- Moderator
- #1
میں جب پہلی بار سوڈان آیا تھا، تو نیل خاموش تھا۔ ایسا لگتا تھا جیسے پانی نے خود کو سنبھال رکھا ہو کہ کہیں کوئی آواز نہ اٹھ جائے۔ میں تب ایک تحقیق کے سلسلے میں آیا تھا، کتاب لکھنے کے خواب کے ساتھ، جو اُن چہروں پر روشنی ڈال سکے جو غربت کے سایے میں بھی جینے کی ضد کرتے ہیں۔ دارالحکومت خرطوم میں اُن دنوں امن تھا۔ بازاروں میں اونٹ کی کھال کی خوشبو، چائے فروش عورتوں کی ہنسی اور ریت میں ڈوبتے سورج کے ساتھ مسجدوں سے آتی اذان، سب کچھ پُرسکون معلوم ہوتا تھا۔ میں نے وہ سب لکھا جو وہاں دیکھا۔ اُن چہروں کو محفوظ کیا جو دھول میں لپٹے ہوئے بھی ایک روشنی رکھتے تھے۔ ایک بوڑھی عورت، جو دن بھر اینٹیں اٹھا کر شام کو قرآن پڑھتی تھی؛ ایک لڑکا، جو جوتے مرمت کرتے کرتے اسکول کے خواب دیکھتا تھا؛ ایک کسان، جو اپنے بوسیدہ کپڑوں میں نیل کی خوشبو پہچانتا تھا۔ میری کتاب مکمل ہوئی اور جب شائع ہوئی تو اقوامِ متحدہ کی ایوارڈ تقریب میں مجھے بلایا گیا۔ تصویریں کھینچی گئیں۔ تب کسی نے میرے کندھے پر ہاتھ رکھ کر کہا، “تم نے انسانیت کی ایک چھپی پرت دکھا دی ہے۔” میں نے مسکرا کر شکریہ کہا، مگر اندر ایک خلا سا تھا، جیسے کہانی ختم نہیں ہوئی ہو، صرف رک گئی ہو۔
میری ٹیم واپس چلی گئی۔ وہ لوگ کہہ گئے کہ میں نے جو لکھنا تھا لکھ لیا، اب زندگی آگے بڑھانی چاہیے، مگر میں رک گیا۔ مجھے لگا کہ میں نے ان لوگوں کے درد کو صرف لفظوں میں سمیٹا ہے، ان کی دھڑکنوں میں نہیں۔ میں ان کے ساتھ رہنا چاہتا تھا، ان کی زبان میں خاموشی سیکھنا چاہتا تھا۔ سو، میں خرطوم کے شور سے نکل کر شمال کی طرف چلا گیا، پھر دارفور، پھر الفاشر۔ وہاں کی فضا میں ایک سکون تھا، جیسے زخم پر پڑا کھرنڈ جو ابھی بھرا نہیں تھا، مگر درد بھی نہیں دے رہا تھا۔ پھر ایک دن فضا بدل گئی۔ پہلے تو صرف خبریں آئیں—ریپڈ سپورٹ فورسز اور فوج کے درمیان تناؤ کی—پھر یہ خبریں شور میں بدل گئیں۔ میں نے اپنی کھڑکی سے دیکھا، نیل کا پانی سرخ نہیں ہوا تھا، مگر ہوا میں بارود کی مہک تھی۔ گلیوں سے لوگ غائب ہونے لگے، دکانیں بند، چہرے سخت اور آوازیں دبتی جا رہی تھیں۔ میں نے کیمرہ سنبھالا، قلم اٹھایا، مگر اب کوئی تصویر، کوئی جملہ ان لمحوں کی شدت کو تھام نہیں پاتا تھا۔
پھر ایک صبح سورج نہیں نکلا، یا شاید نکلا تھا مگر ہم نے دیکھنے کی ہمت کھو دی تھی۔ الفاشر کی گلیوں میں لوگ بھاگ رہے تھے، مائیں اپنے بچوں کو ڈھونڈتی تھیں، مرد ملبے میں ہاتھ ڈال کر سانسیں تلاش کرتے تھے۔ میں وہاں موجود تھا، ایک صحافی، جو اب لکھ نہیں سکتا تھا۔ میں نے نوٹ بک بند کر دی اور ان زخمی ہاتھوں کو سہارا دینے لگا جنہیں دنیا صرف اعداد و شمار کے طور پر دیکھتی تھی۔ شام کو جب آگ کے دھوئیں میں آسمان چھپ گیا، تب میں نے سوچا کہ شاید انسانیت اب ایک لمحے کی مہلت مانگ رہی ہے۔ میرے ارد گرد چیخیں، قدموں کی چاپ اور کسی بچے کی روتی ہوئی آواز گونجتی تھی اور انہی آوازوں کے بیچ مجھے لگا جیسے کسی نے میرا نام پکارا ہو، دھیمے سے مگر بہت واضح۔ میں پلٹا اور دیکھا، دھول کے اس پار، ملبے کے درمیان بڑی بڑی، سیاہ اور عجیب طرح کی روشنی سے بھری ہوئی آنکھیں۔ میں ٹھٹھک گیا۔ شاید وہ کسی خواب کا آغاز تھا یا کسی زخم کی نئی سرحد۔ اسی لمحے مجھے احساس ہوا کہ کہانی ختم نہیں ہوئی، وہ تو اب شروع ہونے جا رہی ہے۔
ہوا میں بارود کی بو اب عادت بن چکی تھی۔ میں اکثر صبح آنکھ کھولنے سے پہلے ہی اندازہ لگا لیتا تھا کہ آج کس طرف سے گولہ باری ہوگی۔ کبھی دارفور کی سمت سے دھواں اٹھتا، کبھی شہر کے بیچوں بیچ کسی گلی میں فائرنگ کی آواز آ جاتی۔ جنگ اب فاصلوں پر نہیں رہی تھی، یہ سانس کے ساتھ اندر اترتی تھی۔ میں ایک امدادی مرکز میں رضاکاروں کے ساتھ کام کر رہا تھا۔ مٹی کی جھونپڑیوں میں زخمیوں، بوڑھوں اور بچوں کے شور کے بیچ وقت جیسے تھم گیا تھا۔ وہاں ایک بوڑھا اکثر ہوتا تھا، عبد الحمید۔ وہ کبھی مصر میں پروفیسر تھا، مگر برسوں پہلے سوڈان آ گیا تھا۔ اس کے چہرے پر تھکن نہیں، بلکہ ایک عجیب سا اطمینان تھا۔ میں نے ایک دن اس سے کہا، “ڈاکٹر، یہ سب کب ختم ہوگا؟” وہ ایک لمحے کے لیے رکا، اپنے ہاتھ دھوئے اور بولا، “جنگ کبھی ختم نہیں ہوتی بیٹا، یہ صرف جگہ بدلتی ہے اور ایک دن تمہارے اندر بھی شروع ہو جاتی ہے۔” میں خاموش رہ گیا اور وہ اپنے کام میں مصروف ہو گیا، مگر اس کے الفاظ میرے اندر کسی چنگاری کی طرح جلتے رہے۔
کبھی کبھی میں باہر نکلتا۔ الفاشر کی وہ گلیاں، جو کبھی چائے اور مصالحوں کی خوشبو سے مہکتی تھیں، اب راکھ کی بو دیتی تھیں۔ دیواروں پر گولیاں، سڑکوں پر جلے ٹائر اور کبھی کبھار کسی دروازے سے نکلتی دھیمی آواز—کوئی قرآن پڑھ رہا ہوتا یا کسی کا سوگ منایا جا رہا ہوتا۔ ایک دن میں نے ایک آدمی کو دیکھا، جو اپنے تباہ شدہ گھر کے سامنے بیٹھا ملبے میں سے اینٹیں چن رہا تھا۔ میں قریب گیا۔ اس نے میری طرف دیکھا، اس کے ہونٹوں پر ایک زخمی مسکراہٹ تھی۔ “یہ اینٹیں میری بیٹی کے کمرے کی ہیں۔ میں سوچتا ہوں، اگر کبھی امن آیا، تو انہی سے گھر دوبارہ بناؤں گا۔” میں نے پوچھا، “کیا تمہیں لگتا ہے امن واپس آئے گا؟” وہ ہنس پڑا، “امید آدمی کے پاس آخری چیز ہوتی ہے، اسے چھوڑ دو تو سب کچھ ختم۔” اس کی ہنسی میں درد تھا، مگر اس درد میں بھی زندگی کی کوئی ضد چھپی تھی۔ میں نے وہ لمحہ اپنی یادداشت میں رکھ لیا، نوٹ بک میں نہیں۔
راتوں کو شہر پر اندھیرا یوں گرتا جیسے آسمان خود زمین پر آ رہا ہو۔ گولے پھٹنے کی آوازیں اتنی قریب سے آتی تھیں کہ لگتا تھا سانس بھی شور بن جائے گی۔ میں اکثر چھت پر بیٹھتا اور نیل کی سمت دیکھتا۔ پانی اب بھی بہتا تھا، جیسے اسے جنگ سے کوئی سروکار نہ ہو۔ ایک دن عبد الحمید میرے پاس آیا۔ “تم اب بھی لکھتے ہو؟” اس نے سوالیہ نظروں سے میری طرف دیکھا۔ “نہیں،” میں نے قطعیت سے کہا، “اب الفاظ کم پڑ گئے ہیں۔ جو دیکھ رہا ہوں، اسے بیان کرنے کی ہمت نہیں۔” وہ دیر تک خاموش رہا، پھر بولا، “پھر شاید وقت آ گیا ہے کہ تم لکھنے کے لیے نہیں، جینے کے لیے یہاں ہو۔” میں نے اس کی بات کا کوئی جواب نہ دیا، مگر میرے اندر کچھ بدل گیا۔ میں سوچتا رہا، شاید انسان لفظوں سے نہیں، درد سے سیکھتا ہے۔
دوسری طرف سے فضا میں پھر دھماکے کی آواز آئی اور زمین ہلکی سی کانپی۔ عبد الحمید نے آسمان کی طرف دیکھا، پھر زیرِ لب کہا، “اللہ ہمیں وہ دن دکھائے جب یہ شور بند ہو جائے۔” میں نے اس کے ہاتھ پر ہاتھ رکھا۔ “کبھی کبھی لگتا ہے وہ دن بس خواب رہ جائے گا، ڈاکٹر۔” “خواب ہی تو بچاتے ہیں بیٹا! جنگ میں اگر خواب نہ دیکھو، تو پاگل ہو جاؤ گے۔” اس رات میں دیر تک جاگتا رہا۔ دھواں، چیخیں اور عبد الحمید کی باتیں سب ایک دوسرے میں گھل مل گئیں۔ کہیں دور سے کسی عورت کی آواز آئی، جو لوری گا رہی تھی—کسی بچے کو سلانے کے لیے یا شاید خود کو یقین دلانے کے لیے کہ صبح ابھی باقی ہے۔ اور میں نے محسوس کیا کہ سوڈان صرف ایک ملک نہیں رہا تھا، یہ ایک چیخ تھی جو زمین کے نیچے سے اٹھ رہی تھی اور اس چیخ کے بیچ کہیں نہ کہیں، میری اپنی آواز بھی دب چکی تھی۔
بارش کا موسم آ رہا تھا، مگر آسمان ابھی بھی راکھ اگل رہا تھا۔ بادلوں کے پیٹ میں پانی کے بجائے شور تھا، جیسے وہ بھی جنگ سے بھر گئے ہوں۔ الفاشر کے مضافات میں خیموں کا ایک شہر بن چکا تھا؛ کپڑے کے، پلاسٹک کے اور خوابوں کے خیمے۔ ہزاروں لوگ، جن کے گھر مٹی میں مل گئے تھے، اب اسی مٹی پر ٹھہرے ہوئے تھے۔ میں ہر روز وہاں جاتا، اپنے ہاتھوں سے زخمیوں کو اٹھاتا، بچوں کو پانی پلاتا اور کبھی کبھی بس یوں ہی بیٹھا رہتا—خاموش، بے حس، جیسے جسم میں دنیا بھر کی تھکن جمع ہو گئی ہو۔
عبد الحمید اب بھی کام کر رہا تھا، مگر اس کے ہاتھوں کی لرزش بڑھ گئی تھی۔ وہ کہتا، “ہر دن خدا سے ایک دن کم مانگ لیتا ہوں، تاکہ یہ سب ختم ہوتے دیکھ نہ سکوں۔” ایک دوپہر میں نے دیکھا کہ ایک عورت خیمے کے باہر بیٹھی ہے۔ اس کے پاس دو بچے تھے؛ ایک بیمار اور ایک بھوکا۔ میں نے اسے پانی کی بوتل دی۔ اس نے سر اٹھا کر میری طرف دیکھا۔ آنکھوں میں وہی سوال تھا جو ہر چہرے پر ہوتا ہے: “کیا ہم بچ جائیں گے؟” میں نے جواب نہ دیا، کیونکہ میں جانتا تھا کہ اب اس سوال کا جواب صرف خدا کے پاس ہے، انسان کے ضمیر کے پاس نہیں۔
کچھ دن بعد اقوامِ متحدہ کے قافلے آئے۔ سفید گاڑیاں، نیلی جیکٹیں اور غیر ملکی لہجے۔ انہوں نے تصویریں بنائیں، فہرستیں تیار کیں اور چلے گئے۔ بچے دیر تک ان گاڑیوں کو جاتے دیکھتے رہے۔ عبد الحمید نے کہا، “انہیں ہماری تصویریں چاہئیں تاکہ ان کی رپورٹوں میں رنگ بھرا رہے۔ ہمیں دوائیں نہیں ملیں گی، بس کچھ جملے ملیں گے۔” میں نے تلخی سے کہا، “میں بھی کبھی انہی جملوں میں لکھتا تھا، ڈاکٹر! شاید میں بھی ان گاڑیوں میں سے ایک ہوں۔” وہ میری طرف دیکھتا رہا، پھر آہستہ سے بولا، “نہیں، تم رک گئے ہو، اور جو رک جاتا ہے، وہ انسان بن جاتا ہے۔”
رات کو خیموں میں کہانیاں چلتی تھیں۔ کوئی عورت کہتی، “کل میرا شوہر واپس آئے گا۔” کوئی کہتا، “میں نے خواب میں امن دیکھا ہے۔” میں ان کہانیوں کے بیچ بیٹھا رہتا، نوٹ بک میرے گھٹنوں پر دھری رہتی، مگر قلم بند ہوتا۔ باہر سے کبھی کبھار فائرنگ کی آواز آتی، تو سب کے چہرے ساکت ہو جاتے۔ ایک لمحہ، دو لمحے، پھر سانسیں واپس آتیں، جیسے موت اور زندگی کے بیچ کوئی غیر اعلانیہ جنگ چل رہی ہو۔
ایک دن ایک چھوٹا لڑکا میرے پاس آیا۔ اس کے ہاتھ میں ایک ٹوٹا ہوا کیمرہ تھا۔ وہ بولا، “یہ میرے والد کا ہے۔ وہ بھی تصویریں لیتے تھے، جیسے آپ۔” میں نے اس سے پوچھا، “اب کہاں ہیں تمہارے والد؟” وہ خاموش ہو گیا، پھر آہستہ سے بولا، “اب وہ تصویر میں ہیں۔” میرے گلے میں جیسے کچھ اٹک گیا۔ میں نے کیمرہ لیا اور آنکھ کے سامنے رکھا، مگر دیکھنے کی ہمت نہ ہوئی۔
اگلی صبح شہر کے شمالی حصے پر بمباری ہوئی۔ امدادی مرکز کے کچھ حصے ملبے میں دب گئے۔ میں اور عبد الحمید وہاں پہنچے۔ ہم ہاتھوں سے مٹی ہٹاتے رہے اور لوگوں کی آوازیں ڈھونڈتے رہے۔ تبھی کسی خیمے کے اندر سے ایک لڑکی کی چیخ سنائی دی۔ ہم اس طرف دوڑے، مگر وہاں صرف دھواں اور گرد تھی۔ عبد الحمید نے میری طرف دیکھا، “ہم سب اس جنگ میں کسی نہ کسی لمحے دفن ہو رہے ہیں۔ بس فرق یہ ہے کہ کچھ کو مٹی اوپر سے ڈھانپتی ہے اور کچھ کو اندر سے۔”
رات کو جب سب کچھ تھم گیا، میں پھر چھت پر جا بیٹھا۔ آسمان کے ٹکڑے دھوئیں میں گم تھے۔ میں نے اپنی اس کتاب کے بارے میں سوچا جس نے مجھے عزت دی، ایوارڈ دیا اور شاید یہ دھوکہ بھی کہ میں نے کچھ بدل دیا ہے۔ میں نے دل میں کہا، “اگر میں پھر کبھی لکھوں، تو یہ الفاظ دنیا کے لیے نہیں، بلکہ ان لوگوں کے لیے ہوں گے جن کے نام تاریخ کبھی نہیں لکھے گی۔” دور کہیں، نیل کی سمت سے ہوا چلی، جو مٹی، بارود اور خون کی بو لاتی تھی، مگر اس میں کہیں ایک ہلکی سی خوشبو بھی تھی، جیسے کسی کی سانس چھو کر گزری ہو۔ میں نے سر اٹھایا، فضا میں کسی غیر مرئی آہٹ کا احساس ہوا۔ شاید یہ کسی نئے موڑ کا آغاز تھا۔۔
اس رات ہوا میں کچھ بدلا ہوا تھا، جیسے طویل چیخ کے بعد کی خاموشی کسی نئی آواز کو جنم دیتی ہے۔ میں خیموں کے درمیان چل رہا تھا؛ آسمان پر دھواں کم مگر اندھیرا زیادہ تھا۔ بچے سو چکے تھے اور عورتیں نیم خوابیدہ تھیں، جبکہ عبدالحمید کسی زخمی پر جھکا ہوا دعا پڑھ رہا تھا۔ میں نیل کی سمت نکل آیا۔ وہاں پانی اب بھی بہتا تھا، مگر وہ اب کسی شفاف آئینے کی طرح نہیں لگتا تھا۔ اس میں شہر کے جلتے بلبوں کی بجھی ہوئی روشنی جھلک رہی تھی۔ میں نے اپنے جوتے اتارے، کنارے بیٹھ کر پانی کو چھوا؛ وہ ٹھنڈا نہیں بلکہ نیم گرم تھا، جیسے اس میں انسانوں کی سانسیں گھل گئی ہوں۔ اسی لمحے ایک دبی سی آواز آئی—کسی عورت کی، دور کہیں، شاید ملبے کے اس پار۔ میں چونکا، آواز دھیمی تھی مگر اس کے لہجے میں ایک عجیب سا یقین تھا۔ وہ کچھ پڑھ رہی تھی، شاید کوئی دعا یا لوری۔ میں نے کان لگائے؛ لفظ عربی تھے مگر لہجہ مقامی، نرم اور کھنکتا ہوا۔ میں نے آہستہ سے “آمین” کہا، مگر اس کے بعد ایسی خاموشی چھا گئی جیسے وہ آواز کسی دراڑ میں داخل ہو کر گم ہو گئی ہو۔
اگلے دن میں نے عبدالحمید سے پوچھا، “کیا یہاں راتوں کو کوئی عورت دعا پڑھتی ہے؟” وہ تھوڑی دیر سوچتا رہا، پھر بولا، “ہاں، شاید تم نے حلیمہ کی آواز سنی ہو۔ وہ خیمہ نمبر چھیالیس میں رہتی ہے، اپنے بھائی کے ساتھ دارفور سے آئی تھی۔ بھائی اگلی ہی رات مارا گیا، مگر اس کا ایک بیٹا ہے جو اب حلیمہ کے ساتھ رہتا ہے۔ وہ راتوں کو نیل کے کنارے دعا پڑھتی ہے کہ شاید خدا اسے لوٹا دے۔” عبدالحمید نے میری طرف دیکھا، “تم نے کیوں پوچھا؟” میں نے کندھے اچکاتے ہوئے کہا، “بس ویسے ہی، اس کی آواز میں ایک عجیب سا درد ہے۔” دن گزرتے گئے۔ جنگ کا شور کبھی کم ہوتا تو کبھی زیادہ، مگر ہر رات عین اسی وقت نیل کے کنارے سے وہی دعا ابھرتی؛ کبھی الفاظ واضح ہوتے اور کبھی ہوا میں تحلیل ہو جاتے۔ میں اب اکثر اس آواز کا انتظار کرنے لگا۔ وہ میری تھکن کے بیچ ایک ایسی لہر تھی جو مجھے یاد دلاتی کہ انسان اب بھی کسی غیب پر یقین رکھتا ہے۔
ایک شام جب میں امدادی مرکز سے واپس آ رہا تھا، تو میرا گزر خیمہ نمبر چھیالیس کے سامنے سے ہوا۔ وہ خالی دکھائی دے رہا تھا مگر اندر سے کسی کے چلنے کی آہٹ آ رہی تھی۔ میں رک گیا۔ دھوپ کی آخری لکیر خیمے کے کپڑے سے چھن کر زمین پر گر رہی تھی؛ سنہرے اور مٹیالے رنگ کا ایسا امتزاج، جیسے شام اور جنگ ایک دوسرے میں گھل گئے ہوں۔ میں نے قدم بڑھایا، مگر پھر رک گیا۔ “ابھی نہیں،” میں نے خود سے کہا۔ کچھ ملاقاتیں پہلے سنائی دیتی ہیں، پھر دیکھی جاتی ہیں۔
رات کو جب میں چھت پر بیٹھا تھا، عبدالحمید نے مجھ سے پوچھا، “کیا تم اب بھی دعا سنتے ہو؟” میں نے سر ہلایا، “ہاں، اور مجھے لگتا ہے کہ وہ دعا صرف اپنے لیے نہیں مانگتی، بلکہ اس کی آواز کسی اور کو بھی پکارتی ہے، شاید ہم سب کو۔” عبدالحمید مسکرایا، “پھر شاید خدا تمہیں اس دعا کے قریب لے جا رہا ہے بیٹا!” میں نے آسمان کی طرف دیکھا۔ شور کے بیچ بھی ایک انوکھی خاموشی تھی—وہی خاموشی جو کہانی کے اگلے صفحے کے پلٹنے سے پہلے طاری ہوتی ہے۔ میں نے دل ہی دل میں سوچا، شاید اب وہ صفحہ قریب ہے۔ صبح کی روشنی مٹی میں دفن ہو کر نکلی تھی؛ آسمان پر لالی نہیں بلکہ سرمئی دھبے تھے، جیسے دن نے خود کو راکھ سے ڈھانپ رکھا ہو۔
میں امدادی مرکز سے نکل رہا تھا کہ نیل کے کنارے ہجوم نظر آیا۔ کچھ لوگ ایک طرف جھکے ہوئے تھے، جیسے کسی کو اٹھا رہے ہوں۔ میں قریب گیا۔ عبدالحمید آگے بڑھا؛ اس کے ہاتھوں میں ایک زخمی لڑکی تھی، بازو پر زخم اور چہرے پر مٹی ملی ہوئی تھی، مگر آنکھیں کھلی تھیں۔ عبدالحمید نے کہا، “یہی حلیمہ ہے، وہی جس کی آواز تم سنتے تھے۔” میں نے اس کے چہرے کو دیکھا؛ وہی سیاہ بڑی آنکھیں، جیسے کسی کہانی سے نکل کر حقیقت میں آ گئی ہوں۔ وہ بے ہوش نہیں تھی، مگر ہوش کو کسی ضد کے سہارے تھامے ہوئے تھی۔ میں نے اس کے قریب ہو کر پوچھا، “تمہیں کچھ چاہیے؟” وہ بمشکل بولی، “میرے خیمے میں ایک بچہ ہے، میں اسے تنہا نہیں چھوڑ سکتی۔”
ہم نے اسے سہارا دیا اور خیمے کی طرف گئے۔ اندر ایک چھوٹا سا بچہ، شاید پانچ برس کا، سو رہا تھا۔ حلیمہ نے اس کے بالوں پر ہاتھ رکھا اور آنکھیں بند کر لیں۔ عبدالحمید نے مجھے باہر آنے کا اشارہ کیا۔ “حلیمہ کے بھائی کی لاش ملی ہے؛ وہ راتوں کو اسی کے لیے دعا کرتی تھی۔ آج صبح دھماکے میں خیمہ گر گیا، وہ تو بچ گئی مگر شاید اس کے اندر اب کچھ اور مر گیا ہے۔” میں خاموش رہا۔ شام کو جب دوبارہ گیا تو حلیمہ بچے کو گود میں لیے بیٹھی تھی۔ اس کا چہرہ سکون سے بھرپور تھا، جیسے وہ کسی فیصلے پر پہنچ چکی ہو۔ میں نے پوچھا، “تم اب کہاں جاؤ گی؟” اس نے نمناک لہجے میں کہا، “جہاں لوگ زندہ ہیں، شاید وہاں کچھ اور جانیں بچ جائیں۔” یہ پہلا جملہ تھا جو اس نے مجھ سے کہا۔ شاید یہی وہ لمحہ تھا جب میں نے محسوس کیا کہ اب میں اس جنگ میں اکیلا نہیں ہوں۔
دو دن بعد الفاشر پر بمباری تیز ہو گئی۔ خیمے جلنے لگے اور زخمیوں کی چیخیں فضا میں تحلیل ہونے لگیں۔ عبدالحمید نے کہا، “ہمیں مشرق کی طرف نکلنا ہوگا، یہاں مزید رہنا ممکن نہیں۔” حلیمہ نے اپنے بھتیجے کا ہاتھ پکڑا، میں نے عبدالحمید کے کندھے پر ہاتھ رکھا اور ہم تینوں نیل کے کنارے چلنے لگے۔ شہر پیچھے رہ گیا تھا۔ آگ کے ستون آسمان کو چھو رہے تھے؛ کہیں عورتیں رو رہی تھیں اور کہیں ملبے سے کوئی زندہ نکلنے کی کوشش کر رہا تھا۔ میں نے دیکھا کہ ایک شخص اپنے بیٹے کو کندھے پر اٹھائے بھاگ رہا تھا، مگر گولی کی آواز کے ساتھ ہی گر گیا۔ حلیمہ نے منہ پر ہاتھ رکھا، مگر میں نے اسے کھینچ لیا، “دیکھو مت، بس چلو!”
ہم ریت میں قدم دھنساتے آگے بڑھتے گئے۔ فضا میں گولیوں کی سنسناہٹ، ٹینکوں کی گرج اور کبھی کبھار کسی زخمی کے کراہنے کی آواز تھی، جیسے زمین خود فریاد کر رہی ہو۔ ایک جگہ عبدالحمید بیٹھ گیا؛ اس کے چہرے پر پسینہ اور خاک ملی ہوئی تھی۔ میں نے بوتل سے پانی نکالا جو آدھی خالی تھی۔ حلیمہ نے کہا، “پہلے ڈاکٹر کو دو، وہ تھکے ہوئے ہیں۔” عبدالحمید نے مسکرا کر کہا، “پہلے بچے کو دو بیٹی! ہم سب کا سفر اسی کے مستقبل کے لیے تو ہے۔” وہ لمحہ جنگ کے بیچ بھی انسانیت کی ایک جھلک تھا۔ میں نے محسوس کیا کہ کبھی کبھی محبت بھی خاموشی سے آتی ہے، جیسے دعا کسی کانٹے پر ٹھہر کر دل میں اتر جائے۔
رات کو ہم ایک ویران عمارت میں رکے۔ گولیوں کی آواز اب بھی دور سے آ رہی تھی۔ حلیمہ بچے کو لپیٹ کر سو گئی جبکہ عبدالحمید کھڑکی کے پاس بیٹھا آسمان دیکھ رہا تھا۔ میں اس کے پاس گیا۔ “کیا تمہیں لگتا ہے ہم بچ جائیں گے؟” میں نے پوچھا۔ اس نے آنکھیں بند کیں، “بچ جانا ہی کافی نہیں بیٹا، ہمیں زندہ رہنا بھی سیکھنا ہوگا۔” اس رات نیند مجھ سے کوسوں دور تھی۔ میں نے حلیمہ کو دیکھا، وہ پرسکون سو رہی تھی۔ اس کے سنولائے ہوئے چہرے پر نیل کے کنارے والی وہی روشنی تھی۔ میں نے دل میں کہا کہ شاید میں اسی لیے رکا تھا تاکہ اس روشنی کو دیکھ سکوں جو تب بھی جلتی ہے جب دنیا بجھ چکی ہو۔
باہر ہوا چل رہی تھی، آسمان دھواں دھواں تھا اور کہیں دور نیل بہہ رہا تھا۔ میں جانتا تھا کہ یہ سفر صرف پناہ کا نہیں بلکہ کسی مقدر کا آغاز ہے۔ تمام راتوں کی طرح وہ رات بھی گزر گئی۔ سورج ابھی پوری طرح نکلا نہیں تھا اور مشرقی آسمان پر نارنجی روشنی کا ایک دھبہ سا پھیل رہا تھا، جیسے رات کے بدن پر زخم کا نشان۔ ہم چاروں—میں، عبدالحمید، حلیمہ اور وہ بچہ (جس کا نام بعد میں پتا چلا کہ یسین ہے)—خاموشی سے ریت میں قدم دباتے چل رہے تھے۔ نیل کا کنارہ اب کہیں پیچھے رہ گیا تھا۔ ہوا میں بارود کی ہلکی مہک باقی تھی، مگر فاصلہ بڑھنے کے ساتھ شور مدھم ہو گیا تھا۔ ریت پر ہمارے قدموں کے نشان لمبے ہوتے جا رہے تھے، جیسے وقت ہمیں کسی اور سمت دھکیل رہا ہو۔
عبدالحمید نے کہا، “یہ راستہ الفاشر سے قریبی گاؤں ‘تبو’ کی طرف جاتا ہے۔ وہاں کچھ لوگ اب بھی ٹکے ہوئے ہیں جو زخمیوں کو پناہ دیتے ہیں۔” حلیمہ نے آہستہ سے پوچھا، “کیا وہاں امن ہے؟” اس کے لہجے میں ہزاروں درد پوشیدہ تھے۔ عبدالحمید نے متاسف لہجے میں کہا، “اب تو امن بھی ہجرت کر گیا ہے بیٹی، لیکن شاید وہاں اب بھی انسان باقی ہوں۔” گھنٹوں چلنے کے بعد ہمیں ایک جھونپڑی اور ریت سے ابھرتے چند کھنڈر دکھائی دیے، جیسے گاؤں زمین کے نیچے سے آدھا نکل آیا ہو۔ بچے وہاں بھی تھے—کمزور مگر زندہ۔ عورتیں پانی کے برتن لیے بیٹھی تھیں، ان کے چہرے دھوپ سے جلے ہوئے تھے مگر آنکھوں میں ایک عجیب یقین تھا، جیسے انہوں نے امید کو اپنی ہڈیوں میں محفوظ کر لیا ہو۔
ہم وہاں رکے۔ عبدالحمید فوراً زخمیوں کی طرف لپکا۔ میں نے کام میں اس کا ہاتھ بٹایا، مگر میری نگاہ بار بار حلیمہ کی طرف جاتی۔ وہ عورتوں کے ساتھ بیٹھ کر ان کے ہاتھ تھام رہی تھی اور کسی بچے کے آنسو پونچھ رہی تھی۔ اس کے چہرے پر تھکن تھی، مگر آواز میں سکون تھا۔ دوپہر کے وقت جب ہم ایک درخت کے سایے میں بیٹھے تو عبدالحمید نے کہا، “ہم یہاں زیادہ دیر نہیں رک سکتے؛ مسلح جتھے اس طرف بڑھ رہے ہیں۔ ہمیں رات ہونے سے پہلے نکلنا ہوگا۔” میں نے سر اٹھا کر آسمان دیکھا جو نیلا نہیں بلکہ مٹیالا تھا، جیسے خدا نے بھی تھکن کے عالم میں رنگ بدل لیا ہو۔۔
“کیا آپ کو کبھی لگتا ہے کہ دنیا ہمیں بھول چکی ہے؟” حلیمہ نے دھیرے سے پوچھا۔ میں نے ایک لمحے کے لیے اس کی آنکھوں میں دیکھا اور کہا، “دنیا یاد رکھے یا نہ رکھے، تمہاری دعا اب بھی نیل کے پانیوں میں بہتی ہے، وہ اسے نہیں بھول سکتا۔” حلیمہ کے ہونٹوں پر ایک ہلکی سی مسکراہٹ پھیل گئی؛ ایسا لگا جیسے وہ تبسم کسی گہرے دکھ کے ملبے سے برآمد ہوا ہو۔ “میں دعا مانگتی تھی کہ میرا بھائی لوٹ آئے، مگر شاید میری دعا کسی اور کے مقدر میں لکھی گئی تھی۔” میں نے کچھ کہنا چاہا، مگر الفاظ حلق میں رک گئے۔ فضا میں ریت اڑ رہی تھی اور ہوا جیسے ہمارے درمیان کسی ان کہی بات کا ترجمہ کر رہی ہو۔ کافی دیر تک ہمارے بیچ ایک بے عنوان سی خاموشی ہلکورے لیتی رہی۔
تھوڑی دیر بعد گاؤں کے کنارے شور اٹھا۔ چند گاڑیاں تیزی سے آتی دکھائی دیں؛ شاید فوج تھی یا ملیشیا۔ عبدالحمید نے فوراً ہمیں اشارہ کیا کہ جھونپڑیوں میں چھپ جاؤ۔ ہم دوڑے؛ حلیمہ نے یسین کو اپنے ساتھ لپٹا لیا اور میں نے دروازہ اندر سے بند کر دیا۔ باہر سے پہلے نعروں اور پھر فائرنگ کی آوازیں آئیں۔ میں نے کانوں میں انگلیاں ٹھونس لیں، مگر گولیوں کی تڑتڑاہٹ جسم میں اترتی محسوس ہو رہی تھی۔ ایک گھنٹے بعد جب خاموشی چھائی تو ہم باہر نکلے۔ دھول ابھی تک فضا میں تیر رہی تھی اور کچھ جھونپڑیاں جل کر راکھ ہو چکی تھیں۔
عبدالحمید ایک زخمی لڑکے کو کندھے پر اٹھائے آ رہا تھا؛ اس کی آنکھوں میں آنسو نہیں بلکہ آگ تھی۔ “یہ جنگ سب کچھ کھا جائے گی،” اس کی آواز درد میں ڈوبی ہوئی تھی، “خدا بھی شاید اب انسانوں سے بات نہیں کرتا۔” میں نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا، “ڈاکٹر! خدا ہمیشہ اپنے پیاروں کو آزماتا ہے۔ ہمیں پھر بھی چلنا ہے، کیونکہ ابھی کچھ جانیں باقی ہیں جنہیں بچانا ہے۔” رات کو جب سب ساکت ہو گئے، ہم تینوں ایک خستہ حال جھونپڑی میں بیٹھے۔ یسین حلیمہ کی گود میں سو گیا اور وہ خاموش بیٹھی رہی۔ میں نے پوچھا، “کیا تم کبھی ڈرتی نہیں ہو؟” اس نے آہستہ سے کہا، “ڈرتی ہوں، مگر جب ڈر حد سے بڑھ جائے تو سکون بن جاتا ہے۔ پھر کھونے کو کچھ باقی نہیں رہتا۔”
میں نے اس کے چہرے پر نظر ڈالی؛ مٹی اور پسینے کے باوجود وہاں روشنی کی ایک ہلکی پرت تھی۔ میں نے کہا، “تمہاری آنکھوں میں عجیب بات ہے، جیسے یہ وہ منظر دیکھ لیتی ہیں جو باقی سب کھو چکے ہیں۔” وہ دھیرے سے مسکرائی، “میرا بھائی کہتا تھا کہ میری آنکھوں میں نیل کا رنگ ہے۔ میں ہنستی تھی کہ نیل تو نیلا ہے اور میری آنکھیں سیاہ، مگر اب لگتا ہے وہ ٹھیک کہتا تھا؛ نیل بھی اب سیاہ ہو گیا ہے۔” میرے پاس کہنے کو کچھ نہ تھا، میں بس خاموشی سے سنتا رہا۔ باہر ٹڈیوں کی آوازیں تھیں، کہیں دور کسی زخمی کی کراہ اور نیل کی سمت سے آتی سرد ہوا۔
حلیمہ نے اچانک پوچھا، “کیا آپ کبھی واپس جائیں گے؟ اپنے ملک، اپنی دنیا میں؟” میں نے کچھ دیر سوچ کر جواب دیا، “پہلے لگتا تھا کہ چلا جاؤں گا، مگر اب نہیں۔ اب میں یہیں رہوں گا، جب تک سب ختم نہ ہو جائے یا پھر میں خود۔” وہ دیر تک میری طرف دیکھتی رہی، پھر دھیرے سے بولی، “پھر تو آپ بھی ہمارے جیسے ہو گئے ہیں—بے گھر۔” میں نے مسکرا کر کہا، “شاید انسان کا کہیں کا نہ رہنا ہی اسے اصل آزادی دیتا ہے۔” حلیمہ نے جواب دیا، “نہیں، کبھی کبھی جڑیں ہی سانس لینے کا حوصلہ دیتی ہیں۔”
رات گہری ہو گئی؛ عبدالحمید نیند میں ہلکا سا کراہا، شاید خواب میں وہی گولہ باری سن رہا ہو۔ میں باہر آ گیا۔ آسمان صاف تھا اور پہلی بار میں نے وہ ستارے دیکھے جو خرطوم کے آسمان پر کبھی میرا استقبال کرتے تھے۔ میں نے دل میں عہد کیا کہ اگر یہ جنگ ختم ہوئی تو میں یہیں رہوں گا، حلیمہ کے ساتھ، نیل کے کنارے۔ شاید ہم ایک نئی کہانی لکھ سکیں جو موت سے نہیں بلکہ زندگی سے شروع ہو۔
صبح کی ہوا میں وہ عجیب سا بوجھ تھا جو کسی بڑے حادثے سے پہلے محسوس ہوتا ہے۔ پرندوں کی چہچہاہٹ خاموش تھی اور ریت پر پڑتے قدموں میں خوف بسا ہوا تھا۔ ہم ‘تبو’ کے ملبے سے نکل کر مشرق کی سمت چلنے لگے۔ عبدالحمید آگے تھا، میں درمیان میں اور حلیمہ یسین کو گود میں لیے پیچھے۔ راستہ ہو کا عالم تھا۔ کہیں کہیں درختوں کی جلی ہوئی جڑیں زمین سے باہر جھانک رہی تھیں، جیسے زمین مقتولوں کا حساب مانگ رہی ہو۔ کئی میل بعد ایک وادی آئی جہاں کبھی بستی تھی، اب صرف جلی ہوئی دیواریں باقی تھیں۔ عبدالحمید مٹی پر گھٹنوں کے بل بیٹھ گیا، “یہ جگہ میں جانتا ہوں، یہاں ایک چھوٹا اسپتال تھا جہاں کئی بچوں نے جنم لیا تھا۔” اس کی آواز ٹوٹ گئی۔ حلیمہ نے مٹی اٹھا کر اپنی ہتھیلی میں رکھی اور بولی، “زمین سب یاد رکھتی ہے ڈاکٹر صاحب! کسی دن یہ پوری سچائی کے ساتھ سب کچھ اگل دے گی۔”
ہم آگے بڑھے۔ دوپہر تک سورج آگ برسانے لگا اور پانی ختم ہونے لگا۔ میں نے حلیمہ کو دیکھا؛ وہ یسین کو کندھے سے لگائے خاموش چل رہی تھی۔ چہرہ خاک آلود تھا مگر آنکھیں اب بھی شفاف تھیں۔ میں نے پوچھا، “تھک گئی ہو؟” اس نے سر ہلایا، “تھکن اب عادت بن گئی ہے، بس دل کو تھکنے نہیں دینا۔” میں نے سوال کیا، “کیا جنگ میں دل بچ پاتا ہے؟” حلیمہ نے میری طرف دیکھا، “جب تک دل دھڑکتا ہے، جنگ جیت نہیں سکتی۔” ہم کچھ دیر خاموش رہے، پھر وہ بولی، “کبھی سوچا ہے کہ ہم کیوں بچ گئے؟ ہزاروں مر گئے مگر ہم زندہ ہیں۔” میں نے اسے دیکھتے ہوئے کہا، “شاید اس لیے کہ ہم دنیا کو ان کی کہانی سنائیں، یا شاید خدا نے ہمیں گواہی کے لیے چنا ہو۔” وہ مسکرائی، مگر وہ ہنسی آنسوؤں سے بوجھل تھی۔ “شاید زندگی خود ایک سزا ہے اور محبت اس کی معافی۔”
اسی لمحے دور سے دھماکے کی آواز آئی اور زمین لرز اٹھی۔ ہم نیچے جھک گئے۔ فضا میں طیارے کا سایہ لہرایا۔ عبدالحمید چلایا، “سب زمین پر لیٹ جاؤ!” پہلا دھماکہ قریب ہی ہوا اور مٹی کا بادل ہم پر آ گرا۔ یسین رونے لگا تو حلیمہ نے اسے سینے سے بھینچ لیا۔ میں نے آگے بڑھ کر ان دونوں کو ڈھانپ لیا۔ عبدالحمید نے آسمان کی طرف دیکھا، “شہر کے راستے پر بمباری ہو رہی ہے، ہمیں پہاڑوں کی طرف نکلنا ہوگا۔” ہم بھاگنے لگے؛ ریت، دھواں، شور اور بارود کی بو۔ حلیمہ کا اسکارف گر گیا جو میں نے اٹھا کر اسے تھمایا۔ اس کے بال مٹی سے اٹے تھے مگر چہرے پر خوف کے بجائے عزم تھا۔
راستے میں ایک زخمی بچہ ملا جو درد سے کراہ رہا تھا۔ حلیمہ رک گئی۔ میں نے کہا، “وقت نہیں ہے!” وہ بولی، “اگر ہم بھی دوسروں کی طرح نکل گئے تو ہماری انسانیت کہاں جائے گی؟” وہ جھکی اور اپنے اسکارف کا ٹکڑا پھاڑ کر بچے کی ٹانگ پر پٹی باندھنے لگی۔ دھماکے قریب آ رہے تھے۔ میں نے کہا، “حلیمہ چلو، ورنہ ماری جاؤ گی!” اس نے جواب دیا، “مرنا آسان ہے، جینا مشکل۔ اگر ڈرتے ہو تو تم جاؤ، میں نہیں جاؤں گی۔” میں رک گیا۔ میرے اندر کچھ ٹوٹا یا شاید کچھ نیا تعمیر ہوا۔ میں نے اس کے ساتھ بیٹھ کر بچے کو اٹھایا۔ عبدالحمید کی آنکھوں میں حیرت اور نمی تھی۔ ہم تینوں نے اس بچے کو سنبھالا اور پہاڑ کی سمت دوڑ پڑے۔
اس بھاگ دوڑ میں ایک لمحے کو میرا ہاتھ حلیمہ کے ہاتھ سے چھو گیا۔ اسی پل مجھے احساس ہوا کہ جنگ سب کچھ جلا سکتی ہے، مگر اس لمس کو نہیں جو زندگی کو معنی دیتا ہے۔ پہاڑ کے دامن میں پہنچ کر ہم ڈھیر ہو گئے۔ عبدالحمید نے تھیلا کھولا تو دوائیں خون سے بھیگی ہوئی تھیں۔ وہ وہیں بیٹھ کر بولا، “شاید اب ہم میں زیادہ کچھ نہیں بچا، مگر جو تھوڑا سا باقی ہے وہی دنیا کے لیے کافی ہے۔” حلیمہ نے یسین کو چوم کر سلا دیا اور دھیمی آواز میں بولی، “اگر میں کل نہ جاگی، تو تم یسین کو نیل کے کنارے لے جانا۔ اسے بتانا کہ اس کی پھپھو نے آخری دعا زندگی کے لیے مانگی تھی، موت کے لیے نہیں۔”
میں نے اس کا ہاتھ تھاما اور کہا، “ایسا نہ کہو، ہم سب زندہ رہیں گے۔” وہ میری طرف دیکھ کر بولی، “زندہ رہنا صرف سانس لینا نہیں ہوتا، تم جانتے ہو ناں؟” میں نے نظریں جھکا لیں، “ہاں، اب جان گیا ہوں۔” رات چھا گئی؛ نیچے جلتے ہوئے گاؤں کی روشنی پہاڑ کی چٹانوں پر جھلک رہی تھی۔ عبدالحمید خاموشی سے تسبیح پڑھ رہا تھا اور حلیمہ میرے قریب بیٹھی تھی۔ میں نے پہلی بار اس کی آنکھوں میں وہ روشنی دیکھی جو انسان کو مٹی کی پستی سے اوپر اٹھا دیتی ہے۔ میں نے سوالیہ نظروں سے اس کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا، “حلیمہ! اگر ہم اس سب سے بچ نکلے، تو کیا تم دوبارہ نیل کے کنارے دعا پڑھو گی؟” اس کی آنکھوں میں ایک چمک سی لہرائی، “ہاں، مگر اس بار دعا صرف میرے بھائی کے لیے نہیں ہوگی، اس میں تمہارا نام بھی شامل ہوگا۔” میں نے محسوس کیا کہ جنگ کے بیچ اور موت کے سایوں کے درمیان کسی نادیدہ ہاتھ نے ہم دونوں کے بیچ ایک خاموش وعدہ رکھ دیا ہے—ایسا وعدہ جو شاید دنیا کو نہ بدل سکے، مگر انسان کو پھر سے انسان بنا دیتا ہے۔ نیچے شہر اب بھی جل رہا تھا، مگر اوپر آسمان خاموش تھا اور اس خاموشی میں مجھے ایک نیا لفظ سنائی دیا: “زندگی”۔
پہاڑوں پر صبح کچھ دیر سے اترتی ہے؛ روشنی دھیرے دھیرے چٹانوں کی اوٹ سے آتی ہے، جیسے خدا نے دن کو بھی اب محتاط بنا دیا ہو کہ کہیں وہ کسی دکھیارے کے زخموں پر بے دردی سے نہ جا پڑے۔ ہم چاروں کئی دن سے اسی پہاڑی راستے میں پناہ گزین تھے۔ نیچے کی زمین اب بھی تپ رہی تھی اور دھواں جیسے نیل کے شفاف پانیوں میں اتر گیا تھا۔ عبدالحمید دن رات زخمیوں کی مدد کرتا؛ پٹیاں باندھتا اور زخم دھوتا، مگر وہ خود دن بدن زرد ہوتا جا رہا تھا۔ اس کے ہاتھ اب کانپنے لگے تھے اور میں جانتا تھا کہ وہ اندر سے ٹوٹ رہا ہے۔ ایک شام وہ خاموش بیٹھا وادی کی طرف دیکھ رہا تھا کہ میں نے پوچھا، “ڈاکٹر، کیا آپ پریشان ہیں؟” وہ مسکرایا، “پریشان؟ نہیں بیٹا! بس سوچتا ہوں کہ شاید میری عمر اب ان پہاڑوں کی مٹی میں لکھی جا چکی ہے۔ میں اب اپنے مریضوں کی طرح ٹھیک نہیں ہو سکتا۔” میں نے کچھ کہنا چاہا مگر اس نے ہاتھ اٹھا کر روک دیا، “سنو! جب میں میڈیکل پڑھ رہا تھا تو سوچتا تھا کہ انسان کو زخموں سے بچانا میرا فرض ہے، مگر اب سمجھ آیا ہے کہ اصل فرض زخموں کے بیچ ‘انسانیت’ کو باقی رکھنا ہے۔” حلیمہ نے عبدالحمید کے کانپتے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھا، “ڈاکٹر انکل، آپ ہمارے لیے امید ہیں۔” اس کے ہونٹوں پر ایک زخمی مسکراہٹ پھیل گئی، “امید بیٹی! امید کبھی بوڑھی نہیں ہوتی، مگر میں ہو گیا ہوں۔”
رات کو ہوا میں خنکی بڑھی تو عبدالحمید کو کھانسی کے شدید دورے پڑنے لگے۔ میں نے اپنے کمبل کا حصہ اس پر ڈال دیا۔ اس نے میرا ہاتھ پکڑ کر کہا، “اگر صبح میں نہ اٹھوں، تو میری تسبیح حلیمہ کو دے دینا اور اسے کہنا کہ اسے اس وقت پڑھے جب پانی خاموش ہو جائے۔” میں نے دلاسا دیا، “ایسا مت کہیے، آپ بہتر ہو جائیں گے۔” وہ نقاہت سے بولا، “نہیں، اب میری شریانوں میں دوا نہیں، دعا سفر کر رہی ہے۔” اگلی صبح جب روشنی نے پہاڑ کے سائے چھوئے تو عبدالحمید کی سانسیں تھم چکی تھیں۔ اس کے چہرے پر ایک عجیب سکون تھا، جیسے کسی نے اس کے درد کی تمام گرہیں کھول دی ہوں۔ حلیمہ اس کے قریب بیٹھی دیر تک روتی رہی؛ وہ ایسا رونا تھا جس میں آواز نہیں تھی، بس روح کے ٹوٹنے کا احساس تھا۔ میں نے خاموشی سے عبدالحمید کے بے جان ہاتھوں سے تسبیح کھولی اور حلیمہ کو دے دی۔ لکڑی کا وہ چھوٹا سا ‘کراس’ بھی اسے دیا جو وہ دعا کے وقت اپنے پاس رکھتا تھا۔ اس دن ہم دیر تک کچھ نہ بولے، جبکہ نیچے سے مسلسل دھماکوں کی آوازیں آتی رہیں۔
رات کو حلیمہ نے کہا، “کل ہم نیل کی طرف نکلیں گے۔ عبدالحمید کو وہیں لے چلتے ہیں، ان کی دعا وہیں مکمل ہوگی۔” میں نے اثبات میں سر ہلایا، “ہاں، وہ نیل سے محبت کرتا تھا، اسے وہیں مٹی دینی چاہیے۔” ہم چلنے لگے؛ میں نے عبدالحمید کے جسدِ خاکی کو کندھے پر اٹھا رکھا تھا۔ راکھ، زخموں اور دھوئیں کے پار ہم آگے بڑھتے رہے۔ راستے میں ایک تباہ شدہ گاؤں کے ملبے پر ماؤں کی لاشیں اور بچوں کے ٹوٹے ہوئے کھلونے بکھرے تھے۔ حلیمہ نے لرزتے ہاتھوں سے ایک ٹوٹی ہوئی گڑیا اٹھائی، “کیا یہی وہ ملک ہے جس کے بارے میں تم نے کتاب لکھی تھی؟” درد کی ایک لہر میرے وجود میں سرایت کر گئی، “نہیں، وہ تو اس ملک کی یاد تھی جو اب مر چکا ہے۔” حلیمہ مڑی، “پھر اب تم کیا لکھو گے؟” میں نے جواب دیا، “شاید ایک کتاب جس کا عنوان ہو: ‘جنگ کے اندر انسان’۔” وہ خاموش رہی، پھر پوچھا، “اور اس میں محبت کہاں ہوگی؟” میں نے کہا، “وہاں، جہاں تم ہوگی۔” اس کی آنکھیں بھر آئیں، “پھر لکھنا، تاکہ دنیا جانے کہ جنگ میں بھی دل دھڑک سکتے ہیں۔”
نیل کے کنارے پہنچ کر ہم نے عبدالحمید کو سپردِ خاک کیا۔ ریت کی اس ڈھیری پر حلیمہ نے تسبیح رکھ دی۔ میں نے کہا، “کبھی کبھی زمین اتنی بھاری لگتی ہے کہ انسان خود اس کے نیچے دب جانا چاہتا ہے۔” حلیمہ نے جواب دیا، “پھر بھی ہمیں چلنا ہے، کیونکہ زندگی ابھی مکمل نہیں ہوئی۔” رات کے وقت جب نیل پر چاند کا عکس لرز رہا تھا، ہم دونوں کنارے پر بیٹھے تھے۔ میں نے پوچھا، “حلیمہ! کبھی تم نے سوچا تھا کہ محبت اور موت ایک ساتھ چل سکتی ہیں؟” اس نے میری طرف دیکھا، “سوچا تو نہیں تھا، مگر اب جان لیا ہے۔ کبھی کبھی محبت وہ دعا ہوتی ہے جو مرنے سے پہلے پوری ہو جاتی ہے۔” میں نے اس کا ہاتھ تھاما، “اور اگر ہم کل نہ جاگے؟” اس نے جواب دیا، “تب نیل ہماری کہانی سنائے گا اور اس کی موجوں میں ہمارا نام بہے گا۔” اس رات نیل کی ہوا میں عبدالحمید کی تسبیح کی خوشبو رچی تھی اور ہماری خاموشی میں محبت کے الفاظ، مگر میں نہیں جانتا تھا کہ آنے والی صبح آخری ثابت ہوگی۔
صبح دھند چھائی ہوئی تھی اور نیل کا پانی ساکت تھا، جیسے دنیا نے سانس روک لی ہو۔ حلیمہ نے یسین کو جگایا اور اس کے بالوں میں پیار سے ہاتھ پھیرا۔ میں نے اپنی نوٹ بک کھولی اور اس پر لکھا: “سوڈان—جہاں انسانیت کے ملبے سے محبت نے جنم لیا۔” ہم نے مشرق کی جانب سفر شروع کیا؛ شاید کسی سرحد یا کسی خواب کی تلاش میں۔ راستے میں فوجی قافلوں کی جلی ہوئی گاڑیاں اور خون کے وہ دھبے ملے جو اب مٹی کا مستقل حصہ بن چکے تھے۔ دوپہر کے قریب آسمان سے طیاروں کی گرج سنائی دی۔ میں نے حلیمہ کا ہاتھ پکڑا اور ہم دوڑنے لگے، مگر پھر ایک زوردار دھماکہ ہوا۔ میرے کانوں میں شور گونجا اور زمین لرز گئی۔ جب آنکھ کھلی تو نیل کی مٹی میرے چہرے پر جمی تھی اور یسین زور زور سے چیخ رہا تھا۔ حلیمہ کہیں دکھائی نہیں دے رہی تھی۔ میں نے اسے راکھ اور خون کے درمیان تلاش کیا؛ وہ ایک درخت کے نیچے نیم بے ہوش پڑی تھی۔ اس کے سینے پر زخم تھا مگر آنکھیں کھلی تھیں۔
میں نے جھک کر کہا، “حلیمہ! دیکھو میں یہاں ہوں، ہم بچ گئے ہیں۔” اس کے لبوں پر ایک ناتواں مسکراہٹ رینگی، “نہیں… تم بچ گئے ہو، مگر میں اب نیل کے ساتھ جا رہی ہوں۔” میں نے تڑپ کر کہا، “نہیں، تم نے وعدہ کیا تھا کہ ہم ساتھ رہیں گے!” اس نے آہستہ سے سانس لی، “ہم ساتھ ہی ہیں… دیکھو، نیل ہمیں جوڑ رہا ہے۔” میں نے اس کا ہاتھ تھاما تو وہ ٹھنڈا ہو چکا تھا۔ اس کی نگاہیں آسمان پر جم گئیں۔ میں نے محسوس کیا جیسے وہ خود نیل میں بہہ گئی ہو۔ کچھ دیر بعد میں نے اپنی نوٹ بک کھولی اور خون سے بھری انگلیوں سے ایک سطر لکھی: “حلیمہ مری نہیں، وہ نیل میں بہہ گئی ہے اور اب ہر لہر میں اس کا نام ہے۔” میں نے نیل کے پانی میں ہاتھ ڈبو کر اسے اپنے ہونٹوں سے لگایا اور آسمان کی طرف دیکھا۔ عبدالحمید کی تسبیح کا ایک دانہ میرے قدموں کے پاس آ کر رک گیا۔ میں رو نہیں رہا تھا، بس سانس لے رہا تھا، جیسے کسی نے میرے اندر محبت کا دل زندہ چھوڑ دیا ہو۔
اب نیل بہتا ہے اور اس کے ساتھ میری کہانی بھی—ایک صحافی کی نہیں، بلکہ ایک ایسے انسان کی جس نے جنگ کے مہیب اندھیروں میں محبت کو جنم لیتے دیکھا اور اب اسے یقین ہے کہ محبت ہمیشہ آخری سانس سے زیادہ طاقتور ہوتی ہے۔
میری ٹیم واپس چلی گئی۔ وہ لوگ کہہ گئے کہ میں نے جو لکھنا تھا لکھ لیا، اب زندگی آگے بڑھانی چاہیے، مگر میں رک گیا۔ مجھے لگا کہ میں نے ان لوگوں کے درد کو صرف لفظوں میں سمیٹا ہے، ان کی دھڑکنوں میں نہیں۔ میں ان کے ساتھ رہنا چاہتا تھا، ان کی زبان میں خاموشی سیکھنا چاہتا تھا۔ سو، میں خرطوم کے شور سے نکل کر شمال کی طرف چلا گیا، پھر دارفور، پھر الفاشر۔ وہاں کی فضا میں ایک سکون تھا، جیسے زخم پر پڑا کھرنڈ جو ابھی بھرا نہیں تھا، مگر درد بھی نہیں دے رہا تھا۔ پھر ایک دن فضا بدل گئی۔ پہلے تو صرف خبریں آئیں—ریپڈ سپورٹ فورسز اور فوج کے درمیان تناؤ کی—پھر یہ خبریں شور میں بدل گئیں۔ میں نے اپنی کھڑکی سے دیکھا، نیل کا پانی سرخ نہیں ہوا تھا، مگر ہوا میں بارود کی مہک تھی۔ گلیوں سے لوگ غائب ہونے لگے، دکانیں بند، چہرے سخت اور آوازیں دبتی جا رہی تھیں۔ میں نے کیمرہ سنبھالا، قلم اٹھایا، مگر اب کوئی تصویر، کوئی جملہ ان لمحوں کی شدت کو تھام نہیں پاتا تھا۔
پھر ایک صبح سورج نہیں نکلا، یا شاید نکلا تھا مگر ہم نے دیکھنے کی ہمت کھو دی تھی۔ الفاشر کی گلیوں میں لوگ بھاگ رہے تھے، مائیں اپنے بچوں کو ڈھونڈتی تھیں، مرد ملبے میں ہاتھ ڈال کر سانسیں تلاش کرتے تھے۔ میں وہاں موجود تھا، ایک صحافی، جو اب لکھ نہیں سکتا تھا۔ میں نے نوٹ بک بند کر دی اور ان زخمی ہاتھوں کو سہارا دینے لگا جنہیں دنیا صرف اعداد و شمار کے طور پر دیکھتی تھی۔ شام کو جب آگ کے دھوئیں میں آسمان چھپ گیا، تب میں نے سوچا کہ شاید انسانیت اب ایک لمحے کی مہلت مانگ رہی ہے۔ میرے ارد گرد چیخیں، قدموں کی چاپ اور کسی بچے کی روتی ہوئی آواز گونجتی تھی اور انہی آوازوں کے بیچ مجھے لگا جیسے کسی نے میرا نام پکارا ہو، دھیمے سے مگر بہت واضح۔ میں پلٹا اور دیکھا، دھول کے اس پار، ملبے کے درمیان بڑی بڑی، سیاہ اور عجیب طرح کی روشنی سے بھری ہوئی آنکھیں۔ میں ٹھٹھک گیا۔ شاید وہ کسی خواب کا آغاز تھا یا کسی زخم کی نئی سرحد۔ اسی لمحے مجھے احساس ہوا کہ کہانی ختم نہیں ہوئی، وہ تو اب شروع ہونے جا رہی ہے۔
ہوا میں بارود کی بو اب عادت بن چکی تھی۔ میں اکثر صبح آنکھ کھولنے سے پہلے ہی اندازہ لگا لیتا تھا کہ آج کس طرف سے گولہ باری ہوگی۔ کبھی دارفور کی سمت سے دھواں اٹھتا، کبھی شہر کے بیچوں بیچ کسی گلی میں فائرنگ کی آواز آ جاتی۔ جنگ اب فاصلوں پر نہیں رہی تھی، یہ سانس کے ساتھ اندر اترتی تھی۔ میں ایک امدادی مرکز میں رضاکاروں کے ساتھ کام کر رہا تھا۔ مٹی کی جھونپڑیوں میں زخمیوں، بوڑھوں اور بچوں کے شور کے بیچ وقت جیسے تھم گیا تھا۔ وہاں ایک بوڑھا اکثر ہوتا تھا، عبد الحمید۔ وہ کبھی مصر میں پروفیسر تھا، مگر برسوں پہلے سوڈان آ گیا تھا۔ اس کے چہرے پر تھکن نہیں، بلکہ ایک عجیب سا اطمینان تھا۔ میں نے ایک دن اس سے کہا، “ڈاکٹر، یہ سب کب ختم ہوگا؟” وہ ایک لمحے کے لیے رکا، اپنے ہاتھ دھوئے اور بولا، “جنگ کبھی ختم نہیں ہوتی بیٹا، یہ صرف جگہ بدلتی ہے اور ایک دن تمہارے اندر بھی شروع ہو جاتی ہے۔” میں خاموش رہ گیا اور وہ اپنے کام میں مصروف ہو گیا، مگر اس کے الفاظ میرے اندر کسی چنگاری کی طرح جلتے رہے۔
کبھی کبھی میں باہر نکلتا۔ الفاشر کی وہ گلیاں، جو کبھی چائے اور مصالحوں کی خوشبو سے مہکتی تھیں، اب راکھ کی بو دیتی تھیں۔ دیواروں پر گولیاں، سڑکوں پر جلے ٹائر اور کبھی کبھار کسی دروازے سے نکلتی دھیمی آواز—کوئی قرآن پڑھ رہا ہوتا یا کسی کا سوگ منایا جا رہا ہوتا۔ ایک دن میں نے ایک آدمی کو دیکھا، جو اپنے تباہ شدہ گھر کے سامنے بیٹھا ملبے میں سے اینٹیں چن رہا تھا۔ میں قریب گیا۔ اس نے میری طرف دیکھا، اس کے ہونٹوں پر ایک زخمی مسکراہٹ تھی۔ “یہ اینٹیں میری بیٹی کے کمرے کی ہیں۔ میں سوچتا ہوں، اگر کبھی امن آیا، تو انہی سے گھر دوبارہ بناؤں گا۔” میں نے پوچھا، “کیا تمہیں لگتا ہے امن واپس آئے گا؟” وہ ہنس پڑا، “امید آدمی کے پاس آخری چیز ہوتی ہے، اسے چھوڑ دو تو سب کچھ ختم۔” اس کی ہنسی میں درد تھا، مگر اس درد میں بھی زندگی کی کوئی ضد چھپی تھی۔ میں نے وہ لمحہ اپنی یادداشت میں رکھ لیا، نوٹ بک میں نہیں۔
راتوں کو شہر پر اندھیرا یوں گرتا جیسے آسمان خود زمین پر آ رہا ہو۔ گولے پھٹنے کی آوازیں اتنی قریب سے آتی تھیں کہ لگتا تھا سانس بھی شور بن جائے گی۔ میں اکثر چھت پر بیٹھتا اور نیل کی سمت دیکھتا۔ پانی اب بھی بہتا تھا، جیسے اسے جنگ سے کوئی سروکار نہ ہو۔ ایک دن عبد الحمید میرے پاس آیا۔ “تم اب بھی لکھتے ہو؟” اس نے سوالیہ نظروں سے میری طرف دیکھا۔ “نہیں،” میں نے قطعیت سے کہا، “اب الفاظ کم پڑ گئے ہیں۔ جو دیکھ رہا ہوں، اسے بیان کرنے کی ہمت نہیں۔” وہ دیر تک خاموش رہا، پھر بولا، “پھر شاید وقت آ گیا ہے کہ تم لکھنے کے لیے نہیں، جینے کے لیے یہاں ہو۔” میں نے اس کی بات کا کوئی جواب نہ دیا، مگر میرے اندر کچھ بدل گیا۔ میں سوچتا رہا، شاید انسان لفظوں سے نہیں، درد سے سیکھتا ہے۔
دوسری طرف سے فضا میں پھر دھماکے کی آواز آئی اور زمین ہلکی سی کانپی۔ عبد الحمید نے آسمان کی طرف دیکھا، پھر زیرِ لب کہا، “اللہ ہمیں وہ دن دکھائے جب یہ شور بند ہو جائے۔” میں نے اس کے ہاتھ پر ہاتھ رکھا۔ “کبھی کبھی لگتا ہے وہ دن بس خواب رہ جائے گا، ڈاکٹر۔” “خواب ہی تو بچاتے ہیں بیٹا! جنگ میں اگر خواب نہ دیکھو، تو پاگل ہو جاؤ گے۔” اس رات میں دیر تک جاگتا رہا۔ دھواں، چیخیں اور عبد الحمید کی باتیں سب ایک دوسرے میں گھل مل گئیں۔ کہیں دور سے کسی عورت کی آواز آئی، جو لوری گا رہی تھی—کسی بچے کو سلانے کے لیے یا شاید خود کو یقین دلانے کے لیے کہ صبح ابھی باقی ہے۔ اور میں نے محسوس کیا کہ سوڈان صرف ایک ملک نہیں رہا تھا، یہ ایک چیخ تھی جو زمین کے نیچے سے اٹھ رہی تھی اور اس چیخ کے بیچ کہیں نہ کہیں، میری اپنی آواز بھی دب چکی تھی۔
بارش کا موسم آ رہا تھا، مگر آسمان ابھی بھی راکھ اگل رہا تھا۔ بادلوں کے پیٹ میں پانی کے بجائے شور تھا، جیسے وہ بھی جنگ سے بھر گئے ہوں۔ الفاشر کے مضافات میں خیموں کا ایک شہر بن چکا تھا؛ کپڑے کے، پلاسٹک کے اور خوابوں کے خیمے۔ ہزاروں لوگ، جن کے گھر مٹی میں مل گئے تھے، اب اسی مٹی پر ٹھہرے ہوئے تھے۔ میں ہر روز وہاں جاتا، اپنے ہاتھوں سے زخمیوں کو اٹھاتا، بچوں کو پانی پلاتا اور کبھی کبھی بس یوں ہی بیٹھا رہتا—خاموش، بے حس، جیسے جسم میں دنیا بھر کی تھکن جمع ہو گئی ہو۔
عبد الحمید اب بھی کام کر رہا تھا، مگر اس کے ہاتھوں کی لرزش بڑھ گئی تھی۔ وہ کہتا، “ہر دن خدا سے ایک دن کم مانگ لیتا ہوں، تاکہ یہ سب ختم ہوتے دیکھ نہ سکوں۔” ایک دوپہر میں نے دیکھا کہ ایک عورت خیمے کے باہر بیٹھی ہے۔ اس کے پاس دو بچے تھے؛ ایک بیمار اور ایک بھوکا۔ میں نے اسے پانی کی بوتل دی۔ اس نے سر اٹھا کر میری طرف دیکھا۔ آنکھوں میں وہی سوال تھا جو ہر چہرے پر ہوتا ہے: “کیا ہم بچ جائیں گے؟” میں نے جواب نہ دیا، کیونکہ میں جانتا تھا کہ اب اس سوال کا جواب صرف خدا کے پاس ہے، انسان کے ضمیر کے پاس نہیں۔
کچھ دن بعد اقوامِ متحدہ کے قافلے آئے۔ سفید گاڑیاں، نیلی جیکٹیں اور غیر ملکی لہجے۔ انہوں نے تصویریں بنائیں، فہرستیں تیار کیں اور چلے گئے۔ بچے دیر تک ان گاڑیوں کو جاتے دیکھتے رہے۔ عبد الحمید نے کہا، “انہیں ہماری تصویریں چاہئیں تاکہ ان کی رپورٹوں میں رنگ بھرا رہے۔ ہمیں دوائیں نہیں ملیں گی، بس کچھ جملے ملیں گے۔” میں نے تلخی سے کہا، “میں بھی کبھی انہی جملوں میں لکھتا تھا، ڈاکٹر! شاید میں بھی ان گاڑیوں میں سے ایک ہوں۔” وہ میری طرف دیکھتا رہا، پھر آہستہ سے بولا، “نہیں، تم رک گئے ہو، اور جو رک جاتا ہے، وہ انسان بن جاتا ہے۔”
رات کو خیموں میں کہانیاں چلتی تھیں۔ کوئی عورت کہتی، “کل میرا شوہر واپس آئے گا۔” کوئی کہتا، “میں نے خواب میں امن دیکھا ہے۔” میں ان کہانیوں کے بیچ بیٹھا رہتا، نوٹ بک میرے گھٹنوں پر دھری رہتی، مگر قلم بند ہوتا۔ باہر سے کبھی کبھار فائرنگ کی آواز آتی، تو سب کے چہرے ساکت ہو جاتے۔ ایک لمحہ، دو لمحے، پھر سانسیں واپس آتیں، جیسے موت اور زندگی کے بیچ کوئی غیر اعلانیہ جنگ چل رہی ہو۔
ایک دن ایک چھوٹا لڑکا میرے پاس آیا۔ اس کے ہاتھ میں ایک ٹوٹا ہوا کیمرہ تھا۔ وہ بولا، “یہ میرے والد کا ہے۔ وہ بھی تصویریں لیتے تھے، جیسے آپ۔” میں نے اس سے پوچھا، “اب کہاں ہیں تمہارے والد؟” وہ خاموش ہو گیا، پھر آہستہ سے بولا، “اب وہ تصویر میں ہیں۔” میرے گلے میں جیسے کچھ اٹک گیا۔ میں نے کیمرہ لیا اور آنکھ کے سامنے رکھا، مگر دیکھنے کی ہمت نہ ہوئی۔
اگلی صبح شہر کے شمالی حصے پر بمباری ہوئی۔ امدادی مرکز کے کچھ حصے ملبے میں دب گئے۔ میں اور عبد الحمید وہاں پہنچے۔ ہم ہاتھوں سے مٹی ہٹاتے رہے اور لوگوں کی آوازیں ڈھونڈتے رہے۔ تبھی کسی خیمے کے اندر سے ایک لڑکی کی چیخ سنائی دی۔ ہم اس طرف دوڑے، مگر وہاں صرف دھواں اور گرد تھی۔ عبد الحمید نے میری طرف دیکھا، “ہم سب اس جنگ میں کسی نہ کسی لمحے دفن ہو رہے ہیں۔ بس فرق یہ ہے کہ کچھ کو مٹی اوپر سے ڈھانپتی ہے اور کچھ کو اندر سے۔”
رات کو جب سب کچھ تھم گیا، میں پھر چھت پر جا بیٹھا۔ آسمان کے ٹکڑے دھوئیں میں گم تھے۔ میں نے اپنی اس کتاب کے بارے میں سوچا جس نے مجھے عزت دی، ایوارڈ دیا اور شاید یہ دھوکہ بھی کہ میں نے کچھ بدل دیا ہے۔ میں نے دل میں کہا، “اگر میں پھر کبھی لکھوں، تو یہ الفاظ دنیا کے لیے نہیں، بلکہ ان لوگوں کے لیے ہوں گے جن کے نام تاریخ کبھی نہیں لکھے گی۔” دور کہیں، نیل کی سمت سے ہوا چلی، جو مٹی، بارود اور خون کی بو لاتی تھی، مگر اس میں کہیں ایک ہلکی سی خوشبو بھی تھی، جیسے کسی کی سانس چھو کر گزری ہو۔ میں نے سر اٹھایا، فضا میں کسی غیر مرئی آہٹ کا احساس ہوا۔ شاید یہ کسی نئے موڑ کا آغاز تھا۔۔
اس رات ہوا میں کچھ بدلا ہوا تھا، جیسے طویل چیخ کے بعد کی خاموشی کسی نئی آواز کو جنم دیتی ہے۔ میں خیموں کے درمیان چل رہا تھا؛ آسمان پر دھواں کم مگر اندھیرا زیادہ تھا۔ بچے سو چکے تھے اور عورتیں نیم خوابیدہ تھیں، جبکہ عبدالحمید کسی زخمی پر جھکا ہوا دعا پڑھ رہا تھا۔ میں نیل کی سمت نکل آیا۔ وہاں پانی اب بھی بہتا تھا، مگر وہ اب کسی شفاف آئینے کی طرح نہیں لگتا تھا۔ اس میں شہر کے جلتے بلبوں کی بجھی ہوئی روشنی جھلک رہی تھی۔ میں نے اپنے جوتے اتارے، کنارے بیٹھ کر پانی کو چھوا؛ وہ ٹھنڈا نہیں بلکہ نیم گرم تھا، جیسے اس میں انسانوں کی سانسیں گھل گئی ہوں۔ اسی لمحے ایک دبی سی آواز آئی—کسی عورت کی، دور کہیں، شاید ملبے کے اس پار۔ میں چونکا، آواز دھیمی تھی مگر اس کے لہجے میں ایک عجیب سا یقین تھا۔ وہ کچھ پڑھ رہی تھی، شاید کوئی دعا یا لوری۔ میں نے کان لگائے؛ لفظ عربی تھے مگر لہجہ مقامی، نرم اور کھنکتا ہوا۔ میں نے آہستہ سے “آمین” کہا، مگر اس کے بعد ایسی خاموشی چھا گئی جیسے وہ آواز کسی دراڑ میں داخل ہو کر گم ہو گئی ہو۔
اگلے دن میں نے عبدالحمید سے پوچھا، “کیا یہاں راتوں کو کوئی عورت دعا پڑھتی ہے؟” وہ تھوڑی دیر سوچتا رہا، پھر بولا، “ہاں، شاید تم نے حلیمہ کی آواز سنی ہو۔ وہ خیمہ نمبر چھیالیس میں رہتی ہے، اپنے بھائی کے ساتھ دارفور سے آئی تھی۔ بھائی اگلی ہی رات مارا گیا، مگر اس کا ایک بیٹا ہے جو اب حلیمہ کے ساتھ رہتا ہے۔ وہ راتوں کو نیل کے کنارے دعا پڑھتی ہے کہ شاید خدا اسے لوٹا دے۔” عبدالحمید نے میری طرف دیکھا، “تم نے کیوں پوچھا؟” میں نے کندھے اچکاتے ہوئے کہا، “بس ویسے ہی، اس کی آواز میں ایک عجیب سا درد ہے۔” دن گزرتے گئے۔ جنگ کا شور کبھی کم ہوتا تو کبھی زیادہ، مگر ہر رات عین اسی وقت نیل کے کنارے سے وہی دعا ابھرتی؛ کبھی الفاظ واضح ہوتے اور کبھی ہوا میں تحلیل ہو جاتے۔ میں اب اکثر اس آواز کا انتظار کرنے لگا۔ وہ میری تھکن کے بیچ ایک ایسی لہر تھی جو مجھے یاد دلاتی کہ انسان اب بھی کسی غیب پر یقین رکھتا ہے۔
ایک شام جب میں امدادی مرکز سے واپس آ رہا تھا، تو میرا گزر خیمہ نمبر چھیالیس کے سامنے سے ہوا۔ وہ خالی دکھائی دے رہا تھا مگر اندر سے کسی کے چلنے کی آہٹ آ رہی تھی۔ میں رک گیا۔ دھوپ کی آخری لکیر خیمے کے کپڑے سے چھن کر زمین پر گر رہی تھی؛ سنہرے اور مٹیالے رنگ کا ایسا امتزاج، جیسے شام اور جنگ ایک دوسرے میں گھل گئے ہوں۔ میں نے قدم بڑھایا، مگر پھر رک گیا۔ “ابھی نہیں،” میں نے خود سے کہا۔ کچھ ملاقاتیں پہلے سنائی دیتی ہیں، پھر دیکھی جاتی ہیں۔
رات کو جب میں چھت پر بیٹھا تھا، عبدالحمید نے مجھ سے پوچھا، “کیا تم اب بھی دعا سنتے ہو؟” میں نے سر ہلایا، “ہاں، اور مجھے لگتا ہے کہ وہ دعا صرف اپنے لیے نہیں مانگتی، بلکہ اس کی آواز کسی اور کو بھی پکارتی ہے، شاید ہم سب کو۔” عبدالحمید مسکرایا، “پھر شاید خدا تمہیں اس دعا کے قریب لے جا رہا ہے بیٹا!” میں نے آسمان کی طرف دیکھا۔ شور کے بیچ بھی ایک انوکھی خاموشی تھی—وہی خاموشی جو کہانی کے اگلے صفحے کے پلٹنے سے پہلے طاری ہوتی ہے۔ میں نے دل ہی دل میں سوچا، شاید اب وہ صفحہ قریب ہے۔ صبح کی روشنی مٹی میں دفن ہو کر نکلی تھی؛ آسمان پر لالی نہیں بلکہ سرمئی دھبے تھے، جیسے دن نے خود کو راکھ سے ڈھانپ رکھا ہو۔
میں امدادی مرکز سے نکل رہا تھا کہ نیل کے کنارے ہجوم نظر آیا۔ کچھ لوگ ایک طرف جھکے ہوئے تھے، جیسے کسی کو اٹھا رہے ہوں۔ میں قریب گیا۔ عبدالحمید آگے بڑھا؛ اس کے ہاتھوں میں ایک زخمی لڑکی تھی، بازو پر زخم اور چہرے پر مٹی ملی ہوئی تھی، مگر آنکھیں کھلی تھیں۔ عبدالحمید نے کہا، “یہی حلیمہ ہے، وہی جس کی آواز تم سنتے تھے۔” میں نے اس کے چہرے کو دیکھا؛ وہی سیاہ بڑی آنکھیں، جیسے کسی کہانی سے نکل کر حقیقت میں آ گئی ہوں۔ وہ بے ہوش نہیں تھی، مگر ہوش کو کسی ضد کے سہارے تھامے ہوئے تھی۔ میں نے اس کے قریب ہو کر پوچھا، “تمہیں کچھ چاہیے؟” وہ بمشکل بولی، “میرے خیمے میں ایک بچہ ہے، میں اسے تنہا نہیں چھوڑ سکتی۔”
ہم نے اسے سہارا دیا اور خیمے کی طرف گئے۔ اندر ایک چھوٹا سا بچہ، شاید پانچ برس کا، سو رہا تھا۔ حلیمہ نے اس کے بالوں پر ہاتھ رکھا اور آنکھیں بند کر لیں۔ عبدالحمید نے مجھے باہر آنے کا اشارہ کیا۔ “حلیمہ کے بھائی کی لاش ملی ہے؛ وہ راتوں کو اسی کے لیے دعا کرتی تھی۔ آج صبح دھماکے میں خیمہ گر گیا، وہ تو بچ گئی مگر شاید اس کے اندر اب کچھ اور مر گیا ہے۔” میں خاموش رہا۔ شام کو جب دوبارہ گیا تو حلیمہ بچے کو گود میں لیے بیٹھی تھی۔ اس کا چہرہ سکون سے بھرپور تھا، جیسے وہ کسی فیصلے پر پہنچ چکی ہو۔ میں نے پوچھا، “تم اب کہاں جاؤ گی؟” اس نے نمناک لہجے میں کہا، “جہاں لوگ زندہ ہیں، شاید وہاں کچھ اور جانیں بچ جائیں۔” یہ پہلا جملہ تھا جو اس نے مجھ سے کہا۔ شاید یہی وہ لمحہ تھا جب میں نے محسوس کیا کہ اب میں اس جنگ میں اکیلا نہیں ہوں۔
دو دن بعد الفاشر پر بمباری تیز ہو گئی۔ خیمے جلنے لگے اور زخمیوں کی چیخیں فضا میں تحلیل ہونے لگیں۔ عبدالحمید نے کہا، “ہمیں مشرق کی طرف نکلنا ہوگا، یہاں مزید رہنا ممکن نہیں۔” حلیمہ نے اپنے بھتیجے کا ہاتھ پکڑا، میں نے عبدالحمید کے کندھے پر ہاتھ رکھا اور ہم تینوں نیل کے کنارے چلنے لگے۔ شہر پیچھے رہ گیا تھا۔ آگ کے ستون آسمان کو چھو رہے تھے؛ کہیں عورتیں رو رہی تھیں اور کہیں ملبے سے کوئی زندہ نکلنے کی کوشش کر رہا تھا۔ میں نے دیکھا کہ ایک شخص اپنے بیٹے کو کندھے پر اٹھائے بھاگ رہا تھا، مگر گولی کی آواز کے ساتھ ہی گر گیا۔ حلیمہ نے منہ پر ہاتھ رکھا، مگر میں نے اسے کھینچ لیا، “دیکھو مت، بس چلو!”
ہم ریت میں قدم دھنساتے آگے بڑھتے گئے۔ فضا میں گولیوں کی سنسناہٹ، ٹینکوں کی گرج اور کبھی کبھار کسی زخمی کے کراہنے کی آواز تھی، جیسے زمین خود فریاد کر رہی ہو۔ ایک جگہ عبدالحمید بیٹھ گیا؛ اس کے چہرے پر پسینہ اور خاک ملی ہوئی تھی۔ میں نے بوتل سے پانی نکالا جو آدھی خالی تھی۔ حلیمہ نے کہا، “پہلے ڈاکٹر کو دو، وہ تھکے ہوئے ہیں۔” عبدالحمید نے مسکرا کر کہا، “پہلے بچے کو دو بیٹی! ہم سب کا سفر اسی کے مستقبل کے لیے تو ہے۔” وہ لمحہ جنگ کے بیچ بھی انسانیت کی ایک جھلک تھا۔ میں نے محسوس کیا کہ کبھی کبھی محبت بھی خاموشی سے آتی ہے، جیسے دعا کسی کانٹے پر ٹھہر کر دل میں اتر جائے۔
رات کو ہم ایک ویران عمارت میں رکے۔ گولیوں کی آواز اب بھی دور سے آ رہی تھی۔ حلیمہ بچے کو لپیٹ کر سو گئی جبکہ عبدالحمید کھڑکی کے پاس بیٹھا آسمان دیکھ رہا تھا۔ میں اس کے پاس گیا۔ “کیا تمہیں لگتا ہے ہم بچ جائیں گے؟” میں نے پوچھا۔ اس نے آنکھیں بند کیں، “بچ جانا ہی کافی نہیں بیٹا، ہمیں زندہ رہنا بھی سیکھنا ہوگا۔” اس رات نیند مجھ سے کوسوں دور تھی۔ میں نے حلیمہ کو دیکھا، وہ پرسکون سو رہی تھی۔ اس کے سنولائے ہوئے چہرے پر نیل کے کنارے والی وہی روشنی تھی۔ میں نے دل میں کہا کہ شاید میں اسی لیے رکا تھا تاکہ اس روشنی کو دیکھ سکوں جو تب بھی جلتی ہے جب دنیا بجھ چکی ہو۔
باہر ہوا چل رہی تھی، آسمان دھواں دھواں تھا اور کہیں دور نیل بہہ رہا تھا۔ میں جانتا تھا کہ یہ سفر صرف پناہ کا نہیں بلکہ کسی مقدر کا آغاز ہے۔ تمام راتوں کی طرح وہ رات بھی گزر گئی۔ سورج ابھی پوری طرح نکلا نہیں تھا اور مشرقی آسمان پر نارنجی روشنی کا ایک دھبہ سا پھیل رہا تھا، جیسے رات کے بدن پر زخم کا نشان۔ ہم چاروں—میں، عبدالحمید، حلیمہ اور وہ بچہ (جس کا نام بعد میں پتا چلا کہ یسین ہے)—خاموشی سے ریت میں قدم دباتے چل رہے تھے۔ نیل کا کنارہ اب کہیں پیچھے رہ گیا تھا۔ ہوا میں بارود کی ہلکی مہک باقی تھی، مگر فاصلہ بڑھنے کے ساتھ شور مدھم ہو گیا تھا۔ ریت پر ہمارے قدموں کے نشان لمبے ہوتے جا رہے تھے، جیسے وقت ہمیں کسی اور سمت دھکیل رہا ہو۔
عبدالحمید نے کہا، “یہ راستہ الفاشر سے قریبی گاؤں ‘تبو’ کی طرف جاتا ہے۔ وہاں کچھ لوگ اب بھی ٹکے ہوئے ہیں جو زخمیوں کو پناہ دیتے ہیں۔” حلیمہ نے آہستہ سے پوچھا، “کیا وہاں امن ہے؟” اس کے لہجے میں ہزاروں درد پوشیدہ تھے۔ عبدالحمید نے متاسف لہجے میں کہا، “اب تو امن بھی ہجرت کر گیا ہے بیٹی، لیکن شاید وہاں اب بھی انسان باقی ہوں۔” گھنٹوں چلنے کے بعد ہمیں ایک جھونپڑی اور ریت سے ابھرتے چند کھنڈر دکھائی دیے، جیسے گاؤں زمین کے نیچے سے آدھا نکل آیا ہو۔ بچے وہاں بھی تھے—کمزور مگر زندہ۔ عورتیں پانی کے برتن لیے بیٹھی تھیں، ان کے چہرے دھوپ سے جلے ہوئے تھے مگر آنکھوں میں ایک عجیب یقین تھا، جیسے انہوں نے امید کو اپنی ہڈیوں میں محفوظ کر لیا ہو۔
ہم وہاں رکے۔ عبدالحمید فوراً زخمیوں کی طرف لپکا۔ میں نے کام میں اس کا ہاتھ بٹایا، مگر میری نگاہ بار بار حلیمہ کی طرف جاتی۔ وہ عورتوں کے ساتھ بیٹھ کر ان کے ہاتھ تھام رہی تھی اور کسی بچے کے آنسو پونچھ رہی تھی۔ اس کے چہرے پر تھکن تھی، مگر آواز میں سکون تھا۔ دوپہر کے وقت جب ہم ایک درخت کے سایے میں بیٹھے تو عبدالحمید نے کہا، “ہم یہاں زیادہ دیر نہیں رک سکتے؛ مسلح جتھے اس طرف بڑھ رہے ہیں۔ ہمیں رات ہونے سے پہلے نکلنا ہوگا۔” میں نے سر اٹھا کر آسمان دیکھا جو نیلا نہیں بلکہ مٹیالا تھا، جیسے خدا نے بھی تھکن کے عالم میں رنگ بدل لیا ہو۔۔
“کیا آپ کو کبھی لگتا ہے کہ دنیا ہمیں بھول چکی ہے؟” حلیمہ نے دھیرے سے پوچھا۔ میں نے ایک لمحے کے لیے اس کی آنکھوں میں دیکھا اور کہا، “دنیا یاد رکھے یا نہ رکھے، تمہاری دعا اب بھی نیل کے پانیوں میں بہتی ہے، وہ اسے نہیں بھول سکتا۔” حلیمہ کے ہونٹوں پر ایک ہلکی سی مسکراہٹ پھیل گئی؛ ایسا لگا جیسے وہ تبسم کسی گہرے دکھ کے ملبے سے برآمد ہوا ہو۔ “میں دعا مانگتی تھی کہ میرا بھائی لوٹ آئے، مگر شاید میری دعا کسی اور کے مقدر میں لکھی گئی تھی۔” میں نے کچھ کہنا چاہا، مگر الفاظ حلق میں رک گئے۔ فضا میں ریت اڑ رہی تھی اور ہوا جیسے ہمارے درمیان کسی ان کہی بات کا ترجمہ کر رہی ہو۔ کافی دیر تک ہمارے بیچ ایک بے عنوان سی خاموشی ہلکورے لیتی رہی۔
تھوڑی دیر بعد گاؤں کے کنارے شور اٹھا۔ چند گاڑیاں تیزی سے آتی دکھائی دیں؛ شاید فوج تھی یا ملیشیا۔ عبدالحمید نے فوراً ہمیں اشارہ کیا کہ جھونپڑیوں میں چھپ جاؤ۔ ہم دوڑے؛ حلیمہ نے یسین کو اپنے ساتھ لپٹا لیا اور میں نے دروازہ اندر سے بند کر دیا۔ باہر سے پہلے نعروں اور پھر فائرنگ کی آوازیں آئیں۔ میں نے کانوں میں انگلیاں ٹھونس لیں، مگر گولیوں کی تڑتڑاہٹ جسم میں اترتی محسوس ہو رہی تھی۔ ایک گھنٹے بعد جب خاموشی چھائی تو ہم باہر نکلے۔ دھول ابھی تک فضا میں تیر رہی تھی اور کچھ جھونپڑیاں جل کر راکھ ہو چکی تھیں۔
عبدالحمید ایک زخمی لڑکے کو کندھے پر اٹھائے آ رہا تھا؛ اس کی آنکھوں میں آنسو نہیں بلکہ آگ تھی۔ “یہ جنگ سب کچھ کھا جائے گی،” اس کی آواز درد میں ڈوبی ہوئی تھی، “خدا بھی شاید اب انسانوں سے بات نہیں کرتا۔” میں نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا، “ڈاکٹر! خدا ہمیشہ اپنے پیاروں کو آزماتا ہے۔ ہمیں پھر بھی چلنا ہے، کیونکہ ابھی کچھ جانیں باقی ہیں جنہیں بچانا ہے۔” رات کو جب سب ساکت ہو گئے، ہم تینوں ایک خستہ حال جھونپڑی میں بیٹھے۔ یسین حلیمہ کی گود میں سو گیا اور وہ خاموش بیٹھی رہی۔ میں نے پوچھا، “کیا تم کبھی ڈرتی نہیں ہو؟” اس نے آہستہ سے کہا، “ڈرتی ہوں، مگر جب ڈر حد سے بڑھ جائے تو سکون بن جاتا ہے۔ پھر کھونے کو کچھ باقی نہیں رہتا۔”
میں نے اس کے چہرے پر نظر ڈالی؛ مٹی اور پسینے کے باوجود وہاں روشنی کی ایک ہلکی پرت تھی۔ میں نے کہا، “تمہاری آنکھوں میں عجیب بات ہے، جیسے یہ وہ منظر دیکھ لیتی ہیں جو باقی سب کھو چکے ہیں۔” وہ دھیرے سے مسکرائی، “میرا بھائی کہتا تھا کہ میری آنکھوں میں نیل کا رنگ ہے۔ میں ہنستی تھی کہ نیل تو نیلا ہے اور میری آنکھیں سیاہ، مگر اب لگتا ہے وہ ٹھیک کہتا تھا؛ نیل بھی اب سیاہ ہو گیا ہے۔” میرے پاس کہنے کو کچھ نہ تھا، میں بس خاموشی سے سنتا رہا۔ باہر ٹڈیوں کی آوازیں تھیں، کہیں دور کسی زخمی کی کراہ اور نیل کی سمت سے آتی سرد ہوا۔
حلیمہ نے اچانک پوچھا، “کیا آپ کبھی واپس جائیں گے؟ اپنے ملک، اپنی دنیا میں؟” میں نے کچھ دیر سوچ کر جواب دیا، “پہلے لگتا تھا کہ چلا جاؤں گا، مگر اب نہیں۔ اب میں یہیں رہوں گا، جب تک سب ختم نہ ہو جائے یا پھر میں خود۔” وہ دیر تک میری طرف دیکھتی رہی، پھر دھیرے سے بولی، “پھر تو آپ بھی ہمارے جیسے ہو گئے ہیں—بے گھر۔” میں نے مسکرا کر کہا، “شاید انسان کا کہیں کا نہ رہنا ہی اسے اصل آزادی دیتا ہے۔” حلیمہ نے جواب دیا، “نہیں، کبھی کبھی جڑیں ہی سانس لینے کا حوصلہ دیتی ہیں۔”
رات گہری ہو گئی؛ عبدالحمید نیند میں ہلکا سا کراہا، شاید خواب میں وہی گولہ باری سن رہا ہو۔ میں باہر آ گیا۔ آسمان صاف تھا اور پہلی بار میں نے وہ ستارے دیکھے جو خرطوم کے آسمان پر کبھی میرا استقبال کرتے تھے۔ میں نے دل میں عہد کیا کہ اگر یہ جنگ ختم ہوئی تو میں یہیں رہوں گا، حلیمہ کے ساتھ، نیل کے کنارے۔ شاید ہم ایک نئی کہانی لکھ سکیں جو موت سے نہیں بلکہ زندگی سے شروع ہو۔
صبح کی ہوا میں وہ عجیب سا بوجھ تھا جو کسی بڑے حادثے سے پہلے محسوس ہوتا ہے۔ پرندوں کی چہچہاہٹ خاموش تھی اور ریت پر پڑتے قدموں میں خوف بسا ہوا تھا۔ ہم ‘تبو’ کے ملبے سے نکل کر مشرق کی سمت چلنے لگے۔ عبدالحمید آگے تھا، میں درمیان میں اور حلیمہ یسین کو گود میں لیے پیچھے۔ راستہ ہو کا عالم تھا۔ کہیں کہیں درختوں کی جلی ہوئی جڑیں زمین سے باہر جھانک رہی تھیں، جیسے زمین مقتولوں کا حساب مانگ رہی ہو۔ کئی میل بعد ایک وادی آئی جہاں کبھی بستی تھی، اب صرف جلی ہوئی دیواریں باقی تھیں۔ عبدالحمید مٹی پر گھٹنوں کے بل بیٹھ گیا، “یہ جگہ میں جانتا ہوں، یہاں ایک چھوٹا اسپتال تھا جہاں کئی بچوں نے جنم لیا تھا۔” اس کی آواز ٹوٹ گئی۔ حلیمہ نے مٹی اٹھا کر اپنی ہتھیلی میں رکھی اور بولی، “زمین سب یاد رکھتی ہے ڈاکٹر صاحب! کسی دن یہ پوری سچائی کے ساتھ سب کچھ اگل دے گی۔”
ہم آگے بڑھے۔ دوپہر تک سورج آگ برسانے لگا اور پانی ختم ہونے لگا۔ میں نے حلیمہ کو دیکھا؛ وہ یسین کو کندھے سے لگائے خاموش چل رہی تھی۔ چہرہ خاک آلود تھا مگر آنکھیں اب بھی شفاف تھیں۔ میں نے پوچھا، “تھک گئی ہو؟” اس نے سر ہلایا، “تھکن اب عادت بن گئی ہے، بس دل کو تھکنے نہیں دینا۔” میں نے سوال کیا، “کیا جنگ میں دل بچ پاتا ہے؟” حلیمہ نے میری طرف دیکھا، “جب تک دل دھڑکتا ہے، جنگ جیت نہیں سکتی۔” ہم کچھ دیر خاموش رہے، پھر وہ بولی، “کبھی سوچا ہے کہ ہم کیوں بچ گئے؟ ہزاروں مر گئے مگر ہم زندہ ہیں۔” میں نے اسے دیکھتے ہوئے کہا، “شاید اس لیے کہ ہم دنیا کو ان کی کہانی سنائیں، یا شاید خدا نے ہمیں گواہی کے لیے چنا ہو۔” وہ مسکرائی، مگر وہ ہنسی آنسوؤں سے بوجھل تھی۔ “شاید زندگی خود ایک سزا ہے اور محبت اس کی معافی۔”
اسی لمحے دور سے دھماکے کی آواز آئی اور زمین لرز اٹھی۔ ہم نیچے جھک گئے۔ فضا میں طیارے کا سایہ لہرایا۔ عبدالحمید چلایا، “سب زمین پر لیٹ جاؤ!” پہلا دھماکہ قریب ہی ہوا اور مٹی کا بادل ہم پر آ گرا۔ یسین رونے لگا تو حلیمہ نے اسے سینے سے بھینچ لیا۔ میں نے آگے بڑھ کر ان دونوں کو ڈھانپ لیا۔ عبدالحمید نے آسمان کی طرف دیکھا، “شہر کے راستے پر بمباری ہو رہی ہے، ہمیں پہاڑوں کی طرف نکلنا ہوگا۔” ہم بھاگنے لگے؛ ریت، دھواں، شور اور بارود کی بو۔ حلیمہ کا اسکارف گر گیا جو میں نے اٹھا کر اسے تھمایا۔ اس کے بال مٹی سے اٹے تھے مگر چہرے پر خوف کے بجائے عزم تھا۔
راستے میں ایک زخمی بچہ ملا جو درد سے کراہ رہا تھا۔ حلیمہ رک گئی۔ میں نے کہا، “وقت نہیں ہے!” وہ بولی، “اگر ہم بھی دوسروں کی طرح نکل گئے تو ہماری انسانیت کہاں جائے گی؟” وہ جھکی اور اپنے اسکارف کا ٹکڑا پھاڑ کر بچے کی ٹانگ پر پٹی باندھنے لگی۔ دھماکے قریب آ رہے تھے۔ میں نے کہا، “حلیمہ چلو، ورنہ ماری جاؤ گی!” اس نے جواب دیا، “مرنا آسان ہے، جینا مشکل۔ اگر ڈرتے ہو تو تم جاؤ، میں نہیں جاؤں گی۔” میں رک گیا۔ میرے اندر کچھ ٹوٹا یا شاید کچھ نیا تعمیر ہوا۔ میں نے اس کے ساتھ بیٹھ کر بچے کو اٹھایا۔ عبدالحمید کی آنکھوں میں حیرت اور نمی تھی۔ ہم تینوں نے اس بچے کو سنبھالا اور پہاڑ کی سمت دوڑ پڑے۔
اس بھاگ دوڑ میں ایک لمحے کو میرا ہاتھ حلیمہ کے ہاتھ سے چھو گیا۔ اسی پل مجھے احساس ہوا کہ جنگ سب کچھ جلا سکتی ہے، مگر اس لمس کو نہیں جو زندگی کو معنی دیتا ہے۔ پہاڑ کے دامن میں پہنچ کر ہم ڈھیر ہو گئے۔ عبدالحمید نے تھیلا کھولا تو دوائیں خون سے بھیگی ہوئی تھیں۔ وہ وہیں بیٹھ کر بولا، “شاید اب ہم میں زیادہ کچھ نہیں بچا، مگر جو تھوڑا سا باقی ہے وہی دنیا کے لیے کافی ہے۔” حلیمہ نے یسین کو چوم کر سلا دیا اور دھیمی آواز میں بولی، “اگر میں کل نہ جاگی، تو تم یسین کو نیل کے کنارے لے جانا۔ اسے بتانا کہ اس کی پھپھو نے آخری دعا زندگی کے لیے مانگی تھی، موت کے لیے نہیں۔”
میں نے اس کا ہاتھ تھاما اور کہا، “ایسا نہ کہو، ہم سب زندہ رہیں گے۔” وہ میری طرف دیکھ کر بولی، “زندہ رہنا صرف سانس لینا نہیں ہوتا، تم جانتے ہو ناں؟” میں نے نظریں جھکا لیں، “ہاں، اب جان گیا ہوں۔” رات چھا گئی؛ نیچے جلتے ہوئے گاؤں کی روشنی پہاڑ کی چٹانوں پر جھلک رہی تھی۔ عبدالحمید خاموشی سے تسبیح پڑھ رہا تھا اور حلیمہ میرے قریب بیٹھی تھی۔ میں نے پہلی بار اس کی آنکھوں میں وہ روشنی دیکھی جو انسان کو مٹی کی پستی سے اوپر اٹھا دیتی ہے۔ میں نے سوالیہ نظروں سے اس کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا، “حلیمہ! اگر ہم اس سب سے بچ نکلے، تو کیا تم دوبارہ نیل کے کنارے دعا پڑھو گی؟” اس کی آنکھوں میں ایک چمک سی لہرائی، “ہاں، مگر اس بار دعا صرف میرے بھائی کے لیے نہیں ہوگی، اس میں تمہارا نام بھی شامل ہوگا۔” میں نے محسوس کیا کہ جنگ کے بیچ اور موت کے سایوں کے درمیان کسی نادیدہ ہاتھ نے ہم دونوں کے بیچ ایک خاموش وعدہ رکھ دیا ہے—ایسا وعدہ جو شاید دنیا کو نہ بدل سکے، مگر انسان کو پھر سے انسان بنا دیتا ہے۔ نیچے شہر اب بھی جل رہا تھا، مگر اوپر آسمان خاموش تھا اور اس خاموشی میں مجھے ایک نیا لفظ سنائی دیا: “زندگی”۔
پہاڑوں پر صبح کچھ دیر سے اترتی ہے؛ روشنی دھیرے دھیرے چٹانوں کی اوٹ سے آتی ہے، جیسے خدا نے دن کو بھی اب محتاط بنا دیا ہو کہ کہیں وہ کسی دکھیارے کے زخموں پر بے دردی سے نہ جا پڑے۔ ہم چاروں کئی دن سے اسی پہاڑی راستے میں پناہ گزین تھے۔ نیچے کی زمین اب بھی تپ رہی تھی اور دھواں جیسے نیل کے شفاف پانیوں میں اتر گیا تھا۔ عبدالحمید دن رات زخمیوں کی مدد کرتا؛ پٹیاں باندھتا اور زخم دھوتا، مگر وہ خود دن بدن زرد ہوتا جا رہا تھا۔ اس کے ہاتھ اب کانپنے لگے تھے اور میں جانتا تھا کہ وہ اندر سے ٹوٹ رہا ہے۔ ایک شام وہ خاموش بیٹھا وادی کی طرف دیکھ رہا تھا کہ میں نے پوچھا، “ڈاکٹر، کیا آپ پریشان ہیں؟” وہ مسکرایا، “پریشان؟ نہیں بیٹا! بس سوچتا ہوں کہ شاید میری عمر اب ان پہاڑوں کی مٹی میں لکھی جا چکی ہے۔ میں اب اپنے مریضوں کی طرح ٹھیک نہیں ہو سکتا۔” میں نے کچھ کہنا چاہا مگر اس نے ہاتھ اٹھا کر روک دیا، “سنو! جب میں میڈیکل پڑھ رہا تھا تو سوچتا تھا کہ انسان کو زخموں سے بچانا میرا فرض ہے، مگر اب سمجھ آیا ہے کہ اصل فرض زخموں کے بیچ ‘انسانیت’ کو باقی رکھنا ہے۔” حلیمہ نے عبدالحمید کے کانپتے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھا، “ڈاکٹر انکل، آپ ہمارے لیے امید ہیں۔” اس کے ہونٹوں پر ایک زخمی مسکراہٹ پھیل گئی، “امید بیٹی! امید کبھی بوڑھی نہیں ہوتی، مگر میں ہو گیا ہوں۔”
رات کو ہوا میں خنکی بڑھی تو عبدالحمید کو کھانسی کے شدید دورے پڑنے لگے۔ میں نے اپنے کمبل کا حصہ اس پر ڈال دیا۔ اس نے میرا ہاتھ پکڑ کر کہا، “اگر صبح میں نہ اٹھوں، تو میری تسبیح حلیمہ کو دے دینا اور اسے کہنا کہ اسے اس وقت پڑھے جب پانی خاموش ہو جائے۔” میں نے دلاسا دیا، “ایسا مت کہیے، آپ بہتر ہو جائیں گے۔” وہ نقاہت سے بولا، “نہیں، اب میری شریانوں میں دوا نہیں، دعا سفر کر رہی ہے۔” اگلی صبح جب روشنی نے پہاڑ کے سائے چھوئے تو عبدالحمید کی سانسیں تھم چکی تھیں۔ اس کے چہرے پر ایک عجیب سکون تھا، جیسے کسی نے اس کے درد کی تمام گرہیں کھول دی ہوں۔ حلیمہ اس کے قریب بیٹھی دیر تک روتی رہی؛ وہ ایسا رونا تھا جس میں آواز نہیں تھی، بس روح کے ٹوٹنے کا احساس تھا۔ میں نے خاموشی سے عبدالحمید کے بے جان ہاتھوں سے تسبیح کھولی اور حلیمہ کو دے دی۔ لکڑی کا وہ چھوٹا سا ‘کراس’ بھی اسے دیا جو وہ دعا کے وقت اپنے پاس رکھتا تھا۔ اس دن ہم دیر تک کچھ نہ بولے، جبکہ نیچے سے مسلسل دھماکوں کی آوازیں آتی رہیں۔
رات کو حلیمہ نے کہا، “کل ہم نیل کی طرف نکلیں گے۔ عبدالحمید کو وہیں لے چلتے ہیں، ان کی دعا وہیں مکمل ہوگی۔” میں نے اثبات میں سر ہلایا، “ہاں، وہ نیل سے محبت کرتا تھا، اسے وہیں مٹی دینی چاہیے۔” ہم چلنے لگے؛ میں نے عبدالحمید کے جسدِ خاکی کو کندھے پر اٹھا رکھا تھا۔ راکھ، زخموں اور دھوئیں کے پار ہم آگے بڑھتے رہے۔ راستے میں ایک تباہ شدہ گاؤں کے ملبے پر ماؤں کی لاشیں اور بچوں کے ٹوٹے ہوئے کھلونے بکھرے تھے۔ حلیمہ نے لرزتے ہاتھوں سے ایک ٹوٹی ہوئی گڑیا اٹھائی، “کیا یہی وہ ملک ہے جس کے بارے میں تم نے کتاب لکھی تھی؟” درد کی ایک لہر میرے وجود میں سرایت کر گئی، “نہیں، وہ تو اس ملک کی یاد تھی جو اب مر چکا ہے۔” حلیمہ مڑی، “پھر اب تم کیا لکھو گے؟” میں نے جواب دیا، “شاید ایک کتاب جس کا عنوان ہو: ‘جنگ کے اندر انسان’۔” وہ خاموش رہی، پھر پوچھا، “اور اس میں محبت کہاں ہوگی؟” میں نے کہا، “وہاں، جہاں تم ہوگی۔” اس کی آنکھیں بھر آئیں، “پھر لکھنا، تاکہ دنیا جانے کہ جنگ میں بھی دل دھڑک سکتے ہیں۔”
نیل کے کنارے پہنچ کر ہم نے عبدالحمید کو سپردِ خاک کیا۔ ریت کی اس ڈھیری پر حلیمہ نے تسبیح رکھ دی۔ میں نے کہا، “کبھی کبھی زمین اتنی بھاری لگتی ہے کہ انسان خود اس کے نیچے دب جانا چاہتا ہے۔” حلیمہ نے جواب دیا، “پھر بھی ہمیں چلنا ہے، کیونکہ زندگی ابھی مکمل نہیں ہوئی۔” رات کے وقت جب نیل پر چاند کا عکس لرز رہا تھا، ہم دونوں کنارے پر بیٹھے تھے۔ میں نے پوچھا، “حلیمہ! کبھی تم نے سوچا تھا کہ محبت اور موت ایک ساتھ چل سکتی ہیں؟” اس نے میری طرف دیکھا، “سوچا تو نہیں تھا، مگر اب جان لیا ہے۔ کبھی کبھی محبت وہ دعا ہوتی ہے جو مرنے سے پہلے پوری ہو جاتی ہے۔” میں نے اس کا ہاتھ تھاما، “اور اگر ہم کل نہ جاگے؟” اس نے جواب دیا، “تب نیل ہماری کہانی سنائے گا اور اس کی موجوں میں ہمارا نام بہے گا۔” اس رات نیل کی ہوا میں عبدالحمید کی تسبیح کی خوشبو رچی تھی اور ہماری خاموشی میں محبت کے الفاظ، مگر میں نہیں جانتا تھا کہ آنے والی صبح آخری ثابت ہوگی۔
صبح دھند چھائی ہوئی تھی اور نیل کا پانی ساکت تھا، جیسے دنیا نے سانس روک لی ہو۔ حلیمہ نے یسین کو جگایا اور اس کے بالوں میں پیار سے ہاتھ پھیرا۔ میں نے اپنی نوٹ بک کھولی اور اس پر لکھا: “سوڈان—جہاں انسانیت کے ملبے سے محبت نے جنم لیا۔” ہم نے مشرق کی جانب سفر شروع کیا؛ شاید کسی سرحد یا کسی خواب کی تلاش میں۔ راستے میں فوجی قافلوں کی جلی ہوئی گاڑیاں اور خون کے وہ دھبے ملے جو اب مٹی کا مستقل حصہ بن چکے تھے۔ دوپہر کے قریب آسمان سے طیاروں کی گرج سنائی دی۔ میں نے حلیمہ کا ہاتھ پکڑا اور ہم دوڑنے لگے، مگر پھر ایک زوردار دھماکہ ہوا۔ میرے کانوں میں شور گونجا اور زمین لرز گئی۔ جب آنکھ کھلی تو نیل کی مٹی میرے چہرے پر جمی تھی اور یسین زور زور سے چیخ رہا تھا۔ حلیمہ کہیں دکھائی نہیں دے رہی تھی۔ میں نے اسے راکھ اور خون کے درمیان تلاش کیا؛ وہ ایک درخت کے نیچے نیم بے ہوش پڑی تھی۔ اس کے سینے پر زخم تھا مگر آنکھیں کھلی تھیں۔
میں نے جھک کر کہا، “حلیمہ! دیکھو میں یہاں ہوں، ہم بچ گئے ہیں۔” اس کے لبوں پر ایک ناتواں مسکراہٹ رینگی، “نہیں… تم بچ گئے ہو، مگر میں اب نیل کے ساتھ جا رہی ہوں۔” میں نے تڑپ کر کہا، “نہیں، تم نے وعدہ کیا تھا کہ ہم ساتھ رہیں گے!” اس نے آہستہ سے سانس لی، “ہم ساتھ ہی ہیں… دیکھو، نیل ہمیں جوڑ رہا ہے۔” میں نے اس کا ہاتھ تھاما تو وہ ٹھنڈا ہو چکا تھا۔ اس کی نگاہیں آسمان پر جم گئیں۔ میں نے محسوس کیا جیسے وہ خود نیل میں بہہ گئی ہو۔ کچھ دیر بعد میں نے اپنی نوٹ بک کھولی اور خون سے بھری انگلیوں سے ایک سطر لکھی: “حلیمہ مری نہیں، وہ نیل میں بہہ گئی ہے اور اب ہر لہر میں اس کا نام ہے۔” میں نے نیل کے پانی میں ہاتھ ڈبو کر اسے اپنے ہونٹوں سے لگایا اور آسمان کی طرف دیکھا۔ عبدالحمید کی تسبیح کا ایک دانہ میرے قدموں کے پاس آ کر رک گیا۔ میں رو نہیں رہا تھا، بس سانس لے رہا تھا، جیسے کسی نے میرے اندر محبت کا دل زندہ چھوڑ دیا ہو۔
اب نیل بہتا ہے اور اس کے ساتھ میری کہانی بھی—ایک صحافی کی نہیں، بلکہ ایک ایسے انسان کی جس نے جنگ کے مہیب اندھیروں میں محبت کو جنم لیتے دیکھا اور اب اسے یقین ہے کہ محبت ہمیشہ آخری سانس سے زیادہ طاقتور ہوتی ہے۔