- Moderator
- #1
زندگی کی شام ڈھلنے لگتی ہے تو اکثر خواب، خواہشیں اور امنگیں خدشات کا روپ دھار لیتی ہیں۔ ہر کامیاب عورت کی مانند نور یتیم بیگم کی بھی گرہستی رہتی ہے۔ ان کی راجدھانی ایک ایسی سلطنت تھی جس کی وہ بے تاج بادشاہ تھیں۔ ان کے لیے گھر کل کائنات تھا۔ بھلا کیونکر نہ ہوتا، انہوں نے ایک عمر اپنے گھر کی سجاوٹ اور بناوٹ میں صرف کی تھی۔جب ان کی شراکت دار بننے کے لیے شاہ ویز کی دلہن آئی، تو حقیقی معنوں میں زندگی میں پہلی بار انہوں نے اپنی ذات کو بے حد سبک محسوس کیا۔ شنگی کے احساس نے ان کی ذات کا گھیراؤ کیا۔ نمرہ نام کا سکہ کیا رائج ہوا، نور بیگم خود کو ماضی کا قصۂ پارینہ تصور کرنے لگیں۔ مگر یہ ایک ظاہری اور فطری تقاضا تھا کہ وہ رو بہ زوال نہیں ہونا چاہتی تھیں، لہٰذا میدانِ کارزار میں کود پڑیں۔
☆☆☆
نمرہ! یہ تم نے شاہ ویز کو کیسی بے رنگ سی شرٹ پہنا دی ہے؟ ذرا جو اس پر دھیان دے رہی ہو۔ شاہ ویز بیٹا، تم بھی پہننے سے پہلے ذرا غور کر لیتے، ما شاء اللہ جوان ہو۔ نادان، کم عقل یا نا سمجھ بچے تو نہیں ہو کہ جو ملا، وہی پہن لیا!شاہ ویز آفس جانے کے لیے تیار کھڑا تھا، نمرہ ناشتے کے بعد اسے ضروری چیزیں تھما رہی تھی۔ وہ نہایت عجلت میں شام کے لیے نمرہ کو جلدی تیار ہونے کی ہدایت دے رہا تھا۔ دونوں کو اس کے دوست کے ہاں ڈنر پر مدعو کیا گیا تھا۔ ایسے میں نور بیگم کو اپنی ذات بے حد ارزاں محسوس ہوئی۔ منظر کے آئینے میں جھلکنے کے لیے انہوں نے ایک پہلو تلاش ہی کر لیا تھا۔شاہ ویز نے اپنی بلو لائٹنگ والی خوبصورت شرٹ پر نگاہ دوڑائی۔ یوں لگا جیسے نگاہوں میں بد رنگی حلول کر چکی ہو، چہرے کا رنگ متغیر ہو گیا۔ارے ہاں نمو! امی ٹھیک کہہ رہی ہیں۔ یہ کپڑا بہت ڈل لگ رہا ہے۔ آئندہ مجھے دکھا کر کپڑے پریس کرنا۔آپ نے خود ہی تو کہا تھا کہ یہ آپ کا فیورٹ کلر ہے، تب ہی میں نے پریس کیا تھا! نمرہ زچ ہو کر بولی۔جب میں نے کہہ دیا تو پھر آگے سے تاویلیں گھڑنا بند کرو۔ نظر نہیں آ رہا، مجھے دیر ہو رہی ہے! وہ قدرے درشتی سے گویا ہوا، جو اس کے مزاج کے خلاف بات تھی۔ نہایت سرعت سے والدہ کے سر پر ہاتھ پھیر کر بائیک کی جانب بڑھ گیا۔مگر تمام راستے وہ نمرہ سے اپنے درشت لہجے میں بات کرنے پر شرمندہ رہا، اور یہی وجہ تھی کہ شام ڈھلے وہ موتیے اور گلاب کی مسحور کن خوشبو والا گجرا ہمراہ لیے نمرہ کے سامنے موجود تھا۔اسے سامنے پا کر نمرہ صبح کی تمام کلفت بھول گئی، اور تحفہ پا کر تو گویا ہفت اقلیم کی دولت پا گئی۔ نہوں کے جلترنگ برابر والے کمرے میں بہ آسانی سنائی دے رہے تھے، جہاں نور بیگم اناج کے دانے گرا رہی تھیں، مگر ان کی سماعتیں کچھ اور ہی سوچوں میں الجھی ہوئی تھیں۔جب وہ دونوں اجازت لینے کے لیے ان کے کمرے میں آئے تو انہیں کمبل میں لپٹا دیکھ کر تشویش کا شکار ہو گئے۔ ہولے ہولے لرزتا بدن کوئی اور ہی داستان سنا رہا تھا۔ شاہ ویز کے چہرے پر فکرمندی چھا گئی۔کیا ہوا امی؟ آپ کی طبیعت تو ٹھیک ہے؟ وہ فکرمندی سے گویا ہوا۔صبح سے سر میں شدید درد ہے، اور بخار بھی ہو رہا ہے۔ نور بیگم نے کراہتے ہوئے دھیمی آواز میں جواب دیا۔ نمرہ کے چہرے پر حیرت اور پریشانی چھا گئی۔ مسرت کا احساس لمحوں میں غائب ہو گیا۔تو آپ نے مجھے پہلے بتا دیا ہوتا نا، میں آپ کے لیے دوا لے آتا۔نہیں بیٹا! میں نے تمہارا پروگرام خراب کرنا مناسب نہیں سمجھا۔ وہ نحیف آواز میں بولیں، تو شاہ ویز کا دل لرز اٹھا۔کیسی باتیں کر رہی ہیں آپ؟ بھلا آپ سے بڑھ کر بھی کوئی خوشی ہو سکتی ہے؟ نمرہ! تم فوراً کپڑے چینج کر کے آؤ۔ اس نے والدہ کا خیال رکھنے کا فیصلہ کیا اور باقی منصوبہ مؤخر کرنے کا سوچا۔ نمرہ خاموشی سے باہر نکل گئی۔ نور بیگم کے دل میں طمانیت اور سرشاری کی ایک لہر دوڑ گئی۔وہ رات گئے تک ان کی تیمارداری کرتے رہے۔ جب نیند سے بے حال ہو کر کمرے میں واپس آئے تو ڈریسنگ ٹیبل پر رکھے دودھیا موتیے اور سرخ گلاب کی پتیوں والے گجرے اپنی قسمت پر نوحہ کناں محسوس ہو رہے تھے۔
☆☆☆
وقت سبک روی سے گزرتا رہا، حتیٰ کہ وہ البیلے، خوش رنگ، حسین، پُرلطف، کیف آلود، طمانیت سے لبریز، گلابوں کی مانند مہکتے ابتدائی دن اور شب و روز، نور بیگم کے درختوں سمیت تمام ہو چکے تھے۔زندگی کی گاڑی اب ایک ایسی پُرتکان اور لامتناہی مسافت پر گامزن ہو چکی تھی، جہاں راہیں ہموار کم، اور ناہموار و پُرپیچ زیادہ ہوتی ہیں۔جہاں زیست کے لمحات سمیٹتے سمیٹتے اکثر انسان تشنہ ہی رہ جاتا ہے، اور زندگی، ادھوری سی تمام ہو جاتی ہے۔شاہ ویز تھکا ہارا گھر آیا تو نمرہ فوراً پانی کا گلاس لیے اس کی جانب بڑھی۔پانی پی کر حسبِ معمول وہ والدہ کی جانب متوجہ ہوا۔کیسی طبیعت ہے امیکمرے سے ننھے ریان کے رونے کی آواز آئی تو نمرہ تیزی سے اُس جانب لپکی۔ٹھیک ہوں بیٹا… ٹھیک نہ بھی ہوں، تو کیا فرق پڑتا ہے کسی کو یہاںان کا لہجہ رندھ گیا تھا۔کیوں امی، کیا ہوالحظہ بھر میں شاہ ویز کی پیشانی پر پشیمانی اور سنجیدگی کی چھاپ گہری ہو گئی۔کل نمرہ سے کہا کہ میرا سفید سوٹ دھو دے۔ ایسا دھویا کہ اُس سے بہتر تو بغیر دھلا ہوتا۔ٹھنڈ میں دوبارہ دھونا پڑا، تو ہاتھوں میں درد ہو گیا۔انہوں نے لوہا گرم دیکھ کر چوٹ کی۔او ہو… پتا نہیں، کیسی پھوہڑ عورت سے پالا پڑا ہے! جب سے زندگی میں آئی ہے، جینا حرام ہو گیا ہے۔ نجانے کیا دیکھ کر آپ نے اُسے پسند کیا تھا؟ ہونہہوہ تھکن سے چور گھر میں داخل ہوا تھا، لہٰذا یکدم سیخ پا ہو گیا۔نور بیگم کے دل میں سرشاری کی ایک خفیہ لہر، کمینگی کی آمیزش لیے، دوڑ گئی۔جبکہ اندر کمرے میں، ریان کو سلاتی نمرہ کے دل پر لہو رنگ آنسو برسنے لگے۔یہ اس کے والدین کی بہترین تربیت کا ہی نتیجہ تھا کہ وہ شعلوں کو مزید بھڑکانے سے گریز کرتی رہی۔مگر خاموشی بھی جب حد سے بڑھ جائے توانسان دل کی سرحدوں کو چُھونے لگتا ہے؛اپنی ذات کے لیے تقصیر،اور دوسروں کی نظر میں مجرم بن جاتا ہے۔زندگی ایّامِ زیست عبور کرتی، آگے بڑھتی رہی۔ شاہ ویز اب ماں کی فطرت سے واقف ہو چکا تھا، اس لیے اکثر باتوں کو نظر انداز کر دیتا۔ اگر وہ بظاہر حق بجانب ہوتیں تو نمرہ سے شکوہ کناں ہو کر استفسار بھی کر لیتا۔روایتی طور پر نمرہ کا دن بھی گھر داری اور بچوں کے درمیان ایک گھن چکر کی صورت گزرتا۔ بچوں کو پڑھانے کی ذمہ داری بھی اسی کے کندھوں پر تھی۔ آج ہم دادی کے کمرے میں پڑھیں گے۔ ریان اور اجالا کا یہ مشترکہ فیصلہ تھا۔ نمرہ کے بارہا منع کرنے کے باوجود بھی بات ان کی سمجھ میں نہ آئی، تو وہ مجبوراً انہیں ہوم ورک کرانے دادی کے کمرے میں لے گئی۔ اے ہے، میرے بانگ کی چادر نہ خراب کر دینا! نور بیگم صحن میں تخت پر موجود تھیں، وہیں سے پاٹ دار آواز میں بولیں۔ وہ تسبیح کے دانے متواتر گرائے جا رہی تھیں، مگر بڑبڑاہٹیں بدستور جاری تھیں۔ان کا تنک مزاج اب روزمرہ کا معمول بن چکا تھا، لہٰذا نمرہ اور بچوں نے ان باتوں کو خاطر میں لائے بغیر اپنا کام جاری رکھا۔ کچھ دیر بعد نور بیگم نمازِ عصر کی ادائیگی کے لیے اٹھ کھڑی ہوئیں۔مغرب سے کچھ دیر قبل بچوں کا ہوم ورک مکمل ہوا، تو وہ دونوں ماؤنٹ ایورسٹ سر کرنے کے انداز میں اپنے بیگ بند کر کے بھاگ کھڑے ہوئے۔ نمرہ ان کے بچپنے پر مسکرائے بغیر نہ رہ سکی اور ان کا پھیلایا ہوا سامان سمیٹنے لگی۔ایک ہاتھ میں بمشکل دونوں کے بستے تھامے، اور دوسرے ہاتھ کی بند مٹھی میں کچھ دبائے، لبوں پر دھیمی مسکراہٹ سجائے وہ کمرے سے نکلی۔ تخت پر براجمان نور بیگم، بظاہر اذکار میں مصروف تھیں، مگر درحقیقت ان کی نظر نمرہ کی بند مٹھی پر جا ٹھہری، تو ان کا دل ایک لمحے کو ڈوبا اور پھر ابھرا۔وہ دبے قدموں تخت سے اتریں اور کمرے میں جا کر گہرے سبز رنگ کی پوٹلی نکالی۔ پھر کئی نیلے اور ہرے نوٹ نکال کر گننے لگیں۔ اپنی عقل پر ماتم کرنے کے سے انداز میں سر پر ہاتھ مارا۔ اگر پہلے ہی گن کر رکھتی تو سارا کچا چٹھا کب کا کھل چکا ہوتا۔اب نگاہیں نوٹوں کی منی سی گڈی پر مرکوز تھیں، اور دل میں شکوک کے سانپ لوٹنے لگے۔ گنتی میں نوٹ کم محسوس ہو رہے تھے۔ وہ پرسوچ اور ستم رسیدہ انداز میں نماز پڑھنے چلی گئیں۔ اگلے دن، پھر وہی منظر دہرایا گیا۔بچے ضد کر کے دادی کے کمرے میں براجمان تھے، اور نمرہ خوش دلی سے ان کا ہوم ورک کروانے میں مصروف تھی۔ نور بیگم حسبِ عادت تخت پر بیٹھی تسبیح کے دانے گرا رہی تھیں، اور ساتھ ہی گرد و پیش پر گہری نگاہ رکھے ہوئے تھیں۔مغرب سے کچھ دیر قبل دونوں بچوں کا کام مکمل ہوا، تو وہ ہڑبونگ مچاتے کمرے سے نکل گئے۔ خلافِ مزاج، نور بیگم نے کچھ نہ کہا۔ ان کی نظریں نمرہ پر مرکوز تھیں، جو بچوں کے بیگ سمیٹ رہی تھی۔نمرہ نے ایک ہاتھ میں دونوں بیگ سنبھالے، دوسرے ہاتھ کی بند مٹھی میں کچھ دبا رکھا تھا، اور وہ اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئی۔ نور بیگم کو اب پورا یقین ہو چکا تھا۔ وہ تیزی سے تخت سے اتریں اور بہو کے کمرے کی طرف لپکیں۔اندر داخل ہو کر دیکھا تو نمرہ الماری کھول چکی تھی اور دراز میں کچھ رکھتے ہوئے چونک کر پلٹی۔ اسے دروازے پر نور بیگم کھڑی نظر آئیں۔ کھانا نہیں بنانا آج؟ نور بیگم نے قصداً ایک جواز تراشا- امی، سالن بنا ہوا ہے۔ گیس تیز ہونے کے بعد روٹی ڈال لوں گی۔ حسبِ عادت نمرہ نے مودبانہ انداز میں جواب دیا۔
☆☆☆
شاہ ویز کی بھانجی رانیہ کا فون آیا تھا۔ شادی کے ابتدائی دن تھے۔ وہ نمرہ سے مختلف شکوے شکایات لے کر بیٹھ گئی۔ممانی! مجھے تو لگتا ہے دانیال کے پیرنٹس نے اس کی شادی کو ایکسپٹ ہی نہیں کیا۔ ہر وقت بچوں کی طرح اسے ٹریٹ کرتے ہیں۔ یہ کرو، ایسے کرو، ویسے نہیں کرنا… بھلا پرائیویسی بھی کوئی چیز ہوتی ہے! نمرہ نے نرمی سے بات کی:ارے بیٹی، بزرگ تو گھر میں رحمت ہوتے ہیں۔ انہی کے دم سے تو ہمیں یہ احساس ہوتا ہے کہ زندگی کے تجربات اور مشاہدات، جو وہ ہمیں سونپتے ہیں، ہمارے لیے زادِ راہ بن سکتے ہیں۔وہ ایک لمحے کو رکی، پھر دھیرے دھیرے گویا ہوئی:عمر بھر کی پونجی جب دھیرے دھیرے تمام ہونے لگتی ہے تو انسان چڑچڑا اور منتشر ذہن کا مالک بن جاتا ہے۔ جسمانی تکالیف جب معمول کا حصہ بن جائیں تو بزرگ بھی ایک بچے کی طرح محبت کے متلاشی ہو جاتے ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ کوئی ان کی بات سنے، انہیں اہم سمجھے۔ مگر اپنی خودداری اور بزرگی کی وجہ سے کبھی اظہار نہیں کرتے۔تنک مزاجی اور ضد دراصل ان کی غیر محسوس پکار ہوتی ہے — کہ انہیں نظر انداز نہ کیا جائے۔ اگر تم انہیں اعتماد دو، اور اپنی ترجیحات میں ان کا مرکزی کردار بنا لو، تو وہ بھی تمہاری محبت، توجہ اور احترام سے نہال ہو کر تمہاری خوشیوں میں اپنی ذات کو گھلا دیں گے-نمرہ ابھی اپنی بات مکمل ہی کر رہی تھی کہ دروازہ کھلا اور شاہ ویز کمرے میں داخل ہوا۔نمرہ اسے دیکھ کر ہلکا سا مسکرائی — وہ اب اس کے زریں خیالات کا حصہ بن چکا تھا۔تمہارے ماموں آ گئے ہیں، تم ان سے بات کرو۔ میں ذرا اماں کو دیکھ لوں، ان کی طبیعت کچھ خراب تھی- یہ کہہ کر وہ رانیہ کو سیل فون تھما کر کمرے سے باہر نکل گئی-
☆☆☆
دادی کے کمرے میں ہوم ورک کرنا بچوں نے گویا اپنا معمول بنا لیا تھا۔ہر روز کی طرح آج بھی جب نمرہ بچوں کا کام مکمل کروا چکی، اور ان کے بستے سمیٹ کر نکلی، تو حسبِ معمول ایک ہاتھ میں بیگ، اور دوسرے میں مٹھی بند کیے اپنے کمرے کی جانب بڑھی۔اپنے کمرے میں داخل ہو کر اس نے الماری کا پٹ کھولا، دراز نکالی اور آڑ میں مٹھی کھول کر کچھ رکھا، پھر دراز بند کر کے الماری کو مقفل کر دیا۔ دریں اثنا، دادی — نور بیگم — تخت پر بیٹھیں تسبیح کے دانے گرا رہی تھیں، مگر ان کا دل دھڑک رہا تھا، جیسے ہر دانہ گرنے کے ساتھ اندر کوئی وسوسہ جاگ اٹھتا ہو۔آج بھی وہ نادانستہ طور پر اپنی پوٹلی تکیے کے نیچے چھوڑ بیٹھی تھیں۔ بوڑھا ذہن تھا، کچھ یاد ہی نہ رہتا۔ بیٹھے بیٹھے دماغ کہیں سے کہیں جا پہنچتا۔ اب وہ من ہی من میں خود کو لتاڑ رہی تھیں۔بانگِ دہل ان کے کوسنے اور بڑبڑاہٹیں جاری تھیں، گنتی ہی نہ رہی تھی۔حرام خورے، بدہدایت، چور اچکے! میرے ہی گھر میں جمع ہو گئے ہیں۔ میرے گھر میں مزے کرتے رہے اور میں بیمار، نیم اندھی، آدھی لنگڑی، بے وقوف بنی سب سہتی رہی۔نمرہ بچوں سے نمٹ کر ان کی گولی لے کر پانی کا گلاس بھرنے لگی اور ان کی تمام لاف و گزاف کو نظر انداز کر کے ان کا بلڈ پریشر سنبھالنے میں لگ گئی۔اسی شام، شاہ ویز گھر میں داخل ہوا تو حسبِ معمول سیدھا ماں کی طرف بڑھا۔مگر نور بیگم نے سر پر ہاتھ رکھوانے سے انکار کرتے ہوئے منہ پھیر لیا۔کیا بات ہے اماں؟ اب کیا ہو گیا؟وہ ان کی ناراضی کو نظر انداز کرتا ہوا ان کے پاس بیٹھ گیا۔میرے گھر میں چوریاں ہونے لگی ہیں اب!وہ غصے سے پھنکاریں، زہریلے لہجے میں بولتے ہوئےکیا؟ چور آ گئے گھر کے اندر؟وہ ششدر و متفکر سا گویا ہوا۔تیری بیوی نے میرے پیسے چرائے ہیں!نور بیگم نے سینے پر ہاتھ رکھتے ہوئے بڑے دعوے سے الزام لگایا۔نمرہ کو کیا پڑی ہے آپ کے پیسے چرانے کی؟شاہ ویز نے ضبط سے کام لیتے ہوئے کہا، مگر اندر ہی اندر ناگواری چھپانا مشکل ہو رہا تھا۔بس! سیدھا جورو کا غلام بن گیا ہے تُو۔ ماں کا کہا کبھی نہیں مانتاوہ خشمگیں نگاہوں سے گھورتی رہیں، پھر بند مٹھی والا سارا قصہ بیٹے کے گوش گزار کر دیا۔میں ابھی کچن سے نمرہ کو بلا کر پوچھ لیتا ہوں۔شاہ ویز نے کہا، مگر نور بیگم نے فوراً اس کا ہاتھ پکڑ لیا۔وہ مانے گی کہاں؟ آ چل، میں تجھے خود دکھاتی ہوں!یہ کہہ کر وہ اسے لے کر کمرے کی طرف چل دیں۔الماری کی چابی بچوں کی پہنچ سے دور، الماری کے اوپر رکھی تھی۔ انہوں نے چابی اٹھائی اور الماری کھول کر دراز نکالی، جیسے ہی ہاتھ دراز کی طرف بڑھا، نمرہ پانی کا گلاس تھامے اندر داخل ہوئی۔شاہ ویز، اگر دراز سے کچھ نکالنا ہے تو احتیاط سے نکالیے گا۔ بچے رف کاپی کے پیجز پھاڑ دیتے ہیں، اللہ جانے یہ نئی حرکت کہاں سے سیکھی ہے۔ آپ ان کی کلاس لیجیے گا، دو تین دن سے فیئر کام لکھتے ہی رف کاپی کے صفحات نکال دیتے ہیں۔ دینی اوراق میں نے دراز میں سنبھال کر رکھ دیے ہیں، احتیاط کیجیے گا کہ کچھ نکالتے ہوئے وہ باہر نہ آ جائیں۔اپنی ہی دھن میں بولتی نمرہ، نور بیگم کو شرمندگی کی دلدل میں دھکیل چکی تھی۔ان کا سر اور نظریں جھکتی چلی گئیں، جبکہ شاہ ویز اطمینان بھرے انداز میں خاموشی سے پانی پینے لگا۔
☆☆☆
نمرہ! یہ تم نے شاہ ویز کو کیسی بے رنگ سی شرٹ پہنا دی ہے؟ ذرا جو اس پر دھیان دے رہی ہو۔ شاہ ویز بیٹا، تم بھی پہننے سے پہلے ذرا غور کر لیتے، ما شاء اللہ جوان ہو۔ نادان، کم عقل یا نا سمجھ بچے تو نہیں ہو کہ جو ملا، وہی پہن لیا!شاہ ویز آفس جانے کے لیے تیار کھڑا تھا، نمرہ ناشتے کے بعد اسے ضروری چیزیں تھما رہی تھی۔ وہ نہایت عجلت میں شام کے لیے نمرہ کو جلدی تیار ہونے کی ہدایت دے رہا تھا۔ دونوں کو اس کے دوست کے ہاں ڈنر پر مدعو کیا گیا تھا۔ ایسے میں نور بیگم کو اپنی ذات بے حد ارزاں محسوس ہوئی۔ منظر کے آئینے میں جھلکنے کے لیے انہوں نے ایک پہلو تلاش ہی کر لیا تھا۔شاہ ویز نے اپنی بلو لائٹنگ والی خوبصورت شرٹ پر نگاہ دوڑائی۔ یوں لگا جیسے نگاہوں میں بد رنگی حلول کر چکی ہو، چہرے کا رنگ متغیر ہو گیا۔ارے ہاں نمو! امی ٹھیک کہہ رہی ہیں۔ یہ کپڑا بہت ڈل لگ رہا ہے۔ آئندہ مجھے دکھا کر کپڑے پریس کرنا۔آپ نے خود ہی تو کہا تھا کہ یہ آپ کا فیورٹ کلر ہے، تب ہی میں نے پریس کیا تھا! نمرہ زچ ہو کر بولی۔جب میں نے کہہ دیا تو پھر آگے سے تاویلیں گھڑنا بند کرو۔ نظر نہیں آ رہا، مجھے دیر ہو رہی ہے! وہ قدرے درشتی سے گویا ہوا، جو اس کے مزاج کے خلاف بات تھی۔ نہایت سرعت سے والدہ کے سر پر ہاتھ پھیر کر بائیک کی جانب بڑھ گیا۔مگر تمام راستے وہ نمرہ سے اپنے درشت لہجے میں بات کرنے پر شرمندہ رہا، اور یہی وجہ تھی کہ شام ڈھلے وہ موتیے اور گلاب کی مسحور کن خوشبو والا گجرا ہمراہ لیے نمرہ کے سامنے موجود تھا۔اسے سامنے پا کر نمرہ صبح کی تمام کلفت بھول گئی، اور تحفہ پا کر تو گویا ہفت اقلیم کی دولت پا گئی۔ نہوں کے جلترنگ برابر والے کمرے میں بہ آسانی سنائی دے رہے تھے، جہاں نور بیگم اناج کے دانے گرا رہی تھیں، مگر ان کی سماعتیں کچھ اور ہی سوچوں میں الجھی ہوئی تھیں۔جب وہ دونوں اجازت لینے کے لیے ان کے کمرے میں آئے تو انہیں کمبل میں لپٹا دیکھ کر تشویش کا شکار ہو گئے۔ ہولے ہولے لرزتا بدن کوئی اور ہی داستان سنا رہا تھا۔ شاہ ویز کے چہرے پر فکرمندی چھا گئی۔کیا ہوا امی؟ آپ کی طبیعت تو ٹھیک ہے؟ وہ فکرمندی سے گویا ہوا۔صبح سے سر میں شدید درد ہے، اور بخار بھی ہو رہا ہے۔ نور بیگم نے کراہتے ہوئے دھیمی آواز میں جواب دیا۔ نمرہ کے چہرے پر حیرت اور پریشانی چھا گئی۔ مسرت کا احساس لمحوں میں غائب ہو گیا۔تو آپ نے مجھے پہلے بتا دیا ہوتا نا، میں آپ کے لیے دوا لے آتا۔نہیں بیٹا! میں نے تمہارا پروگرام خراب کرنا مناسب نہیں سمجھا۔ وہ نحیف آواز میں بولیں، تو شاہ ویز کا دل لرز اٹھا۔کیسی باتیں کر رہی ہیں آپ؟ بھلا آپ سے بڑھ کر بھی کوئی خوشی ہو سکتی ہے؟ نمرہ! تم فوراً کپڑے چینج کر کے آؤ۔ اس نے والدہ کا خیال رکھنے کا فیصلہ کیا اور باقی منصوبہ مؤخر کرنے کا سوچا۔ نمرہ خاموشی سے باہر نکل گئی۔ نور بیگم کے دل میں طمانیت اور سرشاری کی ایک لہر دوڑ گئی۔وہ رات گئے تک ان کی تیمارداری کرتے رہے۔ جب نیند سے بے حال ہو کر کمرے میں واپس آئے تو ڈریسنگ ٹیبل پر رکھے دودھیا موتیے اور سرخ گلاب کی پتیوں والے گجرے اپنی قسمت پر نوحہ کناں محسوس ہو رہے تھے۔
☆☆☆
وقت سبک روی سے گزرتا رہا، حتیٰ کہ وہ البیلے، خوش رنگ، حسین، پُرلطف، کیف آلود، طمانیت سے لبریز، گلابوں کی مانند مہکتے ابتدائی دن اور شب و روز، نور بیگم کے درختوں سمیت تمام ہو چکے تھے۔زندگی کی گاڑی اب ایک ایسی پُرتکان اور لامتناہی مسافت پر گامزن ہو چکی تھی، جہاں راہیں ہموار کم، اور ناہموار و پُرپیچ زیادہ ہوتی ہیں۔جہاں زیست کے لمحات سمیٹتے سمیٹتے اکثر انسان تشنہ ہی رہ جاتا ہے، اور زندگی، ادھوری سی تمام ہو جاتی ہے۔شاہ ویز تھکا ہارا گھر آیا تو نمرہ فوراً پانی کا گلاس لیے اس کی جانب بڑھی۔پانی پی کر حسبِ معمول وہ والدہ کی جانب متوجہ ہوا۔کیسی طبیعت ہے امیکمرے سے ننھے ریان کے رونے کی آواز آئی تو نمرہ تیزی سے اُس جانب لپکی۔ٹھیک ہوں بیٹا… ٹھیک نہ بھی ہوں، تو کیا فرق پڑتا ہے کسی کو یہاںان کا لہجہ رندھ گیا تھا۔کیوں امی، کیا ہوالحظہ بھر میں شاہ ویز کی پیشانی پر پشیمانی اور سنجیدگی کی چھاپ گہری ہو گئی۔کل نمرہ سے کہا کہ میرا سفید سوٹ دھو دے۔ ایسا دھویا کہ اُس سے بہتر تو بغیر دھلا ہوتا۔ٹھنڈ میں دوبارہ دھونا پڑا، تو ہاتھوں میں درد ہو گیا۔انہوں نے لوہا گرم دیکھ کر چوٹ کی۔او ہو… پتا نہیں، کیسی پھوہڑ عورت سے پالا پڑا ہے! جب سے زندگی میں آئی ہے، جینا حرام ہو گیا ہے۔ نجانے کیا دیکھ کر آپ نے اُسے پسند کیا تھا؟ ہونہہوہ تھکن سے چور گھر میں داخل ہوا تھا، لہٰذا یکدم سیخ پا ہو گیا۔نور بیگم کے دل میں سرشاری کی ایک خفیہ لہر، کمینگی کی آمیزش لیے، دوڑ گئی۔جبکہ اندر کمرے میں، ریان کو سلاتی نمرہ کے دل پر لہو رنگ آنسو برسنے لگے۔یہ اس کے والدین کی بہترین تربیت کا ہی نتیجہ تھا کہ وہ شعلوں کو مزید بھڑکانے سے گریز کرتی رہی۔مگر خاموشی بھی جب حد سے بڑھ جائے توانسان دل کی سرحدوں کو چُھونے لگتا ہے؛اپنی ذات کے لیے تقصیر،اور دوسروں کی نظر میں مجرم بن جاتا ہے۔زندگی ایّامِ زیست عبور کرتی، آگے بڑھتی رہی۔ شاہ ویز اب ماں کی فطرت سے واقف ہو چکا تھا، اس لیے اکثر باتوں کو نظر انداز کر دیتا۔ اگر وہ بظاہر حق بجانب ہوتیں تو نمرہ سے شکوہ کناں ہو کر استفسار بھی کر لیتا۔روایتی طور پر نمرہ کا دن بھی گھر داری اور بچوں کے درمیان ایک گھن چکر کی صورت گزرتا۔ بچوں کو پڑھانے کی ذمہ داری بھی اسی کے کندھوں پر تھی۔ آج ہم دادی کے کمرے میں پڑھیں گے۔ ریان اور اجالا کا یہ مشترکہ فیصلہ تھا۔ نمرہ کے بارہا منع کرنے کے باوجود بھی بات ان کی سمجھ میں نہ آئی، تو وہ مجبوراً انہیں ہوم ورک کرانے دادی کے کمرے میں لے گئی۔ اے ہے، میرے بانگ کی چادر نہ خراب کر دینا! نور بیگم صحن میں تخت پر موجود تھیں، وہیں سے پاٹ دار آواز میں بولیں۔ وہ تسبیح کے دانے متواتر گرائے جا رہی تھیں، مگر بڑبڑاہٹیں بدستور جاری تھیں۔ان کا تنک مزاج اب روزمرہ کا معمول بن چکا تھا، لہٰذا نمرہ اور بچوں نے ان باتوں کو خاطر میں لائے بغیر اپنا کام جاری رکھا۔ کچھ دیر بعد نور بیگم نمازِ عصر کی ادائیگی کے لیے اٹھ کھڑی ہوئیں۔مغرب سے کچھ دیر قبل بچوں کا ہوم ورک مکمل ہوا، تو وہ دونوں ماؤنٹ ایورسٹ سر کرنے کے انداز میں اپنے بیگ بند کر کے بھاگ کھڑے ہوئے۔ نمرہ ان کے بچپنے پر مسکرائے بغیر نہ رہ سکی اور ان کا پھیلایا ہوا سامان سمیٹنے لگی۔ایک ہاتھ میں بمشکل دونوں کے بستے تھامے، اور دوسرے ہاتھ کی بند مٹھی میں کچھ دبائے، لبوں پر دھیمی مسکراہٹ سجائے وہ کمرے سے نکلی۔ تخت پر براجمان نور بیگم، بظاہر اذکار میں مصروف تھیں، مگر درحقیقت ان کی نظر نمرہ کی بند مٹھی پر جا ٹھہری، تو ان کا دل ایک لمحے کو ڈوبا اور پھر ابھرا۔وہ دبے قدموں تخت سے اتریں اور کمرے میں جا کر گہرے سبز رنگ کی پوٹلی نکالی۔ پھر کئی نیلے اور ہرے نوٹ نکال کر گننے لگیں۔ اپنی عقل پر ماتم کرنے کے سے انداز میں سر پر ہاتھ مارا۔ اگر پہلے ہی گن کر رکھتی تو سارا کچا چٹھا کب کا کھل چکا ہوتا۔اب نگاہیں نوٹوں کی منی سی گڈی پر مرکوز تھیں، اور دل میں شکوک کے سانپ لوٹنے لگے۔ گنتی میں نوٹ کم محسوس ہو رہے تھے۔ وہ پرسوچ اور ستم رسیدہ انداز میں نماز پڑھنے چلی گئیں۔ اگلے دن، پھر وہی منظر دہرایا گیا۔بچے ضد کر کے دادی کے کمرے میں براجمان تھے، اور نمرہ خوش دلی سے ان کا ہوم ورک کروانے میں مصروف تھی۔ نور بیگم حسبِ عادت تخت پر بیٹھی تسبیح کے دانے گرا رہی تھیں، اور ساتھ ہی گرد و پیش پر گہری نگاہ رکھے ہوئے تھیں۔مغرب سے کچھ دیر قبل دونوں بچوں کا کام مکمل ہوا، تو وہ ہڑبونگ مچاتے کمرے سے نکل گئے۔ خلافِ مزاج، نور بیگم نے کچھ نہ کہا۔ ان کی نظریں نمرہ پر مرکوز تھیں، جو بچوں کے بیگ سمیٹ رہی تھی۔نمرہ نے ایک ہاتھ میں دونوں بیگ سنبھالے، دوسرے ہاتھ کی بند مٹھی میں کچھ دبا رکھا تھا، اور وہ اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئی۔ نور بیگم کو اب پورا یقین ہو چکا تھا۔ وہ تیزی سے تخت سے اتریں اور بہو کے کمرے کی طرف لپکیں۔اندر داخل ہو کر دیکھا تو نمرہ الماری کھول چکی تھی اور دراز میں کچھ رکھتے ہوئے چونک کر پلٹی۔ اسے دروازے پر نور بیگم کھڑی نظر آئیں۔ کھانا نہیں بنانا آج؟ نور بیگم نے قصداً ایک جواز تراشا- امی، سالن بنا ہوا ہے۔ گیس تیز ہونے کے بعد روٹی ڈال لوں گی۔ حسبِ عادت نمرہ نے مودبانہ انداز میں جواب دیا۔
☆☆☆
شاہ ویز کی بھانجی رانیہ کا فون آیا تھا۔ شادی کے ابتدائی دن تھے۔ وہ نمرہ سے مختلف شکوے شکایات لے کر بیٹھ گئی۔ممانی! مجھے تو لگتا ہے دانیال کے پیرنٹس نے اس کی شادی کو ایکسپٹ ہی نہیں کیا۔ ہر وقت بچوں کی طرح اسے ٹریٹ کرتے ہیں۔ یہ کرو، ایسے کرو، ویسے نہیں کرنا… بھلا پرائیویسی بھی کوئی چیز ہوتی ہے! نمرہ نے نرمی سے بات کی:ارے بیٹی، بزرگ تو گھر میں رحمت ہوتے ہیں۔ انہی کے دم سے تو ہمیں یہ احساس ہوتا ہے کہ زندگی کے تجربات اور مشاہدات، جو وہ ہمیں سونپتے ہیں، ہمارے لیے زادِ راہ بن سکتے ہیں۔وہ ایک لمحے کو رکی، پھر دھیرے دھیرے گویا ہوئی:عمر بھر کی پونجی جب دھیرے دھیرے تمام ہونے لگتی ہے تو انسان چڑچڑا اور منتشر ذہن کا مالک بن جاتا ہے۔ جسمانی تکالیف جب معمول کا حصہ بن جائیں تو بزرگ بھی ایک بچے کی طرح محبت کے متلاشی ہو جاتے ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ کوئی ان کی بات سنے، انہیں اہم سمجھے۔ مگر اپنی خودداری اور بزرگی کی وجہ سے کبھی اظہار نہیں کرتے۔تنک مزاجی اور ضد دراصل ان کی غیر محسوس پکار ہوتی ہے — کہ انہیں نظر انداز نہ کیا جائے۔ اگر تم انہیں اعتماد دو، اور اپنی ترجیحات میں ان کا مرکزی کردار بنا لو، تو وہ بھی تمہاری محبت، توجہ اور احترام سے نہال ہو کر تمہاری خوشیوں میں اپنی ذات کو گھلا دیں گے-نمرہ ابھی اپنی بات مکمل ہی کر رہی تھی کہ دروازہ کھلا اور شاہ ویز کمرے میں داخل ہوا۔نمرہ اسے دیکھ کر ہلکا سا مسکرائی — وہ اب اس کے زریں خیالات کا حصہ بن چکا تھا۔تمہارے ماموں آ گئے ہیں، تم ان سے بات کرو۔ میں ذرا اماں کو دیکھ لوں، ان کی طبیعت کچھ خراب تھی- یہ کہہ کر وہ رانیہ کو سیل فون تھما کر کمرے سے باہر نکل گئی-
☆☆☆
دادی کے کمرے میں ہوم ورک کرنا بچوں نے گویا اپنا معمول بنا لیا تھا۔ہر روز کی طرح آج بھی جب نمرہ بچوں کا کام مکمل کروا چکی، اور ان کے بستے سمیٹ کر نکلی، تو حسبِ معمول ایک ہاتھ میں بیگ، اور دوسرے میں مٹھی بند کیے اپنے کمرے کی جانب بڑھی۔اپنے کمرے میں داخل ہو کر اس نے الماری کا پٹ کھولا، دراز نکالی اور آڑ میں مٹھی کھول کر کچھ رکھا، پھر دراز بند کر کے الماری کو مقفل کر دیا۔ دریں اثنا، دادی — نور بیگم — تخت پر بیٹھیں تسبیح کے دانے گرا رہی تھیں، مگر ان کا دل دھڑک رہا تھا، جیسے ہر دانہ گرنے کے ساتھ اندر کوئی وسوسہ جاگ اٹھتا ہو۔آج بھی وہ نادانستہ طور پر اپنی پوٹلی تکیے کے نیچے چھوڑ بیٹھی تھیں۔ بوڑھا ذہن تھا، کچھ یاد ہی نہ رہتا۔ بیٹھے بیٹھے دماغ کہیں سے کہیں جا پہنچتا۔ اب وہ من ہی من میں خود کو لتاڑ رہی تھیں۔بانگِ دہل ان کے کوسنے اور بڑبڑاہٹیں جاری تھیں، گنتی ہی نہ رہی تھی۔حرام خورے، بدہدایت، چور اچکے! میرے ہی گھر میں جمع ہو گئے ہیں۔ میرے گھر میں مزے کرتے رہے اور میں بیمار، نیم اندھی، آدھی لنگڑی، بے وقوف بنی سب سہتی رہی۔نمرہ بچوں سے نمٹ کر ان کی گولی لے کر پانی کا گلاس بھرنے لگی اور ان کی تمام لاف و گزاف کو نظر انداز کر کے ان کا بلڈ پریشر سنبھالنے میں لگ گئی۔اسی شام، شاہ ویز گھر میں داخل ہوا تو حسبِ معمول سیدھا ماں کی طرف بڑھا۔مگر نور بیگم نے سر پر ہاتھ رکھوانے سے انکار کرتے ہوئے منہ پھیر لیا۔کیا بات ہے اماں؟ اب کیا ہو گیا؟وہ ان کی ناراضی کو نظر انداز کرتا ہوا ان کے پاس بیٹھ گیا۔میرے گھر میں چوریاں ہونے لگی ہیں اب!وہ غصے سے پھنکاریں، زہریلے لہجے میں بولتے ہوئےکیا؟ چور آ گئے گھر کے اندر؟وہ ششدر و متفکر سا گویا ہوا۔تیری بیوی نے میرے پیسے چرائے ہیں!نور بیگم نے سینے پر ہاتھ رکھتے ہوئے بڑے دعوے سے الزام لگایا۔نمرہ کو کیا پڑی ہے آپ کے پیسے چرانے کی؟شاہ ویز نے ضبط سے کام لیتے ہوئے کہا، مگر اندر ہی اندر ناگواری چھپانا مشکل ہو رہا تھا۔بس! سیدھا جورو کا غلام بن گیا ہے تُو۔ ماں کا کہا کبھی نہیں مانتاوہ خشمگیں نگاہوں سے گھورتی رہیں، پھر بند مٹھی والا سارا قصہ بیٹے کے گوش گزار کر دیا۔میں ابھی کچن سے نمرہ کو بلا کر پوچھ لیتا ہوں۔شاہ ویز نے کہا، مگر نور بیگم نے فوراً اس کا ہاتھ پکڑ لیا۔وہ مانے گی کہاں؟ آ چل، میں تجھے خود دکھاتی ہوں!یہ کہہ کر وہ اسے لے کر کمرے کی طرف چل دیں۔الماری کی چابی بچوں کی پہنچ سے دور، الماری کے اوپر رکھی تھی۔ انہوں نے چابی اٹھائی اور الماری کھول کر دراز نکالی، جیسے ہی ہاتھ دراز کی طرف بڑھا، نمرہ پانی کا گلاس تھامے اندر داخل ہوئی۔شاہ ویز، اگر دراز سے کچھ نکالنا ہے تو احتیاط سے نکالیے گا۔ بچے رف کاپی کے پیجز پھاڑ دیتے ہیں، اللہ جانے یہ نئی حرکت کہاں سے سیکھی ہے۔ آپ ان کی کلاس لیجیے گا، دو تین دن سے فیئر کام لکھتے ہی رف کاپی کے صفحات نکال دیتے ہیں۔ دینی اوراق میں نے دراز میں سنبھال کر رکھ دیے ہیں، احتیاط کیجیے گا کہ کچھ نکالتے ہوئے وہ باہر نہ آ جائیں۔اپنی ہی دھن میں بولتی نمرہ، نور بیگم کو شرمندگی کی دلدل میں دھکیل چکی تھی۔ان کا سر اور نظریں جھکتی چلی گئیں، جبکہ شاہ ویز اطمینان بھرے انداز میں خاموشی سے پانی پینے لگا۔