قسط نمبر11
ریاض عاقب کوہلر
میں سرعت سے بولا۔”نہیں،لیکن کب تک اکٹھے رہ سکتے ہیں۔ جلد از جلد انڈیا سے نکلنا میری مجبوری ہے۔ جتنی دیر ہوگی میری پریشانیوں میں اضافہ ہو گا۔ تمھارا ساتھ کتنا ہی پیارا اور سہانا سہی ،عارضی ہے۔تو کل بچھڑنے سے آج علیحدہ ہو جانا بہتر ہے۔باقی انڈیا سے نکلنے کو مجھے زیرزمین حلقوں سے روابط رکھنا ہوں گے اور تمھاری صورت ایسی ہے کہ وہ مجھے انڈیاکے بجائے دنیا سے نکالنے پرتل جائیںگے۔“
”یہ روابط ممبئی جاکر ڈھونڈیں گے نا،وہاں تک تو ساتھ جا سکتی ہوں،پھر....“ اس نے سسکی بھرتے ہوئے فقرہ ادھورا چھوڑ دیا۔
” تمھیں مجھ سے کئی گنا اچھا، وجیہہ ،خوب صورت ،اور پیار کرنے والا رشتہ مل سکتاہے۔کوئی ایسا جو تمھارا ہم مذہب بھی ہو۔“
”پر مجھے تو جان چاہیے نا۔“ وہ پھٹ پڑی۔
افسوس بھری نظروں سے گھرتے ہوئے میں نے نفی میں سرہلایا۔ ”ناممکن۔“
وہ ہکلائی۔ ”مم.... میں اپنا دھرم تبدیل کر لوں گی۔“
”میں شادی شدہ ہوں۔“
وہ ہٹ دھرمی سے بولی۔”مسلمان مردچار شادیاں کر سکتاہے۔“
میں زچ ہوا۔ ”ہمارے ہاں یوں شادیاں نہیں ہوا کرتیں۔ایک تمھیں اپنا کر ساری برادری سے علیحدہ ہونا پڑے گا۔ سعدیہ میرے چچا کی بیٹی ہے۔ چچا بھی وہ جس نے ہمیں باپ بن کر پالاہے ۔ ان کی مرضی کے بغیر میں اتنا بڑا قدم کیسے اٹھا سکتا ہوں۔“
”مجھے ساتھ لے جاﺅ آپ کے پورے پریوار کو راضی کرلوں گی۔“
”شیتل پلیز۔“ میں دونوں ہاتھوں سے سر پکڑلیا۔
وہ مجھ پر ترس کھاتے ہوئے بولی۔”اچھا وچن دیںممبئی تک مجھے ساتھ لے جائیں گے،آگے آپ کی مرضی۔“
جانتا تھا کہ وہ ممبئی تک مجھے منانے کو پورا زور لگائے گی۔میں اسے ٹھا کر کے پاس چھوڑنے کا فیصلہ کر چکا تھا۔ وعدہ کرنے پرتوڑنا پڑتا،اس لیے ذومعنی لہجے میں بولا۔
”اچھا کوشش کرتا ہوں۔“
وہ مصر ہوئی۔ ”پکاوچن دیں۔“
میرا سرنفی میں ہلا۔ ”ہو سکتا ہے حالات ہمیں بمبئی سے پہلے جدا کردیں۔“
”مگر آپ جان بوجھ کر....“اچانک دروازے پر دستک ہوئی اور اس کی بات ادھوری رہ گئی۔
”آجاﺅ۔“ میں مسہری سے اٹھ کر کرسی پر آن بیٹھا۔
ٹھاکرائن تینوں بچوں کے ہمراہ اندرآئی۔چھوٹی بیٹی کے ہاتھوں میں چائے کی ٹرے تھی۔
ہم نے کھڑے ہو کر استقبال کیا۔
”بیٹھو بچو۔“ٹھاکرائن نے شفقت سے کہا۔”ٹھاکرکو تھانے گئے ہوئے کافی دیر ہو گئی ہے۔پتا نہیںکب لوٹیں گے۔ بتا رہے تھے کل آپ چلے جائیںگے۔ سوچا تھوڑی گپ شپ کرلیں اور اکٹھے چائے بھی پی لیں۔“
میں متبسم ہوا۔”شکریہ خالہ۔“
ٹھاکرائن گلوگیر ہوئی۔”شکریہ تو آپ کاادا کرنا ہے پُتر،کہ ہمارے پریوار کی سہائتا کی۔ٹھاکر جی کو کچھ ہو جاتا تو جانے ہمارا کیا ہوتا۔“
”یہ تو ہمارا فرض تھا خالہ۔“ میں نے ایسے موقع پراستعمال ہونے والا گھسا پٹا فقرہ دہرا یا۔ ”ٹھاکر چچا کی جگہ کوئی اور ہوتا تب بھی ہم یہی کرتے۔“
چھوٹی لڑکی نے ہمیں چائے کی پیالیاں پکڑائیں۔پرکاش قریباًََ میرا ہم عمر تھا وہ چور نظروں سے بار بار شیتل کو گھور رہا تھا۔ظالم مردوں کی مت ماردیتی تھی۔
”بھیا !آپ چند دن رک نہیں سکتے۔“پرکاش ملتجی ہوا۔
میرا سرنفی میں ہلا۔ ”آج بھی ٹھاکر چچا کے اصرار پررکے ہیں۔“
ٹھاکرائین مصر ہوئی۔”پُتر!ایسی بھی کیا تیزی ہے ۔“
”خالہ کچھ مجبوریاں بتائی نہیںجا سکتیں۔“
ٹھاکر کی بڑی بیٹی شوخ ہوئی۔ ” آپ نے اتنی خوب صورت دولھن کہاں سے ڈھونڈی۔“
شیتل کا چہرہ حیا سے گل نار ہو گیا تھا۔
چھوٹی نے لقمہ دیا۔ ”ہم نے پرکاش بھیا کے لیے ایسی ہی دولھن ڈھونڈنی ہے۔“
میں نے مذاق کیا۔”اتنی ہی پسند ہے تو یہی رکھ لو۔“
تمام کا قہقہ بلند ہوا۔ شیتل مجھے غصے سے گھورنے لگی۔
پرکاش نے چوٹ کی۔ ”غصہ کیوں ہو بھابی!جان بھیا سچ میں تمھیں تھوڑی چھوڑنے لگے ہیں ۔“
ٹھاکرائن نے ٹوکا۔” ایسا نہیں کہتے پتر!“
پرکاش نے صفائی دی۔”یونھی مذاق کر رہا تھاماں جی!“
شیتل نے بدلہ چکایا۔”ہم اتنے بے تکلف کب سے ہو ئے۔“
بات چیت مذاق سے لڑائی کومڑنے لگی۔میں نے فوراََ موضوع تبدیل کیا۔
”دونوں میں للیتا کون ہے اور کامنی کون ہے۔“
ٹھاکر کی چھوٹی بیٹی جلدی سے بولی۔”میں کامنی ہوں بھیا۔“
”اور میں للیتا۔“ بڑے والی مجھے گہری نظروں سے دیکھتے ہوئے لجائی۔ دونوں ماں پر گئی تھیں۔ ہلکی سانولی رنگت، لمباقد، بھوری آنکھیں۔ متناسب جسم۔ کسی بھی مرد کوبا آسانی اسیر کرلیتیں۔ لیکن شیتل کی موجودی میں ان کی دال نہیں گل سکتی تھی۔
”کیا شغل ہیں؟“
للیتا نے جواب دیا۔”پڑھتی ہیں۔“
میں مستفسرہوا۔”یہاں سکول ہے؟“
للیتا نے کہا۔”شانتی نگر میں ہے۔ہم وہیں خالہ کے ہاں رہتی ہیں۔اب سردیوں کی چھٹیوں پر گھر آئی ہیں۔“
”اور آپ؟“ میں پرکاش کی طرف متوجہ ہوا۔
”اندرا گاندھی نیشنل اوپن یونیورسٹی میں انگریزی ادب میں ماسٹر کر رہا ہوں ۔“
اسی وقت ٹھا کررنجیت سنگھ کمرے میں داخل ہوا۔
”شما چاہتا ہوں مجھے ذرا دیر ہو گئی۔“ اس نے میرے ساتھ نشست سنبھالی۔
میں نے پوچھا۔”لاشیں لے آئے ہیں۔“
”دھرمو اور گوبند کی لاشیں تو پڑی تھیں،اپنے ساتھیوں کی لاشیں ڈاکو لے گئے تھے۔تھانیدار کے لیے چھٹی بھی چھوڑ گئے ہیں کہ آج رات شانتی نگر کے تھانے کی اینٹ سے اینٹ بجانے آئیں گے۔“
میرے سوال جاری رہے۔”اس بارے تھانیدار کا کیا کہنا ہے؟“
”وہ موقع پر موجود نہیں تھا۔“
میں متفکر ہوا۔” انھیں میرے بارے تو کچھ نہیں بتایا۔“
اس نے نفی میں سرہلایا۔” دہلی سے شکار کو آئے تین جوانوں نے میری سہائتاکی۔وہ تھانے کچہری کے چکرمیں نہیں پڑنا چاہتے تھے تبھی واپس چلے گئے۔“
میں نے اطمینان سے سر ہلادیا۔
کامنی نے معصومیت سے پوچھا۔”بھیا!ڈاکوﺅں کو مار کر آپ نے جرم تو نہیں کیاکہ پولیس سے چھپتے پھریں۔“
میں بے چارگی سے بولا۔”میں خود پولیس کو مطلوب ہوں۔“
پرکاش نے پوچھا۔”کیوں؟“باقی بھی سوالیہ نظروں سے مجھے گھورنے لگے۔
میں مسمسے لہجے میں بولا۔”سیٹھ زادی شیتل ہری چرن داس کو اغواءکرنے کے جرم میں۔“
تمام نے قہقہ بلند کیا۔شیتل بھی خوش دلی سے مسکرا دی تھی۔
اسی وقت ملازم اجازت مانگ کر اندر آیا۔”ٹھاکرجی! بھوجن تیار ہے۔یہیں پر لے آﺅں یا نیچے پروس دوں۔“
ٹھاکر بولا۔”نیچے ہی آرہے ہیں۔“ نوکر سر ہلاتا ہوا چلا گیا۔
میں نے کہا۔”ٹھا کر چاچا ہم نے تو ابھی کھانا کھایا ہے۔“
للیتا جلدی سے بولی۔ ”پانچ بجے کھایا تھا اور اب نو بجنے کو ہیں۔“
ٹھا کررنجیت سنگھ نے مشورہ دیا۔” ابھی گپ شپ کرتے ہیں،کھانا دیر سے کھالیں گے۔“
میں نے کہا۔ ” ہم گزشتہ رات بھی نہیں سو سکے اور صبح سویرے جانے کے لیےجلدی سونا پڑے گاتو بہتر رہے گا ابھی کھالیتے ہیں۔“
پرکاش ذومعنی لہجے میں بولا۔ ”واقعی،نیند لینا بہت ضروری ہے۔“
ٹھاکر نشست چھوڑتا ہوا بولا۔”تو چلیں۔“
کھانے کا کمرہ باورچی خانے کے ساتھ ہی تھا۔ شیتل میرے پہلو میں بیٹھ گئی۔ کھانے کے دوران رنجیت سنگھ نے لطائف کا پٹارہ کھولے رکھا۔کھانے کے بعد ملازم چائے لے آیا۔
”ٹھاکر چچا!جب تک یہ چائے پیتے ہیں ہم ذراچہل قدمی کرلیں۔ اس بہانے حویلی بھی دیکھ لوں گا۔“
وہ اثبات میں سرہلاتے ہوئے اٹھ گیا۔
باہر نکلے ہی میں بولا۔’ ’ آپ سے ضروری بات کرنی ہے۔“
وہ ہنسا۔”جانتا ہوں،تبھی تو چہل قدمی کے بہانے باہر لے آئے ہو۔“
” اگر میں کہوں مسلمان ہوں۔“
”پھر کہو گے کہ میرا نام عمر جان ہے اور میں بھارتی سرکار کو مطلوب ہوں اور میرے متعلق جان کاری دینے والے کو ڈیڑھ لاکھ انعام دیا جائے گا اور شیتل میری بیوی نہیں ہے وغیرہ وغیرہ ۔“
میں شاکی ہوا۔” انجان بننے کا ڈراما کیوں کیا؟“
اس نے صفائی دی۔” کیوں آپ اپنی پہچان چھپانا چاہتے تھے۔“
میں نے پوچھا۔” تمام میرے بارے جانتے ہیں ۔“
اس نے نفی میں سرہلایا۔”میرے علاوہ اخبار پڑھنے کا شوقین کوئی نہیں ہے۔“
” اخبار میںبھی سارا سچ نہیںہے۔ نہ میں جاسوس ہوں اور نہ تخریب کار۔ گھریلو مجبوری کی وجہ سے بھگوڑا ہوا اور راستہ بھول کر انڈیا آنکلا۔بھارت سرکار نے جاسوسی و دہشت گردی کے الزام لگا کر دھر لیا۔موقع ملنے پر بھاگ کھڑا ہوااور تب سے دردر کی ٹھوکریں کھا رہاہوں۔“
”بے شک تخریب کار کسی مظلوم کی سہائتا نہیں کرتے۔“
میں مطلب کی بات پر آیا۔”آپ مجھے ممبئی جانے کا آسان رستہ بتائیں اور شیتل کو اس کے پتا جی تک پہنچا دیں۔“
اس نے پوچھا۔”کس وقت جائیں گے ؟“
”ان شاءاللہ تین بجے روانہ ہوں گا۔“
”اگرسڑک کے ذریعے جاﺅ تو مانسر سے ممبئی کی گاڑی مل جائے گی قریباََ تیرہ چودہ سو کلومیٹر راستہ ہے ۔سڑک کے بغیر رستہ کافی لمبا ہے۔قریباََ اٹھارہ انیس سو کلو میٹر بنے گا۔محفوظ تو ہے مگرطویل ہے۔جھاجر، چرخی داری، جھاجو کلاں،چاندنی، ننوان، ستنالی،باس،پائلانی،مندریلا،گنگیاسر،بساﺅ،........“وہ تفصیل سے بتانے لگے۔
میں نے مطالبہ کیا۔”بہتر ہوگا پیدل راہ کا نقشہ بنا دیں۔“
اس نے اطمینان دلایا۔”جاتے وقت مل جائے گا۔“
باتیں کرتے ہوئے ہم حویلی کے پچھواڑے گھوڑوں کے طویلے کے پاس پہنچ چکے تھے۔وہاں ڈاکوﺅں کے گھوڑوں کے ساتھ ٹھاکر دو ذاتی گھوڑے بھی بندھے تھے۔
ٹھا کرنے کہا۔” گھوڑاپسند کرلو۔“
میں نے انتخاب اسی پر چھوڑ دیا۔”بس ڈاکوﺅں والا نہ ہو۔“
اس نے خلوص سے پوچھا۔”کچھ اور درکار ہو؟“
میں نے نفی میں سرہلایا۔” اب واپس چلیں، تاکہ تھوڑا آرام کر سکوں۔“
ٹھا کرمجھے کمرے تک پہنچا کر واپس مڑ گیا۔ شیتل بے چینی سے منتظر تھی۔
”کہاں گئے تھے۔“ اس کا انداز شکی مزاج محبت کرنے والی بیوی کا سا تھا۔
میں نے بات بنائی۔ ”حویلی دیکھ رہا تھا۔“
”دن کو دیکھتے۔“وہ معترض ہوئی۔
میں جواب دینے کے بجائے کمبل اور تکیہ اٹھا کرنیچے لیٹنے کی جگہ بنانے لگا۔
”کیا کررہے ہو؟“ وہ حیران رہ گئی تھی۔
”اندھی ہو۔“ میں نے کوٹ اتار کر کرسی پررکھااور کمبل میں گھس گیا۔فرش پر بچھے دبیز قالین نے میری مشکل آسان کر دی تھی۔
اس نے منہ بنایا۔” اتنی بڑی مسہری کس لیے ہے۔یا ڈاکٹر نے او پر سونے سے منع کیا ہے ۔“
”خاموشی سے لیٹ جاﺅ اور مجھے بھی سونے دو۔ صبح سویرے نکلنا ہے۔“
وہ نیچے اتری۔ ”مجھ سے ڈر لگتا ہے تو نیچے سو جاتی ہوں۔“
میں نے دھمکایا۔ ” اگر ضد کی تو ہماری راہیں ممبئی سے پہلے الگ ہو جائیں گی۔“
وہ برہم ہوئی۔” ایسا سوچنا بھی مت۔ اور مجھے کیا لیٹے رہیں فرش پر۔“
میں نے متبسم ہو کر سر کمبل میں کر لیا۔اگر دھمکی نہ دیتا تو اس نے میرے ساتھ لیٹنے کی ضد کرنا تھی۔ اور میں اپنی برداشت کا مزید امتحان نہیں لے سکتا تھا۔گزشتہ شب بھی کانٹوں پر گزری تھی۔آج بھی خواہشات کے ساتھ چومکھی نہیں لڑسکتا تھا۔
تمام سوچوں کو ذہن سے نکال کرمیں نے خیالات کو سونے پر مرتکز کیا تھوڑی دیر بعد ہی میں نیند کی مہربان آغوش میں پہنچ گیاتھا۔میری نیند دروازہ کھلنے کی آہٹ پراکھڑی۔ چہرے سے کمبل ہٹانے پر ٹھا کر نظر آیا۔ میں جلدی سے اٹھ بیٹھا۔وہ خاموشی سے واپس مڑ گیا۔ میں نے الماری سے مشین گن نکال کرکندھے پر لٹکائی اور جیکٹ پہن کرجانے کو تیار ہو گیا۔
شیتل نیند کی گہری وادیوں میں ڈوبی تھی۔موہنا چہرہ کمبل سے باہر تھااورمدہم بلب کی روشنی میں دمک رہاتھا۔ جی چاہا رخ روشن پر بہت سارے الوداعی نشان ثبت کر وں جودل کی تمام حسرتیں مٹا دیں لیکن دماغ چوکس تھا۔بے شک میرا فعل شیتل کو نہال کر دیتامیری تشنہ کامی بھی مراد پاتی لیکن منصوبہ ادھورا رہ جاتا۔ وہ پیر تسمہ پا کی طرح پہلے ہی چمٹی تھی یہ پیش قدمی اسے تقویت دے جاتی ۔ اس پر ایک الوداعی نظر ڈال کر میں باہر آگیا۔ ٹھاکر سیڑھیوں کے نیچے میرا منتظر تھا۔
میں نے دبے لہجے میں پوچھا۔ ” ٹھا کر چا چا تیاریاں مکمل ہیں۔“
اس نے اثبات میں سرہلایا۔ ”گھوڑا تیار ہے ،خرجی میں چند دن کا خشک راشن ،کپڑوں کا فالتو جوڑا اور تھوڑی سی رقم رکھ دی ہے ۔کچھ اور درکار ہو تو حکم کرو۔“
میں معترض ہوا۔”رقمکی ضرورت تو نہیں تھی۔“
وہ اطمینان سے بولا۔”تو کسی ضرورت مند کو دے دینا۔“
ہم اصطبل کے پاس پہنچے۔ٹھاکر گھوڑا باہر لے آیا۔لگام پکڑ کر میں نے اس سے معانقہ کیا۔ ”ٹھاکر چچا دعاﺅں میں یاد رکھنا ، شیتل کو آج ہی اس کے والد تک پہنچا دینا۔ اور میر ی طرف سے بہت بہت معذرت کر نا۔ کہنا زندگی نے وفا کی اور میرے گھر کے حالات ٹھیک ہو گئے تو اسے ملنے آﺅں گا۔“اختتامی فقرہ بس شیتل کو جھوٹی تسلی دینے کو تھا ورنہ دوبارہ انڈیا آنا اتنا ہی مشکل تھا جتنا اس وقت وہاں سے نکلنا۔
میں نے رکاب میں پاﺅں ڈالاہی تھاکہ ”ٹھک“ کی آواز سنائی دی۔ یہ آواز اصطبل سے متصل دیوار کی طرف سے ابھری تھی۔
”خطرہ۔“میری چھٹی حس نے الارم بجایا۔
”شش....شاید ڈاکو ہیں۔“ ٹھا کرہکلایا۔
میں نے گھوڑے کو اصطبل کی طرف دھکیلا۔ ”آپ ذرا برآمدے کی آڑ میں ہو جائیں۔“ اور کلاشن کوف ہاتھ میں پکڑ لی۔ ٹھا کر تیزی سے برآمدے کی آڑ میں ہو گیا۔
دیوار کے اوپری کنارے پر ایک سر نمودار ہوا اور دائیں بائیں سن گن لے کر دیوار کے اوپر ہی لمبا لیٹ گیا۔رفتہ رفتہ وہ اوپر آتے گئے۔ تعداد جب پانچ ہوئی تو تین دیوار سے لٹک کرنیچے کودے جبکہ دو انھیں غلاف (کور)دینے کو اوپر لیٹے رہے۔
حرکت میں آنے کو وہی وقت مناسب تھاورنہ حویلی میں پھیل جاتے تو مقابلہ کرنا دشوار ہو جاتا۔
حفاظتی لیور کونیم خودکار(سیمی آٹومیٹک۔یعنی جب کلاشن کوف ایک ایک گولی فائر کرتی ہے)حالت پر لگاکر میں نے کاکنگ ہینڈل کھینچااور لحظہ ضائع کیے بغیربٹ کندھے سے لگا کر لبلبی کو مسلسل دبانے لگا۔پہلے مرحلے میں دیوار پر لیٹے افراد کو نشانہ بنایا تھا کہ ان کے پاس بھاگنے کا موقع موجود تھا۔ دونوں چیختے ہوئے باہر جا گرے۔ نیچے کودنے والے ہتھیار سنبھال کر آڑ کی تلاش میں بھاگے، مگر ان کی کوشش رایگاں گئی تھی۔ کلاشن کوف کی گولیوں کی رفتار ان سے تیز ثابت ہوئی تھی۔ان کے گرتے ہی میں اندرونی عمارت کی طرف دوڑ پڑا کہ وہاں رہ کر چاروں طرف نظر نہیں رکھی جا سکتی تھی۔سب سے بہترین ٹھکانہ دو منزلہ عمارت کی چھت تھا۔دفاعی حالت میں اونچائی کا سہارابہت سی آسانیاں لاتا ہے۔
اچانک بندوق چلنے کا دھماکاہوا۔میں نے فوراََ لوٹ لگائی اور پھر بھاگ پڑا۔نشانہ میں ہی تھا لیکن انھیں ناکامی ہوئی تھی ۔آڑا ترچھا بھاگنے کی وجہ سے انھیں نشانہ سادھنے میں دشواری ہو رہی تھی۔
اگلے دھماکے پر گولی۔”شوں۔“ کی آواز کے ساتھ میرے قریب سے گزری تھی۔میں فوراََ نیچے لیٹا اور دوتین کروٹیں لے کر اپنا رخ فائرر کی طرف موڑ لیا۔
وہ مشرقی دیوار پر ٹانگیں دائیں بائیں لٹکائے بیٹھا تھا۔اس کے تیسرے فائر سے پہلے میری کلاشن کوف گرجی۔ میں نے مسلسل تین مرتبہ لبلبی دبائی تھی۔ آخری گولی نشانے پر لگی اور وہ چیخ مار کر باہر گر گیا۔
میں پھر بھاگ پڑا۔برآمدے میں گھستے ہی مجھے جنوبی اور مغربی سمت سے آڑ مل گئی تھی۔ ٹھا کر بندوق پکڑے میری طرف بھاگا آرہا تھا۔ برآمدے کے ستون کے ساتھ آڑ لے کر میں نے صحن میں جھانکا۔تبھی بندوق کے تین چار فائر ہوئے اور حویلی کے صحن کو روشن کرنے والے تینوں بلب ٹوٹ کر کر چیاں ہو گئے۔ ایک لمحے کو آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھا گیا تھامگر چند لمحوں بعد سترہ اٹھارہ تاریخ کے چاندکی روشنی میں اطرافکے مناظرواضح ہونے لگے۔ٹھاکر نے میرے ساتھ لیٹنا چاہا۔
”آپ عورتوں اور بچوں کو اوپر پہنچائیں، ان کی تعداد زیادہ ہے نچلی منزل پر ان کا مقابلہ دشوار ہو گا۔“
”ٹھیک ہے پُتر“ کہتے ہوئے وہ اندر کی طرف بھاگا۔
بلب ٹوٹنے کے بعد فائر کی آواز تو نہیں آئی تھی البتہ جنوبی جانب تین چار بار۔ ”دھپ.... دھپ۔“ کی آواز ضرور ابھری تھی۔ جنوبی دیوار مجھے نظر نہیں آرہی تھی اس لیے کودنے والے بھی اوجھل رہے۔
میری نظریں چاروں طرف گھوم رہی تھیں۔ ڈیوڑھی کی چھت پر ایک ہیولہ نظر آیا۔ میں نے بے دریغ دو گولیاں جھونک دیں مگر وہ جلدی سے لیٹ کربچ گیا۔ کم روشنی کی وجہ سے صحیح نشانہ لینے میں دقت ہو رہی تھی۔ نشانہ سادھنے کو جب تک پچھلیسائیٹ کی وی کو اگلیسائیٹ کی ٹپ سے ملا کر فائر نہ کیا جائے گولی نشانے پر نہیں لگتی۔لڑائیکے اصول کے مطابق ایک گولی سے ایک بندہ گرنا چاہئے اور مجھے ایک بندے کو مارنے کو دو تین گولیاں چلانی پڑ رہی تھیںاور اس کانتیجہ ایمونیشن کے ختم ہونے کی صورت بھگتنا پڑتا۔میرے پاس دو اضافی میگزین موجود تھے۔اور ایک کلاشن کوف کے ساتھ لگا تھا۔ تیس گولیاں فی میگزین کے حساب سے نوے گولیاں بنتی تھیں۔ جن میں گیارہ بارہ گولیاں میں فائر کر چکا تھا۔
میں نے چند گولیاں صحن کے مختلف گوشوں میں داغی دیں، مقصدان کی پیش قدمی کوسُست کرنا تھا۔ مجھے خاموش پاکروہ ایک دم ہلہ بول سکتے تھے ۔اوران کی عددی برتری مسلم تھی۔
سیڑھیوں کی طرف مجھے ٹھا کر اور اس کے بچوں کے چلنے کی آواز آئی ۔میں نے چند گولیاں مزید ہوا میں اڑا دیں۔ گو ایک ایک گولی قیمتی تھی، لیکن فائر کے ذریعے ہی ان کی پیش رفت میں رکاوٹ ڈالی جا سکتی تھی۔میں نے اتنی دیر انتظار کیا کہ ٹھاکر بچوں کے ہمراہ اوپر پہنچ جائے اور پھر الٹے قدموں پیچھے ہٹا۔جونھی میں نے سیڑھیوں پر قدم رکھے مشین گن کا چھٹاٹھیک اسی جگہ پر آ کر لگا جہاںچندسکینڈ پہلے میں موجود تھا۔
ان کے پاس مشین گن کی موجودی نے میری مشکلات بڑھا دی تھیں۔ میرے قدموں میں تیزی آئی۔اورمیں دو، دو، تین، تین سیڑھیاں پھلانگتے ہوئے بجلی کی سی سرعت سے دوسری منزل پر پہنچ گیا۔ہمارا کمرہ سیڑھیوں کے سامنے ہی تھا میں غڑاپ سے اندر داخل ہوگیا۔
مشین گن گرجی اورگولیاں کمرے کے دروازے سے ٹکرا کراندر آئیں مگر تمام دیوار کی آڑ میں تھے۔
”جان!“ میرے اندر آتے ہی شیتل نے ٹھاکرائن کے پہلو سے اٹھ کر میری طرف بڑھنا چاہا۔
میں دھاڑا ”بیٹھی رہو۔“
وہ سہم کردوبارہ ٹھاکرائن کے پہلو میں بیٹھ گئی۔للیتا اور کامنی بھی ماں کے پہلو میں گھسی تھر تھر کا نپ رہی تھیں۔ حد تو یہ کہ پر کاش بھی سکڑا سمٹا انھی کے درمیان موجود تھا۔
دو منزلہ کمروں کی چھت بہترین مورچہ ثابت ہو تی مگر مجھے وہ کمرہ چھوڑنا پڑتا اور چھت پر رہ کر اس کی حفاظت ممکن نہ ہوتی۔ڈاکو کسی بھی وقت ہلہ بول کر سیڑھیوں سے اوپر آ سکتے تھے ۔اورر پھر عورتوں کو یرغمال بنا کر وہ آسانی سے مجھپر بھی قابو پالیتے۔
وہاں میں صحیح طرح سے مقابلہ نہیں کر سکتا تھا، لیکن میری موجودی میں کسی ڈاکو کا کمرے میں داخل ہونا آسان نہ ہوتا۔
بتی بجھا کر میں نے دروازہ مکمل کھول دیا اور خود دیوار کی آڑ میں لیٹ گیا۔اب وہیں سے ان کا سامنا کرنا تھا۔ ڈاکوﺅں کی طرف سے فائرنگ میں شدت آگئی تھی، لیکن میں انھیں مسلسل جواب نہیں دے سکتا تھا۔ میری تو جہ سیڑھیوں پر تھی کہ وہاں سے اوپر کوئی نہ چڑھے۔
ڈیوڑھی کی چھت سے کود کر تین بندے برآمدے کی طرف بڑھتے نظر آئے۔ میں نے شست لے کر لبلبی دبائی ۔کلاشن کوف سے ”ٹرنچ“ کی آواز نکلی جو میگزین کے خالی ہونے کا اعلان تھا۔میں نے نیا میگزین چڑھادیا مگر تب تک وہ تینوں برآمدے میں پہنچ کر میری نظروں سے اوجھل ہو گئے تھے۔
ٹھاکر میرے ساتھ لیٹا تھا۔میرے کان میں سرگوشی کی۔”پتر! ساری گولیاں مقابلے میں نہ اڑا دینا، کم از کم میرے پرپوار کی عورتوں کے لیے چند گولیاں ضرور بچا لینا۔ شاید انھیں اپنے ہاتھ سے نہ مارسکوں۔“
میں حقیقتاً کا نپ گیاتھا۔ اس کا مطلب تھا کہ شیتل کو بھی مجھے اپنے ہاتھوںسے ہلاک کرناپڑتا۔ گہرا سانس لے کر میں اعتماد سے بولا۔”اندیشہ نہ کریں چچا!یہ مردار، ان شاءاﷲ میرے ہی ہاتھوں ہلاک ہوںگے۔“
ٹھاکر وارفتگی سے بولا۔”ان شاءاﷲ۔“اس کی ”ان شاءاﷲ “ سن کر مجھے عجیب سی لذت محسوس ہوئی تھی۔
سیڑھیوں کی طرف ہلکا سا کھٹکا سن کر میںبہ غور گھورنے لگا۔مگر کچھ نظر نہ آیا۔ میں نے اندازے سے دو فائر جھونک دیئے۔
جواباََگولیوں کی بوچھاڑ آئی تھی۔ مگرہم محفوظ رہے۔ براہ راست گولی سے تو آڑ میں تھے ، البتہ پختہ دیوار سے اُچٹ کر کسی کو نقصان پہنچا سکتی تھی۔
میں نے ٹھاکر سے پوچھا۔” آپ کے پاس کتنی گولیاں ہیں؟“
”دس بارہ ہوں گی۔“
میں حیران ہوا۔ ”صبح کافی گولیاں لائے تھے۔“
ٹھاکر مایوسی سے بولا۔”تمام بندوقیں اور گولیاں سٹور میں ہیں۔ جلدی میں نکال نہیں سکا ہوں۔“
اچانک گولیوں کی تڑتڑاہٹ میں ایک ساتھ تین بندوں نے بھاگ کر سیڑھیاں چڑھنا چاہیں۔ مگر ان کی بدقسمتی میں تیار لیٹا تھا۔کلاشن کوف نے انھیں سنبھلنے کا موقع نہیں دیا تھا۔ ان کے گرنے پر بعد بھی میں نے احتیاطاََ دو تین گولیاں ضائع کر دی تھیں۔سب سے آگے والا دروازے کے سامنے آ کر گرا تھا۔
اچانک خوش کن آواز ابھری ۔میگافون میں اعلان ہوا تھا۔
”تمام لوگ ہتھیار پھینک کرخود کو پولیس کے حوالے کر دیں۔“
”پپ.... پولیس آگئی پُتر“۔ ٹھاکر فرطِ مسرت سے ہکلا گیا تھا۔
”ڈاکو بھاگنے کی کوشش کریں گے، آپ کمرے کی کنڈی لگا دیں۔ میں انھیں چھت پر چڑھ کر روکتا ہوں۔“
”شاید یہ بہتر فیصلہ نہیں ہے۔“
میں بے پروائی سے بولا۔ ”جب تک میری آواز نہ سنو دروازہ نہیں کھولنا۔“
میں اوپر جانے والی سیڑھیوں کی طرف دوڑپڑا۔چھت پر چڑھ کر میں نے دائیں بائیں نگاہ دوڑائی۔ ڈیوڑھی کی چھت پر دو بندے لیٹے نظر آئے ،منڈیر کے قریب لیٹ کر میں نے شست لی اور لبلبی دبا دی۔ وہ آسان ہدف ثابت ہوئے تھے۔انھیں تڑپتا پھڑکتا چھوڑ کر میں جنوبی جانب متوجہ ہوا۔ اصطبل کے پاس چھے سات ڈاکوسر جوڑے نظر آئے ،کسی خاص مشورے میں لگے تھے۔پولیس بار بار اعلان کر رہی تھی۔ میں نے مشین گن سیدھی کی اور درمیان والے پر نشانہ سادھ کر حفاظتی لیور کو خود کار (فل آٹومیٹک)حالت پر لگا دیا۔
اس سے پہلے کہ لبلبی دباتا تمام نے ہتھیارنیچے پھینک کرڈیوڑھی کا رخ کیا۔یقینا وہ گرفتاری دے رہے تھے۔ میں نے فائر کا ارادہ ترک کر دیا کہ خواہ مخواہ کی قتل و غارت پسند نہیں ہے ۔جونھی وہ ڈیوڑھی میں داخل ہوئے میں نیچے اتراآیا۔ٹھاکر نے میری آواز پہچان کر دروازہ کھولا۔
اس نے بے تا بی سے پوچھا۔ ”کیا تمام بھاگ گئے ہیں؟“
میں نے نفی میں سرہلایا۔”گرفتاری دے دی ہے۔“
پولیس والے اندر آکر لاشیں سنبھالنے لگے۔
میں نے کلاشن کوف ٹھاکر کے حوالے کی ۔” میں چھت پر چھپنے جارہا ہوں۔ مشین گن رکھ لو انھیں میرا پتا نہ چلے ۔“وہیں میں پولیس کی نظروں میں آنے سے بچ سکتا تھا۔
میں نے چند قدم ہی لیے تھے کہ ایک گرج دار آواز ابھری۔
”رکو۔“
میں نے رک کر ہاتھ بلند کر لیے۔
اگلا حکم ملا۔”پیچھے پھرو۔“
میں اسی حالت میں مڑا۔چہرے ٹارچ کی روشنی ڈالی گئی۔میری آنکھیں چندھیا گئی تھیں۔
ٹھاکر نے باہر آکر کہا۔”اپنا آدمی ہے تھانیدار صاحب۔“
تھانیدار ہنسا۔”میں سمجھابلونت کا چیلا ہے۔“اس نے ٹارچ بجھائی اور پھر دوبارہ جلا کر خودکلامی کی۔ ”یہ دیکھا بھالا لگتا ہے۔“
وہ سوچ میں پڑ گیا تھا۔اچانک ہی ہیجانی انداز میں اچھلا۔”یہ توپاکستانی جاسوس ہے۔“
lll
میرادل اچھل کر حلق میں آگیا تھا۔تھانیدار نے مجھے پہچان لیا تھا۔اور کیوں نہ پہچانتا کہ ہر تھانے میں میری تصاویر موجود تھیں۔حیرانی اس کے نہ پہچاننے پر ہوتی۔حالات اتنی تیزی سے بدل رہے تھے کہ مجھے حلیہ تبدیل کرنے کا موقع ہی نہیں ملا تھا۔میری بدقسمتی کہ بھاگنے کی گنجائش نہیں رہی تھی۔حویلی پولیس کے گھیرے میں تھی۔جیسے اندھے کے پاﺅں کے نیچے بٹیرا آجاتا ہے یونھی میں بغیر کسی تگ و دو کے پولیس کے ہاتھ چڑھ گیا تھا۔بلونت کے گروہ کے خاتمے کے ساتھ پاکستانی جاسوس اور دہشت گرد کی گرفتاری چھوٹی بات نہیں تھی۔ڈیڑھ لاکھ انعام کے ساتھ تھانیدار کوترقی ملنے کے امکان بھی روشن تھے۔
اگرمیں انسپکٹر کو یرغمال بنالیتا تو شاید بہ خیریت نکل جاتا مگر اس صورت میں ٹھاکرمجھے پناہ دینے کے الزام میں دھر لیا جاتا اور دیش سے غداری کے جرم میں بے چارے کا کباڑاہوجاتا۔ساری سوچیں بجلی کے کوندے کی طرح میرے دماغ میں گھوم گئی تھیں۔کسی منطقی نتیجے پر پہنچنے سے پہلے ٹھاکر نے تھانیدار کے پستول والے ہاتھ کو نیچے دبایا۔
” تھانیدار صاحب! بتایا تو ہے اپنا بندہ ہے۔“اور مجھے کہا۔” تم اندر جاﺅ پتر!“
میں کمرے میں گھس گیا۔اوپر تھانیدار کے علاوہ کوئی نہیں آیا تھا۔باقی نیچے جائزہ لے رہے تھے۔
”آپ میری بنتی سن لیں۔“ٹھاکر تھانیدار کو بھی اندر لے آیا۔بتی جلا کر اس نے بچوںکوباہر جانے کا کہا۔
سر لا دیوی شیتل کا ہاتھ پکڑکرباہرنکل گئی ۔پرکاش ،کامنی اور للیتا بھی پیچھے ہو لیے۔
”تشریف رکھیں۔“ٹھاکر کرسی گھسیٹ کر تھانیدار کے نزدیک کی۔
”ٹھاکرصاحب!کوئی ایسی پیش کش نہ کرنا کہ مجھے لگے آپ نے جان بوجھ ایک مجرم کو پناہ دی ہوئی ہے۔“
ٹھاکر نے مجھے بیٹھنے کا اشارہ کر کے نشست سنبھالی۔”بغیرثبوت کسی کے جرم کا تعین کرناعدل کے منافی ہے۔“
”جرم کا تعین پولیس کی عمل داری سے باہر ہے۔کسی کے بے گناہ یا مجرم ہونے کا فیصلہ عدالت کرتی ہے۔ہمارا کام ملزموں کو کٹہرے میں پہنچانا ہے۔“
”اگر کسی کی بے گناہی آپ پر واضح ہو تب بھی اسے کٹہرے میں کھڑا کریںگے۔جبکہ یہ اندیشہ بھی ہو کہ عدالت یک طرفہ کارروائی کر کے اسے پھانسنے کے چکر میں ہو۔“
تھانیدار اطمینان سے بولا۔” جرم صرف بم دھماکے یا قتل و غارت کرنانہیں ہے۔دوسرے ملک میں ناجائز داخل ہو کر اس کے راز حاصل کرنے والا جاسوس بھی مجرم ہی کہلاتا ہے۔“
”اگر کوئی بھٹک کر دوسرے ملک کی سرحد پار کر لے توقانون کیاکہتا ہے۔“
”اس کا فیصلہ ہم نہیں کر سکتے کہ کوئی واقعی بھٹک کر آیا ہے یا بھٹکا رہا ہے۔“
ٹھاکر نے منہ بنایا۔” پھوکٹ میں کسی بے قصور کواذیت دینا انڈین ایجنسیوں ہی کوشو بھادیتا ہے۔“
”آپ بھی غالباََانڈین ہی ہیں۔ اور دھرتی ماتا کی حفاظت صرف پولیس ،فوج یا را نہیں تمام جنتا کا فرض ہے۔“
ٹھاکر متفق ہوا۔ ”اوش فرض ہے، لیکن بے قصور کی بھینٹ دینا کہاں کاانصاف ہے۔“
ٹھاکر اچھے طریقے سے میری صفائی دے رہا تھا۔میں خاموشی سے ان کی بحث سنتا رہا۔ تھانیدار واکی ٹاکی پر چھاپہ مار دستے کو چند ہدایات دے کرسلسلہ تکرار جوڑا۔
”آپ کے پاس اس کی بے گناہی کا کیا ثبوت ہے؟“
” دستاویزی ثبوت درکار ہے تو شماچاہوں گا۔ اگر میری شاکسی (گواہی) پر اعتبار کرسکیں تو وا گرو کی سوں(قسم) عمر جان نردوش ہے۔“
اس نے نفی میں سرہلایا۔”صرف آپ کی گواہی حجت نہیں ہو سکتی۔“
میں مخل ہوا۔ ” خدائے وحدہ لاشریک کی قسم کھاتا ہوں میں لاعلمی میں اور راستہ بھول کر ادھر آنکلا۔“
اکبر خان نے گہری نظروں سے مجھے گھورا۔”کافی قتل تم سے جوڑے جا رہے ہیں۔“
میں صاف گوئی سے بولا۔”دفاعی کوشش میں ہوئے ہیں،جیسے ٹھاکرچچا کاپریوار بچانے کو تھوڑی دیر پہلے بھی گولیاں چلانا پڑیں۔“
”زبان دو،میری اجازت کے بغیر حویلی نہیں چھوڑو گے۔“
میں نے نفی میں سرہلایا۔”آپ ہتھیار تانے بغیر قیدی کرنا چاہتے ہیں،جبکہ میرے فرار ہونے کے رستے اب تک کھلے ہیں۔چاہتا توآپ کو یرغمال بنا کر بھاگ سکتا تھا۔“یہ کہتے ہوئے میں نے بریٹا اس کی آنکھوں کے سامنے لہرایا۔
وہ متبسم ہوا۔”وعدہ کروں تمھاری بارے کسی سے ذکر نہیں کروں گاتب زبان دو گے۔“
لمحہ بھر سوچ کر میں نے اثبات میں سرہلایا۔”آپ کو بتائے بغیر کہیں نہیں جاﺅں گا۔“
تھانیدار نے نشست چھوڑی۔”کل دوپہر کو تفصیلی گپ شپ ہو گی،فی الحال موجود مسئلے سے نبٹ لوں۔“
ٹھا کرنے اٹھتے ہوئے کہا۔ ” آرام کرو،آپ کا باقی پولیس والوں کے سامنے آنا مناسب نہیں ہے۔“
میں متفق ہوا۔”ٹھیک ہے ٹھاکرچچا۔“ وہ باہر نکل گئے۔
چند لمحوں بعد شیتل اندر آئی۔میں چارپائی پر لیٹ گیا تھا۔
پاس بیٹھ کر وہ میرے بالوں میں انگلیاں پھیرنے لگی۔ ”ٹھا کرچچا مطمئن اور آپ پریشان لگ رہے ہیں۔“
میں خوش دلی سے بولا۔ ”تھکن کی وجہ سے تمھیں پریشان لگ رہاہوں۔“
” کہیں چوٹ تو نہیں لگی ہے۔“وہ میرے بالوں میں انگلیاں پھیر رہی تھی اور ملائم ہاتھوں کا لمس مجھے بہت سکون دے رہا تھا۔
”نہیں۔“ میں بہ مشکل بولاکہ نیند حاوی ہوگئی تھی۔
وہ چاہت سے بولی۔ ”آپ تھکے ہیں، سو جائیں۔“
آنکھ کھلی تو شیتل وہیں نظر آئی۔ ٹکٹکی باندھے محویت سے مجھے گھور رہی تھی۔ اورایک ہاتھ مسلسل میرے بالوں میں سرسرا رہا تھا۔ اس کی گہری سیاہ آنکھوں میں محبت کاسمندرہلکورے لیتا محسوس ہوا۔ ایک دم مجھے خوف آنے لگاتھا۔ وہ دھیرے دھیرے مجھ پر اثر انداز ہو رہی تھی۔ اس کی جھیل سی گہری آنکھوں سے آنکھیں ملانا آسان نہ تھا۔میں نے دوبارہ آنکھیں بند کر لیں کہ وہ میری کمزوری بھانپ نہ لے۔
وہ لگاوٹ سے بولی۔”اٹھیں نا، دوپہر ہونے کوہے ۔اور کپڑے کتنے میلے ہو رہے ہیںنہا کر تبدیل کرلیں۔“
میں نے اٹھتے ہوئے مشورہ دیا۔”تم بھی للیتا سے کوئی ڈھنگ کے کپڑے لے کر پہن لو۔“
وہ محبت کرنے والی بیوی کی طرح بولی۔”آپ کے جاگنے کی منتظر تھی،سرلا خالہ دو چکر لگا چکی ہیں، صاحب جی کی نیند ہی پوری نہیں ہو رہی تھی۔“
”تو اٹھا دیتیں۔“
”کیوں؟“وہ برہم ہوئی۔
”شاید کوئی اہم کام ہو۔“
”میرے لیے آپ کی نیند سے کچھ اہم نہیں ہے۔“وارفتگی سے کہہ کر وہ باہر نکل گئی۔میں نے بھی بستر چھوڑ دیا۔ نہانے کو دل کر رہا تھا۔
اسی وقت پرکاش دروازہ کھٹکھٹا کر اندر آیا۔
”بھیا، انسپکٹر صاحب آئے ہیں۔“میں غسل کا ارادہ مو¿خر کر تا ہوا اس کے ساتھ ہو لیا۔
اکبر خان سول کپڑو ں میں تھا۔ درمیانہ قد۔ متناسب جسم، سیاہ گھنگر یا لے بال، کشادہ پیشانی، چمک دار آنکھیں جو مقابل کو اندر اترتی محسوس ہوں، ستواں ناک وہ پُر رعب اور و جیہہ شخصیت کا مالک تھا۔
”آﺅجناب۔“ اس نے ہاتھ پھیلائے۔گرم جوش معانقہ کر کے ہم نے نشستیں سنبھالیں۔
میں نے پوچھا۔”سنائیںکیا ہوا ڈاکوﺅں کا؟“
” تیرہ ڈاکوتمھارے ہاتھوں جہنم واصل ہو ئے ،آٹھ نے گرفتاری دے دی تھی۔یہ کارنامہ پولیس کے کھاتے میں گیاہے ۔ایس پی صاحب نے گھنٹی پر بھی خوب شاباش دی ہے۔ نمایاں کارکردگی دکھانے والے اہلکاروں کے لیے انعام اور ترقی کا وعدہ بھی کیا ہے۔ اب تمھارا مسئلہ زیر غور ہے۔“
میں نے دکھی دل سے پوچھا۔”کیا اب تک میری بے گناہی پر یقین نہیں ہوا۔“
”یقین نہ آتا تو تمھیں یونھی چھوڑ کر چلا جاتا۔“
میں شاکی ہوا،”وعدہ لے کر گئے تھے جناب۔“
وہ متبسم ہوا۔”زبان کا پاس رکھنے والے جھوٹ نہیں بولتے۔اور میں نے فقط جانچنے کو وعدہ لیا تھا۔ اگر تم پہلی بار وعدہ کر لیتے تو ضروربدک جاتا۔“
”اب کیا ارادہ ہے؟“میں نے اشتیاق ظاہر کیا۔
اس نے قہقہ بلند کیا۔”یہ میرا سوال ہے۔“
”تو جواب ہے انڈیا نکلنا چاہتا ہوں ۔“
وہ صاف گوئی سے بولا۔” بس میں ہوتا تو ضرور مدد کرتا۔“
”مجھے ممبئی پہنچا سکتے ہو۔“
”یہ ممکن ہے۔“اس نے اثبات میں سر ہلایا۔”ٹھاکر صاحب نے بھی یہی درخواست کی تھی۔“
وہ پرکاش کو مخاطب ہوا۔ ”گلوکو بلاﺅ۔“
وہ ۔”جی اچھا“ کہہ کر کمرے سے باہر نکل گیا ۔اس کی واپسی ایک ادھیڑ عمر آدمی کے ہمراہ ہوئی۔
اکبر خان نے تعارف کرایا۔ ”یہ میرا ذاتی حجام گل حسن ہے۔“
وہ مصافحہ کر کے اوزاروں والی اٹیچی کھولنے لگا۔مجھے سفید کپڑا اوڑھاکر اس نے سوالیہ نظروں سے اکبرخان کو گھورا۔اس نے ہدایت دی۔
”بال چھوٹے کر کے داڑھی مونچھیں صاف کر دو۔“
اورر گلو سرہلاکر کام میں لگ گیا۔میرے بال کافی بڑے ہو گئے تھے،کیوں کہ چار پانچ ماہ سے کٹوا نہیں سکا تھا۔
اکبر خان نے پوچھا۔”ممبئی جا کر کیا کرو گے؟“
”ارادہ تو زیر زمین حلقوں سے روابط بڑھا کر سمندر کے راستے پاکستان جانے کا ہے۔“
اس نے خیال ظاہر کیا۔”یوں بھی کام ہوتا نظر نہیں آتا۔“
”کیوں؟“ میں حیران ہوا۔
” کو برے کا چھوٹا بھائی شیش ناگ تمھارے خون کا پیاسا ہے۔ اس نے قسم کھائی ہوئی ہے کہ جانو کمانڈو کو اپنے ہاتھوں سے ہلاک کرے گا چاہے اسے پاکستان کیوں نہ جانا پڑے۔“
” تو۔“اس کی وضاحت مجھے مطمئن نہیں کر سکی تھی۔
اسی وقت ٹھاکر اندر آیااور خاموشی سے نشست سنبھال لی۔
”ممبئی زیرِ زمین حلقوں پر آج کل سیٹھ رابندر ناتھ کی حکمرانی ہے۔اور شیش ناگ اس کا دایاں بازو سمجھا جاتا ہے۔“
میں نے الجھن ظاہر کی۔”اسے کیا پتا میں ممبئی کارستہ اختیا کروں گا۔“
اس نے ماہرانہ تجزیہ کیا۔” انبالہ سے دہلی پہنچنا تمھارے ممبئی جانے کے ارادے کو ظاہر کرتا ہے ۔اگر جالندھر،شملہ،ہوشیار پور وغیرہ کا رخ کرتے تو پہاڑی راستے سے سرحد عبور کرنے سوچاجاتا۔“
میں نے امید کا دامن پکڑا۔”ممبئی جرائم پیشہ افراد کا گڑھ ہے ۔وہاں صرف رابندر ناتھ کاگروہ تو نہیں ہے نا۔“
”ان کے ایک دوسرے سے قریبی روابط ہوتے ہیں۔اور ڈیڑھ لاکھ کے حصول کو تو یہ سگی ماں کو بیچ دیں۔“
”تو مجھے کیا کرنا چاہئے؟“
تھانیدار نے مشورہ دیا”کم از کم ایک دوماہ تک منظرِ سے ہٹ جائیں تاکہ تمھاری تلاش ٹھنڈی پڑ جائے۔“
ٹھاکر نے لقمہ دیا۔”اور اس کے لیے میری حویلی سے بہتر کوئی جگہ نہیں ہو سکتی۔“
میں نے بے بسی ظاہر کی۔”اگر رکنا ممکن ہوتا تو پوسٹ ہی سے کیوں بھاگتا۔“
تھانیدار نے بے نیازی سے کندھے اچکائے۔ ” میں نے ممبئی پہنچانے کا وعدہ کیا ہے اوران شا ءاﷲ کل روانہ ہوں گے۔“
میں نے تکرار کو سمیٹا۔”آپ کا احسان ،شکریہ سے بڑھ کر ہے۔“
گلو نے کام ختم کر کے دستی آئینہ پکڑایا،میری شکل کافی حد تک تبدیل ہو گئی تھی۔داڑھی مونچھوں کا صفایا اور بالوں کے چھوٹا ہونے کی وجہ سے میری پہچان پہلے کی طرح آسان نہیں رہی تھی۔
جاری ہے
قسط نمبر12
ریاض عاقب کوہلر
اکبر خان گلو کو مخاطب ہوا۔”گاڑی میں نئے کپڑے رکھے ہیں ۔“
گلو سرہلاتا ہوا باہر نکل گیا۔
میں نے پوچھا۔”یہ قابل اعتماد توہے نا؟“
” میرا سب سے ہوشیار مخبر ہے ۔ سپاہی ہے لیکن کبھی وردی نہیں پہنی ۔ تنخواہ سے زیادہ حجام کے کام کما لیتا ہے۔ آنکھیں کان کھلی رکھتا ہے۔نہایت کارآمد ،تیزاور باخبرآدمی ہے۔یہی دیکھ لو سیٹھ ہری چرن داس کی بیٹی کو دیکھتے ہی پہچان لیا۔ اور میں تھانیدار ہو کر بھی نہ پہچان سکا۔“
”شیتل کو کہاں دیکھا۔“ میں حیران ہوا۔
”اگر سیٹھ ہری چرن کی بیٹی کا نام شیتل ہے توہمیں اندر آتے ہوئے دکھائی دی تھی۔ اس کی تصویر دیکھنے کے باوجود میں اسے ٹھاکر کی رشتہ دار سمجھ رہا تھا۔“اکبر خان نے پوچھا۔”ویسے یہاں کیا کررہی ہے؟“
میں نے بتایا۔” میرے ساتھ ہے۔“
”سمجھا نہیں ۔“حیران ہونے کی باری اکبر خان کی تھی۔
میں نے اسے مختصراََ شیتل کے بارے بتا دیا۔
اس نے اشتیاق سے پوچھا۔”دہلی کے مشہور غنڈے رگھو دادا کے متعلق بتا رہے ہو۔“
میںنے اندازہ لگایا۔”شاید وہی ہو۔“
”مکان کی نشان دہی کر سکتے ہو۔“ انسپکٹر اکبر خان بے چینی ظاہر کی۔
میں اعتماد سے بولا۔ ”کاغذ پنسل لادیں راستے کا مکمل نقشہ بنا کر دے سکتا ہوں۔“
اسی وقت گلو سوٹ کور میں بند لباس اور نئے جوتے لے آیا۔اکبر خان نے کہا۔”گلو جلدی سے کاغذ پنسل لے آﺅ۔“
گلوبھاگ کر نوٹ بک اور پنسل لے آیا۔میں نے اندازے سے رام پورہ سے رگھو دادا کے اڈے تک کا نقشہ تیار کر دیا۔
ایک دو جگہوں کے متعلق استفسار کرکے اس نے جانے کو پرتولے۔
” اجازت دیں، ان شا ءاﷲ کل سویرے ممبئی روانگی ہوگی۔“
”کھانا تو کھا کر جائیں۔“ ٹھا کر نے دعوت دی۔
”پھر کبھی سہی۔“وہ جانے کو بے چین تھا۔
” مدد کی ضرورت ہو تو حاضر ہوں۔“ میںنے پُر خلوص پیش کش کی۔
اس نے اندیشہ ظاہر کیا۔” ڈرتاہوں کوئی تمھیں پہچان نہ لے۔“اور الوداعی مصافحہ کر کے نکل گیا۔
ٹھاکر نے کہا۔” آپ تازہ دم ہوجائیں بھوجن تیار ہے۔“
”دس منٹ لگیں گے ٹھاکر چچا۔“میں نیاسوٹ اٹھا کر غسل خانے کی طرف بڑھ گیا۔
نہاکرمیں نے سوٹ پہناجو حیران کن طور فٹ تھا۔ اکبر خان کا مشاہدہ غضب کا تھا۔ٹائی باندھنا نہیں آتا تھا اس لیے لپیٹ کر جیب میں ڈال لی۔
شیتل بن ٹھن کر میرے انتظار میں بیٹھی تھی۔ اس نے للیتا کے کپڑے پہنے تھے۔یقینا وہ کپڑے اپنی خوش بختی نازاں تھے۔ ہم کھانے کے کمرے کی طرف بڑھ گئے۔سبھی منتظر بیٹھے تھے۔
”معذرت،ذرا لش پش نکال رہے تھے۔“نشست سنبھالتے ہوئے میں نے صفائی دی۔
ٹھاکر پُرخلوص لہجے میں بولا۔” دونوں ہر لباس میں اچھے لگتے ہو پُتر۔“
”آپ کا حسنِ نظر ہے ٹھاکر چچا۔“ میں ممنونیت سے بولا۔
ملازم کھانا چننے لگا۔
میں نے پوچھا۔” حملے میں کتنا نقصان ہوا ہے۔“
”ایک چوکیدار سور گباش ہوا ہے۔ دو ملازموں نے اصطبل میں چھپ کر جان بچالی تھی۔“
”پولیس اتنی جلدی کیسے پہنچی۔“ یہ مجھے انسپکٹر اکبر خان سے پوچھنا چاہئے تھا، لیکن اپنے مسئلے میں الجھ کرخیال نہ رہا۔
”اکبر خان کو پہلے سے شک تھا کہڈاکو تھانے پر حملے کی جرا¿ت نہیں کریں گے۔تبھی وہ رام پورہ چوکی میں ان کا منتظر رہا۔ اس کے خیال میں ڈاکو رام پورہ چوکی یا میری حویلی پر حملہ کرنے والے تھے۔واہ گرو کی کرپا سے آپ کی موجودی نے ہمیں بڑے نقصان سے بچا لیا۔“
میں کھانے کی طرف متوجہ ہو گیا۔میز پر گوشت کے بنے دو تین پکوان نظر آرہے تھے۔پہلے مجھے ہندو جان کر انھوں نے یہ اہتمام نہیں کیا تھا۔
شیتل نے سبزی کھائی تھی اور اس کا ساتھ صرف سرلا دیوی نے دیا تھا۔ باقیوں نے بڑی رغبت سے گوشت کے پکوانوںپر ہاتھ صاف کئے تھے۔
کھانے کے بعد چائے پی گئی اور اس کے بعد میں اور ٹھاکر حویلی میں چہل قدمی کرنے لگے۔ پرکاش نے عورتوں میں بیٹھنا پسند کیا تھا۔
ٹھاکر نے پوچھا۔” شیتل آپ کے ساتھ ہی جائے گی۔“
”مجبوری ہے۔“
وہ جھجکا۔”اگر میں اسے بہو بنانا چاہو ں۔“
” شیتل سے پوچھ لو۔“
”اس کے پتا جی سے بات کروں گا۔“
میں بیزاری سے بولا۔”آپ کی مرضی۔“ شیتل کی شادی کا ذکر مجھے برا لگ رہا تھا۔انسان دماغ بھی عجیب گورکھ دھندہ ہے۔میں اس سے جان بھی چھڑانا چاہتا تھااور کسی اور کابنتا بھی نہیں دیکھ سکتا تھا۔اسے واسطہ بھی نہیں رکھنا چاہتا تھااور خفا کرنے کی جرا¿ت بھی نہیں کرپارہا تھا۔
اس نے موضوع تبدیل کیا۔”امید ہے اکبر خان کے توسط سے آپ ممبئی تک آسانی سے پہنچ جائیں گے۔“
”ان شاءاللہ۔“میں نے امید ظاہر کی۔
ہم گھنٹا ایک چہل قدمی کرتے رہے۔ اس دوران میں ٹھا کر سے مطلب کی معلومات ذہن نشین کرتا رہا۔آخر آرام کرنے کی نیت سے ہم اندرونی عمارت کی طرف بڑھ گئے۔
لیکن آرام میری قسمت میں نہیں تھا۔ دور ہی سے پرکاش اور کامنی کے نعرے سنائی دینے لگے۔ اندر داخل ہونے پر تاش کی بازی جمی نظر آئی۔ چاروں قالین پر بیٹھے جوش و خروش سے مصروف تھے۔ غالباََشیتل اور للیتا بازی ہار گئی تھیں۔ ٹھا کر کے پوچھنے پر کامنی نے یہی کچھ جوش و خروش سے بتایا تھا۔
” ہمارا مقابلہ کون کرے گا۔“ ٹھاکر نے بچکانہ انداز میں پوچھا۔ بچوں کے ساتھ بچہ بننا اسے اچھی طرح آتا تھا۔سکھوں کی روایتی بے تکلفی اس کے مزاج کا حصہ تھی۔
” مجھے تو کوئی خاص کھیلنا نہیں آتا۔“ میں نے جان چھڑانا چاہی۔
کامنی چہکی۔”آپ کی بیوی نے پرکاش بھیا کو چنوتی دی اور ہار گئی۔کیا بدلہ نہیں لیں گے؟“
میں نے کہا۔”ٹھاکر چچا !جیتی ہوئی جوڑی سے دو دو ہاتھ ہو جائیں۔“
کامنی نے مداخلت کی۔ ”مقابلہ تو بھابی سے ہے نا۔“
پرکاش نے منہ بنایا۔”پاپا کو بیٹھنے دو گڑیا!ان دونوں کے ساتھ خاک مزہ آئے گا۔“
میں تاش کی گڈی پکڑ کر شیتل کے سامنے بیٹھ گیا۔”اپنی جنگ ہم خود لڑیں گے۔“تمام ہنس پڑے تھے۔
پتے لگا کر میں نے مہارت سے بانٹے اور پہلی باری میں انھیں بازی ہو گئی۔پرکاش اور کامنی ایک دوسرے کو الزام دینے لگے۔
میں ہنسا۔” جس کی بھی غلطی تھی بازی برابر ہوئی۔“
پرکاش نے کہا۔” لیکن ہار جیت کا فیصلہ توہونا چاہئے نا۔“
میں اطمینان سے بولا۔”وہ بھی کر لیتے ہیں۔“
دوسری دفعہ بھی پہلی بانٹ پرانھیں بازی ہو گئی تھی۔ ٹھاکر نے قہقہ بلند کیا۔
ٹھاکر کامنی کو ہٹاتے ہوئے بولا۔ ”پتری!مجھے جگہ دو۔“
لیکن یہ اس کی بھول تھی کہ وہ عمر کو ہرا لے گا۔پہلی بازی ہارتے ہی اس نے پتے پھینکتے ہوئے کھلے دل سے اعتراف کیا۔”آپ کی چالیں ہماری بدھی میں نہیں آرہی پُتر۔“
للیتا میری بغل میں گھسی۔”جان بھیا! مجھے بھی سکھا دوناں،تاکہ پرکاش بھیا کوہرا سکوں ۔روزانہ جیت جاتا ہے۔“
میں نے کن اکھیوں سے شیتل کو دیکھا، وہ للیتا کو کڑے تیوروں سے گھورنے لگی تھی۔میں نے انجان بنے کا ناٹک کرتے ہوئے للیتا کو کہا۔
” تمھیں جادو کے کھیل سکھاتا ہوں۔“
”سچ۔“وہ حیران رہ گئی تھی۔
”میں بھی سیکھوں گی۔“ کامنی بھی میرے پاس آبیٹھی۔ میں انھیں تاش کی شعبدہ بازیاں دکھانے لگا۔شیتل ہمیں غصے سے گھورنے لگی۔ اس کا بس نہیں چل رہا تھا ورنہ انھیں کچا ہی چبا جاتی۔
میں اس کے تلملانے پرمحظوظ ہونے لگا۔ للیتاکچھ زیادہ ہی پُر جوش ہو رہی تھی۔کسی لڑکی کاغیر لڑکے سے اٹھکیلیاں کرنا بلاشبہ ہمارے معاشرے میں معیوب ہے مگر انڈین تقافت میں اسے اہمیت نہیں دی جاتی۔ میں جن حالات سے گزر رہا تھاوہاں شیتل جیسی عقل و خرد سے بیگانہ کرنے والے حسن کی مالک بھی مجھے متاثر نہ کر سکی تو للیتا جیسی عام شکل وصورت کی لڑکی کیا توجہ پاتی۔
شیتل زیادہ دیر للیتا کی پیش قدمی برداشت نہ کر سکی اوربولی پڑی۔
”للیتا!تم مجھے کپڑے دکھانے والی تھیں۔صبح سویرے تو ہمیں نکلنا ہوگا۔“
شیتل کی مکاری پر قہقہ لگانے کو جی چاہا۔بے چاری بیوی کی طرح اپنے بگڑے شوہر کو غیر لڑکیوں سے بچانے کی تگ ودو میں تھی۔
للیتا نے جان چھڑانے کی کوشش کی۔ ”دیدی! سہ پہر کو دیکھ لیں گے نا۔ آپ نے توصبح جانا ہے۔“
ٹھاکر نے للیتا کو سرزنش کرتے ہوئے کہا۔ ”بری بات بیٹا! اٹھو اپنی دیدی کو کپڑے دکھاﺅ۔اور عمربیٹا بھی تو صبح تک ادھر ہی ہے۔“
للیتا منہ بناتے ہوئے اٹھ گئی۔
”تم بھی چلو گڑیا۔“ میں نے تاش کی گڈی اکٹھی کر کے کامنی کے حوالے کی ۔
وہ لاڈ سے بولی۔ ”للیتا دیدی کی غیر موجودی میںمجھے دو تین شعبدے سکھا دیںنا۔“
میں متبسم ہوا۔ ”للیتا کو پتا چلا تو جان نہیں چھوڑے گی۔اورمیں آرام کرناچاہتا ہوں ۔“
”کامنی ! بھائی کو آرام کرنے دو“۔ ٹھاکر نے سرزنش کی۔کامنی بھی منہ بسورتی ہوئی باہر نکل گئی۔
ٹھاکر اوراس کی پتنی بھی اجازت لے کر نکل گئے۔اگلا دن بے آرامی میں گزرنا تھا اس لیے میں زیادہ سے زیادہ آرام کرنا چاہتا تھا۔
تھوڑی دیر بعد شیتل اندر آئی ۔کپڑے ہینگر سے لٹکا کر وہ میرے قریب آبیٹھی۔
”جان! کیاسچ میں للیتا پسند ہے ، حالاںکہ مجھ سے زیادہ خوب صورت تو نہیں ہے۔“اس کے لہجے میں اداسی گھلی تھی۔
میں خفگی سے بولا۔ ”ایسا میں نے کب کہا ۔“
”تواس کا آپ سے چپکنا،بازو پر چٹکیاں کاٹنا،گدگدی کرنااور دوسری نازیبا حرکات۔اورآپ کاخوش دلی سے ہنستے ہوئے اس کی حوصلہ افزائی کرنا۔
”جب عقل بانٹی جارہی تھی تو تم اپنے حصے کی صورت لے کر دوبارہ اسی قطار میں گھس گئی تھیں۔شکل تو پالی ، دماغ سے رہ گئیں۔“
”پھوکٹ میں نہ ٹرخائیں۔“بہ ظاہر اس نے غصے سے کہا مگر، بالواسطہ میرے خوب صورت کہنے پر کھل اٹھی تھی۔
میں رکھائی سے بولا۔”میں کسی کو جواب دہ نہیں۔“
وہ گلوگیر ہوئی۔” شما چاہتی ہوں ، آپ کو کشٹ پہنچانے کی وجہ بنی۔“
میں نے کروٹ تبدیل کرکے آنکھیں موند لیں۔ گو اس کا افسردہ لہجہ مجھے بے چین کر گیا تھا،لیکن میرا مقصد اس کے اپنی جانب بڑھتے ہوئے تیز قدموں کو روکناتھا۔ میں نہیں چاہتا تھا وہ غلط امیدیں باندھ لے۔
لمحہ بھر بعد ہی میری سماعت میں اس کی سسکیاں گونجیں۔ مڑ کر دیکھا تو دونوں ہاتھ گود میں رکھے ٹپ ٹپ آنسوبہارہی تھی۔میں گھبراگیاتھا۔
میں نے اسے کندھوں سے تھاما۔” کیا ہوا، گھریا د آ رہا ہے؟“
میں رونے کا سبب جانتا تھا لیکن اس موضوع کو چھیڑتے ہوئے ڈرتا تھا۔بلاشبہ آنسو دکھ کے اظہارکا آسان اور مکمل ذریعہ ہیں۔ لمبے چوڑے بیان اور فصیح و بلیغ جملے، بھی دو قطروں کے مقابلے میں ہیچ نظر آتے ہیں۔ خصوصاً عورتیں تو انھیںبہ طور ہتھیار استعمال کرتی ہیں۔ ایسا ہتھیار جس کا وار کبھی اوچھا نہیں پڑتا۔
میں جان بوجھ کر اسے نظر انداز کر رہا تھا، لیکن اس کی ساحرانہ آنکھوں میں آنسو دیکھ کر احساس ہوا کچھ زیادہ بڑی زیادتی کر بیٹھا ہوں۔
سر نفی میں سر ہلاتے ہوئے اس نے ہاتھوں سے چہرہ ڈھانپ لیا۔
میں زبردستی مسکرایا۔” یونھی تمھیں چھیڑ رہا تھایار!للیتا سو گنا بھی خوب صورت ہو کر آجائے تو شیتل ہری چرن داس جیسی نہیں ہو سکتی۔“
”جھوٹ نہ بولیں،میرے علاوہ ہر لڑکی کے ساتھ ہنس کھیل سکتے ہیں، بس میں کرم جلی ہی ناپسند ہوں۔ میں....“ الزامات کی فہرست کے لمبا ہونے سے پہلے میں نے اسے کھینچ کر قریب کیا۔ایک ہاتھ سے اس کی ریشمی زلفیں بکھیرتے ہوئے کہا۔
”کیوں کہ تمھارے جان لیوا حسن سے ڈرتا ہوں۔جان بوجھ کر دور بھاگتا ہوں۔“
اس نے بے یقینی سے مجھے گھورا، مگر آنکھوں میں وارفتگی و چاہت دیکھ کر آنکھیں موندتے ہوئے سر میرے کندھے پر ٹکا دیا۔کئی لمحے معنی خیز خاموشی کی نظر ہوگئے تھے۔پھر میں نے مشکل سے حوصلہ مجتمع کرتے ہوئے کہا۔”اب آرام کرو اور مجھے بھی لیٹنے دو۔“
اس کی حسرت بھری آواز گونجی۔”کاش.... وقت یہیں ٹھہر جائے۔“
” پگلی، وقت نہیں ہم گزرتے ہیں۔ اورزندگی کے سفر میںکبھی مڑکر دیکھنے کا موقع ملے تو پتا چلتا ہے وقت وہیں ہے ہم بہت آگے آگئے ہیں۔“
وہ ملتجی ہوئی۔” آپ واپس نہ جائیں اور ٹھاکر چچا کو کہہ کر یہیں گھر بنا لیں ۔ میرے اکاﺅنٹ میں اڑھائی تین لاکھ روپے ہوں گے جو نئی زندگی شروع کرنے کو کافی رہیں گے ۔ دو تین ماہ تک آپ کی تلاش میں بھی سرگرمی نہیں رہے گی۔ میں ساری زندگی داسی بن کرسیوا کروں گی۔“
”پگلی محبت صرف پانے کا نام نہیں ہے۔ ایک مفکر کہتا ہے۔” اسے پیار مت کرو جسے چاہتے ہو بلکہ اسے چاہو جو تمھیں پیار کرتا ہو۔“یقین مانو تمھیں کئی خوب صورت دولت مند اور محبت کرنے والے لڑکے مل جائیں گے کہ جانوسے محبت پر ندامت ہونے لگی گی۔“
وہ تلخی سے بولی۔”مفکر کا قول صرف میرے لیے ہے ،عمل کاپہلا حق دار تو سنانے والاہوتا ہے۔“
میںافسردگی سے بولا۔”ایسا ناممکن ہے۔ تمھارا صرف باپ ہے۔ جبکہ میرے بہن بھائی، ماں باپ، بیوی ، بیٹا کس کس رشتے کو بھلاﺅں گا اور اب تو ان پرکڑا وقت بیت رہا ہے، جانے حالات کتنے خراب ہوں۔“
وہ ہکلائی۔”جان !پلیز مجھے چھوڑ کر نہ جاﺅ۔ م.... مم....مجھے کچھ ہو جائے گا۔“
” وعدہ تو نہیں کرتا لیکن کوشش کروں گاکہ حالات بہتر ہوتے ہی تمھیں ملنے انڈیا آسکوں۔“
وہ میراکندھا بھگو رہی تھی۔سسکتے ہوئے بولی۔
یہ جدائیوں کے رستے، بڑی دور تک گئے ہیں
جو گیا ہے پھر نہ آیا میری بات مان جاﺅ
میں پھیکے تبسم سے بولا۔” مجبور مت کرو۔اسی وجہ سے تمھیں ممبئی نہیں لے جانا چاہتا تھا۔ کل رات شایدنکل گیا ہوتا مگر ڈاکوﺅں نے کام بگاڑ دیا۔“
”جانتی ہوں۔“ ریشمی بانہوں کی گرفت مزید سخت ہوئی۔
”کیا؟“
” تمھیں پسند نہیں ہوں اور جب بھی موقع ملا چھوڑ جاﺅ گے۔“
”اچھا فضول بحث کو چھوڑو اورمجھے آرام کرنے دو۔“
وہ ہٹ دھرمی سے بولی۔ ”مجھے نیند آرہی ہے اور یہیں سر رکھ کر لیٹوں گی۔“
میں دہرے تکیوں سے ٹیک لگا بیٹھ گیا۔وہ زبردستی میری گودمیں سر رکھ کر سو گئی۔نیند میں اس کی دلکشی اور بھی بڑھ گئی تھی۔پرکشش چہرے پر پھیلی معصومیت مجھے ان راہوں کی جانب کھینچنے لگی جن پر چل میری منزل مزید دور ہو جاتی۔رخِ روشن سے نگاہیں چرا کر میں مستقبل کے منصوبے بنانے لگا۔اکبر خان کی شکل میں مجھے غائبانہ مدد ملی تھی۔اور ہفتوں کا کام دنوں میں نبٹ گیا تھا۔اب ممبئی تک کا طویل اور پر خطررستہ میں آرام و آسانی سے طے کر سکتا تھا۔
شام ہونے کو تھی جب کسی کے قدموں کی چاپ ابھری ۔میں نے شیتل کا سر احتیاط سے تکیے پر منتقل کیااور اس سے تھوڑا سا فاصلہ پیداکیا۔
دستک ہوئی۔”آجاﺅ۔“ میں با آواز بلند بولا۔
ایک ملازم اندرآیا۔
” مہاراج!تھانیدار صاحب تشریف لائے ہیں۔“
” آ رہا ہوں۔“اسے جانے کا اشارہ کر کے میں جوتے ڈالنے لگا۔
شیتل نے اٹھتے ہوئے توبہ شکن انگڑائی لی۔میں فوراََ نظریں چراگیا تھا۔
”کیا ہوا؟“ اس کے چہرے پر شوخی بھرا تبسم ابھرا۔
”ملازم ، تھانیدارصاحب کی آمد کا بتانے آیاتھا۔“میں شیشے کے قریب ہوکر ہاتھوں سے بال سنوارنے لگا۔
” میں بھی چلو گی۔“
’تازہ دم تو ہوجاﺅ۔“ کہہ کر میں باہر نکل آیا۔
اکبر خان اور ٹھاکر چائے پیتے ہوئے خوش گپیوں میں مشغول تھے۔ میری آمد پر تھانیدار بازو پھیلائے کھڑاہوگیا۔
”آﺅ عمر بھائی۔“اس کی خوشی ظاہر کر رہی تھی کہ وہ کامیاب رہا تھا۔
”کیا رہا؟“معانقہ کر کے دونوں نے نشست سنبھالی۔
”اﷲ کا شکر ہے ، چھاپہ کامیاب رہا۔ایک بندہ زندہ پکڑا گیا جسے آپ کمرے میں بند کر آئے تھے۔ لاشیں بھی کوئی خاص خراب نہیں ہوئی تھیں۔ بھاری مقدار میں منشیات بھی برآمد ہوئی ہے جو عمارت کے تہہ خانے میں چھپائی گئی تھی۔“
”گویا آپ کے کھاتے میں ایک کارنامے کا اضافہ ہو گیا ہے۔“
وہ حیرانی سے بولا۔ ”کیسے ؟“
”گھو دادا کی موت چھوٹا موٹا کارنامہ تو نہیں ہے۔“
اس نے نفی میں سرہلایا۔”لاشوں کے پوسٹ مارٹم سے ان کی موت کے وقت کا پتا با آسانی لگ جائے گا۔“
”پوسٹ مارٹم رپورٹ کا تبدیل کرنا کون سا مشکل ہے۔“
” بندہ راشی نہ ہوتوبہت مشکل ہے ۔“
مجھ پر گھڑوں پانی پڑ گیاتھا۔ اکبر خان اعلیٰ کردار کا مالک تھا۔اور انڈیاسرکار کے ساتھ اس کی وفاداری ہر شبے سے بالاتر تھی۔
”رگھو دادا کی موت تمھارے ساتھ لڑتے ہوئے ہوئی،اس کی ٹوٹی ہوئی گردن ظاہر کر رہی ہے کہ یہ جانوکمانڈو کا کام ہے۔پوسٹ مارٹم رپورٹ آتے ہی ایجنسیوں نے تمھاری تلاش میں یہ علاقہ چھان مارناہے۔“
”ان شاءاللہ تب تک میں ممبئی پہنچ چکا ہوں گا۔“
انسپکٹر نے پوچھا۔ ”اور سیٹھ ہری چرن داس کی بیٹی کا کیا ہوگا۔“
”وہ اس کے ساتھ بمبئی تک جائے گی۔“ اندر آتی شیتل نے برجستہ جواب دیا۔ہم بے ساختہ مسکرا دیئے تھے ۔
اس نے قریب آ کر نمستے کہا اور میرے پہلو میں نشست سنبھال لی۔
اکبر خان نے خلوص دل سے مشورہ دیا۔”میرا نہیں خیال آپ کو ممبئی جانے کی ضرورت ہے۔“
وہ تیکھے لہجے میں بولی۔”اوریہ پٹی آپ کو جان نے پڑھائی ہے۔“
”کون سی پٹی۔“اکبر خان حیران رہ گیا تھا۔
وہ اطمینان سے بولی۔”مجھ سے یہیں جان چھڑانے کی۔“
اکبر خان نے انکار میں سرہلایا۔ ”عمر جان نے ایسا کچھ نہیں کہا۔
مجھے گہری نظروں سے گھورتے ہوئے وہ متبسم ہوئی۔ ”اظہارِ تعجب ہی کر سکتی ہوں۔“
”میری سمجھ میں کچھ نہیں آیا۔“اکبر خان کی حیرانی سوا ہو گئی تھی۔
شیتل نے کہا۔”جان ،مجھ سے جان چھڑانے کی کوشش میں ہے ۔“
اکبر میری طرف مڑا۔ ”بھلا اتنے خوب صورت ہم سفر سے کون بے وقوف جان چھڑانے کی کوشش کرے گا۔“
”چار قد م ساتھ چلنے والاہم سفر نہیں بن جاتا،جب منزل جداہو توراستہ الگ کرنا پڑتا ہے۔“
”جھوٹ۔“ شیتل جذباتی ہوئی ۔ ”میری تو منزل بھی یہ خودہے۔“
”اگر یہ تکرار بھوجن کے بعد کی جائے توزیادہ مفید رہے گی۔“ٹھاکر مخل ہوا۔
اکبر خان نے کہا۔”میں شام کی نماز پڑھ کر آتا ہوں۔“
میرا دل عبادت کو مچلا۔”میں نے بھی پڑھنی ہے۔“
ٹھاکر اٹھتا ہوا بولا۔ ”ہم کھانے کے کمرے میں انتظار کر رہے ہیں۔“
اکبر خان وضو میں تھاوہیں چادر بچھا کر نماز پڑھنے لگا۔میں غسل خانے کی طرف بڑھ گیا۔
lll
کھانا کھا کر انسپکٹر مجھے صبح سویرے تیار ہونے کا مژدہ سنا کر رخصت ہوگیا۔ ہم دونوں دیر تک ٹھاکر کے کنبے کے ساتھ گپ شپ میں مصروف رہے اور رات گئے ہی کمرے میں لوٹے۔
کمرے میں دو چارپائیوں کو دیکھ کر شیتل نے مجھے گھورا۔”یہ آپ کی کوشش سے ہوا۔“
”ٹھاکر چچا کو ہمارے بارے پتا چل گیا ہے۔“ میں نے حقیقت سے پردہ اٹھایا۔
وہ منہ بناتے ہوئے بولی۔” مجھ سے یوںبدک رہے ہیں جیسے چھوت کی بیماری ہو۔“
میں نے خاموشی سے بتی بجھائی اور سونے لیٹ گیا۔
شیتل بھی بستر میں گھس کرگنگنانے لگی....
آجاﺅتڑپتے ہیں ارماں اب رات گزرنے والی ہے
میں روﺅں یہاں تم چپ ہو وہاں اب رات گزرنے والی ہے
چاند کی رنگت اڑنے لگی،تاروں کے دل اب ڈوب گئے
ہے درد بھرا بے چین سماں اب رات گزرنے والی ہے
اس چاند کے ڈولے میں آئی نظر، یہ رات کی دلھن چل دی کدھر
آواز تو دو کھوئے ہو کہاں ،اب رات گزرنے والی ہے
گھبرا کے نظر بھی ہار گئی ،تقدیر کو بھی نیند آنے لگی
تم آتے نہیں میں جاﺅں کہاں، اب رات گزرنے والی ہے
اب رات گزرنے والی ہے ،اب رات گزرنے والی ہے
صورت کی طرح اس کی آواز بھی دلکش تھی۔ اس کے دکھڑے نے میری آنکھوں میں نمی بھر دی تھی۔ لگا میری سعدیہ پکار رہی ہے۔چند ماہ کا عرصہ مجھے صدیوں پر محیط نظر آنے لگا تھا۔جانے کب میری بانہوں کواس کے ریشمی بدن سے اتصال کی سعادت حاصل ہوتی۔کب آنکھوں کو موہنی شکل کا دیدار نصیب ہوتا،کب سماعتوں خوش کن آواز سن پاتیں۔
l l l
اکبر خان کی آمد سے پہلے ہم تیار تھے۔ اس کے آتے ہی روانہ ہو گئے۔تمام نے ہمیں دکھی دل سے رخصت کیا تھا۔ ٹھاکرنے دس ہزار کے بہ قدر رقم زبردستی میری جیب میں ڈال دی تھی جبکہ سرلادیوی نے سچے موتیوں کا ہار شیتل کو پہنایا تھا۔دوپہر کا کھانا ٹھاکر نے گاڑی میں رکھوا دیا تھا۔ جو ہم نے چار بجے قریب اجمیر شہر سے گزر کر کھایا اور پھر تھرماس نیم گرم چائے پی کر دوبارہ چل پڑے۔
رات کا کھانا ہم نے ایک ہوٹل میں کھایا۔ گرم تندوری روٹیوں کے ساتھ چنے کی تڑکا لگی دال، میں گنجائش سے بھی زیادہ کھا گیا تھا۔ دودھ پتی پی کر ہم تازہ دم ہو گئے تھے۔ بل کی ادائی اکبر خان نے کی تھی۔ میں نے آتے وقت بوڑھے بیرے کو ایک ہزار ٹپ دی وہ ہکا بکا رہ گیا تھا۔بے چارہ شکریہ بھی ادا نہیں کر سکا تھا۔ اکبرخان ڈرائیونگ سیٹ سنبھالنے لگا،صبح سے وہی ڈرائیونگ کرتا آرہا تھا۔
میں نے کہا۔”تھانے دار صاحب !تھوڑا آرام کر لیں ۔مدد ی ضرورت ہوئی تو اٹھادوں گا۔“
وہ ”شکریہ۔“کہتے ہوئے عقبی نشست پر منتقل ہو گیا۔ میں نے ڈرائیونگ سیٹ سنبھال لی۔ شیتل میرے ساتھ بیٹھ گئی تھی۔
سردی شدید تھی لیکن ہیڑ نے ہمیں محسوس نہ ہونے دی۔احمد آباد تک ہم بغیر کسی حادثے کے پہنچے ، ایک دو جگہ پولیس والوں نے روکا مگر انسپکٹر اکبر خان کے سروس کارڈ نے جادوئی چھڑی کا کام کیا تھا۔
احمد آباد سے نکلے ہمیں تھوڑی دیر ہی ہوئی تھی کہ انسپکٹر اکبر خان کے ہلکے ہلکے خراٹے سنائی دینے لگے۔ وہ غریب صبح سے ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھا تھا ذرا ساآرام ملتے ہی نیند میں ڈوب گیاتھا۔
”تم اکبر صاحب کےہمراہ ہی واپس لوٹوگی نا۔“ میں نے اس کا عندیہ لینا چاہا۔
اس نے نفی میں سر ہلا یا۔ ”آپ کی روانگی تک وہیں رہوں گی۔“
”بے وقوف!وہاں میرا واسطہ غنڈوں، موالیوں سے رہے گا اور تمھارا ساتھ سوائے مسائل بڑھانے کے کوئی فائدہ نہیں دے گا۔“
وہ اعتمادسے بولی۔ ” مسائل پیدا نہیں ،حل کروں گی۔“
میں تیقن سے بولا۔”کم از کم یہ خوش فہمی میں نہیں پال سکتا۔“
وہ اطمینان سے بولی۔”آپ ممبئی شہر سے بالکل ناواقف ہیں،میں نہ صرف رہنمائی کروں گی بلکہ وہاں ہماری رہائش گاہ موجود ہے یوں محفوظ ٹھکانہ مل جائے گااور ایک لڑکی کے ساتھ آپ اکیلے کی نسبت کم مشکوک نظر آئیں گے۔“
میں متحیر ہوا۔”اتنی ہوشیار نظر تو نہیں آتی ہو۔“
وہ کھل کھلائی۔”اکبر خان بھائی سے سنا ہے،کہ میں آپ کے کتنا کام آسکتی ہوں۔“
”پر وعدہ کرو،جب کام پر نکلوں گا،تو میرے ساتھ جانے کی ضد نہیں کروگی۔“
وہ کھل اٹھی تھی۔”منظور، لیکن چھپنے کی کوشش نہ کرنا ورنہ اخبار میں اشتہار دے دوں گی کہ ایک عدد کمانڈو غائب ہے۔“
میں اطمینان سے بولا۔” پہلے بھی اخبار بھرے پڑے ہیں ۔“
”گویا مجھے چھوڑنے کا ارادہ کر چکے ہو۔“
”بہت پہلے۔“
وہ میرے بازو پر گھونسہ مارتے ہوئے بولی۔ ”سنگ دل،کٹھور،ہرجائی۔“
میں سنجیدہ ہوا....
زندگی سے یہی گلہ ہے مجھے
تو بہت دیر سے ملا ہے مجھے
میرے کندھے پر سر ٹیکتے ہوئے اس نے خوشگوار حیرانی ظاہر کی۔”سچ۔“
”ہاں،لیکن میں مجبوریوں کی دلدل میں گردن تک دھنسا ہوں۔ دشمنی کی آگ پتا نہیں کتنے خرمنوں کو جلا کر سرد ہو گی۔ تمھیں ساتھ لے جانا ،جلتی آگ میں گھسیٹنے کے مترادف ہے ۔ اس کامیں متحمل نہیں ہو سکتا۔“
وہ وارفتگی سے بولی۔” آپ کے ہمراہ نرگ میں جلنا ،تنہا سورگ میں رہنے سے عزیز ہے۔“
” تمھیں ساتھ نہیں لے جا سکتا، البتہ حالات ٹھیک ہو گئے تو ملاقات کو آنے کی کوشش کروں گا۔“
اس نے بے زاری ظاہر کی۔” آپ پہلے بھی کہہ چکے ہیں، دہرانے کی ضرورت نہیں۔“
میں نے چپ سادھ لی اس موضوع پراس سے بحث کرنامشکل تھا ۔وہ ساری کشتیاں جلانے پر تلی تھی۔اس کا مطمح نظر میرا ساتھ تھا اور مجھے اتنی پریشانیاں لاحق تھیں جن کے مقابل پیار محبت کی حیثیت ثانوی تھی۔ سچ تو یہ ہے کہ میں شیتل کے بارے کچھ سنجیدگی سے سوچ ہی نہیں سکا تھا۔اچھی طرح جانتا تھا کہ وہ کیا چاہتی ہے ، لیکن یہ معلوم نہیں تھا کہ میں کیا چاہتا ہوں ۔
اس نےسیٹ سے پشت لگا کر آنکھیں بند کر لیں۔
صبح صادق کے قریب ہم سورت سے نکل کر آگے بڑھے ۔اذان ہونے پر ایک چھوٹی سی مسجد میں فجر کی نماز ادا کی۔ اکبر خان ایک ہوٹل سے چائے کا تھرماس اور پانچ چھے پراٹھے لے آیا۔ ناشتا کر کے ہم روانہ ہو گئے۔ ڈرائیونگ سیٹ اکبر خان نے سنبھال لی تھی۔
کار بڑھاتے ہوئے اس نے پوچھا” آپ لوگوں نے کیا فیصلہ کیا ہے۔“
”کیسا فیصلہ؟“ میں نے سوالیہ نظروں سے اسے گھورا۔
شیشے میں دیکھتے ہوئے وہ مسکرایا۔” شیتل ساتھ رہے گی یا واپس جائے گی۔“
میں اطمینان سے بولا۔ ”اس کی موجودی سے مجھے تقویت ملے گی۔“
شیتل کا مرجھایا ہوا چہرہ کھل اٹھا تھا۔ جانتا تھا میرے یا اکبرخان کی کوشش سے اس نے نہیں سمجھنا تھا،تو فضول میں توانائیاں ضائع کرنا کہاں کی عقل مندی تھی۔
وہ شوخی سے بولی۔ ” دھنے واد،البتہ آپ کے ایسا نہ چاہنے پر بھی میں واپس جانے والی نہیں تھی۔“
انسپکٹر اکبر خان حسرت سے بولا۔ ”خوش قسمت ہو یار! شیتل جیسی لڑکی کا حصول ہماراتو سپنا ہی رہا ہے ۔“
میں مایوسی سے بولا۔ ”شیتل یا میرے چاہنے سے ہم ایک نہیں ہو سکتے۔“
اکبر خان نے حیرانی ظاہر کی۔”جب دونوں کی منشا ایک ہے تو کیا رکاوٹ ؟“
میں فلسفیانہ لہجے میں بولا۔”ہمارے فیصلوں اور ارادوں کی راہ میں رب کی مرضی رکاوٹ ہوتی ہے دوست۔“
شیتل چڑ کر بولی۔”صاف کہیں نا آپ کے نزدیک میری حیثیت مسافر بس میں ساتھ والی سیٹ پر بیٹھی اجنبی لڑکی سے بڑھ کر نہیں ہے۔“
میں جھلاتے ہوئے بولا۔”اچھی طرح جانتی ہو تم میرے لیے کیا ہو۔“
اس نے منہ بنایا۔”اظہار کرنے سے موت پڑتی ہے۔“
میرے لبوں پر پھیکا تبسم نمودار ہوا۔”جب اپنا نہیں سکتاتواظہار کا حق بھی نہیں رکھتا۔“
وہ مایوسی سے بولی۔”دل کے خوش رکھنے کو غالب یہ خیال اچھا ہے۔“
اکبر خان مخل ہوا۔”مجھے یہ مسئلہ بحث وتکرار سے حل ہونے والا نہیں لگتا۔“
وہ گلو گیر ہوئی۔”بھیا! یہ مسئلہ کسی بھی طرح حل نہیں ہوگا۔جان کا مطمح نظر مجھے بہلانا ہے اور بس۔“
میں تلخ ہوا۔”میں نے پسند کی شادی کی ہے ،ایک پیارا سا بچہ ہے،گھر کے حالات اتنے خراب ہیں کہ مجھے فوج سے بھگوڑا ہو کر اس جنجال میں پھنسنا پڑااور محترمہ چاہتی ہیں سب کچھ بھلا کرپیار محبت پرتوجہ دوں۔جب اتنی خوب صورت لڑکی میری چاہت کی دعوے دار ہے تواپنے کنبے کے غم پسِ پشت ڈال دینا چاہئیں۔“
”ایسا کب کہا۔“شیتل میرا ہاتھ پکڑتے ہوئے شاکی ہوئی۔”میں تو دکھ درد میں حصہ دار بننا چاہتی ہوں، صرف آپ کو نہیں آپ کے سارے رشتوں کو اپنانا چاہتی ہوں۔اور جب آپ محبت کے دعوے دار ہیں تو اظہار میں جھجک کیسی،پسند کرتے ہیں تو اقرارمیں تردد کیسا۔چاہتے ہیں اور زندگی میں شامل نہیں کرتے،اس کا صاف مطلب تو یہی بنتا ہے نابہلارہے ہیں،جھوٹی تسلی دے رہے ہیں، جان چھڑا رہے ۔“
”تنہامیرامسئلہ نہیں ہے بے وقوف!ماں ،باپ،ساس سسر،بہن بھائی،بیوی بچہ تمام رشتوں اور روایات کی زنجیروںسے بندھا ایک بے بس انسان ہوں۔دنیاوی طاقتوں کے خلاف سینہ سپر ہوکر تمھاری جان ضروربچا سکتا ہوں ،اپنے بڑوں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر یہ نہیں کہہ سکتا کہ دوسری شادی کرنا چاہتا ہوں کہ سعدیہ کی طرح مجھے شیتل بھی بہت پیاری ہے۔“
”جب کہہ رہی ہوں کہ گھروالوں کو منانے کا کام مجھ پر چھوڑدیں۔“وہ ہار ماننے کو تیار نہیں تھی۔
اکبرخان نے قہقہ لگاتے ہوئے ہمیں جذباتی کیفیت سے نکالا۔”صرف بحث و تکرار نہیں،یہ مسئلہ لڑائی جھگڑے سے بھی حل نہیں ہوگا۔“
شیتل بددلی سے بولی۔”تو آپ بتائیں کیسے حل ہو گا بھائی۔“
اکبر خان سنجیدہ ہوا۔”ایک دوسرے کی مجبوریاں اور احساسات کو سمجھو۔“
شیتل نے منہ بنایا۔”یہ مشورہ جان کو دیتے تو مناسب رہتا۔“
میں زچ ہو کر بولا۔”کیا یہ تکرارختم ہو سکتی ہے۔“
شیتل منہ بنا کر باہر دیکھنے لگی۔اکبر خان بھی خاموش ہو گیا تھا۔
نو دس بجے تک ہم ممبئی کے مضافات میں داخل ہو گئے تھے۔ساحل سمندر پر واقع یہ شہر آبادی کے لحاظ سے انڈیا کا سب سے بڑا شہر ہے۔اس کی انڈیا میں وہی اہمیت ہے جو کراچی کو پاکستا ن میں حاصل ہے۔مزید دو گھنٹے کے سفر کے بعد ہم شیتل کی رہنمائی میں گاندھی نگر کالونی میں ایک چھوٹے سے بنگلے کے قریب پہنچ چکے تھے۔
اطلاعی گھنٹی پر ایک بوڑھے شخص نے ذیلی دروازہ کھول کرباہر جھانکا ۔شیتل کو دیکھتے ہی اس نے خوشگوار حیرانی سے نمستکار کہا ا وربڑا دروازہ کھول دیا۔
گاڑی صحن میں روک کر ہم باہرآئے۔
اکبر خان نے کہا۔” مجھے اجازت دیں۔“
شیتل نے مشورہ دیا۔ ”اتنا طویل سفر دوبارہ کیسے کریں گے۔بہتر ہو گا آج رات آرام کرلیں۔“
اکبر خان نے نفی میں سر ہلایا۔ ” بہت سے کام ادھورے چھوڑ آیا ہوں۔اس لیے ضائع کرنے کو چند منٹ بھی نہیں ہیں۔باقی پریشان نہ ہوں واپسی کسی بس سے ہوگی۔“
شیتل مصر ہوئی۔”کھانا تو کھا لیتے۔“
مجھ سے معانقہ کرتے ہوئے اس نے انکار میں سرہلایا۔ ”راستے میں کھالوں گا۔“
میں ممنونیت سے بولا” آپ کااحسان ساری زندگی قرض رہے گا۔دعا ہے اﷲ پاک آپ کو ہمیشہ خوش رکھے۔“
اکبر خان نے شیتل کے سر پر ہاتھ رکھا۔”میری بہن کا خیال رکھنا۔“ اور کار میں بیٹھ کر رخصت ہو گیا۔جبکہ میں شیتل کی رہنمائی میں اندر داخل ہوگیا۔
l l l
نیم گرم پانی سے لطف اندوز ہوتے ہوئے میں شیتل کی اپنے باپ سے فون پر ہونے والی گفتگو سن رہا تھا۔ وہ پرجوش انداز میں اپنی رہائی کی فرضی کہانی سنا رہی تھی۔میرے غسل خانے سے نکلے تک وہ والد صاحب کومطمئن کر چکی تھی۔
”سیٹھ صاحب سے گپ شپ ہو رہی تھی۔“
وہ متبسم ہوئی۔ ”ہاں،میری جدائی میں سخت پریشان تھے سوچا ان کی پریشانی دور کر دوں۔“
”کیا کہہ رہے تھے؟“
” فکر مند تھے اور جلد از جلد واپسی کا کہہ رہے تھے ۔“
”تو کیا جواب دیا۔“
”یہی کہ چند دن تک لوٹ آﺅں گی۔بسڈھیر ساری نصیحتیں کیں اپنا خیال رکھنے کا کہااور جلدی لوٹنے کی ہدایت کی۔“
”مطلب سیٹھ صاحب تمھیں چاہتے ہیں۔“
وہ شوخی سے بولی۔ ”اپنی دولت کے بعد انھیں سب سے زیادہ میں عزیز ہوں۔“
”تمھاری گھسی پٹی کہانی پر انھوں نے کیسے یقین کر لیا۔“
” پتا جی آم کھاتے ہیں،پیٹ گننے میں وقت ضائع نہیں کرتے۔اپنی بیٹی انھیں بہ خیریت واپس مل رہی ہے اتنا کافی ہے۔“
”آپ کے ہاں مہمان سے کھانے پینے کا پوچھتے ہیں یا اسے خود بے شرم ہونا پڑتا ہے ۔“
”شما چاہتی ہوں۔“وہ ندامت بھرے تبسم سے وہ ملازم کو آواز دینے لگی۔”دھرمندر چاچا۔“
”جی چھوٹی مالکن۔“بوڑھاملازم اندر آیا۔
”قریبی ہوٹل سے دو بندوں کا کھانا لے آﺅ اور پیسے....“ اس نے مجھے دیکھ کر قہقہہ بلند کیا۔
”یہ لو چا چا۔“ میں نے ایک بڑا نوٹ اس کی طرف بڑھا دیا۔ دھر مندر سر ہلاتا ہوا باہر نکل گیا۔
”سور ی جان!“وہ نادم ہوئی۔
میں نے چوٹ کی۔”ہاں، بیٹی کا آئیڈیل باپ ہوتا ہے۔“
وہ روہانسی ہوئی۔ ”اچھی طرح جانتے ہو میرے پاس پیسے نہیں ہیں ۔“
میں نے چڑایا۔”ہوتے تو کون سا خرچ کرنے تھے۔“
”جانوکے بچے ۔“ وہ گھونسہ تانتے ہوئے میرے طرف بڑھی۔
میں جلدی سے کان پکڑتے ہوئے بولا۔ ”سوری ،آئندہ سچ نہیں بولوں گا۔“
چہرے پر حیا آلود ہنسی نمودار ہوئی۔ ہنستے ہوئے اس کے گالوں میں گڑھے پڑ جاتے تھے اور سفید موتی کی طرح چمکتے دانت دیکھنے والے کوگنگکر دیتے تھے۔ بلا شبہ اسے ہوش و حواس چھیننے کا ملکہ قدرت کی طرف سے وافر مقدار میں عطا ہوا تھا۔اس کے تبسم نے مجھے بھی مبہوت کر دیا تھا۔
میری حالت دیکھتے ہوئے اس کے چہرے پر قوسِ قزح کے رنگ لہرائے۔یہ وار میں برداشت نہ کرسکا اور گھبرا کرنظریں چرالیں۔
”جان!“وارفتگی سے کہتے ہوئے وہ قریب آئی۔ قالین پر بیٹھ کر ٹھوڑی میرے گھٹنوں پر ٹکاتے ہوئے بولی۔ ” نظریں کیوں چرا رہے ہیں۔ میں آپ کی ملکیت ہی توہوں۔آپ کی داسی، کنیز،خادمہ ہوں۔ میرا تن من دھن سب کچھ آپ کا ہے ، پھر خود پرجبر کرنے کامطلب؟“
کھلی ڈلی باتوں سن کر میںلرز اٹھاتھا۔ پتا نہیں میری محبت کو اس نے اپنے دل کا روگ کیوں بنا لیا تھا۔ اگر وہ جسمانی قرب حاصل کر لیتی تب بھی میں رکنے والا تو نہیں تھا۔ پھرکیوں خود کو سستے پن سے میرے حوالے کرنے پر تلی تھی۔میں سنسار تیاگنے والاسادھو یا ولی اﷲ نہیں تھا۔عورت کے معاملے میں عام مردوں جیسا ہی تھا جسے کو ئی بھی جوان لڑکی بہکا سکتی تھی۔اور وہ تو شیتل تھی جو زاہدِ صد سالہ کو بھی اسیر زلف کر لیتی۔ لیکن نامعلوم اس کے بارے کون سا جذبہ میرے اندر پیدا ہو چکا تھا کہ میں اسے پاکیزہ دیکھنا چاہتا تھا۔ اور اسے چھوکر بھی میلا کرنے پر راضی نہیں تھا۔
میں چپ سادھے بیٹھا رہا۔وہ بھی میرے گھٹنوں پر سر ٹیکے خاموش ہو گئی۔میں اس کی ریشمی زلفوں میں انگلیاں پھیرنے لگا۔ کافی دیر گزر گئی۔ ہماری محویت میں قدموں کی چاپ نے توڑا۔ شیتل ” دھرمندرچچا آگیا ہے۔“ کہتے ہوئے صوفے پر بیٹھ گئی۔
جاری ہے
قسط نمبر13
ریاض عاقب کوہلر
دروازہ بجا کروہ اندر آیا۔ ”بی بی جی بھوجن پروس دوں۔“
شیتل نے اثبات میں سرہلادیا۔
کھانا ہم نے خاموشی سے کھایا۔ کھانے کے بعد دھر مندر چائے لے آیا۔پی کر ہم تازہ دم ہو گئے تھے۔
”کیا خیال ہے تھوڑا گھوم پھر آئیں۔“ اس نے مشورہ دیا۔
”لڑکی! دماغ کاکوئی پرزہ تُو ڈھیلا نہیں ہے۔ ممبئی گھومنے نہیں آیا۔میںرات کو نکلوں گاکہ میرے مطلب کے لوگ اندھیرا چھانے کے بعد ہی ملتے ہیں۔“
اس نے شرارت سے پوچھا۔” راتیں تو طوائفوں کی جاگتی اور دن سوتے ہیں۔“
”بکومت ۔“میں چڑ گیا تھا۔
اس نے منہ بسورا۔”ہروقت کونین ہی چبائے ہوتے ہیں۔“
” مجھے بستر دکھاﺅ تاکہ آرام کر سکوں۔ رات کو شاید سونے کا موقع نہ ملے۔“
”چلیں۔“وہ اٹھ گئی۔
وہ پُر تعیش خواب گاہ تھی۔ ہلکے آسمانی رنگ کی دیواریں اور اسی رنگ کے پردے تھے۔ کمرے کے وسط میں بڑے حجم کا بیڈ پڑا تھاجو چوکور کی بجائے گول تھا۔ اس پر آسمانی رنگ کی پھول دار چادر اور خوب صورت گرم کمبل پڑا تھا۔
میں تحسین آمیز لہجے میں بولا۔ ” سیٹھ صاحب اتنے بھی کنجوس نہیں ہیں۔“
وہ فخریہ لہجے میں بولی۔”خواب گاہ پتا جی نے نہیں میں نے سجائی تھی۔اوران کی ڈانٹ بھی کھائی تھی۔“
” لاجواب ہے۔“ میں نے تعریف کرنے میں بخل نہیں کیا تھا۔
”میرا انتخاب لاجواب ہی ہوتا ہے۔“ مجھے گھورتے ہوئے وہ ذومعنی لہجے میں بولی۔
میں خاموشی سے بوٹوں کے تسمے کھولنے لگاکہ جواب دینے کا مطلب تکرار کو ہوا دینا تھا۔
”آپ آرام کرو میںذرا ممبئی گھوم آﺅں، کافی دنوں بعد چکر لگا ہے۔“
نرم و ملائم بیڈ پر لیٹ کر میں نے آنکھیں بند کرلیں۔ چوبیس گھنٹے کے طویل سفر نے تھکا دیا تھا۔ میری آنکھ شیتل کے جگانے پر کھلی۔ ملائم ریشمی ہاتھوں کالمس مجھے بہت اچھا لگاتھا۔ سعدیہ بھی اسی طرح جگاتی تھی کہ اپنے ہاتھوں سے میرے بالوں میں کنگھی کرتی۔ شاید تمام محبت کرنے والی عورتوں کا اپنے مردوں کو جگانے کا یہی طریقہ ہوتاہے۔
میں نے آنکھیں کھولتے ہی پوچھا۔ ”تھوڑی دیر سونے نہیں دے سکتی تھیں۔“
وہ تیکھے لہجے میں بولی۔ ”رات کے دس بجنے والے ہیں ،نہ جگاتی تو مہاراج نے موڈ بنا لینا تھا۔“
میں منہ بناتے ہوئے بولا۔” زیادہ تقریرنہ جھاڑو،زبان بے چاری کو آرام بھی دے دیا کرو۔“
اس نے ہونٹ بھینچ لیے تھے۔ اتنی محبت سے جگانے کے جواب میں ایسے رویے کی توقع یقینا نہ ہو گی۔
تازہ دم ہوکر کمرے میں آیا تو وہ اب تک وہیں بیٹھی تھی۔
”کچھ کھانے کو ہے یا باہر جا کر کھانا پڑے گا۔“
”کھانا تیار ہے مسڑعمر جان!“
”تو چلیں ....“
”مسزعمر جان۔“ وہ میرا فقرہ اچکتے ہوئے کھل کھلائی۔
”نہیں جی ،مس ہری چرن داس صاحب!اس غریب کی اتنی قسمت کہاں ۔“
”مذاق اڑانا چھوڑیں اور چلیں،بہت بھوک لگی ہے۔“ وہ مجھے کھانے کے کمرے کی طرف دھکیلنے لگی۔
کھانے کی میز لوازمات سے بھری ہوئی تھی۔ وہ محبت کرنے والی بیوی کی طرح مختلف پکوان اٹھا اٹھا کر میرے سامنے رکھتی رہی گئی جنھیں چکھ کر ہی میرا پیٹ بھر گیاتھا۔
قہوہ پی کر کہنے لگی۔”چلیں آپ کو سامان دیکھاﺅں۔جو ابھی خرید کے لائی ہوں۔“
”تمھارے پاس تو پیسے نہیں تھے۔“میں نے حیرانی ظاہر کی۔
وہ فخر سے بولی۔” سیٹھ ہری چرن داس کی بیٹی کے لیے پیسے کا حصول کون سا مشکل ہے ۔“
میں سنجیدگی سے بولا۔”سیٹھ زادی نہ ہوتیں تب بھی تمھارے لیے پیسے کا حصول مشکل نہ ہوتا۔“
”ایسی لگتی ہوں۔“وہ شاکی ہوئی۔”پتا جی کے دوست سے پچاس ہزارادھار مانگے ہیں۔“
میں ہنسا۔”مذاق کر رہا تھا یار۔“
وہ طیش میں آئی۔”ایسا بے ہودہ مذاق دوبارہ نہ کرنا۔مجھے اپنے علاوہ کسی سے منسوب کیاتو زہر کھالوں گی۔“
”سوری ۔“میں نے پسپا ہونامناسب سمجھا تھا۔
مجھے تیز نظروں سے گھورتے ہوئے وہ آگے بڑھ گئی۔میں کان دبائے پیچھے ہو لیا۔
اس نے ساری خریداری میرے لیے کی تھی۔ تین تھری پیس سوٹ، بوٹوں کے تین جوڑے سپورٹس شرٹس، جینز کی دوپتلونیں۔ چمڑے کی جیکٹ۔ شیو کا سامان ،تین چار قسم کی خوشبوئیںاور پتا نہیں کیا کیا اٹھا لائی تھی۔
میںنے سارا سامان حیرانی سے دیکھا۔ ”محترمہ! میرا یہاں سال بھر رہنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔“
وہ سنجیدگی سے بولی۔ ” ساتھ لے جانا۔“
جی چاہاکہوں ،خود کو سنبھالوں گایا اس سامان کو مگر پھر اس کی آزردگی کے خیال سے خاموش رہا۔
”اپنے لیے کیا لائی ہو؟“
”میرے لیے پہلے ہی یہاں کافی سامان پڑا ہے۔“
میں نے کہا۔”اب تم آرام کرو میں باہر کا چکر لگا آﺅں۔“
اس نے فکر مندی ظاہر کی۔”کب تک لوٹیں گے۔“
”کچھ کہہ نہیں سکتا۔ بہ ہر حال تم میرا انتظار نہ کرنا۔“
وہ چاہت سے بولی۔”آپ کاانتظار تو آخری سانس تک کروں گی“
میں نے منہ بنایا۔”میری مراد آج رات سے تھی۔“
”اگر آپ کو گاڑی میں چھوڑ آﺅں۔“
”ضرورت نہیں۔“نفی میں سرہلا کر میں کالی جینز، سرخ سپورٹس شرٹ اور چمڑے کی جیکٹ اٹھا کر غسل خانے میں گھس گیا۔لباس تبدیل کر کے شیتل کو ہاتھ ہلاتے ہوئے کوٹھی سے نکل آیا۔فرلانگ بھر پیدل چلنے کے بعد مجھے ٹیکسی مل گئی تھی۔
”کتھے جاڑاں جے بابو؟“ سکھ ڈرائیورنے روایتی انداز میں پوچھا۔
”کسی اچھے اور بڑے جوا¿ خانے میں لے جاﺅ۔“
وہ ہنستے ہوئے بولا۔”تو سیدھا کہیں نا، جگو دادا کے اڈے پر جانا ہے۔“
”سمجھ دار ہو۔“ میں نے پسندیدگی سے سرہلایااورر اس نے ٹیکسی آگے بڑھا دی۔ میں کھڑکی سے باہر جھانکنے لگا تاکہ واپسی میں پریشانی نہ ہو۔ ٹیکسی پون گھنٹا چلتی رہی اور اس سے زیادہ تیز رفتاری سے سکھ ڈرائیور کی زبان چلتی رہی۔ میں سارے راستے ہوں ہاں کر کے اسے ٹر خاتا رہا۔ٹیکسی ایک بہت بڑی عمارت کے سامنے رکی جس کی پیشانی پر مون لائٹ لکھا ہوا جگمگارہا تھا۔کرایہ ادا کر کے میں پارکنگ سے نکلا جہاں قیمتی گاڑیاں پارک تھیں۔ ہوٹل کے داخلی دروازے پر معزّز لباس میں کھڑاغیر معزّز شخص آنے جانے والوں کو غور سے دیکھ رہا تھا۔
عمارت کا ہال لوگوں سے بھرا ہوا تھا۔ بات چیت کی آوازیں مکھیوں کی بھنبھناہٹ کی طرح سنائی دے رہی تھی۔اکثر لوگ ڈنر کررہے تھے ۔ایک بیرے سے جوا¿ خانے کا راستہ پوچھ کر میں اس طرف بڑھ گیا۔
جوا¿ خانہ عمارت کے تہہ خانے میں بنایا گیا تھا۔مجھے سیڑھیاں اتر کر نیچے جانا پڑا۔ دروازے پر ایک منحوس صورت غنڈہ براجمان تھا۔اس کے چہرے پر زخموں کے لا تعداد نشان نظر آرہے تھے۔ اس نے کوئی تعرض نہ کیا اور میں اندر داخل ہو گیا۔
وہ ایک بہت بڑا ہال تھا۔ اس میں جوئے کی مشینیں بھی لگی ہوئی تھیں مگر زیادہ تر لوگ تاش سے قسمت آزمائی کر رہے تھے۔ مختصر لباس پہنے خوش شکل لڑکیاں کھیلنے والوں کومشروبات پیشکر رہی تھیں۔ اس ماحول میں جو مشروب کثرت سے پیا جاتا ہے اس سے قارئین بھی بہ خوبی واقف ہوں گے۔ہال کی دیواروں کے ساتھ مخصوص لباس پہنے جوا¿ خانے کے محافظ کھڑے تھے جن کا کام ہنگاموں کو فرو کرنا تھا۔
میں نے استقبالین سے بیس ہزار کے ٹوکن لیے جو اس نے بے پروائی سے میرے سامنے پھینک دیئے۔گویا بیس ہزار کی رقم اس کے لیے کوئی حیثیت نہیں رکھتی تھی۔
میرا ارادہ جوا¿ کھیل کر دولت کمانے کا نہیں تھا کیوں کہ ضرورت پڑنے پر رقم کا حصول میرے لیے اتنا بڑا مسئلہ ثابت نہ ہوتا۔ میں کسی طریقے سے جگو دادا سے ملاقات کر کے اس کو جانچنا چاہتاتھا کہ آیا وہ میرے کام آ سکتا تھا یا نہیں۔
ٹوکن لے کر میں جیسے ہی مڑا ، دو معزز آدمی ہال میں داخل ہوئے ۔انھیں دیکھ کر میں نے ایک خالی میز کا انتخاب کیا کہ باقی میزیں تقریباََ پر ہو چکی تھیں۔ اورمیرا اندازہ تھا کہ انھوںنے اسی میزکا رخ کرتا تھا۔
میرا اندازہ صحیح ثابت ہوا اوروہ ٹوکن لے کر ہال میں طائرانہ نگاہ دوڑاتے ہوئے میری میز کی طرف آگئے۔
ایک نے پوچھا۔”ہینڈ سم جوان ہم یہاں بیٹھ سکتے ہیں؟“
”پلیز سر۔“ میں احتراماً اٹھ گیا۔
دونوں ”شکریہ۔“ کہتے ہوئے بیٹھ گئے۔
”میرا خیال ہے ایک بندے کی گنجائش ہے۔“ درمیانی قامت اور چھریرے بدن کا ادھیڑ عمر شخص کرسی کھینچ کر بیٹھ گیاتھا۔ ہم نے صرف سر ہلانے پر اکتفا کیا تھا۔ اسے میںنے استقبالیہ کے سامنے سٹول پر بیٹھ کر شراب پیتے ہوئے دیکھا تھا۔وہ یقیناجوا¿ خانے کا اپنا آدمی تھا۔ ایسے آدمی پتا بازی میں مہارت رکھتے ہیں۔ ان کا کام صرف امیر کبیر اسامیوں کے ساتھ کھیلنا ہوتا ہے۔ جیتے ہوئے پیسوں میں ان کا کمیشن مقرر ہوتا ہے۔ اس وقت بھی وہ موٹی اسامیوں کو دیکھ کر ادھر آیا تھا۔ ہمارے بیٹھتے ہی ایک خوب صورت لڑکی ٹرے میں رکھ کرنیاتاش لے آئی۔
”شروع کرو نوجوان۔“ ایک معزز مجھے مخاطب ہوا۔میں نے تاش کھول کر پتے نکالے اور مہارت سے پھینٹ کر پتے میز کے درمیان میں رکھ دیئے۔
نووارد نے ہاتھ بڑھا کر چند پتے اٹھا کر کاٹ لگا دی۔ میں نے بے پروائی سے بقیہ پتے اٹھا کر تین تین سب کو بانٹ دیئے۔ پہلے ہاتھ میرا ارادہ ہیرا پھیری کا نہیں تھا۔ لیکن اتفاق سے میرے ہاتھ اچھے پتے آئے تھے۔ باقی نے بھی بازی میں خاص دلچسپی نہیں دکھائی اور ایک دو چالوں کے بعد سب نے ہاتھ کھینچ لیے۔
اگلی بازی میں نے جان بوجھ کر معزز اشخاص میں سے ایک کو اچھے پتے دے اور ایک دواندھی چالوں کے بعد میں نے پتے اٹھا کر دیکھے اور منہ بناتے ہوئے ہاتھ کھینچ لیے۔
باقی تینوں شروع رہے۔ شارپر کی کوشش تھی کہ اس ہاتھ کا میابی حاصل کر کے بانٹ اپنے ہاتھ میں کر لے۔ مگر اس کی بدقسمتی کہ جسے میں اچھے پتے دے چکا تھا میدان میں ڈٹا رہا اور آخر فتح اسی کے حصے میں آئی۔
اس کے چہرے پر خوشی پھیل گئی تھی اور یہ خوشی صرف بازی جیتنے کی تھی ایسے لوگ پیسے کو اہمیت نہیں دیتے۔
” راجندر صاحب !آج تو ابتداءہی سے لکشمی دیوی آپ پر مہربان ہوگئی ہے۔“
” آپ جانتے توہیں کہ لکشمی دیوی اپنی پرانی عاشق ہے۔“ راجندر فخریہ سے بولا۔ اور پتے پھینٹ کر میز کے درمیان میں رکھ دیئے۔ اس بار بھی وہی جیتا تھا۔ بازیوں کے بعد تاش میرے ہاتھ میں آگئی ۔کلب کا شارپر ہنوز کامیاب نہیں ہو پایا تھا۔ اس بار پتوں کے ہاتھ میںآتے ہی میں نے کھیل دکھانا شروع کر دیا اور میرے سامنے ٹوکنوں کے ڈھیر میں اضافہ ہونے لگا۔
راجندر نے کہا۔” شکل کی طرح تمھاری قسمت بھی خوب صورت ہے جوان!“
میں انکساری سے بولا۔”سیٹھ صاحب کبھی کبھار لکشمی دیوی مہربان ہو ہی جاتی ہے۔“
شارپر میرے جیتنے پر تلملانے کے سواکچھ نہیں کر سکتا تھا۔ لیکن میرے کھیلنے کا انداز ایسا تھاکہ میری پتا بازی نہیں پکڑی جارہی تھی۔شارپر تاش پھینٹتے وقت چند مخصوص پتے لگاتے ہیں اس کے برعکس میں باون کے باون پتوں کو یادداشت میں رکھتا اور ہر بندے کے حوالے مرضی کے پتے کرتا تھا۔
قریباً 50,40ہزار جیتنے کے بعد میں ایک بازی جان بوجھ کر ہار گیا تاکہ کسی کو میری پتا بازی پر شک نہ ہو سکے اور اس دفعہ میں نے شارپر کو جیتنے کا موقع دیا تھا۔تاکہ اسے رنگے ہاتھوں پکڑ سکوں۔
تاش ہاتھ میں آتے ہی شارپر نے مہارت سے پتے پھینٹے اور بانٹ دیئے میں اس کے ہاتھوں کی حرکات کو غور سے دیکھتا رہا۔
ایک دو دو چالیں سب نے اندھی چلیں اور پھر جو جو پتے اٹھا کر دیکھتا گیا اس کے منہ پر رونق آتی گئی۔یقینا وہ پہلی بازی لمبا ہاتھ مارنے کے چکر میں تھا۔میں نے زیر لب مسکرا کر پتے ایک جانب رکھے اور ہاتھ سر کے پیچھے باندھ لیے ۔جو اعلان تھا کہ میں اس بازی دست بر دار ہو گیا ہوں۔
دونوں سیٹھ زور وشور سے ڈٹے رہے۔ پھر نہ جانے سیٹھ راجندر کو کیا سوجھی کہ اس نے پتے شو کروا دیئے ۔اور تین بادشاہوں کے جواب میں شارپر کے تین اِکے دیکھ کر اس کا منہ لٹک گیا تھا۔
میں شارپر کی طرف متوجہ ہوگیا۔جونھی اس نے تاش پھینٹ کر میز پررکھی میں نے صرف اوپر والا پتا اٹھا کر کاٹ لگا دی۔ اس نے طنزیہ نظروں سے مجھے گھورااور تاش بانٹنے لگا۔
اس مرتبہ میرے ہاتھ دو دہلے اور ایک نائیلا آیا تھا۔ مجھے پتا تھا کہ با قیوں کا بھی یہی حال ہو گا۔ چھے سات چالوں کے بعد ہی سیٹھوں نے ہاتھ پیچھے کھینچ لیے، لیکن ہم ڈٹے رہے۔ میرا ٹوکنوں کازیادہ تر ڈھیر میز کے درمیان منتقل ہو چکا تھا۔ اس نے بھی مزید ٹوکن طلب کر لیے۔ کوئی بھی پیچھے ہٹنے کے لیے تیار نہیں تھا۔ جب میں نے دیکھا کہ ٹیبل کے درمیان پڑا ہوا ڈھیر کافی بڑھ گیا ہے۔ تو میں نے ”شو“ کا نعرہ لگا دیا۔
مجھے سخت دھچکا لگا جب اس نے تین اِکے میرے سامنے رکھ دیئے۔ ایک لمحے کو میں گڑبڑا گیاتھا۔ میری کاٹ کے مطابق اس کے پاس تین اِکے آہی نہیں سکتے تھے۔ کوئی چکر ضرو رتھا۔میں نے ذہن پرزور دیا اور ایک دم معاملے کی تہہ تک پہنچ گیا۔
شارپر کی طنزیہ آواز ابھری۔”پریشان کیوں ہو گئے ہو؟“
”بتاتا ہوں۔“ میں تاش اٹھاکر جلدی جلدی پتے سیدھے کرنے لگا۔
” کیا کر رہے ہو۔“ وہ گھبرا گیا تھا۔
میں نے گڈی سے مطلوبہ پتے نکالکر سیدھے کیے۔ چاروں اِکے میز پر پڑے اس کا منہ چڑا رہے تھے۔
سیٹھ راجندرحیرانی سے بولا۔” تاش کی گڈی میں سات اِکے کب سے آنے لگے۔“
”اسے پتا ہو گا۔“ میں نے شارپر کی طرف اشارہ کیا۔ جو رنگے ہاتھوں پکڑے جانے پر حیرت زدہ بیٹھا تھا۔جوا¿ خانے کے محافظوں کو بھی گڑبڑ کا احساس ہو گیاتھا۔ دومحافظ تیر کی طرح ہماری میز کی طرف بڑھے۔
ایک نے پوچھا۔”کیا ہوا؟“
”مہاراج پتے لگاتے رنگے ہاتھوں پکڑے گئے۔“ میں نے طنزیہ لہجے میں جواب دیا۔
وہ مصنوعی غصے سے بولا۔ ”چلو جگو دادا کے پاس۔ دھوکا بازوں کی وہ اچھی خاطر مدارت کرتے ہیں۔ اور بھائی صاحب آپ کو بھی زحمت کرنا پڑے گی۔“ وہ ہمیں مخاطب ہوا۔
شارپر کے اٹھتے ہی اس کی گود میں رکھے تین پتے پیچھے گر گئے ۔ دو دکیاں اور ایک چوکی تھی۔ تاش کے ہم رنگ تین اِکے اس نے اپنے پاس چھپائے تھے جو موقع ملتے ہی اپنے سامنے رکھ دیئے تھے۔
میں نے پیش کش کی۔”سیٹھ صاحب! آپ اپنے ٹوکن واپس لے لیں۔“
”یہ آپ کا انعام ہوا۔“ راجندر خوشدلی سے بولا۔اور میں نے شکریہ کہہ کر تمام ٹوکن ایک لفافے میں ڈال لیے۔
سیٹھ راجندر ان محافظوں کو مخاطب ہوا۔ ” ہم واپس جارہے ہیں۔“ اورپھر میری طرف مڑا۔” جوان اگر جگودادا کوئی زیادتی کرے تو مجھے ضرورملنایہ میرا کارڈ ہے۔“ اس نے ایک تعارفی کارڈ میرے حوالے کیا اور دونوں سیٹھ خارجی دروازے کی طرف بڑھ گئے۔
میں ٹوکنوں کا لفافہ سنبھال کرمحافظوںکے ہمراہ ہو لیا۔استقبالیہ کے پیچھے ایک دروازے سے ہوکر ہم کشادہ گیلری میں داخل ہوئے جس کا اختتام لکڑی کے منقش دروازے پر ہوا۔اس کے دائیں بائیں دو غنڈے جوا¿ خانے کے محافظوں کی مخصوص وردی میں ملبوس کھڑے تھے۔ ایک نے ہمیں رکنے کا اشارہ کیا اور دروازہ کھول کر اندر چلا گیا چند لمحوں بعد باہر آ کر کہا۔
”باس نے صرف اسے بلایا ہے۔باقی واپس چلے جاﺅ۔“ اس کا اشارہ میری طرف تھا۔ وہ واپس مڑ گئے تھے۔اور یہ تو مجھے پہلے ہی سے پتا تھا کہ وہ شارپر جوا¿ خانے کااپنا مقرر کیا ہوا تھا۔ میں جگودادا کے دفتر میں داخل ہوگیا۔یوں بھی میرا مطمح نظر جگو دادا سے ملاقات کرنا تھا۔
ایک وسیع کمرہ تھا۔ لکڑی کی بڑی سی ٹیبل کے پیچھے گینڈا نما شخص گھماﺅ کرسی پر بیٹھا تھا وہ سر سے گنجا تھا، چہرے پر لاتعداد زخموں کے نشان اس کے ماضی کے عکاس تھے۔ دائیں اور سامنے کی دیوار پر بڑی سکرینیں آویزاں تھیں جن پر ہال کے مناظر نظر آ رہے تھے۔
یقینا جگو دادا سارے معاملے سے واقف تھا ۔کہ وہاں بیٹھ کر ہر میز پر نظر رکھی جا سکتی تھی۔
”بیٹھو جوان۔“ جگو دادا نے مجھے گہری نظروں سے گھورتے ہوئے دعوت دی۔
میں ”شکریہ“ کہہ کر صوفے پر ٹک گیا۔
”کیا نام ہے تمھارا؟“
”جان۔“ میں نے مختصرا جواب۔
وہ مدعے پر آیا۔” جو گندر جوا¿ خانے کا اپنا بندہ ہے۔تبھی اسے واپس بھجوا دیا ہے۔ اورمجھے تمھارے ہاتھ کی صفائی پسند آئی ہے ۔آج کے بعد تم میرے لیے کھیلوگے۔ جیتی ہوئی رقم کے چالیس فیصد تمھارے ہوں گے اور ہارنے پر نقصان میں حصہ دار نہیں ہو گے۔ تمھاری رکھشا کی ذمہ داری بھی میری ہو گی۔“
” اچھی پیش کش ہے،مگر افسوس میں اس راہ کا مسافر نہیں ہوں۔“
” تم انکار کر رہے ہو۔“اس کا لہجہ ایک دم سخت ہو گیا تھا۔
میں متبسم ہوا۔ ”آپ کی دھمکیاں سننے نہیں کسی کام سے آیا ہوں۔“
”کام؟“ اس نے سوالیہ نظروں سے گھورا۔
”ایک آدمی کو غیر قانونی طور پر انڈیا سے نکالناہے۔“میں بھی براہ راست مطلب کی بات پر آیا۔
اس نے انکار میں سرہلایا۔” میں فضولیات میں نہیں پڑتا۔“
میں نے ترغیب دی۔”آپ کومعاوضے سے مطلب ہونا چاہیے۔“
”کتنا معاوضا دے سکتے ہو؟“اس نے دلچسپی ظاہر کی۔
”وہ آپ نے مانگنا ہے۔“ میں نے گیند اس کی جانب پھینکی۔
وہ مستفسرہوا۔” کس سے چھپ کر نکلنا ہے۔ پولیس یا ذاتی دشمن ۔“
”دونوں ۔“
”ذاتی دشمن کا نام جان سکتا ہوں۔“
میں اطمینان سے بولا۔”سیٹھ رابندر ناتھ۔“
وہ اچھل کر کھڑا ہوگیا۔ ”جوان تمھارا دماغ جگہ پر ہے۔“
میں اطمینان سے بولا۔”تھوڑی دیر پہلے آپ میری ہوشیاری کی تصدیق کر چکے ہیں۔“
چند لمحے مجھے کڑے تیوروں سے گھور کر اس نے گہرا سانس لیا۔
” مجھے طبعی عمر سے پہلے مرنا بالکل پسند نہیں ہے۔“
میں نے مکھن لگایا۔”یہ الفاظ جگو داد کی شخصیت سے میل نہیں کھاتے۔“
”رہنے دو۔“وہ میرے بہلاوے میں نہیں آیا تھا۔
”سیٹھ رابندر ناتھ سے میری دشمنی کی وجہ جاننے کی کوشش نہیں کرو گے۔“
وہ استہزائی انداز میں ہنسا۔” تاش کھیلنے اورخطروں سے کھیلنے میں بہت زیادہ فرق ہے۔ذرا سی بے احتیاطی سے انسان کی ساری چالیں دھری کی دھری رہ جاتی ہیں۔“
” میں عمر جان ہوں،آپ کی سرکار کے بہ قول پاکستانی جاسوس بلکہ دہشت گرد۔ اور رابندر ناتھ سے میری دشمنی کی وجہ شیش ناگ ہے جو اپنے بھائی کوبرے کی موت کا بدلہ لینا چاہتا ہے۔“
اس کے چہرے پر اشتیاق ابھرا۔” میں بھی کہوں کیوں جانے پہچانے لگ رہے ہو۔کلین شیو کروا کے تمھاری شکل کافی تبدیل ہوگئی ہے۔ اگر سرگنجا کرالو تو بالکل ہی نہ پہچانے جاﺅ۔“
میں مسکرایا۔”یہ مشورے ہامی بھرنے کے بعد دیتے تو زیادہ مناسب ہوتا۔“
” رابندر ناتھ سے ٹکر لینا میرے بس سے باہر ہے۔ البتہ مخلصانہ مشورہ ہے کہ ہر کسی کے سامنے اپنی شناخت ظاہر نہ کرو۔تمھیں پکڑوانے کو خاصی بھاری رقم کا اعلان کیا گیا ہے۔“
”شکریہ۔“خشک لہجے میں کہتے ہوئے میں نے نشست چھوڑ دی۔
جگو دادا بے تکلفی سے بولا۔ ” اتنی جلدی مایوس نہ ہوں۔ تمھارے معاملے پر غور کروں گا شاید کوئی حل سوجھ جائے۔فی الحال چائے پیتے ہیں۔“
اس کا امید افزاءلہجہ سن کر مجھے بیٹھنا پڑا۔
” آپ سرکار کی طرح ،رابندر ناتھ کو بھی تو اندھیرے میں رکھ سکتے ہیں۔“
وہ بے بسی سے بولا۔”بہت مشکل کام ہے دوست۔“
میں نے سجھاﺅ دیا۔” اسے پتا چلنے پر کہہ دینا کہ آپ ،ہم دونوں کی دشمنی سے ناواقف تھے۔“
اس نے انکار میں سر ہلایا۔ ”شیش ناگ زیر زمین حلقوں میں اعلان کر چکا ہے کہ جانو کمانڈو کو انڈیا سے نکالنے والا رابندر ناتھ کا دشمن تصور کیا جائے گا اوراس کے منہ میںرابندر ناتھ ہی کی زبان ہے۔ وہ شیش ناگ کو بیٹے کی طرح چاہتا ہے۔ خبیث حقیقی اولاد سے محروم ہے۔ ایک لے پالک بیٹی اور دوسرا شیش ناگ ہے جنھیں اپنے بچوں کی طرح چاہتا ہے۔“
میں نے مایوسی ظاہر کی۔”مطلب غور کرنے سے آپ کی مراد مجھے وقتی طور پر ٹالنا ہے۔“
وہ عزم سے بولا۔” رابندر ناتھ کی وجہ سے اپنا کاروبار ٹھپ نہیں کرسکتا۔میں سامنے آئے بغیر تمھارا کام کروں گا۔بس یہ وعدہ کرو اگر بدقسمتی سے پکڑے گئے تو رابندر ناتھ تک ہمارے گٹھ جوڑ کی خبر نہیں پہنچے گی۔“
میں نے اطمینان دلایا۔”جانو کی زبان کٹ سکتی ہے،اپنے خیر خواہ کے خلاف کھل نہیں سکتی۔“
” پندرہ لاکھ روپے لوں گا۔ دس لاکھ پہلے اور پانچ انڈیا کی حدود سے باہر۔“
میں نے کہا۔” دس لاکھ دوں گا۔ پانچ پہلے اور پانچ کام کے بعد۔“
گھما ﺅ کرسی کو چکر دے کر اس نے پیٹھ موڑی۔چند سیکنڈ عقبی دیوار پر لگی خوب صورت پینٹنگ کو گھور کر وہ سیدھا ہوا۔”منظور ہے۔“
”شکریہ دادا۔“میں نے ممنونیت ظاہر کی۔
وہ متبسم ہوا۔” کیا چلے گاٹھنڈا یا گرم؟“
”صرف چائے۔“
اس نے رسیور اٹھا کر چائے کا بتایااور میری طرف متوجہ ہوا۔
” یقین نہیں آتا آپ نے خالی ہاتھوں کو برے کو شکست دی ہے۔“
میں انکساری سے بولا۔ ” کم بخت کی موت آئی تھی کہ میرا داﺅ چل گیا۔“
” عینی شاہد دلیر سنگھ نے لڑائی کا احوال تفصیل سے اخبار والوں کے سامنے بیان کیا ہے۔ اس کے مطابق کو برا اتفاقی طور پر ہلاک نہیں ہوا بلکہ عمر جان کمانڈو، کوبرے سے اچھا لڑاکا تھا۔اور ابتدائی ایک دو وار کے بعد کوبرامسلسل دفاعی انداز اپنائے رہا۔“
میں صاف گوئی سے بولا۔” بہت سے ایسے واقعات بھی مجھ سے منسوب کیے جارہے ہیں جن سے میرا دور کا بھی واسطہ نہیں۔ دلیر سنگھ نے بھی میرے ساتھ گزارے روزو شب خوب مرچ مسالہ لگا کر اخبار والوں کے سامنے بیان کیے ہیں۔“
”یہ انکساری تمھارے کردارکی عکاس ہے۔یقینا،شیر اپنا تعارف کراتا نہیں دکھاتا ہے۔“
میں کھل کھلایا۔”آپ بھی اخبارکی الٹی سیدھی خبروں سے متاثر ہو گئے۔“
اس نے نفی میں سر ہلایا۔” ملنے پر یقین آیا ہے کہ اخبار جھوٹ نہیں لکھ رہے۔اور تمھیں دیکھ کر ہی رابندرناتھ سے مخالفت کا خطرہ لیاہے۔“
میں ممنونیت سے بولا۔”دھنے واد جگودادا۔“
ملازم اجازت لے کر اندر آیا او ر ہمیں چائے پیش کی۔پیالی خالی کر کے میں نے جگو دادا سے رخصت چاہی۔
”اب فون رابطہ ہو گا۔ اور اپنا نام آکاش بتانا۔“اس نے تعارفی کارڈ میری طرف بڑھا دیا۔
میں الوداعی مصافحہ کر کے وہاں سے نکل آیا۔ جوا¿ زور وشور سے جاری تھا۔استقبالیہ پر جا کر میں نے ٹوکن جمع کرائے اور ڈیڑھ لاکھ کے بہ قدر رقم وصول کر کے ہوٹل کی پارکنگ میں آگیا۔اس سے پہلے کہ کوئی خالی ٹیکسی تاڑتا، آگے چلنے والے دو افراد ایک دم میرے دائیں بائیں ہو گئے۔ دونوں کے پاس پستول تھے۔جو میری پسلیوں میں گھسیڑتے ہوئے حکم ہوا۔
”آرام سے چلتے رہو۔ ورنہ چھاتی سے چھلنی بن جائے گی۔“
میں ذہنی طور پر ایسے حادثے کے لیے تیار نہیں تھا۔نجانے وہ جگودادا کے آدمی تھے یا چور اچکے، یہ طے کرنا مشکل تھا۔ وہ مجھے سڑک عبور کرا کے ایک ویران گلی میں داخل ہوئے۔انھیں لگ رہا تھامیں مرعوب ہوچکا تھا۔یقینا آڑ میں آتے ہی وہ رقم وصول کر کے چلتے بنتے۔ایسے اچکے چلتے پھرتے جوا¿ خانوں کے استقبالیے کے پرنظر رکھتے ہیں تاکہ کوئی موٹااور آسان شکار تاڑ کر ہاتھ صاف کر سکیں۔جو¿ے کا اڈاچلانے والے بھی بھاری رقم جیتنے والوں کا بوجھ ہلکا کرنے میں پیش پیش رہتے ہیں۔
مجھ پر قابو پائے انھیں اتنی دیر گزر چکی تھی کہ پہلے والا چوکنا پن باقی نہیں رہا تھا۔ویران گلی میں گھستے ہی میں نے حرکت میں آنے کا فیصلہ کیا ۔ ایک دم رکتے ہوئے میںہلکا سے پیچھے ہوا۔ساتھ ہی میرے دونوں ہاتھ ہتھوڑے کی طرح ان کے پستولوں پر پڑے۔
ان کے منہ سے بے ساختہ ”اف....اوغ“ کی آوازیں نکلی تھیں۔پستول ان کے ہاتھ سے چھوٹ کر نیچے گر گئے۔ وہ پستول اٹھانے کو جھکے۔ مگر ایک کی ٹھوڑی میں گھٹنا اور دوسرے کی گدی پر کھڑی ہتھیلی کا وارکرتے ہوئے میں نے انھیں لمبا کر دیا تھا۔ان کے ناکارہ ہوتے ہی میں تلاشی لینے کو جھکا مگر اسی وقت گلی کے سرے سے چند آدمیوں کے دوڑنے کی آواز آئی ،ایک دم لوٹ لگاتے ہوئے میں نے پستول تھام کر سامنے تانا۔ وہ دوڑتے ہوئے آگے بڑھ رہے تھے۔اور تمام مسلح تھے۔مجھے فائرکرنے پر تیار دیکھ کر ایک چلایا۔
”ہم دوست ہیں۔“
جگودادا کے محافظوں کے مخصوص لباس میں نے پہچان لیے تھے۔میں نے اٹھتے ہوئے پستول کی نال نیچے کی۔وہ دوستانہ انداز میں آگے بڑھے۔
”آپ ٹھیک تو ہیں سر!“ ایک نے مو¿دبانہ لہجے میں پوچھا۔
میں نے جواب گول کرتے ہوئے پوچھا۔” آپ لوگوں کو کیسے پتا چلا؟“
اس نے وضاحت کی۔”سر! ہمیں جگو دادا نے بھیجا ہے۔ اس نے ٹی وی سکرین پر انھیں آپ کے دائیں بائیں دیکھ لیا تھا۔ دونوں بمبئی کے مشہور اچکے ہیں۔تبھی انھوں نے آپ کی مدد کے لیے ہمیں بھیجا،مگر لگتا ہے آپ کو ہماری مدد کی ضرورت نہیں ہے۔“
”ہاں ،مگر انھیں ہے۔“میں نے بے ہوش اچکوں کی جانب اشارہ کیا۔
اس نے پیش کش کی۔”سر ہم آپ کو رہائش تک چھوڑ دیتے ہیں۔“
میں نے نفی میں سرہلایا۔”ضرورت نہیں ۔اورجگو دادا کو میرا دھنے واد پہنچا دینا ۔“
وہ سر ہلاتے ہوئے اچکوں کی تلاشی لینے لگے۔اور میں گلی سے نکل کر سڑک پر آگیا۔جلد ہی ایک خالی ٹیکسی مل گئی تھی۔شیتل کی کوٹھی سے نزدیک ایک مشہور پلازے کا نام بتا کر میں بیٹھ گیا۔پہلے کی نسبت بھیڑ کم تھی۔میں آدھے گھنٹے میں منزل پر پہنچ گیا تھا۔کرایہ دے کر میں کوٹھی کی طرف بڑھ گیا۔صبح کے پانچ بجنے کو تھے جب میں نے اطلاعی گھنٹی بجائی۔
دروازہ دھرمندرچچا نے کھولا تھا۔میں معذرت کہتا ہوا اندر داخل ہوا۔
”کوئی بات نہیں پُتر۔“ وہ خوش ہوگیا تھا۔سردی کافی زیادہ تھی۔ میں نے خواب گاہ میں جھانکا، شیتل گردن تک کمبل اوڑھے گہری نیند میں تھی ۔الماری سے شلوار قمیص نکال کر میں نے کپڑے تبدیل کیے اور سونے کی جگہ کھوجنے دروازے کی طرف بڑھا۔
”اب کہاں چل دیئے؟“شیتل کی خمار آلود آواز نے چونکا دیا تھا۔
میں مڑا۔ ”بستر ڈھونڈنے کی کوشش میں ہوں ۔“
””یہ بستر ہی ہے نا۔“وہ انگڑائی لے کر اٹھ بیٹھی۔کم بخت شب خوابی کے مہین لبادے میں چھپنے کے بجائے مزید اجاگر ہو رہی تھی۔
”اور تم۔“میں نے نظریں جھکا کرپوچھا کہ مزید نظارے کی تاب دلِ ضعیف میں نہ تھی۔
وہ کھل کھلائی۔”اتنا چھوٹا بیڈ نہیں ہے کہ ہم دونوں نہ آسکیں۔کمبل بھی کافی بڑا ہے۔“
”اگر بکواس ہی کرنا ہے تو میں گیا۔“
”سمجھ میں نہیں آتا،لڑکی آپ ہیں یا میں۔“منہ بناتے ہوئے وہ بیڈ سے اتری۔”تشریف لائیںمس جان، مسٹر شیتل جا رہا ہے۔“یہ کہہ کر وہ کھل کھلا کر ہنس دی تھی۔
مترنم سازوں نے میرے دل کی دھڑکن کو تیز کیا۔میں سر جھکائے بیڈ کی طرف بڑھ گیا۔کمبل میں گھستے ہی اس کے بدن کی مہک نے قوت شامہ کو خوش آمدید کہا۔اور میں گہرے سانس لیتا ہواسونے کی تگ ودو کرنے لگا۔وہ مزید چھیڑ خانی کیے بغیر باہر نکل گئی۔
l l l
جاگتے ہی مجھے فکروں نے گھیر لیا تھا۔ جگو دادا سے ملاقات امید سے بڑھ کر مفید رہی تھی۔ اب مسئلہ دس لاکھ روپیوں کے بندوبست کا تھا۔ بمبئی میں بڑے بڑے جوا¿ خانے موجود تھے لیکن دس لاکھ ایک دو دن میں پورے نہیں کیے جا سکتے تھے۔میرے پاس ایک لاکھ ساٹھ ہزار کے بہ قدر رقم موجود تھی۔اور مزید ساڑھے آٹھ لاکھ درکار تھے۔شیتل سے مانگنے کا ارادہ کیا،پھر یاد آیااس کے پاس تو اڑھائی تین لاکھ سے زیادہ رقم موجود نہیں تھی۔بلاشبہ وہ تمام پیسے بہ خوشی مجھے دے دیتی مگر یوں بھی مطلوبہ رقم پوری نہیں ہو رہی تھی۔ڈاکا ڈالنے کا خیال مسترد کرنا پڑا کہ یوں کسی بے گناہ کے قتل ہونے کا اندیشہ تھااور ایسا مجھے بالکل گوارا نہیں تھا۔
گو جوا¿ کھیلنا بھی بہت بڑا گناہ ہے مگرکسی بے گناہ کے قتل سے بہ ہر حال کم درجہ گناہ ہے۔
اسی ادھیڑ بن میں مجھے شیتل کی آواز سنائی دی۔ملائم ہاتھ میری پیشانی پر آیا،ٹھنڈک میرے سینے میں اتر گئی تھی۔
”کب تک سو ئے رہیں گے۔“ ریشمی انگلیاں میرے بالوں میں سرسرانے لگیں۔
میں اطمینان سے بولا۔”غروب آفتاب تک۔“
” شرافت سے اٹھ جائیں۔ لنچ باہر کریں گے۔“میرے چہرے سے کمبل کھینچ کر وہ اتنے قریب جھک آئی کہ گرم سانسوں کی مہک میرے حواس مختل کرنے لگی۔
”پاگل نہ بنو، کسی نے پہچان لیا تو۔“ہوش سنبھالنے کا بہانہ اسے ڈانٹنے ہی میں آیا تھا۔
”رات کو کسی نے نہیں پہچانا تو دن کو بھی نہیں پہچانے گا۔ یوں بھی ممبئی میں تمھاری تلاش شروع نہیں ہوئی،ڈھونڈنے والے دہلی کے مضافات میں ٹامک ٹوئیاں مار رہے ہوں گے۔“کالی سیاہ آنکھیں اتنے قریب آگئی تھیں کہ ان کے علاوہ سارے منظر غائب ہو گئے تھے۔مجھے مسحورر کرنے کی کوشش کامیاب رہی تھی۔ ہپناٹزم کے بارے بہت سنا تھا لیکن یہ عمل ہوتا کیسے ہے اس کا تجربہ پہلی بار ہو رہا تھا۔
”ام....مم....مجھے تازہ دم ہونا ہے۔“بڑی مشکل سے میری زبان سے پھسلا۔
نقرئی قہقہ گونجا،سیائی ذرا اوپر کو اٹھی،اور گلابی رنگ کی پنکھڑیاںآنکھوں کے سامنے گزر کر ماتھے پر جھکیں۔جونھی ماتھے سے اتصال ہوا پتا چلا گلاب کی پتیاں بھی دہکتے انگاروں کی طرح گرم ہو سکتی ہیں۔میرے اعصاب کام چھوڑ گئے تھے۔لیکن خدا کا شکر کہ مزید پیش قدمی کے بجائے وہ پیچھے ہوئی۔”جائیں۔“
میں گہرے سانس لیتا ہوا اٹھا اور غسل خانے میں گھس گیا۔ باہر نکلا تو خواب گاہ اس کے معطر وجود سے خالی تھی۔میں نے اسے خوش کرنے کونیا سوٹ پہن لیا کہ اپنے علاقے میں جدید سوٹ پہننے کی گنجائش نہیں تھی۔کیوں کہ گنڈہ پوروں کے ہاں بدیسی لباس کو براہی نہیں واہیات و بے ہودہ سمجھا جاتا ہے۔
بوٹ پہن رہاتھا جب دروازے پر آہٹ ہوئی۔مڑنے پر کم بخت دل سینے کا پنجرہ توڑنے پر کمر بستہ ہوا۔کڑھائی شدہ سیاہ قمیص،سفید شلوار ،گلے میں جھولتا ریشمی دوپٹا،شانوں پر بکھری گھنی زلفیں،کاجل کی ڈوری سے دوآتشہ سیاہ آنکھیں،پنکھڑی ہونٹوں کو ہلکی سرخی سے مزین کیے وہ ہوش و خرد کا امتحان لینے پہنچ گئی تھی۔
گہرا سانس لیتے ہوئے میں نے ناگفتہ بہ حالت کو قابو کیا۔یاقوتی لبوں پر تبسم بکھیرے وہ یک ٹک مجھے گھور رہی تھی۔
”سوچا تمھیں دکھا دوں یہ سوٹ کیسا لگتا ہے۔“میں اس کی محویت میں مخل ہوا۔
”جتنا آپ سوچ رہے ہیں اس سے کئی گنا زیادہ اچھا لگتا ہے۔“وارفتگی سے کہتے ہوئے وہ قریب ہوئی۔
”اسی خوشی میں اچھا سا ناشتاکرادو،پھر ڈھیر ساری باتیں کریں گے۔“
اس نے پرانی راگنی الاپی۔”ہم لنچ کرنے باہر جا رہے ہیں۔“
”یار! رات کوکم روشنی اور مفلر میری پہچان چھپا سکتے ہیں۔ دن کو بندہ بہت دورسے نظر آتا ہے۔ کیوں مجھے گرفتار کرانے پر تلی ہو۔“
” ہمیشہ کی جدائی دینے سے پہلے چند لمحات کی خوشیاں بھی جھولی میں نہیں ڈال سکتے۔“گلو گیر ہوتے ہوئے وہ مڑی۔
میں نے جھپٹ کر اس کا ہاتھ تھاما۔”اچھا باباچلتے ہیں۔“
وہ کھل اٹھی تھی۔
تھوڑی دیر بعد ہم شیتل کی چھوٹی سی کار میں بیٹھے باہر جارہے تھے۔
” ساحل سمندر کو چلتے ہیں۔“ اس نے مشورہ چاہا۔اور میرے سرہلانے پر کار ادھر موڑ دی۔وہ بہت خوش لگ رہی تھی۔ہنسی اس کے ہونٹوں سے چپکی تھی۔گالوں کے گڑھے چہرے کا مستقل حصہ لگ رہے تھے۔
اس نے کار ایک جدید ہوٹل کی پارکنگ میں روکی۔خوب صورت ہال میں سلیقے سے میز کرسیاں لگی تھیں۔ہمارے بیٹھتے ہی بیرہ کھانوں کی فہرست کے ہمراہ نمودار ہوا۔
شیتل نے بھنویں اچکائیں۔”کیا کھائیں گے۔“
میں نے انتخاب کی ذمہ داری اس پر چھوڑدی۔”جو بیگم صاحبہ کو پسند ہو۔“
شیتل کا چہرہ گلاب کے پھول کی طرح کھل اٹھاتھا۔ دوتین پکوانوں کا بتا کر وہ میری جانب متوجہ ہوئی۔
”کتنا اچھا لگتا ہے آپ کے ہونٹوں سے بیگم سننا۔“
”جسے ملو گی وہ اس سے بھی اچھے تخاطب سے پکارے گا،راج کماری،ملکہ ،سپنوں کی شہزادی،منے کی اماں،گڑیا کی مماوغیرہ وغیرہ۔“
وہ خفگی سے بولی۔ ”کچھ غلط نہ سن لینا،آپ کے علاوہ کسی سے بھی شادی نہیں کرنی۔“
”ذرا کوشش کرو، مجھ سے کئی گنا خوب صورت ، قد آوراور ہم مذہب جوان مل جائیں گے۔ جو تمھاری محبت کا جواب کئی گنا بڑھ کردیں۔“
” بائیس سال آنکھیں بند کرکے نہیں گزارے ،کوئی آپ جیسا ہوتا تو نظر آجاتا۔“
”بیرا آرہا ہے، فی الحال خاموش رہو۔“ میں نے جان چھڑانا چاہی۔
”خاموش کیوں رہوں، ڈرتی نہیں ہوں کسی سے۔“وہ نک چڑھی بیوی کی طرح بولی۔
بیرا کھانے چنتے ہوئے زیر لب مسکرا دیا تھا۔ میں خاموشی سے کھانے کی طرف متوجہ ہو گیا۔
کھانا بہت لذیذ بنا تھا۔کچھ بھوک لگی تھی اور کچھ شیتل ناز اٹھانے میں لگی تھی،میں ضرورت سے زیادہ ہی کھا گیا تھا۔ کھانے کے بعد ہم نے سبزچائے پی اوراٹھ گئے ۔ باہر نکلتے وقت سامنے سے آتا ہوا ایک شخص اچانک ٹھٹک کررکا۔ میرے دل کی دھڑکن ایک لمحے کو تیز ہوئی کہ شاید اس نے مجھے پہچان لیا ہے مگر اسے جیبیں ٹٹولتے دیکھ کر میں نے اطمینان بھرا سانس لیاتھا۔
”اب کہاں چلیں۔“ شیتل نے ڈرائیونگ سیٹ سنبھالی۔
”واپس۔“
”جی نہیں ساحل سمندر پر چلیں گے۔“اس نے اٹھلاتے ہوئے کہااور کار کا رخ ساحل سمندر کی طرف موڑ دیا۔وہاں کافی رونق لگی تھی،لیکن شیتل کار کو نسبتاََ ویران حصے کی طرف لے گئی۔اس کی ہر وقت یہی کوشش ہوتی تھی کہ ہماری تنہائی میں کوئی مخل نہ ہو۔
نیچے اترتے ہوئے وہ خواب ناک لہجے میں بولی۔ ”جی چاہتا ہے سنسار کے اس گوشے میں چلے جائیں جہاں ہمارے علاوہ کوئی نہ ہو۔“
میں ہنسا۔”برا نہ مناﺅ تو تمھیں پاگل کہہ سکتا ہوں ۔“
ایک ہمی کو پاگل کہنا کوئی بڑا الزام نہیں
دنیا والے دل والوں کو اور بہت کچھ کہتے ہیں
اس نے گنگناتے ہوئے سینڈل اتارے اور ننگے پاﺅں ریت پر چلنے لگی....
اس کی تقلید میں جوتے اور جرابیں اُتار کر میں بھی ریت کی ٹھنڈک محسوس کرنے لگا۔” الزام نہیں، حقیقت بیان کررہا ہوں۔“
اس نے پوچھا۔” سبھی محبت کرنے والوں کو پاگل کیوں سمجھا جاتا ہے؟“
”کیوں کہ وہ ہوتے ہی پاگل ہیں۔“
وہ مکا تانتے ہوئے بولی۔”جان کے بچے باز آجاﺅ۔“
”دوکارخانوں کی مالک ایک ایسے شخص کی محبت میں مبتلا ہو جائے جو سرکارکی نظر میں مجرم ہو، پاگل پن نہیں تو کیا ہے۔ جبکہ اس شخص میں لمبے قد کے علاوہ کوئی خوبی نہیں ہے، بہتر ہوتاکسی زرافے سے محبت کرلیتیں۔“
”آپ باز نہیں آئیں گے۔“ وہ مجھے پکڑنے دوڑی ۔ میں الٹے قدموں پیچھے بھاگا۔ اچانک مجھے تین گاڑیاں آتی دکھائی دیں۔ میں ٹھٹک کر رک گیاتھا۔
”کیا ہواجان!“میری نظروں کے تعاقب میں اس نے کاروں کو دیکھتے ہوئے پریشانی ظاہر کی۔
”کاروں کارخ ہماری طرف ہے۔“
اس نے خیال ظاہر کیا۔ ”کوئی پکنک گروپ ہوگا۔“
”ایسا لگتا تو نہیں ہے۔“میں نے فکر مندی ظاہر کی۔
وہ میرے بازو سے لٹکتے ہوئے مچلی۔ ”چلیں ناں،بھاگنے کا مقابلہ کرتے ہیں۔“
میں اس کے واویلے کو نظر انداز کیے یک ٹک کاروں کو دیکھتا رہا۔تینوں گاڑیاں ہماری کار کے ساتھ آ کر رک گئی تھیں۔اور پھر ان سے تیرہ چودہ افراد نیچے اترے۔ سب سے آگے لمبے قد اور سڈول جسم کا نوجوان تھا۔ اس کے دونوں ہاتھ خالی تھے۔باقی تمام مسلحتھے۔
مجھے شبہ ہوا وہ اچکوں کا گروہ تھا جو اکیلے جوڑے کو دیکھ کر لوٹنے آرہے تھے۔ممبئی میں ایسی وارداتیں معمول کی بات ہیں۔لیکن سب سے آگے آنے والے نوجوان کا انداز بالکل معمولی نہیں تھا۔ یوں لگا اپنے ہمراہ طوفان لے کر بڑھ رہا ہو۔ ہتھیار برداروں کو دیکھ کر شیتل بھی خاموش ہو گئی تھی۔ جوا¿ خانے سے جیتی ہوئی رقم میں گھر ہی چھوڑ آیا تھا۔ مجھے اس وقت صرف شیتل کی فکرکھائے جارہی تھی۔ ویرانے میں اتنے مسلح افراد کا مقابلہ کرنا بہت مشکل تھا۔ اپنا پستول بھی میں نے جیب سے نکالنے کی کوشش نہ کی کہ کوئی فائدہ نظر نہیں آرہا تھا۔
قریب آکر انھوں نے دائرہ بنا کر ہمیں گھیر لیا تھا۔ ان کاسرغنہ مضبوط بدن والا نوجوان ہی لگ رہا تھا۔ لمبی زلفیں اس کے شانوں تک پھیلی تھیں، بھوری آنکھیں، پتلے ہونٹ، لمبی گردن۔اسے خوب صورت کہا جا سکتا تھا مگر ایک خاص قسم کی بے رحمی اس کے چہرے سے چھلکتی تھی جس بنا پر اسے پسندیدہ نہیں کہا جا سکتا تھا۔
وہ میرے سامنے آ کر رک گیا۔ اس کا قد میرے برابر ہی تھا۔چند لمحے مجھے گھورنے کے بعد وہ بولا....
”عمرجان!داد دینا پڑے گی تمھارے انتخاب کی۔“ میرے سر پر بم پھٹاتھا۔وہ مجھے پہچانتا تھا، لیکن میرے لیے اجنبی تھا۔
”آپ کون؟“ مجھے سنبھلنے میں دیر نہیں لگی تھی۔
”داس کو شیش ناگ کہتے ہیں۔“
جاری ہے
قسط نمبر14
ریاض عاقب کوہلر
یہ میرے لیے دوسرا جھٹکا تھا، لیکن میں نے چہرے پر شناسائی کی رمک نہ آنے دی ۔
”کیا میں آپ کو جانتا ہوں؟“
اس نے دانت پیسے۔”کوبرے کا چھوٹا بھائی ہوں ،کچھ یاد آیا۔“
میں نے یاداشت کھنگالنے کی اداکاری کی۔ ”کوبرا....معذرت دوست اس نام کے کسی شخص سے واقف نہیں ہوں۔“
وہ زہر خند ہوا۔”کمانڈوز کی یادداشت اتنی کمزور نہیں ہوتی۔“
میں بے پروائی سے بولا۔ ” ہر ایرے غیرے کو یاد رکھنا کمانڈوز کے بس سے بھی باہر ہے بھائی۔“
وہ طیش میں آیا۔”تم صرف اپنی موت کو اذیت ناک بنا رہے ہو۔“
میں طنزیہ لہجے میں بولا۔”اتنا بڑاٹولاکسی کنواری دوشیزہ کے ہمراہ ہوتووہ بھی بڑھکیں مارنے لگے گی۔“
”فکر مت کرو، تمھیںخالی ہاتھ نرگ کا ایندھن بناو¿ں گا۔“
میں اطمینان سے بولا۔” آجاﺅ، یہ گز ہے اور یہ میدان۔“
اس نے انکار میں سرہلایا۔ ” تمھاری موت کو بھارتی جنتا کے لیے عبرت کا نمونہ بنا نا چاہتا ہوں۔ اتنی آسان موت نہیں ملے گی۔“
” تمھارے بھائی نے مجھے للکارا اور جاں گنوا بیٹھا۔میں نے صرف دفاع کیا تھا۔تمھیں بھی بدلہ لینے کا حق ہے۔لیکن درخواست ہے قصے کو طوالت نہ دو۔مر گیا تو سبھی کو معلوم ہوجائے گاسانپوں کے کنبے نے بدلہ لے لیا۔اور مرگئے تو وچن دو تمھارے چمچے مجھے جانے دیں گے۔“
” بھگوڑے ،میں تم سے زیادہ بے چین ہوں ،لیکن بھارت میں تمھاری ”سُپرمینی “کے بڑے چرچے ہو رہے ہیں۔ اگر تمھیں یہیں مار دیا تو لوگوں کو شک کا موقع ملے گاکہ یہ میرے گروہ کا کام ہے۔اس لیے صبر کاگھونٹ تمھیں بھرنا پڑے گا۔ویسے بھی تمھارے فائدے کاسوچ رہا ہوں۔مقابلہ جتنا دیر سے ہوگا تمھیں اتنا جینے کا موقع ملے گا۔“
جی میں آیا حملہ کرکے لڑائی شروع کر دوں ،مگر ہتھیار برداروں نے ارادے سے باز رکھا۔
”یہاںمیری موجودی کا تمھیں کیسے پتا چلا ہے؟“
وہ فخر سے بولا۔”ممبئی میں ایک پتا بھی سیٹھ رابندر ناتھ کی مرضی کے بغیر نہیں ہل سکتا۔“
تبھی میری نظر اس کے عقب میںکھڑے شخض پر پڑی۔ وہی نمونہ تھا جو ہمیں ہوٹل سے نکلتے وقت ٹکرایا تھا۔اور میرے متوجہ ہونے پر جیبیں ٹٹولنے لگا تھا۔
میں گہراسانس لے کر بولا۔” جگہ ،وقت اور دن بتادو میں پہنچ جاﺅں گا۔“
وہ زہر خند ہوا۔”دو دن ہمیں بھی سیوا کا موقع دو۔“
میں مطلب کی بات پر آیا۔” شیتل ہمارے ساتھ نہیں جائے گی۔“
اس نے گہری نگاہ شیتل پر ڈالی۔” شکل کی طرح نام بھی پیارا ہے۔بہ ہر حال یہ جا سکتی ہے، تمھارے کریا کرم کا شوق ہو تو اس کے بتائے پتے پر لاش پہنچا دی جائے گی۔“
میرا ہاتھ مضبوطی سے پکڑے ہوئے اس نے نفی میں سرہلایا۔ ”میں آپ کے ساتھ جاﺅں گی۔“
میں نے اسے جھڑکا۔ ”پاگل مت بنو،میں ان شااﷲ بہت جلد تمھارے پاس پہنچ جاﺅں گا۔“
”بالکل نہیں۔“وہ چھوٹی بچی کی طرح میرے بازو کو چمٹ گئی تھی۔
”تم نے ایسا منتر نہیں پھونکا کہ واپس جا سکے۔“ شیش ناگ نے قریب ہو کر ماہرانہ انداز میں میری تلاشی لی۔ اس وقت اس کے بھائی کو برے کا بریٹا میری جیب میں ہی تھا۔
اس نے عجیب سے لہجے میں پوچھا۔”یہ میرے بھائی سے چھینا تھاناں؟“
میں نے کندھے اچکانے پر اکتفا کیا تھا۔
وہ شیتل کو مخاطب ہوا۔”بے بی تمھارے پاس کچھ ہے تو ادھر دو۔“
میں جلدی سے بولا۔”اس کے پاس کچھ نہیں ہے۔“
وہ ہمیں گھیر کر گاڑیوں کی طرف بڑھ گئے۔شیتل کی کارکی اگلی نشست پر ہمیں بٹھا کر وہ ایک کارندے کے ساتھ عقبی نشست پر بیٹھ گیا۔
اس نے ہدایت دی۔”اگلی کار کے پیچھے پیچھے چلتی رہو۔“
شیتل نے خاموشی سے کار آگے بڑھا دی۔ایک قطار میں چلتے ہم پندرہ بیس منٹ بعد ایک بڑی کوٹھی کے دروازے پر پہنچے۔ باوردی ملازم نے دروازہ کھولا اور ہم اندر گھس گئے۔ ملازم نے شیش ناگ کو سیلوٹ بھی کیا تھا۔گاڑیاں کشادہ گیراج میں پارک کر کے ہم باہر نکل آئے۔
اسی وقت اندرونی عمارت سے قیمتی لباس پہنے ایک لمبا پتلا شخص ،خوب صورت لڑکی کے ہمراہ قریب آتا دکھائی دیا۔ لڑکی نے سکرٹ کے اوپر فقط ہلکا سا بلاﺅزر پہنا ہوا تھا ۔ ناکافی لباس میں اس کا گورا بدن آنکھیں خیرہ کر رہا تھا۔ تمام افراد نے انھیں دیکھتے ہی سر جھکا لیا تھا صرف شیش ناگ اس کی طرف متوجہ رہا۔
”کیا رہا جوان! ”عجیب وحشت ناک آواز تھی کہ مخاطب کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے تھے۔
شیش ناگ ادب سے بولا۔”ڈیڈ! کو برے کے قاتل کو لے آیا ہوں۔“
وہ مجھے گہری نظروں سے دیکھتے ہوئے بولا۔”وہیں فیصلہ کر کے آتے۔“ اس کی آنکھیں مجھے اپنے اندر اترتی ہوئی محسوس ہو رہی تھیں۔
شیش ناگ نے نفی میں سر ہلایا۔ ”ڈیڈ!میں اس کی موت کو یاد گار بنانا چاہتا ہوں۔“
”کیا مطلب ؟“ رابندر ناتھ نے حیرانی ظاہر کی۔
”خونی ہال ،سالانہ ....”فائیٹر کنگ “کے چناﺅ کے مقابلے اتواررات سے شروع ہو رہے ہیں۔ افتتاحی مقابلہ ہمارا ہوگا۔
”تمھیں وقت ضائع کرنے کا شوق ہے یاہزاروں ناظرین کے سامنے اچھل کود کی تمنا۔“ رابندر ناتھ معترض ہوا۔
شیش ناگ نے کہا۔” میں ان تمام لوگوں کا منہ بند کرنا چاہتا ہوں جنھوں نے میرے بڑے بھائی کے پیچھے باتیں کی ہیں۔“
رابندر ناتھ رضا مند ہوتا ہوا بولا۔ ”اسے رکھو گے کہاں؟“
وہ اطمینان سے بولا۔” تہہ خانے میں۔“
رابندرا ناتھ سر ہلاتا لگژری کار کی طرف بڑھ گیا۔ قتالہ عالم بھی مجھے گہری نظروں سے دیکھتی ہوئی اس کے پیچھے چل دی وہ شایداس کی داشتہ یالے پالک بیٹی تھی۔تھوڑی دیر بعد ہمیں عمارت کے کشادہ تہہ خانے میں پہنچا دیا گیا۔
”اب کیا ہو گا جان!“ دروازے کے بند ہوتے ہی شیتل مجھے لپٹ گئی تھی۔
میں ہنسا۔”وہی ہوگا جو منظورِ خدا ہوگا۔“
اس نے میری چھاتی میں مکا مارا۔”میری جان پر بنی ہے اور آپ کو مسخری سوجھ رہی ہے۔“
”پریشان نہیں ہوتے پاگل۔“میں اسے نرمی سے علیحدہ کر کے تہہ خانے کا جائزہ لینے لگا۔ لوہے کے فریم والی دو چارپائیاں پڑی تھیں، جن کی بنائی پلاسٹک سے ہوئی تھی۔ بستر کی چادر اور تکیے وغیرہ غائب تھے۔ داخلی دروازے پر ٹیوب لائیٹ روشن تھی۔ اس کے علاوہ کمرہ ہر قسم کے سازو سامان سے عاری تھا۔ میں نے چارپائی کو ہلا جلا کر دیکھا اس پائے فرش میں گڑے تھے۔
”کیا کر رہے ہو؟“وہ زیادہ دیر چپ نہیں رہ سکی تھی۔
”جائزہ لے رہا ہوں۔اور لگتا ہے یہاں پہلے بھی قیدی رکھے جاتے رہے ہیں۔“
”تو؟“ وہ متحیر ہوئی۔
”بھاگنا مشکل ہوگا۔“
” کیسے؟“
”اگر ہم پہلے قید ی ہوتے تو انتظامات مکمل نہ ہونے کی وجہ سے بھاگ نکلنے کے مواقع زیادہ ہوتے،لیکن یہاں پہلے بھی قیدی بند رہے ہیں اس لیے ممکنہ خامیوں کا سد باب ہوتا رہا ہو گا۔“
اس نے پوچھا۔” کیا آپ کا ارادہ فرار ہونے کا ہے؟“
میں چارپائی پر لیٹتا ہوا بولا۔ ” فی الحال تو نہیں۔“
اس نے منہ بنایا۔” پھر اتنے جائزوں کی کیا ضرورت ہے۔“
میں متبسم ہوا۔”کمانڈوز کی عادت ہوتی ہے۔“
وہ چڑ کر بولی۔”بہت فضول عادت ہے۔“
میں نے چوٹ کی۔” کبھی اپنی عادات نہ دیکھنا۔“
”آپ کو ذرا بھی پر یشانی نہیں ہے کہ پرسوں زندگی اور موت کی جنگ لڑنا ہے۔“ دوسری چارپائی پر ڈھیر ہوتے ہوئے اس نے فکر مندی دکھائی۔
میں بے پروائی سے بولا۔” پہلی بار تو نہیں ہے۔انڈیا آمد کے بعد یہ جنگ گلے پڑی ہے۔“
وہ پریشانی سے بولی۔ ” شیش ناگ مجھے بہت خطرناک بندہ لگ رہا ہے۔“
میں مسکرایا۔”وہ بندہ کہاںہے۔“ وہ کھلکھلا دی تھی۔
کھٹکا ہوااور ایک ہتھیار بردارنے اندر جھانکا۔
”آپ نے کھانا کھانا ہے؟“
”نہیں ، البتہ سیٹھ رابندر ناتھ سے ملنا چاہتا ہوں۔“
”آپ کا پیغام ان تک پہنچ جائے گا۔“ اس نے دروازہ بند کر دیا۔
”اسے کیوں ملنا چاہتے ہیں؟“
”ملاقات کے وقت تم بھی ساتھ رہو گی ،سن لینا۔“
وہ شاکی ہوئی۔”ابھی بتانے پر بل آجائے گا۔“
میں نے ٹالنے کی کوشش کی۔” فی الحال کچھ سوچا نہیں۔“
”بتاﺅ ناں ،شاید میں کوئی بہتر مشورہ دے سکوں۔“
”تم جیسی ناقص العقل سے بہتر مشورے کی امید کوئی احمق ہی کر سکتا ہے ۔“
”آپ بقراط ہونا؟“ وہ منہ پھلائے پیٹھ موڑ کرلیٹ گئی۔
میں زیر لب مسکرا کر سونے کی کوشش کرنے لگا۔ اسے جان بوجھ کر غصہ دلایا تھا، کہ کچھ دیر سکون کر لوں ورنہ اس نے دماغ چاٹتے رہنا تھا۔
l l l
رات کا کھانا لانے والوں نے مجھے سیٹھ رابندر ناتھ سے ملاقات کی نوید سنائی ہم نے جلدی جلدی کھانا زہر مار کیا اور مسلح افراد کی زیر نگرانی مختلف راہداریوں سے گھومتے اعلیٰ درجے کے سامان سے مزین ڈرائینگ روم میں پہنچ گئے۔وہاں کی سجاوٹ مکینوں کی امارت اور عمدہ ذوق کی نشان دہی کر رہی تھی۔ دیواروں پر قیمتی تصاویرآویزاں تھیں۔ ایک پورٹریٹ میں سیٹھ رابندر ناتھ راج کماروں کے لباس میں تخت پر بیٹھا کسی ریاست کا راجہ معلوم ہو رہا تھا۔
ہمیں لانے والے چاروں محافظ دیواروں کے ساتھ پھیل کر کھڑے ہو گئے تھے۔
وہ جلد ہی خوب صورت حسینہ کے ساتھ نمودار ہوا ۔ آج بھی اس کا لباس دیکھ کر جی چاہا اپنی جیکٹ تن ڈھانپنے کو اسے دے دوں۔اس کا سردی کا پہناوا دیکھ کر گرمی کے لباس کا اندازہ کرنا میری سوچ سے ماورا تھا۔
شیش ناگ ان سے ایک قدم پیچھے تھا۔ تینوں ہمارے سامنے ایک صوفے پر بیٹھ گئے۔ سیٹھ رابندر ناتھ درمیان میں تھا۔
رابندر ناتھ نے بیٹھتے ساتھ مجھے بولنے کی اجازت دی۔”بولو۔“
میں غصے پر قابو پاتے ہوئے نرم لہجے میں بولا۔
”آپ بمبئی، بلکہ بھارت کے بے تاج بادشاہ ہیں اور میں عام سا فوجی۔بے شک میں نادانستگی میں بھارت سرکار کا مجرم بن گیا ہوں لیکن اس جرم پر مجھے اپنے پاس قید کرنے کی کم از کم آپ جیسی اصولی شخصیت کو ضرورت نہیں ہونا چاہئے۔باقیکو برے کے ساتھ میں دفاعی جنگ لڑا ہوں۔ جس کا حق ہر انسان بلکہ جانور تک کو حاصل ہے۔ اگر میں اس کی رہائش گاہ پر حملہ آور ہوتا تو بے شک قصور وار تھا۔ پھر بھی شیش ناگ کے دل میں مقابلے کاشوق ہے تو یہیں پورا کرلے۔یوں پنڈال میں میرا تماشا بنانا اور میراوقت برباد کرنا آپ کو شوبھا نہیں دیتا۔“
سیٹھ رابندر ناتھ نے سوالیہ نظروں سے شیش ناگ کوگھورا۔ لگا میرا موقف اسے منظور تھا۔
”!میں نہیں مانتا اس نے خالی ہاتھ بھائی کو شکست دی ہے۔ لازماََان کے ساتھ کوئی دھوکاہوا تھا۔ ممکن ہے دلیر سنگھ نے بھائی پرقابو پانے میں اس کی مددکی ہو۔ بھائی کے سر پر عقبی جانب لگی ہوئی چوٹ بھی اس شبے کو تقویت دیتی ہے ۔اوردلیر سنگھ اپنا جرم چھپانے کواسے بہت اچھا لڑکا ظاہر کر رہا ہے۔باقی ” کنگ فائٹر“ کے چناﺅ کی افتتاحی لڑائی کا اعلان زیرزمین حلقوں میں ہو چکا ہے۔ اب یہاں مقابلہ کرنے کا مطلب ہے ہم نے اسے بے بس کر کے ہلاک کیا ہے اور یہ طعنے میں برداشت نہیں کر سکتا۔“
اس کے پُر اعتماد انداز سے لگ رہا تھا جیسے ہر صورت اسے ہی کامیابی ہو گی۔ استاد محترم صوبیدار مراد صاحب کے بہ قول.... ”دشمن کو کبھی خودسے کمزورنہ سمجھو۔“جبکہ شیش ناگ صاحب مجھے ترانولہ سمجھے ہوئے تھے ۔اور کی خوش فہمی میرے لیے مفید تھی۔
اب رابندر ناتھ نے مجھے سوالیہ نظروں سے دیکھا ۔یقینا اسے ہماری لڑائی سے کوئی غرض نہیں تھی۔ نہ اس کا کوئی مفاد پوشیدہ تھا۔بس شیش ناگ کی ضد کے سامنے بے بس تھا۔
میںنے طنزیہ لہجے میں کہا۔”سیٹھ صاحب! یہ صورت اکھاڑے میں بھی پیش آ سکتی ہے۔ میں مقابلہ شروع ہوتے ہی جان بوجھ کر گر جاﺅں گا اور دیکھنے والے یہی سمجھیں گے کہ مجھے اعصابی کمزوری کی دوا کھلائی گئی ہے۔“
شیش ناگ کے چہرے پر بدحواسی ابھری ،جسے زبردستی کے قہقہے سے چھپا گیا تھا۔ ” بڑے بڑے شیش رنگ کا نام سن کر غش کھا جاتے ہیں، لیکن تمھاری جسارت کا مطلب اذیت ناک موت ہوگی،مگر اس سے پہلے تمھاری بلبل کا جو حشر میرے بندوں کے ہاتھوں ہو گا اسے دیکھ کر تمھارے پاس صرف پچھتاوا بچے گا۔ جبکہ اکھاڑے میں تُم عزت کی موت مروگے ۔ ہو سکتا ہے شدید زخمی ہونے کے بعد بچ بھی جاﺅ اور تمھاری محبوبہ بھی باعزت اپنے گھر پہنچا دی جائے گی۔“
مجھے پتا تھا کہ شیش ناگ کے خلاف اکھاڑے میں اترنا میرا مقدر بن چکا تھا اور اس سے پہلو تہی ناممکن تھی لیکن اس مقابلے سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کی جا سکتی تھی۔میں نے رضامندی ظاہر کی۔
”میں مقابلہ کرنے کو تیار ہوں لیکن دو شرائط ہیں۔“
”کیا؟“ دونوں نے بیک زبان پوچھاتھا۔ لڑکی نے بھی گہری دلچسپی سے مجھے گھورا۔اس کی آنکھوں میں جنسی بھوک کی چمک تھی۔جسے شیتل نے بھی محسوس کر لیا تھا اور میرے ساتھ یوں جڑ گئی تھی جیسے اس کی گندی نظروں سے بچانا چاہتی ہو۔ بلاشبہ وہ ایک خوب صورت لڑکی تھی لیکن اس کے انداز میں بازاری پن نمایاں تھا اور شیتل کی موجودی میں بھی اس کا حسن گہنایا ہوا لگ رہا تھا۔
” پہلی شرط یہ ہے کہ شیتل کو ابھی اپنے گھر جانے دیا جائے۔“
”بالکل بھی نہیں۔“ شیتل میرا ہاتھ مضبوطی سے پکڑتے ہوئے بولی۔ ”میں آپ کے ساتھ رہوں گی۔ “
”شیتل....“
ماحول دیکھے بغیر وہ چلائی۔”دماغ خراب نہ کریں،میں آپ کے ساتھ رہوں گی....ساتھ رہوں گی .... ساتھ رہوں گی۔“
گہرا سانس لیتے ہوئے میں نے ہونٹ بھینچ لیے تھے۔
سیٹھ رابندر ناتھ اورر شیش ناگ کے چہروں پر مسکراہٹ رینگی،جبکہ وہ لڑکی قہر آلود نظروں سے شیتل کو گھوررنے لگی۔
سیٹھ نے کہا۔” اب دوسری شرط بتلاﺅ۔یہ تو سمجھو ہم نے قبول کرلی۔“
” اگر میں شیش ناگ سے مقابلہ جیت گیا تو آپ مجھے بہ حفاطت پاکستان پہنچائیں گے۔“
”منظور۔“ شیش ناگ نے رابندر ناتھ سے پہلے رضامندی دی ۔
”مجھے تمھاری نہیں سیٹھ صاحب کی زبان چاہیے۔کیوں کہ میں جیت گیا توتم اس وقت کوئی وعدہ نبھانے کے قابل نہیں ہو گے ۔“
سیٹھ رابندر ناتھ نے منطقی انداز میں پوچھا۔”ہم بھی بعد میں مکر سکتے ہیں۔“
میں نے اسے مکھن لگایا۔”آپ کا کہا کسی دستاویز سے کم نہیں ہے سیٹھ صاحب!ناممکن کہ آپ زبان دے کر پھر جائیں۔“
وہ متکبرانہ انداز میں بولا۔ ”سچ کہا،اور ہمیں تمھاری شرط منظور ہے۔ اور کچھ؟“
میں نے نفی میں سر ہلادیا۔
وہ شیش ناگ کو مخاطب ہوا۔”انھیں انیکسی میں منتقل کر دو، امید ہے بھاگنے کی کوشش نہیں کرے گا۔“
”ٹھیک ہے ڈیڈ!“ شیش ناگ کا انداز فرماں بردار بیٹے کا ساتھا۔
وہ حسینہ کو مخاطب ہو ا۔”بے بی میرے ساتھ پارٹی میں چلوگی یا آرام کرنا ہے۔“
وہ نزاکت سے بولی۔”پاپا! آج بالکل موڈ نہیں ہے۔“اور رابندر ناتھ سر ہلاتا ہوا رخصت ہو گیا۔
”چلو۔“ سیٹھ کے رخصت ہوتے ہی شیش ناگ مجھے مخاطب ہوا۔ اس کے چہرے پرنفرت و کینہ نظر آرہا تھا۔
ہم اس کے ساتھ ہو لیے۔ جبکہ بے بی وہیں بیٹھی ہمیں شوخ نظریں سے گھورتی رہی ۔
ہم محافظوں کی نگرانی میں انیکسی میں پہنچے، وہ پُر تعیش خواب گاہ تھی۔ نامعلوم یہ مہربانی سیٹھ نے کس لیے کی تھی۔ شاید اپنی تعریف کے صلے میں یا پھر قربانی کے بکرے کی طرح مرنے سے پہلے تھوڑا آرام پہنچانے کو۔
دروازہ بند ہوتے ہی شیتل برس پڑی۔ ”میں نے سوچا شاید آپ صلح کی کوشش کریں گے، معذرت وغیرہ کر کے یہاں سے نکلنے کااپائے کریں گے اور آپ الٹا مقابلہ طے کر آئے۔“
میں سنجیدہ ہو گیا۔ ”میں گنڈہ پور ہوں اگر شیش ناگ آج مجھے صرف للکار کے واپس آجاتا تو خدا کی قسم ،مقابلے کے لیے اس کے منتخب کر دہ مقام پر ضرور پہنچتا۔ الا یہ کہ کوئی حادثہ رکاوٹ بن جاتا۔ ہم گنڈہ پور دوستی اور رشتہ داری بھول سکتے ہیں دشمنی نہیں۔“
وہ فکر مند ہوئی۔”جان! آپ کچھ ہو گیا تو میرا کیا بنے گا۔“
” زندہ رہوں یا مر جاﺅں ہر دو صورت تم سے جدا ہونامقدر ہے۔“
وہ عزم سے بولی۔ ”آپ زندہ رہیں یامرجائیں میرے رہیں گے۔“
میں متبسم ہوا۔”مر کر کیسے؟“
”ہندو نارری اپنے مرد کے ساتھ ستی ہو جاتی ہے۔“
” میں تمھارا مرد کب سے ہو گیا؟“
وہ ترکی بہ ترکی بولی۔”اس کے لیے مجھے آپ کی اجازت نہیں چاہیے ۔“
ہم رات گئے تک گپ شپ کرتے رہے ۔اورپھرمدہم بتی جلا کر سونے لگے ۔میری منت سماجت اور کوشش کے باوجود وہ دوسرے بیڈ پر جانے پر تیار نہ ہوئی۔اور نہ مجھے ایسا کرنے دیا۔مجبوراََ مجھے آنکھیں بند کرنا پڑیں۔وہ کہنی ٹیکے میرے سر میں ملائم انگلیاں پھیرتی رہی۔
l l l
صبح ناشتا لانے والوں کی زبانی مجھے سیٹھ کا پیغام ملا کہ مقابلہ رات کو دس بجے شروع ہونا تھا۔ رات کو دیر تک جاگنے کی وجہ سے دن میں نے سونے میں گزارا۔ اس دوران شیتل مشرقی بیوی کی طرح میری ٹانگیں دباتی رہی۔ میرے کئی بار منع کرنے پر بھی جب وہ باز نہ آئی تو اسے اپنے حال پرچھوڑ دیا۔ ہندو ناری کتنی ہی تعلیم یافتہ کیوں نہ ہو اپنے پتی کو دیوتاسمان مانتی ہے ،بالکل مسلمان عورتوں کی طرح کہ جیسے خاوند ان کا مجازی خداہوتا ہے۔
لڑائی کامیدان میرے لیے نیا نہیں تھا۔تربیتی مرکز میں امجد اورمیں نے باکسنگ میں کافی وقت گزارا تھا۔ اور اس کے بعد کمانڈو سروس میں مختلف مقابلوں کے دوران بھی اس رِنگ سے واسطہ رہا تھا۔ البتہ اتنا فرق بہ ہر حال ضرور تھا کہ وہ ہار جیت کامقابلہ ہوتا تھا اور یہ زندگی و موت کا معرکہ تھا۔ لیکن خوش قسمتی یا بدقسمتی سے میرے اندر گنڈہ پوری خون دوڑ رہا تھا ۔اور گنڈہ پوروں کو زندگی و موت کی جنگ بھی روزمرہ کا معمول لگتی ہے۔
ذہنی رَو بہتے بہتے مجھے تربیتی مرکز میں ہونے والے باکسنگ کے فائنل مقابلے کی طرف لے گئی۔
امجد کی جوشیلی آواز برسوں بعد بھی میرے ذہن سے محو نہیں ہوئی تھی۔”جانو! یہ آخری راﺅنڈ ہے۔ پہلے راﺅنڈز پوائنٹوں کے لحاظ سے تُم ہارے ہوئے ہو۔ اس کے چہرے کو نشانہ بناﺅ، پیٹ میں مکہ وہ نہیں کھا رہا ہے۔ تُو کھبا ہے اور اسے پتا ہے کھبے با کسر کو پیٹ کا ہدف دینا اور ناک آﺅٹ ہونا ایک برابر ہے۔ اس کی ٹھوڑی پردائروی مکہ مارو، آنکھیں کھلی رکھو، تمھارے پاس پورے تین منٹ ہیں اور یہ لڑائی جیتنے کو کافی ہیں۔“
گھنٹی بجتے ہی امجد میرا بوسا لے کر رِنگ سے نکل گیاتھا۔ مخالف میری طرح ہی قد آور تھا۔ مقابلہ آخری چند سیکنڈوںتک برابر رہا، لیکن آخری چند سکینڈز میں مخالف کھلاڑی نے میری ٹھوڑی خالی دیکھ دائروی مکہ گھمایا(کاﺅنٹر پنچ)ایسے میں وہ پیٹ کے دفاع سے غافل ہو گیا تھا۔ میں نے تھوڑا سا جھک کر اس کا مکہ ہیڈ گارڈ پر سہارا اور اپنا بایاں مکہ بجلی کی سی سرعت سے اس کی پسلیوں کے نیچے پوری قوت سے دے مارا۔ ”ڈھب “ کی آواز کے ساتھ اس کے منہ سے ایک تیز کراہ خارج ہوئی اور وہ رِنگ کے درمیان میں لیٹ گیا۔ وہ ناک آﺅٹ ہو گیا تھا۔ دس تک گنتی ہونے کے بعد بھی وہ جگہ سے نہ ہلا۔
”جیو جانو!“ مجھے اپنے یار کا پُرجوش نعرہ سنائی دیا۔آج میں شدت سے اس کی کمی محسوس کررہا تھا۔
امجد کی یادوں سے پیچھا چھڑانے کو میں نے گھر والوں کا سہارا لیا۔ سعدیہ اور عدنان شدت سے یاد آرہے تھے۔
”جلدی واپس آنا۔“ کانوں میں سعدیہ کی شیریں آواز گونجی۔ ” چھٹی نہ ملے تو نائیٹ پاس آجانا۔“
”ابو کدل دا (کدھر جا) رہا ہے۔“ عدنان کی توتلی آوازمیری سماعتوں میں آج بھی زندہ تھی۔
وہ اسے اٹھا کرچھاتی سے لگاتے ہوئے بولی۔ ” عبادت کرنے جارہا ہے بیٹا! آجائے گا۔“ میری پلکیں بھیگنے لگی تھیں۔ میں اٹھ بیٹھا ۔”کیا وقت ہوا ہے؟“میں شیتل کو مخاطب ہوا۔
”پانچ بجنے کو ہیں۔“ آنکھوں میں گہری سرخی لیے اس نے مجھے مسکنت سے گھورا۔ وہ کل رات سے مسلسل جاگ رہی تھی۔
میں نے کہا۔ ” اپنی آنکھیں دیکھو تھوڑاآرام ہی کر لیتیں۔“
”آپ شیش ناگ سے صلح نہیں کر سکتے ، کیامعذرت کرنے سے آپ کی شان گھٹ جائے گی۔“
”مس شیتل ہری چرن داس!.... اس سے بہتر ہوگا خود کشی کر لوں،تم عورتیں ہمیشہ بزدلی سکھاتی ہو تبھی گنڈہ پور لڑائی جھگڑوں میں عورتوں سے مشورہ نہیں لیتے۔“ یہ کہتے ہوئے میں غسل خانے میں گھس گیا۔ نیم گرم پانی سے نہا کر میں نے دن بھرکی کسلمندی دور کی۔واپسی پروہ گھٹنوں میں سرد یئے گہری سوچ میں غرق نظر آئی۔ ساتھ بیٹھ کر اس کے بالوں میں انگلیوں پھیرتا ہوا بولا۔
” پگلی! موت کا ایک دن معین ہے۔ تمھاری گہری سوچیں اسے ٹال نہیں سکتیں۔جو رات قبر میں آنا ہے وہ باہر نہیں آئے گی۔ پھر پریشان ہونے کا فائدہ۔“
وہ رنکھی ہوئی۔”تو خوشی سے ناچناشروع کر دوں۔ ہنسنارونا انسان کے بس میں تونہیں ہوتا ۔“
میں نے ٹھوڑی سے پکڑ کر اس کا سر اٹھایا۔ جھیل سی گہری آنکھیں ایک لمحے کو پانی سے لبریز نظر آئیں اور پھر چھلک پڑیں۔وہ مقناطیس کی طرح مجھے چمٹ گئی تھی۔ اس کا سر ہلاتے ہوئے میں نے ہولے سے کہا۔
”چندا ! اپنے جانو کو تم نے موم کا پتلا سمجھ رکھا ہے کہ شیش ناگ آسانی سے قابو پالے گا۔“
” اگر آپ کے بجائے میں شیش ناگ سے بات کر لوں۔“ اس کی سوئی صلح پر اٹکی ہوئی تھی۔
” دوبارہ ایسا کہا تو مجھ سے برا کوئی نہیں ہو گا۔“ میرا لہجہ ضرورت سے زیادہ سخت تھا۔
”وہ تو اب بھی کوئی نہیں ہے۔“
میں چڑ کر بولا۔”آخر ہو کیا گیا ہے تمھیں۔“
”آپ کی جدائی برداشت نہیں ہو گی.... نہیں ہو گی....نہیں ہوگی۔“اس کے آنسو میراکندھا بھگونے لگے۔اسے دلاسا دینے کی بجائے میں نے خاموشی بہتر سمجھی۔نہ تو میری سن رہی تھی اور نہ کچھ سمجھنے پر تیار تھی۔ جانتا تھا وہ سردرد ہے ،مگر اتنے مسائل پیدا کرے گی اس کا اندازہ نہیں تھا۔ممبئی پہنچتے ہی اس سے جان چھڑالینا بہتر رہتا۔
تھوڑی دیر آنسو بہانے کے بعد وہ علیحدہ ہوئی اور غسل خانے کی طرف بڑھ گئی۔ تھوڑی دیر بعد نہا کر لوٹ آئی۔
”کھانے کا بتادوں۔“تازہ دم ہوکروہ بہتر لگ رہی تھی۔
”اپنے لیے کہہ دو، میں صرف چائے پیﺅں گا۔“
” بھوک نہیں ہے۔“ وہ انٹر کام اٹھاکرچائے کا بتانے لگی۔
تھوڑی دیر بعد چائے آگئی اس کے ساتھ ہلکے پھلکے کھانے کے لوازمات بھی تھے۔
چائے پی کر میں نے پوچھا۔” ساتھ چلو گی؟“
اس نے نفی میں سر ہلا دیا۔
”کیوں؟“
”میری مرضی۔“وہ خفا تھی۔
” مجھے تقویت ملے گی، تمھارے علاوہ یہاں میراکون ہے ؟“
”کاش پوری دنیا میں میرے علاوہ آپ کا کوئی نہ ہوتا۔“ اس نے حسرت بھر سے لہجے میں بددعا دی۔
”کبھی اچھے الفاظ منہ سے نہ نکالنا۔“
وہ نادم ہوئے بغیر بولی۔”اچھائی برائی کی تمیز نہیں رہی۔“
”میرے ساتھ چلو گی یا نہیں۔“
”آپ کی یہی اِچھا ہے تو ضرور چلوں گی۔“
” تمھیں اپنے پتا جی کی یاد نہیں آتی۔“ اس کا ذہن بٹانے کو میں نے موضوع تبدیل کیا۔
”کیوں نہیں آتی،ان کے علاوہ میرا دنیا میں کون ہے۔“
”اور وہ سہیلی جسے ملنے کو جاتے وقت میں نے تمھیں اغوا کیا تھا۔“
” رانی میری بہت پیاری سہیلی ہے۔ہم کلاس فیلو ہیں،ہمارے گھریلو تعلقات بھی بہت اچھے ہیں۔ بچپن ہی سے ........“ وہ جلد ہی رانی اور دوسری سہیلیوں کے بارے جوش و خروش سے بتانے لگی۔میں توجہ سے سنتا رہا،گاہے گاہے ایک ادھ سوال بھی کر لیتا۔ اسی گپ شپ میں وقت گزرنے کا پتا ہی نہ چلا۔ اچانک دروازہ کھول کر کلاشنکوفوں سے مسلح چھے افراد اندرآئے۔
ان کا سرغنہ مجھے مخاطب ہوا۔”چلیں جناب ! نو بجنے کو ہیں اور دس بجے مقابلہ شروع ہو گا۔“
میں اطمینان سے اٹھ گیا۔ شیتل کے چہرے پر ایک دم بارہ بج گئے تھے۔اس نے اٹھ کر مضبوطی سے میرا ہاتھ تھام لیا تھا ۔یوں جیسے ہر حالت میں میرے ساتھ رہنے کا اعلان کر رہی ہو۔ اس سے مجھے بہت تقویت پہنچی تھی ۔ہم ان کی نگرانی میں چلتے ہوئے گیراج میں پہنچے اور ایک ویگن بیٹھ گئے۔ دروازے کاخودکار قفل خود بخودبند ہو گیا تھا۔ ہمارے بیٹھتے ہی ویگن حرکت میں آگئی۔ پچھلا حصہ چاروں طرف سے مکمل بند تھا۔ اورباہر کا نظارہ کرنا ناممکن تھا۔آدھے گھنٹے کا راستہ خاموشی سے طے ہواتھا۔ شیتل میرے ہاتھ تھامے آہستہ آہستہ سہلاتی رہی۔ جیسے میری ڈھارس بندھا رہی ہوحالاں کہ اس کااپنا رنگ زرد ہورہا تھا۔
جونھی ویگن رکی دروازہ کھل گیا تھا۔ہم باہر نکلے۔ ایک بڑا سا گیراج نظر آیا جہاں چند قیمتی کاریں کھڑی تھیں۔ میری نظر سب سے پہلے جگو دادا پر پڑی ۔اس کے ہمراہ ایک اور شخص بھی موجود تھا۔جگو دادا شناسائی ظاہر کیے بغیر پُرتپاک انداز میں ملا۔ دوسرے آدمی کے انداز میں بھی مجھے گرم جوشی نظر آئی تھی۔
جگو دادا میرا ہاتھ تھام کر گیراج کے اندرونی دروازے کی طرف بڑھ گیا۔قریب پہنچنے پردروازے سے متصل سیڑھیاں نیچے اترتی ہوئی نظر آئیں۔ وہ اتنی چوڑی سیڑھیاں تھیں کہ میں اور جگو دادا شانہ بشانہ چلتے ہوئے نیچے اترنے لگے۔ ہمارے پیچھے شیتل اور جگودادا کا ساتھی تھے۔
سیڑھیوں کے اختتام پر چوڑی راہداری تھی۔جس کے دونوں جانب کمرے بنے تھے۔ جگو دادا انھی میں سے ایک کمرے میں داخل ہو گیا۔ وہ ایک درمیانے حجم کا کمرہ تھا ۔
”بیٹھیں۔“ جگو دادا نے د صوفہ سیٹ کی طرف اشارہ کیا۔ہم نے خاموشی سے نشست سنبھا ل لی۔
جگو دادا نے تمہید باندھی۔ ”میرا نام جگن ناتھ ہے اور یہ میرا کاروباری حلیف (بزنس پارٹز) سیٹھ پریم چند ہے۔ ہم آپ سے کافی حد تک واقف ہیں کیوں کہ اخبارات میں آپ کے متعلق کافی کچھ چھپ چکا ہے۔ تو سب سے پہلے میں آپ کو اپنے دفتر میں خوش آمدید کہتے ہوئے ٹھنڈے ،گرم کا پوچھوں گا۔“
” شکریہ،ہم کھاپی کر آرہے ہیں۔“
اس نے پسندیدگی سے سرہلایا۔۔ ”مجھے آپ اپنا بکنگ منیجر یا سیکرٹری سمجھیں کیوں کہ اس ٹورنامنٹ میں شریک ہر لڑا کے کابکنگ منیجر ضرور ہوتا ہے۔ یہ مقابلے سراسر غیر قانونی ہوتے ہیں اور حکومت کی لاعلمی میں لڑے جاتے ہیں۔ یہ اور بات ہے کہ ہال میں سرکاری ملازمین کی بھی بڑی تعداد موجودہوتی ہے۔ لڑاکوں کے ہارنے جیتنے پر بڑی تعداد میں شرائط لگتی ہیں۔جس کے لیے ریس کورس کی طرح انتظامیہ کی طرف سے بھی ٹکٹ ملتے ہیں اور مختلف افراد آپس میں بھی شرط لگا لیتے ہیں۔ ہرلڑائی کا صرف ایک ہی راﺅنڈ ہوتا ہے جس کے لیے وقت کی حد مقرر نہیںہے۔کسی بھی کھلاڑی کے بے ہوش ہونے، مر نے یا لڑائی سے دست بر داری کے اعلان پرلڑائی اختتام پذیر ہوتی ہے۔ یہ فری سٹائل لڑائی ہوتی ہے اور ہر داﺅ پیچ استعمال کیا جاسکتا ہے۔ البتہ کوئی ہتھیاروں پر پابندی ہوتی ہے۔ ہرلڑائی کے اختتام پر جیتنے والے کھلاڑی کو بڑی رقم انعام میں ملتی ہے۔ ٹورنامنٹ جیتنے والے خوش نصیب کو خطیر رقم اور” فائیٹر کنگ“کا تاج پہنایا جاتا ہے۔ شیش ناگ اور آپ کے درمیان ہونے والی لڑائی” فائیٹر کنگ“ کے انتخاب سے متعلق نہیں ہے ،کیوں کہ شیش ناگ ایک دفعہ یہ ٹائیٹل جیت چکا ہے اور اصولاََ دوبارہ ان مقابلوں میں حصہ نہیں لے سکتا۔ آپ دونوں کے مقابلے سے اس سال ٹورنامنٹ افتتاح ہورہا ہے اوراسے سیٹھ رابند رناتھ کے علاو ہ تمام زیر زمین حلقوں کی تائید حاصل ہے۔ یقین کرو اس مقابلے کو دیکھنے کو لوگ اتنے پر جوش ہیں کہ سٹیڈیم کے مہنگے ٹکٹ ہاتھوں ہاتھ بک گئے ہیں۔حالاں کہ افتتاحی مقابلے کی ٹکٹیں عام ٹکٹوں سے کئی گنا زیادہ مہنگی تھیں۔ لوگوں کے لیے آپ افسانوی حیثیت رکھتے ہیں۔اور تو اور ”را“ کے چند بڑے افسروں نے بھی اس لڑائی کو دیکھنے کی خواہش ظاہر کی ہے اور اب تماش بینوں کی طرح ہال میں موجود ہیں۔ یہ اطلاع بھی آپ کے لیے دلچسپی یا فخر کا باعث ہو گی کہ آپ دونوں پر لگنے والی شرائط کا تناسب ففٹی ففٹی ہے۔ گویا منفی شہرت کے باوجود انڈیا میں آپ کو چاہنے والے بڑی تعداد میں موجود ہیں۔ اگر آپ کے ذہن میں کوئی سوال ہو تو پوچھ سکتے ہیں؟“
”شکریہ۔“ میں نے نفی میں سرہلا دیا تھا۔
”تو لباس تبدیل کرلیں کیوں کہ پونے دس ہو چکے ہیں اور دس بجے آپ کو ہال میں ہونا چاہئے۔“ جگو دادا نے ایک چھوٹے دروازے کی طرف اشارہ کیا۔ ”یہ ڈریسنگ روم ہے آپ اپنی پسند کا لباس پہنسکتے ہیں البتہ پاﺅں میں کچھ نہ ڈالنا۔“
میں سرہلاتا ہوا ڈریسنگ روم کی طرف بڑھ گیا۔ وہاں مختلف قسم کے لباس ہینگرزمیں لٹکے تھے۔ جیسے کسی بھی کھیلکے لیے لباس کے انتخاب کی بہت اہمیت ہوتی ہے ۔یونھی لڑائی کے لیے ہمیشہ ایسے لباس کی ضرورت پڑتی ہے کہ لڑنے والا ہاتھ پاﺅں کو آسانی سے حرکت دے سکے۔ ہمارے استاد صوبیدار مراد صاحب لباس کے انتخاب پر بہت زور دیتے تھے۔
میں نے اپنے لیے کالے رنگ کا ہلکا پھلکا چست پاجامہ اور اسی رنگ کی بغیر بازووں والی بنیان کا انتخاب کیاتھا۔ بہ مشکل ہی پاجامہ پہن سکا تھا کہ شیتل دندناتی ہوئی اندرآئی ۔اس نے دروازہ کھٹکھٹانے کی زحمت نہیں کی تھی۔
میں نے جھڑکا۔”بندے کو ایسی جگہ جاتے ہوئے دستک لازماً دینا چاہئے۔“
وہ بے نیازی سے بولی۔”ہاں، جب اندر کوئی غیر ہو۔“
اس سے تکرار کرنا دیوار سے سر ٹکرانے کے مترادف تھا۔میں نے بنیان ڈالتے ہوئے پوچھا۔”اب تشریف آوری کا مقصد بھی بتا دو۔“
وہ میرا بازوتھامتے ہوئے پُرجوش ہوئی۔ ” جگن ناتھ بتا رہا ہے کوئی بھی فریق جب لڑائی سے دست بر داری کا اعلان کردے تو انتظامیہ مقابلے کو فوراً ختم کر دیتی ہے۔آپ بھی تھوڑی دیر لڑکر ہار تسلیم کر لینا۔“
”ٹھیک ہے۔“ میں نے فوراً متفق ہو کر سرہلایاکہ اسے سمجھانے کی کوشش بے سود تھی۔ ”اور اب چلو وقت کم ہے۔“ میں ڈریسنگ روم سے نکل آیا۔ وہ دونوں اٹھ کھڑے ہوگئے۔
” چلیں۔“ جگو دادا میرے جسم کو تعریفی نظروں سے دیکھتا ہواپوچھنے لگا۔
میں نے اثبات میں سرہلادیا۔
”سیٹھ صاحب !آپ بے بی کو دوسرے راستے سے لے جائیں،میں عمر جان کے ساتھ جارہا ہوں۔“
”میری بات یاد رکھنا جان!“ شیتل اس کے ساتھ جاتے ہوئے ملتجی ہوئی۔ میں نے سرہلانے پر اکتفا کیاتھا۔پگلی جانتی نہیں تھی کہ مقابلے سے دستبر داری کا اعلان اپنی موت کے پروانے پر دستخط کر نے کے مترادف تھا۔
جگو دادا نے نیلے رنگ کا ریشمی گاﺅن مجھے اوڑھایااورہم چل پڑے۔
میں دل ہی دل میں اپنے رب کو یاد کررہا تھا۔میں کوئی سپر مین یا ماورائی طاقتوں کا مالک نہیں تھا کہ پریشان نہ ہوتا۔شیش ناگ میرے لیے بالکل انجان تھا۔اس کے لڑنے کے انداز سے میں واقف نہیں تھا۔صرف اس کا اعتماد دیکھا تھا جو ظاہر کرتا تھا کہ وہ ٹٹ پونجیا لڑاکا نہیں تھا۔
کمرے سے نکل کر ہم راہداری میں پہنچے تھوڑا سا آگے جا کر راہداری بائیں جانب مڑ گئی۔ سامنے ہی لکڑی کا مضبوط منقش دروازہ لگا نظر آیا۔جس کے باہر باوردی دربان کھڑے تھے ہمیں دیکھتے ہی انھوں نے دروازہ کھول دیاتھا۔ مجھے سیڑھیاں اوپر جاتی نظر آئیں ۔سیڑھیوں کے اختتام پر ایک اور دروازہ تھا جسے کھولتے ہی میری سماعتوں میں تیز شور کی آواز گونجی اور ایک بہت بڑا وسیع وعریض ہال تھاجس کے درمیان میںباکسنگ رِنگ جیسا اکھاڑابنا تھا۔ ہال کے اندر تیز روشنی کا بندوبست ہواتھا۔ میرے اداخل ہوتے ہی کسی منچلے کی آواز گونجی۔”وہ آیا کمانڈو۔“اور پورا ہال سیٹیوں اور نعروں سے گونج اٹھا۔میں لوگوں کے نعروں اور سیٹیوں کی پروا کیے بغیر اطمینان سے چلتا ہوا رِنگ تک پہنچا۔وہ عام بِاکسنگ رِنگ کے مقابلے میں کشادہ تھا۔
ہال کے دائیں کونے سے ”خونی.... خونی“ کی آوازیںکورس کی صورت میں سنائی دینے لگیں۔ جبکہ بائیں جانب ”کمانڈو کی جے“ کے نعرے سنائی دے رہے تھے۔
میں نے شور و غل کو نظر انداز کر کے ہال میں ایک طائرانہ نگاہ دوڑائی۔ رِنگ کے نزدیک خصوصی نشستوںپرشیتل بیٹھی نظر آئی۔ وہ زیر لب کچھ پڑھ رہی تھی ۔بے شک وشبہ اس کے لبوں پرمیری سلامتی کی مناجات تھیں۔ شیش ناگ پر مجھے اس لحاظ سے فوقیت حاصل ہو گئی تھی کہ ایک پُرخلوص ہستی کی دعائیں مجھے میسر تھیں ۔اس کے برعکس شیش ناگ کے لیے صرف پیسہ لگانے والے ہی جیتنے کی دعا مانگ سکتے تھے اورخوش قسمتی سے ہم دونوں کے پر شرط لگانے والوں کی تعدادبرابر تھی۔ یوں بھی شرط لگانے والوں کی دعائیں صرف اپنی رقم کی سلامتی کے لیے ہوتی ہیں۔
سیٹھ رابندر اور اس کی بیٹی بھی شیتل کے قریب نظر آئے۔ ہال کی گھڑی پر مجھے نو بج کر اٹھاون منٹ چمکتے نظر آئے۔ داخلی دروازے سے شیش ناگ سرخ رنگ کے پاجامے اور اسی رنگ کی بنیان میں نمودار ہوا۔
”شیش ناگ.... شیش ناگ....“ کے نعرے کورس کی صورت بلند ہوئے اور وہ فخریہ انداز میں ہاتھ ہلاتے رِنگ کے اندر آگیا۔اس کے بدن میں برقی لہریں دوڑتی محسوس ہو رہیں تھیں۔ اور آنکھوں میں میرے لیے نفرت، تمسخر اور غیظ و غضب کے شعلے نکل رہے تھے۔
میں نے خود کو ٹھنڈا رکھا ہوا تھا۔اس وقت میرا استاد صوبیدار مرادصاحب رِنگ میں میرے ساتھ آگیا ۔ اس کی مشفق آواز میری سماعتوں میںگونجی۔
”ماحول کااثرکبھی قبول نہ کرنا۔ حالات کیسے بھی ہوں اعتماد ایک ایسی طاقت ہے جس کی مدد سے تم حالات سے ٹکر لے سکو گے۔ لڑائی کی تربیت لینا اور داﺅ پیچ سیکھنا نہایت آسان ہے، یہاں تک کہ لڑکیاں بھی مہارت حاصل کرلیتی ہیں۔ لیکن زندگی کے عملی میدان میں انھیں بروئے کار لانا، کسی کسی کوآتا ہے۔ بہت سے اچھے لڑاکے ،عام لڑاکوں سے مارکھا جاتے ہیں کیوں کہ وہ لڑائی شروع ہونے سے پہلے نفسیاتی طور پر ہارے ہوتے ہیں۔ میرا یہ مطلب نہیں کہ مقابل کو کمزور سمجھو۔ اسے اچھا سمجھو،مگر خود کو بھی کمزور نہ جانو۔ اپنا سمٹنا برقرار رکھو۔ فضول اچھل کود اوردکھاوے سے پرہیز کرو۔ مزاج کو ٹھنڈا رکھو اور فریق مخالف کو غصہ دلانے کی کوشش کرو۔ غیظ و غضب میں مبتلا ہو کر ہی وہ غلطیاں کرے گا جو تمھیں جیتنے کے مواقع فراہم کریں گی۔“
دس بجتے ہی کمنٹریٹر کی آواز ابھری اور سارے ہال میں یکلخت خاموشی چھا گئی۔
”ناظرین! جیسا کہ آپ کو معلوم ہے اس دفعہ ”فائیٹر کنگ“کے چناﺅ کے ٹورنامنٹ کا آغاز روزمرہ سے ہٹ کر کیا جا رہا ہے۔ افتتاحی مقابلہ ایسے لڑاکوں کے بیچ ہونے والا ہے جو کسی تعارف کے محتاج نہیں۔ایک کا تعلق ہمارے پڑوسی ملک پاکستان کی کمانڈو فورس سے ہے۔ موصوف پچھلے کئی روز سے بھارتی ایجنسیوں اور پولیس کے لیے درد سر بنے ہوئے ہیں۔ کتنے ہی سرکاری اہلکار ان کے ہاتھوں زخمی اور ہلاک ہو چکے ہیں۔ بھارتی سرکار کی جانب سے ان کے بارے اطلاع دینے والے کو ڈیڑھ لاکھ انعام دینے کا اعلان کیا جا چکا ہے۔ اس شیر کو رِنگ میں لانے کا سہرا ممبئی کے بے تاج بادشاہ جناب سیٹھ رابندر ناتھ کے سر ہے۔ بائیں کونے میںنیلاگاﺅن پہنے آپ کی نگاہوں کے سامنے ہیں جناب عمر جان کمانڈو ووووو....“
نعروں اور سیٹیوں کے شور میں کمنٹریٹر کی آوازدوبارہ گونجی۔ ”اور دائیں کارنر میں آپ جانی پہچانی شخصیت ، آپ کا ہر دل عزیز لڑاکا شیش ناگ....“ ایک مرتبہ پھر سیٹیوں، نعروں اور تالیوں کا طوفان برپا ہو گیاتھا۔
اعلان ختم ہوتے ہی سفید قمیصاورکالی پتلون میں ملبوس ایک ریفری رِنگ میں داخل ہوا۔ اس کے ہاتھ میں ایک فائل تھی۔ اس نے فائل میری طرف بڑھائی۔ اس میں دو فارم پڑے تھے ۔ جنھیں اعتراف نامہ کہنا مناسب رہے گا۔ انگریزی میں لکھا ہوا تھا کہ لڑائی کے میں ہونے والے ہر قسم کے نقصان کا ذمہ دار خودلڑاکا ہوگا۔ یوںیہ لڑائی غیر قانونی ہوتے ہوئے بھی کچھ قانونی سی بن گئی تھی۔ میں نے نام کے لیے چھوڑی ہوئی خالی جگہ میں نام لکھا اور دستخط کر کے فائل ریفری کو پکڑا دی۔ شیش ناگ سے بھی دستخط لے کر ریفری نے فائل متعلقہ شخص کو تھمائی اور لباس کا معائنہ کرنے میری جانب بڑھا۔ میں نے گاﺅن اتار کر جگو دادا کے جانب پھینک دیا۔ ریفری نے میری سرسری تلاشی لی ، بعد میں یہی کارروائی شیش ناگ کے ساتھ دہرائی اوردونوں کو رِنگ کے درمیان میں بلا لیا۔ ایک دو رسمی باتوں کے بعد وہ پیچھے ہٹا،ٹائم کیپر نے برقی گھنٹی کا بٹن دبایا ۔”ٹن“ کی آواز کے ساتھ ہی جاں گسل اور اعصاب شکن انتظار اختتام کو پہنچا۔ ہم ازلی دشمنوں کی طرح آمنے سامنے کھڑے تھے۔ شیش ناگ کے ہونٹوں پر حقارت بھری مسکراہٹ کھلی تھی۔
جاری ہے
قسط نمبر15
ریاض عاقب کوہلر
ایک لمحہ ہم نگاہوں ہی نگاہوں میں ایک دوسرے کو تولتے رہے اورپھر برقی کوندے کی طرح شیش ناگ کا دایاں پاﺅںمیرے چہرے کے جانب بڑھا۔ میں نے ایک قدم پیچھے ہٹ کر دفاع کیا۔ لیکن وار خطا ہونے پر شیش ناگ کی حرکت نہ رکی۔اور دائیں ٹانگ زمین پر لگتے ہی وہ پھر کی طر ح اسی ٹانگ پر گھوما اور بائیں پاﺅں کی ایڑی پوری قوت سے میری چھاتی کی جانب بڑھی۔ میں نے کلائیاں جوڑ کر اس کا یہ وار بھی ناکام بنایا، مگر اسی ردھم میں اس کی دائیں ٹھوکر میرے پیٹ میں لگی اور میں اچھل کررسوں پر جاگرا۔ اس کے حملوں میں بہت شدت اور تیزی تھی۔ میرے پیٹ میں اینٹھن شروع ہو گئی تھی۔
رسوں نے مجھے واپس رِنگ کی طرف اچھالا مگر میں نے بائیں ہاتھ سے ایک رسے کو مضبوطی سے تھامے رکھا اورتبھی شیش ناگ کی اگلی ٹھوکر سے بچ گیا جو اس نے درست اندازے سے گھمائی تھی۔
اس نے پوری قوت صرف کی تھی اورہدف نہ ہونے کی وجہ سے لڑکھڑا گیا تھا۔ اس سے پہلے کہ وہ سنبھلتا میری بائیں لات ہتھوڑے کی طرح اس کی چھاتی سے ٹکرائی اور وہ اچھل کر رِنگ کے درمیان میں جا گرا۔ مگر اس نے اٹھنے میں دیر نہ لگائی اور سپرنگ کی طرح اچھل کر کھڑا ہو گیا۔
”کوبرے نے بھی شروع میں تمھاری طرح بہت اچھل کود کی تھی۔“ میں نے اسے غصہ دلانے کی کوشش کی۔مگر اس کاچہرہ نارمل رہا۔اس نے میرے گرد چکر لگایا اور پھر اچانک ہی چھلانگ لگا دی۔ اس کا دایاں گھٹنا خطرناک انداز میں میری چھاتی کی جانب بڑھا میں نے دونوں ہاتھوں سے اس کا گھٹنا تھام کر اس کے وار کو سہا را۔اورایک دم میرا بایاں مکہ پوری قوت سے اس کے چہرے پرپڑا۔ جس نے اسے خون تھوکنے پر مجبور کر دیاتھا۔ ساتھ ہی میں نے اچھلنے کا اشارہ دے کر اسے نیچے جھکنے پر مجبور کیا اور اس سے پہلے کہ وہ میری چال سمجھتا میری ٹھوکر ٹھیک اسی جگہ پر لگی جہاںمکہ لگا تھا۔ اس مرتبہ وہ کولہوں کے بل پر نیچے جاگرا۔ اس کے اٹھنے سے پہلے میں اس پر ٹھوکروں کی بارش برسا چکا تھا۔ لڑائی کے بنیادی اصول ”مضروب مقام کو نشانہ بناﺅ“ کے مطابق میری کوشش تھی کہ اس کے چہرے کو نشانہ بناﺅں۔ ایک دولاتیں کھانے کے بعد وہ مچھلی کی طرح تڑپتا ہوا میری ٹھوکروں کی زد سے نکلا اور اچھل کر کھڑا ہو گیا۔
”کوبرے کا بھی میری ٹھوکروں سے بچنے کا یہی انداز تھا۔“ میںنے اسے غصہ دلانے کی کامیاب کوشش کی ۔ اس کے چہرے پر غیظ و غضب نمودار ہوا۔وہ اچانک میری جانب دوڑا، میں نے سوچا شاید غصے کی شدت میں حواس کھو بیٹھا ہے ۔اور مجھ سے گتھم گتھا ہونا چاہتا ہے۔میں اس کے استقبال کو تیا رہو گیا۔ مگر دو قدم دور اس نے ایک دم چھلانگ لگائی اور اس کے سر کی شدید ٹکر میری پسلیوں پر لگی۔ میں اچھل کر پشت کے بل نیچے جا گرا، مجھے سانس رکتا ہوا محسوس ہواتھا۔ مگر وہیں لیٹنے کا مطلب اپنی موت تھا۔ میں کروٹیں بدل کر دور ہٹا۔ لیکن یہ میری بھول تھی کہ میں اس کی مار سے باہر ہو گیا تھا۔ کھڑے ہوتے ہی اس کیٹھوکر نے دوبارہ زمین چاٹنے پر مجبور کر دیا تھا۔ مجھے منہ میں خون کا نمکین ذائقہ محسوس ہوا۔ میرے سنبھلتے سنبھلتے بھی وہ مجھے تین چار ٹھوکریں رسید کرنے میں کامیاب ہو گیا تھا۔ میں نے اس کے ٹھوکریں برساتے پاﺅں کو پکڑ کر گھسیٹا۔ وہ دھڑام سے میرے اوپر گرا۔ مگر اگلے ہی لمحے میں نے اسے دونوں پاﺅں پر رکھ کر رسوں کی جانب اچھال دیا۔ اس کے رسوں سے ٹکرا کر واپس آنے تک میں نے فرش سے اٹھ کر اس کی جانب چھلانگ لگا دی تھی اور اس سے پہلے کہ وہ اپنا دفاع کر پاتا میرے سر کی ٹکر اس کی پسلیوں میں لگی اور وہ دوبارہ رسوں پر جا پڑا۔ مگر اس مرتبہ بازو رسوں میں اڑا کر اس نے خود کو واپس آنے سے روک لیا تھا۔ اس کے ہونٹوں پر تمسخرانہ مسکراہٹ کی جگہ ٹھوس سنجیدگی نے لے لی تھی۔
”اگر تم مخالف کو اپنی اہمیت جتانے میں کامیاب ہو جاتے ہو تو یہ تمھاری آدھی فتح ہے، اب وہ مرعوب ہو کر لڑے گا اور آزادی سے حملہ کرنے کی جرا¿ت نہیں کرے گا۔“ میرے دماغ میں صوبیدار مراد کی آواز گونجی۔
شیش ناگ رسوں سے ہاتھ نکال پینترے بدلتا ہوا میری جانب بڑھا، مجھ سے دو قدم دور رک کراس نے چھلانگ لگائی ۔ مجھ سے بھی یہی حرکت سرزد ہو چکی تھی۔ دونوں ہوا میں ٹکرائے اور نیچے گرتے ہی وحشیوں کی طرح ایک دوسرے پر پل پڑے۔ دونوں کی کوشش تھی کہ مخالف کی اینٹ کے جواب میں پتھر پھینکے۔ لڑتے لڑتے ہمارا سانس چڑھ گیا تھا۔ جسم کے مختلف حصوں سے خون بہہ رہا تھا مگر کوئی شکست ماننے کو تیار نہیں تھا۔یوںلگ رہا تھا جیسے ہماری لڑائی برسوں سے جاری ہے۔ میری طرح شیش ناگ کا سٹیمنا بھی بلا کا تھا کہ مجھے اس کی حرکات میں سستی نظر نہیں آئی تھی۔ تماشائی شروع شروع میں ہمارے ہر اچھے داﺅ پر داد دیتے رہے لیکن جوں جوں لڑائی میں شدت آتی گئی تماشائیوں میں بھی خاموشی چھاتی گئی۔
میری کوشش تھی کہ کسی طریقے سے شیش ناگ کی گردن میرے بائیں بازو کی گرفت میں آجائے مگر شروع سے ہی شیش ناگ نے میری یہ کوشش ناکام بنائے رکھی تھی۔ پتا نہیں وہ میرے اس داﺅ سے واقف ہے یا نہیں۔یونھی مجھے شروع ہی سے پتا چل گیا تھا کہ اس کا خطرناک داﺅ بائیں جانب کی پسلیوں کے نیچے اپنا گھٹنا رسید کرناتھا۔ ایک دفعہ اس کا اچٹتا ہوا وار مجھے لگابھی تھا اور میں بہ مشکل خود کو بے ہوش ہونے سے بچا پایا تھا، لیکن اس کے بعد میں نے اسے موقع نہیں دیاتھا۔
کسی کا ہارنا مشکل لگ رہا تھا۔لیکن قانوںِ فطرت ہے جیت کسی ایک ہی کا مقدر بنتی ہے۔نہ ایک میان میں دو تلواریں جا سکتی ہیں اور نہ ایک مقابلے کے دو فاتح کہلا سکتے ہیں۔ہمیں بھی کسی نتیجے پر پہنچنا تھا۔ دونوں میںپہلا دم خم باقی نہیں رہا تھا لیکن ہمت و حوصلہ زندہ تھا۔ہم پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں تھے۔اور ایک دوسرے کو زیر کرنے کی کوشش جاری تھی۔لڑائی نقطہ عروج سے نیچے اتر آئی تھی۔بس کسی کا ایک کا ہارنا باقی تھا۔
میری گھومتی ٹھوکر کو شیش ناگ نے نیچے جھک کر خطا کیا ،میں لڑکھڑا گیا تھا۔میرے سنبھلنے سے پہلے شیش ناگ نے مجھے بازو سے پکڑ کر گھمایا اور رسوں کے بجائے کونے میں لگے ہوئے ستون کی جانب زور سے دھکیلا ،میری پشت پوری قوت سے ستون سے ٹکرائی تھی۔ ایک لحظے کو میں سن ہو گیاتھا۔یہ شیش ناگ کے لیے بہترین موقع تھا۔اور اس جیسا لڑاکا موقع ضائع نہیں جانے دے سکتا تھا۔وہ ہوا میں اچھلا ،اس کا دایاں گھٹنا خطرناک انداز میں میری پسلیوں کی جانب بڑھا۔ اگر وہ کامیاب ہو جاتا تولڑائی جیت چکا تھا مگر میں اپنے استاد کی ہدایت کے مطابق .... ”آخرتک ہارنہ مانو، حرکت میں برکت ہے ، شدید تھکن اور تکلیف کی حالت میں اپنے کسی عضو کو حرکت دینا تمھاری جان بچاجائے گا۔“
میرا دائیں بائیں ہٹناناممکن تھا۔میرا بالائی دھڑ وقتی طور پر مفلوج ہو گیا تھااور سنبھلنے کے لیے چند سیکنڈ درکار تھے،لیکن شیش ناگ مجھے ایسا موقع فراہم کرنے کی غلطی نہیں کر سکتا تھا۔تبھی ایک دم میں نے بائیں ٹانگ سیدھی کر دی۔ شیش ناگ کا گھنٹا میرے پاﺅں کے تلوے سے ٹکرایا اور پوری ٹانگ کے ساتھ میر ا جسم بھی جھنجنا اٹھاتھا۔یہ دفاعی وار اس کے لیے اچنبھے کا باعث بنا تھا،وہ اپنا توازن برقرار نہ رکھ سکا اور کولہوں کے بل نیچے جاگرا۔اس اثناءمیں میں سنبھل گیا تھا، موقع غنیمت جانتے ہوئے میں تکلیف کی پروا کیے بغیر آگے بڑھا۔لیکن شیش ناگ کو کوئی خاص چوٹ نہیں آئی تھی وہ اچھل کراٹھا چونکہ اس کے سیدھا ہو کر وار کرتے کرتے میں اسے چوٹ پہنچانے میں کامیاب ہو جاتا۔ تبھی اس نے رکوع کے انداز میں جھکے جھکے ہی میرے پیٹ میں ٹکر مارنے کی کوشش کی اور یہ اس کی زندگی کی سب سے بڑی بھول بن گئی۔اس کا یہ حالت بنانا بالکل غلط تھا،لیکن تیزی میں کیا ہوا فیصلہ بعض اوقات درست نہیں ہوتا۔انسان مقابل کو وہ موقع فراہم کر جاتا ہے جس کی تلاش میں بے چارہ کب سے بھٹک رہا ہوتا ہے۔ایک موقع شیش ناگ کو ملا تھا جو میری ہمت نے ناکام بنا دیا۔ اب گیند میرے ہاتھ میں آگئی تھی۔
جونھی وہ آگے بڑھامیں بجلی کی سی سرعت سے بائیں پاﺅں کے پنجے پریوں گھوما کہ میری پیٹھ شیش ناگ کی طرف ہو ئی اور اس کی آگے کو بڑھی گردن میرے بائیں بازو کے شکنجے میں آگئی۔ اس نے تڑپ کر سیدھا ہونا چاہا مگر اب اس کی پھرتیاں، تیزیاں اور طاقت کام آنے والی نہیں تھی۔ وہ نادانستگی میں گردن موت کے شکنجے میں پھنسا چکا تھا۔ اس پھندے سے اسے موت یا میری مرضی چھڑا سکتی تھی۔ میں نے گردن پر مخصوص دباﺅ ڈالا اوروہ ایک دم ڈھیلا پڑ گیاتھا۔ اب وہ اپنی مرضی سے حرکت کرنے سے قاصر تھا،کیوں گردن کی رگوں پر مخصوص دباﺅ پڑنے کی وجہ سے جسم سے توانائی گویا رخصت ہو جاتی ہے۔ میں نے ہال میں نگاہ دوڑائی ہزاروں کی تعداد میں بیٹھے تماشائیوں کی نظریں ہم پرگڑی تھیں۔ اتنی گہری خاموشی چھا ئی تھی کہ مجھے اپنے سانسوں کی آواز واضح سنائی دے رہی تھی۔ میری نگاہوں کے سامنے شیتل کامن موہناچہرہ آیا۔ اب تک یاقوتیہونٹ مناجات کوہل رہے تھے۔ شیتل کے عقب میں دو تین کرسیاں چھوڑ کرکیپٹن نیلم نظر آئی۔جس کی نوازش سے مجھے فرار ہونے کا موقع ملا تھا۔ سب سے پھرتے ہوئے میری نظریں سیٹھ رابندر ناتھ پر آ کر رک گئی تھیں۔ اس کا چہرہ بے تاثر تھا مگر آنکھوں میں باپ کی التجائیں رقص کرتی رہی تھیںکہ ، میرے بیٹے کی جان بخشی کر دو۔ شیش ناگ لے پالک بیٹا تھا۔لیکن وہ کتنی محبت کرتا تھا یہ انداز مجھے اس کی آنکھوں میں اٹھتے اضطراب سے ہو رہا تھا۔ شیش ناگ کو مار کر رابندر ناتھ سے اچھی توقعات کی امید فضول تھی۔ جبکہ اسے زندہ چھوڑ کر میں مطلوبہ مقاصد حاصل کر سکتا تھا۔
میں نے بائیں بازو کو مخصوص جھٹکا دیا اور شیش ناگ بے ہوش ہو کر میرے بازو میں جھول گیا۔ میں نے اسے پلٹ کر پشت کے بل رِنگ کے فرش پرلٹا دیا۔ پیٹ کے اوپر نیچے کی حرکت سے اس کے زندہ ہونے کا پتا چل رہاتھا۔ رابندر ناتھ کی خاموشی التجاﺅں نے اسے مرنے سے بچا لیا تھا۔ نہیں میں کچھ غلط لکھ گیا ہوں،یقینا میرے ربّ کے نزدیک اب تک اس کے زندگی کے دن باقی تھے تبھی وہ بچ گیا تھا۔
ہال میں خاموشی چھائی ہوئی تھی۔ شیش ناگ کے نیچے گرتے ہی ریفری نے گنتی شروع کر دی مگر دس تک پہنچتے تک بھی اس کے جسم میں ہلکی سی جنبش نہ ہوئی۔ وہ ہزار تک بھی گنتا تب بھی شیش ناگ کا اٹھنامحال تھا۔ میرے اندازے میںاسے دو تین گھنٹوں کے بعد ہی ہوش آنا تھا۔ یکلخت چھائی خاموشی کو میگافون پر ابھرنے والی آوازنے توڑا۔
”سٹیڈیم کو چاروں طرف سے پولیس اور خفیہ اہلکاروں نے گھیر لیا ہے۔ براہِ مہربانی کوئی اپنی جگہ سے اٹھنے کی کوشش نہ کرے۔ ہمارا کام صرف عمر جان کو حراست میں لینا ہے۔ کسی اورسے کوئی تعرض نہیں کیا جائے گا ۔اور عمر جان سے بھی درخواست ہے کہ خود کو قانون کے حوالے کر دے۔ بھارت سرکار اس کے کیس پر ازسر نو غور کرے گی اور امید ہے اس کی سزا میں تحفیف کرتے ہوئے اسے پاکستان سرکار کے حوالے کر دے۔“
اس کی بات پر یقین نہ کرتے ہوئے بھی میںگرفتاری دینے پر مجبور تھا۔اب لے دے کے سیٹھ رابندر ناتھ کی امید بقایا تھی۔شاید وہ اپنے تعلقات بروے کار لا کر مجھے چھڑانے کی کوشش کرتا۔
ہال کی پچھلی نشستوں سے دو تین بندے رِنگ کی طرف بڑھتے دکھائی دیئے مگر ابھی وہ دور تھے کہ اچانک پورے سٹیڈیم میں گھپ اندھیرا چھا گیا۔ وہ اندھیرامجھے فرار کرانے میں مدد دینے کو کیا گیا تھا۔ مگر میں کہاں جاسکتاتھا۔سٹیڈیم کے راستے میرے لیے بھول بھلیوں سے کم نہیں تھے۔ اسی شش و پنج میں تھا کہ بازو پر ایک نرم و گرم ہاتھ کالمس محسوس ہوا۔ساتھ ہی ایک نسوانی سرگوشی سنائی دی۔
” میں پریٹی ہوںرابندر ناتھ کی بیٹی ،آپ کو محفوظ مقام تک لے جاﺅں گی۔“ وہ تعارف نہ کراتی تب بھی میں نے آواز پہچان لی تھی۔ ہال میں ایک دم بھگدڑ مچ گئی تھی ۔ سرکاری اہلکاروں کے للکارنے کی آوازیں آنے لگیں۔مگر ہزاروں کی تعداد میں تماشائیوں کو سنبھالنا چند بندوں کے بس کا روگ نہیں تھا۔سٹیڈیم سے باہر مشین گن کی تڑتڑاہٹ سنائی دی۔اور پستول کے اکادکا فائر ہونے لگے۔
پریٹی مجھے اندھیرے میں رِنگ سے باہر لائی ،یقینا وہ ہال کے چپے چپے سے واقف تھی تبھی اندھیرے میں بھی میری رہنمائی کررہی تھی۔
رِنگ سے نیچے اترنے والی سیڑھیوں کے ساتھ بیٹھ کر اس نے چھیڑ خانی کی اور مجھے رِنگ کے نیچے کھینچ لیا۔ وہاں گھپ اندھیرا تھا مگر وہ میری رہنمائی کرتی ہوئی ایک سوراخ کے پاس لائی جہاں تنگ سیڑھیاں نیچے جارہی تھیں۔
اس نے دبے لہجے میں ہدایت دی۔”نیچے اتر جاﺅ۔“
میں جلدی جلدی لوہے کی سیڑھیاں اترنے لگا۔ وہ راستہ بند کرنے رک گئی تھی۔ جونھی میرے پاﺅں زمین پر لگے ایک دم روشنی ہو گئی۔سفیددودھیا روشنی میں پتلی سی سرنگ نظر آئی۔ پر یٹی نیچے آکر میرے آگے ہو لی۔ سرنگ کی اونچائی بہ مشکل میرے قدکے برابر تھی، اس لیے مجھے سر جھکا کر چلنا پڑ رہا تھا۔ پریٹی نے حسب عادت پسندیدہ لباس زیب تن کیا ہوا تھا جس سے بدن کے دلکش نشیب و فراز چھپنے کے بجائے اجاگر ہوتے تھے۔ اس وقت وہ لہرا کر چل رہی تھی، جسم کا درمیانی حصہ پنڈولم (گھڑی کا لٹکن)کی طرح متحرک نظر آرہا تھا۔بس یہ فرق تھا کہ پنڈولم بالکل ہموارر ہوتا ہے اور اس کی حرکت بھی اتنی دلکش و اثر پذیر نہیں ہوتی ہے۔
میں نے اس نظارے سے آنکھیں چراتے ہوئے پوچھا۔”میری ساتھی کہاں ہے۔“
اس نے مجھے تسلی دی۔”فکر نہ کرووہ پاپا کے ساتھ آجائیں گی۔“
ہم ایک موڑ کے قریب پہنچے۔ وہاں سے سرنگ چوڑی ہو گئی تھی۔ میں قدم بڑھا اس متوازی ہو گیا۔ فرلانگ بھر چلنے کے بعد سیڑھیاں نظر آئیں۔ سیڑھیاں چڑھ کر ہم اوپر پہنچے۔ ایک چھوٹا سا کمرہ تھا جس میں لکڑی کی میز اور چند کرسیاں پڑیں تھیں۔ کمرے سے نکل کر میں نے خود کو ایک کوٹھی میں پایا۔ وہ سا کمرہ ملازمین کے کوارٹر میں بنا تھا۔ چھوٹا ساسبزہ زار عبور کر کے ہم اندر داخل ہوئے۔ ڈرائینگ روم میں ا دھیڑ عمر کے مرد اور عورت نظر آئے جومیاں بیوی لگ رہے تھے۔ہمیں دیکھتے ہی وہ ہڑبڑا کر کھڑے ہوگئے۔ دونوں نے ہاتھ باندھ کر بیک زبان ”نمستے بی بی جی!“ کہا۔
”مہیش !کار نکالو ۔“
مہیش مودبانہ انداز میں سرہلاتا ہواباہر نکل گیا۔ جبکہ اس کی بیوی ہم سے چائے پانی کا پوچھنے لگی۔
پریٹی نے انکار میں سرہلایا۔”جلدی میں ہیں۔“اور میری طرف متوجہ ہوئی۔ ”چلو جان!“
میں خاموشی سے اس کے پیچھے چل پڑا۔
مہیش گاڑی کے عقبی دروازے کھولے گیٹ کے سامنے ہمارا منتظر تھا۔ہمارے بیٹھے ہی اس نے پریٹی کے لیے دروازہ ادب سے بند کیا اور ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھ گیا۔ چوکیدار نے گیٹ کھول رکھا تھا۔ آدھے گھنٹے کے بعد ہم سیٹھ رابندر ناتھ کی کوٹھی میں تھے۔
”آپ کمرے میں جائیں میں آتی ہوں۔“ میں اثبات میں سر ہلاتا ہوا انیکسی کی جانب بڑھ گیا۔میں سیدھا غسل خانے میں گھسا اور فوارے کے نیچے کھڑا ہو گیا۔نیم گرم پانی کے جسم پر پڑتے ہی خراشوں اور زخموں میں آگ بھڑک اٹھی تھی۔ اچھی طرح نہاکر میں نے شب باشی کا پاجامہ پہنا اور بالائی لباس رہنے دیا کہ میرا ارادہ خراشوں اور زخموں پرمرہم لگانے کا تھا۔
باہرآتے ہی میری نگاہ پریٹی پر پڑی جو مختصر لباس میں بیڈ پر براجمان تھی۔بازاری عورتوں کے انداز میں جسم کے پوشیدہ اعضاءکو اجاگر کرتے ہوئے وہ مجھے متاثر کرنے کی کوشش میں تھی۔ایسی لڑکیوں کو بس اپنے حسن اور جسمانی خدوخال کی نمائش کا شوق ہوتاہے۔
”مس پریٹی! کوئی مرہم وغیرہ مل جائے گا۔“
وہ ابتدائی طبی امداد کے بکس (فرسٹ ایڈ بکس)کی طرف متوجہ کرتے ہوئے نخرے سے بولی۔ ”مرہم پٹی کرنے ہی آئی ہوں۔“
”شکریہ مس پریٹی!“ میں بکس کی طرف بڑھا۔
اس نے مجھے روکا۔ ” یہ کام مجھے کرنے دو۔“
میں نے اہلکا سا احتجاج کیا۔”شاید اس کی ضرورت نہیں ہے۔“
اس نے میرابازوپکڑ کر کھینچا۔”آرام سے بیٹھو۔“
مجھے خاموش ہونا پڑا کہ وہ بھی رابندر ناتھ کی لاڈلی تھی۔اور میں گستاخی کا مرتکب ہو کر بنا ہوا کام بگاڑنا نہیں چاہتا تھا۔
وہ زخموں پر دوائی لگاتے ہوئے بولی” آپ تو بہت خطرناک لڑا کے ہیں،بھیا جیسے جنگجوکوبے بس کر دیا۔“
” داﺅچلنے کی بات ہے۔ ہو سکتا ہے اس کاداﺅ چل جاتا اور میں بے ہوش پڑا ہوتا۔“
”بڑا پن ہے کہ آپ یوں سمجھتے ہیں۔“
میں نے موضوع تبدیل کیا۔”سیٹھ صاحب کب تک پہنچیں گے۔“
وہ متبسم ہوئی ۔” صاف پوچھو، شیتل کب آئے گی۔“
”یہی سمجھ لو۔“
وہ طیش میں آئی۔”میںکسی سے کم ہوں ۔“
میں نے حیرانی ظاہر کی۔ ”میں نے فقط اپنی دوست کے متعلق استفسار کیا ہے ۔“
وہ معنی خیز لہجے میں بولی۔ ”بے وقوف ہیں آپ،جوسامنے بریانی رکھ کر دال کے منتظر ہیں۔“
یہ غلط فہمی ہر خوب صورت لڑکی کو ہوتی ہے کہ وہ حسینہ عالم ہے۔ بلا شبہ وہ خوب صورت تھی، مگر شیتل کے ہوتے شاید ہی کوئی اسے دیکھنا گوارہ کرتا۔شیتل کا چہرہ نہ صرف خوب صورت و دلکش تھا بلکہ وہ بہت زیادہ نمکین و موہنی تھی۔اس کا دیدار کرتے آنکھیں سیر ہی نہیں ہوتی تھیں۔سرخ و سفید چہرہ صبح دم شبنم سے دھلے گلاب کے پھول کی طرح جاذب نظر تھا۔ہنستی تو سفید موتیوں کے سے دانت لشکارنے مارنے لگتے۔گالوں کے گڑھوں میں غرق ہونے سے کوئی سادھو سنت یا ولی اللہ ہی بچ سکتا تھا۔زلفیں ایسی کہ اسیر پھڑپھڑابھی نہ سکے،سیاہ آنکھیں تو یوں مسحور کرتیںکہ دیکھنے والے ہوش و خرد کھوبیٹھیں،سعدیہ کے بعد کسی لڑکی نے مجھے متاثر کیا تھا اور میرے دل میں اس کے ساتھ کی تمنا جاگی تھی تو وہ شیتل تھی۔
پریٹی کا بازاری انداز ظاہر کررہا تھا کہ شرم و حیا اسے چھو کر بھی نہیں گزری تھی۔اور شیتل آزاد خیال ہونے کے باوجود اپنی عزت و عصمت پر آنچ نہیں آنے دے سکتی تھی۔ مجھے بے انتہا چاہنے کے باوجود اس کی پیش قدمی بوس و کنار سے نہیں بڑھی تھی۔وہ میری شریک حیات بننے کی خواہاں تھی داشتہ نہیں۔گوہر عصمت کو سنبھالنا اسے آتا تھا۔نہ وہ سستی تھی اورنہ آبرو باختہ یا سہل الحصول۔ رات بھر ایک بیڈ پر لیٹتے ہوئے بھی اس نے جذبات کو قابو میں رکھا تھا۔مرد عورت کی پیش قدمی پر زیادہ دیر ثابت قدم نہیں رہ سکتا۔شرلا جیسی جسم فروش نے بستر میں گھس کر میرے جذبات کو اتنا بھڑکا دیا تھا کہ مجھے خود پر قابو پانا دشوار ہو گیا تھا۔اگر شرلا مزید ذرا بھی آگے بڑھتی تو میں بچ نہ سکتا،لیکن میرے ظاہری غصے سے ڈر کر وہ بھاگ گئی تھی،جبکہ شیتل کے ساتھ ایسا کوئی خوف نہیں تھا۔وہ میرے ساتھ مسلسل تنہا رہتی آرہی تھی،میری محبت کا دم بھرتی تھی،چاہت کی دعوے دار تھی،مجھ سے لپٹنے و چومنے میں بے باک تھی،لیکن اس سے حد سے آگے نہ وہ خود جانے پر تیار تھی اور مجھے اجازت دے سکتی تھی۔البتہ شادی کرنے کو ہر لمحے راضی تھی۔
میں پریٹی کے ساتھ یہ تکرار نہیں کر سکتا تھا۔ وہ سیٹھ رابندر ناتھ کی لے پالک بیٹی تھی، اس کے ساتھ دشمنی پالنا ”آبیل مجھے مار۔“ والی بات ہو تی۔میں اس کی دعوت پر کوئی تبصرہ نہ کرسکا ۔وہ میرے زخموں و خراشوں پر مرہم لگاتی رہی۔میں اس سے جانچھڑانے کی ترکیب سوچ رہا تھا۔یوں کہ اسے برا بھی نہ لگے اور وہ دفع بھی ہو جائے۔
میں اسی ادھیڑ بن میں تھا کہ اچانک گیٹ پر ہارن کی آواز آئی۔
” شاید پاپا واپس آگے ہیں۔ مگر اتنی جلدی۔“ اس کے لہجے میں حیرانی تھی۔میں نے دل ہی دل میں اس سے جان چھوٹنے پر رب تعالیٰ کا شکر ادا کیاتھا۔
”وہاں ان کا کیا کام؟“ میں پوچھے بغیر نہ رہ سکا۔
” بھیا کو ہسپتال پہنچانا ، سٹیڈیم کی افراتفری کا سد باب کرنا۔ پولیس اور را وغیرہ کے سامنے اپنا دامن صاف رکھنا تاکہ وہ آپ کے فرار میں پاپاکا ہاتھ نہ سمجھیں۔“ یہ الفاظ اس کے ہونٹوں پر تھے کہ دروازے کو دھکیلتے ہوئے شیتل بے تابی سے اندر آئی، مگر پریٹی کو دیکھتے ہی ٹھٹک گئی تھی۔
” چلتی ہوں مسٹر جان!“ پریٹی نے بکس کو وہیں چھوڑا اور ہاتھ ہلاتے ہوئے کمرے سے نکل گئی۔ اس نے سرسری نظر بھی شیتل پر ڈالنے کی ضرورت محسوس نہیں کی تھی۔ جو اسے کڑی نظروں سے گھوررہی تھی۔
”یہ ڈائن یہاں کیوں آئی تھی؟“ اس کے نکلتے ہی شیتل نے پھاڑ کھانے والے لہجے میں پوچھا۔
میرے جواب دینے سے پہلے وہ مزید برہم ہوئی ۔ ”اورآپ کس حالت میں بیٹھے ہیں۔“
میں مسمسے لہجے میں بولا۔” میں زخموں پر مرہم لگوارہا تھا جو قمیص پہن کر لگانا ممکن نہیں تھا۔“
وہ شاکی ہوئی۔”تھوڑی دیر صبر نہیں ہو سکتا تھا، میں خود مرہم پٹی کر دیتی۔“
”تم کوئی ڈاکٹر ہو۔“
اس نے منہ بنایا۔”نہیں ڈاکٹر توآپ ہیں،میں تو مریض ہوں۔“
بے ساختہ میرا قہقہ بلند ہوا۔
وہ چاہت سے میرے جسم پر ہاتھ پھیرنے لگی۔”زخموں میں تکلیف تو ہو گی،ظالم نے مارا بھی تو بے دردی سے ہے۔“ اس کے ہاتھوں کے لمس اور پریٹی کے ہاتھوں کے لمس میں زمین آسمان کا فرق تھا۔ شیتل کے ہاتھوں میں جیسے درد کش مرہم لگا ہوا تھا کہ میرے زخموں کی تکلیف رخصت ہونے لگی۔
”یہی تھوڑی دیر پہلے اس کی بہن کہہ رہی تھی کہ میں نے اس کے بھائی کو بے دردی سے پیٹا ہے۔“
میرے کندھے پر سر ٹیکتے ہوئے وہ برہم ہوئی۔”وہ تھا ہی اس قابل ،آپ کواسے جان سے مار دینا چاہئے تھا۔“
دستک دے کر ایک ملازم اندر آیا۔”آپ کو سیٹھ صاحب یاد کر رہے ہیں۔“
” آرہا ہوں۔“ وہ سر ہلاتا ہوا نکل گیا۔ میں نے شب باشی لباس کی ہلکی پھلکی قمیص پہنی اور جانے کو تیار ہو گیا۔
شیتل نے ناک بھوں چڑھائی۔”ایسے جائیںگے۔“
میں بے بسی سے بولا۔” میرا سوٹ تو وہیں رہ گیا ہے۔“
وہ میرے ہمراہ ہو لی۔تھوڑی دیر بعد ہم سیٹھ رابندر ناتھ کے سامنے تھے۔ وہ کمرے میں اکیلا تھا ۔ اس کی دم چھلاپریٹی بھی موجود نہیں تھی۔
اس نے لب کھولے۔” شیش ناگ کو زندہ چھوڑ نے پر تمھارا شکرگزار ہوں۔ بلاشبہ مجھے اس کی بہت زیادہ ضرورت ہے وہمیرے لیے بیٹے جیسا ہے۔ دوسرا وعدے کے مطابق تمھیں بہ خیریت پاکستان بھجوانے کاپابند ہوں۔ہوائی، بحری یا زمینی جس طرح سفر کرنا چاہو انتظام ہو جائے گا۔“ اس نے ایک بیگ میری طرف بڑھایا۔ ”کچھ رقم تومقابلہ جیتنےپرسٹیڈیم انتظامیہ نے دیہے، باقی میری طرف سے تحفہ سمجھو۔ تمھاری سہولت کی خاطر ڈالردے رہا ہوں۔“اور میں نے بغیر ردو قدح کے رقم قبول کرلی۔
اس نے پوچھا۔”بتاﺅ کس راستے سے سفر کرنا پسند کرو گے؟“
پاکستان جلدی پہنچنے کے خیال سے میں نے بغیر سوچے کہا۔”ہوائی راستے سے۔“
اس نے انٹر کام اٹھا کر فوٹو گرافر کو بلانے کے متعلق احکامات صادر کرنے لگا۔
”اپنی دوست کو یہیں چھوڑ جاﺅ گے۔“رسیور رکھ کر اس نے شیتل کی طرف اشارہ کیا۔
میں نے اثبات میں سرہلادیا۔
”اگر اسے پسند ہو تو میں بہت اچھی نوکری دے سکتا ہوں ۔“اس نے اشتیاق ظاہر کیا۔
میں ہنسا۔”یہ خود دو فیکٹریوں کی مالک ہے۔“
”کیا؟“ اس کے لہجے میں حیرت تھی۔
میں نے بتایا۔ ”یہ سیٹھ ہری چرن داس کی بیٹی ہے۔“
” دہلی والے ہری چرن داس۔“
”بالکل۔“ میں نے اثبات میں سر ہلادیا۔
رابندر ناتھ ہلکی سی خفت سے بولا۔ ”سوری بے بی۔“
”اٹس اوکے انکل۔“ شیتل نے برا نہیں منایا تھا۔البتہ میرے جانے کا سن کر اس کا موڈ خراب ہونا شروع ہو گیا تھا۔اداسی،پریشانی،حزن و ملال دلکش چہرے کا حصہ بن گئے تھے۔رابندر ناتھ نہ ہوتا تو شاید وہ رو دیتی۔
تھوڑی دیر بعد سیٹھ کا ملازم دو افراد کے ہمراہ ڈرائینگ روم میں داخل ہوا۔ ایک نوجوان اور دوسرا ڈھلتی عمر کا کمزور سا آدمی تھا۔نوجوان کے گلے میں کیمرالٹک رہا تھا۔
دونوں نے جھک کر سیٹھ رابندر ناتھ کونمستکار کیا۔ اور پھر اس کے حکم پر ادھیڑ عمر آدمی اپنا بکس کھول کر میری طرف متوجہ ہو گیا۔ اس نے مخصوص محلول میرے بالوں پر لگایا۔ آنکھوں میں ڈراپر سے دوائی کے چند قطرے ٹپکائے جس سے ہلکی سی سوزش ہونے لگی تھی۔پھر وہ بیگ سے مختلف چیزیں نکال کر میرے چہرے کی مرمت میں مصروف ہو گیا۔ کام ختم کر کے جب اس نے آئینہ میرے سامنے کیا تو میں سچ میں اچھل پڑا۔ آئینے میں گھنی مونچھوں والا گہرے سانولے رنگ کا بندہ نظر آرہا تھا۔سیاہ آنکھوں گہری نیلی لگ رہی تھیں۔بھوے بال سیاہ ہو گئے تھے۔گندمی رنگت گہری سانولی ہو گئی تھی،ستواں ناک پھول گئی تھی۔
میں نے پوچھا۔” یہ کب تک برقرار رہ ے گا؟“
”مونچھیں تو آپ خود بھی تھوڑی سی کوشش کر کے اتار اور لگا سکتے ہیں ۔ چہرے اور بالوں کی رنگت اسپرٹ سے دھو نے پر اترے گی۔“ اس نے ایک چھوٹی سی شیشی میرے طرف بڑھائی۔”یہ محلول ہاتھوں پر لگا کر آپ ہاتھوں کے رنگ کو چہرے جیسا کر سکتے ہیں۔“
سیٹھ کے حکم پرملازم شیش ناگ کا ایک سوٹ اٹھا لایا۔ ہماری جسامت ایک جیسی تھی۔ غسل خانے میں گھس کر میں نے سوٹ پہنا اور باہر آگیا۔ فوٹو گرافرنے چند تصاویر لیں۔اورساتھی کےہمراہ رخصت ہو گیا۔
”پاسپورٹ وغیرہ کب تک بن جائے گا۔“ ان کے جاتے ہی میں نے سیٹھ سے پوچھا۔
”پاسپورٹ اور شناختی کارڈ صبح تک تیار ہو جائیں گے۔ دوپہر 12بجے تک تیار ہوجانا۔ ایک بجے کی پرواز سے تمھیں عمان جانا ہے۔ وہاں سے پاکستان کے لیے آسانی سےپرواز مل جائے گی۔کوئی پریشانی ہوتو میرے کارندے سے بات کرنا ہر الجھن ،سلجھا دے گا۔“ اس نے اپنے آدمی کا تعارفی کارڈ مجھے پکڑا دیا۔
”شکریہ سیٹھ صاحب! ہمیں اجازت دیں ان شاءاﷲ گیارہ بجے آپ کے حضور پہنچ جاﺅں گا۔“
” گڈ بائی۔“ مجھ سے بغلگیر ہوکراس نے شیتل کے سر پر ہاتھ رکھا۔
شیتل کی کار گیراج میں کھڑی تھی۔ پونے گھنٹے کی ڈرائیونگ کے بعد ہم شیتل کی کوٹھی میں پہنچ گئے۔ شیتل کا بوڑھا ملازم پہلی گھنٹی پر دوڑا چلا آیاتھا۔
وہ میری زندگی کی عجیب رات تھی۔ پاکستان واپسی کی خوشی کے ساتھ شیتل سے بچھڑنے کا دکھ بھی تھا۔ وہ رابندر ناتھ کی کوٹھی ہی میں میرے جانے کا سن کر گم صم ہو گئی تھی۔ اور اب تک چپ تھی۔
”کیا ہو گیا ہے تمھیں۔“ ہر بات کے جواب میں اس کی گفتگو ”ہاں، ہوں“ سے آگے نہ بڑھی تو میں نے زچ ہو کرپوچھا۔شروع دن سے اپنی مجبور یوں کا بتلا چکا ہوں پھر موڈ بنانے کا فائدہ۔“
”میرے موڈ بنانے سے آپ کو کیا فرق پڑے گا۔“
میں دکھی ہوا۔”کیا جدائی کا دکھ تم نے اکیلے جھیلنا ہے۔“
اس نے جھکا ہوا سر اٹھایا۔ جھیل جیسی آنکھوں میں ویرانی ہی ویرانی بھری تھی۔
”سنو.... تم عزم والے ہو۔
بلا کا ضبط رکھتے ہو۔
تمھیں کچھ بھی نہیں ہو گا۔
مگر.... سوچو،
جسے تم چھوڑے جاتے ہو۔
اُسے تو ٹھیک سے شاید۔
بچھڑنا بھی نہیں آتا۔
آخری الفاظ کہتے ہوئے وہ آبدیدہ ہوئی اور رو پڑی۔میں اسے لپٹاکرتسلی دینے لگا۔
”شیتل !وعدہ کرتا ہوںجونھی گھر کے حالات سدھرے ،دشمنی کی آگ ٹھنڈی پڑی میں تمھارے پاس آجاﺅں گا یا تمھیں اپنے پاس بلالوں گا۔میں سعدیہ کے پاﺅں پکڑ کر اسے راضی کروں گا کہ تمھیں سوکن قبول کر لے۔سارے کنبے والوں کو منالوں گا ۔پہلے سچ میں جان چھڑانا چاہتا تھالیکن اب نہیں۔یہ تو نہیں کہتا تم سعدیہ سے زیادہ مجھے پیاری ہوالبتہ یہ قسم کھا سکتا ہوں کہ اس سے کم بھی نہیں ہو۔“کشادہ جبیں کو داغ کر میں نمکین پانی کو ہونٹوں سے خشک کرنے لگا۔
”ضروری تو نہیں گھر حالات اتنے ہی خراب ہوں جتنے آپ تصور کیے بیٹھے ہو۔“
دل کی گہرائیوں سے دعا نکلی۔”اﷲ کرے یونھی ہو۔اور اگر ایسا ہوا تو جاتے ہی فون کر وں گا۔ تمھارے گھراور سہیلی کے گھر کا فون نمبر مجھے ازبر ہے۔ میرے گھر البتہ فون موجود نہیں ہے اور گھرکا پتا تمھارے حوالے کر چکا ہوں۔“
”مم.... میں ساری زندگی آپ کی کال کا انتظار کروں گی۔“
”اگر کال کرنے کو زندہ رہا توانتظار طول نہیں کھینچے گا۔“
میرے ہونٹوں پر ہاتھ رکھ کرسسکی۔ ” پہلے تھوڑی پریشان ہوں جو مزید اذیت دے رہے ہیں۔“
بقیہ رات ہم نے جاگ کرگزاری۔ صبح بھی شیتل نے مجھے آرام کونہ چھوڑا۔میری گود میں سر رکھ کروہ دل کے پھپھولے پھوڑتی رہی۔زیادہ دکھی ہوتی تو اٹھ کر لپٹ جاتی۔میرا چہرہ ہاتھوں کے پیالے میں لے کر دکھی نظروں سے گھورنے لگتی۔اور پھر گود میں سرچھپا کر کمر سے بازو لپیٹ لیتی۔یہاں تک کہ جانے کی گھڑیاں نزدیک آپہنچیں۔رابندر چچا ہوٹل سے تگڑا سا ناشتا لے آیا تھا۔طلب نہ ہونے کے باوجو مجھے شیتل کے ہاتھوں سے تھوڑا بہت زہر مار کرنا پڑا۔اس نے فقط چند گھونٹ چائے پی تھی۔
گیارہ بجے ہم سیٹھ رابندر ناتھ کی کوٹھی کی طرف بڑھ گئے۔وہپُر تپاک انداز میں ہم ملا۔
” چائے یا کافی۔“
میں نے نفی میں سرہلایا۔”شکریہ سر،ہم ناشتا کرکے آئے ہیں۔“
”پھر گڈ بائی، ایر پورٹ چھوڑنے جو گندر جائے گا۔“ اس نے پختہ عمر کے آدمی کی طرف اشارہ کیا۔ ”تمھارے کاغذات بھی ہیں اسی کے پاس ہیں۔“
میں نے الوداعی معانقہ کرکے کہا۔” دھنے واد سیٹھ صاحب!آپ کا احسان زندگی بھر یاد رہے گا۔“
جو گندر کے پاس اپنی گاڑی تھی ہم وہاں شیتل کی کار میں روانہ ہوئے۔
ساڑھے بارہ بجے ہم ممبئی چتر پتی شیوا جی انٹرنیشنل ایر پورٹ میں داخل ہوئے۔ ٹھیک ایک بجے میرا جہازنے اڑان بھری۔الوداع ہوتے وقت وہ مجھے چھوٹی بچی کی طرح لپٹ کر سسک پڑی تھی۔
”جان!بھول نہ جانا،ہر گھڑی،ہر پل،ہر لحظہ،ہرلمحہ آپ کی کال کا انتظار رہے گا۔آپ جانتے ہیںنامیں آپ کو چاہتی ہوں۔“
”اور کیا تم نہیں جانتیں میں بھی تمھیں چاہتاہوں۔“
”جھوٹ بول رہے ہیں،مجھے بہلا رہے ہیں آپ۔“میری چھاتی میں مکہ رسید کرتے ہوئے وہ روہانسی ہوئی۔
میری زندگی کے مالک کی قسم یہ سچ ہے۔“اس کے ماتھے اور آنکھوں پر مہر محبت ثبت کر کے میں نے نرمی سے علیحدہ کیا کہ جدائی کا وقت آپہنچا تھا۔وصل کی عیاشی،دنوں سے گھڑیوں میں ڈھلی اور اب لحظوں تک آپہنچی تھی۔
وہ آنکھوں پر الٹا ہاتھ پھیر کر پیچھے ہٹی۔یاقوتی ہونٹوں پر ملال بھرا تبسم ابھرااور وہ الوداعی ہاتھ لہرانے لگی۔ جب تک اسے نظر آتا رہا وہ ہاتھ ہلاتی رہی۔ میرے دل میں بھی اداسی بھر گئی تھی۔بلاشبہ وہ عجیب و غریب لڑکی ثابت ہوئی تھی۔ جہاز کی سیٹ سے پشت ٹیک کر اس کے ساتھ گزرے دنوں کی یادوں میں کھو گیا۔ نامعلوم زندگی دوبارہ ملاقات کا موقع دیتی بھی تھی یا نہیں۔ البتہ اس نے ہمیشہ میری یادوں میں زندہ رہنا تھا۔ اسے بھلانا اتنا آسان نہیں تھا۔گلاب کا پھول جیسے خوشبو سے بھرا ہوتا ہے یونھی وہ محبت و خلوص سے لبریز تھی۔
عمان اترکر ایر پورٹ عملے کو کاغذات چیک کرانے تک میرے دل میں خوف جاگزیں رہا کہ کہیں وہ میرے نقلی کاغذات پہچان نہ لیں۔ لیکن اﷲ کے فضل سے عملے نے میرے کاغذات او کے کر دیئے۔ سیٹھ رابندر ناتھ نے لاجواب کاغذات تیار کرائے تھے ۔اور ان میں کوئی سقم نہیں چھوڑا تھا جس کی وجہ سے میں مشکل میں پھنستا۔
اگلے دن مجھے پاکستان کی پرواز مل گئی اور میں بہت ساری حسرتیں ، آرزوئیں اور اندیشے دل میں بسائے پاکستان روانہ ہو گیا۔
l l l
جناح انٹرنشنل ایرپورٹ پراترتے ہی میری آنکھوں میں خوشی سے آنسو آگئے تھے۔انڈیا میںبہت سخت ،کٹھن و دشوار وقت گزرا تھا۔گو ٹھاکر،اکبر خان اور جوہی جیسے اچھے کردار بھی ملے تھے مگرعمومی تجربہ اچھا نہیں رہا تھا۔کچھ کمایا تھا تو وہ شیتل کی محبت ،خلوص اور چاہت تھی۔اگر وہ نہ ملتی تو انڈیا میں بیتے لمحات کا تقابل میدان حشر کی سختی سے کرنے سے بھی نہ چوکتا۔مگر شبنم میں دھلے گلاب جیسی وفا کی دیوی نے کٹھن لمحات کو بھی خوشگوار اور یاد کرنے کے قابل بنا دیا تھا۔
ائیرپورٹ سے نکلتے ہوئے مجھے کسی مسئلے کا سامنا نہیں کرنا پڑاتھا۔
ایک دکان سے سپرٹ خرید کر میں حمام میں جا گھسا تاکہ حلیہ تبدیل کر سکوں۔رش کی وجہ سے کوئی بھی میرے بدلے ہوئے حلیے پر مطلع نہیں ہو سکا تھا۔اصل شکل میں آکرمیں ایک شاپنگ پلازہ میں کپڑوں کی خریداری کے لیے گھس گیا، کیوں کہ میرا تعلق جس علاقے سے ہے وہاں سوٹ پہننا نہ صرف معیوب سمجھا جاتاہے بلکہ ا یسا لباس پہننے والا تماشا بن جاتاہے۔ چند سال پہلے تک تو ہمارے علاقے میں ننگے سر پھرنا بھی جرم گردانا جاتا تھا۔البتہ آج کل اِکادُکا نوجوان بغیر پگڑی اور ٹوپی کے نظر آجاتے ہیں۔ مگر انھیں بھی بوڑھے نہایت حقارت و نفرت کی نگاہ سے دیکھتے ہیںاور لگے ہاتھوں نصیحتیں کرنے سے نہیں چوکتے۔
اپنے لیے دوجوڑے لے کرمیں نے سعدیہ اورعدنان کے لیے بھی کئی سوٹ لے لیے۔شاپنگ پلازہ کے اندر ہی کپڑے تبدیل کرکے میں باہر نکلا اور ٹیکسی پکڑ کر بس اڈے کی طرف روانہ ہو گیا۔ کراچی شہر میرے لیے بالکل انجان تھا، لیکن اس اجنبیت میں بھی اپنا پن تھا۔ تحفظ کا احساس اور پاکستان کا شہری ہونے کے فخر کی وجہ سے میرا ذہن ڈر و خوف سے آزاد تھا۔
ٹیکسی ڈرائیور غلام حسین کا تعلق فیصل آباد سے تھا۔کافی باتونی اور ہنس مکھ شخص تھا۔ فیصل آبادی لہجے کی پنجابی سے میں محظوظ ہوئے بنا نہ رہ سکا۔ یقینایہ چند ہفتے پردیس کی ٹھوکریں کھانے کا نتیجہ تھا کہ کراچی کی ہر چیز بھی لگ رہی تھی۔بلاشبہ پاکستان ہمارا گھر ہے اور اس کی اہمیت تب معلوم ہوتی ہے جب پردیس کاٹنا پڑے۔
بس اڈے جاکر میں نے ٹکٹ خریدا۔بس نے ڈیرہ اسماعیل خان سے گزر کر پشاور جانا تھا۔ روانگی کا وقت رات دس بجے کا تھاتب تک میں نے اڈے کے اندر گھوم پھرکر گزارا۔
ایک بارتو جی میں آیا کہ اپنے دوست امجد کے گھر سے ہو آﺅں۔ کراچی آ کر بھی اس کے والدین سے نہ ملنا زیادتی تھی۔گھر کا پتا مجھے زبانی یاد تھا۔ اس کے گھروالوں سے ملاقات نہ ہونے کے باوجود ہم ایک دوسرے سے خوب واقف تھے۔ لیکن گھر کی غیر یقینی صورتِ حال کے باعث میں نہ جاسکا۔یقینا وہ لوگ مجھے روکنے پر کمربستہ ہوجاتے اور یہ میرے بس سے باہر تھا۔
بس کی سیٹیں کافی آرام دہ تھیں لیکن میں سونے میں کامیاب نہ ہو سکا۔ اندیشے پاکستان پہنچ کر کم ہونے کی بجائے بڑھ گئے تھے۔ خود کو لاکھ تسلیاں دیتا لیکن چچا فاضل کاخط میری آنکھوں کے سامنے سوالیہ نشان بن کر آن کھڑا ہوتا اور اس سے آگے ہلاکت اور تباہی کے علاوہ کچھ نظر نہیں آرہا تھا۔
چودھری انور خالص گنڈہ پور نہیں تھا۔ لیکن گنڈہ پورمعاشرے ہی میں اس کی پیدائش ہوئی تھی اور گنڈہ پوروں کی تمام جاہلانہ رسومات اورخونخواری اس میں بدرجہ اتم موجود تھی۔جبکہ گنڈہ پوروں کی اچھی قدریں چودھری خاندان کو ہضم نہیں ہو سکی تھیں۔ وہ کمینہ دشمن تھا۔ سیانوں کے مطابق ایسے شخص کی نہ دوستی اچھی ہوتی ہے نہ دشمنی۔ جبکہ ہم دانستہ یا نا دانستہ طور دشمنی کی ابتدا کر بیٹھے تھے۔
اس سے قطع نظر کہ میرا خاندان ہر لحاظ سے چودھری خاندان کے ہم پلہ تھا بلکہ عددی لحاظ سے تو ہمیں واضح برتری حاصل تھی ۔ اس کے دو بیٹوں کے مقابل ہم چار بھائی تھے۔ لیکن کمینے دشمن سے کوئی بعید نہیں ہوتاکب کون سی چال چل جائے۔ ایسے لوگوں نے گھسی پٹی کہاوت از بر کررکھی ہوتی ہے کہ ”جنگ اور محبت میں سب کچھ جائز ہے۔“ حالاں کہ یہ فقرہ کمزور کردار کے مالک کسی بزدل شخص کا گھڑا ہوا ہے۔ جو نہ جانے کیسے زبان زد عام ہو گیا ورنہ دشمنی اور محبت ہمیشہ اصول رکھتی ہے۔ خاص کر گنڈہ پور قوم تو ان اصولوں کو کسی خزانے کی طرح سنبھال سنبھال کر رکھتی ہے اور پُرکھوں کے وہ قصے جن میں اصول کی خاطر کسی نے اپنا نقصان کیا ہو بڑے فخر اور عقیدت سے سنائے جاتے ہیں۔
میرے گاﺅں کے ایک نامی گرامی بدمعاش نصراللہ کا مشہور واقعہ ہے کہ اس کا چھوٹا بھائی دشمن کی بیٹی کو گھر سے بھگالے گیا، لڑکی رضامند تھی تو بھاگی۔لیکن بھائی کی حرکت پر بجائے خوش ہونے کے کہ اس نے دشمن کی عزت کو خاک میں ملا دیا ۔ اس نے اپنی بہن کا ہاتھ پکڑا اور دشمن کے گھر پہنچ کر کہا کہ ”میرے بھائی سے غلطی ہوئی ہے اور ازالے میں اپنی بہن لایا ہوں تمھارے خاندان میں جس نے اس سے نکاح کرنا ہے کر لے۔“
لیکن چودھری ٹولے سے اچھائی کی امید رکھنا آگ سے ٹھنڈک مانگنے کے مترادف تھا۔ وہ صرف ڈنڈے کی زبان سمجھنے والا خاندان تھا۔ برتر کے لیے لومڑی کی طرح چالاک اور اونٹ کی طرح کینہ رکھنے والا جبکہ کمزور کے لیے شیر۔
مجھے یقین تھا آمنے سامنے کی لڑائی میں میرے بھائی چودھری خاندان کو کسی خاطر میں نہ لاتے۔ البتہ وہ دھوکے سے وار کر جاتے تو اور بات تھی۔ اس صورت میں بھی امید واثق تھی کہ اینٹ کا جواب انھیں پتھر ہی سے ملتا۔ لیکن یہ سب کچھ سوچنے کے بعد بھی دل کو قرار نہیں آرہا تھا اور چھٹی حس کسی نامعلوم حادثے کا اشارہ دے رہی تھی۔ یوں لگتا تھا جیسے کوئی ان ہونی ہو گئی ہو۔
بس فراٹے بھرتی منزل کی جانب رواں دواں تھی اور اس سے زیادہ تیزی سے میرے خیالات دوڑ رہے تھے۔ ہم رات کا کھانا کھا کر کراچی سے نکلے تھے۔ اس لیے رات کو بس بغیر رکے چلتی رہی۔
صبح ناشتے کو آدھا گھنٹارکے سردیوں کی طویل رات گزار کر سخت بھوک محسوس ہو رہی تھی۔ میں نے ڈٹ کر ناشتا کیا۔ گاڑی دوبارہ چل پڑی۔ مجھے اونگھ آنے لگی تھی۔سوتے ہی الٹے سیدھے خواب دیکھنے لگا۔
میری آنکھ شور سے کھلی۔ بس رکی ہوئی تھی اور لوگ باہر کا رخ کر رہے تھے۔ گھڑی دیکھی ،دن کے دس بج رہے تھے۔ بس کسی خرابی کی وجہ سے ویرانے میںکھڑی تھی۔ کنڈیکٹر لفٹ لے کر قریبی شہر تک پہنچا اور وہاں سے مستری کو مع سازو سامان کے لے آیا۔مستری کوچند گھنٹے لگے تھے۔ سورج غروب ہونے لگا تھا۔لوگ بھوک سے بے حال تھے۔ شام تک سردیوں کا دن بغیر کھائے پیئے گزارنا بڑا مشکل تھا۔
دوبارہ سفر شروع ہوا۔گھنٹا بھر بعد ایک ہوٹل پر پہنچے۔ غیر معروف سا ہوٹل تھا، بس رکتے ہی تمام بھیڑ بکریوں کی طرح ہوٹل کی طرف بھاگے۔ اتنے زیادہ گاہک دیکھ کر ایک لمحے کو تو ہوٹل کا مالک بوکھلا گیا تھا۔ دو کم عمر بیرے بھاگ بھاگ کر سواریوں کو کھانا پیش کرنے لگے۔ مینو میں صرف سبزی دال تھی لیکن اس بھوک میں وہ بھی چکن کڑاہی لگی۔ کھانے اور چائے میں ہمارا مزید گھنٹا ضائع ہوا لیکن اس کے بعد گاڑی صبح تک بغیر رکے چلتی رہی۔دن چڑھے ہم ڈیرہ اسماعیل خان پہنچ گئے تھے۔
پہلے میں نے بینک جا کرساری رقم اکاﺅنٹ میں جمع کرائی اور پھر گاﺅں جانے والی بس میں بیٹھ گیا۔ نظریں کسی شناسا چہرے کی تلاش میں سرگرداں تھیں۔ مگر ناکام رہا۔
پون گھنٹے کے مختصر سفر کے بعد میں پہلوان ہوٹل پر جا اترا۔ رحمن خیل چند کلو میٹر دور تھا۔ تانگے، رکشے کا انتظار کرنے کے بجائے میں پیدل چل پڑا۔بیگ کندھے سے لٹکائے میں جانے پہچانے راستوں پر گامزن ہوا۔ پہلوان ہوٹل پر رحمن خیل کے فارغ البال اور لوفر لفنگے بیٹھے ہر وقت موجود رہتے تھے ، مگر وہاں رک کر خیرخیریت پوچھنا مجھے وقت کا زیاںلگاتھا۔
آنکھوں کے سامنے تمام کے ہنستے مسکراتے چہرے گھوم رہے تھے ۔ پندرہ بیس منٹ بعد میںان کے بیچ میں ہوتا۔ دل میں رہ رہ کرآرہا تھاکہیں بھائیوں میں کوئی قتل نہ ہو گیا ہو ۔یا کسی کو مار کر کوئی حوالات میں بند نہ ہو۔ایسا ہونے پر امی نے تو رو رو کر خود کو ہلکان کر دینا تھا۔ ابو جان جتنے حوصلے والے تھے۔ امی جان اتنی ہی نرم دل اور چھوٹے حادثوں پر گھبرا جانے والی تھیں۔
جونھی اپنی گلی میں مڑا میری حالت عجیب ہو گئی تھی۔ یوں لگ رہا تھا جیسے صدیوں بعد لوٹ رہا ہوں۔ گھر کا دروازہ قریب سے دیکھنے کی عجیب لذت ہوتی ہے۔اور اس مزے کے حصول کو میں سرجھکائے تیزی سے آگے بڑھتا رہا۔ اور پھر قدم ٹھیک گھر کے بڑے دروازے کے سامنے رکے ۔داخلی دروازہ مضبوط لکڑی کا تھا۔ اس پر سفید پینٹ ہوا تھا۔ مجھے دروازے کی ایک ایک کیل یاد تھی۔بچپن میں دروازے پر لگی لکڑی کی پھٹیوں کو پکڑ کر میں دیوار پر چڑھ جاتا،کبھی دروازے کے درمیان میں لٹک جاتا اورمحمد جان بھائی مسلسل دروازے کوکھولتا اور بند کرتا۔پھر وہ لٹکتا اور میں دروازے کو دھکیلنے لگتا۔کبھی کبھار سعدیہ اور جمیلہ کو بھی یہ جھولا جھلایاجاتا۔چھٹی سے آنے پر دیر ہو جاتی تو گھر داخل ہونے کے لیے میں دروازہ کھٹکھٹانے کے بجائے پھٹیوں سے لٹک کر ڈیوڑھی کی چھت پر چڑھتا اور وہاں سے گھر کے صحن میں اتر جاتا۔
جھکی نظریں جونھی اٹھیں مجھے جھٹکا لگا تھا۔شاید میں غلط دروازے کے سامنے تھا مگردائیں بائیں دیکھنے پر بھی وہ گھر کا دروازہ ہی لگا۔ بلکہ اسے دروازے کا جلا ہوا ڈھانچہ کہوں تو زیادہ مناسبہو گا۔میں بھاگ کر اندر گھسا۔وہ گھر کے بجائے کھنڈر لگ رہاتھا۔ سفید دیواریں کالی سیاہ نظر آرہی تھیں۔ دروازے جل کر کوئلہ ہو گئے تھے۔چھتیں گر کر تباہ ہو چکی تھیں۔
میرے دل سے گھر والوں کی سلامتی کی دعائیں نکل رہی تھیں اور کان کسی اچھی خبر سننے کے متلاشی تھے۔
بیگ کو صحن میں پھینک کرمیں بے قراری سے ایک کمرے سے دوسرے کمرے میں گھومنے لگا۔ مگرچند آوارہ کتوں کے علاوہ کچھ نہ ملا۔
دشمنوں نے کمینگی اور رذالت کی انتہا کر دی تھی۔ دماغ تسلی کے بول سوچ رہا تھاجو میں نے امی جان اور سعدیہ کوکہنے تھے۔ اچھی طرح جانتا تھاسعدیہ گھر کی بربادی پر خوب روئی ہوگی۔اس کا ازالہ ایسے ہوسکتا تھا کہ میں گھر جلانے والوں کی اچھی خبر لینے کے ساتھ اسے دوبارہ پہلے جیسا گھر بنا کر دیتا۔
تمام کمروں اور بیٹھک کا جائزہ لے کر میں پڑوسیوںسے گھر والوں کے بارے معلوم کرنے باہر جانے لگا۔اچانک چند پولیس والے دندناتے ہوئے اندر آئے۔ انھوں نے رائفلیں یوں تانی ہوئی تھیں جیسے کسی خطرناک مجرم کو پکڑنے جارہے ہوں۔
ایک چلایا۔ ”خبردار.... ہاتھ اوپر۔“ بازو پر لگا رینک اسے حوالدار ظاہر کر رہا تھا۔
میں حیرانی سے بولا۔” محترم ،میں مجرم نہیں گھرکا مالک ہوں۔“
حوالدار برہم ہوا۔”مجرم کے مامے، ہاتھ اوپر کرو۔“
” آپ کا مطلوبہ مجرم بھاگ جائے گا اور آپ غیر متعلق شخص سے الجھے رہیں گے۔“
اس نے پوچھا۔”تمھارا نام عمرجان نہیں ہے۔“
” تو۔“ میں نے حیرانی سے پوچھا۔
وہ معنی خیز لہجے میں بولا۔” تھانے جا کر پتا چل جائے گا۔“
میں نے جان چھڑانا چاہی۔” میں گھروالوں سے مل کر تھانے پہنچ جاﺅں گا۔“
” چند دنوں انتظار کرو، پھانسی ہوتے ہی ان کے پاس پہنچ جاﺅ گے۔“
میں برہم ہو۔”اس بکواس کا مطلب؟“
حوالدار نے رایفل کاک کرتے ہوئے کہا۔ ”بک بک بند اور ہاتھ اوپر۔“
وہ انڈیا پولیس نہیں تھی کہ میں لڑجھگڑ کربھاگنے کی کوشش کرتا۔ مجبوراً ہاتھ بلند کرنے پڑے۔غلط فہمی میں وہ غلط بندے کی گرفتاری پر مصر تھے۔تھانے جا کر انھیں پتا چلنا تھا،لیکن میرا کافی وقت ضائع ہو جاتا۔جبکہ میں جلد از جلد گھروالوں کی خیریت جاننے کا خواہاں تھا۔البتہ حوالدار کا مجھے نام سے پکارنامیرے دل میں سخت کھٹک رہا تھا۔شاید مجرم میراہم نام تھا۔لیکن ایسا اتفاق ڈراموں ہی میں ہوا کرتا ہے۔
حوالدار نے ایک سپاہی کو اشارہ کیا ۔ اس نے میری تلاشی لی۔ وہ اناڑی پولیس والے کے بجائے مزدور لگا تھا۔
میں حوالدار کو مخاطب ہوا۔”کیا پوچھ سکتا ہوں، مجھے کس جرم میںگرفتار کیا جارہا ہے۔“
وہ طنزیہ لہجے میں بولا۔”اپنے جرائم تُو نے بتانے ہیں پتر!،پوچھنا تو ہم نے ہے۔“
جاری ہے
قسط نمبر16
ریاض عاقب کوہلر
وہ ہر بات کا الٹا مطلب لے رہا تھا،میں نے سرکھپانا مناسب نہ سمجھا اور چپ چاپ ان کے ساتھ چل پڑا۔ تین چار پولیس والے گلی میں کھڑے تھے۔
اسی گلی میں تھوڑا سا آگے ان کی جیپ کھڑی تھی۔ مجھے جیپ میں بٹھا کر وہ چل پڑے۔ اکا دکا شناسا چہرے نظر آئے،مگر ان سے کچھ پوچھنے کی حالت میں نہیں تھا۔البتہ یہ یقین ضرور تھا کہ وہ ابوجان اور چچا تک میری گرفتاری کی خبر پہنچانے میں دیر نہ کرتے۔
جیپ رحمن خیل سے نکل کرپہلوان ہوٹل کی طرف مڑی اور پختہ سڑک پر چڑھ کر تھانے کوبڑھ گئی۔ تھانہ وہاں سے دوکلومیٹردور تھا۔ تھانے کے احاطے میں جیپ روک کر وہ پھرتی سے نیچے کودے اور مجھے گھیر کر اندرونی عمارت کی طرف بڑھ گئے۔ یوں لگ رہا تھا۔ جیسے بہت خطرناک مجرم کو گرفتار کر کے لا رہے ہوں۔
تھانیدار کوسیلوٹ کرتے ہوئے حوالدار نے رپورٹ پیش کی۔ ”السلام علیکم سر! مجرم عمرجان حاضر ہے۔“
موٹی توندکے تھانیدار نے خشونت بھری نظریں اٹھا ئیں۔ ”بکرے کی ماں کب تک خیر منائے گی۔“
”تھانیدار صاحب !انھیںغلط فہمی ہوئی ہے۔“ میں نے صفائی دینا چاہی۔
”اسے حوالات میںبند کردو۔“ تھانیدار نے ان سنا کر دیا تھا۔
”یس سر۔“ حوالدار نے ایڑیاں بجا کر سیلوٹ کیا۔
”چل اوئے۔“ اب مخاطب میں تھا۔ یہ بے بسی کی انتہا تھی کہ گھر پہنچ کر بھی پیاروں سے مل نہیں پایا تھا۔ مجھے پولیس والوں پر سخت غصہ آرہا تھا مگر ہاتھا پائی کر کےخود کو مجرم نہیں بنا سکتا تھا۔ پتا تھا کہ تھوڑی دیر تک ابو جان یا چچا جان نے آ کر مجھے لے جانا تھا۔ہلکا سا خوف فوج سے بھگوڑا ہونے کے متعلق ضرورتھا کہ اسنبیاد پر پولیس مجھے حوالات میں بندرکھ سکتی تھی۔فوجی بھگوڑوں کے بارے متعلقہ تھانوں کو بھی خبردار کیا جاتا ہے۔اور بدقسمتی سے میں متعلقہ تھانے ہی میں تھا۔
حوالدارمجھے حوالات میں بند کر کے چلاگیا۔ میں پریشان ہو کر چکر کاٹنے لگا۔ بے چینی سے ابو جان یا چچا جان کی آمد کا انتظار تھا ،مگر کافی دیرگزرنے پر بھی کوئی نہ آیا۔ان کا دیر کرنا میری سمجھ سے باہر تھا۔
گلاکھنکارنے کی آواز پر میں متوجہ ہوااور حیرت و خوشی سے اچھل پڑا۔ میرا ہم جماعتنذرگل دروازے پر کھڑاتھا۔میں تیر کی طرح اس کی طرف لپکا۔
”شکر دے چہ تہ راغلے“(شکر ہے تم آگئے ہو) کافی عرصہ بعد پشتو بولی تھی ۔ پشتو اور سرائیکی گنڈہ پوروں کی مادری زبانیں ہیں۔اور ایک دوسرے کے متضاد ہونے کے باوجود گنڈہ پور دونوں زبانیں یکساں مہارت سے بولتے ہیں۔
میری گرمی جوشی کو نذر گل خاطر میں نہیں لایا تھا وہ دکھی اور پریشانی بھری نظروں سے مجھے گھورتا رہا۔
میں نے حیرانی سے پوچھا۔” سہ چل دے،چہ تہ دا سے گورے“ (ایسے کیوں گھور رہے ہو)
اس نے افسوس ظاہر کیا۔”یوں دن دیہاڑے رحمن خیل میں گھومناحماقت نہیںتو کیا ہے۔“
میں نے حیرانی سے پوچھا۔ ” چودھریوں کے ڈر سے گاﺅں یا گھر والوں کو تو نہیں چھوڑ سکتا۔“
وہ دکھی دل سے بولا۔ ” چچا فاضل کے علاوہ کوئی زندہ نہیں بچا اور بھی معذور ہو کر ہسپتال میں پڑا ہے۔“
”کیا بکو اس کر رہے ہو،اس گھٹیا مذاق سے تمھارا مر جانابہتر تھا۔“ میں سلاخوں کو جھنجھوڑتے ہوئے چیخا۔ سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ نذر گل اتنا گھٹیا مذاق کرے گا۔
وہ گلوگیر ہوا۔ ” کاش یہ مذاق ہوتا۔اگر چھپایا جا سکتا تو کبھی نہ بتاتا کہ تمھارے گھر میں سوائے چچا فاضل کے کوئی باقی نہیں رہا۔اور چودھری اکبر نے تمھارے خلاف اتنے کیس درج کرائے ہیں کہ تم پولیس کے مطلوبہ افراد میں سر فہرست تھے۔“
نذر گل کے الفاظ نہیں پگھلا ہوا سیسہ تھے جوسماعتوں کے رستے بدن میں گھس کر مجھے بے جان کر گئے تھے۔ مجھے چکر آیا اور میں سلاخوں کا سہارا لے کر نیچے بیٹھ گیا۔موت اٹل حقیقت ہے۔ لیکن یوں چشم زدن میں خاندان کے خاندان کا صفحہ ہستی سے مٹ جانا اور اس خاندان کے بچ جانے والے شخص کویہ برداشت کرنا بڑا دل گردے کا کام تھا۔مجھ میں اتنی ہمت مفقود تھی کہ اس حقیقت کو برداشت کرتا۔میں دروازے کے سامنے گم صم بیٹھ گیا۔ نذر گل کون کون سی تفصیلات بتاتا رہایہ سمجھنے سے میرا ذہن قاصر تھا۔ آنکھوں کے سامنے تو پیاروں کی صورتیں گھوم رہی تھیں۔ کانوں میں سعدیہ کی پیار بھری سرگوشیاں اور عدنان کی چہکاریں گونج رہی تھیں۔
امی جان کی ممتا بھری گودجہاں سر رکھ کر لیٹا کرتا تھا مجھ سے چھن گئی تھی۔ ابو جان کی شفقت بھری ڈانٹ اب قصہ¿ پارینہ بن چکی تھی۔ بھائیوں سے پیار بھرے جھگڑے خواب ہو گئے تھے۔ سعدیہ کی محبت روٹھ چکی تھی۔ عدنان کی قلقاریاں اور شرارتیں کافور ہوگئی تھیں۔مستقبل کے راستے میں سوائے اذیتوں ، مصیبتوں اور تکالیف کے کچھ نظر نہیں آرہا تھا۔میرا دکھ درد سمجھنے والے ، سہارا دینے والے بہت دور جا چکے تھے۔ گھنٹا بھر میں خود کو نہایت طاقت ور اور مضبوط سمجھ رہا تھا۔ اب اس پرندے کی طرح بے بس اور لاچارتھاجو شکنجے میں پھنسا ہو یا اس جانور کی مانند جو قصائی کے سامنے بندھاپڑا ہو۔
نا معلوم کتنی دیر یونھی حوالات کے دروازے پر سکتے کے عالم میں بیٹھا رہا۔ اچانک پہلو میں ٹھو کر لگی اور میں فرش پر گر گیا۔
ایک کرخت آواز سماعتوں میں گونجی۔ ”اٹھ جاﺅ.... ہیجڑے! ہیرو بن کر وارداتیں کرتے ہو اور گرفتار ہونے پر عورتوں کی طرح آنسو بہاتے ہو۔“
مجھے علم ہی نہیں ہواتھا کس وقت پولیس والے اندرآئے تھے۔ ٹھڈا کھا کر مجھے ہوش آیا۔وہ میرے آنسوﺅں کو بزدلی سمجھ رہے تھے۔میرے رونے کی وجہ انھیں گرفتار لگ رہی تھی۔
” سنا نہیں، کھڑے ہوجاﺅ۔“ میرے پہلو میں دوسری ٹھوکر لگی۔
میں زمین پر ہاتھ ٹیک کر بہ مشکل کھڑا ہو ا۔ لگ رہا تھا میری رگوں خون نچوڑ لیاگیا ہو۔
ایک نے مجھے بازو سے پکڑ کر حوالات کے باہر دھکیلا اور میں لڑکھڑا کر دوبارہ زمین بوس ہو گیا۔ میں نے ہاتھ ٹیک کر اٹھنے کی کوشش کی مگر پیٹھ پر لگنے والی ٹھوکر نے مجھے اوندھے منہ گرا دیا تھا۔ اس کے بعد مسلسل دو تین ٹھو کریں میرے پہلو میں لگیں،لیکن مجھے تکلیف بالکل محسوس نہیں ہو رہی تھی۔
”بے غیرت کوگھسیٹ کر آپریشن روم لے جاﺅ۔“کرخت لہجے میں کہا گیا۔
دو بندوں نے مجھے پکڑ کراٹھا یااور گھسیٹتے ہوئے ایک جانب بڑھ گئے۔
آپریشن روم سے مراد اذیت رسانی کا کمرہ تھا۔ سب سے پہلے انھوں نے مجھے لباس کی قید سے آزاد کیا اور پھر لکڑی کی لمبی میز پر اوندھے منہ لٹا کربغیر کچھ پوچھے تشدد شروع کر دیا۔
پیٹھ اور کولہوں پر چمڑے کے لتر برسانے کے بعد انھوں نے بجلی کا کرنٹ لگانا شروع کر دیا۔ میرے ہاتھ پاﺅں انھوں نے کنڈوں میں جکڑ دیئے تھے۔میں کئی دفعہ بے ہوش ہوا لیکن وہ ترس کھائے بغیر مسلسل زدوکوب کرتے رہے۔اس معاملے میں انڈین جلاد بھی اتنے تربیت یافتہ نہیں تھے جتنا پاکستانی پولیس لگ رہی تھی۔
کافی دیر تختہ مشق بنانے کے بعدانھوں نے مجھے میز سے کھول کر چھت سے الٹا لٹکا دیا۔ایک بھرا ہوا پانی کاٹب سر کے نیچے رکھ کر انھوں نے ٹانگوں کی بندشیں اتنی ڈھیلی کیں کہ میرا سر پانی میں ڈوب گیا اور پھر بے ہوش ہونے سے پہلے رسی کوکھینچا تو میرا سر پانی سے باہر آگیا۔ دیر تک یہ کھیل جاری رہا یہاں تک کہ ناک اور منہ کے راستے کافی پانی میرے پیٹ میں داخل ہو گیاتھا۔ میں دو تین دفعہ بے ہوش بھی ہوا۔ تیسری دفعہ ہوش آیا تو خودکو سیدھا کھڑا پایا ۔ہاتھ چھت کے کنڈوں میں مضبوطی سے جکڑے ہوئے تھے۔
”کیا حال ہے بھگوڑے میاں۔“ موٹی توندوالے تھانیدارنے میرے پیٹ میں چھڑی چبھوکر رعونت سے پوچھا۔
”شاید میری آپ سے کوئی دشمنی نہیں ہے۔“ غم و غصے سے مجھے اپنی آواز بے گانی لگی تھی۔
وہ چاپلوسی سے بولا۔”میرے مہربان کے دشمن تو ہونا۔“
”مہربان؟“ میرے لہجے میں حیرانی تھی۔
”اتنی جلد بھول گئے فوجی صاب۔“ دروازے سے گرج دار آواز آئی۔ سفید لٹھے کاسوٹ ،اوپر سیاہ واسکٹ پہنے چودھری اکبر اندر داخل ہوا۔”مجھے تو یادہے تم نے کہا تھا” جوکر سکتا ہوں کرلوں۔“ اب کچھ تو میں نے کر دیا ہے اور کچھ کرنا رہتا ہے۔“
میں غضب ناک ہوا۔”چودھری تُم نے بہت بر ا کیا ہے، بہت ہی برا،یہ مردانگی نہیں ہے ۔تمھاری لڑائی میرے ساتھ تھی،نہ کہ میرے گھروالوں کے ساتھ۔“
وہ فخر سے بولا۔ بولا۔ ”میری نظر میں مردانگی یہی ہے کہ دشمن کی نسلیں بھی فنا کر دو۔“
”تیرا انجام بہت بھیانک ہو گا چودھری۔“مجھے اپنی آواز بے گانی لگی تھی۔
تھانیدار نے نمک حلالی کا ثبوت دیتے ہوئے میرے چہرے پر زور دار تھپڑ جڑ دیا۔
” چودھری صاحب کو للکارتے ہو۔“
” تھانیدار صاحب اسے بولنے دو، غریب اپنی موت کو آسان بناناچاہتا ہے،مگر جانتا نہیں اس نے کس شیر کو للکارا ہے۔“
”تھو....“ میں نے نفرت سے زمین پر تھوکا۔
وہتھانیدار کو مخاطب ہوا۔” یقیناآپ لوگوں نے اس کی مہمان نوازی صحیح طریقے سے نہیں کی ہے۔“
تھانیدار چاپلوسی سے بولا۔”ابھی تو شروعات ہے۔آگے آگے دیکھئے ہوتا ہے کیا۔“
میں نے دکھ کا اظہار کیا۔”تھانیدار صاحب آپ سرکار کے ملازم ہیں یا چودھری اکبر کے ؟“
وہ بے شرمی سے بولا۔”چودھری صاحب ہی ہماری سرکار ہیں۔“
میں نفرت بھرے لہجے میں بولا۔ ”تم چند ٹکوں کی خاطر ایک بے گناہ پر ظلم ڈھا رہے ہو۔“
وہ زہرخند ہوا۔ ”قانون اندھا ہوتا ہے فوجی صاحب! تمھارے خلاف تین کیس درج کرائے جا چکے ہیں،تفتیش کرنا اور ملزم سے بازپرس کرناہمارا فرض ہے۔ “
”تم شاید تشدد کرنے کو تفتیش سمجھتے ہو۔“
تھانیدار نے مکروہ آواز میں قہقہہ لگایا۔ ’ تم ہمیں تفتیش کرناسیکھاﺅ گے۔“
”اپنا قصور جاننا، ملزم کا حق ہے۔“
تھانیدارنے استہزائی انداز میں کہا۔”بتا دیں گے، جلدی کاہے کی ہے سرکار۔“
چودھری اکبر ،تھانیدار کو مخاطب ہوا۔”آپ کی کارکردگی دیکھنے کل آﺅں گا۔“
تھانیدار خوشامدانہ لہجے میں بولا۔”بے فکر رہیں چودھری صاحب،اس کی بولتی یوں بند ہو گی کہ آپ کے سارے گلے شکوے دور ہو جائیں گے۔“
اس کے بعد پولیس نے صبح تک مجھ پر جو ظلم ڈھائے اورجتنی اذیتیں دیں اگر وہ لکھوں تو کئی صفحات بھر جائیں۔میں نے پولیس کے ظلم اور بے رحمی کے قصے سنے تھے مگر واسطہ پہلی بار پڑا تھا۔ دوران تشدد میں کئی بار بے ہوش ہوا،چیخا چلایا،ان کی منت سماجت کی، لیکن وہبے پروائی و بے نیازی سے اس شغل میں لگے رہے۔ یہ سلسلہ صبح کی اذان سن کر موقوف ہوا۔
پھر مجھے حوالات میں پھینک دیا گیا۔ پورا جسم پھوڑے کی مانند درد کر رہا تھا۔ بھوک، پیاس اوربے آرامی نے مجھے بالکل نڈھال کر دیا تھا۔ کافی دیرمدہوش پڑا رہا۔میری آنکھ نذر گل کی آواز پر کھلی تھی۔
بہ مشکل سیدھا ہو کر اس کی طرف متوجہ ہوا۔
” پانی پی لو۔“ اس نے سلاخوں سے ہاتھ گزار کرپانی کا گلاس بڑھایا۔جسے بے صبری سے جھپٹ کر میں نے ایک ہی سانس میں خالی کردیا تھا۔
” افسوس اس سے زیادہ تمھارے لیے کچھ نہیں کر سکتا۔“ اس نے اخبار میں لپٹاکھانا میری طرف بڑھایا۔وہ تندوری روٹیوں کے ساتھ چنے کی دال لایا تھا۔
اتنے بڑے حادثے کے بعد میری بھوک اڑجانا چاہیے تھی، مگر بدلہ لینے کی خواہش نے مجھے سنبھلنے میں مدد دی تھی۔میں ساری روٹیاں چٹ کر گیا تھا۔
”کچھ اور درکار ہو؟“ اس نے ہمدردای سے پوچھامگر لہجے میں بے چارگی و بے بسی نمایاں تھی۔ یقینا جتنی مدد اس کے بس میں تھی وہ بغیر کہے کر چکا تھا۔میں نے بھی اسے مزید امتحان میں ڈالنا مناسب نہ سمجھا اور نفی میں سرہلادیا۔
اس نے اطمینان بھرا سانس لیتے ہوئے پوچھا۔”فوج سے بھاگنے کے بعد تم اتنا عرصہ کہاں غائب رہے؟“
” لمبی کہانی ہے دوست،پھر کبھی سہی،فی الحال یہ جاننے کو بے تاب ہوں میرے گھر والوں پر کیا بیتی۔
وہ متعجب ہوا۔”کل سب کچھ بتا تودیا تھا۔“
میں دکھی دل سے بولا۔”کل مجھے ہوش کہاں تھا۔“
اس نے تفصیل بتائی جس کا لبِ لباب یہ تھا کہ جرگے نے فیصلہ ہمارے حق میںدیا تھا۔اور یہ بھی طے کیا تھا کہ جب بھی ان کے مویشی فصل کو نقصان پہنچائیں گے وہ نقصان پورا کریں گے۔جرگے کافیصلہ ہمارے خاندان کے لیے باعث خوشی اور چودھری خاندان کے لیے غم و غصے کا باعث بنا۔ یہ غصہ انھوں نے محمد جان بھائی کی پٹائی کر کے نکالا۔ وجہ یہ بنی کہ چودھریوں کی ایک گائے ہمارے کھیت میں گھسی جسے بھائی نے پیٹ کرکھیت سے نکال دیا۔اکبر اور اعظم( چودھری انور کے بیٹے) محمد جان بھائی سے لڑگئے کہجب فصل کا نقصان پورا کرنے کی ذمہ داری ان کی تھی تو ہم مویشیوں کو مارنے کے مجاز نہیں تھے۔بدقسمتی سے بھائی وہاں اکیلا تھا اوروہ مع گرگوں کے موجود تھے۔بھائی گرتا پڑتا زخمی حالت میں گھر پہنچا۔ ابو جان اور چچا فاضل گھر میں موجود نہیں تھے اگر وہ موجود ہوتے تو یقینا اس مسئلے کا کوئی بہتر حل نکالتے۔ البتہ بھائی حاکم جان اور احمد جان دونوں گھر پر موجود تھے۔ دونوں نے محمد جان کی حالت دیکھتے ہی ہتھیار نکالے اور وقوعہ کی جانب دوڑ پڑے۔ مخالف بھی تیار تھے۔ میرے بھائیوں کو دور سے دیکھتے ہی انھوں نے فائرنگ شروع کردی۔بھائیوں نے بھی کھیتوں کی منڈیر کی آڑ لے کر جوابی فائرنگ شروع کر دی۔دونوں پارٹیاں چونکہ آڑ میں تھیں اس لیے جانی نقصان سے محفوظ رہیں۔ گنڈہ پوروں کے اندر چونکہ اس طرح کی فائرنگ روزمرہ کا معمول ہے اس لیے لوگوں نے کوئی خاص توجہ نہ دی۔
بد قسمتی سے چودھری انور جو فائرنگ کو رکوانے کو آرہا تھا، اندھی گولی کا شکار بن گیا۔ گولی سر میں لگی تھی اس لیے بچنے کا کوئی امکان نہیں تھا۔ چودھری کے گرتے ہی دونوں طرف فائرنگ بند ہو گئی۔
چودھری انور کے مرنے کے بعد چودھری اکبر بڑا ہونے کے ناطے گھر کا سربراہ بن گیا تھا اس نے باپ کے قتل کی رپورٹ درج نہ کرائی۔میرے بھائی بھی اس واقعہ کے بعد سنبھل گئے تھے انھیں پتا تھا کہ چودھری خاندان لازماً قتل کا بدلہ لے گا ۔ چودھری انور کو مرے ہوئے بہ مشکل ڈیڑھ دو ماہ ہوئے تھے کہ ایک رات ہماری حویلی میں آگ بھڑک اٹھی ۔ سردیوں کا موسم اور رات کا وقت ہونے کی وجہ سے لوگ منہ سر لپیٹے کمروں میں گھسے ہوئے تھے۔اور میرے گھر والوں نے بھی نہ تو چیخ و پکار مچائی اور نہ کسی کو مدد کے لیے پکارا تھا۔ جب آگ کے شعلے خوب بلند ہوئے اور تپش اور دھواں پڑوسیوں کے گھروں تک پہنچا تو وہ جاگے اور ہلا گلا کر کے پورے گاﺅں کو اکٹھا کر لیا۔ مگر آگ بجھانے کی تمام کوششیں رایگاں گئیں اور سوائے چچا فاضل کے کوئی بھی نہ بچایا جا سکا۔ اس کے بچنے کی وجہ بھی یہ ہوئی کہ وہ ڈیوڑھی میں سویا ہوا تھا۔ البتہ ڈیوڑھی کی چھت کے شہتیر کے اس کی ٹانگوں پر گرنے کی وجہ سے اس کی دونوں ٹانگیں دو تین جگہ سے ٹوٹ گئیں تھیں اور وہ تاحال سول ہسپتال میں داخل تھا اور جسمانی طور پر معذور ہونے کے ساتھ ساتھ ذہنی طور پر بھی مفلوج ہو گیا تھا۔ اسی طرح میری اکلوتی بہن جمیلہ بھی صدمے کی شدت میں اپنے حواس کھو بیٹھی تھی۔ یہ بات یہیں تک رہتی تو میں شاید کبھی بھی حوالات میں بند نہ ہوتا۔ مگر ایک رات چودھری اکبرکی حویلی میں گھس کر کسی نے اس کے چھوٹے بھائی اعظم کو گولی مار کر ہلاک کر دیا اور عینی شاہد ین کے مطابق یہ کام میںنے کیا تھا اس کے بعد کسی نے اس کے کھیتوں کو آگ لگا دی اس کا الزام بھی میرے سر لگا۔چند دن بعد اس کا (اکبر کا) ماموں اور اکبر کا دوست اس کی بیٹھک میں بیٹھے تھے کہ میں اکبر پر حملہ کرنے کی غرض سے ان کی بیٹھک میں داخل ہوا اور اسے بچانے کی کوشش میں دونوں مارے گئے اور اکبر کے نوکروں کے بروقت پہنچنے پر میں وہاں سے بھاگ گیا۔ انھی کی پاداش میں میں تھانے میں بند تھا۔نذرگل سے تفصیل جان کر مجھے بہت سے سوالوں کے جواب مل گئے تھے۔
چودھری اکبر نے بلاشبہ مجھ سے بہت بھیانک انتقام لیا تھا۔البتہ چودھری اعظم کی موت حیران کن تھی۔ شاید وہ چودھری اکبر کے کسی دوسرے دشمن کی کارستانی تھی۔ اس کے ماموں اور دوست کا قتل بھی اسی سلسلے کی کوئی کڑی ہو سکتا تھا۔ جو شاید خود تو اکبر کے ہاتھوں مارا جا چکا تھا لیکن اس کے فعلکو چودھری اکبر نے میرے خلاف استعمال کیا تھا۔پولیس نے پہلوان ہوٹل اور رحمن خیل کے مختلف راستوں پر میری تلاش میں مخبر چھوڑ رکھے تھے ۔اورانھوں نے مجھے بس سے اترتے ہی پچان لیا تھا۔البتہ یہ میری سمجھ سے باہر تھا کہ میرے گھر والوں کیطرح وہ مجھے بھی بے خبری میں مروا سکتا تھا اسے اتنا لمبا سیٹ اپ ترتیب دینے کی کیا ضرورت تھی۔میں نے زیادہ سر کھپانے کی ضرورت محسوس نہ کی ۔
نذر گل تفصیل بتا کر چلا گیا۔میں سوچوں کے جہنم میں غوطے لگانے لگا۔
گیارہ بجے چودھری اکبر تھانے پہنچ گیاتھا۔ مجھے بھی دوبارہ اذیت خانے پہنچا دیا گیا۔
”کیا حال ہے فوجی صاحب۔“ چودھری اکبر طنزیہ لہجے میں چہکا۔
میں نے خاموش رہنے کو ترجیح دی تھی۔
وہ تھانیدار کو داد دیتے ہوئے بولا۔ ”واہ طاہر صاحب،آ پ نے تو اس کی بولتی ہی بند کر دی ہے۔“
تھانیدار کا قہقہ بلند ہوا۔ ” کئی پھنے خان اور ٹیڑھے خان سیدھے کر چکا ہوں یہ غریب تو کسی شمار میں نہیں ہے۔“
چودھری بولا۔” ٹھیک ہے جرم قبول کروا کر عدالت میں پیش کرو۔“
تھانیدار فخریہ لہجے یں بولا۔”یہ کیا، اس کے بڑے بھی قبر سے اٹھ کرجرم قبولیں گے۔“
”دفترمیں بیٹھتے ہیں ،اس کے لیے یہ کافی ہیں۔“ اس نے سپاہیوں کی طر ف اشارہ کیا۔
تھانے دار سرہلاتا ہوا اس کے ساتھ ہو لیا۔ مجھے دوبارہ اذیتیں دی جانے لگیں۔اب یہ میرا مقدر بن چکا تھا۔ چھٹکارا اسی صورت میں ممکن تھا کہ میں فرار ہو جاتایا مرجاتا۔اور میں اول الذکر صورت پرعمل کرنے کو ذہنی طور پر تیار ہو گیا۔
l l l
اگلے دن انسپکٹر طاہرنے مجھے عدالت میں پیش کر کے ایک ہفتے کاجسمانی ریمانڈلے لیا۔ میری فرار کی کوشش کی مدِ نظر رکھتے ہوئے اس نے سخت نگرانی کا اہتمام کیا تھا۔یوں کہ مَیں فرار کے بارے سوچ تو سکتا تھا لیکن عمل کرنا مشکل تھا۔
اس ہفتے کے دوران تھانیدار کی کوشش رہی کہ مجھ سے ناکردہ جرموں کا اقرار کرا لے ۔ گو میں وقتی طور پر ان جرائم کا اقرار کر کے عدالت کے سامنے مکر بھی سکتا تھا۔ مگر گنڈہ پوری خون نے مجھے پسپا نہ ہونے دیا۔
نذر گل کی مہربانی سے میری اپنے بہنوئی اسلم سے بھی ملاقات ہو ئی۔وہ میرا ماموں زاد تھا۔ اس کے سمجھانے اور تسلی دینے پر میں نے اپنی جنگ قانون کے دائرے میں رہ کر لڑنے کا فیصلہ کر لیاتھا۔ یہ صبر آزما اور مشکل فیصلہ تھا مگر اسلم کے باربار سمجھانے اور التجا کرنے پر مجھے ماننا پڑا۔ اسلم کے مطابق چودھری اکبر خود ہی اپنے بھائی کا قاتل تھا اور اسی نے اپنے ماموں اور دوست کو بھی ہلاک کیا تھا۔ اپنے بھائی کو جائیداد کے لیے اور باقی دونوں اس کے بھائی کے قتل میں شریک تھے ،تبھی اس نے گواہوں کا بھی قلع قمع کر دیا تھا۔ اور اب اس کوشش میں تھا کہ ان تمام کے قتل کے جرم میں مجھے پھانسی کی سزا ہوجائے ۔یوں ایک تیر سے دوشکار کر لیتا۔خود بھی مظلوم قرار پاتا اور میں بھی انجام کو پہنچتا۔
اسلم کی مدد سے میں نے اپنے لیے ایک قابل وکیل کی خدمات حاصل کی تھیں مگر اس سے پہلے کہ مجھے دوبارہ عدالت میں پیش کیا جاتا، میری یونٹ والے لینے پہنچ گئے۔ میں سوچوں کے گرداب میں پھنسا تھا کہ نذر گل کی آواز آئی۔
”عمرجاناں!فوجی تمھیں لینے آئے ہیں۔“
میں حیرت سے اچھل پڑا۔ ”انھیں کیسے پتا چلا کہ میں حوالات میں ہوں۔“
” فوج کو تمھاری گرفتاری کی اطلاع دے دی گئی تھی۔“
میں نے پوچھا۔”کتنے آدمی ہیں۔“
”پانچ۔“ الفاظ اس کے ہونٹوں پر تھے کہ بہت سے قدموں کی آواز حوالات کی طرف آتی سنائی دی۔
ان میں سے چار بندے میرے لیے بالکل اجنبی تھے البتہ پانچویں کو دیکھ کر میرا دل خوشگوار انداز میں دھڑ کنے لگاتھا۔ کھلنڈراامجد اس وقت نہایت سنجیدہ دکھائی دے رہا تھا۔
انسپکٹر طاہر ان کے ساتھ تھا۔ ایک سپاہی نے حوالات کا دروازہ کھولا۔ صوبیدار کا رینک لگائے ایکشخص نے میری طرف مصافحے کو ہاتھ بڑھایا۔ ” صوبیدار صبر عباس۔“
میرے ہونٹوں پر پھیکی ہنسی نمودار ہوئی۔”سر! آپ سے مل کر خوشی ہوئی۔“
” آپ کے گھر والوں کابہت افسوس ہوا۔“دکھی انداز میں کہہ کر اس نے دوسروں کو ملنے کاموقع دیا۔ سب سے آخر مجھے امجد ملا تھا۔اس نے دیر تک مجھے چھاتے سے بھینچے رکھا۔اور پھر گلو گیر ہوا۔ ” ہم بدلہ ضرور لیں گے۔“
امجد کی آمد پرسے مجھے کافی حوصلہ ملا تھا۔
انسپکٹر طاہر نے پوچھا۔”صوبیدار صاحب !ہمارا قیدی کب تک واپس کر دیا جائے گا؟“
صوبیدار صاحب بولا۔ ”یہ فیصلہ کرنامیری بساط سے باہر ہے۔“
ضروری کاغذی کارروائی کے بعد میں فوجیوں کی نگرانی میں تھانے سے باہر نکل آیا۔
ایک فوجی جیپ موجود تھی۔ ڈرائیونگ سیٹ پر ایک باورردی فوجی بیٹھا ہوا تھا۔
میں امجد کومخاطب ہوا۔”چھٹی کاٹ لی ہے۔“
اس نے کہا۔” گزشتہ ہفتے ہی راستے کھلے ہیں، بٹالین ہیڈ کواٹر پہنچنے پرتمھاری گرفتاری کاپتا چلا۔ رہبر کے طور پر مجھے بھی ساتھ آنا پڑا۔اور سناﺅ.... اتنا عرصہ کہاں غائب رہے۔“
” انڈیا کی سرحد پار کر گیا تھا ،واپس آتے ہی گرفتار ہو گیا۔“
اس نے حیرانی سے پوچھا۔ ”وہ کیسے؟“
” قسمت میں گھروالوں سے ملنا نہیں لکھا تھا، انڈیا میں داخل ہونابہانہ بن گیا۔“
”اتناعرصہ کیا کرتے رہے؟“
” لمبی کہانی ہے ، پھر کبھی سہی۔“
وہ اطمینان سے بولا۔” بٹالین ہیڈ کواٹر تک اسی جیپ میں جانا ہے ، اتنا لمبا سفر کیسے کٹے گا۔“
”ہم بھی سننا چاہئیں گے۔“ صوبیدار صبر عباس نے اشتیاق ظاہر کیا۔
ان کا اصراردیکھ کر مجھے زبان کھولنا پڑی۔اور ٹاپ تھری پر خط ملنے کے بعد کے واقعات دہرانے شروع کر دیئے۔ایک ہوٹل دیکھ کر ہم نے کھانے کا وقفہ لیا۔ ہوٹل کا مالک خود ہی حکم لینے پہنچ گیا۔اس کی وجہ صرف خاکی وردی کی تعظیم تھی۔کھانے کے دوران خاموشی چھائی رہی۔ امجد نے ایک دونوالے لے کر کھانا چھوڑ دیا تھا۔ یقینااسے میرے خاندان والوں کے مرنے پر دکھ ہوا تھا۔
میں نے کافی دنوں سے ڈھنگ کا کھانا نہیں کھایا تھا، تبھی جسمانی کمزوری بھی محسوس کر رہا تھا۔ گو گھر والوں کے بچھڑنے کا دکھ پرانا نہیں تھا۔ ہفتہ بھر پہلے ہی مطلع ہوا تھا ۔لیکن اللہ پاک نے بہت جلد صبر دے دیا تھا۔
کھانا کھا کر ہم جیپ میں سوار ہو گئے۔اور میں نے سلسلہ گفتگو جوڑ دیا۔کہانی کے اختتام تک صرف میری آواز گوبختی رہی۔
وہ رات ہم نے ایف ایف سنٹر ایبٹ آباد میں بسر کی اور اگلے دن صبح سویرے دوبارہ اپنے سفر پر روانہ ہو گئے۔ راستے میں زیادہ تر میں اور امجد محو گفتگو رہے۔
اس اگلی صبح جگلوٹ میں طلوع ہوئی، لیکن وہاں صرف ناشتا کرنے رکے اور پھر استور کی طرف چل پڑے جہاں ہماری یونٹ کاریئرہیڈ کواٹر تھا۔ ایک دن استور میں گزار کر ہم بٹالین ہیڈکواٹر روانہ ہو گئے۔وہاں سے بٹالین ہیڈ کواٹر ایک دن کے فاصلے پر تھا بٹالین ہیڈ کواٹر پہنچنے کے اگلے دن مجھے کمانڈنگ آفیسر کے سامنے پیش کیا گیا تھا۔
کمانڈنگ آفیسر افضل محمود خان نے سب سے پہلے تعزیت کی ۔ ” تمھارے گھر والوں کاسن کر بہت افسوس ہوا۔ اس سلسلے میں کسی کام آسکتا ہوں توبلا جھجک کہہ دو۔“
”شکریہ سر۔“
وہ مدعے پر آئے۔” تم نے اگلی پوسٹ سے بھگوڑا ہو کر بے وقوفی ،نااہلی اورخود غرضی کا ثبوت دیا ہے۔ ایک کمانڈو سے مجھے یہ توقع نہیں تھی۔ کمانڈر نے تمھارا کورٹ مارشل کرنے کا کہاہے لیکن میں اپنے اختیارات بروے کا ر لاکراتنا کر سکتا ہوں کہ تمھیں موجودہ سروس کے حقوق دے کر گھر بھیج دوں اور یہ تمھاری گھریلو پریشانیوں کی وجہ سے کر رہا ہوں ۔اور قتل کے مقدمات کے سلسلے میں مالی اعانتکے علاوہ کچھ نہیں کر سکتا........تمھیں کچھ کہنا ہے۔“
”جی سر!.... صرف اتنا کہ جس اندیشے نے مجھے ٹاپ تھری سے بھگوڑا ہونے پر مجبور کیا۔ وہ حقیقت تھا۔ پورا کنبہ گھر کے اندر محبوس کر کے جلادیا گیا۔“
”اور یہ سب تمھارے بھگوڑا ہونے کے بہت بعد ہوا۔“
”سر اپنے کمینے دشمن سے میںاچھی طرح واقف تھا، مگر افسوس کہ میں وقت پر گھر نہ پہنچ سکا۔“
انھوں نے پوچھا۔”کیا تم نوکری پر بحال ہونا چاہتے ہو؟“
”نوسر.... بس یہ ثابت کرنا چاہتا ہوں کہ بھگوڑا ہونا میری مجبوری تھی۔“
”جانتا ہوں بے گناہ ہو، تمھاری ساری کہانی گزشتہ شب صوبیدار صبر عباس کی زبانی سن چکا ہوں، لیکن افسوس عدالت ثبوت مانگتی ہے۔“
میں ممنونیت سے بولا۔ ”میرے اتناہی کافی ہے۔“
”لے جاﺅ۔“اس نے متعلقہ عہدہ دارکو اشارہ کیا۔
اس نے مجھے ہوشیار (اٹن شن)کرایا ،سامنے سلام کا کاشن دیااور پیچھے پھر(اباﺅٹ ٹرن) کرا کے جلدی چل کا حکم دے دیا۔
”جوان ،بات سنو۔“میرے دفتر سے نکلنے سے پہلے کرنل صاحب کی بھاری آواز آئی۔ میں فوراََ رک کر پیچھے مڑا۔
” انڈین لڑکی سے رابطہ کر کے وہ سارے اخبار منگوا لو جن میں تمھارے بارے اشتہارات چھپتے رہے ہیں،یقینا یہ ثبوت تمھاری بے گناہی کو کافی رہیںگے۔“
کرنل صاحب دور کی کوڑی لائے تھے ۔ یقیناوہ اخبار میری بے گناہی کا منہ بولتا ثبوت تھے۔
”بہت بہت شکریہ سر۔“ میں نے دوبارہ سیلیوٹ کیا اور دفتر سے باہر نکل آیا۔تین دن بٹالین ہیڈکواٹر میں گزار کر چوتھے دن ہم واپس روانہ ہوئے۔ امجد بھی ساتھ تھا۔ دوماہ چھٹی کی راہداری امجد کی جیب میں تھی۔
راولپنڈی پہنچ کر میں نے صبر عباس صاحب سے درخواست کی۔ ”سر! اجازت ہو تو ایک فون کر لوں ؟“
اثبات میں سرہلاکروہ ڈرائیور کوبولے ۔ ”جیسے ہی کوئیPCOنظر آتا ہے گاڑی روک لینا۔“
” شہر میں جانا پڑے گا سر۔“ ڈرائیور مو¿دبانہ لیجئے میں بولا۔
”چلے جاﺅ۔“ انھوں نے اجازت دے دی ۔
ڈرائیور نے گاڑی راولپنڈی شہر کے اندرکی طرف موڑ دی۔ تھوڑی دیر بعد ہمیں ایک PCOنظر آگیا تھا۔
امجد اور صبر عباس صاحب میرے ساتھ PCOمیں گھس گئے۔ باقی گاڑی میں بیٹھے رہے۔ میں نے شیتل کے گھر کا نمبر PCOوالے کو بتا کر کہا۔ ”یہ انڈیادہلی کا نمبر ہے۔“
اس نے نمبر ڈائل کرکے رسیور مجھے پکڑا دیا۔ دو تین گھنٹیوں کے بعد کال وصول کی گئی۔
”ہیلو“ ایک عورت کی آواز فون سے ابھری۔
”شیتل سے بات کرناتھی۔“ میں نے اپنا مطمح نظر بیان کیا۔
”بی بی جی تو دفتر میں ہوں گی آپ وہیں فون کر لیں۔“
”دفتر کا نمبر؟“میں نےPCOوالے کارائٹنگ پیڈ اپنی طرف کھسکایا۔
”اس نے دفتر کا نمبر بتا کر فون بند کر دیا۔
” یہ نمبر ملا دیں۔“ میں نے پیڈ اس کی طرف دھکیلا۔
اس نے نمبر ملادیا۔
”داس سٹیل ملز....“
”مِس مجھے شیتل ہری چرن داس سے بات کرنا ہے۔“ میں نے فون آپریٹر کا تعارفی خطبہ پورا نہیں ہونے دیا تھا۔
”سر! بات کریں۔“اس نے فوراََ کال ملا دی۔ہلکی سی ٹون بجنے کے بعد ریسور سے شیتل کی مسحورکن آواز ابھری۔ گو میں پہلی مرتبہ فون پر اس کی آواز سن رہا تھا لیکن مجھے پہچاننے میں دقت نہیں ہوئی تھی۔
”شیتل سپیکنگ۔“
” عمر جان بات کر رہا ہوں۔“
”جان!.... کیسے ہو؟“ خوشی سے بھرپور آواز اس کی اندرونی حالت کا پتا دے رہی تھی۔
”ٹھیک ہوں،تم سناﺅ؟“
اس کی مترنم ہنسی نے میرے کانوںمیں رس انڈیلا۔”ممبئی سے واپسی پر پتا جی نے باقاعدگی سے دفتر میں بٹھانا شروع کر دیا ہے۔صبح شام کام،رات کو بستر پر لیٹے وقت آپ کو یاد کرنے کا موقع ملتا ہے۔“
” میرا ایک کام کردوگی۔“
اس نے شوخ لہجے میں پوچھا۔”آپ کو ناں کر سکتی ہوں ۔“
”جانتا ہوں۔“
اس نے ایک ساتھ کئی سوال کیے۔” گھر والے کیسے ہیں، عدنان تو بہت خوش ہوگا۔سعدیہ دیدی سے میرا ذکر کیا تھا یا اب تک حوصلہ نہیں کر پائے۔“
میں گلوگیر ہوا۔”تم کہتی تھیں ناں ۔”کاش میرے علاوہ تمھارا کوئی نا ہو۔“خوش ہو جاﺅ تمھاری دعا پوری ہوئی۔“
وہ ہکلائی۔”کک....کیا مطلب؟“
”سارے مجھے چھوڑ کر چلے گئے،مجھے بھی قتل کے کئی جھوٹے مقدمات کا سامنا ہے۔تم جتنی جلدی ہو سکے مجھے وہ اخبارات بھیج دو جن میں میری بارے کچھ چھپا ہو۔“
”چھوڑ کر چلے گئے؟ “وہ سمجھ نہیں پائی تھی۔
”حویلی کو آگ لگنے کی وجہ سے تمام....“ کوشش کے باوجود میں فقرہ مکمل نہیں کر سکاتھا۔
”اوہ .... نہیں۔“ شیتل بہ مشکل کہہ پائی تھی۔
”میں اب حوالات میں ہوں اس لے جتنی جلدی ہو سکے مطلوبہ اخبار بھی دو تاکہ مقدے کی پیروئی کر سکوں۔“
”جان!بہت افسوس ہوا....مم.... میں نے ایسا تو کبھی نہیں چاہا تھا....مم....میں تو....“اس سے بات نہیں پارہی تھی۔بغیر دیکھے اس کی پیاری آنکھوں سے بہتی آبشاریں مجھے نظر آرہی تھیں۔وہ مجھے چاہتی تھی اور محبوب کا دکھ اپنے دکھ سے بڑھ کر اذیت دیتا ہے۔
میں نے اسے تسلی دی۔”جانتا ہوںپاگل!ان کی زندگی ہی اتنی تھی۔اللہ پاک کی مرضی میں کون مخل ہو سکتا ہے۔“
” میں پاکستان آجاتی ہوں ،یقینا میری گواہی ....“
میں نے قطع کلامی کی۔”تم بس اس پتے پر وہ تمام اخباربھیج دو۔“میں نے امجد کے گھر کا پتا نوٹ کراتے ہوئے کہا۔” دشمنوں کو جواب دینا باقی ہے اور سعدیہ کے بعد تمھیں کھونے کی ہمت نہیں ہے۔“
”میں آج ہی یہ بھیجتی ہوں۔اپنا اکاﺅنٹ نمبر بتاﺅتاکہ کچھ رقم بھیج سکوں۔“
میں جلدی سے بولا۔”اگر ضرورت پڑی تو سب سے پہلے تمھیں ہی بتاﺅں گا۔“
اس نے کہا۔”فون کرتے رہنا۔اگر کوئی رابطہ نمبر ہے تو لکھوادو، میں فون کر لیا کروں گی۔“
” ان شاءاﷲ خود ہی رابطہ کر لیا کروں گا۔“ میں نے الوداعی کلمات کہے اور فون بند کر دیا۔
امجد نے ایک بڑا نوٹ PCOوالے کی طرف بڑھا دیا۔
کال کا بل کاٹ کر اس نے بقایا پیسے امجد کی طرف بڑھائے اور ہم PCOسے نکل آئے۔ رات ہم نے راولپنڈی میں گزاری اور صبح سویرے رحمن خیل کی طرف چل پڑے۔ شام ہونے سے کچھ دیر پہلے ہم تھانے پہنچ گئے تھے۔مجھے پولیس کے حوالے کرنے کے بعد باقی رخصت ہو گئے ،البتہ امجد وہیں ٹکا رہا۔
نذر گل کو بھیج کر میں نے ماموں زاد اسلم کو وہیں بلوا لیا۔ پولیس والے امجد کی وجہ سے خاموش رہے۔
امجد کے ساتھ طے ہوا کہ وہ رات اسلم بھائی کے پاس گزار کر صبح گھر چلا جائے گا اور جونھی شیتل کا بھیجا ہوا پارسل ملے گا وہ واپس آجائے گا۔
مستقبل کی منصوبہ بندی کے بعد دونوں رخصت ہو گئے۔ وہ رات امن سے گزری۔اگلے دن انسپکٹر طاہر مجھے عدالت لے گیا۔عدالتی کارروائی کا آغاز ہوا۔ جج نے فردِ جرم پڑھ کر سنائی۔ جسے میں نے سختی سے مسترد کر دیا تھا۔اس کے بعد میرے وکیل نے ضمانت کی درخواست دائر کر دی۔ قتل کے ملزم کی ضمانت آسانی سے نہیں ہوتی۔ تبھی وکیل ناکام رہا تھا۔جج نے باقاعدہ کارروائی کی تاریخ دے کر عدالت برخاست کر دی۔
عدالت کے برآمدے میں میرے وکیل عبدالکریم خان ایڈوکیٹ نے الوداعی مصافحہ کرتے ہوئے کہا۔
”عمر صاحب! پریشان نہ ہونا اگلی پیشی پر پوری کوشش کروں گاکہ ضمانت ہو جائے ان شاءاللہ کامیابی ہوگی۔ میں نے آپ کا کیس اچھی طرح پڑھ لیا ہے.... اﷲ خیر کرے گا۔“
وہ مجھے طفل تسلیاں دے رہا تھا، ورنہ استغاثہ کا کیس خاصا مضبوط تھا۔ البتہ انڈین اخبار میری بے گناہی ثابت کر سکتے تھے۔اور اب مجھے انھی کا انتظار کرنا تھا۔ اس بارے اب تک وکیل کو اعتماد میں نہیں لیا تھا۔ میں پولیس والوں کے ساتھ تھانے واپس آگیا۔
اس کے بعد امجد کے انتظار میں دن گننے لگا۔ پولیس والوں کا رویہ اسی طرح نفرت انگیز تھا اور یہ چودھری اکبر کا کمال تھا ۔ وہ خودبھی وقتاً فوقتاً مجھے چڑانے تھانے آدھمکتا تھا۔ اس کے طعنوں اور طنزیہ باتوں کا جواب میں خاموش رہ کر دیتا تھا۔ میری خاموشی کو بزدلی جان کر وہ سودے بازی پر بھی اتر آتا تھا۔
”اگر تمام زمین میرے نام لکھ دو تو میں تمھاری جان سلاخوں سے چھڑا سکتا ہوں۔ علاقہ چھوڑ کر باقی زندگی آرام سے گزار سکوگے۔اچھے خاصے خوب صورت ہو آسانی سے رشتہ مل جائے گابچے بھی ہوجائیں گے،کیوں خود کو تباہ کرنے پر تلے ہو۔“
اس کے مشوروں پر میں کڑھنے کے علاوہ کچھ نہیں کر سکتا تھا۔میری خاموشی اسے مزید شہہ دیتی اور اس کی بکواس طوالت کھینچ لیتی۔
امجد کو گھر گئے نواں دن تھا۔چھے دن بعد کیس کی باقاعدہ سماعت تھی۔میں آلو گوشت سے ظہرانہ کر رہا تھاجب حوالات کے باہر تیز قدموں کی چاپ ابھری۔ نظر اٹھانے پر امجد کا وجیہہ چہرہ دکھائی دیا۔
”السلام علیکم۔“
”وعلیکم السلام! سناﺅ،امی ابو کیسے ہیں؟“
”الحمداللہ بہترین ہیں۔ اخبار مل گئے ہیں۔ یار!تم نے بہت تباہی پھیلائی ہے انڈیا میں۔“
” تفصیل بتا چکا ہوں،تمام قتل نادانستگی یا مجبوری میں ہوئے ہیں۔انڈین اخبارات نے بہت سی ہلاکتیں مفت میں میرے کھاتے میں ڈال دی ہیں۔ہر اخبار نے کارِ خیر بڑھ چڑھ کر حصہ لیا تاکہ پاکستانی دہشت گرد کو خوب بدنام کیا جاسکے۔جہاں واردات ہوئی،ڈکیتی ہوئی یا آپس کی دشمنی میں کوئی قتل ہوا،جانو کے متھے مار کر پولیس نے بھی تفتیش سے جان چھڑا لی اور اخبار کی خبر بھی بن گئی۔“
” اب میرے لیے کیا حکم ہے ۔“ اس نے دھیمی مسکراہٹ سے پوچھا۔ حادثے نے اس شوخ و شنگ ہر دم قہقہے لگانے والے نوجوان کو بجھا دیا تھا، لیکن مجھے امید تھی کہ جلد ہی وہ پرانے والا امجد بن جائے گا جس کے قہقہے مجھے زندگی کی نوید سناتے تھے۔
”اخبارکہاں ہیں۔“
”اسلم بھائی کے پاس رکھ دیئے ہیں۔“
” کل وکیلکو اخباردکھا دینا۔ خاص کر 5دسمبر،7دسمبر اور 22دسمبر کی تاریخیں یاد رکھنا کہ الزام انھی تاریخوں کے ہیں۔اور اب جاکر سفر کی تھکن اتارو۔“
وہ حوالات کے سامنے چوکڑی مار کربیٹھ گیا۔ ”گپ شپ کرتے ہیں۔“
میں پھیکی مسکراہٹ سے بولا۔”شاید پولیس والوں کو ناگوار گزرے۔“
” تھانیدارغائب ہے اور تھانے میں حاضر سینئر کو ہڈی ڈال آیا ہوں۔“
میں بھی پلتھی مار کر بیٹھ گیا۔ہم گپیں ہانکتے رہے یہاں تک کہ ایک سپاہی نے تھانیدار کے واپس پہنچنے کی اطلاع دی۔
امجد کھڑا ہوا۔ ”صبح ان شا ءاﷲ ملاقات ہو گی“۔ میں نے سر ہلانے پر اکتفا کیاتھا۔
l l l
اگلے دن امجد وکیل کو لے آیا۔ رسمی کلمات کی ادائی کے بعد وکیل عبدالکریم خان پُر جوش لہجے میں بولا۔
” عمر جان! مبارک ہو۔ ان ثبوتوں کے ہوتے آپ کی بے گناہی روز روشن کی طرح واضح ہو گئی ہے۔ آپ پہلے یہ اخبار لے آتے تو گزشتہ پیشی ہی پرضمانت ہو گئی ہوتی۔“
”پہلے میرے پاس موجود نہیں تھے ابھی انڈیا سے منگوائے ہیں ۔“
”اب قتل کے اصل مجرم کو بے نقاب کرنا مشکل نہ ہوگا۔“ عبدالکریم نے خوشخبری سنائی۔
”مجھے صرف اپنی رہائی سے غرض ہے۔“
وکیل پر عزم ہوا۔”وہ تو سمجھو ہو گئی۔“
”باقی چودھری اکبر کا معاملہ میں خود سنبھال لوں گا۔“
وہ د ونوں ہاتھ ملا کررخصت ہو گئے۔اگلی پیشی پر سب سے پہلے استغاثہ کے گواہوں کے بیان ہوئے۔ کل15گواہ پیش ہوئے تھے جن میں آٹھ گواہ تو اعظم ،اس کے ماموں اور اکبر کے دوست کے قتل کے مشترکہ گواہ تھے۔ پانچ وہ تھے جنھوں نے مجھے فصل کو آگ لگاتے دیکھا تھا، صرف دو گواہ ایسے تھے جو وقوعہ کے وقت قریب ہی موجود تھے البتہ انھوں نے میری شکل نہیں دیکھی تھی۔
سب سے پہلے گواہی دینے چودھری اکبر کا منشی گواہی کے کٹہرے میں آیا۔ سچ بولنے کا حلف اٹھانے کے بعد اس نے چودھری اعظم کی موت کا نقشہ بڑے درد ناک انداز میں کھینچا اور وثوق سے بہ طور قاتل میری شناخت کر دی۔
وکیل استغاثہ کٹہرے کے قریب ہوا....”شاہ نواز صاحب !آپ کو یقین ہے کہ چودھری اعظم صاحب کا قتل ملزم ہی نے کیا ہے۔“
وہ اعتماد سے بولا۔ ”یقین نہ کرنے کی کوئی وجہ نہیں ہو سکتی۔ اس نے کئی افراد کی موجودی میں یہ گھناﺅنا کام کیا ہے۔ میرے علاوہ بھی کئی افراد موقع پر موجود تھے۔“
میں خاموش کھڑا اپنے خلاف ہونے والی یہ زہر بیانی سن رہا تھا۔ یوں بھی عدالتی کارروائی کے دوران سب سے زیادہ کسمپرسی کی حالت میں بے چارہ ملزم ہوتا ہے۔ گواہوں کے بیانات اور ان پر جرح وہ تحمل اور صبر سے سنتا ہے کسی بھی موقع پر اسے بولنے کی اجازت نہیں ہوتی۔
وکیل استغاثہ نے مزید دو چار سوالات کے بعد جرح ختم کر دی۔
اپنی باری میں میرا وکیل بڑے پُراعتماد انداز میں گواہ کے قریب پہنچا۔
”شاہ نواز صاحب کیا میں آپ کو شاہ صاحب کہہ کر پکار سکتا ہوں۔“
”جی۔“ اس نے اثبات میں سر ہلاتے ہوئے اجازت دے دی۔
” شاہ صاحب! دوبارہ میرے مو¿کل کو غور سے دیکھیں کہ آیا چودھری اعظم صاحب پر گولی چلانے والا یہی ہے۔“
”جی وکیل صاحب۔“ اس کا جواب پہلے کی طرح مختصر تھا۔
”اس اس نے کس رنگ کے کپڑے پہنے تھے۔“میرے وکیل نے جرح آگے بڑھائی۔
اس نے جواب دیا۔”سفید شلوار قمیص میں تھا۔“
”چودھری اعظم صاحب ! پر اس نے کس ہتھیار سے فائر کیا تھا۔“ وکیل صفائی عام سے لہجے میں خاص سوالات پوچھ رہا تھا۔ اس مرتبہ منشی گڑبڑا گیا۔
”ر.... رے.... رائفل تھی جناب۔“
”ساخت بتا سکتے ہیں۔“
منشی کا جواب نفی میں تھا۔ مزید ایک دوسوالات پوچھ کر وکیل صفائی نے جرح ختم کردی۔ اس دن عدالتی کارروائی گواہوں کے بیانات اور ان کے اوپر جرح پر مشتمل رہی۔ وکیل صفائی نے گواہوں کے بیانات کے تضاد کو اجاگر کیا، جو انھوں نے میرے لباس اور ہتھیار کے بارے دیا تھا۔ اب تک وکیل صفائی نے اخبار عدالت کے سامنے پیش نہیں کئے تھے۔ اس پیشی پر بھی میری ضمانت نہ ہو سکی۔ عدالت نے آئندہ پیشی کے لیے ایک ہفتے بعد کا وقت دیا اور یہ عبدالکریم نے اپنے تعلقات کی بدولت کرایا تھا۔اس کی کوشش تھی کہ میری رہائی کے ساتھ چودھری اکبر کے گرد بھی گھیرا تنگ کیا جائے۔امجد نے وہ ہفتہ بھی رحمن خیل میں گزارا تھا۔
گھر واپسی کے مشورے پر وہ اطمینان سے بولا۔ ”دو ماہ چھٹی اسی لیے تو آیاہوں۔“
جاری ہے
قسط نمبر17
ریاض عاقب کوہلر
منظر عدالت کے کمرے کاتھا۔ وکیل صفائی نے جج سے اجازت لے کر ڈرامائی انداز میں میری کہانی شروع کی۔ مختصراور جامع انداز میں تمام تفصیلات بیان کیں۔اور انڈیا سے میری واپسی کی تاریخ تک پہنچا جو 10جنوری تھی۔
اس دوران استغاثہ کا وکیل طنزیہ انداز میں مسکراتا رہا۔ لیکن جب ثبوت کے طور پر عبدالکریم نے انڈیا سے آئے ہوئے چیدہ چیدہ اخبار جج کے سامنے رکھے تو وہ بے چین ہو گیا تھا۔عبدالکریم نے کہا....
”جج صاحب!شاید آپ کو اور معزز سا معین کویہ واقعات ، دلچسپ قصہ لگے ہوں۔لیکن آپ ان اخبارات کو ملاحظہ کریں جو میرے مو¿کل کی بے گناہی کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ عدالت کے قیمتی وقت کا خیال رکھتے ہوئے میں نے ان تاریخوں کے اخبار پیش کیے ہیں جن میں مدعی کے لواحقین قتل ہوئے ہیں، اگر عدالت چاہے تو اپنے مو¿کل کی صفائی میں اس کے علاوہ بھی درجنوں اخبارات پیش کر سکتا ہوں۔“
اس دن جج نے میری شخصی ضمانت قبول کرتے ہوئے کیس کا فیصلہ اگلی پیشی تک مو¿خر کر دیا اوردوسری تاریخوں کے اخباردیکھنے میں بھی دلچسپی ظاہر کی۔
کمرہ عدالت سے نکلتے ہی فرطِ مسرت سے امجد اور اسلم میرے ساتھ لپٹ گئے تھے۔
”عمر صاحب آئندہ پیشی پر آپ باعزت بری ہو جائیں گے۔ ان شا ءاﷲ !“ وکیل صفائی نے میری پیٹھ تھپتھپائی۔
”ان شاءاﷲ“ اسلم اور امجد بیک زبان بولے۔
وکیل صاحب تو ہاتھ ملا کر رخصت ہو گیا اور ہم تینوں ٹیکسی کرا کررحمن خیل روانہ ہو گئے۔
اسلم بھائی کے گھر کے سامنے اتر کر ہم نے ٹیکسی والے کو فارغ کیا۔ امجد تو مردانے میں چلا گیا جبکہ میں اسلم کے ساتھ گھر میں گھس گیا۔ ممانی جان روتے ہوئے آگے بڑھیں اور مجھے لپٹ گئیں۔ حوالات کے اندر میرے منع کرنے کی وجہ سے اسلم انھیں ملانے نہیں لایا تھا۔ماموں جان عرصہ ہوا فوت ہو گئے تھے۔ ان کی دو بیٹیوں کی شادی حاکم بھائی اور احمد بھائی سے ہوئی تھی اور دونوں بدنصیب بھی جلنے والوں میں شامل تھیں۔ ان کی اولاد میں اسلم اکیلا ہی بچا تھا۔ میری بہن جمیلہ اس حادثے کے بعد گم صم ہو گئی تھی۔ اس وقت بھی وہ چارپائی پر لیٹی خلا میں گھو ر رہی تھی۔
”بیٹی! دیکھو تو سہی کون آیا ہے۔“ ممانی جب رونے دھونے سے فارغ ہوئیں تو جمیلہ کو متوجہ کرنے لگیں۔ مگر جمیلہ کے انہماک میں فرق نہیں آیا تھا۔
جمیلہ کو دیکھ کر میرے زخم پھر ہرے ہو گئے تھے۔ میں نے بڑی مشکل سے اپنے آنسو روکے۔ اس مقصد کو میں نے پانچ سالہ اکرم کا سہارا لیا جو میرا اکلوتا بھانجا تھا ۔
وہاں بہ مشکل تھوڑی دیر ہی بیٹھ پایا تھا کہ گھبرا کر امجد کے پاس چلا گیا۔ بلاشبہ جانے والوں کو بھلانا ناممکن تھا۔ قدم قدم پر ان کی یادیں بکھری تھیں۔ ان کی سوچیں شاید ہی کبھی چین سے بیٹھنے دیتیں۔
امجد بیٹھک میں گم صم لیٹا ہوا تھا۔ میرے پہنچنے کا بھی اس نے دھیان نہ دیا۔ میں نے بھی چارپائی پر نشست سنبھالی اور چودھری اکبر کو عبرت ناک سزا دینے کاسوچنے لگا۔
” کل چچا فاضل کو ملنے چلیں گے۔“ کافی دیر انتقام کے طریقے سوچنے کے بعد میں امجد کو مخاطب ہوا۔
اس نے خوشگوار حیرانی سے پوچھا۔ ”کیا وہ بچ گئے ہیں۔“
”صرف وہی بچے ہیں۔ اور ہسپتال میں ایڈمٹ ہیں۔“
”آپ انھیں ملے ہیں؟“
”موقع کہاں ملا ۔“ میں افسردہ لہجے ہوا۔
”وہ بچ کیسے گئے؟“
میں نے بتایا۔”وہ ڈیوڑھی میں سوئے تھے اس لیے بچ گئے۔“
” عجیب بات ہے کہ کسی نے بھی آگ کے خلاف مزاحمت نہیں کی۔“
”موت مزاحمت نہیں کرنے دیتی۔“
”پھر بھی اتنے آرام سے موت کو گلے لگا لیناعجیب لگتا ہے۔“
” کل ان شا ءاﷲ چچا فافضل سے پوچھیں گے۔“
l l l
صبح سویرے ناشتا کرتے ہی ہم شہر کی طرف روانہ ہو گئے۔ چچا فاضل کے پاس پہنچے تووہ اب تک دواﺅں کے زیر اثر لیٹے ہوئے تھے۔ان کی داہنی ٹانگ گھٹنے سے تھوڑا اوپر ٹوٹ گئی تھی اور اس پر پلستر چڑھا ہوا تھا۔ جبکہ بائیں ٹانگ گھٹنے سے تھوڑانیچے کاٹ دی گئی تھی۔ ہم ہسپتال کے برآمدے میں بیٹھ کر چچا جان کے جاگنے کا انتظار کر نے لگے۔ تھوڑی دیر بعد نرس نے چچا فاضل کے جاگنے کی اطلاع دی اور ہم اندر داخل ہو گئے۔ نامعلوم وہ کمرے کی چھت میں کیا تلاش کر رہے تھے کہ نظریں مسلسل چھت پر گڑی تھیں۔
”چچا جان۔“ میں بیڈ کے قریب ہوا۔ انھوں نے نگاہوں کا زاویہ بدلا اور لیٹے لیٹے ہی بازو پھیلا دیئے۔
میں گھٹنوں کے بل بیٹھ کر ان سے لپٹ گیا۔
”کیسا ہے تُو؟“ ان کا لہجہ حیران کن طور پر پرسکون تھا۔ مگر میں کوشش کے باوجود کوئی جواب نہ دے سکا۔ حلق میں کڑواہٹ گھل گئی تھی۔
” جوان ہو کر روتا ہے۔“ چچا فاضلمیرے بالوں میں انگلیاں پھیرنے لگے۔
” رو تو نہیں رہا۔“ میں نے نفی میں سر ہلایا، مگر کوشش کے باوجود آواز کی لرزش پر قابو نہیں پاسکا تھا۔
”بیٹا !ہر بندے کا وقت مقر ر ہے۔ وہ ایک سیکنڈ پہلے مرسکتا ہے نہ ایک سیکنڈ بعد۔ وقت مقرر تھا۔ ان کی خوش قسمتی کہ سب ایک ہی وقت دنیاچھوڑ کر چلے گئے۔ البتہ ہم دونوں بدقسمت ہیں کہ زندگی بھر ان کے غم سے لڑنا پڑے گا۔“
میں نے دانت پیسے۔” قاتلوں کو چھوڑوں گا تو نہیں۔“
”یہ ہماری مجبوری ہے۔ چودھری اکبر زیادہ عرصہ دھرتی پر چلتا نظر آیا تو لوگ جینا دو بھر کر دیں گے۔“
میں پُرعزم لہجے میں بولا۔”مجھے صرف اپنے کیس کے فیصلے کا انتظار ہے۔“
”السلام علیکم انکل۔“میرے ایک طرف ہوتے ہی امجد قریب ہوا۔
”جیتے رہو بیٹا۔“ چچا نے امجد کے سر پر ہاتھ پھیرا۔
ہم چچا فاضل کی چارپائی کے گرد بیٹھ گئے۔ دوران گفتگو امجد نے اس دن کے حادثے کا ذکر چھیڑ دیا۔
” اس دن مجھے سخت نیند آئی تھی ۔یوں جیسے میں نے بے ہوشی کی دواپی ہو۔لگتا ہے کسی نے کھانے میں بے ہوشی کی دوائی ملائی تھی۔“
چچا فاضل نے ہمیںبہت بڑی الجھن سے نکال دیا تھا۔ ہم رات گئے ہی ہسپتال سے واپس لوٹے۔ چچا نے مجھے مقدمے کے فیصلے تک صبر کرنے کی تاکید کی تھی۔
l l l
آخری پیشی پرچودھری اکبر غیر حاضر تھا۔ عدالت نے رسمی کارروائی کے بعد میری باعزت رہائی کا اعلان کر دیا اور ساتھ ہی جھوٹی گواہی دینے والوں اور چودھری اکبر سے باز پُرس کا حکم دے کر عدالت کی کارروائی برخاست کر دی۔
ہم سیدھے چچا فاضل کے پاس خوشخبری سنانے پہنچ گئے تھے۔وہ بھی یہ سن کر بہت خوش ہوئے۔
واپسی پر میں امجد کو مخاطب ہوا۔”اب کیا ارادہ ہے؟“
” اگر کوشش کریں تو چودھری اکبر کوکٹہرے میں لایا جا سکتا ہے۔آپ گھروالوں کے قتل کی ایف آئی آر توکٹوائیں۔“
میں نے نفی میں سر ہلایا۔ ”گنڈہ پوروں کے فیصلے عدالت میں نہیں ہوتے۔“
امجد جوش سے بولا۔”میں تمھارے ساتھ ہوں۔“
اگلی صبح امجد کے اصرار پر ہم دونوں زمینوں پر چلے گئے۔ گندم اور چنے کی فصل بڑی اچھی اور گھنی نظر آرہی تھی۔
امجد تاسف سے بولا۔” کاشت کرتے وقت انھیں گمان بھی نہیں ہو گا کہ فصل پکنے سے پہلے ہی وہ چلے جائیں گے۔“
میں نے ٹھنڈا سانس بھرااور چنے کی کونپل توڑنے کو جھکا۔ چنے کے سرسبز پودے کی کونپلوں کو ہمارے ہاں رغبت سے کھایاجاتا ہے۔ ان کی لذیذ چٹنی بھی بنتی ہے۔
وہ غیرارادی جھکنا میری جان بچا گیاتھا۔ ”شوں“ کی آواز کے ساتھ گولی اوپر سے گزرگئی تھی۔ کھڑا ہونے کی صورت میں گولی نے میری چھاتی میں لگنا تھا۔میں فوراََلیٹ گیا۔ امجد نے بھی لیٹنے میں دیر نہیں لگائی تھی۔
میں نے اندازہ لگایا، گولی بائیں طرف درختوں کے جھنڈسے چلائی گئی تھی۔
”اب کیا کریں،ہم دونوں منصوبے بناتے رہے اور چودھری اکبر وار کر گزارا۔“
”انڈیا کے اخبار تمھارے کارناموں سے بھرے ہوئے ہیں۔ یہاں بھی کوئی تیر چلا لو۔“
”چلالوں گا،شکاریوں کو نزدیک توآنے دو۔“
”قریب کیوں آئے گا۔ اس نے حجامت نہیںکروانی ہے،گولی چلانا ہے۔“خطرے کے وقت اس کی شوخی لوٹ آئی تھی۔
میں نے کہا” اگر منڈیر تک پہنچ جائیں تو دور نکل سکتے ہیں۔“
اچانک تڑتڑاہٹ کی آواز گونجی کلاشنکوف کی گولیاں ہمارے دائیں ہاتھ موجود منڈیر سے ٹکرائی تھیں۔ اگر بے وقوف درخت کے اوپر چڑھ کر فائر کرتا توہمارا بچنا مشکل تھا۔ ڈھائی تین سو میٹر کے فاصلے پر کلاشنکوف کی گولی خطا نہیں جاتی۔ خصوصاً ہمارے گنڈے پور تو بہت اچھے نشانے باز ہوتے ہیں کہ ہوش سنبھالتے ہی ہتھیار سے کھیلنے لگتے ہیں۔
’یہ گدھا درخت پر چڑھ کر کوشش کرتا تو کامیاب ہو گیا ہوتا۔“ امجد نے میری سوچ کو الفاظ کا روپ دیا۔
” کھسکنے کی کروحضرت۔“ میں نے منڈیر کی طرف رینگنا شروع کر دیا۔ امجد بھی میرے ساتھ تھا۔ منڈیر کی جڑ میں پہنچ کر میں نے ”ایک، دو، تین “ کہا اور ہم نے مینڈک کے انداز میں لمبی چھلانگ لگائی اور منڈیر کے سرے پر پہنچ گئے۔ اگلی چھلانگ میں ہم لڑھکتے ہوئے منڈیر عبور کر گئے تھے۔اس دوران کلاشنکوف پھر گرجی مگر محفوظ رہے۔
”اس طرف ۔“میں جھکے جھکے جنوب کی طرف بھاگ پڑا۔
کھیت کی حدود ختم ہوتے ہی بڑا برساتی نالہ تھا وہاں چھپنے کی بہت سی جگہیں تھیں۔
امجد نے میری تقلید کی تھی۔ گندم کا کھیت کافی گھنا تھا۔ اگرلیٹ جاتے تو ہمیں ڈھونڈنا مشکل ہوجاتا۔ یہی بات جب امجد نے بھی کہی ۔
”بے وقوف! گھیر ے میں آکر چوہے کی موت مریں گے۔“
اس نے پھبتی کسی۔”چوہے کے ساتھ رہ کر چوہے کی موت ہی مرناپڑے گا۔“
میں خاموش رہا۔
ہم منڈیر سے بیس، پچیس گزدور تھے کہ پھر تڑتڑاہٹ ابھری۔ دو گنوں سے فائر کیا گیا تھا۔ ہمیں لٹینا پڑا۔ مڑ کر دیکھنے پر عقبی منڈیر پر دو آدمی کھڑے نظر آئے۔
” صرف دو نظر آرہے ہیں؟۔“ امجد نے کہا۔
میں نے کہا۔ ”تعداد کا تو پتا نہیں البتہ یہ وہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ ہم غیر مسلح ہیں۔“
” مسٹر تجزیہ نگار،ہمارا جوابی فائر نہ کرنا یہی ظاہر کرتا ہے۔“
انھیں منڈیر سے اتر تا دیکھ کر ہم نے ایک دوسرے کو اشارہ کیا اور پھر ایک دم آڑے ترچھے بھاگ پڑے۔ انھوں نے ہمیں نشانہ بنانے کی کوشش کی مگر حرکتی ہدف کو نشانہ بنانا مشکل ہوتاہے۔ہم بھی ٹیڑھے میٹرھے انداز میں بھاگ رہے تھے۔خود بھی نہیں جانتے تھے کہ ہمارا اگلا قدم کہاں پڑے گا تو مخالف کیا اندازہ لگاتے۔ منڈیر کے درمیان میں پہنچتے ہی ہم نے پانی میں چھلانگ لگانے کی طرح ہاتھ آگے بڑھاتے اور کچی زمین پر چھلانگ لگادی۔منڈیر اور پھر نالے اترائی پر لڑھکتے ہوئے ہم نیچے پہنچ گئے۔
حرکت رکتے ہم چند قدم دور موجود کھگل (ہماری مقامی زبان میں ایک درخت کا نام ہے جس کے اوپر کانٹے نہیں ہوتے) کی گھنی جھاڑیوں میں گھس گئے۔ تھوڑا سا آگے جا کر ہم رک کرسانس ہموار کرنے لگے۔
” یہی جگہ ان کے انتظار کے لیے مناسب ہے۔“ امجدکا مشورہ حسبِ حال تھا۔
ہم ایک گھنی جھاڑی میں گھس کر بیٹھ گئے۔تھوڑی دیر بعد ہی ان کی دھیمی دھیمی باتیں سنائی دینے لگیں۔ وہ پشتو میں بات کر رہے تھے۔
”منشی صیب! مشکل دہ چہ اوس منگ تہ ملاﺅ شی۔“ (منشی صاحب مشکل ہے کہ اب وہ ہمیں مل جائیں)
”چرتہ ہم نہ شی تلے۔“ (کہیں بھی نہیں جا سکتے) منشی شاہ نواز کی منحوس آواز ابھری۔ ”نالے کے دونوں جانب اپنے بندے موجود ہیں۔میں جانتا تھااسی راہ سے بھاگنے کی کوشش کریں گے۔“
دونوں باتیں کرتے ہوئے ہمارے قریب آرہے تھے۔ اچانک گولیوں کی تڑتڑاہٹ گونجی ایک لمحے کو سوچا ہم دیکھ لیے گئے ہیں۔اسی وقت منشی کے ساتھی نے پوچھا۔
”کیا ہوا؟“
” یونہی انھیں ڈرانے کو فائر کیا ہے تاکہ رکنے کی حماقت نہ کریں۔“
وہ بے وقوف مقامی نفسیات کو مدِ نظر رکھ کر سوچ رہا تھا کہ ہم چونکہ غیر مسلح تھے اس لیے لازماً بھاگنے کی کوشش کریں گے۔ہمارے غیر مسلح ہونے کی وجہ سے وہ تھوڑے بے پروا بھی تھے۔
”کہیںمشرقی جانب نہ نکل گئے ہوں۔“ منشی کے ساتھی نے تشویش ظاہر کی۔ تب تک وہ اس جھاڑی کے قریب پہنچ گئے تھے جہاں ہم چھپے تھے۔
منشی نے نفی میں سر ہلایا۔”عمر جان مقامی ہے اوراچھی طرح جانتا ہے اس طرف چھپنے کی جگہ موجود نہیں ہے۔ فرار کو یہی سمت ہرلحاظ سے موزوں ہے۔اگر میں اس کی جگہ ہوتا تو یہی راستہ اختیار کرتا۔“ منشی نے ہمارے سامنے والی جھاڑی میں ہلکا سا چھٹا فائر کر دیا۔ ہم لاشعوری طور پر سکڑ گئے کہ کہیں اگلا چھٹا اس طرف نہ کر دے مگر خیریت گزری ۔
وہ چند گزکے فاصلے پر آگے گزرگئے۔ ان کے دوتین قدم لیتے ہی ہم برقی کوندے کی طرحجھاڑی سے نکلے اور ان پر جا پڑے۔ دوڑتے قدموں کی آواز سن کر انھوں نے مڑنے کی کوشش کی مگر اس وقت تک ہم قریب پہنچ چکے تھے۔چند قدم دور ہی سے ہم نے زقند بھری اور دونوں کے سر کی بھرپورٹکریں ان کے پہلوﺅں لگیں، وہ گالیاں دیتے ہوئے ڈھیر ہو گئے تھے۔
ان کے سنبھلنے سے پہلے ہماری ٹھوکریں ان کے ہاتھ پر لگیں اور گنیں چھوٹ کر دور جا گریں۔
اب وہ ہمارے لیے بے ضرر کینچوے کی حیثیت رکھتے تھے۔ مگر یہ بات وہ نہیں جانتے تھے تبھی حملہ کرنے کی کوشش کی اور انھیں پتا بھی نہ چلا کہ کیسے اُڑتے ہوئے دور جاگرے تھے۔
”منشی! ہتھیار ہاتھ میں لے کر زنانی بھی شیر ہوتی ہے۔“ میرا لہجہ غضب سے پر تھا۔
وہ دونوں لرزتے ہوئے کھڑے ہو گئے وہ جسمانی لحاظ سے ہم سے بہت کمزور تھے۔
منشی نے دھمکی دی۔ ” تم بچ نہیں سکتے۔نالے کے چاروں طرف ہمارے ساتھی موجود ہیں۔ وہ بس یہاں پہنچنے والے ہوں گے۔“
ہم نے جھپٹ کر انھیں پکڑا۔”منشی دل تو چاہتا ہے تمھیں تڑپا کر ماروں، مگرافسوس وقت نہیں ہے۔“ میں نے اس کی گردن بے دردی سے مروڑ دی۔ یہی کام امجد دوسرے کے ساتھ کر چکا تھا۔
دونوں ایڑیاں رگڑنے لگے۔ ان کی تلاشی لینے پر تھوڑی نقدی اور کمانی دار چاقو نکلا تھا ۔جو امجد نے جیب میں ڈال لیا۔
انھیں جھاڑیوں میں چھپا کر ہم نے کلا شنکوفیں اٹھالیں۔ دونوں گنوں کے ساتھ 75,75راﺅنڈ کی گول میگزینیں جڑی تھیں۔
امجد نے پوچھا۔”اب کیا کریں؟“
میں اطمینان سے بولا۔ ”اب شکاریوں کا شکار کریں گے۔“
l l l
کلاشن کوفیں ہاتھ میں آنے پر ہمارے حوصلے بڑھ گئے تھے۔ ہم محتاط انداز میں آگے بڑھنے لگے۔ جھاڑیوں سے باہر نکلنے پر دور سے نظر آنے کا اندیشہ تھا۔ہم علیحدہ ہونے کا خطرہ بھی مول نہیں لے سکتے تھے کہ مبادا ایک دوسرے کی گولی کا نشانہ بن جائیں۔ وہاں ہم نے گوریلا جنگ لڑنا تھی اور خوش قسمتی سے ہم دونوں گوریلے ہی تھے۔
حرکت کرتے وقت ہماری کوشش تھی کہ نہ تو پاﺅں کی آواز آئے اور نہ منہ سے سرگوشی نکلے۔ بغیر بات کیے ہمیں ایک دوسرے کی حرکات کا اندازہ تھا۔
دشمن گھات میں لگائے ہوئے تھا۔ اس صورت میں ہماری تلاش میں پھرنے کی بجائے انھوں نے اپنی جگہ پر بیٹھے رہنا تھا اور حرکت میں ہونے کی وجہ سے ہمیں ان کی نظر میں آنا پڑتا۔
ایک بڑے درخت کے قریب پہنچ کر امجد نے میری کلائی کو پکڑ کر آہستہ سے دبایا اور گن کو سلنگ اَپ کر کے بغیر کوئی آواز پیدا کیے درخت پر چڑھنے لگا۔میں نے تنے کے ساتھ ہی آڑلے لی تھی۔
درخت کی بلندی تک پہنچ کر امجد نے گردوپیش کا جائزہ لیا اور نیچے آکر نفی میں سرہلا دیا۔
میں نے سیفٹی لیور کو فائر کرنے کی حالت میں لاکر امجد کی آنکھوں میں جھانکا۔ اس نے رضا مندی میں سر ہلا دیا۔ میں نے جھاڑیوں میں دو ہلکے ہلکے چھٹے فائر کیے اور پھر ہم جھک کر دوڑتے ہوئے ایک جھاڑی میں گھس کر بیٹھ گئے۔ امید تھی گھات میں بیٹھے دشمن تنگ آ کر ہماری تلاش میں نکلیں گے۔یوں انھیں نشانہ بنانا آسان رہتا۔ دو آدمی جہنم واصل ہو چکے تھے، ان کی طرف سے بھی اشارہ وغیرہ نہ ملنے کی صورت میں انھیں بے چین ہو کر گھات سے نکلنا پڑتا۔ایسی جنگ ہمیشہ انسانی نفسیات کو سامنے رکھ کر لڑی جاتی ہے۔گولی کسی کی رشتادار یا اپنی نہیں ہوتی۔نہ کمانڈو اور عام آدمی کے جسم میں فرق روا رکھتی ہے ۔اس لیے بے احتیاطی یا اندھا دھند فیصلہ ہمیں نقصان پہنچا سکتا تھا۔ہمیں دشمن کا نشانہ بننے کے بجائے انھیں اپنا شکار بنانا تھا۔
منشی کی فائرنگ اور پھر تھوڑے وقفے کے بعد میری فائرنگ کی آواز نے انھیںبے چین کر دیا تھا، تبھی انھیں کمین گاہ سے نکلنا پڑا۔مجھےچند آدمیوں کے قدموں کی چاپ سنائی دی اور پھر گھبرائی ہوئی آواز آئی ۔
”شاہ نوازا.... اوے لاکا شاہ نوازا۔“ وہ نواز کوپکار رہے تھے جو آواز کی رسائی سے بہت دور جا چکا تھا۔
میں نے بغیر آہٹ کیے اپنا رخ عقبی جانب موڑ دیا کہ کہیں دشمنوں کاآدمی اس جانب سے نہ آرہا ہو۔ سامنے امجد کی ذمہ داری تھی۔ یوں بھی اس کا نشانہ مجھ سے بہتر تھا۔ بلکہ دوران تربیت نشانہ بازی واحد مرحلہتھا جس میں امجد نے ہمیشہ سبقت لیے رکھی۔
عقبی طرف کوئی حرکت نظر نہیں آرہی تھی۔پھر بھی میں نے اسی جانب نگرانی جاری رکھی۔
امجد کی سرگوشی ابھری ۔”دو ہیں، دونوں کو پار کر رہا ہوں۔“میں خاموشی رہا۔ میری چپ کو رضا مندی جانتے ہوئے اس نے بغیر کسی وقفہ کے دو گولیاںفائر کیں۔ ان کی چیخیں سن کر پتا چل گیا تھاکہ امجد کا نشانہ کامیاب رہا تھا۔
چند لمحے ٹھہر کر میں نے امجد کو وہیں رہنے کا اشارہ کیا اور رینگتا ہوا لاشوں کی طرف بڑھا۔ امجد نے گردوپیش کی نگرانی جاری رکھی۔
گولیوں نے دونوں کی چھاتی میں سوراخ کر دیئے تھے۔ پہلے آدمی پر تو اس نے شست لے کر گولی چلائی تھی لیکن دوسری گولی بغیر وقفہ کے فائر کی تھی اور اتنی جلدی شست تبدیل کرنا یقینا مہارت تھی۔ تلاشی لینے پر ایک کے نیفے میں اڑسا ہوا 30بور پسٹل اور دوسرے کی جیب سے ایک بھری ہوئی میگزین نکال کر میں جھک کر دوڑتا ہوا امجد کے پاس پہنچا۔ ان کے ہتھیار اٹھانا میں نہیں بھولا تھا۔
اضافی ہتھیار اسی جگہ چھپا کر ہم رینگتے ہوئے آگے بڑھے، کیوں کہ وہاںگھیرے میں آ سکتے تھے۔ پچاس ساٹھ گز دور آ کر پھر آڑپکڑ لی ،اس مرتبہ ہم نے نسبتاً گہری جگہ میں مورچہ پکڑا تھا۔ ہمیں زیادہ دیر انتظار نہ کرنا پڑا۔جلد ہی جوڑی نظر آگئی۔شاید تمام کو دو دو کی پارٹیوں میں تقسیم کیا ہوا تھا۔
ہماری گنوں نے بیک وقت گولی اگلی اور دونوں چیختے ہوئے نیچے گر کر تڑپنے لگے۔ اسی وقت داہنی جانب سے گولیوں کی بارش شروع ہو گئی۔ ہم نے جوابی فائرنگ کے بجائے خاموشی مناسبسمجھی کہ بغیر مقصد کے گولی ضائع کرنا کبھی کمانڈوز کا خاصا نہیں رہا۔ یوں بھی جس جگہ چھپے تھے وہاں ہمیں نشانہ بنانا ناممکن نہیں تو مشکل ضرور تھا۔
جواب نہ ملنے پر جلد ہی مخالفین نے فائر کرنا بند کر دیاتھا۔ شایدانھیں بھی ایمونیشن کے کم ہو نے کا احساس ہو گیا تھا۔
”یہاں سے نکلنا پڑے گاکیوں کہ ہمیں آڑمیسرہے تو دشمن بھی نظر نہیں آرہا۔ لڑائی کاطول کھینچنا ہمارے لیے نقصان دہ ہے۔انھیں کمک مل سکتی ہے ہماری مدد کوکوئی نہیں آنا۔“
امجد نے پوچھا۔”ان جھاڑیوں سے آگے جگہ کیسی ہے؟“
”نالے سے باہرکاشت شدہ علاقہ ہےاور نالے کے اندر اکا دکا درخت اور کٹی پھٹی زمین ہے۔“
”چلیں۔“ امجدجھاڑی سے باہر رینگ گیا۔
چاروں طرف بکھری ہوئی گھنی جھاڑیاں نظری آڑ مہیا کر رہی تھیں، ہمارے حرکت کرنے کے چند لمحے بعد ٹھیک اسی جگہ دو تین برسٹ اور فائر ہوئے جہاں ہم پہلے چھپے ہوئے تھے۔ اس کا مطلب یہی تھا کہ دشمن ہمارے وہاںسے کوچ کر نے سے لاعلم تھے۔
گھنی جھاڑیاں بتدریج چھدری چھدری اور پھر بالکل کم ہو گئیں۔ اس دوران ہم دونوں نے کھڑے ہونے کی غلطی نہیں کی تھی اور یہی احتیاط ہماری جان بچا گئی کیوں کہ جھاڑیوں کے جھنڈ سے باہر ایک اکیلی گھنی جھاڑی کی آڑ لے کر جب ہم نے گردو پیش کا جائزہ لیا تو نالے کے بائیں جانب کھیت کی منڈیر کے پیچھے ہمیں دوآدمی جھنڈ کیجانب نگران نظر آئے۔ “
امجد نے آہستہ سے کہا۔”دائیں طرف بھی کوئی نہ کوئی ضرور ہو گا؟“
”شاید۔“
”اگر ہم چند گز مزید نالے کے بائیں طرف ہو جائیں تو کم از کم ان دو کی نظروں میں آنے سے بچ سکتے ہیں۔“
میں نے خیال ظاہر کیا۔”اگر دا ہنی جانب کوئی ٹولی بیٹھی ہوئی تو ہم آسانی سے ان کی نظر میں آ جائیں گے۔“
” کیا یہیں پڑے رہیں؟“
میں نے کہا۔” نالے کے درمیان رینگتے ہوئے آگے بڑھنے کی کوشش کرتے ہیں۔“
”یوں دونوں اطراف سے دیکھ لیے جانے کا خطرہ ہے۔“
”کیوںناں ان دونوں کو ختم کر دیں؟“
”یوں چاروں اطراف سے گھیر لئے جائیں گے۔“
”تو پھر بائیں جانب ہی چلتے ہیں۔“ میں بائیں طرف رینگنے لگا۔ امجد وہیں لیٹا رہا۔جب تک میں ان کی نظروں سے چھپنہ جاتا امجد نے غلاف(کور) مہیا کرنا تھا ۔اور پھر وہی ہوا جس کا اندیشہ تھا۔ جھاڑی سے نکل کر میں چند گز ہی آگے بڑھا ہوں گا کہ امجد کی کلاش کوف گرجی۔ یہ خطرے کا الارم تھا۔ میں نے لیٹے لیٹے سامنے کی طرف جست لگائی اور پھر تیزی سے لڑھکتا ہوا ممکنہ خطرے کی زد سے نکل گیا۔ دشمن نے ٹھیک اسی جگہ فائر کیا تھا جہاں میں پہلے موجود تھا۔ امجد کے فائر سے صرف ایک بندہ ہلاک ہوا تھا۔امجد زمین سے چپک کر لیٹ گیا۔ اس کی نظریں مسلسل بائیں سمت گڑی تھیں ۔
میں نے گڑھے میں لیٹ کر داہنی طرف کھوجنے لگا۔ امجد زیادہ خطرے میں تھا۔ امجد کو نشانہ بنانے کے لیے دشمن کو سر اوپر اٹھانا ضروری تھی،لیکن اس صورت میں وہ خود ہدف بن جاتا تبھی وہ منڈیر کے پیچھے چھپا بغیر نشانہ لیے ہلکے چھٹے فائر کر رہا تھا۔ میں نے مخالف جانب متوجہ رہا مگر اس طرف حرکت دکھائی نہ دی۔
امجد نے زیادہ دیر انتظار نہ کیا اورخطرہ مول لیتے ہوئے میرے طرف رینگنے لگا۔چونکہ وہاں پڑا رہنا بھی کم خطرناک نہیں تھا اس لیے میں اختلاف نہ کر سکا۔
امجدآدھا فاصلہ ہی طے کر سکا تھا کہ جھاڑیوں سے چار بندے بھاگتے ہوئے باہر نکلے۔ میں نے فوراََحفاظتی لیور کوچھٹے پر سیٹ کرتے ہوئے لبلبی دبا دی۔ گولیوں کی بوچھاڑ سے دو بندے تو چیختے ہوئے ڈھیر ہو گئے۔اورباقی دونوں جھاڑیوں کی آڑ لے کر نظروں سے اوجھل ہو گئے ۔ میں نے جھاڑیوں پر فائرنگ جاری رکھی تاکہ امجد خطرے سے نکل کر مجھ تک پہنچ جائے۔
امجد نے بھی خطرہ محسوس کرتے ہی رفتار تیز کرلی تھی لیکن اٹھنے کی حماقت نہ کی۔ جلد ہی وہ میرے پاس گڑھے میں آگیا۔
پسینہ صاف کرتے ہوئے اس نے پھلجھڑی چھوڑی۔ ”آج میری ہونے والی بیوی ،بیوہ ہونے سے بال بال بچی ہے۔“
میں نے منہ بنایا۔”اس کی بدقسمتی کا سوگ منانے کے علاوہ کیا کہہ سکتا ہوں۔“
”اس نے سن لیا توقتل کرنے سے بھی نہیں رکے گی۔“
میں ہنسا۔ ”خوش فہمیاں....“
اس نے موضوع تبدیل کیا۔”اچھا کتنے گرالیے؟“
”چار تھے، دو چھپ گئے ہیں۔“
اس نے حساب لگایا۔” ایک مجھ سے بچ گیا ہے، ان کے علاہ نامعلوم کتنے خبیث ہیں۔“
”جتنے بھی ہوں ،آج ان شاءاﷲ ایک بھی نہیں بچے گا۔“ میں نے عزم ظاہر کیا۔
اس نے پوچھا۔” چودھری اکبر تونظر نہیں آیا۔“
میں ہنسا۔”وہ بزدل بس بندھے ہوئے مخالف کا سامنا کرسکتا۔“
اس نے دہائی دی۔”اب تواس گڑھے میں پھنس گئے ہیں۔“
”ایسا کرو اکا دکا فائر کرتے رہو میں جنگل میں جاکر انھیں پیچھے سے گھیرتا ہوں۔“
اس نے کہنا چاہا۔”یہ مجھے کرنے دو....“ مگر میں گڑھے سے نکل کرآگے بڑھ گیا تھا۔ مجبوراًاسے وہیں دبکنا پڑا۔
عموماََ رینگنے والے کی چھاتی زمین سے اٹھی رہتی ہے مگروہاں بالکل آڑ موجود نہیں تھی اس لیے مجھے زمین سے چپکنا پڑ گیا تھا۔ کہنیوں اور گھٹنوں کے بجائے میں ہاتھ کی ہتھیلیوں اور پاﺅں کے پنجوں سے کام لے رہا تھا۔ پچاس ساٹھ گز کا فاصلہ جب انچوں کے حساب سے طے کرناپڑے تو بہت طویل محسوس ہوتا ہے۔البتہ ثابت قدمی ایسا نسخہ کیمیا ہے جو کامیابی سے ہم کنار کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔
میں جلد ہی جھاڑیوں کیقطار تک جا پہنچا۔ جھاڑیوں کی آڑ لیے ہی میں اٹھ بیٹھا اور اپنا سانس درست کرنے لگا۔ آگے میں جھک کر بڑھ سکتا تھا۔ بڑھنے سے پہلے غیر ارادی طور پر میری نظر امجد کی سمت اٹھی۔ نالے کی سیدھی چڑھائی کے اوپر ایک بندہ دبے قدم آگے بڑھ رہا تھا۔ کنارے پر پہنچ کر اسے امجد نظر آنے لگتا۔ ہتھیار اس نے فائر کرنے کی پوزیشن میں تھاما ہوا تھا۔ میرے پاس امجد کو آگاہ کرنے کا موقع نہیں تھا۔حفاظتی لیور کو برسٹ پرسیٹ کرتے ہوئے میں نے لبلبی دبا دی۔تاکہ گولی خطا ہونے کا خطرہ نہ رہے۔ اگر فائر کرنے میں چند سیکنڈ وں کی تاخیرہوجاتی تو وہ کامیاب ہو گیا ہوتا۔
گولیوں کی بوچھاڑنے اسے سر کے بل نیچے گرادیاتھا۔ تڑتڑاہٹ کی آواز سن کر ایک لمحے کو تو امجد بھی اچھل پڑا تھا مگر اس نے گڑھے سے باہر نکلنے کی غلطی نہیں کی تھی۔ میری گولی کا شکار ہونے والا امجد کے سامنے ہی مع اپنے ہتھیار کے گرا تھا۔
فائر کرتے ہی میں زمین پر لیٹ گیا اور میرا بروقت لیٹنا کام آگیا کہ ”شوں ....شوں“ کی آواز سے گولیاں میرے اوپر سے گزرگئیں۔ میں پھر رینگ کرآگے بڑھنے لگا۔ دشمن مسلسل سابقہ جگہ کو نشانہ بنائے ہوئے تھا۔ تھوڑا سا آگے آ کر میں اٹھا اور جھک کر دوڑتا ہوا دور ہٹنے لگا۔ مناسب فاصلے پر پہنچ کر میں محتاط انداز میں دشمن کی جانب بڑھنے لگا۔ کلاشن کوف گولیاں اگلنے کو تیار تھی۔
نزدیک پہنچ کر میں نے رفتار بالکل آہستہ کرلی۔ مزید چند قدم لینے کے بعد میری سماعتوں میں ہلکی سی آوازآئی اور میں احتیاط سے زمین پر لیٹ گیا۔
”کرم شاہ! اوس منگ گوشی پاتے شو....زہ چہ منڈا او واو۔“ (کرم شاہ اب اکیلے رہ گئے ہیں، چلو بھاگ نکلتے ہیں)
کرم شاہ نے پریشانی ظاہر کی۔” خان صیب بہ خفا شی۔“ ( خان صاحب خفا ہو جائے گا)
اول الذکرنے جھلا کرکہا۔”خان صاحب کی خفگی سے زندگی کہیں بہتر ہے، دونوں خنزیر تو پتا نہیں جن ہیں یا بھوت ، اچانک ظاہر ہو کر اپنا کام کر گزرتے ہیں ۔بارہ بندوںمیں ہم دو ہی باقی بچے ہیں۔“
درست سوچنے میں اس نے دیر کر دی تھی۔میں بلائے ناگہانی کی طرح ان کے سر پر پہنچ چکا تھا۔ لبلبی دبا کر میں نے بچ جانے والے دو کو اکیلا کردیا۔
”ہتھیار پھینک کر تم ساتھیوں کی ہمراہی سے بچ سکتے ہو۔“
اس نے سرعت سے کلاشن کوف پھینک دی۔
میں نے امجد کو آواز دی۔ ” آجاﺅ ماجے! صلح ہو گئی ہے۔“
چند لمحوں بعد امجد میرے پاس پہنچ گیاتھا۔
امجد نے تصدیق چاہی۔” یہ آخری ہے۔“
”اگر خان صاحب نے ان کی تلاش میں مزید بندے نہ بھیجے تواسے آخری سمجھو۔“
امجد نے کہا۔” میں ذرا ہتھیار اکٹھے کرلوں،پھر اس سے گپ شپ کرتے ہیں۔“
میں نے کرم شاہ کی تلاشی لے کر اسی کی پگڑی سے اس کے ہاتھ پشت پر باندھ دیئے ۔امجد جلد ہی ہتھیار اکٹھے کر کے میرے پاس پہنچ گیاتھا۔
اس نے پوچھا۔”پوچھ گچھ کو محفوظ جگہ مل جائے گی؟“
”یہاں کیا مضائقہ ہے۔“
اس نے اندیشہ ظاہر کیا۔”پولیس نہ آجائے، کافی دیر سے فائرنگ ہو رہی ہے۔“
میں نے منہ بنایا۔” گنڈہ پوروں میں فائرنگ آئے روز کا معمول ہے،پولیس مداخلت نہیں کرتی۔ البتہ ان کے خان صاحب کاکچھ نہیں کہہ سکتا۔“
امجد نے اثبات میں سرہلایا۔”گویایہاں پوچھ گچھ کو موزوں نہیں ہے۔“
” مغربی جانب کلو میٹر بھر دورنالے کے کنارے ویران مکان ہے وہاںچلتے ہیں۔“
کرم شاہ نے خوف زدہ لہجے میں کہا۔”مجھے زندہ چھوڑنے کا وعدہ کریں،یہیں سب کچھ بتانے کو تیار ہوں۔“
میں اطمینان سے بولا۔”سودہ بازی چھوڑوہمیں اگلوانا آتا ہے۔“
اس نے اڑی کرنے کی کوشش کی مگر ہمارے تیور دیکھ کر سر جھکا کر چل پڑا۔ امجد نے تمام کلاشن کوفوں کو ایک چادر میں ڈال کر کندھے پر اٹھالیا۔
کرم شاہ نے غلط حرکت کرنے کی کوشش نہیں کی تھی۔ پندرہ بیس منٹ بعد ہم کھنڈر نما مکان میں پہنچ گئے تھے۔ ٹوٹی پھوٹی چاردیواری ، بغیر دروازوں کے دوکمرے جن کی چھتوں میں بڑے بڑے شگاف تھے۔
امجد نے رائفلوں کابنڈل نیچے رکھا اور خنجر نکال کر دھار پر انگلی پھیرنے لگا۔ یہ خنجر اس نے کسی لاش کی جیب سے نکالا تھا۔ وہ کرم شاہ کو خوفزدہ کرنے کی کوشش میں تھا مگر کرم شاہ ویسے ہی اتنا خوفزدہ تھا کہ اس کی خاص ضرورت نہیں تھی۔
میں نے پوچھا۔” تم چودھری اکبر کے گرگے ہو؟“
اس نے نفی میں سر ہلایا۔”ہم میر نیاز خان کے آدمی ہیں۔“
”یہ کون ذات شریف ہے؟“
وہ جلدی سے بولا۔”چودھری اکبر کا ہونے والا سسراور،کالی وال کا خا ن ہے۔“ کالی وال میرے گاﺅں سے خیل سے چند کلومیٹر دورہے۔
میں نے حیرانی سے پوچھا۔”مجھ سے دشمنی کی وجہ ؟“
”چودھری اکبر اور خان صیب نے ایک دوسرے کی مدد کامعاہدہ کیا ہے۔“
”ہماری حویلی کو آگ لگانے میں میر نیاز خان کا بھی ہاتھ تھا؟“
اس نے انکار میں سر ہلایا۔ ”نہیں۔“
”چودھری اکبر کی شادی کب ہے؟“
”پتا نہیں،بس اتنا معلوم ہے کہ چوددھری اکبر اپنی بہن کا رشتہ خان صیب کے اکلوتے بیٹے گل ریز خان کو دے رہا ہے اور خود اس کی بیٹی رضیہ بی بی سے شادی کر رہا ہے۔“
”منگنی ہو چکی ہے؟“میرے سوال جاری رہے۔
”چودھری اکبر اور رضیہ بی بی کی منگنی تو ہو چکی ہے البتہ گل ریز خان کی منگنی چند دنوں میں متوقع ہے۔“
”حملہ کرنے والے تمام بندے میر نیاز خان کے تھے؟“
” صرف منشی شاہ نواز چودھری اکبر کا آدمی تھا۔ اس نے ہمیں شناخت کرانا تھی، کہ ہم آپ کی شکل سے ناواقف تھے۔“
” ہمیں قتل کرنے کا ارادہ تھا؟“
اس کا سر نفی میں ہلا۔ ” زندہ پکڑنے کا حکم ملا تھا۔“
امجد نے پوچھا۔” وجہ؟“
”نہیں جانتا۔“ اس نے بے بسی ظاہر کی۔
امجد میری طرف متوجہ ہوا۔”اس کا کیا کرنا ہے؟“
وہ گڑگڑایا۔”بب.... بھائی صیب میرے چھوٹے چھوٹے بچے ہیں۔“
امجد نے موشگافی کی۔”اگر چند گھنٹوں میں بڑے ہو سکتے ہیں تو ہم انتظار کر سکتے ہیں۔“
میں تلخ ہوا۔”راتلل وخت درتہ ماشو مان یادنہ او۔“(آتے وقت تمھیں بچے یاد نہیں تھے)
”غلطی ہو گئی۔“اس نے ہاتھ جوڑ دیئے تھے۔اپنے ساتھیوں کی لاشیں دیکھنے کے بعد اسے ہماری سفاکی میں شک نہیں تھا۔
امجد نے آسان سے شرط پیش کی۔” خان صیب کی حویلی کا اندرونی نقشہ تفصیل سے بتادو تاکہ تمھیں چھوڑنے کے بارے سوچ سکیں۔“
کرم شاہ فرفر میر نیاز خان کی حویلی کے بارے معلومات اگلنے لگا۔ حملہ آور افراد کے بارے اس نے بتایا کہ منشی،کرم شاہ اور ہمارے ہاتھوں مرنے والے آخری بندے کے علاوہ باقی تمام فراری (ایسے افراد جوجرم کر چھپتے پھر رہے ہوں اور پولیس کو مطلوب ہوں)
مجھے زندہ پکڑنے کا پچاس ہزارروپے معاوضا طے ہوا تھا۔پچیس ہزار روپے وصول کر چکے تھے اور بقایا مجھے خان کے حوالے کرتے وقت لیتے۔
میں نے اسے دفع ہونے کا اشارہ کرتے ہوئے کہا۔”اپنے خان کو بتا دینا جلد ملاقات ہو گی۔“
بوکھلائے ہوئے انداز میں سلا م کر کے وہ بھاگ پڑا تھا۔ اس کے غائب ہوتے ہی ہم نے ہتھیارایک گڑھے میں چھپادیئے۔ سوائے ایک کلوزبٹ کی کلاشن کوف کے جو امجد نے کندھے سے لٹکا کر اوپر کوٹ پہن لیا تھا۔ دوپستول بھی ہم نے اپنے پاس رہنے دیئے تھے۔وہاں سے سیدھا گھر پہنچے۔ اسلم بھائی بے قراری سے منتظرتھا۔
”سارادن کہاں غائب رہے؟“
امجد اطمینان سے بولا۔” پہلے نہائیں گے،پھر کھانا کھائیں گے اور آخر میں بتائیںگے۔“
اسلم ہنسا۔”میں غسل خانے میں گرم پانی رکھ دیتا ہوں۔“
تھوڑی دیر بعد ہم کے کھانے سے فارغ ہو کر چائے پیتے ہوئے اسلم کو اپنی کہانی سنا رہے تھے۔
اسلم بھائی نے تشویش ظاہر۔ ”میر نیاز خان توکالی وال کا بہت بڑا بدمعاش ہے۔ سرکاری حلقوں میں بھی کافی اثرورسوخ رکھتا ہے۔ اس کی اصل آمدن اسلحے اور نشہ آور اشیاءکی سمگلنگ ہے۔“
میں نے پوچھا۔”اس کا بیٹا بھی کاروبار میں شریک ہے؟“
”بیٹا چھوڑو، بیٹی بھی پیش پیش ہے۔“
”کیا؟“ہم حیران رہ گئے تھے۔
” سولہ جماعت پاس ہے، گاڑی خود چلاتی ہے ،دوپٹا نہیں اوڑھتی ، پتلون پہنتی ہے۔ اوربال بھی مردوں کی طرح چھوٹے چھوٹے ہیں۔“
”اتنی تعلیم یافتہ لڑکی نے چودھری اکبر کے ساتھ شادی کرنا کیوں قبول کیا؟“میری حیرانی سوا ہو گئی تھی۔
اسلم بھائی نے اندازہ لگایا۔ ” چودھری اکبر کی زمین جائیداد پر بھی نظر ہوگی اوراس کی واجبی تعلیم کی وجہ سے بیوی کا نفسیاتی دبا ﺅ بھی رہے گا۔“
امجد نے لقمہ دیا۔ ”ایسی آزاد خیال لڑکیاں کم تعلیم یافتہ خاوند پسند کرتی ہیں تاکہ ان کی آزادی میں خلل نہ پڑے۔“
”اسلم بھائی!اب نیا محاذ کھل گیا ہے،بہتر ہوگاآپ باجی اور ممانی جان کو کسی محفوظ جگہ پر چھوڑ آئیں تاکہ ہم یکسو ہو کر ان کا مقابلہ کر سکیں۔“
اسلم مایوسی سے بولا۔”میری نظر میں تو کوئی محفوظ جگہ نہیں ہے۔“
امجد اطمینان سے بولا۔”میرا گھربہترین ٹھکانہ ہے۔“
اسلم نے کہا۔” گھروالوں کو وہاں چھوڑ کر واپس آجاﺅں گا۔“
امجد نے جان چھڑائی۔”ضرورت پڑی تو تار دے کر بلالیں گے۔“
”امی جان کو آپ خود راضی کریں گے۔“
” ممانی جان سے ابھی بات کر لیتے ہیں۔“ میں گھر کی طرف بڑھا،اسلم میرے ساتھ تھا۔
ممانی جان میری بلائیںلینے لگی ۔ جب بھی مجھے دیکھتیںان کے آنسو بہنے لگتے ۔
”بیٹا !آج سارا دن کہاں غائب رہے ہو؟“ میری پیشانی چومتے ہوئے انھوں شفقت سے پوچھا۔
”زمینوں پر گئے تھے ممانی جان۔“
” بہت زیادہ فائرنگ ہورہی تھی، میں توڈر ہی گئی تھی۔“
”فائرنگ تو یہاں آئے روز کا معمول ہے۔“
وہ آبدیدہ ہوئیں۔”بیٹا!احتیاط کیاکرو،اب تمھارے علاوہ ہاشم جان کا نام زندہ رکھنے والا کوئی باقی نہیں رہا۔“
میں اثبات میں سرہلاتے ہوئے مدعے پر آیا۔”ممانی جان !باجی کو علاج کے لیے کراچی بھیجنا ہے۔ آپ کو بھی ساتھ جانا پڑے گا۔“
انھوں نے حیرانی ظاہر کی۔”ڈیرہ اسماعیل خان میں ڈاکٹر نہیں ہیں کیا؟“
میں نے نفی میں سرہلایا۔ ”کراچی جانا پڑے گا،یہاں اچھا ماہر نفسیات موجود نہیں ہے۔“
”ٹھیک ہے پُتر۔“ خلافِ توقع وہ آسانی سے راضی ہو گئی تھیں۔
” صبح باجی اور اکرم خان کو تیارکر لینا۔“
”اتنی جلدی ؟“ ان کے لہجے میں حیرانی تھی۔
”پہلے بھی دیر ہو گئی ہے ممانی جان۔یہ نہ ہو باجی کی حالت مزید گڑ جائے۔“
انھوں نے پوچھا۔” رہیں گے کہا ں ؟“
”امجد کے گھر۔“
”ٹھیک ہے۔“انھوں نے اثبات میں سرہلادیا۔
کچھ دیر گپ شپ کر کے میں بیٹھک میں آگیا۔امجد بستر میں گھسا تھا۔میں نے اسلم بھائی کو کہا۔
” آج رات محتاط رہنے کی ضرورت ہے کیوں کہ دشمن بدلہ لینے کی کوشش کر سکتا ہے۔آپ مورچے میں چلے جائیں میں تھوڑا آرام کر کے آپ کی بدلی کر لوں گا۔“
وہ اطمینان سے بولا۔” آپ آرام کریں میں اکیلا کافی ہوں۔“
جاری ہے
قسط نمبر18
ریاض عاقب کوہلر
میںنے پچاس ہزارروپے اسلم بھائی کے حوالے کیے۔ اور انھیں کراچی کی بس میں بٹھا کر ہم واپس آگئے۔ پہلوان ہوٹل سے رحمن خیل جاتے ہوئے پولیس کی دو گاڑیاں ہمیں جنگل کی طرف جاتی نظر آئیں۔
امجدہنسا۔ ”ہماری تیز طرار پولیس کو پتا چل گیا ہے کہ جھگڑا ختم ہو چکا ہے۔“
”دفع کرو ، یہ بتاﺅ چھٹی کتنی باقی ہے۔“
” انیس دن۔“
میں نے مشورہ دیا۔”تمھیں گھر لوٹ جا نا چاہیے۔“
”چودھری اکبر کا کانٹا تونکل جائے ۔“
میں نے دانت پیسے۔”اس کی الٹی گنتی شروع ہو چکی ہے۔“
اس نے پوچھا۔”تو آج ہو جائے؟“
” ضروری معلومات حاصل کر کے ہی اس پر ہاتھ ڈال سکتے ہیں۔“
”اور معلومات کہاں سے حاصل ہوں گی؟“
”مل کر سوچتے ہیں۔“ میں تالا کھول کر گھر میں داخل ہوا۔
اس نے مشورہ دیا۔”کسی نوکر کو پکڑ کر سب کچھ اگلو الیتے ہیں۔“
”ایسانوکر جو حویلی کے اندر کا م کرتا ہو،لیکن یوں وہ چوکنا ہو جائے گا۔“
” پھر اسے گھر کے باہر گھیرتے ہیں۔“ امجدنے دوسری تجویز پیش کی۔
میں نے منہ بنایا” بہ قول ِاسلم بھائی ،اس کے ہمراہ محافظوں کی پوری پلاٹون ہوتی ہے۔“
امجد طنز سے بولا۔”تو اسے چٹھی لکھ کر درخواست کر لیتے ہیں کہ ہمیں خود کو قتل کرنے کا موقع عنایت کرے۔“
میں نے کہا۔”ہمارے ہاں لڑکی کو پھانسنے کے لیے مرد کسی چالاک بڑھیاکا استعمال کرتے ہیں،کیوں پردے کی وجہ سے براہ راست لڑکی کو ملنا مشکل ہوتا ہے،شاید کوئی ایسی عورت ہمارا مسئلہ حل کر دے۔“
امجد ہنسا۔” تجربے کار معلوم ہوتے ہو۔“
”کہاں یار! تمھاری بھابی....“ میں بے ساختہ سعدیہ کا نام لینے لگا تھامگر ایک دم دل پر گھونسا لگا۔ میری شریک حیات،دکھ درد کاساتھی،میرے انسو پونچھنے والی،میری پریشانیوں کو سنبھال کر فکروغم سے آزاد کرنے والی،منوں مٹی تلے سوئی تھی۔اتنی دور جا چکی تھی جہاںسے لوٹنا ناممکن ہوتا ہے۔
میں نے چارپائی پر لیٹ کرچادر اوڑھ لی۔ سعدیہ کی یادیں یوں امڈرہی تھیں جیسے برسات میں بادل اکٹھے ہوتے ہیں۔ آنسو روکنا بے شک مشکل ہے مگر انھیں لوگوں سے تو چھپایا جاسکتا ہے۔
”واپس کب آﺅ گے۔“ اس نے میری قمیص کے بٹنوں سے کھیلتے ہوئے معصومانہ لہجے میں پوچھا تھا۔ ”جلدی آنے کی کوشش کرنا، اگر چھٹی نہ ملے تو نائیٹ پاس آجانا۔“ مجھے آخری مرتبہ الوداع کرتے ہوئے اس نے یہی کہا تھا۔اور یہی وہ فقرے تھے جو ہر چھٹی ختم ہونے پر مجھے رخصت کرتے وقت کہاکرتی تھی ۔اورمیں اسے سینے سے لگا کر ماتھے پر بوسا دیتا ....
” چند دن کی تو بات ہے، یوں گیا اور یوں آیا۔“
وہ رنکھی ہوتی۔”آپ کی جدائی میں گزرنے والا ہرلمحہ مجھے سال لگتا ہے۔“
میں ہنستا۔”جب مر جاﺅں گا تو پھر کیا کرو گی؟“
”ایسا نہیں ہو سکتا۔“ وہ بڑے وثوق سے کہتی۔
میں اس کا جواب جانتے ہوئے بھی میں پوچھتا۔”کیوں؟“
”کیوں کہ میں نے ہمیشہ اپنے رب سے ایک ہی التجا کرتی ہوں،کہ مجھے اپنی جان کے مرنے کا دکھ نہ پہنچے۔“
اور رب نے اس کی دعا قبول کرلی تھی۔ اب مجھے اس کی جدائی کا دکھ سہنا تھا۔ بے شک وقت ہر زخم کو بھردیتا ہے، مگر کچھ زخم ایسے ہوتے ہیں کہ ٹھیک ہونے کے بعد بھی نشان باقی رہتا ہے۔ وہ بھی میرے دل پرکچھ ایسے ہی زخم چھوڑ گئی تھی کہ جن کا مندمل ہونا بہت مشکل تھا۔ انتقام لینے کا جذبہ تھا جس نے میرے ہوش وحواس برقرار رکھے تھے ورنہ میرا حال بھی جمیلہ باجی جیسا ہوتا۔
کہتے ہیں کسی شخص کو لقوہ ہو جائے تو اس کے منہ پر زور سے تھپڑ مارنے سے بعض اوقات لقوہ ٹھیک ہو جاتا ہے اور ایسا صرف غصے کی وجہ سے ہوتا ہے جو بے قصور تھپڑ کھا کرمریض کے اندر پیدا ہوتا ہے۔
یہ حادثہ شاید مجھے ذہنی طور پر مفلوج کر دیتا مگر انتقام لینے کا جنون مجھے ہوش میں لے آیا تھا۔ ہم کافی دیر چپ چاپ خیالوں میں گم لیٹے رہے۔ یہاں تک کہ شام کی اذان ہونے لگی۔
امجد نے خاموشی کو توڑا۔”جانو صاحب !کھانے کی فکر کرو۔“پینے کے بارے میں سوچو۔“ مجھے بالکل بھوک نہیں تھی اورجانتا تھاامجد کا بھی یہی حال ہو گا، مگرغمگین یادوں سے پیچھا چھڑانے کو ہلچل ضروری تھی۔
میں اٹھ بیٹھا۔” ممانی جان نے کھانا تیار کر کے رکھ دیا تھا۔“
اس نے بھی بستر چھوڑ دیا۔ باورچی خانے میں گھس کر ہم نے کھانا گرم کیا اور ایک دوسرے کے دکھانے کوجبراََ منہ چلانے لگے۔
کھانے کے بعد چائے پیتے ہوئے امجد نے پوچھا۔”تو کیافیصلہ سوچاہے؟“
”ایک دو عورتیں میری نظر میں ہیں، صبح ان سے ملاقات کریں گے۔“
اس نے مشورہ دیا ۔” خیال رکھنا وہ چودھری اکبرکی خیر خواہ نہ نکلے۔“
میں بے پروائی سے بولا۔”خطرہ مول لینا پڑتا ہے ۔“
ہم کافی دیر تک منصوبہ بندی کرتے رہے۔ یہاں تک کہ امجد جمائی لے کر بولا۔
” سوتے ہیں۔“
” میں مورچے میں لیٹوںگا۔“
”اکٹھے چلتے ہیں۔“ امجد اٹھ گیا۔
میں نے نفی میں سرہلایا۔”مورچے میں صرف ایک بندے کے سونے کی جگہ ہے ۔اور ایک کا نیچے ہونابھی ضروری ہے۔“
امجد منہ بناتے ہوئے بیٹھک میں گھس گیا۔
l l l
رات خیریت سے گزری تھی۔ صبح امجد کے مشورے پر ہم نے پہلوان ہوٹل کا رخ کیا۔امجد نے کلاشن کوف کندھے پر لٹکا کر اوپر سے جیکٹ پہن لی تھی ۔
ہوٹل میں ڈرائیور اور مزدور حضرات کا کافی رش تھا۔ ہم نے بھی ایک چارپائی سنبھال کر چائے اور حلوہ پوری کا بتادیا۔ ڈٹ کرناشتا کرکے امجد اخبار پڑھنے لگا۔
”واہ....“طنزیہ انداز میں کہتے ہوئے اس اخبار میری جانب بڑھائی۔
میں سرسری نظر دوڑائی ،پولیس کی چابک دستی اور فرض شناسی کی خبر پڑھ کر میں بھی داد دیئے بغیر نہیں رہ سکا تھا....
”پولیس کا ڈاکوﺅں سے تصادم 9ڈاکو ہلاک۔“مزید تفصیلات میں لکھا تھا ....
”ڈی آئی خان کے سرحدی گاﺅں رحمن خیل کے رہایشی شاہ نواز اور دلدار خان نے رحمن خیل تھانے میں اطلاع دی کہ انھوں نے رحمن خیل کے ساتھ گزرنے والے برساتی نالے کے اندر بہت سارے مسلح افراد کو دیکھا ہے جو وہاں پر نامعلوم منصوبے پر عمل کرنے کواکٹھے ہوئے تھے۔ تھانیدار طاہر نے اس اطلاع پر بجلی کی سی تیزی سے عمل کیا اور تھانے میں موجود پولیس کی ناکافی نفری کے ساتھ مجرموں کی سرکوبی کو روانہ ہو گیا۔ ڈاکو لڑنے مرنے پرآمادہ ہو گئے۔ تھانیدار اور پولیس کے 5جوانوں نے ہمت اور بہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے نو ڈاکوﺅں کو ہلاک کر دیا۔فائرنگ کے تبادلے میں بدقسمتی سے دونوں معزز شہری جووہاں تک ڈاکوﺅں کی نشاندھی کرنے گئے تھے ان کی گولیوں کا نشانہ بن گئے۔ تمام ڈاکو اشتہاری اورکئی کیسوں میں پولیس کو مطلوب تھے۔“
میں نے قہقہ بلند کیا۔”تھانیدار کی تو عید ہو گئی۔“
امجد نے مزاحیہ انداز میں کہا۔”اچھا ہوا،ورنہ اس مرتبہ چودھری اکبر کا کیس رایگاں نہ جاتا۔“
میں نے منہ بنایا۔”اشتہاری مجرموں سے رشتہ جوڑ کر پھنسنا ہی تھا کنجر نے۔“
بل دے کر ہم نے واپسی کی راہ لی۔امجد کو گھر چھوڑ کر میں مطلوبہ مکان کی سمت بڑھ گیا۔
اس کا نام شمشاد خاتون تھا۔وہ خاتون کے نام پر مشہور تھی۔ والدین اس کی کم سنی ہی میں فوت ہو گئے تھے۔ اپنے چچا کے ہاں پرورش پائی، جواس سے دن رات گدھے کی طرح کام لیتا تھا اور اس کے بالغ ہوتے ہی گلفام گل کے ہاتھ دس ہزار روپے میں بیچ دیا۔وہ صرف نام کا گلفام تھا، مگر بلوغت تک ظلم سہنے والی کے پیار و محبت کے بولوں سے ناآشنا کانوں نے جب گلفام جیسے بدصورت کے ہونٹوں سے محبت بھری سرگوشیاں سنیں تو وہ اسے دنیا کے سب سے پیارے ہونٹ لگے۔ مگر اس کی بدقسمتی کہ شادی کے چند ماہ بعد گلفام کو بخار ہوا اور ہفتہ ڈیڑھ چارپائی پر گزار کروہ اسے چھوڑ کر بہت دور چلا گیا۔
گلفام کی والدہ بھی بیٹے کے بعد بہ مشکل دو مہینے زندہ رہی۔والدہ کے علاوہ اس کا کوئی قریبی رشتہ دار موجود نہ تھا۔ساس کے مرنے پر شمشاد خاتون اکیلی رہ گئی تھی۔لیکناس نے دوسری شادی نہ کرنے کا پختہ ارادہ کر لیا۔اور لوگوں کے گھر بار کام کر کے پیٹ پالنے لگی۔ اتفاق سے اس نے پڑوسی کے بیٹے کے لیے ایک مناسب رشتہ ڈھونڈا اور پھر یہ کام مستقل کرنے لگی یوں آمدن بھی ہو جاتی اور اس کا وقت بھی اچھا گزر جاتا۔
چودھری اکبر کے گھر جا سوسی کرنے کے لیے میں نے شمشاد خاتون کا انتخاب کیا تھا۔ دس بجنے کو تھے ،اس وقت زیادہ تر لوگ اپنے کھیتوں پر ہوتے ، گلی سنسان پڑی تھی۔ میں نے دروازہ کھٹکھٹایا اوردائیں بائیں کاجائزہ لینے لگا، کوشش تھی کہ خاتون کے پاس میری آمد خفیہ رہے ورنہ یہ خبر چودھری اکبر تک پہنچ جاتی تو منصوبہ ناکام ہو جاتا۔ قدموں کی چاپ ابھری اوردروازہ کھولتے ہوئے اس نے پوچھا۔
”جی؟“
وہ تیس پینتیس سال کی قبول صورت عورت تھی۔ گو ہمارے علاقے میں پردے کا رواج ہے مگر وہ پردہ نہیں کرتی تھی۔ میںپیچھے مڑا اور اس سے پہلے کہ کچھ کہ پاتا۔وہ وحشت زدہ انداز میں چلائی....
”تت.... تم“ اورپھر پیچھے مڑ کر دوڑپڑی۔ عجلت میں وہ دروازہ بند کرنا بھول گئی تھی۔ اس کے ردِ عمل پر ایک لمحے کو تو میں سن رہ گیا مگر پھر اس کے پیچھے دوڑ پڑا۔ وہ دوڑتے ہوئے کمرے کے جانب جارہی تھی۔ میں قلانچیں بھرتا ہوا اس کے سر پر پہنچ گیا اس کے کمرے میں داخل ہونے کے ساتھ میں بھی اندر گھس گیا۔
و ہ دیوار سے لٹکی بارہ بور بندوق کے جانب بڑھی اور اسے اتار کر پیچھے مڑی،۔میں قریب پہنچ گیا تھا۔ اتنے شدید ردِعمل کا اظہار میرے لیے بلاشبہ اچنبھے کا باعث تھا۔میرے خلا ف یوں بندوق تاننا عام بات نہیں تھی،اس کے پس پردہ کوئی خوف،نفرت یاغرض چھپی تھی۔
اس کے مڑنے سے پہلے میں نے ایک جھٹکے سے بندوق چھین لی۔ ذرا سی سستی مجھے ناقابل تلافی نقصان پہنچا سکتی تھی۔ گنڈہ پور خواتین تو کلاشن کوف بھی آسانی سے چلا سکتی ہیں ،اس کے پاس تو بارہ بور تھی۔ جس پر نشانہ سادھنے کی خاص ضرورت نہیں ہوتی بس مطلوبہ سمت بیرل کر کے لبلبی دبا دی جائے تو کوئی نہ کوئی چھرہ ہدف ڈھونڈ ہی لیتا ہے۔
رائفل ہاتھ سے نکلتے ہی اس کے چہرے پروحشت کے بجائے خوف نمودار ہوا۔وہ ہکلائی۔
”تت.... تمھیں کسی نے غلط اطلاع دی ہے،میرا کوئی قصور نہیں ہے۔“
میرے ذہن میں جھماکا ہوا اور چچا فاضل کی بات میرے دماغ میں گونجی۔ ”پُتر اس دن مجھے بے ہوشی کی طرح نیند آئی تھی۔“
میں فوراََ مطلب کی پر پہنچ گیا تھا،اس سے مزید اگلوانے کو دھاڑا۔”کیا چودھری جھوٹ بول رہا ہے؟“
وہ نفرت سے بولی۔”مکار کمینہ ،اپنی غلطی میرے سر تھوپ رہا ہے۔اس قسائی نے تو اپنے ماموں اور بھائی کوبھی قتل کر کے الزام آپ کے سر لگا دیا ہے۔“
”مجھے سچ جاننا ہے۔“غیظ و غضب سے میرا لہجہ کیا چہرہ بھی بگڑ گیا تھا۔
وہ منمنائی۔”و.... وہ جھوٹ بول رہا ہے، کھانے میں بے ہوشی کی دوامیں نے نہیں کسی اور نے ملائی تھی۔“
”فاحشہ! “میرا بایاں تھپڑ پوری قوت سے اس کے چہرے پر لگا وہ اچھل کر نیچے جا گری۔ ہمارے ہاں عورت پر ہاتھ اٹھانا معیوب سمجھا جاتا ہے مگرتب میرے دماغ پر سرخ چادرتن گئی تھی اور مجھے رسم ورواج کیا ہر شیئے بھولی تھی۔ منحوس عورت نے بہت بڑا ظلم کیا تھا۔ احمد جان، محمد جان اور حاکم جان جیسے شیروں کو گیدڑوں کی خاطر بے بس کر دیا تھا۔ اگر وہ ہوش میں ہوتے تو اکبر خان جیسے بزدل ان کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے تھے۔ سعدیہ جیسی گلفام اور عدنان جیسے معصوم جو پھولوں کی سیج کے لیے بنے ہوئے تھے انھیں آگ کے بے رحم شعلوں کے حوالے کر دیا تھا۔
گرتے ہی اس نے اٹھنے کی کوشش کی مگر پھر چکرکر ا گر پڑی۔میں نے اسے بالوں سے پکڑکرایک جھٹکے سے اٹھایا۔
”تُو نے بہت ظلم کیا.... بہت زیادہ۔“
وہ گڑگڑائی۔”م.... مم.... مجھے پپ ....پتا نہیں تھا ۔خدا قسم میں انجان ہوں۔یہ سب لاعلمی میں ہوا ہے۔“
میں نے اسے اکلوتی چارپائی پر پھینکا۔”سب کچھ بک دو ، ہو سکتا ہے تمھارے ناپاک خون سے ہاتھ رنگنے سے بچ جاﺅں۔“
”چچ چودھری اک.... اکبر نے مجھے ایک شیشی دے کر کہا تھا کہ آپ کے گھر جا کر رات کے سالن میں انڈیل دوں۔وجہ پوچھنے پر بتایاکہتمام کو بے ہوش کر کے وہاں سے زمین کے کاغذات چرانے ہیں۔ اب مجھے کیا پتا تھا، وہ اتنا ظلم کرے گا۔ میں آپ کی امی جان کو ملنے گئی اور پھر پانی پینے کے بہانے باورچی خانے میں جا کر رات کو تیار ہونے والے سالن میں شیشی الٹ دی ۔“
میں زہر خند ہوا۔”اوراب مجھے قتل کرنے رائفل لینے بھاگی تھیں۔“
”نن.... نہیں آپ کو دیکھ کر بدحواس ہو گئی تھی۔“
” حویلی میں آگ لگنے کے بعد تم نے زبان کیوں بندرکھی اور پولیس کو کچھ نہ بتایا؟“
”مجھے راضی کرنے کو چودھری اکبر نے پولیس ہی کا تو سہارا لیا تھا۔“
”کیا مطلب؟“ میں لہجے میں حیرانی در آئی۔
”جب چودھری اکبر نے کام بتایا تب تھانیدار طاہر خان بھی اس کے ہمراہ تھا۔“
”تم مجھے بھی مل سکتی تھیں۔“
وہ گلو گیرہوئی۔” کس منہ سے آپ کے پاس آتی،یہ بتانے کو کہ آپ کے کنبے کے قتل میں میں بھی ملوث ہوں۔بے شک مجھے دھوکے میں رکھاگیا ، مگر گناہ گار تو ہوں ناں۔“
”تم پر یقین کرنے کو دل نہیں چاہ رہا۔“
وہ چارپائی سے اٹھ کرالماری کی طرف بڑھی،جیسے ہی اس کی پشت میری جانب ہوئی میں نے بندوق سے کارتوس نکال کر جیب میں رکھ لیا۔
اس نے الماری سے قرآن مجید اٹھا یا، آنکھوں سے لگاکر بوسا دیااور بولی....
”اللہ پاک کی قسم،مجھے اس ظالم کے ارادے کا پتا نہیں تھا۔“
گہرا سانس لے کرمیں نے بندوق چارپائی پر پھینکی....
”اس کے باوجود تم مجرم ہو،اگر گنڈہ پوروں کی روایات رکاوٹ نہ بنتیں تو تمھیں زندہ جلا دیتا۔“
میں لمبے ڈگ رکھتا اس کے گھر سے نکل آیا۔اسے عورت ہونے کا فائدہ مل گیا تھا،ورنہ اس کی لاعلمی بھی مجھے نہ روک پاتی۔
میں چند قدم ہی چلا ہوں گا کہ اس کی پکار سنائی دی۔
”عمر جان۔“میں نے مڑ کر دیکھا۔ وہ دروازے پر کھڑی بلا رہی تھی۔نہ چاہتے ہوئے بھی پلٹنا پڑا۔
”کہو۔“ قریب پہنچ کر میں رکھائی سے بولا۔
” اکبر خان رحمن خیل سے فرارکی کوشش میںہے۔ اس نے تمام جائیداد اور زمینیں کالی وال کے میر نیاز خان پر بیچ دی ہیں۔ وہ اپنے ماموں اور بھائی کا قاتل ہے اور آپ کے باعزت بری ہونے کے بعد اسے بہن اور ماموں زاد بھائی کی جانب سے بھی مقدمے کا سامنا ہے۔“
میں نے حیرانی ظاہر کی۔” بہن اس کے خلاف ہو گئی ہے؟“
”بھائی کو قتل کرنے والا بہن کو کب معاف کر سکتا ہے۔بلکہ وہ تو شہلا بی بی کا رشتہ میز نیاز خان کے بیٹے سے کرنے والا تھا،شہلا بی بی نے سختی سے انکار کر دیاہے۔“
”کیا تم مجھے چودھری اکبر کی حویلی کا اندرونی نقشہ بتا سکتی ہو۔“
”اندر آجائیں۔“اس نے دروازہ سے ہٹ کر مجھے راستہ دیا۔گلی میں کھڑے ہو کر گفتگو کرنا مجھے بھی معیوب لگ رہا تھا،میں اندر داخل ہوگیا۔دروازہ بھیڑ کر وہ حویلی کے متعلق تفصیل سے بتانے لگی۔بیچ بیچ میں بھی ضروری باتیں پوچھ لیتا۔صرف محافظوں کے تعداد کے بارے اسے کچھ معلوم نہیں تھا،باقی تفصیلات اس نے میرے گوش گزار کر دیں۔
”شکریہ خاتون !“ میں نے باہر نکلنے کو پر تولے۔
وہ گڑگڑائی۔” مم.... مجھے معاف کر دینابھائی!بہ خدا سب انجانے میں ہوا، مجھے ان سے اتنے ظلم کی توقع نہیں تھی۔“
”معاف کیا۔“رکھائی سے کہتے ہوئے میں باہر نکل آیا۔
”اﷲ سوہناآپ کوخوش رکھے، ہر قدم پر کامیابیاں ملیں، آپ....“ وہ جھولی پھیلا کر مجھے دعائیں دینے لگی۔جب تک اس کی آواز آتی رہی مناجات سنائی دیتی رہیں۔
میں گھر کی جانب بڑھ گیا۔گلی کی نکڑ تک پہنچا تھاکہ تڑتڑاہٹ کی آواز کانوں میں پڑی۔ میرے دل کی دھڑکن تیز ہو گئی تھی کیوں کہ آواز اسلم بھائی کے گھر کی جانبسے آرہی تھی۔ میں نے جیب کو تھپتھپا کرپسٹل کو محسوس کیا اورگھر کی طرف دوڑ پڑا۔
l l l
فاصلہ اتنا زیادہ نہیں تھا کہ مجھے وہاں پہنچنے میں دیر لگتی۔ چند منٹوں میں وہاں تھا۔اپنی گلی میں گھستے ہوئے میں نے چوکنے ہو کررفتار کم کر دی تھی، مگر بیٹھک میں امجد کو آرام سے چارپائی پر لیٹاپامحسوس ہوا تیزی اور احتیاط فضول تھی۔
اس نے بیزاری سے پوچھا۔”اتنی دیر لگا دی۔“
”چچا فاضل کا اندازہ ٹھیک تھا،اس دن کھانے میں بے ہوشی کی دوا ملائی گئی تھی۔ اس کام کو چوددھری نے خاتون کو بھیجا تھا۔مجھے دیکھتے ہی وہ ڈر کر بھاگی اور ذرا سی سختی کرنے پر سب کچھ اگل دیا۔“
اس نے اشتیاق ظاہر کیا۔”کیا بتایا ہے؟“
میں نے ساری باتیں دہرا دیں۔
”تو آج رات چودھری اکبر کے درشن ہوںگے؟“
”ان شاءاﷲ۔“ میں نے اثبات میں سر ہلا دیا۔
اس نے پوچھا۔”کلاشن کوف ایک کافی رہے گی یا دوسری نکال لائیں۔“
” پستول کے سہارے دشمن کے گھر گھسنا بے وقوفی ہے۔ چودھری اکبر ڈرپوک درندہ ہے یقینا اپنی حفاظت کا خاطر خواہ بندوبست کیا ہوگا۔“
اس نے چارپائی چھوڑی۔”چلوایک اور گن نکال لاتے ہیں۔“
میں نے کہا۔” شام کا کھانا کھا کر چلیںگے۔“ وہ بادل نخواستہ بیٹھ گیا۔
ہم دیر تک چودھری اکبر کے گھرمیں گھسنے کے منصوبے سوچتے رہے۔
و کھانا کھا کر ہم کلاشن کوفوں کے مدفن کی طرف بڑھ گئے۔مگر جانابے فائدہ ہی رہا۔کوئی پہلے ہی سے ہاتھ صاف کر گیا تھا۔
امجد ہنسا۔”کوئی بات نہیں، چودھری کے محافظوں کی گنیں بھی تو اپنے لےے ہی ہیں۔“
واپس پہنچ کر ہم نے منصوبے کا ازسرِنو جائزہ لیااور رات گہری ہونے کا انتظارکرنے لگے۔ ڈیڑھ بجے روانہ ہوئے۔کلاشن کوف امجد اورمیرے پاس دو پستول تھے۔ گلیاں بالکل سنسان پڑی تھیں، موسم میں کافی تبدیلی آچکی تھی، ہم نے ہلکے پھلکے لباس پہنے ہوئے تھے ، مگر چہروں پر مفلر لپیٹنا ہمیں نہیں بھولاتھا۔
چودھری اکبر کی حویلی تک ہم بغیر رکاوٹ کے پہنچ گئے۔ وہ ہماری حویلی سے بھی بڑی تھی۔ دو منزلہ پختہ حویلی دور ہی سے قلعہ نما نظر آرہی تھی۔ بیرونی دیواروں کی بلندی کسی بھی طرح تیرہ چودہ فٹ سے کم نہ تھی۔ حویلی کا چکر لگا کر ہم عقبی جانب رک گئے تھے۔ داخلی دروازے پربھی کوئی چوکیدار نظر نہیں آیاتھا۔دیوار سے پشت ٹیک کر امجد نے انگلیاں ایک دوسرے میں پھنسا ئیںاورہاتھ سامنے پکڑ لیے۔ میں نے ایک پاﺅں اس کے ہاتھوںاور دوسرا کندھے پر رکھ کردیوار پر چڑھ گیا، دیوار کافی چوڑی تھی ۔ اوپر لیٹ کرمیں نے ہاتھ امجد کی طرف بڑھایا،وہ بھی اوپر آگیا اور میرے ساتھ لیٹ کر حویلی کے وسیع صحن کا جائزہ لینے لگا۔
اس نے سرگوشی کی ۔” حویلی میں کتے ہیں یا نہیں؟“
”اس متعلق تونہیں پوچھا تھا؟“
اس نے منہ بنایا۔ ”بہت اچھا کیا۔“
” منصوبہ بناتے وقت تمھیں بھی یہ بھولا ہوا تھا،اب پھوٹ رہے ہو۔“
اس نے کہا۔” تمھاری صحبت کا اثر ہے،ورنہ اتنی ضروری بات کبھی نہ بھولتی۔“
”اب کیا کریں؟“
امجد نے حویلی کے شمال مغربی مورچے کی جانب اشارہ کیا۔جو زمین سے بلند ہوکر دیوار سے دس بارہ فٹ اوپر تک چلا گیا تھا۔ ”ایک خطرہ تو اس سے ہے،پتا نہیںیہاں کتنے افراد ہوں گے۔ دوسرا خطرہ کتوں کا ہے مگر امیدہے وہ نہیں ہیں۔ ہوتے تواب تک انھیں ہماری موجودی محسوس ہو گئی ہوتی۔ تیسرا خطرہ چوکیدارہے۔ حویلی کی دیواروں کے ساتھ چاروں طرف گھومنے والے پہرے داروں کاامکان بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔“
میں نے ناک بھوں چڑھائی۔” صرف کتوں کے متعلق مشورہ پوچھا تھا،باقی جزئیات پر تفصیلی گفتگو ہو چکی ہے۔“
” مجھے غلاف (کور)دو۔“ امجد نے نیچے اترنے کوپر تولے۔
میں معترض ہوا۔ ”کلاشن کوف تمھارے پاس ہے۔“
”تو یہ لو۔“ اس نے کلاشن کوف میری جانب بڑھائی۔
میں نے کہا۔” تمھارا نشانہ اچھا ہے۔“ پھر اس کا جواب سنے بغیر دیوار سے نیچے لٹکا اور آہستگی سے پنجوں کے بل کودگیا۔ ہلکا سا دھماکہ ہوا میں دیوار کے کونے ہی میں دبک کر بیٹھ گیا۔جب چند لمحوں تک کوئی ردِعمل ظاہر نہ ہواتو دیوار کی جڑ میں رہتے ہوئے مورچے کی جانب بڑھ گیا۔پستول جیب سے میرے ہاتھ میں منتقل ہو گیا تھا۔ چاند کی سات، آٹھ تاریخ تھی اورپہلے کواٹر کا چاند اس وقت ڈوب چکا تھا۔ حویلی کے سامنے جلنے والا بلب اندھیرا دور کرنے کی تگ و دو میں تھا۔ عقبی جانب روشنی کا کوئی انتظام نہیں تھا اور یہ حفاظتی تدابیر سے ناواقفیت کا منہ بولتا ثبوت تھا۔
لمحہ بھر بعد ہی میں مورچے تک پہنچ گیا۔ دروازے کودھیرے سے دبایا مگربند تھا۔ٹٹولنے پراس کی کنڈی باہر سے بند لگی نظر آئی۔جو ظاہر کر رہا تھا کہ اندر کوئی موجود نہیں ہے۔پھر بھی میں نے احتیاط کا دامن تھامے رکھا اور زیادہ شور شرابے سے گریز کرتے ہوئے دھیرے سے اندر داخل ہوا۔البتہ پنسل ٹارچ روشن کر لی تھی۔
کونے میں ایک چارپائی پڑی ہوئی تھی جس پر ایک میلا سا بستر بچھا ہوا تھا۔ دوسرے کونے میں لوہے کی سیڑھی نصیب تھی۔میں اوپر مورچے میں پہنچا۔اندازے کے مطابق کوئی بھی موجود نہیں تھا۔
نیچے اتر کرمیں باہر نکلااور امجد کو ٹارچ کا اشاررہ کر دیا۔ وہ بھی محتاط انداز میں دیوار سے کود کر میرے پاس آگیا۔
میں نے مطلع کیا۔”مورچہ خالی ہے۔“
” تم دائیں اور میں بائیں طرف سے چکر کاٹ کرداخلی دروازے کی طرف چلتے ہیں۔ خطرے کی صورت میں بلی کی آواز نکالنا۔“
میں اثبات میں سر ہلاکردائیںطرف چل پڑا۔جونھی بلب کی ملگجی روشنی کی حد میں پہنچا، دیوار کی جڑ میں ہو گیا اور احتیاط سے داخلی دروازے کی طرف بڑھنے لگا۔ہم اکٹھے ہی چوکیدار کے کمرے تک پہنچے تھے۔دروازے کے دائیں بائیں دیوار سے پیٹھ ٹیک کر دونوں نے ہاتھ کا انگوٹھا کھڑا کرتے ہوئے تیاری کا اشارہ کیا۔پھر امجد نے مجھے وہیں رکنے کا اشارہ کیااور کواڑ کو آہستگی سے دھکیل کر احتیاط سے اندر گھس گیا۔ چند سیکنڈ بعد ہی ہلکا سا کھٹکا سنائی اورامجد کا ۔”آجاﺅ۔“کہناسنائی دیا۔
اندرمدہم بتی (زیرو پاور)جل رہی تھی۔اکلوتی چارپائی پر ایک شخص گردن تک چادر اوڑھے لیٹا ہوا تھا۔امجد نے اس کی نیند کو گہری بے ہوشی میں بدل دیا تھا۔چارپائی کے سرہانے کلاش کوف کھڑی تھی۔ پستول جیب میں ڈال کر میں نے کلاشن کوف اٹھائی،میگزین اتار کر گولیوں کا جائزہ لیا اور کاک کر دی۔یہ تربیت یافتہ سپاہی کی عادت ثانیہ ہوتی ہے کہ ہتھیار ہاتھ میں لیتے ہی اس کا لوڈ یا ان لوڈ ہونا یقینی بناتا ہے۔کاکنگ ہینڈل کی کافی بلند آواز ابھرتی ہے،لیکن مجھے یقین تھا کہ اندرونی عمارت تک وہ آواز نہیں جا سکتی تھی۔
کمرے کا سرسری ساجائزہ لے کر ہم باہر آگئے دروازے باہر سے کنڈی کر کے ہم دبے قدموں اندرونی عمارت کی طرف بڑھ گئے۔
امجد نے سرگوشی کی۔”لگتا ہےچودھری اکبر تمھیں کسی خاطر میں نہیں لاتا۔“
میں نے دانت پیسے۔”اس کی یہی غلط فہمی دور کرنے آئے ہیں۔“
دو منزلہ حویلی میں تاریکی کا راج تھا۔ نچلی منزل کے تمام کمرے باہر سے بند ملے ،دروازوں پر بڑے بڑے تالے لٹک رہے تھے۔جونھی سیڑھیوں کے قریب پہنچے کانوں میں ہلکی بھن بھناہٹ آنے لگی۔ میں نے امجد کودیکھا اور اس نے اثبات میں سر ہلا دیا۔ اس نے بھی وہ آوازیں سن لی تھیں۔ ہم دبے قدم سیڑھیوں سے اوپر پہنچے۔ آوازدائیں جانب کے پہلے کمرے سے آرہی تھی اور دروازے کی درزوں سے روشنی کی ہلکی سی لکیر بھی جھلک رہی تھی۔ نچلی منزل سے یہ روشنی نظر نہیں آئی تھی۔ باتوں کی آواز اب واضح سنائی دے رہی تھی۔ وہ تاش کھیل رہے تھے کیوں کہ ان کی گفتگو گزشتہ بازی اسی متعلق تھی۔
امجد نے مجھے وہیں ٹھہرنے کا اشارہ کیا اور دوسرے کمروں کی طرف بڑھ گیا۔ جلد ہی وہ چکر لگا کر لوٹ آیا اور انگوٹھا کھڑا کر کے سب اچھا کی رپورٹ دی۔
یقینا چودھری اسی کمرے میں تھا۔ میرے اندرالاﺅ بھڑک اٹھا تھا۔دشمن کو اتنا قریب پا کر تنفس کی رفتار تیز ہو گئی تھی۔ میں امجد کو ہاتھ کے اشارے سے دور لے گیا۔
’چودھری اکبر کو زندہ پکڑنا ہے۔ چاہے کتنا خطرہ مول لینا پڑے۔“
”ایسا ہی ہوگا۔“اس نے اثبات میں سرہلادیا۔
ہم دروازے کے سامنے پہنچے۔ اندر گھسنے کے دو طریقے تھے۔دروازہ دھکیلتے ہوئے ہم ہلہ بول دیتے یادستک دے کر داخل ہوتے۔اول الذکر صورت کا یہ نقصان تھا کہ دروازہ کنڈی ہونے پر وہ سنبھل جاتے۔جبکہ مو¿خر الذکر صورت میں گوتمام دروازے کی جانب متوجہ ہوتے مگرچوکنا نہ رہتے۔البتہ دروازہ کھولنے سے پہلے ان کا استفسار کرنا مشکلیں بڑھا سکتا تھا۔
امجد کے دماغ میں یہی کچھ تھاتبھی اس نے دروازہ کو ہاتھ لگا کرکھلا ہونے کی تصدیق کی اورمجھے گھسنے کا اشارہ کر دیا۔ ہم ہتھیار سونت کر دروازے کوکندھے سے دھکیلتے ہوئے اندر داخل ہو گئے۔
امجد غر ایا۔ ”خبر دار اگر کسی نے حرکت کی۔“
چار بندے چٹائی پر بیٹھے تاش کھیل رہے تھے۔ان کے ہتھیار دیوار کے سہارے کھڑے تھے جبکہ پانچواںآدمی پستول گودمیں رکھے چارپائی پر تھا۔ تاش کھیلنے والے سن ہو گئے تھے،مگر چارپائی پر لیٹے شخص نے بجلی کی سی سرعت سے پستول سیدھا کرتے ہوئے فائر داغ دیا۔ گولی امجد کے بازو میں لگی تھی۔مجھے بروقت خطرے کا احساس ہو گیا تھا،فوراََ لبلبی دبا دی۔ دونوں گولیاں اس کے سر سے پار گزر گئی تھیں۔ وہ بے جل مچھلی کی طرح تڑپنے لگا۔ میں نے گن کا رخ تاش والوں کی طرف موڑا۔مجھے کینہ توز نظروں سے گھورتے ہوئے وہ بس اضطراری انداز میں پہلو بدل کر رہ گئے تھے۔
میں دھاڑا۔” کھڑے ہوجاﺅ۔“ چاروں بے چوں چرا کھڑے ہو گئے۔
”ہاتھ اٹھا کر دیوار کی طرف گھوم جاﺅ۔“
وہ مجھے خوفزدہ نظروں سے گھورتے ہوئے گھوم گئے۔
امجد نے مشین گن نیچےرکھ کر دائیں ہاتھ سے مضروب بازو تھام لیا تھا۔ گولی لگتے وقت ہلکی سسکی اس کے ہونٹوں سے برآمد ہوئی تھی اس کے بعد کوئی آواز نہیں نکلی تھی۔
ابتدائی طبی امداد کا پہلا اصول خون کابہاﺅ روکنا ہوتا ہے۔کیوں کہ خون کا ضیاع جان جانے کا باعث ہو سکتاہے۔پستول کاک کر کے امجد کے حوالے کر میں نے چٹائی سے ایک چادر اٹھائی اور پٹی پھاڑاس کے بازو پرباندھنے لگا۔دوسری پٹی پھاڑ کر میں نے امجد کے گلے میں ڈالی اور مضروب بازو کو لٹکا دیا ۔
فارغ ہوتے ہی میں نے گن سنبھالی ”اب سیدھے ہو جاﺅ۔“ چاروں نے رخ موڑ لیا۔
میں نے پوچھا۔”چودھری اکبر کہاں ہے؟“ وہ غم وغصے کی ملی جلی کیفیت میں مجھے گھورتے رہے۔
میں نے لہجے میں نرمی پیدا کی۔” تمھارے ساتھ کوئی دشمنی نہیں ہے،میرامجرم چودھری اکبر ہے۔ بہتری اسی میں ہے بتا دو وہ کہاں ہے ۔ ورنہ پوچھنے کے اور طریقے بھی مجھے آتے ہیں۔“
ایک ہمت کر کے بولا۔”ہم نہیں جانتے ۔“
میں نے آنکھیں نکالیں۔”جھوٹ مت بولو۔“
وہ جلدی سے بولا۔”چودھری سے کوئی تعلق نہیں، ہم میر نیاز خان کے ملازم ہیں۔“
”مگر یہ حویلی تو چودھری اکبر کی ہے؟“ میرے لہجے میں حیرانی تھی۔
اس نے انکشاف کیا۔”چودھری اکبر اپنی تمام زمین و جائیداد میر نیاز خان کے ہاتھ بیچ کر ہمیشہ کے لیے چلا گیا ہے۔“
”کہاں ؟“
اس نے نفی میں سرہلایا۔” ہم لاعلم ہیں،شاید میر نیاز خان کو پتا ہو۔“
” اسے گئے ہوئے کتنے دن ہو گئے ہیں؟“
”کل را ت کو نکلا تھا۔“
میں نے امجد کوگھورا، اس کی خاطر میں نے بات چیت اردو میں کی تھی۔
اس نے منہ بنایا۔”کھودا پہاڑاور زخمی ہو کر بھی کچھ نہ ملا۔“
”ان کا کیا کریں؟“ میں نے ان کی طرف اشارہ کیا۔
وہ اطمینان سے بولا۔”چھوڑدوبے گناہ ہیں، ان کا ساتھی بھی اپنی غلطی سے قتل ہوا ہے۔“
میں سر ہلاتے ہوئے ان کے ہتھیاروں کی طرف بڑھ گیا۔ انھیں ساتھ لے جانے میں دقت ہوتی اوریونھی چھوڑ دینابھی مناسب نہیں تھا۔تمام کلاشن کوفوں سے فائرنگ پن نکال کر میں نے جیب میں رکھ لیے۔ اب ان گنوں سے فائر نہیں کیا جاسکتا تھا۔
چاروں کی سرسری تلاشی لینے پر کچھ خاص نہ ملا۔انھیں اسی کمرے میں قید کر کے ہم باہر آگئے۔اس مقصد کو ہم نے داخلی دروازہ استعمال کیا تھا۔
گولی لگتے وقت ذرا سی بھی تکلیف نہیں ہوتی،بعض اوقات تو انسان کو پتا ہی نہیں چلتا اسے گولی لگ چکی ہے ۔لیکن جوں جوں زخم ٹھنڈا ہوتا جاتا ہے تکلیف بڑھنے لگتی ہے۔امجد کا چہرہ دیکھ کر اس کی تکلیف کا اندازہ لگانا مشکل نہیں تھا۔گولی بازو کے اندر ہی تھی۔اور جب تک باہر نہ نکالی جاتی،اسے سکون نہیں آسکتا تھا۔
میں نے کہا۔ ” صبح کا انتظار کرنے کی بجائے ابھی شہر جانا پڑے گا۔“
اس نے منہ بنایا۔” پیدل شہر پہنچنا کافی دقت طلب ہے۔“
میںنے پوچھا۔”پیدل جانے کا کس نے کہا ہے؟“
”اُڑنا تو ہم جانتے نہیں،بسیں صبح سات آٹھ بجے چلتی ہیںاور جناب کے پاس کار کیا کھوتا ریڑھی بھی نہیں ہے توآخری صورت یہی بچتی ہے۔“اس حالت میں بھی اس کی شوخی برقرار تھی۔
” اﷲتعالیٰ کوئی بندوبست کر ہی دے گا۔“ میں پہلوان ہوٹل کی سمت مڑ گیا۔
” تمھیں خوار ہونے کا زیادہ ہی شوق ہے تو چلو۔“ خلاف عادت اس نے بحث نہیں کی تھی۔ آدھ گھنٹے بعد ہم بس اڈے پر پہنچ گئے۔
”یہیں رکو۔“ اسےکہہ کر میں ہوٹل کے اندرونی طرف بڑھ گیا۔ ہوٹل سنسان پڑا تھا۔ عمارت کے عقبی جانب مالک کا گھر تھا۔ میرا ارادہ اس سے موٹر سائیکل مانگنے کا تھا۔وہ ایک ملنسار اور خوش اخلاق شخص تھا۔ عموماً مجرم اور پولیس سے بھاگے ہوئے افراد بھی اس کے ہوٹل میں رات بسر کر تے تھے لیکن اس نے کبھی ان کاراز فاش نہیں کیا تھا۔
دوسری دستک پر ہی اس نے دروازہ کھول دیا۔ ”جی بھائی۔“ ایسے وقت بھی اس کا لہجہ خوشگوار تھا۔
تمہید باندھنے کا وقت نہیں تھامیں براہ راست مدعے پر آیا۔”موٹر سائیکل چاہیے،میرا ساتھی زخمی ہے اور اسے شہر تک لے جانا ہے دیر ہونے پر زخم بگڑنے کا اندیشہ ہے۔“
وہ مستفسر ہوا۔”آپ کا نام پتا جان سکتا ہوں؟“
” نام عمر جان اورتعلق رحمن خیل سے ہے۔“
”عمر جان....؟“
”عمر جان ولد ہاشم جان مرحوم۔ پچھلے ہی دنوں ہماری حویلی کو آگ لگی تھی جس میں....“
اس نے قطع کلامی کی۔ ”آپ غالباً فوجی ہیں۔“
میں نے اثبات میں سرہلادیا۔
” میں موٹر سائیکل لاتا ہوں۔“ یہ کہہ کر وہ مڑ گیا اور چند لمحوں بعد موٹر سائیکل کے ہمراہ لوٹا۔
”یہ لو پُتر۔“
میں نے دونوں کلاشن کوفیں اس کی جانب بڑھائیں۔ ”یہ بھی اپنے پاس رکھ لیں، موٹر سائیکل واپس کرتے وقت لے لوں گا۔“ اس نے خاموشی سے گنیں پکڑ لیں۔
موٹر سائیکل اسٹارٹ کر کے اسے خدا حافظ کہتے ہوئے چل پڑا۔امجد بے چینی سے منتظر تھا۔
اس نے نشست سنبھالتے ہوئے پوچھا۔” کہاں سے چرا لائے ہو۔“
” پہلوان چا چا سے مانگا ہے۔“
”اس سے کب واقفیت ہوئی ہے؟“
میں نے موٹر سائیکل آگے بڑھائی۔ ”پہلوان بہت ملنسار اور لوگوں کے کام آنے والا۔ مجھے جانتا نہیںلیکن میری درخواست نہ ٹھکرائی۔“
وہ تحسین آمیز لہجے میں بولا۔” بغیر واقفیت کے اتنا تعاون؟“
میں نے کہا۔”ایسے ہی لوگوں کے دم قدم سے تو دنیا قائم ہے۔“
امجد خاموش ہوگیا۔ راستے میں اکا دکاٹرکوں کے علاوہ ہمیں کوئی گاڑی نہیں ملی تھی۔ گو سردیاں اختتام پر تھیں لیکن اس وقت موٹر سائیکل پر ٹھنڈلگ رہی تھی۔ گھنٹے پون میں ہم شہر کے مضافات میں داخل ہو گئے۔
اس نے تشویش ظاہر کی۔” اس وقت اول توکوئی ڈاکٹر ملے گا نہیں، بالفرض مل بھی گیا بغیر پولیس کی اجازت کے اس نے علاج نہیں کرنا۔“
میں نے دامن امید دراز کیا۔”اﷲ خیرکرے گا۔“
اس نے سر میرے کندھے پر ٹکا دیا۔ زخمی حالت میں موٹر سائیکل جیسی بے آرام سواری اس کی تکلیف بڑھا رہی تھی لیکن اس کے علاوہ کوئی چارہ بھی نہ تھا۔گھڑی دیکھنے پر صبح کے پانچ بجتے نظر آئے۔ مساجد سے اذان کی مقدس آوازیں بلند ہونے لگی تھیں۔ لاری اڈے سے ملحق ہوٹلوں سے صبح کے ناشتے کی اشتہاانگیز خوشبواٹھ رہی تھی۔
راستے میں اس ہسپتال کو میں نے دانستہ نظر انداز کردیا جہاں چچا فاضل زیر علاج تھا۔ کیوں کہ اس کی انتظامیہ ہماری واقف کار تھی وہاں دھونس جما کر امجد کا علاج نہیں کرا یاجاسکتا تھا۔ شہر میں بیسیوں پرائیویٹ ہسپتال موجود تھے۔میں نے موٹر سائیکل ایک موزوں دکھائی دینے والے ہسپتال کے گیٹ کی جانب موڑ دی۔
”ڈاکٹر خوشید صاحب موجود ہوں گے؟“ میں نے ایڈورٹائزنگ بورڈ پر ڈاکٹر کا نام پڑھ کر چوکیدار سے پوچھا۔
اس نے نفی میں سر ہلایا۔”ڈاکٹر صاحب تو صبح دس بجے کے بعد ہی ملیں گے، حادثے کی صورت میں ان کی بھانجی ڈاکٹر شہلا مریض چیک کرتی ہیں۔“
موٹر سائیکل پارکنگ میں کھڑی کر کے ہم ہسپتال کے اندرونی جانب بڑھ گئے۔ استقبالین میز پر سر ٹیکے سویاتھا۔ اسے نظر انداز کر کے ہم پتلی سی راہداری میں گھس گئے جس کے شروع میں ڈاکٹر صاحب کے کمرے کی جانب رہنمائی کا بورڈ لٹکا تھا۔ راہداری کا اختتام ڈاکٹر صاحب کے کمرے ہی پرہوا۔ وہاں بھی ڈاکٹر خورشید کے نام کی تختی لگی تھی۔ دروازے پر ایک بینچ رکھا تھامگر کوئی چپڑاسی وغیرہ موجود نہیں تھا۔
میں نے آہستہ سے دستک دی مگر اندر خاموشی چھائی رہی۔ چند سیکنڈ انتظار کر کے میں نے دوبارہ دستک دی، تیسری دستک پر کہیں جا کر دروازہ کھلا۔وہ 26,25 برس کی خوب صورت دوشیزہ تھی۔ ڈاکٹر جیسا ثقیل لفظ اس کے ساتھ بالکل نہیں جچ رہا تھا۔ اس کے بجائے وہ یونیورسٹی کی طالبہ دکھائی دے رہی تھی۔ ہلکے آسمانی رنگ کے شلوار سوٹ پر اس نے ڈاکٹروں کا عالمی نشان ،یعنی سفید کوٹ پہنا ہوا تھا۔ شکنیں دیکھ کر اندازہ ہوا وہ اسے پہنے ہوئے سور ہی تھی۔ آنکھیں نیند کے خمار سے بوجھل تھیں۔ میرے ذہن میں شعر گونجا
اس کی آنکھوں میں سرخ دھا گے ہیں
رات کس کے نصیب جاگے ہیں
اس سے پہلے کہ باقی اعضاءکو دیکھ کر مزید اشعار کا نزول ہوتا وہ دلکش آواز میں مستفسرہوئی۔
”جی؟“
” معذرت خواہ ہیں ایمرجنسی میںآپ کو زحمت دینا پڑ گئی۔“
” آپ لوگ براہِ راست میرے پاس کیسے آگئے،سلیم کہاں ہے؟“ اس کی آواز میں ہلکی سی ناگواری تھی۔
میں نے جلدی سے وضاحت کی۔”وہ سویا ہوا تھا ہم نے اٹھانا مناسب نہ سمجھا۔“
”یہ اس کی ذمہ داری ہے، بہ ہر حال اندر آجاﺅ۔“ وہ دروازے سے پیچھے ہٹ گئی۔
ہم دونوں اندر داخل ہوئے۔
ایک شاندار آفس تھا۔ کونے میں صوفہ سیٹ رکھا تھا ۔اس پر پڑی زنانہ شال اور ایک چھوٹا سا تکیہ بھی پڑا تھا۔
کرسی سنبھال کر اس نے ہمیں بیٹھنے کا اشارہ کیا۔
”شکریہ۔“ کہہ کر ہم اکٹھے بیٹھ گئے۔
”بتاﺅ.... اوہو، بہت زیادہ خون بہہ رہا ہے۔“ مسئلہ پوچھتے ہوئے اچانک نظر امجد کے بازو کی طرف اٹھی۔سفیدرنگ کے کپڑوں پر لگا خون واضح نظر آرہا تھا، پٹی خون سے تربترہو گئی تھی۔وہ بے اختیار امجد کی جانب بڑھی۔
”کیا ہوا ؟“
میں نے کہا۔”گولی لگی ہے۔“
وہ ٹھٹک کر رکی۔”معذرت بھائی، یہ پولیس کیس ہے۔“
میں ملتجی لہجے میں بولا۔ ”پلیز،آپ تو پولیس سے واقف ہیں کہ شریف شہریوں کے ساتھ اس کا برتاﺅ کیسا ہوتا ہے۔“
وہ رکھائی سے بولی۔”یہ میرا دردِ سر نہیں ہے۔“
” میرا ساتھی کافی تکلیف میں ہے پولیس کے چکروں میں پڑے تو اس کا کام ہو جائے گا۔ پہلے ہی کافی خون ضائع ہو چکا ہے۔“
اس نے بے پروائی سے کہا۔”یہ پہلے سوچنا چاہئے تھا،اب آپ تشریف لے جا سکتے ہیں۔“
”ڈاکٹر صاحب !میں منہ مانگا معاوضا دینے کو تیار ہوں۔“ میں نے اسے شرافت سے منانے کی آخری کوشش کی۔
وہ تلخ ہوئی۔” میرا خیال ہے آپ بے عزت ہونا چاہتے ہیں۔جب کہہ دیا یہاں غیر قانونی علاج نہیں ہوتاتو آپ کو تشریف لے جانا چاہیے۔“
”جوان لڑکی کوسوچ سمجھ کر فیصلہ کرنا چاہیے، اگر میرے ساتھی کو کچھ ہو گیا تو شایدآپ کسی کو منہ دکھانے کے قابل بھی نہ رہیں۔“ یہ کہتے ہوئے میں نے جیب سے پستول نکال لیا تھا۔
اس کے دلکش چہرے پر چھائی بے زاری خوف میں تبدیل ہوئی۔”آ....آپ دھمکی دے رہے ہیں۔“ وہ غیر محسوس انداز میں دروازے کی طرف کھسکنے لگی۔
میں نے جست لگا کر اس کی پیش قدمی کو روکا اور ملائم بازو سے پکڑ کر جھٹکا دیتے ہوئے بولا۔
”میں دھمکی نہیں دیا کرتا۔“
اس کے بولنے سے پہلے امجد ہماری طرف بڑھتے ہوئے بولا۔
”جانو گندے! کیا کر رہے ہو۔ یہ ڈاکٹر ہے عوام کی خدمت گار۔“ اس نے میری چھاتی پر ہاتھ رکھ کر پیچھے کی طرف دھکا دیا۔ ”اگر تین چار گھنٹوں میں نہیں مرا تو مزید چند گھنٹے بھی گزار لوں گا۔“
”مگر....“ میں نے ڈاکٹر کا بازو چھوڑ کر اسے سمجھاناچاہا۔
اس نے قطع کلامی کی۔ ”چلو باہر .... اور سوری ڈاکٹرصاحب! اس گدھے کی طرف سے میں معذرت خواہ ہوں، ہو سکے تو ہمیں معاف کر دینا۔“ میرا بازو پکڑ کراس نے باہر کوقدم بڑھائے۔
ماتھے پر چمکتا پسینہ ،گرم ہاتھ اور لڑکھڑاتے قدم اس کی اذیت کے مظہر تھے۔اسے سخت بخار بھی ہورہا تھا۔ پستول جیب میں ڈال کر میں اسے سہارا دینے لگا۔ ہم بہ مشکل دروازے تک ہی پہنچے تھے کہ اس نے آواز دی۔
”سنیے۔“ میں نے رک کر اس کے جانب دیکھا۔
وہ نظریں جھکاتے ہوئے بولی۔ ” اسے لے آﺅ مم.... میں دیکھے لیتی ہوں۔“ غیرت کا تقاضا تو یہی تھا کہ اس کی پیشکش کو ٹھکرا دیتا۔ ایک دفعہ وہ ہمیں دھتکار چکی تھی، مگر معاملہ دوست کی زندگی کا تھا اگر اس کی جگہ میں خود ہوتا تو واپس نہ پلٹتا ۔اپنوں کی تکلیف انسان کوخودسے زیادہ گھائل کر تی ہے۔ مجھ سے امجد کی تکلیف برداشت نہیں ہو رہی تھی تبھی میرے قدم رک گئے۔
امجد میرا مزاج آشنا تھا،فوراََ بولا۔ ” ہمیں ہمدردی کی بھیک نہیں چاہئے۔“
لیکن میں اپنی جھوٹی انا کی خاطر میں اسے اذیت نہیں دے سکتا تھا۔ تبھی مڑ گیا۔اس نے طوہن کرہن میراساتھ دیا تھا۔
ڈاکٹر شہلا کے چہرے پر ندامت نظر آرہی تھی اور اس عالم میں وہ کئی گنا زیادہ دلکش لگنے لگی تھی۔
امجد کے نشست سنبھالتے ہی اس نے پوچھا۔”گولی اندر ہے؟“
”جی ہاں۔“میں نے اثبات میں سرہلادیا۔ امجد ہونٹ بھینچے خاموش بیٹھا رہا۔
”پلیز اسے اندر لے آﺅ۔“ اس نے دفتر سے ملحقہ دروازہ کھولا۔،و ایک چھوٹا سا آپریشن تھیٹر تھا۔ میں نے اس کے اشارے پر امجد کو ایک ایک اونچی میز پر امجد کو لٹا دیا۔
پلاسٹک کے دستانے پہنتے ہوئے وہ مجھے مخاطب ہوئی۔” آپ باہر تشریف چلے جائیں ۔“
”آپ کی مدد کر سکتا ہوں۔“
اس نے نفی میں سرہلایا۔” شکریہ،اس کام کونرس موجود ہے۔“ میں چپ چاپباہر نکل آیا۔
جاری ہے
قسط نمبر19
ریاض عاقب کوہلر
امجد کی طرف سے اطمینان حاصل ہوتے ہی میری سوچیں چودھری اکبر کے پیچھے بھٹکنے لگیں۔وہ نامعلوم علاقے کی طرف بھاگگیا تھا۔ اسے تلاش کرنا آسان نہیں تھا۔چھپے ہوئے آدمی کو ایک شہر میں تلاش کرنا مشکل ہو جاتا ہے توپورے پاکستان کو کون کھنگالتا،بلکہ اس کا پاکستان چھوڑنا بھی ناممکن نہیں تھا۔ اس کے پاس کافی دولت تھی ۔ کسی بھی غیر معروف ملک میں زندگی کے بقیہ ایام آرام سے گزار سکتا تھا۔اور بھری دنیا میں ایک عام بندے کو تلاش کرنا یقینا ناممکن تھا۔اس کا کوئی ایسا اپنا موجودد نہیں تھا جس سے تفتیش کی جاسکتی۔بہن اور ماموں زاد اس کے خلاف تھے۔بھائی اورماں باپ مر چکے تھے۔لے دے کے ملک میر نیازخان ہی بچتا تھا۔شاید اسے کچھ سن گن ہوتی،مگر میرنیاز خان سے یہ راز اگلوانابھی نہایت مشکل تھا۔اطلاعات کے مطابق چودھری اکبر کے ساتھ اس کے تعلقات بہت قریبی نوعیت کے تھے۔گو سسر و داماد کا رشتہ تو کامیاب نہیں ہوپایا تھا لیکن چودھری نے اپنی زمینیں اسے بیچ کر ثابت کر دیا تھا کہ رشتے کو ٹوٹنا ان کے تعلقات میں رخنہ انداز نہیں ہوسکاتھا۔
اب میر نیاز خان سے ٹکراﺅ ناگزیز نظر آرہا تھا۔ امجد کی چھٹی بھی ختم ہونے کو تھی۔یوںبھی وہ وقتی طور پر ناکارہ ہو گیا تھا اور میں پھر اپنے دشمنوں کے خلاف لڑنے کوتنہا رہ گیا تھا۔لیکن اکیلا پن مجھے مایوس نہیں کر سکتا تھا۔ چودھری اکبرکو عبرت ناک انجام تک پہنچانا میری زندگی کا مقصد تھااوراس کے لیے میں ساری زندگی داو¿ پہ لگا سکتا تھا۔
میں دیر تک انھی خیالوں میں کھویا رہا، یہاں تک ڈاکٹر شہلا اندر آئی۔
” آپ کے ساتھی کو پانچ نمبر کمرے میں منتقل کر دیا ہے۔اب خطرے سے باہر ہے ۔ان شاءاللہ اسے چار پانچ گھنٹوںتک ہوش میں آجائے گا۔“
”بہت بہت شکریہ ڈاکٹر صاحب! میں اپنی بے ہودگی پر نادم ہوں ۔امید ہے آپ معاف کردیں گی۔“
وہ متبسم ہوئی۔ ” وہ صرف پریشانی کا ردِ عمل تھا، میں نے بھی تو سختی سے انکار کر دیا تھا۔ البتہ انکار میری مجبوری تھی،کیوں کہ ماموں جان نے سختی سے کہا ہواہے کہ ایسا کوئی کیس نہ دیکھوں۔اب ماموں جان سے جھوٹ بولنا پڑے گا۔“
میں شرارتی لہجے میں بولا۔”جھوٹ بولنا کوئی اچھی بات تو نہیں ہے نا۔“
وہ ترکی بہ ترکی بولی۔”سچ کہا تو اپنی بے عزتی تو برداشت کر لوں گی آپ کے ساتھی کو بھی علاج سے پہلے جانا پڑے گا۔“
” آپ کا ماموں امجد کے زخم کا معائنہ نہیں کرے گا؟“
اس نے نفی میں سرہلایا۔” صرف رپورٹ دیکھے گا،البتہ مجھے مریض کے متعلق کوئی مسئلہ درپیش ہوتا تب وہ ضروردیکھتا۔“
میں نے پوچھا۔”ویسے بازو سے گولی نکالنے کو ڈاکٹر صاحبان مریض کو مکمل بے ہوش نہیں کرتے ۔“
اس نے وضاحت کی۔”گولی نکالنے کے بعد اسے سلانے کو سکون آور ٹیکہ لگایاہے۔“
میں نے جانے کو پر تولے۔”بہت بہت شکریہ ڈاکٹر صاحب ! آپ کی فیس ان شاءاﷲ واپس آ کر ادا کروں گا۔“
وہ خوش دلی سے بولی۔ ”ضرورت نہیں ،کیوں کہ امجد کا علاج میں پیسوں کی خاطر نہیں کر رہی۔“
میں نے حیرانی ظاہر کی۔”پھر کس لیے کر رہی ہیں؟“
” انسانی ہمدردی کے تحت۔“
”باقی مریض ہمدردی کے مستحق نہیں ہیں۔“
اس نے وضاحت کی۔ ” تمام کو رعایت کرتے رہیں تو کھائیں گے کہاں سے۔“
میں نے شوخ لہجے میں پوچھا۔”ہماری خصوصیت کی وجہ ؟“
وہ خفگی سے بولی۔”بھائی! آپ بھی فیس دے دینا اب خوش۔“
میں مزید تکرار کیے بغیر دفتر سے نکل آیا۔
موٹر سائیکل کی ٹینکی فل کراکر میں نے رحمن خیل کا رخ کیا۔ گھر جا کر چیک بک اٹھائی اور جیرے پہلوان کے ہوٹل میں جا کر موٹر سائیکل اس کے حوالے کر دی۔ ”بہت بہت شکریہ پہلوان چاچا۔“
وہ خوش دلی سے مسکرایا۔”آپ کا سامان لے آﺅں؟“
” بعد میں لے جاﺅں گا۔“
اس نے دائیں بائیں دیکھتے ہوئے سرگوشی کی۔”رات چودھری اکبر کی حویلی میں ایک بندہ قتل ہو گیا ہے۔ آپ کہاں تھے؟“
”اپنے چچا کے پاس ہسپتال میں۔“
وہ معنی خیز انداز میں مسکرایا۔ ”اپنا خیال رکھنا پُتر!آپ کے ساتھ بہت ظلم ہوا ہے اور بدلہ لینا حق بنتا ہے۔“
میں اس کا شکریہ ادا کرتا ہوا،بس پکڑ کر میں ڈیرہ پہنچ گیا۔ سب سے پہلے بینک جا کر کچھ رقم نکلوائی اور پھر چچا فاضل کو ملنے کے لیے چلا گیا۔ وہ کافی بہتر تھے۔میں نے انھیں سب کچھ تفصیل سے بتا دیا۔
چچا فاضل نے کہا۔ ” میں میرنیاز خان سے بات کروں گا، شاید کچھ بتانے پر راضی ہو جائے۔“
میں نے انکار میں سر ہلایا۔ ” آپ کی حالت ایسی نہیں ہے کہ سفر کر سکیں۔اور فکر نہ کریں میں اس سے نبٹ لوں گا۔“
چچا فاضل نے موضوع تبدیل کیا۔”امجد کیسا ہے؟“
”الحمداللہ خطرہ ٹل گیا ہے۔“
انھوں نے مشورہ دیا۔”اسے واپس بھیجنے کی کوشش کرو ،اپنی دشمن میں خیرخواہوں کو گھسیٹنا مثبت فعل نہیں ہوتا۔“
”جی چچا جان۔“میں نے اثبات میں سرہلادیا۔
”اسلم سے رابطے میں رہنا،انھیں مزید رقم کی ضرورت ہوتوکھڑی فصل بیچ دینا۔“
میں نے اطمینان ظاہر کیا۔”پیسے بہت ہیں چچا جان۔“
گہرا سانس لے کر وہ دائیں بائیں کی باتیں کرنے لگے۔تھوڑی دیر وہاں گزار کر میں نے اجازت لی اور امجد کی طرف روانہ ہوگیا۔اسے ہوش آگیا تھا اور کافی بہتر محسوس کررہا تھا۔ میں اس کے بستر پر چوکڑی مار کر بیٹھ گیا۔گپ شپ کے لیے موضوعات کی کمی نہیں تھی۔اسی دوران ڈاکٹر شہلا داخل ہوئی،وہ اسی وقت واپس پہنچی تھی۔کھلی کھلی اور خوشگوار موڈ میں لگ رہی تھی۔
”طبیعت کیسی ہے؟“ امجد کی کلائی پکڑتے ہوئے اس نے حرارت دیکھی۔
” بہتر ہوں۔“
وہ متبسم ہوئی۔” مزید دو دن کی قید کے بعد رہائی ملے گی۔“
امجد دل گرفتگی سے بولا۔”اتنے بڑے جرم پر صرف دو دن قید۔“
اسے کرید ہوئی۔”لوگ ہسپتال سے بھاگنا چاہتے ہیں اور آپ جانا نہیں چاہتے۔“
اسے گہری نظروں سے دیکھتے ہوئے اطمینان سے بولا۔”اپنی پسند اور اپنے شوق کی بات ہے۔“
”تو آپ کا قیام طویل کر دیتے ہیں،ہمیں تومعاوضا بٹورنے سے مطلب ہے۔“وہ میری طرف متوجہ ہوئی۔” عمر جان صاحب،استقبالین کے پاس اپنا پتا بھی درج کرادینااور فیس بھی یاد سے اداکردینا۔“
میں شرارتی انداز میں بولا۔”فیس کی ادائی تو ہم غرباءنہیں کر سکتے۔البتہ اپنا پتا بتا سکتے ہیں، عمر جان سکنہ رحمن خیل ۔باقی تحصیل وضلع تو ہمارا بھی وہی ہے جو آپ کا ہے۔“
وہ متحیر ہوئی۔ ”آپ کا تعلق رحمن خیل سے ہے۔“
” اس میں حیرانی کیسی۔“مجھے اس کی حیرت پر تعجب ہوا تھا۔
” میرا تعلق بھی رحمن خیل سے ہے،میں چودھری انور مرحوم کی بیٹی ہوں۔“
”کیا؟“ہم چیخ ہی تو پڑے تھے۔
l l l
”خخ.... خیر.... تو ہے۔“ ہمیں ششدر دیکھ کر وہ پریشان ہو گئی تھی۔
ہم خاموش رہے۔ میرے خون کی گردش تیز ہوئی،دل چاہااس کی خوب صورت گردن دبا کر انتقام کی ابتداءکردوں۔آخر سانپ کا بچہ سنپولیا ہی ہوتاہے۔اس کے بھائی نے میرا پورا کنبہ جلادیا تھااور بدلے میں اس کے پورے خاندان کی تباہی جائز تھی۔مگر پھر حقائق پر نظر پڑی،وہ بے چاری خود اپنے بھائی کے ہاتھوں ڈسی ہوئی تھی۔اگر گاﺅں میں ہوتی تو شاید اعظم کے ساتھ چودھری اکبر اس کی بھی جان لے لیتا۔میرا غیظ و غضب اعتدال پذیر ہونے لگا۔
”آ.... آپ لوگ چپ کیوں ہو گئے؟“ ہماری خاموشی اسے کھلنے لگی۔
مگر ہم کچھ کہنے کے قابل نہیں رہے تھے۔خاموشی سے ایک دوسرے کو گھوررتے رہے۔
وہ منمنائی۔”کوئی بات بری لگی ہو تو معذرت خواہ ہوں۔“
امجد ناگواری سے بولا۔ ”ہمیں تھوڑی دیر تنہا چھوڑ سکتی ہیں۔“
چہرے پر حیرانی و خفگی سجائے وہ کمرے سے نکل گئی۔
”یہ بے قصور ہے ماجے!اس غریب کو تو شاید یہ بھی پتا نہ ہو کہ ہاشم جان کے گھر کو آگ لگانے والے اس کے بھائی ہیں۔ یہ بے چاری تو خود اس ناگ کی ڈسی ہوئی ہے ،یہاں تک کہ وہ اس کے حصے کی جائیداد بھی بیچ کر نکل گیا۔“
امجد کے چہرے پر خوشی کی چمک ابھری مگر جب بولا تو لہجہ بالکل مختلف تھا۔
”اس کا سب بڑا قصور چودھری انور کی بیٹی اور اکبر کی بہن ہوناہے۔ میری بہنوں نے اس کے بھائی کا کیا بگاڑ ا تھا کہ انھیں زندہ جلناپڑا۔اسے بھی بھائیوں کا بویا کاٹنا پڑے گا۔“
” گنڈہ پور عورتوں پر ہاتھ نہیں اٹھاتے ،میں نے تو خاتون کو معاف کر دیا ہے، جو براہِ راست ملوث تھی یہ غریب تو اصل واقعہ سے بھی لا علم ہوگی۔“
”اس کا سر کچلنے کو میں کافی ہوں۔ویسے بھی گنڈہ پور نہیں جدون ہوں۔“ امجدانتقام پر مصر رہا۔
”میں تمھیں ایسی حرکت کی اجازت نہیں دوں گا۔“
اس نے منہ بنایا۔”اجازت مانگی کس نے ہے۔“
”بے وقوف، وہ تمھاری محسن ہے۔“
وہ ڈٹارہا۔” پتا ہوتا تو اس سے علاج نہ کراتا۔“
میں زچ ہو کر بولا۔” بے چاری کے قتل پر مصر کیوں ۔“
وہ اطمینان سے بولا۔” اسلام میں ہاتھ کے بدلے ہاتھ، کان کے بدلے کان،جان کے بدلے جان یونھی بہن کے بدلے بہن۔ اکبر نے میری بہنوں کو زندہ جلا دیا ہے میں بھی اس کی بہن کو زندہ جلانے کا حق رکھتا ہوں۔ البتہ یہ احسان کر سکتا ہوں کہ زندہ جلانے کے بجائے گلا دبا دوں یاگولی ماردوں۔“
”جان کے بدلے جان مجرم کی لی جاتی ہے کسی بے گناہ کی نہیں۔بویا چودھری اکبر نے ہے تو اسے ہی کاٹنا پڑے گا۔اس معصوم کو قتل کر کے ہم اپنے ضمیر پر بوجھ ڈالنے کے علاوہ کچھ نہیں کر سکیں گے۔“
امجد نے تکیے پرسر ٹکاکر آنکھیں بند کر لیں۔ میں نے اس کے چہرے کو غور سے دیکھا جس پر خوشی کی چمک لہرا رہی تھی۔
میں نے حیرانی ظاہر کی۔”تم ایک دم خوش کیوں ہوگئے ہو؟“
’ بہت بڑا بوجھ سر سے ہٹ گیا ہے یار!“لگا بند آنکھوں کے پیچھے کوئی خواب دیکھ رہا ہو۔
” سمجھا نہیں۔“ میں نے حیرانی ظاہر کی۔
” زندگی میں پہلی بار کوئی اتنی پیاری،اتنی اچھی،اتنی اپنی لگی۔لیکنیہ جان کر کہ وہ دشمن کی بہن ہے، ضمیر مجھے ملامت کرنے لگا،تبھی خود سے لڑکر اس کے خلاف بول رہا تھا۔شکریہ تم نے عدل و انصاف کا ساتھ دیا۔ بلا شبہ شہلا بے گناہ ،معصوم اور بے قصور ہے۔“
” چھپے رستم نکلے یار! کہاں تمھاری ساس پیدا نہیں ہوئی تھی اور کہاں پلی پلائی دلھن پسند کرلی ،وہ بھی ایم بی بی ایس ڈاکٹر۔“
وہ خاموش رہا۔شاید بند آنکھوں کے پیچھے ڈاکٹر شہلا کو اپنی دولھن کے روپ میں دیکھ رہا تھا۔ چند لمحے یونھی گزر گئے۔اچانک اس کی آنکھیں وا ہوئیں۔اس نے دکھ بھری نظروں سے مجھے گھورااور پھر چھت کو تکنے لگا۔اس کی آنکھوںمیں حسرت اور ویرانی ہلکورے لے رہی تھی۔
میں نے گھبرا کر پوچھا۔”کیا ہوا؟“
اس کے لبوں پر اذیت بھراتبسم ابھرا۔” ایک لطیفہ یاد آگیا ہے۔ایک دوست نے دوسرے کو کہا، میں نے بادشاہ کی بیٹی سے شادی کرنی ہے اور نصف بات طے ہوچکی ہے۔دوسرے دوست نے پوچھا ،وہ کیسے؟.... کہنے لگا میں تو راضی ہوں ان کا پتا نہیں ہے۔“اس نے پھیکا سا قہقہ بلند کیا۔ ”مفلسوں کااظہارِمحبت و پسندیدگی بھی مذاق ہی تو لگتا ہے۔“
میں نے عزم ظاہر کیا۔ ””تمھاری غربت تو آڑے نہیں آئے گی،میری اتنی زمینیں کس کام آئیں گی ،البتہ ڈاکٹر شہلا کے دل کا حال تمھیں معلوم ہوگا۔“
وہ دھیرے سے بولا۔
میں جسے پیار کا انداز سمجھ بیٹھا ہوں
وہ تبسم وہ تکلم تیری عادت ہی نہ ہو
میں زیر لب مسکرایا۔ ”اس نے گل ریزخان سے شادی کرنے سے انکار کر دیا ہے شاید تمھارے لیے مان جائے۔“
وہ طنزیہلہجے میں بولا۔”اس انکار کے پس پردہ کوئی تعلیم یافتہ جوان یا ڈاکٹر وغیرہ ہوگا،ایک مفلس فوجی کی کیا اہمیت،بلکہ یہ تھوبڑا تو اس نے کل ہی دیکھا ہے اور اتنا پسند آیا کہ علاج ہی سے انکار کر دیا۔“
میں نے ڈاکٹرشہلا کی طرف داری کی۔”علاج تو بے چاری نے کیاہے۔“
”ترس کھا کر۔اور ترس بھکاریوں یا خود سے نچلے درجے کے لوگوں پر کھایا جاتا ہے۔“
”ایک جانب اس کے تبسم و تکلم کا اعتراف اور دوسری جانب ایسی مایوسی۔“
وہ صاف گوئی سے بولا۔”اسے پیشہ ورانہ تبسم کہا جاتا ہے جوڈاکٹروںکی تعلیم کا بنیادی جزو ہے۔ مریضوں کی دل جوئی کی خاطر انھیں جبراََ ہونٹوں کوکھینچنا پڑتاہے۔“
میں نے خیال ظاہر کیا۔”ضروری تو نہیں کہ وہ کسی اور سے محبت کرتی ہو۔“
”اتنی خوب صورت،دلکش ،موہنی و جاذب نظر لڑکی کو پسند کرنے والے کئیہوں گے اور میڈیکل کی مخلوط تعلیم میں تو پیارومحبت کو ساز گار ماحول میسر ہوتا ہے۔ناممکن کہ شہلا بی بی اب تک لنڈوری پھر رہی ہو۔“
میں جھلاتے ہوئے بولا۔”جب تمھیں زبردستی اس کے محبوب پیدا کرنے کا شوق چڑھا ہوا ہے تو بہتر ہوگاموضوع ہی تبدیل کردیں۔“
” وہ خبیث تو بھگوڑا ہو گیا ہے،اسے ڈھونڈنے کا کچھ سوچا ہے۔“
”اپنی سناﺅ، تمھاری چھٹی چند دن ہی باقی رہ گئی ہے، گھر کا چکر لگانے نہیں جاﺅ گے۔“
” تھوڑی دیر پہلے کہہ رہے تھے تمھاری کافی زمینیں ہیں۔“
”تو؟“ میں نے حیرانی سے پوچھا۔
” مجھے اپنا منشی بنالیں۔“
”بے شک آدھی زمینیں لے لومگر نوکری چھوڑنے کی کیا ضروت ہے۔“
اس نے دانت پیسے۔” بدلہ کیسے لوں گا۔“
” فکر نہ کرو ان سے اکیلا نبٹ لوں گا۔“
” چچا جان نے کہا تھا کہ اس کے چار نہیں پانچ بیٹے ہیں،توبدلہ لینے کا حق اکیلے تمھیں کیسے مل گیا۔“
” پہلے فوج سے ڈسچارج تو ہو جاﺅ۔“
”فوج سے ڈسچارج ہونے کے لیے کم از کم چند ماہ درکار ہیں۔اور اتنا وقت ہمارے پاس نہیں ہے۔میری واپسی کے لیے متعلقہ تھانے کو خبر کی جائے گی ،انھیں کیا پتا میں ڈیرہ اسماعیل خان میں پھر رہا ہوں۔“
(تب آرمی سے بھگوڑاہونے والوں کوپولیس گرفتار کر کے متعلقہ یونٹ میں پہچا دیا کرتی تھی۔ لیکن آج کل ایسا نہیں ہوتا۔اب بھگوڑا ہونے والوں کو آرمی خود قبول نہیں کرتی )
”انکل اورآنٹی سے مشورہ تو کرلو۔“
” انھیں خرچا بھجوا دیا کروں گا۔یوں بھی ملک جانو کا منشی ہوں کوئی ایراغیرا نہیں۔“
میں بے ساختہ ہنس پڑا۔اسی وقت دروازہ کھول کر ایک نرس اندرآئی۔
”عمر جان صاحب کوڈاکٹر صاحبہ بلا رہی ہیں۔“
میں نے کہا۔” آرہا ہوں۔“ اور نرس سرہلاتے ہوئے نکل گئی۔
میںنے نشست چھوڑی۔” بھابی کو مل لوں۔“
امجد نے نہ بنایا۔ ”اسے کہا تو امید ہے اگلے چند منٹوں میں ہسپتال سے باہر ہوں گے۔“
میں ہنستا ہوا باہرآگیا۔دفتر کے باہر ادھیڑ عمر باریش شخص بیٹھا تھا۔
”ڈاکٹر صاحبہ نے مجھے بلایا تھا۔“ میں دروازے پر دستک دیتا ہوا اندر گھس گیا۔
ڈاکٹر شہلا بے چینی سے منتظر تھی،مجھے دیکھتے ہی بے اختیار کھڑی ہو گئی۔
”تشریف رکھیں۔“
”فرمائیں۔“ میں نے کرسی سنبھال لی۔
”پہلے تو معذرت کروں گی ،کہ چھپ کرآپ کی گفتگو سننے کی غیر اخلاقی حرکت سرزد ہوئی ہے۔ دوسرا شکر گزار ہوں کہ آپ نے مجھے بے قصور جانااور وسیع القلبی سے معاف کر دیا۔اللہ پاک کی قسم مجھے آپ کی زبانی یہ پتا چلا۔اکبرکو بھائی کہتے ہوئے بھی مجھے شرم آرہی ہے۔مگر اس درندے نے جب اپنے چھوٹے بھائی اور ماموں کو نہیں بخشا تو غیروں پر کیا رحم کھاتا۔یقینا اسے موقع ملا تو جائیداد کے لالچ میں مجھے بھی ٹھکانے لگانے کی کوشش کرے گا۔اس کے خلاف قانونی کارروائی میں آپ مجھے شانہ بہ شانہ پائیں گے۔“
میں نے انکشاف کیا۔”اب یہ خطرہ باقی نہیں رہا،کیوں کہ وہ تمام جائیداد کالی وال کے ملک میر نیاز خان کے ہاتھ فروخت کر کے رُوپوش ہو گیا ہے۔“
وہ حیران ہوئی۔”مگر میرا حصہ کیسے فروخت کر سکتا ہے۔“
میں نے وضاحت کی۔ ”سنا یہی ہے،باقی آپ تصدیق کراسکتی ہیں۔“
وہ فکرمندی سے بولی۔” میں کل ہی بڑے ماموں جان کو خبرلینے بھیجتی ہوں ۔اگر سچ ہواتو ہمیں مقدمہ کرنا پڑے گا۔“
”پھرمجھے اجازت دیں۔“ میں نے نشست چھوڑ دی۔
اس نے ماتھے پر ہاتھ مارا۔ ” کتنی بے وقوف ہوں چائے پانی کاپوچھ ہی نہیں سکی ۔“
میں متبسم ہوا۔”پھر کبھی سہی۔“
”نہیں آپ بیٹھیں۔“ اس نے چپڑاسی بلانے کو گھنٹی بجائی۔مجھے بادل نخواستہ بیٹھنا۔
چپڑاسی اندرآیا۔
”عبدل چا چا!دو کپ کافی لے آﺅ، کافی ٹھیک رہے گی نا؟“ چپڑاسی کوبتا کراس نے تصدیق چاہی۔
میں نے مسکرا کر اثبات میں سر ہلا دیا ۔
اس کا قہقہ بلندہوا۔”جلدبازی میں اکثر سوچے سمجھے بغیر بول جاتی ہوں۔آپ سے پوچھے بغیر کافی کا بتا دیا۔“
میں انکساری سے بولا۔”مجھے بھی کافی کی طلب ہو رہی تھی۔“
”شکریہ۔“کہہ کر وہ میرے گھر والوں کی تعزیت کرنے لگی۔کافی آنے تک ہم ہلکی پھلکی گفتگو کرتے رہے۔ کافی پی کر میں نے نشست چھوڑی۔””اجازت دیں۔ان شاءاﷲ پھر گپ شپ ہوگی۔“
اس نے اثبات میں سر ہلا دیا۔ میں لمبے ڈگ بھرتا ہوا دروازے کے قریب پہنچا ،اچانک اس نے آواز دی۔
”عمر بھائی!“
میں پیچھے مڑا۔
وہ نظریں جھکاتے ہوئے حجاب آلود لہجے میں بولی۔ ” امجد کوبتا دینا، وہ جسے پیار کا انداز سمجھے بیٹھا ہے، وہ تبسم و تکلم میری عادت نہیں ہے۔“
میں شوخ ہوا۔”آپ کاکہنابہتر رہتا۔“
”آپ کہہ دیجئے نا۔“ وہ ملتجی ہوئی۔
میں شرارتی لہجے میں بولا۔”ٹھیک ہے بھابی!“ اس نے چہرہ ہتھیلیوں میں چھپا لیا تھا۔
میں دروازہ کھول کر باہرنکلااور خوشی سے سرشار امجد کی طرف بڑھ گیا۔ وہ تکیے پر سر رکھے گہری سوچوں میں غرق نظر آیا۔
”زندہ ہویاروح قفس عنصری سے پروازکر گئی ہے۔“میں نے اس کی آنکھوں کے سامنے ہاتھ لہرایا۔
وہ برجستہ بولا۔”اتنی جلد تمھاری دلی خواہش پوری نہیں ہو سکتی بالک۔“ وہ برجستہ بولا۔
” جلدی سے مٹھائی کا بندوست کرو۔“
اس نے منہ بنایا۔ ”بچہ ہوا ہے میرا کہ مٹھائی کھلاﺅں۔“
میں نے کہا۔” ہو جائے گا اگر تم تیسری مخلوق سے نہ ہوئے۔“
اس نے موشگافی کی۔”میرے خیال میں سیدنا آدمؑ واحد مردہیں جن کے مقدس جسم سے اﷲ تعالیٰ نے دوسرا وجود پیدا کیا تھا ان کے بعد بہ قول تمھارے مجھے یہ اعزاز ملنے کو ہے۔“
”تمھاری ہونے والی دُلھن کا پیغام لایا ہوں۔ نامہ بروں کے لیے عاشق کیا کچھ نہیں کر تے ،تم مٹھائی کھلانے میں لیت ولعل کر ر ہے ہو۔“
”کک ....کو ن سی دُلھن اور کیسا پیام۔“ وہ ہکلایا۔
”اچھاآ.... اب وہ کون سی ہو گئی جبکہ تھوڑی دیر پہلے پسندیدہ کڑی تھی۔“
”ٹھٹھے بازی ھوڑو، کہاں ڈاکٹر شہلا اور کہاں غریب امجد۔“
”بہ ہر حال میرا کام تھا پیغام پہنچانا ،کہہ رہی تھی....
ذرا سا دھیان رکھ لینا میری پہلی محبت ہے
وفا کا مان رکھ لینا میری پہلی محبت ہے
”جانواصل بات پھوٹو۔“ وہ ایک دم سنجیدہ ہوگیا تھا۔
اور میں نے ساری گفتگو دہرا دی۔ اس کے چہرے پرہزار واٹ کے بلب سے بھی زیادہ روشنی پھیل گئی تھی۔
”سچ مچ یہی کہا ہے ۔“ وہ خواب ناک لہجے میں مستفسر ہوا۔
میں چیخا۔”ہاں میرے باپ،اب کسی دوسرے موضوع پر بکو تمھاری سوئی تو ڈاکٹر ہی پراٹک گئی ہے۔“
مگر یہ میری خام خیالی تھی کہ میری جھڑکی کوئی اثر کرے گی۔ وہ شہلا کا نام ہی جپتا رہا۔ تنگ آ کر مجھے ہی بھاگناپڑا۔ اگلے دو ہفتے میں نے شہر ہی میںگزارے۔ شہلا کے ماموں سے بھی ملاقات ہوئی،ہنس مکھ اور خوش اخلاق انسان تھے۔ امجد کے والد صاحب کو بھی میں نے معقول رقم بذریعہ منی آرڈر بھجوا دی دی تھی ،کیوں کہ امجد نوکری نہ کرنے کے فیصلے پر ڈٹا تھا۔وہ رات دن ڈاکٹرشہلا سے راز و نیاز میں مصروف رہتا۔وہ اس کا علاج بھی بہت محبت اور چاہت سے کر رہی تھی۔ اس کا ماموں تو زمین کی تقسیم میں جتا تھا۔میر نیاز خان غیر متوقع طور پر ان کی زمین واپس کرنے پر تیار ہو گیا تھا۔اب وہ شہلا کا حصہ علیحدہ کروا رہا تھا۔
دو ہفتے بعد ہم رحمن خیل لوٹے۔ امجد کا زخم کافی حد تک مندمل ہو گیا تھا۔ ڈاکٹر شہلا تو اسے ڈسچارج کرنے کے حق میں نہیں تھی مگر امجد کے وعدے پر کہ ہر دوسرے دن اسے ملنے آئے گا۔وہ بہ مشکلراضی ہوئی تھی۔ اس کا ماموں بھی دونوں کی محبت سے آگاہ تھا،مگر انجان بنا رہتا۔
واپس آکر میں نے سب سے پہلے تو ایک جاننے والے کو فصل کٹائی کا ٹھیکہ دیا کیوں کہ گندم اور چنے کی فصلوں کی کٹائی شروع تھی۔
اگلے دن امجد نے میرنیاز خان سے دودوہاتھ کرنے کا مشورہ دیا کہ چودھری اکبر کا پتا اسے سے دریافت کرنا تھا۔
میں نے کہا۔”تمھارا بازو تو ٹھیک ہو جائے۔“
اس نے اطمینان ظاہر کیا۔”اب بہتر ہے۔“
” زخم ابھی تک کچا ہے اور میر نیاز خان کے خلاف حرکت میں آنے کوتمھارا مکمل تندرست ہونا ضروری ہے۔“
”اپنی کہو،میری فکر چھوڑو۔“
”فی الحال معلومات حاصل کرتے ہیں، جب تک تمھارا بازو بھی ٹھیک ہو جائے گا۔میں اس پرکچا ہاتھ نہیں ڈالنا چاہتا۔“
امجد نے رضامندی ظاہر کی اور ہم میر نیاز کو گھیرنے کامنصوبہ بنانے لگے۔آخر طے ہوا کہ اگلے دن میں میرنیاز خان کی حویلی کو دیکھنے جاﺅں گااور اس کے بارے مزید معلومات لینے کی کوشش کروں گا۔
l l l
رحمن خیل سے کالی وال کا فاصلہ سات آٹھ کلومیٹر سے زیادہ نہیں تھا۔ایک کچی سڑک تین کلومیٹر بعد پختہ سڑک سے مل جاتی تھی۔ جو بڑی سڑک کو کالی وال سے جوڑتی تھی۔
میر نیاز خان کالی وال کابلا شرکت غیرے مالک تھا۔میں جانتا تھاوہاں اس کے خیر خواہ اور چیلے بہ کثرت بکھرے ہوں گے۔ اس کے متعلق پوچھ تاچھ میں بہت زیادہ احتیاط کی ضرورت تھی۔میری کوشش تھی کہ اس تک یہ خبر کسی صورت نہ پہنچے،ورنہ وہ چوکنا ہوجاتا۔گو اس کے آدمیوں سے میرا دو بار ٹاکرا ہوچکا تھااور ان واقعات کو تین ہفتے گزرچکے تھے،اس کا خاموشی سادھنا ظاہر کر رہا تھا کہ اس نے ہمیں کوئی اہمیت نہیں دی تھی۔ اب لڑائی مول لیے بغیر اس سے چودھری اکبر کا پتہ اگلواناتھا۔
میں رحمن خیل سے پیدل نکلا اور پختہ سڑک پر ایک موٹرسائیکل سوار سے لفٹ مانگ کر کالی والی پہنچ گیا۔ کلوزبٹ کی مشین گن میرے کندھے سے لٹکی تھی۔ اوپر میں نے ہلکی چادر اوڑھی تھی۔گو ہمارے علاقے میں ہر دوسرا بندہ مسلح نظر آتا ہے، لیکن وہ ہتھیار میں نے میر نیاز خان کے آدمیوں سے چھینا تھااور کوئی بھی دشمن اسے پہچان کر میرے لیے مشکل کھڑی کر سکتا تھا۔ہمارے لوگ اپنے ہتھیار کو بچوں کی طرح پہچانتے ہیں۔
کالی وال آبادی کے لحاظ سے رحمن خیل سے دگنا تھا۔ تھوڑی دیر گھومنے کے بعد مجھے کام کی شروعات کو موزوں جگہ مل گئی۔ وہ ایک چھپر ہوٹل تھا ،جس کے کونے میں چٹائی بچھا کر دس بارہ آدمی دو تین ٹولیوں میں بٹے جوا کھیل رہے تھے۔ پاﺅڈری اور جواری ایسا طبقہ ہے جسے صرف اپنے نشے یا جوئے سے غرض ہوتی ہے۔ایسے افراد کو استعمال کرنا زیادہ مشکل نہیں ہوتا۔
قارئین کو شاہد سرِعام جوا کھیلے جانے پر اچنبھا ہو مگر گنڈہ پور معاشرے کی خامیوں میں جوا¿ اور نشہ سر فہرست ہیں ۔ پولیس اول تو وہاں جاتی نہیں،چلی جائے تو ان کا منہ بند کرنے کو ہڈی ڈال دی جاتی ہے۔
میں بھی ایک ٹولی میں بیٹھ گیا۔ بین الاقوامی سطح پرجوا¿ کھیلنے کو فلش کھیلی جاتی ہے مگر ہمارے ہاں لوگ رمی یا مانگ پتا کھیلتے ہیں۔ مانگ پتا بہت سادہ کھیل ہے۔ ایک شخص کوئی سا پتا بتاتا ہے اور تاش پھینٹنے والا تمام کے سامنے ترتیب وار ایک ایک پتا پھینکتا جاتا ہے جس شخص کے سامنے وہ پتا کھل جائے وہی جیت جاتا ہے ۔
میرا مقصد جیتنے کے بجائے مطلب کابندہ ڈھونڈنا تھا۔وہ جلد ہی مل گیا۔ اپنی گھڑی اور چادر بھی ہار کر وہ افسردہ و پریشان اٹھ گیا۔میں نے کھیل سے ہاتھ کھینچ لیا۔دوسروںنے میری ہار کواٹھنے کی وجہ سمجھا تھا۔
میرا مطلوبہ شخص سر جھکائے اردگرد کے مناظر سے لا تعلق چل رہا تھا۔ میں نے اس کا تعاقب جاری رکھا۔یقیناوہ ایسی ضرورت کے بارے سوچ رہا تھا جس کے پورا ہونے کا دارومدار جیتپر تھا مگر وہ ہار گیا تھا۔ جوا¿ ہے ہی ایسی لعنت کہ کبھی کسی کو خوشحال نہیں کیا۔ جیتنے کی امید پر انسان اپنی جمع پونجی سے ہاتھ دھو بیٹھتا ہے۔ مثل مشہور ہے۔
”جوا¿ کسی کا نہ ہوا“
کوئی جواری یہ دعویٰ نہیں کر سکتا کہ اس نے جوئے میں اتنی زمین جائیداد بنائی ہے۔ہمیشہ جواریوں کو کھنگال و تباہ حال ہی دیکھاہے۔ اسی لیے دینِ فطرت نے جوئے کو حرام قرار دیا ہے۔ کچھ فلاسفہ کے نزدیک اسلام کی ساری اچھائیوں سے صرف نظر کر کے اگر صرف جوئے اور شراب کے حرام ہونے کے حکم کو لیا جائے تب بھی اسلام مذاہب عالم پر فوقیت لے جائے۔
بازار سے نکل کر جونھی وہ ایک گلی میں داخل ہوا میں رفتار تیز کرتے ہوئے قریب پہنچ گیا۔
”السلام علیکم۔“ میں نے مصافحے کو ہاتھ سمت بڑھا دیا۔
جواب دیتے ہوئے اس نے بے دلی سے میرا ہاتھ تھام لیاتھا۔”تا سو خومنگ سرا تاش کولا۔“ (آپ ہمارے ساتھ تاش کھیل رہے تھے )اس نے مجھے پہچان لیا تھا۔
میں متبسم ہوا۔”صحیح پہچانا۔“
وہ متفکر ہوا۔”خیر تو ہے۔“ شایداسے کسی مطالبے کا اندیشہ تھا۔
میں بغیر تمہیدمدعے پر آیا۔ ” کالی وال میں اجنبی ہوں ایک قابلِ اعتماد بندے کی ضرورت تھی۔“
وہ حیرانی سے بولا۔ ”حکم کریں۔“
”کہیں بیٹھ کربات نہیں ہوسکتی۔“
اس نے پوچھا۔”کھانا کھایا ہے؟“ گنڈہ پور مہمان نوازی میں دوسرے پٹھانوں سے بھی آگے ہیں۔حالاں کہ میرا اندازہ تھا اس کے گھر میں شاید ہی کھانے کوکچھ موجود ہوتا۔ میرا مقصد چونکہ اسے اعتماد میں لینا تھا اس لیے نفی میں سرہلادیا۔
اس نے دعوت دی۔” کھانا کھا تے ہوئے کام کی بات بھی ہوجائے گی۔“
میں سرہلاتے ہوئے اس کے ہمراہ ہولیا۔تھوڑی دیر بعد ہم ایک کچے مکان کے سامنے تھے۔بغل میں چھوٹی سی بیٹھک بھی بنی تھی۔اس نے مجھے وہاں بٹھایااور خود گھر میں گھس گیا۔دوتین لمحوںبعد ہی اندر سے چیخ و پکار بلند ہوئی ۔ اس سے پہلے کہ مجھے وجہ سمجھ آتی بیٹھک کا گھر سے ملا دروازہ دھڑام سے کھلا اور چادر لپیٹے ایک عورت اندر داخل ہوئی۔ اس کے پیچھے جواری گالیاں بکتا ہوا برآمد ہوا۔
”بھائی جان!.... آپ خفا....“ جوان عورت نے کہنا چاہا مگرجواری نے اسے بازو سے پکڑ کر گھر کے جانب دھکا دیا۔
”دفع ہو جاﺅ، بکواس کرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔“ وہ دھاڑا
” کروں گی بکواس۔“ وہ لڑکھڑا کر سنبھل گئی۔ ” اتنے مہمان نواز ہو تو کچھ کما کر لاﺅ تاکہ مہمان کی خاطرداری کرسکوں۔“
”تیری تو....“ جواری گالیاں بکتا ہوا اسے مارنے کو لپکا۔
میں حیران کھڑا سمجھنے کی کوشش کر رہا تھا،فوراََ بڑھ کر جواری کو تھام لیا۔
”آرام سے بھائی، کیوں لڑرہے ہو؟“ میں نے اسے زبردستی چارپائی پر بٹھادیا۔
وہ عورت چلائی۔”دوسرا دن ہے گھر میں چولھا نہیں جلا ، صبح بھائی سے سو روپیا مانگ کر لائی تھی اسے سوداسلف لانے بھیجااب خالی ہاتھ لوٹ کرمہمان کے کھانے کے واسطے میری بالیوں کا مطالبہ کر رہا ہے۔اس سے پہلے میرا تمام زیور جوئے میں اڑا چکا ہے۔“
وہ جواریوں کی ازلی حماقت سے بولا۔”تمھارے فائدے ہی کو کھیلتا ہوں، جیت جاتا تو تمھیں سارا زیور بنوا دیتا۔“
وہ حکمت بھرے لہجے میں بولی۔”’جوا¿ اور جیت،نسبت ہی نہیں ملتی،یوں بھی جوئے کی حرام کمائی تمھیں ہی مبارک ہو۔“ اس کی آنکھوں میں آنسو آگئے تھے۔
” بہن آپ جائیںیہبالیوں کا مطالبہ نہیں کرے گا۔“وہ متشکرانہ نگاہوں سے مجھے دیکھتے ہوئی گھر میں گھس گئی۔۔
جواری سرجھکائے نادم بیٹھا تھا۔
میں نے نرمی سے پوچھا۔”آپ کا نام کیا ہے؟“
وہ دھیرے سے بولا۔”منظور۔“
”چلو میرے ساتھ ۔“میں نے اسے اٹھنے کااشارہ کیا
”کک ....کہاں؟“ وہ چونک گیا تھا۔
”چلو تو سہی۔“ میں داخلی دروازے کی جانب بڑھ گیا۔
میں نے بازار کا رخ کیا اوراور اس کے ”ناں....ناں“ کرنے کے باوجود آٹے کی بوری، گھی کا ٹین، چینی کی بوری اورروزمرہ ضرورت کادوسرا بہت سا سامان خرید کر ایک ریڑھے میںڈلوا کراس کے گھر لے آیا۔ میں اسے پیسے بھی دے سکتا تھا مگر وہ ساری رقم جوئے میں اڑا دیتا یوںکم از کم مہینا ڈیڑھ اس کے گھر کا چولھا تو جل سکتا تھا۔ اس کی بیوی سامان دیکھ کر خوش ہونے کے ساتھ اپنے رویے پر نادم نظرآرہی تھی۔ میں نے اس کی طرف دیکھنے سے گریز کیا ۔کیوں کہ کہتے ہیں کسی کی مدد کرتے وقت اس کے چہرے کی طرف مت دیکھو یہ نہ ہو اس کی شرمندہ آنکھیں تمھارے دل میں غرور کا بیج بودیں۔“
گو ان کی مدد میں میری غرض پوشیدہ تھی ، مگر انسان کا نفس اتفاقی نیکی کو بھی بڑھا چڑھا پیش کرتا ہے اور میں ایک گناہ گار انسان ہی توہوں۔
سامان گھر میں رکھوا کر منظور سنجیدگی سے کہنے لگا۔ ”آپ نے پہلے سے معاوضا چکا دیا ہے، خدارا کوئی ایسا کا م نہ بتانا جو میرے بس سے باہر ہو۔“
”آپ کی بیوی کو بہن کہنے کے ناتے یہ سب کیاہے۔اورفکر نہ کرو کام کسی اور کو کہہ دوں گا۔“
وہ نادم ہوا۔”آپ تو خفا ہی ہو گئے۔“
میں خوش دلی سے مسکر ا دیا۔” خفا نہیں ہوں۔“
وہ مصر ہوا۔”تو کام بتائیں۔“
میں مطلب کی گفتگو پر آیا۔” ملک میر نیاز خان کیسا آدمی ہے۔“
اس نے حیرانی ظاہر کی۔”میں سمجھا نہیں؟“
میں نے وضاحت کی۔”اسے ملنا ہو تو۔“
وہ اطمینان سے بولا۔”بہت آسان ہے۔“
”میرامطلب سے اکیلے ملاقات کرنے کا تھا،یوں کہ کسی اورکو پتا نہ چلے۔“
اس نے نفی میں سرہلایا۔ ”اس کے گردمحافظ کا اکٹھ رہتا ہےبلکہ اس کی بیٹی اور بیٹے کے ساتھ بھی دو تین محافظ ہر وقت موجود ہوتے ہیں۔“
میں نے پوچھا۔”کیوں؟“
وہ فلسفیانہ لہجے میں بولا۔”بڑے لوگوں کی دشمنیاں بھی بڑی ہوتی ہیں۔“
”میر نیاز خان کی کس سے دشمنی ہے؟“
” کوہاٹ کے خوانین ہیں(خان کی جمع)،غالباََتین بار اس پر قاتلانہ حملہ کراچکے ہیں۔“
”دشمنی کی وجہ؟“
”کاروباری رقابت ہے۔خان صاحب کافی غیرقانونی دھندوں میں ملوث ہے۔“
میں سوچ میں پڑ گیا، اگر کوہاٹ کے خانوں کو ساتھ ملا کر میر نیاز خان کے خلاف میدان میں اترتا تو یقینا کامیابی میرے قدم چومتی مگرمیرنیاز خان سے میری دشمنی اس نہج کی نہیں تھی کہ اتنی تگ و دو کرتا۔خواہ مخواہ وقت کا ضیاع کرناتھا۔
”میر نیاز خان کی بیٹی کا نام رضیہ ہے نا؟“
”نام نہیں معلوم البتہ، ملازم اسے چھوٹی بی بی کہتے ہیں۔“
” چھوٹی بی بی کس وقت گھر سے نکلتی ہے؟“
” اکثر صبح کے وقت ڈیرے(ڈیرہ اسماعیل خان)جاتی نظر آتی ہے،یہ پتا نہیں روزانہ جاتی ہے یاکبھی کبھار۔“
میں نے اشتیاق سے پوچھا۔” اکیلی ؟“
”دوسری گاڑی میں دو تین مسٹنڈے بھیہوتے ہیں۔“
”اس کے بیٹے کے بارے کیا جانتے ہو؟“
”اس کا نام گل ریز خان ہے، زیادہ تر گاﺅں سے باہر ہی رہتا ہے۔“
” میر نیاز خان کی حویلی دیکھنی ہے۔“
”پہلے کھانا کھالیں۔“ وہ کھڑا ہوگیا۔
تھوڑی دیر بعد وہ آلو، مٹرکا سالن اور روٹیاں لیے نمودار ہوا۔اچھی خاصی بھوک لگی تھی۔ کھاناکھا کر ہم بیٹھک سے نکل آئے۔ منظورکافی عقیدت سے پیش آرہا تھا۔میرے ساتھ قدم ملانے کے بجائے ایک قدم ہٹ کر چل رہا تھا۔
جلد ہی ہم ایک بڑی حویلی کے سامنے پہنچ گئے۔ وہ حویلی کے بجائے قلعہ لگ رہی تھی۔ دیواروں کی بلندی کم و بیش16,15فٹ ہو گی۔ ان کے اوپر خاردار تار لگی ہوئی تھی ۔ چاروں کو نوں میں مورچے بنے تھے۔ داخلی دروازے پر بھی مورچہ بنا نظر آرہا تھا۔حفاظت کا ایسا اہتمام مجھے حیرن کر گیاتھا۔
میں نے بے ساختہ تبصر ہ کیا۔”اتنا انتظام تو کسی وزیر کی حفاظت کابھی نہ ہو گا۔“
”وزیروں کی اتنی دشمنیاں کہاں ہوتی ہیں۔“
”صحیح کہا۔“مجھے اثبات میں سرہلانا پڑا۔
اس نے جھجکتے ہوئے پوچھا۔” آپ بھی ملک صاحب کے دشمن ہیں۔“
حویلی کے حفاظتی انتظامات دیکھتے ہوئے میرے ذہن میں نیا منصوبہ آیا۔پہلامنصوبہ ترک کرنا پڑا کہ اس طرح بہت زیادہ خون خرابہ کرنا پڑتا۔گو اکبر خان کا پتا معلوم کرنے کو میں ملک میرنیاز خان کی پوری حویلی تباہ کر سکتا تھا لیکن وہ آخری حل تھا۔ گھی نکالنے کو انگلی ٹیڑھی کرنا ضروری نہیں ہوتا۔گھی کے برتن کو آگ پر رکھ کربھی مطلب پورا ہوسکتاہے۔
میں نے کہا۔”بیٹھک میں بیٹھ کر تفصیل سے بات کریں گے۔“
اور اس نے اثبات میں سرہلادیا۔
جاری ہے