Background image: Header

خوش آمدید

لو اسٹوری فورم ، اردو دنیا کا نمبر ون اردو اسٹوری فورم ، ابھی فورم کےممبر بنیں اور اردو کی بہترین کہانیاں پڑھیں ۔

Register Now!
Welcome image
  • PAID PLANS

    ٹاپ پیکیج
    👑

    PREMIUM

    16000
    چھ ماہ کے لیے
    بہترین ڈیل
    💎

    VIP+

    6000
    چھ ماہ کے لیے
    بنیادی ڈیل

    VIP

    3500
    تین ماہ کے لیے

Life Story بے وفا کا روپ۔۔۔

Joined
Jun 10, 2025
Messages
1,114
Reaction score
54,753
Location
Karachi
Gender
Male
شاہد میرے چچازاد ہیں اور جیون ساتھی بھی۔ یہ کہانی میں اُنہی کی زبانی لکھ رہی ہوں کیونکہ میں شاہد کی زندگی کے وہ واقعات بھی جانتی ہوں، جو انہوں نے کبھی کسی کو نہیں بتائے۔

یہ آج سے چھبیس سال پہلے کی بات ہے کہ وہ سعودی عرب جانے کی تیاری کر رہے تھے۔ شاہد کا کہنا تھا کہ ایئر پورٹ پر کاغذات وغیرہ چیک کروا کر جب میں باہر نکلا، تو میں نے ایک پاکستانی کو دیکھا۔ میں اس کے قریب گیا اور کہا، “بھائی! تم میرے ہم وطن ہو، ذرا میری مدد کر دو۔”

“میں ابھی پاکستان سے آیا ہوں اور مجھے عربی زبان نہیں آتی۔ میرے پاس کمپنی کا ٹیلی فون نمبر ہے،” مگر ان بھائی صاحب نے مجھے ایک نگاہِ غلط انداز سے دیکھا اور تیزی سے باہر چلے گئے اور میں منہ دیکھتا رہ گیا۔ پھر ایک سعودی باشندہ نظر آیا۔ اس نے مجھے پریشان دیکھا، تو عربی میں پوچھا، “کیا بات ہے؟” میں نے اپنا مدعا بیان کر دیا۔ اس نے مجھ سے نمبر لے کر کمپنی کو فون کیا اور تقریباً نصف گھنٹے میں کمپنی کی گاڑی وہاں پہنچ گئی۔ کاغذات وغیرہ دیکھ کر وہ مجھے وہاں لے گئے، جہاں مجھے قیام کرنا تھا۔ میں دو سال تک کمپنی میں کام کرتا رہا۔ اسی دوران ایک شخص ہماری کمپنی میں آیا اور کہنے لگا کہ آپ کے منیجر صاحب سے ملنا ہے کیونکہ میں آج کل بیروزگار ہو گیا ہوں اور مجھے ملازمت چاہیے۔ میں نے اس شخص کو دیکھتے ہی پہچان لیا کہ یہ وہی پاکستانی تھا، جو مجھے ایئر پورٹ پر ملا تھا مگر جس نے میری بات کا جواب نہیں دیا تھا۔ اُس نے مجھے نہیں پہچانا تھا۔ میں نے بھی اسے یاد نہ دلایا اور اس سے وعدہ کیا کہ فکر نہ کرو، میں تمہارے لیے ضرور کوشش کروں گا اور اپنے منیجر سے بھی بات کروں گا۔ تم ایک روز بعد آ جانا۔

وہ دوسرے روز پھر آیا۔ اس کا نام فرید تھا۔ کہنے لگا، “میں میاں چنوں کا رہنے والا ہوں۔ پہلے ایک کمپنی میں ملازم تھا، مگر وہ عارضی ملازمت تھی، جو ختم ہو گئی اور میں پھر بیروزگار ہو گیا۔” میں نے اس کو اپنے منیجر سے ملوایا، اس کی سفارش کی اور اسے ہماری کمپنی میں ملازمت مل گئی۔ وہ بہت خوش تھا کیونکہ اس کی بیوی اور بچی پاکستان میں تھے۔ اس نے کمپنی کے ذریعے ویزا لگوایا اور جا کر ان کو پاکستان سے لے آیا۔ پانچ ماہ کے اندر ہی اس کی بیوی اور بچی اس کے پاس آ گئے اور مکمل گھر گرہستی سے اس کو سکون نصیب ہوا۔ جب سے فرید کے بال بچے پاکستان سے آئے تھے، وہ بہت مسرور تھا۔ مجھ سے بھی اپنے گھر چلنے کے لیے اصرار کرتا تھا۔ پہلے تو میں ٹالتا رہا، آخر ایک دن اس کی ضد سے مجبور ہو کر میں اس کے گھر چلا گیا۔ جاتے ہوئے میں اس کی بچی کے لیے کپڑے اور کھلونے بھی لے گیا۔

فرید کی بیگم نے کافی انکار کیا، مگر میں نے انہیں یہ تحفے لینے پر مجبور کر دیا۔ اس طرح میرا آنا جانا ان کے گھر عام ہو گیا۔ فرید کی بچی شائستہ پانچ برس کی ہو گئی تھی۔ وہ بہت پیاری باتیں کرتی تھی اور بالکل بینا لگتی تھی۔ مجھے ماموں جان کہتی تھی، مگر فرید کی بیوی جن کو میں بھابھی کہتا تھا، وہ مجھے بھائی نہیں کہتی تھیں بلکہ میرا نام لے کر بلاتی تھیں۔ میں یہی سوچ کر رہ گیا کہ ان لوگوں کا اپنا طریقہ ہو گا۔ بہرحال، میرے لیے تو وہ سچ مچ میری بہن جیسی قابلِ عزت و احترام تھیں۔ شائستہ میرے ساتھ بہت گھل مل گئی تھی۔ میں بچی کو ہر چھٹی سے ایک شام پہلے اپنے پاس لے آتا اور ایک دو دن رکھ کر پھر اس کے گھر چھوڑ آتا تھا۔ وہ بھی گھر جانے کا نام نہیں لیتی تھی، تبھی بھابھی کا فون آ جاتا کہ شاہد صاحب! میں گھبرا گئی ہوں، بچی کو آج ضرور لے آنا۔

ایک دن جب میں بچی کو ان کے گھر چھوڑ کر واپس آیا، تو اس دن فرید دفتر نہ آیا۔ پھر دوسرے روز بھی نہ آیا، تو میں نے اس کے گھر فون کیا۔ فون بھابھی نے اٹھایا۔ بولیں کہ کل ہم کپڑے خریدنے بازار جا رہے تھے کہ سڑک پار کرتے وقت بچی کا ایکسیڈنٹ ہو گیا اور وہ اسپتال میں ہے۔ ابھی تک شائستہ کے ابو بھی اسپتال سے نہیں آئے ہیں۔ میں نے فون رکھ دیا۔ منیجر کو صورت حال بتا کر چھٹی لی اور اسپتال پہنچا۔ گیٹ پر ہی فرید مل گیا۔ مجھے دیکھ کر اس کی آنکھوں میں آنسو بھر آئے۔ کہنے لگا، بچی کا کافی خون ضائع ہو چکا ہے اور خون کی ضرورت ہے۔ میں نے اس کو ساتھ لیا اور اپنا بلڈ ٹیسٹ کرایا، جو خون میچ کر گیا۔ یوں اپنا خون دے کر میں نے بچی کی جان بچائی۔ مجھے اسپتال والوں نے پندرہ دن کی چھٹی لکھ دی۔ ایک ہفتے بعد دوبارہ اسپتال گیا، تو شائستہ اچھی ہو چکی تھی۔ مجھے دیکھ کر مجھ سے لپٹ گئی۔ ملاقات کا وقت ختم ہو گیا تو میں اپنی رہائش گاہ آ گیا۔

ایک ہفتہ اور گزر گیا۔ ایک صبح میں کمرے میں بیٹھا ہوا تھا کہ ٹیلی فون کی گھنٹی بجی۔ ریسیور اٹھایا، بھابھی کا فون تھا۔ کہنے لگی، فرید بچی کو گھر لے آئے ہیں، وہ آپ کو بہت یاد کرتی ہے۔ تب میں فوراً تیار ہو کر فرید کے گھر چل دیا۔ دستک دینے پر بھابھی نے دروازہ کھولا اور مجھے اندر آنے کو کہا۔ میں اندر چلا گیا اور بچی کے متعلق پوچھا۔ جواب ملا، “ننھی کا بڑا خیال ہے آپ کو، کبھی ہمارا خیال نہیں کیا۔” یہ سن کر میں حیران رہ گیا۔ میں نے پوچھا، “بھابھی! آپ نے کیا بات کہہ دی۔ میں تو آپ کی بڑی عزت کرتا ہوں۔” اس نے جواب دیا، “میں بھی تو آپ کا بہت خیال رکھتی ہوں۔ آپ یقیناً فرید سے ہزار درجے بہتر ہیں۔ دراصل فرید اتنا اچھا آدمی نہیں ہے، جتنا نظر آتا ہے۔ اس کا ساتھ چھوڑنا چاہتی ہوں اور آپ سے شادی کرنا چاہتی ہوں۔” اس قدر صاف اور ڈائریکٹ پیغام سن کر مجھے چکر سا آ گیا، مگر جلد ہی میں نے خود کو سنبھالا۔ اس کے بعد ایک لمحہ بھی وہاں مزید نہ رکا اور سیدھا اپنی رہائش گاہ پر چلا آیا۔

میں سوچوں میں گم تھا کہ آج بھابھی نے یہ کیا مذاق کیا تھا؟ مجھے اس بات سے اس قدر صدمہ پہنچا کہ شدید بخار ہو گیا، اسی وجہ سے دوسرے دن ڈیوٹی پر بھی نہ جا سکا۔ شام کو فرید میرے پاس آیا اور پوچھا، “شاہد کیا بات ہے؟” جی میں آیا کہ سب کچھ اس کو بتا دوں، مگر پھر شائستہ کا خیال آ گیا کہ اس بچی کا کیا قصور ہے؟ اس کو کس جرم کی سزا ملے گی؟ قصور کسی کا ہے، سزا اس معصوم کو کیوں ملے؟ میں نے فرید کو ٹال دیا۔ دوسرے دن دفتری فون کی گھنٹی بجی۔ ریسیور اٹھایا تو شائستہ کی باریک سی آواز آئی، “ہیلو ماموں جان! آپ ہمارے گھر آئیں۔” میں نے کہا، “ہاں بیٹا، ضرور آؤں گا۔” اس کی آواز سن کر دکھ سے میری آنکھوں میں آنسو بھر آئے، یقیناً یہ فون اس سے اس کی ماں نے ہی کرایا تھا۔

دوسرے دن فرید نے مجھے گھر چلنے پر مجبور کیا کہ بچی تم کو بلا رہی ہے، بہت یاد کرتی ہے۔ کافی شکوے بھی کیے، مگر میں نے کوئی جواب نہ دیا۔

بالآخر وہ مجھ سے روٹھ گیا، مجھے مغرور اور سنگدل کہا۔ میں بھی یہی چاہتا تھا کہ وہ مجھ سے روٹھ جائے، تو اچھا ہے، وہ اب بھی سب دوستوں سے کہتا ہے کہ نجانے شاہد مجھ سے کیوں ناراض ہے؟ میں اس سے کیا کہوں کہ میں کیوں اس سے تعلق رکھنا نہیں چاہتا۔ اب تو اس بات کو گزرے برسوں بیت گئے، لیکن جب بھی فرید کی بیوی کے الفاظ یاد آتے ہیں، تو دل برا ہو جاتا ہے۔ سوچتا ہوں کہ عورت کے کئی روپ ہیں، مگر بے وفائی عورت کے کردار کو انتہائی بدصورت بنا دیتی ہے۔
 

Create an account or login to read stories

You must be a member in order to leave a comment

Create account

Create an account on our community. It's easy!

Log in

Already have an account? Log in here.

New posts
Background image: Footer
Back
Top