- Thread Author
- #1
عرصہ دراز قبل جب انٹرنیٹ ایجاد نہیں ہوا تھا، سمارٹ فون نہیں ہوتے تھے، گلی محلوں میں لائبریریاں ہوتی تھیں۔ بچے بڑے وہاں سے اپنے ذوق و شوق کے مطابق کتابیں کرائے پر لیتے تھے اور مطالعے سے لطف اندوز ہوتے تھے۔ اس وقت کتب و رسائل کا مطالعہ آج کل کے انٹرنیٹ کی طرح تھا۔
ہر طرح کے کتب و رسائل ملتے تھے، ادبی کتب سے لے کر فلمی رسائل تک، جاسوسی ڈائجسٹ، سسپنس ڈائجسٹ سے لے کر چترالی میگزین تک۔
حصہ اول
ستر کی دہائی تھی، وہ وقت جب مظفر گڑھ کی کچی گلیوں سے نکل کر کراچی کی چکا چوند بھری سڑکوں پر قدم رکھنا ایک خواب سا لگتا تھا۔ میں، عامر، صرف اکیس برس کا ایک دیہی لڑکا، کام کی تلاش میں روشنیوں کے شہر میں آیا تھا۔ دن بھر فیکٹریوں کے چکر کاٹتا، نوکری کے خواب دیکھتا، اور شام کو اپنے کرائے کے فلیٹ پر لوٹتا۔ یہ فلیٹ بلڈنگ کی تیسری منزل پر تھا، چھوٹا سا، دیواروں پر پرانی پوسٹرز چپکی ہوئیں، میرا دو کمروں کا فلیٹ تھا، فلیٹ میں داخل ہوتے ہی ایک کمرہ تھا، اس کمرے کے ساتھ بالکونی تھی۔ جو سامنے سڑک کی طرف تھی۔ بالکونی میں جانے کے لئے دروازہ تھا اور ایک کھڑکی بھی بالکونی میں کھلتی تھی۔ مجھے اس بالکونی میں جانا اور کھڑکی کھولنا منع تھا، کیونکہ اس بلڈنگ کے سامنے والی بلڈنگ میں بھی فلیٹ تھے، اور وہاں سارا دن خواتین اٹھتی بیٹھتی نظر آتی تھی۔۔ اس لئے مجھ چھڑے چھانٹ کو یہ فلیٹ انہی شرائط پر دیا گیا تھا۔
اس بلڈنگ کے بالمقابل بلڈنگ کے فلیٹ اس بلڈنگ کے متوازی تھے، اور دونوں عمارتوں کی خواتین سامنے والے فلیٹ کی خواتین سے ہم سایوں کی طرح برتاؤ کرتی تھی۔
پہلے کمرے سے گزر کر دوسرا ہمراہ تھا جس میں اٹیچ ٹوائلٹ تھا اور یہ ٹوائلٹ جس کا روشندان سڑک پار والی بلڈنگ کی طرف کھلتا تھا۔ یہ روشندان چہرے کی اونچائی پر لگا تھا – وہ روشندان میری دنیا کا واحد کھڑکی نما دروازہ بن گیا تھا!
شروع میں تو میں تھکا ہارا واپس آتا اور سیدھا بستر پر گر جاتا۔ لیکن ایک شام، جب سورج ڈوبنے لگا تھا اور شہر کی گلیوں میں ہلکی سی ٹھنڈک اترنے لگی، میں ٹوائلٹ میں گیا۔ اٹھ کر تازہ ہوا کا سانس لینے کے لیے روشندان سے باہر جھانکا۔ میں نے ادھر دیکھا تو سڑک پار والی بلڈنگ کے فلیٹ میں، ایک لڑکی نظر آئی۔ وہ آئینے کے سامنے بیٹھی تھی، میک اپ کر رہی تھی۔ اس کا فلیٹ ہمارے بالکل سامنے تھا، تیسری منزل پر، اور روشندان کی اونچائی اور زاویہ نظر ایسا کہ میں اسے صاف دیکھ سکتا تھا۔ لیکن وہ مجھے نہیں، کیونکہ اس کی طرف سے تو میری طرف اندھیرا ہی نظر آتا۔
وہ شادی شدہ تھی، یہ میں نے جلد ہی جان لیا۔ اس کے ہاتھ پر سرخ چوڑیاں، گلے میں سونے کا ہار، اور کبھی کبھی اس کا شوہر بھی نظر آ جاتا— ایک ڈھلکے بدن اور ادھیڑ عمر، تھکا ہوا آدمی جو صبح سویرے نکلتا اور رات گئے واپس آتا۔ کبھی شام کو نکلتا اور صبح سویرے آتا جب رات کی ڈیوٹی کرتا تھا، شاید کوئی فیکٹری یا دکان پر۔ وہ گھر میں کم ہی رہتا، اور جب رہتا تو خاموشی سے کھانا کھاتا اور سو جاتا۔ لیکن وہ لڑکی... اوہ، وہ تو میری شاموں کی روشنی بن گئی۔
اس کی خوبصورتی ایسی تھی جیسے کوئی پرانی فلم کی ہیروئن، لیکن زیادہ حقیقی، زیادہ قریب۔ اس کے بال لمبے، سیاہ اور گھنے، جو وہ آہستہ آہستہ کنگھی کرتی اور بناتی۔ جب وہ سر جھکاتی تو بال اس کے چہرے پر گرتے، اور وہ انہیں کان کے پیچھے کرتی—عام سی حرکت، لیکن میری سانس روک دیتی۔ اس کا چہرہ گول، آنکھیں بڑی بڑی بادام جیسی، جن میں سرمہ لگا تا دیکھ کر لگتا جیسے ستارے جگمگا رہے ہوں۔ ہونٹ گلابی، مخمل، جو سرخی لگاتے وقت وہ آہستہ دباتی۔ گردن لمبی اور نازک، جیسے ہنس کی، جو سونے کے ہار سے مزین ہوتی۔ اور جسم... واہ، اس کا جسم تو قدرت کا شاہکار تھا—وہ اکثر ساڑھی پہنتی، جو اس کی کمر پر لپٹتی تو اس کی پتلی کمر نمایاں ہو جاتی—ایسی کمر کہ ہاتھ ڈال کر گھیر لینے کو جی چاہے۔ سینہ بھرپور، گول اور ابھرا ہوا، جو بلاؤز سے جھانکتا، جب وہ جھکتی تو دل کی دھڑکن تیز ہو جاتی۔ کولہے گول نہ بڑے نہ چھوٹے، جنسی طور پر دلکش، جو چلتے وقت ہلکے سے ہلتے اور ساڑھی کی پلیٹوں میں لہراتے۔ ٹانگیں لمبی، ہموار، جو وہ کراس کر کے بیٹھتی تو میک اپ کرتے ہوئے نظر آتیں۔ وہ سب کچھ دور سے، لیکن اتنا واضح کہ میں ہر تفصیل یاد کر لیتا—اس کی جلد کا چمکدار پن، پسینے کی ہلکی سی بوندیں جب گرم شام ہوتی نمایاں ہوتیں، اس کا بدن کسی شادی شدہ عورت کی طرح بھرا ابھرا تھا لیکن چہرے پر کنوارپن کا نکھار رنگ دکھائی دیتا۔
میں اسے دور سے صرف دیکھتا رہتا، سراہتا۔ بات ہو ہی نہیں سکتی تھی، قریب جانا تو محال تھا۔ اس لیے بس دور سے، خاموشی سے میں اس حسینہ کو دیکھ کر اپنے دن کی کوفت دور کرتا۔
یہ میری روز کی روٹین بن گئی تھی۔ ہر شام، ٹھیک پانچ بجے، جب سورج مغرب کی طرف جھکتا اور شہر کا شور شرابا ہلکا پڑنے لگتا، میں ٹوائلٹ میں جاتا۔ روشندان پر چہرہ لگا کر کھڑا ہو جاتا، اور انتظار کرتا۔ وہ آتی، آئینے کے سامنے، اور سجنا سنورنا شروع کر دیتی۔ کبھی بالوں میں تیل لگاتی، پھر سرمہ، لپ اسٹک۔ شوہر کا سایہ کبھی کبھی گزرتا، لیکن میری نظریں اس پر ٹکی رہتی۔ میک اپ کرنا، اپنے آپ کو سنوارنا، اس کا مشغلہ لگتا تھا۔
پانچ بجے سے لے کر اندھیرا ہونے تک، یہ میری خفیہ تفریح ہوتی۔ اور جب وہ تیار ہو کر کھڑکی کی طرف دیکھتی – کبھی سڑک پر، آسمان پر – تو لگتا جیسے وہ مجھے بلاتی ہو۔ لیکن نہیں، یہ صرف میرا وہم تھا۔ میں واپس اپنے کمرے میں لوٹتا، اس کی تصویر دل میں لیے، اور اگلی شام کا انتظار... کرتا۔
دن گزرتے گئے، ۔ صبح سویرے اٹھتا، نوکری کی تلاش میں نکلتا، دوپہر کو تھک کر واپس آتا، اور شام... شام تو بس اسی ایک لمحے کی ہوتی۔ ٹھیک پانچ بجے، جیسے گھڑی کی سوئی حرکت کرتی، میرا دل بھی دھڑکتا اور میں ٹوائلٹ کی طرف بڑھتا۔ دروازہ بند کرتا، روشندان پر ٹیک لگاتا، اور انتظار۔ سڑک پار والی بلڈنگ کا وہ فلیٹ، جہاں تب روشنائیاں جھلملا اٹھتی جب وہ آ جاتی۔
اب یہ میرا معمول بن چکا تھا۔ کوئی دن چھوڑتا نہیں۔ بارش ہو یا گرمی، دھند ہو یا دھوپ، پانچ بجے میں وہاں ہوتا۔ روشندان کی چھوٹی سی جھری سے دنیا باہر کی بھول جاتی، اور بس وہی ایک منظر رہ جاتا—وہ، اپنے آئینے کے سامنے، سجے سنورتے۔ اسے کچھ پتہ نہ تھا—کبھی اس نے ادھر دیکھا بھی تو شاید روشندان کو خالی سمجھا، یا اندھیرے میں کچھ نہ دیکھا۔ وہ آرام سے بیٹھتی، اپنے جسم کو چھوتی، بال سنوارتی، اور میں... میں دور سے نہارتا، اس کی ہر حرکت کو پیتا۔
اس کا بدن، واہ، وہ تو میری آنکھوں کا جنت تھا۔ جب وہ ساڑھی بدلتی، تو بلاؤز کے نیچے اس کی کمر کی گولائی نظر آتی—ایسی نرم، ایسی ہموار کہ لگتا جیسے ریشم ہو۔ سینہ، بھرپور اور ابھرا ہوا، جو سانس لیتے وقت ہلکا سا اٹھتا اور گرتا۔ کبھی وہ جھکتی تو بلاؤز کی گہرائی سے ابھاروں کی گولائی اور زیادہ نمایاں ہو جاتی، اور میری سانس رک جاتی۔ گداز کولہے، جو بیٹھتے وقت دب جاتے اور اٹھتے وقت لہراتے۔ ٹانگیں، لمبی اور چمکدار،— سفید، نرم، دلکش۔ اس کے ہاتھ، نازک، جو جسم پر پھیرتے تو لگتا جیسے کوئی مصور اپنے کینوس کو چھو رہا ہو۔
میں اسے سراہتا، دل میں داد دیتا۔ "واہ، کیا کمال ہے..."، "یہ تو حسینہ عالم ہے..."، "اس جسم میں تو خوبصورتی پنہاں ہے..."۔ کبھی اونچی آواز میں سرگوشی کرتا، لیکن بس اتنی دھیمی آواز میں۔ کہ کوئی آواز باہر نہ جانے پائے، وہ اپنے کام میں مگن، اور میں اپنے خواب میں۔ اسے کچھ خبر نہ تھی کہ سڑک پار، ایک تنگ روشندان کے پیچھے، ایک نوجوان اس کی ہر جسمانی خوبصورتی کو نہارتا ہے، اس کے جسم کی ہر خمیدگی کو یاد کرتا ہے، اور رات کو سوتے وقت وہی تصویر آنکھوں میں بسا کر سو جاتا ہے۔
ایک شام، جب وہ سرمہ لگا رہی تھی، اس کی آنکھیں جھک گئیں اور ہلکا سا مسکرائی—شاید آئینے میں خود کو دیکھ کر۔ میرا دل دھڑکا۔ لگا جیسے وہ مجھے دیکھ رہی ہو۔ لیکن نہیں، وہ تو اپنے آپ میں کھوئی تھی۔ میں پیچھے ہٹا، سانس روک کر، پھر واپس جھانکا۔ وہ اب بال بنا رہی تھی، اور اس کی گردن کا خم، اس کی چھاتی کا اٹھنا، اس کی کمر کا موڑ—سب کچھ میرا ہو گیا تھا،
یہ روٹین چلتی رہی۔ ہر روز، پانچ بجے، وہی جگہ، وہی نظارہ۔ وہ نہیں جانتی تھی، اور میں نہیں بتا سکتا تھا۔ لیکن دیکھ، ... سراہ، اور دل میں رکھ سکتا تھا۔
وہ دن بہت مختلف تھا۔ بہت یادگار تھا کیونکہ فیکٹری کا انٹرویو جلدی ختم ہو گیا تھا، مجھے جاب پر رکھ لیا گیا تھا ہندی دن بعد یکم تاریخ سے بلایا گیا تھا، میں خوشی سے نکلا دھوپ ابھی تیز تھی!
جب میں چار بجے کے قریب فلیٹ پہنچ گیا۔ دل میں بے خوشی اور سرشاری تھی، معمول سے ایک گھنٹہ پہلے پہنچنے پر سوچا، ابھی لیٹ جاؤں، تھوڑا آرام کروں۔ لیکن پاؤں خود بخود ٹوائلٹ کی طرف بڑھ گئے۔ روشندان کے سوراخ سے چہرہ لگایا، میں نے سامنے جھانکا۔ اور جو دیکھا، اس نے میری سانس کو روک دیا، دل کو دھڑکا دیا، اور جسم میں ایک عجیب سی حرارت بھر دی۔
وہ دن، وہ چار بجے کا وقت۔ میں روشندان پر ٹیک لگائے، سانس روکے، بس جھانک رہا تھا۔ فلیٹ میں روشنی ہلکی سی تھی، جتنی بالکونی سے اندر فلیٹ کی گہرائی میں آ سکتی ہے۔ وہ فلیٹ سے بالکونی کے سامنے والے برآمدے میں آئی،، اور آئینے کے سامنے کھڑی ہو گئی۔ ابھی ساڑھی اوڑھے، بلاؤز پہنے، لیکن میری آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں جب اس نے آہستہ آہستہ بے لباس ہونا شروع کیا۔
پہلے اس نے ساڑھی کی پلیٹوں کو کمر سے کھولنا شروع کیا۔ ایک ایک کر کے، آہستہ، جیسے کوئی رقص کی تیاری ہو۔ ہر پلیٹ کھلتی تو اس کی کمر کی گولائی اور واضح ہوتی جاتی۔ ساڑھی زمین پر گر گئی، اب صرف پیٹی کوٹ اور بلاؤز۔ اس نے پیٹی کوٹ کا ناڑا کھینچا، ہلکے سے ڈھیلا کیا، اور وہ نیچے سرکنے لگا۔ اس کے گول چوتڑوں سلکی پینٹی میں قید، ابھرے ہوئے، نیچے اس کی ٹانگیں، ہموار، چمکدار، آہستہ آہستہ ننگی ہو گئیں۔ پیٹی کوٹ گھٹنوں تک آیا، پھر پاؤں تک، اور زمین پر۔ اب صرف بلاؤز اور برا پینٹی میں تھی۔
اس نے بلاؤز کے بٹن کھولنے شروع کیے۔ اوپر سے، ایک ایک کر کے۔ پہلا بٹن کھلا تو اس کی چھاتی کی گہرائی نظر آئی، برا کا کنارہ، سفید، سٹریپ والا۔ دوسرا بٹن، تیسرا... بلاؤز کھل گیا، اس نے کندھوں سے اتارا، اور ہلکے سے ہلاتے ہوئے زمین پر رکھ دیا۔ اب صرف برا اور پینٹی۔ اس کی چھاتی، برا میں قید، لیکن ابھری ہوئی، گول، سانس کے ساتھ اوپر نیچے ہوتی۔
پھر برا۔ اس نے پیچھے ہاتھ کیا، ہک کھولی۔ برا ڈھیلا ہوا، اور اس نے آگے سے پکڑ کر آہستہ اتارا۔ اس کی چھاتی آزاد ہو گئی۔ مکمل گول، بھرپور، قدرتی۔ نپل گلابی، چھوٹے، ہوا لگتے ہی ہلکے سے سخت۔ وہ آئینے میں دیکھ رہی تھی، ہلکا سا مسکرائی، جیسے اپنی خوبصورتی سے خوش ہو۔
آخری، پینٹی۔ اس نے کناروں میں انگلیاں ڈالیں، آہستہ نیچے کی طرف کھینچی۔ کولہے سے گزرتی، رانوں سے، گھٹنوں سے۔ پینٹی زمین پر گر گئی۔ اب وہ مکمل برہنہ۔ اس کا جسم، دن کی روشنی میں، چمک رہا تھا۔ کمر کی خمیدگی، کولہوں کی گولائی، رانوں کا گداز پن، اور وہ دونوں ٹانگوں کے اتصال پر۔ گہرائی میں کچھ نظر نہیں آیا۔ سوائے ہلکے بالوں کی گھاس کے، میں اس گھاس میں پگڈنڈی ڈھونڈ رہا تھا، لیکن اتنی دور سے گھاس میں پوشیدہ راستہ نہیں دیکھ سکا۔
وہ... برہنہ تھی۔ مکمل برہنہ۔ ساڑھی، بلاؤز، پیٹی کوٹ، سب زمین پر پڑے تھے۔ وہ آئینے کے سامنے کھڑی، اپنے جسم کو دیکھ رہی تھی، شاید غسل سے پہلے۔ روشندان سے فاصلہ اتنا ہی تھا کہ ہر تفصیل صاف، ہر لکیر واضح۔ اور میری آنکھیں، میری سانس، میرا دل—سب رک گیا۔
اس کا جسم... واہ، یہ تو کوئی خواب نہ تھا، یہ تو حقیقت کا سب سے خوبصورت روپ تھا۔ اس کی جلد، چاندنی سی سفید، ہموار، بغیر کسی داغ کے۔ قدرتی روشنی اس پر پڑ رہی تھی، اور لگتا تھا جیسے ریشم پر سونے کی دھول چھڑک دی گئی ہو۔ اس کی چھاتی، مکمل گول، بھرپور، قدرتی طور پر ابھری ہوئی—ایسی کہ جھکتی تو بھی اپنی شکل نہ کھوتی۔ نپل، گلابی، چھوٹے، سخت، جو ہوا کے جھونکے سے ہلکے سے کھڑے ہو گئے۔ اس کی کمر، باریک، ایسی پتلی کہ دونوں ہاتھوں سے گھیرے میں آ جائے۔ پیٹ، چپٹا، نرم، جس پر ناف کا ایک چھوٹا سا گڑھا، گہرا، دلکش۔
پھر نیچے... اس کے کولہے۔ واہ، وہ کولہے تو جنت کے دروازے تھے۔ چوڑے، گول، مضبوط لیکن نرم۔ جب وہ مڑی تو وہ ہلکے سے ہلے، جیسے کوئی لہر سمندر میں اٹھتی ہو۔ اس کی رانوں، لمبی، موٹی لیکن ہموار، جن کے درمیان وہ خفیہ وادی، جو ہلکی سی سایہ دار تھی، بالوں سے ڈھکی، سیاہ، گھنی، لیکن صاف ستھری۔ اس کی ٹانگیں، سیدھی، چمکدار، جن کے پنڈلیوں کی گولائی دیکھ کر جی چاہے ہاتھ پھیر دوں۔ اس کے پاؤں، چھوٹے، نازک، جن پر سرخ نیل پالش چمک رہی تھی۔
وہ آہستہ آہستہ گھومی، اپنے جسم کو آئینے میں دیکھتی۔ ہاتھ اس کی چھاتی پر پھیرے، ہلکے سے دبائے، جیسے اپنی خوبصورتی کو محسوس کر رہی ہو۔ پھر کمر پر، کولہوں پر، رانوں پر۔ ہر حرکت میں اس کا جسم لہراتا، جنسی، پرکشش، بالغ عورت کی چاشنی لیے۔ اس کی چھاتی کا اٹھنا گرنا، کمر کا موڑ، کولہوں کی گولائی، رانوں کا دبنا—سب کچھ میری آنکھوں میں اتر گیا، دل میں، جسم میں۔ میں کھو گیا۔ وقت رک گیا۔
وہ کھڑی رہی، آئینے میں خود کو دیکھتی، ہاتھ جسم پر پھیرتی۔ چھاتی پر، کمر پر، کولہوں پر۔ آہستہ، نرمی سے۔ اور میں، روشندان کے پیچھے، سانس روکے، اس کے بے لباس ہونے کے ہر لمحے کو پیتا رہا۔ وقت رک گیا۔ وہ نہیں جانتی تھی... لیکن میری دنیا بدل گئی۔
وہ نہیں جانتی تھی۔ وہ آرام سے، بے فکر، اپنے جسم سے محبت کر رہی تھی۔ اور میں، روشندان کے پیچھے، چھپا، اس کی ہر جسمانی خوبصورتی کو نہارتا رہا،
وہ پھر مڑی، تولیہ اٹھایا، اور برآمدے میں واقع غسل خانے کی طرف بڑھی۔ روشندان سے اس کا سایہ گزرا، اور میری دنیا میں ایک نیا رنگ بھر گیا۔ مطلب وہ روزانہ چار بجے پہلے بے لباس ہوتی ہے پھر غسل کرتی، پھر اپنی پسند کا لباس پہن کر میک اپ کرتی ہے۔
اب چار بجے کا انتظار نہیں رہا، بلکہ تین بجے سے دل بے چین ہونے لگتا۔ کام جلدی ختم کرتا، سڑک پر دوڑتا، اور گھر پہنچتے ہی سیدھا ٹوائلٹ۔ دروازہ بند، روشندان کھلا، اور سانس روک کر جھانکتا۔ وہ منظر اب میری زندگی کا حصہ بن چکا تھا—اس کا آہستہ آہستہ بے لباس ہونا، اس کا برہنہ جسم، اس کی جسمانی خوبصورتی۔
ہر روز، ٹھیک تین بج کر پینتالیس منٹ پر، وہ فلیٹ میں آتی۔ دروازہ بند کرتی، آئینے کے سامنے کھڑی ہوتی، اور شروع کرتی۔ پہلے ساڑھی کی پلیٹوں کو کھولتی، کمر سے ایک ایک کر کے۔ پھر پیٹی کوٹ کا ناڑا ڈھیلا، اور وہ نیچے سرکنے لگتا۔ بلاؤز کے بٹن، ایک ایک کر کے، آہستہ۔ برا کی ہک، پیچھے سے کھلتی۔ پینٹی، آخری، کناروں سے کھینچ کر نیچے، اور پھر... وہ برہنہ۔ مکمل، بے پردہ۔ اس کے ننگے بدن سے شعاعیں سی پھوٹتیں۔
میں روز جلدی آتا، تاکہ کوئی لمحہ نہ چھوٹے۔ اس کا جسم، اب میری آنکھوں کا سکون تھا۔ چھاتیوں کی گولائی، نپل کا گلابی پن، کمر کی لچک، کولہوں کی چوڑائی، رانوں کی موٹائی، اور وہ خفیہ وادی جو ابھی تک رانوں کے ملاپ پر پوشیدہ تھی—اس کا سب کچھ اب میرا ہو گیا تھا،
جاری ہے
ابن صفی کی عمران سیریز ہو یا اشتیاق احمد کی انسپکٹر جمشید سیریز
سب ملتی تھی۔
پورن کے طور پر احباب شہوانی کتب ناول پڑھتے تھے۔ جن میں سب سے مقبول تو "وہی وہانوی" تھے۔
میں نے شہوانی ادب کے مصنف ایم اے زاہد کے کچھ ناولٹ پڑھے تھے
ان میں سے ایک ناولٹ، ساحل سیپ سمندر تھا!
جس کی یاد ابھی تک تازہ ہے
میں اسے اپنی یادداشت کے سہارے دوبارہ لکھنے کی جسارت کر رہا ہوں۔
کچھ کمی بیشی مرکزی کہانی وہی رہے گی۔
امید ہے کہ دوست حوصلہ افزائی کریں گے
ہر طرح کے کتب و رسائل ملتے تھے، ادبی کتب سے لے کر فلمی رسائل تک، جاسوسی ڈائجسٹ، سسپنس ڈائجسٹ سے لے کر چترالی میگزین تک۔
حصہ اول
ستر کی دہائی تھی، وہ وقت جب مظفر گڑھ کی کچی گلیوں سے نکل کر کراچی کی چکا چوند بھری سڑکوں پر قدم رکھنا ایک خواب سا لگتا تھا۔ میں، عامر، صرف اکیس برس کا ایک دیہی لڑکا، کام کی تلاش میں روشنیوں کے شہر میں آیا تھا۔ دن بھر فیکٹریوں کے چکر کاٹتا، نوکری کے خواب دیکھتا، اور شام کو اپنے کرائے کے فلیٹ پر لوٹتا۔ یہ فلیٹ بلڈنگ کی تیسری منزل پر تھا، چھوٹا سا، دیواروں پر پرانی پوسٹرز چپکی ہوئیں، میرا دو کمروں کا فلیٹ تھا، فلیٹ میں داخل ہوتے ہی ایک کمرہ تھا، اس کمرے کے ساتھ بالکونی تھی۔ جو سامنے سڑک کی طرف تھی۔ بالکونی میں جانے کے لئے دروازہ تھا اور ایک کھڑکی بھی بالکونی میں کھلتی تھی۔ مجھے اس بالکونی میں جانا اور کھڑکی کھولنا منع تھا، کیونکہ اس بلڈنگ کے سامنے والی بلڈنگ میں بھی فلیٹ تھے، اور وہاں سارا دن خواتین اٹھتی بیٹھتی نظر آتی تھی۔۔ اس لئے مجھ چھڑے چھانٹ کو یہ فلیٹ انہی شرائط پر دیا گیا تھا۔
اس بلڈنگ کے بالمقابل بلڈنگ کے فلیٹ اس بلڈنگ کے متوازی تھے، اور دونوں عمارتوں کی خواتین سامنے والے فلیٹ کی خواتین سے ہم سایوں کی طرح برتاؤ کرتی تھی۔
پہلے کمرے سے گزر کر دوسرا ہمراہ تھا جس میں اٹیچ ٹوائلٹ تھا اور یہ ٹوائلٹ جس کا روشندان سڑک پار والی بلڈنگ کی طرف کھلتا تھا۔ یہ روشندان چہرے کی اونچائی پر لگا تھا – وہ روشندان میری دنیا کا واحد کھڑکی نما دروازہ بن گیا تھا!
شروع میں تو میں تھکا ہارا واپس آتا اور سیدھا بستر پر گر جاتا۔ لیکن ایک شام، جب سورج ڈوبنے لگا تھا اور شہر کی گلیوں میں ہلکی سی ٹھنڈک اترنے لگی، میں ٹوائلٹ میں گیا۔ اٹھ کر تازہ ہوا کا سانس لینے کے لیے روشندان سے باہر جھانکا۔ میں نے ادھر دیکھا تو سڑک پار والی بلڈنگ کے فلیٹ میں، ایک لڑکی نظر آئی۔ وہ آئینے کے سامنے بیٹھی تھی، میک اپ کر رہی تھی۔ اس کا فلیٹ ہمارے بالکل سامنے تھا، تیسری منزل پر، اور روشندان کی اونچائی اور زاویہ نظر ایسا کہ میں اسے صاف دیکھ سکتا تھا۔ لیکن وہ مجھے نہیں، کیونکہ اس کی طرف سے تو میری طرف اندھیرا ہی نظر آتا۔
وہ شادی شدہ تھی، یہ میں نے جلد ہی جان لیا۔ اس کے ہاتھ پر سرخ چوڑیاں، گلے میں سونے کا ہار، اور کبھی کبھی اس کا شوہر بھی نظر آ جاتا— ایک ڈھلکے بدن اور ادھیڑ عمر، تھکا ہوا آدمی جو صبح سویرے نکلتا اور رات گئے واپس آتا۔ کبھی شام کو نکلتا اور صبح سویرے آتا جب رات کی ڈیوٹی کرتا تھا، شاید کوئی فیکٹری یا دکان پر۔ وہ گھر میں کم ہی رہتا، اور جب رہتا تو خاموشی سے کھانا کھاتا اور سو جاتا۔ لیکن وہ لڑکی... اوہ، وہ تو میری شاموں کی روشنی بن گئی۔
اس کی خوبصورتی ایسی تھی جیسے کوئی پرانی فلم کی ہیروئن، لیکن زیادہ حقیقی، زیادہ قریب۔ اس کے بال لمبے، سیاہ اور گھنے، جو وہ آہستہ آہستہ کنگھی کرتی اور بناتی۔ جب وہ سر جھکاتی تو بال اس کے چہرے پر گرتے، اور وہ انہیں کان کے پیچھے کرتی—عام سی حرکت، لیکن میری سانس روک دیتی۔ اس کا چہرہ گول، آنکھیں بڑی بڑی بادام جیسی، جن میں سرمہ لگا تا دیکھ کر لگتا جیسے ستارے جگمگا رہے ہوں۔ ہونٹ گلابی، مخمل، جو سرخی لگاتے وقت وہ آہستہ دباتی۔ گردن لمبی اور نازک، جیسے ہنس کی، جو سونے کے ہار سے مزین ہوتی۔ اور جسم... واہ، اس کا جسم تو قدرت کا شاہکار تھا—وہ اکثر ساڑھی پہنتی، جو اس کی کمر پر لپٹتی تو اس کی پتلی کمر نمایاں ہو جاتی—ایسی کمر کہ ہاتھ ڈال کر گھیر لینے کو جی چاہے۔ سینہ بھرپور، گول اور ابھرا ہوا، جو بلاؤز سے جھانکتا، جب وہ جھکتی تو دل کی دھڑکن تیز ہو جاتی۔ کولہے گول نہ بڑے نہ چھوٹے، جنسی طور پر دلکش، جو چلتے وقت ہلکے سے ہلتے اور ساڑھی کی پلیٹوں میں لہراتے۔ ٹانگیں لمبی، ہموار، جو وہ کراس کر کے بیٹھتی تو میک اپ کرتے ہوئے نظر آتیں۔ وہ سب کچھ دور سے، لیکن اتنا واضح کہ میں ہر تفصیل یاد کر لیتا—اس کی جلد کا چمکدار پن، پسینے کی ہلکی سی بوندیں جب گرم شام ہوتی نمایاں ہوتیں، اس کا بدن کسی شادی شدہ عورت کی طرح بھرا ابھرا تھا لیکن چہرے پر کنوارپن کا نکھار رنگ دکھائی دیتا۔
میں اسے دور سے صرف دیکھتا رہتا، سراہتا۔ بات ہو ہی نہیں سکتی تھی، قریب جانا تو محال تھا۔ اس لیے بس دور سے، خاموشی سے میں اس حسینہ کو دیکھ کر اپنے دن کی کوفت دور کرتا۔
یہ میری روز کی روٹین بن گئی تھی۔ ہر شام، ٹھیک پانچ بجے، جب سورج مغرب کی طرف جھکتا اور شہر کا شور شرابا ہلکا پڑنے لگتا، میں ٹوائلٹ میں جاتا۔ روشندان پر چہرہ لگا کر کھڑا ہو جاتا، اور انتظار کرتا۔ وہ آتی، آئینے کے سامنے، اور سجنا سنورنا شروع کر دیتی۔ کبھی بالوں میں تیل لگاتی، پھر سرمہ، لپ اسٹک۔ شوہر کا سایہ کبھی کبھی گزرتا، لیکن میری نظریں اس پر ٹکی رہتی۔ میک اپ کرنا، اپنے آپ کو سنوارنا، اس کا مشغلہ لگتا تھا۔
پانچ بجے سے لے کر اندھیرا ہونے تک، یہ میری خفیہ تفریح ہوتی۔ اور جب وہ تیار ہو کر کھڑکی کی طرف دیکھتی – کبھی سڑک پر، آسمان پر – تو لگتا جیسے وہ مجھے بلاتی ہو۔ لیکن نہیں، یہ صرف میرا وہم تھا۔ میں واپس اپنے کمرے میں لوٹتا، اس کی تصویر دل میں لیے، اور اگلی شام کا انتظار... کرتا۔
دن گزرتے گئے، ۔ صبح سویرے اٹھتا، نوکری کی تلاش میں نکلتا، دوپہر کو تھک کر واپس آتا، اور شام... شام تو بس اسی ایک لمحے کی ہوتی۔ ٹھیک پانچ بجے، جیسے گھڑی کی سوئی حرکت کرتی، میرا دل بھی دھڑکتا اور میں ٹوائلٹ کی طرف بڑھتا۔ دروازہ بند کرتا، روشندان پر ٹیک لگاتا، اور انتظار۔ سڑک پار والی بلڈنگ کا وہ فلیٹ، جہاں تب روشنائیاں جھلملا اٹھتی جب وہ آ جاتی۔
اب یہ میرا معمول بن چکا تھا۔ کوئی دن چھوڑتا نہیں۔ بارش ہو یا گرمی، دھند ہو یا دھوپ، پانچ بجے میں وہاں ہوتا۔ روشندان کی چھوٹی سی جھری سے دنیا باہر کی بھول جاتی، اور بس وہی ایک منظر رہ جاتا—وہ، اپنے آئینے کے سامنے، سجے سنورتے۔ اسے کچھ پتہ نہ تھا—کبھی اس نے ادھر دیکھا بھی تو شاید روشندان کو خالی سمجھا، یا اندھیرے میں کچھ نہ دیکھا۔ وہ آرام سے بیٹھتی، اپنے جسم کو چھوتی، بال سنوارتی، اور میں... میں دور سے نہارتا، اس کی ہر حرکت کو پیتا۔
اس کا بدن، واہ، وہ تو میری آنکھوں کا جنت تھا۔ جب وہ ساڑھی بدلتی، تو بلاؤز کے نیچے اس کی کمر کی گولائی نظر آتی—ایسی نرم، ایسی ہموار کہ لگتا جیسے ریشم ہو۔ سینہ، بھرپور اور ابھرا ہوا، جو سانس لیتے وقت ہلکا سا اٹھتا اور گرتا۔ کبھی وہ جھکتی تو بلاؤز کی گہرائی سے ابھاروں کی گولائی اور زیادہ نمایاں ہو جاتی، اور میری سانس رک جاتی۔ گداز کولہے، جو بیٹھتے وقت دب جاتے اور اٹھتے وقت لہراتے۔ ٹانگیں، لمبی اور چمکدار،— سفید، نرم، دلکش۔ اس کے ہاتھ، نازک، جو جسم پر پھیرتے تو لگتا جیسے کوئی مصور اپنے کینوس کو چھو رہا ہو۔
میں اسے سراہتا، دل میں داد دیتا۔ "واہ، کیا کمال ہے..."، "یہ تو حسینہ عالم ہے..."، "اس جسم میں تو خوبصورتی پنہاں ہے..."۔ کبھی اونچی آواز میں سرگوشی کرتا، لیکن بس اتنی دھیمی آواز میں۔ کہ کوئی آواز باہر نہ جانے پائے، وہ اپنے کام میں مگن، اور میں اپنے خواب میں۔ اسے کچھ خبر نہ تھی کہ سڑک پار، ایک تنگ روشندان کے پیچھے، ایک نوجوان اس کی ہر جسمانی خوبصورتی کو نہارتا ہے، اس کے جسم کی ہر خمیدگی کو یاد کرتا ہے، اور رات کو سوتے وقت وہی تصویر آنکھوں میں بسا کر سو جاتا ہے۔
ایک شام، جب وہ سرمہ لگا رہی تھی، اس کی آنکھیں جھک گئیں اور ہلکا سا مسکرائی—شاید آئینے میں خود کو دیکھ کر۔ میرا دل دھڑکا۔ لگا جیسے وہ مجھے دیکھ رہی ہو۔ لیکن نہیں، وہ تو اپنے آپ میں کھوئی تھی۔ میں پیچھے ہٹا، سانس روک کر، پھر واپس جھانکا۔ وہ اب بال بنا رہی تھی، اور اس کی گردن کا خم، اس کی چھاتی کا اٹھنا، اس کی کمر کا موڑ—سب کچھ میرا ہو گیا تھا،
یہ روٹین چلتی رہی۔ ہر روز، پانچ بجے، وہی جگہ، وہی نظارہ۔ وہ نہیں جانتی تھی، اور میں نہیں بتا سکتا تھا۔ لیکن دیکھ، ... سراہ، اور دل میں رکھ سکتا تھا۔
وہ دن بہت مختلف تھا۔ بہت یادگار تھا کیونکہ فیکٹری کا انٹرویو جلدی ختم ہو گیا تھا، مجھے جاب پر رکھ لیا گیا تھا ہندی دن بعد یکم تاریخ سے بلایا گیا تھا، میں خوشی سے نکلا دھوپ ابھی تیز تھی!
جب میں چار بجے کے قریب فلیٹ پہنچ گیا۔ دل میں بے خوشی اور سرشاری تھی، معمول سے ایک گھنٹہ پہلے پہنچنے پر سوچا، ابھی لیٹ جاؤں، تھوڑا آرام کروں۔ لیکن پاؤں خود بخود ٹوائلٹ کی طرف بڑھ گئے۔ روشندان کے سوراخ سے چہرہ لگایا، میں نے سامنے جھانکا۔ اور جو دیکھا، اس نے میری سانس کو روک دیا، دل کو دھڑکا دیا، اور جسم میں ایک عجیب سی حرارت بھر دی۔
وہ دن، وہ چار بجے کا وقت۔ میں روشندان پر ٹیک لگائے، سانس روکے، بس جھانک رہا تھا۔ فلیٹ میں روشنی ہلکی سی تھی، جتنی بالکونی سے اندر فلیٹ کی گہرائی میں آ سکتی ہے۔ وہ فلیٹ سے بالکونی کے سامنے والے برآمدے میں آئی،، اور آئینے کے سامنے کھڑی ہو گئی۔ ابھی ساڑھی اوڑھے، بلاؤز پہنے، لیکن میری آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں جب اس نے آہستہ آہستہ بے لباس ہونا شروع کیا۔
پہلے اس نے ساڑھی کی پلیٹوں کو کمر سے کھولنا شروع کیا۔ ایک ایک کر کے، آہستہ، جیسے کوئی رقص کی تیاری ہو۔ ہر پلیٹ کھلتی تو اس کی کمر کی گولائی اور واضح ہوتی جاتی۔ ساڑھی زمین پر گر گئی، اب صرف پیٹی کوٹ اور بلاؤز۔ اس نے پیٹی کوٹ کا ناڑا کھینچا، ہلکے سے ڈھیلا کیا، اور وہ نیچے سرکنے لگا۔ اس کے گول چوتڑوں سلکی پینٹی میں قید، ابھرے ہوئے، نیچے اس کی ٹانگیں، ہموار، چمکدار، آہستہ آہستہ ننگی ہو گئیں۔ پیٹی کوٹ گھٹنوں تک آیا، پھر پاؤں تک، اور زمین پر۔ اب صرف بلاؤز اور برا پینٹی میں تھی۔
اس نے بلاؤز کے بٹن کھولنے شروع کیے۔ اوپر سے، ایک ایک کر کے۔ پہلا بٹن کھلا تو اس کی چھاتی کی گہرائی نظر آئی، برا کا کنارہ، سفید، سٹریپ والا۔ دوسرا بٹن، تیسرا... بلاؤز کھل گیا، اس نے کندھوں سے اتارا، اور ہلکے سے ہلاتے ہوئے زمین پر رکھ دیا۔ اب صرف برا اور پینٹی۔ اس کی چھاتی، برا میں قید، لیکن ابھری ہوئی، گول، سانس کے ساتھ اوپر نیچے ہوتی۔
پھر برا۔ اس نے پیچھے ہاتھ کیا، ہک کھولی۔ برا ڈھیلا ہوا، اور اس نے آگے سے پکڑ کر آہستہ اتارا۔ اس کی چھاتی آزاد ہو گئی۔ مکمل گول، بھرپور، قدرتی۔ نپل گلابی، چھوٹے، ہوا لگتے ہی ہلکے سے سخت۔ وہ آئینے میں دیکھ رہی تھی، ہلکا سا مسکرائی، جیسے اپنی خوبصورتی سے خوش ہو۔
آخری، پینٹی۔ اس نے کناروں میں انگلیاں ڈالیں، آہستہ نیچے کی طرف کھینچی۔ کولہے سے گزرتی، رانوں سے، گھٹنوں سے۔ پینٹی زمین پر گر گئی۔ اب وہ مکمل برہنہ۔ اس کا جسم، دن کی روشنی میں، چمک رہا تھا۔ کمر کی خمیدگی، کولہوں کی گولائی، رانوں کا گداز پن، اور وہ دونوں ٹانگوں کے اتصال پر۔ گہرائی میں کچھ نظر نہیں آیا۔ سوائے ہلکے بالوں کی گھاس کے، میں اس گھاس میں پگڈنڈی ڈھونڈ رہا تھا، لیکن اتنی دور سے گھاس میں پوشیدہ راستہ نہیں دیکھ سکا۔
وہ... برہنہ تھی۔ مکمل برہنہ۔ ساڑھی، بلاؤز، پیٹی کوٹ، سب زمین پر پڑے تھے۔ وہ آئینے کے سامنے کھڑی، اپنے جسم کو دیکھ رہی تھی، شاید غسل سے پہلے۔ روشندان سے فاصلہ اتنا ہی تھا کہ ہر تفصیل صاف، ہر لکیر واضح۔ اور میری آنکھیں، میری سانس، میرا دل—سب رک گیا۔
اس کا جسم... واہ، یہ تو کوئی خواب نہ تھا، یہ تو حقیقت کا سب سے خوبصورت روپ تھا۔ اس کی جلد، چاندنی سی سفید، ہموار، بغیر کسی داغ کے۔ قدرتی روشنی اس پر پڑ رہی تھی، اور لگتا تھا جیسے ریشم پر سونے کی دھول چھڑک دی گئی ہو۔ اس کی چھاتی، مکمل گول، بھرپور، قدرتی طور پر ابھری ہوئی—ایسی کہ جھکتی تو بھی اپنی شکل نہ کھوتی۔ نپل، گلابی، چھوٹے، سخت، جو ہوا کے جھونکے سے ہلکے سے کھڑے ہو گئے۔ اس کی کمر، باریک، ایسی پتلی کہ دونوں ہاتھوں سے گھیرے میں آ جائے۔ پیٹ، چپٹا، نرم، جس پر ناف کا ایک چھوٹا سا گڑھا، گہرا، دلکش۔
پھر نیچے... اس کے کولہے۔ واہ، وہ کولہے تو جنت کے دروازے تھے۔ چوڑے، گول، مضبوط لیکن نرم۔ جب وہ مڑی تو وہ ہلکے سے ہلے، جیسے کوئی لہر سمندر میں اٹھتی ہو۔ اس کی رانوں، لمبی، موٹی لیکن ہموار، جن کے درمیان وہ خفیہ وادی، جو ہلکی سی سایہ دار تھی، بالوں سے ڈھکی، سیاہ، گھنی، لیکن صاف ستھری۔ اس کی ٹانگیں، سیدھی، چمکدار، جن کے پنڈلیوں کی گولائی دیکھ کر جی چاہے ہاتھ پھیر دوں۔ اس کے پاؤں، چھوٹے، نازک، جن پر سرخ نیل پالش چمک رہی تھی۔
وہ آہستہ آہستہ گھومی، اپنے جسم کو آئینے میں دیکھتی۔ ہاتھ اس کی چھاتی پر پھیرے، ہلکے سے دبائے، جیسے اپنی خوبصورتی کو محسوس کر رہی ہو۔ پھر کمر پر، کولہوں پر، رانوں پر۔ ہر حرکت میں اس کا جسم لہراتا، جنسی، پرکشش، بالغ عورت کی چاشنی لیے۔ اس کی چھاتی کا اٹھنا گرنا، کمر کا موڑ، کولہوں کی گولائی، رانوں کا دبنا—سب کچھ میری آنکھوں میں اتر گیا، دل میں، جسم میں۔ میں کھو گیا۔ وقت رک گیا۔
وہ کھڑی رہی، آئینے میں خود کو دیکھتی، ہاتھ جسم پر پھیرتی۔ چھاتی پر، کمر پر، کولہوں پر۔ آہستہ، نرمی سے۔ اور میں، روشندان کے پیچھے، سانس روکے، اس کے بے لباس ہونے کے ہر لمحے کو پیتا رہا۔ وقت رک گیا۔ وہ نہیں جانتی تھی... لیکن میری دنیا بدل گئی۔
وہ نہیں جانتی تھی۔ وہ آرام سے، بے فکر، اپنے جسم سے محبت کر رہی تھی۔ اور میں، روشندان کے پیچھے، چھپا، اس کی ہر جسمانی خوبصورتی کو نہارتا رہا،
وہ پھر مڑی، تولیہ اٹھایا، اور برآمدے میں واقع غسل خانے کی طرف بڑھی۔ روشندان سے اس کا سایہ گزرا، اور میری دنیا میں ایک نیا رنگ بھر گیا۔ مطلب وہ روزانہ چار بجے پہلے بے لباس ہوتی ہے پھر غسل کرتی، پھر اپنی پسند کا لباس پہن کر میک اپ کرتی ہے۔
اب چار بجے کا انتظار نہیں رہا، بلکہ تین بجے سے دل بے چین ہونے لگتا۔ کام جلدی ختم کرتا، سڑک پر دوڑتا، اور گھر پہنچتے ہی سیدھا ٹوائلٹ۔ دروازہ بند، روشندان کھلا، اور سانس روک کر جھانکتا۔ وہ منظر اب میری زندگی کا حصہ بن چکا تھا—اس کا آہستہ آہستہ بے لباس ہونا، اس کا برہنہ جسم، اس کی جسمانی خوبصورتی۔
ہر روز، ٹھیک تین بج کر پینتالیس منٹ پر، وہ فلیٹ میں آتی۔ دروازہ بند کرتی، آئینے کے سامنے کھڑی ہوتی، اور شروع کرتی۔ پہلے ساڑھی کی پلیٹوں کو کھولتی، کمر سے ایک ایک کر کے۔ پھر پیٹی کوٹ کا ناڑا ڈھیلا، اور وہ نیچے سرکنے لگتا۔ بلاؤز کے بٹن، ایک ایک کر کے، آہستہ۔ برا کی ہک، پیچھے سے کھلتی۔ پینٹی، آخری، کناروں سے کھینچ کر نیچے، اور پھر... وہ برہنہ۔ مکمل، بے پردہ۔ اس کے ننگے بدن سے شعاعیں سی پھوٹتیں۔
میں روز جلدی آتا، تاکہ کوئی لمحہ نہ چھوٹے۔ اس کا جسم، اب میری آنکھوں کا سکون تھا۔ چھاتیوں کی گولائی، نپل کا گلابی پن، کمر کی لچک، کولہوں کی چوڑائی، رانوں کی موٹائی، اور وہ خفیہ وادی جو ابھی تک رانوں کے ملاپ پر پوشیدہ تھی—اس کا سب کچھ اب میرا ہو گیا تھا،
جاری ہے
ابن صفی کی عمران سیریز ہو یا اشتیاق احمد کی انسپکٹر جمشید سیریز
سب ملتی تھی۔
پورن کے طور پر احباب شہوانی کتب ناول پڑھتے تھے۔ جن میں سب سے مقبول تو "وہی وہانوی" تھے۔
میں نے شہوانی ادب کے مصنف ایم اے زاہد کے کچھ ناولٹ پڑھے تھے
ان میں سے ایک ناولٹ، ساحل سیپ سمندر تھا!
جس کی یاد ابھی تک تازہ ہے
میں اسے اپنی یادداشت کے سہارے دوبارہ لکھنے کی جسارت کر رہا ہوں۔
کچھ کمی بیشی مرکزی کہانی وہی رہے گی۔
امید ہے کہ دوست حوصلہ افزائی کریں گے