" میں جانتا ہوں عباس تم اس وقت بھابھی اور دعا کی وجہ سے بہت پریشان ہو مگر مجھے تم سے ایک بہت ضروری بات کرنی ہے ۔۔ پہلے ہی بہت دیر کر چکا ہوں میں ۔۔ مزید دیر کرکے اپنا سب کچھ نہیں کھونا چاہتا ۔۔ !"
وہ دونوں اس وقت عباس کے آفس میں بیٹھے تھے عالیان نے بات کا آغاز کیا تو عباس نے ناسمجھی سے اسے دیکھا
" کیا بات ہے عالیان سب ٹھیک ہے نا ۔۔ کہو کیا کہنا چاہتے ہو ۔۔"
عباس نے پوری طرح عالیان کی جانب متوجہ ہوتے ہوئے پوچھا
" تمہاری کزن نورے کا رشتہ بھیجنا چاہتا ہوں ۔۔ شادی کرنا چاہتا ہوں ان سے ۔۔"
عالیان نے عباس کو دیکھتے ہوئے کہا تو عباس کے ماتھے پر بل پڑے جنہیں دیکھ کر عالیان نے تھوک نگلا
////////////////////////
" بی بی جی چھوٹی بی بی کو بہت تیز بخار ہے ۔۔ رو رو کر بچی کا برا حال ہے ۔۔ میرے خیال سے پہلے اسپتال لے چلتے ہیں بچی کو ۔۔ "
ناہید نے حُرّہ کو دعا کو سینے سے لگائے سسکتے دیکھ کر خود بھی روتے ہوئے کہا
" جلدی چلیں پلیز ۔۔ اا اگر مم میری بچی کو کچھ ہو گیا تو ۔۔ !"
ناہید کی بات پر حُرّہ نے بے بسی سے کہا اور تیز تیز چلنے لگی
شہر جانے والی گاڑی پر سوار وہ سرکاری ہسپتال پہنچی تو دعا کی حالت تشویشناک بتائی گئی فوراً ایمرجنسی میں داخل کیا گیا کوریڈور میں بیٹھی حُرّہ کی سانسیں بھی مدھم ہو رہیں تھی
زیر لب اپنی بیٹی کی زندگی کی دعائیں تھیں آنسو مسلسل چہرے پر بہہ رہے تھے دل میں عجیب وسوسے تھے کہ اگر دعا کو کچھ ہو گیا تو ؟؟ اس سے آگے حُرّہ کی سوچیں ہی مفلوج ہو رہیں تھیں دل اپنی بیٹی کو کھو دینے کے ڈر سے خوفزدہ تھا
" بی بی جی کچھ کھا لیں ۔۔ "
ناہید بسکٹ کا پیکٹ حُرّہ کی جانب کرتے ہوئے کہہ رہی تھی حُرّہ نے نفی میں سر ہلایا
" بی بی جی ۔۔ چھوٹی بی بی کو کچھ نہیں ہو گا ۔۔ "
اس نے حُرّہ کو تڑپتے دیکھ کر تسلی دی
" پلیز دعا کریں ۔۔ میری بچی ٹھیک ہو جائے ۔۔ ۔۔"
حُرّہ نے ناہید کو دیکھتے ہوئے کہا
" میں قربان بی بی جی اپنے چھوٹے سردار کی اولاد کے ۔۔ خدا لمبی زندگی دے ہماری دعا بی بی کو ۔۔ "
ناہید عقیدت سے حُرّہ کو دیکھتے دعا دی
"میں نے سب کھو دیا ہے ناہید باجی ۔۔ سب کھو دیا ۔۔ بب بابا ۔۔ مم ماں ۔۔ سرداد کک کو بھی ۔۔ اب دعا کے علاوہ کوئی نہیں میرا ۔۔ دعا میرے جینے کی وجہ ہے ۔۔ ورنہ سرداد کے بعد میرے وجود میں روح کہاں باقی ہے ۔۔ مردہ وجود لیے پھر رہی ہوں ۔۔ صرف اپنی بچی کی خاطر ۔۔ !"
حُرّہ کھوئے کھوئے انداز میں بولی تھی کہ اس کا انداز اور چہرہ اس پر بیتے ظلم و ستم کی داستان بیان کر رہا تھا
ناہید اس کی تکلیف محسوس کرتی خود بھی چہرہ جھکائے رونے لگی جبکہ کچھ فاصلے پر بیٹھی ایک خاتون جو مسلسل اسی کو دیکھ رہیں تھیں حُرّہ کی باتوں اور چہرے سے جھلکتے دکھ کو محسوس کرتی اپنی آنکھوں میں آئی نمی کو چادر کے کونے سے صاف کرتی اٹھیں اور حُرّہ کے برابر آ بیٹھیں
" بیٹی ہمت کرو ۔۔ تمہیں دیکھ تو ہمارا دل تڑپ رہا ہے ۔۔ خدا تمہاری بیٹی کو صحت دے گا ۔۔ مت رو ۔۔ "
وہ حُرّہ کے سر پر ہاتھ رکھ کر اسے دعا دیتیں گویا ہوئیں تو ناہید اور حُرّہ اس انجان عورت کی جانب متوجہ ہوئیں
اس کی دعائیں دینے پر حُرّہ کو مزید رونا آیا وہ سسک اٹھی تو اس خاتون نے اسے شفقت سے گلے لگا لیا
" کک کتنے گھنٹے ہو گئے ۔۔ مجھے میری بچی سے بھی ملنے نہیں دے رہے ۔۔ پپ پتہ نہیں کیسی ہے ۔۔ پپ پلیز دعا کریں ۔۔ وو وہ بہت چھوٹی ہے ۔۔ ایک سال کی بچی کک کو اتنی مشینوں میں جکڑا ہوا ہے۔۔ "
حُرّہ بتاتے ہوئے پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی تو وہ خاتون اور ناہید بھی رونے لگیں تھیں
" کچھ نہیں ہوگا بیٹی تمہاری بچی کو ۔۔ "
انہوں نے حُرّہ کے آنسو پونچھتے ہوئے تسلی دی
" بچی کا باپ کہاں ہے ۔۔ ؟؟"
کچھ دیر بعد ان خاتون نے حُرّہ کو دیکھتے پوچھا تو حُرّہ کے چہرے پر اذیت کے کئی رنگ آئے جو ان خاتون نے اپنے تجربے اور عمر کے باعث فوراً محسوس کیا جبکہ ان کے سوال پر ناہید بھی بوکھلا گئی
اس سے پہلے حُرّہ مزید مشکل میں پڑتی ڈاکٹر کے آنے پر تینوں اس کی جانب متوجہ ہوئیں جبکہ حُرّہ ڈاکٹر کی سمت بڑھی
" میری بیٹی کیسی ہے ڈاکٹر صاحب ۔۔ ؟"
حُرّہ لہجے میں فکرمندی لیے پوچھنے لگی
" جی اب بہتر ہے آپ کی بیٹی کی طبیعت ۔۔ "
ڈاکٹر کے تسلی بخش جواب پر حُرّہ سمیت باقی دونوں نفوس کے بھی رکے سانس بحال ہوئے
" میں مل لوں ۔۔ "
" جی ۔۔"
ڈاکٹر کے اجازت دینے پر حُرّہ کمرے کی جانب لپکی
دو دن میں دعا کی طبیعت کچھ بہتر تھی مگر ڈاکٹر کی ہدایت کے مطابق ابھی کچھ دن اسے انڈرابزرویشن رکھنا تھا مگر حُرّہ مزید ہسپتال کا خرچہ نہیں اٹھا سکتی تھی اسی لیے دو دن بعد ہی اپیل کر کے حُرّہ دعا کو لیے ہسپتال سے نکلی
وہ خاتون جو کہ اپنی دل کے مرض کی دوائیاں لینے آئی تھی وہ حُرّہ کو اس دن کے بعد آج پھر باہر نکلتے ہوئے ملی
" ارے تم جا رہی ہو بچی کو لے کر بیٹی ۔۔ ؟"
وہ حُرّہ کے سامنے آتی پوچھنے لگیں تو حُرّہ نے اثبات میں سر ہلایا
" کیسی ہے اب تمہاری بیٹی ۔۔ ؟؟"
انہوں نے حُرّہ کی گود میں دوائیوں کے زیر اثر سوئی خوبصورت مگر مرجھائی ہوئی بچی کے رخسار پر پیار کرتے ہوئے پوچھا
" اب بہتر ہے ۔۔ دعاؤں میں یاد رکھئے گا ۔۔ "
اس انجان عورت کو اپنی بچی کے لیے پریشان دیکھ کر حُرّہ نے آنسو صاف کرتے ہوئے مدھم آواز میں جواب دیا
" کہاں گھر ہے تمہارا ۔۔ ؟؟"
اثبات میں سر ہلاتے انہوں نے عام سے انداز میں پوچھا مگر حُرّہ اور ناہید کا رنگ زرد پڑا
" کیا ہوا ۔۔ ؟"
باری باری دونوں کے چہرے دیکھ کر فرحت بی بی نے دوبارہ پوچھا اور کھوجتی نگاہوں سے ان دونوں کو دیکھنے لگی
" آؤ میرے ساتھ ۔۔ "
فرحت بی بی نے کچھ سوچ کر حُرّہ کا ہاتھ تھاما اور چلنے لگی جبکہ حُرّہ نے بے بسی سے ناہید کو دیکھا
" جانتی ہوں تم مشکل میں ہو بیٹا مگر ۔۔ اتنی چھوٹی بچی کے ساتھ تمہیں اپنا گھر نہیں چھوڑنا چاہیے تھا ۔۔ "
رش سے ایک طرف ہوتے ہوئے وہ بولیں تو ناہید نے کچھ کہنا چاہا جب حُرّہ نے اشارے سے اسے کچھ بھی بولنے سے روکا
" پتہ ہے کتنے حالات خراب ہیں آج کل کے ۔۔ !"
انہوں نے مزید کہا تو حُرّہ نے سر جھکا لیا
" یہ کیا لگتی ہیں تمہاری ۔۔ ؟"
انہوں نے ناہید کے جانب انگلی سے اشارہ کرتے ہوئے پوچھا
" بڑی بہن ۔۔ "
ناہید کو دیکھتے ہوئے حُرّہ نے جواب دیا تو سرشاری کے احساس کے تحت ناہید کی آنکھوں میں آنسو آ گئے کہ حُرّہ اسے بہن کہہ رہی تھی
" بتاؤں ذرا ساری بات ۔۔ تم دونوں اکیلی بچی کو لے کر دو دن سے اسپتال میں ہو ۔۔ کیا اور کوئی نہیں ہے تمہارا ۔۔ ؟"
انہیں نے اگلا سوال کیا تو حُرّہ نے انہیں دیکھا
" ہم چلتے ہیں ۔۔ "
اس سے پہلے کہ وہ خاتون مزید کوئی سوال کرتیں حُرّہ جانے کے لیے مڑی
" رکو بیٹا ۔۔ "
انہوں نے حُرّہ کا بازو تھام لیا
" میری بھی ایک بیٹی ہے ۔۔ مجھے بیٹیوں کا احساس ہے ۔۔ اور آج کل کے حالات کے مطابق میں تمہیں ایسے نہیں جانے دوں گی ۔۔ چلو میرے ساتھ ۔۔ "
انہوں نے رکشے کی جانب بڑھتے ہوئے کہا جبکہ وہ حُرّہ کا ہاتھ مضبوطی سے تھامے ہوئے تھیں
" مم مگر ۔۔ !"
ان کے ساتھ چلتے ہوئے حُرّہ نے کچھ بولنا چاہا کہ انہوں نے اس کی بات کاٹی
" جب خدا کی ذات پر بھروسہ کر کے نکلی ہو تو یقین رکھو خدا پر ۔۔ یقیناً اس نے وسیلہ بنایا ہے ۔۔"
ان کے جواب پر حُرّہ خاموش ہو گئی یقیناً اس نے سب کچھ خدا پر چھوڑا ہوا تھا وہی اس کی مشکلات آسان کرے گا ابھی بھی خدا کے بھروسے پر وہ اس انجان خاتون کے ساتھ ہو لی
طویل مسافت طے کرنے کے بعد وہ خاتون انہیں لیے حیدرآباد کے ایک عام علاقے میں آئی پھر ایک خستہ حال مکان کے دروازے کو بجایا کچھ دیر بعد ایک چوبیس پچاس برس کی لڑکی نے دروازہ کھولا اپنی ماں کے ساتھ دو انجان نفوس کو دیکھ کر اس کے چہرے پر ناسمجھی کے تاثرات ابھرے جبکہ فرحت بی بی نے حُرّہ اور ناہید کو اندر آنے کا اشارہ کیا اور ایک کمرے میں لیے داخل ہوئی جس میں دو چارپائیاں بچھی ہوئیں تھیں انہوں نے ایک پر حُرّہ کو دعا کو لٹانے کا کہا اور دوسری پر ناہید کو بیٹھنے کا کہا
" تہمینہ پانی اور کھانا لاؤ ۔۔ بہت بھوک لگی ہے ۔۔ "
فرحت بی بی نے سفید چادر کو اتار کر دوپٹہ اچھی طرح لیتے ہوئے بیٹی کو کہا جو کہ نئے چہرے دیکھ کر پہلے ہی حیرت زدہ تھی ماں کے حکم پر سر ہلاتی کمرے سے نکلی
" لیٹ جاؤ آپ دونوں ۔۔ بہت تھکی ہوئی لگ رہی ہو ۔۔ آرام کرو ۔۔ جب تک کھانا آتا ہے "
فرحت بی بی نے باری باری حُرّہ اور ناہید کو دیکھتے ہوئے کہا جو گم سم سی بیٹھیں تھیں ان کے پکارنے پر چونکی مگر بے حرکت رہیں
" ہمارے گھر میں کوئی مرد نہیں ہیں ۔۔ ہم دونوں ماں بیٹی اکیلی رہتی ہیں ۔۔ "
ان دونوں کی جھجھک دیکھتے ہوئے فرحت بی بی نے بتایا مگر وہ دونوں ہنوز ساکت بیٹھیں تھیں
" ہم دونوں ماں بیٹی کا بھی اس دنیا میں کوئی نہیں ہے ۔۔ کوئی بھی نہیں ۔۔ ہم دونوں کئی سالوں سے اکیلے رہتی ہیں ۔۔ میری بیٹی کے شوہر نے اسے چھوڑ دیا ہے اس وقت سے یہ میرے ساتھ رہتی ہے ۔۔ "
فرحت بی بی کے بتانے پر حُرّہ دکھ سے انہیں دیکھنے لگی جو اب اداس سی بیٹھیں تھیں
/////////////////////
" آ جائیں ۔۔ !"
دروازے پر ہوتی مسلسل دستک پر عباس نے نماز سے فارغ ہو کر آنے والے کو اجازت دی اور خود ڈریسنگ ٹیبل سے اپنا موبائل فون اٹھا کر چیک کرنے لگا جب سردار شیر دل اور سردار بی بی کمرے میں داخل ہوئیں
" بابا سرکار ۔۔ مجھے بلوا لیتے آپ ۔۔ "
ماں باپ کو دیکھتے عباس نے موبائل قمیض کی جیب میں ڈالتے ہوئے کہا
" ایسے سمجھو کہ آج ہم تمہارے پاس التجا لے کر آئیں ہیں ۔۔ امید ہے تم ہماری بات پوری کرو گے ۔۔ "
سردار شیر دل عباس کے کاندھے پر ہاتھ رکھے اسے لیے صوفے پر آ بیٹھے جبکہ سردار بی بی بیڈ کے ایک کونے پر ٹک گئیں
" اگر میں استطاعت رکھتا ہوا تو ضرور پورا کروں گا بابا سرکار ۔۔ "
عباس نے انہیں دیکھتے ہوئے کہا جو کافی خوش دیکھائی دے رہے تھے
" ہم نے جمعہ کو نورے اور تمہارا نکاح رکھا ہے ۔۔ "
سردار شیر دل کی بات عباس کو سن کر گئی وہ چند پل تو کچھ بول ہی نہ سکا
" کتنے دن ہو گئے اس لڑکی کو گئے ہوئے ۔۔ اب اس دھوکے باز لڑکی کی یادوں سے نکالو خود کو ۔۔ آگے بڑھو زندگی میں ۔۔ ہم تمہیں پھر سے مسکراتے دیکھنا چاہتے ہیں ۔۔ "
وہ مزید بولے تو عباس نے بے تاثر چہرہ لیے انہیں دیکھا
" جب میں بارہا کہہ چکا ہوں کہ میں دوسری شادی نہیں کرنا چاہتا تو آپ لوگ بار بار کیوں زور دیتے ہیں ۔۔ "
وہ لفظ چبا کرادا کرتا بولا تھا
" تو ابھی وہ بدکردار لڑکی تمہارے حواسوں پر سوار ہے ۔۔ "
سردار بی بی دل میں حُرّہ کو کوسنے دیتی عباس سے مخاطب ہوئیں
" ماں جی وہ لڑکی صرف میرے حواسوں پر نہیں سوار بلکہ ۔۔ میرے دل و دماغ میں بس چکی ہے ۔۔ اور ہمیشہ رہے گی ۔۔ مجھے یقین ہے کہ ایک نا ایک دن وہ مجھے مل جائے گی ۔۔ "
ان کے چہرے کو دیکھتا وہ بولا تو اس کے لہجے سے یقین جھلک رہا تھا
" اس لڑکی کو چھوڑ کر اپنے باپ کی عزت کا بھی سوچ لو ۔۔ سارے گاؤں میں یہ خبر پھیل چکی ہے ۔۔ اگر جمعے کو نکاح نہ ہوا تمہارا اور نورے کا تو کیا عزت رہ جائے گی ہماری ۔۔ دنیا کہے گی سرداد شیر دل اپنی بھتیجی کے ساتھ انصاف نہیں کر سکا ۔۔ "
سردار شیر دل رخ عباس کی جانب کرتے ہوئے دبے دبے غصے سے بول رہے تھے
" تو کریں نا انصاف اپنی بھتیجی کے ساتھ ۔۔ میرے ساتھ نکاح کروا کر تو ظلم کریں گے آپ نورے کے ساتھ ۔۔ میں حُرّہ کے علاوہ کسی دوسری لڑکی کا سوچنا بھی گناہ سمجھتا ہوں ۔۔ اپنی زندگی میں شامل کرنا تو بہت دور کی بات ۔۔ "
عباس تحمل سے انہیں جواب دیتا کہہ رہا تھا
" میں نے کہا تھا نا آپ کو سردار جی ۔۔ وہ بدکردار لڑکی اتنی آسانی سے نہیں بھولے گی ہماری بیٹی کو ۔۔ "
سردار بی بی کے بولنے پر عباس نے آنکھیں میچے سر جھٹکا جبکہ سردار شیر دل نے انہیں خونخوار نگاہوں سے گھورا
" تم خاموش رہو ۔۔ اگر اب بیچ میں بولی تو بھول جائیں گے تم ہمارے وارث کی ماں ہو ۔۔ "
وہ غصے میں چیخے تھے جبکہ سردار بی بی ان کے چنگھاڑنے پر کانپ گئی
" بابا سرکار پلیز ۔۔ !"
عباس کو ماں کی توہین برداشت نہ ہوئی تو سردار شیر دل کا ہاتھ تھامتا انہیں مزید غصہ کرنے سے روک گیا
" تمہاری انہیں گھٹیا باتوں کی وجہ سے عباس کو ضد چڑھ گئی ہے ۔۔ ورنہ ہمارا بیٹا ہماری کوئی بات نہیں ٹالتا ۔۔ "
وہ اس بار دبی دبی آواز میں غرائے تھے
" دیکھو عباس ہمیں یا ناعمہ کو یا نورے کو ۔۔ کسی کو بھی تمہاری پہلی بیوی سے کوئی سروکار نہیں ۔۔ تم اسے بےشک تلاش کرو ۔۔ وہ مل جاؤ تو اسے ویسے ہی رکھو اپنے پاس مگر ہم صرف یہ کہہ رہے ہیں کہ نورے سے شادی کر لو ۔۔ اسلام میں تو چار شادیوں کی اجازت ہے ۔۔ تمہارے اگر نورے سے شادی کرنے سے نورے کی زندگی سنور جاتی ہے تو کیوں نہیں ہماری بات مان لیتے ۔۔ "
وہ اپنی باتوں پر زور دیتے ہوئے گویا ہوئے تھے
" بے شک اسلام میں چار شادیوں کی اجازت ہے ۔۔ بابا اس بات پر کہ بیویوں میں مساوی سلوک رکھا جائے ۔۔ انصاف کیا جائے ان میں ۔۔ مگر میں پہلے بھی آپ کو یہ بات کہہ چکا ہوں ۔۔ میں نورے کے ساتھ انصاف نہیں کر پاؤں گا ۔۔ کیونکہ حُرّہ صرف بیوی نہیں ہیں میری ۔۔ بلکہ میری محبت ہیں ۔۔ وہ میرے دل میں خاص مقام رکھتی ہیں ۔۔ وہ مقام میں کسی اور کو نہیں دے سکتا ۔۔ کسی کو بھی نہیں ۔۔ "
عباس نفی میں سر ہلاتا بول رہا تھا تھا جبکہ سرداد بی بی نے عباس کی دیوانگی دیکھ کر غصے سے سر جھٹکا
"مگر اب تو وہ لڑکی یہاں نہیں ہے نا ۔۔ "
عباس کی تمام باتوں پر ضبط کرتے ہوئے سردار شیر دل نے کہا تو عباس کے لب مسکرائے
"میں پھر بھی بےوفائی نہیں کر سکتا ان کے ساتھ ۔۔ ان کی غیر موجودگی تو میری محبت کا امتحان ہے ۔۔ "
اپنے باپ کے ضبط کے مارے سرخ ہوئے چہرے کو دیکھتا وہ بڑے آرام سے بولا تھا
" تم سمجھتے کیوں نہیں ہو عباس ۔۔ تمہارے علاوہ نورے کی کسی سے شادی نہیں ہو سکتی ۔۔ "
وہ اس بار چیخے تھے
" کیوں نہیں ہو سکتی بابا سرکار ۔۔ "
عباس نے حیرت سے انہیں دیکھتے پوچھا
" تم بہتر جانتے ہو ہمارے خاندان کا اصول ہے ایک بار جس لڑکی کا نام کسی سے جڑ جائے پھر ساری عمر اسی کے نام پر گزارتی ہے ۔۔ چاہے وہ شخص اسے اپنائے یا نہ اپنائے ۔۔ یاد رکھو اگر نورے کو نہیں اپناؤ گے تو وہ ساری زندگی ایسے ہی تمہارے نام پہ گزارے گی ۔۔ "
بولتے ہوئے وہ اسے پتھردل سردار لگے
" میں نے بہت انتظار کیا کہ شاید آپ خود انصاف کریں بابا سرکار ۔۔ نورے کو اس خاندانی پست اصولوں سے آزاد کر دیں ۔۔ مگر افسوس آپ ایک سنگدل سردار کی حیثیت سے سوچتے رہے ۔۔ جس لڑکی کے سر پر باپ کے بعد ہاتھ رکھا تھا ۔۔ اسی کو اپنے اصولوں کے تحت زندہ درگور کر رہے ہیں ۔۔ "
عباس کے لہجے سے ہی افسوس عیاں تھا جبکہ سردار بی بی خاموش بیٹھی دونوں باپ بیٹے کو دیکھتی ان کی گفتگو سن رہیں تھیں
" ہاں کر رہا ہوں کیونکہ مجھے اپنے خاندان کی ساکھ برقرار رکھنی ہے ۔۔ نورے سے تمہارا نکاح کروا کر ۔۔ "
وہ سر اکڑا کر بولے تھے
" اگر ایسی بات ہے بابا سرکار تو میں ان خاندانی اصولوں کے خلاف جاؤں گا ۔۔ مجھے افسوس سے کہنا پڑ رہا ہے کہ ۔۔ آپ کو اپنی بھتیجی سے زیادہ یہ ناپید خاندانی اصول پیارے ہیں ۔۔ آپ نورے سے کوئی ہمدردی نہیں رکھتے بلکہ آپ صرف اس لیے میری شادی نورے سے کروانا چاہتے ہیں کہ یہ آپ کا خاندانی اصول ہے ۔۔ تو پھر ٹھیک ہے میری ایک بات بھی سن لیں اب میں نورے کی شادی خاندان سے باہر کرواؤں گا ۔۔ اور ضرور کرواؤں گا ۔۔ اور جمعے کو ہی کرواؤں گا ۔۔ "
عباس مضبوط انداز میں کہتا بالوں میں انگلیاں پھیرتا ان کے برابر سے اٹھ کھڑا ہوا تھا
" کیا بکواس کر رہے ہو یہ تم ۔۔ "
وہ بھی دھاڑتے ہوئے اٹھے
" جو آپ سن رہے ہیں وہی کہہ رہا ہوں ۔۔ میں نورے کی شادی اس سے کرواؤں گا جو اسے خوش رکھنے کی ضمانت لے ۔۔ جس کے ساتھ نورے حقیقتاً خوش رہ سکے ۔۔ "
دونوں باپ بیٹے کو مقابل دیکھ کر سرداد بی بی دل میں حُرّہ کو بددعائیں دیتیں خود بھی کھڑی ہوئیں
" تم میں غیرت نہیں رہی ۔۔ اپنے سے منسوب لڑکی کی شادی کسی اور سے کرواؤ گے اب ۔۔ "
سردار شیر دل حقیقتاً صدمے سے دوچار چیخے تھے
" بے غیرت میں تب ہوتا جب نورے کا میرے ساتھ شرعی رشتہ ہوتا ۔۔ تب ان کا نام کسی اور کے ساتھ جوڑ کر واقعی میں بےغیرتی کرتا مگر ۔۔ نورے باقیوں کی طرح نامحرم ہیں میرے لیے ۔۔ چچا کی بیٹی کی حیثیت سے میں ان کا نکاح جمعے کو ہی کرواؤں گا ۔۔ "
باپ کو اطلاع دیتا وہ آگے بڑھنے لگا
" اگر تم نے جمعے کو نورے سے نکاح نہ کیا تو میرا مرا منہ دیکھو گے ۔۔ پھر اٹھانا باپ کا جنازہ ۔۔ کیونکہ اپنے عزت کا جنازہ تو تمہیں نہیں نکالنے دوں گا میں ۔۔ "
وہ دھمکی دیتے ہوئے بولے تو عباس کے بڑھتے قدم رکے
" کیا معلوم آپ سے پہلے مجھے موت آ جائے بابا سرکار ۔۔ بیٹے کا جنازہ اٹھانا کافی کٹھن ہوتا ہے ۔۔ "
عباس جس انداز میں بولاتھا سردار شیر دل اور سردار بی بی ساکت ہو گئے جبکہ عباس کے لب مسکرائے
" جمعہ دو دن بعد ہے بابا سرکار ۔۔ نورے کا نکاح آج ہی ہو گا ۔۔ آپ اپنی بھتیجی کو رخصت کرنے کی تیاری کریں ۔۔ "
موبائل پر نمبر ڈائل کرتا وہ ماں باپ کو سکتے میں چھوڑ کر کمرے سے نکلا مگر دروازے پر نورے کو کھڑا دیکھ کر ٹھٹھکا نورے کے بہتے آنسو بیان کر رہے تھے کہ وہ اندر ہوتی گفتگو سن چکی ہے اس سے نگاہیں چرائے وہ آگے بڑھ گیا جبکہ نورے نے شکوہ کناں نگاہیں اس کی پشت پر ڈالیں
////////////////////
" آ آپ سے ایک بات پوچھوں ۔۔ ؟؟"
وہ چاروں عشاء کی نماز پڑھ کر اسی کمرے میں اپنے اپنے بستر پر آ بیٹھیں تھیں ایک چارپائی پر حُرّہ ، دعا کو پہلو میں لیے بیٹھی تھی اور دوسری پر فرحت بی بی لیٹیں ہوئیں تھیں جبکہ ناہید اور تہمینہ کا بستر فرش پر تھا وہ دونوں بھی بیٹھی ہوئیں تھیں انہیں یہاں رہتے کافی زیادہ دن گزر گئے تھے مگر فرحت بی بی اور تہمینہ نے اس سے کوئی سوال نہ کیا تھا اب حُرّہ کی آواز کی جانب ان سب کی توجہ مبذول ہوئی جبکہ حُرّہ فرحت بی بی سے مخاطب تھی
" ہممم ۔۔ "
ہنکار بھرتے ہوئے وہ اٹھ بیٹھیں اور چادر سر پر درست کرتی حُرّہ کو دیکھنے لگی
" آ آپ تو کہہ رہیں تھیں کہ حالات بہت خراب ہیں آج کل کے پھر آپ نے ہم پر بھروسہ کیسے کر لیا اور ہمیں اپنے گھر لے آئیں ۔۔ جبکہ ہم تو آپ کے لیے بلکل انجان ہیں ۔۔ آپ ہمیں دھوکے باز بھی سمجھ سکتی تھیں ۔۔ "
وہ پوچھ رہی تھی جبکہ حُرّہ کی بات پر فرحت بی بی کے لب مسکرائے
" زندگی سے اتنے تجربات حاصل ہوئے ہیں کہ انسان کے چہرے دیکھ کر اس کی سچائی محسوس ہو جاتی ہے ۔۔ اور تم ہمیں دھوکے باز نہیں لگی ۔ "
سنجیدہ انداز میں کہتے ہوئے آخر میں وہ پھر سے مسکرائیں ان کی بات کو حُرّہ نے بہت غور سے سنا ناہید اور تہمینہ بھی ان کو خاموشی سے سن اور دیکھ رہیں تھیں ان چند دن میں ہی تہمینہ اور فرحت بی بی دعا سے بہت مانوس ہو گئیں تھیں
" اس کا باپ کہاں ہے ۔۔ ؟"
کچھ دیر خاموشی کے بعد فرحت بی بی کی آواز کمرے میں گونجی تو جہاں حُرّہ چونکی وہیں ناہید نے بھی حُرّہ کو دیکھا تہمینہ اور فرحت بی بی حُرّہ کے جواب کی منتظر تھی
" یہاں نہیں ہیں وہ ۔۔ !"
حُرّہ نے دعا کے بالوں میں نرمی سے انگلیاں پھیرتے ہوئے نگاہیں جھکائے کہا
" اس نے تمہیں چھوڑا یا تم نے ۔۔ ؟"
حُرّہ کی گول مول بات پر فرحت بی بی نے دوبارہ استفسار کیا
" مم میں نے ۔۔ !"
حُرّہ کی زبان لڑکھڑائی تھی اور ہاتھوں میں لرزش پیدا ہوئی تھی
" کیا بہت مارتا پیٹتا تھا ۔۔ "
ان کے اگلے سوال پر حُرّہ تڑپ گئی اور نفی میں سر ہلایا
" نن نہیں بلکل نن نہیں ۔۔ "
بے ساختہ عباس کا نرم انداز اسے یاد آیا تھا ایک آنسو بہتا ہوا کپڑوں میں جذب ہو گیا تھا
" خرچہ نہیں دیتا تھا ۔۔ ؟؟"
انہوں نے مزید پوچھا
" دیتے تھے ۔۔ "
دو لفظی جواب دے کر حُرّہ نے آنسو پونچھے عباس تو دنیا کی ہر چیز اس کے قدموں میں لا رکھتا تھا
" بیٹی سے پیار نہیں کرتا تھا ۔۔ ؟؟ کیا اسے بیٹی نہیں چاہیے تھی ۔۔ ؟؟"
سوال کرتے ہوئے انہوں نے دعا کی جانب اشارہ کیا
" بب بہت پیار کرتے ہیں وہ بیٹی سے ۔۔ !"
روندی آواز میں جواب دیتے ہوئے اس نے دعا کی پیشانی پر مامتا بھرا لمس چھوڑا
" پھر تم سے پیار نہیں کرتا تھا ۔۔ ؟؟"
حُرّہ کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے انہوں نے مزید پوچھا تو حُرّہ نے سر جھکا لیا اب وہ انہیں کیا بتاتی اس شخص کی عنائتیں کہ جہاں باقی حویلی والوں کی طرح عباس کو اس سے نفرت کرنی چاہیے تھی وہیں اس شخص کی محبت کا آغاز ہوا تھا
" ایسی خالص محبت کرتے تھے کہ ۔۔ جس کی پاکیزگی کی گواہ میں خود ہوں ۔۔ !"
وہ کھوئے ہوئے انداز میں بولی جبکہ فرحت بی بی سمیت باقی دونوں نفوس نے بھی اس کے چہرے پر آئے محبت بھرے رنگ کو دلچسپی سے دیکھا
" کیا تم پیار نہیں کرتی ہو اس سے ۔۔ ؟؟"
" پیار چھوٹا لفظ ہے میرے احساسات کے آگے ۔۔ پیار سے اگلی منزل طے کر چکی ہوں کہ ان کی خاطر خود کو ان سے جدا کر دیا ۔۔ یوں کہہ لیں کہ اپنی ہی روح کو وجود سے کھینچ نکالا ۔۔"
بات کرتے ہوئے وہ اذیت سے مسکرائی
" تو پھر وہ یقیناً ناجائز تعلقات رکھتا ہو گا غیر عورتوں کے ساتھ ۔۔ ؟؟"
ان کے سوال پر حُرّہ نے فوراً سر نفی میں ہلایا
" نن نہیں ۔۔ بلکل ایسے نہیں وہ ۔۔ ان کی شرافت ۔۔ ان کا شفاف کردار ۔۔ مجھ سے بہتر خدا جانتا ہے ۔۔ "
وہ مضبوط انداز میں بولی تھی
" مارتا بھی نہیں تھا۔۔ خرچہ بھی دیتا تھا ۔۔ بیٹی سے بھی پیار کرتا تھا ۔۔ اور تم سے بھی پیار کرتا تھا ۔۔ تم بھی اس سے پیار کرتی ہو ۔۔ ناجائز تعلقات بھی نہیں تھے ۔۔ جب اتنا اچھا تھا تو کیوں چھوڑا تم نے اسے ۔۔ ؟؟"
فرحت بی بی نے ماتھے پر بل ڈالے پوچھا جبکہ ان کی بات پر حُرّہ نے ایک سرد آہ بھری
" حالات کا تقاضا یہی تھا ۔۔ !"
وہ بولی گو اس کی آنکھیں اس کا درد بیان کرنے لگیں جبکہ زبان سے اپنے دکھ کیسے وہ بیان کرتی کہ قدم قدم پر اتنی ستم ظریفی ہوئی تھی کہ اب تو آنکھوں سے ہی دکھ عیاں تھے
فرحت بی بی کو سب بتاتے ہوئے وہ کئی باتوں پر کرب سے آنکھیں میچ گئی اس کے خاموش ہونے پر ناہید نے بات کو جاری کیا
" ہم سمجھتے ہیں کہ ہمارے سے زیادہ تکلیف میں تو اس دنیا میں کوئی ہے ہی نہیں ۔۔ اللہ سے شکوہ کرتی تھی کہ ہمیں ہی ہر آزمائش سے گزارنا تھا ۔۔ مگر دیکھو ذرا تمہاری آزمائشوں کے آگے تو میری اور میری بیٹی کی تکلیفیں کچھ بھی نہیں ۔۔ "
حُرّہ پر بیتی ستم ظریفی سن کر وہ لہجے میں دکھ لیے بولیں تھیں
" تمہاری تو ایک سال کی بچی بھی آزمائش سے گزر رہی ہے ۔۔ "
وہ مزید بولیں تو حُرّہ نے دعا کا مرجھایا سا چہرہ دیکھا
" مجھ بد نصیب کا سایہ میری بچی پر پڑ گیا ۔۔"
حُرّہ ، دعا کے چھوٹے چھوٹے ہاتھ چومتی بولی
" ایسے مت کہو بیٹی۔۔ تم تو وہ خوش نصیب ہو جسے خدا نے آزمائش کے لیے چنا ہے ۔۔ جو لوگ دکھ میں ، اذیت میں ہوتے ہیں ہم لوگ انہیں بدنصیب تصور کرتے ہیں ۔۔ کہ دیکھو کتنا بدنصیب ہے کہ اس کے ساتھ یہ ہوا ۔۔ مگر ہم یہ نہیں جانتے کہ خدا تو انہیں کو آزمائش میں ڈالتا ہے جو اس کے قریب تر ہوتے ہیں ۔۔ جو اسے عزیز ہوتے ہیں ۔۔ سنا نہیں کے خدا بہترین سے نوازنے سے پہلے آپ کو بدترین سے گزارتا ہے ۔۔ مشکل کے ساتھ آسانی ہے ۔۔ تمہیں اور تمہاری بیٹی کو دیکھ کر تو مجھے اور میری بیٹی کو ہمت ملی ہے ۔۔ ورنہ ہم تو شکوے ہی کرتے تھے خدا سے ۔۔ اب تم بھی میری بیٹی ہو یہیں رہو گی اب تم ۔۔ "
فرحت بی بی اٹھ کر حُرّہ کے پاس آئیں اور اسے گلے لگا لیا
" ہاں دعا کے آنے سے تو ہمارے ویران گھر میں رونق آ گئی ہے ۔۔ "
تہمینہ بھی اٹھ کر دعا کے پاس آئی اور اسے پیار کرنے لگی
" دیکھا چھوٹی بی بی خدا ایسے وسیلے بناتا ہے ۔۔ کہ ہماری سوچ بھی وہاں تک نہیں جاتی ۔۔"
ناہید بھیگی آواز میں بولی تو حُرّہ نے اس کی بات پر نم آنکھوں سے اسے دیکھا اور پھر سر ہلایا
وہ تیز تیز قدم بڑھاتا حویلی کے مردان خانے میں آیا تھا سیل فون ابھی بھی کان سے لگا تھا
" کہاں ہو تم ۔۔ ؟؟"
عالیان کے کال پک کرتے ہی عباس نے پوچھا تو عالیان جوکہ شام کے اس پہر سڑک کے کنارے گاڑی میں بیٹھا سگریٹ نوشی کر رہا تھا عباس کے پوچھنے پر سٹپٹا گیا
" مم میں بس آفس سے گھر جا رہا تھا ۔۔ "
عالیان نے بات گول مول کی
" ہممم ۔۔ تم نے کہا تھا کہ تم نورے کا رشتہ لے کر آنا چاہتے ہو ۔۔ ان سے شادی کرنا چاہتے ہو ۔۔ !"
عباس کی بھاری آواز فون سے ابھری تو عالیان اس کی بات سنتا سیدھا ہو بیٹھا
" ہہ ہاں ایسا ہی کہا تھا میں نے مگر تم نے کہا تھا کہ تم اپنے بابا سردار سے پہلے بات کرو گے اس بارے میں پھر جواب دو گے ۔۔ "
عالیان نے دل تھامے بات کی تصدیق کی
" ہاں میری بات ہو گئی ہے بابا سرکار سے ۔۔ ہمیں یہ رشتہ قبول ہے ۔۔ تم ایسا کرو انکل کے ساتھ حویلی آ جاؤ ہم آج ہی نکاح کرنا چاہتے ہیں ۔۔ رخصتی کچھ عرصے بعد کر لیں گے ۔۔ "
عباس نے جیسے اسے خوشی کی نوید سنائی تھی وہ اپنی جگہ منجمد رہ گیا تھا
" کیا ہوا ۔۔ چپ کیوں ہو گئے۔۔ ؟"
عالیان کی خاموشی محسوس کرتا وہ پوچھ رہا تھا
" نن نہیں ۔۔ کچھ نہیں ۔۔ یہ خبر سنانے پر عباس اگر تم اس وقت میرے سامنے ہوتے تو گلے لگا لیتا تمہیں ۔۔ "
عالیان کے لہجے سے ہی خوشی عیاں تھی عباس نے پرسکون ہوتے ہوئے کال کاٹ دی
اب سب سے بڑا مرحلہ نورے سے بات کرنا تھا وہ جانتا تھا اگر وہ نورے سے بات نہیں بھی کرے گا تب بھی وہ بےضرر سی لڑکی اس کے ایک بار کہنے پر نکاح کے لیے رضامند ہو جائے گی مگر کس دل سے راضی ہو گی وہ یہ بھی جانتا تھا
کچھ انتظام کرنے کے بعد وہ وہیں مردان خانے میں موجود کرسی پر بیٹھ گیا
" نورے بی بی کو کہو میں نے بلایا ہے انہیں ۔۔ "
پاس کھڑے ملازم کو حکم دیتا وہ موبائل سکرین پر نگاہیں جمائے ٹانگ پر ٹانگ چڑھائے بیٹھ گیا
وہ کمرا بند کیے بیڈ پر لیٹی بلند آواز میں سسکیاں بھر رہی تھی جب دروازے پر دستک ہونے لگی اور ہوتی رہی تنگ آ کر نورے اٹھی اور دروازہ کھولا
" چلی جاؤ یہاں سے مجھے پریشان مت کرو ۔۔ "
سامنے کھڑی ملازمہ پر وہ چلائی تھی جبکہ ملازمہ اس کو روتا چیختا دیکھ کر بوکھلاہٹ کا شکار ہوئی
" و وہ بب بی بی جی ۔۔ سرداد نے آپ کو مردان خانے میں بلایا ہے ۔۔ "
وہ سر جھکائے بولی
" کک کون سے سرداد نے ۔۔ "
یکدم گھبرا کر نورے نے دریافت کیا
" چھوٹے سردار نے ۔۔ "
ملازمہ نے کہا اور اسے دیکھنے لگی جس کی آنکھیں ساکن ہو چکیں تھیں
" تم جاؤ ۔۔ مم میں آتی ہوں ۔۔ "
" بی بی جی چھوٹے سردار نے حکم دیا ہے ۔۔ آپ کو ساتھ لے کر آؤں ۔۔ "
ملازمہ مزید بولی تو نورے نے آنسو پونچھے اور سر پر دوپٹہ درست کرتی کمرے سے نکلی اس کے قدم دھیمے انداز میں آگے بڑھ رہے تھے مردان خانے میں داخل ہو کر سیدھا نگاہ عباس پر پڑی جو موبائل پر کسی سے بات کرنے پر مصروف تھا اسے دیکھ کر کال کاٹ کر اٹھ کھڑا ہوا
" آپ سے ایک بات کرنی ہے نورے ۔۔ امید ہے آپ بہتر فیصلہ کریں گی ۔۔ پہلے ہی کہہ دوں کہ آپ کی مرضی میرے لیے بہت اہم ہے ۔۔ "
نورے کی نم آنکھوں سے نگاہیں چرائے وہ اپنے مخصوص دھیمے انداز میں بول رہا تھا جبکہ نورے اس کا چہرہ دیکھ رہی تھی
" آپ سب طے کر تو چکے ہیں ۔۔ پھر بات کرنے کو کیا رہ گیا چھوٹے سردار ۔۔ ؟"
نورے کے لہجے میں طنز کی آمیزش تھی عباس نے لب بھینچے بےشک وہ نورے پر کوئی بھی فیصلہ مسلط نہیں کرنا چاہتا تھا مگر یہ بھی سچ تھا کہ اسے ایسا کرنا پڑ رہا تھا
" آپ سب سن چکی ہیں نورے ۔۔ مگر پھر بھی میں یہ کہنا چاہتا ہوں ۔۔ کہ آج عشاء کے بعد ہم نے نکاح رکھا ہے آپ کا ۔۔ ایک جاننے والے ہیں ۔۔ یقیناً ہمارا یہ فیصلہ غلط نہیں ہو گا ۔۔ "
عباس دھیمے انداز میں بولتا رخ دوسری جانب کر چکا تھا جبکہ اس کی بات سن کر کئی پل نورے اپنی جگہ ساکت کھڑی رہی تھی پھر تلخ سا مسکرائی
" بہت خوب سردار ۔۔ اپنے سر سے بوجھ اتارنے کا بہترین راستہ چنا ہے آپ نے ۔۔ مجھے کسی کے کھونٹے سے باندھنے کا ۔۔ "
وہ لہجے میں تلخی لیے بولی تھی
" آپ کسی پر بھی بوجھ نہیں ہیں نورے ۔۔ آپ کا اس حویلی پر اتنا ہی حق ہے جتنا کہ میرا ۔۔ "
نورے کے تلخ انداز پر بھی عباس کا مخصوص نرم انداز قائم تھا
" ہرگز نہیں چھوٹے سردار ۔۔ میرا کیا مقابلہ آپ سے ۔۔ آپ سردار شیر دل کے اکلوتے وارث ہیں ۔۔ یعنی گاؤں اور حویلی کے سرداد ۔۔ اور میں ۔۔ مم میں تو اس حویلی کی وہ بیٹی ہوں ۔۔ جسے خاندانی اصولوں اور عزت کی خاطر قربان کر دیا جانا کوئی بڑی بات نہیں ۔۔ "
نورے مزید تلخ ہوئی تھی کس قدر تکلیف دہ تھا اس کے لیے کسی اور کے ساتھ اپنا نام جوڑنا
" ایسا ہرگز نہیں ہے ۔۔ ٹھیک ہے اگر آپ رضامند نہیں ہیں اس نکاح پہ تو ٹھیک ہے یہ نکاح نہیں ہو گا ۔۔ "
عباس کے کہنے پر نورے کی آنکھوں میں نمی اتری تھی
" ہماری کیا مجال چھوٹے سردار کہ آپ کے فیصلے سے بغاوت کریں ۔۔ "
پلکیں جھپکائے وہ آنسوؤں کو بہنے سے روکتی بولی
" زندگی آپ کی ہے ۔۔ فیصلہ بھی آپ کا ہو گا ۔۔ آپ اگر نہیں چاہتی ایسا تو ٹھیک ہے نہیں ہو گا ۔۔ "
نورے کی آنکھوں میں چمکتے موتی دیکھ وہ نگاہیں جھکا کر بولا تھا
" ہم تیار ہیں نکاح کے لیے ۔۔ "
عباس کے جھکے سر کو دیکھتی وہ لمحے بعد بولی
"کسی قسم کا جبر نہیں کیا جائے گا آپ کے ساتھ ۔۔ آپ سوچ سمجھ لیں ہم نکاح کسی اور دن رکھ لیں گے ۔۔"
نورے کے اچانک بولنے پر عباس نے اسے دیکھتے ہوئے کہا تو نورے نے اپنا رخ موڑ لیا
" اگر آپ بڑے سردار کو کہہ چکے ہیں کہ آج ہی نکاح ہوگا میرا تو ۔۔ پھر یہ بات کہنے کا کیا فائدہ ۔۔ جبکہ میں جانتی ہوں ۔۔ سرداد اپنی زبان سے نہیں پھرتا ۔۔ "
نورے طنزیہ انداز میں بولی تھی
" کسی کے احساسات سے بڑھ کر کچھ بھی نہیں ہوتا ۔۔ اگر آپ رضامند نہیں ہیں تو میں زبردستی نہیں کر سکتا آپ کے ساتھ ۔۔ "
نورے کے رخ موڑنے پر عباس بے چین ہوا تھا فوراً کہتا ہوا نورے کو منتظر نگاہوں سے دیکھنے لگا
" میں ایک شرط پر نکاح کے لیے راضی ہوں گی ۔۔ "
وہ ہنوز اسی طرح کھڑی گویا ہوئی آواز بھیگی ہوئی تھی
" جی کہیے ۔۔ "
" آج ہی رخصت ہونا چاہتی ہوں ۔۔ "
چند لمحوں بعد جب وہ بولی تو عباس کو منجمد کر گئی
" نن نورے ۔۔ "
" اگر آج نہیں تو کبھی نہیں ۔۔ "
وہ کہتی ہوئی بھاگتے ہوئے آگے بڑھ گئی
" یا اللہ میری مدد کر ۔۔ "
طویل سانس لیتا وہ حویلی کے اندرونی حصے کی جانب بڑھ گیا
//////////////////////////
کپکپاتے ہاتھوں اور لرزتے دل سے اس نے نکاح نامے پر دستخط کرنے کے لیے قلم پکڑا وہ نہیں جانتی تھی کہ جسے اپنی زندگی سونپ دی وہ کون ہے کیسا ہے کیا وہ جانتا ہے کہ اس کی بیوی کسی کو پہلے سے دل میں بسائے ہوئے تھی مگر نورے نے بہتے آنسوؤں کو سختی سے پونچھا
" خدا کو حاضر ناظر جان کر آج میں یہ نکاح کرتی ہوں ۔۔ خدا شاہد رہنا آج میں نے عباس نامی شخص سے صرف تیری رضا کی خاطر ہر دلی تعلق منقطع کر لیا ۔۔ تو مجھے اس مقام تک لایا کہ میں جان گئی محبت صرف تیری ہے جو ہمیشہ باقی رہے گی ۔۔ کسی نامحرم کو دل میں بسانا میری غلطی تھی ۔۔ میرے مالک میں معافی مانگتی ہوں تجھ سے ۔۔ "
دل میں خالق سے مخاطب وہ نکاح نامے پر دستخط کر چکی تھی اور سرد آہ بھرتی آنکھیں میچ گئی
پاس کھڑی ناعمہ بی بی ساکن نگاہوں سے اسے دیکھ رہیں تھیں سفید سادے جوڑے میں سرخ دوپٹہ اوڑھے شفاف چہرہ کسی بھی آرائش و آسائش کے بغیر وہ کتنی سادہ دلہن تھی جس کی آنکھیں اس کے اندر چلتے طوفان کا پتہ دے رہیں تھیں کیا سوچا تھا انہوں نے اپنی بیٹی کے لیے اور کیا ہو گیا تھا کس حد تک چلی گئیں تھیں وہ اپنی بیٹی کی خوشیوں کی خاطر کہ کسی بے قصور کے ساتھ کتنا بڑا ظلم کر چکیں تھیں عباس تو ان کی بیٹی کا پھر بھی نہ ہو سکا تھا جانے سردار شیر دل اور سردار بی بی کیوں خاموش تھے انہیں بھی تو عباس نے سرسری سا بتایا تھا کہ نورے کا نکاح کر کے اسے شہر کے لیے رخصت کر رہے ہیں اب سرداروں کے فیصلے کے آگے بولنے کی جرات وہ کہاں کر سکتیں تھیں
مگر ان کا دل عجیب گھٹن کا شکار ہو رہا تھا جیسے حُرّہ کے آنسو ، اس کی آہیں ان کا سانس روک دیں گیں نورے کو مبارک باد دینے کے بجائے انہوں نے باہر کی راہ لی
جبکہ سردار شیر دل نے آگے بڑھ کر نورے کے سر پر ہاتھ رکھا تھا ان کے بیٹے نے خاندان سے بغاوت کر کے یہ فیصلہ کیا تھا مگر وہ بیٹے کی دل دہلا دینے والی بات سے ڈر گئے تھے ایک واحد عباس کا سہارا ہی تو تھا انہیں اگر وہ کچھ لیتا خود کو تو کس سے شکوہ کرتے وہ جانتے تھے کہ عباس پہلے ہی اپنی بیوی اور بیٹی کی وجہ سے پریشان تھا جذبات میں آ کر کہیں کچھ غلط ہی نہ کر لے اسی لیے خاموشی سے عباس کا فیصلہ مان لیا بغیر کچھ کہے وہ بھی کمرے سے نکل گئے
جبکہ سردار بی بی خود بھی صدمے میں تھیں بچپن سے انہوں نے نورے کو اپنی بہو بنانے کے خواب دیکھے تھے مگر انسان کے چاہنے نا چاہنے سے کیا ہوتا ہے جو خالق نے جس کے نصیب میں لکھ دیا ہو اسے وہی ملتا ہے پھر انسان کتنی ہی سازشیں ، مکاریاں کرتا رہے اسے حاصل کرنے کے لیے جو اس کی تقدیر میں ہوتا ہی نہیں وہ کبھی بھی نہیں ملتا نورے کو دیکھتی سردار بی بی وہیں کرسی کا سہارا لیے بیٹھ گئیں تھیں
" تم چاہ بھی نہیں سکتے اگر اللہ نہ چاہے "
( التکویر 29 )
/////////////////////////
نورے کی شرط کے مطابق وہ نکاح کے بعد اسے رخصت بھی کر چکا تھا مگر دل کو یہ بات اذیت دے رہی تھی کہ نورے کے جذبات کو کسی نے کبھی اہمیت نہیں دی تھی آج بھی اچانک اسے نئے بندھن میں باندھ کر اس نے پھر نورے کے ساتھ بظاہر زیادتی کی مگر وہ جانتا تھا عالیان ، نورے کے دل کو اپنی محبت سے جیت لے گا عالیان میں آتے بدلاؤ کو وہ نوٹ کر چکا تھا مگر یہ نہیں جانتا تھا کہ وہ بدلاؤ نورے کی محبت میں آیا ہے
" حُرّہ کہاں ہیں آپ ۔۔ ؟؟ آئی مس یو جانم ۔۔ دعا کیسے رہتی ہو گی ۔۔ کہاں ہیں آپ دونوں ۔۔ پتہ ہے کتنا انتظار کرتا ہوں آپ دونوں کا ۔۔ آپ دونوں زندگی ہیں میری ۔۔ کیوں دور چلی گئیں ہیں مجھ سے ۔۔ کیا میں اچھا شوہر نہیں ہوں آپ کا ۔۔ کیوں حُرّہ کیوں نہیں مل رہیں آپ مجھے ۔۔ میرے خدا میری بیوی اور بیٹی کی حفاظت کرنا ۔۔ میں نے انہیں تیری ضمانت میں دیا ۔۔ میں جانتا ہوں ۔۔ میرا دل گواہی دے رہا ہے کہ وہ دونوں ٹھیک ہیں کیونکہ میرا دل اپنی رفتار پر چل رہا ہے ۔۔ آپ دونوں میری دھڑکن ہیں ۔۔ "
موبائل کی سکرین پر جگمگاتی کھلکھلاتی حُرّہ اور دعا کی تصویر کو چھوتے ہوئے وہ تخیر میں ان سے مخاطب تھا
" جانم آ جائیں نا ۔۔ اب تو سارے وسوسے دور ہو گئے ۔۔ اب تو کوئی گلٹ نہیں رہا کہ نورے کے ساتھ زیادتی ہوئی ہے ۔۔ نہیں رہا جاتا آپ کے اور دعا کے بغیر ۔۔ پلیز آ جائیں ۔۔ پلیز جانم ۔۔ "
جذبات سے چور انداز میں بولے ہوئے وہ آنکھیں میچ گیا
//////////////////////////
" آج کہاں گئی تھی حُرّہ تم ۔۔ ؟؟"
وہ ابھی کمرے میں داخل ہی ہوئی تھی کہ تہمینہ جو کہ دعا کو گود میں لیے بیٹھی تھی اسے دیکھتے ہی مخاطب کیا
" نوکری تلاش کرنے گئی تھی ۔۔ "
دوسری چارپائی پر بیٹھتے ہوئے حُرّہ نے عام سے انداز میں جواب دیا
" ہم نے تمہیں منع بھی کیا تھا ۔۔ دعا ابھی چھوٹی ہے ۔۔ ایسے میں تم بچی کو چھوڑ کر نوکری کرو گی ۔۔ ؟؟ ہم ہیں نا ۔۔ اپنا بھی تو گزارا کرتے ہیں نا سلائی کر کے تمہاری روٹی کیا بھاری ہے ہم پہ ۔۔ "
خفگی سے کہتی ہوئی وہ حُرّہ کو بلکل بڑی بہن لگی تھی
" دعا کا مسئلہ نہیں ہے وہ تو آپ سب کے پاس رہ لیتی ہے ۔۔ اب کافی بہتر ہو گئی ہے شکر ہے ۔۔ لیکن میں ایسے ہاتھ پہ ہاتھ رکھ کے تو نہیں بیٹھ سکتی ۔۔ اگر آپ لوگوں کا ہاتھ بٹا دوں گی تو کوئی فرق نہیں پڑے گا میری شان میں ۔۔ "
حُرّہ نے بھی اس کو اسی کے انداز میں پچکارا تھا چند دن میں ہی فرحت بی اور تہمینہ کے اچھے اخلاق اور ہمدرد طبیعت نے انہیں آپس میں مانوس کر دیا تھا
" تو پھر کیا بنا نوکری کا ۔۔ ؟"
تہمینہ اندازہ لگا چکی تھی کہ حُرّہ خود دار لڑکی ہے وہ اپنے اخراجات کے لیے ان سے پیسہ نہیں لے گی اس لیے بات بدلتے ہوئے پوچھنے لگی
" ڈوکیومینٹس نہیں ہیں میرے پاس ۔۔ سب کچھ گاؤں میں ہے ۔۔ ظاہر ہے نوکری ملنا اس طرح مشکل ہے ۔۔ مگر ایک سکول میں گئی تھی میں ۔۔ انہوں نے کہا ایک ہفتہ دیکھیں گے پھر بتائیں گے ۔۔تو کل سے جاؤں گی پھر ۔۔ "
تفصیلاً بتاتے ہوئے حُرّہ چارپائی پر چٹ لیٹ گئی مگر اس کی باتوں کی آواز سن کر دعا نے ماں کے پاس جانے کے لیے شور مچا دیا تو تہمینہ اسے لیے حُرّہ کے پاس آئی اور اس کے برابر لٹا دیا
" دیکھو تو ماں کے پاس آ کر کیسے خوش ہو گئی ہے ۔۔ "
دعا کو کھلکھلاتے دیکھ کر تہمینہ مسکراتے ہوئے بولی اور کمرے سے چلی گئی جبکہ حُرّہ نے دعا کو اپنے سینے میں بھینچ لیا کتنی مشکل سے دعا سنبھلی تھی ورنہ کتنا یاد کرتی تھی وہ باپ کو کہ رو رو کر کئی روز بیمار رہی تھی
" میری گڑیا بھی بابا کو مس کرتی ہے نا ۔۔ بس ماما کی طرح آپ نے بھی صبر کر لیا ہے ۔۔ "
دعا کے ننھے ننھے ہاتھوں کو چومتے ہوئے وہ بول رہی تھی
" بابا بھی مس کرتے ہوں گے۔۔ لیکن ہمیں ان کے لیے ہمیشہ دعا کرنی ہے کہ خدا ان کو خوش رکھیں ۔۔ ان کی حفاظت کریں ۔۔ "
عباس کو عقیدت سے یاد کرتے ہوئے وہ دعا کے ساتھ ایسے باتیں کر رہی تھی جیسے وہ اس کی باتیں سمجھ رہی ہے وہ ایسے ہی عباس کی باتیں دعا سے کرتی تھی آگے سے دعا کھلکھلاتی تھی
" جن ماؤں کی آزمائشیں زیادہ ہوتی ہیں نا دعا ۔۔ ان کی بیٹیوں کے نصیب بھی ایسے ہی ہوتے ہیں ۔۔!! مگر کہتے ہیں دعائیں تقدیریں بھی بدل دیتی ہیں ۔۔ اور ماں کی دعائیں تو عرش ہلا دیتی ہیں ۔۔ !! خدا کرے تمہارے نصیب بہت اچھے ہوں ۔۔ "
دعا کے بالوں کو سہلاتے ہوئے وہ بولی تو ایک آنسو پلکوں کی باڑ سے جھلک کر بالوں میں جذب ہو گیا
" میرے مالک کیا امتحان محض ہمارے لیے ہیں ۔۔ جو اتنا برا کرتے ہیں دوسروں کے لیے وہ تو اپنی زندگی میں مگن ہیں ۔۔ میں اور میری بچی ۔۔ !!"
بولتے ہوئے وہ سسک اٹھی تھی کہ بات مکمل نہ کر سکی پھر خود کو مضبوط کرتے ہوئے اس نے آنسو پونچھے
" میرے مالک ہر حال میں تیرا شکر ۔۔ "
طویل سانس لیتے ہوئے وہ بولی
" آپ کا صبر کسی کے لیے بددعا ہی ہوتا ہے ۔۔ وقت آنے پر ہر انسان اپنے کیے کا پا لیتا ہے ۔۔
صبر کرنا یا نا کرنا آپ کے اختیار میں ہے ۔۔
معاف کر دینا آپ کے اجر کو بڑھا دیتا ہے اور اس معافی کے بدلے میں ہو سکتا ہے کوئی انعام خالق نے آپ کے لیے رکھا ہو ۔۔
مگر بدلا لینے کا حق بھی آپ کو ہے ۔۔ لیکن اگر آپ صبر کر رہے ہیں تو بےشک وہ زیادہ افضل ہے ۔۔
کسی بھی صابر انسان سے ززیادہ بہادر کون ہو سکتا ہے ۔۔ صبر بذدل انسان کر ہی نہیں سکتا ۔۔ صبر تو بہادر لوگ کرتے ہیں ۔۔ جو خالق کی رضا میں راضی رہنا جانتے ہیں ۔۔
اپنے صبر پر پچھتائیں مت بس خدا پر چھوڑ دیں ۔۔
بےشک اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے ۔۔ "
یہ سب سوچتے ہوئے اس کے دل میں سکون اترا
//////////////////////
گاڑی میں مکمل خاموشی تھی وہ اس کے ساتھ فرنٹ سیٹ پر اس کی بیوی کی حیثیت سے براجمان تھی خواب ایسے بھی پورے ہوتے ہیں عالیان نے سوچا بھی نہیں تھا سب کچھ اتنا اچانک ہوا تھا کہ اسے سب خواب لگ رہا تھا کہ ابھی آنکھ کھلے گی اور منظر بدل جائے گا مگر یہ حقیقت تھی وہ بہت خوش تھا کہ وہ لڑکی جسے اس نے چاہا وہ آج اسے زندگی میں شامل کر چکا تھا
گاڑی ڈرائیور کرتے ہوئے وہ وقتاً فوقتاً نگاہ نورے پر بھی ڈال لیتا تھا جو گاڑی کے دروازے کے ساتھ چپک کر سر جھکائے بیٹھی تھی دوسری جانب نورے بے حس و حرکت بیٹھی تھی اس کی سوچیں بلکل مفلوج ہو چکیں تھیں اس نے ایک نظر عالیان کو دیکھا تھا وہ پہچان گئی تھی اسے کہ وہ عباس کا دوست ہے مگر کسی طرح کی بات ابھی تک ان دونوں کے درمیان نہیں ہوئی تھی
طویل سفر کے بعد گاڑی ایک خوبصورت بنگلے میں داخل ہوئی عالیان گاڑی سے نکل کر نورے کی جانب آیا اور دروازہ کھول کر ہاتھ بڑھایا نورے ساکن نگاہوں سے اس کے ہاتھ کو دیکھ رہی تھی جو اسے منتظر نگاہوں سے دیکھ رہا تھا
گود میں رکھا کپکپاتا ہاتھ عالیان کے ہاتھ پر رکھا ایک دلکش مسکراہٹ نے اس پل عالیان کے لبوں کو چھوا
عالیان کی تقلید میں وہ گھر میں داخل ہوئی سامنے عالیان کے ڈیڈ سوٹ بوٹ پہنے ان سے پہلے گھر پہنچ چکے تھے
" ویک کم میرے بچوں ۔۔ "
نورے کے سر پر شفقت بھرا ہاتھ رکھتے ہوئے وہ خوش دلی سے بولے
" ڈیڈ ۔۔ !"
ان کو پکارتا عالیان آگے بڑھ کر ان کے سینے سے لگ گیا
" جانتے ہو آج تم نے خوش کر دیا مجھے ۔۔ زندگی کا سب سے اچھا فیصلہ کیا ہے تم نے ۔۔ ویل ڈن مائی سن ۔۔ ایسی ہی خاندانی لڑکی کو تمہاری زندگی میں چاہتا تھا میں ۔۔ "
بلند آواز میں بولتے ہوئے انہوں نے عالیان کی پیٹھ تھپکی جبکہ پاس سر جھکائے کھڑی نورے نے عالیان کے ہاتھ میں مقید اپنے ہاتھ کو کھینچنے کی کوشش کی مگر عالیان نے گرفت مزید مضبوط کر لی
" چلو اب بہو کو روم میں لے چلو ۔۔"
ان کے حکمیہ انداز میں کہنے پر عالیان نے سر ہلایا اور نورے کا ہاتھ تھامے اپنے کمرے کی جانب بڑھا
آہستہ آہستہ چلتے ہوئے جب وہ دونوں کمرے میں داخل ہوئے تو ان کا استقبال گلاب کی مہک نے کیا خوبصورت سجاوٹ کو دیکھ کر دونوں نفوس کے دل تیزی سے دھڑکے مڑ کر دروازہ بند کرکے وہ نورے کے قریب ہوا تو اس کی آنکھوں میں جذبات کی چمک دیکھ کر نورے کا ہاتھ جو کہ عالیان کے ہاتھ میں مقیم تھا کپکپا گیا
" جانتی ہو اس پل کا بہت انتظار کیا ہے میں نے ۔۔ !"
خمار آلودہ انداز میں کہتا وہ نورے کی کمر میں بازو حمائل کر چکا تھا جبکہ نورے کا لرزتا وجود اسے مزید بہکا رہا تھا جبکہ نورے بری طرح لرز رہی تھی
" بہت خوبصورت ہو تم ۔۔ بلکل اپنے نام کی طرح ۔۔ !"
اس کے لرزتے لبوں پر جھکتا وہ بوجھل انداز میں بولا
" پلیز اب یہ آنسو تمہاری آنکھوں میں نہ دیکھوں نورے ۔۔ "
لبوں کے بعد وہ اس کی بند آنکھوں سے بہتے آنسوؤں کو چنتا ہوا نہایت نرمی سے گویا ہوا اور رک کر اس کا سرخ چہرہ دیکھنے لگا
" میں جانتا ہوں سب بہت جلدی میں ہوا ۔۔ تمہارے لیے مشکل ہے سب کچھ قبول کرنا ۔۔ لیکن کوشش ہم دونوں کو کرنی ہے تاکہ ہم ایک کامیاب زندگی گزار سکیں ۔۔ ! "
نورے کے بالوں کو کان سے پیچھے کرتے ہوئے وہ گویا ہوا جبکہ نورے اس کی جسارتوں پر بے حال ہو رہی تھی نگاہیں اٹھانا اس کے لیے محال تھا بلاشبہ سامنے کھڑا شخص اس کے حواسوں پر سوار ہو رہا تھا
" لیکن نئی زندگی کو شروع کرنے کے نام پر میں تم پر کسی قسم کی زبردستی نہیں کروں گا ۔۔ "
سنجیدہ انداز میں کہتا وہ نورے سے جدا ہو چکا تھا جبکہ اس کے پیچھے ہونے پر نورے نے اسے چونک کر دیکھا بےشک وہ اسے سمجھنے سے قاصر تھی
" تم ریسٹ کرو ۔۔ گڈ نائٹ ۔۔ "
مسکرا کر کہتے ہوئے وہ کوٹ کو اتارتا ٹیرس کی جانب بڑھ گیا جبکہ نورے منجمد وہیں کھڑی رہ گئی
" کیا ہوا احمد تم نے اتنی جلدی میں بلایا مجھے ۔۔ ؟؟ سب خیریت تھی ۔۔ ؟"
پولیس ٹیشن میں داخل ہونے کے بعد احمد اسے سامنے ہی نظر آیا عباس کے پکارنے پر احمد نے اس کے کاندھے پر ہاتھ رکھا اور اسے لیے اپنے کیبن میں آیا
" عباس میری بات غور سے سننا ۔۔ ! "
احمد نے تمہید باندھی عباس ماتھے پر بل ڈالے اسے دیکھ رہا تھا
" ہمم بولو ۔۔ سن رہا ہوں ۔۔ "
عباس بےحد سنجیدگی سے گویا ہوا
" ہم جسے قاتل سمجھ رہے تھے ۔۔ اس نے قتل نہیں کیا ۔۔ "
احمد کی بات پر عباس نے ناسمجھی سے اسے دیکھا
" کس کی بات کر رہے ہو ۔۔ ؟؟"
" خاور نے عابی کا قتل نہیں کیا ۔۔ بلکہ اس کا تو عابی سے کوئی تعلق ہی نہیں تھا ۔۔ "
احمد ایک بار پھر گویا ہوا مگر اس کے الفاظ عباس کی سماعتوں پر بہت بھاری گزرے کئی پل وہ بے یقینی کی کیفیت میں احمد کا چہرہ تکتا رہا
"کک کیا کہہ رہے ہو تم ۔۔ ؟"
اس کے لب پھڑپھڑائے تھے
" میں صحیح کہہ رہا ہوں ۔۔ خاور اس کیس کا اہم فریق ہے ۔۔ مگر وہ قاتل نہیں ہے ۔۔ "
احمد مزید بولا تھا نگاہیں عباس کے چہرے پر تھیں
" عابی کے ساتھ ہوئے سانحے کا چشم دید گواہ ہے خاور ۔۔ قاتل نے اس کو دیکھ لیا تھا ۔۔ خاور اپنی جان بچا کر بھاگا یہی اس کی غلطی تھی کہ وہ چھپ گیا ملک سے باہر چلا گیا ۔۔ اگر وہ بیان دے دیتا ۔۔ جو اب اس نے آ کر بتایا ہے وہ اسی وقت بتا دیتا تو اصل قاتل بہت پہلے ہی اپنے انجام کو پہنچ جاتا ۔۔ خاور وہ واحد آدمی تھا جو گاؤں سے اچانک غائب ہوا تھا ۔۔ سارے ثبوت اس کے خلاف تھے ۔۔ ہمارا شک اس لیے اس کی طرف گیا ۔۔ اس لیے سارا الزام ہی خاور پر لگا دیا گیا ۔۔ درحقیقت قاتل کوئی اور تھا اور اس قدر شاطر کہ ہمارے سامنے رہا ۔۔ ہمیں بےوقوف بناتا رہا ۔۔ اور ہم بنتے رہے ۔۔ "
احمد جیسے جیسے بولتا جا رہا تھا عباس کے ماتھے کے بل بڑھتے جا رہے تھے
" کک کون ہے ۔۔ کون قاتل ہے ۔۔ ؟"
عباس کی آواز میں بوجھل پن تھا دو سال تک وہ دھوکے میں رہا تھا جسے ڈھونڈنے کے لیے زمین آسمان ایک کر دیے وہ تو وہ تھا ہی نہیں وہ تو دھوکہ تھا
" تم پہلے خاور سے مل لو ۔۔ اسے تم سے بات کرنی ہے ۔۔ وہ تمہاری تلاش میں ہی میرے پاس آیا تھا ۔۔ "
احمد نے کہا اور بیل دی چند لمحوں میں ہی ایک سفید شلوار قمیض پہنے ہوئے آدمی کمرے میں داخل ہوا عباس کی نگاہیں اس پر ٹک گئیں
" چھوٹے سردار ۔۔ !"
اس نے سر جھکائے عباس کو پکارا جبکہ عباس بے تاثر نگاہوں سے اسے ہی دیکھ رہا تھا
" مم مجھے معاف کر دیں سرکار ۔۔ مم میں ڈر گیا تھا اس لیے بھاگ گیا گاؤں سے ۔۔ مم میں اپنے ماں باپ کا اکلوتا بیٹا ہوں ۔۔ میرے علاوہ کوئی سہارا نہیں ان کا ۔۔ اگر میں نہ جاتا تو آپ مجھے مار دیتے ۔۔ "
ہاتھ جوڑے وہ گویا ہوا اور عباس نے اسے سرد نگاہوں سے دیکھا
" خدا کے لیے مجھے چھوٹی بی بی سے ملوا دیں ۔۔ میرے ماں باپ ان سے معافی مانگنا چاہتے ہیں ۔۔ انہیں بےقصور ہو کر بھی ونی کیا گیا ۔۔ میرے ابا کی اچانک موت نے میری ماں کے ذہن پر برا اثر ڈالا ۔۔ میری ماں یہی کہتی ہے کہ یتیم پر ظلم کیا ہے اسی کی سزا ہے ۔۔ ! جب تک معافی نہیں مانگ لیتے ان سے خدا بھی معاف نہیں کرے گا ہمیں ۔۔تبھی مصیبتیں ختم ہوں گی ہماری ۔۔ "
وہ روتے ہوئے ہاتھ جوڑے بول رہا تھا جبکہ عباس کا چہرہ کسی بھی جزبے سے عاری تھا وہ بے تاثر نگاہوں سے اسے دیکھ رہا تھا
" قق قتل کس نے کیا تھا ۔۔ ؟؟ کسے دد دیکھا تھا تم نے اس دن ۔۔ ؟؟"
عباس بولا تو خاور کے آنسو تھمے
/////////////////////////
" شہزاد ۔۔ !!"
حویلی میں داخل ہوتے ہی وہ دھاڑا تھا کہ حویلی کے در و دیوار لرز اٹھے
حویلی کے نوکروں کے علاوہ مالکان بھی اپنے کمروں سے نکل کر باہر آ چکے تھے عباس کی آنکھوں میں خون دیکھ کر ہر کوئی لرز گیا سرداد شیر دل نے بیٹے کو تاسف سے دیکھا جس کا چہرہ وحشت زدہ تھا
" عباس ۔۔! کیا ہوا بیٹا ۔۔؟؟"
ابھی سرداد شیر دل نے پوچھا ہی تھا کہ عباس دور سے آتے شہزاد کی جانب لپکا اور اسے لیے حویلی کے اندرونی حصے کی جانب بڑھا پیچھے سرداد شیر دل، سرداد بی بی اور ناعمہ کے علاوہ کسی اور کے آنے کی جرات نہ تھی
" کس چیز کا بدلہ لیا ہے تم نے ہم سے ۔۔ کیا قصور تھا میری بہن کا ۔۔ ؟؟"
شہزاد کا گریبان پکڑے وہ دھاڑا تھا جبکہ شہزاد کا رنگ لمحے میں زرد پڑا تھا
" میں تمہیں اپنے ہاتھوں سے ماروں گا مگر اس سے پہلے میں وہ وجہ جاننا چاہتا ہوں جس کے باعث تم نے اتنا بڑا ظلم کیا ۔۔ جانتے ہو کیوں ۔۔ ؟ کیونکہ تمہیں میں نے بچپن سے اپنے ساتھ پایا ہے ۔۔ آج تک تمہاری آنکھوں میں ہوس نہیں دیکھی میں نے ۔۔ پھر یہ سب کیسے مان لوں کہ تم ۔۔ تم ہی میری عزت کے قاتل ہو ۔۔ "
شہزاد پر دھاڑتے ہوئے اس کی آنکھوں میں آنسو چمک رہے تھے جبکہ شہزاد کی آنکھوں اور سر ہمیشہ کی طرح عباس کے ادب میں جھکا ہوا تھا مگر لب قفل تھے
" یہ جھکی ہوئی آنکھیں اور جھکا ہوا سر ۔۔ یقیناً شرمندگی کے باعث تو نہیں ہو گا ۔۔ شہزاد مجھے جواب چاہیے ۔۔ نہیں تو مجھ سے برا کوئی نہیں ہو گا ۔۔"
شہزاد کا ہنوز احترام میں کھڑے رہنا عباس کو مزید مشتعل کر گیا وہ مکا شہزاد کے چہرے ہر مارتا دھاڑا جبکہ شہزاد کے ناک سے خون بہنے لگا وہ ناک پر ہاتھ رکھے لڑکھڑا گیا باقی سب ہنوز اپنی جگہ ساکن کھڑے تھے
" بولو ۔۔ !!"
ایک اور مکا شہزاد کے چہرے پر مارتے وہ دھاڑا
" مم میری نو سال کی معصوم بہن تو نہیں بھولی ہو گی آپ کو بڑے سردار ۔۔ ؟؟"
شہزاد لہجے میں نفرت لیے اور آنکھوں میں انتقام لیے سرداد شیر دل کی جانب رخ کیے پوچھ رہا تھا جبکہ اس کے غیر متوقع سوال پر سب نے اسے ناسمجھی سے دیکھا مگر ایک لمحے سے بھی کم وقت میں سردار شیر دل کے چہرے پر موت کی زردی اتری
" کیا بکواس کر رہے ہو ۔۔ اس بات کا کیا مقصد ۔۔ ؟؟"
چند لمحے خاموشی کے بعد عباس پھر سے غرایا جبکہ شہزاد نے اپنی آنکھیں سردار شیر دل کی آنکھوں میں گاڑیں ہوئیں تھیں
" یہیں سے تو کہانی شروع ہوئی تھی چھوٹے سردار ۔۔ !"
ہنوز سردار شیر دل کو دیکھا وہ بولا
" کک کیا کک کہنا چچ چاہتے ہو ۔۔ ؟؟"
بے ربط الفاظ میں سردار شیر دل نے سوال کیا انہیں بہت سے اندیشوں نے جکڑ لیا تھا جبکہ عباس کا دل جیسے کسی نے مٹھی میں لیا ہو وہ شہزاد کے بولنے کا منتظر تھا
" تمہاری لاپرواہی کی وجہ سے میری نو سالہ بہن کو وحشیوں نے نوچ کھایا ۔۔ صرف تمہاری وجہ سے ۔۔ !"
شہزاد کے لہجے میں درد تھا وہ بولا تو اپنے الفاظ سے وہاں موجود ہر شخص کو منجمد کر گیا
" تم جانتے بھی ہو کس سے مخاطب ہو ۔۔ ؟؟ "
عباس نے غصے سے اس کے گریبان پر گرفت سخت کی
" جی چھوٹے سردار ۔۔ میں اپنی بہن کے مجرم سے مخاطب ہوں ۔۔ "
شہزاد لہجے میں نفرت لیے بولا
" خبردار اگر میرے بابا کے بارے میں ایک لفظ بھی بولا تم نے ۔۔ !"
عباس پھر سے غرایا
" سردار شیر دل میں اتنی ہمت نہیں ہے چھوٹے سردار ۔۔ کہ وہ اپنے گناہوں کا اعتراف کرے ۔۔ اس لیے میں ہی بتا دیتا ہوں ۔۔ "
شہزاد اس بار عباس کی جانب دیکھتا گویا ہوا
" آج سے بیس سال پہلے ۔۔ سرداد شیر دل نے مجھے اور میری بہن کو حویلی میں پناہ دی کیونکہ ہم لاوارث تھے ۔۔ یتیم تھے ۔۔ حویلی کے ایک خاص ملازم نے میری معصوم بہن کے ساتھ غلط کرنے کی کئی بار کوشش کی ۔۔ میری بہن نے مجھے بتایا اس وقت میں بارہ سال کا تھا ۔۔ میں نے یہ بات سردار شیر دل کو بتائی کہ ان کا وفادار ملازم ایک گھٹیا شخص ہے جس کی نگاہیں میری معصوم بہن کو بھی نہیں چھوڑتی ۔۔ "
الفاظ جیسے جیسے شہزاد کی زبان سے ادا ہو رہے تھے وہاں موجود ہر زی روح کی سانسیں مدھم ہو گئیں لمحہ بھر کے لیے شہزاد خاموش ہوا گریبان ابھی بھی عباس کی گرفت میں تھا
" مگر سردار شیر دل نے مجھے بچہ کہہ کر خاموش کروا دیا ۔۔ اور پھر وہی ہوا جس کا ڈر تھا ۔۔ اس شخص نے میری نو سالہ بہن کو اپنی ہوس کا نشان بنا لیا اور میں کچھ نہ کر سکا ۔۔ میری بہن مر گئی مگر انتقام کی آگ میرے اندر جلا گئی ۔۔ "
وہ پھر لمحے بھر کے لیے خاموش ہوا تھا
" میں نے ساری بات سردار شیر دل کو بتائی مگر انہوں نے اپنے خاص ملازم کو کچھ نہ کہا ۔۔ اور مجھے ہی آپ کے ساتھ شہر بھیج کر حویلی سے دور کر دیا ۔۔ مگر اس سے پہلے میں نے اپنا انتقام لینا نہ بھلایا ۔۔ میں نے بارہ سال کی عمر میں ہی اس شخص کو قتل کر دیا ۔۔ "
"مگر انتقام تو مجھے سردار شیر دل سے بھی لینا تھا ۔۔ اس لیے صحیح وقت کا انتظار کرنے لگا ۔۔ اس دوران میں نے یہ ظاہر کیا کہ میں سب بھول چکا ہوں ۔۔ میں اپنے دشمن پر اچانک حملہ کرنا چاہتا تھا ۔۔ پھر کئی سال بعد میرا وقت آیا ۔۔ جیسا ظلم میری بہن کے ساتھ ہوا ۔۔ ویسا ہی سردار شیر دل تمہاری بیٹی کے ساتھ کیا میں نے ۔۔ کیونکہ دنیا مکافات عمل ہے ۔۔ "
شہزاد خاموش ہوا تو سردار شیر دل نے سر جھکا لیا جبکہ شہزاد کے گریبان پر عباس کی گرفت خودبخود ڈھیلی پڑ گئی
" مم میری بیٹی بے قصور تھی ۔۔ تت تم نے اپنے مجرم کو مار تو دیا تھا ۔۔ میں جانتا تھا کہ اسے تم نے قتل کیا ہے مگر میں خاموش رہا ۔۔ پھر کیوں ۔۔ کک کیوں بدلہ لیا تم نے میری بیٹی سے ۔۔ "
سردار شیر دل غصے اور دکھ کی کیفیت میں چنگھاڑے تھے جبکہ شہزاد کے لبوں پر اب زہریلی مسکراہٹ بکھری سردار شیر دل کا مچلنا ، تڑپنا دیکھ کر شہزاد کو سکون پہنچا جیسے برسوں کی بے چینی ختم ہو گئی انتقام کی آگ پر ٹھنڈے پانی کے چھینٹے پڑے ہوں
" میری بہن کا کیا قصور تھا جو صرف تمہاری لاپرواہی کی وجہ سے زیادتی کا شکار ہوئی ۔۔؟؟"
شہزاد بھی چیخا تھا جبکہ عباس بے حس و حرکت تھا اس کی بے تاثر نگاہیں سردار شیر دل پر تھیں سردار بی بی بھی گم صم کھڑیں تھیں اب وہ دوبارہ عباس کی جانب مڑا
" خاور نے مجھے قتل کرتے ہوئے دیکھ لیا تھا ۔۔ میں اسے بھی مارنا چاہتا تھا مگر وہ بھاگ گیا ۔۔ مجھے موقع مل گیا میں نے الزام اسی کے سر لگا دیا ۔۔ مجھے لگا تھا وہ اب کبھی گاؤں نہیں آئے گا کیونکہ وہ جانتا تھا آپ اس کو نہیں چھوڑیں گے مگر کچھ عرصے بعد وہ جذبات میں آ کر اپنے ماں باپ سے ملنے آ گیا ۔۔ یہی سے سب خراب ہو گیا ۔۔ حُرّہ بی بی کے ساتھ ہوئے ظلم نے سب کو ہلا دیا ۔۔ بے شک یہ دنیا مکافات عمل ہے ۔۔ خاور کے ماں باپ کو بھی سزا ملی ۔۔ اور میں بھی جانتا ہوں میں بھی گناہگار ہوں ۔۔ میری سزا کا وقت بھی شروع ہو چکا ہے ۔۔ مگر اس سے پہلے میں ایک اور بات بھی آپ کو بتانا چاہتا ہوں چھوٹے سردار ۔۔ "
شہزاد بولتا جا رہا تھا مگر عباس سرد نگاہوں سے اسے دیکھ رہا تھا
" حُرّہ بی بی کو حویلی سے جانے پر سردار بی بی اور ناعمہ بی بی نے مجبور کیا تھا ۔۔ انہوں نے ہی شہر آپ کے گھر پر اپنے آدمی بھیجے تاکہ حُرّہ بی بی کی عزت داغدار کرے مگر اللہ نے ان کا ساتھ دیا وہ وہاں سے اپنی بیٹی کو لیے بچ نکلیں ۔۔ وہ بہت بری حالت میں یہاں آئیں تھیں ۔۔ بار بار ہاتھ جوڑ کر یہاں رہنے کی التجا کرتی رہیں مگر ناعمہ بی بی اور سردار بی بی نے انہیں حویلی میں پناہ نہ دی ۔۔ "
شہزاد کے مزید انکشاف پر عباس کی نگاہیں اس پر ست ہوتی ہوئیں سردار بی بی اور ناعمہ بی بی پر ٹک گئیں
" میرے انتقام میں جس کا سب سے زیادہ نقصان ہوا وہ حُرّہ بی بی ہیں ۔۔ بنا قصور کے ان پر ظلم ہوا ۔۔ میں نے آج تک کچھ بھی کیا اپنے انتقام کے لیے مجھے پچھتاوا نہیں کیونکہ جو مستحق تھے ان کو سزا ملی مگر حُرّہ بی بی اور آپ اس کی لپیٹ میں آ گئے ۔۔ "
شہزاد نے بولتے ہوئے عباس کے آگے ہاتھ جوڑ دیے کیونکہ احمد آ چکا تھا اس کے پیچھے سپاہی بھی تھے
" آخری بات سردار شیر دل تم سے کہنا چاہوں گا ۔۔ اب ساری زندگی اپنی بیٹی کی بربادی کا سوگ منانا ۔۔ اس سوچ کے ساتھ کے تمہاری بیٹی کے ساتھ جو بھی ہوا وہ تمہاری وجہ سے ہوا ۔۔ تمہارے کیے کی سزا ملی تمہاری بیٹی کو ۔۔ "
احمد کے ہتھکڑی لگانے تک وہ اپنی بات مکمل کر چکا تھا جبکہ سردار شیر دل کا غم دوگنا ہوا تھا کہ مکافات عمل کی لپیٹ میں اس کی بے قصور بیٹی آئی
عباس نے سر کو دونوں ہاتھوں میں جکڑ لیا سردار شیر دل کا سر جھکا ہوا تھا اور وہ زار و قطار رو رہے تھے
بوجھل قدموں سے چلتا عباس ان کے پیچھے چلا تھا کیونکہ ابھی بہت سے سوال تھے جو شہزاد سے اسے پوچھنے تھے تھانے پہنچ کر وہ سیدھا شہزاد کے پاس آیا تھا
" ابھی بھی آدھا سچ بتایا ہے تم نے ۔۔ مجھے حقیقت بتاؤ ۔۔ !"
انداز حکمیہ تھا مگر آواز میں زمانوں کی تھکن تھی جبکہ شہزاد سلاخوں کے قریب آیا
" میں جانتا تھا آپ ضرور آئیں گے ۔۔ "
وہ ہنوز ادب سے گویا ہوا
" میں نے تو پوسٹ مارٹم کروایا ہی نہیں تھا عابی کا ۔۔ پھر رپورٹس کیسے آ گئیں ۔۔ شک مجھے اسی وقت ہو گیا تھا کہ کچھ گڑبڑ ہے ۔۔ مگر تم نے چال ہی ایسی چلی کہ میرا دھیان ان رپورٹ سے ہٹا کر اس بات پر لگا دیا کہ قتل تین لوگوں نے کیا ہے ۔۔ "
عباس مٹھیاں بھینچے بولا جبکہ شہزاد کے لب مسکرائے
" عابی بی بی کا دامن داغدار نہیں تھا ۔۔ میں نے یا کسی نے زیادتی نہیں کی تھی ان کے ساتھ ۔۔ چاہتا تھا کرنا ۔۔ کیونکہ انتقام کی آگ میں جل رہا تھا مگر آپ کی شرافت نے مجھے بے بس کر دیا ۔۔ آپ کی عزت کی جانب نگاہ اٹھا کر دیکھنے سے پہلے میں نابینا ہو جاتا ۔۔ لیکن سردار شیر دل کو تڑپتا دیکھنا بھی خواہش تھی میری ۔۔ میں نے صرف یہ ظاہر کروایا عابی بی بی کا حلیہ بگاڑ کر کہ ان کے ساتھ زیادتی ہوئی ہے ۔۔ اور پھر انہیں قتل کر دیا ۔۔ اور ڈاکٹر کو پیسے دے کر جھوٹی رپوٹ بنوائی ۔۔ یہ حقیقت میں نے سردار شیر دل کے سامنے اس لیے نہیں بتائی تاکہ وہ ساری زندگی تڑپے کہ اس کے کیے کی سزا اس کی بے قصور بیٹی کو ملی ۔۔ "
وہ خاموش ہوا تو عباس اس کی جانب لپکا
" میری بہن بے قصور تھی ۔۔ تمہیں ترس نا آیا اتنی بےرحمی سے اسے قتل کرتے ہوئے ۔۔ ؟"
وہ شہزاد کے چہرے پر مکے مارتا دھاڑا شہزاد خاموشی سے اس کی مار کھاتا رہا
ایک طرف عباس کے دل میں سکون اترا تھا کہ اس کی بہن کی عزت پر داغ نہیں لگا تھا مگر دوسری طرف وہ تڑپ گیا تھا کہ سزا اس کی معصوم بہن کو کیوں ملی
" عباس ۔۔ !"
احمد نے عباس کو بمشکل سنبھالا اور پیچھے کیا
عباس ایک نگاہ شہزاد پر ڈالے خود کو احمد کی گرفت سے چھڑایا اور لمبے لمبے ڈگ بھرتا باہر کی سمت بڑھ گیا
////////////////////////
وقت تیزی سے گزر رہا تھا ہر کوئی اپنے انجام کو پہنچ چکا تھا سردار شیر دل کو اسی دن دل کا دورہ پڑا تھا جس کے باعث ان کی حالت تشویشناک تھی عباس کے اتنا علاج کروانے سے بھی کوئی بہتری نہیں آئی مگر وقت کے ساتھ ساتھ حالت بہتر ہونے کے بجائے وہ قومے میں چلے گئے اور پھر کچھ مہینوں بعد زندگی کی بازی ہار گئے
سرداد بی بی کو فالج کا اٹیک ہونے سے وہ بستر سے لگ گئیں تھیں ، نورے اور عالیان بیرون ملک رہائش پذیر ہو چکے تھے اسی باعث ناعمہ بی بی حویلی میں اکیلی تڑپتی رہتیں نورے انہیں ساتھ لے جانا چاہتی تھی مگر یہ اکیلے پن کی سزا انہوں نے اپنے لیے خود چنی تھی
عباس کی زندگی جیسے رک گئی تھی ہر روز وہ حُرّہ اور دعا کی تلاش میں نکلتا مگر کوئی سرا ہاتھ نہ لگتا سب حقیقت جاننے کے بعد کہ اس کے باپ کی غلطی کی وجہ سے اس نے اپنی بہن کھوئی اور اپنی ماں اور چچی کی وجہ سے وہ اپنی بیوی اور بیٹی سے دور تھا اس نے کبھی ماں ، باپ اور چچی کے احترام میں کمی نہیں آنے دی سردار بی بی کا علاج کرواتے ہوئے بھی وہ پرامید تھا کہ وہ ٹھیک ہو جائیں گی اس دوران اس نے حُرّہ کو بہت ڈھونڈا مگر شاید وہ ملنا ہی نہیں چاہتی تھی اس لیے لاکھ کوشش کے باوجود نہیں مل رہی تھی
////////////////////////
ہم نہیں جانتے کہ ہمارے لیے کیا بہتر ہے خدا جانتا ہے کہ ہمارے حق میں کیا بہتر ہے اس وقت ہم خدا کی مصلحت نہیں سمجھ پاتے کیونکہ ہماری عقل میں بس اپنی خواہشات حاصل کرنے کی جستجو ہوتی ہے ہم سمجھ ہی نہیں سکتے کہ ہم صرف ایک پھول کے پیچھے بھاگ رہے ہیں اور خدا ہمیں پھولوں سے بھرا گلدستہ دینا چاہتا ہے
نورے وہ لڑکی تھی جو ہر طرح کے حالات میں خالق کی رضا میں راضی رہی جس سے اس نے بچپن سے محبت کی وہ اسے نہیں ملا مگر جو ملا وہ کسی سے کم نہیں تھا اس نے حقیقت کو قبول کیا کہ اس کے نصیب میں خالق نے عالیان کو لکھا تھا
عالیان اسے متاع جاں کی طرح تصور کرتا تھا محبت ، عزت سے اس نے نورے کے دل کو جیت لیا تھا کبھی بھی عالیان نے اس کی پہلی محبت کا ذکر نہیں کیا تھا نورے نے اپنے ماضی کے بارے میں اسے بتانا چاہا تو عالیان نے یہ کہہ کر منع کردیا کہ وہ دونوں ایک دوسرے کے حال اور مستقبل کے جوابدہ ہیں ماضی کو بھول جائیں تو بہتر ہے امریکہ وہ عالیان کے بزنس کی وجہ سے آئے تھے مگر سب حقیقت انہیں معلوم ہو چکی تھی وہ دونوں عباس اور حُرّہ کے لیے دعاگو تھے کہ عباس کو اس کی بیوی اور بیٹی مل جائیں
دو سال ہو گئے تھے اسے عباس سے بھاگتے ہوئے ، چھپتے ہوئے ، دعا تین سال کی ہو چکی تھی کتنا تکلیف دہ تھا ان کے لئے کہ جب پہلی بار دعا نے بابا کہا تھا اس وقت بھی عباس ان کے پاس نہیں تھا اس وقت حُرّہ کی آنکھیں نم ہوئیں تھیں
پھر جب دعا نے چلنا شروع کیا تھا اس وقت بھی عباس ان سے دور تھا حالات کی ستم ظریفی ایسی تھی کہ چاہ کر بھی وہ عباس کے پاس نہیں جا سکتی تھی نورے اور عباس کی زندگی پر اپنا سایہ بھی نہیں ڈالنا چاہتی تھی مگر کسک تھی کہ کیا وہ اور اس کی بیٹی ساری زندگی محرومی کی زندگی گزاریں گیں دن بھر محنت کر کے رزق حلال کما کر وہ لاتی تھی تو رات کو اکثر عباس کی یاد سونے نہ دیتی تھی فرحت بی اور تہمینہ نے کئی مرتبہ اس کا حال دیکھ کر اسے سمجھایا کہ وہ عباس کے پاس چلی جائے اگر عباس نے دوسری شادی کی بھی ہے تو پھر بھی اس پر دعا اور تمہارا حق ہے مگر حُرّہ خاموشی سے ان کی نصیحتیں سنتی رہتی مگر جواب نہ دیتی
جولائی کی گرمی اپنے جوبن پر تھی سورج گویا آگ برسا رہا تھا یہ حیدرآباد کے ایک عام سے علاقے کا منظر تھا یہاں تقریبا تمام ہی معمولی سے مکانات تھے ہر کوئی اپنی زندگی میں مصروف نظر آ رہا تھا کچھ لوگ درختوں کے سائے تلے کھڑے تھے تو کوئی گنے کے ٹھیلے کے پاس کھڑا اس گرمی سے بچنے کے لیے گنے کے جوس سے لطف اندوز ہو رہا تھا
اس تپتی دھوپ میں وہ تیز تیز قدم بڑھا رہی تھی معمولی سا ایک سفید رنگ کا لان کا سوٹ پہنے وہ بڑی سی مہرون چادر سر پر سلیقے سے اوڑھے ہوئے تھی وقفے وقفے سے اسی چادر سے چہرے اور گردن پر آیا پسینہ صاف کر رہی تھی عمر لگ بھگ بائیس سال تھی مگر جانے کیوں اس لڑکی کے چہرے پر زمانوں کی تھکن تھی جیسے لمبا سفر طے کر کے آ رہی ہو
وہ چھوٹی تنگ گلی میں داخل ہو کر تیز تیز قدم بڑھاتی ایک ہاتھ میں دوائیوں کا شاپر تھامے کچھ تھکی تھکی سی لگ رہی تھی
ایک معمولی سے تین کمرے کے مکان کے گھر میں جب وہ داخل ہوئی تو ہمیشہ کی طرح سلائی مشین کی آواز نے اس کا استقبال کیا
کچے پکے مکان کے چھوٹے سے صحن کو عبور کرتی ہوئی وہ ایک کمرے میں داخل ہوئی جہاں دو چارپائیاں اس طرح پڑیں تھیں کہ ایک کمرے کے وسط میں اور دوسری چارپائی کھڑکی کے پاس تھی کمرے میں مزید کوئی چیز نہ تھی
حرّہ نے کمرے میں داخل ہو کر چادر اتار کر دوائیوں کے شاپر سمیت اسی چارپائی پر رکھی جو کھڑکی کے ساتھ تھی اور خود بھی اب وہ اسی چارپائی پر براجمان ہو چکی تھی بیٹھے سے اب وہ چپل سمیت ہی لیٹ گئی تھی کئی دن سے بے آرامی کے باعث آج وہ اپنے سر میں بھی شدید سر درد محسوس کر رہی تھی لیکن نہیں یہ سر درد تو اسے اب ہمیشہ ہی رہنے لگا تھا بیشک وہ بہت زیارہ خوبصورت نہیں تھی مگر جانے کیا دکھ تھے اسے کہ اچھی خاصی ہونے کے باوجود اپنی حالت یوں بگاڑ کر رکھتی کہ بالوں کی لمبی چٹیا میں سے آدھے بال نکلے رہتے اور آنکھیں ہمہ وقت نم رہتیں
چارپائی پر چت لیٹی وہ آنکھیں میچے گہرے گہرے سانس لے رہی تھی ابھی اس کا پسینہ خشک نہ ہوا تھا کہ چھت پر لگا پنکھا بند ہو گیا مگر حرّہ نے آنکھیں وا نہ کیں اور نہ اس کے وجود نے کوئی حرکت کی جیسے اسے معلوم تھا کہ بجلی بند ہونے والی ہے
" ماما ۔۔ ماما ۔۔"
وہ ہنوز آنکھیں موند کر لیٹی ہوئی تھی جب ایک تین سالہ بچی کی چہکتی آواز نے اسے آنکھیں کھولنے پر مجبور کیا حرّہ کے تھکان زدہ چہرے پر زندگی سے بھرپور مسکراہٹ بکھری تھی آنکھیں کھول کر اس نے اپنے پاس کھڑی بچی کو دیکھا جس کی خوبصورت آنکھیں بھی آج مسکرا رہیں تھی اس بچی کی مسکراہٹ دیکھ کر حرّہ کی ساری تھکاوٹ اور سر درد جیسے دور ہو گیا خود بیٹھ کر اس نے بچی کو اپنی گود میں بیٹھایا اور اس کے چہرے پر بوسا دیتے ہوئے مامتا کی پیاس بجھانے لگی
" ماما کی جان اتنی خوش ہے آج تو لگتا ہے ماسی ماں نے پرنسز کی ساری باتیں مانی ۔۔"
حُرّہ دُعا کو پیار کرتی ہوئی مسکراتے ہوئے پوچھ رہی تھی جب اسے آدھے ٹوٹے پھوٹے فرش پر کسی بھاری قدموں کی چاپ سنائی دی یہ آواز اس کے دل کو شدت سے دھڑکنے پر مجبور کر گئی ہاتھوں میں لرزش پیدا ہوئی تھی ہونٹ کپکپا گئے دل نے بس اُسی کی آمد کی گواہی دی جس سے وہ ہمیشہ سے بھاگ رہی تھی مگر شاید آج وہ وقت آن پہنچا تھا جس سے وہ فرار چاہ رہی تھی رکی ہوئی سانس کو بحال کرتی وہ خشک ہونٹوں پر لب پھیرتی اٹھی اس نے دعا پر گرفت سخت کی جیسے آنے والا اس سے اس کی دعا کو چھین لے گا
عباس نے خستہ حال دروازے پر ہلکی سی دستک دی جیسے اپنے آنے کا احساس دلایا ہو مگر وہ جانتا تھا کہ حُرّہ تو دور سے ہی اس کی خوشبو پہچان گئی ہوگی دستک دے کر وہ چند پل وہیں کھڑا رہا جبکہ اس کی جائزہ لیتی نگاہیں اس کمرے سے ہوتی ہوئیں حُرّہ پر جا ٹہریں جو رخ موڑے یوں بے حرکت کھڑی تھی جیسے پتھر کی ہو عباس نے اپنے سیاہ کوٹ کے بٹن کو کھول دیا شاید اسے گرمی کا احساس ہوا تھا پینٹ کی جیب سے رمال نکال کر پیشانی پر آئے پسینے کو صاف کر کے وہ آہستہ آہستہ قدم بڑھاتا حُرّہ تک پہنچ چکا تھا دعا ، حُرّہ سے خود کو چھڑوا کر لپک کر عباس کی ٹانگوں سے آ لپٹی جبکہ عباس نے لمحہ ضائع کیے بنا دعا کو اپنی گود میں اٹھا کر پیار کیا اب حُرّہ بھی مڑ چکی تھی جھکی نگاہوں سے بھی وہ عباس کی شخصیت کے سحر میں جکڑ چکی تھی جبکہ عباس کی نگاہیں حُرّہ کے وجود کو یوں تکنے لگی جیسے صدیوں کی پیاس بجھا رہیں ہوں حُرّہ کو اس طرح عجیب حالت میں دیکھ کر عباس کے دل پر جانے کیوں بوجھ سا محسوس ہوا اپنے تڑپتے دل کو مضبوط کرتے ہوئے عباس نے بھاری آواز میں اسے پکارا جو سر اور نگاہیں جھکائے کھڑی جیسے سانسیں بھی روکے کھڑی تھی
" کیسی ہیں حُرّہ ۔۔؟"
دعا کو گود میں اٹھائے عباس بولا تو پہلی مرتبہ حُرّہ نے پلکوں کے گھنے جھالڑ اٹھا کر اس مہرباں کو دیکھا یقیناً وہ اس سوال کی توقع تو ہرگز نہیں کر رہی تھی دونوں کی آنکھیں ملیں تو دل بے قابو ہو گئے عباس اور اس کی گود میں دعا کو دیکھ کر حُرّہ کے حلق سے دبی دبی سسکی نکلی جس کا منہ پر ہاتھ رکھ کر حُرّہ نے گلا گھونٹ دیا جبکہ عباس نے تڑپ کر حُرّہ کو دیکھا وہ جو سوچ رہا تھا آج ہر سوال کا جواب لے گا حُرّہ سے ہر حساب برابر کرے گا مگر ہونٹ قفل ہو گئے تھے
" کیوں اتنا بڑا ظلم کیا حُرّہ آپ نے ۔۔ آپ اتنی ظالم کیسے ہو سکتیں ہیں ۔۔ کس چیز کی سزا دی آپ نے مجھے ۔۔؟"
یہ وہ سارے سوال تھے جو وہ حُرّہ سے پوچھنا چاہتا تھا مگر وہ یہ سوال کر کے حُرّہ کو اذیت نہیں دے سکتا تھا اس لیے
کچھ پل گزرے تھے کہ عباس نے بولنے کی ہمت جمع کی
" بات نہیں کریں گی کیا ۔۔؟ "
عباس کے دھیمے لہجے اور محبت بھرے انداز پر حُرّہ کا دل تڑپ اٹھا
" آج بھی غصہ نہیں آ رہا اس شخص کو ۔۔ ؟؟ نفرت کیوں نہیں کرتا یہ شخص مجھ سے ۔۔؟"
عباس کے سینے سے لگی دعا کو دیکھتی وہ دل میں سوچ رہی تھی
جب عباس کی پینٹ کی جیب میں موجود موبائل بج اٹھا عباس سیل فون نکال کر ہاتھ میں لیتے سکرین پر موجود نام دیکھ کر ٹھٹھکا اور حُرّہ اس کے چہرے کو دیکھ کر پہچان گئی کہ کال کرنے والی ہستی کون ہے
" میں کبھی بھی نورے اور آپ کے درمیان نہیں آ سکتی چھوٹے سرکار ۔۔ آپ بات کر لیں ان سے ۔۔"
عباس کو کال کاٹ کر موبائل واپس جیب میں رکھتے دیکھ کر حُرّہ نگاہیں چرا کر بولی اور ساتھ ہی وہ دُعا کو اپنی گود میں لے چکی تھی
" آپ آج بھی غلطی پر ہیں حُرّہ ۔۔ "
حُرّہ کی بات پر عباس مٹھیاں سختی سے بھینچتا سرد مہری سے بولا
" میں ہمیشہ کی طرح آج بھی اپنی تمام غلطیاں قبول کرتی ہوں ۔۔ سرکار "
وہ آنسو حلق میں اتارتی دھیمی آواز میں بولی
" دُعا کے ساتھ ظلم کر رہیں ہیں آپ ۔۔ "
وہ ملامت بھری نگاہوں سے حُرّہ کی جھکی آنکھوں میں دیکھتا شکایت کر رہا تھا جبکہ دعا اپنی جانب کسی کو متوجہ نہ پا کر ہاتھ میں پکڑی گڑیا کو لے کر کمرے سے بھاگتی ہوئی چلی گئی
" ظلم تو قسمت نے کیا ہے ہم پر ۔۔عباس ہمدانی صاحب ۔۔ "
پہلی بار وہ عباس کی آنکھوں میں اپنی نم آنکھوں سے دیکھتی دبی دبی آواز میں غرائی تھی جب عباس نے حُرّہ کی جانب قدم بڑھائے ہوش حُرّہ کو تب آیا جب عباس نے اس کے قریب جا کر اس کی پیشانی پر اپنے گرم لبوں کا لمس چھوڑا
" حُرّہ میری جان ۔۔ !"
سختی سے حُرّہ کو خود میں بھینچے وہ اس کو مکمل اپنے حصار میں لے چکا تھا جبکہ حُرّہ دم سادھے اس کے لمس کو محسوس کر رہی تھی
" کیوں حُرّہ کیوں کیا آپ نے ایسا ۔۔ اتنے بڑی بڑی آزمائشوں میں اتنا صبر کیا آپ نے ۔۔ پھر کیوں حالات سے فرار چاہی آپ نے ۔۔ ؟؟"
حُرّہ کو خود سے جدا کیے اب وہ اس کے چہرے کو والہانہ انداز میں تکتا پوچھ رہا تھا جبکہ اس کے سوال پر حُرّہ سسک اٹھی تھی سوچتی تھی کہ اب وہ مضبوط ہو گئی ہے مگر اس مہرباں کو دیکھ کر جیسے ہجر کی اذیت کی آنکھیں گواہی دے رہیں تھی
" تت تھک گئی میں ۔۔ سس سرداد ۔۔ تت تھک گگ گئی تت تھی ۔۔ "
وہ عباس کی شرٹ کے کالر کو مٹھیوں میں دبوچے شدت سے روتے ہوئے بےربط الفاظ ادا کر پائی
" میں آپ کی ہمت نہیں تھا کیا ۔۔ ۔؟؟ ہمارا رشتہ ڈھال نہیں تھا کیا ۔۔ ؟؟"
عباس اس کے ہاتھوں کو اپنے شکنجے میں لیتے ہوئے آنچ دیتی نگاہوں سے اسے تکتا لہجے میں شدت لیے بولا
" کیوں خاموش ہیں اب ۔۔ ؟؟ حُرّہ مم میری بیٹی ۔۔ ہماری بیٹی ۔۔ ہمارے رشتے کی مضبوط ضمانت ہے ۔۔ کیوں پھر اپنے حق سے پیچھے ہٹیں تھیں آپ ۔۔ "
حُرّہ کی خاموشی پر وہ مشتعل ہوا اس کے ہاتھوں پر ذرا سا دباؤ ڈالتا ہوا وہ دبی دبی آواز میں بولا
" میرا پیچھے ہٹنا حالات کا تقاضا تھا سردار ۔۔ "
چہرے کو ذرا سا موڑتے ہوئے وہ خود کو مضبوط کرتی بولی تھی مگر عباس کی والہانہ نگاہیں اس کے وجود کو لرزنے پر مجبور کر رہیں تھیں
" حالات کا مقابلہ کرنا چاہئے ۔۔ !"
عباس نے اس کے چہرے کو اپنے قریب کرتے ہوئے کہا اس کے انداز میں شدت و اذیت تھی
" میں کمزور تھی ۔۔ ننن نہیں کر سکی مقابلہ ۔۔ !"
اپنے چہرے پر عباس کی گرم سانسوں کو محسوس کرتی وہ نگاہیں جھکائے سرد انداز میں بولی
" با خدا عورت جتنا مضبوط میں نے کسی کو نہیں پایا ۔۔ اور پھر آپ تو ماں ہیں میری بیٹی کی ۔۔ ماں کمزور نہیں ہو سکتی ۔۔ پھر دعا کی خاطر ہی تھوڑا سا اور لڑ لیتی حالات سے ۔۔ "
عباس کے لہجے میں دو سالوں میں سہی گئی اذیت کی آمیزش تھی
" آپ پلیز چلے جائیں یہاں سے ۔۔ نورے بی بی کے ساتھ خوش رہیں ۔۔ خدارا میری قربانی رائیگاں مت جانے دیں ۔۔ "
وہ دل برداشتہ ہو کر بولی تھی اس شخص کی قربت اسے بےحال کر رہی تھی
" خودی سے ہر چیز کا حساب لگا لیتیں ہیں آپ ۔۔ ؟؟"
اس بار عباس نے افسوس سے اسے دیکھتے ہوئے پوچھا
" پپ پلیز جائیں چھوٹے سردار ۔۔ نورے انتظار کر رہیں ہوں گی آپ کی ۔۔ !"
وہ اس سے نگاہیں چرائے خود کو اس کی گرفت سے نکالنے کی بھرپور کوشش میں تھی جبکہ اس کی بات پر عباس نے لب بھینچے
" آپ کے انہیں غلط اندازوں کی وجہ سے دعا اور آپ سے دو سال دور رہا ہوں میں ۔۔ "
وہ اس سے اس انداز میں شکوہ کر رہا تھا کہ حُرّہ اسے دیکھتی رہ گئی آواز دھیمی اور انداز میں بچوں جیسی ضد تھی
" مم میں معافی چاہتی ہوں آپ سے سردار ۔۔ "
وہ فوراً بولی تو اس کے انداز میں طنز کی آمیزش تھی جبکہ عباس نےابرو اچکائے
"میری وجہ سے آپ اپنی بیٹی سے دور رہے مگر مم میں ایک معمولی لڑکی ہوں میری اولاد بھی عام سی ہے ۔۔ مجھے لگا ہماری کسی کو کیا ضرورت ۔۔ !"
وہ مزید بولی تھی جیسے وہ خود نہیں عباس نے اسے دور کیا ہو دو سال پہلے جبکہ عباس اس کے شکایت کرتے ہوئے انداز پر سرد نگاہوں سے اسے گھورنے لگا
" جتنا عرصہ آپ میری دسترس میں رہیں ۔۔ ایک بار بھی آپ کو محسوس ہوا کہ آپ محض میری ضرورت ہیں ۔۔ ؟؟"
وہ سپاٹ انداز میں پوچھ رہا تھا جبکہ حُرّہ نے اس مرتبہ شرمندگی سے سر جھکا لیا وہ کتنی پاگل تھی جو عباس سے ہی شکوے کر رہی تھی جبکہ دوری کا فیصلہ تو اس کا اپنا تھا
" آپ میری بیوی ہیں حُرّہ ۔۔ میری بیٹی کی ماں ۔۔ میں نے اپنی بیوی سے محبت کی یعنی آپ سے ۔۔ اور بے حد کی ۔۔ ہمیشہ کرتا رہوں گا ۔۔ میں وہ مرد نہیں ہوں جن کے لیے بیوی محض ضرورت ہوتی ہے ۔۔ میرے لیے میری فیملی ہر چیز سے زیادہ اہمیت رکھتی ہے ۔۔ "
شدت جذبات سے بولتا ہوا وہ یکدم خاموش ہو گیا اور حُرّہ سے جدا ہوا رخ دوسری جانب پھیر لیا جبکہ حُرّہ اسے دیکھتی گھبرا گئی
" مم می میں نے صرف آپ کا سکون چچ چاہا تھا ۔۔ جو کہ بڑے سردار اور سردار بی بی کی بات ماننے میں تھا ۔۔ "
عباس کی پشت کو دیکھتی اس بار اس کا لہجہ بھیگا ہوا تھا
" میرا سکون آپ ہیں حُرّہ ۔۔ کتنی بار یہ بات میں نے اپنے عمل اور باتوں سے جتائی آپ کو ۔۔ کیوں نہیں سمجھیں آپ ۔۔ جانتیں ہیں ۔۔ آپ کے بغیر ۔۔ دعا کے بغیر کس طرح دو سال ۔ حُرّہ دو سال ۔۔ کس طرح رہا ہوں میں ۔۔ پل پل آپ کو یاد کیا ۔۔ دعا کو یاد کیا ۔۔ کہاں کہاں نہیں ڈھونڈا آپ کو ۔ اگر ناہید مجھے نہ ملتی اور مجھے سب کچھ نہ بتاتی تو ۔۔ جانے اور کتنے عرصے مزید امتحان لیتی آپ میرا ۔۔ "
وہ شکوہ کرتے ہوئے بولا تھا حُرّہ نے سر جھکا لیا
" مم میں آپ کو اپنی وجہ سے کوئی پریشانی نہیں دینا چاہتی تھی ۔۔ ہمارا ایک دوسرے سے دور رہنا بہتر ہے سردار ۔۔"
وہ نگاہوں کا رخ دوسری سمت کرتے ہوئے اپنے دل پر پتھر رکھتے ہوئے بولی جبکہ عباس نے افسوس سے اس بے رحم لڑکی کو دیکھا جو ابھی بھی اپنی بات پر قائم تھی
" حُرّہ میں اپنی بیٹی سے دو سال تک دور رہا ہوں ۔۔ آپ ابھی بھی اتنے آرام سے دور ہونے کی بات کر رہیں ہیں ۔۔ جانتی ہیں بہت ظط ظالم ہیں آپ ۔۔ !"
وہ شکوہ کناں نگاہوں سے اسے دیکھتا بولا
" حُرّہ کیا یہ معمولی بات ہے ۔۔ میں نے وہ وقت نہیں دیکھا جب میری بیٹی نے پہلا قدم خود اٹھایا تھا ۔۔ اور ۔۔ اور جب میری بیٹی نے پہلا لفظ بولا تھا ۔۔ دو سال میں اپنی بیٹی سے دور رہا ۔۔ کیا آپ کو ذرا ترس نہیں آیا مجھ پر ۔۔ "
حُرّہ کی ہنوز خاموشی پر وہ اس کے چہرے کو ہاتھ میں تھامے رنج و غم کی کیفیت میں پوچھ رہا تھا
" معاف کیجئے گا سردار مگر ۔۔ دعا صرف میری بیٹی ہے ۔۔ سردار شیر دل اور سرداد بی بی کی خواہش آپ کی خاندانی بیوی سے اولاد ہونا ہے نا تو میری یا میری اولاد کی اوقات تو آپ کی خاندانی بیوی اور اولاد کے آگے کچھ بھی نہیں ۔۔ خدا کا واسطہ ہے چھوٹے سردار مم مجھے اور میری بیٹی کو اکیلا چھوڑ دیں ۔۔ نورے بی بی کے پاس چلے جائیں پپ پلیز ۔۔ "
دوندی ہوئی آواز میں کہتی حُرّہ نے خود کو اس کے حصار سے نکالا
" نورے کا نام بار بار میرے ساتھ جوڑ کر آپ توہین کر رہیں ہیں ہمارے مابین رشتوں کی ۔۔ "
حُرّہ کی باتیں کسی بھی مخلص شخص کو اشتعال میں لا سکتیں تھیں مگر عباس کے لیے حُرّہ وہ ہستی تھی جس سے وہ ذرا سی بھی بلند آواز میں بات نہیں کر سکتا تھا
" میں اپنے ہر کہے گئے لفظ کی معافی چاہتی ہوں ۔۔ پلیز چلے جائیں یہاں سے ۔۔ "
سفاکیت سے کہتے ہوئے وہ عباس کا مزید دل دکھا رہی تھی
" نورے کی شادی دو سال پہلے ہی عالیان سے ہو چکی ہے ۔۔ وہ الحمداللہ اس وقت سے امریکہ میں خوش حال زندگی گزار رہے ہیں ۔۔ "
عباس کے الفاظ کئی پل کے لیے حُرّہ کو سکتے میں لے گئے وہ ہونق بنی پھٹی آنکھوں سے عباس کو تک رہی تھی جب عباس نے چند قدم بڑھا کر بے حد نرمی سے اسے اپنے حصار میں لیا
" بھلا اپنی بیوی سے بےوفائی کر سکتا تھا میں ۔۔ آپ کے علاوہ کسی لڑکی کو آنکھ بھر کے دیکھنا بھی گناہ سمجھتا ہوں ۔۔ "
اپنے چہرے کو حُرّہ کے چہرے کے قریب کر کے وہ ذرا سا جھکا تھا اور مدھم آواز مگر مضبوط انداز میں بولا تھا حُرّہ ساکت نگاہوں سے اسے دیکھ رہی تھی
" عالیان نے نورے کا رشتہ بہت محبت سے مانگا تھا اور نورے نے بھی خدا کی رضا سمجھ کر قبول کر لیا ۔۔ وہ ایک حقیقت پسند لڑکی تھی ۔۔ حالات کے مطابق ڈھل گئی ۔۔ اور آج اپنے صبر کا پھل بھی پا چکی ہے ۔۔ ابھی اس لیے نورے کی کال آ رہی تھی کہ وہ دونوں پاکستان آنے والے تھے ۔۔ اور مجھے ان دونوں کو ریسیو کرنے جانا تھا مگر مجھے آپ کے پاس اور اپنی بیٹی کے پاس آنا تھا کیونکہ پہلا حق آپ دونوں کا ہے مجھ پہ ۔۔ "
وہ اپنے مخصوص دھیمے انداز میں بولتا اسے تفصیلی جواب دے کر چپ ہوا اور اب حُرّہ کا پر سوچ چہرہ تکنے لگا
" یی یہ کیا ہو گیا مم مجھ سے ۔۔ ؟؟"
بے ربط الفاظ ادا کرتی وہ خود سے مخاطب تھی جبکہ عباس نے سرد آہ بھری
کئی لمحے وہ اس کے بولنے کا انتظار کرتا رہا تھا مگر وہ جیسے گہرے صدمے میں کھڑی تھی یقیناً اگر عباس نے اسے کمر سے جکڑا ہوا نہ ہوتا تو ضرور گر جاتی
" حُرّہ ۔۔ !"
کمرے کی خاموشی میں عباس کی بھاری آواز گونجی مگر حُرّہ ساکن کھڑی تھی اس کی نگاہوں میں اب ندامت کے اثرات ابھرے تھے
" حُرّہ جانم پلیز کچھ بولیں ۔۔ "
حُرّہ کی پتھرائی ہوئی نگاہوں میں دیکھتا وہ لہجے میں صدا کی نرمی و فکر لیے پوچھ رہا تھا مگر حُرّہ کے حلق سے الفاظ نکلنے سے انکاری تھے
" چلیں گھر چلیں ۔۔ !"
حُرّہ کے گرد حصار بنائے وہ بولا اور اسے لیے کمرے سے نکلا جبکہ حُرّہ بے جان وجود کی طرح اس کے ساتھ ہو لی
باہر آ کر اس نے فرحت بی کا شکریہ ادا کیا اور دعا کو گود میں اٹھائے حُرّہ اور ناہید جو ساتھ لیے چل دیا
گاڑی دعا کو اس نے اپنی گود میں بیٹھائے ڈرائیور کی دعا ایک دن میں ہی اس سے اس قدر مانوس ہو گئی تھی کہ عباس کے دل نے گواہی دی خون کی کشش ضرور ہوتی ہے مگر ایک طرف اس کے دل میں ٹیس بھی اٹھی تھی کہ اس کی بیٹی اتنے عرصے تک اپنے باپ کے پیار سے محروم رہی تھی
گاڑی جب حویلی کی حدود میں داخل ہوئی تو حُرّہ نے بےساختہ چہرے کا رخ عباس کی جانب کیا عباس اسے بغیر دیکھے اب دعا کو گود میں اٹھائے گاڑی سے نکلا اور اس کی جانب بڑھا گاڑی کا دروازہ کھولے اس نے حُرّہ کا گود میں رکھا ہاتھ خود ہی استحقاق سے تھاما اور نرمی سے اسے باہر نکالا اور قدم بڑھانے لگا مگر حُرّہ نے چند قدم چلنے کے بعد اپنے قدم روک لیے
یہ وہ جگہ تھی جہاں ہمیشہ اس کی تذلیل کی جاتی تھی جہاں سے اسے اور اس کی بیٹی کو نکالا گیا تھا کتنی منتیں کیں تھی اس نے حویلی کے مکینوں کی کہ اسے پناہ دے دیں مگر ان سخت دل عورتوں نے اسے جانے پر مجبور کر دیا تھا آنسو پلکوں کی باڑ سے گرے تو وہ ہوش میں آئی
عباس نے سوالیہ انداز میں اسے دیکھا حُرّہ نے عباس کو دیکھتے ہوئے نفی میں سر ہلایا عباس نے طویل سانس خارج کیا اور حُرّہ کا ہاتھ چھوڑ کر اپنا بازو اس کے گرد حمائل کیا اور اپنے ہونے کا احساس دلایا نا چاہتے ہوئے بھی حُرّہ کو عباس کے ساتھ قدم ملانے پڑے
یہ حویلی آج بھی اپنی پوری شان و شوکت سے کھڑی تھی حُرّہ اطراف پر نگاہیں رکھتے سوچ رہی تھی ملازمین ہاتھ باندھے احترام سے کھڑے یکے بعد دیگرے اسے اور عباس کو سلام کر رہے تھے
" سردار ۔۔ رب آپ کو سلامت رکھے ۔۔ حویلی کی رونق واپس لے آئے ۔۔ ہماری چھوٹی بی بی کو واپس لے آئے ۔۔ "
ایک پرانی عمر رسیدہ ملازمہ نے عباس کی گود سے دعا کو لیتے ہوئے دعائیں دیں اور حُرّہ کو بھی سلام کیا جبکہ حُرّہ کی نگاہیں حویلی کے مکینوں کو تلاش کر رہیں تھیں تبھی ناعمہ بی بی اسے اپنے قریب آتی دیکھائی دیں
" شکر ہے آپ آ گئیں ۔۔ شکر ہے خدا کا ۔۔ !"
نم آنکھوں سے حُرّہ کے قریب پہنچ کر انہوں نے اس کے آگے ہاتھ جوڑ دیے
" روز دعا مانگتی تھی کہ مرنے سے پہلے آپ سے معافی مانگ لوں ۔۔ کیونکہ جب تک آپ معاف نہیں کریں گیں تب تک خدا بھی معاف نہیں کرے گا ۔۔ خدا کے لیے مجھے معاف کر دیں ۔۔ میری وجہ سے آپ حویلی سے جانے پر مجبور ہو گئیں تھی ۔۔"
ہاتھ جوڑے وہ روتے ہوئے کہہ رہیں تھیں عباس کی نگاہیں حُرّہ کے چہرے پر تھیں جو الجھ کر ناعمہ بی بی کو دیکھ رہیں تھیں
" چھوٹے سردار ۔۔ خدا کے لیے ۔۔ حُرّہ کو بولیں مجھے معاف کر دیں ۔۔ !"
حُرّہ کو حیرت زدہ دیکھ کر وہ اس بار عباس سے سفارش کرتی بولیں تھیں
" حُرّہ ۔۔ !"
عباس کے پکارنے پر وہ سوالیہ نگاہوں سے اسے دیکھنے لگی وہ کچھ بھی سمجھنے سے قاصر تھی
" پلیز بیٹا معاف کر دو ۔۔ !"
وہ حُرّہ کے قدموں کی جانب جھکیں تھیں جب حُرّہ ایک جھٹکے سے پیچھے ہوئی
" پلیز ۔۔ ایسے نہیں کریں ۔۔ !"
ناعمہ بی بی کو کاندھے سے تھامے وہ بولی تو ناعمہ بی بی رونے لگیں
" میں نے بہت غلط کیا تھا آپ کے ساتھ بیٹا ۔۔ میں نے چھوٹے سردار کو اپنی بیوی اور بیٹی کے لیے تڑپتا ہوا دیکھا ہے ۔۔ خدا پتہ نہیں مجھے معاف کرے گا بھی یا نہیں ۔۔ "
وہ روتے ہوئے بولیں تو حُرّہ نے عباس کی جانب دیکھا
" پلیز چچی جان روئیں نہیں ۔۔ میں نے کتنی بار آپ سے کہا ہے ۔۔ بھول جائیں اس بات کو ۔۔ اب دیکھیں ہماری دعائیں رنگ لے آئیں ۔۔ حُرّہ اور دعا مل گئیں نا مجھے ۔۔ پھر پرانی باتیں دہرا کر آپ خود کو اذیت دے رہیں ہیں ۔۔ "
عباس ان کے جڑے ہاتھوں کو عقیدت سے تھامتا ہوا کہہ رہا تھا جبکہ حُرّہ ابھی بھی الجھن کا شکار تھی
" آپ دونوں کا دل بہت بڑا ہے چھوٹے سردار ۔۔ "
باری باری حُرّہ اور عباس کے چہرے کو دیکھتی وہ کہنے لگی تو عباس ان کی بات پر محض مسکرایا
" ماشااللہ ۔۔ ہماری چھوٹی بی بی تو بڑی ہو گئی ۔۔ بلکل چھوٹے سردار آپ جیسی ہے دعا ۔۔ "
دعا کی جانب مڑ کر وہ اسے پیار کرتیں محبت سے کہہ رہی تھیں
" حُرّہ ماں جی سے مل لیتے ہیں ۔۔ "
حُرّہ سے کہتے ہوئے اب وہ اسے لیے سرداد بی بی کے کمرے کی جانب بڑھے جبکہ حُرّہ کا دل ان سے ملنے پر ہرگز بھی آمادہ نہیں تھا مگر مجبوراً عباس اسے لیے کمرے میں داخل ہوا
" السلام علیکم ماں جی ۔۔ !"
کمرے میں داخل ہو کر عباس نے باآواز بلند سلام کیا جبکہ حُرّہ کی نگاہیں بستر پر پڑے وجود کو دیکھ کر پھیل گئیں سردار بی بی کے بیمار وجود کو دیکھ کر اس نے تعجب سے عباس کو دیکھا جبکہ سردار بی بی عباس کی آواز سن کر منہ سے عجیب آوازیں نکالنے لگیں چند لمحے لگے تھے حُرّہ کو سردار بی بی کو دیکھ کر سمجھنے میں کہ انہیں کیا بیماری ہے
" یہ دیکھیں ماں ۔۔ کون آیا ہے ۔۔ آپ کی بہو اور پوتی ۔۔ "
خوش دلی سے کہتے ہوئے عباس نے دعا کو ملازمہ کی گود سے لیا اور حُرّہ کا ہاتھ تھامے ان کے بیڈ کے قریب آ رکا جبکہ سردار بی بی کی آنکھوں سے آنسو نکلنے لگے وہ بلند آواز میں عجیب کچھ کہہ رہی تھیں انہیں دیکھ کر حُرّہ کو مزید تشویش ہوئی تھی آخر دو سالوں میں یہ ہو کیا گیا تھا مگر درحقیقت ہر کوئی اپنے اچھے برے عمل کا صلہ پا لیتا ہے
" جی جی ماں ۔۔ دونوں بلکل ٹھیک ہیں ماشااللہ سے ۔۔ یہیں رہیں گی اب ۔۔ کہیں نہیں جاتی ۔۔ "
حُرّہ نے دیکھا عباس ان کی آنکھوں کے اشاروں اور عجیب آوازوں کے جواب دے رہا تھا
" حُرّہ ماں آپ سے معافی مانگ رہیں ہیں ۔۔ پلیز ان سے بات کریں ۔۔ ؟"
عباس سنجیدگی سے اس سے مخاطب ہوا تو حُرّہ کے آنسو خودبخود بہنے لگے چند لمحوں میں ہی حُرّہ کا مدھم رونا اب بلند سسکیوں میں بدل گیا تھا
" حُرّہ پلیز روئیں نہیں ۔۔ ٹھیک ہے آپ بات نہ کریں ماں سے مگر پلیز روئیں نہیں ۔۔ آپ کو ایسے روتے دیکھ کر ماں کو برا لگے گا ۔۔ "
حُرّہ کی جانب جھک کر سرگوشی کرتے ہوئے وہ بولا تو حُرّہ عباس کے سینے سے لگ گئی
" مم میں ۔۔ نن نے ۔۔ یی یہ ۔۔ نن نہیں ۔۔ چچ چاہا تھا ۔۔ سرداد ۔۔ "
عباس کے سینے میں منہ چھپائے وہ سسکتے ہوئے کہہ رہی تھی
" میری جان کس نے کہا کہ آپ نے یہ چاہا ہے ۔۔ "
اس کی کمر سہلاتے ہوئے عباس نے کہا اور اسے لیے کمرے سے نکلا حُرّہ اور دعا کو اپنے کمرے میں لانے کے بعد اس نے دعا کو حُرّہ کی گود میں دیا
" آپ ریلیکس رہیں ۔۔ میں آتا ہوں ابھی ۔۔ پھر ساتھ میں کھانا کھائیں گے ۔۔ "
حُرّہ کی گود میں موجود دعا کے ماتھے پر بوسہ دینے کے بعد وہ حُرّہ کے چہرے پر جھکا اور اس کے ماتھے پر مہر ثبت کرنے جے بعد پیار سے کہہ کر وہ دوبارہ سردار بی بی کے کمرے کی جانب بڑھ گیا کیونکہ وہ جانتا تھا اس کی ماں رو رہیں ہو گی
جبکہ حُرّہ نم آنکھوں سے کمرے کو دیکھنے لگی جو آج بھی ویسا ہی تھا اس حویلی میں یہ واحد جگہ تھی جہاں اس کی زندگی کے حسین لمحات بسر ہوئے تھے عباس کے ساتھ گزارے گئے حسین پل آج بھی یہاں زندہ تھے
////////////////////////
" بی بی جی چھوٹے سردار آپ کو باہر بلا رہے ہیں ۔۔ وہ جی نورے بی بی اور عالیان صاحب آئیں ہیں ۔۔ "
وہ اپنی سوچوں میں گم بیٹھی دعا کے سوالوں کے جواب غائب دماغی سے دے رہی تھی جب ایک ملازمہ مؤدب سی آ کر اسے کہہ رہی تھی حُرّہ نے اپنی چادر کو لپیٹا اور دعا کی انگلی پکڑی کمرے سے نکلی
" السلام علیکم حُرّہ کیسی ہو ۔۔ ؟"
جیسے ہی حُرّہ دھڑکتے دل کے ساتھ لاؤنج میں داخل ہوئی اسے دیکھتے ہی نورے لپک کر اس کی جانب بڑھی اور سلام کرتی اسے گلے ملی
" واؤ یہ تو بلکل اپنے بابا جیسی ہے ۔۔ پرنسز بہت مس کیا آپ کو ۔۔ "
حُرّہ کے بعد نورے دعا سے لپٹی جبکہ حُرّہ ، نورے کو دیکھتی رہ گئی جو پہلے سے بھی زیادہ خوبصورت لگ رہی تھی شاید یہ اس کے چہرے پر سجی خوبصورت مسکراہٹ کا کمال تھا ورنہ اس نے نورے کو اتنا خوش کبھی نہیں دیکھا تھا
" السلام علیکم بھابھی کیسی ہیں آپ ۔۔ ؟"
عالیان بھی احتراماً کھڑا ہوا حُرّہ کو سلام کرتا اب وہ دعا کو نورے کی گود سے لے رہا تھا
" ارے عباس دعا تو بلکل تمہاری کاپی ہے نا نورے ۔۔ کیوٹ پرنسز ۔۔ "
دعا کو گود میں لیتے وہ باری باری عباس اور نورے سے مخاطب ہوا
" ہمم میری بیٹی جو ہے ۔۔ مجھ پر ہی جانا تھا اس نے ۔۔ "
عباس بھی مسکراتا ہوا بولا تھا جبکہ ناعمہ بی بی سمیت ملازمہ نے بھی عباس کو اتنے عرصے بعد مسکراتے دیکھ کر شکر ادا کیا ان سب کی مسکراہٹیں دیکھ کر حُرّہ کے لب بھی ہولے سے مسکرائے
" اچھا لگا آپ دونوں کو ایک بار پھر ساتھ دیکھ کر ۔۔ خدا آپ دونوں کی جوڑی سلامت رکھیں ۔۔ "
حُرّہ اور عباس کو دیکھتے ہوئے نورے بولی تو سب نے آمین بولا حُرّہ نے عباس کو دیکھا جو نگاہیں دعا کی جانب رکھتے ہوئے مسکرایا تھا
" نورے ڈیڈ کی کال آ رہی ہے ۔۔"
عالیان کا موبائل بجا تو سکرین پر چمکتا نام دیکھ کر بولا
" چلیں ٹھیک ہے پھر ۔۔ ہم لوگ کل آئیں گے ۔۔ ابھی چلتے ہیں ۔۔ !"
نورے سر ہلاتی بولی
" ڈنر کر کے جانا ۔۔ "
ان دونوں کو اٹھتا دیکھ کر عباس گویا ہوا
" یار ڈیڈ ویٹ کر رہے ہیں ابھی ۔۔ کل کر لیں گے ڈنر ۔۔ اوکے بھابھی آپ کے ہاتھ سے بنا ہوا کھانا کھائیں گے کیونکہ ۔۔ نورے میڈم کھانا بنانے کے معاملے میں کچھ زیادہ اچھی نہیں ہیں ۔۔ "
عباس کے گلے ملتا وہ حُرّہ کو کہتا آخر میں نورے کو تنگ کر رہا تھا جبکہ نورے اس کی بات پر مسکرائی
" حُرّہ میں بہت اچھا کھانا بناتی ہوں کل جلدی آؤں گی ۔۔ تمہارے ساتھ بنواؤں گی کھانا پھر بتانا کہ میں کیسا کھانا بناتی ہوں ۔۔ "
وہ عالیان کو گھورتی حُرّہ سے مخاطب تھی حُرّہ مسکراتے ہوئے نم آنکھوں سے انہیں دیکھ رہی تھی
" چلیں میڈم ۔۔ "
نورے کی گھوری پر وہ فوراً بولا تو دونوں خدا حافظ کرتے حویلی سے نکل گئے
///////////////////////
" بی بی جی ۔۔ !"
نورے اور عالیان کے جانے کے بعد کھانا کھا کر عباس ، سرداد بی بی کے پاس چلا گیا جبکہ اس نے ناہید کو حُرّہ کے پاس بھیجا تھا تب سے ناہید حُرّہ کو گم صم بیٹھا دیکھ رہی تھی بالآخر اسے پکار بیٹھی
" ہممم ۔۔ !"
حُرّہ نے گود میں لیٹی سوئی ہوئی دعا کے بالوں میں انگلیاں چلاتے ہوئے ہنکار بھرا
" آپ مجھ سے ناراض ہیں نا ۔۔ تبھی بات نہیں کر رہیں ۔۔ "
ناہید نے حُرّہ کے پریشان چہرے کو دیکھ کر پوچھا
" میں نے کیوں ناراض ہونا ہے آپ سے ۔۔ ؟"
وہ کھوئے ہوئے انداز میں بولی
" میں نے آپ سے وعدہ کیا تھا کہ ۔۔ چھوٹے سردار سے نہیں ملوں گی ۔۔ لیکن میں ان سے ملنے حویلی آئی اور انہیں آپ کے بارے میں بتایا ۔۔ "
سر جھکائے وہ اعتراف کر رہی تھی جبکہ حُرّہ نے خاموش نگاہوں سے اسے دیکھا
" خدا کے ہر کام میں مصلحت ہوتی ہے ۔۔ !"
مختصر کہہ کر حُرّہ نے لب بھینچ لیے
" مجھے معاف کر دیں بی بی جی ۔۔ لیکن میں آپ کی یہ حالت نہیں دیکھ سکتی تھی ۔۔ سارا دن نوکری کرنے کے بعد جب آپ گھر آتی تھی تو مرجھایا ہوا چہرہ ۔۔ اور کیا رات کو آپ کے رونے کی آواز مجھے چین لینے دیتی تھی ۔۔ ہماری دعا بی بی کا حق ہے سردار پہ ۔۔ سوچ سوچ کر ، رو رو کر آپ نے خود کا کیا حال کر لیا سر درد ہوتا تھا تو دوائی بھی نہیں لیتی تھیں ۔۔ بس پھر مجھ سے رہا نہیں گیا اور میں چھوٹے سردار کے پاس آ گئی ۔۔ "
ناہید کے لہجے میں فکر مندی تھی
" ناہید باجی ۔۔ یی یہ سس سردار بی بی ۔۔ کک کو کک کیا ۔۔ مطلب آپ کو معلوم ہے یہ کک کیسے ہوا انہیں ۔۔ ؟"
بے ربط الفاظ ادا کرتی وہ بمشکل خود کو رونے سے روک پائی تھی کیونکہ جس مغرور سرداد بی نی کو اس نے دیکھا تھا وہ یہ تو بلکل بھی نہیں تھیں کون سوچ سکتا تھا کہ ان کا یہ انجام بھی ہو سکتا تھا
" میں جب گاؤں آئی تو ۔۔ گاؤں والوں سے حویلی کے حالات پوچھے ۔۔ انہوں نے بتایا کہ ۔۔ عابی بی بی کا قاتل خاور نہیں بلکہ شہزاد تھا ۔۔ یہ حقیقت جاننے کے بعد شہزاد کو چھوٹے سردار نے جیل میں ڈلوا دیا ۔۔ اور بی بی جی اس وقت بڑے سردار کو دل کا دورہ پڑا وہ انتقال کر گئے ۔۔ ان سارے صدموں میں سردار بی بی کو فالج ہو گیا ۔۔ چھوٹے سردار نے بڑے علاج کروائے لیکن بستر سے لگ گئیں وہ ۔۔ خدا معاف کرے بی بی جی ۔۔ آپ کے ساتھ تھوڑے ظلم کیے ان لوگوں نے ۔۔ بندے بھول جاتے ہیں لیکن خدا تھوڑی بھولتا ہے اپنے بندے کے ساتھ ہوئی زیادتی ۔۔ میں تو آپ کے ہر پل کی گواہ ہوں بی بی جی ۔۔ سرداد کی بیوی اور بیٹی ہو کر آپ نے اور دعا بی بی نے کیسے کیسے وقت گزارا ۔۔ "
ناہید اپنی ہی دھن میں بول رہی تھی مگر حُرّہ کے چہرے پر کئی رنگ گزرے
" مم میں نے یہ نہیں چاہا تھا ناہید باجی ۔۔ وو وہ معزور ہو گئیں ۔۔ یہ یہ ۔۔ نہیں چاہا تھا میں نے ۔۔ وہ تکلیف میں ہیں ۔۔ مم میں اتنی پتھر دل نہیں ہوں کہ کسی کو اس حال میں دیکھنے کی خواہش کروں ۔۔ اللہ انہیں شفاء دیں ۔۔ "
وہ سچے دل سے دعا کرتی بولی تھی
" ہاں جی آمین ۔۔ "
ناہید بھی سر ہلاتی بولی اتنے میں کمرے کا دروازہ کھلا اور عباس اندر داخل ہوا اسے دیکھتے ہی ناہید سلام کرتی کمرے سے نکل گئی جبکہ حُرّہ آنسو پونچھ کر نگاہیں چرانے لگی
" سو گئی میری بیٹی ۔۔ ؟"
حُرّہ کی گود میں سوئی دعا کو دیکھتا وہ پوچھ رہا تھا پھر دروازہ لاکڈ کرنے کے بعد وہ بیڈ پر حُرّہ کے برابر آ کر لیٹ گیا حُرّہ نے ترچھی نگاہوں سے اسے دیکھا وہ کافی تھکا ہوا لگ رہا تھا
" عالیان اور نورے کل دوبارہ آئیں گے حویلی ۔۔ آج جلدی میں تھے کیونکہ عالیان کے ڈیڈ ویٹ کر رہے تھے ان دونوں کا مگر انہیں آپ سے اور دعا سے ملنے کی جلدی تھی ۔۔ اس لیے پہلے یہاں آئے ۔۔ "
حُرّہ کو سرسری انداز میں مطلع کرنے کے بعد وہ دعا کو بہت نرمی سے اس کی گود سے اٹھا کر اپنے برابر لٹا رہا تھا اب ان دونوں کے درمیان دعا تھی
" آرام کر لیں آپ تھک گئی ہوں گی ۔۔ "
اپنی جانب کا لیمپ آف کرتے ہوئے وہ دعا کو اپنے سینے سے لگاتا آنکھیں موندے نہایت سنجیدگی سے بولا جبکہ عباس کا اسے نظرانداز کرنا حُرّہ کو اضطراب میں مبتلا کر گیا
" سس سنیں ۔۔ !"
بے اختیار اس نے عباس کو پکارا تھا اسے عباس کا رویہ عجیب لگا تھا
" جی حکم ۔۔ ؟"
آنکھیں میچے وہ مدھم آواز میں بولا تو اس کے انداز پر حُرّہ سسک اٹھی
" سس سردار ۔۔ !"
سسکتے ہوئے وہ چہرہ ہاتھوں میں چھپائے بولی تو عباس نے لمحے سے پہلے آنکھیں وا کیں اور اٹھ کر حُرّہ کی جانب آیا
" میری جان ۔۔ کیا ہوا ۔۔ ؟"
حُرّہ کے چہرے سے ہاتھ ہٹاتا وہ فکرمندی سے پوچھ رہا تھا جبکہ حُرّہ اس کے گرد اپنے بازو حمائل کرتی لپٹ گئی
" مم مجھ سے ناراض مت ہوں پپ پلیز ۔۔ مم میں ۔۔ اا اس لیے ۔۔ چچ چلی ۔۔ گئی تھی ۔۔ کک کہ اس وقت چلے ۔۔ چچ چلے جانا بب بہتر تھا ۔۔ "
روتے ہوئے وہ بمشکل بولی تھی
" اا اپنے لیے ۔۔ دد دعا کے لیے ۔۔ اا اور آپ کے لیے ۔۔ یہ فیصلہ کک کیا تھا ۔۔ اا اس وقت اور کوئی رر راستہ ۔۔ نہیں تھا مم میرے ۔۔ پپ پاس ۔۔ آپ کو بب بہت پپ پکارا ۔۔ لیکن آپ نہیں آئے ۔۔ "
عباس کو مزید بتاتے ہوئے وہ جیسے اپنی صفائی کے ساتھ شکوہ بھی کر رہی تھی عباس خاموشی سے اسے سن رہا تھا کیونکہ وہ اسے سننا چاہتا تھا جو رب کے سوا کسی کو اپنے دکھ نہیں سناتی تھی
" دعا سے دور رہے اتنا ٹائم ۔۔ آپ ناراض ہیں نا اس لیے میرے ساتھ ۔۔ اا اسی لیے دیکھ بھی نہیں رہے مجھے ۔۔"
وہ اب سوں سوں کرتی شکوہ کر رہی تھی جبکہ عباس کے لپ ہولے سے مسکرائے
" میں آپ سے ناراض ہو سکتا ہوں کبھی ۔۔ ؟"
اسے شانوں سے تھامے وہ سوال کر رہا تھا جبکہ حُرّہ کا سر خودبخود نفی میں ہلا
" تو پھر کیوں رو رہیں ہیں آپ ۔۔ ؟"
" پپ پھر ابھی ایسے ہی کیوں سونے لگے تھے ۔۔ ؟"
" تو کیا کر کے سوتا ۔۔ ؟"
سنجیدہ تاثرات لیے وہ ذومعنی انداز میں بولا تو اس جی بات سمجھتی حُرّہ کے رخسار سرخ ہوئے وہ خفت مٹانے کو اسی کے سینے میں منہ چھپا گئی
" مم میں نے بہت یاد کیا آپ کو ۔ "
چند لمحے خاموشی کے بعد وہ پھر بولی
" واپس کیوں نہیں آئی پھر ۔ ؟"
عباس کے سوال پر وہ بلکل خاموش ہو گئی اور اس سے نظریں چرانے لگی
" آپ نے سوچا کہ میں آپ کے جانے کے بعد دوسری شادی کر لوں گا ۔۔ !"
وہ حُرّہ کی جھکی آنکھوں پر اپنی آنکھیں جمائے طنز کر رہا تھا اس کے انداز ر حُرّہ کا سر مزید جھک گیا اور عباس جو کہ ہمیشہ کا نرم دل ، جھک کر اس کے رخسار کو لبوں سے چھوا
" ایم سوری ۔۔ جانتا ہوں اس سب میں آپ کا قصور نہیں تھا حالات ہی ایسے تھے ۔۔ یقیناً دوری جتنی میرے لیے تکلیف دہ تھی اتنی ہی آپ کے لیے بھی تھی ۔۔ "
محبت سے کہتے ہوئے وہ باری باری اس کی ہتھیلیاں لبوں سے چھو رہا تھا حُرّہ کو ہمیشہ کی طرح اس کی قربت اور حدت بھرا لمس سمٹنے پر مجبور کر رہا تھا عباس نے بہت عقیدت سے اسے خود میں بھینچا عباس کا حصار اسے ہمیشہ کی طرح معتبر کر رہا تھا لب قفل تھے مگر دو سالوں کا ہجر ان دونوں کی آنکھوں سے اپنی اذیت کی گواہی بیان کر رہا تھا ایک ایک پل ایک دوسرے کے بغیر کیسے گزارا یہ حُرّہ کے آنسو اور عباس کی آنکھوں کی نمی ایک دوسرے کو آنکھوں سے ہی داستان سنا رہے تھے عباس نے بھی اسے رونے دیا کیونکہ اس کے بعد وہ کبھی اس کی آنکھوں میں آنسو نہیں آنے دے گا اس نے خدا سے تہجد میں حُرّہ کی خوشیوں کی دعائیں مانگی تھیں اور اسے یقین تھا کہ اس کی دعاؤں پر ضرور قبولیت کی مہر لگے گی کیونکہ جو خدا پر توکل رکھتے ہیں کامیاب ضرور ہوتے ہیں
" ماما یہ اِنا بڑا کس کا گھر ہے ۔۔ ؟"
دعا ، حُرّہ کا چہرہ اپنے دونوں چھوٹے چھوٹے ہاتھوں میں لیے شوق سے پوچھ رہی تھی یقیناً رات کو نیند کی وجہ سے بہت سے سوال وہ اپنی ماں سے نہیں کر پائی تھی وہ دعا کی انہیں چھوٹی چھوٹی شرارتوں کے باعث نیند سے بیدار ہوئی تھی بوجھل آنکھیں کھول کر دیکھا تو خود کو عباس کے کمرے میں پایا نگاہیں دوڑائیں تو اندازہ ہوا کہ عباس کمرے میں نہیں ہے
" دعا یہ آپ کے بابا کا گھر ہے ۔۔ "
دعا کے چھوٹے چھوٹے ہاتھوں کو تھام کر اپنے لبوں سے لگاتے ہوئے وہ بولی دونوں ماں بیٹی ہنوز بیڈ پر لیٹی ہوئیں تھی
" تہمی خالہ نے تو کہا تھا کہ میں اپنے گھر جا رہی ہوں ۔۔ !"
چھوٹے سے معصوم چہرے پر پریشانی کے تاثرات ابھرے تھے بے ساختہ حُرّہ نے اس کے رخسار پر بوسہ دیا
" میری جان بابا کا گھر ۔۔ مطلب دعا کا گھر ۔۔ اب ٹھیک ہے ۔۔ "
حُرّہ نے لاڑ کرتے ہوئے کہا تو دعا نے سر ہلایا
" ہم تہمی خالہ کو اور نانو کو یہاں نہیں بلا سکتے ماما ۔۔ ؟؟ "
دعا ہنوز پریشانی کے عالم میں بولی تھی یقیناً اسے ان سب کی یاد آ رہی تھی
" دعا آپ نانو اور خالہ کو مس کر رہی ہو ۔۔ ؟؟"
حُرّہ نے آنکھیں سکیڑ کر پوچھا تو دعا نے زور زور سے سر کو ہلایا
" میری جان ۔۔ نانو اور خالہ اپنی گڑیا کو ملنے آئیں گی نا ۔۔ آپ سیڈ نہیں ہو ۔۔ "
دعا کی گال پر پیار کرتے ہوئے وہ بولی تو خوشی دعا کے چہرے سے جھلکنے لگی حُرّہ اس کا چہرہ دیکھ کر سوچھنے لگی کہ رشتے محض خون کے نہیں ہوتے بلکہ رشتے تو احساس کے ہوتے ہیں اب فرحت بی اور تہمینہ کے ساتھ کوئی خونی رشتہ نہیں تھا دعا کا مگر ان دونوں نے اسے اس کے خونی رشتوں سے بڑھ کر محبت دی جہاں اس کی سگی دادی نے اسے قبول کرنے سے انکار کر دیا تھا وہیں فرحت بی نے اسے ہمیشہ کسی شفیق نانی دادی کی طرح پیار کیا تھا
" ماما وہ کون ہیں جسے بابا ماں بولتے ہیں ۔۔ وہ سٹرینج ہیں نا بہت ۔۔ "
دعا کی آنکھوں کے سامنے سردار بی بی کا چہرہ لہرایا تھا وہ پہلی نظر میں تو انہیں دیکھتی ان سے خوفزدہ ہو گئی تھی
" وہ دادی ہیں آپ کی ۔۔ یعنی بابا کی ماما ۔۔ جیسے میں آپ کی ماما ہوں ۔۔ "
دعا کے سلکی بالوں پر ہاتھ پھیرتے وہ بولی تھی
" ماما مجھے ان سے ڈر لگتا پے ۔۔ "
دعا نے اس کے گلے لگتے ہوئے کہا
" دعا ایسے نہیں بولتے میری جان ۔۔ وہ بابا کی ماما ہیں نا ۔۔ دیکھو بابا کتنا پیار کرتے ہیں ان سے آپ نے بھی کرنا ہے ۔۔ "
حُرّہ اسے پیار سے سمجھا رہی تھی
" دعا ایک بات سنو بیٹا ۔۔ "
حُرّہ لیٹے سے اٹھ بیٹھی تھی وہ جانتی تھی دعا شرارتی نہیں ہے مگر وہ چھوٹے چھوٹے بہت سے سوال کرتی تھی کہیں کچھ سردار بی بی کے متعلق ایسا بول دیا کہ عباس کو برا لگے تو اسی ڈر سے وہ دعا کو سمجھاتے ہوئے بولی
" اور یہاں کسی بھی چیز کو نہیں چھیڑنا آپ نے ۔۔ مجھے پتہ ہے میری بیٹی بہت سویٹ ہے وہ ماما کی ہر بات مانتی ہے ۔۔ "
وہ مزید کچھ کہنا چاہتی تھی لیکن عباس کو اندر آتے دیکھ کر بات بدل دی ، عباس کی کمرے میں آمد پر خاموش ہو گئی جبکہ عباس مسکراتا ہوا ان دونوں کی جانب بڑھا اور بیڈ پر بیٹھ کر دعا کو گود میں لے لیا
" بابا کی جان ۔۔ جاگ گئی ۔۔ "
دعا کو پیار کرتا وہ محبت سے پوچھ رہا تھا حُرّہ نے عباس کے حلیے کو دیکھا براؤن کلر کے قمیض شلوار میں وہ خاصا دلکش لگ رہا تھا کیا وہ کہیں باہر سے آ رہا تھا
" ماں کے پاس تھا ۔۔ !"
حُرّہ کو اپنی جانب پرسوچ انداز میں تکتا پا کر وہ دھیمے سے بولا تھا جبکہ حُرّہ نے نگاہیں چرا لیں
" تیار ہو جائیں پھر ساتھ ہی ناشتہ کرتے ہیں ۔۔ "
حُرّہ کی معصوم حرکت پر عباس نے مسکراتے ہوئے اسے مخاطب کیا
حُرّہ بھی مسکراہٹ دبائے بیڈ سے اتری اور کپڑے لیے واشروم کی جانب بڑھ گئی جبکہ عباس دعا کو دیکھنے لگا
" بابا کی جان ۔۔ مس نہیں کرتی تھی بابا کو ۔۔ ؟؟ "
دعا کے رخساروں کو باری باری پیار کرتا وہ پوچھ رہا تھا
" کرتی تھی ۔۔ "
دعا کو اس کی داڑھی چبھی تھی کسما کر بولی
" پھر آتی کیوں نہیں تھی ۔۔ "
عباس نے مزید پیار کرتے ہوئے اسے سینے سے لگایا
" ماما کہتی تھی بابا خود آئیں گے ۔۔ "
دعا نے فوراً کہا حُرّہ اکثر دعا کے ساتھ عباس کی باتیں کرتی تھی جب وہ کہ اسے اپنے باپ کے پاس جانا ہے تو حُرّہ اسے مختلف بہانوں سے ٹال دیتی اور کہتی کہ اس کے بابا خود آئیں گے وہ چھوٹی سی بچی اپنے باپ کا شدت سے انتظار کرتی تھی
"اوہ تو جانم اتنا یقین تھا آپ کو کہ میں آؤں گا ۔۔ !"
عباس بڑبڑایا تھا لبوں پر دلکش مسکراہٹ تھی
" آؤ دعا دادی ماں کے پاس چلتے ہیں ۔۔ "
دعا کو گود میں اٹھا وہ کمرے سے نکلا تھا
////////////////////////
" حُرّہ یہ صرف میرا نہیں آپ دونوں کا بھی گھر ہے ۔۔ "
عباس یقیناً اس کی گفتگو دعا کے ساتھ سن چکا تھا دعا باہر کھیل رہی تھی اس کے آنے سے جیسے اس وحشت زدہ حویلی میں رونق آ گئی تھی اور حُرّہ کو اکیلا کمرے میں دیکھ کر وہ اس کے پاس آیا تھا
" جج جی ۔۔ "
" پلیز ایسے بی ہیو نہ کریں ۔۔میری ہر چیز پر پہلا حق آپ دونوں کا ہے جان ۔۔ آپ ایسے اسے سیکھا رہیں ہیں جیسے وہ یہاں مہمان ہے ۔۔ "
عباس کی بات وہ سمجھ رہی تھی
" نن نہیں تو ۔۔ !"
" ایسی ہی بات ہے ۔۔ میں جانتا ہوں ایک وقت آیا تھا جب مجھے آپ کو یہاں سے لے جانا پڑا تھا ۔۔ اور پھر ایک وقت ایسا بھی آیا تھا جب ۔۔ جب آپ کو یہاں سے نکالا گیا تھا ۔۔ لیکن ہر وقت ایک جیسا نہیں رہتا ۔۔ حالات ٹھیک ہونے میں وقت لگتا ہے ۔۔ اور اللہ کے کرم سے اب سب کچھ ٹھیک ہے ۔۔ "
عباس اس کے وجود کو اپنی نگاہوں کے حصار میں لیتا نرمی سے کہہ رہا تھا
" جج جی ۔۔ "
حُرّہ نے یک لفظی جواب دیا
" میں جانتا ہوں آپ نے مشکل وقت یہاں گزارا ہے لیکن یہ وعدہ ہے میرا کہ آپ اچھا وقت بھی یہاں گزاریں گیں ۔۔"
وہ اس کے ہاتھ پر دباؤ ڈالتا اسے سمجھا رہا تھا
" میں نے کچھ دن کے لیے چھٹیاں لیں ہیں ۔۔ "
حُرّہ کا نگاہیں چرانا نوٹ کرتا وہ بات بدل گیا
" کل شام احمد کی شادی ہے ۔۔ نورے اور عالیان بھی شرکت کریں گے ۔۔ ہم بھی انوائیٹڈ ہیں ۔۔ "
وہ مزید بولا تھا جبکہ حُرّہ نے اس کی بات پر سر ہلایا
" سائیڈ ڈرا میں دوائیاں پڑی ہیں ۔۔ وہ کس لیے ہیں ۔۔ ؟؟"
وہ اچانک بولا تھا جبکہ حُرّہ نے بوکھلا کر اسے دیکھا
" وو وہ ۔۔ "
وہ اٹکی تھی عباس بغور اس کے چہرے کے تاثرات دیکھ رہا تھا
" آپ کو یاد ہے ۔۔ آپ مجھ سے کوئی بھی بات نہیں چھپاتی تھی ۔۔ ؟"
وہ شاید اسے کچھ جتا رہا تھا کل رات ہی اس نے وہ دوائیاں دیکھیں تھی تب سے اسے بے چینی ہو رہی تھی ڑاکٹر سے پوچھنے پر معلوم ہوا کہ مائیگرین کی میڈیسنز ہیں اسے تشویش ہوئی تھی کہ یہ دوائی حُرّہ کے سامان میں کیوں ہیں تب اس نے فرحت بی اور تہمینہ سے بات کی تھی انہوں نے بتایا کہ حُرّہ مسلسل پریشان رہتی تھی رات رات بھر روتی تھی اس لیے اسے یہ مسئلہ ہوا تھا تب سے وہ یہ دوائیاں استعمال کر رہی تھی
" جی ۔۔ "
اسے سمجھ نہ آئی کیا کہے پہلی ملاقات کی طرح آج بھی عباس کی قربت میں اس کی سانسیں تیز ہو جاتی تھیں
" مائیگرین کب سے ہے آپ کو ۔۔ ؟"
وہ کھونجتی نگاہوں سے اسے دیکھتا پوچھ رہا تھا حُرّہ کی تکلیف اسے خود میں محسوس ہوئی تھی
" دد دو سال ۔۔ !"
وہ نگاہیں چرائے جیسے کسی جرم کا اعتراف کر رہی تھی
" میری جدائی میں کیا حال کر لیا آپ نے ۔۔ اتنی محبت ۔۔ ؟؟"
وہ ابرو اچکا کر جیسے اسے تنگ کرنے کے موڈ میں تھا یہ تو طے تھا کہ اب وہ حُرّہ کی آنکھوں میں آنسو تو دور اداسی بھی آنے نہیں دے گا
" مجھے لگا تھا میں سب کچھ ہار گئی ۔۔میں نے آپ کو ہار دیا ۔۔ "
وہ اپنے ڈر بیان کر رہی تھی عباس نے دلچسپی سے اسے دیکھا
" مم مجھے لگا تھا ۔۔ مم میں ۔۔ دور جاؤں گی تت تو ۔۔ آپ نن نورے ۔۔ سے ۔۔ شش شادی ۔۔ کر ۔۔"
وہ پھر بھیگی آواز میں بولی تھی
" آ آپ یقین کریں ۔۔ ا اپنی عزت کک کو بب بچانے کی خک خاطر ۔۔ مجھے جانا پڑا ۔۔ "
وہ روندی ہوئی آواز میں بولی تھی اسے یاد آیا کیسے سرداد بی بی نے اسے دھمکی دی تھی کہ اگر وہ حویلی سے نہ گئی تو وہ عزت و آبرو کھو دے گی وہ رات قیامت جیسی تھی اسے یاد کرکے اس کی آنکھوں میں خوف در آیا تھا
" اللہ کے بعد آپ کا شکریہ حُرّہ آپ نے اپنی حفاظت کی ۔۔ اگر اس وقت آپ ہمت نہ دیکھاتی تو بہت کچھ برا ہو سکتا تھا کیونکہ ۔۔ میرے اپنوں نے دھوکا دیا ہے مجھے ۔۔ "
عباس کے لہجے میں بھی درد تھا جب ناعمہ بی بی نے اسے سب کچھ بتایا کہ کیسے سردار بی بی نے اور انہوں نے مل کر حُرّہ کے لیے سازش رچی تھی اتنا بھی خیال نہ کیا کہ وہ ان کے بیٹے کی عزت ہے
" مجھے ا اس وقت وہی ٹھیک لگا تھا ۔۔ لل لیکن خدا گواہ ہے ۔۔ میں نے اپنی آبرو کی حفاظت کی ۔۔ آج بھی میرا دامن پپ پاک ہے ۔۔ آپ کے علاوہ مجھے کسی نامحرم نے چچ چھوا تک نہیں ۔۔ مم میں آپ سے جدائی برداشت کر سکتی تھی لل لیکن ۔۔ دامن پہ داغ نن نہیں ۔۔ "
وہ جانے کیوں یہ سب بول رہی تھی شاید اسے لگا ہو کہ سردار بی بی نے اس کے جانے کے بعد عباس کو کہیں کچھ غلط نہ بتایا ہو مگر وہ شاید یہ نہیں جانتی تھی عباس اس کے کردار کی گواہی دیتا تھا وہ کسی کی باتوں میں آنے والا نہیں تھا
" کیا آپ کو مجھے یہ سب کہنے کی ضرورت ہے ۔۔ ؟؟شوہر سے بہتر بیوی کا کردار کوئی نہیں جانتا ۔۔ حُرّہ آپ کا کردار آئینے کی طرح شفاف ہے ۔۔ آپ کا دامن پاک ہے ۔۔ میری حُرّہ معصوم و نازک کلی ہے جسے صرف میں نے چھوا ہے ۔۔"
وہ لہجے میں عقیدت لیے بولا تھا
" ممم میں بہت پیار کرتی ہوں آپ سے ۔۔ بہت زیادہ ۔۔ "
اس کے شیرین الفاظ پر بے اختیار حُرّہ بولی
" میں بھی عشق کرتا ہوں آپ سے ۔۔ "
ایک دوسرے کو محسوس کرتے وہ دونوں اظہار محبت کر رہے تھے افق پر چاند بھی مسکرا رہا تھا ہر طرح کے حالات کو شکست دے کر وہ دونوں پھر بھی ایک ساتھ تھے کیونکہ ان کا رشتہ ، اور تعلق کسی بھی مطلب سے پاک تھا
////////////////////////
" سلام بی بی جی ۔۔ "
وہ دعا کو ڈھونڈتے ہوئے لاؤنج کی جانب آئی تھی جب اسے دعا ایک لڑکی کے ساتھ کھڑی دیکھائی دی وہ لڑکی شاید حویلی کی پرانی ملازمہ تھی حُرّہ پہلے بھی حویلی میں دیکھ چکی تھی اس کے قریب جانے پر اس لڑکی نے اسے دیکھتے ہی باادب ہو کر سلام کیا حُرّہ نے ہلکی ہی مسکراہٹ سمیت اسے جواب دیا وہ لڑکی جواباً اسے اور عباس کو دعائیں دینے لگی اور نم آنکھیں لیے لاؤنج سے چلی گئی جبکہ حُرّہ اس کی حرکت پر یکدم چونکی
" ماں باپ مر گئے تھے اس کے ۔۔ شہزاد نے پالا تھا اسے ۔۔ جب سے شہزاد جیل گیا ہے بہت روتی ہے ۔۔ لیکن چھوٹے سرداد نے بہنوں کی طرح سر پر شفقت بھرا ہاتھ رکھا اس کے ۔۔ تب سے انہیں بہت دعائیں دیتی ہے ۔۔ "
ایک ملازمہ پاس کھڑی بولی تھی تو حُرّہ نے سمجھتے ہوئے سر ہلایا
" ہمارے چھوٹے سردار تو جی ہیرا ہیں ہیرا ۔۔ خدا انہیں سلامت رکھے ۔۔ ان بوڑھی آنکھوں نے بڑے بڑے سردار دیکھے لیکن ان جیسا سردار کوئی نہیں ۔۔ "
ایک دوسری ملازمہ نے بھی گفتگو میں حصہ لیا جبکہ حُرّہ کے لبوں پر جاندار مسکراہٹ بکھری
////////////////////////
ایک دوسرے کا ہاتھ تھامے وہ دونوں جب بینکوئٹ میں داخل ہوئے تو ہر آنکھ ستائش سے انہیں دیکھ رہی تھی وہ بلکل مکمل تھے عباس بلیک تھری پیس پہنے اس قدر ڈیشنگ لگ رہا تھا کہ دیکھنے والا آنکھ بھر کر دیکھ رہا تھا جبکہ حُرّہ پر سرخ رنگ جگ مگ کر رہا تھا اس کا چہرہ عباس کی محبت بھری قربت میں کئی خوبصورت رنگ بکھیر رہا تھا جبکہ ان سے آگے ان کی تین سالہ بیٹی اسٹائلش فراک پہنے کھلکھلا کر ہنستے ہوئے اپنے ماں باپ سے آگے چل رہی تھی
ان کی اینٹری ہی اتنی کمال تھی کہ ہر کوئی اس پیاری سی فیملی کو دیکھ رہا تھا ہال میں کھڑے عالیان ، نورے اور احمد بھی مبہوت سے انہیں ہی تک رہے تھے وہ پیاری سی فیملی اسٹیج پر پہنچ کر دلہا دلہن کو مبارک باد دے رہے تھے احمد اور نمرہ نے اپنی نشستوں سے اٹھ کر مبارک باد وصول کی جبکہ عالیان اور نورے دعا کو پیار کرنے لگے
" حُرّہ بہت کیوٹ لگ رہی ہو ۔۔ "
نورے نے عباس کو دیکھتے ہوئے مسکرا کر حُرّہ کی تعریف کی
" آپ بھی بہت اچھی لگ رہی ہیں نورے ۔۔ "
حُرّہ بھی جواباً مسکراتے ہوئے بولی اس کے لہجے کا اعتماد ہر کسی کو چونکا رہا تھا جبکہ عباس نے مسکراہٹ دبائے حُرّہ کو دیکھا یقیناً اب وہ ہر فکر سے آزاد تھی جو اسے پہلے لاحق رہتی تھیں
" حُرّہ بھابھی دعا کریں ہماری بھی دعا جیسی پیاری بیٹی ہو ۔۔ ہنا نورے ۔۔ شی از سو کیوٹ نا ۔۔ "
عالیان دعا کو گود میں اٹھاتے ہوئے بولا تو نورے نے اس کی بےباکی پر گھور کر اسے دیکھا جبکہ باقی سب اس کی بات پر ہنسنے لگے
" ہاں حُرّہ دعا کرنا ۔۔ "
نورے نے بھی اب کی بار حُرّہ کے کان میں سرگوشی کی تھی حُرّہ اس کی بات پر چونکی تھی جبکہ نورے اب معنی خیزی سے مسکرا رہی تھی
" آئی ایم پریگننٹ ۔۔ "
حُرّہ کی آنکھوں میں سوال پڑھ کر نورے نے جواب دیا تھا وہ دونوں بہت آہستگی سے آپس میں بات کر رہی تھی کوئی بھی اب ان دونوں کی جانب متوجہ نہیں تھا
" کانگریچولیشن نورے ۔۔ "
حُرّہ نے اسے گلے لگا کر مبارک باد دی تھی
" تھینک یو ڈیئر ۔۔ "
نورے شرماتے ہوئے بولی تھی
" آپ بہت اچھی ہیں نورے ۔۔ "
بے ساختہ حُرّہ کے لبوں سے بات نکلی نورے کھلکھلا کر ہنسی
" تم سے ذیادہ نہیں حُرّہ ۔۔ تم بہت کیوٹ لڑکی ہو ۔۔ عباس جیسے مرد کو ڈیزرو کرتی ہو ۔۔ "
نورے بھی خوش دلی سے بولی تھی جبکہ حُرّہ نے جواباً پلکیں جھپکا کر اس کی تائید کی جبکہ یکدم نورے کے لب سکڑے
" مم میں ماں کی طرف سے معافی چاہتی ہوں ۔۔ مجھے بتایا تھا انہوں نے ۔۔ جو کیا انہوں نے سردار بی بی کے ساتھ مل کر ۔۔ "
ندامت چہرے سے جھلک رہی تھی حالانکہ وہ شامل نہیں تھی کسی بھی سازش میں
" پتہ ہے نورے میں وہ سب بہت پیچھے چھوڑ آئی ہوں ۔۔ حالانکہ وہ اذیت بھولنا آسان نہیں تھا جو میں نے اور میری بیٹی نے سہی لیکن جب سردار جیسے شوہر ہوں نا تو بس خدا کا شکر یاد رہتا ہے ۔۔ یاد ہے آپ نے ایک بار کہا تھا مجھے کہ بےشک میں بہت بڑے امتحان سے گزر رہی ہوں ۔۔ مگر سردار میرے ہر دکھ کا مداوا ہیں ، ہر خزاں میں بہار جیسے ہیں ۔۔ بلکل درست کہا تھا آپ نے ۔۔ "
وہ مضبوط انداز میں بولتی نورے کو بھی مطمئن کر گئی
آج وہ آنکھیں مسکرا رہی تھیں جو دکھوں کو محسوس کر کے برسی تھیں ، آج وہ لب مسکرا رہے تھے جن سے سسکیاں نکلی تھیں ، آج ان چہروں پر خوشی جھلک رہی تھی جن پر زمانے کی ستم ظریفی کے سائے لہرائے تھے
عالیان نے عشق مجازی سے عشق حقیقی کا سفر طے کیا تھا ایک بگڑا ہوا رئیس زادہ ہو کر وہ نیکی کے راستے پر مائل ہوا تھا
نورے نے خدا کی رضا کی خاطر اپنی حدود سے تجاوز نہیں کیا ، اس نے انتظار کیا ، صبر کیا ، محبت چھوڑ دی محض خدا کے حکم کے آگے کہ وہ کہتا ہے کہ محرم سے محبت کرو
عباس وہ مرد ثابت ہوا جو اگر بیٹا تھا تو ماں باپ کی غلط باتوں کو بھی ادب کے دائرے میں رہ کر مخالفت کرتا تھا ، اور اگر بھائی کی صورت میں ہے تو یہ سوچ کر نگاہیں جھکا کر رکھتا ہے کہ دنیا مکافات عمل ہے آج اگر وہ آنکھوں میں احترام رکھے گا نیت صاف رکھے گا تو شہزاد جیسے انتقام میں جلتے ہوئے شخص بھی اس کی بہن کی عزت کو خراب نہ کر سکا ، اور اگر عباس شوہر ہے تو اس نے اپنی بیوی کو مخاطب کرتے ہوئے بھی لہجے میں دھیما پن اور نرمی رکھی کہ جانتا ہے کہ عورت کتنی نازک ہوتی ہے ، سخت لہجے اسے کھوکھلا کر دیتے ہیں ، اور اگر عباس باپ ہے تو وہ بیٹی پیدا ہونے پر خوشی منا رہا ہے کہ خدا مجھ سے رضی ہے جبھی بیٹی کی صورت رحمت سے نوازا ہے
اور حُرّہ وہ خوش نصیب لڑکی ٹہری جس کو صبر کے بدلے عباس ملا وہ صبر جو اس نے اس قدر کیا ہے چہرے پر اذیتوں کے بعد بھی سکون تھا
زندگی نے ان سب سے بہت امتحان لیے تھے لیکن وہ چاروں ثابت قدم رہے تھے خدا پر بھروسہ رکھا کہ جس نے آزمائش میں ڈالا ہے وہی نکالے گا
آج بھی یہاں مکمل سکوت تھا اس جگہ کی وحشت اپنی جگہ برقرار تھی وہ سر پر دوپٹہ اوڑھے ، اپنے شانوں کے گرد مہرون شال اچھی طرح لپیٹے دھیرے دھیرے قدم اٹھاتی چلتی جا رہی تھی مٹی کی قبریں آج بھی ویسی ہی تھی ہاں اس نے محسوس کیا کہ قبروں میں اضافہ ہو چکا تھا وہ اپنے بابا کی قبر کے پاس جا کر رکی تھی ساتھ ہی ایک اور قبر تھی وہ جانتی تھی یہ اس کی ماں کی قبر ہے پہلی بار وہ اپنی ماں کی قبر دیکھ رہی تھی بے اختیار سسک اٹھی
ہمیشہ کی طرح آج بھی اس کی آنکھیں اپنے پیاروں سے بچھڑنے کے غم میں بھیگ گئی تھی مگر آج پہلے کی طرح وہ اپنے بابا کو زمانے کی ستم ظریفی نہیں سنا رہی تھی بلکہ آج وہ اپنے ماں باپ کو اپنی بیٹی اور شوہر کی باتیں بتا رہی تھی کیونکہ اب اس کے پاس انہیں بتانے کے لیے اچھی یادیں تھیں آنکھیں نم تھی مگر آج اس کے انداز میں اذیت نہیں تھی
/////////////////////////
عباس آج کل زیادہ تر گاؤں میں رہنے لگا تھا حرہ کے پوچھنے پر اس نے کہا کہ چاہیں تو شہر رہائش پذیر ہو سکتے ہیں مگر سردار شیر دل کی وفات کے بعد ان کی پگ کا وارث چونکہ اکلوتا بیٹا ہونے کی وجہ سے عباس تھا
اس لیے گاؤں کے تمام معاملات کو وہی دیکھنے لگا تھا ایک بار عباس نے سوچا کہ گاؤں چھوڑ کر چلے جائیں لیکن اس کے ضمیر نے اسے اس سوچ پر ملامت کی وہ جانتا تھا اگر اس نے یہ جگہ چھوڑ دی تو کوئی اور اس کی جگہ آ جائے گا اور حقیقتاً وہ بھی روایتی سرداروں کی طرح ظالم اور سفاک ہو گا اور جاہلانہ تصورات اور رسوم کو جاری رکھے گا اس گاؤں کے ساتھ بہت سے چھوٹے گاؤں بھی منسلک تھے بہت سوچنے کے بعد عباس نے فیصلہ کیا کہ گاؤں نہ چھوڑا جائے کہ وہ لوگوں میں شعور لانا چاہتا تھا جو سراسر غلط فیصلوں پر سر جھکا لیتے تھے
آج پنچایت میں ایک اہم مسئلہ آیا تھا قتل کے بعد مقتول کے ورثاء نے قاتل کے خاندان سے خون بہا میں ونی مانگی تھی یہ سن کر جہاں عباس بے سکون ہوا تھا وہیں حرہ کے چہرے کا رنگ سفید پڑا تھا پانچ بجے قاتل اور مقتول کے خاندانوں سمیت گاؤں کا ہر فرد پنچایت میں مدع تھا وہ جانتی تھی عباس کسی کے ساتھ نا انصافی نہیں کر سکتا مگر صدیوں سے چلی آ رہی یہ رسمیں ختم کرنا بھی تو آسان نہ تھا وہ جانے کی تیاری کر رہا تھا اور حرہ اس کی مدد کر رہی تھی اس کا سر اور نگاہیں جھکی ہوئی تھیں مگر عباس اس کی لرزتی پلکیں اور ہاتھ کی لرزش دیکھ کر باخوبی اس کی حالت سمجھ رہا تھا
بے ساختہ عباس نے اسے اپنی جانب کھینچتا جو ڈریسنگ سے اس کا والٹ اور موبائل اٹھانے کے لیے مڑی تھی
" کیوں پریشان ہیں ۔۔ ؟"
اس نے دھیمی آواز میں پوچھا جبکہ جواباً حرہ نے اسے شکوہ کناں نگاہوں سے دیکھا
" آپ جانتے ہیں وجہ ۔۔ "
وہ بھی مدھم سا گویا ہوئی تو عباس نے سرد آہ بھری
وہ یہاں سے جانا چاہتی تھی وجہ اس کے یہاں کی آب و ہوا کے ساتھ بہت سے دکھ جڑے تھے جس کا ذکر اس نے دانستہ عباس سے بھی کیا مگر عباس نے بہت طریقے سے اسے سمجھایا تھا کہ اگر وہ چلے گئے تو یہ ظلم جاری رہے گا چونکہ اب ہر کسی کی ڈور اس کے اپنے ہاتھوں میں آ گئی تھی اس لیے اب کوئی بھی اس کے فیصلے سے بغاوت کرتے ہوئے ہزار بار سوچے گا اور پھر وہ دیکھتی تھی کہ عباس آج کل سکول اور ہسپتال بنوانے میں مصروف تھا اس لیے وہ خاموش ہو گئی تھی بہرحال وہ اس شخص کی ہر بات آنکھیں بند کر کے مان سکتی تھی
" کیا مجھ پر یقین نہیں ۔۔ میں کسی کے ساتھ ظلم ہونے دوں گا ۔۔ "
اس کے سوال پر فوراً حرہ نے نفی میں سر ہلایا
" آپ پر یقین ہے ۔۔ مگر ہر خون بہا میں جانے والی حرہ کو عباس بھی تو نہیں ملتا ۔۔ "
وہ لرزتی آواز میں گویا ہوئی اس کے انداز سے ہی وہ مضطرب لگ رہی تھی
" ایسا کچھ نہیں ہونے دوں گا میں ۔۔ "
اس کے لہجے سے پختہ ارادے جھلک رہے تھے
" سب کے خلاف جانا بہت مشکل ہے ۔۔ !"
وہ شاید مایوس تھی کہ بچپن سےاس نے یہ روایتی نظام دیکھے تھے
" آپ میری ہمت ہیں حرہ ۔۔ اور ہر چیز مشکل ہو سکتی ہے لیکن ناممکن نہیں ۔۔ "
وہ اس کی آنکھوں میں دیکھتا ایک ہاتھ سے اس کے رخسار کو سہلاتا بولا
اسے نرم انداز میں دیکھتے اس نے پھر بات جاری کی
" اس وقت وہ سب روکنے کا اختیار نہیں رکھتا تھا ۔۔ لیکن اپنی طرف سے میں نے دلی رضامندی سے آپ سے نکاح کیا تھا ۔۔ میں ونی نہیں لایا تھا بلکہ بیوی لایا تھا ۔۔ میں نہیں جانتا تھا کہ جس لڑکی کا نکاح مجھ سے ہو رہا ہے وہ کیسی دکھتی ہے ۔۔ اس کا نام کیا ہے ۔۔ کیا کرتی ہے ۔۔ بس اتنا جانتا تھا کہ وہ میری بہن کے قاتل کے خاندان سے تعلق رکھتی ہے ۔۔ اور میرے خاندان والے اسے انتقام لینے کی غرض سے میرے ساتھ وابستہ کر رہے ہیں ۔۔ لیکن میرے ضمیر نے مجھے للکارا کہ مرد بنو عباس ۔۔ انصاف کرو کہ تم انصاف کی کتابیں پڑھ چکے ہو ۔۔ قانون کی کسی کتاب میں نہیں لکھا کہ ۔۔ جس نے جرم کیا ہو اسے چھوڑ دو اور بے قصور پر ظلم کرو ۔۔ بس پھر سوچ لیا کہ جرم کرنے والے کو ہی سزا ملے گی ۔۔ بے قصور کے ساتھ انصاف کروں گا ۔۔ اور الحمداللہ میں سرخرو ہوں خدا کے آگے کہ میں نے کسی حد تک ایسا ہی کیا ہے ۔۔ "
وہ اسے ہمیشہ کی طرح بنا پلکیں جھپکائے پوری توجہ سے سن رہی تھی بلاشبہ وہ الفاظ سے کھیلنا جانتا تھا اس کے الفاظ دوسرے کے دل و دماغ پر گہرا اثر ڈالتے تھے
" سمجھ رہی ہیں نا میری باتیں ۔۔؟"
وہ ہنوز خاموش تھی جب اس نے سکوت توڑا
" جی ۔۔"
زبان کے ساتھ سر بھی ہلاتی وہ یک لفظی بولی
" اب پریشان تو نہیں ہیں نا ۔۔؟"
اس کے سوال کر وہ اس بار ہلکا سا مسکرائی تھی اور نفی میں سر ہلایا تھا
" بلکل نہیں ۔۔ "
" اجازت ہے ۔۔ اب جا سکتا ہوں میں ۔۔"
وہ بھی مدھم سا مسکراتا پوچھ رہا تھا جواباً وہ مڑی اور ہینگر میں لٹکی ہوئی سیاہ رنگ کی چادر اتار کر عباس کے کاندھے پر پھیلائی پھر اس کا والٹ اور موبائل اسے تھمایا
" خیر سے جائیں اور خیر سے آئیں سرکار ۔۔"
وہ احتراماً بولی تو عباس اس کی پیشانی پر بوسہ دیتا باہر کی سمت بڑھ گیا
////////////////////////
وہ جب اپنے پورے جاہ و جلال اور سحر انگیز شخصیت کے ساتھ پنچایت میں پہنچا تو اس کے احترام میں ہر زی روح جس میں سے معزز شخصیات کرسی اور چارپائی پر بیٹھیں تھیں اور کچھ مٹی پر ، سب ہی اپنی جگہ سے کھڑے ہو گئے وہ اپنی مخصوص نشست تک پہنچ چکا تھا براجمان ہونے کے بعد ایک ہاتھ سے سامنے موجود لوگوں کو بیٹھنے کا اشارہ کیا اس کا اشارہ سمجھتے سب بیٹھ گئے
چند لمحوں بعد اس نے فیصلہ سنانا تھا چونکہ اس سے پہلی پنچایت میں جرم مجرم پر ثابت ہو چکا تھا
" ازباز خان تم نے قتل کیا ہے ۔۔ ؟"
عباس نے آخری مرتبہ قاتل سے پوچھا جو پہلے ہی اقبال جرم کر چکا تھا لیکن جانتا تھا کہ کوئی اس کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا کیونکہ وہ اور اس کے بھائی اپنی بہن ونی کرنے کے لیے تیار تھے
" جی سرکار ۔۔ مم مجھ سے غصے میں گولی چل گئی تھی ۔۔"
ارباز خان بہت آرام سے بولا تھا جبکہ عباس کا دل کیا اس کی زبان پر دہکتا ہوا انگارہ رکھ دے جو کسی کا بیٹا ، کسی کا سہاگ ، کسی کا باپ مار کر پر سکون تھا کیونکہ جانتا تھا کہ بہنیں تو بھائی کی زندگی کی خاطر قربانی دینے کے لیے تیار ہیں
" محمد بخش ۔۔ !"
عباس کی ٹھٹھرتی پکار پر ہر کوئی لرز اٹھا جو مٹھیاں بھینچے بیٹھا تھا
" حکم سرکار ۔۔ !"
ایک گارڈ فوراً حاضر ہوا اور مؤدب بولا
" سارے گاؤں کو مدع کیا تھا ۔۔ کیا کوئی اپنے گھر تو نہیں ہے ۔۔"
ٹھنڈے ٹھار انداز میں چاروں اطراف میں نگاہیں دوڑا کر پوچھا گیا
" جی سرکار سب آئے ہیں ۔۔ "
محمد بخش نے جواب دیا تو عباس کی نگاہ ارباز خان کے ساتھ بیٹھی چادر میں لپٹی لڑکی پر نگاہ پڑی جو ویران آنکھوں سے اسے ہی دیکھ رہی تھی عباس نے فوراً کرب سے آنکھیں میچ لیں یقیناً یہ وہی لڑکی تھی جسے بھینٹ چڑھانے کے لیے لایا گیا تھا
" ہممم ۔۔ ایک انسان کا قتل ساری انسانیت کا قتل ہے ۔۔ چونکہ ارباز خان اپنا جرم قبول کر چکا ہے ۔۔ تو کسی بات کی اب گنجائش نہیں رہی ۔۔ ابھی اسی وقت ازباز خان کو سب کے سامنے پھانسی پر لٹکایا جائے گا کہ قتل کی سزا یہی ہے ۔۔ "
وہ مضبوط انداز میں حتمی فیصلہ کرتے ہوئے بولا تھا جبکہ اتنے لوگوں کی موجودگی میں بھی ہر طرف گہرا سکوت چھا گیا تھا
" یہ کک کیا کہہ رہے ہیں آپ سرکار ۔۔ انہوں نے خون بہا میں ونی مانگی ہے تو ہم دینے کو تیار ہیں ۔۔ پھر آپ یہ کیا کہہ رہے ہیں ۔۔ "
ارباز خان زرد پڑتے رنگ کے ساتھ بولا تو عباس نے ملامتی نگاہوں سے اسے دیکھا
" جی سرکار ۔۔ ہمیں خون بہا میں ونی چاہیے ۔۔ "
یہ مقتول کا بھائی تھا جس کے ہر انداز سے ازباز خان اور اس کی بہن کے لیے نفرت جھلک رہی تھی
" یہ میری عدالت ہے جہاں میرے بنائے ہوئے اصولوں کے تحت فیصلے ہوں گے ۔۔ اور میں کسی کی رائے لینا ضروری نہیں سمجھتا ۔۔ اور میرے اصولوں کے مطابق سزا مجرم کو ہی ملے گی ۔۔ کسی میں اگر ہمت ہے تو وہ سامنے آئے ۔۔ "
عباس کی گرجدار آواز ہر سو گونجی تو ہر کوئی دبک کر بیٹھ گیا وہ بھی جو سرکش اور بغاوت کرنا چاہتے تھے جبکہ وہ لڑکی آنکھوں میں آنسو بھرے مسلسل عباس کو دیکھ رہی تھی جو اسے موت بے بجائے زندگی سنا رہا تھا
" معاف کیجئے گا سرکار ۔۔ یہاں کے قانون صدیوں سے نہیں بدلے ۔۔ باقی سب کی تو الگ بات ہے ۔۔ لیکن آپ بھی خون بہا میں ونی لے کر گئے تھے ہم اس پنچایت میں موجود تھے ۔۔ "
ارباز خان کے بڑے بھائی نے سر جھکائے کہا تو باقی سب کو بھی زرا سی ہمت ملی
" اس وقت یہاں بیٹھے میرے باپ سردار شیر دل نے مجھے حکم دیا تھا ۔۔ سو میں ان کے حکم کا پابند تھا اور آج میں یہاں بیٹھا حکم دے رہا ہوں تو کیا آپ بغاوت کریں گے ۔۔ جانتے ہی ہوں گے بغاوت کی سزا ۔۔ ؟"
ڈھکے چھپے الفاظ میں وہ بولا تو سب کو سانپ سونگھ گیا
" آج کے بعد ۔۔ کسی کی بہن ، بیٹی کا پنچایت آنا تو بہت دور ۔۔ کسی نے نام بھی لیا تو زبان کاٹ کر کتوں کے آگے ڈال دوں گا ۔۔ "
سرد انداز میں کہا گیا ہر کوئی دم سادھے اپنے سردار کو دیکھ رہا تھا جبکہ عباس اپنی نشست سے اٹھا اور اس لڑکی کی سمت بڑھا جو اسے اپنے قریب آتا دیکھ کر کھڑی ہوگئی باقی سب بھی کھڑے ہو چکے تھے
" شکریہ سرکار جی ۔۔ !"
وہ لڑکی تشکرانہ انداز میں کہتی ہاتھ جوڑ گئی جبکہ عباس نے اس کے سر پر ہاتھ رکھا اور آگے بڑھ گیا جبکہ اس لڑکی کا روم روم عباس کے کیے دعا گو ہوا جو اسے دلدل میں پھنسنے سے بچا گیا بہت سے لوگ آنکھوں میں آنسو لیے اپنے سردار کو دعائیں دینے لگے کہ اس فرسودہ رسم کے باعث بہت سی ماؤں نے اپنی بیٹیاں بھینٹ چڑھتی دیکھی تھیں
پنچایت سے آئی خبر سن کر بے ساختہ حرہ نے تشکرانا انداز میں سر آسمان کی جانب بلند کیا جب عباس اسے اپنی جانب آتا دیکھائی دیا اسے دیکھتے ہی ملازمائیں لاونج سے نکل گئی
" میں نے کہا تھا نا ۔۔ مشکل ہے نا ممکن نہیں ۔۔ اور پھر جب آپ کی نیت صاف ہے ۔۔ آپ حق پہ ہیں تو پھر خدا پہ چھوڑ دیں ۔۔ بےشک وہ بہتر کرنے والا ہے ۔۔ "
اس کے لہجے کی مضبوطی دیکھ کر حرہ اس کی گرویدہ ہو گئی
" میری دعاؤں کا اثر ہے سب ۔۔ "
وہ اتراتے ہوئے بولی تو عباس نے جاندار قہقہہ لگایا
////////////////////////
" یہ ۔۔؟"
حرہ کی حیرت زدہ سی آواز پر عباس جو کہ دعا کو گود میں بیٹھائے سامنے پڑے لیپ ٹاپ پر کارٹون دیکھ رہا تھا نے اسے رخ موڑ کر دیکھا جو ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے ہاتھ میں دو بالیاں تھامے کھڑی تعجب سے کبھی ان سونے کی چھوٹی چھوٹی بالیوں کو دیکھ رہی تھی تو کبھی عباس کو دیکھ رہی تھی عباس نے دعا کو بیڈ پر بیٹھایا اور خود حرہ کی جانب بڑھا
" ڈرا میں ایک ہی پڑی تھی ۔۔ مجھے لگا دوسری آپ کی کھو گئی ہے ۔۔ اس لیے اس کے ساتھ کی دوسری بنوا لی ۔۔ سوری جانم آپ کو بتایا یاد نہیں رہا ۔۔ "
وہ کاندھے آچکا کر عام سے انداز میں بولا تھا جبکہ حرہ کی آنکھوں میں اس کے لیے سرشاری تھی یہ شخص ہمیشہ اس کا دل جیت لیتا تھا یہ چھوٹی سی سونے کی بالیاں اس کے ماں باپ نے بچپن میں اسے پہنائی تھی وہ ہر وقت اسے پہنے رکھتی تھی جیسے یہ اس کے وجود کا حصہ ہوں مگر جب اسے حویلی چھوڑنی پڑی تھی تب مجبوراً اسے اپنے ماں باپ کی دی ہوئی آخری نشانی بیچنی پڑی تھی جس سے اس نے دعا کا ہسپتال میں علاج کروایا تھا ایک بالی اس نے بہت سنبھال کر رکھ لی تھی کہ اب ایک تو پہن نہیں سکتی تھی
" تھینک یوز ۔۔ !"
وہ تشکرانہ انداز میں بولی تو عباس نے سر کو ذرا سا خم دے کر اس کا شکریہ وصول کیا اور پھر خود اپنے ہاتھوں سے اسے وہ بالیاں پہنائی
" پرفیکٹ ۔۔ "
وہ اس کا رخ آئینے کے سامنے کرتا مسکراتا بولی تو حرہ کے لب بھی مسکرائے
" آپ بہت اچھے ہیں ۔۔ "
الفاظ بے ساختہ اس کے لبوں سے نکلے تھے عباس اس کی بات پر کھل کر مسکراتا اس کے چہرے پر جھکا جب حرہ مزاحمت کرتے کو تھوڑا پیچھے ہوئی اور آنکھوں سے بیڈ پر بیٹھی لیپ ٹاپ میں مگن دعا کی جانب اشارہ کیا
" چلیں رات کو کنٹینیو کریں گے ۔۔ "
وہ مسکراتا ہوا ذو معنی سے کہتا واپس دعا کی جانب بڑھ گیا جبکہ حرہ اس کی تابعداری پر مسکراتے ہوئے کمرے سے نکل گئی
///////////////////////
وہ اپنا حق ، مقام و حیثیت صبر کے عوض پا چکی تھی یقیناً وقت برا ہو یا اچھا گزر ہی جاتا ہے بات صرف ثابت قدم رہنے کی ہوتی ہے زندگی کی تلخیوں سے ہم اکثر دل برداشتہ ہو جاتے ہیں اور یہی زندگی کی تلخیاں ہماری شخصیت پر اثرات چھوڑتی ہیں وہ اثرات منفی یا مثبت دونوں ہو سکتے ہیں کیونکہ ہم فرشتے نہیں ہیں ہم انسان ہیں اور انسان خطا کا پتلا ہے انسان سے غلطیاں اور گناہ بھی ہوتے ہیں
انسان کو اشرف المخلوقات کہا گیا ہے لیکن ہر انسان ، انسان نہیں ہوتا کچھ انسانوں کے روپ میں حیوان بھی ہوتے ہیں کیونکہ جن میں انسانیت نہیں ہوتی وہ انسانی صورت میں درندے ہوتے ہیں اور ہمیں انسان ہی رہنا ہے درندہ نہیں بننا کہ انسان میں احسان ہوتا ہے جو دوسروں کو تکلیف میں نہیں دیکھ سکتا اور جو بذات خود دوسروں کی تکلیفوں کا سبب بنتے ہیں تو پھر وہ کیا ہوتے ہیں یہ ہم خوب جانتے ہیں
اور ہاں ہم نہیں سمجھ سکتے لیکن ہر کوئی اپنے اندر ایک جنگ لڑ رہا ہوتا ہے ، کوئی اپنے نفس کو مار کر خدا کی اطاعت کر رہا ہوتا ہے اور کچھ لوگ اپنے ضمیر کو مار کر گناہ کی طرف مائل ہوتے ہیں بہرحال کوئی کچھ بھی خواہ وہ نیک کام ہو یا برا ، اس کا جواب اسے اللہ کو دینا ہوتا ہے ہم کون ہوتے ہیں یہ فیصلہ کرنے والے کہ فلاں نے یہ برا کام کیا ہے سو وہ تو جہنمی ہے
اس کے تایا تائی ، اور حویلی کے مکین خواہ وہ مالک ہوں یا ملازمین ، سب نے ہی اس کے ساتھ ہتک آمیز رویہ رکھا تھا اس پر زندگی تنگ کر دی تھی ، ونی جیسی فرسودہ رسم کے تحت اسے بھینٹ چڑھا دیا گیا تھا اگر عباس رحم دل نہ ہوتا باقی سرداروں کی طرح ظالم ہوتا تو کیا وہ ابھی تک زندہ ہوتی ، اور پھر کس بے بسی اور مجبوری میں اپنی عزت و آبرو کی حفاظت کی خاطر اس نے حویلی چھوڑی تھی یہ وہی جانتی تھی گود کی بچی کو لے کر وہ در بدر ہو گئی تھی لیکن ہر دکھ پر یہ دکھ حاوی تھا کہ جانے کس عالم بے بسی میں اس کی ماں اس دنیا سے رخصت ہوئی ہوں گی اسے تو ماں کا آخری دیدار بھی نصیب نہ ہوا تھا سردار بی بی کی وجہ سے وہ آخری وقت میں اپنی ماں سے نہیں مل سکی تھی
اگر گناہ بڑا ہو نا تو موت بھی آسانی سے نہیں آتی یہ اس نے سنا تھا لیکن وہ اتنی پتھر دل نہیں تھی کی سردار بی بی کو معزوری اور ناعمہ بی بی کو بے سکونی کی کیفیت میں دیکھ کر خوش ہوتی ، دل مضبوط کرتی وہ سب کو معاف کر کے زندگی میں آگے بڑھ گئی تھی کہ اگر اس کے ساتھ انصافیاں ہوئی تھی تو اللہ نے وہ کڑا وقت بھی اس کا کاٹ دیا تھا کہ وہ کہتا ہے مشکل کے ساتھ آسانی ہے اور عباس کی صورت میں انعام بھی اسے کیا خوب ملا تھا
اچھائی کے لیے لازم نہیں ہوتا کہ لوگوں کے ساتھ اچھا کیا جائے ، اچھائی تو یہ بھی ہے کہ کسی کے ساتھ برا نہ کیا جائے اور نورے وہ مضبوط لڑکی ہے جس نے اپنے ہر معاملے کو خدا پر چھوڑ دیا اگر وہ تھوڑا سا بھی اپنی ماں اور سردار بی بی کی سازشوں میں ان کا ساتھ دیتی تو یقیناً آج انہیں کی طرح خدا کے عتاب کا شکار ہوتی مگر اس نے حُرّہ سے حسد نہیں کی یقیناً اپنے محبوب کو کسی دوسرے کی دسترس میں دیکھنا آسان نہیں ہوتا ، جب وہ حُرّہ اور عباس کو ایک ساتھ دیکھتی تھی عباس کا حُرّہ کے حق کے لیے بولنا ، حُرّہ کو محبت پاش نگاہوں سے دیکھنا اس کے لیے مشکل ترین مرحلہ ہوتا تھا اس کے دل پر کئی تیر پیوست ہوتے ہیں مگر اس نے صبر کیا اور اپنے رب کے فیصلے کا انتظار کیا اور پھر اپنے صبر کا پھل عالیان کی صورت میں پایا
یقیناً ہر مرد کا ظرف اتنا اعلی نہیں ہوتا کہ جانتے بوجھتے ہوئے ایسی لڑکی سے محبت کرے جس کے دل پر پہلے سے ہی کوئی دوسرا مرد قابض ہو لیکن عالیان نے ہر بات کو پس پشت ڈال کر بہت محبت سے نورے کی جانب ہاتھ بڑھائے تھے اور پھر نورے کا مثبت انداز اس کے ارادوں کو مزید مضبوط کر گئے تھے دونوں کی کاوشوں نے ایک دوسرے سے محبت کرنے کا ڈھنگ سیکھا دیا
ہر اذیت کی ایک مدت مقرر ہوتی ہے جس کے گزر جانے کے بعد نہ تو درد کی شدت پہلے جیسی رہتی ہے اور نہ ہی انسان پہلے جیسا رہتا ہے اور حُرّہ نے جس قدر اذیتیں سہی تھیں اس کے بعد اب کی آسانیاں آئیں تھی مگر اب اسے سرداد بی بی یا کوئی بھی وہ شخص جس نے اس کے ساتھ ظلم کیا تھا اسے کسی سے کوئی سروکار نہیں رہا تھا عباس نے اسے اس کے تایا کے انتقال کا بتایا ، یہ بھی بتایا کہ خاور آتا ہے معافی چاہتے ہیں وہ اور اس کی ماں حُرّہ سے تو حُرّہ نے تائی سے ملنے کی حامی بھر لی وہ اس سے رو رو کر ہاتھ جوڑ کر معافی مانگ رہیں تھی اپنے کیے گئے ہر ظلم کی ، حُرّہ نے سنجیدگی سے اس کے ہاتھوں کو تھام کر ان کی معافی قبول کی تھی ایسے اسے قدرے سکون پہنچا تھا یقیناً کسی کو معاف کرکے جو سکون ملتا ہے وہ انتقام لے کر نہیں ملتا اس کی مثال اس کے خود کے سامنے تھی کہ وہ انتقام کی نیت سے حویلی میں لائی گئی تھی ، اتنا ظلم کرکے بھی انتقام لینے والے بے سکون تھے اور وہ اتنی اذیتیں سہہ کر بھی مطمئن تھی
ناعمہ بی بی اس سے بہت احترام سے پیش آتیں تھیں کئی مرتبہ وہ اس سے اپنے کیے کی معافی مانگ چکی تھیں دوسری طرف سردار بی بی تھیں جو اسے دیکھتے ہی رونے لگتیں عجیب عجیب آوازیں نکالتیں جیسے بہت کچھ کہنا چاہتی ہوں مگر بے بس تھیں بول نہیں سکتی تھی انہیں اس بے بسی کے عالم میں دیکھ کر حُرّہ کو ان کا اس کے لیے ہتک آمیز رویہ یاد آتا تھا جب سردار بی بی بہت حقارت اور نفرت سے اسے مخاطب کرتی تھیں بے شک دنیا کھیتی ہے جیسا بیج بو گے ویسا ہی کاٹو گے لیکن حُرّہ نے خدا کے بعد عباس کی وجہ سے انہیں معاف کر دیا کہ اس شخص کی خاطر وہ کچھ بھی کرسکتی تھی
حویلی کی بلند دیواروں کو دیکھ کر آج وہ احتساب کر رہی تھی جب اسے یہاں لایا گیا تھا اسے سب یاد تھا کہ کیا کیا گیا تھا اس کے ساتھ ، آج بھی کسی کی آہنی گرفت ، نفرت بھری آنکھیں اور ہتک آمیز رویہ اسے یاد تھا کیسے یہ بلند و بالا حویلی میں چھوٹے لوگ رہتے تھے اس خوبصورت و قدیم حویلی میں پست اور غلیظ ذہن کے لوگ قیام پذیر تھے
لیکن انہیں لوگوں کے بیچ ایک پاکیزہ نفس اور اعلی ظرف شخص بھی تھا جس نے اس کے وجود کے ساتھ روح پر لگے زخموں پر اپنے بلند اخلاق و کردار سے مرہم رکھے تھے
وہ اکثر سوچتی تھی کہ وہ اتنی نیک تو نہیں تھی نہ اتنی تہجد گزار کہ جس کے ثواب میں اتنا اعلی انسان اس کے نصیب میں لکھا گیا
جنہوں نے خدا کے فیصلوں پر سر جھکا لیا وہ آنے والے وقت میں خودبخود مطمئن ہو جاتے ہیں لیکن جو چالاکیوں، مکاریوں سے حالات بدلنے کی کوشش کرتے ہیں خدا انہیں زمین پر پٹک دیتا ہے بےشک وہ بہتر کرنے والا ہے
ملے عروج تو انسانیت کی حد میں رہو
یہی وقت ہے قدرت کے آزمانے کا
مکمل کوئی نہیں ہوتا بلکہ کوشش کرتے رہنا چاہیے اپنے کردار میں مزید نکھار لانے کے لیے
خدا کی رضا میں راضی ہو جائیں ، زندگی پر سکون ہو جائے گی
اس کے لکھتے ہاتھ رکے تھے ڈائری کو بند کر کے اس نے گہرا سانس لیا اس کی خوشبو اسے اپنے بہت قریب محسوس ہوئی تھی بلکہ وہ تو پورا کا پورا اس کے دل اور سانسوں میں بس چکا تھا ایک احساس کے تحت کرسی پر بیٹھے بیٹھے ہی ذرا سا رخ موڑا تو وہ سامنے ہی دروازے سے ٹیک لگائے سینے پر ہاتھ باندھے چہرے پر نہایت نرمی اور اپنی مخصوص مسکراہٹ سجائے کھڑا تھا ہمیشہ کی طرح وہ اسے نہایت احترام سے دیکھ رہی تھی وہ دھیرے دھیرے قدم اٹھاتا اس تک آیا اور اس کے ہاتھ اپنے شکنجے میں لے کر اسے اپنے سامنے کھڑا کیا
" میری جان نے اگر ڈائری لکھ لی ہو تو چلیں اب ۔۔ ؟"
وہ اسے اپنے بے حد قریب کرتا مصنوعی سنجیدگی سے پوچھا
" جی سردار ۔۔ "
وہ مدھم سا بولی تھی جبکہ وہ ہنوز اسے گہری نگاہوں سے دیکھ رہا تھا
" ویسے میں کچھ سوچ رہا تھا ۔۔ "
وہ بولا تو حرہ نے بے ساختہ اسے دیکھا وہ چہرے پر بھر پور سنجیدگی سجائے ہوئے تھا
" کیا جی ۔۔ ؟"
وہ چہرہ ذرا سا بلند کرتی پوچھ رہی تھی عباس نے قمیض کی جیب سے کچھ نکالا اور حرہ کو تھمایا حرہ نے ناسمجھی سے دیکھا
" ٹکٹس ۔۔ !"
ٹکٹ کو الٹ پلٹ کے بعد وہ بولی تو عباس نے اثبات میں سر ہلایا
"لیکن کیوں ۔۔ ؟"
وہ شاید سمجھہ نا تھی
" ہنی مون سمجھ لیں ۔۔ "
عباس نے عام انداز میں کہتے ہوئے شانے آبنائے
" ایک بیٹی کے بعد آپ کو ہنی مون یاد آ رہا ہے ۔۔ سرکار !"
وہ مسکراہٹ دبائے طنزیہ گویا ہوئی
" ہم یونیک کپل ہیں نا جانم ۔۔ لوگ شادی کے فوراً بعد ہنی مون پہ جاتے ہیں اور ہم بیٹی کو لے کر جائیں گے ۔۔ یونیک لوگوں کا یونیک ہنی مون ۔۔ !"
وہ شرارت سے اس کی جمبات کا جواب دیتا گویا ہوا حرہ کی مسکراہٹ گہری ہوئی
" ایگری ۔۔ ؟"
اس نے پھر پوچھا تو حرہ نے اثبات میں سر ہلایا
" ویسے میں کچھ اور بھی سوچ رہا تھا ۔۔ !"
وہ پھر سے گویا ہوا
" حکم سرکار ۔۔ "
حرہ نے سر خم کرتے ہوئے پوچھا
" پہلے بتائیں ۔۔ بات مانیں گی میری ۔۔ ؟"
وہ جانے کیا سوچ کر بولا تھا حالانکہ جانتا تھا کہ سامنے کھڑی لڑکی آنکھیں بند کر کے بھی اس کے ہر حکم کی تعمیل کر سکتی ہے یہ الگ بات تھی کہ اس نے کبھی اسے حکم نہیں دیا تھا بلکہ بہت احترام اور محبت سے اس سے بات منواتا تھا
" آپ حکم کریں ۔۔ ؟"
وہ دھیمی آواز میں بولی لہجے میں آنکھوں کی طرح احترام اور عزت تھی
" آپ نے نوٹ کیا کچھ ۔۔ ؟ "
" کیا ؟"
اس کی ادھورہ بات پر وہ فوراً بولی
" دعا اکیلا فیل کرتی ہے ۔۔ "
اس کے معصوم چہرے پر نگاہیں جمائے وہ آنکھوں میں شرارت سموئے بھرپور سنجیدگی کا مظاہرہ کرتا بولا تھا اور پھر سے اپنی بات جاری کرنے کے لیے لب وا کیے
" کیوں نہ دعا کی دوسری بہن کو لانے کا سوچیں ۔۔ "
اس کی معنی خیز بات کو سمجھنے میں حرہ کو چند لمحے لگے تھے اور جب سمجھ آئی تو
جب سمجھ آئی تو وہ بے ساختہ سر اور چہرہ جھکا گئی
" آپ نے جواب نہیں دیا ۔۔ "
وہ اپنی بات پر زور دیتا ذرا سا اس کے چہرے پر جھکتا مسکراہٹ دبائے پھر سے گویا ہوا تو حرہ نے اپنی حیا سے جھکی آنکھیں اس کی شرارت بھری نگاہوں پر جمائی اور اس کے سینے پر دھرے اپنے ہاتھ اٹھائے اور اس کا چہرہ اپنے دونوں ہاتھوں میں سمویا جبکہ اس کے نرم و نازک ہاتھوں کا لمس محسوس کرتے ہوئے عباس پرسکون ہوا وہ اب اس کا چہرہ اپنے چہرے کے مزید قریب کرتی اس کی پیشانی پر جھکی اور محبت سے مہر ثبت کی پھر دائیں رخسار پر اپنے لب رکھے ، اسی طرح پھر بائیں رخسار پر جھکی وہ سانس روکے اس کی پہلی مرتبہ کی گئی پیش قدمی کو محسوس کر رہا تھا جبکہ وہ اب اپنے بازو عباس کے چہرے سے ہٹا کر اس کے گرد حمائل کر رہی تھی اور پھر اس کے سینے پر سر ٹکا کر آنکھیں موند گئی جبکہ عباس نے کھل کر مسکراتے ہوئے اسے اپنے حصار میں لے لیا وہ زبان سے نہ بول کر بھی بہت خوبصورت انداز میں اسے بہت کچھ کہہ گئی تھی