Background image: Header

خوش آمدید

لو اسٹوری فورم ، اردو دنیا کا نمبر ون اردو اسٹوری فورم ، ابھی فورم کےممبر بنیں اور اردو کی بہترین کہانیاں پڑھیں ۔

Register Now!
Welcome image
  • PAID PLANS

    ٹاپ پیکیج
    👑

    PREMIUM

    16000
    چھ ماہ کے لیے
    بہترین ڈیل
    💎

    VIP+

    6000
    چھ ماہ کے لیے
    بنیادی ڈیل

    VIP

    3500
    تین ماہ کے لیے

Moral Story عہد رفتہ کے مسافر۔۔۔

Joined
Jun 10, 2025
Messages
1,120
Reaction score
54,997
Location
Karachi
Gender
Male
یہ جاتی سردیوں کی ایک دلربا سی شام تھی۔ موسم قدرے خشک مگر خوشگوار تھا کہ اسی اثنا میں ایک بائیک سوار میرے قریب سے نہایت آہستگی کے ساتھ گزر گیا۔ جونہی میری نظر اس پر پڑی، آنکھوں میں روشنی سی بھر گئی۔ میری دھڑکنیں سانسوں کا ساتھ نہیں دے رہی تھیں اور آگے جانا دشوار لگ رہا تھا، سو میں نے پلٹ جانے میں ہی عافیت جانی اور الٹے قدموں بمشکل گھر کی دہلیز تک پہنچی۔ گھر میں داخل ہونے کے بعد بھی مجھے کچھ سجھائی نہیں دے رہا تھا۔ عہدِ رفتہ میں کسی کے کہے ہوئے یہ الفاظ مسلسل میرا تعاقب کر رہے تھے: “یاد رکھنا! تھوڑی دیر کے لیے مل بیٹھنے والے ضروری نہیں کہ زندگی کے ساتھی بن جائیں۔ جب راستے جدا ہوں تو پل بھر کے لیے ملنے والے مسافروں کی یادیں بھی بے کار ہو جاتی ہیں”، مگر مجھے ایسا لگا جیسے گزرے دنوں کی بیاض کسی تند و تیز جھونکے سے ورق ورق بکھر رہی ہو اور میں ہر ورق کے تعاقب میں بھاگ رہی ہوں۔ یہ ان دنوں کی کتھا ہے جب میں فرسٹ ایئر کی طالبہ تھی اور ہمیں کرائے کے مکان میں آئے کچھ ہی روز گزرے تھے۔ گرمیوں کی چھٹیاں ختم ہو چکی تھیں اور اب بھرپور انداز سے پڑھائی شروع کرنا تھی۔ تین ماہ تو میں نے کھیل کود میں گزار دیے تھے، ایک دن بھی کتاب کو ہاتھ نہیں لگایا تھا اور اب کالج کھلتے ہی امتحانات شروع ہونے والے تھے۔ پرنسپل نے وارننگ دیتے ہوئے کہہ دیا تھا: “جن لڑکیوں کے نمبر کم ہیں، انہیں میں سفارش پر داخلہ تو دے رہی ہوں، لیکن اگر چھٹیوں کے بعد پہلے سہ ماہی ٹیسٹ میں انہوں نے پاس ہو کر نہ دکھایا تو ان کا داخلہ منسوخ کر دوں گی”۔ میں بھی انہی معدودے چند لڑکیوں میں سے تھی جن کا داخلہ انتہائی تگ و دو اور سفارش پر ہوا تھا۔

اب کیا ہو گا؟ میں کتابیں کھولتی تو سر میں درد شروع ہو جاتا، آنکھوں کے سامنے اندھیرا سا چھانے لگتا اور ہلکا ہلکا بخار محسوس ہونے لگتا تھا۔ آتا جاتا تو کچھ تھا نہیں، اور ایسی ہی کچھ کیفیت میری چھوٹی بہن صنوبر کی بھی تھی کیونکہ کھیل کود میں وہ میری برابر کی شریک تھی۔ آخر کار ہم دونوں نے دست بستہ اماں جان سے عرض کی کہ ہمارے لیے کسی ٹیوٹر کا بندوبست کیا جائے جو گھر پر ہی آ کر پڑھا دے، کیونکہ بھائی اور ابا ہمیں باہر کہیں جا کر پڑھنے کی اجازت دینے کے حق میں نہیں تھے اور پڑھائی میں مجھے سخت دشواری کا سامنا تھا۔ ہمارے پڑوس میں نہایت شریف لوگ رہتے تھے، جن میں فواد سب سے چھوٹا تھا۔ میں نے فواد کا نام تو سن رکھا تھا، مگر یہ معلوم نہ تھا کہ وہ اتنی دلفریب شخصیت کا مالک ہو گا۔ وہ ایسا سحر انگیز انسان تھا جس کے سامنے دوسرے کا وجود ہی ماند پڑ جاتا تھا۔ اس نے بھی ابھی ایف اے کے امتحانات دیے تھے اور نتیجے کا انتظار کر رہا تھا۔ امی کا ان کے ہاں آنا جانا تھا، چنانچہ فواد کی امی سے جب میری پڑھائی کا تذکرہ ہوا تو انہوں نے فواد سے کہا: “بیٹے! ملک صاحب کی بیٹی کی پڑھائی میں مدد کر دیا کرو۔” اپنی والدہ کے حکم پر اس نے ہامی بھر لی اور ایک روز امی جان نے ہمیں یہ مژدہ سنا دیا کہ کل شام تیار رہنا، فواد تمہیں پڑھانے آئے گا۔ اس بات کی اجازت وہ ابو اور بھائی سے پہلے ہی لے چکی تھیں۔

وہ دن بھی لاپروائی میں گزر گیا کیونکہ ہمیں کالج کی مصروفیات اور ناز برداریوں سے فرصت ہی کہاں تھی جو فواد کے بارے میں سوچتیں۔ دوسرے روز ہمارے ہاتھوں میں کتابیں تھیں اور فواد صاحب سامنے موجود تھے، جو بڑی سنجیدگی سے ہمیں لیکچر دے رہے تھے۔ وہ ساتھ ساتھ ہمیں کالج میں پڑھائی کا طریقہ اور آئندہ کے لیے لائحہ عمل بھی بتا رہے تھے۔ یہ ہماری پڑھائی کا پہلا دن تھا؛ جی میں آئی کہ کچھ شرارت کریں، مگر فواد صاحب اس قدر یکسوئی اور متانت کا پیکر تھے کہ مجال ہے جو اپنی سنجیدہ گفتگو میں کوئی ایسا خلا چھوڑیں جہاں ہم اپنی ذرا سی بھی شوخیِ گفتار سے کام لے سکیں۔ وہ تو بڑے روکھے انسان معلوم ہوتے تھے؛ روز ٹھیک شام چار بجے آ جاتے اور پڑھائی کے سوا ادھر ادھر کی ایک بات بھی زبان پر نہ لاتے۔ اب یہ ہمارا روز کا معمول بن چکا تھا؛ وہ ہمیں پڑھاتے جاتے اور ان کی سبق آموز باتیں ہمارے دل و جان پر اثر کرتی جاتیں۔ وقت کا پنچھی اڑتا رہا اور دیکھتے ہی دیکھتے تین ماہ گزر گئے، مگر فواد کی سنجیدگی کا وہی عالم رہا۔

ادھر ہمارے حالات یہ تھے کہ ہمیں کالج جانے کے بجائے اب اس (پڑھائی کے) وقت کا شدت سے انتظار رہنے لگا تھا۔ ہم کب تک اپنے آپ سے لڑتیں؟ خصوصاً جب سامنے والا انسان حد درجہ خوبصورت بھی ہو۔ چنانچہ کچھ دنوں سے ہمیں اپنے احساسات و جذبات پر اپنی گرفت ڈھیلی ہوتی محسوس ہونے لگی۔ دل مسلسل مجبور کر رہا تھا کہ کوئی تو ایسی بات ہو جس کی تازگی وہ بھی محسوس کریں۔ تب ایک دن یونہی شرارتاً میں نے اپنی نوٹ بک پر—جس میں انگریزی کا ترجمہ کرنا تھا—کچھ ایسے اشعار لکھ دیے جن میں اپنے جذبات کی ترجمانی کی کوشش کی گئی تھی۔ نوٹ بک کے اس صفحے پر نظر پڑتے ہی ان کے ماتھے پر بل پڑ گئے اور وہ گویا ہوئے: “کچھ دنوں سے میں آپ کے رویے میں تبدیلی محسوس کر رہا ہوں۔ کیا بات ہے، پڑھنے میں دل نہیں لگتا کیا؟”
“خدا کا شکر ہے آپ نے کچھ محسوس تو کیا!” میں نے زیرِ لب گنگنایا۔ یہ سن کر وہ اور زیادہ سنجیدہ ہو کر بولے: “آپ کو اپنی اسٹڈیز کا خیال ہونا چاہیے، ایسی فضول باتوں سے آپ اپنا ہی نقصان کریں گی”۔
“جی سر!” میں نے انجان بن کر معصومیت سے ان کی طرف دیکھا اور بمشکل میرے گلے سے یہی ایک ہلکی سی آواز نکل سکی۔ وہ سر تا پا ہمیں اپنی بردبار شخصیت کا اسیر کر چکا تھا اور ہمارے روز و شب کا چین و سکون چھین چکا تھا۔ وہ ہمیں صرف بے کار باتوں میں نہ الجھنے کا مشورہ دے کر چلا گیا تھا۔ اب میں اکثر سوچا کرتی تھی کہ یہ سب کیفیات صرف میری طرف ہی ہیں یا وہ واقعی پتھر کا بنا ہے؟ وہ کوئی عمر رسیدہ بزرگ بھی نہیں تھے، ہم سے بمشکل دو چار سال ہی بڑے ہوں گے، لیکن رعب ایسا تھا جیسے ہم سے کئی برس بڑے ہوں۔ کچھ اور دن گزر گئے، ہم نے خود کو بہت سمجھایا مگر اپنی بالی عمر اور البیلی سوچوں پر قابو ہی نہ پاتی تھیں۔ یہ شخص جاتے ہوئے جیسے ہماری دھڑکنیں بھی اپنے ساتھ لے جاتا تھا اور پھر بھی ہر بات سے بے خبر رہتا تھا؛ نجانے یہ کیسا بے خبر تھا؟ مگر ہم نے بھی ہار نہیں مانی کیونکہ ہارنا تو ہم نے سیکھا ہی نہ تھا۔ چنانچہ ایک روز اس کے جاتے وقت میں نے ایک کاپی اس کے ہاتھ میں تھما دی، جس میں دراصل میرے دل کا حالِ زار رقم تھا اور جس کی آخری سطروں میں، میں نے اس سے دوستی کرنے کی التجا کی تھی۔

“میں لڑکے اور لڑکی کی دوستی کے حق میں نہیں ہوں اور بالفرض اگر دوستی کر بھی لوں، تو تم کہاں تک میرا ساتھ نبھاؤ گی؟ کیا صبح و شام، وقتاً فوقتاً پارکوں اور ہوٹلوں کے چکر کاٹو گی؟ لہذا آئندہ ایسے ارادوں کو اپنے دل میں جگہ مت دینا۔ فواد اگر کسی سے دوستی کرتا ہے تو پھر اسے دل سے لگا لیتا ہے۔” یہ اس کا جواب تھا؛ یہ الفاظ تھے یا کوئی صحیفہ، جو آج بھی مجھے اسی طرح یاد ہیں۔ اس واقعے کے بعد فواد کچھ دنوں کے لیے پڑھانے نہیں آیا۔ اب تو ہم خوب پچھتائے اور ہمیں اداسیوں کے گھٹا ٹوپ اندھیروں نے آن گھیرا۔ ہم ماہیِ بے آب کی طرح تڑپتے تھے اور کتابوں میں جی ہرگز نہیں لگتا تھا۔ اس قدر بے اعتنائی اور ایسی نخوت خدا کسی کو نہ دکھائے۔ چنانچہ ہمارے مسلسل اصرار پر امی جان—جنہیں ہماری پڑھائی بہت عزیز تھی—دوبارہ ان کے گھر گئیں، تو فواد نے وقت نہ ہونے کا بہانہ کر دیا۔ لیکن ہم نے بھی امی کا پیچھا نہ چھوڑا، لہذا اپنی والدہ کے حکم پر وہ ایک بار پھر ہمارے سامنے موجود تھا۔ ہمارے درمیان ایک سرد جنگ کا سماں تھا۔ ہم نے نہایت باادب ہو کر گزارش کی: “سر! ہمیں معاف کر دیجیے اور خدارا ہمارے فائنل امتحانات تک ہمیں پڑھا دیجیے۔ شاید آپ کی موجودگی ہماری کامیابی کا زینہ بن جائے”۔
فواد نے طنزاً کہا: “بیساکھیوں کے سہارے انسان چل تو سکتا ہے مگر دوڑ نہیں سکتا، یہ بات یاد رکھیے گا۔ بہرحال، آپ کی ناکامی مجھے منظور نہیں”۔

یوں پڑھائی کا ٹوٹا ہوا سلسلہ ایک بار پھر چل نکلا، لیکن اب وہ کافی بے تکلف اور دلیر ہو کر ہم سے بات کر لیا کرتے تھے۔ ہمارے امتحانات کی تاریخ آ چکی تھی۔ ایک روز پڑھاتے پڑھاتے وہ یوں گویا ہوئے: “میرا گریجویشن کا رزلٹ آ چکا ہے اور اب مجھے ایم بی اے کرنا ہے، جس میں میرا داخلہ بھی ہو جائے گا۔ مجھے امید ہے کہ خدا آپ کو بھی کامیاب کرے گا اور ہاں، دیکھو! زندگی میں کبھی پریشان نہیں ہوتے اور ہمیشہ محنت پر یقین رکھتے ہیں”۔ یہ الفاظ سنتے ہی آنسو موتیوں کی مانند میری آنکھوں سے بہہ نکلے۔ مجھے آس پاس کے ماحول کا کوئی ادراک نہ رہا اور بے ساختہ میری زبان سے نکلا: “فواد! کیا معلوم ہم آپ کو یاد بھی رہیں گے یا نہیں؟”
انہوں نے جواب دیا: “دیکھو بھئی! ایک تو زندگی میں کام اتنے ہوتے ہیں کہ کوئی کسی کو یاد نہیں رکھ سکتا، پھر اتنے سارے لوگ زندگی میں آتے اور ملتے ہیں، آدمی کس کس کو کہاں تک یاد رکھے؟” انہوں نے اتنی آسانی سے یہ سب کہہ دیا کہ میں بے اختیار رو پڑی۔ اس کے بعد فواد ہم سے جدا ہو گیا۔ وہ اپنے بہتر مستقبل اور اعلیٰ تعلیم کے لیے دوسرے شہر جا رہا تھا اور ہم بس دیکھتے ہی رہ گئے۔ اس روز اس نے حسبِ معمول کچھ نصیحتیں کیں اور پھر ایک کاغذ کا ٹکڑا بھی دیا، جو بعد میں میری تنہائیوں میں مجھ سے ہم کلام ہوتا رہا۔ اس پر لکھا تھا: “میں نے کڑی شرطیں بھلا کر آخر آپ کو اپنا دوست مان ہی لیا ہے۔ زندگی میں جب بھی، جہاں بھی ضرورت پڑے، یہ بندہ آپ کو ہمیشہ ایک مخلص دوست کی طرح ہی ملے گا”۔ اس کے بعد وہ کبھی نہ آیا۔ ہم بہت دن اداس اور پریشان رہے۔ کبھی کبھار ہوا کے دوش پر اس کی کوئی اڑتی اڑاتی خبر مل جاتی، تو دل کو وقتی سا سکون آ جاتا۔

وقت گزرتا رہا اور شدتِ جذبات پر وقت کی اوس پڑتی رہی۔ پھر وہ دن بھی آیا جب ہم نے کرائے کا وہ مکان چھوڑ دیا اور اسی محلے میں ہمارا اپنا ذاتی گھر تعمیر ہو گیا۔ میرے گریجویشن کرنے کے بعد گھر والوں نے میری شادی کر دی اور اب میرا ایک بیٹا بھی تھا۔ اسی دوران مجھے اپنے آبائی گھر آنے کا اتفاق ہوا تو باتوں باتوں میں فواد کا ذکر چل نکلا۔ پتا چلا کہ وہ ایم بی اے کرنے کے بعد اسی شہر کے ایک اعلیٰ ادارے میں اچھے عہدے پر فائز ہو چکا ہے۔ یہ سب معلوم ہونے پر میں نے سوچا: “فواد! تم واقعی ایک بہت اچھے انسان تھے، جبکہ میں تو اس وقت ناسمجھی کی عمر میں تھی۔ اگر تم میرے اس ناپختہ ذہن میں جھوٹی سچی محبت کا افسانہ بٹھا دیتے، تو عین ممکن تھا کہ ہم دونوں کسی غلط روش پر چل نکلتے اور یوں ہم دونوں کا مستقبل تاریک ہو جاتا”۔ اس تذکرے کو ابھی دوسرا ہی دن تھا کہ مجھے کسی کام سے باہر جانا پڑا اور پھر چند قدم آگے ہی، دور سے مجھے موٹر سائیکل پر فواد آتا دکھائی دیا۔ اس کے کہے ہوئے پرانے الفاظ میرے کانوں میں گونجنے لگے اور میری ایک عجیب سی سحر انگیز حالت ہو گئی کہ “ہم جس کو دوست بناتے ہیں، پھر اسے اپنے دل سے لگا لیتے ہیں”۔ میرے گزرے ہوئے جذبوں نے جب مجھے ایک گہری نظر سے دیکھا، تو اس کی یہ بات مجھے پانی پانی کر گئی اور میں نے خدا کا لاکھ لاکھ شکر ادا کیا کہ اگر میں پاگل تھی بھی، تو وہ پاگل نہیں ہوا تھا۔ یہ اچھا ہی ہوا، ورنہ آج جب میں ایک ایسے انسان کی بیوی ہوں جو مجھ سے بے پناہ پیار کرتا ہے، تو میں اس کی نظروں میں کیا رہ جاتی؟ یہ نصیحت ان تمام لڑکیوں کے لیے ہے جو فریبی لوگوں کے ہاتھوں اپنی کم عمری میں کھلونا بن جاتی ہیں۔ زندگی میں آنے والا ہر شخص واقعی زندگی کا ساتھی نہیں ہو سکتا، اور ہر ملنے والا انسان فواد جیسا مخلص نہیں ہو سکتا۔
 

Create an account or login to read stories

You must be a member in order to leave a comment

Create account

Create an account on our community. It's easy!

Log in

Already have an account? Log in here.

New posts
Background image: Footer
Back
Top