• 📚 لوو اسٹوری فورم ممبرشپ

    بنیادی ڈیل

    وی آئی پی

    5000
    تین ماہ کے لیے
    بہترین ڈیل
    💎

    وی آئی پی پلس

    8000
    چھ ماہ کے لیے
    ٹاپ پیکیج
    👑

    پریمیم

    20000
    چھ ماہ کے لیے

Historic Story الف لیلہ داستان ۔۔

Joined
Jun 10, 2025
Messages
934
Reaction score
48,731
Points
93
Location
Karachi
Gender
Male
قسط نمبر 1:

راویانِ روایاتِ سلاطین سے راوی ہے کہ زمانِ پاستان میں ایک تاجدارِ خاقان کلاہ راج کیا کرتا تھا۔ نام اس کا سلطان شہریار تھا، امورِ سلطنت میں آزمودہ کار تھا۔ بے حد غریب پرور، دوست دشمن نواز، انصاف میں نوشیروانِ ثانی، شجاعت میں غیرت کا بانی۔ اس کی بادشاہت میں شیر اور بکری ایک گھاٹ پر پانی پیتے، چھوٹے بڑے عیش کرتے تھے۔ محتاج کا نام نہ تھا، ادنیٰ سے ادنیٰ اس کی بادشاہی کا دم بھرتا تھا۔

خدا کا کرنا یہ ہوا کہ سلطان شہریار عالی وقار کی ملکہ نے ناموس کو دھبّا لگایا اور بادشاہ سے بے وفائی کرکے شیشۂ پارسائی و وفاداری کو چکنا چور کیا، ذرا بھی نہ پاس ناموسِ حضور کیا۔ ملک شہریار نے فرطِ غضب سے مغلوب ہوکر اپنی بدکارہ ملکہ کو جلاد کے سپرد کیا اور جلاد نے اس کا سر شمشیر کے ایک ہی وار سے تن سے جدا کیا۔

اس روز سے شہریار کو عورتوں کی پارسائی و عصمت، باوفائی و عفت کا ذرا بھی دل میں یقین نہ رہا اور اس نے یہ کرنا شروع کیا کہ ہر شب ایک دوشیزہ کو بلاتا اور صبح کو اس کی جان لیتا، جیتانہ چھوڑتا۔ تین سال تک مسلسل یہ قتلِ عام جاری رہا۔ شدہ شدہ نوبت بہ اینجا رسید کہ کنواری لڑکیوں کے ماں باپ کو اس واقع کی اطلاع ہوئی اور تمام شہر میں کھلبلی مچ گئی۔ والدین کنواری لڑکیوں کو لے کر بھاگے، شہر خالی کر دیا۔ جب کوئی دوشیزہ شہر میں باقی نہ رہی تو بادشاہ نے وزیر کو بلایا اور فرمایا کہ آج ہماری دلہن بننے کو کوئی لڑکی دستیاب نہیں۔ تم خود اہتمام کرکے ہمارے لیے ایک دوشیزہ لاؤ، بہت جلد بہم پہنچاؤ ورنہ ہم بددماغ ہو جائیں گے اور سختی سے پیش آئیں گے۔

وزیر کے ہوش اُڑ گئے۔ ہر طرف سراغ لگایا مگر دوشیزہ کا پتا نہ پایا۔ اگر دستیاب ہوئی تو بہت ہی کمسن، بادشاہ کے قابل نہیں۔ لے جاؤں تو لوگ بے وقوف بنائیں، نہ لے جاؤں تو بادشاہ بددماغ ہو جائیں۔ جائے ماندن نہ پائے رفتن۔ بے چارے نے حیران پریشان گھر کی راہ لی۔

اس وزیر کی بڑی بیٹی کا نام شہرزاد تھا۔ علم و فضل میں طاق، ہر فن میں شہرۂ آفاق، صاحب سلیقہ و شعور تھی، مشہورِ نزدیک و دور تھی۔ اپنے پدرِ بزرگوار کو جو مغموم پایا تو دل بھر آیا۔ پوچھا ابا جان کیا بات ہے؟ نصیبِ دشمنان کچھ طبیعت ناساز ہے؟ جواب میں وزیر نے بادشاہ کا حال بلاکم و کاست بیان کیا۔ وزیر زادی نے فوراً کہا ابا جان اس قدر فکر بے کار ہے۔ لونڈی اس کام کے لیے تیار ہے۔ آپ مجھے بادشاہ کے سپرد فرمائیں۔ بادشاہ مجھے اپنے نکاح میں لائیں۔ خدا نے چاہا تو بادشاہ راہِ راست پر آئے اور پھر تمام عمر کسی کے قتل کا ارادہ دل میں نہ لائے۔

وزیر پریشان ہوا، بولا جانِ بابا تمہارا کدھر خیال ہے؟ بادشاہ کے جنون کا عجب حال ہے۔ کس خبط میں گرفتار ہو، ابھی کمسن ناتجربہ کار ہو۔ شہرزاد نے کہا ابا جان بلا سے میری جان پر آئے گی مگر میرے سبب ایک شریف زادی مسلمان تو بچ جائے گی۔ وزیر نے دیکھا کہ لڑکی ہٹ کی پکی ہے اور اس کی ضد مانے بغیر چارہ نہیں تو اپنی بیٹی کو دلہن بنا کر بادشاہ کے حضور لے گیا۔ ملک شہریار نے بہ مسرتِ تمام، بہ طبیبِ خاطر اس جادوِ جمال، زہرہ تمثال سے نکاح کیا اور اسے حجلۂ عروسی میں پہنچایا۔

جب بادشاہ اس کے پاس گیا تو وہ بادشاہ کو دیکھتے ہی زار زار رونے لگی۔ اشک سے عارضِ گلگوں دھونے لگی۔ ملک شہریار نے پوچھا تم اس قدر آٹھ آٹھ آنسو کیوں روتی ہو؟ اگر کوئی تکلیف ہے تو اطلاع دو، علاج کیا جائے۔ شاہی طبیب کو معالجے کا حکم دیا جائے۔ شہرزاد نے بہ صد ادائے دلربانہ جواب دیا کہ اے بادشاہ سلامت مجھے اس وقت گھر والوں کی یاد آئی ہے۔ طبیعت تابِ جدائی نہ لائی ہے۔ شہریار نے پوچھا آخر یہ رنج و غم کیوں کر دور ہو؟ شہر زاد نے کہا اجازت ہو تو کوئی کہانی سناؤں؟ اپنا غم بھی غلط کروں، آپ کا بھی دل بہلاؤں۔

شہریار نے کہا بسم اللہ ضرور سناؤ، اس میں ہمیں کیا اعتراض ہے؟ شہر زاد نے خدا کا نام لے کر کہانی شروع کی

(رات:۱)
شہرزاد پری رخسار کی زبانی، سوداگر بچے کی کہانی:
شہرزاد پری زاد نے لبوں سے قندگھولا اور اس کے منہ سے یوں پھول جھڑنے لگے کہ اے شہریارِ والا تبار، کسی ملک میں ایک سوداگر بڑا عالی خاندان و مال دار تھا۔ مال و دولت، غلام و کنیزیں بکثرت تھیں۔ جابجا تجارت کی دکانیں سجی سجائی، تمام دنیا کی اشیائے بے بہا، چنی چنائی، دور دور تک اس کی ساکھ اور نام تھا۔ زمانہ ہاتھوں میں اور وقت غلام تھا۔

اسی سوداگر کا اکلوتا لڑکا اللہ آمین کا پالا تھا۔ ماں واری صدقے جاتی تھی، باپ پیروں تلے ہاتھ دھرتا تھا۔ یہ سوداگر بچہ جوان ہوا تو اس کے حسن و جمال کا دنیا میں چرچا ہونے لگا۔ خوش خو و خوب رو، نوجوان و نوخاستہ سوداگر زادے کا نام حسن بدر الدین تھا۔ باپ کے ساتھ تجارت میں ہاتھ بٹاتا تھا، دنیا میں اپنی دریا دلی کا سکہ جماتا تھا۔ اس کے حسن و جمال اور دولت و دریا دلی کے سبب شہر بھر کے لونڈے لپاڑے کہ موقع پرست و مفت خور تھے۔ اس کے گرد جمع رہتے تھے۔ سوداگر اکثر بیٹے کو سمجھاتا تھا کہ جانِ پدر چار دن تو نچلے بیٹھو، چادر سے پاؤں نہ نکالو، ان ہری چگ دوستوں سے منہ موڑو، ان کی رنگ رلیوں کو ٹالو، یہ سب دولت پیسہ تمہارا ہی ہے۔ یوں اڑاؤ گے تو پھوٹی کوڑی کے محتاج ہونے میں دیر نہ لگے گی۔ یہ کیا جلد بازی ہے؟ ان یاروں کی دوستی، دوستی نہیں فسوں سازی ہے۔ حسن بدرالدین اس نصیحت کو ایک کان سن، دوسرے کان اڑاتا تھا اور بہ دستور اپنے پیسے سے دوستوں کی محفلوں کی رونق بڑھاتا تھا۔

ایک دن سوداگر اپنی دکان میں حسبِ معمول بیٹھا تھا کہ ایک زنِ مہ پارہ قاطر پر سوار آئی۔ سوداگر کی دکان کے قریب اتری اور اٹھلاتی، بوٹی بوٹی پھڑکاتی دکان میں آئی۔ برقع اٹھا کر ایک نظرِ غلط انداز ڈالی۔ سوداگر نے جو چہرہ زیبا دیکھا تو خدا کی خدائی پر حیران ہوا۔ اس مہ وش زریں کمر نے سوداگر سے کہا کچھ مال دکھاؤ، دل بہلاؤ۔ سوداگر نے ریشم کے تھان کھول کر سامنے رکھے جو وہ پچھلے مہینے دمشق سے لایا تھا۔ اس عورت نے دو قیمتی ریشمی تھان پسند کیے اور کہا ان کو قاطر پر رکھوا دیجیے۔ سوداگر نے کہا بسرو چشم، مگر پہلے قیمت ادا کر دیجیے، ایک سو درہم دیجیے، تھان اٹھوا لیجیے۔ یہ سن کر وہ پری وش غضب میں آئی۔ جھلا کر بولی، موئے عقلی کے ناخن لے، بھلا ہم سے قیمت لے گا؟ سوداگر نے کہا یوں تو آپ لے جائیے، آپ ہی کا مال ہے مگر تجارت میں گھاٹا کھانا عقل سے دور ہے ورنہ مفلوک الحال ہونا ضرور ہے۔

یہ سن کر عورت کو طیش آیا، کہنے لگی۔تو مجھے جانتا نہیں، میں مشہورِ زمانہ ساحرہ ہوں۔ پری، چڑیل، ڈائن سب کا روپ دھار سکتی ہوں، تو نے مجھے ناراض کیا ہے، از بس کہ اس کی سزا تجھے ضرور دوں گی، جیتا نہ چھوڑوں گی۔ کھڑے کھڑے سوداگر کو بہ زورِ سحر بکرا بنا دیا اور کان سے پکڑ کر منڈی میں لے گئی۔ وہاں دم کے دم میں دام کھرے کیے اور اپنے گھر کو سدھاری۔

ادھر حسن بدرالدین کی سنیے۔ اس نے اپنے دوستوں کو دعوت پر بلایا اور ان یارانِ عیاران نے فرمائش کی آج تو قورمہ قلیہ کی دعوت ہونی چاہیے۔ اُسی دم حسن نے ہرکارے کو دوڑایا کہ بازار سے ایک موٹا تازہ بکرا خرید لائے۔ وہ بکرا لایا اور جب اس کے گلے پر چھری چلائی تو وہ بکرا یک بیک انسانی جون میں آیا۔ قصائی نے سوداگر کو زخمی حالت میں روبہ رو پایا۔ ہاہا کار مچ گئی۔ حسن بدر الدین دوڑا آیا اور باپ کو اس حالت میں دیکھ کر زار زار رویا۔ سوداگر نے کہا جان بابا ایک ساحرہ کہ زن مکارہ تھی، کے ہاتھوں یہ حال ہوا ہے۔ میری آخری وصیت یاد رکھنا مکار عورت کا کبھی اعتبار مت کرنا خواہ کتنی ہی خوب صورت ہو اور نیک و شریف عورت کی بہت قدر کرنا خواہ کتنی ہی کم صورت ہو۔ تیسری وصیت یہ کہ رنگ رلیوں میں مال مت اڑانا اور سوداگری کے جو اصول میں نے سکھائے ہیں، انہیں دیانت دارانہ کام میں لانا۔ یہ کہہ کر جان جانِ آفریں کے سپرد کی۔ مرغِ روح قفس بدن سے آزاد ہوا، ہنستا بستا گھر برباد ہوا۔

گزرنا حسن بدرالدین پر رنج و الم کا اور چڑھنا اس کا زن مکارہ کے ہتھے:
حسن بدرالدین باپ کی زندگی میں خوشی و شادمانی میں رہتا تھا، کبھی کاہے کو رنج و غم سہتا تھا۔ رات شبِ برات تو دن عید۔ باپ کی مرگِ ناگہانی نے وہ صدمۂ جاں گزا دکھایا کہ حالِ زار ہوگیا، مارے قلق کے بیمار ہوگیا۔ غرض چالیس روز تک سوگ منایا کیا۔ چالیس روز بعد کاروبارِ دنیا میں مصروف ہوا۔ اچھے وقت کے دوستوں نے اسے دوبارہ گھیر لیا۔ دن رات دعوتیں ہونے لگیں، عیش و عشرت کی محفلیں جمنے لگیں۔ حسن بدرالدین تجارت سے غافل ہوا، بدباطن دوستوں کی صحبت میں پڑ کر شکارِ باطل ہوا۔ تین سال کے اندر اندر نوبت یہاں تک جا پہنچی کہ کل مال و متاع اور اسبابِ تجارت اُڑا دیا اور مفلس و قلاش ہوگیا۔ دوست جو اچھے وقت میں پروانہ وار منڈلاتے تھے، ساتھ چھوڑ گئے۔ مفلسی کے سبب ماں بیمار پڑی اور داغِ مفارقت دے گئی۔ اب حسن بدرالدین کی آنکھیں کھلیں اور دل میں بہت بچھتایا کہ باپ کی نصیحت نہ مانی۔ قصور ہوا، خدا جانے میری عقل میں کیا فتور ہوا، مگر اب پے در پے صدمے پائے ہیں۔ اب عقل کرنا ضرور ہے، عاقبت نااندیشی سے طبیعت نفور ہے۔

حسن بدرالدین نے باپ کی آخری نشانی وہ چھری جو اس کے گلے پر پھری تھی ساتھ لی، زادِ راہ کے نام پر چند روٹیاں رومال میں لپیٹیں اور خدا کا نام لے کر سفر پر روانہ ہوا۔ تمام دن چلنے کے بعد ایک درخت کے نیچے بیٹھ کر آرام کرنے لگا۔ تھکن سے چور چور تھا۔ دل رنج و غم سے معمور تھا۔ رومال کھول کر دو روٹیاں کھائیں اور ندی کے پانی سے پیاس بجھائی۔ وہاں بیٹھے بیٹھے اپنی گزشتہ فارغ البالی و امارت یاد آئی اور اپنی موجودہ بدحالی پر غم و ماتم کرنے لگا۔ اب سنیے کہ وہ باغ جس میں حسن بیٹھا روتا تھا، اس ساحرہ کا تھا جس نے اس کے باپ کو بکرا بنایا تھا، اجل کا رستہ دکھایا تھا۔ اتفاق سے وہ ساحرہ وہاں سے گزری تو حسن بدرالدین کے حسنِ پرسوز پر عش عش کرنے لگی۔ عشق کا پتھر جگر کے پار ہوا۔ محبت کا دم بھرنے لگی۔ ہزار جان سے اس نوجوان غنچہ دہان پر مرنے لگی۔

فوراً ایک حسین مہ جبین پری کا روپ دھارا اور بہ صد شانِ دلبری حسن کے پاس آئی۔ پوچھا اے جوانِ رعنا تجھے کیا ہوا ہے؟ کیا غم ہے کہ زار زار روتا ہے، رو رو کر جان کھوتا ہے؟ حسن نے جو ایک پری وش عورت سامنے کھڑی پائی تو باپ کی دوسری نصیحت بھی بھول گیا اور بلا کم و کاست تمام ماجرا کہہ سنایا۔ ساحرہ دل میں ہنسی کہ یہ تو میرے ہی شکار کا لختِ جگر ہے، اس کو پھنسانا کیا مشکل ہے۔ حسن سے کہنے لگی تیرے بخت نے رسائی کی جو میں نے تجھے دیکھ لیا۔ اب میرے ساتھ چل اور میرے ساتھ نکاح پڑھا۔ یہ سن کے حسن گھبرایا کہ جان نہ پہچان میں تیرا مہمان۔ یہ کیسی عورت ہے کہ انجان مرد سے عقد کی بات کرتی ہے۔ غیر مرد سے پردہ اٹھایا، حیا کو بھون کھایا، ایسی عورت سے خدا بچائے۔

اسے شش و پنج میں پڑا دیکھ کر ساحرہ غصے میں آئی اور بولی یہ کیا بات ہے کہ مجھ سی زہرہ جمال عورت تیرے جیسے ادنیٰ آدمی سے نکاح کی بات کرے، تیرا مرتبہ بڑھائے اور تو ناک بھوں چڑھائے؟ یہ سن کر حسن بھی ناراض ہوا اور کہنے لگا۔ میرا باپ عالی خاندان و ذی مرتبہ آدمی تھا۔ اس کی وصیت تھی کہ زنِ مکارہ سے بچ کر رہنا۔ میں تجھ سے ہر گز عقد نہ کروں گا۔ یہ سن کر ساحرہ طیش میں آئی اور بولی تیرے باپ کو میں نے ہی بہ زورِ سحر بکرا بنایا تھا۔ اب تجھے بھی اس غرور و بے ادبی کی سخت سزا دوں گی، ابھی ابھی تماشا دکھا دوں گی۔ یہ کہہ کر سحر پڑھنے لگی۔ حسن بدرالدین نے رومال سے چھری نکالی کہ اپنے باپ کی قاتلہ کا کام تمام کرے، یکایک ساحرہ نے بہ زور جادو کے اسے اٹھایا اور سر کے اوپر گھمایا۔ بولی، تجھ پر دل آگیا تھا، اس لیے تجھے جان سے نہیں ماروں گی، البتہ تجھے وقت کی گردش میں ضرور پھینک دوں گی۔ جا اپنے زمانے سے نکل اور تا ابد زمان کار میں بھٹکتا رہ۔ یہ کہہ کر حسن کو پھینکا، ادھر حسن نے چھری تاک کر پھینکی، چھری ساحرہ کے دل میں پیوست ہوئی اور حسن وقت کی گردش میں پیوست ہوا۔ ساحرہ اپنے باغ کے نرم فرش پر جاگری اور حسن بدرالدین وقت کے گرداب میں پھنسا، زمانِ پاستان سے نکلا اور سال دو ہزار اٹھارہ میں جاگرا۔

شہر زاد نے کہانی یہیں تک کہی تھی کہ سپیدہء طلعت نشانِ صبح نمودار ہوا، پو پھٹنے لگی، صبح صادق کا نور فلک پر آشکار ہوا۔ شہر زاد گھبرائی کہ صبح صادق کی صورت نظر آئی اب کوئی دم میں ہم عدم کی راہ لیں گے، بادشاہ سلامت کہانی کاہے کو پوری ہونے دیں گے۔ ادھر بادشاہ پر اس جادو جمال کی سحر آفرینی نے وہ رنگ جمایا کہ فوراً فرمایا کہ مابہدولت کو اس قصۂ دلکش کے سننے کا از بس اشتیاق ہے۔ شہرزاد بولی اگر بادشاہ سلامت نے میری جان بخشی تو باقی حصہ رات کو سناؤں گی، آپ کی روح کو وجد میں لاؤں گی۔ بادشاہ نے کہا، جب تک تمام کہانی من و عن نہ سنوں گا ہر گز کوئی حکم تمہارے خلاف نہ دوں گا۔ وعدہ بادشاہ کے ہاتھ ہے، مردوں کا قول جان کے ساتھ ہے۔ یوں شہر زاد نے قرار کیا، بادشاہ کے وعدے پر اعتبار کیا۔

(باقی آئندہ)

*۔۔۔*۔۔۔*
 
بھاگنا حسن بدر الدین کا ماموں کے گھر سے اور ڈرنا جادو کے شیطانی چرخوں سے۔

تیسری شب کو بادشاہ شہریار اپنی دُلہن شہرزاد کے پاس آیا اور فرمایا کہ اب اس قصے کا باقی حصہ سناؤ کہ حسن بدرالدین کا کیا حشر ہوا۔ شہرزاد آداب بجا لائی اور بولی، شہریار تاجدار کا حکم دل و جان سے منظور ہے، نافرمانی سے طبیعت نفور ہے۔ یہ کہہ کر کہانی یوں سنائی۔
حسن بدرالدین کو ہوش آیا تو دیکھا کہ برآمدے میں تخت پر پڑا ہے اور نانی جان آنکھوں میں آنسو لیے ہتھیلیاں سہلاتی ہے اور مارے محبت کے صدقے واری جاتی ہے۔ زلیخا پاس کھڑی اس کی نبض گنتی ہے اور پریشان دکھائی دیتی ہے۔ حسن کو آنکھیں کھولتا دیکھ کر نانی بولی:’’میں صدقے، میں قربان میرے بچے تجھے کیا ہوگیا ہے؟‘‘ اس شفقت و محبت کو دیکھ کر حسن کا دل بھر آیا، آنکھوں میں آنسو بھر کر بولا: ’’خدارا مجھے بتائیے میں کون ہوں؟‘‘
نانی بولی:’’تو حسن بدرالدین ہے میرے بچے، میرا نواسہ، میری مرحومہ بیٹی کا جگر گوشہ، یہ تیرے ماموں کا گھر ہے، تجھے کیا ہوگیا ہے میرے لال؟ یہ کیسی باتیں کررہا ہے؟‘‘
حسن چکرا کر بولا:’’اگر میں حسن ہوں، تو میں کہاں گیا؟ اور اگر میں، میں ہوں تو حسن کہاں گیا؟‘‘
نانی صدمے سے چلائی:’’ہائے نظر لگ گئی میرے بچے کو، دماغ اُلٹ گیا۔‘‘
زلیخا تشویش سے بولی:’’کھانا کھایا تھا تم نے رات کا؟ پیٹ میں درد تو نہیں؟‘‘
اتنے میں وہ بے ادب ماما دوبارہ آئی، آتے ہی چلائی’’سب ڈرامے ہیں تاکہ بل جمع کروانے نہ جانا پڑے۔ اپنے باپ کی طرح نکما ہے یہ بھی۔‘‘
حسن کو طیش آیا، غصے سے ڈانٹا: ’’چپ بے ادب گستاخ ورنہ کھڑے کھڑے نوکری سے نکال دوں گا۔ ماما ہوتے ہوئے یہ بے ادبی؟ابھی سر اڑاؤں گا، ملکِ عدم کو پہنچاؤں گا۔‘‘ یہ سن کر ماما پہلے لال ہوئی، پھر پیلی، پھر نیلی ہوگئی، پاؤں سے چپل اتاری اور حسن پر جھپٹ پڑی۔ ’’ٹھہر تجھے میں بتاتی ہوں، حرام خور جس کا کھاتا ہے اس پر بھونکتا ہے؟‘‘
نانی ڈر کر چلائی، زلیخا نے بڑھ کر ماما کا ہاتھ پکڑااور بہ منت التجا کی:’’چھوڑیں ماما یہ اپنے آپ میں نہیں، اس کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے۔‘‘
’’کیا ہوا ہے طبیعت کو؟‘‘ ماما بگڑ کر چلائی۔’’شوگر ہوگئی ہے؟ کینسر ہوگیا ہے؟‘‘
اب نانی بھی بگڑ گئی۔’’اللہ نہ کرے، تیری نظر لگی ہے میرے بچے کو۔ ابھی پانی دم کرکے دوں گی تو بھلا چنگا ہو جائے گا۔‘‘
زلیخا بولی:’’ میں بی پی چیک کرلیتی ہوں۔ لگتا ہے لو ہوگیا ہے۔‘‘
ماما نے تیکھی چتون سے کہا:’’رہنے دے تو اپنی ڈاکٹری، ایسی ہی لائق ہوتی تو ڈاکٹری داخلے کے امتحان میں فیل نہ ہوتی۔‘‘
زلیخا روہانسی ہوگئی:’’میں فیل نہیں ہوئی تھی، صرف تین نمبر کم تھے میرٹ سے۔‘‘
ماما نے منہ بنایا ’’ہاں پر ڈاکٹر تو نہیں بن سکی نا۔ ایک تو تو موٹی، دوسرے کالی۔ سوچا تھا ڈاکٹر بن جائے گی تو اچھا رشتہ مل جائے گا، اب تجھے کون پوچھے گا؟ ہائے میرے نصیب، ایک ہی بیٹی وہ بھی پھوپھی پہ چلی گئی۔‘‘
ادھر حسن کا یہ حال کہ مصیبت میں گرفتار تھا، وفورِ رنج و فرطِ غم والم گرانبار تھا۔ اب یہ لڑائی جھگڑا جو دیکھا تو اور گھبرایا کہ ہاتھی چھوٹے یا گھوڑا چھوٹے۔ قریب تھا کہ دل میں ایک ہوک اٹھے اور کلیجا بیٹھ جائے۔ آہ آتشیں آسمان کی خبر لائے کہ دفعتہ چھلانگ مار کر اٹھا اور پھاٹک سے نکل کر گلی میں بھاگ گیا۔
گلی میں نکلا ہی تھا کہ سامنے ایک مہیب عفریت کی صورت نظر آئی۔ یہ دیو اتنا بڑا تھا کہ گو زمین پر کھڑا تھا مگر سر آسمان سے جا کر لڑا تھا۔ جثہلحیم شحیم، سر بہت بڑے گنبد کے برابر، منہ تھا کہ ایک غارِ عظیم۔ دونوں نتھنے ایسے معلوم ہوتے تھے جیسے دو قرنائے جنگ ہوں۔ آنکھیں مثلِ مشعل روشن تھیں۔ فرطِ غیظ و غضب سے کھڑا کھڑا تھراتا تھا اور غراتا تھا۔ اس کے غرانے سے تمام عالم کانپ جاتا تھا۔ اس عفریت کی صورتِ مہیب دیکھ کر حسن کے ہوش و حواس اڑے۔ بدن کا رواں رواں کھڑا ہوگیا۔ مارے ڈر کے ہاتھ پاؤں کانپنے لگے، دانت بیٹھ گئے۔ تمام عالم نظروں میں تیرہ و تار تھا، اجل سے دوچار تھا۔ شک کی جگہ یقین تھا کہ یہ دیو پیامِ قضا ہے۔ ابھی دم کے دم میں منہ پھاڑے گا اور کھا جائے گا، ہرگز جیتا نہ چھوڑے گا۔ اتنے میں بڑی آواز سے وہ عفریت یوں غرایا کہ حسن کا کلیجا تھرتھرایا۔ حسن نے ہاتھ باندھے اور گڑگڑا کر عرض کیا۔
’’اے دیووں کے سردار، عفریت والا تبار، میں ایک غریب الوطن سوداگر بچہ ہوں۔ کسی بدی سے سروکار نہیں، اجنہ و دیووں سے تابِ پیکار نہیں۔اگر آپ نے میرے قتل پر کمر باندھی ہے تو جان نذر ہے قبول فرمائیے، ورنہ خطا کی اطلاع دیجیے، وجہ بتائیے۔ اگر کوئی قصور مجھ سے سرزد ہوا ہو تو معاف فرمائیے، اپنے عتاب سے اس بندۂ پر تقصیر کو بچائیے۔‘‘
اتنے میں زلیخا افتاں و خیزاں پھاٹک سے باہر آئی۔ حسن کو دیکھا تو حیران ہوکر بولی: ’’کیا کررہے ہو حسن؟ یہ ٹرک کے آگے ہاتھ جوڑے کیوں کھڑے ہو؟‘‘
حسن نے رو کر کہا:’’یہ عفریت در پے آزار ہے، دیووں کا سردار ہے،ہر گز جیتا نہ چھوڑے گا، قتل سے منہ نہ موڑے گا۔‘‘
زلیخااور بھی حیران ہوئی، بولی۔’’ کیسا دیو، کیسا قتل؟ یہ تو خان انکل کا ٹرک ہے۔ وہ یونہی اسے چلتا چھوڑ جاتے ہیں، ابھی آئیں گے تو لے جائیں گے، لو وہ آ بھی گئے۔‘‘
اتنے میں ساتھ کے گھر سے ایک شخص باہر نکلا اور اس عفریت کا کہ جس کا نام ٹرک تھا، کان کھینچا۔ فوراً ایک دروازہ کھلا اور وہ شخص عفریت پر سوار ہوا۔ حسن نے موقع غنیمت جانا اور بھاگ کھڑا ہوا۔ زلیخا آوازیں دیتی رہ گئی۔
حسن بدر الدین گلی سے نکل کر سڑک پر آیا تو مزید چکرایا۔ وہاں چھوٹے بڑے بے شمار عفریت، جن کے نیچے پہیے لگے تھے، دوڑ بھاگ رہے تھے۔ ان کے شور شرابے سے کان پڑی آواز سنائی نہ دیتی تھی۔ لوگ باگ عجیب وضع کی پوشاکیں پہنے اِدھر سے اُدھر آجا رہے تھے۔ حسن گھبرا کر ایک طرف بھاگ کھڑا ہوا۔ اُسے بھاگتا دیکھ کر ایک شخص اس کے پیچھے بھاگنے لگا۔ اس کی دیکھا دیکھی ایک دوسرے شخص نے بھی دوڑ لگائی۔ ایک سے دو ہوئے، دو سے تین اور ہوتے ہوتے بیسیوں لوگ حسن کے پیچھے بھاگنے لگے۔ اتنے میں کوتوالی کا ایک سپاہی وہاں آنکلا۔ اس نے جو ایک ہجوم کو حسن کے پیچھے بھاگتے دیکھا تو چیخ پکار کی ، سیٹیاں بجائیں اور حسن کو پکڑ ہتھکڑی ڈال دی اور کوتوالی لے گیا۔ اس کے ساتھ پیچھے بھاگنے والا ہجوم بھی کوتوالی پہنچ گیا۔ وہاں حسن کو کوتوال کے سامنے پیش کیا گیا۔ اس نے پوچھا، اس نے کیا جرم کیا ہے؟ سپاہی نے کہا چور ہے، چوری کرکے بھاگ رہا تھا میں پکڑ لایا۔ کوتوال نے لوگوں سے پوچھا، تم میں سے کس کی چوری ہوئی؟ وہ ایک دوسرے کا منہ تکنے لگے، بغلیں جھانکنے لگے۔ کوتوال نے سب کو ڈانٹ ڈپٹ کر کوتوالی سے نکالا اور حسن سے پوچھا۔ کیوں میاں صاحبزادے کون ہو اور کہاں سے آئے ہو؟ کہاں کو جاتے تھے، آخر کیا ارادے تھے؟
حسن نے ٹھنڈی آہ بھری اور کہا ’’میرے ساتھ ایک واقعہ ایسا حیرت ناک ہوا کہ تباہی سے دوچار ہوں، جان دینے پر مجبور و ناچار ہوں۔‘‘
کوتوال چونکا اور بولا:’’اوئے پکڑ لو اس کو، لگتا ہے دہشت گرد ہے، خودکش بمبار ہے، جان دینے کی بات کرتا ہے، ڈالو اس کو حوالات میں۔‘‘
سپاہیوں نے پکڑ کر حسن کو چار چوٹ کی مار لگائی اور حوالات میں بند کردیا۔ آدھا گھنٹہ بھی نہ گزرا تھا کہ زلیخا اور نانی جان ہانپتی کانپتی کوتوالی پہنچ گئیں۔ نانی جان نے رو رو کر کوتوال کے آگے ہاتھ جوڑے اور قسمیں کھائیں کہ حسن ان کا نواسہ ہے۔ بے قصور ہے، دماغ میں فتور ہے، اس لیے گھر سے مفرور ہے۔ کوتوال نے کوئی ثبوت حسن کے خلاف نہ پا کر اسے چھوڑ دیا اور نانی جان اور زلیخا حسن کو لے کر گھر آگئیں۔

حسن بدر الدین سراسیمہ اور پریشان نانی جان اور زلیخا کے ساتھ گھر آیا تو سامنے ہی برآمدے میں اس بلائے بے امان بے ادب گستاخ ماما کو کھڑے پایا۔ نانی چپکے سے بولی:
’’اے بیٹا اب یہ غصہ کرے گی مگر تو کوئی جواب نہ دینا، بڑی سمجھ کے درگزر کرنا، بات بڑھانے سے کیا فائدہ؟ آخر کو تو نے یہیں رہنا ہے۔‘‘
حسن نے پریشان ہوکر کہا:’’مگر ایسی گستاخ ماما کو آپ نے کیوں رکھ چھوڑا ہے؟ نوکری سے نکال کیوں نہیں دیتے؟‘‘
نانی کچھ نہ سمجھی، بولی:’’کیسے نکال دیں بھلا؟ اور تو اسے ماما کیوں کہہ رہا ہے؟ ماں تو یہ زلیخا اور مُنے کی ہے، تیری تو ممانی ہے۔ تیرے ماموں کی بیوی ہے۔‘‘
حسن بدر الدین مزید چکرایا، بھلا یہ کون ذات شریف ماموں ہیں جو کنیزوں، ماماؤں سے نکاح کرتے ہیں، کارِ فضول خوامخواہ کرتے ہیں۔ اتنے میں وہ ماما یعنی ممانی حسن کو دیکھ کر چلائی:’’پھر اٹھا لائے اس مصیبت کی پوٹ کو؟ میں تو سمجھی اب جان چھٹی اس مفت خورے سے۔‘‘
زلیخا نے منت کی’’ماما پلیز، دیکھیں تو اس کا کتنا برا حال ہے۔‘‘
ممانی نے حسن کی حالت دیکھی کہ پسینے میں بھیگا تھا، سراسیمہ و مغموم تھا تو کچھ خیال آیا اور اونہہ کہہ کر چلی گئی۔ نانی جان نے حسن کو تخت پر بٹھایا اور اپنے ہاتھ سے کھانا کھلایا۔ پھر زلیخا اس کے لیے ایک کڑوا سا محلول لائی جسے حسن نے اگل نگل کر دوا سمجھ کر پیا۔ زلیخا حیران ہوئی اور بولی:’’کیا ہوگیا ہے تمہیں؟ تم تو چائے بڑے شوق سے پیتے تھے۔‘‘
حسن کو سمجھ نہ آ تی تھی کہ یہ کیا ماجرا ہے، عقل کو چکر ہے، سمجھ پتھر ہے، وہ زمانِ پاستان کے حسن بدر الدین سے دو ہزاراٹھارہ کا حسن بدر الدین کیسے بن گیا ہے؟ اسی مخمصے میں گرفتار تھا۔ غم و الم کا شکار تھا۔ نانی جان نے اس کا ہاتھ پکڑ کر اٹھایا اور اسے اس کمرے میں پہنچایا جس میں اس کی آنکھ کھلی تھی۔ نانی بولی: ’’تیری طبیعت ٹھیک نہیں میرے بچے، تو آرام کر۔‘‘
حسن نے سوچا، شاید یہ ڈراؤنا خواب ہے، جاگوں گا تو خود کو اپنے گھر میں پاؤں گا، کچھ ملال دل میں نہ لاؤں گا۔ یہ سوچ کر جلدی سے بستر میں گھسا اور سو گیا۔
آنکھ کھلی تو چار سُو اندھیرا پایا۔ کھڑکی سے چاندنی آتی تھی اور وہ اسی کمرے میں تھا جس میں سویا تھا۔ سمجھ گیا کہ وہیں ہوں اور آدھی رات کا وقت ہے۔ اچانک ایک آواز سنائی دی۔ کان دھر کے سنا تو معلوم ہوا کہ کوئی مرد قرآن خوانی کرتا ہے۔ قرأت کے ساتھ بہ صدمہ سوز و گداز کوئی نازک آواز قرآن پڑھتا ہے۔ خیال گزرا کہ کوئی شب زندہ دار ہے، حبیب کردگار ہے۔ حسن فوراً اٹھا اور کمرے سے نکل کر آواز کی سمت چلا، ایک جانب کو ایک کمرا نظر آیا۔ اندر گیا تو دیکھا کہ ایک مرد جائے نماز بچھائے اللہ سے لو لگائے، قرآن پڑھتا ہے، یادِ معبودِ حقیقی کرتا ہے۔ حسن نے اس کی صورت دیکھی تو جان میں جان آئی کہ الحمد للہ خدا نے کسی مرد کی صورت دکھائی۔ پہنچتے ہی السلام و علیکم کہا، اس نے آنکھ اٹھا کر دیکھا اور وعلیکم السلام و رحمتہ اللہ و برکاۃ جواب دیا۔ علیک سلیک کے بعد حسن نے سوال کیا: ’’یا حضرت، پہلے تو یہ فرمائیے کہ یہ کیا ماجرا ہے؟ میں کون ہوں، آپ کون ہیں؟ یہ کیا حال ہے؟ شومئی قسمت کا جال ہے؟
اتنا سننا تھا کہ وہ خوش الحان مرد تڑپ اٹھا اور حسن بدر الدین کے گلے میں بازو ڈال کر زار زار رونے لگا۔
اس قدر قصہ کہہ کر شہر زاد نے کہا، اے جہاں پناہ، قدر قدرت، عطارد منزلت اب رات قریب الاختتام ہے، اگر جاں بخشی ہوگی تو شب کو بقیہ قصہ سناؤں گی نیتِ شب بخیر۔

(باقی آئندہ)
 
چوتھی رات

دیکھنا حسن بدر الدین کا جادو کے کرشمے اور ملنا صغیر و کبیر سے:

چوتھی رات ہوئی تو بادشاہ شہرزاد کے پاس آیا اور حکم دیا کہ کل کی کہانی کا بقیہ حصہ ہم کو سناؤ اور دو گھڑی ہمارا دل بہلاؤ۔ وہ رشکِ پری بہ صد نازِ دلبری بولی کہ بادشاہ کی خوشی ہرطرح منظور ہے۔ ہم اس میں راضی ہیں جو مرضیءحضور ہے۔ خدا جہاں پناہ کو خضروالیاس کی عمر عطا فرمائے اور دشمنوں کی ایک تدبیر نہ چلنے پائے۔
نہ کیوں ہو تیرے دستور العمل سے شادماں عالم
کرم کرنا تیری عادت، جفا سے تجھ کو بیزاری
مقابل میں ترے خواہانِ زینت ہواگر دشمن
کرے زخموں سے تیری تیغ اس کے تن پہ گلکاری
اس تقریرِ خوشامدانہ کے بعد شہرزاد یوں گلفشاں ہوئی، زمزہ سنج بیاں ہوئی کہ جب وہ مردِ مسلمان، خوش آواز و خوش الحان حسن بدر الدین کے گلے لگ کے زارزار رونے لگا، اشکوں سے منہ دھونے لگا تو حسن کا دل جو پہلے ہی رنج والم سے معمور تھا، مزید بھر آیا اور وہ بھی پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا۔ بہت دیر تک دونوں روتے رہے۔ جب گریہ وزاری اور آہ و بے قراری سے دل کا بوجھ کچھ ہلکا ہوا تو حسن نے پوچھا۔ ’’آپ کون ہیں اور زار زار کیوں روتے ہیں؟ کیا میری طرح آپ کے بھی نصیب سوتے ہیں؟‘‘
یہ سن کر اس مردِ خوش گلو نے سرد آہ بھری اور کہا ۔’’کیا پوچھتے ہو بیٹا۔ یہ تو وہ سوال ہے جو میں آج تک خود سے پوچھتا آیا ہوں۔ میں کون ہوں، کہاں ہوں ، جہاں ہوں وہاں کیوں ہوں۔ بلھیا کی جاناں میں کون؟‘‘
یہ تقریرِ دلپذیر سن کر حسن مزید چکرایا، کچھ سمجھ نہ پایا۔ اس مردِ مسلمان نے جو حسن کے چہرے پر ایک رنگ آتے ایک جاتے دیکھا تو ہمدردی سے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا اور پوچھا۔ ’’خیر، مجھے چھوڑو اپنی سناؤ ۔ سب خیر تو ہے۔ اتنی رات گئے کیوں جاگتے ہو؟ کیا آج پھر ممانی نے کچھ کہہ دیا؟‘‘
حسن نے بصدِ عاجزی اپنا حال عرض کیا اور کہا۔ ’’ایک زنِ مکارہ کہ ساحرہ بدانجام تھی، نے میرے باپ کو بزورِ جادو بکرابنایا، ملکِ عدم کو پہنچایا۔ مجھے زمانے کی گردش میں پھینکا اور میں یہاں آن پہنچا۔ اب کیونکر یہاں سے جاؤں کہ بستہ ء تقدیر ہوں۔ سلسلہ ء قضا میں اسیر ہوں۔ یہ بڑی طویل کہانی ہے، خلاصہ یہ کہ موت کی مہمانی ہے۔‘‘
وہ مردِ بزرگ غور سے حسن کی داستان سنتا تھا، بولا ’’اچھا اچھا، کالج میں ڈرامہ کررہے ہو؟ خوب، بہت خوب ۔ اچھے ڈائیلاگ ہیں۔ کس کی تحریر ہے؟ آغا حشر؟ چلو اسی بہانے کچھ کتابیں ادب کی پڑھوگے۔ ذہن وسیع ہوگا۔ آج کل کتابوں کو کون پوچھتا ہے۔ دن بھر دکان پر بیٹھا مکھیاں مارتا ہوں اور کتابوں سے گرد جھاڑتا ہوں۔ افسوس کیسے کیسے گوہرِ نایاب گاہکوں کے انتظار میں بوسیدہ ہورہے ہیں۔‘‘
یہ کہہ کر وہ مردِ پیر آبدیدہ ہوا، اپنی خوش کلامی سے حسن کا پسندیدہ ہوا۔ حسن بدر الدین کہ سودا گر بچہ تھا، دکان کا نا م سن کر کان کھڑے ہوئے، پوچھا۔ ’’کتابوں کی دکان ہے آپ کی؟‘‘
وہ بولا۔ ’’لیجیے سنیے اب افسانہء فرصت مجھ سے۔
آپ نے یاد دلایا تو مجھے یاد آیا
ٹھیک کہتے ہو۔ کتابیں نہیں کہنا چاہیے۔ زروجواہرہیں، لعل و گوہر ہیں، بزرگوں کے نسخے ہیں۔ لیکن کوئی ان کا قدر دان نہیں۔ بِکری نہ ہونے کے برابر ہے۔ اوپر سے مہنگائی ہے کہ بڑھتی جاتی ہے۔ بجلی کا بل اس مہینے اتنا آیا ہے کہ سوچتا ہوں بجلی کٹوادوں۔ آج سارا دن واپڈا کے دفتر کے چکر لگاتا رہا ہوں۔ رشوت مانگتے۔۔۔‘‘ ابھی یہ تقریر جاری تھی کہ یکایک کمرہ روشنیوں سے جگمگا اٹھا ۔ وہ مردِ خوش آوا ز بولا۔ ’’لو آ گئی محترمہ لائٹ۔ لو بیٹا اب اپنے ماموں کو اجازت دو۔ تم بھی جاکر سوجاؤ، صبح کالج جانا ہوگا۔ ‘‘
یہ کہہ کر وہ مردِ بزرگ جو اپنے تئیں ماموں کہتا تھا، سدھارا اور حسن بدر الدین دم بخود کھڑا روشنی کا کرشمہ دیکھا کیا ۔ شیشے کے ہنڈولے دیوار پر جڑے تھے جن سے روشنیاں پھوٹتی تھیں ۔ نہ شمع تھی نہ شعلہ تھا، نہ کوئی آتشیں گولا تھا۔ پھر بھی روشنی پھوٹی پڑتی تھی۔ مستعجب ہوکر دل میں سوچا کمال ہے، یا خدا یہ کیا حال ہے؟ یہ نور کا ہے سے ہویدا ہے؟ روشنی کہاں سے پیدا ہے؟ یہ وضع عقل سے بصیدہ ہے، یہ طلسم کا کارخانہ، دید ہے نہ شنید ہے۔ حسن وہیں کھڑا حیران و ششدر تھا ، بے قرار و مضطر تھا کہ ماموں نے دوبارہ کمرے میں جھانکا اور کہا۔ ’’ابھی تک کھڑے ہو؟ جاؤ سوجاؤ بیٹا۔ لائٹ آف کرتا ہوں ۔ تمہاری ممانی نے دیکھ لیا تو شور کرے گی ۔ پہلے ہی بل زیادہ آیا ہے۔‘‘
یہ کہہ کر دیوار پر لگا ایک پرزہ دبایا۔ کھٹاک کی آواز آئی اور طلسمی روشنیاں گل ہوگئیں ۔ یہ جادو دیکھ کر حسن کے حواس گم ہوئے۔ لڑکھڑاتا ، ٹھوکریں کھاتا، اپنے کمرے کو سدھارااور جاکر بستر میں پڑ رہا۔ نیند آنکھوں سے کوسوں دور تھی۔ رنج و الم گراں بار تھا، عالم نظروں میں تیرہ و تار تھا۔ انواع و اقسام کے الم ستہا تھا، سردھنتا تھا، تنکے چنتا تھا۔ دل میں سوچتا تھا، یا الٰہی یہ کس نئے زمانے اور مقام پر آیا ہوں ۔ حیر ت ہے کہ انسان ہوں یا جن ہوں یا سایہ ہوں۔ خدایا یہ کیا ماجرائے حیرت انگیز ہے، عجب واقعہ تعجب خیز ہے۔کچھ سمجھ میں نہیں آتا کہ خواب ہے یا عالمِ بیداری ہے۔ غفلت ہے یاہوشیاری ہے۔
آں چہ می بینم بہ بیداری است یار ب یا بہ خواب
قریب تھا کہ مارے غم کے دل بیٹھ جائے۔ نالہ فلک کی خبر لائے کہ با پ کا خیال آیا۔ غمِ دل نے سہارا پایا۔ باپ کی باتیں یاد آئیں کہ اے عزیز، دنیائے دوں کا یہی کارخانہ ہے، کہیں غم کی داستان، کہیں خوشی کا ترانہ ہے۔ حسن نے دل کو ڈھارس دی کہ اِ نَ اللہ مَعَ الصابرین و شاکرین آیا ہے، خدا نے خود فرمایا ہے۔ اب جو ہوں، جہاں ہوں باری تعالیٰ پر صابر و شاکر ہوں کہ میری زندگی کا ضرور کوئی سامان کردے گا۔ میری ہر مشکل آسان کردے گا۔ اب یہی میرا گھر ہے۔ یہی گھر والے، جہاں ایک ماموں ہے، ایک ممانی ہے۔ زلیخا ہے اور بزرگ نانی ہے۔ شاید میں یہیں رہتا تھا اور وہ پچھلی زندگی خواب تھی۔ صورتِ نقشِ برآب تھی۔ بس رونا دھونا بے کار ہے، فضول یہ سب انتشار ہے۔ وہ دنیا ہو یا یہ دنیا، سراسر فانی ہے۔ موت ایک دن ضرور آنی ہے۔
انہی سوچوں میں غلطاں تھا کہ صبح کی اذان کی آواز آئی۔ حسن نے اٹھ کر ارادہ کیا کہ نماز پڑھے لیکن مصیبت یہ آ پڑی کہ حوائج ضروریہ سے فراغت کہاں پائے اور پانی کہاں سے لائے ۔ باہر نکلنے کا یارا نہ تھا کہ وہاں دیو وعفریت پھرتے تھے اور کوتوال کے سپاہی بے قصور پکڑتے تھے ۔
ناچار اٹھ کر کمرے کا جائزہ لیا تو ایک دروازہ نظر آیا۔ اندر گیا تو عجیب ہی سماں پایا۔ ایک چھوٹا سا کمرہ تھا، جس میں تام چینی کے دوبے ڈھنگے ظروف پڑے تھے ۔ اوپر ا ن ظروف کے چمکدار لوہے کی چرخیاں اور کل پرزے لگے تھے۔ ڈرتے ڈرتے حسن نے ایک چرخی گھمائی تو شراشر تیز پانی کی دھار آئی۔ حسن چکرایا کہ یہ کیا اسرار ہے نہ کنواں ہے نہ تالاب ہے۔ جاری فوراہء آب ہے۔ اس چرخی کو بند کرکے دوسری طرف نگاہ کی تو پانی کا لوٹا نظر آیا۔ دل میں کہا ، یہی ہے گوہرِ مقصود، فراغت پائی، پرزہ کھینچا۔ پانی کا تریڑہ آیا، سب کچھ بہالے گیا۔ اس کارخانہ ء طلسم پر حسن اش اش کراٹھا۔ اس کمرے میں ایک الماری نظر آئی۔ اسے کھولا تو ایک سے ایک عجیب وضع کی پوشاک پڑی پائی۔ قصہ مختصر، حمام کیا، کپڑے بدلے اور ہی صورت نکل آئی۔ آئینے میں صورت دیکھی، دل شاد ہوا، روح نے شادمانی پائی۔ غم و غصہ دور ہوگیا، رنج و الم کا فور ہوگیا۔
اپنے کمرے سے باہر نکلا تو دیکھا نانی برآمدے میں اپنے تخت پر بیٹھی قرآن پڑھتی ہے۔ اور کسی کمرے سے کھٹ پٹ کی آواز آتی ہے ۔ آواز کے گوش بہ گوش چلا تو اپنے تئیں باورچی خانے میں پایا۔ دیکھا تو زلیخا چولہے کے آگے کھڑی تھی اور توے پرروٹی پکاتی تھی۔ حسن بدر الدین حیرت سے انگشتِ بدنداں ہوا، سخت پریشاں ہوا۔
کہا۔’’یہ کیا ماجرا ہے؟ ماماؤں کنیزوں کے ہوتے تمہیں یہ کام کب روا ہے؟ تم زنِ خوبرو پر کالہ آتش دوش بدوش، اس الٹے توے سے ہم آغوش؟ عقل دنگ ہے، بھلا یہ کیا رنگ ہے؟‘‘
وہ مہ جبیں سرپکڑ کر بولی۔ ’’اف خدایا یہ کل سے کیا ہوگیا ہے تمہیں ؟ ایک ابا کم تھے نستعلیق زبان بولنے کو؟ اب تم بھی شروع ہوگئے؟ پلیز حسن مجھے تنگ نہ کرو۔ بہت کام ہے۔‘‘
اتنے میں ممانی اندر آئی۔ حسن کو دیکھا تو بہت جھلائی، سخت غصے میں آئی۔ کہنے لگی ۔’’تم یہاں کھڑے کیا کرتے ہو؟ مل جائے گا ناشتہ، ایسی بھی کیا بے صبری۔ مفت خورا، جان کا عذاب۔‘‘
حسن نے دل میں کہا۔ ’’شامت آئی، قضا سر پر چلچلائی۔ معلوم ہوگیا کہ یہ خاتون نامعقول ہے۔ اس سے بات کرنا فضول ہے۔ ‘‘
یہ سوچ کر ٹھنڈے ٹھنڈے وہاں سے کھسک لیا اور نانی کے پاس جا بیٹھا۔ نانی واری صدقے گئی۔ روٹی منگا کر اپنے ہاتھ سے کھلائی۔ ماموں بھی وہاں آگیا۔ شعرو سخن کی باتیں سنایا کیا، دل کو گرمایا کیا۔ تینوں نے مل کر ناشتہ کیا۔ غرض بڑے لطف کی صحبت رہی۔
ناشتہ کرکے ماموں نے زلیخا کو آواز دی لیکن زلیخا کی بجائے ایک لڑکا کمسن بارہ برس کا سن، اندر سے نکلا اور بسور کر بولا۔ ’’ابا مجھے سکول چھوڑ دیجیے۔ آج پھر ویگن نکل گئی میری۔‘‘
ماموں نے کہا۔ ’’بیٹا ،میں تو زلیخا کو کالج لے جارہا ہوں، تم حسن بھائی کے ساتھ چلے جاؤ۔‘‘
لڑکے نے مچل کر کہا۔ ’’دیر ہوجائے گی۔ حسن بھائی کا کالج ایک طرف ہے، میرا سکول دوسری طرف۔ میں تو آ پ ہی کے ساتھ جاؤں گا۔‘‘
ابھی یہ گفتگو جاری تھی کہ زلیخا باہر آئی اور بولی۔’’ابا آپ مُنے کو لے جایئے۔ میں اُوبر بلوا لیتی ہوں۔ میں اور حسن چلے جائیں گے۔‘‘
غرض ماموں اور منا اُٹھے ، صحن سے ماموں نے ایک لوہے کا گھوڑا نکالا جس کے نیچے دو پہیئے لگے تھے۔ اس کا کل پرزہ گھمایا، گھوڑا جوش میں آیا۔ غرانے لگا، طیش میں تھرتھرانے لگا حسن گھبرایا، گھبرا کر چلایا، غل مچایا،
’’یا خدایا یہ کیا ستم ہے، یہ بلا کیسی نازل ہوئی؟‘‘
زلیخا نے ماتھے پر ہاتھ مارا اور بڑبڑاتی ہوئی اندر چلی۔ اس اثناء میں ماموں اور منا اس عفریتِ غضبناک پر سوار ہوئے۔ ایک شعلہ اس گھوڑے کے پچھواڑے سے نکلا، دھواں بلند ہوا اور تھرتھراتا، غراتا، اپنے سواروں کو لئے پھاٹک سے نکل گیا۔
ابھی حسن حیران و پریشان وہیں کھڑا تھا کہ ایک بغیر گھوڑے کی گاڑی، لوہے کی پچھاڑی پھاٹک کے پاس آئی اور پاں پاں چلانے لگی۔ سیٹیاں بجانے لگی۔ اس کا رنگ سفید تھا، خدا جانے اس میں کیا بھید تھا۔ زلیخا نے آکر کہا۔ ’’آگئی اوبر۔ چلو حسن۔ اچھا دادی اماں، خدا حافظ۔‘‘
یہ کہہ کر حسن کا بازو پکڑ کر کھینچا اور بولی۔ ’’اب یہاں کیوں جم کے کھڑے ہوگئے ہو، چلو بھی۔‘‘
حسن گھبرایا اور کہا۔ ’’ازبرائے خدا مجھ غریب الوطن پر رحم کھاؤ، بارے مجھے نہ ستاؤ۔ صاف صاف کہو کہ ماجرائے اصلی کیا ہے؟ مجھے کہاں لے جاتی ہو؟ کیوں مجھ الم رسیدہ پر قیامت ڈھاتی ہو؟‘‘
زلیخا یہ سن کر غصے میں آئی، ناک چڑھا کر چلائی۔ ’’بس کر دو اب یہ ڈرامہ، حسن۔ فائنل امتحان سر پر ہیں تمہارے، اور تم کالج بنک کرنے کے بہانے کررہے ہو؟ اب چلو، اُوبر کا میٹر چل رہا ہے، اتنے پیسے نہیں ہیں میرے پاس۔‘‘
یہ کہہ کر حسن کا بازو پکڑ کر کھینچا۔ حسن نے جو دیکھا کہ کوئی دم میں مشکیں کس کر لے جائے گی، ذرا ترس نہ کھائے گی تو بازو چھڑایا اور اندر بھاگا۔ جو پہلا دروازہ نظر آیا ، حسن نے اندھا دھند کھولا اور خود کو اندر پہنچایا۔ اس کمرے کے بیچوں بیچ ایک مسہری رکھی تھی۔ حسن بھاگ کر اس کے نیچے چھپ گیا اور جل تو جلال تو آئی بلا کو ٹال تو پڑھنے لگا ۔ آیت الکرسی سے دل کو تقویت دینے لگا۔ ابھی پوری آیت الکرسی پڑھنے نہ پایا تھا کہ کسی نے پاؤں سے پکڑ کر باہر گھسیٹ لیا۔
دیکھا تو چار لوگ نظر پڑے۔ زلیخا، نانی ، وہ کنیزِ بے تمیز جو گھر میں جھاڑو دیا کرتی تھی۔ اور ایک اجنبی مرد جو قہربار نظروں حسن کو گھورتا تھا۔ آنکھیں فرطِ غیض سے شعلہ فشاں اور شرربار، بشرے سے غضب آشکار، اسی نے پاؤں سے گھسیٹ کر حسن کو مسہری سے نکالا تھا۔ باہر نکال کر پاؤں چھوڑا اور شکستہ دل ، پریشان حال، ستم رسیدہ ، الم زدہ حسن بدر الدین کے گال پر ایسا زور کا تھپڑ رسید کیا کہ پانچ انگلیاں چہرے پر نقش ہوگئیں۔
اتنے میں پوپھٹنے لگی تو شہرزاد خاموش ہورہی ۔ بادشاہ نے کہا۔ افسوس ہے کہ کہانی پوری نہ ہونے پائی اور صبح کی سفیدی نظر آئی۔ وہ بولی، اگر خدا نے چاہا تو کل پھر سنائیں گے، بادشاہ جمِ جاہ کی روح کو وجد میں لائیں گے۔ ملک شہریار نے دلاسا دیا اور وعدہ کیا کہ بخدا پوری کہانی سن لوں گا، تب کہیں کوئی حکم تیرے خلاف دوں گا۔ یہ کہہ کر جائے نماز کو بچھایا اورا طاعتِ حق بجالایا۔
پانچویں رات

جانا حسن بدر الدین کا کالج اور ملنا چار قلندروں سے :

پانچویں رات جب شاہ گیتی پناہ نے کارِ مملکت سے نجات پائی تو شہرزاد گلِ رخ و خوش الحان نے کہانی یوں سنائی کہ اے سلطانِ عالم، اس جوانِ سیہ بخت و تبہ روز گار نے جب حسن بد رالدین کے گال پر تھپڑ رسید کیا تو زلیخا غصے سے چلائی۔ ’’ہاتھ مت اٹھایئے بنے بھائی!‘‘
نانی نے اس شخص کو دو ہتڑرسید کیا اور غضب ناک ہوکر کہا۔ ’’ہاتھ ٹوٹیں کمبخت تیرے، یتیم بچے پر ہاتھ اٹھاتا ہے؟‘‘
ابھی وہ مرد کوئی جواب نہ دے پایا تھا کہ کھلے دروازے سے ممانی اندر آئی اور غصے سے بولی۔ ’’کمبخت کس کو کہہ رہی ہیں خالہ؟ میرا بیٹا ہے وہ ،میرا بیٹا۔ کسی کے باپ کالے کے نہیں کھاتا جو اسے گالیاں دی جائیں۔‘‘
نانی بگڑ کر بولی۔ ’’خوب جانتی ہوں میں کس کے باپ کا کھاتا ہے۔ اس کے باپ نے چھوڑا تھا تو بس تجھے چھوڑا تھا، اور تو پھوٹی کوڑی نہ دی اس نے اولاد کے لئے۔ میرے بیٹے کو لوٹ کر تو اِس کا گھر بھرتی ہے۔‘‘
ادھر تو یہ لڑائی ہوتی تھی ، اُدھر حسن بدر الدین زمین پر چپکا پڑا یہ سب باتیں سن رہا تھا، تنہائی اور خوف کے سبب سے سردُھن رہا تھا۔ وہ مردِ غنیم جو دو گھڑی پیشتر حسن کو پیٹ رہا تھا، اب مزے سے کھڑا تھا۔ نہ اپنے کئے پر پچھتاتا تھا، نہ دل میں شرماتا تھا۔ بس دونوں عورتوں کا جھگڑا دیکھتا تھا اور مسکراتا تھا۔ زلیخا نے جو اسے مسکراتے دیکھا تو ناراض ہوئی اور بولی۔ ’’بس یہ جھگڑا چاہتے تھے نا آپ بنے بھائی؟ جب آتے ہیں ، آگ لگا کر جاتے ہیں۔ اسی لئے تو بھابھی بھی آپ سے ناراض رہتی ہیں۔‘‘
یہ سن کر بنے بھائی کی مسکراہٹ غائب ہوئی۔ جھلا کر بولا۔’’یہاں اس کا کیا ذکر؟‘‘
زلیخا نے غصے سے سرجھٹکا اور حسن کا ہاتھ پکڑ کر اسے فرش سے اٹھایا اور بولی۔ ’’اب تم تو اٹھو۔ یہ جھگڑا تو لمبا چلے گا۔ چلنے کی کرو اب۔‘‘
بنے بھائی بولے۔ ’’لاتوں کا بھوت ہے۔ اے لڑکے سدھر جا ،اور ماما کو ستانا بند کر، ورنہ ایسی کُٹ چڑھاؤں گانا۔۔۔‘‘
حسن گھبرایا کہ ایک چانٹا اور آیا۔ جلدی سے چلا۔ بے چارہ بے دم تھا، زندگانی کا عالم درہم برہم تھا۔ زلیخا اور وہ کنیز جو جھاڑو دیتی تھی حسن کو دھکیلتی ٹھکیلتی باہر کو لے کر چلیں۔ زلیخا ملول ہوکر بولی۔ ’’حد کرتے ہیں ویسے بنے بھائی ۔ مارنے کی کیا ضرورت تھی؟‘‘ وہ کنیزِ بدتمیز بولی۔ ’’تو اور کیا کرتے؟ حسن بھائی جان کی شکل فواد خان سے ملتی ہے اور حرکتیں رنویر سنگھ سے۔ بڑے ہائپر ہیں بھائی جان۔ بھلا کیا ضرورت تھی بڑی باجی کے پلنگ کے نیچے چھپنے کی؟‘‘
حسن کو دونوں پھاٹک تک لائیں اور باہر کھڑی گاڑی میں دھکیل کر بٹھادیا۔ گاڑی بان نے کچھ سحر پڑھ کر پھونکا اور گاڑی فراٹے بھرنے لگی۔ زلیخا نے اپنے کندھے سے چمڑے کا تھیلا اتارا اور بڑبڑانے لگی۔ ’’تنگ آگئی ہوں میں روز روز کے جھگڑوں سے۔ صبح صبح نازل ہوجاتے ہیں بنّے بھائی۔ خوامخواہ کا ہنگامہ کھڑا کردیا۔ ویٹنگ پہ کھڑی رہی اوبر۔ ستر روپے تو اسی کا کرایہ بن گیا ہوگا۔ میرے پاس تو اتنے پیسے بھی نہیں۔ تمہارے پاس کچھ پیسے ہوں گے حسن؟ حسن؟حسن ؟ حسن کیا ہوگیا ہے تمہیں؟ ارے کیا ہورہا ہے تمہیں؟‘‘
حسن کا یہ حال کہ اوپر کا سانس اوپر نیچے کا نیچے تھا۔ آنکھیں پھٹی پڑی تھیں ۔ ہوش و حواس غائب تھے۔ جان پر بنی تھی۔ دانت بیٹھ گئے تھے، مٹھیاں بھینچ گئیں تھیں اور منہ سے گھگ گھگ گھگ کی آواز کے سوا کچھ نہ نکلتا تھا۔
زلیخا چلائی ’’حسن تمہیں کیا ہوگیا؟‘‘
گاڑی بان بولا۔ ’’میڈم ان بھائی کو ہارٹ کا مسئلہ تو نہیں ہے؟گاڑی سائیڈ پہ کروں ؟‘‘
غرض راہ کے کنارے گاڑی روکی، حسن کو پانی پلایا، کان میں دم درود سنایا۔ بارے حسن کی جان میں جان آئی۔ زلیخا نے پوچھا، "کیا حال ہے؟ جینا کیوں وبال ہے؟‘‘
حسن نے رو کر کہا۔ ’’میرے باپ کی نصیحت تھی کہ سورۂ کہف پڑھا کرو۔ میں نے نہ پڑھی ۔ اب دجال کے ہتھے چڑھا ہوں، پور پور مصیبت میں پڑا ہوں۔ یہ بغیر گھوڑے کی گاڑی ہے، دجال کی سواری ہے۔ حدیث میں آیا ہے کہ اس کی سواری پلک جھپکتے میں کوسوں دور پہنچے گی ۔اب میں سمجھا کہ آخری زمانے میں آیا ہوں۔ اب جینے سے بیزار ہوں، موت کا خواستگار ہوں۔‘‘
یہ تقریر سن کر گاڑی بان بولا۔ ’’میڈم ان بھائی کو ہارٹ کا نہیں برین کا مسئلہ ہے۔ انہیں مینٹل ہاسپٹل لے جائیں۔‘‘
زلیخا نے ٹھنڈی آہ بھری اور بولی۔ ’’ بھائی، آپ گاڑی چلائیں۔‘‘
گاڑی پھر سے چلنے لگی، کوسوں کا فاصلہ لمحوں میں طے کرنے لگی۔ اس سڑک پر بے شمار ایسی بغیر گھوڑے کی گاڑیاں چلتی تھیں جنہیں حسن پہلے دن عفریت سمجھا تھا۔ راہ کے کنارے اونچے اونچے مکان تھے، محل عالیشان تھے۔ حسن نے مارے خوف کے آنکھیں بند کرلیں اور کانپنے لگا۔ زلیخا نے ڈانٹ کر کہا۔ ’’بند بھی کرو یہ سب۔‘‘ حسن نے التجا کی ۔ ’’خدارا مجھے بتاؤ کہ یہ کیا بات ہے؟ اس دجال کا اور تمہارا کیا ساتھ ہے؟‘‘
زلیخا نے ڈانٹ بتائی اور چشم خشم آلودہ دکھائی۔ ’’چپ کرتے ہو یا لگاؤں میں بھی ایک جھانپڑ؟‘‘ حسن کو ہوش آیا اور باآوازِ بلند یہ فقرہ سنایا کہ اللہ کریم کا ر ساز ہے، قادرِ مطلق و بندہ نواز ہے۔ جو چاہے معجزہ دکھائے، کسی کو خاطر میں نہ لائے۔ اے ظالم روسیاہ، اے کانے دجال، خدارا مجھے صرف اتنا بتادے کہ یہ گاڑی بغیر گھوڑے بیل کے کیونکر چل رہی ہے؟ سڑک کے سینے پر مونگ دل رہی ہے۔‘‘
یہ سن کر وہ دجال گاڑی بان ہنسا اور کہنے لگا۔’’بھائی کا ذہن بالکل بچوں والا ہے۔‘‘پھر پچکار کر کہنے لگا۔’’بھائی اس گاڑی کے اندر ایک چیز ہوتی ہے اسے انجن کہتے ہیں۔ وہ اندر ہی اندر سے زور لگاتا ہے تو یہ گاڑی چلتی ہے۔‘‘
یہ سن کر حسن سخت متعجب ہوا کہ یہ بھی ماجرائے عجیب ہے، داستانِ غریب ہے کہ اس سے پیشتر کبھی سننے میں نہیں آئی تھی نہ کسی نے تذکرے میں درج فرمائی تھی۔
زلیخا نے ٹھنڈی آہ بھری اور بولی۔ ’’اچھے بھلے تھے تم سال پہلے تک۔ ٹھیک ہے روپیٹ کر پاس ہوتے تھے لیکن پاس تو ہوتے تھے۔ اب تو اس کا بھی مجھے کوئی چانس نہیں لگ رہا۔ لفنگے دوست بنالئے ہیں تم نے۔‘‘
یہ سن کر حسن کو اپنے پرانے دوستوں کی یاد آئی۔ دوستوں کی یاد کے ساتھ باپ کی صورت نظر آئی۔ آبدیدہ ہوکر کہنے لگا۔’’وہ غلطی اب تک یاد ہے، ہر دم نالہ و فریاد ہے۔ میرا باپ ذی قدر آدمی تھا،اور۔۔۔‘‘
زلیخا نے بات کاٹ کر کہا۔ ’’لے دے کر ایک دکان چھوڑ گئے پھوپھا تمہارے لئے۔ اس کے کرائے سے بس تمہاری فیس جاتی ہے۔ باقی خرچے دادی اور ابا پورے کرتے ہیں۔ تم کچھ تو ان کا احساس کرو۔ اپنی ڈگری لو، نوکری کرو تاکہ ماما کے طعنے نہ سننے پڑیں۔‘‘
اس بات کا جواب بہ صدِ حسرت و یاس حسن نے یوں دیا کہ ،’’ نوکری؟ آہ، میں سوداگر بچہ ہوں مگر افسوس صد افسوس کہ باپ نے داغِ مفارقت دیا اور زمانہء مہاجرت مجھ کو سہنا پڑا۔‘‘
زلیخا بولی۔ ’’بس اب بند کرو مذاق۔ آئی ایم سیریس۔ اس پورا سیمسٹر تم نے کلاسز بنک کی ہیں۔ نہ پڑھنا نہ لکھنا پھر اٹینڈنس بھی شارٹ۔ کم سے کم وہ تو ٹھیک رکھتے۔ کچھ اندازہ ہے کس مشکل سے ماما اور دادی سے چھپا یا میں نے کہ تمہیں کالج والوں نے نکال دیا ہے۔ ری ایڈمیشن کا پورا دس ہزار فائن بھی میں نے بھرا۔ اپنی ٹیوشن کی ساری انکم جھونک دی ۔اور یہ اس لئے کہ تم یہ ڈرامے کرو اور چھٹیاں کرنے کے بہانے کرو؟‘‘
حسن نے گڑگڑا کر کہا۔ ’’میرا یقین کرو، میں حسن بدر الدین نہیں ہوں ۔‘‘
زلیخا چڑ کر بولی۔ ’’تو پھر کون ہو؟‘‘
حسن نے کہا۔ ’’یعنی وہ حسن بدر الدین نہیں ہوں جسے تم جانتی ہو۔‘‘
زلیخا خاموش ہوگئی۔ پھر خود کلامی کے انداز میں بولی۔ ’’ہاں تم وہ نہیں رہے جسے میں جانتی تھی۔ خوب پرپرزے نکال لئے ہیں تم نے۔ بہر حال اب بھی وقت ہے، عقل سے کام لو۔ اٹینڈنس پوری کرو۔ یہ لو کالج آگیا ہے تمہارا۔ اب اترو اور خبردار کوئی کلاس مس کی تو۔ چلو اترو۔ افوہ اترو بھی۔‘‘
یہ کہہ کر دروازے پر لگا ایک پرزہ کھینچا ، دروازہ کھلا اور زلیخا نے دھکیل کر حسن بدر الدین کو باہر نکال دیا۔ حسن حیران پریشان سڑک پر کھڑا رہ گیا اور زلیخا دجال کی سواری میں بیٹھی زن سے چلی گئی۔
اچانک وہاں ایک نوجوان آیا۔ حسن کے کندھے پر دھموکا جمایا۔ بولا’’ہاں بھئی حسن ، واٹس اپ؟‘‘
حسن نے گڑگڑا کر کہا۔ ’’اے نوجوانِ ارجمند، آقا زادوالا تبار، کبیر و خورسند، شوخ و شنگ ، رشک گلرخانِ فرنگ یہ بتا کہ یہ کون سی جگہ ہے اور میں یہاں کیونکر لایا گیا ہوں۔‘‘
وہ شوخ نوجوان خوش ہوکر بولا۔ ’’ابے یار صبح صبح؟ کس سے منگوائی؟ اکیلے اکیلے چڑھا گئے، اتنا نہیں ہوا یاروں کو بھی پوچھ لیتا۔ خیر ابھی تو چل کلاس میں۔ اپنا بھی برا وقت چل رہا ہے۔ ایک مرتبہ اور ڈراپ ہوا تو ابو گھر سے نکال دیں گے۔ ابے چل نا، کھڑا کیا دیکھ رہا ہے؟‘‘
یہ کہہ کر حسن کو گھسیٹتا ہوا لے چلا اور ایک کمرے میں جا بٹھایا۔ اس کمرے میں کئی نوجوانانِ غنچہ دہان و ماہ جبیں لڑکیاں بیٹھی تھیں۔ اورعجیب وضع کی پوشاکیں پہنے تھیں۔ پردے برقعے کا نام نہیں، شرم و حیا سے کام نہیں۔ کیا دیکھتا ہے کہ جو ہے پری زاد ہے، عجب حسنِ خداداد ہے۔ حسن بدر الدین کا دل قدرے سنبھلا۔ یہاں تو پریوں کا دنگل تھا، جنگل میں منگل تھا۔ عمدہ عمدہ لباس زیبِ تن، ستم کا جوبن۔ سب کی سب چست و چالاک ، باہم خوش طبعی کررہی تھیں۔وہ بڑے شوق سے انہیں دیکھنے لگا۔
اتنے میں ایک مردِ پیر ادھر آنکلا۔ آتے ہی تیوری چڑھائی اور بولا۔ ’’کلاس ! بہت برا رزلٹ آیا ہے کوئز کا۔ اگر آپ لوگوں کا یہی حال رہا تو فائنلز میں کیسے پاس ہوں گے۔ اے یُو! حسن بدر الدین، تمہاری اسائنمنٹ نہیں ملی مجھے ابھی تک۔ پاور پوائنٹ پر یزنٹیشن تیار کی ہے؟ فوراً فوراً پریذنٹ کرو اور اسائنمنٹ ہینڈ اوور کرو۔ کم آن جلدی کرو ،جلدی۔‘‘
حسن بدر الدین اس وقت دل ہی دل میں شاداں و فرحاں تھا، بخت پرنازاں تھا۔ دل میں خود سے کہتا تھا جانی تم بڑے مزے میں آئے، ایک چھوڑ بیسوں خوباں پری وش سے ملاقات ہوئی۔ اللہ اللہ کہاں وہ رنج والم تھا، نصیب میں ساری خدائی کا غم تھا۔ اب اتنی ساری پریوں سے دل بہلاؤں گا، راجہ اِندر سے بڑھ جاؤں گا۔ اس خوشی میں چوُ ر تھا، مست ومخمور تھا، ڈینگ کی لینے لگا اور اس مردِ پیر سے بولا۔ ’’ارے جلدی کا کیا شور مچاتا ہے؟ ہم تو پہلے ہی سمجھے کہ تو جلد باز ہے، فسوں ساز ہے۔ شیخ سعدی کہہ گئے ہیں کہ تعجیلِ کارشیاطین بوُد۔ کارِ شیطانی چھوڑو، اس جلد بازی سے منہ موڑو۔ ٹھنڈی کرکے کھاؤ، ذرا آدمیت کو کام میں لاؤ۔‘‘
کمرے میں سناٹا چھا گیا۔
وہ نوجوانِ غنچہ دہاں جو حسن بدر الدین کو وہاں لایا تھا گھبرا کر سرگوشی میں بولا۔ ’’ابے کیا بک رہا ہے؟ یہ کھڑوس فیل کردے گا۔ ‘‘ پھر اونچی آواز میں بولا۔ ’’سر، حسن کی طبیعت بہت خراب ہے۔ سر میں چوٹ لگ گئی ہے۔ اس لیے بہکی بہکی باتیں کررہا ہے۔‘‘
وہ مردِ پیر دانت پیس کر بولا۔ ’’میں خوب جانتا ہوں کیسی چوٹ لگی ہے۔اچھی طرح خبر ہے مجھے بہکی بہکی باتوں کی وجہ کی۔ بچوُ، جس دن تم پکڑے گئے نا، کالج میں تمہارا آخری دن ہوگا۔‘‘ وہ نوجوان حسن کا ہاتھ دبانے لگا کہ اسے کچھ کہنے سے باز رکھے۔ لیکن حسن تو ہوا کے گھوڑے پر سوار تھا، بدمست وسرشار تھا، برا بھلا کب پہچانتا تھا، کسی کا کہنا کب مانتا تھا، بولا۔ ’’ارے توُ اس دیوپلید سے ڈرتا ہے؟ اب مجھے دیکھ، میں ابھی ابھی جاتا ہوں اور اس کو سبق سکھاتا ہوں۔ یہ میرے سامنے آئے اور ذرا بھی ٹرّائے تو وہ پٹخنی دوں کہ تمام عمر نہ بھولے، ہاتھ پاؤں پھولے۔‘‘
یہ سن کر اس مردِ فرتوت نے بگڑ کر کہا۔ ’’واٹ دا ہیل؟ تمہاری رپورٹ تمہارے گھر بھیجوں گا۔ گیٹ آؤٹ آف مائے کلاس ۔۔۔ ناؤ! گیٹ آؤٹ۔‘‘
وہ کون سی زبان بولتا تھا، یہ تو حسن کو سمجھ نہ آیا مگرغصے میں کیے اس کے اشارے سے یہ ضرور معلوم ہو گیا کہ کمرے سے نکل جانے کو کہتا ہے۔ بہت بے عزتی محسوس ہوئی، ملال ہوا کہ مجھ سے یہ کیا حرکتِ ناپسندیدہ پیش آئی کہ اس مردِ بزرگ سے زبان چلائی اور ذلت اٹھائی۔ چپکے سے چلا اور وہاں سے کھسک لیا۔
باہر نکل کر ایک باغ میں جا بیٹھا اور دل میں کہنے لگا، تن بہ تقدیر ہوں، قسمت کا اسیر ہوں ۔ اب کچھ نہ بولوں گا، ایک ایک لفظ تولوں گا۔ وقت کے پھیر میں پھنسا یہاں آن پہنچا مگر باری تعالیٰ نے جان بخشی، عین احسان ہے، بندہ ضعیف البیان ہے۔
اتنے میں وہ نوجوان بھی آپہنچا۔ اس کے ساتھ چند نوجوان اور بھی تھے۔ آتے ہی ہنسنے لگے، ایک لڑکا بولا۔ ’’آج تو کمال ہی کردیا حسن نے۔ گدھا بنادیا طارق محمود کو۔ آیا تھا اسائنمنٹ لینے، حسن نے ایسا شاک دیا، بھول گیا اسائنمنٹ کو ۔‘‘
دوسرے نے کہا۔ ’’سچ سچ بتا حسن ، کتنی چڑھا کے آیا ہے؟‘‘
حسن نے کہا۔ ’’ارے یارانِ خوبرو، گلفام، نازک اندام، میں زمانِ پاستان سے یہاں آن پھنسا ہوں۔ ایک ساحرہ نے مجھے وقت کی گردش میں پھینکا اور میں یہاں آن گرا ہوں۔ خدارا میرا یقین کرو۔ ‘‘
وہ سب قہقہہ لگا کر ہنسنے لگے۔ ایک بولا۔ ’’ اس کو تو فل چڑھی ہوئی ہے۔‘‘
دوسرے نے غور سے حسن کو دیکھا اور بولا۔ ’’اوئے کیا پی کے آیا ہے؟ چرس سے تو تیری یہ حالت نہیں ہوتی۔ او تیری خیر ،کہیں ایل ایس ڈی تو نہیں لے لی؟ ابے مرجائے گا اگر اوور ڈوز ہوگئی۔‘‘
تیسرے نے کہا۔ ’’ماننا پڑے گا، بھائی میں دم ہے۔ صبح صبح دم لگا کے آگیا۔ ‘‘ یہ سن کر سب نے قہقہہ لگایا۔
پھر وہ سب مل کر گانے لگے۔’’یارو مجھے معاف کرو میں نشے میں ہوں۔‘‘
کچھ دیر گانے کے بعد ایک لڑکے نے کہا۔ ’’چل اس کو کیفے لے چلیں، نشہ اتاریں اس کا۔ کوئی کلاس مس ہوگئی تو اب کی دفعہ پکا پکا ڈرا پ ہوگا۔ آخر کو اپنا یار ہے، اتنی بھلائی تو کرنی ہی چاہیے ہمیں کہ اسے کلاس میں لے جائیں۔‘‘
ان سب نے بازوؤں سے پکڑ کر اسے اٹھایااور پکڑ کر کسی باورچی کی دکان میں لے گئے جسے وہ کیفے کہتے تھے۔ وہاں جاکر حسن کو ایک ٹوٹی ہوئی کرسی میں دھکیلا اور اس سے رقم کا تقاضہ کرنے لگے تاکہ باروچی سے کچھ کھانے کو منگوائیں، خود کو لذتِ کام و دہن سے محظوظ پائیں۔ حسن بدر الدین نے کُل اَمور صاف صاف کہہ سنائے کہ میرے باپ کو ساحرہ نے بکرا بناکر عدم کو بھیجا اور مجھ کو بزورِ سحر یہاں لاپھینکا۔ رہی رقم تو وہ تو ساری زمانِ پاستان ہی میں لٹا بیٹھا تھا، اب فقیر ہوں، غربت کا اسیر ہوں۔
وہ یارانِ خوش انداز یہ سن کر کہنے لگے۔ یہ بے چارہ ٹن ہے۔ یہ کہہ کر اسے پکڑ لیا اور جیبوں کی تلاشی لینے لگے۔ وہاں درہم و دینار نہ پاکر مایوس ہوگئے، گھڑی بھر میں بے خلوص ہوگئے۔ ناراض ہوکر کچھ ایسے الفاظ حسن کی شان میں کہے جو پہلے اس نے کبھی نہ سنے تھے لیکن جن میں اس کی مرحومہ والدہ اور ناموجود ہمشیرہ کا تذکرہ تھا۔ حسن نے انہیں سمجھایا کہ خدا ان لوگوں سے خو ش ہوتا ہے جو غصے کو روکتے ہیں۔ میری سمجھ میں نہیں آتا اور ظاہراً کوئی وجہ بھی نہیں پاتا کہ آپ اس قدر جلد باز کیوں ہیں، میدانِ تعجیل کے یکہ تاز کیوں ہیں؟
یہ سن کر وہ پھر سے وہی واہیات نغمہ گانے لگے کہ یارو مجھے معاف کرو میں نشے میں ہوں ۔ اس لہو و لعب سے فارغ ہوئے تو باورچی کو بلایا اور حکم دیا کہ کافی لاؤ۔جب کافی آئی تو حسن بدر الدین کو پلائی۔ حسن نے ایک گھونٹ بھرا ۔ چودہ طبق روشن ہوئے، کڑواہٹ نے منہ کا ذائقہ خراب کیا، بے حد و بے حساب کیا۔ غصے سے اچھل کر کھڑا ہوا اور چلایا، ’’ او لعین، پلید، ناہنجار، بدبخت، نابکار، میں نے تمہارا کیا بگاڑا ہے کہ مجھے زہر پلاتے ہو؟ چاہتے ہو کہ قضا آئے اور میرا لاشہ پھڑ کتا نظر آئے؟‘‘
یہ کہہ کر وہاں سے بھاگ نکلا اور ایک سنسان کونے میں جاکر ایک درخت کے پیچھے چھپ رہا اور جنابِ باری میں دعا مانگنے لگا کہ یا خدا شرآفات سے بچا، اے ارحم الرٰحمین کرم فرما۔ اتنے میں پاس کی جھاڑی پر جو نظر پڑی تو کسی نازنین کا پلو نظر آیا۔ قریب ہوکر دیکھا تو ایک لڑکے اور لڑکی کو بیٹھا پایا۔ دیکھتے ہی دیکھتے لڑکے نے اس پری وش کو گلے لگایا۔ یہ دیکھ کر حسن کا دل بھر آیا۔ خود سے کہا واہ اِس زمانے میں بھی لوگ عشق کرتے ہیں، چھپ چھپ کر ملتے ہیں۔ لیکن یہاں برسرِعام اس عشق بازی کے کیا معنی؟کون ہے اس حماقت کا بانی؟
ابھی اس ادھیڑ بن میں تھا کہ وہ یارانِ عیاران جنہیں وہ کیفے میں چھوڑ آیا تھا وہاں آن پہنچے اور حسن بدر الدین کو پکڑ دھکڑ کر ڈنڈا ڈولی کرکے لے چلے اور ڈانٹا کہ چل کلاس میں ورنہ ڈراپ ہوجائے گا۔ غرض کہ سارا دن حسن کو لئے لئے پھرے، ایک کمرے سے دوسرے ، دوسرے سے تیسرے میں گھسیٹتے پھرے۔ حسن بدر الدین اس ماجرائے حیرت انگیز سے ازخود فراموش تھا، مصیبت کے مارے مدہوش تھا۔ سوچتا تھا خدایا یہ کیا روزِبد دکھایا۔ برا فروختہ ہوں، دل و جگر سوختہ ہوں پر اب کچھ کہنا فضول ہے ورنہ یہ لڑکے دیوانہ پاپاگل قرار دیں گے، کافی پلاکر ماردیں گے۔
قصہ مختصر حسن بدر الدین تمام دن سرجھکائے، زبان کو قفل لگائے کلاسوں میں جاتا رہا۔ بارے سہ پہر ہوئی تو اس نوجوان نے جو اسے صبح سب سے پہلے ملا تھا۔ اور جس کا نام نعیم تھا، حسن کا ہاتھ پکڑا اور اسے کالج کے دور از کار باغ میں لایا۔ حسن نے خود کو سنسان قطعے میں پایا۔ وہاں درختوں کے پیچھے ایک میلی سی دری بچھائے چار قلندر بیٹھے تھے۔ ان کے اردگرد دھواں اٹھتا تھا۔ انہوں نے حسن کو ساتھ بٹھالیا۔
نعیم نے قلندروں سے کہا۔ ’’لوآگیا اپنا ہیرو۔ اب مال نکالو، کچھ دم لگائیں ۔‘‘
ایک قلندر نے ایک کاغذ کی پڑیا کھولی۔ تمباکو کے چورے کے ساتھ کچھ ملایا اور ایک کاغذ کی نلکی میں لپیٹ کر حسن کے ہاتھ میں تھمایا۔ نلکی کے سرے پر آگ سلگائی اور حسن سے کہا۔’’لو پیو۔ فریش مال ہے۔‘‘
حسن حیران پریشان ہوا کہ اس کا کیا کرے۔ نعیم نے نلکی ہاتھ سے لے کر اس کے ہونٹوں میں دبائی اور کہا۔ ’’کش لگانا بھی بھول گیا پیارے؟‘‘
حسن حیران ہوا کہ نہ حقہ ہے نہ چلم ہے ، نہ ٹھنڈائی نہ دوائی، نہ شرباً نہ سفوفاً، کس شے کا کش لوں ؟ بے دخل وبے غش لوں؟ اتنے میں سانس جو کھینچا تو کاغذ کی نلکی سلگی اور دھواں حسن کے پھیپھڑوں میں پہنچا۔ روح نے طراوٹ پائی، نشے کی آہٹ پائی ۔ حسن بدر الدین خوش ہوا اور کش پر کش لینے لگا۔

اتنے میں گھڑ یالی نے گھڑیال پر مونگری جمائی اور مسجد سے اللہ اکبر کی آواز آئی ۔ شہرزاد نے کہا، اب سحرِ کاذب نمودار ہوئی۔ اگر خواستہ ء خدا ہے تو کل باقی حصہ سنائیں گے اور اپنے جہاں پناہ کا دل بہلائیں گے۔

(باقی آئندہ )
 

قسط نمبر ۵



چھٹی رات قصہ چہار درویش: عروسِ پری چہرہ و پری رُو، نسرینِ تن و قوسِ اَبرُو ملکہء شہرزاد یوں داستاں سرا ہوئی کہ اے سلطانِ جم مرتبہ، قدرِ قدرت، سنجر منزلت، کہانی حسن بدرالدین کی نے یہ موڑ لیا تھا کہ شہرِ مینو سواد لاہور کے ایک مقام بنامِ ایف سی کالج میں حسن بدر الدین کو قسمت نے پہنچایا تھا اور وہاں اس نے ایک سنسنان باغ بنامِ بوٹینکل گارڈن میں خود کو چار قلندر درویشوں کی مجلس میں پایا تھا۔ وہاں انہوں نے کسی سفوف کی بھری نلکی سلگا کر حسن کے منہ سے لگائی تھی، آتشِ شوق بھڑکائی تھی۔ اس کے کش لگانے سے ایسا سرور ہوا کہ رنج و غم دور ہوا۔ حسن نے سوچا خدائی نعمت ملی، دن کیا ہے، روزِ عید ہے۔ یہ جگہ خانہء امید ہے۔ اس راح روح ، کیمیا ئے فتوح کی دو تین مزید نلکیاں مل جائیں تو دنیا باغِ ارم بن جائے گی۔ ان چار درویشوں کی محبت نے اس کے دل میں جگہ پائی اور حسن بدر الدین کی خوب بن آئی۔پوچھا ’’تم کون ہو اور کہاں سے آتے ہو؟ یہاں کیونکر آنا ہوا اور کہاں جاتے ہو؟ مجھ سے اپنا سب حال بیان کرو اورکُل راز عیاں کرو، کہ تم مجھے دل و جان سے زیادہ عزیز ہو۔ اتنی ہی دیر میں معلوم ہوگیا کہ خوش سلیقہ و باتمیز ہو۔‘‘ یہ محبت بھری تقریر سن کر پہلے درویش نے جو حسن کے دائیں ہاتھ بیٹھا تھا اور جس کی چگی داڑھی کے بال سوئیوں کی طرح کھڑے تھے، ایک ٹھنڈی آہ بھری اور بولا:’’ہم میں سے ہر ایک کی ایک ایک کہانی ہے ۔ایسی عجیب و غریب کہ پہلے کبھی دیکھی نہ سنی۔ تمہارا اصرار ہے تو سناتے ہیں۔ وقت اچھا کٹ جائے گا۔ ویسے بھی میرے موبائل کی بیٹری لو ہے۔ اب کرنے کو کچھ نہیں۔ تو لو سنو میری کہانی۔‘‘

درد بھری کہانی، پہلے درویش کی زبانی:

پہلے درویش نے اپنی داستان یوں سنائی کہ میں ایک کلرک کا بیٹا ہوں۔ اللہ کی طرف سے آئے تو بندہ جھیل جائے، جو انسان خود اپنے اوپر مصیبت ڈالے تو ا س کا کیا علاج؟ اللہ کی طر ف سے سات پشتوں نے غربت کے علاوہ کسی چیز کا منہ نہ دیکھا تھا لیکن قسمت نے موقع دیا اور میرے ابو سرکاری محکمے میں کلرک لگ گئے۔ لیکن ابو کو ایمانداری کی لاعلاج بیماری لگ گئی۔ جس گھر میں ہن برسن سکتا تھا، وہاں برسات کے موسم میں چھت ٹپکنے کے علاوہ کچھ نہ برسا۔ سونے پر سہاگہ، میرے ماں باپ نے مجھے انجینئر بنانے کا خواب دیکھنا شروع کردیا۔ میں اور میری بہن دو ہی اولادیں تھیں لہٰذا سب ارمانوں کا نشانہ میں ہی بنا۔ بہن کو سرکاری سکول میں ڈالا گیا اور مجھے انگریزی سکول میں۔ میرے خرچے پورے کرنے کے لئے میری ماں نے لوگوں کے گھروں میں کام کرنا شروع کردیا۔ اٹھتے بیٹھتے مجھے یہ سننے کو ملتا تھا کہ یہ ساری محنت و مشقت ا س لیے کی جارہی ہے تاکہ میں انجینئر بنوں اور نہ صر ف خاندان کا نام روشن ہو بلکہ سارے دکھ دلدردور ہوں اور بہن کی اچھی سی جگہ شادی ہوسکے۔ اور میں ؟ اب آپ سے کیا چھپانا یارو، مجھے انجینئرنگ میں خاک دلچسپی نہیں۔ انٹرسٹ ہے تو صرف ایک چیز میں: کھانااور صرف کھانا۔۔۔پکانا، پیش کرنا، سجانا، کھانا۔۔۔ مجھے کھانے سے متعلق ہر چیز سے عشق ہے۔ اپنے باپ سے چھپ کر تین محلے چھوڑ کر ایک تندو پر نوکری کرلی۔ گرمیوں کی چھٹیاں تھیں، میں مزے سے تندور جاتا ، روٹیاں لگاتا اور وہاں کھانا پکتے دیکھتاا ور سیکھتا۔ ایک دن میرے باپ نے مجھے دیکھ لیا۔ اس دن میرا باپ بہت رویا۔ ماں بھی روئی، بہن بھی روئی۔ صرف میں نہیں رویا۔ میں نے ماں باپ سے صاف کہہ دیا کہ مجھے کمپیوٹروں سے نفرت ہے اور کھانے سے عشق۔ میں کمپیوٹر انجینئر نہیں شیف بننا چاہتا ہوں۔ صدمے سے میرے باپ کو ہارٹ اٹیک ہوگیا ۔ وہ دن اور آج کا دن میں ان کے سامنے کھانا پکانے کا نام نہیں لیتا۔ ویسے یوٹیوب پر میں نے بہت سے کوکنگ چینل سبسکرائب کررکھے ہیں۔لیکن انہیں دیکھ دیکھ کربس آہیں بھرتا ہوں اور کڑھتا ہوں۔ زبردستی کی انجینئرنگ گلے پڑی ہے ، نہ رکھی جاتی ہے نہ چھوڑی جاتی ہے۔ مزے کی با ت یہ کہ میری بہن کمپیوٹروں کی دیوانی ہے لیکن اس کو زبردستی کھانے پکانے پر لگایا جاتا ہے کہ آگے کام آئے گا۔ وہ میری سب کتابیں پڑھتی ہے ، میری اسائنمنٹس وہی بناکر دیتی ہے۔ اسی کی وجہ سے میں اب تک پاس ہوتا آیا ہوں۔ لیکن میرا دل مر گیا ہے۔ جب یہ سوچتا ہوں کہ ساری زندگی کمپیوٹر کے آگے بیٹھ کر گزارنی پڑے گی تو خودکشی کرنے کو دل چاہتا ہے۔ پھر اپنے بوڑھے باپ اور بیمار ماں کا خیال آتا ہے تو رک جاتا ہوں۔ بس دوستو! اس غم کو بھلانے کے لئے ڈرگزلیتا ہوں۔ پھر یہ غم ستاتا ہے کہ ان ڈرگز کا خرچہ میری ماں اپنی ہڈیاں توڑ کر دے رہی ہے تو خود سے نفرت ہونے لگتی ہے۔ اس دکھ کو بھلانے کے لئے مزید ڈرگز لیتا ہوں۔ اور یوں یہ شیطانی چکر چلتا رہتا ہے جس میں میں پھنس گیا ہوں۔ یہ کہہ کر وہ مردِ درویش رونے لگا، طنابِ ضبط کھونے لگا۔ بصد دقت آنسو پونچھے، اپنی نلکی کا آخری کش لگایا اور کہا۔ ’’یار ایک سگریٹ اور دینا۔‘‘پھر دوسرے درویش کی طرف اشارہ کرکے کہا۔ ’’اب تم اپنی داستان سناؤ۔‘‘

عجیب و غریب کہانی، دوسرے درویش کی زبانی :

حسن نے دوسرے درویش کی جانب نگاہ کی تو دیکھا کہ لمبا تڑنگا جوانِ رعنا و طناز تھا، چہرے بشرے سے معزز و ممتاز تھا۔ حسن نے کہا۔ ’’اے جوان زیبا خرام ، یوسف لقا، خوبرو گلگوں ، اگر برا نہ مانو تو اپنی سرگزشت سناؤ اور ہمارا دل بہلاؤ۔‘‘ وہ نوجوان یہ سن کر مغموم ہوا ۔ دکھی ہوکر سگریٹ کا کش لیا اور دھوئیں کے مرغولے بنانے لگا۔ پھر ایک آہ بھری اور اپنی داستانِ عجیب و غریب یوں سنائی ۔ میری کہانی سے کسی کا دل کیا بہلے گا، میں تو وہ بدقسمت ہوں کہ سب کچھ ہوتے ہوئے بھی نہ زندوں میں ہوں نہ مرُدوں میں۔زندہ رہوں تو دنیا کھا جائے، مرجاؤں تو جنازہ نہ پڑھا جائے۔ میں سونے کا چمچہ منہ میں لے کر پیدا ہوا تھا۔ میرا باپ امیر کبیر زمیندار ہے اور اب الیکشن جیت کر ایم پی اے بھی بن چکا ہے۔ مجھ سے بڑی پانچ بہنیں ہیں۔ اولادِ نرینہ کے لئے میرے ماں باپ نے نہ کوئی ڈاکٹر چھوڑا نہ پیر فقیر۔ آخر میں پیدا ہوا۔ میرے باپ کی حویلی سے پورے چالیس دن لنگر بٹتا رہا۔ سات گاؤں ادھر اور سات گاؤں ادھر مٹھائیاں بانٹی گئیں ۔ میرے باپ کو وارث مل گیا۔ وہ مجھے دیکھ دیکھ کر خوشی سے پھولے نہ سماتا تھا، سرآنکھوں پر بٹھاتا تھا۔ میں بہنوں کا لاڈلہ ، ماں کی آنکھوں کا تارا تھا۔ بچپن سے سنتا آیا تھا کہ سب کو میرے سہرے کا بے حد ارمان ہے۔ میری شادی ہوگی ، بیٹے ہوں گے، میں بھرپور مرد آدمی ہوں، ضرور بہ ضرور سات بیٹوں کا باپ بنوں گا۔ لیکن ہوا کیا؟ میں جوان ہوا تو مجھے معلوم ہوا کہ ۔۔۔کہ۔۔۔ اب تم لوگوں سے کیا چھپانا۔۔۔مجھے معلوم ہوا کہ مجھے لڑکیوں میں کوئی دلچسپی نہیں۔ میرا دل تو لڑکوں پر آتا ہے۔ پہلا عشق مجھے اپنے مزارعے کے بیٹے سے ہوا۔ تب میری عمر پندرہ سال تھی۔ نہ بچوں میں تھانہ بڑوں میں ۔ نہیں جانتا تھا کہ میں مختلف کیوں ہوں۔ خوف اور سہم سے ادھ مرا رہتا تھا۔ باپ ڈاکٹر کے پاس لے جاتا تھا، ماں دم درود کرتی تھی مگر میں اپنا دکھ کسی سے نہ کہہ سکتا تھا۔ کسی کے پاس میری بیماری کا علاج نہ تھا۔ اور میں اندر ہی اندر کُڑھ کُڑھ کر مررہا تھا۔ گھر میں میری شادی بیاہ کی بات ہوتی تو میں اٹھ کر بھاگ جاتا کہ میری اُڑی رنگت کوئی دیکھ نہ لے۔ماں بہنیں ہنستیں اور فخر کرتیں کہ ان کا بیٹا کتنا شریف ہے۔ اور میں اپنی اس شرافت ، خوف اور تنہائی کے بوجھ سے جیتے جی زندہ درگو ر تھا۔میری پرمژدگی دیکھ کر میرے باپ نے میٹرک کے بعد میرا داخلہ لاہور ایف سی کالج میں کرادیا۔ ان کا خیال تھا کہ گاؤں سے نکلوں گا ، بڑے شہر کے بڑے کالج میں جاؤں گا تو ذہن کھلے گا، ایکسپوژر ملے گا اور میرا اعتماد بحال ہوگا۔ یہ سب ہوا۔ اور اس کے ساتھ کئی عشق بھی ہوئے۔ یکطرفہ عشق ۔ کبھی زین سے، کبھی شہریار سے، کبھی عماد الدین سے اور کبھی افتخار سے۔ ان چھے سالوں میں کوئی زینت ، کوئی کرن ، کوئی شازیہ دل کو نہ بھائی ۔ میرے دوست انوشکا شرما پر مرتے ہیں،میں ویرات کوہلی پر۔کئی مرتبہ دل چاہا خودکشی کرلوں مگر ہمت نہ پڑی۔ ایک دن ایسی ہی کیفیت میں گراؤنڈ میں لندن برج سے ٹیک لگائے پڑا تھا کہ ایک دوست نے سگریٹ دی۔ چند دن تو عام سگریٹ دیتا رہا، پھر بھری ہوئی دینے لگا۔ اب لت لگ گئی ہے۔ اپنے دکھوں اور غموں کو ڈرگز میں ڈبوتا ہوں۔ گھرمیں ہر روز میرے لئے کوئی رشتہ دیکھا جاتا ہے اور میں یہاں اپنی زندگی چرس کے دھوئیں میں اڑا رہا ہوں۔ یہ درد بھری کہانی کہہ کر وہ جوانِ رعنا پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا۔ پہلے درویش نے اس کے گلے میں بازو ڈال دیئے اور اس کے ساتھ رونے لگا اور کہنے لگا۔ ’’غلط مت سمجھنا، تو میرا بھائی ہے۔‘‘ پھر دونوں مل کر رونے لگے اور گانے لگے۔ ’’اب تو عادت سی ہے مجھ کو ایسے جینے کی۔‘‘ حسن بدر الدین، کہ مانا ہوا رقیق القلب نوجوان تھا، اس داستان کو سن کر آٹھ آٹھ آنسو رویا، پھر اس نے تیسرے درویش سے التجا کی کہ اپنی سرگزشت سنائے۔

ایک داستان پرانی ، تیسرے درویش کی زبانی:

تیسرا درویش ایک مختصر قامت ، دھان پان ، خرگوش کے سے دانت، گرم چادر کی بکل مارے خاموش بیٹھاتھا۔ اس کی باری آئی تو اس نے اپنی سرگزشت یوں سنائی۔ ’’بھائیو نہ تو مجھے پہلے بھائی جیسی مجبوری ہے کہ کسی نے انجینئر بننے پرمجبور کیا ہو، نہ ہی ان بھائی جان جیسی کہ ویرات کوہلی پر دم نکلتا ہو۔ الٹا میں تو بچپن ہی سے حسین لڑکیوں پر مرتا آیا ہوں۔ بلکہ حسین ہی کیوں ، میں تو ہر لڑکی پہ عاشق ہوجاتا تھا۔ بچپن ہی سے تیزو طرار تھا، چست و چالاک تھا۔ پڑھائی میں اچھا تھا، باقی کام بھی مستعدی سے انجام دیتا تھا۔ بس جب عشق میں مبتلا ہوجاتا تھا تو ہوش وحواس ساتھ چھوڑ جاتے تھے اور عقل سے ، کہ بڑا جوہر لطیف ہے،دماغ کھکھل ہوجاتا تھا۔ اب سنئے کہ جس سال میں نے گریجویشن کیا اسی سال ہمارے محلے میں ایک فیملی آئی۔ میں فوراً ان کی بیٹی پر عاشق ہوگیا۔ عاشق ہونا میرا فرض ہے اور اس میں کسی قسم کی کوتاہی مجھے منظور نہیں۔ یہ وہ دن تھے جب میری ماں محلے میں میرے پاس ہونے پر مٹھائی بانٹ رہی تھی اور ہر جگہ چرچا تھا کہ میں انجینئر بن گیا ہوں ۔

میری نئی معشوقہ نے فوراً دو جمع دو چار کا حساب لگایا اور یہ سمجھ کر کہ لونڈا انجینئر ہے خوب کمائے گا، جواباً مجھ پر دل و جان سے عاشق ہوگئی۔ بے چاری کو معلوم نہ تھا کہ آج کل سافٹ ویئر انجینئر کو کون پوچھتا ہے۔ بہر حال ہمارا عشق دن دوگنی رات چوگنی ترقی کرنے لگا۔ میں روز اس کو پچاس روپے کا ایزی لوڈ کرواکردیتا اور ہم رات گئے تک فون پر باتیں کرتے۔ اب کرنا خدا کا یہ ہوا کہ مجھے نوکری مل گئی۔ کہنے کو میں سافٹ ویئر انجینئر تھا مگر تنخواہ میری دو کلو چلغوزوں کی قیمت سے کم تھی۔ مبلغ دس ہزار روپے ماہانہ۔ میری ماں نے ایک ہاتھ سے محلے میں مٹھائی بانٹی اور دوسرا ہاتھ میرے آگے پھیلا یا اور حکم دیا کہ اب میں کماؤ پوت ہوگیا ہوں لہٰذا اب گھر میں خرچہ دیا کروں۔ باپ نے جیب خرچ دینا بند کیا اور لینا شروع کردیا۔ موٹر سائیکل کے پیٹرول اور دفتر میں چائے پانی کا خرچہ نکال کر میرے پاس اتنے پیسے بھی نہ بچتے تھے کہ سگریٹ ہی خرید لوں۔ اس پر محبوبہ کے تقاضے الگ کہ نوکری لگ گئی ہے مونال میں کھانا کھلاؤ، ماریہ بی کا سوٹ خرید کر دو، سونے کی بالیاں بنوادو۔ یہاں یہ عالم کہ ایزی لوڈ کر اکر دینے کے پیسے بھی نہیں۔ اس مصیبت سے نجات پانے کے لئے میں نے اپنی محبوبہ کو ایک طوطا خرید دیا۔ جی ہاں! میں نے عرض کیا نا کہ جب عشق کررہا ہوتا ہوں تو عقل کے معاملے میں اپر سٹوری خالی ہوجاتی ہے۔ غرض و غایت اس تحفے کی یہ تھی کہ طوطا بولنا سیکھ لے گا اور میری محبوبہ کا دل بہلایا کرے گا اور وہ میرا سرکھانا چھوڑ دے گی۔ طوطے کا تحفہ لے کر اس نے کچھ ناک بھوں چڑھائی کہ لاتے تو گوچی کا بیگ لاتے، بربری کا پرفیوم لاتے،تم طوطا اٹھا کر لے آئے۔میں نے اسے تسلی دی کہ میں دن رات مصروف رہتا ہوں، ساری کمپنی کا بوجھ میرے کندھوں پر ہے۔ میری غیر موجودگی میں طوطا تمہارا دل بہلائے گا۔ وہ خوش ہوئی اور میری محبت میں طوطے کا نام میرے نام پر بُندو رکھ دیا۔ اب سنیئے کہ وہ طوطا اس کے باپ کو جی جان سے پسند آگیا۔ وہ اس کو چوری کوٹ کر کھلاتا اور ہری مرچیں کھلاتا۔ چند ہی دنوں میں طوطا اس سے مانوس ہوگیا اور جب وہ اسے آواز دیتا ۔ بُندوووو تو طوطا کہتا جی ی ی ۔اس کے علاوہ بھی مزے مزے کی باتیں کرتا۔ ایک دن محبت نے جوش مارا اور میرا دماغ معطل ہوا اور میں رات کو چوری چھپے اپنی محبوبہ سے ملنے اس کے گھر جاپہنچا۔ پلان یہ تھا کہ اس کا با پ سردیوں میں جلد سونے لیٹ جاتا ہے لہٰذا اس کے سونے کے بعد وہ چھت پر آئے گی اور ہم دل بھر کر باتیں کریں گے۔ میں چھپتا چھپاتا اس کے صحن میں پہنچا ہی تھا کہ اندر سے اس کے باپ کے کھنکھارنے کی آوا ز آئی۔ میں دل میں ڈرا کہ یہ بڈھا کمبخت ابھی سویا نہیں۔ جلدی سے ایک درخت کے پیچھے چھپ گیا۔ جب پندرہ منٹ کوئی آواز نہ آئی تو دل کو تسلی ہوئی کہ بڈھا سوگیا ۔ دھڑلے سے صحن میں آیا اور سیڑھیوں کی طرف بڑھا۔ ادھر اندر اس کا باپ سویا نہیں تھا، جاگ رہا تھا۔میری شامت آئی یا شیطان نے اسے انگلی دکھائی، عین رات کو اس کے دل میں طوطے کی محبت جاگی اور اس نے پکار کر کہا بندوووو۔باہرمیں اپنے دھیان میں سیڑھیوں کی طرف بڑھ رہا تھا، اپنا نام جو سنا تو بے اختیار زور سے جواب دیا۔۔۔ جی ی ی ۔ بڈھے نے جو اندر سے طوطے کے بجائے باہر سے میری آواز سنی تو چونکا اور چلایا ۔ ’’کون ہے باہر؟‘‘ اس پر وہ کمبخت طوطا جو میں نے اپنے ہاتھوں سے اپنی معشوقہ کو دیا تھا۔ بول اٹھا اور سب کچا چٹھا کھول دیا کہ چھوٹی بی بی کا بوائے فرینڈ ہے، اکثر ملنے آتا ہے۔ ادھر میں نے دوڑ لگائی، اُدھر اندر سے اس کا باپ لپکا۔ اس کے بھائی بھی آگئے۔ تب تک میں گلی میں کودنے کے لئے دیوار پر چڑھ چکا تھا۔ اس کے بھائی نے جو دیکھا کہ اب یہ بھاگا جاتا ہے اور ہاتھ نہیں آئے گا تو اس نے تاک کرکرکٹ کا بیٹ، جو وہ مجھے پیٹنے کے لئے لایا تھا، مجھے کھینچ مارا۔ میں دیوار پر آدھا باہر ، آدھا اندر لٹک رہا تھا۔ بیٹ اس زور سے کمر پر لگا کہ مہرہ کھسک گیا ۔ رہی سہی کسر گلی میں جاگرنے سے پوری ہوئی۔ میں درد سے تڑپتا کسی نہ کسی طرح رینگ کر اندھیرے میں کھسک گیا۔ جتنی دیر میں وہ گلی میں نکلے ، میں چھپ چکا تھا۔ اگلے تین دن میں ہسپتال میں پڑا رہا اور وہ چور کو ڈھونڈتے اور تھانے میں رپورٹیں لکھواتے رہے۔ میں تو ہسپتال سے واپس آگیا مگر میری کمر کا مہرہ واپس اپنی جگہ پر نہ آیا ۔اب شیاٹیکا کا درد ہے اورہم ہیں دوستو۔ ڈاکٹر او پی آئیڈکے انجکشن لکھتے ہیں ، وہ خریدنے کی سکت نہیں۔ ادھر میری ماں ان کے گھر میرا رشتہ کرنے پر راضی نہیں کیونکہ ہم شیعہ وہ سنی ، ہم اہلِ زبان وہ پنجابی جاٹ۔ حال اُدھر بھی کچھ ایسا ہی ہے۔وہ اپنی بیٹی کسی کھاتے پیتے شخص کے حوالے کریں گے اور میری تنخواہ تومیں آپ کو بتا ہی چکا ہوں کہ دو کلو چلغوزوں کی قیمت سے بھی کم ہے۔ تو دوستوں ان سب مسئلوں کا حل میں نے یہ نکالا کہ ڈرگ پیڈلر بن گیا۔ مال خریدتا ہوں، دوگنے داموں سپلائی کرتا ہوں اور دو چار دم لگا کر اپنا غم اور شیا ٹیکا کا درد دور کرتا ہوں۔ کچھ رقم جڑ جائے تواپنی معشوقہ سے شادی کروں گا اور سب سے پہلے اس کمبخت طوطے کی گردن مروڑوں گا جس کی وجہ سے آج اس حال میں ہوں۔ تو بس دوستو یہ تھی میری کہانی اور میری مصیبتوں کا احوال۔ ایسی غمناک کہانی سن کر سب کا برا حال ہوا۔ یہ کلامِ رقت التیام سن کر حاضرینِ جلسہ میں ہر ایک مصروفِ گریہ وزاری تھا۔ آنسوؤں کا دریا آنکھوں سے جاری تھا۔ بصد دقتِ تمام حسن بدر الدین نے آنسو پونچھے اور تیسرے درویش کو تسلی دی کہ خدا کی مرضی میں عقل کب دخل پاتی ہے۔ قسمت میں جو بات ہوتی ہے ضرور پیش آتی ہے۔ یہ فقرہ کہہ کر وہ چوتھے درویش کی طرف متوجہ ہوا اور اس سے درخواست کی کہ اے چوتھے درویش تیرے ساتھیوں کی صدائے قلقل نے وہ سماں باندھا ہے کہ بزمِ جم وکے کا نقشہ آنکھوں کے سامنے کھینچ دیا ہے۔ اب تم جلداس فمجمعء فرخ نشاط کا عنوان کرو اور اپنی سرگزشت سے ہمارا دل بہلانے کا سامان کرو۔

آنکھیں کھولنے والی کہانی، چوتھے درویش کی زبانی:

چوتھے درویش کی باری آئی تو اس نے بہ اندازِ دلربائی و بے نیازی اپنی سگریٹ کی راکھ جھڑائی اور اپنی سرگزشت یوں سنائی ۔ یار بات یہ ہے کہ سچ پوچھو تو نہ مجھے کوئی تکلیف ہے نہ مجبوری۔ ڈیڈی بزنس مین ہیں۔ روپے پیسے کی کمی نہیں، زمین جائیداد بھی وافر ہے۔ ڈیفنس فیز فائیو میں دو کنال کا گھر ہے۔ اکلوتا بیٹا ہوں اور بہت لاڈلہ ہوں۔ ماں باپ فرمائش منہ سے نکلنے سے پہلے پوری کرتے ہیں۔ نہ مجھے پڑھنے لکھنے کی ضرورت ہے نہ کام کرنے کی۔ یونہی شغل میں ایم اے اکنامکس کر رہا ہوں کیونکہ ڈیڈی کو شوق ہے کہ میں ڈگری ہولڈر ہوجاؤں۔ اب میں ان کا یہ شوق پورا کررہا ہوں، بہت ہے۔ اس سے زیادہ کی مجھ سے امید نہ رکھیں۔ بھئی زندگی ایک مرتبہ ملتی ہے اور جو انی چار روزہ ہے ۔ میں خوب انجوائے کرکے زندگی گزارنا چاہتا ہوں۔ تین گرل فرینڈز ہیں میری۔ دوست بھی بے شمار ہیں۔ اور کیوں نہ ہوں؟ نائٹ لائف کی جان ہوں میں۔ عمدہ سے عمدہ کھانا اور قیمتی شراب دل کھول کر خریدتا ہوں۔ خود بھی شوقین ہوں، دوستو ں پر بھی لٹاتا ہوں۔ یہ ڈرگزتو میں نشہ دوبالا کرنے کے لئے لیتا ہوں۔ لیکن اب چرس کوکین سے دل بھر گیا ہے۔ سوچتا ہوں کرسٹل میتھ ٹرائی کروں۔ ہے کسی کے پاس؟

وہ نوجوان تو مزے مزے میں اپنی سرگزشت سناتا تھا اور ادھر حسن بدر الدین کا یہ حال کہ کاٹو تو بدن میں لہو نہیں۔ جانِ ناتواں میں ماتم تھا، دل نخچیر تیرِ الم تھا۔ چوتھے درویش کی کہانی سن کر اپنی گزشتہ زندگی کا نقشہ آنکھوں کے سامنے پھر گیا تھا۔ اپنے باپ کا چہرہ یاد آتا تھا، حسن بدر الدین بہت ہی پچھتاتا تھا۔ آنکھوں سے آنسو جاری تھے۔ قریب تھا کہ کپڑے چاک کرتا، نالہ ہائے درد ناک کرتا کہ قلندروں کی نظر اس پر پڑی۔ حیران ہوئے، بیحد پریشان ہوئے۔ پہلے قلندر نے کہا۔ ’’کیا بات ہے؟ یقیناً تمہاری لائف میں ہم سے بھی بڑی پرابلمز ہیں۔ اسی لئے اتنے پریشان ہو۔ کچھ تو بتاؤ۔ شاید ہم کچھ ہیلپ کرسکیں۔‘‘ باقی قلندروں نے بھی تائید کی کہ ہمیں بھی حیرتِ کمال ہے کہ یا خدا یہ کیا حال ہے؟ حسن بدر الدین نے روتے ہوئے کہا۔ ’’بھائیو تم رازِ نہانی نہ پوچھو۔ سبب داغ و نشانی نہ پوچھو۔‘‘ قلندروں نے اصرار کیا کہ ہم بھی تمہاری طرح انسان ہیں اور اس راز کے جویاں ہیں۔ حسن نے کہا۔’’دوستو، میں نے اپنے ہاتھ سے خود پر ظلم ڈھایا، نہ جانے میرے دل میں کیا سمایا؟ میرا باپ سوداگر تھا اور سلطانِ دہلی کے امراء میں سے تھا۔ ماں نوابوں کے خاندان سے تھی۔ روپے پیسے کی ریل پیل تھی، ماں باپ پیروں تلے ہاتھ دھرتے تھے۔ گھر کیا تھا قصرِ عالیشان تھا، محکم وپائیدار تھا، لطافت سرشت و نزہت بار تھا۔ میرے باپ نے عُلمائے اَجل اور فُضلائے اَکمل میرے پڑھانے کو مقرر کئے تھے اور خود بھی میری تعلیم و تربیت پر خوب توجہ دی تھی۔ مگر میں نے اس ساری تربیت پر بٹہ لگایا۔ اپنے باپ کی نصیحت پر ہمیشہ جھلایا۔ دونوں ہاتھوں سے دوستوں پر دولت لٹاتا تھا۔ عیش و عشرت میں راحت پاتا تھا۔ باپ دیکھتا تھا کہ بیٹا چربانک اور سیلانی ہے، امنگ پر اٹھتی جوانی ہے۔ ہر دم نصیحت کرتا تھا کہ جانِ پدر عقل سے کام لو حکماء اور صلحاء کی صحبت رکھو، جہلاء سے نفرت رکھو۔ یہ بھی یاد رکھو کہ دنیا میں سب سے زیادہ خراب عادت بادہ گسا ری ومے خواری ہے۔ شراب سے بدتر اور کوئی شے نہیں۔ اول تو جان کے لالے پڑتے ہیں، شرابی اکثر دق کے مرض میں مرتے ہیں۔ اور اگر جان بچ گئی تو لنگوٹی بندھ جاتی ہے۔ اور پھر دنیا بھی جاتی ہے اور عقبیٰ بھی ہاتھ نہیں آتی ہے۔ لیکن میں نے کبھی اس نصیحتِ بزرگانہ پر کان دھرا بھی تو دوستوں نے اُلو بنایا کہ یہ کیا حالِ خراب ہے، ابھی تو عالمِ شباب ہے۔ دل بھر کر شراب ناب پیو کہ جامِ بادہ و گلفام سے کس کافر کو احتراز ہے، درِ توبہ ہر دم باز ہے۔ اور میرا یہ حال کہ : گریارخود پلائے تو کیوں نہ پیجیئے زاہد نہیں میں شیخ نہیں، کچھ ولی نہیں پھر وہ دن آیا کہ ایک زنِ مکارہ نے کہ ساحرہء بے توفیق تھی، جادو کے زور سے میرے باپ کو بکرا بنایا اور میرے ہی گھر میں قصائی نے اس پر چھرا چلایا۔ باپ کے مرنے کے بعد بھی میں نے اپنی روش نہ چھوڑی اور دونوں ہاتھوں سے ا پنے یارانِ عیاران پر دولت لٹاتا رہا۔ حتیٰ کہ جس امر کا میرے باپ کو خوف تھا وہی پیش آیا۔ فضول خرچی نے روزِ بد دکھایا ۔ میرا دیوالہ نکل گیا اور بھرے پرے گھر کا صفایاہوگیا۔ میں نے سوچا کہ یہ روپیہ اور دولتِ کثیر میں نے اپنے احباب کی دعوتوں ہی میں صرف کی ہے، ممکن نہیں کہ وہ میرے کام نہ آئیں۔ ارادہ کیا کہ ان سے مدد مانگوں اور تھوڑا سرمایہ ہاتھ آئے تو فوراً تجارت شروع کردوں اور سودا گری کروں۔ دعوتوں اور ناچ رنگ سے باز آؤں، فضول خرچی کے قریب نہ جاؤں۔ نہیں جانتا تھا کہ یہ سب یارانِ نامی اور دوستان زبانی ہیں۔ بے مروتی اور بے حمیتی کی نشانی ہیں۔ میں باری باری سب کے گھر گیا اور مدد کی درخواست کی۔ کسی نے نوکروں سے ٹلوا دیا، کسی نے خود ٹہلا دیا۔ ہر جگہ ایک ہی ٹکا سا جواب پایا، کہیں مطلب نہ برآیا ۔ دلگر فتہ و پریشان میں گھر آیا تو ماں کو بسترِ مرگ پر پایا۔ میں زار زار رویا، ماں کے ہاتھ چومے اور معافیاں مانگیں، میری ماں مرنے سے پہلے مجھ سے کچھ کہنا چاہتی تھی ، بار

بار ایک طرف اشارہ کرتی تھی لیکن منہ سے لفظ نہ نکلتا تھا۔ آخر میں نے پانی پلایا تو منہ سے فقط ایک لفظ نکل پایا۔ ’’دراز۔‘‘ اور پھر قضاء نے مہلت نہ دی۔ مرغِ روح قفسِ بدن سے آزاد ہوا۔ میری دنیا اور گھر بار برباد ہوا۔ کئی دن میں روتا رہا اور ماں کا آخری لفظ یا د کرتا رہا۔ اس نے کہا تھا ۔’’دراز۔‘‘ اس کا مطلب یقیناً یہی تھا کہ خدا کا کرم دراز ہے اور دنیا وسیع ۔ سفر کو وسیلہء ظفر سمجھوں اوردنیا میں نکل کر قسمت آزماؤں۔ چنانچہ میں نکل کھڑا ہوا۔ ایک باغ میں پہنچا تو وہاں اُسی ساحرہ کو پایا جس نے میرے باپ کو قتل کیا تھا۔ وہ مجھ غریب الوطن کو ستانے پر تُل گئی یعنی مجھے شوہر بنانے پر تُل گئی۔ میرے انکار پر مجھے اٹھایا اور بزورِ جادو مجھے وقت کی گردش میں پھینک دیا ۔میں بلائے بے درماں میں گرفتارہوا، نہ جانے خوابِ عدم سے کیوں بیدار ہوا۔ کاش موت آتی، اسی وقت جان نکل جاتی تو اس مصیبت سے بچ جاتا، یہ ماجرائے دہشت خیز دیکھنے میں نہ آتا۔ اب اپنے زمانے، اپنے وقت اور اپنے وطن سے دور ہوں۔ ہائے میں بڑا مجبور ہوں۔‘‘ یہ کہہ کر حسن بدر الدین اس قدر رویا کہ ہچکی بندھ گئی ۔ اتنے میں حورِ صبح نے نورِ صبح کی چادر اوڑھی اور شہرزاد خاموش ہوگئی۔ بادشاہ نے خوش ہوکر کہا۔ ’’شہرزاد قصہ گوئی تجھ پر تمام ہے، تیری گفتگو مے طرب کا جام ہے۔ خدا شب کی صورت جلد دکھائے کہ بقیہ فسانہ

تمہاری زبانی سننے میں آئے۔ ‘‘

(باقی آئندہ )
 

قسط نمبر ۶

چھٹی رات:

چھٹی رات آئی تو شہرزاد نے کہانی یوں سنائی کہ حسن بدر الدین نے خود کو ایف سی کالج میں چار درویشوں کی مجلس میں پایا تھا، انہوں نے حسن کو سفوف نشہ آمیز پلایا تھا۔ لیکن پھر چوتھے درویش نے اپنی کہانی سنائی اور حسن کے ہوش و حواس نے سکندری دکھائی۔ گزرا زمانہ یاد آیا، حسن بدر الدین بہت پچھتایا۔ سگریٹ پھینک دی اور زار زار رویا۔ بقیہ درویش، کہ اب نشے میں تھے، اس کے ساتھ مل کر روئے، آخر ایک درویش قلندر نے کہا۔ ’’وہ سب تو ٹھیک ہے، لیکن ذرا اس سگریٹ کے پیسے دیتے جاؤ۔‘‘
حسن نے آنسو پونچھے اور کہا۔ ’’دولت پیسہ سب غرقاب ہوا، میں خانہ خراب ہوا۔ اب درہم و دینار کیا اور روپیہ پیسہ کیا، میرے پا س پھوٹی کوڑی نہیں ۔ مفلس و بے زرہوں، یہاں ہوں پر دربدر ہوں۔‘‘
اس پر درویش نے تیوری چڑھائی، چشم خشم دکھائی اور بولا۔ ’’پیسے نہیں تھے تو پہلے کہنا تھا، سگریٹ پینے کیوں بیٹھ گیا؟ خیر ہم یاروں کے یار ہیں۔ ادھار کرسکتے ہیں۔ کل پانچ سو روپے لادینا۔ اور ہاں، آئندہ پیسے نہ ہوئے تو مال نہیں ملے گا۔‘‘
حسن ناراض ہوا اور بولا۔ ’’بے وقوف کسی اور کو بنانا۔ کیا سونا پیس کر دیا تھا اس نلکی میں؟ اور سونا بھی دیا تھا تو کیا؟ ایک روپیہ تولہ سونا تو میں اپنے ہاتھوں سے خریدتاآیا ہوں۔ اب زیادہ سے زیادہ پانچ روپیہ تولہ ہو گیا ہوگا۔ تم پانچ سو روپے کس چیز کے لیتے ہو؟ اگر دوستی روپے پیسے پر ہی ہے تو ایسی دوستی کو دور سے سلام ہے۔ یہ محبت برائے نام ہے۔‘‘
چوتھے درویش نے خوش ہوکر باقی درویشوں سے پوچھا۔ ’’آج کیا پلایا ہے اس کو؟ بالکل ٹن ہوگیا ہے۔ مجھے بھی دو، میں بھی ٹرائی کروں۔‘‘
نعیم نے فکر مند ہوکر کہا۔ ’’آج صبح سے ہی ایسی باتیں کررہا ہے۔ لگتا ہے گھر سے ہی کوئی سستا نشہ کرکے آیا تھا۔‘‘ پھر حسن سے بولا۔ ’’دیکھ بھائی، مفت خوری کا کوئی سین نہیں ہے یہاں۔ پیسے لے کے آیا کر، خود بھی پیا کر، ہمیں بھی پلایا کر۔‘‘
ان کی یہ گفتگو سنی تو ان کی صحبت سے حسن کی طبیعت نفور ہوئی، پچھلی پاس داشت ومحبت سب کافور ہوئی۔ اچھل کرکھڑا ہوا اور ناراض ہوکر بولا۔ ’’بس میں سمجھا، تم سب مطلب کے یارہو، بے حد شریر قلندرانِ چہار ہو۔ ایسی دوستی سے خدا بچائے۔ اب بندہ روانہ ہوتا ہے، دیوانگی سے ہاتھ چھڑا، فرزانہ ہوتا ہے۔‘‘
یہ کہہ کرپاؤں پٹختا وہاں سے چلا۔ نعیم اٹھ کر اس کے پیچھے دوڑا اور اس کا بازو پکڑ کر بولا۔
’’ٹھہر، میں چھوڑ آتا ہوں۔ پچھلی دفعہ بھی چار سگریٹیں پی کر گیا تھا اور ایکسیڈنٹ کرا بیٹھا تھا۔ موٹر سائیکل ٹوٹل ہوگئی تھی۔ اب ویگن میں جائے گا تو اس حال میں کسی بس کے نیچے آجائے گا۔‘‘
حسن نے بازو چھڑانے کی کوشش کی مگر اس نے زور سے پکڑ لیا اور گھسیٹ کر لے گیا۔
تھوڑی دیر بعد حسن بدر الدین نعیم کے ساتھ ایک لوہے کے ویسے ہی گھوڑے پر سوار سڑک پر رواں دواں تھا جیسا گھر میں ماموں نے چلایا تھا۔ ویسے ہی بے شمار گھوڑے اور چرخے اور بغیر گھوڑے کی گاڑیاں سڑک پر چلتی تھیں۔ ان کے شور سے کان پر پڑی آواز سنائی نہ دیتی تھی۔ دھوئیں اور گرد و غبار کا عجب حال تھا، سانس لینا محال تھا ۔ مصیبت میں گرفتار تھا، زندگی کشتی تھی اور یہ منجدھار تھا۔
خدا خدا کرکے راستہ کٹا اور نعیم حسن بدر الدین کو ماڈل ٹاؤن کے اس مکان کے پھاٹک پر اتار کر پھٹ پھٹ کرتا چلا گیا۔ حسن اندر آیا تو نانی کو گھر کے بڑے کمرے میں بیٹھا پایا۔ اکیلی بیٹھی مٹر چھیلتی تھی۔ حسن پاس جا بیٹھا اور ادب سے سلا م کیا۔ نانی نے واری صدقے ہوکر جواب دیا۔ پھر کہنے لگی۔ ’’آج جلدی آگیا میرے چاند۔ آج پڑھائی نہیں کرنی تھی دوستوں کے ساتھ؟‘‘ پھر جواب کا انتظارکئے بغیر بولی ۔ ’’سارا دن تیری فکر رہی۔ وہ کمبخت بنّا، ہاتھ ٹوٹیں اس کے، اس زور سے مارا تھا میرے لعل کو کہ مجھے لگا چوٹ تجھے نہیں مجھے لگی ہے۔‘‘
اس شفقت و محبت سے حسن کا دل بھر آیا۔ بے اختیار ہوکر اس نے نانی کی گود میں سررکھ دیا۔ نانی پیار سے اس کے بالوں میں ہاتھ پھیرنے لگی۔ بلائیں لینے لگی۔
حسن نے پوچھا۔ ’’یہ بنّے بھائی کون ہیں؟‘‘

نانی بولی۔ ’’ہاں، یہی تو میں پوچھتی ہوں کہ وہ ہوتا کون ہے ہمارے گھر کے معاملوں میں دخل دینے والا۔ بس بیٹا۔ تیری ممانی کا بیٹا ہے، وہ اسے ہمارے سر پر بٹھائے رکھتی ہے۔ کسی کا کیا گلہ کروں، میرا اپنا بیٹا کمزور ہے۔ بیوی سے ڈرتا ہے۔ دبنگ ہوتا تو صاف صاف کہتا بیوی سے کہ یہ ہر روز کے تماشے بند کرو۔‘‘
حسن نے پوچھا ۔’’وہ ممانی کے پہلے شوہر سے ہیں؟‘‘
نانی نے آہِ سرد بھری، بہ دل پر درد بھری اور کہا۔ ’’ہاں بیٹا زبان کی تیز تھی، شوہر نے طلاق دے کے نکال باہر کیا۔ میری بہن اس کے غم میں بیمار ہوگئی۔ اس کے بھائی بھابھی اس کے اور اس کے بچے کے ساتھ اچھا سلوک نہیں کرتے تھے۔ میں نے خدا ترسی کی اور اپنے بیٹے کے لئے اس کا رشتہ لے لیا۔ میرا زاہد اتنا نیک، اتنا شریف کہ چپ چاپ مطلقہ سے نکاح کرلیا۔ مگر اس نے اِس قربانی کی قدر نہ کی۔ زندگی عذاب ہی بنائے رکھی سب کی۔ چلو مجھے اور زاہد کو تو چھوڑو، یہ تو اپنی بیٹی کے ساتھ وہ سلوک کرتی ہے کہ رو پڑتی ہے بے چاری ۔‘‘
حسن نے چونک کر پوچھا۔ ’’کون ؟زلیخا؟‘‘
نانی نے کہا۔ ’’اور کون؟ دس سال اس بچی نے دن رات محنت کی ڈاکٹر بننے کے لئے۔ ایف ایس سی میں پوزیشن لی۔ بے چاری انٹری ٹیسٹ میں رہ گئی صرف تین نمبروں سے۔ دن رات روتی تھی میری بچی۔ لیکن ماں نے ذرا ہمدردی نہ کی۔ الٹا طعنے دے دے کر دل توڑ دیا غریب کا۔ اب اس نے سائیکالوجی میں ایڈمیشن لیا تو ہے لیکن دل مرگیا ہے بے چاری کا۔‘‘
حسن نے پوچھا ۔’’اور مُنّا؟ وہ کیا کرتا ہے؟‘‘
دادی پیار سے بولی۔ ’’بڑا پیار ا ہے مُنّا۔ معصوم بھولا بھالا، بالکل باپ پہ گیا ہے۔ میرے زاہد پہ۔ بس ذرا نالائق ہے۔ ساتویں میں فیل ہوگیا۔ سچ پوچھوتو یہ بھی بنّے کی وجہ سے ہوا ہے۔ آتا ہے اور مُنّے کو ساتھ لے جاتا ہے۔ خود تو ٹک کے کوئی کام کرتا نہیں ۔ آئے دن نوکری چھوڑ کر گھر بیٹھ جاتا ہے۔ ہمارے مُنّے کو بگاڑرہا ہے۔ کبھی فلم دکھانے لے جاتا ہے۔ کبھی تھیٹر۔ کسی کی مجال نہیں کہ روکے۔ اس کی ماں لڑنے آجاتی ہے۔‘‘
اتنی بات کہہ کر نانی کو کچھ خیال آیا۔ پیار سے حسن کے سرپر ہاتھ پھیر کربولی۔ ’’کیا بات ہے ،آج بڑی باتیں کررہا ہے نانی سے ؟ ورنہ تو تجھے پڑھائی سے فرصت نہیں ملتی۔‘‘
حسن نے کہا۔’’اصل بات یہ ہے کہ میں وہ نہیں ہوں جو آپ سمجھتی ہیں ۔میرا باپ زمانِ پاستان میں سوداگر تھا۔۔۔‘‘
نانی بات کاٹ کر بولی۔ ’’ہاں ہاں، بڑا شریف آدمی تھا بدر الدین مرحوم۔ دکان پہ بڑی جان مارتا تھا۔ جو کمایا دکان پر ہی لگایا۔ گھر بنانے کی مہلت ہی نہیں ملی بے چارے کو۔ زاہد کو بھی دکان اس نے سیٹ کرکے دی تھی۔ اسی لئے تو دونوں کی ساتھ ساتھ دکانیں ہیں شادمان مارکیٹ میں۔ لیکن سچی بات ہے، زاہد اتنا ہوشیار نہیں جتنا تمہارا باپ تھا۔ اُس کی دکان خوب چلتی تھی، زاہد بے چارے کو تو بس اللہ ہی کا آسرا ہے۔‘‘
حسن نے گڑ گڑا کر کہا۔ ’’نانی جان۔۔۔‘‘
نانی پیار سے بولی۔ ’’صدقے جائے نانی۔ آج تو جلدی گھر آگیا ہے، تجھے گاجر کا حلوہ کھلاتی ہوں۔‘‘
حسن نے کہا۔’’میری بات سنیئے۔ میں زمانِ پاستان سے آیا ہوں۔ میرے باپ کو بزورِ سحر بکرا بنایا گیا تھا، خاک میں تڑپایا گیا تھا اور مجھے وقت کی گردش میں۔۔۔‘‘
اچانک کمرے میں روشنی جل اٹھی۔ نانی خوش ہوکر بولی۔ ’’آگئی بجلی۔ شکر ہے آگئی ورنہ میرا ڈرامہ نکل جانا تھا۔ کدھر گیا ریموٹ؟ ذرا اٹھ حسن دیکھوں تیرے نیچے تو نہیں پڑا؟ ہاں یہ رہا۔‘‘ نانی نے ایک کالے رنگ کا پتلا سا ڈبہ اٹھایا، اس کا کوئی کل پرزہ دبایا اور دم کے دم میں کمرے میں چنگ و رباب کی آواز یں گونجنے لگیں۔ حسن گھبرایا، اچھل کر اٹھ بیٹھا۔ سامنے نظر گئی تو جادو کا عجیب کرشمہ نظر آیا۔ سامنے ایک سنگِ سیاہ کے ڈبے میں ایک چوکھٹ سی بنی تھی۔ چوکھٹ کے پار ایک باغ اور اس کے درودیوار ایسے روشن گویا کندن کے زنگار، اور عین بیچوں بیچ روش پر ایک شہزادی محوِرقص۔ اس تماشائے عجیب و غریب کو دیکھ کر حسن بدر الدین اس قدر خوفزدہ ہوا کہ بدن کارونگٹا رونگٹا کھڑا ہوگیا۔ مگر بسم اللہ پڑھ کر دل کو ڈھارس دی اور نانی سے پوچھا۔ ’’نانی جان یہ کیا اسرار ہے؟ یہ خوبرو، گلبدن، حسینہ پرفن کون ہے؟ اسے اس چوکھٹے میں کس عفریتِ پلید نے قید کیا ہے؟ اور اس اسیری کے عالم میں یہ کیوں ناچتی گاتی ہے؟‘‘
نانی ہنسی، لاڈ سے ایک چپت حسن کے بازو پر لگائی اور بولی۔ ’’نانی سے مخول کرتاہے۔ بھلا مجھے پتا نہیں کہ تجھے کتنی پسند ہے دپیکا پڈوکون؟ اس کی تصویر دیکھی تھی میں نے تیری کتاب میں۔ وہی جو تو نے رسالے سے کاٹ کے رکھی تھی۔ فکر نہ میرے چاند، تیرے لئے ایسی ہی حسین دلہن لاؤں گی۔ بس کپڑے پورے پہنتی ہو ہاں۔ ابھی سے بتارہی ہوں۔‘‘
نانی کی اس تقریر کا کچھ سر پیر سمجھ نہ آیا، حسن بدر الدین مزید دُبدھا میں آیا۔ بے قراری سے اٹھا اور اس سنگِ سیاہ کی چوکھٹ کے قریب آیا جس میں وہ پری، بدصد اندازِ دلبری موروں کا سا سفید لباس پہنے ناچتی تھی اور گاتی تھی۔ ’’موہے رنگ دو لال۔‘‘ حسن نے چوکھٹ میں ہاتھ ڈال کر اسے چھونے کی کوشش کی۔ مگر سامنے شیشے کی دیوار تھی، سمجھ نہ آیا کہ اندر تھی یا آرپارتھی۔ حسن نے چوکھٹ کے پیچھے جھانکا تو وہاں کچھ نہ پایا۔ نہ باغ نہ کندن کے درودیوار نہ ہی وہ حسینہ رقص بار۔ یہ تماشہ دیکھ کر حسن بدر الدین اس قدر گھبرایا کہ کچھ سمجھ میں نہ آیا۔ یہ کیا بحرِ کمالات تھا۔ یہ کیسی دنیا تھی جو دید تھی نہ شنیہ تھی، ہر طرح قابلِ دید تھی؟ یا اللعجب یہ کیا بوالعجبی تھی؟
اسی پریشانی میں حسن وہاں سے چلا اور اپنے کمرے میں آکر پڑ رہا۔ عقل حیران، دل پریشان۔ صبح سے لے کر اب تک ہونے والے تمام واقعات آنکھوں کے آگے گھومتے تھے۔ اور ایک تعجب اور بے یقینی کا عالم حسن پر طاری تھا۔ مظطرب و بے قرار تھا، سراسیمہ و سینہ فگار تھا۔ کل سے اتنے سحر کے کرشمے دیکھے تھے کہ سوچتا تھا کہ یا الٰہی یہ مکاں ہے یا طلسمات کا سماں ہے؟ درودیوار میں روشنیوں کا جل اٹھنا، لوہے کے پھٹپھٹاتے گھوڑے جنہیں یہ لوگ موٹر سائیکل کہتے تھے، بغیر گھوڑے کی گاڑیاں، دجال کی سواریاں، غسل خانے میں لگے فوارے جن سے پانی جھر جھر بہتا تھا، دیواروں پر جڑے چوکٹھے جن میں پریاں ناچتی تھیں اور نغمہ و رباب کی صدائیں آتیں تھیں۔ یہ قسمت اسے کہاں لے آئی تھی، نصیب نے کیسی گردش پائی تھی۔ اب اگر یہاں سے واپس جانے کی کوئی صورت نہیں تو یہاں زندگی کیونکر کٹے گی؟ اسے ماں باپ یاد آئے، دوست احباب کی یاد آئی، اور اس یاد نے دل کی ڈھارس بندھائی۔ اس نے سوچا، بے شک اس زمانے میں طلسم و جادو کا زور ہے اوراس معاملے میں یہ زمانِ پاستان سے بہت آگے ہے لیکن جہاں تک انسانوں کی بات ہے، وہ سب ویسے ہی ہیں جیسے سینکڑوں سال پہلے تھے۔ تب بھی مائیں، نانیاں، دادیاں اولاد پر جان نچھاور کرتی تھیں، آج بھی کرتی ہیں۔ غصہ ور مرد تب بھی تھے آج بھی ہیں، مسکین شوہر اور خوفناک بیویاں تب بھی ہوتی تھیں، اب بھی ہیں۔ نوجوان عشق و محبت کی داستانیں تب بھی رنگین کرتے تھے، آج بھی کرتے ہیں۔ نافرمان لڑکے نشہ و شراب کے دلدادہ تب بھی تھے، آج بھی ہیں۔ تو فرق کیا ہوا؟ اگرزندگانی کاٹنی ہے تو لوگوں اور رشتوں کے ساتھ کاٹنی ہے، سحر کے کرشموں کے ساتھ نہیں۔ اور سحر کے کرشموں میں زمین آسمان کا فرق آیا ہو تو آیا ہو، انسانوں کی فطرت میں سرِمو فرق نہ آیا تھا۔

حسن بدر الدین انہی سوچوں میں غلطاں و پیچاں تھا کہ اس کے کمرے کا دروازہ کھلااور زلیخا اندر داخل ہوئی۔ آتے ساتھ ہی دیوارٹٹول کر پرزہ دبایا اور روشی جلائی۔ حیران ہوکر بولی۔ ’’کیا بات ہے؟ اندھیرا کرکے کیوں لیٹے ہو؟ ابھی سے سوگئے کیا؟‘‘
حسن نے جواب دیا۔ ’’نہیں۔ عشاء پڑھ کر سوؤں گا۔‘‘
زلیخا یہ جواب سن کر حیران ہوئی۔ کچھ کہنے کو منہ کھولا پھر ارادہ بدل دیا۔ چپ چاپ کھڑی حسن کو کھوجتی آنکھوں سے دیکھتی رہی۔
حسن نے کہا۔ ’’اے عزیزہ، صدماتِ جاں گزا کے سبب میری جان بسورتی ہے، پر تو کیوں مجھے گھورتی ہے؟‘‘
زلیخا بولی۔ ’’جان بوجھ کے کررہے ہو یا سچ مچ پتا نہیں چلا کہ تمہارا کیا گم گیا ہے؟ پہلے تو سیکنڈ سے پہلے میرے پاس بھاگے آتے تھے جب کچھ بھی گم جاتا تھا تو۔‘‘
حسن کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔ آہ بھر کربولا۔ ’’کیا بتاؤں کیا گم گیا ہے۔ میرا وقت گم گیا ہے، زمانہ گم گیا ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ میں خود گم گیا ہوں۔‘‘
زلیخا اس کے بستر پر بیٹھ گئی اور بولی۔ ’’اچھا بس اب اتنی سی چیز کے پیچھے دیواداس بننے کی ضرورت نہیں۔ یہ لو اپنا فون۔ شکر کرو آج میں نے تمہارے کمرے کی صفائی خود کروائی اور میری نظر پڑ گئی۔ ورنہ کنیز کا کوئی اعتبار نہیں۔ بڑی شوقین مزاج ہے وہ، لے جاتی تو کبھی نہ ملتا۔‘‘
حسن نے زلیخا کے ہاتھ کی طرف دیکھا جس میں سیاہ رنگ کا ایک چھوٹا سا تختہ تھا۔ تختے پر کچھ لکیریں اور روشنی کے کچھ حروف۔ حسن ڈرا کہ یا اللہ اب کیا سحر دیکھنے میں آئے گا۔
زلیخا اکتا کربولی۔ ’’اب پکڑ بھی لو، چارج بھی کردیاہے میں نے۔ کہاں تو تم ایک سیکنڈ فون کے بغیرنہیں رہتے تھے۔ اور اب پورا ایک دن اس کے بغیر گزار دیا اور اب بھی اسے یوں دیکھ رہے ہو جیسے پہلی دفعہ دیکھا ہو۔ تمہیں ہوا کیا ہے آخر؟‘‘
حسن نے گڑگڑا کر کہا۔ ’’میں کل سے ایک ایک کو بتانے کی کوشش کررہا ہوں مگر کوئی میری بات نہیں سنتا۔ آہ میں غم و الم کا بیمار ہوں ، اجل سے دوچار ہوں۔‘‘
زلیخا اس کلامِ پر اثر کو سن کر حیران ہوئی۔ پھربولی۔ ’’اچھا مجھے بتاؤ کیا پرابلم ہے تمہیں؟ میں کل سے دیکھ رہی ہوں۔ عجیب حرکتیں کررہے ہو۔‘‘
زلیخا کو ہمدرد پایا تو حسن کا دل بھر آیا۔ اپنا حال راست راست کہہ سنایا، بلا کم و کاست کہہ سنایا۔ زلیخا خاموشی سے سنتی رہی۔ حسن نے اپنی سرگزشت ختم کی اور کہا۔ ’’یہ تھی میرے غم و الم کی کہانی۔ وادردا وا حسرتا۔ اب میرا عجب حال ہے۔ جینا محال ہے۔ بس اب مجھے لگتا ہے جنازہ یہاں سے نکلے گا، بے مرے اب بندہ نہ ٹلے گا۔‘‘
حسن اتنا کہہ کر خاموش ہوگیا۔ مگر زلیخا بدستوراسے گھورتی رہی۔ آخر بولی۔ ’’بس؟ہوگیا؟‘‘
حسن نے آہِ سرد بھری، بہ دل پر درد بھری اور کہا۔ ’’باقی باتیں تو ٹھیک ہیں مگر جس قسم کی اردو آپ لوگ بولتے ہیں اسے سن کر میرا براحال ہے۔ بہت حزن و ملال ہے۔‘‘
زلیخا نے ڈپٹ کر کہا۔ ’’حزن و ملا ل کے کچھ لگتے، میں سب جانتی ہوں یہ حرکتیں کیوں کر رہے ہو تم۔ امتحان سر پر ہیں اور تم پڑھتے لکھتے خاک نہیں، سارا دن دوستوں کے ساتھ آوارہ گردی کرتے ہو۔ فیل ہوگئے تو بہانہ کردوگے کہ میرا تو دماغ چل گیا تھا۔‘‘
حسن نے التجا سے کہا۔ ’’خدارا میرا یقین کرو۔ میں اس زمانے میں اجنبی ہوں۔ حالت زار ہے، دل بے قرار ہے۔‘‘
’’کون سی گھٹیا فلم دیکھ کر آئے ہو؟‘‘ زلیخا چڑکربولی۔ ’’ہونہہ، جادوگرنی نے باپ کو بکرا بنایا اور مجھے اگلے زمانے میں بھیج دیا۔ بتاؤ۔ انیس سو دو کے زمانے کی فلموں کی کہانی ہوتی ہوگی ایسی اور وہ فلمیں بھی فلاپ چلی جاتی ہوں گی۔‘‘
یہ کہہ کر اٹھی اور سنگِ سیاہ کی تختی حسن کی طرف پھینک کر بولی۔ ’’یہ لو پکڑو اپنا فون اور آدھے گھنٹے تک کھانے کے لئے آجانا۔ دادی اماں نے تمہارے لئے حلوہ پکایا ہے۔‘‘
یہ کہہ کردروازے کی طرف بڑھی۔ حسن نے پکار کر کہا۔ ’’اے عروسِ عبدہ جو، اگر تو مجھے۔۔۔‘‘
زلیخا تڑپ کر مڑی اور رنج سے بولی۔ ’’حسن بدر الدین، میں سائیکولوجی پڑھ رہی ہوں تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ تم مجھے پاگل بن کر دکھاؤ۔‘‘ یہ کہتے کہتے اچانک زلیخا کی آنکھیں ڈبڈبا آئیں، گلو گیر آواز میں بولی۔ ’’کم از کم تم سے یہ امید نہیں تھی۔‘‘
یہ کہہ کر مڑی اور دروازہ کھول کر باہر نکل گئی۔
زلیخا کے جانے کے بعد حسن چپ چاپ لیٹارہا۔ آخر اٹھا، آنسو پونچھے اور ایک عزمِ باہمت سے کہا۔ ’’اے حسن بدرالدین تم نے اپنی سی پوری کوشش کرلی مگر صدائے برنخواست۔ یہاں نہ کوئی تربت ہے نہ مزار ہے، نہ کوئی مقبرہ عظمت بار ہے۔ مگر تمہارا وقت، تمہارا زمانہ، تمہارا ماضی مرگیا۔ اب اسے اپنے دل میں دفن کرو اور عہد کرو کہ اب کسی سے کچھ نہ کہوگے۔ زندگی ہے سو زندگی کو جیو گے اور مرد انہ وار جیو گے۔‘‘
یہ عہد کرکے اٹھا اور ایک نئے عزم و ہمت سے زندگی کا سامنا کرنے کے لئے باہر نکل گیا۔
اتنے میں مشرق سے صبح کی سپیدی عیاں ہوئی، پردہء حجاب میں ظلمت نہاں ہوئی۔ بادشاہِ خاقانِ کلاوہ نے کہا۔ ’’اب ختم داستان کرو اور ذکرِ حق وظیفہء زبان کرو۔ رات کو حسن بدر الدین کے عزم و ہمت کی داستان سنانا، ہمارا خوب دل بہلانا۔ ‘‘


(باقی آئندہ)
 

Create an account or login to read stories

You must be a member in order to leave a comment

Create account

Create an account on our community. It's easy!

Log in

Already have an account? Log in here.

New posts
Back
Top