• 📚 لوو اسٹوری فورم ممبرشپ

    بنیادی ڈیل

    وی آئی پی

    5000
    تین ماہ کے لیے
    بہترین ڈیل
    💎

    وی آئی پی پلس

    8000
    چھ ماہ کے لیے
    ٹاپ پیکیج
    👑

    پریمیم

    20000
    چھ ماہ کے لیے

Life Story بے گناہ کی چیخیں ۔۔۔

Joined
Jun 10, 2025
Messages
1,018
Reaction score
51,411
Points
113
Location
Karachi
Gender
Male
جب میں پندرہ سال کی تھی تو میرے والد نے اپنا گھر بنا لیا اور ہم وہاں شفٹ ہو گئے۔ شروع شروع میں بہت عجیب لگتا تھا کیونکہ پرانے محلے کے لوگوں کی یاد آتی تھی۔ ہمارے گھر کے سامنے والے مکان میں کوئی لڑکی نہیں تھی بلکہ صرف لڑکے ہی تھے۔ میں دو تین بار امی کے ساتھ ان کے گھر گئی؛ ان کا ایک بیٹا مجھے دیکھتا تھا جس کا نام جمال تھا۔ ایک دن جمال کا فون آیا؛ اس وقت شام کے سات بج رہے تھے، گھر والے کہیں گئے ہوئے تھے اور بجلی بھی نہیں تھی۔ میں نے اسے بہت ڈانٹا کیونکہ مجھے ہرگز یہ امید نہ تھی کہ وہ ایسا کر سکتا ہے، اور پھر میں نے فون بند کر دیا۔ میں کافی دن اس کے فون کے بارے میں سوچتی رہی، پھر مجھے پتا چلا کہ جمال کا ایکسیڈنٹ ہو گیا ہے۔ تب میں نے اسے فون کیا اور یوں ہماری بات چیت شروع ہو گئی۔

کچھ عرصہ بعد وہ پڑھائی کے لیے دوسرے شہر چلا گیا۔ میں بہت کم اس کے گھر جاتی تھی کیونکہ مجھے اندازہ تھا کہ اس کی ماں مجھے پسند نہیں کرتیں، تاہم میں اسے خط لکھتی اور کسی مناسب موقع پر کارڈ وغیرہ بھی بھیج دیتی۔ اسی طرح وقت گزرتا رہا اور میری چاہت میں اضافہ ہوتا گیا، لیکن وہ بہت محتاط انسان تھا۔ اس نے کبھی مجھے رابطے کے لیے مجبور کیا اور نہ ہی خود پہل کرتا؛ یہاں تک کہ وہ میرے خطوط کا جواب بھی نہیں دیتا تھا۔ آخر کار اس کی پڑھائی مکمل ہو گئی اور فوراً ہی اسے نوکری مل گئی۔ وقت کے ساتھ ساتھ ہماری دوستی بہت مضبوط ہو گئی تھی۔ ایک دن اس نے مجھے بتایا کہ اسے شہر سے باہر ایک زیادہ اچھی نوکری مل گئی ہے۔ اس نے کہا کہ اس بار وہ تنخواہ جمع کرے گا اور پھر اپنے والدین کو ہماری خوشی کے لیے راضی کرے گا تاکہ ہمیں شادی کے بندھن میں باندھ دیا جائے۔ ہم کتنے حسین خواب دیکھ رہے تھے۔

میں جانتی تھی کہ جمال برا آدمی نہیں ہے۔ اگر وہ برا ہوتا تو سب سے پہلے برائی کی دعوت دیتا، لیکن قسمت میں جو لکھا تھا وہی ہوا۔ ایک دن اسے پولیس پکڑ کر لے گئی۔ ہوا یہ کہ ان ہی دنوں ہمارے اور ان کے گھر کے سامنے والے چوبارے میں ایک کرایہ دار آ کر رہنے لگا تھا۔ پہلے یہ چوبارہ خالی پڑا تھا، البتہ نچلی منزل پر مالک مکان اپنی فیملی کے ساتھ خود رہتا تھا۔ اس چوبارے میں ایک دکاندار اپنی تین بیٹیوں کے ساتھ رہنے آیا۔ ہم نے سوچا کہ نئے لوگ آئے ہیں تو سب سے ملیں گے، لیکن وہ کسی سے نہ ملتے تھے۔ جب وہ شخص، حسام، گھر سے باہر جاتا تو لڑکیوں کو تالا لگا کر بند کر جاتا۔

امی نے چاہا کہ خود مل آئیں، مگر جب گھر کو تالا لگا ہو تو کوئی کیسے جائے؟ ان لڑکیوں کی ماں بھی نہیں تھی، صرف بچیاں تھیں۔ بس اتنا پتا چلا کہ تینوں اسکول جاتی ہیں؛ باپ خود انہیں چھوڑنے جاتا اور واپس لے کر آتا تھا۔ لڑکیاں برقع اوڑھتی تھیں، لہٰذا ہم میں سے کسی نے ان کی شکل نہیں دیکھی تھی۔ کچھ ہی دنوں میں محلے میں یہ بات مشہور ہو گئی کہ لڑکیاں چوبارے سے نیچے جھانکتی ہیں اور کچھ منگوانا ہو تو محلے کے لڑکوں کو پرچے لکھ کر نیچے پھینکتی ہیں۔ پھر لڑکے وہ چیزیں خرید کر ان کے صحن میں اچھال دیتے ہیں۔

ایک دن جب جمال گلی میں کھڑا تھا، اس کے سر پر ایک چھوٹا سا پتھر آ کر لگا جس پر کاغذ لپٹا ہوا تھا۔ اس نے کاغذ کھولا تو لکھا تھا کہ سامنے والے ریڑھی والے سے تین عدد بھٹے لے کر اوپر پھینک دو۔ پیسے بھی اسی کاغذ میں لپٹے ہوئے تھے۔ جمال کو ان لڑکیوں پر ترس آ گیا؛ اس نے سوچا کہ بے چاری اکیلی قید ہیں، ان کا بھی دل کرتا ہو گا کچھ کھانے پینے کو، اسی لیے تو وہ ایسا کرتی ہیں۔ ایک ہفتہ گزرا تو ہم نے سنا کہ حسام بہت پریشان ہے۔ وہ آدھی رات کو پڑوسی کے گھر گیا اور اسے جگا کر کہا: “میری بیٹی فائزہ، جو نویں جماعت کی طالبہ ہے، گھر سے غائب ہے۔ مجھے شک ہے کہ وہ آپ کی چھت کے ذریعے نکلی ہے کیونکہ میرے دروازے پر تو تالا لگا ہوا ہے۔” پڑوسی نے یقین دلایا کہ وہ اس کی چھت سے نہیں گئی۔ اس نے کہا: “اگر وہ گئی بھی ہے تو مجھے علم نہیں کیونکہ ہم برابر والے مکان میں ہوتے ہیں اور یہ حصہ خالی پڑا ہے، البتہ اگر آپ کو کسی پر شک ہو تو بتائیں۔” حسام نے جواب دیا: “میں بھلا کسی پر کیسے شک کر سکتا ہوں؟ آس پڑوس کے لڑکوں کو آپ ہی بہتر جانتے ہیں کیونکہ آپ یہاں کے پرانے رہائشی ہیں اور میں ابھی نیا آیا ہوں۔” اس پر پڑوسی زاہد نے کہا: “کل پرسوں کی بات ہے، میں نے جمال کو آپ کے چوبارے کی طرف بھٹے اچھالتے دیکھا تھا؛ ممکن ہے اس لڑکے سے آپ کی بیٹی کے مراسم ہوں اور وہ اسی کے ساتھ بھاگی ہو۔”

یہ دونوں جمال کے والد کے پاس آئے۔ اتنے میں صبح ہو چکی تھی۔ انہوں نے حمید شاہ کو جگایا اور کہا کہ ایسا معاملہ ہوا ہے اور ہم آپ کے لڑکے سے بات کرنا کرنا چاہتے ہیں۔ حمید شاہ نے کہا: “میرا لڑکا گہری نیند سو رہا ہے کیونکہ رات ہمارے گھر میں شادی تھی اور وہ ویڈیو فلم بناتا رہا ہے۔ اس وقت وہ تھک کر سو رہا ہے، میرے جگانے سے بھی نہیں اٹھے گا۔” انہوں نے اصرار کیا کہ اس کا جگانا ضروری ہے، ورنہ پولیس آپ کو تنگ کرے گی۔ آپ ایک شریف اور محنت کش آدمی ہیں اور ہمارے پرانے پڑوسی ہیں۔ ہم نہیں چاہتے کہ آپ پولیس کے جھمیلوں میں پڑیں۔

مجبور ہو کر حمید صاحب نے بیٹے کو جگایا جو چھت پر سو رہا تھا۔ وہ واقعی رات بھر کا جاگا ہوا تھا اور گہری نیند میں تھا، لہٰذا بڑی مشکل سے بیدار ہو کر نیچے آیا جہاں زاہد اور حسام کھڑے تھے۔ زاہد نے کہا: “بیٹا، تم ذرا دیر کے لیے ہمارے ساتھ تھانے چلو۔ وہاں تمہارا بیان ریکارڈ کرانا ہے تاکہ پولیس تمہیں بعد میں تنگ نہ کرے۔ ان کی لڑکی کا معاملہ ہے اور صبح ہوتے ہی محلے کے تمام لڑکوں سے پوچھ گچھ شروع ہو جائے گی، تم بھی زد میں آ جاؤ گے، جبکہ تمہیں تو ملک سے باہر جانا ہے۔” یہ بات درست تھی کہ جمال کو باہر جانے کا بے حد شوق تھا اور وہ دبئی جانے کی کوشش میں تھا۔ لہٰذا اس نے عافیت اسی میں جانی کہ وہ ان لوگوں کے ساتھ تھانے چلا جائے۔

جمال اپنے والد کے ساتھ ان دونوں کے ہمراہ تھانے گیا تاکہ اپنی صفائی پیش کر سکے کہ وہ رات بھر اپنے گھر میں تھا کیونکہ اس کی پھوپھی کی شادی تھی۔ وہ ویڈیو بھی بناتا رہا تھا جس کے گواہ شادی میں آنے والے مہمان تھے، لیکن پولیس نے ایک نہ سنی اور فوراً جمال کو حوالات میں بند کر دیا، کیونکہ حسام اور زاہد نے پہلے ہی ایف آئی آر کٹوا کر اس میں جمال کا نام لکھوا دیا تھا کہ اسی نے لڑکی کو اغوا کیا ہے۔ بیچارے حمید انکل، جو بیٹے کو صفائی دلوانے تھانے لے گئے تھے، ہاتھ ملتے واپس گھر آگئے اور پھر جمال پر وہ تشدد ہوا کہ اس کی چیخیں سڑک تک سنائی دیتی تھیں۔ تھانہ قریب ہی تھا، لہٰذا پڑوسی آ کر ہمیں بتاتے تھے کہ یہ جمال کی چیخیں ہیں۔

میں یہ سنتی تو دل کانپ جاتا اور رو رو کر برا حال ہو جاتا۔ صرف میں ہی نہیں، جو بھی جمال کا حال سنتا وہ رو پڑتا تھا۔ آنٹی اور انکل کی کیفیت تو ناقابلِ بیان تھی، وہ نہ جیتے تھے اور نہ مرتے تھے۔ چودہ دن تک جمال اور محلے کے دو تین اور لڑکے اسی طرح قید رہے، جنہوں نے ان لڑکیوں کو کبھی فروٹ چاٹ، کبھی قلفی اور کبھی دہی بڑے ان کے کہنے پر خرید کر دیے تھے۔ ان بیچارے لڑکوں پر اتنا تشدد ہوا کہ وہ مرتے مرتے بچے۔ ان کی مائیں سینہ کوبی کرتی سڑکوں پر نکل آتیں، مگر نہ لڑکی ملی اور نہ ہی اس کا کوئی سراغ ملا۔ لڑکے تشدد سے ادھ موئے ہو گئے مگر کچھ بتا نہ سکے کیونکہ وہ خود بے خبر تھے۔

باقی لڑکوں کے والدین اثر و رسوخ والے تھے، وہ “مک مکا” کر کے اپنے بیٹوں کو حوالات سے نکال لے گئے، لیکن بیچارہ جمال بری طرح پھنس گیا۔ آخر کار اس کو جیل بھیج دیا گیا کیونکہ اس کی ضمانت رد ہو گئی تھی۔ جمال کی ماں رو رو کر خدا کے حضور گڑگڑاتی رہیں، وہ وکیل صاحب کے گھر بھی گئیں اور اگلے بلاک میں ممبر صاحب کے گھر جا کر بھی فریاد کی، لیکن جمال گھر نہ آ سکا—خدا کبھی کبھی دل کی فریاد سن ہی لیتا ہے۔

جمال کی والدہ جب جیل میں اپنے بیٹے سے ملاقات کرنے گئیں تو وہ تشدد کی وجہ سے کھڑا ہونے سے بھی معذور تھا۔ اس کا سارا بدن نیل و نیل ہو چکا تھا اور اعضاء ناکارہ ہو رہے تھے۔ ہتھکڑیوں اور بیڑیوں کی وجہ سے اس سے بات بھی نہیں ہو پا رہی تھی۔ ماں بیٹے کی یہ حالت دیکھ کر زار و قطار رونے لگی۔ وہیں پاس ایک عورت بیٹھی تھی جو اپنے بھائی سے ملاقات کرنے آئی تھی۔ اس نے آنٹی کو اس طرح روتے دیکھا تو پوچھا: “بہن، آپ کیوں اتنا رو رہی ہیں؟ یہاں سب ہی اپنے بیٹوں، بھائیوں یا عزیزوں سے ملنے آئی ہیں، لیکن کوئی اس طرح ہمت نہیں ہار رہا۔”

آنٹی نے جواب دیا: “میرا بیٹا بے گناہ ہے، آج اس کی حالت دیکھ کر میں برداشت نہیں کر سکی۔ ہمارے محلے سے ایک لڑکی غائب ہو گئی ہے، خدا جانے وہ خود بھاگی ہے یا اسے کوئی لے گیا ہے، لیکن سارا الزام میرے بیٹے پر دھر دیا گیا ہے اور اسے بے قصور پکڑ لیا گیا ہے۔” دوسری عورت، جس کا نام حاجرہ تھا، کہنے لگی: “کیا آپ بتا سکتی ہیں کہ وہ کس کی بیٹی ہے اور اس کا نام کیا ہے؟” آنٹی نے بتایا: “وہ حسام کی بیٹی ہے اور اس کا نام فائزہ ہے۔ چوبارے پر یہ لڑکیاں اپنے باپ کے ساتھ رہتی تھیں اور وہیں سے پڑھنے جاتی تھیں، جبکہ ان کی ماں فلاں دیہات میں رہتی ہے۔”

جب آنٹی نے اس دیہات کا نام لیا تو وہ عورت خاموش ہو گئی اور گہری سوچ میں پڑ گئی، لیکن اس وقت اس نے کچھ نہ بتایا۔ آٹھ نو دن گزرے تو آنٹی ہماری پڑوسن راشدہ باجی کے گھر گئیں اور ان سے التجا کی: “باجی! آپ ہی کچھ کیجیے، کسی وکیل یا بڑے پولیس افسر سے بات کریں، جمال بالکل بے گناہ ہے، اب تو اس کی ضمانت بھی ہو گئی ہے (مگر وہ باہر نہیں آپا رہا)۔”

وہ ابھی یہ بات کر ہی رہی تھیں کہ دروازے پر دستک ہوئی۔ راشدہ باجی نے دروازہ کھولا تو ایک عورت اندر داخل ہوئی؛ یہ وہی حاجرہ تھی۔ اس نے کہا: “باجی! شاید آپ نے مجھے نہیں پہچانا، مگر میں آپ کو جانتی ہوں کیونکہ آپ کے مرحوم شوہر نے ہمارا کیس لڑا تھا۔ آج میں یہاں آپ کو کچھ بتانے آئی ہوں۔” باجی اسے کمرے میں لے آئیں جہاں جمال کی امی بھی بیٹھی تھیں۔ ان کو دیکھتے ہی حاجرہ کہنے لگی: “بہن! میں تو آپ کا گھر ڈھونڈ ڈھونڈ کر تھک گئی تھی۔ اس دن جیل میں آپ نے بتایا تھا کہ آپ کا بیٹا بے گناہ قید ہے اور اس پر بہت تشدد ہوا ہے۔ اس وقت میں آپ کو کچھ نہ بتا سکی، کیونکہ جس لڑکی کے اغوا کے الزام میں آپ کا بیٹا جیل میں ہے، وہ تو ہمارے گھر بیٹھی ہوئی ہے۔”

حاجرہ نے مزید بتایا: “میں اپنے شوہر کی اجازت کے بغیر آپ کو یہ بات نہیں بتا سکتی تھی، کیونکہ ہمیں ڈر تھا کہ کہیں ہم خود کسی مصیبت میں نہ پھنس جائیں۔ گھر جا کر میں نے شوہر کو سب بتایا، تو انہوں نے آپ کا گھر تلاش کرنے کی کوشش کی اور اب ہم راشدہ باجی کے پاس آئے ہیں تاکہ مشورہ کر سکیں کہ اس لڑکی کا کیا کریں۔”

راشدہ باجی نے پوچھا: “وہ لڑکی آپ کے پاس کیسے آئی؟” حاجرہ نے بتایا: “باجی! میرا شوہر ڈرائیور ہے۔ جب ہمارے شہر کے اڈے پر بس خالی ہوئی تو یہ لڑکی بس سے نہ اتری۔ میرا شوہر اسے اپنے ساتھ گھر لے آیا۔ اس نے مجھ سے کہا کہ تم اس سے اس کے گھر کا پتا اور باپ کا نام وغیرہ پوچھو تاکہ میں اسے چھوڑ آؤں، لیکن یہ لڑکی نہ تو اپنا پتا بتاتی تھی اور نہ ہی ہمارے گھر سے جانے کو تیار تھی۔ اگر ہم پولیس کے پاس جاتے تو وہ پہلے ہمیں ہی پکڑتے۔ ہم غریب لوگ ہیں، نہ رشوت دے سکتے ہیں اور نہ ہی ہماری کوئی سفارش ہے۔ ہم تو مفت میں پھنس جاتے۔”

راشدہ باجی نے کہا: “اب اس لڑکی کا جو بھی ہو، ایک بے گناہ لڑکا جیل میں سڑ رہا ہے۔ تم ایسا کرو کہ اپنے شوہر کو یہاں لے آؤ۔ میں شہر کے ایک نامور وکیل سے بات کرتی ہوں اور انہیں ساری صورتِ حال بتاتی ہوں، پھر آپ سب ان کے پاس چلے جانا۔”

ایسا ہی ہوا؛ راشدہ باجی نے اپنے ایک عزیز کے ذریعے ایک معزز وکیل سے رابطہ کیا اور یہ سب لوگ ان کے پاس گئے۔ وکیل صاحب نے ایس پی صاحب کو فون کر کے تمام حقائق سامنے رکھے۔ یوں وہ لڑکی، جس کی وجہ سے جمال سمیت کئی اور لڑکے عذاب میں مبتلا تھے، برآمد ہو گئی اور ان بے گناہوں کی رہائی ممکن ہوئی۔ تاہم، فائزہ نے اپنے والد کے گھر جانے سے صاف انکار کر دیا کیونکہ وہ اس قید نما زندگی سے تنگ آ چکی تھی جہاں اسے ماں کے بغیر رہنا پڑتا تھا اور بڑی بہنیں اس سے لڑتی تھیں۔ اس نے باپ کے ساتھ جانے کے بجائے دارالامان جانے کو ترجیح دی۔ اس نے اعتراف کیا کہ: “میں کسی کے ساتھ نہیں بھاگی تھی اور نہ ہی کسی نے مجھے اغوا کیا تھا۔ میں تو اپنی اس گھٹن زدہ زندگی سے فرار چاہتی تھی جہاں مجھے سہیلیوں تک سے ملنے کی اجازت نہ تھی۔”

جمال رہا ہو کر گھر تو آ گیا، لیکن اس کی ذہنی حالت مکمل طور پر بدل چکی تھی۔ اس واقعے کے اس کے ذہن پر اتنے گہرے اثرات مرتب ہوئے کہ وہ اکثر خلاؤں میں گھورتا رہتا ہے۔ وہ ایک ہونہار لڑکا تھا، مگر اب وہ ایک متوازن شخصیت نہیں رہا۔ پولیس کے وحشیانہ تشدد نے اس بے گناہ کے ذہن کو مفلوج کر دیا ہے۔ وہ جمال، جو اپنے تعلیمی کیریئر میں ہمیشہ اول پوزیشن لیتا تھا، آج ٹھیک طرح سے بات کرنے کے قابل بھی نہیں رہا۔

مجھے اس کا بہت دکھ ہے کیونکہ وہ مجھے عزیز تھا اور آج بھی ہے، لیکن اس حالت میں کون سا باپ اپنی بیٹی کا ہاتھ اس کے ہاتھ میں دینا پسند کرے گا؟ وہ اب ذہنی اور جسمانی طور پر ایک معذور انسان بن چکا ہے۔
 

Create an account or login to read stories

You must be a member in order to leave a comment

Create account

Create an account on our community. It's easy!

Log in

Already have an account? Log in here.

New posts
Back
Top