میرا تعلق صوبہ سرحد کے ایک چھوٹے سے گاؤں سے ہے۔ ہمارے خاندان میں تعلیم کو اہم نہیں سمجھا جاتا، اس لیے میں صرف چوتھی جماعت تک ہی اسکول جا سکی اور اس کے بعد گھر بیٹھ گئی۔ میری خالہ (جو رشتے میں میری پھوپھی بھی لگتی تھیں) کے شوہر کا انتقال ہوا، تو ان پر چار بیٹیوں اور ایک بیٹے کی پرورش کی ذمہ داری آپڑی۔ انہوں نے بڑی مشکل سے ان بچوں کی پرورش کی۔
خالہ بچپن سے ہی مجھے کہتی تھیں کہ “ندا! میں تجھے اپنی بہو بناؤں گی”، مگر ان کا بیٹے دلاور مجھے ایک آنکھ نہیں بھاتا تھا۔ اس کی بہنیں بھی چاہتی تھیں کہ گلاب کی یہ کلی ان کی بھابھی بنے، جب کہ میں نے ہمیشہ دل میں یہی خواہش رکھی تھی کہ میرا جیون ساتھی خوبصورت، دولت مند اور مجھ سے بے پناہ محبت کرنے والا ہو۔ خدا نے میری دعا سن لی۔ ان دنوں خالہ بیمار تھیں اور ان کی بیٹیاں کسی شادی میں گئی ہوئی تھیں کہ ہمارے گاؤں کے سردار کا پوتا آگیا، جس کا نام رمیز تھا اور یہ لوگ گاؤں میں معتبر مانے جاتے تھے۔ اگرچہ بعد میں ان کے حالات خراب ہو گئے تھے، پھر بھی گاؤں میں ان کا سب سے زیادہ رعب اور دبدبہ تھا۔ رمیز ہمارے گھر میں بلا خوف و خطر آتا تھا، کیونکہ اسے خالہ کی بیٹیوں نے اپنا منہ بولا بھائی بنایا ہوا تھا۔
وہ بہت نیک دل لڑکا تھا اور ہمارے محلے کے ہر غریب کا کام کر دیا کرتا تھا؛ اسی لیے خالہ کے گھر کے علاوہ وہ پورے محلے میں عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا۔ وہ پانچ بھائی تھے اور ان کی کوئی بہن نہیں تھی۔ وہ محلے والوں کے کام کرتا، تو محلے کی سب لڑکیاں اس کی والدہ کے کاموں میں ہاتھ بٹا دیتی تھیں، اس لیے اس گھرانے کے ہر کسی کے ساتھ خوشگوار تعلقات تھے۔ ان دنوں میری عمر سترہ برس تھی اور میرا بھائی مجھ پر کڑی نظر رکھتا تھا۔ وہ مجھے کسی بھی غیر مرد سے بات کرنے سے منع کرتا اور محلے میں کسی کے گھر نہیں جانے دیتا تھا۔ رمیز جیسے ہی خالہ کے گھر آیا، بولا: “خالہ جان کہاں ہیں؟” میں جواب دینے کے بجائے ٹکٹکی باندھے اس کی طرف دیکھنے لگی۔ بلا شبہ وہ ایک حسین و جمیل لڑکا تھا اور کوئی بھی لڑکی پہلی نظر میں اس پر فریفتہ ہو سکتی تھی۔ چند لمحے میں مبہوت رہی، پھر اچانک خیال آیا کہ وہ کچھ پوچھ رہا ہے۔ میں نے جلدی سے اپنا دوپٹہ سر پر اوڑھ لیا اور اس سے مخاطب ہوئی: “خالہ جان بیمار ہیں اور کمرے میں آرام کر رہی ہیں۔” اس نے مجھے گہری نظر سے دیکھا اور کمرے میں چلا گیا۔ میں اس وقت اکیلی تھی۔ میں نے سوچا کہ اے کاش! رمیز جیسا خوبصورت اور نیک لڑکا میرا جیون ساتھی بن جائے، تو زندگی کتنی حسین ہو جائے۔ اسی دن میں نے تہیہ کر لیا کہ میں اپنی طرف سے رمیز کو پیغام دوں گی؛ وہ منظور کرے یا نہ کرے، یہ اس کی مرضی ہے۔
اگلے دن میں نے خالہ کی بیٹی نجمہ کو اپنے ارادے سے آگاہ کر دیا۔ وہ میری بات سن کر گھبرا گئی، مگر میرے بے حد اصرار پر اس نے میری مدد کا وعدہ کر لیا۔ کچھ دن بعد جب رمیز ان کے گھر آیا، تو نجمہ نے باتوں باتوں میں کہا: “بھائی جان! اپنے لیے اب کوئی خوبصورت سی لڑکی منتخب کر کے گھر بسا لیں۔ ہم بہنیں آپ کے سر پر سہرا دیکھنا چاہتی ہیں۔” وہ کہنے لگا: “ابھی سے؟ ابھی تو میں میٹرک کر رہا ہوں۔ میری ایسی کون سی عمر ہے کہ شادی کا سوچوں؟ پہلے تعلیم مکمل کرنی چاہیے، پھر شادی۔ میں ابھی سے کیوں اس جنجال میں پڑوں؟ ابھی تو میرے بہت سے خواب ہیں۔” موقع پا کر نجمہ نے کہا: “میری کزن ندا تم کو پسند کرتی ہے اور تم سے شادی کی آرزومند ہے، ہو سکے تو اس کے بارے میں سوچنا۔” رمیز نے جواب دیا: “نجمہ بہن! تم اپنی کزن کو سمجھاؤ کہ وہ میرا خیال دل سے نکال دے، میرا ابھی کسی سے شادی کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔ پھر ایسی باتوں سے انسان کی رسوائی ہو جاتی ہے، جب کہ آپ کے محلے میں سب مجھ پر اعتبار کرتے ہیں۔ ان لوگوں کی مدد کرنا میرا ایمان ہے، جس کے بدلے میں مجھے ان کی طرف سے احترام ملا ہے۔ اگر کسی کو ان باتوں کا علم ہو گیا، تو میں کسی کو منہ دکھانے کے قابل نہیں رہوں گا۔” یہ کہہ کر رمیز چلا گیا اور میں اپنا سا منہ لے کر رہ گئی۔
اس کے بعد وہ پورا ہفتہ ہمارے محلے میں نہیں آیا ہے۔ میں روزانہ اس کی راہ دیکھتی۔ اس کا گھر ہمارے محلے سے تھوڑے فاصلے پر تھا اور ہمارے گھر سے نظر آتا تھا۔ میں کنویں پر پانی بھرنے جاتی، تو میرا دھیان اس کے گھر کے راستے پر ہوتا کہ کاش وہ مجھے نظر آجائے اور میں اسے جی بھر کے دیکھ سکوں۔ کچھ دنوں بعد ہمارے علاقے میں شادی کی ایک بڑی تقریب ہوئی۔ میں خوب سج دھج کر گئی کہ شاید وہ وہاں نظر آجائے bias۔ ڈھولک پر لڑکیاں مہندی کے گیت گا رہی تھیں، لیکن میرے کان اس کی آواز کو ترس رہے تھے اور آنکھیں اس کا دیدار کرنا چاہتی تھیں کہ اچانک دیوار کی اوٹ سے مجھے اس کا چہرہ نظر آیا۔ اس نے کرم کلر کا سوٹ پہنا ہوا تھا اور کسی بات پر مسکراتا تھا۔ میں بس اسے ہی دیکھے جا رہی تھی کہ اسی دوران اس کی نظر مجھ پر پڑی۔ وہ کبھی آنکھ چراتا اور کبھی دیوار کی طرف دیکھتا۔ جب اس نے میری طرف دیکھا، تو میرے حواس قابو میں نہ رہے اور میں نے آنکھیں جھکا کر اسے سلام کیا۔ وہ کچھ دیر سوچتا رہا، پھر ہاتھ ہلا کر جواب دیا، تو میرے اندر کی کیفیت ہی بدل گئی۔ مجھے محسوس ہوا کہ میری محبت نے اس کے دل میں گھر بنا لیا ہے۔ خدا جب دو دلوں کو ملاتا ہے، تو پھر انسان کو سوچنے کا موقع ہی نہیں ملتا اور وہ نہ چاہتے ہوئے بھی اسی سمت کھینچتا چلا جاتا ہے جہاں منزل منتظر ہوتی ہے۔
اب رمیز خالہ کے گھر کے بجائے ہمارے گھر زیادہ آنے لگا۔ میری ماں خوش دلی سے اس نوجوان کا اپنے گھر میں استقبال کرتی تھی۔ ماں کو احساس تھا کہ رمیز اچھے خاندان کا چشم و چراغ ہے؛ اگر اس کو شیشے میں اتار لیا، تو وارے نیارے ہو جائیں گے اور ایسا داماد کسی خوش نصیب کو ہی ملتا ہے۔ میری ماں رمیز سے سچی محبت کرتی تھی یا لالچ کی خاطر اس سے پیار سواتی تھی، میں نہیں جانتی۔ میں نے ماں کو بتا دیا تھا کہ میں رمیز کو شادی کی نیت سے دیکھتی ہوں۔ ماں نے میرے والد سے پسند کی شادی کی تھی، اس لیے انہوں نے میری بات کا برا نہیں مانا بلکہ غور سے میرا حال سنا اور اس بات کو اہمیت دی۔ یوں میرے دل سے امی کا خوف جاتا رہا۔ ابو سے البتہ مجھے ڈر لگتا تھا؛ وہ بہت سخت مزاج تھے، حالانکہ دل کے اچھے تھے۔ انہوں نے ہمیں آزاد ماحول دیا تھا، لیکن ہم پر کڑی نظر بھی رکھتے تھے۔ نیک طبیعت ہونے کی وجہ سے ابو کو رمیز پر شک نہیں تھا؛ جب وہ ہمارے گھر آتا، تو وہ اسے عزت سے بیٹھک میں بٹھاتے اور خوب گپ شپ لگاتے۔
ان دنوں میں رمیز کو حسرت سے دیکھتی تھی اور خدا سے دعا کرتی تھی کہ اسے کبھی ہم لوگوں کی وجہ سے کوئی تکلیف نہ پہنچے۔ وہ میری ماں سے بھی دیر تک باتیں کرتا تھا۔ جب وہ ہمارے گھر سے نکلتا، تو میرے اشارے پر گھر کے پچھواڑے آجاتا۔ دنیا اس وقت سو رہی ہوتی اور ہم سحر ہونے تک باتیں کرتے رہتے۔ وہ مجھے کہتا کہ “میں کسی روز اپنے والدین کو تیرے گھر رشتے کے لیے بھیجوں گا اور تجھے ہمیشہ کے لیے اپنے ساتھ لے جاؤں گا۔ ماں راضی ہو جائے گی کیونکہ وہ مجھ سے بہت پیار کرتی ہے۔” عید پر وہ سب سے پہلے مجھے مبارک باد دیتا اور مجھ سے پہلے کسی اور سے نہیں ملتا تھا۔ میری والدہ کی نظریں ہر وقت مجھ پر رہتیں؛ انہیں مجھ پر اعتبار بھی تھا اور کسی حد تک نہیں بھی تھا، البتہ رمیز پر وہ واری صدقے جاتیں۔ جب وہ آتا، اس کی بلائیں لیتیں، اس کی خوب خاطر تواضع کرتیں اور ہر دفعہ کسی نہ کسی چیز کی فرمائش کر دیتیں، تو اگلے ہی دن ان کی خواہش پوری ہو جاتی۔
مجھے ماں کا یہ انداز پسند نہ تھا۔ دو سال میں نہ جانے وہ ہم پر کتنی رقم لٹا چکا تھا۔ جب میں اس بات پر خفا ہوتی، تو کہتا: “پگلی! خفا نہ ہو، تیرے لیے تو میں ساری دنیا کی خوشیاں خرید سکتا ہوں۔” جب وہ ہماری امداد کرتا، تو بیچارا پہلے پورے محلے کی امداد کرتا تاکہ کسی کو شک نہ ہو جائے۔ کھلم کھلا امداد کے علاوہ وہ ہمیں چوری چھپے بھی چیزیں لا کر دیتا تھا۔ اس دوران ہم نے اس کی دریا دلی کا خوب فائدہ اٹھایا اور فرمائشوں کا انبار لگا دیا۔ ایسی باتیں چھپتی نہیں ہیں؛ خالہ، ان کی بیٹیوں اور میرے بھائی کو بھی شک پڑ گیا، حالانکہ خالہ کی ایک بیٹی تو آخری وقت تک میری ہم راز رہی تھی، لیکن یہ سب اب ٹوہ میں لگے تھے کہ کوئی بات ہاتھ آئے تو مجھے خوار کر دیں۔ خدا کی کرنی ایسی ہوئی کہ ایک رات رمیز مجھ سے ملنے آیا، تو محلے کے کتوں نے اس پر حملہ کر دیا۔ اگر وہ کوئی آواز نکالتا تو پورا محلہ بیدار ہو جاتا، لیکن اس نے آواز نہیں نکالی اور جان بچا کر بھاگ نکلا۔ مجھے اس دن بہت پریشانی ہوئی تھی۔ صبح سویرے ہماری خالہ اور کزن اس جگہ کا معائنہ کرنے گئیں کہ رات وہاں کتے کیوں بھونک رہے تھے؟ وہ شکی عورتیں تھیں؛ انہوں نے خاص طور پر وہاں قدموں کے نشانات غور سے دیکھے اور آپس میں چہ میگوئیاں کرنے لگیں کہ یہ رمیز کے جوتوں کے نشانات ہیں، کیونکہ اس کے جوتے خاص قسم کے اور بھاری بھرکم ہوتے تھے۔ یہاں سے میرے برے دن شروع ہو گئے۔ اب خاص طور پر ان کی نظریں مجھ پر تھیں۔ اس واقعے سے رمیز بھی سہم گیا، پھر ایک دن میرے کہنے پر اس نے اپنے دادا کو میرے گھر رشتے کے لیے بھیج دیا۔ والدہ تو راضی ہو گئیں، مگر والد صاحب نے ان لوگوں کو یہ کہہ کر ٹال دیا کہ “میرا ایک یتیم بھتیجا راشد ابھی بیٹھا ہے، جب تک اس کا فیصلہ نہیں ہو جاتا، میں کوئی قدم نہیں اٹھا سکتا۔” اس کے بعد جیسے خالہ کے وارے نیارے ہو گئے اور وہ اپنے بیٹے کے لیے میرے خواب دیکھنے لگیں۔ رمیز بہت افسردہ ہوا، لیکن اس نے حوصلہ نہیں ہارا۔ میری والدہ کی مکمل حمایت اسے حاصل تھی اور اسے امی پر بھروسہ تھا کہ اگر وہ ساتھ دے رہی ہیں، تو میرا رشتہ اس کے ساتھ ہو ہی جائے گا۔ اس نے اپنی ماں کو بھی راضی کر لیا تھا، اس لیے وہ مطمئن تھا۔
ہم روز ملتے تھے اور ہماری محبت گہری ہوتی گئی۔ اس نے کئی رشتے میری خاطر ٹھکرا دیے۔ اس عشق کے سمندر میں ڈبکیاں لگاتے ہوئے اس نے ایف اے کی پڑھائی درمیان میں ہی چھوڑ دی۔ وہ جب بھی کہیں نوکری کے لیے جاتا، میں اس کی واپسی کی دعا مانگتی اور جی بھر کے روتی۔ میرے آنسو اثر کر جاتے تھے یا پھر اس کی قسمت ہی خراب تھی کہ وہ جہاں بھی جاتا، چند دن بعد واپس آجاتا۔ اور جب واپس آتا تو رات بھر بیٹھ کر افسوس کرتا کہ “اگر مجھے ملازمت نہ ملی، تو تمہارے والد صاحب ہمارا رشتہ کیسے کریں گے؟” میں اس کے کندھے پر سر رکھ کر اس کی باتیں غور سے سنتی رہتی، پھر کہتی کہ “تم مجھ سے دور مت جانا”، تو وہ حیرت سے مجھے دیکھتا کہ میں اس کے قریب رہنے کی چاہ میں اسے ملازمت کرتے ہوئے بھی نہیں دیکھنا چاہتی۔ وہ بلا شبہ ایک ذہین لڑکا تھا اور اپنے فن میں اتنا ماہر تھا کہ گاؤں میں کوئی بھی اس کا ثانی نہیں تھا۔ اس نے اپنی بنائی ہوئی تصاویر سے کافی نام اور پیسہ کمایا تھا۔
ایک دن میرے سر پر پانی کا گھڑا تھا۔ اس نے اسی روپ میں میری تصویر بنا کر مجھے حیرت میں ڈال دیا۔ وہ مجھے کہتا تھا کہ “میں آنکھیں بند کر کے بھی تیری تصویر بنا سکتا ہوں۔” تقریباً دو سال تک وہ ہمارے گھر چکر لگاتا رہا۔ ایک دفعہ وہ اپنے علاقے کی دکان سے کچھ اشیاء لے کر ہمارے گھر آرہا تھا؛ اسی دکان پر چند بدکردار لوگ بیٹھے ہوئے تھے، وہ اس پر فقرے کسنے لگے کہ “دیکھو، یہ نجانے کیوں ہر وقت دیوانوں کی طرح اس محلے میں پھرتا رہتا ہے، ضرور دال میں کچھ کالا ہے۔”
ایک بدمعاش نے کہا: “اس کی صبح و شام ادھر ہی گزرتی ہے۔ بڑا آیا اس محلے کا ہمدرد! پتہ نہیں اندر ہی اندر کیا گل کھلا رہا ہے۔” دوسرے نے کہا: “آج کل کوئی کسی پر بلا وجہ اعتبار نہیں کرتا اور اسے دیکھو کہ شاہ کے گھر جاتا ہے۔ لگتا ہے کہ جس تھالی میں کھا رہا ہے، اسی میں چھید کر رہا ہے۔” رمیز کو ان لوگوں کی باتوں پر بہت غصہ آیا، مگر وہ میری عزت کی خاطر چپ رہا کیونکہ وہ اسے جان بوجھ کر اشتعال دلا رہے تھے تاکہ بات بڑھے اور بدنامی ہو۔ اس نے سوچا کہ اگر کچھ کہا، تو کہیں ندا اور اس کے خاندان پر لوگ انگلیاں نہ اٹھانے لگیں۔ وہ بھرے بازار میں میری عزت کا جنازہ نکالنا نہیں چاہتا تھا، جب کہ وہ ہمارے گھر آنے جانے کی وجہ سے خود بدنام ہو رہا تھا۔ اور یہ بدمعاش اسے دیکھتے ہی آوازیں کستے کہ “دیکھو اس نئے دور کے مجنوں کو، جسے اپنے گھر کی فکر نہیں، مگر اس محلے کی فکر میں گھلا جا رہا ہے۔”
رفتہ رفتہ اس آگ نے زور پکڑنا شروع کر دیا اور یہ باتیں میرے بھائی کے کانوں تک جا پہنچیں۔ وہ اس دن بہت غصے میں تھا۔ جب وہ گھر آیا، تو رمیز کو مجھ سے باتیں کرتے ہوئے پایا۔ اس کا پارہ چڑھ گیا اور اس نے اس کی بے عزتی کرنا شروع کر دی اور کہا: “برائے مہربانی ہمارے گھر نہ آیا کریں کیونکہ غریبوں کی بھی کوئی عزت ہوتی ہے۔ میری جوان بہنیں ہیں؛ تمہارے آنے کی وجہ سے اب لوگ ہم پر انگلیاں اٹھا رہے ہیں اور آوازیں کس رہے ہیں۔ ہم غریب ضرور ہیں، مگر یہ بے عزتی برداشت نہیں کر سکتے۔” والد صاحب گھر پر نہیں تھے اور والدہ سر جھکائے بیٹھی تھیں۔ میری ماں، جو کل تک رمیز کے گن گاتی تھی، آج اس کی بے عزتی پر خاموش تھی۔ بھائی چلا رہا تھا اور سارا محلہ تماشا دیکھ رہا تھا، لیکن کسی نے اس بیچارے کا ساتھ نہیں دیا۔ یہ وہی لوگ تھے جن کے لیے رمیز نے دن رات ایک کر دیا تھا۔ میں اپنے کمرے میں بیٹھی سب سن رہی تھی۔ رمیز بھائی سے کہہ رہا تھا: “ظفر! میں جانتا ہوں کہ کس بدبخت نے تمہارے کان بھرے ہیں۔ میں تو آٹھ سال سے اس محلے میں آرہا ہوں؛ اگر مجھ پر اور میری شرافت پر شک ہوتا، تو یہ محلے والے جو اس وقت انجن بنے کھڑے ہیں، مجھے پہلے ہی یہاں آنے سے منع کر دیتے۔ خدا گواہ ہے، اگر زمین بول سکتی تو وہ بھی بول پڑتی؛ میں کوئی بے اعتبار شخص نہیں ہوں۔” بھائی نے کہا: “محلے میں جہاں دل چاہے جاؤ، مگر ادھر اب کبھی نہ آنا۔”
رمیز کو بھائی کی بات کا گہرا صدمہ پہنچا تھا۔ وہ آنکھوں میں آنسو بھر کر چلا گیا اور پھر کبھی نہیں آیا۔ میں سب سے اس کا پوچھتی اور ہر بار مایوس ہو جاتی۔ کوئی کہتا کہ وہ پشاور چلا گیا ہے اور کوئی کچھ کہتا۔ ان دنوں میرا دل کہیں نہیں لگتا تھا۔ میرے بھائی کی وجہ سے اسے گہرا دکھ پہنچا تھا اور میں دن رات اس کی یاد میں روتی تھی، جس سے ماں بھی پریشان تھی۔ میری خالہ کی بیٹیاں ایک دن اس کے گھر گئیں اور اسے اپنے گھر لے آئیں۔ وہ لالچی تھیں؛ انہوں نے اسے بھائی بنا کر بھائی کے پیار کا واسطہ دیا تھا اور وہ اسے جھوٹا پیار دے کر لوٹ رہی تھیں۔ وہ میرے غم کو بہلانے کے لیے ان کی ایسی ایسی فرمائشیں پوری کرتا تھا کہ شاید ہی کوئی سگا بھائی اپنی بہنوں کے لیے اتنا کچھ کرتا ہو۔ تمام حالات دیکھ کر میرا دل خون کے آنسو روتا تھا، مگر میں کچھ نہیں کر سکتی تھی۔ میں اسے کیسے سمجھاتی کہ “تم میری خالہ کی بیٹیوں کی باتوں میں نہ آؤ کیونکہ یہ میری خیر خواہ نہیں بلکہ دشمن ہیں!” ایک دن نجمہ آئی اور مجھے کہا کہ “رمیز نے پیغام بھیجا ہے، وہ تم سے ملنا چاہتا ہے؛ تمہارے گھر کے پاس جو باغ ہے، وہاں وہ تمہارا منتظر ہے۔” میں نادان تھی، اس کی باتوں میں آگئی اور مقررہ وقت پر وہاں چلی گئی۔ بے شک رمیز وہاں موجود تھا، لیکن اسے معلوم نہیں تھا کہ میں آؤں گی۔ نجمہ نے نہ جانے کیا کہہ کر اسے باغ میں بھیجا تھا۔ یہ سب ایک سازش تھی۔ نجمہ نے میرے بھائی ظفر کو بھی اسی وقت باغ میں بلا لیا تھا کہ “آؤ اور آکر دیکھو، تمہاری بہن رمیز کے ساتھ باغوں میں ملاقاتیں کرتی ہے۔” میں مانتی ہوں کہ میرا قصور تھا؛ میں کیوں نجمہ کے کہنے پر باغ میں گئی؟ مگر میں تو مدت سے رمیز کے لیے اداس اور پریشان تھی، اس لیے اپنی بے قراری پر قابو نہ پاسکی اور بے اختیار باغ میں چلی آئی۔ سامنے رمیز کو دیکھ کر مجھے ارد گرد کا ہوش نہ رہا، لیکن اس نے سامنے سے آتے ہوئے میرے بھائی کو دیکھ لیا۔ بھائی اکیلا نہیں تھا بلکہ اس کے ساتھ دو افراد اور بھی تھے جن کے پاس ہتھیار تھے؛ بھائی بھی بھرا ہوا پستول لایا تھا۔ جونہی میں بات کرنے کے لیے اس کی طرف بڑھی، بھائی نے مجھے بالوں سے پکڑا اور گھسیٹتا ہوا گھر لے آیا۔ وہ تو مجھے وہاں ہی گولی مار دینا چاہتا تھا، لیکن اس کے دوست نے ایسا نہ کرنے دیا اور اس سے پستول چھین لیا۔ میں نے رمیز پر ان دو اشخاص کو حملہ آور ہوتے دیکھا جو بھائی کے ساتھ تھے، مگر بھائی نے ان کو حملہ کرنے کی مہلت بھی نہ دی بلکہ پہلی گولی خود اس پر چلا دی اور دوسری مجھ پر چلانے والا تھا، مگر دوسرے آدمی کی مداخلت کے باعث نہ چلا سکا۔
جب وہ مجھے گھر لایا، تو اس کی آنکھوں میں خون اترا ہوا تھا۔ والد صاحب اس وقت گھر پر موجود تھے؛ انہوں نے مجھے بچا لیا اور کمرے میں دھکا دے کر دروازہ بند کر دیا۔ انہوں نے ظفر پر بھی قابو پایا؛ اگر اس دن ابو گھر نہ ہوتے، تو یقیناً بھائی مجھے مار ڈالتا۔ پورا دن مجھے کمرے میں بند رکھا گیا، یہاں تک کہ پولیس آئی اور میرے بھائی کو پکڑ کر لے گئی، کیونکہ رمیز کو گولی دل کے قریب لگی تھی اور وہ جانبر نہ ہو سکا تھا۔ یوں ایک اچھا اور دوسروں کی مدد کرنے والا انسان میرے بھائی کے غصے کی بھینٹ چڑھ گیا۔ رمیز کے والدین اثر و رسوخ والے تھے، اس لیے بہت کوشش کے باوجود میرے والد ظفر کو نہ بچا سکے۔ میرے بھائی کو پھانسی کی سزا ہو گئی اور میں بدبخت یہ دن دیکھنے کے لیے زندہ بچ گئی۔ جس دن بھائی کو پھانسی ہوئی اور لاش گھر آئی، تو ماں اس کی لاش دیکھ کر چل بسیں اور والد بھی غش کھا گئے۔ بہنیں رو رہی تھیں اور کہہ رہی تھیں: “کاش ندا مر جاتی، ظفر نہ مرتا۔”
ایک دن میں اپنی ایک سہیلی کے ساتھ رمیز کی قبر پر گئی، تبھی میں اس جگہ سے گزری جہاں ہم ملا کرتے تھے۔ یہ وہ جگہ تھی جہاں سے گزرتے ہوئے حسین لمحات مٹی کے ذرے بن کر ہمیں پکار رہے تھے۔ میں کچھ دیر وہاں کھڑی رہی؛ زمین نے جیسے میرے پاؤں جکڑ لیے ہوں، پھر مجھے ایسا محسوس ہوا جیسے اس کی روح مجھ سے مخاطب ہو کر کہہ رہی ہو: “ندا! اب مجھے یاد نہ کرو، میں تم سے بہت دور جا چکا ہوں۔ تم میری منزل نہیں ہو، میری منزل کوئی اور ہے۔ مجھے تم سے پیار ہے، مگر میں تمہارا نہیں ہو سکتا۔ اب تم مجھے بھول جاؤ کہ نزدیک ہونے کے باوجود میں تم سے دور جا چکا ہوں۔” کبھی کبھی مجھے ایسا لگتا ہے جیسے رمیز میرے پاس سے گزر رہا ہے، مگر میری طرف دیکھتا نہیں؛ کیونکہ میری ہی وجہ سے اس نے بھری جوانی میں اپنی زندگی کھوئی تھی، شاید اسی لیے وہ مجھ سے ناراض ہے۔
آج میری اور میری بہنوں کی عمر ڈھل گئی ہے، مگر کوئی ہمیں بیاہنے نہیں آیا۔ اس واقعے کو دس برس ہو چکے ہیں، لیکن وقت بہت ظالم ہے؛ جب گزر جاتا ہے، تو پھر لوٹ کر کبھی نہیں آتا۔
خالہ بچپن سے ہی مجھے کہتی تھیں کہ “ندا! میں تجھے اپنی بہو بناؤں گی”، مگر ان کا بیٹے دلاور مجھے ایک آنکھ نہیں بھاتا تھا۔ اس کی بہنیں بھی چاہتی تھیں کہ گلاب کی یہ کلی ان کی بھابھی بنے، جب کہ میں نے ہمیشہ دل میں یہی خواہش رکھی تھی کہ میرا جیون ساتھی خوبصورت، دولت مند اور مجھ سے بے پناہ محبت کرنے والا ہو۔ خدا نے میری دعا سن لی۔ ان دنوں خالہ بیمار تھیں اور ان کی بیٹیاں کسی شادی میں گئی ہوئی تھیں کہ ہمارے گاؤں کے سردار کا پوتا آگیا، جس کا نام رمیز تھا اور یہ لوگ گاؤں میں معتبر مانے جاتے تھے۔ اگرچہ بعد میں ان کے حالات خراب ہو گئے تھے، پھر بھی گاؤں میں ان کا سب سے زیادہ رعب اور دبدبہ تھا۔ رمیز ہمارے گھر میں بلا خوف و خطر آتا تھا، کیونکہ اسے خالہ کی بیٹیوں نے اپنا منہ بولا بھائی بنایا ہوا تھا۔
وہ بہت نیک دل لڑکا تھا اور ہمارے محلے کے ہر غریب کا کام کر دیا کرتا تھا؛ اسی لیے خالہ کے گھر کے علاوہ وہ پورے محلے میں عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا۔ وہ پانچ بھائی تھے اور ان کی کوئی بہن نہیں تھی۔ وہ محلے والوں کے کام کرتا، تو محلے کی سب لڑکیاں اس کی والدہ کے کاموں میں ہاتھ بٹا دیتی تھیں، اس لیے اس گھرانے کے ہر کسی کے ساتھ خوشگوار تعلقات تھے۔ ان دنوں میری عمر سترہ برس تھی اور میرا بھائی مجھ پر کڑی نظر رکھتا تھا۔ وہ مجھے کسی بھی غیر مرد سے بات کرنے سے منع کرتا اور محلے میں کسی کے گھر نہیں جانے دیتا تھا۔ رمیز جیسے ہی خالہ کے گھر آیا، بولا: “خالہ جان کہاں ہیں؟” میں جواب دینے کے بجائے ٹکٹکی باندھے اس کی طرف دیکھنے لگی۔ بلا شبہ وہ ایک حسین و جمیل لڑکا تھا اور کوئی بھی لڑکی پہلی نظر میں اس پر فریفتہ ہو سکتی تھی۔ چند لمحے میں مبہوت رہی، پھر اچانک خیال آیا کہ وہ کچھ پوچھ رہا ہے۔ میں نے جلدی سے اپنا دوپٹہ سر پر اوڑھ لیا اور اس سے مخاطب ہوئی: “خالہ جان بیمار ہیں اور کمرے میں آرام کر رہی ہیں۔” اس نے مجھے گہری نظر سے دیکھا اور کمرے میں چلا گیا۔ میں اس وقت اکیلی تھی۔ میں نے سوچا کہ اے کاش! رمیز جیسا خوبصورت اور نیک لڑکا میرا جیون ساتھی بن جائے، تو زندگی کتنی حسین ہو جائے۔ اسی دن میں نے تہیہ کر لیا کہ میں اپنی طرف سے رمیز کو پیغام دوں گی؛ وہ منظور کرے یا نہ کرے، یہ اس کی مرضی ہے۔
اگلے دن میں نے خالہ کی بیٹی نجمہ کو اپنے ارادے سے آگاہ کر دیا۔ وہ میری بات سن کر گھبرا گئی، مگر میرے بے حد اصرار پر اس نے میری مدد کا وعدہ کر لیا۔ کچھ دن بعد جب رمیز ان کے گھر آیا، تو نجمہ نے باتوں باتوں میں کہا: “بھائی جان! اپنے لیے اب کوئی خوبصورت سی لڑکی منتخب کر کے گھر بسا لیں۔ ہم بہنیں آپ کے سر پر سہرا دیکھنا چاہتی ہیں۔” وہ کہنے لگا: “ابھی سے؟ ابھی تو میں میٹرک کر رہا ہوں۔ میری ایسی کون سی عمر ہے کہ شادی کا سوچوں؟ پہلے تعلیم مکمل کرنی چاہیے، پھر شادی۔ میں ابھی سے کیوں اس جنجال میں پڑوں؟ ابھی تو میرے بہت سے خواب ہیں۔” موقع پا کر نجمہ نے کہا: “میری کزن ندا تم کو پسند کرتی ہے اور تم سے شادی کی آرزومند ہے، ہو سکے تو اس کے بارے میں سوچنا۔” رمیز نے جواب دیا: “نجمہ بہن! تم اپنی کزن کو سمجھاؤ کہ وہ میرا خیال دل سے نکال دے، میرا ابھی کسی سے شادی کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔ پھر ایسی باتوں سے انسان کی رسوائی ہو جاتی ہے، جب کہ آپ کے محلے میں سب مجھ پر اعتبار کرتے ہیں۔ ان لوگوں کی مدد کرنا میرا ایمان ہے، جس کے بدلے میں مجھے ان کی طرف سے احترام ملا ہے۔ اگر کسی کو ان باتوں کا علم ہو گیا، تو میں کسی کو منہ دکھانے کے قابل نہیں رہوں گا۔” یہ کہہ کر رمیز چلا گیا اور میں اپنا سا منہ لے کر رہ گئی۔
اس کے بعد وہ پورا ہفتہ ہمارے محلے میں نہیں آیا ہے۔ میں روزانہ اس کی راہ دیکھتی۔ اس کا گھر ہمارے محلے سے تھوڑے فاصلے پر تھا اور ہمارے گھر سے نظر آتا تھا۔ میں کنویں پر پانی بھرنے جاتی، تو میرا دھیان اس کے گھر کے راستے پر ہوتا کہ کاش وہ مجھے نظر آجائے اور میں اسے جی بھر کے دیکھ سکوں۔ کچھ دنوں بعد ہمارے علاقے میں شادی کی ایک بڑی تقریب ہوئی۔ میں خوب سج دھج کر گئی کہ شاید وہ وہاں نظر آجائے bias۔ ڈھولک پر لڑکیاں مہندی کے گیت گا رہی تھیں، لیکن میرے کان اس کی آواز کو ترس رہے تھے اور آنکھیں اس کا دیدار کرنا چاہتی تھیں کہ اچانک دیوار کی اوٹ سے مجھے اس کا چہرہ نظر آیا۔ اس نے کرم کلر کا سوٹ پہنا ہوا تھا اور کسی بات پر مسکراتا تھا۔ میں بس اسے ہی دیکھے جا رہی تھی کہ اسی دوران اس کی نظر مجھ پر پڑی۔ وہ کبھی آنکھ چراتا اور کبھی دیوار کی طرف دیکھتا۔ جب اس نے میری طرف دیکھا، تو میرے حواس قابو میں نہ رہے اور میں نے آنکھیں جھکا کر اسے سلام کیا۔ وہ کچھ دیر سوچتا رہا، پھر ہاتھ ہلا کر جواب دیا، تو میرے اندر کی کیفیت ہی بدل گئی۔ مجھے محسوس ہوا کہ میری محبت نے اس کے دل میں گھر بنا لیا ہے۔ خدا جب دو دلوں کو ملاتا ہے، تو پھر انسان کو سوچنے کا موقع ہی نہیں ملتا اور وہ نہ چاہتے ہوئے بھی اسی سمت کھینچتا چلا جاتا ہے جہاں منزل منتظر ہوتی ہے۔
اب رمیز خالہ کے گھر کے بجائے ہمارے گھر زیادہ آنے لگا۔ میری ماں خوش دلی سے اس نوجوان کا اپنے گھر میں استقبال کرتی تھی۔ ماں کو احساس تھا کہ رمیز اچھے خاندان کا چشم و چراغ ہے؛ اگر اس کو شیشے میں اتار لیا، تو وارے نیارے ہو جائیں گے اور ایسا داماد کسی خوش نصیب کو ہی ملتا ہے۔ میری ماں رمیز سے سچی محبت کرتی تھی یا لالچ کی خاطر اس سے پیار سواتی تھی، میں نہیں جانتی۔ میں نے ماں کو بتا دیا تھا کہ میں رمیز کو شادی کی نیت سے دیکھتی ہوں۔ ماں نے میرے والد سے پسند کی شادی کی تھی، اس لیے انہوں نے میری بات کا برا نہیں مانا بلکہ غور سے میرا حال سنا اور اس بات کو اہمیت دی۔ یوں میرے دل سے امی کا خوف جاتا رہا۔ ابو سے البتہ مجھے ڈر لگتا تھا؛ وہ بہت سخت مزاج تھے، حالانکہ دل کے اچھے تھے۔ انہوں نے ہمیں آزاد ماحول دیا تھا، لیکن ہم پر کڑی نظر بھی رکھتے تھے۔ نیک طبیعت ہونے کی وجہ سے ابو کو رمیز پر شک نہیں تھا؛ جب وہ ہمارے گھر آتا، تو وہ اسے عزت سے بیٹھک میں بٹھاتے اور خوب گپ شپ لگاتے۔
ان دنوں میں رمیز کو حسرت سے دیکھتی تھی اور خدا سے دعا کرتی تھی کہ اسے کبھی ہم لوگوں کی وجہ سے کوئی تکلیف نہ پہنچے۔ وہ میری ماں سے بھی دیر تک باتیں کرتا تھا۔ جب وہ ہمارے گھر سے نکلتا، تو میرے اشارے پر گھر کے پچھواڑے آجاتا۔ دنیا اس وقت سو رہی ہوتی اور ہم سحر ہونے تک باتیں کرتے رہتے۔ وہ مجھے کہتا کہ “میں کسی روز اپنے والدین کو تیرے گھر رشتے کے لیے بھیجوں گا اور تجھے ہمیشہ کے لیے اپنے ساتھ لے جاؤں گا۔ ماں راضی ہو جائے گی کیونکہ وہ مجھ سے بہت پیار کرتی ہے۔” عید پر وہ سب سے پہلے مجھے مبارک باد دیتا اور مجھ سے پہلے کسی اور سے نہیں ملتا تھا۔ میری والدہ کی نظریں ہر وقت مجھ پر رہتیں؛ انہیں مجھ پر اعتبار بھی تھا اور کسی حد تک نہیں بھی تھا، البتہ رمیز پر وہ واری صدقے جاتیں۔ جب وہ آتا، اس کی بلائیں لیتیں، اس کی خوب خاطر تواضع کرتیں اور ہر دفعہ کسی نہ کسی چیز کی فرمائش کر دیتیں، تو اگلے ہی دن ان کی خواہش پوری ہو جاتی۔
مجھے ماں کا یہ انداز پسند نہ تھا۔ دو سال میں نہ جانے وہ ہم پر کتنی رقم لٹا چکا تھا۔ جب میں اس بات پر خفا ہوتی، تو کہتا: “پگلی! خفا نہ ہو، تیرے لیے تو میں ساری دنیا کی خوشیاں خرید سکتا ہوں۔” جب وہ ہماری امداد کرتا، تو بیچارا پہلے پورے محلے کی امداد کرتا تاکہ کسی کو شک نہ ہو جائے۔ کھلم کھلا امداد کے علاوہ وہ ہمیں چوری چھپے بھی چیزیں لا کر دیتا تھا۔ اس دوران ہم نے اس کی دریا دلی کا خوب فائدہ اٹھایا اور فرمائشوں کا انبار لگا دیا۔ ایسی باتیں چھپتی نہیں ہیں؛ خالہ، ان کی بیٹیوں اور میرے بھائی کو بھی شک پڑ گیا، حالانکہ خالہ کی ایک بیٹی تو آخری وقت تک میری ہم راز رہی تھی، لیکن یہ سب اب ٹوہ میں لگے تھے کہ کوئی بات ہاتھ آئے تو مجھے خوار کر دیں۔ خدا کی کرنی ایسی ہوئی کہ ایک رات رمیز مجھ سے ملنے آیا، تو محلے کے کتوں نے اس پر حملہ کر دیا۔ اگر وہ کوئی آواز نکالتا تو پورا محلہ بیدار ہو جاتا، لیکن اس نے آواز نہیں نکالی اور جان بچا کر بھاگ نکلا۔ مجھے اس دن بہت پریشانی ہوئی تھی۔ صبح سویرے ہماری خالہ اور کزن اس جگہ کا معائنہ کرنے گئیں کہ رات وہاں کتے کیوں بھونک رہے تھے؟ وہ شکی عورتیں تھیں؛ انہوں نے خاص طور پر وہاں قدموں کے نشانات غور سے دیکھے اور آپس میں چہ میگوئیاں کرنے لگیں کہ یہ رمیز کے جوتوں کے نشانات ہیں، کیونکہ اس کے جوتے خاص قسم کے اور بھاری بھرکم ہوتے تھے۔ یہاں سے میرے برے دن شروع ہو گئے۔ اب خاص طور پر ان کی نظریں مجھ پر تھیں۔ اس واقعے سے رمیز بھی سہم گیا، پھر ایک دن میرے کہنے پر اس نے اپنے دادا کو میرے گھر رشتے کے لیے بھیج دیا۔ والدہ تو راضی ہو گئیں، مگر والد صاحب نے ان لوگوں کو یہ کہہ کر ٹال دیا کہ “میرا ایک یتیم بھتیجا راشد ابھی بیٹھا ہے، جب تک اس کا فیصلہ نہیں ہو جاتا، میں کوئی قدم نہیں اٹھا سکتا۔” اس کے بعد جیسے خالہ کے وارے نیارے ہو گئے اور وہ اپنے بیٹے کے لیے میرے خواب دیکھنے لگیں۔ رمیز بہت افسردہ ہوا، لیکن اس نے حوصلہ نہیں ہارا۔ میری والدہ کی مکمل حمایت اسے حاصل تھی اور اسے امی پر بھروسہ تھا کہ اگر وہ ساتھ دے رہی ہیں، تو میرا رشتہ اس کے ساتھ ہو ہی جائے گا۔ اس نے اپنی ماں کو بھی راضی کر لیا تھا، اس لیے وہ مطمئن تھا۔
ہم روز ملتے تھے اور ہماری محبت گہری ہوتی گئی۔ اس نے کئی رشتے میری خاطر ٹھکرا دیے۔ اس عشق کے سمندر میں ڈبکیاں لگاتے ہوئے اس نے ایف اے کی پڑھائی درمیان میں ہی چھوڑ دی۔ وہ جب بھی کہیں نوکری کے لیے جاتا، میں اس کی واپسی کی دعا مانگتی اور جی بھر کے روتی۔ میرے آنسو اثر کر جاتے تھے یا پھر اس کی قسمت ہی خراب تھی کہ وہ جہاں بھی جاتا، چند دن بعد واپس آجاتا۔ اور جب واپس آتا تو رات بھر بیٹھ کر افسوس کرتا کہ “اگر مجھے ملازمت نہ ملی، تو تمہارے والد صاحب ہمارا رشتہ کیسے کریں گے؟” میں اس کے کندھے پر سر رکھ کر اس کی باتیں غور سے سنتی رہتی، پھر کہتی کہ “تم مجھ سے دور مت جانا”، تو وہ حیرت سے مجھے دیکھتا کہ میں اس کے قریب رہنے کی چاہ میں اسے ملازمت کرتے ہوئے بھی نہیں دیکھنا چاہتی۔ وہ بلا شبہ ایک ذہین لڑکا تھا اور اپنے فن میں اتنا ماہر تھا کہ گاؤں میں کوئی بھی اس کا ثانی نہیں تھا۔ اس نے اپنی بنائی ہوئی تصاویر سے کافی نام اور پیسہ کمایا تھا۔
ایک دن میرے سر پر پانی کا گھڑا تھا۔ اس نے اسی روپ میں میری تصویر بنا کر مجھے حیرت میں ڈال دیا۔ وہ مجھے کہتا تھا کہ “میں آنکھیں بند کر کے بھی تیری تصویر بنا سکتا ہوں۔” تقریباً دو سال تک وہ ہمارے گھر چکر لگاتا رہا۔ ایک دفعہ وہ اپنے علاقے کی دکان سے کچھ اشیاء لے کر ہمارے گھر آرہا تھا؛ اسی دکان پر چند بدکردار لوگ بیٹھے ہوئے تھے، وہ اس پر فقرے کسنے لگے کہ “دیکھو، یہ نجانے کیوں ہر وقت دیوانوں کی طرح اس محلے میں پھرتا رہتا ہے، ضرور دال میں کچھ کالا ہے۔”
ایک بدمعاش نے کہا: “اس کی صبح و شام ادھر ہی گزرتی ہے۔ بڑا آیا اس محلے کا ہمدرد! پتہ نہیں اندر ہی اندر کیا گل کھلا رہا ہے۔” دوسرے نے کہا: “آج کل کوئی کسی پر بلا وجہ اعتبار نہیں کرتا اور اسے دیکھو کہ شاہ کے گھر جاتا ہے۔ لگتا ہے کہ جس تھالی میں کھا رہا ہے، اسی میں چھید کر رہا ہے۔” رمیز کو ان لوگوں کی باتوں پر بہت غصہ آیا، مگر وہ میری عزت کی خاطر چپ رہا کیونکہ وہ اسے جان بوجھ کر اشتعال دلا رہے تھے تاکہ بات بڑھے اور بدنامی ہو۔ اس نے سوچا کہ اگر کچھ کہا، تو کہیں ندا اور اس کے خاندان پر لوگ انگلیاں نہ اٹھانے لگیں۔ وہ بھرے بازار میں میری عزت کا جنازہ نکالنا نہیں چاہتا تھا، جب کہ وہ ہمارے گھر آنے جانے کی وجہ سے خود بدنام ہو رہا تھا۔ اور یہ بدمعاش اسے دیکھتے ہی آوازیں کستے کہ “دیکھو اس نئے دور کے مجنوں کو، جسے اپنے گھر کی فکر نہیں، مگر اس محلے کی فکر میں گھلا جا رہا ہے۔”
رفتہ رفتہ اس آگ نے زور پکڑنا شروع کر دیا اور یہ باتیں میرے بھائی کے کانوں تک جا پہنچیں۔ وہ اس دن بہت غصے میں تھا۔ جب وہ گھر آیا، تو رمیز کو مجھ سے باتیں کرتے ہوئے پایا۔ اس کا پارہ چڑھ گیا اور اس نے اس کی بے عزتی کرنا شروع کر دی اور کہا: “برائے مہربانی ہمارے گھر نہ آیا کریں کیونکہ غریبوں کی بھی کوئی عزت ہوتی ہے۔ میری جوان بہنیں ہیں؛ تمہارے آنے کی وجہ سے اب لوگ ہم پر انگلیاں اٹھا رہے ہیں اور آوازیں کس رہے ہیں۔ ہم غریب ضرور ہیں، مگر یہ بے عزتی برداشت نہیں کر سکتے۔” والد صاحب گھر پر نہیں تھے اور والدہ سر جھکائے بیٹھی تھیں۔ میری ماں، جو کل تک رمیز کے گن گاتی تھی، آج اس کی بے عزتی پر خاموش تھی۔ بھائی چلا رہا تھا اور سارا محلہ تماشا دیکھ رہا تھا، لیکن کسی نے اس بیچارے کا ساتھ نہیں دیا۔ یہ وہی لوگ تھے جن کے لیے رمیز نے دن رات ایک کر دیا تھا۔ میں اپنے کمرے میں بیٹھی سب سن رہی تھی۔ رمیز بھائی سے کہہ رہا تھا: “ظفر! میں جانتا ہوں کہ کس بدبخت نے تمہارے کان بھرے ہیں۔ میں تو آٹھ سال سے اس محلے میں آرہا ہوں؛ اگر مجھ پر اور میری شرافت پر شک ہوتا، تو یہ محلے والے جو اس وقت انجن بنے کھڑے ہیں، مجھے پہلے ہی یہاں آنے سے منع کر دیتے۔ خدا گواہ ہے، اگر زمین بول سکتی تو وہ بھی بول پڑتی؛ میں کوئی بے اعتبار شخص نہیں ہوں۔” بھائی نے کہا: “محلے میں جہاں دل چاہے جاؤ، مگر ادھر اب کبھی نہ آنا۔”
رمیز کو بھائی کی بات کا گہرا صدمہ پہنچا تھا۔ وہ آنکھوں میں آنسو بھر کر چلا گیا اور پھر کبھی نہیں آیا۔ میں سب سے اس کا پوچھتی اور ہر بار مایوس ہو جاتی۔ کوئی کہتا کہ وہ پشاور چلا گیا ہے اور کوئی کچھ کہتا۔ ان دنوں میرا دل کہیں نہیں لگتا تھا۔ میرے بھائی کی وجہ سے اسے گہرا دکھ پہنچا تھا اور میں دن رات اس کی یاد میں روتی تھی، جس سے ماں بھی پریشان تھی۔ میری خالہ کی بیٹیاں ایک دن اس کے گھر گئیں اور اسے اپنے گھر لے آئیں۔ وہ لالچی تھیں؛ انہوں نے اسے بھائی بنا کر بھائی کے پیار کا واسطہ دیا تھا اور وہ اسے جھوٹا پیار دے کر لوٹ رہی تھیں۔ وہ میرے غم کو بہلانے کے لیے ان کی ایسی ایسی فرمائشیں پوری کرتا تھا کہ شاید ہی کوئی سگا بھائی اپنی بہنوں کے لیے اتنا کچھ کرتا ہو۔ تمام حالات دیکھ کر میرا دل خون کے آنسو روتا تھا، مگر میں کچھ نہیں کر سکتی تھی۔ میں اسے کیسے سمجھاتی کہ “تم میری خالہ کی بیٹیوں کی باتوں میں نہ آؤ کیونکہ یہ میری خیر خواہ نہیں بلکہ دشمن ہیں!” ایک دن نجمہ آئی اور مجھے کہا کہ “رمیز نے پیغام بھیجا ہے، وہ تم سے ملنا چاہتا ہے؛ تمہارے گھر کے پاس جو باغ ہے، وہاں وہ تمہارا منتظر ہے۔” میں نادان تھی، اس کی باتوں میں آگئی اور مقررہ وقت پر وہاں چلی گئی۔ بے شک رمیز وہاں موجود تھا، لیکن اسے معلوم نہیں تھا کہ میں آؤں گی۔ نجمہ نے نہ جانے کیا کہہ کر اسے باغ میں بھیجا تھا۔ یہ سب ایک سازش تھی۔ نجمہ نے میرے بھائی ظفر کو بھی اسی وقت باغ میں بلا لیا تھا کہ “آؤ اور آکر دیکھو، تمہاری بہن رمیز کے ساتھ باغوں میں ملاقاتیں کرتی ہے۔” میں مانتی ہوں کہ میرا قصور تھا؛ میں کیوں نجمہ کے کہنے پر باغ میں گئی؟ مگر میں تو مدت سے رمیز کے لیے اداس اور پریشان تھی، اس لیے اپنی بے قراری پر قابو نہ پاسکی اور بے اختیار باغ میں چلی آئی۔ سامنے رمیز کو دیکھ کر مجھے ارد گرد کا ہوش نہ رہا، لیکن اس نے سامنے سے آتے ہوئے میرے بھائی کو دیکھ لیا۔ بھائی اکیلا نہیں تھا بلکہ اس کے ساتھ دو افراد اور بھی تھے جن کے پاس ہتھیار تھے؛ بھائی بھی بھرا ہوا پستول لایا تھا۔ جونہی میں بات کرنے کے لیے اس کی طرف بڑھی، بھائی نے مجھے بالوں سے پکڑا اور گھسیٹتا ہوا گھر لے آیا۔ وہ تو مجھے وہاں ہی گولی مار دینا چاہتا تھا، لیکن اس کے دوست نے ایسا نہ کرنے دیا اور اس سے پستول چھین لیا۔ میں نے رمیز پر ان دو اشخاص کو حملہ آور ہوتے دیکھا جو بھائی کے ساتھ تھے، مگر بھائی نے ان کو حملہ کرنے کی مہلت بھی نہ دی بلکہ پہلی گولی خود اس پر چلا دی اور دوسری مجھ پر چلانے والا تھا، مگر دوسرے آدمی کی مداخلت کے باعث نہ چلا سکا۔
جب وہ مجھے گھر لایا، تو اس کی آنکھوں میں خون اترا ہوا تھا۔ والد صاحب اس وقت گھر پر موجود تھے؛ انہوں نے مجھے بچا لیا اور کمرے میں دھکا دے کر دروازہ بند کر دیا۔ انہوں نے ظفر پر بھی قابو پایا؛ اگر اس دن ابو گھر نہ ہوتے، تو یقیناً بھائی مجھے مار ڈالتا۔ پورا دن مجھے کمرے میں بند رکھا گیا، یہاں تک کہ پولیس آئی اور میرے بھائی کو پکڑ کر لے گئی، کیونکہ رمیز کو گولی دل کے قریب لگی تھی اور وہ جانبر نہ ہو سکا تھا۔ یوں ایک اچھا اور دوسروں کی مدد کرنے والا انسان میرے بھائی کے غصے کی بھینٹ چڑھ گیا۔ رمیز کے والدین اثر و رسوخ والے تھے، اس لیے بہت کوشش کے باوجود میرے والد ظفر کو نہ بچا سکے۔ میرے بھائی کو پھانسی کی سزا ہو گئی اور میں بدبخت یہ دن دیکھنے کے لیے زندہ بچ گئی۔ جس دن بھائی کو پھانسی ہوئی اور لاش گھر آئی، تو ماں اس کی لاش دیکھ کر چل بسیں اور والد بھی غش کھا گئے۔ بہنیں رو رہی تھیں اور کہہ رہی تھیں: “کاش ندا مر جاتی، ظفر نہ مرتا۔”
ایک دن میں اپنی ایک سہیلی کے ساتھ رمیز کی قبر پر گئی، تبھی میں اس جگہ سے گزری جہاں ہم ملا کرتے تھے۔ یہ وہ جگہ تھی جہاں سے گزرتے ہوئے حسین لمحات مٹی کے ذرے بن کر ہمیں پکار رہے تھے۔ میں کچھ دیر وہاں کھڑی رہی؛ زمین نے جیسے میرے پاؤں جکڑ لیے ہوں، پھر مجھے ایسا محسوس ہوا جیسے اس کی روح مجھ سے مخاطب ہو کر کہہ رہی ہو: “ندا! اب مجھے یاد نہ کرو، میں تم سے بہت دور جا چکا ہوں۔ تم میری منزل نہیں ہو، میری منزل کوئی اور ہے۔ مجھے تم سے پیار ہے، مگر میں تمہارا نہیں ہو سکتا۔ اب تم مجھے بھول جاؤ کہ نزدیک ہونے کے باوجود میں تم سے دور جا چکا ہوں۔” کبھی کبھی مجھے ایسا لگتا ہے جیسے رمیز میرے پاس سے گزر رہا ہے، مگر میری طرف دیکھتا نہیں؛ کیونکہ میری ہی وجہ سے اس نے بھری جوانی میں اپنی زندگی کھوئی تھی، شاید اسی لیے وہ مجھ سے ناراض ہے۔
آج میری اور میری بہنوں کی عمر ڈھل گئی ہے، مگر کوئی ہمیں بیاہنے نہیں آیا۔ اس واقعے کو دس برس ہو چکے ہیں، لیکن وقت بہت ظالم ہے؛ جب گزر جاتا ہے، تو پھر لوٹ کر کبھی نہیں آتا۔
