اوکے ۔ ۔ ۔ ہمدان نے جلدی سے پین نکالا اور ہاتھ پر ہی ایڈریس نوٹ کر لیا۔ کون ہو سکتا ہے ۔۔۔ اسے پیسے بھی نہی چاہیے تو پھر بینی کو اغوا کرنے کا مقصد ؟
تیزی میں گاڑی بھگاتے ہوئے مطلوبہ جگہ پہنچا اور اسی نمبر پر کال کی۔ نمبر تو بند تھالیکن اچانک کسی نے اس کے سر پر کپڑا ڈال دیا اور اسے اپنے ساتھ کھینچتے
ہوئے خفیہ مقام پر لے گئے۔
ہمدان کے چہرے سے کپڑا ہٹایا گیا تو اس نے آنکھیں کھولتے ہوئے سامنے دیکھا تو رملہ کی اماں ایک بڑے سے صوفے پر براجمان تھیں۔
منہ میں پان رکھتے ہوئے ہمدان کی طرف دیکھ کر مسکرا دیں۔
یہ سب آپ نے کیا ہے ؟
ہاں میں نے کیا ہے یہ سب کچھ ۔ ۔ ۔ اور کسی میں اتنی ہمت ہے نہی۔
کیوں کر رہی ہیں آپ ایسا ؟
بینی کہاں ہے ؟
میں آگیا ناں یہاں ۔ ۔ ۔ آپ میری گاڑی کی چابی لیں اور اسے جانے دیں یہاں سے ۔
جانے دیں گے ۔ ۔ ۔ جانے دیں گے ۔ ۔ ۔ اتنی بھی کیا جلدی ؟
ابھی ابھی تو آئے ہو تھوڑا خدمت کا موقع تو دو ہمیں ۔
بوا جی آپ کہیں تو ابھی گردن مروڑ دوں اس کی ؟
ایک بھاری بھر کم آدمی ہمدان کی طرف بڑھا مگر انہوں نے ہاتھ کے اشارے سے اسے
آگے بڑھنے سے روک دیا ۔ نہی گردن توڑنے کی ضرورت نہی ہے ۔ ۔ ۔ یہ معاملہ پیار سے بھی حل ہو سکتا ہے ۔
آخر چاہتی کیا ہیں آپ ہم سے ؟
لے کر آوا سے ۔ ۔ ۔ وہ اس آدمی کی طرف اشارہ کرتی ہوئی بولیں تو وہ نصیر کو بازو سے
کھینچتے ہوئے اندر لے آیا۔
نصیر کی حالت دیکھ کر ہمدان چونک گیا ۔ آپ نے اسے کیوں مارا؟
یہ اپنی غلطی کی سزا بھگت چکا ہے ۔
اس طرح تشدد کرنا اچھی بات نہی۔
تشدد ۔ ۔ ۔ تشد د تو ابھی کیا نہی ہم نے ملک ہمدان ۔ ۔ ۔ اسے زندہ چھوڑا ہے یہی غنیمت
ہے اس کے لیے ۔
تصویریں بنانے کا بہت شوق ہے اسے ۔ ۔ ۔ آج اس کا یہ شوق اچھی طرح اتر گیا ہو گا ۔
ہمدان تیزی سے آگے بڑھا اور نصیر کو سہارا دیتے ہوئے دیوار کے پاس بٹھا دیا ۔ اسے مار
کر نڈھال کر دیا گیا تھا ۔
سامنے ہمدان کو دیکھ کر اسے تھوڑا ہوش آیا۔ مجھے بچالیں پلیز۔
ہمدان افسردگی سے ان کی طرف پلٹا ۔ ۔ ۔ ابھی پلٹا ہی تھا کہ دروازے سے اندر آئی آنسو بہاتی
رملہ پر نظر پڑی ۔ اماں مت کریں یہ سب ۔ ۔ ۔ وہ ہمدان کو دیکھتی ہوئی ماں کے پاوں پکڑ کر بیٹھ گئی۔ انہوں نے بینی کی طرف دیکھنا بھی گوارہ نہی کیا۔ یا تو میری بیٹی سے نکاح کر لو یا پھر ان دونوں کی میت اٹھانے کے لیے تیار ہو جاو ۔ ۔ ۔ وہ
صوفے سے اٹھ کر ہمدان کی طرف بڑھیں ۔
نکاح ۔ ۔ ۔ ۔ یہ نکاح کہاں سے آگیا اس سارے معاملے میں؟ ہمدان ایک نظر فرش پر بیٹھی رملہ کو دیکھتے ہوئے تقریباً چلایا۔ کیوں ۔ ۔ ۔ میری بیٹی سے رابطہ رکھ سکتے ہو تو نکاح کیوں نہی کر سکتے؟
کیا یہی تربیت ملتی ہے تمہارے خاندان میں ؟
آنٹی آپ غلط سمجھ رہی ہیں ۔ ۔ ۔ ہم بس اچھے دوست ہیں اور کچھ نہی ۔ آپ کو ضرور کوئی
غلط فہمی ہوئی ہے ۔
اس لڑکی کو لاو یہاں ۔ ۔ ۔ وہ ہمدان کی بات نظر انداز کرتی ہوئی دوبارہ صوفے پر بیٹھتی ہوئی
بولیں ۔
دو عورتیں بینی کو سہارا دیتی ہوئی وہاں لائیں اور فرش پر لٹا دیا۔
وہ بے ہوش تھی اور اس کی یہ حالت دیکھ کر ہمدان نے ظبط سے آنکھیں بند کر لیں ۔ ایک آدمی آگے بڑھا اور بینی کی گردن پر چاقو رکھ دیا ۔
خبر دار جو ایک بھی قدم آگے بڑھایا تم نے ۔ ۔ ۔ میرے ایک اشارے پر اس کی گردن
کاٹ دے گا یہ ۔ اب فیصلہ تمہارے ہاتھ میں ہے۔ جلدی بنا و ورنہ دیر ہو جائے گی ۔
آپ بہت غلط فیصلہ لے رہی ہیں اپنی بیٹی کے لیے ۔ میرا رشتہ بینی سے طے ہو چکا ہے اور
یہ بات آپ کی بیٹی جانتی ہے ۔
اس طرح زبر دستی رشتہ نہی جوڑ سکتی آپ ۔ ۔ ۔ زیادتی کر رہی ہیں آپ تین لوگوں کے
ساتھ۔
میرے اور بینی کے ساتھ ساتھ اپنی بیٹی کی زندگی تباہ کر رہی ہیں آپ ۔
ہمدان نے انہیں سمجھانا چاہا لیکن بدلے میں انہوں نے قہقہ لگایا ۔
کل کے بچے ہو تم ۔ ۔ ۔ اب تم مجھے سکھاو گے کہ میرا کونسا فیصلہ سہی ہے اور کونسا غلط؟
نہی آنٹی جی ۔ ۔ ۔ اپنا اچھا برا آپ بہتر جانتی ہیں لیکن آپ کا یہ فیصلہ بہت غلط ثابت ہو گا آپ کے لیے ۔۔۔ میں نکاح تو کرلوں گا لیکن شادی نہی کر سکوں گا آپ کی بیٹی سے ۔ میرا رشتہ بینی سے طے ہو چکا ہے اور شادی بھی اسی سے ہوگی ۔ میرا خاندان کبھی نہی مانے
گا اس نکاح کو ۔
تو رخصتی کرنے کو کہہ کون رہا ہے ؟
تم بس نکاح کرو ۔ ۔ ۔ باقی فکر میں چھوڑ دو ۔ اب بتا و جلدی زیادہ وقت نہی ہے تمہارے
پاس۔
انہوں نے اپنے آدمی کو اشارہ کیا تو اس نے بینی کی کلائی پر ہلکا سا کٹ لگا دیا ۔
پاگل ہو گئے ہو تم ۔ ۔ ۔ ۔ ؟
همدان تیزی سے اس کی طرف بھاگا لیکن اس نے چاقو دوبارہ گردن پر رکھا تو وہی رک گیا ۔ ہمدان نے مدد طلب نگاہوں سے رملہ کی طرف دیکھا ۔ وہ بھی اتنی ہی مجبور تھی جتنا مجبور وہ تھا
اس وقت ۔
نظریں جھکائے آنسو بہاتی رہی ۔
همدان نے گہری سانس لی اور سر اثبات میں ہلا دیا ۔
ٹھیک ہے اگر یہی آپ کی ضد ہے تو مجھے منظور ہے لیکن ایک بات یادرکھئیے گا ۔ آپ زبر دستی مسلط کر رہی ہیں اپنی بیٹی کو مجھ پر اور میرے لیے یہ رشتہ کا غذات تک ہی
محدود رہے گا ۔
اس سے زیادہ کی امید مت رکھنا آپ مجھ سے ۔
منظور ہے ۔ ۔ ۔ بلاو نکاح خواں کو ۔ ۔ ۔ وہ خوشی خوشی بولیں ۔
اماں یہ
یہ ظلم ہے ان کے ساتھ بھی اور میرے ساتھ بھی ۔ ۔ ۔ آپ بہت غلط کر رہی
ہیں ۔ رملہ چلاتی رہی مگر انہیں کوئی فرق نہی پڑا۔
زور زبردستی سے دونوں کا نکاح پڑھوا دیا گیا ۔ ہمدان سائن کرتے ہی بغیر دعا کیسے تیزی سے صوفے سے اٹھ کر مینی کی طرف بھاگا اور اس کا سر گھٹنے پے رکھے گال تھپتھپا تا رہا لیکن
وہ ہوش میں نہی تھی ۔
اب چاہو تو لے جاسکتے ہو اپنی ہونے والی بیوی کو لیکن ۔ ۔ ۔ میری بیٹی پر تمہارا کوئی حق نہی
ہوگا ۔
رملہ
سر گھٹنوں پر گرائے آنسو بہا رہی تھی ۔ ماں کی بات پر سر اٹھا کر انہیں دیکھا ۔ آج سے تمہارا اس کے ساتھ ہر تعلق ختم ۔ ۔ ۔ ناں تم دوبارہ اس سے بات کرو گے اور نہ
ہی ملو گے ۔
اسے میرا حکم سمجھ لو یا پھر دھمکی۔۔۔ جیسے تمہاری مرضی ۔ ۔ ۔ کیونکہ دوبارہ اگر میں نے تمہیں اپنی بیٹی کے آس پاس بھی دیکھ لیا تو زندہ نہیں بچو گے تم اور تمہارے ساتھ ساتھ اور
بھی کئی جانیں جائیں گی ۔
بے گناہ جائیں ۔ ۔ ۔ جس کے زمہ دار صرف تم ہو گے ۔
آپ کے لیے نکاح کا تعلق ایک مزاق ہے ؟ اگر تعلق ختم کرنا ہی تھا سیدھا کہہ دیتیں آپ ۔ ۔ ۔ اس طرح ہمیں ازیت دینے کا مقصد ؟
مقصد تو بہت گہرا ہے اس کے پیچھے ۔ ۔ ۔ لیکن تم ابھی سمجھو گے نہی, میرے مقصد کو سمجھنے کے لیے بہت گہری چوٹیں کھانی پڑیں گی تمہیں ۔ ۔ ۔ تب جا کر سمجھو گے ۔
مجھے افسوس ہو رہا ہے آپ کی بیٹی کے لیے ۔ ۔ ۔ یہ آپ کی خاطر اپنی ہر خواہش کا گلہ گھونٹ سکتی ہے اور آپ نے اس کا ہی گلہ گھونٹ دیا ۔
ایک بات تو واضع کر دی آپ نے کہ آپ کے لیے بدلہ لینا بیٹی کی خوشیوں سے زیادہ عزیز
ہے۔
بدلہ لینا تھا تو آپ مجھ سے لیتیں ۔ ۔ ۔ اپنے خون کو تکلیف کیوں دے رہی ہیں ؟
دیکھنا چاہتے ہو کیوں ؟
آوایک کھیل دکھاتی ہوں تمہیں ۔ ۔ ۔ چلو میری ساتھ ۔
وہ ہمدان کو بازو سے بھینچتی ہوئی ایک بڑے سے ہال نما کمرے میں لے گئیں جہاں بہت
سارے مرد تکیوں سے ٹیک لگائے فرش پر بیٹھے تھے ۔
رملہ بھی دوڑتی ہوئی ان کے پیچھے چلی آئی۔
اچھا ہوا تم خود یہاں چلی آئی ۔ ۔ ۔ میں تمہیں ہی بلانے والی تھی۔
وہ ہمدان کا بازو چھوڑتی ہوئی رملہ کی طرف بڑھیں اور اسے کندھے سے جھنجوڑ تی ہو ئیں ہال
کے درمیان لے آئیں ۔
آج آپ سب کی خدمت میں پیش ہے میرے جگر کا ٹکرا ۔ ۔ ۔ میری نازوں سے پلی نازک سی گڑیا , آج میں اس کی بولی لگاوں گی ۔ ۔ ۔ ۔ تو کون خرید نا چاہے گا ؟
ہر طرف عجیب سا شور برپا ہو گیا ۔ سب حیران تھے ان کے اعلان پر کہ وہ اپنی بیٹی کی بولی
کیسے لگا سکتی ہیں ؟
ہمدان حیرت زدہ سا دیکھتا رہ گیا ۔ ۔ ۔ ان کے الفاظ کسی دھماکے کی طرح محسوس ہوئے
اسے۔
پچاس ہزار ۔۔۔ ایک آدمی بے باقی سے رملہ کو سر تا پاوں دیکھتے ہوئے بولا۔ بڑے سستے نکلے آپ جناب۔۔۔ وہ ہنستی ہوئی بولیں اور پلٹ کر ایک نظر خاموش
کھڑے ہمدان کو دیکھا ۔ ایک لاکھ ۔ ۔ ۔ ۔ ایک اور آواز گونجی۔
دولاکھ ۔ ۔ ۔ ۔ ایک اور آواز آئی ۔
تین لاکھ ۔ ۔ ۔ چار لاکھ ۔ ۔ ۔ ساڑھے چار لاکھ ۔ ۔ ۔ اسی طرح بڑھتے بڑھتے بات دس لاکھ
تک جا پہنچی۔
دس لاکھ ایک ۔ ۔ ۔ دس لاکھ دو ۔ ۔ ۔ دس لاکھ تین, مبارک ہو آپ کو آج سے یہ آپ کی
ہوئی۔
وہ بیٹی کا ہاتھ اوپر اٹھائی ہوئی فخریہ انداز میں بولیں۔ رملہ نے بھیگی آنکھوں سے ہمدان کی طرف دیکھا۔
وہ رملہ کی طرف بڑھا اور اس کا ہاتھ تھام کر اس کی ماں کے ہاتھ سے آزاد کیا۔ " یہ بیوی ہے میری کوئی سامان نہی " ۔ ۔ ۔ جو آپ اس کی بولی لگا رہی ہیں ۔
کیا کہا تم نے میں نے سنا نہی ۔ ۔ ۔ ؟
وہ ایسے ظاہر کر رہی تھیں جیسے کچھ سنا ہی نا ہو۔
میں نے کہا بیوی ہے یہ میری ۔ ۔ ۔ ہمدان غصے میں بولا ۔
طوائف کی بیٹی کسی کی بیوی نہی ہو سکتی ۔ ۔ ۔ چھوڑو میری بیٹی کا ہاتھ اور جاو یہاں سے ۔ ۔ ۔ اس کا سودا کر دیا ہے میں نے ۔ وہ غصے سے آگے بڑھیں اور رملہ کو ہاتھ تھامنا چاہا لیکن ہمدان اس کے سامنے ڈھال بن چکا
تھا۔
میں نے کہا ناں آپ ایسا نہی کر سکتی ۔ ۔ ۔ مزید کوئی بات نہی سنوں گا میں چاہے مجھے جان
سے کیوں نہ مار دیں آپ ۔
اچھا ۔ ۔ ۔ تمہارا یہ شوق بھی ابھی پورا کر دیتی ہوں ۔
ان کے اشارے پر چار آدمی ہمدان کی طرف بڑھے اور اسے مارنا شروع کر دیا لیکن اس
نے رملہ کا ہاتھ نہیں چھوڑا ۔
کسی نے پیچھے سے اس کے سر پر وار کیا تو وہ چکراتے سر کے ساتھ فرش پر بیٹھ گیا اور آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھانے لگا۔
اس کے کمزور پڑتے ہی رملہ کا ہاتھ اس کے ہاتھ سے کھینچ لیا گیا ۔
لیں جائیں اسے کمرہ تیار ہے آپ کے لیے ۔ ۔ ۔ انہوں نے رملہ کا ہاتھ اس بولی جیتنے والے
خبیث انسان کے ہاتھ میں تھما دیا۔ اماں ۔ ۔ ۔ مت کرو یہ ظلم ۔
بیٹی ہوں میں آپ کی ۔۔۔۔ کوئی ماں اپنی بیٹی کے ساتھ ایسا کیسے کر سکتی ہے ؟ رملہ جتنا چلا سکتی تھی چلائی مگر اس زوروار آدمی کے سامنے اس کی طاقت کمزور پڑ گئی ۔ مکراسی زور دار آدی کی پڑگئی۔ اس آدمی کے ساتھ پیچتی چلی گئی اور کمرے کے دروازے کو تھام کر زور سے
ہمدان کا نام پکارا۔ ہمدان اس کی آواز پر خود کو سنبھالنے کی کوشش کرتے ہوئے ان کے پیچھے چل دیا لیکن
اس کے پہنچنے سے پہلے ہی وہ آدمی کمرے کا دروازہ بند کر چکا تھا۔ وہ دروازے کو کھولنے کی کوشش کرنے لگا لیکن اس کا وجود اس کا ساتھ نہی دے رہا تھا ۔
دروازے کے پاس ہی فرش پر گر گیا اور آخری الفاظ جو اس کے منہ سے نکلے وہ یہ تھے ۔ ۔ ۔ "مجھے معاف کرنا میں تمہاری عزت کی حفاظت نہی کر سکا ۔ " اس کے بعد اسے کچھ ہوش نہی تھا کہ وہ کہاں ہے اور کہاں نہیں ۔ جب آنکھ کھلی تو خود کو اپنے کمرے میں دیکھا۔
چونک کر بیٹھ گیا۔ سر پے پٹی بندھی ہوئی تھی اور اس کی امی جائے نماز بچھائے نماز پڑھ کر
دعا میں مصروف تھیں ۔ سر تھام کر بیٹھ گیا ۔ ۔ ۔ امی ۔
بیٹے کی آواز سن کر وہ جائے نماز تہ لگا کر تیزی سے اس کے پاس آئیں ۔ ماں صدقے جائے میرا بچہ ۔ ۔ ۔ شکر ہے ہوش آگیا میرے بیٹے کو ۔
میں یہاں کیسے آیا ؟
میں تو ۔۔۔۔ کچھ بولنے ہی والا تھا کہ بولتے بولتے رک گیا ۔ بینی کہاں ہے ؟
اچانک سے بینی کا خیال آیا۔
وہ اپنے کمرے میں ہے ہمدان ۔ ۔ ۔ طبیعت ٹھیک نہی ہے اس کی ۔ ۔ ۔ کیا ہوا تھا تم
دونوں کے ساتھ ؟
★★★★★
کون لوگ تھے وہ ؟
وہ لوگ تم دونوں کو بے ہوشی کی حالت میں پچھلے دروازے کے پاس چھوڑ گئے
تھے ۔ چوکیدار نے دیکھ لیا تھا اسی لیے فوراً ہمیں اطلاع دی۔
کل رات جب تم دونوں کو اس حال میں دیکھا تو ہم سب کی تو جیسے جان ہی نکل گئی تھی ۔ کون تھے وہ لوگ اور کیوں کیا انہوں نے ایسا؟
امی میں نہی جانتا وہ لوگ کون تھے اور کیوں کیا انہوں نے ہمارے ساتھ ایسا ۔ ۔ ۔ رملہ کا سوچ کر اسے اپنی بے بسی یا د آ گئی ۔
جو بھی ہو وہ میری بیوی ہے اور میں اس کی حفاظت نہی کر سکا ۔ ۔ ۔ ایک بار پھر ہار گیا
میں شوہر ہونے کا فرض نہی نبھا سکا۔
گھٹنوں پے سر گرائے ظبط اور بے بسی سے آ نکھیں زور سے بند کیں ۔
ہمدان ۔ ۔ ۔ بیٹا کیا ہوا ہے کچھ بتاو تو سہی ۔ ۔ ۔ تمہاری خاموشی مجھے پریشان کر رہی ہے ۔ کچھ نہی امی ۔ ۔ ۔ آپ پریشان نہ ہو میں بلکل ٹھیک ہوں ۔ بس سر پے زرا چوٹ لگی ہے تو
درد ہے سر میں ۔
میں بینی سے مل کر آتا ہوں ۔ ۔ ۔ اٹھ کر کمرے سے باہر نکل گیا۔ بینی کے کمرے میں گیا تو وہ اٹھ کر بیٹھی رو رہی تھی۔ پریشان سا اس کے پاس بیٹھ گیا ۔ کیا ہوا رو کیوں رہی ہو تم ؟
بہت ڈر گئی تھی میں ۔ ۔ مجھے لگا تھا شاید زندہ واپس گھر نہی آسکوں گی ۔ ایسے لگ رہا تھا جیسے
زندگی ختم ہورہی تھی۔
ایک دن میں کیا سے کیا ہو گیا ہمارے ساتھ ۔ ۔ مجھے تو لگتا ہے رملہ نے کروایا ہے یہ سب
کچھ مجھ سے بدلہ لینے کے لیے ۔
اگر اس نے بدلہ لینا تھا تو صرف تم سے لیتی مجھ سے نہی ۔ ۔ ۔ اسے چوٹ تم نے دی تھی
میں نے نہی دکچھ بھی سوچتی رہتی ہو۔
حلیہ ٹھیک کرو یارا اپنا عجیب شکل بنا رکھی ہے ۔ سب پریشان ہیں گھر میں ۔
پریشان تو ہیں ہم سب ۔ ۔ ۔ بینی کی ماں کمرے میں داخل ہوئیں۔
اور اس پریشانی کی وجہ کیا ہے یہ جاننا ہے مجھے تم بتانا پسند کرو گے آخر یہ سب کس نے کیا
ہے ؟
تائی امی مجھے کیا پتہ کس نے کیا یہ سب کچھ مجھے تو خود ہوش نہی تھا آپ جانتی ہیں۔ ہمدان تیزی سے بول کر جانے کے لیے اٹھ گیا۔
یہاں بیٹھو آرام سے اور میری بات کا جواب دو ہمدان ۔ ۔ ۔ تم اس طرح بھاگ نہی سکتے ۔ آخر چل کیا رہا ہے تمہاری زندگی میں ؟
ایسا کیا کارنامہ سر انجام دیا ہے تم نے تمہارے ساتھ ساتھ میری بیٹی کی جان کو بھی خطرہ
ہے؟
آج میرے سوالات کے جواب دیے بغیر کہی نہی جاؤ گے ۔ ۔ مجھے بچ جاننا ہے ۔ بینی نے گھبرا کر ہمدان کی طرف دیکھا اور سر نفی میں بلایا ۔ ۔ ۔ جس کا مطلب تھا کہ میں نے
کچھ نہی بتایا ۔
جیسا آپ سمجھ رہی ہیں ویسا کچھ نہی تائی امی ۔۔۔ میں نہی جانتا وہ لوگ کون تھے اور کیوں کیا انہوں نے ایسا ۔ ۔ ۔ ہم دونوں زندہ اور سہی سلامت آپ سب کے سامنے ہیں خدا کا شکر
ادا کریں ۔ آجکل ویسے ہی لوگ پیسہ بنانے کے چکر میں قصائی بنے ہوئے ہیں ۔ دوسرے کی جان کی
کوئی قدر و قیمت ہی نہی ہے ایسے لوگوں کی نظر میں ۔
کہہ تو تم سہی رہے ہو بیٹا لیکن اگر بات پیسہ کی ہوتی تو وہ لوگ پیسوں کا مطالبہ کرتے ۔ ۔ ۔ جبکہ انہوں نے ہم سے ایسا کوئی مطالبہ نہی کیا۔
تم دونوں کو سہی سلامت تمہاری ہی گاڑی میں گھر کے باہر پھینک گئے اور حیرت تو اس بات کی ہے کہ انہیں ہمارے گھر کا ایڈریس بھی پتہ تھا ۔
یہ سب کچھ اتفاق تو نہی ہو سکتا ناں ؟
ایسا کچھ تو ہے جو میں نہی جانتی ۔ ۔ ۔ کچھ تو چھپا رہے ہو تم دونوں ۔
میں اس بارے میں کچھ نہی جانتا تائی امی ۔ ۔ ۔ ابھی میں خود پریشان ہوں ، کچھ پتہ چلا تو بتا دوں گا آپ کو ۔ ۔ ۔ ہمدان بینی کو اشارے میں سمجھاتے ہوئے کمرے سے باہر نکل گیا۔ دو دن بعد طبیعت کچھ بہتر ہوئی تو یو نیورسٹی کے لیے نکل گیا۔ بینی ابھی جانا نہی چاہتی تھی
لیکن ہمدان کا دل نہی لگ رہا تھا گھر پر یو نیورسٹی پہنچا تو رملہ بھی یو نیورسٹی آئی ہوئی تھی لیکن اکیلی نہی اس کی اماں بھی ساتھ تھیں ۔ کسی انجانے احساس کے زیر اثر ان کی طرف بڑھا لیکن رملہ نے اسے دیکھ کر سر نفی میں بلا
دیا اور چہرہ دوسری طرف موڑ لیا ۔
اور بھی جس جس کو یہ تصویر میں دی ہیں اکٹھی کر کے لے کر آوورنہ تمہارا وہ حشر کروں گی کہ
زندگی بھر یا درکھو گے ۔
وہ نصیر سے بحث کر رہی تھیں اور ہمدان ان کے سامنے آرکا ۔
اسے دیکھ کر وہ بلکل خوش نہی ہو ئیں ۔ رملہ نظریں جھکائے ایسے کھڑی رہی جیسے اسے
دیکھا ہی نہ ہو۔
اس سے تو اچھا تھا آپ اپنی بیٹی کا گلا گھونٹ دیتی ۔ ۔ ۔ اگر اتنی تعلیم و تربیت دلانے کے
بعد بھی اس کا سودا ہی کرنا تھا ۔ ہمدان غصے سے بے خوف بولتا چلا گیا ۔
ماں تو اولاد کو آنے والی زرا سی تکلیف پر تڑپ اٹھتی ہے ۔ آپ کیسی ماں ہیں ؟ آپ نے خود اپنی بیٹی کو اس ظالم درندے کے حوالے کر دیا ۔
سچ کہو تو مجھے شرم آرہی ہے اپنے مرد ہونے پر ۔۔۔ ایک ایسا مرد جسے ایک عورت نے
ہرا دیا ۔
اپنی عزت کی حفاظت نہی کر سکا میں ۔ ۔ ۔ اس بات کا افسوس مجھے اپنے آخری سانس تک
رہے گا۔
میرا درد تو شاید کم ہو جائے لیکن آپ نے جو تکلیف اپنی بیٹی کو دی ہے ۔ یہ دردوہ تا عمر نہی بھول سکے گی ۔
مجھے لگا تھا شاید آپ نے اپنی بیٹی کو پڑھنے کی اجازت دی ہے تو اس کے اچھے مستقبل کا بھی سوچا ہو گا لیکن نہی ۔ ۔ ۔ پیسے کے لالچ میں آپ رشتوں کا تقدس بھی بھول چکی ہیں ۔
ہمدان پلیز ۔ ۔ ۔ رملہ آنسو بہاتی ہوئی دونوں ہاتھ ہمدان کے سامنے جوڑتی ہوئی بولی۔
بس آنسو ہی بہاتی رہو ۔ ۔ کبھی اپنے حق کے لیے آواز مت اٹھانا ۔ ۔ ۔ ہمدان اسی پر تپ
کیا۔
میری بیٹی کے لیے کیا سہی ہے اور کیا غلط اس کا فیصلہ کرنے والے تم کون ہوتے ہو؟ زیادہ سر پے مت چڑھو میرے ۔ ۔ ۔ پرانے زخموں کے نشان ابھی مٹے نہی
تمہارے ۔ گلناز بیگم بھی تپ گئیں ۔
یہ نشان تو مٹ جائیں گے لیکن ۔ ۔ ۔ جو زخم آپ نے ہماری روح پر لگائے ہیں اس کے
نشان کبھی نہی مٹ سکتے ۔
ہر غلطی کی ایک سزا ہوتی ہے لیکن جو سزا آپ نے ہم دونوں کو دی ہے اس کے حقدار
ہم نہی تھے ۔
اچھا ۔ ۔ ۔ اگر ایسی ہی بات ہے تو ابھی لے جاو میری بیٹی کو اپنے گھر ۔ ۔ ۔ جاو بتا دوا اپنے
سارے گھر والوں کہ تم نے نکاح کر لیا ہے ۔
اعلان کرو سب کے سامنے کہ تم نے ایک طوائف کی بیٹی سے نکاح کیا ہے اور اسے اپنی
عزت بنانا چاہتے ہو۔
بولو کر سکتے ہو ایسا ۔ ۔ ۔ ۔ ہے ہمت ؟
بس ہو گئے خاموش ۔ ۔ ۔ بولواب ، بڑی بڑی باتیں کرنا آسان ہے لیکن ان باتوں پر عمل
کرنا بہت مشکل ہوتا ہے ۔
مجھے عزت دلانے بھی آیا تھا ایک کم ظرف مرد ۔ ۔ ۔ اپنے خاندان کے سامنے ہار گیا
وہ ۔ ۔ مجھے کیا ملا یہ ذلت بھری زندگی ۔
میری بیٹی کا مقدر بھی یہی زندگی ہے تو پھر میں کیوں اسے ایسے راستے پر چلنے دوں جس کی
کوئی منزل ہی نہی ہے ۔
تم مجھ سے میری بیٹی کو چھیننا چاہتے تھے ۔ اسی لیے میں نے تم سے اس کا نکاح پڑھایا تاکہ اسے سمجھا سکوں کہ یہ تمہارے ساتھ وقت تو گزار سکتا ہے لیکن اپنی عزت نہی بنا سکتا ۔ اگر تمہیں اس کی اتنی ہی فکر ہوتی تو جوش میں آنے کے بعد اسے ڈھونڈتے چلے آتے لیکن
نہی ۔ ۔ ۔ تم نے کوشش بھی نہی کی ۔
آپ نے موقع ہی کب دیا میری مرضی جاننے کا ؟
جس طرح پانچ انگلیاں ایک برابر نہی ہوتی بلکل اسی طرح ہر مرد کم ظرف نہی
ہوتا ۔ ۔ ۔
آپ کی سوچ غلط ہے ۔ میں رملہ کو بھی بھی اپنانے کے لیے تیار ہوں ۔ جہاں تک بات میرے گھر والوں کی ہے تو
مجھے اس بات کی فکر نہی ہے ۔
کوئی اسے قبول کرے یا نا کرے ۔ ۔ ۔ میں اسے قبول کر چکا ہوں یہ میرے لیے کافی ہے ۔ رہنے دو بیٹا ۔ ۔ ۔ جاو اپنی پڑھائی پر دھیان دو ۔ جس دن ساری دنیا کے سامنے اسے اپنانے کی ہمت آگئی تم میں اس دن چلے آنا۔
میں خوشی خوشی اپنی بیٹی تمہارے ساتھ رخصت کر دوں گی۔
انہوں نے آگے بڑھ کر رملہ کا ہاتھ تھامنا چاہالیکن ہمدان اس کا ہاتھ تھام چکا تھا۔ مت کریں ایسا ۔ ۔ ۔ اس بے گناہ کو سزا مت دیں ۔ اس کے ساتھ بہت بڑی زیادتی ہوئی
ہے ۔ کم از کم آپ تو ترس کھائیں ۔
کیا آپ کو تکلیف نہی ہوتی اس کے آنسو دیکھ کر ؟
کیسی ماں ہیں آپ ۔ ۔ ۔ آپ مجھے بتائیں اگر آپ کو پیسے ہی چاہیے تو, جتنی رقم آپ چاہیں گی آپ کو ملے گی لیکن بدلے میں مجھے اس کی خوشیاں چاہیے ۔
ہمارے معاملات پیسوں سے بڑھ کر ہیں۔۔۔ تم ابھی نہی سمجھو گے اور میں ابھی سمجھانا بھی نہی چاہتی۔ بہتر یہی ہو گا کہ تم اپنے راستے الگ کر لو۔ میری بیٹی کا اچھا بر اسب پتہ ہے مجھے
تمہیں فکر کرنے کی کوئی ضرورت نہی ہے ۔ چلور ملہ ۔ ۔ ۔ وہ رملہ کو بازو سے بھینچتی ہوئی وہاں سے لے گئیں اور رملہ بس پلٹ کر ہمدان کو دیکھتی رہ گئی ۔
I am Sorry
سب کچھ میری وجہ سے ہوا ہے۔ رملہ نے میری انسلٹ کی تھی سب کے سامنے بس اسی
کا بدلہ لے رہا تھا میں ۔
ان دونوں کے وہاں سے جاتے ہی نصیر ہمدان کے پاس آرکا اور شر مندگی سے سر
جھکائے معافی مانگنے لگا۔
آج تمہاری نظریں زمین پر کیوں جھکی ہیں ؟
میری طرف دیکھ کر بات کرو نصیر ۔ ۔ ۔ تمہاری یہ شرمندگی اب کسی کام کی نہی ہے ۔ کچھ اندازہ بھی ہے تمہیں کہ تم نے کیا کیا ہے ؟
ایک نہی بلکہ تین زندگیاں برباد کرنے کی کوشش کی ہے تم نے ۔۔۔ تمہاری اس بدلہ لینے والی گھٹیا سوچ نے مجھے اور رملہ کو برباد کر کے رکھ دیا ہے ۔
تم خود بھی سکون میں نہی رہو گے ۔۔۔ لکھ لو میری بات آج ۔ کبھی وقت ملے تو اکیلیے بیٹھ کر سوچنا کہ تم نے ایک معصوم لڑکی کو کس طرح بر باد کیا ہے ۔
وہ لڑکی جس نے اپنے سنہر سے مستقبل کے خواب دیکھ کر اس یو نیورسٹی میں قدم رکھا تھا ۔ آج زلت کا تمانچہ لیے یہاں سے جا رہی ہے ۔
شرم آرہی ہے مجھے کہ میری وجہ سے ایک معصوم لڑکی کی زندگی زلت کا گڑھ بن گئی ۔
قصور میرا تھا کہ مجھے اس سے ہمدردی تھی ۔ ۔ ۔ بس یہی غلطی ہوئی مجھ سے, میری ہمدردی
اس کے لیے وبالِ جاں بن گئی۔
پوری یونیورسٹی میں اس وقت دو ہی نام زیر بحث ہیں ۔ رملہ اور ہمدان ۔ ۔ ۔ ۔ اور اس کا
سارا کریڈیٹ تمہیں جاتا ہے ۔ تمہاری وجہ سے ہی تو یہ اعزاز ہمیں ملا ہے ۔ میں تو کسی طرح سامنا کر ہی لوں گا دنیا کہ لیکن رملہ کے لیے یہاں پڑھنا اب کسی عزاب سے
۔
کم نہی ہے ۔ خیر مناو تم اپنی ۔۔۔ ہم سے نہی بلکہ اللہ سے کیونکہ اللہ ا پنے حقوق تو معاف کر سکتا ہے
لیکن حقوق العباد نہی ۔
آئیندہ میرے سامنے مت آنا ۔ ۔ ۔ اسے غصے سے گھورتے ہوئے اپنی کلاس کی طرف
بڑھ گیا ۔ نصیر بے بس سا سیڑھیوں میں بیٹھ گیا ہے ۔ ۔ ۔ بدلے لینے کی آگ میں بہت بڑا گناہ ہو گیا مجھے
سمجھ نہی آرہا کیسے ٹھیک کروں یہ سب ۔ ۔ ۔ رملہ کی بے بسی اور اس کے آنسو مجھے سونے
نہی دیتے۔
دن بدن میری بے چینی بڑھتی ہی جا رہی ہے۔ اس سے معافی بھی مانگوں تو کیسے ۔ ۔ ۔ اس کی اماں اسے اکیلا چھوڑنے کو تیار ہی نہی ہیں اور اس کا نمبر بھی بند ہے ۔ اگر میں نے اس سے معافی نہ مانگی تو میری زندگی تباہ ہو جائے گی ۔ میرا سکون برباد ہو چکا
ہے ۔ یہ کہانی اس طرح بدل جائے گی یہ تو میں نے سوچا ہی نہی تھا۔
میں تو بس رسلہ کو ڈی گریڈ کرنا چاہتا تھا لیکن اس سے زیادہ ڈی گریڈ میں خود ہو چکا ہوں ۔ ڈیڈ نے بولا ہے کہ گھر نہ آوں اور مام الگ ناراض ہیں ۔ ابھی انہیں میری اس حالت کا نہی
پتہ چلاور نہ معاملہ مزید بگڑ سکتا ہے ۔ سمجھ نہی آ رہا کروں تو کیا کروں ؟
شرمندگی کے دلدل میں پھنس چکا ہوں میں ۔ ۔ ۔ کوئی تو راستہ ہو گا اس سے باہر نکلنے کا۔ بے بسی سے اپنے بال مٹھی میں جکڑتے ہوئے اٹھہ کر اپنی کلاس کی طرف بڑھ گیا۔ کلاس میں داخل ہوا تو سب اس کو گھور رہے تھے ۔ اس کی حالت ہی ایسی تھی ۔ چہرے پر زخم کے نشان اور ہاتھ پر بندھی پٹیاں اس کی بے بسی واضح کر رہی تھیں ۔
کیا ہے تم سب کو ۔ ۔ ۔ ایسے کیوں دیکھ رہے ہو مجھے ؟
میرے چہرے پر کوئی لیکچھ لکھا ہے کیا جو میرے کلاس میں داخل ہوتے ہی سب سیریس
ہو گئے۔
ایکسیڈنٹ ہوا میرا ۔ ۔ ۔ کوئی شوق نہی مجھے پٹیاں باندھنے کا ۔ رملہ کی خالی سیٹ پر نظر پڑی تو بولتے رک گیا۔
بس کر یار کتنا جھوٹ بولے گا ۔ ۔ ۔ سب جانتے ہیں ہم کونسا ایکسیڈنٹ ہوا ہے تمہارا ۔ رملہ کے گھر والوں نے پھینٹی لگانی ہے تجھے وہ بھی کپڑے دھونے والے ڈنڈے
سے ۔ ۔ ۔ سہی ہڈیاں توڑی ہیں انہوں نے تمہاری ۔
لڑکے ہاتھ پر ہاتھ مارتے ہوئے بولے اور ساری کلاس ہنسنا شروع ہوگئی ۔ نصیر غصے سے ان میں سے ایک پر جھپٹا اور اسے گریبان سے بھینچتے ہوئے زمین پر بیچ دیا ۔ نام مت لینا آئیندہ اس کا ۔۔۔ ورنہ زبان کھینچ لوں گا تمہاری سمجھے ؟
کس کس کو روکو کے اس کا نام لینے سے ؟
ایک لڑکی غصے سے اس کی طرف بڑھی ۔
تمہیں کیا لگا ایک لڑکی کی عزت اتنی سستی ہوتی ہے کہ تم اسے کسی بھی اچھال دو ۔ تم نے اس بیچاری پر اتنا گھٹیا الزام لگایا ہے کہ وہ یو نیورسٹی چھوڑ کر چلی گئی صرف تمہاری
وجہ ہے۔
ڈوب کر مر جاو تم ۔ ۔ ۔ تم جیسے گھٹیا انسان کو اس یو نیورسٹی میں نہی ہونا چاہیے ۔
گھٹیا کم ظرف ۔ ۔ ۔ تمہیں تو جان سے مار دینا چاہیے تھا انہیں تا کہ آئیندہ کوئی بھی گھٹیا
انسان ایسا قدم اٹھانے سے پہلے ہزار بار سوچتا ۔
نصیر کچھ نہی بولا کیونکہ اس کے پاس کوئی جواب ہی نہی تھا ۔ چپ چاپ کلاس سے باہر نکل
گیا۔
ہمدان یو نیورسٹی سے باہر نکلا ہی تھا کہ ایک انجان نمبر سے کال آنا شروع ہو گئی۔
اس نے کال پک کر لی ۔۔۔ ہیلو۔
ہمدان بھائی میں روشنی ۔۔۔۔ کون روشنی ؟
میں نے پہچانا نہی آپ کو ۔ ۔ ۔ ہمدان سوچ میں پڑ گیا ۔
همدان بھائی میں روشنی رسلہ کی دوست ۔ ۔ ۔ بڑی مشکل سے آپ کا نمبر ملا ہے۔ مجھے آپ کو بتا نا تھا کہ رسلہ بی بی کو ان کی اماں یہاں سے کسی دوسرے ملک بھیج رہی ہیں ۔ رطہ بی بی بہت پریشان ہیں ۔ آپ ان کو روک لیں آکر کیونکہ آپ ہی ہیں جو انہیں بچا سکتے
ہیں۔
جتنی جلدی ہو سکے آپ یہاں پہنچ جائیں ۔ وہ بہت رو رہی ہیں ۔
یاد آنے پر ہمدان جلدی سے بولا ۔
وہاں ہی جہاں آپ ان سے پہلی بار ملے تھے ۔ بدقسمتی سے یہی ان کا گھر ہے ۔ ٹھیک ہے میں پہنچتا ہوں ۔ ۔ ۔ کال کاٹ کر تیزی سے پارکنگ کی طرف بڑھا۔ گاڑی اسٹارٹ کی اور نکل گیا ۔ کیا مصیبت ہے ۔ ۔ ۔ ایک پریشانی ختم نہی ہوتی اور دوسری
شروع ہو جاتی ہے ۔
یہ ماں کم جلاد زیادہ لگتی ہیں مجھے ۔ ۔ ۔ کوئی اپنی اولاد پر اتنے ظلم کیسے کر سکتا ہے ۔ سوچ سوچ کر ہی حیرت ہو رہی ہے مجھے ۔ ۔ ۔ پہلے نکاح اور اب اسے یہاں سے کہی اور بھیج
رہی ہیں۔
پتہ نہی کیا چاہتی ہیں یہ مجھ سے ۔ ۔ ۔ آج کھل کر بات کرنی پڑے گی ان سے اور ان سے پوچھنا پڑے گا کہ آخر ان کی کیا دشمنی ہے میرے ساتھ جو یہ سب کر رہی ہیں ۔ ایک تو بینی نے ناک میں دم کر رکھا ہے ۔ ساتھ والی سیٹ پر مجھے اپنے فون کو دیکھ کر اسے
مزید غصہ آیا ۔ فون سائلنٹ پر لگا کر سیٹ پر واپس پھینک دیا۔ سمجھ نہی آرہی آخر یہ سب کیا ہو رہا ہے
میرے ساتھ ۔ ۔ ۔ ایک ہاتھ ماتھے پے رکھے سوچ میں پڑ گیا۔
نصیر نے جو کچھ کیا اس میں میرا کیا قصور تھا ۔ جتنا نقصان رملہ کا ہوا تھا میرا بھی اتنا ہی ہوا۔
پھر یہ نکاح ۔ ۔ ۔ اس نکاح کا مقصد کچھ سمجھ نہیں آرہا مجھے ۔
کبھی کبھی دل کرتا ہے کسی سے شئیر کر لوں شاید تکلیف کچھ کم ہو جائے لیکن مسئلہ یہ ہے کہ
شئیر کروں بھی تو کس سے؟
کوئی ہے ہی نہی میرے پاس جس کے کاندھے پے سر رکھ کر اپنے دل کا بوجھ ہلکا کر لوں ۔ امی تو کبھی نہی سنیں گی میری بات ۔ ۔ ۔ واویلہ مچا دیں گی گھر میں اور تائی جان ۔ ۔ ۔ وہ بے
گھر کردیں گی سب کو ۔
بینی کو بتایا تو وہ تو شاید میرا قتل ہی کر دے اور مجھے ہی غلط سمجھے گی وہ اتنا تو مجھے پتہ ہے ۔ ایسا کوئی خاص دوست بھی نہی میرے پاس ۔ ۔ ۔ گہری سانس لیتے ہوئے مسکرا دیا ۔ ایک دوست تھی جسے میں نے گنوا دیا ۔ کاش اس کے لیے کوئی قدم اٹھایا ہوتا میں نے تو
آج وہ میرے ساتھ ہوتی ۔
ایک کو تو کھو چکا ہے اب دوسری دوست کھونے کی ہمت نہی ہے مجھ میں ۔ ۔ ۔ یا اللہ میری مدد
کر د میں بہت مشکل میں ہوں ۔ تیرے سوا کوئی مدد نہی کر سکتا میری ۔ ایک گھنٹے کی ڈرائیونگ کے بعد آخر کار مطلوبہ جگہ پہنچ گیا۔
آج چہرہ چادر میں نہی چھپایا ۔ ۔ ۔ گاڑی لاک کرتے ہوئے تیزی سے کوٹھے کی سیڑھیاں
پھلانگتاچلا گیا ۔
ابے کون ہے توں ۔ ۔ ۔ کس سے ملنا ہے تجھے ؟
بوا جی سے بات ہوئی تمہاری ؟
مین دروازے پر پہنچا تو ایک آدمی تیزی سے اس کی طرف بڑھا۔
کون بواجی ۔ ۔ ۔ ۔ ؟
ہمدان نا سمجھی میں بولا ۔
بواجی ۔ ۔ ۔ میرا مطلب یہاں کی مالکن گلناز بیگم ۔
اس کی بات پر ہمدان مسکرا دیا اور اسے راستے سے ہٹاتے ہوئے اندر داخل ہو گیا۔ جا کر بتا دو اپنی ہوا جی کو کہ ان کا داماد آیا ہے۔
آرڈر دینے کے انداز میں اندر داخل ہوا اور ٹانگ پر ٹانگ جمائے صوفے پر بیٹھ گیا۔
ہمدان کو سامنے دیکھ کر گلناز بیگم کے چھرے کی ہوائیاں اڑ گئیں ۔ وہ تیزی سے نیچے آئیں اور سامنے والے صوفے پر اطمینان سے بیٹھ گئیں ۔
یہاں آنے کا مقصد ۔۔۔۔؟
انتہائی ادب سے سوال پوچھا گیا ۔ همدان طنزیہ مسکرا دیا ۔ ۔ ۔ کمال ہے ویسے آپ کا داماد پہلی بار گھر آیا ہے ۔ خاطر تواضع کرنے کی بجائے اس سے آنے کا مقصد پوچھ رہی ہیں آپ ۔ ۔ ۔ اپنی بیوی سے ملنے آیا
ہوں ۔
میری بیوی سے ملنے سے تو نہی روک سکتی آپ مجھے ۔ ۔ ۔ آخر کار شوہر ہوں اس کا, پورا حق
ہے مجھے اس سے ملنے کا ۔
وہ یہاں نہی ہے ۔ کسی دور گئی ہے اپنی ایک دوست کی شادی میں ۔ ۔ ۔ گلناز بیگم نے
بڑے اطمینان سے جواب دیا ۔
کوئی بات نہی آپ مجھے ایڈریس دے دیں ، میں خود پہنچ جاوں گا ۔
ہمدان کی بات پر انہوں نے حیرت سے ارد گرد نظر دوڑائی اور غصے سے اٹھ کھڑی ہوئیں ۔
تم اس سے نہی مل سکتے۔
کیوں نہی مل سکتا میں ۔۔۔؟
بھول کیوں جاتی ہیں کہ اب وہ صرف آپ کی بیٹی نہی ہے ۔ ایک اور رشتہ شامل ہو چکا ہے اس کی زندگی میں ۔
حقدار بدل چکے ہیں ۔ آپ سے زیادہ میرا حق ہے اب آپ کی بیٹی پر ۔ ۔ ۔ بہتر یہی ہو گا کہ
آپ اسے یہاں بلائیں میرے سامنے ۔
یہ رشتہ تو آپ نے ہی جوڑا تھا تو اب یہ پابندیاں کیسی ؟
میرا جب جب دل چاہے گا میں یہاں آوں گا اور اپنی بیوی سے ملوں گا ۔
صد کیوں کر رہے ہو؟
ایک بار کہہ دیا ناں کہ تم اس سے نہی مل سکتے تو نہی مل سکتے ۔ ۔ ۔ یہاں بیٹھنے کا کوئی فائدہ
نہی ہے ۔
اپنا اور میرا وقت ضائع مت کرو۔
وقت کون ضائع کر رہا ہے یہ آپ بہتر جانتی ہیں۔ مجھے رملہ سے ملنا ہے وہ بھی
ابھی ۔ ۔ ۔ اسی وقت ۔
جب وہ یہاں ہے ہی نہی تو تم سے کیسے مل سکتی ہے ؟
فضول تماشہ مت لگاو یہاں ۔ ۔ ۔ میری بیٹی کے بارے میں بات کر رہے ہو ، آج تک کسی کو اجازت نہی دی کہ کوئی میری بیٹی پر حق جما سکے ۔
تمہارا لحاظ کر رہی ہوں اس کا مطلب یہ نہی کہ تم سر پے چڑھتے جاو۔ ۔ ۔ آئیندہ یہاں آنے
کی حماقت مت کرنا۔
ورنہ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ؟
ور نہ کیا کر لیں گی آپ؟
آج بتا ہی دیں مجھے ۔ ۔ ۔ جواب لیے بغیر یہاں سے نہی جاوں گا میں ۔
آخر ایسی کیا مجبوری تھی آپ کی جو آپ نے اپنی بیٹی کو اتنی بڑی سزا دی ہے ؟ اور جہاں تک بات ہے حق جتانے کی۔۔۔ تو ایک بات میں آپ کو صاف صاف بتا دوں اگر آپ بھول رہی ہیں تو ۔۔۔ یہ حق مجھے خود آپ نے ہی دیا ہے۔ میں کیا چاہتا ہوں یہ جاننا ضروری سمجھا ہی نہی آپ نے ۔ ۔ ۔ رملہ کیا چاہتی ہے کیا نہی اپنی بیٹی کی مرضی بھی جاننا ضروری نہی سمجھا آپ نے۔
آخر ایسی کیا دشمنی تھی آپ کی اپنی بیٹی سے ؟
پہلے حق دیتی ہیں آپ اور پھر حق چھینے کی بات کرتی ہیں ۔ آخر آپ کا مقصد کیا ہے ؟
مقصد اگر تمہیں بتانا ہوتا تو کب کا بتا چکی ہوتی ۔ ۔ ۔ تم ابھی نا سمجھ ہو نہی سمجھو گے۔
اماں ۔ ۔ ۔ کیا ہو رہا ہے یہ سب یہاں ؟
رملہ سیڑھیوں سے نیچے آتی ہوئی بولی ۔
اسے آتے دیکھ کر ہمدان کے چہرے پر سکون بھری مسکراہٹ پھیل گئی ۔ اٹھ کر اس کی
طرف چل دیا ۔
اسے اپنی طرف بڑھتے دیکھ کر رملہ نے ماں کی طرف دیکھا اور نظریں جھکائے کھڑی ہو
گئی۔
آپ کیوں آئے ہیں یہاں ۔ ۔ ۔ ؟
با مشکل بولی ۔ اس کے لڑکھڑاتے الفاظ اس بات کا ثبوت تھے کہ وہ دل سے نہیں کہہ رہی تھی بلکہ ڈر کی وجہ سے یہ سوال کرنے پر مجبور ہو چکی تھی ۔
لینے آیا ہوں میں تمہیں ۔ ۔ ۔ ہد ان اس کے رویے پر گہری سانس لیتے ہوئے بولا۔ غصے سے نچلا ہونٹ دانتوں تلے دبایا اور رملہ کا ہاتھ تھامتے ہوئے گلناز بیگم کی طرف بڑھ
کیا۔
لے کر جا رہا ہوں اپنی بیوی کو ۔ ۔ ۔ آپ اسے مجھ سے دور نہی رکھ سکتی۔
میرا حق ہے اس پر ۔ ۔ ۔ وہ بھی سب سے زیادہ اور اس کا فرض ہے میری ہر بات ماننا ۔ رملہ نے اپنا ہاتھ واپس کھینچ لیا اور ماں کے پاس جار کی ۔
ہمدان اپنے خالی ہاتھ کو دیکھتا رہ گیا اور گلناز بیگم کے چہرے پر مسکراہٹ پھیل گئی ۔ یہ میری بیٹی ہے اور اس پر سب سے زیادہ حق میرا ہی رہے گا ہمیشہ ۔ ۔ ۔ کسی غلط فہمی میں
مت رہنا تم مل گیا جواب ۔ جاواب یہاں سے ۔ ۔ ۔ کہی ایسا نا ہو مجھے دھکے مار کر نکلوانا پڑے ۔
یہ بیٹی آپ کی ہے لیکن اب میری بیوی ہے ۔ ۔ ۔ یہ مجبور ہو سکتی ہے لیکن میں نہی ۔ ۔ ۔ رملہ چلو یہاں سے ۔
میں لینے آیا ہوں تمہیں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ۔ ۔ ۔ ایسے بے حس لوگوں میں جی نہی سکوگی تم میرا ہاتھ تھام لو اور پیچھے پلٹ کر مت دیکھنا۔
رملہ نے آنسو بہاتے ہوئے ہمدان کے ہاتھ کو دیکھا اور سر نفی میں ہلا دیا ۔ نہیں ۔ ۔ ۔ ۔ آپ یہاں سے چلے جائیں ہمیشہ کے لیے اور کبھی پلٹ کر مت دیکھئے گا۔
میری اماں نے میرے لیے جو بھی فیصلہ کیا ہے وہی سہی ہے میرے لیے ۔ ۔ ۔ آپ اپنی
زندگی میں آگے بڑھ جائیں ۔
میری وجہ سے آپ کو رکنے کی ضرورت نہی ہے ۔ آپ اس نکاح کو ایک حادثہ سمجھ کر
بھول جائیں ۔
ہمدان نے بے بسی سے اپنے خالی ہاتھ کو دیکھا اور غصے سے رملہ کی طرف بڑھ کر اسے
کندھوں سے تھام کر جھنجوڑا ۔
ہوشمیں تو ہو تم ۔۔۔؟
نکاح کوئی حادثہ نہی ہوتا ۔ ۔ ۔ میں نے اللہ کو حاضر و ناظر جان کر اس رشتے کو دل سے قبول
کیا ہے ۔
حالات چاہے جیسے بھی تھے لیکن اب میری بیوی ہو تم ۔ ۔ ۔ تمہیں اکیلا سسکنے کے لیے
نہی چھوڑ سکتا ۔
جانتا ہوں تم ایک بے حس ماں کی بیٹی ہو اور ماں کے پیار میں مجبور ہو لیکن میرا تو
سوچو ۔ ۔ ۔ کیا تم نہی جانتی میں زندگی میں پہلے کتنا کچھ کھو چکا ہوں۔
تمہیں کھونے کی ہمت نہی ہے مجھ میں ۔ ۔ ۔ چھوڑو اور چلو میرے ساتھ، میں تمہارے لیے ساری دنیا سے لڑوں گا لیکن تمہیں تڑپتے ہوئے نہیں چھوڑ سکتا ۔
کسی کی پرواہ نہیں کروں گا میں۔۔۔ بس تم میرا ساتھ دو۔
میں بھی آپ کی خاطر کر رہی ہوں یہ سب لیکن آپ کو بتا نہی سکتی ۔ ۔ ۔ بہت مجبور ہوں ۔ آپ کی زندگی مجھے اپنی خوشیوں سے زیادہ عزیز ہے ۔ دل ہی دل میں آنسو بہاتی ہوئی بولی
لیکن ہمدان کے سامنے ایک لفظ نہی بولا۔
چھوڑو میری بیٹی کو ۔ ۔ ۔ کیا کر رہے ہو تم ؟
گلناز بیگم غصے سے آگے بڑھی اور رملہ کو آزاد کرنا چاہا مگر ہمدان کی گرفت مظبوط تھی ۔ اگر تم اسی طرح کرتے رہے تو مجبور مجھے پولیس کو بلانا پڑے گا ۔ ۔ ۔ گلناز بیگم جب رملہ کو ہمدان کی گرفت سے آزاد نا کر سکی تو دھمکیوں پے آگئیں ۔
پولیس کیوں بلانی ہے آپ نے ۔ ۔ ۔ اپنے غنڈے بلائیں اور یہی ختم کر دیں مجھے تاکہ آپ
کے بدلے کی آگ ٹھنڈی پڑ جائے ۔
رلہ ڈر کر پیچھے ہٹی ۔ ۔ ۔ آج سے پہلے اس نے کبھی ہمدان کو اتنے غصے میں نہی دیکھا تھا۔ میں بھی دیکھتا ہوں کسی حد تک جا سکتی ہیں آپ ۔ ۔ ۔ آج یا تو آریا پھر پارا سے قصے کو کوئی
تو منزل دے ہی دیں آج ۔
قصہ تو تمہارا اسی دن ختم کر سکتی تھی میں اگر کرنا ہوتا ۔ ۔ ۔ اپنی بیٹی کی وجہ سے مجبور ہوں میں کیونکہ یہ چاہتی ہے کہ تمہاری زندگی بخش دوں ۔
اچھا ۔ ۔ ۔ تو اس طریقے سے ٹارچر کر رہی ہیں آپ اسے ۔ ۔ ۔ اگر ایسی ہی بات ہے تو میں
ابھی آپ کو اس مجبوری سے آزاد کر دیتا ہوں ۔
اپنی جیب سے پسٹل نکال کر اپنی کن پٹی پر رکھتے ہوئے رملہ کی طرف بڑھا۔ میری جان بچانے کے لیے کر رہی ہو ناں یہ سب کچھ ۔ ۔ ۔ اگر میں ہی نہی رہوں گا تو سب
ٹھیک ہو جائے گا۔
نہی ۔۔۔ رملہ چلاتی ہوئی آگے بڑھی اور اس کے ہاتھ سے پسٹل چھینے کی کوشش کی مگر
ناکام رہی ۔
اماں پلیز کچھ کریں ۔ ۔ ۔ آپ جو کہیں گی میں کروں گی لیکن انہیں کچھ نہی ہونا چاہیے ۔
بیٹی کو نر پتے دیکھ کر گلناز بیگم آگے بڑھی اور اسے گلے سے لگا لیا ۔ اس طرح تو تم ٹارچر کر رہے ہو اپنی بیوی کو ۔ ۔ ۔ ایسا کرنے سے کچھ حاصل نہی ہوگا
تمہیں ۔
ٹھیک ہے ۔ ۔ ۔ مان لیتی ہوں میں تمہاری بات اور بھیج دیتی ہوں اسے تمہارے ساتھ لیکن ۔۔۔ تم اکیلیے نہی لے کر جاؤ گے اسے بلکہ اپنے خاندان کے ساتھ آو گے میری بیٹی
کو رخصت کرنے ۔
ہمدان نے پسٹل واپس جیب میں رکھ لی ۔۔ مجھے تھوڑا وقت چاہیے لیکن ۔ ۔ ۔ تب تک یہ آپ کے پاس میری امانت ہے ۔
اگر میری امانت میں خیانت کرنے کی کوشش کی گئی تو مجھ سے برا کوئی نہی ہوگا ۔ ہمدان کا یہ بدلہ ہوا روپ دیکھ کر رملہ ایک کونے میں کھڑی آنسو بہانے لگ گئی ۔ یہ چند دن کی ملاقات کا اثر تھا یا نکاح کے دو بول کا وہ نہی سمجھ پا رہی تھی۔
ہمدان کی یہ جنونیت اس کے لیے خطرے کی گھنٹی تھی ۔ بے بسی سے چہرہ دونوں ہاتھوں
میں چھپائے پھوٹ پھوٹ کر رودی ۔
اس کے رونے کی آواز سن کر ہمدان اپنی بات درمیان میں چھوڑ کر اس کی طرف بڑھا ۔ ۔ ۔ پھر پلٹ کر گلناز بیگم کی طرف دیکھا۔
کیا میں تھوڑی دیر کے لیے بات کر سکتا ہوں اپنی بیوی سے ۔ ۔ ۔ ۔ ؟ گلناز بیگم نے بے بسی میں سر اثبات میں ہلایا اور روشنی کو رملہ کو اس کے کمرے میں
لیجانے کا اشارہ دیا ۔
ہمدان ان دونوں کے ساتھ کمرے میں پہنچ گیا ۔
آپ دونوں بیٹھیں میں آتی ہوں ۔۔۔ روشنی مسکراتی ہوئی کمرے سے باہر نکل گئی۔ ہمدان اپنے بالوں میں ہاتھ پھیرتے ہوئے اس کے پاس چلا آیا مجھے روشنی کی کال آئی تھی۔ کہ آنٹی کسی دوسرے ملک بھیجنا چاہ رہی ہیں تمہیں ۔ ۔ ۔ مجھ سے رہا نہی گیا تو میں فوراً چلا
آیا۔
سچ کہوں تو مجھے ڈر لگ رہا ہے آپ سے ۔ ۔ ۔ میں بھی آپ سے دور بھیجنے کے اماں کے اس فیصلے کو بہتر سمجھتی ہوں ۔ ۔ ۔ آپ کا یہ نیا روپ میرے لیے بہت خوفناک تھا۔ رملہ کی بات پر ہمدان مسکرا دیا۔ مجھے اس روپ میں آنے کے لیے مجبور کیا گیا تھا ورنہ میں
ایسی چیزوں سے دور ہی رہتا ہوں ۔
کیوں میرے لیے اتنی بڑی قربانی دے رہی ہو ؟
میری جان کیا تمہاری خوشیوں سے عزیز ہے ؟ جانتی ہو ایک بار ٹوٹ چکا ہوں میں ۔ ۔ ۔ اب دوبارہ ٹوٹنے کی ہمت نہی ہے مجھ میں ۔
آگے بڑھا اور رملہ کے دونوں ہاتھ تھامے کھٹنوں کے بل اس کے سامنے بیٹھ گیا ۔ میں نہی جانتا یہ سب کیوں ہو رہا ہے ہمارے ساتھ ۔ ۔ ۔ آنٹی کیوں کر رہی ہیں ایسا مجھے اب کسی سے ڈر بھی نہی لگ رہا۔ ۔ ۔ بے خوف ہوچکا ہوں میں ۔
اگر اس وقت مجھے کسی کی پرواہ ہے تو وہ تم ہو ۔ ۔ ۔ جب سے ہمارے درمیان یہ رشتہ جڑا
ہے ہر وقت تمہارا ہی خیال رہتا ہے اس دل میں ۔ ۔ ۔ رملہ کا ہاتھ سینے پے رکھتے ہوئے
جزبات سے چور لہجے میں بولا ۔
جھے کچھ مجھ نہی آرہا کہ ہمار مستقبل کا ہوگا لیکن میں اتا جاتا ہوں مستقبل چاہے کچھ بھی ہو
لیکن تم ہمیشہ میرے پاس رہو۔
محبت کھو یا عشق میں نہی جانتا ۔ ۔ ۔ بس اتنا جانتا ہوں کہ یہ دل تمہیں کھونا نہی چاہتا ۔ وعدہ کرو تم میرا ساتھ نہی چھوڑو گی ۔ ۔ ۔ حالات چاہے جیسے بھی ہو میرا یقین کرو گی ۔ بس اتنا ہی بولا تھا کہ اس کی آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھا گیا اور دیکھتے ہی دیکھتے رملہ کے
سامنے زمین بوس ہو گیا۔
پیچھے سے کسی نے اس کے سر پر وار کیا تھا۔
رملہ چلاتی ہوئی اٹھ کر کھڑی ہو گئی اور ہمدان کے سر سے بہتا خون دیکھ کر تو اس کے جیسے
حوش ہی اڑ گئے ۔
★★★★★
گلناز بیگم کمرے میں داخل ہوئی اور مسکرا دیں ۔ ۔ ۔ اسے ہاسپٹل پہنچا دو اور اس کی گاڑی
سے فون لے کر اس کے گھر اطلاع پہنچا دو۔
اماں یہ ظلم ہے ۔ ۔ ۔ آپ کیوں کر رہی ہیں ایسا ؟
ہمدان کی حالت دیکھ کر مزید چپ نارہ سکی ۔ تم خاموش رہو ۔ ۔ ۔ کچھ نہی ہو گا اسے بچ جائے گا۔ اس کی فکر چھوڑ کر جانے کی تیاری کرو۔ میں نہی جاؤں گی اماں ۔ ۔ ۔ یہ ظلم ہے ۔ آپ اتنی بے حس کیسے ہو سکتی ہیں ۔ تیزی سے ہمدان کی طرف بڑھی اور اس کے سر سے بستے خون پر اپنا ڈوپٹہ اتار کر رکھ کر
خون کو روکنے کی کوشش کی ۔
اٹھو یہاں سے رملہ ۔ ۔ مجھے مجبو ر مت کرو کہ میں تمہارے ساتھ بھی یہی سلوک کروں ۔ لے کر جاوا سے جلدی یہاں سے اس سے پہلے کہ مرجائے یہ ۔ ۔ ۔ ۔ گلناز بیگم غصے سے
چلائی تو ان کے آدمی ہمدان کو اٹھائے وہاں سے لے گئے۔
رملہ آنسو بہاتی وہی زمین پر بیٹھ گئی اور اپنے ہاتھوں پر لگے ہمدان کے خون کو دیکھنے لگ گئی۔
اماں جانتی ہیں اس کا قصور کیا ہے ؟
میں بتاتی ہوں آپ کو ۔ ۔ ۔ اس کا قصور یہ ہے کہ اس نے آپ کی بیٹی کا احساس کیا ہے ۔ یہ جانتے ہوئے بھی کہ میں ایک طوائف کی بیٹی ہوں ہمیشہ میری عزت کی حفاظت کی ۔
لیکن آپ نے اس کے ساتھ کیا کر دیا ۔ ۔ ۔ اس گناہ کی سزا ملے گی ہم سب کو ۔ ۔ ۔ دیکھ لینا
اماں ۔
آپ کی بیٹی بھی اس " عشق " میں پل پل نڑ ہے گی ۔ ۔ ۔ جتنا درد آپ نے اسے دیا
ہے ناں اتنا ہی درد مجھے ہو رہا ہے ۔ جانتی ہے کیوں ۔ ۔ ۔؟ کیونکہ آپ کی بیٹی اس سے عشق کر بیٹھی ہے ۔ پہلی ہی نظر میں, پہلی ملاقات میں ۔ ۔ ۔ یہ
جانتے ہوئے بھی کہ وہ میرا نہی ہو سکتا پھر بھی اس کی تمنا کرتی رہی۔
اس بات سے انجان تھی کہ میرا اس کو چاہنا اس کے لیے اتنی بڑی سزا بن جائے گا۔ یہ سزا میں بھی تا زندگی بھگتوگی ۔ ۔ ۔ " عشق کا یہ کھیل اب ساری زندگی دیکھیں گی
آپ ۔
اگر سکون میں وہ نہی رہے گا تو آپ کی بیٹی بھی تڑپے گی ۔ ۔ ۔ میرے دل پر تو پابندی نہی
لگا سکتی آپ ۔
اس دل میں بس ایک ہی نام رہے گا ہمیشہ ۔ ۔ ۔ ہمدان ،مدان ،ہمدان ۔ میری بے بسی مجھے زندگی بھر نہی بھولے گی اماں ۔ ۔ ۔ ۔ پتہ نہی کس جرم کی سزا دے رہی ہیں آپ ہم دونوں کو ۔
روشنی کمرے میں داخل ہوئی اور تیزی سے رملہ کی طرف بڑھی ۔ ۔ ۔ وہ روشنی کے گلے لگ
کر پھوٹ کر رودی ۔
سنبھالوا سے روشنی اور ایک گھنٹے تک اسے کمرے سے باہر لے آنا ۔ ۔ ۔ ائیر پورٹ جانا
ہے اس نے وٹائم ہو رہا ہے ۔
حکمانہ انداز میں بولتی ہوئیں کمرے سے باہر نکل گئیں ۔
چپ ہو جائیں بی بی ہی ۔ ۔ ۔ اللہ سب ٹھیک کرے گا ۔ روشنی اسے تسلیاں دینا شروع ہو گئی اور ساتھ ہی ساتھ خود بھی آنسو بہاتی رہی ۔
جیسے ہی ہمدان کے زخمی ہونے کی خبر گھر پہنچی گھر میں تو جیسے کہرام بچ گیا۔ اس کی امی نے
رو رو کر برا حال کر لیا ۔
وہ لوگ تو پہلے ہی پریشان بیٹھے تھے مینی کی وجہ سے ۔ ۔ ۔ وہ سیڑھیوں سے گرمی تھی اسے ہاسپٹل لے کر گئے ہوئے تھے اور اب ہمدان کے ہاسپٹل پہنچنے کی خبر مل گئی۔
علی بھی پریشان ہو چکا تھا اور ساتھ جانے کی ضد کر رہا تھا لیکن اس کے بابا نے ساتھ لیجانے
سے سے انکار کر دیا کیونکہ اماں اور ابا جی گھر پر اکیلیے تھے ۔
علی کو ان کے پاس چھوڑ کر دونوں میاں بیوی ہاسپٹل کے لیے نکل گئے۔ بڑے ملک صاحب تک خبر پہنچی تو وہ بھی سر تھام کر بیٹھ گئے۔
وہ بینی کی وجہ سے پہلے ہی پریشان بیٹھے تھے ۔ اوپر سے ہمدان کی خبر آگئی ۔ انہوں نے اپنی بیگم کو یہ خبر سنائی تو وہ سر تھام کر بیٹھ گئیں ۔ ۔ ۔ یا اللہ ہمیں معاف کر دے ہم سے ایسی کونسا گناہ ہو گیا جس کی اتنی بڑی سزا مل رہی ہے ہمیں۔ پہلے بیٹی کو ہاسپٹل لے کر آئے ہیں اور اب داماد کی خبر آگئی۔
پتہ نہی کس کی نظر لگ گئی ہے ہمارے گھر کو ۔ ۔ ۔ آنسو بہاتی ہوئی سجدے میں گر گئیں ۔ دوسروں کا گھر جلانے والے اکثر بے سکون ہی رہتے ہیں ۔ ۔ ۔
ملک صاحب کا لہجہ طنزیہ
تھا ۔
وہ جائے نماز سمیٹ کر ان کے پاس آگئیں ۔ ۔ ۔ میں نے کس کا گھر جلایا ہے جو آپ ہر
وقت مجھ سے ملبے کئے رہتے ہیں۔
کسی کا نہی ۔۔۔ اس وقت بخت کرنے کے موڈ میں نہی ہوں میں، اپنی بیٹی کی فکر ہے مجھے ۔ ۔ ۔ کسی اور دن بخث کر لینا ۔
آپ تو ایسے کہ رہے ہیں جیسے مجھے بینی کی فکر نہی ہے ۔ اکلوتی اولاد ہے میری ۔ ۔ مجھے اس کی فکر نہی ہوگی تو کس کو ہوگی ؟
اپنی بیٹی کی خاطر آپ کے بھائی اور اس کے پورے خاندان کو اپنے گھر میں پناہ دی اور ان کے بچوں کے جوتے کپڑے سے لے کر یو نیورسٹی اور کالج کے خرچے اٹھا رہی ہوں ۔ میری بیٹی کو کسی دوسرے گھر نہ جانا پڑے اسی لیے ان سب کو برداشت کر رہی ہوں ورنہ جس طرح کی آپ کے بھتیجے کی حرکتیں ہیں ایک منٹ نہ لگاوں اسے گھر سے نکالنے میں ۔
بیٹی کی وجہ سے مجبور ہو چکی ہوں میں ۔ ۔ ۔ ہاتھ بندھے ہیں میرے ۔
ضروریہ ہمدان کا ہی کوئی کارنامہ ہے جس کا نتیجہ اس کے ساتھ ساتھ میری بیٹی بھی بھگت
رہی ہے ۔
اس دن بھی کوئی ان دونوں کو زخمی اور بے ہوشی کی حالت میں گیٹ پر پھینک گیا تھا اور آج پھر ہمدان کی یہ حالت ۔ ۔ ۔ کچھ تو کچھڑی پک رہی ہے ہم سب کی ناک کے نیچے ۔ ایک بار خیریت سے سہی ہو کر آجائے تو تسلی سے جواب طلب کروں گی اس سے ۔
ملک صاحب نے افسوس سے سر ہلایا۔ بہت گھٹیا سوچ ہے تمہاری آج بھی ۔ ۔ ۔ وہ بے ہوش پڑا ہے زندگی اور موت کی کشمکش میں اور تم آج بھی اس سے جواب طلب کرنے کی
خواہش کر رہی ہو۔
کبھی تو کچھ اچھا بول لیا کرو اس کے بارے میں ۔ ۔ ۔ اگر تم ان پر احسان کرتی ہو تو کیا وہ
تمہاری کم عزت کرتا ہے ؟
اپنی ماں سے زیادہ اہمیت دیتا ہے تمہیں ۔ ۔ ۔ مگر تم نہی سمجھوگی تمہاری فطرت میں ہی
نہی کچھ اچھا سوچنا اور سمجھنا ۔
اور جہاں تک بات پناہ دینے کی ہے تو ایک بات جو تم ہمیشہ بھول جاتی ہو آج یاد کروا دوں
تمہیں ۔ ۔ ۔ ابا جی نے فیکٹری کا اپنا سارا حصہ ہمدان کے نام کر دیا ہے ۔
کچھ زمینیں علی کے نام کی ہیں تاکہ آنے والے وقت میں تمہارے ظلم سے بچ سکیں وہ ۔ ۔ ۔ فیکٹری کا آدھا مالک ہے ہمدان اور تم اسے دن رات باتیں سناتی رہتی ہو۔ بہت جلد اس کا حق اس کے حوالے کر کے اس فرض سے دستبردار ہو جاوں گا میں ۔ ۔ ۔ وہ
بچہ مجبور ہے اپنے ماں باپ اور چھوٹے بھائی کی خاطر ۔
اس کی تربیت ہی ہے جو وہ تمہیں پلٹ کر جواب نہی دیتا ور نہ کوئی اور ہو تا تو تمہیں چار سنا
کر اب تک یہاں سے جاچکا ہوتا ۔
بڑی آئی حق جتانے والی ۔۔۔
ابا جی نے کیسے آدھی فیکٹری ہمدان کے نام کر دی؟
اس علی کے نام زمینیں کر دیں اور ہماری بینی کے لیے کچھ بھی نہی چھوڑا ؟
گھر جا کر بات کرتی ہوں ان سے ۔ ۔ ۔ یہ کیسا انصاف کیا ہے انہوں نے ہماری بیٹی کے
ساتھ ؟
فی الحال اپنی بیٹی کی سلامتی کے لیے دعا کر لو یہی کافی ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ملک صاحب نے دونوں
ہاتھ جوڑ دیے ۔
آپ کو ڈاکٹر صاحب نے بلایا ہے اپنے کمرے میں ۔ ۔ ۔ اس سے پہلے کہ وہ کوئی جواب
دیتیں نرس وہاں آگئی۔
ملک صاحب تیزی سے ڈاکٹر کے کمرے کی طرف بڑھ گئے ۔ وہ بھی ان کے پیچھے کمرے
میں داخل ہوئیں ۔ کیا بات ہے ڈاکٹر صاحب سب خیریت ہے ناں ، میری بیٹی ٹھیک ہے ؟ جی الحمد للہ آپ کی بیٹی ٹھیک ہے کوئی بڑا مسئلہ پیش نہی آیا جس سے ان کی جان کو خطرہ ہو ۔ بس ایک چھوٹا سا مسئلہ ہو گیا ہے ۔ ان کے مہروں میں کچھ خرابی آگئی ہے اور وہ چل پھر نہی سکیں گی ۔ ۔ ۔ کمر کو تو بلکل حرکت نہی دے سکتی علاج ہو گا انشا اللہ بہت کم عرصے میں صحتیاب ہو جائیں گی ۔
یہ کیا کہہ رہے ہیں ڈاکٹر صاحب آپ ۔۔۔؟
مسز ملک کی تو آ نکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں بیٹی کی حالت کا سن کر ۔
جی ہاں مسز ملک ۔ ۔ ۔ آپ کی بیٹی اب اپنے سہارے پر چل پھر نہی سکے گی لیکن کچھ عرصے
تک و علاج ہو جائے گا انشا اللہ ۔
ملک صاحب نڈھال سے کرسی پر بیٹھ گئے اور کسی گہری سوچ میں گم ہو گئے ۔
حوصلہ رکھیں ملک صاحب ۔ ۔ ۔ اتار چڑھاو تو زندگی کا حصہ ہیں ۔ آپ لوگ اللہ کا یہ شکر ادا کریں کہ جان بچ گئی ہے ورنہ خدا نخواستہ جتنی اونچائی سے وہ گری میں کچھ بھی ہو سکتا تھا۔ ہمت رکھیں اور سنبھا لیں آپ دونوں خود کو ۔ ۔ ۔ اپنی بیٹی کا سہارا بنا ہے آپ لوگوں نے
اگر آپ لوگ ہی ہمت ہار گئے تو اسے کون سنبھالے گا ؟
اللہ سے اچھی امید رکھیں ۔ ۔ ۔ انشا اللہ ٹھیک ہو جائے گی آپ کی بیٹی ۔ ۔ ۔ بہت تکلیف
میں ہے وہ اور اس وقت اسے آپ کی دعاوں اور سہارے کی ضرورت ہے ۔ آئیں آپ لوگوں کو ملوا دوں ان سے ۔ ۔ ۔ دونوں کو ساتھ لیے وارڈ کی طرف بڑھ گئے ۔ بینی بے حس و حرکت لیٹی ہوئی تھی۔ مسز ملک کے آنسووں میں مزید روانی آگئی بیٹی کی حالت دیکھ کر ۔ ۔ ۔ ملک صاحب نے آگے بیٹی کے سر پر ہاتھ رکھا اور دکھی سے واپس
پلٹ گئے۔
ابھی ان کو انجیکشن دیا ہے کیونکہ درد بہت زیادہ تھا ۔
کچھ دن تک انہیں رکھیں گے حالت کچھ بہتر ہوئی تو آپ لوگ گھر لے جانا لیکن ان کا پورا
خیال رکھنا پڑے گا ۔
ہمدان آئی سی یو کے بستر پر پٹیوں میں جکڑ لیٹا ہوا تھا ۔ ۔ ۔ کچھ دن پہلے جو حالت رملہ کی تھی
آج وہی حال اس کا تھا ۔
اس کی امی نے رو رو کر برا حال کر لیا تھا ۔ جوان بیٹے کی حالت نے ماں باپ کو نڈھال کر دیا
تھا ۔
دیکھ لی آپ نے حالت میرے بیٹے کی ۔ ۔ ۔ یہ سب آپ کی غیر زمہ داریوں کا نتیجہ ہے ۔ اگر آپ آج کسی قابل ہوتے تو کسی کی ہمت نا ہوتی میرے بیٹے پر ہاتھ اٹھانے کی ۔ پہلے گھر , دولت سب نشے میں ہار دیا اور اب ہماری آخری دولت دولت بچی تھی ہمارے پاس وہ بھی اس حالت میں ۔ ۔ ۔ خدا کے لیے تو بہ کر لیں اس نشے ۔
یہ سب کچھ اس حرام شراب کی وجہ سے بے برکتی ہے ۔
اللہ سے توبہ کر لیں ۔ ۔ مجھے میرا بچہ سہی سلامت چاہیے ۔ اللہ خیر کرے گا ٹھیک ہو جائے گا وہ ۔ ۔ ۔
تم مجھے کو سنے کی بجائے اس کے لیے دعا کرو۔ ہر وقت چڑ چڑلگائی رکھتی ہو ۔ ۔ ۔ بولنے سے پہلے موقع مناسبت تو دیکھ لیا کرو۔
اس وقت ہاسپٹل میں ہیں ہم گھر میں نہی ۔ ۔ ۔ اور میرے شراب پینے کا کیا تعلق اس بات
سے ؟
اپنے لاڈلے پر تھوڑی نظر رکھا کرو ۔ ۔ ۔ کیا پتہ کسی لڑکی کا چکر ہو اور اس کے گھر والوں نے
مارا ہوا ہے ۔
جتنی پریشان تم ہو اس وقت اتنا ہی پریشان میں بھی ہوں لیکن میں تمہاری طرح آنسو نہی بہا
ستا۔
شراب - - - شراب … شراب … بتاو سارے زمانے کے کہ تمہارا گھر والا شرابی ۔ ۔ ۔
ہے۔
جب دیکھو ہاتھ دھو کر میرے ہی پیچھے پڑی رہتی ہو ۔ ۔ ۔ زندگی خراب ہو گئی ہے میری تم
سے شادی کر کے ۔ قصور میرا نہی تمہاری قسمت کا ہے ۔ ۔ ۔ تم قسمت ہی ایسی لے کر آئی اپنے ساتھ ۔ اتنا ہی برا ہوں میں تو چھوڑ کر چلی کیوں نہی جاتی اپنے مائیکیے ؟
کیوں اپنا وقت ضائع کر رہی ہو میرے ساتھ ؟
آپ لوگ شور مت کریں ۔ ۔ ۔ مریض ڈسٹرب ہو رہے ہیں ۔ ۔ ۔ ۔ نرس نے ڈانٹا تو وہ خاموش ہوئے اور دور بینچ پر بیٹھ گئے۔
رات کے کسی پہر ہمدان کی آنکھ کھلی تو گردن گھما کر ادھر ادھر دیکھا اور بیٹھنے کی کوشش کی
مگر ناکام رہا۔
سر میں اتنا درد تھا کہ درد کراہ اٹھا ۔ ۔ ۔ اس کے جوش میں آنے کی خبر نرس نے ڈاکٹر تک
پہنچائی تو وہ تیزی سے کمرے میں آیا اور ہمدان کا معائینہ کیا۔
الحمد للہ آپ ٹھیک ہیں ۔ ۔ ۔ ہمیں تو ڈر تھا کہ کسی آپ کومہ میں نہ چلے جائیں ۔
پلیز مجھے جانے دیں ڈاکٹر ۔ ۔ ۔ میرا یہاں سے جانا بہت ضروری ہے ۔ مجھے کوئی ایسی دوائی دیں جس سے یہ سر درد کچھ دیر کے لیے رک جائے ۔
میرا کسی پہنچنا بہت ضروری ہے ۔
کیسی باتیں کر رہے ہیں آپ ۔ ۔ ۔ میں ایسا نہی کر سکتا ۔ ابھی ابھی تو حوش آیا ہے آپ کو
اور آپ جانے کی باتیں کر رہے ہیں ۔ آپ کی حالت ایسی ہے کہ چند قدم نہی چل سکتے آپ ۔ ۔ ۔ آرام کریں آپ کے گھر والے
بہت پریشان ہیں آپ کے لیے ۔
ان کے بارے میں تو سوچیں ۔۔۔ گھر والے ۔ ۔ ۔ وہ کب آئے ؟
ان کو بلانے کی کیا ضرورت تھی ۔ ۔ ۔ میں یہاں سے کیسے جاوں گا ؟
میر ارملہ تک پہنچنا بہت ضروری ہے ورنہ وہ مجھ سے دور چلی جائے گی ۔ ۔ ۔ وہ بڑبڑاتا رہا لیکن ڈاکٹر نے اس کی ایک نہی سنی اور کمرے سے باہر نکل گیا۔
ہدان ۔ ۔ ۔ میرا بچہ ۔ ۔ ۔ ماں کے لمس پر آنکھیں کھول کر مسکرا دیا اور ان کا ہاتھ تھام کر
ہو نٹوں سے لگا لیا ۔
امی ٹھیک ہوں میں ۔ ۔ ۔ آپ پریشان نہ ہوا کریں اتنا ۔ پریشان کیوں ناں ہو ہم تمہارے لیے ۔ ۔ ۔ ؟
ایک اولاد کے سوا اور ہے ہی کیا ہمارے پاس ۔ ۔ ۔ یہ دوسری طرف چوٹ لگ چکی ہے تمہیں ۔ کیا ضرورت تھی کسی سے جھگڑنے کی ؟
اپنا نہی تو ہمارا ہی سوچ لیا کرو ۔ ۔ ۔ ادھر بینی ہاسپٹل میں ہے اور ادھر تم ۔
کیا ہوا بینی کو ۔ ۔ ۔ ؟
بینی کے نام پر ہمدان چونک گیا ۔
سیڑھیوں سے گری ہے اور کمر میں بہت بری چوٹ آئی ہے ۔ ڈاکٹر کہہ رہے ہیں کہ اب
چل پھر نہی سکے گی کچھ مہینوں تک ۔
اوہ ۔ ۔ ۔ بس اسی کی کمی رہ گئی تھی ۔ ۔ ۔ افسردگی سر کو تھامتے ہوئے بولا۔ عجیب لڑکی ہے یہ ۔ ۔ ۔ پتہ نہی کب سدھر سے گی ؟
کتنی بار سمجھایا ہے آرام سے چلا کرو لیکن سنتی ہی نہی ۔ ۔ ۔ اب سکون سے لیٹی ہوگی ۔
ٹھیک ہو جائے گی وہ ۔ ۔ ۔ تم اس کی فکر مت کرو۔
آپ کس کے ساتھ آئی ہیں؟
تمہارے بابا کے ساتھ ۔ ۔ ۔ اور کس کے ساتھ آنا ہے میں نے بھلا ۔ باہر جا کر بھیجتی ہوں
ان کو ۔
ٹھیک ہے امی ۔ ۔ ۔ آپ جائیں اور آرام کریں میں ٹھیک ہوں اب ۔ ٹھیک نہی ہو تم ۔ ۔ ۔ اپنا بلکل خیال نہی رکھتے ۔ کیا ضرورت تھی جھگڑا کرنے کی ؟ آئیندہ خیال رکھوں گا امی ۔ ۔ ۔ آپ پریشان نہ ہوا کریں ۔
بھیجتی ہوں تمہارے بابا کو ۔ ۔ ۔ بہت پریشان ہیں وہ بھی تمہارے لیے ۔
ہم ۔ ۔ ۔ ہمدان نے سر اثبات میں ہلایا اور مسکرا دیا۔
کیسی طبیعت ہے شہزادے ؟
ملک صاحب کمرے میں داخل ہوئے ۔
ہمدان ان کا ہاتھ تھام کر مسکرا دیا۔ آپ جیسے بابا کے ہوتے ہوئے مجھے کچھ ہو سکتا ہے
بھلا ۔ ۔ ۔ کیوں اتنا پریشان ہوتے ہیں ؟ بلکل ٹھیک ہوں میں بس زرا سی چوٹ ہے اور زرا سا سر درد ہے ۔
میں کونسا چیف منسٹر ہوں ۔ ۔ ۔ آج تک تم لوگوں کے لیے کیا ہی کیا ہے میں
نے ۔ ۔ ۔ ہمیشہ دکھ ہی دیے ہیں تم لوگوں کو۔
نہی بابا ایسا کچھ نہی ہے ۔ ہم تینوں کی زندگی بس آپ سے ہے ۔ آج ہم جو کچھ بھی ہیں آپ
کی وجہ سے ہی ہیں۔
آپ نے بہت اچھی پرورش کی ہے میری اور علی کی ۔ ہمیشہ ہمارا خیال رکھا ہے ۔
میرا دل رکھنے کے لیے بول رہے ہو ناں ۔۔۔؟ ملک صاحب کا لہجہ افسردہ تھا ۔ اس سے پہلے کہ وہ کچھ اور بولتے ان کی پاکٹ میں رکھا ہمدان کا فون بجنا شروع ہو گیا ۔ یہ تمہارا فون آ رہا ہے ۔ ۔ ۔ شاید کوئی دوست ہوگی ۔
ان کی بات پر ہمدان مسکرا دیا اور ان کے ہاتھ سے فون لے کر نمبر دیکھا تو روشنی کا تھا۔ اس نے اپنے بابا کی طرف دیکھا اور کال کاٹ دی ۔ ۔ ۔
پتہ نہی کون ہے ۔ ۔ ۔ ایسے ہی
رانگ نمبر ہے ۔
ہم ۔ ۔ ۔ اس عمر میں اکثر رانگ نمبر نملتے رہتے ہیں ۔ خیر تم بات کرو شاید کوئی جاننے والی ہو میں ڈاکٹر سے مل لوں ۔ ۔ ۔ آنکھ دباتے ہوئے کمرے سے باہر نکل گئے۔
ان کے کمرے سے باہر نکلتے ہی ہمدان نے فورا روشنی کا نمبر ڈائل کیا ۔ پہلی بیل پر ہی روشنی نے کال اٹھالی ۔ ۔ ۔
ہیلو ۔ ۔ ۔ روشنی, رملہ کہاں ہے ؟
مجھے اس سے بات کرنی ہے ابھی ۔ ۔ ۔ بے چین سا بولتا چلا گیا ۔
وہ یہاں سے چلی گئی ہیں ہمدان بھائی ۔ ۔ ۔ کہاں گئی ہیں یہ بواجی کے سوا کوئی نہی جانتا ۔ روشنی کے جواب پر ہمدان نے بے بسی سے آنکھیں بند کر لیں ۔
آپ کے لیے بہت پریشان تھیں وہ ۔ ۔ ۔ جانے سے پہلے بار بار کہہ رہی تھیں کہ میں آپ
کو کال کر کے آپ کا حال پوچھ لوں ۔
ان کا فون بھی چھین لیا گیا ہے ان سے ۔ ۔ ۔ رابطے کا بھی کوئی ذریعہ نہی ہے ۔ ایک لڑکی کو ساتھ بھیجا ہے ان کے ۔ ۔ ۔ وہ خود رابطہ کرے گی اگر ہوا جی کو ان سے بات کرنی
ہوگی۔
ہم ۔ ۔ ۔ ہمدان نے بے بسی سے کال کاٹ دی ۔
صبح صبح گھر میں عجیب سا شور مچا ہوا تھا ۔ ہمدان واک کر کے آیا تو ڈرائینگ روم کی طرف بڑھا لیکن اس کی امی نے اندر جانے سے روک دیا۔
کچھ نہی ہوا ۔ ۔ ۔ تمہارے تایا ابو اور تائی امی کا ذاتی مسئلہ ہے ۔ ناشتہ کرو اور جاو فیکٹری کے لیے ۔ ۔ ۔
جی امی ۔ ۔ ۔ نا چاہتے ہوئے بھی اپنے کمرے کی طرف بڑھ گیا ۔
تیار ہو کر ڈائینگ ٹیبل کی طرف بڑھا اور پانی کا گلاس پینے ہی والا تھا کہ ڈرائینگ روم سے
باہر آتے تایا جان کے ساتھ آتے وجود کو دیکھ کر اس کے ہاتھ سے پانی کا گلاس چھوٹ کر
زمین بوس ہو گیا ۔
حیرت زدہ سا کرسی سے اٹھ کر کھڑا ہو گیا ۔
شیشہ ٹوٹنے کی آواز پر سب ہمدان کی طرف متوجہ ہوئے اور اسی پل ملک صاحب کے ساتھ کھڑی رملہ نے چونک کر ہمدان کی طرف دیکھا اور چند قدم پیچھے ہٹی ۔
دونوں حیرت زدہ انداز میں ایک دوسرے کو دیکھ رہے تھے ۔
کیا ہو گیا ہے صبح صبح ۔ ۔ ۔ ۔ ؟
بینی بستر پر پڑی ہے تو کیا اس کے کارنامے اب تم انجام دو گے ، اچھے بھلا نظر آتا ہے
تمہیں۔
میں تم سے بات کر رہی ہوں ہمدان ۔ ۔ ۔ دھیان کہاں ہے تمہارا؟
تم تو ایسے دیکھ رہے ہو اسے جیسے یہ لڑکی نہی کوئی عجوبہ ہے ۔
انسان ہی ہے یہ اور اب یہی رہنے والی ہے ۔ زیادہ حیران ہونے کی ضرورت نہی ہے ۔ معزرت تائی امی ۔ ۔ ۔ غلطی سے میرے ہاتھ سے پھسل گیا گلاس ۔ ۔ ۔ آخر کا ر ہدان ہمت
کرتے ہوئے بول ہی پڑا۔
بینی کے ذکر پر رملہ مزید چونک گئی اور ڈر کر چند قدم مزید پیچھے ہوتی ہوتی ڈرائینگ روم میں
واپس آگئی ۔
نہی ۔ ۔ ۔ یہ کیسے ہو سکتا ہے ؟
جس انسان سے اماں کو سب سے زیادہ نفرت تھی مجھے اس کے پاس کیسے بھیج سکتی ہیں ؟ اس کا مطلب ہمدان میرے کزن ہیں اور بینی میری بہن ۔ ۔ ۔ نہیں نہی یہ نہی ہو سکتا ۔
ملک صاحب ڈرائینگ روم میں چلے آئے اور رملہ کو پریشان دیکھ کر مسکراتے ہوئے اس
کی طرف بڑھے۔
میں جانتا ہوں میری بیٹی کیوں پریشان ہے ۔ ہمدان کو یہاں دیکھ کر حیران ہونے کی
ضرورت نہی ہے ۔
وہ آپ کے چاچو کا بیٹا ہے اور ۔ ۔ ۔ بینی آپ کی بڑی بہن ہے ۔
میں جانتا ہوں اس نے زیادتیاں کی ہیں آپ کے ساتھ لیکن تب وہ اس رشتے سے انجان تھی۔ جب اسے تم دونوں کے رشتے کا پتہ چلے گا وہ بہت خوش ہوگی ۔
اب چلو میرے ساتھ میری گڑیا ۔ ۔ ۔ ناشتہ کرتے ہیں اور پھر آپ کو آپ کا کمرہ دکھاتی ہیں
آپ کی ماما۔
جی ۔ ۔ ۔ نا چاہتے ہوئے بھی سر ہلاتی ہوئی ان کے پیچھے چل دی۔ ملک صاحب نے اس کے لیے کرسی باہر نکالی تو پہنچاتی ہوئی بیٹھ گئی۔ سامنے بیٹھے ہمدان کی جھکی نظر میں اسے اپنے چہرے پر جھی محسوس ہو رہی تھیں۔ اپنی جگہ سے ہل بھی نہی پا رہی تھی ۔ ۔ ۔ ملک صاحب کے زبر دستی کھلانے پر ناشتہ کرنے میں مصروف ہو گئی مگر نوالہ حلق سے اتر نے مشکل ہو رہا تھا ۔ ایسے لگ رہا تھا جیسے سانس ہی گلے میں اٹک گیا ہو۔
اسلام و علیکم ۔ ۔ ۔ یہ کون ہیں ؟
جو سوال کب سے ہمدان کے دماغ میں گردش کر رہا تھا کہ آخر تایا جان کا کیا رشتہ ہو سکتا ہے
رملہ سے وہ سوال علی نے پوچھ لیا۔
یہ آپ کی آپی ہیں بلکل ویسے جیسے بنیش ہے ۔ پڑھائی کے لیے گئی ہوئی تھیں ۔ ۔ ۔ کچھ
دیر پہلے واپس آئی ہیں۔
سیدھی طرح کیوں نہی بتاتے آپ کہ یہ آپ کی دوسری بیوی اور میری خوشیاں کھانے والی سوتن کی بیٹی ہے ۔ ۔ ۔ میری بیٹی سے کیوں تعلق جوڑ رہے ہیں اس کا ؟ اس کی اتنی اوقات ہے کہ یہ میری بیٹی سے مقابلہ کر سکے ۔ ۔ ۔ آپ اس کی رشتہ داری خود تک ہی محدود رکھیں تو بہتر ہے۔
ہمارے ساتھ زبردستی اس کا تعلق جوڑنے کی ضرورے نہی ہے ۔ مسز ملک غصے سے ناشتہ
چھوڑ کر چلی گئیں ۔ علی رملہ کی طرف دیکھ کر مسکرا دیا ۔ بدلے میں وہ بھی پھیکا سا مسکرا دی اور نظریں جھکائے
ناشتہ کرتی رہی۔ آنکھوں سے آنسو گر کر اس کے گال بھگونے لگ گئے ۔
کاش میں یہاں آئی ہی نہ ہوتی ۔ ۔ ۔ اماں کی وصیت نے مجبور کیا مجھے اس گھر میں قدم رکھنے کے لیے ورنہ جس گھر
والوں نے میری ماں کو قبول نہی کیا وہ مجھے بھی قبول نہی کریں گے ۔ ۔ ۔ اس حقیقت سے
واقف تھی میں ۔
ان سب باتوں کو نظر انداز کرو بیٹا ۔۔۔ ابھی آپ کی ماما غصے میں ہیں ۔ آہستہ آہستہ ٹھیک ہو
جائیں گی۔
تھوڑا وقت چاہیے ان کو ۔ ۔ ۔ پریشان ہونے کی ضرورت نہی ہے ۔ آپ کے بابا ہمیشہ آپ کے ساتھ ہیں۔ باپ کی تسلی پر پھیکا سا مسکرادی ۔ ۔ ۔ کاش آپ کو اس رشتے کی قدر میری ماں کی زندگی میں
ہو جاتی۔
دل ہی دل میں سوچتی ہوئی بولی لیکن زبان پر شکوے کا ایک لفظ نہی آنے دیا کیونکہ اس کی اماں نے وصیت میں یہی لکھا تھا کہ تم اپنے باپ سے کوئی سوال نہی کرو گی۔ اماں آپ کیوں چلی گئیں مجھے اکیلا چھوڑ کر ۔ ۔ ۔ آپ کی بیٹی کیسے در بدر کی ٹھوکریں کھا رہی
ہیں۔
کہنے کو تو یہاں پر سب اپنے ہیں لیکن اپنوں کے بھیس میں کچھ دشمن بھی ہیں ۔ میں نہی جانتی آپ ہمدان کے بارے میں سب جانتی تھیں یا نہی ۔ ۔ ۔ آپ نے یہ نکاح پلاننگ سے کیا یا پھر بدلے میں میری سمجھ میں کچھ نہیں آرہا۔
یا پھر شاید آپ ہمدان کے زریعے بابا سے بدلہ لینا چاہتی تھیں ۔ ۔ ۔ کیونکہ ہمدان کی شادی بینی سے ہونے والی تھی اور آپ نے مجھے اس کی بیوی بنا دیا تا کہ بینی کو تکلیف پہنچ سکے۔
اس میں بینی بیچاری کا کیا قصور تھا؟ اور ہدان انہوں نے تو کسی کو کچھ نہیں بگاڑا تھا۔ پھر آپ نے کیوں کیا ہمارے ساتھ یہ سب کچھ مجھے کچھ سمجھ نہیں آرہا میں کیسے کروں گی ہمدان کا سامنا یہ تو مجھے ہی غلط سمجھ رہے ہوں گے ۔
پتا نہیں اماں نے کیا سوچ کر یہ اتنا بڑا قدم اٹھایا اور مجھے بتانا بھی ضروری نہیں سمجھا۔ صحیح کہتی تھی اماں آپ کہ آپ کے فیصلوں کو میں نہیں سمجھ سکو گی ۔ ۔ ۔ واقعی آپ کے فیصلے کو میں نہیں سمجھ سکی۔
لیکن آپ کا مقصد مجھے سمجھ آچکا ہے ۔ آپ کا مقصد تھا اپنی بیٹی کی کفالت ایک مضبوط ہاتھ میں دینا لیکن اب یہ کیوں بھول گئی کہ اس کی قسمت میں کوئی اور لڑکی لکھی ہے۔
آپ کیوں اتنی خود غرض ہو گئیں؟
مجھے کچھ سمجھ نہیں آرہا میں کیا کروں گی
ایک طرف میری بہن ہے اور دوسری طرف میرا شوہر میں کس کا ساتھ دو اور کس کا ساتھ
نه دو ؟
پتہ نہیں ان دونوں کی شادی ہو چکی ہے یا نہیں، جو بھی ہو میں یہاں نہیں رہ سکتی میری وجہ سے کسی کو بھی تکلیف نہیں پہنچنی چاہیے ۔
مجھے اپنے یہاں سے جانے کا کوئی نہ کوئی راستہ ڈھونڈ نہیں پڑے گا ۔
کن سوچوں میں گم ہیں بیٹا آپ ؟
وہ اپنی پریشانی میں بیٹھی ہوئی تھی کہ ملک صاحب نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا۔ چونک کر مسکرادی نہیں بابا جانی میں تو یہاں پر ہی ہوں ۔
بس اچانک سے سب کچھ اتنا بدل چکا ہے کہ میں تھوڑی پریشان ہوں۔ مجھے وقت لگے گا سب رشتوں کو سمجھنے میں آپ میری طرف سے بے فکر رہیں۔
ہمدان اٹھا اور ٹشو سے ہاتھ صاف کرتے ہوئے وہاں سے چلا گیا۔ اس نے دوبارہ پلٹ کر ایک نظر رملہ کی طرف دیکھنا بھی گوارا نہیں کیا ۔ رملہ حیرت زدہ سی اسے جاتے ہوئے دیکھتی رہ گئی ۔ وہ سوچ بھی نہیں سکتی تھی کہ ہمدان
اسے ایسے چھوڑ کر چلا جائے گا۔
اسے تو لگا تھا کہ وہ اس کے پاس بیٹھے گا اس سے باتیں کرے گا اس سے پوچھے گا جانے کی وجہ ۔ ۔ ۔ کیوں نہیں رابطہ کیا آپ نے ؟
لیکن ایسا تو کچھ بھی نہیں ہوا ، وہ حیرت زدہ سی اسے جاتے ہوئے دیکھتی رہ گئی۔
دیکھتے ہی دیکھتے وہ بنا لیٹے دروازے کی دہلیز پار کر گیا۔
Welcome
تایا جی اور ہمدان کے وہاں سے جاتے ہی علی نے بڑے پر جوش انداز میں رملہ کی طرف ہاتھ
بڑھایا۔
میں آپ کا چھوٹا بھائی علی مجھے تو جانتے ہی ہو گی آپ ۔ ۔ ۔ چلیں اگر نہی جانتی تو جان جائیں
گی۔ میں ہمدان بھائی کا چھوٹا بھائی ہوں اور آج سے آپ کا بھی بھائی ہوں۔ کوئی بھی کام ہو آپ نے مجھ سے کہنا ہے ویسے اتنے دنوں سے کہاں تھی آپ ؟ یہ بات مجھے کچھ سمجھ نہیں آئی ۔ ۔ ۔ خیر جو بھی ہو صبح کا بھولا بھٹکا شام کو گھر آئے تو اسے
بھولا نہیں کہتے۔ دیر سے ہی سہی آپ کو ہماری یاد تو آئی۔ ہم دونوں بھائیوں کے ہوتے ہوئے آپ کو کسی سے ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے ۔
تائی امی کی تو بالکل ٹینشن نا لیں ۔ ۔ ۔ کچھ دنوں تک ٹھیک ہو جا ئیں گی تو ان کی فکر کرنے کی
ضرورت نہیں ہے۔
ان کی تو عادت ہے بولنے کی ۔ آپ کا چھوٹا بھائی ہے ناں ۔ ۔ ۔ اس کے ہوتے ہوئے آپ کو کسی سے ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے ۔
اس سے پہلے کہ رملہ اس کا ہاتھ تھا متی ہمدان کی امی بول پڑیں۔
چپ کر کے بیٹھو تم ۔ ۔ ۔ اس سے زیادہ رشتے داریاں بنانے کی ضرورت نہیں ہے ۔ علی کو کب سے بولتا ہوا دیکھ رہی تھی لیکن آخر کا ر غصے سے بولی پڑیں ۔ انہیں رملہ کے ساتھ
علی کا اس طرح سے فری ہونا پسند نہیں آیا ۔
چپ چاپ ناشتہ کرو اور جاؤا اپنے کمرے میں یو نیورسٹی کی تیاری کرو۔ جب دیکھو بک بک ۔۔۔ ہر کسی کے ساتھ رشتہ داری بنانے کی ضرورت نہی ہے ۔ بھائی تمہارا کب سے چلا گیا ہے اور تم ابھی تک یہی بیٹھے ہو۔
جی امی میں جا رہا ہوں آپ تو میرے ہی بیچھے پڑ جاتی ہیں۔
اب یہ ہماری فیملی میں آئی ہے تو کیا ان کا اچھے سے استقبال نہ کروں ؟ جو بھی ہوا تھا تائی امی کو ان کے ساتھ ایسا سلوک نہیں کرنا چاہیے تھا۔ یہ میری بڑی بہن ہیں اور میرا ان سے رشتہ کوئی ختم نہیں کروا سکتا۔ کچھ زیادہ بڑے نہیں ہوں گے تم ۔ ۔ ۔ زیادہ ہی باتیں آنا شروع ہو گئی ہیں تمہیں زیادہ
ٹرٹر نہ کرو اور جو کہا ہے وہ کرو۔
غصے سے کچن کی طرف بڑھ گئی اور علی کو بھی ساتھ گھسیٹتی ہوئی لے گئیں ۔ کیوں بہن بہن لگا رکھی ہے اس کے سامنے ؟
جانتے بھی ہو کون ہے وہ اور کہاں سے آئی ہے ؟ کیسے ماحول میں پلی بڑھی ہے کچھ اندازہ ہے تہیں ۔۔۔؟
خوامخواہ بولتے جارہے ہو۔ ۔ ۔ تمہاری پتہ چل گیا تو زبان کھینچ لیں گی تمہاری۔
سوتن کا مطلب سمجھتے ہو ۔ ۔ ۔؟ اگر تمہارا باپ تمہاری دوسری ماں لے آئے تو کیا اس کی اولاد کو بہن ، بھائی قبول کر لو گے
جس بات کا پتہ نہ ہو وہ بات کرنی بھی نہی چاہیے ۔ ۔ ۔ جاو تیار ہو جاو جا کر۔ صبح صبح دماغ خراب کر رہے ہو ۔ ۔ ۔ خبر دار جو دوبارہ اس لڑکی کے آس پاس بھی نظر آئے تو ٹانگیں توڑ دوں گی میں تمہاری ۔
امی جی بس کر دیں آپ ۔ ۔ ۔ وہ جو بھی ہے جیسی بھی اور کہاں سے آئی ہے اس بات سے
کچھ فرق نہی پڑھتا ، آپ بس اتنا یا درکھیں کہ وہ تایا ابو کی بیٹی ہیں۔
یہ سوتن ووتن کا تو نہی پتہ مجھے لیکن اتنا ضرور پتہ ہے میرے ابا جی کو کسی نے بیٹی نہی دینی اب ۔ ۔ ۔ تو آپ اپنی سوتن اور میرے سوتیلے بہن بھائیوں کی فکر چھوڑ دیں کیونکہ آپ کا
یہ خواب کبھی نہی پورا ہونے والا ۔
مزاق میں بات بدلتے ہوئے مسکراتے ہوئے وہاں سے بھاگ گیا۔
دوپہر کو ملتے ہیں آپی ۔ ۔ ۔ بھاگتے بھاگتے رملہ کی طرف دیکھتے ہوئے بول کر اپنے کمرے
میں بھاگ گیا ۔
رملہ اسے جاتے دیکھ مسکرادی۔
اگر ناشتہ کر لیا ہو مہارانی تو کمرہ دکھا دوں ؟
مسز ملک کی آواز پر رملہ چونک کر اٹھ کر کھڑی ہو گئی ۔
جی ۔ ۔ ۔ ماما ۔۔۔ میرا مطلب بڑی ماما ۔ ۔ ہچکچاتی ہوئی نظریں جھکائے بولی۔
ماں نہی ہوں میں تمہاری ۔۔۔ آئیندہ مجھے ماں کہنے کی کوشش بھی مت کرنا ، ملک صاحب کی وجہ سے مجبور ہوں میں ورنہ جو تمہاری ماں نے میرے ساتھ کیا تھا کبھی اس گھر میں جگہ نہ
دیتی تمہیں ۔
غصے سے انگلی دکھاتی ہوئی بولیں اور آگے بڑھ گئی۔
جی ۔ ۔ ۔ رملہ نے مختصر جواب دیا اور ڈرائینگ روم کے دروازے میں پڑا اپنا بیگ گھسیٹتی
ہوئی ان کے پیچھے چل دی۔
آنکھوں سے آنسو بہتے چلے گئے ۔ نا چاہتے ہوئے بھی روتی چلی گئی۔
رو تو ایسے رہی ہو جیسے بہت ظلم کر دیا ہو میں نے تم پر ۔ ۔ ۔ مسز ملک اس کی طرف پلٹتی
ہوئی بولیں ۔
نہی وہ میں ۔ ۔ ۔ رملہ نے کچھ بولنا چاہا لیکن بول ہی نہ سکی۔
کیا میں ۔۔۔۔؟
چلواب ۔ ۔ ۔ اور بھی کام ہیں مجھے تمہیں تو کوئی کام ہو گا نہی ۔ اب ساری زندگی سکون سے
یہاں بیٹھ کر مفت کی روٹیاں توڑو گی ۔
آپ فکر نہی کریں ۔ ۔ ۔ میں بہت جلد کوئی نوکری ڈھونڈ لوں گی اور ہاسٹل میں رہ کرا پر میں رہ کراپنی پڑھائی مکمل کروں گی ، زیادہ دن نہی رہوں گی آپ کے گھر ۔
آپ نے مجھے اپنے گھر میں جگہ دی یہی بہت ہے میرے لیے ۔ ۔ ۔ چاہے اپنی زندگی میں
جگہ دیں یا نہ دیں لیکن آپ کا یہ احسان زندگی بھر یا د رہے گا مجھے ۔
مسر ملک نے کمرے کا دروازہ کھولا اور اندر داخل ہوتی ہوئی حیرت زدہ سی رملہ کی طرف
پلیٹیں۔
کونسی نوکری کرو گی تم ۔ ۔ ۔ وہی جو تمہاری ماں کرتی تھی ؟
جس خاندان میں تم آگئی ہو ناں یہاں کی بیٹیاں نوکری نہی کر تہیں ۔ ۔ ۔ لیکن تم کیا سمجھو گی خاندان کو تمہاری پرورش تو کوٹھے میں ہوتی ہے۔
تمہاری ماں نے مجھ سے میرا شوہر چھین لیا تھا ۔ وہ واپس تو آ گئے تھے لیکن ان کا دماغ
آج بھی ماضی میں تھا ۔
اس کا نتیجہ ۔ ۔ ۔ تم آج میرے سامنے کھڑی ہو ۔ پہلے تمہاری ماں اور آج تم ۔ ۔ ۔ میری
زندگی کی خوشیاں کھا گئی تم دونوں ۔
تم کیا یہاں سے جاو گی ۔ ۔ ۔ میں خود تمہیں زیادہ دن ٹکنے نہی دوں گی۔ بہت جلد تمہیں یہاں سے بھیجنے کا انتظام کرتی ہوں فکر نہی کرو۔ اب آہی گئی ہو تو اپنے دادا دادی سے بھی مل لینا ۔ ۔ ۔ ان کو بھی تو پتہ چلیے ان کے بیٹے کے کرتوت, وہ ہمیشہ مجھے ہی غلط سمجھتے آئے ہیں۔
چلو میرے ساتھ ۔ ۔ ۔ بلکہ پہلے تم ان سے ہی مل لو۔
زبر دستی رملہ کا بازو تھامے اسے کھینچتی ہوئی اپنے ساتھ اوپر لے گئیں۔ ٹیرس کا جالی والا دروازہ دھکیلی ہوئی آگے بڑھیں اور رملہ کا ہاتھ چھوڑ دیا۔
یہ کون ہے ؟
دادی اماں نے سر تا پاوں رملہ کو دیکھتے ہوئے سوال کیا۔ یہ آپ کے بیٹے کی لاڈلی بیٹی ہے میری سوتن میں سے ۔ ۔ ۔ اس سے ملیں آپ دونوں اور ٹھنڈک پہنچائیں خود کو ۔ ۔ ۔ میں کہتی تھی ناں اماں کہ ان کی زندگی سے وہ طوائف ابھی گئی نہی
لیکن آپ مانتی نہی تھیں ۔
نتیجہ دیکھ لیں آپ آج ۔۔۔ غور سے دیکھیں آپ گلناز کی اس بیٹی کو ۔ آپ دونوں کی
آپ کی پوتی مبارک ہو۔
غصے سے بولتی ہوئیں وہاں سے چلی گئیں اور رملہ نظریں جھکائے آنسو بہاتی رہی۔
ادھر آو میرے پاس ۔ ۔ ۔ دادی اماں کی آنکھوں میں بھی آنسو آ گئے۔ انہوں نے رملہ کی طرف بازو پھیلائے تو وہ تیزی سے ان کے گلے گئی اور جی بھر کر رودی ۔ بہت پیاری ہے میری بیٹی ۔۔۔ بلکل اپنے بابا جیسی آنکھیں ہیں اور اپنی ماں کا عکس ہو
بلکل ایسے لگ رہا ہے جیسے گلناز میرے سامنے بیٹھی ہو۔
بہت پیار کرتا تھا میرا بیٹا تمہاری ماں ہے ۔ ۔ ۔ لیکن ہم نے اس کی ایک نہی سنی اور اپنی عزت بچانے کی خاطر اپنے بیٹے کی زندگی خراب کر دی۔
پھر جب اس کی دوسری شادی کی خبر ہم تک پہنچی تو ہم بہت لاچار ہو چکے تھے۔
اس عورت نے ساری زندگی عزاب بنا کر رکھ دی میرے بیٹے کی ۔
بہت بڑی غلطی ہو گئی ہم سے جو ہم نے اپنے بیٹے کا یقین نہی کیا اور اس پر اپنا فیصلہ مسلط
کر دیا۔
دادا جی بھی آگے بڑھے اور پوتی کے سر پر ہاتھ رکھا۔ ہمیں معاف کر دینا بیٹا ۔ ۔ ۔ تمہاری ماں کے ساتھ بہت زیا دتیاں کی ہیں ہم نے ۔
اس خاندان کی بہو ہونے کے باوجود اسے اس حق سے محروم رکھا۔ لیکن اب تم فکر ناں کرنا ، تمہارے ساتھ کسی قسم کی زیادتی نہی ہونے دیں گے ہم۔ جب تک ہماری سانس چل رہی ہے ہماری بیٹی کو کوئی اس گھر سے بے گھر نہی کر سکتا ۔ نہی دادا ابو آپ معافی نہ مانگیں ۔ ۔ ۔ ماں باپ ہونے کے ناطے جو کچھ آپ کو بہتر لگے
آپ لوگوں نے وہی کیا ۔ مجھے آپ سب سے کوئی شکایت نہی ہے ۔ جو کچھ ہماری قسمت میں لکھا تھا ہمارے ساتھ
وہی ہوا ہمارے مقدر میں ایسے ہی ملنا لکھا تھا۔
میں اپنا سامان کمرے کے باہر چھوڑ آئی ہوں ۔ اندر رکھ کر آتی ہوں آپ کے پاس۔ بہانہ بناتی ہوئی وہاں سے چلی آئی کیونکہ اپنے آنسووں سے انہیں مزید شرمندگی کے دلدل
میں نہی دھکیلنا چاہتی تھی۔
نیچے آئی کمرے کا دروازہ بند کیا اور آنسو بہانے بیٹھ گئی۔
صبح سے دوپہر اور دو پر سے شام ہو گئی لیکن کسی نے اسے باہر نہی بلایا ۔ گاڑی کے ہارن کی آواز سنی تو کھڑکی سے تھوڑا سا پر وہ پیچھے ہٹا کر دیکھا تو ہمدان اور علی گاڑی سے باہر آتے
دکھائی دیے ۔
جلدی سے پردہ آگے کر دیا اور کمرے سے باہر نکل گئی۔
★★★★★
اپنے بابا کے پاس ٹی وہ لاونج میں بیٹھ گئی۔ ہمدان کی اس پر نظر پڑی مگر نظر انداز کرتا ہوا
وہاں سے چلا گیا ۔
با با جان مجھے آپ سے ضروری بات کرنی تھی۔
جی بیٹا کیا بات کرنی ہے آپ کو ۔ ۔ ۔ بلا جھجک بتائیں۔ وہ ٹی وی کا رپورٹ رکھتے ہوئے اس کی طرف متوجہ ہوئے۔
بابا جان میں لاہور جانا چاہتی ہوں اپنی پڑھائی مکمل کرنے کے لیے ۔ اس کی بات پر سیڑھیاں چڑھتے ہمدان کے قدم وہی رک گئے ۔ ۔ ۔ چند پل رکنے کے بعد
آگے بڑھ گیا۔
فی الحال اس بارے میں سوچنا چھوڑ دیں آپ اور کچھ دن آرام کریں پھر ہمدان سے مشورہ
کرتا ہوں میں وہ کیا کہتا ہے ۔
کھانا تیار ہے ۔ ۔ ۔ علی پر جوش انداز میں سلام کرتے ہوئے سامنے صوفے ہر بیٹھتے ہوئے
بولا۔
چلیں کھانا کھاتے ہیں ۔
جی ۔۔۔ رملہ مسکراتی ہوئی ان کے ساتھ ڈائیٹنگ ٹیبل کی طرف بڑھ گئی۔
کھانا کھانے کے بعد اپنے کمرے میں آئی عشا کی نماز پڑھ کر سونے کے لیے لیٹ گئی ۔ خالی
جگ پر نظر پڑی تو چونک کر اٹھ بیٹھی اور پانی بھرنے کچن میں چلی آئی۔
واپس آئی اور دروازہ بند کرتی ہوئی بیڈ کی طرف بڑھ گئی ریمورٹ اٹھا کر لائٹ بند کی اور سائیڈ
لیمپ آن کیا ۔
جیسے ہی لیٹی کھڑکی کا پردہ پیچھے سر کا اور کوئی بیڈ کی طرف بڑھا ۔ ۔ ۔ اپنی طرف بڑھتے اس
وجود کو دیکھ کر رملہ کا تو جیسے سانس خشک ہو گیا۔
کون آیا ہو گا کمرے میں ۔ ۔ ۔ ۔ ؟
رملہ تیزی سے اٹھ کر بیٹھنے ہی والی تھی کہ ہمدان نے اس کے دونوں بازو تھام لیے اور اسے
اٹھنے سے روک دیا ۔
کچھ دیر خود کو چھڑانے کی کوشش کرتی رہی لیکن پھر اسی کے سینے میں منہ چھپائی جی بھر کر رو
دی۔
دونوں ہی بے آواز آنسو بہا رہے تھے ۔
کیا اتنی سزا کافی نہی میری؟
مجھے بتائی تو سہی آخر میرا قصور کیا تھا؟
کیا تم اتنی مجبور تھی کہ ایک کال بھی نہی کر سکی؟ ایسا بھی کیا مجبوری تھی رملہ ۔۔۔؟
بولو جواب دو مجھے ۔ ۔ ۔ ہدان تیزی سے پیچھے ہٹا اور غصے سے اسے کندھوں سے تھام کر
جھنجوڑا۔
رملہ اٹھ کر بیٹھ گئی اور اس کے ہونٹوں پر ہاتھ رکھ کر سر نفی میں ہلایا ۔
پلیز ۔ ۔ ۔ اپنی آواز آہستہ رکھیں ۔ ۔ ۔ کوئی سن لے گا ۔
کوئی سنتا ہے تو سن لے ۔ ۔ مجھے کسی کی پرواہ نہی ہے اب ۔ کیا پلاننگ تھی تمہاری اور تمہاری اماں کی ؟ یہی ناں کہ بدلے کی آڑ میں ہی سہی لیکن مجھ پر اور اس جائیداد پر قبضہ جمانے کے لیے یہ نکاح کروایا انہوں نے ۔ ۔ ۔ کیا تم بھی اس سازش میں ان کے ساتھ شامل تھی ؟
ہمدان کے سوال پر رملہ کے تو جیسے ہوش ہی اڑ گئے ۔ میں سوچ بھی نہی سکتی تھی کہ آپ
ایسا سوال کریں گے مجھ سے ۔
میری اماں اب اس دنیا میں نہی ہیں۔۔۔ ایک مہینہ پہلے ان کا انتقال ہو گیا تھا۔ ان کے وکیل نے مجھے وصیت سنائی اور بابا سے رابطہ کرنے کو کہا ۔ ۔ ۔ میں نے جیسے ہی
ان سے رابطہ کیا یہ مجھے لینے پہنچ گئے۔
میری اماں کی ایسی کوئی سازش نہی تھی ۔ ۔ ۔ ان کا مقصد میں اب تک نہی سمجھی لیکن شاید
وہ بینی کو تکلیف دینا چاہتی تھیں کیونکہ اس نے مجھے تکلیف دی تھی۔
یا پھر شاید وہ بابا سے بدلہ لینا چاہتی تھیں۔ مجھے کچھ نہی پتہ ۔ ۔ ۔ لیکن جائیداد کے لیے وہ اپنی بیٹی کا سودا نہی کر سکتی اتنا مجھے یقین ہے ۔
سہی ۔ ۔ ۔ ایسے کہہ رہی ہو جیسے ہمارے نکاح کے بعد والا سین تمہیں یاد نہیں ۔ ۔ ۔ خیر یہ ایک الگ بحث ہے اس بارے میں بعد میں بات کریں گے ہم۔
ایک بات کا جواب دو پہلے مجھے اپنے بابا سے رابطہ کرنے سے پہلے مجھ سے بھی تو رابطہ کر
سکتی تھی ناں ؟
کیوں نہی کیا مجھ سے رابطہ ۔۔۔؟
کیا اتنا غیر ضروری ہوں میں تمہارے لیے ، شوہر کا کوئی مقام نہی تمہاری نظر میں ؟
کیسے مقام کی بات کر رہے ہیں آپ؟
وہ مقام جس کے لیے آپ بھی راضی نہی تھے ۔ ۔ ۔ آپ نے کونسا اپنی مرضی سے مجھے
سے نکاح کیا تھا۔
وہ ایک زبر دستی کا نکاح تھا ۔ ۔ ۔ نکاح زبر دستی ہو سکتا ہے لیکن رشتہ زبردستی نہی نبھایا جا
یہ بات میری آنکھوں میں دیکھ کر بولو ۔ ۔ ۔ ادھر دیکھو میری طرف اور غور سے دیکھو
میری طرف ۔
میری آنکھوں میں جدائی کا غم نظر نہیں آرہا تمہیں ؟ کیا میرے آنسو جھوٹے ہیں ؟
تمہیں لکھتا ہے میں یہ رشتہ نہی نبھانا چاہتا ؟
افسوس ہے مجھے تمہاری سوچ پر ۔ ۔ ۔ آج بھی تمہاری نظر میری اہمیت صرف ایک بے
جس مرد کی ہے ۔
تمہاری نظر میں میں ایک ایسا مرد ہوں جس کو بس جو بصورتی کی چاہ ہے، میرے جزبات اور
میرے احساسات اور ان آنسووں کی کوئی قدر نہی۔
اگر واقعی تمہیں ایسا لگتا ہے کہ میں اس رشتے کو نہی نبھانا چاہتا تو ٹھیک ہے جیسے تمہاری
مرضی ۔ ۔ ۔ تمہیں جہاں جانا ہے جاو۔ مجھے تڑپتا دیکھ کر سکون ملتا ہے ناں تہیں ۔۔۔؟ اب یہ سکون زندگی بھر ملے گا تمہیں ۔
میری اس تڑپ کے باوجود بھی اگر تمہارا دل نہی پگھلا تو ایسی تڑپ کو یہی ختم ہو جانا
چاہیے۔
پچھلے ایک سال سے میری زندگی میں جو بے رونقی ہے وہ تو بس ایسے ہی تھی۔ مجھے فرق نہی پڑتا کہ کوئی میرے پاس آئے یا مجھ سے دور جائے ۔
اگر مجھ سے دور جانا چاہتی ہو تو کیا کر سکتا ہوں میں؟
میں چاہتا تو اس ایک سال کے عرصے میں خود تمہیں تلاش کر سکتا تھا لیکن نہی
کیا ۔ ۔ ۔ جانتی ہو کیوں ؟
کیونکہ مجھے یقین تھا کہ چاہے کچھ بھی ہو جائے تم ایک دن میرے پاس لوٹ کر ضرور آوگی ۔ اسی انتظار کے سہارے اب تک زندہ لاش بنے جی رہا تھا میں لیکن آج میرا یہ مان بھی
ٹوٹ گیا۔
ٹھیک ہے ۔۔۔ میں کوئی زور زبردستی نہی کروں گا تمہارے ساتھ ۔
جیسا چاہو گی ویسا ہی ہو گا لیکن ۔۔۔ اس اب یہاں سے جانے کے بعد اگر تم واپس پلٹ کر
آنا چاہوگی تو میں یہاں موجود نہی ہوگا۔ کچھ لوگ اچانک زندگی میں آتے ہیں اور ایسے محبت نچھاور کرتے ہیں جیسے آپ سے خوبصورت اس دنیا میں کوئی ہے ہی نہی, زندگی خوبصورت لگنے لگتی, ہمیں اپنا عادی بناتے ہیں اور پھر اچانک ہماری زندگی سے ایسے غائب ہو جاتے ہیں جیسے کبھی تھے ہی نہی اور ان کی کسی سے زندگی بے معنی لگنے لگتی ہے ، تنہائی سے دوستی ہو جاتی ہے اور پھر زندگی محض دو لفظوں پر رک سی جاتی ہے اور وہ ہے " عشق "، تب سمجھ آتی ہے عشق پانے کا نہی بلکہ کھونے کا نام ہے"
یہ عشق ہو تا پتہ ہے کیسے انسان سے ۔ ۔ ۔ ؟
ایک ایسا انسان جس سے آپ چاہ کر بھی محبت نہی بٹور سکتے۔
ایک ایسا بے حس انسان جس کی نظر میں نہ تو آپ کی کوئی اہمیت ہوتی ہے اور نہ ہی کوئی احساس ۔ ۔ ۔ آپ خود ہی یک طرفہ محبت کی کشتی پر سوار " عشق ” میں بستے چلے جاتے
ہیں۔
اس سفر میں اتنی دور نکل جاتے ہیں کہ جب واپسی کے لیے پلٹتے ہیں تو راستہ ہی نظر نہی
آتا۔
ایسا ہی کچھ میرے ساتھ ہوا ہے۔ اس نکاح کے بندھن کو محبت سمجھ کر انتظار کے بیڑے
پر سوار چلتا رہا اور آج جب منزل خود میرے پاس آئی تو میرے ہاتھ خالی ہیں۔ جس رشتے کو میں محبت سمجھتا رہا وہ تو عشق نکلا ۔ ۔ ۔ اب میں ہار نہی مانوں گا بلکہ
دیکھوں گا یہ عشق اور کتنا دوڑائے گا مجھے ۔
اور کتنے سال از بہت ملے گی مجھے ۔ ۔ ۔ میرے برداشت کی مرکب کی عبور ہو چکی ہے ۔
اب تو بس اس زندہ لاش کا وجود لیے صبر کا دامن تھامنا ہے مجھے ۔
دوبارہ کبھی تمہارے سامنے نہی آوں گا اور نہ ہی ہمارے رشتے کو بچانے کی بھیک مانگوں
Asuwish
چلتا ہوں ۔ ۔ ۔ معزرت اگر میری وجہ سے کوئی پریشانی ہوتی ہے تو ۔ ۔ ۔ بے بس سا
دروازے کی طرف بڑھ گیا۔
دروازے تک پہنچ کر رک گیا اور پلٹ کر دیکھا لیکن رسلہ سر جھکائے ایسے بیٹھی تھی جیسے اسے کسی بات سے کوئی فرق ہی نہ پڑا ہو۔
ہمدان کے کمرے سے جاتے ہی تیزی سے دروازے کی طرف بڑھی اور دروازہ اچھی طرح
بند کر کے واپس سونے کے لیے لیٹ گئی۔
کتنی ہی دیر تک اپنی بے بسی پر آنسو بہاتی رہی ۔ ۔ مجھے معاف کر دیں آپ ۔ ۔ ۔ میں بہت
مجبور ہوں ۔
اپنا گھر بسانے کے لیے کسی اور کا گھر برباد نہی کر سکتی ہیں۔
کسی ایک کی خاطر آپ سب کو نہی چھوڑ سکتے۔ جانتی ہوں بڑی بڑی امی کبھی نہی ما نہیں گی اس رشتے کے لیے اور بینی ۔ ۔ ۔ وہ تو پہلے ہی مجھے مجھے اپنی دشمن سمجھتی ہے۔ اب اگر اسے اس نکاح کے بارے میں پتہ چلتا ہے تو یہ بہت غلط ثابت ہو گا ہم سب کے لیے ۔ ۔ ۔ پہلے ہی نفرت کرتی ہے وہ مجھ سے اور اور اب تو ایک رشتہ جڑ چکا ہے اس کے
ساتھ۔
ایک رشتے کی خاطر میں باقی رشتوں کا خون نہی کر سکتی ۔ ۔ مجھے اپنی خوشیوں کا گلا گھوٹنا ہی
پڑے گا ۔ ۔ ۔ یہاں سے دور جانا ہی پڑے گا ۔ کیونکہ اگر میں بار بار آپ کے سامنے آتی رہی تو آخر کار آپ مجھ پر حق جتائیں گے ۔ ۔ ۔ آپ نے کہہ تو دیا کہ میرے راستے میں رکاوٹ نہیں بنیں گے لیکن اس پر عمل کرنا اتنا آسان نہی ہو گا آپ کے لیے ۔
آپ کو کیا لگتا ہے آپ اکیلے " عشق کی چکی میں پس رہے ہیں ؟ نہی ۔ ۔ ۔ غلط ہیں آپ ۔ ۔ ۔ میں بھی بھی اتنا ہی تڑپی ہوں آپ کے لیے جتنا آپ تڑپے ہیں لیکن مجبوریوں کی قید سے کبھی آزاد ہی نہی کر سکی خود کو ۔
آپ کے لیے کہنا بہت آسان تھا کہ میری ماں نے یہ نکاح دولت حاصل کرنے کے لیے کروایا لیکن ان کے لیے لیے یہ فیصلہ کرنا کتنا مشکل تھا۔
یہ بات صرف میں سمجھ سکتی ہوں۔ وہ تو بس اپنی بیٹی کو ایک مظبوط مرد کا تحفظ دینا چاہتی تھیں جسے آپ نے دولت کی حوس سمجھ لیا ۔
میری اماں نے اپنی پوری زندگی مجھ پر لٹا دی ۔ ۔ ۔ چاہتی تو بابا سے خلالے کر دوسری جگہ اپنا گھر بسا سکتی تھیں لیکن انہیں اس دنیا کے باقی سارے مرد بھی ایک جیسے ہی لگے ۔ شاید اسی لیے ڈر چکی تھیں ۔ ۔ ۔ لیکن انہوں نے آپ کو میرے لیے منتخب کیا اس کا مطلب آپ قابل بھروسہ تھے لیکن آپ نے ان کی نیت پر ہی شک کیا۔
اپنی ہی سوچوں میں گم تھی کہ دروازہ ناک ہوا۔
پریشانی سے اٹھ کر بیٹھ گئی ۔ دروازہ کھولوں یا نہی ؟ اگر ہمدان ہوئے تو ۔ ۔ ۔ ۔؟
خود سے ہی سوال کرتی ہوئی آخر کار دروازے کی طرف بڑھ گئی۔
سامنے ہمدان کھڑا تھا لیکن اس کے ساتھ کوئی خاتون بھی تھیں۔
یہ پھوپھو ہیں نور کی ماما ۔ ۔ ۔ ہمدان نے ان کا تعارف دیا اور چہرے پر سنجیدگی لیے وہاں سے
چل دیا۔
اسلام و علیکم پھوپھو جان ۔ ۔ ۔ آپ اندر آئیں ۔ ۔ ۔ رملہ ان کا بازو تھامے انہیں اندر لے
آئی اور لائٹ جلاتے ہوئے انہیں بیڈ پر بٹھا دیا۔
و علیکم اسلام ۔ ۔ ۔ میں ملنے آئی تھی تم سے بیٹا ۔ ہمدان نے مجھے سب کچھ بتا دیا ہے ۔
سب کچھ مطلب ۔ ۔ ۔ میں کچھ سمجھی نہی پھوپھو جان ۔ ۔ ۔ ان کی بات پر رملہ تھوڑی حیران
ہوئی۔
یہی کہ تم دونوں کا نکاح ہو چکا ہے ۔ مجھ سے کوئی بات نہی چھپا تا ہمدان ۔ ۔ ۔ اس گھر میں
صرف مجھ پر بھروسہ کرتا ہے وہ ۔ تمہارے آنے کی خبر ملی تو مجھ سے رہا ہی نہی گیا ۔ سوچا پہلے تم سے مل لوں۔
ان کے جواب پر رملہ نے سر جھکا لیا اور مزید کچھ نہی بولی۔
میں جانتی ہوں بھا بھی نے جو فیصلہ کیا وہ بہت اچھا ہے ۔ اس گھر میں کسی کو کسی دوسرے
کی خوشیوں سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔
میری بیٹی بھی اسی بے حسی کی بھینٹ چڑھی ہے ۔ اگر بھا بھی مان جاتی تو شاید آج میری نور
زندہ ہوتی۔
مجھے پتہ ہی نہی چلا کب اسے ہمدان سے محبت ہو گئی ۔ ۔ ۔ بہت سمجھایا تھا اپنے دل کو سمجھائے جو وہ چاہتی ہے نہی ہو سکتا لیکن اس نے میری ایک نہی سنی اور دل برداشتہ ہو کر
چلی گئی اس دنیا سے اپنی ماں کو تنہا چھوڑ کر ۔
بیٹی کے ذکر پر ان کی آنکھوں سے آنسو بہنا شروع ہو گئے۔
نور مجبور تھی لیکن تم مجبور نہی ہو ۔۔۔ تمہارا نکاح ہو چکا ہے ہمدان سے اور تمہارا حق ہے یہ حق کوئی نہی چھین سکتا تم سے ۔
اپنی خوشیاں کسی کے لیے قربان مت کرو ۔ ۔ ۔ اپنی ماں کے فیصلے کو قبول کرو اور زندگی میں
آگے بڑھو۔ کسی کے لیے کوئی قربانی دینے کی ضرورت نہی ہے۔ آج پھر ایک بار مجھے ایسا لگ رہا ہے جیسے میری نور میرے سامنے ہے تمہاری شکل میں۔ ایک بار پھر میں اپنی نور کو ٹوٹتے ہوئے نہی دیکھ سکتی ۔ ۔ ۔ ہمدان جو کہہ رہا ہے اس کی بات
مان لو بیٹا ۔
وہ بہت سمجھدار ہے ، سب کچھ سنبھال لے گا ۔ اس کے ہوتے ہوئے تمہیں کسی سے ڈرنے کی ضرورت نہی ہے اور میں بھی ہمیشہ تمہارے ساتھ ہوں۔
کسی بھی میری ضرورت پڑی میں حاضر ہوں لیکن یہاں سے جانے کی بات مت کرنا اب ۔ بہت ٹوٹ چکا ہے میرا بیٹا ۔ ۔ ۔ اسے مزید کوئی دکھ نہ دو۔ پچھلے ایک سال میں بہت دکھ
برداشت کیے ہیں اس نے ۔
تم چاہو تو اسے زندگی کی طرف واپس لا سکتی ہو ۔ جب اس نے مجھے تمہارے آنے کی خبر سنائی تو اس کی آنکھوں میں خوشی دیکھ کر بہت سکون ملا مجھے لیکن ساتھ ہی اس نے یہ بھی بتا یا کہ تم یہاں سے جانا چاہتی ہو۔
یہ سن کر مجھے بہت دکھ ہوا میں سمجھ گئی تھی کہ تم کیوں ایسا کرنا چاہتی ہو ۔ اسی لیے سمجھانے آگئی۔
ہمدان مجھے نہی آنے دے رہا تھا میں زبر دستی آئی ہوں تمہیں سمجھانے ۔ ۔ ۔ میری بیٹی ان ۔ بے حس لوگوں کے لیے لیے اپنی خوشیاں برباد مت کرو۔
نور کے ساتھ جو ہونا تھا وہ ہو گیا لیکن تمہیں تھوڑی خود غرض بننا پڑے گا ورنہ میری طرح
خالی ہاتھ رہ جاو گی ۔
سمجھ رہی ہو ناں میری بات ۔۔۔؟
پھوپھو جان میں سمجھ رہی ہوں لیکن ۔۔۔
کیا لیکن ۔ ۔ ۔ ؟
لیکن ویکن کے چکر سے باہر نکل آو ۔ ۔ ۔ یہاں تمہاری قربانی کسی کام نہی آئے گی۔ اپنے
شوہر کی بات مانو بس ۔
وہ تمہاری خاطر ساری دنیا سے لڑ سکتا ہے اگر تم اس کا ساتھ دو۔ اس طرح کب تیک در بدر دھکے کھاتی رہوگی ؟ عورت کا اصل گھر وہی ہوتا ہے جہاں اس کا شوہر ہوتا ہے ۔ ہمدان نے نکاح کیا ہے تمہارے ساتھ اور اور اب تم اس کی زمہ داری ہو۔
جب وہ اپنی زمہ داریاں نبھانے کے لیے تیار ہے تو کیوں اپنے قدم پیچھے کھینچ رہی ہو؟ زندگی میں کبھی نہ کبھی انسان کو خود غرض ہونا ہی پڑتا ہے ورنہ در بدر کی ٹھوکریں انسان کا
مقدر بن جاتی ہیں ۔
جب تک تمہاری ماں زندہ تھیں سب ٹھیک تھا بیٹا لیکن اب وہ زندہ نہی ہیں ۔ اس وقت تمہیں اپنے باپ کے ساتھ ساتھ ایک اور مظبوط سہارے کی ضرورت ہے ۔ تم کسی کا حق نہی چھین رہی ۔ ۔ ۔ ہمدان کے نکاح میں ہو، ایک دوسرے کی زندگی کا حصہ ہو تم دونوں اور کوئی تیسرا تم دونوں کو الگ نہی کر سکتا ۔
جہاں تک بینی کی بات ہے اس کی قسمت میں اللہ نے کچھ بہتر سوچا ہوگا۔ ہو سکتا ہے اس ایک سال میں ان دونوں کی شادی ہو جاتی لیکن ہوئی نہیں ۔ ۔ ۔ شاید اللہ نہی
چاہتا تھا۔
جس دن تم یہاں سے گئی تھی اسی دن بینی کا ایکسیڈنٹ ہوا تھا اور وہ ایک سال سے بستر پر
پڑی ہے۔
چلنے پھرنے سے محروم ہے وہ اور پتہ نہی کب تک ایسی ہی رہے ۔ میری بات کو سمجھنے کی کوشش کرو۔
اچھا ۔ ۔ ۔ میری بیٹی کی معزوری کو استعمال کرتے ہوئے یہ پٹیاں پڑھا رہی ہیں آپ اپنی
بھتیجی کو ۔
وہ رملہ کو سمجھا ہی رہی تھیں کہ مسز ملک کمرے میں داخل ہوئیں۔
انہیں سامنے دیکھ کر رملہ کے تو جیسے ہوش ہی اڑ گئے۔ نہی بھا بھی میں تو ۔ ۔ ۔ انہوں نے کچھ بولنا چاہا لیکن مسز ملک نے بولنے کا موقع ہی نہیں دیا۔ بس ۔ ۔ ۔ خبردار جو دوبارہ آپ نے میری بیٹی کو معزوری کا طعنہ دیا تو مجھ سے برا کوئی نہی ہو
زبان کھینچ لوں گی ہیں ۔ ۔ ۔ وہ رملہ کی طرف دیکھتی ہو ئیں بولی۔
کیا کہہ رہی تھی آپ اس سے کہ اللہ نے بینی کے لیے کچھ اور سوچا ہوگا ۔ وہ معزور ہو گئی ہے اور پتہ نہی کب تک معزور رہے ۔ اس لیے تم موقع کا فائدہ فائدہ اٹھاو اور ہمدان سے شادی
کر کے اس گھر کی مالکن بن جاو۔
واہ ۔ ۔ ۔ کیا بات ہے آپ کی ۔ ۔ ۔ اسے کہتے ہیں آستین کا سانپ ۔ برے وقت میں آپ کا ساتھ دیا ہم نے اور ہمارے برے وقت میں آپ میری بیٹی کے خلاف سازش تیار کر
رہی ہیں۔
اخر کس غلطی کی سزا دے رہی ہیں آپ میری بیٹی کو ؟ ابھی اس لڑکی کو اس گھر میں آئے چوبیس گھنٹے نہی ہوئے اور آپ نے اپنے رنگ دکھانے
شروع کر دیے ۔
جس تھالی میں کھاتے ہیں ناں اس میں سوراخ نہی کرتے ورنہ تھالی کسی کام کی نہی رہتی۔ اگر سر پر عزت کی چھت ملی ہے تو اس کی قدر کریں کیونکہ بڑھاپے میں در بدر کی ٹھوکریں
کھائی اچھی نہی لگیں گی۔ اور تم ۔ ۔ ۔ اب وہ رطہ کی طرف بڑھیں ۔
اگر تمہیں تمہارے باپ کی وجہ سے اس گھر میں جگہ دی ہے تو غنیمت سمجھوور نہ مجھے ایک منٹ نہی لگے گا تمہیں دھکے مار کر یہاں سے نکالنے ہیں۔
سمجھی۔۔۔؟
جی ۔۔۔ رملہ نے سر اثبات میں بلایا اور بھیگی پلکیں اٹھاتے ہوئے دروازے سے اندر داخل ہوتے ہمدان کی طرف دیکھا اور چہرہ دوسری طرف موڑ لیا۔
کیا ہوا تائی امی سب خیریت ۔۔۔؟
ہمدان رملہ کی طرف دیکھتے ہوئے ان کے پاس آر کا۔
کچھ خیریت نہی ہے ۔ تمہاری پھوپھو کا دماغ ہو گیا ہے ۔ سمجھاوا نہیں ۔ ۔ ۔ میرے بیٹی کے خلاف چالیں چلنے کا سوچ رہی ہیں یہ اس لڑکی کے ساتھ مل کر ۔ سمجھا دوا نہیں کہ آئیندہ اس لڑکی کے آس پاس بھٹکتی ہوئی بھی نظر نہ آئیں یہ مجھے ۔ غصے سے بولتی بولتی کمرے سے باہر نکل گئیں۔
پھوپھو چلیں یہاں سے ۔ ۔ ۔ انہیں زبر دستی کمرے سے باہر لے گیا۔ ان کے جاتے ہی رملہ سر گھٹنوں پے گرائے آنسو بہانے میں مصروف ہو گئی۔ کمرے کا دروازہ بند ہونے کی آواز پر سر اٹھا کر دیکھا تو سامنے ہمدان تھا۔ چلتا ہوا رملہ کے پاس آیا اور اس کا ہاتھ تھام کر کھینچتے ہوئے خود میں بھینچ لیا۔
رملہ نے خود کو آزاد کرنا چاہا مگر ہمدان کے بازووں کی مظبوط گرفت کے سامنے ہار گئی اور
اس کے سینے میں منہ چھپائے آنسو بہاتی رہی۔
جی بھر کر رو لو آج جتنا رونا ہے ۔ ہو سکتا ہے پھر یہ سہارا موجود نہ ہو۔
ہدان کے لہجے میں بے بسی تھی۔ رملہ نے سر اٹھا کر کر اس کی طرف دیکھا اور سر نفی میں
ہلا دیا ۔
ایسا مت بولیں آپ ۔ ۔ ۔اللہ نا کرے آپ کو کچھ ہو۔ میری زندگی بھی آپ کو لگ
جائے۔
کیا کروں گا ایسی زندگی کا میں ؟
ایسی زندگی جس میں میرا سب سے خاص اور مخلص رشتہ ہی نہ ہو ایسی زندگی نہی چاہیے
مجھے ۔ ۔ ۔ ہمدان اس کی طرف دیکھے بغیر بولا۔
ایسی زندگی جس میں جینے کا کوئی مقصد ہی نہ ہو اور رونے کے لیے کوئی کندھا ہی میسر نہ ہو ایسی زندگی کے لیے کیا دعا کروں میں ؟
ویسے بھی تم فیصلہ کر چکی ہوں ۔ ۔ ۔ میرے کہنے سے کیا فرق پڑتا ہے ۔ میں چاہتا تو تائی امی کو جواب دے سکتا تھا۔ انہیں تمہاری اس گھر میں حیثیت بتا سکتا تھا لیکن رک گیا کیونکہ تم نے میری زبان پر بے بسی کا تالا لگا رکھا ہے۔
جب تک تم نہی چاہو گی کچھ نہی کر سکتا ہیں۔ تمہیں جانے سے تو نہی روک سکتا لیکن جب تک یہاں ہو شوہر ہونے کی حیثیت سے میرا فرض بنتا ہے کہ تمہارے ہر سکھ دکھ میں تمہارے ساتھ کھڑا رہوں ۔
سوجا و آرام سے میں یہی ہوں ۔ رملہ کو بیڈ تک لایا اور لیٹنے کا اشارہ کیا۔
نہی میں سو جاؤں گی آپ جائیں یہاں سے ۔ ۔ ۔ کسی نے دیکھ لیا تو طوفان آجائے گا۔
طوفان کا ڈر تمہیں ہو گا مجھے نہی ۔ ۔ ۔ اگر طوفان کا ڈر ہوتا تو میں یہاں آتا ہی ناں سو جاو
آرام سے میں کچھ دیر تک یہی ہوں ۔
جب تم رونا بند کر کے سکون سے سو جاو گی تو میں یہاں سے چلا جاوں گا۔
رملہ کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے بول کر سوئچ بورڈ کی طرف بڑھ کر لائٹ آف کرتے ہوئے صوفے پر لیٹ گیا اور جیب سے موبائل نکال کر مصروف ہو گیا۔ رطہ بہت دیر تک اسے دیکھتی رہی اور پھر چادر سر تک اوڑھے سوگئی۔ جب وہ سو گئی تو ہمدان موبائل جیب میں رکھتے ہوئے اٹھ کر بیٹھ گیا۔
بے بس سا آ نکھوں میں بے جان سی مسکراہٹ لیے رملہ کی طرف بڑھا ۔ اس کے چھرے
سے چادر ہٹائی اور اس کے چہرے پر جھکا ہی تھا کہ پھر رک گیا۔
میں نہی چاہتا کہ تم مجھے غلط سمجھو ۔ ۔ ۔ مسکراتے ہوئے پیچھے ہٹا اور بنا شور کیے دروازہ بند کرتے ہوئے کمرے سے باہر نکل گیا۔
اگلی صبح سب موجود تھے ناشتے کی میز پر سوائے رملہ کے ۔ ۔ ۔ ہمدان کی نظریں بے تابی
سے اسی کو تلاش کر رہی تھیں ۔
رملہ آپی نہی آئیں ۔ ۔ ۔ ؟ میں بلا کر لاتا ہوں ۔ ۔ ۔ علی مسکراتے ہوئے کرسی سے اٹھا ہی تھا کہ مسز ملک بول پڑیں ۔ کوئی ضرورت نہی ہے ۔ بیٹھ جاو آرام سے ۔ اس لڑکی کو زیادہ سر پر چڑھانے کی ضرورت
نہی ہے ۔
چند دن کی مہمان ہے وہ یہاں ۔ ۔ ۔ بہت جلد اس کے لیے کوئی مناسب سا رشتہ دیکھ کر رخصت کرتی ہوں اسے ورنہ میرے گھر کا ماحول خراب ہونے میں دیر نہی لگے گی۔
اس کا کھانا اس کے کمرے میں پہنچا دیا جائے گا ۔ تم فکر مت کرو بیٹا۔
میری بیٹی کوئی لاوارث نہی ہے ۔ اس کا باپ زندہ ہے ابھی اور اس کا اچھا بر اسب سمجھتا ہے ۔ آپ اپنا مناسب سا رشتہ اپنے پاس ہی رکھیں تو بہتر ہو گا۔
میری بیٹی کا اس گھر میں اتنا ہی حق ہے جتنا باقی بچوں کا ہے ۔ کوئی اسے اپنے گھر سے بے
گھر نہی کر سکتا۔
وہ کوئی مہمان نہی ہے ۔ ۔ ۔ یہ بات آپ اور اس گھر کے مکین جتنی جلدی سمجھ لیں بہتر ہو
ملک صاحب محصے سے بولتے ہوئے کرسی سے اٹھے اور رملہ کے کمرے کی طرف بڑھے ۔
کچھ دیر بعد اسے ساتھ لیے وہاں آئے اور بیٹھنے کا اشارہ کیا۔
رملہ نے جھجکتے ہوئے کرسی کھینچی اور بیٹھ گئی ۔ ملک صاحب بھی بیٹھ گئے۔
سب ناشتہ کرنے میں مصروف رہے سوائے مسز ملک کے ۔ ۔ ۔ وہ غصے سے منہ پھیلائے
بیٹھی رہی۔ رملہ نظریں جھکائے ناشتہ کرنے میں مصروف رہی ۔ اچانک اس کی نظر سامنے بیٹھے ہمدان
کے ہاتھوں پر شہر سی گئی ۔
ہمدان کے ہاتھوں پے نظر میں جائے ناشتہ کرتی رہی اور پھر ڈرتے ڈرتے اس کی طرف دیکھا اور چند لھے دیکھتی ہی رہ گئی۔
نفاست سے سیٹ کیے ہال اور انتہائی خوبصورتی سے سیٹ کی داڑھی گلابی ہونٹ گھنی پلکیں اور داڑھی کے وسط میں سفید چہرہ ۔۔۔ شاید آج پہلی بار وہ فرصت سے اسے دیکھ
رہی تھی۔
نکاح کے رشتے کا احساس تھا یا پھر ایک بار پھر سے جدائی کا ڈر ۔ ۔ ۔ کچھ تو تھا اس کے دیکھنے میں ۔ ۔ ۔ اسی پل ہمدان کی نظر اس پر پڑی ۔ ۔ ۔ وہ حیران تھا رملہ کے اس طرح اس کی طرف دیکھنے پر ۔ جوس کا گلاس ہو نٹوں سے لگاتے ہوئے بے بس سا مسکرا دیا۔
کہتی ہے مجھے حق نہی اسے دیکھنے کا
لیکن اپنے حقوق اچھی طرح یا درکھتی ہے
نظریں تو چراتی ہے مجھ سے لیکن ۔ ۔ ۔
نظریں مجھ سے ہی چار کرتی ہے
رملہ نے جلدی سے نظریں پلیٹ پر جما دیں اور ایک بار سب کی طرف دیکھ کر پھر سے ہمدان
کی طرف دیکھا تو وہ اسی کی طرف دیکھ رہا تھا۔
بھنویں اچکاتے ہوئے مسکرا دیا ۔ جیسے پوچھنا چاہ رہا ہو کہ کچھ چاہیے کیا ؟ رملہ نے تیزی سے سر ایسے کھانے کی پلیٹ پر جمایا کہ دوبارہ نظر میں اٹھا کر نہی دیکھا۔ ہمدان بیٹا کوئی ضروری میٹنگ تو نہی آج تمہاری ؟
ملک صاحب کے سوال پر ہمدان کے چھرے کی مسکراہٹ سمٹی اور ان کی طرف متوجہ ہوا ۔ نہی تا یا ابو آج کوئی ضروری میٹنگ تو نہی ہے ۔ لیکن کچھ چھوٹے موٹے کام نمٹانے
ہیں۔
ہم ۔ ۔ ۔ پھر تم ایسا کرو کہ آج فیکٹری نہ جاو۔ رملہ کو یو نیورسٹی لے جاو۔ اس کی پڑھائی خراب نہ ہو اس لیے جتنی جلدی ہو سکے ایڈیشن ہو جانا چاہیے۔
جی تایا ابو آپ کی بات ٹھیک ہے لیکن اتنی جلدی ؟
میرا مطلب اسے یہاں آئے ابھی ایک دن ہوا ہے ۔ میرا خیال ہے اوپن یونیورسٹی میں
ایڈیشن لینا بہتر رہے گا۔
یں کہنا چاہ رہا ہوں کہ یو نیورسٹی جائے گی ہاسٹل میں رہنا پڑے گا۔ یہاں رہ کر پڑھے گی تو
کیا ایسا ممکن نہی ہو سکتا ؟
تم سے جتنا کہا گیا ہے اتنا ہی کرو ہمدان ۔ ۔ ۔ زیادہ مشورے دینے کی ضرورت نہی ہے ۔ اگر یہ یہاں نہی رہنا چاہتی تو یہ اس کا اپنا فیصلہ ہے ۔ ہم کون ہوتے ہیں اسے سمجھانے
والے۔
تم لے جاو ا سے اور ایڈیشن کروا کے وہی کسی ہاسٹل میں چھوڑ آو۔
مستر ملک غصے سے ہمدان پر پھٹ پڑیں۔
لیکن تائی امی ۔۔۔
لیکن ویکن کچھ نہی ۔ ۔ ۔ جتنا کہا ہے اتنا کرو, ویسے بھی اس کی منحوس شکل مجھے اس کی ماں کا
چہرہ یاد دلاتی ہے۔
جتنی جلدی ہو سکے اسے یہاں سے دفع کرو ۔ ۔ ۔ غصے میں وہاں سے چلی گئیں ۔ ہمدان نے مدد کن نگاہوں سے ملک صاحب کی طرف دیکھا ۔ ۔ ۔ وہ اس کا کندھا تھپتپاتے کی طرف دیکھا
ہوئے وہاں سے چلے گئے۔ ہمدان نے رملہ کی طرف دیکھا اور گہری سانس لیتے ہوئے علی کی طرف مسکراہٹ اچھالتے
ہوئے وہاں سے اٹھ گیا۔ میں باہر انتظار کر رہا ہوں آپ کا ۔ ۔ ۔ ناشتہ کرنے کے بعد اپنے ڈاکومینٹس لے کر آ
جائیں۔
جی ۔ ۔ ۔ رملہ نے مختصر جواب دیا اور جلدی سے ناشتہ ختم کرتی ہوئی اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئی۔ اپنا بیگ اور ڈاکومینٹس سمیٹتی ہوئی نیچے آئی اور گیراج کی طرف بڑھ گئی۔ ہمدان گاڑی سے ٹیک لگائے دونوں بازو سینے پے فولڈ کیے کسی گہری سوچ میں گم تھا ۔ رملہ کو آتے دیکھ کر اس کے لیے گاڑی کا دروازہ کھولا اور خود ڈرائیونگ سیٹ سنبھال لی۔
★★★★★
پورے راستے دونوں نے کوئی بات نہی کی۔ رملہ منتظر تھی کہ شاید ہمدان اسے روکے کا لیکن
وہ تو اس معاملے میں ایسے خاموش بیٹھا تھا جیسے اسے کوئی فرق ہی نہ پڑتا ہو۔ واپسی پر ہمدان نے گاڑی سڑک کے کنارے روک دی اور اسٹیرنگ وہیل ہے سر
گرائے بیٹھ گیا۔ کیا ہوا آپ ٹھیک تو ہیں ؟
رطہ نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا تو ہدان نے سر اٹھا کر اسے گھوری ڈالی۔ ہاتھ مت لگاو مجھے ۔۔۔ کوئی حق نہی تمہیں مجھے ہاتھ لگانے کا اور نہ ہی مجھے دیکھنے کا۔
میں تو بس ۔۔ مجھے فکر ہو رہی تھی آپ کی بس اسی لیے پوچھ لیا۔
I am sorry
اس نے تیزی سے بہت پیچھے کھینچ لیا لیکن ہمدان نے اس کا ہاتھ تھام کر ہو نٹوں سے لگالیا۔
یہ کیاکیا کر رہے ہیں آپ؟
چھوڑیں میرا ہاتھ ۔۔۔ اچھا نہی لگتا اس طرح سے ۔ ۔ ۔ وہ بولتی رہ گئی لیکن ہمدان بنا کوئی جواب دیے بس اس کی طرف دیکھتا رہا۔
چند لمحے دیکھنے کے بعد مسکرا دیا ۔ رملہ کا ہاتھ ابھی بھی اس کے ہاتھ کی مضبوط گرفت میں قید
تھا۔
اب دیکھ سکتی ہو میری طرف مسز ۔ ۔ ۔ یہاں پر کوئی نہی دیکھے گا تمہیں مجھے دیکھتے ہوئے اور نہ ہی کوئی روکے گا۔ تو جی بھر کر دیکھ سکتی ہو جتنی بار دیکھنا چاہو۔
جتنی دیر تک چاہو دیکھ سکتی ہو مجھے کوئی اعتراض نہی ہے ۔
رملہ نے چونک کر اس کی طرف دیکھا اور نظریں جھکالیں اور پھر سے اپنا ہاتھ کھینچنا شروع کر
دیا مگر ہد ان کی گرفت مظبوط تھی ۔
ہمیں چلنا چاہیے ۔ ۔ ۔ بڑی ماما ناراض ہو جائیں گی اگر ہم دیر سے پہنچے ۔ تمہیں کب سے فکر ہونے لگی تائی امی کی؟ ان کی فکر مت کرو ان کو جواب دینا جانتا ہوں میں ۔ ۔ ۔ آج بھی چپ کروا سکتا تھا انہیں لیکن تمہاری وجہ سے چپ رہا لیکن اگر وہ مسلسل اسی طرح تمہاری تزلیل کرتی رہی تو شاید کسی
دن میری برداشت ختم ہو جائے ۔ آپ جواب دے سکتے ہیں انہیں لیکن میں نہیں ۔ ۔ مجھے اپنے کردار سے لے کر اپنی مرحومہ والدہ کے کردار تک گواہی دینا پڑتی ہیں۔
رات کو جو کچھ ہوا اس کے بعد میر انہی خیال کے مجھے انہیں کوئی موقع دینا چاہیے ۔ آپ کو پھوپھو سے وہ سب شئیر نہی کرنا چاہیے تھا ۔ وہ بہت مان سے آئی تھیں میرے پاس اور الٹا میری وجہ سے بڑی ماما نے ان کی انسلٹ کر دی ۔
تائی امی کی پرانی عادت ہے رملہ ۔ ۔ ۔ ہم سب عادی ہو چکے ہیں ان کے رویے کے وہ ہم سب پر حکم چلانے کی عادی ہو چکی ہیں ۔ ان کے ایسے رویے کی وجہ میرے بابا ہیں ۔ وہ نشے کی لت میں پڑ گئے تھے اور اپنا سب کچھ ہار گئے ۔ تب ہمیں تایا ابو نے سہارا دیا ۔ بس اسی بات کا فائدہ اٹھایا انہوں نے ہمیشہ ۔ ایسا نہی ہے کہ میرے پاس اپنا کچھ نہی ہے ۔ الحمد للہ آج سب کچھ ہے میرے پاس لیکن پھر بھی ان کو پلٹ کر جواب نہی دیا کبھی کیونکہ ماں باپ کی تربیت پر بات آجاتی ہے۔ لیکن ان کا تمہارے ساتھ ایسا رویہ مجھ سے بلکل برداشت نہی ہوتا ۔ ۔ ۔ جب تک بات میری تھی میں برداشت کر تا رہا لیکن اپنی بیوی کی تزلیل برداشت کرنا بہت مشکل ہے
میرے لیے ۔
صرف نکاح کر لینا کافی نہی ہوتا ۔ ۔ ۔ شوہر کو اپنی بیوی کی عزت کا بھی خیال رکھنا پڑتا
ہے ، بیوی کی طرف اٹھنے والی ہر انگلی کو توڑنے کی ہمت رکھنی پڑتی ہے ۔ "
آپ میری وجہ سے کسی سے نہ الجھیں ۔ ۔ ۔ میں چند دن کی مہمان ہوں چلی جاؤں گی، آپ میرے لیے زیادہ فکر مند نہ ہو ۔ ۔ ۔ وہ نکاح زبر دستی ہوا تھا ۔ اماں نے زبر دستی کی تھی آپ کے ساتھ لیکن میں آپ کے ساتھ کوئی زبردستی نہی کروں گی اور ناں ہی خود کو آپ پر مسلط
کروں گی ۔
آپ کی اپنی زندگی ہے جیسے چاہے گزاریں ۔ ۔ ۔ یہی سمجھیں میں آپ کی ایک انجان کزن
ہوں۔
ہم سہی ۔ ۔ ۔ تمہارے لیے کہنا بہت آسان ہے رطہ لیکن میرے لیے ایسا سوچنا بھی
گناہ ہے۔
نکاح چاہے جن حالات میں بھی ہوا تھا ۔۔۔ تم میرے نکاح میں ہو یہی حقیقت ہے اور میں اس کو تسلیم کر چکا ہوں ۔ تمہیں جانا ہے تو جاو۔ ۔ ۔ میں نہی روکوں گا لیکن جتنے دن میرے ساتھ ہو مجھے ان لمحوں کو
جی بھر کے جینے دو۔ کیا پتہ جب تم واپس پلٹو میں کسی دور چلا جاو اتنی دیر جہاں سے واپسی کا راستہ میسر ہی نہ ہو۔ رملہ کے ہاتھ پر گرفت مزید مظبوط کی ۔
بدلے میں رملہ بعد ان کے کندھے پر سر گرائے آنسو بہانا شروع ہو گئی ۔ کیوں کر رہے ہیں
آپ ایسی باتیں ؟
آپ جانتے ہیں جو آپ چاہتے ہیں وہ میں نہی کر سکتی ۔ ۔ ۔ اماں ایسا نہی چاہتی تھیں۔
ایسا ہی چاہتی تھیں وہ رملہ ۔۔۔ تم سمجھنے کی کوشش ہی نہی کر رہی ۔ ۔ ۔ ہمدان نے اس کی
بات درمیان میں ہی کاٹ دی۔
جس دن تم ہاسپٹل میں تھی اس دن تا یا ابو اور آنٹی کی ملاقات ہوئی تھی اور یقینا وہ دونوں ایک دوسرے کو پہچان چکے تھے لیکن ہمارے سامنے ظاہر نہی کیا ۔ یہ فیصلہ انہوں نے بدلے کی آڑ میں نہی بلکہ تمہیں تحفظ دینے کے لیے کیا تھا کیونکہ وہ جانتی تھیں ان کی غیر موجودگی میں ان کی بیٹی اس کوٹھے کی چار دیواری میں محفوظ نہی رہ سکے گی۔ اسی لیے انہوں نے میرا انتخاب کیا ۔۔۔ وہ سمجھ چکی تھیں مجھے ۔ ۔ ۔ میں تمہارے لیے
بہت فکر مند تھا۔
مجھے نہی پتہ تھا کہ میں ایسا کیوں کرتا تھا۔ ایک انجان سا احساس تھا ۔ کبھی مینی اور کبھی نصیر ۔ ۔ ۔ جب جب انہوں نے تمہیں نیچا دکھانے کی کوشش کی میرا خون کھوتا تھا۔ پتہ نہی کیوں میرا دل چاہتا تھا تمہیں تحفظ دوں ۔ ۔ ۔ میرے دل تمہارے لیے ایک الگ ہی محبت ڈالی تھی اللہ نے مجھے کیا پتہ تھا میری وہ بے چینی تمہیں میری زندگی میں شامل کر
دے گی۔
میں سب سے لڑسکتا ہوں تمہارے لیے ۔ ۔ ۔ بس ایک بار تم ہاں کر دو میں سب کو بتا دونگا اس نکاح کا اور شادی بھی تم سے ہی کروں گا عزت سے ۔
بس تم میرا ساتھ دو ۔ ۔ ۔ زندگی کے ہر مقام پر تمہارے ساتھ کھڑا رہوں گا۔
رملہ نے اس کے کندھے سے سر اٹھایا اور سیدھی ہو کر بیٹھ گئی ۔ میرا خیال ہے ہمیں گھر چلنا چاہیے۔ مجھے اپنی خوشیوں سے بڑھ کر دوسروں کی خوشیاں عزیز ہیں۔ جس گھر میں مجھے پناہ لی ہے اس گھر کی بیٹی کی خوشیاں برباد نہی کر سکتی ہیں۔ بینی کی شادی آپ سے طے ہو چکی ہے اور میں اپنی بہن کا گھر برباد نہی کر سکتی۔
ہم ۔۔۔ مطلب میری کسی بات کی کوئی ویلیو نہی تمہاری نظر میں بس دوسروں کی فکر
ہے۔
ٹھیک ہے جیسے تمہاری مرضی ۔ ۔ ۔ دوبارہ اس ٹاپک پر کوئی بات نہی کروں گا
میں ۔ ۔ ۔ بے بسا مسکرا دیا اور گاڑی اسٹارٹ کر دی ۔ شام کو جم سے واپس آیا تو نور کی ماما دروازہ ناک کرتی ہوئی کمرے میں داخل ہوئیں ۔ پھوپھو آپ ۔ ۔ ۔ آپ کو کب سے دروازہ نوک کرنے کی ضرورت محسوس ہونے لگی ہے ۔ وہ مسکراتی ہو ئیں صوفے پر بیٹھ گئیں ۔ ہمدان بھی ان کے سامنے والے صوفے پر بیٹھ گیا اور
مسکرا دیا۔
سنا ہے تم آج رملہ کو یو نیورسٹی لے کر گئے تھے ؟
جی سی سنا ہے آپ نے ۔ ۔ ۔ کچھ دن تک چلی جائے گی ہاسٹل ۔ ۔ ۔ بے بسی سے جواب دیا۔۔
وہ نہی رہنا چاہتی یہاں میری وجہ سے ۔ ۔ ۔ کہتی ہے کہ بینی کا گھر نہی برباد کر سکتی۔
اچھا ۔ ۔ ۔ تواگر وہ نہی سمجھ رہی تو سمجھا واسے بیٹا۔ ۔ ۔ بیوی ہے وہ تمہاری اس کی زندگی
میں اپنی اہمیت واضح کرو۔ میں کچھ سمجھا نہی پھوپھو۔ ۔ ۔ ؟
ہر بات سمجھانے والی نہی ہوتی ہیا ۔ ۔ ۔ کچھ باتیں خود ہی بجھنی پڑتی ہیں ۔ میں چلتی ہوں نماز
کا وقت ہو رہا ہے ۔ بس یہی سمجھانے آئی تھی تمہیں کہ اگر وہ نا سمجھ ہے تو تم سمجھداری سے کام لو۔
سمجھ رہے ہوناں میری بات ۔۔۔؟
اگر نہی سمجھ آئی تو سمجھنے کی کوشش کرو, عقلمند کے لیے اشارہ کافی ہوتا ہے ۔ مسکراتی ہوئیں کمرے سے باہر نکل گئیں اور ہمدان میں پڑگیا ۔
کیا مطلب ہو سکتا ہے اس بات کا ۔ ۔ ۔ ۔ ؟ ہم سمجھ گیا ۔ ۔ ۔ اب یہی واحد راستہ بچا ہے میرے پاس تمہیں روکنے کا ۔ ۔ ۔ دیکھتا
ہوں کیسے جاتی ہو مجھے چھوڑ کر ۔
بہت ہوگیا۔ ۔ ۔ اب تمہاری زندگی میں اہمیت واضح کرنی ہی پڑے گی ورنہ تم اس طرح دور
بھاگتی رہو گی مجھ سے ۔
مسکراتے ہوئے الماری کی طرف بڑھ گیا ۔ فریش ہو کر کمرے سے باہر نکلا اور کھانا کھانے
کے بعد سب کے کمروں میں جانے کا انتظار کرتا رہا۔
جب سب اپنے اپنے کمروں میں چلے گئے تو رطہ کے کمرے کی طرف چل دیا۔ دروازے کی ڈبلیکیٹ چابی کچن سے لی اور بڑے سکون سے کمرے میں داخل ہوا ۔ وہ سکون سے سورہی تھی ۔ مسکراتے ہوئے اس کی طرف بڑھا اور نرمی سے اس کے گال
کو چھوا۔
رملہ کی آنکھ کھل گئی ۔ ۔ ۔ اس سے پہلے کہ وہ چلاتی ہمدان اس کے ہونٹوں پر جھکا اور فرار کی ساری راہیں بند کر دیں ۔
رملہ صبح صبح بیڈ سے ٹیک لگائے بیٹھی رو رہی تھی اور ہمدان سکون سے سو رہا تھا ۔ رملہ کی
سکیوں کی آواز کانوں میں پڑی تو اٹھ کر بیٹھ گیا۔ اس کی طرف ہاتھ بڑھا کر آنسو پونچھنے کی کوشش کی تو رملہ نے اس کا ہاتھ جھٹک دیا۔
بدلے میں ہمدان مسکرا دیا ۔ رونا کا کوئی فائدہ نہیں ہے ۔ شوہر ہوں تمہارا اور میرا حق ہے تم
پر
حق زبر دستی حاصل نہی کیے جاتے رملہ غصے سے چلائی مگر پھر اپنی آواز اونچی ہونے کا ڈر
ہوا تو فورا سے منہ پر ہاتھ رکھ لیا ۔
همدان
مسکرا دیا
No, you are wrong
اپنی بیوی کو پیار کرنا کوئی زبر دستی نہیں ہوتی ۔ جب گھی سیدھی انگلی سے نہ نکلے تو انگلی
ٹیڑھی کرنی پڑتی ہے۔
بیوی ہو تم میری کچھ غلط نہیں کیا میں نے
اگر ثابت کر سکتی ہو کہ میں نے غلط کیا ہے تو کرو جو سزا دونگی میں بھگتنے کے لیے تیار
ہوں۔
میری زندگی تو خود ایک سزا بن چکی ہے اور رہی سہی کسر آپ نے پوری کر دی ہے ۔ مجھے آپ سے بالکل امید نہیں تھی کہ آپ ایسا بھی کچھ کر سکتے ہیں ۔ میں آپ کو بہت اچھا انسان سمجھتی تھی لیکن آج آپ نے ثابت کر دیا کہ آپ ۔ ۔ ۔ ۔
ششش خبر دار جو اس سے آگے ایک لفظ بھی بولا ۔ ۔ ۔ ۔ اس سے پہلے کہ رملہ کچھ کہستی
ہمدان نے اسے درمیان میں ہی ٹوک دیا۔
اپنی بیوی کو پیار کرنا کچھ غلط نہیں ہے ۔ جاو فریش ہو جاو۔ نیچے ناشتے کی ٹیبل پر ویٹ کر رہا ہوں میں تمہارا اور اگر نہ آئی تو میں پھر سے کمرے میں آرہا ہوں۔
اگر مجھے کسی نے اس کمرے میں آتے ہوئے دیکھ لیا تو اس کا جواب میں ہی دوں گا۔ جانتی ہو ناں میں ڈرتا نہیں ہوں کسی سے ۔ ۔ ۔ بہتر یہی ہوگا کہ اس بحث کو یہیں ختم کرو اور نیچے آؤ میں بھی آتا ہوں فریش ہو کر نماز پڑھ کے تم بھی آجاؤ جلدی سے ۔
مجھے نہیں آنا کہیں بھی آپ جائیں آپ کو جانا ہے تو ۔ ہمدان بیڈ سے نیچے اتر ہی تھا کہ رملہ کی آواز پر پھر سے اس کی طرف بڑھا اور مسکرا دیا کیا کہا ؟ ذرا پھر سے کہنا میں نے سنا نہیں۔۔۔ نہی جانا چاہتی یہاں سے یا پھر میرا جانا اچھا نہی لگ
رہا تمہیں ؟
جو بات دل میں ہے کہ دو میں مائینڈ نہی کروں گا۔
ایک بار کہہ کر تو دیکھو ۔ ۔ ۔ تمہارے لیے جان بھی حاضر ہے ۔
ہمدان کا لہجہ اور اس کی نظروں کی تپش نے رملہ کو وہاں سے اٹھنے پر مجبور کر دیا ۔ تیزی سے
اس کے جاتے ہی ہمدان مسکرا دیا ۔ اب آئی ہیں مسزسیدھے راستے پر ۔ دیکھتا ہوں کیسے جاتی ہیں آپ ہاسٹل ۔۔۔ اپنی قربت کی ایسی عادت ڈالوں گا کہ دوبارہ جانے کا نام نہی لوگی اور اگر چلی بھی گئی تو زیادہ دن تک نہی پاؤگی۔
بالوں میں ہاتھ پھیرتے ہوئے کسی خوش گوار احساس کے تخت مسکراتے ہوئے کمرے
سے باہر نکل گیا۔
ناشتے کی میز پر بھی رملہ کی کفیت ویسی ہی تھی ۔ ہمدان کی اس پر جمی نظریں اسے کنفیوزڈ کر
رہی تھیں ۔
جلدی سے ناشتہ ختم کر کے اوپر ٹیرس پر چلی گئی۔
دادا ابو اور دادی اماں کے پاس بیٹھ گئی اور ان سے اپنے بابا کے بچپن کے قصے سننے میں
مصروف ہو گئی ۔
کچھ ہی دیر گزری تھی کہ ہمدان بھی وہاں آگیا اور دادو کی گود میں سر رکھے لیٹ گیا۔
آج تم گئے نہی فیکٹری ؟ دادا جی نے اخبار سے نظریں ہٹاتے ہوئے چشمہ درست کرتے ہوئے حیرت زدہ انداز میں
ہمدان کو دیکھا ۔
نہی دادا ابو ۔ ۔ ۔ آج طبیعت کچھ ٹھیک نہی لگ رہی تھی تو سوچا تھوڑا آرام کرلوں اور آپ
لوگوں کے ساتھ وقت گزار لوں ۔
اچھی بات ہے برخوردار ۔ ۔ ۔ کیا ہوا طبیعت کو طبیعت کیوں ناساز ہے آپ کی ؟
کچھ خاص نہی دادا ہو ۔ ۔ ۔ سر میں تھوڑا درد تھا اور ہلکا سا بخار۔
لاو میں دبا دیتی ہوں اپنے بیٹے کا سر ۔۔۔ دادو نے ہمدان کے ماتھے پر پیار کیا اور اس کا سر
دبانا شروع ہو گئیں ۔
بدلے میں ہمدان نے ان کا ہاتھ تھام کر ہونٹوں سے لگالیا۔ نہی دادو جان آپ تھک جائیں گی میں بس کچھ دیر آپ کی گود میں آرام کرنے آیا ہوں ۔
بول تو ان سے رہا تھا لیکن نظریں سامنے بیٹھی نظریں جھکائے دونوں ہاتھوں کو ایک
دوسرے میں ہیوست کیے بیٹھی کنفیوز ڈسی رملہ پر جمی تھیں ۔
تمہیں کیا ہوا ایسے چپ چاپ کیوں بیٹھ گئی ؟
دادو نے رملہ کو پریشان دیکھا تو مسکراتی ہوئی بولیں ۔
کچھ نہی داد و جان ۔ ۔ ۔ بس ایسے ہی میں چلتی ہوں کچھ کام تھا مجھے۔
بیٹھ جا چپ کر کے ۔ ۔ ۔ کیا کام ہے تجھے ؟
سکون سے بیٹھ دو گھڑی دادی کے پاس ۔ ۔ ۔ زیادہ سے زیادہ وقت کمرے سے باہر گزارا کرو تاکہ تمہارا دل لگے یہاں ۔
ابھی تو ٹھیک بیٹھی تھی بعد ان کے آتے ہی پریشان ہو گئی ۔ کچھ نہی کہتا یہ تمہیں ۔ ۔ ۔ بھائی
ہے تمہارا۔
لا حول ولا قوۃ ۔ ۔ ۔ ہمدان بالوں میں ہاتھ پھیرتے ہوئے مسکرا دیا ۔
رملہ اسی کی طرف دیکھ رہی تھی ۔ ہمدان کو مسکراتے دیکھ کر اس کی بھی ہنسی چھوٹ گئی۔ ہمدان کی نظریں اس کے چہرے پر جم سی گئیں ۔ بہت عرصے بعد آج وہ دل سے مسکرا
رہی تھی۔
لے ۔۔۔۔ اس میں ہنسنے والی کونسی بات تھی بھلا؟
تم دونوں تو ایسے ہنس رہے ہو جیسے میں نے کوئی لطیفہ سنا دیا ہو۔
دادو برا مان گئیں ۔ نهی داد و جان ہم تو کسی اور بات پر مسکرا رہے ہیں ۔ آپ ناراض نہ ہو ۔ ہمدان نے انہیں حیران ہوتے دیکھا تو فوراً بول پڑا۔ رملہ کی مسکراہٹ بھی سمٹ گئی لیکن دادو کے بھائی کہنے پر ہمدان کا ری ایکشن اسے ہنسنے پر مجہور کر رہا تھا ۔ بہت مشکل سے اپنی ہنسی کنٹرول کی ۔
دادا جی بھی مسکرا دیے ۔ ۔ ۔ اب تمہاری باتیں ہوتی ہی ایسی ہیں اس میں بچوں کا کیا قصور۔
اچھا ۔ ۔ ۔ اب آپ بھی شروع ہو گئے ۔ سہی ہے بنا لو سارے مل کر میر امزاق۔ ارے بیگم ناراض کیوں ہو رہی ہیں آپ ۔ ۔ ۔ ؟
مزاق نہی بنا رہے ہم سب تو دل لگا رہے ہیں آپ کا, آپ تو غلط ہی سمجھ بیٹھی ہیں ۔ اچھا اگر دل لگا رہے ہیں تو پھر سہی ہے ۔ میرا بیٹا بہت سلجھا ہوا سمجھدار اور سنجیدہ ہے۔
دادو نے رملہ کے سامنے ہمدان کی تعریف بیان کی۔
ہونہہ ۔ ۔ ۔ سنجیدہ اور سلجھا ہوا ۔ ۔ ۔ واہ جتنے سلجھے ہوئے یہ ہیں میں کل رات دیکھ چکی
ہوں۔
دل ہی میں سوچنے لگی لیکن بولی کچھ نہی ۔ ۔ ۔ ہمدان نے نچلا ہونٹ دانتوں میں دباتے ہوئے رملہ کی طرف دیکھا اور دائیں آنکھ دباتے ہوئے مسکرا دیا۔
بدلے میں رملہ نے زبردستی کی مسکراہٹ اس کی طرف اچھالی۔ گھر تو دکھا و بہن کو ہدان ۔ ۔ ۔
دادو کے بہن کہنے پر ہمدان تیزی سے اٹھ کر بیٹھ گیا۔
آئیں آپ کو گھر دکھا دوں ، تیزی سے اٹھ کھڑا ہوا کہ کی دادو رملہ کے منہ سے بھائی ہی نہ نکلوادیں۔
جی چلیں ہمدان بھا ۔ ۔ ۔ ۔
رملہ ہنسی دباتی ہوئی بولنے ہی والی تھی کہ ہمدان کے گھورنے پر چپ ہو گئی اور اس کے پیچھے
چل دی۔
ہمدان نے پلٹ کر اسے مسکراتے ہوئے دیکھا تو دونوں بازو سینے پر فولڈ کیے ٹکٹکی باندھے
دیکھنا شروع ہو گیا۔
چلیں ۔ ۔ ۔ رملہ نظریں جھکائے جھجھکتی ہوئی بولی۔
جی جناب چلیں ۔ ۔ ۔ ہمدان اس کے آگے آگے چلتا گیا اور پورا گھر وزٹ کروا دیا سوائے
مینی کے کمرے کے۔
بینی کہاں ہے ؟
میرا مطلب اس کا کمرہ نہی دکھایا آپ نے مجھے ۔ ۔ ۔ آخر کا ر رملہ نے ڈرتے ڈرتے پوچھ ہی
لیا۔
Are you sure about that
همدان حیرت زدہ سا اس کی طرف پلٹتے ہوئے بولا۔ واقعی تم بینی سے ملنا چاہتی ہو؟
جانتی ہو ناں وہ تماشہ کھڑا کر دے گی۔
آج نہی تو کل اس کا سامنا کرنا ہی ہے مجھے تو آج کیوں نہی ؟
میری بڑی بہن ہے وہ ۔ ۔ ۔ ہماری مائیں الگ ہیں لیکن دونوں کی رگوں میں خون تو ایک
ہی باپ کا ہے ۔
میرا اس سے خون کا رشتہ ہے یہ بات ہم جھٹلا تو نہی سکتے ناں؟
ہم ۔ ۔ ۔ ٹھیک ہے جیسے تمہیں بہتر لگے ۔ آو چلتے ہیں ۔ وہ نیچے والے پورشن میں ہے ۔ جب سے چوٹ لگی ہے وہی شفٹ ہے تائی امی کے کمرے کے ساتھ والے کمرے
میں۔
پتہ نہی کیسے ری ایکٹ کرے گی تمہیں سامنے دیکھ کر ۔ ۔ ۔ ایک بار پھر سوچ لو۔
ہمدان سیڑھیوں میں رک کر رطہ کی طرف پلٹا ۔
جی ۔ ۔ ۔ بہت اچھی طرح سوچ لیا ہے میں نے ۔ آپ لے کر چلیں مجھے ۔
All raight...lets go
ہمدان حیرت زدہ سا بینی کے کمرے کی طرف بڑھا اور دروازہ ناک کیا۔
...Yes Comein
اندر سے بینی کی آواز آئی تو دروازہ کھولتے ہوئے کمرے میں داخل ہو گیا۔
اسلام و علیکم ۔۔۔
I hope you are good
و علیکم اسلام ۔ ۔ ۔ بینی با مشکل بیڈ سے ٹیک لگائے بیٹھی تھی ۔ گردن موڑتے ہوئے سلام
کا جواب دیا اور پھیکا سا مسکرا دی۔ کیسے راستہ بھول گئے آج میرے کمرے کا ؟
اس کے سوال پر ہمدان مسکرا دیا ۔ ۔ ۔ اس کمرے کا راستہ میں اس دن سے بھولا ہوں جب
تم نے خود مجھے یہاں سے نکالا تھا۔ کیا کہا تھا بھول گئی کیا ؟
یہی کہہ رہی تھی ناں کہ آئیندہ یہاں نہ آوں ؟ تمہاری صد ہی پوری کر رہا تھا ۔
تو پھر آج میری صند کیسے توڑ دی؟
آج بھی ناں آتے۔۔۔ پچھلے پندرہ دن تک میری یاد نہی آئی تو آج آنے کا مقصد ؟ مقصد تو بہت خاص ہے بینی ۔۔۔ بس تم زیادہ حیران مت ہونا کوئی ملنے آیا ہے تم سے ۔ تایا ابو کی دوسری شادی کا علم تو تھا ناں تمہیں ۔ ۔ ۔ اسی رشتے سے جڑا ایک خاص رشتہ تم
سے ملنے آیا ہوں ۔
تمہاری چھوٹی بہن آئی تم سے ملنے ۔ ۔ ۔ کیا تم اسے دیکھنا چاہو گی؟
میری چھوٹی بہن ۔ ۔ ۔ بابا کی دور سری شادی ۔ ۔ ۔ پہیلیاں کیوں بجھا رہے ہو؟
جو کہنا چاہتے ہو صاف صاف کیوں نہی کہہ دیتے ۔ اس طرح باتوں کو گھما کیوں رہے ہو۔ ایک منٹ ۔ ۔ ۔ ہمدان دوازے کی طرف بڑھا اور رملہ کو اندر آنے کا اشارہ دیا۔ پہلے ہمدان کمرے میں داخل ہوا اور اس کے پیچھے چھپی کھڑی رملہ نے ہمدان کی شرٹ پیچھے
سے مٹھیوں میں جکڑ کر ڈرتے ڈرتے بیٹی کو دیکھا ۔
ہدان کے پیچھے چھپی کر کھڑی رملہ کو دیکھ کر مینی کے تو جیسے ہوش ہی اڑ گئے۔ حیرت زدہ سی آنکھیں پھاڑے رطہ کو دیکھتی رہ گئی۔
ہدان نے پلٹ کر رملہ کی طرف دیکھا اور اسے آگے بڑھنے کا اشارہ دیا۔
تم ۔ ۔ ۔ تم یہاں کیا کر رہی ہو؟ مینی غصے سے چلائی۔
ہدان یہ تمہارے ساتھ کیوں کھڑی ہے اس طرح سے ؟
کیا تم اسے یہاں لائے ہو ؟
وہ سوال پر سوال کرتی گئی ۔
یہ تمہاری بہن ہے ۔ تایا ابو کی دوسری بیوی سے ان کی اکلوتی بیٹی رملہ ۔
کیا ۔ ۔ ۔ ۔ کیا بکواس کر رہے ہو تم ہمدان ؟
ایسا کیسے ہو سکتا ہے ؟
اس کی ماں تو طوائف تھی ناں ۔ ۔ ۔ ڈیڈ ایسی عورت سے کیسے شادی کر سکتے ہیں؟
تم جھوٹ بول رہے ہو ناں؟
نہی بینی ۔ ۔ ۔ یہی سچ ہے ۔ یہ تمہاری چھوٹی بہن ہے اور اسے یہاں میں نہی تایا ابو خود
لائے ہیں۔ کیوں کسی نے بتایا نہی تمہیں ؟
نہی یہ نہی ہو سکتا ۔ ۔ ۔ بینی نے پوری طاقت لگاتے ہوئے سائیڈ ٹیبل سے خالی جگ اٹھایا
اور رملہ کی طرف اچھالا ۔ خوش قسمتی سے وہ جنگ بینی کے ہاتھ سے چھوٹ کر فرش پر گر گیا۔
کیا بد تمیزی ہے یہ بینی ۔ ۔ ۔ ؟
ہمدان تیزی سے رملہ کے سامنے ڈھال بن کر کھڑا ہو گیا۔
تم ہٹو سامنے سے ہمدان ۔ ۔ ۔ اس لڑکی کو میں آج زندہ نہی چھوڑوں گی ۔ اس نے میرا سب کچھ چھین لیا مجھ سے ۔ ۔ ۔ پہلے تمہیں چھین لیا ۔ پھر اس منحوس کی نظر میری خوشیاں کھا گئی اور اب یہ اس گھر میں بھی آگئی میرے حق پر قبضہ جانے ۔ بینی کی بے بسی دیکھ کر رملہ کی آنکھوں سے آنسو بہنا شروع ہو گئے ۔ وہ آگے بڑھنا چاہتی تھی مگر ہمدان نے اس کا ہاتھ مظبوطی سے اپنے ہاتھ میں تمام رکھا تھا ۔
تم نے اس کا ہاتھ کیوں پکڑا ہے ؟
بینی کی نظر پڑی تو اور زور سے چلائی۔
اس کے چیخنے کی آوازیں سن کراس کی ماما اور ہمدان کی ماما دو نو او پر بھاگی آئیں۔ سامنے کا منظر دیکھ کر ان کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں ۔
ان کی موجودگی میں بھی ہمدان نے رملہ کا ہاتھ نہ چھوڑا کہ رسل اپنا ہاتھ کی رھی تھی۔
★★★★★
یہ سب کیا ہو رہا ہے یہاں ؟ مسز ملک غصے سے ہدان کی طرف بڑھیں اور اس کے ہاتھ میں موجود رملہ کے ہاتھ کو دیکھتی
ہوئی بولی۔
ماما میں بتاتی ہوں آپ کو۔ ۔ ۔ یہ جو لڑکی بعد ان کے ساتھ کھڑی ہے ناں اس کا نام رملہ
اسی کی وجہ سے آپ کی بیٹی کی یہ حالت ہے ۔
تمہاری اس حالت کی زمہ دار رملہ کیسے ہو سکتی ہے بینی ۔ ۔ ۔ بولنے سے پہلے سوچ تو لیا کرو
کہ کیا بول رہی ہو۔
ہمدان حیرت زدہ سا بولا۔
دیکھا ماما آپ نے کیسے سائیڈ لے رہا ہے اس کی ؟
یہ لڑکی ہماری یو نیورسٹی میں پڑھتی تھی ایک سال پہلے ۔ ۔ ۔ آپ کو یاد ہو شاید میں یونیورسٹی
سے اچانک گھر آئی تھی۔
تب یہ اور ہمدان پوری رات سٹور روم میں تھے ۔ اس نے سٹور کیپر کو پیسے دے تھے باہر سے کنڈی لگوانے کے لیے ۔
ان دونوں کا افیر چل رہاتھا اور۔ ۔ ۔ او کیا کچھ تھامیں کیسے بتاوں آپ کو مجھے کچھ سمجھ نہی
رہا۔
اور یہ ایک طوائف بھی ہے ۔ ۔ ۔ اسی کے کوٹھے پر جاتا تھا ہمدان نور کی برسی پر ہر
سال ۔ ۔ ۔ پوچھیں اس سے کیا میں جھوٹ کہہ رہی ہوں ۔
بینی ۔ ۔ ۔ بولنے سے پہلے سوچ لیا کرو کیا بول رہی ہو ، رملہ کوٹھے پر رہتی ضرور تھی مگر
طوائف نہی تھی۔
جھوٹ ۔ ۔ ۔ جھوٹ بول رہا ہے یہ ماما ۔ ۔ ۔ میں ہمیشہ اس کی غلطیوں پر پردہ ڈالتی رہی مگر آج اس نے پھر سے اس لڑکی کو میرے مقابل لا کھڑا کیا ہے ۔
اور مجھے کہ رہا ہے کہ یہ باباکی بیٹی ہے ۔ اب میں اس کی باتوں میں ہر گز نہی آوں گی۔ تائی امی یہ بہتان لگا رہی ہے رطہ پر ۔۔۔ یونیورسٹی میں جو کچھ ہوا یہ سب کچھ جانتی ہے کیا سچ
تھا اور کیا جھوٹ اسے سب پتہ تھا۔
وہ سب رملہ کے کلاس فیلو نصیر کا کیا دھرا تھا۔ اسی نے ہمیں بہانے سے اوپر بلایا تھا اور
باہر سے کنڈی لگا دی ۔
صرف اتنا ہی نہیں ۔ ۔ ۔ ہمارے فون بھی اسی کے پاس تھے ۔ بینی بتاو تائی امی
کو ۔ ۔ ۔ جھوٹ کیوں بول رہی ہو؟ ہمدان محصے سے بینی کی طرف بڑھا لیکن مسز ملک اس کے راستے میں آگئیں ۔ تم ابھی بھی ہمارے سامنے اس لڑکی کا ہاتھ پکڑ کر کھڑے ہو اور ہمیں کہہ رہے ہو کہ بینی جھوٹ بول
رہی ہے۔
شرم آنی چاہیے تمہیں ہمدان ۔ ۔ ۔ ہمدان کی ماما بھی وہاں آگئیں ۔
چھوڑو اس لڑکی کا ہاتھ ۔ ۔ ۔ وہ زبر دستی ہمدان کے ہاتھ سے رملہ کا ہاتھ آزاد کرنا چاہ رہی تھیں
لیکن ہمدان نے اس کا ہاتھ نہی چھوڑا۔ امی کیا کر رہی ہیں آپ؟
آپ کو یہ ٹوٹا ہوا شیشہ نظر نہی آرہا کیا ؟
اگر میں وقت پر نہ پہچتا تو بینی اس کا کام تمام کر چکی ہوتی ۔ ۔ ۔ بلکل ویسے ہی جیسے پہلے کیا
تھا۔
تم نے باقی سب کچھ تو بتا دیا بینی لیکن یہ نہی بتایا کہ تم نے رملہ پر حملہ بھی کیا تھا اور اسے آئی
سی یو میں پہنچایا تھا ۔
مجھے بہت غصہ تھا ماما جب میں نے ان دونوں کو ساتھ دیکھا تو مجھ سے برداشت نہی ہوا۔ بہت اچھا کیا تھا تم نے بیٹا ۔ ۔ ۔ بلکل ایسا ہی کرنا چاہیے تھا ۔ چھوڑو اس لڑکی کا ہاتھ
ہمدان ۔ ۔ ۔ مسز ملک غصے سے ہمدان کی طرف بڑھی۔
معزرت تائی امی ۔ ۔ ۔ میں رملہ کا ہاتھ نہی چھوڑوں گا ۔ آپ کو اس سے جو بھی کہنا ہے ابھی
کہہ لیں میرے سامنے ۔
کیوں ایسا کیا رشتہ ہے تمہارا اس کے ساتھ جو تم اس کے خلاف ایک بھی بات برداشت
نہی کر سکتے ؟
ان کے سوال پر ہمدان نے پلٹ کر رملہ کی طرف دیکھا تو اس نے سر نفی میں ہلا دیا ۔ آپ لوگوں کو جو سمجھنا ہے سمج لیں ۔ ۔ ۔ بس اتنا یادرکھیں رملہ کی طرف اٹھنے والی ہر انگلی کاٹ دوں گا میں ۔ ۔ اور بینی تم ۔ ۔ ۔ تمہیں اسحال میں پہنچ کر بھی رحم کرنانہی آیا۔ بہت افسوس ہوا آج ۔ ۔ ۔ رملہ کو بازو سے کھینچتا ہوا کمرے سے باہر نکل گیا۔
دیکھا تم نے کیسے اس لڑکی کا ہاتھ پکڑ کر لے گیا ہے ؟
ہمدان کے کمرے سے جاتے ہی مسز ملک دیورانی پر برس پڑیں ۔ ۔ ۔ اسے زرا لحاظ نہی کہ
سامنے تائی کھڑی ہے ۔
نہ ماں کا لحاظ کیا اور نہ ہی اپنی ہونے والی کمزور بیوی کا ۔ ۔ ۔ جا کر سمجھا وا پنے بیٹے کو یہ ہاتھ
سے نکل چکا ہے تمہارے۔ اگر اس لڑکی کی وجہ سے میری بیٹی کے ساتھ کوئی زیادتی ہوئی ناں ۔ ۔ ۔ میں سب کا جینا حرام
کر دوں گی ۔
جی بھا بھی ۔ ۔ ۔ آپ فکر مت کریں، ہمدان ایسا کچھ نہی کرے گا۔
جیسا آپ چاہیں گی ویسا ہی ہو گا ۔ آپ غصہ نہ کر میں اور خود کو ریلیکس رکھیں ۔ میں بات کرتی ہوں ابھی اس سے ۔ ۔ ۔ وہ تیزی میں کمرے سے باہر نکل گئیں ۔ ہمدان نے رملہ کے کمرے میں پہنچتے ہی اس کا ہاتھ چھوڑ دیا اور غصے سے اس کی طرف پلٹنا ۔
منع کیا تھا میں نے ۔ ۔ ۔ کتنا سمجھایا تمہیں لیکن تم سمجھتی ہی نہیں۔
نکاح ہوا ہے ہمارا ۔ ۔ ۔ کوئی چوری نہی کی ہم نے جو اس طرح سب سے ڈرتے رہیں ۔ ۔ ۔ نہی برداشت ہو تا مجھ سے کہ میرے ہوتے ہوئے کوئی تمہارے کردار پر انگلی
اٹھائے۔
سمجھ کیوں نہی رہی تم ۔ ۔ ۔ آخر کس بات کی سزا دے رہی ہو مجھے ؟
اس سے پہلے کہ رملہ کوئی جواب دیتی ہمدان کی ماما کمرے میں داخل ہوئیں ۔
کیا بد تیمزی تھی یہ ہمدان ۔ ۔ ۔ ؟
آج تم نے جو کیا ہے ناں میرا سر شرم سے جھک گیا ہے بھا بھی اور بینی کے سامنے۔ کیا ضرورت تھی اس لڑکی کا ساتھ دینے کی, تمہارے کہنے سے اس کی اصلیت بدل تو نہی
جائے گی ؟
یہ چاہے جتنی مرضی پاکدامن بن جائے ہے تو ایک طوائف کی ہی بیٹی ناں ۔ ۔ ۔ تم اس کی خاطر اب ہم سب کو نیچا دکھاو گے کیا ؟
امی بی ۔۔۔ پہلے بھی کہہ چکا ہوں اور دوبارہ نہی کہوں گا ۔ ۔ ۔ رملہ کے لیے ایسے الفاظ مت
استعمال کریں۔ میں برداشت نہی کر سکتا ۔ ۔ ۔ کیوں برداشت نہی کر سکتے تم ہمدان ؟
اس لڑکی کے اپنی ماں سے زبان درازی کرتے ہوئے شرم نہی آرہی تمہیں ؟ جیسی اس کی ماں تھی ویسی ہی یہ ہے ۔ دوسروں کی زندگیاں برباد کرنا ان کی فطرت ہے ۔
امی پلیز ۔ ۔ مجھے مجبور مت کریں کہ میں کچھ ایسا بول دوں جو آپ کے لیے ناقابل برداشت
ہو۔
کیا بولو گے تم ۔۔۔۔؟ دکھا و بول کر تم ۔ ۔ ۔ دیکھتی ہو کس حد تک ماں کو نیچا دکھا سکتے ہو اس گھٹیا طوائف کی بیٹی
کے لیے۔
گھٹیا نہی ہے یہ ۔ ۔ ۔ " بیوی ہے میری " ، اور اب اس کے خلاف ایک لفظ برداشت نہی
کروں گا میں ۔ کیا کہا بیوی ہے یہ تمہاری ؟
ہمدان کے جواب پر ان کا منہ کھلا کا کھلا رہ گیا۔
رملہ سمٹ کر کھڑی کے پاس کھڑی ہو گئی ۔ ہمدان کے غصے سے خوف محسوس ہو رہا تھا اب
اہے۔
جی امی ۔ ۔ ۔ بیوی ہے یہ میری ، غصے سے رملہ کی طرف بڑھا اور اسے بازو سے کھینچتے
ہوئے اپنے ساتھ کھڑا کیا۔
سن لیا آپ نے ۔ ۔ ۔ ۔ ؟
اب اس کے خلاف ایک بات نہی سنوں گا میں ۔ ۔ ۔ جس کو بتانا ہے بتا دیں آپ میں
کسی سے نہی ڈرتا۔
آپ جا کر تائی امی کے حکم مانیں لیکن ۔ ۔ مجھے ان کے حکم ماننے پر مزید مجبور مت کریں ۔
یہ تم نے کیا کر دیا ہمدان ۔ ۔ ۔؟
وہ پریشانی سے سر تھام کر صوفے پر بیٹھ گئیں ۔ کیا جواب دوں گی میں بھا بھی کو؟
جھوٹ بول رہے ہو ناں تم ۔۔۔؟
غصے سے اٹھی اور پھر سے ہمدان کے پاس آکر رک گئیں ۔ جھوٹ نہی بول رہا میں امی ۔ ۔ ۔ اچھی طرح جانتی ہیں آپ مجھے ۔
تمہیں اس گھر میں جگہ دی ہے اور تم نے میرے بیٹے پر ڈورے ڈال لیے ۔ ۔ ۔ شرم نہی
آئی تھیں؟ وہ غصے سے رملہ کی طرف بڑھیں اور اس پر جھپٹنے کی کوشش کی لیکن سامنے ہمدان کھڑا تھا۔ جب رملہ پر بس نہ چلا تو بیٹے پر تھپڑ برسانا شروع کر دیے ۔
اس دن کے لیے پیدا کیا تھا کیا تمہیں ؟
ایک طوائف کے گندے خون کو اس خاندان کی بہو بنا دیا تم نے ۔ ۔ ۔ یہ تمہاری بیوی تو بن گئی لیکن اس گھر کی ہو بنا اس کا خواب ہی رہ جائے گا۔
ہدان چپ چاپ ان کے تھپڑ سہتا رہا ۔ ۔ ۔
معزرت لیکن شاید آپ بھول رہی ہیں کہ اس کی رگوں میں ایک طوائف کے خون کے ساتھ ابو کا خون بھی دوڑ رہا ہے ۔ اس گھر میں میری بیوی کا مقام حاصل ہونے سے پہلے بیٹی کا مقام حاصل ہے اسے اور ۔ ۔ ۔ جہاں تک بات ہے اسے ہو تسلیم کرنے کی ۔ ۔ ۔ ایک بات میں آپ کو صاف
صاف بتا دوں ۔
آپ چاہے اسے قبول کریں یا نہ کریں میں قبول کر چکا ہوں ۔ ۔ اگر کسی نے ہمارے رشتے
کو خراب کرنے کی کوشش بھی کی تو مجھ سے برا کوئی نہی ہوگا۔ اس بات کو سمجھ لیں آپ اور باقی سب کو بھی سمجھا دیں ۔ ۔ ۔ دوبارہ اپنی بات نہی دہراوں
گا میں ، آئیندہ یہ سوال مت پوچھے گا کہ مجھ سے کیا رشتہ ہے اس کا ۔ چلو یہاں سے ۔۔۔ رملہ کو کھینچتے ہوئے اپنے ساتھ لے گیا۔
ہائے میرے اللہ ۔ ۔ ۔ کتنی بے شرم لڑکی ہے یہ وزرا حیا نہی ہے کیسے میرے بیٹے کو قابو
میں کر لیا ہے ۔ وہ سر تھام کر کمرے سے باہر نکل گئیں۔
رملہ آنسو بہاتی ہوئی ہد ان کے ساتھ سینچتی چلی گئی۔
ہمدان اسے اپنے کمرے میں لے آیا ۔ بیٹھ جا و چپ چاپ یہاں ۔ ۔ ۔ خبر دار یہاں سے جانے کی کوشش کی سب کو کیا جواب دینا ہے میں جانتا ہوں۔
خبر دار جو اس کمرے سے ایک قدم بھی باہر نکالا۔ ۔ مجھ سے برا کوئی نہی ہوگا۔
آپ ٹھیک نہی کر رہے یہ سب ۔۔۔ میری وجہ سے سب ناراض ہو جائیں گے آپ
سے دنہ کریں یہ زیادتی اپنے ساتھ ۔
ہو جائیں سب ناراض ہوتے ہیں تو ۔ ۔ مجھے سب کی نہی صرف تمہاری پرواہ ہے ۔ نہی سن سکتا ایک بھی لفظ تمہارے خلاف ۔۔۔ سمجھتی کیوں نہی ہو؟ سب کی پرواہ ہے تمہیں صرف میرے علاوہ ۔ ۔ ۔ غصے سے چلایا اور میز پر پڑا لیپ ٹاپ
اٹھا کر دیوار میں مار دیا ۔
کیوں نہی سمجھ رہی ہمارے رشتے کو کیا مزید سمجھانے کی ضرورت ہے مجھے ؟ رملہ نے سر نفی میں ہلایا اور آنسو بہاتی ہوئی دیوار کے ساتھ سمٹ کر کھڑی ہو گئی۔ مجھے نہی رہنا یہاں ۔ ۔ ۔ پلیز مجھے جانے دیں۔ مجھے بہت ڈر لگ رہا ہے آپ سے۔ ہمدان دائیں ہاتھ سے بالوں کو مٹھی میں جکڑتے ہوئے صوفے پر بیٹھ گیا۔ کچھ دیر خاموش رہا اور پھر گہری سانس لیتے ہوئے رملہ کی طرف بڑھا۔
اسے کندھوں سے تھامتے ہوئے اپنے سامنے کھڑا کیا ۔ کیا ہمارے رشتے کی کوئی اہمیت
نہی تمہاری نظر میں ؟
ابھی تک نہی سمجھی ہمارے رشتے کا مطلب؟
اگر میرے اتنے پاس آنے کے بعد بھی تمہارے دل میں ہمارے رشتے کے لیے کوئی
اہمیت نہی بچی تو تمہیں واقعی چلی جانا چاہیے ۔
جاو۔ ۔ ۔ دوبارہ نظر نہی آوں گا تمہیں ۔ ۔ ۔ جہاں جانا چاہو جا سکتی ہو۔
تمہارے راستے میں نہی آوں گا اب ۔ ۔ ۔ دروازہ کھولتے ہوئے رملہ کو دروازے سے باہر چھوڑ کر غصے سے دروازہ بند کر دیا اور کمرے میں پڑی چیزیں توڑنا شروع کر دیں ۔ جب تھک گیا تو بیڈ کے ساتھ فرش پر بیٹھ گیا ۔ آنکھیں بھیگ چکی تھیں۔
نہی ۔ ۔ ۔ میں ایک مرد ہوں اور مرد رویا نہی کرتے ۔ ۔ مجھے اپنے دروا پنے اندر ہی جزب کرنے ہو گے ۔ کسی سے نہی کہوں گا اب ۔
مرچکا ہے آج سے ہمدان ۔ ۔ ۔ اب ایک نئے ہمدان سے ملوگی تم ۔ ۔ ۔ میری محبت کا جنون
تو دیکھ چکی ہو لیکن اب میری نفرت کا سامنا کرو گی۔
دور جانا چاہتی ہو تو شوق سے جاو۔ ۔ میں نہی روکوں گا۔ بے بس سا اٹھا اور گاڑی کی چابی اٹھائے کمرے سے باہر نکل گیا۔
بلآخر صارفین کی سنی گئی اور اپڈیٹ عنایت ہوی اب ہمدان اور رملہ کا رشتہ کس موڑپر آتا ہے اور بینی اور ٹائی امی اس میں روڑے اٹکاتی ہیں انتظار ہے اگلی قسط کا شدت سے
شکریہ
مسزملک ہمدان کو آتے دیکھ کر بولیں لیکن ہمدان ان کے سوال کو نظر انداز کرتے ہوئے ان کی طرف دیکھے بغیر بیرونی دروازے کی طرف چلا گیا۔ وہ ہمدان کو جاتے ہوئے دیکھتی رہ گئیں ۔ کیا ہوا ہے آخر اسے ؟
آج سے پہلے تو کبھی ایسا نہی کیا تھا ہمدان نے تو پھر آج ۔ ۔ ۔ پہلے اس لڑکی کے لیے ہم سے بد تمیزی کی اور اب میری بات کا جواب دیے بغیر چلا گیا۔
آخر حل کیا رہا ہے یہ سب ۔۔۔؟ جب سے یہ لڑکی اس گھر میں آئی ہے تب سے ہمدان کا رویہ کچھ بدلہ بدلہ سا ہے۔
اس کا مطلب بینی سہی کہہ رہی تھی کہ ان دونوں کے درمیان کچھ ہے ۔ کہی یہ دونوں ۔ ۔ ۔ اگر ہمدان اس کے ساتھ رات گزارتا رہا ہے تو اس کا مطلب میری بیٹی کی
خوشیاں خطرے میں ہیں ۔ مجھے بات کرنی ہو گی ان سے آج ہی ۔۔۔ جتنی جلدی ہو سکے بینی اور ہمدان کا نکاح پڑھوا دینا
چاہیے۔
جب نکاح ہو جائے گا تو ہمدان کے سر پر بینی کی زمہ داری آجائے گی اور وہ اس لڑکی کو
بھول جائے گا۔
یہ قدم مجھے بہت پہلے اٹھا لینا چاہیے تھا ۔ خیر ابھی بھی وقت ہے زیادہ دیر نہی ہوئی۔ آج ہی بات کرتی ہوں ان سے لیکن پہلے زرا اس لڑکی کی تو خبر لے لوں۔ وہ رملہ کے کمرے کی طرف چل دیں ۔ ابھی دروازے میں ہی تھیں کہ رملہ کی آواز سن کر
وہی رک گئیں ۔
روشنی پلیز کچھ کرو میرے لیے ۔ ۔ ۔ میں ہمدان کو ٹوٹتے ہوئے نہی دیکھ سکتی۔ میری خاطر وہ سب سے لڑرہے ہیں اور خود کو جواز بیت دے رہے ہیں وہ الگ ۔ ۔ ۔ ان کو اس حال میں نہی دیکھ سکتی ہیں۔ ٹھیک ہے میں ان کی بیوی ہوں لیکن میں اس گھر میں نہی رہ سکتی ۔ ۔ ۔ میرے رہنے کا
انتظام کرو۔
ایک ہفتے تک میں ویسے بھی ہاسٹل شفٹ ہو جاوں گی تب تک کے لیے ۔ ۔ ۔ رملہ جیسے ہی
پلٹی اس کی بات منہ میں ہی رہ گئی۔
میں بعد میں بات کرتی ہوں تمسے ۔ ۔ ۔ کال بند کر کے حیرت زدہ سی مسز ملک کو دیکھتی رہ
گئی۔
وہ غصے سے کمرے میں داخل ہوئیں ۔ ۔ ۔ کیا کہا تم نے تم ہمدان کی کیا لگتی ہو؟ دوبارہ کہنا زرا ۔۔۔
بڑی ماما وہ میں ۔ ۔ ۔
زبان کھینچ لوں گی میں تمہاری ۔ ۔ ۔ اس سے پہلے کہ رملہ کوئی جواب دیتی وہ غصے سے
چلائیں ۔
کیا بکواس کر رہی تھی تم ؟
تم ہمدان کی بیوی ہو ۔ ۔ ۔ دماغ تو ٹھیک ہے ناں تمہارا؟ تم نے ایسا سوچ بھی کیسے لیا؟
غصے سے آگے بڑھیں اور رہ کے بال کھینچتی ہوئی دروازہ تک آئیں اور دروازہ بند کردیا۔
بولو کیا کہہ رہی تھی تم ؟
پلیز میرے بال چھوڑ دیں ماما ۔ ۔ ۔ بہت درد ہو رہا ہے ۔ جیسا آپ سمجھ رہی ہیں ویسا کچھ
نہی ہے ۔ بیچاری درد سے کراہ اٹھی۔ ابھی تو تم کہہ رہی تھی کہ ہمدان کی بیوی ہو اور اب کہہ رہی ہو ایسا ویسا کچھ نہی ہے ۔ سچ سچ
بتاو کسی ارادے سے آئی ہو یہاں ؟
میرا ایسا کوئی ارادہ نہی ہے ماما ۔ ۔ ۔ آپ کی کوئی غلط فہمی ہوئی ہے ۔
تو پھر بیوی کا لفظ کیوں استعمال کیا تم نے ؟
انہوں نے غصے سے اسے چھوڑا تو رملہ بیڈ پر جاگری ۔
ڈرتے ڈرتے ان کی طرف دیکھا اور سانس بحال کیا۔ میں کسی مقصد سے نہی آئی یہاں ۔ ۔ مجھے تو یہ بھی نہی پتہ تھا کہ ہمدان یہاں رہتے ہیں۔ وہ نکاح ایک حادثہ تھا۔ ۔ ۔ اماں نے زبر دستی کی تھی میرے ساتھ بھی اور ہمدان کے ساتھ
آپ فکر مت کریں میں آپ کو شکایت کا موقع نہی دوں گی ۔ جیسا آپ چاہیں گی ویسا ہی ہو
تم چاہویا نہ چاہو ہوگا تو ویسا ہی جیسا میں چاہوں گی ۔ ۔ ۔
تم یہ بتاو کہ نکاح سے زیادہ بھی کچھ
ہے تم دونوں کے درمیان ؟
نہی ۔ ۔ ۔ رملہ نے سر نفی میں ہلایا اور نظریں چرا لیں ۔
تم کہ تو رہی ہو مگر تمہاری آنکھیں تو انکار کر رہی ہیں ۔ وہ پھر سے غصے سے رملہ پر جھپٹی اور
اس کا جبڑا سختی سے دبوچ لیا ۔
میری بیٹی کا حق چھینا ہے تم نے ۔ ۔ ۔ معاف نہی کروں گی تمہیں میں۔
پہلی تمہاری ماں اور اب تم ۔ ۔ ۔ تم دونوں نے میری خوشیوں کو آگ لگانے کی قسم کھائی
بے شاید۔
اپنی ساتھ ہوئی زیادتیوں پر تومیں خاموش رہی ہوں لیکن اپنی بیٹی کی زندگی بربادی ہونے
دوں گی۔
تیاری کرو یہاں سے جانے کی ۔ ۔ ۔ کہاں جاوگی تمہیں پتہ ہولیکن اب یہاں نہی رہ سکتی
تم
ایک منٹ سے پہلے نکلو یہاں سے ۔ ۔ ۔ اسے چھوڑتی ہوئی الماری کی طرف بڑھیں اور سارے کپڑے بیڈ پر پھینکنے شروع کر دیے۔
ایک منٹ بھی یہاں برداشت نہی کر سکتی ہیں تمہیں ۔ ۔ ۔ اپنا سامان سمیٹو اور شکوفوراً ۔
لیکن ماما -----
خمیر دارا مجھے مامامت کہنا دوبارہ ۔ ۔ ۔ میں صرف بینی کی ماں ہوں ، تم سے کوئی رشتہ نہی ہے میرا۔
میں کہاں جاوں گی ؟ ابھی ہاسٹل شفٹ ہونے میں ایک ہفتہ لگ جائے گا اور یہاں پر کسی کو جانتی بھی نہی میں ۔
میری طرف سے جہنم میں جاؤ ۔ ۔ ۔ لیکن یہاں نہی رہ سکتی تم ۔
تمہاری ماں کا دل نہی بھرا تھا میری خوشیوں کو آگ لگا کر اسی لیے مرنے سے پہلے پہلے وہ ماں کا نہی بھرا اسی میری بیٹی کی زندگی میں بھی آگ لگا گئی ۔
فکر نہی کرو بینی کی ماں زندہ ہے ابھی ۔ ۔ ۔ اپنی بیٹی کی خوشیاں چھیننے والوں کو سکون کی نیند
نہی سونے دوں گی ۔
خوشیاں تو آپ نے چھینی ہیں میری اماں کی ۔ ۔ ۔ بابا آپ سے شادی نہی کرنا چاہتے تھے ۔ وہ میری اماں سے پیار کرتے تھے ۔
حق تو آپ نے چھینا ہے میری ماں کا اور میرا بھی ۔ ۔ ۔ ایک بیوی سے اس کے شوہر کو الگ کیا آپ نے اور ایک بیٹی کے سر سے اس کے باپ کا سایہ چھین لیا پھر بھی آپ
میری اماں کو قصوروار ٹہرارہی ہیں۔
آپ کو آپ کی بیٹی اس کی خوشیاں اور اپنا شوہر بہت بہت مبارک ہو ۔ ۔ ۔ جارہی ہوں میں یہاں سے لیکن ایک بات آپ یا درکھئیے گا میری ۔
اگر آپ یہ سمجھتی ہیں کہ آپ کو اپنے گناہوں کی سزا نہی ملے گی تو یہ بہت بڑی غلط فہمی ہے آپ کی ایک نہ ایک دن آپ اپنے کیے پر بہت پچھتائیں گی۔
پہلے میری ماں کا حق چھین لیا آپ نے اور آج میرا حق چھین رہی ہیں۔ آپ چاہیں تو زبر دستی ہمدان کو مجھ سے چھین لیں لیکن ان کے دل سے کبھی نہی نکال سکیں
کی مجھے ۔
یہاں آپ غلطی کر رہی ہیں ، اپنی بیٹی کی زندگی خود عذاب بنا رہی ہیں ۔ خیر ۔ ۔ ۔ میرا اس گھر میں رہنے کا ویسے بھی کوئی پلان نہی تھا۔
آپ نے میرا کام آسان کر دیا ۔ ۔ ۔ اب ایک ٹھوس وجہ موجود ہے میرے پاس یہاں ۔
سے جانے کی۔
سوچیں کیا ہو گا آپ کے ساتھ جب بابا اور ہمدان کو یہ پتہ چلے گا کہ آپ نے مجھے گھر سے نکالا
دھمکیاں لگا رہی ہو مجھے ؟؟؟
لیکن میں تمہاری ان دھمکیوں سے ڈرنے والی نہی ہوں ۔
جلدی سے اپنا سامان سمیٹو اور چلتی بنو یہاں سے اس سے پہلے کہ ہمدان واپس آئے ۔ رملہ نے گال پے بستے آنسو پونچھے اور اپنا سامان سمیٹتی ہوئی ایک نظر اس بے حس عورت
پر ڈالتی ہوئی گھر سے باہر نکل گئی۔
وہ گیٹ تک اس کے پیچھے آئیں ۔ ۔ ۔ جب رملہ گیٹ سے باہر نکل گئی تو تیزی سے اندر آ گئیں تاکہ کوئی انہیں دیکھ نہ سکے ۔ رملہ آنسو بہاتی ہوئی بیگ گھسیٹتی ہوئی چلتی گئی۔ ایک رکشے کو روک کر بس اڈے پہنچی ۔ جیسے ہی رکشے سے باہر نکلی گاڑی سے ٹکرا کر گر گئی۔
گاڑی کا دروازہ کھلا اور گاڑی والا گاڑی سے باہر آیا۔
آپ ٹھیک تو ہیں ۔ ۔ ۔ ۔ بس اتنا ہی بولا تھا کہ بولتے بولتے رک گیا۔
رملہ نے سر اٹھا کر اس کی طرف دیکھا اور چونک کراٹھ گئی ۔ چند پل لگے اسے اس کے چہرے کو دیکھتی رہی اور پھر تیزی سے نظریں چراتی ہوئی اپنا بیگ کھسیٹتی ہوئی آگے بڑھ
گئی۔
رملہ بنا پلٹے تیز تیز چلتی گئی اور ٹکٹ خرید کر بس میں بیٹھ گئی۔ نہیں ۔ ۔ ۔ یہ نہی ہو سکتا ، یہ یہاں کیسے آگیا ؟ اس نے دیکھ لیا مجھے اب پیچھا کرے گا میرا اور اگر ہمدان نے دیکھ لیا تو بہت مسئلہ بن
جائے گا۔
جلدی سے گاڑی اسٹارٹ ہو جائے ۔ ۔ ۔ ٹینشن ہو رہی ہے بہت ۔
کیسے مقام پر لا کر کھڑا کیا ہے زندگی نے ۔ ۔ ۔ اپنے ہی دشمن بنے بیٹھے ہیں۔ سمجھ نہی آرہا
میر اوہاں جانا مناسب ہو گا یا نہی۔
ہمدان جب واپس آئیں گے میں گھر میں نظر نہ آئی تو طوفان مچا دیں گے ۔ ان کو بتاوں یا نہی
کچھ سمجھ نہیں آرہا۔
سنا تھا سوتیلی ماں بہت ظالم ہوتی ہے ۔ آج دیکھ بھی لیا ۔
اگر آج اماں زندہ ہوتی تو مجھے در بدر کی ٹھوکریں نہ کھانی پڑتیں ۔ ۔ سچ کہتے ہیں ماں اگر ساتھ ہو دنیا بھی جنت لیکن اگر ماں ساتھ نہ ہو تو دنیا کسی جہنم سے کم نہی۔
میں نے تو کسی کے ساتھ برا نہی کیا تھا جو بڑی ماما اور بینی مجھے برا بھلا کہہ رہی ہیں ۔ میں تو خود ایک ایسی کشتی پر سوار ہوں جس کی کوئی منزل نہی ہے ۔
سیٹ سے ٹیک لگائے کسی گہری سوچ میں گم بیٹھی تھی ۔ آنسو بہانے سے بھی گریز کر رہی تھی کہ ارد گرد کے لوگ پتہ نہی کیا سمجھ بیٹھیں۔
دس منٹ بعد بس اسٹارٹ ہوئی تو سکھ کا سانس لیا۔
دو گھٹنے بعد بس رکی تو اپنا سامان سمیٹتی ہوئی بس اڈے سے باہر آئی ۔
ابھی سڑک پر رکی ہی تھی کہ وہی گاڑی اس کے سامنے آکر رک گئی۔
رملہ نے چونک کر گاڑی کو دیکھا اور پھر گاڑی سے باہر آتے شخص کو دیکھ کر نظریں جھکالی
اور آگے بڑھ گئی۔
بس کر دو اور کتنا بھا گوگی ۔ ۔ ۔ ۔ ؟
وہ تیز تیز قدم اٹھا تا رملہ کے سامنے آگیا۔
اس کے بکھرے بال چھرے پر ابھی سی داڑھی آنکھوں کے نیچے حلقے اور درد بھری
مسکراہٹ ۔ ۔ ۔ رملہ چاہ کر بھی آگے نہ بڑھ سکی۔
چند لمحے اس کی خاموش آنکھوں میں دیکھتی رہی اور پھر سر نفی میں ہلا دیا۔
کوئی مسئلہ ہے تمہارے ساتھ نصیر ؟
کیوں میرے راستے میں کھڑے ہو؟
ہٹو جاو سامنے سے اور مجھے جانے دو ۔ ۔ ۔ یہاں کوئی تماشہ مت بنانا ۔ ۔ ۔ پہلے ہی میری زندگی کے ساتھ جو کھیل تم کھیل چکے ہو اس کا خمیازہ ابھی تک بھگت رہی ہوں میں ۔
حال نہی ہو چھوگی میرا؟ اس کے سوال پر رملہ نے حیرت زدہ انداز میں اسے دیکھا اور پھیکا سا مسکرا دی ۔ میں کیوں پوچھوں گی تمہارا حال بھلا ؟ ہمارے درمیان کونسا کوئی خاص رشتہ ہے اور ویسے بھی حال دل میں بسنے والوں کا پوچھا
جاتا ہے اجاڑنے والوں کا نہی ۔ ۔ ۔ راستہ چھوڑو میرا لوگ دیکھ رہے ہیں ۔
تمہیں کیا لگتاہے تم اکیلی اجڑی تھی ؟
میرے چہرےکی بے رونقی نظر نہیں آرہی کیا نہیں ؟
دیکھو میری آنکھوں میں ۔ ۔ ۔ یہ جو درد ہے ناں اس کو محسوس کر کے دیکھو۔ ۔ ۔ ٹوٹ چکا
ہوں میں تمہیں توڑتے توڑتے ۔
رملہ نے بے رخی سے چہرہ دوسری طرف موڑ لیا ۔
۔
جائز ہے ۔ ۔ ۔ تمہاری بے رخی جائز ہے ۔ مانتا ہوں میں ۔ ۔ ۔ کیا چند لمحے میرا درد بانٹ
سکتی ہو؟
فقط چند لھے ۔ ۔ ۔ زیادہ نہی ۔
درد دینے والوں سے درد نہی بانٹا جا سکتا ۔ ۔ ۔ اپنی دل لگی کے لیے کوئی اور راستہ تلاش کر
لو اور مجھے جانے دو۔
رملہ غصے سے بولی اور سائیڈ سے نکلنا چاہا مگر نصیر راستے میں آگیا۔
نہی ۔ ۔ ۔ تم ایسے نہی جا سکتی ۔ میری بات مان لو زیادہ نہی بس چند لھے ۔ ۔ ۔ بھیک مانگتا
ہوں تم سے ۔
رملہ نے افسردگی سے اس کی طرف دیکھا اور سر اثبات میں بلا دیا۔
جی ۔ ۔ ۔ بولو کیا کہنا ہے ؟
اس طرح بے رخی سے نہی ۔۔۔ آو میرے ساتھ گاڑی میں بیٹھو کہاں جانا ہے میں ڈراپ
کر دیتا ہوں ۔
زبر دستی رملہ کے ہاتھ سے بیگ کھینچ کر لے گیا۔
رملہ نا چاہتے ہوئے بھی گاڑی کی طرف بڑھی اور بیک سیٹ پر بیٹھ گئی۔ جبکہ نصیر اس کے لیے فرنٹ سیٹ کا دروازہ کھولے کھڑا تھا ۔ چپ چاپ مسکراتے
ہوئے ڈرائیونگ سیٹ سنبھال لی۔
گاڑی میں گہری خاموشی تھی ۔ آخر کا ر خا موشی رملہ کی سیکیوں پر ٹوٹی ۔
کیوں کیا تھا تم میرے ساتھ ایسا ؟
صرف اس لیے کہ میں نے تم سے دوستی نہی کی تم نے اتنی بڑی سزا دی مجھے ۔
تمہارا دل ایک بار بھی نہی کا نیا وہ سب کرتے ہوئے ؟
میں کبھی سوچ بھی نہی سکتی تھی کہ تم اس حد تک گر جاو گے ۔
میں کوٹھے میں رہتی ضرور تھی مگر میں کوٹھے والی نہی تھی ۔ ۔ ۔ اگر تمہیں پتہ چل ہی گیا تھا تو
اس بات پر پردہ رکھ سکتے تھے ۔
لیکن تم نے کیا کیا ۔ ۔ ۔ تم نے تو مجھے میری ہی نظروں میں گرا دیا۔
میرے ساتھ جو کرنا تھا کرتے لیکن ہمدان کے ساتھ نہی کرنا چاہیے تھا۔ میری وجہ سے
اسے کتنا کچھ سہنا پڑا کچھ اندازہ ہے تمہیں ؟
سب اندازہ ہے مجھے ۔ ۔ ۔ انا کی آڑ میں بہت بڑا گناہ ہوگیا مجھ سے ۔ ۔ ۔ اس کی سزا آج تک
بھگت رہا ہوں میں ۔
اس واقعے سے ایک ہفتے بابا کا ایکسیڈنٹ ہوا اور وہ ہمیشہ کے لیے مجھے چھوڑ کر چلے گئے۔
باپ کا سایہ سر سے اٹھتے ہی میرا ساری انا اور غرور خاک ہو گیا ۔
ہر گزرتے دن اور ہر گزرتی رات کے ساتھ ساتھ مجھے احساس ہوتا چلا گیا کہ کتنا بڑا گناہ ہوا
ہے مجھ سے۔
ماما اکیلی رہ گئیں ۔ ۔ ۔ ان کو سنبھالتے سنبھالتے میری اپنی پہچان گم ہو کر رہ گئی۔ میں نہی کہوں گا کہ مجھے معاف کر دو۔ ۔ ۔ میں تو چاہتا ہوں کہ مجھے سزاملنی چاہیے ۔ میں اسی
لائق ہوں ۔
آج ایک سال بعد تمہیں دیکھا تو مجھے لگا شاید دوبارہ نہ دیکھ سکوں اسی لیے پیچھا کرتے
ہوئے یہاں تک آ گیا ۔
کہاں جانا ہے مجھے بتا دو میں ڈراپ کر دیتا ہوں ۔
پتہ نہی ۔ ۔ ۔ جہاں قسمت لے جائے کسی ہوٹل ڈراپ کر دیں۔
ہوٹل کیوں ۔ ۔ ۔ ۔ سب خیریت؟
نصیر حیرت زدہ سا اس کی طرف پلٹا۔
ہاں ۔ ۔ ۔ کسی ہوٹل کے باہر ڈراپ کر دیں ۔ اسی ہفتے ہاسٹل شفٹ ہو جاوں گی۔
لیکن ہوٹل کیوں ۔ ۔ ۔ اپنے گھر کیوں نہی جا رہی اور اب کہاں سے آ رہی تھی ؟ اب اپنے گھر سے آرہی تھی ۔ ۔ ۔ اپنا نہی بلکہ میرے باپ کا گھر جہاں میری موجودگی کسی کو اچھی نہی لگی اور مجھے دھکے مار کر وہاں سے نکال دیا گیا ۔
اوہ ۔ ۔ ۔ یہ تو بہت برا ہوا ۔ ۔ مجھے بہت دکھ ہوا سن کر ۔ اپنے بابا سے رابطہ کیا ؟
نہی ۔ ۔ ۔ اور کروں گی بھی نہی کیونکہ میں نہی چاہتی کہ میری وجہ سے ان کی بیوی اور بیٹی کو
کوئی تکلیف پہنچے ۔ اس گھر میں دوبارہ نہی جانا چاہتی ۔ ۔ ۔ مجھے ہوٹل ڈراپ کر دیں ۔
ہر گز نہی ۔ ۔ ۔ میں ایسا رسک نہی لے سکتاد حالات ٹھیک نہی ہیں ۔ ایک اکیلی لڑکی کا ہوٹل
میں رہنا سہی نہی ہے ۔
ایسا کرو میرے ساتھ چلو میرے گھر ۔ ۔ ۔ ڈرنے کی ضرورت نہی ہے گھر میں صرف ماما
اور میں ہوں ۔ اس کے علاوہ چند ملازم ہیں۔
جب تک ہاسٹل شفٹ نہی ہو جاتی تب تک وہاں رہ سکتی ہو ۔ ۔ مجھے بہت خوشی ہو اگر میں تمہارے کسی کام آسکا۔
ویسے آج تک دکھ کے سواکچھ دیا تو نہی تمہیں لیکن ۔ ۔ ۔ پھر بھی اس نادان دل کی چھوٹی سی
خواہش ہے کہ تمہارے کام آسکوں ۔ رملہ سوچ میں پڑ گئی ۔
اب اس میں سوچنے والی کونسی بات ہے ؟
میں مانتا ہوں بہت دھو کے دیے ہیں میں نے تمہیں لیکن اب بہت سدھر چکا ہوں
یار ۔ ۔ ۔ میرا یقین کرو۔
میں تمہیں کسی ہوٹل نہی لے کر جا رہا بلکہ اپنے گھر جانے کا کہہ رہا ہوں ۔
میں نہی جا سکتی ۔ ۔ ۔ خوامخواہ تمہیں پریشان ہونا پڑے گا ۔
نہی ہوتا میں پریشان بلکہ امی بہت خوش ہوگی ۔ سارا دن گھر میں اکیلی رہتی ہیں۔ ڈیڈ کے جانے کے بعد بہت اکیلی رہ گئی ہیں۔ ان کا بھی دل لگ جائے گا کچھ دن ۔ اس طرح کب تک ہوٹلز میں خوار ہوتی رہوگی ؟
اور ہاسٹل میں بھی کب تک رہوگی، میرا خیال ہے تمہیں بات کرنی چاہیے اپنے بابا سے اپنی سوتیلی ماں کے بارے میں ۔
اس طرح تو وہ بہت پریشان ہو جائیں گے اور اگر ان سے رابطہ نہی کرو گی تو وہ تمہیں ہی
غلط سمجھیں گے ۔
کروں گی رابطہ ان سے رات تک ۔ ۔ ۔ جب وہ گھر پہنچیں گے تو انہیں خود ہی پتہ چل جائے گامیری خیر موجودگی کا ۔۔۔ جب رابطہ ہو گا تو بتا دوں گی انہیں کہ ایک دوست کی طرف
ہوں۔
ایسے بہانے ہم لڑکوں کے منہ سے اچھے لگتے ہیں میڈم ۔ ۔ ۔ کوئی اور بہانہ ڈھونڈ لیے ۔ نصیر کی بات پر رملہ مسکرادی ۔ ۔ ۔ کوئی بات نہی بابا یقین کرتے ہیں میرا اور بہت محبت
کرتے ہیں مجھ سے لیکن مجبور ہیں۔
میری سوتیلی ماں مجھے پسند نہی کرتی اور گھر میں ان کی بہت سنتے ہیں سب ۔ ۔ ۔ یہ سمجھ لوکہ
پورے گھر میں حکمرانی چلتی ہے ان کی۔
میں نہی چاہتی میری وجہ سے باقی سب کے لیے کوئی مسئلہ ہے۔ کبھی رشتوں کو بچانے کے لیے ہمیں خود کی قربانی دینا پڑتی ہے
تو پھر چلیں میرے گھر ؟
رملہ نے سر اثبات میں بلایا ۔ ۔ ۔ جی ۔۔۔ اور کوئی راستہ بھی نہی ہے فی الحال میرے
پاس۔
بے بس سی سیٹ سے ٹیک لگائے آنکھیں بند کر لی۔
نصیر نے بیک مرد سے اسے دیکھا اور مسکراتے ہوئے گاڑی اسٹارٹ کر دی۔
کہی میں جلد بازی تو نہی کر رہی نصیر پر بھروسہ کر کے ؟
جیسے ہی گاڑی اسٹارٹ ہوئی رملہ نے آنکھیں کھول لی اور بیگ سے فون نکال کر فون بند کر
دیا۔
پتہ نہی کیا ہو گا جب ہمدان گھر آئیں گے ۔ ۔ ۔ وہ تو یہی سمجھیں گے کہ میں اپنی مرضی سے
گھر چھوڑ کر آئی ہوں ۔ با با کو کیا جواب دوں گی ؟
اماں کا وعدہ ۔ ۔ ۔ اور ہمدان کو اگر پتہ چل گیا کہ میں نصیر کے ساتھ ہوں تو کیا جواب دوں گی
انہیں۔
پتہ نہی میں جو کر رہی ہوں سہی ہے بھی یا نہی ؟ عجیب بے چینی لگی ہوئی ہے ۔ کسی نصیر نے پھر سے کوئی چال چلی ۔ ۔ ۔ نہی اس کی حالت دیکھ کر لگتا تو نہی کہ یہ اب ایسا کچھ کرے گا۔
بہت پریشان لگ رہا ہے اور سمجھدار بھی ہو گیا ہے اپنے ڈیڈ کی دیتھ کے بعد ۔ ۔ ۔ امید ہے
اس بار کوئی دھوکہ نہی دے گا۔
چند گھ آخر کار وہ دونوں پہنچ ہی گئے۔
...Welcome
نصیر گاڑی سے باہر آیا اور رملہکے لیے دروازہ کھولا۔
یہ ہے میرا چھوٹا سا گھر ۔ ۔ ۔ وہ کسی انجانی سی خوشی میں مسکراتے ہوئے آگے بڑھتا جا رہا
تھا اور رملہ بھیجتی ہوئی اس کے پیچھے قدم بڑھاتی چلی گئی۔
جیسے ہی اندرونی دروازے تک پہنچے سامنے سے ایک خاتون باہر آئیں ۔ انہیں دیکھ کر نصیر کے پاوں کو بریک لگی ۔ سنجیدگی سے رملہکی طرف پلٹا ۔
My Mom...and Mom She is Ramlah My Friend
اسلام و علیکم ۔ ۔ ۔ رملہنے مجھکتے ہوئے سلام کیا۔ وعلیکم اسلام ۔ ۔ ۔ وہ سلام کا جواب دے کر اندر چل دیں ۔ نصیر نے پلٹ کر رملہکو دیکھا اور مسکرا دیا ۔ چلیں ۔۔۔؟
@@@@@@@@@@@@@@@@@@@@@@@@@@@
شام کو ہمدان گھر آیا تو ڈائینگ ٹیبل پر رملہ کسی نظر نہی آئی ۔ بے دلی سے کھانا کھا کر اپنے
کمرے میں آگیا۔
رملہ کہاں ہے ؟
اپنے کمرے میں بھی نہی ہے اور باقی گھر میں بھی دیکھ چکا ہوں میں ۔ ۔ ۔ ملک صاحب
پریشان سے ٹی وی لاونج میں آئے ۔
مسز ملک نے حیرت زدہ انداز میں ان کی طرف دیکھا ۔ ۔ ۔ ہمیں کیا پتہ ؟ ہمیں کو نسا وہ کچھ سمجھتی ہے جو بتا کر جائے گی ۔ ۔ ۔ کال کر کے پوچھ لیں اس سے ۔ کال کر رہا ہوں لیکن نمبر بند ہے اس کا ۔ ۔ ۔ سچ سچ بتاو میری بیٹی کہاں ہے ؟ کہی تم نے اسے گھر سے تو نہی نکال دیا ؟
میں ایسا کیوں کروں گی بھلا ؟
میری مرضی چلتی ہی کہاں ہے اس گھر میں ۔ ۔ چلی گئی ہوگی اپنی ماں کے ٹھکانے پر آخر
بیٹی تو اسی کی ہے ۔
جنہیں گندگی میں رہنے کی عادت ہو وہ محلوں میں بسیرا نہی کر سکتے۔
بکواس بند کرو اپنی ۔ ۔ ۔ خبر دار جو میری بیٹی کے خلاف ایک لفظ بھی اور بولا تم نے تو زبان
هیچ لوں گا تمہاری ۔ ملک صاحب کی گرجدار آواز پر ہمدان کمرے سے باہر نکل آیا۔
کیا ہوا تا یا ابوسب خیریت ؟
کچھ خیر یت نہی ہے ہمدان ۔ ۔ ۔ رملہ اپنے کمرے میں نہی ہے اور پورے گھر میں بھی دیکھ
چکا ہوں میں ۔ یہ کیا کہہ رہے ہیں آپ ۔ ۔ ۔ ؟
صبح تو گھر پر ہی تھی ۔ ۔ ۔ کہاں جا سکتی ہے ؟
ہدان تیزی سے رملہ کے کمرے کی طرف بھاگا۔ ۔ ۔ وارڈ روب چیک کی تو رملہ کا سامان
وہاں نہی تھا ۔
م ۔۔ مجھے اندازہ نہی تھا کہ تم اتنی جلدی یہ فیصلہ کر لوگی ۔
خیر ۔۔۔ جیسے تمہاری مرضی, تمہارے پیچھے ہر گز نہی بھاگنے والا اب میں ۔ ۔ ۔ اگر میری اتنی قربت اور ہمارے رشتے کی حقیقت جان کر بھی تمہارے دل میں میرے لیے زراسی
بھی اہمیت نہی ہے تو پھر پیچھے بھاگنے کا کوئی فائدہ نہی ہے۔ غصے سے الماری بند کرتے ہوئے کمرے سے باہر نکل گیا۔
@@@@@@@@@@@@@@@@@@@@@@@@@@@@@@@
مجھے ایک کال کرنی ہے ۔ میں آتی ہوں ۔ نصیر کی ماں کے روبے پر رملہ شر مندہ سی
دروازے پر ہی رک گئی ۔
ٹھیک ہے ۔ ۔ ۔ میں انتظار کر رہا ہوں ۔ نصیر مسکراتے ہوئے آگے بڑھ گیا ۔ رملہ نے بیگ سے فون نکال کر آن کیا اور اپنے بابا کا نمبر ڈائل کیا ۔
پہلی بیل پر ہی کال پک کر لی گئی۔
رملہ بیٹا کہاں ہو آپ ؟
ملک صاحب فکر مندی سے بولے ۔
سوری بابا جان میں بتا کر نہی آئی ۔۔۔ ایکچولی ایک فرینڈ کی شادی ہے اس کی طرف آئی
ہوں۔
دو چار دن دن تک واپس آجاوں گی ۔ ۔ ۔ آپ پریشان نہ ہو۔
وہ سب تو ٹھیک ہے بیٹا لیکن آپ کو بتا کر جانا چاہیے تھا۔ میں بہت پریشان ہو گیا تھا۔ سوری بابا جانی ۔ ۔ ۔ فون بند تھا میرا ابھی چارج کیا ہے اور سب سے پہلے آپ کو کال کی
ہے کہ آپ فکرمند ہوگے میرے لیے ۔
ہمدان دونوں بازو سینے پر فولڈ کیے غصے اور بے بسی سے چپ چاپ سب سن رہا تھا کیونکہ
اسپیکر آن تھا۔
اچھا ٹھیک ہے بیٹا ۔ ۔ ۔ جب واپس آنا ہو تو بتا دینا آپ ۔ میں کسی کو بھیج دوں گا آپ کو
لینے اور کسی چیز کی ضرورت ہے تو بتا دیں۔
نی با با جانی کسی چیز کی ضرورت نہی ہے مجھے ، آپ بس اپنا خیال رکھیں ۔ میں بتا دوں گی آپ کو جب واپس آنا ہو گا۔ اچھا بابا جانی ٹھیک ہے میں کھانا کھا کر بات کرتی ہوں آپ سے ۔ ۔ ۔ گال پے بہتے آنسو
پونچھے اور جلدی سے کال بند کر دی ۔
ہمدان نے بے بسی سے دایاں ہاتھ بالوں میں پھیرا اور خصے میں وہاں سے چلا گیا ۔ دیکھا آپ نے کہا تھا ناں میں نے کہ ٹھیک ہوگی ۔ ۔ ۔ رملہ نے کال بند کی تو مسٹر ملک کی جان میں جان آئی کہ رملہ نے ان کا نام نہی لیا۔
آپ خوامخواہ اس کے لیے ہلکان ہو رہے ہیں اور ہم سب کو بھی پریشان کر رہے ہیں ۔ اس لڑکی کی کتنی فکر ہورہی تھی آپ کو لیکن اس نے آپ کی زرا عزت نہی رکھی ۔ ۔ ۔ فون
بند تھا تو ہم سب میں سے ہی کسی کو بتا کر جا سکتی تھی۔
اس نے ضروری ہی نہی سمجھا ۔ ۔ ۔ کیونکہ وہ ہم سب کو کچھ سمجھتی ہی نہی ہے ۔ اس کا رشتہ بس آپ سے ہے ۔ اسی لیے تو ابھی بھی آپ کو ہی کال کی ہے اس نے ۔ ہمدان سے مزید سننا مشکل ہو رہا تھا اس لیے بے بس سا اپنے کمرے کی طرف چل دیا۔
بس بھی کر دواب ۔ ۔ ۔ بچی سہی سلامت ہے ۔ تمہیں خدا کا شکر ادا کر نا چا ہیے لیکن تم تو ابھی
تک اس میں کیڑے نکالنے میں مصروف ہو۔
ملک صاحب غصے سے بولے اور وہاں سے اپنے کمرے میں آگئے ۔ ہمدان کمرے میں آیا اور رملہ کا نمبر ڈائل کیا لیکن پھر رک گیا ۔ ۔ ۔ دوست کی شادی وہ بھی اچانک ۔ ۔ ۔ یہ بہانہ کچھ سمجھ نہی آیا مجھے ۔
سیدھی طرح کیوں نہی کہتی کہ مجھ سے پیچھا چھڑا رہی ہو ۔ ۔ ۔ جتنا بھاگ سکتی ہو بھاگ لو لیکن ایک بات میں واضح کر دوں ، منزل تمہاری مجھ پر ختم ہوگی۔
کال بند ہوئی تو رملہ فون بیگ میں رکھتی ہوئی اندر کی طرف چل دی ۔ آجائیں میڈم ۔ ۔ ۔ اتنا ڈر کیوں رہی ہو؟
اپنا ہی گھر سمجھو ۔ ۔ ۔ نصیر اسے لینے دوبارہ دروازے تک آیا۔
بدلے میں رملہ بس پھیکا سا مسکرادی اور اس کے پیچھے چلتی گئی۔
آو بیٹھو۔ ۔ ۔ ماما کچن میں گئی ہیں تمہارے لیے کچھ لینے ۔ ۔ ۔ نصیر نے اس کے لیے
ڈرائینگ روم کا دروازہ کھولا۔
Take it easy...Relax
اپنا ہی گھر سمجھو۔ ۔ ۔ میں سمجھ سکتا ہوں یہ فیصلہ مشکل ہے تمہارے لیے لیکن میرا یقین
کرو یہاں تم بلکل محفوظ ہو۔ گھر میں میرے اور ماما کے علاوہ صرف چند ملازم ہیں۔
دو بہنیں ہیں لیکن وہ اپنے اپنے گھر میں مصروف ہیں ۔ بہت کم آتی ہیں ملنے اور اگر آ بھی گئیں تو میں ہوں یہاں سب سنبھالنے کے لیے۔
ماما بهت فرینڈلی ہیں بس ڈیڈ کے جانے کے بعد تھوڑا ڈ پریشن رہتا ہیں انہیں لیکن اب کافی
بہتر ہیں۔
لو آ گئیں ماما۔ ۔ ۔ نصیر تیزی سے ماں کی طرف بڑھا اور ان کے ہاتھ میں پکڑی ٹرے سے
جوس والا گلاس اٹھا کر تیزی سے رملہ کی طرف بڑھا۔ رملہ نے گھبرا کر نصیر کی ماں کو دیکھا اور ڈرتے ڈرتے گلاس تمام لیا۔
Thanks
آرام سے بیٹھو بیٹا ۔ ۔ ۔ جب تک رہنا چاہو رہ سکتی ہو مجھے کوئی مسئلہ نہی ہے ۔ نصیر کی دوست ہو تم اور میرے لیے میری بیٹی کی طرح ہو۔
رملہ حیران رہ گئی ان کے رویے پر کہ ابھی کچھ دیر پہلے تو ان کا رویہ کچھ اور تھا اور اب اچانک
سے اتنی نرم دل کیسے ہو گئیں ؟
جی ۔ ۔ ۔ شکریہ میں کسی ہوٹل میں بھی رہ لیتی لیکن اچانک نصیر سے ملاقات ہو گئی اور اس
نے زبر دستی روک لیا مجھے ۔
بہت اچھا کیا ہے اس نے ۔ ۔ ۔ تم جوس پیو اور فریش ہو جاو ا تب تک میں کھانا لگواتی
ہوں۔
رملہ نے سر اثبات میں بلایا تو وہ کمرے سے باہر چلی گئیں ۔
نصیر پر سکون سا صوفے پر بیٹھ گیا اور محبت بھری نگاہوں سے رملہ کو دیکھنے میں مصروف ہو
گیا۔
رملہ نے اس کی طرف دیکھا تو مسکراتے ہوئے نظریں جھکا گیا۔
ماما سے کہتا ہوں روم سیٹ کر دیں تمہارے لیے ۔ ۔ ۔ اچانک سے سنجیدہ ہوا اور کمرے
سے باہر نکل گیا۔
کسی میں نے یہاں آکر غلطی تو نہی کر دی ۔ ۔ ۔ رملہ سوچ میں پڑگئی۔
کچھ دیر بعد ملازمہ اسے لینے آئی ۔
کھانا کھانے کے بعد نصیر کی ماما اسے کمرے میں چھوڑ کر چلی گئی۔
دروازہ بند کرتی ہوئی صوفے کی طرف بڑھ گئی لیکن بیٹھنے کی بجائے کھڑکی کے پاس رک گئی
اور کسی گہری سوچ میں گم ہو گئی۔
نصیر کی نظریں ۔۔۔ وہ جس طرح سے مجھے دیکھ رہا تھا کہی اسے مجھ سے ۔ ۔ ۔ نہی نہی میں
بھی پتہ نہی کیا سوچ رہی ہوں ۔
ایک سال بعد ملے ہیں ہم ۔ ۔ ۔ اپنی زندگی میں آگے بڑھ چکا ہو گا ویسے بھی کونسا ایسے مجھ
سے محبت تھی ۔
دل لگی کے لیے دوستی کرنا چاہتا تھا مجھ سے ۔ ۔ ۔ اپنے کیے پر پچھتایا ہے شاید بہت واسی
لیے ہمدردی کر رہا ہے میرے ساتھ ۔ ۔ ۔ اور کوئی بات نہی ۔
میں کچھ زیادہ ہی سوچ رہی ہوں ۔ ۔ ۔ اب تک تو ہمدان گھر پہنچ چکے ہو گے ۔ مجھے کال نہی آئی ان کی بہت ناراض ہو گے مجھ سے ۔ ۔ ۔ پتہ نہی کیا کچھ کہا ہو گا بڑی ماما
نے۔
وہ تو یہی سمجھ رہے ہو گے کہ ان سے جھگڑ کر آئی ہوں میں ۔
بہت غصہ آرہا ہو گا انہیں مجھ پر ۔ ۔ ۔ پتہ نہی کیسے رہوں گی میں ان کے بغیر ۔ ۔ ۔ اتنا قریب آنے کے بعد ان سے دور رہنا محال ہو رہا ہے میرے لیے ۔
جیسے جیسے رات بڑھتی جارہی ہے میرا دل بیٹا جا رہا ہے ۔ ایسے لگ رہا ہے جیسے سانس بند
ہو جائے گا۔
یہ کیسے مقام پر آگئی ہوں میں ۔ ۔ ۔ جن اپنوں کے لیے میں اپنے سب سے عزیز رشتے سے
دور ہو رہی ہوں ان اپنوں کے دل میں میرے لیے کوئی احساس ہی نہی ہے ۔ کاش آج اماں زندہ ہوتی ۔۔۔ ان کے ہوتے ہوئے مجھے کبھی حالات سے اتنا ڈر نہی لگا لیکن اب حالات سے زیادہ اپنوں سے ڈر لگتا ہے ۔
بہت دور آچکی ہوں میں اپنوں سے ۔ ۔ ۔ اپنا سب سے قیمتی رشتہ بھی آج کھو دیا میں نے پتہ نبی اللہ مجھے معاف کرے گا یا نہی ۔
بے بس سی صوفے پر گر گئی ۔ ۔ ۔ کتنے ہی گھنٹے ہد ان کی کال کا انتظار کرتی رہی ۔ پتہ ہی نہی
چلا کب آنکھ لگ گئی۔
دروازہ بجنے کی آواز پر بڑ بڑا کر اٹھ کر بیٹھ گئی۔ گھڑی پر نظر ڈالی تورات کے دو بج رہے
تھے۔
نا چاہتے ہوئے بھی دروازے کی طرف بڑھی ۔ ۔ ۔ دروازہ کھولا تو سامنے نصیر کی ماں کھڑی
تھی۔
میرے ساتھ آو بیٹا ۔ ۔ ۔ کچھ دکھانا ہے تمہیں ۔
لیکن ۔ ۔ ۔ رملہ نے کچھ کہنا چاہالیکن وہ اس کی بات نظر انداز کرتی ہوئی آگے بڑھ گئیں ۔ رملہ حیرت زدہ سی ڈوپٹہ سہی کرتی ہوئی ان کے پیچھے چلتی گئی۔
وہ ایک کمرے کے باہر رک گئیں اور رملہ کو آگے آنے کا اشارہ دیا۔ رملہ ڈرتی ڈرتی بو جھل قدموں کے ساتھ آگے بڑھی۔
کمرے کا دروازہ کھلا تھا اور سامنے کا منظر دیکھ کر اس کی روح تک کانپ گئی۔ نصیر فرش پے گرا سو رہا تھا اور اس کے بازووں پر جگہ کٹ لگے ہوئے تھے ۔ خون کے چند
قطرے ابھی بھی فرش پر بکھرے تھے۔
رملہ بے بس سی آگے بڑھی اور اپنے منہ پر ہاتھ رکھ کر اپنی چیخ کو دبایا۔
نصیر کے ہاتھ پر رکھا بلیڈ اٹھانے کے لیے ہاتھ بڑھایا ہی تھا کہ نصیر نے تیزی سے مٹھی بند کر
تھوڑی سی آنکھیں کھول کر رملہ کی طرف دیکھا اور پھر چونک کر تیزی سے اٹھ کر بیٹھ گیا۔
رملہ ۔۔۔۔ تم یہاں؟
پلٹ کر دروازے کے پاس کھڑی ماں کو دیکھا اور سر نفی میں ہلاتے ہوئے سر جھکا گیا ۔
کیوں کر رہے ہو یہ سب کچھ ؟
آخر کس بات کی اذیت دے رہے ہو خود کو ؟
تمہارے ساتھ جو کچھ کیا تھا اسی گناہ کی سزا دے رہا ہے یہ خود کو۔ جواب نصیر کی ماں کی طرف سے آیا۔
نصیر سر جھکائے ایسے بیٹھا تھا جیسے یہاں ہے ہی نہی ۔
اپنے گناہ پر بہت شرمندہ ہے میرا بیٹا ۔ ۔ ۔ تم اس کو معاف کر دو۔ پچھلے کئی مہینوں سے یہ ہر رات ایسے ہی خود کو اذیت دیتا ہے ۔ بہت سمجھایا ہے میں نے
اسے لیکن میری ایک نہی سنتا ۔
دن تو کسی طرح گزار لیتا ہے لیکن رات کو اسی طرح حالت خراب کرتا ہے اپنی ۔ خود کو بھی ازیت دیتا ہے اور بیوہ ماں کو بھی ۔ ۔ ۔ جانتا ہے اچھی طرح کہ میرا اس کے سوا
کوئی نہی ہے پھر بھی ایسا کرتا ہے ۔
ایسا لگتا ہے جیسے اس نے جینا ہی چھوڑ دیا ہے۔
مت کرو اپنے ساتھ ایسا ظلم نصیر ۔۔۔ تمہارا گناہ اتنا بھی بڑا نہی تھا جو تم اس طرح سے خود
گوازیت دے رہے ہو ۔ رحلہ آنسو پو نچھتی ہوئی اس کے سامنے فرش پر بیٹھتی ہوئی بولی۔
انسان ہیں ہم ۔۔۔ غلطیاں ہو جاتی ہیں ہم سے دمجھ سے بھی ہوتی ہیں ۔ ۔ ۔ تم سے بھی ہو
گئی۔
اتنی بڑی سزا نہ دو خود کو ۔ ۔ ۔ اپنا نہی تو آنٹی کا ہی سوچ لو۔
کتنی تکلیف ہوتی ہوگی انہیں جب تمہیں اس حال میں دیکھتی ہیں ، دیکھو ان کے چہرے
کو ۔ ۔ ۔ رورہی ہیں ۔
اکلوتے بیٹے ہو تم ان کے ۔۔۔ اس طرح اذیت نہ دو خود کو ۔
تم نے بھی تو سہی تھی یہ ازیت ۔ ۔ ۔ نصیر نے مسکراتے ہوئے سر اٹھا کر رملہ کی طرف
دیکھا۔
تم بھی تو گزری تھی ناں اس اذیت سے ۔ ۔ ۔ ؟
کیا تمہیں تکلیف نہی ہوئی تھی ؟
جو کچھ میں نے تمہارے ساتھ کیا تھا کیا اس کے بعد تم نہی روئی تھی؟ نا جانے کتنی ہی راتیں تم نے بھی ایسی ازبیت میں گزاری ہوگی۔ کتنے ہی دن تم اس صدمے سے باہر نہی نکلی ہوگی۔
آج بھی یاد ہے مجھے تمہاری بے بسی ۔ ۔ ۔ تمہارا درد اور تمہارے آنسو۔ میں کیسے بھول سکتا ہوں وہ ظلم جو میں نے تمہارے ساتھ کیا تھا؟
نہی بھول سکتا ہیں ۔ ۔ ۔ جب تک زندہ ہوں خود کو سزا دیتا رہوں گا۔ رملہ کی نظر اس کے ہاتھ سے بہتے خون پر پڑی تو تیزی سے اس کے ہاتھ سے بلیڈ چھیننے کی
کوشش کی مگر نصیر مٹھی کھولنے کو تیار ہی نہی تھا۔
مت کروا پنے ساتھ یہ ظلم نصیر ۔ ۔ ۔ مت کرو۔
رملہ بس ہو چکی تھی ۔ ۔ ۔ دونوں ہاتھ نصیر کے سامنے جوڑ دیے ۔
چھا ۔ ۔ ۔ ریلیکس رہو تم میں بلکل ٹھیک ہوں ۔ کچھ نہی ہوا بس معمولی زخم ہیں ۔ تھوڑا سا درد ہو گا بس ۔ ۔ ۔ ایک دو دن میں ٹھیک ہو جاتے ہیں ۔ اب تو عادت ہو گئی ہے ۔
ادھر دو مجھے یہ بلیڈ ۔ ۔۔
س بار نصیر نے ہتھیلی کھول دی اور اذیت بھرے لہجے میں قہقہ لگایا۔ بیٹاتم جاو میں سنبھال لوں گی اسے ۔ ۔ ۔
س کے ہنسنے پر رملہ ڈر کر پیچھے ہٹی ۔ ۔ ۔ ایسے جیسے اس کی دماغی حالت پر شک ہو۔
بلیڈ ا ٹھائے وہاں سے اپنے کمرے میں آگئی۔
Oh MyGod
یہ سب کیا تھا ؟؟؟
نصیر ایسا ہو جائے گا میں سوچ بھی نہی سکتی ۔ ۔ ۔ دروازے بند کرتی ہوئی صوفے پر بیٹھ گئی در سر گھٹنوں ہے گرائے آنسو بہانا شروع ہو گئی۔
م کیوں لائی ہیں آپ اسے یہاں ۔۔۔؟
آپ جانتی بھی ہیں آپ کے اس قدم سے وہ کتنی پریشان ہو جائے گی ؟
میں اسے پریشان نہی دیکھ سکتا ۔۔۔ نہی دیکھ سکتا ۔ نصیر زور زور سے چلانا شروع ہو گیا۔
نچھ نہی ہوتا نصیر ۔ ۔ ۔ میں بات کروں گی اس سے وہ تم سے شادی کے لیے مان جائے
تا۔
تی کرنی مجھے اس سے شادی ماما۔۔۔ اس قابل نہی ہوں میں اس سے محبت نہی " عشق " کرتا ہوں میں ۔ ۔ ۔ محبت مکمل ہو سکتی ہے لیکن عشق ۔ ۔ ۔ عشق ہمیشہ ادھورا رہتا ہے ۔ س کی آنکھوں میں آنسو نہی برداشت ہو رہے مجھ سے ۔ ۔ ۔ آپ نے کیوں کیا ایسا؟ س کے چلانے کی آواز پر رملہ کمرے سے باہر آچکی تھی لیکن اس کے الفاظ سن کر
روازے سے آگے ہی نہ بڑھ سکی۔
پ چپ کروائیں اسے ۔ ۔ ۔ میں اسے روتے ہوئے نہی دیکھ سکتا ۔ ۔ ۔ میری وجہ سے
نہی رو سکتی وہ ۔
چھا ۔ ۔ ۔ میں جاتی ہوں اس کے کمرے میں ۔ ۔ ۔ نہی رونے دوں گی اسے تم فکرمت
یہ دوائی کھاو ۔ ۔ ۔ وہ زبر دستی اسے نیند کی گولی کھلا رہی تھیں ۔
لیٹ جاو یہاں آرام سے ۔ ۔ ۔ اسے بیڈ پر لیٹا کر اس کا سر دباتی رہی اور ساتھ آنسو پو نچھتی
رہی۔
جب وہ سو گیا تو کمرے سے باہر آگئی اور دروازے پے کھڑی آنسو بہاتی رملہ کو دیکھ کر
چونک کر مسکرا دیں ۔
کوئی بات نہیں ۔ ۔ ۔ آہستہ آہستہ ہو جائے گا ٹھیک۔
رملہ تیزی سے ان کے گلے لگ گئی اور ان کے کندھے پر سر رکھے جی بھر کر رودی ۔ آو بیٹا میرے ساتھ ۔ ۔ ۔ وہ رملہ کو ساتھ لیے اپنے کمرے میں آگئیں ۔
بچپن سے ہی بہت مندی ہے نصیر - - - لاڈ پیار میں بہت بگڑ چکا ہے ۔ جس چیز کے پیچھے پڑ جائے اسے حاصل کیے بغیر چین نہی ملتا اسے ۔
تمہارے ساتھ جو کچھ اس نے کیا تھا سب بتا چکا ہے مجھے ۔ ۔ ۔ میرے بیٹے کو معاف کر دو
بیٹا اور اس سے شادی کرلو۔ مجھے کوئی اعتراض نہی تم کون ہو ، کہاں رہتی ہو ، کس گھرانے سے تعلق رکھتی ہو ۔ ۔ ۔ میں
بس اپنے بیٹے کو زندہ دیکھنا چاہتی ہوں ۔
پلیز اسے معاف کر دو ۔
آنٹی یہ کیا کہہ رہی ہیں آپ؟
آپ اس طرح معافی مانگ کر مجھے شرمندہ مت کریں ،میں نے آپ کے بیٹے کو کبھی بددعا
نہی دی تھی اور جہاں تک شادی کی بات ہے ۔
میرا نکاح ہو چکا ہے میرے چاچو کے بیٹے کے ساتھ ۔ ۔ ۔ میں آپ کی یہ خواہش کبھی پوری
نہی کر سکتی ۔
بس کچھ دن اور میں یہاں سے چلی جاوں گی بلکہ اگر آپ بولیں تو صبح ہی چلی جاتی ہوں۔
میری وجہ سے نصیر خود کو مزید اذیت دے گا۔
آنسو بہاتی ہوئی اپنے کمرے میں بھاگ گئی۔ اگلی صبح ۔۔۔۔ نصیر آفس جانے کے لیے تیار ہو کر ڈائینگ ٹیبل پر پہنچ ہی تھا کہ گیٹ کیپر اندر آیا ۔ سر باہر کوئی آیا ہے ۔ ۔ ۔ رملہ میڈم سے ملنا ہے اسے ۔
کون ۔ ۔ ۔ ؟
نصیر حیرت زدہ سا کرسی سے اٹھ کر کھڑا ہوا اور سامنے سے آتی رملہ کو دیکھتے ہوئے بیرونی
دوازے کی طرف بڑھا۔
رملہ بھی اس کے پیچھے چل دی ۔ ۔ ۔ کون ہو سکتا ہے ؟
میں نے تو کسی کو بتایا بھی نہی اس گھر کے بارے میں ۔ ۔ ۔ پریشان سی باہر کی طرف بڑھی اور جیسے ہی نظر گیٹ کے پاس کھڑے شخص پر پڑی قدم وہی رک گئے۔ سامنے کوئی اور نہی ہدان کھڑا تھا ۔
نصیر جہاں کھڑا تھا وہی کھڑا رہ گیا ۔ ۔ ۔ آگے بڑھنے کی ہمت ہی نہی کر سکا ۔ پلٹ کر دروازے کے پاس کھڑی رملہ کی طرف دیکھا اور پھر ہمدان کی طرف ۔ نصیر کو سامنے دیکھ کر ہمدان حیرت زدہ سا کبھی اس کو اور کبھی رملہ کو دیکھتا رہ گیا۔
غصے سے نصیر کی طرف بڑھا ۔ تم یہاں کیسے ؟
یہ سوال تو مجھے آپ سے کرنا چاہیے ملک ہمدان ۔ ۔ ۔ آپ یہاں کیسے ؟ یہ میرا گھر ہے ۔ ۔ ۔ آپ کون ہوتے ہیں مجھ سے یہ سوال کرنے والے ؟
ہمدان اس کے سوال کو نظر انداز کرتا ہوا رملہ کی طرف بڑھا لیکن اس سے پہلے ہی نصیر رملہ
کے سامنے ڈھال بن کر کھڑا ہو گیا۔
دور رہو اس سے ملک ہمدان ۔ ۔ ۔ تمہاری ملکیت نہی ہے یہ جو ہر بار اس کے پیچھے کسی بھی
پہنچ جاتے ہو۔
میرا دماغ خراب مت کرو نصیر ۔ ۔ ۔ راستے سے ہٹو۔
نہی ہٹوں گا میں راستے سے ۔ ۔ ۔ اس وقت رملہ میرے گھر میں موجود ہے اور مجھے پورا حق
ہے اس کی حفاظت کرنے کا ۔
یہ یونیورسٹی نہی میرا گھر ملک ہمدان صاحب ۔ ۔ ۔ آپ یہاں سے جاسکتے ہیں ۔ ۔ ۔ باہر
جانے کا راستہ اس طرف ہے ۔
ہم ۔ ۔ ۔ اب تم مجھے سمجھاو گے کہ مجھے اپنی بیوی پر حق جتانا چاہیے یا نہی ؟
بیوی ۔ ۔ ۔ ہمدان کے منہ سے رطہ کے لیے بیوی کا لفظ سن کر نصیر نے بھنویں سکوڑتے ہوئے پلٹ کر رملہ کی طرف دیکھا۔
رملہ نے سر اثبات میں ہلایا ۔ ۔ ۔ نصیر سامنے سے پیچھے ہٹ گیا لیکن پھر سے سامنے آ گیا۔ بیوی ۔ ۔ ۔ خود کو اس کے شوہر کہتے ہو اور کل کہاں تھے جب یہ سڑکوں پر خوار ہو رہی
تھی؟
فقط نکاح کے چند بول پڑھ لینے سے بیوی بن گئی یہ تمہاری اور تم نے اسے اپنی ملکیت سمجھ لیا کہ جب دل چاہے زندگی میں رکھو گے اور جب دل چاہے زندگی سے باہر نکالو گے ۔
آخر چاہتے کیا ہیں آپ ہمدان صاحب ۔ ۔ ۔ ۔ ؟ نصیر کسی صورت اسے آج بخشنے والا نہی تھا ۔
تمہارے ان سوالوں کا جواب دینا میں ضروری نہی سمجھتا ۔ ۔ ۔ راستے سے ہٹو۔ ہمدان نے اسے کندھے سے جھنجوڑتے ہوئے پیچھے کیا اور رملہ کا ہاتھ تھام کر گیٹ کی طرف
بڑھ گیا۔
نصیر تیزی سے گیٹ کے سامنے آگیا ۔ ۔ ۔ رک جاوہ اس طرح سے نہی لے جا سکتے تم
اسے یہاں سے سمجھے ؟
میں پولیس بلواوں گا ۔ ۔ ۔ کسی بھول میں نہ رہنا۔ مجھے ثبوت چاہیے نکاح کا ۔ ۔ ۔ اس کے
بغیر میں رملہ کو کہی نہی جانے دوں گا۔
ہدان نے بے بسی سے رملہ کی طرف دیکھا جو کچھ نہی بول رہی تھی ۔
سہی کہہ رہا ہے میرا بیٹا ۔ ۔ ۔ اگر واقعی یہ تمہارے نکاح میں ہے تو ہمیں ثبوت دکھاو۔ اس
طرح زبر دستی نہی کر سکتے تم بچی کے ساتھ ۔ نصیر کی ماں بھی باہر آگئیں ۔
یہ سچ کہہ رہے ہیں ۔ ۔ ۔ آخر کا رملہ نے چپ توڑ دی ۔ اس دن جب اماں نے تمہیں اخوا کروایا تھا تب ہمارا نکاح ہوا تھا لیکن تم حوش میں نہی تھے ۔
سہی ۔ ۔ ۔ تب حوش میں نہی تھا لیکن اب تو جوش میں ہوں ۔ ۔ ۔ دیکھتا ہوں کیسے لے کر
جائے گا یہ تمہیں زبردستی یہاں سے۔
میرا دماغ خراب مت کرو نصیر ۔ ۔ ۔ پہلے ہی بہت پریشان ہوں میں یہ نہ ہو سارا غصہ تم پر
نکال دوں ۔
ہمدان حوش کا ہاتھ چھوڑتے ہوئے نصیر کی طرف بڑھا اور اسے بازو سے کھینچتے ہوئے گیٹ کے سامنے سے ہٹا کر رملہ کی طرف بڑھا۔
گارڈ سامنے آ گیا ۔ ۔ ۔ یہاں سے نہی جا سکتے آپ ۔
میری بیوی ہے یہ ۔ ۔ ۔ ایک بار کی کہی بات سمجھ کیوں نہی آرہی تم لوگوں کو ؟
تو آپ ثبوت دکھا دو ناں بیٹا ۔ ۔ ۔ اگر نکاح نامہ دکھا سکتے ہو ہمیں کوئی اعتراض نہی ہے لیکن اس طرح بچی کو نہی جانے دے سکتے ۔
ہدان نے بے بسی سے رملہ کی طرف دیکھا۔
رملہ نے نظریں جھکا لی ۔۔۔ میرے پاس ہے ثبوت میں دکھاتی ہوں۔ وہ ہمدان کا ہاتھ چھوڑ کر آگے بڑھنے ہی والی تھی کہ ہمدان نے سر نفی میں ہلایا ۔ میں ساتھ
جاوں گا ۔
ہم ۔۔۔ رملہ اس کا ہاتھ تھامے ہی اندر کی طرف بڑھ گئی۔
پیچھے کھڑے نصیر کو ایسالگا جیسے اس کا وجود کرچی کرچی ہو گیا ہو۔ اپنی جگہ سے ہل ہی نہی
پایا۔
ماں نے کندھے پر ہاتھ رکھا تو پھیکا سا مسکرا دیا اور ان کے ساتھ اندر چلا آیا۔ رملہ نے بیگ سے نکاح نامہ نکال کر ہمدان کی طرف بڑھایا۔ ہمدان نے نصیر کے سامنے لہرایا ۔ ۔ ۔ دیکھ لو اچھی طرح ۔
نصیر خاموش نظروں سے بس دونوں کے نام اور دستخط دیکھ کر کسی گہری سوچ میں گم ہو سے بس دونوں نام اور دیکھ کرکسی گہری میں گم ہو
گیا۔
ہر بار تم ۔ ۔ ۔ ملک ہمدان تم مجھ سے ہر بار جیت جاتے تھے لیکن آج میں سہی معنوں میں تم
سے ہار گیا۔
صرف ہارانہی ختم ہو گیا آج میں ۔ ۔ ۔ میرے وجود میں جو تھوڑی سی جان باقی تھی آج نکال
دی تم نے ملک ہمدان - - - - برباد ہو گیا ہیں۔
میرے جینے کی جو تھوڑی سی امید جاگی تھی آج وہ امید بھی چھین لی تم نے ۔ ۔ ۔ گہری سانس لیتے ہوئے آگے بڑھا اور ہمدان کے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے بے بسی سے مسکرا
دیا۔
معاف کرنا میں نے آپ کو غلط سمجھا ۔ ۔ ۔ میری دعا ہے کہ اللہ آپ دونوں کو ہمیشہ خوش رکھے اور زندگی کی جو بھی مشکلات ہیں ان سے محفوظ رکھے آمین۔
ایک نظر رملہ پر ڈالتے ہوئے تیزی میں کمرے سے باہر نکل گیا اور آنکھ سے گرتا آنسو انگوٹھے سے مسل کر خود کو مظبوط ظاہر کرنے کی ناکام کوشش کرتے ہوئے اپنے
کمرے کی طرف بڑھ گیا۔
چلیں ۔۔۔؟
جی ۔ ۔ ۔ رملہ نا چاہتے ہوئے بھی ہمدان کے سوال پر سر ہلا گئی اور اپنا سامان سمیٹتی ہوئی اس
یلہ
کے پیچھے چلتی گئی۔
ملازمہ اس کا بیگ ھسیٹتی ہوئی گیٹ تک لائی۔ رملہ نے پلٹ کر نصیر کی ماں کی طرف دیکھا
اور خدا حافظ بولتی ہوئی گیٹ پار کر گئی ۔
اوپر کھڑکی کا پردہ تھوڑا سر کا اور ان کی گاڑی کے وہاں سے جاتے ہی نصیر بے بس سا کھڑکی
کے پاس فرش پر بیٹھ گیا۔
دروازہ بند کیے کتنی ہی دیر آنسو بہاتا رہا ۔ ۔ ۔ آخر کا راٹھا اور کمرے سے باہر نکل گیا۔ اس کے انتظار میں دروازے کے باہر کھڑی اس کی ماں بیٹے کی آنکھیں دیکھ کر تڑپ اٹھیں۔
نصیر مسکراتے ہوئے بنا لیے گھر سے باہر نکل گیا۔
گاڑی میں گہری خاموشی تھی ۔ ۔ ۔ نہ رملہ نے کوئی بات کی اور نہ ہی ہمدان نے ۔ آخر کار ہمدان کا ظبط ٹوٹ ہی گیا ۔ اس نے گاڑی سڑک کے کنارے روکی اور اسٹیرنگ
وہیل پے سر گرائے بیٹھ گیا۔ کیوں کیا ایسا بتا و مجھے ؟
غصے سے رملہ کی طرف دیکھتے ہوئے بولا۔
رملہ نے کوئی جواب نہیں دیا بس چاپ اپنے ہاتھوں کو دیکھنے میں مصروف رہی۔ کچھ پوچھا ہے میں نے ۔ ۔ ۔ بتاو کیوں گئی تھی نصیر گھر اور اس کے ساتھ کب سے رابطے
میں ہو؟
ہمدان کے اس سوال پر رملہ نے چونک کر ہدان کی طرف دیکھا اور سر نفی میں ہلا دیا۔ میرا اس سے کوئی رابطہ نہی تھا ۔ اچانک ملے ہیں ہم کل ۔
اچانک ملے اور اتنی بے تکلفی کے تم اس کے ساتھ اس کے گھر ہی چلی گئی ۔ ۔ ۔ داد دینی
پڑے گی تمہاری ہمت کی۔
اور کیا کرتی ہیں ۔ ۔ ۔ کسی ہوٹل کے کمرے میں رہتی ؟
میں تو جانے ہی والی تھی لیکن نصیر نے روک لیا ۔ بہت بدل چکا ہے وہ ۔
ہم ۔ ۔ ۔ بدل چکا ہے ۔ بھول گئی کیا اس نے کیا کیا تھا ہم دونوں کے ساتھ ؟
پھر بھی تم نے اس کا بھروسہ کیا ۔ ۔ ۔ کیوں ؟ مجھے اس پر بھروسہ کرنا ہی پڑا۔ ۔ ۔ کیونکہ میرے پاس سر چھپانے کا کوئی ٹھکانہ نہی تھا۔
میں مر گیا تھا کیا ۔۔۔۔؟ میرے کہنے پر بنا بتائے گھر سے نکل آئی اور دشمن کے گھر پر پناہ لے لی ۔ ۔ ۔ میرا کوئی
مقام ہے تمہاری زندگی میں یا نہی ؟
★★★★★
غلط سمجھ رہے ہیں آپ ۔ ۔ ۔ میں آپ کی وجہ سے نہی آئی گھر سے بلکہ ماما نے مجھے جانے کو کہا ۔ ۔ ۔ وہ سب کچھ جان چکی ہیں ہمارے نکاح کے بارے میں۔
میں روشنی سے فون پر بات کر رہی تھی اور وہ اچانک کمرے میں آئیں اور میری ساری
باتیں سن لیں ۔
OhThats Great ...
اگر تائی امی کو بیچ پتہ چل ہی گیا تھا تو اس میں ڈرنے والی کونسی بات تھی ؟
مجھے کال بھی تو کر سکتی تھی ناں؟ اگر انہوں نے گھر سے نکال دیا تھا تو دروازے کے باہر میرا انتظار بھی تو کر سکتی تھی ؟ لیکن تم نے کیا کیا ۔ ۔ ۔ چپ چاپ وہاں سے اٹھ کر یہاں دشمن کے گھر میں پناہ لے لی۔
تنها را یہ قدم میرے منہ پر بہت بڑا تمانچہ رہ ۔ ۔ ۔ تم دشمن پر تو اعتبار کر سکتی ہو لیکن ساری غلطی میری ہے ۔ ۔ ۔ لیکن اب اور نہی تمہیں مزید کوئی من مانی کرنے کی اجازت
نہی دوں گا میں ۔
ایک شوہر کو جیسے اپنی بیوی کو رکھنا چاہیے اب میں تمہیں ویسے ہی رکھوں گا ۔ بھاڑ میں گئی پڑھائی ۔ ۔ ۔ اب میں تمہاری ایک بات نہی سنوں گا ۔ ۔ ۔ جو آج ہوا اس کے
بعد تو ہر گز نہی ۔
آج سے جو میں کہوں گا وہی کروگی تم ۔ ۔ ۔ گھر جارہے ہیں ہم ۔
اس سے پہلے بیٹی بن کر گئی تھی اس گھر میں لیکن آج میری بیوی بن کر جاو گی۔
ہیں ۔ ۔ ۔ ۔ خبر دار جو ایک لفظ بھی بولی تم ۔
رملہ کچھ بولنے ہی والی تھی کہ ہمدان نے بولنے سے منع کر دیا۔
خاموش ۔ ۔ ۔ بلکل خاموش کوئی سوال نہی ۔ ۔ ۔ ورنہ میں کچھ ایسا کر بیٹھوں گا جس پر تم
ساری زندگی پچھتاوگی۔ مزاق سمجھ رکھا ہے مجھے ۔ ۔ ۔ میری محبت میرا خلوص سب میرے منہ پر مار کر یہاں چلی
آئی۔
اگر تائی امی کو سب پتہ چل ہی گیا تو ڈٹ جاتی ان کے سامنے ۔ ۔ ۔ میں سب سنبھال لیتا
لیکن نہی ۔ ۔ ۔ تمہارے سر پر تو اچھا بننے کا جنون سوار ہے ۔
تمہاری زندگی میں میری کیا اوقات ہے یہ آج دیکھ لیا میں نے ۔
اب تک میری محبت دیکھی تھی تم نے لیکن اب میرا دوسرا روپ دیکھنے کے لیے تیار ہو
جاو۔
غصے سے گاڑی اسٹارٹ کر دی ۔
رملہ بے بس سی کھڑکی سے سر ٹکائے آنسو بہانے میں مصروف ہو گئی۔ سارے راستے روتی رہی لیکن آج ہمدان پر اس کے کسی آنسو کا کوئی اثر نہی پڑا ۔ ۔ ۔ وہ بس
چپ چاپ گاڑی ڈرائیو کرتا رہا۔
گھر پہنچتے ہی غصے میں گاڑی سے باہر نکلا اور رملہ کی سائیڈ والا دروازہ کھول کر اسے بازو سے
کھینچتے ہوئے باہر نکالا۔
گاڑی کا دروازہ زور سے بند کیا اور اندر کی طرف چل دیا۔ پلیز ایسا مت کریں ۔ ۔ ۔ بینی کے بارے میں سوچیں۔
وہ بولتی رہ گئی لیکن ہمدان نے اس کی ایک نہی سنی ۔ ۔ ۔ جیسے ہی دونوں ٹی وی لاونج میں ی لاونج میں داخل ہوئے سب کے چھرے حیرت زدہ سے کھلے رہ گئے۔
مسمز ملک حیرت زدہ سی آگے بڑھی ۔ ۔ ۔ کیوں آئی ہو تم یہاں ؟ میں نے کہا تھا ناں کہ تم یہاں نہی آوگی دوبارہ ۔ ۔ ۔ تو پھر یہاں آنے کہ گستاخی کیوں کی ؟
اور ہمدان تم ۔ ۔ ۔ تم کیا کر رہے ہو اس کے ساتھ ؟
چھوڑو اس کا ہاتھ ۔۔۔
معزرت تائی امی ۔ ۔ ۔ میں اس کا ہاتھ نہیں چھوڑ سکتا ، زندگی بھر کے لیے یہ ہاتھ تھاما ہے میں نے ۔۔۔ رملہ میری بیوی ہے اور اس کا ساتھ میں زندگی بھر نہیں چھوڑ سکتا۔ آپ کو جو کرنا ہے آپ کر لیں ۔ ۔ مجھے اب کسی کی پرواہ نہی ہے اور ایک بات ۔ ۔ ۔ آئیندہ میری بیوی کو اس گھر سے جانے کے لیے مت کہئیے گا۔ یہ آپ کی سوتن کی بیٹی کی حیثیت سے نہی بلکہ میری بیوی ہونے کی حیثیت سے ہے اب
یہاں۔
ہمدان ۔ ۔ ۔ ۔ کیا ہو رہا ہے یہ سب ؟
ملک صاحب کی گرجدار آواز پر سب سیڑ ہیوں کی طرف لیے ۔
کیا کہا تم نے ابھی ابھی؟
دوبارہ کہنا زرا ۔ ۔ ۔ رملہ تمہاری کیا ہے؟
جی تایا اہو ۔ ۔ ۔ بلکل ٹھیک سنا ہے آپ نے رملہ میری بیوی ہے پچھلے ایک سال سے ۔
آنٹی نے خود ہمارا نکاح پڑھوایا تھا ۔ ۔ ۔ آپ چاہیں تو رملہ سے پوچھ سکتے ہیں ۔ رملہ نے اپنا ہمدان کے ہاتھ سے آزاد کروانا چاہا لیکن ہمدان نے اس کے ہاتھ پر گرفت مزید
مظبوط کی۔
باقی سب ایسے کھڑے رہ گئے جیسے سب کو سانپ سونگھ گیا ہو۔ ملک صاحب سر پکڑ کر وہی سیڑھیوں میں بیٹھ گئے۔ بابا ۔۔۔۔ رملہ نے باپ کی حالت دیکھی تو تیزی سے ان کی طرف بھاگی ۔ ۔ اس بار ہمدان
نے اسے جانے دیا۔
بابا جانی آپ ہمیں غلط مت سمجھیں ۔۔۔ اماں نے یہ نکاح زبر دستی کروایا تھا ہم سے ۔ آپ جیسا چاہیں گے ویسا ہی ہوگا ۔ ۔ ۔ میں مینی کی خوشیوں میں رکاوٹ نہی بنوں گی۔
ہمدان مجھے طلاق دے دیں گے ۔
رملہ ۔ ۔ ۔ خبر دار ۔ ۔ ۔ خبر دار جو دوبارہ طلاق کا لفظ نکالا اپنے منہ سے ۔ ۔ ۔ ہمدان تیزی سے
اس کی طرف آیا۔
ملک صاحب نے مسکراتے ہوئے بیٹی کے سر پے ہاتھ رکھ دیا ۔ ۔ ۔ نہی ایسا کبھی نہی ہو گاہ میرے لیے بینی میں اور تم میں کوئی فرق نہی ہے ۔
تم دونوں میں میری جان بستی ہے۔ اس کے لیے اللہ نے کچھ اور سوچا ہوگا۔ اس کی فکر
مت کرو۔
ویسے تو تمہاری ماں کو کوئی سکھ نہیں دے سکا میں لیکن اس کے اس فیصلے کو میں دل و جان
سے قبول کرتا ہوں ۔ مجھے کوئی اعتراض نہی اس رشتے سے۔
لیکن مجھے اعتراض ہے ۔ ۔ ۔ مسز ملک غصے سے چلا ئیں ۔
پہلے اس کی ماں میری خوشیاں کھا گئی اور اب یہ میری بیٹی کی خوشیاں نگلنے آگئی ۔ ۔ ۔ لیکن
میری زندگی میں تو یہ ممکن نہی ہوگا۔
ہمدان تم اس کو طلاق دو گے اور وہ بھی ابھی ۔ ۔ ۔ ورنہ ۔
ور نہ کیا ۔ ۔ ۔؟
ملک صاحب بھی سیڑھیوں سے اٹھ کر نیچے آگئے ۔ دیکھ لوں گا میں تم کیا کر سکتی ہو۔ پہلے میری بیوی کو مجھ سے دور کیا اور اب بیٹی کو کرنا چاہتی ہو۔
اس بار اگر کچھ غلط کرنے کی کوشش کی تو اپنا ٹھکانہ کسی اور ڈھونڈ لینا ۔ ۔ ۔ تم جیسی کم ظرف عورت کو مزید برداشت نہی کر سکتا ہیں۔
ٹھکانہ میں نہی آپ لوگ ڈھونڈ لیں ۔ ۔ ۔ شاید آپ بھول رہے ہیں یہ گھر میرے نام پر
ہے۔
سہی ۔ ۔ ۔ توپھر ایسا کرتے ہیں ہم کوئی اور ٹھکانہ ڈھونڈ لیتے ہیں۔ کیا خیال ہے ہمدان ؟
تایا ابو ۔ ۔ ۔ لیکن ۔
لیکن ویکن کو چھوڑو یار ۔ ۔ ۔ جاو جا کر پراپرٹی ڈیلرز کو وزٹ کرو, جو گھر پسند آجائے بتا مجھے آ
کر۔
اگر تمہاری تائی امی کی یہی صد ہے تو یہی سہی ۔ ۔ ۔ ہمیں کونسا پیسوں کی کمی ہے ۔ بھائی جان آپ کیوں ایسی ضد لگا رہے ہیں بھا بھی جان کے ساتھ ۔ ۔ ۔ ؟
ہمدان کی ماما بھی بول پڑیں ۔ گھر چھوڑنے کی کیا ضرورت ہے ؟
بیٹھ کر معاملہ حل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
آپ رہنے دیں بھا بھی ۔ ۔ ۔ بڑے سال ہو گئے ہیں مجھے اس معاملے کو حل کرتے کرتے
لیکن کچھ نہی ہوا اور آگے بھی کچھ نہی ہوگا۔
اس کا بس یہی حل ہے ۔ ۔ ۔ اس کو اس کی پراپرٹی مبارک ہو۔ ملک صاحب غصے میں گھر سے نکل گئے۔
ہمدان علی کی طرف پلٹا۔
علی گاڑی سے سامان نکلوا کر اپنی بھابھی کے کمرے میں پہنچا دو۔ جی بھائی ۔۔۔ علی معنی خیز انداز میں مسکراتے ہوئے گیراج کی طرف بڑھ گیا۔
اپنے کمرے میں جاو۔
ہمدان کے کہنے پر رملہ چپ چاپ اپنے کمرے میں چلی گئی۔
ہمدان تم مت کرو ایسا بیٹا ۔ ۔ ۔ جانتے ہو ناں بینی تم سے کتنی محبت کرتی ہے ۔ وہ تو کل سے اس بات پر ہم سے الجھ رہی ہے کہ رملہ اس گھر میں کیوں ہے ۔ اسے جب یہ پتہ چلے گا کہ رملہ تمہاری بیوی ہے تو مر جائے گی میری بیٹی۔ تھوڑا سا ترس کھا لو میری بیٹی پر ۔ ۔ ۔ کیوں اس پر اتنا بڑا ظلم ڈھارہے ہو ؟ تائی امی اس میں میرا کوئی قصور نہی ہے ۔ یہ نکاح چاہے زبر دستی ہوا تھا لیکن میں رملہ کا ساتھ
نہی چھوڑ سکتا ۔
بینی کے لیے اللہ نے مجھ سے بہتر سوچا ہوگا۔ اس کے لیے فکر مند نہ ہو آپ ۔ ۔ ۔ اور آپ
شاید انجان ہیں تو میں آپ کو بتا دوں ۔
ہمارا نکاح بھی بینی کی ہی مہربانی ہے ۔ اگر اس دن انے رملہ کو ہاسپٹل نہ پہنچا یا ہوتا تو یہ
سب نہ ہوتا ۔
نال رملہ ہاسپٹل پہنچی نا تائی ابو اور چھوٹی تائی امی کی ملاقات ہوتی اور نہ یہ نکاح ہوتا۔
آپ زرا پوچھیں بینی سے کہ اس نے کیا کچھ کیا تھا نصیر کے ساتھ مل کر ۔ جب اپنے ہی دشمن کی چال میں شامل ہو جائیں تو ہارنا طے ہوتا ہے ۔ اسے یقین نہیں تھا بس مجھ پر ۔ ۔ ۔ یہ سب اس کی بے یقینیوں کا نتیجہ ہے۔
Excuseme
کوئی کام اچھا نہی کیا آج تک اس لڑکے نے ۔۔۔
ہمدان سیڑھیوں کی طرف بڑھا ہی تھا کہ باپ کی آواز پر رک کر ان کی طرف پلٹا ۔ پوری زندگی گزرگئی میری لیکن مجال ہے جو اس لڑکے نے باپ کی ایک بھی بات مانی ہو۔ ہر وقت اپنی من مانی کرتا آیا ہے اور آگے بھی کرے گا ۔ بس یہی دن دیکھنا باقی رہ گیا تھا ۔
اب اس بڑھاپے میں اس کی وجہ سے در بدر کی ٹھوکریں بھی کھانی پڑیں گی مجھے ۔ یہ سب تمہارے لاڈ پیار کا نتیجہ ہے ۔ ۔ ۔ تم نے ہی بگاڑا ہے اسے ۔ ۔ ۔ وہ بیوی پر بھی تپ گئے۔ مسز ملک افسردگی سے ان دونوں کو دیکھتی ہوئی وہاں سے چلی گئیں ۔
میں نے کیا کر دیا اب ؟
یہ سب میرے لاڈ پیار کا نہی آپ کی لاپر واہیوں کا نتجہ ہے ۔
آپ کو فرصت ہی کہاں ہے شراب اور سگریٹ سے جو بیٹے پر دھیان دیں ۔ میں اکیلی کیا
کیا کروں ؟
ہمدان نے گہری سانس لی اور سر نفی میں ہلاتے ہوئے اوپر چلا گیا۔ رسلہ کے کمرے میں پہنچا اور دروازہ بند کرتے ہوئے اس کی طرف بڑھا۔
دروازہ بند ہونے کی آواز پر رملہ تیزی سے پلٹی ۔ ہمدان کو خونخوار نظروں سے اپنی طرف
بڑھتے دیکھ کر اس کے ہوش اڑ گئے۔
آپ یہاں ۔ ۔ ۔ ؟
د و در روازہ کیوں بند کیا آپ نے؟
اس کے الفاظ اس کا ساتھ نہی دے رہے تھے ۔ ڈر کے مارے زبان کپکپا رہی تھی۔ ہمدان نے اسے غصے سے صوفے پر بٹھایا اور خود برابر میں بیٹھ کر اس کا چہرہ اپنی طرف کیا ۔ کیا لگا تھا تمہیں کہ کسی بھی چلی جاو گی اور مجھے پتہ نہی چلے گا؟ سوچ بھی کیسے لیا تم نے کہ میں تم تک نہی پہنچ سکتا ؟
تمہاری ہر ایک سانس سے باخبر ہوں میں ۔ ۔ ۔ تو اس گھر کا ایڈریس کیسے نہ ملتا مجھے ؟
مجھے بس ایک بات کا دکھ ہے کہ تمہیں پناہ لینے کے لیے وہی گھر کیوں ملا ؟ روشنی کے پاس چلی جاتی ۔ ۔ مجھے کال کر دیتی لیکن تم نے ضروری ہی نہی سمجھا کیوں؟ میں روشنی کے پاس ہی جا رہی تھی ۔ ۔ ۔
جھوٹ ۔ ۔ ۔ پہلے بھی جھوٹ بولا اور اب بھی جھوٹ بول رہی ہو سچ کیا ہے مجھے وہ سننا
کوئی بھی بہانہ نہی سنوں گا میں ۔۔۔ جس لحاظ سے نصیر تمہارے لیے میرے سامنے ڈٹ کر کھڑا تھا۔ اس لحاظ سے تو ایسا لگ رہا تھا جیسے کوئی بہت گہرا رشتہ ہے تم دونوں کے
درمیان ۔
رملہ کچھ پوچھا ہے میں نے تم سے ؟
رملہ کی خاموشی پر ہمدان مزید تپ گیا اور اسے کندھے سے جھنجوڑا ۔
اس سے پہلے کہ رملہ کوئی جواب دیتی دروازہ نوک ہوا۔
Yes Comein...
ہمدان تھوڑے فاصلے پر بیٹھ گیا۔
دروازے پر علی تھا ۔ رملہ کا بیگ گھسیٹتا ہوا صوفے تک لایا۔
I am sorry Bhai And Bhabi
میں نے آپ دونوں کو ڈسٹرب کیا ۔۔۔ بھائی آپ نے ہی کہا تھا کہ بیگ کمرے میں رکھوا
دوں بھائی کا ۔
رکھ دیا بیگ ۔۔۔ چلتا ہوں میں ۔۔۔ معنی خیز انداز میں مسکراتے ہوئے کمرے سے باہر
نکل گیا۔
مزید بولتا رہتا اگر ہمدان کے چھرے کے بدلتے تیور نہ دیکھتا۔ اس لیے چپ چاپ یہاں
سے کھسکنے میں ہی عافیت سمجھی۔
اس کے کمرے سے نکلتے ہی ہمدان اٹھا اور دروازہ لاک کرتے ہوئے واپس صوفے پر بیٹھ
گیا۔
رملہ کنفیوز ڈسی ہاتھ پر ہاتھ رکھے سر جھکائے پریشان بیٹھی تھی۔ کچھ پوچھا ہے میں نے ۔ ۔ ۔ جواب چاہیے مجھے آج ہی ۔ ہمدان پھر سے اس کی طرف پلٹا۔
میں سچ کہہ رہی ہوں میرا نصیر سے کوئی رابطہ نہی ہے ۔ اچانک ملے ہم بس اسٹاپ پر ۔ ۔ ۔ میں روشنی کے پاس ہی جارہی تھی۔
آپ سے رابطہ نہ کرنے کی وجہ ۔ ۔ ۔ میں آپ کو پریشان نہی کرنا چاہتی تھی۔ میں نہی چاہتی کہ آپ میری وجہ سے اپنی فیملی سے الجھیں ۔
اپنی فیملی ۔ ۔ ۔ ؟
ہمدان نے اسے بازو سے جھنجوڑتے ہوئے اس کا رخ اپنی طرف موڑا ۔ شوہر کے لیے اس کی فیملی میں بیوی سب سے پہلی فہرست میں ہوتی ہے نکاح کے بعد ۔ ۔ ۔ میری فیملی اب تم سے شروع ہوتی ہے۔ کیسے سوچ لیا تم نے کہ مجھے پریشانی ہوگی ؟
صرف اور صرف تمہاری مند کی وجہ سے چپ تھا میں ۔ ۔ ۔ لیکن اب سے میں وہی کروں گا جو مجھے بہت پہلے کرنا چاہیے تھا ۔
تم مجو بہ نہی ہو میری جو تمہارے لیے سب سے لڑتے لڑتے تھک جاوں گا ۔ ۔ ۔ بیوی
ہو۔
بہت بڑی غلطی کر دی تم نے نصیر کے گھر جا کر ۔ ۔ ۔ میرا خون کھول رہا ہے ۔ دل چاہ رہا
ہے ختم کر لوں خود کو۔ کیا سوچتا ہوگا وہ کہ ملک ہمدان اتنا گرا ہوا مرد ہے جو اپنی بیوی کو تحفظ بھی نہی دے سکا اور وہ
تمہاری طرف دیکھ کیسے رہا تھا ؟
اس کی تمہارے چھرے پر جمی نظریں اور ہمارا نکاح نامہ دیکھ کر اس کا بدلتا لہجہ ۔۔ مجھے کچھ اور ہی دکھائی دے رہا تھا ۔
اس کی آنکھوں میں تمہارے لیے جو محبت اور بچھڑنے کا درد تھا ناں ۔ ۔ ۔ مجھ سے نہی
برداشت ہو رہا۔
کیوں تھا اس کی آنکھوں میں وہ درد؟
کہی وہ تم سے ۔ ۔ ۔ میں سوچ بھی نہی سکتا ۔ آئیندہ اگر مجھے تمہارے آس پاس بھٹکتا ہوا بھی نظر آگیا ناں تو جان لے لوں گا میں اس کی۔
برداشت نہی کر سکتا میں اس کی آنکھوں میں تمہارے لیے محبت اور درد ۔ ۔ ۔ غصے سے اپنے بال مٹھی میں جکڑے غصہ کنٹرول کرنے کی کوشش کر رہا تھا لیکن غصہ تھا
کہ کم ہونے کا نام ہی نہی لے رہا تھا۔
رملہ چہرہ دونوں ہاتھوں میں چھپائے آنسو بہانا شروع ہو گئی۔ تم کیوں رو رہی ہو ۔ ۔ ۔ کیا تمہیں بھی اس کے لیے درد محسوس ہو رہا ہے ؟
نہی ۔۔۔ رملہ نے تیزی سے سر اوپر اٹھایا۔ اگر ایسا ہے تو تمہاری آنکھوں میں یہ درد کیسا ہے ؟ اس بار ہمدان غصے سے چلایا۔
میں تو آپ کے غصے کی وجہ سے ۔ ۔ ۔
نہی ۔ ۔ ۔ تم میرے غصے کی وجہ سے اس کی وجہ سے رورہی ہو ۔ ۔ ۔ اس کے نام کے آنسو
بھی برداشت نہی کر سکتا میں ۔ خاموش ۔۔۔ بلکل خاموش ۔ ڈریسنگ کی طرف بڑھا اور ٹشوز باکس رملہ کی طرف اچھالا۔ صاف کروا پنے آنسو ۔ ۔ ۔
اس سے پہلے کہ ہمدان مزید ہوتا دروازہ نوک ہونے کی آواز پر دروازے کی طرف بڑھ گیا۔ سامنے پھوپھو کھڑی تھیں۔ کیا ہو گیا ہدان ۔ ۔ ۔ تم کب سے اتنا چلانے لگے ہو؟ پورے گھر میں تمہارے چلانے کی آواز میں سنائی دے رہی ہیں ۔ جاوا اپنے کمرے میں اور
فریش ہو۔
عجیب ماحول بنا رکھا ہے آج تم نے ۔ ۔ ۔ آج سے پہلے سنی کسی کی اتنی اونچی آواز گھر میں ؟
I amsorry
میں تھوڑا غصے میں تھا ۔ ۔ ۔ اندازہ ہی نہی ہوا کہ میری آواز کمرے سے باہر جا رہی ہے۔ اپنے غصے پر قابو رکھو اور جو بھی معاملہ ہے کمرے کے اندر ختم کرو ۔ ۔ ۔ کسی دوسرے کو اس بات کی خبر نہی ہونی چاہیے کہ تم دونوں کے درمیان کیا چل رہا ہے ۔
یا اللہ خیر ۔ ۔ ۔ ۔ یہ کیسی آواز تھی ۔ ابھی وہ بول ہی رہی تھیں کہ کسی چیز کے ٹوٹنے کی آواز پر کمرے سے باہر بھاگی۔
رملہ اور ہمدان بھی ان کے پیچھے کمرے سے باہر آگئے۔
بینی سیڑھیوں میں گرمی پڑی چیز میں اٹھا اٹھا کر نیچے پھینک رہی تھی ۔ شیشے کی میز ٹوٹ کر
بکھر چکی تھی۔
تم ایسا کیسے کر سکتے ہو میرے ساتھ ؟
ہمدان کو دیکھتے ہی زور سے چلائی۔
اس کا ہاتھ سیڑھیوں میں پڑے گلدان کی طرف بڑھتے دیکھ ہمدان تیزی سے رملہ کے سامنے
آگیا۔
خبر دار بینی ۔ ۔ ۔ خبر دار جواب تم نے ایسا کچھ کرنے کی کوشش بھی کی تو اچھا نہی ہوگا۔ تسلی سے میری بات سنو ۔
مسز ملک بیٹی کی حالت دیکھ کر آنسو بہا رہی تھیں اور اسے سنبھالنے کی ناکام کوشش کر
رہی تھیں۔
نہی سنوں گی میں تمہاری کوئی بھی بات آج ۔ ۔ ۔ میرا دل ایسے ہی نہی ڈرتا تھا ۔ میں جانتی
تھی تم دونوں کے درمیان کچھ ہے ۔
تم ایسے ہی اس کے پیچھے پیچھے نہی بھاگتے تھے ۔
علی اپنی ماما کے ساتھ سیڑھیوں کی طرف بڑھا اور بینی کو سہارا دیتے ہوئے نیچے صوفے تک
لایا۔
اتنا بڑا دھوکا دیا تم نے مجھے ۔ ۔ ۔ میں سوچ بھی نہی سکتی تھی کہ میرا دوست میرے ساتھ
ایسا بھی کر سکتا ہے ۔
میری حالت کچھ بہتر ہو رہی تھی اور میں ہماری آنے والی زندگی کے خواب دیکھ رہی تھی
لیکن تم نے میری زندگی ہی ختم کر دی۔
تسلی سے میری بات سنو جینی ۔ ۔ ۔ جو کچھ ہوا اس میں نہ تو رملہ کا کوئی قصور ہے اور نہ ہی
میرا۔
اس کا نام کیسے لیا تم نے ۔ ۔ ۔ ؟
بینی کے ہاتھ ٹی وی کا ریمورٹ لگا اس نے وہی ہد ان کی طرف اچھال دیا۔ ہمدان نے ریمورٹ کیچ کرتے ہوئے فرش پے بیچ دیا ۔ کیا بد تمیزی ہے یہ بینی ؟ جو ہونا تھا وہ ہو گیا ۔ ۔ ۔ تمہارے اس طرح کرنے سے بدل تو نہی جائے گا سب کچھ ۔
رملہ میری بیوی ہے اور اس سچ کو کوئی نہیں بدل سکتا۔ اس سچ کو میں بدلوں گی ۔ ۔ ۔ تم ابھی اسی وقت طلاق دوا سے ورنہ میں خود کو ختم کر لوں گی ۔
همدان تمہیں زرا ترس نہیں آرہا میری بیٹی پر ؟
تم دونوں کی بچپن کی دوستی کا کیا ہوا؟
یہ لڑکی تمہیں ہم سب سے عزیز ہو گئی ۔ بھول گئے وہ دن جب میں نے تمہیں اور تمہارے
گھر والوں کو سہارا دیا تھا ؟
سب یاد ہے مجھے تائی امی ۔ ۔ ۔ لیکن میری مجبوری کو بھی سمجھیں آپ لوگ۔ میرے پاس آپ سب ہیں لیکن رملہ کے پاس میرے سوا کچھ نہی ہے ۔ میں اسے
چھوڑنے کا سوچ بھی نہی سکتا۔
طبیعت ٹھیک نہی ہے تمہاری آو تمہارے کمرے میں چھوڑ دوں تمہیں۔
ہدان نے بینی کی طرف ہاتھ بڑھایا لیکن بینی نے اس کا ہاتھ جھٹک دیا ۔ نہی چاہیے مجھے تمہارا سہارا ۔ ۔ ۔ زندہ لاش بنا کر رکھ دیا ہے مجھے ۔ ۔ ۔ اتنی تکلیف مجھے اس بے بیماری میں نہی ہو رہی تھی جتنی بے بس میں اب محسوس کر رہی ہوں خود کو ۔ سانس گھٹ رہا ہے میرا ۔ ۔ ۔ یہی بیٹھوں گی میں ۔
کب تک بیٹھو گی یہاں ؟
تمہارے یہاں بیٹھنے سے یہ سب بدل تو نہی جائے گا۔
دیکھو اس میں کسی کا قصور نہی ہے ۔ جو کچھ ہوا میں اور رملہ دونوں مجبور تھے ۔ اگر میں اس وقت نکاح نامے پر سائن نہی کرتا تو تمہیں اور نصیر کو مار دیتے وہ لوگ ۔
مر تو میں اب بھی گئی ہوں ہمدان ۔ ۔ ۔ کاش تم بے وفائی نہ کرتے ۔ یا تو اس لڑکی کو چھوڑ دو
یا پھر اپنے ہاتھوں سے میرا گلہ دبا دو۔
مجھے نہی جینا ۔ ۔ ۔ نہی دیکھ سکتی تمہیں کسی اور کے ساتھ ۔ میرا وجود کرچی کرچی ہو چکا ہے تمہارے نکاح کی خبر سن کر ۔
کچھ وقت لگے گا تمہیں سنبھلنے میں بینی ۔ ۔ ۔ میں تمہارے لیے کچھ نہی کر سکتا ۔ رملہ چلو یہاں سے ۔۔۔ بینی کی طرف دیکھتے ہوئے رملہ کا ہاتھ تھامے اس کے کمرے میں
لے گیا۔
پیچھے سے بینی چیختی چلاتی رہ گئی کہ رک جاو ۔ ۔ ۔ مگر وہ نہی رکا۔
رملہ پلٹ پلٹ کر بینی کو دیکھ رہی تھی ۔ اس کی یہ حالت اس سے دیکھی نہی جا رہی تھی۔
کیوں کر رہے ہیں آپ بینی کے ساتھ یہ سب ؟
اس میں اس کا بھی تو قصور نہی ہے ۔ وہ محبت کرتی ہے آپ سے ۔ مجھے اندازہ نہ تھا کہ میں آپ دونوں کے درمیان آگئی تھی ۔ اس کی بے بسی اور آہیں ہیں
خوش نہی رہنے دیں گی بھی۔
رملہ کمرے میں آتے ہی بولنا شروع ہو گئی۔ ہدان غصے سے اس کی طرف پلٹا اور اس کا چہرہ دونوں ہاتھ میں تھام لیا۔
اس کی آنکھوں میں چند لمحے دیکھتا رہا اور پھر اسے چھوڑ دیا ۔
ہمیں خوش رہنے کے لیے اس کی دعاوں کی نہی بلکہ ایک دوسرے پر بھروسہ کرنے کی
ضرورت ہے ۔
کوشش کرو کہ ہمارا ایک دوسرے پر بھروسہ ہمیشہ قائم رہے اور کسی تیسرے کا ہماری زندگی میں کوئی عمل دخل نہ ہو۔
اسے کچھ وقت لگے گا لیکن سنبھل جائے گی ۔ بچپن سے جانتا ہوں میں اسے ۔ ۔ ۔ تم اس کی
زیادہ فکر نہ کرو۔
تھوڑی ضد ی ہے اور اپنی ضد پوری کرنے کے لیے کسی بھی مقام تک جا سکتی ہے پھر چاہے وہ ضد کوئی چیز ہو یا انسان ۔ ۔ ۔ لیکن اس وقت اس کی جو حالت ہے وہ صبر کے سوا
کچھ نہی کر سکتی۔
آہستہ آہستہ اسے صبر آجائے گا۔ تھوڑا وقت لگے گا۔
کیا آپ اس سے محبت نہی کرتے ؟ رملہ کے سوال پر ہمدان نے حیرانگی سے اس کی طرف دیکھا ۔ یہ کیسا سوال ہے ؟ میں تمہیں سب کچھ بتا چکا ہوں اپنے ماضی کے متعلق ۔ ۔ ۔ ہم بس اچھے دوست ہیں اور جہاں تک شادی کی بات ہے ۔ وہ ایک مجبوری کا بندھن تھا۔
صرف منگنی ہوئی تھی نکاح نہی ۔۔۔
تو آپ کے خیال میں آپ کا یہ مجبوری کا بندھن بینی کے لیے بھی مجبوری تھا ؟ اس کی چھرے کا درد اور بے بسی کیا وہ سب اس کی ضد ہے یا پھر کچھ اور ؟ وہ جو کچھ بھی ہے میں اس بارے میں سوچنا بھی نہی چاہتا ۔ ۔ ۔ فی الحال تم میری زندگی کی
سب سے بڑی زمہ داری ہو۔
تمہیں چھوڑنے کا تصور بھی نہی کر سکتا ہیں۔
اس کا مطلب آپ بہت خود غرض ہیں۔ اپنی خوشیوں کی پرواہ ہے آپ کو لیکن بینی کی نہی ۔ ۔ ۔ وہ دوست جو زندگی کے ہر اچھے برے وقت میں آپ کے ساتھ کھڑی رہی ۔
آج ایک اجنبی لڑکی کے لیے اسے چھوڑ دیا آپ نے ؟
اجنبی لڑکی ۔۔۔؟ تم اجنبی لڑکی نہی بیوی ہو میری ۔ ۔ ۔ تمہاری ایک ایک سانس سے باخبر رہنے والے کے لیے اجنبی کیسے ہو سکتی ہو تم ؟
وہ دن جس دن تمہاری اماں نے تمہارا سودا کیا تھا ۔ اس دن سے ہر ایک دن کی خبر ہے مجھے ۔ ۔ ۔ اس بند کمرے میں کیا ہوا تھا جہاں تمہیں اس آدمی کے ساتھ بھیجا گیا تھا اور تم کتنے بجے کی فلائٹ سے کونسے ملک اور کونسی یونیورسٹی گئی سے واپس آنے تک ۔
بس ایک بات کی خبر دیر سے ملی مجھے ۔ ۔ ۔ آنٹی کی دیقہ اور تایا ابو سے تمہارے رشتے کے
متعلق ۔
ان دنوں میں ملک سے باہر تھا اور میرا رابطہ نہیں ہو سکا روشنی سے ۔ ۔ ۔ جب واپس آیا تو
اچانک سے تم سامنے آگئی۔
ور نہ ایسا کوئی دن نہی گزرا تھا جب میں نے روشنی سے تمہاری خیریت دریافت نہ کی ہو۔ تمہارا سودا صرف ایک دکھاوا تھا مجھے نیچا دکھانے کے لیے ۔ ۔ ۔ اس آدمی نے تمہیں ہاتھ
تک نہی لگایا تھا ۔
میرے بے ہوش ہوتے ہی تمہیں کمرے سے باہر بھیج دیا گیا تھا اور اس کمرے میں روشنی تمہارے ساتھ موجود تھی۔
یہ بات مجھے روشنی نے اسی رات بتا دی تھی فون پر لیکن میں تمہارے منہ سے سب سننا
چاہتا تھا۔
لیکن تم نے بتانا ضروری ہی نہی سمجھا ۔ ۔ ۔ خیر ۔ ۔ ۔ اب بتانے اور کہنے کے لیے کچھ بچا
بھی نہی۔
مجھے کسی کے بتانے یا نہ بتانے سے کوئی فرق نہیں پڑتا کیونکہ تمہاری پاکدامنی کا سب سے بڑا
گواہ میں خود ہوں ۔
رملہ کا ہاتھ تھام کر ہونٹوں سے لگاتے ہوئے مسکرا دیا۔ مجھے لگا تھا میں تمہاری حفاظت نہی کر سکا۔ لیکن ان لمحوں میں جس سے تمہاری حفاظت کی
دعا کی تھی اس نے تمہاری حفاظت کی ۔ میں آنٹی کی اس صد سے انجان تھا ۔ تایا جی اور ان کے رشتے کے لحاظ سے وہ بس تمہیں
پروٹیکٹ کر رہی تھیں ۔
جانتی تھیں کہ میں ان کی بیٹی کے لیے ایک مظبوط سہارا ہوں ۔ اسی لیے تو تمہارا ہاتھ میرے
ہاتھ میں دے دیا ہمیشہ کے لیے ۔
تو پھر آج ایک بے جان رشتے کے لیے ان کا مان کیسے توڑ دوں میں ؟ جس کے سہارے پر وہ اپی بیٹی کو تنہا چھوڑ گئی ہیں وہ سہارا ان کی بیٹی سے کیسے چھین لوں
میں؟
نکاح صرف الفاظ نہی ہیں بلکہ دو روحوں کے ملن کی گواہی ہے جس کا گواہ خود اللہ ہے ۔ "
تو پھر اپنے اللہ سے کیا وعدہ کیسے توڑ دوں میں؟
تمہیں تحفظ دینے کا وعدہ کیا تھا اللہ ہے ۔ ۔ ۔ تو آج جب تمہیں میرے سہارے کی سب
سے زیادہ ضرورت ہے کیسے اکیلا چھوڑ دوں ؟
سب کی فکر چھوڑ کر کیا چند لمحوں کے لیے تم میری فکر نہی کر سکتی ؟
جو تمہارے لیے پوری دنیا سے لڑنے کے لیے تیار ہے کیا اس کے لیے اپنی انا کو نہی مار
سکتی؟
میں نہی جانتا تھا کہ میرا دل نا چاہتے ہوئے بھی تمہاری جانب کیوں کھینچ چلا آتا تھا۔ مجھے بلکل اندازہ نہی تھا کہ ہمارا تعلق روح کا تعلق بن جائے گا۔
وہ اللہ ہے ناں دلوں میں محبت ڈالنے والا ۔ ۔ ۔ جب وہ ہمارے دل میں کسی کے لیے محبت ڈالتا ہے ناں تو اس کے پیچھے اس کی کوئی تدبیر چھپی ہوتی ہے ، ہم انسان کم عقل اور نا سمجھ ہیں جو وقتی طور پر اس کے فیصلوں کو نہی سمجھ پاتے لیکن وہ اپنی آزمائیشوں سے ہمیں اپنے فیصلے سمجھاتا ہے ہماری قسمت میں جو لکھا جاتا ہے اس کے گن " سے ہی ممکن
ہوتا ہے"
زیادہ مت سوچو اور اللہ کے اس فیصلے کو دل سے قبول کر کے دیکھو ۔ ۔ ۔ تمہیں سکون ملے
وقتی طور پر تمہیں میں خود غرض لگوں گا لیکن میری یہ خود غرضی اپنے لیے نہی تمہارے لیے ہے ۔ سوچو اگر میں تمہیں چھوڑ کر بینی کے پاس چلا جاوں تو کیا تم خوش رہ سکو گی ؟ ہمارا رشتہ اب صرف کاغزات کی حد تک نہی رہاد ہمارے جسم اور روحیں بھی جڑ چکی ہیں ۔ روح کے جسم سے جدا ہونے کا مطلب جانتی ہو تم ؟
اس وقت یہ جسم تو میرا ہے لیکن اس میں بہنے والی روح تمہاری ہو چکی ہے ۔ تمہیں خود
سے دور بھیجنے کا تصور بھی نہی کر سکتا ہیں۔ تم سے کوئی رابطہ نہ ہونے کے باوجود بھی صبح کا سورج نکلنے سے پہلے تمہارے پاس پہنچنے
والا اپنے لیے خود غرض کیسے ہو سکتا ہے ؟
بینی سے میرا رشتہ روح کا نہی ہے ۔ ۔ ۔ کچھ دن لگیں گے اسے سنبھلنے میں لیکن سنبھل جائے گی اور دوسری طرف اگر میں تم سے تعلق ختم کر دوں تو تم زندگی بھر نہی سنبھل سکو
گی۔
سمجھی ۔ ۔ ۔ ۔ یا اور سمجھاوں ؟
مسکراتے ہوئے رملہ کا سر سینے پے رکھتے ہوئے اس کے ماتھے پر ہونٹ رکھ دیے ۔ رملہ نے آنسو بہاتے ہوئے سر اٹھا کر اس کی طرف دیکھا اور مظبوطی سے اس کی شرٹ کو
مٹھیوں میں جکڑے مسکرا دی ۔
دروازہ کھلا ہے مسز ہمدان ۔ ۔ ۔ اب اتنی بے تکلفی بھی اچھی نہی ہے ۔ آرام کرو میں کھانا بھجواتا ہوں ۔ اور فکر کرنے کی بلکل ضرورت نہی ۔ تمہاری فکر کرنے
کے لیے میں ہوں ۔
بس اپنی آنے والی زندگی کا سوچو ۔ ۔ ۔ تایا ابوہماری شادی کی تیاریاں کر رہے ہیں ۔
بینی کے لیے اللہ نے بہت بہتر سوچا ہوگا۔
تا یا ابو کی بیٹی ہے وہ بھی اور اس وقت سب سے گہرا صدمہ انہیں لگا ہے لیکن پھر بھی وہ خوش کیونکہ ان کی دوسری بیٹی کی خوشیاں مجھ سے جڑی ہیں۔
بعد میں ملتے ہیں ۔ ۔ ۔ ایک ضروری کام ختم کرنا ہے مجھے ۔
ہمدان کمرے سے باہر چلا اور رملہ مسکراتی ہوئی صوفے پر بیٹھ گئی ۔ آپ کا فیصلہ غلط نہی تھا
اماں ۔
ہمدان میری زندگی کا سب سے مظبوط سہارا ثابت ہو رہے ہیں ۔
یونہی گہری سوچ میں گم صوفے پے سر ٹکائے آنکھیں بند کرلی۔
دو دن بعد ---
شام کے وقت گھر کی بیل بجی اور اندرونی دروازے سے کوئی اندر آتا دکھائی دیا۔ اسے آتے دیکھ بینی نے گردن گھما کر اسے دیکھا اور پہچانے کی کوشش کر ہی رہی تھی کہ
ہمدان کی آواز پر چونک گئی ۔
نصیر ۔ ۔ ۔ تم یہاں؟ تمہاری اتنی ہمت کہ تم میرے گھر تک پہنچ گئے۔ ہمدان سیڑھیاں پھلانگتے ہوئے غصے سے اس کی طرف بڑھا۔
Cool Down mr Hamdan
کیا آپ کے گھر میں مہمان کا استقبال ایسے کرتے ہیں؟
بندہ سلام کرتا ہے حال پوچھتا ہے ۔ آپ تو بڑے چھوٹے دل والے نکلے ۔ نصیر ا بھی بول ہی رہا تھا کہ سیڑھیوں سے نیچے آتی رملہ پر نظر پڑی۔ اسے سامنے دیکھ کر مسکراتے ہوئے ہمدان کا راستہ کاٹتے ہوئے تیزی سے اس کی طرف بڑھ گیا۔ اس سے پہلے کہ وہ رملہ کے پاس پہنچتا ہمدان تیزی میں رملہ کے سامنے آکر رک گیا ۔ بینی بڑی دلچسپی سے یہ سارا منظر دیکھ رہی تھی۔
GetOut!
ہمدان بنا کوئی لحاظ کیسے غصے سے بولا۔
چلا جاوں گا ملک ہمدان ۔ ۔ ۔ آپ فکر نہی کریں ۔ کسی ضروری کام سے آیا تھا یہاں۔ یہ للہ ۔ ۔ ۔ میرا مطلب آپ کی مسنز کا پرس ہمارے گھر رہ گیا تھا بس وہی واپس دینے آیا
تھا۔
بہت لمبا سفر تھا ۔ ۔ ۔ لیکن خیر مجھے منزل مل ہی گئی۔ یہ لیجئیے ۔ ۔ ۔ اپنے کوٹ کی اندرونی جیب سے رملہ کا پاونچ نکال کر ہمدان کی طرف بڑھایا۔ ہمدان نے غصے سے اس کے ہاتھ سے پاونچ کیا اور اسے باہر جانے کا راستہ دکھایا۔
اتنی بے عزتی پر بھی نصیر مسکرا دیا۔ میں نہی آتنا مسن ہمدان لیکن اس میں آپ کا فون اور
آئی ڈی کارڈ تھا تو مجھے مجبوراً آنا پڑا۔
وہ رملہ کا نام لینے کی بجائے اسے مسٹر ہمدان کہ کر مخاطب کر رہا تھا۔ آپ نے اتنی زحمت کی اس کے لیے شکریہ ۔ ۔ ۔ لیکن اب آپ جاسکتے ہیں مسٹر
نصیر ۔ ۔ ۔ ہمدان نے ایک بار پھر اسے باہر کا راستہ دکھایا ۔
ہم ۔ ۔ ۔ نصیر بے بس سا ایک نظر رملہ پر ڈالتے ہوئے دروازے کی طرف بڑھ گیا لیکن پھر
رک کر پلٹا اور بینی کو دیکھا۔
اسے دیکھ کر بینی مسکرادی۔
نصیر نے آگے بڑھنا چاہا لیکن پھر ہمدان کی نظریں خود پر جمی دیکھ کر مسکراتے ہوئے دروازے کی طرف چل دیا اور دوبارہ پلٹ کر نہی دیکھا۔
عجیب ہی ہے یہ ملک ہمدان بھی ۔ ۔ ۔ بندہ گھر آئے مہمان کو پانی کا ایک گلاس تو پلا ہی سکتا ہے لیکن نہی ان محترم پر تو بس عشق کا بھوت سوار ہے ۔
رملہ کے سامنے تو ایسے کھڑا ہو گیا جیسے میں ابھی اسے چھین کر لے جاوں گا جناب
سے ۔ ۔ ۔ مسکراتے ہوئے گاڑی میں بیٹھ گیا اور گاڑی اسٹارٹ کرنے کے لیے چابی لگائی
ہے۔۔۔
ہی تھی کہ فون کی رنگ ٹون بجی۔
سکرین پر جگمگاتا نمبر اور نام دیکھ کر ماتھے پر بل پڑے ۔ ۔ ۔ اسے کیا کام ہو سکتا ہے مجھ
ے؟
سوچ میں پڑ گیا ۔ ۔ ۔ مسلسل کال آتی رہی تو مجبورا کال اٹھالی ۔ جی ۔ ۔ ۔ مس بینش کیسے یاد کیا آپ نے اس ناچیز کو؟
میرا نمبر ا بھی تک سیور کھا تم نے یہ جان کر بہت خوشی ہوئی مجھے ۔ ہم ۔ ۔ ۔ کام کی بات کریں مس بیش, کیسے خیال آیا مجھے کال کرنے کا ؟ ہمارے درمیان اتنی بے تکلفی اچھی نہی لگی مجھے ۔
نصیر کے جواب پر مینی نے قہقہ لگایا ۔ ۔ ۔ سہی کہا تم نے ہمارے درمیان اتنی بے تکلفی اچھی نہی مگر کبھی کبھی بے تکلفی بھی بہت ضروری ہوتی ہے۔
جانتی ہوں تم پسند کرتے ہو رملہ کو ۔ ۔ ۔ جو کچھ اس کے ساتھ کیا اس کا بہت پچھتاوا ہے
تمہیں لیکن کیا ہو اگر وہ تمہاری ہو جائے ۔ ۔
میری ۔ ۔ ۔ وہ کیسے ؟
شاید آپ بھول رہی ہیں وہ ہمدان کے نکاح میں ہے ۔
نکاح ہی ہوا ہے رخصتی تو نہی ۔ ۔ ۔ اگر تم ساتھ دو تو ہم ان دونوں کا یہ نکاح رخصتی سے
پہلے ختم کروا سکتے ہیں۔
پھر نہیں تمہاری محبت مل جائے گی اور مجھے میری ۔ ۔ ۔ کیا خیال ہے ؟ دماغ خراب ہو گیا آپ کا ۔ ۔ ۔ جسمانی کمزوری کے ساتھ ساتھ دماغی کمزوری بھی لاحق ہو چکی
ہے شاید آپ کو مس بینی ۔
نصیر نے کال کاٹ دی اور فون ساتھ والی سیٹ پر پھینک کر گاڑی اسٹارٹ کر دی ۔ کال بند ہونے پر بینی نے بے یقینی سے فون کو دیکھا ۔ اس نے میری کال کاٹ دی ۔ ۔ ۔ اس کی اتنی ہمت ۔ ۔ ۔ دوبارہ کال ملانے لگی ہی تھی کہ رک گئی ۔ نہی نہی۔۔۔ میں نہی اب تم خود مجھے کال کرو گے ۔ جو آگ میں نے تمہارے دل میں لگائی ہے ناں یہ تمہیں مجبور کرے گی مجھ سے بات کرنے کو ۔
فون وہاں رہ گیا تھا بتا یا کیوں نہی مجھے ۔۔۔۔؟
کمرے میں آتے ہی ہمدان رملہ پر تپ گیا۔
مجھے لگا آپ ناراض ہو گے ۔۔۔ اسی لیے نہی بتایا میں نے مجھے اندازہ نہی تھا کہ نصیر یہاں
آجائے گا۔
itsok...
اس بات کو یہی ختم کرتے ہیں۔ ۔ ۔ ہمدان گہری سانس لیتے ہوئے کمرے سے باہر چل دیا
اور ٹیرس پر آگیا ۔
یہ دیکھنے کے لیے کہ نصیر چلا گیا یا نہی ۔ ۔ ۔ جب اس کی گاڑی نظر نہی آئی تو پر سکون سا اندر
واپس آ آ گیا ۔
@@@@@@@@@@@@@@@@@@@@@@@@@@@@
ایک ہفتے بعد ۔۔۔
مسر ملک صبح سے تیاریوں میں مصروف تھیں شاید ان کے کچھ رشتہ دار آنے والے تھے ۔ سب کو یہی لگ رہا تھا مگر حقیقت کچھ اور ہی تھی۔
دوپہر کے دو بج رہے تھے کہ گھر کے اندرونی دروازے سے آتے شخص کو دیکھ کر ہمدان
کے ماتھے پے بل پڑے ۔
سامنے نصیر کھڑا تھا لیکن اس بار اکیلا نہی تھا اس کی والدہ بھی ساتھ تھیں ۔
مسز ملک خوشی خوشی آگے بڑھیں اور ان کا ویلکم کیا۔ ہمدان ٹی وی لاونج کے صوفے پر بیٹھا لیپ ٹاپ پر کچھ کام کر رہا تھا۔ لیپ ٹاپ سائیڈ پر
رکھتے ہوئے دونوں بازو سینے پر فولڈ کیسے حیران سا کھڑا ہو گیا ۔
سامنے صوفے پر لیٹی بینی کے چہرے پر فاتخانہ مسکراہٹ پھیل گئی۔ نصیر کی ماں بینی کے پاس آئیں اور اس کے سر پر ہاتھ رکھتی ہوئی مسکرا دیں۔
بہت پیاری ہے میری بیٹی ۔۔۔ نصیر کی طرف دیکھتی ہوئی بولیں ۔ همدان اس سارے معاملے کو سمجھنے کی کوشش کر رہا تھا ۔ اس کے دماغ میں خطرے کی
لھنٹی بجی۔
کیوں آئے ہیں آپ لوگ یہاں ۔ ۔ ۔ ؟
تیزی سے نصیر کی ماں کی طرف بڑھا اور بنا کوئی لحاظ رکھے بولا۔
بدلے میں وہ مسکرادیں ۔ ۔ ۔ بیٹا پرانی باتیں بھلا دیں اب رشتہ دار بننے والے ہیں ہم ۔
رشتہ دار ۔۔۔؟
What?
میں کچھ سمجھانی ۔ ۔ ۔ رشتہ دار کیسے بن سکتے ہیں ہم ؟ مسز ملک غصے سے آگے بڑھیں ۔ تم سے مطلب؟
کی
تم جاواپنے کمرے میں اور اپنی بیوی کو سنبھالو۔ تمہیں کوئی حق نہی ہے ہمارے معاملات
میں بولنے کا ۔
ملک صاحب بھی وہاں آگئے اور سلام کرتے ہوئے صوفے پر براجمان ہو گئے۔ مجھے کوئی بتائے گا آخر کیا چل رہا ہے یہاں؟
ہدان کو سیخ پا ہوتے دیکھ بینی کے چہرے پر مسکراہٹ پھیل گئی ۔ بالوں کی لٹ کو انگلی پر
لیٹتے ہوئے طنز بھری نظروں سے ہمدان کو دیکھا۔
میرے رشتے کی بات چل رہی ہے یہاں نصیر سے ۔ ۔ ۔ تمہیں کوئی اعتراض ہے ؟ اس کی اتنی بے باقی پر ہمدان حیران رہ گیا۔
تمہارا رشتہ نصیر سے ۔ ۔ ۔ دماغ تو خراب نہی ہو گیا تمہارا؟
تو ۔ ۔ ۔ اس میں اتنا حیران ہونے والی کیا بات ہے ؟
تم چوری چھپے نکاح کر سکتے ہو اور میں عزت سے رخصت بھی نہی ہو سکتی ؟
تا یا ابو آپ جانتے ہیں سب ؟
ہمدان بینی کی بات کا جواب دینے کی بجائے ملک صاحب کی طرف بڑھا۔ نصیر ٹانگ پے ٹانگ جھائے پر سکون سا صوفے پر بیٹھ گیا اور ماں کو بھی بیٹھنے کا کہا۔
وہ بھی مجبور اور بے بس سی بیٹھ گئی۔
ہاں بیٹا ۔ ۔ ۔ مینی کی خوشی اسی میں ہے تو کیا کہہ سکتا ہوں میں؟
ملک صاحب کے اتنے پر سکون جواب پر ہمدان نے ایک غصے بھری نظر نصیر پر ڈالی اور ایک نظر مینی کو دیکھ کر افسردگی سے سر ہلایا اور وہاں سے چل دیا۔
@@@@@@@@@@@@@@@@@@@@@@@@@@@@@@@
چھ ماہ بعد
ہمدان اور رملہ کے ولیمے والے دن بینی اور نصیر کی منگنی طے پائی ۔ ہمدان کچھ نہی کر سکا کیونکہ ملک صاحب نے انہیں لاجواب کر دیا تھا۔ وہ سب کچھ نظر انداز کرتے ہوئے رملہ کا ہاتھ تھامے اپنی خوشیوں میں مگن بیٹھا تھا۔
نصیر اپنی پوری فیملی کے ساتھ ہال میں داخل ہوا اور ہمدان کے ساتھ والے صوفے پر بیٹھ
گیا۔
بینی اپنے پاوں پر چلتی ہوئی اسٹیج تیک آئی اس کی حالت اب کافی بہتر ہو چکی تھی۔ ملک صاحب نے نکاح خواں کو نکاح پڑھوانے کا بولا تو بینی کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ
گئیں۔
اس نے حیرانگی سے نصیر کی طرف دیکھا۔
نصیر نے چہرہ دوسری طرف موڑلیا اور لاپرواہی کا مظاہرہ کیا۔
ایسا کیسے ہو سکتا ہے ڈیڈ ۔ ۔ ۔ منگنی کو نکاح میں کیسے بدل سکتے ہیں آپ؟ اس نے ملک صاحب کے کان میں سر گوشی کی مگر وہ بھی انجان بنے رہے اور نکاح
شروع ہو گیا۔
بینی نے ایک نظر مسکراتی ہوئی رملہ کو دیکھا اور اس کے چھرے پے جمی ہمدان کی گہری
نظریں اسے نظر جھکانے پر مجبور کرگئی۔
کپکپاتے ہو ٹوں اور لڑکھڑاتی آواز میں نکاح قبول کیا اور کانپتے ہاتھوں سے سائن کرنے
کے بعد وہی بیٹھی آنسو بہاتی رہ گئی۔
سب نے مبارک باد دی اور رخصتی کا شور مچ گیا ۔ رخصتی کے نام پر وہ مزید چونک گئی ۔ حیرت زدہ سی کبھی نصیر کو اور کبھی ماں باپ کو دیکھتی رہ گئی ۔ ۔ کچھ بولنے اور پوچھنے کا موقع
ہی نہی ملا ا سے ۔
خوش تب آیا جب نصیر ے اس کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھا ۔ ۔ کیسا گا سر پر از ؟ بینی نے چونک کر اپنا ہاتھ واپس پیچ لیا۔
تم نے یہ کیا کھیل کھیلا ہے میرے ساتھ ؟
ہماری ڈیل تو منگنی کی ہوئی تھی ناں ۔ ۔ ۔ پھر یہ نکاح اور رخصتی کہاں سے آگئی ؟ نصیر اسٹیرنگ وہیل پے پے نظریں جمائے مسکرا دیا۔
ایک ڈیل تم نے کی تھی مس بینی اور ایک ڈیل میں نے خود سے کی تھی کہ تمہیں رملہ کی خوشیاں برباد نہی کرنے دوں گا ۔
اتنا سب کچھ ہونے کے بعد بھی تم نہی بدلی ۔ ۔ ۔ آج بھی اتنی ہی خود غرض ہوگی میں سوچ
نہی سکتا تھا۔
تم منگنی چاہتی تھی لیکن میں نے انکل آنٹی سے ڈائر یکٹ نکاح کی ڈیمانڈ کی وہ بھی تمہیں نا
بتانے کی شرط رکھتے ہوئے ۔
ان کی معزور اور بے بس بیٹی کو کون بیا بنے آنے والا تھا ۔ ۔ ۔ بس مجبوری میں انہوں نے
ہاں کر دی۔
You....
آواز نچی ۔ ۔ ۔ عمر میں چاہے مجھ سے چار پانچ سال بڑی ہیں آپ محترمہ لیکن شوہر کی عزت
بھی کوئی چیز ہوتی ہے ۔ جب ساری زندگی ساتھ رہنا ہے تو پھر جھگڑنے کا کیا فائدہ؟
میں زہر کھالوں گی مگر تمہارے ساتھ نہی رہوں گی ۔ ۔ ۔ دیکھنا بہت جلد تم سے طلاق لے کر تمہاری اس مڈل کلاس محبوبہ کی زندگی عزاب نہ بنائی تو میرا نام بدل دینا ۔
Lets See
اپنے لیے نیا نام ڈھونڈ لو پھر کیونکہ میں نے بھی قسم کھائی ہے کہ تمہیں ان دونوں کی
خوشیاں برباد نہی کرنے دوں گا۔
اور تمہاری خوشیوں کا کیا ؟
تم تو رملہ سے محبت کرتے تھے ناں اس کا کیا ؟
محبت نہی " عشق " کرتا ہوں اس سے اور ہمیشہ کرتا رہوں گا ۔ ۔ ۔ ضروری نہی ہے جس سے محبت ہو اس کا ساتھ ملے جو مل کر بھی نہ ملے اسی کو تو عشق کہتے ہیں۔ محبوب کی یاد میں جو سکون ملتا ہے ناں ۔ ۔ ۔ اس سکون کا نام ہے ایک ایسا جنون ہی جس کی کیفیت طاری ہوتے ہی اپنا آپ تو بھول سکتے ہیں لیکن
خیال یار سے غافل نہی ہو سکتے آپ ۔ خیر آپ کے بس کی بات نہی ان باتوں کو سمجھنا مسنز ۔ ۔ ۔ آپ سو جائیں آرام سے سفر
بہت لمبا ہے ۔ چاہیں تو میرے کندے پے سر رکھ سکتی ہیں میں برانہی مانوں گا ۔ ۔ ۔ ۔ مجھے کوئی ضرورت نہی تمہارے سہارے کی ۔ ۔ ۔ پورے راستے آنسو بہاتی
رہی۔
گھر پہنچتے ہی نصیر کی بینی اور ماں اسے اس کے کمرے میں لے آئیں اور دعائیں دیتی ہوئی کمرے سے رخصت ہو گئیں ۔
کچھ دیر بعد نصیر کمرے میں آیا تو بینی چوڑیاں اتارا اتار کر پھینک فرش پر پھینک رہی تھی۔ مجھے نہی رہنا تمہارے ساتھ ۔ ۔ ۔ آخر میرے ساتھ ہی کیوں ہوا ہے یہ سب کچھ ؟ میں نے تو کسی کا کچھ نہی بگاڑا تھا ۔ ۔ ۔ بے فانی ہدان نے کی تھی میں تو اس کے ساتھ مخلص تھی۔
کچھ نہی چاہیے مجھے ۔ ۔ ۔ میری زندگی ہی فضول ہے ۔ میں کسی کی زندگی میں شامل ہوئی بھی تو اس کی محبوبہ کی خوشی کے لیے میرا اپنا کیا مقام ہے؟
نصیر مسکراتے ہوئے اس کے سامنے بیٹھ گیا اور اس کا ہاتھ مظبوطی سے تھام لیا ۔ مقام حاصل کرنے کے لیے مقام بنانے پڑتے ہیں۔
ایک سال پہلے جو کچھ میں نے رملہ کے ساتھ کیا مجھے بھی ایسا لگ رہا تھا کہ میری زندگی اب فضول ہے۔ خود کو بہت اذیت بھی دی لیکن قسمت دیکھو میں مرا ہی نہی ۔۔ مجھے موت
اس وقت آئی جب رملہ کے نام کے ساتھ ہمدان کا نام دیکھا۔
اس دن میں واقعی مر گیا تھا ۔۔۔ پھر اس کی خوشیوں کے لیے اپنی خوشیوں پر پر فاتحہ پڑھ لی
میں نے ۔
پھر تم سے ملاقات ہوئی ۔ ۔ ۔ تمہیں اس حال میں دیکھنا بہت درد ناک تھا میرے لیے ۔ خیر پھر محترمہ نے شادی کی آفر کی ۔۔۔ کچھ دن سوچا اور پھر بہت سوچنے کے بعد مجھے فیصلہ
کرنا ہی پڑا۔
سوچا دونوں ہی ٹوٹ چکے ہیں تو کیوں ایک دوسرے سے جڑا کر مزید بکھرنے سے بچالیں
خود کو ۔ ۔ ۔ آخر تمہارا قصور وار تو میں ہی تھا ۔
ناں میں وہ سب کچھ کرتا اور نہ ان دونوں کا نکاح ہوتا ۔ ۔ ۔ تمہیں تو بغیر کسی جرم کے سزا
ملی۔
سوچا کیوں ناں تمہاری زندگی سے سارا درد تم سے چھین لوں اور تمہارا ہمدرد بن جاوں ۔ بینی کے مزید نزدیک ہوا اور اس کا چہرہ دونوں ہاتھوں میں تھامے اس کے چہرے پے
بکھرتے آنسووں کو ہونٹوں سے چنتا چلا گیا ۔ کیوں ناں ایک دوسرے کے ہمدرد بن جائیں ؟ بینی نے بے پر سکون ہو کر اس کے سینے پے سر رکھ دیا۔ اسے واقعی ایک سہارے کی ضرورت تھی۔ اپنی زندگی کے سارے باب بند کرنے کی دعا کرتی ہوئی جی بھر کر رو دی ۔ نصیر نے بھی مسکراتے ہوئے اس کے گرد بازو پھیلا دیے۔
@@@@@@@@@@@@@@@@@@@@@@@@@@@@
رملہ نماز پڑھ کر دادو اور دادا جی کے پاس ٹیرس پر آگئی ۔ ہمدان پہلے سے ہی وہاں موجود تھا ۔ وہ دونوں اس سے رملہ سے پہلی ملاقات سے لے کر نکاح تک کی کہانی سننے میں مصروف
تھے۔
رملہ دادو کے پاس بیٹھ گئی اور ان کے کندھے پر سر ٹکائے مسکراتی ہوئی ہمدان کی باتیں سن میں مصروف ہو گئی۔
دل چاہ رہا ہے آپ ایسے ہی بولتے رہیں اور میں آپ کو دیکھتی رہوں ۔ ۔ ۔ دل میں سوچتی
ہوئی مسکرادی۔
ہمدان اس کی طرف دیکھ کر مسکرا دیا ۔
ویسے یہ بینی کا نکاح کچھ زیادہ ہی جلد بازی میں نہی کر دیا تمہاری تائی امی نے ہمدان؟ اور رخصتی کا تو کوئی ذکر ہی نہ ہوا تھا گھر میں پھر اچانک نکاح اور رخصتی کیسے کر دی ؟
داد و پریشان سی بولیں ۔ پتہ نہی کیسے رہے گی میری نازک سی بچی ان انجان لوگوں میں ۔ ۔ ۔ لڑکا دیکھنے میں تو بہت اچھا لگ رہا تھا ویسے رپتہ نہی اس کی ماں اور بہنیں کیسی ہو ۔
میری بینی نے تو کبھی سوچا بھی نہی تھا اس گھر سے جانے کا۔ ۔ ۔ پتہ نی کیسے دل لگے گا اس کا وہاں انجان گھر دانجان لوگ اور انجان شہر میں ۔
Don’t worry Dado jan
وہ مینیج کرلے گی ۔ نصیر بہت اچھا لڑکا ہے اور اس کی والدہ بھی بہت اچھی ہیں ۔ تایا ابو نے مجھ سے مشورہ کیا تھا نکاح اور رخصتی کے بارے میں۔ میں نے کہا جیسا آپ کو مناسب لگے۔
نصیر چاہتا تھا کہ بینی کو بتائے بغیر یہ سب ہو اور میں نے فیصلہ تا یا ابو پر چھوڑ دیا۔
توکیا میری بیٹی ساری زندگی تمہارے انتظار میں گزار دیتی؟ مسز ملک کرسی تینچ کر بیٹھتی ہوئی بولیں ۔
میرا یہ مطلب نہی تھا بڑی ماما ۔ ۔ ۔ میں تو بس یہ کہہ رہا تھا کہ ۔۔۔
بس بس رہنے دو ۔ ۔ ۔ سب جانتی ہوں تم کیا کہنا چاہتے ہو ، یہی ناں کہ میری بیٹی باقی کی
زندگی تمہارے انتظار میں گزار دیتی ؟ تم نے تو شادی کر لی اس لڑکی ہے ۔ ۔ ۔ نہ آگے کا سوچا نہ پیچھے کا کیا کیا خواب تھے میری بیٹی کے ۔ تم نے سب کچھ برباد کر دیا اس لڑکی کی وجہ سے ۔
ہمدان چپ چاپ وہاں سے اٹھ کر چلا گیا۔ رملہ بھی اٹھنے ہی لگی تھی کہ مسز ملک نے روک لیا۔
بیٹھ جاو تم آرام سے ۔ ۔ ۔ تم کہاں چلی؟
ان کی آواز پر ہمدان دروازے کے پاس ہی رک گیا لیکن آگے نہی آیا۔ جو بھی ہو اب تم اس گھر کی بڑی بہو ہو ، بیٹی تو نہیں مان سکتی میں تمہیں اپنی لیکن ہو تو بن ہی
چکی ہو تم چاہے زبر دستی ہی سہی ۔
اس گھر کی زمہ داریاں اب تمہیں سنبھالنی ہیں, سمجھ آئی یا نہی ؟
جی ۔ ۔ ۔ آنٹی ۔۔۔ رملہ نے مختصر جواب دیا ۔
ہمدان کی ماما با باعلی پوپھو اور ملک صاحب بھی وہی آگئے۔
ان کو آتے دیکھ ہمدان بھی واپس اپنی کرسی پر آکر بیٹھ گیا۔ اچھا کلاس ہو رہی ہے بھا بھی کی ۔ ۔ ۔ علی نے ہمدان کے کان میں سر گوشی کی۔ بدلے میں ہمدان نے اس کے کندھے پر مکا رسید کیا۔ افف بھائی کتنی زور سے مارا ہے آپ نے ۔ ۔ ۔ یہ کل سے جم جانا بند کر دیں آپ ورنہ
میری ہڈیاں پکا توڑ دیں گے آپ ۔
تم اپنی چونچ بند کرو گے علی؟
ماں کے علی کو ٹوکنے پر ہمدان مسکرا دیا اور علی نے ہونٹوں پر انگلی رکھ دی۔
اس گھر کی بڑی ہمیشہ میں ہی رہوں گی سن لو تم بھی یہ بات کان کھول کر ہمدان ۔ ۔ ۔ ہوگے تم بہت بڑی فیکٹری کے مالک لیکن اس گھر میں تمہاری نہی میری ملے گی سمجھا دینا اپنی
بیوی کو اچھی طرح ۔
جی جی تائی امی ۔ ۔ ۔ بلکل آپ کا حکم سر آنکھوں پر رملہ ویسا ہی کرے گی جیسا آپ چاہیں گی۔
آپ کی بیٹی ہے جیسے چاہیں اس سے اپنی باتیں منوا سکتی ہیں۔
بیٹی نہی ہے یہ میری ۔۔۔ البتہ تم میرے بیٹے ہو اس لحاظ سے اسے ہو مان سکتی ہوں ۔
چلو شکر ہے کچھ تو مانا آپ نے ورنہ آپ کو مانے کی کی عادت ہی کہاں ہے ۔ آپ تو
منوانے کی عادی ہیں ۔
ملک صاحب کی بات پر سب ہنس دیے تو مسز ملک بھی مسکراتی ہوئیں وہاں سے چلی گئیں ۔ آہستہ آہستہ سب دونوں کو دعائیں دیتے ہوئے اپنے اپنے کمروں میں چلے گئے۔
رملہ اور ہمدان اکیلیے وہاں رہ گئے ۔ رملہ نے تحیہ اٹھا کر ہدان کی طرف اچھالا۔ ہدان کا دھیان فون میں تھا تو تحیہ سیدھا اس کی ناک ہے لگا اور اس کے ہاتھ سے فون گر گیا۔
رکو زرا ابھی بتاتا ہوں تمہیں ۔ ۔ ۔ وہ رملہ کے پیچھے دوڑا اور رملہ نے کمرے کی طرف دوڑلگا
دی۔
دونوں کو بھاگتے دیکھ علی بھی ان کے پیچھے کمرے میں آگیا۔ کو نسائیم کھیل رہے ہیں آپ
دونوں ؟
مجھے بھی ساتھ کھلا لیں ۔
بیٹا آپ جا کر اپنی پڑھائی پر توجہ دیں۔ ہمدان اسے کان سے کھینچتے ہوئے اس کے کمرے
میں لایا اور مسکراتے ہوئے اپنے کمرے میں چلا گیا ۔
ویسے سہی کہتے ہیں لوگ شادی کے بعد لوگ بدل جاتے ہیں ۔ ۔ ۔ خیر مجھے کیا ؟
پڑھائی کس نے کرنی ہے ، میں تو سووں گا سکون سے ۔ ۔ ۔ تیزی سے بیڈ پر چھلانگ لگائی اور
سونے کے لیے لیٹ گیا۔
ہمدان کمرے میں واپس آیا اور دروازہ بند کرتے ہوئے رملہ کی طرف بڑھا ۔ وہ پر سکون سی
سورہی تھی ۔ اتنی جلدی سو بھی گئی؟
ہمدان نے لائٹ بند کی اور اس کا سر اپنے بازو پے رکھتے ہوئے اس کے ماتھ پر ہونٹ
رکھ دیے۔
وہ واقعی سو چکی تھی ۔ ۔ ۔ اسے سوتے دیکھ ہمدان کے ہونٹوں پر مسکراہٹ پھیل گئی۔ ایک ہفتے بعد بینی اور نصیر کے ویسے کا فکشن رکھا گیا۔ دونوں کو خوش دیکھ کر پورے گھر والے پر سکون ہو گئے ۔
ہمدان بینی سے ملنے اسٹیج پر آئی تو پہلے بینی نے اسے گھور الیکن پھر ہاتھ ملانے کی بجائے اسے گلے سے لگا لیا ۔ خوش رہو ہمیشہ میری دعا ہے ۔
دوسری طرف ہمدان نے بھی نصیر کو گلے سے لگایا اور اس کے کان میں سر گوشی کی ۔ ۔ ۔ خبر دار جو میری بینی کو کبھی کو دکھ دیا ۔ اس کی یہ مسکراہٹ ہمیشہ قائم رہنی چاہیے۔
آپ کا حکم سر آنکھوں پر ملک ہدان صاحب ۔ ۔ ۔ نصیر نے الگ ہوتے ہوئے سینے پے
ہاتھ رکھتے ہوئے سر خم کیا۔
ہمدان بینی کی طرف بڑھا اور اس کی ناک کھینچتے ہوئے شادی کی مبارک باددی۔ رملہ نصیر کی طرف بڑھنے کی والی تھی کہ ہمدان نے اس کی کمر میں بازو ڈالتے ہوئے اسے
آگے بڑھنے سے روک دیا ۔ مسٹر اینڈ مسز نصیر ۔ ۔ ۔ آپ دونوں کو ہماری طرف سے شادی بہت بہت مبارک ہو اللہ سے دعا ہے کہ آپ دونوں ہمیشہ اسی طرح ہنستے مسکراتے رہیں آمین ۔
سم آمین ۔ ۔ ۔ بینی اور نصیر نے ایک ساتھ جواب دیا ۔ نصیر ہمدان کو رملہ کو اپنی طرف کھینچتے ہوئے دیکھ کر مسکرا دیا اور بینی کی طرف پلٹ گیا۔ چلیں ۔ ۔ ۔ ان دونوں کو مصروف دیکھ کر ہمدان رملہ کو ساتھ لیے اسٹیج سے نیچے آگیا ۔ رملہ نے اپنے ہاتھ ہد ان کی مظبوط گرفت میں دیکھا اور مسکرادی ۔
سچ کہتے ہیں جو آپ کا نصیب ہوتا ہے وہ کسی بھی کیسے بھی آپ کو مل کر ہی رہتا ہے پھر چاہے تو آسانی سے مل جائے یا پھر " عشق " کی چکی پیس کر حاصل ہو, نصیب کا لکھامل کر ہی رہتا ہے ۔
ہمدان نے چلتے ہوئے رک کر رملہ کی طرف دیکھ کر آنکھیں بند کیں اور اللہ کا شکر ادا کرتے
ہوئے اس کا ہاتھ ہو نٹوں سے لگاتے ہوئے گاڑی کی طرف بڑھ کر ۔
رملہ نے مسکراتے ہوئے اس کے کندھے پر سر ٹکا دیا اور دو نوں گھر کے لیے روانہ ہو