- Thread starter
- #81
alone_leo82
Well-known member
میرے کمرے میں اتر آئی خموشی پھر سے
محسن نقوی
میرے کمرے میں اتر آئی خموشی پھر سے
سایۂ شام غریباں کی طرح
شورش دیدۂ گریاں کی طرح
موسم کنج بیاباں کی طرح
کتنا بے نطق ہے یادوں کا ہجوم
جیسے ہونٹوں کی فضا یخ بستہ
جیسے لفظوں کو گہن لگ جائے
جیسے روٹھے ہوئے رستوں کے مسافر چپ چاپ
جیسے مرقد کے سرہانے کوئی خاموش چراغ
جیسے سنسان سے مقتل کی صلیب
جیسے کجلائی ہوئی شب کا نصیب
میرے کمرے میں اتر آئی خموشی پھر سے
پھر سے زخموں کی قطاریں جاگیں
اول شام چراغاں کی طرح
ہر نئے زخم نے پھر یاد دلایا مجھ کو
اسی کمرے میں کبھی
محفل احباب کے ساتھ
گنگناتے ہوئے لمحوں کے شجر پھیلتے تھے
رقص کرتے ہوئے جذبوں کے دہکتے لمحے
قریۂ جاں میں لہو کی صورت
شمع وعدہ کی طرح جلتے تھے
سانس لیتی تھی فضا میں خوشبو
آنکھ میں گلبن مرجاں کی طرح
سانس کے ساتھ گہر ڈھلتے تھے
آج کیا کہیے کہ ایسا کیوں ہے
شام چپ چاپ
فضا یخ بستہ
دل مرا دل کہ سمندر کی طرح زندہ تھا
تیرے ہوتے ہوئے تنہا کیوں ہے
تو کہ خود چشمۂ آواز بھی ہے
میری محرم مری ہم راز بھی ہے
تیرے ہوتے ہوئے ہر سمت اداسی کیسی
شام چپ چاپ
فضا یخ بستہ
دل کے ہم راہ بدن ٹوٹ رہا ہو جیسے
روح سے رشتۂ جاں چھوٹ رہا ہو جیسے
اے کہ تو چشمۂ آواز بھی ہے
حاصل نغمگیٔ ساز بھی ہے
لب کشا ہو کہ سر شام فگار
اس سے پہلے کہ شکستہ دل میں
بد گمانی کی کوئی تیز کرن چبھ جائے
اس سے پہلے کہ چراغ وعدہ
یک بہ یک بجھ جائے
لب کشا ہو کہ فضا میں پھر سے
جلتے لفظوں کے دہکتے جگنو
تیر جائیں تو سکوت شب عریاں ٹوٹے
پھر کوئی بند گریباں ٹوٹے
لب کشا ہو کہ مری نس نس میں
زہر بھر دے نہ کہیں
وقت کی زخم فروشی پھر سے
لب کشا ہو کہ مجھے ڈس لے گی
خود فراموشی پھر سے
میرے کمرے میں اتر آئی
خموشی پھر سے