خوش آمدید

لو اسٹوری فورم ، اردو دنیا کا نمبر ون اردو اسٹوری فورم ، ابھی فورم کےممبر بنیں اور اردو کی بہترین کہانیاں پڑھیں ۔

Register Now!
Welcome image
  • If you are unable to access the site, please try accessing it via a VPN.
    Try these VPN apps — CLICK HERE
  • PAID PLANS

    ٹاپ پیکیج
    👑

    PREMIUM

    16000
    چھ ماہ کے لیے
    بہترین ڈیل
    💎

    VIP+

    6000
    چھ ماہ کے لیے
    بنیادی ڈیل

    VIP

    3500
    تین ماہ کے لیے

Romance دلہن ایک رات کی ۔۔۔۔

اس کی جان پیاری ہے تو فوراً اس پتہ پر پہنچ جاور نہ اس کی جان لے لیں گے ہم۔

آپ مجھے ایڈریس بتائیں کہاں پہنچتا ہے مجھے ۔ ۔ ۔ میں ابھی آتا ہوں ۔

آپ اسے کچھ مت کرنا پلیز ۔ ۔ ۔ آپ کو جتنے پیسے چاہیے مجھے بتا دیں میں لے آوں گا لیکن

اسے کچھ نہی ہونا چاہیے ۔

اوئے منہ بند رکھ ۔۔۔ تیرے پیسے نہی چاہیے ہمیں ۔ ۔ ۔ بس توں آجا یہی کافی ہے ۔ پتہ

لکھ ۔

اوکے ۔ ۔ ۔ ہمدان نے جلدی سے پین نکالا اور ہاتھ پر ہی ایڈریس نوٹ کر لیا۔ کون ہو سکتا ہے ۔۔۔ اسے پیسے بھی نہی چاہیے تو پھر بینی کو اغوا کرنے کا مقصد ؟

تیزی میں گاڑی بھگاتے ہوئے مطلوبہ جگہ پہنچا اور اسی نمبر پر کال کی۔ نمبر تو بند تھالیکن اچانک کسی نے اس کے سر پر کپڑا ڈال دیا اور اسے اپنے ساتھ کھینچتے

ہوئے خفیہ مقام پر لے گئے۔

ہمدان کے چہرے سے کپڑا ہٹایا گیا تو اس نے آنکھیں کھولتے ہوئے سامنے دیکھا تو رملہ کی اماں ایک بڑے سے صوفے پر براجمان تھیں۔

منہ میں پان رکھتے ہوئے ہمدان کی طرف دیکھ کر مسکرا دیں۔

یہ سب آپ نے کیا ہے ؟

ہاں میں نے کیا ہے یہ سب کچھ ۔ ۔ ۔ اور کسی میں اتنی ہمت ہے نہی۔

کیوں کر رہی ہیں آپ ایسا ؟

بینی کہاں ہے ؟

میں آگیا ناں یہاں ۔ ۔ ۔ آپ میری گاڑی کی چابی لیں اور اسے جانے دیں یہاں سے ۔

جانے دیں گے ۔ ۔ ۔ جانے دیں گے ۔ ۔ ۔ اتنی بھی کیا جلدی ؟

ابھی ابھی تو آئے ہو تھوڑا خدمت کا موقع تو دو ہمیں ۔

بوا جی آپ کہیں تو ابھی گردن مروڑ دوں اس کی ؟

ایک بھاری بھر کم آدمی ہمدان کی طرف بڑھا مگر انہوں نے ہاتھ کے اشارے سے اسے

آگے بڑھنے سے روک دیا ۔ نہی گردن توڑنے کی ضرورت نہی ہے ۔ ۔ ۔ یہ معاملہ پیار سے بھی حل ہو سکتا ہے ۔

آخر چاہتی کیا ہیں آپ ہم سے ؟

لے کر آوا سے ۔ ۔ ۔ وہ اس آدمی کی طرف اشارہ کرتی ہوئی بولیں تو وہ نصیر کو بازو سے

کھینچتے ہوئے اندر لے آیا۔

نصیر کی حالت دیکھ کر ہمدان چونک گیا ۔ آپ نے اسے کیوں مارا؟

یہ اپنی غلطی کی سزا بھگت چکا ہے ۔

اس طرح تشدد کرنا اچھی بات نہی۔

تشدد ۔ ۔ ۔ تشد د تو ابھی کیا نہی ہم نے ملک ہمدان ۔ ۔ ۔ اسے زندہ چھوڑا ہے یہی غنیمت

ہے اس کے لیے ۔

تصویریں بنانے کا بہت شوق ہے اسے ۔ ۔ ۔ آج اس کا یہ شوق اچھی طرح اتر گیا ہو گا ۔

ہمدان تیزی سے آگے بڑھا اور نصیر کو سہارا دیتے ہوئے دیوار کے پاس بٹھا دیا ۔ اسے مار

کر نڈھال کر دیا گیا تھا ۔

سامنے ہمدان کو دیکھ کر اسے تھوڑا ہوش آیا۔ مجھے بچالیں پلیز۔

ہمدان افسردگی سے ان کی طرف پلٹا ۔ ۔ ۔ ابھی پلٹا ہی تھا کہ دروازے سے اندر آئی آنسو بہاتی

رملہ پر نظر پڑی ۔ اماں مت کریں یہ سب ۔ ۔ ۔ وہ ہمدان کو دیکھتی ہوئی ماں کے پاوں پکڑ کر بیٹھ گئی۔ انہوں نے بینی کی طرف دیکھنا بھی گوارہ نہی کیا۔ یا تو میری بیٹی سے نکاح کر لو یا پھر ان دونوں کی میت اٹھانے کے لیے تیار ہو جاو ۔ ۔ ۔ وہ

صوفے سے اٹھ کر ہمدان کی طرف بڑھیں ۔

نکاح ۔ ۔ ۔ ۔ یہ نکاح کہاں سے آگیا اس سارے معاملے میں؟ ہمدان ایک نظر فرش پر بیٹھی رملہ کو دیکھتے ہوئے تقریباً چلایا۔ کیوں ۔ ۔ ۔ میری بیٹی سے رابطہ رکھ سکتے ہو تو نکاح کیوں نہی کر سکتے؟

کیا یہی تربیت ملتی ہے تمہارے خاندان میں ؟

آنٹی آپ غلط سمجھ رہی ہیں ۔ ۔ ۔ ہم بس اچھے دوست ہیں اور کچھ نہی ۔ آپ کو ضرور کوئی

غلط فہمی ہوئی ہے ۔

اس لڑکی کو لاو یہاں ۔ ۔ ۔ وہ ہمدان کی بات نظر انداز کرتی ہوئی دوبارہ صوفے پر بیٹھتی ہوئی

بولیں ۔

دو عورتیں بینی کو سہارا دیتی ہوئی وہاں لائیں اور فرش پر لٹا دیا۔

وہ بے ہوش تھی اور اس کی یہ حالت دیکھ کر ہمدان نے ظبط سے آنکھیں بند کر لیں ۔ ایک آدمی آگے بڑھا اور بینی کی گردن پر چاقو رکھ دیا ۔

خبر دار جو ایک بھی قدم آگے بڑھایا تم نے ۔ ۔ ۔ میرے ایک اشارے پر اس کی گردن

کاٹ دے گا یہ ۔ اب فیصلہ تمہارے ہاتھ میں ہے۔ جلدی بنا و ورنہ دیر ہو جائے گی ۔

آپ بہت غلط فیصلہ لے رہی ہیں اپنی بیٹی کے لیے ۔ میرا رشتہ بینی سے طے ہو چکا ہے اور

یہ بات آپ کی بیٹی جانتی ہے ۔

اس طرح زبر دستی رشتہ نہی جوڑ سکتی آپ ۔ ۔ ۔ زیادتی کر رہی ہیں آپ تین لوگوں کے

ساتھ۔

میرے اور بینی کے ساتھ ساتھ اپنی بیٹی کی زندگی تباہ کر رہی ہیں آپ ۔

ہمدان نے انہیں سمجھانا چاہا لیکن بدلے میں انہوں نے قہقہ لگایا ۔

کل کے بچے ہو تم ۔ ۔ ۔ اب تم مجھے سکھاو گے کہ میرا کونسا فیصلہ سہی ہے اور کونسا غلط؟

نہی آنٹی جی ۔ ۔ ۔ اپنا اچھا برا آپ بہتر جانتی ہیں لیکن آپ کا یہ فیصلہ بہت غلط ثابت ہو گا آپ کے لیے ۔۔۔ میں نکاح تو کرلوں گا لیکن شادی نہی کر سکوں گا آپ کی بیٹی سے ۔ میرا رشتہ بینی سے طے ہو چکا ہے اور شادی بھی اسی سے ہوگی ۔ میرا خاندان کبھی نہی مانے

گا اس نکاح کو ۔

تو رخصتی کرنے کو کہہ کون رہا ہے ؟

تم بس نکاح کرو ۔ ۔ ۔ باقی فکر میں چھوڑ دو ۔ اب بتا و جلدی زیادہ وقت نہی ہے تمہارے

پاس۔

انہوں نے اپنے آدمی کو اشارہ کیا تو اس نے بینی کی کلائی پر ہلکا سا کٹ لگا دیا ۔

پاگل ہو گئے ہو تم ۔ ۔ ۔ ۔ ؟

همدان تیزی سے اس کی طرف بھاگا لیکن اس نے چاقو دوبارہ گردن پر رکھا تو وہی رک گیا ۔ ہمدان نے مدد طلب نگاہوں سے رملہ کی طرف دیکھا ۔ وہ بھی اتنی ہی مجبور تھی جتنا مجبور وہ تھا

اس وقت ۔

نظریں جھکائے آنسو بہاتی رہی ۔

همدان نے گہری سانس لی اور سر اثبات میں ہلا دیا ۔

ٹھیک ہے اگر یہی آپ کی ضد ہے تو مجھے منظور ہے لیکن ایک بات یادرکھئیے گا ۔ آپ زبر دستی مسلط کر رہی ہیں اپنی بیٹی کو مجھ پر اور میرے لیے یہ رشتہ کا غذات تک ہی

محدود رہے گا ۔

اس سے زیادہ کی امید مت رکھنا آپ مجھ سے ۔

منظور ہے ۔ ۔ ۔ بلاو نکاح خواں کو ۔ ۔ ۔ وہ خوشی خوشی بولیں ۔

اماں یہ

یہ ظلم ہے ان کے ساتھ بھی اور میرے ساتھ بھی ۔ ۔ ۔ آپ بہت غلط کر رہی

ہیں ۔ رملہ چلاتی رہی مگر انہیں کوئی فرق نہی پڑا۔

زور زبردستی سے دونوں کا نکاح پڑھوا دیا گیا ۔ ہمدان سائن کرتے ہی بغیر دعا کیسے تیزی سے صوفے سے اٹھ کر مینی کی طرف بھاگا اور اس کا سر گھٹنے پے رکھے گال تھپتھپا تا رہا لیکن

وہ ہوش میں نہی تھی ۔

اب چاہو تو لے جاسکتے ہو اپنی ہونے والی بیوی کو لیکن ۔ ۔ ۔ میری بیٹی پر تمہارا کوئی حق نہی

ہوگا ۔

رملہ

سر گھٹنوں پر گرائے آنسو بہا رہی تھی ۔ ماں کی بات پر سر اٹھا کر انہیں دیکھا ۔ آج سے تمہارا اس کے ساتھ ہر تعلق ختم ۔ ۔ ۔ ناں تم دوبارہ اس سے بات کرو گے اور نہ

ہی ملو گے ۔

اسے میرا حکم سمجھ لو یا پھر دھمکی۔۔۔ جیسے تمہاری مرضی ۔ ۔ ۔ کیونکہ دوبارہ اگر میں نے تمہیں اپنی بیٹی کے آس پاس بھی دیکھ لیا تو زندہ نہیں بچو گے تم اور تمہارے ساتھ ساتھ اور

بھی کئی جانیں جائیں گی ۔

بے گناہ جائیں ۔ ۔ ۔ جس کے زمہ دار صرف تم ہو گے ۔

آپ کے لیے نکاح کا تعلق ایک مزاق ہے ؟ اگر تعلق ختم کرنا ہی تھا سیدھا کہہ دیتیں آپ ۔ ۔ ۔ اس طرح ہمیں ازیت دینے کا مقصد ؟

مقصد تو بہت گہرا ہے اس کے پیچھے ۔ ۔ ۔ لیکن تم ابھی سمجھو گے نہی, میرے مقصد کو سمجھنے کے لیے بہت گہری چوٹیں کھانی پڑیں گی تمہیں ۔ ۔ ۔ تب جا کر سمجھو گے ۔

مجھے افسوس ہو رہا ہے آپ کی بیٹی کے لیے ۔ ۔ ۔ یہ آپ کی خاطر اپنی ہر خواہش کا گلہ گھونٹ سکتی ہے اور آپ نے اس کا ہی گلہ گھونٹ دیا ۔

ایک بات تو واضع کر دی آپ نے کہ آپ کے لیے بدلہ لینا بیٹی کی خوشیوں سے زیادہ عزیز

ہے۔

بدلہ لینا تھا تو آپ مجھ سے لیتیں ۔ ۔ ۔ اپنے خون کو تکلیف کیوں دے رہی ہیں ؟

دیکھنا چاہتے ہو کیوں ؟

آوایک کھیل دکھاتی ہوں تمہیں ۔ ۔ ۔ چلو میری ساتھ ۔


وہ ہمدان کو بازو سے بھینچتی ہوئی ایک بڑے سے ہال نما کمرے میں لے گئیں جہاں بہت

سارے مرد تکیوں سے ٹیک لگائے فرش پر بیٹھے تھے ۔

رملہ بھی دوڑتی ہوئی ان کے پیچھے چلی آئی۔

اچھا ہوا تم خود یہاں چلی آئی ۔ ۔ ۔ میں تمہیں ہی بلانے والی تھی۔

وہ ہمدان کا بازو چھوڑتی ہوئی رملہ کی طرف بڑھیں اور اسے کندھے سے جھنجوڑ تی ہو ئیں ہال

کے درمیان لے آئیں ۔

آج آپ سب کی خدمت میں پیش ہے میرے جگر کا ٹکرا ۔ ۔ ۔ میری نازوں سے پلی نازک سی گڑیا , آج میں اس کی بولی لگاوں گی ۔ ۔ ۔ ۔ تو کون خرید نا چاہے گا ؟

ہر طرف عجیب سا شور برپا ہو گیا ۔ سب حیران تھے ان کے اعلان پر کہ وہ اپنی بیٹی کی بولی

کیسے لگا سکتی ہیں ؟

ہمدان حیرت زدہ سا دیکھتا رہ گیا ۔ ۔ ۔ ان کے الفاظ کسی دھماکے کی طرح محسوس ہوئے

اسے۔

پچاس ہزار ۔۔۔ ایک آدمی بے باقی سے رملہ کو سر تا پاوں دیکھتے ہوئے بولا۔ بڑے سستے نکلے آپ جناب۔۔۔ وہ ہنستی ہوئی بولیں اور پلٹ کر ایک نظر خاموش

کھڑے ہمدان کو دیکھا ۔ ایک لاکھ ۔ ۔ ۔ ۔ ایک اور آواز گونجی۔

دولاکھ ۔ ۔ ۔ ۔ ایک اور آواز آئی ۔

تین لاکھ ۔ ۔ ۔ چار لاکھ ۔ ۔ ۔ ساڑھے چار لاکھ ۔ ۔ ۔ اسی طرح بڑھتے بڑھتے بات دس لاکھ

تک جا پہنچی۔

دس لاکھ ایک ۔ ۔ ۔ دس لاکھ دو ۔ ۔ ۔ دس لاکھ تین, مبارک ہو آپ کو آج سے یہ آپ کی

ہوئی۔

وہ بیٹی کا ہاتھ اوپر اٹھائی ہوئی فخریہ انداز میں بولیں۔ رملہ نے بھیگی آنکھوں سے ہمدان کی طرف دیکھا۔

وہ رملہ کی طرف بڑھا اور اس کا ہاتھ تھام کر اس کی ماں کے ہاتھ سے آزاد کیا۔ " یہ بیوی ہے میری کوئی سامان نہی " ۔ ۔ ۔ جو آپ اس کی بولی لگا رہی ہیں ۔

کیا کہا تم نے میں نے سنا نہی ۔ ۔ ۔ ؟

وہ ایسے ظاہر کر رہی تھیں جیسے کچھ سنا ہی نا ہو۔

میں نے کہا بیوی ہے یہ میری ۔ ۔ ۔ ہمدان غصے میں بولا ۔

طوائف کی بیٹی کسی کی بیوی نہی ہو سکتی ۔ ۔ ۔ چھوڑو میری بیٹی کا ہاتھ اور جاو یہاں سے ۔ ۔ ۔ اس کا سودا کر دیا ہے میں نے ۔ وہ غصے سے آگے بڑھیں اور رملہ کو ہاتھ تھامنا چاہا لیکن ہمدان اس کے سامنے ڈھال بن چکا

تھا۔

میں نے کہا ناں آپ ایسا نہی کر سکتی ۔ ۔ ۔ مزید کوئی بات نہی سنوں گا میں چاہے مجھے جان

سے کیوں نہ مار دیں آپ ۔

اچھا ۔ ۔ ۔ تمہارا یہ شوق بھی ابھی پورا کر دیتی ہوں ۔

ان کے اشارے پر چار آدمی ہمدان کی طرف بڑھے اور اسے مارنا شروع کر دیا لیکن اس

نے رملہ کا ہاتھ نہیں چھوڑا ۔

کسی نے پیچھے سے اس کے سر پر وار کیا تو وہ چکراتے سر کے ساتھ فرش پر بیٹھ گیا اور آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھانے لگا۔

اس کے کمزور پڑتے ہی رملہ کا ہاتھ اس کے ہاتھ سے کھینچ لیا گیا ۔

لیں جائیں اسے کمرہ تیار ہے آپ کے لیے ۔ ۔ ۔ انہوں نے رملہ کا ہاتھ اس بولی جیتنے والے

خبیث انسان کے ہاتھ میں تھما دیا۔ اماں ۔ ۔ ۔ مت کرو یہ ظلم ۔

بیٹی ہوں میں آپ کی ۔۔۔۔ کوئی ماں اپنی بیٹی کے ساتھ ایسا کیسے کر سکتی ہے ؟ رملہ جتنا چلا سکتی تھی چلائی مگر اس زوروار آدمی کے سامنے اس کی طاقت کمزور پڑ گئی ۔ مکراسی زور دار آدی کی پڑگئی۔ اس آدمی کے ساتھ پیچتی چلی گئی اور کمرے کے دروازے کو تھام کر زور سے

ہمدان کا نام پکارا۔ ہمدان اس کی آواز پر خود کو سنبھالنے کی کوشش کرتے ہوئے ان کے پیچھے چل دیا لیکن

اس کے پہنچنے سے پہلے ہی وہ آدمی کمرے کا دروازہ بند کر چکا تھا۔ وہ دروازے کو کھولنے کی کوشش کرنے لگا لیکن اس کا وجود اس کا ساتھ نہی دے رہا تھا ۔

دروازے کے پاس ہی فرش پر گر گیا اور آخری الفاظ جو اس کے منہ سے نکلے وہ یہ تھے ۔ ۔ ۔ "مجھے معاف کرنا میں تمہاری عزت کی حفاظت نہی کر سکا ۔ " اس کے بعد اسے کچھ ہوش نہی تھا کہ وہ کہاں ہے اور کہاں نہیں ۔ جب آنکھ کھلی تو خود کو اپنے کمرے میں دیکھا۔

چونک کر بیٹھ گیا۔ سر پے پٹی بندھی ہوئی تھی اور اس کی امی جائے نماز بچھائے نماز پڑھ کر

دعا میں مصروف تھیں ۔ سر تھام کر بیٹھ گیا ۔ ۔ ۔ امی ۔

بیٹے کی آواز سن کر وہ جائے نماز تہ لگا کر تیزی سے اس کے پاس آئیں ۔ ماں صدقے جائے میرا بچہ ۔ ۔ ۔ شکر ہے ہوش آگیا میرے بیٹے کو ۔

میں یہاں کیسے آیا ؟

میں تو ۔۔۔۔ کچھ بولنے ہی والا تھا کہ بولتے بولتے رک گیا ۔ بینی کہاں ہے ؟

اچانک سے بینی کا خیال آیا۔

وہ اپنے کمرے میں ہے ہمدان ۔ ۔ ۔ طبیعت ٹھیک نہی ہے اس کی ۔ ۔ ۔ کیا ہوا تھا تم

دونوں کے ساتھ ؟

★★★★★
کون لوگ تھے وہ ؟

وہ لوگ تم دونوں کو بے ہوشی کی حالت میں پچھلے دروازے کے پاس چھوڑ گئے

تھے ۔ چوکیدار نے دیکھ لیا تھا اسی لیے فوراً ہمیں اطلاع دی۔

کل رات جب تم دونوں کو اس حال میں دیکھا تو ہم سب کی تو جیسے جان ہی نکل گئی تھی ۔ کون تھے وہ لوگ اور کیوں کیا انہوں نے ایسا؟

امی میں نہی جانتا وہ لوگ کون تھے اور کیوں کیا انہوں نے ہمارے ساتھ ایسا ۔ ۔ ۔ رملہ کا سوچ کر اسے اپنی بے بسی یا د آ گئی ۔

جو بھی ہو وہ میری بیوی ہے اور میں اس کی حفاظت نہی کر سکا ۔ ۔ ۔ ایک بار پھر ہار گیا

میں شوہر ہونے کا فرض نہی نبھا سکا۔

گھٹنوں پے سر گرائے ظبط اور بے بسی سے آ نکھیں زور سے بند کیں ۔

ہمدان ۔ ۔ ۔ بیٹا کیا ہوا ہے کچھ بتاو تو سہی ۔ ۔ ۔ تمہاری خاموشی مجھے پریشان کر رہی ہے ۔ کچھ نہی امی ۔ ۔ ۔ آپ پریشان نہ ہو میں بلکل ٹھیک ہوں ۔ بس سر پے زرا چوٹ لگی ہے تو

درد ہے سر میں ۔

میں بینی سے مل کر آتا ہوں ۔ ۔ ۔ اٹھ کر کمرے سے باہر نکل گیا۔ بینی کے کمرے میں گیا تو وہ اٹھ کر بیٹھی رو رہی تھی۔ پریشان سا اس کے پاس بیٹھ گیا ۔ کیا ہوا رو کیوں رہی ہو تم ؟

بہت ڈر گئی تھی میں ۔ ۔ مجھے لگا تھا شاید زندہ واپس گھر نہی آسکوں گی ۔ ایسے لگ رہا تھا جیسے

زندگی ختم ہورہی تھی۔

ایک دن میں کیا سے کیا ہو گیا ہمارے ساتھ ۔ ۔ مجھے تو لگتا ہے رملہ نے کروایا ہے یہ سب

کچھ مجھ سے بدلہ لینے کے لیے ۔

اگر اس نے بدلہ لینا تھا تو صرف تم سے لیتی مجھ سے نہی ۔ ۔ ۔ اسے چوٹ تم نے دی تھی

میں نے نہی دکچھ بھی سوچتی رہتی ہو۔

حلیہ ٹھیک کرو یارا اپنا عجیب شکل بنا رکھی ہے ۔ سب پریشان ہیں گھر میں ۔

پریشان تو ہیں ہم سب ۔ ۔ ۔ بینی کی ماں کمرے میں داخل ہوئیں۔

اور اس پریشانی کی وجہ کیا ہے یہ جاننا ہے مجھے تم بتانا پسند کرو گے آخر یہ سب کس نے کیا

ہے ؟

تائی امی مجھے کیا پتہ کس نے کیا یہ سب کچھ مجھے تو خود ہوش نہی تھا آپ جانتی ہیں۔ ہمدان تیزی سے بول کر جانے کے لیے اٹھ گیا۔

یہاں بیٹھو آرام سے اور میری بات کا جواب دو ہمدان ۔ ۔ ۔ تم اس طرح بھاگ نہی سکتے ۔ آخر چل کیا رہا ہے تمہاری زندگی میں ؟

ایسا کیا کارنامہ سر انجام دیا ہے تم نے تمہارے ساتھ ساتھ میری بیٹی کی جان کو بھی خطرہ

ہے؟

آج میرے سوالات کے جواب دیے بغیر کہی نہی جاؤ گے ۔ ۔ مجھے بچ جاننا ہے ۔ بینی نے گھبرا کر ہمدان کی طرف دیکھا اور سر نفی میں بلایا ۔ ۔ ۔ جس کا مطلب تھا کہ میں نے

کچھ نہی بتایا ۔

جیسا آپ سمجھ رہی ہیں ویسا کچھ نہی تائی امی ۔۔۔ میں نہی جانتا وہ لوگ کون تھے اور کیوں کیا انہوں نے ایسا ۔ ۔ ۔ ہم دونوں زندہ اور سہی سلامت آپ سب کے سامنے ہیں خدا کا شکر

ادا کریں ۔ آجکل ویسے ہی لوگ پیسہ بنانے کے چکر میں قصائی بنے ہوئے ہیں ۔ دوسرے کی جان کی

کوئی قدر و قیمت ہی نہی ہے ایسے لوگوں کی نظر میں ۔

کہہ تو تم سہی رہے ہو بیٹا لیکن اگر بات پیسہ کی ہوتی تو وہ لوگ پیسوں کا مطالبہ کرتے ۔ ۔ ۔ جبکہ انہوں نے ہم سے ایسا کوئی مطالبہ نہی کیا۔

تم دونوں کو سہی سلامت تمہاری ہی گاڑی میں گھر کے باہر پھینک گئے اور حیرت تو اس بات کی ہے کہ انہیں ہمارے گھر کا ایڈریس بھی پتہ تھا ۔

یہ سب کچھ اتفاق تو نہی ہو سکتا ناں ؟

ایسا کچھ تو ہے جو میں نہی جانتی ۔ ۔ ۔ کچھ تو چھپا رہے ہو تم دونوں ۔

میں اس بارے میں کچھ نہی جانتا تائی امی ۔ ۔ ۔ ابھی میں خود پریشان ہوں ، کچھ پتہ چلا تو بتا دوں گا آپ کو ۔ ۔ ۔ ہمدان بینی کو اشارے میں سمجھاتے ہوئے کمرے سے باہر نکل گیا۔ دو دن بعد طبیعت کچھ بہتر ہوئی تو یو نیورسٹی کے لیے نکل گیا۔ بینی ابھی جانا نہی چاہتی تھی

لیکن ہمدان کا دل نہی لگ رہا تھا گھر پر یو نیورسٹی پہنچا تو رملہ بھی یو نیورسٹی آئی ہوئی تھی لیکن اکیلی نہی اس کی اماں بھی ساتھ تھیں ۔ کسی انجانے احساس کے زیر اثر ان کی طرف بڑھا لیکن رملہ نے اسے دیکھ کر سر نفی میں بلا

دیا اور چہرہ دوسری طرف موڑ لیا ۔

اور بھی جس جس کو یہ تصویر میں دی ہیں اکٹھی کر کے لے کر آوورنہ تمہارا وہ حشر کروں گی کہ

زندگی بھر یا درکھو گے ۔

وہ نصیر سے بحث کر رہی تھیں اور ہمدان ان کے سامنے آرکا ۔

اسے دیکھ کر وہ بلکل خوش نہی ہو ئیں ۔ رملہ نظریں جھکائے ایسے کھڑی رہی جیسے اسے

دیکھا ہی نہ ہو۔

اس سے تو اچھا تھا آپ اپنی بیٹی کا گلا گھونٹ دیتی ۔ ۔ ۔ اگر اتنی تعلیم و تربیت دلانے کے

بعد بھی اس کا سودا ہی کرنا تھا ۔ ہمدان غصے سے بے خوف بولتا چلا گیا ۔

ماں تو اولاد کو آنے والی زرا سی تکلیف پر تڑپ اٹھتی ہے ۔ آپ کیسی ماں ہیں ؟ آپ نے خود اپنی بیٹی کو اس ظالم درندے کے حوالے کر دیا ۔


سچ کہو تو مجھے شرم آرہی ہے اپنے مرد ہونے پر ۔۔۔ ایک ایسا مرد جسے ایک عورت نے

ہرا دیا ۔

اپنی عزت کی حفاظت نہی کر سکا میں ۔ ۔ ۔ اس بات کا افسوس مجھے اپنے آخری سانس تک

رہے گا۔

میرا درد تو شاید کم ہو جائے لیکن آپ نے جو تکلیف اپنی بیٹی کو دی ہے ۔ یہ دردوہ تا عمر نہی بھول سکے گی ۔

مجھے لگا تھا شاید آپ نے اپنی بیٹی کو پڑھنے کی اجازت دی ہے تو اس کے اچھے مستقبل کا بھی سوچا ہو گا لیکن نہی ۔ ۔ ۔ پیسے کے لالچ میں آپ رشتوں کا تقدس بھی بھول چکی ہیں ۔

ہمدان پلیز ۔ ۔ ۔ رملہ آنسو بہاتی ہوئی دونوں ہاتھ ہمدان کے سامنے جوڑتی ہوئی بولی۔

بس آنسو ہی بہاتی رہو ۔ ۔ کبھی اپنے حق کے لیے آواز مت اٹھانا ۔ ۔ ۔ ہمدان اسی پر تپ

کیا۔

میری بیٹی کے لیے کیا سہی ہے اور کیا غلط اس کا فیصلہ کرنے والے تم کون ہوتے ہو؟ زیادہ سر پے مت چڑھو میرے ۔ ۔ ۔ پرانے زخموں کے نشان ابھی مٹے نہی

تمہارے ۔ گلناز بیگم بھی تپ گئیں ۔

یہ نشان تو مٹ جائیں گے لیکن ۔ ۔ ۔ جو زخم آپ نے ہماری روح پر لگائے ہیں اس کے

نشان کبھی نہی مٹ سکتے ۔

ہر غلطی کی ایک سزا ہوتی ہے لیکن جو سزا آپ نے ہم دونوں کو دی ہے اس کے حقدار

ہم نہی تھے ۔

اچھا ۔ ۔ ۔ اگر ایسی ہی بات ہے تو ابھی لے جاو میری بیٹی کو اپنے گھر ۔ ۔ ۔ جاو بتا دوا اپنے

سارے گھر والوں کہ تم نے نکاح کر لیا ہے ۔

اعلان کرو سب کے سامنے کہ تم نے ایک طوائف کی بیٹی سے نکاح کیا ہے اور اسے اپنی

عزت بنانا چاہتے ہو۔

بولو کر سکتے ہو ایسا ۔ ۔ ۔ ۔ ہے ہمت ؟

بس ہو گئے خاموش ۔ ۔ ۔ بولواب ، بڑی بڑی باتیں کرنا آسان ہے لیکن ان باتوں پر عمل

کرنا بہت مشکل ہوتا ہے ۔

مجھے عزت دلانے بھی آیا تھا ایک کم ظرف مرد ۔ ۔ ۔ اپنے خاندان کے سامنے ہار گیا

وہ ۔ ۔ مجھے کیا ملا یہ ذلت بھری زندگی ۔

میری بیٹی کا مقدر بھی یہی زندگی ہے تو پھر میں کیوں اسے ایسے راستے پر چلنے دوں جس کی

کوئی منزل ہی نہی ہے ۔

تم مجھ سے میری بیٹی کو چھیننا چاہتے تھے ۔ اسی لیے میں نے تم سے اس کا نکاح پڑھایا تاکہ اسے سمجھا سکوں کہ یہ تمہارے ساتھ وقت تو گزار سکتا ہے لیکن اپنی عزت نہی بنا سکتا ۔ اگر تمہیں اس کی اتنی ہی فکر ہوتی تو جوش میں آنے کے بعد اسے ڈھونڈتے چلے آتے لیکن

نہی ۔ ۔ ۔ تم نے کوشش بھی نہی کی ۔

آپ نے موقع ہی کب دیا میری مرضی جاننے کا ؟

جس طرح پانچ انگلیاں ایک برابر نہی ہوتی بلکل اسی طرح ہر مرد کم ظرف نہی

ہوتا ۔ ۔ ۔

آپ کی سوچ غلط ہے ۔ میں رملہ کو بھی بھی اپنانے کے لیے تیار ہوں ۔ جہاں تک بات میرے گھر والوں کی ہے تو

مجھے اس بات کی فکر نہی ہے ۔

کوئی اسے قبول کرے یا نا کرے ۔ ۔ ۔ میں اسے قبول کر چکا ہوں یہ میرے لیے کافی ہے ۔ رہنے دو بیٹا ۔ ۔ ۔ جاو اپنی پڑھائی پر دھیان دو ۔ جس دن ساری دنیا کے سامنے اسے اپنانے کی ہمت آگئی تم میں اس دن چلے آنا۔

میں خوشی خوشی اپنی بیٹی تمہارے ساتھ رخصت کر دوں گی۔

انہوں نے آگے بڑھ کر رملہ کا ہاتھ تھامنا چاہالیکن ہمدان اس کا ہاتھ تھام چکا تھا۔ مت کریں ایسا ۔ ۔ ۔ اس بے گناہ کو سزا مت دیں ۔ اس کے ساتھ بہت بڑی زیادتی ہوئی

ہے ۔ کم از کم آپ تو ترس کھائیں ۔

کیا آپ کو تکلیف نہی ہوتی اس کے آنسو دیکھ کر ؟

کیسی ماں ہیں آپ ۔ ۔ ۔ آپ مجھے بتائیں اگر آپ کو پیسے ہی چاہیے تو, جتنی رقم آپ چاہیں گی آپ کو ملے گی لیکن بدلے میں مجھے اس کی خوشیاں چاہیے ۔

ہمارے معاملات پیسوں سے بڑھ کر ہیں۔۔۔ تم ابھی نہی سمجھو گے اور میں ابھی سمجھانا بھی نہی چاہتی۔ بہتر یہی ہو گا کہ تم اپنے راستے الگ کر لو۔ میری بیٹی کا اچھا بر اسب پتہ ہے مجھے

تمہیں فکر کرنے کی کوئی ضرورت نہی ہے ۔ چلور ملہ ۔ ۔ ۔ وہ رملہ کو بازو سے بھینچتی ہوئی وہاں سے لے گئیں اور رملہ بس پلٹ کر ہمدان کو دیکھتی رہ گئی ۔

I am Sorry

سب کچھ میری وجہ سے ہوا ہے۔ رملہ نے میری انسلٹ کی تھی سب کے سامنے بس اسی

کا بدلہ لے رہا تھا میں ۔

ان دونوں کے وہاں سے جاتے ہی نصیر ہمدان کے پاس آرکا اور شر مندگی سے سر

جھکائے معافی مانگنے لگا۔

آج تمہاری نظریں زمین پر کیوں جھکی ہیں ؟

میری طرف دیکھ کر بات کرو نصیر ۔ ۔ ۔ تمہاری یہ شرمندگی اب کسی کام کی نہی ہے ۔ کچھ اندازہ بھی ہے تمہیں کہ تم نے کیا کیا ہے ؟

ایک نہی بلکہ تین زندگیاں برباد کرنے کی کوشش کی ہے تم نے ۔۔۔ تمہاری اس بدلہ لینے والی گھٹیا سوچ نے مجھے اور رملہ کو برباد کر کے رکھ دیا ہے ۔

تم خود بھی سکون میں نہی رہو گے ۔۔۔ لکھ لو میری بات آج ۔ کبھی وقت ملے تو اکیلیے بیٹھ کر سوچنا کہ تم نے ایک معصوم لڑکی کو کس طرح بر باد کیا ہے ۔

وہ لڑکی جس نے اپنے سنہر سے مستقبل کے خواب دیکھ کر اس یو نیورسٹی میں قدم رکھا تھا ۔ آج زلت کا تمانچہ لیے یہاں سے جا رہی ہے ۔

شرم آرہی ہے مجھے کہ میری وجہ سے ایک معصوم لڑکی کی زندگی زلت کا گڑھ بن گئی ۔

قصور میرا تھا کہ مجھے اس سے ہمدردی تھی ۔ ۔ ۔ بس یہی غلطی ہوئی مجھ سے, میری ہمدردی

اس کے لیے وبالِ جاں بن گئی۔

پوری یونیورسٹی میں اس وقت دو ہی نام زیر بحث ہیں ۔ رملہ اور ہمدان ۔ ۔ ۔ ۔ اور اس کا

سارا کریڈیٹ تمہیں جاتا ہے ۔ تمہاری وجہ سے ہی تو یہ اعزاز ہمیں ملا ہے ۔ میں تو کسی طرح سامنا کر ہی لوں گا دنیا کہ لیکن رملہ کے لیے یہاں پڑھنا اب کسی عزاب سے

۔

کم نہی ہے ۔ خیر مناو تم اپنی ۔۔۔ ہم سے نہی بلکہ اللہ سے کیونکہ اللہ ا پنے حقوق تو معاف کر سکتا ہے

لیکن حقوق العباد نہی ۔

آئیندہ میرے سامنے مت آنا ۔ ۔ ۔ اسے غصے سے گھورتے ہوئے اپنی کلاس کی طرف

بڑھ گیا ۔ نصیر بے بس سا سیڑھیوں میں بیٹھ گیا ہے ۔ ۔ ۔ بدلے لینے کی آگ میں بہت بڑا گناہ ہو گیا مجھے

سمجھ نہی آرہا کیسے ٹھیک کروں یہ سب ۔ ۔ ۔ رملہ کی بے بسی اور اس کے آنسو مجھے سونے

نہی دیتے۔

دن بدن میری بے چینی بڑھتی ہی جا رہی ہے۔ اس سے معافی بھی مانگوں تو کیسے ۔ ۔ ۔ اس کی اماں اسے اکیلا چھوڑنے کو تیار ہی نہی ہیں اور اس کا نمبر بھی بند ہے ۔ اگر میں نے اس سے معافی نہ مانگی تو میری زندگی تباہ ہو جائے گی ۔ میرا سکون برباد ہو چکا

ہے ۔ یہ کہانی اس طرح بدل جائے گی یہ تو میں نے سوچا ہی نہی تھا۔

میں تو بس رسلہ کو ڈی گریڈ کرنا چاہتا تھا لیکن اس سے زیادہ ڈی گریڈ میں خود ہو چکا ہوں ۔ ڈیڈ نے بولا ہے کہ گھر نہ آوں اور مام الگ ناراض ہیں ۔ ابھی انہیں میری اس حالت کا نہی

پتہ چلاور نہ معاملہ مزید بگڑ سکتا ہے ۔ سمجھ نہی آ رہا کروں تو کیا کروں ؟

شرمندگی کے دلدل میں پھنس چکا ہوں میں ۔ ۔ ۔ کوئی تو راستہ ہو گا اس سے باہر نکلنے کا۔ بے بسی سے اپنے بال مٹھی میں جکڑتے ہوئے اٹھہ کر اپنی کلاس کی طرف بڑھ گیا۔ کلاس میں داخل ہوا تو سب اس کو گھور رہے تھے ۔ اس کی حالت ہی ایسی تھی ۔ چہرے پر زخم کے نشان اور ہاتھ پر بندھی پٹیاں اس کی بے بسی واضح کر رہی تھیں ۔

کیا ہے تم سب کو ۔ ۔ ۔ ایسے کیوں دیکھ رہے ہو مجھے ؟

میرے چہرے پر کوئی لیکچھ لکھا ہے کیا جو میرے کلاس میں داخل ہوتے ہی سب سیریس

ہو گئے۔

ایکسیڈنٹ ہوا میرا ۔ ۔ ۔ کوئی شوق نہی مجھے پٹیاں باندھنے کا ۔ رملہ کی خالی سیٹ پر نظر پڑی تو بولتے رک گیا۔

بس کر یار کتنا جھوٹ بولے گا ۔ ۔ ۔ سب جانتے ہیں ہم کونسا ایکسیڈنٹ ہوا ہے تمہارا ۔ رملہ کے گھر والوں نے پھینٹی لگانی ہے تجھے وہ بھی کپڑے دھونے والے ڈنڈے

سے ۔ ۔ ۔ سہی ہڈیاں توڑی ہیں انہوں نے تمہاری ۔

لڑکے ہاتھ پر ہاتھ مارتے ہوئے بولے اور ساری کلاس ہنسنا شروع ہوگئی ۔ نصیر غصے سے ان میں سے ایک پر جھپٹا اور اسے گریبان سے بھینچتے ہوئے زمین پر بیچ دیا ۔ نام مت لینا آئیندہ اس کا ۔۔۔ ورنہ زبان کھینچ لوں گا تمہاری سمجھے ؟

کس کس کو روکو کے اس کا نام لینے سے ؟

ایک لڑکی غصے سے اس کی طرف بڑھی ۔

تمہیں کیا لگا ایک لڑکی کی عزت اتنی سستی ہوتی ہے کہ تم اسے کسی بھی اچھال دو ۔ تم نے اس بیچاری پر اتنا گھٹیا الزام لگایا ہے کہ وہ یو نیورسٹی چھوڑ کر چلی گئی صرف تمہاری

وجہ ہے۔

ڈوب کر مر جاو تم ۔ ۔ ۔ تم جیسے گھٹیا انسان کو اس یو نیورسٹی میں نہی ہونا چاہیے ۔

گھٹیا کم ظرف ۔ ۔ ۔ تمہیں تو جان سے مار دینا چاہیے تھا انہیں تا کہ آئیندہ کوئی بھی گھٹیا

انسان ایسا قدم اٹھانے سے پہلے ہزار بار سوچتا ۔

نصیر کچھ نہی بولا کیونکہ اس کے پاس کوئی جواب ہی نہی تھا ۔ چپ چاپ کلاس سے باہر نکل

گیا۔

ہمدان یو نیورسٹی سے باہر نکلا ہی تھا کہ ایک انجان نمبر سے کال آنا شروع ہو گئی۔

اس نے کال پک کر لی ۔۔۔ ہیلو۔

ہمدان بھائی میں روشنی ۔۔۔۔ کون روشنی ؟

میں نے پہچانا نہی آپ کو ۔ ۔ ۔ ہمدان سوچ میں پڑ گیا ۔

همدان بھائی میں روشنی رسلہ کی دوست ۔ ۔ ۔ بڑی مشکل سے آپ کا نمبر ملا ہے۔ مجھے آپ کو بتا نا تھا کہ رسلہ بی بی کو ان کی اماں یہاں سے کسی دوسرے ملک بھیج رہی ہیں ۔ رطہ بی بی بہت پریشان ہیں ۔ آپ ان کو روک لیں آکر کیونکہ آپ ہی ہیں جو انہیں بچا سکتے

ہیں۔

جتنی جلدی ہو سکے آپ یہاں پہنچ جائیں ۔ وہ بہت رو رہی ہیں ۔

میں آرہا ہوں ۔ ۔ ۔ لیکن آنا کہاں ہے ؟
 
یاد آنے پر ہمدان جلدی سے بولا ۔
وہاں ہی جہاں آپ ان سے پہلی بار ملے تھے ۔ بدقسمتی سے یہی ان کا گھر ہے ۔ ٹھیک ہے میں پہنچتا ہوں ۔ ۔ ۔ کال کاٹ کر تیزی سے پارکنگ کی طرف بڑھا۔ گاڑی اسٹارٹ کی اور نکل گیا ۔ کیا مصیبت ہے ۔ ۔ ۔ ایک پریشانی ختم نہی ہوتی اور دوسری
شروع ہو جاتی ہے ۔
یہ ماں کم جلاد زیادہ لگتی ہیں مجھے ۔ ۔ ۔ کوئی اپنی اولاد پر اتنے ظلم کیسے کر سکتا ہے ۔ سوچ سوچ کر ہی حیرت ہو رہی ہے مجھے ۔ ۔ ۔ پہلے نکاح اور اب اسے یہاں سے کہی اور بھیج
رہی ہیں۔
پتہ نہی کیا چاہتی ہیں یہ مجھ سے ۔ ۔ ۔ آج کھل کر بات کرنی پڑے گی ان سے اور ان سے پوچھنا پڑے گا کہ آخر ان کی کیا دشمنی ہے میرے ساتھ جو یہ سب کر رہی ہیں ۔ ایک تو بینی نے ناک میں دم کر رکھا ہے ۔ ساتھ والی سیٹ پر مجھے اپنے فون کو دیکھ کر اسے
مزید غصہ آیا ۔ فون سائلنٹ پر لگا کر سیٹ پر واپس پھینک دیا۔ سمجھ نہی آرہی آخر یہ سب کیا ہو رہا ہے
میرے ساتھ ۔ ۔ ۔ ایک ہاتھ ماتھے پے رکھے سوچ میں پڑ گیا۔
نصیر نے جو کچھ کیا اس میں میرا کیا قصور تھا ۔ جتنا نقصان رملہ کا ہوا تھا میرا بھی اتنا ہی ہوا۔

پھر یہ نکاح ۔ ۔ ۔ اس نکاح کا مقصد کچھ سمجھ نہیں آرہا مجھے ۔
کبھی کبھی دل کرتا ہے کسی سے شئیر کر لوں شاید تکلیف کچھ کم ہو جائے لیکن مسئلہ یہ ہے کہ
شئیر کروں بھی تو کس سے؟
کوئی ہے ہی نہی میرے پاس جس کے کاندھے پے سر رکھ کر اپنے دل کا بوجھ ہلکا کر لوں ۔ امی تو کبھی نہی سنیں گی میری بات ۔ ۔ ۔ واویلہ مچا دیں گی گھر میں اور تائی جان ۔ ۔ ۔ وہ بے
گھر کردیں گی سب کو ۔
بینی کو بتایا تو وہ تو شاید میرا قتل ہی کر دے اور مجھے ہی غلط سمجھے گی وہ اتنا تو مجھے پتہ ہے ۔ ایسا کوئی خاص دوست بھی نہی میرے پاس ۔ ۔ ۔ گہری سانس لیتے ہوئے مسکرا دیا ۔ ایک دوست تھی جسے میں نے گنوا دیا ۔ کاش اس کے لیے کوئی قدم اٹھایا ہوتا میں نے تو
آج وہ میرے ساتھ ہوتی ۔
ایک کو تو کھو چکا ہے اب دوسری دوست کھونے کی ہمت نہی ہے مجھ میں ۔ ۔ ۔ یا اللہ میری مدد
کر د میں بہت مشکل میں ہوں ۔ تیرے سوا کوئی مدد نہی کر سکتا میری ۔ ایک گھنٹے کی ڈرائیونگ کے بعد آخر کار مطلوبہ جگہ پہنچ گیا۔
آج چہرہ چادر میں نہی چھپایا ۔ ۔ ۔ گاڑی لاک کرتے ہوئے تیزی سے کوٹھے کی سیڑھیاں
پھلانگتاچلا گیا ۔

ابے کون ہے توں ۔ ۔ ۔ کس سے ملنا ہے تجھے ؟
بوا جی سے بات ہوئی تمہاری ؟
مین دروازے پر پہنچا تو ایک آدمی تیزی سے اس کی طرف بڑھا۔
کون بواجی ۔ ۔ ۔ ۔ ؟
ہمدان نا سمجھی میں بولا ۔
بواجی ۔ ۔ ۔ میرا مطلب یہاں کی مالکن گلناز بیگم ۔
اس کی بات پر ہمدان مسکرا دیا اور اسے راستے سے ہٹاتے ہوئے اندر داخل ہو گیا۔ جا کر بتا دو اپنی ہوا جی کو کہ ان کا داماد آیا ہے۔
آرڈر دینے کے انداز میں اندر داخل ہوا اور ٹانگ پر ٹانگ جمائے صوفے پر بیٹھ گیا۔
ہمدان کو سامنے دیکھ کر گلناز بیگم کے چھرے کی ہوائیاں اڑ گئیں ۔ وہ تیزی سے نیچے آئیں اور سامنے والے صوفے پر اطمینان سے بیٹھ گئیں ۔
یہاں آنے کا مقصد ۔۔۔۔؟

انتہائی ادب سے سوال پوچھا گیا ۔ همدان طنزیہ مسکرا دیا ۔ ۔ ۔ کمال ہے ویسے آپ کا داماد پہلی بار گھر آیا ہے ۔ خاطر تواضع کرنے کی بجائے اس سے آنے کا مقصد پوچھ رہی ہیں آپ ۔ ۔ ۔ اپنی بیوی سے ملنے آیا
ہوں ۔
میری بیوی سے ملنے سے تو نہی روک سکتی آپ مجھے ۔ ۔ ۔ آخر کار شوہر ہوں اس کا, پورا حق
ہے مجھے اس سے ملنے کا ۔
وہ یہاں نہی ہے ۔ کسی دور گئی ہے اپنی ایک دوست کی شادی میں ۔ ۔ ۔ گلناز بیگم نے
بڑے اطمینان سے جواب دیا ۔
کوئی بات نہی آپ مجھے ایڈریس دے دیں ، میں خود پہنچ جاوں گا ۔
ہمدان کی بات پر انہوں نے حیرت سے ارد گرد نظر دوڑائی اور غصے سے اٹھ کھڑی ہوئیں ۔
تم اس سے نہی مل سکتے۔
کیوں نہی مل سکتا میں ۔۔۔؟
بھول کیوں جاتی ہیں کہ اب وہ صرف آپ کی بیٹی نہی ہے ۔ ایک اور رشتہ شامل ہو چکا ہے اس کی زندگی میں ۔

حقدار بدل چکے ہیں ۔ آپ سے زیادہ میرا حق ہے اب آپ کی بیٹی پر ۔ ۔ ۔ بہتر یہی ہو گا کہ
آپ اسے یہاں بلائیں میرے سامنے ۔
یہ رشتہ تو آپ نے ہی جوڑا تھا تو اب یہ پابندیاں کیسی ؟
میرا جب جب دل چاہے گا میں یہاں آوں گا اور اپنی بیوی سے ملوں گا ۔
صد کیوں کر رہے ہو؟
ایک بار کہہ دیا ناں کہ تم اس سے نہی مل سکتے تو نہی مل سکتے ۔ ۔ ۔ یہاں بیٹھنے کا کوئی فائدہ
نہی ہے ۔
اپنا اور میرا وقت ضائع مت کرو۔
وقت کون ضائع کر رہا ہے یہ آپ بہتر جانتی ہیں۔ مجھے رملہ سے ملنا ہے وہ بھی
ابھی ۔ ۔ ۔ اسی وقت ۔
جب وہ یہاں ہے ہی نہی تو تم سے کیسے مل سکتی ہے ؟
فضول تماشہ مت لگاو یہاں ۔ ۔ ۔ میری بیٹی کے بارے میں بات کر رہے ہو ، آج تک کسی کو اجازت نہی دی کہ کوئی میری بیٹی پر حق جما سکے ۔
تمہارا لحاظ کر رہی ہوں اس کا مطلب یہ نہی کہ تم سر پے چڑھتے جاو۔ ۔ ۔ آئیندہ یہاں آنے
کی حماقت مت کرنا۔

ورنہ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ؟
ور نہ کیا کر لیں گی آپ؟
آج بتا ہی دیں مجھے ۔ ۔ ۔ جواب لیے بغیر یہاں سے نہی جاوں گا میں ۔
آخر ایسی کیا مجبوری تھی آپ کی جو آپ نے اپنی بیٹی کو اتنی بڑی سزا دی ہے ؟ اور جہاں تک بات ہے حق جتانے کی۔۔۔ تو ایک بات میں آپ کو صاف صاف بتا دوں اگر آپ بھول رہی ہیں تو ۔۔۔ یہ حق مجھے خود آپ نے ہی دیا ہے۔ میں کیا چاہتا ہوں یہ جاننا ضروری سمجھا ہی نہی آپ نے ۔ ۔ ۔ رملہ کیا چاہتی ہے کیا نہی اپنی بیٹی کی مرضی بھی جاننا ضروری نہی سمجھا آپ نے۔
آخر ایسی کیا دشمنی تھی آپ کی اپنی بیٹی سے ؟
پہلے حق دیتی ہیں آپ اور پھر حق چھینے کی بات کرتی ہیں ۔ آخر آپ کا مقصد کیا ہے ؟
مقصد اگر تمہیں بتانا ہوتا تو کب کا بتا چکی ہوتی ۔ ۔ ۔ تم ابھی نا سمجھ ہو نہی سمجھو گے۔
اماں ۔ ۔ ۔ کیا ہو رہا ہے یہ سب یہاں ؟
رملہ سیڑھیوں سے نیچے آتی ہوئی بولی ۔
اسے آتے دیکھ کر ہمدان کے چہرے پر سکون بھری مسکراہٹ پھیل گئی ۔ اٹھ کر اس کی
طرف چل دیا ۔

اسے اپنی طرف بڑھتے دیکھ کر رملہ نے ماں کی طرف دیکھا اور نظریں جھکائے کھڑی ہو
گئی۔
آپ کیوں آئے ہیں یہاں ۔ ۔ ۔ ؟
با مشکل بولی ۔ اس کے لڑکھڑاتے الفاظ اس بات کا ثبوت تھے کہ وہ دل سے نہیں کہہ رہی تھی بلکہ ڈر کی وجہ سے یہ سوال کرنے پر مجبور ہو چکی تھی ۔
لینے آیا ہوں میں تمہیں ۔ ۔ ۔ ہد ان اس کے رویے پر گہری سانس لیتے ہوئے بولا۔ غصے سے نچلا ہونٹ دانتوں تلے دبایا اور رملہ کا ہاتھ تھامتے ہوئے گلناز بیگم کی طرف بڑھ
کیا۔
لے کر جا رہا ہوں اپنی بیوی کو ۔ ۔ ۔ آپ اسے مجھ سے دور نہی رکھ سکتی۔
میرا حق ہے اس پر ۔ ۔ ۔ وہ بھی سب سے زیادہ اور اس کا فرض ہے میری ہر بات ماننا ۔ رملہ نے اپنا ہاتھ واپس کھینچ لیا اور ماں کے پاس جار کی ۔
ہمدان اپنے خالی ہاتھ کو دیکھتا رہ گیا اور گلناز بیگم کے چہرے پر مسکراہٹ پھیل گئی ۔ یہ میری بیٹی ہے اور اس پر سب سے زیادہ حق میرا ہی رہے گا ہمیشہ ۔ ۔ ۔ کسی غلط فہمی میں
مت رہنا تم مل گیا جواب ۔ جاواب یہاں سے ۔ ۔ ۔ کہی ایسا نا ہو مجھے دھکے مار کر نکلوانا پڑے ۔

یہ بیٹی آپ کی ہے لیکن اب میری بیوی ہے ۔ ۔ ۔ یہ مجبور ہو سکتی ہے لیکن میں نہی ۔ ۔ ۔ رملہ چلو یہاں سے ۔
میں لینے آیا ہوں تمہیں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ۔ ۔ ۔ ایسے بے حس لوگوں میں جی نہی سکوگی تم میرا ہاتھ تھام لو اور پیچھے پلٹ کر مت دیکھنا۔
رملہ نے آنسو بہاتے ہوئے ہمدان کے ہاتھ کو دیکھا اور سر نفی میں ہلا دیا ۔ نہیں ۔ ۔ ۔ ۔ آپ یہاں سے چلے جائیں ہمیشہ کے لیے اور کبھی پلٹ کر مت دیکھئے گا۔
میری اماں نے میرے لیے جو بھی فیصلہ کیا ہے وہی سہی ہے میرے لیے ۔ ۔ ۔ آپ اپنی
زندگی میں آگے بڑھ جائیں ۔
میری وجہ سے آپ کو رکنے کی ضرورت نہی ہے ۔ آپ اس نکاح کو ایک حادثہ سمجھ کر
بھول جائیں ۔
ہمدان نے بے بسی سے اپنے خالی ہاتھ کو دیکھا اور غصے سے رملہ کی طرف بڑھ کر اسے
کندھوں سے تھام کر جھنجوڑا ۔
ہوشمیں تو ہو تم ۔۔۔؟
نکاح کوئی حادثہ نہی ہوتا ۔ ۔ ۔ میں نے اللہ کو حاضر و ناظر جان کر اس رشتے کو دل سے قبول
کیا ہے ۔


حالات چاہے جیسے بھی تھے لیکن اب میری بیوی ہو تم ۔ ۔ ۔ تمہیں اکیلا سسکنے کے لیے
نہی چھوڑ سکتا ۔
جانتا ہوں تم ایک بے حس ماں کی بیٹی ہو اور ماں کے پیار میں مجبور ہو لیکن میرا تو
سوچو ۔ ۔ ۔ کیا تم نہی جانتی میں زندگی میں پہلے کتنا کچھ کھو چکا ہوں۔
تمہیں کھونے کی ہمت نہی ہے مجھ میں ۔ ۔ ۔ چھوڑو اور چلو میرے ساتھ، میں تمہارے لیے ساری دنیا سے لڑوں گا لیکن تمہیں تڑپتے ہوئے نہیں چھوڑ سکتا ۔
کسی کی پرواہ نہیں کروں گا میں۔۔۔ بس تم میرا ساتھ دو۔
میں بھی آپ کی خاطر کر رہی ہوں یہ سب لیکن آپ کو بتا نہی سکتی ۔ ۔ ۔ بہت مجبور ہوں ۔ آپ کی زندگی مجھے اپنی خوشیوں سے زیادہ عزیز ہے ۔ دل ہی دل میں آنسو بہاتی ہوئی بولی
لیکن ہمدان کے سامنے ایک لفظ نہی بولا۔
چھوڑو میری بیٹی کو ۔ ۔ ۔ کیا کر رہے ہو تم ؟
گلناز بیگم غصے سے آگے بڑھی اور رملہ کو آزاد کرنا چاہا مگر ہمدان کی گرفت مظبوط تھی ۔ اگر تم اسی طرح کرتے رہے تو مجبور مجھے پولیس کو بلانا پڑے گا ۔ ۔ ۔ گلناز بیگم جب رملہ کو ہمدان کی گرفت سے آزاد نا کر سکی تو دھمکیوں پے آگئیں ۔

پولیس کیوں بلانی ہے آپ نے ۔ ۔ ۔ اپنے غنڈے بلائیں اور یہی ختم کر دیں مجھے تاکہ آپ
کے بدلے کی آگ ٹھنڈی پڑ جائے ۔
رلہ ڈر کر پیچھے ہٹی ۔ ۔ ۔ آج سے پہلے اس نے کبھی ہمدان کو اتنے غصے میں نہی دیکھا تھا۔ میں بھی دیکھتا ہوں کسی حد تک جا سکتی ہیں آپ ۔ ۔ ۔ آج یا تو آریا پھر پارا سے قصے کو کوئی
تو منزل دے ہی دیں آج ۔
قصہ تو تمہارا اسی دن ختم کر سکتی تھی میں اگر کرنا ہوتا ۔ ۔ ۔ اپنی بیٹی کی وجہ سے مجبور ہوں میں کیونکہ یہ چاہتی ہے کہ تمہاری زندگی بخش دوں ۔
اچھا ۔ ۔ ۔ تو اس طریقے سے ٹارچر کر رہی ہیں آپ اسے ۔ ۔ ۔ اگر ایسی ہی بات ہے تو میں
ابھی آپ کو اس مجبوری سے آزاد کر دیتا ہوں ۔
اپنی جیب سے پسٹل نکال کر اپنی کن پٹی پر رکھتے ہوئے رملہ کی طرف بڑھا۔ میری جان بچانے کے لیے کر رہی ہو ناں یہ سب کچھ ۔ ۔ ۔ اگر میں ہی نہی رہوں گا تو سب
ٹھیک ہو جائے گا۔
نہی ۔۔۔ رملہ چلاتی ہوئی آگے بڑھی اور اس کے ہاتھ سے پسٹل چھینے کی کوشش کی مگر
ناکام رہی ۔
اماں پلیز کچھ کریں ۔ ۔ ۔ آپ جو کہیں گی میں کروں گی لیکن انہیں کچھ نہی ہونا چاہیے ۔

بیٹی کو نر پتے دیکھ کر گلناز بیگم آگے بڑھی اور اسے گلے سے لگا لیا ۔ اس طرح تو تم ٹارچر کر رہے ہو اپنی بیوی کو ۔ ۔ ۔ ایسا کرنے سے کچھ حاصل نہی ہوگا
تمہیں ۔
ٹھیک ہے ۔ ۔ ۔ مان لیتی ہوں میں تمہاری بات اور بھیج دیتی ہوں اسے تمہارے ساتھ لیکن ۔۔۔ تم اکیلیے نہی لے کر جاؤ گے اسے بلکہ اپنے خاندان کے ساتھ آو گے میری بیٹی
کو رخصت کرنے ۔
ہمدان نے پسٹل واپس جیب میں رکھ لی ۔۔ مجھے تھوڑا وقت چاہیے لیکن ۔ ۔ ۔ تب تک یہ آپ کے پاس میری امانت ہے ۔
اگر میری امانت میں خیانت کرنے کی کوشش کی گئی تو مجھ سے برا کوئی نہی ہوگا ۔ ہمدان کا یہ بدلہ ہوا روپ دیکھ کر رملہ ایک کونے میں کھڑی آنسو بہانے لگ گئی ۔ یہ چند دن کی ملاقات کا اثر تھا یا نکاح کے دو بول کا وہ نہی سمجھ پا رہی تھی۔
ہمدان کی یہ جنونیت اس کے لیے خطرے کی گھنٹی تھی ۔ بے بسی سے چہرہ دونوں ہاتھوں
میں چھپائے پھوٹ پھوٹ کر رودی ۔
اس کے رونے کی آواز سن کر ہمدان اپنی بات درمیان میں چھوڑ کر اس کی طرف بڑھا ۔ ۔ ۔ پھر پلٹ کر گلناز بیگم کی طرف دیکھا۔

کیا میں تھوڑی دیر کے لیے بات کر سکتا ہوں اپنی بیوی سے ۔ ۔ ۔ ۔ ؟ گلناز بیگم نے بے بسی میں سر اثبات میں ہلایا اور روشنی کو رملہ کو اس کے کمرے میں
لیجانے کا اشارہ دیا ۔
ہمدان ان دونوں کے ساتھ کمرے میں پہنچ گیا ۔
آپ دونوں بیٹھیں میں آتی ہوں ۔۔۔ روشنی مسکراتی ہوئی کمرے سے باہر نکل گئی۔ ہمدان اپنے بالوں میں ہاتھ پھیرتے ہوئے اس کے پاس چلا آیا مجھے روشنی کی کال آئی تھی۔ کہ آنٹی کسی دوسرے ملک بھیجنا چاہ رہی ہیں تمہیں ۔ ۔ ۔ مجھ سے رہا نہی گیا تو میں فوراً چلا
آیا۔
سچ کہوں تو مجھے ڈر لگ رہا ہے آپ سے ۔ ۔ ۔ میں بھی آپ سے دور بھیجنے کے اماں کے اس فیصلے کو بہتر سمجھتی ہوں ۔ ۔ ۔ آپ کا یہ نیا روپ میرے لیے بہت خوفناک تھا۔ رملہ کی بات پر ہمدان مسکرا دیا۔ مجھے اس روپ میں آنے کے لیے مجبور کیا گیا تھا ورنہ میں
ایسی چیزوں سے دور ہی رہتا ہوں ۔
کیوں میرے لیے اتنی بڑی قربانی دے رہی ہو ؟
میری جان کیا تمہاری خوشیوں سے عزیز ہے ؟ جانتی ہو ایک بار ٹوٹ چکا ہوں میں ۔ ۔ ۔ اب دوبارہ ٹوٹنے کی ہمت نہی ہے مجھ میں ۔

آگے بڑھا اور رملہ کے دونوں ہاتھ تھامے کھٹنوں کے بل اس کے سامنے بیٹھ گیا ۔ میں نہی جانتا یہ سب کیوں ہو رہا ہے ہمارے ساتھ ۔ ۔ ۔ آنٹی کیوں کر رہی ہیں ایسا مجھے اب کسی سے ڈر بھی نہی لگ رہا۔ ۔ ۔ بے خوف ہوچکا ہوں میں ۔
اگر اس وقت مجھے کسی کی پرواہ ہے تو وہ تم ہو ۔ ۔ ۔ جب سے ہمارے درمیان یہ رشتہ جڑا
ہے ہر وقت تمہارا ہی خیال رہتا ہے اس دل میں ۔ ۔ ۔ رملہ کا ہاتھ سینے پے رکھتے ہوئے
جزبات سے چور لہجے میں بولا ۔
جھے کچھ مجھ نہی آرہا کہ ہمار مستقبل کا ہوگا لیکن میں اتا جاتا ہوں مستقبل چاہے کچھ بھی ہو
لیکن تم ہمیشہ میرے پاس رہو۔
محبت کھو یا عشق میں نہی جانتا ۔ ۔ ۔ بس اتنا جانتا ہوں کہ یہ دل تمہیں کھونا نہی چاہتا ۔ وعدہ کرو تم میرا ساتھ نہی چھوڑو گی ۔ ۔ ۔ حالات چاہے جیسے بھی ہو میرا یقین کرو گی ۔ بس اتنا ہی بولا تھا کہ اس کی آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھا گیا اور دیکھتے ہی دیکھتے رملہ کے
سامنے زمین بوس ہو گیا۔
پیچھے سے کسی نے اس کے سر پر وار کیا تھا۔
رملہ چلاتی ہوئی اٹھ کر کھڑی ہو گئی اور ہمدان کے سر سے بہتا خون دیکھ کر تو اس کے جیسے
حوش ہی اڑ گئے ۔

★★★★★
گلناز بیگم کمرے میں داخل ہوئی اور مسکرا دیں ۔ ۔ ۔ اسے ہاسپٹل پہنچا دو اور اس کی گاڑی
سے فون لے کر اس کے گھر اطلاع پہنچا دو۔
اماں یہ ظلم ہے ۔ ۔ ۔ آپ کیوں کر رہی ہیں ایسا ؟
ہمدان کی حالت دیکھ کر مزید چپ نارہ سکی ۔ تم خاموش رہو ۔ ۔ ۔ کچھ نہی ہو گا اسے بچ جائے گا۔ اس کی فکر چھوڑ کر جانے کی تیاری کرو۔ میں نہی جاؤں گی اماں ۔ ۔ ۔ یہ ظلم ہے ۔ آپ اتنی بے حس کیسے ہو سکتی ہیں ۔ تیزی سے ہمدان کی طرف بڑھی اور اس کے سر سے بستے خون پر اپنا ڈوپٹہ اتار کر رکھ کر
خون کو روکنے کی کوشش کی ۔
اٹھو یہاں سے رملہ ۔ ۔ مجھے مجبو ر مت کرو کہ میں تمہارے ساتھ بھی یہی سلوک کروں ۔ لے کر جاوا سے جلدی یہاں سے اس سے پہلے کہ مرجائے یہ ۔ ۔ ۔ ۔ گلناز بیگم غصے سے
چلائی تو ان کے آدمی ہمدان کو اٹھائے وہاں سے لے گئے۔
رملہ آنسو بہاتی وہی زمین پر بیٹھ گئی اور اپنے ہاتھوں پر لگے ہمدان کے خون کو دیکھنے لگ گئی۔
اماں جانتی ہیں اس کا قصور کیا ہے ؟
میں بتاتی ہوں آپ کو ۔ ۔ ۔ اس کا قصور یہ ہے کہ اس نے آپ کی بیٹی کا احساس کیا ہے ۔ یہ جانتے ہوئے بھی کہ میں ایک طوائف کی بیٹی ہوں ہمیشہ میری عزت کی حفاظت کی ۔

لیکن آپ نے اس کے ساتھ کیا کر دیا ۔ ۔ ۔ اس گناہ کی سزا ملے گی ہم سب کو ۔ ۔ ۔ دیکھ لینا
اماں ۔
آپ کی بیٹی بھی اس " عشق " میں پل پل نڑ ہے گی ۔ ۔ ۔ جتنا درد آپ نے اسے دیا
ہے ناں اتنا ہی درد مجھے ہو رہا ہے ۔ جانتی ہے کیوں ۔ ۔ ۔؟ کیونکہ آپ کی بیٹی اس سے عشق کر بیٹھی ہے ۔ پہلی ہی نظر میں, پہلی ملاقات میں ۔ ۔ ۔ یہ
جانتے ہوئے بھی کہ وہ میرا نہی ہو سکتا پھر بھی اس کی تمنا کرتی رہی۔
اس بات سے انجان تھی کہ میرا اس کو چاہنا اس کے لیے اتنی بڑی سزا بن جائے گا۔ یہ سزا میں بھی تا زندگی بھگتوگی ۔ ۔ ۔ " عشق کا یہ کھیل اب ساری زندگی دیکھیں گی
آپ ۔
اگر سکون میں وہ نہی رہے گا تو آپ کی بیٹی بھی تڑپے گی ۔ ۔ ۔ میرے دل پر تو پابندی نہی
لگا سکتی آپ ۔
اس دل میں بس ایک ہی نام رہے گا ہمیشہ ۔ ۔ ۔ ہمدان ،مدان ،ہمدان ۔ میری بے بسی مجھے زندگی بھر نہی بھولے گی اماں ۔ ۔ ۔ ۔ پتہ نہی کس جرم کی سزا دے رہی ہیں آپ ہم دونوں کو ۔

روشنی کمرے میں داخل ہوئی اور تیزی سے رملہ کی طرف بڑھی ۔ ۔ ۔ وہ روشنی کے گلے لگ
کر پھوٹ کر رودی ۔
سنبھالوا سے روشنی اور ایک گھنٹے تک اسے کمرے سے باہر لے آنا ۔ ۔ ۔ ائیر پورٹ جانا
ہے اس نے وٹائم ہو رہا ہے ۔
حکمانہ انداز میں بولتی ہوئیں کمرے سے باہر نکل گئیں ۔
چپ ہو جائیں بی بی ہی ۔ ۔ ۔ اللہ سب ٹھیک کرے گا ۔ روشنی اسے تسلیاں دینا شروع ہو گئی اور ساتھ ہی ساتھ خود بھی آنسو بہاتی رہی ۔
جیسے ہی ہمدان کے زخمی ہونے کی خبر گھر پہنچی گھر میں تو جیسے کہرام بچ گیا۔ اس کی امی نے
رو رو کر برا حال کر لیا ۔
وہ لوگ تو پہلے ہی پریشان بیٹھے تھے مینی کی وجہ سے ۔ ۔ ۔ وہ سیڑھیوں سے گرمی تھی اسے ہاسپٹل لے کر گئے ہوئے تھے اور اب ہمدان کے ہاسپٹل پہنچنے کی خبر مل گئی۔

علی بھی پریشان ہو چکا تھا اور ساتھ جانے کی ضد کر رہا تھا لیکن اس کے بابا نے ساتھ لیجانے
سے سے انکار کر دیا کیونکہ اماں اور ابا جی گھر پر اکیلیے تھے ۔
علی کو ان کے پاس چھوڑ کر دونوں میاں بیوی ہاسپٹل کے لیے نکل گئے۔ بڑے ملک صاحب تک خبر پہنچی تو وہ بھی سر تھام کر بیٹھ گئے۔
وہ بینی کی وجہ سے پہلے ہی پریشان بیٹھے تھے ۔ اوپر سے ہمدان کی خبر آگئی ۔ انہوں نے اپنی بیگم کو یہ خبر سنائی تو وہ سر تھام کر بیٹھ گئیں ۔ ۔ ۔ یا اللہ ہمیں معاف کر دے ہم سے ایسی کونسا گناہ ہو گیا جس کی اتنی بڑی سزا مل رہی ہے ہمیں۔ پہلے بیٹی کو ہاسپٹل لے کر آئے ہیں اور اب داماد کی خبر آگئی۔
پتہ نہی کس کی نظر لگ گئی ہے ہمارے گھر کو ۔ ۔ ۔ آنسو بہاتی ہوئی سجدے میں گر گئیں ۔ دوسروں کا گھر جلانے والے اکثر بے سکون ہی رہتے ہیں ۔ ۔ ۔
ملک صاحب کا لہجہ طنزیہ
تھا ۔
وہ جائے نماز سمیٹ کر ان کے پاس آگئیں ۔ ۔ ۔ میں نے کس کا گھر جلایا ہے جو آپ ہر
وقت مجھ سے ملبے کئے رہتے ہیں۔
کسی کا نہی ۔۔۔ اس وقت بخت کرنے کے موڈ میں نہی ہوں میں، اپنی بیٹی کی فکر ہے مجھے ۔ ۔ ۔ کسی اور دن بخث کر لینا ۔

آپ تو ایسے کہ رہے ہیں جیسے مجھے بینی کی فکر نہی ہے ۔ اکلوتی اولاد ہے میری ۔ ۔ مجھے اس کی فکر نہی ہوگی تو کس کو ہوگی ؟
اپنی بیٹی کی خاطر آپ کے بھائی اور اس کے پورے خاندان کو اپنے گھر میں پناہ دی اور ان کے بچوں کے جوتے کپڑے سے لے کر یو نیورسٹی اور کالج کے خرچے اٹھا رہی ہوں ۔ میری بیٹی کو کسی دوسرے گھر نہ جانا پڑے اسی لیے ان سب کو برداشت کر رہی ہوں ورنہ جس طرح کی آپ کے بھتیجے کی حرکتیں ہیں ایک منٹ نہ لگاوں اسے گھر سے نکالنے میں ۔
بیٹی کی وجہ سے مجبور ہو چکی ہوں میں ۔ ۔ ۔ ہاتھ بندھے ہیں میرے ۔

ضروریہ ہمدان کا ہی کوئی کارنامہ ہے جس کا نتیجہ اس کے ساتھ ساتھ میری بیٹی بھی بھگت
رہی ہے ۔
اس دن بھی کوئی ان دونوں کو زخمی اور بے ہوشی کی حالت میں گیٹ پر پھینک گیا تھا اور آج پھر ہمدان کی یہ حالت ۔ ۔ ۔ کچھ تو کچھڑی پک رہی ہے ہم سب کی ناک کے نیچے ۔ ایک بار خیریت سے سہی ہو کر آجائے تو تسلی سے جواب طلب کروں گی اس سے ۔
ملک صاحب نے افسوس سے سر ہلایا۔ بہت گھٹیا سوچ ہے تمہاری آج بھی ۔ ۔ ۔ وہ بے ہوش پڑا ہے زندگی اور موت کی کشمکش میں اور تم آج بھی اس سے جواب طلب کرنے کی
خواہش کر رہی ہو۔

کبھی تو کچھ اچھا بول لیا کرو اس کے بارے میں ۔ ۔ ۔ اگر تم ان پر احسان کرتی ہو تو کیا وہ
تمہاری کم عزت کرتا ہے ؟
اپنی ماں سے زیادہ اہمیت دیتا ہے تمہیں ۔ ۔ ۔ مگر تم نہی سمجھوگی تمہاری فطرت میں ہی
نہی کچھ اچھا سوچنا اور سمجھنا ۔
اور جہاں تک بات پناہ دینے کی ہے تو ایک بات جو تم ہمیشہ بھول جاتی ہو آج یاد کروا دوں
تمہیں ۔ ۔ ۔ ابا جی نے فیکٹری کا اپنا سارا حصہ ہمدان کے نام کر دیا ہے ۔
کچھ زمینیں علی کے نام کی ہیں تاکہ آنے والے وقت میں تمہارے ظلم سے بچ سکیں وہ ۔ ۔ ۔ فیکٹری کا آدھا مالک ہے ہمدان اور تم اسے دن رات باتیں سناتی رہتی ہو۔ بہت جلد اس کا حق اس کے حوالے کر کے اس فرض سے دستبردار ہو جاوں گا میں ۔ ۔ ۔ وہ
بچہ مجبور ہے اپنے ماں باپ اور چھوٹے بھائی کی خاطر ۔
اس کی تربیت ہی ہے جو وہ تمہیں پلٹ کر جواب نہی دیتا ور نہ کوئی اور ہو تا تو تمہیں چار سنا
کر اب تک یہاں سے جاچکا ہوتا ۔
بڑی آئی حق جتانے والی ۔۔۔
ابا جی نے کیسے آدھی فیکٹری ہمدان کے نام کر دی؟
اس علی کے نام زمینیں کر دیں اور ہماری بینی کے لیے کچھ بھی نہی چھوڑا ؟


گھر جا کر بات کرتی ہوں ان سے ۔ ۔ ۔ یہ کیسا انصاف کیا ہے انہوں نے ہماری بیٹی کے
ساتھ ؟
فی الحال اپنی بیٹی کی سلامتی کے لیے دعا کر لو یہی کافی ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ملک صاحب نے دونوں
ہاتھ جوڑ دیے ۔
آپ کو ڈاکٹر صاحب نے بلایا ہے اپنے کمرے میں ۔ ۔ ۔ اس سے پہلے کہ وہ کوئی جواب
دیتیں نرس وہاں آگئی۔
ملک صاحب تیزی سے ڈاکٹر کے کمرے کی طرف بڑھ گئے ۔ وہ بھی ان کے پیچھے کمرے
میں داخل ہوئیں ۔ کیا بات ہے ڈاکٹر صاحب سب خیریت ہے ناں ، میری بیٹی ٹھیک ہے ؟ جی الحمد للہ آپ کی بیٹی ٹھیک ہے کوئی بڑا مسئلہ پیش نہی آیا جس سے ان کی جان کو خطرہ ہو ۔ بس ایک چھوٹا سا مسئلہ ہو گیا ہے ۔ ان کے مہروں میں کچھ خرابی آگئی ہے اور وہ چل پھر نہی سکیں گی ۔ ۔ ۔ کمر کو تو بلکل حرکت نہی دے سکتی علاج ہو گا انشا اللہ بہت کم عرصے میں صحتیاب ہو جائیں گی ۔
یہ کیا کہہ رہے ہیں ڈاکٹر صاحب آپ ۔۔۔؟
مسز ملک کی تو آ نکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں بیٹی کی حالت کا سن کر ۔

جی ہاں مسز ملک ۔ ۔ ۔ آپ کی بیٹی اب اپنے سہارے پر چل پھر نہی سکے گی لیکن کچھ عرصے
تک و علاج ہو جائے گا انشا اللہ ۔
ملک صاحب نڈھال سے کرسی پر بیٹھ گئے اور کسی گہری سوچ میں گم ہو گئے ۔
حوصلہ رکھیں ملک صاحب ۔ ۔ ۔ اتار چڑھاو تو زندگی کا حصہ ہیں ۔ آپ لوگ اللہ کا یہ شکر ادا کریں کہ جان بچ گئی ہے ورنہ خدا نخواستہ جتنی اونچائی سے وہ گری میں کچھ بھی ہو سکتا تھا۔ ہمت رکھیں اور سنبھا لیں آپ دونوں خود کو ۔ ۔ ۔ اپنی بیٹی کا سہارا بنا ہے آپ لوگوں نے
اگر آپ لوگ ہی ہمت ہار گئے تو اسے کون سنبھالے گا ؟
اللہ سے اچھی امید رکھیں ۔ ۔ ۔ انشا اللہ ٹھیک ہو جائے گی آپ کی بیٹی ۔ ۔ ۔ بہت تکلیف
میں ہے وہ اور اس وقت اسے آپ کی دعاوں اور سہارے کی ضرورت ہے ۔ آئیں آپ لوگوں کو ملوا دوں ان سے ۔ ۔ ۔ دونوں کو ساتھ لیے وارڈ کی طرف بڑھ گئے ۔ بینی بے حس و حرکت لیٹی ہوئی تھی۔ مسز ملک کے آنسووں میں مزید روانی آگئی بیٹی کی حالت دیکھ کر ۔ ۔ ۔ ملک صاحب نے آگے بیٹی کے سر پر ہاتھ رکھا اور دکھی سے واپس
پلٹ گئے۔
ابھی ان کو انجیکشن دیا ہے کیونکہ درد بہت زیادہ تھا ۔

کچھ دن تک انہیں رکھیں گے حالت کچھ بہتر ہوئی تو آپ لوگ گھر لے جانا لیکن ان کا پورا
خیال رکھنا پڑے گا ۔
ہمدان آئی سی یو کے بستر پر پٹیوں میں جکڑ لیٹا ہوا تھا ۔ ۔ ۔ کچھ دن پہلے جو حالت رملہ کی تھی
آج وہی حال اس کا تھا ۔
اس کی امی نے رو رو کر برا حال کر لیا تھا ۔ جوان بیٹے کی حالت نے ماں باپ کو نڈھال کر دیا
تھا ۔
دیکھ لی آپ نے حالت میرے بیٹے کی ۔ ۔ ۔ یہ سب آپ کی غیر زمہ داریوں کا نتیجہ ہے ۔ اگر آپ آج کسی قابل ہوتے تو کسی کی ہمت نا ہوتی میرے بیٹے پر ہاتھ اٹھانے کی ۔ پہلے گھر , دولت سب نشے میں ہار دیا اور اب ہماری آخری دولت دولت بچی تھی ہمارے پاس وہ بھی اس حالت میں ۔ ۔ ۔ خدا کے لیے تو بہ کر لیں اس نشے ۔
یہ سب کچھ اس حرام شراب کی وجہ سے بے برکتی ہے ۔

اللہ سے توبہ کر لیں ۔ ۔ مجھے میرا بچہ سہی سلامت چاہیے ۔ اللہ خیر کرے گا ٹھیک ہو جائے گا وہ ۔ ۔ ۔
تم مجھے کو سنے کی بجائے اس کے لیے دعا کرو۔ ہر وقت چڑ چڑلگائی رکھتی ہو ۔ ۔ ۔ بولنے سے پہلے موقع مناسبت تو دیکھ لیا کرو۔

اس وقت ہاسپٹل میں ہیں ہم گھر میں نہی ۔ ۔ ۔ اور میرے شراب پینے کا کیا تعلق اس بات
سے ؟
اپنے لاڈلے پر تھوڑی نظر رکھا کرو ۔ ۔ ۔ کیا پتہ کسی لڑکی کا چکر ہو اور اس کے گھر والوں نے
مارا ہوا ہے ۔
جتنی پریشان تم ہو اس وقت اتنا ہی پریشان میں بھی ہوں لیکن میں تمہاری طرح آنسو نہی بہا
ستا۔
شراب - - - شراب … شراب … بتاو سارے زمانے کے کہ تمہارا گھر والا شرابی ۔ ۔ ۔
ہے۔
جب دیکھو ہاتھ دھو کر میرے ہی پیچھے پڑی رہتی ہو ۔ ۔ ۔ زندگی خراب ہو گئی ہے میری تم
سے شادی کر کے ۔ قصور میرا نہی تمہاری قسمت کا ہے ۔ ۔ ۔ تم قسمت ہی ایسی لے کر آئی اپنے ساتھ ۔ اتنا ہی برا ہوں میں تو چھوڑ کر چلی کیوں نہی جاتی اپنے مائیکیے ؟
کیوں اپنا وقت ضائع کر رہی ہو میرے ساتھ ؟
آپ لوگ شور مت کریں ۔ ۔ ۔ مریض ڈسٹرب ہو رہے ہیں ۔ ۔ ۔ ۔ نرس نے ڈانٹا تو وہ خاموش ہوئے اور دور بینچ پر بیٹھ گئے۔

رات کے کسی پہر ہمدان کی آنکھ کھلی تو گردن گھما کر ادھر ادھر دیکھا اور بیٹھنے کی کوشش کی
مگر ناکام رہا۔
سر میں اتنا درد تھا کہ درد کراہ اٹھا ۔ ۔ ۔ اس کے جوش میں آنے کی خبر نرس نے ڈاکٹر تک
پہنچائی تو وہ تیزی سے کمرے میں آیا اور ہمدان کا معائینہ کیا۔
الحمد للہ آپ ٹھیک ہیں ۔ ۔ ۔ ہمیں تو ڈر تھا کہ کسی آپ کومہ میں نہ چلے جائیں ۔
پلیز مجھے جانے دیں ڈاکٹر ۔ ۔ ۔ میرا یہاں سے جانا بہت ضروری ہے ۔ مجھے کوئی ایسی دوائی دیں جس سے یہ سر درد کچھ دیر کے لیے رک جائے ۔
میرا کسی پہنچنا بہت ضروری ہے ۔
کیسی باتیں کر رہے ہیں آپ ۔ ۔ ۔ میں ایسا نہی کر سکتا ۔ ابھی ابھی تو حوش آیا ہے آپ کو
اور آپ جانے کی باتیں کر رہے ہیں ۔ آپ کی حالت ایسی ہے کہ چند قدم نہی چل سکتے آپ ۔ ۔ ۔ آرام کریں آپ کے گھر والے
بہت پریشان ہیں آپ کے لیے ۔
ان کے بارے میں تو سوچیں ۔۔۔ گھر والے ۔ ۔ ۔ وہ کب آئے ؟
ان کو بلانے کی کیا ضرورت تھی ۔ ۔ ۔ میں یہاں سے کیسے جاوں گا ؟

میر ارملہ تک پہنچنا بہت ضروری ہے ورنہ وہ مجھ سے دور چلی جائے گی ۔ ۔ ۔ وہ بڑبڑاتا رہا لیکن ڈاکٹر نے اس کی ایک نہی سنی اور کمرے سے باہر نکل گیا۔
ہدان ۔ ۔ ۔ میرا بچہ ۔ ۔ ۔ ماں کے لمس پر آنکھیں کھول کر مسکرا دیا اور ان کا ہاتھ تھام کر
ہو نٹوں سے لگا لیا ۔
امی ٹھیک ہوں میں ۔ ۔ ۔ آپ پریشان نہ ہوا کریں اتنا ۔ پریشان کیوں ناں ہو ہم تمہارے لیے ۔ ۔ ۔ ؟
ایک اولاد کے سوا اور ہے ہی کیا ہمارے پاس ۔ ۔ ۔ یہ دوسری طرف چوٹ لگ چکی ہے تمہیں ۔ کیا ضرورت تھی کسی سے جھگڑنے کی ؟
اپنا نہی تو ہمارا ہی سوچ لیا کرو ۔ ۔ ۔ ادھر بینی ہاسپٹل میں ہے اور ادھر تم ۔
کیا ہوا بینی کو ۔ ۔ ۔ ؟
بینی کے نام پر ہمدان چونک گیا ۔
سیڑھیوں سے گری ہے اور کمر میں بہت بری چوٹ آئی ہے ۔ ڈاکٹر کہہ رہے ہیں کہ اب
چل پھر نہی سکے گی کچھ مہینوں تک ۔
اوہ ۔ ۔ ۔ بس اسی کی کمی رہ گئی تھی ۔ ۔ ۔ افسردگی سر کو تھامتے ہوئے بولا۔ عجیب لڑکی ہے یہ ۔ ۔ ۔ پتہ نہی کب سدھر سے گی ؟

کتنی بار سمجھایا ہے آرام سے چلا کرو لیکن سنتی ہی نہی ۔ ۔ ۔ اب سکون سے لیٹی ہوگی ۔
ٹھیک ہو جائے گی وہ ۔ ۔ ۔ تم اس کی فکر مت کرو۔
آپ کس کے ساتھ آئی ہیں؟
تمہارے بابا کے ساتھ ۔ ۔ ۔ اور کس کے ساتھ آنا ہے میں نے بھلا ۔ باہر جا کر بھیجتی ہوں
ان کو ۔
ٹھیک ہے امی ۔ ۔ ۔ آپ جائیں اور آرام کریں میں ٹھیک ہوں اب ۔ ٹھیک نہی ہو تم ۔ ۔ ۔ اپنا بلکل خیال نہی رکھتے ۔ کیا ضرورت تھی جھگڑا کرنے کی ؟ آئیندہ خیال رکھوں گا امی ۔ ۔ ۔ آپ پریشان نہ ہوا کریں ۔
بھیجتی ہوں تمہارے بابا کو ۔ ۔ ۔ بہت پریشان ہیں وہ بھی تمہارے لیے ۔
ہم ۔ ۔ ۔ ہمدان نے سر اثبات میں ہلایا اور مسکرا دیا۔
کیسی طبیعت ہے شہزادے ؟
ملک صاحب کمرے میں داخل ہوئے ۔
ہمدان ان کا ہاتھ تھام کر مسکرا دیا۔ آپ جیسے بابا کے ہوتے ہوئے مجھے کچھ ہو سکتا ہے
بھلا ۔ ۔ ۔ کیوں اتنا پریشان ہوتے ہیں ؟ بلکل ٹھیک ہوں میں بس زرا سی چوٹ ہے اور زرا سا سر درد ہے ۔

میں کونسا چیف منسٹر ہوں ۔ ۔ ۔ آج تک تم لوگوں کے لیے کیا ہی کیا ہے میں
نے ۔ ۔ ۔ ہمیشہ دکھ ہی دیے ہیں تم لوگوں کو۔
نہی بابا ایسا کچھ نہی ہے ۔ ہم تینوں کی زندگی بس آپ سے ہے ۔ آج ہم جو کچھ بھی ہیں آپ
کی وجہ سے ہی ہیں۔
آپ نے بہت اچھی پرورش کی ہے میری اور علی کی ۔ ہمیشہ ہمارا خیال رکھا ہے ۔
میرا دل رکھنے کے لیے بول رہے ہو ناں ۔۔۔؟ ملک صاحب کا لہجہ افسردہ تھا ۔ اس سے پہلے کہ وہ کچھ اور بولتے ان کی پاکٹ میں رکھا ہمدان کا فون بجنا شروع ہو گیا ۔ یہ تمہارا فون آ رہا ہے ۔ ۔ ۔ شاید کوئی دوست ہوگی ۔
ان کی بات پر ہمدان مسکرا دیا اور ان کے ہاتھ سے فون لے کر نمبر دیکھا تو روشنی کا تھا۔ اس نے اپنے بابا کی طرف دیکھا اور کال کاٹ دی ۔ ۔ ۔
پتہ نہی کون ہے ۔ ۔ ۔ ایسے ہی
رانگ نمبر ہے ۔
ہم ۔ ۔ ۔ اس عمر میں اکثر رانگ نمبر نملتے رہتے ہیں ۔ خیر تم بات کرو شاید کوئی جاننے والی ہو میں ڈاکٹر سے مل لوں ۔ ۔ ۔ آنکھ دباتے ہوئے کمرے سے باہر نکل گئے۔

ان کے کمرے سے باہر نکلتے ہی ہمدان نے فورا روشنی کا نمبر ڈائل کیا ۔ پہلی بیل پر ہی روشنی نے کال اٹھالی ۔ ۔ ۔
ہیلو ۔ ۔ ۔ روشنی, رملہ کہاں ہے ؟
مجھے اس سے بات کرنی ہے ابھی ۔ ۔ ۔ بے چین سا بولتا چلا گیا ۔
وہ یہاں سے چلی گئی ہیں ہمدان بھائی ۔ ۔ ۔ کہاں گئی ہیں یہ بواجی کے سوا کوئی نہی جانتا ۔ روشنی کے جواب پر ہمدان نے بے بسی سے آنکھیں بند کر لیں ۔
آپ کے لیے بہت پریشان تھیں وہ ۔ ۔ ۔ جانے سے پہلے بار بار کہہ رہی تھیں کہ میں آپ
کو کال کر کے آپ کا حال پوچھ لوں ۔
ان کا فون بھی چھین لیا گیا ہے ان سے ۔ ۔ ۔ رابطے کا بھی کوئی ذریعہ نہی ہے ۔ ایک لڑکی کو ساتھ بھیجا ہے ان کے ۔ ۔ ۔ وہ خود رابطہ کرے گی اگر ہوا جی کو ان سے بات کرنی
ہوگی۔
ہم ۔ ۔ ۔ ہمدان نے بے بسی سے کال کاٹ دی ۔
 
ایک سال بعد ۔ ۔ ۔ ۔

صبح صبح گھر میں عجیب سا شور مچا ہوا تھا ۔ ہمدان واک کر کے آیا تو ڈرائینگ روم کی طرف بڑھا لیکن اس کی امی نے اندر جانے سے روک دیا۔

کچھ نہی ہوا ۔ ۔ ۔ تمہارے تایا ابو اور تائی امی کا ذاتی مسئلہ ہے ۔ ناشتہ کرو اور جاو فیکٹری کے لیے ۔ ۔ ۔

جی امی ۔ ۔ ۔ نا چاہتے ہوئے بھی اپنے کمرے کی طرف بڑھ گیا ۔

تیار ہو کر ڈائینگ ٹیبل کی طرف بڑھا اور پانی کا گلاس پینے ہی والا تھا کہ ڈرائینگ روم سے

باہر آتے تایا جان کے ساتھ آتے وجود کو دیکھ کر اس کے ہاتھ سے پانی کا گلاس چھوٹ کر

زمین بوس ہو گیا ۔

حیرت زدہ سا کرسی سے اٹھ کر کھڑا ہو گیا ۔

شیشہ ٹوٹنے کی آواز پر سب ہمدان کی طرف متوجہ ہوئے اور اسی پل ملک صاحب کے ساتھ کھڑی رملہ نے چونک کر ہمدان کی طرف دیکھا اور چند قدم پیچھے ہٹی ۔

دونوں حیرت زدہ انداز میں ایک دوسرے کو دیکھ رہے تھے ۔

کیا ہو گیا ہے صبح صبح ۔ ۔ ۔ ۔ ؟

بینی بستر پر پڑی ہے تو کیا اس کے کارنامے اب تم انجام دو گے ، اچھے بھلا نظر آتا ہے

تمہیں۔

میں تم سے بات کر رہی ہوں ہمدان ۔ ۔ ۔ دھیان کہاں ہے تمہارا؟

تم تو ایسے دیکھ رہے ہو اسے جیسے یہ لڑکی نہی کوئی عجوبہ ہے ۔

انسان ہی ہے یہ اور اب یہی رہنے والی ہے ۔ زیادہ حیران ہونے کی ضرورت نہی ہے ۔ معزرت تائی امی ۔ ۔ ۔ غلطی سے میرے ہاتھ سے پھسل گیا گلاس ۔ ۔ ۔ آخر کا ر ہدان ہمت

کرتے ہوئے بول ہی پڑا۔

بینی کے ذکر پر رملہ مزید چونک گئی اور ڈر کر چند قدم مزید پیچھے ہوتی ہوتی ڈرائینگ روم میں

واپس آگئی ۔

نہی ۔ ۔ ۔ یہ کیسے ہو سکتا ہے ؟

جس انسان سے اماں کو سب سے زیادہ نفرت تھی مجھے اس کے پاس کیسے بھیج سکتی ہیں ؟ اس کا مطلب ہمدان میرے کزن ہیں اور بینی میری بہن ۔ ۔ ۔ نہیں نہی یہ نہی ہو سکتا ۔

ملک صاحب ڈرائینگ روم میں چلے آئے اور رملہ کو پریشان دیکھ کر مسکراتے ہوئے اس

کی طرف بڑھے۔

میں جانتا ہوں میری بیٹی کیوں پریشان ہے ۔ ہمدان کو یہاں دیکھ کر حیران ہونے کی

ضرورت نہی ہے ۔

وہ آپ کے چاچو کا بیٹا ہے اور ۔ ۔ ۔ بینی آپ کی بڑی بہن ہے ۔

میں جانتا ہوں اس نے زیادتیاں کی ہیں آپ کے ساتھ لیکن تب وہ اس رشتے سے انجان تھی۔ جب اسے تم دونوں کے رشتے کا پتہ چلے گا وہ بہت خوش ہوگی ۔

اب چلو میرے ساتھ میری گڑیا ۔ ۔ ۔ ناشتہ کرتے ہیں اور پھر آپ کو آپ کا کمرہ دکھاتی ہیں

آپ کی ماما۔

جی ۔ ۔ ۔ نا چاہتے ہوئے بھی سر ہلاتی ہوئی ان کے پیچھے چل دی۔ ملک صاحب نے اس کے لیے کرسی باہر نکالی تو پہنچاتی ہوئی بیٹھ گئی۔ سامنے بیٹھے ہمدان کی جھکی نظر میں اسے اپنے چہرے پر جھی محسوس ہو رہی تھیں۔ اپنی جگہ سے ہل بھی نہی پا رہی تھی ۔ ۔ ۔ ملک صاحب کے زبر دستی کھلانے پر ناشتہ کرنے میں مصروف ہو گئی مگر نوالہ حلق سے اتر نے مشکل ہو رہا تھا ۔ ایسے لگ رہا تھا جیسے سانس ہی گلے میں اٹک گیا ہو۔

اسلام و علیکم ۔ ۔ ۔ یہ کون ہیں ؟

جو سوال کب سے ہمدان کے دماغ میں گردش کر رہا تھا کہ آخر تایا جان کا کیا رشتہ ہو سکتا ہے

رملہ سے وہ سوال علی نے پوچھ لیا۔

یہ آپ کی آپی ہیں بلکل ویسے جیسے بنیش ہے ۔ پڑھائی کے لیے گئی ہوئی تھیں ۔ ۔ ۔ کچھ

دیر پہلے واپس آئی ہیں۔

سیدھی طرح کیوں نہی بتاتے آپ کہ یہ آپ کی دوسری بیوی اور میری خوشیاں کھانے والی سوتن کی بیٹی ہے ۔ ۔ ۔ میری بیٹی سے کیوں تعلق جوڑ رہے ہیں اس کا ؟ اس کی اتنی اوقات ہے کہ یہ میری بیٹی سے مقابلہ کر سکے ۔ ۔ ۔ آپ اس کی رشتہ داری خود تک ہی محدود رکھیں تو بہتر ہے۔

ہمارے ساتھ زبردستی اس کا تعلق جوڑنے کی ضرورے نہی ہے ۔ مسز ملک غصے سے ناشتہ

چھوڑ کر چلی گئیں ۔ علی رملہ کی طرف دیکھ کر مسکرا دیا ۔ بدلے میں وہ بھی پھیکا سا مسکرا دی اور نظریں جھکائے

ناشتہ کرتی رہی۔ آنکھوں سے آنسو گر کر اس کے گال بھگونے لگ گئے ۔

کاش میں یہاں آئی ہی نہ ہوتی ۔ ۔ ۔ اماں کی وصیت نے مجبور کیا مجھے اس گھر میں قدم رکھنے کے لیے ورنہ جس گھر

والوں نے میری ماں کو قبول نہی کیا وہ مجھے بھی قبول نہی کریں گے ۔ ۔ ۔ اس حقیقت سے

واقف تھی میں ۔

ان سب باتوں کو نظر انداز کرو بیٹا ۔۔۔ ابھی آپ کی ماما غصے میں ہیں ۔ آہستہ آہستہ ٹھیک ہو

جائیں گی۔

تھوڑا وقت چاہیے ان کو ۔ ۔ ۔ پریشان ہونے کی ضرورت نہی ہے ۔ آپ کے بابا ہمیشہ آپ کے ساتھ ہیں۔ باپ کی تسلی پر پھیکا سا مسکرادی ۔ ۔ ۔ کاش آپ کو اس رشتے کی قدر میری ماں کی زندگی میں

ہو جاتی۔

دل ہی دل میں سوچتی ہوئی بولی لیکن زبان پر شکوے کا ایک لفظ نہی آنے دیا کیونکہ اس کی اماں نے وصیت میں یہی لکھا تھا کہ تم اپنے باپ سے کوئی سوال نہی کرو گی۔ اماں آپ کیوں چلی گئیں مجھے اکیلا چھوڑ کر ۔ ۔ ۔ آپ کی بیٹی کیسے در بدر کی ٹھوکریں کھا رہی

ہیں۔

کہنے کو تو یہاں پر سب اپنے ہیں لیکن اپنوں کے بھیس میں کچھ دشمن بھی ہیں ۔ میں نہی جانتی آپ ہمدان کے بارے میں سب جانتی تھیں یا نہی ۔ ۔ ۔ آپ نے یہ نکاح پلاننگ سے کیا یا پھر بدلے میں میری سمجھ میں کچھ نہیں آرہا۔

یا پھر شاید آپ ہمدان کے زریعے بابا سے بدلہ لینا چاہتی تھیں ۔ ۔ ۔ کیونکہ ہمدان کی شادی بینی سے ہونے والی تھی اور آپ نے مجھے اس کی بیوی بنا دیا تا کہ بینی کو تکلیف پہنچ سکے۔

اس میں بینی بیچاری کا کیا قصور تھا؟ اور ہدان انہوں نے تو کسی کو کچھ نہیں بگاڑا تھا۔ پھر آپ نے کیوں کیا ہمارے ساتھ یہ سب کچھ مجھے کچھ سمجھ نہیں آرہا میں کیسے کروں گی ہمدان کا سامنا یہ تو مجھے ہی غلط سمجھ رہے ہوں گے ۔

پتا نہیں اماں نے کیا سوچ کر یہ اتنا بڑا قدم اٹھایا اور مجھے بتانا بھی ضروری نہیں سمجھا۔ صحیح کہتی تھی اماں آپ کہ آپ کے فیصلوں کو میں نہیں سمجھ سکو گی ۔ ۔ ۔ واقعی آپ کے فیصلے کو میں نہیں سمجھ سکی۔

لیکن آپ کا مقصد مجھے سمجھ آچکا ہے ۔ آپ کا مقصد تھا اپنی بیٹی کی کفالت ایک مضبوط ہاتھ میں دینا لیکن اب یہ کیوں بھول گئی کہ اس کی قسمت میں کوئی اور لڑکی لکھی ہے۔

آپ کیوں اتنی خود غرض ہو گئیں؟

مجھے کچھ سمجھ نہیں آرہا میں کیا کروں گی

ایک طرف میری بہن ہے اور دوسری طرف میرا شوہر میں کس کا ساتھ دو اور کس کا ساتھ

نه دو ؟

پتہ نہیں ان دونوں کی شادی ہو چکی ہے یا نہیں، جو بھی ہو میں یہاں نہیں رہ سکتی میری وجہ سے کسی کو بھی تکلیف نہیں پہنچنی چاہیے ۔

مجھے اپنے یہاں سے جانے کا کوئی نہ کوئی راستہ ڈھونڈ نہیں پڑے گا ۔

کن سوچوں میں گم ہیں بیٹا آپ ؟

وہ اپنی پریشانی میں بیٹھی ہوئی تھی کہ ملک صاحب نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا۔ چونک کر مسکرادی نہیں بابا جانی میں تو یہاں پر ہی ہوں ۔

بس اچانک سے سب کچھ اتنا بدل چکا ہے کہ میں تھوڑی پریشان ہوں۔ مجھے وقت لگے گا سب رشتوں کو سمجھنے میں آپ میری طرف سے بے فکر رہیں۔

ہمدان اٹھا اور ٹشو سے ہاتھ صاف کرتے ہوئے وہاں سے چلا گیا۔ اس نے دوبارہ پلٹ کر ایک نظر رملہ کی طرف دیکھنا بھی گوارا نہیں کیا ۔ رملہ حیرت زدہ سی اسے جاتے ہوئے دیکھتی رہ گئی ۔ وہ سوچ بھی نہیں سکتی تھی کہ ہمدان

اسے ایسے چھوڑ کر چلا جائے گا۔

اسے تو لگا تھا کہ وہ اس کے پاس بیٹھے گا اس سے باتیں کرے گا اس سے پوچھے گا جانے کی وجہ ۔ ۔ ۔ کیوں نہیں رابطہ کیا آپ نے ؟

لیکن ایسا تو کچھ بھی نہیں ہوا ، وہ حیرت زدہ سی اسے جاتے ہوئے دیکھتی رہ گئی۔

دیکھتے ہی دیکھتے وہ بنا لیٹے دروازے کی دہلیز پار کر گیا۔

Welcome

تایا جی اور ہمدان کے وہاں سے جاتے ہی علی نے بڑے پر جوش انداز میں رملہ کی طرف ہاتھ

بڑھایا۔

میں آپ کا چھوٹا بھائی علی مجھے تو جانتے ہی ہو گی آپ ۔ ۔ ۔ چلیں اگر نہی جانتی تو جان جائیں

گی۔ میں ہمدان بھائی کا چھوٹا بھائی ہوں اور آج سے آپ کا بھی بھائی ہوں۔ کوئی بھی کام ہو آپ نے مجھ سے کہنا ہے ویسے اتنے دنوں سے کہاں تھی آپ ؟ یہ بات مجھے کچھ سمجھ نہیں آئی ۔ ۔ ۔ خیر جو بھی ہو صبح کا بھولا بھٹکا شام کو گھر آئے تو اسے

بھولا نہیں کہتے۔ دیر سے ہی سہی آپ کو ہماری یاد تو آئی۔ ہم دونوں بھائیوں کے ہوتے ہوئے آپ کو کسی سے ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے ۔

تائی امی کی تو بالکل ٹینشن نا لیں ۔ ۔ ۔ کچھ دنوں تک ٹھیک ہو جا ئیں گی تو ان کی فکر کرنے کی

ضرورت نہیں ہے۔

ان کی تو عادت ہے بولنے کی ۔ آپ کا چھوٹا بھائی ہے ناں ۔ ۔ ۔ اس کے ہوتے ہوئے آپ کو کسی سے ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے ۔

اس سے پہلے کہ رملہ اس کا ہاتھ تھا متی ہمدان کی امی بول پڑیں۔

چپ کر کے بیٹھو تم ۔ ۔ ۔ اس سے زیادہ رشتے داریاں بنانے کی ضرورت نہیں ہے ۔ علی کو کب سے بولتا ہوا دیکھ رہی تھی لیکن آخر کا ر غصے سے بولی پڑیں ۔ انہیں رملہ کے ساتھ

علی کا اس طرح سے فری ہونا پسند نہیں آیا ۔

چپ چاپ ناشتہ کرو اور جاؤا اپنے کمرے میں یو نیورسٹی کی تیاری کرو۔ جب دیکھو بک بک ۔۔۔ ہر کسی کے ساتھ رشتہ داری بنانے کی ضرورت نہی ہے ۔ بھائی تمہارا کب سے چلا گیا ہے اور تم ابھی تک یہی بیٹھے ہو۔

جی امی میں جا رہا ہوں آپ تو میرے ہی بیچھے پڑ جاتی ہیں۔

اب یہ ہماری فیملی میں آئی ہے تو کیا ان کا اچھے سے استقبال نہ کروں ؟ جو بھی ہوا تھا تائی امی کو ان کے ساتھ ایسا سلوک نہیں کرنا چاہیے تھا۔ یہ میری بڑی بہن ہیں اور میرا ان سے رشتہ کوئی ختم نہیں کروا سکتا۔ کچھ زیادہ بڑے نہیں ہوں گے تم ۔ ۔ ۔ زیادہ ہی باتیں آنا شروع ہو گئی ہیں تمہیں زیادہ

ٹرٹر نہ کرو اور جو کہا ہے وہ کرو۔

غصے سے کچن کی طرف بڑھ گئی اور علی کو بھی ساتھ گھسیٹتی ہوئی لے گئیں ۔ کیوں بہن بہن لگا رکھی ہے اس کے سامنے ؟

جانتے بھی ہو کون ہے وہ اور کہاں سے آئی ہے ؟ کیسے ماحول میں پلی بڑھی ہے کچھ اندازہ ہے تہیں ۔۔۔؟

خوامخواہ بولتے جارہے ہو۔ ۔ ۔ تمہاری پتہ چل گیا تو زبان کھینچ لیں گی تمہاری۔

سوتن کا مطلب سمجھتے ہو ۔ ۔ ۔؟ اگر تمہارا باپ تمہاری دوسری ماں لے آئے تو کیا اس کی اولاد کو بہن ، بھائی قبول کر لو گے

جس بات کا پتہ نہ ہو وہ بات کرنی بھی نہی چاہیے ۔ ۔ ۔ جاو تیار ہو جاو جا کر۔ صبح صبح دماغ خراب کر رہے ہو ۔ ۔ ۔ خبر دار جو دوبارہ اس لڑکی کے آس پاس بھی نظر آئے تو ٹانگیں توڑ دوں گی میں تمہاری ۔

امی جی بس کر دیں آپ ۔ ۔ ۔ وہ جو بھی ہے جیسی بھی اور کہاں سے آئی ہے اس بات سے

کچھ فرق نہی پڑھتا ، آپ بس اتنا یا درکھیں کہ وہ تایا ابو کی بیٹی ہیں۔

یہ سوتن ووتن کا تو نہی پتہ مجھے لیکن اتنا ضرور پتہ ہے میرے ابا جی کو کسی نے بیٹی نہی دینی اب ۔ ۔ ۔ تو آپ اپنی سوتن اور میرے سوتیلے بہن بھائیوں کی فکر چھوڑ دیں کیونکہ آپ کا

یہ خواب کبھی نہی پورا ہونے والا ۔

مزاق میں بات بدلتے ہوئے مسکراتے ہوئے وہاں سے بھاگ گیا۔

دوپہر کو ملتے ہیں آپی ۔ ۔ ۔ بھاگتے بھاگتے رملہ کی طرف دیکھتے ہوئے بول کر اپنے کمرے

میں بھاگ گیا ۔

رملہ اسے جاتے دیکھ مسکرادی۔

اگر ناشتہ کر لیا ہو مہارانی تو کمرہ دکھا دوں ؟


مسز ملک کی آواز پر رملہ چونک کر اٹھ کر کھڑی ہو گئی ۔

جی ۔ ۔ ۔ ماما ۔۔۔ میرا مطلب بڑی ماما ۔ ۔ ہچکچاتی ہوئی نظریں جھکائے بولی۔

ماں نہی ہوں میں تمہاری ۔۔۔ آئیندہ مجھے ماں کہنے کی کوشش بھی مت کرنا ، ملک صاحب کی وجہ سے مجبور ہوں میں ورنہ جو تمہاری ماں نے میرے ساتھ کیا تھا کبھی اس گھر میں جگہ نہ

دیتی تمہیں ۔

غصے سے انگلی دکھاتی ہوئی بولیں اور آگے بڑھ گئی۔

جی ۔ ۔ ۔ رملہ نے مختصر جواب دیا اور ڈرائینگ روم کے دروازے میں پڑا اپنا بیگ گھسیٹتی

ہوئی ان کے پیچھے چل دی۔

آنکھوں سے آنسو بہتے چلے گئے ۔ نا چاہتے ہوئے بھی روتی چلی گئی۔

رو تو ایسے رہی ہو جیسے بہت ظلم کر دیا ہو میں نے تم پر ۔ ۔ ۔ مسز ملک اس کی طرف پلٹتی

ہوئی بولیں ۔

نہی وہ میں ۔ ۔ ۔ رملہ نے کچھ بولنا چاہا لیکن بول ہی نہ سکی۔

کیا میں ۔۔۔۔؟

چلواب ۔ ۔ ۔ اور بھی کام ہیں مجھے تمہیں تو کوئی کام ہو گا نہی ۔ اب ساری زندگی سکون سے

یہاں بیٹھ کر مفت کی روٹیاں توڑو گی ۔

آپ فکر نہی کریں ۔ ۔ ۔ میں بہت جلد کوئی نوکری ڈھونڈ لوں گی اور ہاسٹل میں رہ کرا پر میں رہ کراپنی پڑھائی مکمل کروں گی ، زیادہ دن نہی رہوں گی آپ کے گھر ۔

آپ نے مجھے اپنے گھر میں جگہ دی یہی بہت ہے میرے لیے ۔ ۔ ۔ چاہے اپنی زندگی میں

جگہ دیں یا نہ دیں لیکن آپ کا یہ احسان زندگی بھر یا د رہے گا مجھے ۔

مسر ملک نے کمرے کا دروازہ کھولا اور اندر داخل ہوتی ہوئی حیرت زدہ سی رملہ کی طرف

پلیٹیں۔

کونسی نوکری کرو گی تم ۔ ۔ ۔ وہی جو تمہاری ماں کرتی تھی ؟

جس خاندان میں تم آگئی ہو ناں یہاں کی بیٹیاں نوکری نہی کر تہیں ۔ ۔ ۔ لیکن تم کیا سمجھو گی خاندان کو تمہاری پرورش تو کوٹھے میں ہوتی ہے۔

تمہاری ماں نے مجھ سے میرا شوہر چھین لیا تھا ۔ وہ واپس تو آ گئے تھے لیکن ان کا دماغ

آج بھی ماضی میں تھا ۔

اس کا نتیجہ ۔ ۔ ۔ تم آج میرے سامنے کھڑی ہو ۔ پہلے تمہاری ماں اور آج تم ۔ ۔ ۔ میری

زندگی کی خوشیاں کھا گئی تم دونوں ۔

تم کیا یہاں سے جاو گی ۔ ۔ ۔ میں خود تمہیں زیادہ دن ٹکنے نہی دوں گی۔ بہت جلد تمہیں یہاں سے بھیجنے کا انتظام کرتی ہوں فکر نہی کرو۔ اب آہی گئی ہو تو اپنے دادا دادی سے بھی مل لینا ۔ ۔ ۔ ان کو بھی تو پتہ چلیے ان کے بیٹے کے کرتوت, وہ ہمیشہ مجھے ہی غلط سمجھتے آئے ہیں۔

چلو میرے ساتھ ۔ ۔ ۔ بلکہ پہلے تم ان سے ہی مل لو۔

زبر دستی رملہ کا بازو تھامے اسے کھینچتی ہوئی اپنے ساتھ اوپر لے گئیں۔ ٹیرس کا جالی والا دروازہ دھکیلی ہوئی آگے بڑھیں اور رملہ کا ہاتھ چھوڑ دیا۔

یہ کون ہے ؟

دادی اماں نے سر تا پاوں رملہ کو دیکھتے ہوئے سوال کیا۔ یہ آپ کے بیٹے کی لاڈلی بیٹی ہے میری سوتن میں سے ۔ ۔ ۔ اس سے ملیں آپ دونوں اور ٹھنڈک پہنچائیں خود کو ۔ ۔ ۔ میں کہتی تھی ناں اماں کہ ان کی زندگی سے وہ طوائف ابھی گئی نہی

لیکن آپ مانتی نہی تھیں ۔

نتیجہ دیکھ لیں آپ آج ۔۔۔ غور سے دیکھیں آپ گلناز کی اس بیٹی کو ۔ آپ دونوں کی

آپ کی پوتی مبارک ہو۔

غصے سے بولتی ہوئیں وہاں سے چلی گئیں اور رملہ نظریں جھکائے آنسو بہاتی رہی۔

ادھر آو میرے پاس ۔ ۔ ۔ دادی اماں کی آنکھوں میں بھی آنسو آ گئے۔ انہوں نے رملہ کی طرف بازو پھیلائے تو وہ تیزی سے ان کے گلے گئی اور جی بھر کر رودی ۔ بہت پیاری ہے میری بیٹی ۔۔۔ بلکل اپنے بابا جیسی آنکھیں ہیں اور اپنی ماں کا عکس ہو

بلکل ایسے لگ رہا ہے جیسے گلناز میرے سامنے بیٹھی ہو۔

بہت پیار کرتا تھا میرا بیٹا تمہاری ماں ہے ۔ ۔ ۔ لیکن ہم نے اس کی ایک نہی سنی اور اپنی عزت بچانے کی خاطر اپنے بیٹے کی زندگی خراب کر دی۔

پھر جب اس کی دوسری شادی کی خبر ہم تک پہنچی تو ہم بہت لاچار ہو چکے تھے۔

اس عورت نے ساری زندگی عزاب بنا کر رکھ دی میرے بیٹے کی ۔

بہت بڑی غلطی ہو گئی ہم سے جو ہم نے اپنے بیٹے کا یقین نہی کیا اور اس پر اپنا فیصلہ مسلط

کر دیا۔

دادا جی بھی آگے بڑھے اور پوتی کے سر پر ہاتھ رکھا۔ ہمیں معاف کر دینا بیٹا ۔ ۔ ۔ تمہاری ماں کے ساتھ بہت زیا دتیاں کی ہیں ہم نے ۔

اس خاندان کی بہو ہونے کے باوجود اسے اس حق سے محروم رکھا۔ لیکن اب تم فکر ناں کرنا ، تمہارے ساتھ کسی قسم کی زیادتی نہی ہونے دیں گے ہم۔ جب تک ہماری سانس چل رہی ہے ہماری بیٹی کو کوئی اس گھر سے بے گھر نہی کر سکتا ۔ نہی دادا ابو آپ معافی نہ مانگیں ۔ ۔ ۔ ماں باپ ہونے کے ناطے جو کچھ آپ کو بہتر لگے

آپ لوگوں نے وہی کیا ۔ مجھے آپ سب سے کوئی شکایت نہی ہے ۔ جو کچھ ہماری قسمت میں لکھا تھا ہمارے ساتھ

وہی ہوا ہمارے مقدر میں ایسے ہی ملنا لکھا تھا۔

میں اپنا سامان کمرے کے باہر چھوڑ آئی ہوں ۔ اندر رکھ کر آتی ہوں آپ کے پاس۔ بہانہ بناتی ہوئی وہاں سے چلی آئی کیونکہ اپنے آنسووں سے انہیں مزید شرمندگی کے دلدل

میں نہی دھکیلنا چاہتی تھی۔

نیچے آئی کمرے کا دروازہ بند کیا اور آنسو بہانے بیٹھ گئی۔

صبح سے دوپہر اور دو پر سے شام ہو گئی لیکن کسی نے اسے باہر نہی بلایا ۔ گاڑی کے ہارن کی آواز سنی تو کھڑکی سے تھوڑا سا پر وہ پیچھے ہٹا کر دیکھا تو ہمدان اور علی گاڑی سے باہر آتے

دکھائی دیے ۔

جلدی سے پردہ آگے کر دیا اور کمرے سے باہر نکل گئی۔

★★★★★
اپنے بابا کے پاس ٹی وہ لاونج میں بیٹھ گئی۔ ہمدان کی اس پر نظر پڑی مگر نظر انداز کرتا ہوا

وہاں سے چلا گیا ۔

با با جان مجھے آپ سے ضروری بات کرنی تھی۔

جی بیٹا کیا بات کرنی ہے آپ کو ۔ ۔ ۔ بلا جھجک بتائیں۔ وہ ٹی وی کا رپورٹ رکھتے ہوئے اس کی طرف متوجہ ہوئے۔

بابا جان میں لاہور جانا چاہتی ہوں اپنی پڑھائی مکمل کرنے کے لیے ۔ اس کی بات پر سیڑھیاں چڑھتے ہمدان کے قدم وہی رک گئے ۔ ۔ ۔ چند پل رکنے کے بعد

آگے بڑھ گیا۔

فی الحال اس بارے میں سوچنا چھوڑ دیں آپ اور کچھ دن آرام کریں پھر ہمدان سے مشورہ

کرتا ہوں میں وہ کیا کہتا ہے ۔

کھانا تیار ہے ۔ ۔ ۔ علی پر جوش انداز میں سلام کرتے ہوئے سامنے صوفے ہر بیٹھتے ہوئے

بولا۔

چلیں کھانا کھاتے ہیں ۔

جی ۔۔۔ رملہ مسکراتی ہوئی ان کے ساتھ ڈائیٹنگ ٹیبل کی طرف بڑھ گئی۔

کھانا کھانے کے بعد اپنے کمرے میں آئی عشا کی نماز پڑھ کر سونے کے لیے لیٹ گئی ۔ خالی

جگ پر نظر پڑی تو چونک کر اٹھ بیٹھی اور پانی بھرنے کچن میں چلی آئی۔

واپس آئی اور دروازہ بند کرتی ہوئی بیڈ کی طرف بڑھ گئی ریمورٹ اٹھا کر لائٹ بند کی اور سائیڈ

لیمپ آن کیا ۔

جیسے ہی لیٹی کھڑکی کا پردہ پیچھے سر کا اور کوئی بیڈ کی طرف بڑھا ۔ ۔ ۔ اپنی طرف بڑھتے اس

وجود کو دیکھ کر رملہ کا تو جیسے سانس خشک ہو گیا۔

کون آیا ہو گا کمرے میں ۔ ۔ ۔ ۔ ؟

رملہ تیزی سے اٹھ کر بیٹھنے ہی والی تھی کہ ہمدان نے اس کے دونوں بازو تھام لیے اور اسے

اٹھنے سے روک دیا ۔

کچھ دیر خود کو چھڑانے کی کوشش کرتی رہی لیکن پھر اسی کے سینے میں منہ چھپائی جی بھر کر رو

دی۔

دونوں ہی بے آواز آنسو بہا رہے تھے ۔

کیا اتنی سزا کافی نہی میری؟

مجھے بتائی تو سہی آخر میرا قصور کیا تھا؟

کیا تم اتنی مجبور تھی کہ ایک کال بھی نہی کر سکی؟ ایسا بھی کیا مجبوری تھی رملہ ۔۔۔؟

بولو جواب دو مجھے ۔ ۔ ۔ ہدان تیزی سے پیچھے ہٹا اور غصے سے اسے کندھوں سے تھام کر

جھنجوڑا۔

رملہ اٹھ کر بیٹھ گئی اور اس کے ہونٹوں پر ہاتھ رکھ کر سر نفی میں ہلایا ۔

پلیز ۔ ۔ ۔ اپنی آواز آہستہ رکھیں ۔ ۔ ۔ کوئی سن لے گا ۔

کوئی سنتا ہے تو سن لے ۔ ۔ مجھے کسی کی پرواہ نہی ہے اب ۔ کیا پلاننگ تھی تمہاری اور تمہاری اماں کی ؟ یہی ناں کہ بدلے کی آڑ میں ہی سہی لیکن مجھ پر اور اس جائیداد پر قبضہ جمانے کے لیے یہ نکاح کروایا انہوں نے ۔ ۔ ۔ کیا تم بھی اس سازش میں ان کے ساتھ شامل تھی ؟

ہمدان کے سوال پر رملہ کے تو جیسے ہوش ہی اڑ گئے ۔ میں سوچ بھی نہی سکتی تھی کہ آپ

ایسا سوال کریں گے مجھ سے ۔

میری اماں اب اس دنیا میں نہی ہیں۔۔۔ ایک مہینہ پہلے ان کا انتقال ہو گیا تھا۔ ان کے وکیل نے مجھے وصیت سنائی اور بابا سے رابطہ کرنے کو کہا ۔ ۔ ۔ میں نے جیسے ہی

ان سے رابطہ کیا یہ مجھے لینے پہنچ گئے۔

میری اماں کی ایسی کوئی سازش نہی تھی ۔ ۔ ۔ ان کا مقصد میں اب تک نہی سمجھی لیکن شاید

وہ بینی کو تکلیف دینا چاہتی تھیں کیونکہ اس نے مجھے تکلیف دی تھی۔

یا پھر شاید وہ بابا سے بدلہ لینا چاہتی تھیں۔ مجھے کچھ نہی پتہ ۔ ۔ ۔ لیکن جائیداد کے لیے وہ اپنی بیٹی کا سودا نہی کر سکتی اتنا مجھے یقین ہے ۔

سہی ۔ ۔ ۔ ایسے کہہ رہی ہو جیسے ہمارے نکاح کے بعد والا سین تمہیں یاد نہیں ۔ ۔ ۔ خیر یہ ایک الگ بحث ہے اس بارے میں بعد میں بات کریں گے ہم۔

ایک بات کا جواب دو پہلے مجھے اپنے بابا سے رابطہ کرنے سے پہلے مجھ سے بھی تو رابطہ کر

سکتی تھی ناں ؟

کیوں نہی کیا مجھ سے رابطہ ۔۔۔؟

کیا اتنا غیر ضروری ہوں میں تمہارے لیے ، شوہر کا کوئی مقام نہی تمہاری نظر میں ؟

کیسے مقام کی بات کر رہے ہیں آپ؟

وہ مقام جس کے لیے آپ بھی راضی نہی تھے ۔ ۔ ۔ آپ نے کونسا اپنی مرضی سے مجھے

سے نکاح کیا تھا۔

وہ ایک زبر دستی کا نکاح تھا ۔ ۔ ۔ نکاح زبر دستی ہو سکتا ہے لیکن رشتہ زبردستی نہی نبھایا جا

یہ بات میری آنکھوں میں دیکھ کر بولو ۔ ۔ ۔ ادھر دیکھو میری طرف اور غور سے دیکھو


میری طرف ۔

میری آنکھوں میں جدائی کا غم نظر نہیں آرہا تمہیں ؟ کیا میرے آنسو جھوٹے ہیں ؟

تمہیں لکھتا ہے میں یہ رشتہ نہی نبھانا چاہتا ؟

افسوس ہے مجھے تمہاری سوچ پر ۔ ۔ ۔ آج بھی تمہاری نظر میری اہمیت صرف ایک بے

جس مرد کی ہے ۔

تمہاری نظر میں میں ایک ایسا مرد ہوں جس کو بس جو بصورتی کی چاہ ہے، میرے جزبات اور

میرے احساسات اور ان آنسووں کی کوئی قدر نہی۔

اگر واقعی تمہیں ایسا لگتا ہے کہ میں اس رشتے کو نہی نبھانا چاہتا تو ٹھیک ہے جیسے تمہاری

مرضی ۔ ۔ ۔ تمہیں جہاں جانا ہے جاو۔ مجھے تڑپتا دیکھ کر سکون ملتا ہے ناں تہیں ۔۔۔؟ اب یہ سکون زندگی بھر ملے گا تمہیں ۔

میری اس تڑپ کے باوجود بھی اگر تمہارا دل نہی پگھلا تو ایسی تڑپ کو یہی ختم ہو جانا

چاہیے۔

پچھلے ایک سال سے میری زندگی میں جو بے رونقی ہے وہ تو بس ایسے ہی تھی۔ مجھے فرق نہی پڑتا کہ کوئی میرے پاس آئے یا مجھ سے دور جائے ۔

اگر مجھ سے دور جانا چاہتی ہو تو کیا کر سکتا ہوں میں؟

میں چاہتا تو اس ایک سال کے عرصے میں خود تمہیں تلاش کر سکتا تھا لیکن نہی

کیا ۔ ۔ ۔ جانتی ہو کیوں ؟

کیونکہ مجھے یقین تھا کہ چاہے کچھ بھی ہو جائے تم ایک دن میرے پاس لوٹ کر ضرور آوگی ۔ اسی انتظار کے سہارے اب تک زندہ لاش بنے جی رہا تھا میں لیکن آج میرا یہ مان بھی

ٹوٹ گیا۔

ٹھیک ہے ۔۔۔ میں کوئی زور زبردستی نہی کروں گا تمہارے ساتھ ۔

جیسا چاہو گی ویسا ہی ہو گا لیکن ۔۔۔ اس اب یہاں سے جانے کے بعد اگر تم واپس پلٹ کر

آنا چاہوگی تو میں یہاں موجود نہی ہوگا۔ کچھ لوگ اچانک زندگی میں آتے ہیں اور ایسے محبت نچھاور کرتے ہیں جیسے آپ سے خوبصورت اس دنیا میں کوئی ہے ہی نہی, زندگی خوبصورت لگنے لگتی, ہمیں اپنا عادی بناتے ہیں اور پھر اچانک ہماری زندگی سے ایسے غائب ہو جاتے ہیں جیسے کبھی تھے ہی نہی اور ان کی کسی سے زندگی بے معنی لگنے لگتی ہے ، تنہائی سے دوستی ہو جاتی ہے اور پھر زندگی محض دو لفظوں پر رک سی جاتی ہے اور وہ ہے " عشق "، تب سمجھ آتی ہے عشق پانے کا نہی بلکہ کھونے کا نام ہے"

یہ عشق ہو تا پتہ ہے کیسے انسان سے ۔ ۔ ۔ ؟

ایک ایسا انسان جس سے آپ چاہ کر بھی محبت نہی بٹور سکتے۔

ایک ایسا بے حس انسان جس کی نظر میں نہ تو آپ کی کوئی اہمیت ہوتی ہے اور نہ ہی کوئی احساس ۔ ۔ ۔ آپ خود ہی یک طرفہ محبت کی کشتی پر سوار " عشق ” میں بستے چلے جاتے

ہیں۔

اس سفر میں اتنی دور نکل جاتے ہیں کہ جب واپسی کے لیے پلٹتے ہیں تو راستہ ہی نظر نہی

آتا۔

ایسا ہی کچھ میرے ساتھ ہوا ہے۔ اس نکاح کے بندھن کو محبت سمجھ کر انتظار کے بیڑے

پر سوار چلتا رہا اور آج جب منزل خود میرے پاس آئی تو میرے ہاتھ خالی ہیں۔ جس رشتے کو میں محبت سمجھتا رہا وہ تو عشق نکلا ۔ ۔ ۔ اب میں ہار نہی مانوں گا بلکہ

دیکھوں گا یہ عشق اور کتنا دوڑائے گا مجھے ۔

اور کتنے سال از بہت ملے گی مجھے ۔ ۔ ۔ میرے برداشت کی مرکب کی عبور ہو چکی ہے ۔

اب تو بس اس زندہ لاش کا وجود لیے صبر کا دامن تھامنا ہے مجھے ۔

دوبارہ کبھی تمہارے سامنے نہی آوں گا اور نہ ہی ہمارے رشتے کو بچانے کی بھیک مانگوں

Asuwish

چلتا ہوں ۔ ۔ ۔ معزرت اگر میری وجہ سے کوئی پریشانی ہوتی ہے تو ۔ ۔ ۔ بے بس سا

دروازے کی طرف بڑھ گیا۔

دروازے تک پہنچ کر رک گیا اور پلٹ کر دیکھا لیکن رسلہ سر جھکائے ایسے بیٹھی تھی جیسے اسے کسی بات سے کوئی فرق ہی نہ پڑا ہو۔

ہمدان کے کمرے سے جاتے ہی تیزی سے دروازے کی طرف بڑھی اور دروازہ اچھی طرح

بند کر کے واپس سونے کے لیے لیٹ گئی۔

کتنی ہی دیر تک اپنی بے بسی پر آنسو بہاتی رہی ۔ ۔ مجھے معاف کر دیں آپ ۔ ۔ ۔ میں بہت

مجبور ہوں ۔

اپنا گھر بسانے کے لیے کسی اور کا گھر برباد نہی کر سکتی ہیں۔

کسی ایک کی خاطر آپ سب کو نہی چھوڑ سکتے۔ جانتی ہوں بڑی بڑی امی کبھی نہی ما نہیں گی اس رشتے کے لیے اور بینی ۔ ۔ ۔ وہ تو پہلے ہی مجھے مجھے اپنی دشمن سمجھتی ہے۔ اب اگر اسے اس نکاح کے بارے میں پتہ چلتا ہے تو یہ بہت غلط ثابت ہو گا ہم سب کے لیے ۔ ۔ ۔ پہلے ہی نفرت کرتی ہے وہ مجھ سے اور اور اب تو ایک رشتہ جڑ چکا ہے اس کے

ساتھ۔

ایک رشتے کی خاطر میں باقی رشتوں کا خون نہی کر سکتی ۔ ۔ مجھے اپنی خوشیوں کا گلا گھوٹنا ہی

پڑے گا ۔ ۔ ۔ یہاں سے دور جانا ہی پڑے گا ۔ کیونکہ اگر میں بار بار آپ کے سامنے آتی رہی تو آخر کار آپ مجھ پر حق جتائیں گے ۔ ۔ ۔ آپ نے کہہ تو دیا کہ میرے راستے میں رکاوٹ نہیں بنیں گے لیکن اس پر عمل کرنا اتنا آسان نہی ہو گا آپ کے لیے ۔

آپ کو کیا لگتا ہے آپ اکیلے " عشق کی چکی میں پس رہے ہیں ؟ نہی ۔ ۔ ۔ غلط ہیں آپ ۔ ۔ ۔ میں بھی بھی اتنا ہی تڑپی ہوں آپ کے لیے جتنا آپ تڑپے ہیں لیکن مجبوریوں کی قید سے کبھی آزاد ہی نہی کر سکی خود کو ۔

آپ کے لیے کہنا بہت آسان تھا کہ میری ماں نے یہ نکاح دولت حاصل کرنے کے لیے کروایا لیکن ان کے لیے لیے یہ فیصلہ کرنا کتنا مشکل تھا۔

یہ بات صرف میں سمجھ سکتی ہوں۔ وہ تو بس اپنی بیٹی کو ایک مظبوط مرد کا تحفظ دینا چاہتی تھیں جسے آپ نے دولت کی حوس سمجھ لیا ۔

میری اماں نے اپنی پوری زندگی مجھ پر لٹا دی ۔ ۔ ۔ چاہتی تو بابا سے خلالے کر دوسری جگہ اپنا گھر بسا سکتی تھیں لیکن انہیں اس دنیا کے باقی سارے مرد بھی ایک جیسے ہی لگے ۔ شاید اسی لیے ڈر چکی تھیں ۔ ۔ ۔ لیکن انہوں نے آپ کو میرے لیے منتخب کیا اس کا مطلب آپ قابل بھروسہ تھے لیکن آپ نے ان کی نیت پر ہی شک کیا۔

اپنی ہی سوچوں میں گم تھی کہ دروازہ ناک ہوا۔

پریشانی سے اٹھ کر بیٹھ گئی ۔ دروازہ کھولوں یا نہی ؟ اگر ہمدان ہوئے تو ۔ ۔ ۔ ۔؟

خود سے ہی سوال کرتی ہوئی آخر کار دروازے کی طرف بڑھ گئی۔

سامنے ہمدان کھڑا تھا لیکن اس کے ساتھ کوئی خاتون بھی تھیں۔

یہ پھوپھو ہیں نور کی ماما ۔ ۔ ۔ ہمدان نے ان کا تعارف دیا اور چہرے پر سنجیدگی لیے وہاں سے

چل دیا۔

اسلام و علیکم پھوپھو جان ۔ ۔ ۔ آپ اندر آئیں ۔ ۔ ۔ رملہ ان کا بازو تھامے انہیں اندر لے

آئی اور لائٹ جلاتے ہوئے انہیں بیڈ پر بٹھا دیا۔

و علیکم اسلام ۔ ۔ ۔ میں ملنے آئی تھی تم سے بیٹا ۔ ہمدان نے مجھے سب کچھ بتا دیا ہے ۔

سب کچھ مطلب ۔ ۔ ۔ میں کچھ سمجھی نہی پھوپھو جان ۔ ۔ ۔ ان کی بات پر رملہ تھوڑی حیران

ہوئی۔

یہی کہ تم دونوں کا نکاح ہو چکا ہے ۔ مجھ سے کوئی بات نہی چھپا تا ہمدان ۔ ۔ ۔ اس گھر میں

صرف مجھ پر بھروسہ کرتا ہے وہ ۔ تمہارے آنے کی خبر ملی تو مجھ سے رہا ہی نہی گیا ۔ سوچا پہلے تم سے مل لوں۔

ان کے جواب پر رملہ نے سر جھکا لیا اور مزید کچھ نہی بولی۔

میں جانتی ہوں بھا بھی نے جو فیصلہ کیا وہ بہت اچھا ہے ۔ اس گھر میں کسی کو کسی دوسرے

کی خوشیوں سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔

میری بیٹی بھی اسی بے حسی کی بھینٹ چڑھی ہے ۔ اگر بھا بھی مان جاتی تو شاید آج میری نور

زندہ ہوتی۔

مجھے پتہ ہی نہی چلا کب اسے ہمدان سے محبت ہو گئی ۔ ۔ ۔ بہت سمجھایا تھا اپنے دل کو سمجھائے جو وہ چاہتی ہے نہی ہو سکتا لیکن اس نے میری ایک نہی سنی اور دل برداشتہ ہو کر

چلی گئی اس دنیا سے اپنی ماں کو تنہا چھوڑ کر ۔

بیٹی کے ذکر پر ان کی آنکھوں سے آنسو بہنا شروع ہو گئے۔

نور مجبور تھی لیکن تم مجبور نہی ہو ۔۔۔ تمہارا نکاح ہو چکا ہے ہمدان سے اور تمہارا حق ہے یہ حق کوئی نہی چھین سکتا تم سے ۔

اپنی خوشیاں کسی کے لیے قربان مت کرو ۔ ۔ ۔ اپنی ماں کے فیصلے کو قبول کرو اور زندگی میں

آگے بڑھو۔ کسی کے لیے کوئی قربانی دینے کی ضرورت نہی ہے۔ آج پھر ایک بار مجھے ایسا لگ رہا ہے جیسے میری نور میرے سامنے ہے تمہاری شکل میں۔ ایک بار پھر میں اپنی نور کو ٹوٹتے ہوئے نہی دیکھ سکتی ۔ ۔ ۔ ہمدان جو کہہ رہا ہے اس کی بات

مان لو بیٹا ۔

وہ بہت سمجھدار ہے ، سب کچھ سنبھال لے گا ۔ اس کے ہوتے ہوئے تمہیں کسی سے ڈرنے کی ضرورت نہی ہے اور میں بھی ہمیشہ تمہارے ساتھ ہوں۔

کسی بھی میری ضرورت پڑی میں حاضر ہوں لیکن یہاں سے جانے کی بات مت کرنا اب ۔ بہت ٹوٹ چکا ہے میرا بیٹا ۔ ۔ ۔ اسے مزید کوئی دکھ نہ دو۔ پچھلے ایک سال میں بہت دکھ

برداشت کیے ہیں اس نے ۔

تم چاہو تو اسے زندگی کی طرف واپس لا سکتی ہو ۔ جب اس نے مجھے تمہارے آنے کی خبر سنائی تو اس کی آنکھوں میں خوشی دیکھ کر بہت سکون ملا مجھے لیکن ساتھ ہی اس نے یہ بھی بتا یا کہ تم یہاں سے جانا چاہتی ہو۔

یہ سن کر مجھے بہت دکھ ہوا میں سمجھ گئی تھی کہ تم کیوں ایسا کرنا چاہتی ہو ۔ اسی لیے سمجھانے آگئی۔

ہمدان مجھے نہی آنے دے رہا تھا میں زبر دستی آئی ہوں تمہیں سمجھانے ۔ ۔ ۔ میری بیٹی ان ۔ بے حس لوگوں کے لیے لیے اپنی خوشیاں برباد مت کرو۔

نور کے ساتھ جو ہونا تھا وہ ہو گیا لیکن تمہیں تھوڑی خود غرض بننا پڑے گا ورنہ میری طرح

خالی ہاتھ رہ جاو گی ۔

سمجھ رہی ہو ناں میری بات ۔۔۔؟

پھوپھو جان میں سمجھ رہی ہوں لیکن ۔۔۔

کیا لیکن ۔ ۔ ۔ ؟

لیکن ویکن کے چکر سے باہر نکل آو ۔ ۔ ۔ یہاں تمہاری قربانی کسی کام نہی آئے گی۔ اپنے

شوہر کی بات مانو بس ۔

وہ تمہاری خاطر ساری دنیا سے لڑ سکتا ہے اگر تم اس کا ساتھ دو۔ اس طرح کب تیک در بدر دھکے کھاتی رہوگی ؟ عورت کا اصل گھر وہی ہوتا ہے جہاں اس کا شوہر ہوتا ہے ۔ ہمدان نے نکاح کیا ہے تمہارے ساتھ اور اور اب تم اس کی زمہ داری ہو۔

جب وہ اپنی زمہ داریاں نبھانے کے لیے تیار ہے تو کیوں اپنے قدم پیچھے کھینچ رہی ہو؟ زندگی میں کبھی نہ کبھی انسان کو خود غرض ہونا ہی پڑتا ہے ورنہ در بدر کی ٹھوکریں انسان کا

مقدر بن جاتی ہیں ۔

جب تک تمہاری ماں زندہ تھیں سب ٹھیک تھا بیٹا لیکن اب وہ زندہ نہی ہیں ۔ اس وقت تمہیں اپنے باپ کے ساتھ ساتھ ایک اور مظبوط سہارے کی ضرورت ہے ۔ تم کسی کا حق نہی چھین رہی ۔ ۔ ۔ ہمدان کے نکاح میں ہو، ایک دوسرے کی زندگی کا حصہ ہو تم دونوں اور کوئی تیسرا تم دونوں کو الگ نہی کر سکتا ۔

جہاں تک بینی کی بات ہے اس کی قسمت میں اللہ نے کچھ بہتر سوچا ہوگا۔ ہو سکتا ہے اس ایک سال میں ان دونوں کی شادی ہو جاتی لیکن ہوئی نہیں ۔ ۔ ۔ شاید اللہ نہی

چاہتا تھا۔

جس دن تم یہاں سے گئی تھی اسی دن بینی کا ایکسیڈنٹ ہوا تھا اور وہ ایک سال سے بستر پر

پڑی ہے۔

چلنے پھرنے سے محروم ہے وہ اور پتہ نہی کب تک ایسی ہی رہے ۔ میری بات کو سمجھنے کی کوشش کرو۔

اچھا ۔ ۔ ۔ میری بیٹی کی معزوری کو استعمال کرتے ہوئے یہ پٹیاں پڑھا رہی ہیں آپ اپنی

بھتیجی کو ۔

وہ رملہ کو سمجھا ہی رہی تھیں کہ مسز ملک کمرے میں داخل ہوئیں۔

انہیں سامنے دیکھ کر رملہ کے تو جیسے ہوش ہی اڑ گئے۔ نہی بھا بھی میں تو ۔ ۔ ۔ انہوں نے کچھ بولنا چاہا لیکن مسز ملک نے بولنے کا موقع ہی نہیں دیا۔ بس ۔ ۔ ۔ خبردار جو دوبارہ آپ نے میری بیٹی کو معزوری کا طعنہ دیا تو مجھ سے برا کوئی نہی ہو

زبان کھینچ لوں گی ہیں ۔ ۔ ۔ وہ رملہ کی طرف دیکھتی ہو ئیں بولی۔
 
رملہ نے غلطی نہ ہوتے ہوئے بھی نظریں جھکا لی۔

کیا کہہ رہی تھی آپ اس سے کہ اللہ نے بینی کے لیے کچھ اور سوچا ہوگا ۔ وہ معزور ہو گئی ہے اور پتہ نہی کب تک معزور رہے ۔ اس لیے تم موقع کا فائدہ فائدہ اٹھاو اور ہمدان سے شادی

کر کے اس گھر کی مالکن بن جاو۔

واہ ۔ ۔ ۔ کیا بات ہے آپ کی ۔ ۔ ۔ اسے کہتے ہیں آستین کا سانپ ۔ برے وقت میں آپ کا ساتھ دیا ہم نے اور ہمارے برے وقت میں آپ میری بیٹی کے خلاف سازش تیار کر

رہی ہیں۔

اخر کس غلطی کی سزا دے رہی ہیں آپ میری بیٹی کو ؟ ابھی اس لڑکی کو اس گھر میں آئے چوبیس گھنٹے نہی ہوئے اور آپ نے اپنے رنگ دکھانے

شروع کر دیے ۔

جس تھالی میں کھاتے ہیں ناں اس میں سوراخ نہی کرتے ورنہ تھالی کسی کام کی نہی رہتی۔ اگر سر پر عزت کی چھت ملی ہے تو اس کی قدر کریں کیونکہ بڑھاپے میں در بدر کی ٹھوکریں

کھائی اچھی نہی لگیں گی۔ اور تم ۔ ۔ ۔ اب وہ رطہ کی طرف بڑھیں ۔

اگر تمہیں تمہارے باپ کی وجہ سے اس گھر میں جگہ دی ہے تو غنیمت سمجھوور نہ مجھے ایک منٹ نہی لگے گا تمہیں دھکے مار کر یہاں سے نکالنے ہیں۔

سمجھی۔۔۔؟

جی ۔۔۔ رملہ نے سر اثبات میں بلایا اور بھیگی پلکیں اٹھاتے ہوئے دروازے سے اندر داخل ہوتے ہمدان کی طرف دیکھا اور چہرہ دوسری طرف موڑ لیا۔

کیا ہوا تائی امی سب خیریت ۔۔۔؟

ہمدان رملہ کی طرف دیکھتے ہوئے ان کے پاس آر کا۔

کچھ خیریت نہی ہے ۔ تمہاری پھوپھو کا دماغ ہو گیا ہے ۔ سمجھاوا نہیں ۔ ۔ ۔ میرے بیٹی کے خلاف چالیں چلنے کا سوچ رہی ہیں یہ اس لڑکی کے ساتھ مل کر ۔ سمجھا دوا نہیں کہ آئیندہ اس لڑکی کے آس پاس بھٹکتی ہوئی بھی نظر نہ آئیں یہ مجھے ۔ غصے سے بولتی بولتی کمرے سے باہر نکل گئیں۔

پھوپھو چلیں یہاں سے ۔ ۔ ۔ انہیں زبر دستی کمرے سے باہر لے گیا۔ ان کے جاتے ہی رملہ سر گھٹنوں پے گرائے آنسو بہانے میں مصروف ہو گئی۔ کمرے کا دروازہ بند ہونے کی آواز پر سر اٹھا کر دیکھا تو سامنے ہمدان تھا۔ چلتا ہوا رملہ کے پاس آیا اور اس کا ہاتھ تھام کر کھینچتے ہوئے خود میں بھینچ لیا۔

رملہ نے خود کو آزاد کرنا چاہا مگر ہمدان کے بازووں کی مظبوط گرفت کے سامنے ہار گئی اور

اس کے سینے میں منہ چھپائے آنسو بہاتی رہی۔

جی بھر کر رو لو آج جتنا رونا ہے ۔ ہو سکتا ہے پھر یہ سہارا موجود نہ ہو۔

ہدان کے لہجے میں بے بسی تھی۔ رملہ نے سر اٹھا کر کر اس کی طرف دیکھا اور سر نفی میں

ہلا دیا ۔

ایسا مت بولیں آپ ۔ ۔ ۔اللہ نا کرے آپ کو کچھ ہو۔ میری زندگی بھی آپ کو لگ

جائے۔

کیا کروں گا ایسی زندگی کا میں ؟

ایسی زندگی جس میں میرا سب سے خاص اور مخلص رشتہ ہی نہ ہو ایسی زندگی نہی چاہیے

مجھے ۔ ۔ ۔ ہمدان اس کی طرف دیکھے بغیر بولا۔

ایسی زندگی جس میں جینے کا کوئی مقصد ہی نہ ہو اور رونے کے لیے کوئی کندھا ہی میسر نہ ہو ایسی زندگی کے لیے کیا دعا کروں میں ؟

ویسے بھی تم فیصلہ کر چکی ہوں ۔ ۔ ۔ میرے کہنے سے کیا فرق پڑتا ہے ۔ میں چاہتا تو تائی امی کو جواب دے سکتا تھا۔ انہیں تمہاری اس گھر میں حیثیت بتا سکتا تھا لیکن رک گیا کیونکہ تم نے میری زبان پر بے بسی کا تالا لگا رکھا ہے۔

جب تک تم نہی چاہو گی کچھ نہی کر سکتا ہیں۔ تمہیں جانے سے تو نہی روک سکتا لیکن جب تک یہاں ہو شوہر ہونے کی حیثیت سے میرا فرض بنتا ہے کہ تمہارے ہر سکھ دکھ میں تمہارے ساتھ کھڑا رہوں ۔

سوجا و آرام سے میں یہی ہوں ۔ رملہ کو بیڈ تک لایا اور لیٹنے کا اشارہ کیا۔

نہی میں سو جاؤں گی آپ جائیں یہاں سے ۔ ۔ ۔ کسی نے دیکھ لیا تو طوفان آجائے گا۔

طوفان کا ڈر تمہیں ہو گا مجھے نہی ۔ ۔ ۔ اگر طوفان کا ڈر ہوتا تو میں یہاں آتا ہی ناں سو جاو

آرام سے میں کچھ دیر تک یہی ہوں ۔

جب تم رونا بند کر کے سکون سے سو جاو گی تو میں یہاں سے چلا جاوں گا۔

رملہ کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے بول کر سوئچ بورڈ کی طرف بڑھ کر لائٹ آف کرتے ہوئے صوفے پر لیٹ گیا اور جیب سے موبائل نکال کر مصروف ہو گیا۔ رطہ بہت دیر تک اسے دیکھتی رہی اور پھر چادر سر تک اوڑھے سوگئی۔ جب وہ سو گئی تو ہمدان موبائل جیب میں رکھتے ہوئے اٹھ کر بیٹھ گیا۔

بے بس سا آ نکھوں میں بے جان سی مسکراہٹ لیے رملہ کی طرف بڑھا ۔ اس کے چھرے

سے چادر ہٹائی اور اس کے چہرے پر جھکا ہی تھا کہ پھر رک گیا۔

میں نہی چاہتا کہ تم مجھے غلط سمجھو ۔ ۔ ۔ مسکراتے ہوئے پیچھے ہٹا اور بنا شور کیے دروازہ بند کرتے ہوئے کمرے سے باہر نکل گیا۔

اگلی صبح سب موجود تھے ناشتے کی میز پر سوائے رملہ کے ۔ ۔ ۔ ہمدان کی نظریں بے تابی

سے اسی کو تلاش کر رہی تھیں ۔

رملہ آپی نہی آئیں ۔ ۔ ۔ ؟ میں بلا کر لاتا ہوں ۔ ۔ ۔ علی مسکراتے ہوئے کرسی سے اٹھا ہی تھا کہ مسز ملک بول پڑیں ۔ کوئی ضرورت نہی ہے ۔ بیٹھ جاو آرام سے ۔ اس لڑکی کو زیادہ سر پر چڑھانے کی ضرورت

نہی ہے ۔

چند دن کی مہمان ہے وہ یہاں ۔ ۔ ۔ بہت جلد اس کے لیے کوئی مناسب سا رشتہ دیکھ کر رخصت کرتی ہوں اسے ورنہ میرے گھر کا ماحول خراب ہونے میں دیر نہی لگے گی۔

اس کا کھانا اس کے کمرے میں پہنچا دیا جائے گا ۔ تم فکر مت کرو بیٹا۔

میری بیٹی کوئی لاوارث نہی ہے ۔ اس کا باپ زندہ ہے ابھی اور اس کا اچھا بر اسب سمجھتا ہے ۔ آپ اپنا مناسب سا رشتہ اپنے پاس ہی رکھیں تو بہتر ہو گا۔

میری بیٹی کا اس گھر میں اتنا ہی حق ہے جتنا باقی بچوں کا ہے ۔ کوئی اسے اپنے گھر سے بے

گھر نہی کر سکتا۔

وہ کوئی مہمان نہی ہے ۔ ۔ ۔ یہ بات آپ اور اس گھر کے مکین جتنی جلدی سمجھ لیں بہتر ہو

ملک صاحب محصے سے بولتے ہوئے کرسی سے اٹھے اور رملہ کے کمرے کی طرف بڑھے ۔

کچھ دیر بعد اسے ساتھ لیے وہاں آئے اور بیٹھنے کا اشارہ کیا۔

رملہ نے جھجکتے ہوئے کرسی کھینچی اور بیٹھ گئی ۔ ملک صاحب بھی بیٹھ گئے۔

سب ناشتہ کرنے میں مصروف رہے سوائے مسز ملک کے ۔ ۔ ۔ وہ غصے سے منہ پھیلائے

بیٹھی رہی۔ رملہ نظریں جھکائے ناشتہ کرنے میں مصروف رہی ۔ اچانک اس کی نظر سامنے بیٹھے ہمدان

کے ہاتھوں پر شہر سی گئی ۔

ہمدان کے ہاتھوں پے نظر میں جائے ناشتہ کرتی رہی اور پھر ڈرتے ڈرتے اس کی طرف دیکھا اور چند لھے دیکھتی ہی رہ گئی۔


نفاست سے سیٹ کیے ہال اور انتہائی خوبصورتی سے سیٹ کی داڑھی گلابی ہونٹ گھنی پلکیں اور داڑھی کے وسط میں سفید چہرہ ۔۔۔ شاید آج پہلی بار وہ فرصت سے اسے دیکھ

رہی تھی۔

نکاح کے رشتے کا احساس تھا یا پھر ایک بار پھر سے جدائی کا ڈر ۔ ۔ ۔ کچھ تو تھا اس کے دیکھنے میں ۔ ۔ ۔ اسی پل ہمدان کی نظر اس پر پڑی ۔ ۔ ۔ وہ حیران تھا رملہ کے اس طرح اس کی طرف دیکھنے پر ۔ جوس کا گلاس ہو نٹوں سے لگاتے ہوئے بے بس سا مسکرا دیا۔

کہتی ہے مجھے حق نہی اسے دیکھنے کا

لیکن اپنے حقوق اچھی طرح یا درکھتی ہے

نظریں تو چراتی ہے مجھ سے لیکن ۔ ۔ ۔

نظریں مجھ سے ہی چار کرتی ہے

رملہ نے جلدی سے نظریں پلیٹ پر جما دیں اور ایک بار سب کی طرف دیکھ کر پھر سے ہمدان

کی طرف دیکھا تو وہ اسی کی طرف دیکھ رہا تھا۔

بھنویں اچکاتے ہوئے مسکرا دیا ۔ جیسے پوچھنا چاہ رہا ہو کہ کچھ چاہیے کیا ؟ رملہ نے تیزی سے سر ایسے کھانے کی پلیٹ پر جمایا کہ دوبارہ نظر میں اٹھا کر نہی دیکھا۔ ہمدان بیٹا کوئی ضروری میٹنگ تو نہی آج تمہاری ؟

ملک صاحب کے سوال پر ہمدان کے چھرے کی مسکراہٹ سمٹی اور ان کی طرف متوجہ ہوا ۔ نہی تا یا ابو آج کوئی ضروری میٹنگ تو نہی ہے ۔ لیکن کچھ چھوٹے موٹے کام نمٹانے

ہیں۔

ہم ۔ ۔ ۔ پھر تم ایسا کرو کہ آج فیکٹری نہ جاو۔ رملہ کو یو نیورسٹی لے جاو۔ اس کی پڑھائی خراب نہ ہو اس لیے جتنی جلدی ہو سکے ایڈیشن ہو جانا چاہیے۔

جی تایا ابو آپ کی بات ٹھیک ہے لیکن اتنی جلدی ؟

میرا مطلب اسے یہاں آئے ابھی ایک دن ہوا ہے ۔ میرا خیال ہے اوپن یونیورسٹی میں

ایڈیشن لینا بہتر رہے گا۔

یں کہنا چاہ رہا ہوں کہ یو نیورسٹی جائے گی ہاسٹل میں رہنا پڑے گا۔ یہاں رہ کر پڑھے گی تو

کیا ایسا ممکن نہی ہو سکتا ؟

تم سے جتنا کہا گیا ہے اتنا ہی کرو ہمدان ۔ ۔ ۔ زیادہ مشورے دینے کی ضرورت نہی ہے ۔ اگر یہ یہاں نہی رہنا چاہتی تو یہ اس کا اپنا فیصلہ ہے ۔ ہم کون ہوتے ہیں اسے سمجھانے

والے۔

تم لے جاو ا سے اور ایڈیشن کروا کے وہی کسی ہاسٹل میں چھوڑ آو۔

مستر ملک غصے سے ہمدان پر پھٹ پڑیں۔

لیکن تائی امی ۔۔۔

لیکن ویکن کچھ نہی ۔ ۔ ۔ جتنا کہا ہے اتنا کرو, ویسے بھی اس کی منحوس شکل مجھے اس کی ماں کا

چہرہ یاد دلاتی ہے۔

جتنی جلدی ہو سکے اسے یہاں سے دفع کرو ۔ ۔ ۔ غصے میں وہاں سے چلی گئیں ۔ ہمدان نے مدد کن نگاہوں سے ملک صاحب کی طرف دیکھا ۔ ۔ ۔ وہ اس کا کندھا تھپتپاتے کی طرف دیکھا

ہوئے وہاں سے چلے گئے۔ ہمدان نے رملہ کی طرف دیکھا اور گہری سانس لیتے ہوئے علی کی طرف مسکراہٹ اچھالتے

ہوئے وہاں سے اٹھ گیا۔ میں باہر انتظار کر رہا ہوں آپ کا ۔ ۔ ۔ ناشتہ کرنے کے بعد اپنے ڈاکومینٹس لے کر آ

جائیں۔

جی ۔ ۔ ۔ رملہ نے مختصر جواب دیا اور جلدی سے ناشتہ ختم کرتی ہوئی اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئی۔ اپنا بیگ اور ڈاکومینٹس سمیٹتی ہوئی نیچے آئی اور گیراج کی طرف بڑھ گئی۔ ہمدان گاڑی سے ٹیک لگائے دونوں بازو سینے پے فولڈ کیے کسی گہری سوچ میں گم تھا ۔ رملہ کو آتے دیکھ کر اس کے لیے گاڑی کا دروازہ کھولا اور خود ڈرائیونگ سیٹ سنبھال لی۔

★★★★★
پورے راستے دونوں نے کوئی بات نہی کی۔ رملہ منتظر تھی کہ شاید ہمدان اسے روکے کا لیکن

وہ تو اس معاملے میں ایسے خاموش بیٹھا تھا جیسے اسے کوئی فرق ہی نہ پڑتا ہو۔ واپسی پر ہمدان نے گاڑی سڑک کے کنارے روک دی اور اسٹیرنگ وہیل ہے سر

گرائے بیٹھ گیا۔ کیا ہوا آپ ٹھیک تو ہیں ؟

رطہ نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا تو ہدان نے سر اٹھا کر اسے گھوری ڈالی۔ ہاتھ مت لگاو مجھے ۔۔۔ کوئی حق نہی تمہیں مجھے ہاتھ لگانے کا اور نہ ہی مجھے دیکھنے کا۔

میں تو بس ۔۔ مجھے فکر ہو رہی تھی آپ کی بس اسی لیے پوچھ لیا۔

I am sorry

اس نے تیزی سے بہت پیچھے کھینچ لیا لیکن ہمدان نے اس کا ہاتھ تھام کر ہو نٹوں سے لگالیا۔

یہ کیاکیا کر رہے ہیں آپ؟

چھوڑیں میرا ہاتھ ۔۔۔ اچھا نہی لگتا اس طرح سے ۔ ۔ ۔ وہ بولتی رہ گئی لیکن ہمدان بنا کوئی جواب دیے بس اس کی طرف دیکھتا رہا۔

چند لمحے دیکھنے کے بعد مسکرا دیا ۔ رملہ کا ہاتھ ابھی بھی اس کے ہاتھ کی مضبوط گرفت میں قید

تھا۔

اب دیکھ سکتی ہو میری طرف مسز ۔ ۔ ۔ یہاں پر کوئی نہی دیکھے گا تمہیں مجھے دیکھتے ہوئے اور نہ ہی کوئی روکے گا۔ تو جی بھر کر دیکھ سکتی ہو جتنی بار دیکھنا چاہو۔

جتنی دیر تک چاہو دیکھ سکتی ہو مجھے کوئی اعتراض نہی ہے ۔

رملہ نے چونک کر اس کی طرف دیکھا اور نظریں جھکالیں اور پھر سے اپنا ہاتھ کھینچنا شروع کر

دیا مگر ہد ان کی گرفت مظبوط تھی ۔

ہمیں چلنا چاہیے ۔ ۔ ۔ بڑی ماما ناراض ہو جائیں گی اگر ہم دیر سے پہنچے ۔ تمہیں کب سے فکر ہونے لگی تائی امی کی؟ ان کی فکر مت کرو ان کو جواب دینا جانتا ہوں میں ۔ ۔ ۔ آج بھی چپ کروا سکتا تھا انہیں لیکن تمہاری وجہ سے چپ رہا لیکن اگر وہ مسلسل اسی طرح تمہاری تزلیل کرتی رہی تو شاید کسی

دن میری برداشت ختم ہو جائے ۔ آپ جواب دے سکتے ہیں انہیں لیکن میں نہیں ۔ ۔ مجھے اپنے کردار سے لے کر اپنی مرحومہ والدہ کے کردار تک گواہی دینا پڑتی ہیں۔

رات کو جو کچھ ہوا اس کے بعد میر انہی خیال کے مجھے انہیں کوئی موقع دینا چاہیے ۔ آپ کو پھوپھو سے وہ سب شئیر نہی کرنا چاہیے تھا ۔ وہ بہت مان سے آئی تھیں میرے پاس اور الٹا میری وجہ سے بڑی ماما نے ان کی انسلٹ کر دی ۔

تائی امی کی پرانی عادت ہے رملہ ۔ ۔ ۔ ہم سب عادی ہو چکے ہیں ان کے رویے کے وہ ہم سب پر حکم چلانے کی عادی ہو چکی ہیں ۔ ان کے ایسے رویے کی وجہ میرے بابا ہیں ۔ وہ نشے کی لت میں پڑ گئے تھے اور اپنا سب کچھ ہار گئے ۔ تب ہمیں تایا ابو نے سہارا دیا ۔ بس اسی بات کا فائدہ اٹھایا انہوں نے ہمیشہ ۔ ایسا نہی ہے کہ میرے پاس اپنا کچھ نہی ہے ۔ الحمد للہ آج سب کچھ ہے میرے پاس لیکن پھر بھی ان کو پلٹ کر جواب نہی دیا کبھی کیونکہ ماں باپ کی تربیت پر بات آجاتی ہے۔ لیکن ان کا تمہارے ساتھ ایسا رویہ مجھ سے بلکل برداشت نہی ہوتا ۔ ۔ ۔ جب تک بات میری تھی میں برداشت کر تا رہا لیکن اپنی بیوی کی تزلیل برداشت کرنا بہت مشکل ہے

میرے لیے ۔

صرف نکاح کر لینا کافی نہی ہوتا ۔ ۔ ۔ شوہر کو اپنی بیوی کی عزت کا بھی خیال رکھنا پڑتا

ہے ، بیوی کی طرف اٹھنے والی ہر انگلی کو توڑنے کی ہمت رکھنی پڑتی ہے ۔ "

آپ میری وجہ سے کسی سے نہ الجھیں ۔ ۔ ۔ میں چند دن کی مہمان ہوں چلی جاؤں گی، آپ میرے لیے زیادہ فکر مند نہ ہو ۔ ۔ ۔ وہ نکاح زبر دستی ہوا تھا ۔ اماں نے زبر دستی کی تھی آپ کے ساتھ لیکن میں آپ کے ساتھ کوئی زبردستی نہی کروں گی اور ناں ہی خود کو آپ پر مسلط

کروں گی ۔

آپ کی اپنی زندگی ہے جیسے چاہے گزاریں ۔ ۔ ۔ یہی سمجھیں میں آپ کی ایک انجان کزن

ہوں۔

ہم سہی ۔ ۔ ۔ تمہارے لیے کہنا بہت آسان ہے رطہ لیکن میرے لیے ایسا سوچنا بھی

گناہ ہے۔

نکاح چاہے جن حالات میں بھی ہوا تھا ۔۔۔ تم میرے نکاح میں ہو یہی حقیقت ہے اور میں اس کو تسلیم کر چکا ہوں ۔ تمہیں جانا ہے تو جاو۔ ۔ ۔ میں نہی روکوں گا لیکن جتنے دن میرے ساتھ ہو مجھے ان لمحوں کو

جی بھر کے جینے دو۔ کیا پتہ جب تم واپس پلٹو میں کسی دور چلا جاو اتنی دیر جہاں سے واپسی کا راستہ میسر ہی نہ ہو۔ رملہ کے ہاتھ پر گرفت مزید مظبوط کی ۔


بدلے میں رملہ بعد ان کے کندھے پر سر گرائے آنسو بہانا شروع ہو گئی ۔ کیوں کر رہے ہیں

آپ ایسی باتیں ؟

آپ جانتے ہیں جو آپ چاہتے ہیں وہ میں نہی کر سکتی ۔ ۔ ۔ اماں ایسا نہی چاہتی تھیں۔

ایسا ہی چاہتی تھیں وہ رملہ ۔۔۔ تم سمجھنے کی کوشش ہی نہی کر رہی ۔ ۔ ۔ ہمدان نے اس کی

بات درمیان میں ہی کاٹ دی۔

جس دن تم ہاسپٹل میں تھی اس دن تا یا ابو اور آنٹی کی ملاقات ہوئی تھی اور یقینا وہ دونوں ایک دوسرے کو پہچان چکے تھے لیکن ہمارے سامنے ظاہر نہی کیا ۔ یہ فیصلہ انہوں نے بدلے کی آڑ میں نہی بلکہ تمہیں تحفظ دینے کے لیے کیا تھا کیونکہ وہ جانتی تھیں ان کی غیر موجودگی میں ان کی بیٹی اس کوٹھے کی چار دیواری میں محفوظ نہی رہ سکے گی۔ اسی لیے انہوں نے میرا انتخاب کیا ۔۔۔ وہ سمجھ چکی تھیں مجھے ۔ ۔ ۔ میں تمہارے لیے

بہت فکر مند تھا۔

مجھے نہی پتہ تھا کہ میں ایسا کیوں کرتا تھا۔ ایک انجان سا احساس تھا ۔ کبھی مینی اور کبھی نصیر ۔ ۔ ۔ جب جب انہوں نے تمہیں نیچا دکھانے کی کوشش کی میرا خون کھوتا تھا۔ پتہ نہی کیوں میرا دل چاہتا تھا تمہیں تحفظ دوں ۔ ۔ ۔ میرے دل تمہارے لیے ایک الگ ہی محبت ڈالی تھی اللہ نے مجھے کیا پتہ تھا میری وہ بے چینی تمہیں میری زندگی میں شامل کر

دے گی۔

میں سب سے لڑسکتا ہوں تمہارے لیے ۔ ۔ ۔ بس ایک بار تم ہاں کر دو میں سب کو بتا دونگا اس نکاح کا اور شادی بھی تم سے ہی کروں گا عزت سے ۔

بس تم میرا ساتھ دو ۔ ۔ ۔ زندگی کے ہر مقام پر تمہارے ساتھ کھڑا رہوں گا۔

رملہ نے اس کے کندھے سے سر اٹھایا اور سیدھی ہو کر بیٹھ گئی ۔ میرا خیال ہے ہمیں گھر چلنا چاہیے۔ مجھے اپنی خوشیوں سے بڑھ کر دوسروں کی خوشیاں عزیز ہیں۔ جس گھر میں مجھے پناہ لی ہے اس گھر کی بیٹی کی خوشیاں برباد نہی کر سکتی ہیں۔ بینی کی شادی آپ سے طے ہو چکی ہے اور میں اپنی بہن کا گھر برباد نہی کر سکتی۔

ہم ۔۔۔ مطلب میری کسی بات کی کوئی ویلیو نہی تمہاری نظر میں بس دوسروں کی فکر

ہے۔

ٹھیک ہے جیسے تمہاری مرضی ۔ ۔ ۔ دوبارہ اس ٹاپک پر کوئی بات نہی کروں گا

میں ۔ ۔ ۔ بے بسا مسکرا دیا اور گاڑی اسٹارٹ کر دی ۔ شام کو جم سے واپس آیا تو نور کی ماما دروازہ ناک کرتی ہوئی کمرے میں داخل ہوئیں ۔ پھوپھو آپ ۔ ۔ ۔ آپ کو کب سے دروازہ نوک کرنے کی ضرورت محسوس ہونے لگی ہے ۔ وہ مسکراتی ہو ئیں صوفے پر بیٹھ گئیں ۔ ہمدان بھی ان کے سامنے والے صوفے پر بیٹھ گیا اور

مسکرا دیا۔

سنا ہے تم آج رملہ کو یو نیورسٹی لے کر گئے تھے ؟

جی سی سنا ہے آپ نے ۔ ۔ ۔ کچھ دن تک چلی جائے گی ہاسٹل ۔ ۔ ۔ بے بسی سے جواب دیا۔۔

وہ نہی رہنا چاہتی یہاں میری وجہ سے ۔ ۔ ۔ کہتی ہے کہ بینی کا گھر نہی برباد کر سکتی۔

اچھا ۔ ۔ ۔ تواگر وہ نہی سمجھ رہی تو سمجھا واسے بیٹا۔ ۔ ۔ بیوی ہے وہ تمہاری اس کی زندگی

میں اپنی اہمیت واضح کرو۔ میں کچھ سمجھا نہی پھوپھو۔ ۔ ۔ ؟

ہر بات سمجھانے والی نہی ہوتی ہیا ۔ ۔ ۔ کچھ باتیں خود ہی بجھنی پڑتی ہیں ۔ میں چلتی ہوں نماز

کا وقت ہو رہا ہے ۔ بس یہی سمجھانے آئی تھی تمہیں کہ اگر وہ نا سمجھ ہے تو تم سمجھداری سے کام لو۔

سمجھ رہے ہوناں میری بات ۔۔۔؟

اگر نہی سمجھ آئی تو سمجھنے کی کوشش کرو, عقلمند کے لیے اشارہ کافی ہوتا ہے ۔ مسکراتی ہوئیں کمرے سے باہر نکل گئیں اور ہمدان میں پڑگیا ۔

کیا مطلب ہو سکتا ہے اس بات کا ۔ ۔ ۔ ۔ ؟ ہم سمجھ گیا ۔ ۔ ۔ اب یہی واحد راستہ بچا ہے میرے پاس تمہیں روکنے کا ۔ ۔ ۔ دیکھتا

ہوں کیسے جاتی ہو مجھے چھوڑ کر ۔

بہت ہوگیا۔ ۔ ۔ اب تمہاری زندگی میں اہمیت واضح کرنی ہی پڑے گی ورنہ تم اس طرح دور

بھاگتی رہو گی مجھ سے ۔

مسکراتے ہوئے الماری کی طرف بڑھ گیا ۔ فریش ہو کر کمرے سے باہر نکلا اور کھانا کھانے

کے بعد سب کے کمروں میں جانے کا انتظار کرتا رہا۔

جب سب اپنے اپنے کمروں میں چلے گئے تو رطہ کے کمرے کی طرف چل دیا۔ دروازے کی ڈبلیکیٹ چابی کچن سے لی اور بڑے سکون سے کمرے میں داخل ہوا ۔ وہ سکون سے سورہی تھی ۔ مسکراتے ہوئے اس کی طرف بڑھا اور نرمی سے اس کے گال

کو چھوا۔

رملہ کی آنکھ کھل گئی ۔ ۔ ۔ اس سے پہلے کہ وہ چلاتی ہمدان اس کے ہونٹوں پر جھکا اور فرار کی ساری راہیں بند کر دیں ۔

رملہ صبح صبح بیڈ سے ٹیک لگائے بیٹھی رو رہی تھی اور ہمدان سکون سے سو رہا تھا ۔ رملہ کی

سکیوں کی آواز کانوں میں پڑی تو اٹھ کر بیٹھ گیا۔ اس کی طرف ہاتھ بڑھا کر آنسو پونچھنے کی کوشش کی تو رملہ نے اس کا ہاتھ جھٹک دیا۔

بدلے میں ہمدان مسکرا دیا ۔ رونا کا کوئی فائدہ نہیں ہے ۔ شوہر ہوں تمہارا اور میرا حق ہے تم

پر

حق زبر دستی حاصل نہی کیے جاتے رملہ غصے سے چلائی مگر پھر اپنی آواز اونچی ہونے کا ڈر

ہوا تو فورا سے منہ پر ہاتھ رکھ لیا ۔

همدان

مسکرا دیا

No, you are wrong

اپنی بیوی کو پیار کرنا کوئی زبر دستی نہیں ہوتی ۔ جب گھی سیدھی انگلی سے نہ نکلے تو انگلی

ٹیڑھی کرنی پڑتی ہے۔

بیوی ہو تم میری کچھ غلط نہیں کیا میں نے

اگر ثابت کر سکتی ہو کہ میں نے غلط کیا ہے تو کرو جو سزا دونگی میں بھگتنے کے لیے تیار

ہوں۔

میری زندگی تو خود ایک سزا بن چکی ہے اور رہی سہی کسر آپ نے پوری کر دی ہے ۔ مجھے آپ سے بالکل امید نہیں تھی کہ آپ ایسا بھی کچھ کر سکتے ہیں ۔ میں آپ کو بہت اچھا انسان سمجھتی تھی لیکن آج آپ نے ثابت کر دیا کہ آپ ۔ ۔ ۔ ۔

ششش خبر دار جو اس سے آگے ایک لفظ بھی بولا ۔ ۔ ۔ ۔ اس سے پہلے کہ رملہ کچھ کہستی

ہمدان نے اسے درمیان میں ہی ٹوک دیا۔

اپنی بیوی کو پیار کرنا کچھ غلط نہیں ہے ۔ جاو فریش ہو جاو۔ نیچے ناشتے کی ٹیبل پر ویٹ کر رہا ہوں میں تمہارا اور اگر نہ آئی تو میں پھر سے کمرے میں آرہا ہوں۔

اگر مجھے کسی نے اس کمرے میں آتے ہوئے دیکھ لیا تو اس کا جواب میں ہی دوں گا۔ جانتی ہو ناں میں ڈرتا نہیں ہوں کسی سے ۔ ۔ ۔ بہتر یہی ہوگا کہ اس بحث کو یہیں ختم کرو اور نیچے آؤ میں بھی آتا ہوں فریش ہو کر نماز پڑھ کے تم بھی آجاؤ جلدی سے ۔

مجھے نہیں آنا کہیں بھی آپ جائیں آپ کو جانا ہے تو ۔ ہمدان بیڈ سے نیچے اتر ہی تھا کہ رملہ کی آواز پر پھر سے اس کی طرف بڑھا اور مسکرا دیا کیا کہا ؟ ذرا پھر سے کہنا میں نے سنا نہیں۔۔۔ نہی جانا چاہتی یہاں سے یا پھر میرا جانا اچھا نہی لگ

رہا تمہیں ؟

جو بات دل میں ہے کہ دو میں مائینڈ نہی کروں گا۔

ایک بار کہہ کر تو دیکھو ۔ ۔ ۔ تمہارے لیے جان بھی حاضر ہے ۔

ہمدان کا لہجہ اور اس کی نظروں کی تپش نے رملہ کو وہاں سے اٹھنے پر مجبور کر دیا ۔ تیزی سے

اٹھ کر واش روم چلی گئی۔
 

Create an account or login to read stories

You must be a member in order to leave a comment

Create account

Create an account on our community. It's easy!

Log in

Already have an account? Log in here.

New posts
Back
Top