- Moderator
- #1
جن دنوں میری عمر پندرہ برس تھی، خالہ مجھے اپنے گھر لے گئیں۔ وہ لاہور میں رہتی تھیں، قریب ہی ان کے رشتے داروں کا گھر تھا، جن کی بیٹی فوزیہ خالہ کے گھر آتی جاتی تھی۔ یوں اس کے ساتھ میری دوستی ہو گئی اور پھر میں بھی ان کے گھر جانے لگی۔
فوزیہ کا بڑا بھائی کاشف بہت حسین تھا۔ میں چوری چھپے اس میں دلچسپی لینے لگی، مگر جب وہ میرے سامنے آتا تو میں شرم کے مارے اٹھ کر چلی جاتی۔ یونہی کئی دن گزر گئے اور میں کاشف سے بات نہ کر سکی۔ انہی دنوں عید آگئی۔ مجھے چاند رات کو چوڑیاں منگوانی تھیں۔ فوزیہ نے کہا: “کاشف شام کو میری چوڑیاں لینے جائے گا، تم اپنے ہاتھ کی ایک چوڑی دے دو، وہ سائز دیکھ کر لے آئے گا۔” میں نے فوزیہ کو رقم اور اپنی کلائی سے ایک چوڑی اتار کر دے دی۔ رات کو فوزیہ چوڑیوں کا ڈبہ لائی اور مجھے تھما دیا۔ میں نے خوشی خوشی ڈبہ کھولا۔ چوڑیاں ایک کاغذ میں لپٹی ہوئی تھیں، نکال کر دیکھیں تو وہ بہت پیاری تھیں۔ فوزیہ نے کہا: “تمہاری باقی رقم بھی ڈبے میں ہے۔” یہ کہہ کر وہ چلی گئی تو میں نے رقم نکالنے کے لیے ڈبہ الٹ دیا، مگر اس میں سے بقایا رقم کے بجائے پورے روپے برآمد ہوئے۔ ساتھ ہی ایک رقعہ تھا، میں نے اسے کھول کر پڑھنا شروع کیا، لکھا تھا:
“جب سے تم آئی ہو، میں نے بہت کوشش کی ہے کہ تم سے بات کروں، مگر تم بھاگ جاتی ہو۔ ایک چھوٹی سی فرمائش ہے کہ مجھے اپنے دل میں تھوڑی سی جگہ دے دو۔ ان چوڑیوں کو عید کا تحفہ سمجھ لو اور دیکھو مجھے مایوس نہ کرنا۔ فقط، کاشف۔”
میں بے حد پریشان ہوگئی۔ خط سے زیادہ عید کے اس تحفے کی فکر تھی کہ اب کیا کروں؟ اگر چوڑیاں رکھ لیتی ہوں تو کاشف سمجھے گا کہ میں تحفے قبول کرنے والی (آسان) لڑکی ہوں، اور اگر واپس کروں تو کیسے؟ راز فاش ہونے کا بھی ڈر تھا۔ فوزیہ سے کیسے کہتی کہ تمہارے بھائی نے ساری رقم واپس کر دی ہے؟ بات پھیل سکتی تھی۔ کاشف مجھے اچھا لگتا تھا، اس لیے میں اسے بدنام کرنا نہیں چاہتی تھی۔ کافی سوچ بچار کے بعد میں نے چوڑیاں رکھ لیں اور خط پڑھ کر پھاڑ دیا۔ میں نے سوچا کہ اس معاملے کو کسی پر ظاہر نہ کرنا ہی بہتر ہے۔ خالہ جان ویسے ہی ذرا “کچی” طبیعت کی تھیں، ان کے پیٹ میں کوئی بات نہیں پچتی تھی؛ اگر ان سے کہتی تو شور مچا دیتیں اور ہر کسی کا سکون غارت کر ڈالتیں۔
اس واقعے کے بعد میں ڈرنے لگی، لیکن دل میں ایک بے چینی سی رہنے لگی۔ شاید کاشف کی بھی یہی حالت تھی۔ خط لکھنے کے بعد وہ جواب کا منتظر تھا، لیکن میں اسے دیکھتے ہی بھاگ جاتی تھی۔ وہ بیچارہ عجیب شش و پنج میں تھا۔ اچانک خالہ بیمار ہو گئیں اور انہیں اسپتال میں داخل کرنا پڑا۔ خالو اور خالہ زاد بھائی ان کے پاس اسپتال میں ہوتے تھے۔ کاشف ان کا کھانا پہنچاتا تھا۔ اس دوران فوزیہ آئی اور کہا: “کھانا ٹفن میں ڈال دو، کاشف اسپتال دینے جائے گا۔” یوں وہ صبح و شام کھانا لینے آنے لگا اور ایک دن اسے مجھ سے بات کرنے کا موقع مل ہی گیا۔ کہنے لگا: “میرا تحفہ قبول کرنے کا شکریہ۔ مجھے تو ڈر تھا کہ کہیں تم ہنگامہ ہی نہ کھڑا کر دو۔” اب میرے دل میں اس کے لیے جگہ بن گئی تھی۔ خالہ جب تک اسپتال رہیں، میری کاشف سے خوب باتیں ہوتی رہیں۔ جب وہ ٹھیک ہو کر گھر آئیں تو میرا فوزیہ کے گھر آنا جانا اور بڑھ گیا۔
ایک روز ہم چھت پر بیٹھے باتیں کر رہے تھے کہ کاشف کی امی نے ہمیں دیکھ لیا۔ میں تو فوراً اٹھ کر آ گئی، لیکن کاشف کی خوب شامت آئی۔ اس کے باوجود ہم نے رابطہ ترک نہ کیا۔ جب کاشف کی ماں نے دیکھا کہ ہم باز نہیں آ رہے، تو انہوں نے خالہ سے میری شکایت کر دی۔ خالہ نے مجھے بہت ڈانٹا اور میرا کاشف کے گھر جانا بند کر دیا۔ ایک ماہ تک میرا کاشف سے سامنا نہ ہو سکا۔ میرے دل پر اتنا بوجھ تھا کہ بیان نہیں کر سکتی۔ آخر تنگ آ کر میں خود ان کے گھر چلی گئی اور کسی کی پروا کیے بغیر کاشف سے باتیں کرنے لگی۔ اس روز ہم نے جی بھر کر باتیں کیں۔ جیسے ہی خالہ کو اس کا علم ہوا، وہ آگ بگولہ ہو گئیں اور انہوں نے میری خوب پٹائی کی۔ کاشف کی امی کو پتا چلا کہ خالہ نے مجھے پیٹا ہے، تو انہوں نے آ کر خالہ کو سمجھایا اور کہا کہ اس طرح بات مزید بڑھے گی، بہتر یہی ہے کہ تم شمسہ کا رشتہ کاشف کے لیے دے دو۔ خالہ نے حامی بھر لی۔ یوں ڈیڑھ سال بعد خالہ مجھے میرے والدین کے گھر لے آئیں اور امی کو تمام صورتحال سے آگاہ کیا۔
ان دنوں میں بہت پریشان تھی۔ میں نے کھانا پینا چھوڑ دیا تھا اور ہر وقت اداس رہتی تھی۔ آخر کار ابو بھی مان گئے۔ کاشف خالہ کی نند کا بیٹا تھا، اس لیے رشتہ طے ہو گیا اور انہوں نے آ کر میری اور کاشف کی منگنی کر دی۔ میں اس وقت کتنی خوش تھی، جیسے دونوں جہان کی خوشیاں مجھے مل گئی ہوں۔ ہماری منگنی کو دو ماہ گزر چکے تھے۔ ہم عید قریب آنے پر توقع کر رہے تھے کہ وہ میرے لیے عید کا جوڑا لائیں گے۔ مگر عید سے دو دن پہلے خالہ آئیں اور عید کا جوڑا لانے کے بجائے میری منگنی کی انگوٹھی واپس کر گئیں۔ انہوں نے امی سے کہا: “لڑکا آوارہ ہو گیا ہے، ہر لڑکی کو تنگ کرتا ہے، وہ ہماری شمسہ کے لائق نہیں ہے۔” امی نے کاشف کو دیکھا ہوا تھا، انہوں نے بہت اصرار کیا کہ ہم منگنی نہیں توڑنا چاہتے، لڑکا ایسا نہیں لگتا اور شاید آپ کو کوئی غلط فہمی ہوئی ہے۔ خدا جانے خالہ کو کس بات کا غصہ تھا، مگر انہوں نے ایک نہ سنی اور انگوٹھی لے کر چلی گئیں۔ وہاں جا کر انہوں نے انگوٹھی کاشف کی ماں کو واپس کر دی اور جھوٹ بول دیا کہ لڑکی نے خود جواب دے دیا ہے اور وہ یہ منگنی توڑ کر میرے بیٹے نصیر سے شادی کرنا چاہتی ہے۔
جب اس بات کا علم کاشف کو ہوا، تو اس نے میرے نام ایک آخری خط لکھا اور اسے خالہ کے حوالے کر کے گھر سے چلا گیا۔ اگلے دن پتا چلا کہ اس نے خودکشی کر لی ہے۔ جب اس کی موت کی خبر ملی تو میں صدمے سے بے ہوش ہو گئی۔ اس کے بعد میرا جو حال ہوا، وہ نہ پوچھیے۔ میں تین ماہ تک بستر سے لگی رہی اور اپنی تقدیر پر آنسو بہاتی رہی۔ قسمت کی ستم ظریفی دیکھیے کہ منزل قریب آ کر پھر دور ہو گئی۔ اس صدمے کا میرے دل و دماغ پر ایسا اثر ہوا کہ میں پاگلوں جیسی ہو گئی۔ اکیلی بیٹھی خود سے باتیں کرتی تھی، نہ کھانے کا ہوش تھا نہ پینے کا۔
رفتہ رفتہ حقیقت ہم پر کھلی۔ جب خالہ کے بیٹے (نصیر) کو پتا چلا کہ میری منگنی کاشف سے ہو گئی ہے، تو اس نے اپنی ماں سے سخت احتجاج کیا کہ “آپ نے یہ کیا کیا؟ میں شمسہ کو پسند کرتا تھا اور آپ نے اس کا رشتہ کہیں اور کر دیا!” ماں نے سمجھایا کہ اب بات آگے بڑھ چکی ہے تم کسی اور کو پسند کر لو، مگر وہ نہ مانا۔ اس نے کہا: “یہ دل کا معاملہ ہے، کوئی کھیل نہیں کہ میں اپنی پسند بدل لوں۔ یہ منگنی ختم کریں، میں شمسہ کو کسی اور کا نہیں ہونے دوں گا۔” بیٹے کے اصرار سے مجبور ہو کر خالہ نے یہ ظالمانہ قدم اٹھایا تھا۔ وہ بھی نہیں جانتی تھیں کہ کاشف یہ صدمہ برداشت نہ کر سکے گا اور جان سے گزر جائے گا۔ اگر وہ جانتیں تو شاید کبھی ایسا نہ کرتیں۔
جو ہونا تھا وہ ہو گیا، سال بھر تک میں گم صم رہی، پھر وقت نے زخم بھرنا شروع کیے۔ اب میں دوبارہ زندگی میں دلچسپی لینے لگی تھی، مگر دل ہر وقت اداس رہتا۔ گھر والوں نے دیکھا کہ میں سنبھل گئی ہوں تو انہوں نے دوبارہ میری شادی کا ذکر چھیڑا۔ میں کافی دن انکار کرتی رہی، مگر جب ماں نے جان دینے کی دھمکی دی تو میں سوچنے پر مجبور ہو گئی کہ اس میں بیچاری ماں کا کیا قصور ہے؟ آخر میں نے کہہ دیا کہ جو آپ کی مرضی۔ ایک دن خالہ دوبارہ ہمارے گھر آئیں اور وہی منگنی کی انگوٹھی ساتھ لائیں، جو اب ان کے اپنے بیٹے نصیر کی طرف سے تھی۔ دو ماہ بعد نصیر سے میری شادی ہو گئی۔
میں بیاہ کر لاہور خالہ کے گھر آگئی۔ وہ گھر جو مجھے کبھی بہت اچھا لگتا تھا، آج میں ہمیشہ کے لیے وہاں آ تو گئی تھی لیکن اب میرے پاس وہ خواب نہیں تھے جن سے انسان کی دنیا رنگین ہوتی ہے۔ میں اس وقت ایک تھکے ہوئے مسافر کی مانند تھی جو صحرا میں خاردار جھاڑی کی چھاؤں کو ہی غنیمت سمجھ کر وہاں پڑاؤ ڈال لیتا ہے۔ میری روح غموں کے صحرا کو پار کرتے کرتے زخمی ہو چکی تھی۔ میں آبلہ پا تھی اور بہت تھک چکی تھی۔ اب میں صرف سکون چاہتی تھی اور ایک ایسی زندگی جہاں کوئی مجھ سے کچھ نہ کہے، کوئی فرمائش نہ کرے۔ میں دلجوئی کی طالب تھی جو کاشف کا غم بھلانے میں میری مدد کرے، مگر نصیر بہت خود غرض ثابت ہوا۔ اسے مجھ سے محبت نہیں تھی بلکہ مجھے پانے کی ایک ضد تھی، ورنہ محبت کرنے والے ایسا سلوک نہیں کرتے۔ شادی کے دوسرے دن ہی اس نے اپنا اصل رنگ دکھا دیا اور مجھے طعنے دینے لگا۔ بات بات پر کہتا: “تمہیں یہ غم بھولنا ہی ہو گا کیونکہ تمہارا چاہنے والا کاشف مر چکا ہے۔” پہلے پہل خالہ ٹھیک رہیں، پھر وہ بھی طعنے بازی پر اتر آئیں۔ کہتیں: “اے لڑکی! نئی دلہن ہو، یہ کیا سر جھاڑ منہ پہاڑ بنی بیٹھی ہو؟ مرنے والا مر گیا، اب اس کا ماتم کب تک کرو گی؟ اب ماضی کے قصے بھول جاؤ۔”
میں تو سمجھی تھی کہ وہ میرا دکھ بانٹیں گے، مگر انہوں نے تو لمحہ بہ لمحہ مجھے کاشف کا غم یاد دلانے کی ٹھان لی تھی۔ جو باتیں میں ان کی محبت پا کر شاید بھول جاتی، وہ انہوں نے طعنوں کے ذریعے میرے ذہن میں تازہ رکھیں۔ برداشت کی بھی ایک حد ہوتی ہے۔ جن سے غمگساری کی تمنا تھی، جب وہی ستانے لگے تو میرے صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا اور میں نے میکے جانے کا فیصلہ کر لیا۔ میں نے عہد کیا کہ اب اگر یہاں سے گئی تو دوبارہ ان سنگدلوں کے گھر لوٹ کر نہیں آؤں گی۔ ایسا ہی ہوا۔ امی بیمار ہوئیں تو انہوں نے فون کیا کہ شمسہ کو بھیج دو، میں اس کے لیے اداس ہوں۔ نصیر مجھے امی کے پاس چھوڑ آیا۔ میں نے وہاں جا کر امی ابو کو سب بتا دیا اور صاف کہہ دیا کہ اب میں اس جہنم میں واپس نہیں جاؤں گی کیونکہ وہ ہر وقت مجھے ایک مردہ شخص کے طعنے دیتے ہیں۔
دس دن بعد نصیر اور خالہ مجھے لینے آئے۔ ابو نے انہیں آڑے ہاتھوں لیا اور کہا کہ “اب تم لوگ میری بیٹی کا خیال چھوڑ دو، اسے طلاق دے دو یا پھر عدالت میں ملنا۔” ابو نے یہ فیصلہ جذبات میں نہیں کیا تھا، وہ ان لوگوں کی رعونت اور میرا دکھ سمجھ گئے تھے۔ نصیر ضدی تھا اور ابو بھی جو ٹھان لیتے، کر کے رہتے تھے۔ دونوں کا خوب مقابلہ ہوا اور میں خاموش تماشائی بنی رہی۔ آخر کار ابو جیت گئے اور نصیر کو ہتھیار ڈالنے پڑے۔ اس نے مجھے طلاق دے دی اور میں ہمیشہ کے لیے اس قید سے آزاد ہو گئی۔
میں نے دوبارہ کالج میں داخلہ لیا، بی اے اور بی ایڈ کرنے کے بعد ایک اسکول میں ملازمت اختیار کر لی۔ کافی عرصے تک زندگی یوں ہی گزرتی رہی۔ ایک دن ابو نے مجھ سے کہا: “بیٹی! ماں باپ کو بیٹیاں بہت پیاری ہوتی ہیں لیکن وہ ہمیشہ ساتھ نہیں رہتے، بیٹیوں کو اپنے گھر جانا ہی ہوتا ہے۔ میں نے تمہارے لیے ایک اچھا رشتہ ڈھونڈ لیا ہے۔” میں نے ان کی خوشی کی خاطر سر جھکا دیا۔ ابو نے میری شادی اپنے ایک دوست کے بیٹے “عابد” سے کر دی۔ یہ عابد کی دوسری شادی تھی، ان کی پہلی بیوی انگریز تھی جس نے طلاق لے کر بچے ان کے حوالے کر دیے تھے۔ عابد ایک بہترین انسان ثابت ہوئے۔ شادی کے بعد وہ مجھے کینیڈا لے گئے جہاں میں نے دس برس گزارے اور ان کے دونوں بچوں کو ماں کا پیار دیا۔ اللہ نے مجھے بھی اولاد کی نعمت سے نوازا۔
آج میں اپنے بچوں کے ساتھ بہت خوش ہوں اور میرا گھر رشکِ جنت ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ کوئی جگہ بذاتِ خود جنت یا جہنم نہیں ہوتی، یہ انسان ہی ہوتے ہیں جو اپنے رویوں سے کسی جگہ کو جنت یا جہنم بنا دیتے ہیں۔
فوزیہ کا بڑا بھائی کاشف بہت حسین تھا۔ میں چوری چھپے اس میں دلچسپی لینے لگی، مگر جب وہ میرے سامنے آتا تو میں شرم کے مارے اٹھ کر چلی جاتی۔ یونہی کئی دن گزر گئے اور میں کاشف سے بات نہ کر سکی۔ انہی دنوں عید آگئی۔ مجھے چاند رات کو چوڑیاں منگوانی تھیں۔ فوزیہ نے کہا: “کاشف شام کو میری چوڑیاں لینے جائے گا، تم اپنے ہاتھ کی ایک چوڑی دے دو، وہ سائز دیکھ کر لے آئے گا۔” میں نے فوزیہ کو رقم اور اپنی کلائی سے ایک چوڑی اتار کر دے دی۔ رات کو فوزیہ چوڑیوں کا ڈبہ لائی اور مجھے تھما دیا۔ میں نے خوشی خوشی ڈبہ کھولا۔ چوڑیاں ایک کاغذ میں لپٹی ہوئی تھیں، نکال کر دیکھیں تو وہ بہت پیاری تھیں۔ فوزیہ نے کہا: “تمہاری باقی رقم بھی ڈبے میں ہے۔” یہ کہہ کر وہ چلی گئی تو میں نے رقم نکالنے کے لیے ڈبہ الٹ دیا، مگر اس میں سے بقایا رقم کے بجائے پورے روپے برآمد ہوئے۔ ساتھ ہی ایک رقعہ تھا، میں نے اسے کھول کر پڑھنا شروع کیا، لکھا تھا:
“جب سے تم آئی ہو، میں نے بہت کوشش کی ہے کہ تم سے بات کروں، مگر تم بھاگ جاتی ہو۔ ایک چھوٹی سی فرمائش ہے کہ مجھے اپنے دل میں تھوڑی سی جگہ دے دو۔ ان چوڑیوں کو عید کا تحفہ سمجھ لو اور دیکھو مجھے مایوس نہ کرنا۔ فقط، کاشف۔”
میں بے حد پریشان ہوگئی۔ خط سے زیادہ عید کے اس تحفے کی فکر تھی کہ اب کیا کروں؟ اگر چوڑیاں رکھ لیتی ہوں تو کاشف سمجھے گا کہ میں تحفے قبول کرنے والی (آسان) لڑکی ہوں، اور اگر واپس کروں تو کیسے؟ راز فاش ہونے کا بھی ڈر تھا۔ فوزیہ سے کیسے کہتی کہ تمہارے بھائی نے ساری رقم واپس کر دی ہے؟ بات پھیل سکتی تھی۔ کاشف مجھے اچھا لگتا تھا، اس لیے میں اسے بدنام کرنا نہیں چاہتی تھی۔ کافی سوچ بچار کے بعد میں نے چوڑیاں رکھ لیں اور خط پڑھ کر پھاڑ دیا۔ میں نے سوچا کہ اس معاملے کو کسی پر ظاہر نہ کرنا ہی بہتر ہے۔ خالہ جان ویسے ہی ذرا “کچی” طبیعت کی تھیں، ان کے پیٹ میں کوئی بات نہیں پچتی تھی؛ اگر ان سے کہتی تو شور مچا دیتیں اور ہر کسی کا سکون غارت کر ڈالتیں۔
اس واقعے کے بعد میں ڈرنے لگی، لیکن دل میں ایک بے چینی سی رہنے لگی۔ شاید کاشف کی بھی یہی حالت تھی۔ خط لکھنے کے بعد وہ جواب کا منتظر تھا، لیکن میں اسے دیکھتے ہی بھاگ جاتی تھی۔ وہ بیچارہ عجیب شش و پنج میں تھا۔ اچانک خالہ بیمار ہو گئیں اور انہیں اسپتال میں داخل کرنا پڑا۔ خالو اور خالہ زاد بھائی ان کے پاس اسپتال میں ہوتے تھے۔ کاشف ان کا کھانا پہنچاتا تھا۔ اس دوران فوزیہ آئی اور کہا: “کھانا ٹفن میں ڈال دو، کاشف اسپتال دینے جائے گا۔” یوں وہ صبح و شام کھانا لینے آنے لگا اور ایک دن اسے مجھ سے بات کرنے کا موقع مل ہی گیا۔ کہنے لگا: “میرا تحفہ قبول کرنے کا شکریہ۔ مجھے تو ڈر تھا کہ کہیں تم ہنگامہ ہی نہ کھڑا کر دو۔” اب میرے دل میں اس کے لیے جگہ بن گئی تھی۔ خالہ جب تک اسپتال رہیں، میری کاشف سے خوب باتیں ہوتی رہیں۔ جب وہ ٹھیک ہو کر گھر آئیں تو میرا فوزیہ کے گھر آنا جانا اور بڑھ گیا۔
ایک روز ہم چھت پر بیٹھے باتیں کر رہے تھے کہ کاشف کی امی نے ہمیں دیکھ لیا۔ میں تو فوراً اٹھ کر آ گئی، لیکن کاشف کی خوب شامت آئی۔ اس کے باوجود ہم نے رابطہ ترک نہ کیا۔ جب کاشف کی ماں نے دیکھا کہ ہم باز نہیں آ رہے، تو انہوں نے خالہ سے میری شکایت کر دی۔ خالہ نے مجھے بہت ڈانٹا اور میرا کاشف کے گھر جانا بند کر دیا۔ ایک ماہ تک میرا کاشف سے سامنا نہ ہو سکا۔ میرے دل پر اتنا بوجھ تھا کہ بیان نہیں کر سکتی۔ آخر تنگ آ کر میں خود ان کے گھر چلی گئی اور کسی کی پروا کیے بغیر کاشف سے باتیں کرنے لگی۔ اس روز ہم نے جی بھر کر باتیں کیں۔ جیسے ہی خالہ کو اس کا علم ہوا، وہ آگ بگولہ ہو گئیں اور انہوں نے میری خوب پٹائی کی۔ کاشف کی امی کو پتا چلا کہ خالہ نے مجھے پیٹا ہے، تو انہوں نے آ کر خالہ کو سمجھایا اور کہا کہ اس طرح بات مزید بڑھے گی، بہتر یہی ہے کہ تم شمسہ کا رشتہ کاشف کے لیے دے دو۔ خالہ نے حامی بھر لی۔ یوں ڈیڑھ سال بعد خالہ مجھے میرے والدین کے گھر لے آئیں اور امی کو تمام صورتحال سے آگاہ کیا۔
ان دنوں میں بہت پریشان تھی۔ میں نے کھانا پینا چھوڑ دیا تھا اور ہر وقت اداس رہتی تھی۔ آخر کار ابو بھی مان گئے۔ کاشف خالہ کی نند کا بیٹا تھا، اس لیے رشتہ طے ہو گیا اور انہوں نے آ کر میری اور کاشف کی منگنی کر دی۔ میں اس وقت کتنی خوش تھی، جیسے دونوں جہان کی خوشیاں مجھے مل گئی ہوں۔ ہماری منگنی کو دو ماہ گزر چکے تھے۔ ہم عید قریب آنے پر توقع کر رہے تھے کہ وہ میرے لیے عید کا جوڑا لائیں گے۔ مگر عید سے دو دن پہلے خالہ آئیں اور عید کا جوڑا لانے کے بجائے میری منگنی کی انگوٹھی واپس کر گئیں۔ انہوں نے امی سے کہا: “لڑکا آوارہ ہو گیا ہے، ہر لڑکی کو تنگ کرتا ہے، وہ ہماری شمسہ کے لائق نہیں ہے۔” امی نے کاشف کو دیکھا ہوا تھا، انہوں نے بہت اصرار کیا کہ ہم منگنی نہیں توڑنا چاہتے، لڑکا ایسا نہیں لگتا اور شاید آپ کو کوئی غلط فہمی ہوئی ہے۔ خدا جانے خالہ کو کس بات کا غصہ تھا، مگر انہوں نے ایک نہ سنی اور انگوٹھی لے کر چلی گئیں۔ وہاں جا کر انہوں نے انگوٹھی کاشف کی ماں کو واپس کر دی اور جھوٹ بول دیا کہ لڑکی نے خود جواب دے دیا ہے اور وہ یہ منگنی توڑ کر میرے بیٹے نصیر سے شادی کرنا چاہتی ہے۔
جب اس بات کا علم کاشف کو ہوا، تو اس نے میرے نام ایک آخری خط لکھا اور اسے خالہ کے حوالے کر کے گھر سے چلا گیا۔ اگلے دن پتا چلا کہ اس نے خودکشی کر لی ہے۔ جب اس کی موت کی خبر ملی تو میں صدمے سے بے ہوش ہو گئی۔ اس کے بعد میرا جو حال ہوا، وہ نہ پوچھیے۔ میں تین ماہ تک بستر سے لگی رہی اور اپنی تقدیر پر آنسو بہاتی رہی۔ قسمت کی ستم ظریفی دیکھیے کہ منزل قریب آ کر پھر دور ہو گئی۔ اس صدمے کا میرے دل و دماغ پر ایسا اثر ہوا کہ میں پاگلوں جیسی ہو گئی۔ اکیلی بیٹھی خود سے باتیں کرتی تھی، نہ کھانے کا ہوش تھا نہ پینے کا۔
رفتہ رفتہ حقیقت ہم پر کھلی۔ جب خالہ کے بیٹے (نصیر) کو پتا چلا کہ میری منگنی کاشف سے ہو گئی ہے، تو اس نے اپنی ماں سے سخت احتجاج کیا کہ “آپ نے یہ کیا کیا؟ میں شمسہ کو پسند کرتا تھا اور آپ نے اس کا رشتہ کہیں اور کر دیا!” ماں نے سمجھایا کہ اب بات آگے بڑھ چکی ہے تم کسی اور کو پسند کر لو، مگر وہ نہ مانا۔ اس نے کہا: “یہ دل کا معاملہ ہے، کوئی کھیل نہیں کہ میں اپنی پسند بدل لوں۔ یہ منگنی ختم کریں، میں شمسہ کو کسی اور کا نہیں ہونے دوں گا۔” بیٹے کے اصرار سے مجبور ہو کر خالہ نے یہ ظالمانہ قدم اٹھایا تھا۔ وہ بھی نہیں جانتی تھیں کہ کاشف یہ صدمہ برداشت نہ کر سکے گا اور جان سے گزر جائے گا۔ اگر وہ جانتیں تو شاید کبھی ایسا نہ کرتیں۔
جو ہونا تھا وہ ہو گیا، سال بھر تک میں گم صم رہی، پھر وقت نے زخم بھرنا شروع کیے۔ اب میں دوبارہ زندگی میں دلچسپی لینے لگی تھی، مگر دل ہر وقت اداس رہتا۔ گھر والوں نے دیکھا کہ میں سنبھل گئی ہوں تو انہوں نے دوبارہ میری شادی کا ذکر چھیڑا۔ میں کافی دن انکار کرتی رہی، مگر جب ماں نے جان دینے کی دھمکی دی تو میں سوچنے پر مجبور ہو گئی کہ اس میں بیچاری ماں کا کیا قصور ہے؟ آخر میں نے کہہ دیا کہ جو آپ کی مرضی۔ ایک دن خالہ دوبارہ ہمارے گھر آئیں اور وہی منگنی کی انگوٹھی ساتھ لائیں، جو اب ان کے اپنے بیٹے نصیر کی طرف سے تھی۔ دو ماہ بعد نصیر سے میری شادی ہو گئی۔
میں بیاہ کر لاہور خالہ کے گھر آگئی۔ وہ گھر جو مجھے کبھی بہت اچھا لگتا تھا، آج میں ہمیشہ کے لیے وہاں آ تو گئی تھی لیکن اب میرے پاس وہ خواب نہیں تھے جن سے انسان کی دنیا رنگین ہوتی ہے۔ میں اس وقت ایک تھکے ہوئے مسافر کی مانند تھی جو صحرا میں خاردار جھاڑی کی چھاؤں کو ہی غنیمت سمجھ کر وہاں پڑاؤ ڈال لیتا ہے۔ میری روح غموں کے صحرا کو پار کرتے کرتے زخمی ہو چکی تھی۔ میں آبلہ پا تھی اور بہت تھک چکی تھی۔ اب میں صرف سکون چاہتی تھی اور ایک ایسی زندگی جہاں کوئی مجھ سے کچھ نہ کہے، کوئی فرمائش نہ کرے۔ میں دلجوئی کی طالب تھی جو کاشف کا غم بھلانے میں میری مدد کرے، مگر نصیر بہت خود غرض ثابت ہوا۔ اسے مجھ سے محبت نہیں تھی بلکہ مجھے پانے کی ایک ضد تھی، ورنہ محبت کرنے والے ایسا سلوک نہیں کرتے۔ شادی کے دوسرے دن ہی اس نے اپنا اصل رنگ دکھا دیا اور مجھے طعنے دینے لگا۔ بات بات پر کہتا: “تمہیں یہ غم بھولنا ہی ہو گا کیونکہ تمہارا چاہنے والا کاشف مر چکا ہے۔” پہلے پہل خالہ ٹھیک رہیں، پھر وہ بھی طعنے بازی پر اتر آئیں۔ کہتیں: “اے لڑکی! نئی دلہن ہو، یہ کیا سر جھاڑ منہ پہاڑ بنی بیٹھی ہو؟ مرنے والا مر گیا، اب اس کا ماتم کب تک کرو گی؟ اب ماضی کے قصے بھول جاؤ۔”
میں تو سمجھی تھی کہ وہ میرا دکھ بانٹیں گے، مگر انہوں نے تو لمحہ بہ لمحہ مجھے کاشف کا غم یاد دلانے کی ٹھان لی تھی۔ جو باتیں میں ان کی محبت پا کر شاید بھول جاتی، وہ انہوں نے طعنوں کے ذریعے میرے ذہن میں تازہ رکھیں۔ برداشت کی بھی ایک حد ہوتی ہے۔ جن سے غمگساری کی تمنا تھی، جب وہی ستانے لگے تو میرے صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا اور میں نے میکے جانے کا فیصلہ کر لیا۔ میں نے عہد کیا کہ اب اگر یہاں سے گئی تو دوبارہ ان سنگدلوں کے گھر لوٹ کر نہیں آؤں گی۔ ایسا ہی ہوا۔ امی بیمار ہوئیں تو انہوں نے فون کیا کہ شمسہ کو بھیج دو، میں اس کے لیے اداس ہوں۔ نصیر مجھے امی کے پاس چھوڑ آیا۔ میں نے وہاں جا کر امی ابو کو سب بتا دیا اور صاف کہہ دیا کہ اب میں اس جہنم میں واپس نہیں جاؤں گی کیونکہ وہ ہر وقت مجھے ایک مردہ شخص کے طعنے دیتے ہیں۔
دس دن بعد نصیر اور خالہ مجھے لینے آئے۔ ابو نے انہیں آڑے ہاتھوں لیا اور کہا کہ “اب تم لوگ میری بیٹی کا خیال چھوڑ دو، اسے طلاق دے دو یا پھر عدالت میں ملنا۔” ابو نے یہ فیصلہ جذبات میں نہیں کیا تھا، وہ ان لوگوں کی رعونت اور میرا دکھ سمجھ گئے تھے۔ نصیر ضدی تھا اور ابو بھی جو ٹھان لیتے، کر کے رہتے تھے۔ دونوں کا خوب مقابلہ ہوا اور میں خاموش تماشائی بنی رہی۔ آخر کار ابو جیت گئے اور نصیر کو ہتھیار ڈالنے پڑے۔ اس نے مجھے طلاق دے دی اور میں ہمیشہ کے لیے اس قید سے آزاد ہو گئی۔
میں نے دوبارہ کالج میں داخلہ لیا، بی اے اور بی ایڈ کرنے کے بعد ایک اسکول میں ملازمت اختیار کر لی۔ کافی عرصے تک زندگی یوں ہی گزرتی رہی۔ ایک دن ابو نے مجھ سے کہا: “بیٹی! ماں باپ کو بیٹیاں بہت پیاری ہوتی ہیں لیکن وہ ہمیشہ ساتھ نہیں رہتے، بیٹیوں کو اپنے گھر جانا ہی ہوتا ہے۔ میں نے تمہارے لیے ایک اچھا رشتہ ڈھونڈ لیا ہے۔” میں نے ان کی خوشی کی خاطر سر جھکا دیا۔ ابو نے میری شادی اپنے ایک دوست کے بیٹے “عابد” سے کر دی۔ یہ عابد کی دوسری شادی تھی، ان کی پہلی بیوی انگریز تھی جس نے طلاق لے کر بچے ان کے حوالے کر دیے تھے۔ عابد ایک بہترین انسان ثابت ہوئے۔ شادی کے بعد وہ مجھے کینیڈا لے گئے جہاں میں نے دس برس گزارے اور ان کے دونوں بچوں کو ماں کا پیار دیا۔ اللہ نے مجھے بھی اولاد کی نعمت سے نوازا۔
آج میں اپنے بچوں کے ساتھ بہت خوش ہوں اور میرا گھر رشکِ جنت ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ کوئی جگہ بذاتِ خود جنت یا جہنم نہیں ہوتی، یہ انسان ہی ہوتے ہیں جو اپنے رویوں سے کسی جگہ کو جنت یا جہنم بنا دیتے ہیں۔