- Thread starter
- #21
alone_leo82
Well-known member
آئینوں میں عکس نہ ہوں تو حیرت رہتی ہے
امجد اسلام امجد
آئینوں میں عکس نہ ہوں تو حیرت رہتی ہے
جیسے خالی آنکھوں میں بھی وحشت رہتی ہے
ہر دم دنیا کے ہنگامے گھیرے رکھتے تھے
جب سے تیرے دھیان لگے ہیں فرصت رہتی ہے
کرنی ہے تو کھل کے کرو انکار وفا کی بات
بات ادھوری رہ جائے تو حسرت رہتی ہے
شہر سخن میں ایسا کچھ کر عزت بن جائے
سب کچھ مٹی ہو جاتا ہے عزت رہتی ہے
بنتے بنتے ڈھ جاتی ہے دل کی ہر تعمیر
خواہش کے بہروپ میں شاید قسمت رہتی ہے
سائے لرزتے رہتے ہیں شہروں کی گلیوں میں
رہتے تھے انسان جہاں اب دہشت رہتی ہے
موسم کوئی خوشبو لے کر آتے جاتے ہیں
کیا کیا ہم کو رات گئے تک وحشت رہتی ہے
دھیان میں میلہ سا لگتا ہے بیتی یادوں کا
اکثر اس کے غم سے دل کی صحبت رہتی ہے
پھولوں کی تختی پر جیسے رنگوں کی تحریر
لوح سخن پر ایسے امجدؔ شہرت رہتی ہے