس کی قربت مسلسل اس کو کپکپانے پر مجبور کر رہی تھی مزید بات بھی ایسی تھی کہ بتاتے ہوئے اس کی جھجھک درمیان میں آرہی تھی"

وووہ ۔ ۔ آپ ۔ ۔ "کپکپاتے لبوں میں جنبش ہوئی مگر پھر زبان دانتوں تلے دبالی عباس دلچسپی سے حُرہ کے سرخ چہرےکو دیکھ رہا تھاہوں ۔ ۔ بولیں کیا ۔ ۔ !"اپنے ہاتھ کے انگوٹھے سے حُرہ کے لبوں کو چھوتے ہوئے عباس نے نرمی سے پوچھا۔۔۔۔

وو وہ سر کار ۔ ۔ وہ آآپ۔۔۔۔۔

حُرہ عباس کی آنکھوں میں دیکھتی ایک بار پھر جھجھک کر ر کی تو عباس نے سوالیہ انداز میں بھویں اچکائیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

و و وہ آ آپ ۔ ۔ ووہ مم میں ۔ ۔ مم میرا مطلب ۔۔ وہ ۔ ۔

بولتے بولتے ایک مرتبہ پھر وہ خاموش ہو گئی اور اب تو اسے رونا آنے لگا تھا وہ کیسے عباس کو بتائے گی یہ تو اس نے سوچا ہی نہیں تھا اور اب شرم کی وجہ سے الفاظ ہی ترتیب نہیں دے پا رہی تھی جبکہ حُرہ کی آنکھوں میں چمکتے آنسو دیکھ کر عباس کے ماتھے پر ایک لکیر ابھری"کیا ہوا ہے حُرہ ۔ ۔ کسی نے کچھ کہا ہے آپ سے ۔ ۔ ؟ رو کیوں رہیں ہیں ۔ ۔ ؟"

حُرہ کے چہرے پر موتی اپنے لبوں سے چنتے ہوئے عباس نے نہایت فکر مندی سے پوچھا"

ن نہیں ۔ ۔ کسی نے کچھ نہیں کہا ۔ ۔ "حُرہ یکدم آنسو صاف کرتی سٹپٹا کر گویا ہوئی تو عباس نے سکھ کا سانس لیا۔

پھر کیا بات ہے جانم ۔ ۔ ؟ "عباس نے ہنوز نرم انداز میں اس کے رخسار سہلاتے ہوئے پوچھا ،

وہ میری طبیعت ۔ ابھی اتنے ہی الفاظ حرہ کی زبان سے نکلے تھے کہ

عباس نے اس کے ماتھے کو چھواکیا ہوا حُرہ ؟ ۔ ۔

لہجے میں فکر مندی واضح تھی"

میری طبیعت بلکل ٹھیک ہے ۔ ۔ وہ سر کار آپ وہ بننے والے ہیں ۔ ۔ !" خرہ نے اس بار اپنی طرف سے بھر پور عقلمندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے جلدی سے بات مکمل کی

اور عباس کے چہرے کو دیکھنے لگی جس پر نا سمجھی کے اثرات تھےکیا بننے والا ہوں ۔ ۔ ۔ ؟ "عباس نے ماتھے پر نا سمجھی سے بل ڈالے پوچھا تو حُرہ نے عباس کے نا سمجھنے پر مایوسی سے سر جھکالیا۔

کیا کہنا چاہ رہی ہیں حُرہ ۔۔

عباس نے اس کی تھوڑی کے نیچے انگلی رکھ کر اس کا چہرہ ذراسا بلند کیا اور پوچھا۔

آپ وہ بننے والے ہیں ۔ ۔ حُرہ نے جھکی آنکھوں سے پھر سے وہی جملہ دوہرایا۔

جبکہ عباس حقیقت میں حُرہ کی بے ربط بات سمجھنے میں نا کام تھا۔

کھل کر بات کریں جانم ۔ ۔ کیا کہنا چاہ رہی ہیں ۔ ۔ ؟ " عباس پوری طرح سے اس کی جانب متوجہ ہوئے پوچھا رہا تھا

آپ سمجھ جائیں نا ۔ ۔ !"اس بار حُرہ نے جھنجھلا کر کہا کیونکہ وہ کتنی دیر سے اسے ایک ہی بات سمجھا رہی تھی آخر وہ خود سے کیوں نہیں سمجھ رہا تھا ۔

جبکہ عباس کے تو وہم و گمان میں بھی وہ بات نہیں تھی جو حُرہ اسے اتنی دیر سے سمجھانے کی کوشش کر رہی تھی ایک مرتبہ پھر عباس نے سوالیہ انداز میں بھویں اچکا ئیں تو حُرہ کو پہلی بار عباس پر غصہ آیا۔

آپ با با بننے والے ہیں ۔ ۔ اتنی سی بات سمجھ نہیں آرہی تھی آپ کو ۔ ۔ کب سے سمجھا رہی ہوں

حُرہ خاصی جھنجھلا کر بلند آواز میں بولی تھی جبکہ عباس کے کانوں میں تو جیسے حُرہ کا پہلا جملہ ہی گونج رہا تھا آگے وہ جانے کیا بولی تھی عباس نے سنا کہاں تھا بے یقینی اور خوشگوار حیرت سے وہ اب خرہ کودیکھ رہا تھا۔حُرہ آپ سچ کہہ رہی ہیں ۔ ۔ ؟

حُرہ کے دونوں کاندھوں کو اپنے ہاتھوں سے تمام کر وہ یقین دہانی چاہ رہا تھا دل تھا کہ خوشی کے مارے جھوم اٹھا تھا جبکہ حُرہ نے اب کے ہلکا سا مسکرا کر اثبات میں سر ہلا کر اپنی ہی بات کی تصدیق کی تو عباس نے فوراً اسے اپنے سینے میں بھینچ لیا کئی پل جب وہ اسے یوں ہی سینے سے لگائے بیٹھا رہا تو حُرہ ا چند لمحوں بعد اس سے جدا ہوئی اور عباس کی آنکھوں میں تیرتی نمی جو وہ اب حُرہ کے پیچھے ہونے پر فوراً صاف کر رہا تھا دیکھنے لگی۔

بلاشبہ آپ نے مجھے خوبصورت زندگی جینے کی نوید سنائی ہے حُرہ ۔ ۔ آپ نہیں جانتی یہ خبر جو آپنے مجھے ابھی دی ہے ہر خوشی سے بڑی خوشی ہے میرے لیے ۔ ۔ تھینک یو جانم ۔ ۔ " عباس محبت سے چور انداز میں کہتے ہوئے حُرہ کے چہرے پر جھکا اور اس کے چہرے پر والہانہ لمس چھوڑنے لگا جبکہ عباس کی آنکھوں اور لہجے سے جھلکتی خوشی دیکھ کر حُرہ کی خوشی دوگنی ہو گئی تھی کئی لمحے کمرے میں معنی خیز خاموشی چھائی رہی چند سوں بعد حُرہ اپنا تنفس بہتر کرتی عباس کے سینے پر ہاتھ رکھے سر بھی شرم و حیا کے باعث عباس کے سینے پر ٹکا چکی تھی۔۔۔۔

حُرہ صحیح سے کھانا کھا ئیں ۔ ۔اگلی صبح وہ احتیاط ناشتے کے بعد حُرہ کو ڈاکٹر کے پاس بھی لے کر گیا تھا اور ڈاکٹر نے اسے حُرہ کا بہت خیال رکھنے کی تائید کی تھی اور اب رات کے کھانے کے وقت میز پر حویلی کے تمام مکین موجود تھے حُرہ جو کہ ہمیشہ کی طرح حویلی کے تمام مکینوں کی موجودگی میں سہمی ہوئی تھی بمشکل چند لقمے حلق سے اتار پائی تھی اور اب دوسری مرتبہ عباس اسے نوٹ کرتا ٹوک رہا تھا ۔

جبکہ وہاں موجود ہر شخص کو عباس کا حُرہ کی اس قدر فکر کرتے دیکھ کر کچھ خاص اچھا نہیں لگ رہا تھا سر دار بی بی مسلسل حُرہ کو خونخوار اور حقارت بھری نظروں سے دیکھ رہیں تھیں، ناعمہ بھی ناگواری سے حُرہ کو دیکھ رہیں تھیں ان میں سردار شیر دل اور نورے تھے جو اپنی پلیٹ پر جھکے ہوئے تھے مگر نورے کی آنکھوں کی اداسی ہرایک با آسانی دیکھ سکتا تھا

عباس تم شہر کب جا رہے ہو ۔ ۔

سردار بیبی نے اپنا موڈ بہتر بنانے کے لئے اس کا دھیان حُرہ سے بٹانا چاہا تھا

ابھی کچھ دن یہیں پر ہوں ماں جی ۔ ۔ عباس نے سر سری انداز میں جواب دیا

کیا جادو کیا ہے اس ونی نے تم پر ۔ ۔ پہلے تو تم یہاں کم آتے تھے ۔ ۔ اور اب تو لمبا قیام چاہتے ہو۔۔۔۔

حُرہ کو دیکھتے ہوئے وہ طنزیہ جملوں سے بولی تو عباس نے ناشتے سے ہاتھ روک لیا"ماں جی ونی والا لفظ آئندہ میں حُرہ کے لئے نہ سنو ۔ ۔ کیونکہ میں حُرہ کی حیثیت اور مقام دنیا پر واضح کر چکا ہوں ۔ ۔ آئندہ یہ فضول خطاب میرے کانوں تک نہ پہنچے ۔ ۔ ! لہجہ نرم اور تنبیہی تھا جبکہ اس کے الفاظ سر دار بی بی نے بمشکل ضبط کیے باقی سب خاموش تماشائی بنے ان ماں بیٹے کی گفتگو سن رہے تھے۔

میں کبھی دشمن کے خاندان کی لڑکی کو قبول نہیں کروں گی ۔ ۔ جوا با سر دار بی بی تڑخ کر بولیں ۔۔

آپ محض یہ یاد رکھیں کہ حُرہ میری بیوی اور میرے ہونے والے بچے کی ماں ہے ۔ ۔

۔ ۔ عباس نے بلند آواز میں مضبوط انداز میں کہا جبکہ اس نے سب کو حُرہ کے امید سے ہونے کی خبر سے آگاہ کرنا مناسب سمجھا مگر اس کے اتنے بڑی خبر اس طرح عام سے انداز میں کہنے پر حویلی کے تمام مکینوں کو جیسے سانپ سونگھ گیا وہ سب ہونق بنے عباس کو دیکھ رہے تھے۔

یقیناً عباس کے چہرے پر سنجیدگی تھی وہ مذاق نہیں کر رہا تھانورے پتھرائی آنکھوں سمیت عباس کو دیکھ رہی تھی جس کی خود کی نگاہیں اب حُرہ کے چہرے پر تھیں۔

کیا کہہ رہے ہو عباس تم ۔ ۔ ؟؟"سب سے پہلے سردار شیر دل کا سکتہ ٹوٹا

تو وہ دبے دبے غصے سے بولے۔

بابا جان آپ دادا بننے والے ہیں ۔ ۔ " عباس نے سر جھکائے بیٹھی حُرہ کو دیکھتے ہوئے سردار شیر دل کو ان کی بات کا جواب دیا.

ایسا نہیں ہو سکتا ۔ ۔

یہ سب ۔۔ نہیں نہیں ۔۔ عباس یہ بد کردار لڑکی ہے ۔ ۔ یہ تم سے جھوٹ بول رہی ہے ۔ ۔ یہ تمہارا بچہ نہیں ہے ۔ ۔ یہ بے وقوف بنا رہی ہے تمہیں ۔ ۔ یہ پیچھے سے لائی ہو گی سردار بی بی ہتک آمیز انداز میں غرائیں۔

جبکہ عباس زور سے میز پر ہاتھ مارتا کھڑا ہوا اس کا چہرہ اور آنکھیں غصے کے باعث سرخ ہو رہیں تھیں باقی سب بھی ڈر کر اپنی جگہ سے اٹھے جبکہ حُرہ کے حلق سے دبی دبی چیخ نکلی تھی سردار بی بی کے الفاظ عباس کا دل چیر گئے تھے حُرہ نے سہمی نگاہوں سےعباس کو دیکھا۔

آپ نے میری اولاد کو گالی دی ہے ماں اور یہ میں بلکل برداشت نہیں کروں گا ۔ ۔
 
صبر و ضبط کی انتہا کو چھوتا وہ بولا زندگی میں پہلی بار اس کی آنکھوں کی وحشت دیکھ کر سر دار بی بی بے چین ہو ئیں یقیناً وہ اپنے بہت نرم دل اور صابر بیٹے کو اپنے الفاظ سے توڑ رہیں تھیں جن کا انہیں
احساس بھی تھا
" عباس میرے شیر ۔ ۔ کیا حماقت ہے یہ ؟؟ اب یہ معمولی لڑکی ہماری نسل آگے بڑھائے گی
اس مرتبہ وہ دھیمے مگر کاٹ دار انداز میں بولی تھیں۔
آپ یہ بات کیوں نہیں سمجھ رہیں ماں جی یہ میری بیوی ہے اور یہی اس کی حیثیت ہے اور اب تو یہ میرے بچے کی ماں بننے والی ہے ۔ ۔ اس لیے ہر کوئی سن لے حُرہ کو حویلی میں اگر کسی طرح کا مسئلہ ہوا تو میں حُرہ کو لے کر یہاں سے چلا جاؤں گا اور واپسی کی امید مت رکھئے گا مجھ سے ۔ ۔ " عباس تنک کر بولا تھا کہ وہ اپنے ارادے سے انہیں پہلے آگاہ کر رہا تھا
تم ایسے کیسے کر سکتے ہو عباس ۔ ۔ تم اس لڑکی کے لیے ہمیں چھوڑ دو گے ۔ ۔ ؟؟ عباس کی بات سن کر وہ صدمے میں بولیں تھیں
میں ایسا ہر گز نہیں چاہتا ۔ ۔ مگر آپ مجھے اپنے رویے سے مجبور کر رہیں ہیں ۔ ۔

صبر و ضبط کی انتہا کو چھوتا وہ بولا زندگی میں پہلی بار اس کی آنکھوں کی وحشت دیکھ کر سر دار بی بی بے چین ہوئیں یقینا وہ اپنے بہت نرم دل اور صابر بیٹے کو اپنے الفاظ سے توڑ رہیں تھیں جن کا انہیں
احساس بھی تھا
"میرے پیارے بیٹے ۔ کیا حماقت ہے یہ ؟؟ اب یہ معمولی لڑکی ہماری نسل آگے بڑھائے گی
اس مرتبہ وہ دھیمیے مگر کاٹ دار انداز میں بولی تھیں
آپ یہ بات کیوں نہیں سمجھ رہیں ماں جی یہ میری بیوی ہے اور یہی اس کی حیثیت ہے اور اب تو یہ میرے بچے کی ماں بننے والی ہے ۔ ۔ اس لیے ہر کوئی سن لے خود کو حویلی میں اگر کسی طرح کا مسئلہ ہوا تو میں حُرہ کو لے کر یہاں سے چلا جاؤں گا اور واپسی کی امید مت رکھئے گا مجھ سے ۔ ۔
عباس تنک کر بولا تھا کہ وہ اپنے ارادے سے انہیں پہلے آگاہ کر رہا تھا
" تم ایسے کیسے کر سکتے ہو عباس ۔ ۔ تم اس لڑکی کے لیے ہمیں چھوڑ دو گے ۔ ۔ ؟؟"
عباس کی بات سن کر وہ صدمے میں بولیں تھیں
میں ایسا ہر گز نہیں چاہتا ۔ ۔ مگر آپ مجھے اپنے رویے سے مجبور کر رہیں ہیں ۔۔

عباس نے ماں کا تقدس قائم رکھتے ہوئے اپنی حتمی بات کہتے ہوئے سر دار بی بی کو بہت کچھ باور کروایا اور سختی سے بھینچی ہوئی مٹھیوں کو کھولا اور حُرہ کا ہاتھ تھام کر وہاں سے نکل گیا۔

عباس کے نکلنے کے بعد سر دار شیر دل نے کاٹ دار نگاہوں سے سر دار بی بی کو دیکھا
بار بار اس لڑکی کے لیے اپنی نفرت کا اظہار کر کے تم اپنے بیٹے کو خود سے بدگمان کر رہی ہو بے
وقوف عورت ۔ ۔ "
وہ انہیں سخت نگاہوں سے دیکھتے غرائے تھے۔
میں منافقت نہیں کر سکتی۔ مجھے اس لڑکی سے نفرت ہے تو اظہار بھی نفرت کا ہی کروں گی ۔ ۔
وہ سر دار شیر ول کو بہت کچھ جتاتے ہوئے بولیں۔
میں منافقت نہیں کر رہا۔ ۔ مجھے بھی نفرت ہے اس لڑکی سے مگر مت بھولو کہ ہمارا بیٹا اسے بیوی کا درجہ دے چکا ہے اور جلد ہی وہ ہمیں وارث دینے والی ہے ۔ ۔ اور خبر داراب تم نے کوئی بکواس کی تمہیں قبول کرنا ہو گا ہر حال میں اس لڑکی کو ۔ ۔ سردار بی بی کے دوبارہ اب کھلتے دیکھ کر سردار شیر دل ہاتھ کے اشارے سے انہیں بولنے سے روک گئے اور تنبیہی نگاہوں سے دیکھتے بولے۔۔

میری بیٹی کا کیا ہو گا سردار جی ۔ ۔ ظلم کیا ہے آپ سب نے مل کر میری بیٹی کے ساتھ ۔ ۔ سردار شیر دل کی باتیں سن کر کب سے خاموش کھڑی نامہ نے جیٹھ کو دیکھتیں خاصی بلند آواز میں
بولیں۔
نورے ہماری بیٹی ہے ناعمہ ۔ ۔ اس کی ذمہ داری میری ہے ۔ ۔ میں اب کسی بھی تاخیر کے بغیر
جلد ہی عباس اور نورے کا نکاح کرواؤں گا ۔ ۔
سردار شیر دل نے سر جھکائے کھڑی نورے کو دیکھتے ہوئے سنجیدگی سے کہا۔
ابھی آپ نے حکم دیا کہ اس لڑکی کو عباس کی بیوی کے طور پر قبول کر لیں کیونکہ وہ عباس کے بچے کی ماں بننے والی ہے۔اور اب آپ کیسے کہہ رہے ہیں کیا ابھی بھی عباس سے مید رکھوں کہ عباس
میری بیٹی کو اپنائے گا ۔ ۔ ؟؟
ناعمہ ، دھیمی آواز میں بولیں تھیں۔
تو کیا چاہتی ہو تم ۔ ۔ ؟ ختم کرنا چاہتی ہو رشتہ ۔ ۔ ؟ کیا تم یہ نہیں جانتی کہ جب ہمارے خاندان کی لڑکی کا ایک بار جس شخص سے رشتہ طے ہو جائے پھر چاہے کچھ بھی ہو جائے ۔ رشتہ ختم نہیں کر سکتے ۔۔

بیشک ساری زندگی بھی وہ مرد اس لڑکی کو نہ اپنائے مگر اس لڑکی کی ساری زندگی اسی کے نام پر کٹتی
ہے۔۔
سر دار شیر دل نے انہیں اپنے خاندان کے سخت اصول یاد کروائے جنہیں وہ پہلے سے جانتی تھیں
آپ لوگوں نے میری یتیم بچی کے ساتھ ظلم کیا ہے ۔ ۔
وہ گم صم کھڑی نورے کو دیکھتی روتی ہوئی بولیں۔
نہیں ہو گا ظلم نورے کے ساتھ ۔ ۔ اسلام میں مرد کو چار شادیوں کی اجازت ہے تو کیا ہو گیا اگر ہم عباس کی دوسری شادی نورے سے کر دیں ۔۔ تم جانتی ہو ۔ ۔ عباس جب اس دشمن کے خاندان کی
لڑکی کے ساتھ زیادتی نہیں کر سکا اور اسے اس کے سارے حقوق دیے توکیا وہ نورے کے ساتھ کوئی زیادتی کر سکتا ہے بھلا۔۔
سر دار شیر دل کہتے ہوئے آخر میں ناعمہ سے سوال کر گئے تو وہ ان کی یقین دلانے پر خاموش ہو گئیں۔

وہ کمرے میں آکر بیڈ پر ٹک گئی تھی مگر وقفے وقفے سے عباس کے غصے میں تلملائے چہرے کو دیکھ لیتی تھی جو صوفے پر بیٹھا انگوٹھے اور ایک انگلی سے اپنے سر کو دبا رہا تھا کافی دیر گزر گئی تھی مگر کمرے

میں ہنوز خاموشی چھائی ہوئی تھی عباس کے چہرے سے صاف دیکھائی دے رہا تھا کہ وہ کس قدر پریشان ہے حُرہ نے کچھ سوچتے ہوئے عباس کی جانب قدم بڑھائے حُرہ کے قریب آنے پر عباس نے سر اٹھا کر اسے دیکھا اور نرمی سے کلائی تھام کر اسے اپنے برابر صوفے پر بیٹھا لیا
آ آ آپ پریشان نہ ہوں سب ٹھیک ہو جائے گا ۔ ۔ !"
عباس کے کاندھے پر سر رکھتے ہوئے حُرہ نے مدھم آواز میں کہا تو عباس نے اثبات میں سر ہلاتے ہوئے حُرہ کے بالوں پر لب رکھ دیے
اور حُرہ آپ بھی پلیز کسی بات کی ٹینشن نہیں لیں گی ۔ ۔ !!ماں جی کے رویے کو اگنور کریں ۔ ۔ جب ہمارا بچہ دنیا میں آئے گا تو وہ خود بخود ٹھیک ہو جائیں گی ۔ ۔ "
عباس نرمی سے اسے سمجھاتے ہوئے اس کی کمر سلا ہاتا
جی ۔ ۔ ۔
حُرہ نے سر ہلاتے ہوئے کہا۔

آپ نے کبھی میرے نام کا مطلب نہیں پوچھا ۔ ۔ کیا آپ کو معلوم ہے میرے نام کا مطلب

عباس اب حرہ کا دھیان بٹاتا ہوا اسے باتوں میں لگا رہا تھا
" مجھے تو نہیں پتہ مطلب ۔ ۔ ؟ "
حُرہ نے ذرا سا عباس کے کاندھے سے سر اٹھاتے ہوئے شرمندگی سے کہا حُرہ کی معصومیت پرعباس کے لبوں پر مسکراہٹ بکھری
عباس عربی زبان کا لفظ ہے اور اس کا مطلب ہے شیر ۔ ۔ !
عباس ، حُرہ کا سر اپنے سینے سے لگاتے ہوئے گویا ہوا
واؤ ۔ ۔
بے ساختہ حُرہ کے منہ سے نکلا
"آپ پر بلکل سوٹ کرتا ہے ۔ ۔ نام ۔ ۔ اور مطلب ۔
حُرہ مزید گویا ہوئی تو عباس کی مسکراہٹ گہری ہوئی یقیناً یہ اسی کا دیا گیا اعتماد تھا کہ حُرہ آرام سے اس سے بات کر رہی تھی ورنہ وہ اتنا خاموش رہتی تھی کہ وہ اسے باتیں کرنے کے لیے اکساتا تھا
اور جانتی ہیں میں نے ایک بات سوچی ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ؟

عباس اب اس کے چہرے پر خوشی دیکھتے ہوئے مزید گویا ہوا
"کیا ۔ ۔ ؟ "
حُرہ نے ابروا چکاتے ہوئے پوچھا
" میں اپنے بیٹے کا نام حیدر رکھو گا ۔ ۔ اور حیدر کا مطلب بھی شیر ہے ۔ ۔ !" عباس اپنے ہی جوش میں بولا تھا جبکہ اس کی بات پر حُرہ کے لب سکڑے تھے جنہیں فوراً عباس نے
نوٹ کیا اور پوچھا
"کیا ہوا ۔ ۔ ؟ "
" بب بیٹا نہ ہوا ۔ ۔ اگر بیٹی ہوئی تو ۔ ۔ ؟
حُرہ نے ڈرتے ہوئے پوچھا
پھر تو بیٹے سے بھی زیادہ خوشی ہو گی مجھے ۔ ۔ "
عباس نے حُرہ کے ماتھے پر لب رکھتے ہوئے لبوں پر گھری مسکراہٹ سجائے کہا تو عباس کی بات سن
کر خرہ نے اطمینان کا سانس لیا۔

" آپ بہت اچھے ہیں ۔ ۔ !" بے ساختہ حُرہ نے کہا
"جانم ۔ ۔ ۔ !"
عباس مسکراتے ہوئے اس کا نام پکارتے ہوئے والہانہ انداز میں حُرہ کے مسکراتے چہرے پر جھک گیا اور بے اختیار ہونے لگا۔۔۔۔

وہ اپنے آفس میں کرسی کی پشت سے ٹیک لگائے آنکھیں موندے بیٹھا تھا جب سے وہ عباس کے ولیمے کی تقریب سے آیا تھا تب سے اس لڑکی کی سرخ آنکھیں وہ اداس چہر ہ اسے نہیں بھول رہا تھا آسمانی رنگ کے ہلکے کام والے جوڑے میں دوپٹہ سر پر اوڑھے وہ سرخ و سفید رنگت والی لڑکی جو جتنی خوبصورت تھی اتنی ہی اداس بھی تھی عالیان نے کبھی لڑکی کے بارے میں اتنا نہیں سوچا تھا جتنا وہ اس اداس خوبصورت چہرے والی کے بارے میں سوچ رہا تھا جو اسے محض چند لمحوں کے لیے دیکھائی دی تھی پھر تو وہ ساری تقریب میں اسے ڈھونڈتا رہا تھا مگر وہ اسے پھر نظر نہیں آئی تھی مگر کل سے وہ جانے کیوں بے چین ہو رہا تھا۔۔

اس کی زندگی میں لڑکی صرف ایک صورت میں آتی تھی وہ بھی گرل فرینڈ کی حیثیت سے ورنہ اسے تو اپنی ماں کی شکل بھی یاد نہیں تھی بچپن سے اسے صرف باپ کا رشتہ ملا تھا یا پھر اس کی زندگی میں عباس اور احمد جیسے دوست تھے جو بھائیوں سے بھی بڑھ کر تھے عباس اور احمد کی اچھی صحبت کا اثر تھا کہ اب عالیان کم ہی برے کاموں میں پڑتا تھا بلکہ اب تو اپنے باپ کے بزنس کو مینڈل کر رہا تھا
حسین مگر او اس لڑکی ۔ ۔
آنکھیں میچے ہی عالیان کے لبوں نے حرکت کی تھی وہ نہیں جانتا تھا کہ وہ کون ہے کیا نام ہے اس لڑکی کا مگر عالیان نے اسے یہی نام دے دیا تھا اور اب وہ اپنی اس حرکت پر مسکرایا تھا جب تک اس اداس لڑکی کے چہرے پر مسکراہٹ نہ دیکھ لیتا اس کے بے چین دل کو قرار نہیں آنا تھا کچھ سوچتا ہوا
وہ اپنا کوٹ اٹھا کر اپنے آفس سے نکلتا چلا گیا۔

عباس کافی دنوں سے شہر نہیں آیا تھا کال پر اس نے کچھ دن حویلی رہنے کا بتایا تھا عالیان نے کچھ سوچتے ہوئے گاڑی کا رخ عباس کے گاؤں کی سمت کیا سارے راستے وہ اسی اداس لڑکی کو سوچتا رہا مگر جب حویلی پہنچ کر وہ گاڑی سے نکلا تو اب یہ پریشانی ہوئی کہ عباس سے اس لڑکی کے بارے میں کیسے پوچھے گا وہ تو اس لڑکی کا نام بھی نہیں جاتا تھا جانے عباس اس لڑکی کو جانتا بھی ہوگا یا نہیں اور وہ عباس سے اس لڑکی کا کس طرح پوچھے گا۔

" صاحب آپ مردان خانے میں بیٹھیں ۔ ۔ سر کار کو پیغام بھیجوا دیا ہے وہ آتے ہی ہوں گے ۔ ۔ " ایک ملازم نے نہایت مؤدب ہو کر عالیان کو کہا تو عالیان بغیر کوئی جواب دیے اس وسیع و خوبصورت قدیم حویلی کو دیکھتے ہوئے آگے بڑھنے لگا جب اس کی نگاہ اوپر ایک کھڑکی کے کھلے پٹ پر پڑی اور عالیان کے قدم وہی زمین میں جم گئے مگر عالیان کو کھلی کھڑکی کے پاس کھڑی اس اداس لڑکی کو دیکھ کر خوشگوار حیرت ہوئی بے اختیار اس کے لب مسکرائے مگر وہ لڑکی پر دے برابر کر کے وہاں سے اوجھل ہو چکی تھی اور یکدم عالیان کو بے چینی نے آن گھیرا ابھی تو وہ اسے ملی تھی اور ایک لمحے بعد ہی
پھر سے کھو گئی۔

صاحب چلیں ۔ ۔ ؟ ؟
ملزم نے اسے ایک ہی سمت کھڑے دیکھ کر اس بلند آوازمیں پکارا ور ایان نے چونک کراسے دیکھا اور پھر بند کھڑکی کو دیکھا مگر وہاں اب وہ موجود نہیں تھی مایوسی سے عالیان نے سر جھٹکا اور حویلی کے اندر جانے کے بجائے اپنی گاڑی کی جانب بڑھ گیا وہ ملازم حیرت زدہ اسے گاڑی حویلی سے لے
جاتا دیکھتا رہ گیا۔

یہ کیا کہہ رہے ہیں بابا سر کار آپ ۔ ۔ ؟؟ "
سردار شیر دل کی بات سنتے ہی عباس نے افسوس سے انہیں دیکھتے ہوئے پوچھا
وہ دونوں اس وقت حویلی کی بیٹھک میں موجود تھے ملازم نے اسے عالیان کی آمد کی خبر دی تھی تبھی وہ یہاں آیا تھا مگر عالیان ملے بغیر واپس چلا گیا تھا اور اب بابا جان نے اسے جو بات بولی تھی اسے سن کر
عباس بے یقینی سے انہیں دیکھ رہا تھا
" عباس میں پھر سے اپنی بات دہرا دیتا ہوں ۔ ۔"
سر دار پر سکون انداز میں بولے تھے کیونکہ وہ جانتے تھے عباس ان کا فرمانبر دار بیٹا ہے وہ کبھی ان کی
بات سے انکار نہیں کرے گا
ہم چاہتے ہیں تمہاری اور نورے کی شادی مزید تاخیر کے بغیر جلد از جلد ہو جانی چاہیے ۔ ۔ " وہ عباس کے حیرت زدہ تاثرات دیکھتے ہوئے پھر سے بولے جبکہ عباس نے ان کی بات سن کر نفی
میں سر ہلایا
بابا سر کار میری شادی ہو چکی ہے ۔ ۔ "
عباس نے دھیمے انداز میں جتاتے ہوئے کہا تو سر دار شیر دل مسکرائے۔

★★★★★
0.0 (0 ratings)
0 shares

ہم جانتے ہیں بیٹے ۔ ۔ وہ تمہاری نظر میں شادی ہے مگر ہماری نظر میں کوئی حیثیت نہیں اس رشتےکی۔۔
حتمی انداز میں وہ بولے تھے جبکہ عباس کو شدت سے احساس ہوا تھا کہ وہ ان سب کی سوچ نہیں بدل
سکتا۔۔۔
کسی کی نظر میں میرے اور حُرہ کے رشتے کی حیثیت ہویا نہ ہو میرے خدا کے نزدیک بہت ہے ۔ ۔
اس لیے مجھے فرق نہیں پڑتا ۔ ۔
عباس نے خفا سے لہجے و انداز میں کہا
آپ جتنے بھی دلائل دے دیں مری بات فرموش نہیں ہوسکتی کہ وہ ایک خون بامیں آئی ہے ۔
سر دار شیر دل نے اس مرتبہ ذرا بلند آواز میں کہا جبکہ ان کے الفاظ عباس کے دل میں چبھے تھے حُرہ کے لیے ایسے الفاظ سننا بلاشبہ اس کے لیے مشکل تھا
با با پلیز ۔ ۔

عباس اس لڑکی کی کبھی بھی نورے جتنی حیثیت نہیں ہو سکتی ۔ ۔ نورے ہمارا خون ہے ۔ ہمارے چھوٹے بھائی کی اکلوتی بیٹی ۔ ۔ بچپن سے تمہارے نام کے ساتھ منسوب ہے وہ بچی ۔ ۔ دشمن کی بیٹی کے ساتھ انصاف کرتے کرتے کیا تم اس لڑکی کے ساتھ نا انصافی کرو گے جس نے بچپن سے تمہارے
علاوہ کسی کو سوچا تک نہیں ۔
سر دار شیر دل کی آواز کرخت تھی جبکہ ان کے لہجے میں نورے کے لیے دکھ تھا
یہ آپ کو پہلے سوچنا چاہئے تھا بابا سر کار ۔ ۔ حُرہ کے ساتھ آپ نے ہی میرا نکاح کروایا تھا ۔ ۔ اس وقت آپ کو اپنے بھائی کی اولاد کا خیال نہیں تھا ۔ ۔
نا چاہتے ہوئے بھی عباس تلخ ہو گیا تھا
مجھے نہیں معلوم تھا کہ تم اُس دو ٹکے کی لڑکی کو بیوی مان لو گے۔
وہ خاصی حقارت سے بولے تھے جبکہ عباس نے بمشکل ان کے الفاظ برداشت کیے تھے
بابا سر کا ر جب نکاح ہوا ہے تو بیوی تو وہ بن گئیں نا میری ۔ ۔ اگر ان کے حقوق میں کوتاہی کروں تو
خدا کے آگے جوابدہ ہوں میں ۔ ۔
الفاظ چبا کر ادا کرتا وہ مٹھیاں بھینچے گویا ہوا تھا۔۔۔

تو نورے کا کیا عباس ۔ ۔ ؟؟ ۔ اس کو ٹھکرا کر کیا خدا کے آگے جوابدہ نہیں ہو گے تم ۔ ۔ ؟" وہ اس کا چہرہ دیکھتے سوال کر رہے تھے
نورے چچا سر کار کے بعد آپ کی ذمہ داری ہیں بابا سر کار ۔ ۔ میرا نورے کے ساتھ اگر نکاح ہوا ہو تا تو بیشک وہ میری ذمہ داری ہوتیں مگر حُرہ میری ذمہ داری ہیں کیونکہ حُرہ میری بیوی ہیں ۔ ۔ اس لیے میں حُرہ کے ساتھ ہوئی زیادتی کا خدا کے آگے جوابدہ ہوں ۔ ۔ کسی اور کی وجہ سے میں اپنی بیوی کی
حق تلفی نہیں کر سکتا ۔ ۔
عباس جیسے جیسے بول رہا تھا سر دار شیر دل کا غصہ بڑھتا گیا
کیسی حق تلفی ۔ ۔ ؟ اتنا تو سر چڑھا لیا ہے تم نے اس لڑکی کو ۔ ۔ "
وہ پھر دھاڑے تھے
میں نے انہیں سر نہیں چڑھایا ۔ ۔ بلکہ میں جو بھی کرتا ہوں ان کے لیے ۔ ۔ وہ میرا فرض اور ان کا حق
ہے۔۔
عباس ہنوز سنجیدگی سے ان کی بات کا دھیمی آواز میں جواب دے رہا تھا
تو عباس آپ میرے فیصلے سے انکار کر رہے ہیں ۔ ۔ ؟؟

دبے دبے غصے سے وہ بولے
میں آپ کی کسی حق بات سے انکار نہیں کر سکتا بابا سر کار ۔ ۔ مگر میں دوسری شادی نہیں کرنا چاہتا
عباس ان کے غصے کو دیکھنا نہایت پر سکون ہو کر گویا ہوا تھا
آخر مسئلہ کیا ہے دوسری شادی میں ۔ ۔ ؟ ؟ میں کون سا تمہیں اس لڑکی کو چھوڑنے کو کہہ رہا ہوں ۔ ۔
اس بار وہ جھنجھلاہٹ کا شکار ہوئے تھے کیونکہ عباس کے ارادے انہیں پختہ لگ رہے تھے
مگر میں پر بھی نہیں کرسکتا ۔ اس بار
عباس نے ان کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا تو وہ دھاڑے
وجہ ۔ ۔ ؟؟
بس نہیں کرنا چاہتا ۔ ۔ عباس نے چند الفاظ میں ہی بات ختم کی۔۔

تم خاندانی اصولوں کو جانتے ہو نا نورے کی تمہارے علاوہ کسی سے شادی نہیں ہو سکتی ۔ ۔
اپنے فرمانبردار بیٹے کو دیکھتے وہ بہت کچھ یاد کرواتے ہوئے بولے
میں محض آپ لوگوں کے پست اور بے بنیاد بنائے گئے اصولوں کو مانتے ہوئے تو ہر گز نہیں آپ
کی بات مانوں گا ۔ ۔ عباس صاف گوئی سے بولا تھا جبکہ سردار شیر دل نے عباس کے پر سکون چہرے کو دیکھا
تو ٹھیک ہے پھر نورے تمہارے نام سے ساری زندگی حویلی میں بیٹھی رہے گی اور تم اپنی بیوی
بچوں کے ساتھ انصاف کرتے رہنا ۔ ۔
وہ خاصے جتاتے ہوئے بولے تھے جبکہ عباس نے نفی میں سر بلایا۔۔
با با سر کار آپ بے بنیاد باتوں کو اپنے خاندان کے اصول کی شکل دے کر مجھے نورے سے شادی کرنے کے لیے اکسا کر غلط کر رہے ہیں ۔ ۔ میں کبھی ایسا نہیں کروں گا ۔ ۔ بلکہ آپ اپنے بھائی کی بیٹی کے ساتھ ظلم کر رہے ہیں انہیں خاندانی اصولوں کی بھینت چڑھا کر ۔ ۔
بلاشبہ وہ نرم دل انسان تھا نورے کے لیے دل میں کبھی خاص جذبات تو نہیں رکھتا تھا مگر اس کے ساتھ اتنی بڑی زیادتی بھی نہیں ہونے دے سکتا تھا ۔۔

اگر فکر ہے نورے کی تو شادی کیوں نہیں کر لیتے تم اس سے ۔ ۔ کیونکہ اب خاندان میں تمہارے علاوہ کوئی بھی اس سے شادی نہیں کرے گا ۔ ۔ اور خاندان سے باہر تو ہم سوچ بھی نہیں سکتے ۔ ۔ عباس کو نورے کی فکر میں بولتا دیکھ کر وہ پوچھنے لگے تو عباس نے لب بھینچ لیے۔
آپ کے بنائے گئے اصولوں کی داستان سن کر تو اب میں کبھی بھی ان سے شادی نہیں کروں گا ۔ ۔ بات کرتے ہوئے عباس اٹھ کھڑا ہوا تھا جبکہ اس کا جذبات سے عاری انداز دیکھ کر سر دار شیر دل
ٹھٹک گئے۔
تو یہ تمار آخری فیصلہ ہے ۔
سر دانداز میں پوچھا گیا
جی ۔ ۔ ۔ !
عباس یک لفظی جواب دے کر آگے بڑھ گیا تھا مگر سردار شیر دل کے الفاظ سن کر عباس کے قدم تھم گئے۔۔

یہ بات یاد رکھنا ۔ ۔ ! نورے کے ساتھ ہوئی زیادتی کے ذمے دار پھر عباس تم ہو گے ۔ ۔ ! عباس کی پشت کو دیکھتے وہ تلخ انداز میں گویا ہوئے
مجھے یقین ہے بابا سر کار آپ اپنے بھائی کی بیٹی کے ساتھ زیادتی نہیں ہونے دیں گے ۔ ۔ " عباس بغیر مڑے بولا تھا اور اپنی بات مکمل کرتا وہ آگے بڑھ گیا جبکہ پیچھے کھڑے سردار شیر دل نے
اپنے لب بھینچ لیے۔

بہت دنوں سے عباس اس کے پاس حویلی میں ہی تھا اور کس قدر اس کا خیال رکھتا تھا خُرہ کو اپنی خوش نصیبی پر یقین نہیں میں آتا تھا کیا اتنے دکھوں کے بدلے ایسا صلہ بھی ملتا ہے عباس سے ملی اتنی محبت اور عزت کی وجہ سے حُرہ عباس سے بے پناہ محبت کرنے لگی تھی وہ اب عباس سے اپنا ہر دکھ بانٹنے لگی تھی جس کے بعد عباس محض اسے گلے لگا لیتا اور اسے رونے دیتا جب وہ خاموش ہوتی تو
عباس محض مسکرا کر اس کی پیشانی پر بوسہ دے کر اپنے ہونے کا احساس دلاتا اب عباس کی بدولت ہر طرح سے اسے حویلی میں آسائشیں مل رہی تھی حویلی کے ملازم سے لے کر سردار بی بی تک کوئی اسے منہ پر برا نہ کہہ سکتا تھا مگر حُرہ جانتی تھی سر دار بی بی کا دل اس کی طرف سے صاف نہیں ہوا اور پھر ناعمہ بھی زبان سے تو کچھ نہ بولتی مگر اس کی آنکھوں کی چبھن حُرہ کو محسوس ہوتی تھی۔

زندگی کی اتنی تلخیاں سہنے کے بعد وہ لوگوں کے چہرے پڑھنا سیکھ چکی تھی جانتی تھی کہ حویلی کے تمام مکین دل میں اس کے لیے قطعی گنجائش نہیں رکھتے یہ صرف عباس کا ساتھ ہے جس وجہ سے کوئی اسے کچھ نہیں کہہ سکتا تھا
حُرہ بی بی یہ پھل کھا لیں ۔ ۔ سردار نے سختی سے کہا ہے اس وقت آپ کو پھل دینے ہیں ۔ ۔ " وہ اس وقت عباس کا انتظار کرتے کرتے کمرے سے باہر نکل آئی تھی جب ناہید مؤدب سی ٹرے میں ایک باؤل رکھے اس کے سامنے کھڑی تھی جس میں چار پانچ طرح کے پھل کیوبز کی شکل میں کٹے ہوئے تھے حُرہ نے ایک نظر باؤل کو دیکھا اور ایک نظر ناہید کو دیکھا وہ پہلے کتنا ظلم کرتی تھی اس پر اور اب ایسے خیال رکھتی تھی اس کا جیسے اس کے علاوہ اس کا کوئی کام ہی نہ ہو اسی طرح کبھی کچھ لے کر حاضر ہو جاتی تھی تو کبھی کچھ لے کر آجاتی تھی اور اتنے مؤدب ہو کر کہتی کہ اب حُرہ کا دل اس کی طرف
سے بالکل صاف ہو چکا تھا۔
سر کا رکہاں ہیں ۔ ۔ ؟
حُرہ نے اس کی بات نظر انداز کرتے ہوئے اپنا سوال پوچھا
"وہ جی بڑے سر کار کے ساتھ ہیں ۔ ۔ "
ناہید نے با آوب کہا تو حُرہ نے سر ہلایا ۔۔؎

" بب بی بی آپ کمرے میں چل کر یہ کھا لیں ۔ ۔ ورنہ سر کار میرے پہ غصہ ہونگے ۔ ۔ " نورے کو حُرہ کی سمت آتا دیکھ کر ناہید نے اپنی سمجھداری سے کام لیتے ہوئے حُرہ کو کمرے میں بھیجنا چاہا کیونکہ نورے اگر حُرہ کو کچھ برا بولتی تو عباس نے اس پر غصہ کرنا تھا کیونکہ ڈاکٹر نے حُرہ کو ہر طرح کی پریشانی سے دور رہنے کا سختی سے کہا تھا مگر اس سے پہلے حُرہ کمرے میں جاتی نورے اس کے قریب
پہنچ گئی
سردار بی بی کے کمرے میں چائے دو جا کر تم ۔ ۔
حکمانہ انداز میں ناہید کو دیکھ کر کہتی اب نورے ، حُرہ کی جانب مڑی حُرہ بھی اس کی جانب متوجہ ہو چکی
" بب بی بی وہ میں حُرہ بی بی کو کمرے میں چھوڑ آؤں پھر دے آتی ہوں ۔ ۔ " ناہید نے سر جھکا کر کہا
"آپ جائیں میں چلی جاؤں گی روم میں ۔ ۔ !"
ناہید کی بات سن کر حُرہ نے فورا کہا اور نورے کو دیکھنے لگی جو خود بھی اسی کی جانب متوجہ تھی جبکہ ناہید فوراً جی کہتی وہاں سے جانے لگی جب نورے نے اسے پکارا۔۔

" جی بی بی ۔ ۔ ؟ " ناہید نے سر جھکائے کہا
" چھوٹے سر دار کہاں ہیں ۔ ۔ ؟
نورے نے ناہید سے پوچھا تو بے ساختہ حُرہ کے بڑھتے قدم تھے وہ اک پل کو وہیں کھڑی ہو گئی
بی بی وہ بڑے سردار کے ساتھ ہیں ۔ ۔
ناہید نے چند قدموں کے فاصلے پر کھڑی حُرہ کی جانب چور نگاہوں سے دیکھا
ہمم ۔۔
نورے ، حرہ کو نظر انداز کرتی آگے بڑھ گئی مگر حُرہ وہیں بے حس و حرکت کھڑی تھی جب ناہید نے
اسے پکارا
حُرہ بی بی ۔ ۔

ناہید کے پکارنے پر حُرہ چونکی اور سوالیہ نگاہوں سے اسے دیکھنے لگی
" وہ بی بی جی کمرے میں چلیں ۔ ۔ ؟ "
ناہید نے حُرہ کے بے چین چہرے کو دیکھتے ہوئے پوچھا
حُرہ دور جاتی نورے کو دیکھتی غائب دماغی سے اپنے کمرے کی جانب بڑھ گئی۔۔۔۔۔

یار تو حویلی آیا تھا اور ملے بغیر ہی واپس چلا گیا سب خیریت تھی نا ۔ ۔ ؟؟" عباس آہستہ آہستہ چلتا اپنے کمرے کی جانب بڑھ رہا تھا جب اس نے عالیان کو کال ملا کر فون کان
سے لگالیا عالیان کے کال پک کرتے ہی عباس نے سوال کیا اک پل کو تو عالیان بوکھلا گیا
یار تو اتنے دن سے آیا نہیں تو تیری یاد آگئی تھی ۔۔ لیکن پھر کال آگئی ڈیڈ کی ۔ ۔ تو بس آفس پہنچا تھا
جلدی میں بہانہ بناتے ہوئے عالیان نے کہا تو عباس خاموش ہو گیا۔۔

احمد سے کوئی بات ہوئی ہے کیا تمہاری کیس کے بارے میں ۔ ۔ ؟ ؟ " عباس کو عالیان کا بات بنا نا محسوس ہوا تھا تبھی تشویش ہونے پر پوچھا
نہیں میری کیس کے بارے میں احمد سے کوئی بات نہیں ہوئی ۔۔ سب ٹھیک ہے نا کچھ پتہ چلا ہے
کیا ۔ ۔ ؟ "
عباس کی بات پر عالیان چونکا اور پھر پریشانی سے پوچھنے لگا
نہیں وہ ایچولی میری کافی دن سے احمد سے عابی کے کیس کے متعلق بات نہیں ہوئی اس لیے تم سے پوچھا ۔ ۔ "عابی کے ذکر پر عباس کے دل میں پھانس سی چبھی وہ بوجھل قدم اٹھا تا یکدم رک گیا کیونکہ
نورے اسے اپنے قریب آتی دیکھائی دی تھی
ہمم چل بعد میں بات کرتا ہوں ۔ ۔
الوداعی کلمات ادا کرتا وہ کال کاٹ چکا تھا۔۔

السلام م علیکم
نورے کے سلام کرنے پر عباس نے سر ہلایا اور نگاہیں کا رخ دوسری سمت کر لیا۔

وہ مجھے آپ سے ایک ایمپورٹنٹ بات کرنی ہے !'
نورے عباس کو دیکھتی پھر گویا ہوئی
" جی جی بولیں ۔۔؟"
عباس نے اثبات میں سر ہلاتے ہوئے اسے اجازت دی
" مجھے ماسٹرز میں ایڈمیشن لینا ہے ۔۔ تایا سردار نہیں مانیں گے ۔۔ آپ کی ہیلپ کی ضرورت ہے ۔۔"
نورے نے دوپٹہ سر پر درست کرتے ہوئے دھیمی آواز میں کہا عباس کی مدد سے ہی اس کی پڑھائی جاری تھی ورنہ خاندان کی لڑکیوں کو کہاں اجازت تھی ہمیشہ وہ عباس سے کہتی تھی پھر وہ سردار شیر دل سے اجازت لے دیتا تھا ابھی بھی سارے مسائل کو ایک طرف رکھتے ہوئے نورے نے عباس سے مدد لینے کا سوچا تھا کیونکہ وہ جانتی تھی عباس کی سپورٹ کے بعد کوئی کچھ نہیں کے گا
" آپ بے فکر رہیں میں فارم لے آؤں گا ۔۔ بابا سرکار منع نہیں کریں گے ۔۔ "
عباس نے نرمی سے کہتے ہوئے سرسری نگاہ نورے پر ڈالی
" تھینکس ۔۔!"
نورے شکریہ ادا کرتی آگے بڑھ گئی تو عباس بھی قدم بڑھانے لگا
عباس کمرے میں داخل ہوا جہاں حُرّہ کمرے میں تیز تیز چکر کاٹ رہی تھی حُرّہ کی اس حرکت پر عباس کے ماتھے پر بل پڑے وہ موبائل جیب میں رکھتا حُرّہ کی جانب بڑھا
" حُرّہ میری جان کیا ہو گیا ہے ۔۔ ؟"
حُرّہ کی کلائی تھام کر اسے روکنے کو آگے بڑھا مگر حُرّہ اچانک آواز پر ڈر پر پیچھے ہونے لگی جب اس کا پاؤں مڑا اس سے پہلے وہ گرتی عباس نے اس کی کمر نرمی سے اپنے شکنجے میں لی اور نہایت نرمی سے پوچھا جبکہ حُرّہ یکدم عباس کی آمد پر بوکھلا گئی
" آ آپ ۔۔!"
عباس کے سوال پر حُرّہ خاموش ہو گئی اسے اب احساس ہوا کہ عباس کے اتنا خیال رکھنے اور احتیاط کے باوجود وہ ابھی کیا لاپرواہی کر چکی تھی ندامت کے باعث اس نے سر جھکا لیا
" ایٹس اوکے جانم ریلیکس رہیں ۔۔ !"
ہنوز لہجہ اور انداز نرمی لیے ہوئے تھا عباس کے اس قدر نرم رویے پر بے ساختہ آنسو حُرّہ کی آنکھوں سے بہنے لگے
" جانم اس میں رونے والی کیا بات ہے ۔۔ کوئی بات نہیں ۔۔ یہ سوچا کریں آپ کے وجود میں بہت ننھی سی جان ہے ۔۔ بس خیال کیا کریں ۔۔ !"
لہجہ اور انداز ہنوز نرمی لیے ہوئے تھا مگر اس مرتبہ عباس کی آواز تھوڑی بلند تھی
" اا ایم سوری ۔۔"
حُرّہ نے ہچکیاں بھرتے ہوئے کہا تو عباس نے اس کے ماتھے پر اپنے لب رکھ لیے تو حُرّہ اس کی گرفت میں ذرا سی کسمائی تھی
" اب کیا ہوا ۔۔؟"
عباس نے حیرت زدہ ہو کر پوچھا
" آپ کی مونچھیں چبھی ہیں ۔۔ "
حُرّہ نے بے اختیار منہ بسور کر کہا تو عباس کا جاندار قہقہہ فضاء میں بلند ہوا حُرّہ بھینپ گئی اور خفت مٹانے کو منہ عباس کے کشادہ سینے میں چھپا گئی
" اب بتائیں میری جان کو کیا پریشانی تھی ۔۔ ؟"
حُرّہ کو نرمی سے کاندھوں سے تھام کر عباس نے سنجیدگی سے پوچھا تو حُرّہ کے لب کاٹے
" کیا بات ہے حُرّہ ۔۔؟"
حُرّہ کے سرخ لبوں پر اپنے ہاتھ کا انگوٹھا پھیرتے ہوئے عباس نے اس کے معصوم چہرے کو دیکھا
" آپ اتنے اچھے کیسے ہیں ۔۔ کیا کوئی اتنا اچھا بھی ہو سکتا ہے ۔۔ آپ کو کبھی غصہ نہیں آتا ۔۔ ؟"
عباس کے چہرے کو قریب سے دیکھتی وہ بھیگی آواز میں پوچھ رہی تھی
ایسا نہیں ہے کہ حُرّہ نورے کی وجہ سے پریشان ہو گئی تھی کیونکہ وہ جانتی تھی عباس کبھی اس کے ساتھ ناانصافی نہیں کرے گا ہاں بے چین ہوئی تھی مگر عباس کے اتنے نرم رویے پر وہ چاہ کر بھی کوئی ایسی بات نہیں کرنا چاہتی تھی جو اس کے اور عباس کے درمیان کشیدگی پیدا کرے
" اب میں اپنی تعریف اپنی زبان سے کیسے کروں ۔۔ جانم آپ نے کر دی اتنا بہت ہے ۔۔ "
عباس نے چہرے پر شرارت سجائے کہا تو حُرّہ مسکرانے لگی
" خیر یہ بتائیں سیدھی طرح کوئی مسئلہ تو نہیں ہے نا ۔۔ ؟ کسی بات کی پریشانی ۔۔؟"
عباس جانتا تھا حُرّہ کا اس کے سوا دنیا میں کوئی نہیں ہے وہ ہر طرح سے حُرّہ کا خیال رکھتا تھا تاکہ حُرّہ بے جھجک کوئی بھی بات یا اپنی پریشانی اس سے بانٹ سکے تبھی نہایت نرمی سے دوبارہ پوچھا
" جس لڑکی کے نصیب میں آپ جیسا ہمسفر ہو ۔۔ اس کا ہر درد و دکھ کا مداوا ہو جاتا ہے ۔۔ جانتے ہیں کیوں ۔۔ ؟"
عباس کے وجود سے اٹھتی خوشبو کو محسوس کرتی حُرّہ بے خودی میں بول رہی تھی جبکہ عباس چہرے پر گہری مسکراہٹ سجائے حُرّہ کے چہرے کو دیکھ رہا تھا حُرّہ کے سوال کرنے پر عباس نے بھویں اور کاندھے اچکائے
" کیونکہ آپ خوبصورت ثواب ہیں جو خدا نے امتحانوں کے ثمر کے طور پر مجھے دیے ہیں ۔۔ "
عباس کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیتی حُرّہ خوش دلی سے بولی جبکہ عباس مسکراتے چہرے سمیت اسے دیکھ رہا تھا
" مجھے خدا سے بہت شکوے تھے ۔۔ میرے بابا اور ماں جب مجھے چھوڑ کر گئے تو میں اپنے مرنے کی دعا بھی کرتی تھی ۔۔ "
روندی آواز میں بولتے ہوئے حُرّہ چند لمحوں کے لیے رکی جبکہ عباس کے مسکراتے لب سکڑے
" مم مگر اب خدا کا بے انتہا شکر ادا کرتے ہوئے اپنی آخری سانس تک آپ کے ساتھ گزارنا چاہتی ہوں ۔۔ "
کہتے ہوئے حُرّہ نے سر عباس کے کاندھے پر ٹکا لیا عباس کو پل پل احساس ہوتا تھا کہ حُرّہ نے کس قدر محرومی اور سختی کی زندگی گزاری تھی
" حُرّہ میری جان کبھی بھی خود کو اکیلا مت سمجھیے گا ۔۔ میں ہر اچھے برے وقت میں آپ کے ساتھ ہوں ۔۔ "
عباس نے حُرّہ کے گرد اپنے بازو حمائل کرتے ہوئے محبت سے کہا
" آپ کے بغیر مر جاؤں گی میں ۔۔ "
حُرّہ نے بھی اپنے بازو عباس کے گرد حائل کرتے ہوئے کہا تو عباس نے تڑپ کر اسے دیکھا جو آنکھیں موندے اس کے کاندھے پر سر رکھے کھڑی تھی
" پلیز حُرّہ ۔۔ ایسے نہیں کہیں ۔۔ !"
عباس نے خفگی سے کہا تو حُرّہ کے لب مسکرائے
" جو حکم سرکار ۔۔!"
ذرا سا چہرہ بلند کر کے عباس کو دیکھتے ہوئے حُرّہ نے مسکرا کر کہا تو عباس نے بھی مسکراتے ہوئے اسے خود میں مزید بھینچ لیا۔

وہ اپنا ماسٹرز میں ایڈمیشن کروا کر شہر سے حویلی واپس جا رہی تھی صبح عباس ہی اسے شہر لے کر آیا تھا مگر پھر مصروفیت کے باعث اس نے نورے کو ڈرائیور کے ساتھ واپس حویلی بھیج دیا وہ ابھی گاڑی میں بیٹھی حُرّہ اور عباس کے بارے میں ہی سوچ رہی تھی
حُرّہ اور عباس کے رشتے کی نوعیت ہر ایک پر یہی بات واضح کر چکی تھی کہ حُرّہ ، عباس کے بچے کی ماں بننے والی تھی اور یہ بات سوچتے ہی نورے کے دل میں پھانس سی چبھ رہی تھی اور گود میں دھری ہوئی ہتھیلیاں آنسوؤں سے تر ہو رہیں تھی
نورے وہ لڑکی ہے جس کا دکھ وہ دکھ ہے جسے معاشرے کی وہ لڑکیاں محسوس کر سکتیں ہیں جنہیں ٹھکرا دیا جاتا ہے وہ شخص جسے بچپن سے محبت کی ہو ، اس کے ساتھ کے خواب آنکھوں میں سجائے ہوں اسی کو کسی دوسرے کی دسترس میں دیکھنا کس قدر تکلیف دہ ہوتا ہے یہ وہی جانتا ہے جو اس اذیت ناک لمحوں سے گزر رہا ہوتا ہے مگر وہ ایک حقیقت پسند اور صابر لڑکی تھی جس نے اس بات کو خاموشی سے قبول کیا تھا ورنہ اگر وہ واویلا کرتی اور جذبات سے کام لیتی تو یقیناً اپنا نقصان کر بیٹھتی مگر اس نے سب کچھ خدا پر چھوڑ دیا تھا وہ جانتی تھی خاندان کے سخت اصولوں کے باعث وہ ساری زندگی عباس کے نام پر گزارے گی کیونکہ عباس کبھی بھی اسے نہیں اپنائے گا عباس کی آنکھوں میں حُرّہ کے لیے محبت وہ پہلی نگاہ میں ہی محسوس کر چکی تھی عباس کی نگاہ میں اسنے اپنے لیے ہمیشہ عزت و احترام دیکھا تھا مگر حُرّہ کے لیے اس کی آنکھوں میں محبت تھی
ایک سرد آہ بھرتے ہوئے اس نے اپنی نم آنکھیں کھڑکی کے باہر مرکوز کر لیں اور شہر کی رونقیں دیکھنے لگی کچھ ہی دیر گزری تھی کہ گاڑی ایک جھٹکے سے گزری
" کیا ہوا بابا جی ۔۔؟"
نورے نے یکدم پریشانی سے ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھے ڈرائیور سے پوچھا
" معلوم نہیں بی بی جی ۔۔ اچانک کیا ہو گیا ۔۔ "
ڈرائیور نے خود بھی پریشانی سے کہا
" بابا جی چیک کریں گاڑی کیوں رک گئی اچانک ۔۔ ؟"
نورے نے آس پاس اکا دکا گاڑیاں گزرتے دیکھ کر خاصی گھبراہٹ سے دوبارہ کہا تو ڈرائیور جی کہتا گاڑی سے نکل گیا جبکہ نورے نے چادر کو درست کرتے ہوئے گاڑی کی کھڑکی سے آس پاس نگاہ دوڑانے لگی کافی دیر گزر گئی تھی جب نورے نے گاڑی کا شیشہ کھولتے ہوئے ڈرائیور کو دیکھا جو گاڑی چیک کر رہا تھا
" کیا ہوا بابا جی ۔۔ ؟ کتنی دیر لگے گی ۔۔؟"
چہرے پر چادر سے نقاب کرتے ہوئے نورے نے پوچھا
" بی بی جی پتہ نہیں کیا خرابی ہو گئی ہے ۔۔ آپ فکر نہیں کریں میں چھوٹے سردار کو کال کرتا ہوں ۔۔ وہ آپ کو لے جائیں گے ۔۔ "
ڈرائیور نے نورے کا گھبرایا ہوا انداز دیکھتے ہوئے سر جھکائے کہا تو نورے نے محض سر ہلانے پر اکتفا کیا مگر جانے کیوں اسے انجانے سے خوف نے آن گھیرا جب سے عابی کے ساتھ وہ الم ناک سانحہ ہوا تھا اس وقت سے ایسے خوف اسے اپنے گھیرے میں لیے رکھتے تھے
" بی بی جی سرکار کال نہیں اٹھا رہے ۔۔ "
ڈرائیور نے گاڑی کے پاس آ کر نورے سے کہا تو نورے مایوسی سے سڑک پر آس پاس اکا دکا گاڑیوں کو دیکھنے لگی
" بابا گاڑی ٹھیک نہیں ہو سکتی کیا ۔۔؟"
نورے نے کچھ فاصلے پر کھڑے ڈرائیور کو پھر سے مخاطب کیا اس کی آواز میں خوف واضح تھا
" بی بی جی دیر لگے گی ۔۔ کیونکہ مکینک کو دیکھانی پڑے گی ۔۔ "
ڈرائیور کے کہنے پر نورے نے سر ہاتھوں میں گرا لیا
" یا اللہ مجھے اس مشکل سے نکال دیں ۔۔ کسی کو محسن بنا کر بھیج دیں ۔۔ عباس ہی آ جائیں پلیز ۔۔ "
بمشکل بہتے آنسوؤں کو روکتے ہوئے وہ دل میں دعائیں کرنے لگی مگر دل زور و شور سے دھڑک رہا تھا جب ایک بڑی کالے رنگ کی گاڑی ان کی گاڑی کے آگے آکر رکی نورے نے فوراً سر اٹھا کر ایک خوش شکل وجہہ مرد کو گاڑی سے نکل کر ان کی گاڑی کہ سمت بڑھتے دیکھا اس اچانک افتاد پر نورے یک ٹک اسی کو دیکھے گئی جو پینٹ پر نیلی شرٹ پہنے اجلے چہرے پر کالے چشمے لگائے ہلکی مسکراہٹ چہرے پر سجائے نورے تک پہنچ چکا تھا وہ ضروری میٹنگ سے واپس آ رہا تھا جب بے خیالی میں نگاہ سڑک پر موجود گاڑی میں بیٹھی اسی اداس چہرے والی لڑکی پر پڑی جو اسے اب وہ مسلسل سوچا کرتا تھا ایک لمحہ ضائع کیے بغیر عالیان نے گاڑی روکی اور نورے کی جانب بڑھتے ہوئے خدا کا شکر ادا کیا جس نے اسے اس اداس چہرے والی لڑکی سے ملا دیا تھا ورنہ وہ اسی کشمکش میں ہی تھا کہ عباس سے کیسے اس کے بارے میں پوچھے
" کیا ہوا میڈم ۔۔ کین آئی ہیلپ یو ۔۔ ؟"
ڈرائیور کو مکمل نظرانداز کرتا وہ نورے کے اداس و خوبصورت چہرے پر نگاہیں جمائے خوش دلی سے پوچھ رہا تھا اپنے چہرے پر عالیان کی نگاہیں محسوس کرتے ہی نورے نے اپنے چہرے پر چادر سے پھر سے نقاب کر لیا اور خشک لبوں کو تر کیا
" کیا آپ انگریزی نہیں سمجھتی ۔۔ ؟"
عالیان نے بھرپور سنجیدگی کا مظاہرہ کرتے مصنوعی افسردگی سے پوچھا جبکہ عالیان کی بات سن کر نورے پہلے سٹپٹائی پھر غصے سے عالیان جو تکنے لگی جو اسے ان پڑھ سمجھے ہوئے تھا جبکہ وہ تو ابھی اپنا ایم اے انگریزی میں داخلہ کروا کر آرہی تھی
" میرا مطلب ہے محترمہ ۔۔ آپ کو شاید میری مدد کی ضرورت ہے ۔۔ ؟"
نورے کی جانب سے مکمل خاموشی پر عالیان نے اپنی بات کا ردوبدل کرتے ہوئے پھر سے کہا تو نورے نے چہرہ موڑ کر اسے نظرانداز کیا
" کیا آپ کو اردو بھی سمجھ نہیں آتی ۔۔ یا خدا مجھے تو پشتو بھی نہیں آتی ۔۔ "
نورے کے چہرہ موڑنے پر عالیان مسکراہٹ لبوں پر سجائے خاصی بلند آواز میں اسے تنگ کرنے کی غرض سے بولا جبکہ اس کی بات سن کر نورے نے ماتھے پر بل ڈالے اسے گھورا جو بلاوجہ ہی اس سے فری ہو رہا تھا
" صاحب تم جاؤ یہاں سے ۔۔ خبردار اگر ہماری بی بی کو پریشان کیا ۔۔ جانتے نہیں ہو کہ کون ہیں یہ ۔۔ "
ایک اجنبی کو مسلسل نورے سے مخاطب ہوتا دیکھ کر ڈرائیور نے خاصی بلند آواز میں عالیان کو دھمکی دی
" وائے قسمت ۔۔ مائی گڈنس ۔۔ کیا تمہاری بی بی گونگی ہے ۔۔ ؟؟"
عالیان نے پہلے مصنوعی افسردگی اور پھر خوشی کا مظاہرہ کرتے ہوئے آخر میں ڈرائیور کو مخاطب کیا جبکہ اس کی بات پر نورے کو سامنے کھڑے شخص پر شدید غصہ آیا
" ہمیں آپ کی کوئی مدد نہیں چاہیے ۔۔ آپ مہربانی کریں اور اپنے راستے چل پڑیں محترم ۔۔ "
لفظ چبا کر ادا کرتے ہوئے نورے خاصی جھنجھلا کر بولی تو عالیان کے لبوں پر سجی مسکراہٹ گہری ہوئی
" اوہ میں تو کچھ اور ہی سمجھ رہا تھا لیکن آپ تو ماشااللہ بہت شیریں آواز میں بول لیتی ہیں ۔۔ یہ الگ بات ہے کہ الفاظ تیر کی مانند ہیں ۔۔ مگر آپ کے دیے گئے تیر بھی خوش دلی سے قبول ہمیں ۔۔ "
کالا چشمہ اتار کر ہاتھ میں لیتے ہوئے عالیان نے نورے کی چادر میں چھپے ہوئے چہرے کو تکتے ہوئے مسلسل مسکراتے ہوئے کہا جبکہ نورے کو اس پر شدید غصہ آیا مگر خاموش رہی
" مجھے لگتا ہے آپ کی گاڑی خراب ہو گئی ہے ۔۔ آپ چاہیں تو میں آپ کو آپ کی منزل تک پہنچا سکتا ہوں ۔۔ "
اس مرتبہ عالیان نے قدرے سنجیدگی سے کہا
" بہت شکریہ آپ کا ۔۔ لیکن میں آپ کو تکلیف دینا نہیں چاہتی ۔۔ آپ جا سکتے ہیں ۔ "
عالیان کو پہلی مرتبہ سنجیدہ دیکھتے ہوئے نورے نے بھی نارمل انداز میں کہا
" دیکھیں آج کل کے حالات ایسے نہیں ہیں کہ میں آپ کو اکیلا سنسان سڑک کے بیچ چھوڑ دوں ۔۔ آپ بھروسہ کریں مجھ پر ۔۔ عباس کے گھر کی عزت ہیں آپ ۔۔ اور عباس میرا بھائی ہے ۔۔ "
عالیان نے ہنوز سنجیدگی سے کہا نورے نے عباس کے نام پر چونک کر اسے دیکھا
" میں نے عباس کی حویلی میں آپ کو دیکھا تھا ۔۔ اگر ابھی بھی انسکیوئر ہیں آپ تو آپ کا ڈرائیور گاڑی ڈرائیور کر لے گا ۔۔ "
عالیان نورے کی ناسمجھی کو سمجھتے ہوئے گویا ہوا
" بی بی جی جیسا آپ حکم کریں ۔۔ ؟"
عالیان کی بات پر ڈرائیور نورے سے مخاطب ہوا کیونکہ ان کی گاڑی تو فی الحال ٹھیک نہیں ہو سکتی تھی
" آپ یقین کر سکتی ہیں مجھ پر ۔۔ "
عالیان نے مضبوط لہجے میں کہا تو نورے اپنا پرس ہاتھ میں لے کر سورتیں پڑھ کر خود پر پھونکتی گاڑی سے نکل گئی جبکہ ڈرائیور گاڑی لاکڈ کرتا عالیان کی گاڑی کی جانب بڑھ گیا عالیان نے آگے بڑھ کر نورے کے لیے بیک ڈور کھولا تو وہ گاڑی میں سوار ہو گئی جبکہ عالیان ڈرائیور کے ساتھ براجمان ہو گیا
" کیا نام ہے آپ کا ۔۔ ؟"
عالیان کے پوچھنے پر کھڑکی سے باہر جھانکتی نورے نے چونک کر عالیان کو دیکھا
" آپ نے مدد کی اس کے لیے شکریہ ۔۔ اس سے زیادہ آپ امید نہ رکھیں مجھ سے ۔۔"
نورے نے دوٹوک الفاظ میں کہا تو عالیان نے لب بھینچ لیے
" آپ کی انسکیورٹی سمجھ سکتا ہوں ۔۔ خیر ایم سوری ڈئیر ۔۔ !"
عالیان نے نورے کے لیے دیے رویے پر سر ہلاتے ہوئے کہا اور پھر تمام سفر بلکل خاموشی سے کٹا حویلی پہنچ کر ڈرائیور نے عالیان کی شرافت سے متاثر ہوتے ہوئے بہت سی دعاؤں اور شکریہ کے ساتھ رخصت کیا جبکہ نورے گاڑی سے اتر کر ایک نگاہ بھی عالیان پر ڈالے بغیر حویلی میں داخل ہو گئی جبکہ عالیان اس کی پشت ہی تکتا رہ گیا
//////////////////////////
" خدا جانے کیسا کالا علم کر دیا میرے بچے پہ اس منحوس لڑکی نے ۔۔ جب سے آئی ہے ۔۔ میرا بیٹا ہی مجھ سے چھین لیا ہے ۔۔ میرا تو رہا ہی نہیں میرا بیٹا ۔۔ وہ جو ہر وقت ماں ماں کرتا تھا اب ماں کی ہر بات سے اسے اختلاف ہوتا ہے ۔۔ بس ہر وقت اس خون بہا میں آئی لڑکی کی خدمت میں لگا رہتا ہے ۔۔ جیسے وہ انوکھی اور پہلی عورت ہے جو بچہ پیدا کر رہی ہے ۔۔ "
عباس پچھلے چند دن سے شہر گیا ہوا تھا حُرّہ کو بہت سمجھا کر مگر جانے کیوں عباس کے بغیر کچھ اچھا ہی نہیں لگتا تھا اور حویلی والوں کو تو ویسے بھی حُرّہ کا وجود کھٹکتا تھا ابھی بھی وہ تھوڑی دیر کے لیے کمرے سے باہر نکلی تھی کہ سردار بی بی نے اسے دیکھتے ہی طنز و طعنوں کے تیر چلانا شروع کر دیے حُرّہ نے ان کی بات ان سنی کی اور ڈائننگ ہال میں داخل ہو کر کرسی پر براجمان ہو گئی
" یہ دن بھی آنے تھے کہ دو ٹکے کے لوگوں کے ساتھ بیٹھ کر کھانا کھانا پڑ رہا ہے ۔۔ "
سردار بی بی پھر سے پھنکاری تھی ان کی بات پر وہاں پہلے سے موجود ناعمہ اور نورے نے حُرّہ کے بے تاثر چہرے کو دیکھا جبکہ ناہید نے بھی پہلے پریشانی کے عالم میں سردار بی بی کو دیکھا پھر حُرّہ کو جو سر جھکائے گم صم بیٹھی تھی
" اے ناہید اس نواب زادی کو کمرے میں کھانا دیا کر ۔۔ بے وجہ ہمارا دن اس کی منحوس شکل دیکھ کر شروع ہوتا ہے ۔۔ "
وہ مسلسل حُرّہ کو حقارت سے دیکھتی پھنکار رہیں تھی ان کے الفاظ حُرّہ کو سر جھکانے پر مجبور کر رہے تھے
" بی بی جی ۔۔ چھوٹے سرکار کا حکم ہے ۔۔ حُرّہ بی بی کو حویلی میں کوئی پریشانی نہیں ہونی چاہیے ۔۔"
ناہید نے سر جھکائے سردار بی بی کو عباس کی باتیں یاد کروائیں جو مسلسل حُرّہ کو اپنے الفاظ سے تکلیف دے رہیں تھیں
" تو کیا سر پر بیٹھا لیں ۔۔ ؟؟"
سردار بی بی کرسی دھکیلتی اٹھ کھڑی ہوئیں اور ناہید کو دیکھتی غرائیں جبکہ حُرّہ سہم کر اپنی کرسی سے اٹھ گئی
" اے لڑکی بات سن ۔۔ بہت برداشت کر لیا ہم نے تجھے ۔۔ اب مزید نہیں ۔۔ میری بیٹی کی جگہ تو ہی کیوں نہیں مر گئی ۔۔ ارے مجھ سے تو میرا بیٹا ہی چھین لیا ۔۔ "
اس مرتبہ وہ حُرّہ کو دیکھتی غرائیں جبکہ حُرّہ ان سے تیزی سے دور ہوئی تا کہ وہ اسے کوئی نقصان نہ پہنچا سکیں
" سردار بی بی بلکل ٹھیک کہہ رہیں ہیں ۔۔ جب سے ہماری زندگی میں آئی ہے ایک دن سکون کا نہیں ملا ہمیں ۔۔ میری بیٹی کے حق پر ڈاکا مارا ہے اس نے ۔۔ میں کبھی معاف نہیں کروں گی تمہیں ۔۔ دیکھنا کبھی خوش نہیں رہ پاؤ گی تم ۔۔ جیسے میری بیٹی ویران زندگی گزار رہی ہے نا ایسے ہی تم بھی رہو گی ۔۔ کسی کی خوشیاں چھین لینے کے بعد تم کیسے خوش رہ سکتی ہو ۔۔ "
ناعمہ بھی آج اپنے دل کی بھڑاس حُرّہ کو تنہا پا کر نکال رہی تھی جبکہ ان کے الفاظ سن کر حُرّہ کا چہرہ آنسوؤں سے تر ہو گیا
" ماں پلیز ایسے نہیں کہیں ۔۔ "
حُرّہ کو بے آواز روتا دیکھ کر نورے نے انہیں التجائیہ انداز میں کہا
" ناعمہ بلکل ٹھیک کہہ رہی ہے نورے ۔۔ اسی لیے تمہارے ہاتھ خالی ہیں اس لڑکی جیسی چلاکیاں جو نہیں ہیں تم میں ۔۔ دیکھتی نہیں ہو میرا وہ بیٹا جو نگاہ اٹھا کر نہیں دیکھتا تھا کسی کو ۔۔ اب اس جادوگیرنی سے نگاہ ہی نہیں ہٹتی اس کی ۔۔ "
نورے کے چہرے پر حُرّہ کے لیے ہمدردی دیکھ کر سردار بی بی مزید غصے میں دھاڑیں جبکہ نورے نے افسوس سے سر جھکا لیا اور حُرّہ دوپٹے سے پرنم چہرہ صاف کرتی ہال سے نکلنے لگی
" میری بیٹی کی خوشیوں کے راستے پر حائل ہو تم ۔۔ اگر تم چلی جاؤ سردار کی زندگی سے تو میری بیٹی کی حصے کی خوشیاں مل جائیں اسے ۔۔ ذرا دیکھو مڑ کر میری بیٹی کا اداس چہرہ ۔۔ کیا ایسے میں تم خوش رہ پاؤ گی ۔۔ "
ناعمہ کے الفاظ نے حُرّہ کے آگے بڑھتے قدم روک دیے وہ مڑ کر نورے کو دیکھنے لگی
" ارے ناعمہ اس مکار لڑکی سے امید لگا رہی ہو تم ۔۔ بھول ہے تمہاری ۔۔ یہ عباس کا پیچھا چھوڑے گی ۔۔ ارے جانتی نہیں ہو تم ایسی مکار لڑکیوں کو ۔۔ جانے کیا کیا ادائیں دیکھائی ہیں میرے بیٹے کو ۔۔ مجھے تو یقین ہے یہ بدکردار لڑکی ہے ۔۔ اور یہ بچہ بھی میرے بیٹے کا نہیں ہے ۔۔ "
وہ اپنے الفاظ سے حُرّہ کے سینے میں چھید کر رہیں تھیں حُرّہ نے تڑپ کر انہیں دیکھا جو اس پر بہتان لگا رہیں تھیں
" میں ہمیشہ آپ کی ہر بات پر خاموش رہی ہوں مگر اب بات میرے کردار کی ہے تو ۔۔ میری پاکیزگی میرا خدا جانتا ہے ۔۔ مجھے کسی کو اپنے کردار کی صفائیاں دینے کی ہرگز ضرورت نہیں ۔۔ رہی بات آپ کو آپ کی بات کا جواب دینے کی ہے تو سن لیں اگر میرا کردار مشکوک ہوتا تو آپ کا بیٹا اتنا غیرت مند تو ہے ہی جو اگر میں آپ کی کند سوچ کے مطابق ہوتی تو وہ مجھے ہرگز اتنی عزت کے ساتھ کبھی حویلی میں نہ شریک حیات کے طور پر نہ رکھتا ۔۔ "
سپاٹ چہرہ بلند کیے اپنی آنکھیں بھی سردار بی بی کی آنکھوں میں گاڑے حُرّہ پہلی مرتبہ بلند آواز میں مضبوط انداز میں بولی تھی کہ سردار بی بی سمیت وہاں موجود تمام نفوس ہونقوں کی طرح اسے بولتے دیکھ رہے تھے
" تمہاری اتنی ہمت تم میرے سامنے زبان چلا رہی ہو ۔۔ ؟؟"
ماحول پر چھایا سکوت سردار بی بی کی کرخت آواز نے توڑا جبکہ حُرّہ ہنوز سپاٹ چہرہ لیے انہیں دیکھ رہی تھی
" میں تو محض بات کر رہی ہوں سردار بی بی ۔۔ "
حُرّہ نے کاندھے پر ڈالی شال پر گرفت مضبوط کرتے ہوئے عام سے انداز میں کہا
" تمہاری اوقات ہے ہم سے بات کرنے کی ۔۔ ؟"
سردار بی بی غضب ناک تاثرات لیے اس کی سمت بڑھیں جبکہ حُرّہ حلق تر کرتے ہوئے دو قدم پیچھے ہوئی
" بب بی بی جی ۔۔ !"
ناہید بوکھلا کر حُرّہ کے قریب آئی اسے سردار بی بی کے تاثرات خاصے خطرناک لگے
" اے ناہید تو ہٹ جا اس کے آگے سے ۔۔ !"
ناہید کو دیکھتے ہی سردار بی بی چیخیں
" کیا کیا بکواس کر رہی تھی تو میرے سامنے ۔۔ ؟؟ تیری اتنی جرات کے تو میرے ۔۔ گاؤں کی سردار بی بی کے سامنے بکواس کر رہی تھی ۔۔ "
سردار بی بی انگشت شہادت سے اپنی جانب اشارہ کرتے ہوئے غرائیں ان کے تاثرات دیکھ کر حُرّہ مزید چند قدم ان سے دور ہوئے
" تو بدکردار ہے ۔۔ ہم نہیں مانتے کہ یہ بچہ جس کے نام سے تو میرے بیٹے کو بےوقوف بنا رہی ہے وہ ہمارا خون ہے ۔۔ "
انہوں نے چنگھاڑتے ہوئے حُرّہ کو جھنجوڑ کر دھکا دیا مگر اس سے پہلے وہ حُرّہ کا سب سے بڑا نقصان اسے اس قدر جارحانہ انداز میں دھکا دے کر کرتیں کہ دو مضبوط ہاتھوں نے اسے اپنی مضبوط گرفت میں بھر لیا حُرّہ بے تحاشہ خوفزدہ ہو کر عباس کو بنا دیکھے اس کے سینے سے لگ گئی مگر وہ اس کی خوشبو سے ہی پہچان گئی تھی کہ اس کو نقصان سے بچانے والا اس کا محسن اس کا شوہر عباس ہی ہے جبکہ عباس حُرّہ کے گرد اپنے بازؤں کا گھیرا بنائے پتھرائے تاثرات لیے کھڑا تھا وہ باآسانی حُرّہ کا لرزتا وجود محسوس کر رہا تھا خود بھی تو اس کا دل کانپ گیا تھا اگر وہ وقت پر نہ آتا تو کیا ہو سکتا تھا
عباس کی اچانک آمد پر وہاں موجود ہر نفوس کو جیسے سانپ سونگھ گیا سردار بی بی نے عباس کے پتھرائے ہوئے تاثرات دیکھے تو یکدم گھبرا گئیں اسی وقت سردار شیر دل حویلی میں داخل ہوئے تمام مکینوں کی وہاں موجودگی اور پھر عباس سے لپٹی لرزتی ہوئی حُرّہ کو دیکھ کر وہ ٹھٹھک گئے
" عباس کیا ہوا ۔۔؟؟ تم کب آئے ۔۔؟"
سردار شیر دل کی آواز نے خاموشی میں اشتعال برپا کیا
" یہ تو مجھے آپ سے پوچھنا چاہیے بابا سرکار ۔۔ کہ میری غیر موجودگی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے آپ کے ہوتے ہوئے میری بیوی کے ساتھ یہ کس طرح کا سلوک رواں رکھا گیا ہے آپ کی حویلی میں ۔۔ "
عباس حُرّہ کے گرد اپنا بازو حمائل رکھے ہوئے سپاٹ انداز میں بولا تو سردار شیر دل کی پیشانی پر بل پڑے
" یہ صرف میری حویلی نہیں ہے ۔۔ آپ وارث ہیں ہمارے ۔۔ اور اب آپ کی اولاد وارث ہے اس حویلی کی ۔۔ "
سردار شیر دل ، عباس کی بات کا جواب نہایت سنجیدگی سے دیتے ہوئے حُرّہ کو دیکھنے لگے جو ان کی آمد پر عباس کی گرفت سے نکلنا چاہتی تھی مگر عباس نے ایک بازو سے اسے اپنے گھیرے میں لیے رکھا تھا
" وہ اولاد جسے میری ہی ماں جب چاہے گالی دے دیتیں ہیں بابا سرکار ۔۔ وہ اولاد جسے ابھی میری ہی ماں ختم کرنا چاہتیں تھیں اپنے فعل سے ۔۔ "
عباس اس مرتبہ سردار بی بی کو دیکھتے ہوئے کرب سے بولا تھا اس کی بات پر سردار شیر دل نے سردار بی بی کو دیکھا تو وہ گھبرا کر پیچھے ہوئیں
" کیا کہہ رہے ہو یہ ۔۔ ؟؟"
سردار شیر دل نے عباس سے پوچھا وہ لب بھینچ گیا
" میں نے کچھ غلط نہیں کیا عباس ۔۔ یہ تمہاری اولاد نہیںںں ۔۔"
ابھی سردار بی بی بول ہی رہیں تھیں کہ عباس نے تڑپ کر انہیں دیکھا
" خدا کا واسطہ ماں جی ۔۔ میری اولاد کے متعلق ایسے الفاظ بول کر مجھے تکلیف مت دیں ۔۔ "
عباس نے حُرّہ کو اپنے کاندھے سے جدا کرتے ہوئے اس کی کلائی تھامتے ہوئے کمال ضبط سے کہا
" عباس تم سمجھتے کیوں نہیں ہو ۔۔ میں ہرگز اس لڑکی کو تمہاری بیوی کی حیثیت سے قبول نہیں کر سکتی ۔۔ "
عباس کے چہرے پر اذیت کے تاثرات محسوس کرتے ہوئے اس مرتبہ سردار بی بی آہستگی سے بولیں سردار شیر دل نے ملامت بھری نگاہوں سے انہیں دیکھا وہ معاملے کو کافی حد تک سمجھ چکے تھے
" ٹھیک ہے ماں ۔۔ میں آپ کو مزید اذیت سے دوچار نہیں کروں گا ۔۔ "
عباس نے حُرّہ کی کلائی چھوڑ کر سردار بی بی کے قریب جا کر ان کے ہاتھ کو عقیدت سے اپنے ہاتھوں میں لے کر لبوں سے لگایا
" عباس ۔۔ !"
سردار بی بی نے اسے پکارا
" خیال رکھیے گا ماں اپنا ۔۔ میں چکر لگاتا رہوں گا ۔۔ "
سردار بی بی کی پیشانی پر بوسہ دیتے ہوئے وہ بولا اور پھر حُرّہ کا ہاتھ تھام لیا
" کیا کرنا چاہ رہے ہو عباس ۔۔ ؟؟"
سردار شیر دل نے ٹھٹھک کر پوچھا
" میں اب کوئی رسک نہیں لے سکتا بابا سرکار ۔۔ اب حُرّہ وہاں رہیں گیں جہاں میں رہوں گا ۔۔ "
عباس سرسری سا کہتا حُرّہ کو اپنے ساتھ لگائے جیسے اچانک حویلی آیا تھا ویسے ہی اچانک سب کو حیرت ۔۔زدہ چھوڑ کر جا چکا تھا
 

Create an account or login to read stories

You must be a member in order to leave a comment

Create account

Create an account on our community. It's easy!

Log in

Already have an account? Log in here.

New posts
Back
Top