Amirbutt123
VIP+
- Thread Author
- #1
گھروں میں گھومتے درندے
آج کل 15ـ16 سال کی بچی کے پاس اپنا موبائل ہوتا ہے۔
نئی نئی جوانی چڑھی رہی ہوتی یہ عمر ایسی ہوتی مانو جسم سے خوشبو نکلتی ہے اور چہرے پر دانے سارا ماجرہ بیان کر رہے ہوتے ہیں۔
ہمارے گھروں میں رہنے والے کزن ، ہمارے دوست رشتہ دار جنہیں ہم برا عزیز سمجھتے ایسی کلیوں کو دیکھ کر لن مسلتے ہیں۔
پھر ہوتا یوں ہے کہ ان میں سے کوئی ہماری بہنوں بیٹیوں کو میسج کرتا
اب یہ بات ایسی کہ ہماری بچیاں ہمارے ڈر کی وجہ سے ہمیں بتانے سے قاصر ہیں، وہ یہ سمجھتی کہ ہم ان پر غصہ کریں گے اور موبائل واپس لے لیں گے۔
اب باہر گھومنے والے ہوس کے بچاری پتہ نہیں ایسی کون سے گیدڑ سنگھی ان کے پاس کہ وہ بچی کو لائن پر لے آتے ہی۔ اور ہمارے معاشرے میں لڑکیوں کا سوشل ایکسپویر کم تو انہیں اس بات کا اندازہ نہیں کہ ان کے ابو کا دوست جسے وہ انکل سمجھتی یا کزن جسے بھائی سمجھتی وہ ان کے بارے کیا سوچ رہا ہوتا۔
اس بات کا ثبوت مجھے خود ملا
میری چھوٹی ایک کزن جب 15 کی تھی تو ایسی جوانی تھی اس پر کہ مت پوچھو ۔
بلا کی خوبصورت تھی میں نے بھی اسے پٹانے کی بہت کوشش کی اور میں پڑھائی کی غرض سے انہی کہ گھر رہتا تھا۔
مجھے اس نے لفٹ نہ کرائی تو بہت جلن محسوس ہوتی تھی ۔
ایک دن سکول گئی تو اس کا موبائل اس کے بیڈ سے اٹھایا سم نکالی اور واٹس ایپ بنایا۔
اس کی چیٹ ریکوور نہ ہوئی مگر بلاک لسٹ میں اس وقت جب وہ 15 کی تھی تب 10-12 بندے بلاک تھے اور اس وقت مجھے پتہ چلا کہ اس پر تو بہت عوام گرم اس لیے ہاتھ نہیں آ رہی۔
خیر ایک میسج آیا کہ سکول سے واپس آ گئی کیا؟
اور یقین جانیں وہ میسج اس کے ابو کے دوست کا تھا 40ـ45 سال کا بندہ وہ ۔
اور اس سے بھی دلچسپ کہ اس نے اسے بلاک نہیں کیا ہوا تھا مطلب کہ اس کے جال میں آ چکی تھی۔
اور وجہ ایک ہی تھی کہ وہ بندہ بہت پیسے والا تھا اور اس وجہ سے سبھی اس کی عزت کرتے جیسا عموماً ہمارے معاشرے میں ہوتا۔
کہنے کا
مطلب یہ کہ اس عمر کی بچیاں اکثر قریبی لوگوں کے نیچے ہی پھڑک جاتی ہیں اور زیادہ تو پیسے والے بازی لے جاتے۔
میری کزن کا مستقبل میں بھی دلچسپ ہوا جو کہ سبھی احباب کی دلچسپی پر منحصر تب ہی بیان کروں گا۔
شکریہ
آج کل 15ـ16 سال کی بچی کے پاس اپنا موبائل ہوتا ہے۔
نئی نئی جوانی چڑھی رہی ہوتی یہ عمر ایسی ہوتی مانو جسم سے خوشبو نکلتی ہے اور چہرے پر دانے سارا ماجرہ بیان کر رہے ہوتے ہیں۔
ہمارے گھروں میں رہنے والے کزن ، ہمارے دوست رشتہ دار جنہیں ہم برا عزیز سمجھتے ایسی کلیوں کو دیکھ کر لن مسلتے ہیں۔
پھر ہوتا یوں ہے کہ ان میں سے کوئی ہماری بہنوں بیٹیوں کو میسج کرتا
اب یہ بات ایسی کہ ہماری بچیاں ہمارے ڈر کی وجہ سے ہمیں بتانے سے قاصر ہیں، وہ یہ سمجھتی کہ ہم ان پر غصہ کریں گے اور موبائل واپس لے لیں گے۔
اب باہر گھومنے والے ہوس کے بچاری پتہ نہیں ایسی کون سے گیدڑ سنگھی ان کے پاس کہ وہ بچی کو لائن پر لے آتے ہی۔ اور ہمارے معاشرے میں لڑکیوں کا سوشل ایکسپویر کم تو انہیں اس بات کا اندازہ نہیں کہ ان کے ابو کا دوست جسے وہ انکل سمجھتی یا کزن جسے بھائی سمجھتی وہ ان کے بارے کیا سوچ رہا ہوتا۔
اس بات کا ثبوت مجھے خود ملا
میری چھوٹی ایک کزن جب 15 کی تھی تو ایسی جوانی تھی اس پر کہ مت پوچھو ۔
بلا کی خوبصورت تھی میں نے بھی اسے پٹانے کی بہت کوشش کی اور میں پڑھائی کی غرض سے انہی کہ گھر رہتا تھا۔
مجھے اس نے لفٹ نہ کرائی تو بہت جلن محسوس ہوتی تھی ۔
ایک دن سکول گئی تو اس کا موبائل اس کے بیڈ سے اٹھایا سم نکالی اور واٹس ایپ بنایا۔
اس کی چیٹ ریکوور نہ ہوئی مگر بلاک لسٹ میں اس وقت جب وہ 15 کی تھی تب 10-12 بندے بلاک تھے اور اس وقت مجھے پتہ چلا کہ اس پر تو بہت عوام گرم اس لیے ہاتھ نہیں آ رہی۔
خیر ایک میسج آیا کہ سکول سے واپس آ گئی کیا؟
اور یقین جانیں وہ میسج اس کے ابو کے دوست کا تھا 40ـ45 سال کا بندہ وہ ۔
اور اس سے بھی دلچسپ کہ اس نے اسے بلاک نہیں کیا ہوا تھا مطلب کہ اس کے جال میں آ چکی تھی۔
اور وجہ ایک ہی تھی کہ وہ بندہ بہت پیسے والا تھا اور اس وجہ سے سبھی اس کی عزت کرتے جیسا عموماً ہمارے معاشرے میں ہوتا۔
کہنے کا
مطلب یہ کہ اس عمر کی بچیاں اکثر قریبی لوگوں کے نیچے ہی پھڑک جاتی ہیں اور زیادہ تو پیسے والے بازی لے جاتے۔
میری کزن کا مستقبل میں بھی دلچسپ ہوا جو کہ سبھی احباب کی دلچسپی پر منحصر تب ہی بیان کروں گا۔
شکریہ