• 📚 لوو اسٹوری فورم ممبرشپ

    بنیادی ڈیل

    وی آئی پی

    5000
    تین ماہ کے لیے
    بہترین ڈیل
    💎

    وی آئی پی پلس

    8000
    چھ ماہ کے لیے
    ٹاپ پیکیج
    👑

    پریمیم

    20000
    چھ ماہ کے لیے

Moral Story غرور اور طاقت کی جنگ

Joined
Jun 10, 2025
Messages
934
Reaction score
48,754
Points
93
Location
Karachi
Gender
Male
کچھ الفاظ کی بازگشت عمر بھر کانوں میں گونجتی رہتی ہے، خاص طور پر وہ جو یا تو بہت میٹھے ہوں یا انتہائی کڑوے۔ کچھ اسی طرح، اس اسپتال کے معروف ڈاکٹر کے مریضوں کو بھی اُن کے جملے زندگی بھر یاد رہیں گے۔ کڑواہٹ سے بھرپور ان کے جملے کچھ یوں ہوتے تھے: میں مرض دیکھ کر عمر بتا سکتا ہوں، میں ڈاکٹر مسعود جمالی ہوں۔ جتنا پرانا آپ کا مرض نہیں، اس سے زیادہ میرا تجربہ ہے۔ آپ کا جسم ایکسپائر ہو چکا ہے، اب مزید آپ اسے برداشت نہیں کر سکتے۔ ان کے علاج پر پیسے ضائع کرنے کی ضرورت نہیں۔ آپ کے والدین اب بوڑھے ہو چکے ہیں، لائف اسپین ویسے بھی ساٹھ سال ہے، یہ اور کتنا جی لیں گے؟ ویسے ہی اپنی عمر سے زیادہ بہاریں دیکھ چکے ہیں۔ مجھے میرا پروفیشن مت سکھائیں، میں نے آج تک ایک بھی کیس غلط تشخیص نہیں کیا۔یہ ہیں ڈاکٹر مسعود جمالی، جن کی گردن میں غرور کا سریا کچھ زیادہ ہی سخت ہے۔ انہیں خود پر حد زیادہ اعتماد ہے۔ دوسرے لفظوں میں، یہ مغرور ہیں۔ مگر کیا یہ صرف مغرور ہی ہیں؟ نہیں، یہ بے حس بھی ہیں۔ کچھ لوگ محنت سے بلندیوں تک پہنچتے ہیں، جبکہ کچھ کے لیے عروج پانا اتنا ہی آسان ہوتا ہے جتنا کسی بچے کا غبارے والے سے غبارہ خرید لینا۔ مگر جو چیز آسانی سے مل جائے، وہ اکثر اپنی قدر کھو دیتی ہے۔ڈاکٹر مسعود جمالی پچاس کے پیٹے میں ہیں، ایک بیوی اور دو بچوں کے باپ۔ انہیں لگی لپٹی باتیں سخت ناپسند ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ انسان کو حقیقت شناس اور حقیقت پسند ہونا چاہیے۔ متناسب نقوش، گندمی رنگت اور مشرقی چہرہ لیے یہ شخص، اس وقت اپنے کمرے کے باہر ویٹنگ روم میں موجود مریضوں کی طویل قطار کے باوجود، بے نیاز بیٹھا ہے۔ شاید یہی ہجوم انہیں یہ بھُلا دیتا ہے کہ جو چیز جتنی زیادہ اکٹھی ہو، وہی سب سے پہلے بکھرتی ہے۔ یا شاید آج کے دور میں قدر صرف اُن ہی لوگوں کی ہے، جو دوسروں کی عزت اُتارنے میں لمحہ نہیں لگاتے۔مگر تصویر کا دوسرا رخ یہ بھی ہے کہ انہیں عزت صرف منہ پر ملتی ہے، اور پیٹھ پیچھے صرف گالی
***

ایک نسوانی آواز پر انہوں نے جھکا ہوا سر اٹھایا تو نظر دروازے سے اندر داخل ہوتی ایک خوبصورت، غزالی آنکھوں والی دوشیزہ پر جا ٹھہری۔ وہ اس وقت ہلکے گلابی رنگ کے سادہ سے، ڈھیلے ڈھالے کرتے کے ساتھ سفید کڑھائی والا پاجامہ پہنے ہوئے تھی۔ چہرہ کرتے کے ہم رنگ حجاب میں مقید تھا۔ وہ نہ صرف حسین تھی بلکہ اس سے کہیں زیادہ دلکش اس کی غزالی آنکھوں کی چمک تھی۔ بعض اوقات حسن ایسا ہوتا ہے کہ دل بے اختیار اس کی طرف کھنچنے لگتا ہے۔ڈاکٹر مسعود جمالی نے خود کو سختی سے روکا، چہرے پر پیشہ ورانہ مسکراہٹ سجائی اور حسن کے اُس شاہکار کو نشست سنبھالنے کا کہا۔ لڑکی خود اعتمادی کے ساتھ آ کر بیٹھ گئی، اور یہی خود اعتمادی ڈاکٹر مسعود جمالی کو کچھ خاص پسند نہ آئی۔وہ بولی، یہ لیجیے رپورٹس، سارے ٹیسٹ کروا لیے ہیں۔ اس نے ہاتھ میں پکڑی فائل میز پر رکھی اور ڈاکٹر کی طرف سرکا دی۔ کمرے میں اب صرف ڈاکٹر کے کھنکھارنے کی آواز گونج رہی تھی۔ وہ فائل دیکھتے ہوئے وقفے وقفے سے لڑکی پر تنقیدی نگاہ ڈال رہے تھے، مگر مجال ہے کہ اس کے اعتماد میں ذرا بھی لرزش آئی ہو۔مِس زنیرہ، انہوں نے سانس فضا کے سپرد کرتے ہوئے بات کا آغاز کیا۔ میں آپ کو کسی جھوٹی امید میں نہیں رکھوں گا۔ میں ایک عملی انسان ہوں، اور یہ میرا فرض ہے کہ اپنے مریض کو حقیقت سے آگاہ رکھوں اور مفید مشورہ دوں۔ وہ رُکے، جیسے کچھ سوچ رہے ہوں، پھر فائل میز پر رکھ کر اُس کی طرف متوجہ ہوئے۔ آپ کا کینسر آخری اسٹیج پر ہے۔ آپ کے پاس گنتی کے چند دن بچے ہیں۔ زنیرہ کی آنکھیں پھیل گئیں، لیکن وہ خاموش رہی۔آپ جائیں، اور جن جن کا دل دکھایا ہے، ان سے معافی مانگیں۔ ان کی آواز میں اب قدرے نرمی تھی۔ میں جانتا ہوں، اس خبر نے آپ کو ہلا کر رکھ دیا ہوگا، مگر یہی حقیقت ہے۔ اپنے علاج پر پیسہ ضائع کرنے کے بجائے کسی کو خیرات کر دیں، کسی کا بھلا ہو جائے گا۔ آپ اپنی ساری جائیداد بیچ کر بھی زندگی نہیں خرید سکتیں۔ آپ کے کیس میں میڈیکل سائنس ناکام ہو چکی ہے۔ آپ کی بیماری کی کوئی دوا موجود نہیں۔وہ سکون سے مسکراتی ہوئی، ڈاکٹر کے تاثرات کو جانچتی، ان کے الفاظ کو ذہن نشین کرتی جا رہی تھی۔ کچھ لمحوں کے لیے ڈاکٹر جمالی کو یوں محسوس ہوا جیسے وہ ذہنی مریضہ ہو، جو اپنی موت کی خبر سن کر بھی پُرسکون انداز میں بیٹھی مسکرا رہی ہو۔ وہ سمجھ نہیں پائے۔انہوں نے کہا، آپ جیسی لڑکی کے ساتھ ایسا نہیں ہونا چاہیے تھا۔ کہیں آپ ان رپورٹس کو جعلی تو نہیں سمجھ رہیں؟ ان کے لہجے میں اب نرمی کے ساتھ ہمدردی بھی شامل ہو چکی تھی۔ وہ اُس کی خوبصورتی سے بے اختیار متاثر ہوئے، ترس کھا گئے۔ ایسی خوبصورتی، جو شاید اس کی تھی ہی نہیں… کاش انسان یہ سمجھ پاتا۔زنیرہ نے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ کہا، آپ کو ایسا کیوں لگ رہا ہے کہ میں ان رپورٹس کو جعلی سمجھ رہی ہوں؟ وہ دونوں کہنیاں میز پر رکھ کر قدرے آگے جھکی۔ دیکھیں، میں مانتا ہوں کہ یہ خبر آپ پر کسی بم کی طرح پھٹی ہو گی، مگر یہ حقیقت ہے۔ یہ آپ کی زندگی کا ایک کڑوا سچ ہے، اس سے منہ نہیں موڑا جا سکتا۔ آپ کو جلد ہی اپنا ڈیتھ سرٹیفکیٹ بنوانا پڑے گا، کیونکہ یہ کام کرنے کے لیے آپ کا کوئی وارث نہیں۔اُس نے پوری بات تحمل سے سنی، مسکرائی، دونوں ہاتھ میز پر رکھے اور کہنیوں کے بل آگے جھکی۔ اُس کے نقش بے حد خوبصورت تھے۔ ڈاکٹر کے دل کی رفتار ایک لمحے کو بے ترتیب ہوئی۔ اگر اُسے ایسی جان لیوا بیماری نہ ہوتی تو شاید وہ اسے اپنی بیوی بنانے کا سوچ بھی لیتے، مگر حقیقت پسندی کا تقاضا تھا کہ وہ خود کو سختی سے قابو میں رکھیں۔وہ دھیمے لہجے میں بولی، مسلمان ہیں آپ؟ رائیٹ۔ اُس نے گردن اثبات میں ہلائی۔ ڈاکٹر کے ابرو تعجب سے اٹھے۔ موت کی خبر سن کر یہ سوال کچھ غیر متوقع تھا۔کل نفس ذائقۃ الموت… آپ کا کیا خیال ہے، آپ کو موت نہیں آنی؟ ہم جیسے لوگوں کو آپ ترس بھری نگاہوں سے دیکھتے ہیں، آخر کیا سوچتے ہیں؟ وہ مسکرا رہی تھی، مگر اس کی نشیلی آنکھوں میں اب نمکین پانی اترنے لگا تھا۔ اُس نے پلکیں جھپک کر اُسے پیچھے دھکیلنا چاہا، مگر ایک قطرہ باغی ہو کر ٹپک ہی پڑا۔یہ بات یاد رکھیں، ڈیتھ سرٹیفکیٹ سب کا ہوتا ہے۔ ہمارا ظاہر ہو جاتا ہے، اور آپ کا پوشیدہ رہتا ہے۔ مگر ڈیتھ سرٹیفکیٹ آپ کا بھی ہے۔ ترحم بھری نگاہیں تو آپ کے وجود پر بھی پڑنی چاہییں ڈاکٹر صاحب۔ آپ لوگ زیادہ رحم کے مستحق ہیں۔ ہمیں تو مرنے سے پہلے خود کو سدھارنے کا ایک موقع مل جاتا ہے، مگر آپ جیسے لوگ اپنے ڈیتھ سرٹیفکیٹ کو پشت پر چھپائے، گمراہی اور گناہوں میں مگن رہتے ہیں۔ نہ آپ کو خود کو بدلنے کا موقع ملتا ہے، نہ آپ کے ارد گرد کے لوگ آپ سے مخلص ہوتے ہیں۔ پھر ایک دن، اچانک، موت کا اژدھا آپ کو نگل لیتا ہے۔اُس نے ایک گہرا سانس فضا میں چھوڑا، لبوں پر زبان پھیری، کندھے پر پڑا پرس سنبھالا اور کھڑی ہو گئی۔تو پھر، مجھ جیسے دوسرے لوگوں سے یہ بات کرنے سے پہلے ہزار بار سوچ لیجیے گا، کیونکہ جس موت سے آپ بے خبر بیٹھے ہیں، وہ کہیں آپ کو ہمیشہ کی نیند نہ سلا دے۔اُس نے دروازے کے لاک پر ہاتھ رکھا، مگر کچھ یاد آنے پر رک گئی، پیچھے مڑی، اور دھیمے لہجے میں گویا ہوئی۔اور وہ بھی مجھ سے پہلے۔ فی امان اللہ، ڈاکٹر مسعود جمالی۔پھر وہ دروازہ زور سے بند کر گئی۔ زندگی میں یہ پہلا موقع تھا جب کسی پیشنٹ کے سامنے ڈاکٹر مسعود جمالی کا چہرہ دھواں دھواں ہوا تھا۔ وہ سرخ چہرہ لیے، ادھ کھلے منہ سے اُسے دیکھتے رہ گئے۔ڈاکٹر جمالی سمجھ رہے تھے کہ جیسے ہی وہ خبر سنے گی، روئے گی، گڑگڑائے گی، التجائیں کرے گی کہ ڈاکٹر، پلیز، کچھ بھی کر کے مجھے بچا لیں، میں مرنا نہیں چاہتی۔ مگر وہ جو کہہ گئی، اس کے الفاظ نے کمرے میں بیٹھے غرور کے مجسمے کی حقیقت پسندی کی ساری عمارت زمین بوس کر دی تھی۔ اور اب وہ بس دروازے سے باہر نکلتی زنیرہ کو دیکھتے رہ گئے۔
***

آپ کی زندگی ایک معجزہ ہے۔ کیا سنا آپ نے؟ معجزہ۔ یقیناً حیران ہوئے ہوں گے، مگر حقیقت یہی ہے کہ زندگی بذاتِ خود ایک معجزہ ہے۔ جانتے ہیں، آپ کی آنکھیں کہاں بنتی ہیں؟ یہاں۔ اُس نے اپنی پیشانی پر شہادت کی انگلی دو بار بجائی۔ اور پھر وہ برابر برابر دو حصوں میں تقسیم ہو کر یہاں آ جاتی ہیں۔ اس نے دونوں ہاتھوں کی انگلیاں آنکھوں پر رکھیں، اور پھر آہستہ سے ہٹا لیں۔سب لوگ اُس حسین لڑکی کی خوداعتمادی کو محو ہو کر دیکھ رہے تھے۔ اگر یقین نہ آیا ہو تو میں سمجھ سکتی ہوں۔ جب مجھے پہلی بار یہ بات معلوم ہوئی تھی، تو میرا بھی کچھ ایسا ہی ردعمل تھا۔ وہ مسکراتی ہوئی روسٹرم پر جا کھڑی ہوئی۔ اُس کے سامنے ہزاروں لوگ بیٹھے تھے۔وہ زنیرہ شیخ تھی۔ ایک مشہور موٹیویشنل اسپیکر۔ اس کی تقریریں سننے سے زیادہ لوگ اسے دیکھنے کے لیے آتے تھے۔ وہ ملکوتی حسن کی مالک تھی۔ مگر یہ صرف وہی جانتی تھی کہ اس حسن کو اندر سے ایک ناسور چاٹ رہا ہے—کینسر کا ناسور۔کیا آپ نے کبھی ایک آنکھ والا بچہ دیکھا ہے؟ اس کے سوال نے حاضرین کی توجہ مکمل طور پر اپنی جانب مبذول کر لی۔ کیمروں کی چمک اُس کے وجود کو چکاچوند کر رہی تھی، مگر اُسے اس کی پرواہ تک نہ تھی۔یقیناً بہت سے لوگوں نے ایسا بچہ نہیں دیکھا ہو گا۔ مگر جانتے ہیں، 17 مارچ 2023 کو یمن کی ایک خاتون نے ایک آنکھ والے بچے کو جنم دیا تھا۔ سعودی حکام کی رپورٹ کے مطابق، علاقے میں بار بار ہونے والی بمباری اور نیوکلیئر ری ایکشنز کی وجہ سے زمین اتنی آلودہ ہو چکی ہے کہ اب وہاں معذور بچے پیدا ہو رہے ہیں۔یہ تو یمن کی بات ہے۔ لیکن کیا آپ کو لگتا ہے کہ صرف بارود ہی ایسی پیدائش کا سبب بنتا ہے؟ نہیں۔ ای بچے ایک خوشحال، سرسبز زمین پر بھی پیدا ہو سکتے ہیں۔ کیونکہ یہ بیماری جینیاتی خرابی سے پیدا ہوتی ہے۔ جب آپ کی پیشانی پر بننے والی وہ ایک آنکھ مزید تقسیم ہونے سے انکار کر دے، جب جسم کہے کہ میں مکمل نہیں بن سکتا—تو پھر سائیکلوپیا ہو جاتا ہے۔اب آپ سوچ رہے ہوں گے کہ میں آنکھوں کا ذکر لے کر کیوں بیٹھ گئی ہوں؟ وہ اسٹیج کے بیچ میں آ کھڑی ہوئی، ایک گہرا سانس لیا۔ کیونکہ آپ کی زندگی ایک معجزہ ہے۔آپ کی پیشانی پر بننے والی ایک آنکھ کا دو میں تقسیم ہو جانا، ہم رنگ لینز کے ساتھ دو سو کٹس میں مکم فٹ ہو جانا، معجزہ ہے۔ آپ کی اسکن کے باہر بننے والے دل اور دوسرے اعضاء کا اپنی جگہ لوٹ آنا، معجزہ ہے۔ اس دنیا میں آتے ہی آپ کے پھیپھڑوں کا نئی فضا میں پہلا سانس لینا، معجزہ ہے۔ذرا سوچیے، اگر وہ آنکھ دو میں تقسیم نہ ہوتی، اگر آپ کا دل اپنی جگہ نہ پہنچتا، اگر آپ کے اعضاء مکمل ن ہوتے، تو آپ کیا کر لیتے؟ کچھ بھی نہیں۔ آپ کر ہی نہیں سکتے تھے۔ اس لیے یہ بات تسلیم کرنا ہو گی کہ آپ کا جینا، سانس لینا، زندہ ہونا، سب کچھ ایک معجزہ ہے۔لیکن ہم لوگ کیا کرتے ہیں؟ ذرا سی ناکامی پر، کسی امتحان میں نمبر کم آ جانے پر، شادی نہ ہونے پر، بچے نہ ہونے پر، صحت خراب ہونے پر، نوکری نہ ملنے پر، یا کسی خواہش کے پورا نہ ہونے پر مایوس ہو جاتے ہیں۔ بھول جاتے ہیں کہ جس نے ہماری ایک آنکھ کو دو کیا، وہ ہماری بے رنگ زندگی میں رنگ بھی بھر سکتا ہے۔تو پھر، کیا معجزوں کی اتنی ناقدری کی جاتی ہے؟ نہیں ناں؟ تو خواہشوں کے اونچے محلات بنانا چھوڑ دیں۔ کیونکہ یہی خواہشیں آپ کو مایوس کرتی ہیں۔ جو آپ کی آنکھ کو تقسیم کر سکتا ہے، وہ آپ کے حالات کو بھی سنوار سکتا ہے۔اگلے سیشن میں ملتے ہیں۔ فی امان اللہ۔وہ مسکراتی ہوئی اپنے پیچھے تالیاں بجاتے لوگوں کو چھوڑ کر ہال سے باہر نکل گئی۔ ہال اُسے جاتا ہوا دیکھتا رہ گیا۔جانتی ہو، ہم دونوں اب تک ساتھ کیوں ہیں؟ شزا کے برابر لیٹی زنیرہ نے کہا، مگر شزا نے کچھ نہیں بولا۔ کیونکہ ہم میں بہت سی باتیں مشترک ہیں۔ تمھارا اس بھری دنیا میں کوئی نہیں، اور میرا بھی۔اور میں تو ویسے بھی مرنے والی ہوں۔اُس کی آواز مزید دھیمی ہو گئی تھی۔ رات کا ایک بج چکا تھا۔ شزا گھر جانے کے بجائے یہیں رک گئی تھی۔ کمرے میں مکمل اندھیرا تھا۔ صرف کھڑکی سے آتی مدھم چاندنی اندر جھانک رہی تھی۔
☆☆☆

ارے واہ… آج تو آپ چھا گئیں میم! وہ گاڑی اسٹارٹ کرنے لگی تھی کہ ایک شرارتی آواز سن کر رک گئی، اور فوراً اپنی گاڑی کا دروازہ کھول کر مسکراتے ہوئے اُس نٹ کھٹ لڑکی کو بیٹھنے کی جگہ دے دی۔ اب ایسا بھی نہیں، زنیرہ نے اُس کی طرف دیکھتے ہوئے کہا، جو گاڑی کا دروازہ بند کر رہی تھی۔ اُس کے کھلے ریشمی بال کمر پر پھیلے ہوئے تھے۔ زنیرہ نے اُسے ایک نظر دیکھا اور پھر گردن سیدھی کر لی۔ نگاہ مرر پر پڑی، جہاں اُس کا حساب میں اُداس چہرہ دکھائی دے رہا تھا، جس پر وہی حسین غزالی آنکھیں تھیں۔ ان آنکھوں کے نیچے موجود حلقوں کو اُس نے کنسیلر سے چھپایا ہوا تھا۔ ویسے، کتنی تیز ہو تم۔ خاموشی سے میرا سیشن سنتی رہیں، سامنے تک نہیں آئیں۔ اب کے لہجے میں خفگی تھی۔بس، میں آپ کا فوکس خراب نہیں کرنا چاہتی تھی۔ اچھا اب یہ میم کی گردان تو بند کرو، عجیب لگتا ہے تمہارے منہ سے میم سن سن کر۔ زنیرہ کے لہجے میں نرمی آ گئی تھی، مگر شزا نے اس پر کوئی ردعمل نہیں دیا۔ اچھا یہ بتاؤ، تمہاری رپورٹس کیسی آئیں؟ زنیرہ کے ہاتھ کی اسٹیرنگ پر گرفت یکدم ڈھیلی پڑ گئی تھی، لیکن اگلے ہی لمحے اُس نے خود کو سنبھال لیا، گیئر بدلا اور گاڑی آہستہ سے رَن وے پر لے آئی۔ آپ نے بتایا نہیں، شزا نے دوبارہ دھیمے لہجے میں پوچھا۔زنیرہ جھنجھلا گئی۔ گاڑی کے باہر مناظر تیزی سے گزر رہے تھے۔ درخت ہوا میں جھول رہے تھے، اور فٹ پاتھ پر چند لوگ ہی دکھائی دے رہے تھے۔ ون وے روڈ آگے سے بل کھاتا ہوا اونچائی کی طرف جا رہا تھا۔ زنیرہ؟ شزا نے دوبارہ پکارا، تو وہ چونک کر اُس کی طرف متوجہ ہوئی۔ کچھ پوچھا تم نے؟ اُس کا ردعمل ایسا تھا جیسے کسی سوئے ہوئے شخص کو جھنجھوڑ کر جگایا جائے۔ میں پوچھ رہی ہوں، آپ کل ڈاکٹر کے پاس گئی تھیں، کیا کہا اُس نے؟ شزا اب پوری طرح اُس کی طرف متوجہ تھی۔ اُس کے لفظوں میں ضد بھی تھی اور درد بھی۔ زنیرہ کی نظریں اب بھی سامنے جمی ہوئی تھیں۔ یہی کہ مجھے اپنا ڈیتھ سرٹیفکیٹ بنوا لینا چاہیے۔ جتنے سکون سے اُس نے یہ جملہ کہا، اتنے سکون سے وہ سیشن میں بھی نہیں بولی تھی۔ اُس کے لبوں کا کنارا ایک استہزائیہ مسکراہٹ میں ڈھل چکا تھا۔واٹ؟ پھر آپ نے کیا کہا؟ شزا کے لہجے کا تناؤ محسوس کرتے ہوئے زنیرہ نے سر پیچھے ٹکا کر آنکھیں بند کر لیں۔ اس انکشاف نے جیسے شزا کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔ وہ کچھ کہنا چاہتی تھی مگر لفظ نہیں مل رہے تھے۔ زنیرہ نے گاڑی آہستہ کر کے ایک طرف لگا دی۔ یقیناً آپ روتی دھوتی چپ چاپ وہاں سے اٹھ آئی ہوں گی، شزا نے اندازہ لگاتے ہوئے کہا، مگر زنیرہ کچھ بولی نہیں۔ اُس نے سر جھٹک کر اس سوچ سے جان چھڑائی۔ وہ ڈاکٹر جمالی، جو اپنے آگے کسی کی نہیں سنتے؟ وہ تو ویسے بھی سخت مزاج ہیں۔ آپ اُن کی باتوں کو اتنا دل پر کیوں لے رہی ہیں؟ ویسے رپورٹس میں کیا آیا؟ زنیرہ کی نظریں شزا پر جمی ہوئی تھیں، جو پوری دلجمعی سے اُس کے چہرے کے تاثرات پڑھنے کی کوشش کر رہی تھی۔ گاڑی کے پیچھے ونڈ اسکرین سے گزرتی گاڑیاں دکھائی دے رہی تھیں۔ ہوا تیز چل رہی تھی۔ درخت گویا اپنی جگہ قائم رہنے کی پوری کوشش میں تھے، جیسے ہوا اُنہیں جڑ سے اکھاڑ دینا چاہتی ہو۔ ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھی زنیرہ نے سر جھکا کر اپنی انگلیاں چٹخائیں۔ لبوں پر زبان پھیری اور خود کو بولنے کے لیے تیار کیا، مگر دل میں ہچکچاہٹ باقی تھی۔ اُسے اندازہ نہیں تھا کہ سامنے بیٹھی اُس کی دوست، اتنی بھیانک حقیقت کو سن کر سنبھل بھی پائے گی یا نہیں۔ اُس نے ایک گہرا سانس لیا، لب وا کیے ہی تھے کہ کھڑکی پر دستک ہوئی۔ دونوں نے چونک کر دیکھا۔ ایک شخص گاڑی کی طرف جھکا کھڑکی پر انگلی سے دستک دے رہا تھا۔میڈم یہ پارکنگ ایریا نہیں، جو آپ یہاں گاڑی پارک کرکے گپیں لگا رہی ہیں۔ پیچھے دیکھیں ذرا۔ زنیرہ نے جیسے ہی کھڑکی کا شیشہ نیچے کیا، وہ آدمی فوراً سنانے لگا۔ اس نے بے ساختہ گردن موڑی۔ پیچھے چند گاڑیاں اس کے ہٹنے کا انتظار کر رہی تھیں کیونکہ درمیان میں ایک ٹرک بھی آ چکا تھا۔ زنیرہ نے زبان دانتوں تلے دبائی۔ آدمی پھر بولا، آپ کی وجہ سے لوگوں کو تاخیر ہو رہی ہے اور آپ کو پرواہ ہی نہیں… یوں بیٹھی ہیں، جیسے آپ کے باپ کی سڑک ہو۔مسٹر! آپ اپنی زبان… شزا غصے سے بولی ہی تھی کہ زنیرہ نے فوراً اسے ڈپٹ دیا۔ آن، آئی ایم سوری، ہماری غلطی ہے۔ ہم جا رہے ہیں۔ اُس نے معذرت خواہانہ لہجہ اپنایا اور جھٹ سے گیئر بدلا، ایکسلیریٹر پر دباؤ بڑھایا اور تھوڑا پیچھے ہو کر ہوا کی تیزی سے آگے نکل گئی۔ پیچھے پھنسی گاڑیوں نے بھی فوراً رفتار پکڑ لی۔آپ کو مجھے چپ نہیں کروانا چاہیے تھا۔ دیکھا نہیں، وہ کس طرح رعب جما رہا تھا؟ شزا نے پچھلی باتیں اور سوالات فراموش کر کے اب نئے موضوع پر منہ پھلا کر بات شروع کر دی۔ہماری غلطی تھی، اور اب چپ کرو، مجھے باتوں میں مت لگاؤ۔ زنیرہ نے اسے ایک بار پھر ڈپٹ دیا اور ساری توجہ ڈرائیونگ پر مرکوز کر دی۔
***

ماحول میں سفید روشنی پھیلی تھی اور اس روشنی میں سفید اوور کوٹ پہنے چند افراد چہرے پر سنجیدگی لیے کسی کام میں مگن تھے۔ درمیان میں چند میزوں پر ترتیب سے چھ مائیکرو اسکوپ اور چند فلاسک رکھے ہوئے تھے۔ اسی طرح کا دوسرا سامان پیچھے موجود شیشے کی بند الماری میں تھا۔ یکدم ایک لیڈی ڈاکٹر ہاتھ میں فلاسک تھامے تیزی سے ایک طرف کھڑے ڈاکٹر کے پاس بڑھی۔ اُس کے اشارے پر وہ ڈاکٹر بھی اس کی ہم راہی میں اس گوشے تک چلا آیا۔ یہ یقینا ایک سائنسی لیب تھی۔ اُس نے کہا کہ اس آدمی کے سیلز لے لیے گئے ہیں، اب اس عورت کو بھی بلایا جائے تاکہ اُس کے بھی سیلز حاصل کیے جا سکیں۔ مزید کہا کہ وہ آج آئی تھی، مگر شاید کسی تذبذب میں تھی۔ پھر لیڈی ڈاکٹر نے کہا کہ آپ اُسے میرے حوالے کر دیں، میں خود سمجھا لوں گی۔ ڈاکٹر جمالی نے جلدی سے ہدایت دی کہ پروگرام شروع کریں اور زیادہ سے زیادہ لوگوں کو اس کے بارے میں آگاہ کریں تاکہ لوگ شرم محسوس کیے بغیر رابطہ کریں۔ وہ تیزی سے لیب کے دوسرے گوشے میں چلے گئے۔ ان کی حرکت پر موجود افراد نے تعجب سے انہیں دیکھا، کیونکہ سفید روشنی میں سکون کے بجائے ایک پر اسراریت تھی۔ جانے یہاں ایسا کیا ہو رہا تھا؟تو کیا میں یہ سمجھوں کہ سب کی مایوسیوں کو ختم کرنے والی موٹیویشنل اسپیکر زنیرہ شیخ خود مایوسی کا شکار ہے؟ لمحے سرک چکے تھے مگر کوئی جواب نہ آیا۔ شزا نے زنیرہ سے پوچھا کہ وہ ٹھیک ہے یا نہیں۔ زنیرہ نے کہا کہ پہلے یہ طے کرو کہ مجھے آپ بولنا ہے، تم یا میم۔ پھر نظریں کھڑکی سے باہر چاند پر جما دیں۔ اس نے کہا کہ کچھ لوگ شاید زندگی میں آتے ہی جانے کے لیے ہیں، بلکہ ہر روح دنیا میں جانے کے لیے ہی آتی ہے۔ اگر میں تمہیں چھوڑ جاؤں تو رو مت۔ ہر گزرتے دن اپنے جسم میں بیماری کی علامتیں بڑھتے دیکھنا اذیت ناک ہے، جب آپ کا وجود آپ کو خود بتا رہا ہو کہ “یو ول نو مور۔” اس نے ہچکی لی، آنسو خشک کیے اور اٹھ کر بیٹھ گئی۔ وہ کہہ رہی تھی کہ لوگ سمجھتے ہیں میرے پاس سب کچھ ہے… حسن، مقام، مرتبہ، مگر وہ نہیں جانتے کہ میں اندر سے کتنا کچھ چھپا کر بیٹھی ہوںشزا بھی اس کی بھرائی ہوئی آواز سن کر اٹھ کر بیٹھ گئی۔ وہ دونوں آمنے سامنے بیٹھ گئیں اور ایک دوسرے کے ہاتھ تھام لیے۔ زنیرہ نے کہا کہ آج کل کوئی اندر کی خوبصورتی نہیں دیکھتا، سب حسن کے پیچھے بھاگتے ہیں۔ کاش میں بدصورت ہوتی مگر تندرست ہوتی۔ پھر وہ جھنجھلا کر بولی: کیا تم میرا کینسر ختم کر سکتی ہو؟ میں روز اپنے جسم میں اٹھتے درد کو برداشت کرتے کرتے اب ٹوٹ رہی ہوں۔ شزا نے دھمکی دی کہ اگر ایسی باتیں کرو گی تو میں گھر جا رہی ہوں، مگر پھر جاتے جاتے پلٹ کر پوچھا کہ “سم الخیاط” کیا ہے، جو زنیرہ اپنی کتاب کا نام بتا رہی تھی۔ زنیرہ نے مسکرا کر کہا: یہ سیشن میں بتاؤں گی۔ شزا نے اُسے عجیب نظروں سے دیکھا، جیسے وہ اندھیرے میں کچھ ڈھونڈ رہی ہو۔تم مثال ہو زنیرہ! اور مثال مکمل ہوتی ہے۔ تم امید کا ایک دیا ہو، مگر حقیقت یہ ہے کہ تم یہ دیا صرف لوگوں کے سامنے جلاتی ہو اور تنہائی میں اس دیے سے زیادہ تاریک کچھ نہیں ہوتا۔ میں تمہاری اس تاریکی کو نور میں بدلتا دیکھنا چاہتی ہوں۔ میں تمہیں پُرامید اور پُر یقین دیکھنا چاہتی ہوں۔ شزا نے لیمپ روشن کیا اور زنیرہ کی آنکھوں میں جھانکا، جہاں امید اور ناامیدی بیک وقت لرزاں تھیں۔ ہاسپٹل میں معمول کے مطابق رش تھا اور اس کی وجہ ناک کی سیدھ میں بنے کمرے میں بیٹھا وہ شخص تھا، جس کے دروازے پر ڈاکٹر مسعود جمالی کا نام درج تھا۔ ڈیوٹی ختم ہونے میں پینتالیس منٹ تھے، مگر انہی لمحوں میں وہ سب کچھ ہو گیا جو نہیں ہونا چاہیے تھا۔ زنیرہ کمرے میں داخل ہوئی۔ ڈاکٹر نے پوچھا کہ تم یہاں کیا کر رہی ہو؟ اور جب خاموشی رہی، تو بغور اُسے دیکھنے لگے۔ جیسے ہی پہچانا، وہ ششدر رہ گئے۔ زنیرہ بولی: یہ آپ بتائیں کہ کیا کرتے پھر رہے ہیں؟ اُس کا انداز، اس کی بیوی والا نہیں تھا۔ ڈاکٹر نے خود کو سنبھالنے کے لیے سامنے رکھا گلاس خالی کیا اور کہا: تم گھر جاؤ، یہ میرا بیڈ روم نہیں ہے۔ میرے پیشنٹ کے سامنے تماشہ مت بناؤ۔ زنیرہ بضد ہوئی: مجھے صرف یہ جاننا ہے کہ وہ عورت گھر کیوں آئی تھی؟ وہ گھر آئی تھی، تو پھر تم یہاں کیوں سوال کرنے آئی ہو؟ تمہیں بھی گھر میں ہی پوچھنا چاہیے تھا ناں۔ اُن کا دل چاہ رہا تھا کہ وہ اُس کا ہاتھ پکڑ کر باہر کر دیں۔ مگر زنیرہ اپنی جگہ ڈٹی رہی۔ وہ بولی، ڈونٹ بی اوور اسمارٹ، مسٹر مسعود جمالی! اتنا حق تو ہے میرا، کہ یہ سوال پوچھ سکوں۔ وہ ہر گزرتے لمحے کے ساتھ مزید مشتعل ہو رہی تھی۔ سیاہ چادر اوڑھے، عام سے حلیے میں، کوئی نہیں جان سکتا تھا کہ وہ مسز مسعود جمالی ہے۔ڈاکٹر جمالی نے ایک گہرا سانس لے کر خود کو پر سکون کرنے کی کوشش کی۔ کم از کم اُن کی بیوی کو اُن کی عزت کا خیال تھا۔ باہر مریضوں کی ایک لمبی قطار تھی اور گھڑی کی ٹک ٹک اُنہیں بتا رہی تھی کہ ڈیوٹی کا وقت ختم ہونے کے قریب ہے۔ انہوں نے مختصر جواب دیا، وہ میری ایک پیشنٹ تھی، جیسے اس بات سے جان چھڑانی ہو۔واقعی؟ ایسی کون سی خاص پیشنٹ تھی جس کا علاج صرف گھر میں ہی ہو سکتا تھا؟ زنیرہ نے طنز سے کہا۔ ڈاکٹر مسعود کی پیشانی پر بل مزید گہرے ہو گئے۔ وہ غصے سے بولے، تمہیں دوبارہ کہہ رہا ہوں، یہاں سے چلی جاؤ۔ میری برداشت کا امتحان مت لو۔ یہ کہتے ہوئے انہوں نے اسٹنٹ کو اگلا مریض بھیجنے کا اشارہ کر دیا۔آپ گناہ کر رہے ہیں ڈاکٹر صاحب! اور میں اس میں آپ کا ساتھ بالکل نہیں دوں گی۔ اپنی لیب کو پہلی فرصت میں بند کریں، ورنہ جو کچھ ہو گا اس کے ذمے دار صرف آپ ہوں گے۔ وہ شہادت کی انگلی اٹھا کر بولی ہی تھی کہ ایک مریضہ اندر داخل ہوئی۔ اسے مجبوراً اٹھنا پڑا۔
***

سیشن ہال کھچا کھچ بھرا ہوا تھا۔ اس بار انتظامات گراؤنڈ میں کئے گئے تھے۔ لوگوں کے آنے کا سلسلہ ابھی تک نہیں تھما تھا۔ آج زنیرہ کی طرف سے خاص پیغام آیا تھا۔ آج اُسے اپنی باتیں کرنی تھیں اور لوگ اپنی پسندیدہ موٹیویشنل اسپیکر کو سننے کے لیے دوڑے چلے آرہے تھے۔ سیشن شروع ہونے میں ابھی ایک گھنٹہ تھا، مگر لوگوں کا جوش دیکھ کر بالکل نہیں لگ رہا تھا کہ وہ کافی پہلے پہنچے ہوئے ہیں، بلکہ یہ انتظار تو انہیں خوبصورت لگ رہا تھا۔ وسیع و عریض گراؤنڈ میں کھلے آسمان تلے ، مصنوعی لائٹوں میں ہر چیز دیکھنے والوں کو محظوظ کر رہی تھی۔ وقت تیزی سے گزر رہا تھا، پھر انتظار کی گھڑیاں ختم ہوئیں اور اسٹیج پر موجود ایک نوجوان نے زنیرہ کی آمد کا اعلان کیا، تو لوگوں میں جیسے کسی نے ایک نئی روح پھونک دی۔ سب بہت پر جوش تھے۔ زنیرہ لفظوں کی ساحرہ تھی اور یہاں موجود سارے اس کے سحر میں گرفتار اب انتظار ختم ہوا تھا۔ سارے لوگ اپنی پسندیده، حسین و منفرد اسپیکر کے استقبال کے لیے کھڑے ہو گئے ، مگر یہ کیا؟ لگتا تھا، جیسے انہوں نے انہوں نے کسی اور کو دیکھ لیا ہو۔ یہ وہ زنیرہ تو نہیں تھی۔ اس کے چہرے کی شادابی جیسے کسی نے چرالی تھی۔ آنکھوں کے گرد گہرے حلقے ہاں بس لبوں پر وہی ازلی جاندار مسکراہٹ تھی۔ اُس کے ہاتھ ہلانے پر سب نہ چاہتے ہوئے بھی مسکرا دیے تھے، مگر ماحول میں کافی تناؤ در آیا تھا۔ وہ آج سادگی کے ساتھ یہاں آئی تھی، بغیر کسی مصنوعی سہارے کے…بسم الله الرحمن الرحیم … بے شک ہم نے انسان کو سب سے اچھی ساخت میں پیدا کیا۔ نہ کوئی کالا، نہ گور نہ چھوٹا ، نہ بڑا ہ موٹا نہ بھدا نہ دبلا .. بس ہے تو صرف انسان ! اللہ نے انسانوں کو احسن تقویم میں بنایا۔ ہر انسان خوبصورت ہے۔ چاہے وہ کسی بھی کیٹیگری سے تعلق رکھتا ہو ، کیونکہ اللہ نے ایسا کہہ دیا ہے اور جو بات اللہ نے کہہ دی، تو وہی اٹل ہے۔ اُس میں کسی تبدیلی کی گنجائش نہی۔ اس نے لوگوں کی خاموش نگاہوں میں پھیلے تعجب کی پروا کیے بغیر استیچ شروع کر دی تھی۔
***

یہ چار کمروں کا چھوٹا مگر خوبصورت سا گھر تھا۔ ہر چیز میں سلیقہ اور نفاست نظر آرہی تھی۔ صوفے کے آگے رکھی میز پر مت ریشے کے کام سے بنا میز پوش بچھا تھا، جس میں تین بطخیں ایک قطار میں پر کھولے تیرنے کی تیاری میں لگ رہی تھیں۔ یقینا اس گھر میں رہنے والی عورت کافی ہنر مند تھی۔ وسط میں رکھے صوفے کے سامنے دھری میز پر دو مردانه پاؤں دکھائی دے رہے تھے۔ یہ ڈاکٹر مسعود جمالی تھے جو ہاتھ میں ریموٹ پکڑے، دائیں طرف گردن موڑے ٹی وی اسکرین پر نظریں جمائے بیٹھے تھے۔ ڈاکٹر جمالی کے تھوڑا بائیں جانب صوفے کے دوسرے کنارے پر ایک سات سالہ بچہ ہاتھ میں کتاب پکڑے پورے انہماک سے اُس میں مگن دکھائی دے رہا تھا۔ اس کے مزید بائیں جانب دو، پانچ اور تین سال کی عمر کے بچے کھلونے بکھیرنے کھیلنے میں مصروف تھے، مگر وہ کھیل کم اور شور زیادہ کر رہے تھے۔اس تصویر میں جو ایک فرد کم تھا، وہ وہی عورت تھی جس نے میز پوش بنایا تھا اور وہ تھی مسز مسعود جمالی۔ کچھ لمحے سرکنے کے بعد ایک معصوم صورت والی دراز قد عورت مسکراتے ہوئے صوفے کی جانب آتی دکھائی دی۔ بچے اُسے دیکھ کر اس کی طرف دوڑے، جبکہ صوفے پر بیٹھے بچے نے اپنے باپ کی طرح محض گردن موڑ کر دیکھنے پر ہی اکتفا کیا تھا۔ اس کے بعد وہ دونوں پھر سے اپنی مصروفیت میں گم ہو گئے تھے۔اتنی دیر سے کیا پڑھ رہے ہو شہزادے؟ محبت بھرے طرزِ تخاطب پر اس نے نگاہیں اٹھا کر اپنی ماں کو دیکھا تھا، جو اس کے چھوٹے بہن بھائیوں کے ساتھ فرش پر ہی بیٹھ گئی تھی۔ ٹیسٹ یاد کر رہا ہوں، جو مجھے نہیں یاد ہو رہا۔ آپ لوگ تیاری کریں۔ بچے نے منہ بناتے ہوئے بات ختم کر کے آخر میں تھوڑا جوش دکھایا تھا۔ ڈاکٹر جمالی نے بھی اس کے الفاظ پر چونک کر اسے دیکھا تھا، جس کی نظروں کا محور فرش پر بیٹھی اس کی بیوی نہیں، ٹی وی پر نظر آتی موٹیویشنل اسپیکر تھی۔نہ جانے کیوں اُسے وہ اسپیکر دیکھ کر ایک بار پھر اپنی خوبصورت مریضہ زنیرہ یاد آگئی تھی۔ کس بات کی تیاری کر رہے ہو؟ میرے فیل ہونے کی۔ آپ کو مینٹلی پریپیر کر رہا ہوں میں، تا کہ آپ دونوں کو شاک نہ لگے۔ مسز جمالی منہ کھولے اُسے حیرت سے دیکھ رہی تھیں۔ بعد میں کیا لگتا، وہ تو ابھی سے شاک میں تھیں۔ ایسا بھی کیا ہے؟ حیرت سے پوچھا گیا تھا۔ مضمون ہے: کل نفس ذائقۃ الموت… اتنے مشکل الفاظ ہیں۔ اچھا منہ نہ بناؤ۔ لاؤ، میں سمجھاتی ہوں۔
***

ڈولی کا نام تو سن رکھا ہو گا ہماری نیو جنریشن نے! بہت سے لوگوں کے ہاتھ کھڑے ہوئے تھے، مگر وہ بس مسکرا سکی۔ ہمارے سلیبس میں بچوں کو خاص کر میڈیکل کے اسٹوڈینٹس کو ایک ٹاپک پڑھایا جاتا ہے، ٹیسٹ ٹیوب اور کلوننگ کا… اس میں ایک ڈولی نامی بھیڑ کی مثال سے بتایا جاتا ہے کہ ٹیسٹ ٹیوب ایک کامیاب تجربہ ہے۔ جس طرح سائنسدانوں نے ایک بھیڑ پیدا کی، اسی طرح اب انسان بھی پیدا کئے جا سکتے ہیں۔ اس کی مزید وضاحت ہماری ڈگری لیول کی کلاسز میں ہوتی ہے، مگر سب سے اہم بات جو کہیں بھی نہیں ملتی، وہ یہ کہ ہمارے بیچارے سائندان انتہائی اہم بات تو بتانا بھول ہی گئے کہ جب اُنہوں نے اللہ کے بنائے قانون میں چھیڑ چھاڑ کی کوشش کی، تو نتیجے میں انہوں نے ایک ایسی بھیڑ کا تجربہ کیا، جو اپنے بچپن میں ہی بوڑھی ہو گئی۔ اب یہاں میں یہ تو نہیں کہ سکتی تھی کہ تخلیق کیا، کیونکہ خالق صرف اللہ کی ذات ہے اور تخلیق صرف اور صرف وہی کر سکتا ہے۔سائنسدانوں کی کوشش تھی کہ وہ کسی طرح سے بغیر ماں باپ کے ایک بچہ پیدا کریں، اس کے لیے انہوں نے بھیڑ کا انتخاب کیا۔ جانتے ہیں، بھیڑوں کی اوسط عمر صرف دس سے بارہ سال ہوتی ہے۔ 1997 میں ایک سائنٹفک پروسیس سے جس ڈولی کی پیدائش ہوئی، اُس کا ایک سیل ایک الگ نسل کی مادہ بھیڑ سے لیا گیا تھا، دوسرا کسی اور نر سے اور ان دونوں کو ٹیسٹ ٹیوب میں ڈال کر ملایا اور اُسے ایک الگ سیاہ چہرے والی بھیڑ کے جسم میں رکھ دیا، جہاں وہ قدرتی طریقے سے پیدا ہوئی۔ اس سب کہانی میں سب سے مزے کی بات پتا ہے کیا ہے؟ ان سب میں مزے کی اور خاص بات یہ ہے، جو ہمارے سلیبس میں ڈولی کے تجربے کے بعد نہیں بتائی جاتی، کہ ڈولی کا سیل جس مادہ بھیڑ سے لیا گیا تھا، اس کی عمر چھ سال تھی اور جب ڈولی پیدا ہوئی تو وہ عام بچوں کی طرح چھوٹی سی تھی، مگر ان سائنسدانوں کے منہ پر طمانچہ اس وقت پڑا، جب اُس میں وقت سے پہلے ہی بڑھاپے کے آثار نمودار ہونے لگے۔ اُس کی اصل ماں بوڑھی ہوتی رہی اور ساتھ میں وہ بھی بوڑھی ہو گئی۔ ماں کی کھال لٹکنا شروع ہوئی، تو اس کی بھی لٹک گئی۔ سائنسدانوں نے اُسے ایک تجربے کے ذریعے پیدا تو کر لیا تھا، مگر وہ اسے دوبارہ سے چھ سال سے بالکل نوزائیدہ نہیں بنا پائے تھے۔ وہ اس کی عمر کم نہیں کر سکے تھے۔ آپ کو پتا ہے اگر اللہ چاہتا تو اس ایک دوسری بھیڑ کے جسم میں وہ پروان ہی نہ چڑھتی، مگر قدرت کو انہیں بتانا تھا کہ تم میرے مقابلے پر آرہے ہو، تو ذرا پیدا ہونے والے بچے کو نئی عمر تو دے کر دکھاؤ! پورا ہال تالیوں سے گونج اٹھا تھا۔ اس نے ہاتھ کے اشارے سے انہیں رک جانے کو کہا۔ جب ہمارا سیل بنتا ہے، دھیان سے سنیں، یہاں میں اس سیل کی بات کر رہی ہوں جس سے انسان کی پیدائش ہوتی ہے۔ اس کی عمر ہی اس وقت شروع ہوتی ہے، جب ہم اس دنیا میں آتے ہیں، چاہے ہماری ماں اُس وقت سولہ برس کی ہو یا چالیس، ہماری عمر کا ان کی عمر سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ ہمیں اللہ سب کچھ نیا دیتا ہے۔ اور اب ڈولی کی طرح انسان بھی سیر و گیٹ کئے جارہے ہیں۔ یہاں بیٹھے بچوں کی وجہ سے میں اس چیز کی وضاحت نہیں کروں گی۔ بس اتنا جان لیں کہ یہ ڈولی جیسا ہی ہے اور گناہ ہے۔میں آج بہت خوش ہوں، بہت زیادہ… آپ سب لوگ مجھے سننے آئے ہیں۔ میں زنیرہ، جس نے بچپن میں اپنے والدین کو کھو دیا تھا، جس کے بے حس رشتے داروں نے اس کو بے گھر کر دیا، مگر اللہ کے دیئے ہوئے حسن کی بدولت لوگ اپنے گھروں میں رکھتے رہے۔ اس کی آواز ہلکی ہونے لگی تھی، لفظ معنی کھونے لگے تھے۔ بچہ تو کب کا صوفے سے اٹھ کر جا چکا تھا، مگر ڈاکٹر جمالی اب شاید خیال میں نہیں رہے تھے۔ اس دن کی بھولی بھٹکی یادیں انہیں اپنے ساتھ کھینچ کر لے گئی تھیں اور وہ بھی ایک ننھے بچے کی طرح خود کو اس کے سپرد کر چکے تھے۔ دل ایک لمحے میں ہی بیزار ہوا تھا۔ انہوں نے اٹھ کر ٹی وی بند کیا اور باہر کی طرف قدم بڑھا دیئے۔ سب نے چونک کر انہیں باہر نکلتا دیکھا، اور باہر کے کتنے دل دکھانے والا مسعود جمالی آج ایک ایسی لڑکی سے ہارا تھا، جس پر وہ دل ہارنا چاہتے تھے، مگر وہ موزوں نہیں تھی۔ قدم گھر سے باہر نکالے ہی تھے کہ فون بجنے لگا تھا۔ بولو! انتہائی اکھڑ انداز تھا۔ ڈاکٹر! ہم نے مدر سیلز لے کر ڈونر کے سیلز سے ملا دیے ہیں۔ اب انہیں اُن کی باڈی میں رکھنا ہے۔ اسپیکر پر کہا گیا۔ آپ نے بتایا تھا کہ وہ آپ کے گھر آگئی تھیں۔ آپ نے انہیں سب بت بھی دیا تھا، مگر آپ نے بتایا نہیں کہ وہ کب آئیں گی سیر وگیشن کے لیے؟ مجھے تنگ مت کرو۔ فون رکھ دیا گیا۔ میں، زنیرہ شیخ جس نے سولہ برس کی عمر میں اپنے محسن کا گھر چھوڑ دیا تھا، اپنی شناخت بنانے کے لیے، مگر میں نہیں جانتی تھی کہ جس اسکالر شپ کو میں اپنی میرٹ سمجھ رہی تھی، وہ میرے محسن کا مجھ پر کیا گیا ایک اور احسان تھا۔ وہ بے ساختہ مسکرائی، سادہ حسین چہرے کی مسکراہٹ میں آج ملک کی مشہور موٹیویشنل اسپیکر بننے کے بعد اتنے فینز پا کر، آج اس مقام پر پہنچ کر اپنی سب سے بڑی ناکامی کا انکشاف کرتی ہوں۔ میں زنیرہ، انیسی قسم کے کینسر میں مبتلا ہوں، جو لاعلاج ہے۔ میرے محسن بھی مجھے بچانے کے لیے اب کچھ نہیں کر سکتے۔ اُس نے نظریں سب سے درمیان میں بیٹھے ایک ادھیڑ عمر شخص پر ڈالیں۔ سب نے اُس کی نظروں کا تعاقب کیا تھا۔ انہوں نے رومال سے اپنی نم آنکھیں پونچھی تھیں۔ میں آپ لوگوں کے لیے مثال ہوں۔ مجھ سے سیکھیں کہ حسن ہر چیز نہیں ہوتا۔ دیکھیں میری حسین حلقوں زدہ آنکھیں کیا نہیں ہیں؟

میرے پاس عزت، مقام، رتبہ، ستائش ہے۔ میں آپ لوگوں کے لیے امید کا ایک دیا ہوں۔ مجھ سے سیکھیں۔ میرے جسم میں ایک ناسور پل رہا ہے، ہر گزرتے دن میں خود میں تبدیلیاں دیکھتی ہوں، اذیت سہتی ہوں، مگر یہ بات نہیں بھولی کہ ہمارا رزق، ہماری جان و مال، ہماری زندگی، ہماری موت کسی انسان کے ہاتھ میں نہیں، بلکہ سب اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ کیا معلوم ہمارے درمیان بیٹھا کوئی شخص صبح کا سورج ہی نہ دیکھے۔ کیا معلوم کہ ہم میں موجود بہت سے ایسے لوگ جنہیں ڈاکٹرز مایوس کر چکے ہیں، وہ مزید کئی سال جی لیں۔ مایوسی کفر ہے۔ آپ کو یقین ہونا چاہیے کہ آپ کی زندگی اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ اُس نے ہر ایک کا ڈیتھ سرٹیفکیٹ اس کی پیدائش کے ساتھ ہی بنا دیا ہے۔ کوئی نہیں جانتا کہ کون کب مرے گا۔ میں آج آپ لوگوں کے درمیان اپنے اصل کے ساتھ آئی ہوں۔ مجھے نہیں معلوم کہ میں کل کا سورج دیکھ سکوں گی یا نہیں۔ اس لیے مرنے سے پہلے آپ لوگوں سے چند باتیں کرنا چاہتی تھی۔ سب افسردہ ہونے لگے تھے۔ آج زنیرہ ایک بار پھر چھا گئی تھی۔ میں اپنے محسن کو اسٹیج پر آنے کی دعوت دیتی ہوں اور چاہتی ہوں کہ آپ سب کھڑے ہو کر ان کا استقبال کریں۔ ڈاکٹر مسعود جمالی کے والد محترم، میرے محسن، جناب جمال داؤد۔ مجمع کھڑا ہو گیا تھا۔ ہال میں تالیوں کی گونج تھی اور اس گونج میں اسٹیج پر کھڑی دو غزالی آنکھیں اپنے آنسو پیچھے دھکیل رہی تھیں۔میں نے جہاں آج آپ لوگوں سے اپنا سب سے بڑا غم شیئر کیا ہے، وہیں سب سے بڑی خوشی بھی شیئر کر رہی ہوں۔ بہت جلد آپ لوگوں کے ہاتھوں میں میری ایک نئی کتاب ہو گی، جس کا نام ہے “سم الخیاط”۔ اس کا مطلب ہے “سوئی کانا” کہ اللہ چاہے تو سوئی کے ناکے میں سے اونٹ کو بھی گزار دے، وہ ہر شے پر قادر ہے۔ یہ کتاب میں مرنے سے پہلے مکمل کرنا چاہتی ہوں، یہ میری زندگی کی آخری خواہش ہے۔ کچھ ہی پل بعد شزا نے دوڑ کر اسے گلے لگایا تھا۔ لوگ اس کی حقیقت سے واقف ہو کر اس کی تعظیم کے لیے کھڑے تھے۔ ہاں، وہ واقعی امید کا دیا تھی، مگر اس کا یہ خیال غلط تھا کہ لوگ اسے ترس کی نگاہ سے دیکھیں گے۔ اس کی طرف اٹھنے والی ہر نگاہ میں ستائش تھی۔انہوں نے گیراج سے گاڑی نکالی اور ایکسیلیریٹر پر دباؤ بڑھا دیا۔ دماغ میں تو ابھی تک وہی مترنم آواز گونج رہی تھی۔ کل نفس ذائقۃ الموت، ہر نفس کو موت کا ذائقہ چکھنا ہے۔ آہ… وہ کیسے بھول گئے۔ گاڑی کی رفتار بڑھتی جا رہی تھی، تیز، انتہائی تیز۔ سانسیں منتشر ہونے لگی تھیں، پیشانی سے پسینہ ٹپکنے لگا تھا اور دل بے قابو تھا، جیسے دھڑکنیں تھمنا ہی نہ چاہتی ہوں۔ انہوں نے سگنل توڑ دیا تھا۔ رفتار تیز ہو رہی تھی۔ دو پولیس اہلکار ان کے پیچھے لپکے، مگر وہ تیز سے تیز تر ہوتے جا رہے تھے۔ ایک پولیس وین سائرن بجاتی اُن کی گاڑی کے پیچھے آرہی تھی، مگر ان کے کانوں میں اپنے نام کی پکار گونج رہی تھی۔ انہیں گاڑی روکنے کا کہا جا رہا تھا، مگر دماغ میں ایک ہی جملے کی تکرار تھی، جیسے کوئی ان کے سر پر ہتھوڑے برسا رہا ہو۔ ایک پولیس موبائل پیچھے گلی میں مر گئی اور سامنے سے آکر انہیں روکنا چاہا۔ سائرن مسلسل بج رہا تھا۔ اُن کے ہاتھ کپکپانے لگے، پھر ہاتھوں سے اسٹیئرنگ وہیل چھوٹ گیا۔ اب وہ گاڑی کا دروازہ کھول کر بھاگ رہے تھے۔ دو موبائل وین قریب رکی تھیں۔ چلتی گاڑی بل کھاتی ہوئی پول سے ٹکرائی۔ دو پولیس اہلکار اب پیدل ان کے پیچھے بھاگ رہے تھے، پھر ایک گولی چلی۔ وہ اب بھاگنا چھوڑ چکے تھے۔ وہ اوندھے منہ زمین پر گرے تھے۔زمین پر پھیلا خون، عروج پر زوال۔ چوہے بلی کا کھیل ختم ہو گیا تھا۔ اپنے آگے کسی کی نہ سننے والا ڈاکٹر جمالی آج کہیں کا نہیں رہا تھا۔ دو اہلکاروں نے ان کے وجود کو اٹھا کر وین میں ڈالا اور اسپتال کی طرف چل دیئے۔ کچھ دیر پہلے مچی بھگدڑ اب ختم ہو گئی تھی۔ ایک پولیس اہلکار نے موبائل نکال کر ایک نمبر ڈائل کیا تھا۔ السلام علیکم میڈم، آپ کے کہنے کے مطابق آپ کے شوہر کو گرفتار کر لیا گیا تھا، مگر وہ زخمی ہو گئے ہیں۔ اتنے میں ایک اہلکار دوڑتے ہوئے اس کی سمت آیا اور پھولی ہوئی سانسوں کے درمیان اُس کے کان میں کچھ کہہ کر تیزی سے آگے بڑھ گیا۔ ہیلو! آپ کال پر ہیں؟ دوسری طرف سے کچھ کہا جا رہا تھا۔ افسوس، ان کی ڈیتھ ہو گئی ہے۔ شاید دوسری طرف سے فون زمین پر گر چکا تھا۔ اب سڑک پر بس پولیس موبائل گزرنے کی آواز تھی۔ زندگی کا ایک باب ختم ہو گیا تھا۔
***
 

Create an account or login to read stories

You must be a member in order to leave a comment

Create account

Create an account on our community. It's easy!

Log in

Already have an account? Log in here.

New posts
Back
Top