- Thread starter
- #61
alone_leo82
Well-known member
یاد کے صحرا میں کچھ تو زندگی آئے نظر
امجد اسلام امجد
یاد کے صحرا میں کچھ تو زندگی آئے نظر
سوچتا ہوں اب بنا لوں ریت سے ہی کوئی گھر
کس قدر یادیں ابھر آئی ہیں تیرے نام سے
ایک پتھر پھینکنے سے پڑ گئے کتنے بھنور
وقت کے اندھے کنوئیں میں پل رہی ہے زندگی
اے مرے حسن تخیل بام سے نیچے اتر
تو اسیر آبروئے شیوۂ پندار حسن
میں گرفتار نگاہ زندگیٔ مختصر
ضبط کے قریے میں امجدؔ دیکھیے کیسے کٹے
سوچ کی سونی سڑک پر یاد کا لمبا سفر