• 📚 لوو اسٹوری فورم ممبرشپ

    بنیادی ڈیل

    وی آئی پی

    5000
    تین ماہ کے لیے
    بہترین ڈیل
    💎

    وی آئی پی پلس

    8000
    چھ ماہ کے لیے
    ٹاپ پیکیج
    👑

    پریمیم

    20000
    چھ ماہ کے لیے

Life Story دیوث .2.فریکچرڈ۔ لوڑا

Woodman

Well-known member
Joined
Jun 11, 2025
Messages
48
Reaction score
1,335
Points
83
Location
Lahore
Gender
Male
،#

قسط 7

میں اپنے دفتر بیٹھا ہؤا تھا کہ میرے موبائل کی
گھنی بجی۔ نامعلوم نمبر سے کال أ رہی تھی اس موبایل کا نمبر خاص الخاص لوگوں کے پاس تھا۔ میں حیران ہو گیا کہ اگر کسی کو نمبر دوں تو اس کا نمبر میرے پاس سیو ہوتا ہے یہ کون ہے ؟
"ہیلو"
"ہیلو، کیا آپ وقار صاحب بول رہے ہیں " ایک متانت بھری آواز آئی۔
"جی، وقار سپیکنگ، آپ کا تعارف ؟"
"میں ریٹائر کرنل جہانگیر بول رہا ہوں، آپ کا نمبر مجھے نوید رابرٹ نے دیا تھا کہ اگر آپ لاہور جائیں تو نوید صاحب کے ریفرینس سے آپ سے رابطہ کر سکتا ہوں"

نوید چند سال پہلے ہمارے ماڈل ٹاؤن والے گھر میں کرایہ دار تھا اس کی بیوی جولیا امریکن سنہرے بالوں والی بلونڈ گوری تھی، ان کے ساتھ ہم نے کچھ عرصہ پارٹنر سویپ، تھری سم ،فورسم وغیرہ کیا ہوا تھا ، پھر یہ کپل امریکہ شفٹ ہو گیا تھا، اس کے بعد رابطہ ٹوٹ گیا تھا"

جولیا کی گولڈن بالوں والی پھدی کا تصور آتے ہی میرا لوڑا شہوت سے ٹن ہو گیا۔
" اپ نوید کو کیسے جانتے ہیں ؟نوید سے آپ کی کہاں ملاقات ہوئی ؟"
"دراصل میری رہائش تو اسلام آباد میں ہے لیکن نوید سے میری ملاقات ڈیلاس میں ہوئی تھی۔ ہم میاں بیوی سیر کرنے گیے ہؤے تھے، نوید صاحب بہت زندہ دل شخص ہیں، اور ان کی بیگم کی تو کیا ہی بات ہے، انہی سے لاہور میں اپنے ہم خیال لوگوں کے لئے رہنمائی چاہی تھی تو انہوں نے کمال شفقت سے آپ کا نمبر دے دیا۔،"

اس اچانک افر پر گڑبڑا گیا ۔ لیکن۔ چونکہ پرانا کھلاڑی تھا اور کرنل جہانگیر نے جو ریفرنس دیا تھا وہ بھی قابل اعتبار تھا۔ ویسے بھی چیک کرنے میں کیا حرج ہے ، ہمیں ویسے بھی ہم خیال جوڑوں کی تلاش رہتی ہیں ہے،
میں نے سیکنڈوں میں جواب سوچ لیا ۔

"دراصل آپ جانتے ہیں کہ ایسی ملاقات کا فیصلہ میں اکیلے نہیں کر سکتا، مجھے آپنے پارٹنر کی رائے لینی ہو گی، ویسے آپ اپنا بتائیں کہ آپ کی ڈیٹیل کیا ہیں اور پروگرام کب کا، اور کہاں کا ہے"
" وقار صاحب ، میری عمر پچپن سال ہے ، میری بیوی کی عمر تیس سال ہے، ہم دو دن کے لیئے لاہور میں ہیں یعنی آج اور کل ، ہم ہوٹل ون میں ٹھہرے ہوئے ہیں،اور ہمارا پروگرام پارٹنر سویپ کا پے "

"ٹھیک ہے کرنل صاحب ،اپ مجھ سے کل اسی وقت رابطہ کیجیے گا، میں آپ کو صورتحال سے آگاہ کر دوں گا"
اس کے ساتھ الوداعی کلمات کے ساتھ کال ختم کی۔
میرا انگ انگ جوش سے بھر گیا تھا۔
اس لایف سٹایل کا یہی مزہ ہے۔ کہ کب کہاں کس سے کیا ڈیل ہو جاے پتہ ہی نہیں چلتا ہے
دفتر میں جلدی جلدی کام ختم کیا، کچھ کوٹیشن ڈکٹیٹ کروا کر فیکس کروائیں ، کچھ سورسنگ ڈیلے ا رہا تھا اسے فکس کروایا۔ سارے کام نپٹا کر گھر پہنچا۔

روبی کو جب کرنل جہانگیر کی کال کے بارے میں بتایا تو روبی بھی پارٹنر سویپنگ کا سن کرپرجوش ہو گئی، اور کرنل صاحب سے ملاقات کے لیے فورآ سے پہلے راضی ہوگئی۔ ہم نے ملاقات کیلئے کچھ صلاح مشورہ کیا۔ کچھ جزییات طے کیں
کرنل صاحب کی کال کی بدولت اس رات ہم میاں بیوی نے فل جذباتی چدائی کی۔۔۔۔
اگلے دن آفس میں تھا کہ کرنل صاحب کا فون آ گیا۔اداب و تسلیمات کے بعد بولے ۔

" پھر ہمارے پروپوزل کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟"
" کرنل صاحب ، ایسا ہے کہ ہم آج پہلے کسی ریسٹورنٹ میں ملتے ہیں۔ پھر آگے کا پروگرام وہیں پر ڈسکس کرتے ہیں"
اور دیکھئے ابھی کچھ بھی فائینل نہیں ہے، آپ یا ہم انکار کر سکتے ہیں۔ نو ہارڈ فیلنگ


" وقار صاحب کوئی مسلئہ نہیں،میں سمجھ سکتا ہوں۔۔ بلکہ مجھے آپ سے معزرت بھی کرنی تھی کہ ایسے آپ کو جلد بازی میں ملاقات کرنی پڑ رہی ہے، ورنہ ایسے معاملات میچور ہوتے ہوتے کئی ہفتے کے جاتے ہیں"

" نہیں کرنل صاحب، آپ تو شرمندہ کر رہے ہیں"
کال پر ہم نے ایسے کچھ دیر مزید گفتگو کے دوران جگہ اور وقت کا انتخاب کیا۔"

وقت مقررہ پر ہم ریسٹورنٹ پہنچ گیے۔ میں نے شلوار قمیض پہنی ہوئی تھی جبکہ روبی حسب معمول بلیک برقعے میں ملبوس تھی۔کچھ ہی دیر میں کرنل جہانگیر پینٹ کوٹ پہنے ہوئے ایک حسینہ کے ہمراہ آن پہنچے ، لڑکی فل سکرٹ، بلاوز میں ملبوس تھی حسینہ شکل سے ہزارہ لگ رہی تھی لیکن بلا کی خوبصورت، منیشا کوئرالہ کی شبیہہ تھی بلاؤز اس کی چھاتیوں کو بمشکل سنبھالے ہوئے تھا۔ ہر قدم ہر چھاتیوں کا زیرو بم واضح تھاجبک اسکرٹ اس کے کولہوں کی گولاییوں کو نمایاں کر رہا تھا۔ریسٹورنٹ میں موجود ہر مرد نے اس حسینہ کو ہوسناک نظروں سے دیکھا، جبکہ عورتوں نے حسد بھری نگاہوں سے دیکھا
۔ہمیں ایک دوسرے کو ڈریس کوڈ سے پہچاننے میں دیر نہیں لگی،."
رسمی کلمات و تعارف کے بعد ہم نے کھانا منگوایا ۔
اور گفتگو شروع کی
جس میں کرمل صاحب نے بتایا کہ ان کی پلوشہ سے یہ دوسری شادی دس سال سے ہے، پہلی بیوی سے طلاق ہو چکی ہے
اور دوسری شادی کے دوسرے سال سے ہی گروپ فن کے شوقین ہیں۔

ہماری کچھ تفصیل نوید رابرٹ کے ذریعے انہیں پہلے ہی پتہ تھی۔ کچھ ہم نے استفسار پر مزید بتا دی۔
کھانا آنے پر جب روبی نےنقاب کشائی کی تھی کرنل صاحب کا منہ کھلا کا کھلا رہ گیا۔ اس سے پہلے وہ برقعے میں قید روبی کے جسمانی خدوخال کو گرسنہ نگاہوں سے دیکھ رہے تھے۔
بہرحال کھانے کے بعد میں روبی سے نگاہوں سے پوچھا کہ کیا پروگرام ہے، تو اس نے آنکھ میچ کر یس کیا۔
تو میں نے سب کو مخاطب کیا۔
"کیا خیال ہے آگے کا پروگرام ہوٹل کے کمروں میں نہ جاری رکھا جائے ؟"

تو کرنل جہانگیر بولے
"جی ، جی بالکل ، کیوں پلوشے ، ٹھیک ہے ناں۔"
میں نے پلوشہ کی طرف دیکھا تو اس نے فطری حیا سے نظریں چرا لیں اس کے گال شرم سے تمتما رہے تھے۔
تبھی کرنل صاحب دھیمے لہجے میں بولے،
"ہماری بیگم کا اسٹمنا بہت زیادہ ہے، ان کے پارٹنر کے تین راؤنڈ ہوتے ہیں تو بمشکل ان کا ایک راؤنڈ ہوتا ہے، میں تو ان کا ساتھ دینے کے لیئے آمریکا سے یہ گولی لایا ہوں، اس کا فایدہ یہ ہے کہ بندہ اگلے راؤنڈ کے لئے جلد تیار ہو جاتا ہے"
یہ کہہ کر انہوں نے اپنی جیب سے ڈبیا نکالی ،
اس میں سے نیلے رنگ کی گولی نکالی ، اور ایک پانی سے
نگل لی۔ ایک گولی مجھے تھمائی ، میں انکار کیا تو زبردستی میری جیب میں ڈال دی ۔
اس کے بعد میں نے بل منگوایا ، تو کرنل جہانگیر نے زبردستی بل دے دیا کہ میں عمر میں بڑا ہوں ںل تو میں ہی دوں گا
میں نے بھی زیادہ اصرار نہیں کیا،

کھانے کے بعد وہ سمجھ رہے تھے کہ شاید ہم ان کے ہوٹل جاییں گے
لیکن میں نے احتیاطاً پہلے ہی ریسٹورینٹ سے متصلہ ہوٹل میں دو کمروں کی بکنگ کروائی ہوئی تھی۔
یہ پانچ فلور کا چھوٹا سا لگژری ہوٹل تھا جس کے فرنشڈ سویٹ اپنے انٹیریئر کی خوبصورتی اور سجاوٹ کی وجہ سے امراء میں مقبول تھے ۔
خاص طور کینوپی بیڈ اور باتھ روم میں جاکوزی کی وجہ سے نوبیاہتا جوڑے اپنی سہاگ رات یا ہنی مون کے لیئے پسند کرتے تھے۔
ہوٹل کا مالک میرا دوست تھا اس لئے ہوٹل مینیجراور عملہ سارے بہت عزت کرتے تھے۔
میں نے اپنے لئے تیسرے فلور اور روبی کے لئے دوسرے فلور پر سوئٹس بک کروانے تھے۔ دراصل اکھٹے دستیاب نہیں تھے۔ ہم ہوٹل پہنچے، عملے نے تپاک سے استقبال کیا۔ رہسپشنٹ نے ہمیں کمروں کی چاپیاں حوالے کیں۔ عملے نے رہنمائ کے لیے ساتھ آنا چاہا ، لیکن ہمیں سب پتہ تھا لہذا شائستگی سے انہیں منع کرتے ہوے سیدھا لفٹ میں چڑھ گیے۔
دوسرے فلور پر روبی اور کرنل صاحب لفٹ سے اتر گیے
جبکہ ہم تیسرے فلور پر پہنچے ۔
اپنے کمرے کا دروازہ کھولا، کھولتے ہی اندر سے "ڈونٹ ڈسٹرب" کا مارک لے کر دروازے کے بیرونی ہینڈل میں پھنسا دیا۔
سویٹ کے ایک طرف بڑا سا گول بیڈ تھا جس پر فلمی سٹایل سے کینوپی نیچے ا رہی تھی جس نے بیڈ کو ڈھانپا ہوا تھا ۔
ایک سائڈ پر واش روم تھا واش روم اور بیڈروم کی درمیانی دیوار ٹنٹڈ شیشے کی تھی واش روم میں جاکوزی ،شاور وغیرہ سب عالیشان تھے۔ واش روم اور بیڈ کے درمیان صوفے لگا کر کچھ سٹنگ ایریا بنایا ہوا تھا
اسی جگہ فریج بھی پڑی تھی جو چاکلیٹس ، اور جوسز وغیرہ سے بھری ہوئی تھی


میں نے پلوشہ کو مخاطب کیا،

"جی میم کیسی ہیں اپ؟"
اور کیا پروگرام ہے ؟
پلوشے کیطرف دیکھا تو وہ فل موڈ میں آ چکی تھی۔ شہوت سے آنکھوں میں لال ڈورے پڑ گئے تھے ۔
گورا چہرہ ہوس کی بھوک سے تمتا کر سرخ ہو چکا تھا ۔

اپنے ہونٹوں کو دانتوں میں کاٹتے پلوشہ بھاری لہجے میں بولی
"ابھی بتاتی ہوں میں"

میں اس کے رنگ دیکھ کر دنگ ہی رہ گیا
کمرے میں داخل ہوتے ہی پلوشہ نے دروازہ بند ہوتی ہی اپنی جون ہی بدل لی۔
اس کے چہرے پر چھائی معصومیت یکایک غایب ہو گئیں نکھوں کی پتلیاں سکڑ گییں اپنے گلابی ہونٹوں پر کسی طوائف کی کہ طرح شہوت سے زبان پھیری اور مجھ پر جھپٹ پڑی
میرے ہونٹوں کو اپنے ہونٹوں میں دبوچ کر مجھے گردن سے پکڑے گھسیٹتے ہوئے بیڈ پر گرا کر اوپر چڑھ گیی۔۔
میرے چہرے کے بوسے لیتے ، ہونٹوں کو کاٹتے ۔
گردن کو اپنے دانتوں سے بھنبھورتے نیچے میرے گریبان سے سینے کو کاٹنے چوسنے لگی۔
پھر میری قمیض بنیان اتار پھینکی ۔
میرے سینے کے بالوں میں اپنے گال رگڑنے لگی
میرے نپل کو چوس ، چاٹ رہی تھی۔
پلوشہ نے کس وقت بلاؤز اتارا، اس کی بے تابیوں میں پتہ ہی نہیں چلا۔
بلاؤز اترتے ہی گورے بدن پر سرخ برا میں قید مکھن کے گولوں کی اتھل پتھل نے میرے تن بدن میں آگ لگا دی تھی۔
میں نے اسے اپنے باوزوں کے حلقے میں لیا۔اور گھما کر نیچے لے ایا، برا کو کھسکا کر اوپر کیا۔ اور شفاف بے داغ گورے مموں پر جنگلیوں کی طرح پل پڑا، چوس چوس کر انہیں لال و لال کر دیا۔
اس کے سنگترے شہوت سے اکڑے ہوئے تھے۔
سختی سے شفاف مموں پر مہین نیلی نسیں واضح ہو رہی
تھیں۔
(خیر یہ بعد میں پتہ چلا کہ محترمہ نے سلیکون لگوائی ہوئی تھی)
میں ان پیار کے پیالوں پر ٹوٹ پڑا۔
دانتوں سے چھاتیوں پر لو بائیٹس کی مہریں ثبت کرتا رہا۔
پھر ناف کے گڑھے کو زبان کی نوک سے کریدتا چشمہ محبت کی جانب چلا۔

جلدی سے اسکرٹ کے بٹن کھولے، اسکرٹ اتارا۔
نیچے لیس والی پینٹیز دیکھ کر دل باغ باغ ہو گیا۔
جالی والی سرخ پینٹز میں فقیر کو لکیر نظر آئی۔ تو چوت کے دیوانے نے وہیں جالی سمیت چوت کو دانتوں میں دبوچ لیا
میرے اس غیر متوقع وار سے پلوشہ ٹڑپ کر میرے سر کو تھامے آٹھنے کی کوشش کی ۔
میں نے وہیں اس کے مموں کے نپلز کو مڑوری دی تو دوبارا پیچھے جا گری۔
میں نے اپنی شلوار کا ناڑا کھولا۔
شلوار تھوڑی سی کھسکا کر اپنا پھنکارتا لوڑا نکالا ۔
ایک ٹانگ اٹھا کر پینٹیز کھسکا کر شفاف بے داغ گلابی گیلی چوت میں لوڑا گھسیڑ دیا۔
چوت تر بتر تھی۔ لوڑا پھسلتا گھس گیا۔
پلوشے نے ایک لمبی گہری کراہ نکال کر شاباشی دی۔
میرا موٹا لنڈ چوت میں پیوست ہو گیا
کھینچا پھر ٹھونسا، دو چار گھسے لگا کر پلوشے کو تسلی دی، کہ یہاں چدائی کو کام تسلی بخش ہو گا
پھر ایک ٹانگ اپنے کندھے پر رکھتے ہوے ،
دوسری ٹانگ اپنے گھٹنوں کے درمیان لا کر
پلوشے کو سائڈ کے بل لٹا کر اپنے دھکوں کی مشین سٹارٹ کر دی۔
پہلے بیٹھ کر پھر اس کے اوپر جھکتے جھکتے
اسکا پیر اسکے جسم سے لگا کر فرنچ کسنگ کرتے ہوے لنڈ کی وہ ضربیں لگائیں کہ
پلوشے
اویی اویی کر اٹھی۔
اممم ،ہمم کرتے
اس کے حلق سے لذت بھری کراہیں ہلا شیری دے رہی تھی۔
چند منٹ کی نان اسٹاپ چدائی سے ہی اس کے جسم میں جھٹکے لگنے شروع ہو گئے ۔
بسس۔رککک۔ صبررر۔۔
وہ آرگزم میں بڑبڑا رہی تھی
لیکن میں نے چدائی جاری رکھی۔
اب میں نے دونوں ٹانگوں کا وزن اپنے کندھوں پر رکھ کر اسے اتنا دہرا کر دیا کہ اس کی پیر اس کے کانوں کے پیچھے جا لگے
اور چوت کا رخ چھت کی طرف ہو گیا
اب اس کے کھلے چوتڑوں پر لیٹ کر لنڈ سے ایسے ظالمانہ اسٹروک لگائے کہ
کچھ دیر میں ہی پلوشے کو اتنا زور سے آرگزم ہوا کہ اس کی ٹانگیں میرے سے چھوٹ گئیں
لنڈ چوت سے نکل ایا۔
وہ سائڈ پر اکھٹی ہو کر اپنے ہاتھ زیر ناف رکھے کانپنے لگی ۔


جاری ہے۔۔
 

Create an account or login to read stories

You must be a member in order to leave a comment

Create account

Create an account on our community. It's easy!

Log in

Already have an account? Log in here.

New posts
Back
Top