• 📚 لوو اسٹوری فورم ممبرشپ

    بنیادی ڈیل

    وی آئی پی

    5000
    تین ماہ کے لیے
    بہترین ڈیل
    💎

    وی آئی پی پلس

    8000
    چھ ماہ کے لیے
    ٹاپ پیکیج
    👑

    پریمیم

    20000
    چھ ماہ کے لیے

Historic Story سوجھال والے کی کہانی ۔۔

Joined
Jun 10, 2025
Messages
933
Reaction score
48,717
Points
93
Location
Karachi
Gender
Male
یہ ان دنوں کا ذکر ہے جب یہاں انگریز بہادر کا راج تھا۔ تب برصغیر کو آزادی نصیب نہیں ہوئی تھی۔ اس وقت کے سردار انگریزوں کو خوش کرنے کے لیے اپنے ہم وطنوں کو باغی کہہ کر گھوڑوں کی ٹاپوں تلے پامال کر دیا کرتے تھے۔ اس کے عوض گورے انھیں اس طرح نوازتے تھے کہ جہاں تک تمہارے گھوڑے دوڑ سکتے ہیں، وہاں تک کی زمین تمہاری ہے ۔ یوں ان سرداروں کے راج میں جو گاؤں آ جاتے، ان میں بسنے والوں کو نہ تعلیم حاصل کرنے کی اجازت تھی اور نہ تجارت کرنے کی۔منیر کا باپ بھی اسی علاقے کے ایک چھوٹے سے گاؤں میں جولاہا تھا۔ وہ گندم کی ایک بوری کے عوض سردار کے خاندان کے ملبوسات کے لیے کپڑا بُن کر دیتا تھا۔ منیر نے آنکھ کھولی تو گھر میں مفلسی کا راج دیکھا۔ جوان ہونے تک اس نے کبھی سالن کی صورت نہیں دیکھی تھی۔ ہمیشہ روٹی پتلی سی چھاچھ یا پھر پیاز اور لہسن سے کھاتا تھا۔ بکری یا گائے تقریباً ہر گھر میں ہوتی، اس لیے پاس پڑوس کے کسی گھر سے دودھ، مکھن نہیں تو چھاچھ تو مل ہی جاتی تھی۔ ان چیزوں کے باعث صحت اچھی رہتی، اس لیے منیر کی صحت بھی اچھی تھی۔ اس کے باوجود وہ کام کاج کے نزدیک نہیں پھٹکتا تھا۔ بوڑھا باپ دن بھر کھڈی پر کھٹ کھٹ کرتا رہتا اور یہ سوتا رہتا۔ جاگتا تو چھاچھ پی کر نکل پڑتا۔ نہر میں دو چار ڈبکیاں لگاتا اور گھر آجاتا۔کچھ دنوں بعد لوگوں نے دیکھا کہ جولاہے کا بیٹا منیر زمیندار کے باغ میں طوطے اڑانے لگا ہے۔ اس خدمت کے صلے میں باغ کا رکھوالا اسے درختوں سے گرے ہوئے کچھ آم تھما دیتا تھا۔ گاؤں والے منیر کی لکھے پن پر انگلیاں اٹھانے لگے، مگر اسے پروا نہ تھی، کیونکہ بات تھی زیبو کی، جو رکھوالے کی خوبصورت اور چنچل لڑکی تھی۔ وہ باغ میں کبھی کبھار یوں ہی چکر لگانے آ جاتی تھی۔ یہ لا ابالی عاشق اس پر دل و جان سے فریفتہ تھا اور اس کی ایک جھلک دیکھنے کے لیے رکھوالے کا بانہہ بیلی بن گیا تھا۔ایک روز منیر درخت سے ٹیک لگائے بیٹھا تھا کہ اسے پازیب کی جھنکار سنائی دی۔ وہ سمجھ گیا کہ زیبو آگئی ہے، مگر انجان بن کر یونہی آنکھیں موندے رہا۔ جب وہ نزدیک آ گئی تو اس منچلے نے “ہائے” کر کے اسے ڈرا دیا۔ اس کی چیخ نکل گئی۔ تبھی وہ کھسیانہ ہو کر برا مان گئی۔ منیر ڈر گیا کہ کہیں یہ باپ سے شکایت نہ کر دے اور رکھوالا اسے باغ سے نکال باہر کرے۔ وہ اس کی منتیں کرنے لگا۔ جب زیبو منہ پھلائے رہی تو اس نے اپنی جیب سے موتیوں کی ایک مالا نکال کر دی اور کہا کہ تمہارے لیے خریدی تھی، روز جیب میں ڈال کر لاتا ہوں۔ مالا دیکھ کر زیبو نے زبان کھولی:یہ بھی کسی کو دینے کی چیز ہے؟ اپنی بکری کے گلے سے نکال کر لے آیا ہے؟ جانور کا زیور اب کیا میں پہنوں گی؟اس نے حقارت سے مالا زمین پر پھینک دی۔ منیر کو صدمہ ہوا۔ وہ بولا:زیبو، تجھ کو کسی کے پیار کی قدر نہیں ہے۔ چل چل، بڑا آیا پیار کرنے والا۔ یہاں تو سردار کی باندیاں بھی گلے میں سونے کے ہار ڈالے پھرتی ہیں۔ پیار تو سردار کرتے ہیں یا پھر چور، پیار تیرے بس کی بات نہیں۔ سردار کیا، تُو تو چور بھی نہیں بن سکتی۔ایک روز وہ سوچنے لگا کہ پیار واقعی سردار کر سکتے ہیں یا چور ڈاکو، جو گاؤں کی گوریوں کے آئیڈیل تھے کیونکہ وہ لوٹ مار کے مال سے مالا مال ہوتے تھے۔ سونے چاندی کے زیور اپنی محبوباؤں کو پہنا کر ان کے دل جیت لیتے تھے۔ اسی روز نادان نوجوان نے ٹھان لی کہ میں سردار نہیں بن سکتا، چور تو بن سکتا ہوں۔ اپنے من کی رانی کو سچے موتیوں کی مالا اور سونے کے زیور ضرور پہناؤں گا۔سچ ہے، عورت ذات کبھی کبھی مرد کی مت مار دیتی ہے۔ وہ بھی پکا عاشق نکلا اور ایک دن گھر سے غائب ہو گیا۔پہلے بھی آس پاس کے علاقوں میں چوریاں ہوتی تھیں۔ کبھی کسی کی مرغی غائب، تو کبھی بکری، مگر اب تواتر سے چوریاں ہونے لگیں۔ خاص طور پر ہندو مہاجنوں کے ہاں، جن کے گھروں میں اون اور کپاس اترنے کے موسم میں یا پھر فصل کے دنوں میں رقم کی فراوانی ہوتی تھی، انہی دنوں چوریاں بھی ہوتی تھیں۔ چھوٹی موٹی چوریاں کرتے کرتے منیر کا تجربہ وسیع ہوتا گیا۔ جب پچھلی وارداتیں کامیاب رہیں تو اس کی ہمت کو پر لگ گئے۔ اب وہ کسی بڑے ڈاکے کے بارے میں سوچنے لگا۔ ایک دو تجربہ کار ساتھی ساتھ ہو گئے۔ بڑا ڈاکہ بھی کامیاب رہا اور ڈاکوؤں کے گروہ میں اس کی شہرت کو چار چاند لگ گئے۔ گویا اپنے قبیلے میں وہ معزز ہو گیا۔ وقت کے ساتھ ساتھ اس کی کامیابیاں بڑھتی گئیں اور اس کا سکہ چوروں اور ڈاکوؤں کے دلوں میں بیٹھ گیا۔ان لٹیروں نے اپنے علاقے تقسیم کر رکھے تھے۔ ایک چور دوسرے کے علاقے میں واردات نہیں کرتا تھا۔ خود منیر نے اپنے علاقے کے اردگرد بسنے والوں کو چھوٹ دے رکھی تھی۔ نہ خود یہاں واردات کرتا، نہ کسی اور کو کرنے دیتا، کیونکہ یہ اس کے جانے پہچانے بستی والے تھے۔ یہ اس کے آباؤ اجداد کا رین بسیرا تھا۔ جہاں اس کے پرکھوں کا قبرستان تھا، وہاں ان لوگوں کے بزرگوں کے مدفن بھی تھے، اور وہ بستی کی قبروں کا احترام کرتا تھا۔ایک بار اسے خبر ملی کہ اس کے گاؤں سے سو میل دور ایک مہاجن کے گھر میں بڑا مال آیا ہوا ہے۔ اردگرد کے چھوٹے موٹے تاجروں نے اپنی عورتوں کے زیورات رہن رکھ کر فصل کی خریداری اور تجارت کے لیے قرض لیا ہے۔ نقدی کے ساتھ کافی زیورات بھی مہاجن کی تجوری میں محفوظ ہیں۔ تبھی منیر نے اگلی واردات کے لیے اس کا گھر تاکا۔پندرہ دن وہ اس واردات کی تیاری میں لگا رہا۔ مکان اور موقع محل کو ہر طرف سے دیکھ لینے کے بعد مقررہ دن، آدھی رات کو واردات کی نیت سے وہاں جا پہنچا۔ اس نے مکان کی عقبی دیوار میں نقب لگانا تھی، مگر اسے یہ دیکھ کر حیرت ہوئی کہ وہاں تو پہلے ہی کوئی دیوار پھاڑ کر اندر جانے کا رستہ بنا گیا تھا۔ دیوار میں اتنا بڑا سوراخ تھا کہ ایک مرد رینگ کر اندر جا سکتا تھا۔ زمین پر مٹی گری ہوئی تھی، جو اتنی تازہ تھی کہ پتہ چلتا تھا واردات تھوڑی دیر قبل ہوئی ہے۔منیر اس سوراخ سے مکان کے اندر پہنچا۔ اس کا اندازہ درست تھا۔ کمرے کی دیوار میں تجوری نصب تھی، جس کا تالا ٹوٹا ہوا تھا، صندوق کھلے پڑے تھے، مال بھی غائب تھا۔ گویا ابھی ابھی اس کا کوئی بھائی بند اپنا کام دکھا گیا تھا۔ اسے شدید غصہ آیا کہ اتنے دنوں کی محنت اکارت گئی۔ اس پر طرّہ یہ کہ علاقہ اس کے حصے کا تھا۔ پھر کس بے ایمان نے یہ جرات کی تھی؟

ٹارچ کی روشنی میں وہ پیروں کے نشانات کا تعاقب کرتے ہوئے دریا کے کنارے پہنچ گیا۔ دریا جب رخ بدلتا ہے، اس کی گرفت سے کچھ زمین آزاد ہو جاتی ہے، جو بیٹ کہلاتی ہے۔ اس کی مٹی بڑی زرخیز ہوتی ہے۔ منیر سمجھ گیا کہ چور بیٹ کے علاقے کا رہنے والا ہے۔ اس نے ذہن پر زور دیا کہ اس علاقے میں کون کون سے چور اور لٹیرے بستے ہیں تاکہ ان کو عہد شکنی کا مزہ چکھا سکے۔دریا کے کنارے رک کر وہ غور کرنے لگا۔ یقیناً چور ادھر سے آیا ہے۔ اس سمت کے سوا کوئی دوسرا راستہ نہیں تھا۔ گویا چور کے تعاقب میں اس کو دریا پار جانا ہو گا، لیکن دریا چڑھا ہوا تھا۔ وہ صبح کا اجالا پھیلنے سے پہلے دریا پار نہیں کر سکتا تھا۔ تبھی وہ دریا کے کنارے کنارے چلنے لگا۔ وہ ان ٹھکانوں کی تلاش میں تھا جہاں ایسے وقت، اس کے جیسے فراری پناہ لے سکتے ہیں۔معاً اسے سامنے سرکنڈوں کا ایک گھنا جھنڈ نظر آیا۔ شک ہوا کہ چور یہیں نہ ہو۔ وہ جھنڈ کے اندر اتر گیا۔ یہ چھپنے کی بہترین جگہ تھی۔ چور واقعی وہیں تھا۔ جان کے خوف سے مہاجن تو کیا، دل والے ڈاکو بھی اس وقت ادھر نہیں آ سکتے تھے۔ منیر نے اس کو جا لیا اور دونوں گتھم گتھا ہو گئے۔تم نے میرے علاقے میں واردات کرنے کی جرات کیسے کی؟ منیر غرّایا۔ تبھی وہ ایک جھٹکے کے ساتھ پیچھے ہٹ گیا۔ جس چور سے وہ گتھم گتھا تھا، وہ مرد نہیں، عورت تھی۔تم نے عورت ہو کر چوری کی، وہ بھی اپنے علاقے سے اتنی دور؟ہاں، وہ نخوت سے بولی۔ تم مرد ہو کر چوری کر سکتے ہو تو کیا ایک عورت نہیں کر سکتی؟ اچھا، اب کیا چاہتے ہو؟پہلے تو میرے اس اچنبھے کو دور کرو کہ تم نے نقب لگانا اور تجوری کا تالا توڑنا کس سے سیکھا ہے؟ تمہارا معلم بھی ہمارے قبیلے کا کوئی بڑا گرو معلوم ہوتا ہے۔ یہ بچوں کا کھیل نہیں ہے۔یہ بچوں کا کھیل ہے یا نہیں، میں نے جو سیکھا جہاں سے سیکھا تمہاری بلا سے، اور میں بچہ نہیں، عورت ہوں۔ اب تم بتاؤ، مجھ سے کیا چاہتے ہو؟تم نے میرے علاقے میں چوری کی ہے، تو سارا مال ادھر لاؤ۔سارا کیوں؟ محنت تو میں نے کی ہے۔ آدھا آدھا کر لو۔اور تمہارا شریک کار؟میرا کوئی شریک کار نہیں، میں اکیلی ہی میلوں پیدل چل کر آئی ہوں۔مگر تم نے عہد شکنی کی۔ یہ علاقہ میرا ہے۔ ایسا کیوں کیا تم نے؟میرے بھائی نے اکسایا تھا مجھے کہ دریا پار جاؤ، وہاں مال بہت ہے۔اس کو کیسے خبر ہوئی، کیا وہ بھی چور ہے؟ہاں، کیا تم گھمن کو نہیں جانتے؟اچھا، تو تم اس کی بہن ہو۔ تو کیا اس نے چوڑیاں پہن لی ہیں، جو وہ گھر بیٹھا ہے؟ تیرے دونوں بھائی بزدل ہیں۔ ڈاکے کے لیے شیر کا دل چاہیے، اور تیرے بھائی کبھی بنگالوں سے کسی کی بکری، ایک ماں، کسی کی بھینس بانسک لی۔ بہت ہوا تو آڑھتی کے گودام سے ایک آدھ گندم کی بوری گھسیٹ لے آئے۔منیر کی بڑکیں سن کر اسے سبکی محسوس ہوئی، مگر وہ ہار ماننے والی نہ تھی۔ فوراً فخر اور یقین سے بولی:ان کا ذکر رہنے دے، کیا تُو نے سوہنا کا نام سنا ہے؟ چاروں طرف اس کی دھوم تھی۔ انگریز حاکم نے پچاس ہزار اشرفیاں مقرر کر رکھی تھیں اس کے سر کی۔ میں اس کی بیٹی ہوں۔اچھا! کیا تُو سچ کہہ رہی ہے؟ منیر نے نیم تاریکی میں آنکھیں پھاڑ کر اسے دیکھنے کی کوشش کی۔ صورت تو دکھا، چاند کی پھیکی روشنی میں ٹھیک طرح سے دکھائی نہیں دے رہی۔صورت کیا، شان دیکھنی ہوتی ہے آدمی کی۔ وہ نخرے سے بولی۔ہاں، وہ شاندار آدمی تھا، بڑا جی دار! مرتے دم تک ہاتھ نہ آیا تھا۔ تمام عمر جنگلوں میں بسر کر دی تھی اس نے۔ سنا ہے انگریزوں کے خلاف قبیلوں کی مدد کرتا تھا؟ٹھیک سنا ہے تُو نے۔ تبھی تو اس کے سر کی اتنی قیمت مقرر کی تھی انگریزوں نے۔ وہ جس گھر پناہ کو چلا جاتا، کوئی اس کی مخبری نہ کرتا۔ اگر وہ بُرا انسان ہوتا تو کیوں لوگ اتنا پیار کرتے اس سے؟عورت کی باتوں سے سچائی کی خوشبو آ رہی تھی۔ منیر کے دل میں اس کی قدر ہو گئی۔پو پھٹنے لگی ہے، میں اب چلتی ہوں۔دریا تو چڑھا ہوا ہے، کہے تو پار کرا دوں؟ وہ طنزیہ نہیں، سنجیدگی سے بولا۔کیسے؟ایسے ہی جیسے نظام ستی نے ہمایوں کو پار کرایا تھا۔عورت کی باتوں نے منیر کے دل کو گدگدایا۔ اس کا جی چاہا کہ ابھی کے ابھی سورج نکل آئے اور وہ اس کا چہرہ اچھی طرح دیکھ لے۔ شاید اسے دوبارہ دیکھنے کی آرزو میں عمر بھر بھٹکنا پڑے۔سن ذرا، ایک لمحے کے لیے ٹھہر جا۔نہیں ٹھہر سکتی، مجھے جانا ہی ہے۔ وہ اٹھ کھڑی ہوئی۔اچھا، نام ہی بتا دے۔بتا تو دیا ہے، سوہنے دی پتری۔اپنا نام بتا، جو تیرے ماں باپ نے رکھا۔سوجھلا، سوجھلا نام ہے میرا۔مطلب؟ یعنی اُجالا؟ہاں۔وہ چل دی۔ منیر نے آواز دی:یہ تو لے جا!اس نے زیورات کی پوٹلی اس کی طرف پھینکی۔تُو نے کہا تھا نا کہ یہ مال تیرے علاقے کا ہے، تو پھر تم ہی رکھو۔منیر کے دل میں اس کے لیے جگہ بن چکی تھی۔نہیں، یہ تو لے جا۔ تیری محنت ہے نا! اس نے نرم لہجے میں جواب دیا۔ میں عورت کا لوٹا ہوا مال نہیں رکھوں گا۔اچھا، تو یہ میری امانت سمجھ کر رکھ لے۔ جس کو چاہے، پہنا دینا میری طرف سے۔یہ کہہ کر وہ چلی گئی اور منیر ہاتھ ملتا رہ گیا۔ چند لمحوں تک اس کے پیروں نے جنبش نہ کی۔ بالآخر خود کو جگایا، پوٹلی اٹھائی، کمر سے باندھی اور جھنڈ سے نکل کر دوسری جانب چلنے لگا۔

جب سے وہ جنگلی ہرنی اس سے ٹکرائی تھی، اس کا چین جاتا رہا تھا۔ اب وہ زیبو کو بھول گیا تھا۔ ہر وقت اس کے دل و ذہن پر سوجھلا چھائی رہتی تھی۔ کئی بار اس نے سوچا کہ گھمن سے التجا کرے، مگر وہ اس کے پائے کا آدمی نہ تھا۔ منیر اپنے تئیں خود کو اس سے برتر جانتا تھا۔ وہ اسے حکم دے سکتا تھا، التجا نہیں کر سکتا تھا۔اب اس کا جی چوری چکاری میں نہیں لگ رہا تھا۔ کئی بار خبر ملی کہ فلاں مہاجن کے یہاں مال اترا ہے، مگر اس نے کوئی توجہ نہ دی۔ ایک دن وہ ایک درخت کے نیچے بیٹھا تھا کہ پیغام ملا، سوجھلا نے اپنے مال کا حساب مانگا ہے۔ وہ سمجھ گیا کہ وہ اس کا انتظار کر رہی ہے۔ اپنی خودداری کو لپیٹ کر وہ اس کے علاقے پہنچ گیا۔گھمن اسے دیکھ کر خوش ہو گیا اور پوچھا،استاد! آج بیٹ کو کیسے آنا ہوا؟منیر چپ رہا، اس سے کوئی بات نہ بن پا رہی تھی۔ تب گھمن نے خود ہی بات آگے بڑھائی۔مجھے سوجھلا نے بتا دیا ہے کہ تمہارے علاقے سے مال لوٹنے کی غلطی ہم سے ہوئی۔ یہ تمہاری امانت تھی، پھر بھی تم لوٹانے آئے، یہ بڑی بات ہے۔ہاں، مال واپس دینے آیا ہوں۔منیر نے زیورات کی پوٹلی گھمن کے آگے رکھ دی۔ تھوڑی دیر خاموشی رہی۔ گھمن نے پھر بات آگے بڑھائی۔ایک بات کہنا چاہتا ہوں۔ خود کہنا اچھا تو نہیں لگتا، مگر ضروری بھی ہے۔ سوجھلا تیرے لائق ہے، اور تُو اس کے لائق۔ میری تجویز ہے کہ تم آپس میں شادی کر لو۔منیر تو یہاں آیا ہی اسی ارادے سے تھا۔ اس نے سر جھکا کر گھمن کے گھٹنوں پر دونوں ہاتھ رکھ دیے، جس کا مطلب تھا کہ یہ عزت افزائی اسے منظور ہے۔پس… تبھی ان کے ہاں لڑکا پیدا ہوا۔ اس نے سوجھلا کی مناسبت سے بیٹے کا نام “سوجھل” رکھ دیا، کیونکہ دونوں ہی اس کی زندگی کا اجالا تھے۔اس نے سوجھل کی خاطر چوری ڈکیتی چھوڑ دی تھی۔ سوچا تھا کہ بیٹے کو ایک محنت کش کسان بننے دے گا۔ اس نے خود محنت مشقت سے اس ویرانے میں زمین کے ایک چھوٹے سے ٹکڑے کو، جس کا رقبہ صرف چار بیگھے تھا، آباد کر کے گھر بنایا تھا۔ گائے، بھینس اور بکریوں پر زندگی گزار دی تھی۔ وہ نہیں چاہتا تھا کہ اس کے بیٹے کو زمانے کی بری ہوا لگے۔اس نے اپنے علاقے کا نام بھی بیٹے کے نام پر “سوجھل والی” رکھ دیا۔ جب سوجھل جوان ہو گیا، تو اس نے اپنی ماں کی زبانی اپنے نانا یعنی سوہنا کی داستانِ حیات سنی۔ ماں نے اپنے والد کو ڈاکو نہیں، بلکہ ایک ہیرو بنا کر پیش کیا تھا۔سوجھل اس سے بے حد متاثر ہوا اور اس نے بھی وہی کیا، جو اس کے نانا نے کیا تھا۔ وہ ڈاکے مارتا، لیکن صرف ان گھروں پر، جن کے مکین انگریزوں کی مدد کرتے تھے۔ کئی بار وہ انگریزوں کے منہ کو آیا، مگر کبھی پکڑ میں نہ آیا۔جب اس نے سنا کہ انگریزوں نے جولاہوں کے انگوٹھے کٹوا دیے تھے، تو اس کا جوان خون کھول اٹھا۔ اب وہ ایک فراری تھا، کیونکہ اپنے قبیلے کے لیے لڑا تھا، اور انگریز حاکم نے اس کے سر کی قیمت مقرر کر رکھی تھی۔ وہ عمر بھر جنگلوں میں بھٹکتا رہا۔جب اس کے والدین کی وفات ہو گئی تو اس کی زمین، “سوجھل والی”، دوسرے لوگوں میں تقسیم کر دی گئی۔ آج بھی ڈیرہ غازی خان کے قریب “سوجھل والی” گاؤں موجود ہے، لیکن اصل سوجھل کو کوئی نہیں جانتا۔
 

Create an account or login to read stories

You must be a member in order to leave a comment

Create account

Create an account on our community. It's easy!

Log in

Already have an account? Log in here.

New posts
Back
Top