- Thread starter
- #41
Immi
Well-known member
آنکھوں کا تھا قصور نہ دل کا قصور تھا
آیا جو میرے سامنے میرا غرور تھا
تاریک مثل آہ جو آنکھوں کا نور تھا
کیا صبح ہی سے شام بلا کا ظہور تھا
وہ تھے نہ مجھ سے دور نہ میں ان سے دور تھا
آتا نہ تھا نظر تو نظر کا قصور تھا
ہر وقت اک خمار تھا ہر دم سرور تھا
بوتل بغل میں تھی کہ دل ناصبور تھا
کوئی تو دردمند دل ناصبور تھا
مانا کہ تم نہ تھے کوئی تم سا ضرور تھا
لگتے ہی ٹھیس ٹوٹ گیا ساز آرزو
ملتے ہی آنکھ شیشۂ دل چور چور تھا
ایسا کہاں بہار میں رنگینیوں کا جوش
شامل کسی کا خون تمنا ضرور تھا
ساقی کی چشم مست کا کیا کیجیے بیان
اتنا سرور تھا کہ مجھے بھی سرور تھا
پلٹی جو راستے ہی سے اے آہ نامراد
یہ تو بتا کہ باب اثر کتنی دور تھا
جس دل کو تم نے لطف سے اپنا بنا لیا
اس دل میں اک چھپا ہوا نشتر ضرور تھا
اس چشم مے فروش سے کوئی نہ بچ سکا
سب کو بقدر حوصلۂ دل سرور تھا
دیکھا تھا کل جگرؔ کو سر راہ مے کدہ
اس درجہ پی گیا تھا کہ نشے میں چور تھا
(جگر مراد آبادی)
آیا جو میرے سامنے میرا غرور تھا
تاریک مثل آہ جو آنکھوں کا نور تھا
کیا صبح ہی سے شام بلا کا ظہور تھا
وہ تھے نہ مجھ سے دور نہ میں ان سے دور تھا
آتا نہ تھا نظر تو نظر کا قصور تھا
ہر وقت اک خمار تھا ہر دم سرور تھا
بوتل بغل میں تھی کہ دل ناصبور تھا
کوئی تو دردمند دل ناصبور تھا
مانا کہ تم نہ تھے کوئی تم سا ضرور تھا
لگتے ہی ٹھیس ٹوٹ گیا ساز آرزو
ملتے ہی آنکھ شیشۂ دل چور چور تھا
ایسا کہاں بہار میں رنگینیوں کا جوش
شامل کسی کا خون تمنا ضرور تھا
ساقی کی چشم مست کا کیا کیجیے بیان
اتنا سرور تھا کہ مجھے بھی سرور تھا
پلٹی جو راستے ہی سے اے آہ نامراد
یہ تو بتا کہ باب اثر کتنی دور تھا
جس دل کو تم نے لطف سے اپنا بنا لیا
اس دل میں اک چھپا ہوا نشتر ضرور تھا
اس چشم مے فروش سے کوئی نہ بچ سکا
سب کو بقدر حوصلۂ دل سرور تھا
دیکھا تھا کل جگرؔ کو سر راہ مے کدہ
اس درجہ پی گیا تھا کہ نشے میں چور تھا
(جگر مراد آبادی)