- Moderator
- #1
شاستری کو اس رات آرام دہ اور گرم بستر میں جو خواب نظر آ رہا تھا، وہ بڑا سنسنی خیز اور رگوں میں خون دوڑا دینے والا تھا۔ وہ دیکھ رہا تھا کہ اس کی آرٹ گیلری میں ایک مشہور و معروف مصور کی تصاویر کی نمائش ہو رہی ہے، لیکن ناقابلِ فہم بات یہ تھی کہ تمام فریم خالی تھے۔ ایک بھی فریم ایسا نہ تھا جس میں کوئی تصویر ہو، اس کے باوجود تمام مہمان ان تصاویر کو سراہ رہے تھے جو کسی فریم میں موجود ہی نہ تھیں۔
پھر اس نے ان مہمانوں کے درمیان کبھوری کو دیکھا، جو اس کی طرف لچکتی، تھرکتی اور کسی زہریلی ناگن کی طرح لہراتی آ رہی تھی۔ ایک عجیب بات یہ تھی کہ نامناسب لباس میں ہونے کے باوجود کوئی اس کی طرف متوجہ نہیں تھا؛ نہ عورتیں، نہ مرد… ایسی بے حجابی کے باوجود مردوں کا اسے نظر انداز کر دینا ناقابلِ فہم تھا۔
اس نے دور ہی سے اپنی بیوی کبھوری کا چہرہ دیکھ لیا تھا، جو غصے سے تمتما رہا تھا۔ اس نے قریب آ کر ایک فریم کی طرف اشارہ کیا اور انتہائی غصے میں بولی: ”شاستری! کیا تم اندھے ہو؟ یہ تصویر نہیں ہے، سچ مچ کا منظر ہے۔ تمہیں کسی احمق نے مشورہ دیا کہ اس تصویر کو لا کر یہاں لگا دو… تم روز بروز سٹھیاتے کیوں جا رہے ہو؟“
شاستری نے چونک کر حیرت اور غور سے فریم کی طرف دیکھا۔ اس میں تاج محل کے گردونواح کا منظر دکھائی دیتا تھا اور اس کے پس منظر میں مہاراجا میسور کا پرشکوہ محل تھا، لیکن ان کے درمیان میلوں کا فاصلہ صاف محسوس ہوتا تھا۔ ”کیا یہ واقعی ہے؟“ شاستری نے حیرت سے سوال کیا۔ ”اچھا چلو، چل کر دیکھتے ہیں۔“
عجیب بات یہ تھی کہ اس وسیع و عریض آرٹ گیلری کے اندر ایک نئے ماڈل کی سفید مرسیڈیز بھی موجود تھی۔ شاستری اور کبھوری اس میں بیٹھ گئے اور اس منظر کا حصہ بن گئے۔ تاج محل کے قریب پہنچ کر سرسبز و شاداب سبزہ زار پر گاڑی کھڑی کی۔ آگے ڈھلان تھی، پھر وہ اتر کر تاج محل کے احاطے کی طرف بڑھا۔ یکلخت اسے یاد آیا کہ وہ کار کا ہینڈ بریک لگانا بھول گیا ہے۔ اس نے سرعت سے مڑ کر دیکھا۔
کار تیزی سے ڈھلان سے نیچے کی طرف جا رہی تھی۔ حیرت کی بات تھی کہ کبھوری کار میں بیٹھی تھی اور اس کا خوبصورت چہرہ دہشت سے زرد پڑتا جا رہا تھا۔ اس کی بڑی بڑی گہری سیاہ آنکھیں خوف سے پھٹی جا رہی تھیں۔ ڈھلان کچھ دور جا کر ختم ہو جاتی تھی اور اس کے اختتام پر گہری کھائی تھی۔ کبھوری ہذیانی انداز میں چلا رہی تھی: ”شاستری، شاستری! بھگوان کے لیے مجھے بچاؤ، بچاؤ!“
شاستری الوداعی انداز میں ہاتھ ہلاتے ہوئے پرمسرت لہجے میں بولا: ”اب میں کیا کر سکتا ہوں میری جان! البتہ میں یہ ضرور کر سکتا ہوں کہ تمہاری دائمی جدائی کے بعد تمہیں بھولوں گا نہیں۔ تمہاری تصویریں دیکھ کر تمہیں یاد کرتا رہوں گا، بلکہ میں نے ابھی سے تمہاری جدائی کا غم محسوس کرنا شروع کر دیا ہے۔“
اس کی پتنی کی دلخراش چیخیں فضا میں گونجنے لگیں۔ اس دوران کار ڈھلان کے آخر تک پہنچی اور پھر کھائی میں گر کر غائب ہو گئی، تاہم اس کی پتنی کی چیخیں اب بھی اس کے کانوں میں گونج رہی تھیں، پھر رفتہ رفتہ ان کی شدت میں کمی آنے لگی اور وہ دھیمی ہوتی چلی گئیں۔ اس دوران شاستری نے محسوس کیا کہ عقب میں کوئی اس کا کاندھا پکڑ کر ہلا رہا ہے۔ اس نے ناگواری سے پلٹ کر دیکھا، تو کبھوری اس کا کندھا ہلا رہی تھی اور آہستگی سے اسے پکار رہی تھی۔ ”شاستری، شاستری! بھگوان کے لیے اٹھو، آنکھیں کھولو۔“
اس نے دھندلائی ہوئی نظروں سے کبھوری کی طرف دیکھا کہ وہ یہاں کیا کر رہی تھی؟ اس نے تو اسے کار سمیت ایک بہت ہی گہری کھائی میں گرتے ہوئے دیکھا تھا۔ اس منظر نے اسے کسی ایسے بچے کی طرح خوش کر دیا تھا، جسے مٹھائی کے جنگل میں اکیلا چھوڑ دیا گیا ہو۔ وہ ابھی تک خواب اور حقیقت کے درمیان حدِ فاضل قائم نہیں کر سکا تھا۔
”شاستری! اٹھو، ذرا نیچے جا کر دیکھو۔“ کبھوری سرگوشی میں کہہ رہی تھی۔ ”گھر میں کوئی ڈاکو گھس آیا ہے۔“
تب شاستری کو یکلخت احساس ہوا کہ وہ حقیقت کی دنیا میں ہے۔ چند لمحے پہلے وہ خواب دیکھ رہا تھا اور یہ کوئی پہلا اتفاق نہیں تھا۔ وہ جب بھی کوئی سہانا اور دل پسند خواب دیکھ رہا ہوتا تھا، تو اس کی پتنی کسی واہمے میں مبتلا ہو کر اسے جگا دیتی تھی۔ اس کی آرزو ہوتی تھی کہ کاش یہ خواب صرف خواب نہ ہوں بلکہ حقیقت بن جائیں۔
”جاؤ، جا کر اپنے بستر پر سو جاؤ۔“ اس نے اپنے غصے کو ضبط کرتے ہوئے کبھوری پر ایک سرسری سی نظر ڈالی۔ وہ شب خوابی کے لباس میں تھی، لیکن اس کا سراپا اب اسے متاثر نہیں کرتا تھا کیونکہ ان کی محبت میں زہر گھل چکا تھا۔ وہ جلتی پر تیل چھڑکنے کے لیے رات کے وقت اس حلیے میں آ جاتی، لیکن شاستری آنکھیں بند کر کے ایسے سہانے سپنوں میں کھو جاتا کہ اگر کبھوری کو علم ہو جاتا تو وہ اسے اور گھر کو چھوڑ جاتی۔
”نیچے کوئی نہیں ہے، تمہیں ہمیشہ کی طرح وہم ہو رہا ہے۔“
”نہیں! میری سماعت دھوکا نہیں کھا رہی۔“ کبھوری نے تکرار کے انداز میں کہا۔ ”میں نے کچھ دیر پہلے نیچے سے آواز سنی تھی۔ کسی نے ہماری الماری کا دروازہ کھولا ہے۔ اس کی دو درازوں میں سونے کے زیورات رکھے ہوئے ہیں، جن کی مالیت ایک لاکھ سے کہیں زیادہ ہے۔ تمہیں پتا ہے کہ اس کا دروازہ ہلکی سی چرچراہٹ کے ساتھ کھلتا ہے۔ میں نے وہی چرچراہٹ سنی تھی۔ وہ درازیں مقفل نہیں ہیں۔ میں نے کئی بار کہا کہ انہیں مقفل کر دو۔“
شاستری چند لمحے چھت کو گھورتا رہا۔ اسے نیچے سے کوئی آواز سنائی نہیں دی تھی، پھر وہ تحمل سے بولا: ”تم نے یقیناً کوئی خواب دیکھا ہوگا۔ اب جا کر سو جاؤ اور مجھے بھی سونے دو۔“
”مجھے معلوم تھا کہ تم یہی کہو گے، اس لیے کہ تم سے کچھ ہو ہی نہیں سکتا۔ تم سے تو بستر سے اٹھا بھی نہیں جاتا، چاہے کوئی اندر گھس کر ہمیں قتل ہی کیوں نہ کر جائے۔“ کبھوری غرائی۔
شاستری بے بسی سے سانس لے کر رہ گیا۔ اسے اندازہ ہو گیا کہ جب تک وہ اٹھ کر نیچے نہیں جائے گا، وہ اسے سونے نہیں دے گی۔ آخرکار وہ بڑی بیزاری سے اٹھا۔ اس نے چادر ایک طرف پھینکی۔ اس کا بس چلتا تو وہ چادر اپنی پتنی کے منہ پر دے مارتا، پھر جاتے ہوئے ناگواری سے بولا: ”لعنت ہے! میں جا کر دیکھ لیتا ہوں، مجھے معلوم ہے کہ وہاں کوئی بدروح بھی نہیں ہوگی۔“
”میں اپنے کمرے میں جا کر اندر سے دروازہ لاک کر رہی ہوں۔“ کبھوری نے آہستگی سے کہا، تاکہ نیچے تک اس کی آواز نہ پہنچے۔ وہ اپنے بکھرے بالوں اور شب خوابی کا لباس درست کرتے ہوئے اس کے کمرے سے نکلی اور اپنے کمرے میں گھس کر دروازہ بند کر کے اندر سے چٹخنی لگا لی۔
شاستری نے اپنی حیثیت کبھوری کی نظروں میں دانستہ گرا دی تھی۔ اس کے ذہن میں ایک منصوبہ بڑے عرصے سے پنپ رہا تھا۔ وہ کبھوری کو قتل کر کے اس کی ساری دولت پر قابض ہونا چاہتا تھا۔ وہ ایک ایسا منصوبہ بنانا چاہ رہا تھا جس میں کوئی عیب، خامی، جھول اور نقص نہ ہو، کہیں ایسا نہ ہو کہ لینے کے دینے پڑ جائیں اور وہ پھانسی کے پھندے پر چڑھ جائے۔ اس لیے وہ اس کی ہر بات مان لیتا تھا، جیسے اس کا زرِخرید غلام ہو۔ کبھوری نے اس کے ساتھ نیچے چلنے کا خفیف سا اشارہ بھی نہیں کیا تھا، ہمدردی کے رسمی الفاظ بھی نہیں کہے تھے، حالانکہ وہ اس کا پتی تھا، کوئی چوکیدار یا محافظ نہ تھا۔
پھر شاستری نے دل ہی دل میں خود کو سمجھایا کہ وہ خواہ مخواہ اس بات پر جذباتی ہو رہا ہے۔ اب ان کے درمیان تعلقات اس نوعیت کے نہیں رہے تھے کہ کبھوری کو اس کی سلامتی کی فکر ہو۔ وہ پاس رہ کر بھی ایک دوسرے سے اتنی دور تھے جیسے زمین اور آسمان…! ایک کمرے میں ساتھ سونا تو درکنار، وہ ایک دوسرے کی طرف دیکھتے بھی نہیں تھے۔ ایک چھت کے نیچے دونوں اجنبیوں کی طرح زندگی گزار رہے تھے۔ وہ نہیں جانتے تھے کہ ان کی منزل کہاں ہے؟ شاستری طلاق اس لیے نہیں دے رہا تھا کہ اسے کبھوری کی دولت کی ضرورت تھی۔ دولت کے بغیر زندگی بیکار تھی۔ اس کا خیال تھا کہ کبھوری اس سے اس لیے طلاق نہیں لے رہی ہے کہ بے پناہ دولت کے بعد وہ کس کے سہارے زندگی گزارے گی؟ یوں تو اس کے لیے ایسے مردوں کی کمی نہیں تھی جو اس کا ہاتھ تھام لیں، لیکن وہ انہیں قابلِ بھروسہ نہیں سمجھتی تھی۔ اسے خودغرض اور مطلب پرست مردوں کا اندازہ ہو چکا تھا۔ وہ کیا چاہتی ہے؟ اس کا اندازہ خود اسے بھی نہ تھا۔ وہ کافی عرصے سے الگ الگ کمروں میں سو رہے تھے۔
شاستری نے سلیپر پہنتے ہوئے سوچا کہ شاید نیچے کوئی ڈاکو موجود ہو، لیکن پھر اس نے اس خیال کو فوراً مسترد کر دیا۔ وہ جانتا تھا کہ کبھوری پر ہمیشہ کوئی نہ کوئی وہم سوار ہو جاتا تھا۔ اسے کوئی نہ کوئی آواز سنائی دیتی رہتی تھی۔ کبھی اسے گمان گزرتا کہ باورچی خانے میں چوہے سارا سامان تل پٹ کر رہے ہیں یا بلی دودھ پی رہی ہے۔ کبھی وہ کہتی کہ لان میں کتے زمین کھود کر پودوں اور کیاریوں کا ستیا ناس کر رہے ہیں۔ ایک بار تو اس نے حد ہی کر دی تھی کہ ٹیرس میں بیٹھے بیٹھے کچھ آوازیں سن کر اس نے کہا کہ کچھ ڈاکو نیچے ان کے گھر کا صفایا کر کے لوٹے ہوئے مال پر لڑ جھگڑ رہے ہیں۔ بعد میں پتا چلا کہ اصل میں وہ ایک پھٹی ہوئی ترپال تھی جو ہوا سے پھڑ پھڑا رہی تھی، اور مزدوروں نے ترپال گیراج کی زیر تعمیر چھت پر بچھائی ہوئی تھی۔ اس میں کوئی شک نہیں تھا کہ کبھوری جتنی حسین تھی، اتنی ہی عقل کی موٹی تھی۔ حسین عورت ذہین کم ہی ہوتی ہے۔ وہ ایک شکی اور وہمی عورت تھی، اس کے باوجود شاستری سوچے بغیر نہ رہ سکا کہ کیا پتا اس بار اس کا خیال درست ثابت ہو اور نیچے واقعی کوئی موجود ہو۔
زندگی میں کبھی کبھار احمق ترین انسان کا بھی کوئی اندیشہ درست ثابت ہو جاتا ہے۔ اس نے سوچا کہ نیچے جاتے ہوئے اسے ایسی کوئی چیز ہاتھ میں لے لینی چاہیے، جسے بوقتِ ضرورت ہتھیار کے طور پر استعمال کر سکے۔ وہ معمولی قد کاٹھ کا آدمی تھا اور لڑائی جھگڑے کا عادی نہیں تھا، جبکہ چور اور ڈاکو عام طور پر مضبوط جسم اور قد آور ہوتے تھے اور ایک طرح سے تربیت یافتہ بھی۔ اسے کسی ایسے شخص کو قابو میں کرنے کا تصور بڑا مضحکہ خیز محسوس ہو رہا تھا۔ وہ اس خوش فہمی میں مبتلا نہیں تھا کہ وہ ایسا کوئی کارنامہ انجام دے سکتا ہے۔ اس کے علاوہ اسے کبھی کسی ایسے کھیل کا شوق نہیں رہا تھا جس میں جسمانی مشقت درکار ہوتی تھی، چنانچہ اس کے پاس گھر میں کوئی بیٹ، ہاکی یا گالف کی چھڑی بھی نہیں تھی جسے وہ بطورِ ہتھیار استعمال کر سکتا۔ البتہ کچن میں ایسی کئی چیزیں موجود تھیں جو ہتھیار کے طور پر استعمال ہو سکتی تھیں، لیکن مسئلہ یہ تھا کہ کچن نیچے تھا اور اگر کوئی چور وہاں موجود تھا، تو وہ بھی نیچے تھا۔ وہ سوچے بغیر نہ رہ سکا کہ آدمی کو جس چیز کی ضرورت ہوتی ہے، وہ ہمیشہ کسی اور جگہ موجود ہوتی تھی، رسائی سے دور۔ پھر اسے یکلخت کچھ خیال آیا۔
اس نے اپنے کمرے میں جا کر الماری کھولی۔ اس کے نچلے خانے میں بہت سارے ڈبے رکھے تھے۔ اس نے ان کا جائزہ لیتے ہوئے ایک ڈبے کو باہر کھینچا۔ اس میں چرمی کور میں لپٹا ہوا ایک ریوالور رکھا ہوا تھا، جو اس کے سسر نے اس کی شادی کے تین برس بعد اسے دیا تھا۔ اس کی سسرال پونا میں تھی۔ ایک بار وہ کبھوری کے ساتھ اس کے میکے گیا تھا۔ اس کے سسر رتن کمار نے اسے اچانک ایک کمرے میں کھینچ لیا تھا۔ وہ ایک جسیم اور مضبوط آدمی تھا اور بشرے سے ہی تندخو دکھائی دیتا تھا۔ وہ اپنی سسرال میں پندرہ دن ٹھہرا تھا۔ اس دوران اس نے اپنے سسر کو گھر سے باہر ایک کنج میں میک اپ کر کے اپنا حلیہ بدلتے ہوئے دیکھا تھا، پھر اس نے گن پوائنٹ پر ایک دوشیزہ کو باغ کی کوٹھری میں لے جاتے ہوئے دیکھا تھا۔ اس نے کبھوری سے اس واقعہ کا ذکر اس لیے نہیں کیا تھا کہ اگر وہ اپنے پتا جی کی سرزنش کرتی یا اپنی ماں کو اعتماد میں لیتی اور نتیجے میں اس کی ساس اپنے شوہر کا گریبان پکڑ لیتی، تو اس بات کا اندیشہ تھا کہ اس کا سسر اسے اس سنسار سے رخصت کر دیتا، اس لیے اس نے خاموش رہنے میں اپنی عافیت سمجھی تھی۔
اس کے سسر نے اپنے پاس طرح طرح کے کافی ہتھیار جمع کر رکھے تھے اور یہ اسلحہ غیر قانونی تھا، جس کی خریداری پر اس نے رقم پانی کی طرح بہائی تھی، لیکن اس کے گھر والوں کو اس کے اس جنون کی بھنک تک نہ پڑی تھی۔ اس نے انہیں ہوا تک نہیں لگنے دی تھی۔ اس نے دیوار گیر الماریوں میں خفیہ خانے بنا رکھے تھے اور تمام ہتھیار اس میں چھپا دیے تھے۔ ان چیزوں کا انکشاف اس وقت ہوا، جب وہ ایک کچی بستی کی خانہ بدوش لڑکی کو گن پوائنٹ پر ایک کوٹھری میں لے گیا اور اسے وہاں سات گھنٹے تک رکھا۔ لڑکی کے ماں باپ نے رتن کمار کے خلاف رپورٹ درج کرائی، لیکن اس کا نتیجہ کچھ نہ نکلا کیونکہ پولیس میں اس کا اثر و رسوخ تھا۔ ایف آئی آر درج ہونے کے بعد وہ مشتعل ہو کر خانہ بدوشوں کی بستی میں پہنچا اور اس نے غصے میں آکر گالیاں بکتے ہوئے فائرنگ شروع کر دی۔ اتفاق سے اس کی فائرنگ سے کوئی ہلاک یا زخمی تو نہیں ہوا، لیکن پولیس کے اعلیٰ افسروں نے اس کا نوٹس لے لیا، پھر اسے ایک نفسیاتی امراض کے اسپتال میں داخل کر دیا گیا۔ وہ شخص ذہنی مریض بن چکا تھا۔ اس کا علاج اور نگرانی جاری رہی۔ آخر ایک روز اس کے گھر پر چھاپہ پڑا اور اس کا خفیہ اسلحہ خانہ دریافت کر لیا گیا اور تمام اسلحے کو تین گاڑیوں میں لاد کر لے جایا گیا۔ اسے دماغی امراض کے اسپتال کی ایمبولینس میں لٹانے کے لیے تین لحیم شحیم اور مضبوط مردوں کو اپنی پوری طاقت صرف کرنی پڑی تھی۔
کبھی کبھی شاستری کو شبہ ہوتا کہ اس کا سسر کچھ کھسکا ہوا آدمی تھا، پھر بھی اسے توقع نہیں تھی کہ وہ اس انجام سے دوچار ہوگا۔ یہ تین چار برس پہلے کی بات تھی، جب اس نے شاستری کو اپنے اسلحہ خانے کے کمرے میں لے جا کر ایک چھوٹا سا ریوالور زبردستی اس کے ہاتھ میں تھما کر کہا تھا: ”شاستری! یہ رکھ لو۔“
”لیکن کس لیے؟“ اس نے حیرت سے ریوالور کو الٹ پلٹ کر دیکھتے ہوئے پوچھا۔
”اس لیے کہ یہ بڑی کارآمد شے ہے۔ تمہیں اندازہ نہیں کہ اس سے کیا کیا کام لیا جا سکتا ہے۔“ وہ سنجیدگی سے کہنے لگا۔ ”مثلاً کسی بھی ساہوکار، جوہری اور دولت مند شخص کو اور کسی بھی نوجوان عورت کو اس کی زد میں لے کر لوٹا جا سکتا ہے۔ دشمن بھی ریوالور کو دیکھتے ہی ہر بات مان لیتے ہیں۔“
”لیکن مجھے نہ کسی عورت کو لوٹنا ہے اور نہ ہی کسی دولت مند کو،“ اس نے کہا۔
”ایک اور بات یاد رکھنے کی ہے کہ تم نے شہری آبادی سے دور ویرانے میں مکان لے رکھا ہے۔ مجھے اس کے تصور سے ہی وحشت ہوتی ہے کہ اس ویرانے میں صرف تم دونوں میاں بیوی رہتے ہو۔ میں اپنی پیاری بیٹی کو غیر محفوظ سمجھتا ہوں۔ اس ریوالور کی بدولت وہ اپنی آبرو کی حفاظت کر سکتی ہے۔“
پھر اس نے اس ریوالور کی قوت آزمانے کے لیے، سسرال سے آنے کے بعد، اس کا عملی مظاہرہ کیا۔ پہلے وہ ایک مارواڑی کے گھر میں رات کے وقت نقاب پوش بن کر گھس گیا، جو اکیلا تھا۔ اس کی پتنی اور گھر کے دوسرے افراد کسی شادی کی تقریب میں گئے ہوئے تھے۔ وہ تجوری میں سونے کے زیورات اور نوٹوں کی گڈیاں رکھ رہا تھا۔ اس نے مارواڑی کو ایسا دہشت زدہ کیا کہ وہ بے ہوش ہو گیا، پھر اس نے ایک تھیلے میں تجوری کا سارا مال بھر لیا۔ اس کا یہ کارنامہ کبھوری کے علم میں نہ آسکا اور نہ ہی وہ اسے اعتماد میں لینا چاہتا تھا۔
زندگی میں کبھی کبھار احمق ترین انسان کا بھی کوئی اندیشہ درست ثابت ہو جاتا ہے۔ اس نے سوچا کہ نیچے جاتے ہوئے اسے ایسی کوئی چیز ہاتھ میں لے لینی چاہیے، جسے بوقتِ ضرورت ہتھیار کے طور پر استعمال کر سکے۔ وہ معمولی قد کاٹھ کا آدمی تھا اور لڑائی جھگڑے کا عادی نہیں تھا، جبکہ چور اور ڈاکو عام طور پر مضبوط جسم اور قد آور ہوتے تھے اور ایک طرح سے تربیت یافتہ بھی۔ اسے کسی ایسے شخص کو قابو میں کرنے کا تصور بڑا مضحکہ خیز محسوس ہو رہا تھا۔ وہ اس خوش فہمی میں مبتلا نہیں تھا کہ وہ ایسا کوئی کارنامہ انجام دے سکتا ہے۔ اس کے علاوہ اسے کبھی کسی ایسے کھیل کا شوق نہیں رہا تھا جس میں جسمانی مشقت درکار ہوتی تھی، چنانچہ اس کے پاس گھر میں کوئی بیٹ، ہاکی یا گالف کی چھڑی بھی نہیں تھی جسے وہ بطورِ ہتھیار استعمال کر سکے۔ البتہ کچن میں ایسی کئی چیزیں موجود تھیں جو ہتھیار کے طور پر استعمال ہو سکتی تھیں، لیکن مسئلہ یہ تھا کہ کچن نیچے تھا اور اگر کوئی چور وہاں موجود تھا، تو وہ بھی نیچے تھا۔ وہ سوچے بغیر نہ رہ سکا کہ آدمی کو جس چیز کی ضرورت ہوتی ہے، وہ ہمیشہ کسی اور جگہ موجود ہوتی تھی، رسائی سے دور۔ پھر اسے یکلخت کچھ خیال آیا۔
اس نے اپنے کمرے میں جا کر الماری کھولی۔ اس کے نچلے خانے میں بہت سارے ڈبے رکھے تھے۔ اس نے ان کا جائزہ لیتے ہوئے ایک ڈبے کو باہر کھینچا۔ اس میں چرمی کور میں لپٹا ہوا ایک ریوالور رکھا ہوا تھا، جو اس کے سسر نے اس کی شادی کے تین برس بعد اسے دیا تھا۔ اس کی سسرال پونا میں تھی۔ ایک بار وہ کبھوری کے ساتھ اس کے میکے گیا تھا۔ اس کے سسر رتن کمار نے اسے اچانک ایک کمرے میں کھینچ لیا تھا۔ وہ ایک جسیم اور مضبوط آدمی تھا اور بشرے سے ہی تندخو دکھائی دیتا تھا۔ وہ اپنی سسرال میں پندرہ دن ٹھہرا تھا۔ اس دوران اس نے اپنے سسر کو گھر سے باہر ایک کنج میں میک اپ کر کے اپنا حلیہ بدلتے ہوئے دیکھا تھا، پھر اس نے گن پوائنٹ پر ایک دوشیزہ کو باغ کی کوٹھری میں لے جاتے ہوئے دیکھا تھا۔ اس نے کبھوری سے اس واقعہ کا ذکر اس لیے نہیں کیا تھا کہ اگر وہ اپنے پتا جی کی سرزنش کرتی یا اپنی ماں کو اعتماد میں لیتی اور نتیجے میں اس کی ساس اپنے شوہر کا گریبان پکڑ لیتی، تو اس بات کا اندیشہ تھا کہ اس کا سسر اسے اس سنسار سے رخصت کر دیتا، اس لیے اس نے خاموش رہنے میں اپنی عافیت سمجھی تھی۔
اس کے سسر نے اپنے پاس طرح طرح کے کافی ہتھیار جمع کر رکھے تھے اور یہ اسلحہ غیر قانونی تھا، جس کی خریداری پر اس نے رقم پانی کی طرح بہائی تھی، لیکن اس کے گھر والوں کو اس کے اس جنون کی بھنک تک نہ پڑی تھی۔ اس نے انہیں ہوا تک نہیں لگنے دی تھی۔ اس نے دیوار گیر الماریوں میں خفیہ خانے بنا رکھے تھے اور تمام ہتھیار اس میں چھپا دیے تھے۔ ان چیزوں کا انکشاف اس وقت ہوا، جب وہ ایک کچی بستی کی خانہ بدوش لڑکی کو گن پوائنٹ پر ایک کوٹھری میں لے گیا اور اسے وہاں سات گھنٹے تک رکھا۔ لڑکی کے ماں باپ نے رتن کمار کے خلاف رپورٹ درج کرائی، لیکن اس کا نتیجہ کچھ نہ نکلا کیونکہ پولیس میں اس کا اثر و رسوخ تھا۔ ایف آئی آر درج ہونے کے بعد وہ مشتعل ہو کر خانہ بدوشوں کی بستی میں پہنچا اور اس نے غصے میں آ کر گالیاں بکتے ہوئے فائرنگ شروع کر دی۔ اتفاق سے اس کی فائرنگ سے کوئی ہلاک یا زخمی تو نہیں ہوا، لیکن پولیس کے اعلیٰ افسروں نے اس کا نوٹس لے لیا، پھر اسے ایک نفسیاتی امراض کے اسپتال میں داخل کر دیا گیا۔ وہ شخص ذہنی مریض بن چکا تھا۔ اس کا علاج اور نگرانی جاری رہی۔ آخر ایک روز اس کے گھر پر چھاپہ پڑا اور اس کا خفیہ اسلحہ خانہ دریافت کر لیا گیا اور تمام اسلحے کو تین گاڑیوں میں لاد کر لے جایا گیا۔ اسے دماغی امراض کے اسپتال کی ایمبولینس میں لٹانے کے لیے تین لحیم شحیم اور مضبوط مردوں کو اپنی پوری طاقت صرف کرنی پڑی تھی۔
کبھی کبھی شاستری کو شبہ ہوتا کہ اس کا سسر کچھ کھسکا ہوا آدمی تھا، پھر بھی اسے توقع نہیں تھی کہ وہ اس انجام سے دوچار ہوگا۔ یہ تین چار برس پہلے کی بات تھی، جب اس نے شاستری کو اپنے اسلحہ خانے کے کمرے میں لے جا کر ایک چھوٹا سا ریوالور زبردستی اس کے ہاتھ میں تھما کر کہا تھا: ”شاستری! یہ رکھ لو۔“
”لیکن کس لیے؟“ اس نے حیرت سے ریوالور کو الٹ پلٹ کر دیکھتے ہوئے پوچھا۔
”اس لیے کہ یہ بڑی کارآمد شے ہے۔ تمہیں اندازہ نہیں کہ اس سے کیا کیا کام لیا جا سکتا ہے۔“ وہ سنجیدگی سے کہنے لگا۔ ”مثلاً کسی بھی ساہوکار، جوہری اور دولت مند شخص کو اور کسی بھی نوجوان عورت کو اس کی زد میں لے کر لوٹا جا سکتا ہے۔ دشمن بھی ریوالور کو دیکھتے ہی ہر بات مان لیتے ہیں۔“
”لیکن مجھے نہ کسی عورت کو لوٹنا ہے اور نہ ہی کسی دولت مند کو،“ اس نے کہا۔
”ایک اور بات یاد رکھنے کی ہے کہ تم نے شہری آبادی سے دور ویرانے میں مکان لے رکھا ہے۔ مجھے اس کے تصور سے ہی وحشت ہوتی ہے کہ اس ویرانے میں صرف تم دونوں میاں بیوی رہتے ہو۔ میں اپنی پیاری بیٹی کو غیر محفوظ سمجھتا ہوں۔ اس ریوالور کی بدولت وہ اپنی آبرو کی حفاظت کر سکتی ہے۔“
پھر اس نے اس ریوالور کی قوت آزمانے کے لیے، سسرال سے آنے کے بعد، اس کا عملی مظاہرہ کیا۔ پہلے وہ ایک مارواڑی کے گھر میں رات کے وقت نقاب پوش بن کر گھس گیا، جو اکیلا تھا۔ اس کی پتنی اور گھر کے دوسرے افراد کسی شادی کی تقریب میں گئے ہوئے تھے۔ وہ تجوری میں سونے کے زیورات اور نوٹوں کی گڈیاں رکھ رہا تھا۔ اس نے مارواڑی کو ایسا دہشت زدہ کیا کہ وہ بے ہوش ہو گیا، پھر اس نے ایک تھیلے میں تجوری کا سارا مال بھر لیا۔ اس کا یہ کارنامہ کبھوری کے علم میں نہ آسکا اور نہ ہی وہ اسے اعتماد میں لینا چاہتا تھا۔
اب اس نے یہ فیصلہ کر لیا تھا کہ کسی نہ کسی تدبیر سے کبھوری کو چارہ بنا کر ڈاکو کے سامنے ڈال دے۔ اس کا حسن دیکھ کر ڈاکو اس کی بے حرمتی کرتے اور ڈاکا مارنے کے لیے اسے قتل کر دیتے۔ اس کے ذہن میں ایک تدبیر آ گئی تھی جس سے وہ ڈاکو کو کبھوری کے بیڈ روم کی طرف جانے پر مجبور کر سکتا تھا۔ اس نے کبھوری کے کمرے کی ایک اور چابی بنوا رکھی تھی۔ وہ اسے کھول دیتا۔ کبھوری جو جلد اور گہری نیند سونے کی عادی تھی، تب تک سو چکی ہوگی۔ وہ نائٹ بلب کی روشنی میں سوتی تھی۔ اس کے کمرے میں روشنی دیکھ کر ڈاکو ضرور اندر گھس جاتا۔
وہ بے آواز قدموں سے چلتا ہوا کچن تک پہنچا، نہایت احتیاط سے دروازہ کھولا اور کچن عبور کر کے دوسرے دروازے کو بھی بے آواز طریقے سے کھول کر کان لگا کر آواز سننے کی کوشش کی۔ کمرے میں کسی کے سانس لینے کی مدھم آواز ابھر رہی تھی۔ اندر کوئی ضرور موجود تھا۔ وہ دروازہ تھوڑا سا کھول کر کسی بلی کی طرح دبے پاؤں کمرے میں داخل ہوا۔ اس نے دیکھا، ڈاکو اس کی طرف پشت کیے بالکونی والے دروازے پر منتظر انداز میں کھڑا تھا۔ اس کے ہاتھ میں کوئی چیز تھی۔ اس کا مطلب تھا کہ اس نے اس کی آہٹ سن لی تھی۔ اب وہ اس کے انتظار میں گھات لگائے کھڑا تھا۔ اسے پتا نہیں چل سکا تھا کہ جس کے انتظار میں وہ کھڑا تھا، وہ پچھلی طرف سے کمرے میں پہنچ چکا تھا۔
شاستری نے ریوالور سے ڈاکو کا نشانہ لیتے ہوئے دوسرا ہاتھ فضا میں بلند کر کے لائٹ کا سوئچ دبا دیا۔ ڈاکو کا ردِعمل دیکھ کر شاستری کو نہ جانے کیوں ایک لمحے کے لیے اس پر ترس آ گیا۔ اس کے انداز سے بالکل ایسا محسوس ہوا تھا جیسے کمرہ روشن نہیں ہوا بلکہ اسے کرنٹ لگ گیا ہو۔ شاستری کو احساس ہوا کہ اس صورتحال میں اگر وہ خود ڈاکو ہوتا، تو یقیناً ایک فٹ اونچا اچھل جاتا یا شاید اسے ہارٹ اٹیک ہو جاتا۔ وہ شخص بہرحال ایک فٹ اچھلا نہیں، نہ ہی اسے دل کا دورہ پڑا، بس اس کے حلق سے ہلکی سی خوف زدہ چیخ نکلی اور پیچھے کی طرف تیزی سے گھومتے ہوئے اس کے ہاتھ سے وہ چیز گر گئی جو اس نے ہتھیار کی طرح پکڑی ہوئی تھی۔ شاستری نے دیکھا کہ وہ دھات کا ایک شمع دان تھا جو ڈائننگ ٹیبل پر رکھا رہتا تھا۔ شمع دان لڑھک کر کھڑکی کے پاس جا گرا۔
شاستری نے ڈاکو کا جائزہ لیا۔ اسے اندازہ ہو گیا کہ وہ فرار کا راستہ تلاش کر رہا تھا، لیکن اس کے لیے کسی بھی راستے سے بھاگنا ممکن نہیں تھا۔ شاید ڈاکو کو بھی خود اس بات کا احساس ہو گیا تھا۔ پھر دونوں کی نگاہیں ملیں، دونوں خاصی دیر تک گونگے بنے رہے، پھر ڈاکو نے اس اذیت ناک سکوت کو توڑا: ”آپ کو مجھے اس طرح ڈرانا نہیں چاہیے تھا۔ آپ کی اس حرکت کے نتیجے میں میرا ہارٹ فیل ہو سکتا تھا۔“ اس کے لہجے میں شکوہ تھا۔
”ہاں… یہ بات تو ہے۔“ شاستری نے معذرت خواہانہ لہجے میں کہا۔ ”کیا تمہیں دل میں کوئی تکلیف محسوس ہو رہی ہے؟ تم چاہو تو میں تمہارے لیے ایمبولینس منگوا سکتا ہوں۔“
”اس زحمت کی ضرورت نہیں۔“ ڈاکو نے حیرت سے کہا۔ اسے اپنی سماعت پر یقین نہیں آ رہا تھا کہ وہ اسے مارنے کی بجائے اپنائیت اور خلوص سے پیش آ رہا ہے۔ ”آپ کی بڑی مہربانی ہوگی اگر آپ اس ریوالور کا رخ دوسری طرف کر لیں، تو میں خود کو بہت بہتر محسوس کروں گا۔“
”میں تمہاری درخواست نہیں مان سکتا، لیکن اتنا ضرور چاہوں گا کہ تم بیٹھ جاؤ۔“ شاستری نے کہا۔
”کہاں بیٹھوں؟“ ڈاکو نے سوال کیا، تو اس نے ایک بڑے صوفے کی طرف اشارہ کیا جو ڈاکو کے قریب ہی رکھا تھا۔
”کیا تمہارے خیال میں پولیس کو فون نہیں کرنا چاہیے؟“ شاستری نے سادگی سے پوچھا۔
”ہاں… اب آپ پولیس کو فون کر کے بلائیں۔“
”نہیں، مجھے کوئی جلدی نہیں ہے، لیکن تمہارے چہرے سے لگ رہا ہے کہ تم پولیس کا سامنا کرنے کے لیے ذہنی طور پر تیار ہو۔“ شاستری نے قدرے اطمینان سے کہا۔ ”میں پولیس کو بلانے سے پہلے کچھ پینا چاہتا ہوں، کیا تم ساتھ دینا پسند کرو گے؟“ پھر اس نے فریج کی طرف اشارہ کیا جو ایک کونے میں رکھا ہوا تھا۔ ”تمہیں ہی تکلیف کرنی ہوگی۔ فریج میں ڈرنک موجود ہے۔“
ڈاکو نے ایک لمحہ غور کیا۔ فریج کے پاس کاؤنٹر تھا۔ وہاں ایک ریک میں کراکری رکھی تھی۔ وہ شاستری کی پیشکش پر اس کے پاس چلا گیا۔
”میرا خیال ہے کہ ہم دونوں کو متعارف ہو جانا چاہیے۔ ہم اب دوستوں کی طرح شراب لیں گے۔ میرا خیال ہے کہ تمہیں اپنا نام بتانے میں کوئی تذبذب نہیں ہونا چاہیے۔“
ڈاکو نے اس کی طرف دیکھے بغیر سپاٹ لہجے میں جواب دیا: ”میرا خیال ہے کہ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔“
”ٹھیک ہے۔ اگر تم بتانا نہیں چاہتے تو نہ بتاؤ، میں اصرار نہیں کروں گا۔ ویسے میں تمہیں ’ڈاکو‘ کے نام سے ہی مخاطب کروں گا، اس لیے کہ تم ڈاکے کی نیت سے گھر میں گھسے ہو۔“
ڈاکو نے اس کی بات پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔ اس نے مشروب کی بوتل فریج سے نکال کر دو گلاس بنائے۔ اس کے پاس آ کر ایک گلاس اس کی طرف بڑھایا۔
”تم میرا گلاس تپائی پر رکھ دو اور واپس اپنی جگہ جا کر بیٹھ جاؤ۔“ شاستری نے محتاط ہو کر کہا۔
ڈاکو اس کا گلاس تپائی پر رکھ کر واپس پلٹ گیا اور اپنا گلاس لے کر اپنی جگہ پر جا بیٹھا۔ شاستری اسے اپنی نظروں کی گرفت میں لیے ذرا پیچھے ہٹ کر ایک کرسی پر بیٹھ گیا۔ شاستری نے گھونٹ لیتے ہوئے اس کی طرف محتاط نظروں سے دیکھا اور بولا: ”تم یہاں کس چیز کی تلاش میں آئے تھے مسٹر ڈاکو؟“
”کسی خاص چیز کی تلاش میں نہیں!“ اس نے بے نیازی سے کندھے اچکائے۔ ”چاندی کے ظروف، نقدی اور سونے کے زیورات؛ اس طرح کی جو بھی قیمتی چیز مل جائے، تو اسے لے سکوں۔“
”چاندی کے ظروف تو تمہیں کچن کے شوکیس میں آسانی سے مل جاتے، لیکن سونے کے زیورات حاصل کرنے کے لیے تمہیں میری پتنی کے کمرے میں گھسنا پڑتا اور شاید یہ تمہارے لیے جان جوکھوں کا کام ہوتا۔“ شاستری معنی خیز انداز سے مسکرایا۔
ڈاکو نے ایک بار پھر کندھے اس طرح اچکائے جیسے وہ اس کا عادی ہو، لیکن بولا کچھ نہیں۔
”تم گھر میں کیسے داخل ہوئے؟“ شاستری نے پوچھا۔
ڈاکو نے ایک کھڑکی کی طرف اشارہ کیا۔ شاستری نے کن انکھیوں سے دیکھا؛ اس کھڑکی کے تالے کے قریب شیشے میں چھوٹا سا گول سوراخ ہو چکا تھا۔ کسی خاص چیز کی مدد سے نہایت صفائی سے شیشہ کاٹا گیا تھا، پھر غالباً انگلی ڈال کر تالا کھول لیا گیا تھا۔
”تم نے یقیناً ہمارے الارم سسٹم کو بھی ناکارہ بنا دیا ہوگا؟“ شاستری نے کہا۔
”ظاہر ہے، میں اپنے کام میں خاصا ماہر ہوں۔“ اس نے سادگی سے جواب دیا۔
”یقیناً، لیکن پھر بھی تم نے تھوڑی بہت کھٹ پٹ ضرور کی ہوگی، جس کی وجہ سے میری پتنی کی آنکھ کھل گئی اور اس نے مجھے تمہارے بارے میں خبردار کیا۔“ شاستری نے بتایا، پھر پوچھا: ”کیا تم تجوریاں بھی کھول لیتے ہو؟“
”بہت کم،“ ڈاکو نے جواب دیا۔ ”اب لوگ رقم تجوریوں میں نہیں، بینکوں میں رکھتے ہیں۔ یہ رواج تقریباً ختم ہو گیا ہے۔“
”خیر، ایسا بھی نہیں ہے۔ تم اس گھر میں چوری کر کے بہت فائدے میں رہتے۔ کیا تمہارے پاس اوزاروں کا تھیلا نہیں ہے؟“
ڈاکو نے دروازے کی طرف دیکھا، لیکن کوئی جواب نہیں دیا۔ دروازے کے قریب کینوس کا ایک خاصا بڑا تھیلا رکھا تھا، جو پھولا ہوا تھا۔
”شاید چاندی کے ظروف تم اس تھیلے میں ڈال چکے ہو؟“ شاستری نے خیال ظاہر کیا۔ جب ڈاکو نے اس کے خیال کی تائید یا تردید نہیں کی، تو اس نے اپنی بات جاری رکھی: ”لیکن ان کی فروخت سے تمہیں کوئی خاص رقم نہیں ملے گی کیونکہ یہ خالص چاندی کے نہیں ہیں۔ اگر تم میری بیوی کے زیورات تک پہنچنے کی کوشش کرو، تو وہ تیس چالیس لاکھ کی مالیت کے ہیں۔“
”ایک رات کی محنت کا یہ معاوضہ کافی ہے۔“ ڈاکو نے جواب دیا۔
شاستری کے ذہن میں اس وقت دھیرے دھیرے ایک منصوبہ پرورش پا رہا تھا۔ اس منصوبے کی روشنی میں وہ اپنی پتنی اور ڈاکو کو قتل کر کے بامراد ہو سکتا تھا۔ اس لیے اس نے محتاط انداز میں بات جاری رکھتے ہوئے کہا: ”میری تجوری میں اس وقت دو لاکھ کی رقم موجود ہے۔“
”میں اس پر آپ کو مبارک باد دے سکتا ہوں۔“ ڈاکو نے سنجیدگی سے کہا۔
شاستری نے ایک لمحے خاموش رہ کر ایک بار پھر اس منصوبے پر غور کیا جو اس کے ذہن میں ابھر رہا تھا۔ شاید وہ منصوبہ اس کے ذہن کے کسی تاریک گوشے میں مہینوں سے موجود تھا۔ وہ نہایت احتیاط سے الفاظ کا انتخاب کرتے ہوئے بولا: ”کچھ شرائط کی تکمیل کے بعد تم چاندی کے ظروف، میری بیوی کے تمام زیورات اور تجوری میں موجود دو لاکھ کی رقم؛ ان سب چیزوں سمیت اس گھر سے ایک اونچا ہاتھ مار کر رخصت ہو سکتے ہو۔“
وہ مشروب کا گلاس ہونٹوں تک لے جاتے ہوئے رک گیا اور مشکوک انداز سے شاستری کو گھور کر بولا: ”میں سمجھا نہیں! تم نے بتایا تھا کہ تمہاری پتنی زیادہ گہری نیند نہیں سوتی اور وہ میری نقل و حرکت کی آواز سن کر بیدار ہو چکی ہے۔ اس کا مطلب ہے، مجھے اگر اس کے زیورات اس کے قبضے سے حاصل کرنے ہوں تو اس کے لیے مجھے زبردستی کرنی ہوگی؟ گویا آپ یہ چاہتے ہیں کہ میں آپ کی پتنی کو موت کی میٹھی نیند سلا دوں؟“ اس کا انداز سوالیہ تھا۔
”ہاں، میری یہی دلی خواہش ہے۔“ شاستری نے جواب دیا۔
”وہ کس لیے؟“ ڈاکو کے لہجے میں تجسس تھا۔
”اس لیے کہ ہم دونوں کے درمیان کوئی ایک ڈیڑھ برس سے تعلقات کشیدہ ہو چکے ہیں۔ نفرت اس قدر بڑھ چکی ہے کہ ایک دوسرے کی صورت تک دیکھنا گوارا نہیں۔ چونکہ اس کے پاس لاکھوں کی رقم، سونے اور ہیرے جواہرات کے زیورات ہیں۔ اس وقت وہ دو تین کروڑ کے اثاثے کی مالک ہے۔ اگر ہم دونوں کے درمیان علیحدگی ہو جاتی ہے تو میں بھکاری بن جاؤں گا، اس لیے چاہتا ہوں کہ وہ مر جائے اور میں قانونی طور پر اس کے اثاثوں کا وارث بن جاؤں۔“
”میرے لیے یہ کام مشکل نہیں، لیکن کیا اس کے سوا کوئی دوسری صورت نہیں ہے؟“
”نہیں، میں تین چار ماہ سے منصوبہ بندی کر رہا ہوں کہ راستے کا پتھر ہٹ جائے، لیکن اس منصوبے میں ایسا کوئی نقص ہے جسے میں نہیں جانتا۔“ اس نے دیانت داری سے اعتراف کیا۔
”آپ کے خیال میں مجھے یہ کام کس طرح کرنا چاہیے؟“
”تم میرے ساتھ اوپر چلو، میں اپنی بیوی کے کمرے کے دروازے پر دستک دوں گا اور اسے بتاؤں گا کہ نیچے کوئی ڈاکو نہیں ہے۔ وہ دروازہ کھول دے گی اور تم اندر گھس جانا۔ تم سمجھ گئے ہوگے کہ آگے کیا کرنا ہے؟“
”سیدھے سادے الفاظ میں کمرے میں گھس کر میں اسے قتل کر دوں؟“
”ہاں، اس کے قتل سے مجھے خوشی ہوگی۔“ شاستری نے کہا۔
”اس دوران آپ کہاں ہوں گے؟“
”میں یہیں اس فرش پر بے ہوش پڑا ہوں گا۔ میں صرف یہ چاہتا ہوں کہ یہ کام مکمل اور بے عیب ہو۔“
”آپ پولیس کو کیا بیان دیں گے؟“
”میرا بیان ہوگا کہ ڈاکو نے ریوالور کے زور پر مجھے تجوری کھولنے پر مجبور کیا، لیکن تجوری خالی تھی، جس پر وہ مشتعل ہو گیا اور اس نے ریوالور کا دستہ مار کر مجھے بے ہوش کر دیا۔ جب میں ہوش میں آنے کے بعد گرتا پڑتا اوپر پہنچا، تو میں نے اپنی پتنی کو مردہ پایا، پھر فوراً ہی پولیس سے رابطہ کیا۔“
”یہ منصوبہ میری سمجھ میں نہیں آ رہا۔“ ڈاکو نے نفی کے انداز میں سر ہلایا۔
”تمہارے سامنے کئی راستے ہیں۔ تم اس طرح کرو گے، جس طرح میں بتا رہا ہوں اور یہاں سے ایک خاصے مالدار آدمی بن کر نکلو گے، یا پھر تم پولیس کی حراست میں یہاں سے رخصت ہو گے اور ایک لمبے عرصے جیل کی ہوا کھاؤ گے۔“
ڈاکو نے ازسرِ نو اس تجویز پر غور کرنا شروع کیا، پھر بولا: ”آپ ٹھیک کہتے ہیں۔“
”یعنی تم یہ کام انجام دینے کے لیے تیار ہو؟“ شاستری نے تصدیق چاہی۔
”پہلے میں دو لاکھ کی رقم ایک نظر دیکھنا چاہتا ہوں۔“ ڈاکو نے جواب دیا۔ ”آپ بتائیں تجوری کہاں ہے؟“
”تم دو مرتبہ اس کے اوپر سے گزر چکے ہو۔“ شاستری نے معنی خیز مسکراہٹ سے کہا۔ ”اس جگہ جہاں شمع دان پڑا ہوا ہے، قالین کا کونا اٹھاؤ۔ اس کے نیچے چوبی فرش میں ایک پینل ہے۔“
ڈاکو نے اس کی بتائی ہوئی جگہ پر پہنچ کر قالین کا کونا اٹھا کر پینل کھولا، تو اسے تجوری نظر آ گئی۔ وہ سر اٹھا کر تحسین آمیز لہجے میں بولا: ”بہت خوب… تم نے بڑا زبردست کام کیا ہے۔ میں تمہاری ذہانت پر عش عش کر اٹھا ہوں۔“
”شکریہ،“ تعریف پر شاستری نے خوش ہو کر کہا، پھر اسے تجوری کا کوڈ بتایا۔
ڈاکو نے گھٹنوں کے بل جھک کر تجوری کھولی، اس میں جھانکا، پھر پلٹ کر استہزائیہ انداز سے بولا: ”معلوم نہیں تم مجھے بیوقوف بنانے کی کوشش کر رہے ہو۔ یہ کام تمہاری پتنی کر چکی ہے۔ وہ پہلے ہی تجوری میں جھاڑو پھیر چکی ہے۔ اس میں تو ایک کوڑی بھی نہیں۔“
شاستری اضطراری انداز سے کرسی سے اٹھ کھڑا ہوا۔ اس کے حلق میں گرہیں پڑ گئیں۔ اسے یاد آیا کہ کبھوری کو تجوری کا کوڈ معلوم نہیں تھا، لیکن اسے پھر خیال آیا کہ وہ ایک مکار عورت ہے، وہ کچھ بھی کر سکتی تھی۔ اس نے غیر محسوس انداز میں ہر بات کا کھوج لگا لیا تھا۔ جب کبھی وہ آرٹ گیلری کے لیے پینٹنگز کی خریداری کے لیے ممبئی جایا کرتا تھا، تب کسی تجوری کے ماہر سے رابطہ کر کے اس نے تجوری کے کوڈ کا پتا چلا لیا ہوگا۔ شاید وہ بھی اس کے لیے گڑھا کھود رہی ہوگی، جس طرح وہ اس کے لیے کھود رہا تھا۔ اس کے دل میں شک و شبہات جنم لینے پر اس نے ایک خفیہ بٹن اس پینل کے پاس لگا دیا تھا کہ کوئی خطرہ محسوس کرنے پر اسے دبا دے، جس کا الارم قریبی تھانے سے منسلک تھا۔ الارم بجتے ہی پولیس تھوڑی دیر میں پہنچ جاتی۔
”مذاق مت کرو۔“ شاستری ڈوبتے دل کے ساتھ تیزی سے اس کے قریب پہنچا۔
ڈاکو نے ایک طرف ہٹ کر اسے جھانکنے کا موقع دیا۔ شاستری نے گھٹنوں کے بل جھک کر تجوری میں جھانکا، تو اسے نوٹوں کے بنڈل دکھائی دیے۔ اس کی رگ و پے میں طمانیت کی لہر دوڑ گئی، لیکن وہ اس سے چند لمحوں سے زیادہ لطف اندوز نہ ہو سکا۔
”تم نے صحیح طرح نہیں دیکھا۔“ شاستری اتنا ہی کہہ پایا تھا کہ اس کی کھوپڑی پر کسی ٹھوس چیز کی زور دار ضرب پڑی۔ درد کی شدید لہر اٹھی اور اس کے ہاتھ سے ریوالور چھوٹ کر فرش پر گر پڑا۔ گرتے گرتے وہ سمجھ گیا تھا کہ ڈاکو نے عیاری سے کام لیا ہے۔ تب اس نے خفیہ بٹن دبا دیا۔ ڈاکو کے علم میں اس کی یہ حرکت نہ آ سکی تھی۔ جب اس نے شاستری کو سنبھلتے دیکھا، تو پوری قوت سے اس کی کھوپڑی کے نچلے حصے پر پے در پے، بہیمانہ انداز میں ضربیں لگا دیں۔ شاستری ساکت و جامد ہو گیا۔ اب وہ اس سنسار میں نہیں رہا تھا۔ ڈاکو نے نبض دیکھ کر تسلی کرنے کے بعد نوٹوں کے بنڈل اس تھیلے میں ڈال لیے جو وہ ساتھ لایا تھا اور ریوالور بھی تھیلے میں ڈال لیا، پھر فاتحانہ انداز میں مسکرایا۔ اس نے جو منصوبہ بنایا تھا، وہ پوری طرح کامیاب رہا تھا۔
گھر سے نکلتے وقت اس نے اوپر جا کر کبھوری کے ساتھ اس کامیابی کا جشن منانے اور زیورات کے بارے میں سوچا تک نہیں تھا کیونکہ کبھوری دو ایک ماہ تک غم منانے کے بعد سدا کے لیے اس کی ہونے والی تھی، جس کے بعد کبھوری کا سارا اثاثہ اس کا ہونے والا تھا، کیونکہ وہ اس کا دوسرا پتی بننے والا تھا۔ پھر ایک ڈیڑھ برس بعد وہ کبھوری کو کسی حادثاتی موت کا نشانہ بڑی آسانی سے بنا سکتا تھا۔
چند قدم چلنے کے بعد وہ ایک دم ٹھٹھک کے رک گیا۔ اسے جیکٹ کی ابھری ہوئی جیب میں کسی چیز کی موجودگی کا احساس ہوا، تو وہ چونک گیا۔ اس نے جیب میں ہاتھ ڈال کر اسے نکالا تو اس کا خون خشک ہو گیا۔ یہ وہ باریک شفاف دستانے تھے جو وہ واردات کرنے سے پہلے پہننا بھول گیا تھا۔ اس کی بھول نے اس کا سپنا، کبھوری اور دولت؛ سب کچھ چھین لیا تھا۔
☆☆☆
کبھوری نے کمرے کے روشندان سے جھانک کر یہ لرزہ خیز ڈراما دیکھا۔ اس نے اپنے آشنا پرکاش سے کہا تھا کہ وہ اس کے پتی کو قتل نہ کرے، بلکہ اسے اس طرح معذور اور اپاہج کر دے کہ وہ بھکاری سے بدتر ہو جائے اور ایک آدھ ماہ میں سسک سسک کر مر جائے۔ وہ اپنے پتی سے انتقام لینا چاہتی تھی، مگر پرکاش نے اس سے کہا تھا کہ محبت اور جنگ میں جس طرح ہر چیز جائز ہوتی ہے، اس طرح دولت کے حصول کے لیے کسی کو قتل کرنا بھی جائز ہوتا ہے۔
کبھوری نے اس واردات کے دوران سوچا تھا کہ پرکاش اس کا پتی بننے کے بعد دولت کے حصول کے لیے اسے بھی قتل کر دے گا۔ وہ ایک سفاک قاتل کی بیوی بننا نہیں چاہتی تھی۔ اب چونکہ وہ دولت مند بیوہ ہو چکی تھی، اسے کیا کمی تھی؟ لہذا اب وہ اپنے آشنا کو اپنانے کی بھول نہیں کرے گی۔ اس نے پولیس کو فون کرنے کے لیے ریسیور اٹھایا ہی تھا کہ پولیس کی گاڑی کا سائرن سنائی دیا، جو ہر لمحہ قریب سے قریب ہوتا جا رہا تھا۔
شاستری نے مرتے مرتے اپنے قاتل کو کیفرِ کردار تک پہنچا دیا تھا۔ اگر وہ خفیہ بٹن دبانا بھول جاتا، تو پھر اس کا قاتل سب کچھ پا لیتا۔
پھر اس نے ان مہمانوں کے درمیان کبھوری کو دیکھا، جو اس کی طرف لچکتی، تھرکتی اور کسی زہریلی ناگن کی طرح لہراتی آ رہی تھی۔ ایک عجیب بات یہ تھی کہ نامناسب لباس میں ہونے کے باوجود کوئی اس کی طرف متوجہ نہیں تھا؛ نہ عورتیں، نہ مرد… ایسی بے حجابی کے باوجود مردوں کا اسے نظر انداز کر دینا ناقابلِ فہم تھا۔
اس نے دور ہی سے اپنی بیوی کبھوری کا چہرہ دیکھ لیا تھا، جو غصے سے تمتما رہا تھا۔ اس نے قریب آ کر ایک فریم کی طرف اشارہ کیا اور انتہائی غصے میں بولی: ”شاستری! کیا تم اندھے ہو؟ یہ تصویر نہیں ہے، سچ مچ کا منظر ہے۔ تمہیں کسی احمق نے مشورہ دیا کہ اس تصویر کو لا کر یہاں لگا دو… تم روز بروز سٹھیاتے کیوں جا رہے ہو؟“
شاستری نے چونک کر حیرت اور غور سے فریم کی طرف دیکھا۔ اس میں تاج محل کے گردونواح کا منظر دکھائی دیتا تھا اور اس کے پس منظر میں مہاراجا میسور کا پرشکوہ محل تھا، لیکن ان کے درمیان میلوں کا فاصلہ صاف محسوس ہوتا تھا۔ ”کیا یہ واقعی ہے؟“ شاستری نے حیرت سے سوال کیا۔ ”اچھا چلو، چل کر دیکھتے ہیں۔“
عجیب بات یہ تھی کہ اس وسیع و عریض آرٹ گیلری کے اندر ایک نئے ماڈل کی سفید مرسیڈیز بھی موجود تھی۔ شاستری اور کبھوری اس میں بیٹھ گئے اور اس منظر کا حصہ بن گئے۔ تاج محل کے قریب پہنچ کر سرسبز و شاداب سبزہ زار پر گاڑی کھڑی کی۔ آگے ڈھلان تھی، پھر وہ اتر کر تاج محل کے احاطے کی طرف بڑھا۔ یکلخت اسے یاد آیا کہ وہ کار کا ہینڈ بریک لگانا بھول گیا ہے۔ اس نے سرعت سے مڑ کر دیکھا۔
کار تیزی سے ڈھلان سے نیچے کی طرف جا رہی تھی۔ حیرت کی بات تھی کہ کبھوری کار میں بیٹھی تھی اور اس کا خوبصورت چہرہ دہشت سے زرد پڑتا جا رہا تھا۔ اس کی بڑی بڑی گہری سیاہ آنکھیں خوف سے پھٹی جا رہی تھیں۔ ڈھلان کچھ دور جا کر ختم ہو جاتی تھی اور اس کے اختتام پر گہری کھائی تھی۔ کبھوری ہذیانی انداز میں چلا رہی تھی: ”شاستری، شاستری! بھگوان کے لیے مجھے بچاؤ، بچاؤ!“
شاستری الوداعی انداز میں ہاتھ ہلاتے ہوئے پرمسرت لہجے میں بولا: ”اب میں کیا کر سکتا ہوں میری جان! البتہ میں یہ ضرور کر سکتا ہوں کہ تمہاری دائمی جدائی کے بعد تمہیں بھولوں گا نہیں۔ تمہاری تصویریں دیکھ کر تمہیں یاد کرتا رہوں گا، بلکہ میں نے ابھی سے تمہاری جدائی کا غم محسوس کرنا شروع کر دیا ہے۔“
اس کی پتنی کی دلخراش چیخیں فضا میں گونجنے لگیں۔ اس دوران کار ڈھلان کے آخر تک پہنچی اور پھر کھائی میں گر کر غائب ہو گئی، تاہم اس کی پتنی کی چیخیں اب بھی اس کے کانوں میں گونج رہی تھیں، پھر رفتہ رفتہ ان کی شدت میں کمی آنے لگی اور وہ دھیمی ہوتی چلی گئیں۔ اس دوران شاستری نے محسوس کیا کہ عقب میں کوئی اس کا کاندھا پکڑ کر ہلا رہا ہے۔ اس نے ناگواری سے پلٹ کر دیکھا، تو کبھوری اس کا کندھا ہلا رہی تھی اور آہستگی سے اسے پکار رہی تھی۔ ”شاستری، شاستری! بھگوان کے لیے اٹھو، آنکھیں کھولو۔“
اس نے دھندلائی ہوئی نظروں سے کبھوری کی طرف دیکھا کہ وہ یہاں کیا کر رہی تھی؟ اس نے تو اسے کار سمیت ایک بہت ہی گہری کھائی میں گرتے ہوئے دیکھا تھا۔ اس منظر نے اسے کسی ایسے بچے کی طرح خوش کر دیا تھا، جسے مٹھائی کے جنگل میں اکیلا چھوڑ دیا گیا ہو۔ وہ ابھی تک خواب اور حقیقت کے درمیان حدِ فاضل قائم نہیں کر سکا تھا۔
”شاستری! اٹھو، ذرا نیچے جا کر دیکھو۔“ کبھوری سرگوشی میں کہہ رہی تھی۔ ”گھر میں کوئی ڈاکو گھس آیا ہے۔“
تب شاستری کو یکلخت احساس ہوا کہ وہ حقیقت کی دنیا میں ہے۔ چند لمحے پہلے وہ خواب دیکھ رہا تھا اور یہ کوئی پہلا اتفاق نہیں تھا۔ وہ جب بھی کوئی سہانا اور دل پسند خواب دیکھ رہا ہوتا تھا، تو اس کی پتنی کسی واہمے میں مبتلا ہو کر اسے جگا دیتی تھی۔ اس کی آرزو ہوتی تھی کہ کاش یہ خواب صرف خواب نہ ہوں بلکہ حقیقت بن جائیں۔
”جاؤ، جا کر اپنے بستر پر سو جاؤ۔“ اس نے اپنے غصے کو ضبط کرتے ہوئے کبھوری پر ایک سرسری سی نظر ڈالی۔ وہ شب خوابی کے لباس میں تھی، لیکن اس کا سراپا اب اسے متاثر نہیں کرتا تھا کیونکہ ان کی محبت میں زہر گھل چکا تھا۔ وہ جلتی پر تیل چھڑکنے کے لیے رات کے وقت اس حلیے میں آ جاتی، لیکن شاستری آنکھیں بند کر کے ایسے سہانے سپنوں میں کھو جاتا کہ اگر کبھوری کو علم ہو جاتا تو وہ اسے اور گھر کو چھوڑ جاتی۔
”نیچے کوئی نہیں ہے، تمہیں ہمیشہ کی طرح وہم ہو رہا ہے۔“
”نہیں! میری سماعت دھوکا نہیں کھا رہی۔“ کبھوری نے تکرار کے انداز میں کہا۔ ”میں نے کچھ دیر پہلے نیچے سے آواز سنی تھی۔ کسی نے ہماری الماری کا دروازہ کھولا ہے۔ اس کی دو درازوں میں سونے کے زیورات رکھے ہوئے ہیں، جن کی مالیت ایک لاکھ سے کہیں زیادہ ہے۔ تمہیں پتا ہے کہ اس کا دروازہ ہلکی سی چرچراہٹ کے ساتھ کھلتا ہے۔ میں نے وہی چرچراہٹ سنی تھی۔ وہ درازیں مقفل نہیں ہیں۔ میں نے کئی بار کہا کہ انہیں مقفل کر دو۔“
شاستری چند لمحے چھت کو گھورتا رہا۔ اسے نیچے سے کوئی آواز سنائی نہیں دی تھی، پھر وہ تحمل سے بولا: ”تم نے یقیناً کوئی خواب دیکھا ہوگا۔ اب جا کر سو جاؤ اور مجھے بھی سونے دو۔“
”مجھے معلوم تھا کہ تم یہی کہو گے، اس لیے کہ تم سے کچھ ہو ہی نہیں سکتا۔ تم سے تو بستر سے اٹھا بھی نہیں جاتا، چاہے کوئی اندر گھس کر ہمیں قتل ہی کیوں نہ کر جائے۔“ کبھوری غرائی۔
شاستری بے بسی سے سانس لے کر رہ گیا۔ اسے اندازہ ہو گیا کہ جب تک وہ اٹھ کر نیچے نہیں جائے گا، وہ اسے سونے نہیں دے گی۔ آخرکار وہ بڑی بیزاری سے اٹھا۔ اس نے چادر ایک طرف پھینکی۔ اس کا بس چلتا تو وہ چادر اپنی پتنی کے منہ پر دے مارتا، پھر جاتے ہوئے ناگواری سے بولا: ”لعنت ہے! میں جا کر دیکھ لیتا ہوں، مجھے معلوم ہے کہ وہاں کوئی بدروح بھی نہیں ہوگی۔“
”میں اپنے کمرے میں جا کر اندر سے دروازہ لاک کر رہی ہوں۔“ کبھوری نے آہستگی سے کہا، تاکہ نیچے تک اس کی آواز نہ پہنچے۔ وہ اپنے بکھرے بالوں اور شب خوابی کا لباس درست کرتے ہوئے اس کے کمرے سے نکلی اور اپنے کمرے میں گھس کر دروازہ بند کر کے اندر سے چٹخنی لگا لی۔
شاستری نے اپنی حیثیت کبھوری کی نظروں میں دانستہ گرا دی تھی۔ اس کے ذہن میں ایک منصوبہ بڑے عرصے سے پنپ رہا تھا۔ وہ کبھوری کو قتل کر کے اس کی ساری دولت پر قابض ہونا چاہتا تھا۔ وہ ایک ایسا منصوبہ بنانا چاہ رہا تھا جس میں کوئی عیب، خامی، جھول اور نقص نہ ہو، کہیں ایسا نہ ہو کہ لینے کے دینے پڑ جائیں اور وہ پھانسی کے پھندے پر چڑھ جائے۔ اس لیے وہ اس کی ہر بات مان لیتا تھا، جیسے اس کا زرِخرید غلام ہو۔ کبھوری نے اس کے ساتھ نیچے چلنے کا خفیف سا اشارہ بھی نہیں کیا تھا، ہمدردی کے رسمی الفاظ بھی نہیں کہے تھے، حالانکہ وہ اس کا پتی تھا، کوئی چوکیدار یا محافظ نہ تھا۔
پھر شاستری نے دل ہی دل میں خود کو سمجھایا کہ وہ خواہ مخواہ اس بات پر جذباتی ہو رہا ہے۔ اب ان کے درمیان تعلقات اس نوعیت کے نہیں رہے تھے کہ کبھوری کو اس کی سلامتی کی فکر ہو۔ وہ پاس رہ کر بھی ایک دوسرے سے اتنی دور تھے جیسے زمین اور آسمان…! ایک کمرے میں ساتھ سونا تو درکنار، وہ ایک دوسرے کی طرف دیکھتے بھی نہیں تھے۔ ایک چھت کے نیچے دونوں اجنبیوں کی طرح زندگی گزار رہے تھے۔ وہ نہیں جانتے تھے کہ ان کی منزل کہاں ہے؟ شاستری طلاق اس لیے نہیں دے رہا تھا کہ اسے کبھوری کی دولت کی ضرورت تھی۔ دولت کے بغیر زندگی بیکار تھی۔ اس کا خیال تھا کہ کبھوری اس سے اس لیے طلاق نہیں لے رہی ہے کہ بے پناہ دولت کے بعد وہ کس کے سہارے زندگی گزارے گی؟ یوں تو اس کے لیے ایسے مردوں کی کمی نہیں تھی جو اس کا ہاتھ تھام لیں، لیکن وہ انہیں قابلِ بھروسہ نہیں سمجھتی تھی۔ اسے خودغرض اور مطلب پرست مردوں کا اندازہ ہو چکا تھا۔ وہ کیا چاہتی ہے؟ اس کا اندازہ خود اسے بھی نہ تھا۔ وہ کافی عرصے سے الگ الگ کمروں میں سو رہے تھے۔
شاستری نے سلیپر پہنتے ہوئے سوچا کہ شاید نیچے کوئی ڈاکو موجود ہو، لیکن پھر اس نے اس خیال کو فوراً مسترد کر دیا۔ وہ جانتا تھا کہ کبھوری پر ہمیشہ کوئی نہ کوئی وہم سوار ہو جاتا تھا۔ اسے کوئی نہ کوئی آواز سنائی دیتی رہتی تھی۔ کبھی اسے گمان گزرتا کہ باورچی خانے میں چوہے سارا سامان تل پٹ کر رہے ہیں یا بلی دودھ پی رہی ہے۔ کبھی وہ کہتی کہ لان میں کتے زمین کھود کر پودوں اور کیاریوں کا ستیا ناس کر رہے ہیں۔ ایک بار تو اس نے حد ہی کر دی تھی کہ ٹیرس میں بیٹھے بیٹھے کچھ آوازیں سن کر اس نے کہا کہ کچھ ڈاکو نیچے ان کے گھر کا صفایا کر کے لوٹے ہوئے مال پر لڑ جھگڑ رہے ہیں۔ بعد میں پتا چلا کہ اصل میں وہ ایک پھٹی ہوئی ترپال تھی جو ہوا سے پھڑ پھڑا رہی تھی، اور مزدوروں نے ترپال گیراج کی زیر تعمیر چھت پر بچھائی ہوئی تھی۔ اس میں کوئی شک نہیں تھا کہ کبھوری جتنی حسین تھی، اتنی ہی عقل کی موٹی تھی۔ حسین عورت ذہین کم ہی ہوتی ہے۔ وہ ایک شکی اور وہمی عورت تھی، اس کے باوجود شاستری سوچے بغیر نہ رہ سکا کہ کیا پتا اس بار اس کا خیال درست ثابت ہو اور نیچے واقعی کوئی موجود ہو۔
زندگی میں کبھی کبھار احمق ترین انسان کا بھی کوئی اندیشہ درست ثابت ہو جاتا ہے۔ اس نے سوچا کہ نیچے جاتے ہوئے اسے ایسی کوئی چیز ہاتھ میں لے لینی چاہیے، جسے بوقتِ ضرورت ہتھیار کے طور پر استعمال کر سکے۔ وہ معمولی قد کاٹھ کا آدمی تھا اور لڑائی جھگڑے کا عادی نہیں تھا، جبکہ چور اور ڈاکو عام طور پر مضبوط جسم اور قد آور ہوتے تھے اور ایک طرح سے تربیت یافتہ بھی۔ اسے کسی ایسے شخص کو قابو میں کرنے کا تصور بڑا مضحکہ خیز محسوس ہو رہا تھا۔ وہ اس خوش فہمی میں مبتلا نہیں تھا کہ وہ ایسا کوئی کارنامہ انجام دے سکتا ہے۔ اس کے علاوہ اسے کبھی کسی ایسے کھیل کا شوق نہیں رہا تھا جس میں جسمانی مشقت درکار ہوتی تھی، چنانچہ اس کے پاس گھر میں کوئی بیٹ، ہاکی یا گالف کی چھڑی بھی نہیں تھی جسے وہ بطورِ ہتھیار استعمال کر سکتا۔ البتہ کچن میں ایسی کئی چیزیں موجود تھیں جو ہتھیار کے طور پر استعمال ہو سکتی تھیں، لیکن مسئلہ یہ تھا کہ کچن نیچے تھا اور اگر کوئی چور وہاں موجود تھا، تو وہ بھی نیچے تھا۔ وہ سوچے بغیر نہ رہ سکا کہ آدمی کو جس چیز کی ضرورت ہوتی ہے، وہ ہمیشہ کسی اور جگہ موجود ہوتی تھی، رسائی سے دور۔ پھر اسے یکلخت کچھ خیال آیا۔
اس نے اپنے کمرے میں جا کر الماری کھولی۔ اس کے نچلے خانے میں بہت سارے ڈبے رکھے تھے۔ اس نے ان کا جائزہ لیتے ہوئے ایک ڈبے کو باہر کھینچا۔ اس میں چرمی کور میں لپٹا ہوا ایک ریوالور رکھا ہوا تھا، جو اس کے سسر نے اس کی شادی کے تین برس بعد اسے دیا تھا۔ اس کی سسرال پونا میں تھی۔ ایک بار وہ کبھوری کے ساتھ اس کے میکے گیا تھا۔ اس کے سسر رتن کمار نے اسے اچانک ایک کمرے میں کھینچ لیا تھا۔ وہ ایک جسیم اور مضبوط آدمی تھا اور بشرے سے ہی تندخو دکھائی دیتا تھا۔ وہ اپنی سسرال میں پندرہ دن ٹھہرا تھا۔ اس دوران اس نے اپنے سسر کو گھر سے باہر ایک کنج میں میک اپ کر کے اپنا حلیہ بدلتے ہوئے دیکھا تھا، پھر اس نے گن پوائنٹ پر ایک دوشیزہ کو باغ کی کوٹھری میں لے جاتے ہوئے دیکھا تھا۔ اس نے کبھوری سے اس واقعہ کا ذکر اس لیے نہیں کیا تھا کہ اگر وہ اپنے پتا جی کی سرزنش کرتی یا اپنی ماں کو اعتماد میں لیتی اور نتیجے میں اس کی ساس اپنے شوہر کا گریبان پکڑ لیتی، تو اس بات کا اندیشہ تھا کہ اس کا سسر اسے اس سنسار سے رخصت کر دیتا، اس لیے اس نے خاموش رہنے میں اپنی عافیت سمجھی تھی۔
اس کے سسر نے اپنے پاس طرح طرح کے کافی ہتھیار جمع کر رکھے تھے اور یہ اسلحہ غیر قانونی تھا، جس کی خریداری پر اس نے رقم پانی کی طرح بہائی تھی، لیکن اس کے گھر والوں کو اس کے اس جنون کی بھنک تک نہ پڑی تھی۔ اس نے انہیں ہوا تک نہیں لگنے دی تھی۔ اس نے دیوار گیر الماریوں میں خفیہ خانے بنا رکھے تھے اور تمام ہتھیار اس میں چھپا دیے تھے۔ ان چیزوں کا انکشاف اس وقت ہوا، جب وہ ایک کچی بستی کی خانہ بدوش لڑکی کو گن پوائنٹ پر ایک کوٹھری میں لے گیا اور اسے وہاں سات گھنٹے تک رکھا۔ لڑکی کے ماں باپ نے رتن کمار کے خلاف رپورٹ درج کرائی، لیکن اس کا نتیجہ کچھ نہ نکلا کیونکہ پولیس میں اس کا اثر و رسوخ تھا۔ ایف آئی آر درج ہونے کے بعد وہ مشتعل ہو کر خانہ بدوشوں کی بستی میں پہنچا اور اس نے غصے میں آکر گالیاں بکتے ہوئے فائرنگ شروع کر دی۔ اتفاق سے اس کی فائرنگ سے کوئی ہلاک یا زخمی تو نہیں ہوا، لیکن پولیس کے اعلیٰ افسروں نے اس کا نوٹس لے لیا، پھر اسے ایک نفسیاتی امراض کے اسپتال میں داخل کر دیا گیا۔ وہ شخص ذہنی مریض بن چکا تھا۔ اس کا علاج اور نگرانی جاری رہی۔ آخر ایک روز اس کے گھر پر چھاپہ پڑا اور اس کا خفیہ اسلحہ خانہ دریافت کر لیا گیا اور تمام اسلحے کو تین گاڑیوں میں لاد کر لے جایا گیا۔ اسے دماغی امراض کے اسپتال کی ایمبولینس میں لٹانے کے لیے تین لحیم شحیم اور مضبوط مردوں کو اپنی پوری طاقت صرف کرنی پڑی تھی۔
کبھی کبھی شاستری کو شبہ ہوتا کہ اس کا سسر کچھ کھسکا ہوا آدمی تھا، پھر بھی اسے توقع نہیں تھی کہ وہ اس انجام سے دوچار ہوگا۔ یہ تین چار برس پہلے کی بات تھی، جب اس نے شاستری کو اپنے اسلحہ خانے کے کمرے میں لے جا کر ایک چھوٹا سا ریوالور زبردستی اس کے ہاتھ میں تھما کر کہا تھا: ”شاستری! یہ رکھ لو۔“
”لیکن کس لیے؟“ اس نے حیرت سے ریوالور کو الٹ پلٹ کر دیکھتے ہوئے پوچھا۔
”اس لیے کہ یہ بڑی کارآمد شے ہے۔ تمہیں اندازہ نہیں کہ اس سے کیا کیا کام لیا جا سکتا ہے۔“ وہ سنجیدگی سے کہنے لگا۔ ”مثلاً کسی بھی ساہوکار، جوہری اور دولت مند شخص کو اور کسی بھی نوجوان عورت کو اس کی زد میں لے کر لوٹا جا سکتا ہے۔ دشمن بھی ریوالور کو دیکھتے ہی ہر بات مان لیتے ہیں۔“
”لیکن مجھے نہ کسی عورت کو لوٹنا ہے اور نہ ہی کسی دولت مند کو،“ اس نے کہا۔
”ایک اور بات یاد رکھنے کی ہے کہ تم نے شہری آبادی سے دور ویرانے میں مکان لے رکھا ہے۔ مجھے اس کے تصور سے ہی وحشت ہوتی ہے کہ اس ویرانے میں صرف تم دونوں میاں بیوی رہتے ہو۔ میں اپنی پیاری بیٹی کو غیر محفوظ سمجھتا ہوں۔ اس ریوالور کی بدولت وہ اپنی آبرو کی حفاظت کر سکتی ہے۔“
پھر اس نے اس ریوالور کی قوت آزمانے کے لیے، سسرال سے آنے کے بعد، اس کا عملی مظاہرہ کیا۔ پہلے وہ ایک مارواڑی کے گھر میں رات کے وقت نقاب پوش بن کر گھس گیا، جو اکیلا تھا۔ اس کی پتنی اور گھر کے دوسرے افراد کسی شادی کی تقریب میں گئے ہوئے تھے۔ وہ تجوری میں سونے کے زیورات اور نوٹوں کی گڈیاں رکھ رہا تھا۔ اس نے مارواڑی کو ایسا دہشت زدہ کیا کہ وہ بے ہوش ہو گیا، پھر اس نے ایک تھیلے میں تجوری کا سارا مال بھر لیا۔ اس کا یہ کارنامہ کبھوری کے علم میں نہ آسکا اور نہ ہی وہ اسے اعتماد میں لینا چاہتا تھا۔
زندگی میں کبھی کبھار احمق ترین انسان کا بھی کوئی اندیشہ درست ثابت ہو جاتا ہے۔ اس نے سوچا کہ نیچے جاتے ہوئے اسے ایسی کوئی چیز ہاتھ میں لے لینی چاہیے، جسے بوقتِ ضرورت ہتھیار کے طور پر استعمال کر سکے۔ وہ معمولی قد کاٹھ کا آدمی تھا اور لڑائی جھگڑے کا عادی نہیں تھا، جبکہ چور اور ڈاکو عام طور پر مضبوط جسم اور قد آور ہوتے تھے اور ایک طرح سے تربیت یافتہ بھی۔ اسے کسی ایسے شخص کو قابو میں کرنے کا تصور بڑا مضحکہ خیز محسوس ہو رہا تھا۔ وہ اس خوش فہمی میں مبتلا نہیں تھا کہ وہ ایسا کوئی کارنامہ انجام دے سکتا ہے۔ اس کے علاوہ اسے کبھی کسی ایسے کھیل کا شوق نہیں رہا تھا جس میں جسمانی مشقت درکار ہوتی تھی، چنانچہ اس کے پاس گھر میں کوئی بیٹ، ہاکی یا گالف کی چھڑی بھی نہیں تھی جسے وہ بطورِ ہتھیار استعمال کر سکے۔ البتہ کچن میں ایسی کئی چیزیں موجود تھیں جو ہتھیار کے طور پر استعمال ہو سکتی تھیں، لیکن مسئلہ یہ تھا کہ کچن نیچے تھا اور اگر کوئی چور وہاں موجود تھا، تو وہ بھی نیچے تھا۔ وہ سوچے بغیر نہ رہ سکا کہ آدمی کو جس چیز کی ضرورت ہوتی ہے، وہ ہمیشہ کسی اور جگہ موجود ہوتی تھی، رسائی سے دور۔ پھر اسے یکلخت کچھ خیال آیا۔
اس نے اپنے کمرے میں جا کر الماری کھولی۔ اس کے نچلے خانے میں بہت سارے ڈبے رکھے تھے۔ اس نے ان کا جائزہ لیتے ہوئے ایک ڈبے کو باہر کھینچا۔ اس میں چرمی کور میں لپٹا ہوا ایک ریوالور رکھا ہوا تھا، جو اس کے سسر نے اس کی شادی کے تین برس بعد اسے دیا تھا۔ اس کی سسرال پونا میں تھی۔ ایک بار وہ کبھوری کے ساتھ اس کے میکے گیا تھا۔ اس کے سسر رتن کمار نے اسے اچانک ایک کمرے میں کھینچ لیا تھا۔ وہ ایک جسیم اور مضبوط آدمی تھا اور بشرے سے ہی تندخو دکھائی دیتا تھا۔ وہ اپنی سسرال میں پندرہ دن ٹھہرا تھا۔ اس دوران اس نے اپنے سسر کو گھر سے باہر ایک کنج میں میک اپ کر کے اپنا حلیہ بدلتے ہوئے دیکھا تھا، پھر اس نے گن پوائنٹ پر ایک دوشیزہ کو باغ کی کوٹھری میں لے جاتے ہوئے دیکھا تھا۔ اس نے کبھوری سے اس واقعہ کا ذکر اس لیے نہیں کیا تھا کہ اگر وہ اپنے پتا جی کی سرزنش کرتی یا اپنی ماں کو اعتماد میں لیتی اور نتیجے میں اس کی ساس اپنے شوہر کا گریبان پکڑ لیتی، تو اس بات کا اندیشہ تھا کہ اس کا سسر اسے اس سنسار سے رخصت کر دیتا، اس لیے اس نے خاموش رہنے میں اپنی عافیت سمجھی تھی۔
اس کے سسر نے اپنے پاس طرح طرح کے کافی ہتھیار جمع کر رکھے تھے اور یہ اسلحہ غیر قانونی تھا، جس کی خریداری پر اس نے رقم پانی کی طرح بہائی تھی، لیکن اس کے گھر والوں کو اس کے اس جنون کی بھنک تک نہ پڑی تھی۔ اس نے انہیں ہوا تک نہیں لگنے دی تھی۔ اس نے دیوار گیر الماریوں میں خفیہ خانے بنا رکھے تھے اور تمام ہتھیار اس میں چھپا دیے تھے۔ ان چیزوں کا انکشاف اس وقت ہوا، جب وہ ایک کچی بستی کی خانہ بدوش لڑکی کو گن پوائنٹ پر ایک کوٹھری میں لے گیا اور اسے وہاں سات گھنٹے تک رکھا۔ لڑکی کے ماں باپ نے رتن کمار کے خلاف رپورٹ درج کرائی، لیکن اس کا نتیجہ کچھ نہ نکلا کیونکہ پولیس میں اس کا اثر و رسوخ تھا۔ ایف آئی آر درج ہونے کے بعد وہ مشتعل ہو کر خانہ بدوشوں کی بستی میں پہنچا اور اس نے غصے میں آ کر گالیاں بکتے ہوئے فائرنگ شروع کر دی۔ اتفاق سے اس کی فائرنگ سے کوئی ہلاک یا زخمی تو نہیں ہوا، لیکن پولیس کے اعلیٰ افسروں نے اس کا نوٹس لے لیا، پھر اسے ایک نفسیاتی امراض کے اسپتال میں داخل کر دیا گیا۔ وہ شخص ذہنی مریض بن چکا تھا۔ اس کا علاج اور نگرانی جاری رہی۔ آخر ایک روز اس کے گھر پر چھاپہ پڑا اور اس کا خفیہ اسلحہ خانہ دریافت کر لیا گیا اور تمام اسلحے کو تین گاڑیوں میں لاد کر لے جایا گیا۔ اسے دماغی امراض کے اسپتال کی ایمبولینس میں لٹانے کے لیے تین لحیم شحیم اور مضبوط مردوں کو اپنی پوری طاقت صرف کرنی پڑی تھی۔
کبھی کبھی شاستری کو شبہ ہوتا کہ اس کا سسر کچھ کھسکا ہوا آدمی تھا، پھر بھی اسے توقع نہیں تھی کہ وہ اس انجام سے دوچار ہوگا۔ یہ تین چار برس پہلے کی بات تھی، جب اس نے شاستری کو اپنے اسلحہ خانے کے کمرے میں لے جا کر ایک چھوٹا سا ریوالور زبردستی اس کے ہاتھ میں تھما کر کہا تھا: ”شاستری! یہ رکھ لو۔“
”لیکن کس لیے؟“ اس نے حیرت سے ریوالور کو الٹ پلٹ کر دیکھتے ہوئے پوچھا۔
”اس لیے کہ یہ بڑی کارآمد شے ہے۔ تمہیں اندازہ نہیں کہ اس سے کیا کیا کام لیا جا سکتا ہے۔“ وہ سنجیدگی سے کہنے لگا۔ ”مثلاً کسی بھی ساہوکار، جوہری اور دولت مند شخص کو اور کسی بھی نوجوان عورت کو اس کی زد میں لے کر لوٹا جا سکتا ہے۔ دشمن بھی ریوالور کو دیکھتے ہی ہر بات مان لیتے ہیں۔“
”لیکن مجھے نہ کسی عورت کو لوٹنا ہے اور نہ ہی کسی دولت مند کو،“ اس نے کہا۔
”ایک اور بات یاد رکھنے کی ہے کہ تم نے شہری آبادی سے دور ویرانے میں مکان لے رکھا ہے۔ مجھے اس کے تصور سے ہی وحشت ہوتی ہے کہ اس ویرانے میں صرف تم دونوں میاں بیوی رہتے ہو۔ میں اپنی پیاری بیٹی کو غیر محفوظ سمجھتا ہوں۔ اس ریوالور کی بدولت وہ اپنی آبرو کی حفاظت کر سکتی ہے۔“
پھر اس نے اس ریوالور کی قوت آزمانے کے لیے، سسرال سے آنے کے بعد، اس کا عملی مظاہرہ کیا۔ پہلے وہ ایک مارواڑی کے گھر میں رات کے وقت نقاب پوش بن کر گھس گیا، جو اکیلا تھا۔ اس کی پتنی اور گھر کے دوسرے افراد کسی شادی کی تقریب میں گئے ہوئے تھے۔ وہ تجوری میں سونے کے زیورات اور نوٹوں کی گڈیاں رکھ رہا تھا۔ اس نے مارواڑی کو ایسا دہشت زدہ کیا کہ وہ بے ہوش ہو گیا، پھر اس نے ایک تھیلے میں تجوری کا سارا مال بھر لیا۔ اس کا یہ کارنامہ کبھوری کے علم میں نہ آسکا اور نہ ہی وہ اسے اعتماد میں لینا چاہتا تھا۔
اب اس نے یہ فیصلہ کر لیا تھا کہ کسی نہ کسی تدبیر سے کبھوری کو چارہ بنا کر ڈاکو کے سامنے ڈال دے۔ اس کا حسن دیکھ کر ڈاکو اس کی بے حرمتی کرتے اور ڈاکا مارنے کے لیے اسے قتل کر دیتے۔ اس کے ذہن میں ایک تدبیر آ گئی تھی جس سے وہ ڈاکو کو کبھوری کے بیڈ روم کی طرف جانے پر مجبور کر سکتا تھا۔ اس نے کبھوری کے کمرے کی ایک اور چابی بنوا رکھی تھی۔ وہ اسے کھول دیتا۔ کبھوری جو جلد اور گہری نیند سونے کی عادی تھی، تب تک سو چکی ہوگی۔ وہ نائٹ بلب کی روشنی میں سوتی تھی۔ اس کے کمرے میں روشنی دیکھ کر ڈاکو ضرور اندر گھس جاتا۔
وہ بے آواز قدموں سے چلتا ہوا کچن تک پہنچا، نہایت احتیاط سے دروازہ کھولا اور کچن عبور کر کے دوسرے دروازے کو بھی بے آواز طریقے سے کھول کر کان لگا کر آواز سننے کی کوشش کی۔ کمرے میں کسی کے سانس لینے کی مدھم آواز ابھر رہی تھی۔ اندر کوئی ضرور موجود تھا۔ وہ دروازہ تھوڑا سا کھول کر کسی بلی کی طرح دبے پاؤں کمرے میں داخل ہوا۔ اس نے دیکھا، ڈاکو اس کی طرف پشت کیے بالکونی والے دروازے پر منتظر انداز میں کھڑا تھا۔ اس کے ہاتھ میں کوئی چیز تھی۔ اس کا مطلب تھا کہ اس نے اس کی آہٹ سن لی تھی۔ اب وہ اس کے انتظار میں گھات لگائے کھڑا تھا۔ اسے پتا نہیں چل سکا تھا کہ جس کے انتظار میں وہ کھڑا تھا، وہ پچھلی طرف سے کمرے میں پہنچ چکا تھا۔
شاستری نے ریوالور سے ڈاکو کا نشانہ لیتے ہوئے دوسرا ہاتھ فضا میں بلند کر کے لائٹ کا سوئچ دبا دیا۔ ڈاکو کا ردِعمل دیکھ کر شاستری کو نہ جانے کیوں ایک لمحے کے لیے اس پر ترس آ گیا۔ اس کے انداز سے بالکل ایسا محسوس ہوا تھا جیسے کمرہ روشن نہیں ہوا بلکہ اسے کرنٹ لگ گیا ہو۔ شاستری کو احساس ہوا کہ اس صورتحال میں اگر وہ خود ڈاکو ہوتا، تو یقیناً ایک فٹ اونچا اچھل جاتا یا شاید اسے ہارٹ اٹیک ہو جاتا۔ وہ شخص بہرحال ایک فٹ اچھلا نہیں، نہ ہی اسے دل کا دورہ پڑا، بس اس کے حلق سے ہلکی سی خوف زدہ چیخ نکلی اور پیچھے کی طرف تیزی سے گھومتے ہوئے اس کے ہاتھ سے وہ چیز گر گئی جو اس نے ہتھیار کی طرح پکڑی ہوئی تھی۔ شاستری نے دیکھا کہ وہ دھات کا ایک شمع دان تھا جو ڈائننگ ٹیبل پر رکھا رہتا تھا۔ شمع دان لڑھک کر کھڑکی کے پاس جا گرا۔
شاستری نے ڈاکو کا جائزہ لیا۔ اسے اندازہ ہو گیا کہ وہ فرار کا راستہ تلاش کر رہا تھا، لیکن اس کے لیے کسی بھی راستے سے بھاگنا ممکن نہیں تھا۔ شاید ڈاکو کو بھی خود اس بات کا احساس ہو گیا تھا۔ پھر دونوں کی نگاہیں ملیں، دونوں خاصی دیر تک گونگے بنے رہے، پھر ڈاکو نے اس اذیت ناک سکوت کو توڑا: ”آپ کو مجھے اس طرح ڈرانا نہیں چاہیے تھا۔ آپ کی اس حرکت کے نتیجے میں میرا ہارٹ فیل ہو سکتا تھا۔“ اس کے لہجے میں شکوہ تھا۔
”ہاں… یہ بات تو ہے۔“ شاستری نے معذرت خواہانہ لہجے میں کہا۔ ”کیا تمہیں دل میں کوئی تکلیف محسوس ہو رہی ہے؟ تم چاہو تو میں تمہارے لیے ایمبولینس منگوا سکتا ہوں۔“
”اس زحمت کی ضرورت نہیں۔“ ڈاکو نے حیرت سے کہا۔ اسے اپنی سماعت پر یقین نہیں آ رہا تھا کہ وہ اسے مارنے کی بجائے اپنائیت اور خلوص سے پیش آ رہا ہے۔ ”آپ کی بڑی مہربانی ہوگی اگر آپ اس ریوالور کا رخ دوسری طرف کر لیں، تو میں خود کو بہت بہتر محسوس کروں گا۔“
”میں تمہاری درخواست نہیں مان سکتا، لیکن اتنا ضرور چاہوں گا کہ تم بیٹھ جاؤ۔“ شاستری نے کہا۔
”کہاں بیٹھوں؟“ ڈاکو نے سوال کیا، تو اس نے ایک بڑے صوفے کی طرف اشارہ کیا جو ڈاکو کے قریب ہی رکھا تھا۔
”کیا تمہارے خیال میں پولیس کو فون نہیں کرنا چاہیے؟“ شاستری نے سادگی سے پوچھا۔
”ہاں… اب آپ پولیس کو فون کر کے بلائیں۔“
”نہیں، مجھے کوئی جلدی نہیں ہے، لیکن تمہارے چہرے سے لگ رہا ہے کہ تم پولیس کا سامنا کرنے کے لیے ذہنی طور پر تیار ہو۔“ شاستری نے قدرے اطمینان سے کہا۔ ”میں پولیس کو بلانے سے پہلے کچھ پینا چاہتا ہوں، کیا تم ساتھ دینا پسند کرو گے؟“ پھر اس نے فریج کی طرف اشارہ کیا جو ایک کونے میں رکھا ہوا تھا۔ ”تمہیں ہی تکلیف کرنی ہوگی۔ فریج میں ڈرنک موجود ہے۔“
ڈاکو نے ایک لمحہ غور کیا۔ فریج کے پاس کاؤنٹر تھا۔ وہاں ایک ریک میں کراکری رکھی تھی۔ وہ شاستری کی پیشکش پر اس کے پاس چلا گیا۔
”میرا خیال ہے کہ ہم دونوں کو متعارف ہو جانا چاہیے۔ ہم اب دوستوں کی طرح شراب لیں گے۔ میرا خیال ہے کہ تمہیں اپنا نام بتانے میں کوئی تذبذب نہیں ہونا چاہیے۔“
ڈاکو نے اس کی طرف دیکھے بغیر سپاٹ لہجے میں جواب دیا: ”میرا خیال ہے کہ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔“
”ٹھیک ہے۔ اگر تم بتانا نہیں چاہتے تو نہ بتاؤ، میں اصرار نہیں کروں گا۔ ویسے میں تمہیں ’ڈاکو‘ کے نام سے ہی مخاطب کروں گا، اس لیے کہ تم ڈاکے کی نیت سے گھر میں گھسے ہو۔“
ڈاکو نے اس کی بات پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔ اس نے مشروب کی بوتل فریج سے نکال کر دو گلاس بنائے۔ اس کے پاس آ کر ایک گلاس اس کی طرف بڑھایا۔
”تم میرا گلاس تپائی پر رکھ دو اور واپس اپنی جگہ جا کر بیٹھ جاؤ۔“ شاستری نے محتاط ہو کر کہا۔
ڈاکو اس کا گلاس تپائی پر رکھ کر واپس پلٹ گیا اور اپنا گلاس لے کر اپنی جگہ پر جا بیٹھا۔ شاستری اسے اپنی نظروں کی گرفت میں لیے ذرا پیچھے ہٹ کر ایک کرسی پر بیٹھ گیا۔ شاستری نے گھونٹ لیتے ہوئے اس کی طرف محتاط نظروں سے دیکھا اور بولا: ”تم یہاں کس چیز کی تلاش میں آئے تھے مسٹر ڈاکو؟“
”کسی خاص چیز کی تلاش میں نہیں!“ اس نے بے نیازی سے کندھے اچکائے۔ ”چاندی کے ظروف، نقدی اور سونے کے زیورات؛ اس طرح کی جو بھی قیمتی چیز مل جائے، تو اسے لے سکوں۔“
”چاندی کے ظروف تو تمہیں کچن کے شوکیس میں آسانی سے مل جاتے، لیکن سونے کے زیورات حاصل کرنے کے لیے تمہیں میری پتنی کے کمرے میں گھسنا پڑتا اور شاید یہ تمہارے لیے جان جوکھوں کا کام ہوتا۔“ شاستری معنی خیز انداز سے مسکرایا۔
ڈاکو نے ایک بار پھر کندھے اس طرح اچکائے جیسے وہ اس کا عادی ہو، لیکن بولا کچھ نہیں۔
”تم گھر میں کیسے داخل ہوئے؟“ شاستری نے پوچھا۔
ڈاکو نے ایک کھڑکی کی طرف اشارہ کیا۔ شاستری نے کن انکھیوں سے دیکھا؛ اس کھڑکی کے تالے کے قریب شیشے میں چھوٹا سا گول سوراخ ہو چکا تھا۔ کسی خاص چیز کی مدد سے نہایت صفائی سے شیشہ کاٹا گیا تھا، پھر غالباً انگلی ڈال کر تالا کھول لیا گیا تھا۔
”تم نے یقیناً ہمارے الارم سسٹم کو بھی ناکارہ بنا دیا ہوگا؟“ شاستری نے کہا۔
”ظاہر ہے، میں اپنے کام میں خاصا ماہر ہوں۔“ اس نے سادگی سے جواب دیا۔
”یقیناً، لیکن پھر بھی تم نے تھوڑی بہت کھٹ پٹ ضرور کی ہوگی، جس کی وجہ سے میری پتنی کی آنکھ کھل گئی اور اس نے مجھے تمہارے بارے میں خبردار کیا۔“ شاستری نے بتایا، پھر پوچھا: ”کیا تم تجوریاں بھی کھول لیتے ہو؟“
”بہت کم،“ ڈاکو نے جواب دیا۔ ”اب لوگ رقم تجوریوں میں نہیں، بینکوں میں رکھتے ہیں۔ یہ رواج تقریباً ختم ہو گیا ہے۔“
”خیر، ایسا بھی نہیں ہے۔ تم اس گھر میں چوری کر کے بہت فائدے میں رہتے۔ کیا تمہارے پاس اوزاروں کا تھیلا نہیں ہے؟“
ڈاکو نے دروازے کی طرف دیکھا، لیکن کوئی جواب نہیں دیا۔ دروازے کے قریب کینوس کا ایک خاصا بڑا تھیلا رکھا تھا، جو پھولا ہوا تھا۔
”شاید چاندی کے ظروف تم اس تھیلے میں ڈال چکے ہو؟“ شاستری نے خیال ظاہر کیا۔ جب ڈاکو نے اس کے خیال کی تائید یا تردید نہیں کی، تو اس نے اپنی بات جاری رکھی: ”لیکن ان کی فروخت سے تمہیں کوئی خاص رقم نہیں ملے گی کیونکہ یہ خالص چاندی کے نہیں ہیں۔ اگر تم میری بیوی کے زیورات تک پہنچنے کی کوشش کرو، تو وہ تیس چالیس لاکھ کی مالیت کے ہیں۔“
”ایک رات کی محنت کا یہ معاوضہ کافی ہے۔“ ڈاکو نے جواب دیا۔
شاستری کے ذہن میں اس وقت دھیرے دھیرے ایک منصوبہ پرورش پا رہا تھا۔ اس منصوبے کی روشنی میں وہ اپنی پتنی اور ڈاکو کو قتل کر کے بامراد ہو سکتا تھا۔ اس لیے اس نے محتاط انداز میں بات جاری رکھتے ہوئے کہا: ”میری تجوری میں اس وقت دو لاکھ کی رقم موجود ہے۔“
”میں اس پر آپ کو مبارک باد دے سکتا ہوں۔“ ڈاکو نے سنجیدگی سے کہا۔
شاستری نے ایک لمحے خاموش رہ کر ایک بار پھر اس منصوبے پر غور کیا جو اس کے ذہن میں ابھر رہا تھا۔ شاید وہ منصوبہ اس کے ذہن کے کسی تاریک گوشے میں مہینوں سے موجود تھا۔ وہ نہایت احتیاط سے الفاظ کا انتخاب کرتے ہوئے بولا: ”کچھ شرائط کی تکمیل کے بعد تم چاندی کے ظروف، میری بیوی کے تمام زیورات اور تجوری میں موجود دو لاکھ کی رقم؛ ان سب چیزوں سمیت اس گھر سے ایک اونچا ہاتھ مار کر رخصت ہو سکتے ہو۔“
وہ مشروب کا گلاس ہونٹوں تک لے جاتے ہوئے رک گیا اور مشکوک انداز سے شاستری کو گھور کر بولا: ”میں سمجھا نہیں! تم نے بتایا تھا کہ تمہاری پتنی زیادہ گہری نیند نہیں سوتی اور وہ میری نقل و حرکت کی آواز سن کر بیدار ہو چکی ہے۔ اس کا مطلب ہے، مجھے اگر اس کے زیورات اس کے قبضے سے حاصل کرنے ہوں تو اس کے لیے مجھے زبردستی کرنی ہوگی؟ گویا آپ یہ چاہتے ہیں کہ میں آپ کی پتنی کو موت کی میٹھی نیند سلا دوں؟“ اس کا انداز سوالیہ تھا۔
”ہاں، میری یہی دلی خواہش ہے۔“ شاستری نے جواب دیا۔
”وہ کس لیے؟“ ڈاکو کے لہجے میں تجسس تھا۔
”اس لیے کہ ہم دونوں کے درمیان کوئی ایک ڈیڑھ برس سے تعلقات کشیدہ ہو چکے ہیں۔ نفرت اس قدر بڑھ چکی ہے کہ ایک دوسرے کی صورت تک دیکھنا گوارا نہیں۔ چونکہ اس کے پاس لاکھوں کی رقم، سونے اور ہیرے جواہرات کے زیورات ہیں۔ اس وقت وہ دو تین کروڑ کے اثاثے کی مالک ہے۔ اگر ہم دونوں کے درمیان علیحدگی ہو جاتی ہے تو میں بھکاری بن جاؤں گا، اس لیے چاہتا ہوں کہ وہ مر جائے اور میں قانونی طور پر اس کے اثاثوں کا وارث بن جاؤں۔“
”میرے لیے یہ کام مشکل نہیں، لیکن کیا اس کے سوا کوئی دوسری صورت نہیں ہے؟“
”نہیں، میں تین چار ماہ سے منصوبہ بندی کر رہا ہوں کہ راستے کا پتھر ہٹ جائے، لیکن اس منصوبے میں ایسا کوئی نقص ہے جسے میں نہیں جانتا۔“ اس نے دیانت داری سے اعتراف کیا۔
”آپ کے خیال میں مجھے یہ کام کس طرح کرنا چاہیے؟“
”تم میرے ساتھ اوپر چلو، میں اپنی بیوی کے کمرے کے دروازے پر دستک دوں گا اور اسے بتاؤں گا کہ نیچے کوئی ڈاکو نہیں ہے۔ وہ دروازہ کھول دے گی اور تم اندر گھس جانا۔ تم سمجھ گئے ہوگے کہ آگے کیا کرنا ہے؟“
”سیدھے سادے الفاظ میں کمرے میں گھس کر میں اسے قتل کر دوں؟“
”ہاں، اس کے قتل سے مجھے خوشی ہوگی۔“ شاستری نے کہا۔
”اس دوران آپ کہاں ہوں گے؟“
”میں یہیں اس فرش پر بے ہوش پڑا ہوں گا۔ میں صرف یہ چاہتا ہوں کہ یہ کام مکمل اور بے عیب ہو۔“
”آپ پولیس کو کیا بیان دیں گے؟“
”میرا بیان ہوگا کہ ڈاکو نے ریوالور کے زور پر مجھے تجوری کھولنے پر مجبور کیا، لیکن تجوری خالی تھی، جس پر وہ مشتعل ہو گیا اور اس نے ریوالور کا دستہ مار کر مجھے بے ہوش کر دیا۔ جب میں ہوش میں آنے کے بعد گرتا پڑتا اوپر پہنچا، تو میں نے اپنی پتنی کو مردہ پایا، پھر فوراً ہی پولیس سے رابطہ کیا۔“
”یہ منصوبہ میری سمجھ میں نہیں آ رہا۔“ ڈاکو نے نفی کے انداز میں سر ہلایا۔
”تمہارے سامنے کئی راستے ہیں۔ تم اس طرح کرو گے، جس طرح میں بتا رہا ہوں اور یہاں سے ایک خاصے مالدار آدمی بن کر نکلو گے، یا پھر تم پولیس کی حراست میں یہاں سے رخصت ہو گے اور ایک لمبے عرصے جیل کی ہوا کھاؤ گے۔“
ڈاکو نے ازسرِ نو اس تجویز پر غور کرنا شروع کیا، پھر بولا: ”آپ ٹھیک کہتے ہیں۔“
”یعنی تم یہ کام انجام دینے کے لیے تیار ہو؟“ شاستری نے تصدیق چاہی۔
”پہلے میں دو لاکھ کی رقم ایک نظر دیکھنا چاہتا ہوں۔“ ڈاکو نے جواب دیا۔ ”آپ بتائیں تجوری کہاں ہے؟“
”تم دو مرتبہ اس کے اوپر سے گزر چکے ہو۔“ شاستری نے معنی خیز مسکراہٹ سے کہا۔ ”اس جگہ جہاں شمع دان پڑا ہوا ہے، قالین کا کونا اٹھاؤ۔ اس کے نیچے چوبی فرش میں ایک پینل ہے۔“
ڈاکو نے اس کی بتائی ہوئی جگہ پر پہنچ کر قالین کا کونا اٹھا کر پینل کھولا، تو اسے تجوری نظر آ گئی۔ وہ سر اٹھا کر تحسین آمیز لہجے میں بولا: ”بہت خوب… تم نے بڑا زبردست کام کیا ہے۔ میں تمہاری ذہانت پر عش عش کر اٹھا ہوں۔“
”شکریہ،“ تعریف پر شاستری نے خوش ہو کر کہا، پھر اسے تجوری کا کوڈ بتایا۔
ڈاکو نے گھٹنوں کے بل جھک کر تجوری کھولی، اس میں جھانکا، پھر پلٹ کر استہزائیہ انداز سے بولا: ”معلوم نہیں تم مجھے بیوقوف بنانے کی کوشش کر رہے ہو۔ یہ کام تمہاری پتنی کر چکی ہے۔ وہ پہلے ہی تجوری میں جھاڑو پھیر چکی ہے۔ اس میں تو ایک کوڑی بھی نہیں۔“
شاستری اضطراری انداز سے کرسی سے اٹھ کھڑا ہوا۔ اس کے حلق میں گرہیں پڑ گئیں۔ اسے یاد آیا کہ کبھوری کو تجوری کا کوڈ معلوم نہیں تھا، لیکن اسے پھر خیال آیا کہ وہ ایک مکار عورت ہے، وہ کچھ بھی کر سکتی تھی۔ اس نے غیر محسوس انداز میں ہر بات کا کھوج لگا لیا تھا۔ جب کبھی وہ آرٹ گیلری کے لیے پینٹنگز کی خریداری کے لیے ممبئی جایا کرتا تھا، تب کسی تجوری کے ماہر سے رابطہ کر کے اس نے تجوری کے کوڈ کا پتا چلا لیا ہوگا۔ شاید وہ بھی اس کے لیے گڑھا کھود رہی ہوگی، جس طرح وہ اس کے لیے کھود رہا تھا۔ اس کے دل میں شک و شبہات جنم لینے پر اس نے ایک خفیہ بٹن اس پینل کے پاس لگا دیا تھا کہ کوئی خطرہ محسوس کرنے پر اسے دبا دے، جس کا الارم قریبی تھانے سے منسلک تھا۔ الارم بجتے ہی پولیس تھوڑی دیر میں پہنچ جاتی۔
”مذاق مت کرو۔“ شاستری ڈوبتے دل کے ساتھ تیزی سے اس کے قریب پہنچا۔
ڈاکو نے ایک طرف ہٹ کر اسے جھانکنے کا موقع دیا۔ شاستری نے گھٹنوں کے بل جھک کر تجوری میں جھانکا، تو اسے نوٹوں کے بنڈل دکھائی دیے۔ اس کی رگ و پے میں طمانیت کی لہر دوڑ گئی، لیکن وہ اس سے چند لمحوں سے زیادہ لطف اندوز نہ ہو سکا۔
”تم نے صحیح طرح نہیں دیکھا۔“ شاستری اتنا ہی کہہ پایا تھا کہ اس کی کھوپڑی پر کسی ٹھوس چیز کی زور دار ضرب پڑی۔ درد کی شدید لہر اٹھی اور اس کے ہاتھ سے ریوالور چھوٹ کر فرش پر گر پڑا۔ گرتے گرتے وہ سمجھ گیا تھا کہ ڈاکو نے عیاری سے کام لیا ہے۔ تب اس نے خفیہ بٹن دبا دیا۔ ڈاکو کے علم میں اس کی یہ حرکت نہ آ سکی تھی۔ جب اس نے شاستری کو سنبھلتے دیکھا، تو پوری قوت سے اس کی کھوپڑی کے نچلے حصے پر پے در پے، بہیمانہ انداز میں ضربیں لگا دیں۔ شاستری ساکت و جامد ہو گیا۔ اب وہ اس سنسار میں نہیں رہا تھا۔ ڈاکو نے نبض دیکھ کر تسلی کرنے کے بعد نوٹوں کے بنڈل اس تھیلے میں ڈال لیے جو وہ ساتھ لایا تھا اور ریوالور بھی تھیلے میں ڈال لیا، پھر فاتحانہ انداز میں مسکرایا۔ اس نے جو منصوبہ بنایا تھا، وہ پوری طرح کامیاب رہا تھا۔
گھر سے نکلتے وقت اس نے اوپر جا کر کبھوری کے ساتھ اس کامیابی کا جشن منانے اور زیورات کے بارے میں سوچا تک نہیں تھا کیونکہ کبھوری دو ایک ماہ تک غم منانے کے بعد سدا کے لیے اس کی ہونے والی تھی، جس کے بعد کبھوری کا سارا اثاثہ اس کا ہونے والا تھا، کیونکہ وہ اس کا دوسرا پتی بننے والا تھا۔ پھر ایک ڈیڑھ برس بعد وہ کبھوری کو کسی حادثاتی موت کا نشانہ بڑی آسانی سے بنا سکتا تھا۔
چند قدم چلنے کے بعد وہ ایک دم ٹھٹھک کے رک گیا۔ اسے جیکٹ کی ابھری ہوئی جیب میں کسی چیز کی موجودگی کا احساس ہوا، تو وہ چونک گیا۔ اس نے جیب میں ہاتھ ڈال کر اسے نکالا تو اس کا خون خشک ہو گیا۔ یہ وہ باریک شفاف دستانے تھے جو وہ واردات کرنے سے پہلے پہننا بھول گیا تھا۔ اس کی بھول نے اس کا سپنا، کبھوری اور دولت؛ سب کچھ چھین لیا تھا۔
☆☆☆
کبھوری نے کمرے کے روشندان سے جھانک کر یہ لرزہ خیز ڈراما دیکھا۔ اس نے اپنے آشنا پرکاش سے کہا تھا کہ وہ اس کے پتی کو قتل نہ کرے، بلکہ اسے اس طرح معذور اور اپاہج کر دے کہ وہ بھکاری سے بدتر ہو جائے اور ایک آدھ ماہ میں سسک سسک کر مر جائے۔ وہ اپنے پتی سے انتقام لینا چاہتی تھی، مگر پرکاش نے اس سے کہا تھا کہ محبت اور جنگ میں جس طرح ہر چیز جائز ہوتی ہے، اس طرح دولت کے حصول کے لیے کسی کو قتل کرنا بھی جائز ہوتا ہے۔
کبھوری نے اس واردات کے دوران سوچا تھا کہ پرکاش اس کا پتی بننے کے بعد دولت کے حصول کے لیے اسے بھی قتل کر دے گا۔ وہ ایک سفاک قاتل کی بیوی بننا نہیں چاہتی تھی۔ اب چونکہ وہ دولت مند بیوہ ہو چکی تھی، اسے کیا کمی تھی؟ لہذا اب وہ اپنے آشنا کو اپنانے کی بھول نہیں کرے گی۔ اس نے پولیس کو فون کرنے کے لیے ریسیور اٹھایا ہی تھا کہ پولیس کی گاڑی کا سائرن سنائی دیا، جو ہر لمحہ قریب سے قریب ہوتا جا رہا تھا۔
شاستری نے مرتے مرتے اپنے قاتل کو کیفرِ کردار تک پہنچا دیا تھا۔ اگر وہ خفیہ بٹن دبانا بھول جاتا، تو پھر اس کا قاتل سب کچھ پا لیتا۔