خوش آمدید

لو اسٹوری فورم ، اردو دنیا کا نمبر ون اردو اسٹوری فورم ، ابھی فورم کےممبر بنیں اور اردو کی بہترین کہانیاں پڑھیں ۔

Register Now!
Welcome image
  • PAID PLANS

    ٹاپ پیکیج
    👑

    PREMIUM

    16000
    چھ ماہ کے لیے
    بہترین ڈیل
    💎

    VIP+

    6000
    چھ ماہ کے لیے
    بنیادی ڈیل

    VIP

    3500
    تین ماہ کے لیے

Moral Story بے قدر دل ۔۔۔

Joined
Jun 10, 2025
Messages
1,092
Reaction score
54,345
Location
Karachi
Gender
Male
یہ آج سے بارہ برس قبل کی بات ہے، جب میری بہن کی پہلی شادی ایک ایسے شخص سے ہوئی جس کی بیوی مر چکی تھی اور ایک بیٹا بھی تھا، جس کا نام عامر تھا۔ ان دنوں عامر کی عمر نو سال اور میری عمر سات برس تھی۔ میں اکثر اپنی بہن شاہدہ کے گھر آتی جاتی تھی۔ بہنوئی مجھے اپنی اولاد کی طرح پیار کرتے تھے اور میرا خیال رکھتے تھے۔ یہی وجہ تھی کہ میں شاہدہ باجی کے ہاں جا کر خوش ہو جاتی تھی کیونکہ عامر بھی میرے ساتھ اچھی طرح بات کرتا تھا۔

باجی اپنے سوتیلے بیٹے سے حسنِ سلوک سے پیش آتی تھیں، مگر وہ باجی سے بات نہیں کرتا تھا۔ شاید اس نے میری بہن کو بطور ماں قبول نہیں کیا تھا۔ جب میں نویں جماعت میں تھی، میں نے باجی کے ہاں آنا جانا کم کر دیا اور اپنی پڑھائی پر توجہ مرکوز کر دی۔ اب میں کافی سمجھدار تھی اور عامر بھی بڑا ہو گیا تھا۔ اس سے میرا بڑا عجیب رشتہ تھا۔ وہ میری بہن کا سوتیلا بیٹا تھا، مگر میرا بھانجا نہیں لگتا تھا۔ تبھی میرے دل میں اس کے لیے دوسرے جذبات تھے اور میں منتظر تھی کہ کبھی وہ مجھ سے پیار کا اظہار کرے، تب میں اپنی بہن سے کہوں گی کہ وہ مجھے اپنے شوہر کی پہلی بیوی کی بہو بنائیں۔ ایک دن باتوں باتوں میں شاہدہ باجی نے بتایا کہ عامر اپنی ایک کزن کو بہت چاہتا ہے اور اسی کی باتیں کرتا رہتا ہے۔ اس بات نے مجھ پر قہر ڈھا دیا۔ اب میں عامر سے زیادہ باتیں کرنے لگی تاکہ اس بات کی سچائی کا پتہ چل جائے۔

اسکول کی چھٹیاں ہوئیں، تو دس دن کے لیے میں باجی کے گھر رہنے چلی گئی۔ اتفاق سے اس کی کزن بھی آئی ہوئی تھی؛ وہ عامر کی پھپھو کی بیٹی تھی اور سب پیار سے اسے شبو کہتے تھے۔ واقعی عامر اس سے باتیں کرتے نہیں تھکتا تھا۔ ایک دن رہ کر شبو اپنے گھر چلی گئی، تو میں نے عامر سے پوچھا: “شبانہ کیسی لڑکی ہے؟” یہ پوچھنا تھا کہ اس نے اس کی تعریفوں کے پل باندھ دیے۔ میں دل پر پتھر رکھ کر اس کی باتیں سنتی رہی، پھر اس نے مجھے ایک پرچہ دکھایا جس پر اشعار لکھے ہوئے تھے اور کہا: “شبو کو یہ اشعار بہت پسند ہیں، بتاؤ کیسے ہیں؟” میں نے سوچا کیوں نہ میں بھی اپنی پسند کے اشعار لکھ کر عامر کو دوں اور دیکھوں کہ اس پر کیا اثر ہوتا ہے۔ میں نے اپنی پسند کے دو شعر لکھ کر عامر کی کتاب میں رکھ دیے۔ دوسرے دن اس نے کتاب سے اشعار اٹھا لیے، مگر مجھ سے اس کا ذکر نہیں کیا۔ میں نے اگلے دن پھر دو شعر لکھ کر اس کی کتاب میں رکھ دیے۔ اب وہ سمجھ گیا اور مجھے بلا کر کہا: “فریحہ! کیا تم نے یہ شعر رکھے ہیں؟” اس سوال پر میں جھجھک کر مکر گئی کہ “نہیں، میں نے تو نہیں رکھے۔” “تو پھر کس نے رکھے ہیں؟” “مجھے کیا معلوم؟”

دراصل میں چاہتی تھی کہ وہ بغیر پوچھے ہی سب کچھ سمجھ جائے اور وہ سمجھ چکا تھا۔ چھٹیاں ختم ہو گئیں اور میں اپنے گھر چلی آئی۔ اب پڑھائی میں دل نہیں لگتا تھا اور خیال اسی طرف رہتا تھا۔ سوچتی تھی کہ جانے اب کب میں باجی کے گھر جا پاؤں گی۔ دن اللہ اللہ کر کے کٹ رہے تھے، اوپر سے رمضان شریف کا مہینہ آ گیا۔ اب تو میں عید تک کہیں نہیں جا سکتی تھی۔ اچانک باجی کا بلاوا آیا کہ “میری طبیعت ٹھیک نہیں ہے، فریحہ کو بھیجو، افطاری وغیرہ بنانی ہوتی ہے۔” میری تو عید سے پہلے عید ہو گئی۔ میں باجی کے ہاں روانہ ہو گئی۔ روزہ کھولنے کے بعد میں کچن میں برتن سمیٹ رہی تھی کہ عامر وہاں آ گیا اور کہنے لگا: “تمہارا روزہ تھا، لاؤ میں کچھ کام کروا دوں۔” وہ میرے نزدیک ہوتا گیا۔ اتنے میں باجی آ گئیں۔ انہوں نے عامر کو تو کچھ نہ کہا، لیکن جب وہ چلا گیا تو مجھے تھپڑ مارا اور بولیں: “احتیاط کیا کرو، خبردار میں آئندہ تم کو عامر کے اتنے قریب نہ دیکھوں۔”

میں رونا چاہتی تھی، لیکن میں نے دکھ کو دل میں دبا لیا اور آنسو پی گئی کیونکہ اسی میں عزت تھی۔ باجی نے بھی اس بات پر پردہ ڈال دیا اور گھر میں کسی کو کچھ نہیں بتایا، لیکن مجھ سے تنہائی میں پوچھا کہ “تم لوگ کیا بات کر رہے تھے؟” میں نے جھوٹ بول دیا کہ “کچھ نہیں، عامر مجھ سے لڑائی کر رہا تھا۔” پھر میری بہن نے مجھے معاف کر دیا اور کہا کہ “آئندہ ایسا نہ ہو۔” اس کے بعد میں کافی دنوں تک باجی کے گھر نہیں گئی۔ منتظر رہی کہ وہ بلائیں تو جاؤں، مگر انہوں نے نہیں بلایا۔ میں بڑی بے چین رہتی تھی۔ تبھی ایک دن باجی آئیں اور کہا کہ “میں خود تم کو نہیں بلاتی، حالانکہ تمہارے لیے اداس رہتی ہوں، مگر تمہیں نہ بلانے کی ایک وجہ ہے اور وہ یہ ہے کہ عامر کی منگنی بچپن سے شبو کے ساتھ طے ہو چکی ہے اور شادی اسی کے ساتھ ہوگی؛ لہذا بہتر ہے کہ تم بیچ میں مت آؤ، ورنہ بے پناہ دکھ اٹھاؤ گی۔” باجی میرے دل کی کیفیت کو سمجھ چکی تھیں۔ ان کو پتہ تھا کہ ان کے خاوند اپنی بھانجی کے سوا کسی اور کو بہو نہ بنائیں گے، پھر وہ میرا ذہن مزید خراب نہ ہونے دینا چاہتی تھیں۔

مجھے نہیں پتہ کہ عامر سچ مچ مجھ کو پسند کرتا تھا یا پھر ویسے ہی ظاہر کرتا تھا، بہرحال باجی نے مجھے اپنے گھر آنے سے روک دیا۔ یوں میں دل شکستہ تو بہت ہوئی، مگر پھر میں نے خود کو سمجھا لیا۔ انہی دنوں میرا رشتہ آ گیا۔ والد صاحب کو یہ رشتہ بہت مناسب لگا اور انہوں نے میری شادی کر دی۔ یہ غیر لوگ تھے، مگر اچھے تھے۔ ساس سسر نے میرا بہت خیال رکھا اور شوہر بھی چاہتے تھے، لیکن جانے کیوں میرا دل ہر وقت بجھا بجھا رہتا تھا اور گھر میں دل نہیں لگتا تھا۔ سچ ہے کہ دل کی اپنی الگ دنیا ہوتی ہے، اس پر کسی کا بس نہیں چلتا۔ آدمی لاکھ خود کو سمجھا لے، دل کسی کی نہیں سنتا؛ تاہم عورت ایک مجبور ہستی ہوتی ہے، اسے خود کو سنبھالنا پڑتا ہے۔ گھر میں جی نہ لگے، تب بھی خود کو دوسروں کی خوشی کے لیے وقف کرنا پڑتا ہے اور مر مر کر جینا پڑتا ہے۔ میں بھی عامر کے خیال کو دل سے محو نہ کر سکی۔ میرا خاوند ایک سیدھا سادہ آدمی تھا۔ میں اس کے پیار کی قدر کرنے کی بجائے عامر کو یاد کر کے روتی تھی، حالانکہ میرا اس کے ساتھ کوئی ناتا اور کوئی واسطہ نہ تھا؛ بس اس کو دماغ کی خرابی کہیے کہ زندگی کی ہر سہولت میسر ہونے کے باوجود میں خوش نہیں تھی اور خود کو دنیا کی مظلوم ترین عورت سمجھتی تھی۔

وقت گزرتا رہا اور میری زندگی بھی بے کیفی سے گزرتی رہی۔ میں شوہر سے سیدھے منہ بات نہیں کرتی تھی، بلاوجہ ان سے الجھتی اور ان کو نظر انداز کرتی۔ وہ شریف طبیعت کے تھے، اس لیے چپ ہو جاتے تھے۔ عامر کی شادی اپنی منگیتر سے ہو گئی۔ مجھے نہیں معلوم کہ اس کی زندگی اب کیسی گزر رہی تھی کیونکہ میں باجی کے گھر نہیں جاتی تھی اور وہ بھی مجھے نہیں بتاتی تھیں کہ عامر خوش ہے یا ناخوش۔ وہ اس موضوع پر بات ہی نہیں کرتی تھیں۔ باجی بہت کم ملتی تھیں اور اب ان کے دو بچے ہو گئے تھے۔ وہ ان کی پرورش میں مصروف ہو چکی تھیں، ادھر میں بھی ایک بچے کی ماں بن گئی تھی۔ میں نے بچے میں دل لگا لیا، مگر گھر میں دل نہ لگایا اور اپنے خاوند سے بے اعتنائی جاری رکھی۔

انہی دنوں ایک عورت ہمارے گھر آئی، اس کا نام مہناز تھا۔ وہ ہمارے محلے میں کچھ عرصہ قبل ہی آ کر رہنے لگی تھی۔ یہ ہمارے پڑوسی تانگے والے فیکے کی بیوی تھی۔ میری ساس نے اسے اچھی طرح بٹھایا اور آنے کا سبب پوچھا۔ وہ کہنے لگی: “اگر آپ نے کپڑے وغیرہ سلوانے ہوں، تو میں بہت اچھے سی لیتی ہوں، میں نے سلائی کا کورس کیا ہوا ہے۔” یہ عورت کسی شریف گھرانے کی لگتی تھی اور مہذب طریقے سے بات کر رہی تھی۔ لگتا تھا کہ اچھے خاندان کی ہے مگر حالات کا شکار ہے۔ اچھی صورت ہونے کے باوجود اس کے چہرے پر مردنی چھائی ہوئی تھی۔ پہلی نظر اس پر ڈالتے ہی افسوس ہوا کہ جیسے کسی نے اس کی صورت بگاڑ دی ہو۔ خالی خالی آنکھوں سے وہ ہمارے گھر کی ہر شے کو تک رہی تھی۔ اس کے جاتے ہی خالہ نے کہا: “بہو! لگتا ہے کسی خوشحال گھرانے کی ہے، بیچاری پر برا وقت پڑ گیا ہے، تبھی ایسی اجڑی اجڑی اور ویران نظر آ رہی تھی۔” اس کے بعد وہ کئی بار آئی۔ امی نے گرمیوں کے جوڑے اس سے سلوائے، وہ بہت اچھا سیتی تھی۔ ہم نے اجرت دی تو وہ خوش ہو گئی۔ یوں ہی سال بھر وہ آتی رہی، پھر اچانک ایک دن اس کے بارے میں خبر سنی کہ مہناز جل گئی ہے۔ تمام محلے میں شور مچ گیا، میری ساس بھی گئیں۔ وہ واپس لوٹیں تو رو رہی تھیں کیونکہ مہناز واقعی بری طرح جل گئی تھی اور اس کی حالت دیکھی نہیں جاتی تھی۔ محلے والے اسے اسپتال لے گئے۔

ساس اور میں اگلے روز اسے دیکھنے اسپتال گئے، مگر ڈاکٹروں نے ہمیں اندر جانے نہیں دیا۔ وارڈ کے پاس ہی مہناز کی ایک رشتہ دار عورت ہمیں مل گئی؛ یہ اس کی خالہ زاد بہن تھی جس کا نام ثمینہ تھا۔ اس نے ہمیں مہناز کے بارے میں بتایا کہ وہ پانچویں جماعت میں تھی جب اس کا باپ فوت ہو گیا۔ جوں توں کر کے اس کی ماں نے بچیوں کی پرورش کی۔ جب مہناز سولہ سال کی ہوئی، تو والدہ نے اس کی شادی ایک خوشحال گھرانے میں کر دی۔ اس کا خاوند ایک بینک میں اعلیٰ عہدے پر فائز تھا اور گھر میں کسی چیز کی کمی نہیں تھی۔ خاوند پردے کا بہت پابند تھا، یوں وہ پردہ کرتی تھی، لیکن اس کی چھوٹی بہن جو اب سولہ برس کی ہو چکی تھی اور اس کا نام شہناز تھا، وہ بہت چلبلی، تیز طرار اور ہوشیار لڑکی تھی۔ خدا نے اسے حسن کی دولت سے خوب مالا مال کیا تھا۔ مہناز کے ہاں بچے کی پیدائش متوقع تھی، اس نے اپنی خدمت کے لیے چھوٹی بہن کو گھر پر روک لیا اور یہی اس کی سب سے بڑی غلطی تھی۔ اس کے شوہر کی خدمت کا سارا ذمہ شہناز نے اٹھا لیا، یوں وہ اس کے شوہر کی نظروں میں مقبول ہو گئی۔ مہناز بچے کی دیکھ بھال میں لگ گئی اور شہناز بہنوئی کے کام کاج میں؛ وہ اس کی بڑی خدمت کرتی تھی۔ یہ باتیں ساس نے نوٹ کیں۔ اس نے دو چار بار دبے لفظوں میں بہو سے کہا بھی کہ “اب تمہاری بہن کو اپنے گھر چلے جانا چاہیے، گھر کے کام میں دیکھ لوں گی،” لیکن مہناز سیدھے دل کی تھی اور اس کی آنکھوں پر جیسے پٹی بندھی تھی۔ وہ ہر بار یہی جواب دیتی کہ “امی جان! آپ فکر نہ کریں، اس کے جانے سے آپ کو تکلیف ہوگی۔” چند ہی دنوں میں شہناز نے اس کے خاوند کا دل موہ لیا، اب وہ اس کو بہت اہمیت دینے لگا اور مہناز کو نظر انداز کرنے لگا۔

خدا کی قدرت کہ انہی دنوں مہناز کی ساس کو اچانک فالج ہوا اور وہ چل بسیں۔ اب وہ اکیلی ہو گئی، اس نے سوچا کہ اگر شہناز چلی گئی تو میں تنہا گھر اور بچے کیسے سنبھالوں گی؟ بس اس نے بہن کو جانے نہیں دیا اور مستقل اپنے پاس رکھ لیا۔ ماں نے کئی بار کہا بھی کہ “اب اسے واپس بھیج دو،” مگر مہناز نے نہیں سمجھا۔ خدا جانے چوری چھپے سلیم اور شہناز کیا گل کھلاتے رہے کہ ایک دن سلیم کا اس کے ساتھ نکاح کرنا لازمی امر ہو گیا۔ اب اس کے سوا کیا چارہ تھا کہ وہ پہلی بیوی کو طلاق دے کر گھر سے چلتا کرے اور سالی سے بیاہ کر لے۔ جب مصیبت آتی ہے، تو چاروں طرف سے راستے بند ہو جاتے ہیں۔ انہی دنوں اچانک اطلاع آئی کہ مہناز کی والدہ کا انتقال ہو گیا ہے۔ وہ روتی پیٹتی فوراً چلی گئی، مگر حیرت ہے کہ شہناز ماں کے مرنے پر نہ گئی کیونکہ سلیم نے کہا تھا کہ “تم مت جاؤ، میں تم کو جنازے پر لے جاؤں گا، تم منہ دیکھ لینا؛” ادھر مہناز ماں کا آخری دیدار کر رہی تھی، ادھر سلیم نے طلاق کے کاغذات تیار کرا کر شہناز سے نکاح پڑھوا لیا۔ جب وہ لوٹی، تو اس کا گھر اس کا نہ رہا تھا۔ چھوٹی بہن گھر کی مالکہ بن چکی تھی۔ خاوند نے اس کو طلاق کے کاغذات پکڑا دیے اور کہا کہ “تم جہاں چاہو چلی جاؤ۔” مہناز نے کہا: “میں اپنی بچیاں بھی ساتھ لے کر جاؤں گی۔” خاوند نے دونوں بچیاں بھی ساتھ کر دیں کہ “ٹھیک ہے، ان کو بھی لے جاؤ۔”

مہناز کا کوئی آسرا نہیں تھا۔ باپ تو پہلے ہی مر چکا تھا، ماں بھی مر گئی تھی اور بہن سوکن بن گئی تھی جبکہ کوئی بھائی بھی نہیں تھا۔ اس دنیا میں اس کے لیے سب حقیقی رشتے ختم ہو گئے تھے۔ وہ کہاں جاتی؟ ماں کرایے کے مکان میں رہتی تھی۔ مہناز بچیوں کو لیے سڑک پر جا رہی تھی کہ ایک تانگے والے نے آواز لگائی: “بی بی! کہاں جانا ہے؟ آؤ، میرے تانگے میں بیٹھ جاؤ۔” اسے کچھ پتہ نہ تھا کہ وہ کہاں جا رہی ہے۔ سوچا اسی کو حال احوال کہہ دوں، کرایہ بھی پاس نہیں تھا۔ مہناز تانگے پر بیٹھ گئی اور کہا: “ماں مر گئی ہے، مالک مکان نے گھر کو تالا لگا دیا ہے۔ اب رہنے کا کوئی ٹھکانہ نہیں ہے، بچیوں کا ساتھ ہے اور شوہر نے گھر سے نکال دیا ہے۔ اب تم ہی بتاؤ کہاں جاؤں؟” تانگے والے نے کہا: “میرے گھر میں بیوی نہیں ہے، ماں بھی پچھلے دنوں وفات پا گئیں اور بہن کی شادی کر دی ہے۔ تم چاہو تو میرے گھر میں آرام سے رہ سکتی ہو۔” مہناز فیکے کے ساتھ اس کے گھر آ گئی اور عدت پوری کرنے کے بعد فیکے سے نکاح کر لیا۔ ایک عزت دار، خوبصورت اور خوشحال گھرانے کی عورت کو آج یہ دن دیکھنا پڑا۔ زندگی عزت سے گزارنے کی خاطر اس نے فیکے سے نکاح کو بھی قبول کر لیا۔ پہلے پہل فیکا اس کے ساتھ اچھا رہا اور اس کی بچیوں سے بھی محبت کا برتاؤ رکھا۔ سال بعد فیکے کے گھر لڑکا پیدا ہوا، جو کچھ دیر زندہ رہ کر فوت ہو گیا۔ رفتہ رفتہ فیکے کا مزاج بدلنے لگا؛ اب وہ مہناز کی بچیوں کو حقارت کی نظروں سے دیکھنے لگا۔ بات بات پر ان کو جھڑکتا اور آئے روز مہناز سے جھگڑا کرتا۔ اس پر الزام دھرتا کہ “تو فلاں سے محبت کرتی ہے اور فلاں سے ملنے جاتی ہے،” حالانکہ وہ ایسی نہ تھی۔ وہ محلے کے گھروں سے سلائی کے کپڑے لیتی اور سی کر ان کو دے آتی تھی۔

ایک دن اس کی بچیاں ہمسایے کے گھر ٹی وی دیکھنے گئیں۔ ذرا دیر ہو گئی تو مہناز کو فکر ہوئی اور وہ بچیوں کو بلانے گئی۔ جب واپس آئی تو فیکے نے اسے بہت مارا اور الزام لگایا کہ “وہ اپنے سابقہ خاوند سے بچیوں کو ملانے لے گئی ہوگی۔” مہناز ان روز روز کے جھگڑوں سے تنگ آ گئی تھی۔ اس نے بچیوں کی بھی پروا نہ کی اور آدھی رات کو اپنے اوپر مٹی کا تیل چھڑک کر خود کو آگ لگا لی۔ فیکے کے شور مچانے پر محلے والوں نے آگ بجھائی۔ وہ بالکل جل گئی تھی، صرف اس کا منہ ہی باقی رہ گیا تھا اور وہ ابھی ہوش میں تھی۔ کہنے لگی: “مجھے اسپتال لے جاؤ،” مگر فیکا جو پتھر کا بنا ہوا تھا، بولا: “جس سے محبت کرتی ہے، اس کو کہہ کہ تجھے دریا میں ڈال آئے۔” آخر محلے والے اسے اسپتال لے کر گئے۔ اس کی حالت خطرناک ہو گئی۔ جب ڈاکٹر پٹیاں اتارتے یا دوا لگاتے، تو اس کی چیخیں پورا اسپتال سنتا تھا، اس لیے ڈاکٹرز اسے بے ہوش رکھتے تھے۔ ڈاکٹروں نے بھی ناامیدی ظاہر کی، مگر پتہ نہیں وہ کیسے زندہ تھی؟ آخر کار وہ اسپتال سے گھر آ گئی، لیکن وہ صحت یاب نہیں تھی۔ اگر اس کی کوئی بچی کھانے کو مانگتی یا روتی تو فیکا اسے تھپڑ مارتا۔ محلے والوں نے اسے سمجھایا کہ “تم بیوی کا مکمل علاج کراؤ اور اس کی بچیوں کا خیال رکھو، کیونکہ تم نے اس عورت سے نکاح کرتے وقت اس کی بچیوں کی ذمہ داری کو قبول کیا تھا،” مگر وہ کہتا کہ “اگر یہ مر گئی، تو میں بچیوں کو گھر سے نکال دوں گا یا یتیم خانے چھوڑ آؤں گا۔”

فیکا شراب پیتا اور جوا بھی کھیلتا تھا، اس وجہ سے محلے والے اب اسے اچھی نظر سے نہیں دیکھتے تھے؛ تاہم مہناز کی وجہ سے انہوں نے اس کو محلے سے نہیں نکالا تھا کہ بیمار عورت ہے، کہاں جائے گی؟ مناسب علاج نہ ہونے کی وجہ سے مہناز کے زخموں میں کیڑے پڑ گئے۔ جب وہ زخموں میں کلبلاتے، تو بیچاری کو شدید تکلیف ہوتی اور وہ چیختی چلاتی۔ میں تو ڈر کے مارے اسے دیکھنے بھی نہیں جاتی تھی کیونکہ میرا حوصلہ نہیں پڑتا تھا۔ جب اس کی بچیاں ہمارے گھر روٹی لینے آتیں، تو ہم ان سے ماں کا حال پوچھتے۔ محلے کی دوسری رحم دل عورتیں البتہ روز جاتی تھیں اور اس کے زخم دھو کر مرہم پٹی کرتی تھیں۔ ان میں ایک عورت جو اسپتال میں نرس تھی، ایک دن امی کے پاس آئی اور بتایا کہ “مہناز کی حالت بہت خراب ہے، اس کے پیٹ کا اندرونی حصہ بھی نظر آتا ہے، یعنی انتڑیاں دکھائی دیتی ہیں۔ اب زخم دھونا اور پٹی کرنا میرے بس کی بات نہیں رہی۔ اس کے زخم گلتے جا رہے ہیں اور ان سے بدبو آتی ہے۔ میں فیکے سے کہتی ہوں کہ اپنی بیوی کو اسپتال لے جاؤ، مگر اس پتھر دل کو ترس نہیں آتا۔ کہتا ہے، میں علاج کے لیے ہزاروں کی رقم کہاں سے لاؤں؟”

غرض بہت تکلیف اٹھا کر بیچاری مہناز چل بسی۔ محلے والوں نے اس کا کفن دفن کیا، جبکہ فیکا دو تین دن گھر ہی نہیں آیا۔ بچیوں کو محلے والوں نے چند دن اپنے پاس رکھا، پھر یتیم خانے پہنچا آئے۔ میری دعا ہے کہ خدا ایسا شوہر کسی کو نہ دے اور نہ ایسا باپ جیسا سلیم ہے، جس نے ایک عورت کی خاطر اپنی بیوی اور بچیوں کو در بدر کر دیا۔ شاید وہ عیش کی زندگی گزار رہا ہو، مگر یاد رکھنا چاہیے کہ خود غرض لوگوں کے عیش کے دن بھی دو چار ہی ہوتے ہیں، اس کے بعد وہ مکافاتِ عمل کے دور سے بھی ضرور گزرتے ہیں۔

اس واقعے کے بعد سے میری سوچ بدل گئی اور میرا دماغ بالکل ٹھیک ہو گیا، یعنی مہناز کی تکلیف اور اس کو اپنی آنکھوں کے سامنے سسکتے دیکھ کر میں نے بہت سبق حاصل کیا۔ میں نے اپنے گھر کو جنت اور خاوند کو مجازی خدا سمجھا اور اداسی کا چولہا اتار پھینکا، کیونکہ دکھی میں نہیں، مہناز جیسی عورتیں ہوتی ہیں جو دکھ سہتے سہتے دنیا کو چھوڑ کر چلی جاتی ہیں۔ سچ ہے کہ جوان بہنوں کو زیادہ دن گھر میں ٹھہرائے رکھنا درست نہیں، کیونکہ ذرا سی بھول سے کبھی کبھی اپنے گھر کی جنت سے ہاتھ دھونا پڑ جاتا ہے۔
 

Create an account or login to read stories

You must be a member in order to leave a comment

Create account

Create an account on our community. It's easy!

Log in

Already have an account? Log in here.

New posts
Back
Top