• 📚 لوو اسٹوری فورم ممبرشپ

    بنیادی ڈیل

    وی آئی پی

    5000
    تین ماہ کے لیے
    بہترین ڈیل
    💎

    وی آئی پی پلس

    8000
    چھ ماہ کے لیے
    ٹاپ پیکیج
    👑

    پریمیم

    20000
    چھ ماہ کے لیے

Afsana میٹھی سی خوشی ۔۔۔

Joined
Jun 10, 2025
Messages
996
Reaction score
50,339
Points
93
Location
Karachi
Gender
Male
ذرا جلدی ہاتھ چلاؤ۔ ایسے تو رات تک بھی حلوہ نہیں بنے گا۔امی نے ثمرہ کے سست کام کرنے پر ٹوکا۔اب کیا چولہے پر میں خود بیٹھ جاؤں؟ آپ کو تو میں ہمیشہ سست ہی لگتی ہوں۔ ثمرہ نے آہستہ سے کہا۔ امی کی ڈانٹ پر منہ ہی بن گیا۔ ناراضگی میں، آنکھوں پر آئے بالوں پر جو ہاتھ پھیرا تو گاجر کے چند ذرات ماتھے اور بالوں سے چپک گئے۔گلابی چہرہ اور بالوں پر جا بجا لال ذرات۔ یہ دیکھ کر امی نے بمشکل اپنا غصہ کنٹرول کیا۔ قصہ دراصل یوں تھا کہ ثمرہ ہمیشہ کی چٹوری تھی، اور گاجر کا حلوہ اس کی کمزوری تھی۔سردیاں آتی ہیں تو شور شرابہ شروع۔ لا محالہ امی نے پانچ کلو گاجریں صبح دروازے پر آئے نذیر سبزی والے سے لے لیں اور ثمرہ بی بی نے دو گھنٹے صرف گاجروں کو تراشنے میں لگا دیے۔وہ بھی فوڈ فیکٹری والی، بقول امی، جبکہ ٹوٹل پچاس منٹ ہی ہوئے تھے۔ یہ لو، کھویا اور میوہ۔ اب اس میں آدھا شامل کرو اور باقی اوپر سے گارنش کر دو اور دو تین جگہ محلے میں دے آؤ۔ امی کی پھرتیاں عروج پر تھیں۔کچھ دیر بعد حلوہ بن چکا تھا اور اس نے کئی پلیٹوں میں نکال رکھا تھا۔ کیا یہ اتنا سا رہ گیا ہے؟ صدمہ بہت گہرا تھا اور ثمرہ بے ہوش ہونے کے قریب تھی۔امی مسکرائیں اور تین بڑی ڈشز اس کے سامنے رکھ دیں۔یہ سب تمہارے اور میرے لیے ہے، دل کھول کر کھانا، بلکہ ٹھونسنا۔ امی! آپ بھی نا، اب ہر آئے گئے مہمان کے آگے بھی خوب رکھیں گی۔ محنت میں کروں اور ثمرہ کا جملہ… امی کی گھورتی آنکھوں کے آگے دم توڑ گیا۔ بیٹا دل بڑا رکھتے ہیں۔ اپنے رزق میں سے سب کا حصہ نکالتے ہیں۔ اللہ بہت برکت دیتا ہےہمیشہ کی طرح امی نے ثمرہ کو سمجھانے کی کوشش کی۔اچھا، ٹھیک ہے نا، میری پیاری امی جان – امی کے گلے میں بازو ڈال کر زور سے بھی لگایا، تو وہ ہنسیں، اور ثمرہ نے ایک پلیٹ لے کر دروازے کی طرف دوڑ لگائی، سامنے والی روبینہ آنٹی کے ہاں جانے کے لیے۔ثمرہ اور امی (صالحہ) اس چھوٹے سے گھر میں رہتی تھیں۔ ثمرہ کے والد کا دس سال پہلے انتقال ہو گیا تھا۔ اللہ کا شکر تھا کہ چھت اپنی تھی اور صالحہ گورنمنٹ اسکول میں ملازمت کرتی تھیں۔ یوں گزارا با آسانی ہو جاتا تھا۔ثمرہ بی ایس کے آخری سمسٹر میں تھی اور شام کو ٹیوشنز وغیرہ بھی پڑھا لیتی تھی۔ صالحہ پڑھی لکھی، سلیقہ مند اور قناعت پسند خاتون تھیں، جبکہ ثمرہ، جو ان کی اکلوتی اولاد تھی، سادہ اور لا ابالی لڑکی تھی۔ شکل و صورت اللہ کے کرم سے اچھی تھی، مگر عقل اوسط درجے کی تھی۔ امی سے اس کی سہیلیوں کی طرح دوستی تھی – ثمرہ کو امی سے شکایت تھی کہ کچھ بھی اچھا پکائیں، تو اس میں سے ہمسایوں اور خالدہ ماسی کا حصہ ضرور نکال دیا جاتا، اور کچھ مہمانوں کے لیے بھی رکھ دیا جاتا۔ تنخواہ آنے پر صدقہ اور خیرات کے لفافے الگ رکھے جاتے، جن میں ضرور کچھ رقم ڈالی جاتی ان سب چیزوں سے ثمرہ کو لگتا کہ اس کی چیٹاہلفی ہوتی ہے، اور اسی کے لاکھ سمجھانے پر بھی وہ اس پر دل سے قائل نہ ہوتی۔
☆☆☆

ٹھاہ! یہ زور دار دھماکہ کسی چیز کا تھا؟ عمر گہری نیند سے اٹھ بیٹھی اور سمجھنے کی کوشش کر رہی تھی۔ شاید یہ کچن سے آواز آئی تھی۔ یا اللہ! امی کو تو کچھ نہیں ہوا۔ یہ سوچ کر ننگے پاؤں دوڑ لگائی اور وہاں آ کر اپنا سر ہاتھوں میں تھام لیا۔امی آج تو چھٹی ہے، پھر آپ صبح صبح کچن میں کیا کر رہی ہیں؟ اور میری اتنی پیاری نیند پر یہ شور شرابہ کیوں؟ارے بیٹا، یہ اسٹیل کی تھالی گر گئی تھی۔ اور بیٹا جی! صبح نہیں، گیارہ بج رہے ہیں۔ فجر کی نماز کے وقت بھی تم نہیں اٹھے۔ اب تو ناشتہ بھی ختم ہو جائے گا۔ دیکھو، میں پیزا بیک کرنے کی تیاریوں میں مصروف ہوں۔ جلدی منہ دھو کر آؤ، تو مل کر بنائیں گے، تمہارا پسندیدہ پیزا۔امی ہمیشہ کی طرح پھرتی سے کام کر رہی تھیں اور پھر روم کی طرف مڑ گئیں۔ ثمرہ سوچنے لگی کہ امی تو چھٹی کے دن بھی کتنی محنتی ہیں، اور میں واقعی سست ہوں۔ مگر پیزا کھانے کی خوشی نے سب سوچوں پر غالب آ گئی۔ اسے بریانی اور پیزا دیوانگی کی حد تک پسند تھے۔واہ، کیا پیزا بیک ہوا ہے! پرفیکٹ! یہ سب ماں کے ہاتھوں کا کمال ہے۔ ثمرہ نے ٹرے اوون سے نکال کر خوشی سے بھرپور سانس لی۔ اتنی دیر میں صالحہ دوسری ٹرے تیار کر چکی تھی۔اب یہ ٹرے اوون میں رکھ دو۔یہ ابھی کیوں؟ رات کو گرم گرم بیک کر لیں گے، وہ زیادہ مزے کا ہوگا۔ ثمرہ نے جھنجلاتے ہوئے کہا، بھوک بہت تیز لگ رہی تھی۔ نہیں بیٹا! یہ بیک ہو جائے تو ابھی برابر والی سائرہ بھابھی کے گھر دے آنا۔ انہیں میرے ہاتھ کا پیزا بہت پسند ہے۔ امی نے اس کے ہاتھ میں ٹرے تھمائی۔ثمرہ خوش ہو گئی تھی کہ آج دل کھول کر پیزا کھائے گی، مگر دکھ سے اس کا منہ لٹک گیا۔ امی نے ایک اور پیڑے کی طرف اشارہ کیا جو انہوں نے سلیب پر رکھی تھی۔یہ ایک اور میں نے تمہارے لیے سیٹ کی ہے۔ اسے رات کو بیک کر لیتے ہیں۔ کنجوس لڑکی، کشادہ دل بنو، اللہ برکت دیتا ہے۔ کسی کو خوشی دینے یا اچھا کرنے سے جو خوشی ملتی ہے، وہ سب سے میٹھی ہوتی ہے۔ ثمرہ پیزا لے کر سائرہ آنٹی کے گھر گئی۔ ایک ہاتھ میں تھام کر بیل بجائی۔ ارے بھئی، کون ہے؟ آنٹی، میں ہوں، ثمرہ۔السلام علیکم بیٹا! کیسی ہو؟ یہ امی نے آپ کے لیے بھیجا ہے۔ اس کا انداز تھوڑا روکھا تھا۔سائرہ آنٹی کے ہاتھوں میں صابن کا جھاگ تھا اور کپڑے گیلے تھے، شاید دھو رہی تھیں۔وعلیکم السلام بیٹا، میں ٹھیک ہوں، اندر آؤ- انہوں نے محبت سے کہا۔واہ! یہ تو صالحہ نے بہت نیک کام کیا۔ میں نے واشنگ مشین لگائی ہوئی ہے اور اب اتنی تھک گئی ہوں کہ کچن جانے کی ہمت نہیں رہی۔ جگ جگ جیو، خوش رہو۔ اپنی امی کو بہت شکریہ کہنا۔ ان کی آنکھیں خوشی اور شاید بھوک سے چمک اٹھیں۔وہ ایک بہت زندہ دل اور خوش مزاج خاتون تھیں۔ چونکہ ان کی اپنی اولاد نہیں تھی، اس لیے ثمرہ سے ان کا بہت پیار تھا۔ثمرہ نے ان کے کہنے پر ڈائننگ ٹیبل پر پیزا رکھا اور اجازت مانگی، کیونکہ اس کے پیٹ میں واقعی چوہے دوڑ رہے تھے۔واپسی پر اسے ایک انجانی سی خوشی محسوس ہوئی۔ واقعی، امی ٹھیک کہتی ہیں کہ کسی کو تھوڑی سی خوشی دے کر اگر آپ کو بھی خوشی محسوس ہوتی ہے، تو سمجھو اللہ بھی خوش ہے اور اس کا اجر ضرور دیتا ہے۔
☆☆☆
 

Create an account or login to read stories

You must be a member in order to leave a comment

Create account

Create an account on our community. It's easy!

Log in

Already have an account? Log in here.

New posts
Back
Top