• 📚 لوو اسٹوری فورم ممبرشپ

    بنیادی ڈیل

    وی آئی پی

    5000
    تین ماہ کے لیے
    بہترین ڈیل
    💎

    وی آئی پی پلس

    8000
    چھ ماہ کے لیے
    ٹاپ پیکیج
    👑

    پریمیم

    20000
    چھ ماہ کے لیے

Love Story زندگی کی ٹرین ۔۔

Joined
Jun 10, 2025
Messages
930
Reaction score
48,694
Points
93
Location
Karachi
Gender
Male
تیز اور چمکدار دھوپ نے کلثوم کی سانولی رنگت کو جھلسا دیا تھا۔ وہ جلدی سے آٹو والے کو پیسے دے کر ریلوے اسٹیشن کی طرف بڑھ رہی تھی۔ ٹرین آنے میں کچھ دیر تھی، مگر وہ جلد از جلد پلیٹ فارم پر پہنچنا چاہتی تھی۔ وہ زندگی میں پہلی بار اکیلے سفر کر رہی تھی۔ چہرہ پپسینے سے تر بتر تھا، لہٰذا پسینے اور اس کی آنکھ سے نکلنے والے آنسوؤں میں فرق کرنا مشکل تھا۔ یہ آنسو اس درد کے تھے، جس سے تھوڑی دیر پہلے وہ گزری تھی۔

“نکل جاؤ اس گھر سے… اب اس گھر میں تمہارے لیے کوئی جگہ نہیں ہے۔ ہماری مزید برداشت کا امتحان مت لو۔” یہ کلثوم کی ساس تھی، جو اس کے سامنے کھڑی تھی۔ شوہر کی مار پیٹ سے زیادہ طنز کے وہ گھاؤ گہرے تھے، جو اس کے سسرال والے لگا چکے تھے۔

محبت کی شادی میں بھلا ایسے بھی ہوتا ہے؟ ضروری سامان سمیٹتے ہوئے وہ یہی سوچے جا رہی تھی۔ آنسو سیلِ رواں کی طرح بہتے جا رہے تھے۔ وہ کوشش کے باوجود اس سیلاب کے آگے بند نہیں باندھ سکی، کیونکہ جب توقعات ختم ہو جائیں، تو انسان کے پاس بے بسی کے سوا کوئی چارہ نہیں رہتا۔ اسے شوہر کے رویے نے ریزہ ریزہ کر دیا تھا، جس سے اسے ایسی امید بالکل نہیں تھی۔ بیگ تیار کرنے کے بعد جب وہ اسے گھسیٹتی ہوئی دروازے تک لائی، تو اس کی ساس بھی پیچھے ہی چلی آئی۔

“دوبارہ ادھر کا رخ کرنے کی زحمت بالکل نہ کرنا اور اپنے بھائی سے کہہ کر سامان بھی اٹھوا لینا، ہمیں تمہارے سامان کی قطعی ضرورت نہیں۔”

باپ زندہ نہیں تھا۔ وہ اپنی ماں، بہنوں اور اکلوتے بھائی کو بتا کر اذیت نہیں دینا چاہتی تھی۔ وہ ان لمحات کو اپنے تک محدود رکھنا چاہتی تھی جب تک ممکن تھا۔ یہ شادی صرف اس کے گھر والوں کی ہی نہیں، اس کی اپنی پسند بھی تھی۔ شروع شروع میں اس کے بہت ارمان تھے کہ شادی کے بعد شوہر دل و جان سے چاہنے والے ہوتے ہیں، مگر جب اس نے دیکھا کہ حقیقت اس کے برعکس ہے، تو اسے اپنا مقدر سمجھ کر قبول کر لیا اور حالات کے مطابق خود کو ڈھال لیا۔ اس نے ساس نندوں کے روایتی رویوں کے بارے میں سن رکھا تھا، سو اسے بھی کچھ ایسے ہی رشتے ملے تھے۔ اس نے ساس کی جتنی بھی خدمت کی، صلے میں اسے طنز کے نشتر ہی ملے۔ “پھوہڑ، نکمی” اور نہ جانے کیا کیا… سسرال میں اس کا تجربہ بہت تلخ رہا۔ ایسی لعنت ملامت، گویا سارے جہاں کی برائیاں اسی میں تھیں۔ اسے کبھی کبھی لگتا کہ وہ دنیا کی گھٹیا ترین لڑکی ہے، جو اُن “معصوموں” کے حصے میں آ گئی ہے۔ نندیں اس کے بنائے کھانوں اور دیگر کاموں میں کیڑے نکالنا اپنا فرض سمجھتی تھیں۔

“بابر بھائی! اپنی بیوی کا بنایا سالن خود ہی کھائیں، میں تو اپنے لیے پیزا آرڈر کرنے لگی ہوں۔”

وہ سب کچھ برداشت کرتی رہی، مگر کب تک…! جب شریکِ حیات ہی مان توڑ دے تو پیچھے کیا رہ جاتا ہے۔

“یہ کردار کی بھی گھٹیا ہے بابر!” اس کی ساس جلدی جلدی اپنے بیٹے کو بتا رہی تھی، جو ایک منٹ پہلے گھر میں داخل ہوا تھا۔ “پوچھو اس سے، یہ پانچ منٹ پہلے کسے کہہ رہی تھی کہ ‘آپ مجھے آفس کا پتا دیں، میں خود آ جاتی ہوں’۔”

اور بابر نے کچھ سنے بغیر اس کے رخسار پر دو تھپڑ جڑ دیے۔ تب غصے کی شدت سے وہ بھی پھٹ پڑی۔
“میں تمہاری رکھیل نہیں، بیوی ہوں۔ میری بات سنے بغیر تم نے ہاتھ کیوں اٹھایا؟”

اور اس کا سوال پوچھنا ہی جرم بن گیا۔ بابر نے اسے “زبان دراز اور گھٹیا عورت” کہہ کر بالوں سے پکڑا اور کمرے سے باہر لا پھینکا۔ “تمہارا گھٹیا وجود اب میں برداشت نہیں کر سکتا۔ نکل جاؤ ابھی اس گھر سے، تمہیں طلاق کے کاغذات جلد مل جائیں گے۔”

اس نے نیوٹریشنسٹ کا کورس کر رکھا تھا۔ سارا دن گھر میں فارغ رہنے کی وجہ سے اس نے جاب کے لیے اپلائی کیا تھا۔ اسی سلسلے میں متعلقہ آفس میں فون پر بات کرنا اس کا ناقابلِ معافی جرم بن گیا۔

غصے سے کلثوم کی آنکھیں سرخ تھیں، مگر وہ خاموش رہی اور ضروری سامان سمیٹنے لگی۔ جب وہ سامان بیگ میں ڈال رہی تھی، تو اس کی نظر دیوار پر لگی شادی کی تصویر پر پڑی، جس میں بابر کی آنکھوں میں ایک الوہی چمک تھی۔ کیا وہ محض ایک فریب تھا؟ وہ محبت، جس کے لیے اس نے اپنے ماں باپ کے فیصلے کے خلاف آواز اٹھائی تھی، آج اسی محبت کا لاشہ اس کے سامنے پڑا تھا۔ اسے وہ دن یاد آیا جب بابر نے اس کا ہاتھ تھام کر کہا تھا:
“کلثوم! میں تمہاری زندگی کو پھولوں سے بھر دوں گا۔” آج ان پھولوں کی جگہ طنز کے کانٹے تھے۔ وہ ہاتھ جو تحفظ کے لیے تھا، آج اسی ہاتھ نے اس کے رخسار پر نشان چھوڑ دیا تھا۔

کمرے کے ہر کونے سے اسے اپنی ہنسی کی صدائیں سنائی دے رہی تھیں، جو اب ماتم میں بدل چکی تھیں۔ وہ الماری، جس میں اس کے ارمانوں کے جوڑے سجے تھے، اب ایک ویران غار کی طرح اسے منہ چڑا رہی تھی۔ باہر سے ساس کی آواز آ رہی تھی، جیسے کوئی گدھ اپنے شکار کے گرنے کا انتظار کر رہا ہو۔ کلثوم نے سوچا کہ کیا رشتوں کی بنیاد اتنی کھوکھلی ہوتی ہے کہ ایک غلط فہمی یا کسی کی لگائی آگ پورے جیون کو خاکستر کر دے؟ اس نے لرزتے ہاتھوں سے منہ دکھائی میں ملی انگوٹھی اتاری اور وہیں میز پر رکھ دی۔ یہ اس بات کا اعلان تھا کہ اب اس کا اس گھر سے کوئی تعلق نہیں رہا۔

ٹرین کی تیز وسل (سیٹی) نے اسے ماضی سے حال میں لا کھڑا کیا۔ ٹرین آہستہ آہستہ رینگتی ہوئی پلیٹ فارم پر داخل ہو رہی تھی۔ کلثوم نے جلدی سے اپنے دوپٹے سے، جسے اس نے مفلر کی طرح لپیٹ رکھا تھا، آنسو صاف کیے اور بیگ کو مضبوطی سے تھام لیا۔ اس کے سامنے بوگی نمبر آٹھ تھی جس میں خاصا رش تھا۔ اس نے دیکھا کہ بوگی نمبر چھ کی طرف لوگ بڑھ رہے ہیں، جو اس بات کا اشارہ تھا کہ وہاں خالی نشستیں مل سکتی ہیں۔ وہ بڑے بڑے قدم اٹھاتی آگے بڑھی۔ وہاں رش کے باوجود کچھ سیٹیں خالی تھیں۔ اس نے ایک سنگل سیٹ کا انتخاب کیا، جس کے سامنے ایک خاتون بیٹھی تھیں۔

“کیا یہ سیٹ خالی ہے؟” کلثوم نے پوچھا، تو انہوں نے اثبات میں سر ہلایا۔ اس نے بیگ اوپر سامان رکھنے والی جگہ پر رکھا۔ اسی دوران ٹرین نے روانگی کی سیٹی دی اور چل پڑی۔ اس نے سکون کا سانس لیا اور چھوٹے بیگ سے پانی کی بوتل نکال کر ایک ہی سانس میں خالی کر دی۔ حالات کی تلخی اور گرمی نے اسے نڈھال کر دیا تھا۔

کھڑکی سے نظر آتے مناظر تیزی سے پیچھے جا رہے تھے، بالکل ویسے ہی جیسے کلثوم کی زندگی کے خوشگوار ایام پیچھے رہ گئے تھے۔ باہر شام کے سائے گہرے ہو رہے تھے اور آسمان پر لالی پھیل رہی تھی، جو اسے اپنے ہی لہو رنگ آنسوؤں کی یاد دلا رہی تھی۔ ڈبے کی گھٹن اور باہر کی تپش نے ایک عجیب سا بوجھ پیدا کر دیا تھا۔

اس نے محسوس کیا کہ آس پاس کے لوگ اپنی اپنی دنیا میں مگن ہیں۔ کوئی بچوں کو بہلا رہا تھا، کوئی مستقبل کے منصوبے بنا رہا تھا، اور ایک وہ تھی جو اپنی چھینی ہوئی پہچان کا سوگ منا رہی تھی۔ اس نے سوچا کہ کیا یہ ٹرین اسے نئی زندگی کی طرف لے جا رہی ہے یا یہ محض ایک فرار ہے؟ سامنے بیٹھی خاتون کی ممتا بھری نظریں اسے کبھی کبھی بے چین کر دیتی تھیں، جیسے وہ اس کے چہرے پر لکھی دکھ کی عبارت پڑھنا چاہ رہی ہوں۔ کلثوم نے نظریں جھکا لیں۔ وہ نہیں چاہتی تھی کہ کوئی اس کے زخموں کا سراغ لگائے۔ اسے لگ رہا تھا کہ وہ ایک ایسے سمندر میں گر گئی ہے جہاں کوئی کنارہ نہیں۔

“زندگی میرے ساتھ ایسا بھیانک کھیل کھیلے گی، یہ تو میرے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا۔” وہ کھڑکی سے باہر اپنی زندگی کے اجڑے مناظر دیکھ رہی تھی جو ریت کی مانند ہاتھ سے نکل گئے تھے۔

حالات ایسے تھے کہ نہ ساس خوش تھی نہ نندیں۔ شوہر گھر پر کم ہی آتا اور زیادہ وقت دوستوں کے ساتھ گزارتا۔ وہ سوچ رہی تھی کہ کیا بابر شروع میں واقعی اچھا تھا یا وہ صرف چند دن کا روپ تھا؟ اس کی شخصیت تضادات کا مجموعہ تھی۔ جب کلثوم کی اہمیت کم ہونے لگی، تو اس نے خاموش رہنا اور اپنا حق مانگنا چھوڑ دیا۔

ایک دن شوہر نے خوش ہو کر کہا: “آج شام تمہاری پسندیدہ آئس کریم کھانے چلتے ہیں۔” سارا دن وہ اسی خوشی میں رہی۔ شام کو تیار ہو کر انتظار کرنے لگی۔ وہ گھر آیا اور اپنی ماں سے باہر جانے کی اجازت مانگی تو ساس کی آواز کلثوم کے کانوں میں پڑی:
“کوئی ضرورت نہیں باہر جانے کی… اتنا ہی شوق ہے تو گھر لے آؤ۔” اور بابر خاموشی سے واش روم میں گھس گیا۔ کلثوم سمجھ گئی کہ اب باہر جانا ناممکن ہے۔

“چائے والا آ گیا… گرما گرم پکوڑے… ٹھنڈی بوتل…” ان آوازوں نے اس کے خیالات کا سلسلہ توڑ دیا۔ ٹرین پلیٹ فارم پر رکنے والی تھی۔ اس نے بوتل والے سے کوک اور پانی خریدا۔ سامنے بیٹھی خاتون کو بھی پیش کیا مگر انہوں نے شکریہ کہہ کر منع کر دیا۔ اس نے بیگ سے ایک رسالہ نکالا اور تلخ یادوں سے بچنے کے لیے ورق گردانی کرنے لگی۔

“اکیلی ہو؟ کہاں جانا ہے؟” اچانک سامنے بیٹھی خاتون نے پوچھا۔
“جی… صادق آباد جانا ہے،” اس نے جواب دیا۔

“حالات اچھے نہیں، اکیلی خاتون کو یوں سفر نہیں کرنا چاہیے،” پچھلی سیٹ سے ایک مرد کی آواز آئی۔ کلثوم نے مڑ کر دیکھا تو ایک اوباش سا نوجوان سگریٹ پی رہا تھا۔ خوف کی ایک لہر اس کی ریڑھ کی ہڈی میں دوڑ گئی۔ اس شخص کی حلیہ، بڑی مونچھیں، اور چہرے کے داغ اسے ایک خوفناک روپ دے رہے تھے۔

ٹرین کے اگلے اسٹاپ پر ایک دم بھگدڑ مچی۔ سامنے بیٹھی خاتون اپنا سامان لے کر اتر گئیں۔ اسی دھکم پیل میں ایک نوجوان نے دھیمے لہجے میں پوچھا: “کیا یہ سیٹ خالی ہے؟”
کلثوم نے اثبات میں سر ہلا دیا۔ وہ نوجوان شائستہ معلوم ہو رہا تھا، مگر کلثوم پھر بھی غیر محفوظ محسوس کر رہی تھی۔ تاہم رش کی وجہ سے کہیں اور جگہ ملنا ناممکن تھا۔ وہ نوجوان جھجک کے ساتھ بیٹھ گیا اور کلثوم کی طرف دیکھنے سے گریز کیا، جس سے اسے کچھ اطمینان ہوا۔

اچانک بکھرے بالوں والا ایک شخص آیا اور نوجوان سے بدتمیزی سے بولا: “اوئے اٹھ، یہ میری سیٹ ہے۔” وہ پان چبا رہا تھا اور اس کی چھالیہ کے دانے کلثوم کی گود میں گرے۔ نوجوان اس شخص کی بدنیتی بھانپ گیا اور اپنی سیٹ چھوڑ کر برتھ کے کونے پر کھڑا ہو گیا۔ وہ بدصورت شخص کلثوم کو گھورنے لگا۔

“اب تو سفر کا الگ ہی مزہ آئے گا،” اس نے کلثوم کو دیکھ کر کہا۔ پھر پچھلی سیٹ والے اوباش سے لائٹر مانگنے کے لیے ہاتھ آگے بڑھایا اور جان بوجھ کر کلثوم کے کندھے سے مس کیا۔

بے چارگی سے کلثوم کی آنکھیں نم ہو گئیں۔ آس پاس کے مسافر اپنے موبائل فونز میں مگن تھے۔ کھڑے ہوئے نوجوان کو بھی یہ سب دیکھ کر الجھن ہو رہی تھی مگر وہ خاموش رہا۔ جب اس شخص نے سگریٹ کا دھواں کلثوم کے چہرے کی طرف پھینکا تو نوجوان سے رہا نہ گیا: “اوئے شرم کرو کچھ!”

اس شخص نے جواب میں بدتمیزی کی، مگر نوجوان کے سخت لہجے نے کلثوم کو تھوڑا حوصلہ دیا۔ تھوڑی دیر بعد اس شخص نے بے تکی بات کی: “اچھا! تو یہ تیری بیوی ہے، اسی لیے تجھے تکلیف ہو رہی ہے۔”

یہ سن کر نوجوان سیخ پا ہو گیا: “تمیز سے بات کرو، تم حد سے بڑھ رہے ہو۔” قریب تھا کہ لڑائی ہو جاتی مگر ایک اور مسافر نے بیچ بچاؤ کرا دیا۔ کلثوم کو حیرت ہوئی کہ یہ دبلا پتلا نوجوان اس بھاری بھرکم شخص سے اس کے لیے لڑ پڑا۔ اس نے بیگ سے اپنی چھوٹی چادر نکال کر خود کو ڈھانپنے کی کوشش کی، مگر وہ پوری نہیں ہو رہی تھی۔ رات کی خنکی بڑھ رہی تھی۔

اس بدتمیز شخص نے جملہ کسا: “سردی بڑھ رہی ہے، میں بھی چادر نکال لوں۔”
کلثوم نے بے بسی سے آنکھیں بند کر لیں۔ تبھی نوجوان نے اپنے بیگ سے ایک بڑی چادر نکالی اور کہا: “آپ یہ لے لیں، یہ ذرا بڑی ہے۔” کلثوم نے شکریہ ادا کیا اور چادر اوڑھ لی۔ اسے محسوس ہوا جیسے وہ کسی حصار میں آ گئی ہو۔

کچھ دیر بعد اس شخص نے پھر بدتمیزی کی اور کلثوم کے کندھے کو چھوتے ہوئے جملہ پھینکا۔ کلثوم کی چیخ نکلی: “شٹ اپ!”
یہ سنتے ہی نوجوان نے ایک زوردار گھونسہ اس شخص کے منہ پر جڑ دیا۔ دونوں میں زبردست لڑائی شروع ہو گئی۔ نوجوان نے اس بدمعاش کو بری طرح رگیدا، حالانکہ اس کی اپنی شرٹ پھٹ گئی اور چہرے پر خراشیں آئیں۔ وہ شخص حواس باختہ ہو کر اگلے اسٹیشن پر اتر گیا، مگر جاتے ہوئے دھمکی دے گیا: “یہیں رہنا، میں ابھی آتا ہوں۔”

ٹرین دوبارہ چلی تو کلثوم نے سکون محسوس کیا۔ اب وہ نوجوان اس کے سامنے بیٹھا تھا، مگر نظریں جھکائے ہوئے تھا۔
“اگلا اسٹیشن بہاولپور ہے، مجھے وہاں اترنا ہے۔ اپنا خیال رکھیے گا،” نوجوان نے کہا تو کلثوم اداس ہو گئی۔
“آپ کا بہت شکریہ… یہ چادر لے لیجیے،” کلثوم نے کہا۔
“نہیں، یہ آپ رکھیے، پلیز۔ آپ کی منزل کہاں ہے؟”
“صادق آباد…”
“پھر تو ابھی کافی سفر باقی ہے۔”

ٹرین بہاولپور رکی۔ کلثوم کو ڈر تھا کہ وہ بدمعاش پھر نہ آ جائے، مگر نوجوان اپنی منزل آنے کے باوجود نہیں اترا۔ اس نے کلثوم کے چہرے پر خوف دیکھ کر اپنا ارادہ بدل لیا تھا۔ جب ٹکٹ چیکر آیا تو اس نے بتایا کہ نوجوان کا اسٹیشن گزر چکا ہے۔

“آپ نیا ٹکٹ بنا دیں اور جرمانہ بھی لے لیں،” نوجوان نے دھیمے لہجے میں کہا۔ کلثوم مسکرا دی۔ وہ سمجھ گئی کہ یہ اجنبی اسے بحفاظت پہنچانے کے لیے اپنے اسٹیشن پر نہیں اترا۔

صادق آباد پہنچ کر نوجوان نے اس کا بیگ اتارا اور اسے ٹیکسی اسٹینڈ تک چھوڑنے آیا۔
“آپ ہمارے گھر نہیں چلیں گے؟ میری خاطر آپ نے اتنا سفر کیا، کیا اس منزل کو کوئی نام نہیں دیں گے؟” کلثوم نے جذباتی ہو کر پوچھا۔
نوجوان نے جواب دیا: “نہیں، مجھے واپس جانا ہے۔ آپ خیریت سے پہنچ گئیں، میرے لیے یہی کافی ہے۔”
کلثوم نے محسوس کیا کہ اس کا کھویا ہوا اعتماد اس اجنبی کی وجہ سے لوٹ آیا ہے۔

کچھ ماہ گزر گئے۔ وہ نوجوان صادق آباد کی اس لڑکی کو بھول نہیں پایا تھا۔ اسے لگا جیسے اس کا دل وہیں رہ گیا ہو۔ ایک دن وہ دوبارہ اسی ٹرین میں صادق آباد کے لیے روانہ ہوا، صرف اسے ڈھونڈنے کی خاطر۔ وہ کئی گھنٹے اسٹیشن پر بیٹھا رہا مگر کلثوم کہیں نہ ملی۔ وہ ایک ہارے ہوئے شخص کی طرح واپس اپنے شہر لوٹ آیا۔

جب وہ گھر پہنچا تو اس کی والدہ نے بتایا کہ ایک پارسل آیا ہے۔ اس نے کھولا تو اس میں ایک پرفیوم، اس کا پسندیدہ ناول اور ایک خط تھا۔ خط میں لکھا تھا:

“شہاب عبداللہ! میں نے آپ کو بہت تلاش کیا۔ لڑائی کے دوران آپ کا وزٹنگ کارڈ گر گیا تھا۔ میں روزانہ آپ کا نمبر ملاتی رہی مگر شاید وہ پرانا نمبر تھا۔ آخر کار بڑی مشکل سے آپ کا ایڈریس ڈھونڈا۔ زندگی کی اس ٹرین نے مجھے کہاں اتارنا تھا اور میں کہاں اتر گئی… نیچے میرا نمبر ہے، رابطہ کیجیے گا۔ کلثوم۔”

خط پڑھ کر شہاب کی آنکھیں نم ہو گئیں۔ وہ جس کی تلاش میں شہر کی خاک چھان رہا تھا، وہ خود اسے پکار رہی تھی۔ اسے سمجھ آ گیا کہ محبت صرف پانے کا نہیں بلکہ کسی کی ڈھال بننے کا نام ہے۔
 

Create an account or login to read stories

You must be a member in order to leave a comment

Create account

Create an account on our community. It's easy!

Log in

Already have an account? Log in here.

New posts
Back
Top