خوش آمدید

لو اسٹوری فورم ، اردو دنیا کا نمبر ون اردو اسٹوری فورم ، ابھی فورم کےممبر بنیں اور اردو کی بہترین کہانیاں پڑھیں ۔

Register Now!
Welcome image
  • PAID PLANS

    ٹاپ پیکیج
    👑

    PREMIUM

    16000
    چھ ماہ کے لیے
    بہترین ڈیل
    💎

    VIP+

    6000
    چھ ماہ کے لیے
    بنیادی ڈیل

    VIP

    3500
    تین ماہ کے لیے

Spy Thriller شوٹر۔۔۔۔سنائپر ۔۔۔تیسرا پارٹ۔۔۔۔ریاض عاقب کوہلر

Man mojiMan moji is verified member.

Staff member
Super Mod
Joined
Dec 24, 2022
Messages
11,575
Reaction score
366,338
Location
pakistan
Gender
Male

قسط نمبر 1
ریاض عاقب کوہلر
سردار یونٹ کے گیٹ پر ملا تھا۔مجھے دیکھے ہی اس نے زور سے نعرہ بلند کیااور بازو پھیلا کر لپٹ گیا۔اس کے ہمراہ الیاس بھی تھا۔الیاس میرا خصوصی شاگرد تھا۔اگر آپ لوگوں کو یاد ہو تو اسے بچانے کو میں مرتے مرتے بچا تھا۔وہ بھی مجھے عقیدت سے ملا۔دونوں بازار جا رہے تھے۔
”چل راجے !تمھیں کھانا کھلاتے ہیں،لنگر (ہم میس کو عموماََ لنگر ہی بولتے ہیں)پر دال پکی ہے۔“ سردار نے مجھے ساتھ چلنے کی دعوت دی۔
میں نے نفی میں سر ہلایا۔”رہنے دو یار بھوک نہیں ہے۔“
اس نے پلوشہ کا ذکر کر کے مجھے مطعون کیا۔”میں لکھ کر دیتا ہوں ، اس نے نہ صرف ڈٹ کر کھانا کھالیا ہو گا بلکہ آج خصوصی طور پر میٹھاپکوان بھی بنوایاہوگا۔“
میں بھناتے ہوئے بولا۔”تیرے والی کی طرح نہیں ہے۔“
وہ فخریہ لہجے میں بولا۔”ہو بھی نہیں سکتی،جاپان کی چیزیں پائیدار ہوتی ہیں۔“( اس کی بیوی لی زونا جاپانی تھی)
میں نے جھڑکا۔”بے شرم پٹھان! پلوشے چیز نہیں انسان ہے ۔“
الیاس مخل ہوا۔”استاد جی!مجھے نہیں لگتا یہ بحث ختم ہو گی۔تو کیوں نہ کسی فیصلے پر متفق ہوا جائے۔“
”یار !تم کھانا لے آﺅ،یہیں کھا لیں گے۔نان ،سلاد اور چٹنی لانا نہ بھولنا۔“سردار نے اسے ہدایات دیں۔
الیاس سر ہلاتے ہوئے باہر نکل گیا۔سردار میرے ساتھ ہولیا۔
”نور وایا!دریما سنگے دے۔نم خو ڈیر اخلی دے،راجکماری پرما۔“الیاس کے جاتے ہی وہ پشتو میں شروع ہو گیا تھاکہ عربوں کی طرح پٹھان بھی اپنی زبان پر فخر کرتے ہیں۔(اور سناﺅ،تیسری کیسی ہے۔نام تو بہت خوب صورت ہے،راج کماری پرما)
میں طنزیہ لہجے میں بولا۔”کیا لگتا ہے،راج کماری کے نزدیک کاشتکار کے بیٹے کی کیا اہمیت ہو گی جو پہلے سے دو بیویوں کا خاوند ہو۔“
وہ متاثر ہوئے بغیر بولا۔”زیادہ مظلوم و معصوم بننے کی ضرورت نہیں ، عاجزی اسے دکھاﺅ جو تمھارے کرتوتوں سے ناواقف ہو۔“
میں نے ڈانٹا۔”ناممکن ہے کہ خان کی سمجھ میں بغیر مار کھائے کچھ آ جائے۔“
وہ چھاتی چوڑی کر کے بولا۔”خان پر ہاتھ اٹھانے سے پہلے گورگن سے قبر کی جگہ مختص کرا لیناضروری ہوتا ہے۔“
میں نے موضوع تبدیل کرنے کی کوشش کی۔”کیا فضول باتوں میں پڑ گئے ہو ، یونٹ کی نئی تازی سنا ﺅ۔“
وہ بگڑ کر بولا۔”راجے ،شرافت سے تمام تفصیل بک دے۔لورا براﺅن اور راجکماری پرما کے ساتھ جو گل چھرے اڑاتے رہے ہو ،مجھے ایک ایک لمحے کی تفصیل درکار ہے۔“
میں نے مشورہ دیا۔”تصور صاحب کے پاس چلتے ہیں ،انھوں نے بھی تفصیل سننا ہوگی، ایک ساتھ دونوں کو بھگتا لوں گا۔“
منہ بناتے ہوئے اس نے مجھے یونٹ کنٹین کے سبزہ زار کی طرف کھینچا۔”رہنے دوان کے سامنے تم نے تفصیل نہیں وعظ ہی سنانا ہے۔مجھے تمھاری نشانے بازی اور جاسوسی کی فضول کہانیوں سے کوئی غرض نہیں ہے۔“
کرسی کے بجائے ہم نے نیچے بیٹھنا بہتر سمجھا تھا۔میں نے ایک جوان کو اپنی آمد کی اطلاع دے کر حولدار میجر کے پاس بھیج دیا تھا۔یونٹ میں حاضر ہوتے ہی فوجی کے لیے سب سے پہلے ذمہ دار شخص کو اپنی آمد کی اطلاع دینا ضروری ہوتا ہے۔سر دار نے بیٹھتے ساتھ بیرے کوپنجابی ،اردو ،پشتو میں ایک ساتھ پکارا۔
”ہلکا،دوا چائے راوڑا....خالص دودھ میں ،مٹھا روک کے،پتی ٹھوک کے۔“ (لڑکے دو چائے لے آﺅ،خالص دودھ میں میٹھا کم اور پتی زیادہ )
میں نے پوچھا۔”مریم بہن کیسی ہے؟“
وہ جھلاتے ہوئے بولا”او ماما!مریم بھی ٹھیک ہے،سلطان (اس کا بیٹا)بھی ٹھیک ہے، میراسارا خاندان مزے میں ہے۔ اب منہ سے وہ پھوٹ جو میں سننا چاہتا ہوں۔“
اس کی بے صبری پر میں نے قہقہ بلند کیا،لیکن ساتھ ہی اس کی مزید بکواس سے بچنے کو تفصیل بتلانا شروع کر دی۔اس دوران میں کینٹین والا لڑکا چائے رکھ گیا تھا۔سردار بیچ بیچ میں سوال کرتا رہا۔آخر میں وہ کہہ رہا تھا۔
”مجھے نہیں معلوم تھا کوئی لڑکی اتنی سمجھ دار بھی ہو سکتی ہے۔سچ کہوں تو تمھاری بے عزتی کا سن کر جتنی خوشی مجھے ہو رہی ہے اتنی پلوشہ بہن کو بھی نہ ہوئی ہوگی۔“
میں نے کہا۔”کیا خیال ہے اس نے ایسا کیوں کیا؟“
سردار نے پوچھا۔”اور کیا کرتی؟“
میں اطمینان سے بولا۔”اپنے محسن کے ساتھ کیسا سلوک کیا جاتاہے۔“
سردار نے منہ بنایا۔”تم جیسے محسن کے ساتھ اس سے کچھ بڑھ کر ہی برتاﺅ کرنا بہتر رہتا ہے۔“
گفتگو کے دوران میں ہی مغرب کی اَذان ہونے لگی۔ ہم مسجد کی جانب بڑھ گئے۔وہیں تصور صاحب سے بھی ملاقات ہو گئی تھی۔اب وہ اعزازی کیپٹن کا رینک لگا چکے تھے اور ان کی نوکری بھی قریب الاختتام تھی۔ان کی دعوت پر ان کے کمرے میں چلے گئے۔الیاس کھانا وہیں لے آیا تھا۔ خوش گپیوں میں کھانا کھایاگیااور پھر چائے پی رہے تھے کہ تصور صاحب کا موبائل فون بجنے لگا۔
”کمانڈنگ آفیسر کی کال ہے۔“موبائل سکرین کو دیکھتے ہوئے انھوں نے ہمیں خاموش ہونے کا اشارہ کیا۔اوربٹن دباتے ہوئے موبائل فون کان سے لگا لیا۔
”اسلام علیکم سر!“مو¿دب انداز میں کہتے ہوئے وہ لمحہ بھر خاموش رہے، پھر کہا۔”جی سر ! ابھی تھوڑی دیر پہلے ہی پہنچا ہے،میرے پاس ہی بیٹھا ہے۔“یقینا کمانڈنگ آفیسر نے میرے ہی بارے پوچھا تھا۔
”ٹھیک ہے سر!اسلام علیکم سر!“رابطہ منقطع کر کے وہ میری طرف متوجہ ہوئے۔
”کرنل صاحب یاد کر رہے ہیں۔“
ہم سردار اور الیاس کو رخصت کر کے کر کرنل صاحب کے دفتر کی طرف بڑھ گئے ۔دفتر کے سامنے ہمیں تھوڑی دیر انتظار کرنا پڑاکیوں کہ رات کو دفاتر بند ہوتے ہیں ،افسران کسی خاص مقصد ہی سے دفتر آتے ہیں۔وسیم صاحب اپنی کار خود ڈرائیو کر کے پہنچے تھے۔ہم نے ایڑیاں جوڑ کر سلام کہا۔نیچے اتر کر انھوں نے ہم سے مصافحہ کیااور دفتر کی جانب بڑھ گئے۔چند لمحوں بعد ہم ان کے سامنے بیٹھے تھے۔ رسمی کلمات کی ادائی کے بعد انھوں نے مجھے پرما انصاری کو بہ خیریت وطن واپس لانے پر شاباش دی اور پھر مطلب کی با ت پر آئے۔
”جوان!آئی ایس آئی ہیڈکواٹر کی جانب سے چٹھی موصول ہوئی ہے ،وہ تمھیں مانگ رہے ہیں۔“
”سمجھا نہیں سر!“مجھے اچنبھا ہوا تھا۔
وہ سوچتے ہوئے بولے۔”یار! سمجھ تو مجھے بھی نہیں آرہی کہ سنائپر کو جاسوس بنانے پر وہ کیوںتلے ہیں۔ البتہ تمھیں وہاں نہیں بھیجوں گا۔“
ان کی گفتگو میرے سر پر سے گزر ی تھی۔تصور صاحب مخل ہوئے ۔”کیا راجا کی مستقل پوسٹنگ آئی ہے سر!“
”لگتا یہی ہے صاب !لیکن چٹھی میں صرف تربیتی دورانیے کا ذکر ہے اورسچ کہوں تواس کے پس پردہ انصاری صاحب کا ہاتھ لگتاہے۔ ان کے ایجنسی سے گہراے روابط ہیں اور ذیشان کے حالیہ مشن کو لے کر وہ بہت پر جوش تھے۔“یہ کہتے ہوئے وہ اچانک میری جانب متوجہ ہوئے۔ ”کیا اس ضمن میں تم سے انصاری صاحب کی کوئی بات ہوئی تھی؟“
”نہیں سر۔“میں نے نفی میں سرہلادیا۔
انھوں نے اثبات میں سرہلایا۔”ٹھیک ہے ،تیاری پکڑو۔“
”کک....کیسی تیاری سر؟“میں گڑبڑا گیا تھا۔
”جنوبی پنجاب کے مشہور ” منا گینگ‘ ‘کے خلاف آپریشن میں سنائپرزکی ضرورت محسوس کی جا رہی ہے۔“مجھے کہہ کر وہ تصور صاحب کی طرف متوجہ ہوئے۔”ہیڈ کلرک کو بتادو، ذیشان کے آپریشن پر ہونے کا ذکر کر کے جوابی چٹھی بھجوا دے اور ذیشان کودوسرے سنائپر کے ہمراہ ”سول ویگو“ پر فی الفور بریگیڈ ہیڈکواٹر رحیم یار خان بھیج دو۔باقی تفصیل انھیں وہیں سے مل جائے گی۔“
”ٹھیک ہے سر۔“تصور صاحب نے اثبات میں سرہلادیا۔
”وسیم صاحب نے انھیں چند اور ہدایات دیں اور ہمیں جانے کی اجازت دے دی۔ ہم سلام کہہ کر باہر نکل آئے تھے۔
تصور صاحب متبسم ہوئے۔ ”کسے ساتھ لے جانا پسند کرو گے۔“
میں اطمینان سے بولا۔”میں بے آرام ہو رہا ہوں تو دشمن کیوں آرام کرے۔“
انھوں نے قہقہ بلند کیا۔”جانتا تھا سردار ہی کو لے جاﺅ گے ۔بہ ہرحال میں ہیڈ کلرک کو تمھارے موو آرڈر کا بتا دیتا ہوں ،تم دونوں جانے کی تیاری پکڑو۔“
میں اپنے کمرے کی طرف بڑھ گیا۔سردار بے چینی سے منتظر تھا۔”تیا رہوجاﺅ،تھوڑی دیر میں رحیم یار خان کے لیے نکل رہے ہیں۔“
وہ حیرانی سے مستفسر ہوا۔”کیا....سچ؟“
”ہاں ۔“اثبات میں سر ہلا کر میں اپنی الماری کی طرف بڑھا اور نمبروں والا قفل کھول کر سفری بیگ میں ضرورت کی چیزیں ڈالنے لگا۔چند منٹ میں تیار ہو کر ہم کوت میں پہنچے اوررینج ماسٹر کا بکس،ایمونیشن اور سنائپنگ کا دوسرا سامان اٹھا کر یونٹ کی ”ایم ٹی “(ملٹری ٹرانسپورٹ)کی طرف بڑھ گئے۔اگلے آدھے گھنٹے میں ہم سفید رنگ کی ویگو میں سوارہوکر یونٹ سے نکل رہے تھے۔ویگو کو واپس لانے کو ڈرائیور اور حوالدار سیکنڈ سیٹر بھی ساتھ تھا۔
سڑک پر آتے ہی سردار نے پوچھا۔”اب ذرا تفصیل ہو جائے۔“
میں نے سب کچھ دہرا دیا۔
اس نے حیرانی ظاہر کی۔”آخر آئی ایس آئی کو تم جیسے نکمے کی کیا ضرورت پڑ گئی ہے۔“
میں نے کہا۔”وسیم صاحب کے بہ قول اس کے پیچھے انصاری صاحب کا ہاتھ ہے۔“
سردار فکر مندی سے بولا۔ ”شاید ایسا ہی ہوگا،لیکن تمھیں حیلے بہانوں سے کب تک روکا جا سکتا ہے۔“
میں نے امید ظاہر کی۔”وسیم صاحب کو تھوڑی مہلت درکار تھی،امید ہے اپنے تعلقات کو بروے کار لا کر کوئی نہ کوئی حل سوچ لیں گے۔“
”سمجھ میں نہیں آرہا ایجنسی کیا سوچ کر سنائپر کو جاسوس بنانے پر تلی ہے۔جاسوس کی تربیت کوئی بھی حاصل کر کے یہ ذمہ داری نبھا سکتا ہے،مگر سنائپر کے لیے تو تربیت کے ساتھ قدرتی صلاحیت بھی درکار ہوتی ہے اور یونٹ کیسے تربیت یافتہ سنائپر ایجنسی کے حوالے کر سکتی ہے۔“ سنجیدہ گفتگو کرتے ہوئے وہ پٹری سے اترا۔”تمھاری بے غیرتیاں اپنی جگہ ،مگر سنائپر تو بہترین ہو نا۔“
میں نے موضوع تبدیل کیا۔”منا گینگ کے خلاف آپریشن کو پہلے سنائپر کیوں نہیں بھیجے گئے؟“
سردار نے خیال ظاہر کیا۔”غالباََ کل ہی باقاعدہ چٹھی پہنچی ہے اور میرا اندازہ ہے آئی ایس آئی کی چٹھی بھی ابھی ملی ہوگی اور وسیم صاحب نے مہلت کے حصول کو تمھیں ادھر گھما دیا۔“
میں نے اثبات میں سرہلادیاتھا۔تھوڑی دیر گپ شپ کے بعد میں نشست سے ٹیک لگا کر سو گیا۔ فوجیوں کو آرام و سکون کے لمحات کم ہی میسر ہوتے ہیں۔آگے نجانے کیا حالات پیش آنے تھے۔
ہم صبح کے سات آٹھ بجے بریگیڈ ہیڈکواٹر پہنچے اور گھنٹے بعد آرمی قافلے کے ساتھ راجن پور جا رہے تھے۔کیوں کہ اصل کارروائی وہیں ہونا تھی۔ہمارے ساتھ جانے والا ڈرائیور اور اس کا ساتھی رحیم یار خان میں رک گئے تھے۔انھوں نے چند گھنٹے آرام کر کے واپس لوٹنا تھا۔تقریباََ دو گھنٹے بعد ہم مطلوبہ جگہ پہنچ گئے تھے۔وہاں کمانڈوز کی کمپنی بھی پہنچی ہوئی تھی اور ہمیں انھی کے ساتھ ٹھہرایا گیا۔ سردار کو اپنا نمبری(ایک ساتھ ریکروٹی کرنے والے ایک دوسرے کو نمبری کہتے ہیں)مل گیا تھا۔اس سے ہمیں کافی تفصیلات معلوم ہوئی تھیں۔
”منا گینگ“ ڈاکوو¿ں کا گروہ تھا جو دریائے سندھ کے ساتھ جنوبی پنجاب کے دورافتادہ علاقے میں موجودتھا۔یہ ڈیرہ غازی خان اورصوبہ سندھ کے ڈیڑھ سو کلومیٹر تک پھیلے کچے کے علاقے کے درمیان موجود درجنوں گروہوں میں سے ایک سرکردہ گروہ تھا جو اس خطے میں کافی عرصے سے سرگرم تھا۔گروہ کے کارندوں کی تعداد سینکڑوں میں تھی ۔ایک اندازے کے مطابق چار سو سے زائدجرائم پیشہ افراد تھے۔ان کا ذریعہ معاش اغوا برائے تاوان ، بھتہ خوری اور ڈکیتیاں تھیں۔ لڑکیوں کے ذریعے متمول لڑکوں کو پھانس کر بھی کروڑوں کا تاوان طلب کرتے تھے۔ ڈاکو نہایت تربیت یافتہ تھے اور پولیس مقابلوں میں شدید مزاحمت کا ریکارڈ رکھتے تھے۔
وہاں دریائے سندھ کا پانی کافی پھیلاﺅ اختیار کر لیتا ہے اور دو حصوں میں منقسم ہو جاتا ہے جس سے علاقے نے جزیرے کی شکل اختیار کر لی ہے اور اسی جزیرے پر ڈاکوو¿ں کاگروہ موجود تھا۔وہ جزیرہ ۰۱۰۲کے سیلاب کے بعد دریائے سندھ میں ابھراتھا۔ جزیرے کی لمبائی دس کلومیٹر اور چوڑائی تین کلومیٹر تھی۔وہ علاقہ ویسے تو ضلع راجن پور میں آتا تھا، البتہ وہاں سے رحیم یار خان کی سرحد بہت قریب تھی۔یہ ساحلی پٹی جنوبی پنجاب، بلوچستان، سندھ، خیبر پختونخوا اور وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقوں کے سنگم پر واقع تھی اور نوآبادیاتی دور سے ڈاکوو¿ں اور آزادی کے لیے لڑنے والے جنگجوو¿ں کے لیے چھپنے کا ٹھکانہ تھی۔یہ علاقہ مختلف عمل داریوں کے درمیان واقع تھا جس وجہ سے یہاں تک قانون کی رسائی مشکل ہو جایا کرتی تھی۔ یہ جزیرہ گھنے جنگل سے ڈھکا ہوا تھا اور گزشتہ چند برسوں میں پنجاب اور سندھ کے سرحدی علاقوں کے ڈاکوو¿ں نے اسے اپنی پناہ گاہ بنا رکھا تھا۔اگر دریا کے کنارے سے کشتی پراس جزیرے تک پہنچنے کی کوشش کی جاتی تو ایک کلومیٹر تک پانی میں سفر کرنا پڑتا۔جزیرے پر منا گینگ نے بھینسیں بھی پال رکھی تھیں ،ان کے پاس گندم کا وافر ذخیرہ بھی موجود تھا۔اس سے پہلے ۵۰۰۲ میں منا گروہ نے ”انڈس ہائی وے “سے ۲۱ چینی انجینئروں کو بھی اغوا کیا تھا۔ بعد میں انھوں نے ان انجینئروں کو بغیر کسی تاوان کے رہا کر دیاتھا۔ گینگ کے پاس جدید اسلحہ بڑی مقدار میں موجود تھا، جس میں طیارہ شکن توپین بھی شامل تھیں۔ ماضی میں یہ گروپ راکٹ لانچر، جی تھریز، لائٹ مشین گن، سب مشین گن، دستی بم اور ٹینک شکن باروری سرنگیں بھی استعمال کرتا رہا تھا۔گروہ کے سربراہ منانے تسلیم کیاتھاکہ وہ بھارتی ساختہ ہتھیار استعمال کر رہے تھے۔ البتہ وہ ہتھیار انھوں نے افغانستان سے حاصل کیے تھے۔ویسے بھی تب افغانستان میں بھارتی ایجنٹوں کی کافی تعداد موجود تھی۔ڈاکوﺅں کے خلاف آپریشن کی ابتداءپولیس نے کی مگر اٹھارہ دن کے مقابلے کے میں پولیس کے ۷جوان جان بحق ہوئے اور ۴۲پولیس والوں کو ڈاکوﺅں نے یرغمال بنا لیا تھا۔ پولیس کے مطابق اب تک آپریشن میں سات ڈاکو ہلاک ہوچکے تھے۔ پہلے پہل یرغمالی پولیس اہلکاروں کی رہائی کو مقامی قبائل کے ذریعے گینگ سے مذاکرات کیے جاتے رہے اور ناکامی پر فوج طلب کر لی گئی تھی۔فوج نے علاقے کو چاروں طرف سے گھیر لیا تھا،مگر اب تک کوئی خاص پیش رفت نہیں ہو سکی تھی۔ہیلی کاپٹر کا استعمال کیا گیا مگرایک تو ڈاکوﺅں کے پاس اینٹی ایئر کرافٹ گنیں موجود تھیں ،دوسرا انھوں نے یرغمالیوں کو سامنے رکھا ہوا تھا۔اس لیے ہیلی کاپٹر سے ان کے خلاف مو¿ثر کارروائی ممکن نہ تھی۔اس کے علاوہ شہری آبادی بھی قریب تھی اور باوجود انتباہ کے وہاں کے باسیوں نے علاقے کو خالی نہیں کیا تھا۔ اس وجہ سے فوج کو توپ خانے کے استعمال میں احتیاط کرنا پڑ رہی تھی۔منا گینگ نے گزشتہ برس مئی میں بھی سات پولیس اہلکاروں کو اغوا کرکے یرغمال بنایا تھا جس کے بعد گینگ کے خلاف آپریشن کیا گیا تھا، جس میں ہیلی کاپٹرز سے شیلنگ بھی کی گئی تھی۔اس آپریشن میں اغواءہوئے اہلکار تو بازیاب کروا لیے گئے تھے، تاہم ڈاکوﺅں کو پسپا نہیں کیا جاسکا تھا۔منا گینگ کے خلاف راجن پور اور رحیم یارخان پولیس نے ۰۱۰۲ میں بھی آپریشن کیا تھا جس کا دورانیہ تین ماہ تھا تاہم اس کے مثبت نتائج برآمد نہیں ہوسکے تھے۔اس آپریشن میں نام تو منا گینگ کا چل رہا تھا مگر درحقیقت یہ علاقے کے تین بڑے گروہ تھے جو عام حالات میں تو علیحدہ علیحدہ کام کرتے تھے مگر جونھی پولیس ان کے خلاف آپریشن کرتی تینوں گروہ اکٹھے ہوجاتے تھے۔چونکہ پولیس کے پاس ایسے گن شپ ہیلی کاپٹر یا جدید اسلحہ نہیں تھاکہ ان کے خلاف بڑا آپریشن کر کے قابو کیاجاسکتا۔اسی وجہ سے فوج کو بلایا گیا تھا۔کچے کے علاقے میں کئی پولیس چوکیاں اور چیک پوسٹس قائم کی گئی تھیں، تاہم وہ علاقہ اتنا وسیع اور خطرناک تھا کہ ڈاکو مختلف خفیہ راستوں کی مددسے پولیس کے ناکوں سے بچ نکلتے تھے۔ساتھ ہی وہ لوگ مقامی بھی تھے اور بستیوں میں ان کے خاندان آباد تھے ،تبھی وہ ان آبادیوں کو بھی ڈھال بنالیتے تھے۔
یہ تمام تفصیل ہمیں سردار کے نمبری سے ملی تھی، مگر اس سے ہمیں اپنے کام کے بارے کوئی اندازہ نہیں ہو سکا تھا۔اس بارے ہم نے سردار کے نمبری سے سن گن لینے کی کوشش کی مگر وہ لاعلم تھا۔
٭٭٭٭٭
گرمی کافی زیادہ تھی اس وجہ سے ہم نے چھت پر سونا پسند کیا تھا۔”یہاں سنائپروں کا کیا کام ہو سکتا ہے۔“رات کوفرشی بستر پر کمر ٹیکتے ہی سردار مستفسرہوا۔
”جس نے بلوایا ہے،وہ خود وضاحت کر دے گا۔“میں نے دماغ کھپانامناسب نہیں سمجھا تھا۔
وہ بھناتے ہوئے بولا۔”قرض نہیں مانگ رہا۔“
میں نے جان چھڑائی۔”خان صاحب! مجھے نیند آرہی ہے۔“
وہ طنزیہ لہجے میں بولا۔”صاف کہو ناں کسی کی یاد آرہی ہے۔“
میں نے اسے تپانے کی کامیاب کوشش کی۔”جب جانتے ہو تو تکرار کا فائدہ۔“
”بھاڑ میں جاﺅ۔“
میں نے اطمینان سے کہا۔”چلا جاتا اگر وہاں تمھارا جانا طے نہ ہوتا۔“
”جہنم میں جاﺅ گے تم اور تمھاری........میرا مطلب سنائپنگ۔“طیش میں وہ پلوشے کا نام لینے لگا تھا ،مگر پھر اسے عقل آگئی۔البتہ میں نے خاموشی سے آنکھیں بند کر لیںکہ گپ شپ کا بالکل موڈ نہیں تھا۔
صبح نماز پڑھ کر ناشتے وغیرہ سے فارغ ہوئے تبھی پتا چلا دس بجے یونٹوں کے کمانڈنگ آفیسرز کی آپریشن کے متعلق کانفرنس ہے۔
کانفرنس میں ہمیں کسی نے نہیں بلایا تھا۔کانفرنس کہیں بارہ بجے ختم ہوئی۔دوپہر کے کھانے اور ظہر کی نماز کے بعد ہمارا بلاوہ آگیا تھا۔ہم وہاں ایس ایس جی کمپنی کے زیر کمان تھے۔میجر شاہد اقبال کی خواب گاہ اور دفتر ایک ہی کمرے میں بنے تھے۔ہم اجازت مانگ کر اندر داخل ہوئے۔
ہمارے سیلوٹ کا جواب دیتے ہوئے اس نے پلاسٹک کی کرسیوں کی طرف اشارہ کیا۔ ”بیٹھو۔“
”شکریہ سر۔“ہم نے نشست سنبھالی۔
تعارف کے بعد انھوں نے رسمی گفتگو سے تمہید باندھی۔”معذرت، کل میں مصروف تھا اور آپ لوگوں سے ملاقات نہ کر سکا۔کھانے پینے اور رہائش میں کوئی مسئلہ تو درپیش نہیں ہوا؟“
سردار نے نفی میں سر ہلایا۔”نہیں سر!“
وہ مدعے پر آئے۔”تو کام کی بات ہو جائے،آپ لوگوں کو صورت حال واضح ہے۔“
میں نے اثبات میں سرہلایا۔”ہاں،مگر ہمیں کیا کرناہے اس بارے لاعلم ہیں۔“
وہ تفصیل بتاتے ہوئے بولے۔”پورے علاقے کو فوج نے گھیرے میںلے لیا ہے،لیکن پولیس والوں کی بڑی تعداد کو ڈاکوﺅں نے یرغمالی بنایا ہوا ہے، اس وجہ سے نہ ہم توپ خانے کی گولہ باری کر سکتے ہیں، نہ ہیلی کاپٹریا جہاز سے بمباری کر سکتے ہیں؛اگر حملہ کیا جائے تب بھی یہی صورت حال درپیش ہو گی کہ وہ یرغمالیوں کو جانی نقصان پہنچائیںگے۔اب لے دے کے کمانڈوز کی چھاپہ مار کارروائی بچی ہے،لیکن اس صورت میں بھی یرغمالیوں کے بچنے کی کوئی ضمانت نہیں دی جا سکتی۔ڈاکوﺅں کی تعداد کافی زیادہ ہے اور وہ مقابلے پر تلے ہوئے ہیں۔ اگر یرغمالی ان کے قبضے میں نہ ہوتے تو آدھے گھنٹے کی مار تھے،مگر بدقسمتی کہ ایسا نہیں ہے۔“انھوں نے چپ سادھتے ہوئے پوچھا۔ ”کچھ پلے پڑا۔“
میں نے الجھن آمیز لہجے میں پوچھا۔”سر ڈاکوﺅں کی ایک بڑی تعداد جزیرے پر موجود ہے اور ان کے خاتمے کو دو سنائپر کیا کر سکتے ہیں؟“
وہ متبسم ہوئے۔”تو سنائپرز کا کیا کام ہوتا ہے۔“
میں اطمینان سے بولا۔”کلیدی افراد کو نشانہ بنانا۔“
ان کی مسکراہٹ گہری ہوئی۔”یہاں بھی آپ لوگوں نے صرف ایک ہی شخص کو نشانہ بنانا ہے اور جنگ ختم ۔“
”وہ کیسے؟“سردار نے بے صبری ظاہر کی۔
میجرشاہد نے وضاحت کی۔”گینگ کا سربراہ منا ہے اور وہ تقریباََ ہتھیار ڈالنے پر آمادہ ہے،مگر اس کا دست راست جہان عرف جھلو مخالفت کر رہا ہے،جھلو کا گینگ میں بہت اثر رسوخ ہے۔ یوں سمجھواس کی مرضی کے بغیر منا کو راضی نہیں کیا جا سکتا۔البتہ اس کی ہلاکت کی صورت قوی امکان ہے کہ منا گرفتاری دے دے گا۔“
سردار پر اعتماد لہجے میں بولا۔”مسئلہ ہی کوئی نہیں ۔“
میں نے جلدی سے پوچھا۔”کیا جھلو کی دور سے شناخت ممکن ہے۔“
میجر صاحب نے انکار میں سرہلایا۔”صرف تصویر دکھا سکتا ہوں۔“
میں صاف گوئی سے بولا۔”پھر تو مسئلہ بنے گا۔ہدف کی نشان دہی آپ کاکام ہے اور اسے انجام تک پہنچانا ہماری ذمہ داری۔“
میجر صاحب نے معنی خیز لہجے میں کہا۔”اگر اپنا کام بھی ہم آپ کی صواب دید پر چھوڑنا چاہیں....؟“
میں سوچ میں پڑ گیاتھا۔
جاری ہے
 

قسط نمبر2
ریاض عاقب کوہلر
انھوں نے منہ بنایا۔”وسیم صاحب بڑی تعریفیں کر رہے تھے کہ انھوں نے اپنے بہترین سنائپر ہمارے پاس بھیجے ہیں۔“
میں نے خیال ظاہر کیا۔”جزیرے پر جائے بغیر مطلوبہ آدمی کو نشانہ بنانا ناممکن ہے۔کیوں کہ اتنے فاصلے سے ٹیلی اسکوپ سائیٹ سے کسی کو تصویر کی مدد سے پہچاننا تقریباََ ناممکن ہے۔دوسرادریا کنارے مجھے کوئی ایسا مقام نظر نہیں آرہا جہاں سے جزیرے پر کارگر فائر کیاجا سکے۔“
انھوں نے بے نیازی سے کندھے اچکائے۔” پیڑ گننے کے بجائے میں آم کھانے میں دلچسپی رکھتا ہوں۔آپ اپنی ضروریات بتائیں اور کام پورا کریں۔“
سردار اور میں نے ایک دوسرے کو دیکھا،اس نے دھیرے سے سرہلادیا۔میں میجر صاحب کی طرف متوجہ ہوا۔”ہمیں ہلکی سنائپر رائفل چاہیے ہو گی،کیوں کہ رینج ماسٹر کو جزیرے پر لے جانا مشکل ہو گا۔“
اثبات میں سرہلاتے ہوئے انھوں نے پیش کش کی۔”مل جائے گی ، کوئی مددگار چاہیے تو کمانڈو پلاٹون سے بندے لے سکتے ہو۔“
میں نے پوچھا۔”جزیرے تک پہنچنے کا آسان طریقہ کیا ہوگا۔“
انھوں نے قہقہ لگایا۔”ڈھونڈو....“
”پھر اجازت دیں۔“میں نے نشست چھوڑ ی۔سردار بھی میری تقلید میں کھڑا ہوگیاتھا۔
شاہد صاحب نے ہمیں ہاتھ سے بیٹھنے کا اشارہ کیا۔”مذاق کر رہا تھایار!....“
افسر کے مذاق پر ہم موڈ تو بنا نہیں سکتے تھے ،خاموشی سے بیٹھ گئے۔ہمارے سنجیدہ چہرے دیکھتے ہوئے میجر صاحب مطلب کی بات پر آئے۔”کام تھوڑا مشکل ہے،میں کمانڈوزکے بھیجنے کے حق میں تھا،مگر جھلو کا خاتمہ کرنے والے کی اپنی زندگی خطرے میں پڑ جائے گی اور آپ لوگوں نے اسے نزدیک سے نہیں لمبے فاصلے سے نشانہ بنانا ہے اس لیے آپ کو کسی کمانڈو کی نسبت خطرہ کم ہو گا۔البتہ وہاں تک پہنچنا بھی کافی دشوار ہے۔توپہلے یہ بتائیں تیراکی جانتے ہیں یا نہیں۔“
ہم بیک زبان بولے۔” اچھی طرح جانتے ہیں۔“
وہ بتانے لگے۔”جزیرے پر گندم کااچھا خاصا ذخیرہ موجود ہے۔مال مویشی کی بھی کمی نہیں۔پیاز ٹماٹر میں بھی یہ لوگ خود کفیل ہیں البتہ مسالا جات ، چینی پتی ،گھی ،سگریٹس،نسوار وغیرہ جیسی اشیاءکا خاطر خواہ ذخیرہ یہ جمع نہیں کر سکے تھے۔اور اب یہ سامان انھیں باہر سے منگوانا پڑ رہا ہے۔ جزیرے سے باہر بھی ان کے کافی ہمدرد موجود ہیں۔جو رات کی تاریکی میں ٹیوب کے ذریعے بہاﺅ کے رخ تیرتے ہوئے جزیرے تک سامان پہنچا رہے ہیں۔نائیٹ ویژن سائیٹس کی وجہ سے گھیراﺅ کے پہلے ہی دن یہ لوگ ہماری نظروں میں آگئے تھے، لیکن ہم نے جان بوجھ کر نظر انداز کیے رکھا۔البتہ آئی ایس آئی نے پوشیدہ رہ کر ان لوگوں کے ٹھکانے معلوم کر لیے ہیں۔اب ڈاکوﺅں کے تمام ہمدرد ہماری نظروں میں ہیں،لیکن انھیں گرفتار کرنے میں کوئی فائد ہ نہیں تھا اس لیے ہم نے ڈھیل دیے رکھی اور اب آپ دونوں انھی کے بھیس میں جزیرے تک پہنچو گے۔“
میں نے پوچھا۔”وہ اپنے آدمیوں کو پہچانتے نہیں ہوں گے؟“
وہ اطمینان سے بولے۔”جو آدمی سامان پہنچاتے ہیں وہ وہاں رکتے نہیں ہیں ،بلکہ سامان چھوڑ کر آگے بڑھ جاتے ہیں۔“
میں نے مایوسی ظاہر کی۔”پھر تو سارا قصہ ہی فضول ہے۔“
میجر صاحب وضاحت کرنے لگے۔”جزیرے کی لمبائی چوڑائی اچھی خاصی ہے۔ڈاکوﺅں کی رہائش مخصوص علاقے میں ہے، البتہ نگرانی وہ پورے جزیرے کی کرتے ہیں۔جزیرے میں چند افراد کا داخل ہونا اتنا دشوار نہیں ہے،لیکن وہاں چھپ کر کام کرنا کافی مشکل ہے اور زیادہ تعداد میں کمانڈو بھیجنے کا مطلب کھلی لڑائی ہے،جس کا نقصان یر غمالیوں کی موت کی صورت برآمد ہو سکتا ہے۔اگر ان کے قبضے میں پولیس کے جوان نہ ہوتے توہمیں اتنی تگ و دو نہ کرنا پڑتی اور سچ کہوں توپولیس کے علاوہ ایک بڑی سرکاری شخصیت کا بیٹا بھی ڈاکوﺅں کی قید میں ہے۔ وہ حرامی کسی لڑکی کے چکر میں ان کے ہتھے چڑھا ہے۔یہ لوگ خوب صورت لڑکیوں کے ذریعے متمول خاندانوں کے لڑکوں پھانستے ہیں ،پھر انھیں جزیرے پر قید کر کے منہ مانگا تاوان وصول کرتے ہیں۔ مگر اس لڑکے کو گھیرنے کا مقصد تاوان کے ساتھ اپنے مطالبات بھی تسلیم کروانا تھے۔ اب وہ لڑکا اور پولیس والے ہماری راہ کے بڑے روڑے بن گئے ہیں۔ہم ان کی وجہ سے کھل کر کارروائی نہیں کر پارہے۔آپ لوگوں کو چند دن چھپ کر رہنا ہوگا اور سنائپر کیسے چھپتے ہیں اس بارے آپ دونوں مجھ سے بہتر جانتے ہوں گے۔باقی آپ کا کام فقط جھلو کو ٹھکانے لگاکر اپنی جانیں بچا کر نکلنا ہے۔قوی امید ہے کہ اس کے بعد ایک دو دن کے اندر حالات سدھر جائیں گے۔“
میں نے مشورہ دیا۔”اگر ان کے آدمیوں کے بھیس میں گئے تو آپ کو مکمل سیٹ اپ کو گرفتار کرنا پڑے گااور ہمیں جزیرے میں گھسنے کا موقع بھی جانے مل سکے یا نہیں۔اس کے بجائے ہم اپنے طریقے سے چلے جاتے ہیںاورکسی ایسے کونے سے جزیرے میں گھسنے کی کوشش کریں گے جہاں ان کے پہرے دار موجود نہیں ہوں گے۔اس کے بعد ان شاءاللہ وہ ہمیں تلاش نہیں کر پائیں گے۔“
میجر صاحب نے لمحہ بھر سوچ کر اثبات میں سرہلایا۔”جیسے مناسب سمجھواور سچ کہوں تو تم دونوں کے بھیجنے کی وجہ بھی یہی ہے۔گوریلے اور سنائپر میں یہی بنیادی فرق ہوتا ہے کہ گوریلا جتنا بھی جی دار ہو سنائپر جیسی چھپنے کی صلاحیت اور ہدف کا انتظار کرنے کی برداشت نہیں رکھتا۔“
سردار نے اعتماد بھرے لہجے میں کہا۔”سر!اجازت دیں اوران شاءاللہ آپ کو مایوس نہیں کریں گے۔“ہم جانے کے ارادے سے کھڑے ہوگئے۔
میجر صاحب نے ہمیں جانے کی اجازت دیتے ہوئے حقیقت اگلی۔”مایوس آپ مجھے نہیں، خود کو کریں گے،کیوں کہ غلطی کی گنجائش نہیں ہے۔“
ہم سیلوٹ کر کے نکل آئے تھے۔
سردار نے منہ بنایا۔”راجا !تیری نحوست کسی دن مجھے بھی لے ڈوبے گی۔“
میں نے جھڑکا۔”منت کس نے کی تھی کہ ساتھ آﺅ ۔“
وہ جلدی سے بولا۔”اسی لیے تو خود کو کوس رہا ہوں۔“
میں ہنسا۔”یہ کام میرے لیے رہنے دو۔“
وہ طعنہ زن ہوا۔”کوئی اچھا کام تو تم سے ہو نہیں سکتا،بس بک بک کرنا ہی سیکھاہے۔“
میں نے قہقہ لگایا۔”کیاخان کو کوسنے سے اچھاکوئی کام ہو سکتا ہے۔“
اس نے دھمکی دی۔”خیال کرو،پلوشہ بھی خان ہے اور میں من و عن ساری گفتگو اپنی بہن کے سامنے دہرا دوں گا۔“
اسے جلانے کو میں نے ایک اور قہقہ بلند کیا تھا۔یونھی گپ شپ کرتے ہم ایم ٹی تک آئے اور کمانڈو کمپنی کی گاڑی لے کر دریا کی طرف روانہ ہو گئے۔اگلے آدھے گھنٹے میں دریا کنارے پہنچ گئے تھے ۔
گھنٹا ڈیڑھ ہم دریا عبور کرنے اور جزیرے میں چھپنے کے طریقہ کار پر بحث کرتے رہے۔ بہاﺅ کے رخ ٹیوب پر تیرتے ہوئے جزیرے تک پہنچنا اتنا مشکل نہ تھا،البتہ وہاں مقصد پورا ہونے تک چھپ کر رہنامشکل تھا۔وہ دن اور اس سے اگلا دن ہم نے قراولی (ہدف کے علاقے کی دیکھ بھال) میں گزارا۔اور پھر اس سے اگلی رات بارہ بجے کے قریب ہم جانے کو تیار تھے۔میرے پاس مضبوط پلاسٹک کے غلاف میں لپٹی تھنڈر بولٹ موجود تھی۔سردار کے جھولے میں سنائپنگ کا ضروری سامان اور اضافی ایمونیشن موجود تھا۔سائیلنسر لگے پستول ہم نے مومی لفافوں میں لپٹ کر ہولسٹر میں رکھ لیے تھے۔سردار کے پاس کلاشن کوف بھی موجود تھی کیونکہ دور مار نشانہ بازی کے علاوہ کلاشن کوف ،سنائپر رائفل سے زیادہ کارآمد تھی۔
دو بڑی ٹیوبوں کے ساتھ ایک گاڑی ہمیں وہاں چھوڑ کر واپس چلی گئی تھی۔دریا خوب چڑھا ہوا تھا اور رات وقت کنارے سے ٹکرانے والی لہریں اسے کچھ زیادہ ہی خطرناک انداز میں پیش کررہی تھیں۔حقیقت یہی ہے کہ اندھیرا مصائب اور آفتوں کو بڑھا چڑھا کر پیش کرتا ہے۔ڈاکوﺅں کے خطرے سے پہلے ہمیں دریا سے نبرد آزما ہونا تھا۔شاعر کہتا ہے....
دریا کو اپنی موج کی طغیانیوں سے کام
کشتی کسی کی پار ہو یا درمیاں لگے
اور ہمارے پاس تو لے دے کے ربڑ کی ٹیوبیں تھیں۔گو دونوں بہترین تیراک تھے،کہ سنائپر کی تربیت میں سکھلائی کا کوئی پہلو تشنہ نہیں چھوڑا جاتا۔ سنائپر وہ صیغہ ہے جس کا استعمال روایتی جنگ کے ہر مرحلے یعنی حملہ ،دفاع ،پیش قدمی ،پس قدمی،ریگستانی و پہاڑی علاقے کی لڑائی وغیرہ میں جتنا ضروری و اہم ہوتا ہے اتنا ہی غیر روایتی جنگ کے لیے بھی اہم ہوتا ہے۔یہ بالکل ضروری نہیں کہ اچھا کمانڈو اچھا سنائپر بھی ہو،البتہ اچھے سنائپر کا اچھا کمانڈو ہونا اشد ضروری ہے۔
سردارنے جھولے کو پیٹھ پر لادتے ہوئے سنجیدہ لہجے میں موشگافی کی ۔”راجے !اگر ڈوبتے وقت کلمہ شہادت منہ میں پانی جانے کی وجہ سے پڑھا نہ جاسکے تو کیا مغفرت ہوجاتی ہے۔“ عموماََ مشکل معرکے پر روانہ ہونے سے پہلے وہ کلمہ شہادت زیر بحث ضرور لایا کرتا۔
میں اطمینان سے بولا۔”تم پڑھ بھی لو تب بھی مغفرت کی امید کم نظر آتی ہے۔“
وہ بھناتے ہوئے بولا۔”کیوں میرے اعمال بھی اپنے کرتوتوں جیسے نظر آتے ہیںجو مغفرت کی امید ہی غائب کر دی ہے۔“
”تم سے دوستی کے علاوہ میرا قابل اعتراض فعل بتاﺅ۔“ کہتے ہوئے میں نے پلاسٹک کے غلاف میں لپٹی تھنڈر بولٹ رائفل کاتھیلا پشت پر لاد لیا۔
وہ فوراََ بولا۔”قابل اعتراض نہیں قابل مواخذہ پوچھو۔“
میں طنزیہ انداز میں بولا۔”تمھارے سیاہ نامہ اعمال میں سب سے زیادہ کالک مجھ پر بدگمانی کی ہوگی۔“
”حقیقت کو گمان کہنا تمھارا ہی حوصلہ ہے۔“اس نے سپورٹس شوز اتار کرمومی لفافے میں لپیٹ لیے تھے۔کیوں کہ جزیرے پر پہنچنے کے بعد سب سے پہلے ہمیں جوتوں ہی کی ضرورت پڑنا تھی۔ گرمیوں کے موسم میں جنگل میں سب سے زیادہ خطرہ سانپ و بچھوﺅں کا ہوتا ہے۔ہم نے کپڑے بھی اتار کر مومی لفافے میں ڈال لیے تھے۔اور اس وقت ہمارے بدن پر صرف جانگیہ باقی تھا۔
”چلیں۔“میں نے موضوع تبدیل کیا ورنہ باتونی پٹھان بقیہ رات گپ شپ میں گزار دیتا۔
”بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔“اس نے ٹیوب اٹھا کر پانی میں قدم رکھ دیئے۔گرمی کے موسم میں دریا کے پانی کا لمس کتنا خوش گوار ہو تا ہے اس کے لیے کسی وضاحت کی ضرورت نہیں ،البتہ رات کے اس پہر چڑھے ہوئے دریا کا سامنا کرنا کسی لحاظ سے خوشگوار نہیں تھا۔
کنارے کے ساتھ ہی پانی کمر سے اوپر تک تھا۔ٹیوب پر سینے کے بل لیٹ کر ہم نے خود کو دریا کے حوالے کر دیا۔بہتے پانی میں تیراکی کرنا کھڑے پانی کی نسبت بہت آسان ہے۔بس تیرنے کا ڈھنگ آنا چاہیے،باقی کام پانی خود کر لیتا ہے۔ہمیں چونکہ دریا کے بیچ پہنچنا تھااور بغیر حرکت کیے یہ ممکن نہ تھا ، اس لیے ہاتھوں کو چپوﺅں کی طرح چلاتے ہوئے ہم ٹیوب کو دوسرے کنارے کی طرف دھکیلنے لگے۔پانی کے بہاﺅ کے ساتھ بہتے ہوئے ہم آہستہ آہستہ دریا کو بھی عبور کر رہے تھے۔ٹیوبوں نے ہمارا کام آسان کر دیا تھا۔ایک تو اس سے آواز پیدا نہیں ہو رہی تھی ،دوسرارفتار بھی تیز تھی اور وزن وغیرہ کو پار لے جانا بھی مشکل نہیں رہا تھا۔
دریا کے درمیان میں پہنچ کر ہم نے ٹیوب کو دھکیلنا بند کر دیا،کیوں کہ ہمیں بہاﺅ کے ساتھ جزیرے کے آخری کنارے کے قریب پہنچنا تھا۔ہمیں وہاں تک پہنچتے زیادہ دیر نہیں لگی تھی جہاں سے کنارے کے ساتھ لگنا تھا۔
میں نے سردار کو چھیڑا۔”خان صاحب !اگر کنارے پر پہنچتے ہی بھائی لوگ ٹکرا گئے تو ننگے مارے جائیں گے۔“
وہ اطمینان سے بولا۔”تو پریشان مجھے ہونا چاہیے جس کی کوئی عزت ہے تمھیں کیا خطرہ۔“
ٹیوب کو جزیرے کے کنارے کی طرف دھکیلتے ہوئے میں آہستہ سے بولا۔”اللہ پاک کی شان رات دن بدیسی بیوی سے بے عزت ہونے والا بھی خود کو عزت دار گنوا رہا ہے۔“
وہ منہ بناتے ہوئے بولا۔”بیوی سے بے عزت ہونا کسی غیر عورت سے بے عزت ہونے سے ہزار گنا بہتر ہے۔“
میں نے ڈینگ ماری۔”کسی غیر عورت کی جرا¿ت کہ میری بے عزتی کر سکے۔“
سردار نے منہ بنایا۔”منہ نہ کھلواﺅ یار!میرے پاس بہت لمبی فہرست ہے،مگر اب کنارے لگنے والے ہیں اس لیے تھوبڑا بند کرنا پڑے گا۔“
میں خاموش ہو گیا۔چاند تیسرے کواٹر میں تھااور تب تک مشرق سے سر ابھار چکا تھا۔ (فوجی کارروائیوں میں چاند کی بہت اہمیت ہوتی ہے اور کسی بھی مشن پر جانے سے پہلے چاند کا جائزہ لینا ضروری ہوتا ہے۔اس مقصد کو چاند کی چار حالتیں مقرر کی گئی ہیں ۔یعنی پہلا کواٹر،دوسرا کواٹر، تیسرا کواٹر اور چوتھا کواٹر)
کنارے کے قریب پہنچتے ہی ہم نے چپ سادھ لی تھی،چاند کی روشنی ہمیں کافی مدد فراہم کر رہی تھی،ورنہ گھپ اندھیرے سے بچنے کو شب دید عینک کی مدد لینا پڑتی۔
ڈاکو عموما جزیرے کا دوسرا کنارہ استعمال کرتے تھے۔اس جانب آنے کا مقصد یہ تھا کہ بھاگنے میں سہولت رہے۔
ٹیوبوں سے اتر کر ہم نے کیچڑ میں پاﺅں رکھ دیے۔
سردار نے سرگوشی کی۔”کنارے پر چڑھ کر جائزہ لو، میں ٹیوبوں سے ہوا نکالتا ہوں ۔“
میں اثبات میں سرہلاتا ہواکنارے کی طرف بڑھااورہلکی تگ و دو کے بعد اوپر پہنچ گیا۔ کنارے پر کافی جھاڑیاں اُگی ہوئی تھیں ،درخت بھی کافی تھے۔دور دور تک دکھاﺅ کی سہولت میسر نہیں تھی، اس کے لیے کسی درخت پر چڑھنا ضروری تھا،مگر فی الحال میں اس کی ضرورت محسوس نہیں کر رہا تھا۔ جھولے سے شب دید عینک نکال کر آن کی اور آنکھوں سے لگا کر دائیں بائیں کا جائزہ لینے لگا۔کوئی مشکوک چیز و حرکت نہ دیکھ کر میں نے سردار کو سب اچھا کا اشارہ کیا۔
وہ محتاط انداز میں ٹیوبوں کو خالی کرنے لگا،کیوں کہ ٹیوبوں کو چھپانا ضروری تھا۔انھیں وہیں چھوڑ دیتے تو ہمارا آنا راز نہ رہتا، دریا میں بہا دیتے تو واپسی پر مسئلہ ہوتا ۔
ٹیوبیں خالی کر کے سردارخان اوپر آگیا تھا۔
ہم نے کپڑے پہن کر ٹیوبوں کو چھپایا اور جانے کو تیار ہو گئے ۔اب آگے کے مراحل درپیش تھے۔سنائپر کے لیے پہلا مرحلہ دشمن کی بے خبری میں اس کے علاقے میں پہنچنے کا ہوتا ہے۔اس کے بعد ہد ف کی تباہی کا نمبر آتا ہے اور ان دونوں مراحل کے درمیان انتظار کا پر اذیت مرحلہ۔اس مشن میں بنیادی مسئلہ ہدف کی پہچان کا تھا۔ہمیں ہدف کی پہچان نہیں تھی اور نہ ہدف کے انتظار میں گھات میں بیٹھ سکتے تھے۔
سردار نے مشورہ چاہا۔”مچان بنانا مناسب رہے گا یا نیچے ڈیرہ لگانا پڑے گا؟“
”ایک ادھ دن کا کھیل نہیں ہے کہ مچان بنانے کی ضرورت پیش آئے۔“
سردار مصر ہوا۔”رات گزارنے کو تو مچان ہی مناسب رہے گی۔“
میں نے نفی میں سرہلایا۔”جزیرے کا جائزہ لیے بغیر جگہ کا انتخاب آسان نہ ہوگا۔“
اس نے منہ بنایا۔”گویا سانپ یا بچھو سے ڈسوانے کا پکا ارادہ ہے۔“
میں ہنسا۔”میں سانپ بچھو پر ترس نہیں کھا سکتا،اگر ایک خان کو ڈس کر وہ مرنا ہی چاہتے ہیں تو ان کی مرضی۔“
سردار نے دانت پیسے۔”راجے سدھر جا۔“
”واہ،چھلنی کوزے کو کہتی ہے تم میں دو سوراخ ہیں۔“کہتے ہوئے میں نے نادانستگی میں قہقہ بلند کیا۔
”آہستہ۔“سردار نے تنبیہ کی،مگر اسی وقت تھوڑے فاصلے پر ایک ہیولہ اٹھ کر بھاگا۔میں نے فوراََ پستول نکالا،مگر گولی چلانے سے پہلے وہ جھاڑیوں کا حصہ بن چکا تھا۔ اس کا رخ دریا کی طرف تھا۔میں اس کے پیچھے جانے کا سوچ ہی رہا تھا کہ سردار کی سخت آواز میرے کانوں میں پڑی۔
”خبردار !اگرہلنے کی کوشش کی ۔“وہ اسی جھاڑی کے قریب ہوا جہاں سے نکل کر نامعلوم شخص دریا کی طرف بھاگا تھا۔اسی اثناءمیں دریا کی جانب چھپاکا ہوا جیسے کوئی پانی میں کودا ہو۔شایدبھاگنے والاسخت ڈراہوا تھا۔میں قدم بڑھاتے ہوئے سردار کے قریب ہواجس نے ایک شخص پرکلاشن کوف تانی ہوئی تھی۔اسی وقت میری سماعتوں میں گڑگڑاتی ہوئی نسوانی آواز پڑی۔
”اللہ دے واسطے میکوں ونجاں ڈیو....“(اللہ کے واسطے مجھے جانے دو)
میں چونکا ایک دم کہانی کے تانے بانے میرے پلے پڑ گئے تھے۔پریم پنچھی تنہائی کی تلاش میں عام آبادی سے دور آکر ایک دوسرے کو حال دل سنا رہے تھے اوپر سے ہم ٹپک پڑے اورعاشق بے چارے کو محبت کے بجائے جان بچانے کی پڑ گئی ۔یقینا چند لمحات پہلے تک وہ لڑکی کے لیے یوں جان دینے کے دعوے کر رہا ہوگا جیسے پاکستانی سیاستدان الیکشن سے پہلے مہنگائی ختم کرنے کے کیا کرتے ہیں۔ لیکن جونھی خطرہ محسوس کیا اس نے بھاگنے میں عافیت جانی ۔یہ بھی ممکن تھا کہ لڑکی کسی بڑے غنڈے کی بیوی ،بیٹی یا منظور نظر ہوتی۔بہ ہرحال اب وہ لجاجت و منت زاری سے جان بخشی کی درخواست کر رہی تھی۔لڑکی سرائیکی بول رہی تھی،الفاظ نہ سہی انداز سے سردار کو بھی معلوم ہو گیا تھا کہ وہ کیا کہہ رہی ہے،مگر اس نے عقل مندی کی کہ خاموش رہا۔
میں نے چھوٹی ٹارچ کی روشنی اس طرف پھینکی ،وہ اپنے لباس کو درست کر رہی تھی۔ قریب ہی زیریں مردانہ لباس پڑا تھا،عاشق نامراد نے کچھ زیادہ ہی عجلت کا مظاہرہ کیا تھا۔وہ ایک خوش شکل لڑکی تھی۔اسے مسلسل روشنی کے دائرے میں رکھنا مجھے مناسب نہ لگا۔ ٹارچ بجھاتے ہوئے میں نے طنزیہ انداز میں کہا۔”اے کھیڈ کڈا ں دا شروع ہیے....“(یہ کھیل کب سے شروع ہے)میرا انداز یوں تھا جیسے ہمارا تعلق جزیرے ہی سے ہو۔
وہ سسکی۔”بھائی معاف کردو دوبارہ غلطی نہیں ہوگی۔“
”ہونہہ!....“گہرا سانس لیتے ہوئے میں نے سوچنے کی اداکاری کی اور پھر معنی خیز لہجے میں بولا۔”پہلے تفصیل بتاﺅ تاکہ تمھیں معاف کرنے کے بارے سوچا جا سکے۔“
اس نے تھوڑی لیت و لعل کی ، منت سماجت کی کہ اسے کچھ معلوم نہیں۔مجھے تھوڑی ڈانٹ ڈپٹ کرنا پڑی،ہلکا پھلکا دھمکانا پڑا ،تب جا کر اس نے ٹکڑوں میں جو تفصیل بیان کی اس کا لب لباب یہ تھا۔
اس کا نام پروین تھا وہ ایک بڑے غنڈے بگو استاد کی منظور نظر تھی۔اس کا کام عمومی طور پر متمول لڑکو ں کو پھانسنا ہوتا تھا جسے بعد میں ڈاکو یرغمال بنا لیتے تھے۔دو تین ماہ پہلے بگو کے گروہ میں ایک جواں سال لڑکا اسرار شامل ہوا تھا ،دونوں کی نظریں چار ہوئیں ،دل بیمار ہوئے اور اثر دماغ پر پڑا کہ اچھے برے کی تمیز کھو کر ہر حد پھلانگ گئے۔شب کی تاریکی میں جب چند پہرے داروں کے علاوہ تمام سو جاتے تھے،وہ سب کی نظروں سے بچ کر جنگل میں آجاتے ۔دو جوان جسموں کوتنہائی ملے تو انھیں آپس میں ملنے سے کوئی نہیں روک سکتا۔حسب سابق وہ آج بھی بے فکری سے وظیفہ ءغلاظت میں مشغول تھے کہ ہم آ دھمکے۔عاشق صاحب تو اپنا زیریں لباس بھی وہیں چھوڑ گیا تھااور اب محبوبہ صاحب روتے و گڑگڑاتے ہوئے جان بخشی کی دہائی دے رہی تھی۔خیر اس کی دہائی کس کام کی مگر وہ خود مصیبت بن کر ہمارے گلے پڑ گئی تھی۔گو وہ ہمیں ڈاکو سمجھ رہی تھی ،مگر اسے چھوڑنے میں یہ خطرہ تھا کہ وہ حماقت سے ہماری موجودی کا راز فاش کر سکتی تھی۔
سارا قصہ سن کر میں نے پوچھا۔”اگر تم چاہتی ہو کہ بگو استاد کو کچھ نہ بتائیں تو بدلے میں ہمیں کیا ملے گا؟“
وہ بے باکی سے بولی۔”آپ کو کیا چاہیے۔“
اس کے گلے میں قیمتی ہار اور کلائیوں میں سنہری چوڑیاں نظر آئی تھیں تبھی میں نے بات بنائی ۔”تمھیں اپنا سارا زیور ہمارے حوالے کرنا ہوگا۔“
وہ ذومعنی انداز میں بولی۔”کیا زیور ضروری ہے ؟آپ کوئی اور مطالبہ بھی تو منوا سکتے ہیں۔“ رات کے وقت غیر مردکے ساتھ جنگل میں منگل منانے والی سے اس کے علاوہ توقع ہی کیا کی جا سکتی تھی۔شکر تھا کہ سردار کی سمجھ میں اس کی کھلی ڈلی دعوت نہیں آئی تھی ورنہ ”چٹاخ “ کی آواز ضرور گونجی ہوتی۔
میں نے نفی میں سرہلایا۔”ہمیں صرف زیور ہی چاہیے،پاگل نہیں ہیں جو بگو استاد کی منگیتر پر غلط نگاہ ڈالنے کا حوصلہ کر سکیں۔“
”اسے کون بتائے گا؟“زیور بچانے کووہ خود کو سستا کرنے پر تلی تھی۔
”اچھا اپنے ساتھی سے مشورہ کر لوں۔“بات کرنے کے بہانے میں سردار کو ایک طرف لے گیا۔میں نے جان بوجھ کر تھوڑ ا سا فاصلہ پیدا کیا تھا اور وہی ہوا جو سوچا تھا،ہمارے ذرا سا دور جاتے ہی وہ بھاگ پڑی۔
”اوے !کہاں بھاگ رہی ہو، رکو۔“میں نے بھاگنے کی اداکاری کرتے ہوئے چند قدم لیے اور پھر رک گیا۔وہ چوکڑیاں بھرتے ہوئے جھاڑیوں کے بیچ روپوش ہو گئی تھی،یوں کہ ہم چاہ کر بھی اسے نہیں ڈھونڈ سکتے تھے۔
سردار ہنسا۔”پلوشے بہن نے کچھ زیادہ ہی ڈرا دیا ہے کہ اب لڑکیوں سے دور بھاگنے لگے ہو۔“بغیر بتائے وہ میرا مطمح نظر جان گیا تھا۔
جاری ہے
 

قسط نمبر3
ریاض عاقب کوہلر
میں دانت نکالتے ہوئے بولا۔”خواہ مخواہ کی مصیبت ہی گلے پڑ گئی تھی یار۔“
سردار نے منہ بنایا۔”کیا اسے بھگا نا مناسب تھا،قتل بھی تو کیا جا سکتا تھا۔“
میں نے مطعون کیا۔”مجھے نہیں لگتا ایک خان اتنی بڑی بے غیرتی پر راضی ہوتا۔“
”صحیح کہا،مگر میں نے تمھیں مشورہ دیا تھا۔“
میں نے دانت پیسے۔”اگر تمھاری گفتگو سے بے ہودہ گوئی حذف کر دی جائے تو یقین کرو پیچھے خاموشی ہی بچتی ہے۔“
وہ ترکی بہ ترکی بولا۔”اور تمھاری زندگی سے بے غیرتی نکال دی جائے تو پیچھے کچھ نہیں بچتا۔“
”بکواس کے بجائے شب باشی کی جگہ ڈھونڈ نے کی کوشش کرتے تو تھوڑا آرام مل جاتا۔“
وہ دبی زبان میں ہنسا۔”ویسے ان ہونٹوں سے اچھی بات خال ہی نکلتی ہے۔“
تبھی ہم ایک ٹیلے کے پاس سے گزرے۔”یہ جگہ بہتر رہے گی۔“مجھے متوجہ کر کے اس نے چڑھائی کی طرف قدم بڑھا دیئے۔وہ مٹی کا ڈھیر ارد گرد کی زمین سے چند فٹ بلند تھا۔ اس کا رقبہ پندرہ بیس گز سے زیادہ نہیں تھا۔اس پر کوئی درخت تو موجود نہیں تھا البتہ چھدری چھدری جھاڑیاں موجود تھیں۔
”یقینا تمھیں اپنی پلوشے سے کچھ باتیں کرنا ہوں گی توتب تک میں نیند کر لوں ۔“اطمینان بھرے انداز میں کہتے ہوئے سردار نے سفری تھیلا سر کے نیچے رکھ کر آنکھیں موند لیں۔
میں بھی رائفل کا ”کیئرنگ بیگ “کندھوں سے نکال کر اس کے قریب پاﺅں پسار کر بیٹھ گیا۔ دونوں کا ایک ساتھ سونا کسی طور مناسب نہ تھا۔
دس پندرہ منٹ نہیں گزرے تھے کہ آبادی کی جانب سے پندرہ بیس ٹارچوں کی روشنی آتی دکھائی دی۔میرا ماتھا ٹھنکا،لگا پروین بی بی نے ہمارا راز فاش کر دیا ہے۔کوئی اور وجہ بھی ہو سکتی تھی،لیکن سوچنے یا غور کرنے کا وقت نہیں تھا۔میں سردار کو مخاطب ہوا۔
”خان صاحب!....اٹھ جائیں۔“
”ہونہہ!....“اس کا نیند میں ڈوبا ہنکارا ابھرا۔
میں متبسم ہوا۔”بھلا یہ تو بتاﺅ پٹھان ڈرائیوروں نے ٹرک کے پیچھے کیا لکھوایاہوتا ہے۔“
وہ تپتے ہوئے بولا۔”اس وقت تو دماغ میں گندی گندی گالیوں کے علاوہ کچھ نہیں آرہا ہے۔“
میں نے جلتی پر تیل چھڑکا۔”چلو میں بتا دیتا ہوں....لکھا ہوتاہے:چل پیارے تیری قسمت میں آرام نہیں۔“
”راجے !اگر ........“وہ سیدھا ہوتے ہوئے کچھ کہنے لگا تھا کہ روشنیوں پر نگاہ پڑی۔ ”کہا تھا اسے آزاد کرنا ٹھیک نہیں ہے۔“
” پھر غلطی سدھارنے کا وقت ہواچاہتا ہے۔“میں رائفل کا تھیلا پیٹھ پر لادنے لگا۔
پاﺅں میں جوتے ڈال کر وہ بھی سرعت سے اٹھ کھڑا ہوا۔کلاشن کوف اس نے ہاتھ میں پکڑ لی تھی ۔یقیناایک سنائپرکی راہ میں نیند و آرام حائل نہیں ہو سکتاتھا۔
اس نے مشورہ چاہا۔”کیا خیال ہے پیچھے مڑ کر بھاگا جائے یا چھپاﺅ و تلبیس سے کام لیں گے۔“
میں سوچتے ہوئے بولا۔”نا معلوم ہماری تلاش میں آرہے ہیں یا کوئی اور مطمح نظر ہے۔“
سردار طنزیہ لہجے میں بولا۔”جس محترمہ کوبھگا کر ہیرو بنے ہو اسے کال کر کے پوچھ لو۔“
میں نے فیصلہ سنایا۔”میرا نہیں خیال یہ اس جنگل میں دو سنائپروں کو دن کے وقت بھی تلاش کر لیں گے کجا رات کو ڈھونڈ پائیں۔“
”چلو پھر۔“جیب سے چاقو نکالتے ہوئے سردار قریبی جھاڑی کی طرف بڑھ گیا۔
اسی وقت میرے موبائل فون پر گھنٹی آنے لگی۔فون وائبریشن پر لگا تھا تھرتھراہٹ صرف مجھے ہی محسوس ہوئی تھی،مگر وہ ایسا وقت نہ تھا کہ میں رابطہ منقطع ہی کر سکتا کجا کال اٹینڈ کرتا۔
موبائل فون بار باربج رہا تھا،سکرین پر نگاہ ڈالی تو پلوشہ کی کال آرہی تھی،اسے سمجھانے کی مہلت نہیں تھی،گو پلوشہ کی کال کا کوئی وقت مقرر نہ تھا کہ جب جی چاہتا میرا نمبر گھما دیتی۔البتہ عموماََ وہ اس وقت کال نہیں کیا کرتی تھی۔کال کاٹنے کا بٹن دبا کر میں نے موبائل فون کو مکمل آف کر دیا تھا۔اسے بعد میں بھی وضاحت دی جا سکتی تھی۔
سردار نے مشورہ دیا۔”راجے !موبائل فون کی جان چھوڑواور چھپنے کی تیاری پکڑو۔“
”پتا نہیں پلوشے اس وقت کیوں کال کر رہی ہے۔“میں نے اطراف کا جائزہ لیتے ہوئے حیرانی ظاہر کی۔
” بعد میں پوچھ لینا،فی الحال اس کی کال سے زیادہ اہم مرحلہ درپیش ہے۔“ اتنا کہتے ہی وہ چونکا۔”میرے نمبر پر بھی کال آنے لگی ہے،شاید تم نے اسے مشن کا بتایا ہوا ہے۔“رابطہ منقطع کر کے وہ مجھے مخاطب ہوا۔
نفی میں سرہلاتے ہوئے میں چھپاﺅ کی طرف متوجہ ہو گیاتھا۔
اگلے دس پندرہ منٹ میں ہم دو جھاڑیوں میں یوں پیوست ہوئے کہ جھاڑی ہی کا حصہ بن گئے تھے۔
تلاش کرنے والے دو دو کی ٹولیوں میں آگے بڑھتے آرہے تھے۔ایک دو بار ہلکی سی چیخ پکار مچی شاید کوئی جانور وغیرہ نکل کر بھاگا تھا جو انھیں چونکا گیا تھا۔وہ پھیل کر آگے آرہے تھے اور ایک دوسرے کو آوازیں دے کر رابطہ بحال رکھے ہوئے تھے۔وہ ملی جلی سرائیکی و پنجابی بول رہے تھے۔
اچانک فائر کی آواز گونجی،اس سے متصل مسرت بھرا قہقہ ابھرا۔”ساتھیو!بہت موٹا خرگوش ہاتھ لگا ہے۔“
”اس بے غیرت کے کام دیکھو۔“دو آدمی ہم سے چند قدم دور آرکے تھے۔
بیزاری بھرے انداز میں کہا گیا۔”تو اس کے علاوہ کر بھی کیا سکتے ہیں ،بگو استاد نے اس چھنال کی خاطر ہمارے آرام کا بیڑا غرق کر دیاہے،اسرارا تو ملنے سے رہا کوئی خرگوش وغیرہ ہی پکڑ لیں تو غنیمت ہے۔“
پہلے نے لقمہ دیا۔”پینو(پروین) کو تو دو تین دفعہ میں نے بھی اسرارے کے ساتھ گپ شپ کرتے دیکھا ہے۔اور اس کی شہہ پا کر ہی بے غیرت نے ایسی کوشش کی ہو گی۔“
دوسرا طنزیہ انداز میں بولا۔”بگو استاد کی نظر میں تو وہ دودھ سے دھلی ہے۔“
پہلا بولا۔”اسرارا بہت اچھا تیراک ہے،مجھے نہیں لگتا وہ جزیرے پر ٹکا ہوگا۔“
دوسرے نے کہا۔”پتا نہیں اس بے غیرت کے رنگ میں بھنگ کس نے ڈالاہے،ان دونوں کا بھی کوئی پتا نہیں چل رہا۔“
”شاید اب تک اسرارے کے پیچھے لگے ہوں ۔“وہ گفتگو کرتے ہوئے ہمارے قریب سے گزر گئے۔چاندنی کے علاوہ انھیں ٹارچوں کی طاقت ور روشنی بھی میسر تھی،مگر اس جگہ وہ ہمیں دن کی روشنی میں بھی نہ ڈھونڈ پاتے ۔ان کی گفتگو سے یہی اندازہ ہوا تھا کہ پروین بی بی نے اپنا دامن بچانے کو عاشق نامراد کا بھانڈا پھوڑ دیا تھا۔یقینا اسے ہم سے ڈر تھا کہ کہیں بگو استاد کے سامنے اس کا راز فاش نہ کر دیں۔بے چاری ہمیں کہاں جانتی تھی۔
سردار دبے لہجے میں مستفسر ہوا۔”ان کی تلاش ختم ہونے تک یہیں دبکے رہیں گے؟“
میں نے مشورہ دیا۔”میرا خیال ہے کسی مضبوط درخت کا سہارا لینا پڑے گا۔“
”چلو ۔“سردار متفق ہوتے ہوئے جھاڑی سے نکل آیا۔
میں نے بھی جھاڑی سے نکل کر کٹی ہوئی ٹہنیوں کو جھاڑی کی جڑ میں پھینکا اورآبادی کی طرف قدم بڑھا دیئے۔ ڈھونڈنے والوں کی نفسیات کو مدنظر رکھ کر کیے جانے والے چھپنے کے اقدامات کم ہی ناکام ہوتے ہیں۔ تلاش کرنے والوں کا سارا زور آبادی سے دور جگہوں پر ہونا تھاایسے میں ہم چھپنے کے ساتھ ہدف کو ڈھونڈنے کی کوشش بھی جاری رکھ سکتے تھے۔
فرلانگ بھرچلنے کے بعد کیکر کا بڑا اور گھنا درخت نظر آیا جس کی مضبوط شاخیں آسانی سے ہمارا وزن سہار سکتی تھیں۔متفقہ طور پر اسے منتخب کرتے ہوئے سردار نے مجھے اوپرچڑھنے کا اشارہ کیا۔
جنگلی درختوں کی تراش خراش کوئی نہیں کرتا تبھی ٹہنیاں اور شاخیں بے ہنگم انداز میں پھیلی ہوتی ہیںاور راستہ بنائے بغیر اوپر چڑھنا مشکل ہوتا ہے۔
میں نے چھوٹے دستے کی کلھاڑی ہاتھ میں تھامی اور رکاوٹ ڈالنے والی ٹہنیوں کو صاف کرتے ہوئے اوپر چڑھنے لگا۔میرے بلند ہونے تک سردار نیچے نگرانی کرتا رہا۔جونھی میں نے اپنے لیے مناسب جگہ ڈھونڈ کر ایک دوشاخے پر تشریف ٹیکی وہ اوپر آنے لگا۔اس دوران میں ہم نے ٹارچ جلانے سے گریز کیا تھا ،بس چاند کی ہلکی پھلکی روشنی ہی سے مدد لیتے رہے۔انسانی آنکھ کی ساخت اللہ پاک نے ایسی بنائی ہے کہ مسلسل اندھیرے میں کام کرنے سے تاریکی میں بھی چیزوں کے ہیولے دیکھنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
سردار نے بھی مجھ سے چند ہاتھ دور جگہ سنبھال لی۔مچان بنا نہیں سکے تھے اس لیے سونے کی کوشش بے کار تھی۔فارغ وقت کوغنیمت سمجھتے ہوئے ہم سرگوشیوں میں آگے کا لائحہ عمل طے کرنے لگے۔کافی ساری تجاویز زیر غور لائیں مگر کسی ایک پر بھی متفق نہ ہوسکے۔اسی دوران میں صبح صادق ہو گئی، تلاشی ٹولیوں کی ٹارچوں کی روشنی دور سے نظر آنے لگی تھی۔ہم نے چپ سادھ لی کہ ہلکا سا خطرہ بھی مول نہیں لے سکتے تھے۔لیکن جب مقدر میں آزمائش لکھی ہو تو تدابیر کامیاب نہیں ہوا کرتیں۔
وہ بے فکری و بے پروائی سے چلتے ہوئے آگے بڑھ رہے تھے۔گو ملگجا اجالا پھیل رہا تھا مگر درختوں کی وجہ سے اب تک تاریکی ہی محسوس ہو رہی تھی،تبھی انھوں نے ٹارچیں نہیں بجھائی تھیں۔ ایک جوڑی بالکل اسی درخت کے نیچے سے گزری جس پر ہم براجمان تھے۔اچانک ایک بڑا پرندہ پھڑپھڑا کر اڑا اور ہمارے لیے مسائل کا دروازہ کھول دیا۔ٹارچ کی روشنی پرندے کی طرف پھینکی گئی تھی، جو اس کی پہچان کو یقینی بنانے کوپروں کی پھڑپھڑاہٹ کے پیچھے لپکی ۔دو درختوں سے ہوتی ہوئی روشنی ہمارے درخت کے وسط تک پہنچی اور یہ تو متفقہ اصول ہے کہ ٹارچ والے کی نظر روشنی کے تعاقب میں ہوتی ہے۔گو یہ لاشعوری میں کی گئی بے فائدہ حرکت تھی ،مگر اس کا اختتام ہمارے منکشف ہونے پر ہواتھا۔
”مارے گئے۔“روشنی کو اپنی طرف آتا دیکھ کر سردار بڑبڑا کر رہ گیا تھا۔میں نے بھی خطرے کی بو سونگھ لی تھی اور اب چھپنے کی کوشش نہیں کی جا سکتی تھی۔حفاظتی اقدام کوسائیلنسر لگا پستول میرے ہاتھ میں منتقل ہو گیا تھا۔ آخری وقت تک میں نے کسی بہتری کی امید میں لبلبی نہیں دبائی تھی،لیکن میری احتیاط رایگاں بلکہ نقصان دہ ثابت ہوئی تھی۔
”اوے !یہ یہاں چھپا بیٹھا ہے۔“ٹارچ والے کے ہونٹوں سے جوش بھری آواز نکلی اوراس کا ہاتھ کندھے سے لٹکتی رائفل کی طرف بڑھا،لیکن تب تک میں لبلبی دبا چکا تھا۔
”ٹھک “کی آواز کے ساتھ وہ نیچے گر کر ایڑیاں رگڑنے لگا۔اتنے قریب سے چلائی ہوئی گولی کے رایگاں جانے کا سوچا بھی نہیں جا سکتاتھا۔
اس کا ساتھی چیختے ہوئے بھاگا،ہم چیخ تو نہیں روک سکتے تھے البتہ اس کے قدموں کو لگام ڈالنا ممکن تھا۔گولی اس کی گردن میں لگی تھی،وہ اوندھے منہ گرکر تڑپنے لگا۔
”کیاہوا....کون ہے....بھاگنے نہ پائے....ہم آگئے........“مختلف اطراف سے ملی جلی آوازیں ابھری تھیں۔سوچنے کا وقت تھانہ مشورہ کرنے کی مہلت۔اپنے بیگ کندھوں میں ڈال کر ہم لچکیلی شاخوں کو پکڑ کر نیچے کود گئے۔ایسے حالات میں سنائپرز قریباََایک ہی طرح سوچتے ہیں ۔ہر وہ شخص جو عملی زندگی میں دھکے کھا چکا ہواس کے لیے بروقت فیصلہ کرنامشکل نہیں ہوتا۔
درخت اور جھاڑیوں کے جھنڈ چھپنے کے لیے نہایت سازگار تھے۔نیچے اترتے ہی ہم آبادی کی جانب بھاگے کیوں کہ مخالف جانب سے ٹولیوں کی آمد جاری تھی۔اسی وقت گولیوں کی تڑتڑاہٹ ابھری فائر کرنے والے نے ہدف کو دیکھے بغیر ٹریگر دبایا تھا۔ہم رکنے کی حالت میں نہیں تھے۔پہلے وہاں سے فاصلہ پیدا کرنے کی ضرورت تھی۔
لوگوں کی چیخ و پکار شروع ہو گئی تھی،دو لمبے برسٹ فائر کیے گئے۔کلاشن کوف کی جانی پہچانی تڑتڑسماعتوں پر گراں گزری تھی کہ فائر دشمن کی طرف سے داغے گئے تھے ۔
سردار نے پھولے ہوئے سانسوں میں اندیشہ ظاہر کیا۔” لگتا ہے گھیرے میں آ گئے ہیں۔“
میں نے کہا۔”انھیں اب تک معاملہ واضح نہیں ہے،البتہ ہماری پہچان ہونے کے بعد کام خراب ہو جائے گا۔“
ایک گھبرائی ہوئی آواز نے انکشاف کیا۔”رمضو اور بشیرا دونوں مارے گئے ہیں۔“
ساتھ ہی چیختی آواز میں بے چارے اسرار کو کوسا گیا،ہم دبے قدم دور ہٹنے لگے،دشمنوں کی آوازیں آنا بند ہو گئی تھیں۔فرلانگ بھر دور آکر ہمارے قدموں میں ٹھہراﺅ آیا۔میں نے ایک جھاڑی کے قریب ہوتے ہوئے کہا۔”یہاں چھپ رہا ہوں تم ساتھ والی جھاڑی میں گھس جاﺅ۔“
اس نے مشورہ دیا۔” جھاڑی کافی بڑی ہے،یہیں دونوں ٹھیک رہیں گے ،ورنہ دور سے مشورہ کرنا مشکل ہو جائے گا۔“
میں نے خاموش رہتے ہوئے اس کی رائے پر صاد کیا تھا۔چونکہ تھوڑی دیر پہلے ہم ایک درخت سے اتر کر بھاگے تھے اس لیے دشمنوں کی توجہ اب درختوں کی طرف مبذول ہو جانا تھی۔تیز دھار چاقو نکال کردونوں ٹہنیوں کو کاٹنے لگے، اس دوران میں ہم اطراف سے بھی غافل نہیں ہوئے تھے۔
نشانہ بازی کے بعد چھپاﺅ اور تلبیس ایک سنائپر کی پہچان ہوا کرتی ہے۔کیوں کہ اسے دشمن کے نہایت قریب جا کر کارروائی کرنا ہوتی ہے اس لیے سنائپر کا دشمن کی نظر سے اوجھل رہنا ہی مقصد کی کامیابی اور اس کی بقا کے لیے ضروری ترین ہوتا ہے۔چھپاﺅ و تلبیس کے لیے سنائپرز کیا کیا طریقے بروے کار لاتا ہے یہ موضوع بہت زیادہ تفصیل کا متقاضی ہے۔لباس ،رائفل ،سنائپر کا جسم اور کمین گاہ کے اطراف کا چھپاﺅ سب اس میں شامل ہے۔یہ درسی کتاب نہیں اس لیے میںلمبی تفصیل میں نہیں جاتا البتہ زیادہ قارئین چونکہ فوجی پس منظر نہیں رکھتے تبھی صورت حال کی وضاحت کوگاہے گاہے چند الفاظ لکھ دیتا ہوں۔
ہم نے سرعت سے ٹہنیاں اپنے لباس کے گرد اس انداز میں لپیٹیں کہ وہ لباس کا حصہ بن گئی تھیں۔سنائپر عموماََ یوں چھپتا ہے کہ چند فٹ کے فاصلے پر کھڑا دشمن بھی اسے نہ ڈھونڈ سکے، اس مقصد کو وہ زمین میں گڑھا کھود کر بھی گھس سکتا ہے ، درختوں کی بلندی پرگھنی جھاڑیوں کا لباس اوڑھ کر بھی بیٹھ سکتا ہے ، کسی جھاڑی کا حصہ بھی بن سکتا ہے،برف میں بھی دفن ہو سکتا ہے اورکسی قبر میں بھی لیٹ سکتا ہے۔
دشمن نہ جانے کیا کر رہے تھے کہ ابتدائی فائرنگ کے بعد گولی نہیں چلی تھی۔نہ کوئی اس جانب قریب آیا تھا۔شاید وہ ساتھیوں کی لاشیں سنبھال رہے تھے یا شاید کسی اور سمت ہماری تلاش میں نکل گئے تھے۔
ہمارے انتظار نے زیادہ طول نہیں کھینچا تھا۔جلدہی آبادی کی جانب سے آوازیں آنے لگی تھیں۔وہ جھاڑیاں کھنگالنے کے ساتھ درختوں کو بھی نظر انداز نہیں کر رہے تھے۔
سردارنے موشگافی کی۔”راجے !میرا خیال ہے پلوشہ بہن کے بیوہ ہونے کا وقت ہوا چاہتا ہے۔“
میں اطمینان سے بولا۔”لی زونا بھی نہیں بچے گی۔“
”خیر اسے فخر تو حاصل ہو گا کہ شہید خان کی بیوہ کہلائے گی اور میری اکیلی وارث بھی ہے۔ پلوشہ بے چاری کو تمھاری محبوباﺅں کی پلاٹون ہی سے نبٹتے بقیہ زندگی گزار نا پڑے گی۔“
”بے شرم پٹھان!پلوشہ اور روما کے علاوہ میری زندگی میں کون ہے؟“
وہ اطمینان سے بولا۔”گلگارے ،جینی،لورا، پرماعرف پری،زرمینہ کس ڈرامے کے کردار ہیں۔“
میں نے جھلاتے ہوئے کہا۔”یار!بہتان لگاتے ہوئے تمھیں شرم بھی نہیں آتی۔“
وہ بے نیازی سے بولا”کیاتمھیں بے غیرتی کرتے ہوئے شرم آتی ہے ؟....گھر میں ایک چھوڑ دو بیویاں موجود ہیں اور اپنی حرکتیں دیکھو۔“
”شش....“میں نے اسے خاموش رہنے کا اشارہ کیا کہ دشمن قریب آگیا تھا۔ہم نے سانس تک سادھ لیے تھے۔چہرے اور ہاتھوں کی تلبیس کو ہم نے کالے رنگ کی مخصوص کریم استعمال کی تھی۔
اس مرتبہ ان کی تعداد زیادہ تھی۔آپس میں باتیں کرتے ہوئے وہ قریب آرہے تھے۔گفتگو کا موضوع اسرار ہی تھا۔جس کی بغاوت ان کے لیے حیران کن تھی۔پینوکی عزت پر ہاتھ ڈالنے تک تو بات سمجھ میں آرہی تھی لیکن دو آدمیوں کا قتل ہضم نہیں ہو رہا تھا۔
باتیں کرتے ہوئے وہ ہماری کمین گاہ کے پاس پہنچ گئے تھے۔وہاں جھاڑیاں بکثرت پھیلی تھیں اورجو جھاڑی ہم نے منتخب کی تھی اس کے اطراف میں بھی جھاڑیاں موجود تھیں ۔چھپنے کو عموماََ ایسی جھاڑی کا انتخاب کیا جاتا ہے جو نمایاں ہو نہ اتنی چھپی ہوئی ہو کہ ڈھونڈنے والوں کی نظر فوراََ اس پر پڑے۔ان کی زیادہ توجہ درختوں پر تھی ،البتہ جھاڑیوں کو بھی سرسری نظروں سے دیکھ رہے تھے۔ دھیمی رفتارسے چلتے ہوئے وہ ہمارے پاس سے گزر گئے تھے ،انھیں ذرا بھی شبہ نہیں ہوا تھااور ہوتا بھی کیسے،بے چاروں کا واسطہ پیشہ ور سنائپروں سے جوپڑگیا تھا۔
ان کے جانے کے بعد بھی ہم وہیں پڑے رہے،سورج آہستہ آہستہ بلند ہو رہا تھا اور گرمی کی شدت میں بھی اسی رفتار سے اضافہ ہو رہا تھا۔
سردار دھیمے لہجے میں بولا۔”پھرکال آرہی ہے۔“یقینا اس کا موبائل فون بھی وائبریشن پر لگا تھا تبھی گھنٹی وغیرہ نہیں بجی تھی۔
میں ہنسا۔”دن نکل آیا ہے ،اب تو پلوشے نہیں ہو سکتی ۔“
موبائل فون کی اسکرین پر نگاہ دوڑاتے ہوئے اس نے حیرانی ظاہر کی۔”میجر شاہد اقبال ہے۔“ کہتے ہوئے اس نے کال وصول کی۔”یس سر!“
میجر صاحب کی بات سن کر وہ اچنبھے سے بولا۔”آپ کو کیسے پتا چلا؟“
ایک چھوٹے سے وقفے کے بعد اس نے کہا۔”بے فکر رہیں سر!حالات قابو میں ہیں۔“
مزید دو تین باتوں کے بعد رابطہ منقطع ہو گیا تھا۔
سردار ،میجر شاہد سے ہونے والی گفتگو بتانے لگا۔جس میں کام کی بات مجھے یہی لگی کہ ڈاکوﺅں میں ہمارے ایک دو ہمدرد موجود تھے۔
میرے دماغ میں ایک ترکیب آئی ،میں نے اسے دوبارہ میجر شاہد کا نمبر ملانے کا کہا۔
”خود بات کر لو۔“سردار نے نمبر ملا کر موبائل فون میری جانب بڑھا دیا۔
”جی؟“میجر شاہد حیرانی سے مستفسر ہوئے تھے ۔
”سر! ڈاکوﺅں میں جو اپنا بندہ موجود ہے اس کا موبائل فون نمبر مل سکتا ہے۔“
میجر شاہد نے پوچھا۔”کیا کرو گے؟“
میں نے کہا۔” امید ہے وہ کال پر ہمیں آسانی سے جھلو کی شناخت کرا دے گا۔“
” نمبر بھیج رہا ہوں بات کر لینا۔“کہتے ہوئے میجر شاہد نے تاکید کی۔”البتہ اسے اپنے ارادے سے آگاہ نہ کرنا، کیوں کہ وہ فقط بھاڑے کا ٹٹو ہے۔“
”ٹھیک ہے سر!“میں نے اثباتی جوا ب دیتے ہوئے رابطہ منقطع کر دیا۔
سردار نے پوچھا۔”کیا ارادہ ہے؟“
میں اسے منصوبہ بتانے لگا۔
دوپہر ڈھلے تلاشی ٹولیاں واپس لوٹی تھیں۔ ناکامی ان کے چہروں ثبت تھی۔تھکے تھکے انداز میں روزمرہ کی گفتگو کرتے ہوئے دو تین ٹولیاں ہماری کمین گاہ کے دائیں بائیں سے گزر گئی تھیں۔باقی ذرا فاصلے سے گزرے تھے۔
شام تک ہم وہیں لیٹے رہے ،کیوں کہ گاہے گاہے کوئی نہ کوئی اس جانب آنکلتا۔ہم آبادی کے کافی نزدیک پہنچ گئے تھے۔پانی کی بوتلیں خالی کرنے کے باوجود پیاس محسوس ہو رہی تھی،مگر سنائپر اور بھوک پیاس کا تو چولی دامن کا ساتھ ہے۔برداشت کے مادے سے عاری شخص کبھی اچھا سنائپر نہیں سکتا۔اس دوران میں میں نے دو تین بار پلوشہ کا نمبر ملانے کی کوشش کی مگر نمبر بند ملا۔شاید خفا تھی یا پھر سگنل کا کوئی مسئلہ تھا۔البتہ اپنے جاسوس سے میرا رابطہ ہو گیا تھا۔میں نے اسے یہ نہیں بتایا کہ ہم جزیرے ہی پر موجود ہیں۔
ملگجا اندھیرا ہوتے ہی ہم کمین گاہ سے نکل آئے تھے۔سب سے پہلے دریا کنارے جا کر پانی پیا اور پھر آبادی سے مناسب فاصلہ رکھ کر مچان کے لیے درخت ڈھونڈنے لگے۔شمالی جانب ایک بڑا اور گھنا درخت اس مقصد کو بہترین لگا تھا۔زیادہ لکڑیاں استعمال کرنے کے بجائے میں نے رائفل کی دوپائی اور اپنے بیٹھنے کی جگہ بنانے پر اکتفا کیاتھا۔اس جگہ سے آبادی کے زیادہ تر حصوں کا دکھاﺅ ممکن تھا۔اب جھلو کی پہچان کا مرحلہ باقی تھا۔
وہ رات ہم نے اسی درخت پر گزاری،البتہ طلوع آفتاب کے ساتھ سردار خان نیچے اتر گیا تھا، اس کا کام ہلکا پھلکا ہنگامہ کر کے ڈاکوﺅں کومتوجہ کرنا تھا،تاکہ وہ ٹھکانے سے باہر نکلنے پر مجبور ہوتے۔ اس کے بعد ہی میں اپنا کام کر سکتا تھا۔
جاری ہے
 

قسط نمبر4
ریاض عاقب کوہلر
آدھے گھنٹے بعدہی پستول کے دو تین فائر ہوئے اور پھر سردار کی کال آنے لگی ۔”راجے! دو سورماشکار کو نکلے ہوئے تھے ،کافی بہادر ڈاکو ہیں اوراپنی بارہ بور بندوق بھی پھینک گئے ہیں۔“
”ٹھیک ہے ،تم خود کو چھپاﺅ۔“اسے ہدایت دے کر میں نے رابطہ منقطع کیا اور تھنڈر بولٹ کی ٹیلی سکوپ سائیٹ کے” آبجیکٹ لینز “اور” آئی گلاس“ سے کور ہٹا کر جائزہ لینے لگا۔جلد ہی دو بھاگتے ہوئے افراد نظر آ گئے تھے۔گھنی جھاڑیوں اور درختوں کی وجہ سے وہ کبھی اوجھل ہو جاتے اور کبھی نظر آنے لگتے۔جونھی درختوں سے نکل کر آبادی میں داخل ہوئے ،چیخ چیخ کر لوگوں کو کچھ بتانے لگے۔ انھیں کافی لوگوں نے گھیر لیا تھا۔اسی اثناءمیں ،میں نے وہاں چھپے جاسوس کو بھی کال ملا دی۔
”جی سر!“کال وصول ہوتے ہی اس کی قدرے محتاط و سہمی ہوئی آواز برآمد ہوئی۔
میں نے کہا۔”جزیرے کی طرف سے فائرنگ کی آواز آرہی ہے۔“
”کسی نے شوکت اورنذیرے کو قتل کرنے کی کوشش کی ہے،مگر وہ جان بچا کر واپس پہنچ گئے ہیں۔“یہ کہتے ہوئے وہ قدرے چونکتے ہوئے بولا۔”مگر تمھیں اتنی جلدی کیسے پتا چل گیا۔“
میں نے وضاحت کی۔”کہا توہے فائرنگ کی آواز سنائی دے رہی ہے۔“
وہ حیرانی سے بولا۔”فائرنگ کی آوازبہ مشکل ہم تک پہنچی ہے ،تمھیں دریا پار کیسے سنائی دے گئی۔“
میں ہنسا۔”وہاں تمھارے علاوہ بھی ہمارے کان موجود ہیں۔“
”اچھا فی الحال ہمیں دشمن کی تلاش میں جانا ہے ،بعد میں بات کرتا ہوں۔“
”ٹھہرو،پہلے یہ بتاﺅ کہ گروہ کا سردار مناکہاں ہے؟“
”کیا مطلب؟“وہ ششدر رہ گیا تھا۔”سردار منا یہیں پر ہے اور کہاں ہوسکتا ہے۔“
”میں بھی تمھارے قریب ہی موجود ہوں، البتہ اسے جانتا نہیں ہوں اورتمھارے علاوہ کسی سے نہیں پوچھ سکتا ورنہ لوگ شک کریں گے۔“
وہ الجھن آمیز لہجے میں بولا۔”مم.... میں کیسے شناخت کرا سکتا ہوں۔“
”لوگوں کی بھیڑ میں تمھیں سردار منا نظر آرہا ہے۔“
وہ دبے لہجے میں بولا۔”کیوں نہیں ،سامنے ہی کھڑا ہے،اجرک لپیٹی ہوئی ہے اور سر پر سندھی ٹوپی رکھی ہے۔“وہ چھوٹے قد کا قدرے فربہی مائل شخص تھا اور اس وقت اسے نشانہ بنانا بالکل آسان تھا،لیکن اس کے قتل سے منع کیا گیا تھا۔اس پر شست سادھ کر میں نے سوال داغا”وہ جو جھلو کے قریب کھڑا ہے۔“
وہ گڑبڑاتے ہوئے بولا۔”نہیں جھلو تو ان آدمیوں سے تفصیل معلوم کر رہا ہے،جن پر فائرنگ کی گئی ہے۔“
میں نے دھڑکتے دل کے ساتھ تصدیق چاہی۔”اچھا سبز شلوار والا جھلو ہے جس نے قمیص کے بجائے بغیر بازو کی سفید بنیان پہنی ہوئی ہے۔“یہ کہتے ہوئے میں نے تھنڈر بولٹ کی نال ذرا سا موڑتے ہوئے ”میوپٹاٹیلی اسکوپ سائیٹ “کا کراس اس کے سر پر منتقل کر دیا تھا۔تھنڈر بولٹ اس لحاظ سے بہترین سنائپر رائفل ہے کہ اس کی ٹیلی اسکوپ سائیٹ کسی بھی ہیوی سنائپر رائفل کی ٹیلی اسکوپ سائیٹ سے کم نہیں ہے۔رینج ماسٹر بارہ اعشاریہ سات ایم ایم کی کارگر رینج ۰۰۰۲میٹر ہے۔اور اس کے ساتھ استعمال ہونے والی ٹیلی اسکوپ سائیٹ لیوپولڈ عام آنکھ کی نسبت ۸سے ۵۲گنا زیادہ دکھاﺅ مہیا کرتی ہے۔جبکہ تھنڈر بولٹ جو کہ سات اعشاریہ چھے دوایم ایم ہے اور اس کی رینج۰۰۰۱میٹر ہے لیکن اس کے ساتھ استعمال ہونے والی میو پٹا (Meopta) چھے سے چوبیس گنا تک دکھاﺅ مہیا کرتی ہے۔اس کے برعکس سات اعشاریہ چھے دوایم ایم سٹائر سناپر رائفل کا موازنہ کرو تو اس کی ٹیلی اسکوپ سائیٹ صرف چھے گنا زیادہ دکھاﺅ مہیا کرتی ہے۔
وہ بیزاری سے بولا۔”ہاں وہی ہے مگر کیا الٹے سوال پوچھ رہے ہویار!“
”تم الٹے سوالوں کے سیدھے جواب دے کر ہی نمک حلالی کا ثبوت دے سکتے ہو۔“کہتے ہوئے میں نے رابطہ منقطع کیا اورٹیلی اسکوپ سائیٹ پر مطلوبہ ایلی ویشن کے کلکس لگانے لگا۔وہ آٹھ سو میٹر دور تھااوراتنے فاصلے پر تھنڈر بولٹ سر میں روشن دان بنانے کی عمدہ صلاحیت رکھتی ہے۔
جھلو اپنے آدمیوں سے تفصیل معلوم کرنے کے بعدپر جوش انداز میں مجمع کو ہدایات دے رہا تھا۔اس سے عمدہ موقع شاید ہی ملتا۔سردار کا نمبر ملا کر میں نے اسے تیار رہنے کو کہا۔بٹ کو کندھے سے آگے دبا کر میں نے تھنڈر بولٹ کو دوپائی اور کندھے کے شکنجے میں جکڑا،شستی کراس اس کے کان سے ملایا کہ وہ رخ موڑ کر کھڑا تھا اور اس کا بایاں کان میرے سامنے تھا۔سانس روک کر شست کی درستی کو یقینی بنایا اورسردار کو فائر کرنے کا کہتے ہوئے لبلبی کو اطمینان سے پیچھے کھینچ لیا۔
عمدہ سائلنسر کی وجہ سے ہلکے سے” ٹھک “کی آواز ابھری تھی۔اسی دوران میں کلاشن کوف کی تڑتڑاہٹ ابھری،سردار نے ایک لمبا چھٹا فائر کیا تھا۔تھنڈر بولٹ کی گولی نے جھلو کے بائیں کان کے سوراخ کو دائیں کان کے سوراخ سے ملا دیا تھا۔
گولیوں کی آواز پر تمام چونکے تھے ،مگر جھلو کے گرتے ہی ان میں افراتفری پھیل گئی تھی۔ کچھ عمارتوں کی طرف بھاگے ،کچھ جھلو کو سنبھالنے لگے،چند ایک نے رائفلوں کا رخ جنگل کی طرف کر کے فائرنگ شروع کر دی تھی۔
”خان صاحب !ہدف تباہ ،اب تم ٹیوبوں کے پاس جا کر ہوا بھرو ،میں ان کے پاﺅں میں بیڑی ڈالتا ہوں۔“
”ٹھیک ہے باس۔“خوشی سے چہکتے ہوئے اس نے رابطہ منقطع کردیا، ساتھ ہی دو تین برسٹ فائر بھی کر دیئے تھے۔
میں نے جھلو کی لاش اٹھانے والوں پر شست سادھی اور ایک آدمی کی ٹانگ میں گولی داغ دی۔
نیچے گر کر وہ غالباََزور سے چیخا تھا کہ تمام اس کی طرف متوجہ ہو گئے تھے۔اور جب تک وہ لاش کو چھوڑ کر زخمی کو سنبھالتے میں مزید دو گولیاں فائر کر چکاتھا۔
زخمیوں اور لاش کو چھوڑ کر باقی بھاگ کر آڑ پکڑنے لگے۔چند آدمیوں نے جنگل کی طرف بڑھنے کی کوشش کی،یقینا ان کا ارادہ ہماری سرکوبی کا تھا،میں نے تیز رفتاری سے فائر کرتے ہوئے تین افراد کونشانہ بنایا ،اس کے ساتھ ہی تھنڈر بولٹ کی میگزین خالی ہو گئی تھی۔ویسے تھنڈر بولٹ کی میگزین میں گیارہ گولیوں کی گنجائش ہوتی ہے،لیکن ہم سات یا آٹھ گولیاں ہی بھرتے ہیں تاکہ میگزین کے اسپرنگ پر زیادہ دباﺅ نہ پڑے۔
پے در پے زخمی ہونے والوں نے تمام کو خوفزدہ کر دیا تھا۔ایک دم شدید فائرنگ شروع ہو گئی تھی،مگر یہ ساری بہادری آڑ کے پیچھے دبک کر دکھائی جا رہی تھی۔
مجھے یقین تھا کہ اب وہ آڑ چھوڑنے کی حماقت اتنی جلدی نہ کرتے۔سرعت سے رائفل کو سمیٹتے ہوئے میں مچان سے نیچے اترااور ملن گاہ (وہ جگہ جہاں کارروائی میں شامل تمام ٹولیوں نے اکٹھا ہوکر اگلے مرحلے کی طرف بڑھنا ہو فوجی اصطلاح میں اسے ملن گاہ کہتے ہیں)کی طرف بھاگ پڑا۔
وہاں پہنچنے پر سردار ٹیوب میں ہوا بھرتے نظر آیا۔ایک ٹیوب میں ہوا مکمل ہو چکی تھی۔
”خان صاحب!میں جارہا ہوں۔“اطمینان بھرے انداز میں کہتے ہوئے میں نے بھری ہوئی ٹیوب کو پانی میں دھکیلا اور رائفل کے تھیلے سمیت اوپر بیٹھ گیا۔کپڑے اور بوٹ وغیرہ اتارنے کی زحمت نہیں کی تھی۔
میں کنارے سے چند فٹ آگے آیا ہوں گا کہ سردار نے بھی ٹیوب کو پانی میں دھکیل دیا۔ ہمارا جلد از جلد جزیرے سے دور نکلنا ضروری تھا۔مشن کی تکمیل کے بعد ہدف کے علاقے سے کھسکنا سنائپر کی پہلی ترجیح ہوتی ہے۔
ہم چونکہ بہاﺅ کے رخ جا رہے تھے اس لیے رفتار کافی تیز تھی۔جزیرے سے مناسب فاصلہ پید اکرنے کے بعد ہم نے ٹیوبوں کو کنارے کی طرف دھکیلنا شروع کر دیا۔اسی دوران میں چند فائر ہوئے مگر ہم اسالٹ رائفلوں کی رینج سے باہر آگئے تھے ۔اور غنڈوں کے پاس سنائپر رائفلیں تو موجود ہونے سے رہیں۔
سردار نے مجھ سے معلوم ہوتے ہی تکمیل مشن اور اپنی واپسی کی رپورٹ میجر شاہد اقبال تک پہنچا دی تھی۔اس لیے جب ہم کنارے تک پہنچے تو ہمیں وصول کرنے کووہ چند فوجیوں کے ہمراہ خود موجود تھے۔
تھوڑی دیر بعد ہم ان کے دفتر میں بیٹھے ٹھنڈے مشروب سے مستفید ہوتے ہوئے تفصیلی رپورٹ پیش کر رہے تھے۔
”شاباش!“میری بات مکمل ہوتے ہی انھوں نے تحسین آمیز لہجے میں کہا۔”بہت اچھے۔“
میں نے پوچھا۔”اب ہمارے لیے کیا حکم ہے؟“
”حکم تو نہیں ایک بری خبر ضرور ہے،امید ہے تم تحمل کا مظاہرہ کرو گے۔“
میں گھبرا کر بولا۔”کیا ہوا؟“دل بری طرح دھڑکنے لگا تھا۔ساتھ ہی پلوشہ کا بار بارگھنٹی کرنا بھی یاد آگیا تھا۔
”کل رات تمھارے گھر پر چند لوگ حملہ آور ہوئے تھے۔“
”کک....کیا....مجھے فوراََ کیوں نہ بتایاگیا۔“میں اچھل کر کھڑا ہو ا۔”مشن کی تکمیل تو سردار خان بھی کرسکتا تھاسر!“
میجر شاہد اقبال خفگی سے بولے۔”پوری بات تو سن لو یار!“
بہ مشکل خود پر قابو پاتے ہوئے میں ان کی طرف متوجہ ہوا، ورنہ ان لمحات میں سوچنے سمجھنے کی صلاحیتیں نہ ہونے کے برابرر ہ گئی تھیں۔
میجر شاہدنے تفصیل کا آغاز خیریت کے ذکر سے کیاتھا تاکہ مجھے حوصلہ رہے۔”تمھارے گھر والے بالکل ٹھیک ٹھاک ہیں۔گزشتہ رات چند آدمی دیوار پھلانگ کر گھر داخل ہوئے،مگر تمھاری پٹھان بیوی کی وجہ سے اپنے مقصد میں کامیاب نہ ہو سکے اور دو لاشیں چھوڑ کر فرار ہو گئے۔ تمھاری بیوی نے پہلے تم سے رابطے کی کوشش کی ،پھر سردار خان کا نمبر ملایااور ناکام ہونے پرایس ایم تصور کے نمبرپر اطلاع دی کہ غالباََ تم نے اسے یہی ہدایت دی ہوئی تھی۔“
اثبات میں سرہلاتے ہوئے میں نے بے صبری سے پوچھا۔”پھر۔“
”تصور صاحب نے انھیں تم سے رابطے سے منع کرکے کسی خفیہ جگہ منتقل کر دیاہے۔“
میں نے اندازہ ظاہر کیا۔”اور نمبر بند رکھنے کی بھی ہدایت کر دی ہوگی۔“
”لازمی بات ہے ،دوران مشن ایسی اطلاع کوئی اچھا اثر نہیں ڈالتی اور پھر تمھارے گھر والے بہ خیریت ہیں،خدانخواستہ کوئی ایسا حادثہ نہیں ہوا کہ تمھیں بلانے کی ضرورت پڑتی۔“گہرا سانس لینے کو انھوں نے ہلکا سا توقف کیا اور پھر متبسم ہوئے۔”سچ تو یہ ہے کہ کسی حادثے کی صورت میں بھی یہی کچھ کیا جاتا کہ پہلی ترجیح وطن کی حفاظت ہے اس کے بعد کسی اور کانمبر پڑتا ہے۔“
”جانتا ہوں سر!“میرے ہونٹوں پر پھیکی مسکراہٹ ابھری۔”اب میرے لیے کیا حکم ہے۔“
وہ شاعرانہ انداز میں بولے۔”یہاں اب کہاں دل لگے گاتمھارا۔“
میں نے اطمینان بھرا سانس لیا۔”گویا جاسکتاہوں۔“
انھوں نے اثبات میں سرہلایا۔”جی، البتہ تمھارا ساتھی چند دن یہیں رہے گا کہ سنائپر کی ضرورت پڑ سکتی ہے ۔“
ہم پیشہ ورانہ سیلوٹ کر کے باہر نکل آئے۔میں نے فوراََ تصور صاحب کا نمبر ملا کر موبائل فون کان سے لگا لیا۔
”کیسے ہو برخوردار!“ان کی مشفقانہ آواز نے میرے دل کو سکون دیا تھا۔
”سر! مشن مکمل ہو گیا ہے،آپ سنائیں میرے گھر والے کیسے ہیں؟“
انھوں نے قہقہ بلند کیا۔”شیرنی کی موجودی میں تمھارے کنبے کو کیا خطرہ لا حق ہو سکتا ہے۔“ یقینا شیرنی سے مراد پلوشہ تھی اور اس میں کوئی شک بھی نہیں تھا۔
”ہوا کیا تھا؟“میری تشویش ختم ہونے میں نہیں آرہی تھی۔بلاشبہ گھر والوں کو خطرے میں پا کر انسان ایک دم کمزور پڑ جاتا ہے۔اگر مجھے پہلے پتا ہوتا توشاید مشن کو اس خوش اسلوبی سے پایہ¿ تکمیل تک نہ پہنچا سکتا۔
”یہ سب کچھ پلوشہ بیٹی سے پوچھ لینا،اور واپسی کا ارادہ ہے تو سیدھا یونٹ میں آناکیوں کہ تمھارے گھر والے یہیں ایک کوارٹر میں منتقل ہو گئے ہیں۔“انھوں نے تفصیل بتانے سے گریز کیا تھا۔
”ٹھیک ہے سر!“میں نے رابطہ منقطع کر دیا۔
”کیا رہا؟“سردار کال ختم ہونے کا منتظر تھا۔
”تفصیل تو معلوم نہیں ہو سکی،البتہ تمام خیریت سے ہیں۔“
سردار نے کہا۔”تم جانے کی تیاری پکڑو،یہاں میں سنبھال لوں گا۔“
میں نے مختصر سامان سمیٹا ،اس دوران میں سردار خان سرکاری گاڑی لے آیا تھا۔وہ مجھے قریبی شہر راجن پورتک پہنچا کرواپس لوٹ گئے ۔وہاں آسانی سے راولپنڈی کی گاڑی مل گئی تھی۔
صبح سویرے میں پیرودھائی بس اڈے پر اترا،ایک مسجد میں صبح کی نماز پڑھ کر یونٹ روانہ ہو گیا۔طلوع آفتاب کے ساتھ یونٹ پہنچ گیا تھا۔
الیاس مجھے داخلی دروازے پر ملاوہ چند نئے سنائپروں کے ساتھ فائرنگ رینج پر جا رہا تھا۔ خوش دلی سے معانقہ کر کے اس نے چند رسمی جملے کہے اور فیملی کوارٹر کا رستہ سمجھا دیا ۔ میرے گھر والوں کی حفاظت کے پیش نظر انھیں یونٹ کی چاردیواری ہی میں کوارٹر دیا گیا تھا۔
چند منٹ بعد میں اطلاعی گھنٹی بجا رہا تھا،دروازہ ابوجان نے کھولا۔مجھے دیکھتے ہی ان کے چہرے پر مشفقانہ تبسم ابھرااور انھوں نے مجھے بانہوں میں سمیٹ لیا۔زمانے کی سختیوں سے نبٹتے وہ بازو کمزور ضرور ہوگئے تھے،مگر میرے لیے آج بھی ایسی پناہ کی حیثیت رکھتے تھے،جن کے گھیرے میں دنیاوی مشکلات،تکلیفات اور مسائل مکڑی کا جالا لگنے لگتے۔
حوصلے سے بھرپور مسکراہٹ ان کے پر عزم چہرے پر نمودار ہوئی۔”پریشان دکھ ر ہے ہو یار!“
میں زبردستی کا تبسم ہونٹوں پر لاتے ہوئے اعتماد سے بولا۔”لگ رہا ہوں،ہوں نہیں۔“
میرے کندھے کے گرد بازو لپیٹتے ہوئے انھوں نے شوخی بھرا قہقہ بلند کیا۔”میرے خیال میں اب تمھیں جھوٹ بولنا چھوڑ دینا چاہیے۔“
”مجھے اپنی پلوشہ بہو جیسا سمجھتے ہیں۔“اسی اثناءمیں پلوشہ ،رومانہ،پھوپھو جان اور امی جان بھی مختصر سے صحن میں نکل آئی تھیں۔پلوشہ کے ماتھے پر سفید پٹی دیکھ کر میرے دل کی دھڑکن رکنے والی ہو گئی تھی۔ البتہ اس کے تبسم نے مجھے کافی حوصلہ بخشا تھا۔
اس نے آنکھیں نکالیں۔”جھوٹے ہیں آپ خود....اور کال کیوں نہیں اٹھا رہے تھے۔“
میں نے منہ بنایا۔”اتنی عقل تو تم میں ہونا چاہیے۔“
وہ منہ چڑا کر بولی۔”آپ بڑے عقل مند ہیں ناں۔“
”یہ کیا، دروازے ہی پر شروع ہو گئے ہو۔“پھوپھو جان نے ہمیں ڈانٹا۔
پلوشہ نے منہ بسورا۔”پھوپھو جان ! میری صحت کا پوچھنے کے بجائے انھیں مذاق سوجھ رہے ہیں۔“
”ناشتا کرنا ہے؟“رومانہ نے موضوع تبدیل کیا۔
میں نے پیٹ پر ہاتھ پھیرا۔”کل رات سے کچھ نہیں کھایا۔“وہ ہنستے ہوئے باورچی خانے کی طرف بڑھ گئی تھی۔
تھوڑی دیر بعد میں ناشتا کر چکاتھا اس دوران میں پلوشہ نے تفصیل سے سب کچھ بتا دیا تھا۔ جس کا لب لباب یہ تھا کہ تین آدمی رات گئے دیوار پھلانگ کر گھر میں داخل ہوئے ،ان کی احتیاط کے باوجود ابوجان کی آنکھ کھل گئی تھی۔انھوں نے زوردار آواز میں آنے والوں کو للکارا،جس سے گھر کی خواتین بھی جاگ گئی تھیں۔گھر کی خواتین اور ایک بوڑھے کی اتنی اہمیت نہ تھی کہ وہ ڈر جاتے،مگر وہ پلوشہ سے ناواقف تھے۔بغیر کسی تاخیر کے پلوشہ نے چارپائی چھوڑی اور سب آگے آنے والے پر جا پڑی، حملہ آور کو اندازہ ہی نہ تھا کہ اس کی طرف جارحانہ انداز میں بڑھنے والی دوشیزہ کیا بلا تھی اور جب تک اس کی سمجھ میں آتاپلوشہ کے پاﺅں کی بھرپور ٹھوکراس کے چہرے کا مزاج پوچھ چکی تھی۔ اس کے عقب میں آنے والے نے پستول والا ہاتھ سیدھاکرنے کی کوشش کی مگر پلوشہ پہلے والے کو ٹھوکر مارتے ہوئے اسی ردھم میں اگلے والے کی طرف بڑھی اوراس کے پستول والے ہاتھ پر جچی تلی ضرب لگاتے ہوئے اس کے پاﺅں کی ایڑی تیسرے والے کی چھاتی میں لگی۔
پستول والے نے جھک کر پستول اٹھانے کی کوشش کی ،مگر پلوشہ اتنی دیر میں مڑ چکی تھی۔اس کے پہلو میں لات رسید کر کے اسے پستول سے دور کیا اور پھر زمین پر لوٹ لگاتے ہوئے پستول پر قبضہ جما لیا۔اسی وقت پہلے والے نے اس کی پیٹھ پر ٹھوکر مار ی وہ اوندھے منہ گری ،اس کا ماتھا اپنے ہی ہاتھ میں پکڑے پستول پر لگا تھا۔لیکن گرنے کے ساتھ ہی اس نے کروٹ لے کر اگلی ٹھوکر سے جان بچائی اور پھر مسلسل لبلبی دبا کر دو بندوں کو وہیں ڈھیر کر دیا البتہ تیسرا خطرہ بھانپتے ہی بھاگ نکلنے میں کامیاب ہو گیا تھا۔ پلوشہ کو ماتھے پر چوٹ آئی تھی اور ان کے دو بندے ہلاک ہوئے تھے۔بعد کے حالات پہلے ہی بیان کر چکا ہوں۔
ناشتا کر کے میں نے چند گھنٹے آرام کیا اور پھر یونٹ چلا گیا۔تصور صاحب کو میری واپسی کی خبر مل چکی تھی۔وہ اب چند دنوں کے مہمان تھے۔ان کی سروس پوری ہو چکی تھی۔
وہ اپنے دفتر ہی میں ملے تھے۔مشن کی تفصیلات سن کر انھوں نے اطمینان کا اظہار کیا اور ساتھ ہی یہ خبر بھی سنائی کہ آئی ایس آئی ہیڈکواٹر کی طرف سے یاددہانی (Reminder)کی دو تین چٹھیاں (Letter)موصول ہو چکی تھیں۔
میں نے پوچھا۔”کرنل صاحب کا کیا ارادہ ہے؟“
وہ سنجیدگی سے بولے۔”ان پر کافی دباﺅ ہے،پرسوں ہی اس موضوع پر بات ہوئی،بتا رہے تھے راجا کو روک نہیں سکتے اور تاخیری حربے کب تک استعمال کریں گے،اس لیے حالیہ مشن کے اختتام پر تمھیں الوداع کرنے کا فیصلہ ہوا ہے۔“
میں نے اطمینان بھرے انداز میں کہا۔”میں اپنا کام ختم کر چکاہوں۔“
”اپنے کنبے کے لیے گھر وغیرہ ڈھونڈ لو،اگر سرکاری کوارٹر میں رکھنا چاہو تو یونٹ کو اعتراض نہ ہوگا۔اس کے بعد تمھیں روانگی کے احکام (Move Order)موصول ہو جائیں گے۔“
”ٹھیک ہے سر!“میں نے اثبات میں سر ہلادیا۔تھوڑی دیر مزید وہاں بیٹھ کر میں اپنے کوارٹر پر آگیا تھا۔
اگلے چند دن گھر میں یہی بحث چھڑی رہی کہ تلہ گنگ لوٹنا ٹھیک ہوگا،سرکاری کوارٹر میں ڈیرا لگائیں یا کسی نئے علاقے کا انتخاب کیا جائے۔
ابوجان تلہ گنگ لوٹنے کے حق میں تھے، مگر میرا تجربہ کہتا تھا کہ گھر پر حملہ آور ہونے والے غنڈوں کا مطمح نظر چوری ،چکاری یا ڈکیتی نہیں تھااور پہلی بار اگر اللہ پاک نے بچا لیا تھا تو ضروری نہیں تھا کہ ہر بار دشمنوں کا وار خطا جاتا۔
آرمی کے چھوٹے سے کوارٹر میں مختصر کنبہ تو سما سکتا ہے، ہماری گنجائش نہیں تھی۔کافی سو چ بچار اور غور و خوض کے بعد ڈیرہ اسماعیل خان جانے کافیصلہ ہوا،اس میں چند اور وجوہات کے ساتھ وزیرستان کے قریب ہونے کی وجہ بھی شامل تھی۔میرا اگلا ہفتہ انھی انتظامات میں گزرا۔گھر والوں کو ڈیرہ اسماعیل خان چھوڑ کر میں دوسرے دن واپس یونٹ پہنچ گیا تھا۔اپنے گھر کا پتا میں نے قریبی دوست اویس کو بھی نہیں بتا یا ،کیوں کہ جب تک حملہ آوروں کی جارحیت کی وجہ معلوم نہ ہو جاتی گھر والوں کا چھپے رہنا بہتر تھا۔گو میری کسی سے ذاتی دشمنی نہیں تھی مگر میرا کام ایسا تھا کہ کئی لوگ میرے خون کے پیاسے تھے۔ان کے نزدیک میرے جہاد اور وطن پرستی کسی اہمیت کی حامل نہیں تھی اور ان بیسیوں دشمنوں میں کسی کا میرے گھر تک پہنچ جانا اچنبھے کا باعث نہیں تھا۔یونٹ حاضری کے اگلے ہی دن مجھے آئی ایس آئی ہیڈکواٹر روانگی کا پروانہ تھمادیا گیا۔
پاک آرمی کی روایات کے مطابق دوستوں نے تگڑی سی دعوت دی تحفے تحائف سے نوازا اور میںدکھی دل سے یونٹ سے روانہ ہو گیا۔اسی دوران میں سردار سے بھی بات چیت ہوئی اور یہ جان کر خوشی ہوئی کہ منا گینگ نے ہتھیار پھینک دیئے تھے۔سردار کی واپسی سے پہلے ہی مجھے جانا پڑ گیا تھا۔
میں نے اسی دن آئی ایس آئی ہیڈکواٹر پہنچ کر حاضری لگوائی،وہاں سے مجھے مری ٹریننگ اسکول کا موو آرڈر پکڑوا دیا گیا۔رات ہیڈکواٹر ہی میں گزار کر میں اگلے دن مری روانہ ہو گیا،”موومنٹ آرڈر“ جمع کراتے ہی جب سی آئی (چیف انسٹرکٹر)کی طلبی کا مژدہ سنایا گیا تو میں حیران رہ گیا، کیوں کہ بریگیڈئر کی سطح کے آفیسر کا مجھ سے ملنے کی خواہش کرنا حیران کرنے والا تھا۔سی آئی کی کرسی پر بریگیڈئر فہیم انصاری کو دیکھ کر میری حیرت دوچند ہو گئی تھی۔
جاری ہے
 

قسط نمبر5
ریاض عاقب کوہلر
”امید نہیں تھی وسیم صاحب اتنی جلدی تمھاری جان چھوڑ دیں گے۔“میرے سابقہ کمانڈنگ آفیسر کا نام بے تکلفی سے لیتے ہوئے وہ بازو پھیلاکر میری جانب بڑھے۔
ان کے پرجوش معانقے کو بھرپور طریقے سے وصول کرتے ہوئے میں متبسم ہوا۔ ”سر! آپ نے زیادتی کی ہے۔“
”بیٹھو۔“کرسی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے انھوں نے نشست سنبھالی۔
میں بیٹھ گیا۔
”ٹھنڈا یا گرم؟“
میں نے بے تکلفی سے کہا۔”چائے۔“
اپنے اردلی کو چائے کا بتا کر وہ سنجیدہ انداز میں بولے۔”کیا لگتا ہے،وسیم صاحب مجھ سے زیادہ پاکستان کے خیر خواہ ہیں۔“
میں شاکی ہوا۔”ایساکہنا تو درکنار، سوچا بھی نہیں ہے۔“
”تم ایک سنائپر ہو اور سنائپر مخصوص اہداف کے لیے استعما ل کیے جاتے ہیں،جاسوس بننے کے لیے تواور کئی افراد مل جائیں گے،لیکن اچھے سنائپر قسمت ہی سے ملتے ہیں،خاص کر نشانہ بازی توایک قدرتی صلاحیت ہے اور تمھاری طرح اچھا نشانے باز تو خال ہی ہاتھ آتا ہے وغیرہ وغیرہ....یہی اشکالات ہیں تمھارے۔“ایک ہی سانس میں لمبی فہرست گنواتے ہوئے وہ قدرے طنزیہ انداز میں مستفسر ہوئے تھے۔
”تقریباََ....“میں نے بے جھجک ااثبات میں سرہلا دیا تھا۔
ان کا استفسار جاری رہا۔”کیا جاسوس کی تربیت حاصل کرنے کے بعد تم سے سنائپنگ کا کام نہیں لیا جاسکے گا؟“
میں نے نفی میں سرہلایا۔”ایسا تو نہیں کہا۔“
”برخوردار!بلاشبہ تم ایک بہترین سنائپر ہواور پرما کو واپس لانے کو تم نے جس جانفشانی اور محنت سے کام لیا اس کی جتنی تعریف کی جائے کم ہے،مگر وہاں جاسوسی کے میدان میں تم نے قدم قدم پر ٹھوکریں کھائیں ، کبھی اتفاقاََ بچ گئے کبھی گمنام مجاہدوں کی مداخلت کام آگئی،لیکن پڑوسی ملک میں وہ آخری مشن نہیں تھا۔بہت دفعہ ایسا ہوتا ہے کہ ہمیں دشمن ملک میں سنائپر یا کمانڈو کو بھیجنے کی ضرورت پڑتی ہے کہ درپیش مشن خالی جاسوس کے بس کا روگ نہیں ہوتااور ایسے میں کسی عام سنائپر کو بھیجنا ،مفت میں اپنا بندہ مروانے والی بات ہو جاتی ہے۔اگر ہمارے پاس چند ایسے سنائپر موجود ہوں جنھوں نے جاسوس کی باقاعدہ تربیت لے رکھی ہو تو یقینا ہمارا کام آسان ہو جائے گا،بس اسی لیے تمھیں یہاں منگوا لیا۔“
”راج کماری کا کیا حال ہے؟“میں نے موضوع تبدیل کرنا مناسب سمجھا۔
وہ اطمینان سے بولے۔”رات کو کھانے کی میز پر خود ہی پوچھ لینا۔“
میں معنی خیز لہجے میں بولا۔”سر !اس نے سختی سے منع جوکیا تھا کہ چھوٹے لوگوں کو ان کے ہاں دعوت پر نہ بلایا جائے۔“
”ہاہاہا۔“انصاری صاحب کا قہقہ بلند ہوا۔
”ویسے ریٹائرمنٹ کے بعد آپ کو اس سیٹ پر دیکھ کر حیرت ہورہی ہے۔“میں نے ذہن میں کافی دیر سے مچلنے والے سوال کو الفاظ کے قالب میں ڈھالا۔
وہ صاف گوئی سے بولے۔”پری کی آمد نے امنگوں کو پھر سے جوا ن کر دیا تھا،نئے جوانوں کو تربیت دینے کی پیش کش ہوئی اور میں انکار نہ کرسکا۔“
چند منٹ مزید گپ شپ کر کے میں اجازت لے ان کے دفتر سے کر نکل آیا۔عشائیے (ڈنر) کی انھوں نے ایک بار پھر یادہانی کرا دی تھی۔
مجھے رہائش کو ایک بڑے کمرے میں جگہ ملی تھی۔میرے ساتھ ایک عام فوجی سا برتاﺅ ہوا، جس کا مطلب یہی تھا کہ وہ میرے نام اور کام سے واقف نہیں تھے، فقط انصاری صاحب کے بلاوے کی وجہ سے تربیتی عملے سے چند معنی خیز جملوں کا تبادلہ ہوا تھا۔ان کے خیال میں میں کوئی سفارشی تھا۔ میں نے بھی وضاحت کی ضرورت محسوس نہ کی اور ان کی غلط فہمی برقرار رہنے دی۔
نماز مغرب کے بعد انصاری صاحب نے مجھے لانے کو اپنی کار اور ڈرائیور بھیج دیا تھا۔ان کی رہائش زیادہ دور نہیں تھی وہاں تک پیدل بھی جایا جا سکتا تھا ،مگر مہمان نوازی کے آداب انھیں اچھی طرح معلوم تھے تبھی کار بھیجی تھی۔
انصاری صاحب نے ڈرائینگ روم کے دروازے پر میرا استقبال کیا تھا۔میرے کندھوں پر بازو رکھ کر وہ اپنائیت سے مجھے صوفے تک لے گئے تھے۔نشست سنبھال کر انھوں نے ملازمہ کو کھانے لگانے کا کہا۔اسی دوران میں ان کی بیوی شہناز بیگم بھی آگئی تھیں۔رسمی کلمات کی ادائی کے بعد میں انصاری صاحب کی طرف متوجہ ہو گیاجو کورس کے بارے ضروری ہدایات دے رہے تھے۔پری اب تک نظر نہیں آئی تھی۔جونھی ملازمہ نے کھانا لگ جانے کی اطلاع دی ،انصاری صاحب نے پری کو بلانے کا کہااور ہم تینوں کھانے کی میز کی طرف بڑھ گئے۔بہ مشکل بیٹھے ہی تھے کہ پری(پرما) نمودار ہوئی۔کالی چست جینز پراس نے گھٹنوں تک آتی پھولدار قمیص پہن رکھی تھی۔ہلکا سا دوپٹا گلے میں جھول رہا تھا۔ سنہرے بال شانوں پر بکھرے تھے۔ نزاکت سے چلتے ہوئے قریب آئی اور کرسی گھسیٹ کر خاموشی سے شہناز بیگم کے پہلو میں بیٹھ گئی۔
انصاری صاحب نے مزاحیہ انداز میں اس کا تعارف کرایا۔”ان سے ملو،راجکماری پری وش انصاری ،مجھے ان کا باپ ہونے کا فخر حاصل ہے۔“
پری کی طرف دیکھے بغیر میں نے ہولے سے سرہلایا۔”جی سر!“آخری ملاقات اتنی خوشگوار نہیں رہی تھی کہ میں ہنسی مذاق کر سکتا۔جب وہ میرا احسان ماننے کو تیار نہیں تھی تو مجھے بھی زبردستی کسی کے گلے پڑنے کا شوق نہیں تھا۔
”پلیز شروع کریں۔“بیٹی کا روکھا رویہ دیکھ کر انھوں نے موضوع تبدیل کرنا مناسب سمجھاتھا۔
کھانے کے دوران میں شہناز بیگم اور انصاری صاحب ہلکی پھلکی گفتگو کرتے رہے مگر وہ بے اعتنائی سے بیٹھی رہی ۔میرے نزدیک بھی وہ یا اس کا رویہ اتنی اہمیت کا حامل نہ تھا کہ سرکھپاتا۔
کھانا کھا کر وہ انصاری صاحب سے اجازت لے کر اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئی۔ انصاری صاحب نے مجھے روک لیا تھا۔کورس کے متعلق چند ضروری باتیں بتا کر وہ مستفسر ہوئے۔
”تمھارے گھر پر حملہ آور ہونے والے کون تھے اس بارے تو کچھ نہیں بتایا۔“
میں نے چونکتے ہوئے پوچھا۔”آپ کیسے جانتے ہیں؟“
انھوں نے منہ بنایا۔”رہنے دو یار!“
میں کھسیاتے ہوئے بولا۔”میرے خیال میں تو معمولی چور اچکے تھے۔“
وہ اطمینان سے بولے۔”اورتمھارا خیال بالکل غلط ہے۔“
میں حیرانی بھرے انداز میں انھیں گھور کر رہ گیا تھا۔
ہلکے سے توقف کے بعد وہ بولے۔”کیا سوچا تھا،تمھاری دھمکی سن کر وگنیش شکلا سہم جائے گا اور چپکا بیٹھا رہے گا۔“
میں نے تصدیق چاہی۔”تو یہ وگنیش شکلا کا کام ہے؟“
اس نے اثبات میں سر ہلایا۔”تمھاری بیوی کو اغواءکروا کر وہ پری کی واپسی چاہتا تھا۔ان لوگوں سے غلطی یہ ہوئی کہ عام مجرموں سے کام لینا چاہا،جنھیں معلوم ہی نہ تھا کہ کوئی لڑکی ماہر لڑاکا بھی ہو سکتی ہے۔یقینا ان کا اگلا وار سخت ہو سکتا تھا مگر اس سے پہلے تمھارے گھر والوں کو محفوظ مقام پر منتقل کر دیا گیا۔“
”پری وش پر تو کوئی حملہ نہیں ہوا؟“
انصاری صاحب نے انکشاف کیا۔”مجھے پہلے سے شک تھا ایسا کچھ ضرور ہوگا،تبھی حفاظتی اقدامات سے لا غرضی نہیں برتی۔“
”پھر کیا سوچا ہے؟“
وہ پھیکے تبسم سے بولے۔”ذاتی دشمنی کی وجہ سے تمھیں دوبارہ سرحد پار نہیں بھیج سکتا۔پہلے دوسرا معاملہ تھا،پری وش کے نہ ملنے نے میری دماغی صلاحیتوں کو ماﺅف کر دیا تھا اور میں اچھے برے کی تمیز کھو بیٹھا تھا۔“
میں رسمی انداز میں بولا۔”خیر ایسی بھی کوئی بات نہیں۔“
”بہ ہرحال تم گھر والو ں کو محتاط رہنے کا کہہ دواور تمام ضروری احتیاطی تدابیر پر عمل یقینی بناﺅ تاکہ کسی ناگہانی صورت حال سے سامنا نہ ہونے پائے۔“
”جی سر!“میں نے اثبات میں سر ہلا دیا تھا۔
انھوں نے مزید گھنٹا بھر روک کر پر مغز اور مفید مشوروں سے نوازااور پھر ڈرائیور مجھے واپس چھوڑ گیا۔بہ مشکل بستر تک پہنچا تھا کہ موبائل فون بجنے لگا۔انجان نمبر تھا،کال وصول کر نے پر مترنم آواز سنائی دی۔”راجا بات کر رہے ہو؟“
میں نے بغیر کسی تردد کے پہچان لیا تھا کہ وہ پری ہے۔لیکن اسے جتائے بغیر نرم لہجے میں بولا۔ ”جی بولیں۔“
”ہمیں پہچان لیا ہے یا تعارف کرانا پڑے گا۔“
میں طنزیہ انداز میں بولا۔”جتنا پہچان لیا ہے اتنا کافی ہے،مزید تعارف کا متحمل یہ غریب سپاہی نہیں ہو سکتا۔“
اس نے برہمی ظاہر کی۔”جب منع کیا تھا کہ ہمارے گھر تشریف لانے سے احتراز برتا کریں تو آپ کو سمجھ جانا چاہیے۔“
میں اطمینان سے بولا۔”یہ ہدایات اپنے والد محترم کودیں ایک سپاہی کے بس سے باہر ہے کہ اپنے آفیسر کی حکم عدولی کر سکے۔“
وہ دھمکی آمیز لہجے میں بولی۔”آخری بار تنبیہ کر رہے ہیں، پھر گلہ نہ کرنا کہ گھر آئے مہمان کوبے توقیر کر دیا۔“
میں نے مشورہ دیا۔”اس سے بہتر تھا کہ آپ کھانے کی میز پر تشریف ہی نہ لاتیں۔“
وہ بگڑ کر بولی۔”ہمیں آپ کی نصیحتوں اور مشوروں کی چنداں ضرورت نہیں ہے۔“
میں نے بے پروائی ظاہر کی۔’اور کس نے کہا ہے میں آپ کی ہدایات کا منتظر بیٹھاہوں۔“
وہ برہمی سے بولی۔”ہمیں جواب چاہیے۔“
”اگر سمجھ میں نہیں آرہا تو اور بات ہے ،ورنہ جواب تو دے چکا ہوں۔“
وہ طیش میں آئی۔”کیوں، کوڑھ مغز لگتے ہیں؟“
میں اطمینان سے بولا۔”کچھ کہہ نہیں سکتا کہ فی الحال تو آپ کی صرف احسان فراموشی کی صفت ہی سے واقفیت ہوئی ہے ۔“
وہ بد تمیزی سے بولی۔”آپ کو اپنی خدمت کا پورا پورا معاوضا چکا دیا تھا،مزدور کا اجرت وصول کرنے کے بعد آجر سے مزید کی طمع رکھنا یقینا پسندیدہ نہیں ہے۔“
اس کاگھٹیا تجزیہ برداشت کرتے ہوئے میں تحمل سے بولا۔”شاید آپ سے تو کچھ نہیں مانگا۔“
وہ طنزیہ لہجے میں بولی۔”ہم سے مانگ بھی کیسے سکتے تھے ،بھول گیا ہے ہمیں لانے کی ذمہ داری آپ کو پاپا نے سونپی تھی۔“
میں ترکی بہ ترکی بولا۔”تو جس پر احسان کیا ہے اسی کی دعوت قبول کی ہے،آپ کو مسئلہ نہیں ہونا چاہیے۔“
”وہ ہمارا بھی گھر ہے اورہمیں حق حاصل ہے کہ کسی ناپسندیدہ شخصیت کو اپنے گھر آنے سے منع کریں۔“
میں بے پروائی سے بولا۔”والد کی حیات میں اولاد گھر کی ملکیت کی دعوے دار نہیں ہو سکتی۔“ اور جواب سنے بغیر رابطہ منقطع کر دیا۔
دوبارہ اس کی کال آنے لگی،میں نے پھر کاٹ دی۔مگر اس نے ہمت نہ ہاری ،مجبوراََ مجھے کال وصول کرنا پڑی۔
وہ درشتی سے بولی۔”آپ کو جرا¿ت کیسے ہوئی ہماری کال کاٹنے کی۔“عجیب بات یہ تھی کہ لہجہ جتنا بھی تند وتیز و بدتمیزی سے بھرا تھا اس نے تم تمھارا کہنے سے گریز کیا تھا۔
میں ہنسی ضبط کرتے ہوئے بولا۔”یقینا آپ کو ماہر نفسیات کی اشد ضرورت ہے۔“
”راجا ذیشان حیدر صاحب!آخری بار متنبہ کر رہی ہوں،اگر عزت پیاری ہے توہمارے گھر آنے سے گریز کرنا۔“یہ کہتے ہی اس نے رابطہ منقطع کر دیا تھا۔اس کا اندازبالکل چھوٹی بچی کا سا تھا،کبھی لگتا گفتگو کا مقصد مجھے تنبیہ کرنے کے بجائے بس گپ شپ کرنا تھا۔میں نے زیادہ دیر ان فضول سوچوں میں سرکھپانے کے بجائے پلوشہ سے گپ شپ کرنا ضروری سمجھا۔
٭٭٭٭٭
فوجی تربیت میں صبح سویرے ورزش (فزیکل ٹریننگ )کا پیریڈ اورکورس کے دوران میں فائرنگ کی مشق ایسے ایونٹ ہیں جو تقریباََ ہر کورس کا حصہ ہوتے ہیں۔اس کی وجہ یہ ہے کہ جہاں ایک فوجی کو جسمانی لحاظ سے صحت مند اور چاق و چوبند رہنا ضروری ہے وہیں اسے ہتھیاروں کے استعمال کے بارے جاننا بھی اہم ہے۔اس کے علاوہ متعلقہ کورس کے اسباق ہوتے ہیں جن پر سب سے زیادہ زور دیا جاتا ہے۔کورس میں ہمارے ساتھ ہر رینک اور عہدے کے فوجی شامل تھے۔ان میں سپاہی سے لے کر آفیسرز تک موجود تھے۔دورانِ تربیت آفیسرز اور نچلے رینک کی کوئی تخصیص نہیں ہوتی بلکہ آفیسرز کو کچھ زیادہ ہی رگڑا ملتا ہے۔یہ چونکہ ایک ناول ہے اس لیے تربیت کے متعلق لمبی تفصیل یقینا پڑھنے والوں کی بصارتوں اور سننے والوں کی سماعتوں پر گراں گزرے گی۔یہ کورس میرے لیے بالکل انوکھا اور عجیب و غریب تھا۔دورانِ تربیت مجھے معلوم ہوا کہ گزشتہ مشن میں کیسی کیسی فاش اغلاط کا مرتکب ہوتا رہاتھا۔بلاشہ ”جسے اللہ رکھے، اسے کون چکھے۔“ کے مصداق میں بہ خیریت وطن لوٹ آیا تھا لیکن جنگ کی تیاری اور دشمن کے خلاف تیاری کا حکم بھی شریعت ہی دیتی ہے۔
کورس میں ہمیں دنیا کی اہم ایجنسیوں کی کارروائیوں کے طریقہ کار کے بارے تفصیلی پڑھایا گیا،پڑوسی ملک میں بولنے والی چیدہ چیدہ زبانوں سے واقفیت دلائی گئی ، خاص طور پر ہندی رسم الخط سکھایا گیا،مختلف پیشوں اور کاروباری افراد کی نفسیات سے آگاہ کیا گیا۔ہمیں بھکاری، پاﺅڈری، سبزی فروش، مالشیا،سیلز مین،ڈرائیور ،کنڈیکٹر،پاگل، مجذوب ،غنڈہ، دلال ،شرابی اور جانے کیا کیا بننے کے طریقے سکھائے گئے۔اس کے علاوہ بھی بہت کچھ ایسا سکھایا گیا جس کے بارے لکھنا میں مناسب نہیں سمجھتا۔
فائرنگ میں ہمیں مختلف قسم کے پستولوں اور ریوالور کے متعلق معلومات دینے کے علاوہ دستیاب پستولوں اور چھوٹی مشین گنوں سے فائر بھی کرایا گیا۔پستول ایسا ہتھیار ہے جو عموماََصرف آفیسرز ہی کو جاری کیا جاتا ہے۔اور عام سپاہیوں یا چھوٹے رینکوں میں چند مخصوص افراد کو اس سے واسطہ پڑتا ہے اور پستول چونکہ قریبی لڑائی ہی میں کارآمد ہے اس لیے جاسوس کا اس سے چولی دامن کا ساتھ ہے۔باقی فنون میں میں نے بلاشبہ انسٹرکٹرز سے بہت فائدہ اٹھایا اور اپنی اچھی یاداشت کی بدولت نمایاں شاگرد رہا ،مگر فائرنگ ایسا شعبہ ہے جہاں ان کی بتلائی ہوئی باتیں میرے لیے کسی اہمیت کی حامل نہ تھیں اور میں جو جانتا تھا میرے ان استادوں کو بھی معلوم نہ تھا۔البتہ میں نے کبھی بے پروائی یا لاغرضی کا مظاہرہ نہیں کیا تھا۔ البتہ پہلے دن چھوٹا سا واقعہ پیش آیا تھا۔اس دن انصاری صاحب شوٹنگ رینج پرآئے تب ہمارا”ویپن انسٹرکٹر “ فائرروں کی پوزیشن ٹھیک کر رہا تھا ۔کیوں کہ ہم سے پہلے جس ”ڈیٹیل “نے فائر کیا تھا ان کا فائر کچھ اچھا نہیں ہوا تھا۔
قریب آکر اس نے میری کہنیوں سے خم نکالتے ہوئے کہا۔”جوان!اچھے فائر کے لیے ضروری ہے کہ تم ہتھیار کو صحیح طریقے سے پکڑنا جانتے ہو اور تمھاری جسمانی ہیئت بھی فائر کے لیے مناسب ہو۔“
اسی وقت انصاری صاحب کی نظریں مجھ سے ملیں ،ان کے لبوں پر تبسم رقصاں ہوا۔انھیں ہمارے استاد کی سادگی پر ہنسی آئی تھی یا شاید میری درگت بنتی دیکھ کر مسکرائے تھے۔میرے ہونٹوں پر بھی بے ساختہ مسکراہٹ ابھری،جسے استاد نے طنزیہ ہنسی سمجھاتھا۔
وہ دھیمے مگر قدرے سخت لہجے میں بولا۔”جوان!سی آئی فائرنگ دیکھنے آئے ہیں، دانت نکالنے کے بجائے اگر سیکھنے پر توجہ دو تو بہتر رہے گا۔“
”جی سر!“میں نے تکرار سے گریز کیاتھا۔
تبھی انصاری صاحب قریب آکر مجھے مخاطب ہوئے۔”جوان!پستول کی میگزین میں کتنی گولیا ں ہیں؟“
میں مو¿دبانہ انداز میں بولا۔”سر!فی الحال تو دس بھری ہیں۔“
”ایک منٹ وقت ہے اور پانچوں اہداف کے سر میں دو دو گولیاں مارنا ہیں۔“یہ کہہ کر انھوں نے اپنی کلائی سامنے پکڑی اور گھڑی پر نظریں جماتے ہوئے ہلکے سے توقف کے بعد بولے۔ ”وقت شروع۔“(ٹائم اسٹارٹ)
ہمارے سامنے پانچ ہدف (ٹارگٹ) لگے ہوئے تھے جن کا فاصلہ تیس گز تھااور اس مختصر وقت میں دس بار نشانہ سادھ کر ہر ہدف کے سر میں گولی مارنا عام فائرر کے لیے مشکل ہی نہیں قریباََ ناممکن تھا۔یوں بھی پستول کا فائر باقی ہتھیاروں سے زیادہ مشکل ہوتا ہے۔ایک تو درست شست نہیں سادھی جاتی دوسرا اس پر رائفل کی طرح گرفت نہیں جمائی جا سکتی جس کی وجہ سے جونھی لبلبی دبائی جائے فائر کے جھٹکے سے نال اوپر کو اٹھتی ہے اور گولی ہدف سے اوپر نکل جاتی ہے۔البتہ پستول کو استعمال کرنے والے جانتے ہیں کہ اس صورت حال سے کیسے نبٹا جاسکتا ہے۔
”جی سر!“کہتے ہی میں نے بغیر توقف کے پستول سیدھا کیااور سرعت سے شست سادھتے ہوئے لبلبی دبانا شروع کر دی۔ایک منٹ سے پہلے میں میگزین خالی کر چکا تھا۔فائر ختم کرتے ہی میں نے فوجی طریقہ کار کے مطابق پستول کے خالی ہونے کا اعلان کیا اور انصاری صاحب نے ہدف کو دیکھنے کو قدم بڑھا دیے،میں بھی ساتھ چل دیا تھا،تمام اہداف کے سر میں دو دو سوراخ بنے تھے۔
”سر! دیکھ لیں۔“ٹریننگ او سی میجر آفاق کا لہجہ فخر سے پر تھا۔
انصاری صاحب متبسم ہوکر میجر آفاق کو مخاطب ہوئے۔”بر خوردار! جانتے بھی ہو یہ کون ہے؟“
میجر آفاق کو چپ لگ گئی تھی۔ہلکے سے توقف کے بعد انصاری صاحب نے پہلی بار میرا تعارف کرایا ۔”یہ راجا ذیشان حیدر ہے ایک بہترین سنائپر،جو اڑتی ہوئی مکھی کو بھی نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔“
میجر آفاق گڑبڑاتے ہوئے بولا۔”جج....جی سر!اصل میں میری اس بارے ذیشان سے بات چیت نہیں ہو سکی۔“
”شاباش جوان!“انصاری صاحب نے میری پیٹھ پر تھپکی دی۔”بس میں یہی دیکھنا چاہ رہا تھا کہ کہیں ہماری تربیت نے تمہاری اصل صلاحیتوں کو تو نہیں گہنا دیا۔“
میں انکساری سے بولا۔”سر!قدرتی صلاحیتیں اتنی آسانی سے ختم نہیں ہوا کرتیں۔“
اس کے بعد میجر آفاق نے فائرنگ کروانے کی ذمہ داری میرے کندھوں پر ڈال دی تھی۔ میں تربیتی(Traniee) ہونے کے باوجود فائرنگ کا استاد بن گیا تھا۔
مہینے میں ایک بار نائیٹ پاس مل جایا کرتااور مہینے میں ایک بار گھر کا چکر لگا نا فوجی کے لیے بہت بڑی عیاشی ہی ہے۔
جاری ہے
 

قسط نمبر6
ریاض عاقب کوہلر
عملی مشق میں مجھے سبزی اور پھلوں کاٹھیلا لگانے کاہدف ملا تھا۔ٹھیلے اور سبزی وغیرہ کا بندوبست ہر تربیتی(Traniee) کی اپنی ذمہ داری تھی۔ٹھیلاکرائے پر مل گیاتھا، جبکہ سبزی اور پھل میں نے خرید لیے تھے۔
ہر تربیتی کی کارکردگی کو جانچنے کواستاد متعین تھے۔میں ٹھیلا دھکیلتا ہوابازار کے ایک کونے میں ٹھہر گیا تھا۔پرانے اور قدرے میلے کپڑے ،پھٹے ہوئے ہوائی چپل اور چہرے پر سنجیدگی طاری کیے میں ایک غریب شخص کا روپ دھارے ہوئے تھا۔گو عام زندگی میں بھی میں نواب یا سیٹھ نہیں ہوں، سفید پوش گھرانے سے تعلق ہے اور اللہ پاک نے پردہ رکھا ہواہے۔البتہ اس وقت میں مفلس اور مجبور نظر آنے کی مکمل کوشش کررہا تھا۔تھوڑی سی بِکری ہوئی ،چند گاہکوں کے بعد زوہیب استاد وہاں پہنچ گئے۔ تھوڑے سے ٹماٹر پیاز اور ایک کلو سیب لے کر انھوں نے قیمت چکائی، اجنبیوں کے انداز میں چند رسمی باتیں کیںاور آگے بڑھ گئے۔
مجھے وہاں دوتین گھنٹے مزید رکنا تھا۔ایک ادھیڑ عمر عورت ٹھیلے کے قریب آئی،خاصی مول تول کے بعد اس نے ٹماٹر ،پیازخریدے اور پیسے ادا کر رہی تھی کہ ایک مترنم آواز میرے کانوں میں پڑی۔
”ماں جی! رہنے دیں ہم ادائی کر دیں گے۔“میں نے بڑی مشکل سے خود کو اچھلنے سے روکا تھا۔ وہ راجکماری پرما تھی۔اسے پہلی بار اتنے کھلے لباس میں دیکھا تھا۔ پیلے رنگ کی پھول دار شلوار جس پربلوچیوں کے ثقافتی پہناوے کی طرح کئی سلوٹیں پڑی تھیں۔ایسی شلوار کئی میٹر کپڑے سے بنتی ہے۔اس پرگھٹنوں تک آتی گلابی رنگ کی قمیص تھی جس پر سبز کڑھائی سے خوب صورت بیل بوٹے بنے تھے۔قمیص قدرے تنگ لگ رہی تھی،شاید اس کی وجہ شلوار کا بہت زیادہ کشادہ ہونا تھایا درزی کی مہارت تھی کہ اس نے پری وش کے بالائی بدن کے نشیب و فراز کو زبان دے دی تھی۔سبز رنگ کا دوپٹا جو مفلر کی طرح گلے میں پڑا تھا۔سنہرے ریشمی بال کندھوں پر بکھرے تھے۔اس کے ہمراہ اس کی ہم عمر دو اور لڑکیاں بھی تھیں۔دونوں نے پری وش سے ملتا جلتا لباس ہی پہنچ رکھا تھا۔
بوڑھی عورت دعائیں دیتے ہوئے چلی گئی تھی اس نے ذرا بھی تکلف نہیں کیا تھا۔
ایک لڑکی نے سیب اٹھا کر اس کا معیار جانچتے ہوئے پوچھا۔”سیب کیا بھاﺅ ہیں؟“
میں پہلے جھٹکے سے سنبھل گیا تھا۔سنجیدگی سے بولا۔”تین سو روپے کلو باجی!“
وہ خفگی سے بولی۔”تمھیں باجی لگ رہی ہوں۔“
میں گڑبڑاتے ہوئے بولا۔”معذرت بیگم صاحبہ۔“
”ہم بیگم صاحبہ لگ رہے ہیں۔“اس بار پری وش نے آنکھیں نکالیں۔
مدد کی تلاش میں دائیں بائیں نظریں دوڑائیں ،مگر ارد گرد گزرنے والے اجنبیوں ہی پر نظر پڑی تھی۔شاید میری کارکردگی جانچنے والا استاد بھی کہیں چھپ کر مجھ پر نظر رکھے ہوئے تھا ۔میں جذبات کے اظہار کو لاچار تھا۔تھوک نگلتے ہوئے بے بسی سے بولا۔
”مس ہم تو تمام قابل احترام لڑکیوں کو باجی یا بیگم صاحبہ بولتے ہیں،آپ کو برا لگا تو معذرت کرتا ہوں۔“
پری وش مصنوعی برہمی سے بولی۔”ہمیں بہت برا لگاہے،آئندہ سوچ سمجھ کر بولنا۔“ باقی دونوں لڑکیوں کے انداز سے بھی یہی لگ رہا تھا کہ وہ میری اصلیت سے واقف ہیں،تبھی تو دبا دبا تبسم ان کے ہونٹوں پر کھل رہا تھا۔
تیسری لڑکی نے حکم دیا۔”اچھا پانچ کلو اچھے اچھے سیب تول دو۔“
”جی مس !“کہہ کر میں نے پانچ کلو سیب تولے۔اس نے اتنے ہی ٹماٹر اور پیاز بھی تلوائے۔
پری وش دوسری لڑکی کو مخاطب ہوئی۔”یمنا!تم نے کچھ نہیں لینا۔“
وہ جلدی سے بولی۔”میں بھی یہی کچھ لوں گی۔“
”پانچ پانچ کلوسیب تولیں ۔“پری وش نے طنطنے سے حکم جاری کیا۔
سیب تلنے کے بعد اس نے اتنی ہی سبزی تلوائی یوں کہ میرے ٹھیلے پر جھاڑو پھر گیا تھا۔
یمنا نے ہاتھ کے اشارے سے ڈرائیور کو بلایا،ان کی کار تھوڑے فاصلے پر پارک تھی۔ ڈرائیور اورایک محافظ قریب آئے اور سامان کے تھیلے کار کی طرف لے گئے تھے۔دو محافظ چاق و چوبند حالت میں دائیں بائیں کا جائزہ لے رہے تھے،یقینا انصاری صاحب بیٹی کی حفاظت کے معاملے میں کوئی خطرہ مول نہیں لینا چاہتے تھے۔
انھیں بھیج کر پری وش نے پوچھا ۔”کتنا بل بنا؟“
میں نے حساب لگا کر کہا۔”سات ہزار تین سو پچاس۔“
وہ اطمینان سے بولی۔”ٹھیک ہے بقیہ واپس کرو۔“
میں نے احتجاج کیا۔”کک....کون سا بقیہ؟“
”آپ کو دس ہزار دیئے ہیں نا ،اپنے پیسے کاٹ کر بقیہ رقم واپس کرو۔“
میں نے واویلا کیا”خدا کا خوف کریں مس !نہ آپ نے دس ہزار دیئے ہیں اور نہ میرے پاس اس وقت پانچ ہزار کاکوئی نوٹ موجود ہے۔“
”بکواس کرتے ہو،اکیلا سمجھ کر ٹھرک جھاڑ رہے ہو،جانتے نہیں ہم کون ہیں۔“اس بار یمنا نے آنکھیں نکالتے ہوئے مجھے ڈانٹا۔
ایک لمحے کو مجھے سانپ سونگھ گیا تھا،چند ہزار کے لیے واویلا کرنے کی کیا ضرورت تھی۔ یقینا پری وش کسی طرح سے میری سبکی چاہتی تھی اور میں خاموش رہ کر اس کا منصوبہ ناکام کر سکتا تھا۔ مگر پھر خیال آیا کہ چپ رہنا میرے حالیہ روپ کے منافی تھا۔اگر کوئی استاد مجھ پر نظر رکھے ہوئے ہوتا تو یقینا میں فیل ہو جاتا۔عام زندگی میں کوئی ٹھیلے والا اپنے ساتھ ہونے والی زیادتی پر چپ نہیں سادھتا بلکہ شور مچاتا ہے۔ اور مجھے وہی کرنا تھا۔
”مس! خدا کے لیے یہ ظلم نہ کریں ،میرے چھوٹے چھوٹے بچے ہیں۔آپ لوگوں نے میرا تمام سامان خرید کر پھوٹی کوڑی بھی نہیں دی ہے........“
تیسری لڑکی غرائی۔”تم ایسے نہیں سدھرو گے۔“اور مڑ کر ڈرائیور اور محافظ کو ہاتھ کے اشارے سے بلانے لگی۔
یمنا بولی۔”انھیں رہنے دو اقرا¿!ایسوں کی بدمعاشی نکالنے کو کافی عوام موجود ہیں۔“
میں روہانسا ہوا۔”بی بی جی !خدا کا خوف کریں۔“
اسی اثناءمیں ڈرائیور اور ایک محافظ قریب پہنچ گئے تھے۔دیوٹی پر متعین محافظ پھر بھی اپنی جگہ پر قائم رہ کر دائیں بائیں کا جائزہ لیتے رہے۔چند راہگیر بھی صورت حال جانے کو قریب ہوئے کہ معاملہ تین حسیناﺅں کا تھااور پاکستانی عوام اتنے بھی بے حس نہیں ہوئے کہ صنف نازک کی آواز پر لبیک نہ کہیں۔آج کا نوجوان جتنی سرعت سے انجان لڑکیوں کی مدد کو دوڑتا ہے اگر اس کا نصف حصہ بھی جہاد کو قدم بڑھاتا تو کفر ہم پر یوں حاوی نہ ہوتا۔حقیقت تو یہ ہے کہ ہمارے مقابلے کو سارا کفر متحد ہے اور ہم مذہبی فرقوں،سیاسی ٹولوں اور مختلف قوموں میں بٹے ہوئے ہیں،جو ایک دوسرے کو نیچا دکھانے، مارنے اور مخالف کو نقصان پہنچانے پر تلے رہتے ہیں۔ہم ایک اللہ پر ایمان رکھتے ہے،ایک رسول ﷺ کے امتی اور چاہنے والے ہیں،ایک کتاب کو منشور حیات جانتے ہیں۔لیکن ہم ایک نہیں ہیں۔ہم پنجابی، پٹھان، سندھی ،بلوچی ،کشمیری ،گلگتی اور چترالی ہیں۔ہم دیوبندی ،بریلوی اوراہلحدیث ہیں۔ہم چودھری ،ملک اور خان ہیں۔ہم سیاسی پارٹیوں کے جیالے ،ٹائیگرز اور شیر ہیں ۔بلاشبہ ہم تقسیم در تقسیم اتنے گروہوں اور ٹولیوں پر مشتمل ہیں کہ ہماری تعداد سے بھی زیادہ اقسام ہیں۔اللہ پاک ہمیں اتحاد کی دولت سے نوازے۔کہانی کی طرف بڑھتے ہیں کہ یہ رونا تو ختم ہونے والا نہیں لگتا۔
محافظ بد تمیزی سے مجھے مخاطب ہوا۔”اوئے !کیا مسئلہ ہے تیرے ساتھ۔“
میں نے جرا¿ت کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا۔”مسئلہ کوئی نہیں ہے جی!اپنا حق مانگ رہا ہوں۔ساڑھے سات ہزار بل بنا ہے ،وہی مانگ رہا ہوں۔“
اقرا¿ نے ڈھٹائی سے جھوٹ اگلا۔”یہ کون سا طریقہ ہے پیسے مانگنے کا کہ خوب صورت لوگ مسکرا بھی دیں تو پیسے ادا ہوجاتے ہیں۔“
لوگوں کی پیش قدمی میں ٹھہراﺅ دیکھ کر میرا اعتماد لوٹ آیا تھا۔میں بہ ظاہر انکساری ،مگر درپردہ چبھتے ہوئے انداز میں پوچھا۔”بیگم صاحبہ !اللہ پاک کوجان دینی ہے،قسم کھائیں کہ میں نے ایسی بات کی ہے۔“
تھوڑی تکرار کے بعد پری وش برہمی سے بولی۔”ہم تم جیسے بھیک منگے نہیں جو چند روپوں کی خاطر جھوٹ بولیں گے،یہ لواور پیسے بھی رکھ لو۔“برہمی سے کہتے ہوئے اس نے دو بڑے نوٹ میرے سامنے پھینک دیئے تھے۔
بقیہ رقم واپس کرنے سے پہلے وہ اپنے سہیلیوں کے ہمراہ کار کی طرف بڑھ گئی۔ ڈرائیور اور محافظ بھی مجھے غصیلی نظروں سے گھورتے ہوئے ان کے پیچھے چل پڑے تھے۔
”اپنا بقایا لے لیں۔“میں نے آواز دی مگر وہ ان سنا کر کے کار میں بیٹھ گئے تھے۔
کار میرے سامنے سے گزری، پری وش نے چہرہ میری جانب موڑتے ہوئے قہر آلود نظروں سے مجھے گھورا،میرے لبوں پر طنزیہ مسکراہٹ پھیل گئی تھی۔
اگلے دن انصاری صاحب سے معلوم ہوا کہ میری عملی مشق کی خبر انھی سے پری وش کو ملی تھی اور اس وہ باقاعدہ منصوبہ بندی سے وہاں پہنچی تھی۔
”برخوردار!فائرنگ میں تم پہلے ہی نمایاں تھے،اب اس مرحلے میں بھی سرفہرست ہو گئے ہو یقینا پہلی پوزیشن پر قائم رہو گے،البتہ کل پری وش اور اس کی سہیلیوں سے پیسے نہ لے پاتے تو شاید پہلی پوزیشن تم سے چھن جاتی۔“
میں ہنسا۔”گویا ،پری وش کی دشمنی سے مجھے فائدہ پہنچا۔“
انھوں نے نفی میں سرہلایا۔”اس نے فقط موقع دیا اور تم نے موقع سے بھرپور فائدہ اٹھایا۔“
٭٭٭٭٭
یہ ایسا کورس نہیں تھا جس کے بارے میں زیادہ وضاحت دے پاﺅں۔بہت سی باتوں کوادھورا چھوڑنا پڑتا ہے،بہت سارے استفسارات کا جواب نہیں دیا جا سکتا،بہت سے مقام خاموشی کے متقاضی ہوتے ہیں،بہت سے راز،پردے میں اچھے لگتے ہیں اور حقیقت تو یہ ہے کہ قارئین کی اکثریت کہانی میں دلچسپی رکھتی ہے ان کے نزدیک باقی تفصیلات قابل توجہ نہیں ہوتیں۔
کورس کے بعد ہمیں واپسی کے پروانے بھی مل گئے تھے۔انصاری صاحب سے الوداعی ملاقات کر کے میں نے گھر کی راہ لی کہ موو آرڈر پر پندرہ دن کی چھٹی ملی تھی ۔چھٹی کے دوران میں تصور صاحب سے کال پر بات ہوئی ،وہ ریٹائرڈ ہو چکے تھے۔ان سے معلوم ہوا کہ وسیم صاحب کی جگہ نئے کمانڈنگ آفیسر پہنچ چکے تھے۔
پلوشہ اور روما کی معیت میں گنتی کے چند دن گزرنے کا پتا ہی نہ چلا۔اور پھر دو دن چھٹی باقی تھی جب اچانک ہی انصاری صاحب کی کال موصول ہوئی۔سلام دعا کے بعد انھوں نے حکم دیا کہ میں یونٹ واپس جانے کے بہ جائے ان کے پاس پہنچوں ۔
”خیر تو ہے سر!“مجھے حیرانی ہوئی تھی۔
وہ اطمینان سے بولے۔”تمھارا موو آرڈر منسوخ کرا دیا ہے،باقی گپ شپ ملنے پر ہو گی۔“
”جی سر!“کہنے کے علاوہ کوئی چارہ نہ تھا۔یونٹ واپسی کی خوشی اڑن چھو ہو گئی تھی۔
اگلا دن گھر میں آخری تھا۔واپس جاتے ہوئے دماغ میں انصاری صاحب کی گفتگو گونج رہی تھی نا معلوم کیوں میرا مووآرڈر منسوخ کیا گیا تھا۔
میں شام کو اپنی جگہ پہنچا،جاتے ساتھ انصاری صاحب کے بلاوے نے استقبال کیا۔ انھوں نے سختی سے بتایا ہوا تھا کہ جیسے ہی پہنچوں مجھے ان کے پاس بھیج دیا جائے۔
ان کے بنگلے تک پیدل جانا پڑا تھا۔چوکیدار کے ذریعے اندر جانے کی اجازت مانگی جو فوراََ ہی مل گئی تھی۔چند لمحوں بعد میں ان کے سامنے بیٹھا تھا۔
رسمی کلمات کی ادائی کے بعد وہ مدعے پر آئے۔”یقینا تمھیں واپس بلائے جانے پر اچنبھاہوگا؟“
میں نے اثبات میں سرہلانے پر اکتفا کیا تھا۔
وہ مسکرائے۔”ایک بہت بڑی خوش خبری ہے ، ایک خاص مشن پر تمھیں دشمن ملک جانا ہے۔“
”شاید یہ خوشی اس لیے ہے کہ اس مشن کے بہانے میں وگنیش شکلا کا سدباب کر سکوں۔“ میرے دماغ میں بد گمانی بھری سوچ ابھری۔انصاری صاحب کی خوشی کے پیچھے مجھے یہی وجہ کارفرما نظر آرہی تھی۔مگر ہونٹوں سے کچھ کہنے کے قابل نہیں تھااس لیے فقط سرہلا کر رہ گیا تھا۔
”تمھارا موڈ ٹھیک نہیں لگتا۔“وہ جہاں دیدہ شخص ایک لمحے میں میرے دل کا حال جان گئے تھے۔
میرے ہونٹوں پر پھیکا تبسم ابھرا۔”ایسی کوئی بات نہیں سر!“
انھوں نے بالکل درست اندازہ لگایا۔ ”شاید سوچ رہے ہو کہ تمھارے انڈیا جانے کی وجہ مل جانے پر خوش ہورہاہوں۔“
”نن....نہیں سر۔“میں گڑبڑا گیا تھا۔
”ٹھیک ہے جاﺅ،آرام کرو۔“ان کے چہرے پر گہری سنجیدگی چھا گئی تھی۔
میں نادم ہوا۔”معذرت سر!مگر میں نے ایسا کچھ کہا تو نہیں۔“
وہ صاف گوئی سے بولے۔”شاید تم صحیح سوچ رہے ہو،واقعی میں خود غرض ہوں۔مگر اس وقت میری خوشی کسی اور وجہ سے تھی۔“
میں نے موضوع تبدیل کیا۔”سر! آپ مشن کے متعلق کچھ بتانے والے تھے۔“
انھوں نے اجنبیوں کے سے انداز میں مجھے مخاطب کیا ۔”ارادہ تبدیل کر دیا ہے اور آپ فی الحال آرام کریں،آئندہ کے احکام وقت آنے پر مل جائیں گے۔“
”سر!معافی چاہتا ہوں،مگر........“
وہ سخت لہجے میں قطع کلامی کرتے ہوئے بولے۔”جوان آرام کرو۔“
”جی سر۔“میں نے فوراََ نشست چھوڑی اور ایڑیاں جوڑ کر انھیں سیلوٹ کرتا ہوا باہر نکل آیا۔ دل میں ندامت بھر گئی تھی۔یقینا پوری بات جانے بغیر میرا بدگمانی کرنا نہیں بنتا تھا۔ اور بالفرض وہ اس بات پر خوش تھے بھی تو پری سے ان کی محبت کسی تعارف کی محتاج نہیں تھی۔اگر کسی مشن کے بہانے ان کا کام پورا ہو رہا تھا تو ایسا کرنا کوئی جرم نہیں تھا۔اگر وہ خود غرض ہوتے تو مجھے ویسے ہی بھیج دیا ہوتا۔بلاشبہ پہلے ان کے وہم گمان میں بھی یہ بات نہیں تھی تبھی تو مجھے یونٹ واپسی کا مووو آرڈر مل گیا تھا۔
میں اپنے کمرے میں واپس آگیا۔اب مجھے ایک علیحدہ کمرہ مل گیا تھا۔پوری رات،اگلا دن اور اس سے اگلی رات میں اپنے کمرے ہی میں گھسا رہا۔دوپہر کے قریب موبائل فون کی گھنٹی بجی،سکرین پر پری کا نام پڑھ کر مجھے حیرت ہوئی تھی۔بددلی سے کال وصول کرتے ہوئے میں نے موبائل فون کان کو لگا لیا۔
اس کی مترنم آواز ابھری۔”ہم بات کر رہے ہیں۔“
میں رکھائی سے بولا۔”جی آپ کو کون روک سکتا ہے بولنے سے ۔“
وہ برا منائے بغیر مستفسر ہوئی۔”رحمانیہ ریسٹورینٹ دیکھا ہے ناں؟“
میں نے جان چھڑائی۔”جی۔“
”گھنٹے تک وہیں ملاقات ہو گی،ضروری بات کرنا ہے۔“میرا جواب سنے بغیر اس نے رابطہ منقطع کر دیا تھا۔
ایک مرتبہ جی چاہا کہ کال کر کے منع کر دوں ،مگر پھر تجسس غالب رہا،نجانے کیوں لگ رہا تھا کہ انصاری صاحب کے بارے ہی کچھ کہنا چاہتی تھی۔
میں متعلقہ سینئر کو بازار جانے کا بتا کر پیدل ہی چل پڑا تھا۔کینٹ سے نکل کر مجھے رکشا مل گیا تھا۔گھنٹا پورا ہونے والا تھا جب میں رحمانیہ ریسٹورینٹ میں پہنچ گیا۔اندر داخل ہو کر ہال میں نگاہ دوڑائی مگر پری وش نظر نہیں آئی تھی۔نسبتاََ کونے کی میز ڈھونڈ کر میں نے چائے کا بتا دیا۔مجھے زیادہ انتظار نہیں کرنا پڑا تھا۔جلد ہی وہ دروازے پر نمودار ہوئی،اس کے لباس کو دیکھ کر اندازہ ہوا کہ خاصی تیاری کر کے آئی تھی۔
اسی وقت بیرا بھی چائے کی پیالی کے ہمراہ نمودار ہوا۔
نشست سنبھالتے ہوئے اس نے بے تکلفی سے کہا۔”ہمارے لیے بھی چائے اور کچھ کھانے کو منگوا لو۔“
اسے تیکھی نظروں سے گھورکر میں بیرے کو چائے اور کھانے کے لوازمات کا بتانے لگا۔
وہ اطمینان سے بولی۔”احسان نہیں کر رہے ،ہماری بقایا رقم اب تک آپ کے پاس موجود ہے۔“
میں طنزیہ انداز میں بولا۔”فرمائیں کیسے یاد کیا؟....اور ایک سپاہی کے ہمراہ بیٹھ کر چائے پینے سے کیا آپ کی حیثیت متاثر نہ ہوگی۔“
وہ ڈھٹائی سے بولی۔”اسی وجہ سے ہم محافظوں کو ساتھ نہیں لائے تاکہ کوئی ہمیں آپ کے ہمراہ دیکھ نہ لے۔“
میں جان چھڑاتے ہوئے بولا۔”آپ نے ضروری بات کرنا تھی۔“
”پرسوں پاپا کے ساتھ کیا بات چیت ہوئی تھی۔“وہ ایک دم سنجیدہ ہو گئی تھی۔
میں نے بے پروائی سے کندھے اچکائے۔”اس سے آپ کا کچھ لینا دینا نہیں ۔“
وہ برا مناتے ہوئے بولی۔”جانتے ہو ناہم آپ سے سخت نفرت کرتے ہیں اور صرف پاپا ہی کی وجہ سے یہاں بیٹھے ہیں۔“
میں نے منہ بنایا۔”مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا۔“
وہ بگڑ کر بولی۔”حالاں کہ پڑنا چاہیے۔“
میں نے اطمینان ظاہر کیا۔۔”کسی اجنبی کی محبت و نفرت سے مجھے کیا لینا۔“
وہ شاکی انداز میں متعجب ہوئی۔”ہم اجنبی ہیں؟“
”جتنا آپ سوچ رہی ہیں اس سے کچھ زیادہ۔“
چند لمحے مجھے تیکھی نظروں سے گھورنے کے بعد وہ وہ مدعے پر آئی۔” ہم بحث کرنے نہیں آئے،پاپا پرسوں سے سخت پریشان نظر آرہے ہیں اور ہمیں نہیں معلوم آپ میں کون سے سرخاب کے پر لگے ہیں کہ وہ آپ کو اتنی زیادہ اہمیت دیتے ہیں۔بہ ہرحال آپ سے کوئی حماقت سرزد ہو بھی گئی ہے تو ان سے معذرت کر لیں۔“
میں برہم ہوا۔” اتنی سے بات کال پر بھی کی جا سکتی تھی۔“
وہ اطمینان سے بولی۔”کال پر آپ نے اصل بات نہیں پھوٹنا تھی اور ہم یہاں حقیقت جاننے آئے ہیں۔“
چائے کی خالی پیالی میز پر رکھتے ہوئے میں نے اٹھنے کو پر تولے ۔”آپ اطمینان سے چائے پئیں ،مجھے جانا ہوگا۔“اسی وقت بیرا قریب آکر چائے اور کھانے کے لوازمات میز پر رکھنے لگا۔ میری نظر بیرے کی طرف اٹھی اور اسی کی سیدھ میں تین چار قدم آگے ایک شخص پر پڑی جو پری وش کی طرف متوجہ تھا۔کسی بھی خوب صورت لڑکی کے اطراف میں موجود مردوں سے بعید ہے کہ اسے براہ راست یا کن اکھیوں سے نہ گھوریں۔اسے بھی میں کوئی شہدہ سمجھ کر دوسری طرف متوجہ ہونے ہی لگا تھا کہ اس کا ہاتھ نیفے کی طرف سرکتے دیکھا،میری چھٹی حس نے ایک دم خطرے کا الارم بجایا۔ اس کا ہاتھ جونھی نیفے سے باہر آیا اس میں سائیلنسر لگا پستول پکڑا ہوا تھا۔
”راج کماری !نیچے لیٹ جاﺅ۔“ایک دم چیختے ہوئے میں نے خالی پیالی اٹھا کر پستول بردار کے چہرے کا نشانہ لے کر پھینکی۔
گو پیالی اس کا کچھ نہیں بگاڑ سکتی تھی،مگر چہرے کی طرف آنے والی پیالی نے اس کی توجہ کھینچ لی تھی۔پیالی سے بچنے کو اسے حرکت کرنا پڑی اتنی دیر میں میں کمان سے نکلے ہوئے تیر کی طرح اس کی طرف لپکا۔
جاری ہے
 

قسط نمبر7
ریاض عاقب کوہلر
جست لگا کر میں نے نصف فاصلہ طے کیا اور پھر الٹے پاﺅں پر گھومتے ہوئے میرے پاﺅں کی ایڑی اس کے پستول والے ہاتھ پر پڑی جس کی نال اب میری جانب اٹھ گئی تھی۔
اس کے لبلبی دبانے تک میری ٹھوکر اس کے ہاتھ پر لگ چکی تھی۔”ٹھک “ کر کے گولی فائر ہوئی اور پستول اس کے ہاتھ سے نکل کر دور جا گرا۔اس نے پستول کے پیچھے چھلانگ لگائی اور جونھی اس کے ہاتھ نے پستول کے دستے کو چھوا،تب تک میں بھی زقند بھر کر اس پر جا پڑا تھا۔وہ اوندھے منہ نیچے گرااور تڑپ کر نیچے سے نکلنا چاہا،مگر میرا ایک ہاتھ اس کی ٹھوڑی اور دوسرا سر پر گرفت مضبوط کر چکا تھا، زوردار جھٹکا دیتے ہوئے میں نے اس کا منکا توڑ دیا تھا۔
گو اسے قتل کرنے کے بجائے بے ہوش کرنا زیادہ مناسب تھا کہ پوچھ گچھ کی جا سکتی مگر مجھے ڈر تھا کہ وہ اکیلا نہیں ہو گااور اس وقت دشمنوں کو پکڑنے کے بجائے مجھے پری وش کو بچانے کی کوشش کرنا تھی۔اس بے وقوف کا محافظوں کے بغیر وہاں آنا دشمنوں کو حملے کی تحریک دے گیا تھا۔
اس کے ہاتھوں سے پستول لیتے ہوئے میں نے اسے تڑپنے کی چھوٹ دی اور ہال میں نظریں دوڑائیںلوگ چیختے ہوئے دروازے سے باہر نکل رہے تھے،دشمن شاید اکیلا ہی تھا کہ کوئی اور مشکوک شخص نظر نہیں آرہا تھا۔ میں پری کی طرف متوجہ ہوا،وہ میز کے ساتھ دبک گئی تھی۔
میں لپک کر اس کے قریب ہوا۔”ہمیں فوراََ نکلنا ہوگا،نامعلوم کتنے دشمن ہیں۔“
وہ اعتماد سے بولی۔”آپ کی موجودی میں کوئی ہمیں چھو بھی نہیں سکتا۔“
”میری آڑ میں رہنا۔“اسے ہدایت دیتاہوا میں دروازے کی طرف بڑھا،مگر اسی وقت داخلی دروازے سے باہر جاتی ایک لڑکی چیختے ہوئے نیچے گری ،اس کے کندھے میں گولی لگی تھی۔بے چاری کا لباس بھی بالکل پری وش جیسا تھا۔لگا حملہ آوروں نے چاروں طرف سے گھیرا ہوا ہے۔میں رک گیا،پری بالکل میرے ساتھ جڑ کر کھڑی ہو گئی تھی۔
”کیا ہوا؟“اس نے بے ساختہ پوچھا،لہجے میں ہلکی سی لرزش تھی جو اس کے خوف کو ظاہر کر رہی تھی۔
”سامنے سے جانے میں خطرہ زیادہ ہے،دشمن نے مورچہ سنبھالا ہوا ہے۔“کہتے ہوئے میں نے مڑ کر دیکھا میرا ارادہ عقبی جانب نکلنے کا ہوا،مگر پھر خیال آیا کہ وہاں بھی دشمن نے گھات لگائی ہوئی تو آسانی سے شکار ہو جائیں گے۔
”میرے ساتھ آﺅ۔“اسے بازو سے پکڑ کر میں نے غسل خانوں کی طرف کھینچا جو دیوار کے ساتھ بنے ہوئے تھے ۔ خواتین کے غسل خانوں میں اسے دھکیلتے ہوئے میں نے تیز لہجے میں کہا۔ ”بیرونی دروازہ بند رکھنا اور جب تک میں آواز نہیں دیتا کسی اور کے لیے نہ کھولنا۔“
وہ منمنائی۔”ہمیں اکیلے ڈر لگے گا۔“
میں نے قدرے سخت لہجے میں کہا۔”ڈرنے کا وقت نہیں ہے۔“
اس کے چہرے پر خفگی پھیل گئی تھی ،لیکن وہ وقت دھیان رکھنے کا نہیں تھا۔دروازے کے کواڑ بند کر کے میں چوکیدار کی طرف بڑھا جو یقینا ریٹائرڈ فوجی تھا۔وہ کلاشن کوف کندھے سے لٹکائے زخمی لڑکی کو سنبھال رہا تھا۔
میں نے قریب ہوتے ہوئے ایک دم اس کی کلاشن کوف قبضے میں کی ۔
وہ بدک کراچھلا اور پھر جارحانہ انداز میںمیری طرف بڑھتے ہوئے سخت لہجے میں کہا۔ ”ہتھیار واپس دو۔“
”ٹھنڈے ہو جاﺅ بھائی !حملہ آور بریگیڈئر صاحب کی بیٹی کو قتل کرنا چاہتے ہیں اور میں اس کا محافظ ہوں۔“
وہ متذبذب ہوا۔”یہ میرا مسئلہ نہیں ہے۔“
میں نے وضاحت دی۔”دہشت گردوں نے ہمیں گھیرے میں لیا ہوا ہے اور ان کا مقابلہ کرنے کو مجھے گن چاہیے ہو گی۔“اور جواب سنے بغیر اس کا اسٹو ل اٹھا کر دیوار کے ساتھ لگایا اور اوپر چڑھ کر سامنے دیکھنے لگا۔دشمن کو ڈھونڈنے کے لیے زیادہ تگ و دو نہیں کرنا پڑی تھی ۔ہوٹل کے سامنے سڑک اور اس کے دوسری جانب دکانوں کی قطار تھی۔ایک دومنزلہ دکان کی چھت پر مجھے ایک آدمی نظر آیا جو چوکاندی(چھت کی چاردیواری)کے پیچھے بیٹھا تھا ۔اس کی رائفل کی بیرل ہوٹل کے داخلی دروازے کی طرف تنی ہوئی تھی۔سنائپر ہونے کے ناتے کسی دوسرے سنائپر کو ڈھونڈنا میرے لیے چنداں دشوار نہ تھا،مگر جس طرح وہ حضرت چھپا تھا اسے تو کوئی عام آدمی بھی ڈھونڈ سکتا تھا۔اس کا مجھ سے ہوائی فاصلہ دو سو میٹر سے زیادہ نہ تھا ۔میں نے فوراََ کلاشن کوف کی بیرل دیوار پر رکھی ،ریئر سائیٹ پر دو سو میٹر رینج منتخب کی،گن کے سیفٹی لیور کو نیم خود کار موڈ پر سیٹ کیا اورکاکنگ ہینڈل پیچھے کھینچتے ہوئے شست لینے لگا۔ٹیلی اسکوپ سائیٹ کے بغیر شست لینا ذرا مشکل ہوتا ہے ،لیکن یہ نو آموز فائرر کے لیے ہوتا ہے۔مجھے صرف یہ فکر تھی کہ نامعلوم گن صفر تھی یا نہیں،کیوں کہ فائر کرنے سے پہلے ہتھیارکا صفر ہونا ہی فائر کی درستی کو یقینی بناتا ہے۔بہ ہرحال سوچنے کا وقت نہیں تھا۔دشمن کی چھاتی نظر آرہی تھی اس پر شست سادھتے ہوئے میں نے لبلبی کھینچ لی۔دھماکے کے ساتھ ہی وہ پیچھے کو گرا تھا۔
میں نے اسٹول سے اتر کر کلاشن کوف چوکیدار کی طرف بڑھائی،ساتھ ہی میری نظر پری پر پڑی جو اسٹول کے ساتھ ہی کھڑی تھی،نہ جانے کس وقت غسل خانے سے باہر نکلی تھی۔
میرے استفسار سے پہلے ہی وہ منمنائی۔”ڈانٹنے کی ضرورت نہیں ہمیں آپ کے بغیر ڈر محسوس ہو رہا تھا۔“
”اچھا آﺅ میرے ساتھ۔“میں سرعت سے داخلی دروازے کی طرف بڑھا،ہوٹل کا ہال قریباََ خالی ہو گیا تھا،مگر وہاں ٹکنا خطرے سے خالی نہ تھا۔اگر دشمن ایک ساتھ ہلہ بول دیتے تو ہمیں سخت نقصان پہنچا سکتے تھے۔
”میری آڑ میں رہنا۔“دروازے سے نکلنے سے پہلے میں نے پری وش کو ہدایت کی تھی۔
”جانتے ہیں۔“ممنونیت بھرے لہجے میں کہتے ہوئے وہ میری پیٹھ سے قریباََ چپک گئی تھی۔
باہرسرسری نظر دوڑا کر میں نے سرعت سے جائزہ لیا اور تیز قدموں سے پارکنگ کی طرف بڑھ گیاجہاں پری وش کی سرخ رنگ کی آلٹو پارک تھی۔یہ اس کی اپنی کار تھی ،جب کہیں اکیلے جانا ہوتا تھا تووہ اسی کو استعمال کیا کرتی تھی۔
کار کی طرف بڑھتے ہوئے میرا سر پنڈولم کی طرف حرکت کر رہا تھا۔پارکنگ میں رکتے ہوئے میں نے اسے کار میں بیٹھنے کا اشارہ کیا اور خود اطراف کا جائزہ لینے لگا،مگر کوئی مشکوک شخص نظر نہیں آرہا تھا۔
اس نے پرس سے چابی برآمد کر کے جونھی دروازے میں لگانا چاہی اچانک ایک خدشہ دماغ میں ابھرا اور میں سرعت سے بولا۔
”دروازہ نہ کھولنا۔“اس کا بازو پکڑ کر میں نے پیچھے کھینچ لیاتھا۔
”کیا ہوا؟“وہ ششدر رہ گئی تھی۔
”اگر وہ آپ کی کار پہچانتے ہیں تو ممکن ہے انھوں نے بارودی پھندہ لگایا ہو۔“
مجھے عجیب سے نظروں سے گھورتے ہوئے اس نے گہرا سانس لیا۔”تو کیا کرنا چاہیے؟“
”پولیس پر انحصار کرنے کے بجائے ”کیو آر ایف “(Quick Reaction Force) منگوا لیتے ہیں۔“
اس نے منہ بسورا۔”پاپا ڈانٹیں گے۔“
میں جھلاتے ہوئے بولا۔”یقینا سر کا ڈانٹنا ،قتل سے سخت سزا نہ ہو گی۔“
”ہم کچھ نہیں جانتے۔“اس نے فیصلے کا اختیار مجھ پر چھوڑ دیا تھا۔
میں نے حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے فوراََ انصاری صاحب کو کال کر دی تھی۔بیٹی پر حملے کا سنتے ہی انھوں نے تفصیل پوچھنا ضروری نہیں سمجھا تھا۔کال کر کے میں نے قریبی دکان میں پری کو بٹھا کر باہر جانے کی کوشش کی مگر وہ مجھ سے دور ہونے پر تیار نہ تھی۔میں اگر زبردستی چلا جاتا تو اس نے پیچھے پہنچ جانا تھا ،مجبوراََ میں بھی وہیں ٹھہر گیا تھا۔
اس دوران میں پولیس وہاں پہنچ گئی تھی۔چند منٹ بعد کیوآر ایف کی گاڑیا ں بھی ایک کیپٹن کی کمان میں پہنچ گئی تھیں۔
میں پری وش کے ہمراہ ان کی طرف بڑھ گیا۔ہمارا تعارف سنتے ہی اس نے پری کو ایک گاڑی میں بٹھادیا تھا۔میں پری وش کی کار میں بارودی پھندے کی موجودی کے بارے بتانے لگا۔ بارود کا ماہر انجینئرکا ایک نمائندہ کیو آر ایف کا حصہ تھا۔اس نے فوراََ کار کا جائزہ لیا اور چند لمحوں بعد ہی کار کی ڈرائیونگ سیٹ والی کھڑکی کے ساتھ ”سوئچ نمبر فور پل مارک ون۔ “کے لگنے کی تصدیق کر دی تھی۔( یہ آلہ جیسا کہ نام سے ظاہر ہے کھنچاﺅ والا آلہ ہے اور 6سے8پونڈ کھنچاو¿ پڑنے پر چال کر جاتا ہے۔یہ عموماََ کھڑکیوں دروازوں کے ساتھ لگا کر استعمال کیا جاتا ہے، اس کے علاوہ بھی کئی قسم کے بارودی پھندے استعمال کیے جاتے ہیں جن میں پریشر سوئچ جووزن پڑنے پر پھٹتے ہیں ،بارودی سرنگیں بھی اسی کی ایک قسم ہے ،ریلیز سوئچ جو وزن ہٹنے پر چال کرتا ہے کہ جیسے ہی وزن اٹھایا جائے دھماکا ہو جائے،ڈیلے سوئچ جن میں مختلف قسم کے ٹائم بم شامل ہیں اور آج کل تو ریموٹ بم وغیرہ بھی مستعمل ہیں )
دکان کی چھت پر پولیس کو ایک شخص کی لاش ملی تھی جس کے پاس ڈریگنوو سنائپر رائفل موجود تھی۔بلاشبہ وہ میری گولی کا شکار ہوا تھا۔ہوٹل میں بھی ایک دشمن میرے ہاتھوں ہلاک ہوا تھا۔پولیس کی تفتیش جاری تھی،وہاں ایف آئی یو اور آئی ایس آئی والے بھی پہنچ گئے تھے ۔انھیں سرسری تفصیل بتا کر ہم کیوآر ایف کی حفاظت میں واپس چل پڑے دونوں پری وش کی کار میں بیٹھے تھے۔کار میں ڈرائیو کر رہا تھا۔
پر ی وش نے ممنونیت بھرے لہجے میں خاموشی توڑی۔”اگر آپ نے ہمیں کار کا دروازہ کھولنے سے نہ روکا ہوتا تو شاید اب تک ہم فنا ہو چکے ہوتے۔“
”یہ سب میرے ربّ کا نظام ہے ،وقتِ مقرر سے پہلے کسی کو موت نہیں آسکتی،البتہ یہ کہہ سکتی ہو کہ آپ کے بچانے کو مجھے سبب بنایا گیا۔“
اس نے اٹکتے ہوئے پوچھا۔”آپ ہم سے خفا ہیں ناں۔“
میں نے متبسم ہو کر نفی میں سرہلادیا تھا۔
اس کے ہونٹوں پر پھیکی مسکراہٹ ابھری۔”جھوٹ بولنا کب چھوڑیں گے۔“
میں نے موضوع تبدیل کیا۔”جب انصاری صاحب پوچھیں گے کہ محافظوں کو کیوں ساتھ نہیں لے کر گئی تھیں تو کیا جواب دو گی۔“
اس نے اطمینان ظاہر کیا۔”کہہ دیں گے راجا نے کہا تھا محافظ لانے کی ضرورت نہیں ،میں موجود ہوں۔“
میں نے مطعون کیا۔”جھوٹ بولو گی۔“
وہ شوخی سے بولی۔”آپ کی صحبت کا اتنا اثر تو ہونا چاہیے۔“
اچانک میرے دماغ میں روما کی مسحور کن سرگوشی گونجی۔”جھوٹے اجنبی....“میں کھل کھلا کر ہنس دیا تھا۔
اس نے سمجھا اس کی بات پر مسکرا رہاہوں ،فوراََ بولی۔”ہی ہی ہی کی ضرورت نہیں ہم ایسا ہی کہیں گے۔“
میں نے بے پروائی سے کندھے اچکا دیئے تھے۔
انصاری صاحب بے صبری سے منتظر تھے۔کیوآر ایف کمانڈر کیپٹن ولی نے سیلوٹ کر کے اجمالاََ ساری تفصیل سنائی اور انصاری صاحب کی اجازت سے کیو آر ایف کو واپس لے گیا۔
”تم محافظوں کے بغیر وہاں کیا کرنے گئی تھیں۔“کیپٹن ولی کے جاتے ہی انصاری صاحب پری وش کی جانب متوجہ ہوئے۔خاصے برہم و خفا دکھائی دے رہے تھے۔
میں فوراََ بولا۔”میں نے بلایا تھا سر!“
انھوں نے برہمی ظاہر کی۔”میرا سوال محافظوں کے متعلق تھا۔“
”میں نے منع کیا تھا سر!“دوسرا الزام بھی میں نے اپنے سر لے لیا تھا۔
”پوچھ سکتا ہوں بلانے کی وجہ کیا تھی۔“لہجے میں درشتی برقرار تھی ۔
میں نے جھوٹ بکا۔”آپ کے بارے کچھ پوچھنا تھا۔“
وہ طنزیہ لہجے میں بولے۔”تمھیں میری اتنی فکر کب سے ہونے لگی۔“
”معذرت چاہتا ہوں سر!ندامت کی وجہ سے خود نہیں آپایاالبتہ آپ کی فکر تھی تبھی تو راجکماری کی منت کی تاکہ وہ مجھے معافی دلا سکے۔“
وہ پری وش کو مخاطب ہوئے۔”آج کے بعد محافظوں کے بغیر گھر سے قدم نکالا تو بہت ڈانٹ پڑے گی۔“لہجے میں پہلے والی برہمی باقی نہیں رہی تھی۔
”سوری پاپا!“
”اور تم گھر ہی میں آکر پوچھ لیا کرو ،اگر گھر میں نچلے درجے کے سپاہی ہو تو ہوٹل میں جا کر تمھاری حیثیت بدل نہیں جاتی۔“انھوں نے مسکراتے ہوئے گہرا طنز کیا تھا۔
پری کے چہرے پر خفت بھرا تبسم ابھرا۔
میں نے ہمت کرتے ہوئے کہا۔”سوری سر!میری وجہ سے آپ کا دل دکھا۔بلاشبہ میری نظر میں آپ کا مقام بہت بلند ہے،آپ کو خوش دیکھ کر بد گمانی کر بیٹھا کہ شاید آپ ذاتی دشمن سے جان چھوٹنے پر خوشی کا اظہار کر رہے ہیں ۔باقی دشمن تو وہ میرا بھی ہے اور میں اسے متنبہ کر کے بھی آیا تھا۔اس لیے مجھے سرحد پار جانے میں کوئی قباحت نہ تھی۔“
”تمھیں میری خوشی کی وجہ معلوم ہی نہیں ہے بے وقوف !یقینا میں عام سا دنیا دار شخص ہوں جس کی ترجیحات عام لوگوں کی طرح اپنے کنبے سے شروع ہو کر اسی پر ختم ہوتی ہیں،لیکن تب میری خوشی کی وجہ کوئی اور تھی۔“
میں ملتجی ہوا۔”سر!بتائیں گے نہیں۔“
وہ ہنسے ۔”اس شرط پر کہ تم انڈیا جانے پر اصرار نہیں کرو گے۔“
میں عزم سے بولا۔”آج جو کچھ ہوا اس کے بعد تو آپ اجازت نہ دیں تب بھی میں دشمن کی سرکوبی کو تو ضرور جاﺅں گا۔“
وہ شرارتی انداز میں بولے۔”یاد کرویہ وہی راجکماری ہے جس نے تمھاری سخت توہین کی تھی۔“
پری وش نے احتجاج کیا۔”پاپا !اس میں ہم کہاں سے آگئے۔“
”تمھی نے کہا تھا اسے گھر آنے سے منع کر دوں۔“
وہ ڈھٹائی سے بولی۔” ہم اب بھی کہتے ہیں۔“
”اچھا تم فی الحال جاﺅ،آج رات خوب سوچو،گھر والوں سے بھی مشورہ کرلینا۔خوشی سے دشمن ملک جانا چاہتے ہویا صرف مجھے خوش کرنے کو ہامی بھر رہے ہو۔“
میں شاکی ہوا۔”فوج میں کب سے مرضی چلنے لگی۔“
”غلط فہمی ہے تمھاری،دشمن ملک میں جانے والے جاسوس کے پاس انکار کا انتخاب موجود ہوتا ہے۔“
میں پر عزم لہجے میں بولا۔”میں نے سوچ لیاہے۔“
”کل بات ہو گی۔“حتمی انداز میں کہتے ہوئے وہ اپنی خواب گاہ کی طرف بڑھ گئے۔
مجبوراََ مجھے بھی نشست چھوڑنا پڑی۔پری مجھے الوداع کہنے ڈرائینگ روم کے دروازے تک آئی تھی۔
”بہت بہت شکریہ راجا!آپ نے ہماری جان بچائی ،دشمنوں سے بھی اور پاپا کی ڈانٹ سے بھی۔“
خوش دلی سے ”خوش آمدید۔“کہہ کر میں داخلی دروازے کی طرف بڑھ گیا۔
اس نے عقب سے آواز دی۔”ہم چھوڑ آتے ہیں۔“
”ضرورت نہیں ۔“مڑے بغیر باآواز بلند کہتے ہوئے میں باہر آگیا تھا۔
٭٭٭٭٭
اگلے دن میں انصاری صاحب کے دفتر میں موجود تھا۔ان کی دی ہوئی مہلت سے فائدہ اٹھانے کی کوشش میں نے نہیں کی تھی ۔پلوشہ سے مشورہ لینا بھڑوں کے چھتے کو” وٹہّ“مارنے کے مترادف تھا۔البتہ میں خود دماغی طورپر مکمل تیار تھا کیوں کہ وگنیش شکلا کا کانٹا نکالے بغیر نہ انصاری صاحب سکھ کا سانس لے سکتے تھے نہ میرے گھر والے۔اپنی ذات تک خطرہ انسان آسانی سے برداشت کر لیتا ہے لیکن جونھی کنبے کی بات آتی ہے صبر کا دامن چھوٹ جاتا ہے۔
مجھے گھورتے ہوئے ان کے چہرے پر خوب صورت تبسم ابھرا اور پھر انھوں نے میز کی دراز سے ایک فائل نکالی،اسے کھول کر صحیح ہونے کی تصدیق کی اور میری طرف بڑھا دی۔میں نے مو¿دبانہ انداز میں فائل پکڑی اور جونھی کھولی حیران رہ گیا تھا۔سب سے اوپر ڈینو کی تصویر لگی تھی،اس کی داڑھی پہلے سے بڑی نظر آرہی تھی،سر کے بال بھی کافی لمبے تھے،اس کے باوجود مجھے پہچاننے میں دقت نہیں ہوئی تھی۔
”سر !یہ اللہ ڈینو....؟“میں متعجب ہو کر بس اتنا ہی کہہ سکا تھا۔
انصاری صاحب نے میرے سر پرگویا ہتھوڑا رسید کیا۔”زندہ ہے۔“
میں ہکلایا۔”کک....کیا....نن....نہیں سر!میری آنکھوں کے سامنے اسے گولیاں لگی تھیں۔“
وہ اطمینان سے بولے۔” انکار کس نے کیا ہے،مگر گولی لگنے سے یقینی مرنا کہاں لکھا ہے۔“
میں ملتجی ہوا۔”سر تفصیل بتائیں پلیز۔“
”ڈینو کو دو گولیاں پیٹ میں اور ایک پسلیوں کے نیچے لگی تھی،مگر وہ شہید نہیں ہوا تھا۔تمھیں اور دوسرے جاسوسوں کو بے خبر رکھنے کو انھوں نے اس کی موت کی تشہیر کر دی۔“
اچانک میرے دماغ میں کرن چاولہ سے ٹاکرے کا آخری منظر تازہ ہوا،جب بے ہوش ہونے سے پہلے وہ کوئی پیشکش کرنا چاہ رہا تھا۔”پری کے بدلے غالباََوہ کسی خاص شخص کو میرے حوالے کرنے کا کہہ رہا تھا۔مگر میں نے بات سنے بغیر اسے بے ہوش کر دیا تھا۔
وہ مستفسر ہوئے ۔”کس سوچ میں پڑ گئے ہو؟“
میں نے انھیں کرن چاولہ والی بات من و عن سنا دی۔
انصاری صاحب نے اوپر نیچے سر ہلایا۔”یقینا وہ پری کے بدلے ڈینو ہی کی پیش کش کرنا چاہ رہا تھا۔“
میں نے پوچھا۔”اب یہ بات کیسے باہر نکلی؟“
وہ ہنسے ۔”کیا خیال ہے ،اُس پار ہمارے خیر خواہ موجود نہیں ہیں۔“
میرے چہرے پر خفت ابھری۔”صحیح کہہ رہے ہیں سر۔“
وہ گہری سنجیدگی سے بولے۔”ایک بری خبر سناﺅں؟“
میں پھیکی مسکراہٹ سے بولا۔”سنا دیں سر!خوش خبری کے بعد بری خبر تو بنتی ہی ہے۔“
”را کی ایک خاتون آفیسر بھی زیر حراست ہے۔“
میں متعجب ہوا۔”یہ بری خبر کیسے ہوئی۔“
وہ معنی خیز انداز میں بولے۔”سنا ہے تمھیں بھاگنے میں مدد دینے والی بھی را کی میجر تھیں۔“
”ممتا دیدی۔“الفاظ میرے گلے میں اٹکنے لگے تھے۔
انھوں نے نفی میں سرہلایا۔”نام نہیں جانتا۔“
میں نے یاداشت پر زور دیتے ہوئے مشورہ مانگا۔”ان کا موبائل فون نمبر مجھے یاد ہے،کال کر لوں؟“
”اس پرمقدمہ چل رہا ہے اور یقینا اس کا موبائل فون را کے قبضے میں ہوگا،تمھاری کال بے چاری کے لیے اور مسائل پیدا کرے گی۔“
میں مدعے پر آیا۔” کب جانا ہوگا۔“
وہ مجھے مطعون کیے بغیر خوش دلی سے بولے۔”دو تین دن کے لیے گھر کا چکر لگا لوتب تک تمھارے کاغذات تیار کرا دیتا ہوں۔“
میں نے اثبات میںسرہلاتے ہوئے پوچھا۔ ”راجکماری پر حملہ کرنے والوں کے بارے کوئی پیش رفت ہوئی۔“
”ہاں ان کے گرد گھیرا تنگ کیا جا رہا ہے۔ہمیں اصل مجرم کی تلاش ہے امید ہے کاﺅنٹر انٹیلی جنس والے جلد ہی اسے ڈھونڈلیں گے۔عام مہروں پر ہماری گہری نظر ہے۔“ہلکا سا توقف کر کے انھوں نے اطمینان بھرا سانس لیا۔”تم اگلا محاذ سنبھالو،یہاں ہم کافی ہیں۔“
”ٹھیک ہے سر!“میں نے نشست چھوڑتے ہوئے گویا جانے کی اجازت طلب کی۔
بازو کھولتے ہوئے انھوں نے مجھے سینے سے بھینچا اور حتمی لہجے میں بولے ۔”زیادہ سے زیادہ تین دن۔“
جاری ہے
 

قسط نمبر8
ریاض عاقب کوہلر
ہر بارکی طرح اس مشن کا سن کر بھی پلوشہ افسردہ ہو گئی تھی۔مگر میں چاہ کر بھی اس کی ناراضی دور نہیں کر سکتا تھا۔کسی بھی مشن پر جانے سے پہلے یہی ارادہ ہوتا تھا کہ اسے بے خبر رکھوں گا،لیکن وہ مجھے اور میرے مزاج کو اتنی گہرائی میں جانتی تھی کہ کہے بغیر جان جاتی تھی اور پھر اس کے ہٹ دھرمی بھرے استفسار کے سامنے مجھے گھٹنے ٹیک کر حقیقت اگلنا پڑتی۔فوجی کی بھی عجیب زندگی ہوتی ہے۔نہ بیوی کی محبت سے بھر پور طریقے سے مستفید ہو سکتا ہے ، نہ بچوں کے بچپن سے لطف اٹھا سکتا ہے ،نہ بوڑھے والدین کی خدمت کر سکتا ہے اور نہ غمی خوشی کی تقریبات میں شریک ہوسکتا ہے۔فرض کی ادائی میں کہاں کہاں کی خاک چھاننا پڑتی ہے یہ وہی جانتے ہیں جو اس دشت کی سیاحی کر چکے ہیں۔پیٹ بھرے،ملک دشمن ایجنسیوں سے ڈالروں کی گڈیاں وصول کر کے پاک آرمی پر بھونکنے والے اس درد کو محسوس نہیں کر سکتے۔
چوتھے دن ناشتا کر کے میں گھر سے نکل آیا ۔شام تک میں اپنی جگہ پر پہنچ گیا تھا۔رات کا کھانا انصاری صاحب کے ساتھ کھا کر میں نے تفصیلی ہدایات لیں ،کافی دیر تک وہ مجھے سمجھاتے رہے۔ ڈیڑھ بجے کے قریب میں نے جانے کی اجازت چاہی۔نشست چھوڑتے ہوئے انھوں نے معانقہ کیا اور شفقت بھرے لہجے میں بولے۔
”خدا حافظ،اپنا بہت خیال رکھنااور جو ہدایات میں نے دی ہیں ان پر سختی سے عمل کرنا۔یاد رکھنا تمھیں کورس کروانے کا مقصد یہی تھا کہ دشمن کی چالبازیوں کو اچھی طرح سمجھ سکو۔“
میں اعتماد سے بولا۔”ان شاءاللہ آپ کو مایوس نہیں کروں گا سر!“
”حادثے پوچھ کر نہیں آیا کرتے برخوردا!ر اور نہ تدبیر کی تقدیر کے سامنے چل سکتی ہے۔“
میں نے انھیں تسلی دی۔” اللہ پاک سے اچھے کی امید رکھنا چاہیے سر!“
”وہی اکیلا ہی تو سہارا ہے۔“
میں نے ایڑیاں جوڑ کر الوداعی سیلوٹ کیا اور نشست گاہ کے دروازے کی طرف بڑھ گیا۔
”راجا! بات سنو۔“وہ پری وش کی آواز تھی۔
میں رکتے ہوئے حیرانی سے مڑا،وہ خواب گاہ کے دروازے پر کھڑی تھی۔اس نے شب خوابی کا لباس نہیں پہنا تھا جس کا مطلب تھا وہ سوئی نہیں تھی۔
انصاری صاحب نے اسے گھورتے ہوئے قدرے شاکی انداز میں کہا۔”اب تک سوئی نہیں ہو۔“
”راجا سے کام تھا پاپا!“آہستگی سے کہتے ہوئے وہ میری طرف بڑھی۔
انصاری صاحب لا تعلقی سے کندھے اچکاتے ہوئے اپنی خواب گاہ کی طرف بڑھ گئے تھے۔ ان کے چلے جانے پراندازہ ہوا کہ مجھ پر کس قدر بھروسا کرتے تھے۔یقینا یہ بھروسا متقاضی تھا کہ میں انھیں کبھی شکایت کا موقع نہ دیتا۔
”یہ آپ کے لیے ہے۔“پری وش نے میری طرف ایک پیکٹ بڑھایا۔
میں نے قدرے حیرانی سے پوچھا۔”یہ کیا ہے؟“
وہ متبسم ہوئی۔”کھول کر دیکھو۔“
میں نے خوب صورت پیکنگ اتار کر ڈبے کو کھولا، اندر قیمتی رولیکس گھڑی موجود تھی۔میں نے منہ بنایا۔”تو یہی وہ قیمتی تحفہ تھا جس کے لیے آپ نے انڈیا میں بھی مجھے لالچ دیئے رکھی۔“
”انجان بننے کا ڈراما نہ کیا کرو،بہت برے لگنے لگتے ہو۔“تیکھے انداز میں کہتے ہوئے اس نے میرے ہاتھ سے گھڑی لی اور پہنانے کو بائیں کلائی تھامی۔
میں نے جلدی سے کہا۔”میں گھڑی دائیں ہاتھ میں پہنتا ہوں۔“
”آپ کا ہر کام دوسروں سے مختلف ہوتا ہے۔“معنی خیز انداز میں کہتے ہوئے اس نے میری دائیں کلائی تھام لی۔
میں متبسم ہوا۔”خوب صورت گھڑی ہے۔“
”امید کرتے ہیں اگلی ملاقات میں یہ آپ کی کلائی پر موجود ہو گی۔“
میں پر خلوص لہجے میں بولا۔”ان شاءاللہ....اور بہت بہت شکریہ۔“
”اپنا بہت زیادہ خیال رکھنا،کیا ہوا جو ہم آپ سے نفرت کرتے ہیں ،محبت کرنے والے بھی تو موجود ہیں۔“
میں نے اثبات میں سرہلایا۔”درست کہا۔“
مجھے گہری نظر سے دیکھتے ہوئے وہ دھیرے سے بولی۔”ہم آپ کے لیے دعا کریں گے۔“
میں نے مطعون کیا۔”دعا پر یقین رکھتی ہو؟“
وہ صاف گوئی سے بولی۔”ہاں،پاپا نے ہمارے سارے خدشات کا سدباب کر دیا تھا۔ گزشتا کئی ماہ سے اس موضوع پر مطالعہ جاری ہے اور اب ہمیں اپنی گزشتا بے وقوفیوں پر ہنسی آتی ہے۔“
”ٹھیک ہے چلتا ہوں۔“اس پر الوداعی نگاہ ڈال کر میں مڑ گیا۔باہر نکلنے تک مجھے اپنی پشت پر اس کی نگاہوں کی تپش محسوس ہوتی رہی۔
٭٭٭٭٭
جہاں اللہ ڈینو کی زندگی کا سن کر مجھے بے انتہا خوشی ہوئی تھی،وہیں ممتا دیدی کی گرفتاری کی خبر میرے لیے سوہان روح سے کم نہ تھی۔دشمن ملک کی ایجنٹ ہونے کے باوجود انھوں نے مجھے جتنی محبت اور شفقت سے نوازا تھا وہ کسی تعارف کا محتاج نہیں۔مگر افسوس یہ تھا کہ میں ان کی کوئی مدد نہیں کر سکتا تھا۔وہ بھارت کی محب وطن شہری تھی۔میری حقیقت جاننے کے بعد ہی انھوں نے میری مدد کی تھی ورنہ اس سے پہلے وہ مجھے گرفتار کرنے میں پیش پیش رہی تھیں۔اب میں انڈیا کی فوجی عدالت میں جا کر اس کا مقدمہ تو لڑ نہیں سکتا تھا،صرف کڑھ سکتا تھا یا ان کے لیے اللہ پاک سے خیریت کی دعا مانگ سکتا تھا۔
انڈیامیں اب مجھے دو مشن درپیش تھے ،ڈینو کو رہا کرانا اور وگنیش شکلا کا خاتمہ۔پچھلی بار انڈیا کے مشن نے کچھ زیادہی طول کھینچا تھا،جس کی وجہ لورا براﺅن اور پرما کی اپنے باپ سے بدگمانی تھی۔ اگر صرف دھریندر شکلا کو قتل کرنا ہوتا تو مجھے اتنی مشکل پیش نہ آتی۔کسی کو قتل کرنے کو ایک سنائپر کئی چور مقام ڈھونڈ لیتا ہے۔
انصاری صاحب نے اس بار مجھے ہوائی راستے سے جانے سے منع کر دیا تھا۔انھیں ملنے والی انٹیلی جنس رپورٹوں کے مطابق بہت سخت چیکنگ ہو رہی تھی۔میں صبح سویرے ناشتا کرنے کے بعداپنی جگہ سے نکل آیا ،پری کا تحفہ میں اپنی الماری ہی میں چھوڑ آیا تھا،کیوں کہ اتنی قیمتی گھڑی کو آپریشن میں ساتھ پھرانا بے وقوفی تھی۔ سائلنسرلگا زستاوا تیس بورپستول میرے پاس تھا۔میں سیدھا بس اڈے پہنچا اور وہاں سے باغ جانے والی ویگن پکڑ کر باغ روانہ ہو گیا۔سہ پہر کو میں باغ پہنچ گیا تھا۔آگے چھتر دو تک کا چند کلومیٹر رستہ ایک ڈاٹسن کے عقب میں لٹک کر طے کیا،وہاں متعلقہ یونٹ میں رپورٹ کر کے میں نے مہمان خانے میں رات گزاری،اگلے دن یونٹ کی گاڑی مجھے اپنے بٹالین ہیڈکواٹر تک چھوڑنے گئی تھی۔ بٹالین ہیڈکواٹرقریباََ 22کلومیٹردور تھا۔جسے بہادر کیمپ کہتے تھے ۔وہاں تک عموماََ پیدل جایا جاتا۔البتہ خشک راشن اور تازہ راشن،( جسے فوج میں فریش کہا جاتا ہے)کے لیے گاڑی چلتی تھی۔میں بھی فریش کی گاڑی ہی میں بیٹھ کر اوپر تک پہنچا تھا۔گو مجھے پیدل چلنے میں بھی کوئی مسئلہ نہ تھا کہ جسمانی محنت سے میں گھبرانے والا نہ تھا۔
راستے میں ڈرائیور کے ساتھ گپ شپ ہوتی رہی،اس کی زبانی معلوم ہوا کہ سرحد پر حالات کافی کشیدہ تھے اور دو طرفہ فائرنگ آئے روز کا معمول تھا۔پاک انڈیا سرحد پر یہ جھڑپیں معمول کا حصہ ہیں،کبھی ان میں تیزی آجاتی ہے اور کبھی حالات ٹھنڈے ہو جاتے ہیں۔ملک کے سیاسی حالات، دونوں ممالک میں دہشت گردی کے حالات،بین الاقوامی مسائل ،دو طرفہ کرکٹ میچ وغیرہ وہ بنیادی مسائل ہیں جو ان جھڑپوں میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔اسی طرح جوانب میں اعلیٰ سطح کے کسی افسر کی تبدیلی اور اس کی جگہ نئے کمانڈر کی آمد یا نئی بٹالین کی تعیناتی بھی جھڑپوں میں اضافے کا باعث بنتی ہے،کیونکہ نئے آنے والے اعلیٰ افسر کی کوشش ہوتی ہے کہ آتے ساتھ دشمن پر رعب داب بٹھایا جائے۔
بہ ہرحال دونوں ممالک کو یہ دشمنی ورثے میں ملی ہے اور اگرہم اپنی بات کریں تو تقسیم کے بعد دشمن کی طرف سے مسلسل نا انصافیوں کا سامنا ،دشمن کا پاکستان کی سالمیت کے خلاف سازشیں کرنا،تقسیم کے وقت مسلمان خاندانوںکے ساتھ بیہمانہ سلوک کرنا ،کشمیر پر ناجائز قبضہ کرنا،کشمیری مسلمانوں کو بنیادی انسانی حقوق سے محروم رکھنا،پاکستان میں دہشت گردانہ کارروائیوں کی پشت پناہی کرنا جس کے بے شمار شواہد افغان سرحد پر نظر آتے رہتے ہیں اور عالمی سطح پرہمیشہ پاکستان کو نیچا دکھانے کی کوشش میں مصروف رہنا۔یہ ایسے عوامل ہیں جن کے ہوتے ہوئے انڈیا کو ہم کبھی دوست تسلیم نہیں کر سکتے۔گو لبرل اور دین بیزار طبقے کی طرف سے امن کی آشا،دوستی ،بھائی چارے اور اس طرح کی کافی باتیں سنائی دیتی ہیں،مگر ایسی باتیں کرنے والے بھول جاتے ہیں کہ یہ بکواسات دو قومی نظریہ ہی سے متصادم نہیں بلکہ رسول اللہ ﷺ کے فرمان کے بھی منافی ہیں۔واضح طور پر فرما دیا گیا کہ یہور و ہنود کبھی مسلمان کے دوست نہیں ہوسکتے۔
گرمیاں شروع ہو چکی تھیں،سردیوں میں تو اس سرحد کو پار کرنا زیادہ مسائل پیدا کرتا ہے کیوں کہ برف کی وجہ سے راستے بند ہوتے ہیں ،نہ تو تیزی سے حرکت کرنا ممکن رہتا ہے ،نہ اپنی حرکت پوشیدہ رکھی جا سکتی ہے کہ برف پر پاﺅں کے واضح نشان بنتے ہیں جن سے رہنمائی لیتے ہوئے دشمن آسانی سے ڈھونڈ سکتے ہیں۔جبکہ گرمیوں میں دشمن کی چہل پہل زیادہ ہونے کے باوجود بچ نکلنے کے مواقع بہت زیادہ ہوتے ہیں۔
جوں جوں ہم بلند ہوتے گئے گرمی کا زور ٹوٹتا گیا یہاں تک کہ بہادر کیمپ جا کر اچھی خاصی سردی محسوس ہونے لگی تھی۔پہاڑی علاقے سے میرے دیرینہ تعلقات تھے تبھی اچھی طرح معلوم تھا کہ کس قسم کے موسمی حالات سے پالا پڑ سکتا تھا۔اس وجہ سے جرسی اور کوٹ وغیرہ میرے بیگ میں موجود تھے۔گاڑی کے لیے راستہ نہایت خراب تھااور بائیس کلومیٹر کا مختصر فاصلہ طے کرتے ہوئے بھی ہمیں قریباََ دو گھنٹے لگے تھے۔
میرے گاڑی سے اترتے ہی رجمنٹ پولیس کے حوالدار نے خوش آمدید کہا اورمجھے صوبیدار میجر کے پاس لے گیا۔رسمی کلمات کی ادائی کے بعد اس نے مجھے تشریف رکھنے کی دعوت دی اور چائے منگوالی۔
”ارسلان صاحب !میرے خیال میں تو سرحد پار کرنے کے لیے حالات بالکل موزوں نہیں ہیں۔“میں نے اپنا نام ارسلان بتایا تھا کیوں کہ اپنے آدمیوں کے سامنے بھی ہمیں اصل نام ظاہر کرنے کی اجازت نہیں ہوتی اس مقصد کو ہمارے فرضی شناختی کاڑد وغیرہ بنتے ہیں اور یہ میں نے حالیہ کورس میں ہی سیکھا تھا۔اسی وجہ سے صوبیدار میجر عبدالقیوم کو اپناتعارف فرض نام ہی سے کرایا تھا۔ اس مجبوری سے ہمارے بھائی اچھی طرح واقف ہوتے ہیں اس لیے زیادہ تجسس سے گریز کرتے ہیں۔قیوم صاحب نے بھی میری ذات کے متعلق کوئی سوال نہیں پوچھا تھا۔
میں فلسفیانہ لہجے میں بولا۔”سر مشن موزوں حالات کا منتظر نہیں ہوتا۔“
وہ معترض ہوا۔”میرا خیال ہے ہر مشن کے ارادے میں کامیابی کو سرفہرست رکھا جاتا ہے اور ایسے حالات میں آپ جان دینے کے علاوہ کچھ نہیں کر سکیں گے۔“
میں مستفسر ہوا۔”تو کیا کرنا چاہیے؟“
وہ وضاحت کرتے ہوئے بولا۔”چند دن پہلے کشمیری مجاہدین نے انڈیا کی دو پوسٹوں پر ہلہ بول کر وہاں موجود پوری نفری کا صفایا کر دیااورایمونیشن و ہتھیار بھی اٹھا کر لے گئے ہیں،اس وجہ سے دشمن نے سرحد پرنہ صرف زیادہ نفری تعینات کر دی ہے بلکہ گشتوں کی تعداد اور دورانیہ بھی پہلے سے بہت بڑھ گیا ہے۔ تازہ حادثہ ہوا ہے اس وجہ سے دشمن زیادہ چوکس ہے۔ سچ کہوں تو ڈرا ہوا ہے اور ایسی حالت میں چوکسی و چوکنا پن نچلے درجے کی سپاہ تک میں پھیل جاتا ہے۔“
”تو کیوں نہ دومیل ،گلتری یا کامری کی جانب سے کوشش کروں ؟“میں نے گارگل والی سرحد کا نام لیا۔
وہ اطمینان سے بولا۔”مہینا بھر انتظار کرنا پڑے گا،کیوں کہ وہاں اب تک برف مکمل نہیں پگھلی ہوگی اور دشمن سے زیادہ برف سے خطرہ ہوگا۔“
میں نے نفی میں سرہلایا۔”اتنا انتظار نہیں کر سکتا۔“
اس نے مشورہ دیتے ہوئے کہا۔”ایک دو دن ہمارے پاس رہ کر حالات کا جائزہ لوتاکہ آپ کو فیصلہ کرنے میں آسانی ہو،باقی سچ کہوں تو آج کل دشمن نے ہمیں بھی سخت بے آرام کیا ہوا ہے،شدید فائرنگ کا تبادلہ معمول کی بات ہے۔“
میں نے اثبات میں سرہلاتے ہوئے کہا۔”پھرمجھے کسی اگلی کمپنی میں بھجوا دیجئے۔“
بٹالین کی کمپنیاں نصف چاند کی شکل میں آگے تعینات تھیں جبکہ بٹالین ہیڈکواٹر چاروں کمپنیوں کے درمیان اور عقب میں لگا ہوا تھا۔
اس نے پوچھا۔”کیا پہلے اس جانب آنا ہوا؟“
میں صاف گوئی سے بولا۔”کیدیٰ گلی کی طرف سے دو تین بار جانے کا موقع ملا ہے۔“
اس نے پسندیدگی سے سرہلایا۔”بالکل کیدیٰ گلی کا نالہ باقی اطراف سے زیادہ مناسب ہے،میں بھی آپ کو اسی جانب سے سرحد پار جانے کا مشورہ دیتا۔آپ فی الحال آرام کریں میں کمانڈنگ آفیسر سے اجازت لے کر صبح آپ کو کیدیٰ گلی بھجوا دوں گا۔“
رات میں نے بہادر کیمپ میں گزاری،کمانڈنگ آفیسرلیفٹیننٹ کرنل ملک کلیم سے بھی ملاقات کا موقع ملاتھوڑی دیر گپ شپ کی اور پھر انھوں نے مجھے سونے کی اجازت دے دی۔ فائرنگ کاسلسلہ شام کی اذان سے پہلے شروع ہوا جو وقفے وقفے سے رات بھر جاری رہا۔دشمن کی وکرس اور لائیٹ مشین گن کی تڑتڑاہٹ کے جواب میں ہماری ایل ایم جی اور بارہ اعشاریہ سات ایم ایم گن کا گرجنا رہائشی بنکر کے اندر بھی واضح سنائی دے رہا تھا۔ سرحد پر یہ آوازیں سنائی دینامعمول کی بات ہیں۔اور ایسے ہی حالات ایک تربیت یافتہ فوجی اور سول کے مابین فرق کا سبب بنتے ہیں۔کوئی سول آدمی شاید ایسی آوازیں سن کر کھانا پینا ہی چھوڑ دے،جبکہ تربیت یافتہ فوجی اپنے شہداءساتھیوں کی خونچکاں لاشیں دیکھ کر بھی نہیں گھبراتا۔
میں بھی ایک فوجی ہی ہوں اس لیے ان آوازوں نے میری نیند پر کوئی خاص اثر نہیں ڈالا تھا۔اگلے دن ناشتے کے بعد میں پانچ افراد کی ٹولی کے ہمراہ کیدیٰ گلی روانہ ہوا جو وہاں چھے سات کلومیڑ دور تھی۔ہم آرام سے چلتے ہوئے گھنٹے ڈیڑھ میں وہاں پہنچ گئے تھے۔پہاڑی علاقے میں چلنے کا تجربہ کافی زیادہ تھا اس لیے میں ساتھیوں سے پیچھے نہیں رہا تھا۔دورانِ گفتگو یہ بھی معلوم ہوا کے گزشتہ چند دنوں میں ان کے چار پانچ جوان زخمی ہو چکے تھے۔اور ان دنوں نقل و حرکت کو مکمل آڑ او ر فائری خندقوں کے استعمال پر زور تھا۔
راستے میں صرف ایک مقام ایسا آیا جہاں ہمیں نشیب میں اتر کر پچاس ساٹھ گز کا وہ فاصلہ طے کرنا پڑا جو دشمن کی پوسٹوں کے سامنے آرہا تھا۔وہ جگہ عبور کر کے ہم کیدیٰ گلی کی آخری چڑھائی سر کرنے لگے۔یہاں سردی زیادہ محسوس ہونے لگی تھی۔میں نے ٹریک سوٹ کے اوپر گرم جرسی پہنی ہوئی تھی۔گرم ٹوپی(کنٹوپ) اور مفلر تیز ہوا سے بچنے کو سہارا دے رہے تھے۔
دن کا کھانا کھا کر میں جائزہ لینے نکل گیا، اس وقت بھی فائرنگ ہو رہی تھی۔جوانب سے ٹخ ٹخ کافی دنوں سے معمول بنا ہوا تھا۔
ہم خندق میں چلتے ہوئے آخری مورچے تک گئے۔صرف پہلے او ر آخری مورچے میں ایک ایک پہرے دار موجود تھا،جو ایل ایم جی کے عقب میں کھڑا ہو کر گاہے گاہے جوابی برسٹ نکال دیتا تھا۔باقی مورچے خالی پڑے تھے۔مورچوں کے موکھوں (لوپ ہولز) سے میں آگے کا جائزئہ لیتا رہا۔ اکا دکا اونچے پہاڑوں کی چوٹیوں پربرف کی سفیدی جھلک رہی تھی،نیچے نالوں میں بھی چند ایسے مقام نظر آئے جہاں اب تک برف موجود تھی اور اس کی وجہ اس مقام پر دھوپ کانہ لگنا تھا۔
میرے ساتھ پوسٹ ٹوآئی سی صوبیدار اظہر معین خود چکر لگا رہا تھا۔مشورہ دیتے ہوئے کہنے لگا۔ ”اوپی سے آپ زیادہ بہتر طریقے سے اگلے علاقے کاجائزہ لے سکتے ہیں۔“
میں متفق ہوا۔”پھر وہیں چلتے ہیں۔“
وہ خوش دلی سے اوپی کی طرف بڑھ گیاجسے ہم پیچھے چھوڑ آئے تھے۔فائری خندق اور اوپی کے بیچ دس بارہ گزکی جگہ ایسی تھی جہاں نظری یا گولی کی آڑ میسر نہ تھی۔صوبیدار اظہر نے اطمینان بھرے انداز میں چند قدم لیے تھے۔البتہ میں خندق کی آڑ میں رکا رہا اور جیسے ہی وہ آڑ میں پہنچا میں سرعت سے درمیانی فاصلہ طے کر کے اس کے قریب پہنچ گیا۔
صوبیدار اظہر معین کے ہونٹوں پر معنی خیز تبسم ابھرا۔”ڈر گئے۔“
میں نفی میں سرہلایا۔”اسے ڈر نہیں احتیاط کہتے ہیں۔“
اس نے قہقہ بلند کیا۔”کچھ نہیں ہوتا یار!“
”یقینا مان لیتا اگر آپ کے پانچ بندوں کے زخمی ہونے کی اطلاع نہ ملی ہوتی۔“
وہ شاکی ہوا۔”انھیں اس فاصلے کو طے کرتے ہوئے گولی نہیں لگی تھی۔“
میں نے وضاحت کی۔”سر برا نہ منائیں تو میں کہوں گا کہ کسی کو نشانہ بنانے کو یہ فاصلہ کافی زیادہ ہے۔اور میں اندازہ نہیں لگا رہا تجربہ بتا رہا ہوں۔“
”جانتے ہوسامنے بلند ترین جگہ پر دشمن کا بٹالین ہیڈکواٹر ہے جس کا فضائی فاصلہ دو کلومیٹر سے تھوڑا زیادہ ہی ہوگا اور بائیں ،لیفٹ ترکیاں پوسٹ ڈیڑھ کلومیٹر دور ہو گی،مجھے نہیں لگتا ان کے پاس ایسا سنائپر موجود ہو گا جو اتنے فاصلے پر شست باندھ کر نشانہ سادھ سکے۔“
میں تکرار پر آمادہ ہوا۔”رینج ماسٹر کا نام سنا ہے۔“
وہ فخر سے بولا۔”کئی بار استعمال کر چکا ہوں ،بلکہ اوپی میں موجود ہے دیکھ کر یقین کر سکتے ہو۔“
”کیا؟“میں سرعت سے اوپی کی طرف بڑھا،مجھے تکرار بھول گئی تھی۔وہ آٹھ ضرب آٹھ فٹ کا بنکر تھا،جس کی دیواروں میں پتھر اور سیمنٹ کا استعمال ہوا تھا۔اڑھائی دو فٹ چوڑی دیوارجس کے گرد دو تین گز مٹی کی تہہ بٹھائی گئی تھی ۔وہ اینٹی میٹریل رائفل تو کیا راکٹ لانچر کے حملے کو بھی سہار سکتی تھی۔یہ علیحدہ بات کہ دشمن کی پوسٹ سے فاصلے کے لحاظ سے وہ راکٹ لانچر کی رینج سے دور تھی۔کیوں کہ راکٹ لانچر کی ساکن ہدف کے خلاف رینج چار سو میٹر ہے۔
چاپ سن کر پہرے دار میری طرف متوجہ ہوا، وہ دوربین آنکھوں سے لگا کر سامنے کا جائزہ لے رہا تھا۔
”اسلام علیکم سر!“میرے عقب میں نمودار ہونے والے صوبیدار اظہرمعین کو دیکھتے ہوئے اس نے سیلوٹ کیا۔
میری نگاہیں مضبوط پلاسٹک کے بنے کالے بکس کی طرف متوجہ تھیں ،جو مٹی کے ایک تھڑے پر رکھا تھا۔میں اجازت مانگے بغیر آگے بڑھ کر کیچ کھولنے لگا،لمحہ بھر بعد میری محبوبہ سامنے تھی۔میں نے محبت برا ہاتھ اس کی مضبوط فولادی باڈی پر پھیرااور پھر بکس سے باہر نکال لیا۔
میری محویت میں اظہر صاحب مخل ہوئے۔”یقینا آپ کو پہلی بار رینج ماسٹر دیکھنے کا اتفاق ہوا ہے جو یوں پر جوش ہو رہے ہو؟“
میں چونکتے ہوئے اس کی طرف متوجہ ہوا۔”سوری سر!اجازت کے بغیر ہی رائفل باہر نکال لی۔“
وہ فراخ دلی سے بولا۔”کوئی بات نہیں یار!اگر چاہو تو فائر بھی کر سکتے ہو۔“ اور پھر ہنستے ہوئے تنبیہ کی۔”لیکن دھیان رہے اچھا خاصا جھٹکا لگتا ہے،کبھی کبھار تو اناڑیوں کے کندھے بھی توڑ دیتی ہے۔“
مجھے ہنسی آگئی تھی۔”سچ میں....؟“
وہ وثوق سے بولا۔”سچ کہہ رہاہوں دوست!ہمارے اپنی یونٹ کے ایک سپاہی کی ہنسلی کی ہڈی ٹوٹ گئی تھی۔“
میں نے وضاحت کی۔”میں نے آپ سے اول الذکر بات کی تصدیق چاہی ہے،یعنی کیا سچ میں فائر کر سکتا ہوں؟“
”کیوں نہیں۔“وہ قریب ہوا۔”میں آپ کو سمجھاتا ہوں....“
”شاید اس کی ضرورت نہیں ہے۔“میں نے اس کا ہاتھ نرمی سے رائفل کی باڈی سے ہٹایا اور رائفل مع لیوپولڈ سائیٹ و بولٹ کے اٹھا کر اوپی سے باہر نکل آیا۔(یاد رہے کہ رائفل کو جب بھی پیکنگ بکس میں رکھا جاتا ہے، اس کی ٹیلی اسکوپ سائیٹ اتار دی جاتی ہے اور رائفل کا بولٹ بھی نکال دیا جاتا ہے)
”یہیں ،موکھے سے فائر کر لونا؟“حیرانی سے کہتا ہواوہ بھی میرے پیچھے باہر نکل آیاتھا۔
”وہیں سے فائر کروں گاسر،پہلے اسے فائر کرنے کے قابل تو بنا دوں۔“کہتے ہوئے میں نے رائفل کو نیچے رکھ کر ٹیلی اسکوپ سائیٹ کو پکٹنی ریل پر لگانے لگا۔
میرے مہارت سے چلتے ہوئے ہاتھ دیکھ کر اس نے بے ساختہ پوچھا۔”لگتا ہے آپ کوئی سنائپر ہیں۔“
”لوگ میرے بارے ایسا ہی کہتے ہیں۔“ٹیلی اسکوپ فٹ کر کے میں نے جوان کو آواز دے کر گراﺅنڈ شیٹ (نیچے بچھانے والی سرکاری دری کو کہتے ہیں)مانگی،جو رینج ماسٹر کے بکس کے نیچے بچھی دیکھی تھی۔
”جی سر!“کہہ کر وہ گراونڈ شیٹ باہر لے آیا۔
میں رائفل کو بور سائیٹنگ کے لیے تیا رکرنے لگا۔میں پہلے بھی بتا چکا ہوں کہ کسی بھی ہتھیار سے درست فائر کرنے کے لیے اس کی صفرنگ(زیرونگ)کی جاتی ہے،جس کے عام طور پردو طریقے مستعمل ہیں۔ایک فائر کر کے اور دوسرا بغیر فائر کیے یعنی بور سائیٹنگ سے۔اور مو¿خر الذکر طریقہ رائفل کو جلدی زیرو کرنے کے لیے بہت مفید ہے ۔
سگریٹ کی ڈبی پر کوئلے سے جمع کا نشان بنا کر میں نے ساٹھ ستر میٹر کے فاصلے پر ایک مورچے کی دیوار کے ساتھ لگایااور ضروری کارروائی کرنے کو رائفل کے عقب میں لیٹ گیا۔رائفل زیرو کرنے میں مجھے چند منٹ سے زیادہ نہیں لگے تھے۔فائر کرنے کے لیے میں نے موکھے کو استعمال کرنے کے بجائے او پی کی چھت کو ترجیح دی تھی۔کیوں کہ موکھے میں دکھاﺅ محدود ہونے کے ساتھ رائفل صحیح طریقے سے فٹ بھی نہیں پا رہی تھی۔یوں بھی لیٹ کر فائر کرنا مجھے زیادہ پسند ہے۔
میری دلچسپی اور شوق دیکھتے ہوئے صوبیدار اظہر نے میگزین سے ایمونیشن کا نیا ڈبا منگوا لیا تھا۔ایمونیشن کے ہمراہ ڈراپ چارٹ موجود تھا۔ہر اچھی کمپنی ایمونیشن کے ساتھ ڈراپ چارٹ ضرر دیتی ہے۔(زیادہ تر قارئین کے لیے ڈراپ چارٹ یقینا نئی اصطلاح ہو گی،سادہ الفاظ میں وضاحت کروں توہر کمپنی گولیوں میں جوبارود بھرتی ہے وہ اپنے مخصوص پیمانے کے مطابق بھرتی ہے۔اور اس ایمونیشن کے مطابق کتنے فاصلے کے لیے کتنے کلکس ٹیلی اسکوپ سائیٹ پر لگائے جائیں گے اس کا چارٹ بھی ساتھ ہی مہیا کرتی ہے جسے ڈارپ چارٹ کہتے ہیں۔ڈراپ چارٹ دستیاب نہ ہونے کی صورت میں ہر مستند سنائپر اپنافائرنگ ٹیبل بھی بنا سکتا ہے لیکن اس کے لیے ایمونیشن ،رینج اور وقت درکار ہوتا ہے،یہ بھی یاد رکھیں کہ یہ باریکیاںصرف سنائپنگ ہی میں دیکھی جاتی ہیں اسالٹ رائفلوں میں یہ بکھیڑے نہیں ہوتے)
اظہر صاحب مستفسر ہوا۔”ارسلان بھائی !میری ضرورت ہے یا میں اوپی ہی سے جائزہ لیتا رہوں؟“
”میں سنبھال لوں گا سر!“اعتماد سے کہتے ہوئے میں نے میگزین بھری اور رائفل پر چڑھا کر عقب میں لیٹ گیا۔فاصلہ وغیرہ میں پہلے سے ناپ کر ایلی ویشن ناب پر مطلوبہ ریڈنگ لگا چکا تھا۔
بٹالین ہیڈ کواٹر کا فاصلہ انیس سو بہتر میٹر بنا تھا۔رائفل کا بٹ کندھے میں پھنسا کر مونو پاڈ کو کندھے کے مطابق ایڈجسٹ کیا،کندھے کو آگے دبا کر رائفل کو دوپائی اور کندھے کے شکنجے میں جکڑا اور ہدف کی تلاش میں آئی گلاس سے مناسب فاصلہ (آئی ریلیف)رکھ کر گال بٹ پر ٹیک دیا۔دوکلومیٹر کا فاصلہ سمٹ کر قریب آگیا تھا۔لیوپولڈ عام آنکھ سے پچیس گنا زیادہ دکھاتی ہے،گویا دوہزار میٹر کی دوری چارسومیٹر کے بقدر رہ جاتی ہے۔
جاری ہے
 

قسط نمبر9
ریاض عاقب کوہلر
جوانب کی فائرنگ کی وجہ سے دشمن کھلے بندوں تو نہیں گھوم سکتا تھاالبتہ فاصلہ زیادہ ہونے کی وجہ سے ایسی حالت میں بھی زیادہ احتیاط نہیں برتی جاتی ۔سب سے پہلا شکارمورچے سے نکل کر رہائشی بنکر کی طرف جاتا ہوا دکھائی دیا تھا۔فائری خندق کی وجہ سے اس کا آدھا بالائی دھڑ ہی نظر آرہا تھا۔ فائری خندق کی آڑ سے فائدہ اٹھانے کے لیے یقینااسے جھک کر چلنے کا حکم ملا ہوگا،مگر جھک کر چلنے میں زحمت ہوتی ہے اور انسان آسانی ڈھونڈتا ہے۔وہ چونکہ چل رہا تھا اس لیے مجھے لیڈ لینے کی ضرورت تھی اور متعدد بار پہلے بھی عرض کر چکا ہوں کہ انسان رفتار کے خلاف لیڈ لینے کے لیے سنائپر کا ذاتی تجربہ ہی کام آتا ہے۔کوئی نو آموز سنائپر اتنے فاصلے سے کسی حرکتی ہدف کو نشانہ بنانے کا حوصلہ نہ کرتامگر مجھے اپنے اوپر مکمل بھروسا تھا۔البتہ سر کے بجائے میں نے کندھوں پر شست سادھی تھی ۔لبلبی دباتے ہی گولی چلنے کا دھماکا ہوا ،رائفل کے بٹ نے میرے کندھے پر محبت بھری دستک دی اور کے ساتھ ہی میں نے ہدف کو غائب ہوتے دیکھا،اسی وقت سامنے سے دو بندے بھاگتے ہوئے نظر آئے تھے اور ان کا مطمح نظر اپنے زخمی ساتھی کو سنبھالنے کے علاوہ کچھ نہ تھا۔اس اثناءمیں میں رائفل کاک کر کے دوبارہ شست سادھ چکا تھا۔ دونوں میں سے کسی ایک ہی کو نشانہ بنایا جا سکتاتھاکہ وہ تیز رفتاری سے دوڑتے ہوئے آرہے تھے، البتہ وہ سامنے کے رخ سے بھاگتے ہوئے آرہے تھے اس لیے لیڈ لینے کی بھی ضرورت نہیں تھی اور ہدف بھی چوڑا مل رہا تھا۔ان کے آڑ میں پہنچنے سے پہلے میں دوبارہ ٹریگر دبا چکا تھا۔بائیں جانب والا،ایک دم اچھل کر پیچھے گرا، اس کی چھاتی کا شگاف میں تصور کی آنکھ ہی سے دیکھ سکتا تھا۔اس کے ہمراہ آنے والا ٹھٹک کر ساکن ہوا،مگر میرے رائفل کاک کرنے تک وہ آڑ پکڑ کر غائب ہو چکا تھا۔
”قربان شم ورورا!“(قربان جاﺅں بھائی)صوبیدار اظہر صاحب نے مادری زبان میں نعرہ بلند کیا۔ اس کا تعلق کرک سے تھا۔
لمحہ بھر بعد وہ چھت پر پہنچ کر میرے بازو میں لیٹ چکا تھا۔لیٹے لیٹے میری پیٹھ تھپتھپاتے ہوئے اس نے تحسین آمیز لہجے میں اعتراف کیا۔”منم ورورامنم۔“(مانتا ہوں بھائی مانتا ہوں)
اسی دوران میں دشمن کے ہیڈکواٹر کی طرف سے تیز فائرنگ شروع ہو گئی تھی۔بالکل سامنے کے رخ ان کے تین مورچے تھے اوران کے موکھوں سے اڑتی ہوئی گردظاہر کر رہی تھی تینوں میں لگی ہیوی مشین گنیں برسٹ نکال رہی ہیں۔ایک گن سے زیادہ فیلڈ آف فائر لینے کے لیے مورچے کا موکھا چوڑائی میں قدرے زیادہ رکھا جاتا ہے تاکہ گن کی بیرل کو زیادہ گھماﺅ دیا جا سکے۔اور ان پہاڑی پوسٹوں پر موجود ان مورچوں کی سب سے بڑی خامی یہ ہوتی ہے کہ ان میں جانب پناہ پوزیشن(یعنی سامنے سے آنے والے فائر سے آڑ) نہیں رکھی جا سکتی۔یوں تیز طرار سنائپرز اس خامی کو اپنے مقصد کے لیے استعمال کر لیتے ہیں۔میں نے دائیں طرف کے پہلے مورچے کی طرف بیرل کو موڑا اور موکھے پر شست سادھی۔
گن کی بیرل تو نظر نہیں آرہی تھی ،البتہ گرد اٹھنے سے میں بیرل اور اس کی نسبت سے فائرر کی پوزیشن کا اندازہ کر سکتا تھا۔میں نے ٹریگر دبانے میں زیادہ دیر نہیں لگائی تھی،فائر کا نتیجہ اس مورچے سے فائر کے رک جانے ہی سے ظاہر ہو رہا تھا۔
صوبیدار اظہرمعین آنکھوں سے دوربین ہٹا کر جوش سے بولا۔”میں قسم کھا کر کہہ سکتا ہوں کہ ایک اور مردار ہو گیاہے۔“
میں جواب دینے کے بجائے دوسرے مورچے کی طرف متوجہ ہو گیا تھا۔اسے بھی ایک ہی گولی سے خاموش کرا کر میں جب تک تیسرے مورچے کی طرف متوجہ ہوتا،اس میں فائرنگ خود بہ خود رک گئی تھی۔
اظہر معین صاحب نے محبت بھرے انداز میں مذاق کیا۔”یار!آپ کو سرحد پار جانے کی کیا ضرورت ہے،یہیں ہمارے پاس رہ جاﺅ۔“
میں متبسم ہوا۔”دوتین دن تو یہیں ہوں سر۔“اور میگزین اتار کر بھرنے لگا کہ اس میں صرف ایک گولی بچ گئی تھی اور فی الحال دشمن بالکل دبک گیا تھا۔مسلسل اپنے آدمیوں کو نشانہ بنتے دیکھ کر انھیں سمجھنے میں دیر نہیں لگی تھی کہ ان کا پالاکسی سنائپر سے پڑ گیا تھا۔
میگزین بھر کر میں لیفٹ ترکیاں پوسٹ کی طرف متوجہ ہو گیا۔اس کا فاصلہ دشمن کے بٹالین ہیڈکواٹر سے کم تھا۔ایل آر ایف نے چودہ سو میٹر بیس بتایا تھا۔مگرکافی کوشش کے باوجود کوئی حرکت نظر نہیں آئی تھی۔اس کے مورچوں کا رخ بھی کیدیٰ گلی کے بجائے گول ٹیکری کی طرف تھا جہاں ہماری ایک پلاٹون تعینات تھی۔
اظہر معین صاحب بھی دوربین کے ذریعے لیفٹ ترکیاں کی جانب متوجہ تھا۔ذرا سی بھی نقل وحرکت نہ ہوتی دیکھ کر اس نے تبصرہ کیا۔”ان سورماﺅں تک بھی خبر پہنچ گئی ہو گی کہ کوئی سنائپر میدان میں آیا ہواہے۔عام حالات میں یہ اتنی احتیاط برتتے ہیں، اب تو اور بھی محتاط ہو گئے ہوں گے۔“
ان دو کے علاوہ دشمن کی ایک تیسری پوسٹ ”فارورڈ آبزرونگ پوسٹ“ بٹالین ہیڈکواٹر سے قدرے نیچے اور دائیں جانب نالہ موڑ کے قریب بھی موجود تھی مگر اس کا فاصلہ زیادہ تھا۔
میں اوپی کی چھت سے نیچے اتر کر رائفل کوصاف کرنے لگا۔
٭٭٭٭٭
رات کا کھانا میں نے پوسٹ کمانڈر میجر ذیشان کے ہمراہ بیٹھ کر کھایا تھا۔وہ میرا ہم نام تھا لیکن وہاں میں نے اپنا نام ارسلان بتایا ہوا تھا ۔اس تک میری دن کی کارکردگی کی خبر پہنچ چکی تھی تبھی اس نے مجھے کھانے کی دعوت دی تھی۔اس نے میرے بارے میں جاننے میں دلچسپی ظاہر کی،میں نے سرسری تعارف کرانے میں مضائقہ نہ سمجھا کہ وہ کوئی عام شخص نہیں آرمی آفیسر تھا۔
صوبیدار اظہر معین سے پتا چلا تھا کہ رات کو دشمن کی گشتیں نالے میں حرکت کرتی ہوئی نظر آجاتی تھیں اور اس کی وجہ چلتے وقت ٹارچ کا استعمال کرنا تھا۔رات کے وقت سنائپر رائفل سے کسی روشن ہدف کو نشانہ بنانا مشکل نہ تھا ،اس لیے کھانے کے بعد میں ایک بار پھر اوپی کی چھت پر پہنچ گیا تھا۔ اس بار صوبیدار اظہر معین کے علاوہ میجر ذیشان بھی میرے ہمراہ تھا۔
رات کو پہاڑی علاقے میں حرکت کرتے وقت عموماََروشنی کرنا ناگزیر ہو جاتا ہے،کیوں کہ ڈھلوانی راستے پرروشنی کے بغیر سفر کرناکافی حادثات کا باعث بن سکتا ہے۔البتہ کچھ ہوشیار اور سمجھ دار سپاہی اپنی ٹارچوں کے شیشوں پر رنگین کاغذ چڑھا دیتے ہیں یوں روشنی نہایت دھندلی ہو جاتی ہے اور زیادہ فاصلے سے نظر نہیں آسکتی۔
پہرے دار سے معلوم ہوا کہ دشمن کی پہلی گشت جوسرشام ہی نیچے اتر جایا کرتی تھی وہ واپس پہنچ چکی تھی اور اب دوسری ٹولی نیچے آنے والی تھی۔گشت کا زیادہ تر رستہ محفوظ تھا ،صرف دو مقام ایسے تھے جہاں سے گشت کو چند گز کا فاصلہ بغیر آڑ کے طے کرنا پڑتا،ان مقامات کے بارے اظہر معین صاحب مجھے دن کو بتا چکے تھے۔گو اس مقام پر اب اندھیرے کی وجہ سے کچھ دکھائی نہیں دے رہا تھا،مگر مجھے جگہ کا اچھی طرح اندازہ تھا۔میں نے ٹیلی اسکوپ سائیٹ میں بیٹر ی ڈال کر اندرونی نظارہ روشن کیا۔یوں کہ میں کسی بھی روشن چیز پر نشانہ سادھ سکتا تھا۔(شب دیدسائیٹ اور عام ٹیلی اسکوپ سائیٹ میں یہی فرق ہوتا ہے کہ عام ٹیلی اسکوپ سائیٹ اندھیرے کو روشن کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتی اور اندھیرے میں اس سے تبھی فائر کیا جا سکتا ہے جب ہدف کے علاقے میں بھی روشنی ہو،اس کے برعکس شب دید سائیٹ اندھیرے میں بھی دکھاﺅ مہیا کرتی ہے اور اگر ہدف کے علاقے میں روشنی ہو تو دکھاﺅ میں مزید بہتری لاتی ہے۔ اور اگر دوسرے پہلو سے دیکھا جائے تو شب دید سائیٹ کی رینج ٹیلی اسکوپ سائیٹ سے بہت زیادہ محدود ہوتی ہے اور اس سے دو تین سو میٹر کے دائرے ہی میں فائر کرنا ممکن ہوتا ہے گو صوفی تھرمل سائیٹ کی رینج بہت زیادہ ہے مگر وہ سنائپر رائفل پر نہیں لگتی اس لیے سنائپر رائفل سے فائر کرتے وقت اس کی اہمیت صفر رہ جاتی ہے)
ہمیں زیادہ انتظار نہیں کرنا پڑا تھا،جلد ہی روشنی دکھائی دیے لگی تھی۔میں نے درمیان والے بندے کی ٹارچ سے اس کے جسم کا اندازہ لگاتے ہوئے شست سادھی اور ٹریگر کھینچ لیا۔روشنی کا نقطہ نشیب میں گرتا ہوا دکھائی دیا،جو ظاہر کر رہا تھا کہ تارچ کو سنبھالنے والے ہاتھ میں جان باقی نہیں رہی تھی۔
روشنیاں ساکت ہوئیں اور پھر درمیان میں اکٹھی ہوئیں،یقینا انھیں اب تک صورت حال واضح نہیں ہوئی تھی۔اور اس موقع سے فائدہ نہ اٹھابے وقوفی ہوتی۔
ایک اور روشن ٹارچ پر نشانہ سادھ کر میں لبلبی کھینچنے ہی لگا تھا کہ تمام روشنیاں گل ہو گئی تھیں، جس کا صاف مطلب یہی تھا کہ انھیں حقیقت تک رسائی ہو چکی تھی۔
مگر روشنی بجھنے کے بعد بھی میں نے اس امید پر ٹریگر کھینچ لیا کہ ٹارچ بجھانے کے بعد وہ اتنی جلدی اپنی جگہ سے نہیں ہٹے ہوں گے۔البتہ گولی کے ہدف پرلگنے کا پتا چلنا دشوار تھا۔
صوبیدار اظہر معین نے تبصرہ کیا۔”مجھے یقین ہے دوسری گولی بھی ضائع نہیں گئی ہوگی۔“
اچانک روشنی دوبارہ چمکی اورچند ہیولے تیزی سے نشیب کی جانب جاتے دکھائی دیے، بلاشبہ تمام ڈر کر آڑ تک پہنچنے کی کوشش میں تھے۔ٹارچ صرف ایک روشن تھی اور عقل مندی انھوں نے یہ دکھائی تھی کہ ٹارچ کو پتھر پر جما کر روشن کر دیا تھا،کیوں کہ میں نشانہ سادھنے پر روشنی ہی کو تاکتا۔یوں ان میں سے کوئی میرا نشانہ نہ بنتا۔مگر وہ یہ بھول گئے تھے کہ ایک سنائپر کو چکر دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ایسے چھوٹے موٹے چٹکلے تو ہر وقت میری جیب میں رہتے تھے۔روشنی کا اگر انھیں فائدہ پہنچ رہا تھا کہ انھیں راستہ واضح نظر آرہا تھا تو یہ فائدہ مجھے بھی حاصل ہو رہا تھا کہ ان کے ہیولے بالکل واضح نظر آرہے تھے۔سیکنڈ کے دسویں حصے میں فیصلہ کرتے ہوئے میں نے سب سے آگے والے پر شست سادھی اور ٹریگر کھینچ لیا۔لیڈ لینے کی ضرورت اس لیے محسوس نہیں کی تھی کہ اس کے پیچھے دوسرا،تیسرا اور پھر چوتھا آدمی بھی بھاگ رہا تھا،یوں گولی کی لائن اگر سیدھی رہتی تو اس کے ضائع جانے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا۔
توقع کے مطابق تیسرا ہیولہ نیچے گرا اور اس کے عقب میں آنے والا اس سے ٹکرا کر نیچے گرا تھا۔اس کے کھڑے ہونے تک میں رائفل کاک کر کے دوبارہ تیار ہو چکا تھااور جیسے ہی وہ آگے بڑھا ، اس مرتبہ میں نے لیڈ لے کر اگلی گولی بھی داغ دی، اسے بھی آڑ تک پہنچنا نصیب نہیں ہوا تھا۔
اچانک میجر ذیشان مستفسر ہوا۔”ارسلان میاں!....راجہ ذیشان حیدر نامی ایک سنائپر کا ذکر سننے کا اتفاق ہواہے ،کیااسے جانتے ہو۔“
میں متعجب ہوا۔”خیر تو ہے سر!....اس کے ساتھ کیا کام ہے؟“
”کافی تعریف سنی ہے اس کی،لیکن آج تمھاری سنائپنگ دیکھ کر لگ رہا ہے وہ اتنااچھا نشانے باز نہیں ہوگا۔“
میں بہ ظاہر سنجیدگی سے بولا۔”وہ سنائپنگ کی ابجد سے بھی ناواقف ہے سر!....بس کسی وجہ سے نام مشہور گیا ہے اور لوگ بڑھ چڑھ کر اس کے کارنامے بیان کرتے رہتے ہیں۔“
اظہر صاحب ہنسا۔”ارسلان بھائی !کہتے ہیں فقیر کو فقیر برا ہی لگتا ہے،کہیں ایسا نہ ہو آپ اس کے ہم پیشہ ہونے کی وجہ سے اس کی اہمیت تسلیم نہ کرتے ہوں۔“
میجر ذیشان نے لقمہ دیا۔”دوست !سچ تو یہ ہے کہ اس کی تعریف کافی معتبر افراد سے سنی ہے۔“
میں نے معنی خیز انداز میں کہا۔”سر !وہ آپ کا سرنامی ہے اس لیے آپ کچھ زیادہ ہی طرف داری کر رہے ہیں۔“دورانِ گفتگو بھی میری نظریں وہیں جمی تھیں،ٹارچ کی روشنی کی وجہ سے چند گز کے علاقے میں ہونے والی نقل و حرکت کا مشاہدہ میں کر سکتا تھا۔
اچانک دشمن کی ساری پوسٹوں نے فائر کھول دیاتھا۔میں نے فوراََ ہی اپنی شست لیفٹ ترکیاں کی طرف موڑی،مگر ناکافی روشنی کی وجہ سے کسی ہدف پر شست نہیں سادھ سکتا تھا۔
یوں لگامیجر ذیشان اچانک خیال آنے پر بولا ہو۔”ایک بہترین مشورہ دوں۔“
میں خوش دلی سے بولا۔”مشورہ اگر بہترین نہ بھی ہو سن لینا چاہیے ۔“
”مجھے نہیں لگتا آج کی رات دشمن کی گشت اپنے لاشیں ڈھونے کے علاوہ کوئی مزید کارروائی کر بھی سکتی ہے اور اس سے بہترین موقع شاید ہی ملے۔“
”آپ بالکل درست کہہ رہے ہیں سر۔“پرجوش انداز میں کہتے ہوئے میں رائفل کو سمیٹنے لگا۔
اظہر معین صاحب شاکی ہوا۔”مگر آپ نے دو تین دن یہیں گزارنے کا وعدہ کیا تھا۔“
”وعدہ نہیں سر ارادہ کیا تھا اور اب میجر صاحب کے بہترین مشورے کو رد کرنا بے وقوفی ہو گی۔یقینا ایسا موقع دوبارہ نہیں ملے گا۔“
ہم اوپی کی چھت سے نیچے اتر آئے تھے۔میجر ذیشان نے گارڈ کمانڈر حولدار رسول خان کو ٹارچ کی روشنی کی طرف گنیں موڑ کر فائر کا حکم دیا،تاکہ دشمن اپنی لاشیں نہ اٹھا سکے۔
میں صوبیدار اظہر کے ساتھ رہائشی بنکروں کی طرف بڑھ گیا تھا۔
تھوڑی دیر بعد میں اپنے مختصر سامان کے ساتھ جانے کو تیا رکھڑا تھا۔میجر ذیشان اور صوبیدار اظہر میرے ساتھ بارودی سرنگی قطعے تک رستہ دکھانے آئے تھے۔دونوں کے انداز میں عقیدت تھی۔وقت رخصت میجر صاحب سے معانقہ کرتے ہوئے میں نے دھیرے سے کہا۔
”سر!میرا نام راجا ذیشان حیدر ہے۔“
اس نے دعویٰ کیا۔”اگر تم اعتراف نہ بھی کرتے ،مجھے اندازہ ہو گیا تھا۔“
میں نے درخواست کی۔”دعا کرنا سر!اللہ پاک مجھے اپنے مقصد میں کامیابی دے۔“
”آمین....“دونوں بیک آواز بولے اور پھر میجر صاحب نے مجھے ہدایت دی۔”اس پہاڑی کی جڑ میں رہتے ہوئے نالہ موڑ تک پہنچنا،کیوں کہ تمھارے نشیب میں اترتے ہی ہم نے مکمل ہتھیاروں کا فائر کھول دینا ہے اور دشمن کی توجہ اپنی جانب ہی مبذول رکھیں گے۔تم نے بھی محتاط رہنا ہے، کیوں کہ دشمن کا ہماری چال میں آنا ضروری نہیں ہے۔“
”خدا حافظ سر!“کہہ کر میں مڑا اور بارودی سرنگی قطعے(مائن فیلڈ) کے درمیان چھپے راستے پر احتیاط سے قدم رکھتے ہوئے نشیب میں اترنے لگا۔ایک سادہ موبائل کی دھندلی سی روشنی مجھے رستہ دکھا رہی تھی۔یہ روشنی اتنی خفیف تھی کہ بہ مشکل مجھے رستہ نظر آرہا تھا، اس کے دور سے دیکھ لیے جانے کا امکان نہ ہونے کے برابر تھا۔ البتہ دشمن نے اس جگہ شب دید آلات فکس کر رکھے ہوتے تب شاید انھیں یہ باریک روشنی دکھ جاتی ۔بارودی سرنگی قطعہ عبور کر کے بھی میری رفتار میں تیزی نہیں آئی تھی کیوں کہ اس راستے پر پھسلنے کے امکان کافی زیادہ تھے۔میں دو تین بار پہلے بھی اس راستے سے گزر چکا تھا،مگر ہر مرتبہ رات ہی کو وہاں سے گزرنے کا موقع ملا تھا اس لیے راستے کی پہچان اتنی نہیں تھی کہ بھاگ کر اترا جاتا۔ اس کے ساتھ میری یہ کوشش بھی تھی کہ موبائل ٹارچ کی روشنی کا رخ بالکل زمین کی طرف رہے یوں دور سے روشنی کے نظر آنے کا امکان بالکل باقی نہ رہتا۔
مجھے نشیب تک پہنچنے میں بیس ،پچیس منٹ لگے تھے۔میجر ذیشان نے مجھے آدھے گھنٹے کی مہلت دی تھی کہ اس کے بعد اس نے فائر کھول دینا تھا۔
میں پہاڑی کی جڑ میں رہتے ہوئے نالہ موڑ کی جانب چل پڑا،چند منٹ بعد ہی تڑتڑاہٹ کی تیز آواز ابھری اور تمام پوسٹوں نے دشمن کی پوسٹوں پر فائر کھول دیا تھا۔اس میں ایل ایم جی، ایم جی، ایچ ایم جی ،۷.۲۱ ایم ایم ،۵.۴۱ ایم ایم ، اے جی ایس سترہ اور اے جی ایل پینتیس شامل تھیں۔دشمن بھی کہاں پیچھے رہنے والا تھا، اس کی تو ہلاکتیں ہو چکی تھیںانھیں زیادہ غصہ تھا۔اس وقت نالے میں چلنا نہایت خطرناک تھا،کوئی بعید نہ تھا کب کوئی بھولی بھٹکی گولی میرا مزاج پوچھنے پہنچ جاتی۔
پہاڑ کی جڑ میں چلنے کی وجہ سے میرا سفر اصل فاصلے سے دگنا ہو گیا تھا۔مگر یوں حفاظت کا پہلو زیادہ تھا اس وجہ سے میں نے احتیاط کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑا۔گھنٹے بھر کے بعد میں اس مقام تک پہنچ گیا تھا جہاں سے نالہ عبور کر کے میں دشمن کی سرزمین پر قدم رکھ دیتا۔میرے بائیں ہاتھ چند سو گز کے فاصلے پر سول لوگوں کے گھر موجود تھے،نجانے اس مشکل مقام پر وہ کیسے رہ لیتے تھے۔بے چارے پاکستان اور انڈیا کی بالکل سرحد پر بیٹھے تھے۔نامعلوم ان کی شہریت پاکستان کی تھی یا انڈیا کی۔
نالے میں پانی کی مقدار اتنی کم نہیں تھی کہ مجھے جوتے نہ اتارنے پڑتے اور اتنی زیادہ بھی نہیں تھی کہ نالہ عبور کرتے وقت کوئی مسئلہ درپیش ہوتا۔یہ وہی نالہ تھا جسے میں نے رومانہ کے ہمراہ بھی ایک بار عبور کیا تھا اور تب رومانہ میری بانہوں میں تھی۔میرے دماغ میں رومانہ کی مترنم آواز گونجی....
”جھوٹے اجنبی!آپ میرا اتنا زیادہ خیال کیوں کرتے ہیں۔“یہ فقرہ اس نے تب کہا تھا جب میں نے اسے بانہوں میں اٹھا کر نالہ عبور کیا تھا۔اتنے عرصے بعد وہ نالہ عبور کرتے ہوئے ماضی آنکھوں میں اتر آیا تھا۔میں رومانہ کو بتا بھی نہیں سکا تھا کہ یہ راستہ استعمال کروں گااور بتاتا بھی تو اس بے چاری نے کب میراہم سفر ہو سکنا تھا۔
جوتے و جرابیں اتار کر ٹھنڈے پانی میں پاﺅں رکھے، ایک بار تو میں کانپ گیا تھا۔چند گز چوڑا نالہ عبور کر کے میں دوسری جانب پہنچا اور پہلے پاﺅں خشک کر جرابیں پہنیں اور پھر جوتے ڈال کر چلنے کو تیا رہوگیا۔
انڈیا کی ”فارورڈ آبزرونگ پوسٹ“قدرے بائیں جانب رہ گئی تھی۔وہاں بکھری جھاڑیاں میری حرکت کو آڑ مہیا کر رہی تھیں۔ نالہ مڑ کر دو تین سو گز آگے ،مگر بلندی پر انڈیا کی ایک اور پوسٹ تھی جو اسی موڑ کی حفاظت پر مامور تھی۔مجھے اس پوسٹ کے نیچے سے ہو کر گزرناتھا۔فارورڈ آبزرور پوسٹ سے شور و غل کی ہلکی ہلکی آوازیں آرہی تھیں،یقینا وہ اپنے ہلاک ہونے والے ساتھیوں کے بندوبست میں مشغول تھے۔ان کی مصروفیت میری حرکت کے لیے از حد مفید تھی۔
نالہ موڑ مڑ کر میں جونھی ذرا سا آگے بڑھاتیز روشنی نظر آئی،میں سرعت سے ایک جھاڑی میں روپوش ہو گیا۔تھوڑی دیر بعد ان کی باتوں کی آواز بھی آنے لگی،وہ اپنے ہلاک ہونے والے ساتھیوں پر تبصرہ کررہے تھے۔وہ کسی ”مہابلی پوسٹ “نامی جگہ سے آرہے تھے جو چند کلومیٹر عقب میں تھی۔ان کی گفتگو سے یہ بھی معلوم ہوا کہ وہ ”فارورڈ آبزرونگ پوسٹ“کی طرف گامزن تھے جہاں ان کے ساتھیوں کی لاشیں لائی جا رہی تھیں۔یقینا سنائپر کے خوف سے انھوں نے لاشیں اوپر لے جانے کے بجائے نیچے اتارنا مناسب سمجھا تھا۔
ان کے گزرنے تک میں بے حس و حرکت جھاڑی میں لیٹا رہا،جونھی وہ موڑ مڑے ،میں آگے بڑھ گیا۔نالہ موڑسے دو تین سو گز آگے مگرقدرے بلندی پر انڈیا کی ایک اور پوسٹ تھی جو اسی موڑ کی حفاظت پر مامور تھی۔مجھے اس پوسٹ کے نیچے سے ہو کر گزرنا تھا۔میں نے اندھیرے ہی میں سفر جاری رکھا،اب روشنی کرنا خطرناک تھا۔یوں رفتار تو کم ہو گئی مگر احتیاط کا تقاضا یہی تھا کہ میں روشنی نہ کرتا۔یوں بھی مسلسل اندھیرے میں رہنے سے آنکھیں اس قابل ہو جاتی ہیں کہ انسان بڑی اور واضح رکاوٹوں کو دیکھ سکے۔پوسٹ پر روشنی نظر آرہی تھی جس کی وجہ سے مجھے یہ اندازہ لگانے میں آسانی تھی کہ پوسٹ سے کتنی دور آچکا ہوں۔
میں اس راستے پر پہلے بھی ایک دو بار سفر کر چکا تھا،مگر جن لوگوں کا ایسے علاقے سے واسطہ پڑ چکا ہو وہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ پہاڑی علاقوں میں سمت درست رکھنا نہایت مشکل ہے ۔گنجان نالے ،ممثال بلندیاں ،گھنی جھاڑیاں ، درختوں کے جھنڈاورایک جیسی پتھریلی چٹانیں بھلا کب راستے کی شناخت سے بے فکر ہونے دے سکتی ہیں۔اس کے لیے نقشے کا ہونا بہت ضروری ہوتا ہے۔ گو تربیت یافتہ بندے کو راستہ معلوم نہ بھی ہو، اس کو نقشہ بھی دستیاب نہ ہو تب بھی وہ مختلف ذرائع سے اپنی سمت درست رکھ سکتا ہے۔اور اس ضمن میں ستارے اہم کردار ادا کرتے ہیں ،خصوصاََ قطبی ستارہ تو سمت درست رکھنے کے لیے اللہ پاک کی نعمت ہے۔بس طریقہ کار کا پتا ہونا چاہیے۔
البتہ میں نے جہاں جانا تھا خوشی قسمتی سے اس پہاڑ کے سارے نالے اسی وادی میں جا نکلتے تھے۔اس وجہ سے میں نے راستوں کی شناخت پر زیادہ زور نہیں دیا تھا۔گو ایک سنائپر کو اپنی یاداشت پر بہت بھروسا ہوتا ہے اور ہونا بھی چاہیے کہ مشن پورا کرنے کوپہلا مرحلہ رسائی کا ہوتا ہے، اگر سنائپر کارروائی کے علاقے ہی میں نہ پہنچ سکے تو مشن تو ناکام ہو گیا ناں؟
´´میرا سفر رات بھر جاری رہا،مختلف نالوں کو عبور کرتا،نشیب و فرازسے گزرتامیں صبح تک چلتا رہاملگجا اجالا ہوتے ہی میں نے چھپنے کو جگہ کی تلاش شروع کر دی۔راستے سے ہٹ کر چند گھنی جھاڑیاں مجھے دن گزارنے کے لیے بہترین لگی تھیں۔چونکہ اس علاقے میں سول آبادی موجود نہیں تھی اس لیے میں د ن کو حرکت نہیں کر سکتا تھا،ورنہ دور سے نظر آنے کا خطرہ تھا۔پوسٹ سے دو وقت کا کھانا میں لے آیا تھا۔رات بھر چلنے کی وجہ سے اس وقت اچھی خاصی بھوک محسوس ہو رہی تھی۔ ٹھنڈا کھانا کھاکر میں پانی پیا اور پاک رب کا شکر ادا کیا جس نے اس حالت میں بھی رزق مجھ تک پہنچایا تھا۔
دن کودشمنوں کی دو تین ٹولیاں وہاں سے گزرتی نظر آئی تھیں،مگر ان کا مقصد روزمرہ کے کام تھے اس لیے وہ راستے ہی پر گامزن رہے۔غروب آفتاب کے ساتھ ہی میں بچا ہوا کھانا کھا کر چلنے کو تیار ہو گیا۔گزشتہ روز کی نسبت مجھے خطرہ کم لگ رہا تھا۔فرلانگ بھر چلنے کے بعد پانی کے بہنے کی آواز سن کر میں اس جانب بڑھ گیا۔دن کو پانی کی بوتل موجود ہونے کی وجہ سے مجھے پانی کی کمی محسوس نہیں ہوئی تھی۔بوتل کو بھر کر میں نے سیر ہو کر پانی پیا اور آگے بڑھ گیا۔اندھیرا آہستہ آہستہ بڑھنے لگا تھا۔دس گیارہ بجے کے قریب دشمن کی گشتی ٹولی نظر آئی،ان کی روشن ٹارچوں نے مجھے سو گز پہلے ہی چوکنا کر دیا تھا۔ان کے قریب آنے تک میں روپوش ہو چکا تھا۔وہ میرے نزدیک سے گزر کر آگے بڑھ گئے۔ان کے غائب ہوتے ہی میں اپنے راستے ہو لیا۔
چاند آخری کوارٹر میں تھا اس لیے کہیں صبح صادق کے وقت جا کر نظر آتا تھا اور وہ بھی اتنا باریک کہ اندھیرے کے خلاف کوئی فائدہ نہ دیتا تھا۔میری نظریں صرف زمین پر نہیں گڑی تھیں گاہے گاہے میں دائیں بائیں بلندیوں کی طرف بھی نظریں گھما لیتا،تا کہ دشمن کی کسی پوسٹ کے قریب سے گزرتے ہوئے زیادہ احتیاط کروں۔سادہ موبائل کی باریک اور پھیکی روشنی کی مدد ہی سے میں چل رہا تھا اور جہاں انڈین پوسٹ کی جھلک نظر آتی میں ٹارچ بند کر کے وہ ناکافی روشنی بھی بجھا دیتا۔مگر یہ احتیاط زیادہ دیر کام نہ آئی ،اس وقت میں گھنی جھاڑیوں کے درمیان سے گزر رہا تھا، اس لیے بے فکری سے ٹارچ جلائی ہوئی تھی۔یقینا اتنی گھنی جھاڑیوں سے مدہم روشنی دور سے نہیں دیکھی جا سکتی تھی۔لیکن جب قسمت میں خواری لکھی ہو تو بہانہ کچھ بھی بن سکتا ہے۔ایک دم جھاڑیوں کا سلسلہ ختم ہوا،آگے نالہ صاف تھا اورجھاڑیوں کے ہیولے نظر نہیں آرہے تھے۔بائیں ہاتھ پچاس ساٹھ گز کی بلندی پر روشنی دکھائی دی جو یقینا دشمن کی پوسٹ تھی۔میں نے دبے قدموں آگے نکل جانا چاہا،لیکن معاََ دو تین کتے نمودار ہوئے اور ایک ساتھ بھونکنے لگے۔کتوں کا بھونکنا اتنا انوکھا نہیں ہوتا کہ کسی بھی آوارہ جانور کو دیکھ کر یہ بھونکنا شروع کر دیتے ہیں اور پوسٹوں پر موجود کتوں کا شب بھر یہی کھیل ہوتا ہے ،مگر تین عدد کتوں نے جب مجھ پر چڑھائی کی کوشش کی تو مجھے پتھر اٹھانے کو جھکنا پڑااور بد قسمتی کہ اسی وقت پوسٹ کی طرف سے بڑی ٹارچ چمکی،میں فوراََ زمین بوس ہو گیا تھا۔درمیانی سی جھاڑی کی آڑ بھی میسر آگئی تھی،مگر بد قسمتی یہ تھی کہ کتوں کو دل پسند مشغلہ ہاتھ آگیا تھا،کم بختوں نے وہ شور مچایا کہ کانوں کے پردے پھٹنے والے ہو گئے تھے۔میں نے دو تین مرتبہ دھیمی آواز میں ہشکارالیکن ان کے کانوں پر جوں بھی نہ رینگی،لیٹے لیٹے چھوٹا سا پتھر اٹھا کر انھیں ڈرانا چاہا پر کامیابی نہ ملی،سنتری بادشاہ نے بھی قسم کھائی تھی کہ کتوں کے بھونکنے کی وجہ معلوم کر کے ہی رہے گا،بد بخت نے تیز ٹارچ اس سمت روشن کیے رکھی۔تینوں میں نسبتاََ جسیم کتا تو بار بار قریب آنے کی کوشش کرتا اور میرے ہاتھ لہرانے پر ہلکا سا پیچھے ہو جاتا۔اس وقت ایک سائیلنسرلگے پستول کے علاوہ میرے پاس کوئی ہتھیار بھی موجود نہ تھا۔
بڑے کتے کی جارحیت میں مسلسل اضافہ ہوتے دیکھ کرمجھے ڈر ہوا کہ کہیں وہ حملہ ہی نہ کردے۔ میں نے خطرہ مول لیتے ہوئے پستول نکال کر لیٹے لیٹے ہاتھ سیدھا کیااور دوبار لبلبی دبادی۔کتا خرخراتا ہوا نیچے گرا ،باقی دونوں کتے چیاﺅں چیاﺅ ں کرتے ہوئے ڈر کر واپس مڑ گئے تھے۔کتوں کے بھونکنے کی آواز میں سائیلنسر لگے پستول کی ”ٹھک“ کسی کو سنائی نہیں دے سکتی تھی،البتہ کتے کا ایک دم چپ ہوجانا اور باقی کتوں کا ڈر کر بھاگناضرور شک میں ڈالنے والا تھا۔گوہلاک ہونے والا کتا بھی جھاڑی کی آڑہی میں گراتھااور پوسٹ سے نظر نہیں آسکتا تھا، اس کے باوجود میں ذہنی طور پر دشمن کے کسی بھی ردعمل کے لیے تیار تھا۔مگر خیریت گزری اور ٹارچ بجھ گئی،شاید سنتری کوکتوں کی تعداد کا صحیح اندازہ نہیں ہو سکا تھا۔خیر کچھ بھی تھا میں زیادہ دیر وہاں لیٹا نہیں رہ سکتا تھا،کتوں کی کوئی اور ٹولی بھی مصیبت کھڑی کرنے وہاں پہنچ سکتی تھی ۔
روشی بجھنے کے چند منٹ بعد میں بندر چال چلتا ہوا جھاڑی کی آڑ سے نکلا اور دھیرے دھیرے آگے بڑھنے لگا۔دشمن کے علاقے میں چھپ کر حرکت کرنے کے کچھ مخصوص طریقے بتائے جاتے ہیں جنھیں جنگی چالیں کہتے ہیں۔بند رچال میں پاﺅں کے بل پر بیٹھے بیٹھے آگے بڑھنا ہوتا ہے یوں کہ ایک ہاتھ سے زمین ٹٹولی جاتی ہے تاکہ پاﺅں کے نیچے کوئی ایسی چیز نہ آجائے جس سے آواز پیدا ہو کر دشمن کو چوکنا کرنے کا باعث بنے۔
پوسٹ کے سامنے چالیس پچاس گز کا علاقہ ہی خطرناک تھا، اس کے بعد دو تین درمیانی چٹانیں موجود تھیں اورپھر چھدری چھدری جھاڑیاں شروع ہو جاتی تھیں۔یہ تمام جائزہ میں اس وقت لے چکا تھا جب کتوں کے بھونکنے کے وقت سنتری نے اس جانب روشنی پھینکی تھی۔
دس پندرہ گز تک تو خیریت رہی اس کے بعداچانک ہی پورا نالہ روشنی میں نہا گیا تھا۔ایک پل کومیں سن ہو گیا تھا،مگر اگلے ہی لمحے زقند بھری اور بجلی کی سی سرعت سے قریبی پتھر کی طرف لپکا جو مجھ سے پندرہ بیس گز دور پڑا تھا۔دو تین گز پہلے ہی میں نے پانی میں کودنے کے انداز میں لمبی چھلانگ لگائی اور سنگلاخ زمین پر لڑھکتا ہواپتھر کے عقب میں پہنچ گیا۔تب جیسے قیامت صغریٰ پبا ہوگئی تھی۔ تڑتڑاہٹ کی تیز آواز گونجی،مگر میں وقتی طور پر محفوظ تھا۔ اگر لمحے بھر کی بھی دیر ہوئی ہوتی تو کلاشن کوف کی گولیاں مجھے چھلنی کر چکی ہوتیں۔بدبخت نے پوری میگزین ہی خالی کر دی تھی۔
اسی دوران میں چیخ و پکار شروع ہو گئی تھی۔”گاڈ سوئے جاگ ....حملہ ہوگیا ہے....دشمن نے پوسٹ کو گھیرے میں لے لیا ہے....“پوسٹ کے شمالی جانب وکرس گرجنے لگی۔یہ بات میرے حق میں جارہی تھی کہ دشمن سمجھ رہا تھا ان پر حملہ ہوا ہے۔ورنہ میرے پاس تو جو ہتھیار تھا اس کی کارگر رینج پندرہ بیس گز سے زیادہ نہ تھی اور اس کی گولی پوسٹ تک ہی نہیں جا سکتی تھی۔
جاری ہے
 

قسط نمبر10
ریاض عاقب کوہلر
میں بھاگ نکلنے کی راہ ڈھونڈنے لگا۔وہیں پڑا رہتا تو بے بس چوہے کی طرح پھنس جاتا۔ جب پوری پوسٹ جاگ جاتی تو ان کے فائر کے سامنے بھاگ نکلنا ممکن نہ تھا۔
اسی اثناءمیں کسی نے چیختے ہوئے سنتری کو ٹارچ بجھانے کا کہاکیوں کہ اگر واقعی پوسٹ پر حملہ ہو چکا تھا تو ٹارچ کی روشنی سے دشمن کو سنتری کو نشانہ بنانے میں آسانی رہتی۔
پتھر پر ہونے والا فائر لمحہ بھر کو رکااور ساتھ ہی ایک دم اندھیرا ہو گیا تھا۔تیز روشنی کے بعد تاریکی معمول سے زیادہ ہی محسوس ہوتی ہے،لیکن میں بڑے پتھروں کی جگہ اور وہاں تک پہنچنے کے رستے کے بارے اندازہ کر چکا تھا۔فائر رکتے ہی میں نے سرعت سے پتھر کی آڑ چھوڑی اور اگلے پتھر تک پہنچا اور وہاں بھی رکے بغیر چھلانگیں لگاتا ہوا مزید آگے بڑھ گیا۔اس سے آگے جھاڑیاں تھیں،گو جھاڑیاں گولیوں کے خلاف رکاوٹ نہیں ہوتیں مگر نظری آڑ مہیا کرتی ہیں ،یوں کوئی نشانہ سادھ کے فائر نہیں کر سکتاتھا۔
ان لمحات میں وہاں رکنا نہایت بے وقوفی تھی۔یقینا اتنی دیر میں دشمن دوسری پوسٹوں سے مدد منگوا کر مجھے گھیرنے کی کارروائی شروع کر سکتاتھا۔ میری طرف سے مسلسل خاموشی اسے سوچنے پر مجبور کر سکتی تھی کہ آخرمیں فائر کیوں نہیں کر رہاتھا۔
لمحہ بھر پتھریلی چٹان کے عقب میں لیٹ کر میں نے آگے کا لائحہ عمل سوچا اور پھر گھٹنوں کے بل چلتا ہوا سرعت سے جھاڑیوں کی طرف بڑھا۔دشمن اب تک اس پتھر پر فائر کر رہا تھا جہاں میں نے سب سے پہلے پناہ لی تھی۔لیکن خطرہ بہ ہرحال پہلے ہی کی طرح موجود تھا کہ گولیوں کے برسٹ فائر ہو رہے تھے اور کوئی بھی بھولی بسری گولی میری طرف متوجہ ہو سکتی تھی۔
جھاڑیوں کی آڑ میں آتے ہی میں بھاگ پڑا،کم از کم اب دشمن مجھ پر تاک کر نشانہ نہیں لگا سکتے تھے ۔بیس پچیس قدم ہی لیے تھے کہ ٹھوکر لگنے سے میں اوندھے منہ گرا۔ سامنے ہاتھ ٹیک کر میں نے بہ مشکل چہرے کو پتھریلی زمین سے ٹکرانے سے روکا تھا۔وہ کوئی سڑک یا سیدھا راستہ نہیں تھا کہ میں اندھیرے میں بغیر روشنی جلائے بھاگ سکتا۔
اٹھ کر میں نے موبائل فون کی مدہم ٹارچ جلائی ،اس کی مدد سے میں ٹھوکریں کھانے سے بچ سکتا تھا، ورنہ بعید نہ تھا کہ گھٹنا یا ٹخنہ وغیرہ تڑوا بیٹھتا۔
میں تیز رفتاری سے وہاں سے دور ہوتا گیا،میرا سانس بری طرح پھول گیا تھا۔آکسیجن کی کمی وجہ سے مسلسل دوڑنا ممکن ہی نہیں۔سو دو سو گز دور آکر میں دوڑنے کے بجائے لمبے قدموںسے آگے بڑھنے لگا۔پوسٹ سے ڈیڑھ دو فرلانگ کے فاصلے پر میرے سامنے دوراہا آگیا۔دائیں ہاتھ جانے والانالہ نسبتاََ بلند ہوتا دکھائی دے رہا تھا،جبکہ دائیں والا نالہ نشیب کی طرف گامزن تھا۔جس نالے میں میں چل کر آرہا تھا،اس کی تہہ میں پانی کی پتلی دھار بہہ رہی تھی اور دائیں والے نالے سے بھی پانی کی ہلکی سی مقدار آتی دکھائی دے رہی تھی، ان دونوں نالوں کا پانی بائیں طرف والے نالے میں اکٹھا ہو گیا تھا۔
میں لمحہ بھر کو اس جگہ پر رکااور پھر بائیں جانب والا راستہ منتخب کر کے مڑ گیا۔چڑھائی چڑھنے سے نشیب میں اترنا زیادہ مناسب تھا۔میں نے جونھی قدم بڑھائے،اچانک عقب میں روشنی نظر آئی،مڑ کر دیکھا تو دور جھاڑیوں میں ٹارچ کی روشنی جھلک رہی تھی۔میرے قدموں میں پھر تیزی آگئی تھی۔پانی نالے کے درمیان میں بہہ رہا تھامیں بائیں جانب پہاڑی سلسلے کی جڑ میں آگے بڑھنے لگا، گو ایک بارسوچاضرورتھا کہ نالے کے بجائے پہاڑی کے اوپر چڑھنے کی کوشش کروں،مگرایک تو تھکن کی وجہ سے ہمت نہ جتا سکادوسرا اس جگہ چڑھائی کافی مشکل اور دشوار گزار دکھائی دے رہی تھی ، اس لیے طے کیا کہ آسان ڈھلان آنے کے بعد بلند ہونے کی کوشش کروں گا۔
نالے کی اترائی فرلانگ بھر تو نہایت ہموار رہی ،مگر پھر سخت ناہموار ہو گئی،راہ میں بڑے بڑے گڑھے نمودار ہونے لگے۔ نالے کی چوڑائی بھی سکڑنے لگی،تب مجھے لگامیں نے چڑھائی نہ چڑھ کر غلطی کی تھی۔مگر اب فیصلہ میرے ہاتھ سے نکل گیا تھا ،کیوں کہ اس جگہ نالے کے کنارے ایسے سیدھے ہو گئے تھے کہ کوہ پیمائی کے سامان کے بغیر اوپر چڑھنا ممکن نہ تھااور پیچھے مڑنے کی گنجائش بھی باقی نہیں رہی تھی۔مجبوراََ مجھے نالے ہی میں آگے بڑھنا پڑا۔
نالہ بتدریج تنگ ہونا شروع ہو گیا تھا ،جس کی وجہ سے چلنے کو راستہ بہت کم بچ رہا تھا اور مجھے خطرہ تھا کہ آگے چل کر پانی میں گھسنا ناگزیر ہوجاتا۔
میں اس صورت حال سے پیچھا چھڑانے کا سوچ ہی رہا تھا کہ سماعتوں میں پانی گرنے آواز گونجنے لگی یوں جیسے پانی بلندی سے نیچے گر رہا ہو،اور جیسے جیسے میں آگے بڑھتا گیا شور زیادہ ہوتا گیا۔ میں دل ہی دل میں نئی مصیبت کا سامنا کرنے کو تیار ہو گیاتھا۔سو ڈیڑھ سو قدم لینے کے بعد ایک دم زمین غائب ہو گئی تھی اور پانی تیس پینتیس گز نیچے گر رہا تھا۔وہ مقام ایسا تھا کہ جہاں سے آگے بڑھنا نہایت دشوار تھا ۔وہاں” پیچھے کنواں آگے کھائی “والا محاورہ بالکل صادق آرہا تھا۔میں موبائل فون کی مدہم روشنی میں دائیں بائیں کا جائزہ لینے لگا۔ میں نالے کے بائیں جانب موجود تھا،دائیں جانب ایک مضبوط تنے والا درخت موجود تھا،جو نالے پر یوں جھکا تھا کہ اس کی شاخیں بائیں طرف کی پہاڑی کے ساتھ ٹکرا رہی تھیں۔اس درخت کے علاوہ کوئی راستہ موجودنہ تھا ۔میرے پاس رسی موجود تھی مگر اس کی لمبائی کم تھی۔ رسی ،چاقو، چھوٹے دستے کی کلھاڑی وغیرہ ایسے لوازمات ہیں جو ہرسنائپر لازماََ اپنے پاس رکھتا ہے۔ اس کے علاوہ بھی سنائپنگ کا مخصوص سامان ہوتا ہے مگر وہ تب پاس رکھا جاتا ہے جب سنائپر رائفل بھی پاس ہو۔
میں نے پندرہ بیس قدم پیچھے چل کر ایسی جگہ تلاش کی جہاں سے چھلانگ لگا کر میں دوسری جانب پہنچ سکتا،وہاں ایک بڑا پتھر پڑا تھا جو بالکل صاف تھا۔وہ آدھا پانی میں ڈوبا ہوا تھا،نالے کے مخالف کنارے پر بھی ایک ایسا ہی پتھر نظر آرہا تھادونوں کے درمیان میں قریباََ سات آٹھ فٹ کا فاصلہ تھاجہاں سے پانی نہایت زور سے گزر رہا تھا۔اس پتھر سے چھلانگ لگا کر دوسری جانب یوں پہنچنا اتنا آسان بھی نہ تھاوہ بھی ایسی صورت میں نیچے گرنے کی صورت میں شاید تیز پانی مجھے نالے کے کٹاﺅ تک سنبھلنے کا موقع ہی نہ دیتا اور اگر میں وہاں سے تیس پینتیس گز نیچے گہرائی میں گر جاتا تو شاید زندہ بچ جاتا مگر کوئی نہ کوئی ہڈی پسلی ضرور تڑوا بیٹھتا۔
پتھر پر کھڑ ے ہو کر میں نے پہلے اپنا بیگ دوسری جانب پھینکا،کہ ایسی صورت حال میں ہلکا سا وزن بھی بہت زیادہ محسوس ہوتا ہے۔ گو ساتھ آٹھ فٹ اتنا زیادہ فاصلہ نہیں تھا،مگر مسئلہ یہ تھا کہ کھڑے کھڑے چھلانگ لگانا تھی۔اگرچند قدم دوڑنے کی تھوڑی سی بھی گنجائش ہوتی توایک فوجی کے لیے وہ کوئی فاصلہ ہی نہیں تھا۔اسالٹ کورس کے دوران میں ہمیں نو فٹ کا گڑھا مع جھولا اور ہتھیار پار کرنا پڑتا تھا،مگر وہ اس لیے آسان ہوتا تھا کہ دوڑ کر چھلانگ لگاناپڑتی تھی۔پتھر پر کھڑے ہو کر میں نے پہلے تو ٹارچ کی روشنی میں دوسرے پتھر کا اچھی طرح جائزہ لیا ،پھر موبائل فون جیب میں ڈال کر میں نے جسم کو تولا اور قدم آگے بڑھا کر پتھر کے بالکل آخری کنارے پر پاﺅں رکھا اور ہوا میں اچھل گیا۔میرے دونوں ہاتھ آگے کو بڑھے ہوئے تھے کہ پتھر تک نہ پہنچنے کی صورت میں پتھر کے کنارے پر اپنی گرفت جما سکوں،مگر خیریت گزری اور میرے پاﺅں دوسرے پتھر کے اوپر پڑے۔میں نے فوراََ جھک کر توازن برقرار رکھا کہ وہ پتھر بھی بالکل صاف تھا۔
گہرا سانس لے کر میں نے اللہ پاک کا شکر ادا کیا اور پتھر سے نیچے اتر کر بیگ کندھوں میں پہن لیا۔اسی وقت مجھے ٹارچ کی چمک دکھائی دی ،یقینا دشمن اس نالے میں آگے بڑھ رہا تھا۔چونکہ وہ مجھے تلاش کرتے ہوئے آرہے تھے اس وجہ سے ان کی رفتار نسبتاََ کم تھی۔شاید وہ دوراہے سے دو ٹولیاں بنا کر تقسیم ہو گئے تھے ۔
میرے قدموں میں بجلی بھر گئی تھی،دشمنوں کے وہاں پہنچنے سے پہلے مجھے آگے بڑھنے یا کسی مناسب جگہ چھپنے کی ترکیب کرنا تھی۔درخت کے تنے تک میں بھاگ کر پہنچا وہاں موبائل فون کنٹوپ میں اڑس کر میں درخت کے تنے پر محتاط انداز میں اوپر چڑھنے لگا۔ وہ تنا قربیاََ چالیس ڈگری پر جھکا ہوا تھا۔ تنے سے گزر کر میں شاخوں تک پہنچا اور آگے بڑھتا گیا۔درخت کی شاخیں پہاڑی کی دوسری دیوار تک تو پہنچ گئی تھیں،مگر آگے راستہ بند تھا۔دیوار بالکل سیدھی تھی وہاں سے پہاڑ کے اوپر چڑھنا ممکن تھااور نہ زمین کے متوازی آگے بڑھنا۔البتہ جس جگہ درخت کی شاخیں ختم ہو رہی تھیں وہیں پہاڑی دیوارکے ساتھ ایک اور چھوٹا سا درخت موجود تھا،جس کے بالکل ساتھ ایک بڑی پتھریلی چٹان آگے کی طرف بڑھی ہوئی تھی ۔چٹان کے ساتھ فٹ بھر جگہ ایسی تھی جہاں پاﺅں ٹکا کر مجھے اتنی آڑ ضرورمیسر ہو جاتی کہ دشمن کے دکھاﺅ سے بچ جاتا۔ وہاں دشمن مجھے اس درخت کی شاخوں تک پہنچ کر ہی دیکھ سکتا تھا۔
میں آگے بڑھا،مگر مسئلہ یہ ہو گیا کہ شاخیں نرم ہونے کی وجہ سے میرے وزن سے نیچے جھک رہی تھیں اور میرا ہاتھ چھوٹے درخت تک نہیں پہنچ پا رہا تھا۔لمحہ بھر سوچ کر میں نے اپنے تھیلے سے رسی نکالی اس کے ایک سرے سے ہلکا سا وزن باندھ کر درخت کے تنے کی طرف اچھالا۔ایک دو بار ناکامی ہوئی لیکن تیسری کوشش میں پتھر درخت کے تنے کے اوپر سے گزارنے میں کامیا ب ہو گیا تھا۔رسی کو ڈھیلا کرنے پر دوسرا سرا بھی سرکتا ہوا مجھ تک پہنچ گیا۔وزن کھول کر میں نے دونوں سروں کو ملا کر پکڑا اور پتھریلی ڈھلوان پر پاﺅں ٹیکتا ہوا بلند ہو نے لگا۔
اچانک تڑتڑاہٹ کی بلند آواز ابھری، ایک بار تو دل زور سے دھڑکا کہ شاید دشمن نے مجھے دیکھ لیا ہے،مگر چند اور گولیاں چلنے کے بعد اطمینان ہو گیا تھا کہ دشمن تلاشی فائر کر رہے تھے۔
چھوٹے درخت کے تنے کے قریب پہنچ کر میں نے رسہ درخت کے تنے سے نکالے بغیر اپنی کمر سے لپیٹا اورپتھر کے دائیں طرف ہونے کی کوشش کرنے لگا۔ڈھلوان پر پاﺅں جمانے کی ذرا سی جگہ بھی نہیں مل رہی تھی۔اسی دوران میں روشنیاں آہستہ آہستہ قریب آرہی تھیں۔میں نے چاقو سے ڈھلوان کے اوپر چھوٹا سا گڑھا بنایا اور اس میں ایک پاﺅں رکھ کر ہاتھوں کو پتھر کی کھردری سطح پر جما دیااور احتیاط سے دوسرا قدم پتھر کے نیچے بنی ہلکی سی درز میں دے کر اسی قدم پر زور دیتے ہوئے پتھر کے دوسری جانب پلٹ گیا۔وہاں چند انچ کے بہ قدر جگہ موجود تھی جہاں میں بہ مشکل کھڑا ہو سکتا تھا،لیکن اس کا فائدہ یہ تھا کہ دشمنوں کی نظروں میں آنے سے محفوظ ہو گیا تھا۔اگر دشمن نالے والے درخت کے تنے کو عبور کر کے شاخوں تک پہنچ جاتے پھر انھیں نظر آسکتاتھا۔رسی چونکہ مٹیالے رنگ کی تھی اوررات کے وقت اتنی آسانی سے نہیں دیکھی جا سکتی تھی اس لیے میں نے اسے کھولنے کی کوشش نہ کی۔ یوں بھی رسی کا بندھا رہنا میری حفاظت کے لیے ازحد ضروری تھا۔
تھوڑی دیر بعد ہی وہ اس جگہ پہنچ گئے تھے جہاں سے آگے سفر کرنا مشکل تھا۔وہ تیز روشنی سے نالے کا جائزہ لینے لگے،میری نظریں بھی روشنی کے ساتھ نشیب کی طرف متوجہ ہو گئی تھیں ۔گہرائی میرے اندازے کے مطابق پچیس تیس گز سے کم نہ تھی۔طرفہ تماشا یہ کہ نیچے اترنے کا کوئی رستہ نظر نہیں آرہا تھا۔میں پتھر کے عقب سے سر نکال کربہ غور دیکھ رہا تھا۔ٹارچ والا جب اس ڈھلوان کی طرف روشنی پھینکتا تو میں جلدی سے پیچھے ہو جاتااور جونھی روشنی کا رخ تبدیل ہوتا میں دوبارہ انھیں دیکھنے لگ جاتا۔ پانی کے شور کی وجہ سے ان کی آواز مجھ تک نہیں پہنچ رہی تھی۔میں نے گنتی کی،وہ دس آدمی تھے۔ قریباََ تمام کے ہاتھ میں کلاشن کوفیں نظر آرہی تھیں۔
اچانک سب سے آگے کھڑے شخص نے کلاشن کوف سیدھی کی، نال کا رخ درخت کی شاخوں کی طرف تھا،یقینا وہ اس درخت کی شاخوں میں میری غیر موجودی کی تصدیق کرنا چاہ رہا تھا۔ اگلے ہی لمحے فضا کلاشن کوف کی تڑتڑاہٹ سے گونج اٹھی۔ بدبخت نے پوری میگزین ہی خالی کر دی تھی۔ اسی خدشے اور خوف کی وجہ سے میں نے درخت کی شاخوں میں چھپنے سے گریز کیا تھا۔ وہاں چھپنے کو ان دو درختوں کے علاوہ کوئی جگہ نہ تھی۔اگلی باری اس چھوٹے درخت کی آئی جس کے تنے سے میری رسی بندھی تھی۔اس مرتبہ بھی اس نے پوری میگزین ہی خالی کر دی تھی۔کلاشن کوف پر عام طور پر استعمال ہونے والی میگزین میں تیس گولیاں آتی ہیں ۔یہ کافی تیز ریٹ آف فائر والا ہتھیار ہے۔ اگرمسلسل ٹریگر دبا کر رکھا جائے تو ایک منٹ میں 700سے 800راﺅنڈ فائر کرسکتا ہے۔
چند گولیاں اس پتھر سے بھی ٹکرائی تھیں جس کے عقب میں میں موجود تھا۔البتہ وہاں ڈھلوان اتنی سیدھی اور مشکل تھی کہ کسی کو شک بھی نہیں ہو سکتا تھا کہ کوئی اس پتھر کے عقب میں بھی چھپ سکتا ہے۔
اچانک میری کمر سے بندھی رسی ڈھیلی ہو ئی اور ساتھ ہی یہ روح فرسا انکشاف ہوا کسی اندھی گولی نے رسی کو کاٹ کر میرے لیے مسائل بڑھا دیے تھے۔ اب اس پتھر کے عقب سے واپس درخت تک پہنچنا ناممکن نہیں تو دشوار ترین ضرور بن گیا تھا۔کیوں ذرا سی غلطی مجھے نشیب یاترا پر روانہ کر سکتی تھی۔ وہاں سے تو گہرائی کا سفر چند گز مزید بڑھ گیا تھا۔
انھوں نے دو تین میگزینیں نشیب میں بھی خالی کیں۔وہ” کھسیانی بلی کھمبا نوچے۔ “کی کہاوت کاعملی مظاہرہ پیش کر رہے تھے۔پندرہ بیس منٹ بعد انھیں میرے وہاں نہ ہونے کا یقین ہو گیا تھا۔پھر سیٹ پر کسی سے بات کر کے وہ واپس مڑ گئے تھے۔روشنیاں لمحہ بہ لمحہ دور ہونے لگیں۔ ایک خطرہ تو ٹل گیا تھا لیکن وہاں سے اترنے کا مسئلہ ہنوز باقی تھا۔رسی کو کمر سے کھول کر میں نے ٹوٹی ہوئی جگہ پر گانٹھ لگالی،مگر اسے واپس درخت کے تنے تک پھینکنا ممکن نہ تھا۔پہلے میں درخت سے نیچے تھا اس وجہ سے ترکیب کام آگئی تھی۔اب درخت میرے متوازی بلکہ قدرے نیچے تھا۔رسی تھیلے میں ڈال کر میں نے بوٹ و جرابیں بھی اتار کر تھیلے میں ڈالیں ،موبائل جلا کر کنٹوپ میں اڑس لیا۔نیچے اترنا موت کے دروازے پر دستک دینے کے مترادف تھا۔
چاقو سے میں نے پہلے کی طرف پاﺅں رکھنے کی جگہ بنائی، پتھر کے نیچے پاﺅں دے کر میں نے دوسرا پاﺅں چھوٹے سے گڑھے میں رکھااور پتھر کی درز سے پاﺅں نکال کر اس مختصر سے گڑھے میں دونوں پاﺅں رکھ دیے،یوں کہ دونوں ہاتھ دیوار کی طرح سیدھی ڈھلوان سے ٹیک دیے تھے۔اس حالت میں بیٹھنا ممکن نہ تھا کہ پاﺅں کے لیے دوسرا گڑھا بنا سکتا،بڑی مشکل سے میں نے اپنا توازن برقرار رکھا ہوا تھا۔لمحہ بھر اسی حالت میں رہ کر میں نے اپنا رخ ڈھلوان کہ جانب رکھے رکھے بائیں جانب ممکن حد تک جھکا اور چاقو کی مدد سے ایک اور گڑھا بنا دیا ،جو پہلے والے گڑھے سے ڈیڑھ دو فٹ بلند اور دو فٹ چھوٹے درخت کی طرف تھا۔گڑھا اتنا چوڑا ضرور تھا کہ اس میں دونوں پاﺅں کے پنجے سما سکیں ۔ سیدھا کھڑے ہو کر میں نے توازن درست کیا اور بایاں پیر آہستگی سے آگے بڑھا کر دوسرے گڑھے میں جما دیا۔وہ ڈھلوان قریباََدیوار کی طرح ہی سیدھی تھی اس وجہ سے مجھے توازن برقرار رکھنے میں کافی دشواری پیش آرہی تھی۔بایاں قدم اگلے گڑھے میں جما کر میں نے دوسرا قدم بھی دھیرے سے کھسکا کر اگلے گڑھے میں رکھ دیا،اس دوران میں میں نے اپنے ہاتھ ڈھلوان میں گڑے ایک پتھر پر جمادیے جو دو تین انچ ابھرا ہوا تھا۔تبھی مجھ سے حماقت سرزد ہوئی ،چھوٹے پتھر کی مضبوطی جانچنے کو میں نے قدرے زور سے نیچے کی طرف کھینچا،مگر پتھر میرے اندازے سے کہیں زیادہ کچی جگہ پر گڑا تھا،ایک دم اکھڑا کر میرے ہاتھ میں آگیا تھا،اس کے ساتھ ہی میرا توازن بگڑا ،بغیر لمحہ ضائع کیے میں دونوں قدموں پر زور دے کر اچھلا ،میرے ہاتھ چھوٹے درخت کے تنے کی طرف بڑھے،مگر بجائے تنے کے ایک جڑ میرے ہاتھ میں آئی تھی،میں نے اسے مضبوطی سے پکڑ لیا کہ وہ غیر اہم سی جڑ اس وقت میری زندگی کی ضمانت تھی۔
مجھے زور سے جھٹکا لگاپورے جسم کا وزن دائیں ہاتھ پر منتقل ہو گیا تھا۔میں نے سرعت سے بایاں ہاتھ بھی جڑ کی طرف بڑھا دیا۔ساتھ ہی گہرے سانس لے کر خود کو نارمل کرنے لگا۔جڑ بہ ظاہر مضبوط تھی مگر اس پر مکمل بھروسا نہیں کیا جا سکتا تھا۔لمحہ بھر لٹکنے کے بعد میں ہاتھوں کے زور سے آہستہ آہستہ اوپر اٹھنے لگا۔شاید میری آزمائش ابھی پوری نہیں ہوئی تھی اچانک ہی جڑ ٹوٹ گئی....میں وزنی چٹان کی طرح نیچے گرا، میرے ہاتھ کسی سہارے کی تلاش میں ہوا میں لہرائے اور اسے اپنی خود قسمتی ہی کہوں گا کہ میں نالے پر جھکے بڑے درخت کی شاخوں پر گرا، وہ اس چھوٹے درخت کے بالکل نیچے ہی تھا۔ میں نے دیوانہ وارشاخوں پرگرفت جمائی اور ہاتھوں کے سہارے لٹک گیا۔دل بری طرح دھڑک رہا تھا۔زندگی کا بیشتر حصہ پہاڑی علاقے میں گزارنے کے باوجودایسی صورت حال سے میرا پہلی بار واسطہ پڑا تھا۔
گہرے گہرے سانس لے کر میں نے ہمت مجتمع کی ۔درخت کی شاخوں پر میں دس بارہ فٹ بلندی سے گرا تھا،اس وجہ سے ہاتھوں کو شدید جھٹکا لگا تھا۔پیچھے چھوٹے درخت کی جڑ کو پکڑ کر بھی میں تھوڑی دیر بازوﺅں کے سہارے معلق رہا تھااور انسانی بازوایک حد تک ہی بدن کا بوجھ سہار سکتے ہیں۔ میں ربوٹ ہوں ،نہ خلائی مخلوق اور نہ کوئی سپر یا ماورائی طاقت رکھتا ہوں۔ ایک عام سا انسان ہوں اور کوئی خوبی ہے بھی سہی تو وہ تربیت کے مرہون منت ہے۔کوئی بھی شخص مسلسل مشق کر کے مجھ جیسا بلکہ کئی گنا بہتر بن سکتا ہے۔
زیادہ دیر لٹکنے سے تھکن مزید بڑھتی اس لیے چند گہرے سانس لے کر میں نے بازوﺅں کے بل پر اوپر اٹھنے کی کوشش کی اور اسی دم نالے کی جانب سے ٹارچ کی روشنی چمکی۔دشمن کی وہی یا کوئی اور ٹولی اس جانب روانہ تھی۔میں آسمان سے گر کر کھجور میں تو اٹکا ہی تھا ،اب کھائی میں بھی گرنے والا تھا۔
پہلے انھوں نے درخت کی شاخوں پر فائر کیا تھااور یہ حرکت دہرائی بھی جا سکتی تھی اس وجہ سے درخت کی شاخوں میں پناہ لینے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا۔پتھر کے عقب میں پہنچنا بھی ممکن نہیں رہا تھا کہ جب تک میں گزشتا کارروائی دہراتا دشمن نے وہاں پہنچ جانا تھااور تیسری کوئی صورت میرے دماغ میں موجود نہ تھی۔میرے پاس سوچنے کا وقت بھی نہیں تھا کہ لمبی تان کر کوئی عمدہ ترکیب سوچنے کی کوشش کرتا۔میں نے زیادہ سر کھپانے کے بجائے فوری طور پر فیصلہ کیا ،شاخوں کو دائیں ہاتھ سے تھام کر بائیں ہاتھ سے تھیلے سے رسی نکالی،اسے دائیں ہاتھ میں پھنسا کر بائیں ہاتھ سے مضبوط گرہ لگائی اور رسی کو بائیں ہتھیلی پر لپیٹ کر دھیرے دھیرے نیچے کھسکنے لگا۔رسی کو براہ راست تھامنا دشوار تھا کہ ایک تو رسی زیادہ موٹی نہیں تھی ،میرے ہاتھ میں دستانے بھی نہیں تھے اور سچ کہوں تو ہاتھوں میں طاقت بھی ختم ہوتی جا رہی تھی۔اس لیے میں باری باری ایک ہاتھ پر رسی کو دو بل دیتا اور اس کے سہارے لٹک کر دوسرے ہاتھ کو آزاد کرادیتا ۔ مسلسل یہ عمل دہراتے ہوئے میں رسی کے آخری سرے پر پہنچ گیا۔موبائل کی ٹارچ میں نے دشمن کی آمد کا پتا چلتے ہی بجھا دی تھی۔
اندھیرے کی وجہ سے نیچے جھانکنے پر کچھ نظر نہیں آرہا تھا۔میں پہلے سے کافی نیچے آگیا تھا اس وجہ سے دشمن نظر نہیں آرہے تھے۔میں نے خطرہ مول لیتے ہوئے موبائل فون کی ٹارچ جلائی اور جائزہ لینے لگا۔چار پانچ گز نیچے ایک جھاڑی نظر آئی،اب یہ اندازہ نہ تھا کہ وہ مضبوط تھی یا نہیں،لیکن جن حالات سے میں گزر رہا تھا،احتیاط کرنا میرے لیے ممکن نہیں رہا تھا۔اگر دشمن سامنے نہ بھی آتے پھر بھی میں رسی کے ساتھ مسلسل لٹک نہیں سکتا تھا۔واپس لوٹنا بھی ممکن نہ تھا کہ بازو تھکن کے مارے شل ہوتے جا رہے تھے۔
بائیں ہاتھ سے رسی تھام کر میں نے دائیں بازو کو تھوڑا آرام دیا اور پھر موبائل فون کنٹوپ میں اڑس کر ،جھاڑی کو تاکتے ہوئے رسی چھوڑ دی۔لمحہ بھر میںہوا میں معلق رہا اور پھر زور دار جھٹکے سے جھاڑی سے ٹکرایا۔میرے ہاتھوں نے لمحے کا کوئی حصہ ضائع کیے بغیر جھاڑی کی شاخوں پر گرفت جمائی، اس کے ساتھ ہی منہ سے زور دار کراہ نکل گئی تھی۔کانٹے دار شاخوں نے ہتھیلیوں کو خوش آمدیدکہا تھا،مگر ان لمحات میں جھاڑی کی حیثیت کڑوی دوائی یا ناسور کاٹنے والے نشتر جیسی ہو گئی تھی۔اگر صحت مطلوب ہو تو طبیعت پر سخت بوجھ ہونے کے باوجود انھیں برا سمجھا جاتا ہے نہ جان چھڑانے کی کوشش کی جاتی ہے۔میں بھی جھاڑی کو تھامنے پر مجبور تھا۔
جونھی گرفت مضبوط ہوئی میں نے پاﺅں ٹکانے کو ڈھلوان پر جگہ محسوس کرنے کی کوشش کی، پہلی سعی کامیاب رہی تھی۔ایک ابھرے پتھر پر پاﺅں ٹکا کر میں نے باری باری دونوں ہاتھوں کو جھاڑی سے علیحدہ کر کے اکادکا کانٹے اپنے ہونٹوں سے محسوس کر کے باہر نکالے۔اور پھر نیچے کاجائزہ لینے لگا۔ آدھے سے زیادہ سفر میں نے طے کر لیا تھا۔اب زمین پندرہ سولہ گز سے زیادہ دور نہ تھی۔مگر یہ بلندی بھی مجھے عارضی طور پر ناکارہ کر سکتی تھی۔
وہاں تک پہنچتے ہوئے مجھے تین چار منٹ سے زیادہ نہیں لگے تھے،لیکن تھکن یوں محسوس ہورہی تھی جیسی کئی گھنٹوں سے وہاں لٹکا ہوا ہوں۔دشمن اب تک اتنے قریب نہیں آئے تھے کہ نشیب میں جھانک سکتے۔میرے پاس چند منٹ کی مہلت موجود تھی۔
اطراف کا جائزہ لینے پردائیں ہاتھ دو تین گز دور ایک پتھر ڈھلوان سے ڈیڑھ دو فٹ آگے بڑھا ہوا نظر آیا،لیکن چھلانگ لگا اس پرٹھہرنا کافی دشوار نظر آرہاتھا کیوں کہ نزدیک کوئی ایسی چیز موجود نہ تھی جسے پکڑ کر میں توازن برقرار رکھ پاتا۔بالکل سیدھ میں نیچے کی جانب چھے سات گز دورایک اور جھاڑی موجود تھی ، لیکن اتنے طویل فاصلے پر جھاڑی پر گرفت جمانا کافی دشوار نظر آرہا تھا۔البتہ قدرے بائیں اور نیچے اڑھائی تین گز دور نسبتاََ چھوٹی جھاڑی مجھے موزوں لگی تھی۔کیوں کہ اس کے مزید تین چار گز نیچے ایک اور جھاڑی بھی موجود تھی ۔جھاڑی پر گرفت نہ جمنے کی صورت میں دوسری جھاڑی مجھے سنبھلنے کا دوسرا موقع فراہم کر سکتی تھی۔
فیصلہ کرتے ہی میں لمحہ ضائع کیے بغیر دونوں قدموں پر زور دے کر اچھلا ،میرے ہاتھ جھاڑی پر پڑے،زور دار جھٹکا لگا ،صرف ایک لمحہ میں جھاڑی کے سہارے لٹکا رہا مگر پھر وہ جڑ سے نکل گئی۔یہ خدشہ میرے ذہن میں پہلے سے موجود تھاتبھی حفظ ماتقدم کے طور پر اس جھاڑی کو چنا تھا۔نیچے والی جھاڑی پر کامیابی سے گرفت جما کر میں نے پاﺅں ڈھلان پر ٹیکے ،بازوﺅں کو مسلسل جھٹکے لگ کر کندھوں کی جڑیں درد کرنے لگی تھیں۔لمحہ بھر رک کر میں نے سانس بحال کیا اس دوران میں دشمن کی ٹارچیں کٹاﺅ کے قریب پہنچ گئی تھیں۔اگر میں وہیں لٹکا رہتا تو ان کی نظروں میں آنے سے نہیں بچ سکتا تھا۔ اور اگر وہ دیکھ لیتے تو آسانی سے نشانہ بنا لیتے کہ سو ڈیڑھ سو گز کا فاصلہ اتنا بھی زیادہ نہیں ہوتا۔
نیچے دیکھنے پر مجھے کافی تسلی ملی تھی،زمین پندرہ سولہ فٹ سے زیادہ دور نہیں تھی۔نیچے پتھروغیرہ کی غیر موجودی کا یقین کر کے میں نے جھاڑی چھوڑ دی۔زمین سے جونھی قدم ٹکرائے میں فوراََ لوٹنی لگاکر کھڑا ہوا تاکہ پاﺅں کو زیادہ جھٹکا نہ لگے۔اور پھر سیدھا ہوتے ہی قریبی چٹان کی طرف بھاگ پڑا۔ کیوں کہ نالے کے کٹاﺅ کی جانب سے مجھے تیز روشنی کی جھلک نظر آگئی تھی۔
تیز روشنی نے جلد ہی مجھے ڈھونڈ لیا تھا کہ حرکتی ہدف جلدی نظر آجاتا ہے۔تڑتڑاہٹ کی آواز گونجی،میں سرعت سے اوندھے منہ گر گیا تھا۔لیکن یہ ایک اضطراری حرکت تھی،فائر شدہ چھٹے کے خلاف ہر قسم کی تیزی بے کار جاتی ہے الا یہ کہ فائرر کا نشانہ چوک جائے۔خود پر گولیاں چلانے والوں کو اناڑی کہنا تو مناسب نہ ہو گا کہ وہ تربیت یافتہ فوجی تھے۔البتہ فائر کی باریکیوں سے واقف نہ تھے۔ بلندی سے نشیب میں فائر کرنے کو انھیں رینج کم رکھنے کی ضرورت تھی جو وہ نہیں رکھ پائے تھے۔کلاشن کوف کی کارگر رینج تین سو میٹر ہے اور ہر کلاشن کوف بردار نے عموماََ یہی رینج لگائی ہوتی ہے۔
میرے گرنے پر انھوں نے سمجھا میں نشانہ بن گیا ہوں ،تبھی فائرنگ رکی ،میں نے لیٹے لیٹے زقند بھری اور پتھریلی چٹان کے قریب پہنچ کر اس کے عقب میں سرک گیا۔
دشمن نے دوبارہ فائر کھولا،مگر مجھے آڑ میسر آگئی تھی۔کلاشن کوف کی ایک دو میگزین خالی کرنے کے بعد انھیں احساس ہو گیا تھا کہ وہ فائر میرا کچھ نہیں بگاڑ سکتا تھا۔فائر رک گیامیں نے پتھر سے جھانکا،ایک آدمی درخت کے تنے کے ساتھ کچھ باندھ رہا تھا۔ ایک دم صورت حال مجھے واضح ہو گئی تھی۔ وہ رسی باندھ رہے تھے تاکہ نیچے اتر سکیں۔جو روشنی انھوں نے میری نگرانی کو جلائی ہوئی تھی وہ نقصان کے ساتھ کارآمد بھی تھی۔نقصان دہ اس لیے کہ میری نقل و حرکت انھیں نظر آرہی تھی اور مفید اس لیے کہ مجھے بھی دکھاﺅ میسر ہو گیا تھا۔اب وہاں پڑے رہنے کو میں حماقت کے علاوہ کوئی نام نہیں دے سکتا تھا۔
جاری ہے
 

Create an account or login to read stories

You must be a member in order to leave a comment

Create account

Create an account on our community. It's easy!

Log in

Already have an account? Log in here.

New posts
Back
Top