" دیکھ لیا انجام اپنے غصے کا ۔۔ ؟؟ کہا تھا نا تمہیں کہ کچھ عرصہ صبر کر لو ۔۔ لیکن تمہیں بس دشمنی نبھانی تھی ۔۔ اب چلا گیا ہمارا بیٹا ۔۔ "
عباس اور حُرّہ کے جاتے ہی سردار شیر دل سردار بی بی پر دھاڑے تھے یہ بات ان سب کے لیے ناقابل یقین تھی کہ عباس اپنی بیوی کو لے جا چکا تھا
" مم میرا بیٹا ۔۔ !"
سردار بی بی کو حقیقتاً حیرت ہو رہی تھی کہ ان کا بیٹا اتنا بڑا فیصلہ کر سکتا ہے
" کیا پایا ہے تم نے اپنی نفرت کے بعد ۔۔ ؟ بیٹی تو پہلے ہی کھو ہی دی تھی ۔۔ اب بیٹا بھی دور جا چکا ہے ۔۔"
وہ پھر سے دھاڑے تھے بیشک وہ جانتے تھے کہ عباس کبھی بھی اپنے ماں باپ سے نالاں نہیں ہو سکتا یہ فیصلہ اس نے سوچ سمجھ کر کیا ہو گا مگر وہ درحقیقت یہ چاہتے تھے کہ وہ کسی طرح نورے کے ساتھ شادی پر عباس کو راضی کر لیں
" میں نے تو پہلے ہی کہا تھا کہ وہ لڑکی جادوگیرنی ہے ۔۔ اس نے میرے بیٹے پر جادو کیا ہے ۔۔ ورنہ میرا بیٹا مجھے چھوڑ کر تو نہیں جا سکتا ۔۔ "
سردار بی بی کے لہجے میں افسوس تھا جو وہاں موجود باقی تین نفوس نے بھی محسوس کیا
" بکواس بند کرو ۔۔ ! یہ سب تمہاری وجہ سے ہوا ہے ۔۔ ورنہ میں کسی بھی طرح کر کے عباس کو نورے سے شادی کرنے کو راضی کر لیتا ۔۔ اب وہ خاک راضی ہو گا ۔۔ بے وقوف عورت ۔۔ !"
وہ پھر دھاڑے تھے
" ہاں ہوں بےوقوف میں ۔۔ تبھی تو وہ دو ٹکے کی لڑکی میرے بیٹے کو مجھ سے چھین کر لے گئی ۔۔ "
وہ بھی خاصی گستاخانہ بولی تھی کہ کہ سردار شیر دل نے خونخوار نگاہوں سے انہیں دیکھا
" لگتا ہے تم اپنا ذہنی توازن کھو بیٹھی ہو ۔۔ بات کرنے کی تمیز ہی بھول گئی ہو ۔۔ "
ناعمہ، نورے اور ملازمین کی موجودگی فراموش کیے وہ سردار بی بی کو ڈپٹتے ہوئے بول رہے تھے
" مم میں نہیں چھوڑوں گی اس لڑکی کو ۔۔ میرے بیٹے اور شوہر کو میرے خلاف کر دیا میرے اس نے ۔۔ "
ان کے دماغ میں بس حُرّہ ہی تھی وہ سردار شیر دل کی بات نظرانداز کرتی حُرّہ کو برا کہنے لگی
" تم واقعی اپنا ذہنی توازن کھو چکی ہو ۔۔ !"
سردار شیر دل غصے میں دھاڑتے ہوئے اپنے کمرے میں چلے گئے
" برباد کرے خدا اس لڑکی کو جس نے میرا بیٹا مجھ سے چھین لیا ۔۔ "
سردار شیر دل کے جانے کے بعد ہال کا سکوت سردار بی بی کی ہتک آمیز آواز نے توڑا اب وہ مسلسل حُرّہ کو کوسنے دے رہیں تھیں جبکہ نورے ان کو دیکھتی نفی میں سر ہلاتی چلی گئی
" یہ تو سب بگڑ گیا سردار بی بی ۔۔ !"
ناعمہ نے لہجے میں افسوس تھا اب محض وہاں سردار بی بی اور ناعمہ موجود تھی
" تم فکر نہیں کرو ناعمہ ۔۔ دیکھنا میں کیا حال کرتی ہوں اس لڑکی کا ۔۔ کچھ دن عیش کر لینے دو اسے ۔۔ "
چہرے پر زہریلی مسکراہٹ لائے بولیں تھیں کہ ناعمہ ٹھٹھکیں
" کیا کریں گی آپ ۔۔ ؟؟"
" تم بس دیکھتی جاؤ ۔۔ !"
ناعمہ کے پوچھنے پر سردار بی بی رازداری سے بولیں اور پرسوچ انداز میں غیر مرئی نقطے کو تکنے لگیں
گاڑی تیزی سے اپنی منزل کی طرف رواں دواں تھی انہیں سفر کرتے ہوئے تقریباً ایک گھنٹے سے زیادہ ہو گیا تھا مگر اس سارے وقت میں ان دونوں کے درمیان مکمل طور پر خاموشی چھائی رہی تھی عباس سپاٹ چہرہ لیے گاڑی ڈرائیو کر رہا تھا جبکہ حُرّہ سکڑی سمٹی بیٹھی تھوڑی تھوڑی دیر بعد ترچھی نگاہوں سے عباس کو دیکھ لیتی مگر خاموشی توڑنے کی کوشش اس نے بھی نہیں کی تھی جانے کیوں اسے عباس کی بے حد سنجیدگی سے خوف آ رہا تھا
حُرّہ کو اپنے ساتھ لے جانے کا فیصلہ اس کا ہمیشہ سے تھا مگر وہ چاہتا تھا کہ ایک مرتبہ حُرّہ سب کے ساتھ حویلی میں رہے شاید حویلی کے مکین اس کی معصومیت اور اچھائی کی بنا پر اس سے مانوس ہو جائیں مگر سب کچھ اس کی توقع کے برعکس ہوا تھا اس کے گھر والے تو کسی صورت حُرّہ کو قبول کرنے کے در پے نہ تھے بلکہ اگر آج وہ وقت پر نہ پہنچتا تو جانے کیا ہو جاتا یہ تمام باتیں سوچتے ہوئے عباس نے طویل سانس خارج کیا وہ تھوڑی تھوڑی دیر بعد حُرّہ کی نگاہیں خود پہ محسوس کر رہا تھا اور سمجھ رہا تھا کہ وہ سہمی ہوئی بیٹھی تھی مگر اس نے حُرّہ کو مخاطب نہیں کیا تھا کیونکہ وہ حُرّہ سے گھر پہنچ کر بات کرنے کا ارادہ رکھتا تھا
مزید ایک گھنٹے کی مسافت طے کرنے کے بعد گاڑی ایک خوبصورت وسیع و عریض بنگلے میں داخل ہوئی دو گھنٹے کے سفر میں ہی حُرّہ بہت تھک گئی تھی جب عباس اپنی سیٹ سے نکل کر حُرّہ کی جانب کا دروازہ کھول رہا تھا تو حُرّہ ڈر کر سیٹ کے ساتھ لگ گئی حُرّہ کی اس حرکت پر عباس نے ایک لمحے کو اپنی آنکھیں بند کیں اور گہرا سانس لیا پھر دوبارہ آنکھیں کھول کر حُرّہ کو دیکھا جو نگاہیں جھکائے بیٹھی تھی ہاتھ بڑھا کر عباس نے اس کی کلائی اپنے شکنجے میں لی اور نرمی سے سیٹ سے اٹھا کر کھڑا کیا اور آہستہ آہستہ چلتا بنگلے میں داخل ہوا
بے حد نفاست سے سجے ہوئے خوبصورت لاؤنج میں سے گزر کر زینے طے کیے اور ایک عالی شان کمرے میں داخل ہوئے حُرّہ مدھم سانس لیتے ہوئے لب بھینچے عباس کے پیچھے کمرے میں داخل ہوئی ایک سرسری سی نگاہ کمرے پر ڈال کر حُرّہ نے سر جھکا لیا کیونکہ عباس اب اسے ہی دیکھ رہا تھا
" ناراض ہیں مجھ سے ۔۔ ؟؟"
دھیمی آواز میں پوچھا گیا تو حُرّہ نے چونک کر عباس کو دیکھا
" ججی جی ۔۔؟؟"
ناسمجھی سے پوچھا گیا
" میں نے پوچھا مجھ سے کسی بات پر ناراضگی چل رہی ہے کیا آپ کی ۔۔ ؟؟"
عباس نے اپنی بات پھر سے دہرائی تو حُرّہ اب حیرت زدہ ہوئی
" نن نہیں ۔۔ !"
یک لفظی جواب دے کر وہ سوالیہ نگاہوں سے عباس کو تکنے لگی
" پھر بات کیوں نہیں کر رہیں ۔۔ کوئی لڑکی اتنا خاموش کیسے رہ سکتی ہے حُرّہ ۔۔ ؟؟"
ہلکے پھلکے انداز میں کہتے ہوئے اس نے نا محسوس انداز میں حُرّہ کو اپنی سمت کھینچا
" و وہ مجھے لگا ۔۔ !"
وہ جھجک کر پھر خاموش ہو گئی تو عباس نے ابرو اچکا کر اسے دیکھا
" کیا لگا میری جان کو ۔۔ ؟؟"
نگاہیں ہنوز حُرّہ کی جھکی نگاہوں پر جمائے وہ پوچھ رہا تھا
" مم مجھے لگا آپ غصے میں ہیں ۔۔ "
عباس کے سینے پر اپنا ہاتھ رکھتے ہوئے وہ دھیمی آواز میں بولی تو عباس نے طویل سانس لیا
" کس پر غصہ ۔۔ ؟؟"
حُرّہ کی تھوڑی کے نیچے اپنی انگشت شہادت رکھ کر چہرہ ذرا سا بلند کرتے ہوئے وہ پوچھ رہا تھا
" مم مجھ پر ۔۔ !"
وہ ایک نظر عباس کی پر تپش نگاہوں کو دیکھتی پھر سے چہرہ جھکا کر بولی
" میں خود پر تو غصہ ہو سکتا ہوں مگر ۔۔ آپ پر کبھی نہیں میری جان ۔۔ !"
حُرّہ کی پیشانی پر لب رکھتے ہوئے وہ بولا تو حُرّہ کی آنکھوں سے آنسو بے اختیار بہنے لگے اگلے چند لمحوں میں وہ سسکنے لگی تو عباس نے حیرت زدہ ہو کر اسے دیکھا
" حُرّہ میری جان ۔۔ ایسے کیوں رو رہیں ہیں آپ ۔۔ میں نے کہا تو ہے میں کبھی بھی آپ پر غصہ نہیں کر سکتا ۔۔ "
حُرّہ کے آنسو اپنے ہاتھوں کی انگلیوں کی پوروں سے صاف کرتا وہ لہجے میں فکرمندی لیے گویا ہوا
" پھر آ آپ بب بات کیوں نہیں کک کر رہے تھے مجھ سے ۔۔ ؟"
شاید یہ پہلا شکوہ تھا جو حُرّہ نے عباس سے کیا تھا جبکہ اس کے ہچکیوں کے درمیان بولنے پر عباس کے لبوں پر مسکراہٹ بکھری
" غصہ نہیں تھا بس خاموش ہو گیا تھا اور میں غصہ کس پر ہو سکتا ہوں جانم ۔۔ آپ میری بیوی اور وہ میری ماں ہیں ۔۔ اور آپ دونوں ہی میرے لیے میری زندگی ہیں ۔۔ میرا سب کچھ ہیں ۔۔ "
دھیمی آواز میں بولتے ہوئے وہ اس کی پر نم آنکھیں تکنے لگا جو اس وقت دلکش لگ رہیں تھیں
" آ آپ میری وجہ سس سے پریشان ہیں نا ۔۔؟؟ مم میری وجہ سے آپ سردار بی بی ۔۔ حح حویلی سس سے دور ۔۔!!"
وہ ٹوٹے الفاظ میں روتے ہوئے بمشکل بولی تھی
" حُرّہ میں دور نہیں رہ سکتا اپنی ماں سے ۔۔ میں جاتا آتا رہا کروں گا آپ فکر نہیں کریں اس بات کی ۔۔ "
اس کا تر چہرہ صاف کرتے وہ بولا تھا
" پھر خاموش کیوں ہو گئے تھے آپ ۔۔ ؟ سارے راستے آپ نے مجھ سے بات نہیں کی ۔۔ "
حُرّہ اس کی بات پر سر ہلاتے ہوئے پوچھ رہی تھی جبکہ عباس کو دلی خوشی ہوئی کہ حُرّہ اس پر حق جما کر شکوہ کر رہی تھی بے ساختہ ہی آنے والی مسکراہٹ کو وہ دبا گیا تھا
" دیکھیں جانم کچھ لوگ اپنا غصہ چیخ چنگھاڑ کر ظاہر کرتے ہیں ۔۔ کچھ لوگ بات چیت بند کر دیتے ہیں ۔۔ عموماً لوگ ناراضگی کا اظہار کرتے ہیں ۔۔ مگر میں عادتاً خاموش ہوجاتا ہوں کیونکہ غصے میں انسان کچھ بھی الٹا سیدھا بول دیتا ہے ۔۔ اور پھر آپ اور ماں تو مجھے جان سے بڑھ کر عزیز ہیں مجھے کبھی بھی آپ دونوں پر غصہ نہیں آ سکتا ۔۔ اور آج جو میں نے آپ کو اپنے ساتھ لے آنے کا فیصلہ کیا ہے وہ بھی بہت سوچ سمجھ کر کیا ہے ۔۔ "
بے حد سنجیدگی سے کہتے ہوئے وہ حُرّہ کی رونے کے باعث سرخ ہوئی آنکھوں کو تکتا ہوا بول رہا تھا جبکہ حُرّہ ہمیشہ کی طرح بغور اس کی باتیں سن رہی تھی
" اا اگر کبھی مجھ سے غلطی ہو گئی تب بھی کیا آپ مجھ پر غصہ نہیں ہوں گے ۔۔ ؟؟"
حُرّہ نے یقین دہانی چاہی تو عباس کے سنجیدہ چہرے پر تبسم بکھرا
" اگر کبھی آپ سے غلطی ہو گئی تب بھی خود پر تو غصہ کر لوں گا مگر آپ پر غصہ نہیں کروں گا ۔۔ !"
وہ فراخ دلی سے بولا تو حُرّہ نے حیرت زدہ ہوکر اسے دیکھا جو شاید دنیا کا پہلا صابر مرد تھا
" آآ آپ سچ میں کبھی غصہ نہیں کریں گے مجھ پر ۔۔ ؟؟"
حُرّہ ، عباس کے سینے پر اپنے دونوں ہاتھ جماتے ہوئے مان سے پوچھ رہی تھی
" کبھی نہیں کروں گا ۔۔ "
حُرّہ کی نازک کمر پر اپنی گرفت مضبوط کرتے ہوئے وہ گویا ہوا
" اتنی فراخ دلی کی کوئی خاص وجہ ۔۔ ؟؟"
وہ پوچھے بغیر نہ رہ سکی تھی جبکہ عباس نے اس کی بات پر اثبات میں سر ہلایا تو حُرّہ نے سوالیہ انداز میں ابرو اچکائے
" میرے نزدیک حُرّہ جو محبت کرتے ہیں نا ۔۔ ان کو فراخ دل بھی ہونا چاہیے ۔۔ محبوب کی غلطیوں کو فراموش کر دینا چاہیے ۔۔ اور میں آپ سے محبت کرتا ہوں ۔۔ پھر آپ کے لیے میرا دل بہت وسیع ہے ۔۔ "
اپنے لبوں کو حُرّہ کے رخساروں کے قریب لے جا کر وہ مدھم آواز میں بول رہا تھا آخر میں اس نے حُرّہ کے رخسار پر لمس چھوڑا عباس کی اس کاروائی پر حُرّہ نے آنکھیں سختی سے میچ لیں جبکہ عباس اس کے چہرے پر حیا سے در آئی سرخی دیکھ کر مسکرا رہا تھا
" اا ایک بات بولوں ۔۔ ؟؟ "
تھوڑی خاموشی کے بعد حُرّہ نے نگاہیں جھکائے جھنجکتے ہوئے پوچھا
" جی جانم ۔۔ !"
" مجھے پتہ ہے آپ غصہ نہیں کریں گے میری بات پہ ۔۔ کیونکہ ابھی آپ نے بولا تھا ۔۔ !"
عباس کے اجازت دینے پر حُرّہ حلق تر کرتی بولی تھی جبکہ عباس اس کی بات پر ہنوز مسکرا رہا تھا
" مجھے یقین ہے آپ میری فراخ دلی کا کبھی ناجائز فائدہ نہیں اٹھائیں گی ۔۔ "
حُرّہ کو دیکھتے ہوئے وہ شرارت سے بولا تھا مگر حُرّہ کے چہرے پر ایک رنگ آ رہا تھا ایک جا رہا تھا ہمت مجتمع کرتے ہوئے حُرّہ نے لبوں پر زبان پھیری
" آآ آپ ۔۔ !!"
ایک لفظ بول کر حُرّہ نے زبان دانتوں تلے دبا لی
" ہممم ؟؟؟"
" آآ آپ نن نورے سے شش شادی کر لیں ۔۔ !"
سر اور آنکھیں جھکائے وہ اٹکتے ہوئے مدھم آواز میں بولی تو یکدم عباس کے چہرے کے تاثرات بے حد سنجیدہ ہوئے پھر ماتھے پر بل پڑے
" کیا بول رہیں ہیں آپ ۔۔ ؟"
عباس کو لگا شاید اسے سننے میں غلطی ہوئی ہے تبھی بے حد سنجیدگی سے پوچھنے لگا
" آآ آپ نن نورے سے شش شادی ۔۔ "
اس سے زیادہ وہ بول نہیں پائی تھی عباس نے اس کے لبوں پر ہاتھ رکھ دیا تھا
" اگر آپ کو یاد ہو حُرّہ تو میں نے کہا تھا آپ کو کہ میں نہیں چاہتا ہمارے درمیان اس موضوع پر کوئی بات ہو ۔۔ ؟؟"
آواز دھیمی تھی مگر لہجہ سرد تھا حُرّہ نے بے اختیار جھرجھری لی
" سارے مسائل کا حل ہے یہ ۔۔ "
وہ ہمت کر کے بولی تھی مگر یہ بولتے ہوئے اس کے دل میں کس قدر بےچینی ہوئی تھی یہ وہی جانتی تھی
" ایک اچھی بیوی کی طرح آپ نے مجھے مشورہ دیا میں اس بات کی قدر کرتا ہوں ۔۔ مگر میں پھر بھی یہیں کہوں گا حُرّہ کہ آئندہ میں آپ کی زبان سے یہ بات نہ سنوں ۔۔ !"
عباس کا چہرہ سپاٹ اور لہجہ ہنوز سرد تھا مگر آواز دھیمی تھی
" مم میں سچ میں کہہ رہی ہوں ۔۔ "
وہ اس مرتبہ ماتھے پر بل ڈالے بولی تھی
" میں بھی سچ میں کہہ رہا ہوں ۔۔ !"
اس مرتبہ وہ لہجے میں نرمی لیے بولا تھا
" آپ سمجھ نہیں رہے ۔۔ "
آنکھوں میں اتری نمی کو پلکیں جھپک کر چھپاتے ہوئے وہ بولی تھی
" کیا نہیں سمجھ رہا ۔۔ ؟"
ہنوز نرمی سے پوچھا گیا
" نورے آپ سے ۔۔ !"
وہ دھیرے سے بولتے ہوئے خاموش ہو گئی
" آپ اپنی بات کریں ۔۔ !"
لہجے میں نرمی تھی مگر انداز حاکمانہ تھا
" مم میں چاہتی ہوں آپ نورے سے شادی کر لیں ۔۔ "
وہ نگاہیں چرائے بولی تھی
" میں نے کہا آپ اپنی بات کریں ۔۔ !"
حُرّہ کی ہٹ دھرمی پر عباس نے لب بھینچے اور اپنی بات دہرائی
" مم میں ۔۔ دل سے کہہ رہی ہوں ۔۔ "
اس مرتبہ حُرّہ کی آواز بھیگ گئی
" میں بھی دل سے کہہ رہا ہوں ۔۔ "
" ایسے کرنے سے سب ٹھیک ہو جائے گا ۔۔ ؟"
حُرّہ نے اسے اپنی سمجھ کے مطابق قائل کرنے کی کوشش کی
" کیا گارنٹی ہے ۔۔ کہ سب ٹھیک ہو جائے گا ۔۔ ؟؟"
عباس نے حُرّہ کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے پوچھا
" بس میری بات مان لیں پلیز ۔۔ "
عباس کے نرم لہجے پر ہمیشہ حُرّہ کی ہمت بندھتی تھی وہ اس بار التجائیہ بولی
" حُرّہ میری بات غور سے سنیں اور سمجھیں ۔۔ !"
طویل سانس لینے کے بعد عباس نے حُرّہ کو کرسی پر بیٹھایا اور خود فرش پر گٹنوں کے بل بیٹھ گیا حُرّہ نے سر ہلاتے ہوئے منتظر نگاہوں سے عباس کو دیکھا
" سوچیں جو آپ سوچ رہیں ہیں اگر ویسا ہو بھی گیا تو میں دو بیویوں میں انصاف نہیں کر پاؤں گا ۔۔ کیونکہ آپ صرف میری بیوی نہیں ہیں ۔۔ بلکہ میرے دل اور زندگی میں بے حد اہمیت رکھتی ہیں ۔۔ یہ کہہ لیں کہ میری محبوب بیوی ۔۔ جس کے لیے میرے دل میں بے حد گنجائش ہے ۔۔
حُرّہ میں آپ سے محبت کرتا ہوں۔۔ میں نہیں جانتا کیا چیز مجھے آپ کی جانب کھینچتی ہے ۔۔ مگر آپ کو اذیت میں نہیں دیکھ سکتا اور یہ بات جانتا ہوں میں کہ آپ بھی مجھ سے محبت کرتیں ہیں اور اسی لیے آپ نے مجھے بانٹنے کا مشکل ترین فیصلہ کیا ہے ۔۔ مگر ایسا ممکن نہیں ۔۔ میرے دل میں نورے کے لیے کوئی جذبات نہیں ہیں ۔۔ میرا ان کے ساتھ گزارا مشکل ہے ۔۔ امید ہے یہ بات میں آخری مرتبہ آپ کو سمجھا رہا ہوں ۔۔ "
عباس اپنے مخصوص دھیمے انداز میں حُرّہ کو سمجھا رہا تھا
" حُرّہ نصیب ہم دونوں کا ساتھ جوڑا ہوا ہے ۔۔ ہمیں ایسے ہی ایک دوسرے کی زندگی میں شامل ہونا تھا ۔۔ چونکہ خدا کے ہر کام میں مصلحت ہوتی ہے اس لیے خدا پر ہر معاملہ چھوڑ دیں ۔۔ اور پلیز نورے کے لیے فکر مند نہ ہوں ۔۔ اس کے لیے اپنی مثال ہی لے لیں ۔۔ آپ ہر معاملے میں بے قصور تھیں بظاہر آپ کے ساتھ ظلم ہوا مگر خدا اپنے بندے کے ساتھ ناانصافی نہیں کرتا تبھی میرا دل آپ کی طرف پھیر دیا ۔۔ اسی طرح نورے بہت اچھی لڑکی ہیں تو پھر ان کے ساتھ ناانصافی تو نہیں نا کرے گا ۔۔ یقیناً کچھ بہترین ملے گا انہیں ۔۔ "
نہایت نرمی سے کہتے ہوئے وہ اب حُرّہ کی دونوں ہاتھوں کی پشت پر اپنے لب رکھ رہا تھا
" مجھے یقین ہےاب اس بارے میں مزید بات نہیں ہو گی ہماری ۔۔ !"
ہنوز خاموشی سے بیٹھی حُرّہ نے اثبات میں سر ہلایا وہ عباس کی باتوں سے کسی حد تک پرسکون ہوئی تھی ورنہ تو بار بار نورے کے ساتھ ہوئی ناانصافی کا خیال آتا تھا جو اسے بےچین کر دیتا تھا
" ج جی ۔۔!"
ہلکا سا مسکرا کر وہ بولی تھی تو عباس نے بھی اسے مسکرا کر دیکھا اور خود اٹھنے کے بعد اسے بھی ہاتھ تھام کر کھڑا کیا
" آپ کو کسی بھی بات کے لیے پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے جانم ۔۔ یہاں آپ سکون سے رہیں کیونکہ آپ اس گھر کی مالکن ہیں ۔۔ ہمارے بےبی کا خیام رکھیں ۔۔ خوش رہیں ۔۔ "
حُرّہ کے پیٹ پر ہاتھ رکھتا وہ مزید بولا تو حُرّہ نے بھینپ مٹانے کی غرض سے اسی کے سینے میں منہ چھپا لیا
" آپ کا ساتھ میری خوشی ہے سرکار ۔۔ آپ سے ملتی محبت میرے دل میں لگے زخموں کو بھر چکی ہے ۔۔ آپ کا لمس میرے وجود پر لگے زخموں کی دوا ثابت ہوا ۔۔ آپ کی مجھے دی جانے والی عزت مجھے دنیا کے سامنے سر اٹھا کر چلنے میں ہمت دیتی ہے ۔۔ میں دنیا کی خوش قسمت عورت ہوں جسے آپ جیسا ہمسفر ملا ۔۔ "
تھوڑی دیر بعد حُرّہ عباس کے سینے پر سر ٹکائے دھیمی آواز میں گویا ہوئی تو اس کے الفاظ سن کر عباس کے چہرے پر مسکراہٹ آئی اور گہری ہوتی گئی
" بس اپنے میرے اور میرے بچے کے بارے میں سوچا کریں ۔۔مجھے ہیلدی بےبی چاہیے ۔۔ !"
محبت سے کہتے ہوئے عباس نے اسے خود میں بھینچ لیا
یار اگر کوئی لڑکی پسند آ جائے تو کیا کرنا چاہیے ۔۔؟"
عالیان کے اچانک سوال پر احمد نے اسے ناسمجھی سے پوچھا
وہ دونوں اس وقت عباس کا انتظار کر رہے تھے جو کہ آج کل خاصا کم نظر آتا تھا مگر عالیان اور احمد نے کبھی شکوہ نہیں کیا تھا وہ جانتے تھے کہ عباس آفس کے بعد زیادہ سے زیادہ اپنی بیوی کو وقت دیتا ہے آج ان سب کا اکٹھا ہونے کا پلان تھا
" شادی کر لینی چاہیے ۔۔ "
احمد نے کاندھے اچکا کر عام سے انداز میں کہا
" ابے شادی بھی کر لوں گا ۔۔ پہلے تو میرے سوال کو صحیح طرح سمجھ کر جواب دے ۔۔ "
عالیان نے ماتھے پر بل ڈالے کہا
" اچھا اچھا بتا تجھے کون پسند آ گئی ۔۔ ؟"
احمد نے فوراً پوچھا مبادہ عالیان صاحب کا دماغ گھوم جائے اور کچھ بتائے ہی نہ
" یار مجھے عباس کی کزن پسند آ گئی ہے ۔۔ "
عالیان سنجیدگی سے بولا
" کیا واقعی ۔۔ ؟؟ سچ کہہ رہا ہے ۔۔ ؟ یہ تو بہت اچھی بات ہے ۔۔ تجھے بھی کوئی پسند آئی ۔۔ عباس آتا ہے تو اس سے بات کرتے ہیں ۔۔ "
احمد نے زندگی میں عالیان کو پہلی مرتبہ سنجیدگی سے کوئی بات کرتے ہوئے دیکھ کر حیرت اور خوشی کے تاثرات لیے کہا
" جتنا سب آسان دیکھائی دے رہا ہے اتنا نہیں ہے ۔۔ "
عالیان ہنوز سنجیدگی سے بولا
" کیا مطلب ۔۔ ؟ مسئلہ کیا آخر ۔۔ ؟ کیا آسان نہیں ہے ۔۔ "
احمد کے پوچھنے پر عالیان نے طویل سانس خارج کیا
" میں نے پتہ کروایا ہے ۔۔ نورے عباس کے ساتھ بچپن سے انگیجڈ ہے ۔۔ "
وہ بظاہر عام سے انداز میں بولا تھا جبکہ احمد نے اس کا چہرہ بغور دیکھا جہاں کیا کچھ نہیں تھا بے چینی ، اضطراب اور شاید سب کچھ کھو دینے کا خوف
" مگر عباس کی تو اب شادی ہو گئی نا ۔۔ اور وہ حُرّہ بھابھی کے ساتھ بہت خوش ہے ۔۔ حُرّہ بھابھی کے لیے محبت عباس کی آنکھوں سے صاف جھلکتی ہے ۔۔ مجھے نہیں لگتا عباس دوسری شادی کا سوچے گا بھی ۔۔ "
احمد بھی معاملے کی سنگینی سمجھتے ہوئے سنجیدگی سے بول رہا تھا کیونکہ وہ دونوں ہی کافی حد تک عباس کے خاندانی اصولوں کو جانتے تھے
" ہاں میں یہ جانتا ہوں ۔۔ مگر ۔۔"
عالیان کے خاموش ہونے پر احمد نے سوالیہ نگاہوں سے اسے دیکھا
" سب سے لڑ لوں گا مگر ۔۔ نورے پتہ نہیں میرا ساتھ قبول کرے گی یا نہیں ۔۔ "
بولتے ہوئے عالیان نے نگاہوں کا زاویہ بدل لیا مقصد آنکھوں میں آئی نمی چھپانا تھا مگر احمد دیکھ چکا تھا اور اس کے لیے عالیان کا یہ روپ بلکل نیا تھا کہ عالیان کسی لڑکی کے معاملے میں اس قدر سنجیدہ تھا
" پیار کرتے ہو نورے سے ۔۔ ؟؟"
احمد نے جانچتی نگاہوں سے اس کا چہرہ دیکھتے ہوئے پوچھا
" پہلی نظر کی محبت پر یقین نہیں تھا مجھے ۔۔ مگر ۔۔ !"
بولتے بولتے وہ پھر خاموش ہوا تھا
" مگر ۔۔؟؟"
احمد نے خاموشی کو توڑا
" مگر مجھے ہو گئی نورے سے محبت ۔۔ احمد میں اس کی آنکھوں کی اداسی ، اور چہرے کا اضطراب ، ختم کر دوں گا ۔۔ اتنی محبت دوں گا اسے کہ وہ سب بھول جائے گی ۔۔ "
عالیان کی معنی خیز بات پر احمد نے چونک کر اسے دیکھا تھا
" ایسی لڑکی کے ساتھ محبت تکلیف دیتی ہے عالیان جس کی آنکھوں میں پہلے سے ہی کسی اور کے خواب ہوں ۔۔ "
احمد نے اسے حقیقت سے روشناس کروانا چاہا تو عالیان نے نفی میں سر ہلایا
" مجھے فرق نہیں پڑتا اس بات سے ۔۔ میں نورے کو اتنی محبت دوں گا کہ اسے مجھ سے نہ بھی محبت ہوئی لیکن اتنا یقین ہے مجھے کہ میری محبت سے ہی محبت ہو جائے گی ۔۔ "
اس کے لہجے میں کچھ ایسا تھا کہ احمد نے مسکرا کر اسے دیکھا جو کہ آج بہت بڑے دل والا ثابت ہو رہا تھا
" عباس کو بتائے گا یہ سب ۔۔ ؟"
" ہاں مگر ابھی نہیں ۔۔ "
" کیوں ۔۔ ؟؟ ابھی کیوں نہیں ۔۔ ؟"
احمد نے ابرو اچکا کر پوچھا
" کیونکہ پہلے میں نورے کو بتانا چاہتا ہوں ۔۔ "
عالیان کے جواب پر احمد نے محض سر ہلانے پر اکتفا کیا
" اگر تیری محبت سچی ہے تو ۔۔ تو ضرور اپنی محبت کو پا لے گا ۔۔ "
احمد نے اس کے کاندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا تو عالیان نے مسکراتے ہوئے سر ہلایا ایک اداس چہرہ اس کی آنکھوں کے سامنے ابھرا تھا جس کے باعث اس کی مسکراہٹ گہری ہوئی تھی
زندگی عباس جیسے ہمسفر کے ساتھ اس قدر خوبصورت تھی کہ اب تو ہمہ وقت حُرّہ کے چہرے پر زندگی سے بھرپور مسکراہٹ رہتی تھی اور حُرّہ کو ہنستا مسکراتا دیکھ کر وہ خود بھی پرسکون رہتا تھا وہ کافی حد تک حُرّہ کو زندگی کی طرف واپس لے آیا تھا اب حُرّہ کسی بھی ڈر اور خوف کے بغیر اس سے ہمکلام ہوتی تھی اور ڈھیر ساری باتیں کرتی تھی وہ بھی اسے خاموش بیٹھ کر سنتا تھا وہ اس قدر خوبصورت بولتی تھی کہ عباس اس کی باتیں یاد کر کے مسکراتا رہتا تھا
دن ہفتوں میں تبدیل ہو رہے تھے اور ہفتے مہینوں میں بدل رہے تھے حُرّہ کی زندگی کی بہاریں عروج پر تھیں صبح آنکھ عباس کے محبت بھرے لمس سے کھلتی پھر عباس اسے اپنے ہاتھوں سے ناشتہ بنا کر کھلاتا حُرّہ اسے آفس کے لیے مسکراتے ہوئے رخصت کرتی دن گزرنے کے ساتھ ساتھ دونوں میں محبت بڑھتی جا رہی تھی عباس کوئی دکھ ، تکلیف حُرّہ کے پاس سے بھی نہیں گزرنے دیتا تھا اس دوران انہوں نے ڈاکٹر سے حُرّہ کی ہی خواہش پر بچے کا جنس معلوم کیا اور بیٹی کی آمد کا سن کر حُرّہ نے کھوجتی نگاہوں سے عباس کو دیکھا جبکہ عباس کے چہرے پر نا ختم ہونے والی مسکراہٹ نے بسیرا کر لیا تھا عباس کی خوشی دیکھ کر حُرّہ بھی ہلکی پھلکی ہو گئی تھی ورنہ اسے یہی خوف تھا کہ اگر بیٹی ہو جاتی ہے تو کیا عباس کی خوشی ہنوز ویسی ہی رہتی ہے
اس دوران وہ ہفتے بعد حویلی چلا جاتا تھا دو تین گھنٹے بعد واپس حُرّہ کے پاس بنگلے میں آ جاتا سردار شیر دل نے اسے اپنے طور پر بہت سمجھایا کہ وہ حُرّہ کو لے کر حویلی آ جائے سردار بی بی کی طرف سے اس مرتبہ کوئی مسلہ نہیں ہو گا مگر عباس مناسب جواب دے کر انہیں انکار کر دیتا سردار بی بی نے بھی کافی جذباتی کر کے عباس کو روکنے کی بہت کوشش کی مگر عباس جلد آنے کا کہہ کر انہیں ٹال دیتا
حُرّہ کو عباس کے ساتھ شہر میں رہتے ہوئے کافی مہینے گزر گئے چھ مہینے پر لگا کر ایسے گزرے کے معلوم ہی نہ پڑا حُرّہ تو محض عباس کی ہمسفری میں خوشیاں سمیٹتی رہی
" کیا ہوا حُرّہ آج آپ بے چین کیوں ہو رہیں ہیں ۔۔ طبیعت تو ٹھیک ہے نا آپ کی ۔۔ ؟؟"
وہ ناشتہ بنا کر حُرّہ کو جگانے کمرے میں گیا تو حُرّہ پہلے ہی بیڈ کی پشت سے ٹیک لگائے اضطرابی کیفیت میں بیٹھی تھی
" مم میں ٹھیک ہوں ۔۔ بس وہ عجیب بے چینی ہونے لگی تو آنکھ کھل گئی ۔۔ "
حُرّہ نے بمشکل مسکراتے ہوئے جواب دیا ورنہ وہ جانتی تھی عباس سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر اس کے پاس ہی رہ جائے گا جبکہ آج وہ خود بتا رہا تھا کہ اس کے بہت ضروری کیس کی سماعت تھی
" ہمم چلیں فریش ہو کر ناشتہ کریں ۔۔ پھر ڈاکٹر کر پاس چلیں گے ۔۔ "
عباس نے
حُرّہ کی بات پر عباس نے فکرمندی سے کہا
" میں ٹھیک ہوں پھر ہاسپٹل جانے کی کیا ضرورت ہے ۔۔ ؟"
حُرّہ نے احتجاج کرنا چاہا کیونکہ اس کا دل کہیں جانے کو نہ تھا
" حُرّہ میری جان میں آپ کی اور اپنی بچی کی صحت کے معاملے میں لاپرواہی ہرگز نہیں کر سکتا ۔۔ چلیں میری جان اٹھیں ہمت کریں ۔۔ "
عباس نے حُرّہ کے بھرے بھرے وجود کو دیکھتے ہوئے پیار سے کہتے ہوئے سہارا دے کر اٹھایا تو حُرّہ مسکراتے ہوئے اٹھ گئی اسے عباس کا اتنا خیال رکھنا ہمیشہ سے سکون دیتا تھا
ڈاکٹر سے چیک اپ کروا کر تسلی کرنے کے بعد عباس نے حُرّہ کو گھر چھوڑا اور خود اپنے آفس چلا گیا پیچھے حُرّہ کی طبیعت کچھ دیر تو بہتر رہی مگر پھر سے عجیب حالت ہونے لگی بار بار دل میں خیال آئے کی عباس کو بلا لے مگر پھر یہ سوچ کر صبر کرنے کی کوشش کرتی کہ عباس پریشانی کے عالم میں گاڑی چلا کر آئے گا یہی سوچتے ہوئے عباس کے آنے کا انتظار کرنے لگی
شام ہونے والی تھی عباس کے آنے کا وقت بھی ہو گیا تھا مگر حُرّہ کی طبیعت بگڑتی جا رہی تھی جب عباس نے کمرے میں قدم رکھا تو حُرّہ کو آڑا ترچھا بیڈ پر لیٹا دیکھ کر پریشانی میں اس کی جانب لپکا
" حُرّہ کیا ہوا ہے میری جان ۔۔ ؟"
حُرّہ کو اپنے سینے سے لگائے وہ اس کے پسینے سے شرابور وجود کو خود میں سمیٹے پوچھ رہا تھا
" و وہ ۔۔ !"
حُرّہ سے کچھ بھی بولا نہیں گیا اس کی حالت تو اچانک ہی بگڑی تھی عباس نے فوراً اسے اپنی باہوں میں بھرا اور باہر کی جانب بڑھا
ہاسپٹل پہنچ کر ایک لمحہ ضائع کیے بغیر حُرّہ کو ایمرجنسی میں لے جایا گیا پیچھے عباس اضطرابی کیفیت میں کوریڈور کے چکر کاٹ رہا تھا کچھ دیر بعد ڈاکٹر کے باہر آنے پر وہ ان کی جانب لپکا
" ڈاکٹر کیا ہوا ہے اچانک میری وائف کو ۔۔ ؟ وہ ٹھیک تو ہیں نا ۔۔ ؟؟"
لہجے میں فکرمندی لیے وہ پوچھ رہا تھا
" ایکچولی مسٹر عباس آپ کی وائف کا بی پی شوٹ کر گیا ہے ۔۔ اس لیے ہمیں فوری آپریشن کرنا ہوگا ۔۔ "
ڈاکٹر نے عباس کو دیکھتے ہوئے
" آپریشن ۔۔ ؟؟ مگر اتنی جلدی ۔۔ ؟ ابھی تو کافی وقت ہے ڈاکٹر ۔۔ "
ڈاکٹر کی بات سن کر عباس نے پریشانی اور حیرت کی ملی جلی کیفیت میں کہا
" جی میں جانتی ہوں ابھی سیون منتھ ہے آپ کی وائف کا بٹ ۔۔ اگر ابھی آپریشن نہ کیا تو آپ کے بے بی کے ساتھ ساتھ آپ کی وائف کی زندگی بچانا بھی مشکل ہو جائے گا ۔۔"
★★★★★
0.0 (0 ratings)
0 shares
ڈاکٹر کے انکشاف پر عباس کے کان سائیں سائیں کرنے لگے
" نن نہیں ۔۔ ! حُرّہ کو کچھ نہیں ہونا چاہیے ڈاکٹر ۔۔ شی از مائی لائف ۔۔ "
وہ بے خودی کے عالم میں بولا تھا
" آپ پریشان نہ ہوں ۔۔ بس دعا کریں ۔۔ "
ڈاکٹر حُرّہ کے لیے عباس کی محبت جانتی تھی وہ پہلے مہینے سے ہی حُرّہ کو اس کے پاس لاتا تھا اور ڈاکٹر ہونے کی وجہ سے ہر طرح کے کپلز سے سامنا ہوتا رہتا تھا مگر عباس جیسے شوہر بہت نایاب دیکھنے کو ملتے تھے
ڈاکٹر اسے تسلی دے کر جا چکی تھی جبکہ عباس کو اس وقت کسی اپنے کے سہارے کی اشد ضرورت تھی جو اسے اس نازک صورتحال میں تسلی دیتا مگر خدا کی ذات کے سوا کوئی نہیں تھا بے ساختہ عباس کے قدم ہسپتال میں موجود مسجد کی جانب بڑھے خالق کی بارگاہ میں وہ رو کر حُرّہ اور اپنی ہونے والی اولاد کے لیے دعائیں کر رہا تھا
اور جب کوئی سچی نیت سے دل کی گہرائیوں سے اپنے رب کو پکارتا ہے تو ایسا کیسے ہو سکتا ہے کہ وہ رب جو ستر ماؤں جتنا پیار کرتا ہے وہ کیسے نہ اپنے بندے کی سنے
بیٹی کی پیدائش کی خبر جب عباس کو دی گئی تو بے اختیار وہ سجدہ شکر میں جھک گیا
" حُرّہ کیسی ہیں ڈاکٹر اور میری بیٹی ۔۔ ؟؟"
آنکھوں میں آئی نمی کو انگلی سے صاف کرتے ہوئے وہ آپریشن تھیٹر سے نکلتی ڈاکٹر سے پوچھنے لگا
" آپ کی وائف اب بلکل ٹھیک ہیں ۔۔ لیکن پری میچوئر ڈلیوری کی وجہ سے آپ کی بیٹی کو کچھ دن انڈر ابزرویشن رکھنا پڑے گا ۔۔ "
ڈاکٹر نے مسکراتے ہوئے کہا تو عباس کو ایک طرف خوشی بھی تھی دوسری طرف اپنی بیٹی کے لیے پریشانی بھی تھی
" میری بیٹی ٹھیک ہے نا ڈاکٹر ۔۔ ؟؟"
لہجے میں کئی ڈر لیے وہ پوچھ رہا تھا کہ اگر حُرّہ کو ہوش آیا اور اپنی بیٹی سے ملنے کا کہا تو کیسے اسے سمجھائے گا
" جی جی مسٹر عباس آپ کی بیٹی ٹھیک ہے لیکن کچھ دن ہاسپٹل میں رکھنا ضروری ہے ۔۔ "
ڈاکٹر نے عباس پریشان ہوتے دیکھا تو فوراً تسلی دیتے ہوئے بولیں
" میں اپنی بیوی اور بیٹی سے مل سکتا ہوں؟؟"
بے چینی سے پوچھا گیا تو ڈاکٹر نے مسکراتے ہوئے اثبات میں سر ہلایا
پھر عباس پہلے حُرّہ سے ملا جو بے ہوش لیٹی ہوئی تھی حُرّہ کی پیشانی پر محبت سے لب رکھتے ہوئے وہ اس کے معصومیت سے سجے ہوئے چہرے کو دیکھ رہا تھا
" تھینکس حُرّہ مجھے زندگی کی سب سے بڑی خوشی دینے کے لیے ۔۔ "
برنولا لگے ہوئے حُرّہ کے ہاتھ کو اپنے لبوں سے لگاتے ہوئے وہ محبت سے چور انداز میں بولا تھا
کچھ دیر حُرّہ کے پاس رکنے کے بعد وہ نرس کے ساتھ نرسری میں آیا جہاں اس کی ننھی سی بیٹی موجود تھی عباس شیشے میں سے اسے دیکھنے لگا جو بلکل اسی کے نین نقش والی تھی اسے دیکھ کر عباس کو اپنے بابا اور ماں کا خیال آیا یقیناً اپنی پوتی کو دیکھ کر ان کے دل میں حُرّہ کے لیے کچھ گنجائش بنے
ہاسپٹل کے کوریڈور میں آ کر عباس نے سردار شیر دل کے نمبر پر کال ملائی پہلی بیل پر ہی کال اٹھا لی گئی
" السلام علیکم بابا سرکار ۔۔!"
لہجے میں خوشی سموئے اس نے سلام کیا
" وعلیکم السلام میرا شیر بیٹا کیسا ہے ۔۔ ؟"
عباس کے لہجے کی خوشی محسوس کرتے ہوئے وہ بھی مسکراتے ہوئے پوچھنے لگے
" بابا میں ٹھیک ہوں ۔۔ اور بہت خوش بھی ہوں ۔۔"
خوشی عباس کی آواز دے صاف جھلک رہی تھی جسے محسوس کرتے ہوئے سردار شیر دل کا دل بھی خوش ہو گیا تھا
" خدا میرے شیر کو ہمیشہ خوش ہی رکھے ۔۔ لیکن باپ کو بتاؤ تو سہی کیا وجہ ہے خوشی کی ۔۔ ؟"
وہ اسے دل سے دعا دیتے ہوئے آخر میں پوچھنے لگے
" بابا میری بیٹی ہوئی ہے ۔۔ "
عباس کے بولنے پر ایک پل تو سردار شیر دل کے مسکراتے لب سکڑے مگر دوسرے ہی پل عباس کی خوشی کا سوچ کر وہ بھی مسکرانے لگے
" مبارک ہو میرے بیٹے ۔۔ "
خواہش تو ان کی وارث کی تھی کہ عباس کا بیٹا ہوتا مگر عباس کے لہجے کی خوشی انہیں کوئی بھی بات کرنے سے روک گیا
" آپ کو بھی مبارک ہو بابا ۔۔ آپ دادا بن گئے ۔۔ "
سردار شیر دل کے جانب سے خوشی سے دی گئی مبارک پر عباس کی خوشی میں اضافہ ہوا تھا
"ہاہاہا چلو ہم آتے ہیں اپنے بیٹے کے پاس ۔۔ اپنی پوتی کو دیکھنے ۔۔ "
وہ قہقہہ لگا کر بولے تھے
" بابا وہ بلکل میرے جیسی ہے ۔۔ اس کی آنکھیں ، اس کی ناک ، اس کے ہونٹ آپ دیکھیں گے تو یہی کہیں گے ۔۔ "
عباس کی آنکھوں کے سامنے اس نازک چھوٹی سی کلی کا نقش ابھرا تھا
" ہاہاہاہا میرا بیٹا اولاد اپنے ماں باپ پہ ہی جاتی ہے ۔۔ جیسے تم اور عابی مجھ پے گئے تھے ۔۔ "
وہ بے اختیار بولے تھے جبکہ ان کی بات پر دونوں اطراف چند پل کے لیے خاموشی چھا گئی عابی کے ذکر پر دونوں باپ بیٹے کے دل میں ٹیس اٹھی تھی
" ماں آئیں گی بابا ۔۔ ؟؟"
عباس نے چند لمحوں بعد استفسار کیا
" ہاں وہ پھر آ جائے گی ۔۔ "
سردار شیر دل نے مختصر جواب دیا
حُرّہ کو ہوش آ چکا تھا اور پہلی بات جو اس نے کی تھی وہ یہی تھی کہ اسے اپنی سے ملایا جائے جب نرس سے حُرّہ نہ سمجھی تو وہ ڈاکٹر کے کہنے پر عباس کو بلانے گئی عباس جب کمرے میں داخل ہوا تو حُرّہ کی جانب بڑھا
" سردار مم مجھے میری بیٹی سے کیوں نہیں ملا رہے یہ سب ۔۔ ؟ پلیز مجھے میری بیٹی لا دیں ۔۔ "
عباس کے قریب آنے پر حُرّہ لیٹے سے بیٹھتے ہوئے بولی تو عباس نے اسے سہارا دیا
" حُرّہ ریلیکس میری جان ۔۔ ہماری بیٹی بلکل ٹھیک ہے اور بہت جلد آپ کے پاس ہوگی ۔۔ "
عباس نے حُرّہ کے چہرے پر خوف کی تحریر پڑھ کر نرمی سے سمجھایا
" مم مگر ابھی کیوں نہیں ۔۔ وہ ٹھیک تو ہے نا ۔۔ ؟"
حُرّہ نے عباس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے پوچھا
" جانم آپ کو پتہ ہے نا پری میچوئر ڈلیوری ہوئی ہے ۔۔ آپ کی اور ہماری بیٹی کی جان بچ گئی یہی بہت ہے ۔۔ اس لیے کچھ دن دعا کو انڈرابزرویشن رکھیں گے ۔۔ "
عباس نے اسے ساتھ لگائے نرمی سے سمجھایا
" د دعا ۔۔ ؟"
حُرّہ نے چونک کر عباس کو دیکھا جو اسی کو دیکھتا اب مسکرا رہا تھا
" پتہ ہے آپ کی طبیعت اتنی خراب ہو گئی تھی نا ۔۔ میں نے خدا کے سپرد کر دیا آپ کو اور اپنی بیٹی کو ۔۔ یہ شاید مجھ ناچیز پر کرم کیا رب نے کہ میری دعا قبول ہو گئی اور میری بیوی اور بیٹی ٹھیک ہے ۔۔ اسی لیے میں نے ہماری بیٹی کا نام دعا سوچا ہے ۔۔ کیسا لگا آپ کو ۔۔ ؟"
عباس نے حُرّہ کے نقاہت بھری آنکھوں کو لبوں سے چھوتے ہوئے آخر میں سوال کیا
" بہت اچھا ۔۔ "
مسکراتے ہوئے حُرّہ نے مختصر کہا
" سب باہر آئے ہوئے ہیں عالیان ، احمد ۔۔ اور بابا بھی دعا کو دیکھنے آئے تھے ۔۔ پورے ہاسپٹل میں میٹھائی بٹوائی انہوں نے ۔۔ "
عباس کے خوش ہو کر بتانے پر حُرّہ کو بھی خوشی محسوس ہوئی
" میری بیٹی کیسی ہے ۔۔ کس کی طرح ہے ۔۔ ؟"
حُرّہ نے اشتیاق سے پوچھا
" میری بیٹی بلکل میرے جیسی ہے ۔۔ "
عباس آنکھوں میں شرارت لیے بولا تھا جبکہ حُرّہ نے پرسکون ہوکر سر عباس کے کاندھے پر ٹکا لیا آنکھیں موند لیں وہ یہی چاہتی تھی کہ ان کا بچہ بلکل اپنے باپ کے جیسا ہو
اگلے دن حُرّہ کے ضد کرنے پر عباس اسے دعا کے پاس لے کر گیا جہاں اپنی بیٹی کو دیکھ کر حُرّہ کی آنکھیں بھیگ گئیں چند دن بعد دعا کو بھی ہسپتال سے چھٹی ہوئی تو عباس اور حُرّہ نے پہلی مرتبہ دعا کو گود میں اٹھایا عباس نرمی سے دعا کو گود میں اٹھائے بار بار اس کے روئی جیسے ہاتھوں پر شفقت بھرا بوسہ دے رہا تھا جبکہ حُرّہ مسکراتے ہوئے آنکھوں میں نمی لیے انہیں دیکھ رہی تھی اس وقت اسے اپنے ماں باپ کی شدت سے یاد آئی تھی بہتے آنسوؤں کو فوراً صاف کیا کیونکہ وہ جانتی تھی اسے روتا دیکھ کر عباس پریشان ہو جائے گا
دعا کو لے کر جب وہ دونوں گھر پہنچے تو عالیان اور احمد نے ان کے استقبال کے لیے گھر کو بہت اچھے سے سجایا ہوا تھا ڈھیر سارے تحفے تحائف اور کیک دیکھ کر حُرّہ کو بہت اچھا لگا بے اختیار آسمان کی جانب چہرہ بلند کیا اور پرنم آنکھوں سے دل میں ہر نعمت پر خدا کا شکر ادا کیا
" کیا بکواس ہے یہ ۔۔ ؟ وہ بھاگ کیسے گیا ۔۔ ؟ کیا ہو رہا ہے یہ ۔۔ تو کیا میں یہ سمجھو احمد کہ ۔۔ پولیس ان دونوں کو پکڑنے میں ناکام ہو چکی ہے ۔۔ ؟ "
وہ دونوں اس وقت پولیس اسٹیشن میں موجود تھے احمد کی جانب سے زیادہ کچھ ان دو قاتلوں کے بارے میں معلوم نہ ہو سکا تھا بلکہ وہ دونوں قاتل ملک سے بھاگ چکے تھے یہ سن کر عباس یکدم اشتعال میں آیا تھا
" عباس یار کوئی بڑی سپورٹ ہے ان دونوں کو جبھی بار بار ہماری پہنچ سے دور کر دیے جاتے ہیں ۔۔ "
احمد بھی پریشانی سے بولا تھا
" احمد مجھے وہ دونوں زندہ سلامت اپنے سامنے چاہیے ۔۔ کیا تم میرا ساتھ نہیں دے سکتے صرف یہ بتاؤ مجھے ۔۔ ؟"
عباس نے اس کی بات نظرانداز کرتے ہوئے کہا تو احمد نے اثبات میں سر ہلاتے ہوئے کہا
" یار میں تیرے ساتھ ہوں ۔۔ "
" تو پھر ابروڈ کی پولیس سے کنٹیکٹ کرو ۔۔ مجھے وہ دونوں چاہیے تاکہ میں انہیں خود اپنے ہاتھوں سے اذیت ناک سزا دے سکوں ۔۔ "
عباس کے لہجے میں انتقام کی آگ محسوس کرتے ہوئے احمد نے طویل سانس لیا
" اللہ کریں گے جلد ہی وہ مل جائیں گے ہمیں ۔۔ "
احمد کے لہجے میں یقین تھا
"میں ان کا ایسا حال کروں گا کہ سانس لیتے ہوئے بھی موت مانگے گے ۔۔ "
عباس مشتعل ہوتے ہوئے بولا تو احمد نے اس کے کاندھے پر ہاتھ رکھ کر دلاسہ دیا
دن تیزی سے گزر رہے تھے زندگی دعا کے آنے سے مزید خوشگوار ہو گئی تھی عباس ہفتے میں ایک دو بار حویلی چلا جاتا تھا مگر حُرّہ اور دعا کو اکیلے چھوڑنے پر
کبھی رضامند نہیں ہوا تھا سردار شیر دل کے علاوہ حویلی کا کوئی بھی مکین دعا سے ملنے یا اسے دیکھنے نہیں آیا تھا اس بات کا عباس کو شدید دکھ ہوتا تھا مگر وہ فی الحال اس معاملے میں کچھ نہیں کرنا چاہتا تھا کیونکہ جب بھی وہ حُرّہ کے حق میں بولتا تھا اس کی ماں کو یہ بات ناگوار گزرتی تھی بےشک حُرّہ اور دعا بےقصور تھیں مگر وہ اپنی ماں سے بھی عداوت نہیں رکھ سکتا تھا وجہ ماں اور بیوی دونوں میں توازن رکھنا تھا اسے یہی بہتر لگتا تھا کہ کم از کم حُرّہ سکون سے رہتی ہے ہر پریشانی سے دور رہتی ہے
وہ آج آفس سے جلدی نکلا تھا کہ آج اسے حویلی جانا تھا ماں سے ملنے سیدھا وہ ان کے کمرے میں چلا آیا تھا اسے دیکھ کر ہمیشہ کی طرح وہ کھل اٹھیں تھیں
" آج تو رک جاؤ ماں کے پاس ۔۔ !"
انہوں نے عباس کی پیشانی پر ہاتھ جماتے ہوئے کہا
" ماں صبح جانا پھر مشکل ہو جاتا ہے ۔۔ جلدی آفس پہنچنا ہوتا ہے ۔۔ "
وہ اصل بات نہ کہہ سکا کہ گھر میں حُرّہ اور دعا کو رات کو اکیلا نہیں چھوڑ سکتا کیونکہ جانتا تھا سردار بی بی کو اس کی بات ہرگز پسند نہ آئے گی
" بس بس یہی بہانے ہیں تمہارے ۔۔ ماں کا بھی دل کرتا ہے کہ اس کا بیٹا اس کے ساتھ کھانا کھائے ۔۔ "
انہوں نے سر جھٹک کر کہا تو عباس مسکرایا
" ٹھیک ہے میں کل لنچ آپ کے ساتھ کروں گا ۔۔ "
وہ مسکرا کر بولا تو سردار بی بی نے بھی مسکراتے ہوئے سر ہلایا
" ماں آپ میری بیٹی سے ایک بار بھی نہیں ملیں گیں ۔۔؟؟ وہ بلکل میرے جیسی ہے آپ دیکھیں گیں تو بے اختیار پیار آئے گا آپ کو اس پر ۔۔ "
وہ ان کی گود میں سر رکھے لیٹا ان کے ہاتھ کو عقیدت سے تھامے شاید ان دو ماہ میں پہلی مرتبہ شکوہ کرتے ہوئے آخر میں مسکرایا تھا دعا کا معصوم خوبصورت چہرہ اس کی آنکھوں کے سامنے آیا تھا کہ اسے اپنے دل میں سکون اترتا ہوا محسوس ہوا تھا جبکہ عباس کے اچانک سوال پر سردار بی بی چونکی تھیں
" میں اس ونی کی بیٹی کو تمہاری اولاد مانتی ہی نہیں ہوں ۔۔ "
وہ کھردرے انداز میں بولیں تھیں کہ کچھ پل عباس ان کا سپاٹ چہرہ ہی تکتا رہ گیا
" و وہ میری اولاد ہے ماں ۔۔ !"
اس مرتبہ وہ ان کی گود سے سر اٹھا کر ان کے سامنے بیٹھتا نہایت سنجیدگی سے گویا ہوا
" ہم نہیں مانتے ۔۔ !"
وہ طنزیہ مسکرا کر بولیں تھیں کہ عباس نے لب بھینچ لیے
" ماں آپ اتنی سخت دل تو کبھی نہیں تھیں ۔۔ "
وہ مدھم آواز میں لہجے میں دکھ لیے بولا تھا
" میری بیٹی مری ہے ۔۔ میرے وجود کا ٹکڑا تڑپ تڑپ کر مرا ہے ۔۔ ظالموں نے میری معصوم بچی سے جانے کون سے بدلے لیے ۔۔ تم اور تمہارے باپ کی طرح سب فراموش نہیں کر سکتی ۔۔ نہیں بھول سکتی اپنی بیٹی کا دکھ ۔۔ جب جب اس دشمن کی بیٹی کو تمہارے ساتھ خوش دیکھتی ہوں ۔۔ میرے دل میں پھانس سی چبھتی ہے ۔۔ "
وہ روندی ہوئی آواز میں کہتی آخر میں رو پڑیں ان کے لہجے کا درد عباس کو بے چین کر گیا وہ خود بھی تو اپنے اوپر مضبوطی کا خول چڑھا چکا تھا کہ مرد تھا سب کے سامنے رو بھی نہیں سکتا مگر دل میں کیسے کیسے درد تھے یہ تو وہی جانتا تھا
" ماں انصاف کریں ۔۔ اس سارے معاملے میں حُرّہ کا کہاں قصور ہے ۔۔ خدا کی قسم اگر آپ ایک جگہ بھی اس کا قصور بھی بتا دیں تو اپنے ہاتھوں سے جان لے لوں ۔۔ مگر آپ سمجھیں نا ماں ظلم اگر ہمارے ساتھ ہوا ہے ہماری عابی کے ساتھ ہوا ہے تو ظالموں نے کیا ہے ۔۔ حُرّہ اس سارے معاملے میں انجان ہے ۔۔ بےقصور ہے ۔۔ میں خدا سے ڈرتا ہوں ماں ۔۔ پہلے ہی کم آزمائش میں نہیں ہیں ہم لوگ۔۔ کہیں حُرّہ کے خاموش آنسو ہمیں مزید آزمائش میں نہ ڈال دیں ۔۔ "
وہ انہیں سمجھاتا ہوا بول رہا تھا
" لگتا ہے تم سب بھول گئے۔۔ محض اس لڑکی کے سوا ۔۔ اپنی بہن تو تمہیں یاد بھی نہیں ۔۔ "
انہوں نے طنزیہ کہا تھا جبکہ عباس نے ان کی بات پر نفی میں سر ہلایا تھا
" کچھ نہیں بھولا ماں ۔۔ ظلم کے خلاف آواز اٹھاتا ہوں اور لوگوں کو انصاف دلواتا ہوں یہی کام ہے میرا ۔۔ تو اپنی بہن کو کیوں نہیں دلواؤں گا انصاف ۔۔ ؟؟"
وہ انہیں یقین دہانی کروا رہا تھا مگر انہوں نے اس کی بات ہوا میں اڑائی
" تو پھر طلاق دے دو اس لڑکی کو اور توڑ دو دشمن کی لڑکی کے ساتھ رشتہ ۔۔ "
وہ اپنی بات پر ہی اڑی ہوئیں تھیں جبکہ ان کا مطالبہ سن کر عباس چند پل ان کو تکتا رہ گیا
" کتنی مرتبہ کہہ چکا ہوں ماں کہ عابی والے معاملے میں حُرّہ بے قصور ہے ۔۔ پھر سزا اسے کیسے دے دوں ۔۔ بلاوجہ کیسے اسے چھوڑ دوں ۔۔ یہ ناانصافی اپنی ہی بیوی کے ساتھ کرنے کے بعد کیا منہ دیکھاؤں گا خدا کو ۔۔ جس نے حساب لینا ہے مجھ سے ۔۔ ؟"
وہ زچ ہو کر لفظ چبا کر ادا کرتا بولا تھا
" کیا مطلب ہے تمہاری ان باتوں کا عباس ۔۔ کہاں ہے تمہاری اور تمہارے باپ کی غیرت ۔۔ آج تم اس لڑکی کو ہی مظلوم کہہ رہے ہو تو کل کو عابی کے قاتلوں کو بھی خدا کے نام پہ معاف کر دو گے ۔۔ "
وہ یکدم آگ بگولہ ہوئیں تھیں
" ہرگز نہیں ماں ۔۔ میں صرف بے قصور کی حمایت کر رہا ہوں ۔۔ قاتلوں کو ان کے انجام تک ضرور پہنچاؤں گا بہت جلد یہ آپ کے بیٹے کا وعدہ ہے آپ سے ۔۔ "
وہ ان کا ہاتھ تھامتے گویا ہوا
" مجھے ان کے خاندان کی لاشیں دیکھنی ہیں عباس ۔۔ مم مجھے میری بیٹی کے قاتل ہر حال میں تڑپتے ہوئے دیکھنے ہیں ۔۔ "
وہ عباس کا ہاتھ جھٹکتی بولیں تھیں کہ عباس نے اثبات میں سر ہلایا
" بہت جلد ماں ۔۔ بہت جلد وہ اذیت ناک انجام کو پہنچیں گے ماں ۔۔ "
عباس کے چہرے اور لہجے میں ایسا کچھ تھا کہ سردار بی بی کے دل کو سکون پہنچا
" مجھے اپنے بیٹے پر یقین ہے ۔۔ تم سرداروں کا خون ہو یقیناً تم انہیں خطرناک سزا دلواؤ گے ۔۔ مگر ۔۔ "
وہ فخر سے کہتی آخر میں عباس کی آنکھوں میں دیکھنے لگیں
" مگر ۔۔ ؟؟"
عباس نے ان کے خاموش ہو جانے پر سوالیہ انداز میں ابرو اچکا کر پوچھا
" مگر تم وعدہ کرو اس لڑکی کو چھوڑ دو گے ۔۔ ! میرے دل میں عابی کے قاتلوں کے بعد آخری کانٹا اس لڑکی کی صورت میں چبھتا ہے ۔۔ "
وہ اس بار عباس کا ایک ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے کر دوسرا اس کے چہرے پر جمائے بھرپور مامتا کا لمس بخشتیں بولیں تھیں ان کے لہجے میں مان تھا جسے عباس کبھی نہ توڑتا اگر وہ حق بات کہہ رہی ہوتیں
" بولو میرے شیر ۔۔ ! کیا اپنی ماں کی بات رد کرو گے تم ۔۔ ؟"
چند لمحے عباس جب ہنوز ساکت انہیں دیکھتا رہا تو وہ اس کی ڈاڑھی کو انگوٹھا سے سہلاتے ہوئے بولیں
" مت دیکھیں ماں کہ اس کا تعلق کس خاندان سے تھا ۔۔ صرف یہ دیکھیں کہ وہ میری ۔۔ آپ کے بیٹے کی بیوی ہے ۔۔ اور میری بچی کی ماں ہے ۔۔ میں کسی صورت حُرّہ کو نہیں چھوڑ سکتا ۔۔ "
عباس اپنے اندر کے اشتعال کو باخوبی قابو کرتا بہت دھیمے انداز میں بولا تھا
" ٹھیک ہے تم جا سکتے ہو ۔۔ !"
وہ رخ موڑ کر بولیں تھیں
"اس دنیا میں اس کا خدا کی ذات کے بعد واحد میں سہارا ہوں ماں ۔۔ کیسے اسے چھوڑ دوں ۔۔ ؟ کس جرم کی سزا دوں اسے ۔۔ ؟"
عباس ہر پہلو سے انہیں سمجھا چکا تھا ہر بار وہ ٹھانے بیٹھیں تھیں کہ کوئی بات نہ سنیں گی نہ سمجھیں گیں مگر وہ اپنی عادت کے مطابق تحمل سے ہر بار انہیں حقیقت سمجھاتا تھا
" میں نہیں چاہتی تم اس لڑکی سے کوئی تعلق رکھو یا وہ ہمارے خاندان کی بہو کہلائے ۔۔ اور لوگ کہیں کہ سرداروں میں غیرت ہی نہیں رہی ۔۔ کہ بیٹی کے قاتل کے خاندان کی لڑکی کو بہو مان لیا اور نسل آگے بڑھا رہے ہیں ۔۔ ابھی تو صرف یہ معلوم ہے لوگوں کو کہ عابی کا محض قتل ہوا ہے ۔۔ ابھی اس کے ساتھ ہوئے ظلم کا کسی کو نہیں پتہ ۔۔ ورنہ کیا منہ دیکھاتے لوگوں کو ۔۔ "
وہ عباس کی ہر بات رد کرتیں آخر میں روندی آواز میں بولیں تھیں جبکہ عباس نے طویل سانس لیتے ہوئے ایک پل کو اپنے بالوں میں ہاتھ پھیرتے ہوئے دوبارہ ماں کو دیکھا عابی کے ساتھ ہوئے ظلم کا چند لوگوں کو علم تھا مگر پھر بھی خود عباس کے دل میں بھی پھانس چبھتی تھی
" میری بات کا جواب دو عباس ۔۔ !"
عباس کے خاموش سے انہیں تکتے رہنے پر وہ اپنے آنسو پونچھتی پوچھنے لگیں
" ویسے تو حویلی میں شان و شوکت سے رہنا میری بیوی اور بیٹی کا حق ہے مگر میں اپنی ماں کو بھی اذیت نہیں دے سکتا ۔۔ اسی لیے وہ دونوں ہمیشہ وہیں رہیں گیں ۔۔ مگر چھوڑنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ۔۔ "
عباس صاف گوئی سے بولا تھا
" تم میرے وہ بیٹے ہو جس نے کبھی نافرمانی نہیں کی میری مگر صرف ۔۔ صرف اس ونی کے بارے میں تم نے کبھی میری بات نہیں مانی ۔۔ تو کیسے حوالے کر دوں میں اپنے بیٹے کو اس کے ۔۔ ؟؟"
وہ چنگھاڑتی بولیں تھیں
" آپ ماں ہیں میری ۔۔ آپ کی جگہ بھلا کوئی لے سکتا ہے ۔۔ مت پریشان ہوا کریں ۔۔ چھوڑیں یہ سب باتیں ۔۔ جتنی اس بارے میں بات کریں گے معاملات مزید بگڑیں گے ۔۔ "
عباس نے نرم انداز میں کہتے ہوئے ان کے ہاتھ تھامنے چاہے مگر انہوں نے اس کا ہاتھ جھٹک دیا
" ٹھیک ہے میں تمہاری بیٹی کو قبول کر لوں گی ۔۔ مگر تم اسے یہاں لے آؤ ۔۔ !"
وہ اچانک بولیں تو عباس کچھ پل تو سمجھ ہی نہ سکا ان کی بات کو کہ آخر وہ کیا بول رہیں ہیں
" کیا مطلب ماں ۔۔ ؟؟"
وہ دبی آواز میں بولا تھا
" صرف تمہاری بیٹی کو قبول کروں گی ۔۔ اس لڑکی کی یہاں کوئی جگہ نہیں ۔۔ "
ایک پل کو عباس کو ان کی زبان سے اپنی بیٹی کا ذکر سن کر اچھا لگا کہ دعا کو تو کم از کم انہوں نے اپنے بیٹے کی اولاد مانا مگر اگلی بات سے عباس کے لب سکڑے
" دعا بہت چھوٹی ہے اور اولاد کو ہمیشہ ہمہ وقت ماں اور باپ دونوں کی ضرورت ہوتی ہے ۔۔ میں اگلی بار دعا کو آپ سے ملوانے لے آؤں گا ۔۔"
عباس ان کی بات سمجھتا مختصر بولا
" تم سمجھے نہیں شاید ۔۔ میں نے کہا ۔۔ اپنی بیٹی کو یہاں لے آؤ ۔۔ "
سردار بی بی عباس کی بات نظرانداز کرنا محسوس کرتیں اس مرتبہ اپنی بات پر زور دیتا بولا
" اب چلتا ہوں ماں پھر آؤں گا ۔۔ !"
وہ بیڈ سے اٹھ کھڑا ہوا تھا کہ اب مزید بحث وہ بھی اپنی ماں سے وہ کرنے کی سکت نہیں رکھتا تھا
وہ ان کے ہاتھوں پر بوسہ دیتا تیز تیز چلتا اپنا سیاہ کوٹ اٹھا کر بازو پر دھرتا کمرے سے نکل گیا جبکہ سردار بی بی اس کی عجلت پر سرد آہ بھر کر رہ گئیں
وہ حویلی سے نکلا تو صد شکر کہ ابھی شام ہونے میں وقت تھا مگر جب اس کی گاڑی شہر کہ حدود میں داخل ہوئی تو مغرب کی اذان ہو رہی تھی عباس نے گاڑی کا رخ مسجد کی سمت کیا اور نماز ادا کرنے کے بعد وہ کچھ پل یونہی ساکت سا دو زانو بیٹھا رہا یہ وہ در ہے جہاں وہ ہمیشہ اپنی حاضری دیتا تھا
وہ دعائیں سجدے کی حالت میں مانگتا تھا یہی وجہ تھی کہ اس کے سجدے طویل ہوتے تھے اسی باعث بہت سے نمازی اس کی جانب متوجہ ہوتے تھے اسی دوران ایک بزگ جو کہ عباس سے خاصے متاثر ہوتے تھے وہ عباس سے ہلکی پھلکی بات چیت کر لیتے تھے انہیں عباس کی وجیہ شخصیت اور قیمتی کپڑوں سے ہمیشہ حیرت ہوتی تھی کہ وہ دکھنے میں خاصا امیر کبیر لگتا تھا مگر اس کچی گلی کی چھوٹی سی مسجد میں اکثر پایا جاتا تھا اسی دوران انہوں نے عباس سے سلام دعا شروع کہ تھی انہیں وہ اچھا لگنے لگا تھا
" السلام علیکم جوان ۔۔ کیسے ہو ۔۔ ؟"
عباس کو اکیلا بیٹھا دیکھ کر وہ اسی کے پاس چلے آئے تھے ان کے ہشاش بشاش انداز پر عباس خیالوں کی دنیا سے لوٹا اور ان بزرگ کو بیٹھنے میں مدد دی
" وعلیکم بابا جی ۔۔ الحمداللہ ۔۔ آپ کیسے ہیں ۔۔ ؟"
مسکرا کر سلام کا جواب دینے کے بعد عباس نے ان سے پوچھا
" کرم ہے اس پاک ذات کا جس نے اتنے گناہوں کے باوجود پردہ رکھ کر کرم کیا ہوا ہے ۔۔"
وہ بھی جواباً مسکرا کر گویا ہوئے
" آج کچھ پریشان لگ رہے ہو ۔۔ ؟؟"
ان کے پوچھنے پر عباس مسکرایا
" جی بس زندگی میں آزمائشیں تو آتی رہتی ہیں ۔۔ بس دعا ہے خدا کے سامنے سرخرو ہوں ۔۔ "
عباس کے لہجے کی سچائی دیکھ کر وہ بھی مسکرائے
" بے شک لیکن مسلمان بھائیوں کو آپس میں اپنے دکھ بانٹنے چاہیے ۔۔ اگر اور کچھ نہ کر سکا تو دعا تو کر سکتا ہے نا دوسرا مسلمان اس کے لیے ۔۔ "
وہ اس بار سنجیدگی سے بول رہے تھے
" ایک سوال پوچھو آپ سے ۔۔ ؟"
عباس کے لب سکڑے تھے وہ بھی سنجیدہ تاثرات لیے پوچھنے لگا
" بلکل ۔۔ !"
انہوں نے خوش دلی سے اجازت دی
" ز زنا ایک قرض ہے ۔۔ اگر آپ کسی کی بیٹی کو داغدار کرتے ہیں تو اپنی خود کی عزت وہ قرض ادا کرتی ہے ۔۔ یہی سچ ہے نا ۔۔ ؟"
آواز کی لڑکھڑاہٹ پر قابو پاتا وہ پوچھ رہا تھا
" ہاں بلکل یہی سچ ہے ۔۔ "
انہوں نے بھرپور توجہ سے عباس کے چہرے پر اذیت کے تاثرات دیکھتے ہوئے کہا
" مم مگر ایک شخص جس نے آج تک باخدا کسی لڑکی کو بری نگاہ سے دیکھنا تو دور نگاہ اٹھا کر بھی نہیں دیکھا ہو ۔۔ مم مگر پھر بھی اس کی عع عزت داغدار ہو جائے تو ۔۔ ؟"
اس سے آگے عباس سے بولا نہ گیا جبکہ اس کی آنکھوں کی نمی ان بزرگ نے باخوبی دیکھ لی
" پھر تو یہ اس شخص کی آزمائش ہے ۔۔ بے شک خدا اپنے بندے کی اتنی آزمائش لیتا ہے جتنے کی سکت وہ رکھتا ہے ۔۔ اس سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالتا خدا اپنے بندے پہ۔۔ !"
وہ عقیدت سے کہتے ہوئے عباس کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ جما چکے تھے
" مگر کبھی کبھی دل پھٹتا ہے ۔۔ دل کرتا ہے ہر چیز کو آگ لگا دوں ۔۔ !"
عباس کا چہرہ ضبط کرتے ہوئے سرخ ہو چکا تھا اور لہجہ درد بھرا
" صبر کا دامن کبھی مت چھوڑنا ۔۔ "
انہوں نے اس کا سرخ چہرہ دیکھتے ہوئے نصیحت کی تو عباس نے چند لمحوں بعد سر ہلایا
وہ جب گھر میں داخل ہوا تو رات ہو چکی تھی عموماً وہ شام سے پہلے گھر آ جاتا تھا مگر آج وہ حُرّہ کو آگاہ کر کے گیا تھا کہ حویلی جائے گا اور واپسی پر دیر ہو جائے گی مگر لاؤنج میں داخل ہوتے ہی اسے دعا کے رونے کی آواز آئی تیز تیز قدم رکھتا وہ اپنے کمرے کی جانب بڑھا جہاں حُرّہ ، دعا کو گود میں لیے بہلاتے ہوئے چکر کاٹ رہی تھی مگر دعا کسی صورت چپ نہیں ہو رہی تھی ایک لمحہ ضائع کیے بغیر عباس ان کی جانب بڑھا عباس کو دیکھ کر حُرّہ کے آنسو بھی چہرے پر گرنے لگے عباس نے نرمی سے دعا کو حُرّہ کی گود سے لیا اور سینے سے لگا کر پیار کرنے لگا
" بس بس میری بیٹی ۔۔ بابا آ گئے نا اپنی بیٹی کے پاس ۔۔ "
عباس ، دعا کو گود میں اٹھائے بولتا پیار کر رہا تھا
" شش شکر ہے آپ آ گئے ۔۔ بہت رو رہی تھی ۔۔ چپ ہی نہیں ہو رہی ۔۔ پتہ نہیں کیا ہوا ہے اس کو ۔۔ "
حُرّہ بھیگی آنکھیں ان دونوں باپ بیٹی پر جمائے بولی تھی
" حُرّہ میری جان ۔۔ آپ کیوں رو رہیں ہیں ۔۔ ؟"
عباس حیرت زدہ بولا تھا
" بب بہت رو رہی تھی دعا ۔۔ مجھے سمجھ نہیں آ رہا تھا کیا ہوا ہے ۔۔ "
حُرّہ سسکیاں بھرتی عباس کی گود میں دعا کو دیکھتی بول رہی تھی جو کہ اب عباس کی گود میں رو تو نہیں رہی تھی مگر بہت رونے کے باعث بندھی ہچکیاں لے رہی تھی
" حُرّہ میری جان ۔۔ دعا بچی ہے اور بچے تو روتے ہیں ۔۔ مگر آپ کیوں رو رہیں ہیں ۔۔ کیا ہوا ہے ؟"
اس کی کلائی تھام کر اسے اپنے سینے سے لگاتے ہوئے عباس بولا تو عباس کے سینے سے لگ کر حُرّہ کے رونے میں مزید شدت آ گئی عباس بےبسی سے کبھی روتی ہوئی حُرّہ کو دیکھ رہا تھا تو کبھی اب اپنی گود میں سوتی ہوئی دعا کو دیکھ رہا تھا
" حُرّہ پلیز ریلیکس ۔۔ دیکھیں دعا کو نیند آ رہی تھی اس لیے رو رہی تھی ۔۔ اب وہ سو چکی ہے آپ بھی ریلیکس ہو جائیں ۔۔ آئیں یہاں بیٹھیں ۔۔ "
حُرّہ کو ساتھ لگائے وہ بیڈ تک لایا اور دعا کو کاٹ میں لٹانے کے بعد بیڈ پر بیٹھی روتی ہوئی حُرّہ کی جانب بڑھا
" کیا ہوا میری جان ۔۔ آپ تو اتنی بہادر ہیں پھر آج ایسے کیوں رو رہیں ہیں ۔۔ ؟"
حُرّہ کے برابر بیٹھ کر اسے اپنے ساتھ لگاتے ہوئے عباس نے پوچھا
" آآ آپ لیٹ آئے ۔۔۔ مم میں بہت ڈر گئی تھی ۔۔"
حُرّہ سسکتی ہوئی بولی
" جانم میں بتا کر گیا تھا کہ آج حویلی جاؤں گا ۔۔ "
عباس نے یاد دلایا تو حُرّہ نے سر ہلایا
" لیکن رات ہو گئی تھی ۔۔ "
حُرّہ چہرہ بلند کرتی عباس کو دیکھا ل کر بولی تو عباس نے بےساختہ اس کی پیشانی پر محبت سے مہر ثبت کی
" سوری ۔۔ آئندہ دیر نہیں ہوگی ۔۔ "
وہ غلطی نہ ہوتے ہوئے بھی معافی مانگتا بولا کہ جانتا تھا کہ حُرّہ ایک پل بھی اگر وہ دیر ہو جائے تو ایسے ہی پریشان ہو جاتی ہے
" وعدہ ۔۔ ؟"
" پکا وعدہ جانم ۔۔ !"
لبوں سے اس کی آنکھوں کے آنسو چنتے ہوئے وہ بولا تو حُرّہ اپنے دونوں بازو عباس کے گرد لپیٹتی پرسکون ہو گئی جبکہ عباس ، حُرّہ کی پیش رفت پر کھلے دل سے مسکرایا
" کیوں آپ لوگ اس قصے کو ختم نہیں کر دیتے ۔۔ مجھے شادی نہیں کرنی ۔۔ "
نورے کی آواز میں جھنجھلاہٹ کے ساتھ اذیت بھی تھی جو اس سے مخاطب اس کی ماں نے خوب محسوس کی
" مت مارو اندر سے خود کو بیٹا ۔۔ دیکھنا تم کتنی خوشیاں ملتیں ہیں تمہیں ۔۔ بس ایک بار عباس کے ساتھ نکاح ہو جائے تمہارا پھر تو راج کرو گی تم ۔۔ "
وہ نورے کا مرجھایا چہرہ دیکھتی بول رہیں تھیں نورے نے اذیت سے آنکھیں میچیں اور پھر وا کیں
" چھوٹے سردار شادی شدہ ہیں ایک بچی کے باپ ہیں ماں اور وہ کبھی بھی آپ لوگوں کی خواہش پر مجھ سے شادی نہیں کریں گے کیونکہ وہ اپنی بیوی سے محبت کرتے ہیں ۔۔پھر کیوں آپ لوگ اسی بات پر اڑے ہوئے ہیں ۔۔ "
ضبط کے باوجود اس کی آواز بھیگی تھی
" تم کوشش تو کرو بیٹا ۔۔ اس لڑکی نے جانے کون سی ادائیں دیکھائی ہیں تمہیں تو بس اتنا کہہ رہی ہوں کہ چھوٹے سردار سے محبت کا اظہار کرو ۔۔ وہ بہت نرم دل ہیں ۔۔ جب وہ حویلی آتا ہے تو ملا کرو بات کیا کرو ان سے ۔۔ "
وہ نورے کا ہاتھ تھامتی سمجھاتے ہوئے بولیں تھیں
" آپ چاہتی ہیں میں محبت کی بھیک مانگو ان سے ۔۔ ؟؟ کہ میرے کشکول میں محبت ڈال دیں ۔۔ ؟"
نورے کو جیسے ان کی بات پر صدمہ لگا تھا
" میں نے ایسا کب کہا بیٹا ۔۔ لیکن کچھ تو کرنا ہے نا ۔۔ ہاتھ پہ ہاتھ رکھ کر تو نہیں بیٹھ سکتے ۔۔ جانتی ہو نا چھوٹے سردار کے علاوہ تمہارے تایا سردار کسی اور سے تمہاری شادی نہیں ہونے دیں گے ۔۔ "
وہ پریشان سی بولیں تھیں مگر ان کی بات پر نورے نے افسوس سے گردن ہلائی
" میں جانتی ہوں اور میں ساری عمر چھوٹے سردار کے نام پہ تو گزار سکتی ہوں مگر اپنا کردار نہیں گرا سکتی ۔۔ "
وہ دوٹوک انداز میں بولی اور آنسو چھپانے کی غرض سے چہرہ موڑ گئی
" کیا کیا نہیں کرتی آج کل کی لڑکیاں اچھا مستقبل پانے کے لیے مگر تم ۔۔!!!۔ لیکن یہ بھی یاد رکھنا میں خاموش نہیں بیٹھوں گی ۔۔ "
وہ کہتے ہی ایک افسوس بھری نگاہ نورے پر ڈال کر کمرے سے نکل گئیں پیچھے وہ شدت سے رونے لگی آخر اتنی تکلیفیں تھیں جو اسے ابھی سہنی تھیں
//////////////////////////
" احمد میں خود جاؤں گا انہیں ڈھونڈنے ۔۔ !"
بہت سوچنے کے بعد عباس نے احمد کو مخاطب کرتے ہوئے کہا تو احمد نے سر ہلایا
" کچھ دن لگ جائیں گے اس کام میں ۔۔"
احمد نے اسے آگاہ کیا
" ہممم سوچ رہا ہوں ۔۔ دعا اور حُرّہ کو بھی ساتھ لے جاؤں ۔۔ لیکن حُرّہ جاتی ہی نہیں کہیں باہر ۔۔ "
عباس کشمکش میں بولا تھا کہ واقعی حُرّہ عباس کے لاکھ بار سمجھانے پر گھر سے نکلتی تھی ورنہ وہ کہیں باہر جانے کو کبھی خوشی سے تیار نہ ہوتی تھی وہ حُرّہ کی اس کیفیت کو سمجھتا تھا کہ وہ محض اپنے گھر کی چار دیواری ، اپنے شوہر ، اور بچی کے حصار میں ہی رہنا چاہتی ہے باہر کی دنیا سے وہ ہمیشہ خوفزدہ رہتی تھی
" میرا مشورہ یہ ہے کہ بھابھی اور دعا کو ساتھ مت لے کر جاؤ ۔۔ کیونکہ کہیں ان دونوں کی جان کو خطرہ نہ ہو جائے ۔۔ "
احمد نے کچھ سوچتے ہوئے کہا عابی کا کیس اتنا الجھ چکا تھا کہ ایک الجھن سلجھاتے تھے تو دوسری پہلے تیار کھڑی ہوتی تھی مگر عباس نے ہار نہیں مانی تھی
" ہمم یہ بھی بات تمہاری ٹھیک ہے ۔۔ "
عباس کو احمد کی بات کافی حد تک مناسب لگی تو وہ متفق ہوتے ہوئے بولا
" میں اور تم تو پاکستان سے باہر ہوں گے ۔۔ پھر بھابھی کو حویلی چھوڑو گے کیا ۔۔؟؟"
احمد کے پوچھنے پر کچھ دیر عباس سوچ میں گم رہا تھا
" نہیں یار حویلی نہیں چھوڑ سکتا حُرّہ کو ۔۔ یہیں گھر پہ رہنا بہتر ہے ان کا ۔۔ "
وہ اب احمد کو کیا بتاتا کہ اس کی ماں کے دل میں سال ڈیرھ سال بعد بھی اس کی بیوی اور بیٹی کے لیے گنجائش نہیں ہے
" لیکن یار تجھے ایک ہفتے سے زیادہ بھی لگ سکتا ہے ۔۔ میرا مشورہ یہی ہے کہ تو حُرّہ بھابھی اور دعا کو حویلی چھوڑ دے ۔۔ "
احمد کے مشورے پر عباس نے مضطرب ہو کر پہلو بدلہ
" ہمم دیکھتا ہوں ۔۔ کرتا ہوں کچھ ۔۔ "
احمد کو مطمئن کر کے عباس کب سے خاموش بیٹھے عالیان کی جانب متوجہ ہوا
" کیا ہوا ہے تمہیں ۔۔ اتنے خاموش کیوں ہو ۔۔ ؟"
عباس کے مخالف کرنے پر عالیان پہلے چونکا پھر پہلے عباس کو تکنے لگا پھر احمد کی جانب دیکھا
" کیا ہوا کچھ چھپا رہے ہو ۔۔ ؟؟"
عباس پوری طرح عالیان کی جانب متوجہ ہوتے ہوئے پوچھنے لگا
" نہیں ۔۔ !"
عالیان نے نفی میں سر ہلایا
" تو پھر ۔۔ ؟ خاموش کیوں ہو ۔۔ ؟؟"
عباس نے پھر سوال کیا تو احمد اور عالیان نے ایک دوسرے کو دیکھا
" تجھ سے کچھ بات کرنی ہے ۔۔ !"
عالیان نے سنجیدگی سے کہا تو عباس کو اسے سنجیدہ دیکھ کر حیرت ہوئی
" یہ تم اتنے سیریس کیسے ۔۔ ؟ سب خیریت ہے نا عالیان صاحب"
عباس نے سنجیدہ بات کو مذاق کا رنگ دیا مگر عالیان اور احمد کے چہرے ہنوز سنجیدہ تھے
" مدد چاہیے تیری ۔۔ ؟؟"
وہ دوبارہ بولا تو عباس نے سوالیہ انداز میں ابرو اچکائے
" کیسی مدد ۔۔ ؟ سب خیریت ہے نا ۔۔ ؟ "
عباس کو حقیقتاً پریشانی ہوئی تھی کیونکہ عالیان اتنا سنجیدہ کم ہی ہوتا تھا
اس ایک سال میں عالیان نے ایک ایک دن ، ایک ایک لمحہ اپنا امتحان لیا تھا کہ واقعی وہ نورے سے محبت کرتا ہے یا یہ چند لمحوں کے لیے طاری ہوئی کیفیت ہے مگر اپنے اندر بدلتی مثبت تبدیلی کو وہ اب خوب سمجھ رہا تھا کہ نورے کے علاوہ وہ کسی دوسری لڑکی کی جانب نگاہ اٹھا کر دیکھنا بھی اپنی محبت کی توہین سمجھتا ہے
" کیا ہوا عالیان میرے بھائی ۔۔ ؟ سب ٹھیک ہے نا ۔۔ ؟؟"
عالیان کو کسی سوچ میں ڈوبا دیکھ کر عباس نے اس کے کاندھے پر ہاتھ رکھ کر مخاطب کیا
اس سے پہلے عالیان کچھ کہتا عباس کا موبائل بجا اور حُرّہ کا نام دیکھ کر عباس نے کال پک کر کے سیل فون کان سے لگایا اسے یاد آیا کہ آج انہیں دعا کو ڈاکٹر کے پاس لے کر جانا تھا
" آپ دعا کو تیار رکھیں میں آ رہا ہوں تھوڑی دیر تک ۔۔ "
مختصر بات کرکے وہ کال کاٹ کر اٹھ کھڑا ہوا
" یار آج دعا کی ویکسین ہے ۔۔ اس لیے مجھے جلدی جانا ہے ۔۔ لیکن اس موضوع پر جلد بات کریں گے ۔۔ "
وہ عجلت میں کہتا مڑ گیا جبکہ پیچھے عالیان لب بھینچ کر رہ گیا
" اسی بارے میں بات کرنے والے تھے نا تم ۔۔ ؟؟ پھر کی کیوں نہیں ۔۔؟؟ اور کتنا وقت ضائع کرو گے ۔۔ ؟؟"
احمد جھنجھلا کر بولا تھا کہ وہ کتنی بار اسے سمجھا چکا تھا کہ اگر نورے سے محبت کرتے ہو تو اقرار کرو
" خود کو وقت دے رہا ہوں ۔۔ خود ہی تو تم کہتے ہو کہ عالیان کو محبت نہیں ہو سکتی ۔۔ بس فلرٹ کرتا ہوں ہر لڑکی کے ساتھ ۔۔ ٹائم پاس کرتا ہوں ۔۔ "
عالیان اسے اس کے الفاظ جتاتا بولا
" مگر اب میں ہی کہہ رہا ہوں کہ تم کس بات کی دیر کر رہے ہو ۔۔ کیوں طول دے رہے ہو معاملات کو ۔۔ ؟؟"
احمد کے پوچھنے پر عالیان نے تھکن زدہ سانس خارج کی
" کیا عباس سے ڈر گئے ہو کہ وہ اس کے گھر کی لڑکی ہے ۔۔ یا عباس کے سخت خاندانی اصولوں سے مایوس ہو کر پیچھے ہو گئے ہو ۔۔ ؟"
احمد نے کاری ضرب لگائی جس کے نتیجے میں عالیان نے خونخوار نگاہوں سے اسے گھورا
" عباس سے کیوں ڈروں گا آخر میں اس کے گھر کی لڑکی کو اپنے گھر کی عزت بنانا چاہتا ہوں نا کہ ۔۔ !"
غصے میں کہتے عالیان نے بات ادھوری چھوڑی مگر پھر لمحہ بھر خاموشی کے بعد بولا
" اور ان کے خاندان کے اصولوں سے بھی مایوس نہیں ہوں ۔۔ میری محبت کے آگے وہ پست اصول کچھ نہیں ۔۔ بس ۔۔ !!"
" پھر کیا بات ہے ۔۔ ؟ کس بات کا انتظار کر رہے ہو ۔۔؟"
احمد نے پھر سوال داغا
" مجھے ایک چیز کا ڈر ہے کہ کہیں نورے کے ساتھ زبردستی نہ ہو جائے ۔۔ وہ اپنے دل اور زندگی میں کسی کے لیے ذرا سی جگہ کی گنجائش نہیں رکھتی ۔۔"
عالیان کے لہجے کا درد محسوس کرتا احمد چونکا
" مجھے یقین نہیں آ رہا یہ ہمارا وہی عالیان ہے جس کے لیے پیار و محبت محض ایک نام کی چیزیں تھی ۔۔ تم تو نورے کے عشق میں ڈوبے ہوئے ہو ۔۔ ایسا عشق کہ اتنی عاجزی آ گئی تم میں کہ سوائے محبوب کے کچھ دیکھائی نہیں دے رہا ۔۔ "
احمد متاثر ہوا تھا مسکرا کر کہتا وہ عالیان کو دیکھنے لگا جس کے چہرے پر بظاہر تو مسکراہٹ تھی مگر اس مسکراہٹ میں چھپی اذیت وہ باآسانی محسوس کر سکتا تھا
///////////////////////////
" حُرّہ ۔۔ "
عباس کی پکار پر وہ کچن سے سارے کام چھوڑ کر ہاتھ صاف کرتی پانی کا گلاس بھرتی لاؤنج کی جانب بڑھی
یہ تو معمول ہو گیا تھا وہ جب بھی آفس سے آتا تھا یا تو خود ہی حُرّہ کو ڈھونڈتا ہوا کبھی کمرے میں یا کبھی کچن میں پہنچ جاتا تھا یا کبھی دعا کو آیا کی گود سے لے کر لاؤنج میں بیٹھ جاتا تھا
" السلام علیکم سردار ۔۔ "
حُرّہ نے ہمیشہ کی طرح مسکراتے ہوئے اس کا استقبال کیا تو ہمیشہ کی طرح عباس کی سارے دن کی تھکاوٹ اور پریشانی معدوم پڑھ گئی
" وعلیکم السلام ۔۔ "
مسکرا کر جواب دیتے ہوئے عباس نے گہری نگاہوں سے اس کا جائزہ لیا
وہ گہرے نیلے رنگ کے سادہ مگر قیمتی جوڑے میں ملبوس دوپٹہ کاندھے پر پھیلائے لمبے بال چٹیا میں مقید کیے ہوئے خاصی دلکش لگ رہی تھی بلاشبہ عورت کے چہرے کی خوبصورتی مرد کی محبت کے باعث برقرار رہتی ہے عباس کی بے پناہ عزت و محبت نے حُرّہ جیسی عام شکل و صورت کی لڑکی کو دلکش بنا دیا اس کے چہرے پر ایسی خاص مسکراہٹ اور ادا رہتی تھی کہ اک پل کو ہر کوئی ٹھہر کر اسے نگاہ بھر کر دیکھنے کی خواہش رکھتا تھا خود عباس بھی نگاہیں نہیں ہٹا پاتا تھا
" ارے آپ نے دعا کا کوئی بھی گفٹ کھول کر نہیں دیکھا ۔۔ ؟؟ "
بمشکل حُرّہ کے وجود سے نگاہیں چرا کر عباس نے ایک نظر میز پر ڈھیر لگے تحائف کو دیکھا جو کہ کل ہی دعا کی پہلی سالگرہ پر اسے ملے تھے اور پھر اپنی گود میں بیٹھی سال بھر کی دعا کو پیار کرتے ہوئے پوچھا
" آپ کا انتظار کر رہی تھی سردار ۔۔ آپ کے ساتھ آرام سے بیٹھ کر سارے تحفے دیکھنا چاہتی ہوں ۔۔ "
حُرّہ نے پانی کا گلاس عباس کی سمت بڑھاتے ہوئے کہا اور اس کے ساتھ صوفے پر براجمان ہو گئی کل ہی دعا کی پہلی سالگرہ بہت دھوم دھام سے منائی گئی تھی حویلی سے سردار شیر دل تھوڑی دیر کے لیے تشریف لائے تھے باقی عباس کے جاننے والے آئے تھے جن کی جانب سے خاصے تحائف وصول ہوئے تھے
" چلیں ڈنر کر کے آرام سے دیکھیں گے ۔۔ !"
عباس نے پانی پینے کے بعد گلاس میز پر دھرتے ہوئے کہا اور حسب عادت دعا کے ساتھ کھیلنے لگ گیا جو ہمیشہ کی طرح اپنی باپ کی آواز اور شفقت سے نہال ہو رہی تھی
جبکہ حُرّہ مسکراتے ہوئے باپ بیٹی کے لاڈ دیکھنے لگی واقعی عباس نے اپنا ہر عہد نبھایا تھا کس قدر عزت اور محبت دیتا تھا دعا کے ساتھ بھی اس قدر محبت کرتا تھا کہ دعا سارا دن اس کی آمد کا انتظار کرتی تھی اور جب وہ آتا تھا تو کھل سی جاتی تھی وہ دونوں باپ بیٹی ایک دوسرے سے اس قدر مانوس تھے کہ اگر حُرّہ دو دن تک دعا کو اپنی شکل نہ دیکھائے تو دعا اپنے باپ کے پاس مطمئن رہے گی ایسا حُرّہ کا کہنا تھا جبکہ عباس حُرّہ کے اس دعوے پر قہقہے لگاتا تھا یہ حقیقت تھی وہ جانتا تھا حُرّہ کی بات میں سچائی ہے
" حُرّہ ۔۔ !"
دعا کے ننھے ننھے ہاتھ اپنے لبوں سے لگاتے ہوئے عباس نے حُرّہ کو پکارا جو انہیں کو دیکھ رہی تھی
" حکم سردار ۔۔ ؟"
حُرّہ مدھم آواز میں بولی
" مجھے کچھ دن کے لیے ملک سے باہر جانا ہے ۔۔ !"
عباس نے جیسے اسے اطلاع دی ایک لمحہ لگا تھا حُرّہ کے مسکراتے لب سکڑنے میں
" کل آفس سے ہی نکل جاؤں گا ۔۔ !"
عباس کے مزید بولنے پر حُرّہ نے بے چینی سے پہلو بدلا جبکہ عباس کی نگاہیں دعا پر تھیں مگر وہ حُرّہ کی کیفیت سے باخبر تھا
" کک کتنے دن کے لیے ۔۔ ؟؟"
بے چینی سے اس نے پوچھا تو عباس نے چونک کر حُرّہ کو دیکھا
" ایک ہفتہ یا اس سے زیادہ ۔۔ !"
عباس نے اس کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیتے ہوئے کہا تو حُرّہ کی آنکھوں میں موتی چمکنے لگے
ایسا نہیں تھا کہ پہلی مرتبہ وہ ملک سے باہر حُرّہ اور دعا کو یہاں چھوڑ کر جا رہا تھا وہ اکثر آتا جاتا رہتا تھا اور ہمیشہ کی طرح حُرّہ بے چین ہو جاتی تھی وہ ہمیشہ کہتا تھا کہ اگر ایسے پریشان ہونا ہے تو میرے ساتھ چلیں مگر حُرّہ ساتھ جانے پر بھی آمادہ نہیں ہوتی تھی
" مان جائیں محبت ہو گئی ہے ۔۔ "
عباس نے اس کا دھیان بٹانے کو بات بدلی
" میں کب انکار کر رہی ہوں ۔۔ !"
بے ساختہ حُرّہ کی زبان پھسلی اور احساس ہونے پر دانتوں تلے دبا لی
" اقرار بھی تو نہیں کرتیں نا آپ ۔۔ !"
عباس نے مسکراہٹ دباتے ہوئے سنجیدگی سے کہا
" جانا ضروری ہے ۔۔ ؟؟"
حُرّہ نے بات بدلی اور دعا کو دیکھنے لگی جو عباس کو کاپی کر رہی تھی جیسے عباس اسے باری باری رخسار پر پیار کر رہا ویسے ہی وہ بھی عباس کے گالوں پر بھی بوسے دے رہی تھی
" آپ بھی ساتھ چلیں نا ۔۔ !"
اثبات میں سر ہلاتے ہوئے عباس نے پیش کش کی تو حُرّہ نے نفی میں سر ہلایا
" نہیں ۔۔ "
" کیوں جانم ۔۔ ؟؟ "
عباس کے ماتھے پر ایک لکیر ابھری تھی حُرّہ نے نگاہیں چرائیں
" بس آپ جلدی آ جائیے گا ۔۔ !"
وہ مدھم مگر التجائیہ بولی تھی جیسے عباس سے دوری وبال جان ہو
" کوئی خاص وجہ جلد بلانے کی ۔۔ ؟"
وہ حُرّہ کی کیفیت سے محظوظ ہوتا ہوا مسکراہٹ دبائے اس بار پوچھ رہا تھا
" دعا یاد کرتی ہے آپ کو ۔۔ "
حُرّہ نے دعا کے بھرے بھرے گلابی گال کو نرمی سے انگلی سے چھوتے ہوئے نگاہیں جھکا کر کہا
" اور آپ ۔۔ ؟؟"
وہ اس کے چہرے کو دلچسپی سے دیکھتا پوچھ رہا تھا
" مم میں بھی ۔۔ "
وہ نگاہیں جھکائے اقرار کر بیٹھی تو عباس نے ایک بازو اس کے گرد حمائل کرتے ہوئے اسے اپنے میں بھینچ لیا
" دوری برداشت نہیں ہوتی تو کیوں مجھے اور خود کو مشکل میں ڈالتی ہیں ۔۔ "
وہ شکوہ کر رہا تھا وہ خود بھی ہر وقت اپنی بیوی اور بیٹی کو پاس رکھنا چاہتا تھا مگر حُرّہ رضامند ہی نہیں ہوتی تھی
" بس آپ جلدی آئیے گا ۔۔ ورنہ آپ کی بیٹی نے مجھے تنگ کر دینا ہے ۔۔ "
صوفے سے اٹھتی ہوئی وہ اس بار دعا کو گھورتی ہوئی بولی تھی جو اس کی جانب باپ کے سامنے دیکھتی بھی نہیں تھی
"یہ زیادتی ہے حُرّہ ۔۔ میری بیٹی بلکل میرے جیسی ہے ۔۔ کسی کو تنگ نہیں کرتی ۔۔ اپنے بابا کی طرح معصوم اور صبر والی ہے ۔۔ ہم دونوں ہی تنگ نہیں کرتے آپ کو ۔۔"
وہ معنی خیزی سے بولا تھا کہ یکدم حُرّہ کا رنگ سرخ پڑا تھا وہ بھاگنے کے سے انداز میں لاؤنج سے نکلی تھی جبکہ عباس کا جاندار قہقہہ لاؤنج میں گونجا تھا
" ماما تو شرما گئی ۔۔ "
مسکرا کر دعا کو کہتے ہوئے وہ بھی صوفے سے اٹھا تو دعا بھی اپنے باپ کے قہقہے پر کھکھلائی جیسے اسے عباس کی بات سمجھ آ گئی ہو
" چلو ماما کو اور شرمانے پر مجبور کرتے ہیں ۔۔ "
دعا سے باتیں کرتا ہوا وہ بھی اس سمت بڑھا جہاں حُرّہ گئی تھی
////////////////////////////
" زندگی کا ہر نیا طلوع ہونے والا سورج ہمارے لیے ان گنت امتحان لے کر آتا ہے ۔۔ ایسے امتحان جن کی تیاری کے بغیر ہمیں کمرہ امتحان میں پرچہ حل کرنے کے لیے بیٹھا دیا جاتا ہے ۔۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ کامیابیاں ہمارے قدم چومیں تو خدا کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو ۔۔ ثابت قدم رہو ۔۔ اور کہیں اور بھٹکنے کے بجائے خدا کا در کھٹکٹاؤ ۔۔ وہ واحد ذات ہے جو ہمیں کسی بھی بڑی چھوٹی مشکل سے نکال سکتی ہے ۔۔ اس نیت کے ساتھ مشکلات کا مقابلہ کرو کہ تم کچھ بھی نہیں ہو خدا کے علاوہ تمہیں کوئی مشکلات سے نہیں نکال سکتا اور جب کوئی شخص یہ سوچ رکھتا ہے تو بلاشبہ وہ انکساری اختیار کیے ہوئے ہوتا ہے ۔۔ اور پھر خدا واقعی اس کی غیب سے مدد کرتا ہے ۔۔ مگر وہ شخص سمجھ جاتا ہے کہ اسے اس مشکل کے اللہ رب العزت نے نکالا ہے ۔۔
اگر آپ کو خود پر بہت اعتماد ہے کہ میں تو ہر مشکل وقت کا مقابلہ کر سکتا ہوں ۔۔ میں فلاں احتیاطی تدابیر اختیار کرتا ہوں اس لیے مجھے تو کوئی ناگہانی پیش نہیں آ سکتی ۔۔ تو یہ سراسر آپ کی نادانی ہے ۔۔ تقدیر میں لکھا اٹل ہے ۔۔ وہ ہر حال میں ہونا ہوتا ہے مگر دعا وہ واحد ذریعہ ہے جس سے تقدیریں بھی بدل جاتی ہیں ۔۔ ہر وقت خدا رب العزت سے دعا کریں کہ ہر ناگہانی اور مشکل سے آپ کو محفوظ رکھے ۔۔ "
یکدم حُرّہ کے لکھتے ہوئے ہاتھ رکے تھے دعا کے رونے کی آواز پر وہ ڈائری میں ہی پین رکھتی جلدی سے کرسی سے اٹھی اور اسٹڈی روم سے ملحق اپنے کمرے کی سمت بڑھی اور بیڈ پر دعا کے ساتھ لیٹ کر اسے پھر سے سلانے لگی جو شاید خود کو اکیلا محسوس کرتی نیند سے بیدار ہوئی تھی
رات کے اس پہر وہ عباس کی غیر موجودگی میں اپنی ڈائری پر کچھ تحریر کرتی تھی ابھی بھی اسے نیند نہیں آ رہی تھی تو دعا کو سلا کر عباس کے اسٹڈی روم میں چلی گئی تھی
" ہم آپ سے بہت محبت کرتے ہیں یہی اقرار سننا چاہتے ہیں نا آپ ہم سے سرداد ۔۔ تو آپ کا یہ حکم بھی سر آنکھوں پر ۔۔ اس بار آپ آئیں گے تو یہ حکم بھی بجا لاؤں گی ۔۔ سرداد آپ پر تو حُرّہ اپنی جان بھی قربان کر دے ۔۔ کیونکہ میری ہر چلتی سانس آپ کے نام ہے ۔۔ "
ساتھ لیٹی اپنی بیٹی کا لمس محسوس کرتی وہ تصور میں عباس سے مخاطب تھی
" دعا آپ کو بھی یاد آرہے ہیں نا بابا۔۔ "
نیند میں بار بار بےچین ہوتی دعا سے ہلکی آواز میں مخاطب ہوئی جو واقعی عباس کی غیر موجودگی کے باعث بےچین تھی حُرّہ سمجھ رہی تھی کہ دعا ، عباس کے سینے سے لپٹ کر سونے کی عادی تھی اور جب عباس نہیں ہوتا تھا تو وہ ایسے ہی بےچین ہوتی تھی
" بابا کو کال کرتے ہیں ۔۔ "
سوئی ہوئی دعا کو دیکھتے اسے تدبیر سوجھی سائیڈ ٹیبل پر پڑے موبائل کو اٹھایا اور عباس کو کال ملائی جو کہ پہلی ہی رنگ پر پک کر لی گئی مگر دونوں اطراف کئی پل خاموشی چھائی رہی دونوں ایک دوسرے کی سانسیں محسوس کرتے رہے
" السلام علیکم ۔۔ "
عباس نے مدھم آواز میں سلام کرکے خاموشی میں ارتعاش پیدا کیا
" وعلیکم السلام ۔۔ "
حُرّہ بھی دھیما بولی تھی عباس سمجھ گیا کہ دعا کی نیند خراب نہ ہونے کے باعث وہ اتنا مدھم بول رہی ہے
" آپ ابھی تک جاگ رہیں ہیں خیریت ۔۔ ؟"
وہ جواب جاتنا تھا کہ وہ اسے یاد کر رہی ہے
" نیند نہیں آ رہی تھی ۔۔ "
حُرّہ نے بات کو گول کیا جبکہ عباس کی مسکراہٹ گہری ہوئی تھی
" اس کا مطلب مجھے مس کر رہیں ہیں ۔۔ ؟"
وہ مسکرایا تھا اس پل حُرّہ نے شدت سے خواہش کی کہ کاش وہ اسے مسکراتا دیکھ پاتی وہ کتنا حسین مسکراتا تھا نا کہ حُرّہ اس کی مسکراہٹ میں ہی کھو جاتی تھی
" حُرّہ ۔۔ !"
حُرّہ کی خاموشی پر عباس نے اسے پکارا
" ج جی سردار ۔۔ !"
وہ جیسے سٹپٹائی تھی
" سرداد کی جان کچھ بولیں بھی ۔۔ خاموش مت رہا کریں ۔۔ میں سننا چاہتا ہوں آپ کو ۔۔ !"
وہ تحکم انداز میں بولا تھا
" ج جی میں اور دعا مس کر رہی ہیں آپ کو ۔۔ "
حُرّہ بولی تو عباس مسکرایا اور ویڈیو آن کی حُرّہ نے بھی یس کا بٹن دبایا وہ سامنے ہی مسکرا رہا تھا کچھ خواہشیں کتنی جلدی پوری ہو جاتی ہیں نا بے ساختہ حُرّہ کے ذہن میں خیال آیا تھا
" کب آئیں گے آپ ۔۔ ؟"
" جب آپ بولیں ۔۔ "
وہ مسکراہٹ دبائے بولا
" جلدی آنے کی کوشش کریں پلیز ۔۔ !"
سکرین پر عباس کو دیکھتے وہ اس مرتبہ بولتے ہوئے نگاہ جھکا گئی
" جو حکم سردار کی جان ۔۔ "
عباس نے زرا سا سر کو خم دیتے ہوئے کہا تو حُرّہ کے چہرے پر بھی جاندار مسکراہٹ بکھری
پھر وہ دونوں کافی دیر ایک دوسرے سے چھوٹی چھوٹی باتیں کرتے رہے جبکہ زیادہ تر خاموشی رہی کہ دونوں کے دل کے دھڑکنے کی آواز بھی باآسانی سنائی دے رہی تھی
وہ رات کے تیسرے پہر عجیب احساس کے تحت بیدار ہوئی تھی آنکھیں وا کیے اٹھ بیٹھی اور بے ساختہ نگاہیں سکون سے سوئی دعا پر گئی اطمینان ہونے پر زبان کے خشک ہونے کا احساس ہوا سائیڈ ٹیبل پر پڑے جگ سے شیشے کے گلاس میں پانی انڈیلا اور لبوں سے لگا لیا چند گھونٹ پی کر گلاس واپس رکھا جب دوبارہ سونے کے لیے لیٹنے لگی تو نگاہ بند کھڑکی کے وا پردوں کی جانب پڑی جہاں اسے کسی سائے کا گمان ہوا دل بے اختیار زور سے دھڑکا لبوں پر زبان پھیرتی بیڈ سے اتری اور بھاگ کر پردے برابر کیے اور واپس لیٹ گئی مگر اب نیند کہاں آنی تھی دل تھا کہ بے چین ہوئے جاتا تھا ابھی اسی بےچینی میں تھی کہ کمرے کے باہر سے کھٹ پٹ کی آوازیں آنے لگیں اور پھر حُرّہ کو کمرے کا لاک کھلنے کی آواز آئی یہیں حُرّہ خوف کی انتہا تک پہنچی تھی جسے وہ اپنا وہم اور ڈر سمجھ رہی تھی وہ حقیقت تھی مطلب کوئی اس کے گھر اور کمرے میں گھس چکا تھا فوراً ہڑبڑا کر اٹھی مگر اپنے سامنے کسی انجان مرد کو رات کے اس پہر کمرے میں دیکھنا حُرّہ جیسی لڑکی کی سانسیں روک گیا وہ مکروہ مسکراہٹ لیے قدم قدم چلتا آگے بڑھ رہا تھا اور اپنے کمرے میں موجود اس انجان شخص کی آنکھوں سے جھلکتی ہوس دیکھ کر حُرّہ کا دل بیٹھتا جا رہا تھا
کک کون ۔۔ ؟؟ کک کون ہو تم ۔۔ ؟؟ میرے گھر میں کک کیسے آئے ۔۔ ؟"
ڈر و خوف کے باعث بمشکل اس کے حلق سے آواز نکل رہی تھی یہ کیسے ممکن تھا کہ اتنی سکیورٹی میں کوئی اس کے گھر بلکہ کمرے میں گھس آیا تھا جبکہ وہ انجان مسلسل مسکراتا حُرّہ کی سمت بڑھ رہا تھا
" دد دور رہو ۔۔ اگر ۔۔ اگر ایک قدم آگے آئے تو ۔۔ !!"
سوئی ہوئی دعا کو گود میں اٹھا کر اپنے سینے میں بھینچتی وہ بولتے بولتے خاموش ہو گئی اور بیڈ سے اٹھ گئی فوراً سرہانے پڑا دوپٹہ اپنے گرد لپیٹا
" ارے ارے بی بی جی ۔۔ بولیں بولیں اگر آگے آیا تو کیا کریں گی آپ ۔۔ ؟؟"
وہ چہرے پر مکروہ تاثرات لیے بولتا قہقہہ لگا گیا جبکہ حُرّہ کو سامنے کھڑے شخص کی صورت میں بہت بڑی مصیبت اپنے سامنے کھڑی نظر آئی
" تت تم جانتے نہیں ہو میں کون ہوں ۔۔ سرداد عباس کی بیوی ہوں ۔۔ اگر مجھے یا میری بیٹی کو ذرا سی کھرونچ آئی تو سردار جو تمہارا حال کریں گے اس وقت سے ڈرو ۔۔ !"
وہ خود کو مضبوط کرتی اس مرتبہ نڈر ہو کر بولی تھی جبکہ اس کے الفاظ سن کر اک پل کو اس شخص کے چہرے پر خوف کی پرچھائی آئی تھی مگر محض اک پل کے لیے پھر وہ قہقہہ لگا کر ہنسا
" واہ واہ بی بی جی ۔۔ ہم ہمیشہ سوچتے تھے کہ پتہ نہیں آپ میں کیا بات ہے کہ نورے بی بی کی خوبصورتی بھی چھوٹے سردار کو نہیں دیکھائی دیتی اور انہوں نے ان پر آپ کو ترجیح دی ۔۔ مگر آپ میں تو واقعی کچھ تو ہے ۔۔ ہم بھی تو ذرا مزا چکھیں ۔۔ "
وہ زہریلی مسکراہٹ چہرے پر سجائے سانولا سا ہٹا کٹا آدمی حُرّہ تک پہنچ چکا تھا اور اس کا دوپٹہ کھنچنے کو ہاتھ بڑھایا اس سے پہلے وہ کامیاب ہوتا حُرّہ نے سختی سے اس کا ہاتھ جھٹکا اور پیچھے ہوتی فاصلہ قائم کر گئی
" خبردار اگر میرے قریب آئے ۔۔ !"
وہ اس کی بات اور حرکت پر چیخی تھی
" ہاہا تو کیا کرو گی ۔۔ ؟؟"
وہ حُرّہ کو سر سے پاؤں تک گھورتا بولا
" دور رہو ۔۔ !! میں سرداد کو بتاؤں گی ۔۔ وہ تمہیں جان سے مار دیں گے ۔۔ !"
حُرّہ پھر سے چیخی تھی دل کی گہرائیوں سے اپنی عزت و آبرو کی حفاظت کی دعا مانگنے لگے
" تمہیں اس قابل چھوڑو گا تو بتاؤ گی نا کچھ تم ۔۔ چھوٹے سردار کو ۔۔ !"
وہ حُرّہ کے قریب پہنچ کر بولا تھا حُرّہ پیچھے ہوتے ہوئے دیوار سے جا لگی تھی جبکہ شور سے دعا اٹھ کر رونے لگی تھی
" خدا سے ڈرو ۔۔ جس نیت سے تم آئے ہو ۔۔ یہ حرکت عذاب کا باعث بنے گی تم پہ ۔۔ "
اپنے سامنے کھڑے حیوان کو وہ بولتی بھاگنے کی راہ تلاش کرنے لگی مگر افسوس کہ یہ آسان نہ تھا کیونکہ وہ پوری طرح اس کا راستہ روکے کھڑا تھا
" ارے عذاب بعد میں دیکھا جائے گا پہلے تمہارے ساتھ رات تو گزار لیں ۔۔ "
وہ بولا تو حُرّہ نے اس کے الفاظ سن کر اذیت سے آنکھیں میچی
" خوف کھاؤ خدا کا ۔۔ تمہارے بھی کوئی گھر میں عورت ہوگی ۔۔ "
وہ مسلسل اسے اللہ سے ڈرا رہی تھی مگر جو بہک جائے اسے کیا ہدایت ملے
" میرا کوئی گھر نہیں ۔۔ "
وہ آدمی دھاڑا تھا اور مزید مشتعل ہوا تھا
" پپ پلیز میرے قریب مت آؤ ۔۔ "
اس بار حُرّہ کی آواز میں بے بسی تھی ڈر و خوف تھا
" وقت ضائع مت کرو ۔۔ بچی کو سلاؤ اور کچھ وقت کے لیے میرا دل خوش کر دو ۔۔ !"
مکروہ چہرہ لیے وہ کہہ رہا تھا جبکہ اس کی غلیظ نگاہیں اپنے وجود کے آر پار محسوس کرتے حُرّہ نے اس پل اپنی موت مانگی
" دیکھو تمہیں جو کچھ چاہیے لے جاؤ جتنے پیسے ، زیور چاہیے سب لے جاؤ مگر پلیز چلے جاؤ یہاں سے ۔۔ "
حُرّہ نے بھیگی آواز میں کہا اور کمرے میں موجود سیف کی جانب اسے متوجہ کیا اس دوران دعا رو رو کر سہم چکی تھی
" ارے وہ بھی لے لوں گا ۔۔ پہلے اپنی آگ تو بجھا لوں جو تیرا معصوم چہرہ دیکھ مزید بڑھ گئی ہے ۔۔ "
ہاتھ بڑھا کر اس نے حُرّہ کے چہرے کو چھونا چاہا مگر حُرّہ نے چہرہ دوسری جانب کر لیا
" مجھے قتل کر دو مگر میری طرف غلیظ نگاہ سے مت دیکھو ۔۔ "
وہ بے بسی کی انتہا پر تھی جب بولی تو آواز بھیگی ہوئی تھی
" قتل بھی کر دوں گا ۔۔ پہلے مزے تو لے لوں ۔۔ "
وہ اس کی بے بسی سے محظوظ ہوتا بولا تھا
" یا اللہ میری مدد کر ۔۔ !"
وہ با آواز بلند بڑبڑائی تھی
" اب نخرے بند بھی کر ۔۔ اور چھوڑ بچی کو ۔۔ !"
وہ دھاڑا تھا اور دعا کی جانب ہاتھ بڑھائے مگر حُرّہ نے دعا کو خود میں چھپا لیا
" پپ پلیز تم مجھے قتل کر دو مگر میری عزت کو محفوظ رہنے دو ۔۔ اللہ سے ڈرو ۔۔ "
وہ اس بار التجائیہ بولی تھی
" تجھ پر رحم کیا تو مجھ پر رحم نہیں ہو گا ۔۔ "
وہ با معنی الفاظ میں بولا تو حُرّہ نے آنکھوں میں التجا اور بےبسی لیے اسے دیکھا جبکہ دعا کے رونے میں شدت آئی تھی حُرّہ نے دعا کو دیکھا جس کا مسلسل رونے کے باعث برا حال تھا بے اختیار اپنی بیٹی کو پہلی مرتبہ اتنا روتے دیکھ کر حُرّہ کا دل بھی کیا وہ بھی پھوٹ پھوٹ کر روئے
" یا اللہ تیرے سوا کوئی نہیں جو میری مدد کرے ۔۔ میں تجھ سے اپنی عزت و آبرو کی حفاظت کی دعا کرتی ہوں ۔۔ "
بھیگی پلکیں گرا کر وہ دل میں دعا کرنے لگی
ابھی اس نے دوپٹہ کھینچنے کو ہاتھ بڑھایا ہی تھا کہ حُرّہ نے اپنی پوری طاقت لگا کر اسے دھکا دیا وہ حُرّہ جیسی دبلی پتلی لڑکی سے اس قدر طاقت کی امید نہ رکھتا تھا اور اس کے حملے سے فرش پر جا گرا یہیں حُرّہ نے موقع کو غنیمت جانا اور دعا کو سینے سے لگائے کمرے سے بھاگی اور باہر آ کر دروازہ لاک کر دیا لاؤنج کو عبور کرتی وہ اس غرض سے لان میں آئی کہ گارڈز کو اس نا گہانی سے آگاہ کرے مگر صد افسوس کہ جہاں دس دس گار ڈز ہوتے تھے وہاں آج ایک بھی نہیں تھا نیم اندھیرے میں جب ڈھونڈنے پر بھی کوئی نہ ملا تو آسمان کی جانب چہرہ کیا
" یا اللہ تیرے آسرے اس گھپ اندھیری رات میں اپنی عزت کو بچانے کی خاطر نکل رہی ہوں ۔۔ اب تو ہی مجھے منزل تک پہنچائے گا ۔۔ کیونکہ تیرے سوا یہ کوئی نہیں کر سکتا ۔۔ مجھ پر رحم کر میرے مالک ۔۔ "
شدت سے روتے ہوئے وہ آسمان کی جانب چہرہ بلند کیے بول رہی تھی اور پھر دعا کو سینے لگائے وہ بنگلے سے باہر نکل گئی
دعا کو سینے میں بھینچے تیز تیز بھاگتی وہ ہانپ گئی تھی جب گھر سے کافی دور آ گئی تو ایک جگہ رک کر تنفس بحال کرنے لگی آس پاس چند گھر تھے وہ مسلسل رو رہی تھی جبکہ دعا بھی مدھم آواز میں سسکیاں لے رہی تھی بے بسی ہی بے بسی تھی اپنی عزت کی حفاظت کی خاطر وہ محض سر پر دوپٹہ اوڑھے اپنی بیٹی کو سینے سے لگائے نکلی تھی مگر اب وہ کہاں جاتی اس اندھیری رات میں کون اسے پناہ دیتا مسلسل سورتوں کا ورد کرتی رات میں باقی دو تین گھنٹے ان دونوں ماں بیٹی نے سڑک پر گزارے جہاں سے تھوڑی دیر بعد اکا دکا گاڑی گزر جاتی تھی دعا کو اس نے تھپک کر سلا دیا تھا مگر خود خوف کے زیر اثر رات گزاری تھی بار بار ایسے لگتا جیسے وہی شخص دوبادہ آ جائے گا
جب افق پر روشنی نمودار ہوئی تو پاس سے گزرتی ایک گاڑی کو حُرّہ نے اشارہ کر کے روکا ڈرائیور نے مشکوک نگاہوں سے سامنے کھڑی عورت اور پھر اس کی گود میں سوتی ہوئی بچی کو گھورا مگر وہ دیکھنے میں شریف گھر کی لگ رہی تھی اس آدمی کی نگاہوں سے خوفزدہ ہوتے حُرّہ نے اسے ایک پتہ بتایا اور گاڑی کی پچھلی سیٹ پر براجمان ہو گئی راستے میں وہ مسلسل روتی رہی تھی جس طرح حُرّہ نے یہ دو تین گھنٹے گزارے تھے اسے لگا یہ رات اس کی اذیتوں میں سب سے زیادہ مشکل ترین رات تھی نا سر پر چھت تھی اور نا خدا کی ذات کے سوا کوئی آسرا اللہ کے بعد وہ مسلسل عباس کو پکار رہی تھی اس کے لوٹنے کی دعا کرتی رہی تھی
" یا اللہ تیرا شکر ہے کہ تو نے میری عزت کو محفوظ رکھا ۔۔ آگے بھی تجھ سے مدد چاہتی ہوں ۔۔ "
مسلسل روتے ہوئے وہ رب سے راز و نیاز کر رہی تھی
موبائل بھی پاس نہیں تھا کہ عباس کو گزری قیامت کے بارے میں آگاہ کر سکتی اب صرف حویلی میں پناہ لینے کے سوا اس کے پاس کوئی دوسرا راستہ نہیں تھا بچی کو لے کر وہ کہاں در در کی ٹھوکریں کھاتی اور اگر پھر سے وہی شخص آ گیا تو یہی سوچ اسے سہمنے پر مجبور کر رہی تھی اس سے بہتر وہ سردار بی بی سمیت حویلی کے مکینوں کی کڑوی باتیں اور سلوک برداشت کر لے
" سرداد کہاں ہیں آپ ۔۔ پلیز آ جائیں ۔۔ میں مر جاؤں گی اگر اب کچھ برا ہوا تو ۔۔ "
دل میں عباس سے مخاطب وہ اس کے جلد آنے کی دعا مانگنے لگی
" مجھ سے ہر طرح کا امتحان میرے مالک ۔۔ "
" ماں بابا اگر آپ لوگ ہوتے تو آپ کی بیٹی آج ٹھوکریں نا کھا رہی ہوتی ۔۔ بے دھڑک آپ کے پاس آ جاتی ۔۔ جن بیٹیوں کے سر پر باپ ، بھائی کا ہاتھ نہیں ہوتا زمانہ انہیں کتنا بے مول کر دیتا ہے ۔۔ "
کرب سے آنکھیں میچے وہ سوچ رہی تھی
" بس دعا میری جان ۔۔ مت رو میری بیٹی ۔۔ دعا کرو بابا آ جائیں ۔۔ "
دعا کے رونے پر حُرّہ نے اس کی روئی ہوئی آنکھیں پر بوسہ دیتے ہوئے کہا
تین گھنٹے کے سفر کے بعد گاڑی حویلی کے سامنے آ کر رکی تو حُرّہ نے اپنے کان میں موجود ایک بالی اتاری اور ڈرائیور کی جانب بڑھائی ڈرائیور نے چونک کر پہلے حُرّہ کو دیکھا اور پھر اس کے ہاتھ می موجود سونے کی چھوٹی سی بالی کو دیکھا
" مم میرے پاس پیسے نہیں ہیں ۔۔ !"
وہ جھکے سر کے ساتھ بولی تو ڈرائیور نے اسے مشکوک نگاہوں سے دیکھا
" یہ سونے کی ہے ۔۔ ؟"
اس کے سوال پر حُرّہ نے فوراً سر ہلایا
" مگر پھر تو یہ زیادہ قیمت کی ہوگی ۔۔ "
ڈرائیور بولا تو حُرّہ اس بار خاموش رہی
" آپ رکھ لیں بھائی ۔۔ "
حُرّہ اسے بول کر حویلی کے گیٹ کی جانب بڑھ گئی جبکہ پیچھے وہ ڈرائیور کاندھے اچکا کر واپس مڑ گیا
/////////////////////////
وہ کرسی کی پشت سے ٹیک لگائے بیٹھا تھا جانے کب اس کی آنکھ لگی تھی کچھ دیر بعد ہی ہڑبڑا کر اٹھا تھا یکدم بے چینی نے اسے آن گھیرا تھا ٹائی کی ناب ڈھیلی کی اور سفید شرٹ کی آستین کہنیوں تک فولڈ کیے وہ ہوٹل کے کمرے میں چکر کاٹنے لگا
" اتنی بے چینی کیوں ہو رہی ہے مجھے ۔۔ "
عباس بالوں میں انگلیاں پھیرتا بولا تھا اسے پہلا خیال حُرّہ اور دعا کا آیا تھا ابھی کچھ دیر پہلے ہی تو اس کی حُرّہ سے بات ہوئی تھی
دوسرا خیال اسے سرداد شیر دل کی باتوں کا آیا تھا جس میں انہوں نے اسے نورے سےشادی پر بہت زور دیا تھا مگر وہ ہمیشہ کی طرح انکار کر چکا تھا مگر ان کی دلیلیں اسے مسلسل یاد آ رہیں تھیں
" عباس آخر مسئلہ کیا ہے ۔۔ ؟؟ ہم نے اس لڑکی کو تمہاری زندگی میں قبول کیا ہے نا ۔۔ تو تم ہماری خاطر نورے کو کیوں نہیں قبول کر سکتے ۔۔ ؟ کیا ہماری بات کی کوئی حیثیت نہیں تمہاری نظر میں ۔۔ ؟ کیا ہمارا کوئی حق نہیں کہ ہم یہ فیصلہ کر سکیں ۔۔ ؟"
" ایسی بات نہیں ہے بابا ۔۔ میں نہیں کر سکتا دوسری شادی ۔۔ !"
ان کے سوال پر وہ صاف انکار کرتا بولا تھا
" وجہ ۔۔ ؟"
" مجھے ایسا لگتا ہے میں نورے کے ساتھ انصاف نہیں کر سکوں گا ۔۔ جس محبت کی وہ حق دار ہیں وہ میں نہیں دے سکوں گا انہیں ۔۔ "
عباس کی بات پر انہوں نے ناسمجھی سے اسے دیکھا
" میں مان ہی نہیں سکتا یہ بات ۔۔ تم میرے بیٹے ہو ۔۔ جانتا ہوں تم حق دار کو اس کا حق دینے میں کوتاہی نہیں کرتے ۔۔ جب شادی ہوگی تو یقیناً نورے کو محبت دو گے ۔۔ "
وہ ہاتھ نہ کے انداز میں ہلاتے بولے تھے
" پلیز بابا سرکار آپ مجھ سے اس بارے میں امید نہ رکھیں ۔۔ میں اپنی بیوی سے محبت کرتا ہوں ۔۔ دوسری شادی کی چاہت نہیں مجھے ۔۔ "
عباس ہنوز اپنی بات پر قائم تھا
" تمہیں نہیں لگتا تم نورے کے ساتھ غلط کر رہے ہو ۔۔ کبھی اس کو غور سے دیکھو تو معلوم ہو کہ جس نورے کے چہرے سے مسکراہٹ کبھی جدا نہیں ہوتی تھی وہ کتنی مرجھا گئی ہے ۔۔ تم سے محبت کرتی ہے کیا بھول گئے تم ۔۔ اس کو اذیت دے کر سکون سے رہ سکو گے ۔۔؟ "
انہوں نے نرمی سے اسے سمجھایا ان کی بات پر عباس خاموش ہو گیا تھا
اس نے بے چینی سے ان سوچوں کو جھٹکا تھا
" کہیں نورے کا صبر تو نہیں جو مجھے بے چین رکھتا ہے ۔۔ ؟؟ لیکن میں نے تو غلط نہیں کیا ان کے ساتھ ۔۔ اگر میں نے ان پر حُرّہ کو ترجیح دی ہے تو اس لیے کہ حُرّہ کا مجھ پر حق ہے ۔۔ ان کا نکاح ہوا تھا میرے ساتھ جبکہ نورے کے ساتھ میرا کوئی شریعی رشتہ نہیں جس حیثیت سے میں ان کے باعث حُرّہ کی حق تلفی کرتا ۔۔ "
مختلف سوچیں اس کے دماغ میں آ رہیں تھیں بار بار نورے کی باتیں ، اس کی خاموش زبان ، اس کی نگاہوں میں موجود سوال اسے یاد آ رہے تھے
" یا اللہ میرے ہاتھوں کسی کے ساتھ زیادتی نہ ہو ۔۔ "
کچھ سوچتے ہوئے اس نے خود ہی اپنی سوچ پر سر ہلایا
/////////////////////////
" دروازہ کھولو ۔۔ !"
ایک گارڈ نے جب دروازہ کھولا تو حُرّہ کو دیکھ کر وہ چونکا جبکہ حُرّہ نے اسے مخاطب کیا
" جی بی بی ۔۔ "
وہ جی کہتا پیچھے ہوا تو حُرّہ نے گیٹ عبور کیا
" اے لڑکی وہیں رک جا ۔۔ !"
یہ سردار بی بی کی کرخت آواز تھی جس نے حُرّہ کے قدم وہیں روک دیے
" تو یہاں کیا کر رہی ہے ۔۔ ؟"
وہ حُرّہ کے قریب آتی ہوئی پوچھ رہیں تھیں
" و وہ ۔۔ !"
حُرّہ کو سمجھ نہ آیا کہ اپنے اتنی صبح آنے کا کیا جواز پیش کرتی مگر یہ تو طے تھا کہ اسے ہر حال میں یہیں پناہ لینی تھی
" کیا وہ وہ ۔۔ ؟؟ "
وہ غصے سے پھنکاری تھیں تو ان کی غصیلی آواز سن کر دعا رونے لگی تھی اس معصوم بچی نے تو فقط دو شفیق چہرے دیکھے تھے ایک حُرّہ کا اور دوسرا عباس جیسے محبت کرنے والے باپ کا جو نرم اور دھیمے انداز میں بولتا تھا اور کل رات سے وہ بچی پہلے اس آدمی کا اور اب سردار بی بی کی آواز پر شدت سے رونے لگی
" کیوں آئی ہو یہاں تم لڑکی ۔۔ اور اسے بھی کیوں لے کر آئی ہو ۔۔ "
حُرّہ کی گود میں روتی بلکتی سال بھر کی دعا کو دیکھ کر وہ اک پل کے لیے اس کی جانب متوجہ ہوئی تھیں وہ بچی انہیں بلکل عباس کی کاربن کاپی لگی تھی نین نقش میں اس قدر اپنے باپ سے مشابہ تھی کہ کوئی بھی باآسانی کہہ سکتا تھا کہ یہ عباس کی بیٹی ہے مگر سردار بی بی نے سفاکیت کی انتہا کی اور حقارت بھرے تاثرات لیے ان دونوں ماں بیٹی کو دیکھا
" جج جب تک سرداد نہیں آ جاتے ۔۔ مجھے یہاں رہنے دیں ۔۔ سرداد بی بی ۔۔ "
حُرّہ نے التجائیہ کہا
" کیوں ۔۔ ؟؟"
وہ فٹ سے بولیں تو حُرّہ نے سر جھکا لیا اب وہ انہیں اپنے پر گزری رات کی قیامت کیسے بتاتی
" پلیز رہنے دیں ۔۔ کچھ دن ۔۔ جب سرداد آ جائیں گے تو ہم چلے جائیں گے۔۔ "
دعا کو کاندھے سے لگائے ہوئے وہ آنکھوں میں التجا لیے بولی تھی
" ہاں ہاں جانتی ہوں میرے بیٹے کو لے اڑو گی ۔۔ مگر اس بار میں ایسا نہیں ہونے دوں گی ۔۔ "
وہ غصیلی آواز میں بولیں تھیں
" سرداد بی بی پلیز چند دن کے لیے ۔۔ "
" دفع ہو جاؤ تم اپنی بیٹی کو لے کر یہاں سے ۔۔ یہاں کوئی جگہ نہیں تمہارے اور تمہاری بیٹی کے لیے ۔۔ "
وہ غصے سے پھنکاری تھیں
" یہ صرف میری بیٹی نہیں ہے ۔۔ یہ آپ کے بیٹے کا بھی خون ہے ۔۔ "
دعا کی جانب اشارہ کرتے ہوئے وہ بولی تھی لہجے سے تکلیف عیاں تھی
" ہم نہیں مانتے ۔۔ پتہ نہیں کس کا گند میرے بیٹے کی جھولی میں ڈال رہی ہو ۔۔ میرا بیٹا تو ہے ہی شریف ۔۔ آ گیا تمہارے جھانسے میں ۔۔ "
وہ اپنے الفاظ سے حُرّہ کے اندر زہر انڈیل رہیں تھیں یہی زہر عباس دن رات اپنے اندر انڈیلتا تھا مگر شاید وہ ضبط کرنا جانتا تھا کہ سامنے اس کی ماں تھیں مگر حُرّہ سے قطعی ان کا بہتان برداشت نہیں ہوا
" اللہ سے ڈریں ۔۔ آپ بھی جانتی ہیں کہ یہ آپ کے بیٹے کی اولاد ہے ۔۔ پھر کیوں بہتان لگا رہیں ہیں مجھ پر ۔۔ "
اس مرتبہ حُرّہ بھی خاصی بلند آواز میں بولی تھی
" بکواس بند کرو اپنی ۔۔ خبردار اگر میرے سامنے بلند آواز میں چیخی ۔۔ "
حُرّہ کی بلند آواز پر وہ بھی چنگھاڑیں تھیں
" میں صرف اتنا کہہ رہی ہوں مجھے اور میری بیٹی کو تھوڑے دن یہاں رہنے دیں ۔۔ سردار کا ہمارے ساتھ بھی کوئی رشتہ ہے ۔۔ اس لیے حویلی میں رہنا ہمارا بھی حق ہے ۔۔ "
اس مرتبہ حُرّہ دھیمی آواز میں بولی تھی کہ عباس کے آنے تک اسے حویلی میں پناہ چاہیے تھی
" خبردار اگر اپنے حق جتائے تم نے ۔۔ "
انہوں نے اسے غصے سے گھورا تھا
" ٹھیک ہے نہیں جتاتی مگر پلیز مجھے اندر جانے دیں سردار بی بی ۔۔ "
حُرّہ نے باقاعدہ ان کے آگے ہاتھ جوڑے تھے
" جانے کون سے جادو کرتی ہو ہر مشکل کو شکست دے دیتی ہو ۔۔ ضرور کالا علم کرتی ہو ۔۔ تبھی اس ہٹے کٹے آدمی کو ڈھا کر یہاں آ گئی ہو ۔۔ "
وہ غصے میں بولتی جا رہیں تھیں ان کی بات پر حُرّہ ٹھٹھکی تھی
" کک کیا مطلب ۔۔ "
حُرّہ کی زبان لڑکھڑائی تھی
" مطلب یہ بی بی کہ میں تمہیں کبھی پناہ نہ دوں ۔۔ لو اپنی بیٹی کو اور نکلو میرے گھر سے ۔۔ "
انہوں نے حُرّہ کو بازو سے پکڑ کر پیچھے کیا
" آ آپ کو کیسے معلوم کہ میں اس آدمی سے بچ کر یہاں آئی ہوں ۔۔ "
وہ حیرت زدہ سی پوچھ رہی تھی
" میں نے ہی اسے بھیجا تھا ۔۔ کہ بس کسی طرح تم سے جان چھوٹ جائے میرے بیٹے کی ۔۔ "
وہ حُرّہ کی پتھرائی ہوئی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے بولیں تھیں
جب سے انہیں فون کال آئی تھی حُرّہ کے گھر سے بھاگنے اور ان کا منصوبہ ناکام ہونے کی تب سے وہ حویلی کے دروازے پر نگاہ جمائے کھڑیں تھیں انہیں یقین تھا حُرّہ یہیں آئے گی
اتنی مشکل سے عباس کی غیر موجودگی میں انہیں موقع ملا تھا کہ عباس کو حُرّہ سے بدظن کر سکیں یہ منصوبہ تھا کہ جیسے ان کی بیٹی کے ساتھ ہوا اس کا بدلہ بھی وہ لے لیں گی اور اسے عباس کے قابل ہی نہ چھوڑے لیکن حُرّہ بھاگ نکلی تھی تب سے وہ غصے میں ٹہل رہیں تھیں
" آپ کو خدا کا خوف نہیں آیا ۔۔ میں آپ کے بیٹے کی عزت ہوں ۔۔ آپ نے مجھے بے آبرو کرنا چاہا ۔۔ "
چند پل لگے تھے حُرّہ کو سب سمجھنے میں اور جب سمجھ آ گئی تو صدمے کی کیفیت میں بولی
" تم ہمارے دشمن کی بیٹی ہو ۔۔ اس دشمن کی جس نے میری بیٹی کی عزت کو تار تار کیا اور اسے بےرحمی سے مار دیا ۔۔ پھر میں تم پر کیسے رحم کروں ۔۔ "
ان کے لہجے سے نفرت اور حقارت جھلک رہی تھی حُرّہ کو اپنے پیروں پر کھڑا رہنا دشوار لگا
" آپ اس حد تک جا سکتی ہیں ۔۔ خدا کا خوف نہیں ہے ۔۔ اگر میں نہ بھاگتی اس وقت وہاں سے تو ۔۔ تو جانتی ہیں کیا ہو جاتا ۔۔"
حُرّہ کو شدید صدمہ لگا تھا وہ سمجھتی تھی سردار بی بی اپنی بیٹی کی وجہ سے ہمیشہ اس سے نالاں رہتی ہیں مگر اس حد تک قدم اٹھا سکتی تھیں یہ اس نے کبھی نہیں سوچا تھا عباس جیسے اتنے اعلی انسان کی ماں ایسی سوچ رکھتی ہوگی یہ قبول کرنا کس قدر مشکل تھا
" اگر تم اب بھی یہاں سے نہ گئی تو یہ سب پھر کروا سکتی ہوں تمہارے ساتھ ۔۔ "
وہ سفاکیت سے بولیں تھیں جبکہ حُرّہ نے افسوس سے انہیں دیکھا
" مجھے نہ سہی مگر اس معصوم پر بھی رحم نہ آیا آپ کو ۔۔ اگر اسے کچھ ہو جاتا تو ۔ "
ان کی بات سن کر وہ اندر سے کانپی تھی وہ کبھی نہیں چاہتی تھی جس قیامت سے وہ رات کو گزری تاحی دوبارہ اس سے سنا ہو
" اچھا تھا مر جاتی ۔۔ میرے بیٹے سے گند تو دور ہوتا ۔۔ "
وہ سفاک عورت حقارت سے بولیں تھی حُرّہ نے تڑپ کر انہیں دیکھا تھا
" بس کر جائیں ۔۔ بہت ہو گیا ۔۔ اب دیکھئے گا میں آپ کی ساری حقیقت سردار کو بتاؤں گی ۔۔ کس حد تک جا چکی ہیں آپ سب بتاؤں گی ۔۔ "
وہ بھی غصے میں بولی تھی
" کیسے بتاؤ گی ۔۔ میں تمہیں یہاں رہنے دوں گی تب نا ۔۔ اگر تم نے یہاں رہنے کا سوچا بھی تو جو ایک بار عزت بچ گئی نا ہر مرتبہ نہیں بچے گی ۔۔ "
وہ شاطرانہ انداز میں اسے دھمکی دے رہیں تھیں ان کی بات سن کر حُرّہ کے چہرے پر خوف کا سایہ گزرا
" کیا ملے گا آپ کو یہ سب کر کے ۔۔ "
وہ بے بس انداز میں پوچھ رہی تھی
" سکون ۔۔ "
انہوں نے یک لفظی جواب دیا تو حُرّہ نے ناسمجھی سے انہیں دیکھا
" تمہیں تکلیف میں دیکھ کر مجھے سکون ملتا ہے ۔۔ "
وہ بولیں تو حُرّہ نے پتھرائی آنکھوں سے انہیں دیکھا
"ایک اچھی بیوی شوہر کا سکون ہوتی ہے ۔۔ اور آپ میرا سکون ہیں حُرّہ ۔۔ "
اس پل عباس کے الفاظ اسے یاد آئے تھے اب وہ انہیں کیسے بتاتی کہ ان کا بیٹا اسے اپنا سکون کہتا تھا
" میں اپنے لیے سوال نہیں کروں گی آپ سے ۔۔ مگر دعا اس حویلی کی بیٹی ہے ۔۔ اس کا بھی اتنا حق ہے حویلی پر جتنا ایک بیٹی کا اپنے باپ کے گھر پر ہوتا ہے ۔۔ "
اس نے کہا تو انہوں نے نحوت سے سر جھٹکا
" جب ہم مانتے ہی نہیں اسے اپنے بیٹے کا خون تو کیسا حق بی بی ۔۔ ؟ "
کہتے ہی انہوں نے حُرّہ کو دھکا دیا تھا وہ بمشکل اس حملے پر سنبھل سکی تھی
" عذاب کی مانند ہو تم ہماری زندگیوں میں ۔۔ دفع ہو جاؤ ہماری زندگی سے ۔۔ تاکہ خوشیاں دوبارہ ہماری حویلی کا احاطہ کر سکیں ۔۔ اگر تم نہ گئی ہماری زندگی سے تو جان سے تم تو جاؤ گی ہی تمہاری بیٹی کو بھی اس طرح غائب کرواؤں گی کہ قبر بھی نہیں مل سکے گی تمہیں اس کی ۔۔ چلی جاؤ یہاں سے ۔۔ نکل جاؤ ۔۔ "
وہ حتمی انداز میں حُرّہ کو دھمکا رہیں تھیں کہ ان کی دھمکی پر حُرّہ تڑپ گئی
" گارڈز یہ لڑکی حویلی کے آس پاس بھی نظر نہ آئے مجھے ۔۔ "
اس بار وہ گارڈز کو کہتی حویلی کے اندرون حصے کی سمت بڑھ گئیں
" مم میں کہیں نہیں جاؤں گی ۔۔ آپ کی حقیقت سردار کو ضرور بتاؤں گی ۔۔ "
گارڈز کو اپنی جانب بڑھتا دیکھ حُرّہ نے انہیں ہاتھ کے اشارے سے روکا اور چیخ کر بولی
" پلیز جلدی آ جائیں سردار ۔۔ زندگی اس دنیا نے تنگ کر دی ہے مجھ پر ۔۔ پلیز جلدی آ جائیں ۔۔ آپ کے بغیر نہیں رہ سکتی میں ۔۔ مر جاؤں گی آپ کے بغیر ۔۔ میرے اللہ چھوٹے سردار کو بھیج دے ۔۔ نہیں دعا رو نہیں بس ویٹ کرو بابا کے آنے کا ۔۔ ہم بابا کو سب بتائیں گے ۔۔ پھر کبھی دور نہیں جائیں گے وہ ہم سے ۔۔ "
وہ بھوک سے بلکتی روتی ہوئی دعا کو کہتی جا رہی تھی
" نہیں میں کسی قیمت پہ سردار سے الگ نہیں ہو سکتی ۔۔ مجھے انہیں سب بتانا ہو گا کہ کیا کیا ہوا ہمارے ساتھ ۔۔ پلیز جلدی آ جائیں ۔۔ آپ کے علاوہ کوئی نہیں ہمارا ۔۔ یا اللہ میری مدد کر ۔۔ "
آسمان کی جانب دیکھتی وہ بولی تھی
" لل لیکن اگر سردار کے آنے سے پہلے دوبارہ سردار بی بی نے کوئی سازش کی تو ۔۔ ؟"
منہ میں بڑبڑاتی وہ حویلی کے گیٹ کے پاس کھڑی تھی
سردار بی بی نے اس سے اس کی چھت بھی چھین لی تھی وہ جانتی تھی اب وہ اسے کسی صورت پناہ نہیں دیں گی اسے سب سے زیادہ فکر اپنی آبرو کی تھی جو کہ اب یہاں محفوظ نہیں تھی سردار بی بی جب ایک مرتبہ اتنی گری ہوئی حرکت کر سکتیں ہیں تو دوبارہ ان سے کچھ اچھائی کی امید نہیں کی جا سکتی تھی سردار شیر دل سے بھی التجا نہیں کر سکتی تھی کہ وہ جانتی تھی جب وہ ایک دو بار عباس کے پاس آئے تھے تو کس قدر حقارت سے وہ اسے دیکھتے تھے کئی مرتبہ وہ عباس کو ان سے نورے سے شادی والے معاملے پر بحث کرتا سن چکی تھی حویلی کے کسی بھی مکین سے اسے امید نہیں تھی کہ کوئی اس کی مدد کرے گا
" میرے اللہ میں کہاں جاؤں ۔۔ ؟؟ ماں ۔۔ بابا ۔۔ ؟"
دعا کو سینے میں بھینچتی وہ سسک اٹھی تھی
کوئی راہ نظر نہیں آ رہی تھی کہاں جائے کوئی بھی تو نہیں تھا جو اس کا ساتھ دیتا یہ تو طے تھا کہ وہ عباس کو اس کی ماں کی حقیقت بتائے گی مگر عباس کے آنے تک اسے کہیں تو رہنا تھا نگاہیں سامنے کھڑے گارڈز کی جانب کیں کہ ان سے موبائل لے کر عباس کو سب حالات سے آگاہ کرے مگر وہ جانتی تھی کوئی اس کی مدد نہیں کرے گا پھر بھی کچھ سوچتے ہوئے اس نے ان میں سے ایک کو مخاطب کیا جو کہ سردار بی بی کے حکم پر اسے حویلی سے نکالنے کے منتظر تھے
" پپ پلیز سردار سے بات کرنی ہے مجھے ۔۔ موبائل دے دیں ۔۔ ؟"
بمشکل آنسو پونچھتی وہ بولی تھی مگر گارڈز نے سر جھکا لیا اور خاموش رہے
" پپ پلیز ۔۔ !!"
سسکتی ہوئی دعا کو سنبھالتی وہ روتے ہوئے التجا کر رہی تھی مگر وہ ہنوز سر جھکائے کھڑے رہے حُرّہ جانتی تھی وہ اپنے مالک کے حکم کے غلام ہیں تبھی خاموش ہو گئی
" حویلی کے دروازے پر بیٹھنا پڑے میں بیٹھوں گی ۔۔ اور وہیں بیٹھ کر سردار کا انتظار کروں گی ۔۔ مگر حویلی سے کہیں نہیں جاؤں گی ۔۔ "
منہ میں بڑبڑاتی وہ چند قدم پیچھے ہوئی تھی آخر وہ اس ظالم دنیا سے کیسے اکیلے مقابلہ کر سکتی تھی جو قدم قدم پر نوچنے کو کھڑی تھی ایسے حالات میں عباس جیسے ہمدرد ساتھی و محافظ سے کیسے دور جا کر بے وقوفی کر سکتی تھی
" میرے اللہ سردار کو بھیج دیں ۔۔ پلیز آ جائیں ورنہ میں مر جاؤں گی ۔۔ "
مسلسل دعا کرتے ہوئے وہ رو رہی تھی
" سنو ۔۔ !"
یہ کوئی جانی پہچانی آواز تھی جو حُرّہ کو پشت سے سنائی دی تھی کسی نے شاید اسے پکارا تھا لمحہ ضائع کیے بغیر اس نے مڑ کر دیکھا تو سامنے ناعمہ کھڑیں تھیں پہلے حُرّہ نے ناسمجھی سے انہیں دیکھا پھر دل میں خیال آیا کہ ان سے مدد مانگی جائے شاید وہ انہیں سردار بی بی سے یہاں رہنے کی اجازت لے دیں ابھی حُرّہ نے کچھ بولنے کو لب وا کیے ہی تھے کہ انہوں نے ہاتھ کے اشارے سے اسے روک دیا
" تم جانتی ہو لڑکی ۔۔ ؟؟ تم اور تمہاری گود میں یہ بچی اس وقت قابل رحم ہو ۔۔ کسی کو بھی تم پر ترس آ جائے مگر ۔۔"
انہوں نے عام سے انداز میں بات کا آغاز کیا تھا حُرّہ اس وقت اس بات کی توقع ان سے نہیں کر رہی تھی وہ ناسمجھی سے انہیں دیکھنے لگی تھی
جبکہ وہ سامنے کھڑی حُرّہ کو بغور دیکھ رہیں تھیں مندے سے کپڑوں میں مٹی کے واضح نشان نظر آ رہے تھے دوپٹے سے خود کو لپیٹے ہوئے ، لمبے سیاہ بالوں کی چٹیا میں سے آدھے بال نکلے ہوئے تھے ، چہرے پر خشک آنسوؤں کے نشان اور آنکھیں سوجی ہوئیں گود میں سال بھر کی بچی بلک رہی تھی ایک پل کو تو اسے دیکھ کر ان کا ہاتھ دل پر بے اختیار پڑا تھا مگر پھر سر جھٹکا انہیں کمزور نہیں پڑنا تھا اپنی بیٹی کی خاطر اگر انہیں حُرّہ جیسی بے ضرر لڑکی سے قربانی بھی مانگنی پڑی تو وہ ایسا ضرور کریں گیں
ہاتھ کے اشارے سے انہوں نے گارڈز کو وہاں سے بھیجا اور پھر سے حُرّہ کی جانب متوجہ ہوئیں
" چلی جاؤ ۔۔ چلی جاؤ ہماری زندگی سے ۔۔ چلی جاؤ چھوٹے سردار کی زندگی سے ۔۔ چلی جاؤ میری بیٹی کی زندگی سے ۔۔ تاکہ خوشیاں اس کی زندگی میں آ سکیں ۔۔ "
وہ سفاکیت سے کہہ رہیں تھیں حُرّہ نے ٹھٹھک کر انہیں دیکھا
" کک کیا مطلب ہے آپ کا ۔۔ ؟؟"
حُرّہ کی آواز بمشکل نکلی تھی
" تم جب تک چھوٹے سردار کی زندگی میں رہو گی ۔۔ اس وقت تک وہ نورے کو قبول نہیں کرے گا ۔۔ میری بچی کی خوشیوں میں رکاوٹ مت بنو ۔۔ کبھی خوش نہیں رہ پاؤ گی تم میری بیٹی کی خوشیوں کی رکاوٹ بن کر ۔۔ "
وہ سخت لہجے اور انداز میں بات کر رہیں تھیں
" مم میں کیسے نورے کی خوشیوں میں رکاوٹ ہوں ۔۔ ؟"
حُرّہ کی آواز جیسے کھائی سے آئی تھی
" یہ تو تم جانتی ہی ہو کہ چھوٹے سردار اور نورے کی نسبت پچپن سے طے تھی ۔۔ اگر عابی کے قتل کے بعد اس کے خون بہا میں تم چھوٹے سردار کی ونی بن کر نہ آتی تو آج میری بیٹی چھوٹے سردار کے ساتھ خوش رہ رہی ہوتی ۔۔ جیسے آج تمہاری گود میں اولاد ہے ایسے ۔۔ میری بیٹی کی گود میں بھی ہوتی ۔۔ مگر افسوس تم آ گئی ۔۔ ہماری خوشیوں کو آگ لگانے ۔۔"
وہ جیسے جیسے بول رہیں تھیں ویسے ہی حُرّہ کے وجود میں خنجر پیوست ہو رہے تھے
" مم میرا کوئی قصور نہیں ہے ۔۔ میں نے کبھی بھی سردار کی نورے کے ساتھ شادی پر اعتراض نہیں کیا ۔۔ مم میں دل سے اس بب بات سے راضی ہوں ۔۔ "
بہتے آنسوؤں کو بار بار ایک ہاتھ کی پشت سے رگڑتی وہ بولی تھی
" اتنے عرصے میں تم سردار کو جان تو گئی ہو گی ۔۔ وہ کتنے نرم دل ہیں ۔۔ تم سے ہمدردی کی وجہ سے وہ نورے سے شادی نہیں کر رہے کیونکہ نورے سے اگر اس کی شادی ہو گئی تو نورے کا مرتبہ تم سے زیادہ ہوگا ۔۔ نورے کو سردار بی بی کی حیثیت ملے گی کیونکہ وہ خاندانی بیوی ہو گی ۔۔ اور تمہاری اور تمہاری اولاد کی کوئی اوقات نہیں رہے گی۔۔ جبکہ نورے کی اولاد کو ہی سردار کی اولاد کی حیثیت دی جائے گی ۔۔ !"
ان کی باتیں حُرّہ کو سر جھکانے پر مجبور کر گئیں تھیں پرنم نگاہیں دعا کی جانب کیے وہ تڑپ گئی تھی
کیا اس کی طرح اس کی بیٹی کی بھی کوئی حیثیت نہیں تھی جبکہ انہوں نے اس پل حُرّہ سے نگاہیں چرائیں تھی کیونکہ سامنے کھڑی بے بس لڑکی کتنی دکھی تھی اور کن حالات سے گزری تھی یا گزر رہی تھی وہ جانتی تھیں کہ حُرّہ کی زندگی کتنے کانٹوں سے بھری ہوگی اگر انہوں نے اس کی مدد نہ کی
" مم میں کک کیا کر سکتی ہوں ۔۔ ؟"
الفاظ حلق سے نکلنے سے انکاری تھے مگر وہ اذیت کی حدیں پار کرتی بولی تھی
" سرداد کو چھوڑ دو ۔۔"
انہوں نے فٹ سے کہا تو حُرّہ انہیں دیکھتی رہ گئی
" مم میں ایسا کسی قیمت پر نہیں کر سکتی ۔۔ "
ان کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے وہ گویا ہوئی
" میری بیٹی کی آہیں تمہیں جینے نہیں دیں گی ۔۔ دیکھو ذرا عباس جیسے ہمسفر کے ساتھ کے باوجود تم اس مشکل میں میں ہو ۔۔ اس کا مطلب خدا بھی یہی چاہتا ہے کہ تم نکل جاؤ اس کی زندگی سے ۔۔ "
وہ بولیں تو حُرّہ نے اس بےرحم عورت کو دیکھا جو اپنی بیٹی کی خاطر کیسے اسے بددعا دے رہیں تھیں
" مم میں نہیں جا سکتی ۔۔ کچھ رحم کریں ۔۔ میرا کوئی نہیں جس کے پاس جاؤں ۔۔ "
وہ التجائی انداز میں بولی
" کہیں بھی چلی جاؤ ۔۔ دنیا بہت بڑی ہے ۔۔ شاید تمہاری زندگی میں بھی سکون آ جائے ۔۔ "
آخری بات جانے کیا سوچ کر انہوں نے کہی تھی کہ حُرّہ نے انہیں دیکھا
" مم میرا کوئی نہیں ہے ۔۔ ! مم میں کہاں جاؤں گی ۔۔ ؟"
بے بسی کی انتہا تھی
" کہیں بھی جاؤ ۔۔ مگر ہماری زندگی سے چلی جاؤ ۔۔ ! میری بیٹی کی خوشیوں سے دور ۔۔ بہت دور ۔۔ !"
ان کی سفاکیت سے کہی بات پر حُرّہ نے انہیں تڑپ کر دیکھا تھا
اگر اس کے ماں باپ نہیں تھے تو کیا ہوا دنیا نے تو اسے ٹھوکروں پر رکھ لیا تھا سامنے کھڑی ماں کو محض اپنی بیٹی کی خوشیاں عزیز تھیں بدلے میں وہ حُرّہ سے اتنی بڑی قربانی مانگ رہی رہیں تھیں اب حُرّہ انہیں کیسے سمجھاتی کہ یہ قربانی اس کے وجود سے سانسیں بھی نکال دے گی
" مم میں سچ کہہ رہی ہوں ۔۔ مم میرا سردار کے سوا کوئی نہیں ہے ۔۔ مم میں کہاں جاؤں گی ۔۔ ؟"
وہ اس مرتبہ بے تحاشہ روتے ہوئے بولی تھی جبکہ دعا کا بھوک سے برا حال تھا وہ معصوم بچی رو رو کر بھی نڈھال ہو چکی تھی مگر اس کی ماں کے پاس اسے دینے کے لیے دودھ بھی نہیں تھا
" اگر تم یہاں رہی تو کبھی خوشیاں نہیں پا سکو گی ۔۔ ہمیشہ میری بیٹی کے آنسو تمہاری زندگی کو اذیتوں سے بھر دیں گے ۔۔ کیونکہ میری بیٹی اگر ہمسفر کے بغیر زندگی گزارے گی تو ۔۔ تم کبھی سکون سے نہیں رہ سکو گی ۔۔ "
وہ کٹیلے انداز میں بولیں تھیں جبکہ حُرّہ ان کی مسلسل بد دعاؤں سے تڑپ رہی تھی
"آ آ آپ مم میرا یقین کریں میں ۔۔ میں چھوٹے سردار کو نورے کے ساتھ شادی پر راضی کر لوں گی ۔۔ نورے بے رنگ زندگی نہیں گزارے گی ۔۔ "
حُرّہ دل پر ضبط کرتی بولی تھی کیونکہ جانتی تھی کہ نورے کی شادی عباس کے سوا حویلی والے کہیں نہیں کریں گے
" تم چلی جاؤ گی سردار کی زندگی سے تو خودبخود سب ٹھیک ہو جائے گا ۔۔ سب پہلے جیسا ہو جائے گا ۔۔ "
وہ نفی میں سر ہلاتی بولیں تھیں
" مم میں آپ کو کیسے سمجھاؤں ۔۔ میں نن نہیں جا سکتی ایسے کہیں بھی ۔۔ مم میرا کوئی بھی نہیں ہے ۔۔ مم میرے ماں باپ نن نہیں ہیں ۔۔ اا اور بھی کوئی نہیں ۔۔ سرداد کے سوا کوئی سہارا نہیں میرا ۔۔ خدا کے لیے مجھ سے یہ واحد سہارا مت چھینیں ۔۔ "
حُرّہ مسلسل روتی ہوئی بول رہی تھی
" میں تمہارے آگے ہاتھ جوڑتی ہوں ۔۔ چلی جاؤ ہماری زندگی سے بہت دور ۔۔ یہاں تمہیں اور تمہاری بیٹی کو کبھی کوئی قبول نہیں کرے گا ۔۔ کبھی نہیں کرے گا ۔۔ "
وہ انداز میں حقارت لیے طنزیہ ہاتھ جوڑتی بولیں تھیں
" اا ایسا نہیں ہے ۔۔ سرداد اپنی بیٹی سے بہت پپ پیار کرتے ہیں ۔۔ "
حُرّہ نے فوراً کہا تو وہ تمسخرانہ ہنسی
" اور سردار بی بی ۔۔ ؟؟ بڑے سرداد ۔۔ ؟؟ اگر تمہاری اور تمہاری بیٹی کی کوئی حیثیت ہوتی تو تم آج حویلی میں ہوتی ۔۔ یہاں در در کی ٹھوکریں نہ کھا رہی ہوتی ۔۔ چھوٹے سردار یہ بات سمجھتے ہیں کہ تمہیں حویلی میں کبھی سردار کی بیوی کی طرح عزت نہیں ملے گی ۔ تبھی انہوں نے تمہیں حویلی سے دور رکھا ہوا تھا ۔۔ "
ان کے الفاظ نہیں خنجر تھے جو حُرّہ کے وجود کو چھلنی کر رہے تھے مگر وہ خاموش رہی
" تمہیں تمہاری بیٹی کا واسطہ ہے ۔۔ چلی جاؤ یہاں سے ۔۔ تم تو خود ایک ماں ہو ۔۔ میری بیٹی کی زندگی ویران ہونے سے بچا لو ۔۔"
حُرّہ کی خاموشی پر اس مرتبہ وہ التجائیہ انداز میں بولیں تھیں
" مم میں ککک کیسے ۔۔ ؟"
حُرّہ ان کی بات پر سر جھکا گئی
" تم بات ختم کیوں نہیں کرتی ہو ۔۔ چلی کیوں نہیں جاتی ہو ۔۔ روز روز کا تماشہ ختم کرو ۔۔ تمہارا اور گاؤں کے سردار کا کیا مقابلہ ۔۔ ؟ تم کسی لحاظ سے ان کے قابل نہیں ہو ۔۔ وہ واحد اولاد ہیں بڑے سردار کی ۔۔ آج نہیں تو کل وہ چھوٹے سردار کو راضی کر لیں گے نورے کے ساتھ شادی پر ۔۔ پھر کیا حاصل ہوگا تمہاری زندگی کا ۔۔ اس سے پہلے چلی جاؤ یہاں سے ۔ "
وہ پھر اسی انداز میں آئیں تھیں اور خاصے کڑوے لہجے میں بولیں تھیں اس سے پہلے حُرّہ کوئی جواب دیتی دعا پھر بھوک سے رونے لگی تھی
" پپ پلیز ممم میری بیٹی بھوک کی وجہ سے رو رہی ہے ۔۔ پلیز اسس ۔۔"
" جتنے مرضی پیسے چاہیے لے جاؤ ۔۔ لیکن ہمیشہ کے لیے چلی جاؤ ۔۔ ۔۔!"
وہ حُرّہ کی بات کاٹ کر بولیں تھیں اور چند نوٹ حُرّہ کی جانب اچھالے تھے جو زمین بوس ہو چکے تھے حُرّہ نے اس خود غرض عورت کو دیکھا جو ہر صورت اسے حویلی سے دور کرنا چاہتی تھی
" سرداد کے آنے تک مم میں کہیں نہیں جاؤں گی ۔۔ "
ان کی بےرحمی پر حُرّہ نے کہا
" اگر تم نہ گئی تو یاد رکھنا تم بھی بیٹی والی ہو ۔۔ اگر عباس اور تم میری بیٹی کے ساتھ ناانصافی کرو گے تو وقت آنے پر تم دونوں کی بیٹی بھی تم دونوں کا کیا بھگتے گی ۔۔ ایسے ہی تڑپے گی جیسے میری بیٹی تڑپ رہی ہے ۔۔ انہیں اذیتوں سے گزرے گی جن سے میری بیٹی گزر رہی ہے ۔۔ "
وہ اب دھمکی دے رہیں تھیں بلکہ بددعا دینے لگیں تھیں
" خدا کے لیے میری معصوم بچی کے متعلق ایسے نہ کہیں ۔۔ مم میں چلی جاتی ہوں۔۔ چچ چلی جاؤں گی۔۔ لیکن پلیز میری بیٹی کو بد دعا نہ دیں ۔۔ "
ان کے الفاظ سن کر حُرّہ تڑپ کر بولی تھی اور مضبوطی سے دعا کو خود میں بھینچا
" پلٹ کر آنے کا سوچنا بھی مت ۔۔ کیونکہ ہم نہیں چاہتے تمہارا سایہ بھی پڑے ہمارے بچوں کی خوشیوں پہ ۔۔ "
وہ حُرّہ کو بیرونی دروازے کے جانب اشارہ کر کے کہہ رہیں تھیں جبکہ حُرّہ نے افسوس اور اذیت کے ملے جلے تاثرات لیے انہیں دیکھا اور کچھ سوچتے ہوئے پیچھے مڑی جبکہ وہ جا چکیں تھیں
حُرّہ نے بے ساختہ آسمان کی جانب دیکھا
" مم میں کیا کروں میرے مالک ۔۔ ؟؟ کچھ تو راہ نکالو ۔۔ "
وہ اپنا سب کچھ ہار کر جا رہی تھی اس کے علاوہ اس کے پاس کوئی راستہ نہیں تھا
اس کی زندگی میں خوشیاں عباس کے ساتھ گزارے گئے اس ڑیڑھ سال کی مدت جتنی تھیں وہ یہ بات قبول کر چکی تھی ان کا الگ ہونا مقصود تھا کیونکہ ان دونوں کے ساتھ سے کسی کی زندگی خراب ہو رہی تھی وہ جانتی تھی عباس اس کی موجودگی میں کبھی نورے سے شادی نہیں کرے گا اسی لیے نورے کی خوشیوں کے لیے اسے بہت دور جانا تھا ان لوگوں سے تاکہ حویلی والے خوش رہ سکیں بے شک اس کے لیے اسے کتنی ہی بڑی مشکل سے گزرنا پڑے
/////////////////////////
" احمد میں پاکستان واپس جا رہا ہوں ۔۔ تم دیکھ لینا یہاں سب کچھ ۔۔ "
وہ موبائل پر مسلسل انگلیاں چلاتے ہوئے بولا تو احمد نے چونک کر اسے دیکھا
" کیا ہو گیا ہے ۔۔ ابھی ایک دن نہیں ہوا ہمیں آئے ہوئے ۔۔ اور تم یہ اچانک جانے کا کیوں کہہ رہے ہو ۔۔"
احمد نے اس کا بوجھل انداز نوٹ کرتے ہوئے پوچھا
" سب ٹھیک تو ہے نا عباس ۔۔ رات بھر جاگتے رہے ہو کیا ۔۔ ؟؟؟"
عباس کے خاموش رہنے پر احمد نے اس کی بوجھل اور سرخ آنکھوں میں دیکھتے ہوئے پریشانی سے پوچھا
" ہممم نیند نہیں آئی ۔۔ !"
عباس نے انگلیاں بالوں میں پھیرتے ہوئے کہا تو احمد اس کے سامنے جا کھڑا ہوا
" کیا ہوا عباس پریشان لگ رہے ہو ۔۔ ؟ "
احمد نے اس کے کاندھے پر ہاتھ رکھ کر پوچھا تو عباس نے بوجھل انداز میں اسے دیکھا
" حُرّہ کال پک نہیں کر رہیں ۔۔ پتہ نہیں دعا کیسی ہوگی ۔۔ مجھے مس کر رہی ہوگی ۔۔ "
عباس نے دوبارہ موبائل پر حُرّہ کا نمبر ڈائل کرتے ہوئے کہا تو احمد ہنسنے لگا
" کیا ہو گیا ہے یار ۔۔ ابھی کل ہی تو آیا ہے بھابھی کے پاس سے ۔۔ ایک دن میں ہی یاد ستانے لگی ان کی ۔۔ "
عباس نے شرارت سے کہا مگر عباس ہنوز سنجیدہ تھا
" حُرّہ لاپرواہ نہیں ہیں ۔۔ انہیں پتہ ہے کہ میں صبح ہوتے ہی انہیں کال کروں گا ۔۔ پھر فون کیوں نہیں اٹھا رہیں وہ میرا ۔۔ ؟؟ چوکیدار کا بھی فون بند ہے ۔۔ "
عباس کے انداز اور لہجے سے پریشانی عیاں تھی اس کی بات سن کر احمد کے مسکراتے لب بھی سکڑے تھے
" یار تو کسی گارڈ کو کال کر ۔۔ اس سے معلوم کر ۔۔ شاید بھابھی مصروف ہوں چھوٹی بچی ہے ان کی اس میں مصروف ہوں گی ۔۔ ایسے پریشان نہ ہو ۔۔ "
احمد کے کہنے پر عباس نے سرد آہ بھری تھی رات بھر بے چینی ہوتی رہی تھی کہ نیند آنکھوں سے کوسوں دور رہی تھی سارا وقت کمرے میں مختلف سوچوں میں گزری تھی صبح ہوتے ہی حُرّہ کو مسلسل کال کر رہا تھا بیل جا رہی تھی مگر وہ کال پک ہی نہیں کر رہی تھی اس وقت سے عباس پریشان تھا مزید پریشان یہ بات کر رہی تھی کہ نہ اس کا گارڈ اور نہ چوکیدار کال پک کر رہا تھا اس وقت سے عباس مضطرب تھا
" نہیں یار ۔۔ کیسے پریشان نہ ہوں کوئی کال پک نہیں کر رہا میری ۔۔ حُرّہ اور دعا پتہ نہیں کیسی ہوں گی ۔۔ !"
عباس داڑھی پر ہاتھ پھیرتا مضطرب انداز میں بولا
" یار پریشان مت ہو ۔۔ ایسے کرتے ہیں ہم عالیان کو کال کرتے ہیں اسے تیرے گھر بھیجتے ہیں ۔۔ وہ بھابھی اور دعا کی خیریت معلوم کرے گا ۔۔ "
احمد نے اس کو بےچین دیکھتے ہوئے کہا
" ہاں ۔۔ لیکن میری فلائٹ بک کرواؤ میں خود جاؤں گا پاکستان ۔۔ !"
اثبات میں سر ہلاتے ہوئے عباس نے کہا
" یار ابھی کل تو آئیں ہیں ہم ۔۔ تو پریشان نہ ہو ۔۔ سب ٹھیک ہو گا ۔۔ عالیان جائے گا نا ابھی ۔۔ "
"ہاں ۔۔ لیکن مجھے حُرّہ اور دعا کو خود دیکھنا ہے جا کے ۔۔ جب تک انہیں دیکھوں گا نہیں مجھے چین نہیں آئے گا ۔۔ "
عباس اب کوئی نمبر ڈائل کرکے سیل فون کان سے لگا چکا تھا یقیناً وہ عالیان کو کال کر رہا تھا
/////////////////////////
" بی بی جی ۔۔ !"
حُرّہ شکست زدہ چال سے چلتی حویلی سے دور جا رہی تھی جب اسے اپنی پشت سے پکار آئی
" آ آپ ۔۔ !"
مڑ کر دیکھنے پر ناہید سامنے کھڑی نظر آئی تو حُرّہ نے پتھرائی نگاہوں سے اسے دیکھا
" آپ کہاں جا رہیں ہیں بی بی جی ۔۔ ؟"
ناہید ان کے قریب آتے ہوئے مؤدب سی پوچھنے لگی تو حُرّہ چند لمحوں کے لیے سوچ میں پڑ گئی یہ تو وہ خود بھی نہیں جانتی تھی کہ وہ کہاں جائے گی
" کیا ہوا بی بی ۔۔ ؟"
ناہید نے اسے پھر سے مخاطب کیا تھا
" کک کچھ نہیں ۔۔ آپ بتائیں حویلی سے باہر کیا کر رہیں ہیں ۔۔ "
حُرّہ کے سوال پر وہ دکھ سے مسکرائی
" جب چھوٹے سردار ، آپ کو لے کر شہر چلے گئے تھے تو سردار بی بی نے مجھے آپ کی خدمت کرنے کی سزا یوں دی کہ سارے اختیار مجھ سے چھین لیے ۔۔ کھانا بھی ایک وقت کا دیتی تھیں بہت مشکل وقت گزار رہی تھی حویلی میں ۔۔ پھر ایک دن چھوٹے سردار نے سردار بی بی کا میرے ساتھ سلوک دیکھا تو مجھے پیسے دیے اور کہا حویلی سے چلی جاؤ ۔۔ جیسے چاہوں زندگی گزاروں ۔۔ تو میں بہن کے پاس چلی گئی ۔۔ ان کے اس فیصلے سے میری زندگی میں سکون تو آیا مگر میں اکثر حویلی آتی ہوں بڑے سردار کی خدمت میں ۔۔ "
ناہید کے تفصیل سے بتانے پر حُرّہ نے سر ہلایا
" یی یہ چھوٹے سردار کی بیٹی ہے نا ۔۔ ماشااللہ اتنی پیاری ہے ۔۔ "
حُرّہ کی گود میں رو رو کر پھر سے سوئی ہوئی دعا کو دیکھ کر ناہید خوش ہوتی بولی اور تھکی تھکی حُرّہ کی گود سے دعا کو لے لیا حُرّہ نے اذیت سے مسکرا کر ناہید کو دیکھا وہ پہلی تھی جس نے دعا کو اتنے پیار سے گود میں لیا تھا ورنہ سرداد بی بی اور ناعمہ بی بی نے تو حقارت سے اس کی بچی کو دیکھا تھا
" میں نے سنا بی بی جی سب کچھ جو ناعمہ بی بی نے آپ کو بولا ۔۔ اب آپ کیا کریں گیں ۔۔ "
ناہید نے دور سے نظر آتی حویلی کو افسوس سے دیکھتے ہوئے استفسار کیا اسے سردار کی بیوی اور بیٹی کو دربدر کی ٹھوکریں کھاتے دیکھ کر دلی دکھ ہوا تھا
" کرنا کیا ہے ۔۔ میں اور میری بیٹی مر بھی جائیں تو کسی کو کیا فرق پڑے گا ۔۔ کہیں بھی چلی جاؤں گی ۔۔ میرے جانے سے حویلی میں خوشیاں آ جائیں گیں ۔۔ "
حُرّہ بھیگی آواز میں بولی تھی اس کے بہتے آنسو اور لہجے کی اذیت کوئی بھی باآسانی محسوس کر سکتا تھا
" چھوٹے سردار کی زندگی تو آپ دونوں ہی ہیں نا بی بی جی ۔۔ میں نے دیکھا ہے عابی بی بی کے قتل کے بعد سردار کتنی اذیت سے گزرے ہیں ۔۔ مگر آپ کے آنے سے اور پھر اپنی بیٹی کے آنے سے ان کے چہرے پر مسکراہٹ آئی ہے ۔۔ وہ زندگی جینے لگے ہیں ۔۔ "
ناہید بتاتے ہوئے پیار سے دعا کے گلابی گالوں پر انگلی رکھتی بولی
" جس طرح میں اور دعا ان کے لیے اہم ہیں ۔۔ ویسے ہی ان کے ماں باپ بھی ان کے لیے اہم ہیں ۔۔ ہر بار میری وجہ سے وہ اپنے گھر والوں سے الجھتے ہیں ۔۔ میرے جانے سے ان کی زندگی بھی پرسکون ہو جائے گی ۔۔ "
وہ اذیتوں کی انتہا پر پہنچتی کہہ رہی تھی اسے اس طرح دیکھ کسی بھی پتھردل کا دل پگھل جائے مگر حویلی والے بہت کٹھور تھے
" ا اور نورے سے شادی بھی کر لیں گے وہ ۔۔ "
وہ مزید بولی تھی جبکہ ناہید نے ذرا سا چہرہ دوپٹے میں چھپا کر اپنے آنسو صاف کیے وہ کیسے بھول سکتی تھی اس لڑکی کی مشکلات جن کی وہ خود گواہ تھی اس بےضرر لڑکی نے کتنے ظلم و ستم سہے تھے
" اگر آپ حکم کریں بی بی تو چھوٹے سردار سے رابطہ کریں ۔۔ اور انہیں سب بتائیں ۔۔ "
ناہید کے سوال پر حُرّہ نے نفی میں سر ہلایا
" نہیں ۔۔ بلکل نہیں ۔۔ مزید مشکل میں نہیں ڈال سکتی میں انہیں اپنی وجہ سے ۔۔ صحیح کہتے ہیں سب حویلی والے ۔۔ نورے بی بی کی بےرنگ زندگی ہے جو مجھے بھی سکون سے نہیں رہنے دے گی ۔۔ کسی کی خوشیوں کے قبرستان پر اپنے لیے سکون اور خوشی ڈھونڈنا حماقت ہے ۔۔ میں دور چلی جاؤں گی تو سردار شادی کر لیں گے نورے سے ۔۔ "
بے تحاشہ سرخ اور بوجھل آنکھوں سے ناہید کو دیکھتی وہ گویا ہوئی تھی
" کک کہاں جائیں گی بی بی پھر ؟؟۔۔ "
ناہید نے دل پر جبر کر کے یہ سوال کیا تھا لیکن وہ جانتی تھی حُرّہ کا تو کوئی بھی نہیں ہے جس کے پاس اپنی بیٹی کو لے جا کر پناہ لے
" جس خدا کے آسرے پر نکلی ہوں وہی پہنچائے گا منزل تک ۔۔ "
یہ کہتے ہوئے حُرّہ نے دوپٹہ درست کیا اور دعا کو اٹھانے کے لیے ہاتھ بڑھائے
" بی بی جی میں بھی آپ کے ساتھ چلوں گی ۔۔ خدا کا واسطہ ہے منع نہ کیجئے گا ۔۔ چھوٹے سردار کے احسان ہیں بہت مجھ پر ۔۔ میں ان کی بیوی اور بیٹی کو اس مشکل وقت میں اکیلا چھوڑ دوں تو لعنت ہے مجھ پر ۔۔ "
ناہید نے دعا کے ہاتھ چومتے ہوئے کہا تو حُرّہ نے ناسمجھی سے اسے دیکھا
" مجھے تو میری منزل کا ادراک نہیں ۔۔ پھر آپ کیوں رلیں گیں میرے ساتھ ۔۔ "
حُرّہ نے تھکے ہوئے وجود کو گھسیٹتے ہوئے کہا وہ دونوں اب آہستہ آہستہ چل رہیں تھیں
" جس دن چھوٹے سردار نے مجھے آپ کی خدمت کے لیے مختص کر دیا تھا اسی دن سچے دل سے آپ کی خدمت کرنے لگی تھی ۔۔ با خدا آپ کے ساتھ جتنا ظلم کیا وہ سردار بی بی کے کہنے پر کیا ۔۔ اور مجھے مرتے دم تک اس بات کا افسوس رہے گا ۔۔ مگر میں آپ کو اس مشکل وقت میں اکیلے نہیں چھوڑ سکتی بی بی جی ۔۔ "
ناہید دعا کو گود میں اٹھائے حُرّہ کے ساتھ آہستہ آہستہ چلتے ہوئے کہہ رہی تھی
" میں کبھی نہ آنے کے لیے جا رہی ہوں ۔۔ وعدہ کریں آپ کبھی مجھے واپس پلٹنے پر مجبور نہیں کریں گیں ۔۔ "
حُرّہ نے رک کر کہا تو ناہید نے اثبات میں سر ہلایا
" میری بیٹی بھوک سے بےحال ہے ۔۔ پلیز یہ دے کر کچھ پیسوں سے اس کے لیے فیڈر اور دودھ لا دیں ۔۔ کچھ سامان بھی کیونکہ میرے پاس کچھ بھی نہیں ہے سارا سامان گھر پر ہے ۔۔ "
اپنی انگلی میں موجود سونے کی انگوٹھی نکال کر ناہید کو دیتی وہ رونے لگی تھی کان میں موجود ایک بالی کو وہ چھو کر دیکھنے لگہ تھی یہ واحد نشانی تھی اس کے ماں باپ کی جو انہوں نے جانے کس طرح روپیہ روپیہ جوڑ کر اسے دی تھیں اسی لیے انگلی میں موجود انگوٹھی دی تھی
تھی تو وہ بھی قیمتی کیونکہ وہ عباس نے اسے دی تھی مگر اپنی بیٹی کو وہ بھوک سے بلکتا ہواہل نہیں دیکھ سکتی تھی جبکہ ناہید اس پل تڑپی تھی گاؤں کے وہ سردار جن کے دیے گئے پیسوں سے گاؤں کے غریبوں کے گھر چلتے تھے بچے پلتے تھے ان کی بیٹی بھوک سے بے حال تھی
" بی بی جی چھوٹی بی بی کو تو بخار ہے ۔۔ "
ناہید نے دعا کے ماتھے کو چھوتے ہوئے کہا تو حُرّہ نے جھپٹ کر اسے اپنی گود میں لیا
" رات سے رو رہی ہے ۔۔ اتنا کبھی بھی نہیں روئی میری بچی ۔۔ "
حُرّہ مزید روتے ہوئے بولی تھی
" دعا میری جان آپ تو میری پیاری بیٹی ہو نا ۔۔ آپ کو صابر بننا ہے ۔۔ کیونکہ ہمارے مزید امتحان ہیں ابھی ۔۔ "
دعا کو کہتی وہ سسک اٹھی تھی جبکہ ناہید ان دونوں ماں بیٹی کو دکھ سے دیکھتی رہ گئی
" مجھے معاف کر دیجیے گا سردار ۔۔ آپ سے بہت دور جا رہی ہوں ۔۔ اس کے سوا کوئی راستہ نہیں ۔۔ خدا شاہد ہے ۔۔ ہر ممکن کوشش کی ہے حالات سے مقابلہ کرنے کی ۔۔ مگر جدائی لکھی جا چکی ہے ۔۔ میرے پاس جینے کے لیے آپ کی نشانی دعا کی صورت میں ہوگی یہی حاصل ہے میری زندگی کا ۔۔ "
دعا کے چہرے پر بوسہ دیتے ہوئے وہ تخیر میں عباس سے مخاطب تھی
" کیا مطلب ہے ۔۔ پاگل سمجھا ہوا ہے مجھے ۔۔ ؟؟ تم لوگوں کی باتوں میں آ جاؤں گا ۔۔ ؟؟ میں جان سے مار دوں گا تم لوگوں کو ۔۔ مجھے بتاؤ میری بیوی اور بیٹی کہاں ہیں ۔۔ ؟"
عباس کی دھاڑ گھر کی در و دیوار کو ہلا رہی تھی وہ اس قدر مشتعل تھا کہ اس سے مخاطب ہونے کی کسی کی ہمت نہیں ہو رہی تھی
جب سے وہ پاکستان واپس آیا تھا آ کر حُرّہ اور دعا کی گمشدگی کا علم ہوا تھا اس وقت سے سب تہس نہس کر رہا تھا
پاس کھڑ ے عالیان اور احمد خود بھی پریشان ہکا بکا تھے کہ آخر ایک دن کے اندر اندر حُرّہ اور دعا کہاں جا سکتی ہیں ان دونوں سمیت کسی نے عباس کو اتنے اشتعال میں کبھی نہیں دیکھا تھا وہ جب سے آیا تھا اس وقت سے تلاش جاری کر چکا تھا اب سامنے کھڑے گارڈز کی جان لینے پر تلا تھا
" عباس ۔۔ !"
عباس ایک گارڈ پر جھپٹا تھا جب عالیان نے بمشکل اسے روکا تو وہ اسے خونخوار نگاہوں سے دیکھتا اپنا آپ چھڑانے لگا
" ان سب کو جان سے مار دوں گا ۔۔ ساری غلطی میری ہے ۔۔ مجھے حُرّہ اور دعا کو یہاں چھوڑنا ہی نہیں چاہیے تھا اکیلا ۔۔ !"
غصے سے غراتا وہ آخر میں لہجے میں اذیت لیے بولا تھا اک پل کو اسے چین نہیں آرہا تھا
" صص صاحب ہہ ہمیں نہیں معلوم بی بی جی کہاں گئیں ہیں ۔۔ !"
ہاتھ جوڑے کھڑے ایک گارڈ نے ڈرتے ڈرتے کہا تو عباس نے ایک زور دار طمانچہ اس کے منہ پر مارا کہ اس کے ناک سے خون کی ایک دھار بہنے لگی
" یہی تو کہہ رہا ہوں ۔۔ تم اتنے مدہوش تھے کیوں نہیں معلوم کہاں گئیں ۔۔ ؟ یہ ڈیوٹی دی ہے تم لوگوں نے ۔۔"
عباس کے دھاڑنے اور شدید ردعمل پر وہاں موجود تمام نفوس کانپنے لگے
" ریلیکس عباس ۔۔ میں بات کرتا ہوں ۔۔ "
احمد نے عالیان کو اشارہ کرتے ہوئے کہا تو عالیان نے عباس کو بازو سے پکڑ کر پیچھے کیا
" جو کچھ جانتے ہو ۔۔ فوراً بتاؤ ۔۔ کہاں گئیں بھابھی ۔۔ ؟؟"
احمد نے ایک دوسرے گارڈ کو دیکھتے ہوئے پوچھا جس کی پہلے ہی عباس کو دیکھ کر جان نکل رہی تھی
" سس سر بی بی جی صبح صبح گیٹ سے نکل رہیں تھیں ۔۔ دعا بی بی کو لے کر ۔۔"
وہ ڈرتے ہوئے بولا تھا
" کچھ بتایا انہوں نے ۔ کہ کہاں جا رہیں ہیں ۔۔ ؟"
احمد نے اس کے خاموش ہو جانے پر پھر سے پوچھا جو عباس کو دیکھتا کانپ رہا تھا
" ہہ ہم نے پوچھا تو انہوں نے جواب نہیں دیا ۔۔ اور کہتیں کہ۔۔ تم لوگ میرے پیچھے مت آنا ۔۔ میں کسی کام سے جا رہی ہوں ۔۔ "
یہ دوسرا گارڈ تھا
" بکواس بند کرو نہیں تو کاٹ دوں گا ۔۔ حُرّہ کہیں نہیں جا سکتیں ۔۔ وہ گھر سے نکلتی ہی نہیں تھیں ۔۔ یہ بکواس کر رہا ہے ۔۔ "
عباس نے آگے بڑھ کر اس گارڈ کا گریبان پکڑ کر کہا
" عباس یار ریلیکس ۔۔ "
احمد نے عباس کو کاندھے سے تھام کر پیچھے کیا
" احمد یہ سب جانتے ہیں ۔۔ اور مجھے بھی ضرور بتائیں گے ۔۔ میں ان سب کی چمڑی ادھیڑ دوں گا ۔۔ "
عباس نے اس سے خود کو چھڑایا اور ایک گارڈ کو بالوں سے جکڑ لیا
" کس کے کہنے پر ۔۔ بتاؤ ۔۔ کس کے کہنے پر غائب کیا ہے میری بیوی اور بیٹی کو ۔۔ ؟؟"
سختی سے اس کے بالوں کو جکڑے وہ غرایا تھا جبکہ وہ گارڈ درد کی شدت برداشت کرتا کراہنے لگا
" مم مجھے ککک کچھ نن نہیں معلوم ۔۔ سس سر ججی جی۔۔"
خود کو عباس کی سخت گرفت سے چھڑاتا وہ بمشکل بول رہا تھا
" بولو نہیں تو ۔۔ تم لوگوں کے ٹکڑے کر کے کتوں کے آگے ڈال دوں گا ۔۔ "
عباس پھر غصے میں پھنکارا تھا کہ سب جی جان سے کانپنے لگے
" عباس ریلیکس یار ۔۔ "
احمد اور عالیان نے آگے بڑھ کر بمشکل عباس کی گرفت سے اسے نکال جو عباس کے عتاب کا شکار تھا
" کیسے ریلیکس کروں ۔۔ دو دن سے لاپتہ ہیں میری بیوی اور بیٹی ۔۔ میں کسی کو نہیں چھوڑوں گا ۔۔ "
عباس نے پھر سے آگے بڑھ کر ایک گارڈ کو جکڑا تھا
" کس کے کہنے پر یہ سب کیا ہے ۔۔ بتاؤ ۔۔ "
اس کا گلہ دباتے ہوئے عباس دھاڑا تھا
" سس سر ممم مجھے نن نہیں مم معلوم کک کچھ بب بھی ۔۔"
بڑھتے ہوئے دباؤ کی وجہ سے وہ الفاظ حلق سے مشکل نکال رہا تھا
" اگر میری بیوی اور بیٹی کو ذرا بھی کانٹا چبھا ۔۔ تو تم لوگوں کا وہ حشر کروں گا کہ مرتے دم تک غداری کرنے پر پچھتاؤ گے ۔۔ "
غراتے ہوئے عباس نے اس کو جھٹکے سے پیچھے کیا وہ لڑکھڑاتا ہوا بمشکل سنبھلا جبکہ عباس مٹھیاں بھینچے بمشکل خود پر ضبط کرنے لگا تھا
" عباس تم حویلی سے معلوم کرو ۔۔ شاید بھابھی اور دعا وہاں ہوں ۔۔ !"
عباس کی اندرونی کیفیت کو سمجھتے احمد نے کہا تو عباس نے نفی میں سر ہلایا
" اگر وہ وہاں ہوتی تو بابا سرکار مجھے بتاتے ۔۔ "
عباس نے سر جھٹک کر کہا
" پھر بھی ایک بار جا کر پتہ تو کرو یار ۔۔ "
عالیان نے بھی اپنی بات پر زور دیتے ہوئے کہا
" ٹھیک ہے میں حویلی جا رہا ہوں ۔۔ لیکن ان کو ۔۔ ان سب کو جیل میں ڈالو تم ۔۔ !! ان کے ہوتے ہوئے میری بیوی اور بیٹی کہاں غائب ہو سکتی ہیں ؟؟۔۔ ان کو سزا میں خود دوں گا ۔۔ !"
عباس کہتا ہوا تیز تیز قدم سے چلتا باہر کی جانب بڑھ گیا
" ان سب کو جیل میں ڈال دو ۔۔ اور اچھی طرح خاطر داری کرو ۔۔ جب تک یہ لوگ اپنی زبان نہ کھول دیں ۔۔ "
عباس کے جاتے ہی احمد نے ایک سپاہی کو دیکھتے ہوئے حکم جاری کیا تو وہ سب ان کو لے کر چلے گئے جبکہ احمد اور عالیان معاملے پر باریک بینی سے غور کرنے لگے
" تمہیں کیا لگتا ہے احمد ۔۔ بھابھی کہیں خود گئیں ہیں ۔۔ یا پھر اغوا ہوئیں ہیں ۔۔ ؟"
عالیان پرسوچ انداز میں احمد سے پوچھ رہا تھا
" ابھی کچھ نہیں کہا جا سکتا ۔۔ معلوم تو پڑے اصل بات کیا ہے ۔۔ "
احمد خود بھی کشمکش میں تھا
" سوچنے والی بات ہے ۔۔ کوئی لڑکی اتنا اچھا شوہر چھوڑ کر خوشی خوشی کیسے جا سکتی ہے ۔۔ وہ بھی سب زیور اور پیسہ لے کر ۔۔ وہ ایسی بلکل نہیں تھی یار ۔۔ عباس بلکل درست کہتا ہے ضرور کسی کی سازش ہے ۔۔ "
عالیان بول رہا تھا اور اس کے لہجے سے پریشانی عیاں تھی
"ہمم ۔۔ اور گارڈ کا کال نہ پک کرنا ۔۔ چوکیدار کا چھٹی پر چلے جانا ۔۔ یہ سب اسی بات کی طرف اشارہ کر رہیں ہیں ۔۔ کہ کچھ تو ہوا ہے ۔۔ کچھ گڑبڑ تو ہے ۔۔"
احمد بھی سر ہلاتا بولا تھا
" اور عباس بھی یہی کہہ رہا ہے کہ کسی کے کہنے پر ہوا ہے یہ سب ۔۔ مطلب کہ ۔۔ "
عالیان نے بات ادھوری چھوڑی تھی
" مطلب کہ عباس کو کسی پر شک ہے ۔۔ !"
احمد نے اس کی بات مکمل کی تو عالیان نے اثبات میں سر ہلایا
" عباس کا اتنا شدید ری ایکشن پہلی بار دیکھا ہے یار ۔۔ "
تھوڑی خاموشی کے بعد عالیان پھر سے یاد کرتا ابرو اچکا کر گویا ہوا
" ہاں یار کبھی بھی اتنا غصہ نہیں ہوتا عباس ۔۔ ہر طرح کے حالات میں صبر و تحمل سے کام لیتا ہے ۔۔ ضبط کرتا ہے ۔۔ لیکن آج تو اسے دیکھ کر میں شوکڈ ہوں ۔۔ "
احمد بھی بھی حیرت زدہ ہوتے ہوئے کہا
" دو دن ہو گئے ہیں ۔۔ اس کی بیوی اور بیٹی لاپتہ ہیں ۔۔ دیکھ نہیں رہے ایک منٹ کے لیے سکون نہیں آ رہا اسے ۔۔"
اس کے لہجے میں عباس کے لیے فکر و پریشانی تھی
" خدا کرے بھابھی اور دعا ٹھیک ہوں ۔۔ "
احمد سچے دل سے دعا کرتا گویا ہوا
" آمین یار ۔۔ اللہ بھی انہیں سے امتحان لیتا ہے جو سہنے کی سکت رکھتے ہوں ۔۔ "
عالیان کے اداس انداز سے کہنے پر احمد نے بھی سر ہلایا
" سلام سرکار ۔۔ !"
عباس گاڑی سے اترا تو تمام ملازمین سمیت گارڈز نے سر جھکائے سلام کیا جبکہ عباس کا بے حد سنجیدہ اور چہرے کا جلال اس کے روعب و دبدبے میں مزید اضافہ کر رہا تھا اور اپنے مخصوص انداز میں تیز تیز قدم بڑھاتا وہ تمام لوگوں کو الرٹ کر گیا
سارے راستے وہ یہی سوچتا آیا تھا کہ آخر حُرّہ کہاں جا سکتی ہے کچھ شک اسے حویلی والوں پر ہو رہا تھا اسی لیے شک کی تصدیق کرنے فوراً آ پہنچا تھا
" سلام سرکار ۔۔ !"
شہزاد نے عباس کے پیچھے چلتے ہوئے سلام کیا
" بابا سرکار کہاں ہیں شہزاد ۔۔ ؟؟"
چلتے ہوئے اس نے پوچھا
" سرداد وہ حویلی میں ہی ہیں ۔۔ "
شہزاد نے اسے آگاہ کیا تو عباس کی رفتار مزید تیز ہو گئی شہزاد اس کے پیچھے چلتا ہانپ گیا
وہ لاؤنج عبور کرتا ڈائننگ ہال کی جانب بڑھا جہاں حویلی کے مکین رات کا کھانا تناول فرما رہے تھے ڈائننگ ہال میں داخل ہو کر عباس نے ایک نظر سب کو دیکھا باقی سب بھی اس کی جانب متوجہ ہو چکے تھے
" السلام علیکم ۔۔"
سلام کرنے کے بعد وہ چند قدم آگے بڑھا تھا سردار بی بی اور ناعمہ نے اچانک عباس کی آمد پر ایک دوسرے کو دیکھا جبکہ اس کے سلام کا جواب سب نے تپاک سے دیا
" ارے اتنی جلدی باہر سے آ گئے تم ۔۔ خیریت ہے ۔۔ ؟"
سردار شیر دل خود آگے بڑھے تھے اور اسے گلے لگاتے بولے تھے
" حُرّہ اور دعا کہاں ہیں ۔۔ ؟"
اس کے اچانک سوال پر وہ چونکے عباس کا انداز ان سب کو ٹھٹھکنے پر مجبور کر گیا سردار بی بی اور ناعمہ نے اس پل اس سے نگاہیں چرائیں
" کیا مطلب ہے ۔۔ ہمیں کیا معلوم کہاں ہیں وہ ۔۔ ہم سے کیوں پوچھ رہے ہو ۔۔ ؟"
سردار شیر دل ماتھے پر بل ڈالے بولے تھے
" دو دن سے میری بیوی اور بیٹی غائب ہیں ۔۔ بابا سرکار کہاں ہیں وہ دونوں ۔۔ ؟"
عباس کے انداز میں بے چینی واضح تھی جبکہ باقی سب حیرت زدہ سے اسے دیکھ رہے تھے نورے بھی مکمل متوجہ ہوئی معاملے کو سمجھنے کی کوشش کر رہی تھی
" تمہاری بیوی اور بیٹی کا ہمیں کیا پتہ کہاں ہے ۔۔ ہم سے کیوں پوچھ رہے ہو عباس ۔۔ ؟"
سردار شیر دل خاصے بلند آواز میں بولے تھے
" بابا سرکار اگر آپ نے یا ماں نے حُرّہ اور دعا کو کہیں غائب کیا ہے تو مجھے بتا دیں ۔۔ "
عباس کی بات سن کر سردار شیر دل اور سردار بی بی نے اسے غصے سے دیکھا سرداد بی بی ماتھے پر بل ڈالے اپنی نشست سے اٹھیں
" تمہارا دماغ ٹھیک ہے عباس ۔۔ یہ کیا کہہ رہے ہو ۔۔ "
اس مرتبہ سردار شیر دل دھاڑے تھے
" دو دن سے لاپتہ ہیں حُرّہ اور دعا ۔۔ مجھے صرف اتنا بتائیں کہ وہ دونوں کہاں ہیں ۔۔ مجھے بتائیں بابا سرکار ۔۔"
عباس نے اپنی بات دوہرائی تو جہاں باقی سب کو سن کر جھٹکا لگا وہیں ناعمہ بی بی نے پہلو بدلا
" تو ہم نے غائب کروایا ہے تمہاری بیوی اور بیٹی کو ۔۔ یہ کہنا چاہ رہے ہو تم ۔۔ الزام لگا رہے ہو اس دو ٹکے کی لڑکی کی وجہ سے اپنے ماں باپ پہ ؟۔۔ "
سردار بی بی عباس کو دیکھتی طنزیہ پوچھ رہیں تھیں
" میں حقیقت بیان کر رہا ہوں ماں ۔۔ میرے گھر سے میری بیوی اور بیٹی اچانک غائب ہیں ۔۔ ایسی جرات کون کر سکتا ہے ۔۔ میں جانتا ہوں یہ سب آپ لوگوں کے کہنے پر ہوا ہے ۔۔ بتائیں کہاں ہیں حُرّہ اور دعا ۔۔ ؟"
عباس ہنوز ادب سے گویا ہوا تھا مگر اس کے الفاظ سردار شیر دل اور سردار بی بی کو خفا کر گئے
" ہمیں نہیں معلوم عباس ۔۔ بہت ہو گیا اب تم اس لڑکی اور اس کی بیٹی کی خاطر اپنے ماں باپ سے پوچھ گچھ کرو گے۔۔ ؟"
سردار شیر دل سر جھٹکتے بولے تھے انہیں دکھ پہنچا تھا کہ ان کا بیٹا انہیں اتنا غلط سمجھ رہا تھا جبکہ سردار بی بی دل ہی دل میں خدا کا شکر ادا کر رہیں تھیں کہ ان کا منصوبہ ناکام نہیں ہوا تھا
" بابا سرکار ۔۔ میں جانتا ہوں آپ لوگوں کو حُرّہ اور دعا کا وجود میرے آس پاس پسند نہیں ہے مگر مجھے جاننا ہے میری بیوی کہاں ہے ۔۔ میری بیٹی میرے بغیر نہیں رہتی ۔۔ پلیز بتائیں کہاں ہے وہ ۔۔ ماں سے پوچھیں کیا کیا ہے اس کے ساتھ ۔۔ "
عباس اضطرابی حالت میں تھا اس کو اپنی بیوی اور بیٹی کے لیےتڑپا دیکھ کر نورے کے دل میں بھی ٹیس اٹھی تھی
" تم غلط فہمی کا شکار ہو۔۔ ہر چیز ایک طرف مگر ہم یہ حرکت نہیں کر سکتے تم یقین کرو ۔۔ "
عباس کی سرخ اور بوجھل آنکھیں دیکھتے سردار شیر دل کے دل کو کچھ ہوا تھا
" آپ دونوں جانتے تھے کہ میں پاکستان سے باہر ہوں ۔۔ میری غیر موجودگی میں آخر یہ سب کیسے ہوا ۔۔ مجھے بتائیں ماں ۔۔ بتائیں مجھے کہاں اچانک غائب ہو گئیں وہ ۔۔ "
عباس کا انداز اور لہجہ اس قدر مضطرب تھا کہ وہاں موجود ہر ایک نے نوٹ کیا
" تم اپنی ماں پر الزام لگاؤ گے اب ۔۔ یہ دن دیکھنا رہ گیا تھا ۔۔ دیکھ لیا آپ نے سرداد جی ۔۔ میں نے کہا تھا نا آپ کو وہ لڑکی جادوگرنی ہے ۔۔ ہمارے فرمانبردار بیٹے کو ہمارے خلاف کھڑا کر دیا ۔۔ "
سردار بی بی لہجے میں مصنوعی حیرت اور دکھ لیے گویا ہوئیں جبکہ ان کی باتوں پر عباس نے سر جھکایا یقیناً آپ دنیا سے لڑ سکتے ہو مگر اپنوں سے لڑنا کٹھن ہوتا ہے
" عباس تم ہمارے بیٹے ہو ۔۔ اور ہم جانتے ہیں تم اس لڑکی اور اس کی بیٹی کو بہت اہمیت دیتے ہو ۔۔ تم جانتے ہو ہم اسے قبول بھی کر چکے ہیں ۔۔ اگر مجھے یا تمہاری ماں کو اسے غائب ہی کروانا ہوتا تو بہت پہلے کروا چکے ہوتے ۔۔ یقین کرو بیٹا ۔۔ "
عباس کی آنکھوں میں نمی دیکھ کر سردار شیر دل دھیمے انداز میں بولے
" جیسے آپ میری تکلیف پر تڑپ رہے ہیں نا بابا ۔۔ اسی طرح میں بھی باپ ہوں ۔۔ میری بیٹی پتہ نہیں کس حال میں ہوگی ۔۔ مجھے چین نہیں آ رہا ۔۔ خدایا اگر کچھ معلوم ہے اس بارے میں تو پلیز بتائیں مجھے ۔۔ "
التجائی انداز میں بولتے ہوئے آخر میں عباس نے سرداد بی بی کو دیکھا جبکہ اس کے لہجے میں موجود درد سب نے محسوس کیا نورے ، عباس کی اپنی بیوی اور بیٹی کے لیے دیوانگی دیکھ کر سر جھکا گئی
" ارے میرے بیٹے تم کیوں تڑپ رہے ہو اس لڑکی کی خاطر ۔۔ اور اس کی اولاد کی خاطر ۔۔ ایسی لڑکیوں کا کیا بھروسہ ۔۔ یہ تو پیسے کی بھوکی ہوتی ہیں ۔۔ آج کسی کے ساتھ تو کل کسی کے ساتھ جب دل بھر جائے ۔۔ "
عباس کو دکھ میں دیکھتی وہ اپنے ظرف کے مطابق بولیں تھیں
" خدا کے لیے ماں ۔۔ بار بار حُرّہ پر کیچر مت اچھالا کریں ۔۔عزت ہے میری ۔۔ "
عباس ان کی بات پر تڑپ کر بولا تھا
" بیٹا تم نہیں جانتے ایسی لڑکیوں کو ۔۔ معصوم شکل کے پیچھے کیا ہوتی ہیں ۔۔ سب ان کی سازش ہوتی ہے ۔۔ زیورات اور پیسے چیک کر لینے تھے ۔۔ ظاہر ہے خالی ہاتھ تو گئی نہیں ہو گی وہ چالاک اور بدکردار لڑکی ۔۔ "
وہ نفرت سے بولیں تھیں جبکہ ان کے الفاظ بمشکل عباس نے برداشت کیے تھے
" خدا کے لیے ماں ۔۔ مزید حُرّہ کے متعلق ایسے الفاظ
برداشت نہیں کروں گا ۔۔ "
وہ ایک ہاتھ بلند کرتا بولا اور جانے کے لیے واپس مڑ گیا
" کہاں جا رہے ہو ۔۔ ؟؟"
اسے جاتا دیکھ سرداد شیر دل نے بیوی کو گھورا اور عباس کو پکارا باپ کی پکار پر وہ رکا
" اس ونی کی خاطر تم ماں باپ سے منہ موڑ کر جا رہے ہو ۔۔ ؟؟"
اس مرتبہ سردار بی بی بولیں تھیں
" بے فکر رہیں اتنا ظالم نہیں ہوں ۔۔ "
رک کر جتاتی نگاہوں سے دیکھتا وہ جس تیزی سے آیا تھا اسی تیزی سے حویلی سے جا چکا تھا جبکہ پیچھے حویلی کے مکین خاموش ہو گئے تھے کیونکہ کہنے کو کچھ باقی ہی نہیں رہا تھا ان سب کی زندگی کا سب سے بڑا کانٹا یعنی حُرّہ اور اس کی بیٹی ان کی زندگی سے نکل چکی تھیں ناعمہ بی بی اور سردار بی بی نے ایک دوسرے کو گردن اکڑا کر دیکھا یقیناً اب نورے اور عباس کی شادی میں کوئی رکاوٹ نہیں رہی تھی
///////////////////////////
کتنے ہی دن گزر گئے تھے اسے حُرّہ اور دعا کو تلاش کرتے ہوئے مگر کوئی راستہ اسے ان تک نہیں پہنچا رہا تھا دن رات وہ ایک کر چکا تھا مگر وہ کہیں نہیں مل رہیں تھیں وہ دن رات تکلیف میں تھا بہت سے پچھتاوے اسے گھیرے ہوئے تھے کہ وہ اپنی بیوی اور بیٹی کی حفاظت نہ کر سکا
" مجھے معاف کر دیں حُرّہ میں اپنا وعدہ نہیں نبھا سکا ۔۔ آپ کی حفاظت نہیں کر سکا ۔۔ پلیز میرے اللہ مجھے میری حُرّہ اور دعا سے ملا دے ۔۔ پتہ نہیں وہ دونوں کیسی ہوں گی ۔۔ کس حال میں ہوں گی ۔۔ دعا تو بہت مس کرتی ہوگی مجھے ۔۔ "
کافی رات ہو چکی تھی اور وہ آج بھی رات کے اس پہر کراچی کی سڑکیں ناپ رہا تھا آج بھی وہ پاگلوں کی طرح ان دونوں کو ڈھونڈ رہا تھا مگر وہ یہ نہیں سمجھ رہا تھا کہ جو گم جائیں انہیں ڈھونڈنا تو ممکن ہے مگر جو جان بوجھ کر اوجھل ہو جائیں انہیں تلاش کرنا دنیا کا مشکل ترین عمل ہے
" کیسے رہوں میرے مالک میں ان کے بغیر ۔۔ ؟ "
گاڑی میں بیٹھا وہ سیٹ کی پشت پر سر ٹکائے آنکھیں موند گیا اسے اپنی اور حُرّہ کی پہلی ملاقات یاد آئی تھی
" نام کیا ہے ۔۔ ؟"
حُرّہ کی لرزتی پلکوں پر اپنی تھکان سے بوجھل آنکھیں جمائے اس نے سرد انداز میں پوچھا
" کک کس کا ۔۔؟"
ہنوز آنکھیں جھکائے حُرّہ نے لڑکھڑاتی آواز میں پوچھا اس کے لہجے میں نا سمجھی تھی دراصل عباس کی نگاہیں اسے گھبرانے پر مجبور کر رہیں تھی
" آپ کا ۔۔ !"
ہنوز سرد انداز میں پوچھا گیا حُرّہ کی غائب دماغی پر عباس کے ماتھے پر ایک لکیر ابھری تھی
" حح حُرّہ ۔۔ "
کپکپاتی آواز میں بولتے ہوئے حُرّہ نے اپنی چادر کو سر سے مزید ماتھے پر کیا عباس اس کی حرکت کو بغور دیکھ رہا تھا
" حُرّہ ۔۔ ! یہ کیسا نام ہے ۔۔؟ کیا مطلب ہے حُرّہ کا ۔۔ ؟"
نام واقعی عباس نے پہلی مرتبہ سنا تھا اس لیے اسے دلچسپی ہوئی جبکہ چند پل حُرّہ خاموش رہی عباس کو لگا اسے اپنے نام کا مطلب نہیں آتا اس لیے خاموش ہو گئی
" آزاد عورت ۔۔ !"
الفاظ ادا کرتے ہوئے حُرّہ کی آواز بھیگ گئی ناہید کی دھمکی یاد کرتے ہوئے اس نے بمشکل آنکھیں جھپکا کر اپنے آنسو نکلنے سے روکے
" حُرّہ مطلب ۔۔ آزاد عورت ۔۔"
عباس نے دہراتے ہوئے تمسخرانہ ہنسی لبوں پر سجائی جبکہ اسی پل حُرّہ نے نگاہیں اٹھا کر عباس کو دیکھا عباس کا یوں ہنسنا وہ سمجھ گئی تھی کیونکہ وہ تو اس کی قید میں تھی اپنے نام کے بلکل الٹ
" عمر کیا ہے ۔۔؟"
حُرّہ کے وجود سے نگاہیں ہٹاتے ہوئے عباس نے اگلا سوال کیا
" ا انیس سال ۔۔"
جواب دیتے ہوئے حُرّہ نے پھر سے نگاہیں جھکا لیں جبکہ عباس نے پھر سے نگاہوں کا رخ حُرّہ کی جانب کیا اور اسے سر سے لے کر پاؤں تک دیکھا اسے وہ کم عمر لگ رہی تھی
" پڑھتی تھی ۔۔ ؟"
عباس کے' تھی ' کہنے پر حُرّہ نے چونک کر اسے دیکھا
" جج جی ۔۔"
وہ صحیح ہی تو کہہ رہا تھا اب کہاں وہ پڑھ سکے گی
" کیا ۔۔ ؟"
" بی اے ۔۔!"
عباس کے اگلے سوال پر حُرّہ نے جواب دیا تو عباس چند پل خاموش رہا جبکہ حُرّہ بھی سر اور نگاہیں جھکائے کھڑی رہی اسے عباس کا یوں سوال پہ سوال کرنا عجیب لگ رہا تھا اور پھر اس کا انداز اتنا سرد تھا اور نگاہیں اتنی گہری تھیں کہ حُرّہ دل میں خدا سے رحم کی دعائیں مانگنے لگی
" یہاں آئیں ۔۔ !"
عباس نے حکمیہ انداز میں کہتے ہوئے آنکھیں موند لیں جبکہ عباس کے حکم پر حُرّہ لرز گئی مگر ماننے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں تھا اس کے پاس تبھی مردہ چال چلتی عباس کے قریب پہنچی
" بیٹھیں ۔۔!"
ہنوز آنکھیں موندے عباس نے اگلا حکم دیا تو حُرّہ لرزتے ہوئے عباس کے قدموں میں بیٹھ گئی اسی پل عباس نے آنکھیں وا کیں حُرّہ کو اپنے قدموں میں بیٹھے دیکھ کر ماتھے پر بلوں میں اضافہ ہوا اور سرعت سے ہاتھ بڑھا کر حُرّہ کی کلائی اپنے سخت شکنجے میں لی اور اپنی جانب کھینچا اچانک افتاد پر حُرّہ کے حلق سے دبی دبی چیخ نکلی عباس کے سینے سے مس ہونے کے بعد وہ ایک لمحہ ضائع کیے بغیر صوفے پر بیٹھتے ہوئے اپنے اور عباس کے درمیان ایک ہاتھ کا فاصلہ قائم کر گئی جبکہ لرزتا ہاتھ ابھی بھی عباس کے شکنجے میں تھا عباس ہنوز نگاہیں اس پر جمائے ہوئے تھا جب موبائل کی ٹون بجی
" میں حویلی میں ہوں ۔۔ "
کال اٹینڈ کرتے ہی دوسری جانب سے کچھ پوچھا گیا تھا جس کا جواب عباس نے دیتے ہوئے حُرّہ کو دیکھا جو کہ رخ موڑے شاید رو رہی تھی
" ٹھیک ہوں ۔۔"
دوسری جانب موجود عالیان نے اس کا حال پوچھا تھا یقیناً اسے عباس کی فکر تھی جبکہ عباس ایک ہاتھ سے موبائل کان سے لگائے دوسرے سے حُرّہ کی کلائی جکڑے ہوئے تھا
" دیکھ غم بھلانے کے دو طریقے ہیں ایک شراب اور دوسرا شباب ، اور تو ان دونوں چیزوں سے فاصلہ رکھتا ہے ۔۔ تبھی تیری یہ حالت ہے۔۔ میں نے تو تجھے کہا تھا ایک سپ لے گا تو سب بھول جائے گا ۔۔ یا پھر ششب ۔۔ "
ابھی وہ آگے کچھ بولتا اس سے پہلے عباس نے کال کاٹ دی اور موبائل میز پر پٹخا اس کی اس حرکت پر حُرّہ کانپ گئی اور اپنی کلائی اس کی آہنی گرفت سے نکالنے کی کوشش کرنے لگی جبکہ عباس کے دماغ میں عالیان کی باتیں گردش کر رہیں تھیں
" چچ چھوڑ دیں مجھے ۔۔ "
حُرّہ کی لرزتی آواز پر عباس نے چونک کر اسے دیکھا پھر اپنے ہاتھ میں موجود اس کا ہاتھ دیکھا اگلے پل عباس نے اس کی کلائی چھوڑ دی اور اٹھ کھڑا ہوا دروازے کی جانب قدم بڑھاتے ہوئے وہ اپنی شرٹ کر بٹن کھول رہا تھا جبکہ حُرّہ اپنی کلائی کو سہلاتی ہوئی پھٹی آنکھوں سے عباس کو اپنی شرٹ کے بٹن کھولتے دیکھ رہی تھی عباس نے دروازہ لاکڈ کیا اور پھر سے حُرّہ کی جانب بڑھا اس دوران وہ اپنی شرٹ اتار چکا تھا صوفے سے چپکی حُرّہ کو اپنی باہوں میں لے کر جب وہ بیڈ پر لایا تو حُرّہ نفی میں سر ہلانے لگی
عباس کو اپنی چادر کھینچتے دیکھ کر حُرّہ بہتے آنسوؤں کے ساتھ التجا کرنے لگی
" ششش سکون چاہیے فی الحال مجھے ۔۔ "
حُرّہ کے اپنے سینے سے ہاتھ ہٹا کر اپنے ہاتھ میں لیتے ہوئے اس نے اس کا چہرہ اپنی سرخ آنکھوں سے دیکھا
ہاتھ بڑھا کر لیمپ کی روشنی بھی بند کر دی کمرے میں تاریکی چھا گئی جبکہ حُرّہ نے مزاحمت کرنا بھی چھوڑ دی تو عباس نے اس کے ہاتھ چھوڑ دیے حُرّہ نے ایک ہاتھ سے آنسو صاف کرتے ہوئے عباس کے سینے کے بالوں کو سختی سے پکڑ لیا اتنے دن میں پہلی بار عباس کے لبوں کو مسکراہٹ نے چھوا پھر کمرے میں خاموشی چھا گئی
وہ پل یاد کرتے ہوئے ایک اذیت بھری مسکراہٹ اس کے چہرے پر آ ٹھہری تھی اس نے معاملات کو سلجھانے کی بہت کوشش کی تھی حُرّہ کو عزت اور محبت دے کر اس نے ونی کی رسم کو بدل دیا تھا مگر لوگوں کی سوچ بدلنا مشکل ترین کام تھا کسی اور کے کیے کی سزا ایک بےقصور معصوم لڑکی کو دینا اپنا اولین حق سمجھتے تھے جس میں پیش پیش اس کے اپنے بھی تھے اس کے اپنے ماں باپ دل میں گنجائش نہیں رکھتے تھے
جب وہ حویلی میں داخل ہوا تو رات کافی گہری ہو چکی تھی وہ تھکے تھکے انداز میں چلتا شکست زدہ سا لگ رہا تھا سفید شرٹ کی آستینیں کہنیوں تک موڑے ، بےترتیب بال ، داڑھی کچھ بڑھی ہوئی ایک ہاتھ میں سیاہ کوٹ اور دفتری بیگ تھامے دوسرا ہاتھ بالوں میں پھیرتا وہ چل رہا تھا آنکھیں سرخ اور بوجھل تھیں
کسی کی نگاہوں کو مسلسل محسوس کرتا وہ رکا تھا اور پیچھے مڑ کر دیکھا تو نورے اسی کو دیکھ رہی تھی عباس کے متوجہ ہونے پر وہ بوکھلائی فوراً سر جھکا گئی
" السلام علیکم ۔۔ "
نورے کے سلام کا جواب اس نے محض سر ہلا کر دیا
" آآ آپ ٹھیک نہیں لگ رہے چھوٹے سردار ۔۔ خیریت ہے ۔۔ ؟"
نورے کے جھجھک کر پوچھنے پر عباس نے طویل سانس لیا
" ہمم ٹھیک ۔۔ "
مختصر جواب دیتا وہ آگے بڑھنے لگا جب دوبارہ نورے کی بات نے اس کے قدم جکڑے
" کچھ پتہ چلا حُرّہ اور دعا کا ۔۔ ؟؟"
" نہیں ۔۔ !"
عباس نے نگاہوں کا زاویہ دوسری سمت کرتے ہوئے یک لفظی جواب دیا
" آپ پریشان نہ ہوں ۔۔ انشاءاللہ جلدی ہی وہ دونوں مل جائیں گی ۔۔ "
نورے نے کہا تو عباس نے سر ہلایا اور اپنے کمرے کی جانب بڑھ گیا جبکہ نورے بے چینی سے اپنے کمرے میں چلی گئی
" میں جانتا ہوں عباس تم اس وقت بھابھی اور دعا کی وجہ سے بہت پریشان ہو مگر مجھے تم سے ایک بہت ضروری بات کرنی ہے ۔۔ پہلے ہی بہت دیر کر چکا ہوں میں ۔۔ مزید دیر کرکے اپنا سب کچھ نہیں کھونا چاہتا ۔۔ !"
وہ دونوں اس وقت عباس کے آفس میں بیٹھے تھے عالیان نے بات کا آغاز کیا تو عباس نے ناسمجھی سے اسے دیکھا
" کیا بات ہے عالیان سب ٹھیک ہے نا ۔۔ کہو کیا کہنا چاہتے ہو ۔۔"
عباس نے پوری طرح عالیان کی جانب متوجہ ہوتے ہوئے پوچھا
" تمہاری کزن نورے کا رشتہ بھیجنا چاہتا ہوں ۔۔ شادی کرنا چاہتا ہوں ان سے ۔۔"
عالیان نے عباس کو دیکھتے ہوئے کہا تو عباس کے ماتھے پر بل پڑے جنہیں دیکھ کر عالیان نے تھوک نگلا
////////////////////////
" بی بی جی چھوٹی بی بی کو بہت تیز بخار ہے ۔۔ رو رو کر بچی کا برا حال ہے ۔۔ میرے خیال سے پہلے اسپتال لے چلتے ہیں بچی کو ۔۔ "
ناہید نے حُرّہ کو دعا کو سینے سے لگائے سسکتے دیکھ کر خود بھی روتے ہوئے کہا
" جلدی چلیں پلیز ۔۔ اا اگر مم میری بچی کو کچھ ہو گیا تو ۔۔ !"
ناہید کی بات پر حُرّہ نے بے بسی سے کہا اور تیز تیز چلنے لگی
شہر جانے والی گاڑی پر سوار وہ سرکاری ہسپتال پہنچی تو دعا کی حالت تشویشناک بتائی گئی فوراً ایمرجنسی میں داخل کیا گیا کوریڈور میں بیٹھی حُرّہ کی سانسیں بھی مدھم ہو رہیں تھی
زیر لب اپنی بیٹی کی زندگی کی دعائیں تھیں آنسو مسلسل چہرے پر بہہ رہے تھے دل میں عجیب وسوسے تھے کہ اگر دعا کو کچھ ہو گیا تو ؟؟ اس سے آگے حُرّہ کی سوچیں ہی مفلوج ہو رہیں تھیں دل اپنی بیٹی کو کھو دینے کے ڈر سے خوفزدہ تھا
" بی بی جی کچھ کھا لیں ۔۔ "
ناہید بسکٹ کا پیکٹ حُرّہ کی جانب کرتے ہوئے کہہ رہی تھی حُرّہ نے نفی میں سر ہلایا
" بی بی جی ۔۔ چھوٹی بی بی کو کچھ نہیں ہو گا ۔۔ "
اس نے حُرّہ کو تڑپتے دیکھ کر تسلی دی
" پلیز دعا کریں ۔۔ میری بچی ٹھیک ہو جائے ۔۔ ۔۔"
حُرّہ نے ناہید کو دیکھتے ہوئے کہا
" میں قربان بی بی جی اپنے چھوٹے سردار کی اولاد کے ۔۔ خدا لمبی زندگی دے ہماری دعا بی بی کو ۔۔ "
ناہید عقیدت سے حُرّہ کو دیکھتے دعا دی
"میں نے سب کھو دیا ہے ناہید باجی ۔۔ سب کھو دیا ۔۔ بب بابا ۔۔ مم ماں ۔۔ سرداد کک کو بھی ۔۔ اب دعا کے علاوہ کوئی نہیں میرا ۔۔ دعا میرے جینے کی وجہ ہے ۔۔ ورنہ سرداد کے بعد میرے وجود میں روح کہاں باقی ہے ۔۔ مردہ وجود لیے پھر رہی ہوں ۔۔ صرف اپنی بچی کی خاطر ۔۔ !"
حُرّہ کھوئے کھوئے انداز میں بولی تھی کہ اس کا انداز اور چہرہ اس پر بیتے ظلم و ستم کی داستان بیان کر رہا تھا
ناہید اس کی تکلیف محسوس کرتی خود بھی چہرہ جھکائے رونے لگی جبکہ کچھ فاصلے پر بیٹھی ایک خاتون جو مسلسل اسی کو دیکھ رہیں تھیں حُرّہ کی باتوں اور چہرے سے جھلکتے دکھ کو محسوس کرتی اپنی آنکھوں میں آئی نمی کو چادر کے کونے سے صاف کرتی اٹھیں اور حُرّہ کے برابر آ بیٹھیں
" بیٹی ہمت کرو ۔۔ تمہیں دیکھ تو ہمارا دل تڑپ رہا ہے ۔۔ خدا تمہاری بیٹی کو صحت دے گا ۔۔ مت رو ۔۔ "
وہ حُرّہ کے سر پر ہاتھ رکھ کر اسے دعا دیتیں گویا ہوئیں تو ناہید اور حُرّہ اس انجان عورت کی جانب متوجہ ہوئیں
اس کی دعائیں دینے پر حُرّہ کو مزید رونا آیا وہ سسک اٹھی تو اس خاتون نے اسے شفقت سے گلے لگا لیا
" کک کتنے گھنٹے ہو گئے ۔۔ مجھے میری بچی سے بھی ملنے نہیں دے رہے ۔۔ پپ پتہ نہیں کیسی ہے ۔۔ پپ پلیز دعا کریں ۔۔ وو وہ بہت چھوٹی ہے ۔۔ ایک سال کی بچی کک کو اتنی مشینوں میں جکڑا ہوا ہے۔۔ "
حُرّہ بتاتے ہوئے پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی تو وہ خاتون اور ناہید بھی رونے لگیں تھیں
" کچھ نہیں ہوگا بیٹی تمہاری بچی کو ۔۔ "
انہوں نے حُرّہ کے آنسو پونچھتے ہوئے تسلی دی
" بچی کا باپ کہاں ہے ۔۔ ؟؟"
کچھ دیر بعد ان خاتون نے حُرّہ کو دیکھتے پوچھا تو حُرّہ کے چہرے پر اذیت کے کئی رنگ آئے جو ان خاتون نے اپنے تجربے اور عمر کے باعث فوراً محسوس کیا جبکہ ان کے سوال پر ناہید بھی بوکھلا گئی
اس سے پہلے حُرّہ مزید مشکل میں پڑتی ڈاکٹر کے آنے پر تینوں اس کی جانب متوجہ ہوئیں جبکہ حُرّہ ڈاکٹر کی سمت بڑھی
" میری بیٹی کیسی ہے ڈاکٹر صاحب ۔۔ ؟"
حُرّہ لہجے میں فکرمندی لیے پوچھنے لگی
" جی اب بہتر ہے آپ کی بیٹی کی طبیعت ۔۔ "
ڈاکٹر کے تسلی بخش جواب پر حُرّہ سمیت باقی دونوں نفوس کے بھی رکے سانس بحال ہوئے
" میں مل لوں ۔۔ "
" جی ۔۔"
ڈاکٹر کے اجازت دینے پر حُرّہ کمرے کی جانب لپکی
دو دن میں دعا کی طبیعت کچھ بہتر تھی مگر ڈاکٹر کی ہدایت کے مطابق ابھی کچھ دن اسے انڈرابزرویشن رکھنا تھا مگر حُرّہ مزید ہسپتال کا خرچہ نہیں اٹھا سکتی تھی اسی لیے دو دن بعد ہی اپیل کر کے حُرّہ دعا کو لیے ہسپتال سے نکلی
وہ خاتون جو کہ اپنی دل کے مرض کی دوائیاں لینے آئی تھی وہ حُرّہ کو اس دن کے بعد آج پھر باہر نکلتے ہوئے ملی
" ارے تم جا رہی ہو بچی کو لے کر بیٹی ۔۔ ؟"
وہ حُرّہ کے سامنے آتی پوچھنے لگیں تو حُرّہ نے اثبات میں سر ہلایا
" کیسی ہے اب تمہاری بیٹی ۔۔ ؟؟"
انہوں نے حُرّہ کی گود میں دوائیوں کے زیر اثر سوئی خوبصورت مگر مرجھائی ہوئی بچی کے رخسار پر پیار کرتے ہوئے پوچھا
" اب بہتر ہے ۔۔ دعاؤں میں یاد رکھئے گا ۔۔ "
اس انجان عورت کو اپنی بچی کے لیے پریشان دیکھ کر حُرّہ نے آنسو صاف کرتے ہوئے مدھم آواز میں جواب دیا
" کہاں گھر ہے تمہارا ۔۔ ؟؟"
اثبات میں سر ہلاتے انہوں نے عام سے انداز میں پوچھا مگر حُرّہ اور ناہید کا رنگ زرد پڑا
" کیا ہوا ۔۔ ؟"
باری باری دونوں کے چہرے دیکھ کر فرحت بی بی نے دوبارہ پوچھا اور کھوجتی نگاہوں سے ان دونوں کو دیکھنے لگی
" آؤ میرے ساتھ ۔۔ "
فرحت بی بی نے کچھ سوچ کر حُرّہ کا ہاتھ تھاما اور چلنے لگی جبکہ حُرّہ نے بے بسی سے ناہید کو دیکھا
" جانتی ہوں تم مشکل میں ہو بیٹا مگر ۔۔ اتنی چھوٹی بچی کے ساتھ تمہیں اپنا گھر نہیں چھوڑنا چاہیے تھا ۔۔ "
رش سے ایک طرف ہوتے ہوئے وہ بولیں تو ناہید نے کچھ کہنا چاہا جب حُرّہ نے اشارے سے اسے کچھ بھی بولنے سے روکا
" پتہ ہے کتنے حالات خراب ہیں آج کل کے ۔۔ !"
انہوں نے مزید کہا تو حُرّہ نے سر جھکا لیا
" یہ کیا لگتی ہیں تمہاری ۔۔ ؟"
انہوں نے ناہید کے جانب انگلی سے اشارہ کرتے ہوئے پوچھا
" بڑی بہن ۔۔ "
ناہید کو دیکھتے ہوئے حُرّہ نے جواب دیا تو سرشاری کے احساس کے تحت ناہید کی آنکھوں میں آنسو آ گئے کہ حُرّہ اسے بہن کہہ رہی تھی
" بتاؤں ذرا ساری بات ۔۔ تم دونوں اکیلی بچی کو لے کر دو دن سے اسپتال میں ہو ۔۔ کیا اور کوئی نہیں ہے تمہارا ۔۔ ؟"
انہیں نے اگلا سوال کیا تو حُرّہ نے انہیں دیکھا
" ہم چلتے ہیں ۔۔ "
اس سے پہلے کہ وہ خاتون مزید کوئی سوال کرتیں حُرّہ جانے کے لیے مڑی
" رکو بیٹا ۔۔ "
انہوں نے حُرّہ کا بازو تھام لیا
" میری بھی ایک بیٹی ہے ۔۔ مجھے بیٹیوں کا احساس ہے ۔۔ اور آج کل کے حالات کے مطابق میں تمہیں ایسے نہیں جانے دوں گی ۔۔ چلو میرے ساتھ ۔۔ "
انہوں نے رکشے کی جانب بڑھتے ہوئے کہا جبکہ وہ حُرّہ کا ہاتھ مضبوطی سے تھامے ہوئے تھیں
" مم مگر ۔۔ !"
ان کے ساتھ چلتے ہوئے حُرّہ نے کچھ بولنا چاہا کہ انہوں نے اس کی بات کاٹی
" جب خدا کی ذات پر بھروسہ کر کے نکلی ہو تو یقین رکھو خدا پر ۔۔ یقیناً اس نے وسیلہ بنایا ہے ۔۔"
ان کے جواب پر حُرّہ خاموش ہو گئی یقیناً اس نے سب کچھ خدا پر چھوڑا ہوا تھا وہی اس کی مشکلات آسان کرے گا ابھی بھی خدا کے بھروسے پر وہ اس انجان خاتون کے ساتھ ہو لی
طویل مسافت طے کرنے کے بعد وہ خاتون انہیں لیے حیدرآباد کے ایک عام علاقے میں آئی پھر ایک خستہ حال مکان کے دروازے کو بجایا کچھ دیر بعد ایک چوبیس پچاس برس کی لڑکی نے دروازہ کھولا اپنی ماں کے ساتھ دو انجان نفوس کو دیکھ کر اس کے چہرے پر ناسمجھی کے تاثرات ابھرے جبکہ فرحت بی بی نے حُرّہ اور ناہید کو اندر آنے کا اشارہ کیا اور ایک کمرے میں لیے داخل ہوئی جس میں دو چارپائیاں بچھی ہوئیں تھیں انہوں نے ایک پر حُرّہ کو دعا کو لٹانے کا کہا اور دوسری پر ناہید کو بیٹھنے کا کہا
" تہمینہ پانی اور کھانا لاؤ ۔۔ بہت بھوک لگی ہے ۔۔ "
فرحت بی بی نے سفید چادر کو اتار کر دوپٹہ اچھی طرح لیتے ہوئے بیٹی کو کہا جو کہ نئے چہرے دیکھ کر پہلے ہی حیرت زدہ تھی ماں کے حکم پر سر ہلاتی کمرے سے نکلی
" لیٹ جاؤ آپ دونوں ۔۔ بہت تھکی ہوئی لگ رہی ہو ۔۔ آرام کرو ۔۔ جب تک کھانا آتا ہے "
فرحت بی بی نے باری باری حُرّہ اور ناہید کو دیکھتے ہوئے کہا جو گم سم سی بیٹھیں تھیں ان کے پکارنے پر چونکی مگر بے حرکت رہیں
" ہمارے گھر میں کوئی مرد نہیں ہیں ۔۔ ہم دونوں ماں بیٹی اکیلی رہتی ہیں ۔۔ "
ان دونوں کی جھجھک دیکھتے ہوئے فرحت بی بی نے بتایا مگر وہ دونوں ہنوز ساکت بیٹھیں تھیں
" ہم دونوں ماں بیٹی کا بھی اس دنیا میں کوئی نہیں ہے ۔۔ کوئی بھی نہیں ۔۔ ہم دونوں کئی سالوں سے اکیلے رہتی ہیں ۔۔ میری بیٹی کے شوہر نے اسے چھوڑ دیا ہے اس وقت سے یہ میرے ساتھ رہتی ہے ۔۔ "
فرحت بی بی کے بتانے پر حُرّہ دکھ سے انہیں دیکھنے لگی جو اب اداس سی بیٹھیں تھیں
/////////////////////
" آ جائیں ۔۔ !"
دروازے پر ہوتی مسلسل دستک پر عباس نے نماز سے فارغ ہو کر آنے والے کو اجازت دی اور خود ڈریسنگ ٹیبل سے اپنا موبائل فون اٹھا کر چیک کرنے لگا جب سردار شیر دل اور سردار بی بی کمرے میں داخل ہوئیں
" بابا سرکار ۔۔ مجھے بلوا لیتے آپ ۔۔ "
ماں باپ کو دیکھتے عباس نے موبائل قمیض کی جیب میں ڈالتے ہوئے کہا
" ایسے سمجھو کہ آج ہم تمہارے پاس التجا لے کر آئیں ہیں ۔۔ امید ہے تم ہماری بات پوری کرو گے ۔۔ "
سردار شیر دل عباس کے کاندھے پر ہاتھ رکھے اسے لیے صوفے پر آ بیٹھے جبکہ سردار بی بی بیڈ کے ایک کونے پر ٹک گئیں
" اگر میں استطاعت رکھتا ہوا تو ضرور پورا کروں گا بابا سرکار ۔۔ "
عباس نے انہیں دیکھتے ہوئے کہا جو کافی خوش دیکھائی دے رہے تھے
" ہم نے جمعہ کو نورے اور تمہارا نکاح رکھا ہے ۔۔ "
سردار شیر دل کی بات عباس کو سن کر گئی وہ چند پل تو کچھ بول ہی نہ سکا
" کتنے دن ہو گئے اس لڑکی کو گئے ہوئے ۔۔ اب اس دھوکے باز لڑکی کی یادوں سے نکالو خود کو ۔۔ آگے بڑھو زندگی میں ۔۔ ہم تمہیں پھر سے مسکراتے دیکھنا چاہتے ہیں ۔۔ "
وہ مزید بولے تو عباس نے بے تاثر چہرہ لیے انہیں دیکھا
" جب میں بارہا کہہ چکا ہوں کہ میں دوسری شادی نہیں کرنا چاہتا تو آپ لوگ بار بار کیوں زور دیتے ہیں ۔۔ "
وہ لفظ چبا کرادا کرتا بولا تھا
" تو ابھی وہ بدکردار لڑکی تمہارے حواسوں پر سوار ہے ۔۔ "
سردار بی بی دل میں حُرّہ کو کوسنے دیتی عباس سے مخاطب ہوئیں
" ماں جی وہ لڑکی صرف میرے حواسوں پر نہیں سوار بلکہ ۔۔ میرے دل و دماغ میں بس چکی ہے ۔۔ اور ہمیشہ رہے گی ۔۔ مجھے یقین ہے کہ ایک نا ایک دن وہ مجھے مل جائے گی ۔۔ "
ان کے چہرے کو دیکھتا وہ بولا تو اس کے لہجے سے یقین جھلک رہا تھا
" اس لڑکی کو چھوڑ کر اپنے باپ کی عزت کا بھی سوچ لو ۔۔ سارے گاؤں میں یہ خبر پھیل چکی ہے ۔۔ اگر جمعے کو نکاح نہ ہوا تمہارا اور نورے کا تو کیا عزت رہ جائے گی ہماری ۔۔ دنیا کہے گی سرداد شیر دل اپنی بھتیجی کے ساتھ انصاف نہیں کر سکا ۔۔ "
سردار شیر دل رخ عباس کی جانب کرتے ہوئے دبے دبے غصے سے بول رہے تھے
" تو کریں نا انصاف اپنی بھتیجی کے ساتھ ۔۔ میرے ساتھ نکاح کروا کر تو ظلم کریں گے آپ نورے کے ساتھ ۔۔ میں حُرّہ کے علاوہ کسی دوسری لڑکی کا سوچنا بھی گناہ سمجھتا ہوں ۔۔ اپنی زندگی میں شامل کرنا تو بہت دور کی بات ۔۔ "
عباس تحمل سے انہیں جواب دیتا کہہ رہا تھا
" میں نے کہا تھا نا آپ کو سردار جی ۔۔ وہ بدکردار لڑکی اتنی آسانی سے نہیں بھولے گی ہماری بیٹی کو ۔۔ "
سردار بی بی کے بولنے پر عباس نے آنکھیں میچے سر جھٹکا جبکہ سردار شیر دل نے انہیں خونخوار نگاہوں سے گھورا
" تم خاموش رہو ۔۔ اگر اب بیچ میں بولی تو بھول جائیں گے تم ہمارے وارث کی ماں ہو ۔۔ "
وہ غصے میں چیخے تھے جبکہ سردار بی بی ان کے چنگھاڑنے پر کانپ گئی
" بابا سرکار پلیز ۔۔ !"
عباس کو ماں کی توہین برداشت نہ ہوئی تو سردار شیر دل کا ہاتھ تھامتا انہیں مزید غصہ کرنے سے روک گیا
" تمہاری انہیں گھٹیا باتوں کی وجہ سے عباس کو ضد چڑھ گئی ہے ۔۔ ورنہ ہمارا بیٹا ہماری کوئی بات نہیں ٹالتا ۔۔ "
وہ اس بار دبی دبی آواز میں غرائے تھے
" دیکھو عباس ہمیں یا ناعمہ کو یا نورے کو ۔۔ کسی کو بھی تمہاری پہلی بیوی سے کوئی سروکار نہیں ۔۔ تم اسے بےشک تلاش کرو ۔۔ وہ مل جاؤ تو اسے ویسے ہی رکھو اپنے پاس مگر ہم صرف یہ کہہ رہے ہیں کہ نورے سے شادی کر لو ۔۔ اسلام میں تو چار شادیوں کی اجازت ہے ۔۔ تمہارے اگر نورے سے شادی کرنے سے نورے کی زندگی سنور جاتی ہے تو کیوں نہیں ہماری بات مان لیتے ۔۔ "
وہ اپنی باتوں پر زور دیتے ہوئے گویا ہوئے تھے
" بے شک اسلام میں چار شادیوں کی اجازت ہے ۔۔ بابا اس بات پر کہ بیویوں میں مساوی سلوک رکھا جائے ۔۔ انصاف کیا جائے ان میں ۔۔ مگر میں پہلے بھی آپ کو یہ بات کہہ چکا ہوں ۔۔ میں نورے کے ساتھ انصاف نہیں کر پاؤں گا ۔۔ کیونکہ حُرّہ صرف بیوی نہیں ہیں میری ۔۔ بلکہ میری محبت ہیں ۔۔ وہ میرے دل میں خاص مقام رکھتی ہیں ۔۔ وہ مقام میں کسی اور کو نہیں دے سکتا ۔۔ کسی کو بھی نہیں ۔۔ "
عباس نفی میں سر ہلاتا بول رہا تھا تھا جبکہ سرداد بی بی نے عباس کی دیوانگی دیکھ کر غصے سے سر جھٹکا
"مگر اب تو وہ لڑکی یہاں نہیں ہے نا ۔۔ "
عباس کی تمام باتوں پر ضبط کرتے ہوئے سردار شیر دل نے کہا تو عباس کے لب مسکرائے
"میں پھر بھی بےوفائی نہیں کر سکتا ان کے ساتھ ۔۔ ان کی غیر موجودگی تو میری محبت کا امتحان ہے ۔۔ "
اپنے باپ کے ضبط کے مارے سرخ ہوئے چہرے کو دیکھتا وہ بڑے آرام سے بولا تھا
" تم سمجھتے کیوں نہیں ہو عباس ۔۔ تمہارے علاوہ نورے کی کسی سے شادی نہیں ہو سکتی ۔۔ "
وہ اس بار چیخے تھے
" کیوں نہیں ہو سکتی بابا سرکار ۔۔ "
عباس نے حیرت سے انہیں دیکھتے پوچھا
" تم بہتر جانتے ہو ہمارے خاندان کا اصول ہے ایک بار جس لڑکی کا نام کسی سے جڑ جائے پھر ساری عمر اسی کے نام پر گزارتی ہے ۔۔ چاہے وہ شخص اسے اپنائے یا نہ اپنائے ۔۔ یاد رکھو اگر نورے کو نہیں اپناؤ گے تو وہ ساری زندگی ایسے ہی تمہارے نام پہ گزارے گی ۔۔ "
بولتے ہوئے وہ اسے پتھردل سردار لگے
" میں نے بہت انتظار کیا کہ شاید آپ خود انصاف کریں بابا سرکار ۔۔ نورے کو اس خاندانی پست اصولوں سے آزاد کر دیں ۔۔ مگر افسوس آپ ایک سنگدل سردار کی حیثیت سے سوچتے رہے ۔۔ جس لڑکی کے سر پر باپ کے بعد ہاتھ رکھا تھا ۔۔ اسی کو اپنے اصولوں کے تحت زندہ درگور کر رہے ہیں ۔۔ "
عباس کے لہجے سے ہی افسوس عیاں تھا جبکہ سردار بی بی خاموش بیٹھی دونوں باپ بیٹے کو دیکھتی ان کی گفتگو سن رہیں تھیں
" ہاں کر رہا ہوں کیونکہ مجھے اپنے خاندان کی ساکھ برقرار رکھنی ہے ۔۔ نورے سے تمہارا نکاح کروا کر ۔۔ "
وہ سر اکڑا کر بولے تھے
" اگر ایسی بات ہے بابا سرکار تو میں ان خاندانی اصولوں کے خلاف جاؤں گا ۔۔ مجھے افسوس سے کہنا پڑ رہا ہے کہ ۔۔ آپ کو اپنی بھتیجی سے زیادہ یہ ناپید خاندانی اصول پیارے ہیں ۔۔ آپ نورے سے کوئی ہمدردی نہیں رکھتے بلکہ آپ صرف اس لیے میری شادی نورے سے کروانا چاہتے ہیں کہ یہ آپ کا خاندانی اصول ہے ۔۔ تو پھر ٹھیک ہے میری ایک بات بھی سن لیں اب میں نورے کی شادی خاندان سے باہر کرواؤں گا ۔۔ اور ضرور کرواؤں گا ۔۔ اور جمعے کو ہی کرواؤں گا ۔۔ "
عباس مضبوط انداز میں کہتا بالوں میں انگلیاں پھیرتا ان کے برابر سے اٹھ کھڑا ہوا تھا
" کیا بکواس کر رہے ہو یہ تم ۔۔ "
وہ بھی دھاڑتے ہوئے اٹھے
" جو آپ سن رہے ہیں وہی کہہ رہا ہوں ۔۔ میں نورے کی شادی اس سے کرواؤں گا جو اسے خوش رکھنے کی ضمانت لے ۔۔ جس کے ساتھ نورے حقیقتاً خوش رہ سکے ۔۔ "
دونوں باپ بیٹے کو مقابل دیکھ کر سرداد بی بی دل میں حُرّہ کو بددعائیں دیتیں خود بھی کھڑی ہوئیں
" تم میں غیرت نہیں رہی ۔۔ اپنے سے منسوب لڑکی کی شادی کسی اور سے کرواؤ گے اب ۔۔ "
سردار شیر دل حقیقتاً صدمے سے دوچار چیخے تھے
" بے غیرت میں تب ہوتا جب نورے کا میرے ساتھ شرعی رشتہ ہوتا ۔۔ تب ان کا نام کسی اور کے ساتھ جوڑ کر واقعی میں بےغیرتی کرتا مگر ۔۔ نورے باقیوں کی طرح نامحرم ہیں میرے لیے ۔۔ چچا کی بیٹی کی حیثیت سے میں ان کا نکاح جمعے کو ہی کرواؤں گا ۔۔ "
باپ کو اطلاع دیتا وہ آگے بڑھنے لگا
" اگر تم نے جمعے کو نورے سے نکاح نہ کیا تو میرا مرا منہ دیکھو گے ۔۔ پھر اٹھانا باپ کا جنازہ ۔۔ کیونکہ اپنے عزت کا جنازہ تو تمہیں نہیں نکالنے دوں گا میں ۔۔ "
وہ دھمکی دیتے ہوئے بولے تو عباس کے بڑھتے قدم رکے
" کیا معلوم آپ سے پہلے مجھے موت آ جائے بابا سرکار ۔۔ بیٹے کا جنازہ اٹھانا کافی کٹھن ہوتا ہے ۔۔ "
عباس جس انداز میں بولاتھا سردار شیر دل اور سردار بی بی ساکت ہو گئے جبکہ عباس کے لب مسکرائے
" جمعہ دو دن بعد ہے بابا سرکار ۔۔ نورے کا نکاح آج ہی ہو گا ۔۔ آپ اپنی بھتیجی کو رخصت کرنے کی تیاری کریں ۔۔ "
موبائل پر نمبر ڈائل کرتا وہ ماں باپ کو سکتے میں چھوڑ کر کمرے سے نکلا مگر دروازے پر نورے کو کھڑا دیکھ کر ٹھٹھکا نورے کے بہتے آنسو بیان کر رہے تھے کہ وہ اندر ہوتی گفتگو سن چکی ہے اس سے نگاہیں چرائے وہ آگے بڑھ گیا جبکہ نورے نے شکوہ کناں نگاہیں اس کی پشت پر ڈالیں
////////////////////
" آ آپ سے ایک بات پوچھوں ۔۔ ؟؟"
وہ چاروں عشاء کی نماز پڑھ کر اسی کمرے میں اپنے اپنے بستر پر آ بیٹھیں تھیں ایک چارپائی پر حُرّہ ، دعا کو پہلو میں لیے بیٹھی تھی اور دوسری پر فرحت بی بی لیٹیں ہوئیں تھیں جبکہ ناہید اور تہمینہ کا بستر فرش پر تھا وہ دونوں بھی بیٹھی ہوئیں تھیں انہیں یہاں رہتے کافی زیادہ دن گزر گئے تھے مگر فرحت بی بی اور تہمینہ نے اس سے کوئی سوال نہ کیا تھا اب حُرّہ کی آواز کی جانب ان سب کی توجہ مبذول ہوئی جبکہ حُرّہ فرحت بی بی سے مخاطب تھی
" ہممم ۔۔ "
ہنکار بھرتے ہوئے وہ اٹھ بیٹھیں اور چادر سر پر درست کرتی حُرّہ کو دیکھنے لگی
" آ آپ تو کہہ رہیں تھیں کہ حالات بہت خراب ہیں آج کل کے پھر آپ نے ہم پر بھروسہ کیسے کر لیا اور ہمیں اپنے گھر لے آئیں ۔۔ جبکہ ہم تو آپ کے لیے بلکل انجان ہیں ۔۔ آپ ہمیں دھوکے باز بھی سمجھ سکتی تھیں ۔۔ "
وہ پوچھ رہی تھی جبکہ حُرّہ کی بات پر فرحت بی بی کے لب مسکرائے
" زندگی سے اتنے تجربات حاصل ہوئے ہیں کہ انسان کے چہرے دیکھ کر اس کی سچائی محسوس ہو جاتی ہے ۔۔ اور تم ہمیں دھوکے باز نہیں لگی ۔ "
سنجیدہ انداز میں کہتے ہوئے آخر میں وہ پھر سے مسکرائیں ان کی بات کو حُرّہ نے بہت غور سے سنا ناہید اور تہمینہ بھی ان کو خاموشی سے سن اور دیکھ رہیں تھیں ان چند دن میں ہی تہمینہ اور فرحت بی بی دعا سے بہت مانوس ہو گئیں تھیں
" اس کا باپ کہاں ہے ۔۔ ؟"
کچھ دیر خاموشی کے بعد فرحت بی بی کی آواز کمرے میں گونجی تو جہاں حُرّہ چونکی وہیں ناہید نے بھی حُرّہ کو دیکھا تہمینہ اور فرحت بی بی حُرّہ کے جواب کی منتظر تھی
" یہاں نہیں ہیں وہ ۔۔ !"
حُرّہ نے دعا کے بالوں میں نرمی سے انگلیاں پھیرتے ہوئے نگاہیں جھکائے کہا
" اس نے تمہیں چھوڑا یا تم نے ۔۔ ؟"
حُرّہ کی گول مول بات پر فرحت بی بی نے دوبارہ استفسار کیا
" مم میں نے ۔۔ !"
حُرّہ کی زبان لڑکھڑائی تھی اور ہاتھوں میں لرزش پیدا ہوئی تھی
" کیا بہت مارتا پیٹتا تھا ۔۔ "
ان کے اگلے سوال پر حُرّہ تڑپ گئی اور نفی میں سر ہلایا
" نن نہیں بلکل نن نہیں ۔۔ "
بے ساختہ عباس کا نرم انداز اسے یاد آیا تھا ایک آنسو بہتا ہوا کپڑوں میں جذب ہو گیا تھا
" خرچہ نہیں دیتا تھا ۔۔ ؟؟"
انہوں نے مزید پوچھا
" دیتے تھے ۔۔ "
دو لفظی جواب دے کر حُرّہ نے آنسو پونچھے عباس تو دنیا کی ہر چیز اس کے قدموں میں لا رکھتا تھا
" بیٹی سے پیار نہیں کرتا تھا ۔۔ ؟؟ کیا اسے بیٹی نہیں چاہیے تھی ۔۔ ؟؟"
سوال کرتے ہوئے انہوں نے دعا کی جانب اشارہ کیا
" بب بہت پیار کرتے ہیں وہ بیٹی سے ۔۔ !"
روندی آواز میں جواب دیتے ہوئے اس نے دعا کی پیشانی پر مامتا بھرا لمس چھوڑا
" پھر تم سے پیار نہیں کرتا تھا ۔۔ ؟؟"
حُرّہ کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے انہوں نے مزید پوچھا تو حُرّہ نے سر جھکا لیا اب وہ انہیں کیا بتاتی اس شخص کی عنائتیں کہ جہاں باقی حویلی والوں کی طرح عباس کو اس سے نفرت کرنی چاہیے تھی وہیں اس شخص کی محبت کا آغاز ہوا تھا
" ایسی خالص محبت کرتے تھے کہ ۔۔ جس کی پاکیزگی کی گواہ میں خود ہوں ۔۔ !"
وہ کھوئے ہوئے انداز میں بولی جبکہ فرحت بی بی سمیت باقی دونوں نفوس نے بھی اس کے چہرے پر آئے محبت بھرے رنگ کو دلچسپی سے دیکھا
" کیا تم پیار نہیں کرتی ہو اس سے ۔۔ ؟؟"
" پیار چھوٹا لفظ ہے میرے احساسات کے آگے ۔۔ پیار سے اگلی منزل طے کر چکی ہوں کہ ان کی خاطر خود کو ان سے جدا کر دیا ۔۔ یوں کہہ لیں کہ اپنی ہی روح کو وجود سے کھینچ نکالا ۔۔"
بات کرتے ہوئے وہ اذیت سے مسکرائی
" تو پھر وہ یقیناً ناجائز تعلقات رکھتا ہو گا غیر عورتوں کے ساتھ ۔۔ ؟؟"
ان کے سوال پر حُرّہ نے فوراً سر نفی میں ہلایا
" نن نہیں ۔۔ بلکل ایسے نہیں وہ ۔۔ ان کی شرافت ۔۔ ان کا شفاف کردار ۔۔ مجھ سے بہتر خدا جانتا ہے ۔۔ "
وہ مضبوط انداز میں بولی تھی
" مارتا بھی نہیں تھا۔۔ خرچہ بھی دیتا تھا ۔۔ بیٹی سے بھی پیار کرتا تھا ۔۔ اور تم سے بھی پیار کرتا تھا ۔۔ تم بھی اس سے پیار کرتی ہو ۔۔ ناجائز تعلقات بھی نہیں تھے ۔۔ جب اتنا اچھا تھا تو کیوں چھوڑا تم نے اسے ۔۔ ؟؟"
فرحت بی بی نے ماتھے پر بل ڈالے پوچھا جبکہ ان کی بات پر حُرّہ نے ایک سرد آہ بھری
" حالات کا تقاضا یہی تھا ۔۔ !"
وہ بولی گو اس کی آنکھیں اس کا درد بیان کرنے لگیں جبکہ زبان سے اپنے دکھ کیسے وہ بیان کرتی کہ قدم قدم پر اتنی ستم ظریفی ہوئی تھی کہ اب تو آنکھوں سے ہی دکھ عیاں تھے
فرحت بی بی کو سب بتاتے ہوئے وہ کئی باتوں پر کرب سے آنکھیں میچ گئی اس کے خاموش ہونے پر ناہید نے بات کو جاری کیا
" ہم سمجھتے ہیں کہ ہمارے سے زیادہ تکلیف میں تو اس دنیا میں کوئی ہے ہی نہیں ۔۔ اللہ سے شکوہ کرتی تھی کہ ہمیں ہی ہر آزمائش سے گزارنا تھا ۔۔ مگر دیکھو ذرا تمہاری آزمائشوں کے آگے تو میری اور میری بیٹی کی تکلیفیں کچھ بھی نہیں ۔۔ "
حُرّہ پر بیتی ستم ظریفی سن کر وہ لہجے میں دکھ لیے بولیں تھیں
" تمہاری تو ایک سال کی بچی بھی آزمائش سے گزر رہی ہے ۔۔ "
وہ مزید بولیں تو حُرّہ نے دعا کا مرجھایا سا چہرہ دیکھا
" مجھ بد نصیب کا سایہ میری بچی پر پڑ گیا ۔۔"
حُرّہ ، دعا کے چھوٹے چھوٹے ہاتھ چومتی بولی
" ایسے مت کہو بیٹی۔۔ تم تو وہ خوش نصیب ہو جسے خدا نے آزمائش کے لیے چنا ہے ۔۔ جو لوگ دکھ میں ، اذیت میں ہوتے ہیں ہم لوگ انہیں بدنصیب تصور کرتے ہیں ۔۔ کہ دیکھو کتنا بدنصیب ہے کہ اس کے ساتھ یہ ہوا ۔۔ مگر ہم یہ نہیں جانتے کہ خدا تو انہیں کو آزمائش میں ڈالتا ہے جو اس کے قریب تر ہوتے ہیں ۔۔ جو اسے عزیز ہوتے ہیں ۔۔ سنا نہیں کے خدا بہترین سے نوازنے سے پہلے آپ کو بدترین سے گزارتا ہے ۔۔ مشکل کے ساتھ آسانی ہے ۔۔ تمہیں اور تمہاری بیٹی کو دیکھ کر تو مجھے اور میری بیٹی کو ہمت ملی ہے ۔۔ ورنہ ہم تو شکوے ہی کرتے تھے خدا سے ۔۔ اب تم بھی میری بیٹی ہو یہیں رہو گی اب تم ۔۔ "
فرحت بی بی اٹھ کر حُرّہ کے پاس آئیں اور اسے گلے لگا لیا
" ہاں دعا کے آنے سے تو ہمارے ویران گھر میں رونق آ گئی ہے ۔۔ "
تہمینہ بھی اٹھ کر دعا کے پاس آئی اور اسے پیار کرنے لگی
" دیکھا چھوٹی بی بی خدا ایسے وسیلے بناتا ہے ۔۔ کہ ہماری سوچ بھی وہاں تک نہیں جاتی ۔۔"
ناہید بھیگی آواز میں بولی تو حُرّہ نے اس کی بات پر نم آنکھوں سے اسے دیکھا اور پھر سر ہلایا
وہ تیز تیز قدم بڑھاتا حویلی کے مردان خانے میں آیا تھا سیل فون ابھی بھی کان سے لگا تھا
" کہاں ہو تم ۔۔ ؟؟"
عالیان کے کال پک کرتے ہی عباس نے پوچھا تو عالیان جوکہ شام کے اس پہر سڑک کے کنارے گاڑی میں بیٹھا سگریٹ نوشی کر رہا تھا عباس کے پوچھنے پر سٹپٹا گیا
" مم میں بس آفس سے گھر جا رہا تھا ۔۔ "
عالیان نے بات گول مول کی
" ہممم ۔۔ تم نے کہا تھا کہ تم نورے کا رشتہ لے کر آنا چاہتے ہو ۔۔ ان سے شادی کرنا چاہتے ہو ۔۔ !"
عباس کی بھاری آواز فون سے ابھری تو عالیان اس کی بات سنتا سیدھا ہو بیٹھا
" ہہ ہاں ایسا ہی کہا تھا میں نے مگر تم نے کہا تھا کہ تم اپنے بابا سردار سے پہلے بات کرو گے اس بارے میں پھر جواب دو گے ۔۔ "
عالیان نے دل تھامے بات کی تصدیق کی
" ہاں میری بات ہو گئی ہے بابا سرکار سے ۔۔ ہمیں یہ رشتہ قبول ہے ۔۔ تم ایسا کرو انکل کے ساتھ حویلی آ جاؤ ہم آج ہی نکاح کرنا چاہتے ہیں ۔۔ رخصتی کچھ عرصے بعد کر لیں گے ۔۔ "
عباس نے جیسے اسے خوشی کی نوید سنائی تھی وہ اپنی جگہ منجمد رہ گیا تھا
" کیا ہوا ۔۔ چپ کیوں ہو گئے۔۔ ؟"
عالیان کی خاموشی محسوس کرتا وہ پوچھ رہا تھا
" نن نہیں ۔۔ کچھ نہیں ۔۔ یہ خبر سنانے پر عباس اگر تم اس وقت میرے سامنے ہوتے تو گلے لگا لیتا تمہیں ۔۔ "
عالیان کے لہجے سے ہی خوشی عیاں تھی عباس نے پرسکون ہوتے ہوئے کال کاٹ دی
اب سب سے بڑا مرحلہ نورے سے بات کرنا تھا وہ جانتا تھا اگر وہ نورے سے بات نہیں بھی کرے گا تب بھی وہ بےضرر سی لڑکی اس کے ایک بار کہنے پر نکاح کے لیے رضامند ہو جائے گی مگر کس دل سے راضی ہو گی وہ یہ بھی جانتا تھا
کچھ انتظام کرنے کے بعد وہ وہیں مردان خانے میں موجود کرسی پر بیٹھ گیا
" نورے بی بی کو کہو میں نے بلایا ہے انہیں ۔۔ "
پاس کھڑے ملازم کو حکم دیتا وہ موبائل سکرین پر نگاہیں جمائے ٹانگ پر ٹانگ چڑھائے بیٹھ گیا
وہ کمرا بند کیے بیڈ پر لیٹی بلند آواز میں سسکیاں بھر رہی تھی جب دروازے پر دستک ہونے لگی اور ہوتی رہی تنگ آ کر نورے اٹھی اور دروازہ کھولا
" چلی جاؤ یہاں سے مجھے پریشان مت کرو ۔۔ "
سامنے کھڑی ملازمہ پر وہ چلائی تھی جبکہ ملازمہ اس کو روتا چیختا دیکھ کر بوکھلاہٹ کا شکار ہوئی
" و وہ بب بی بی جی ۔۔ سرداد نے آپ کو مردان خانے میں بلایا ہے ۔۔ "
وہ سر جھکائے بولی
" کک کون سے سرداد نے ۔۔ "
یکدم گھبرا کر نورے نے دریافت کیا
" چھوٹے سردار نے ۔۔ "
ملازمہ نے کہا اور اسے دیکھنے لگی جس کی آنکھیں ساکن ہو چکیں تھیں
" تم جاؤ ۔۔ مم میں آتی ہوں ۔۔ "
" بی بی جی چھوٹے سردار نے حکم دیا ہے ۔۔ آپ کو ساتھ لے کر آؤں ۔۔ "
ملازمہ مزید بولی تو نورے نے آنسو پونچھے اور سر پر دوپٹہ درست کرتی کمرے سے نکلی اس کے قدم دھیمے انداز میں آگے بڑھ رہے تھے مردان خانے میں داخل ہو کر سیدھا نگاہ عباس پر پڑی جو موبائل پر کسی سے بات کرنے پر مصروف تھا اسے دیکھ کر کال کاٹ کر اٹھ کھڑا ہوا
" آپ سے ایک بات کرنی ہے نورے ۔۔ امید ہے آپ بہتر فیصلہ کریں گی ۔۔ پہلے ہی کہہ دوں کہ آپ کی مرضی میرے لیے بہت اہم ہے ۔۔ "
نورے کی نم آنکھوں سے نگاہیں چرائے وہ اپنے مخصوص دھیمے انداز میں بول رہا تھا جبکہ نورے اس کا چہرہ دیکھ رہی تھی
" آپ سب طے کر تو چکے ہیں ۔۔ پھر بات کرنے کو کیا رہ گیا چھوٹے سردار ۔۔ ؟"
نورے کے لہجے میں طنز کی آمیزش تھی عباس نے لب بھینچے بےشک وہ نورے پر کوئی بھی فیصلہ مسلط نہیں کرنا چاہتا تھا مگر یہ بھی سچ تھا کہ اسے ایسا کرنا پڑ رہا تھا
" آپ سب سن چکی ہیں نورے ۔۔ مگر پھر بھی میں یہ کہنا چاہتا ہوں ۔۔ کہ آج عشاء کے بعد ہم نے نکاح رکھا ہے آپ کا ۔۔ ایک جاننے والے ہیں ۔۔ یقیناً ہمارا یہ فیصلہ غلط نہیں ہو گا ۔۔ "
عباس دھیمے انداز میں بولتا رخ دوسری جانب کر چکا تھا جبکہ اس کی بات سن کر کئی پل نورے اپنی جگہ ساکت کھڑی رہی تھی پھر تلخ سا مسکرائی
" بہت خوب سردار ۔۔ اپنے سر سے بوجھ اتارنے کا بہترین راستہ چنا ہے آپ نے ۔۔ مجھے کسی کے کھونٹے سے باندھنے کا ۔۔ "
وہ لہجے میں تلخی لیے بولی تھی
" آپ کسی پر بھی بوجھ نہیں ہیں نورے ۔۔ آپ کا اس حویلی پر اتنا ہی حق ہے جتنا کہ میرا ۔۔ "
نورے کے تلخ انداز پر بھی عباس کا مخصوص نرم انداز قائم تھا
" ہرگز نہیں چھوٹے سردار ۔۔ میرا کیا مقابلہ آپ سے ۔۔ آپ سردار شیر دل کے اکلوتے وارث ہیں ۔۔ یعنی گاؤں اور حویلی کے سرداد ۔۔ اور میں ۔۔ مم میں تو اس حویلی کی وہ بیٹی ہوں ۔۔ جسے خاندانی اصولوں اور عزت کی خاطر قربان کر دیا جانا کوئی بڑی بات نہیں ۔۔ "
نورے مزید تلخ ہوئی تھی کس قدر تکلیف دہ تھا اس کے لیے کسی اور کے ساتھ اپنا نام جوڑنا
" ایسا ہرگز نہیں ہے ۔۔ ٹھیک ہے اگر آپ رضامند نہیں ہیں اس نکاح پہ تو ٹھیک ہے یہ نکاح نہیں ہو گا ۔۔ "
عباس کے کہنے پر نورے کی آنکھوں میں نمی اتری تھی
" ہماری کیا مجال چھوٹے سردار کہ آپ کے فیصلے سے بغاوت کریں ۔۔ "
پلکیں جھپکائے وہ آنسوؤں کو بہنے سے روکتی بولی
" زندگی آپ کی ہے ۔۔ فیصلہ بھی آپ کا ہو گا ۔۔ آپ اگر نہیں چاہتی ایسا تو ٹھیک ہے نہیں ہو گا ۔۔ "
نورے کی آنکھوں میں چمکتے موتی دیکھ وہ نگاہیں جھکا کر بولا تھا
" ہم تیار ہیں نکاح کے لیے ۔۔ "
عباس کے جھکے سر کو دیکھتی وہ لمحے بعد بولی
"کسی قسم کا جبر نہیں کیا جائے گا آپ کے ساتھ ۔۔ آپ سوچ سمجھ لیں ہم نکاح کسی اور دن رکھ لیں گے ۔۔"
نورے کے اچانک بولنے پر عباس نے اسے دیکھتے ہوئے کہا تو نورے نے اپنا رخ موڑ لیا
" اگر آپ بڑے سردار کو کہہ چکے ہیں کہ آج ہی نکاح ہوگا میرا تو ۔۔ پھر یہ بات کہنے کا کیا فائدہ ۔۔ جبکہ میں جانتی ہوں ۔۔ سرداد اپنی زبان سے نہیں پھرتا ۔۔ "
نورے طنزیہ انداز میں بولی تھی
" کسی کے احساسات سے بڑھ کر کچھ بھی نہیں ہوتا ۔۔ اگر آپ رضامند نہیں ہیں تو میں زبردستی نہیں کر سکتا آپ کے ساتھ ۔۔ "
نورے کے رخ موڑنے پر عباس بے چین ہوا تھا فوراً کہتا ہوا نورے کو منتظر نگاہوں سے دیکھنے لگا
" میں ایک شرط پر نکاح کے لیے راضی ہوں گی ۔۔ "
وہ ہنوز اسی طرح کھڑی گویا ہوئی آواز بھیگی ہوئی تھی
" جی کہیے ۔۔ "
" آج ہی رخصت ہونا چاہتی ہوں ۔۔ "
چند لمحوں بعد جب وہ بولی تو عباس کو منجمد کر گئی
" نن نورے ۔۔ "
" اگر آج نہیں تو کبھی نہیں ۔۔ "
وہ کہتی ہوئی بھاگتے ہوئے آگے بڑھ گئی
" یا اللہ میری مدد کر ۔۔ "
طویل سانس لیتا وہ حویلی کے اندرونی حصے کی جانب بڑھ گیا
//////////////////////////
کپکپاتے ہاتھوں اور لرزتے دل سے اس نے نکاح نامے پر دستخط کرنے کے لیے قلم پکڑا وہ نہیں جانتی تھی کہ جسے اپنی زندگی سونپ دی وہ کون ہے کیسا ہے کیا وہ جانتا ہے کہ اس کی بیوی کسی کو پہلے سے دل میں بسائے ہوئے تھی مگر نورے نے بہتے آنسوؤں کو سختی سے پونچھا
" خدا کو حاضر ناظر جان کر آج میں یہ نکاح کرتی ہوں ۔۔ خدا شاہد رہنا آج میں نے عباس نامی شخص سے صرف تیری رضا کی خاطر ہر دلی تعلق منقطع کر لیا ۔۔ تو مجھے اس مقام تک لایا کہ میں جان گئی محبت صرف تیری ہے جو ہمیشہ باقی رہے گی ۔۔ کسی نامحرم کو دل میں بسانا میری غلطی تھی ۔۔ میرے مالک میں معافی مانگتی ہوں تجھ سے ۔۔ "
دل میں خالق سے مخاطب وہ نکاح نامے پر دستخط کر چکی تھی اور سرد آہ بھرتی آنکھیں میچ گئی
پاس کھڑی ناعمہ بی بی ساکن نگاہوں سے اسے دیکھ رہیں تھیں سفید سادے جوڑے میں سرخ دوپٹہ اوڑھے شفاف چہرہ کسی بھی آرائش و آسائش کے بغیر وہ کتنی سادہ دلہن تھی جس کی آنکھیں اس کے اندر چلتے طوفان کا پتہ دے رہیں تھیں کیا سوچا تھا انہوں نے اپنی بیٹی کے لیے اور کیا ہو گیا تھا کس حد تک چلی گئیں تھیں وہ اپنی بیٹی کی خوشیوں کی خاطر کہ کسی بے قصور کے ساتھ کتنا بڑا ظلم کر چکیں تھیں عباس تو ان کی بیٹی کا پھر بھی نہ ہو سکا تھا جانے سردار شیر دل اور سردار بی بی کیوں خاموش تھے انہیں بھی تو عباس نے سرسری سا بتایا تھا کہ نورے کا نکاح کر کے اسے شہر کے لیے رخصت کر رہے ہیں اب سرداروں کے فیصلے کے آگے بولنے کی جرات وہ کہاں کر سکتیں تھیں
مگر ان کا دل عجیب گھٹن کا شکار ہو رہا تھا جیسے حُرّہ کے آنسو ، اس کی آہیں ان کا سانس روک دیں گیں نورے کو مبارک باد دینے کے بجائے انہوں نے باہر کی راہ لی
جبکہ سردار شیر دل نے آگے بڑھ کر نورے کے سر پر ہاتھ رکھا تھا ان کے بیٹے نے خاندان سے بغاوت کر کے یہ فیصلہ کیا تھا مگر وہ بیٹے کی دل دہلا دینے والی بات سے ڈر گئے تھے ایک واحد عباس کا سہارا ہی تو تھا انہیں اگر وہ کچھ لیتا خود کو تو کس سے شکوہ کرتے وہ جانتے تھے کہ عباس پہلے ہی اپنی بیوی اور بیٹی کی وجہ سے پریشان تھا جذبات میں آ کر کہیں کچھ غلط ہی نہ کر لے اسی لیے خاموشی سے عباس کا فیصلہ مان لیا بغیر کچھ کہے وہ بھی کمرے سے نکل گئے
جبکہ سردار بی بی خود بھی صدمے میں تھیں بچپن سے انہوں نے نورے کو اپنی بہو بنانے کے خواب دیکھے تھے مگر انسان کے چاہنے نا چاہنے سے کیا ہوتا ہے جو خالق نے جس کے نصیب میں لکھ دیا ہو اسے وہی ملتا ہے پھر انسان کتنی ہی سازشیں ، مکاریاں کرتا رہے اسے حاصل کرنے کے لیے جو اس کی تقدیر میں ہوتا ہی نہیں وہ کبھی بھی نہیں ملتا نورے کو دیکھتی سردار بی بی وہیں کرسی کا سہارا لیے بیٹھ گئیں تھیں
" تم چاہ بھی نہیں سکتے اگر اللہ نہ چاہے "
( التکویر 29 )
/////////////////////////
نورے کی شرط کے مطابق وہ نکاح کے بعد اسے رخصت بھی کر چکا تھا مگر دل کو یہ بات اذیت دے رہی تھی کہ نورے کے جذبات کو کسی نے کبھی اہمیت نہیں دی تھی آج بھی اچانک اسے نئے بندھن میں باندھ کر اس نے پھر نورے کے ساتھ بظاہر زیادتی کی مگر وہ جانتا تھا عالیان ، نورے کے دل کو اپنی محبت سے جیت لے گا عالیان میں آتے بدلاؤ کو وہ نوٹ کر چکا تھا مگر یہ نہیں جانتا تھا کہ وہ بدلاؤ نورے کی محبت میں آیا ہے
" حُرّہ کہاں ہیں آپ ۔۔ ؟؟ آئی مس یو جانم ۔۔ دعا کیسے رہتی ہو گی ۔۔ کہاں ہیں آپ دونوں ۔۔ پتہ ہے کتنا انتظار کرتا ہوں آپ دونوں کا ۔۔ آپ دونوں زندگی ہیں میری ۔۔ کیوں دور چلی گئیں ہیں مجھ سے ۔۔ کیا میں اچھا شوہر نہیں ہوں آپ کا ۔۔ کیوں حُرّہ کیوں نہیں مل رہیں آپ مجھے ۔۔ میرے خدا میری بیوی اور بیٹی کی حفاظت کرنا ۔۔ میں نے انہیں تیری ضمانت میں دیا ۔۔ میں جانتا ہوں ۔۔ میرا دل گواہی دے رہا ہے کہ وہ دونوں ٹھیک ہیں کیونکہ میرا دل اپنی رفتار پر چل رہا ہے ۔۔ آپ دونوں میری دھڑکن ہیں ۔۔ "
موبائل کی سکرین پر جگمگاتی کھلکھلاتی حُرّہ اور دعا کی تصویر کو چھوتے ہوئے وہ تخیر میں ان سے مخاطب تھا
" جانم آ جائیں نا ۔۔ اب تو سارے وسوسے دور ہو گئے ۔۔ اب تو کوئی گلٹ نہیں رہا کہ نورے کے ساتھ زیادتی ہوئی ہے ۔۔ نہیں رہا جاتا آپ کے اور دعا کے بغیر ۔۔ پلیز آ جائیں ۔۔ پلیز جانم ۔۔ "
جذبات سے چور انداز میں بولے ہوئے وہ آنکھیں میچ گیا
//////////////////////////
" آج کہاں گئی تھی حُرّہ تم ۔۔ ؟؟"
وہ ابھی کمرے میں داخل ہی ہوئی تھی کہ تہمینہ جو کہ دعا کو گود میں لیے بیٹھی تھی اسے دیکھتے ہی مخاطب کیا
" نوکری تلاش کرنے گئی تھی ۔۔ "
دوسری چارپائی پر بیٹھتے ہوئے حُرّہ نے عام سے انداز میں جواب دیا
" ہم نے تمہیں منع بھی کیا تھا ۔۔ دعا ابھی چھوٹی ہے ۔۔ ایسے میں تم بچی کو چھوڑ کر نوکری کرو گی ۔۔ ؟؟ ہم ہیں نا ۔۔ اپنا بھی تو گزارا کرتے ہیں نا سلائی کر کے تمہاری روٹی کیا بھاری ہے ہم پہ ۔۔ "
خفگی سے کہتی ہوئی وہ حُرّہ کو بلکل بڑی بہن لگی تھی
" دعا کا مسئلہ نہیں ہے وہ تو آپ سب کے پاس رہ لیتی ہے ۔۔ اب کافی بہتر ہو گئی ہے شکر ہے ۔۔ لیکن میں ایسے ہاتھ پہ ہاتھ رکھ کے تو نہیں بیٹھ سکتی ۔۔ اگر آپ لوگوں کا ہاتھ بٹا دوں گی تو کوئی فرق نہیں پڑے گا میری شان میں ۔۔ "
حُرّہ نے بھی اس کو اسی کے انداز میں پچکارا تھا چند دن میں ہی فرحت بی اور تہمینہ کے اچھے اخلاق اور ہمدرد طبیعت نے انہیں آپس میں مانوس کر دیا تھا
" تو پھر کیا بنا نوکری کا ۔۔ ؟"
تہمینہ اندازہ لگا چکی تھی کہ حُرّہ خود دار لڑکی ہے وہ اپنے اخراجات کے لیے ان سے پیسہ نہیں لے گی اس لیے بات بدلتے ہوئے پوچھنے لگی
" ڈوکیومینٹس نہیں ہیں میرے پاس ۔۔ سب کچھ گاؤں میں ہے ۔۔ ظاہر ہے نوکری ملنا اس طرح مشکل ہے ۔۔ مگر ایک سکول میں گئی تھی میں ۔۔ انہوں نے کہا ایک ہفتہ دیکھیں گے پھر بتائیں گے ۔۔تو کل سے جاؤں گی پھر ۔۔ "
تفصیلاً بتاتے ہوئے حُرّہ چارپائی پر چٹ لیٹ گئی مگر اس کی باتوں کی آواز سن کر دعا نے ماں کے پاس جانے کے لیے شور مچا دیا تو تہمینہ اسے لیے حُرّہ کے پاس آئی اور اس کے برابر لٹا دیا
" دیکھو تو ماں کے پاس آ کر کیسے خوش ہو گئی ہے ۔۔ "
دعا کو کھلکھلاتے دیکھ کر تہمینہ مسکراتے ہوئے بولی اور کمرے سے چلی گئی جبکہ حُرّہ نے دعا کو اپنے سینے میں بھینچ لیا کتنی مشکل سے دعا سنبھلی تھی ورنہ کتنا یاد کرتی تھی وہ باپ کو کہ رو رو کر کئی روز بیمار رہی تھی
" میری گڑیا بھی بابا کو مس کرتی ہے نا ۔۔ بس ماما کی طرح آپ نے بھی صبر کر لیا ہے ۔۔ "
دعا کے ننھے ننھے ہاتھوں کو چومتے ہوئے وہ بول رہی تھی
" بابا بھی مس کرتے ہوں گے۔۔ لیکن ہمیں ان کے لیے ہمیشہ دعا کرنی ہے کہ خدا ان کو خوش رکھیں ۔۔ ان کی حفاظت کریں ۔۔ "
عباس کو عقیدت سے یاد کرتے ہوئے وہ دعا کے ساتھ ایسے باتیں کر رہی تھی جیسے وہ اس کی باتیں سمجھ رہی ہے وہ ایسے ہی عباس کی باتیں دعا سے کرتی تھی آگے سے دعا کھلکھلاتی تھی
" جن ماؤں کی آزمائشیں زیادہ ہوتی ہیں نا دعا ۔۔ ان کی بیٹیوں کے نصیب بھی ایسے ہی ہوتے ہیں ۔۔!! مگر کہتے ہیں دعائیں تقدیریں بھی بدل دیتی ہیں ۔۔ اور ماں کی دعائیں تو عرش ہلا دیتی ہیں ۔۔ !! خدا کرے تمہارے نصیب بہت اچھے ہوں ۔۔ "
دعا کے بالوں کو سہلاتے ہوئے وہ بولی تو ایک آنسو پلکوں کی باڑ سے جھلک کر بالوں میں جذب ہو گیا
" میرے مالک کیا امتحان محض ہمارے لیے ہیں ۔۔ جو اتنا برا کرتے ہیں دوسروں کے لیے وہ تو اپنی زندگی میں مگن ہیں ۔۔ میں اور میری بچی ۔۔ !!"
بولتے ہوئے وہ سسک اٹھی تھی کہ بات مکمل نہ کر سکی پھر خود کو مضبوط کرتے ہوئے اس نے آنسو پونچھے
" میرے مالک ہر حال میں تیرا شکر ۔۔ "
طویل سانس لیتے ہوئے وہ بولی
" آپ کا صبر کسی کے لیے بددعا ہی ہوتا ہے ۔۔ وقت آنے پر ہر انسان اپنے کیے کا پا لیتا ہے ۔۔
صبر کرنا یا نا کرنا آپ کے اختیار میں ہے ۔۔
معاف کر دینا آپ کے اجر کو بڑھا دیتا ہے اور اس معافی کے بدلے میں ہو سکتا ہے کوئی انعام خالق نے آپ کے لیے رکھا ہو ۔۔
مگر بدلا لینے کا حق بھی آپ کو ہے ۔۔ لیکن اگر آپ صبر کر رہے ہیں تو بےشک وہ زیادہ افضل ہے ۔۔
کسی بھی صابر انسان سے ززیادہ بہادر کون ہو سکتا ہے ۔۔ صبر بذدل انسان کر ہی نہیں سکتا ۔۔ صبر تو بہادر لوگ کرتے ہیں ۔۔ جو خالق کی رضا میں راضی رہنا جانتے ہیں ۔۔
اپنے صبر پر پچھتائیں مت بس خدا پر چھوڑ دیں ۔۔
بےشک اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے ۔۔ "
یہ سب سوچتے ہوئے اس کے دل میں سکون اترا
//////////////////////
گاڑی میں مکمل خاموشی تھی وہ اس کے ساتھ فرنٹ سیٹ پر اس کی بیوی کی حیثیت سے براجمان تھی خواب ایسے بھی پورے ہوتے ہیں عالیان نے سوچا بھی نہیں تھا سب کچھ اتنا اچانک ہوا تھا کہ اسے سب خواب لگ رہا تھا کہ ابھی آنکھ کھلے گی اور منظر بدل جائے گا مگر یہ حقیقت تھی وہ بہت خوش تھا کہ وہ لڑکی جسے اس نے چاہا وہ آج اسے زندگی میں شامل کر چکا تھا
گاڑی ڈرائیور کرتے ہوئے وہ وقتاً فوقتاً نگاہ نورے پر بھی ڈال لیتا تھا جو گاڑی کے دروازے کے ساتھ چپک کر سر جھکائے بیٹھی تھی دوسری جانب نورے بے حس و حرکت بیٹھی تھی اس کی سوچیں بلکل مفلوج ہو چکیں تھیں اس نے ایک نظر عالیان کو دیکھا تھا وہ پہچان گئی تھی اسے کہ وہ عباس کا دوست ہے مگر کسی طرح کی بات ابھی تک ان دونوں کے درمیان نہیں ہوئی تھی
طویل سفر کے بعد گاڑی ایک خوبصورت بنگلے میں داخل ہوئی عالیان گاڑی سے نکل کر نورے کی جانب آیا اور دروازہ کھول کر ہاتھ بڑھایا نورے ساکن نگاہوں سے اس کے ہاتھ کو دیکھ رہی تھی جو اسے منتظر نگاہوں سے دیکھ رہا تھا
گود میں رکھا کپکپاتا ہاتھ عالیان کے ہاتھ پر رکھا ایک دلکش مسکراہٹ نے اس پل عالیان کے لبوں کو چھوا
عالیان کی تقلید میں وہ گھر میں داخل ہوئی سامنے عالیان کے ڈیڈ سوٹ بوٹ پہنے ان سے پہلے گھر پہنچ چکے تھے
" ویک کم میرے بچوں ۔۔ "
نورے کے سر پر شفقت بھرا ہاتھ رکھتے ہوئے وہ خوش دلی سے بولے
" ڈیڈ ۔۔ !"
ان کو پکارتا عالیان آگے بڑھ کر ان کے سینے سے لگ گیا
" جانتے ہو آج تم نے خوش کر دیا مجھے ۔۔ زندگی کا سب سے اچھا فیصلہ کیا ہے تم نے ۔۔ ویل ڈن مائی سن ۔۔ ایسی ہی خاندانی لڑکی کو تمہاری زندگی میں چاہتا تھا میں ۔۔ "
بلند آواز میں بولتے ہوئے انہوں نے عالیان کی پیٹھ تھپکی جبکہ پاس سر جھکائے کھڑی نورے نے عالیان کے ہاتھ میں مقید اپنے ہاتھ کو کھینچنے کی کوشش کی مگر عالیان نے گرفت مزید مضبوط کر لی
" چلو اب بہو کو روم میں لے چلو ۔۔"
ان کے حکمیہ انداز میں کہنے پر عالیان نے سر ہلایا اور نورے کا ہاتھ تھامے اپنے کمرے کی جانب بڑھا
آہستہ آہستہ چلتے ہوئے جب وہ دونوں کمرے میں داخل ہوئے تو ان کا استقبال گلاب کی مہک نے کیا خوبصورت سجاوٹ کو دیکھ کر دونوں نفوس کے دل تیزی سے دھڑکے مڑ کر دروازہ بند کرکے وہ نورے کے قریب ہوا تو اس کی آنکھوں میں جذبات کی چمک دیکھ کر نورے کا ہاتھ جو کہ عالیان کے ہاتھ میں مقیم تھا کپکپا گیا
" جانتی ہو اس پل کا بہت انتظار کیا ہے میں نے ۔۔ !"
خمار آلودہ انداز میں کہتا وہ نورے کی کمر میں بازو حمائل کر چکا تھا جبکہ نورے کا لرزتا وجود اسے مزید بہکا رہا تھا جبکہ نورے بری طرح لرز رہی تھی
" بہت خوبصورت ہو تم ۔۔ بلکل اپنے نام کی طرح ۔۔ !"
اس کے لرزتے لبوں پر جھکتا وہ بوجھل انداز میں بولا
" پلیز اب یہ آنسو تمہاری آنکھوں میں نہ دیکھوں نورے ۔۔ "
لبوں کے بعد وہ اس کی بند آنکھوں سے بہتے آنسوؤں کو چنتا ہوا نہایت نرمی سے گویا ہوا اور رک کر اس کا سرخ چہرہ دیکھنے لگا
" میں جانتا ہوں سب بہت جلدی میں ہوا ۔۔ تمہارے لیے مشکل ہے سب کچھ قبول کرنا ۔۔ لیکن کوشش ہم دونوں کو کرنی ہے تاکہ ہم ایک کامیاب زندگی گزار سکیں ۔۔ ! "
نورے کے بالوں کو کان سے پیچھے کرتے ہوئے وہ گویا ہوا جبکہ نورے اس کی جسارتوں پر بے حال ہو رہی تھی نگاہیں اٹھانا اس کے لیے محال تھا بلاشبہ سامنے کھڑا شخص اس کے حواسوں پر سوار ہو رہا تھا
" لیکن نئی زندگی کو شروع کرنے کے نام پر میں تم پر کسی قسم کی زبردستی نہیں کروں گا ۔۔ "
سنجیدہ انداز میں کہتا وہ نورے سے جدا ہو چکا تھا جبکہ اس کے پیچھے ہونے پر نورے نے اسے چونک کر دیکھا بےشک وہ اسے سمجھنے سے قاصر تھی
" تم ریسٹ کرو ۔۔ گڈ نائٹ ۔۔ "
مسکرا کر کہتے ہوئے وہ کوٹ کو اتارتا ٹیرس کی جانب بڑھ گیا جبکہ نورے منجمد وہیں کھڑی رہ گئی