• 📚 لوو اسٹوری فورم ممبرشپ

    بنیادی ڈیل

    وی آئی پی

    5000
    تین ماہ کے لیے
    بہترین ڈیل
    💎

    وی آئی پی پلس

    8000
    چھ ماہ کے لیے
    ٹاپ پیکیج
    👑

    پریمیم

    20000
    چھ ماہ کے لیے

Life Story روشنی کے پار۔۔

Joined
Jun 10, 2025
Messages
934
Reaction score
48,772
Points
93
Location
Karachi
Gender
Male
صبح کی نرم روشنی کھڑکی کے پردوں سے چھن چھن کر کمرے میں اتر رہی تھی۔ دیوار گیر گھڑی کی سوئی مسلسل حرکت میں تھی، مگر انابیہ کو لگ رہا تھا جیسے وقت تھم گیا ہو۔ وہ بستر پر نیم دراز تھی، ہاتھ میں چائے کا کپ اور میز پر کھلی ہوئی ڈائری تھی، مگر اس کی نظریں کسی ایک نقطے پر ٹھہری ہوئی تھیں—جیسے وہ کہیں اور دیکھ رہی ہو، کسی اور دنیا میں۔ چائے کی بھاپ اوپر کو اٹھ رہی تھی، مگر اسے لگ رہا تھا کہ یہ منظر حقیقی نہیں بلکہ کوئی خواب ہے؛ جیسے وہ محض ایک ناظر ہو، کردار نہیں۔ اس کے دل نے دھڑکنے سے پہلے جیسے اجازت مانگی: “کیا واقعی میں یہاں ہوں؟” اور جواب ہمیشہ کی طرح خاموشی میں ڈوب گیا۔

کچھ مہینے پہلے تک انابیہ بالکل نارمل تھی۔ ایک عام سی لڑکی، یونیورسٹی کے آخری سمسٹر کی طالبہ، شاعری سے لگاؤ رکھنے والی اور دوستوں کے ساتھ ہنسی مذاق کرنے والی۔ لیکن پچھلے چند ہفتوں سے وہ بدل گئی تھی، یا شاید دنیا بدل گئی تھی۔ اسے ہر چیز دھندلی محسوس ہونے لگی تھی؛ چہرے، آوازیں اور رنگ، سب جیسے کسی شیشے کے پار ہوں۔ کبھی کبھی وہ آئینے میں خود کو دیکھتی تو دل کہتا، “یہ میں نہیں ہوں۔” اور پھر ایک خوف اس کے جسم میں سرایت کر جاتا، جیسے وہ ابھی ابھی کسی خواب سے جاگی ہو، لیکن خواب ختم نہ ہوا ہو۔

“انابیہ، تم پھر دیر تک جاگتی رہی ہو؟” صالحہ بیگم کی آواز دروازے کے پار سے آئی تو وہ چونکی، جیسے کسی اجنبی نے پکارا ہو۔
“جی، سو گئی تھی، بس آنکھ جلدی کھل گئی تھی۔”
صالحہ بیگم اندر آئیں اور اس کے چہرے کو غور سے دیکھا۔ “پھر وہی حال… رنگ کیوں اڑا ہوا ہے تمہارا؟ کیا تم آج بھی یونیورسٹی نہیں جا رہیں؟”
انابیہ نے جواب دینے کے لیے لب کھولے، مگر الفاظ حلق میں ہی کہیں پھنس گئے۔ “نہیں، طبیعت کچھ ٹھیک نہیں لگ رہی۔”
صالحہ بیگم نے آہ بھری۔ “ڈاکٹر کو دکھانا پڑے گا۔ پچھلے ہفتے بھی یہی کہا تھا تم نے۔”

انابیہ نے کچھ نہ کہا۔ ‘ڈاکٹر’—وہ لفظ اس کے دماغ میں گونجتا رہا۔ “کیا میں بیمار ہوں؟ لیکن کیسی بیماری؟ مجھے تو کچھ محسوس ہی نہیں ہوتا، بس ایک خالی پن۔”

دن گزرتا گیا۔ اس نے اپنا موبائل فون اٹھا کر دیکھا تو دوستوں کے پیغامات کی قطار لگی تھی۔
“انابیہ، کل پریزنٹیشن ہے۔”
“اوئے یار، تم کہاں غائب ہو؟ سب ٹھیک ہے نا؟”
وہ سب پڑھتی رہی، لیکن جواب نہیں دیا۔ ایسا نہیں تھا کہ اسے پروا نہیں تھی، مگر وہ جیسے کسی اور ہی حقیقت میں پھنس گئی تھی۔ اسے لگتا تھا جیسے وہ اپنی زندگی کو کسی اور کے ہاتھوں چلتا دیکھ رہی ہو۔ ٹی وی پر خبریں چل رہی تھیں، صالحہ بیگم کچن میں مصروف تھیں اور باہر گلی میں بچے کھیل رہے تھے، مگر یہ سب کچھ جیسے کسی پردے کے پیچھے ہو۔ ایک ایسا پردہ جس کے آر پار وہ دیکھ تو سکتی تھی، مگر چھو نہیں سکتی تھی۔

“میں کہاں ہوں؟” یہ سوال دن میں کئی بار اس کے ذہن میں ابھرتا اور پھر لہروں کی طرح کہیں گم ہو جاتا۔

رات کو جب وہ سونے گئی تو نیند نے اس کا ساتھ نہ دیا۔ کمرے کی دیوار پر چاند کی روشنی پڑ رہی تھی؛ وہ اسے دیر تک تکتی رہی، یہاں تک کہ چاند دھندلا سا دکھائی دینے لگا۔ پھر اسے محسوس ہوا جیسے وہ خود چھت پر کھڑی ہو۔ نیچے سڑک پر گاڑیاں چل رہی ہیں، ہوا چل رہی ہے، مگر وہ خود وہاں موجود نہیں، صرف دیکھ رہی ہے۔ اس کا دل تیزی سے دھڑکا۔ “کیا میں خواب میں ہوں؟ یا یہ بھی خواب نہیں؟”

وہ اچانک اٹھ بیٹھی، سانس پھولنے لگی۔ اس نے اپنے ہاتھوں کو دیکھا، جیسے یہ یقین کرنا چاہ رہی ہو کہ وہ واقعی زندہ ہے۔ اس نے اپنا ہاتھ ہلایا، انگلیاں مٹھی میں بند کیں، مگر احساس نہ ہوا—جیسے جسم اور روح کے درمیان فاصلہ بڑھ گیا ہو۔

اگلی صبح وہ اپنی ڈائری لیے بیٹھی تھی اور لکھنا شروع کیا:
“مجھے لگتا ہے کہ میں کسی کہانی کا کردار ہوں جسے کسی نے لکھا ہے۔ کبھی کبھی میں خود کو اپنے جسم سے باہر دیکھتی ہوں۔ میرے ارد گرد کی آوازیں جیسے بہت دور سے آ رہی ہیں۔ ہر چیز میں ایک اجنبیت ہے۔”

وہ لکھتے لکھتے رک گئی، پھر کچھ سوچتے ہوئے لکھا: “کاش میں جان پاتی کہ میں کہاں ہوں؟”

☆☆☆

چند دن بعد صالحہ بیگم کے اصرار پر وہ یونیورسٹی گئی۔ کلاس روم وہی تھا، دوست بھی وہی تھے اور سب کچھ معمول کے مطابق تھا، مگر اسے لگا جیسے وہ کسی عجیب سی فلم کا حصہ بن گئی ہو۔ دوست باتیں کر رہے تھے، کوئی ہنس رہا تھا، کوئی نوٹس بنا رہا تھا، مگر اسے آوازیں مدھم اور چہرے بے جان محسوس ہو رہے تھے۔

“انابیہ، کہاں تھیں تم؟ سب ٹھیک تو ہے نا؟”
وہ مسکرائی، مگر اسے یوں لگا جیسے کسی مشین نے میکانکی انداز میں ہونٹ ہلائے ہوں۔ “ہاں، سب ٹھیک ہے۔” لیکن اس کے اندر سے ایک چیخ اٹھی: “نہیں، کچھ بھی ٹھیک نہیں ہے! یہ سب نقلی ہے، میں یہاں ہوں ہی نہیں۔”

کلاس کے بعد اس کی پروفیسر مس رابعہ نے اسے بلا لیا۔
“انابیہ، میں نے محسوس کیا ہے کہ تم بہت خاموش رہنے لگی ہو۔ کیا کوئی پریشانی ہے؟”
“نہیں میم، بس تھوڑا ذہن بھٹک رہا ہے،” اس کے ہونٹ ہلے۔
“کب سے ایسا محسوس ہو رہا ہے؟”
“کچھ ہفتوں سے… لگتا ہے جیسے میں کسی خواب میں ہوں۔ خود کو پہچان نہیں پاتی۔ کبھی کبھی لگتا ہے جیسے سب کچھ جعلی ہو۔”

مس رابعہ نے ایک گہری سانس لی۔ “بیٹا، یہ علامات ‘ڈی ریلائزیشن’ (Derealization) یا ‘ڈی پرسنلائزیشن’ (Depersonalization) کی ہو سکتی ہیں۔ تمہیں کسی ماہرِ نفسیات سے مشورہ کرنا چاہیے۔”
انابیہ چونک گئی۔ “ماہرِ نفسیات؟ مطلب… کیا میں پاگل ہو رہی ہوں؟”
“نہیں، ایسا نہیں ہے۔ تم بیمار نہیں ہو، بس تمہارا ذہن تمہیں خود سے الگ محسوس کروا رہا ہے۔ تم اکیلی نہیں ہو، بہت سے لوگ اس کیفیت سے گزرتے ہیں۔”

اس جملے نے انابیہ کے اندر کہیں روشنی کی ایک لکیر پیدا کر دی۔ “میں اکیلی نہیں ہوں”—یہ خیال اسے کچھ لمحوں کے لیے حقیقت کی زمین پر واپس لے آیا۔

گھر واپس آ کر وہ چھت پر گئی۔ موسم خوشگوار تھا اور آسمان پر بادلوں کا بسیرا تھا۔ اس نے آنکھیں بند کیں اور آہستہ سے خود سے کہا: “میں ہوں… میں یہاں ہوں۔”
اس نے یہ جملہ کئی بار دہرایا؛ پہلے دھیمی آواز میں، پھر پریقین لہجے میں۔ تھوڑی دیر بعد اس کے دل کی دھڑکن کچھ معمول پر آئی۔ کچھ لمحوں کے لیے اسے سب کچھ اصلی لگا؛ ہوا، روشنی، سانس اور دل کی دھڑکن۔ مگر اگلے ہی لمحے وہ احساس پھر لوٹ آیا: “کیا یہ بھی حقیقت ہے؟ یا میں صرف یہ سوچ رہی ہوں کہ یہ حقیقت ہے؟”

رات کے وقت وہ دوبارہ آئینے کے سامنے کھڑی تھی۔ اس کی نظریں اپنے ہی عکس سے ٹکرائیں۔
“تم کون ہو؟”
عکس خاموش رہا۔
“میں کہاں ہوں؟”

خاموشی میں اس کا سانس کہیں گم ہو گیا۔ پھر اچانک اسے محسوس ہوا کہ آئینے میں کھڑی لڑکی پلکیں نہیں جھپکا رہی۔ وہ چونکی، خوفزدہ ہو کر پیچھے ہٹی، مگر عکس وہیں ساکت ٹھہرا رہا۔ اس کے دل کی دھڑکن پھر تیز ہوئی اور کمرہ جیسے گھومنے لگا۔ انابیہ نے گھبرا کر آنکھیں بند کر لیں۔

“اے اللہ، کیا میں ٹھیک ہو جاؤں گی نا؟”
آنسو اس کے رخساروں پر بہنے لگے۔ چند لمحوں بعد جب اس نے آنکھیں کھولیں تو عکس نے بھی سانس لی، مگر کمرے میں اب بھی ایک ہی سوال گونج رہا تھا:
“میں کہاں ہوں؟… میں کہاں ہوں؟”

☆☆☆

کمرے میں مدھم روشنی پھیلی تھی اور کھڑکی کے باہر شام ڈھل رہی تھی۔ آسمان کا رنگ بالکل ویسا تھا جیسا ادھ جلے کاغذ کا ہوتا ہے۔ انابیہ بستر پر ساکت بیٹھی تھی۔ سامنے میز پر چائے کا کپ رکھا تھا، مگر وہ کئی منٹ سے محض اس سے اٹھتی بھاپ کو تکے جا رہی تھی۔ بھاپ اوپر اٹھ کر دھند میں بدلتی اور پھر فضا میں غائب ہو جاتی۔

باہر انتظار گاہ میں بیٹھے لوگ خاموش تھے۔ کوئی کتاب پڑھ رہا تھا تو کوئی خالی نظروں سے سامنے دیکھ رہا تھا۔ جب انابیہ کو پکارا گیا تو وہ ایک لمبا سانس بھر کر اندر چلی گئی۔ ڈاکٹر ہارون کا لہجہ بہت نرم تھا: “جی، آئیں انابیہ! تشریف رکھیں۔” ان کی آنکھوں میں وہی سکون تھا جو اکثر ان لوگوں کی آنکھوں میں ہوتا ہے جو دوسروں کے زخم دیکھنے کے عادی ہو چکے ہوں۔

“تو بتائیے، آپ کو کب سے یہ احساس ہونے لگا کہ یہ دنیا غیر حقیقی ہے؟”
انابیہ نے نظریں جھکا لیں: “کچھ ہفتوں سے، شاید دو مہینوں سے۔ مجھے لگتا ہے جیسے میں کسی خواب میں ہوں۔ کچھ بھی اصلی نہیں لگتا، یہاں تک کہ میں خود بھی نہیں۔ کبھی کبھی لگتا ہے کہ میں خود کو باہر کھڑے ہو کر دیکھ رہی ہوں۔”

ڈاکٹر نے نوٹ بک میں کچھ لکھا: “کیا اس کیفیت کے دوران آپ کو خوف محسوس ہوتا ہے؟”
“جی، بہت زیادہ۔ ایسا لگتا ہے جیسے میرا وجود ابھی ختم ہو جائے گا۔”
“اور پھر؟”
“پھر بس خاموشی… جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو۔”

ڈاکٹر نے مسکرا کر کہا: “یہ جو آپ محسوس کر رہی ہیں، اسے نفسیاتی اصطلاح میں ‘ڈی پرسنلائزیشن’ (Depersonalization) کہتے ہیں؛ یعنی شعور کا اپنے وجود سے عارضی فاصلہ۔ یہ کیفیت خطرناک تو نہیں مگر تکلیف دہ ضرور ہے۔”
“تو کیا میں اب نارمل نہیں رہی؟” انابیہ نے الجھی ہوئی نظروں سے پوچھا۔
“آپ بالکل نارمل ہیں۔ بس آپ کا ذہن خود کو زیادہ گہرائی سے دیکھنے لگا ہے اور کبھی کبھی یہی گہرائی خوف کی شکل اختیار کر لیتی ہے۔” ڈاکٹر نے اسے ایک مشق بتائی کہ جب بھی دنیا غیر حقیقی لگنے لگے تو خود کو کسی مادی چیز سے جوڑ لو؛ مثلاً میز کو چھوؤ، دیوار کو غور سے دیکھو یا اپنی سانسوں پر توجہ دو۔ یہ عمل تمہیں واپس ‘حال’ میں لے آئے گا۔

اس رات انابیہ نے یہ کوشش کی۔ وہ آئینے کے سامنے کھڑی ہوئی اور اپنے چہرے پر ہاتھ پھیرا۔ “یہ میں ہوں۔” دل نے انکار کیا۔ “یہ میرا ہاتھ ہے۔” کوئی احساس بیدار نہ ہوا تو اس نے گہری سانسیں لینا شروع کیں۔ اس عمل سے وہ کچھ دیر کے لیے حال میں واپس آ گئی، جیسے بند ہونے والا کوئی دروازہ دوبارہ کھل گیا ہو۔

اگلے دن جب وہ یونیورسٹی گئی تو اسے لگا جیسے ہر چہرہ شناسا ہے، مگر یاد نہیں آ رہا تھا کہ کہاں دیکھا ہے۔ دوستوں نے کہا: “تم کافی بہتر لگ رہی ہو۔” وہ مسکرائی، مگر اندر سے خالی تھی۔ دوپہر میں وہ کیفے ٹیریا میں بیٹھی تھی کہ اچانک اس کے دماغ میں ایک تصویر ابھری۔ وہ دس سال کی بچی ہے، بارش میں چھت پر دوڑ رہی ہے اور ماں نیچے سے پکار رہی ہے: “انابیہ نیچے آؤ، بیمار ہو جاؤ گی!” اور پھر ایک زور دار آواز، جیسے کسی کی چیخ ہو۔

وہ بری طرح چونکی۔ سامنے بیٹھا اس کا دوست حیران ہوا: “کیا ہوا؟”
“کچھ نہیں، بس کچھ یاد آ گیا تھا۔” مگر وہ جانتی تھی کہ یہ محض کوئی عام یاد نہیں تھی، بلکہ کسی بھولی ہوئی دراڑ سے برآمد ہونے والا ماضی تھا۔

رات گئے وہ ڈائری لکھنے بیٹھی: “مجھے لگتا ہے کہ میں دو حصوں میں بٹ گئی ہوں۔ ایک حصہ ہنستا ہے، پڑھتا ہے اور باتیں کرتا ہے، جبکہ دوسرا حصہ محض دیکھتا رہتا ہے—خاموش، بے حس، جیسے شیشے کے پیچھے ہو۔ کبھی کبھی لگتا ہے میرا دماغ جسم سے الگ ہو گیا ہے، جیسے کوئی آہستہ آہستہ میری حقیقت چوری کر رہا ہو۔”
وہ لکھتے لکھتے رکی، قلم رکھا اور سوچنے لگی: “کیا میں خود اپنی دشمن بن چکی ہوں؟”

☆☆☆

دوپہر کے کھانے میں صالحہ بیگم نے انابیہ کا من پسند مٹن پلاؤ اور بیف شامی کباب بنائے۔ کچن کے کاموں سے فارغ ہو کر وہ چائے کے مگ ٹرے میں سجائے انابیہ کے کمرے میں آئیں اور بڑی شفقت سے کہنے لگیں: “انابیہ، تمہیں تھوڑا ماحول بدلنے کی ضرورت ہے۔ تم چند دن کے لیے نانی کے پاس چلی جاؤ۔”

انابیہ خود بھی اس دم گھٹتے ماحول سے فرار چاہ رہی تھی، اس لیے فوراً راضی ہو گئی۔ کراچی سے ملتان تک ٹرین کے سفر میں وہ کھڑکی سے باہر بدلتے مناظر دیکھتی رہی۔ درخت، بادل اور کھیت تیزی سے پیچھے چھوٹ رہے تھے، مگر اسے اب بھی یوں لگ رہا تھا جیسے یہ سب کسی پردے کے پیچھے ہو۔

نانی کے گھر کی خاموشی میں ایک عجیب سا سکون تھا۔ نانی نے پیار سے اس کے سر پر ہاتھ رکھا اور کہا: “بیٹا، تم بہت کمزور لگ رہی ہو۔ اپنا خیال رکھا کرو اور خوش رہا کرو؛ نماز کے بعد دل لگا کر قرآن کی تلاوت کیا کرو۔”

انابیہ نے خاموشی سے سر ہلا دیا۔ رات کو وہ نانی کے کمرے میں بیٹھی تھی؛ جب انہوں نے سورہ یٰسین پڑھنا شروع کی تو انابیہ کو محسوس ہوا جیسے آواز کی لہریں اس کے دل کی گہرائیوں میں اتر رہی ہیں۔ کئی ہفتوں بعد یہ پہلا موقع تھا جب وہ اپنے وجود کو محسوس کر پا رہی تھی۔ اسے لگا کہ وہ ‘یہیں’ موجود ہے۔ وہ تلاوت سنتے سنتے نانی کے بستر پر ہی پرسکون نیند سو گئی۔

اگلی صبح نانی نے اسے نصیحت کی: “جب دل الجھنے لگے تو اپنے آپ سے بات کرو، مگر رب کے سامنے؛ اس سے بہتر سامع کوئی نہیں ہے۔”

انابیہ نے وضو کیا اور جائے نماز بچھائی۔ نماز کے بعد سجدے میں سر رکھا تو بے اختیار پکار اٹھی: “اے رب! مجھے میری پہچان لوٹا دے، مجھے میرے ‘ہونے’ کا یقین عطا کر دے۔”

آنسو اس کے گالوں پر بہہ نکلے۔ وہ مسلسل سوچوں اور ذہنی اضطراب سے بیزار ہو چکی تھی۔ پہلی بار اسے محسوس ہوا کہ اس کی آنکھوں سے بہنے والا پانی ‘اصلی’ ہے۔ یہ درد حقیقت رکھتا تھا اور اس درد کو محسوس کرنے والی وہ خود بھی ایک حقیقت تھی۔

اسی رات اس نے ایک عجیب خواب دیکھا۔ وہ ایک بڑے آئینے کے سامنے کھڑی ہے، جس کے اندر ایک اور انابیہ موجود ہے مگر وہ مسکرا نہیں رہی۔ جب انابیہ نے ہاتھ بڑھا کر شیشے کو چھوا تو اس میں ایک دراڑ پڑ گئی۔ اسی لمحے وہ ایک چیخ کے ساتھ جاگ گئی۔ وہ پسینے میں شرابور تھی اور سانسیں اکھڑی ہوئی تھیں۔ وہ سمجھ گئی تھی کہ یہ محض خواب نہیں بلکہ اس کے شعور کی دراڑ تھی۔

اگلی صبح اس نے ڈاکٹر ہارون کو فون کر کے اپنی کیفیات بتائیں۔ ڈاکٹر نے حوصلہ افزائی کرتے ہوئے کہا: “انابیہ، یہ ایک اچھا اشارہ ہے۔ تمہارا ذہن اب حقیقت اور خواب میں فرق کرنے لگا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ تم شفا کے سفر پر ہو۔” انہوں نے ایک نئی مشق بتائی: “روزانہ پانچ منٹ خاموشی سے بیٹھ کر اپنی سانسوں، دل کی دھڑکن، ہوا کے لمس اور زمین کی ٹھنڈک کو محسوس کرنے کی کوشش کرو۔”

پہلے دن اسے کچھ محسوس نہ ہوا، دوسرے دن وہ ہوا کے لمس کو پہچاننے لگی اور تیسرے دن جب اس نے گہرا سانس لیا تو اسے فضا میں ایک بھینی سی خوشبو محسوس ہوئی—جیسے زندگی لوٹ رہی ہو۔

ایک شام جب وہ چھت پر بیٹھی غروبِ آفتاب کا نظارہ کر رہی تھی، تو سورج کی سنہری روشنی میں گرد کے ذرے تیرتے نظر آئے۔ اس نے ہاتھ آگے بڑھایا اور پہلی بار اسے احساس ہوا کہ ہوا واقعی ٹھنڈی ہے۔ اس کا دل زور سے دھڑکا: “یہ احساس اصلی ہے!” اس کے لبوں سے بے ساختہ نکلا: “الحمد للہ رب العالمین۔”

ایک ہفتے بعد جب وہ گھر واپس آئی تو اس کا چہرہ پرسکون تھا۔ صالحہ بیگم اسے دیکھ کر نہال ہو گئیں: “لگتا ہے ہماری انابیہ واپس آ گئی ہے!”
وہ مسکرائی: “ہاں مما، شاید میں آدھی واپس آ گئی ہوں۔ اب بھی کچھ دھند باقی ہے، مگر میں نے روشنی کی سمت پہچان لی ہے۔ شاید یہی پہچان میرا پہلا قدم ہے۔”

اس نے کمرے کی لائٹ آف کی اور طویل عرصے بعد ایک پرسکون اور گہری نیند سو گئی۔

☆☆☆

کمرے کی دیوار پر صبح کی روشنی ہلکے سنہری رنگ میں پھیل رہی تھی۔ کھڑکی کے پردے ہوا سے لرز رہے تھے اور انابیہ ساکت لیٹی کھلی آنکھوں سے چھت کو تک رہی تھی۔ آج کچھ مختلف محسوس ہو رہا تھا۔ دل میں ایک عجیب سا سکون تھا، مگر ذہن اب بھی دھندلا تھا۔ پچھلے کچھ دنوں میں وہ بہت کچھ سیکھ چکی تھی: سانسوں کی گنتی کرنا، خود سے کلام کرنا اور لمحہِ موجود میں واپس آنا؛ لیکن آج دل کے نہاں خانے میں ایک سوال نے سر اٹھایا: “کیا میں واقعی ٹھیک ہو رہی ہوں؟ یا یہ بھی محض ایک وہم ہے؟”

تبھی صالحہ بیگم نے دروازہ کھولا اور پکارا: “انابیہ، اٹھ جاؤ بیٹا! آج تمہارا دوسرا سیشن ہے ناں؟”
وہ چونکی، پھر مسکرا دی۔ “جی مما جان، یاد ہے۔”

اس نے آئینے میں اپنا عکس دیکھا؛ آنکھوں کے گرد سیاہ حلقے اب بھی نمایاں تھے، مگر ان میں ایک نئی چمک پیدا ہو گئی تھی۔ “میں ٹھیک ہو جاؤں گی ناں؟” اس نے دھیمے سے کہا۔ عکس نے جیسے اثبات میں سر ہلایا: “ہاں، اگر تم خود پر یقین رکھو۔”

ڈاکٹر ہارون کے کلینک میں آج کچھ زیادہ ہی روشنی محسوس ہو رہی تھی۔ وہ ہمیشہ کی طرح مسکراتے ہوئے بولے: “انابیہ، خوش آمدید! اب کیسا محسوس کر رہی ہو؟”
“کبھی ٹھیک، تو کبھی عجیب۔ کبھی لگتا ہے میں ‘میں’ ہی ہوں، اور کبھی لگتا ہے کہ کسی اور کی زندگی دیکھ رہی ہوں۔”

ڈاکٹر نے نوٹ بک میں کچھ تحریر کیا اور پھر گویا ہوئے: “یہ بہت عام بات ہے۔ جب کوئی خود کو دوبارہ پہچاننے کی کوشش کرتا ہے، تو کبھی وہ خود سے جڑ جاتا ہے اور کبھی الگ محسوس کرنے لگتا ہے۔ یہ سفر دھند سے روشنی تک کا ہے۔”

انابیہ نے ایک گہری سانس لی۔ “کبھی کبھی لگتا ہے جیسے میرے اندر دو آوازیں ہیں۔ ایک کہتی ہے کہ میں ٹھیک ہوں، اور دوسری سرگوشی کرتی ہے کہ سب کچھ مصنوعی ہے۔”
ڈاکٹر نے نرمی سے سمجھایا: “ان دونوں آوازوں سے لڑنا مت، بلکہ ان سے بات کرو۔ یاد رکھو، یہ دونوں آوازیں تمہاری ہی ہیں۔”

☆☆☆

اگلی رات جب وہ بستر پر لیٹی تو کمرہ نیم روشن تھا۔ اسے محسوس ہوا جیسے کوئی اس کے بالکل پاس بیٹھا ہو۔ اس نے آنکھیں بند کیں تو ذہن کے نہاں خانے میں ایک نرم سی آواز گونجی: “میں تمہارا خوف ہوں!”

وہ چونکی، مگر خاموش رہی۔ “تم بار بار کیوں آتے ہو؟” اس نے دل ہی دل میں سوال کیا۔
آواز آئی: “کیونکہ تم مجھے چھوڑنا نہیں چاہتیں۔ میں تمہیں محفوظ رکھتا ہوں—دنیا کی تلخ حقیقتوں سے، درد سے اور خود تم سے۔”

انابیہ کی آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے۔ “لیکن تم تو میری سانسیں ہی چھین لیتے ہو۔”
“میں تمہاری ڈھال ہوں انابیہ! اگر تم مجھے توڑ دو گی، تو حقیقت کا سارا بوجھ تمہارے اعصاب پر آ گرے گا۔”

اس نے اپنا سر تکیے میں چھپا لیا۔ “میں کسی دیوار کے پیچھے قید ہو کر نہیں جینا چاہتی۔ میں روشنی دیکھنا چاہتی ہوں!”
آواز رفتہ رفتہ مدھم ہوتی گئی، جیسے کسی نے دور کہیں دروازہ بند کر دیا ہو۔ انابیہ درود شریف کا ورد کرتی رہی اور نہ جانے کب اس کی آنکھ لگ گئی۔ اس کی آنکھوں کے گوشے گیلے تھے اور چہرے پر جگہ جگہ خشک آنسوؤں کی لکیریں واضح تھیں۔

اگلی صبح وہ کھڑکی کے پاس جا کر کھڑی ہوئی۔ ہوا کے ایک تازہ جھونکے نے اس کے چہرے کو چھوا۔ اس نے ہاتھ آگے بڑھایا اور سرگوشی کی: “یہ ہوا ہے… یہ اصلی ہے؛ میں اسے محسوس کر سکتی ہوں۔”

اس کے دل نے گواہی دی: “ہاں، تم زندہ ہو!”

وہ لمحہ مختصر سہی، مگر انتہائی طاقتور تھا۔ کچھ دیر کے لیے اس نے اپنے وجود کا وزن محسوس کیا: اپنی سانسیں، دل کی دھڑکن اور جسم کی تپش۔ یہی تو زندگی تھی۔

☆☆☆

ڈاکٹر ہارون نے آج کے سیشن میں ایک نیا سوال کیا: “انابیہ، تم نے بتایا تھا کہ بچپن کی کچھ یادیں دھندلی ہیں۔ کیا کبھی تمہیں لگا کہ کوئی ایسا لمحہ تمہارے دل میں چھپا ہے جس نے تمہیں بدل کر رکھ دیا ہو؟”

انابیہ نے نظریں جھکا لیں: “شاید ہاں… ایک بار میں اسکول سے واپس آ رہی تھی، تب سڑک پار کرتے ہوئے میرے سامنے ایک حادثہ ہوا۔ ایک آدمی گاڑی کے نیچے آ گیا تھا۔ میں نے اس کے چہرے پر خون دیکھا تھا، تب سے مجھے کبھی خود اپنی زندگی ‘اصلی’ نہیں لگی۔”

وہ خاموشی سے سنتے رہے، پھر بولے: “یہ وہی لمحہ تھا انابیہ، جب تمہارے ذہن نے حقیقت سے فاصلہ بنانا شروع کیا۔ تم نے خود کو بچانے کے لیے دیکھنے اور محسوس کرنے کے درمیان ایک دیوار کھڑی کر لی تھی۔”
“تو کیا میں خود کو اسی دن کھو بیٹھی تھی؟” انابیہ نے دھیمے لہجے میں پوچھا۔
“نہیں، تم خود کو بچا رہی تھیں۔ اب وقت ہے خود کو واپس پانے کا،” ڈاکٹر نے جواب دیا۔

اس رات وہ دیر تک جاگتی رہی۔ اس کا دل چاہا کہ اس چھوٹی سی انابیہ سے بات کرے جو حادثے والے دن ڈر گئی تھی۔ اس نے آنکھیں بند کیں اور تصور میں خود کو وہی چھوٹی بچی دیکھا؛ لمبے بال، نیلے فیتے اور ہاتھوں میں اسکول بیگ۔ وہ بچی رو رہی تھی۔ انابیہ نے آگے بڑھ کر اسے گلے لگا لیا: “اب ڈرنے کی ضرورت نہیں، میں آ گئی ہوں۔”
بچی نے آنسو بھری آنکھوں سے پوچھا: “کیا اب سب اصلی ہے؟”
انابیہ نے مسکرا کر کہا: “ہاں، اب سب اصلی ہے۔ ہم دونوں ایک ہیں۔”

یہ لمحہ کسی بند دروازے کے کھل جانے جیسا تھا۔ اس کے وجود میں ایک گرمجوشی دوڑ گئی۔ اسے لگا جیسے اس نے خود سے پہلی ملاقات کر لی ہو۔ اسے احساس ہوا کہ ‘ٹھیک ہونا’ صرف بیماری کا ختم ہونا نہیں، بلکہ خود کو قبول کر لینا ہے۔

اب وہ باقاعدگی سے یونیورسٹی جانے لگی تھی۔ دوستوں نے اسے دیکھا تو حیران رہ گئے۔ “انابیہ، تم پہلے جیسی نہیں لگ رہی ہو۔ چہرے پر ایک الگ ہی روشنی ہے۔”
وہ مسکرائی: “بس، تھوڑا خود کو ڈھونڈ لیا ہے۔”
کلاس کے دوران پروفیسر نے کہا: “زندگی کو سمجھنے کا پہلا قدم خود کو سمجھنا ہے۔” انابیہ دل میں مسکرائی اور خاموشی سے بولی: “میں سمجھنے لگی ہوں۔”

ڈاکٹر ہارون نے آخری سیشن میں کہا تھا: “اب تمہیں ہر دن ایک حقیقت سے جڑنا ہے۔ کوئی چھوٹا سا لمحہ، کوئی احساس، کوئی شکرگزاری… یہ چیزیں تمہیں زمین سے جوڑے رکھیں گی۔” انابیہ نے وعدہ کیا کہ وہ ہر روز ایک ‘اصلی لمحہ’ ڈائری میں لکھے گی۔ اس دن اس نے لکھا: “آج میں نے بارش کے بعد مٹی کی خوشبو محسوس کی۔ پہلی بار اس خوشبو نے میرے دل کو چھوا۔ میں جان گئی کہ میں زندہ ہوں۔”

ایک رات اسے پھر وہی آئینے والا خواب آیا، مگر اس بار آئینے میں موجود انابیہ مسکرا رہی تھی۔ اس نے ہاتھ بڑھایا اور شیشے پر انگلی پھیری، تو دراڑیں نہیں آئیں بلکہ آئینہ چمکنے لگا۔ “ہم ایک ہیں، اب تم مجھ سے الگ نہیں۔” پھر خواب آہستہ آہستہ روشنی میں بدل گیا۔

صبح کی پہلی کرن جب کھڑکی سے اندر آئی، انابیہ نے ایک گہرا سانس لیا۔ دنیا بدلی نہیں تھی، مگر اس کے دیکھنے کا زاویہ بدل چکا تھا۔ اب وہ جان گئی تھی کہ غیر حقیقی ہونے کا احساس بھی ایک حقیقت ہے، جو صرف سمجھانے کے لیے آتا ہے، رہنے کے لیے نہیں۔ اس نے ڈائری کھولی اور لکھا: “میں اب خود سے مل چکی ہوں۔ میں وہی ہوں جو کبھی دھند میں کھو گئی تھی۔ اب جب کبھی دنیا اجنبی لگے گی، میں اپنی سانس، اپنے لمس اور اپنے رب کو یاد کروں گی۔ میں یہاں ہوں، میں حقیقی ہوں۔”

دنیا ایک بار پھر ویسی ہی تھی، مگر انابیہ کے لیے سب کچھ بدل چکا تھا۔ پہلے جو منظر دھند میں کھو جاتے تھے، اب ان میں رنگ بھر گئے تھے۔ پہلے جو آوازیں شور محسوس ہوتی تھیں، اب وہ موسیقی لگ رہی تھیں۔ لیکن دل میں ایک سوال اب بھی زندہ تھا: “کیا یہ سب ہمیشہ رہے گا؟ یا میں پھر سے سب کچھ کھو دوں گی؟”

کئی ہفتوں بعد جب وہ یونیورسٹی گئی تو دوستوں نے اسے گلے لگا لیا: “آخر تم واپس آ ہی گئیں!”
انابیہ نے مسکرا کر کہا: “ہاں، شاید میں خود کے ساتھ واپس آئی ہوں۔”

کلاس شروع ہوئی تو پروفیسر نے موضوع دیا: “حقیقت اور ادراک کا فرق”۔ انابیہ کے دل میں ہلکی سی لرزش ہوئی۔ اس نے نوٹ بک میں لکھا: “کبھی کبھی حقیقت وہ نہیں ہوتی جو آنکھ دکھائے، بلکہ وہ ہوتی ہے جو دل مان لے۔”
پروفیسر کی آواز پس منظر میں مدھم ہو گئی۔ اسے لگا جیسے وہ پھر کسی گہرے خیال میں کھو گئی ہے، لیکن اس بار وہ خوفزدہ نہیں تھی۔ وہ جانتی تھی کہ یہ خیال فرار نہیں بلکہ فہم ہے۔

دوپہر میں وہ کیفے کے کونے میں بیٹھی چائے پی رہی تھی۔ لڑکیاں ہنس رہی تھیں، کوئی کتاب پڑھ رہا تھا تو کوئی تصویر بنا رہا تھا۔ اسے یہ سب معمول کے مطابق مگر خوبصورت لگا۔ پھر اچانک ایک لمحے کے لیے سامنے بیٹھے ایک لڑکے کے چہرے پر اسے اس حادثے والے شخص کی جھلک نظر آئی۔ اس کے ہاتھ میں تھاما چائے کا کپ لرز گیا اور سانس رک گئی۔ آوازیں دھند میں گم ہونے لگیں اور دل میں وہی پرانی گونج اٹھی: “یہ سب نقلی ہے… یہ سب نقلی ہے!”

لیکن اس بار اس نے آنکھیں بند نہیں کیں۔ اس نے کپ کو مضبوطی سے تھاما، گہری سانس لی اور دل میں کہا: “نہیں! میں یہاں ہوں۔ میں اب ڈرتی نہیں ہوں۔”
سانسوں کی ترتیب کے ساتھ سب کچھ آہستہ آہستہ صاف ہونے لگا۔ چائے کا ذائقہ واپس آیا اور دنیا پھر سے اصلی لگنے لگی۔ یہ پہلی بار تھا جب اس نے غیر حقیقی لمحے کو شکست دی تھی۔

شام کو سیشن کے دوران ڈاکٹر ہارون نے پوچھا: “کیا آج کچھ بدلا ہوا محسوس کیا؟”
انابیہ نے مسکراتے ہوئے کہا: “جی، آج میں نے ڈر کو دیکھا مگر بھاگی نہیں۔ میں نے اسے تسلیم کیا، مگر خود پر حاوی نہیں ہونے دیا۔”
ڈاکٹر نے سر ہلایا: “انابیہ، یہی اصل علاج ہے۔ جب ہم اپنی کیفیت سے بھاگتے نہیں، تو وہ ہمیں آزاد کر دیتی ہے۔ اب تمہارا اگلا مرحلہ دنیا میں واپس جانا اور لوگوں کے ساتھ جینا ہے تاکہ تم ثابت کر سکو کہ تم روشنی کے اس پار جا چکی ہو۔”
“اور اگر میں پھر کھو گئی تو؟” انابیہ نے پوچھا۔
ڈاکٹر مسکرائے: “تو تم خود کو وہیں پاؤ گی جہاں تم پہلے سے موجود ہو—اپنے اندر۔”

اس رات انابیہ نے خواب میں ایک طویل اندھیرا کمرہ دیکھا جس کے آخر میں ایک دروازہ تھا۔ دروازے کے پار ایک ایسی چمک تھی جو دل میں اتر رہی تھی۔ ایک آواز آئی: “یہی وہ روشنی ہے جس سے تم ڈرتی تھیں۔ اب آگے بڑھو۔”
وہ بڑھی تو سامنے ایک آئینہ آ گیا۔ آئینے میں اس کا پرانا عکس تھا؛ خوفزدہ اور ادھورا۔ عکس نے کہا: “اگر تم آگے بڑھ گئیں تو میں ختم ہو جاؤں گی۔ میں تمہارا سایہ ہوں، ہمیشہ تمہارے ساتھ رہا ہوں۔”
انابیہ نے نرمی سے کہا: “تم ختم نہیں ہو گی، بلکہ بدل جاؤ گی۔ میں تم سے نفرت نہیں کرتی، بس تمہیں آزاد کر رہی ہوں۔”
اس نے ہاتھ بڑھایا، دروازہ کھلا اور روشنی اندر بھر گئی۔ سب کچھ سفید ہو گیا۔

اگلی صبح انابیہ نے صحن میں بیٹھ کر چائے پی۔ صالحہ بیگم نے اسے دیکھ کر کہا: “بیٹا، آج تم بہت پرسکون لگ رہی ہو۔”
“مما جان، میں نے آج ہوا کو محسوس کیا۔ ایسا لگا جیسے زندگی کہہ رہی ہو کہ میں تمہارے ساتھ ہوں۔”
صالحہ بیگم نے دعائیہ لہجے میں کہا: “اللہ تمہیں ہمیشہ سلامت رکھے۔”

ماں کی دعا پر وہ آمین کہتے ہوئے مسکرائی۔ یہ ہنسی اس کے اندر سے پھوٹی تھی، بغیر کسی بوجھ کے۔ اس نے دل میں کہا: “اے انابیہ، تم نے طویل اندھیرا دیکھا، خود پر اور حقیقت پر شک کیا، مگر ہار نہیں مانی۔ اب جب کبھی دھند چھائے، تو یاد رکھنا کہ تم نے اس کے پار جانا سیکھ لیا ہے۔ تم اب روشنی کا حصہ ہو۔”
انابیہ نے آنکھیں بند کیں اور اپنے دل میں ایک انوکھا اطمینان محسوس کیا۔

☆☆☆

“ہم آج تمہارا آخری سیشن کریں گے، مگر یہ اختتام نہیں بلکہ ایک نیا آغاز ہے،” ڈاکٹر ہارون نے کہا اور میز پر رکھا ایک چھوٹا سا آئینہ اس کی طرف بڑھایا۔ “یہ رکھ لو؛ جب کبھی تمہیں لگے کہ دنیا دھندلا رہی ہے، تب اس آئینے میں خود کو دیکھنا۔ تمہیں وہاں وہی لڑکی دکھائی دے گی جس نے خود کو روشنی کے پار پہنچایا تھا۔”

انابیہ نے آئینہ ہاتھ میں لیا اور اپنے عکس میں اپنی مسکراہٹ دیکھی۔ اسے پہلی بار یہ مسکراہٹ ‘اصلی’ لگی۔

دن گزرتے گئے۔ انابیہ اب تھیراپی کی تربیت لینے لگی تھی تاکہ ان لوگوں کی مدد کر سکے جو اسی درد سے گزر رہے تھے جس نے کبھی اسے اپنی لپیٹ میں لیا تھا۔ ایک دن ایک نوجوان لڑکی اس کے پاس آئی اور کہنے لگی: “مجھے لگتا ہے کہ میں خود ‘میں’ نہیں ہوں۔ سب کچھ ایک خواب جیسا لگتا ہے۔”

انابیہ نے نرمی سے مسکرا کر کہا: “میں جانتی ہوں کہ تم کیسا محسوس کرتی ہو، لیکن یقین کرو کہ تم یہیں ہو۔ بس تمہیں اپنے اندر کی آواز کو دوبارہ سننا ہے۔”
لڑکی کی آنکھوں میں حیرت اور امید کی چمک جھلکی۔ انابیہ کے دل میں شکر گزاری کا ایک نیا احساس پیدا ہوا۔ اب جب کبھی وہ شام کے جھٹپٹے میں آسمان کو دیکھتی تو سوچتی کہ زندگی حقیقت اور وہم کے درمیان نہیں، بلکہ احساس اور شکر کے درمیان ہے۔ اس نے اپنی ڈائری کا آخری صفحہ کھولا اور لکھا:

“میں نے جس روشنی کو تلاش کیا، وہ کہیں باہر نہیں بلکہ میرے اپنے اندر تھی۔ میں کہاں ہوں؟ میں وہیں ہوں جہاں مجھے ہونا چاہیے؛ روشنی کے پار، اپنے اندر کے سکون میں۔”

اس نے ڈائری بند کی، کھڑکی سے آنے والی ہوا کو محسوس کیا اور اسے پہلی بار دنیا پوری طرح حقیقی لگی۔

دن کی نرم دھوپ جب دیواروں سے پھسل کر فرش پر بکھرتی، انابیہ کھڑکی کے قریب بیٹھ کر چائے کا کپ تھامتی اور خاموشی میں اپنی سانسوں کی آواز سنتی۔ یہ وہی انابیہ تھی جس نے کبھی اپنے وجود پر شک کیا تھا، مگر اب وہ خواب نہیں دیکھتی تھی بلکہ زندگی کو بیداری کے ساتھ جیتی تھی۔ لیکن اس بیداری کے ساتھ ایک نئی حقیقت بھی جڑی تھی: ‘درد کی آگہی’۔

ڈائری لکھتے ہوئے اچانک اس کے ہاتھ تھم گئے۔ ایک پرانا خط صفحات کے درمیان سے نیچے گرا۔ یہ وہی خط تھا جو کسی وقت اسد نے لکھا تھا۔ وہ شخص جس کے ساتھ ہنسی، دوستی اور خواب جڑے تھے، مگر جس کے جانے کے بعد انابیہ کے اندر کچھ ایسا ٹوٹا تھا کہ وہ خود سے ہی کٹ کر رہ گئی تھی۔ خط پر اسد کی تحریر اب بھی واضح تھی:
“انابیہ، اگر کبھی تمہیں لگے کہ میں نہیں ہوں، تو یاد رکھنا، میرا سایہ تمہارے دل کے آس پاس بھی نہیں ہو گا۔”

انابیہ نے خط بند کیا۔ دل میں ایک ہلکی سی کسک محسوس ہوئی؛ وہی پرانا درد جو اب بھی کہیں زندہ تھا، مگر اب وہ اسے اپنا دشمن نہیں سمجھتی تھی۔ اس نے دھیمے لہجے میں کہا: “ہاں، تمہارا سایہ نہیں ہے، کیونکہ اب میں روشنی میں ہوں۔”

ٹریننگ کے دوران اسے پہلا کیس دیا گیا۔ ایک لڑکی ‘شزہ’، جو بہت کم گو اور خوفزدہ تھی اور اکثر کہتی تھی: “مجھے لگتا ہے سب کچھ جعلی ہے۔ میں خود کو محسوس نہیں کر پاتی۔”
انابیہ کو ایک پل کے لیے لگا جیسے اس کا اپنا ماضی اس کے سامنے کھڑا ہو۔ اس نے نرمی سے پوچھا: “شزہ، کیا تم چاہو گی کہ میں تمہیں ایک کہانی سناؤں؟”
شزہ نے اثبات میں سر ہلایا تو انابیہ گویا ہوئی:
“ایک لڑکی تھی جو آئینے میں خود کو پہچان نہیں پاتی تھی۔ دنیا اسے اصلی لگتی ہی نہیں تھی۔ پھر ایک دن اس نے طے کیا کہ وہ حقیقت کو باہر نہیں بلکہ اپنے اندر تلاش کرے گی۔ اور جب اس نے خود سے دوستی کر لی، تو دنیا بھی اصلی بن گئی۔”

شزہ خاموش رہی، مگر اس کی آنکھوں میں پہلی بار امید کی کرن نظر آئی۔ اس رات جب انابیہ گھر لوٹی تو دل پر ایک عجیب سا بوجھ تھا۔ اس نے سوچا: “میں دوسروں کو تو سنبھال رہی ہوں، مگر کیا میں خود مکمل طور پر ٹھیک ہو چکی ہوں؟”

شام کی خنک ہوا میں وہ چھت پر چلی گئی۔ چاند آدھا تھا اور آسمان خاموش۔ “یا رب! کیا میرے اندر اب بھی کوئی خلا باقی ہے یا یہ میرا نفس ہے جو ماضی کو یاد کر کے دکھ بڑھاتا ہے؟”

“خلا ختم نہیں ہوتے، بس اپنی سمت بدل لیتے ہیں،” انابیہ کے لبوں پر مسکراہٹ آئی۔ وہ اپنی والدہ صالحہ بیگم کی کہی ہوئی بات سوچنے لگی۔ ہاں، شاید اب اس کے اندر کا خلا اندھیرے کے بجائے روشنی کی طرف کھل گیا تھا۔

☆☆☆

“میں تمہیں ایک پروجیکٹ دینا چاہتا ہوں۔ ’روح کی بحالی‘ کے نام سے ایک گروپ سیشن ہے، جہاں لوگ اپنی گمشدہ شناخت ڈھونڈنے آئیں گے۔ میں چاہتا ہوں کہ تم اسے لیڈ کرو،” ڈاکٹر ہارون نے کہا تو انابیہ چونک گئی۔

“میں؟ لیکن میں تو ابھی سیکھ رہی ہوں…”
“تم وہ سب جھیل چکی ہو جو وہ جھیل رہے ہیں، اسی لیے تم ان کی زبان اور ان کا کرب بہتر سمجھ سکتی ہو،” ڈاکٹر نے اسے حوصلہ دیا۔
انابیہ نے دھیرے سے کہا: “اگر یہ ان کے دل کو قرار دے سکے، تو میں تیار ہوں۔”

کمرے میں پانچ لوگ بیٹھے تھے؛ کوئی خاموش تھا، کوئی لرز رہا تھا اور کوئی نظریں چھپا رہا تھا۔ انابیہ نے نرمی سے گفتگو کا آغاز کیا: “یہ کمرہ آپ کے بارے میں کوئی فیصلہ نہیں کرے گا، بس آپ کو سنے گا۔ ہم سب یہاں کسی نہ کسی موڑ پر خود کو گم کر چکے ہیں، اور یاد رکھیے، گمشدگی ہی تلاش کا اصل آغاز ہوتی ہے۔”

“میں اپنے بیٹے کے بچھڑنے کے بعد خود کو بھول گئی ہوں۔ مجھے لگتا ہے وہی میری واحد حقیقت تھا،” ایک بوڑھی خاتون بھرائی ہوئی آواز میں بولیں۔
“میں دن بھر ہنستا ہوں، مگر رات کو لگتا ہے میں خود ‘میں’ نہیں ہوں، بس کوئی کردار ہوں،” ایک نوجوان نے اپنا دکھ بیان کیا۔

انابیہ نے آنکھیں بند کیں اور رقت آمیز لہجے میں کہا: “ہم سب کبھی نہ کبھی اپنے اصل وجود سے جدا ہو جاتے ہیں، مگر یاد رکھیں، روح کبھی غائب نہیں ہوتی، بس درد کے پردوں میں چھپ جاتی ہے۔”
کمرے میں ایک گہرا سکوت چھا گیا۔ پھر کسی کی آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے اور کسی کی سسکی سنائی دی۔ وہ لمحہ جیسے اجتماعی شفا کا لمحہ تھا۔

اب انابیہ ہر صبح جاگ کر دعا کرتی: “اے رب! مجھے آج کسی ایک دل کو سکون دینے کی توفیق عطا فرما۔”
وہ اب زندگی کے چھوٹے چھوٹے کاموں میں خوشی ڈھونڈنے لگی تھی؛ پرندوں کو دانہ ڈالنا، بچوں کے بے ساختہ قہقہے سننا اور پانی میں اپنا عکس دیکھنا۔ ایک دن کلاس کے بعد وہ پارک میں بیٹھی تھی کہ اچانک کسی نے اسے پکارا؛ اس نے مڑ کر دیکھا تو ڈاکٹر ہارون کھڑے تھے۔

“تم اب بالکل بدل گئی ہو۔ تمہارے چہرے پر وہ اطمینان ہے جو صرف کٹھن تجربات سے گزرنے کے بعد ہی نصیب ہوتا ہے۔”
انابیہ نے مسکرا کر جواب دیا: “میں نے سیکھ لیا ہے ڈاکٹر صاحب! سکون ڈھونڈنے سے نہیں، بانٹنے سے ملتا ہے۔”

☆☆☆

اس رات انابیہ نے ایک خط لکھا، اپنی روح کے نام:
“میری عزیز روح! تم کبھی مری نہیں تھیں، بس میں نے تمہیں بھلا دیا تھا۔ میں تمہیں نظر انداز کرتی رہی اور تمہارے درد کو عقل کے ترازو میں تولتی رہی، مگر اب میں جانتی ہوں کہ تم ہی میری اصل ہو۔ جب میں نے تمہیں سننا شروع کیا، تب زندگی نے مجھے محسوس کیا۔ میں وعدہ کرتی ہوں کہ اب تمہیں کبھی چپ نہیں رہنے دوں گی۔ اب ہم دونوں ایک ہیں، میں اور میری روح۔”

اس نے خط بند کیا اور پہلی بار اسے لگا کہ اس کے آنسو محض نمی نہیں بلکہ سراسر شفا ہیں۔ رات کے آخری پہر جب وہ نیند کی وادی میں اتری، تو اس نے خواب میں خود کو ایک سنسان ساحل پر پایا۔ ہوا نرم تھی، آسمان نیلا اور سامنے سمندر کی لہروں میں ایک عکس جھلک رہا تھا۔

عکس نے کہا: “انابیہ، تم اب ٹھیک ہو چکی ہو۔ تم نے نہ صرف خود کو پہچانا، بلکہ دوسروں کے لیے بھی روشنی بن گئیں۔”
اس نے پوچھا: “کیا اب میں مکمل ہوں؟”
عکس نے مسکرا کر جواب دیا: “مکمل ہونا مقصد نہیں، بلکہ محسوس کرنا ہی اصل حقیقت ہے؛ اور تم اب محسوس کرنا سیکھ چکی ہو۔”

ایک لہر آئی اور وہ عکس مٹ گیا، مگر انابیہ کے دل میں روشنی کی ایک مستقل لکیر باقی رہ گئی۔

چند دن بعد ایک کانفرنس منعقد ہوئی جس کا موضوع تھا: “ادراک اور روحانی بیداری”۔ ڈاکٹر ہارون نے انابیہ کو بطورِ کلیدی مقرر (Speaker) مدعو کیا۔ جب وہ اسٹیج پر پہنچی تو پورے ہال میں خاموشی چھا گئی۔ اس نے مخاطب ہو کر کہا:

“میں وہ تھی جو خود کو حقیقت سے الگ محسوس کرتی تھی، مگر میں نے یہ جانا کہ حقیقت باہر نہیں، ہمارے اندر بستی ہے۔ احساس، درد، دعا اور تعلق کے سفر میں ہم سب کبھی نہ کبھی اپنے آپ سے بچھڑ جاتے ہیں، مگر جو خود کو تلاش کر لے، وہ پوری دنیا کو پہچان لیتا ہے۔”

ہال تالیوں کی آواز سے گونج اٹھا، مگر انابیہ کے لیے سب سے قیمتی اثاثہ وہ لمحہ تھا جب اس نے اپنے وجود کے اندر مکمل سکون محسوس کیا۔ رات گئے وہ اپنی کھڑکی کے پاس بیٹھی تھی۔ ہوا میں رات کی رانی کے پھولوں کی خوشبو بسی تھی اور دور سے عشاء کی اذان کی روح پرور آواز گونج رہی تھی۔
 

Create an account or login to read stories

You must be a member in order to leave a comment

Create account

Create an account on our community. It's easy!

Log in

Already have an account? Log in here.

New posts
Back
Top