طیفا تین جواریوں کے ساتھ پکڑا گیا تو اُن کو عدالت میں پیش کیا گیا۔
پہلا جواری:
جج صاحب میں تو ہسپتال داخل تھا یہ دیکھئے میرا میڈیکل سرٹیفیکیٹ۔
دوسرا جواری:
جج صاحب میں تو شہر میں ہی نہیں تھا یہ رہا میرا ٹرین کا ٹکٹ۔
تیسرا جواری:
جج صاحب یہ دیکھیے میرے آفس کا حاضری رجسٹر، میں تو کام پہ تھا۔
جج نے طیفے کی طرف دیکھا تو وہ معصومیت سے روہانسا منہ بنا کر بولا:
جج صاحب تسی وی سیانے بیانے بندے او - - کوئی اکیلا کیسے جوا کھیل سکتا ہے۔



پہلا جواری:
جج صاحب میں تو ہسپتال داخل تھا یہ دیکھئے میرا میڈیکل سرٹیفیکیٹ۔
دوسرا جواری:
جج صاحب میں تو شہر میں ہی نہیں تھا یہ رہا میرا ٹرین کا ٹکٹ۔
تیسرا جواری:
جج صاحب یہ دیکھیے میرے آفس کا حاضری رجسٹر، میں تو کام پہ تھا۔
جج نے طیفے کی طرف دیکھا تو وہ معصومیت سے روہانسا منہ بنا کر بولا:
جج صاحب تسی وی سیانے بیانے بندے او - - کوئی اکیلا کیسے جوا کھیل سکتا ہے۔