Background image: Header

خوش آمدید

لو اسٹوری فورم ، اردو دنیا کا نمبر ون اردو اسٹوری فورم ، ابھی فورم کےممبر بنیں اور اردو کی بہترین کہانیاں پڑھیں ۔

Register Now!
Welcome image
  • PAID PLANS

    ٹاپ پیکیج
    👑

    PREMIUM

    16000
    چھ ماہ کے لیے
    بہترین ڈیل
    💎

    VIP+

    6000
    چھ ماہ کے لیے
    بنیادی ڈیل

    VIP

    3500
    تین ماہ کے لیے

Spy Thriller سنائپر


کافی دیر ہو گئی میں اسی طرح لیٹا رہا ۔اچانک مجھے محسوس ہوا جیسے کوئی کمرے میں داخل ہوا ہو۔ میں نے ایک دم پلوشہ کی قمیص چہرے سے ہٹائی ۔وہ کمرے کے وسط میں کھڑی تھی۔
”کیا یہ خوا ب ہے؟“میرے ذہن میں پیدا ہونے والا سوال فطرتی تھا۔جواب جاننے کے لیے میرے چٹکی کاٹنے سے پہلے اس کی شوخ آواز میرے کانوں میں گونجی۔
”میں اپنے کپڑے یہاں بھول گئی تھی وہی لینے آئی ہوں ۔“اس نے میرے ہاتھوں میں پکڑی قمیص کی جانب اشارہ کیا ۔مجھ پر گویا گھڑوں پانی پڑ گیا تھا ۔
”وہ ....میں ....“مجھ سے کوئی بات نہیں بن پائی تھی ۔
”ویسے تنہائی میں کسی نا محرم لڑکی کی قمیص کو گلے لگانے اور چومنے والے شخص کو شریعت کیا سزاسناتی ہے ؟ میرا خیال ہے تمھیں قتل کرنے کا ارادہ دوبارہ کرلینا چاہیے ۔“اس نے ایک مرتبہ پھر شوخ مسکراہٹ سے پوچھا ۔اور میں نے نادم انداز میں سر جھکا لیا،نہ چاہتے ہوئے بھی میرے ہونٹوں سے پھسلا”قتل کے ارادے کی ضرورت ہی کیا ہے،تم نہ لوٹتیں میں خود بہ خود مر جاتا ۔“
” اچھا قمیص والی سامنے کھڑی ہے، اب تو اس بے چاری قمیص کی جان چھوڑ دو ۔“اس نے ایسے لہجے میں کہا کہ ایک دم میں نے قمیص تکیے پر پھینکی اور قمیص والی سے وہی سلوک کرنا شروع کر دیا جو میں اس کی قمیص کے ساتھ کر رہا تھا ۔بہت سی دیر گزر گئی اور پھر اس کی مسرت بھری آواز نے میرے کانوں میں رس انڈیلا ۔
”ویسے تم اتنے بزدل بھی نہیں ہو جتنا میں نے سمجھا تھا ۔“
”تو تم نے کتنا بزدل سمجھا تھا ۔“اس کاسر گود میں سر رکھ کرمیں اس کے بالوں میں انگلیاں پھیرنے لگا ۔سارے اندیشوں اور سارے گمانوں کو میں نے پس پشت ڈال دیا تھا ۔اس کے جانے کے بعد جو چند گھنٹے مجھ پر بیتے تھے اس کے بعد مجھ میں اتنی ہمت باقی نہیں بچی تھی کہ اس کے سحر انگیز وجود سے نظریں چرا سکتا ۔
”بڑا باتیں کرنا آ گیا ہے ۔“اس نے لیٹے لیٹے نظریں اوپر اٹھائیں ۔
”تو پہلے گونگا تھاکیا؟....باتیں کرنا آ گیا ہے ۔“میں نے زبان نکال کر اسے چڑایا ۔
”تو میرے جانے کے بعد تم سر پکڑ کر کیوں بیٹھ گئے تھے ۔اور اگر یونھی بیٹھنا تھا تو جانے کیوں دیا تھا ؟“
”تمھیں کیسے پتا ؟“میں نے حیرانی سے پوچھا ۔
”تو میں یہیں پرتو تھی ،کافی دیرتم پر نظر رکھے رہی ۔ جونھی تم قمیص اٹھا کر کچھ زیادہ ہی غمگین ہونے لگے تبھی کھانا بنانے لگی ۔مجھے معلوم ہو گیا تھا کہ اب تم اپنی محبوبہ کی قمیص کے ساتھ ہی غم غلط کرتے رہو گے ۔“ اس نے یوںشرارتی انداز میں کہا کہ مجھے ہنسی آ گئی تھی ۔
زیر لب مسکراتے ہوئے میں نے پوچھا ۔”محبوبہ کون ؟“
”وہی ،جسے گود میں لٹایا ہوا ہے ۔“اس نے ناز بھرے انداز میں جواب دیا ۔
”میں نے سوچا تم چلی گئی ہو ؟“
”تم سے دورکیسے رہ پاتی ؟“اس نے یاسیت بھرے لہجے میں ایسا اعتراف کیا کہ میری روح تک سرشار ہو گئی تھی ۔
”پلوشہ !....کبھی دھوکا تو نہیں دو گی نا۔“میں نے اس کی ٹھوڑی کے نیچے ہاتھ رکھ کر اس کا چہرہ تھوڑا اوپر کیا ۔
”اور اسی خوف میں شاید تم پہلے سے میری گردن توڑنے لگے ہو۔“اس نے سر میری گود میں رکھا ہوا تھا ۔ ٹھوڑی اوپر کرنے سے اس کی گردن پیچھے کی طرف ٹیڑھی ہو گئی تھی ۔
”نہیں ،بس تمھیں چھو کر یقین کر رہا ہوں کہ میں خواب نہیں دیکھ رہا۔“
”میرا خیال ہے تمھیں کچھ زیادہ ہی بھوک لگ رہی ہے جو یوں الٹی سیدھی بکواس شروع کر دی۔“میری گود سے سر اٹھاتے ہوئے اس نے منہ بنایا ۔”میں کھانا لاتی ہوں ۔“
”نہیں ،یونھی لیٹی رہو ۔“میں نے دوبارہ اس کا سر گود میں رکھ دیا ۔
”معلوم تو ہے نا کہ میری ماں نے پچاس لاکھ لے کر ہی میرا رشتا دینا ہے ۔“
میں اس کے چہرے پر جھکتا ہوا بولا۔”میں پچاس لاکھ پورے کرنے کے لیے اپنی زمین جائیداد گھر بار سب کچھ بیچ دوں گا لیکن تمھاری امی جان کا مطالبہ ضرور پورا کروں گا ۔“
”ہا....ہا....ہا۔“وہ خوب صورت انداز میں مسکرائی ۔”امی جان کو اگر میرے پچاس روپے بھی مل گئے تو اس نے نہ نہیں کرنی ۔“
”اب تم نے بکواس شروع کر دی ہے ۔“میں مصنوعی غصے سے بولا۔
”بکواس نہیں سچ کہہ رہی ہوں ۔اور آپ پہلے مرد ہیں جس کی آنکھوں میں مجھے اتنی چاہت اور محبت نظر آئی ہے ۔اگر امی جان نہ مانیں تو میں آپ کے ساتھ بھاگنے کو بھی تیار ہوں ۔“
”بھاگنے کی بچی ، میں تم سے آپ کب ہو گیا ؟“
وہ جذباتی لہجے میں بولی ۔”پہلے دن سے تھے ،بس کہنے کا موقع نہیں دے رہے تھے ۔جانتے ہو جس وقت آپ نے غار میں میری پٹائی کی تھی اس وقت مجھے آپ سے اتنی زیادہ نفرت محسوس ہوئی تھی کہ میرا بس چلتا توآپ کواسی وقت قتل کر دیتی ۔لیکن بعد میں جب آپ سردار بھائی کے ساتھ باتیں کر رہے تھے کہ میں آپ کو کتنی معصوم اور پیاری لگی تھی ۔اس وقت میرے دل میں ایک دم آپ کی چاہت بھر گئی۔ اسی وقت میں نے خود سے عہد کر لیا تھا کہ آپ ہی کواپناﺅں گی چاہے اس کے لیے مجھے کتنی کوشش ہی کیوں نہ کرنا پڑے ۔بعد میں آپ کی آنکھوں سے چھلکنے والی چاہت اور محبت نے مجھے یہ اطمینان دلا دیا تھا کہ آپ کا بیزاری ظاہر کرنا اور مجھ سے جان چھڑانا بس خود کو دھوکا دینے کے لیے ہے ورنہ آپ بھی مجھے پہلے دن ہی سے چاہنے لگے تھے ۔آپ کی وجہ سے پہلی بار مجھے احساس ہوا کہ میں لڑکی ہوں اور اس قابل ہوں کہ مجھے کوئی چاہے ،پیار کرے اور مجھے دیکھ کر اسے اپنے وہ محبوب یاد آ جائیں جنھیں پانے کی حسرت وہ دل میں رکھتا ہے ۔ورنہ اس سے پہلے فقط گندی نگاہیں ہی میری قسمت رہی ہیں ۔یا پھر مجاہدین کیمپ کے اساتذہ تھے جو مجھے بیٹا سمجھ کر باپ جیسی شفقت سے نوازتے تھے ۔“
”اچھا اب سہ پہر ہونے کو ہے کیا اگلی شب بھی یہیں قیام کا ارادہ ہے ؟“
اس نے چاہت سے لبریز لہجے میں جواب دیا ۔”میرا دل تو چاہتا ہے تمام عمر آپ کے ساتھ یہیں بِتا دوں ۔“
”تم تو ہو ہی بے وقوف ۔“میں نے اس کی چھوٹی چھوٹی ریشمی زلفوں میں انگلیاں پھیریں ۔
”پتا ہے راجو!....وزیرستان میں عورت کو کوئی مقام حاصل نہیں ہے ۔باپ کسی بھیڑ بکری کی طرح اس کا سودا کرتا ہے ۔نہ تو شادی کے وقت عورت کی مرضی دریافت کی جاتی ہے اور نہ اس کی رائے کو کوئی اہمیت دی جاتی ہے ۔بلکہ اس معاملے میں کوئی بھی لڑکی زبان کھولنے کی مجاز نہیں ہوتی ۔اصولاََ تو عورت کی ذمہ داری گھر کے کام سنبھالنا ہوتے ہیں مگر یہاں جنگل سے لکڑیاں لانا ،کھیتی باڑی کرنا عورت ہی کی ذمہ داری ہوتی ہے ۔یہاں مرد کا کام صرف جھوٹی غیرت دکھانا ،بیٹی کی تعلیم پر پابندی لگانا ، جوان ہونے پر اس کا سودا کرکے پیسے کھرے کرنا ہوتا ہے ۔خاص کر تعلیم تو عورت کے لیے شجر ممنوعہ ہے ۔مجھے بھی کسی وجہ سے پڑھنے کا موقع ملا ورنہ آج میں بھی سپوگمائے باجی کی طرح ان پڑھ ہوتی ۔اور سچ کہوں تو اگر آپ مجھے نہ ملتے تب بھی میں نے وزیرستان میں شادی نہیں کرنا تھی ۔“
”تو کیا ،تم جیسی لڑکی کو پاکستان میں رشتوں کی کوئی کمی ہے ؟ایک چھوڑ لاکھوں مرد تمھیں اپنانے پر تیار ہو جاتے ۔“
”ہاں ،مگر ان میں کوئی بھی راجو تو نہ ہوتا نا ۔“
”تو مجھ میں کون سے سرخا کے پر لگے ہیں ۔اگر کسی قابل ہوتا تو بار بار یوں نہ دھتکارا جاتا ۔“
”دھتکارنے والیاں بے وقوف اور بد قسمت تھیں ۔اپنی اہمیت مجھ سے پوچھیں ۔“
”پتا نہیں وہ بد قسمت تھیں یا میں ۔“
”وہ بدقسمت تھیں ....کیونکہ آپ کو تو مجھ جیسی پیاری لڑکی مل گئی ہے نا ؟“اس نے شرارتی لہجے میں قہقہہ لگایا۔
”اس میں شک ہی کیا ہے ۔“میں نے جذبات سے لبریز لہجے میں کہا ۔یقینا وہ بہت قیمتی ساتھی تھی۔
”اچھا مجھے اپنی کہانی تفصیل سے سنائیں نا ۔“
”پھر کبھی سہی ۔فی الحال تم کھانا لے آﺅ تاکہ کھا کر نکلیں ۔“
وہ میری گود سے سر اٹھاتے ہوئے بولی ۔”کھانا تو میں لے آتی ہوں ،مگر آج رات یہیں گزاریں گے ۔“
”پلوشے یار!.... سمجھنے کی کوشش کرو ۔“
وہ مسکراتے ہوئے شوخی بھرے لہجے میں بولی ۔”سچ کہو ،کبھی پہلے بھی آپ کی بات مانی ہے ۔“
اس کا انداز دیکھتے ہوئے میں بے بسی سے مسکرا دیا تھا ۔وہ بھی ہونٹوں پر دل آویز مسکراہٹ سجائے باہر نکل گئی ۔
زندگی ایک عجیب ڈگر پر آ گئی تھی ۔کہاں تو میں نے ماہین کی بے وفائی اور رومانہ کے جھوٹ کے بعد عورت ذات پر اعتبار نہ کرنے کا تہیّہ کر لیا تھا او رکہاں پلوشہ کے بغیر ایک لمحہ گزارنا کاِ ردار لگ رہا تھا۔وہ پہلی نظر کے ساتھ ہی میرے دل میں اتر گئی تھی مگر میں نے خود کو دھوکے میں مبتلا کیے رکھا ۔اور اب ایک دم اس کی چاہت کھل کر سامنے آ گئی تھی بلکہ ہم نے ایک دوسرے کو اپنانے کا فیصلہ بھی کر لیا تھا ۔مجھے یقین تھا کہ ابوجا ن اور پھوپھو جان نے بھی اس رشتے پر خوشی سے پھولے نہیں سمانے تھے ۔میرے لیے ایسی دلھن تو شاید وہ ساری زندگی تلاش نہ کر پاتے ۔
میں پلوشہ کو تلہ گنگ بھجوانے کی بابت سوچنے لگا ۔اب اسے اپنے ساتھ پھرانا بے وقوفی تھی ۔ لیکن اس بارے سب سے بڑی رکاوٹ خود پلوشہ کی ذات تھی ۔میں جانتا تھا کہ اس نے مشکل ہی سے راضی ہونا تھا ۔البتہ فی الفور شادی کا لالچ دے کر میں اسے تلہ گنگ لے جا سکتا تھا ۔اس کے بعد شاید وہ ہٹ دھرم مان جاتی ۔سب سے بڑھ کر میں خود بھی مزید اس سے دور نہیں رہ سکتا تھا ۔اسے زندگی میں شامل کرنا مجھے اپنی سب سے بڑی خواہش لگ رہی تھی ۔
پلوشہ کی واپسی روٹی کے چھابے اور سالن کے کٹورے کے ساتھ ہوئی تھی ۔
”ارے آپ نے ابھی تک پیسے نہیں اٹھائے ۔“اس نے زمین پر بکھرے نوٹوں کو دیکھ کر مسکرا کر پوچھا ۔اس وقت میری نظر بھی ان نوٹوں پر پڑی جو وہاں سے جاتے ہوئے وہ غصے میں پھینک کر گئی تھی ۔
میں نے صاف گوئی سے کہا ۔”مجھے نوٹ اٹھانے کا ہوش ہی کہاں تھا ۔“
”واپس آ تو گئی ہوں ،ہوش بھی واپس آ جانے چاہیے تھے ۔“میرے سامنے کھانے کے برتن دھر کر وہ زمین پر بکھرے نوٹ سمیٹنے لگی ۔گلاک بھی اٹھا کر اس نے چارپائی پر رکھ دیا تھا ۔
”پہلے تمھاری واپسی کی خوشی ہضم تو کر لوں ۔“
”اتنی پیاری تھی تو جانے ہی کیوں دیا تھا ۔“وہ میرے ہمراہ بیٹھ کر کھانا کھانے لگی ۔ ٹماٹر پیاز کے بغیر صرف ابلی ہوئی دال جس میں تھوڑا سا گھی سرخ مرچیں اور نمک شامل تھا ،لیکن اس وقت وہ دال بھی بہت لذیز لگ رہی تھی ۔
میں نے شرارت بھرے لہجے میں کہا۔”جانے کہاں دیا؟مجھے روکنے کا موقع دیے بغیر تم بھاگ گئی تھیں ۔“
”جھوٹا ۔“اس نے خفگی بھری نگاہیں میری جانب اٹھائیں اور مجھے مسکراتے دیکھ کر دل آویز تبسم ہونٹوں پر بکھیرتے ہوئے کھانا کھانے لگی ۔کھانا کھا کر اس نے پھر وہیں رات گزارنے پر اصرار کیا ، مجبوراََ مجھے ماننا پڑا۔رات کو اس نے اپنی چارپائی میری چارپائی سے جوڑ کر لگا دی۔
”یہ کیا ؟“میں ہلکا سا معترض ہوا ۔
”آج رات آپ سے بہت سی باتیں کرنا ہیں ۔پتا نہیں کب سے میرے کان آپ کی زبان سے آپ کی کہانی سننے کو ترس رہے ہیں ۔“
”تو کیا چارپائی جہاں پہلے پڑی تھی ،وہاں تک میری آواز نہ جاتی ۔“
”راجو !....دماغ خراب نہ کریں ۔جب آپ کو معلوم ہے کہ ہونا وہی ہے جو میں کہہ رہی ہوں پھر اپنی توانائی ضائع کرنے کا فائدہ ؟“
میں کھسیانا ہو کر خاموش ہوگیا ۔
رات گئے تک وہ میری داستانِ حیات سنتی رہی ۔میں نے اپنی زندگی میں آنے والی تینوں لڑکیوں کی کہانی بلا کسی کمی بیشی کے اس کے سامنے دہرا دی تھی ۔وہ خاموشی اور محویت سے سب کچھ سنتی رہی ۔البتہ ماہین کی بے وفائی والے ذکر پر اس نے بے اختیار ہو کر میرا ہاتھ پکڑ کر اپنے ہونٹوں سے لگا لیا تھا ۔رات دیر تک جاگنے کی وجہ سے صبح کی نماز بھی قضا ہو گئی تھی ۔ہم دونوں کی آنکھ نو دس بجے کے قریب کھلی تھی ۔اٹھتے ساتھ وہ ناشتا بنانے چلی گئی ۔میں نے بھی اٹھ کر بیت الخلا کا رخ کیا ۔اور پھر واپس آکر اس کا انتظار کرنے لگا ۔اس کی واپسی قہوے کی کیتلی اور پراٹھوں کے چھابے کے ساتھ ہوئی تھی ۔
”راجو جی !....اپنا دانہ پانی یہاں ختم ہو چکا ہے ۔بہ مشکل دو پراٹھے ہی بنے ہیں، آٹا ختم ہو گیا ہے ۔“
میں نے اسے یاد دلاتے ہوئے کہا ۔”میں تو کل ہی جانے پر تیار تھا ۔“
”کوئی بات نہیں آج چلے جانا ۔“اطمینان بھرے لہجے میں کہتے ہوئے اس نے میرے سامنے پراٹھوں کا چھابہ رکھ دیا ۔
”ویسے روٹی بنانا کب سیکھا ہے ،جبکہ تم نے لڑکا بن کر زندگی گزاری ہے اور لڑکے یہ کام نہیں کرتے ۔“اس کے بنائے ہوئے خوب صورت پراٹھوں کو دیکھتے ہوئے میں پوچھے بنا ہ رہ سکا۔
”آپ کی اطلاع کے لیے عرض ہے کہ مجاہدین کے ٹریننگ کیمپ میں کھانا بنانا بھی سیکھنا پڑتا ہے ۔اس کے علاوہ جب چند دن چھٹی پر جاتی ،امی جان بھی اس بات پر زور دیتیں کہ میں روٹی بنانا سیکھ جاﺅں کیونکہ میں نے ساری زندگی لڑکوں کے بھیس میں تو نہیں رہنا تھا نا ۔“
اچھا ایسا ہے کہ یہاں سے سیدھا انگور اڈے ،تمھارے گھر جائیں گے ۔وہاں سے تمھاری والدہ اور چھوٹے بھائی کو ساتھ لے کر تلہ گنگ کا رخ کریں گے ۔وہاں پہنچنے کے اگلے دن ابو جان اور پھوپھو جان تمھاری امی جان سے باقاعدہ رشتا مانگیں گے ،تمھارے رواج کے مطابق منہ مانگی رقم ادا کریں گے اور اس سے اگلے دو دن میں ہماری شادی ہو جائے گی ۔“
”سچ ۔“اس نے ہاتھ میں تھامی قہوے کی پیالی نیچے رکھتے ہوئے وفور جذبات سے میرا ہاتھ تھام لیا تھا ۔اس کی آنکھوں میں خوشی کے رنگ قوس قزح کی طرح جھلملانے لگے تھے ۔اتنی خوش وہ مجھے زندگی میں پہلی بار نظر آئی تھی ۔اگر درمیان میں کھانے کے برتن نہ ہوتے تو یقینا وہ مجھ سے لپٹ گئی ہوتی ۔
”بالکل سچ ۔لیکن شرط یہ ہے کہ واپسی پر تم میرے ساتھ آنے کی ضد نہیں کرو گی ۔“
”تو یہاں آپ کی حفاظت کو ن کرے گا ،کون آپ کا خیال رکھے گا ؟“اس کے لہجے میں حقیقی پریشانی کی جھلک تھی ۔
اس کے انداز نے میرے دل میں اس کی چاہت کو مزید بڑھاوا دیاتھا ۔کوئی تو تھا جسے میری پروا اور فکر تھی ۔میں نے جواب دینے کے لیے منہ کھولا تو یہ چاہت میرے لہجے میں شامل تھی ۔”پگلی!اس سے پہلے بھی تو میری حفاظت میرا اللہ پاک کرتا تھا اب بھی وہی کرے گا ۔“
”وہ تو ٹھیک ہے ،لیکن اسباب بھی تو اسی رب عظیم نے بنائے ہیں ۔“
”اللہ پاک نے مرد کو محافظ بنایا ہے نہ کہ عورت کو ۔اور تمھاری یہاں موجودی مجھے کتنا پریشان کرتی ہے یہ تمھیں اچھی طرح معلوم ہے ۔اگر تم کسی مقام پر حفاظت کے ساتھ موجود ہو گی تو میں تسلی سے اپنا کام کر سکوں گا ۔“
وہ شرارت سے بولی ۔”ہاں جیسے میرے سر پر رکھے گلاس کو نشانہ ناتے وقت آپ کے ہاتھ کانپ رہے تھے ۔“
”بے شک ۔“میں نے کھلے دل سے اعتراف کیا کہ وہ بات شبے سے بالاتر تھی۔
قہوے کی پیالیاں اور چھابہ دوسری چارپائی پر رکھ کر وہ میری گود میں سر رکھ کر لیٹ گئی ۔
”اچھا میری تعریف کرو نا ۔“اس نے لاڈ بھرے انداز میں کہا ۔اس کے معصومانہ انداز پر مجھے ہنسی آ گئی تھی ۔
”یہ اچھی زبردستی ہے کہ خود منہ سے کہہ کر اپنی تعریف کرائی جائے ۔“
”بتاﺅ نا میری آنکھیں کیسی ہیں ،گال کیسے ہیں ہونٹ اور بال کیسے ہیں ،میں ہنستے ہوئے کیسی لگتی ہوں ؟بتاﺅ نا راجو ....کبھی تو میرے سامنے بھی میرے حسن کی تعریف کرو ۔“
میں اس کے چہرے پر جھکتا ہوا بولا۔”کیا میری آنکھیں تمھیں نہیں بتاتیں کہ تم کیسی ہو ؟“
وہ ترکی بہ ترکی بولی ۔”زبان بھی تو گونگی نہیں ہے نا ؟“
میں جھٹ سے بولا ۔”تمھارے سامنے آکر گونگی ہو جاتی ہے ۔“
”اچھا یہ بتاﺅ کہ میں خوب صورت ہوں یا رومانہ ۔“میں نے چونکہ رومانہ کے حسن کی بہت زیادہ تعریف کی تھی اس لیے عورت کی ازلی سوچ کے مطابق اب تک اس کے دماغ میں وہی سوچ گھسی تھی۔
”رومانہ ۔“میں بہ ظاہر سنجیدگی سے بولا۔
”کیا ۔“اس نے خفگی بھرے انداز میں کہتے ہوئے اپنا سر میری گود سے اٹھا لیا ۔
میں نے اس کے چھوٹے چھوٹے بال مٹھی میں بھرتے ہوئے اسے دوبارہ واپس لٹایا ۔ ”تم اپنا سوال صحیح طریقے سے کرتیں تو جواب بھی منشا کے مطابق ملتا ۔“
”تو کیا کہتی ؟“اس کی آواز میں حقیقی خفگی شامل تھی ۔
”یہ پوچھتیں کہ ساری دنیا میں مجھے کون پیارا ہے ۔یا یہ کہ مجھے رومانہ خوب صورت لگتی ہے یا تم۔“
”بس بس رہنے دیں ۔مجھے پتا چل گیا ہے ۔“اس نے منہ بسورا ۔
”جو بھی قسم کہو میں کھانے کو تیار ہوں ۔“میں نے اس کی سرخ ہوتی ستواں ناک کو نرمی سے مروڑا۔
”اسی بارے کہ آپ کی زندگی میں آنے والی لڑکیوں میں سب سے بد صورت لڑکی میں ہوں، ہیں نا؟“ وہ سچ مچ سخت خفا تھی ۔
”خدا کی قسم ان میں کوئی بھی تم سے زیادہ تو کیا تمھاری جتنی بھی پیاری نہیں تھی ۔“
”کوئی ضرورت نہیں ہے جھوٹی قسمیں کھانے کی سمجھے ۔“اس کا غصہ ختم ہونے میں نہیں آرہا تھا ۔
میں نے خاموش ہوتے ہوئے دیوارسے ٹیک لگالی ۔جب تک اس کا غصہ نہ اترتا اس نے یونھی جلی کٹی سناتے رہنا تھا ۔
”اب خاموش کیوں ہو گئے ہیں۔مجھے منائیں نا ....معذرت کریں مجھے ۔سوری ،بلکہ آئی ایم ویری ویری سوری کہیں ۔“میری خاموشی زیادہ دیر اس سے برداشت نہیں ہو سکی تھی ۔
میں نے فوراََ کہا ۔” معافی چاہتا ہوں میری جان ،میری گڑیا ،میری چندا !....میری توبہ جو آیندہ ایسی بکواس کی ۔“
میرادایاں ہاتھ اپنے دونوں ہاتھوں میں تھامتے ہوئے وہ جذباتی لہجے میں بولی ۔” خبردار جو آئندہ مجھ سے زیادہ کسی اور کو پیارا کہا اللہ پاک کی قسم خود کشی کر لوں گی ۔“
”پہلے تو تم کچھ اور کہا کرتی تھیں ۔“
اس نے فلسفیانہ انداز میں کہا ۔”ہاں پہلے وہ بڑی دھمکی تھی اور اب یہ بڑی دھمکی ہے ۔“
”بڑی سمجھ دار ہو گئی ہو ۔“
”پہلے سے تھی ۔اسی لیے تو آپ کو جیون ساتھی چنا ہے ۔“اس نے یوں معصومانہ انداز میں کہا کہ میں بے ساختہ قہقہہ لگا کر ہنس پڑا ۔
”اب چلنے کی تیاری کریں،اپنی لاڈلی کو گود میں لٹا کر آپ کو کچھ زیادہ ہی ہنسی آرہی ہے ۔“
”میری لاڈلی تو تم ہو اوروعدہ کرتا ہوں ہمیشہ رہو گی ۔“
”اس وعدے سے پھر نہ جانا اور میری غلطیوں ،کوہتاہیوں کو معاف کرتے رہنا ۔“
میں نے حیرانی بھرے لہجے میں کہا ۔”بعض اوقات تم اتنی بڑی بڑی باتیں کرنے لگ جاتی ہو جیسے تم میں کوئی بوڑھی روح چھپی ہو۔“
”یہ بڑی بڑی باتیں نہیں ہیں راجو !....یہ اس خوف کا اظہارہے جو ہر لڑکی کے دل میں اپنے محبوب کے چھن جانے کے متعلق چھپا ہوتا ہے ۔“
”تو کیا لڑکوں کو اپنے محبوب کے چھننے کا خوف نہیں ہوتا ؟“
”بالکل نہیں ہوتا ۔“یہ کہہ کر اس نے شرارت بھرا قہقہہ لگایا ۔”اور اس کی زندہ مثال آپ ہیں کہ تین لڑکیوں کے جانے کے بعد چوتھی کو پھانس لیا ہے ۔“
”مار کھاﺅ گی پلوشے ۔“میں نے اس کے دونوں کانوں سے پکڑ کر آہستہ سے کھینچا ۔
”یہ شوق تلہ گنگ جا کر پورا کرنا ۔“میری گود سے اٹھ کر وہ پاﺅں میں سپورٹس شوز ڈالنے لگی ۔ میں بھی اٹھ گیا کہ گیارہ بجنے والے تھے اورمیں چاہتا تھا کہ ہم شام تک میں انگور اڈے پہنچ جائیں ۔فی الحال تو ہمیں یہ اندازہ بھی نہیں تھا کہ ہم انگور اڈے سے کتنا دور تھے ۔
ہم سامان سمیٹ ہی نہیں پائے تھے کہ داخلی دروازے پر زور دار دستک ہوئی ۔
پلوشہ نے چونک کر میری جانب دیکھا ۔”شاید مالک مکان لوٹ آیا ہے ۔“
میں نے اطمینان سے کہا ۔”کوئی بات نہیں ۔اسے معقول معاوضا دے دیں گے ۔“
” آپ کے کہنے سے پہلے ہی میں نے نمک کے ڈبے میں پانچ ہزار روپے رکھ دیے ہیں ۔“
”بہت اچھا کیا ۔“میں تعریفی انداز میں کہا ۔اسی وقت ایک مرتبہ پھر زور دار دستک ہوئی ۔اور پھر دروازہ مسلسل کھٹکھٹایا جانے لگا ۔
”کہیں مالک مکان کے علاوہ یہ کوئی اور نہ ہو ۔“میں نے اندیشہ ظاہر کیا ۔
”ٹھہرو میں دیکھتی ہوں ۔“پلوشہ نے لوہے کی پیٹی پر پڑا ٹرنک کھول کر اس میں سے سرخ رنگ کا زنانہ گھگرا نکالااور اپنی قمیص کے اوپر پہن لیا۔اس لمبے گھگرے نے اسے ٹخنوں تک ڈھانپ لیا تھا ۔ ایک دم اس کے حسن میں اضافہ ہو گیا تھا ۔میں بہ مشکل خود کواس سے لپٹنے سے باز رکھ سکا تھا ۔
میرے احساسات سے بے نیاز اس نے سرخ رنگ کا بڑا سا دوپٹا اوڑھا جس میں اس کی آنکھیں ہی نظر آ رہی تھیں ۔
”کسی لگ رہی ہوں ۔“وہ میری جانب متوجہ ہوئی ۔لیکن میری آنکھوں سے ظاہر ہونے والے تاثرات دیکھتے ہی اس نے شرما کر سر جھکا لیا تھا ۔
”بے شرم پرائی لڑکیوں کو گھورتا ہے ۔“زیر لب مسکراتے ہوئے اس نے سائیلنسر لگا گلاک اٹھایا اور بیرونی دروازے کی طرف چل دی ۔دستک دینے والے اب پشتو میں آوازیں بھی دینے لگے تھے۔
”جی کون ؟“دروازے کے قریب جا کر پلوشہ نے پوچھا ۔دستک کی آواز بند ہوئی اور کسی نے مقامی لہجے میں پوچھا ۔”گھر میں کوئی مرد نہیں ہے کیا ؟“
”نہیں وہ باہر گیا ہوا ہے ۔“
”کیا یہاں آج یا کل کوئی اجنبی دیکھا ہے تم لوگوں نے ؟“
”نہیں ۔“پلوشہ نے نفی میں جواب دیا ۔اس کا سوال سن کر میرے دل کی دھڑکنیں بھی تیز ہو گئی تھیں ۔
ایک لمحے کی خاموشی کے بعد باہر سے آواز آئی ۔”اچھا دروازہ کھولوہم نے گھر کی تلاشی لینی ہے ۔“
”آپ تھوڑی دیر بعد آجائیں ،اس وقت گھر میں کوئی نہیں ہے ۔“پلوشہ نے بناوٹی گھبراہٹ سے کہا ۔
”ہمارے پاس اتنا وقت نہیں ہے ۔ہم بس ایک نظر ڈال کر اپنی تسلی کر نا چاہتے ہیں پھر چلے جائیں گے ۔“
پلوشہ نے میری جانب دیکھا ۔میں نے ہاتھ کے اشارے سے اسے دروازی کھولنے کا کہا اور خود کمرے کا دروازہ بند کر کے کواڑ کی درزسے آنکھ لگا دی ۔بریٹا پستول میں نے ہاتھ میں تھام لیا تھا ذرا سی گڑبڑ پر میں پلوشہ کی مدد کے لیے باہر نکل سکتا تھا ۔
پلوشہ دروزاے کی کنڈی کھول کر ذرا پیچھے کو ہٹ گئی ۔اتنا تو مجھے معلوم تھا کہ وہ مکمل طور پر تیار تھی ۔
کنڈی کھلتے ہی دو درمیانہ قامت کے مرد اندر گھس آئے ۔دونوں نے ہاتھوں میں کلاشن کوفیں تھامی ہوئی تھیں ۔ایک ذرا بھاری تن و توش کا تھا جبکہ دوسرا چھریرا بدن رکھتا تھا ۔موٹے نے پلوشہ کو دیکھتے ہوئے پوچھا ۔
”تمھارا گھر والا کس وقت لوٹے گا ۔“
اس نے گھریلو خاتون کے انداز میں کہا ۔”بس تھوڑی دیر تک آ جائے گا ۔“
اس دوران دوسرے آدمی نے ایک سرسری نظر صحن میں دوڑائی ۔اور وہ بھی پلوشہ کی جانب متوجہ ہو گیا ۔مجھے محسوس ہوا کہ ان دونوں کی دلچسپی تلاشی لینے کے بہ بجائے پلوشہ کی ذات میں تھی ۔
موٹے نے اپنے ساتھی کی طرف دیکھ کر آنکھ سے اشارہ کیا اور وہ سرہلاتا ہوا دروازہ کنڈی کرنے لگا ۔
”یی....یہ آپ دروازہ کیوں کنڈی کر رہے ہیں ؟“پلوشہ نے گھبرائے انداز میں پوچھا ۔
”کچھ نہیں میری جان ،بس تمھارے کپڑوں کی تلاشی لینا ہے کہیں تم نے خطرناک ہتھیار نہ چھپایا ہو۔“موٹے نے شیطانی انداز میں کہا ،جبکہ اس کا ساتھی بے شرمی سے ہنسنے لگا تھا ۔
موٹے نے کلاشن کوف اپنے ساتھی کی طرف بڑھاتے ہوئے کہا ۔”ذرا یہ پکڑو میں اس بلبل کو کپڑوں کی قید سے نجات دلا دوں ۔اور مخابرہ بھی آف کر دو “
اس نے موٹے سے کلاشن کوف لے کر کندھے سے لٹکالی اور آئی کام سیٹ آف کرتے ہوئے بولا ۔”یہاں یہ شور کرے گی اندر لے جا کر اس کی تلاشی لیتے ہیں ۔“
اور پھر موٹے کے کچھ کہنے سے پہلے پلوشہ نے مزاحیہ انداز میں کہا ۔”یہ صحیح مشورہ دے رہا موٹے ریچھ ۔“ان دونوں نے چونک کر پلوشہ کی طرف دیکھا لیکن ان کے کچھ کرنے سے پہلے پلوشہ نے دوپٹے کی آڑ سے دایاں ہاتھ باہر نکال کر بے دریغ تین گولیاں موٹے کے ساتھی کی چھاتی میں مار دیں کیونکہ اسی کے پاس دونوں ہتھیار تھے ۔گولی کھا کر وہ زمین پر گر کر تڑپنے لگا تھا ۔پلوشہ نے پستول کا رخ موٹے کی جانب موڑ دیا ۔میں بھی دروازہ کھول کر باہر نکل آیا ۔موٹے کا رنگ خوف کی شدت سے زرد پڑ گیا تھا ۔وہ خشک ہوتے ہونوٹوں پر زبان پھیرنے لگا ۔
”تو کیا خیال ہے موٹے !....کمرہ ٹھیک رہے گا یاپریہیں میری تلاشی لو گے ۔“
اس نے ہکلاتے ہوئے کہا ۔”مم ....میں معافی چاہتا ہوں آپ کو کوئی غلط فہمی ہوئی ہے ۔“
”تم کسے تلاش کر رہے تھے ؟“میں نے قریب جا کر پوچھا ۔
”کک....کسی کو بھی نہیں ۔ہم تو بس یونھی ........“لیکن اس کی بات پوری ہونے سے پہلے میرا بازو گھوما ۔”چٹاخ ۔“کی آواز سے صحن گونج اٹھا تھا ۔
”جھوٹ بول کر تم فقط اپنی اذیت بڑھاگے ۔“
”ہم سردار قبیل خان کے قاتلوں کی تلاش میں ہیں اور ہم اکیلے نہیں اس سارے علاقے کو قیل خان کے آدمیوں نے گھیرا ہوا ہے ۔“اس مرتبہ اس نے جھٹ اصل بات اگل دی تھی ۔
”اندر چلو ۔“میں نے اسے کمرے کی طرف جانے کا اشارہ کیا ۔
”اگر مجھے چھوڑ دو تو میں کسی کو نہیں بتاﺅں گا کہ آپ یہاں چھپے ہیں ۔“
”معاہدے بعد میں ہوں گے ،فی الحال اندر چلو ۔“میں نے اسے بریٹا پستول کی نال سے ٹہوکا دیا اور وہ مرے مرے قدموں سے اندر کی جانب بڑھ گیا ۔پلوشہ مرنے والے کی تلاشی لینے لگی ۔
اندر لے جاکر میں نے موٹے کی قمیص اتروا کر اسی قمیص سے اس کے ہاتھ پشت پر باندھے اور اسے چارپائی پر بیٹھنے کا اشارہ کر کے اس کے سامنے بیٹھ گیا ۔اس دوران پلوشہ دونوں کلاشن کوفیں اٹھائے اندر گھس آئی ۔میں اس پر توجہ دیے بغیر اس موٹے جس کانام انعام خان تھا سے سوال و جواب کرنے لگا ۔ تھوڑے بہت تشدد اور پھینٹی سے اس نے کافی مفید باتیں بتائی تھیں ۔تمام باتوں کا لبِ لباب یہ تھا کہ قبیل خان کے جانشین جہاندادنے اس سارے علاقے میں اپنے آدمی پھیلا دیے تھے ۔تمام پارٹیاں دو دو اور تین تین افرادکی تعدادپرمشتمل تھیں ۔ہر پارٹی کے پاس آئی کام سیٹ موجود تھا ۔پرسوں گولی لگنے کے بعد قبیل خان نے جہانداد خان کو بتا دیا تھا اس پر گھات لگانے والوں میں ایک اچھا نشانہ باز موجودہے ،جس کا مطلب یہی تھا کہ گھات لگانے والوں میں ایس ایس یعنی میں شامل تھا ۔جہانداد خود اس کی مدد کے لیے وہاں پہنچا مگر میری فائرنگ سے ہونے والے نقصان کے بعد اسے مورچہ بند ہونا پڑا ۔ ہمارے چلے جانے کے بعد بھی وہ کافی دیر تک گولی کے ڈر سے آڑ میں رہے ۔اور پھر جب انھیں یقین ہو گیا کہ ہم وہاں سے چلے گئے ہیں۔ اس کے بعد ڈرتے ڈرتے آڑ سے باہر آگئے ۔وہاں اپنے ساتھیوں میں انھیں دو آدمی زندہ بھی مل گئے تھے گو وہ شدید زخمی تھے ۔نالے میں پڑی قبیل خان کی لاش دیکھ کر جہانداد غصے سے پاگل ہو گیا تھا ۔وہ قبیل خان کا سوتیلا بھائی تھا ۔اور اس کی موت کے بعد قبیلے کا سردار وہی تھا ۔ان کی تینوں گاڑیوں کے دو دو پہیے میں نے بے کار کر دیے تھے ۔اس نے ایک گاڑی کے دو گاڑیوں کے فالتو ٹائر لے کر ایک گاڑی کو سفر کے قابل بنایا اور اس میں قبیل خان کی لاش اور دو زخمیوں کو لے کر واپس روانہ ہو گیا ۔باقی افراد کو اس نے ہمارا پیچھا کرنے کا حکم دے دیا تھا ۔اگلے دن قبیل خان کے جنازے کے بعد وہ اپنی پوری قوت کے ساتھ میدان میں اتر آیا۔مجھے اور پلوشہ کو اس نے پہاڑی پر چڑھتے دیکھ لیا تھا اور اتنا تو اسے معلوم ہو گیا کہ گھات لگانے والے صرف دو آدمی تھے ۔اس سے پہلے ثقلین خان کے بیٹے کی شادی میں قبیل خان کے جن آدمیوں نے ہمیں دیکھا ہوا تھا انھوں نے پہلے سے اپنے ساتھیوںکے سامنے ہمارا حلیہ بیان کیاہواتھا ۔اس طرح دو جمع دو چارکی طرح ان کے سامنے ہم دونوں بہ طورقبیل خان کے قاتل ظاہر ہو گئے تھے ۔
انعام خان سے ساری تفصیل معلوم کرتے ہی میں پلوشہ کی طرف متوجہ ہوا ۔”اس کا کیا کریں؟“
اس نے گلاک پستول کی نال انعام خان کی طرف کرتے ہوئے دو بار ٹریگر دبایا۔”ٹھک ٹھک۔“کی آواز کے ساتھ وہ چہرے پر خوف و دہشت کے اثرات سجائے پیچھے کی طرف گر گیا ۔دونوں گولیاں اس کی چھاتی میں لگی تھیں ۔
”اس کے علاوہ کیا کر سکتے ہیں ؟“اسے گولی مارکر وہ اطمینان بھرے انداز میں پوچھنے لگی ۔
”اب یہاں سے نکلنا ایک مسئلہ ہو گا ۔ویسے کچھ اندازہ نہیں ہے کہ ہم کس جگہ پر ہیں ۔“
نفی میں سر ہلاتے ہوئے وہ بولی ۔”میرا خیال ہے چھت پر چڑھ کر جائزہ لے لیتے ہیں شاید کچھ اندازہ ہو جائے ۔“
”ٹھیک ہے تم اوپر چڑھ کر جائزہ لو پھر نکلتے ہیں ۔“وہ یوں بھی زنانہ لباس میں تھی کسی کی نظر اس پر پڑ بھی جاتی تب بھی کوئی خاص فرق نہ پڑتا ۔
ایک مرتبہ پھر اپنے چہرے کے گرد دوپٹا لپیٹتے ہوئے وہ باہر نکل گئی ۔گھر کے ایک کونے میں لکڑی سیڑھی لگی ہوئی تھی اسی کے ذریعے وہ چھت پر چڑھنے لگی ۔میں ان کا آئی کام آن کر کے سن گن لینے لگا ۔آئی کام آن کرتے ہی مختلف قسم کی آوازیں آنے لگیں تھیں ۔ایک دوسرے کو اپنی جگہ کے بارے میں بتانے کے ساتھ ساتھ وہ تازہ صورت حال سے بھی آگاہ کر رہے تھے ۔چار پانچ سوافراد اس علاقے میں پھیل کر گھر گھر کی تلاشی لے رہے تھے ۔اس کے ساتھ وہ درختوں کے جھنڈ اور غاروں وغیرہ کی چھان بین بھی باریکی سے کر رہے تھے ۔
”برے پھنسے ذیشان میاں ۔“میں خود کلامی کے انداز میں بڑبڑایا ۔پلوشہ ابھی تک چھت پر تھی ۔میں نے انعام خان کے ساتھی کی لاش بھی گھسیٹ کر اسی کمرے میں پھینکی اور اپنا سامان باہر نکال کر کمرے کے باہر سے وہی ٹوٹا ہوا تالا لٹکا دیا ۔اسی اثناءمیں پلوشہ بھی نیچے اتر آئی ۔
”کیا کچھ پتا چلا ۔“میں بے صبری سے مستفسر ہوا ۔
”تھوڑا بہت اندازہ تو ہوگیا ہے ۔لیکن ارد گرد کافی آدمی گھومتے ہوئے نظر آ رہے ہیں اور کسی بھی لمحے ان دونوں کی طرح کوئی اور بھی یہاں پہنچ سکتا ہے ۔“
”میرا خیال ہے نکل چلتے ہیں ۔تم انھی کپڑوں میں ٹھیک ہو میں بیرٹ ایم 107کو چادر میں لپیٹ کر گٹھڑی کے انداز میں اٹھا لیتا ہوں تم اپنی کلاشن کوف دوپٹے کے نیچے چھپا لینا ۔
”ٹھیک ہے ۔“اس نے کلاشن کوف کندھے سے لٹکا کر اوپر دوپٹا لیتے ہوئے کہا ۔”لیکن سنائپر رائفل کی گٹھڑی مجھے اٹھانا پڑے گی کیونکہ مقامی رواج کے مطابق سامان عورتوں نے سر پر اٹھایا ہوتا ہے ۔غیرت مند مرد کے پاس اس کی مردانگی کی نشانی فقط ہتھیار ہوتا ہے ۔“آخری فقرہ اسنے طنزیہ انداز میں کہا تھا ۔
”اچھا یہ لو ۔“میں چادر میں لپیٹی ہوئی بیرٹ ایم 107اس کی جانب بڑھا دی ۔
رائفل اور تھیلے کو اکھٹا باندھ کر اس نے مہارت سے سر پر رکھا اور چل پڑی ۔میں نے بھی سر باریک چادر سر پر پگڑی کے انداز میں لپیٹ کر اس کے پیچھے قدم بڑھا دیے ۔
باہر نکل کر میں نے بیرونی دروازے کی کنڈی میں بھی تالا پھنسایا اور ہم درختوں کی آڑ لے کر چل پڑے ۔نالے میں اترنے کے بجائے ہم ڈھلان پر نالے کے متوازی سفر کرنے لگے ۔ہماری کوشش تھی کے درختوں سے باہر نہ نکلیں ۔دشمن سے اچانک سامنا ہونے کے تدارک کے لیے میں نے سائیلنسر لگا گلاک اپنے ہاتھ ہی میں رکھا تھا ۔بریٹا بھی میرے پاس موجود تھا لیکن اس پر سائیلنسر لگا ہوا نہیں تھا ۔ البتہ پلوشہ کے پاس قبیل خان سے چھینا ہوا جو قیمتی پستول موجود تھا اس پر بھی سائیلنسر تو لگا ہوا تھا مگر اس کی گولیاں بہت کم تھیں ۔
پلوشہ مجھ سے دو تین قدم آگے چل رہی تھی ۔یونھی آگے پیچھے چلتے ہم گھنٹا بھر چلتے رہے ۔اس دوران میں نے آئی کام مسلسل آن رکھا تھا ۔اس کے شور کے تدارک کے لیے میں نے ایئر فون کی لیڈ لگا کر کان میں اڑسی ہوئی تھی ۔پچھلے دو تین منٹ سے مسلسل انعام خان اور ثمین خان کو پکارا جا رہا تھا ۔ثمین خان یقینا اس موٹے انعام کے ساتھی کا نام تھا ۔
ایک جگہ وہ جھاڑیوں کے جھنڈ سے باہر نکلی اور ایک دم ٹھٹک کر رک گئی ۔میں اس سے کچھ پوچھنے ہی لگا تھا کہ اپنا دوپٹا جھاڑی کے کانٹوں سے چھڑانے کے بہانے وہ پیچھے مڑی اور ہلکی سرگوشی میں بولی ۔”دو آدمی ہیں ۔“یہ کہہ کر وہ دوبارہ آگے بڑھ گئی ۔میں وہیں جھاڑیوں میں دبک گیا ۔آئی کام سیٹ آف کر کے میں نے جیب میں ڈالا اور گلاک نائینٹین کو تیاری حالت میں پکڑ لیا ۔اسی وقت میرے کانوں میں ایک کرخت آواز پڑی ۔”اوئے لڑکی !....کہاں جا رہی ہو ؟“
جواباََ پلوشے نے لوچ دار آواز میں کہا ۔”ڈیرازل جا رہی ہوں ۔“اب مجھے یہ معلوم نہیں تھا کہ ڈیرازل واقعی قریب میں کوئی آبادی موجود تھی یا اس نے یونھی فرضی نام لیا تھا ۔
”رستے میں تم نے دو آدمی تو نہیں دیکھے ۔“اسی کرخت آواز والے نے دوبارہ پوچھا تھا ۔
”نہیں ۔“کہہ کر آگے چل پڑی ۔میں نے احتیاط سے جھاڑی کی اوٹ سے جھانکا ۔وہ اطمینان سے آگے بڑھتی جارہی تھی جبکہ دو مسلح آدمی اس سے چند قدم کے فاصلے پر کھڑے اسے گھور رہے تھے ۔پلوشہ کے جھاڑیوں میں روپوش ہوتے ہی ایک مرتبہ پھر وہ آگے بڑھے اور دائیں بائیں نگاہیں دوڑاتے ہوئے مجھ سے بیس پچیس قدم کے فاصلے پرسے گزرتے چلے گئے ۔ان کے تھوڑی دور جاتے ہی میں اٹھ کر احتیاط سے آگے بڑھ گیا ۔میر ی نگاہیں اب بھی جانے والوں کی طرف نگران تھیں ۔جھکے جھکے انداز میں میں نے پلوشہ کے جانے کے رستے قدم بڑھائے ۔اسی وقت اچانک جھاڑیوں کی اوٹ سے ایک کلاشن کوف بردار آدمی برآمد ہوا ۔ہم دونوں اچانک آمنے سامنے ہو گئے تھے ۔اور پھر میں اس سے زیادہ پھرتیلا ثابت ہوا ۔اس کے کچھ کہنے یا ہتھیار سیدھا کرنے سے پہلے میرے ہاتھ میں موجود گلاک نے چند گرام سیسہ اگل دیا تھا ۔ماتھے میں پیوست ہونے والی گولی چیخنے کا موقع نہیں دیا کرتی ۔وہ انھی جھاڑیوں میں الٹا ہو کر گر گیا ۔وہ شاید رفع حاجت وغیرہ کے لیے اپنے ساتھیوں سے پیچھے رہ گیا تھا ۔اسی وقت تھوڑے فاصلے سے وہی کرخت آواز سنائی دی ۔
”کرم خان !....کہاں مر گئے ہو ۔“مگر کرم خان غریب ایسی جگہ پہنچ گیا تھا جہاں وہ آواز سن بھی لیتا تو جواب نہیں دے سکتا تھا ۔
میں چلنے کے بجائے بھاگتا ہوا پلوشہ کے پیچھے روانہ ہوا۔لیکن دو تین قدم لیتے ہی مجھے احساس ہوا کہ کرم خان کی لاش ملتے ہی اس کے ساتھیوں نے اس علاقے کو گھیرے میں لے لینا تھا ۔اس کے بجائے اگر میں ان دونوں کو بھی ہلاک کر دیتا تو لازماََ فی الفور ہونے والے تعاقب سے جان چھڑا سکتا تھا ۔ کیونکہ جب تک ان تینوں کی لاشیں دریافت نہ ہوتیں کسی کو ہمارا خیا ل نہیں آ سکتا تھا ۔
یہ سوچتے ہی میں فوراََ ان دونوں کے جانے کی سمت دوڑ پڑا ۔وہ سو دوسو گز سے دور نہیں گئے تھے ۔جھکے جھکے انداز میں پنجوں کے بل دوڑتا ہوا میں اس طرف بڑھا ۔
ان میں سے ایک نے پھر مقتول کرم خان کو پکارا اور مجھے ان کی جگہ کے بارے اندازہ لگانے میں آسانی ہو گئی ۔درختوں اور جھاڑیوں جھنڈ مجھے چھپ کر ان کے قریب جانے میں مدد دے رہے تھے ۔ وہ اپنے ساتھی کے انتظار میں دو ہموار پتھروں پر بیٹھ گئے تھے ۔البتہ ان کا رخ پیچھے کی طرف ہی تھا ۔ اپنے ہتھیار انھوں نے گود میں رکھ لیے تھے ۔
میں دم جھاڑیوں کی اوٹ سے باہر نکلا ۔ان میں سے ایک اس وقت بوتل سے منہ لگا کر پانی پی رہا تھا ۔دوسرے کو بھی حیرت کا جھٹکا لگا مگر اس کے سنبھلنے سے پہلے گلاک کی گولی اپنا کام کر چکی تھی ۔
”ٹھک ۔“کی آواز اور اپنے ساتھی کے نیچے گر کر ایڑیاں رگڑنے کی آواز سن کر دوسرے نے بوتل ہونٹوں سے ہٹا ئی ۔اور اس سے پہلے کہ صورت حال اسے واضح ہوتی گلاک کی گولی اسے تمام دنیاوی پریشانیوں سے دور لے گئی ۔
ان کے قریب جا کر میں نے باری باری دونوں کو ٹانگوں سے پکڑ کر جھاڑیوں میں پھینکا تاکہ انھیں آسانی سے تلاش نہ کیا جا سکے اور واپس مڑ کر دوڑ پڑا ۔کرم خان نامی آدمی قدرتی طور پر جھاڑیوں میں گرا تھا ۔
پلوشہ کے جانے کی سمت مجھے معلوم تھی ۔میں اسی طرف آگے بڑھتا گیا ۔مجھے زیادہ دور نہیں جانا پڑا تھا ۔تھوڑی دور ہی مجھے وہ تشویش ناک حالت میں کھڑی نظر آ گئی ۔بڑے بڑے خطروں میں میں نے اس کے چہرے پر پریشانی نہیں دیکھ تھی لیکن اس وقت وہ کافی پریشان نظر آ رہی تھی ۔مجھ پر نظر پڑتے ہی اس کی پریشانی ،برہمی میں تبدیل ہو گئی تھی ۔
”کہاں رہ گئے تھے آپ ۔معلوم بھی ہے کتنی پریشانی ہو رہی تھی مجھے ۔“
”مجبوری تھی یار !....ان خبیثوں سے ٹاکرا ہو گیا تھا ........“میں اس کے پوچھے بغیر اسے تفصیل بتلانے لگا ۔
ساری بات سنتے ہی وہ بولی ۔”پھر اس طرف چلو ۔“سمت تبدیل کرتے ہوئے وہ اوپر چڑھنے لگی ۔اس کے پیچھے قدم بڑھاتے ہوئے میں نے آئی کام آن کر کے اس کی لیڈ کان میں لگا لی تھی۔
ایک آدمی اپنی جگہ کے بارے بتا رہا تھا کہ وہ اس وقت کہاں ہے ۔ اس کے چپ ہوتے ہی ایک دوسری آواز آئی جو پہلے والوں کو حکم دے رہی تھی کہ۔” انعام خان اور ثمین خان اسی علاقے میں غائب ہوئے ہیں اور اب مخابرے پر ان کی طرف سے کوئی جواب نہیں آرہا۔انھیں ڈھونڈو کہ کہاں مر کھپ گئے ہیں ۔“
”ٹھیک ہے کمانڈر ۔“پہلی والی آواز میں ادب کا عنصر نمایاں تھا ۔
اس کے بعد کمانڈر کسی اسفندخان کو پکارنے لگا مگر اسفند کی طرف سے کوئی جواب نہ آیا ۔دو تین بار۔” اسفند ،اسفند۔“کہہ کر اس نے ۔شیر دل اور کرم خان کا نام پکارنا شروع کر دیا تھا ۔کرم خان کا نام آتے ہی میری سمجھ میں آگیا تھا کہ وہ تھوڑی دیر پہلے میرے ہاتھوں انجام کو پہنچنے والی پارٹی کو پکار رہا ہے ۔
تھوڑی دیر انھیں پکارنے کے بعد وہ خاموش ہو گیا تھا ۔
پلوشہ کے قدموں کی رفتار بہت تیز ہو گئی تھی ۔وہ کسی لومڑی کی طرح پہاڑکی بلندی سر کرتی تھی۔ بعض اوقات تو مجھے اس پر رشک آنے لگتا ۔خود کو بہت زیادہ سخت جان سمجھنے کے باوجود میں ان پہاڑوں میں بہ مشکل اس کے ساتھ قدم ملا پاتا تھا ۔
پہاڑ کی بلندی پر پہنچتے ہی وہ دوسری سمت نالے میں اتر گئی ۔دوسری طرف کے نالے میں درخت نہ ہونے کے برابر تھے ۔اس لیے وہ نالے میں چلنے کے بجائے اگلی چڑھائی ،چڑھنے لگی ۔
مشقت کی وجہ سے ہمار اپسینہ دھاروں کی صورت میں بہہ رہا تھا ۔اگلی چڑھائی کے درمیان میں کافی گھنے درخت موجود تھے ۔ہم انھی درختوں میں آگے بڑھنے لگے ۔ تھوڑا سا آگے بڑھتے ہی مجھے نالے تین آدمی اسی سمت حرکت نظر آئے جس طرف ہم روانہ تھے ۔میں نے پلوشے کو اس طرف متوجہ کیا ۔
”ہونہہ ۔“کہہ کر وہ رک گئی تھی ۔
جاری ہے
 

”اوپر چڑھتے ہیں ۔“وہ چونکہ اس علاقے کو مجھ سے کئی گنا زیادہ بہتر جانتی تھی اس لیے میں نے مشورہ دینے پر اکتفا کیا تھا ۔
اثبات میں سر ہلاتے ہوئے اس نے اوپر کی جانب قدم بڑھا دیے ۔اچانک آئی کام میں مجھے ایک آدمی کی گھبرائی ہوئی آواز سنائی دی ۔وہ انعام خان اور ثمین خان کی لاشیں ملنے کے بارے کمانڈر کو بتا تے ہوئے یہ وضاحت بھی کر رہا تھا کہ دونوں کو مرے ہوئے زیادہ دیر نہیں گزری تھی ۔
ساری بات سنتے ہی کمانڈر مختلف پارٹیوں کو اس علاقے کو گھیرنے کا حکم دینے لگا ۔نیچے نالے میں سفر کرنے والے دوونوں آدمی بھی مجھے پیچھے مڑ کر تیزی سے واپس حرکت کرتے نظر آئے ۔
میں نے پلوشہ کو صورت حال سے آگاہ کیا ۔
”فی الحال وہ پیچھے ہی متوجہ رہیں گے ۔ہم جتنا جلدی ہو سکے یہاں سے نکل جائیں اتنا ہی بہتر ہے ۔“
بلندی پر پہنچ کر ہم دوسری جانب اتر گئے ۔وزیرستان میں چار سو پہاڑ ہی پہاڑ ہیں اور ہر پہاڑ سے کئی نالے نکل کر مختلف سمتوں میں بہتے ہیں ۔نالے بالکل ہاتھ کی لکیروں کی طرح پھیلے ہوئے ہیں ۔ خشک اور بہتے نالے کی بہتات کے علاوہ وہاں درخت بہت زیادہ ہیں ۔اس لیے کسی چھپنے والے کو تلاش کرنا اتنا آسان بھی نہیں ہوتا ۔لیکن اس کے ساتھ یہ بھی مسئلہ ہے کہ مقامی آبادی میں کہیں پناہ لینے کی صورت ڈھونڈنے والوں کو آسانی رہتی ہے ۔اور اگر ہم مقامی آبادی میں نہ جاتے تو کھانے پینے کے لیے کہاں سے کوئی چیز پیدا کرتے ۔جس علاقے میں ہم موجود تھے وہاں اس وقت تک پاک آرمی نہیں پہنچ پائی تھی ۔پاک آرمی ان دنوں زیادہ تر وانہ اور اس کے مضافات میں آپریشن کر رہی تھی ۔کچھ آگے کی پہاڑی بلندیوں پر بھی پاک آرمی نے اپنی پوسٹیں بنا لی تھیں مگر وہاں تک آنے جانے کے لیے بغیر QRF(Quick Reaction Force)کے حرکت نہیں کی جاتی تھی ۔وہاں تک جانے والے آرمی کے قافلوں پر بھی دہشت گرد چاروں طرف سے حملے کرتے ۔دوسری جانب اترنے سے پہلے پلوشہ نے یہ کہہ کر زنانہ گھگرا اور دوپٹا پھینک دیا تھا کہ دہرے لباس کی وجہ سے اسے سخت گرمی لگ رہی تھی ۔
میں نے بیرٹ ایم 107کا تھیلا زبردستی اس سے لے کر اپنی پیٹھ پر پہن لیا تھا ۔میرے پاس قبیل خان کے آدمیوں سے چھینی ہوئی ہوئی کلاشن کوف تھی جبکہ اس نے اپنی کلاشن کوف اٹھائی ہوئی تھی ۔ سنائپر رائفل سے چلتے پھرتے فائر کرنا مشکل ہوتا ہے ۔کلاشن کوف اسالٹ رائفل ہے ۔اس سے برسٹ اور سنگل راﺅنڈ فائر کیے جا سکتے ہیں۔ اس وجہ سے حرکت میں رہتے ہوئے اس کا استعمال بہترین رہتا ہے۔ گو ہمارے پاس بریٹا اور گلاک جیسے بہترین پستول بھی موجود تھے لیکن پستول ہمیشہ قریب کی لڑائی میں اچھے رہتے ہیں ۔اور کارکردگی میں کلاشن کوف پستول سے کہیں بہتر ہوتی ہے ۔یہ اور بات کہ ایک گلاک پستول کی قیمت سے کئی کلاشن کوفیں خریدی جا سکتی ہیں ۔
نیچے اترتے ہوئے ایک دم ہمارے سامنے ایک شخص درختوں کے جھنڈ سے برآمد ہوا ۔پلوشہ نے کلاشن کوف سیدھی کی ہی تھی کہ میں نے چیخ کر کہا ۔
”ٹھہرو ۔“وہ ایک دم رک گئی ۔درختوں کے جھنڈ سے برآمد ہونے والا آدمی بھی ہمیں دیکھ کر پریشان ہو گیا تھا ۔وہ مقامی آدمی ہی تھا ۔پلوشہ نے اس سے اس جگہ کے بارے دریافت کیا اور اس کے جواب دینے پر پوچھنے لگی ۔”وشلام گاﺅں یہاں سے کتنی دور ہے ؟“
وہ دور ایک پہاڑ کی جانب اشارہ کرتے ہوئے بولا ۔”اس پہاڑ کے دوسری جانب وشلام ہے ۔یہاں سے دس بارہ کلومیٹر فاصلہ ہو گا ۔
میں نے پوچھا ۔”یہاں کوئی اجنبی افراد آپ نے دیکھے ہیں ؟“
”ہاں ،کچھ لوگ ہمارے گاﺅں میں آئے تھے اور وہ ........“ایک لمحہ رک کر وہ ہم سے نظریں چراتے ہوئے بولا ۔”کسی کو تلاش کر رہے تھے ۔“
”ہونہہ!....“ایک گہرا سانس لیتے ہوئے پلوشہ میری جانب متوجہ ہوئی ۔”اس کا کیا کریں؟“
میں بے چارگی سے بولا ۔”ایک بے گناہ آدمی کا ہم کیا کر سکتے ہیں ؟“
”کہیں باندھ دیتے ہیں ۔“اس مرتبہ اس نے اردومیں کہا تھا ۔اس کے منہ سے انگریزی اور اردو بہت ہی پیاری لگتی تھی ۔
میرے ہونٹوں پر کھلتی ہنسی دیکھ کر وہ برا مناتے ہوئے بولی ۔”کیا غلط بول گئی ہوں ۔“
”نہیں ۔“میں نے نفی میں سر ہلا کر اردو میں کہا ۔”اتنے پیارے انداز میں نہ بولا کرو میری نظر لگ جائے گی ۔وہ کیا کہتے ہیں ....
ایک تو لہجہ اس قدر شیریں
اور پھر بولتی بھی اردو ہو
میری بات سنتے ہی اس کے ہونٹوں پر خوب صورت مسکراہٹ کھل گئی تھی ۔”جھوٹ بولنا کب سے سیکھ لیا ہے ۔“
”کیا یہ جھوٹ تھا ۔“اب برا منانے کی باری میری تھی ۔
”نہیں ....“اس نے شوخی بھرے انداز میں قہقہہ لگایا ۔ ”میں سچ میںہوں ہی اتنی پیاری ۔“
”اچھا ایسا ہے اسے یونھی چھوڑ دیتے ہیں ۔یہ نہ ہوں بندھے بندھے پورا ہی ہو جائے ۔“
”ٹھیک ہے ۔“اثبات میں سر ہلاتے ہوئے وہ اس اجنبی کی متوجہ ہوئی ۔”تمھارے لیے بہتر تو یہی ہوگا کہ کسی کو ہمارے بارے نہ بتانا ۔دوسروں کی دشمنی میں ٹانگ اڑانے والے عموماََ گھاٹے میں رہتے ہیں ۔“
”کسی کو نہیں بتاﺅں گا جی ۔“وہ فوراََ پلوشہ سے متفق ہو گیا تھا ۔
”جاﺅ ۔“اسے سر کے اشارے جانے کا کہہ کر وہ میرے ساتھ آگے بڑھ گئی ۔
ہم ایک مرتبہ پھر آگے روانہ ہو گئے تھے ۔اسی دوران مجھے آئی کام میں ایک بندے کی گھبرائی ہوئی آواز سنائی دی ۔وہ کرم خان کی لاش ملنے کی بابت کمانڈر کو بتا رہا تھا ۔وہ جگہ انھوں نے ہمیں تلاش کرنے کے لیے گھیری تھی ۔ہم تو انھیں نہ مل سکے اپنے ساتھی کی لاش انھیں مل گئی تھی ۔چند منٹ بعد انھیں دوسری دو لاشیں بھی مل گئی تھیں ۔وہ کمانڈر کسی دوسرے کمانڈر کو یہ بات بتا رہا تھا کہ ہم اس کے گھیرے سے نکل کر آگے بڑھ گئے ہیں ۔اس کے ساتھ اس نے دو تین گاﺅں کے نام لے کر کہا تھا کہ ہم ان میں سے کسی ایک جانب جا سکتے تھے ۔ان میں وشلام گاﺅں کا نام بھی شامل تھا ۔دوسرے کمانڈر نے خیال ظاہر کیا تھا کہ ہم یا تو وشلام جائیں گے ۔یا پھر اب تک وہیں کہیں چھپے ہیں ۔اس کے ساتھ ہی اس نے ان تینوں گاﺅں کے مضافات میں اپنے لشکری پھیلانے کا عندیہ دے دیا تھا ۔
”تم نے وشلام گاﺅں کا پتا کس لیے معلوم کیا ہے ؟“اچانک مجھے پلوشہ کا اجنبی سے کیا جانے والا سوال یاد آیا اور میں نے پوچھنے میں دیر نہ لگائی ۔
”بھول گئے ،وشلام خوشحال خان محسود کا گاﺅں ہے ۔“
”تو خوشحال خان محسود سے ہمیں کیا لینا دینا ؟“
اس نے تفصیل بتلاتے ہوئے ۔”خوشحال خان محسود، قبیل خان کا دشمن ہے اور اس وقت ہمیں اسی کے پاس پناہ مل سکتی ہے۔ یاد نہیں پچھلے دنوں قابل خان نامی آدمی کو ہم نے قبیل خان کے آدمیوں کے چنگل سے چھڑایا تھا ۔“
”پھر تمھیں اس اجنبی سے وشلام گاﺅں کا پتا معلوم نہیں کرنا چاہیے تھا ۔“
”صحیح کہا ۔بس جلدی میں پوچھ بیٹھی ۔“
”ویسے ضروری تونہیں کہ اس اجنبی سے قبیل خان کے آدمیوں کی ملاقات ہوجائے ۔“میں نے خود تسلی دینے کی کوشش کی ۔
پلوشہ نفی میں سر ہلاتے ہوئے بولی ۔”وہ وزیر قوم کا آدمی تھا ۔اور قبیل خان بھی وزیر ہے ۔یہ ہو ہی نہیں سکتا کہ وہ اپنی قوم کے لوگوں تک یہ معلومات نہ پہنچائے ۔“
”ہاں تمھاری قوم ہے نا اور تم اپنے لوگوں کو چھی طرح جانتی ہو ۔“میں نے افسوس کا اظہار کیا ۔
”اسی لیے تو کہہ رہی تھی مگر آپ کچھ زیادہ ہی رحم دل بن گئے تھے ۔“
میں بے بسی سے بولا ۔”کسی بے گناہ کو مارنے پر بھی تو دل راضی نہیں ہوتا ۔“
وہ شرارتی انداز میں بولی ۔”یہ بات اس وقت تو یاد نہیں آئی تھی جب مجھے باندھ کر پٹائی کر رہے تھے ۔“
” یہ بھی معلوم ہے نا کہ بعد میں کتنا پچھتایا تھا ؟“
”پچھتاتے تو بعد میں آپ کا رویہ ایسا نہ ہوتا ۔“
”یہ بتاﺅ کیا اس کے بعد تمھاری کسی بات سے انکار کیاتھا؟کیا تمھیں جانے دیا حالانکہ سردار تمھیں جانے کا کہہ چکا تھا ،جو چیز مانگی تمھارے حوالے کی کہ نہیں ،ثقلین خان کی شادی میں تمھارا مکمل ساتھ دیا کہ نہیںاور ........“
”اچھا بس بس ، سب معلوم ہے مجھے ۔“ قطع کلامی کرتے ہوئے اس نے جذبات سے لبریز لہجے میں کہا ۔”آپ کی ایک ایک حرکت یاد ہے کہ آپ نہ چاہتے ہوئے بھی مجھے اتنی اہمیت دیتے رہے ۔ بہ ظاہر بے زاری ظاہر کرتے تھے اور چھپ چھپ کر مجھے گھورتے رہتے تھے ۔“
”پلوشے !....یاد رکھنا اگر تم نے بھی مجھے چھوڑدیا تو اس بار میں زندہ نہیں رہ پاﺅں گا ۔“
”بکواس نہ کیا کریں سمجھے ۔“میرا ہاتھ اپنی جانب کھینچ کر وہ بے ساختہ مجھ سے لپٹ گئی تھی ۔ ”کیا ایسا ممکن ہے کہ میں اپنے راجو کو چھوڑ کر چلی جاﺅں ۔“
”ممکن تو نہیں ہے لیکن اپنی بدبختی سے ڈرتا ہوں ۔“اس کے ماتھے پر مہر محبت ثبت کرتے ہوئے میں نے آہستہ سے اسے خود سے جدا کیا کہ ہم ابھی تک خطرے کی حدود سے باہر نہیں نکلے تھے ۔
میرے ساتھ قدم بڑھاتے ہوئے پر اعتماد لہجے میں بولی ۔”مقدر میرے اللہ پاک سے بڑا نہیں ہے ۔ میں نے اللہ پاک سے آپ کو مانگا ہے اور وہی مقدروں کا بنانے والا ہے ۔“
اس کے اعتماد پر میں نے مسکرانے پر اکتفا کیا تھا ۔یہ تو مجھے پہلے دن سے معلوم تھا کہ میں اسے اچھا لگتا ہوں ۔لیکن اسے اتنا زیادہ پیارا اور عزیز ہوں اس بارے مجھے ابھی اندازہ ہو رہا تھا ۔یہی وجہ تو تھی کہ وہ ہر وقت مجھے چھیڑتی رہتی ،مذاق مذاق میں اپنے رشتے کا ذکر چھیڑ بیٹھتی،بے تکلف ہو کر میری گود تک میں بیٹھ جاتی ۔
نالے میں اتر کر ہم نشیب ہی میں چلتے ہوئے اس پہاڑی کی جانب روانہ ہو گئے جس کے دوسری جانب وشلام گاﺅں موجود تھا ۔ساڑھے چار ہونے والے تھے اڑھائی تین گھنٹوں بعد اندھیرا چھا جانا تھا ۔ہم اندھیرے میں زیادہ محفوظ طریقے سے سفر کر سکتے تھے اور یہی بات میں نے فوراََ پلوشہ کو کہہ دی تھی ۔
”اگر کسی سے رستے میں مڈبھیڑ ہو گئی تب چھپنے کا سوچیں گے ۔“
مجھے بھی اس کامشورہ معقول لگا تھا ۔
وشلام گاﺅں کی پہاڑی عبور کرتے ہوئے ہم مزید محتاط ہو گئے تھے ۔پہاڑکی بلندی پر پہنچنے تک سورج مغربی جانب جھکتے ہوئے پیلا ہو چلا تھا۔اس پہاڑی کے دامن میں ایک کھلا میدان تھا گو اس جگہ کو بالکل ہموار تو نہیں کہا جا سکتا تھا پھر بھی گھر بنانے کے لیے بہت موزوں جگہ تھی ۔یہی وشلام گاﺅں تھا ۔ وہاں درخت نہ ہونے کے برابر تھے البتہ گاﺅں سے باہر چاروں طرف موجود پہاڑوں پر کافی گھنے جنگلات موجود تھے ۔قبیل خان کے آدمی وشلام گاﺅں کے بہت زیادہ قریب نہیں جا سکتے تھے کیونکہ وشلام گاﺅں کے محسود انھیں دیکھ لیتے تو ان کے درمیان جنگ چھڑ جانا تھی ۔
میں نے دوربین نکال کر دائیں بائیں کا جائزہ لیا لیکن کوئی حرکت نظر نہ آئی ۔البتہ گاﺅں میں لوگوں کی حرکت نظر آرہی تھی اور لازمی بات ہے وہ محسود ہی تھے ۔اس کے باوجود مجھے اندھیرا ہونے کا انتظار کرنا مناسب لگا ۔یہی بات میں نے پلوشہ کو کہی ۔
”اندھیرا ہونے کے بعد ہی وشلام میں گھسیں گے ۔“
”راجو!....مجھے سخت بھوک لگی ہے ۔میرا تو خیال ہے چلتے ہیں۔ یہاں اریب قریب کوئی بندہ بھی نظر نہیں آرہا ۔“
”جیسا مناسب سمجھو ۔“میں نے بھی رکنے پر اصرار نہیں کیا تھا کہ پلوشہ کی ادنا سی تکلیف بھی مجھے گوارا نہیں تھی ۔
اس نے مزاحیہ انداز میں کہا ۔”آپ اتنی جلدی میری ہر بات کیوں مان لیتے ہیں ....اس طرح تو میں بالکل لاڈلی ہو جاﺅں گی ۔یہ نہ ہو بعد میں اتنی سر پر چڑھ جاﺅں کہ آپ تنگ آنے لگیں ۔“
”تنگ تو نہیں آﺅں گا ،البتہ جب غصہ آ گیا اس دن خوب پٹائی کروں گا ،اتنی کہ تمھیں غار والی مار بھول جائے گی ۔“
”اچھا اتنی ہمت ہے ۔“وہ ناز بھرے لہجے میں پوچھنے لگی ۔
”آہ....کاش ہوتی ۔“میں نے گہرا سانس لیتے ہوئے بے بسی ظاہر کی ۔
وہ کھل کھلا کر ہنس پڑی تھی ۔”اچھا راجو !....سچ بتائیں ،جب آپ کو معلوم ہوا تھا کہ میں قبیل خان کی دشمن ہوں اور آپ نے بے گناہ و بے قصور ہی مجھے اذیت کا نشانہ بنا ڈالا ہے تب آپ کو کیسا محسوس ہوا تھا ۔
اس سے پہلے کہ میں اس کی بات کا جواب دیتا اچانک دھماکے کی آواز سے ماحول گونج اٹھا تھا۔ گولی کا نشانہ ہم ہی تھے ۔سو ڈیڑھ گز کے فاصلے سے چلائی جانے والی گولی شوں کرتی ہوئی ہمارے قریب سے گزر کر چار پانچ گز دور موجود درخت کے تنے میں پیوست ہو گئی تھی ۔
”نیچے لیٹو ۔“چیخ کر پلوشہ کو کہتے ہوئے میں خود بھی لیٹ گیا تھا ۔وہاں چھدرے چھدرے درخت موجود تھے ۔گولی چلانے والے نے اگر ہمارے قریب پہنچنے کی کوشش کی ہوتی تو لازماََ نظر آجا تا ۔ اسی وجہ سے اس نے ہمیں دور سے نشانہ بنانے کی کوشش کی تھی ۔
ہمارے لیٹتے ہی دوتین اور گولیاں چلیں لیکن زمین پر لیٹا ہونے کی وجہ سے اب ہم واضح ہدف نہیںرہے تھے ۔میں نے فائر آنے کی جگہ کی طرف نظریں دوڑائیں ۔لیکن کچھ نظر نہ آیا ۔اسی وقت پلوشہ نے سیفٹی لیور نیچے کرتے ہوئے دو تین گولیاں اس جانب جھونک دیں ۔ان کی طرف سے بھی جواب دیا جانے لگا ۔لیکن یہ اندھی فائرنگ تھی ۔
اچانک مجھے خیال آیا کہ کافی دیر سے آئی کام پر ان میں سے کسی کی آواز نہیں آ رہی تھی ۔یقینا جب انھیں معلوم ہوا کہ ان کے ساتھی کا آئی کام ہمارے پاس ہے تبھی انھوں نے چینل تبدیل کر دیا ہوگا ۔ یوں بھی وہ زیادہ سے زیادہ چینل ہی تبدیل کر سکتے تھے کہ آئی کام کے علاوہ ان کے پاس رابطے کو کوئی ذریعہ بھی موجود نہیں تھا ۔
میں چینل تبدیل کر نے لگا جلد ہی ان کی آواز سنائی دینے لگی تھی ۔”وہ بچ گئے ہیں کمانڈر!.... آپ مزید آدمی بھیجیں ،ایک بار گھیرے میں آگئے تو پھر نہیں نکل سکیں گے ۔“
”آدمی آرہے ہیں تمھاری جانب ۔بس تم انھیں وہاں سے غائب نہیں ہونے دینا ۔اور خود آڑ ہی میں رہنا یہ نہ ہو اس خبیث کی گولی کا نشانہ بن جاﺅ ۔“خبیث اس نے مجھے ہی کہا تھا ۔
”پلوشے !....یہاں سے رینگتے ہوئے آگے بڑھو ۔دشمن ہمیں گھیرنے کی کوشش میں ہیں ۔“
کوئی جواب دیے بغیر وہ ناک کی سیدھ میں رینگنے لگی ۔پتھریلی زمین پر کہنیوں کے بل رینگنا نہایت تکلیف دہ مرحلہ ہے لیکن جب جان پر بنی ہو تو اس قسم کی تکالیف کوئی حیثیت نہیں رکھتیں ۔مخالف مسلسل اس جگہ کو نشانہ بنائے ہوئے تھے ۔ایک موٹے تنے والے درخت کے قریب پہنچ کر میں تنے کی آڑ لے کر اٹھ بیٹھا ۔شام کا ملگجا اندھیرا چھا چکا تھا ۔لیکن فی الحال دکھاﺅ میں کوئی خاص فرق نہیں پڑا تھا ۔ آئی کام میں ہم پر فائر کرنے والے کمانڈر کو پکار رہے تھے کہ ہم بھاگنے کی کوشش میں ہیں ۔
کمانڈر نے فوراََ کہا ۔”انھیں جانے نہیں دینا ۔“
”جی کمانڈر ۔“کہہ کر ان میں سے ایک نے وہ غلطی کی جو اسے نہیں کرنی چاہیے تھی ۔نتیجہ اسے سر میں لگنے والی گولی کی صورت ملا تھا ۔ میرے لیے سو گز کے فاصلے سے ہدف کے سر میں گولی مارنا روٹی کا نوالہ کھانے سے بھی آسان تھا ۔ساتھی کے گرتے ہی دوسرے نے ایک دم فائر کھول دیا تھا ۔لیکن اتنی عقل مندی اس نے ضرور دکھائی تھی کہ اپنا سر اور باقی جسم آڑ کے پیچھے ہی چھپائے رکھا تھا ۔پلوشہ نے زمین پر لیٹ کر ان کی طرف دو تین فائر جھونک دیے تھے میں نے ایسا کرنے کی ضرورت اس لیے بھی محسوس نہ کی بغیر ہدف کے نظر آئے گولی چلانا میری فطرت نہیں تھی ۔اپنے محترم استاد راﺅ تصور کے فرمان کے مطابق میں ایک گولی کے بدلے ایک دشمن گرانے کا قائل تھا ورنہ گولی ٹریگر سے انگلی پرے ہی رکھتا تھا ۔پلوشہ البتہ سنائپر نہیں تھی اس لیے اپنی ایک میگزین وہ یونھی ہوا میں جھونک چکی تھی ۔دشمن کا فائر رکتے ہی ہم دونوں اسی درخت کی آڑ لے کر جھکے جھکے وہاں سے دور ہٹنے لگے ۔پندرہ بیس گز کے فاصلے پر موجود دوسرے درخت کی آڑ میں بیٹھ کر میں نے مڑ کر دیکھا مگر مخالف وہیں لیٹا ہوا کمانڈر کو اپنے ساتھی کے مرنے کی بابت بتا رہا تھا ۔
”کمانڈر !....سخی جان کو گولی لگ گئی ہے ۔“
”بچ تو گیا ہے نا ؟“کمانڈر نے پریشانی سے پوچھا ۔
”سر میں گولی لگی ہے ۔“اس مرتبہ اس نے جھجکتے ہوئے جواب دیا تھا ۔
”تم الو کے پٹھوں کو بتایا بھی ہے کہ اس خبیث کو موقع نہ دو ،مگر یہ بات تمھاری سمجھ میں اس وقت آتی ہے جب تمھاراسر باقی نہیں رہتا ۔“
”میں نے اسے منع بھی کیا تھا لیکن ان دونوں کے فرار ہونے کی وجہ سے وہ بے اختیار اپنی آڑ سے باہر ہو ااور اس سے پہلے کہ میں اسے منع کرتا گولی اسے لگ چکی تھی ۔“
”اپنے باقی ساتھیوں کے آنے تک وہیں ٹکے رہنا ،بس ان کے جانے کی سمت کو نظر میں رکھنا۔“
”دونوں وشلام کی جانب ہی جا رہے ہیں ۔“
”ٹھیک ہے کمک تمھارے پاس پہنچنے ہی والی ہو گی ۔اور اگر وہ وشلام میں گھسنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو میرا انتظار کرنا کہیں محسودوں کے ساتھ لڑائی نہ شروع کر دینا ۔“
اس نے مودّبانہ انداز میں کہا ۔”ٹھیک ہے جی ۔“
ان کی باتیں سنتے ہوئے ہم آگے بڑھتے گئے ۔جونھی دشمن اور ہمارے درمیان جھاڑیوں کا جھنڈ آ یا ہم اٹھ کر بھاگ پڑے ۔ہمیں تو یہ بھی معلوم نہیں تھا کہ دشمن کی مدد کس جانب سے آنا تھی ۔اترائی کی وجہ سے ہماری رفتار کافی تیز تھی ۔پندرہ بیس منٹ دوڑنے کے بعد ہم ایک دم درختوں کی حد سے نکل کر کھلی جگہ پر آئے سامنے ہی مکانوں کا سلسلہ شروع ہو رہا تھا ۔ابھی ہم پہلے مکان کے قریب پہنچے ہی تھے کہ دیوار کے عقب سے چار آدمی ہاتھوں میں ہتھیار تھامے باہر نکلے ۔
”خبردار !....ہاتھ اوپر کر لو ۔“ان میں سے ایک کرخت آواز میں بولا ۔
میں نے گہرا سانس لیتے ہوئے پلوشہ کی جانب دیکھا ۔مدہم پڑتی روشنی میں مجھے اس کے چہرے پر چھائے اطمینان بھرے تاثرات نے چونکا دیا تھا ۔مجھے کوئی جواب دینے کے بہ جائے وہ مسلح افراد کو مخاطب ہوئی ۔
”ہم دوست ہیں اور مدد مانگنے آ رہے ہیں ۔“
”پہلے اپنا تعارف کراو۔“اس مرتبہ بھی اسی نے بات کی جس نے ہمیں للکارا تھا ۔
”ہمارا تعارف سردارخوشحال خان کا ماموں زاد بھائی ،قابل خان محسود کروائے گا ۔“
”آجاﺅ ۔“اس مرتبہ اس کے لہجے میں پہلے والی تندی غائب تھی ۔
ہم اپنے ہتھیار کندھے سے لٹکا کر ان کے قریب ہو گئے ۔مجھ سے مصافحہ کر کے انھوں نے پلوشہ کی جانب بھی مصافحے کا ہاتھ بڑھایا ۔وہ تکلفی سے سے تمام سے مصافحہ کرنے لگی ۔اس سے پہلے بھی بغیر کسی جھجک کے مردوں سے مصافحہ کیا کرتی تھی ۔لیکن نامعلوم اس وقت مجھے اس کا یوں مصافحہ کرنا بہت زیادہ برا لگا تھا ۔پلوشہ ان سے مصافحہ کر کے میرے قریب ہوتے ہوئے پوچھا ۔”آپ کو چوٹ تو نہیں لگی ہے نا ؟“
میں کوئی جواب دیے بغیر خاموش رہا ۔مجھے ابھی تک اس کا مصافحہ ہضم نہیں ہو رہا تھا ۔حالانکہ اس سے پہلے وہ مردوں میں ناچتی رہی تھی ۔اور لڑکے کا بھیس اپنانے کی وجہ سے ہر کسی سے بے تکلف ہو کر مصافحہ بھی کر لیتی تھی ۔لیکن اس سب کے باوجود مجھے بہت برا محسوس ہو رہا تھا ۔
پلوشہ کو بھی میری خاموشی ظاہر ہو گئی تھی ۔”راجو !....کیا بات ہے ۔“میرا ہاتھ تھامتے ہوئے اس نے دھیمے لہجے میں پوچھا ۔
اس بار بھی میں کوئی جواب دیے بغیر خاموش رہا ۔
”اے راجو !....کیا اتنا اعتبار نہیں ہے اپنی پلوشے پر ۔“اس کی آواز سرگوشی میں ڈھل گئی تھی۔ کہتے ہیں محبت کرنے والے بغیر بتائے ایک دوسرے کے احساسات جان لیتے ہیں اور میرے دل کی بات جانتے ہوئے اس نے اس مقولے کو سچا ثابت کر دیا تھا۔
”اچھا آئندہ کسی سے بھی ہاتھ نہیں ملاﺅں گی ۔“ میزبانوں کی پروا کیے بغیر اس نے میرا ہاتھ کھینچ کر مجھے روک لیا تھا ۔اس لہجے میں شامل تشویش سے مجھے خوشی ہوئی تھی ۔
ہمارے میزبانوں کے ہونٹوں پر مسکراہٹ دوڑ گئی تھی ۔ان میں سے ایک دبی زبان میں دوسرے سے ساتھی سے کہنے لگا ۔
”ہلک دے خو جینئی پشانتِ خبرے کوی ۔“(لڑکا ہو کر لڑکیوں کی طرح بات کر رہا ہے)۔اس کی آواز میرے کانوں تک پہنچ گئی تھی ۔میں اسے نظر انداز کرتا ہوا پلوشے کو مخاطب ہوا ۔
”پاگل نہ بنو میں بالکل بھی خفا نہیں ہوں ۔“
وہ جذباتی لہجے میں بولی ۔”کہا تھا نہ میری غلطیوں اور کوہتاہیوں کو معاف کرتے رہنا ۔اور خدارا اس طرح نظر انداز نہ کیا کرو میراسانس رکنے لگتا ہے ۔“
”پاگل نہ ہو تو ۔“چاہت بھرے انداز میں کہتے ہوئے میں اسے بازوسے پکڑ کر ساتھ چلانے لگا ۔ہمارے میزبان پھررہنمائی کے لیے آگے بڑھ گئے ۔
وہ سیدھا ہمیں خوشحال خان کی وسیع بیٹھک میں لے گئے ۔قبیل خان کے آدمیوں کے ساتھ ہمارے فائرنگ کے تبادلے کی وجہ سے وہ اس وقت بیٹھک ہی میں موجود تھا ۔چند اور افراد بھی بیٹھک میں بیٹھے تھے جبکہ ہمیں لانے والے انھوں نے صورت حال معلوم کر نے کے لیے جنگل کی طرف روانہ کیے تھے جنھیں ہم راستے میں مل گئے اور وہ ہمارے ساتھ ہی واپس مڑ آئے تھے ۔بیٹھک کے وسیع صحن میں چاروں اطراف میں چارپائیاں رکھی ہوئی تھیں ۔میں نے جاتے ہی خوشحال خان اور حاضرین محفل سے مصافحہ کیا ۔پلوشہ البتہ ایک جانب خاموشی سے کھڑی رہی ۔اس کی طرف سے پہل نہ ہوتی دیکھ کر کسی نے بھی از خود اس سے ہاتھ ملانے کی کوشش نہیں کی تھی ۔
ہمیں لانے والوں میں سے ایک آگے ہو کر خوشحال خان کو بتایا کہ ہم اس کے ماموں زاد بھائی قابل خان کے دوست ہیں اورفائرنگ کرنے والے ہم ہی ہیں ۔
”بیٹھیں ۔“خوشحال نے ہاتھ کے اشارے سے ہمیں ایک خالی چارپائی پر بیٹھنے کا اشارہ کیا ۔ اور ہمارے بیٹھتے ہی مستفسرا ہوا ۔”آپ لوگ ہمارے علاقے میں کیوں فائرنگ کر رہے تھے ؟“میرے خیال میں چونکہ قبیل خان کے آدمی تلاشی لینے کے لیے وشلام گاﺅں میں نہیں آئے تھے اس لیے خوش حال خان کو اصل صورت حال معلوم نہیں تھی ۔بلکہ قبیل خان کے آدمی اگر وہاں آتے بھی، تو کسی نے انھیں گاﺅں کی تلاشی لینے کی اجازت نہیں دینا تھی ۔
”فائرنگ ہم نہیں قبیل خان کے آدمی کر رہے تھے ۔ہم نے تو اپنے بچاﺅ کے لیے جوابی فائرنگ کی ہے ۔“
اس نے معنی خیز لہجے میں پوچھا ۔”معاملہ کیا ہے ؟ دوسرا دن ہے قبیل خان وزیر کے آدمی آپس پاس کے علاقوں میں کسی کو ڈھونڈتے پھر رہے ہیں ۔بلکہ اب تو انھیں جہاندادخان کے لشکری کہا جائے گا۔“
”وہ قبیل خان کے قاتل کوتلاش کرتے پھر رہے ہیں ۔“
”تو آپ لوگوں پر انھوں نے غلطی سے گولیاں چلائی ہیں ؟“
میں اطمینان سے بولا ۔”نہیں ،خیرغلطی تو خیر نہیں کہہ سکتے کہ ہم دونوں ہی قبیل خان کے قاتل ہیں ۔“
”کیا ؟“اس بار اس کے لہجے میں حیرانی تھی ۔
”جی ہاں ۔اصل بات تو یہی ہے ۔“
”تو آپ لوگ یہاں کیا لینے آئے ہیں ؟“
”پناہ ۔“
اس نے فوراََ انکار کرتے ہوئے کہا۔”میں قبیل خان کے قاتلوں کو پناہ دے کر ایک نئی جنگ نہیں چھیڑ سکتا ۔اس لیے آپ لوگ کھانا وغیرہ کھاکر تشریف لے جائیں ۔“
”قبیل خان آپ کا بھی تو دشمن تھا ۔“پلوشہ نے پہلی مرتبہ زبان کھولی ۔
”بچے آپ ان باتوں کو رہنے دیں ،آپ کا بڑا بات کر رہا ہے ۔“پلوشہ کو کم سن لڑکا سمجھتے ہوئے خوشحال خان نے اس کی بات کو درخور اعتنا ءنہیں جانا تھا ۔“
”چلو یہی بات میں دہرائے دیتا ہوں ،دشمن کے دشمن تو دوست ہوتے ہیں نا ؟“
وہ مسکرایا ۔”تو میں نے کب آپ لوگوں کو دشمن سمجھا ہے ۔“
میرے کچھ کہنے سے پہلے بیٹھک کا صحن ۔”اسلام علیکم !“کی آواز سے گونج اٹھاتھا ۔آنے والا قابل خان تھا ۔وہی قابل خان جس کی جان ایک مرتبہ ہم دونوں نے بچائی تھی ۔صحن میں جلتی ٹیوب لائیٹس کی روشنی میں اس نے ہمیں پہچاننے میں دیر نہیں لگائی تھی ۔ وہ فوراََ۔”پہ خیر ....پہ خیر۔“ کہتے ہوئے ہاتھ پھیلاتے ہوئے ہماری جانب بڑھا ۔میں نے اٹھ کر اس سے معانقہ کرتے ہوئے اس کے کان میں سرگوشی کرتے ہوئے کہا ۔
”میرا ساتھی لڑکا نہیں ،لڑکی ہے ۔اس لیے اس سے ہاتھ وغیرہ ملانے سے گریز کرنا ۔“
وہ حیرانی سے بڑبڑایا ۔”عجیب بات ہے ،بہ ہرحال ٹھیک ہے ۔“
مجھ سے معانقہ کر کے وہ خوش حال خان کی طرف متوجہ ہوا ۔”بھائی جان !....اس دن انھی دو آدمیوں نے میری جان بچائی تھی ۔“یہ کہتے ہی وہ میرا ہاتھ تھام کر میرے ہمراہ ہی چارپائی پر بیٹھ گیا۔
”ہونہہ!....“خوش حال خان ایک گہرا سانس لیتے ہوئے حاضرین محفل کو مخاطب ہوا ۔ ”آپ لوگ تیاری کر کے اپنے پہاڑی مورچوں پر پہنچ جائیں ۔“گویا اس نے ہمیں پناہ دینے کا ارادہ کر لیا تھا ۔
ہمارے علاوہ وہاں بیٹھے تمام لوگ اثبات میں سر ہلا کر بیٹھک سے نکلنے لگے ۔
خوشحال خان ،قابل خان کو مخاطب ہوا ۔”آپ مہمانوں کو وقت دیں میں بھی اوپر جا رہا ہوں۔“
”آپ لوگ یقیناکھانا کھا کر ہی آرام کرنا پسند کریں گے ؟“قابل خان ہم سے مستفسر ہوا ۔
میں نے بلا تکلف کہا ۔”جی ہاں ،سخت بھوک لگی ہوئی ہے ۔“
”ٹھیک ہے میں کھانا لاتا ہوں ،پھر گپ شپ کرتے ہیں ۔وہ بھی بیٹھک سے باہرنکل گیا ۔
”یہ گھروں کو چھوڑ کر پہاڑوں پر چڑھنے کی منطق میری سمجھ سے بالاتر ہے ۔“قابل خان کے جاتے ہی میں پلوشہ کو مخاطب ہوا۔
”وزیروں اور محسودوں میں جب بھی جنگ ہوتی ہے وہ گاﺅں سے باہر نکل کر ہوتی ہے ۔ایک دوسرے کی عورتوں اور بچوں پر کوئی ہتھیار نہیں اٹھاتا ۔اب سارے مرد گاﺅں چھوڑ کر پہاڑوں پر پہنچ جائیں گے ۔اور پھر جب تک صلح کی بات چیت نہیں ہوتی فائرنگ ہوتی رہے گی ۔
میں نے پوچھا ۔”گویا جہانداد خان ہماری بازیابی کے لیے ضرور لڑائی کرے گا ؟“
”اگر اس نے لڑائی نہ چھیڑی تو یہ لوگ واپس گھروں میں آجائیں گے ۔لیکن ایک بات یقینی ہے کہ جب تک ہم یہاں ہیں یہ ہم پر کوئی حرف نہیں آنے دیں گے ۔البتہ تمام قتل ہوگئے تو علاحدہ بات ہے ۔“
میں نے پریشانی بھرے لہجے میں کہا ۔”ویسے یہ بہت غلط ہو گا اگر ہماری وجہ سے دو قبیلوں میں جنگ چھڑ جائے ۔“
”آپ فکر نہ کریں یہ یہاں معمول کی بات ہے ۔اور پھر وقتی طور پر یہاں پناہ لینا ہماری مجبوری تھی ورنہ جس انداز میں جہاندادنے ہمیں پکڑنے کے لیے اپنے لشکر کو تمام علاقے میں پھیلایا ہوا ہے مجھے ڈر تھا کہ ہم نے پکڑے جانا تھا ۔
”میں اثبات میں سر ہلا کر خاموش ہو گیا ۔
وہ میرا دایاں ہاتھ اپنے دونوں ہاتھوں کے بیچ میں لے کر سہلانے لگی ۔پر مشقت زندگی گزارنے کی وجہ سے اس کے ہاتھ عام عورتوں کی طرح ملائم تو نہیں تھے ،اس کے باجود اس کے ہاتھوں میں ایک کشش اور جادو چھپا تھا ۔ایک لمحہ خاموشی کے بعد اس نے محبوبانہ انداز میں پوچھا ۔
”قابل خان کو میرے لڑکی ہونے کے بارے بتلا رہے تھے ؟“
”ہاں ،کیونکہ میں نہیں چاہتا تھا کہ میرے بعد وہ تم سے بھی گلے ملنے لگ جائے ۔“
قریب کھسک کر میرے کندھے پر سر رکھتے ہوئے وہ ناز بھرے لہجے میں بولی ۔ ”ایک دم میرے بارے اتنا زیادہ حساس ہو گئے ہیں آپ ۔“
”اپنی چیز کے بارے حساس ہونا پڑتا ہے ۔“
”میں تو پہلے دن ہی سے آپ کی تھی ۔بس آپ ہی جان چھڑانے کی کوششوں میں تھے ۔“
”جان چھڑانا پڑتی ہے میری جان !....کسی لڑکی سے تعلق اس چیز کا نام نہیں ہے کہ بس اس کے خوب صورت بدن سے لذت کشید کی جائے ۔یہ تو مغربی اور مادر پدر آزاد معاشرے کی سوچ ہوتی ہے اسلام میں تو کسی لڑکی کو اپنانے کا فیصلہ کرنے کے بعد ایک مرد کواس عورت کی ہر ضرورت کا کفیل بننا پڑتا ہے ،اس کے دکھ درداپنانے پڑتے ہیں ،اس کا خیال رکھنا پڑتا ہے ، دنیا کے ہر سردو گرم سے اسے بچانا پڑتا ہے ،اسے تحفظ دینا پڑتا ہے ،زندگی گزارنے کی سہولیات دینا پڑتی ہیں ،دنیا کی ہر مصیبت کے سامنے سینہ تان کراسے پناہ پڑتی ہے ۔تب جا کر” آئی لو یو “جیسے مختصر سے فقرے کا حق ادا ہوتا ہے ۔مختصراََ یہ کہ کسی لڑکی کوشریک حیات بنانے کا مطلب ذمہ داریوں کے لیے اپنا دامن کشادہ کرنا ہوتا ہے ۔اور یہ اتنا آسان تو نہیں ہوتا۔“
وہ لاڈ بھرے لہجے میں پوچھنے لگی ۔”مجھ جیسی لڑکی کے حصول کے لیے بھی یہ ذمہ داریاں نہیں سنبھالی جا سکتیں ؟“
”سنبھال تو لی ہیں چندا۔“ایک ہاتھ اس کے کندھوں کے پیچھے سے لے جا کر میں نے اس کابازو پکڑتے ہوئے اسے مزید اپنے قریب کیا ۔
”راجو !....یونھی ہمیشہ میرے لاڈ اٹھاتے رہو گے نا ،میری ناز برداری کرتے رہو گے نا ،میرا خیال رکھتے رہو گے نا ،کسی کو مجھ سے زیادہ اہمیت تو نہیں دو گے نا ،میری غلطیوں کوہتاہیوں کو معاف کرتے رہو گے نا ؟بتاﺅ نا راجو!“اس نے بھی اپنی بانہیںمیرے گرد لپیٹ لی تھیں ۔
”ہاں ،راجے کی جان،جو قسم چاہے لے لو ۔“
”مرد کی زبان سے بڑی بھی کوئی قسم ہوتی ہے کیا ؟“خوشی سے سرشار لہجے میں کہتے ہوئے اس نے دوبارہ اپنا سرمیرے کندھے پر ٹیک دیا ۔اس وقت دروازے پر آہٹ ہوئی اور ہم جلدی سے سنبھل کر بیٹھ گئے ۔وہ قابل خان تھا کھانے کے برتن اٹھائے اندر آرہا تھا ۔
”معافی چاہتا ہوں ،فی الحال تو جو پکا تھا وہی لے آیا ہوں کل ان شاءاللہ خصوصی طور پر آپ کی مہمان نوازی کریں گے ۔“
چکن کری کا بھرا ڈونگہ دیکھتے ہوئے میں نے مسکرا کر کہا ۔”اس سے اچھا اور کیاکھلائیں گے بھائی ۔“
کھانے کے برتن ہمارے سامنے رکھتے ہوئے وہ وضاحت کرتا ہوا بولا ۔”یہ تو روزمرہ کا کھانا ہے دوست!....آپ نے بھوکے ہونے کی اطلاع دی ہے تبھی جلدی میں یہی اٹھالایا ورنہ مہمان کے لیے تو کچھ خصوصی ی پکایا جاتا ہے ۔“
”جزاک اللہ ۔“روٹی کا نوالہ توڑتے ہوئے میں نے خلوص دل سے کہا ۔
اس نے پانی کا بھرا جگ ہمارے قریب رکھتے ہوئے کہا ۔”آپ لوگ کھانا کھائیں میں چاے لاتا ہوں ۔“چونکہ میں نے اسے پلوشہ کے لڑکی ہونے کے بارے بتلا دیا تھا اسی وجہ سے وہ وہاں نہیں بیٹھنا چاہ رہا تھا ۔
میں نے کہا ۔”لیکن چاے دودھ والی لانا ۔“
”ٹھیک ہے ۔“کہتے ہوئے وہ بیٹھک سے نکل گیا ۔اور ہم کھانے پر ٹوٹ پڑے ۔ہمارے کھانے سے فارغ ہونے تک وہ چاے لے آیا تھا۔ہم بہ مشکل ہی چاے پی سکے تھے کہ سردارخوشحال خان دو دراز قامت محافظوں کے ساتھ بیٹھک میں داخل ہوا ۔
”قابل خان !....“اپنے مہمانوں کو اندرکمرے میں لے جاﺅ،جہانداد خان چند منٹ تک خود یہاں پہنچنے والا ہے ۔“
”جی بھائی!....“قابل خان سعادت مندی سے بولا ۔جبکہ میں اور پلوشہ اپنا سامان اٹھا کر خود بہ خود کمرے کی جانب بڑھ گئے تھے ۔قا بل خان نے زبردستی ہمارے ہاتھوں سے سامان تھاما اور آگے بڑھ کر کمرے کا دروازہ کھول دیا ۔
”آپ یہاں بیٹھیں اور خود اپنے کانوں سے دونوں سرداروں کی بات چیت سن لیں ۔“
میں نے کہا ۔”قابل خان !....کوئی ایسا طریقہ نہیں ہو سکتا کہ آپ ہمیں حفاظت سے کہیں اور منتقل کر دیں تاکہ دونوں قبیلوں کے درمیان خواہ مخواہ ہونے والاجھگڑا روکا جا سکے ۔“
قابل خان نے خفگی بھرے لہجے میں جواب دیا ۔”دوبارہ ایسا نہ کہنا بھائی !....اگر دونوں قبیلوں کے درمیان جھگڑا چھڑا بھی تو اس کی وجہ جہانداد خان ہو گا ۔اتنا تو اسے معلوم ہونا چاہیے کہ قبائلی اپنے مہمانوں کی حفاظت کرنا جانتے ہیں ۔“
”نہیں میرا مطلب یہ نہیں تھا ....“
”آپ ہر قسم کے مطلب کو رہنے دیں بھائی ۔“قابل خان نرمی سے مسکراتا ہوا باہر نکل گیا ۔
تھوڑی دیر بعد ہی جہانداد خان اپنے محافظوں کی معیت میں وہاں پہنچ گیا تھا ۔وہ ایک دراز قامت شخص تھا ۔لمبی گھنگریالی زلفیں اور گھنی مونچھوں نے اس کے چہرے کو کافی پر رعب بنا دیا تھا ۔اس کے محافظ بھی اسی کی طرح دراز قامت اور مضبوط جثے والے تھے ۔اس کے سر پر رکھی ہوئی سفید قراقلی ٹوپی اور کالی سیاہ واسکٹ اس کی وجاہت میں اضافہ کرتی تھی ۔وہ آمنے سامنے چارپائیوں پر بیٹھ گئے تھے ۔ گفتگو کی ابتدا جہانداد خان ہی نے کی تھی ۔قدوقامت کی طرح اس کی آواز بھی کافی بھاری اور پر رعب تھی۔
”خوشحال خان !....ہمارے دو مجرم وشلام گاﺅں میں چھپے ہوئے ہیں اور ہم انھی کو پکڑنے آئے ہیں ۔یقینا آپ اس ضمن میں ہم سے تعاون کریں گے ۔“
”جہانداد خان !....جب ایک قائلی سردار کسی کو پناہ دیا کرتا ہے تو وہ یہ نہیں دیکھتا کہ پناہ گزین مجرم ہے یا بے گناہ ۔وہ بس اپنے پاس مدد کی درخواست لے کر آنے والے شخص کی مدد کرتا ہے۔اور جہاں تک تعلق ہے ان افراد کو جو ابھی تھوڑی دیر پہلے یہاں پہنچے ہیں تو وہ پناہ گزین نہیں بلکہ میرے محسن ہیں اور محسنوں کی حفاظت کی جاتی ہے انھیں قتل نہیں کرایا جاتا ۔“
”وہ دونوں میرے بھائی قبیل خان کے قاتل ہیں اور دونوں قبائل کے درمیان ہونے والا امن معاہدہ اس بات کا متقاضی ہے کہ آپ ہمارے مجرموں کو پناہ نہ دیں ۔ایسی باتوں سے معاہدے ٹوٹ جایا کرتے ہیں اور میں نہیں چاہتا کہ ایسی چھوٹی سی بات پر ہمارا معاہدہ بھی باقی نہ رہ پائے ۔“ جہانداد خان کے لہجے میں ایک بڑے قبیلے کا سردار ہونے کا زعم ابل رہا تھا ۔اس کی باتوں کے پسِ پردہ واضح دھمکی شامل تھی کہ اگر خوشحال خان اس کے دشمنوں کو اس کے حوالے نہیں کرے گا تو وہ وشلام پر حملہ کر دے گا ۔
خوشحال خان ٹھہرے ہوئے لہجے میں بولا ۔”کیا امن معاہدے میں کوئی ایسی شق شامل تھی کہ کسی بھی آدمی کو پناہ دینے کے لیے ہم دوسرے قبیلے کی مرضی کے محتاج ہوں گے ۔یا اس سے پہلے علام خیل کا سردار کسی کو پناہ دینے سے پہلے مجھے مطلع کیا کرتا تھا ۔“
”بات کسی کو نہیں لالا قبیل خان کے قاتل کو پناہ دینے کی ہو رہی ہے ۔اور یقینا اگر ہم وشلام کے سردار کے قاتل کو پناہ دیتے تو آپ نے بھی ہم سے یہی مطالبہ کرنا تھا ۔“
”تو کیا آپ ہمارے مطالبے پر اپنے پاس پناہ گزین کسی شخص کو ہمارے حوالے کر دیتے ۔“ خوشحال خان کے لہجے میں طنز کی بو صاف محسوس کی جا سکتی تھی ۔
جہانداد خان نے بے پرواہی سے کہا ۔”کبھی ایسا موقع آیا تب دیکھا جائے گا ۔“
”جہانداد خان !....آپ علام خیل کے نئے سردار بنے ہیں کم از کم قبیل خان کے کیے گئے فیصلوں کو نہ بھولیں ۔زیادہ عرصہ نہیں گزرا،سال ڈیڑھ پہلے ہی سردار قبیل خان ہمارے ایک دشمن کو پناہ دے چکا ہے ۔بلکہ وہ شخص آج بھی آپ کا لشکری ہے ۔“
”ٹھیک ہے ،میں وہ آدمی آپ کے حوالے کرنے کو تیار ہوں آپ ہمارے دشمن ہمارے حوالے کریں ۔“جہانداد خان ہماری دشمنی میں اپنی قبائلی روایات کو پسِ پشت ڈالنے پر تیار ہو گیا تھا ۔
”یقینا آپ کا فیصلہ ایک قبائلی سردار کی شان کے خلاف ہے ۔ہم نے اپنے دشمن کا مطالبہ اسی لیے قبیل خان سے نہیں کیا تھا کہ وہ کسی بھی صورت ہمارے دشمن کو نہ لوٹاتا۔اور یادرکھنا جہانداد خان ،قبائلی سردار جب کسی کو پناہ دیتا ہے تو ہر سود وزیاں کو پسِ پشت ڈال کر دیتا ہے ۔ہم اپنے دشمن کی تاک میں ہیں جب بھی وہ علام خیل کی حدود سے باہر ہمیں ٹکرایا بچ نہیں پائے گا ۔اور یہی مشورہ میں آپ کو بھی دوں گا کہ آپ کے بھائی کے قاتل جب وشلام کی حدود سے نکل جائیں تب آپ ان کے ساتھ جو سلوک کرنا چاہیں ہم دخل اندازنہیں ہوں گے ۔“
”اس کا مطلب ہے آپ انکار کر رہے ہیں ؟“جہانداد خان نے تصدیق چاہنے کے انداز میں پوچھا ۔
”سردار جہانداد !....یقینا آپ کا یہ سوال ایک قبائلی سردار کی شان سے بعید ہے ۔“
جہانداد نے بگڑے ہوئے لہجے میں کہا ۔”خوشحال خان میں یہاں قبائلی سردار کی خصوصیات پر سبق پڑھنے نہیں آیا ،مجھے ہاں یا ناں میں جواب دیں ۔“
”میں جواب دے چکا ہوں ۔“خوشحال خان نے اس کے غصے کی ذرا بھر پروا نہیں کی تھی ۔
جہاندادنے غصے بھری نگاہ خوشحال خان پر ڈالی اور کھڑا ہوگیا ۔اس نے اپنے سامنے پڑے قہوے کی پیالی اور خشک میوہ جات کی ٹرے کو ہاتھ بھی نہیں لگایا تھا ۔چند لمحے اسے گھورنے کے بعد وہ غضب ناک لہجے میں بولا ۔
”خوشحال خان !....یاد رکھنا اس سب کے ذمہ دار آپ ہوں گے ۔“
خوشحال خان نے سلجھے ہوئے لہجے میں جواب دیا ۔”جہانداد خان ہر آدمی اپنے فعل کا جواب دہ خود ہی ہوتا ہے ۔میں صرف قبائلی روایات کا پاس رکھ رہا ہوںاور الحمداللہ میں اس بارے کسی بھی ثالث کا فیصلہ ماننے کو تیار ہوں ۔البتہ آپ کی طرف سے کسی بھی قسم کی کارروائی کا ردعمل ظاہر کرنا ہمارا بنیادی حق ہے اور اس کی ذمہ داری یقینا آپ پر ہو گی نہ کہ ہم پر ۔“
جہانداد خان نے مزید کوئی بات کیے بغیربیرونی دروازے کی جانب قدم بڑھا دیے ۔اس نے خوشحال خان سے الوداعی مصافحہ کرنے کی ضرورت بھی محسوس نہیں کی تھی ۔
”اب یہ یقینا وشلام پر حملہ کرے گا ۔“میں نے اپنے ساتھ سر جوڑے بیٹھی پلوشہ سے تصدیق چاہی جو اس ساری کارروائی کو دیکھ رہی تھی ۔جہانداد خان کے بیٹھک سے نکلتے ہی ہم دونوں پیچھے ہٹ کر چارپائی پر بیٹھ گئے ۔تھوڑی دیر بعد قابل خان اندر داخل ہوا ۔
”آپ لوگوں نے یقینا علام خیل کے نئے سردار کی گھٹیا باتیں سن لی ہوں گی ۔“
”ہونہہ!....“میں نے اثبات میں سر ہلایا۔پلوشہ البتہ خاموش بیٹھی رہی ۔
”آپ لوگ اب آرام کریں ۔ان شاءاللہ صبح ملاقات ہو گی۔“یہ الفاظ اس کے ہونٹوں پر تھے کہ کلاشن کوف کی تڑتڑاہٹ سنائی دی ۔کسی نے ٹریگر کو مکمل دبایا ہوا تھا ۔اور اس وقت تک دبائے رکھا جب تک کہ میگزین خالی نہیں ہو گئی ۔
میں نے سوالیہ نظروں سے قابل خان کی جانب دیکھا۔وہ چہرے پر دھیمی مسکراہٹ سجاتے ہوئے بولا۔”یہ جہانداد خان کی طرف سے اعلان جنگ تھا ۔“
جاری ہے
 

مجھے بیرٹ کا تھیلا کھولتے دیکھ کر قابل خان نے جلدی سے کہا ۔”ویسے سردار خوشحال خان کا مورچہ فائر کرنے کے لیے زیادہ مناسب رہے گا کہ وہاں سے چاروں جانب فائر کیا جا سکتا ہے ۔“
میں نے اثبات میں سر ہلاتے ہوئے پلوشہ کو کہا ۔”تیار ہو جاﺅ۔“اس نے ابھی تک منھ پھلایا ہوا تھا ۔مجھے کوئی دیے بغیر اس نے جلدی جلدی دونوں سلپنگ بیگ تھیلے میں ڈالے اور تھیلے کو مورچے سے باہر پتھر کی آڑ میں پھینک کر خود بھی سرعت سے مورچے سے باہر پتھر کی اڑ میں ہو گئی ۔اسی وقت ایک گولی سامنے والے پتھر سے ٹکرائی ۔گویا ان کے سنائپرز گھات میں تھے ۔
”راجو !....ابھی تک نہ آنا ۔“پتھر سے ٹکراتی ہوئی گولی اسے بھی نظر آ گئی تھی ۔میری جان خطرے میں دیکھتے ہوئے اس نے ناراضی ختم کرتے ایک لمحہ بھی نہیں لگایا تھا ۔
لیکن وہ یہ نہیں جانتی تھی کہ ایک سنائپر اگر گولی چلانا جانتا ہے تو اسے گولی سے بچنے کے بھی طریقے آتے ہیں ۔میں نے فوراََ ہلکی چادر کا گولہ بناکرکلاشن کوف کی بیرل پر لپیٹا، اس پر اپنی ٹوپی رکھی اور بیرل کو ذرا سا آڑ سے نکالا ۔اگلے ہی لمحے ایک گولی شوں کرتی ہوئی ٹوپی سے چند انچ اوپر سے گزر گئی ۔ وہ درمیانے درجے کا سنائپر تھا ورنہ گولی کو ٹوپی میں پیوست ہو جانا چاہیے تھا ۔گولی کے شوں کر کے گزرتے ہی میں چھلانگ لگا کر مورچے سے باہر نکلا ایک سیکنڈ کے وقفے میں پلوشہ کے پاس آڑ کے پیچھے ہو گیا ۔ میں جانتا تھا کہ رائفل کو کاک کرکے دوبارہ شست لینے میں سنائپر کو دو تین سیکنڈز لگ جانے ہیں ۔اس وجہ سے میں خوف کھائے بغیر یہ حرکت کر گزرا تھا ۔بیرٹ کا تھیلا میں نے پہلے سے پشت پر لادا ہوا تھا ۔سفید ٹوپی اپنے سر پر رکھ کر میں نے کلاشن کوف کی بیرل سے لپٹا کپڑا کھولنے لگا ۔
قابل خان نے تعریفی لہجے میں کہا ۔”ذیشان بھائی !....بہت اچھے انداز میں دھوکا دیا ہے دشمن کو ۔“
میں جواباََ بولا ۔”جنگ میں تو یہ دھوکا بازی چلتی رہتی ہے بھائی ۔“
مجھے بہ حفاظت آڑ میں پہنچتا دیکھ کر پلوشہ کے چہرے پر چھائے بے چینی کے آثار گہرے اطمینان میں ڈھل گئے تھے ۔اس جگہ سے خوشحال خان کے مورچے تک ہمیں ایک بڑی چٹان کی آڑ میسر تھی ۔ہم جھکے جھکے آگے بڑھنے لگے ۔خوشحال خان کا مورچہ واقعی ایک بہترین جگہ پر موجود تھا ۔وہ کافی پریشان نظر آ رہا تھا اوروائرلیس پر مسلسل اپنے آدمیوں کو مورچے میں دبکے رہنے کا حکم جاری کر رہا تھا ۔ وہاں پہنچتے ہی ہمیں معلوم ہوا کہ ایک اور آدمی سنائپر کی گولی کا شکا ر بن چکا تھا ۔مقتول کو سر میں گولی لگی تھی ۔
میں نے خوش حال کے مورچے میں پہنچتے ہی جلدی سے بیرٹ ایم 107کا تھیلا کھولا اوردوربین پلوشہ کی جانب بڑھا کر کہا ۔
”احتیاط سے جائزہ لو کہ دشمن کس کس جگہ تھوڑ بہت نظر آ رہا ہے ۔“اور خود رائفل کے پرزے جوڑنے لگا ۔رائفل جوڑتے ہی میں نے دس گولیوں والی میگزین لگا کر رائفل کاک کی اور اس کے پیچھے لیٹ کر پہلے شمال کی جانب دیکھا۔مگر اس طرف فاصلہ کم ہونے کی وجہ جہانداد کے آدمی آڑ میں تھے ۔ شمال کی سمت سے میں نے مشرق کی سمت شست تبدیل کی تو اچھی خاصی حرکت ہوتی نظر آ گئی۔ تین آدمی دو درختوں کے تنے کے عقب میں بیٹھے غالباََ دوپہر کا کھانا کھا رہے تھے ۔دونوں تنوں کے درمیان میں فٹ بھر کا فاصلہ تھا جس سے دو آدمیوں کے سر اور ایک کے کندھے کا تھوڑا سا حصہ نظر آ رہا تھا ۔آگے مورچے میں ایک آدمی پتھروں پر اپنی کہنی ٹیکے ہمارے جانب فائر کر رہا تھا ۔اس کا اوپری جسم بالکل میرے سامنے تھا ۔میں نے لیزر رینج فائینڈر سے فاصلہ ناپا وہ قریباََ بارہ سو میٹر دور تھے ۔میں ٹیلی سکوپ سائیٹ کی ایلی ویشن ناب کے ذریعے مطلوبہ رینج لگانے لگا ۔
پلوشہ ابھی تک شمال کی جانب کوئی حرکت ڈھونڈ رہی تھی ۔اچانک وہ مجھے مخاطب ہوئی ۔
”لگتا ہے درختوں کے اوپر ایک آدمی چھپا بیٹھا ہے ۔اس کا جسم تو نظر نہیں آرہا مگر ٹہنیوں کی حرکت سے پتا چلتا ہے کوئی موجود ہے ۔“
”ٹھیک ہے ،اس جگہ کو ذہن میں رکھ کر اور اہداف بھی تلاش کرو ۔“اسے کہہ کر میں قابل خان کی طرف متوجہ ہوا ۔
”قابل خان !....اگر دوربین پاس ہے تو ذرا اس طرف دیکھنا ۔“میں نے انھی دو موٹے تنے والے درختوں کی جاب اشارہ کیا جس کے عقب میں دشمن کھانا تناول فرما رہے تھے ۔
قابل خان نے کہا ۔”دوربین بھی ہے اور میں ان آدمیوں کو دیکھ بھی چکا ہوں ،لیکن فاصلہ کچھ زیادہ لگتا ہے ۔شاید وہاں تک گولی نہ پہنچے ۔“
”بس انھی کی جانب دیکھتے رہو ۔“قابل خان کو کہہ کر میں نے دائیں جانب بیٹھے آدمی کے سر پر شست باندھ لی ۔جس کے چہرے کی ایک طرف ہی نظر آرہی تھی ۔وہ شخص جو بالکل میری جانب رخ کیے بیٹھا تھا وہ ذرا آسان ہدف تھا اور اسے میں نے دوسری گولی کے لیے چنا تھا ۔دوتین سیکنڈ شست لے کر میں نے ٹریگر دبایا اور اس کے ساتھ ہی ایک سیکنڈ سے کم وقفے میں رائفل کو دوبارہ کاک کرتے ہوئے دوبارہ گولی داغ دی ۔پہلے والے کو گولی لگتے دیکھ کر قابل خان نے نعرہ لگایا ۔”وہ مارا ....“اس کے پہلے نعرے کی گونج ختم نہیں ہوئی تھی کہ دوسرے کی کھوپڑی میں بھی روشن دان کھل گیا تھا ۔
”دوسرا بھی گیا ۔“ قابل خان دوبارہ چہکا ۔
میں نے فوراََ اپنی شست اس جانب موڑی جہاں ایک آدمی کا اوپری دھڑ مورچے سے باہر نظر آ رہا تھا ۔میں ان کے سنبھلنے تک چند ایک کو جہنم رسید کر دینا چاہتا تھا ۔وہ اسی جانب متوجہ تھا جہاں دو آدمی میری گولی کا نشانہ بنے تھے ۔یقینا ان کے تیسرے ساتھی نے چیخ کر واویلا کیا تھا جو وہ اس طرف متوجہ ہوا تھا ۔لیکن احمق کی سمجھ میں یہ نہیں آیا تھا کہ خود آڑ میں ہو جاتا ۔بیرٹ ایم 107کی طاقتور گولی نے اسی پیچھے کی جانب اچھال دیا تھا ۔
اسی وقت کسی کی زور شور سے چیختی ہوئی آواز سنائی دی ۔وہ تمام کو آڑ میں ہونے کا کہہ رہا تھا ۔ میں نے حیرانی سے مڑ کر دیکھا ۔خوش حال خان نے ایک آئی کام بھی پاس رکھا ہوا تھا جس پر دشمن ایک دوسرے سے رابطہ رکھے ہوئے تھے ۔
”شاباش ذیشان بھائی !تین تو گئے کام سے ۔“قابل خان میری پیٹھ تھپکتے ہوئے بولا ۔ ”ویسے آپ کو بہت پہلے یہ رائفل استعمال کر نی چاہیے تھی ۔“
”پلو خان !....اب اس جگہ کی نشان دہی کرو ۔“بیرٹ کی بیرل کو شمال کی جانب موڑ کر میں پلوشہ کو مخاطب ہوا ۔چونکہ خوشحال خان کو ابھی تک میں نے پلوشہ کے لڑکی ہونے کی بابت نہیں بتایا تھا اس وجہ سے میں نے اسے بہ طور لڑکا ہی مخاطب کیا تھا ۔قابل خان کومیں پہلے ہی سے منع کر چکا تھا کہ وہ کسی دوسرے کو پلوشہ کی اصلیت سے آگاہ نہ کرے ۔کیونکہ میں نہیں چاہتا تھا کہ وہ لوگوں کی نگاہوں کا مرکز بنے ۔گو لڑکے کا روپ دھارنے کے باوجود اس کے نین نقش ایسے تھے کہ ہر آدمی بے اختیار اسے گھورنے لگتا ،لیکن اس کا لڑکی ہونا معلوم ہونے پر یقینا لوگوں کی دلچسپی اس میں اور بڑھ جانا تھی ۔
وہ مجھے مطلوبہ جگہ دکھانے لگی ۔وہاں تین درختوں کے تنے ایک ساتھ ملے ہوئے تھے اور ان کی ٹہنیوں نے مل کر ایک جال سا بنا دیا تھا ۔کسی بھی سنائپر کے لیے وہان مچان بنانا بالکل آسان تھا ۔میں نے بیرٹ کی طاقتور ٹیلی سکوپ سائیٹ سے اس درخت کا جائزہ لیا ٹہنیوں کا مصنوعی گھنا پن فورا ظاہر ہو گیا تھا ۔جب پلوشہ کو وہاں کسی آدمی کے چھپے ہونے کا شک ہو گیا تھا تو میرے جیسے باریک بین سنائپر کے لیے اسے دیکھنا کیا مشکل تھا۔جلد ہی مجھے اس کی رائفل کی ٹیلی سکوپ سائیٹ کی چمک دکھائی دے گئی تھی۔ وہ چونکہ شمال کی جانب موجود تھا اور سورج اس وقت تقریباََ میری پشت پر چمک رہا تھا اس وجہ سے اس کے ٹیلی سکوپ کے شیشے کی چمک مجھے آسانی سے نظر آ گئی تھی ۔ٹیلی سکوپ کے شیشے کو دیکھنے کے بعد میرے لیے سنائپر کے بقیہ جسم کا اندازہ لگانا کوئی مشکل نہیں تھا ۔دائیں ہاتھ سے فائر کرنے والے سنائپر کی داہنی آنکھ ہمیشہ آئی گلاس کے ساتھ لگی رہتی ہے ۔جبکہ بائیں آنکھ بند ہوتی ہے ۔اس کی کھوپڑی کا آنکھوں سے اوپر والا حصہ شیشے سے قریباََ تین چارانچ اوپر ہوتا ہے ۔اس درخت کا ہوائی فاصلہ بہ مشکل ساڑھے چھے سو گز تھا ۔بیرٹ ایم 107جیسی سنائپر رائفل کے بعد اس فاصلے کی اہمیت نہ ہونے کے برابر تھی ۔رینج لگا کر میں نے چمکتے شیشے سے ایک انچ اوپر شست لی ۔ٹریگر دباتے ہی اس درخت میں جیسے بھونچال آ گیا تھا زور سے تڑپتے ہوئے وہ سنائپر پیچھے کو گرا اور پھر اسی درخت سے الٹا لٹکنے لگا ۔بے چارے کا پاﺅں کہیں اوپر اٹک گیا تھا ۔میں نے اپنی شست وہیں باندھے رکھی کیونکہ اسے اتارنے کے لیے کسی نے تو آنا تھا ۔
ایک دم دشمن کی جانب سے ہتھیاروں کے دھانے کھل گئے ۔گولیاں جیسے بارش کی طرح برس رہی تھیں ۔میں اس فائر کا مقصد جانتا تھا ۔وہ فائرنگ کے زور میں اپنے سنائپر کی لاش اتارنا چاہتے تھے۔ میں گولیوں کے شور سے بے نیاز اسی لاش کی جانب متوجہ رہا ۔یوں بھی کلاشن کوف سے اتنے فاصلے پر کسی کو بھی شست لے کر نشانہ نہیں بنایا جا سکتا ۔البتہ اتفاقاََ کسی کو گولی لگ جانا ایک دوسری بات ہے۔ اس متعلق شاید میں پہلے بھی قارئین کو بتا چکا ہوںکہ ہر ہتھیار کی کارگر رینج اور وہ فاصلہ جہاں تک اس ہتھیار کی گولی نقصان پہنچا سکتی ہے یہ مختلف ہوتی ہے ۔وہ ہتھیار جن کے ساتھ ٹیلی سکوپ سائیٹ نہیں لگی ہوتی ان پر مکینکل سائیٹ سے فائر کیا جاتا ہے ۔اور ایسی حالت میں چھوٹے ہتھیاروں کی زیادہ سے زیادہ رینج تین سو میٹر ہوتی ہے ۔اس کا یہ مطلب نہیں کہ ان کہ گولی تین سو کے بعد کارگر نہیں رہتی ۔بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ تین سو میٹر تک ایک فائرر اس ہتھیا ر سے شست لے کر کسی ہدف کو نشانہ بنا سکتا ہے ۔ گولی بلاشبہ اس ہتھیار کی دو تین کلو میٹر تک کسی کی جان لے سکتی ہو ۔جیسے پاک آرمی میں استعمال ہونے والی مشہور رائفل جی تھری کی کارگر رینج تو تین سو میٹر ہے لیکن اس کی گولی ساڑھے تین کلو میٹر تک کسی کی بھی جان لے سکتی ہے ۔مکینکل سائیٹ ہر ہتھیار کا حصہ ہوتی ہے جو علاحدہ نہیںکی جا سکتی ۔البتہ جس وقت ٹیلی سکوپ سائیٹ یا نائیٹ ویژن سائیٹ استعمال ہو رہی ہو تب مکینکل سائیٹ استعمال نہیں ہوتی ۔ مکینکل سائیٹ پر سنائپر رائفل کا رینج بھی اصل رینج سے کم ہو کر تین سو رہ جاتا ہے ۔
ان کے لاش اتارنے کی بابت میرا اندازہ صحیح ثابت ہوا تھا ۔ایک آدمی نے درخت کے تنے کی آڑ لے کر اپنا ہاتھ آگے بڑھا کر لٹکتی ہوئی لاش تک رسائی حاصل کرنا چاہی مگر لاش اس سے دور تھی مجبوراََ ایک قدم آگے بڑھا کر اس نے لٹکتی لاش کے کندھوں سے تھام کر نیچے کی طرف جھٹکا دیا اور اس کے ساتھ ہی میں نے بھی ٹریگر دبادیا تھا ۔درخت سے لٹکتی لاش اور اسے نیچے اتارنے والا اکھٹے ہی نیچے گرے تھے۔ البتہ لاش اتارنے والے بے چارے کی قسمت میں چند لمحے تڑپنا باقی تھا ۔
اسی وقت آئی کام پر دشمن کے کسی کمانڈر کی چیختی ہوئی آواز آئی ۔”لاشوں کے قریب کوئی نہیں جائے گا ۔اور نہ کوئی بے وقوف آڑ سے سر باہر نکالے گا ۔جب سب کو معلوم ہے کہ وہ خبیث وہیں چھپا ہے تو بے احتیاطی نہ کرو۔“
”یہ خبیث کس کو کہہ رہا ہے ۔“قابل خان نے میرے قریب بیٹھ کر میری پیٹھ تھپکتے ہوئے پوچھا ۔
میں کھسیانی ہنسی سے بولا ۔”کیا پتا ؟“
”یقینا آپ وہی ایس ایس ہیں جس کی تعریف کافی ہفتوں سے سنتا آ رہا ہوں ،مگر یقین نہیں آتا تھا ۔آج اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا ۔“کافی دیر سے خاموش بیٹھے خوشحال خان نے تحسین آمیز لہجے میں کہا ۔
”سردار کیا اس کی گولیاں مل سکتی ہیں؟“میں نے تھیلے میں سے بیرٹ ایم 107کی ایک گولی نکال کر اس کی جانب بڑھائی ۔
گولی کو گھورتے ہوئے وہ پر خیال لہجے میں بولا ۔”ملنی تو چاہیں ۔“
میں نے دبے دے جوش سے پوچھا ۔”مگر کہاں سے ؟“
”وانہ میں ہوں گی ،نہیں تو افغانستان سے تو لازماََ مل جائیں گی ۔“
”پھر کیا فائدہ ۔“میرا جوش صابن کے جھاگ کی طرح بیٹھ گیا ۔
”فائدے سے آپ کی کیا مراد ہے ؟“قابل خان ہماری گفتگو میں مخل ہوا ۔
”آپ کو پہلے بھی بتایا ہے کہ اس کی گولیاں کم ہیں اور ہمیں مزید گولیوں کی ضرورت پڑے گی ورنہ اس رائفل کو اٹھائے پھرنا ایک بے کار وزن ہی تو ہے ۔“
”تو بھائی کہہ تو رہا ہے وانہ یا افغانستان سے مل جائیں گی ۔“
میں بے بسی سے ہنسا ۔”وہاں جائے گا کون ؟“
”وانہ تو ابھی ایک آدمی کو روانہ کردیتے ہیں ،اگر یہاں سے نہ ملیں تو کل سویرے کسی کو افغانستان بھیج دیں گے ۔“
”اور یہ جو چاروں طرف جہانداد خان کے آدمیوں نے گھیرا ڈالا ہوا ہے ؟“میں نے اسے اصل مسئلے کی طرف متوجہ کیا ۔
”دونوں قبیلے عورتوں بچوں اور بوڑھوں کو کچھ نہیں کہیں گے ۔ہمارے قیلے کے عمر رسیدہ مرد موٹر سائیکل پر بیٹھ کر آسانی سے وانہ یا کہیں اور جا سکتے ہیں ۔“
”بہت اچھا ....“میں نے اطمینان بھرے انداز میں سر ہلایا ۔”پھر کسی کو ابھی بھیج دو ۔“
”ٹھیک ہے لیکن گولی کا نمونہ بھیجنے کے بجائے آپ اس رائفل کا نام لکھ دیں ۔“
میں نے کوئلے سے ماچس کی ڈبی کی اندر ونی جانب بیرٹ ایم 107کا نام لکھ کر اس کی جانب بڑھا دیا ۔
”یہ میں خود کسی کو دے کر آتا ہوں ۔“ماچس کی ڈبی کا ٹکڑا جیب میں ڈال کر وہ مورچے سے نکل گیا ۔
پرشور فائرنگ ایک مرتبہ پھر اکا دکا فائر میں تبدل ہوگئی تھی ۔پلوشہ ہماری باتوں سے بے نیاز دوربین آنکھوں سے لگائے دشمن کی نقل حرکت پر نظر رکھے ہوئے تھی ۔میں نے بھی دوبارہ ٹیلی سکوپ سائیٹ کے عدسے پر آنکھ ٹکا دی ۔
پلوشہ نے مجھے مطلع کرتے ہوئے کہا ۔”دو آدمی ایک دم درختوں سے اتر کر نیچے پتھروں میں چھپ گئے ہیں ۔“
”اسی وقت بتانا تھا ۔“
”آپ سردار سے محو گفتگو تھے ۔جب تک آپ شست لیتے وہ غائب ہو چکے ہوتے ۔“
”یقینا وہ دونوں بھی سنائپر تھے اور اپنے ساتھی کا انجام دیکھنے کے بعد انھوں نے نیچے اترنے میں عافیت سمجھی ۔“
”ایس ایس کا نام بڑوںبڑوں کاپتّہ پانی کر دیتا ہے ۔“پلوشہ فخریہ انداز میں ہنسی ۔
”تمھیں تو کبھی ڈر نہیں لگا ۔“میں نے اپنی شست شمالی پہاڑی سے مشرقی پہاڑی پر منتقل کرتے ہوئے مزاحیہ لہجے میں کہا ۔
اس نے پیچھے مڑ کر خوشحال خان کو دیکھا جو اس وقت اپنے آدمیوں کو نئے احکام جاری کر رہا تھا۔ اسے مصروف دیکھ کر وہ میری جانب متوجہ ہوئی ۔
”مجھے اپنے راجو سے کیوں کر ڈر لگنے لگا ۔“میرے پیٹ میں انگلی چبھوتے ہوئے وہ لاڈ بھرے لہجے میں بولی ۔
میں نے شرارتی لہجے میں پوچھا ۔”جس وقت پھینٹی لگائی تھی اس وقت بھی ڈر نہیں لگا تھا ۔“
” ڈر نہیں لگا تھا بس غصہ آیا تھا ۔اور اس کے بعد اگر آپ سردار بھائی کے سامنے مجھے پٹائی کرنے کی وجہ بیان نہ کرتے تو شاید میں اسی رات آپ پر حملہ کر دیتی ۔“
”اور وجہ سن کر آپ نے مجھے معاف کر دیا ہیں نا ۔“ہم دونوں دبی زبان میں باتیں کر رہے تھے تاکہ خوشحال خان تک ہماری آواز نہ پہنچ جائے ۔مگر ہماری احتیاط بے کار تھی کیونکہ وہ مورچے کے دوسرے کونے میں بیٹھا ہر آدمی سے تازہ صورت حال پوچھ رہا تھا ۔سردار کا اپنا مورچہ اس پہاڑی کے تقریباََ درمیان میں تھا اور وہ کوئی چھوٹی سی پہاڑی نہیں تھی کافی پھیلی ہوئی اور وسیع پہاڑی تھی ۔اس سے پہلے بھی دو مرتبہ وہ قبیل خان کے قبیلے سے یہیں پر رہ کر جنگ لڑ چکے تھے ۔قبیل خان کے آدمیوں کا جسمانی حملہ روکنے کے لیے پہاڑی کے نچلے حصے میں بھی اس کے آدمی موجود تھے ۔مگر وہ ایسے مضبوط مورچوں میں تھے کہ نشیب میں ہونے کے باوجود دشمن کے فائر سے محفوظ تھے ۔خوشحال خان کے لشکر کے زخمی اور مرنے والے تمام آدمی بلندی کے مورچوں ہی پرنشانہ بنے تھے ۔نیچے والوں کو ایک فائدہ گھنے درختوں کا بھی حاصل تھا ۔اور گھنے درختوں ہی وجہ سے خوشحال خان نے آدمی نشیب میں رکھے تھے کہ ان درختوں کا فائدہ اٹھا کر دشمن آسانی سے اوپر تک پہنچ سکتا تھا ۔
”نہیں معاف نہیں کیا تھا فدا ہو گئی تھی ۔پلوشہ نے محبت سے لبریز لہجے میں جواب دیا ۔”یہ تو خیر میں پہلے سے جانتی تھی کہ میں خوب صورت ہوں ،لیکن یہ معلوم نہیں تھاکہ اتنی خوش قسمت بھی ہوں ۔“
”اپنی خوب صورتی کی بہت دعوے دار ہو ۔“
”اس میں شک ہی کیا ہے ۔“اس نے حسب سابق فخریہ لہجے میں کہا ۔اور دوربین دوبارہ آنکھوں سے لگا لی ۔وہ شمال کی طرف موجود پہاڑی میں دشمنوں کو کھوج رہی تھی اور میں مشرقی پہاڑی پر اپنی شست گاڑے ہوئے تھا ۔مشرقی پہاڑی کی بلندی سے ایک آدمی درختوں کی آڑ لے کر مجھے نیچے اترتا نظر آیا ۔میں نے اس کا فاصلہ ناپا ،وہ قریباََ ڈیڑھ کلومیٹر دور تھا ۔اترائی میں آنے کی وجہ سے اس کا فاصلہ کم ہو رہا تھا ۔مگر وہ بڑی احتیاط سے حرکت کر رہا تھا ۔ایلیویشن ناب کو مطلوبہ رینج پر گھما کر میں نے اسی پر شست باندھ لی ۔میں اس کی کسی غلطی کا منتظر تھا ۔جلد ہی اس نے مجھے یہ موقع دے دیا ۔ایک بڑے پتھر کی آڑ میں ہو کر اس نے اپنا سرپتھر سے اوپر نکالا اور ہماری پہاڑی کا جائزہ لینے لگا ۔اگر میری پہلے سے اس پر نظر نہ ہوتی تو یقینا اتنے فاصلے سے پتھر کی آڑ سے نکلا ہوا اس کا سر نہ دیکھ پاتا ۔میں نے سرعت سے اس کا فاصلہ دوبارہ ناپا اور مطلوبہ رینج لگا کر شست لیتے ہوئے ٹریگر دبا دیا ۔
”ٹھک۔“کی آواز سنتے ہی خوشحال خان نے کہا ۔”میرا خیال ایک اور اپنے سردار قبیل خان کے پاس پہنچ گیا ہے ۔“
”آپ کے اندازے کو کون غلط کہہ سکتا ہے سردار۔“
”یقین کرو آپ نے میرے دل سے اپنے مرنے والے آدمیوں کے غم کا بوجھ ہلکا کر دیا ہے ۔ اب مجھے اطمینان ہے کہ جہانداد ہی گھٹنے ٹیکے گا ۔اور ایک دودن کے اندر جرگہ بلانے کا سوچے گا ۔“
”آپ بس اس رائفل کی گولیوں کا بندوبست کریں باقی کا م مجھ پر چھوڑ دیں ۔“
”گولیاں امید ہے کل صبح تک پہنچ جائیں گی ۔نہیں تو اگلی صبح کو تو لازماََ پہنچیں گی ۔“
پلوشہ نے مجھے پکارا ۔”راجو !....حرکت نظر آ رہی ہے ۔“
”کس طرف ۔“میں فوراََ اس کی جانب متوجہ ہو گیا ۔
اس نے مطلوبہ درخت کی نشاندہی کی ۔وہ بھی مچان بنی ہوئی تھی اور اندر بیٹھے اناڑی سنائپر کے حرکت کرنے کی وجہ سے ٹہنیاں ہلنے لگی تھیں ۔گو اس علاقے میں پہاڑ ی بلندیوں پر عموماََ تیز ہوا چلتی رہتی ہے ،لیکن اس دن خوش قسمتی سے ہوا بالکل ساکن تھی ۔سات سو میٹر دور اس درخت پر شست سادھ کر میں چھپے ہوئے آدمی کی جگہ کا تعین کرنے لگا ۔
اتنے فاصلے سے گھنی جھاڑیوں کے اندر آدمی پہچان نہیں ہو سکتی ۔اور اگر وہ بے حس و حرکت بیٹھا رہتا تو یقینا میں اس کی جگہ کا تعین نہ کر سکتا ۔مگر انسان کی فطرت ہے کہ وہ مسلسل ساکن نہیں بیٹھ سکتا ۔ البتہ کسی سنائپر کو کڑی تربیت کی بھٹی سے گزار کر اس قابل بنایا جا سکتا ہے کہ وہ بے حس و حرکت کئی کئی گھنٹے گزار دے ۔چیونٹیوں اور دوسرے کیڑے مکوڑوں کے کاٹنے پر بھی حرکت نہ کرے اور نہ انھیں اپنے جسم سے دور جھٹکے ۔استاد راﺅ تصور صاحب تو اپنے ایک دوست سنائپر کا واقعہ سنایا کرتے کہ دشمن کے علاقے میں ایک بار انھیں دو مرتبہ بچھو نے ڈسا لیکن وہ اسی طرح بے حس و حرکت بیٹھے رہے ۔اور یہی خصوصیات ایک اچھے اور اناڑی سنائپر میں فرق کرتی ہیں ۔میرے ہدف، سنائپر سے بھی زیادہ دیر ساکن نہ بیٹھا رہا گیا اور اس نے پہلوتبدیل کر تے ہوئے حرکت کی ۔ساتھ ہی ہاتھ میں پکڑی رائفل کو نیچے رکھا تھا ۔اس کے ساتھ ہی میرے دماغ میں اس کی ساری جسمانی ہیئت کا خاکہ بن گیا تھا ۔اسی وقت پلوشہ نے مجھے دوبارہ آواز دی ۔
”راجو !....وہ پھر حرکت کر رہا ہے ۔“
”ہاں چندا !....بس اب اس کی زندگی کا آخر بار حرکت کرنا باقی رہ گیا ہے ۔“یہ کہتے ہی میں نے ٹریگر دبا دیا ۔“درخت کی شاخوں میں زور دار حرکت پیدا ہوئی اور منٹ بھر وہ حرکت قائم رہی ۔یقینا گولی اسے سر میں نہیں لگی تھی ورنہ وہ اتنی دیر نہ تڑپتا ۔آہستہ آہستہ درخت کی ٹہنیاں پر سکون ہوتی گئیں ۔ اس کا مچان یقینا اچھے طریقے سے بنایا گیا تھا کہ وہ نیچے نہیں گرا تھا ۔
”راجو !....اگر آپ کی باقی ساری خوبیوں کو نظر انداز کر دیا جائے تب بھی آپ کی نشانہ بازی کی صلاحیت مجھے دیوانہ بنانے کے لیے کافی ہے ۔“
”بچے !....ذیشان بھائی کے تو ہم بھی دیوانے ہو گئے ہیں ۔“جانے کس وقت خوشحال خان ہمارے پیچھے آکر دوربین آنکھوں سے لگائے اسی جانب دیکھ رہا تھا ۔شاید جس وقت مجھے پلوشہ نے ہدف کے بارے بتلایا تھا اسی وقت وہ اپنی گفتگو چھوڑ کر ہمارے قریب آگیا تھا ۔
پلوشہ نے اس کی بات کا کوئی جواب نہیں دیا تھا ۔وہ دوبارہ بولا ۔
”میرے حساب میں تو یہ ساتواں تھا ۔“
پلوشہ نے اس کی تائید کرتے ہوئے کہا ۔”آپ کا حساب بالکل درست ہے سردار!“
”ہمارے دو آدمی جان کی بازی ہارے ہیں ،دو کے مقابلے میں سات آدمی کوئی برا سودا نہیں ہے ۔“اس نے اطمینان بھرے انداز میں سر ہلایا۔
اچانک تڑتڑاہٹ کی خوف ناک آواز ابھری ،تین چار گولیاں ہمارے مورچے کی عقبی دیوار سے ٹکرائی تھیں ۔میرا دل دھک سے رہ گیا تھا ۔12.7ایم ایم گن کی تڑتڑاہٹ کو میں اچھی طرح سے جانتا تھا ۔ہوائی جہازوں اور ہیلی کاپٹروں کے خلاف استعمال کی جانے والی یہ گن جتنی تباہی پھیلا سکتی تھی اس بارے مجھے اچھی طرح معلوم تھا ۔تڑتڑاہٹ کی آواز سنتے ہی خوشحال خان بھی فوراََ بیٹھ گیا تھا ۔
”ایک نئی مصیبت آ گئی ۔“وہ بڑبڑایا۔
میں نے پوچھا ”آپ کے پاس12.7ایم ایم گن موجود نہیں ہے سردار!“
”فی الحال تو موجود نہیں ہے ،البتہ خریدنے کا ارادہ ضرور رکھتا ہوں ۔“
”ہونہہ !....“کہہ کر میں پلوشہ کی جانب متوجہ ہوا ۔”پلو خان !....اس گن کا مورچہ تلاش کرو۔“
اس نے فوراََ کہا ۔”اسی پر نظر رکھے ہوئے ہوں ۔“
اسی وقت گن ایک مرتبہ پھر گرجی ۔اس مرتبہ پہلے سے بھی لمبا برسٹ فائر کیا گیا تھا ۔ہم دونوں نے فوراََ اس کا مورچہ تلاش کر لیا تھا ۔12.7کی رینج کافی زیادہ تھی لیکن اس کی خامی یہ تھی کہ اس کو فائر کرنے والے کو اس کے پیچھے کھڑے ہو کر فائر کرنا پڑتا تھا ۔اور اس طرح فائر کرنے والے خود نشانہ بننے کا خطرہ موجود تھا ۔گن کی لمبی ٹانگوں کو اگر مکمل کھول کر بچھا دیا جاتا تو اس کا فائرر عقب میں بیٹھ کر یا لیٹ کر بھی فائر کر سکتا تھا لیکن اس طرح بھی فائرر کے لیے خطرہ بہ ہرحال موجود ہوتا ۔یوںبھی گن سے فائر کرتے ہوئے ضروری تھا کہ فائرر شست باندھ کر فائر کرے اور گن کو مختلف اہداف پر فائر کرنے کے لیے گھمانا پڑتا ایسی صورت میں مورچے کے ہول کو تھوڑا کھلا بنانا پڑتا اور ہول کا کھلا ہونا سنائپرز کو دعوت دینے والی بات تھی ۔میں نے فوراََ ہول پر شست باندھ لی تھی ۔گن قریباََ تیرہ سو میٹر کے فاصلے پر موجود تھی ۔ درختوں کے جھنڈ میں پتھروں کی ایک دیوار بنا کر اس کے پیچھے گن کو کھڑا کیا گیا تھا ۔بہ غور دیکھنے پر مجھے اس کے پیچھے کوئی بھی کھڑا نظر نہ آیا ۔جو بھی اس گن کے عقب میں موجود تھا یا تو وہ جلدی جلدی ٹریگر دبا کر بیٹھ جاتا ۔یا وہ بیٹھے بیٹھے ہی بغیر شست لیے ٹریگر دبا رہا تھا ۔گن کے دوبارہ گرجنے پر مجھے موخّرالذکر بات صحیح لگی کہ کوئی ہیولہ بھی گن کے پیچھے نظر نہیں آرہا تھا ۔
یہی بات پلوشہ نے بھی پوچھی ۔”راجو !....کوئی فائر کرنے والا تو نظر نہیں آ رہا ۔“
میں نے جواب دیا ۔”وہ بیٹھ کر بغیر شست لیے فائر کر رہا ہے ۔“
یہ معلوم ہونے کے بعد بھی میں اسی جانب نگران رہا کیونکہ مجھے معلوم تھا کہ مسلسل فائر کے بعد جونھی گن کی ایک میگزین خالی ہوتی فائرر لازماََ دوسری میگزین چڑھانے کے لیے تھوڑا سا اوپر ہوتا ۔
(12.7ایم ایم گن پر گولیوں کا بیلٹ چڑھا کر فائر کیا جاتا ہے ۔لیکن خود وہ بیلٹ میگزین میں رکھا ہوتا ہے )
جلد ہی مجھے اپنا اندازہ درست ہوتا نظر آیا ۔فائرنگ میں ذرا سا وقفہ آیا ۔کسی نے بیٹھے بیٹھے نئی میگزین گن کے ساتھ لگائی اور گولیوں کے بیلٹ کی پہلی گولی کو مخصوص جگہ پر رکھنے کے لیے اس نے ذرا ساسر اوپر کیا اور بیلٹ کو گن کے فیڈ ٹرے میں رکھنے کی حسرت دل میں لیے وہ پیچھے کو الٹ گیا ۔
میں نے فوراََ رائفل کو دوبارہ کاک کر کے اسی جگہ شست قائم کر لی ۔لیکن اس کے بعد کسی کو یہ بے وقوفی کرنے کا خیال نہ آیا ۔اب اسے سنائپرز کی ہٹ دھرمی کہیں یا ثابت قدمی کہ وہ اتنی جلدی کسی جگہ کی شست لینا نہیں چھوڑتے ۔میں بھی اسی جانب نگران رہا ۔دس پندرہ منٹ بعد پلوشہ نے مجھے ایک اور جانب متوجہ کیا ۔درخت کے عقب میں لیٹے ہوئے آدمی نے سر کا تھوڑا سا حصہ باہر نکال کر شاید کسی سے بات کی تھی ۔میرے شست لینے تک وہ دوبارہ درخت کے عقب میں ہو گیا تھا ۔ایک دو منٹ وہیں شست باندھے رکھنے کے بعد میں اپنی شست دوبارہ مورچے پر لے جا ہی رہا تھا اس نے دوبارہ سر باہر نکالا۔اس مرتبہ اس کا کندھوں تک جسم درخت کی آڑ سے باہر آیا تھا ۔آگے کو جھک کر وہ کوئی چیز اٹھا رہا تھا جو درخت سے تھوڑے فاصلے پر موجود مورچے سے اس کے ساتھی نے پھینکی تھی ۔مذکورہ چیز سگریٹ نسوار یا اسی قسم کی کوئی اور چیز ہو سکتی تھی ۔میں نے ٹریگر دبا کر موصوف کی جان اس لت سے چھڑادی ۔اب اسے نہ سگریٹ کی ضرورت تھی اور نسوار کی حاجت ۔وہ اسی طرح آدھا درخت کی آڑ سے باہر اور آدھا درخت کے پیچھے پڑا رہ گیاتھا۔
اس ساتھ ہی میں فوراََ اپنی شست 12.7ایم ایم کے مورچے پر لے گیا ۔آخری مقتول 12.7ایم کے مورچے سے پچاس ساٹھ گز کے فاصلے ہی پر ہوا تھا ۔اپنے ساتھی کو گولی لگتے دیکھ کر اس نے سوچا شاید میں کسی اور طرف مصروف ہوں اور اس موقع سے فائدہ اٹھا کر وہ گن کو لوڈ کر سکتا ہے ۔یہ غلطی بے چارے کو لے ڈوبی ۔
اسی وقت آئی کام سیٹ دشمن کے کسی کمانڈر کی طرف سے مجھے گندے گندے القابات سے یاد کرتے ہوئے اپنے تمام آدمیوں کو ہلکی سی حرکت سے بھی سختی سے منع کیا جانے لگا ۔
اس کی جھلائی ہوئی ،خوف زدہ اور چڑچڑی آواز سن کر خوشحال قہقہہ لگا کر ہنس پڑا تھا ۔
”ویسے اب مجھے یقین ہو گیا ہے کہ عددی برتری کے باوجود جہانداد خان کو اس لڑائی میں شکست ہو گی ،کیونکہ ہم پر حملہ کرنے کی جرّات وہ کر نہیں سکتا کہ میرے آدمی مورچوں میں تیار بیٹھے ہیں اور اس کے پاس ایس ایس جیسا کوئی نشانے باز موجود ہی نہیں کہ وہ ہمیں منھ توڑ جواب دے سکے ۔“
”ان شاءاللہ فتح ہماری ہی ہوگی خوشحال خان ۔“میں نے پتھر سے ٹیک لگاتے ہوئے آرام دی حالت بناتے ہوئے اعتماد سے کہا ۔پلوشہ البتہ اب تک شست لیے ہوئے تھی ۔
خوش حال کے آدمی وقتاََ فوقتاََ اکادکا فائر کر کے اپنے جاگنے کا ثبوت دے رہے تھے ۔دشمن کی طرف سے کبھی کبھی ایک دم پر شور فائرنگ شروع ہو جاتی اور کبھی کبھی بالکل خاموشی چھا جاتی ۔
گھنٹا بھر شمالی اور مشرقی اطراف میں دشمن کی حرکت دیکھنے کی کوشش کرنے کے بعد پلوشہ مورچے کے مخالف جانب آئی اور جنوب کی سمت دیکھنے لگی ۔جنوب کی جانب ان کے مورچے زیادہ فاصلے پر تھے ۔جنوب سے وہ مغرب کی سمت نگراں ہوئی اور دوتین منٹ بعد اس نے جوش بھرے انداز میں کہا ۔
”راجو !....ادھر آکر دیکھو نا ۔“
میں نے اس کے قریب ہوتے ہوئے پوچھا ۔”ایسی خاص چیز کیا مل گئی ہے ۔“
دوربین میری جانب بڑھا کر وہ مغرب کی جانب ایک اونچی ٹیکری کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بولی ۔”اس بلندی پر کھڑے آدمیوں کی طرف دیکھو ؟“
”میں نے مذکورہ سمت میں دیکھا ،طاقتور دوربین مجھے اس جگہ چار دراز قامت آدمی کھڑے نظر آئے ۔بالکل آگے کھڑے ہوئے آدمی کے سر سفید قراقلی ٹوپی اور سفید کپڑوں پر پہنی کالی سیاہ واسکٹ سے مجھے لگا وہ جہانداد خان ہے ۔اس کے عقب میں کھڑے تین لمبے تڑنگے محافظ جن کے سر پر پگڑیاں بندھی تھیں وہ بھی خیال کی تصدیق کر رہے تھے ۔اور یقینا پلوشہ نے بھی اسے پہچان لیا تھا ۔خوشحال خان بھی ہمارے کے قریب آکھڑا ہوا تھا ۔دوربین آنکھوں سے لگائے بغیر بولا۔
”آپ لوگ غالباََ جہانداد خان کی پہچان کر رہے ہو ۔“
”آپ کو کیسے پتا ؟“
”پچھلی لڑائی میں سردار قبیل خان نے بھی اسی جگہ اپنا ڈیرہ لگایا تھا ۔“
میں جانتا تھا کہ پلوشہ نے مجھے کیوں اس جانب متوجہ کیا تھا ۔میں نے فاصلہ ناپنے والا آلہ نکال کر فاصلہ ناپا وہ پچیس سو میٹر دور تھا ۔بیرٹ ایم 107کا مکمل رینج ساڑھے اٹھارہ سو تھا اس لحاظ سے وہ ساڑھے سات سو میٹر دور تھا ۔
آلہ واپس تھیلے میں ڈالتے ہوئے میں نے پلوشہ کی طرف دیکھ کر مایوسی بھرے انداز میں سر دائیں بائیں ہلا دیا ۔
”وہاں تک گولی نہیں جاتی ؟“اس نے زبان سے بھی تصدیق چاہنا ضروری سمجھا تھا ۔
”اس رائفل کی رینج ساڑھے اٹھارہ سو میٹر تک ہے اور وہ پچیس میٹر دور کھڑا ہے ۔“میں نے وضاحت کی ۔
”اگر آپ مغربی کنارے سے اسے نشانہ بنانے کی کوشش کریں تو پھر ؟“پلوشہ ہار ماننے کو تیار نہیں تھی ۔
اس کی بات میرے دل کو بھی لگی تھی ۔میں نے ایک بار پھر آلہ نکال کر جس پہاڑی پر ہم موجود تھے اس کے انتہائی مغربی کونے پر موجود ایک گھنے درخت کا فاصلہ ناپا ۔وہ فاصلہ تقریباََ دو سو چالیس میٹر تھا۔
”اگر ان گھنے درختوں پر مچان بنائی جائے تو شاید کوئی امید نکل آئے ۔“میں نے امکانی لہجے میں کہا ۔
”آپ کا مطلب ہے مغربی کونے میں موجود درختوں پر فائر کرنے کی جگہ بنا کر جہانداد خان کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے ۔“خوشحال خان نے ہماری گفتگو سے نتیجہ اخذ کرتے ہوئے جوش بھرے لہجے میں پوچھا ۔
”سو فیصد یقینی نہیں ہے ۔“
”کچھ امید تو موجود ہے نا ؟“وہ خاصا پرجوش تھا ۔
اس مرتبہ میں نے اثبات میں سر ہلادیا تھا ۔
اس نے فوراََ کہا ۔”بس ٹھیک ہے آج رات کو میں ان درختوں پر فائر کی جگہ بنوا دوں گا ۔“
”آپ کے آدمیوں سے تو وہ جگہ نہیں بنے گی ،مجھے خود ہی کوشش کرنا پڑے گی ۔“
”آپ کا ہاتھ ہی بٹا لیں گے ۔“خوشحال نے اضطراری انداز میں ہاتھ مروڑے ۔قبائل کی لڑائی میں کسی قبیلے کے سردار کا مرنا بہت بڑی بدبختی اورشرم کی علامت تھا ۔ایک قبیلے کی کے لیے اپنے سردار کی حفاظت نہ کر سکنا مرجانے کامقام تھا ۔
میں پتھریلی چٹان سے ٹیک لگا کر آرام کرنے لگا ۔ساری رات نیند نہ کرنے کی وجہ سے سستی جیسی محسوس ہو رہی تھی ۔میری آنکھیں بند ہو تی دیکھ کر پلوشہ نے فوراََ تھیلے سے دونوں سلپنگ بیگ نکال کر نیچے بچھائے اور مجھے ان پر لیٹنے کا اشارہ کیا ۔میرے ہونٹوں پر شکرگزارکی مسکراہٹ ابھری اور میں ان سلپنگ بیگز پر لیٹ گیا ۔ایک ہلکی چادر مجھے اوڑھا کر اس نے آہستہ سے میرا سر سہلایا اور دوبارہ مشرقی و شمالی جانب موجود دشمن کی طرف متوجہ ہو گئی ۔
آنکھیں بند کرتے ہوئے مجھے اس پر بے تحاشا پیار آ رہا تھا ۔وہ میرا بہت زیادہ خیال رکھنے لگی تھی ۔شادی ہونے سے پہلے ہی اس نے بیوی کی جگہ سنبھال لی تھی ۔میری چھوٹی موٹی ضرورتوں پر اس کی یوں نظر ہوتی کہ میں حیران رہ جاتا ۔چند دنوں کے اندر ہم نے صدیوں کا سفر طے کر لیا تھا ۔وہ میری ایسی مزاج آشنا بن گئی تھی کہ میرے چہرے سے ہویدا تاثرات سے بات کی تہہ تک پہنچ جاتی تھی ۔ میری سوچوں کی رو تھوڑاسا پیچھے کو چلی اور مجھے اس سے پہلی بار کا ملنا یاد آگیا ۔کتنی بے دردی سے میں نے اسے تشدد کا نشانہ بنایا تھا ۔اس وقت میں نے سوچا بھی نہیں تھا کہ جس لڑکی کو میں یوں ظالمانہ انداز میں زدو کوب کر رہا ہوں وہ مجھے اتنی پیاری ہو جائے گی کہ اس کی ہلکی سی تکلیف بھی مجھے گوارا نہیں ہو گی ۔نیند آنے تک میں اسی کی سوچوں میں کھویا رہا بلکہ سونے کے بعد بھی اس کی سوچیں میرے خوابوں کی زینت بنی رہیں۔
شام کی آذان کے ساتھ مجھے پلوشہ نے جگایا ۔وہ بہت خوش نظر آ رہی تھی ۔
”پتا ہے ،آپ کی رائفل سے تین گولیاں چلا کر میں نے بھی ایک آدمی مار گرایا ہے ۔“
”مطلب دو گولیاں ضائع کر دیں ۔“
”تو کیا آپ نے زندگی میں کوئی گولی ضائع نہیں کی ۔“اس نے منھ پھلا لیا تھا ۔
”بات تربیت کی نہیں ،عملی زندگی کی ہے ۔“سلپنگ بیگ سے نکل کر میں نے پانی کی بوتل اٹھائی اورمورچے کے ایک کونے میں وضو کرنے لگا ۔
”معذرت چاہتا ہوں ،آپ کی رائفل کو بغیر پوچھے ہاتھ لگا دیا ۔“خوشحال خان کی وجہ سے اس نے لڑکوں کے انداز میں بات کی تھی ۔
وضو کر کے میں نے شام کی نماز ادا کی اور اس کے پاس جا بیٹھا ۔
”دشمن کو گولی کس جگہ لگی تھی ؟“میں نے سنجیدہ لہجے میں پوچھا ۔
”آپ سے مطلب ۔“شاباش کی امید میں اس نے مجھے جگاتے ہی یہ خبر سنائی تھی اس لیے میری تنقید ا سے ہضم نہیں ہو ئی تھی ۔
میں نے ہلکی سی مسکراہٹ سے پوچھا ۔”اچھا میں اگر تمھاری تعریف کر دیتا تو تمھیں کیا مل جاتا۔“
وہ ترکی بہ ترکی بولی ۔”اگر آپ میری تعریف کر دیتے تو آپ کا کیا چلا جاتا ۔“
”اچھا ابھی کہہ دیتا ہوں ،شاباش پہلی بار تیسری گولی پر بندہ مار گرانا اتنا آسان نہیں ہوتا ۔“
”زہر لگ رہی ہے مجھے آپ کی تعریف ۔“جلے کٹے انداز میں کہتے ہوئے اس نے اٹھنے کی کوشش کی ۔
میں نے اسے بازو سے پکڑ کر واپس بٹھاتے ہوئے کہا ۔”یہ اتنی بڑی غلطی تو نہیں تھی جس کی اتنی بڑی سزا دی جا رہی ہے ۔“
نہ جانے میرے لہجے میں ایسی کون سے بات تھی کہ وہ کھل کھلا کر ہنس پڑی ۔”اتنی جلدی پریشان نہ ہوا کریں ۔آپ سے خفا ہونا میرے بس ہی میں نہیں ہے ۔“
میں نے دبی زبان میں کہا ۔”اور یہ جو میرے قریب سے اٹھ کر بھاگی جا رہی تھیں وہ ؟“
”لاڈ کر رہی تھی اپنے راجو سے ۔“میرا ہاتھ اپنے پیارے ہاتھوں میں تھام کر وہ سہلانے لگی ۔ قابل خان کھانا لے کر واپس پہنچ گیا تھا ۔خوشحال خان اسے دشمن کے گیارہ بندوں کی ہلاکت کی خوش خبری سنا رہا تھا ۔
”قبیل خان کے آدمی یونھی تو ایس ایس سے خوف زدہ نہیں تھے ، آخر کوئی بات تو تھی نا ۔“ قابل خان نے تحسین آمیز لہجے میں کہا ۔
کھانا کھانے کے دوران خوشحال خان نے قابل خان کو بتا دیا تھا کہ ہمارا کل کا پروگرام کیا ہے۔قابل خان خوش ہوتے ہوئے بولا۔
”اس کا مطلب ہے آپ لوگ لڑائی کے طول کھینچنے پر راضی نہیں ہیں ۔“
میں نے کہا ۔”ارادہ تو ایسا ہی ہے ،بس دعا کرو کہ وہ رینج میں آجائے ۔“
قابل خان نے ”سیدھی بات تو یہ ہے ذیشان بھائی، ہمیں آپ پر کچھ ایسا اعتماد اور یقین ہو گیا ہے کہ اگر وہ رینج میں نہ بھی آیا تب بھی آپ اسے مار گرائیں گے ۔“
”آپ کا حسن نظر ہے قابل خان ورنہ ناممکن کا وقوع کرامت کے زمرے میں آتا ہے اور کرامت کا ظہور اولیاءکرام کا خاصہ ہے ۔“
قابل خان فلسفیانہ لہجے میں بولا ۔”اہل فن اپنے میدان میں مہارت کا ثبوت دیتے رہا کرتے ہیں ۔“
”اہل فن ہوں کہ نہیں البتہ اپنا پورا زور لگاﺅں گا ۔“
اندھیرا گہرا ہوتے ہی ہم پہاڑ کے غربی حصے کی جانب چل پڑے تھے ۔آسمان پر بادل جمع ہو گئے تھے جس کی وجہ سے اندھیرا کچھ زیادہ ہی گہرا ہو گیا تھا ۔ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا چلنا شروع ہو گئی تھی ۔اس علاقے میں موسم عموماََ خراب ہی رہتا ہے ۔تیز ہوا، بادل ،بارش اور برف باری یہ اس علاقے کی خصوصیات میں سے ہے ۔بالکل مغربی کنارے پر دو انچے درخت مجھے مچان بنانے کے لیے بہتر لگے ۔ اونچے درختوں کا انتخاب میں نے فاصلے کو کم کرنے کے لیے کیا تھا ۔گو چند فٹ کا فاصلہ کوئی معنی نہیں رکھتا ، مگر میں کوئی بھی امکان نظر انداز نہیں کر سکتا تھا ۔ٹارچ کے اوپر کپڑا لپیٹ کر میں نے اس کی تیز روشنی کو مدہم کردیا تھا تاکہ اس کی روشنی دور تک نہ جا سکے ۔
ایک چھوٹی سی کلھاڑی اور چند رسیاں لے کر میں اکیلا ہی اوپر چڑھ گیا کہ یہ کام ان میں سے کوئی بھی مجھ سے بہتر نہیں کر سکتا تھا ۔مجھے دو گھنٹے اوپر ہی گزارنے پڑ گئے تھے ۔مچان بنا کر میں نیچے اتر ا قابل خان پلوشہ اور خوشحال خان اسی درخت کے نیچے ہی میرا انتظار کر رہے تھے ۔میرے نیچے اترتے ہی پلوشہ فکر مندی سے بولی ۔
”راجو !....جس درخت کا انتخاب آپ نے کیا ہے یہاں چھپاﺅ کا اتنا زیادہ انتظام نہیں ہے ، یہاں آپ دشمن کے سنائپر کا نشانہ بھی بن سکتے ہیں ۔“
”امکان تو ہے ۔“میں ہلکے سے مسکرایا ۔
اس نے دوٹوک لہجے میں کہا ۔”بس پھر آپ یہیں زمین سے فائر کرنا اوپر جانے کی کوئی ضرورت نہیں ۔“
”مگر ....؟“
”اگر مگر کی ضرورت نہیں اور واپس چلیں ۔“جھگڑالو بیویوں کے سے انداز میں کہتے ہوئے وہ مورچے کی جانب بڑھ گئی ۔میں بے بسی سے سر ہلا کر رہ گیا تھا ۔غصے میں اس نے ہمارا انتظار کرنے کی بھی زحمت نہیں کی تھی ۔
”ایک بات کہوں خفا تو نہیں ہوں گے ذیشان صاحب!“خوشحال دھیمے لہجے میں مستفسر ہوا ۔
”نہیں سردار !....آپ بے فکر ہو کر بات کریں ۔“میں اس کی طرف متوجہ ہوا ۔بالکل قریب ہونے کے باوجود اندھیرے میں اس کا ہلکا سا ہیولہ ہی نظر آ رہا تھا ۔
”آپ کے معاملے میں آپ کے دوست کی عادتیں بالکل لڑکیوں جیسی ہیں ۔“
”بھلا وہ کیسے ؟“میں اس کی بات پر حیران رہ گیا تھا ۔جبکہ قابل خان گلا کھنکار کر رہ گیا ۔
”کل سہ پہر کو آپ لیٹے تھے تو دو تین بار آپ کے اوپر چادر درست کی اور پھر میں مخابرے پر بات کر رہا تھا تو مجھے بھی کہنے لگا کہ ،سردار اگر محسوس نہ کرو تو آہستہ بات کرو کہیں وہ جاگ نہ جائے اور پھر ابھی دیکھو کیسے دو ٹوک الفاظ میں اپنا فیصلہ سنا کر چل دیا ۔اسے بتاﺅ بھئی ،لڑکوں کے یہ چلن نہیں ہوتے ۔“
”یہ بھی خوب کہی سردار !....“میں نے پلوشہ کے لڑکی ہونے کی بات مزید راز میں نہ رکھنے کا فیصلہ کرتے ہوئے کہا ۔”بہ ہر حال آپ کی اطلاع کے لیے عرض ہے کہ وہ میری منگیتر ہے ۔“
”کیا ؟“خوشحال خان حقیقی طور پر اچھل پڑا تھا ۔
”ہاں یہ سچ ہے اور اس بارے صرف قابل خان کو معلوم ہے ۔اب آپ سے بھی یہی درخواست ہے کہ اس بات کو اپنے تک ہی محدود رکھیں۔“
”مگر اسے لڑکوں کا روپ دھارنے کی ضرورت کیوں پیش آئی ۔“
”یہ لمبی کہانی ہے سردار !....پھر کبھی سہی ۔“
”ویسے آپ کو اسے یوں اپنے ساتھ خطروں میں نہیں گھسیٹنا چاہیے تھا ۔“
”اس بارے آپ قابل خان سے پتا کر لیں کہ یہاں تک آتے ہوئے ہمارے درمیان کتنی لڑائی ہوئی تھی۔وہ لڑنے مرنے پر اتر آئی تھی ۔“
”تو اسے اتنا سر پر نہ چڑھاﺅ نا ۔“خوشحال خان سنجیدہ لہجے میں مشورہ دیا ۔
میں نے بے بسی سے کہا ۔”یہ بات بھی میرے بس سے باہر ہے ۔“
”ٹھیک ہے پھر بھگتو ۔“خوشحال خان نے قہقہہ لگایا ،قابل خان نے اس کا ساتھ دیا تھا ۔ میرے ہونٹوں پر بھی پھیکی سی مسکراہٹ نمودار ہو گئی ۔ہلکی ہلکی بوندا باندی شروع ہونے کے ساتھ ہوا کی شدت میں بھی تھوڑی سی تیزی آ گئی تھی ۔
مورچے میں جاتے ہی سردار خوشحال نے قابل خان کو کہا ۔”ان دونوں کو بیٹھک میں لے جاﺅ، موسم کے تیور ٹھیک دکھائی نہیں دیتے ۔“
میں نے انکار میں سر ہلاتے ہوئے کہا ۔”یہ نہیں ہو سکتا سردار۔“
”آپ کو اپنی بہادری کا ثبوت دینے کے لیے بالکل بھی یہاں رہنے کی ضرورت نہیں ۔میں اچھی طرح جانتا ہوں آپ کتنے پانی میں ہیں ۔دو اکیلے آدمی اگر قبیل خان جیسے سردار سے ٹکرا کر اسے فنا کر سکتے ہیں تو ان حالات میں ان کے ڈرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ۔اور میں آپ کو کسی مقصد کی خاطر بھجوا رہا ہوں ،کل کا دن بہت اہم ہے اور میں نہیں چاہتا موسم کی وجہ سے آپ کی صحت تھوڑی سی بھی خراب ہو۔“اتنا کہہ کر وہ ہلکے سے ہنسا ۔” البتہ آپ کا دوست یہیں رات گزارنا چاہے تو مجھے اعتراض نہیں ہو گا۔“
”میں کیوں یہاں رات گزاروں گا۔“پلوشہ بگڑ کر بولی ۔”میں راجو کے ساتھ ہی جاﺅں گا یا ہم دونوں یہیں رہیں گے ۔“
”ایس ایس کو تو میں اس لیے بھیج رہا ہوں کہ کل اسے اہم کام سر انجام دینا ہے آپ کس خوشی میں جانا چاہتے ہیں ۔“خوشحال خان اسے تنگ کرنے پر تلا تھا ۔
”میں اپنے دوست کے ساتھ ہی رہوں گا ۔“
”آپ تو یوں بات کر رہے ہیں جیسے ذیشان سے آپ کا نکاح ہو گیا ہو ۔“
وہ تنک کر بولی ۔”نہیں ہوا تو ہو جائے گا ۔“
”یار !....آپ لڑکے ہو کر ایسی باتیں کر رہے ہیں ۔“
”میری مرضی اس میں کسی کوئی مسئلہ نہیں ہونا چاہیے ۔“مجھ سے دوری کا سن کر اس نے سارے اخلاقیات پس ِ پشت ڈال دیے تھے ۔
میں نے ہنستے ہوئے اسے ہاتھ سے پکڑ کر اپنی جانب کھینچا ۔”چندا !....سردار تمھیں تنگ کر رہا ہے ۔میں نے اسے تمھارے لڑکی ہونے کی بابت بتا دیا ہے اس لیے تمھیں چھیڑ رہا ہے ۔“
میری بات سنتے ہی ایک دم اسے چپ لگ گئی تھی ۔
خوشحال خان نے اس کے قریب ہو کر اس کے سر پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا ۔”جیتی رہو بیٹی ! تم جیسی بہادر اور دلیر لڑکیاں قال فخر ہوتی ہیں ،کاش تم محسود قوم سے ہوتیں ۔“
”شکریہ سردار چچا !“پلوشہ کی آواز میں ہلکی سی خفت موجود تھی ۔
”ٹھیک ہے آپ دونوں قابل خان کے ساتھ جاﺅ،میں کوشش کرتا ہوں کہ آدھے لوگوں کو آرام کرنے کے لیے گھروں میں بھیج دوں ،یہاں پر رات کے وقت اتنی نفری کی ضرورت نہیں پڑے گی۔“
میں نے اسے سختی سے منع کرتے ہوئے کہا ۔”سردار !....گستاخی معاف ،ایسا بھول کر بھی نہ کرنا ۔موسم دیکھ رہے ہیں آپ۔ایسے ہی موسم سے فائدہ اٹھا کر دشمن پیش قدمی کر سکتا ہے ۔آج ان کے گیارہ بارہ آدمی ہلاک ہوئے ہیں اور ان کا گھیرا اگر یونھی قائم رہا تو مزید بھی جائیں گے ۔ہمیں ان کے گھیراﺅ سے کوئی فرق نہیں پڑتا کیونکہ ہمیں کھانا پینا وقت پر مل رہا ہے ۔اب ایک ہی صورت رہ جاتی ہے کہ وہ اپنی عددی برتری کا فائدہ اٹھا کر حملہ کرے ۔اور حملہ کرنے کے لیے اس سے بہتر موسم ہو ہی نہیں سکتا ۔ اس لیے اگر روزانہ تھوڑے بہت آدمی آپ آرام کرنے کے لیے گھروں میں بھیجتے بھی ہیں تو آج ایسا نہ کریں۔“
قابل خان میری تائید کرتا ہوا بولا ۔”ایس ایس ٹھیک کہہ رہا ہے سردار بھائی !“وہ دونوں بھائی کبھی مجھے ایس ایس اور کبھی ذیشان کہہ کر مخاطب کرتے تھے ۔
خوشحال خان سوچ میں پڑ گیا ۔چند لمحوں بعد بولا ۔”ویسے مجھے لگتا تو نہیں کہ جہانداد خان اتنی جرّات کا مظاہرہ کرے گا ۔“
”سردار!.... اگر حملہ نہ ہوا اور آپ کے آدمیوں نے یہیں رات گزاری تو کوئی نقصان نہیں ہوگا ۔اور اگر حملہ ہو گیا اور آپ کے آدھے آدمی یہاں نہ ہوئے تو........“میں نے بات ادھوری چھوڑ دی تھی۔
”شاید آپ مجھے ڈرا رہے ہیں ،مگر میں ڈرنے والوں میں سے نہیں ۔“
”ڈرا نہیں رہا ،محتاط رہنے کا مشورہ دے رہا ہوں اور احتیاط کرناسمجھ داری ہوتی ہے نہ کہ بزدلی۔“
”اگر بالفرض انھوں نے حملے کی بابت سوچا بھی تو جونھی ہی وہ مخابرے پر حملے کا حکم دے گا ان کی آمد سے پہلے میں نے اپنے گھروں میں جانے والے آدمیوں کو واپس بلایا ہوگا ۔“
میں نے کہا ۔”ایسے حملوں میں راز داری برتی جاتی ہے سردار !....یہ بات وہ بھی اچھی طرح جانتے ہیں کہ ہمارے پاس ان کی باتیں سننے کے لیے آئی کام سیٹ موجود ہے ۔بالکل اس طرح جیسے ان کے پاس ہمارا کینوڈ سیٹ موجود ہو گا ۔“
”سردار !....ایسا ہے کہ آپ مہمانوں کے ساتھ گھر تشریف لے جائیں آج میں یہیں پر ہوں اور آپ کی غیر موجودی میں میرا ہی حکم چلے گا ۔“قابل خان نے اسے مخمصے میں پڑتے دیکھ کر مشورہ دیا ۔
”نہیں آپ جائیں ،میں سب سنبھال لوں گا ۔اور فکر نہ کرو میں کسی کو آرام کے لیے نہیں بھیج رہا۔“
”مجھے آپ پر بالکل بھی اعتبار نہیں ہے ۔اور یوں بھی گزشتہ رات میں نے گھر میں گزاری تھی آج آپ کا نمبر پڑ رہا ہے ۔“قابل خان یقینا اس سے کافی بے تکلف تھا ۔
اس مرتبہ خوشحال خان نے مزید بحث سے گریز کرتے ہوئے قدم ہمارے ساتھ بڑھا دیئے ۔ اپنے ہتھیار ہم نے اٹھا لیے تھے ۔میں نے بیرٹ کو بھی وہاں چھوڑنا گوارا نہیں کیا تھا ۔
خوشحال خان کے ساتھ گپیں کرتے ہوئے ہم نیچے اترنے لگے ۔گھنٹا بھر میں ہم بیٹھک میں پہنچ گئے تھے ۔بیٹھک کا دروازہ ہمارے لیے کھول کر اس نے پوچھا ۔”اگر کسی چیز کی ضرورت ہو تو بتاﺅ ۔“
ہمارے نفی میں سر ہلانے پر وہ واپس مڑ گیا ۔کمرے میں داخل ہوتے ہی میں نے سب سے پہلے بیرٹ کو تھیلے سے باہر نکالااور اس کی بیرل اور چال والے پرزے صاف کرنے لگا ۔اگر فائر کرنے کے بعد ہتھیار کو بروقت صاف نہ کیا جائے تو ہتھیار کی کارکردگی میں فرق آ سکتا ہے ۔اور اگر مسلسل ہی ہتھیار کی صفائی کو نظر انداز کر دیا جائے تو ہتھیار فائر کرنے کے قابل ہی نہیں رہتا ۔اور سنائپر حضرات تو ہتھیار کی صفائی کے بارے سخت قسم کے وہمی ہوتے ہیں ۔اپنا ہتھیار وہ اپنے ہاتھوں ہی سے صاف کرنا پسند کرتے ہیں ۔استاد محترم راﺅ تصور صاحب تو اگر کسی کے ہتھیار کو دوسرے آدمی کو صاف کرتے دیکھ لیتے تو صاحب ہتھیار کی کم بختی آجاتی ۔نصیحتوں اور طنزبھرے وعظ کے ساتھ اسے جسمانی سزا بھی کاٹنا پڑتی ۔ دو تین سنائپروں کا یہ انجام دیکھنے کے بعد راﺅ صاحب کی غیر موجودی میں بھی ہمیں یہ جرّات نہیں ہوتی تھی کہ اپنی رائفل کی صفائی کسی اور کے ذمہ لگائیں ۔راﺅ تصور صاحب تو رائفل کو ہماری شریک حیات اور عزت کہا کرتے تھے۔اور ان کی نصیحت بھری باتوں کے بعد عملی زندگی میں باقاعدہ قدم رکھنے کے بعد یہ چیز ہماری عادت ثانیہ بن گئی تھی ۔
مجھے رائفل کی صفائی کرتے دیکھ کر پلوشہ نے میرا ہاتھ بٹانا چاہا اورمیں نے اسے پیار سے منع کر دیا۔ ا ب یہ علاحدہ بات ہے کہ اس قسم کی باتوں کو وہ خاطر میں نہیں لایا کرتی تھی ۔میں نے زیادہ زور اس لیے بھی نہیں دیا کہ استاد محترم کے قول کے مطابق بیرٹ ایم 107اس کی سوکن ہی تو تھی ۔اور اگر وہ اپنی سوکن کی خدمت کر رہی تھی تو میرا منع کرنا جچتا نہیں تھا ۔میں نے ارادہ کر لیا تھا کہ دوبارہ استاد محترم راﺅتصور صاحب سے ملاقات ہونے پر ان سے یہ سوال ضرور پوچھوں گا کہ آیا ہماری رائفل کی صفائی ہماری اصل شریک حیات کر سکتی ہے یا نہیں ۔
رائفل کی صفائی کے بعد پلوشہ نے مختلف پرزوں کو جوڑنا سیکھا اور پھر ہم سونے کے لیے لیٹ گئے ۔چھت پر بارش کی بوندوں کے مسلسل گرنے پر ایک خوب صورت ساز سا بج رہا تھا ۔بستر پر لیٹے ہوئے اس نے میرے جانب رخ موڑا اور خواب ناک لہجے میں بولی ۔
”شانی !....کتنی پیاری لگتی ہے بارش جب کوئی پیارا اتنے قریب ہو ۔“
میں برجستہ بولا۔”قریب کہاں ہو اتنے دور تو لیٹی ہو ۔“
اس کے لبوں پر دل آویز تبسم نمودار ہوا ۔”تو کیا یہ کم ہے کہ نظر تو آرہی ہوں ۔اگر سردار چچا کے کہنے پر وہیں رک گئی ہوتی تو ساری رات آہیں بھرتے رہتے ۔“
میں شرارتی لہجے میں بولا۔”نہیں جی آرام سے سو گیا ہوتا ۔“
”اچھا ٹھیک ہے ۔“یہ کہتے ہوئے اس نے کروٹ بدلتے ہوئے رخ موڑ لیا ۔
”یہ کیا ؟“میں نے فوراََ احتجاجی لہجے میں پکارا ۔
”جب میری صورت دیکھے بغیر آپ کو آرام آجاتا ہے تو یونھی ہی سہی ۔“
”مجھے مجبور نہ کرو کہ میں اٹھ کر تمھاری چارپائی پر آجاﺅں ۔“میں نے اسے للکارتے ہوئے کہا اور اس نے مسکراتے ہوئے دوبارہ میری جانب رخ موڑ لیا ۔اسی طرح کی میٹھی نوک جھوک میں پتا ہی نہ چلا کس وقت اس کی آنکھیں بند ہو گئیں ۔دن کو اچھی خاصی نیند لینے کے باوجود میں بھی گہری نیند میں ڈوب گیا ۔
ہم دونوں کی آنکھ فائرنگ کی پرشور آواز سے کھلی تھی ۔ایک ساتھ سیکڑوں کلاشن کوفیں گرج رہی تھیں ۔چھت پر ہونے والی ٹپ ٹپ ابھی تک موسم کے خراب ہونے کا اعلان کر رہی تھی ۔یقینا جہانداد کے آدمیوں نے حملہ کر دیا تھا ۔
جاری ہے
 

پلوشہ نیند سے بوجھل آواز میں بولی ۔”راجو !....آپ کا اندزہ درست نکلا ،لگتا ہے جہانداد خان کے آدمیوں نے موسم کا فائدہ اٹھا کر حملہ کردیا ہے ۔“
”دو جمع دو چار کی طرح اس کا حملہ کرنا بنتا تھا ۔“
”کیا خیال ہے چلیں ؟“
”اگر اپنے آدمیوں کی گولی سے مرنے کا اتنا ہی شوق ہے تو چلے جاتے ہیں ۔“
”کیا مطلب ؟“اس نے حیرانی سے پوچھا ۔
”مطلب یہ کہ خوشحال خان کے آدمیوں کو باہر سے آنے والا ہر آدمی جہانداد خان کا آدمی ہی لگے گا۔“
”کہہ تو صحیح رہے ہیں ۔“اس نے میری ہاں میں ہاں ملائی ۔اور ہم بستروں میں لیٹے مسلسل ہوتی فائرنگ سنتے رہے ۔میں دعا کر رہا تھا کہ خوشحال خان کے آدمی سستی اور غفلت کا شکار نہ ہوئے ہوں۔ ایسا ہونے کی صورت میں انھیں بہت زیادہ نقصان پہنچتا ورنہ دوسری صورت میں جہانداد خان کی کمر ٹوٹ جاتی ۔بوندیں گرنے کی آواز میں تھوڑی تیزی آئی اور فائرنگ کی شدت میں کمی آنے لگی ۔ پندرہ بیس منٹ بعد مسلسل تڑتڑاہٹ کی جگہ اکا دکا ٹخ ٹخ نے لے لی تھی ۔میرے پاس کینوڈ تو موجود نہیں تھا البتہ آئی کام موجود تھا ۔وہی آن کرکے میں چینل تبدیل کرنے لگا ،مگر دشمن کی کوئی بات سن نہیں پایا تھا ۔ یقینا انھوں نے اپنے ریڈیو سیٹ بند کیے ہوئے تھے اور حملے کے لیے جہانداد خان نے زبانی طور ہی پر اپنے احکام جاری کیے تھے ۔ایسا کرنا اتنا مشکل بھی نہیں تھا ۔ایک مورچے سے دوسرے مورچے تک یہ بات پہنچانا اتنا مشکل بھی نہیں تھا ۔
فائرنگ کی شدت میں کمی آتے دیکھ کر ہم دوبارہ سو گئے تھے ۔
صبح سویرے ہمارے پاس آتے ہی خوشحال خان مجھ سے لپٹ گیا تھا ۔
”شاباش جوان !....آپ کے مشورے کی بہ دولت آج ہم سر خ رو ہیں ۔دشمن کوبیس پچیس لاشوں کا تحفہ لے کر پیچھے ہٹنا پڑا۔ہمارے دس آدمی معمولی زخمی ہیں ۔دو کی حالت تھوڑی تشویش ناک ہے لیکن امید ہے وہ دونوں بھی جانبر ہو جائیں گے ۔“
”ان شاءاللہ ۔“میں نے امید بھرے لہجے میں کہا ۔
”اچھا میں آپ کے لیے ناشتا لاتا ہوں ۔“وہ واپس مڑ گیا ۔
٭٭٭
ناشتا کر کے ہم اپنے سامان کے ساتھ مورچوں کی جانب چل پڑے ۔دشمن اپنے زخم چاٹ رہا تھا اس لیے گاہے گاہے ان کی جانب سے شدید فائرنگ شروع ہو جاتی ۔ کھسیانی بلی کھمبا نوچے والی کہاوت بالکل ان کے حسبِ حال لگ رہی تھی ۔درختوں اور پتھروں کی آڑ لیتے ہوئے ہم جلد ہی اوپر پہنچ گئے ۔سب سے پہلے ہم قابل خان سے ملے ۔میرے گلے لگتے ہوئے اس نے چہکتے ہوئے کہا ۔
”ذیشان بھائی !....آپ کے مشورے نے ہمیں بہت بڑی تباہی سے بچا دیا ہے ۔“
”تباہی سے بچانے والی اللہ پاک کی ذات ہے دوست ۔“
وہ عقیدت سے بولا ۔”ہاں مگر سبب تو آپ ہی بنے ہیں نا ۔“
میں نے کہا ۔”اچھا ذرا تفصیل ہی بتا دو ۔“
جواباََ اس نے جو کچھ کہا اس کا لبِ لباب یہی تھا کہ ہمارے جاتے ہی قابل خان نے ہر مورچے پر بہ ذات خود جا کر اپنے آدمیوں کو حملے کے بارے تیار رہنے کا حکم دیا ۔او ررات کو اڑھائی تین بجے جب جہانداد خان کے آدمی ٹولیوں کی صورت ان کے قریب آئے تو آگے سے خوش حال خان کے تمام آدمی تیار بیٹھے تھے ۔وہ موسم کی وجہ سے انھیں غافل سمجھ کر شکار کرنے آرہے تھے ۔انھوں نے شکاریوں ہی کا شکار کرنا شروع کر دیا ۔ان کے ایک دم فائر کھولنے پر پہلے تو وہ گھبرا کر پیچھے بھاگے اور پھر جوابی فائر شروع کر دیا ۔لیکن خوشحال خان کے تمام آدمی مورچوں میں محفوظ تھے ،جبکہ جہانداد کے آدمیوں کو پتھروں اور درختوں کی آڑ لینے کے لیے بھاگنا پڑ رہا تھا ۔ان کے کافی آدمی زخمی ہوئے اور بیس پچیس ہلاک ہوئے ۔یہ تعداد قابل خان اندازے سے بتا رہا تھا ۔ہلاکتوں کی تعداد اس سے زیادہ بھی ہو سکتی تھی۔اپنے آدمیوں کی لاشیں بھی وہ پیچھے نہیں لے جا پائے تھے ۔
اس تفصیل کے ساتھ اس نے مجھے یہ خوش خبری بھی سنا دی تھی کہ ان کا ایک آدمی وانہ سے بیرٹ ایم107کی سوگولیاں خرید کر لے آیا تھا ۔اسلحہ فروش کے پاس بس اتنی ہی گولیاں دستیاب تھیں ۔ بیرٹ ایم 107کی گولیاں کافی مہنگی تھیں لیکن اس بارے قابل خان نے کچھ کہنے کی ضرورت محسوس نہیں کی تھی ۔یوں بھی اسے اچھی طرح معلوم تھا کہ میں اس بات سے ناواقف نہیں ہوں گا ۔
ہماری آمد کے تھوڑی دیر بعد جہانداد خان کے کچھ آدمی ڈھلان سے اترتے دکھائی دیے ۔ اسی وقت ان کے نزدیکی دو مورچوں سے سفید جھنڈے بلند ہو گئے ۔وہ اپنے آدمیوں کی لاشیں اٹھانے آرہے تھے ۔قبائلی روایات کے مطابق خوشحال خان کے آدمی انھیں لاشیں اٹھانے سے نہیں روک سکتے تھے ۔گھنٹا ڈیڑھ نیچے گھوم کر انھوں نے اپنے ساتھیوں کی لاشوں کو اکٹھا کیا ۔ پھر لاشوں اور ان کے ہتھیاروں کو واپس لے گئے ۔اس دوران دونوں جانب سے فائرنگ رکی رہی ۔ان کی واپسی کے ساتھ سفید جھنڈے نیچے ہوئے اور دشمن کی طرف سے ایک برسٹ فائر کیا گیا جو جنگ کے دوبارہ شروع ہونے کا اعلان تھا ۔
سفید جھنڈے کے لہرانے تک ہم مچان والی جگہ پر پہنچ گئے تھے ۔پلوشہ کسی قیمت پر بھی میرے مچان پر چڑھنے پر راضی نہیں تھی ۔اس کی ضد دیکھتے ہوئے خوشحال خان اور قابل خان نے بھی اصرار نہیں کیا تھا ۔میں البتہ اسے کچھ دیر سمجھاتا رہا مگر جب وہ ہتھے ہی سے اکھڑ گئی تو مجھے بھی چپ سادھنا پڑی ۔میں مغربی جانب ایک جگہ دیکھنے لگا ۔وہاں سے جہانداد خان کے مورچے کا فاصلہ ناپنے پرتقریباََ 2300 میٹر نظر آیا ۔گویا بیرٹ ایم 107کی کارگر رینج سے بھی کافی زیادہ تھا ۔( یہاں قارئین کی معلومات کے لیے ایک بات بتاتا جاﺅں کہ سنائپر رائفل سے فائر کرنا کسی سائنس سے کم نہیں ہے ۔ جب بھی کوئی سنائپر نیچے سے بلندی کی طرف یا بلند مقام سے نیچے کی طرف فائر کرتا ہے تو وہ ہدف کی براہ راست پڑھی جانے والی رینج نہیں لگاتا بلکہ افقی رینج لگاتا ہے ۔اس مقصد کے لیے اسے ہدف چاہے وہ نیچے ہو یا اوپر اس کا زاویہ درکار ہوتا ہے کہ سنائپر سے ہدف کی بلندی یا گہرائی کا کتنا زاویہ بن رہا ہے ۔اور پھر اس زاویے اور فاصلے کو ایک مخصوص تناسب سے جمع تفریق کرنے سے مطلوبہ رینج معلوم ہوتی ہے )
اس وقت ہدف کا فاصلہ 2300میٹر تھا جب کہ ہدف ہم سے قریباََ35ڈگری بلندی تھا ۔ فارمولے کے مطابق وہاں مجھے 1875میٹر کا رینج لگانا چاہیے تھا ۔درخت پر بنی مچان پر یہ فاصلہ ساڑھے اٹھارہ سو میٹر تک ہو جاتا لیکن وہاں مجھے پلوشہ نہیں جانے دے رہی تھی ۔مجبوراََ وہیں سے فائر کرنا پڑ رہا تھا ۔ کامیابی کی امید کم ہی تھی لیکن دنیا امید پر قائم تھی ۔جہانداد خان ابھی تک وہاں پر دکھائی نہیں دے رہا تھا ،لیکن امید تھی کہ جلد ہی وہ میدان جنگ کا جائزہ لینے کے لیے وہاں آ موجود ہوتا ۔فاصلہ وغیرہ ناپ کر میں نے رائفل کے ساتھ ساری ضروری کارروائیاں کیں اور جہانداد کے انتظار کے لیے وہیں لیٹ گیا ۔قابل خان اور خوشحال خان وہیں بیٹھ گئے تھے ۔مچان پر چڑھنے کے لیے میری اور پلوشہ کی اچھی خاصی تکرار ہوئی تھی اس لیے ہم دونوں ایک دوسرے بات نہیں کر رہے تھے ۔عجیب بات تھی کہ جب سے ہمارے درمیان قول و قرار ہوئے تھے ہمارے جھگڑے بڑھ گئے تھے ۔لیکن ان جھگڑوں کی وجوہات میں ایک دوسرے کا خیال رکھنے کا جنون شامل تھا ۔گویا ہم دونوں ایک دوسرے پر ذرا بھر بھی آنچ آتی نہیں دیکھ سکتے تھے ۔وہ پلوشہ جو میری نظر میں ایک تربیت یافتہ کمانڈو سے کسی بھی طرح کم صلاحیتیں نہیں رکھتی تھی مجھے موم اور کانچ کی گڑیا دکھائی دینے لگی تھی جس نے ہلکی سی آنچ سے پگھل جانا تھا ۔یا ہلکی سی چوٹ جسے کئی ٹکڑوں میں بکھیر دیتی ۔اسی طرح میرے جیسا سنائپر پلوشہ کو ننھا بچہ لگ رہا تھا ۔قابل خان اور خوشحال خان جیسے جہاں دیدہ سرداروں سے میرے اور پلوشہ کا رویہ اوجھل نہیں تھا لیکن وہ محبت میں ہونے والے ایسے جھگڑوں سے واقف تھے اس لیے انھوں نہ تو ہمیں سمجھانے کی کوشش کی اور نہ ان جھگڑوں کو خاطر میں لاتے ہوئے ناک بھوں چڑھائی ۔
جہانداد خان کے انتظار میں ہم نے باقی اطراف کی حرکت کو بالکل نظر انداز کر دیا تھا ۔خوشحال خان کے آدمی بھی ایمونیشن کی بچت پر مائل نظر آرہے تھے ۔موسم صاف ہو گیا تھا اور سورج کی روشنی کچھ زیادہ ہی تیز لگ رہی تھی ۔ہوا البتہ کافی تیز چل رہی تھی ۔ہوا کی شدت میں مزید اضافہ ہوا ۔اسی وقت جہانداد خان بھی اپنے محافظوں کے ہمراہ اپنی مخصوص جگہ پر نمودار ہوا ۔
خوشحال نے مجھے اس کی آمد کی اطلاع دی لیکن میں نے نفی میں سر ہلاتے ہوئے کہا ۔
”پل پل سمت تبدیل کرتی ہوئی ہوا کی وجہ سے گولی چلانے کا مطلب گولی کو ضائع کرنا ہی ہوگا اور میں گولی ضائع کرنے کا عادی نہیں ہوں ۔“
خوشحال خان اثبات میں سر ہلا کر خاموش ہوگیا تھا ۔ہوا نے ایک بار پھر بادلوں کو اکھٹا کرنا شروع کر دیا تھا ۔جہانداد خان چند لمحے وہیں کھڑے ہو کر دوربین سے اطراف کا جائزہ لیتا رہا اور پھر پیچھے ہٹ گیا ۔بارہ بجے کے قریب ہلکی ہلکی بوندا باندی شروع ہو گئی تھی ۔میں نے رائفل کوپلاسٹک کے مخصوص کور سے ڈھانپ دیا ۔
تیز چلنے والی ہوا بادلوں کو اکٹھاکرنے کی ذمہ داری پوری کر کے آرام کرنے پر مائل نظر آ رہی تھی ۔اور پھر بادل زور سے گرجے اور ہوا ایک دم ساکن ہو گئی ۔بارش کے قطروں نے گرنے کی رفتار بڑھائی۔اسی وقت جہانداد خان ایک بار پھر اپنی مخصوص جگہ نمودار ہوا ۔اس کے ایک محافظ نے اس کے سر پر چھتری تانی ہوئی تھی ۔
”ذیشان بھائی !....“آنکھوں سے دوربین لگائے قابل خان نے مجھے آواز دی ،لیکن میں اس کے آواز دینے سے پہلے رائفل کی طرف بڑھ گیا تھا ۔پلوشہ نے فوراََ رائفل پر پڑا پلاسٹک کا کور لپیٹا اور میں رائفل کے پیچھے لیٹ گیا ۔رائفل پر ساڑھے اٹھارہ سو کی رینج لگی ہوئی تھی اگر میں روایتی شست لیتا تو گولی نے یقینا نیچے لگنا تھا کیونکہ ہدف بیس پچیس میٹر دور تھا ۔میں نے اپنے اندازے سے شست کو چند انچ اوپر اٹھا دیا ۔بادلوں کی وجہ سے سورج غائب تھا اور روشنی بالکل فائر کے موافق تھی ۔اسی طرح ہوا نے رضاکارانہ طور پر رک کر مجھے کامیاب ہونے کا موقع فراہم کر دیا تھا ۔اب بس جہانداد کی موت کے وقت کا تعین ہونا باقی تھا ۔اگر اس کے سانس پورے تھے تو میری مہارت کا ایک اور ثبوت سامنے آجاتا ۔اور اللہ پاک کے نزدیک اس کی زندگی کے دن باقی تھے تو میری مہارت ،سورج کی روشنی کی موافقت اور ہوا کا رکنا کسی کام نہیں آسکتا تھا۔
یوں بھی میں وہاں اپنے ملک کی حفاظت کی غرض سے لیٹا تھا ،امن دشمنوں کو نیست و نابود کرنے اور حق کا بول بالا کرنے کے لیے وہ تکلیفیں اور سختیاں برداشت کر رہا تھا ۔جبکہ جہانداد بدی کا نمائندہ تھا ۔ملک دشمن ہونے کے ساتھ وہ اسلام کا بھی دشمن تھا کہ اسلام کبھی بے گناہوں کے خون سے ہاتھ رنگنے کی اجازت نہیں دیتا ۔نہ اسلام نشہ آور اشیاءکے پھیلاﺅ کا کاروبار کرنے والے کو اچھا جانتا ہے ۔ اور سب سے بڑھ کر یہود و ہنود کے یار کو اسلام انھی کے انجام کی خوش خبری سناتا ہے ۔
رائفل پہلے سے کاک تھی ،رینج لگی ہوئی تھی ۔دوپائی اچھی طرح زمین میں گڑی تھی ۔بس شست لے کر ٹریگر دبانے کی دیر تھی ۔اپنے سارے تجربے کو بروے کار لاتے ہوئے میں نے سانس روکا اور ایک دم ٹریگر کو مکمل طور پر دبا دیا ۔”ٹھک۔“کی آواز کے ساتھ میرے کندھے نے بیرٹ ایم 107کے بٹ کا دوستانہ دھکا محسوس کیا ۔یہ دھکا مجھے ایک پیار بھری تھپکی کی طرح محسوس ہوتا تھا ۔اس کے ساتھ ہی میں نے آنکھیں بند کر کے اپنا سر بیرٹ کے بٹ پر ٹیک دیا تھا ۔
کامیابی کی نوید مجھے خوشحال خان اور قابل خان کے نعروں سے ملی ۔خوشحال خان نے۔ ”قربان شم جوانا۔“اور قابل خان نے ۔”ایس ایس زندہ باد ۔“کی صدا بلند کی تھی ۔جبکہ پلوشہ ان دونوں کی پروا کیے بغیر مجھ سے لپٹتے ہوئے میرے چہرے کو گرم ہونٹوں سے داغنے لگی ۔
قابل خان نے زور سے گلا کھنکار کر گویا پلوشہ تک اپنا با ضابطہ احتجاج پہنچا دیا تھا لیکن وہ پلوشہ ہی کیا جو کسی کو درخور اعتنا ءسمجھے ۔فورسیزن ہوٹل کی چھت پر یہودی برین ویلز کو کامیا بی سے نشانہ بناتے وقت جینیفر نے بھی اسی طرح محبت کا اظہار کیا تھا ۔لیکن اس وقت ہم نے فوری طور پر وہ جگہ چھوڑنا تھی اس لیے وہ جلد ہی پیچھے ہو گئی تھی اس کے برعکس پلوشہ کو کوئی جلدی نہیں تھی ۔
”چندا !....بس کرو ۔“پیار بھرے لہجے میں کہتے ہوئے میں نے اس کے ماتھے پر مہر محبت ثبت کی اور اسے آہستہ سے پیچھے کر دیا ۔جس جگہ ہم موجود تھے وہاں ہمارے عقب اور مشرقی جانب کافی گھنی جھاڑیاں موجود تھیں جبکہ سامنے اور مغربی جانب سے دشمن کی گولی وہاں تک آنے کا امکان نہیں تھا ۔ اس لیے میں بے دھڑک کھڑا ہوگیا ۔خوشحال خان نے آگے بڑھ کر میرے ہاتھ چوم لیے تھے ۔جبکہ قابل خان مجھے اپنے بازوﺅں کے گھیرے میں لے کر میری پیٹھ تھپتھپانے لگا ۔
اچانک آئی کام سے دشمن کے کسی کمانڈر کی چیختی ہوئی آواز برآمد ہوئی وہ تمام لوگوں جہانداد خان کی ہلاکت کی خبر سنانے کے ساتھ حملے کے لیے تیار ہونے کا حکم دے رہا تھا ۔اس کی بات سنتے ہی خوشحال خان فوراََ اپنے آدمیوں کو چوکنا کرنے لگا ۔
”تمام لوگ سن لیں ،جہانداد خان کو ہم نے قتل کر دیا ہے اور اب دشمن حملہ کرنے آرہا ہے ،یاد رکھنا آج موقع ہے ۔ دشمن کی تعداد میں خاطر خواہ کمی کر کے اس کی عددی برتری کے غرور کو ختم کر دو ۔“
وقفے وقفے سے ۔”ہم تیار ہیں ....ہم تیار ہیں ....“کی آوازیں سیٹ سے ابھرنے لگی تھیں۔
بارش تیز ہوگئی تھی ۔پلوشہ بیرٹ کو کھول کر اس کے واٹر پروف تھیلے میں منتقل کر چکی تھی ۔ ہمارا باقی سامان یوں بھی خوشحال خان کے مورچہ میں پڑا تھا ۔ہم درختوں کی آڑ لیتے اس مورچے کی طرف بڑھ گئے ۔پلوشہ نے رائفل کے تھیلے کو اٹھانا چاہا مگر میں نے زبردستی اس سے لے لیا تھا ۔مرد کی موجودی میں عورت کا سامان اٹھانا وزیرستان کی ثقافت ہو سکتی تھی ہماری نہیں ۔وہ بھی جھگڑا کیے بغیر اپنی کلاشن کوف سنبھال کر میرے آگے چل پڑی ۔خوشحال خان اور قابل خان اس سے بھی آگے تھے ۔اسی وقت بارش میں مزید تیزی آئی موسلا دھار بارش نے ہمیں ایک منٹ میں بھگو دیا تھا ۔اپنی کلاشن کوف میں نے الٹی کر کے اپنے کندھے سے لٹکا لی تھی ۔موسم کی مناسبت سے تمام نے اپنے ہتھیاروں کے لیے مضبوط پلاسٹک کے کور ساتھ رکھے ہوئے تھے ۔
کھلے کپڑے بھیگ کر پلوشہ کے بدن سے چپک گئے تھے ۔کپڑوں کے اندر اس کے جسم کے چھپے مخصوص زاویے اور قوسین ایک دم ظاہر ہو گئی تھیں ۔اس کا خیال شاید اس جانب نہیں گیا تھا کہ وہ یوں بے فکری سے چل رہی تھی ۔
”پلوشے !“میں نے اسے آواز دے کر روکا ۔
وہ رکتے ہوئے میری جانب مڑی ۔میں نے فوراََ اپنے گلے سے لپٹی ہلکی چادر اتار کر اسے اوڑھا دی ۔
”کتنا خیال کرتے ہواپنی چیز کا ہے نا ؟“اس نے شرارتی انداز میں مجھے چھیڑا ۔لیکن شرارت کے ساتھ اس کے لہجے میں بے پناہ محبت بھی ابل رہی تھی ۔
”ہاں ۔“میں نے تائیدی انداز میں سر ہلایا ۔”قیمتی چیزوں کی حفاظت مالک کو کرنا پڑتی ہے۔“
”راجو !....اگر میں کہوں کہ میں آپ سے محبت کرتی ہوں تو آپ کا جواب کیا ہو گا ؟“
میں ہنسا ۔”اچھا ابھی تک اقرار کی گنجائش موجود تھی ۔“
”اقرار کی گنجائش ہمیشہ رہتی ہے ۔جس آدمی سے محبت ہو جائے اسے فوراََ بتا دینا چاہیے ۔“
”تو کیا یہ محبت آج ہوئی ؟“اس کے دونوں بازووں سے پکڑ کر میں نے اس کا رخ اپنی جانب موڑا ۔
”نہیں ا ب تو لگتا ہے ہمیشہ سے تھی ۔“وہ جذب کے عالم میں کہنے لگی ۔”شاید اس وقت سے جب میں بالغ ہوئی ،شاید اس وقت سے جب مجھے پتا چلا کہ میں لڑکی ہوں ،شاید اس وقت جب میں نے باتیں کرنا شروع کیا تھا ،شاید اس وقت جب میں پیدا ہوئی یا شاید اس وقت جب میں پیدا بھی نہیں ہوئی تھی ۔“
ایک دم مجھے اس کی شدید محبت سے خوف آنے لگا ۔میں نے فوراََ موضوع تبدیل کرتے ہوئے کہا ۔” پتا ہے میری ساری زندگی مچانوں میں گزری ہے آج تم نے خواہ مخواہ کی ضد کر کے مجھے مچان پر چڑھنے نہیں دیا ،اس کی وجہ سے میرا نشانہ خطا بھی ہو سکتا تھا ۔“
”خطا ہوا تو نہیں نا ۔“اس نے منھ بنایا ۔”اور پھر یہ بھی تو دیکھو نیچے فائر کرنے کی وجہ سے تمھیں کتنا فائدہ پہنچا ۔“
”فائدہ کون سا ؟“اس کی جانب حیرانی سے دیکھتے ہوئے میں دو تین گھنے درختوں کے نیچے رک گیا تھا ۔
وہ ناز سے بولی ۔”میں نے آپ کو اتنا ڈھیر سارا پیار کیا ،کیا یہ کم فائدہ تھا ؟“
”تو کیا مچان سے اترتے وقت تم مجھے پیار نہ کرتیں ۔“
”آپ کے نیچے اترنے تک وہ وقتی جوش ختم ہو گیا ہوتا اور میرے بوسے اتنے بھی فالتو نہیں ہیں کہ خواہ مخواہ لٹاتی پھروں ۔“
”فکر نہ کرو ،جلد ہی ان بوسوں کا میں قانونی حق دار ٹھہروں گا اس وقت پوچھوں گا ۔“
اس نے حسرت بھرے لہجے میں کہا ۔”پتا نہیں کب وہ دن آئے گا ۔راجو!....آپ سردار چاچا کو کہہ کر مجھ سے نکاح کے دو بول پڑھوا کیوں نہیں لیتے ۔جب یہ بات یقینی ہے کہ آپ نے مجھے اپنانا ہے اور میں نے بھی اس معاملے میں کسی کی پروا نہیں کرنی پھر انتظار کس بات کا ۔“
”کیونکہ میں چاہتا ہوں اپنے خوابوں کی شہزادی کو شہزادیوں کی سی شان سے بیاہ کر گھر میں لاﺅں ۔“
وہ مجھے تنگ کرتے ہوئے بولی ۔”ایک غریب فوجی کے پاس اتنی طاقت کہاں کہ اپنے خوابوں کی شہزادی کو شہزادیوں کی سی شان و شوکت مہیا کر سکے ۔مجھے تو لگتا ہے امی جان نے جو مطالبہ رکھا اسے پورا کرنے کے لیے بھی آپ چند سال کی مہلت نہ مانگ لیں ۔“
گو میں اس وقت اسے کہہ سکتا تھا کہ میرے پاس اس کی توقع سے زیادہ رقم موجود تھی ۔پچاس لاکھ کے بہ قدر رقم تو مجھے امریکہ میں سنائپر کورس میں پہلی پوزیشن حاصل کرنے پر انعام میں ملی تھی ۔اور اس کے علاوہ میری اپنی تمام تنخواہ بھی میرے اکاﺅنٹ میں جاتی تھی ۔گھر کا خرچ تو ہماری آبائی زمین جو ابو جان نے ٹھیکے پر دے رکھی تھی اسی سے پورا ہو جاتا تھا ۔گھر میں کھانے والے صرف دو افراد ہی تو تھے ۔ پہلے ماہین اور ابوجان تھے ،ا ب پھوپھو جان اور ابو جان ۔لیکن یہ تفصیل دہرانے کے بہ جائے میں بولا ۔
”اگر ایسی بات تھی تو کسی دولت والے سے محبت کرنا تھی نا ،ایک غریب فوجی کے پیچھے کیوں پڑ گئی ہو ۔“
”بس کیا کروں یار !....جب امیر نہ ملے تو غریب پر ہی اکتفا کرنا پڑتا ہے ۔“
”پلوشہ !....تم یہ سب مذاق میں کہہ رہی ہو ،مگر مجھے بالکل بھی اچھا نہیں لگ رہا ،یہ نہ ہو مجھ سے دو تین تھپڑ کھا بیٹھو ۔“
مجھ سے تھوڑا سا فاصلہ پیدا کرتے ہوئے اس نے قہقہہ لگایا ۔”مذاق تو خیر نہیں ہے ۔“
”اچھا ،ٹھہرو بتاتا ہوں ۔“میں جارہانہ انداز میں اس کی جانب بڑھا اور وہ کھل کھلاتے ہوئے بھاگ پڑی ۔
اچانک فائرنگ کے تیز شور میں بارش کی ٹپ ٹپ دب گئی ۔مجھے یاد آیا کہ دشمن کے کمانڈر نے حملے کا عندیہ دے دیا تھا ۔اور پلوشہ سے باتیں کرتے ہوئے یہ بات میرے ذہن سے نکل گئی تھی ۔ لیکن مجھے محسوس ہورہا تھا کہ فائرنگ دور دور ہی سے ہورہی تھی شاید وہ ابھی تک حملے کے لیے آگے نہیں بڑھے تھے ۔12.7ایم ایم گن کا گرجنا سب سے واضح تھا ۔
”پلوشہ !....ادھر آجاﺅ ۔“میں نے گھبرا کر اسے آواز دی ۔اس طرح پرشور اور دھڑدھڑا فائرنگ میں گولی بھولی بھٹکی گولی اس کا مزاج بھی پوچھ سکتی تھی ۔
میری گھبراہٹ بھری چیخ سنتے ہی وہ رکی اور بھاگ کر میرے پاس واپس آ گئی ۔
”اتنے پریشان کیوں ہو جاتے ہیں آپ ؟“قریب آتے ہی اس نے میرا ہاتھ پکڑتے ہوئے نرمی سے ڈانٹا۔
میں فکر مندی سے بولا۔”گولیاں چلنے کی آواز پہنچ رہی ہے تمھارے کانوں تک؟“
”ہاں ، ،لیکن ان میں میرے راجو جیسا کوئی بھی نہیں کہ مجھے ڈرنے کی ضرورت پڑے۔“
”بے وقوف ان موسلا دھار چلنے والی گولیوں میں کوئی گولی بھی غلطی سے لگ سکتی ہے ۔“میں اسے ساتھ لے کر دو درختوں کے موٹے تنوں اور پتھریلی چٹان کے درمیان بیٹھ گیا تھا ۔اوپر درخت کی گھنی شاخوں کی وجہ سے وہاں بارش بھی اتنی زیادہ نہیں لگ رہی تھی ۔
”مجھے اگر گولی لگے کی تو ان دعاﺅں کا کیا ہوگاجو میرا راجو ہر وقت میرے لیے مانگتا رہتا ہے۔“میرے ساتھ جڑ کر بیٹھتے ہوئے اس نے اعتماد بھرے لہجے میں کہا ۔
میں اسے کوئی جواب دیے بغیر اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے محسوس کرتا رہا ۔سخت بارش کے ساتھ شدید فائرنگ بھی ہورہی تھی ۔میری طرح خوشحال خان کے آدمی بھی جانتے تھے کہ دشمن کھسیانی بلی کی طرح کھمبا نوچ رہا ہے ۔وہ ان کے آگے بڑھنے کے منتظر بیٹھے تھے ۔لیکن دشمنوں میں سے کوئی آگے نہ بڑھا ۔دن کا کھانا ہم نے نہیں کھایا تھا ۔سہ پہر کو جب بارش ہلکی ہلکی بوندا باندی میں تبدیل ہو گئی تھی اور دشمنوں نے اپنا کافی ایمونیشن ہوا میں پھونکنے کے بعد چپ سادھ لی تھی قابل خان ہمیں ڈھونڈتا ہوا وہاں آنکلا ۔گیلے کپڑوں میں مجھے سردی محسوس ہورہی تھی ۔پلوشہ کا بدن بھی بالکل ٹھنڈا ہو رہا تھا ۔
”ذیشان بھائی !....چلو بیٹھک میں چلتے ہیں ۔“
”ہم نے کل رات بھی بیٹھک میں گزاری تھی میرا خیال ہے آج ہمارا نمبریہیں پڑ رہا ہے ۔“ میں نے واجبی سا انکار کیا ۔
وہ مزاحیہ لہجے میں بولا ۔”نہیں ،میری چھوٹی بہن یہاں بیمار ہو جائے گی اور چونکہ وہ اکیلی جانے پر تیار نہیں ہو گی اس لیے میں نے سوچا آپ کو ساتھ لیتا جاﺅں ۔“
”کیا خیال ہے ؟“میں نے اپنے ساتھ جڑی بیٹھی پلوشہ سے پوچھا ۔
”جہاں آپ رہیں گے پلوشہ نے بھی وہیں رہنا ہے ۔“
”تو چلو پھر ۔“میں اٹھ کھڑا ہوا ۔قابل خان ہمارا بقیہ سامان ساتھ ہی لے آیا تھا ۔ہم قابل خان کی معیت میں چل پڑے ۔ہمیں بیٹھک میں چھوڑ کر قابل خان گھر سے میرے لیے اپنے کپڑوں کا جوڑا اور پلوشہ کے لیے خوشحال خان کی نوجوان بیٹی کے کپڑوں کا جوڑا اٹھا لایا تھا ۔
”میں نے لڑکیوں والے کپڑے نہیں پہننے ۔“پلوشہ نے انکار میں سر ہلایا۔
میں نے کہا ۔”صبح تک آپ کے کپڑے خشک ہو جائیں گے دوبارہ اپنے کپڑے پہن لینا ۔ رات گزارنے کے لیے تو یہ پہن لو نا ۔“
”آپ کو بڑا شوق ہے مجھے زنانہ لباس میں دیکھنے کا ۔“منھ بناتے ہوئے اس نے قابل خان سے وہ کپڑے لے لیے ۔
اس کا انداز دیکھتے ہوئے قابل خان ہنستا ہوا باہر نکل گیا ۔کمرے کا دروازہ کنڈی کرتے ہوئے وہ بولی ۔
””اچھا میں کپڑے تبدیل کر رہی ہوں ۔“اس نے مجھے مطلع کرتے ہوئے گویا رخ پھیرنے کا کہا تھا ۔
”کرو نا ۔“اس کی طرف پیٹھ موڑ کر میں بھی کپڑے تبدیل کرنے لگا ۔شلوار تبدیل کرنے کے لیے میں نے چادر کا سہارا لیا تھا ۔
”کر لیے ۔“اس کی شرمیلی سی آواز نے مجھے پیچھے مڑنے کا مژدہ سنایا ۔
کالی سیاہ قمیص جس کے سامنے سفید دھاگے سے خوب صورت آبگینے ٹنگے تھے ۔سر پر اسی رنگ کا کڑھائی کیا ہوا ودپٹا اوڑھے وہ مجھے کوئی اور پلوشہ نظر آئی ۔میرا دل یوں دھک دھک کرنے لگا جیسے سینے کا پنجرہ توڑ کر باہر آ گرے گا ۔میں مبہوت ہو کر اسے دیکھنے لگا ۔
اس نے شرماتے ہوئے نظریں جھکائیں اور پھر آہستہ سے بولی ۔”کہیں نظر ہی نہ لگا دینا ۔“
”میں بے خودی میں چلتا ہوا اس کے قریب پہنچا اور پھر اس کی ٹھوڑی کے نیچے ہاتھ رکھ کر اس کا چہرہ اوپر کرتے ہوئے بولا ۔
”اتنا پیارا نہیں لگا کرتے چندا !“
شوخ اور شرمیلی آنکھوں سے مجھے گھورتے ہوئے وہ آہستہ سے بولی ۔”جھوٹا۔“
”کس طرح یقین دلاﺅں ؟“میں نے وارفتگی سے پوچھا ۔
اس نے پلکوں کی چلمن گراتے ہوئے کہا ۔”آپ کی آنکھوں نے یقین دلا دیا ہے ۔“
دروازے پر ہونے والی دستک نے مجھے اپنی غیر ہوتی حالت کو سنبھالنے کا آسرا دیا اور میں کنڈی کھولنے دروازے کی طرف بڑھ گیا ۔قابل خان کھانے کے برتن لیے کھڑا تھا ۔
”شام کی آذان سے پہلے ہی لے آئے ۔“
وہ وضاحت کرتے ہوئے بولا۔”میں نے سوچا دن کو بھی کھانا نہیں کھاسکے تو یقینا اس وقت بھوک لگی ہو گی ۔“
”بھوک تو لگی ہے ۔“میں نے اقرار میں سر ہلایا۔اسی وقت اس کی نظر پلوشہ پر پڑی ۔
”ماشاءاللہ ان کپڑوں میں تو میری چھوٹی بہن بہت پیاری لگ رہی ہے ۔“کھانے کے برتن لکڑی کی میز پر رکھ کر قبال خان نے آگے بڑھ کر پلوشہ کے سر پر ہاتھ رکھ دیا ۔
وہ شرما کر نیچے دیکھنے لگی ۔ہر وقت لڑکوں والے کپڑے پہننے والی کو یقینا ان کپڑوں میں خود کو عجیب سا محسوس کر رہی تھی ۔گو وہ جیسا بھی محسوس کر رہی تھی پر میں اپنی نظروں پر اختیار کھو چکا تھا ۔کھانے کے دوران بھی میں مسلسل اسی کو گھورتا رہا ۔قابل خان کھانا رکھ کر واپس چلا گیا تھا ۔میری وارفتگی دیکھتے ہوئے وہ چاہت بھرے لہجے میں بولی ۔”شانی !....آپ کو کہا تو ہے کہ جلدی سے نکاح پڑھوا لو ،پھر جیسے کپڑے پہناﺅ گے پہن کر آپ کی پیاسی آنکھوں کو سیراب کرتی رہوں گی ۔“
”تو نکاح سے پہلے میرا کہا نہیں مانوگی ؟“
”ہزار بار مانوں گی ۔میری یہ جرّات کہ اپنے راجو کی خواہش کو ٹالوں ۔“کھانے کا نوالہ میرے منھ کی جانب بڑھاتے ہوئے اس نے سرِ تسلیم خم کیا ۔
”تو بس ٹھیک ہے کل تم اسی لباس میں رہو گی ۔“
”ٹھیک ہے ،کوئی اور حکم ؟“وہ فوراََ مان گئی تھی ۔
ہمارے کھانا کھانے تک قابل خان چاے لے آیا تھا ۔
”ویسے آج رات بھی خطرہ تو کافی ہوگا ۔“چاے کی پیالی میری جانب بڑھاتے ہوئے اس نے مشورہ چاہا۔
”مجھے تو نہیں لگتا ۔“میں نے نفی میں سرہلایا۔”ان کی کمر ٹوٹ چکی ہے ۔گزشتہ رات کی لاشیں وہ ابھی تک نہیں دفنا پائے ہوں گے یقینا اپنامزید نقصان کرنا وہ پسند نہیں کریں گے ۔“
قابل خا ن نے کہا ۔”بھول گئے ،جہانداد خان کے قتل ہوتے ہی ان کے کمانڈر نے حملہ کا حکم اسی وقت دے دیا تھا ۔ا ب یہ معلوم نہیں کہ انھوں نے حملہ کیا کیوں نہیں ۔شاید اندھیرا ہونے کے منتظر ہوں ۔“
”وہ ایک وقتی اشتعال تھا ۔حکم دینے والے کمانڈر کو جب دوسروں نے حقائق سے آگاہ کیا ہو گا تو اسے دوبارہ ایسا کہنے کی جرّات نہیں ہوئی ہو گی ۔“
”کہہ تو آپ ٹھیک رہے ہیں ۔“وہ پر سوچ انداز میں گردن ہلانے لگا ۔
میں نے کہا ۔”لگتا یہی ہے کہ ا ب وہ دوتین دن سے زیادہ نہیں ٹکیں گے ۔“
٭٭٭
اگلی صبح ہم ناشتے وغیرہ سے فارغ ہو کر میدانِ جنگ میں جانے کی تیاری کر رہے تھے جب خوشحال خان بیٹھک میں داخل ہوا ۔اس کے عقب میں قابل خان اور چند اور معززین بھی موجود تھے ۔
پلوشہ کو کمرے ہی میں چھوڑ کر میں باہر نکلا ۔تمام میرے ساتھ مصافحہ کرکے صحن میں بچھی چارپائیوں پر بیٹھ گئے تھے ۔ان چہروں پر چھائی سنجیدگی کسی نئے مسئلے کا اعلان کر رہی تھی ۔
”سردار !....خیر تو ہے ؟“میں نے بیٹھتے ہی پوچھا ۔
خوشحال خان کے بہ جائے قابل خان نے جواب دیا ۔”صنوبر خان نے جرگہ بلوا لیا ہے ۔“
”صنوبر خان غالباََ....؟“میں نے اندازہ لگانے کے لب ہلائے اور میری بات مکمل ہونے سے پہلے قابل خان جلدی سے کہا ۔
”صنوبر خان ،جہانداد خان کا جانشین اورعلام خیل کا نیا سردار ہے ۔“
”میرا خیال ہے یہ خوشی کی بات ہے جبکہ آپ لوگوں کے چہروں پر چھائی سنجیدگی اس سے میل نہیں کھا رہی ۔“
”جرگے کے پیغام بر سے پتا چلا ہے کہ صنوبر خان نے ہم پر یہ الزام لگایا ہے کہ ہم نے پاک آرمی کے ایک فوجی کو پناہ دی اور اس لڑائی میں ہم نے آرمی کی مدد سے ان کا نقصان کیا ہے ۔“ایسا کہتے ہوئے قابل خان کے ساتھ تمام معززین کی سوالیہ نگاہیں بھی میرے وجود پر گڑی تھیں
میں نے صفائی دیتے ہوئے کہا ۔”میرا خیال ہے پاک آرمی کی کوئی امداد آپ کے پاس نہیں پہنچی ۔یوں بھی آرمی قبائل کے جھگڑوں میں مخل نہیں ہوا کرتی ۔زیادہ سے زیادہ آرمی قبائل کے جھگڑے میں فریق ثالث کا کردار ادا کر سکتی ہے یوں کسی ایک قبیلے کے ساتھ مل کر دوسرے قبیلے سے مقابلہ نہیں کرتی ۔“
”آپ آرمی کے بارے اتنا وثوق سے یہ بات کیسے کر سکتے ہیں ؟“اخلاص خان نامی شخص نے شک بھرے لہجے میں سوال کیا ۔
”بات میرے کہنے کی نہیں حقائق کی ہے ،کیا آپ میں سے کسی نے پاک آرمی کو ایسا کرتے دیکھا ہے یا کسی نے سنا ہے کہ آرمی قبائل کی جنگ میں حصہ دار بنی ہو ۔“
”سیدھی بات یہ ہے ذیشان صاحب کہ صنوبر خان آپ کی شخصیت کو درمیان میں گھسیٹ رہا ہے ۔اگر آپ کا تعلق آرمی سے تو یقینا وہ اپنے دعوے میں سچا ثابت ہو گا اور ہمیں آپ کو اس کے حوالے کرنے کے ساتھ مرنے والوں کا خون بہا بھی ادا کرنا ہوگا ۔“اس مرتبہ خوش حال نے اصل صورت حال میرے سامنے رکھ دی ۔اس کے ساتھ ہی مجھ پر واضح ہوا کہ صورت حال کتنی گھمبیر تھی ۔
میں نے فوراََ اپنی پریشانی پر قابو پاتے ہوئے مصنوعی قہقہہ لگایا ۔”میں اور پاک آرمی سے ،یہ بھی خوب کہی ۔اگر ایسا ہوتا تو آپ کے پاس پناہ لینے نہ دوڑا آتا ،پاک آرمی کی کسی پوسٹ کا رخ کرتا ۔“
”پوسٹیں یہاں سے کافی فاصلے پر ہیں ذیشان صاحب ۔“خوشحال خان سنجیدہ تھا ۔
”سردار !....سیدھی بات یہ ہے کہ میرا نام ذیشان نہیں ہے ۔میرا صل نام سلیم شاہ ہے ۔“ یہ کہتے ہوئے میں نے اپنے جیب سے وہ نقلی شناختی کارڈ نکال کر اس کی جانب بڑھا دیا جو اس علاقے میں آتے ہوئے مجھے سرکاری طور پر جاری ہوا تھا ۔اسی طرح سردار کے پاس بھی ایک نقلی شناختی کارڈ موجود تھا۔ اس پر درج پتے کے مطابق ہمارا جو گھر بنتا تھا وہاں اگر جا کر کوئی معلوم کرنے کی کوشش کرتا تو اسے یہی معلومات دی جاتیں جو میں وہاں بتا رہا تھا ۔”اور میرا علاقہ مردان ہے ۔“
”مگر آپ کا اپنا ساتھی آپ کو راجا ذیشان کہہ کر بلاتا ہے ۔“اس حالت میں بھی خوشحال خان نے پلوشہ کے لڑکی ہونے کی بات کو اپنے تک ہی رکھا تھا ۔گویا اس کے دل میں ہماری ہمدردی موجود تھی ۔
”سردار !....یہ ایک لمبی کہانی ہے ۔“
”ہو گی ،لیکن جرگہ کل ہونا ہے اور ہمارے پاس آج کا دن موجود ہے ۔“
”ٹھیک ہے دوپہر کا کھانا کھا کر اس بارے تفصیل سے بات ہو گی ۔اب جبکہ ساری بات کھل گئی ہے تو میں اور میری منگیتر بھی پیچھے نہیں ہٹیں گے ۔“
”منگیتر ....“اخلاص خان نے سوالیہ لہجے میں پکارا ۔
”پلوخان ،کا اصل نام پلوشہ خان وزیرہے اور اس نے لڑکے کا روپ دھارا ہوا ہے ۔“میں نے جو کہانی دماغ میں ترتیب دی تھی اس کے مطابق پلوشہ کی اصلیت سامنے لائے بغیر کام نہیں چل رہا تھا۔
”ٹھیک ہے ایک بجے دوبارہ اکھٹے ہوں گے ۔“وہ تمام کھڑے ہو گئے ۔سوائے قابل خان کے باقی مجھ سے مصافحہ کرتے ہوئے رخصت ہو گئے ۔اتنا تو میں بھی جانتا تھا کہ وہ ہماری نگرانی ضرور کرائیں گے ۔چاہے اس کے لیے قابل خان کو مقرر کیا جائے یا کسی دوسرے تیسرے کو ۔
تما م کے رخصت ہوتے ہی قابل خان نے کہا ۔”بیٹھیں ذیشان بھائی ،بلکہ سلیم بھائی ۔“
”میں دوبارہ چارپائی پر بیٹھ گیا ۔
وہ اضطراری انداز میں ہاتھ مروڑتے ہوئے بولا ۔”اگر آپ سمجھتے ہیں کہ صنوبر خان کا الزام درست ہے اور آپ صحیح طریقے سے اپنا دفاع نہیں کر سکیں گے تو میں آپ دونوں کو یہاں سے نکال سکتا ہوں ۔بعد میں جو ہو گا ہم بھگت لیں گے ۔“
”اس کا فیصلہ آپ کھانے کے بعد ہونے والی گفتگو سن کر کرنا ۔“اسے تسلی دیتے ہوئے میں چہرے پر اعتماد بھری مسکراہٹ بکھیری ۔
”تو پھر میں بھی اجازت چاہوں گا ۔“اس نے بھی وہاں ٹھہرنا مناسب نہیں سمجھا تھا ۔البتہ ہمیں بچانے کی بات کر کے اس نے ساری ذمہ داری اپنے سر لینے کی جو بات کی تھی اس نے مجھے اتنا اطمینان دلا دیاتھا کہ ہم دونوں اکیلے نہیں تھے ۔
اس کے بیٹھک سے نکلتے ہی میں کمرے کی طرف بڑھا ۔پلوشہ دروازے سے سرجوڑے ساری گفتگو سن رہی تھی ۔
”راجو !....یہ سب کیا ہو گیا ۔“اس کے لہجے میں مجھے پریشانی جھلکتی نظر آئی ۔
”کچھ بھی نہیں ہے راجو کی جان ۔“میں اسے ساتھ لے کر چارپائی پر بیٹھ گیا ۔
”کیا آپ کا اصل نام سلیم شاہ ہے ؟“اس نے میرا ہاتھ پکڑتے ہوئے پوچھا ۔اس کی پکی عادت تھی کہ میرے ساتھ بیٹھتے ہی میرا ہاتھ پکڑ کر لیتی گویا میرا سہارا لینا چاہتی ہو یا پھر مجھے سہارا دے رہی ہو ۔اس کی باقی بہت سی پیاری عادات کی طرح یہ بھی ایک من موہنی عادت تھی ۔
”اگر میں کہوں ہاں تو....؟“
”تو کیا ،میں آپ کو پھر بھی راجو اور شانی کہہ کر ہی بلایا کروں گی ۔“
”میرا نام وہی ہے جو میری چندا کو معلوم ہے ۔راجا ذیشان حیدر ۔“
”سچ ۔“وہ نہ جانے کیوں اتنی زیادہ خوش ہو گئی تھی ۔
”ہاں ....اور اب ہم نے ایسی کہانی ترتیب دینی ہے جس میں اگر ہم سے علاحدہ علاحدہ بھی کچھ پوچھا جائے تو ہماری بات ایک ہی ہو ۔“
”ٹھیک ہے بتائیں، کیا جھوٹ بلوانا چاہتے ہیں ۔“اس نے اپنا سر میرے کندھے سے لگاتے ہوئے لگاوٹ کا اظہار کیا ۔
اور میں اس کے بالوں میں انگلیاں پھیرتے ہوئے اسے تمام تفصیل بتلانے لگا ۔بیچ بیچ میں وہ بھی کسی بات سے اختلاف کر کے نئی بات شامل کر دیتی ۔گھنٹا ڈیڑھ لگا کر ہم نے ایک مکمل کہانی تیار کر لی تھی۔
جاری ہے
 

جرگے کے معزز بزرگوں کے لیے دو سجی ہوئی چارپائیاں رکھی گئی تھیں جن پر منقش چادریں بچھی تھیں ۔عام لوگوں کے بیٹھنے کے لیے زمین پر دری بچھائی گئی تھی ۔دونوں قبیلوں کے سرداروں کی چارپائیاں جرگے کے ارکان کے سامنے لگائی گئی تھیں ۔وہیں ایک چارپائی پر میں اور پلوشہ بھی بیٹھے تھے۔ پلوشہ اس وقت لڑکوں ہی کے لباس میں تھی ۔جرگے کا آغاز ہوتے ہی جرگے کے سب سے مشر رکن مَلک شامل خان داوڑنے صنوبر خان کو اپنا مقدمہ پیش کرنے کا حکم دیا ۔
صنوبر خان نے کھڑے ہو کر میرے جرائم کی ایک لمبی فہرست گنوائی جس میں روشن خان ،انار گل ،قبیل خان ،قبیل خان کے سالے خائستہ گل کے قتل کے ساتھ قبیل خان کی حویلی کی تباہی کا ذکر بھی موجود تھا ۔اور اس کے تیئں یہ کام کرتے ہوئے میں اکیلا نہیں تھا بلکہ میرے ساتھ آرمی کے اور جوان بھی شامل تھے ۔آرمی کے قافلے کے خلاف لگائی جانے والی گھات کو ناکام بنانا اور پھر روشن خان نے جب ہمیں گھیرا اور آرمی ہماری امداد کو پہنچی یہ ساری باتیں اس نے بڑی تفصیل سے جرگے کے سامنے رکھیں ۔ آخر میں وہ کہہ تھا ۔”معزز مشرہمارے لیے ایک اکیلے شخص کو انجام تک پہنچانا کوئی مشکل کام نہیں ۔فوج بھی یہاں پر ہمارا مقابلہ نہیں کر سکتی ،بلکہ سچ تو یہ ہے کہ میرا قبیلہ فوج خلاف کارروائیوں میں شامل ہے ۔ ہمارے لیے اصل مسئلہ ہمارے وہ قبائلی سردار ہیں جو فوج کے ساتھ مل کر ہمارے خلاف ہتھیار اٹھاتے ہیں ۔سردارقبیل خان کے قتل کے بعد اگر ہمارے مجرموں کو وشلام کا سردار خوشحال خان محسود پناہ نہ دیتا تو آج ہمارے دونوں مجرم بھی ختم ہوچکے ہوتے اور سردار جہانداد خان جیسا شیر بھی زندہ ہمارے درمیان موجود ہوتا ۔بہ ہرحال جو ہونا تھا وہ ہو چکا اب علام خیل کا نیا مَلک ہونے کے ناطے میرا مطالبہ یہ ہے کہ سردار خوشحال خان محسود ہمارے مجرموں کو ہمارے حوالے کرے اور حالیہ لڑائی میں ہمارے جتنے آدمی شہید ہوئے ہیں ان کا خون بہا ادا کرے ۔“اپنی بات ختم کر کے وہ مشر شامل خان سے اجازت لے کر چارپائی پر بیٹھ گیا ۔
مشر شامل خان نے سردار خوشحال خان کی طرف ہاتھ کا اشارہ کیا ۔خوشحال خان نے کھڑے ہو کر گفتگو کی ابتدا کی ۔
”معزز مشر !....جہاں تک پاک فوج کے ساتھ مل کر جہانداد خان مرحوم یا قبیل خان مرحوم کے خلاف کوئی کارروائی کرنے کی بات ہے تو یہ سراسر الزام ہے اور سردار صنوبر خان اس الزام کو ثابت نہیں کر سکتا ۔اگر ہمارے ساتھ فوج کے جوان شامل ہوتے تو یقینا انھیں اب تک یہیں ہونا چاہیے تھا، کیونکہ ہمارے گاﺅں کو چاروں طرف سے سردار صنوبر خان کے لشکر نے گھیرا ہوا ہے اور کوئی بھی بندہ ان کے آدمیوں کی اجازت کے بغیر اس علاقے میں داخل نہیں ہو سکتا ۔رہ گیا اپنے قبیلے میں کسی اجنبی کو پناہ دینے کی بات تو اس کی اجازت بلکہ حکم مجھے قبائلی روایات دیتی ہیں ۔یہی بات اس دن میں نے سردار جہانداد خان مرحوم سے بھی عرض کی تھی کہ جب تک اس کے مجرم میرے قبیلے میں رہیں گے میں ان کی حفاظت کا پابند ہوں گا،البتہ جب وہ میرے قبیلے کی حدود سے نکل جائیں گے تو پھر ان کا مجھ سے کوئی تعلق نہ ہو گا ۔مگر سردار جہانداد خان نے میری ایک نہ سنی اور اپنے بڑے لشکر کے زعم میں میرے قبیلے کاگھیراﺅ کر لیا ۔گولی چلانے کی ابتدا بھی انھوں نے کی ،میرے دو آدمی بھی پہلے انھوں نے شہید کیے اس کے بعد جواب دینا میرا حق بنتا تھا ۔اس ضمن میں معزز مشر یہ بات زیر نظر رکھے کہ ڈیڑھ سال پہلے میرے ایک دشمن کو سردار قبیل خان اپنے ہاں پناہ دے چکا ہے جو آج بھی علام خیل میں اس کا لشکری بن کر زندگی گزار رہا ہے ۔وہ میرے قبیلے کا دشمن ہے اور جس دن ہم میں سے کسی کو علام خیل کی حدود کے باہر نظر آیا ہم اپنا بدلہ لیں گے ۔لیکن ہم نے اس متعلق نہ تو سردار قبیل خان سے گلہ کیا اور نہ اس کی وجہ سے دونوں قبیلوں کے درمیان جو معاہدہ ہوچکا تھا اس پر حرف آنے دیا ۔اب ان کی باری آنے پر بھی میں صنوبر خان سے اسی وسیع القلبی کی خواہش رکھتا ہوں ۔“
”سردار جہاندادخان نے آپ کے مجرم کو آپ کے حوالے کرنے کی پیش کش کی تھی ۔“اس مرتبہ صنوبر خان براہ راست خوشحال خان محسود کو مخاطب ہوا تھا ۔
”ہاں یہ سچ ہے ۔“خوش حال خان نے اثبات میں سر ہلایا ۔”لیکن میں ایسا نہیں کر سکتا تھا یہ بات سراسر قبائلی روایات کے خلاف تھی اور میں نہیں چاہتا تھا کہ صرف اپنے دشمن کی بازیابی کے لیے اپنے پرکھوں کی شاندار روایات کو پسِ پشت ڈال دوں ،یہ بزدلی اور خود غرضی کی علامت ہے ۔“
خوشحال خان کی بات کافی سخت تھی ۔صنوبر خان غصے ہوتے ہوئے بولا ۔ ”بزدل کون ہے یہ جلد ہی پتا چل جائے گا ۔“
”دونوں سردار ایک دوسرے کو دھمکی دینے یا نازیبا الفاظ کہنے سے گریز کریں ۔“مشر شامل خان داوڑ نے فوراََ انھیں اپنی طرف متوجہ کیا۔دونوں سردار خاموش ہو گئے تھے ۔
”سردار خوش حال خان !....کیا آپ کے پاس کوئی ثبوت ایسا موجود ہے جس سے ثابت ہو کہ آپ کے مہمان ذیشان یا ایس ایس نامی شخص کا تعلق آرمی سے نہیں ہے ۔اس بارے سردار صنوبر خان نے جو بات کی ہے اس کی روشنی میں تو آپ کے دونوں مہمان مشکوک ہیں ،کیونکہ دونوں نے بغیر کسی وجہ کے نہ صرف سردار قبیل خان کو قتل کیا ہے بلکہ اور بھی کئی ایسی کارروائیاں کی ہیں جن کی کوئی توجیہ نہیں کیا جا سکتی سوائے اس کے کہ آپ کے دونوں یا کم از کم ایک مہمان فوجی ہے اور دوسرا اس کا مقامی مددگار ہے اور قبائلی روایات کے مطابق آپ سرکاری افراد کو ساتھ ملا کر کسی دشمن قبیلے کے خلاف بھی کوئی کارروائی نہیں کر سکتے۔“
”معزز مشر !....میں اپنا جواب تفصیل سے دے چکا ہوں ۔باقی جہاں تک میرے مہمان کے فوجی ہونے کا تعلق ہے تو یہ الزام ایک غلط فہمی کا نتیجہ ہے جس کا تفصیلی جواب میرا معزز مہمان ہی دے گا۔اگر آپ کی اجازت ہو تو میرا مہمان اپنے اوپر لگے الزام کا جواب دینے کے لیے تیار ہے ۔“
”اجازت ہے ۔“مشر شامل خان نے ہاتھ اٹھا کر مجھے گفتگو کی اجازت دی ۔
میں نے کھڑے ہوتے ہوئے کہا ۔”معزز مشر !....میری کہانی تھوڑی طویل ہے اور اصل بات سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ میری تمام کہانی کو غور سے سنا جائے اس ضمن میں میں جرگے کے معزز افراد کی قیمتی توجہ کا خواہش مند ہوں ۔میری کہانی کی ابتداس وقت ہوئی جب میں مجاہدین کے کیمپ میں جہاد کی غرض سے شامل ہوا ۔لیکن بہ مشکل چند دن ہی تربیت حاصل کر سکا ہوں گا کہ ایک دن طبیعت کی خرابی کی وجہ ، وقت سے پہلے تربیت کے میدان سے رہائشی کمرے کی طرف آگیا ۔مجھے رہائش کے لیے جو کمرہ ملا تھا اس میں میرے علاوہ چار اور لڑکے بھی تھے ۔ان لڑکوں میں ایک نو عمر لڑکا پلو خان بھی تھا جو کافی عرصے سے وہاں تربیت حاصل کر رہا تھا ۔اس دن اتفاق سے پلو خان بھی کسی وجہ سے تربیتی میدان میں نہیں جا سکا تھا ۔میں جب کمرے میں داخل ہونے لگا پلو خان اس وقت کپڑے تبدیل کر رہا تھا اپنے تیئں وہ خود کو اکیلا سمجھ رہا تھا اس لیے اس سے یوں بے احتیاطی ہو گئی اور اندر داخل ہوتے ہی میں یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ پلوخان لڑکا نہیں بلکہ لڑکی تھی ۔یہ بھی مجھے دیکھ کر پریشان ہو گئی تھی لیکن جو ہونا تھا وہ ہوچکا تھا ۔میں نے اسی دن پلو خا ن سے اس کی وجہ پوچھی اور اس کی وجہ جانتے ہی مجھے اس سے ہمدردی ہو گئی جو بعد میں محبت میں ڈھل گئی ۔میں نے اسے شادی کی پیش کش کی جو اس نے اس شرط پر مان لی کہ اگر میں اس کے دشمن کے خلاف اس کی مدد کر وں ۔پس میں تیار ہو گیا ۔اسی دن ہم دونوں مجاہدین کے کیمپ کو خیر باد کہہ کر وہاں سے نکل آئے ۔ہمارے پاس ہتھیار وغیرہ موجود نہیں تھے ۔اور اتنی رقم بھی نہیں تھی کہ ہتھیار خریدتے میں نے رقم کے بندوبست کے لیے مردان کا رخ کیا ۔وہاں سے آتے وقت میرا قریبی دوست گل خان بھی میرے ہمراہ تھا ۔شکئی سے ہم پیدل شوال وادی کی طرف آ رہے تھے کہ راستے میں وچہ نرائے پہاڑی کے دامن میں ہم پر گولیاں برسائی جانے لگیں ۔ہم ڈر کر وچہ نرائے پر چڑھ گئے ۔ اوپر جا کر معلوم ہوا کہ ان لوگوں فوج کے دو جوانوکو گھیرا ہوا تھا ہم خواہ مخواہ وہاں پھنس گئے تھے ۔اب اگر ہم نیچے جا کر انھیں بتاتے کہ ہمارا تعلق فوج سے نہیں ہے تو یقینا کوئی نہ مانتا ۔سر آئی مصیبت کو دیکھ کر ہم فوجی جوانوں کے ساتھ دہشت گردوں کا مقابلہ کرنے لگے ۔اور حقیقت میں ہمیں اس وقت یہ معلوم ہی نہیں تھا کہ ہمارا مقابلہ قبیل خان کے لشکر سے ہے ۔میں لڑکپن ہی سے بہت اچھا نشانہ باز تھا اتفاقاََ قبیل خان کا کمانڈرروشن مجھے ایک قریبی پتھر کی آڑ میں لیٹا ہوا نظر آیا جسے میں نے اپنے فائر کے نرغے میں لے لیا ۔ بعد میں اس کے معافی مانگنے پر میں نے اسے چھوڑ دیا تھا ۔اسی اثناءمیں وہاں فوج کی گاڑیاں آ گئیں اور یہ بھاگ پڑے ۔بڑے افسروں نے ہمیں شاباش وغیرہ دے کر جانے کی اجازت دے دی ۔اب اس بات کو بنیا د بنا کر سردار صنوبر خان مجھے فوجی ثابت کرنے پر تل گیا ۔حالانکہ میں قبیل خان کے خلاف صرف اپنی منگیتر پلوشہ خان وزیر کے کہنے پر ہواتھا ۔اور شاید معزز سردار یہ نہیں جانتا کہ پلوشہ خان اس کی ہم قوم ہی نہیں ہم قبیلہ بھی ہے ۔پلوشہ کا تعلق علام خیل سے ہے ۔اس کے والد کا نام یامین خان ہے اور ....“میں نے پلوشہ کی پوری کہانی بھی جرگے کے ارکان کے سامنے دہرا دی ۔”باقی سردارثقلین خان کے بیٹے کی شادی میں انار گل کو پلوشہ نے اس لیے قتل کیا،کیونکہ انارگل وہی شخص ہے جس نے پلوشہ کے چھوٹے بھائی کو لات مار کر گاڑی سے نیچے گرایا تھا، جس کی وجہ سے اس معصوم کی موت واقع ہو گئی تھی ۔ روشن خان خود ان کے اپنے آدمی کی گولی کا نشانہ بنا ۔ایک دو اور قتل ہم نے اپنی جان بچانے کے لیے کیے تھے اور دفاع کا حق ہر انسان تو کیا جانور کو بھی حاصل ہے ۔قبیل خان کی حویلی کی تباہی اور اس کے سالے خائستہ گل کے قتل کا الزام معزز سردار صنوبر خان بالکل بھی ثابت نہیں کر سکتا یہ بعینہ ایسا ہی الزام ہے جیسا کہ میرا فوجی ہونا الزام ہے ۔“
میری تفصیلی بات کو تمام نے بڑے غور سے سنا تھا ۔پلوشہ کے لڑکی ہونے کا سن کر حاضرین میں سے اکثریت اسے گھورنے لگی تھی ۔وہ سب سے بے نیاز خاموش بیٹھی تھی ۔
صنوبر خان کھڑے ہوتے ہوئے بولا ۔”ایک خوب صورت لڑکا لڑکیوں کی طرح لگ سکتا ہے لڑکی ہو نہیں سکتا ۔“
میں نے فوراََ جواب دیا ۔”معزز مشر !....اس کا فیصلہ کرنا نہایت آسان ہے ۔کوئی بھی خاتون پلوشہ کو خلوت میں لے جا کر آسانی سے اس حقیقت سے پردہ اٹھا سکتی ہے ۔“
”ٹھیک ہے ،مگر پلوخان ہے ، پلوشہ ہے یا کوئی تیسری مخلوق اس کے لڑکی ثابت ہونے پر اس کا قبیل خان پر لگایا گیا بہتان کہاں سچ ثابت ہوتا ہے۔یوں تو کل کلاں کو مجھ پر بلکہ مجھے چھوڑیں گستاخی معاف معزز مشر پر بھی کوئی یہ الزام لگا کر ان کی قیمتی جان کے درپے ہو سکتا ہے ۔“میرا پر اعتماد رویہ دیکھتے ہوئے صنوبر خان نے فوراََ پینترا بدلہ ۔
اس کی بات پر خاموش بیٹھی پلوشہ غضب ناک ہو کر کھڑی ہوئی اور جرگہ مشر کی اجازت کے بغیر جذباتی لہجے میں بولی ۔”قبیلے کے سردار کی حیثیت قبیلے کے باپ کی سی ہوتی ہے ۔اور قبیلے کی لڑکیاں اس کی بیٹیاں ہوتی ہیں ۔ایک باپ جب اپنی ہی بیٹیوں پر بری نگاہ رکھنے لگے اور اپنی ہی بیٹی کو جنسی ہوس کا نشانہ بنا کر قتل کر دے تو اس کے وارث کس سے انصاف کی بھیک مانگنے جائیں ۔عزتوں کے رکھوالے جب لٹیرے بن جاتے ہیں تو لٹنے والے بدلہ لینے کے لیے کسی بھی حد تک جا سکتے ہیں ۔قبیل خان نے نہ صرف میری بہن سپوگمائے کو اپنی ہوس کا نشانہ بنایا بلکہ وہ میرے بھائی ،باپ اور بہن کا قاتل بھی تھا۔ یہ آج سے نو دس سال پہلے کا واقعہ ہے ۔اس وقت میں سات آٹھ سال کی بچی تھی میرا پورا خاندان اس ظالم نے برباد کر دیا تھا اور اسی وقت سے میں اور میری ماں نے اپنی زندگی کا مقصد ہی قبیل خان کی موت کو بنا لیاتھا۔اگر اس متعلق کسی کوکوئی شک ہو تو میں معزز جرگے سے ایک دو دن کی مہلت طلب کرتی ہوں علام خیل میں کئی ایسے افراد موجود ہیں جو میرے حق میں گواہی دینے پر تیار ہو جائیں گے ۔“
”علام خیل جانے کی ضرورت نہیں ہے بیٹی !....میں اس بات کا گواہ ہوں کہ قبیل خان نے یہ سب کچھ کیا جس کے بارے یہ بچی بات کر رہی ہے ۔“حاضرین میں بیٹھے ہوئے ایک ادھیڑ عمر شخص نے کھڑے ہو کر فوراََ پلوشہ کی بات کی تصدیق کر دی تھی۔
پلوشہ اسے شکرگزاری بھری نظروں سے دیکھتے ہوئے بیٹھ گئی تھی ۔
اس کے بعد بھی صنوبر خان نے کافی آئیں بائیں شائیں کی مگر ہمارا مقدمہ مضبوط تھا ۔اس کے ہر سوال کا شافی جواب ہمارے پاس موجود تھا ۔ہمارے مقدمے کا سب سے مضبوط پہلو پلوشہ کی مظلومیت اور اس کے واقعے کی سچائی تھی ۔پلوشہ کی کہانی میں میرے فوجی ہونے کی بات بھی پس پردہ چلی گئی تھی ۔تمام باتوں کے اختتام پر جرگے کے ارکان کمرے میں چلے گئے اور آدھے گھنٹے کی گفت و شیند کے بعد باہر آکر انھوں نے صنوبر خان کے مقدمے کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے پلوشہ کے حق میں فیصلہ دے دیا تھا ۔اس کے ساتھ جرگے نے فیصلہ سنادیاکہ خوش حال خان جب تک چاہے مجھے اور پلوشہ کو اپنا مہمان بنا کر رکھ سکتا ہے ۔سب سے آخر میں جرگے کے مشر شامل خان نے سردارصنوبر خان سے درخواست کی تھی کہ وہ وشلام گاﺅں سے پرانا معاہدہ بحال کرتے ہوئے علاقے کے امن میں مثبت کردار ادا کرے ۔اور بڑے پن کا مظاہرہ کرتے ہوئے قبیل خان مرحوم سے ہونے والی غلطی کو تسلیم کرکے اس کے ظلم کا شکار ہونے والے اپنے قبیلے کے افراد کو انصاف مہیا کرے ۔
٭٭٭
جرگے کا فیصلہ ہمارے حق میں ہوا تھا ۔ہم دونوں بہت خوش تھے ۔سردار خوشحال خان اور قابل خان بھی خوشی سے پھولے نہیں سما رہے تھے ۔دونوں بھائیوں نے خلوص دل سے ہمیں مبارک باد دی تھی۔بیٹھک میں آتے ہی پلوشہ نم آنکھوں کے ساتھ مجھ سے لپٹ گئی تھی ۔”راجو !....آپ کی بہ دولت آج مجھے یہ دن دیکھنا پرا کہ پورے علاقے میں قبیل خان کی بد کرداری کھل کر سامنے آ گئی ۔وہ اپنے انجام کو پہنچا اس کا بھائی بھی قتل ہوا اور میں سرخ رو ہوں ۔اس کے ساتھ مجھے آپ جیسا شریک حیات ملا ۔میں اللہ پاک کا جتنا شکر ادا کروں کم ہے ۔“
”ٹھیک ہے جی اللہ پاک کا شکر تو انسان کو ہر حال میں ادا کرتے رہنا چاہیے ،لیکن فی الحال تم وہی کپڑے پہنو نا جو تمھیں قابل خان نے لا کر دیے تھے ۔“
”ابھی لو ۔“مجھ سے الگ ہوتے ہوئے وہ دیوارپر ٹنگے کپڑوں کی طرف بڑھ گئی ۔میں نے بھی اس کی جانب سے رخ پھیر لیا تھا ۔
”ا ب بتائیں کیسی لگ رہی ہوں ۔“تھوڑی دیر بعد اس کی آواز ابھری ۔
میں اس کی جانب مڑا ۔اس مرتبہ بھی مجھ پر پہلے والی کیفیت طاری ہو گئی تھی ۔مجھے مبہوت دیکھ کر وہ ایک بار پھر شرمانے لگی ۔اس شوخ اور چنچل لڑکی کی شرمیلی ادائیں کچھ زیادہ ہی بااثر تھیں ۔میری محویت میں قابل خان کی آمد سے خلل پڑا تھا ۔وہ کھانا لے کر آیا تھا ۔کھانے وغیرہ سے فارغ ہو کر خوش حال خان بھی آ گیا ۔دوران گپ شپ اس نے بڑے خلوص سے ہمیں اپنے قبیلے میں شامل ہونے کی دعوت دی لیکن میں نے اس کا شکریہ ادا کرتے ہوئے نرمی سے انکار کر دیا کہ ایسا ہونا ناممکن تھا ۔میرے ساتھ صرف پلوشہ کاغم نہیں تھا ۔وہ مجھے جتنی پیاری، جتنی عزیز ہوتی پہلا حق میرے وطن کا تھا ۔
ان کے جانے کے بعد پلوشہ مصر ہوئی کہ ہمیں سردار خوشحال کی بات وقتی طور پر مان کر وہیں رہائش اختیار کر لینی چاہیے ۔اس طرح ہماری شادی بھی ایک دو دن کے اندر ہو سکتی تھی ۔
میں نے اسے ہلکے سے ڈانٹتے ہوئے کہا ۔”لڑکیاں اپنی شادی کی بات نہ تو اس بے باکی سے کرتی ہوئی اچھی لگتی ہیں اور نہ بار بار شادی کے لیے بے چینی ظاہر کرتی ہیں ۔“
”ٹھیک ہے نہ مانیں ....پہلے بھی آپ نے کبھی میری مانی ہے جو آج مانیں گے ۔“منھ پھلا کر وہ میرے پاس سے اٹھ کر دوسری چارپائی پر جا لیٹی ۔
”پگلی !....جب کہہ دیا کہ جلدہی شادی ہو جائے گی پھر خفا ہونے کا مطلب ۔میں تم سے زیادہ بے چین ہوں ،لیکن چند دن کی مہلت تو دو نا۔“میں فوراََ اسے منانے لگا ۔حالانکہ میں جانتا تھا کہ اس کا روٹھنا ڈراما تھا اس کے باوجود مجھ سے برداشت نہیں ہوتا تھا خدانخواستہ اگر وہ سچ مچ خفا ہو جاتی تو میرا کیا ہوتا ۔
”چند دن کا مطلب ہوتا ہے زیادہ سے زیادہ دس دن سمجھے آپ ۔“وہ معصومانہ انداز میں چلائی اور میں مسکرا دیا ۔
”ہاں تقریباََ اتنے ہی ۔“میں بے چارگی سے بولا اور وہ قہقہہ لگا کر ہنس پڑی ۔
”راجو !....مجھے لگ رہا ہے کہ آپ روز بہ روز اپنی منگیتر کے رعب میں آتے جا رہے ہیں ۔“
میں نے رومانوی لہجے میں کہا ”وہ شاعر کہتا ہے نا ....
اگر وہ روٹھ جاتا ہے ہماری جاں نکلتی ہے
یہ سانسیں جاری رکھنے کو ہم اس کی مان لیتے ہیں
”میں کون سا سچ میں خفا ہوتی ہوں ۔“وہ جذباتی لہجے میں بولی ۔”مر نہ جاﺅں جو آپ سے خفا ہوں ۔“
”تمھارا روٹھنا مذاق ہی میں برداشت نہیں ہوتا نا چندا !....سچ میں روٹھ گئی تو شاید زندگی بھی روٹھ جائے ۔“
”راجو !....کیا آپ کو نہیں لگتا کہ ہم بہت زیادہ قریب آ گئے ہیں ۔“
میں نے پوچھا ۔”بھلا دور کب تھے ؟“
”سچ کہاراجو !....مجھے تو لگتا ہے میں صدیوں سے آپ کو جانتی ہوں ،شاید جس وقت اللہ پاک نے تمام روحوں سے اپنی ربو بیت کا عہد لیا تھا نا تو اس وقت میری روح نے اللہ پاک کی ربوبیت کا اقرار کرتے ہوئے سجدے میں گر کر اپنے لیے راجو کو بھی مانگ لیا تھا ۔“
میں چاہت سے مسکرایا ۔”یونھی دیکھے ،جانے بغیر ۔“
”دیکھ بھی لیا ،جان بھی لیا اور اپنے فیصلے پر خوشی سے پھولے نہیں سما رہی ۔“
”بات تو عہد الست کی ہو رہی تھی نا ؟“
وہ یقین سے بولی ۔” اس وقت بھی اپنے راجو کے ساتھ ہی تو تھی ۔“
”بڑی آئی راجو والی ،شادی کے بعد جب پٹائی ہو گی نا اس وقت پوچھوں گا ۔“
وہ حسرت بھرے لہجے میں بولی ۔”پتا نہیں کب وہ دن آئے گا جب آپ تھکے ہارے باہر سے آئیں گے اور میں آپ کے سامنے کھانا رکھوں گی ۔جو آپ کو پسند نہیں آئے گا آپ مجھے ڈانٹیں گے اور میں رونے لگ جاﺅں گی اور آپ کھانا پینا بھول کر مجھے منانے لگ جائیں گے اور دیر تک مناتے رہیں گے ۔دیر تک ........“اس کی آواز مجھے کہیں دور سے آتی ہوئی محسوس ہو رہی تھی ۔
میں دھیمی آواز میں گنگنانے لگا ....
تنخواہ میں جب لے کے آﺅں گا ۔
ہاتھوں میں تیرے ہی دوں گا
جب خرچ ہوں گے وہ پیسے
میں تم سے جھگڑا کروں گا
پھر ایسا ہو گا تو مجھ سے
کچھ دیر روٹھی رہے گی
سوچے گی جب اپنے دل میں
تو مسکرا کے اٹھے گی
آکر گلے سے لگے گی ....
سونا نہ چاندی نہ کوئی محل میری جاں، تجھ کو میں دے سکوں گا
پھر بھی یہ وعدہ ہے تجھ سے تو جو کرے پیار مجھ سے
چھوٹا سا گھر تجھ کو دوں گا دکھ سکھ کا ساتھ بنوں گا....
میں خاموش ہوا ....
وہ آنکھوں میں نمی لیے خواب ناک لہجے میں بولی ۔”راجو گنگناتے رہو نا؟“
اور میں دھیمی آواز میں گنگنانے لگا ۔
چھٹی کا دن جب ہو گا
ہم خوب گھوما کریں گے
دن رات ہونٹوں پہ اپنے ................
اور پھر میری آواز بھرانے لگی ،میری آنکھوں میں بھی نمی اتر آئی تھی ۔یہی گانا تو میں ماہین کو بھی گنگنا کے سنایا کرتا۔اور وہ مزاحیہ لہجے میں کہا کرتی تھی ۔
”اتنا بڑا گھر ہے اور آپ کہہ رہے ہیں چھوٹا سا گھر لے کے دوں گا ۔اس لیے بہتر یہی ہے کہ آپ سے پیار نہ کروں بس بیوی ہی بنوں رہوں کم ازکم گھر تو بڑا مل گیا ہے نا ۔“
شاید اسی وجہ سے وہ مجھ سے پیار نہیں کر سکی تھی ۔پتا نہیں اس کوبڑا گھر ملا تھا یا نہیں لیکن اپنا پیار ضرور مل گیا تھا ۔ماہین کی یاد سے میرے اندر تلخی ابھرنے لگی تھی ۔لیکن جونھی میری نظر ہاتھوں کے پیالے میں من موہنا سا چہرہ بھرے میری جانب محبت پاش نظروں سے گھورتی ہوئی پلوشہ پر پڑی میری ساری تلخی ،پشیمانی اور پریشانی کہیں بھاپ بن کر اڑ گئی تھی ۔ایک دم مسکراہٹ نے میرے ہونٹوں پر قبضہ جما لیا تھا ۔
٭٭٭
حفظ ماتقدم کے طور پر ہم دونوں ہفتہ بھر قابل خان ہی کے مہمان بنے رہے ۔گو صنوبر خان جرگے والے دن ہی اپنا سارا لشکر واپس لے گیا تھا ۔اور اس سے ایک دن بعد اس نے خوش حال خان کو علام خیل آنے کی دعوت دی۔دونوں سرداروں نے اکٹھے کھانا کھایااور پرانے معاہدے کو پھر سے بحال کر دیا گیا ۔ قابل خان بھی ساتھ ہی گیا تھا ۔اس نے مجھے بتایا کہ صنوبر خان نے ہم دونوں کا کوئی ذکر نہیں کیا تھا ۔لیکن اس کے باوجود ہم نے چند دن وہیں گزارنے ضروری سمجھا تھا ۔
اور پھر ایک دن ہم صبح سویرے وہاں سے جانے کو تیار تھے ۔وشلام سے ہم نے ڈی بلاک جانا تھا ،وہاں سے پلوشہ کو علام خیل تک چھوڑ کر آتا اور وہ علام خیل سے گاڑی میں بیٹھ کر انگور اڈے پہنچ جاتی ۔اپنی شناخت چھپانے کے لیے اس نے قابل خان سے ایک برقع منگوا لیا تھا ۔راستے کے لیے قابل خان نے ہمیں پر تکلف کھانا بنا کر دیا تھا ۔
میں نے دونوں سرداروں سے الوداعی معانقہ کیا جبکہ پلوشہ کے سر پر دونوں نے شفقت بھرا ہاتھ پھیر کر ہمیں رخصت کر دیا ۔
سردارخوش حال خان نے ہمیں چند محافظ ساتھ لے جانے کا مشورہ بھی دیا تھا لیکن میں نے شکریے کے ساتھ انکار کر دیا ۔
اسی طرح ندی نالے ،گھنے درخت ،جھاڑیوں کے جھنڈ ،اونچی چوٹیاں ،ابھری ہوئی ٹیکریاں ، نشیبی علاقہ اور ڈھلوانوں پر سفر کرتے رہے ۔سہ پہر کو موسم نے تیور بدلے اور ہمیں ایک غار میں پناہ لینا پڑی ۔سب سے پہلے تو ہم نے خشک لکڑیوں کا انبار جمع کیا اور پھر آرام کرنے لگے ۔
شام کو کھانا وغیرہ کھا کر وہ مجھے آرام کرنے پر اصرار کرنے لگی ۔اس کے تیئں اگر وہ سو گئی تو میں نے اسے جگانا ہی نہیں تھا ۔اس کی ضد کے آگے ہتھیار ڈالتے ہوئے میں لیٹ گیا ۔اس دن مورچے میں تو میں نے اس کی گود میں لیٹنے سے یہ کہہ کر انکار کر دیا تھا کہ صبح کی روشنی پھیل گئی تھی اور خواہ مخواہ تماشا بن جاتا ۔لیکن اس وقت غار میں وہ اپنی منوا کر رہی ۔
میں یہ بھی جانتا تھا کہ اس نے مجھے بارہ ایک بجے نہیں جگانا تھا اور وہ ساری رات اسی طرح بیٹھے بیٹھے گزار دینی تھی ۔لیکن ہم سنائپرز کی نیند عموماََمرضی کے تابع ہوتی ہے ۔نہ تو ہم اتنی گہری نیند سوتے ہیں کہ ماحول سے بے خبر ہو جائیں اور نہ مسلسل ہی نیند میں ڈوبے رہتے ہیں ۔بے شک پلوشہ بھی تربیت یافتہ تھی لیکن اس کی تربیت اس نہج پر نہیں ہوئی تھی جس طرح ہم سنائپرز یا کمانڈوز کی ہوتی ہے ۔اس کے ساتھ وہ الھڑ دوشیزہ بھی تھی اور اس کی عمر کی نیند تو یوں بھی آدمی کو غافل کر دیتی ہے ۔
ساڑھے بارہ بجنے کو تھے جب خود بہ خود میری آنکھ کھل گئی ۔اس وقت پلوشہ بھی غار کی پتھریلی دیوار سے ٹیک لگائے بیٹھی تھی ۔وہ گاہے گاہے جلتی ہوئی آگ پر لکڑی کا ٹکڑا رکھ دیتی ۔لکڑیوں کا ڈھیر اس کے پاس ہی پڑا تھا ۔روشن ہوتی آگ مجھے یہ باور کرانے کے لیے کافی تھی کہ وہ ہوشیار تھی ۔
”سلپنگ بیگ سے باہر آتے ہوئے میں نے کہا ۔”آﺅ سو جاﺅ۔“
”اتنی جلدی آپ جاگ گئے ۔“وہ اب بھی مجھے سلانے پر کمربستہ تھی ۔
”قریباََ ایک ہونے والا ہے اس لیے چپ چاپ رضائی میں گھس جاﺅ ۔“میں نے اسے پیار سے ڈانٹا ۔اور وہ میرا منھ چڑاتے ہوئے رضائی میں گھس گئی ۔تکیہ اسے وہی ملا تھا جس کی وہ دل میں خواہش رکھتی تھی ۔
چاے کا خشک راشن ہمارے پاس موجود تھا ۔صبح چاے اور رات کی بچی ہوئی روٹی سے ناشتا کر کے ہم ایک بار پھر روانہ ہو گئے ۔دوپہر بارہ ایک بجے کے قریب ہم ڈی بلاک پہنچ گئے تھے ۔سنتری کو اپنی شناخت کروا کر میں نے بیرٹ ایم سیون اور دوسرے سامان کا تھیلا وہی چھوڑا اور صرف کلاشن کوف اور پستول لے کر پلوشہ کے ساتھ روانہ ہو گیا ۔اس کے پاس بھی کلوز بٹ والی کلاشن کوف اور اور قبیل خان سے چھینا ہوا قیمتی پستول موجود تھا ۔آگے کا سفر مسلسل اترائی پر مشتمل تھا۔سہ پہر تک ہم اس جگہ پر پہنچ گئے تھے جہاں سے ہمیں عارضی طور پر الوداع ہونا تھا ۔
”راجو !....“وہ سسکتے ہوئے مجھے لپٹ گئی تھی ۔
”پگلی !....روتی کیوں ہو دوتین دن کی بات ہے ۔میں بس اپنی چھٹی کروا کر پرسوں ترسوں تک انگور اڈے پہنچ جاﺅں گا ۔“
”کہیں دیر نہ کر دینا ،یہ نہ ہو مجھے کچھ ہو جائے ۔“وہ بالکل باولی ہو رہی تھی ۔
”چندا !....فکر نہ کرو ....اور مخابرے پر رابطہ رہے گا ،روزانہ رات کے آٹھ بجے چینل نمبر پانچ پر میں اپنی جان کی آواز سننے آﺅں گا ۔“
”اگر تین دن سے ایک گھنٹا بھی زیادہ لگایا نا، تو بالکل بھی بات نہیں کروں گی ۔“اس نے منھ بسورا ۔
”اتنا ظلم ؟“میں گویا کراہتے ہوئے بولا تھا ۔
”اور جو میری حالت ہو رہی ہو گی وہ ظلم نہیں ہوگا ؟“وہ سچ مچ رونے لگ گئی تھی ۔
ان قیمتی موتیوں کو اپنے ہونٹوں سے چنتے ہوئے میں زبردستی مسکرایا ۔ ”گڑیا !....ایک فوجی کی بیوی بننے جا رہی ہو ،جدائی کی عادت تو ڈالنا پڑے گی ۔اور یہ بھی ذہن میں رہے وطن کے محافظ کبھی کبھی عارضی جدائی کو حشر تک موقوف بھی کر دیتے ہیں ۔“
”بکواس نہ کریں سمجھے ۔“
”اچھا مذاق کر رہا تھا ۔میں بس یوں گیا اور یوں آیا ۔ہو سکتا ہے تم سے پہلے انگور اڈے پہنچ جاﺅں ۔“
”آمین ....“اپنی آنکھوں پر الٹا ہاتھ پھیرتی ہوئی وہ مجھ سے بہ مشکل علاحدہ ہوئی ۔کلاشن کوف گلے میں ڈال کر اس نے اوپر سفید برقع پہنا اور سامنے سے برقعے کا پلو اٹھا کر مجھے چاند چہرے کا آخری دیدار کرانے لگی ۔چند دن کی جدائی بھی میرا دل چیرے جا رہی تھی ۔ایک لمحے کے لیے میں نے سوچا کہ اسے واپس اپنے ساتھ ڈی بلاک پر لے جاﺅں اور وہاں سے چھٹی وغیرہ کروا کر اپنے ساتھ انگوراڈے لے جاﺅں۔یا پہلے جس طرح میں نے سیدھا انگور اڈے جانے کا سوچا تھا اس پر عمل کروں ، لیکن پھر آرمی کے ڈسپلن کا خیال آتے ہی میں نے اس کمزور سوچ پر قابو پالیا ۔اور سیدھا اگر اس کے ساتھ چلا جاتا تو چھٹی کیسے لے پاتا ۔اگر آج میں اس سے چند دن دور نہیں رہ سکتا تھا تو کل کلاں کو جب وہ میری بیوی بن کر تلہ گنگ میں بیٹھی ہوتی تب میں دن کیسے گزارتا ۔
اپنے پیاروں سے جدائی تویوں بھی ہم فوجیوں کا مقدر ہوتاہے ۔کبھی سیاہ چن اور کارگل کے برف پوش پہاڑوں میں ،جہاں رگوں میں خون کی گردش جما دینے والی ٹھنڈ پڑتی ہے وہاں اپنے پیاروں کی یادوں کا آلاﺅ جلا کر اس گردش کو رواں رکھتے ہیں۔کبھی وزیرستان کی بارود اگلتی وادیوں میں اپنے لیے دعائیں کرنے والوں کی مناجات سے حوصلہ پا کر دشمن کو منھ توڑ جواب دیتے ہیں۔کبھی سندھ کے خشک صحراﺅں میں پیاس اورگرمی کا مقابلہ یہ سوچ کر کرتے ہیں کہ کم از کم ہماری وجہ سے وطن عزیز کی کتنی مائیں، بہنیں ،بیٹیاں ،بھائی اور بزرگ آرام کی نیند سو رہے ہیں۔ کبھی بلوچستان کی بے آب و گیا پہاڑیوں میں پسینہ بہاتے ہوئے دل کو وہ وقت بیت جانے کی تسلی دیتے ہوئے وقت گزار لیتے ہیں ۔یہ جدائی ، یہ بچھڑنا ،یہ دوریاں ،یہ فاصلے ،یہ تڑپنا ،رونا اور آہیں سسکیاں تو ہم فوجیوں کا مقدر ہے ۔اور اس کا بدلہ صرف اللہ پاک کی ذات ہی دے سکتی ہے ۔تنخواہ کے نام پر موصول ہونے والے چند روپے یقینا اس کا بدل نہیں ہو سکتے ۔
”جاﺅ گڑیا !“میں نے دھیمے لہجے میں کہا ۔اس وقت میں خود کو بہت کمزور محسوس کر رہا تھا ۔
نفی میں سر کو دائیں بائیں ہلاتے ہوئے وہ ایک مرتبہ پھر تڑپ کر آگے بڑھی اور سسکتے ہوئے مجھ سے لپٹ گئی ۔
”کہہ تو دیا ہے جلدی آﺅں گا ۔“میں نے اسے ڈانٹنے کی کوشش کی ،مگر میرے منھ سے فقط بے بسی بھری آواز ہی نکل سکی تھی ۔وہ بے آواز روتی رہی ۔
”پلوشے !....پتا ہے نا اگر انگور اڈے والی آخری گاڑی نکل گئی تو کتنا مسئلہ بنے گا تمھارے لیے ۔اور یہاں سے ڈی بلاک تک میں بھی جانے رات کو کس وقت پہنچوں ۔کیا یہی چاہتی ہو کہ اندھیرے میں ٹھوکریں کھاتا رہوں ۔“
اس مرتبہ میری بات کا اس پر خاطر خواہ اثر ہوا ۔ایک جھٹکے سے مجھ سے جدا ہو کر اس نے برقع چہرے پر ڈالا اور پیچھے مڑ کر تیز قدموں سے دور جانے لگی ۔یوں جیسے اگر ایک سیکنڈ کی دیر ہو گئی تو وہ جا نہیں پائے گی ۔میں وہیں رک کر اسے دیکھتا رہا ۔پیچھے مڑے بغیر اس نے نالہ عبور کیا اور پھر فرلانگ بھر کا فاصلہ طے کر کے سڑک پر چڑھ گئی ۔میں وہیں کھڑا اسے دیکھتا رہا ۔یہاں تک کہ علام خیل سے ایک ویگن نکل کر انگور اڈے کی طرف جانے لگی ۔اس کے ہاتھ کا اشارہ پا کر ویگن اس کے قریب رکی ۔آخری مرتبہ اس نے پیچھے مڑ کر دیکھا ۔یوں جیسے اسے اچھی طرح معلوم ہو کہ میں یہاں کھڑا ہوں گا۔اور پھر ویگن میں بیٹھ گئی ۔
ویگن کے آگے بڑھتے ہی میں تھکے تھکے انداز میں پیچھے مڑا اورڈی بلاک کی بلندیاں سر کرنے لگا ۔میرے دل و دماغ میں اس وقت پلوشہ کے بچھڑنے کے علاوہ کوئی خیال جاگزیں نہیں تھا ۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ کسی بھی انسان کی زندگی کا سب سے بڑ ادکھ بچھڑنا ہی ہوتا ہے ۔چاہے وہ جدائی عارضی ہو یا ہمیشہ کی ۔دوریاں اور فاصلے دل میں وہ گھاﺅ پیدا کر دیتے ہیں جنھیں قربت کے مرہم ہی سے شفا مل سکتی ہے ۔
”کوئی نہیں چند دنوں کی تو بات ہے ۔“میں نے خود کلامی کے انداز میں بڑبڑا کر خود کو تسلی دی۔ عجیب بات تھی کہ ماہین ،جینیفر اور رومانہ سے ہمیشہ کی جدائی میں میرے دل کایہ حال نہیں ہوا تھا جو پلوشہ کے عارضی پر دور جانے پر ہو رہا تھا کبھی تو پلوشہ کا ٹکرانا مجھے اپنی زندگی کی سب سے بڑی بد بختی لگنے لگتا کہ اس ٹکراﺅ کی وجہ سے محبت جیسی بیماری نے ایک بار پھر میرے دل میں پنجے گاڑ لیے تھے۔اور کبھی اس کے ملنے پر میں خود کو دنیا کا خوش قسمت ترین آدمی سمجھنے لگتاکہ مجھے اس جیسی البیلی دوشیزکی محبت مل گئی تھی ۔ بلا شک و شبہ اس جیسی لڑکیاں کہیں صدیوں بعد ہی جنم لیتی ہیں ۔صنف نازک ہوتے ہوئے یوں ایک ظالم اور جابر سردار سے ٹکرا نے کا حوصلہ کرنا اتنا آسان بھی نہیں تھا ۔
پلوشہ کی یادوں میں کھویا میں رات کو دس بجے ڈی بلاک پر واپس پہنچا ۔پہچان کا مرحلہ ختم ہوتے ہی مجھے پوسٹ کمانڈر کے بنکر میں پہنچا دیا گیا تھا۔ ایک اور حیرانی میری منتظر تھی ۔سردار خان کو وہاں موجود پا کر میں حیرت سے اچھل پڑا تھا ۔مجھے دیکھتے ہی اس کے چہرے پر دکھ بھرے آثار نمودار ہوئے ۔لیکن اس سے پہلے پوسٹ کمانڈ رنے مجھ سے معانقہ کیا اور پھر ہمیں اکیلا چھوڑ کر باہر نکل گیا ۔
پوسٹ کمانڈر کے باہر جاتے ہی وہ میرے گلے لگ کر روپڑاتھا ۔
”یارراجے !.... چنارے مجھے چھوڑ کر چلی گئی ،لی زونا کے ساتھ محبت کرنے کی اس نے مجھے اتنی بڑی سزا دے دی کہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے تعلق توڑ لیا ۔کم از کم ایک بار متنبہہ تو کرتی اس کے بعد اگر میں لی زونا کا ذکر کرتا تو اس کا ایسا کرنا بنتا تھا یوں بغیر کچھ کہے سنے روٹھ جانا کوئی انصاف تو نہیں ہے نا یار!“
سردار کا غم دیکھتے ہوئے میرے دل سے عارضی طور پر پلوشہ کی جدائی کا دکھ غائب ہو گیا تھا ۔ اس کی پیٹھ تھپتھپاتے ہوئے میں گلو گیر لہجے میں بولا ۔”جو ہوتا ہے اچھے کے لیے ہوتا ہے دوست !.... میری بہن کا وقت مقرر تھا ۔اور یہ بھی تو سوچو کہ مرتے ہوئے کم از کم اس کے دل میں کسی سوکن کا اذیت بھر اخیال موجود نہیں تھا۔اور سب سے بڑھ کر وہ اب بھی سلطان خان کی شکل میں تمھارے پاس موجود ہے اور ان شاءاللہ ہمیشہ موجود رہے گی ۔“
”اسی بات نے تو مجھے بھی حوصلہ دیا ہے ،ورنہ جانے میرا کیا ہوتا ؟“مجھ سے علاحدہ ہو کر وہ چارپائی پر بیٹھ گیا ۔
”چھٹی خود بڑھائی تھی یا ....“
وہ قطع کلامی کرتا ہوا بولا۔”کمانڈنگ آفیسر ملک عرفان صاحب نے تعزیتی فون کر کے ساتھ ہی مہینا مزید گھر رہنے کا حکم دے دیا تھا ۔“
”اب سلطان کو کس کے پاس چھوڑ آئے ہو ؟“
”اپنی چھوٹی بہن کے حوالے کر آیا ہوں ۔“
”اس کی دوسری ماں کو بلوا لینا تھا ۔“ماحول میں چھایا بوجھل پن ختم کرنے کے لیے میں نے لی زونا کا ذکر کیا ۔
اس کے پاس جانے کی تو حالت نہیں تھی البتہ اس کا جو ٹوٹا پھوٹا پتا ذہن میں تھا، آتے ہوئے اس پر ایک خط لکھ کر ڈال آیا ہوں ۔اب جاپان جا کر اسے کیاڈھونڈتا پھرتا ۔یہ بھی ممکن ہے وہ کسی چھوٹے قد اور چندھی ہوئی آنکھوں والے جوان کی جانب اشارہ کر کے کہتی اس سے ملو یہ ہیں میرے شوہر نامدار ۔ابھی چند ماہ ہی ہوئے ہیں شادی کو چونکہ آپ کا فون نمبر میرے پاس نہیں تھا اس لیے دعوت نہ دے سکی ۔“اس نے یہ تمام باتیں مزاحیہ انداز میں کہی تھیں مگر اپنے لہجے میں شامل دکھ کو نہیں چھپا سکا تھا۔
”اگر وہ تمھاری قسمت میں ہوئی تو ضرور ملے گی ۔“میں نے اسے تسلی دیتے ہوئے کہا ۔ ”وہ تم سے محبت کرتی تھی اور محبت کرنے والے اتنی جلد ہار نہیں مانا کرتے ۔“
”ان باتوں میں مجھے قبیل خان کی موت تو بھول ہی گئی ہے ۔مبارک ہو یار !....تم نے بہت اچھی کارکردگی دکھائی ہے ۔مجھے یہاں پہنچ کر ہی پتا چلا ہے کہ اس کاکانٹا نکل گیا ہے ۔البتہ تم لاپتا تھے اس لیے کافی پریشانی تھی ۔“
”شکریہ ۔“قبیل خان کا ذکر آتے ہی شوخ و چنچل پلوشہ کی تصویر میں آنکھوں کے سامنے لہرانے لگی ۔میرا دل ایک دم چاہنے لگا کہ اڑ کر اس کے پاس پہنچ جاﺅں اور اسے اپنے آغوش میں لے کر کہیں ایسی جگہ پہنچ جاﺅں جہاں ہم دونوں کے سوا کوئی نہ ہو ۔بس اس کی شرارتیں ہوں ،چنچل ادائیں ہوں، جان دار قہقہے ہوں،اس کا شرمانا اور آنکھیں جھکانا ہو ،میرے لیے سجنا سنورنا اور میری گود میں لیٹنا ہو۔اور میرے ساتھ ہر وقت کا جھگڑنا ہو۔
”کن خیالوں میں کھو گئے ہو ۔“سردار کی آواز مجھے خیالات کی خوب صورت دنیا سے باہر لائی۔
”کچھ نہیں یار !....“میرے ہونٹوں پر شرمیلی سی مسکراہٹ نمودار ہوئی ۔
”راجے !....ایک بات تو بتاﺅ ۔“
”کیا ؟“
”میں اپنی چھوٹی بہن بھی تمھارے پاس چھوڑ گیا تھا ۔اس کا کیا ہوا؟.... کیا قبیل خان کی موت کے وقت وہ تمھارے ساتھ ہی تھی ۔یقینا اس خبیث کی موت پر وہ خوش تو ہوئی ہو گی ؟“
”ہاں بہت خوش تھی ۔“میں نے اثبات میں سر ہلادیا۔
”ویسے میں تو ڈر رہا تھا کہ میرے جاتے ہی تم نے اس معصوم کو بھگا دیا ہوگا ۔“
پلوشہ کا ذکر آتے ہی میرے منھ میں مٹھاس گھل جاتی تھی ۔میں نے متبسم ہو کر کہا ۔”وہ اتنی آسانی سے بھاگنے والوں میں سے نہیں ہے ۔“
”ہا....ہا....ہا۔“سردار نے قہقہہ لگایا ۔”صحیح کہا ،ویسے تمھیں تو وہ خوب تنگ کرتی تھی ،کیا میرے جانے کے بعد بھی وہ تمھیں اسی طرح دھمکیاں دیتی رہی کہ قبیل خان کے قتل کے بعد تمھیں جان سے مار دے گی ۔“
”دھمکیاں تو وہ دیتی تھی لیکن بعد میں اس کی دھمکی تبدیل ہو گئی تھی ۔“
”بھلا نئی دھمکی کیا تھی ؟“سردار نے اشتیاق سے پوچھا ۔
میں نے آنکھیں بند کرتے ہوئے کہا ۔”یہی کہ وہ خودکشی کر لے گی ۔“
سردار نے حیرانی سے کہا ۔”ابے کیا کہہ رہا ہے ،بھلا یہ کیا دھمکی ہوئی ایسی دھمکی تو کسی چاہنے والے کو دی جاتی ہے ۔“
میں مسکرایا۔”تو چاہنے والے ہی کو دیتی تھی نا ۔“
”کیا ....؟“سردار نے مجھے یوں آنکھیں پھاڑ کر دیکھا جیسے میرے سر پر سینگ اگ آئے ہوں ۔”میرے کان وہی سن رہے ہیں جو تم کہہ رہے ہو یا میرا دماغی فتور ہے ۔“
”گو فتور تو ہر پٹھان کے دماغ میں ہر وقت موجود ہوتا ہے ،لیکن اس وقت تم نے وہی سنا جو میں نے کہا ۔“
”مم....مگر یہ سب کیسے ہوا ؟“خوشی اور حیرت کی ملی جلی کیفیت میں وہ مجھ سے لپٹ گیا تھا ۔
”پتا نہیں یار !....“میں نے آنکھیں موندتے ہوئے پلوشہ کا تصور کرتے ہوئے کہا ۔ ”بس ایک دم مجھے لگا کہ وہ میرے ناگزیر ہے ،اتنی کہ باقی لڑکیوں کے بغیر تو میں آج بھی زندہ ہوں لیکن اس کے اس کے بغیر میں زندہ نہیں رہ پاﺅں گا ۔“
”راجے !....یوں ایک دم ....یہ سب کیسے ہو گیا ....مجھے فوراََ تفصیل سے ساری کہانی سناﺅ۔یہ نہ ہو میرا سانس رک جائے ۔“
”تمھارے جانے کے بعد میں اورنگ زیب صاحب سے ملنے گیا تھا ۔وہ زبردستی میرے گلے پڑی رہی اور پھر ................“میں نے تفصیل سے اس کے سامنے سب کچھ دہرا دیا ۔جانے کب سے میں ترس رہا تھا کہ کوئی راز دار میسر ہو جس کے سامنے میں اپنی پلوشہ کا ذکر کروں اور یہ اعتراف کروں کہ میں اسے کتنا چاہتا ہوں ،اس کے لیے کیا کر سکتا ہوں اور وہ میرے لیے کتنی اہم اور ضروری ہے۔
”مطلب تم ابھی اسے رخصت کر کے آرہے ہو ۔اگر مجھے پتا ہوتا تو اپنی بہن سے ملاقات ہی کر لیتا ۔“
میں نے کہا ۔”وہ بھی تم سے مل کربہت خوش ہوتی ۔“
” راجے !....پلوشہ جیسی شریک حیات تمھیں چراغ لے کر ڈھونڈنے پر بھی نہیں ملے گی ۔“
”یار !....اس جیسی اللہ پاک نے اور کوئی بنائی ہی نہیں ۔“میرے لہجے میں پلوشہ کے لیے دنیا جہاں کا پیار ابل رہا تھا ۔
سردار کھل کھلا کر ہنسا ۔”ہوٹل کے اندر جب میں تمھاری غیر موجودی میں اسے سمجھا رہا تھا کہ میرے آنے تک تمھیں کوئی الٹی سیدھی بات نہ کرے وغیرہ وغیرہ ۔اسی وقت اس نے مجھے یہی کہا تھا کہ سردار بھائی !....فکر نہ کرو تمھارے راجے کو تو میں ایسا سیدھا کروں گی کہ واپسی پر اسے پہچان نہیں پاﺅ گے۔اور یقینا جیسا کہا تھا ویسا ہی کر دکھایا ہے ۔“
”وہ ہے ہی ایسی ۔“مجھے پلوشہ کی تعریف سے خوشی مل رہی تھی ۔
اسی وقت وہاں رکھے سرکاری فون کی گھنٹی بجی مگر ہم نے اسے نظر انداز کر دیا ۔فون دو تین مرتبہ بج کر خاموش ہوگیا ۔
”مجھے عنقریب ہی اپنے دوست کے سر پر سہرا سجتا دکھائی دے رہا ہے ۔“سردار نے خیال ظاہر کیا ۔میرے جواب دینے سے پہلے ہی دروازہ ہلکے سے بجا کر ایک آدمی نے اندر جھانکا۔
”سر !.... اورنگ زیب صاحب بات کرنا چاہ رہے ہیں ۔“
میں نے کہا ۔”معذرت یار !....ہم نے سوچا پوسٹ کمانڈر کے لیے کال ہے ۔“
فون ایک بار پھر بجنے لگا تھا ۔میں نے رسیور اٹھا کر کان سے لگا تے ہوئے کہا ۔
”اسلام علیکم سر !....ذیشان بات کر رہا ہوں ۔“
”وعلیکم اسلام جناب !....بہت بہت مبارک ہو ۔ایک موذی کو تم نے اس خوب صورتی سے ٹھکانے لگا دیا ۔“
”شکریہ سر !....بس اب کچھ دنوں کی چھٹی درکار ہے ۔“میں نے فوراََ اپنا مسئلہ بیان کیا کہ میں صبح سویرے ہی انگور اڈے جا کر اپنی روح کو تسکین دینا چاہتا تھا ۔
”کیا سردار نے تمھیں کچھ نہیں بتایا ۔“میجر اورنگ زیب نے حیرانی سے پوچھا ۔
”نہیں سر !....سردار سے تو بس ان کی بیوی کے بارے تعزیت کی ہے اور پھر میں اسے اپنے واقعات سنانے لگا اس دوران آپ کی گھنٹی آ گئی ۔“
”ہونہہ !....ویسے میں نے اتفاقاََ پوسٹ کمانڈر سے بات کر لی ، اس نے تمھاری واپسی کے بارے بتا دیا اور میں نے تم سے بات کرنا ضروری سمجھا ورنہ اتنی رات گئے میں فون نہیں کیا کرتا ۔“
”آپ جس وقت فون کریں سر !اس سے مجھے کوئی مسئلہ نہیں ،میرا مسئلہ تو چھٹی ہے ۔آپ مجھے اجازت دیں کہ صبح میں روانہ ہو جاﺅں ۔“
”اگر کوئی زیادہ سنجیدہ مسئلہ نہیں ہے تو ایک ہفتہ میری خاطر رک جاﺅ۔“میجر اورنگ زیب کے لہجے میں حکم سے زیادہ التجا کا عنصر نمایاں تھا ۔
”اللہ پاک ہم سب کو مسائل سے محفوظ رکھے سر !....بہ ہرحال آپ کی خواہش میرے لیے حکم کا درجہ ہی رکھتی ہے ۔میں ایک ہفتہ صبر کر لیتا ہوں ۔“
”شکریہ ذیشان !....باقی تفصیلات تمھیں سردار سے معلوم ہو جائیں گی ۔“
”ٹھیک ہے سر!.... فی امان اللہ ۔“میں نے اجازت چاہی اور میجر اورنگ زیب نے رابطہ منقطع کر دیا ۔
جاری ہے
 

رسیور نیچے رکھ کر میں سردار کی طرف متوجہ ہو گیا ۔
”خان صاحب!....کیا معاملہ چل رہا ہے ، اورنگ زیب صاحب نے تو ایک ہفتے کے لیے میری چھٹی روک دی ہے ۔“
وہ ہنسا ۔”ہاں تمھاری باتوں سے مجھے پتا چل گیا ہے ۔اچھا ہی ہوا اب یہ بھلا کیا بات ہوئی کہ ادھر ہلکا سا قول و قرار ،اور اس کے ساتھ شادی تیار۔چند دن صبر کرو میرے بھائی !....رات کے دو ہونے والے ہیں ۔شام سے تمھارے منھ سے پلوشہ پلوشہ کی رٹ سن رہا ہوں ۔“
”وہ ہے اس قابل کے اسے یاد کیا جائے ۔تمھاری لی زونا کی طرح نہیں ہے کہ آنکھ سے اوجھل ہوتے ہی تم ایک دوسرے کو بھول گئے ۔“
”بکواس نہ کرو اور سو جاﺅ ۔“وہ فوراََ رضائی میں گھس گیا ۔
”اچھا مجھے تفصیل تو بتا دو آخر ہفتے کے لیے میری چھٹی کیوں رکوا رہے ہیں ۔بتایا تھا نا کہ پلوشے نے تین دن کی مہلت دی ہوئی ہے ۔ایک دن بھی اوپر ہونے کی صورت میں اس نے بات نہیں کرنی ۔“
”اتنے ماہ ہو گئے ہیں میں نے لی زونا سے بات نہیں کی ....تو کیا ہوا ؟ زندہ ہوں نا ۔تم بھی نہیں مرو گے ۔“
خیر تفصیلات جانے بغیر تو میں نے تمھیں نہیں سونے دینا ۔“میں نے دوٹوک لہجے میں کہا ۔
”گزشتا ایک ماہ سے دہشت گردوں کے حملوں کی رفتار میں خاطر خواہ اضافہ ہوا ہے ۔کافی پہاڑی چوٹیاں اب تک دہشت گردوں کے قبضے میں ہیں۔وچہ نرائے کی بلندی پرآرمی نے دو تین مورچے بنائے ہیں جہاں سے میں نے اور تم نے ذخیرہ ٹاپ پر دہشت گردوں کی نقل و حرکت میں رکاوٹ ڈالنی ہے ۔لیکن اس سے پہلے ایک اور ضروری کام یہ ہے کہ پرسوں وانہ سے ایک ٹینک لایا جا رہا ہے جسے حفاظت سے یہاں تک پہنچانے میں ہم نے بھی اپنا کردار ادا کرنا ہے ۔ کل ایک QRFکے ساتھ جا کر ہم نے رستے میں آنے والی ایسی جگہوں کا چناﺅ کرنا ہے جہاں سے دشمن سنائپر زگھات لگا کر آنے والے قافلے کو نقصان پہنچا سکتے ہیں ۔کچھ حساس جگہوں پر فوجی جوان پکٹنگ کریں گے ،کچھ جگہیں راستے میں آنے والی پوسٹیں سنبھالیں گی اور ہم نے بھی اس کارروائی میں اپنا حصہ ڈالنا ہے ۔“
”ٹینک اور اس علاقے میں ؟“میں نے حیرانی سے پوچھا ۔
”جی ہاں ،اور یہ ذخیرہ ٹاپ کے خلاف منگوایا جا رہا ہے ۔ڈی بلاک کے اوپر جو پوسٹ ہے 3349اس پر سے ذخیرہ پوسٹ کو نشانہ بنایا جا ئے گا ۔“
”میرا خیال ہے اتنی بلندی پر ٹینک کا چڑھنا ایک ریکارڈ ہی ہو گا ۔“
”اورنگ زیب صاحب بھی یہی بتارہے تھے ۔“سردار نے اثبات میں سر ہلایا۔
”مگر ٹینک کو ہماری حفاظت کی کیا ضرورت ؟“
”یہ کوئی الضرّار یا الخالد ٹینک نہیں ہے ۔یہ تو وہی پرانا ٹینک ہے جس میں جدید کمپیوٹر سسٹم موجود نہیں تھا ۔“
”ٹینک نامعلوم نیا ہے یا پرانا مگر اس ظالم نے میری دوریوں کی میعاد میں اضافہ ضرور کر دیا ہے ۔“
”یار !....تم تو بالکل ہی بے صبرے ہوتے جا رہے ہو ۔“سردار کے لہجے شامل تشویش بالکل حقیقی تھی ۔”اتنا بے چین میں نے اس سے پہلے تمھیں نہیں دیکھا۔“
”اس سے پہلے مجھے پلوشے بھی تو نہیں ملی تھی نا ۔“میں نے اس کی بات جھٹلانے کی کوشش نہیں کی تھی ۔
سردار جھلا کر بولا ۔”اس میں ایسے کون سے سرخا ب کے پر لگے ہیں ۔ایک لڑکی ہی تو ہے ۔ نہ جانے دنیا میں اس سے کتنی حسین اور خوب صورت لڑکیاں موجود ہوں گی ۔بلکہ دور کیوں جاتے ہو لی زونا ہی کو لے لو ۔“آخری فقرہ اس نے مزاحیہ انداز میں کہا تھا ۔
”جہاں تک میری تحقیق ہے تو پلوشے سے خوب صورت نہ تو اس سے پہلے کسی لڑکی کی دنیا میں آمد ہوئی ہے اور نہ اس کے بعد ہی اللہ پاک نے کسی کو اتنے حسن سے نوازنا ہے ۔باقی رہی بات لی زونا بہن کی تو اس بارے میں یہی کہہ سکتا ہوں کہ ،دل کے خوش رکھنے کو غالب یہ خیال اچھا ہے ۔“
سردار نے منھ بنایا۔”مجنوں کو بھی کالی لیلیٰ دنیا کی سب سے حسین لڑکی نظر آتی تھی ۔“
”دیکھ لو ....یہی بات میں تمھیں لی زونا کے متعلق سمجھانے کی کوشش کر رہا تھا ۔“
”اچھا اب سو جاﺅ۔“میری جانب پیٹھ موڑتے ہوئے سردار نے اپنا سر رضائی کے اندر کر لیا ۔ میں نے بھی اپنی آنکھیں بند کر لی تھیں ۔دن بھر کی تھکن کے باوجود میں جلدی نہیں سو سکا تھا۔پلوشہ میرے خیالوں میں سرگرداں رہی ۔بڑی مشکل سے اپنے خیالات کو مشن کی جانب موڑ کر میں سونے میں کامیاب ہو سکا تھا ۔
٭٭٭
صبح کی نماز کے لیے مجھے سردار نے جگایاتھا ۔نماز پڑھ کر میں دوبارہ سو گیا ۔ناشتا ہم نے نو دس بجے کیا تھا ۔ناشتے کے بعد QRFکی پانچ گاڑیوں کے ساتھ ہم راستے کی قراولی (Reconnaissance)کے لیے روانہ ہو گئے۔ چار پانچ گھنٹوں میں ہم شکئی پہنچ گئے تھے ۔وہاں دن کا کھانا کھا کر ہم واپس لوٹے اور گاڑیوں کے ساتھ واپس جانے کے بہ جائے رستے میں اتر گئے ۔ وہاں سے ہم نے اپنا مورچہ سنبھالنے کی جگہ پر پہنچنا تھا ۔آنے والی صبح وانہ سے ٹینک نے روانہ ہونا تھا ۔ ممکن تھا کہ وہ وانہ سے بہ مشکل شکئی تک ہی پہنچ پاتا لیکن ہم نے پہلے سے اپنی جگہ پہنچ جانا چاہتے تھے ۔ وزیرستان کی پہاڑیوں میں رات گزارنے کی جگہ تلاش کرنا اتنا بھی مشکل نہیں ہے ۔وہاں سردی کی شدت اپنی جگہ بر حق ہے لیکن درختوں کی اتنی بہتات ہے کہ پہاڑی بلندیوں پر خشک لکڑی وافرمقدار میں مل جاتی ہے۔جنہیں جلا کر سردی کی شدت کا مقابلہ آسانی سے کیا جا سکتا ہے ۔
کوئی غار تو ہم تلاش نہیں کر پائے تھے البتہ ایک بڑی چٹان کے نیچے ہمیں رات گزارنے کی جگہ مل گئی تھی ۔تیز ہوا سے نبرد آزما ہونے کے لیے ہم نے خالی جانب پتھروں کی دیوار بنا دی تھی ۔وہاں چھوٹے بڑے اتنے پتھر بکھرے پڑے تھے کہ چھوٹی سی دیوار تو کیا پورا کمرہ بنایا جا سکتا تھا ۔ہم نے تو بس پتھروں کو ترتیب سے رکھ کر دو اڑھائی فٹ دیوار بلند کی تھی ،تاکہ ایک تو ہماری جلائی ہوئی آگ دور تک نظر نہ آسکے ،دوسرا تیز چلنے والی ہوا سے بھی آگ کو بچایا جا سکے ۔اندھیرا چھانے تک ہم رات گزارنے کے انتظامات سے فارغ ہو گئے تھے ۔
سردارآگ جلا کر چاے بنانے لگا ۔میں نے کلائی پر بندھی گھڑی پر نگاہ دوڑائی سات بج رہے تھے ۔پلوشہ سے بچھڑے ہوئے چوبیس گھنٹے سے زیادہ وقت بیت گیا تھا ۔اسے رخصت کرتے وقت طے یہی ہوا تھا کہ ہم روزانہ رات کے آٹھ بجے چینل نمبر پانچ پر بات کریں گے ۔گھنٹا بھر پہلے ہی آئی کام آن کر کے میں نے چینل نمبر پانچ لگا دیا تھا ۔لیکن وقت تھا کہ نہایت سست رفتاری سے آگے بڑھ رہا تھا ۔ سردار نے چاے بنا کر مخصوص بسکٹوں کا پیکٹ اور چاے کی پیالی میری جانب بڑھا دی ۔
میں سرعت سے بسکٹوں کا پیکٹ چبا کر چاے کی پیالی معدے میں انڈیلی اور خالی پیالی سردار کی طرف بڑھا دی ۔
”اور چاے ؟“وہ مستفسر ہوا۔
”شکریہ کہہ کر میں گھڑی دیکھنے لگا ۔
تم پچاسویں بار گھڑی دیکھ رہے ہو ،کیا اس طرح بے صبری ظاہر کرنے سے وقت جلدی گزر جاے گا ۔“
”تمھیں کوئی مسئلہ ۔“میں نے اسے جھڑکنے میں ایک منٹ نہیں لگایا تھا ۔
”مسئلہ تو کوئی نہیں ،بس تمھاری حالت دیکھتے ہوئے ترس آرہا ہے ،وہ کیا کہتے ہیں ....
عشق نے غالب نکما کر دیا
ورنہ ہم بھی آدمی تھے کام کے
”غالب یا اقبال کا شعر پڑھ کر بھی تم خان ہی رہو گے عقل مند نہیں کہلا سکتے ۔“
وہ فلسفیانہ لہجے میں بولا ۔”پٹھانوں کو بے وقوف سمجھنے والوں کی اپنی عقل میں فتور ہوتا ہے ۔“
”اچھا اگر اتنے ہی عقل مند ہو تو بتاﺅ دنیا کی سب سے خوب صورت اور پیاری لڑکی کا نام کیا ہے ؟“
”یہ بھی کوئی پوچھنے کی بات ہے، لی زونا کے علاوہ بھلا کو ن ہو سکتا ہے ۔“
میں نے افسوس بھرے انداز میں سر ہلایا۔”رہے نا وہی پٹھان کے پٹھان .... میں نے تم سے بے وقوف ترین لڑکی نہیں، خوب صورت لڑکی کا پوچھا ہے جس کا درست جواب تھا پلوشہ خان وزیر۔“
”لی زونا ،جاپان انٹیلی جنس کی ذہین آفیسر ہے ،بے وقوف کیسے ہو گئی ؟“
”بے وقوف آدمی شکل سے نہیں حرکتوں سے پہچانا جاتا ہے اور ایک پٹھان کو دل دے کر اس نے اپنی ذہانت کا پول کھول دیا ہے ۔“
”اچھاااا ....“اچھا کی آخری الف کو لمبا کھینچتے ہوئے وہ معنی خیز لہجے میں بولا ۔”اگر پٹھانوں کو دل دینا بے وقوفی اور بے عقلی کی نشانی ہے تو میرا خیال ہے پلوشہ خان وزیر کوئی سندھی ،بلوچی یا پنجابی نہیں ہے ۔“
”مجھے تم سے بحث ہی نہیں کرنا ۔“گھڑی کی سوئیوں کو آٹھ بجنے کا اعلان کرتے دیکھ کر میں اس کے پاس سے اٹھ گیا ۔چٹان کے اوپر چڑھ کر میں نے اسے بار بار پکارنا شروع کر دیا تھا ۔ ”پلوشے.... پلوشے ....پلوشے....“مگر اس کی جوابی آوازسنائی نہیں دی تھی ۔کافی دیر میں سر کھپاتا رہا مگر اس کی دل لبھانے والی آواز نہیں سن پایا تھا ۔یقینا وہ زیادہ فاصلے پر موجود تھی جہاں تک آئی کام رابطہ نہیں پا رہا تھا ۔
”محترم !....اب تشریف لے آئیں اور آنکھیں بند کر کے اپنی پلوشہ خان سے گفتگو فرما لیں جیسا کہ میرا معمول ہے ۔“
”میں خان نہیں ہوں سمجھے ،میں اس طرف پہاڑی پر جا رہا ہوں ۔“کلاشن کوف کندھے سے لٹکا کر میں انگور اڈے کی جانب موجود بلند پہاڑی پر چڑھنے کے لیے تیار ہو گیا تھا ۔آتے ساتھ ہم نے چاروں طرف موجود علاقے کا اچھی طرح جائزہ لے لیا تھا ۔اس پہاڑی اورجس پہاڑی پر ہم موجود تھے ، ان دونوں کے درمیان ایک کم بلند پہاڑی اور دو نالے پڑ رہے تھے ۔
”ابے عقل کے ناخن لو ،تم تو پٹھان نہیں ہو ۔“اس نے مجھے بازو سے پکڑ کر چٹان کے نیچے دھکیلا۔
”یار!.... وہ منتظر ہو گی ۔“میں سچ مچ متفکر ہو گیاتھا ۔
”تمھیں اس پہاڑی پر پہنچنے تک کم از کم ہی دوتین گھنٹے لگ جائیں گے اور اس وقت تک جانان سو چکی ہو گی ۔آٹھ بجنے کے بعدوہ زیادہ سے زیادہ گھنٹا ادھ گھنٹا انتظار کرے گی ، آخر صبح تک تو اس نے آئی کام آن کر کے تو نہیں بیٹھے رہنا نا ۔اور پھر اندھیرا دیکھو ،خواہ مخواہ کا درد سر نہ بڑھاﺅ ۔“
”اللہ کرے لی زونا کو تمھارا خط ہی نہ ملے ۔“میں جھلاتے ہوئے بیٹھ گیا کہ اس کی بات بہ ظاہر مبنی بر حقیقت تھی ۔
سردار چاے کے برتن صاف کر کے تھیلے میں رکھنے لگا جبکہ مجھے عجیب قسم کی بے چینی ہو رہی تھی۔ دو تین منٹ دل گرفتہ رہنے کے بعد میں نے اچانک پوچھا ۔
”خان صاحب !....نیند آرہی ہے کہ نہیں؟“
”فی الحال تو نہیں آرہی ....تم سو جاﺅ ۔“
”اگر میں کہوں کہ میں نے ساری رات سونا ہے تو تمھارا کیا جواب ہو گا ؟“
اس نے دوتین لکڑیاں اٹھا کر آگ پر ڈالتے ہوئے اطمینان بھرے لہجے میں کہا ۔”تمھیں میرا جواب معلوم ہے ۔“
”تو تمھیں میرے ساری رات سونے پر کوئی اعتراض نہیں ۔“
”بے شک ۔“اس کا طمینان برقرار رہا ۔
”اٹھو پھر ۔“میں نے بیرٹ ایم 107کا جھولا پیٹھ پر لادنے لگا ۔
”اب کیا ہو گیا ہے؟“
”یار !....مجھے چین نہیں آرہا ،وہ بار بار آئی کام آن کر کے مجھے پکارتی رہے گی ،میں جانتا ہوں نا اسے ....تم بس چلو میرے ساتھ ،ہم ابھی سامنے والی پہاڑی پر جا رہے ہیں ۔“
”یار راجے ،مجھے تم سے اس بچپنے کی امید نہیں تھی ۔“وہ بہ ظاہر کوفت کا اظہار کرکے تیار ہونے لگا ،مگر میںاسے جانتا تھا وہ خالص پٹھا ن ۔جو دوستی کے نام پر جان قربان کر سکتا تھا یہ تو صرف چند کلومیٹر کا سفر تھا جو اس کے لیے کوئی معنی نہیں رکھتا تھا ۔اس کے تیار ہوتے ہی ہم چل پڑے ۔کلاشن کوف اس نے ہاتھ میں پکڑ لی تھی جبکہ میرے پاس اپنا گلاک نائینٹین تھا ،وہی پستول جسے پلوشہ کے جسم سے اتصال کا شرف حاصل رہا تھا ۔چلنے سے پہلے میں نے قطبی ستارے کی مدد سے اپنی سمت کا تعین کر لیا تھا ۔مطلوبہ پہاڑی ہم سے غربی جانب موجود تھی ۔قطبی ستارے کو دائیں ہاتھ پر رکھ کر ہم ناک کی سیدھ میں چل پڑے۔سردار کی کوفت دو تین منٹ سے زیادہ برقرار نہیں رہی تھی ۔ڈھلوان سے اترتے ہوئے اس نے فکرمندی سے پوچھا ۔
”یار راجے !....تم کچھ زیادہ ہی باولے نہیں ہو رہے ۔“
”کیا کروں یار !....خود پر اختیار کھو بیٹھا ہوں نا ؟....وہ الو کی پٹھی بری طرح اعصاب پر سوار ہے ۔اسے ذرا بھی اداس یا پریشان نہیں دیکھ سکتا ۔“
وہ کھل کھلا کر ہنسا ۔”وہ وقت یاد ہے جب اسے روئی کی طرح دھنک رہے تھے ۔“
”آہ ....“میں ایک گہرا سانس بھر کر رہ گیا تھا ۔
”شاید میں نہ آتا تو تم اسے جان سے مار چکے ہوتے ۔“
”ہونہہ!“میں اس کی تردید نہیں کر سکا تھا ۔”لیکن جانتے بھی ہو میں نے اسے اس بے دردی سے کیوں پیٹ رہا تھا ؟“
”قبیل خان سے نفرت کی وجہ سے ۔“سردار نے فوراََ اندازہ لگایا ۔
”نہیں ....بلکہ اس لیے ،کہ پہلی بار دیکھتے ہی میں اس پر مرمٹا تھا ،لیکن میرا دل اور دماغ اس بات کو تسلم کرنے پر تیار نہیں تھے ۔اور مجھے اس کی بے راہ روی پر غصہ آرہا تھا کہ وہ قبیل خان جیسے دہشت گرد کی رکھیل کیسے بن گئی ،حالانکہ وہ تو میرے لیے بنی ہے ۔اب یہ میری بد بختی کہ میں اس معصوم کو وضاحت پر آمادہ نہ کر سکا ۔“
سردار نے مجھے چھیڑا ۔”اتنی بھی معصوم نہیں ہے ۔پتا نہیں کتنوں کے سر سے گولی گزار چکی ہے۔“
”اس کی گولی کا نشانہ بننے والوں میں سے ایک بھی ایسا نہیں ہے جو مرنے کا حق دار نہ ہو ۔ سارے ننگ انسانیت ،وطن فروش اور دہشت گرد تھے ۔“
سر دار نے قہقہہ لگایا ۔”ویسے مجھے اب بھی یقین نہیں آرہا کہ تم اور پلوشہ ایک دوسرے کو چاہنے لگے ہو ۔“
”مجھے بھی ۔“میں اس کی ہنسی میں شامل ہو گیا تھا ۔
ڈھلان سے اتر ہم نالے اترے اور چوڑا نالہ عبور کرکے اگلی چڑھائی سر کرنے لگے اس درمیانی پہاڑی کے بعد ایک اور نالہ تھا جسے عبور کر کے ہم بلند پہاڑی کی چڑھائی پر چڑھنے لگے ۔پسینہ دھاروں کی صورت ہمارے چہروں پر بہہ رہا تھا ۔تیز قدم لینے کی وجہ سے ہمارے سانس بھی پھولے ہوئے تھے ۔سردار بار بار مجھے آہستہ چلنے کا کہتا مگر میرے دل کسی ایسی ان دیکھی ڈورسے بندھا تھا کہ مجھے تھکن محسوس ہی نہیں ہو رہی تھی ۔اگر خیال آرہا تھا تو یہی کہ وہ منتظر ہو گی ۔بلند پہاڑی کی چوٹی پر پہنچتے ہی میں نے ٹارچ کی روشنی میں گھڑی کی سوئیوں کو دیکھا جو گیارہ بجنے کا اعلان کر رہی تھیں ۔
پیٹھ پر لدے جھولے کو اتارنے کا تکلف کیے بغیر میں نے آئی کام آن کیا اور پھولے ہوئے سانسوں سے وہ پیارا نام لیا جس سے میرے منہ میں مٹھاس گھل جاتی تھی ۔
”پلوشے !....“
”راجو ....!“ایک سیکنڈ میں اس کی بے تابانہ آواز نے میرے کانوں میں رس گھولا۔
”چندا !....میں بہت دور تھا جہاں بات نہیں ہو سکتی تھی ،ابھی چھے سات کلومیٹر کا فاصلہ طے کر کے ایسی جگہ پہنچا ہوں جہاں تمھاری آواز سن سکوں ۔“
میرے خاموش ہوتے ہی وہ بے قراری سے بولی ۔”اگر آپ نہ آتے تو میں ساری رات مخابرہ آن کر کے چھت پر بیٹھی رہتی ۔“
سردار مجھے باتوں میں مصروف دیکھ کرتھوڑی دور ایک چٹان کے پاس جا کر بیٹھ گیا تھا ۔میں نے اس کی ٹارچ کی روشنی سے اندازہ لگایا تھا کہ وہ پندرہ بیس گز دور چلا گیاہے ۔
”ایسا بھلا ہو سکتا ہے کہ میں تمھیں انتظار کی کوفت میں مبتلا رکھوں ۔“
”انتظار ہی تو کر رہی ہوں ....راجو جلدی آﺅ نا ؟....اب تو لگتا ہے آپ کو دیکھے ہوئے بھی مدت گزر گئی ہے ۔“
میں نے ڈرتے ڈرتے کہا ۔”ایک ہفتہ لگ جائے گا ۔“
”کیا ....؟“وہ حیرانی اور غصے بھرے لہجے میں چلائی ۔”میں اپنی جان لے لوں گی ۔“
”چندا !....ایسا تو نہیں کہتے ....تم جانتی تو ہو میری کچھ مجبوریاں ہیں ۔“
”میں کچھ بھی نہیں جانتی راجو !....میں سچ مچ مر جاﺅں گی ۔“اس کی سسکیاں سن کر مجھے کچھ ہونے لگا ۔
”اچھا پتا ہے تمھارا سردار بھائی لوٹ آیا ہے ۔“میں نے موضوع تبدیل کرنے کی کوشش کی ۔
”راجو !....بھائی کو میرا سلام کہو اور انھیں کہو کہ آپ کو چھٹی دلوا دے نا ؟“
”یہ اس کے بس سے باہر ہے چندا ....بس تم ایک ہفتہ صبر کر لو ....“
”نہیں ہوتا نا صبر ۔“وہ غصے سے چلا ئی ۔”اگر اتنی برداشت ہوتی تو منتیں کیوں کرتی ۔“
”تو جب تین تین ماہ چھٹی نہیں آﺅں گا تب کیا کرو گی ؟“میں نے اسے مستقبل کا حوالہ دے کر سمجھانا چاہا ۔
”راجو !....پتا نہیں مجھے کیوں ڈر لگ رہا ہے ۔آپ بس کسی بھی طرح آجائیں ۔“اس نے اپنی راگنی الاپی ۔
”میری بات تمھاری سمجھ میں نہیں آئی ہے نا ؟“
”ہاں ....ہاں نہیں آئی ....اور نہ میں کچھ سمجھنا چاہتی ہوں ۔“
”میری بات نہیں مانو گی ۔“
”دیر سے آنے والی بات کے علاوہ، ہر بات مانوں گی ۔“وہ اپنی بات پر مصر رہی ۔
”دیکھو چندا !....اگر تم اس طرح روﺅ گی تو یقینا مجھ سے کام نہیں ہو سکے گا ۔اور تمھیں معلوم تو ہے نا میرا کام کتنا خطرناک ہے ذرا سی بے پرواہی سے جان کے لالے پڑ سکتے ہیں ۔“
”مجھے پتا ہے آپ نے اسی طرح دھونس جمانی ہے ۔“اس ہٹ دھرم کے لہجے میں ہلکی سی نرمی آئی اور میں خوش ہو گیا ۔
”میں جانتا تھا میری چندا بہت سمجھ دار ہے ۔“
”بس بس زیادہ چاپلوسی نہ کریں۔“ اس کی شوخی بھری آواز نے مجھے قہقہہ لگانے پر مجبور کر دیا تھا ۔
اسی وقت سردار مجھے پکار کر باآواز بلند بولا ۔”محترم !....اسی بیٹری پر گزارا کرنا ،اگر تمھارا یہ خیال ہے کہ ایک بیٹری ختم ہونے پر میں آئی کام کی فالتو بیٹری تمھارے حوالے کرنے پر تیار ہو جاﺅں گا تو یہ ناممکن ہے ۔“
میں اس کی بات پر کان دھرے بغیر پلوشہ سے گپ شپ کرتا رہا ۔اس کی شوخی بھری باتیں ، لاڈ بھرے گلے شکوے اور جلدی آنے کی تاکید سنتا رہا ۔یہاں تک کہ آئی کام کی بیٹری کمزور پڑنے لگی ۔ ہمارے پاس ایک فالتو بیٹری موجود تھی لیکن ہم جس مشن پر نکلے ہوئے تھے اس کے لیے ہمارا اپنوں سے رابطے میں رہنا ضروری تھا ۔میں نے پلوشہ سے اجازت مانگی اور اس کے ساتھ اسے کل کے نہ آنے کی بابت بھی بتا دیا ۔تھوڑی سی تگ و دو کے بعد وہ کل کی غیر حاضری بھی ہضم کر گئی تھی ۔جب اس کی آواز بالکل کٹ کٹ کر سنائی دینے لگی تو میں نے آئی کام آف کر دیا ۔
”اب رات یہیں گزارنا ہے یا واپس چلیں ؟“سردار نے میرے بات ختم کرتے ہی پوچھا ۔
میں نے فوراََ مشورہ دیا ”یہاں سے اٹھ کر صبح سویرے واپسی اختیار کرنے سے بہتر ہے ابھی چلتے ہیں ۔“
”مروا دیا ہے تمھاری پلوشے نے یار !“تھکے تھکے لہجے میں کہتے ہوئے وہ کھڑا ہوگیا۔
”میں تو تازہ دم ہو گیا ہوں ۔“میں خوشی سے چہکا ۔
”تم سے تو اللہ سوہنا ہی پوچھے گا ....لڑکے نما لڑکی میں جانے تمھیں نظر کیا آیا ہے ،اس کے بال دیکھو ،مردانہ لباس دیکھو،کندھے سے لٹکی کلاشن کوف دیکھو ....کوئی ایک بات ایسی ہے جو اسے نازک اندام ،معصوم ،بھولی بھالی دوشیزہ سے تشبیہ دی جا سکے ۔قسم سے اپنے بدر منیر اور آپ کے سلطان راہی کی ہم زاد لگتی ہے ۔“
”خان صاحب !....میں کہہ سکتا ہوں کہ تمھاری زبان میں کیڑے پڑیں ،مگر یہ کافی نہیں ہو گا،تم نے میرے چاند کی توہین نہیں کی معیارِ حسن کو للکارا ہے ۔یقینا یہ رطب و یابس تمھارے سیاہ نامہ اعمال کا سب سے بدنما دھبہ ہے ۔“
”ہا....ہا....ہا....“سردار نے قہقہہ لگایا ۔
میں نے کہا۔” سردار سنو شاعر پلوشے کو کن الفاظ سے یاد کرتا ہے ....
سنا ہے اس کے بدن کی تراش ایسی ہے
کہ پھول اپنی قبائیں کتر کے دیکھتے ہیں
سنا ہے حشر ہے اس کی غزال آنکھوں میں
سنا ہے اس کو ہرن دشت بھر کے دیکھتے ہیں
سنا ہے اس کی سیاہ چشم مگیں قیامت ہے
سو اس کو سرمہ فروش آہ بھر کے دیکھتے ہیں
سنا ہے اس کے شبستاں سے متصل ہے بہشت
مکیں ادھر کے بھی جلوے ادھر کے دیکھتے ہیں
رکے تو گردشیں اس کا طواف کرتی ہیں
چلے تو اس کو زمانے ٹھہر کے دیکھتے ہیں
کسے نصیب کہ بے پیرہن اسے دیکھے
کبھی کبھی در و دیوار گھر کے دیکھتے ہیں
سنا ہے رات ا س کو چاند تکتا رہتا ہے
ستارے بام فلک سے اتر کے دیکھتے ہیں
سنا ہے بولے تو باتوں سے پھول جھڑتے ہیں
یہ بات ہے تو چلو بات کر کے دیکھتے ہیں
سردار نے ایک اور قہقہہ لگایا۔
میں نے منہ بنا کر کہا ۔”مجھے تمھارا قہقہہ اتنا ہی برا لگ رہا ہے جتنا کہ خود تم ۔“
”ویسے کمال ہی ہو گیا راجے صاحب !....مجھے اپنے کانوں سے سن کر بھی یقین نہیں آرہا کہ پلوشہ کسی کے لیے اتنی دیوانی ہو سکتی ہے ۔یار ،وہ تو بالکل ہی باولی ہوئی جا رہی تھی ۔اتنی سمجھ دار لڑکی کو ہو کیا گیا ہے ۔اور تمھارے تھوبڑے میں اسے ایسی کون سی بات نظر آگئی کہ ہفتے کی جدائی پر وہ مری جا رہی ہے۔اور پھر تمھیں اتنی تمیز سے مخاطب کرنا ۔کوئی لکھنوی طرز کی پشتو بول رہی تھی ۔حالانکہ تمھارے جیسا بندہ اتنی عزت کے قابل کہاں ہوتا ہے ۔ “سنجیدہ لہجے میں گفتگو کرتے کرتے وہ مذاق پر اتر آیا تھا ۔
میں ترکی بہ ترکی بولا۔”مجھ سے زندگی میں ایک ہی گناہ سرز ہوا ہے اور وہ ہے تم سے تعلق رکھنا۔ اس کے علاوہ میری خامی بتاﺅ؟“
”میں تمھارے کرتوتوں پر پی ایچ ڈی کر سکتا ہوں ۔نہ تم امریکہ جا کر سدھرے اور نہ انڈیا جا کر عورت ذات کو معاف کیا ۔اب وزیرستان میں بھی ایک بے وقوف کے پیچھے پڑے ہو جسے یہ تک معلوم نہیں کہ وہ لڑکی ہے یا لڑکا۔“
”اب اس نے لڑکیوں کے کپڑے پہننے شروع کر دیے ہیں ۔اور یہاں سے انگور اڈے جاتے وقت برقع اوڑھ کر گئی ہے ۔“میں نے اس کی معلومات میں اضافی کیا ۔
سردار ہنسا ۔”ویسے سچ سچ بتاﺅ کتنی عجیب لگ رہی تھی ۔“
”بالکل اتنی ہی عجیب،جتنا کوئی بھی پٹھان عقل مندی کی بات کرتے ہوئے لگ سکتا ہے ۔“
”پٹھانوں پر جگتیں مارنے سے کچھ حاصل نہیں ہوگا اور اگر پٹھان بے وقوف ہوتے ہی ہیں تو تمھارے ساتھ پلوشہ کا لگاﺅ ایک پٹھانی حماقت ہی ہے ۔“
رستے کی طوالت سے ہونے والی کوفت سے بچنے کے لیے ہم ایک دوسرے پر لفظی بمباری کرتے ہوئے ساڑھے تین کے قریب ہم اپنی کمین گاہ میں پہنچ گئے تھے ۔واپسی پر چونکہ اترائی زیادہ تھی اس وجہ سے ہمارا ادھ گھنٹے کے قریب وقت بچ گیا تھا ۔پلوشہ سے گفتگو کرنے کے بعد میں تازہ دم تھا ۔ سردار کو سوجانے کا کہہ کر میں جاگتی آنکھوں سے اپنی پلوشے کو دیکھنے لگا ۔میری نگاہوں میں ڈمبریانی کے سردارثقلین خان کے بیٹے دلدار کی شادی کا منظر کسی فلم کی طرح گھومنے لگا ۔پلوشے کے رقص نے اس وقت بھی میرے دل کی دنیا کو زیر و زبر کر دیا تھا لیکن اب تو وہ مجھے کسی اور جہاں کا منظر لگ رہا تھا ۔جانے اتنا خوب صورت رقص اس نے کہاں سے سیکھا تھا ۔ساز کے ساتھ اس کے لچکیلے بدن کا ہر انگ یوں موزونیت سے حرکت کر رہا تھا گویا ساری زندگی اس نے یہی کا م ہی کیا ہو ۔اور پھر اس کا بدن یوں سانچے میں ڈھلا تھا خالق کی صناعی پر ایمان لائے بغیر چارہ نہیں رہتا تھا ۔پتا نہیں کیسی جادوگرنی تھی کہ چھوٹی چھوٹی زلفوں میں بھی میرے دل کو باندھ لیا تھا ۔نہ جانے لمباہونے پر ان زلفوں نے اس دل پر کیا قیامت ڈھانی تھی ۔اتنا تو طے تھا کہ اب میں نے اسے بال چھوٹے کرنے کی اجازت بالکل بھی نہیں دینا تھی ۔میں مشن وغیرہ کی تکمیل کی سوچوں کو پسِ پشت ڈال کر بس اسی کو سوچتا رہا ۔یہاں تک کہ نماز کا وقت ہو گیا تھا ۔ہمارے پاس فالتوپانی نہیں تھا کہ میں وضو کی عیاشی کا متحمل ہو سکتا ۔مجبوراََ تیمم کر کے میں نے صبح کی نماز ادا کی اور پھر ٹوٹی ہوئی سوچوں کو وہیں سے جوڑا جہاں پر منقطع ہوئی تھیں ۔دن خوب چڑھ آیا تھاسردار کو جگانے سے پہلے میں نے چاے بنانا مناسب سمجھا ۔چاے بننے تک وہ خود ہی کسمسا کر اٹھ بیٹھا تھا ۔ہم دونوں نے مخصوص بسکٹوں سے پیٹ پوجا کی اور میں بستر میں گھس گیا ۔
سردار نے مجھے سہ پہر کے وقت جگایا اور ساتھ یہ خوش خبری بھی سنا دی کہ ٹینک شکئی میں پہنچ کر رک گیا تھا ۔اور آگے وہ کل ہی آئیں گے ۔
ہم نے وہ رات بھی وہیں گزاری ۔اگر میرے پاس آئی کام کی فالتو بیٹری ہوتی تو یقینا میں کل والی جگہ پر جا کر پلوشہ سے بات چیت ضرور کرتا ۔سورج ابھرتے ہی ہم دونوں نے ایک مناسب درخت پر مچان بنائی اور وہاں بیٹھ کر دائیں بائیں کا جائزہ لینے لگے مگر کوئی ایسی حرکت ڈھونڈنے میں ناکام رہے تھے جس کے خلاف کارروائی کرنا ضروری ٹھہرتا۔ٹینک سہ پہر کے وقت ہمارے پاس سے گزرا تھا ۔اس دوران کوئی نا خوشگوار واقعہ پیش نہیں آیا تھا ۔ٹینک کے گزرجانے کے بعد بھی ہم تھوڑی دیر مچان میں بیٹھ کرارد گرد کا جائزہ لیتے رہے ۔لیکن ہماری یہ احتیاط بے کار گئی تھی ۔
ہم دونوں اپنے ہتھیار اور سامان سنبھال کر نیچے اتر آئے ۔ہمارا کام مکمل ہو چکا تھا ۔مجھے رات کے اٹھ بجے تک ڈی بلاک تک پہنچنے کی فکر ستانے لگی ۔مجھے تیز رفتاری پر مائل دیکھ کر سردار کو میری جلدی کی وجہ معلوم کرنے کی تگ و دو نہیں کرنا پڑی تھی کہ وجہ اسے معلوم تھی ۔
”راجے یار !....کیوں مروانے کے چکروں میں ہو ....اس دن بھی تو وہ بے وقوف رات گیارہ بجے تک آئی کام پکڑ کر چھت پر بیٹھی تھی آج بھی انتظار کر لے گی ۔تم نے اس پر ایسا تعویز نہیں کیا کہ وہ آرام کر سکے ۔اسے چالیس گھنٹے سے زیادہ ہونے والے ہیں تمھاری آواز سنے ہوئے یقینا وہ صبح تک آسانی سے انتظار کر لے گی ۔“
”تو تمھارا کیا خیال ہے اسے انتظار کروا کر مجھے خوشی ملے گی ۔“میں متفکر ہو کر بولا ۔”اوراگر باہر ٹھنڈ میں اس کی طبیعت خراب ہو گئی پھر ؟“
”تمھاری کائیں کائیں سنے گی نا توطبیعت کی خرابی کو ٹھیک ہوتے دیر نہیں لگے گی ۔ اب ذرا آرام سے چلو ....تم تو بالکل ہی کام کے نہیں رہے ،فوجی بنو یار، مجنوں،رانجھے، پنوں وغیرہ کی تقلید سے تمھیں سوائے بدنامی کے کچھ ہاتھ نہیں آنے والا اور بدنام ماشاءاللہ تم پہلے سے کافی ہو ۔“
سردار کی بار بار تاکید کے باوجود میں اپنی رفتار کم نہیں کر پایا تھا ۔دس بجنے میں چند منٹ رہتے تھے جب ہم ڈی بلاک پہنچے ۔وہاں پہنچتے ہی سب سے پہلے میں نے آئی کام آن کر کے پلوشہ سے رابطے کی کوشش کی مگر اس کا کوئی جواب نہیں آیا تھا ۔یا تو وہ میرا انتظار کیے بغیر سو گئی تھی یا جگہ کے دور ہونے کی وجہ سے ملاپ نہیں ہو پارہا تھا ۔اپنا شک دور کرنے کے لیے میں نے ڈی بلاک پر موجود آئی کام کے بیس پر بھی چینل پانچ لگا کر اسے پکارا مگر اس کا کوئی جواب نہیں آیا تھا ۔اس طرح یہ بات تو متعین ہو گئی تھی کہ اس نے اپنا آئی کام بند کیا ہوا ہے ۔
بے قرار دل کو تسلی دیتا ہوا میں سردار کے پاس آگیا ۔وہ پوسٹ کمانڈر کے ساتھ گپیں ہانک رہا تھا ۔میرا لٹکا ہوا منہ دیکھ کر اسے صورت حال کا اندازہ لگانے میں کوئی دقت نہیں ہوئی تھی لیکن اس نے پوسٹ کمانڈ ر کی وجہ سے طنزیا مزاح سے گریز کیا تھا ۔
پوسٹ کمانڈ ر مجھے چند رسمی کلمات کہہ کر ہمارے لیے کھانے لانے کا بتانے لگا ۔وہ چونکہ پہلے سے کھا چکا تھا اس لیے کھانا آتے ہی ہم سے اجازت لے کر باہر نکل گیا ۔ہم دو دن سے بسکٹوں پر گزارا کر رہے تھے اس کے باوجود مجھ سے صحیح طور پر کھانا نہیں کھایا جا رہا تھا۔
سردار نے کہا ”گو تمھارے تھوبڑے کو دیکھ کر مجھے اندازہ لگانے میں کوئی دقت نہیں ہو رہی کہ ، اس سے تمھاری بات نہیں ہو سکی ہے اس کے باوجود کھانے کے ساتھ یہ ناراضی کسی طور مناسب معلوم نہیں ہوتی ۔“
”میں تمھیں کہہ رہا تھا نا کہ جلدی چلو ۔“
”جتنا بھی جلدی کرتے آٹھ بجے تک نہیں پہنچ سکتے تھے حضرت ۔“
”اچھا تم کھانا ٹھونسو،مجھے نصیحت کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ۔“میں نے کھانے سے ہاتھ کھینچ لیے تھے ۔
سردار مزاحیہ انداز میں پوچھنے لگا ۔”اور ایسا کب تک چلے گا ؟“
میں تھرماس سے چاے انڈیلتے ہوئے اطمینان بھرے لہجے میں بولا ۔”جب تک مجھے چھٹی نہیں مل جاتی ۔“
”ان شاءاللہ جلد سنو گے کہ تمھاری چھٹی مزید لیٹ گئی ۔“
”ان شاءاللہ تمھیں بھی جلد لی زونا کا جوابی خط موصول ہو گا جس میں اس کی اپنے شوہر کے ساتھ خوب صورت سی تصویر موجود ہو گی ۔“
سردار غصے سے بولا ۔”تمھارے منہ میں خاک....“
میں ترکی بہ ترکی بولا۔”اور تمھارے منہ میں نسوار ....وہ نسوار جو کسی دوسرے خان نے اپنے منہ سے نکال کر پھینکی ہو ۔“
”جس دن پلوشے بہن سے ملاقات ہوئی ،اسے تمھارے کرتوتوں کے متعلق بتانے میں میں ایک لمحہ بھی نہیں لگاﺅں گا ۔“
”کوئی فائدہ نہیں ....اسے میں اپنے متعلق تمام تفصیل بتلا چکا ہوں ۔“
وہ پر اعتماد لہجے میں بولا ۔”تمھارے بتانے اور میرے بتانے میں کافی فرق ہے ،اس فرق کا پتا تمھیں تب چلے گا جب میری پلوشہ سے ملاقات ہو گی ۔“
”میرا دماغ خراب کرنے کے بجائے تم کوئی ایسا طریقہ سوچو کہ مجھے کل چھٹی مل جائے ۔“
”اورنگ زیب صاحب نے تم سے ہفتے کا وعدہ لیا تھا اور ابھی بہ مشکل تین دن گزرے ہیں۔“
میں نے طنزیہ انداز میں کہا ۔”میری معلومات میں اضافہ کرنے کا شکریہ ۔“
”اچھا میں کیا کر سکتا ہوں ؟“وہ سنجیدہ ہو گیا تھا ۔”اگر کہتے ہو تو اورنگ زیب صاحب سے بات کر کے بتا دیتا ہوں کہ راجا صاحب اس وقت تک کام کے آدمی نہیں بن سکتے جب تک یہ شوہر نہیں بن جاتے ۔“
”دوبارہ شکریہ ۔“میں نے چارپائی پر لمبا ہوتے ہوئے اوپر کمبل لے لیا تھا ۔آنکھیں بند کرتے ہی وہ دھم سے میرے خیالات میں آکودی ۔میرے بات نہ کرنے پر سخت ناراضی کا اظہار کر رہی تھی ۔اور پھر نیند نہ آنے تک میں اسے مناتے رہا ۔
٭٭٭
اگلے دن کوشش کے باوجود اورنگ زیب صاحب سے بات نہیں ہو سکی تھی ۔ان کی اجازت کے بغیر ہم وچہ نرائے نہیں جا سکتے تھے ۔بلکہ سچ کہوں تو خود میرا دل وچہ نرائے جانے کو نہیں کر رہا تھا ۔
شام کا اندھیرا پھیلتے ہی میں گھڑی کی سوئیوں پر آنکھیں گاڑ کر بیٹھ گیا تھا ۔ساڑھے سات بجے ہی میں نے آئی کام سیٹ آن کر کے ڈی بلاک کے سب سے اونچے مورچے میں پہنچ گیا تھا ۔وہاں موجود سنتری کو میں نے تھوڑی دیر آرام کا مشورہ دے کر اس کے رہائشی بینکر میں بھیج دیا تھا ۔
آٹھ بجتے ہی پلوشہ کی آواز ابھری ۔”راجو ....“
”چندا !....“میں نے جواب دینے میں ایک لمحہ بھی نہیں لگایا تھا ۔
”اس وقت کہاں ہو ؟“کل کی غیر حاضری کا گلہ کرنے کے بہ بجائے وہ میری خیریت دریافت کرنے لگی ۔
”وہیں ،جو جگہ تم دیکھ چکی ہو ۔“ڈی بلاک کا نام لینے کے بہ جائے میں نے اشارے سے اپنی جگہ کے بارے بتلایا ۔
”کل اس جگہ آ سکتے ہو جہاں مجھے رخصت کیا تھا ۔“اس کے لہجے میں مجھے پہلے والی بے تابی اور چاشنی مفقود نظر آرہی تھی ۔
”چندا تمھاری طبیعت تو ٹھیک ہے نا ؟“
”ہاں میں ٹھیک ہوں اور جو پوچھا ہے اس کا جواب دو؟“اس کے انداز نے مجھے پریشان کر دیا تھا ۔حالانکہ اب وہ مجھے بڑی تعظیم اور ادب سے مخاطب کیاکرتی تھی ۔گو اس کے تمیز یا بدتمیزی سے مخاطب کرنے پر اس کی محبت کے کم یا زیادہ ہونے کا دارومدار نہیں تھا لیکن پھر بھی اس کا لہجے نے مجھے بے چین کر دیا تھا ۔
”تمھارا جواب نہیں آرہا ۔“مجھے خاموش پاکر اس نے دوبارہ پوچھا ۔
”تم اس وقت کہاں ہو ؟“
”میں اپنے پرانے گھر میں ہوں ،اور تمھارا کل شام تک یہاں پہنچنا بہت ضروری ہے ۔“
”مگر میں نے تمھیں بتایا تھا کہ ایک ہفتے کے بعد آﺅں گا ۔“
”یاد ہے مجھے ....لیکن ایک بار آکر بے شک واپس چلے جانا۔“
”ایسی بھی کیا مصیبت آن پڑی ہے ۔“
”کہہ دیا نا ....تم صبح سویرے وہاں سے نکلو ،ظہر کے وقت وہیں ملیں گے جہاں جدا ہوئے تھے ۔ایک گھنٹے کا کام ہے ،اس کے بعد تم واپس لوٹ جانا ۔“
”ایسا بھلا کون سا کام ہے ؟“
”یہاں آکر جان جاﺅ گے ،بس اپنے ساتھ بی بی مس 107کو لازمی لانا ۔“اس کا اشارہ واضح طور پر بیرٹ ایم 107سنائپر رائفل کی طرف تھا ۔
”اچھا میں کوشش کروں گا ....وعدہ نہیں کر سکتا ۔“
”اگر میں کہوں ،تمھارے نہ آنے سے میری جان جانے کا خطرہ بھی ہو سکتا ہے ۔“وہ حد درجہ سنجیدہ تھی ۔
میں نے غصے سے کہا ۔”دوباری ایسی بکواس تمھارے منہ سے نہ سنوں ۔“
”تو آ رہے ہو ؟“میرے غصے کی پروا کیے بغیر اس نے اپنی راگنی الاپی ۔
”آجاﺅں گا ۔“اس کی دھمکی ایسی نہیں تھی کہ میں مزید تکرار کر سکتا ۔
”میں منتظر رہوں گی ۔اور ابھی میں مخابرہ آف کر رہی ہوں باقی باتیں ملاقات پر ہوں گی ۔صبح چلتے وقت مجھے اطلاع دے دینا ۔“
”یہ بھلا کیا بات ہوئی ۔“میں نے منہ بسورا۔”ابھی تک میرا دل نہیں بھرا ۔“
”کل ساری کمی پوری کر لینا ۔“عجیب سے لہجے میں کہتے ہوئے اس نے ۔”خدا حافظ ۔“ کہا اور میرا جواب سنے بغیر رابطہ منقطع کر دیا ۔میرے دل میں عجیب سی یاسیت بھر گئی تھی ۔اس کا لہجہ اور انداز مجھے کھٹک رہا تھا لیکن اس کی توجیہ سے میں قاصر تھا ۔پوری گفتگو میں اس نے مجھے ایک بار بھی پیار سے نہیں پکارا تھا ۔مجھے شک ہوا کہ شاید اس وقت وہ جس جگہ سے گفتگو کر رہی تھی وہاں کوئی اور بھی موجود ہو ۔ اس بات نے مجھے ذرا سی تقویت دی تھی لیکن اس کے باوجود پاگل دل اس کے رویے پر شاکی تھا۔میں نے دل ہی دل میں ارادہ کر لیا تھا کہ کل اس سے خوب گلے کروں گا ۔
میری سوچوں میں سنتری نے آکر خلل ڈالا تھا ۔اس نے بتایا کہ اورنگ زیب صاحب کا فون آیا ہوا ہے ۔
سنتری کا شکریہ ادا کر کے میں رہائشی بینکر کی طرف آ گیا ۔سردار اورنگ زیب صاحب سے بات کر رہا تھا ۔میرے بینکر میں داخل ہوتے ہی اس نے رسیور میری جانب بڑھا دیا ۔رسمی کلمات کی ادائی کے بعد اورنگ زیب صاحب مجھے مشن کی کامیابی کی مبارک باد دینے لگا ۔
میں ہنسا ۔”ہم نے تو کچھ بھی نہیں کیا سر !“
”ہمیں اس مقصد کی تکمیل سے غرض ہے جس کی وجہ سے تمھیں بھیجا گیا تھا ۔اگر وہ مقصد بغیر کسی خون خرابہ کے پایہ تکمیل تک پہنچ گیا تو یہ دگنی خوشی کی بات ہے ۔“
”کوئی اور نئی تازی سر !“
”ہاں ایک اور خوش خبری ہے ،کل تمھارے کمانڈنگ آفیسر سے بات ہوئی تھی تم حوالدار بن گئے ہو ۔“
”یوں ایک دم ؟“میں حیران رہ گیا تھا ۔
”تمھاری اور سردار کی اچھی کارکردگی کی جو رپورٹ میں نے بھجوائی تھی اس کی وجہ سے تم دونوں حوالدار کے رینک پر ترقی پا گئے ہو۔“
”مگر ....ایک دم سر !“
”ہاں ،اس طرح کی کارکردگی پر، ایک دم ہی رینک ملا کرتے ہیں نا ؟“
”شکریہ سر !....“میں نے شکریہ ادا کرتے ہوئے پوچھا ۔”ویسے سردار کوپتا ہے؟“
”تمھی بتا دو ۔“
”آگے کا کیا حکم ہے سر !“
”اس بارے سردار کو تفصیل سے بتا دیا ہے ،کہ کل صبح تم دونوں وچہ نرائے کی چوٹی پر جا رہے ہو۔ اور فکر نہ کرنا ۔وچہ نرائے کے دامن میں پاک آرمی نے چند پوسٹیں بنا لی ہیں ۔اب وہاں کوئی تمھارے کام میں مخل نہیں ہو سکتا ۔“
”وہاں ہم نے کتنے دن گزارنے ہیں ؟“
”’دو تین دن بھی لگ سکتے ہیں ،ہفتہ بھی اور ممکن ہے پورا مہینا لگ جائے ۔“
میں بے صبری سے بولا ۔”مگر میرے ساتھ تو ایک ہفتے کی بات ہوئی تھی ۔“
”بالکل ....تین چار دنوں تک آپ کے دو ساتھی آ رہے ہیں ....ان کی آمد کے ساتھ میں تمھیں منہ مانگی چھٹی دوں گا ۔“
”مطلب ....“
”بالکل دو ماہ اور یہ جو ہفتہ گزارا ہے یہ زائد ہو گا ۔“اس نے قطع کلامی کرتے ہوئے مجھے خوش خبری سنائی ۔
”بہت بہت شکریہ سر !“میرا دل خوشی سے دھڑکنے لگا تھا ۔پلوشہ کے ساتھ دو مہینے اور ایک ہفتہ گزارنے کی خوشی کا احساس ہی نرالا تھا ۔اس خوشی میں میں یہ کہنے کا حوصلہ بھی نہ کر سکا ، کہ آخر تین دن سردار وہاں اکیلا بھی گزارا کر سکتا تھا ۔
اس کے بعد چند منٹ تک اورنگ زیب صاحب نے عام گپ شپ کی اور خدا حافظ کہہ دیا۔ میں چاہنے کے باوجود اسے پلوشہ کے ساتھ شادی کرنے کی بابت کچھ نہیں بتا سکا تھا ۔میرا ارادہ تھا کہ چھٹی جاتے ہوئے اسے شادی میں آنے کی دعوت دیتا جاﺅں گا ۔
”یہ شکریے کس سلسلے میں ادا کیے جا رہے تھے محترم !“رسیور رکھتے ہی سردار خان مستفسر ہوا ۔
”دو ماہ اور ایک ہفتے کی چھٹی کی خوشی میں شکریہ ادا کرنا تو بنتا ہے نا ۔“
”یہ سراسر ایک شریف ،بھولی بھالی اور معصوم لڑکی کے ساتھ زیادتی ہے ۔وہ اتنا عرصہ تمھیں کیسے برداشت کرے گی ۔“
”وہ پگلی اس چھٹی پر کہاں قانع ہو گی ۔“میرے چہرے پر دبی دبی مسکراہٹ کھلنے لگی ۔ میں جانتا تھا کہ چھٹی ختم ہی جانے وہ کتنا واویلا مچائے گی اور پتا نہیں کیسے کیسے جتن کر کے مجھے اس سے رخصت لینا پڑے گی ۔
”ہائے رے خوش فہمیاں ۔“سر دار افسوس بھرے انداز میں سر ہلانے لگا ۔
”ایک افسوس ناک خبر سناﺅں ۔“
”سنا دو ،یوں بھی تمھارے منہ سے کبھی اچھی خبر نہیں سنی ۔“
”میں حوالدار بن گیا ہوں ۔“
”اوہ ....واقعی اس سے بری خبر آج تک نہیں سنی ....یعنی اب تمھیں استاد جی کہنا پڑے گا، بہ ہر حال مبارک ہو ۔“
”نہیں اس سے بھی بری خبر یہ کہ تم بھی حوالدار بن گئے ہو ۔اور تمھیں بھی مبارک ہو ۔“
سردار کے چہرے پر خوشی ظاہر ہوئی ۔”ہاں یہ کام کی بات کی ہے ۔“
”اچھا فضول بکواس چھوڑو اور کام کی بات سنو ۔“
وہ منہ بناتے ہوئے بولا ۔”تمھارے نزدیک کام کی بات پلوشہ کا ذکر ہی ہے ۔“
میں نے حیرانی بھرے لہجے میں کہا ۔”یار !....تمھاری باتیں کبھی کبھی تمھارے پٹھان ہونے پرسے میرااعتبار اٹھا دیتی ہیں ۔پٹھان سے اتنی سمجھ داری کا ظہورقیامت کی نشانی ہی ہے ۔“
”اچھا پھوٹو ،تمھاری پلوشہ خان وزیر کو کیا مسئلہ درپیش ہے ۔“
”اس سے ملنے کے لیے کل مجھے علام خیل کے نالے تک جانا پڑے گا ۔“
”کل صبح سویر ے ہم نے وچہ نرائے کا رخ کرنا ہے ۔اس لیے یہ فتور دماغ سے نکال کر سونے کی کوشش کرو ۔“
”میں مذاق نہیں کر رہا ۔“
”جانتا ہوں ،اسے مذاق نہیں حماقت کہتے ہیں ۔“یہ کہتے ہی وہ رضائی میں گھس گیا تھا ۔
میں نے اسے منانے کی کوشش کرتے ہوئے کہا ۔”یار !....اتنا وقت نہیں لگے گا ۔گھنٹے بھر کا کام ہے اس کے بعد واپس آجاﺅں گا ۔“
”راجے صاحب !....جانے اور واپسی میں کم از کم دس گھنٹے خرچ ہوں گے اور وہاں بے شک آدھے گھنٹے ہی کا کام ہو مگر تم نے کئی گھنٹے لگا دینے ہیں ....میرا مطلب ہے تمھارا جی اتنی جلدی تو نہیں بھرے گا کہ تم جاﺅ اور کام کر کے واپس لوٹ آﺅ۔“
”یار !....تمھاری چھوٹی سی بہن کا حکم ہے اور جانتے ہو اس نے کیا دھمکی دی ہے ؟“میں نے ایک لمحہ کی خاموشی اختیار کرتے ہوئے سردار کی دلچسپی جاننے کی کوشش کی مگر وہ خاموش لیٹا رہا گویا اسے کوئی سروکار نہیں تھا کہ پلوشہ نے کیا دھمکی دی تھی ۔مجبوراََ مجھے خود ہی بتانا پڑا ۔”کہہ رہی تھی کہ اگر میں نہ گیا تو اسے کچھ بھی ہو سکتا ہے ۔“
”یقینا یہ دھمکی اس نے پہلی بار نہیں دی ہو گی ۔“سردار سنجیدہ تھا ۔
”ہاں ....مگر میں کوئی خطرہ مول نہیں لے سکتا ۔چنارے بہن نے بھی تمھیں کئی بار جانے کی دھمکی دی ہو گی اور ہر بار تم نے اس کی بات ہنسی میں اڑا لی ہو گی۔“
”کیا یہ بکواس کرنا ضروری تھا ۔“چہرے سے رضائی ہٹاتے ہوئے اس نے مجھے غصے سے گھورا ۔
”ہاں ....چنارے بہن ،کے جانے کا غم تم نے صرف اس لیے برداشت کر لیا ہے کہ سلطان خان کی شکل میں اس کی نشانی تمھارے پاس موجود ہے ۔اور امید ہے لی زونا بھی اس کا غم غلط کرنے کے لیے آجائے گی ۔مگر میرے پاس پلوشے کا کوئی متبادل موجود نہیں ۔اس کو کچھ ہو گیا تو شاید میں نہ بچ سکوں۔“
”ٹھیک ہے صبح میں تمھارے ساتھ چلوں گا ۔“
”تمھاری موجودی میں میرا کام تو آسان ہو جائے گا ،لیکن وچہ نرائے پر اگر ہم دونوں سے کوئی نہ پہنچا تو یہ خبر چھپی نہیں رہے گی ۔میری غیر موجودی کو تم چھپا سکتے ہو ہم دونوں کی غیر حاضری راز نہیں رہ پائے گی ۔“
”تم بس فضول کے تخمینے لگا سکتے ہو ۔“سردار جلے کٹے انداز میں کہتے ہوئے دوبارہ رضائی میں ہو گیا ۔اس کا مفاہمتی لہجہ سنتے ہی میں نے متبسم ہو کر کہا ۔
”شکریہ خان صاحب!....گو کسی پٹھان سے بھلائی کی امید رکھنا ........میرا مطلب ہے یہ ممکن تو ہے ،لیکن ....بہ ہر حال شکریہ ۔“
وہ خاموش رہا ۔میں نے اپنی بات منوا لی تھی اس لیے میں نے بھی خاموشی اختیار کرنا مناسب سمجھا ۔
٭٭٭
صبح سویرے ہی میں نے سردار کو اٹھا دیا تھا ۔میں جلد از جلد علام خیل کا رخ کرنا چاہتا تھا ۔نماز پڑھ کر اس نے تھوڑی دیر آرام کرنے کی کوشش کی لیکن اس کی یہ کوشش میں منت زاری سے ناکام بنا دی ۔ بادل نخواستہ اسے تیار ہونا پڑا ۔ناشتا کرکے ہم جانے کے لیے تیار تھے ۔ڈی بلاک سے نکلتے ہی میں نے پلوشہ کو اپنی آمد کا بتا دیا تھا ۔رات کی طرح اس نے ۔”میں منتظر ہوں گی ۔“کہہ کر رابطہ منقطع کر دیا ۔ اس سے ملاقات کی خوشی میں میں نے اس کے رویے کو نظر انداز کر دیا ۔ملنے پر میں اس سے خوب گلے شکوے کر سکتا تھا ۔یوں آئی کام پر اسے شرم سار کرنا مناسب نہیں تھا ۔
ڈی بلاک کے نالے میں اتر کر ہم دونوں الوداعی مصافحہ کر کے مخالف اطراف میں مڑ گئے ۔ میرا رخ مغرب کی طرف اور اس کا مشرق کی طرف ہو گیا ۔
”اللہ کے واسطے ....مطلوبہ کام کرتے ہی واپسی کی راہ لینا ....اور پیار کے اظہار میں جو کمی بیشی رہ گئی ہو وہ چھٹی جاتے ہوئے پوری کرلینا ۔یوں بھی شادی سے پہلے بہت زیادہ بے غیرتیاں اچھی نہیں ہوتیں ۔“جاتے ہوئے بھی وہ مجھے تاکید کرنے سے باز نہیں آیا تھا ۔
”نہ وہ لی زونا ہے اور نہ میں کوئی پٹھان ،کہ تمھیں ایسی نصیحتوں کی ضرورت پڑے ۔“اسے ترکی بہ ترکی جواب دیتے ہوئے میں تیز رفتاری سے نشیب میں اترنے لگا ۔ارد گرد کے مناظر اس وقت اتنے سہانے لگ رہے تھے گویا پرشباب بہار میں چمن نظارے میسر آ گئے ہوں ۔نالے میں بہتا شفاف پانی کا شور جھرنے کی طرح کانوں میں گھنٹیاں بجا رہا تھا۔تین چار دنوں کی دوری کے بعد کسی کے ملنے کو دل کا یوں بے قرار ی ظاہر کرنا اس بات کا مظہر تھا کہ وہ میرے دل میں کتنی گہرائی میں پیوست ہو گئی تھی ۔ اور جب چاہنے والے کو یہ بھی معلوم ہو کہ محبوب کے دل میں اس کے لیے ایسی ہی تڑپ اور بے قراری موجو دہے تو اس کی محبت کی شدت میں اور بھی اضافہ ہوجاتا ہے ۔
تیز رفتاری کا مظاہرہ کرتے ہوئے میں نے نصف وقت میں مطلوبہ فاصلہ طے کر لیا تھا ۔ اس نے آخری ملاقات کی جگہ ہی پہنچنے کی ہدایت کی تھی ۔وہاں رک کر پسینہ صاف کرتے ہوئے میری پیاسی نگاہوں تسکین روح کی تلاش میں دائیں بائیں سرگرداں ہوئیں ۔اور اسی وقت وہ نظر آ گئی ۔وہ مردانہ لباس ہی میں تھی ۔گہرے بھرے رنگ کی شلوار قمیص کے اوپر اس نے سبز رنگ کی بغیر بازو والی سوئیٹر پہنی ہوئی تھی ۔اپنے جسمانی خطوط کو چھپانے کے لیے وہ ہمیشہ جرسی، کوٹ وغیرہ کا استعمال کرتی تھی ۔ورنہ وہ عمر کی اس منزل پر تھی کہ چیختا شباب اس کا بھانڈہ پھوڑ دیتا ۔
اسے دیکھتے ہی میری حسیات آنکھوں میں سمٹ آئی تھیں ۔اس تک بھاگ کر پہنچنے کی غرض سے میں نے کندھوں میں ڈالے بیرٹ ایم 107کے تھیلے کے تسمے نکال کر تھیلے کو نیچے رکھا ،تاکہ اس کے خوشبو دار وجود کو اپنی بانہوں کی زینت بناتے ہوئے مجھے کوئی دشورای نہ ہو ،لیکن پلوشہ کی طرف قدم بڑھانے سے پہلے ہی میری سماعتوں میں ایک کرخت آواز گونجی ۔
”خبردار اگر ذرا سی حرکت بھی کی ۔“
یہ آواز مجھے نالے کے دائیں کنارے کی طرف سے آئی تھی ۔میں نے بے اختیاراس طرف نظر یں دوڑائیں ،چار مسلح افراد کو دیکھتے ہی میرا دل عجیب انداز میں دھڑکنے لگا تھا ۔اور یہ دھڑکنا خوف کی وجہ سے نہیں تھا ۔پیٹھ پیچھے گلا کھنکارنے کی آواز پر مجھے یہ شبہ نہیں رہا تھا کہ اس وقت میں دشمن کے گھیرے میں آگیا تھا ۔میں نے بڑی مشکل سے پلوشہ کی جانب دیکھا ۔میری جانب سے پیٹھ موڑتے ہوئے وہ ایک پتھر پر بیٹھ گئی تھی ۔
”نہیں یہ نہیں ہو سکتا ۔“میری سنسناتی سوچوں نے اسے نظر کا دھوکا قرار دینا چاہا۔دل و دماغ اس کی توجیہ میں مصروف ہو گئے ....آخر پلوشہ ایسا کیسے کر سکتی تھی ۔
”ہاتھ اوپر ....“گردن سے لگنے والی کلاشن کوف کی بیرل نے مجھے یقین دلایا کہ میں خواب نہیں دیکھ رہا تھا ۔
میں نے بڑی کوشش کر کے ہاتھوں کو سر سے بلند کیا ۔ورنہ میرے ہاتھوں پاﺅں میں جان نہیں رہی تھی ۔
ایک آدمی میری تلاشی لینے لگا ۔میری نظریں تو بس پلوشہ کے وجود پر گڑی تھیں ۔اس کا میری طرف پیٹھ موڑکر آرام سے پتھر پر نشست سنبھالنا یہ ثابت کر رہا تھا کہ مجھے گرفتار کرانے میں اس کی مرضی شامل تھی ۔
ایک لمبے قد کا آدمی پلوشہ کے قریب جا کر رکا اس نے ہاتھ میں ہزار ہزار کے نوٹوں والی کئی گڈیاں پکڑی ہوئی تھیں ۔
”یہ لو بقایا رقم ،اب تم جا سکتی ہو ۔“اس کے الفاظ نہیں پگھلا ہوا سیسہ تھے جو سماعتوں کے رستے میرے جسم میں اتر کر میرے بدن کو بے جان کرنے لگے ۔جانے میں کیسے اپنے قدموں پر کھڑا تھا ۔اسی وقت مجھے محسوس ہوا کہ کوئی میرے ہاتھ نیچے کر کے پشت پر باندھ رہا ہے ۔شاید اس نے مجھے ہاتھ پیچھے کرنے کو بھی کہا تھا لیکن میری سماعتوں میں تو پلوشہ کے قریب کھڑے لمبی قامت کے آدمی کے الفاظ ہتھوڑے برسا رہے تھے ۔
جاری ہے
 

اس آدمی سے پیسے لے کر اس نے ایک نظر پیچھے مڑ کر میری بے بسی کا نظارہ کیا اور سڑک کی طرف بڑھ گئی ۔یقینا اس کا کام ختم ہو گیا تھا ۔اپنی محنت کا معاوضا وصول کر کے وہ جا رہی تھی ۔کسی کے ساتھ چند دن محبت کے اظہار کے بعد لاکھوں کی رقم وصول کرنا گھاٹے کا سودا نہیں تھا ۔
”نہیں وہ ایسی نہیں ہے ....ضرور اسے کوئی مجبوری ہے ۔“دل نے احمقانہ واویلا کیا ۔اور دل کی بات میں اتنا بھی وزن نہیں تھا کہ دماغ اسے جواب دینے کی زحمت ہی گوارا کرتا ۔یا شاید دماغ بھی اسی تگ و دو میں تھا کہ جسم سے نچڑتی ہوئی طاقت کو بحال کرنے کا کوئی بہانہ ہاتھ آجائے ۔ڈوبتے کو تنکے کا سہارا چاہیے ہوتا ہے ۔اور میری حالت بھی سیلابی ریلے میں آئے ہوئے اس شخص کی سی تھی جو تیرنا ہی نہ جانتا ہو۔نہ تو ایسے ڈوبنے والے کی جان کسی تنکے کا سہارا پا کر بچ سکتی ہے اور نہ اس وقت مجھے کوئی لولی لنگڑی دلیل فائدہ دے رہی تھی ۔میری آنکھیں تو بس پلوشہ کو وہاں سے دور جاتے ہوئے دیکھ رہی تھیں ۔ سڑک کنارے کسی گاڑی کا انتظار کرنے کے بہ جائے وہ پیدل ہی انگور اڈے کی طرف چل پڑی تھی ۔
”اتنی زیادہ رقم کی وجہ سے اس کی جان کو خطرہ نہ پڑ جائے ۔“اس حالت میں بھی بے ایمان دل کو اس کی فکر ہوئی اور میرا دماغ پیچ و تا ب کھاتا رہ گیا ۔
کلاشن کوف کی نال سے میری پیٹھ پر ٹہوکا دے کر کسی نے مجھ آگے بڑھنے کا اشارہ کیا ۔میں مرے مرے قدم اٹھاتا ہوا آگے بڑھا۔میری نظریں اب بھی پلوشہ کو دیکھ رہی تھیں ،جبکہ وزیرستان کے پہاڑوں میں چلنے والے کو ایک آنکھ سامنے اور ایک آنکھ زمین پر رکھنی پڑتی ہے ۔اس اصول کی منافی کا صلہ مجھے ایک زبردست ٹھوکر کھا کرمنہ کے بل گرنے کی صورت میں ملا ۔ہاتھ پشت پر بندھے ہونے کی وجہ سے مجھے اچھی خاصی چوٹ آئی تھی لیکن اس وقت میری ساری حِسّوں نے عارضی طور پر کام کرنا چھوڑ دیا تھا ۔نہ تو مجھے کچھ سنائی دے رہا تھا اور نہ پلوشہ کے علاوہ کچھ نظر آ رہا تھا ۔جسم میں درد و تکلیف محسوس ہی نہیں ہو رہی تھی ۔البتہ میرے دل کو کوئی مٹھی میں لے کر مسلسل بھینچے جا رہا تھا ۔
کسی نے مجھے بازو سے پکڑ کر کھڑا کیا ۔”اوئے ،نیچے دیکھ کر چلو کسی مجنوں کی اولاد ۔دل کے بعد اپنا تھوبڑا بھی نہ تڑوا لینا ۔“
اس کی بات پر میرے دائیں بائیں چلنے والوں نے زور دار قہقہہ لگایاتھا ۔
وہ مجھے دھکے دیتے ہوئے نالے میں کھڑی ہوئی گاڑیوں کے قریب لائے ۔درمیان میں کھڑی ڈبل کیبن کی عقبی نشست پر مجھے دو آدمیوں کے درمیان بٹھا یا گیا ۔گاڑی کی باڈی میں بھی چار آدمی بیٹھ گئے ،باقی دو گاڑیوں میں بھی چھے چھے آدمی بیٹھ گئے تھے ۔
نالے سے نکل کر وہ سڑک پر آئے ۔ہماری گاڑی درمیان میں تھی ۔گاڑیاں علام خیل کے بہ جائے انگور اڈے کی طرف چل پڑیں تھیں ۔میری نظریں سڑک پر جانے والی پلوشہ کی متلاشی تھیں ۔وہ سڑک کے دائیں جانب چل رہی تھی ۔میں نے گردن موڑ کر اس جانب دیکھا ۔
”کمانڈربہار خان !....لڑکا تو رو رہا ہے ۔“میرے بائیں جانب بیٹھے آدمی نے مزاحیہ انداز میں کہا۔
ان کا کمانڈر ،بہار خان ڈرائیور کے ساتھ بیٹھا تھا ،پیچھے دیکھتے ہوئے بولا ۔ ”بے چارے کو چوٹ گہری آئی ہے نا ،فکر نہ کرو جلد ہی بہل جائے گا ۔“اسی وقت ہماری گاڑی سست روی سے چلتی پلوشہ کے پاس سے گزرتی چلی گئی ۔کوشش کے باوجود میں اس کا چہرہ واضح طور پر نہیں دیکھ سکا تھا ۔
مجھے عقبی شیشے سے پیچھے جھانکتے دیکھ کر میرے ساتھ بیٹھے آدمی نے اپنے ہاتھ سے میرا چہرہ سامنے موڑتے ہوئے کہا ۔”ابے،کیا نکالتے ہواس چھوکرے سے ....تمھیں بیچ کر رقم کھری کر لی ہے پھر بھی دیوانے ہوتے جا رہے ہو ،تمھارے جیسے بے وقوف کم ہی نظر سے گزرے ہیں ۔“
”تم بھی خوب ہو کمین خان !....“بہار خان ہنستے ہوئے بولا ۔”وہ لڑکا نہیں ،لڑکی ہے ۔“
”کیا کہہ رہے ہو کمانڈر !“میرے بائیں جانب بیٹھا کمین خان حقیقتاََ اچھل پڑا تھا ۔”اتنا بچہ تو میں نہیں ہوں کہ لڑکے لڑکی میں امتیاز نہ کرسکوں ۔“
”کمین خان صحیح کہہ رہا ہے کمانڈر !“اس مرتبہ میرے دائیں جانب بیٹھے آدمی نے کمین خان کی تائید میں زبان کھولی ۔
بہار خان نے قہقہہ لگاتے ہوئے کہا ۔”بے وقوفو!....یہی پلوشہ خان وزیر ہے ....اور جسے تم پکڑکر لے جا رہے ہو یہ وہ مشہور ایس ایس ہے جس کے بارے تم لوگ اتنے عرصے سے سنتے آر ہے ہو۔“
”کمانڈر !....آپ مذاق کر رہے ہو نا ۔“کمین خان بے یقینی سے بولا تھا ۔
بہار خان وضاحت کرتے ہوئے بولا ۔”بالکل بھی نہیں ....بس آپ لوگوں کی بد قسمتی ہے کہ خوش حال خان محسود سے ہونے والے جرگے میں آپ لوگ حاضر نہیں تھے ورنہ ان دونوں کو دیکھ لیتے ۔“
”کمانڈر!.... میری سمجھ میں یہ بات نہیں آ رہی کہ پلوشہ خان نے اسے کیوں پکڑوا دیاہے ، حالانکہ یہ دونوں تو سردار قبیل خان کے خلاف اکٹھے کام کرتے رہے ہیں ،بلکہ میں نے تو یہ بھی سنا ہے کہ ان دونوں کا کوئی چکر چل رہا ہے ۔“کمین خان کو بہار خان کی بات ہضم نہیں ہو رہی تھی ۔
”بے وقوف پلوشہ خان وزیر کا کسی ایک ساتھ تو چکر نہیں چلا ہے نا ....بہت چالو اور چکر باز لڑکی ہے ۔اس سے پہلے بھی سات آٹھ عاشق بھگتا چکی ہے ۔عمر ضرورکم ہے پر تجربہ بہت ہے زیادہ ہے۔ اب اسی بات سے اندازہ لگا لو کہ ،محترم ایس ایس صاحب سے جب تک کام تھا عشق کا ناٹک کھیلتی رہی ، جوں ہی کام نکل گیا اسے بیچ کھایا ۔اور میں یقین سے کہتا ہوں کہ اس نے خود ہی اس کی طرف قدم بڑھائے ہوں گے ،اپنی بناوٹی محبت کا یقین دلایاہو گا ۔جونھی یہ محترم اس کے حسن کے جال میں پھنسا اس نے پیسے کھرے کرنے میں دیر نہیں لگائی ۔“
”ویسے میرا نہیں خیال کہ سردار صنوبر خان کو اس آدمی کے لیے پندرہ لاکھ خرچ کرنے کی ضرورت تھی ....اور پندرہ لاکھ بھی سردارقبیل خان کی قاتل لے گئی ۔“
”سردار قبیل خان اور سردار جہانداد کا قاتل یہ ہے ۔“بہار خان نے نفرت بھرے انداز میں میری جانب اشارہ کیا ۔”باقی پلوشہ خان وزیر نے گزشتہ دوروز سردار صنوبر خان کو راضی کرنے میں گزارے ہیں ۔بے چاری کو اس ضمن میں پوری دو راتیں جاگ کر گزارنا پڑیں ۔اور یقین کرو میں تو داد دیتا ہوں اس کی ہمت کی۔صنوبر خان اور اس کے پانچ وحشی دوستوں کو اس عمر میں اکیلے بھگتانا اتنا بھی آسان نہیں تھا ۔“
”اچھا ....“کمین خان نے اثبات میں سر ہلاتے ہوئے کہا ۔”تو گویا اسے پلوشہ نے خیر سگالی کے طور پر پکڑوایا ہے ۔“
”اتنی بھی سادہ نہیں ہے ۔“بہار خان نے نفرت بھرے لہجے میں کہا ۔”ایک نمبر کی چارسو بیس ہے ۔صنوبر خان نے جب ایس ایس کا مطالبہ کیا تو اس نے پندرہ لاکھ کی خطیر رقم مانگ لی ۔دوسری صورت میں صنوبر خان کے ساتھ اس کی یوں بھی صلح ہو گئی تھی اسے کیا ضرورت تھی اپنے پرانے عاشق کو پکڑوانے کی ۔“
میری دائیں جانب بیٹھے آدمی خیال ظاہر کیا ۔”ویسے مجھے یقین نہیں آرہا کہ ایسی لڑکی صرف صنوبر خان سے صلح کرنے ہی پہنچی ہو گی ،لازمی بات ہے، اسے اچھی طرح معلوم تھا کہ صنوبر خان، سردار قبیل خان اور سردار جہانداد اخان کے قاتل سے بدلہ لینا چاہے گا اور ایسی صورت میں وہ اپنے عاشق کی بلی چڑھا دے گی ۔“
”ہونہہ !.... یہ بات بھی دل کو لگتی ہے ۔بہار خان اور کمین خان اثبات میں سر ہلانے لگے ۔
”میں بات کر سکتا ہوں کمانڈر !“خاموش بیٹھے ڈرائیور نے پہلی بار زبان کھولی ۔
”کہو دلشاد خان !“بہار خان کے ساتھ باقی دونوں بھی اس کی طرف متوجہ ہو گئے تھے ۔
”سچی بات تو یہ ہے کہ میں پلوشہ خان وزیر کا پرانا چاہنے والا ہوں ۔پرانے سے میری مراد یہی کوئی چھے سات ماہ پہلے کی بات ہے جب یہ مجاہدین کے کیمپ سے باہر نکلی تھی ۔ میں اسے لڑکا ہی سمجھتا تھا۔ اس وقت یہ سردار قبیل خان کے بارے معلومات حاصل کرنے کے لیے اس کے ایک قریبی محافظ سہیل خان کو نواز رہی تھی ۔اس غدار کی پانچو ںگھی اور سر کڑاہی میں تھا ۔اسے جو کچھ پوچھنا ہوتا تنہائی کی ایک ملاقات کے بدلے اگلوا لیتی تھی ۔ابھی سردارقبیل خان کی شہادت کے وقت سہیل خان بھی مارا گیاہے ۔ اسے اپنے کیے کا اچھا بدلہ ملا ۔خیر وہ پرانی بات ہے میں ابھی کچھ اور بتانا چاہ رہا تھا ۔پلوشہ خان کا اصل چکر منور خان نامی ایک جوان سے چل رہا ہے ۔یقین مانو بہت خوب صورت مرد ہے اور یہ حرام زادی اس پربری طرح سے فریفتہ ہے ۔مگر منور خان کافی سمجھ دار اور ہوشیار ہے ۔اس نے وقتی طور پرپلوشہ سے تعلقات قائم کیے رکھے ،مگر وہ ہمیشہ کے لیے نہیں پھنسنا چاہتا ،بلکہ سچ تو یہ ہے کہ ایسی لڑکیوں کو بس وقت طور پر استعمال کیا جاتا ہے ۔اب یہ محترما اس پر شادی کے لیے زور دے رہی ہے ۔جس ماموں کے ہاں اس نے پرورش پائی ہے اس نے اس کے رشتے کے پندرہ لاکھ مانگے ہوئے ہیں اور منور خان نے صاف طور پر پلوشہ کو بتا دیا ہے کہ اس کے پاس اتنی رقم موجود نہیں ہے ۔تبھی اس فاحشہ کو صنوبر خان سے ملنے کا خیال آیا اور درمیانی واسطہ میں بنا ۔“دلشاد نے مکروہ انداز میں قہقہہ لگایا ۔”میں یوں بھی کافی عرصے سے اس سے ملاقات کا متمنی تھا ۔اس بہانے چند گھنٹوں کی ملاقات میرے حصے میں بھی آ گئی ۔سردار صنوبر خان نے بھی جرگے کے وقت اس کی بھولی بھالی اور معصوم صورت دیکھی تھی ۔میرے ذکر کرنے پر ہی وہ پھڑک اٹھا اور فوراََ ملاقات کی خواہش ظاہر کر دی ۔دو راتیں سردار صنوبر خان اور اس کے ساتھیوں کی خدمت کر کے محترما نے اپنے گناہ معاف کرائے اور اپنے عاشق کو پکڑوا کر پندرہ لاکھ کھرے کر لیے ہیں ۔یقینااب وہ یہ پیسے منور خان کو دے گی تاکہ وہ اس کی ماں اور ماموں کو دے کر اس کا رشتا مانگ سکے ۔لیکن امید یہی ہے کہ منور خان کبھی بھی اس سے شادی نہیں کرے گا ۔یوں بھی اس کے سامنے پلوشہ کا کردار کھلی کتاب کی طرح ہے ۔“
”ابے تم تو چھپے رستم نکلے ....ہمیں ہوا ہی نہیں لگنے دی ہاں ۔“بہار خان نے دلشاد خان کی گردن پر ہلکا سا تھپڑ لگایا ۔
”مطلب آپ کا بھی دل آیا ہوا ہے ۔“دلشاد خان نے قہقہہ لگایا ۔میرے دائیں بائیں بیٹھے دونوں آدمیوں نے اس کا ساتھ دیا تھا ۔
”بات تو کچھ ایسی ہی ہے۔“بہار خان نے بے شرمی سے اعتراف کیا ۔
”تو کتنا خرچ کر سکتے ہیں ؟“دلشاد خان نے بڑے اعتماد سے پوچھا تھا۔
بہار خان نے برا سا منھ بنا کر کہا ۔”اب مجھے کیا پتا وہ کتنے پر مانتی ہے ۔“
”مجھے بھی کوئی اندازہ نہیں ہے ،بہ ہرحال میں اس سے مل کر آپ کو بتا دوں گا ۔“دلشاد نے کمانڈر کو تسلی دی۔
پلوشہ کے بارے ان کی بکواس سن کر میرے بدن سے گویا جان نکلتی جا رہی تھی ۔اس کے معصوم اور بھولے چہرے کے پیچھے اتنا مکروہ اور غلیظ چہرہ چھپا ہو گا اس بارے تصور کرنا تو درکنار اگر میری گرفتاری سے پہلے کوئی ایسی بات کرنے کی کوشش بھی کرتا تو میں اس کے سر میں گولی اتارنے میں ایک لمحہ نہ لگاتا ۔ مگر اب پلوشہ نے میری آنکھوں کے سامنے ان سے رقم وصول کی تھی ۔دلشاد کے کہنے کے مطابق پرسوں رات وہ صنوبر خان کا پہلو گرم کر رہی تھی اور یہ بات مجھے اس لیے بھی سچ لگی کہ اس رات کو کافی دیر کوشش کرنے کے بعد بھی اس سے رابطہ نہیں کر سکا تھا ،حالانکہ اس سے دودن پہلے رات کو گیارہ بجے تک وہ میری منتظر تھی ۔گزشتہ رات بھی اس نے مجھے ملنے کے پیغام کے علاوہ کوئی بات نہیں کی تھی۔
گاڑی انگور اڈے سے ہوتی ہوئی جنوب کی طرف مڑ گئی ۔یہ وہی سڑک تھی جو خڑکلے سے ہو کر قبیل خان کی حویلی کی طرف جاتی تھی ۔قبیل خان کی اس حویلی کی طرف جہاں پلوشہ سے میری پہلی ملاقات ہوئی تھی ۔اس سڑک پر جاتے ہوئے مجھے اپنا یار سردار یاد آیا اور اس کے ساتھ ہی پلوشہ کے ساتھ ہونے والی لڑائی یاد آ گئی ۔اسے گرفتار کر کے میں نے اس کی خوب پٹائی کی تھی ۔یقینا آج اس نے اپنا بدلہ لے لیا تھا ۔
تباہ شدہ کوٹھی تعمیر ہو چکی تھی بس رنگ و روغن کا تھوڑا بہت کام رہتا تھا ۔یقینا قبیل خان کے جان نشین کے بھی وہی مشاغل تھے جو خود اس کے رہے تھے ۔یوں بھی اس کے بارے کافی کچھ مجھے اس کے آدمیوں کی زبانی ہی معلوم ہو گیا تھا ۔
حویلی کے ایک کمرے میں لے جا کر انھوں نے مجھے بند کر دیا ۔کمرے میں موجود چارپائی اور بستر دیکھ کر مجھے کافی حیرانی ہو ئی تھی میرے خیال میں صنوبر خان کے سامنے لے جا کر انھوں نے مجھے قتل کر دینا تھا ۔ اور پلوشہ سے دھوکا کھانے کے بعد مجھے بھی پناہ لینے کے لیے قبر سے بہتر جگہ کوئی محسوس نہیں ہورہی تھی ۔وہ جو میرے تیئں ،میرے دماغ سے عورت ذات کے بارے پلنے والی غلط سوچوں کو کھرچنے آئی تھی وہ تو پہلے والیوں سے کئی ہاتھ آگے نکلی تھی ۔ماہین کے صرف ایک مرد سے غلط تعلقات تھے اور میری نظر میں معصوم اور غیرت مند پلوشہ کوئی بھی کام نکالنے کے لیے اپنے جسم کا دستر خوان کسی کے سامنے بھی سجا سکتی تھی ۔چاہے وہ کوئی عام مرد ہو چاہے سردار وغیرہ ۔جینیفر نے وطن کی خاطرمجھ سے محبت جتائی تھی اور پلوشہ نے پیسے کے حصول کے لیے اپنی چاہت کاڈراما رچایا ۔رومانہ نے مجھ سے اپنے شادی چھپائی تھی اور پلوشہ دس بارہ معاشقوں کا ذکر گول کر گئی تھی ۔ہر نئی لڑکی نے مجھے نئے طریقے سے دھوکا دیا تھا ۔تمام نے اپنے چہرے پر مختلف قسم کے نقاب چڑھاکر اپنے اصل کو چھپائے رکھا۔
چہرے بدل بدل کے مجھے مل رہے ہیں لوگ
اتنا برا سلوک میری سادگی کے ساتھ
یقینا میں احمق اور بے وقوف تھا ۔کتنی چالاکی اور کیسی منصوبہ بندی سے اس نے مجھے پھانسا تھا۔ اس کے ساتھ بتائے شب و روز یاد کر کے میری آنکھیں بھیگنے لگیں ....
اس کے لہجے میں کتنی چاہت اور مٹھاس ابل رہی ہوتی تھی۔کیسی بے ساختگی اور برجستگی سے وہ محبت کا اظہار کیا کرتی تھی ۔
”کیا وہ سب جھوٹ اور دکھاوا تھا....؟“میں نے خود سے سوال کیا ۔”اگر واقعی وہ مطلب پرستی اور غرض کادھندا کر رہی تھی اور ویسے وہ اپنے بدن کی رشوت دے کر ہر کام نکلوانے کی عادی تھی تو یہ دعوت اس نے مجھے کیوں نہیں دی ۔مجھے کبھی اس کی حرکات میں کیوں سستا پن نظر نہ آیا ۔میرے لیے اس نے اپنے خوب صور ت جسم کا دستر خوان کیوں نہیں سجایا کہ میرے ساتھ تواس نے کئی راتیں بتا دی تھیں ۔“
”کیونکہ تم سرتاپا اس کی محبت ڈوبے ہوئے تھے احمق آدمی ۔“میرے دماغ نے میرے سوال کا جواب دینے میں ایک لمحہ بھی نہیں لگایا تھا ۔” بھول گئے کس طرح شادی میں رقص کر رہی تھی ۔ کیا شریف لڑکیاں اس طرح مردوں کے درمیان بے فکری اور بے تکلفی سے ناچ سکتی ہیں ؟“
میرے دل نے کمزور سا احتجاج کیا ۔”اس وقت وہ لڑکے کے روپ میں تھی ،بلکہ وہ بچپن ہی سے ایک لڑکا بن کر زندگی گزار رہی تھی ۔ایسی لڑکی کو رقص کرنے میں کیا چیز مانع ہوسکتی ہے ۔“
”محترم ....تمھاری گود میں کس خوشی میں تشریف فرما ہو گئی تھی ....اور وہ مراد کون تھا جو اس کے گالوں پر ہاتھ پھیر رہا تھا ....کیا کسی بھی موقع پر اس نے اپنے بدن کو تم سے روشناس کرانے میں کوئی بخل برتا ۔موٹر سائیکل پر کس بے تکلفی سے تمھیں اپنے پیچھے سوار کرالیا اور جب موٹر سائیکل پر تمھارے پیچھے بیٹھی توایسے جڑ کر بیٹھی گویا تم اس کے شوہر ہی توہو۔چارپائی پر اپنے ساتھ سلانے میں ایک لمحے کو بھی نہ جھجکی ۔ اس کے علاوہ بھی کئی مواقع پر اس نے تمھیں ایسے اشارے دیے جن کا واضح مطلب یہی بنتا تھا کہ اپنا ہاتھ ذرا سا آگے بڑھا کر تم اسے حاصل کر سکتے ہو ، اب تمھارے اندر ہی ایسے جراثیم مفقود تھے تو اس میں اس کی پارسائی کا کیا عمل دخل ۔“دماغ کے دلائل ہمیشہ بھاری ہوتے ہیں اس وقت بھی میرے دل کے پاس ان دلائل کا کوئی جواب نہیں تھا لیکن پھر بھی کم بخت دل اس کی طرف داری سے باز نہیں آ رہا تھا ۔اس کے ساتھ بتایا وقت کسی فلم کی طرح میری بصارتوں کے سامنے سے گزرنے لگا۔
”تھوڑی دیر پہلے بہار خان نے بڑے یقین سے کہا، کہ پلوشہ نے خود ہی میری طرف قدم بڑھاکراپنی بناوٹی محبت کا یقین دلایاہو گا ۔“حالانکہ اسے ہمارے تعلقات کی شروعات کے بارے کوئی معلومات نہیں تھی ۔بس پلوشہ کی فطرت کو دیکھتے ہوئے اس نے جو دعوا کیا تھا وہی اصل حقیقت تھی ۔ پلوشہ نے شروع دن ہی سے خود کو میرے قریب کرنا شروع کر دیا تھا ۔کبھی خود کو گھورنے کا کہہ کر مجھے اپنی طرف متوجہ کرنا ۔کبھی اپنی ماں سے رشتا مانگنے کی ترغیب دینا ۔گاہے گاہے اپنے دل فریب بدن کے لمس سے روشناس کرا کے میرے جذبات برانگیختہ کرنا ۔اوراس طرح اس نے میرے دل میں اپنی محبت پیدا کر کے ہی چھوڑی۔ وہ اپنے آپ کو نہ صرت خوب صورت سمجھتی تھی، بلکہ اس کا اظہار کرنے میںذرا بھی نہیں شرماتی تھی۔ میں اس کی ہر حرکت کو شوخی و شرارت کا نام دیتا رہا ۔اس نے بلاشبہ مجھے ایک مہرے کی طرح استعمال کیا تھا ۔اور اپنا مطلب پورا کرنے کے بعد میری جان چھوڑنے کے بہ جائے میرا سودا کر دیا ۔ اپنے محبوب کے حصول کے لیے اسے پندرہ لاکھ چاہیے تھے ،اور اس رقم کے حصول کے لیے مجھے اس پلوشہ نے مجھے بیچ دیاجو کہتی تھی میں اگر دور گیا تو وہ اپنی جان لے لی گی ۔اوردور ہونے پراس نے اپنی جان تو نہیں لی تھی البتہ مجھے موت کے حوالے ضرور کر دیا تھا ۔
”یہ سب میری بے وقوفی اور حسن پرستی کی وجہ سے ہوا ۔“میں خود کو کوسنے لگا ۔ ”عورت ذات سے اتنی مرتبہ دھوکا کھا کر بھی مجھے اس کے علاوہ کچھ نہیں سوجھ رہا تھا ۔ایک ایسی لڑکی جسے میں نے تشدد کا نشانہ بنایا ،خوب زدو کوب کیا اور وہ بہ جائے نفرت کرنے میری محبت میں مبتلا ہو گئی ،محبت بھی ایسی کہ میرے بغیر ایک دن گزارنا اسے کارِدار لگنے لگا ۔واہ ....راجا میاں ....واہ،کچھ تو عقل کی ہوتی ،تھوڑا سا تو سوچا ہوتا ،ایسی خوب صورت لڑکی بس تیرے ہی انتظار میں تو تھی کہ تم جیسا گلفام اسے اور کہاں ملنا تھا۔“
اچانک میرے دماغ میں جیسے کسی نے سرگوشی کی کہ اس نے تو اپنا مطمح نظر تو تم تک پہنچا دیا تھا ، جب تم نے کہا کہ تم اسے شہزادیوں کی طرح رکھو گے تو اس نے بہ ظاہرہنستے ہوئے یہی کہا تھانا کہ ....
”ایک غریب فوجی کے پاس اتنی طاقت کہاں کہ اپنے خوابوں کی شہزادی کو شہزادیوں کی سی شان و شوکت مہیا کر سکے ۔مجھے تو لگتا ہے امی جان نے جو مطالبہ رکھا اسے پورا کرنے کے لیے بھی آپ چند سال کی مہلت نہ مانگ لیں ۔“
اور جب میں نے جواب میں کہا تھا ....”اگر ایسی بات تھی تو کسی دولت والے سے محبت کرنا تھی نا ،ایک غریب فوجی کے پیچھے کیوں پڑ گئی ہو ۔“
تو کس ڈھٹائی سے اس نے جواب دیا تھا ۔”بس کیا کروں یار !....جب امیر نہ ملے تو غریب ہی پراکتفا کرنا پڑتا ہے ۔“
وہ تو ہر مرحلے میں مجھے یہ باورکراتی رہی کہ اسے پیسو ںسے کتنا پیار ہے ،بس میری ہی آنکھوں پر حماقت کی ایسی پٹی بندھی ہوئی تھی کہ مجھے اس کی محبت کے علاوہ کچھ نظر نہیں آ رہا تھا ۔اب میری سمجھ میں اس کی چالیں آ گئی تھیں لیکن اس سمجھ کا بھی کیا فائدہ کہ جو نقصان مجھے پہنچنا تھا وہ پہنچ چکا تھا ....ہار کر اپنی ہار کی وجوہات کو سمجھنے کا دعوا کر نا ایک حماقت ہی تو تھی ۔
سمجھ جاتا ہوں چالوں کو مگر کچھ دیر لگتی ہے
وہ بازی جیت جاتا ہے میرے چالاک ہونے تک
میں دل کی تباہی کے ساتھ ساتھ زندگی کی بازی بھی ہار گیا تھا ۔جانے کتنی دیر چارپائی پر لیٹے میں انھی خیالات میں کھویا رہا ۔پلوشہ کے دھوکے نے مجھے جینے سے بھی بیزار کر دیا تھا ۔اس وقت مجھے مرنے کا کوئی ڈر اور خوف محسوس نہیں ہو رہا تھا ۔بس افسوس تھا تو اس بات کا کہ میں اس دھوکے باز اور قابل نفرت لڑکی سے بدلہ نہیں لے سکتا تھا ۔اس کے سر میں گولی اتار کر اپنے دل میں جلتے آلاﺅ پر پانی نہیں ڈال سکتا تھا ۔اسے ایک مرتبہ پھر باندھ کر اسے ایسے بیہمانہ تشدد کا نشانہ نہیں بنا سکتا تھا کہ جس سے اس کی روح بھی کانپ اٹھتی ۔
یہ سوچتے ہوئے ایک دم میرے اندر سے تمسخرانہ قہقہہ بلند ہوا ....”اگر موت سے بچ گئے تو کیا اتنی جرّات ہے کہ اس پر تشددکر سکو ؟....خالی بڑھکیں مارنے سے کچھ نہیں ہوتا ۔اگر وہ اب بھی تمھارے سامنے آکر دو آنسو بہا دے تو تم نے اسے گلے لگانے میں ایک لمحہ بھی ضائع نہیں کرنا ۔“
”نہیں ایسا نہیں ہے ۔مجھے اس سے نفرت ہے ....“میں اپنے اندر سے اٹھنے والی آواز کو جھٹلانا چاہا،مجھے اس میں کامیابی نہیں ہوئی تھی ۔اس کا ہنستا مسکراتا چہرہ یونھی میری نظروں کے سامنے لہراتا رہا ۔
”کاش تم نے میری آنکھوں کے سامنے رقم وصول نہ کی ہوتی ....کم از کم میں آسانی سے مر تو لیتا۔موت کے ساتھ مجھے تمھاری بے وفائی اور دھوکے کی اذیت تو نہ جھیلنا پڑتی ۔تمھیں تو اپنے فعل پر اتنی بھی ندامت نہیں ہوئی کہ تم میرا سامنے کرنے سے شرما سکو ،حالانکہ میں نے کبھی تمھارا برا نہیں چاہا ۔ پہلی لڑائی بھی ایک غلط فہمی کا نتیجہ تھی ....تم پر تشدد کرنا بھی میری غلطی سہی مگر اس کی وجہ سے میں اتنی بڑی سزا کا مستحق تو نہیں ٹھہرتا تھاکہ تم مجھے انھی دشمنوں کے حوالے کر دو جن کے خلاف ہم شانہ بہ شانہ لڑتے رہے ہیں۔اور تمھارا یہ گمان بھی غلط ہے کہ میں غریب ہوں ....تمھارا محبو ب پندرہ لاکھ دینے کا روادار نہیں جبکہ میں پچاس لاکھ دینے پر تیار تھا ۔آخر تم نے ایسا کیوں کیا پلوشہ ....کیوں آخر کیوں ؟“میری آنکھوں کے گوشے بھیگنے لگے ....بے انتہا درد اور تکلیف برداشت کرنے والے سنائپر کو ایک بے وفا نے دھوکا دے کر رلا دیا تھا ۔
استادمحترم راﺅ تصورکہا کرتے تھے کہ سنائپر کا دل لوہااور احساسات پتھر ہوتے ہیں ۔ اسے بس اپنے مقصد سے غرض ہوتی ہے ۔نہ اس پرموسم اثر انداز ہوتا ہے اور نہ ماحول کی سختی ۔بھوک اور پیاس اس کے لیے بے معنی ہوتی ہے ۔تھکنا وہ نہیں جانتا ....نیند اس پر قابو نہیں پا سکتی اور شکست کا لفظ اس نے اپنے لغت سے نکالا ہوتا ہے ....
”کیا میں واقعی سنائپر ہوں ....تھکا ،ہارا شکست خوردہ ۔جو ایک دھوکے باز کے لیے رور ہا ہے ۔یقینا میں سنائپر نہیں ہوں ....یقینا میں اپنے استادوں کے لیے ندامت اور شرمندگی کا باعث ہوں۔بزدل ،ڈرپوک ایک سہما ہوا شخص....جسے بس عورتوں سے دھوکا کھانا آتا ہے ،جو دو پیار بھرے بولوں پر زندگی بھر ساتھ نبھاہنے کے سپنوں میں کھو جاتا ہے ،جو ایک لڑکی کے لیے اپنے فرض سے غافل ہو جاتا ہے ....
دروازے پر ہونے والے کھٹکے کو سن کر میں نے جلدی جلدی آنکھیں کو صاف کیا ۔دروازہ کھول کر ایک شخص کھانے کے برتن اٹھائے اندر داخل ہوا ۔ایک مسلح شخص مجھ پر نظر رکھنے کے لیےاس کے ہمراہ تھا ۔مسلح شخص چوکنا ہوکردروازے پرکھڑا ہو گیا۔اور دوسراکھانے کے برتن لکڑی کی میز پر رکھ کر خاموشی سے واپس مڑ گیا ۔میں نے کلائی پر بندھی گھڑی پر نظریں دوڑائیں شام کے سات بج رہے تھے ۔ کمرے میں جلنے والی ٹیوب لائیٹ کی روشنی نے مجھے اندھیرا ہونے کا پتا نہیں لگنے دیا تھا ۔
میں صبح کا ناشتا کر کے ڈی بلاک سے روانہ ہوا تھا ۔بقیہ دن بغیر کھائے پیے اسی ہنگامے کی نذر ہو گیا تھا اس کے باوجود مجھے ذرا سی بھوک محسوس نہیں ہو رہی تھی ۔میں کھانے کے برتنوں کو چھوئے بغیر الٹی سیدھی سوچوں سے اپنے غم کو بڑھاوا دیتا رہا ۔
گھنٹے ڈیڑھ بعد وہی دو آدمی کھانے کے برتن سمیٹنے آئے ۔کھانے کو جوں کا توں پڑادیکھ کر برتن لے جانے والے نے حیرانی سے پوچھا ۔
”تم نے کھانا نہیں کھانا ؟“
میں نے اس کی بات کا جواب دینے کی ضرورت محسوس نہیں کی تھی ۔ایک دو لمحے میرے جواب کا انتظار کرنے کے بعد اس نے کندھے اچکاتے ہوئے میز پر دھرے برتن اٹھائے اور دروازے کی طرف بڑھ گیا ۔
وہ میری زندگی کی بد ترین رات تھی ۔نیند آنے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا ۔میں جانتا تھا کہ سردار بھی پریشان ہو گا اور جانے میرے بارے کیا سوچ رہا ہوگا ۔وہ زیادہ دیر تک میرے غائب ہونے کو نہیں چھپا سکتا تھا ۔ صبح تک تو یقینا اسے کسی کو بتانا پڑ جاتا ،بلکہ اب تو وہ بھی پھنس گیا تھا ۔ میرے غائب ہونے کی کوئی مدلل وجہ اس کے پاس نہیں تھی ۔میں آج صبح اس کے ساتھ ڈی بلاک سے وچہ نرائے جانے کے ارادے سے نکلا تھا ۔اس کے بعد میں علام خیل کی طرف کیوں گیا تھا اس کا جواب یقینا سردار کے پاس موجود نہیں تھا کہ اس نے کسی متعلقہ ذمہ دار کو میرے جانے کی فوری اطلاع کیوں نہیں دی ۔ میرے غائب کے بارے وہ کوئی جھوٹ بھی نہیں بول سکتا تھا کہ اس میں میرا نقصان تھا ۔فوج کی نوکری ایسی نہیں ہے کہ اس میں ذرا سی بے قاعدگی کی بھی گنجائش نکل سکے ۔البتہ اس معاملے کو اورنگ زیب صاحب سنبھال سکتے تھے ۔اب نا معلوم سردار اسے بتاتا بھی تھا یا نہیں ۔لیکن امید یہی تھی کہ اس کو بتانے کے علاوہ سردار کے پاس کوئی چارہ بھی نہیں تھا ۔( شاید کچھ قارئین کے دماغ میں یہ سوال اٹھے کہ جب ہم وہاں بغیر کسی روک ٹوک اور مرضی کے اتنا عرصہ گزار سکتے تھے تو یوں میرا غائب ہونا اتنی بڑی بات نہیں ہونی چاہیے،جبکہ اس سے پہلے بھی تو میں اتنا اتنا عرصہ غائب رہ چکاتھا ....لیکن ایسا سوال صرف ان قارئین کے دماغ میں اٹھے گا جو فوج کے ماحول سے ناواقف ہیں ۔باقی پہلے جو میں غائب رہا تھا تو اس وقت میرا جانا احکامات ہی کے تحت تھا اور اب تو مجھے کسی مخصوص جگہ پر جانے کا حکم مل چکا تھا اور وہاں پر موجود میرے ساتھی کا نہ تو میرے ساتھ رابطہ تھا اور نہ میرے غائب ہونے کا اس کے پاس کوئی جوازتھا )
٭٭٭
صبح ،رات ہی طرح ایک آدمی میرے لیے ناشتا لے کر آیا جبکہ ایک مسلح آدمی دروازے پر کھڑا ہوکر مجھ پر نظر رکھے رہا۔ناشتا لانے والا لکڑی کی میز پر ناشتے کے برتن رکھ کر واپس مڑ گیا ۔اس کے جانے کے بعد بھی میں نے ناشتے کی طرف ہاتھ نہیں بڑھایا تھا ۔بغیر کچھ کھائے پیے مجھے چوبیس گھنٹوں سے زیادہ کا وقت ہو گیا تھا لیکن اس کے باوجود مجھے بھوک محسوس نہیں ہو رہی تھی ۔اس وقت میری حالت پھانسی کی سزا پانے والے مجرم کی سی تھی ۔میں جانتا تھا کہ صنوبر خان نے جلد ہی آکر قبیل خان اور جہانداد خان کی ہلاکت کے بدلے مجھے قتل کر دینا ہے ۔ لیکن یہ بھی سچ ہے کہ اس وقت بھوک نہ لگنے کی وجہ جان کا خوف نہیں تھا ۔ایک پاکستانی فوجی کوبھرتی ہونے کے ساتھ موت سے ڈرنا چھوڑنا پڑتا ہے ۔جبکہ ایک سنائپر جس وقت عملی زندگی میں قدم رکھتا ہے تو ہر مشن پر جانے سے پہلے وہ خود کو گویا موت کے حوالے کررہا ہوتا ہے ۔مجھے بس پلوشہ کادکھ اندر سے چیرے جا رہا تھا۔اس کا دھوکا دینا مجھے ہضم نہیں ہو رہا تھا ۔میرے وہم و گمان میںبھی نہیں تھا کہ کوئی لڑکی اتنی اچھی اداکارہ بھی ہو سکتی ہے ۔آنکھیں بند کرتے ہی اس کے چاہت بھرے جملے ،محبت بھری باتیں ،میرے لیے پریشانی ظاہر کرنا ،شادی کی بات سن کر خوشی کا اظہار کرنا ،میری حفاظت کے لیے فکر مند ہونا ۔یہ تمام باتیں ایسی تھیں جو گویامیرے دل کو شکنجے میں بھینچ رہی تھیں ۔ہمیشہ ساتھ نبھاہنے کے وعدے کرنے والی نے صرف میرا ساتھ نہیں چھوڑا تھا بلکہ مجھے بیچ دیا تھا ۔ میرا رقیب اتنا خوش قسمت تھا کہ اس کے حصول کے لیے میری محبوبہ نے میرا سودا کر دیا تھا ۔
گھنٹا بھر بعد وہ ناشتے کے برتن لینے آئے ۔ناشتے کو ویسے کا ویسا پڑا دیکھ کر مجھے کچھ کہے بغیر وہ برتن واپس لے گئے ۔
وہ پورا دن میں نے بغیر کچھ کھائے گزار دیا تھا ۔اس دوران مجھے تھوڑی نیند آئی اور پلوشہ دھم سے میرے خوابوں میں آن دھمکی ....وہ منہ بسورتے ہوئے جانے کتنے گلے شکوے کر رہی تھی اور میں اس کا سر گود میں رکھ کر اس کے چھوٹے چھوٹے بالوں میں انگلیاں پھیرتے ہوئے مسکراتا رہا ۔
آنکھیں کھلنے پر وہی قید خانے کی گھٹی گھٹی فضا اور ہجر و فراق کا پر اذیت موسم نظر آیا ۔رات کے وقت بھی میرا کھانا کھانے کو دل نہیں چاہ رہا تھا لیکن مجھے کمزوری محسوس ہونے لگی تھی ۔مجبوراََ میں نے چند نوالے لے لیے ۔ دکھ شروع شروع میں اذیت ناک اور ناقابل برداشت لگتا ہے لیکن آہستہ آہستہ انسان سنبھلنے لگتا ہے ۔اللہ پاک نے انسان کی فطرت ہی ایسی بنائی ہے کہ اس میں بھولنے کا مادہ وافر مقدار میں ودیعت کر دیا ہے ۔انسان بہت جلد ہی اپنے غموںکا مقابلہ کرنے کی ہمت پیدا کر لیتا ہے میں بھی آہستہ آہستہ سنبھلنے لگ گیا تھا ۔
گو پلوشہ کے فعل سے مجھے ناقابل بیان اور ناقابل برداشت اذیت پہنچی تھی لیکن اس اذیت کو لے کر میں کب تک خود کو سزا دیتا رہتا ۔پلوشہ نے اپنا ظرف دکھا دیاتھا ۔ وہ ایک خود غرض اور مطلب پرست لڑکی تھی اسے دل دینا تو میری غلطی تھی ہی اب اس کی اصلیت ظاہر ہونے کے بعد خود کو کوستے رہنا اور اس کے جانے کا ماتم کرتے رہنا کہاں کی عقل مندی تھی ۔سب سے بڑھ میں موت کی دہلیز تک پہنچ گیا تھا ۔دشمنوں کی قید میں پڑے رہ کر اپنی موت کا انتظار کرنا مجھے کسی طور پر زیب نہیں دیتا تھا ۔وہاں سے فرار ہونے کی کوشش نہ کرنا اپنے ساتھ کھلی زیادتی ہی تو تھی میں ایک تربیت یافتہ سنائپر تھا اور ایک سنائپر زندگی کو زندگی کی آخری سانسوں تک لڑنے کی ہمت کرتے رہنا چاہیے ۔
کھانا کھانے کے بعد میں وہاں بھاگنے سے منصوبے بنانے لگا مگر میری سوچیں گھوم پھر کر پلوشہ کی ذات پر آٹھہرتیں،بہ قول شاعر....
ادھیڑ ڈالے ہیں بخیے میرے ج±دائی نے
کہ کھا گیا ہے ترا غم کتر کتر کے م±جھے
اس کا غم ،اس کی سوچیں،اس کے خیال ،اس کی یادیں ،اس کا ہنسنا ہے ،اس کی شوخیاں ، شرارتیں ،اس کی محبت ،اس کی ادائیں اور پھر اس کا دھوکا دینا ....اس کی بے راہ روی،اس کا غلیظ کردار پتا نہیں اس کے بارے کیا کیا سوچتا رہا ۔میرے اندر تو ایسے جھکڑ اور آندھیاں چل رہی تھیں جو ہر چیز کو خس و خاشاک کی طرح بہا دیتی ہیں ۔
٭٭٭
تین دن گزارنے کے بعد میں نے تنگ آ کر کھانا لانے والوں سے صنوبر خان کے بارے پوچھا ۔
”صنوبر خان !....کب آئے گا ؟“وہ رات کے کھانے کے برتن اٹھانے آئے تھے ۔
برتن اٹھانے والے نے حیرانی بھرے لہجے میں جواب دیا ۔”سردار تو یہیں موجود ہیں ۔“ حیرانی اسے میرے بات کرنے پر ہوئی تھی ۔کیونکہ جب سے میں قید ہوا تھا پہلی بار میں نے زبان کھولی تھی۔
”میں اس سے ملنا چاہتا ہوں ۔“
”انھیں اطلاع دے ددوں گا ۔“وہ برتن اٹھا کر باہر نکل گیا ۔
حیرت انگیز طور پر تھوڑی ہی دیر بعد بہت سارے قدموں کی چاپ کمرے کی طرف آتی سنائی دی ۔جو میرے قید خانے کے سامنے آکر رک گئی ۔دروازہ کھول کر کرخت شکل کا صنوبر خان اپنے چار محافظوں کی معیت میں اندر داخل ہوا ۔
ایک محافظ نے فوم کی آرام دہ کرسی اٹھائی ہوئی تھی ۔میری چارپائی کے سامنے کرسی رکھ کر چاروں محافظ میری چارپائی کو گھیر کر کھڑے ہو گئے ۔
صنوبر خان نشست سنبھالتے ہوئے بولا۔”کہو محترم سلیم شاہ ،ذیشان حیدر ،یا راجو صاحب!“ اس کے لہجے میں طنز کی بو صاف محسوس کی جا سکتی تھی ۔
اس کے راجو کہنے پر میں چونک گیا تھا ،کیونکہ راجو توبس مجھے پلوشہ کہا کرتی تھی ۔
”تمھیں ،میرا نام راجو کیسے معلوم ۔“
”اس دن پلوشہ خان وزیر نے میرے سامنے ہی تم سے بات کی تھی ۔“صنوبر خان نے اطمینان بھرے لہجے میں کہا ۔اور مجھے گرفتاری کے دن کمانڈربہار خان اور اس کے ساتھیوں کے منہ سے سنی ہوئی باتوں پر فوراََ یقین آ گیا تھا ۔انھوں نے صنوبر خان کی غیر موجودی میں یہی بات کہی تھی ۔
”اپنے یوں قید میں رکھنے کا مقصد پوچھ سکتا ہوں ۔“
”اپنا قصور معلوم ہو نے کے بعد یہ سوال بے معنی ہی رہ جاتا ہے ۔“
”اور اگر قصور معلوم نہ ہو تو ؟“
”سردار قبیل خان اور سردار جہانداد کو قتل کرنے والے کے منہ سے معصومیت بھری گفتگو سن کر عجیب لگتا ہے ۔“
میں نے کہا ۔”سردار قبیل خان کی قاتل پلوشہ خان وزیر ہے ۔جبکہ سردار جہانداد کو میں نے اپنا دفاع کرتے ہوئے قتل کیا ہے ،یقینا اصولی طور پر میں بے گناہ ٹھہرتا ہوں ۔“
اس کے ہونٹوں پر طنزیہ مسکراہٹ ابھری اور اس نے پشتو کا ایک محاورہ بولا جس کا مطلب سادہ اردو میں یہی بن رہا تھا کہ ۔”اس سادگی پہ کون نہ مرجائے اے خدا۔“
”اس میں طنز کرنے کی کیا بات ہے ؟شالوم میں ہونے والے جرگے میں اس بات کی بڑے مفصل انداز میں وضاحت ہو چکی ہے ۔البتہ اگر اس کے بعد میں نے تمھارے کسی آدمی کو قتل کیا ہو تو مجھے مودر الزام ٹھہرا سکتے ہو ۔“
”جرگے میں تو تم نے کافی سارے جھوٹ بولے تھے ۔“
”صرف اپنا فوجی ہوناچھپایا تھا ۔“
وہ فلسفیانہ لہجے میں بولا ۔”ایک جھوٹ بولنے والے کی باتوں میں جھوٹ ، سچ کا امتیاز کرنا مشکل ہو جاتاہے ۔“
”آپ میرے سچ جھوٹ کو رہنے دیں ،بس اتنا بتا دیں کیا جہانداد خان نے اپنے لشکر کے ذریعے مجھے گھیرے میں نہیں لے لیا تھا ،اور کیا اس وقت میرا فائر کرنا اپنے دفاع کے لیے نہیں تھا ۔“
”اس حویلی کی تباہی ، قبیل خان ،اس کے ساتھ موجود بیس کے قریب آدمیوں کا قتل ، گاڑیوں کی تباہی ،روشن خان ،انارگل ،شمس خان ، خائستہ گل وغیرہ کا قتل ۔ان تمام کو میں کس کھاتے میں ڈالوں ۔“ وہ کسی وکیل کی طرح مجھ پر جرح کر رہا تھا ۔
”سردارصنوبر خان !....ان فضول باتوں میں پڑنے کے بہ جائے مجھے صرف اتنا بتا دیں کہ تمھارا ارادہ کیا ہے ؟....اگر بدلہ لینا چاہتے ہو تو دیر کس بات کی ہے ۔“
صنوبر خان نے قہقہہ لگاتے ہوئے کہا ۔”سمجھو تمھیں عمر قید ہو گئی ہے اور میرا خیال ہے پھانسی سے عمر قید بہتر ہوتی ہے ۔“
میں چند لمحے اس کی آنکھوں میں گھورتا رہا جن میں میرے لیے ذرا بھر نفرت موجود نہیں تھی ۔ اس کا لہجہ اس کے الفاظ کے ساتھ میل نہیں کھا رہا تھا ۔
میں بغیر لگی لپٹی رکھے بولا۔”تمھارے لہجے میں نہ تو وہ نفرت موجود ہے جو مجھے دشمن سمجھتے ہوئے اصولی طور پر ہونی چاہیے تھی اور نہ تمھاری قید میں مجھے کوئی جسمانی اذیت پہنچائی گئی ہے ،اس کا صاف مطلب یہی ہے کہ تمھارا مقصد مجھے قتل کرنا نہیں ہے ۔“
”ہونہہ!“اس نے اثبات میں سر ہلایا۔
”تو ....؟“میرا سوال ہنوز باقی تھا ۔
تو یہ کہ چند دن آرام کرو پھر بات چیت ہو گی ۔“
”آرام کافی ہو گیا ہے ۔“میں اس کا جواب جاننے پر مصر رہا ۔
”بے صبری اچھی نہیں ہوتی جوان !....اگرتمھیں یہاں کوئی تکلیف ہے تو بتا سکتے ہو ۔“
”قید ہونا بہ ذات خود ایک تکلیف ہی تو ہے ۔“
وہ معنی خیز لہجے میں بولا ۔”اگر تعاون کیا تو قید و بند کی تکلیف سے جان چھوٹ جائے گی ۔“
”پلوشہ کے متعلق ایک سوال پوچھ سکتا ہوں ۔“
میرے لہجے میں نہ جانے کون سی ایسی بات تھی کہ اس کے ہونٹوں پر معنی خیز مسکراہٹ نمودار ہوئی اور وہ نفی میں سر ہلاتے ہوئے بولا ۔”نہیں میں خود ہی بتا دیتا ہوں ....میرا ایک ڈرائیور ہے دلشاد خان ۔جس دن تم گرفتار ہوئے اس سے دو دن پہلے وہ پلوشہ خان وزیر کا پیغام لے کر آیا کہ اگر میں اسے کچھ نہ کہنے کا وعدہ کروں تو وہ مجھ سے ملنا چاہتی ہے۔سیدھی سے بات ہے جوان!.... میں نے جرگے کے دوران اسے دیکھا ہوا تھا ۔ایک تو وہ بہت زیادہ خوب صورت ہے اوپر سے اس نے حلیہ بھی ایسا بنایا ہوا ہے جو اسے اور پرکشش بنا دیتا ہے ۔سچ کہوں تو میرا دل اسے دیکھتے ہی بے ایمان ہو گیا تھا ۔دلشاد کی بات پر میں نے فوراََ وعدہ کر لیا کہ اسے کچھ نہیں کہوں گا ۔بس اس نے آکر پوری رات مجھے خوش کیا اور اگلی رات میرے خصوصی دوستوں کو نوازا ۔اسی اثناءمیں تمھارا ذکر چل نکلا میرے ایک دوست کو تمھاری ضرورت تھی پس پلوشہ خان نے تمھیں پکڑوانے کے لیے پندرہ لاکھ کا مطالبہ کیا اور میرا دوست مان گیا ۔ باقی کی کہانی تمھیں معلوم ہو گی ۔“
اس نے من و عن وہی بات مختصر لفظوں میں دہرائی تھی جو اس سے پہلے میں دلشاد خان اور بہار خان کی زبانی سن چکا تھا ۔
”اتنے پیسوں کا اس نے کیا کرنا تھا ۔“
”پتا نہیں ۔“اس نے کندھے اچکاتے ہوئے لا علمی ظاہر کی ۔”بس اس نے مطالبہ کیا اور میرے دوست نے رضامندی ظاہر کر دی ۔“
”تمھارے دوست کا نام جان سکتا ہوں ؟“
”دو تین دنوں تک وہ خود تمھیں شرف ملاقات بخشے گا ۔“
”ویسے میرا خیال تھا کہ تم نے سردار قبیل خان اور سردارجہانداد خان کا بدلہ لینے کے لیے مجھے پکڑا ہے ۔“
”اس موضوع کو رہنے دو ۔“یہ کہتے ہوئے وہ کھڑا ہوگیا ۔ ”کسی چیز کی ضرورت ہو تو کھانا لانے والوں سے کہہ دیا کرو ۔“اس کے اٹھنے پر چوکنا محافظوں میں سے ایک نے آگے بڑھ کر دروازہ کھولا اور اس کے باہر جانے کے بعد وہ تمام بھی باہر نکل گئے ۔اور میں اس کے مذکورہ دوست کے بارے سوچنے لگا آخر وہ کون تھا اور مجھے پکڑوانے کے لیے اس نے اتنی خطیر رقم کیوں خرچ کی تھی ۔لیکن کافی دیر سر کھپانے کے باوجود میرا ذہن کوئی اندازہ لگانے میں ناکام رہا تھا ۔اور پھر یہی سوچتے سوچتے میری ذہنی رو دشمن جاں کی جانب پلٹ گئی ۔بے وفا ،دھوکے بازاوربدکردارہونے کے باوجود میں اس سے نفرت کرنے میں ناکام ہو رہا تھا ۔دماغ اس پر تھو تھو کر رہا تھا مگر احمق دل نہ جانے کن خوش فہمیوں میں گم تھا ۔
٭٭٭
شب و روز اسی بے کیفی ،الجھن اور پریشانی میں گزر رہے تھے ۔صنوبر خان سے ملاقات کے بعد اتنا تو مجھے یقین ہو گیا تھا کہ اس نے مجھے بدلہ لینے کے لیے نہیں بلکہ کسی خاص مقصد کے لیے پکڑا ہے۔صنوبر خان سے ملاقات کے تیسرے دن قریباََگیارہ بجے چار مسلح افراد میرے کمرے میں داخل ہوئے ۔اور مجھے ساتھ لے کر چل پڑے ۔مجھے وہاں آئے ہوئے ہفتہ ہونے کو تھااور اس دوران پہلی بار میں اس قید خانے سے باہر نکل رہا تھا ۔حویلی کی تعمیر میں پرانے نقشے ہی کو سامنے رکھا گیا تھا ۔اندرونی حویلی میں پہلے کی طرح دو حصوں پر مشتمل تھی ۔ایک جانب خصوصی مہمانوں کے لیے انیکسی جیسی بنائی تھی جس کی حد بندی اینٹوں کی چھوٹی چھوٹی دیوار سے کی گئی تھی ۔پہلے یہاں بانس کی لکڑی کی باڑ لگائی گئی تھی۔ پلوشہ مجھے پہلی بار اسی انیکسی میں ٹکرائی تھی ۔اس وقت میں نے اسے لڑکا سمجھا تھا ۔سخت مقابلے کے بعد کہیں جا کر میں اس پر قابو پانے میں کامیاب ہو سکا تھا ۔میری ذہنی رو پھر اسی کی جانب بہنے گئی جس نے مجھے کہیں کا نہیں رہنے دیا تھا ۔شاید کچھ عرصہ بیتنے کے بعد ہی اس کی جان لیوا یادوں سے جان چھوٹ پاتی۔یہ بھی ممکن تھا کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس کی یاد میرے دماغ کا ناسور بن کر مجھے کسی کام کا بھی نہ رہنے دیتی ۔دھوکا دہی اور بے وفائی کے ساتھ ساتھ اس کی بے راہ روی بھی تو میرے لیے ایک عذاب ہی تھی ۔
انیکسی کے دروازے پر جا کر وہ رک گئے تھے ۔اسی وقت دروازہ کھول کر صنوبر خان باہر نکلا ۔
محافظوں کو وہیں ٹھہرنے کا اشارہ کرتے ہوئے وہ مجھے بولا ۔”تم اندر جا سکتے ہو۔“
میں دروازہ دھکیل کر اندر داخل ہوا ۔پہلا کمرہ ڈرائینگ روم کی طرح ہی سجایا گیا تھا ۔فرش پر دبیز قالین بچھا ہوا تھا ۔اور وسط میں آرام دہ اور قیمتی صوفے رکھے ہوئے تھے ۔ایک صوفے پر بیٹھے امریکن گورے کو دیکھ کر میں حیرت زدہ رہ گیا تھا ۔اس کے ساتھ ہی پڑے دوسرے صوفے پرکالی جینز پر سفید قمیص پہنے ایک نیگرو دوشیزہ بیٹھی تھی ۔اس کا رنگ ضرور کالا تھا مگر نقوش عام کالوں کی طرح بہت زیادہ بھدے نہیں تھے ۔اس کے کالے گھنے بال بہ مشکل کندھوں کو چھورہے تھے،جبکہ نیلی آنکھیں مجھ پر گڑی تھیں ۔اسے دیکھ کر نہ جانے کیوں مجھے نامعلوم سی شناسائی کا احساس ہوا جس کی توجیہ سے میں قاصر تھا ۔
نپے تلے قدم رکھتا ہوا میں ان کے سامنے جا بیٹھا ۔مصافحہ کرنے یا ہیلو ہائے کرنے کی ضرورت میں نے محسوس نہیں کی تھی ۔صنوبر خان نے بھی باہر ہی رہ گیا تھا ۔یقینا امریکن اس کے مائی باپ اور آقا تھے ۔ان کے احکامات کی تعمیل کرنے پر ہی ایسے غدار سرداروں کو ڈالر ملتے ہیں جن کے بل بوتے پر یہ پاک آرمی کو بھی بھونکتے ہیں اور نہتے عوام کے خلاف بھی کارروائیاں کرتے ہیں ۔
چند لمحے مجھے گھورنے کے بعد مرد گلہ کھنکارتے ہوئے گویا ہوا ۔
”تو تم ہو ،ریجاذیشن حائیڈر....“اس نے میرے نام کی ٹھیک ٹھاک مٹی پلید کی تھی ۔
میں نے کچھ کہے بغیر اثبات میں سرہلاتے ہوئے ایک بار پھر نیگرو دوشیزہ کی طرف دیکھا نہ جانے کیوں اسے دیکھ کر ایک عجیب سااحساس میرے اندر جاگ رہا تھا۔وہ بھی گہری نظروں سے میری جانب متوجہ تھی ۔
وہ اپنا اور اپنی ساتھی کا تعارف کراتے ہوئے بولا ۔”میرا نام البرٹ بروک ہے ۔اور میری ساتھی کا نام ٹریسی والکر ہے ۔“
اس مرتبہ بھی میں نے کچھ لب کھولے بغیر اپنے سر کو خفیف سے حرکت دے دی ۔
”جانتے ہو تم نے ہمارے ایک سنائپر کو قتل کیا ہے اور ہم اپنے دشمن کو کبھی معاف نہیں کیا کرتے ۔“البرٹ بروک نے گویا مجھ پر فرد جرم عاید کی ۔
میں نے اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالتے ہوئے کہا ۔”شاید اس کا ثبوت پیش کرنا آسان نہ ہو ۔“
”ہم سب جانتے ہیں محترم !....بیرٹ ایم 107اور اس کے ساتھ سنائپنگ کے بقیہ سامان کی تمھارے پاس موجودی واضح کر رہی ہے کہ بیلی واڈکرکے قاتل تم ہو ۔“
میں نے طنزیہ لہجے میں پوچھا ۔”پھر تو تمھیں یہ بھی معلوم ہو گا کہ میری گولی کا نشانہ بننے سے پہلے وہ کیا کر رہا تھا ؟“
میری بات کا جواب دینا آسان نہیں تھا ۔ گلا کھنکارتے ہوئے اس نے لمحہ بھر توقف کیا اور پھر منہ بگاڑتے ہوئے بولا ۔”اسی وجہ سے تم زندہ بھی نظر آرہے ہو ....ویسے اس نے ہماری ہدایات کے برعکس سرحدکے اس طرف آکر ایک ایسی کارروائی میں حصہ لیا جس کا اسے حکم نہیں دیا گیا تھا اور نتیجے میں اپنی جان گنوا بیٹھا ۔“
”کسر نفسی ہے تمھاری ....ورنہ سرحد پار کرکے زیادہ تر حملوں کے احکام تمھاری جانب ہی سے دیے جاتے ہیں ۔اور اس کا واضح ثبوت تم دونوں کی یہاں موجودی ہے ۔“میں اس بار بھی طنز سے باز نہیں آیا تھا ۔
وہ برا مناتے ہوئے بولا ۔”جوان !....میں تمھارے طنزیہ جملے یا گلے شکوے سننے نہیں ،ایک سودا کرنے آیا ہوں ۔اگر جان بچانی ہے تو ہمارے لیے کام کرنا پڑے گا دوسری صورت میں مرنے کے لیے تیار ہوجاﺅ ۔“
میں بے پروائی سے بولا ۔”تو کس نے کہا ہے کہ میں مرنے کے لیے تیار نہیں ہوں ۔“
”سوچ لو ....“
میں نے اطمینان سے کہا ۔”فیصلہ کرنے بعد سوچنا وقت کا ضیاع کہلاتا ہے ۔“
”دیکھو جوان !....زندگی بہت قیمتی ہے اور یقینا اسے یونھی ضائع کردینا عقل مندی نہیں ہے۔اگر تم جان کی قربانی دے کر کسی تمغے یا میڈل وغیرہ کے حصول کے چکروں میں ہو تو کیا تمھارے گھر والے اس تمغے کو چاٹیں گے ۔تمھاری محدود پنشن اور چند لاکھ رقم کے بل پر وہ باقی زندگی نہیں گزار سکیں گے ۔نہ تو تم جیسے گمنام ہیروز کو کوئی یاد کرتا ہے اور نہ تم جیسوں کی قربانیوں کو سراہا جاتا ہے ۔وقت سے فائدہ اٹھانا سیکھو۔ ہمارے ساتھ کام کر کے تمھیں دولت اور پرآسائش زندگی گزارنے کو ملے گی ۔تم آسانی سے اس لڑکی سے انتقام وغیرہ بھی لے سکو گے جس نے تمھیں گرفتار کرایا ہے ،بلکہ میں وعدہ کرتا ہوں کہ دو تین سال ہمارے لیے کام کرو اس کے بعد تمھیں اور تمھارے کنبے کو گرین کارڈ دلوا دوں گا بقیہ زندگی اطمینان سے امریکہ میں گزارنا ۔“
اس کے بکواس کرنے تک میں اپنے اور اس کے درمیان موجود فاصلے کا جائزہ لے کر اس نتیجے پر پہنچ چکا تھا کہ اس پر قابو پانا اتنا مشکل نہیں تھا اسے یر غمال بنا کر میں وہاں سے فرار ہو سکتا تھا ۔اس لیے جونھی اس کی زبان رکی میں ایک دم اٹھ کرتیزی سے اس کی طرف بڑھا۔یوں کہ اس کے یا نیگرو دوشیزہ ٹریسی والکرکے ہتھیار وغیرہ نکالنے سے پہلے اسے چھاپ لوں ۔مگر اس سے پہلے کہ میں اس کے قریب پہنچتا بجلی چمکنے کی طرح ٹریسی اپنی جگہ پرسے اچھلی اور اس کے پاﺅں کی زوردار ٹھوکر میری چھاتی میں لگی ۔ چونکہ میرا پورا دھیان البرٹ بروک کی طرف تھا اس لیے میں اپنا دفاع صحیح طریقے پر نہیں کر سکا تھا۔میں کولہوں کے بل دبیز قالین پر گرا اور کروٹ لیتا ہوا فوراََ کھڑا ہو گیا ۔اتنی دیر میں ٹریسی اپنے دائیں پاﺅں پر گھوم چکی تھی ۔اس کی بائیں ٹانگ خطرناک انداز میں میرے چہرے کی طرف بڑھی ....نیچے جھک کر میں نے اس کا وار خطا کیا اور اس کے ساتھ ہی ایک قدم آگے لیتے ہوئے میرا دایاں ہاتھ دائروی مکے کی صورت اس کے چہرے کی طرف بڑھا ۔اپنے چہرے کو ہلکا سا دائیں کرتے ہوئے اس نے میرا وار خطا کیا اور اس سے پہلے کہ میں دوسرا وار کرتا اس کی دائیں ٹانگ ہتھوڑے کی طرح میری چھاتی پر لگی میں اڑ کر صوفے پر جا پڑا تھا ۔نیچے گرتے ہی میں سرنگ کی طرح اچھل کر کھڑا ہوا لیکن اسی لمحے البرٹ کی سرد آواز میری سماعتوں میں گونجی ....
”تمھاری ذرا سی حرکت شاید تمھیں بے حس و حرکت کر دے ۔“اس کے ہاتھ میں خوف ناک شکل کا گیرا گٹ مارک تھرٹین ایم ایم نظر آرہا تھا ۔
جاری ہے
 

میں ایک دم رک گیا ۔چند قدم کے فاصلے پر کھڑی ٹریسی کا چہرہ ہر قسم کے تاثرات سے خالی تھا۔ البتہ مجھ پر مرکوزنیلی آنکھوں میں عجیب سا اسرار پوشیدہ تھا جس کی توجیہ سے میں قاصر تھا ۔ ایک نیگرو لڑکی کی نیلی آنکھیں بھی کافی عجیب لگ رہی تھیں ۔اس کا بھرا بھرا سڈول جسم مجھے کسی کی یاد دلا رہا تھا ۔ شاید اس کا بدن پلوشہ کی طرح تھا ۔مگر ایک دم میرے نے دماغ نے اس مشابہت کو جھٹلا دیا کہ ایک تو اس کا قد پلوشہ سے اونچا تھا دوسرا اس کے جسمانی خطوط بھی پلوشہ کے مقابلے کچھ زیادہ ہی نمایاں تھے ۔یقینا پلوشہ کی جدائی کی وجہ سے مجھے ہر عورت میں اس کی شبیہ نظر آنے لگی تھی ۔
مجھے رکتے دیکھ کر البرٹ نے شیشے کی خوب صورت میز پر پڑی گھنٹی بجائی اور اگلے ہی لمحے دروازہ کھول کر ایک آدمی اندر آگیا ۔
”محافظوں کو کہو اسے لے جائیں ۔“البرٹ نے آنے والے کے کچھ پوچھنے سے پہلے حکم دیا۔
”جی سر !“آنے والا سر ہلاتے ہوئے واپس مڑ گیا ۔صنوبر خان نے ان کی خدمت کے لیے ملازم بھی ایسا ہی مہیا کیا تھا جو انگریزی زبان جانتا تھا ۔
ٹریسی اطمینان بھرے انداز میں مڑ کر اپنی جگہ پر بیٹھ گئی تھی ۔البرٹ بروک پستول اپنی گود میں رکھ کر آرام سے بیٹھا رہا ۔ایک منٹ بعد ہی مجھے لانے والے چاروں محافظ اندر داخل ہوئے ۔یقینا وہ وہیں بیٹھے میرا انتظار کر رہے تھے ۔
ان کی معیت میں میں واپس کمرے میں آگیا ۔مجھے کمرے میں چھوڑ کر وہ واپس چلے گئے ۔ چارپائی پر بیٹھ کر میں کڑہنے لگا ۔میرے گمان میں بھی نہیں تھا کہ وہ لڑکی اتنی تیز اور لڑاکا ہو سکتی ہے ۔ یقینا البرٹ اسی وجہ سے اتنی بے فکری سے بیٹھا تھا ۔
میں زیادہ دیر آرام سے نہیں بیٹھ سکا تھا ۔دروازہ کھول کر دوبارہ چاروں مسلح افراد اندر داخل ہوئے اور مجھے دوبارہ کمرے سے باہر لے آئے اس مرتبہ وہ مجھے کمرہ در کمرہ گھماتے ہوئے ایک اندرونی کمرے میں لے گئے جہاں انھوں نے اپنے دشمنوں سے نبٹنے کا خاطر خواہ بندوبست کر رکھا تھا ۔کمرے کی صفائی دیکھتے ہوئے میں نے اندازہ لگایا کہ اس کمرے کا افتتاح وہ مجھ سے کرا رہے تھے ۔چھت میں لگے کنڈوں سے لٹکتی ہوئی زنجیروں میں میرے ہاتھ جکڑ کر وہ باہر نکل گئے ۔
البرٹ پر قابو پانے میں تو میں کامیاب نہیں ہو سکا تھا البتہ اس کے نتیجے میں اپنا آرام قربان کر بیٹھا تھا ۔
پندرہ بیس منٹ بعد قدموں کی چاپ ابھری ،آنے والا صنوبر خان تھا ۔
”اچھے لگ رہے ہو۔“اندر داخل ہوتے ہی اس نے طنزیہ انداز میں کہا ۔”بے وقوف آدمی وہ حبشن دس آدمیوں سے بھی قابو نہیں آتی اور تم اکیلے اس سے ٹکرانے چلے تھے ۔شکر کرو ہڈیاں سلامت رہ گئی ہیں ۔“
اس کی طنزیہ بات کا میرے پاس کوئی جواب نہیں تھا ۔اس نے بھی کوئی استفسار نہیں کیا تھا کہ میرے جواب کا انتظار کرتا ۔اس کی بات جاری رہی ۔
”بہ ہر حال اب تمھارا کھانا پینا اور آرام تو ہفتہ بھر کے لیے ختم ہو گیااور یہ البرٹ صاحب کا حکم ہے مجھ سے خفا نہ ہونا ۔“
”میرا خیال ہے ہم دوست نہیں ہیں ۔“میں اس کی بات پر حیران ہوئے بغیر نہیں رہ سکا تھا ۔
”ہاں دوست تو نہیں ہیں ،لیکن تم نے میرے سردار بننے میں اہم کردار ادا کیا ہے اور میری تھوڑی بہت ہمدردی کے حق دار تو تم ٹھہرتے ہو نا۔“
میں استہزائیہ لہجے میں بولا ۔”یہ بھی خوب کہی ،گرفتار کروا کریوں میری ہمدردی سمیٹنادلچسپی سے خالی نہیں ۔“
صنوبر خان نے بگڑتے ہوئے کہا ۔”میں نے پہلی ملاقات میں بتایا تھا کہ تمھیں گرفتار کرایا ہے تمھاری نام نہاد محبوبہ نے ۔بلکہ یہاں پر ،تمھارا سودا کیا ہے، کہنا زیادہ مناسب رہے گا ۔اب خفا ہونا چاہیے اس فاحشہ سے تم مجھے طعنے دیے جا رہے ہو ۔“
میں بغیر کسی لگی لپٹی کے بولا۔”کیا مجھے تمھارے آدمیوں نے گرفتار نہیں کیا ؟اور غیرملکی دہشت گردوں کا ساتھ دے کر اگر تم اپنے ہم وطن کو پکڑ کر ان کے سامنے پلیٹ میں سجا کر رکھو گے اور ساتھ میں یہ بھی کہو کہ تمھیں قصوروار نہ سمجھا جائے ،خاصی واہیات خواہش ہے ۔باقی پلوشہ نے جو کچھ میرے ساتھ کیا اس کی قباحت اپنی جگہ مگر اسے بھی ترغیب تو تم نے دی ہے نا ۔“
”پہلی بات یہ ہے ذیشان میاں !.... میں تمھارا ہم وطن نہیں ہوںکیوں کہ میں پاکستان کو تسلیم ہی نہیں کرتا ۔دوسرا اس فاحشہ نے خود البرٹ کا پہلو گرم گرتے ہوئے تمھارا سودا کیا تھا ۔میں کسی طور بھی اس میں ملوث نہیں تھا اور نہ مجھے تم سے انتقام لینے کی کوئی ضرورت ہی تھی ۔اگر تمھیں یاد ہو تو جہانداد خان کے قتل کے بعد میں نے فوری طور پر جرگہ بلا کر اس معاملے کو نبٹایا تھا ۔اور جرگہ بلانا بھی میری مجبوری تھی ورنہ میرے قبیلے کے لوگ اعتراض کرنے سے باز نہ آتے کہ میںنے بدلہ لیے بغیر کیوں محاصرہ اٹھا لیا ہے ۔ اس کے بعد میں نے تم دونوں کوبالکل ہی نظر انداز کر دیا تھا لیکن وہ فاحشہ خود معافی تلافی کے چکر میں میرے پاس آ گئی تو اتنا فرشتہ تو میں بھی نہیں تھا کہ پاس آئی عیاشی کی دعوت ٹھکرا دیتا ۔اسے معاف تو میں یوں بھی کر چکا تھا ۔اس کی آمد سے قبیلے کے لوگوں کے سامنے بھی سرخ رو ہو گیا کہ میں نے دشمن سے خاطر خواہ انتقام لے لیا ہے ۔اور یقینا یہ تو تم جانتے ہی ہو گے کہ پلوشہ خان نے اپنے لیے جس انداز کی معافی تجویز کی تھی یہ قتل سے بھی بڑھ کر ہے ۔میرا مطلب کسی شریف لڑکی کے لیے ۔ البتہ اس فاحشہ کے لیے یہ روز مرہ ہی کی بات تھی ۔“
صنوبر خان اور اس کے آدمیوں کی قید میں آنے کے بعد پلوشہ کا جو کردار میرے سامنے کھل کر آرہا تھا پہلے میں ایسا فرض بھی نہیں کر سکتا تھا ۔مگر صنوبر خان کے منہ سے اس کے لیے سوائے فاحشہ کے کوئی لفظ بھی نہیں نکلتا تھا ۔اورجو کچھ وہ کر چکی تھی اس کے بعد اس لفظ کے علاوہ کوئی لفظ اس کے لیے جچتا بھی نہیں تھا ۔
صنوبر خان کی تفصیلی بات سن کر میں نے خاموشی سے سر جھکا لیا تھا ۔اس میں تو کوئی شک نہیں تھا کہ وہاں پر میری موجودی میں پلوشہ ہی کا ہاتھ تھا ۔صنوبر خان کو اس بارے مطعون کرنا نامناسب ہی تھا۔ یوں بھی مجھے گرفتار کرنے کے بعد اس نے کوئی انتقامی کارروائی نہیں کی تھی ۔اب بھی میں اپنی بے وقوفی یا کمزوری کے باعث اس سزا کا مستحق ٹھہرا تھا ۔
مجھے خاموش پا کر وہ دوبارہ بولا ....”میں علام خیل جا رہا ہوں ،اب تم جانو اور تمھارے امریکن دشمن،میں تم لوگوں کے بیچ نہیں آﺅ ں گا ۔“وہ مڑ کر باہر نکل گیا ۔
مسلسل کھڑا رہنا بھی انسان کے لیے ایک عذاب ہی ہے ۔اس کے ساتھ سر سے بلند ہونے والے ہاتھ بھی سونے پر سہاگا ثابت ہوتے ہیں ۔دوپہر سے شام ہوئی اور پھر رات آہستہ آہستہ بیتنے لگی ۔ صبح ناشتے کے بعد سے میں نے کچھ کھا پی نہیں سکا تھا ۔اس وقت مجھے اچھی خاصی بھوک پیاس محسوس ہو رہی تھی، لیکن اس سے کئی گنا زیادہ بھوک پیاس برداشت کرنے کی صلاحیت مجھ میں موجود تھی ۔اسی طرح مسلسل کھڑے رہنے سے میری ٹانگیں شدید تھکن محسوس کر رہی تھیں ،بازو بھی شل ہوئے جا رہے تھے مگر میرا حوصلہ برقرار تھا ۔ اس درد، تکلیف اور اذیت کا سنائپر کے ساتھ بہت پرانا رشتا ہے ۔
لیکن انسان جتنا بھی سخت جان ،مضبوط اور حوصلے والا کیوں نہ ہو ذہنی اذیت ہمیشہ انسان کوشکست سے ہم کنار کر دیتی ہے ۔جسمانی طور پر مضبوط ہونے کے باوجود پلوشہ کے کردار نے میرے سوچنے سمجھنے کی صلاحیتوں کو سلب کر لیا تھا ۔ اس کا دھوکا دینا اور بے وفائی کرنا میرے لیے سوہان روح سہی مگر اس سے بڑھ کر اس کی بے راہ روی مجھے اذیت پہنچانے کا باعث بنی تھی ۔اس وقت بھی بھوک ،پیاس اور تھکن سے زیادہ مجھے اس کی یاد ستا رہی تھی ۔محبوب کی یادیں عموماََ خوشی ،تسکین اور سکون مہیا کرتی ہیں مگر اس کی یادسوائے اذیت اور ذلت کے اور کوئی احساس نہیں دلا رہی تھی۔
ساری رات یونھی کھڑے کھڑے بیت گئی تھی ۔ایک احسان انھوں نے مجھ پر یہ کیا تھا کہ میری ٹانگیں نہیں جکڑی تھیں اس طرح کم از کم میں اپنے پاﺅں کو دو تین فٹ کے دائرے میں حرکت دے سکتا تھا۔اگلا دن بھی اسی حالت میں بیت گیا تھا۔بس دوپہر کو چار مسلح افراد نے مجھے چند منٹ کے لیے کھول کر کمرے کے کونے میں بنے بیت الخلا میں چند منٹ جانے کی اجازت دے تھی ۔بیت الخلا سے باہر نکلنے پر انھوں نے مجھے دوبارہ جکڑ دیا تھا ۔رات تک میری بھوک پیاس شدت اختیار کر گئی تھی لیکن البرٹ بروک یقینا میری قوت برداشت توڑنا چاہتا تھا ۔
٭٭٭
رات کا نہ جانے کون سا پہر تھا جب مجھے دروازے پر ہلکی سی آہٹ سنائی دی ۔مسلسل کھڑے کھڑے مجھے کبھی کبھی ہلکی سی اونگھ آتی اور جونھی جھٹکا لگنے سے میں گرنے لگتا مضبوط زنجیریں مجھے نیچے گرنے سے روک لیتیں اور میں جاگ جاتا ۔کھٹکا سنتے ہی میں نے آنکھیں کھولیں شاید کسی نئی آزمائش کا وقت آ گیا تھا ۔اندر داخل ہونے والا اکیلا آدمی تھا ۔اس کا قد تو چھوٹا تھا مگر جسم خوب گھٹا ہوا اور مضبوط تھا ۔ گھنی داڑھی اور بڑی بڑی مونچھوں نے اس کے چہرے کو ڈھانپ لیا تھا ۔اس کا مشکوک انداز مجھے حیران کر گیا تھا ۔اندر داخل ہوتے ہی اس نے دروازہ بند کرنے سے پہلے ایک بار باہر جھانک کر دیکھا اور پھر آہستگی سے دروازہ بند کر کے وہ پیچھے مڑا۔اس نے ہاتھ میں پانی کی بوتل اور اخبار میں لپٹی ہوئی کوئی چیز پکڑ رکھی تھی ۔ہونٹوں پر انگلی رکھ کر اس نے مجھے خاموش رہنے کا اشارہ کیا اورکمرے کے کونے کی طرف بڑھ گیا جہاں لوہے کی ایک چرخی اور ہینڈل لگا تھا ۔جس کے ذریعے میرے ہاتھوں میں پڑی زنجیر کو ڈھیلا یا سخت کیا جا سکتا تھا ۔اس نے نہایت آہستگی سے چرخی گھما کر میرے ہاتھوں کو نیچے کیا ۔ ہاتھوں کے نیچے آتے ہی مجھے اچھا خاصا سکون محسوس ہوا تھا ۔
قریب آکر اس نے مجھے پانی کی بوتل پکڑائی ۔وہ ڈیڑھ لیٹر والی بوتل پانی سے بھری ہوئی تھی۔ بوتل کا ڈھکن کھول کر میں آدھی سے زیادہ بوتل پی گیا تھا ۔میرے پانی پیتے ہی اس نے اخبار میں لپٹا کھانا میری طرف بڑھا دیا ۔دو موٹی روٹیوں کے ساتھ چنے کی دال کا سالن ،مجھے اتنا لذیز اور ذائقے دار لگا تھا کہ عام حالات میں بھنا ہوا گوشت بھی اتنی مزیدار نہیں لگتا ۔میرے کھانا کھانے کے دوران وہ میرے پاس کھڑا مجھے دلچسپ نظروں سے دیکھتا رہا ۔
کھانا کھلا کر اس نے مجھے دوبارہ پانی کی بوتل پکڑائی اور بقیہ پانی معدے میں انڈیل کر میں نے خالی بوتل اس کی جانب بڑھا دی ۔
”کسی کو پتا نہیں چلنا چاہیے دوست ،میں جان پر کھیل کر تمھیں کھانا دینے آیا ہوں ۔“خالی بوتل بغل میں دباتے ہوئے اس نے سرگوشی کی ۔
”آپ کا بہت بہت شکریہ ....لیکن اس مہربانی کی وجہ سمجھنے سے میں قاصر ہوں۔“
اس کے ہونٹوں پر معنی خیز مسکراہٹ نمودار ہوئی ۔”اگر میں کہوں تمھیں صرف آم کھانے چاہیں ، کیونکہ پیڑ گننابے وقوفی کہلاتا ہے ۔“
”ٹھیک کہا مگر احسان کرنے والے بارے متجسس ہونا غیرفطری نہیں ہے۔“
”وقت آنے پر تمھیں پتا چل جائے گا ،بس یہ یاد رکھنا کہ اس بارے اگر کسی کو بھنک بھی پڑ گئی تو میرے مرنے کی باری تم سے پہلے آئے گی ۔“
میں نے فلسفیانہ لہجے میں کہا ۔”اپنے خیر خواہ کو مرتے ہوئے کون دیکھ سکتا ہے ۔“
”شکریہ ۔“میری پیٹھ تھپتھپا کر وہ کونے کی طرف بڑھ گیا ۔چرخی گھما کر وہ میرے ہاتھوں کو پہلے والی حالت میں لایا اور احتیاط کا مظاہرہ کرتا ہوا کمرے سے باہر نکل گیا ۔
بیٹھے بٹھائے ایک خیر خواہ مجھے میسر آ گیا تھا ۔میں اس کی شناخت کے بارے سوچوں کے گھوڑے دوڑانے لگا ۔آخر وہاں ایسا کون تھا جسے میری فکر تھی ۔کافی دیر کی ذہنی وزش کے بعد میرے دماغ میں خوش حال خان اور قابل خان محسود کا خیال آیا ۔جب ہمیں جہانداد خان کے لشکر نے گھیرے میں لیا ہوا تھا اس وقت قابل خان نے مجھے جہانداد خان کے لشکر کی تعداد کے بارے اطلاع دیتے ہوئے کہا تھا کہ دشمنوں کے لشکر میں ان کے آدمی بھی موجو دہیں ۔مجھے کافی حد تک اسی بات پر یقین آ گیا کہ وہ خوش حال خان ہی کا آدمی ہے ۔اس کے علاوہ تو صنوبر خان کے آدمیوں میں میرے کسی خیر خواہ کا ہونا ممکن نہیں تھا ۔ ایک بار میرے ذہن میں میجر اورنگ زیب کا بھی خیال آیا لیکن پھر میں نے اس خیال کو سختی سے جھٹلا دیا کیونکہ صنوبر خان کے آدمیوں میں میجر اورنگ زیب کے کسی بندے کی موجودی کا مجھے ضرور معلوم ہوتا۔
اگلی رات وہ دوبارہ میرے لیے کھانا اور پانی لے آیا ۔
اس نے مجھے کھانا پکڑواتے ہوئے کہا۔”میرا نام سہراب خان ہے ۔“
”میرا خیال ہے آپ کا تعلق خوش حال خان محسود سے ہے ۔“میں نے اپنا اندازہ ظاہر کرنے میں دیر نہیں لگائی تھی ۔
وہ معنی خیز انداز میں مسکرایا ۔”بڑی جلدی سمجھ گئے ہو ....بہ ہرحال مجھے اس بات کا حکم سردار خوش حال خان نے نہیں دیا ہے ۔“
”گویا آپ کے احسان کا وزن میرے اندازے سے کچھ زیادہ ہے ۔“
اس نے انکسار ی بھرے لہجے میں کہا ۔”یہ تو بس موقع ملنے کی بات ہے ۔“
اور میں مزید کچھ کہے بغیرکھانے کی طرف متوجہ ہو گیا تھا ۔
کھانا کھا کر میں نے پانی کی بوتل کو منہ لگایا ہی تھا کہ دروازے کو دھکیلتے ہوئے کمانڈر بہار خان اندر داخل ہوا ۔اس کے ہمراہ ایک کلاشن کوف بردار شخص بھی موجود تھا ۔
”کیا کر رہے ہو ؟“وہ تیکھے لہجے میں سہراب کو مخاطب ہوا ۔
”وہ ....مم....میں ....میں ....“سہراب خان منمنا کر رہ گیا تھا ۔
”بکو ....“اس کے چہرے پر تھپڑ رسید کرتے ہوئے وہ غرایا۔مسلح شخص نے سہراب خان پر کلاشن کوف تان لی تھی ۔
”اپنی بہن کے خصم کو کس خوشی میں کھلا پلا رہے تھے ۔تمھارے خیال میں ہم تمام اندھے ، بہرے ہیں اور کسی کو کچھ بھی دکھائی نہیں دیتا ۔“
اس مرتبہ سہراب خان کوئی بھی جواب دیے بغیر خاموش رہا ۔
”گل خان !....اسے دوسرے کمرے میں لے جاکر باندھ دو صبح اس سے تفصیلی بات چیت ہو گی ۔“مسلح آدمی کو حکم دے کر کمانڈر بہار خان باہر نکل گیا ۔اس کی حالت بتا رہی تھی کہ وہ نیند سے اٹھ کر آیا تھا ۔اور اسی لیے اس نے سہرا ب خان سے پوچھ گچھ کو اگلے دن پر ٹال دیا تھا کہ اس وقت وہ اپنا آرام خراب نہیں کرنا چاہ رہا تھا ۔
٭٭٭
اگلے دن دوپہر کے وقت وہ سہراب خان کوکمرے میں لے آئے ۔اس کی حالت کافی ناگفتہ بہ تھی ۔ ماتھے اور چہرے پر پڑے خون کے دھبے ظاہر کر رہے تھے وہ اسے اچھے خاصے تشدد کا نشانہ بنا چکے تھے ۔ اس کی مشکیں کس کر انھوں نے کمرے کے ایک کونے میں پھینک دیا ۔اس کے ساتھ میرے ساتھ بھی یہ مہربانی کی کہ مجھے زمین میں گڑی لوہے کی کرسی پر بٹھا کر میرے ہاتھ عقب میں باندھ دیے ۔ مسلسل کھڑے رہنے سے میری ٹاگیں اکڑ گئی تھیں ۔لوہے کی کرسی پر بیٹھنا میرے لیے کسی نعمت سے کم نہیں تھا ۔
ان کے باہر نکلتے ہی میں سہراب خان کی طرف متوجہ ہو تے ہوئے خفیف سے لہجے میں بولا ۔
”معذرت خواہ ہوں بھائی آپ کو میری وجہ سے اتنی تکلیف اٹھانا پڑی ۔“
وہ فلسفیانہ لہجے میں بولا ۔”کوئی کسی کی وجہ سے تکلف نہیں اٹھاتا ،ہر آدمی کواپنے حصے کی تکلیف بھگتنا پڑتی ہے ۔“
”اگر آپ میری مدد نہ کرتے تو یقینا انھیں آپ کی اصلیت معلوم نہ ہو پاتی ۔“
”چھوڑو اس موضوع کو ،مقدر کا لکھا ٹل نہیں سکتا اور گیا وقت واپس لایا نہیں جا سکتا۔“
”صحیح کہا ۔“میںنے اس سے متفق ہوتے ہوئے پوچھا۔”ویسے اب ان کا ارادہ کیا ہے ؟“
”صنوبر خان علام خیل سے افغانستا ن چلا گیا ہے۔ وہ واپس آکر ہی میری قسمت کا فیصلہ کرئے گا ۔“
”کیا انھیں بتا دیا ہے کہ تمھارا تعلق خوش حال خان محسودسے ہے ۔“
”نہیں ۔“اس نے نفی میں سر ہلایا۔”فی الحال تو نہیں مانا۔“
”تو کیا کہا ہے ؟“
”یہی کہ تم سے کچھ رقم لینے کا وعدہ لے کر مدد کر رہا تھا ۔“
”ٹھیک ہے مجھ سے کچھ پوچھا تو میں بھی یہی بتاﺅں گا ۔“
”ایک بات پوچھوں ؟“اس نے کراہتے ہوئے دیوار سے ٹیک لگانے کی کوشش کی ۔بڑی مشکل سے وہ ایسا کرنے میں کامیاب ہو سکا تھا ۔
”ضرور۔“
”تمھیں کیوں قید کیا ہوا ہے ،میرے ذہن میں تو تمھیں زندہ رکھنے کی کوئی وجہ نہیں آ رہی ۔“
”صنوبر خان کے مائی باپ چاہ رہے ہیں کہ میں ان کے لیے کام کروں ۔“
وہ فوراََ بولا ۔”ایسی غلطی کبھی بھی نہ کرنا ۔“
”میرا بھی یہی خیال ہے ۔“میں نے اثبات میں سر ہلا یا ۔”بلکہ اسی کی پاداش میں تو سزا کاٹ رہا ہوں ۔“
”گویا تم نے انکار کرد یا ہے ۔“وہ تحسین آمیز لہجے میں مسکرایا۔
”لازمی بات ہے ،پاک آرمی کا جوا ن وطن کے خلاف کوئی کام کرنے سے جان دینا آسان سمجھتا ہے ۔“
”ایک بات تو طے ہے۔مشکل ہے ،کہ انکار کے بعد وہ تمھیں زندہ چھوڑ دیں ۔“
”جانتا ہوں ۔“میں نے اثبات میں سر ہلایا ۔
”اگر ........“اس نے کچھ کہنے کے لیے منہ کھولا اور پھر چپ ہو گیا ۔
میں اسے ترغیب دیتے ہوئے بولا۔”یقیناتم کچھ کہنا چاہ رہے تھے۔“
”بس اتنا کہ تمھیں مرنا نہیں چاہیے ۔“
”ہونہہ!....مرنا کون چاہتا ہے یار !“
وہ وضاحت کرتے ہوئے بولا ۔”میرا مطلب ،تمھیں بچنے کی کوشش کرنا چاہیے ۔“
”کیسے ؟“
”دیکھیں میں یہ نہیں چاہتا کہ تم امریکیوں کے ساتھ مل جاﺅ ....لیکن انھیں اپنی وفاداری کا یقین دلا کر شاید فرار ہونے کا موقع حاصل کر لو ۔“
اس کی بات رد کرنے کے قابل نہیں تھی ۔مجھے سوچ میں کھویا دیکھ کر اس نے دوبارہ زبان کھولی۔
”دیکھو ،تمھارا مرنا تو یقینی ہے نا ،تو کیوں نہ کوشش کر کے مرو ۔اور ایک بار فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے تو پھر ان کے ہاتھ میں کچھ نہیں رہے گا ۔بس کسی پلوشہ جیسی محبوبہ سے بچ کر رہنا ہوگا ۔“ آخری فقرہ اس نے مسکرا کر کہا تھا ۔
”تم بھی پلوشہ کو جانتے ہو ۔“پلوشہ کا نام آنے پر نہ جانے کیوں میرے دل میں میٹھا میٹھا درد شروع ہو جاتا تھا ۔
”اس سے بھلا کون ناواقف ہے ،صنوبر خان کے آدھے سے زیادہ لشکر کو تو وہ نواز چکی ہے۔“
اس کی بات سنتے ہی میرے منہ میں کڑواہٹ گھل گئی تھی ۔میں نے خاموشی سے سر جھکا لیا ۔ پلوشہ کا ذکر آتے ہی مجھے یوں لگتا جیسے میری شریک حیات اس گھناﺅنی حرکت میں ملوث رہی ہو ۔ماہین کی بے راہ روی پر مجھے اتنی تکلیف اور اذیت نہیں پہنچی تھی کہ جس ذہنی اذیت کا سامنا مجھے پلوشہ کی بے راہ روی کی وجہ سے کرنا پڑ رہا تھا ۔اور پھر ہر بار اس کی گراوٹ کا ذکر سنتے ہی مجھے اپنے دل پر بے پناہ بوجھ کے ساتھ ناقابل برداشت درد کا بھی سامنا کرنا پڑتا تھا ۔
اس وقت سہراب خان کے منہ سے یہ سب کچھ سن کر پلوشہ کی بے راہ روی کے متعلق رہا سہا شبہ بھی جاتا رہا ۔
”کاش تم نے مجھے کہا ہوتاکہ تمھیں کتنی رقم چاہیے ۔صرف ایک بار آزمایا ہوتا ۔پندرہ لاکھ تو کوئی رقم ہی نہیں ہے اس سے دگنی تگنی رقم بھی میں ادا کر دیتا ۔تمھیں پسند کی شادی کرنے سے بھی نہ روکتا کم ازکم اس طرح تمھارے کردار پر تو انگلی نہ اٹھائی جاتی ۔پلوشہ تم تو اتنی سمجھ دار تھیں کیا تمھیں نہیں معلوم کہ بے راہ رو عورت اپنی حیثیت کھو بیٹھتی ہے ۔“
”کن سوچوں میں کھو گئے ہو ۔“سہراب خان کی آواز میں خیالات کی دنیا سے باہر لائی ۔
میں چونکتے ہوئے اس کی طرف متوجہ ہوا۔”ہونہہ....کچھ نہیں ۔“
”برا نہ مانو تو ایک بات پوچھوں ۔“
”کسی بات کا برا لگنا تو ایک احساس کے زیر اثر ہوتا ہے انسان جان بوجھ کر تو غصہ ظاہر نہیں کرتا ۔البتہ برا لگنے کے بعد جو ردعمل ظاہر کیا جاتا ہے وہ انسان کے اپنے بس میں ہوتا ہے اور میں کوشش کروں گا کہ آپ کی بات پر کوئی ایسا ردعمل ظاہر نہ کروں جس سے آپ کی توہین ہو ۔“
”شکریہ کہ تم نے مجھے اتنی اہمیت دی ....“سہراب خان ممنونیت بھرے لہجے میں بولا ۔ ”میں بس یہ پوچھنا چاہ رہا تھا کہ تم پلوشہ کے جھانسے میں کیسے آگئے ....اور جب وہ تمھارے ساتھ غلط تعلق استوار کر سکتی تھی تو کسی دوسرے کے ساتھ ایسا کرنے میں اسے کیا قباحت تھی ۔“
”یہ تو معلوم نہیں کہ میں اس کے جھانسے میں کیسے آیا ،البتہ میرے ساتھ اس کا تعلق ایک اچھے دوست جیسا تھا ۔اور پھر ہم نے شادی کا منصوبہ بھی بنا لیا ۔اس بارے مجھ سے زیادہ وہ پیش پیش تھی ۔اور پھر یہ واقعہ پیش آ گیا ۔“اپنے اور پلوشہ کے تعلق کے بارے میں نے اجمالاََ ذکر کردیا ۔
اس نے اشتیاق بھرے لہجے میں پوچھا ۔”اگر یہاں سے جان چھڑانے میں کامیاب ہو گئے تو اس کے ساتھ کیا سلوک کرو گے ؟“
”اسے قتل کر دوں گا ،اسے برہنہ کر کے اس پر کتے چھوڑ دوں گا ،اسے زندہ جلا دوں گا ،اس کے چہرے پر تیزاب پھینک کر اس کی من موہنی شکل کو بگاڑ دوں گا ....“میرے دماغ نے انتقام کی مختلف شکلیں پیش کیں لیکن دل کسی ایک پر بھی متفق نہیں تھا ۔
مجھے لمبی سوچوں میں کھوے دیکھ کر وہ مسکرایا۔”شاید تم اسے کچھ بھی کہنا نہیں چاہتے ۔“
”کچھ کہنا قبل از وقت ہو گا ۔اور پھر اسے مار کر مجھے کیا ملے گا ۔ بہتر یہی ہے کہ اسے اپنے حال پر چھوڑ دوں ۔ ایسی دھوکا بازاورمطلبی کوزیادہ ڈھیل نہیں ملا کرتی ۔“
اس نے معنی خیز لہجے میں کہا ۔”گویا ،وہ ابھی تک تمھیں پیاری لگتی ہے ۔“
”چھوڑو اس موضوع کو ....“میں نے آنکھیں بند کر کے کرسی سے ٹیک لگا دی ۔پتا نہیں کب سے میں نیند نہیں لے سکا تھا ۔غیر آرام دہ کرسی پر بھی مجھے نیند کے جھٹکے لگ رہے تھے ۔اور پھر میں بیٹھے بیٹھے سو گیا ۔
میں دو تین گھنٹوں سے زیادہ نہیں سو سکا تھا ۔آنکھ کھلنے کے بعد مجھے کمرے کے منظر میں کوئی تبدیلی نظر نہیں آئی تھی ۔سہراب خان دیوار سے ٹیک لگائے اونگھ رہا تھا ۔اسے مخاطب کیے بغیر میں اس کے دیے ہوئے مشورے کے بارے سوچنے لگا ۔ان حالات میں اس سے بہتر کوئی مشورہ ہو ہی نہیں سکتا تھا ۔
”جاگ گئے ہو ۔“سہراب کان کی آواز مجھے خیالوں کی دنیا سے باہر لائی ۔
”ہونہہ!....“میں نے اثبات میں سر ہلایا۔
”تو کیا سوچا ؟“
”کس بارے ....؟“میں نے وضاحت چاہی ۔
وہ مسکرایا۔”گوروں کو دھوکا دینے کے بارے ۔“
”ویسے آپ کا مشورہ رد کرنے کے قابل نہیں ہے ۔“
”شاباش ....بس کوشش کرنا کہ انھیں یقین دلا سکو ۔“اس نے میرے فیصلے کو سراہتے ہوئے مجھے مزید مشورے دینا شروع کر دیے ۔
سہ پہر ڈھلے بہار خان کی معیت میں دو مسلح آدمی اسے وہاں سے لے گئے ۔جاتے ہوئے سہراب خان کی آنکھوں سے ہویدا خوف اس بات کی نشان دہی کر رہا تھا کہ اسے اپنا انجام واضح آ رہا تھا ۔
٭٭٭
سہراب کو وہاں سے لے جانے کے گھنٹا ڈیڑھ بعد مجھے بھی پہلے والے کمرے لے جایا گیا ۔ شاید میری غلط حرکت کی سزا پوری ہو گئی تھی ۔رات کو مجھے کھانا بھی دیا گیا ۔اگلی دن دوپہر کے وقت میں ایک بار پھراسی جگہ پر البرٹ بروک کے سامنے موجود تھا ۔نیگرو دوشیزہ ٹریسی والکربھی چست لباس پہنے وہیں بیٹھی تھی ۔اس کی گہری نیلی آنکھوں میں عجیب قسم کے اسرار پوشیدہ تھے ۔
”تو کیا سوچا ؟“البرٹ نے بغیر کسی تمہید کے بات شروع کی ۔
میں ہاں ،ناں کیے بغیر خاموش بیٹھا رہا ۔
اس نے نرمی سے پوچھا ۔”کیا سوچنے کے لیے مزیدوقت چاہیے ؟“
”نہیں ۔“میں نے نفی میں سرہلایا ۔
”پھر ؟“وہ دوبارہ مستفسر ہوا ۔
میں نے جچے تلے لہجے میں پوچھا ۔”مجھے کیا کرنا ہو گا ؟“
”ہمارے لیے کام کرنا ہوگا ۔“البرٹ نے اس انداز میں جواب دیا گویا میرا سوال ہی غلط ہو۔
میں نے وضاحت مانگتے ہوئے کہا ۔”تو وہی تو پوچھ رہا ہوں کیا کام کرنا ہوگا ؟“
وہ اطمینان بھرے لہجے میںبولا ۔”تمھیں ایک ہی کام آتا ہے اور وہی کروانا ہے ۔“
بدلے میں مجھے کیا ملے گا ؟“میں نے سوچے سمجھے منصوبے کی طرف قدم بڑھائے ۔
اس نے فخریہ انداز میں کہا ۔”نئی زندگی ،اپنی سابقہ محبوبہ سے بدلہ لینے کا موقع،گرین کارڈاور امریکن ڈالرز....میرا خیال ہے اتنا کافی ہے ۔“
”ٹھیک ہے ،میں تیار ہوں ۔“میں نے گویا ہار مان لی تھی ۔
”شاباش !....اب کل یا پرسوں تیار رہنا کرنل کولن فیلڈ تم سے خود بات کریں گے ،لیکن خیال رہے انھیں یہ معلوم نہیں کہ ہم نے تمھیں زور زبردستی اپنے ساتھ کام کرنے پر آمادہ کیا ہے ۔ ان کی نظر میں تم خود ہمارے پاس کام کی غرض سے آئے ہو اور میں نے تمھیں کام کرنے کے قابل پاتے ہوئے ان سے سفارش کی ہے ۔“
”میری سمجھ میں نہیں آیا۔“اس کی بات نے مجھے حیران ہونے پر مجبور کر دیا تھا ۔
وہ برا سا منہ بناتے ہوئے بولا ۔”اس میں سمجھ نہ آنے والی کون سی بات ہے ۔“
”میرا خیال ہے میں خود توتمھارے پاس نہیں آیا ۔“
”کہہ تو رہا ہوںکہ تم نہیں آئے لیکن میں نے اپنے سینئر کو یہ بات نہیں بتائی ،یوں بھی انھیں یہ معلوم نہیں کہ تم کتنے اچھے سنائپر ہو ۔“
”اگر میں نے کرنل کولن فیلڈ کے سامنے اصل بات اگل تو یقینا میری جان چھوٹ جائے گی ۔“
”جی !....البتہ اس کے بعد میرے پاس چناﺅ کا اختیار نہیں رہے گا ۔“
میں نے حیرانی سے پوچھا ۔”چناﺅ کا اختیار ؟“
وہ اطمینان بھرے لہجے میں بولا ۔”فی الحال تو تمھیں قتل کرنے اور تم سے کام لینے کا اختیارمیرے پاس موجود ہے۔ اس حرکت کے بعد تم سے کام لینے کا اختیار میرے ہاتھ میں نہیں رہے گا۔“
”ٹھیک ہے ۔“میں نے منہ بناتے ہوئے اثبات میں سر ہلایا۔
”اور ہاں میر ی طرف سے اجازت ہے کہ تم کرنل صاحب سے جتنی رقم منظور کرالو اتنا معاوضا تمھیں ادا کیا جائے گا ۔“
نہ تو مجھے کسی رقم کی ضرورت تھی اور نہ گرین کارڈ کی ....اپنے وطن کے خلاف کام کرنے پر حاصل ہونے والی دولت اور امریکن شہریت میرے نزدیک لعنت کی مستحق تھی ۔لیکن اس وقت کسی قسم کی جذباتی گفتگو میرے جھوٹ پر پانی پھیر دیتی ۔میں نے البرٹ بروک کو دھوکے میں رکھنے کی خاطر پوچھا ۔
”ویسے تم کیا کہتے ہو کتنی رقم کا مطالبہ کرنا مناسب رہے گا ؟“
”تم ایک سنائپر ہو اور سنائپر کا کام افراد کو نشانہ بنانا ہوتا ہے ۔بس تم فی آدمی اپنا معاوضا دس ، پندرہ یا بیس ہزار ڈالربتا دینا ۔“
میں نے حیرانی سے پوچھا ۔”کیا ایک آدمی کو قتل کرنے کے بدلے کرنل بیس ہزارڈالر معاوضا دینے پر تیار ہو جائے گا ؟“
”دینا تو چاہیے کہ سنائپر کاکام کلیدی افراد کو نشانہ بنانا ہوتا ہے ۔اور کسی بھی اہم آدمی کو قتل کرنے کا معاوضا اتنا تو بنتا ہے ۔“
”کرنل صاحب سے کب ملاقات ہو گی ؟“
”کل یا پرسوں ۔“
”کچھ اورکہنا ہے یا میں جا سکتا ہوں ۔“میں نے جانے کی اجازت مانگی ۔
”بس آخری بات ....ہمیں دھوکا دینے کے بارے سوچنا بھی مت ،ورنہ نتائج کے ذمہ دار تم خود ہو گے ۔“
اور میں اثبات میں سر ہلاتے ہوئے کھڑا ہو گیا ۔ٹریسی والکر ہماری گفتگو کے دوران خاموش بیٹھی اپنی اسرار بھری چمک دارنیلی آنکھوں سے مجھے گھورتی رہی ۔صنوبر خان کے کہنے کے مطابق وہ خالی ہاتھ دس افراد کو بھی شکست سے دو چار کر سکتی تھی ۔اس کا کچھ نہ کچھ انداز ہ تو خیر مجھے بھی ہو گیا تھا ۔بلاشبہ اس کے حملوں میں بہت تیزی اور مہارت شامل تھی ۔
وہاں سے باہر نکلتے ہی چاروں محافظ مجھے اپنے منتظر نظر آئے ۔ان کے زیر نگرانی چلتا ہوامیں اپنے کمرے میں پہنچ گیا ۔
میرے حامی بھرنے پر البرٹ بروک نے کسی قسم کے شک کا اظہار نہیں کیا تھا کہ اپنی قومی سوچ کے مطابق ان کے نزدیک ہر پاکستانی بکاﺅ تھا ۔بد قسمتی سے ان کی اس سوچ کو ہمارے نام نہاد غلیظ سیاستدان تقویت دیتے آ رہے ہیں ۔اور یوں چار پانچ فیصد لوگوں کی گندی سوچ کو پوری پاکستان قوم کے کردار پر منطبق کر دیا گیا ہے ۔
٭٭٭
اگلے ہی روز دن کے کھانے کے بعد میرا بلاوا آگیا ۔کرنل کولن فیلڈ حیران کن طور پر وہاں پہنچ گیا تھا ۔البرٹ بروک اور ٹریسی والکر اس کے ہمراہ ہی بیٹھے تھے ۔
”تو تمھارا نام ذیشن ہے اور تمھارا تعلق پاک آرمی سے ہے۔“مصافحہ کر کے اس نے مجھے بیٹھنے کا اشارہ کیا ۔
”جی ۔“میں نے مختصرسا جواب دیا ۔
”کیا وجہ ہے جو تم پاک آرمی کے خلاف ہی کام کرنے پر تیار ہو گئے ہو؟“اس نے ایسا سوال کیا تھا جس کا میرے پاس کوئی جواب موجودنہیں تھا ۔لیکن میری خاموشی کو البرٹ بروک کوئی غلط نام دے سکتا تھا ۔ایک دو لمحہ سوچنے کے بعد میں نے زبان کھولی ۔
”سر یہ میرا ذاتی معاملہ ہے ....اور میں اس متعلق بات کرنا پسند نہیں کرتا ۔“
”ہونہہ!....“کرتے ہوئے اس نے معنی خیز لہجے میں کہا ۔”مگر ہمارا اصول ہے کہ ہم اپنے لیے کام کرنے والوں کے بارے ایسی معلومات کا حصول ضروری سمجھتے ہیں ۔“
”آپ اسے معاشی پریشانی کا نام دے سکتے ہیں ۔“میں نے مجمل طور پر بات کرتے ہوئے اسے ٹالنے کی کوشش کی ۔
”البرٹ صاحب تمھاری نشانہ بازی کی کافی تعریف کر تے ہوئے بتا رہے تھے کہ تم نے امریکہ سے بھی سنائپنگ کی تربیت حاصل کی ہوئی ہے اور وہاں البرٹ صاحب نے تمھیں کام کی پیش کش کی تھی جس کے جواب میں تم نے کچھ ضرری کام نبٹا کر ہمارے ساتھ کام کرنے کی حامی بھری تھی ۔غالباََ اب تم اسی وعدے کو ایفا کرنے آئے ہو ۔“
”کچھ ایسا ہی سمجھ لیں ۔“مجھے اس کی غیر ضروری باتوں سے الجھن ہو رہی تھی اور میں اس موضوع سے جان چھڑانا چاہ رہا تھا اس لیے میں نے تکرار کیے بغیر اثبات میں سر ہلا دیا ۔
””ٹھیک ہے ....اب آتے ہیں کام کی بات کی طرف ۔دو دن بعد شمالی وزیر ستان میں پاک آرمی کے ایک قافلے نے غرلامئے سے وچہ بی بی کی طرف حرکت کرنا ہے ۔تمھیں معلوم ہو گا کہ آج کل پاک آرمی کے لیے وہاں کے حالات کافی گھمبیر ہیں ۔اور یہ قافلہ کافی دنوں بعد حرکت کر رہا ہے ۔ قافلے کی قیادت ایک لیفٹیننٹ کرنل کر رہا ہے ۔اور تمھارا اصل ہدف وہی ہے ۔وہ تیسری گاڑی میں ہو گا ۔اس کے بعد قافلے کی سب سے آخری گاڑی میں ایک میجر صاحب ہے جس نے کرنل کی ہلاکت کے بعد قافلے کی قیادت سنبھالنا ہے اور تمھارا دوسرا شکار وہی میجر صاحب ہو گا ۔اوریہاں پر تمھارا کام ختم ہو جائے گا ۔“
”اس کی بات ختم ہوتے ہی میرا دل چاہ رہا تھا کہ اثبات میں سر ہلانے کے بہ جائے اس کی گردن پکڑ کر دبا دوں ۔مگر اس وقت مجھے ان کا ساتھ دینے کی حامی بھرنا تھی ۔اپنے جذبات پر قابو پاتے ہوئے میں بہ ظاہر اطمینان بھرے انداز میں سر ہلاتے ہوئے کہا ۔
”ٹھیک ہے ،ہو جائے گا ۔“
”کیا اس کے ساتھ معاوضے کی بات ہو چکی ہے ؟“ کرنل کولن فیلڈ ،البرٹ کی طرف متوجہ ہوا۔
”نہیں سر !“البرٹ نے نفی میں سر ہلایا۔
”جوان !....تمھیں ایک آدمی کا دس ہزار ڈالر معاوضا ملے گا ۔“وہ مجھے مخاطب ہوا ۔
”ایک آدمی کے پندرہ ہزار ڈالر لوں گا ۔“میں نے ڈرامے میں حقیقت کا روپ بھرنے کی خاطرمول تول ضروری سمجھا۔
کرنل کولن فیلڈمیری آدھی بات کو تسلیم کرتا ہوا بولا ۔”کرنل کے پندرہ ہزار ڈالر اور میجر کے دس ہزار ڈالر ملیں گے ۔“
”منظورہے ۔“میں نے تائیدی انداز میں سر ہلادیا ۔
”تمھارے پاس رائفل کون سی ہے ؟“
”بیرٹ ایم 107۔“میرے منہ سے غیر ارادی طور پر نکلا ۔
”ٹھیک ہے مجھے اجازت ،باقی کی تفصیلات تمھیں البرٹ صاحب سے معلوم ہو جائیں گی۔“اس نے کھڑے ہو کر ہم تینوں سے الوداعی مصافحہ کیا اور باہر نکل گیا ۔اس کے جانے کے بعد البرٹ مجھے پوری کارروائی کی تفصیلات بتانے لگا ۔میں بے دلی سے اس کی بات سنتا رہا ۔البتہ اپنے چہرے پر میں نے بوریت یا بے زاری کے تاثرات پیدا نہیں ہونے دیے تھے ۔
البرٹ مجھے تفصیلات سے آگاہ کرتا رہا ۔کارروائی کا علاقہ اس نے گوگل ارتھ پر دکھایا تھا ۔ جس جگہ پر وہ پاک آرمی کے قافلے پر حملہ کرنے کا منصوبہ بنا رہے تھے وہ پہاڑوں کے درمیان سے گزرنے والا تنگ رستا تھا ۔گاڑیوں میں سوار فوج اس جگہ کسی گھات خلاف کارروائی نہیں کر سکتی تھی ۔حملہ آوروں کو بلندی کا فائدہ حاصل تھا ۔میرا دماغ تیزی سے کوئی ایسا منصوبہ سوچنے میں مصروف تھا جس کو بروے کار لا کر میں یہ بات متعلقہ قافلے کے قائد تک پہنچا سکتا ۔اگر چہ اورنگ زیب صاحب تک یہ بات پہنچا کر بھی میں اپنا مقصد حاصل کر سکتا تھا لیکن ان سے رابطے کی بھی کوئی صورت نظر نہیں آ رہی تھی ۔
البرٹ بروک کی بکواس ختم ہونے کے بعد میں اپنے کمرے میں لایا گیا ۔معاہدہ ہو جانے کے باوجود میری نگرانی ختم نہیں کی گئی تھی ۔یقینا پرسوں ہونے والی کارروائی کے بعد ہی وہ مجھ پر اعتماد کرنے کا فیصلہ کرتے ۔اور جو ارادہ میں نے کر لیا تھا اس کے بعد ان کے اعتماد کی دھجیاں بکھر نے والی تھیں۔
جاری ہے
 

اگلے دن میں ذہنی طور پر جانے کے لیے تیار تھا ۔کیونکہ کارروائی سے ایک دن پہلے گھات کی جگہ پر پہنچنا ضروری تھا ۔مگر شام تک بھی مجھے لینے کو ئی نہ آیا ۔کھانا لانے والوں سے اس بارے استفسار کرنا مجھے مناسب معلوم نہ ہوا کہ مجھے وہاں تک پہنچانے کی ذمہ داری البرٹ بروک ہی کی تھی ۔
اگلے دن بھی کوئی سرگرمی نظر نہ آئی ۔میں نے سوچا شاید آرمی کے قافلے کی حرکت کسی التوا کا شکار ہو گئی ہو گی۔
تیسرے دن البرٹ بروک نے مجھے بلا کر معذرت کرتے ہوئے کہا ۔”معذرت خواہ ہوں ذیشن صاحب!....میرا ارادہ تمھیں کل یہاں سے بھیجنے کا تھا لیکن ایک چھوٹا سا حادثہ پیش آگیا ،پرسوں غرلامئی جانے والی ہماری ایک گاڑی آرمی کی چیک پوسٹ پر پکڑی گئی ۔اور اس سڑک پر آرمی نے گزرنے والی گاڑیوں کی پڑتال میں سختی شروع کر دی ۔بس غلطی یہ ہو ئی کہ ہمیں ایک دن پہلے ہی روانہ ہو جانا چاہیے تھا ۔“
”یہ آپ ہی کا کام تھا ۔“میں بے نیازی سے بولا ۔البتہ میرا دل خوشگوار انداز میں دھڑکنے لگا تھا۔یقینا ان کا منصوبہ ناکام رہا تھا ۔
وہ ہنسا۔ ”خیر ہم نے تو اپنا کام بہ خیر و خوبی سر انجام دے دیا ہے ۔بلکہ اپنا کیا تمھارا کام بھی ہو گیا ہے ۔“
”میرا کام ؟“میرے لہجے میں حیرانی تھی ۔
”ہاں جی تمھارا کام ....“البرٹ معنی خیز لہجے میں بولا ۔”قافلہ قائد لیفٹیننٹ کرنل اور اس کا دست راست میجر دونوں ہلاک ہو گئے ہیں ۔اور ان کی ہلاکت کا سہرا میں نے تمھارے سر باندھ دیا ہے۔اب کل کرنل کولن فیلڈ سے تم ان کے مارنے کا انعام وصول کر سکتے ہو ۔“
کرنل صاحب اور میجر صاحب کی شہادت کا سن کر مجھے دھچکا لگا تھا مگر میں نے اپنے حواس قابو میں رکھتے ہوئے پوچھا ۔”اس مہربانی کی وجہ ....؟“
وہ فلسفیانہ لہجے میں بولا ۔”یاد رکھنا جوان !....ہم امریکی کبھی کسی پر مہربانی نہیں کرتے،جو کچھ کرتے ہیں اپنے مفاد کے لیے کرتے ہیں ۔ان کی ہلاکت تمھارے کھاتے میں ڈالنا اپنی رائے اور فیصلے کی اہمیت تسلیم کرانے کے لیے ہے ۔پہلے مشن ہی میں تمھاری کامیابی کا سن کر کرنل کولن فیلڈ کابھروسا میرے چناﺅ پر پختہ ہو جائے گا ۔اس کے برعکس اگر میں یہ تسلیم کر لوں کہ تمھیں وہاں تک پہنچا ہی نہیں سکا ہوں تو یقینا وہ میری اس غفلت کو معاف کرنے پر تیار نہیں ہوں گے۔ باقی تمھاری جیب میں جانے والی انعام کی رقم یوں بھی امریکن سرکار کے خزانے سے ادا ہو گی ۔“
”ہونہہ !....تو یہ بات ہے ۔“میں نے سمجھ جانے والے انداز میں سر ہلادیا ۔
”جی جناب،اب کل کرنل کولن فیلڈ اسی ضمن میں تم سے بات کریں گے ۔کوئی بے وقوفانہ بات کر کے میرا بھانڈا نہ پھوڑ دینا ۔ان دونوں کے علاوہ پانچ چھے دوسرے بندوں کی ہلاکت کو بھی اپنے کھاتے میں ڈال لینا ۔اچھا اثر پڑے گا ۔“پاک آرمی کے شہید ہونے والے مجاہدوں کے بارے وہ بار بار ہلاک ہوجانے کا لفظ استعمال کر رہا تھا اور میں اتنا بے بس تھا کہ اس پر ناگواری کا اظہار بھی نہیں کر سکتا تھا ۔لیکن دل ہی دل میں ،میں نے خود سے عہد کر لیا تھا کہ موقع ملنے پر اس کی گردن مروڑنے سے پہلے اس کی یہ غلط فہمی ضرور دور کروں گا ۔
کمرے میں واپس لوٹ آنے کے بعد میرے دماغ میں آرمی کے شہید ہوجانے والے جوانوں کا غم آنسوﺅں کی صورت اپنی موجودی کا احساس دلاتا رہا ۔میں اپنے بھائیوں کی کوئی مدد نہیں کر سکا تھا ۔گو ان کی شہادت میں میرا کوئی ہاتھ نہیں تھا نہ اس میں میرا کوئی قصور تھا اس کے باوجود پہلے سے اس حملے کی بابت پتا ہونے کے سبب مجھے یہ احساس کچکوکے لگا رہا تھا کہ ان کے بچاﺅ کے لیے میں نے ہاتھ پاﺅں نہیں ہلائے تھے ۔
”تم ہاتھ پاﺅں ہلابھی کیسے سکتے تھے ۔“کہتے ہوئے میں نے اپنے دکھی دل کو تسلی دینے لگا ۔
٭٭٭
اگلے روز میں دوبارہ کرنل کولن فیلڈ کے سامنے موجود تھا ۔اس نے دل کھول کر میرے کام کی تعریف کی تھی ۔یقیناالبرٹ بروک نے میرے کارنامے بڑھا چڑھا کر بیان کیے تھے ۔سوسو ڈالرز کے نوٹوں کی تین گڈیا ں میری طرف بڑھاتے ہوئے اس نے کہا ۔”تمھارا معاوضا تو پچیس ہزار ڈالر طے ہوا تھا ۔لیکن اتنا اچھا کام دیکھنے کے بعد پانچ ہزار ڈالر میری طرف سے انعام سمجھو ۔“
اپنے بھائیوں کی شہادت کے بدلے ملنے والی رقم پر میں ہزاربار لعنت بھیجتا مگر اس وقت وہ رقم خوش دلی سے وصول کرنا میری مجبوری تھی ۔جب تک میں آزادی حاصل نہ کر لیتا مجھے وہ ڈراما جاری رکھنا تھا ۔یوں بھی میرے ہاتھوں میرے کسی بھائی کو نقصان نہیں پہنچا تھا ۔البتہ اس حملے کے ذمہ داروں کو انجام تک پہنچانے کا تہیہ میں نے ضرور کر لیا تھا ۔اب یہ میرے پاک رب کو معلوم تھا کہ میرا یہ ارادہ شرمندہ تعبیر ہونا تھا یا اس سے پہلے میں نے خود ہی ان درندوں کا شکار ہو جانا تھا ۔
میرے احساسات سے بے خبر کرنل کولن فیلڈ مجھے اگلے مشن کی تفصیلات بتانے لگا ۔
پاکستان آرمی کی ایک چیک پوسٹ درین نرائے نامی پہاڑی کے قریب واقع تھی ۔وہاں اٹھارہ جوان موجودتھے جن میں سے چھے جوان ایک وقت میں ڈیوٹی پر موجود ہوتے تھے۔وہ ان تمام گاڑیوں کی پڑتال کرتے جو اس رستے سے گزر کر انگور اڈے کی طرف جاتی تھیں ۔چیک پوسٹ پر بنے ہوئے ایک بینکر میں دو جوان ایم جی کے پیچھے ہر وقت چوکس کھڑے رہتے ۔جبکہ باقی کے چار جوان کلاشن کوف سے مسلح ہوتے اور وہاں سے گزرنے والی گاڑیوں کی پڑتال کرتے رہتے ۔چار دن بعد وہاں سے دو مخصوص گاڑیوں نے گزرنا تھا جن کے پاس کافی اسلحہ اور بارود وغیرہ موجودہونا تھا ۔انگور اڈے سے وانہ جانے والی سڑک پر چونکہ بہت زیادہ چیک پوسٹیں موجود تھیں اس لیے انھوں نے مذکورہ گاڑیاں درین نرائے والے رستے سے گزارنے کا منصوبہ بنایا تھا ۔میرا کام ایم جی مورچے میں کھڑے دو جوانوں کو نشانہ بنانے کا تھا ۔جبکہ آرمی کے باقی جوانوں سے گاڑیوں میں موجود دہشت گرد خود نبٹ لیتے ۔اگلے مرحلے میں دہشت گردوں نے آگے بڑھ جاناتھااور پاک آرمی کے رہائشی بینکر جو اس چیک پوسٹ کے ساتھ ایک بلند چوٹی پر موجو د تھے وہاں پر موجود بارہ جوانوں کو دہشت گردوں کے تعاقب سے روکنا بھی میری اور میرے ساتھ موجودصنوبر خان کے آدمیوں کی ذمہ داری تھی ۔
کرنل کولن فیلڈ نے مجھے مجمل طور پر کارروائی کی ترتیب سے آگاہ کیا اور مکمل تفصیل بتانے کی ذمہ داری البرٹ بروک کے سرپر ڈال کر رخصت ہو گیا ۔البرٹ بروک نے باریک بینی سے مجھے سارے منصوبے سے آگاہ کیا ۔اس کی بات ختم ہوتے ہی میں نے کہا ....
”اس معاملے میں تو مجھے اپنا کوئی کردار نظر نہیں آرہا ،ایم جی مورچے میں موجود دو جوانوں کو نشانہ بنانے کے لیے ایک سنائپر کو اتنا معاوضا دینا عجیب لگتا ہے ۔“
”یہ بات تم اس لیے کر رہے ہو کہ ایک تو تمھیں یہ معلوم نہیں ہے کہ ہمارے آدمیوں کی گاڑیوں میں موجود گولہ بارود کتنا قیمتی ہے ۔دوسرا ایم جی پوسٹ میں موجود دونوں جوان ہماری گاڑیوں کے لیے بہت زیادہ نقصان دہ ہو سکتے ہیں ۔اور سب سے بڑھ کر گاڑیوں کے چیک پوسٹ سے گزر کر آگے جانے کے بعد رہائشی بینکروں میں موجود پاک آرمی کے جوا ن بڑی آسانی سے ہمارے آدمیوں کا تعاقب کر کے انھیں گرفتار یا قتل کر سکتے ہیں ۔جبکہ تم جیسا تجربہ کار سنائپر کلومیٹر بھر دور سے بڑی آسانی سے آرمی کے جوانوں کو تعاقب سے روک سکتا ہے ۔اور آخری بات یہ کہ تمھیں اپنے معاوضے سے مطلب ہونا چاہیے ،ہم تم سے کیا کام لے رہے ہیں یہ ہمارا درد سر ہے ۔“
”ٹھیک ہے ۔“میں نے بے نیازی سے کندھے اچکادیئے ۔
”آج منگل ہے اور ہفتے کے دن کارروائی کریں گے ۔“اپنی بات ختم کر کے اس نے مجھے جانے کی اجازت دے دی ۔ہماری ہر بیٹھک کے وقت نیگرو دوشیزہ ٹریسی والکر موجود رہتی تھی ۔دوران گفتگو وہ اپنی نیلی آنکھوں سے مجھے گھورتی رہتی ۔ میں نے ایک بار بھی اس کے منہ سے کوئی بات نہیں سنی تھی ۔یقینا البرٹ اسے اپنے محافظ کے طور پر ساتھ رکھتا تھا ۔اس کے مسلسل گھورنے کے رد عمل پر بعض اوقات میں بھی اس کی طرف متوجہ ہوجاتا مگر اس نے کبھی نگاہیں چرانے کی کوشش نہیں کی تھی ۔اکثر مجھے اس کی نگاہیں عجیب قسم کی دعوت دیتی یا سوال کرتی نظر آتیں جن کی توجیہ سے میں قاصر تھا ۔پہلے دن اس سے ہاتھا پائی کرتے وقت بھی مجھے اس کی آنکھوں میں کسی قسم کی برہمی نظر نہیں آئی تھی ۔
بستر پر لیٹتے ہوئے میں کافی دیر ٹریسی کے بارے سوچتا رہا ۔البرٹ بروک کا رویہ بھی عجیب سا تھا ۔وہ مجھ سے ایسے کام لے رہا تھا جو کوئی عام آدمی بھی کر سکتا تھا ۔
ایک حتمی سوچ میرے دماغ میں یہی آئی کہ ۔”شاید وہ کوئی اہم کام کرنے سے پہلے مجھے آزمانہ چاہتا ہے کہ میں پاک آرمی کے خلاف فائر کرتا بھی ہوںیا نہیں ۔“
میری طرف سے اس کا ضروری کام بھاڑ میں جاتا ،میں تو بس ایک موقع کی تلاش میں تھا کہ وہاں سے بھاگ جاﺅں ۔اور بھاگنے کے کے لیے بھی میں ایسا منصوبہ بنانا چاہتا تھا جس میں غلطی کی گنجائش نہ ہوتی ۔ابھی تک انھوں نے مجھ سے نگرانی نہیں ہٹائی تھی ،وہاں سے بھاگنے کی کوشش میں ناکام ہونے کی صورت میں انھیں دھوکا دینے کا پول کھل جاتا ۔بہتر یہی ہوتا کہ دوران مشن ہی میں بھاگنے کے منصوبے پر عمل کرتا ۔
٭٭٭
ہم نے ہفتے کے دن صبح سویرے کارروائی کی جگہ پر پہنچناتھا ۔مگر جمعہ کے دن میں ناشتا بھی نہیں کر پایا تھا کہ ایک دم بلاوا آگیا ۔پتا چلا دہشت گردوں کی گاڑی کسی خاص وجہ سے وقت سے پہلے ہی انگور اڈے سے نکل کر درین نرائے کی طرف چل پڑی تھی ۔اور ہفتے کے بہ جائے جمعہ کے دن ہی منصوبے پر عمل درآمد کرنا پڑ گیا تھا ۔ہم ہنگامی طور پر وہاں سے روانہ ہوئے ۔ہم سے پہلے ایک گاڑی فی الفورکارروائی کی جگہ کی طرف بھیج دی گئی تھی ۔میں محافظوں کے نرغے میں گاڑی کے قریب پہنچا ڈبل کیبن کی عقبی نشست پر البرٹ اور ٹریسی براجمان تھے ۔البرٹ نے مجھے اگلی نشست پر بیٹھنے کا اشارہ کیا اور ہم چل پڑے ۔آدھا گھنٹا پختہ سڑک پر سفر کرنے کے بعد ڈرائیور نے گاڑی کو کچے رستے پر اتارا اور ہم پہاڑوں کے درمیان سفر کرنے لگے ۔البرٹ بار بار ڈرائیور کو تیز رفتاری سے چلنے کا کہہ رہا تھا ۔کچے رستے پر ہم بیس منٹ چل پائے ہوں گے کہ گاڑی جھرجھرا کر رک گئی ۔
ڈرائیور نے نیچے اتر کر بونٹ کھولا اور خرابی دور کرنے کی کوشش کرنے لگا ۔البرٹ بروک پہلو تبدیل کرتے ہوئے بے چینی کا اظہا رکر رہا تھا ۔ٹریسی البتہ بے فکر سی بیٹھی تھی ۔
پانچ دس منٹ کے بعد ڈرائیور نے ناکامی کا اعلان کیا اور البرٹ واہی تباہی بکتا موٹرولہ سیٹ پر دوسری گاڑی منگوانے لگا ۔دوسری گاڑی کے آنے تک ہم وہیں ٹھہرے رہے اسی دوران گاڑی کی باڈی میں بیٹھے ہوئے محافظوں کے کمانڈر نے بتایا کہ دہشت گردوں کی گاڑی آرمی چیک پوسٹ پر پہنچ چکی تھی ۔ہم سے پہلے جو آدمی کارروائی کی جگہ کی طرف روانہ کیے گئے تھے وہ بھی اپنی جگہ پر پہنچ چکے تھے ۔ مجبوراََ انھیں ہماری غیر موجودی ہی میں منصوبے کی تکمیل کرنا پڑ گئی تھی ۔نئی گاڑی کے ہم تک پہنچنے تک ہمیں آرمی چیک پوسٹ سے دہشت گردوں کی گاڑیوں کے کامیابی سے گزر جانے کی اطلاع پہنچ گئی تھی۔ ہم بہ جائے آگے بڑھنے کے واپس لوٹ آئے،کہ میری قید کے دن ابھی تک باقی تھے ۔
تھوڑی دیر بعد میں البرٹ اور ٹریسی کے ساتھ ڈرائینگ روم میں بیٹھا کافی پی رہا تھا ۔کافی کی دعوت البرٹ نے دی تھی ۔
”مسٹر ذیشن !....پہلے کی طرح یہ بات یاد رکھنا کہ تم نے اس مشن میں بھرپور حصہ لیا ہے ۔ میں نہیں چاہتا کہ کرنل کولن فیلڈ تک ہماری بد انتظامی اور مشن میں حصہ نہ لینے کی بات پہنچے ۔وہ ان چھوٹی موٹی کارروائیوں سے تمھاری کارکردگی جانچ رہا ہے ۔اگر وہ تمھیں فائر کرتے دیکھ چکا ہوتا تو کبھی بھی اس طرح سے تمھار ا امتحان نہ لیتا ،مگر اب جب تک وہ اپنی تسلی نہیں کر لے گا یونھی تمھاراامتحان لیتا رہے گا ۔ میں چونکہ تمھاری صلاحیتوں سے اچھی طرح واقف ہوں اس لیے مجھے اس بات کا کوئی فرق نہیں پڑتا کہ تم ان چھوٹی موٹی کارروائیوں میں شامل ہو پاتے ہو یا نہیں ہو پاتے ۔“
میں اس کی بات پر گہرا سانس لے کر رہ گیا تھا۔زبردستی کے کارنامے میرے نام سے منسوب کر کے وہ کرنل کولن فیلڈ پر اپنی دھاک بٹھانا چاہ رہا تھا ۔اور جس دن میں فرار ہوجاتا یقینا کرنل کولن فیلڈ کو جواب دینا اس کے لیے مشکل ہو جاتا ۔
”میری طرف سے بھاڑ میں جائے ۔“میں نے جل کر سوچا اور اس سے اجازت لے کر واپس کمرے میں لوٹ آیا ۔چاروں محافظوں نے دم چھلے کی طرح میرے ساتھ چلتے ہوئے مجھے اپنے کمرے میں پہنچا دیا ۔ہر مرتبہ کمرے سے نکلتے اور واپس لوٹتے وقت میں ان کی حرکات و سکنات کو گہری نگاہ سے دیکھا کرتا ۔مگر نامعلوم کیا بات تھی کہ وہ مجھے پہلے دن کی طرح چوکس اور چوکنے ہی نظر آتے تھے ۔
اگلے دن کرنل کولن فیلڈ سے ملاقات ہوئی ۔اس نے میری کارکردگی پر اطمینان اور خوشی کا اظہار کیا تھا ۔ مشن کی طے کی ہوئی رقم دس ہزار ڈالر میری جانب بڑھا کر وہ گلے مشن کی تفصیلات بتانے لگا۔
اس مرتبہ میران شاہ سے دتہ خیل جانے والے ایک قافلے پر گھات کا منصوبہ بنا تھا ۔شمالی وزیرستان کے حالات پاک آرمی کے لیے کافی ناگفتہ بہ تھے اور ہر قافلے کی حرکت سے پہلے رستے میں آنے والی تمام پہاڑیوں پرقافلے کی حفاظت کے لیے آرمی کے دستے ایک دن پہلے بٹھا دیے جاتے۔ تاکہ دہشت گرد قافلے کے خلاف کوئی کارروائی نہ کرسکیں ۔اب جو قافلہ چل رہا تھا اس کی خاص بات یہ تھی کہ دوٹرکوں میں دتہ خیل اور اس سے ملحقہ ایک دو علاقوں میں تعینات آرمی کے جوانوں کے لیے بڑی مارٹر گنز اور راکٹ لانچرز کا ایمونیشن لایا جا رہا تھا ۔اور مجھے انھی دو گاڑیوں کے فیول ٹینک کو نشانہ بنا کر اس ایمونیشن کو تباہ کرنا تھا ۔چونکہ نزدیکی پہاڑیوں پر پاک آرمی کے چاک و چوبند دستے تعینات تھے اس لیے یہ کام ڈیڑھ دو کلومیٹر کے فاصلے سے کرنا تھا ۔آرمی کے قافلے نے اگلے ہفتے آنا تھا ۔کولن فیلڈ تو اجمالی تفصیل بتا کر رخصت ہو گیاجبکہ ہم تفصیلی منصوبہ بنانے لگے ۔
گوگل ارتھ کے ذریعے ہم نے میران شاہ سے دتہ خیل آنے والی پوری سڑک کا جائزہ لیاوہاں انٹر نیٹ کی سہولت بھی تھی اور البرٹ بروک کا لیپ ٹاپ بھی موجود تھا۔ آخر میں اپنی جگہ کا چناﺅ کر کے ہم منصوبے کو حتمی شکل دینے لگے ۔
مجھے دکھاوے کے لیے مجبوراََ بڑھ چڑھ کر گفتگو میں حصہ لینا پڑتا ۔چونکہ اس منصوبے پر عمل کرنے کا میرا کوئی ارادہ نہیں ہوتا تھا اس لیے منصوبہ بناتے وقت میں مشورے دینے میں بخل سے کام نہیں لیتا تھا ۔ایک سنائپر کو ایسے حالات میں کون کون سی مشکلات پیش آ سکتی تھیں اور کیسی جگہ کی ضرورت پڑ سکتی تھی یہ مجھ سے زیادہ کون جان سکتا تھا اور منصوبے بناتے وقت میں یہ معلومات فراخ دلی سے البرٹ بروک کے گوش گزار کرتا رہتا تاکہ اسے یقین ہو جائے کہ میں اس کے ساتھ مخلص ہوں ۔مجھے بس ایک موقع کی تلاش تھی کہ وہاں سے فرار ہو سکوں اس کے بعد میں نے جو کچھ البرٹ اور اس کے چمچے صنوبر خان کے ساتھ کرنا تھا وہ اس سلوک کواپنی قبر میں بھی نہ بھول پاتے کہ کس سے واسطہ پڑا تھا ۔
٭٭٭
پہلے کی طرح اس بار بھی منصوبے پر عمل درآمد کرنے سے ایک دن پہلے پتا چلا کہ پاک آرمی کا قافلہ خلاف توقع میرن شاہ سے نکل کر دتہ خیل کی طرف چل پڑا تھا ۔ہمارا انگور اڈے سے وہاں پہنچ کر قافلے کے خلاف کارروائی کرنا ممکن نہیں رہا تھا ۔البرٹ نے میرے سامنے ہی دیگان کے مقامی کمانڈر سے ٹیلی فون پر بات کر کے اسے اس جگہ کے بارے بتایا جہاں سے وہ قافلے کے خلاف کارروائی کر سکتے تھے ۔اس کے منہ سے انگریزی کے بہ جائے اردو سن کر مجھے خاصی حیرانی ہوئی تھی ۔مگر میں نے اس سے استفسار کی کوشش نہیں کی تھی ۔پہلی بار اس نے میرے سامنے اردو میں بات چیت کی تھی ورنہ اس سے پہلے وہ ملازموں سے بھی انگریزی زبان ہی میں بات کرتا نظر آتا۔یہ اور بات کہ صنوبر خان نے اس کے ساتھ جو خدمت گار متعین کیے تھے وہ تمام انگریزی زبان سے اچھی خاصی واقفیت رکھتے تھے ۔
ٹیلی فون بند کر کے وہ مجھے مخاطب ہوا ....”ویسے میری سمجھ میں یہ نہیں آرہا کہ جب بھی ہم نیا منصوبہ بناتے ہیں اس میں کوئی نہ کوئی کمی کیسے رہ جاتی ہے اورایسا تیسری مرتبہ ہو رہا ہے ۔“
”کیا کہہ سکتا ہوں ۔“میں نے کندھے اچکاتے ہوئے لاعلمی ظاہر کی ۔
ٹریسی کے ہونٹوں پر دل آویز مسکراہٹ نمودار ہو گئی تھی ۔بلاشبہ وہ رنگت میں کالی تھی مگر اس کے جسمانی خطوط اور نین نقش بلا کے پر کشش تھے ۔
”کیا اب میں اس سے متاثر ہو رہا ہوں ؟“میں نے خود سے سوال کیا ۔جواباََ احمق دل نے فوراََ پلوشہ کی موہنی صورت میری آنکھوں کے سامنے لہرا دی ۔دل کسی صورت اسے بھلانے کو راضی نہیں تھا۔ نہ تو اسے یہ غرض تھی کہ پلوشہ میرے ساتھ کیا کچھ کر چکی تھی اور نہ اسے پلوشہ کے غلیظ کردار پر کوئی غصہ آرہاتھا ۔میرے دماغ کو کسی شاعر کے خیال نے آئینہ دکھایا۔
دل میں ہوتا تو کسی طور نکل بھی جاتا
اب تو وہ شخص بہت دور تلک ہے مجھ میں
واقعی پلوشہ کی محبت میرے دل ہی میں نہیں نس نس میں سما چکی تھی ۔اس کے ساتھ بیتا وقت مجھے گزری ہوئی خوشی کی یاد دلانے لگا ۔
”اگر ہمارے آدمی کامیاب ہوگئے تو ہمیں پھر وہی ڈراما رچانا پڑے گا ۔“البرٹ بروک کی آواز مجھے حال کی دنیا میں واپس لائی ....
”آں ....ہاں ....“میری سمجھ میں اس کی بات نہیں آسکی تھی ۔
البرٹ مسکرایا ۔”تم شاید دماغی طور پر حاضر نہیں ہو ۔“
”نہیں ایسی کوئی بات نہیں ۔“میں نے اس کی تردید کرنے کی فضول کوشش کی ۔
”میں کہہ رہا تھا، اگر دیگان کا کمانڈرہدف کو تباہ کر دیتا ہے تو ہمیں ایک بار پھر پرانی ترکیب آزمانا پڑے گی ۔میں ہر صورت کرنل صاحب کے سامنے اپنے انتخاب کو سرخ رو دیکھنا چاہتا ہوں۔“
میں نے بے نیازی سے کہا ۔”مجھے کیا اعتراض ہو سکتا ہے ۔“
وہ معنی خیز لہجے میں بولا ۔”بات اعتراض کی نہیں ہے ،بس حیرانی ہے کہ بار بار ایسا اتفاق کیوں ہو رہا ہے ۔“
میں نے روکھے لہجے میں کہا ۔”اس کیوں کا جواب میرے پاس بھی موجود نہیں ہے ۔“
”خیر آرام کرو ،شام کو بات کریں گے ۔“اور میں ٹریسی پر آخری نظر ڈال کر کمرے سے باہر نکل آیا ۔
٭٭٭
سہ پہر کو معلوم ہوا کہ دیگان کا مقامی کمانڈر پاک آرمی کے ایمونشن والے ٹرکوں میں سے ایک کو تباہ کرنے میں کامیاب ہو سکا تھا ۔نتیجے میں اس کے دو آدمی بھی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے ۔البرٹ نے فوراََ اس متعلق ایک کہانی ترتیب دی جو میں نے اگلے دن کرنل کولن فیلڈ کے سامنے دہرا دی ۔اس گھڑی ہوئی کہانی میں تباہ ہونے والی گاڑی کی تباہی کا سہرا میرے سر باندھ کر بچ جانے والی گاڑی اور دیگان کے دو آدمیوں کی ہلاکت کا ذمہ داردیگان کے مقامی کمانڈر کو ٹھہرایا گیا تھا ۔
کرنل فیلڈ نے مجھے ہلکی سی سرزنش کی کہ البرٹ بروک کا خصوصی نمائندہ ہونے کی حیثیت سے وہاں کی قیادت میرے ہاتھ میںتھی ۔لیکن اس کے ساتھ ہی اس نے میری تعریف کر کے گویا میری دل جوئی کرنے کی کوشش بھی کی تھی ۔میرے ساتھ طے کردہ معاوضے کی آدھی رقم میری طرف بڑھا کر وہ گویا ہوا ۔
”میں کچھ دنوں کے لیے امریکہ جا رہا ہوں اورجانے سے پہلے چند ضروری کاروائیاں تمھارے ذمہ لگاتا جاﺅں گا ۔میری واپسی تک یہ کام مکمل ہوجانے چاہئیں....“وہ مختلف قسم کی دہشت گردانہ کارروائیوں پر روشنی ڈالنے لگا کہ ہم نے کہاں کہاں وہ کام سرانجام دینا تھے ۔میں اور البرٹ بروک سمجھ جانے کے انداز میں سر ہلاتے رہے ۔دہشت گردانہ کارروائیوں کی اجمالی تفصیل بتانے کے بعد وہ مجھے مخاطب ہوا ۔
”مسٹر ذیشن !....تم سے ایک اور مشورہ بھی کرنا تھا ۔“
”جی سر !....“میں اس کی طرف متوجہ ہو گیا ۔
”اگر ہم تمھیں واپس بھیج دیں تو کیا تم پاک آرمی میں رہ کر ہمارے لیے کام کر سکتے ہو؟“
”کیوں نہیں ۔“میں نے فوراََ جوش ظاہر کیا کیونکہ مجھے تو بس وہاں سے جان چھڑانے کا بہانہ چاہیے تھا ۔
”کہیں تم یہ تو نہیں سوچو گے کہ گرین کارڈ کی امید دلا کر ہم تمھیں پھرسے پاک آرمی کے اسی نظم و ضبط بھری زندگی کے جہنم میں دھکیلنا چاہتے ہیں ۔“
”نہیں سر !....کیونکہ میں جانتا ہوں کہ مجھے وہاں بھی تین سال تک آپ کے لیے کام کرنا پڑے گا ۔اوراس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ وہ کام میں یہاں سر انجام دوں یا آرمی میں رہتے ہوئے پورا کروں ۔“
”شاباش ۔“اس نے تحسین آمیز انداز میں سر ہلایا۔”بس طے ہو گیا امریکہ سے واپسی پر تمھیں واپس بھجوا دوں گا ۔“
میرے چہرے پر مایوسی بھرے اثرات پھیل گئے تھے ۔میں نے تو سوچا تھا شاید وہ فی الفور میرے جانے کا حکم جاری کرے گا مگر اس نے اپنے حکم کو اپنی امریکہ واپسی کے ساتھ معلق کر دیا تھا ۔
اس کے جانے کے بعد البرٹ بروک نے باقاعدہ نقشہ نکال کر ان مخصوص جگہوں کی نشان دہی کی تھی جہاں ہم نے پاک آرمی کے رہائشی بینکروں ،چیک پوسٹوں ،اور حرکتی قافلوں پر چھاپے اور گھات کی کارروائیاں کرنا تھیں ۔کرنل کولن فیلڈ نے تقریباََسات مختلف جگہوں پر کارروائی کا حکم دیا تھا ۔ہم دونوں ترتیب سے ہر جگہ کے لیے علاحدہ علاحدہ منصوبہ بنانے لگے ۔اس ضمن میں ہم تفصیل سے ایک منصوبے کا جائزہ لیتے اور اس کے بارے ساری تفصیلات طے کر کے اگلے منصوبے پر بات چیت کرنے لگتے ۔ میں نے دبے لفظوں میں البرٹ کو کہا بھی سہی کہ....
” ہر مشن پر جانے سے ایک دن پہلے اس کا منصوبہ بنا لیا کریں گے ۔“
وہ جواباََ بولا ۔”نہیں یار !.... ضروری نہیں کہ ہر منصوبے پر میں تمھیں وقت دے پاﺅں ۔ایک بار تمام منصوبوں پر بات چیت ہونے کے بعد تم اپنی مرضی سے ہر مشن کی تکمیل کے لیے جا سکتے ہو ۔“
اور میں اثبات میں سر ہلا کر رہ گیا ۔رات گئے تک میں وہیں مصروف رہا ۔کھانا بھی ہم نے وہیں بیٹھ کرکھایا تھا ۔
کمرے میں واپس آکر میں آنے والے وقت کے بارے سوچنے لگا ۔عجیب بات تھی کہ مجھے کسی مشن پر جانے کا موقع نہیں مل رہا تھا ۔ بغیر کوئی کام کیے میں کرنل کولن فیلڈ سے ڈالرز بھی وصول کر رہا تھا اور شاباش بھی ۔اب بھی امریکہ جانے سے پہلے وہ دہشت گردی کے چھے ساتھ اہداف ہمارے حوالے کر گیا تھا ۔نامعلوم کس مشن پر جا نے کا موقع میں حاصل کر پاتا ۔ایک بات تو یقینی تھی کہ میرا پہلا مشن ہی آخری مشن ثابت ہونا تھا،کیونکہ پاک آرمی کے خلاف میں کسی بھی کارروائی میں حصہ نہیں لے سکتا تھا چاہے اس کے لیے میری جان چلی جاتی یا کسی اور نقصان کا سامنا کرنا پڑتا ۔کبھی کبھی مجھے لگتا تھاکہ قدرت مجھ پر مہربان ہے اور ہر بار کسی مشن پر جانے سے پہلے کوئی نہ کوئی رکاوٹ کھڑی ہو جاتی ہے ۔گویا قدرت چاہتی ہے کہ میں یہیں سے فرار ہونے کی کوشش کروں ۔لیکن اس کے ساتھ اپنی سخت نگرانی دیکھ کر میں بے بس ہو کر رہ جاتا ۔کمرے کی دیوار میں نقب لگانا ناممکن تھا کہ نہ تو میرے پاس کوئی ایسا تیز دھار آلہ موجودتھا جس سے میں سیمنٹ کے بلاک سے بنی ہوئی دیوار میں سوراخ بناپاتا اور نہ کمرے میں کوئی کھڑکی یا روشن دان بنا ہواتھا کہ جس کے ذریعے میں بھاگنے کی کوشش کرتا ۔
”نہ جانے سردار اور میجر اورنگ زیب صاحب میرے بارے میں کیا سوچ رہے ہوں گے۔“میری ذہنی رو دوسری جانب بہنے لگی ۔ نامعلوم ان کی نظر میں میں زندہ بھی تھا یا مر چکا تھا ۔میرے غائب ہونے کے متعلق میرے والد صاحب کو اطلاع پہنچانا ان کا اخلاقی فرض بنتاتھا ۔کیونکہ کسی بھی قسم کا رابطہ نہ ہونے کی صورت میں ان کا یہ گمان کرنا کہ میں دہشت گردوں کا شکار بن چکا ہوں ایک واضح حقیقت تھی ۔
”ہو سکتا ہے سردار پلوشہ سے رابطہ کرے ۔“ایک امید افزا سوچ میرے دماغ میں جاگی ، لیکن اس کے ساتھ ہی تلخ سوچ نے میرے منہ کڑواہٹ گھول دی کہ ۔”پلوشہ اسے کیوں حقیقت بتانے لگی ۔“یوں بھی اپنے جرم سے پردہ اٹھاناوہ کب گوارا کرتی ۔پلوشہ کا نام آتے ہی بے ایمان دل ساری سوچوں کو پسِ پشت ڈال کر اسے یاد کرنے لگا ........
تیز بارش کے دوران جب میں نے اسے چادر اوڑھائی تھی تو وہ کتنی بے ساختگی سے بولی تھی .... ”کتنا خیال کرتے ہواپنی چیز کا ہے نا ؟“اور میں نے کہا تھا.... ”ہاں ،قیمتی چیزوں کی حفاظت مالک کو کرنا پڑتی ہے۔“کتنی بے قدر اور سستی چیز کو میں قیمتی سمجھتا رہا تھا ۔
جواباََ اس کا یہ کہنا ”راجو !....اگر میں کہوں کہ میں آپ سے محبت کرتی ہوں تو آپ کا جواب کیا ہو گا ؟“کتنی چاہت ، محبت اور خلوص پنہاں تھا ان الفاظ میں ۔اس وقت بھی میں نے ہنستے ہوئے پوچھا تھا ....”اچھا اب تک اقرار کی گنجائش موجود تھی ۔“
”اقرار کی گنجائش ہمیشہ رہتی ہے ۔جس آدمی سے محبت ہو جائے اسے فوراََ بتا دینا چاہیے ۔“
”تو کیا یہ محبت آج ہوئی ؟“
”نہیں ا ب تو لگتا ہے ہمیشہ سے تھی،شاید اس وقت سے جب میں بالغ ہوئی ،شاید اس وقت سے جب مجھے پتا چلا کہ میں لڑکی ہوں ،شاید اس وقت جب میں نے باتیں کرنا شروع کیا تھا ،شاید اس وقت جب میں پیدا ہوئی یا شاید اس وقت جب میں پیدا بھی نہیں ہوئی تھی ۔“کتنی مخلص اور سچی لگی تھی وہ اس وقت ....
”کیا کوئی اتنا اچھا اداکار بھی ہو سکتا ہے ....؟“ناں کرنے کی جرّات مجھے اس لیے بھی نہ ہوئی کہ اس متعلق پلوشہ کی مثال میرے سامنے موجود تھی ۔میرے شادی کا ذکر چھیڑنے پر اس نے کتنی حسرت سے کہا تھا ....”پتا نہیں کب وہ دن آئے گا ۔راجو!....آپ چچا خوشحال خان کو کہہ کر مجھ سے نکاح کے دو بول پڑھوا کیوں نہیں لیتے ۔جب یہ بات یقینی ہے کہ آپ نے مجھے اپنانا ہے اور میں نے بھی اس معاملے میں کسی کی پروا نہیں کرنی پھر انتظار کس بات کا ۔“
”کیا وہ بے صبری کا اظہار دکھاوا تھا ....اگر میں شادی کرنے پر تیار ہو جاتا تو جانے وہ کیا بہانہ کرتی ....
”اسے بھلا بہانہ کرنے کی کیا ضرورت تھی ؟“ایک اورتلخ سوچ میرے دماغ میں ابھری .... ”کسی مرد کا پہلو گرم کرنا اس کے لیے کوئی نئی بات تو نہیں تھی کہ اسے کوئی پروا ہوتی ۔اس نے تو قبیل خان کی ہلاکت کے بعد میرا سودا کرنے کا منصوبہ بنا لیا تھا ۔یہ بھی ممکن تھا کہ اس کا ارادہ فقط مجھ سے بدلہ لینے کا ہو ....میں نے اسے اتنی بے دردی سے تشدد کا نشانہ بنایا تھا اور وہ یہی بات دل میں لیے پھرتی رہی ۔ پہلے مجھے قبیل خان کے خلاف بہ طور ہتھیار استعمال کیا اور جب میرا کام پورا ہو گیا تو اسے بدلہ لینے کا خیال آگیا ۔“میرے علاحدہ ہونے کی بات پراس نے کیسے بپھرتے ہوئے کہا تھا ....
”تم ایک بزدل ،کم ہمت اور بے وقوف شخص ہو ۔ تمھیں قتل کرنے کا ارادہ تبدیل نہیں کر نا چاہیے تھا ۔یقینا ماہین نے بالکل ٹھیک کیا تھا تمھارے ساتھ تم ہو ہی اس قابل ۔احمق !....سڑتے رہو اکیلے ،بھاڑ میں جاﺅ ،میں تھوکتی بھی نہیں ہوں تم پر ،اتنے یوسف ثانی نہیں ہو کہ میں تمھارے پیچھے بھاگتی پھروں۔شکل دیکھی ہے اپنی ....اتنے نخرے دکھاتے ہو ۔“کتنی بے ساختگی سے اس نے ناراضی کا اظہار تھا ۔
”وہ صرف ڈراما باز نہیں تھی بے عقل انسان وہ اور کئی کاموں میں بھی ماہر تھی ۔اس کا رقص دیکھا تھا ،اس کی برداشت ،لڑنے کا انداز،بے خوفی ، دلیری اور بہادری ....کیا یہ سب باتیں ظاہر نہیں کرتیں کہ وہ انوکھی تھی ۔“
ہاں وہ انوکھی تھی ....بہت انوکھی ....اتنی کہ اتنے غلیظ کردار اور دھوکا باز ہونے کے باوجود بھی دل اس کی طرف داری کرنے سے باز نہیں آرہا تھا ۔اس دھوکے باز ،بے وفا کی یادوں سے جان چھڑانے کا ایک ہی طریقہ تھا کہ مجھے کسی اور عورت کی محبت مل جاتی ۔کسی ایسی لڑکی کی جو سچ مچ میرے بکھرے وجود کو سمیٹ لیتی ۔”لیکن ایسی لڑکی آئے گی کہاں سے ؟“میرے دماغ میں استہزائیہ سوچ ابھری ۔”پہلے والی چار عورتوں کا رویہ بھول گیا ہے تمھیں ؟اور اگر واقعی کوئی ایسی مل بھی جاتی ہے تو کیا سچ مچ دل اسے بھلانے میں کامیاب ہو جائے گا ۔“
”کبھی بھی نہیں ....“احمق دل نے فوراََ نفی میں پکار کر اپنا احتجاج دماغ تک پہنچایا ۔
پلوشہ کی یادیں میری نیند اڑا دیتی تھیں ۔کبھی نفرت سے میرا بدن پھنکنے لگتا اور کبھی میرے دماغ میں گلے شکوں کا دریا بہنے لگتا ۔کبھی اس کی شوخی بھری باتیں اور چنچل ادائیں میرے ہونٹوں پر ہنسی بکھیر دیتیں اور کبھی اس کا معصومیت بھری شرمیلی ادائیں مجھے بے چین کرنے لگتیں ۔اس کی یاد میری ساری سوچوں پر غالب آجاتی ....نہ تو مجھے یہ یاد رہتا کہ میں دشمن کی قید میں تھا اور نہ یہ کہ میرے پیارے میرے بارے کتنی پریشانی اور مصیبت کا شکار ہوں گے ۔
کہیں صبح صادق کے قریب جا کر مجھے نیند آئی تھی ۔نیند میں بھی وہ اپنی پوری وجاہت اور کشش کے ساتھ میرے خوابوں پر حاوی رہی ....ہنستے ،مسکراتے اور مجھے چھیڑتے ہوئے وہ اس بات سے بے پروا نظر آئی کہ وہ میرے ساتھ کیا سلوک کر چکی تھی ۔
میری آنکھ ناشتا لانے والوں کی آمد سے ہوئی ۔شروع دن سے ناشتا اور کھانا دو آدمی لایا کرتے تھے ۔ایک ہتھیار بند آدمی دروازے میں کھڑے ہو کر میری نگرانی کرتا جبکہ دوسرا لکڑی کی میز پر کھانے کے برتن رکھ دیتا ۔اگر میں ناشتا لانے والے پر قابو پا بھی لیتا تب بھی اس کی اہمیت اتنا زیادہ نہیں تھی کہ وہ اس کی جان بچانے کے لیے مجھے جانے دیتے ۔ایک البرٹ بروک کی شخصیت ایسی تھی جس پر قابو پا کر میں وہاں سے نکل سکتا تھا ۔لیکن ٹریسی جیسی خطرناک لڑاکا کی موجودی میں ایسا ہونا ممکن دکھائی نہیں دیتا تھا ۔ایک بار میں ناکام کوشش کر چکا تھا ۔اور اگلی ناکام کوشش میرا پول کھول سکتی تھی ۔فی الحال وہ مجھ پر کافی اعتبار کر رہے تھے ۔ دوبارہ کسی ایسے اقدام پر جھلا کر وہ مجھے قتل بھی کر سکتے تھے ۔گو میں مرنے سے نہیں ڈرتا تھا لیکن مجھے زندہ رہنے کی ضرورت تھی ....صرف اتنی دیر کے لیے کہ کم از کم ایک بار میں دھوکے باز پلوشہ سے پوچھ سکتا کہ اس نے میرے ساتھ اتنا ظلم کیوں کیا تھا ....صرف ایک بار ۔
ناشتا رکھ وہ باہر نکل گئے ۔اور میں کمرے سے ملحق غسل خانے میں گھس گیا ۔تازہ دم ہو کر میں نے ناشتا کیا اور دوبارہ لیٹ گیا ۔دو دنوں بعد پاک آرمی کے خلاف کارروائی کرنا تھی اس سے پہلے مشکل تھا کہ مجھے کمرے سے باہر نکالا جاتا ۔
٭٭٭
ہم نے جمعہ کے دن منصوبے پر عمل کرنا تھا ....جمعہ کا دن آیا اور گزر گیا مگر میرا بلاوا نہ آیا ۔ میں نے کھانا لانے والوں سے استفسار بھی کیا مگر وہ کوئی تسلی بخش جواب نہیں دے سکے تھے ۔بس اتنا معلوم ہوا تھا کہ البرٹ بروک وہاں موجود نہیں تھا ۔یقینا اس کی غیر موجودی میں مجھے باہر جانے کی اجازت کوئی نہیں دے سکتا تھا ۔اگلی کارروائی بدھ کے دن ہونا قرار پائی تھی ۔بدھ کا دن بھی یونھی گزر گیا ۔میرے دماغ میں عجیب و غریب اندیشے سر اٹھانے لگے تھے ۔کبھی کبھی مجھے یوں لگتا کہ میں کسی بڑی سازش کا شکار ہونے والا ہوں لیکن پھر سازش کی توجیہ سے میں قاصر رہتا۔پاک آرمی کے خلاف میں نے ایک کارروائی بھی نہیں کی تھی کہ ضمیر مجھے مطعون کرتا ۔
دو ہفتے بغیر کسی کارروائی کے گزر گئے تھے ۔میری سمجھ میں یہ نہیں آرہا تھا کہ آخرالبرٹ بروک نے تمام منصوبوں پر عمل درآمد کیوں روک رکھا تھا ۔مجھے وہاں قید کے علاوہ کوئی تکلیف نہیں تھی لیکن خالی قید بھی بہ ذات خود ایک بہت بڑی مصیبت ہے ۔ساری دنیا سے کٹ کر ایک کمرے میں محدود ہوجانا نہایت پر آزار اورذہنی کوفت کا سبب ہوتاہے ۔تنہائی میں جانے کون کون سی سوچیں ، خیالات اور اندیشے مجھے بے چین کیے رکھتے ۔اپنی نہایت محبوب ہستی سے دھوکا کھاناکتنا اذیت ناک اور تکلیف دہ ہوتا ہے اس کا اندازہ وہی کر سکتا ہے جس پر یہ حادثہ بیت چکا ہو ۔
میں کھانا لانے والوں سے مسلسل البرٹ بروک کے بارے پوچھتا رہتا اور وہ لاعلمی کا اظہار کر دیتے ۔اس دن حسبِ معمول میں نے ناشتا لانے والوں سے البرٹ کے متعلق پوچھا تو پتا چلا کہ وہ حویلی میں آگیا تھا ۔میں نے فوراََ اس سے ملنے کی خواہش ظاہر کی ۔اور ناشتا لانے والا سر ہلا کر باہر نکل گیا ۔
میرے ناشتا کرنے تک وہ البرٹ تک میری بات پہنچا کر واپس آگیا تھا ۔تھوڑی دیر بعد چار مسلح افراد بھی مجھے لینے کے لیے پہنچ گئے تھے ۔البرٹ انیکسی کے ڈرائینگ روم میں ٹریسی کے ساتھ بیٹھا مجھے اپنا منتظر نظر آیا ۔
”جی جناب !....کیسے ہو ،دن کیسے گزر رہے ہیں ؟“میرے بیٹھتے ہی اس نے مسکراتے ہوئے پوچھا ۔
”ٹھیک ہوں ،لیکن سمجھ میں نہیں آرہا، کیا ہماری کارروائیاں منصوبے بنانے کی حد تک ہی تھیں۔“
”ہا....ہا....ہا“اس نے زبردستی کا قہقہہ لگایا ۔”نہیں ایسی کوئی بات نہیں ....ہم دو تین دنوں تک اپنے منصوبوں پر عمل درآمد شروع کریں گے ،میں تھوڑا مصروف تھا اس لیے تمام منصوبے عدم توجہی کا شکار رہے ۔“
”یہ نہ ہو کرنل صاحب واپس لوٹ آئیں اور ہم مصروف ہی رہیں ۔“میرا انداز ایسا تھا گویا کہ میں کرنل کولن فیلڈ کے سامنے سرخ رو رہنا چاہتا ہوں ۔
اس نے مجھے تسلی دیتے ہوئے کہا ۔”بے فکر رہو ....اس بات کی ،تم سے زیادہ فکر مجھے ہے ۔“
نہ جانے کیوں مجھے یہ لگ رہا تھا یہ بس طفل تسلی ہی تھی۔وہ شاید ایسا کوئی ارادہ نہیں رکھتا تھا ۔ لیکن اس کے ساتھ یہ بات بھی مجھے اچنبھے میں ڈالے ہوئے تھی کہ آخر وہ مجھ سے کب کام لیتے ۔مسلسل قید میں رہتے ہوئے میں تھک گیا تھا ۔
”دیکھیں البرٹ صاحب !....صاف بات یہ ہے کہ آپ جب چاہیں مجھ سے کام لیں لیکن ، اب میں اس قید سے تنگ آ گیا ہوں اس لیے براہ مہربانی یہ نگرانی ہٹا دیں ۔“میں بغیر لگی لپٹی رکھے مدعے پر آگیا تھا۔
البرٹ کے چہرے پر مسکراہٹ رینگی ....”میرا خیال ہے کافی پی لیتے ہیں ۔“اس نے آواز دے کر ملازم کو کافی لانے کا کہا ۔وہیں انیکسی میں چھوٹا سا باورچی خانہ بنا ہوا تھا اور البرٹ کا خدمت گار وہاں موجود تھا ۔اس نے میری بات کا جواب دینے کی ضرورت محسوس نہیں کی تھی ۔
”میں نے کوئی اور درخواست بھی کی ہے ۔“اپنی بات کا جواب نہ ملنے پر میں نے یاد دہانی کرائی۔
”فی الحال تو یہ ممکن نہیں ہے ۔“اس نے انکار میں سر ہلایا۔”البتہ جس دن تم نے کسی مشن میں باقاعدہ حصہ لے لیا اس دن یہ ساری نگرانی ختم کر دی جائے گی ۔“
”اسی لیے تو کہہ رہا ہوں کہ ہمیں اپنے منصوبوں پر کام شروع کر دینا چاہیے ۔“
وہ ٹالنے والے انداز میں بولا ۔” کہا تو ہے دو تین دن صبر کرو اس کے بعد تمھاری یہ خواہش بھی پوری ہو جائے گی ۔“
اس کے انداز نے میری سوچوں میں ہلچل مچا دی تھی ۔میرایہ سمجھنا غلط تھاکہ وہ مجھ پر اعتماد کر رہے ہیں ۔یقینا وہ کسی سوچے سمجھے منصوبے کے مطابق مجھے ٹال رہا تھا ۔دیوار پر لگی بڑی سکرین کی ایل ای ڈی پر انگریزی خبروں کا کوئی چینل چل رہا تھا ۔مجھے خاموش پا کر البرٹ خبروں کی طرف متوجہ ہو گیا ۔
ٹریسی ناخن تراش کی کھردری سطح کو اپنی انگلیوں کے ناخنوں پر رگڑ رہی تھی ۔اس کی طرف دیکھتے ہوئے میرا ذہن تیزی سے کسی ادھیڑ بن میں مصروف تھا ۔ایک دم میں نے مزید انتظار نہ کرنے کا فیصلہ کر لیا تھا ۔
ملازم کافی کے برتنوں کے ساتھ نمودار ہوا ۔البرٹ کے سامنے کافی کا مگ رکھ کر اس نے میرے دائیں جانب پڑی تپائی پر بھی کافی کا مگ رکھا اور ٹرے میں رکھا تیسرا مگ لے کر ٹریسی کی طرف بڑھ گیا ۔
میرے اعصاب ایک دن تن گئے تھے ۔جونھی وہ ٹریسی اور البرٹ کے درمیان میں آیا میں نے اٹھ کر ایک دم چھلانگ لگا دی ۔البرٹ کے وہم گمان میں بھی نہیں تھا کہ میں کوئی ایسی حرکت کروں گا ۔ اس کے سنبھلنے سے پہلے میں نے اس کا دایاں بازو پکڑ کر مروڑا اور اگلے ہی لمحے اس کی گردن میں ہاتھ ڈال کر میں نے اس کی پیٹھ اپنی چھاتی سے لگا لی تھی ۔اس کے ساتھ ہی میرا ہاتھ اس کے کوٹ کی جیب میں رینگا اور میں نے پستول نکال لیا ۔
ملازم نے میری حرکت کی آہٹ سنتے ہی پیچھے مڑ کر دیکھا اور البرٹ کو میرے قبضے میں دیکھتے ہی اس کے منہ سے سرسراتے ہوئے چیخ بلند ہوئی ۔”س....سس.... سیکورٹی ....“
دروازے پر موجود محافظ دندناتے ہوئے اندر گھس آئے تھے ۔
”خبر دار اگر کسی نے غلط حرکت کی ،میں اس کا بھیجا اڑا دوں گا ۔“پستول کی نال البرٹ کی کنپٹی سے لگاتے ہوئے میں دھاڑا ۔یہ الفاظ میں نے انگریزی میں ادا کیے تھے ۔میری نظریں ٹریسی والکر پر گڑی تھیں کہ مجھے سب سے زیادہ اسی سے خطرہ تھا ۔
مگر یہ دیکھ کر میری حیرت کی انتہا نہیں رہی تھی کہ ٹریسی ہاتھ کے اشارے سے محافظوں کو باہر نکلنے کا کہہ کر اطمینان سے کافی پینے لگی ۔
محافظ گومگو کی کیفیت میں کھڑے تھے ۔
”دفع ہو جاﺅ ....“وہ انگریزی میں دھاڑی ۔اس کی آواز کافی بھاری تھی ۔یا شاید وہ خود حلق پر زور دے کر بول رہی تھی ۔
تمام محافظ الٹے قدموں باہر نکل گئے تھے ۔
”تم بھی جاﺅ ۔“اس نے ہکا بکا کھڑے ملازم کو کہا ۔اور وہ چونک کر سر ہلاتا ہوا باورچی خانے کی طرف بڑھ گیا ۔
البرٹ نے کہا ۔”میرا خیال ہے بیٹھ کر بات کر لیتے ہیں ۔“اپنی گردن پر میرے بازو کے دباﺅ کی وجہ سے وہ پھنسی پھنسی آواز میں بولا تھا ۔
”کوئی بات نہیں ہوگی ....اگر جان عزیز ہے تو مجھے فی الفور یہاں سے باہر نکالو ۔“
”ٹھیک ہے کوئی بات نہیں کرتا ....بس تمھیں ایک چیز دکھانی ہے ،اگر اس کے بعد بھی تم جانے پر بہ ضد رہے تو تمھیں کوئی نہیں روکے گا ۔بلکہ وعدہ کرتا ہوں جہاں کہوگے تمھیں خود گاڑی میں چھوڑ آﺅں گا ۔“
اس کی کنپٹی پر پستول کی نال کا دباﺅ بڑھاتے ہوئے میں نے کہا ۔”اگر تم یہ سمجھ رہے ہو کہ تھوڑی مہلت حاصل کر کے تم بچنے کی کوئی ترکیب سوچ لو گے تو یہ تمھاری خام خیالی ہے ۔“
”یار کہہ دیا نا میں ایسا کچھ نہیں سوچ رہا ....“جھلائے ہوئے لہجے میں کہہ کر وہ ٹریسی کو مخاطب ہوا ۔”اسے وڈیو دکھاﺅ۔“
اثبات میں سر ہلاتے ہوئے ٹریسی نے شیشے کی میز پر پڑا لیپ ٹاپ کھول کراسے ایک کیبل کے ذریعے ایل ای ڈی سے منسلک کردیا۔ ٹی وی سکرین پر لیپ ٹاپ کا ڈیسک ٹاپ نظر آتے ہی اس نے ایک وڈیو چلا دی ۔اگلے ہی لمحے ایل ای ڈی کی بڑی سکرین پر اسی ڈرائینگ روم کا منظر ابھرا ۔وہ میری کرنل کولن فیلڈ کے ساتھ پہلے دن ہونے والی گفتگو کی وڈیو تھی ۔وڈیو نہایت صاف واضح بنی تھی ۔یقینا اس کمرے میں ایک سے زیادہ طاقتور کیمرے نصب تھے۔ منٹ بھر وہ وڈیو چلا کر ٹریسی نے ایک دوسری وڈیو چلادی جس میں میں کرنل کولن فیلڈ سے اپنی کارکردگی کے انعام میں ڈالر وصول کر رہا تھا ۔وہ ایک کے بعد ایک وڈیو چلاتی گئی ۔میرے دماغ میں سائیں سائیں ہو رہی تھی ۔ایک دم مجھ پر واضح ہوگیا کہ وہ کیوں خالی منصوبہ بنا کر مجھے کسی کارروائی پر ساتھ نہیں لے جاتے تھے ۔ہم نے جتنے منصوبے بھی وہاں بنائے تھے ان سب پر عمل درآمد کسی اور نے کیا تھا لیکن اس کا اعتراف انھوں نے مجھ سے کروا لیا تھا ۔اب اگر یہ وڈیوز پاک آرمی کے ہاتھ لگتیں تو مجھے غداری کے الزام میں پھانسی لگنے سے کوئی نہیں بچا سکتا تھا ۔ ہر کارروائی کے بعد میں نے ڈالرز وصول کرتے ہوئے باقاعدہ اعتراف کیا تھا کہ وہ کام میں کر چکا تھا ۔ اور یہ کوئی ڈرامے کی شوٹنگ نہیں تھی کہ اسے جھٹلایا جا سکتا ۔
مجھے معلوم ہی نہ ہوا کہ کب میرا ہاتھ بے جان ہو کر نیچے لٹکنے لگا ۔میری گرفت ڈھیلی ہوتے ہی البرٹ میرے ہاتھ سے پستول لیے بغیر اطمینان بھرے انداز میں چلتا ہوا صوفے پر بیٹھ گیا تھا ۔میں سن سا ہو کر ٹی وی سکرین کو گھور رہا تھا ۔جہاں پر کرنل کولن فیلڈ مجھ سے یہ پوچھ رہا تھا کہ۔” کیا میں ان کے لیے پاک آرمی کے اندر رہ کر کام کر سکتا تھا ۔“اور میں جوشیلے انداز میں سر ہلاتے ہوئے اثباتی جواب دے رہا تھا ۔ان وڈیوز کو دیکھنے کے بعد کسی احمق اور بے وقوف ہی کو میری غداری میں شبہ ہوسکتا تھا ۔
جاری ہے
 

Create an account or login to read stories

You must be a member in order to leave a comment

Create account

Create an account on our community. It's easy!

Log in

Already have an account? Log in here.

New posts
Background image: Footer
Back
Top