خوش آمدید

لو اسٹوری فورم ، اردو دنیا کا نمبر ون اردو اسٹوری فورم ، ابھی فورم کےممبر بنیں اور اردو کی بہترین کہانیاں پڑھیں ۔

Register Now!
Welcome image
  • If you are unable to access the site, please try accessing it via a VPN.
    Try these VPN apps — CLICK HERE
  • PAID PLANS

    ٹاپ پیکیج
    👑

    PREMIUM

    16000
    چھ ماہ کے لیے
    بہترین ڈیل
    💎

    VIP+

    6000
    چھ ماہ کے لیے
    بنیادی ڈیل

    VIP

    3500
    تین ماہ کے لیے

Family جوڑواں بہن بھائی کا انوکھا پیار

pajal20

Well-known member
Joined
Jan 5, 2023
Messages
39
Reaction score
842
Location
Pakistan
جوڑواں بہن بھائی کا انوکھا پیار
تیس سالہ سعدیہ ایک ایسی پاکستانی عورت تھی جسے دیکھ کر آنکھ ٹھہر جاتی۔ دلکش چہرہ، گہری سیاہ آنکھیں جن میں ایک خاموشسی اداسی اور خاموش سی خواہش دونوں بستی تھیں، لمبے سیاہ بال جو اکثر وہ سیدھا باندھتی یا ڈھیلا چھوڑ دیتی۔ جسم بھرپور اوربھرا ہوا تھا — بھاری، گول، بھری ہوئی چھاتیاں جو کپڑوں کے نیچے بھی اپنی موجودگی کا احساس دلاتیں، چوڑی کمر کے بعدابھرے ہوئے، بھاری گانڈ اور لمبے سیدھے پائوں۔ شکل ایسی تھی کہ لوگ ایک نظر میں دیکھ لیتے اور پھر نظریں پھیرنے کیکوشش کرتے۔

اس کے ماں باپ دونوں فوت ہو چکے تھے۔ والد کی موت کے بعد ماں بھی زیادہ دیر نہ رہ سکی۔ شادی اسلم سے ہوئی تھی — ایک پاکستانی مرد، سیدھا سادھا، نوکری پیشہ، نہ زیادہ باتونی نہ زیادہ جذباتی۔ شادی کو پانچ سال ہو گئے تھے اور دونوں لندن میںرہتے تھے۔ ایک چھوٹا سا فلیٹ، معمولی سی زندگی، ہفتے میں دو تین بار اسلم کا کام سے دیر سے آنا، کبھی کبھار گھر میں خاموشرات کا کھانا، پھر ٹیلی ویژن یا موبائل۔

پانچ سال گزر گئے مگر کوئی بچہ نہ ہوا۔ نہ کوئی بڑی لڑائی ہوئی، نہ کوئی بڑی خوشی۔ سعدیہ اپنی شادی سے نہ زیادہ خوش تھی اور نہہی اسے کوئی خاص قسم کی تکلیف ہوئی تھی۔ نہ اسلم نے کبھی اسے زیادہ چاہنے کا احساس دیا، نہ اس نے خود کچھ مانگا۔ جسمموجود تھا، راتیں ہوتی تھیں، کبھی کبھار جسمانی تعلق بھی ہوتا تھا مگر وہ بھی جلدی جلدی، بغیر زیادہ بات کیے، بغیر زیادہ دیکھے، بغیرزیادہ محسوس کیے ختم ہو جاتا۔

زندگی بس روٹین پر چل رہی تھی۔ صبح اٹھنا، افس جانا پھر واپس ا کر گھر سنبھالنا، کبھی کبھار پارک یا شاپنگ، شام کو انتظار،رات کو بستر۔ لندن کی سڑکیں، بارش، ٹھنڈی ہوا، پاکستانی کھانے کی مہک گھر میں — یہ سب کچھ عام ہو گیا تھا۔ سعدیہ اکثر کھڑکیکے پاس کھڑی ہو کر باہر دیکھتی، اپنے بھاری جسم کو ہاتھوں سے محسوس کرتی، اور سوچتی کہ یہ زندگی یوں ہی چلتی رہے گی۔ نہکوئی بڑا خواب، نہ کوئی بڑی شکایت۔ بس چلتی رہتی زندگی۔
ابھی تک یہی حال تھا۔

ایک روز لندن کی ٹھنڈی شام تھی۔سعدیہ اپنے فلیٹ کے باتھ روم میں داخل ہوئی اور دروازہ بند کر کے تالا لگا دیا۔ اس کا جسمابھی دفتر کی تھکن سے بھرا ہوا تھا، لیکن اس کا شوہر اسلم کچھ ہی دیر میں آفس سے واپس آنے والا تھا۔ اسے جلدی نہانا، تازہکپڑے پہننا اور خوشبو لگانا تھا۔

اس نے شاور آن کیا۔ گرم پانی اس کے نرم، گول جسم پر گرنا شروع ہوا۔ پانی اس کی لمبی سیاہ بالوں سے بہتا ہوا اس کی پیٹھپر، پھر اس کی بھری ہوئی چھاتیوں پر، اور آخر میں اس کی چوڑی کمر سے ہوتا ہوا اس کی موٹی، نرم گانڈ پر پہنچا۔ سعدیہ نے آنکھیںبند کر کے سانس لیا۔ گرم پانی کی بو، صابن کی تازہ مہک، اور اس کے اپنے جسم کی ہلکی سی پسینے کی خوشبو سب مل کر اس کےدماغ میں گھل رہی تھیں۔

اس نے صابن ہاتھ میں لیا۔ پہلے اس نے اپنی بڑی، بھاری چھاتیوں پر صابن پھیلایا۔ نپل سخت ہو گئے تھے، پانی سے چمکرہے تھے۔ پھر اس نے ہاتھ نیچے کیا اور اپنی موٹی، گول گاڑ پر صابن رگڑنا شروع کیا۔ انگلیاں اس کی نرم جلد پر پھسل رہیتھیں، صابن کی جھاگ اس کی گانڈ کی درار میں جمع ہو رہی تھی۔

اچانک جب اس نے صابن کو اپنی ٹانگوں کے درمیان لے جا کر اپنی چوت پر لگایا، تو ایک عجیب سی لذت نے اسے جکڑ لیا۔

صابن کی نرم، پھسلن والی سطح اس کی پھدی کی درار پر رگڑ رہی تھی۔ سعدیہ کی سانس رک گئی۔ اسے یوں لگا جیسے کوئی گرم،گیلی زبان اس کی ٹانگوں کے درمیان بیٹھ کر اس کی چوت کو آہستہ آہستہ چاٹ رہی ہو۔ زبان کا گرم لمس اس کی حساس جلد پرپھسل رہا تھا، صابن کی جھاگ کے ساتھ مل کر۔ وہ زبان پہلے اس کی چوت کی اوپری کھال کو چاٹ رہی تھی، پھر نیچے اتر کراس کی چوت کو ہلکا سا چوس رہی تھی۔

سعدیہ کی آنکھیں بند ہو گئیں۔ اس نے ہلکا سا سانس لیا اور اپنی کمر کو پیچھے دھکیل دیا، جیسے اس خیالی زبان کو اپنی چوت کی گہرائیتک دھکیلنا چاہتی ہو۔ اس کی انگلیاں خود بخود اپنی چوت کی ہونٹوں کو پھیلانے لگیں۔ دو انگلیوں سے اس نے اپنی پھدی کھولی،اور تیسری انگلی سے صابن کو اس کی گیلی درار پر رگڑنے لگی۔
اب وہ کوئی مرد تھا، اس کے نیچے بیٹھا ہوا، بڑے پیار اور جوش سے اس کی چوت چاٹ رہا تھا۔ کبھی ہلکے ہلکے، کبھی زور سےچوس رہا تھا۔ اس کی زبان سعدیہ کی پھدی کو دبانے لگی، پھر اس کی چوت کے اندر گھسنے لگی۔ سعدیہ کے منہ سے ہلکی سی آہنکل گئی۔

“اف یہ کیا ہو رہا ہے مجھے… اس نے دل میں کہا، لیکن اس کی انگلیاں نہیں رکیں۔ وہ اور تیزی سے اپنی چوت رگڑ رہیتھی۔ پانی اب بھی اس کے جسم پر بہہ رہا تھا، لیکن اس کے دماغ میں صرف وہ خیالی زبان اور اس کے گرم، گیلے لمس کا راجتھا۔ اس کی پھدی اب مکمل طور پر گیلی ہو چکی تھی، صابن کی جھاگ اور اس کے اپنے رس سے چمک رہی تھی۔

اس نے ایک انگلی اپنی چوت کے اندر گھسا دی۔ تنگ، گرم دیواروں نے اسے جکڑ لیا۔ دوسری انگلی سے وہ اپنی چوت کے دانے کو دبا رہی تھی، گول گول گھما رہی تھی۔ خیال اب اور گندا ہو گیا تھا۔ وہ مرد اب صرف چاٹ نہیں رہا تھا—وہ اپنی زبانسعدیہ کی چوت کے اندر اندر ڈال رہا تھا، اس کے رس کو چوس رہا تھا، اور کبھی کبھار اپنی زبان کو اس کی گانڈ کی طرف بھی لےجا رہا تھا۔

سعدیہ کی سانس تیز ہو گئی۔ اس کی چھاتیاں اوپر نیچے ہو رہی تھیں۔ اس نے دوسرا ہاتھ اپنی چھاتی پر رکھ کر نپل کو مروڑنا شروعکیا۔ شرم اور شہوت ایک ساتھ اس کے جسم میں دوڑ رہے تھے۔ شوہر آنے والا تھا، وہ جلدی تیار ہونا چاہتی
تھی، لیکن اس کی پھدی اب خود بخود پھڑک رہی تھی۔

زور زور سے اس کی چوت چاٹ رہی تھی، چوس رہی تھی، اس کی کلی کو دانتوں سے ہلکا سا کاٹ رہی تھی۔ سعدیہ کی کمر کانپنےلگی۔ اس نے اپنی انگلیاں اور گہرائی تک دھکیل دیں اور اپنی پھدی کے دانے کو تیزی سے رگڑنے لگی۔

“آہ… آہ… fuckin… ” اس کے منہ سے گندے الفاظ نکل پڑے، جو وہ عام طور پر کبھی نہیں کہتی تھی۔
اور پھر وہ ٹوٹ گئی۔

اس کی پھدی نے زور سے اپنا گرم پانی چھوڑ دیا۔ رس اس کی انگلیوں پر بہہ رہا تھا، پانی کے ساتھ مل کر نیچے ٹپک رہا تھا۔ اسکی ٹانگیں کانپ رہی تھیں، کمر لرز رہی تھی۔ اس نے دیوار کو پکڑ لیا تاکہ گر نہ جائے۔ اس کی چوت اب بھی پھڑک رہی تھی،جیسے وہ خیالی زبان اب بھی اسے چاٹ رہی ہو۔

پانی اب بھی بہہ رہا تھا، لیکن سعدیہ کچھ لمحوں کے لیے وہاں کھڑی رہی، سانس پکڑتی ہوئی، اپنی گیلی، کانپتی ہوئی چوت کو ہاتھ سےدباتی ہوئی۔ شرم اس کے چہرے پر چھا گئی تھی، لیکن اس کے جسم میں ابھی تک وہ گندی لذت گونج رہی تھی۔

شوہر آنے ہی والا تھا۔ اسے اب جلدی سے اپنے جسم کو دھونا تھا… لیکن اس کی انگلیاں اب بھی اپنی چوت پر رکھی ہوئیتھیں۔

پھر جب کچھ دن گزر چکے تھے، وہ پرانا احساس سعدیہ کے جسم سے نہیں گیا تھا۔ رات کو سوتے ہوئے بھی وہی خیالی زباناور وہی گرم لمس اس کی نیند میں گھس آتے تھے۔
 

Create an account or login to read stories

You must be a member in order to leave a comment

Create account

Create an account on our community. It's easy!

Log in

Already have an account? Log in here.

New posts
Back
Top