• 📚 لوو اسٹوری فورم ممبرشپ

    بنیادی ڈیل

    وی آئی پی

    5000
    تین ماہ کے لیے
    بہترین ڈیل
    💎

    وی آئی پی پلس

    8000
    چھ ماہ کے لیے
    ٹاپ پیکیج
    👑

    پریمیم

    20000
    چھ ماہ کے لیے

پشیمان

Status
Not open for further replies.
میں کالی کلوٹی پگلی سی
تو چِٹا سوہنا یار پیا✨

میں منگ منگ منگتی گلی گلی
تو صاحبِ دستار پیا?

میرا اندر باہر مندا گندا
تو سر تا پا نکھار پیا

میری جند تڑپے میری جاں تڑپے
تو روح کا ہے قرار پیا♥️

میں ڈرتی سہمی تھر تھر کانپوں
تو دو دھاری تلوار پیا!

تو عشق کی گدی پر بیٹھا
میں بھٹکوں ھر ھر دوار پیا!?

مجھے کنیز بنا کر اپنا لے
بن میرا بھی خریدار۔۔۔۔ پیا✨
 
پشیمان (جدید)
قسط نمبر 6
ریاض عاقب کوہلر

آخر نیند کی مہربان دیوی کو اس پر ترس آگیا لیکن دماغ کے میں سرگرداں الٹے سیدھے خیالوں نے خواب کی شکل دھار کر اسے بے چین کیے رکھا۔اگلے دن سویرے ہی اس کی آنکھ کھل گئی تھی۔ناشتا کر کے اس نے تھانے کا رخ کیا۔
انسپکٹر راحیل اپنے آفس میں اونگھتا ہواملا تھا۔اسے دیکھتے ہی وہ ہڑبڑا کر اٹھا اور باقاعدہ سیلوٹ جڑ دیا۔
”سنائیں انسپکٹر صاحب؟“وہ مسکراتے ہوئے مستفسر ہوئی۔
”مادام،سننے سے بہتر ہے آپ دیکھ لیں۔“
” دیکھ لیتے ہیں۔“وہ انسپکٹر راحیل کے ہمراہ حوالات کی طرف بڑھ گئی۔
ارشد الٹا لیٹا ہوا تھا۔اسے دیکھ کراندازہ لگانا مشکل نہیں تھا کہاس پر کیا گزر رہی تھی۔
اسوہ شوخی سے ہنسی۔”انسپکٹر صاحب !یہ الٹا کیوں لیٹا ہوا ہے۔“
انسپکٹر راحیل انکساری سے بولا۔”اسی سے پوچھ لیں مادام۔“
اسوہ طنزیہ انداز میں بولی۔”شاید مجھ سے بات کرنا ملک صاحب کو ناگوار گزرے۔“
انسپکٹر راحیل نے درشت لہجے میں کہا۔”چل اوئے،سیدھا ہو۔“ وہ جلدی سے اٹھ بیٹھا۔
”کیا ہوا ہے تمھیں؟“
”کک....کچھ نہیں،کچھ بھی نہیں۔“وہ خشک ہونٹوں پر زبان پھیرنے لگا۔
اسوہ نے مایوسی بھرے انداز میں کہا۔” آج رات کچھ نہ کچھ کر لیناانسپکٹر صاحب!“
”اللہ کے واسطے مادام اسوہ !“ارشد نے اس کے سامنے ہاتھ جوڑدیئے۔ ” معافی چاہتا ہوں براہ مہربانی مجھے معاف کر دیں۔“
” چھوڑو معافی تلافی کو،یہ بتاﺅسنہرا لباس مجھ پر کیسا لگتا ہے؟“ اسوہ نے شوخی سے پوچھا۔
”ایک بار معاف کر دیں مس اسوہ،آئندہ آپ کو آنکھ اٹھا کر بھی نہیں دیکھوں گا۔“
”کبھی کبھی دیکھا کرو ملک صاحب!آپ عمار کی طرح بزدل تھوڑی ہیں۔“ نخوت سے کہہ کر وہ واپس مڑی۔اسی وقت تھانے میں طاہر جوادداخل ہوا۔اس کا رخ حوالات کی طرف تھا۔ تھانے دار پرنظر پڑتے ہی وہ تیزی سے اس کی طرف بڑھا۔
”تھانے دار صاحب !کیا حال ہے میرے بچے کا۔“
”اسی سے پوچھ لو۔میں ذرا مادام کو رخصت کر آﺅں۔“
”کون مادام ؟“طاہر جوادنے چونک کر اسوہ کو گھورا جو بے نیازی سے آگے بڑھ گئی تھی۔
”مادام اسوہ۔“کہہ کر تھانیدار نے آنکھ میچتے ہوئے ملک طاہر کو مخصوص اشارہ کیا۔ملک طاہر بچہ نہیں تھا کہ اس کا اشارہ نہ سمجھتا۔وہ ایک دم اسوہ کی طرف لپکا۔
”بیٹی! بات سنو۔“
لجاجت بھری آواز سن کر اسوہ اس کی جانب متوجہ ہوئی۔
اس نے جلدی سے اسوہ کے سر پر ہاتھ رکھ دیا۔”بیٹی !میرا نام ملک طاہر جوادہے۔میں ارشد کا والد ہوں۔“
”جی چچا جان۔“اسوہ نرم لہجے میں مستفسرہوئی۔
”بیٹی !ارشد کی بد تمیزی اور بے ہو دگی کی میں معافی مانگتا ہوں۔اسے کافی سزا مل گئی ہے انسان کا بچہ ہوا تو آیندہ کسی شریف لڑکی کو نہیں چھیڑے گا۔“
”آپ کو معافی مانگنے کی ضرورت نہیں ہے۔پولیس والے اسے سمجھا رہے ہیں۔ ہفتے بھر میں ان شاءاللہ افاقہ ہو جائے گا۔“
”میرے بڑھاپے ہی کا خیال کر لو۔“ملک طاہرجواد نے ہاتھ باندھ دئے۔ایسا موقع دوبارہ نہیں ملنا تھا۔
اسوہ نے ایک نظر حوالات میں بند ارشد پر ڈالی جو سارا منظر دیکھ رہا تھا۔اور اتنا ہی اس کے لیے کافی تھا۔”انسپکٹر صاحب!اسے چھوڑ دو۔“
”جی مادام!“انسپکٹر راحیل مودّبانہ انداز میں کہتے ہوئے ایک سپاہی کی طرف متوجہ ہوا۔ ”اوے شاکر خان ! قیدی کو چھوڑ دو۔“
”شکریہ بیٹی !“ملک طاہر کے لہجے میں بہ ظاہر شکر گزاری بھری تھی۔مگر اس کے دل میں جو کچھ پوشیدہ تھا اس سے صرف ا اللہ پاک کی علیم ذات ہی واقف تھی۔
”انسپکٹر صاحب !آپ میرے ساتھ آ جائیں۔“اسوہ نے باہر چل دی۔
انسپکٹر راحیل اس کے پیچھے ہو لیا۔جبکہ ملک طاہردل میں طوفان چھپائے حوالات کی طرف بڑھ گیا۔
”بیٹھو انسپکٹر صاحب!“ ڈرائیونگ سیٹ سنبھال کراس نے انسپکٹر راحیل کے لیے عقبی دروازہ ان قفل کر دیا۔
راستے بھر وہ خاموش رہی۔اس کا رخ اپنی کوٹھی کی جانب تھا۔ کار کوپہچانتے ہی چوکیدار نے دروازہ کھول دیا مگر وہ کاراندر لے جانے کے بجائےدروازے کے باہر روک کر نیچے اتر آئی۔انسپکٹر راحیل بھی جلدی سے باہر آگیا۔
”انسپکٹر صاحب!آپ کا کام پسند آیا۔اور میرے خیال میں آپ کے پاس ذاتی کار نہیں ہے۔ “اس نے کار کی چابی اس کی طرف اچھال دی۔
”مم....مم....شکریہ،مادام !“ انسپکٹر راحیل ہکلا گیا تھاانعام اس کی توقعات سے کئی گنا زیادہ تھا۔
”اگر چاے پینا ہے تو آ جائیں۔“وہ انسپکٹر کی ہکلاہٹ سے محظوظ ہوئی تھی۔
”شکریہ مادام !بس خادم کو اجازت دیں۔“
اوراسوہ سر ہلاتے ہوئے دروازے کی طرف بڑھ گئی۔انسپکٹر راحیل نے ایڑیاں بجا کر اسے زوردار سیلوٹ کیا۔اورتب تک اٹن شن کھڑا رہا جب تک اسوہ اس کی نظروں سے اوجھل نہیں ہو گئی تھی۔
٭٭٭
کسی کو بھلانے کے لیے چند دن ہی کافی ہوتے ہیں۔اور عمارکوتویونیورسٹی چھوڑے کئی مہینے ہوگئے تھے۔اب تو وہ بھولاہوا ماضی بن چکا تھا۔ البتہ اسمائ،اسوہ اور مدثر کی یادوں میں وہ زندہ تھا۔ان کی وجہ سے رباب کو بھی عمار کا ذکر سننے کو مل جاتاتھا۔مدثر کی زبان اکثر عمار کی بے وفائی پر متحرک رہتی،مگر اسوہ اور اسماءنے ہمیشہ اسے اچھے لفظوں سے یاد کیا تھا۔خصوصاََ اسوہ تو اسے یاد کرکے آبدیدہ ہوجاتی تھی۔
اس دن اسوہ دیر سے یونیورسٹی پہنچی تھی۔اس کا معمول تھا کہ وہ اسماءکے گھر سے ہو کر یونیورسٹی پہنچا کرتی۔البتہ دیر ہو جانے کی صورت میں وہ اسماءکوگھنٹی کر کے بتا دیتی۔
خالی پیریڈ میں وہ کیفے ٹیریا میں بیٹھی اسماءلوگوں کو ارشد کی کہانی سنا رہی تھی۔
رباب نے خوش ہو کر کہا۔” وہ اسی قابل تھا۔“
”تمیز تو اس بے ہودہ کو چھو کر بھی نہیں گزری۔“اسماءنے رباب کی تائید کی تھی۔
”کتے کی دم ہے۔مشکل ہے کہ سدھر جائے۔“مدثر نے تبصرہ کیا۔
رباب نے نفی میں سر ہلایا۔”ایسے لوگوں کا ٹیڑھا پن کم تر لوگوں کے لیے ہوتا ہے۔جہاں برتر سے واسطہ پڑا،قدموں میں ڈھیر ہونے میں دیر نہیں کرتے۔ اور جو خوراک اسے اسوہ نے دی ہے،امید ہے چھیڑ ناتودرکنارمادام کو دیکھنے کی کوشش بھی نہیں کرے گا۔“
”ہا....ہا....ہا۔“اسوہ کا قہقہہ گونجا۔
” بہت دن بعد ہنسی ہو۔“اسماءنے اس کا ہاتھ پیار سے سہلایا۔
” نہیں ہنسنا چاہیے۔“
اسماءنے جلدی سے کہا۔”اللہ کرے ہمیشہ ہنستی رہو۔“
رباب بولی۔”تمھیں اسوہ سے کچھ زیادہ ہی محبت ہو گئی ہے۔“
اسماءنے مسکراتے ہوئے اثبات میں سر ہلایا۔”اسوہ ہے ہی اتنی پیاری، محبت کرنے کے قابل۔“
اسوہ ہنسی۔”تم کیوں جل رہی ہو ؟“
رباب ترکی بہ ترکی بولی۔”جل نہیں،ڈر رہی ہوں۔تمھاری محبت نے عمار کوتو غائب کر دیا ہے، کہیں اسماءہی چھو منتر نہ ہو جائے۔“
”صحیح کہا۔“ بجھے دل سے کہتے ہوئے وہ کرسی پیچھے دھکیل کرکھڑی ہو گئی۔
”تم تو خفا ہو گئیں۔“رباب نے گھبرا کر پوچھا۔
اسوہ نے نفی میں سر ہلایا۔”یہ تلخ حقیقت ہے۔“
”قسم سے مذاق تھا۔“رباب نے کھڑے ہو کر اس کا ہاتھ تھام لیا۔
اسماءنے اس کا دوسرا ہاتھ تھامتے ہوئے کہا۔”عمار تمھاری وجہ سے نہیں اپنا مستقبل سنوارنے گیا ہے۔“
مدثر نے دلیل دی۔” تم سے خفا تھا تو ہم سے کیوں علاحدہ ہوا،ہمیں کیوں دھتکارا، یوں ایک دم رابطہ ختم کر دینا کہاں کا انصاف ہے،اسماءبالکل ٹھیک کہہ رہی ہے۔ اس کے جانے کو اپنی ذات سے مربوط نہ کریں۔“
ان کی تسلیاں سن کر وہ دوبارہ بیٹھ گئی۔”تم لوگوں کی محبتیں ہمیشہ یاد آئیں گی۔“
”نہیں جی۔“اسماءنے قہقہہ لگا کر کہا۔”ہم ایسی نوبت نہیں آنے دیں گے۔“
”کیا مطلب ؟“وہ حیرانی سے مستفسر ہوئی۔
”جب ہم تمھیں چھوڑیں گے نہیں تو یاد کیسے آئیں گے۔ یاد تو وہ آتے ہیں جو چھوڑ جائیں۔“ تمام ہنس پڑے تھے۔گو وقتی طور پر مدثر نے اسے بہلا دیا، مگر اسوہ کو اس کی ماضی قریب میں ہونے والی گفتگو بھولی نہیںتھی۔تمام اچھی طرح جانتے تھے کہ عمار کے غائب ہونے کی وجہ اسوہ ہی تھی۔
٭٭٭
ارشد ہفتہ بھر بعد ہی یونیورسٹی آیا تھا۔اس کی آمد پر کلاس فیلوز کا معنی خیز انداز میں ہنسنا اسے باور کراگیا تھاکہ اس کے پاس چھپانے کو کچھ نہیں تھا۔ وہ خاموشی سے اپنی نشست پر بیٹھ گیا۔اسی وقت اسوہ کلاس روم میں داخل ہوئی۔اس دن بھی اس نے اتفاق سے کالا لباس ہی زیب تن کیا تھا۔
”اوہ !یہ لڑکی پھر کالے لباس میں آ گئی ہے،انسان کا خود پرقابو پانا مشکل ہو جاتا ہے۔“ اکرم باآواز بلند بولا تھا۔زور کا قہقہ لگا۔ہنسنے والوں میں اسوہ کی شوخ مسکراہٹ شامل تھی۔
ارشد پر گھڑوں پانی پڑگیا تھا۔وہ سر جھکا کرکتاب کی ورق گردانی کرنے لگا۔
پروفیسر ہاشم کی آمد سے اسے ڈھارس ملی تھی،مگر بد قسمتی سے پروفیسر ہاشم نے آتے ہی اس کا حال دریافت کرنا شروع کر دیا۔شاید پروفیسر کو اصل واقعے کی سن گن تھی تبھی ارشد کے۔”طبیعت خراب تھی سر!“ سن کر وہ سبق کی طرف متوجہ ہو گیا۔
وہ سارا دن کڑھتا رہا۔اس کا بس نہیں چل رہا تھاورنہ اسوہ کو کچا چبا ڈالتا۔وہ اپنے باپ سے بھی سخت خفا تھا۔ باپ کی بے بسی کے باعث ہی اسے پہلے جسمانی اور اب ذہنی عذاب جھیلنا پڑا تھا۔چھٹی ہوتے ہی اس کا رخ گھر کی طرف ہو گیا۔ باپ کو منتظر پا کر اسے شدید حیرت ہوئی تھی۔
” میرے ساتھ آﺅ۔“طاہرجواد نے اسے خواب گاہ کی طرف نہیں جانے دیاتھا۔
وہ رکھائی سے بولا”میں تھکا ہوا ہوں۔“
’کہا نا چلو۔“باپ کے اصرار پر وہ سر جھکائے چل پڑا۔
”جانا کہاں ہے ؟“گیٹ سے نکلتے ہی اس نے پوچھا۔
ملک طاہر نے اطمینان بھرے لہجے میں کہا۔”سیٹھ اسلم شکورخان کے گھر۔“
”کیا ....“ارشد نے جھنجلاتے ہوئے بریک لگا دی تھی۔”کس لیے؟“
”خان صاحب اور اس کی سے بیٹی سے معذرت کرنے۔“
”آپ چاہتے کیا ہیں ؟“وہ ناراضی سے چلایا۔
”تمھارا بھلا۔“
”میری توہین کہیں ناں۔“وہ سخت خفا تھا۔
ملک طاہر نے معنی خیز مسکراہٹ سے پوچھا۔” تم بدلہ نہیں لینا چاہتے۔“
”بدلہ لینے کے لیے میں ہر قیمت ادا کر سکتا ہوں۔“
” اپنے والد کے احکامات مانتے جاﺅ،اگر دل خوش نہ کر دیا تو اپنا باپ نہ کہنا۔“
”مگر پاپا....“
”اگر مگر نہیں بیٹا!جو کہتا ہوں، کرتے جاﺅاور صبر کرو۔“
ارشد نے بے دلی سے کار آگے بڑھا دی۔ اسوہ کے گھر کی طرف رہنمائی کرنے کے ساتھ طاہرجواداسے مختلف ہدایات بھی دیتا گیا۔
تھوڑی دیر بعد وہ اسلم شکورخان کی محل نما کوٹھی کے ڈرائینگ روم میں موجود تھے۔ اسلم شکورخان انھیںدیکھ کر حیران ہوا تھا۔باپ بیٹے نے کھڑے ہو کر اسے تعظیم دی۔
”کیسے تشریف آوری ہوئی ؟“نشست سنبھالتے ہوئے اسلم شکور نے انھیں بیٹھنے کا اشارہ کیا۔
”معذرت کرنے حاضر ہوئے تھے۔“
”معذرت؟“اسلم شکور کی حیرانی سوا ہو گئی۔
طاہر جواد چاپلوسی سے بولا۔”پچھلے ہفتے اس بے وقوف نے نادانستگی میں بے بی کے ساتھ گستاخی کر دی تھی نا۔“
” حساب کتاب تو غالباََ پولیس نے برابر کر دیا تھا۔“
”پولیس کی مداخلت سے بے بی کے ساتھ ہونے والی گستاخی تو معاف نہیں ہو جاتی سر!تبھی اسے ساتھ لایا ہوں تاکہ یہ آپ اور بے بی سے دست بستہ معافی مانگ سکے۔“
”اس کی ضرورت نہیں ہے۔“اسلم شکورکے لہجے میں تفاخّر در آیا تھا۔
”جس طرح آپ ایک اعلا و ارفع خاندان سے تعلق رکھتے ہیں یونھی ہماری خاندانی روایات بھی اجازت نہیں دیتیں کہ کسی کی بہن بیٹی کی شان میں نازیبا لفظ بولے جائیں۔اور سنا ہے برخوردارنے اچھی خاصی زبان درازی کی تھی۔میںپہلے لے آیا ہوتا،مگر پولیس نے اسے بستر سے اٹھنے کے قابل ہی نہیں چھوڑا تھا۔“ آخری جملہ کہتے ہوئے ملک طاہر نے ہلکا سا قہقہہ بلند کیا۔اسلم شکورخان کے ہونٹوں پر بھی تبسم کھلنے لگا تھا۔
”زیادتی تو ہماری بیٹی کے ساتھ ہوئی تھی طاہر صاحب !“
”تو بلائیں ناں بے بی کو۔“
” آپ نے کہہ دیا اور ہو گیا۔“
طاہرجواد شکوہ کناں ہوا۔”گویا آپ نے ہمیں دل سے معاف نہیں کیا۔“
اسلم شکورخان نے جلدی سے کہا۔”اگر آپ اصرار کرتے ہیں تو اسوہ کو بلا لیتے ہیں۔“ اس نے ملازما کو اسوہ کو بلانے کا کہا۔وہ سرہلاتے ہوئے اسوہ کی خواب گاہ کی طرف بڑھ گئی۔
” آپ کی صحت کیسی ہے ؟“طاہرجوادکے لہجے میں خوشامد اور چاپلوسی کوٹ کوٹ کر بھری تھی۔اور فی زمانہ یہ لہجہ سامنے والے کو زیادہ متاثر کرتا ہے۔
”اللہ کا شکر ہے ملک صاحب !“
”ماشاءاللہ،پاکستان اوربیرون ملک کاروباری حلقوں میں آپ کا نام نیک نامی کی علامت ہے۔ یقین مانیں میرے تو آپ ہمیشہ سے آئیڈیل رہے ہیں۔جس دن مجھے راشد کی بے ہودگی کے بارے پتا چلا، خدا قسم میرے تو پاﺅں سے زمین نکل گئی تھی۔“
”جانے دیں ملک صاحب !“اسلم خان کے ہونٹوں پر اپنی تعریف سن کر ہلکی سی مسکراہٹ ابھری۔”جوان خون ہے بے احتیاطی ہو جاتی ہے۔“
طاہر جواد کے جواب سے پہلے اسوہ ”السلام علیکم !“کہتے ہوئے ڈرائینگ روم میں داخل ہوئی۔
”وعلیکم اسلام !“طاہر نے جلدی سے اٹھ کر اس کے سر پر ہاتھ رکھ دیا۔ ”کیسی ہو بیٹی؟“
”الحمداللہ۔“کہہ کر اس نے باپ کے ساتھ نشست سنبھال لی تھی۔راشد اور ملک طاہر کو دیکھ کر اسے کافی حیرت ہوئی تھی۔
”بیٹی !ہم معذرت کرنے حاضر ہوئے تھے۔ارشد کی بے ہودگی قابل معافی تو نہیں، مگر آپ اعلیٰ حسب نسب والی ہیں یقینااعلا ظرفی کا مظاہرہ کریں گی۔“
”وہ بات پرانی ہوئی چچا جان!اب میرے دل کوئی ناراضی باقی نہیں رہی۔“طاہر جواد کے بہ ظاہر میٹھے اور عاجزی بھرے لہجے نے اسے خفیف کر دیا تھا۔
”معافی تو اسے مانگنا پڑے گی۔“ملک طاہر نے ارشد کو اشارہ کیا۔
وہ جلد ی سے بولا۔”میں تھانے میں بھی معذرت کر چکا ہوں اور دوبارہ بھی اپنی بے ہودہ حرکت پر معافی کا خواست گار ہوں۔“
وہ خوش دلی سے بولی۔”جو گزر گیااسے بھول جائیں۔“
”شکر خدایا! اتنا بڑا مسئلہ آسانی سے حل ہو گیا۔“طاہر جواد یوں ظاہر کر رہاتھا جیسے اسوہ اور سیٹھ اسلم شکور کی ناراضی اس کے لیے زندگی و موت جیسامعاملہ ہو۔
”پاپا!میں جا سکتی ہوں ؟“
” تمھاری مرضی۔“اسلم شکور خان خوش دلی سے بولااور اسوہ سر ہلاتی ہوئی خواب گاہ کی جانب بڑھ گئی۔
٭٭٭
سردیوں کی آمد تھی۔گو کراچی میں اتنی سردی نہیں پڑتی،مگر ہلکے پھلکے کوٹ اور سوئیٹر وغیرہ کی ضرورت بہ ہر حال محسوس کی جاتی ہے۔اس صبح ماں نے ناشتا اس کے سامنے رکھ کربشیر احمد کے پرانے کوٹ کی آستین سلائی کرنے لگی۔
”ماں جی اب اس کوٹ کی جان بخشی کر دیں۔پچھلے کئی سال سے ابوجان یہی کوٹ پہن رہے ہیں۔“
بشیر احمد اندرداخل ہوا۔ ”تمھاری طرح بزنس مین نہیں ہوں کہ اچھا کوٹ یا سوئیٹر خرید سکوں۔“
عمار نے منہ بنا کر کہا۔”بیٹے کو شرمندہ کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہ جانے دینا۔“
وہ ہنسا۔” جھوٹ ہے کیا۔“
”پھیری لگانے والے کو بزنس مین کہنا جھوٹ نہیں تو کیا ہے۔“
” کپڑا ڈیلر اب پھیری والا ہو گیا۔“
عمارسال بھرسے کراچی سے زمانہ و مردانہ کپڑے چھوٹے شہروں کے دکانداروں تک پہنچا رہا تھا۔ پہلے وہ چھوٹے شہروں کی کپڑامارکیٹ میں خوار ہوتارہا تھا۔یہاں تک کہ چھوٹے موٹے دکانداروں نے اس سے کپڑا منگوانا شروع کر دیاکپڑے کی ترسیل کے لیے اس نے ایک سیکنڈ ہینڈ ڈاٹسن بھی خرید لی تھی۔ بہت زیادہ محنت اور کوشش کے بعد بھی وہ ماہانہ ساٹھ،ستر ہزار سے زیادہ منافع نہیں کما سکا تھا۔ شروع شروع میں دس پندرہ ہزار سے شروع ہونے والا منافع ساٹھ ستر ہزار کی بلندی کو چھو کر جامد ہو گیا تھا۔کیونکہ اس کی رسائی چھوٹے دکانداروں تک ہی تھی۔بڑے ڈیلر زاسے منہ لگانے کے لیے تیار نہیں تھے۔اب اس کام سے بھی اس کا جی کھٹا ہو گیا تھا۔
” اس کام سے بھی ہاتھ کھینچ رہا ہوں۔“
”کوئی کام تو ٹک کر کرو۔“بشیر احمد کے لہجے میں سنجیدگی تھی۔”پچھلے تین سال میں تم نے دس بارہ کاروبار کر کے دیکھ لیے ہیں۔یہ پہلا کام ہے جسے تم نے سال بھر کا وقت دیا ہے ورنہ ہر دوسرے تیسرے ماہ تم نے کاروبارتبدیل کیا ہوتا ہے۔یوں ترقی نہیں کر سکوگے۔یاد رکھو،کامیابی ہمیشہ مستقل مزاجی کے مرہون منت ہوتی۔“
”صحیح فرمایا،لیکن کوئی ایسا کاروبارڈھونڈ تو لوں جس میں ترقی کے مواقع نظر آئیں۔“
” مجھ سے تو اچھا کما لیتے ہو اور کیا چاہیے ؟“
”بس آپ کی دعا چاہیے ابو جان !“
”تو کیا ارادہ ہے ؟“
”فی الحال چند دن آرام کروں گا۔“
”کرو آرام میں تو آفس جا رہا ہوں۔“
وہ تھوڑی دیر ماں سے گپ شپ کرتا رہا اور پھر گھر سے باہر نکل آیا۔اس کا ارادہ مارکیٹ جا کر والد صاحب کے لیے کوٹ خریدنے کا تھا۔کافی دیر مختلف مارکیٹوں میں گھومتا رہا۔ایک بڑی دکان میں چمڑے کے خوب صورت کوٹ دیکھ کر وہ اندر گھس گیا۔آخر اسے اپنی پسندکا کوٹ نظر آہی گیا۔اس نے کوٹ کے ساتھ نتھی قیمت کی چِٹ دیکھی۔ ایک روپیا کم چھے ہزار کی رقم درج تھی۔
”گھٹیا۔“وہ کوٹ اتارنے ہی لگا تھا کہ اسے عقب میں طنزیہ آواز سنائی دی۔
اس نے پیچھے مڑ کر دیکھا۔ ادھیڑ عمر کا کمزور ساآدمی نظرآیا۔اس کے چہرے پر بیزاری ثبت تھی۔
عمار مستفسر ہوا۔” مجھے کچھ کہا ہے ؟“
”ہاں۔“اس نے اثبات میں سر ہلایا۔”نہایت گھٹیا اور فضول معیار کا کوٹ ہے۔ سلائی دیکھو....“وہ کوٹ ہاتھ میں پکڑ کر عمار کو سلائی کی خامیاں دکھانے لگا۔ ”ڈیزائن بھی بے ہودہ سا ہے۔“
عمار خوش دلی سے مسکرایا۔”توآپ مدد کردیں،میں نے ابو جان کے لیے کوئی اچھا سا کوٹ خریدناہے۔“
” میرے معیار کے مطابق کوٹ ملنا تو مشکل ہے،البتہ گزارے لائق خرید کر دے سکتا ہوں۔“
” اس سے تو بہتر ہوگانا۔“عمار نے مسکرا کر اس کی حوصلہ افزائی کی۔
”چلو۔“وہ عمارکے ساتھ باہر نکل آیا۔
”میرا نام عمار ہے۔“
” انوار الحق۔“اس نے جوابی تعارف کرایا۔
” کرتے کیا ہیں ؟“ عمار نے سلسلہ گفتگو دراز کیا۔
’کچھ بھی نہیں۔“
عمار نے قہقہ۔”میرے ہم پیشہ ہو۔“
” آپ بھی بے روزگار ہیں۔“اس کے سانولے چہرے پر ہلکا سا تبسم جھلکا۔
عمار نے اثبات میں سر ہلا دیا۔ گپ شپ کرتے وہ اگلی مارکیٹ میں پہنچ گئے تھے۔ایک دکان میں اس نے عمار کوچمڑے کے چندکوٹ دیکھائے۔وہ عمار کو بہت پسند آئے تھے۔قیمت بھی مناسب تھی۔ اس نے ایک کے بجائے دو کوٹ خریدلیے۔
خریداری کے بعدوہ انوار الحق کو بااصرار ایک ہوٹل میں چاے پلانے لے آیاتھا۔چاے پیتے ہوئے وہ پوچھنے لگا۔
” آپ چمڑے کی جیکٹس کے بارے کافی معلومات رکھتے ہیں۔“
وہ اطمینان سے بولا۔” میں نے ساری زندگی اسی کام میں گزاری ہے۔“
”لیدر جیکٹ کی خرید و فروخت میں؟“عمار نے حیرانی سے پوچھا۔
”نہیں .... جیکٹس کی ڈیزائننگ وکٹنگ میں۔“
عمار نے حیران ہو کر کہا۔”توبے روزگار کیسے ہوئے؟“
” میعار پر سمجھوتہ نہیں کر سکتا۔اور خود میرے پاس اتنا سرمایا نہیں ہے کہ اپنا کاروبار کر سکوں۔“
عمار گہری سوچ میں کھو گیا تھا۔
”کن سوچوں میں گم ہو۔“خالی پیالی میز پررکھ کر وہ جانے کے ارادے سے اٹھا۔
عمار نے اسے جانے سے روکا۔”انوار صاحب،ایک منٹ بیٹھیں۔“
”جی !بولیں ؟“وہ بے دلی سے بیٹھ گیا۔
”اگر ہم دونوں مل کر یہ کاروبار شروع کریں۔میرا مطلب لیدر جیکٹس بنانے کا۔“
اس کا قہقہہ بلند ہوا۔” اس کے لیے پیسا،کاریگر،سلائی مشینیں اور جگہ چاہیے۔ پھر اپنی مصنوعات کو بازار میں پھیلاناایک علیحدہ سردرد ہے۔“
”پینتیس لاکھ سے کام چل جائے گا ؟“عمار نے امید بھرے لہجے میں دریافت کیا۔
وہ صاف گوئی سے بولا۔” چھوٹے پیمانے پر کام شروع کیا جا سکتا بہت زیادہ محنت کرنا پڑے گی۔رقم ڈوب بھی سکتی ہے۔“
”رقم میں لگاﺅں گا، معیار پربالکل بھی سمجھوتہ نہیں ہوگا، آپ کسی کو بھی جواب دہ نہیں ہوں گے۔ تنخواہ کا تعین بھی آپ پر چھوڑتا ہوں،باقی ایماندار کاریگروں سے آپ کی واقفیت ہو گی۔انھیں ڈھونڈیں اور بسم اللہ کرتے ہیں۔“
” آپ جلد بازی کر رہے ہیں۔“انوار الحق گومگو کی کیفیت میں تھا۔
”میں پچھلے تین سال سے مختلف تجربات کرتا آرہا ہوں مگر کوئی ڈھنگ کا کاروبار نہیں ملا۔ آج پہلی بارامید کی کرن نظر آئی ہے۔ میرا خیال ہے کوشش کرنے میں حرج نہیں ہے۔“
”یعنی آپ کو میرا آرام کرنا پسند نہیں آ رہا۔“انوارالحق خوش دلی سے مسکرایا۔
عمار نے جوابی مسکراہٹ اچھالی تھی۔” ایک بے روزگار کے لیے کام دھندے کا بندوبست یقینا غلط کام نہیں ہے۔“
”میرے دو بیٹے اسی کام سے وابستہ ہیں بھائی!الحمداللہ اچھی بسر ہو رہی ہے۔“
عمار مسکرایا۔”یعنی ہم دو نہیں چار ہیں۔“
وہ مستقبل کی منصوبہ بندی کرنے لگے۔اس دوران انھوں نے دوپہر کا کھانا بھی وہیں بیٹھ کر کھایا تھا۔
اگلے دن سے انھوں نے کام کی باقاعدہ شروعات کا فیصلہ کرلیا۔ سب سے پہلا کام سلائی مشینوں کی خریدار ی اور کوئی مناسب جگہ کرائے پر لینے کا تھا۔اگلے مرحلے میں خام مال کی خریداری، نمونوں کی تیاری اور پھر گاہکوں کی تلاش۔منصوبہ تیار ہو گیا تھا،عمل کے آغاز میں ایک دن کی تاخیر تھی۔
٭٭٭
آخر کب تک یہ لڑکی نہ نہ کرتی رہے گی۔“نسرین بیگم برہم نظر آرہی تھی۔
”اس کی عمر ہی کتنی ہے۔“اسلم شکور نے منہ بنایا۔
”ماسٹر کر چکی ہے،ابوجان نے میرا ایف اے کا نتیجہ آنے سے پہلے بیاہ دیا تھا۔“
وہ ہنسا۔” کوئی اچھا رشتاہے نظر میں؟“
وہ جلدی سے بولی۔” ایم این اے کا بیٹا ہے،جاگیردار ہے۔سیاسی حلقوں میں اچھا نام ہے۔ اور اگلے الیکشنز میں لڑ کے کے ایم این اے بننے کی قوی امید ہے۔“
اسلم شکور نے معنی خیز لہجے میں پوچھا۔” کیامجھے ان کے گھر بیٹی کا رشتہ لے کر جانا پڑے گا ؟“
نسرین بیگم خفگی سے بولی۔”ایسا میں نے کب کہا ہے؟“
” میں تویہی سمجھا ہوں۔“
”میری دوست کہہ رہی تھی، لڑکے کی ماں نے کسی اچھے رشتے کاپوچھااور اس نے ہماری بیٹی کا نام لے دیا۔“
وہ طنزیہ اندازمیں بولا۔”بارش لاہور میں ہورہی ہے اور تم کراچی میں بھیگ رہی ہو۔“
”نہیں جی،انھوں نے میری دوست کو ہماری مرضی معلوم کرنے کا کہا ہے۔اس لیے آپ اپنی لاڈلی کو تیا رکر لیں۔“
اور اسلم شکور نے اثبات میںسر ہلا دیا۔
٭٭٭
”دو سال ہو گئے ہیں اور اب تک آپ منصوبے بنا رہے ہیں۔“ ارشد نے والد کو مطعون کیا۔
”منصوبے پر عمل پیرا ہو رہا ہوں محترم۔“طاہر جوادنے اسے بیٹھنے کا اشارہ کیا۔
”ان دو سالوں میں آپ نے اس متکبر شخص کے آگے پیچھے پھرنے کے علاوہ کیا ہی کیا ہے ؟“ ارشد نے نشست سنبھالتے ہوئے منہ بنا یا۔
”اب وہ مجھ پر بہت زیادہ اعتبار کرتا ہے،میری بات کو اہمیت دیتا ہے اور اس کے پانچ چھے اہم اور خصوصی بندوں کو میں اپنے ساتھ ملانے میں کامیاب ہو گیا ہوں۔مطلب لوہا گرم ہے بس چوٹ مارنے کی دیر ہے۔“
ارشد دانت پیستے ہوئے بولا۔”میں نک چڑھی، نخریلی لڑکی کو ایسا سبق سکھانا چاہتا ہوں کہ ساری زندگی یاد رکھے۔“
” اتنا موقع دیا کہ اسے ورغلا کر بس میں کر لو،مگر تمھیں تو وہ گھاس ہی نہیں ڈالتی،مجبوراََ مجھے دوسرا منصوبہ سوچنا پڑا۔“
” اسے اپنی دولت اور حسب نسب پر گھمنڈ ہے۔میں لاکھ سر پٹختا رہوں اس نے مجھے اہمیت نہیں دینا۔آپ ہی کچھ کریں میںبس اس کا سر جھکانا چاہتا ہوں۔یوں کہ میرے پاﺅں میں گر کررحم کی بھیک مانگتی رہے۔“
”اس کا باپ بھی ہاتھ باندھ کر معافی مانگے گا۔بس تھوڑا سا انتظار۔“
”انتظار ہی تو کر رہاہوں ڈیڈ!“
”ٹھنڈاکر کے کھانے ہی سے منہ کو جلانے سے بچا یا جا سکتا ہے۔“
”کہیں اتنا ٹھنڈ ا نہ کردینا کہ کھایا ہی نہ جا سکے۔“طنزیہ انداز میں کہتے ہوئے ارشد دفتر سے باہر نکل گیا۔جبکہ طاہر جوادسوچ میں گم ہو گیا۔اس کا شیطانی دماغ از سرِ نو منصوبے پر غور کرنے لگا۔ تھوڑی دیربعداس کی کار اسلم شکور کے دفتر کی طرف اڑی جا رہی تھی۔اسلم شکور نے پر تپاک انداز میں اس کا خیر مقدم کیا تھا۔”چاے یا کافی؟“اس کے نشست سنبھالتے ہی اسلم شکور نے پوچھا۔
”جو آپ کی طبیعت کہے۔“
” چاے ٹھیک رہے گی۔“رسیور اٹھا کروہ چاے کا بتانے لگا۔
”کافی دنوں بعد چکر لگایاہے ؟“رسیور رکھ کر وہاس کی جانب متوجہ ہوا۔
”مصروفیت ہی اتنی ہے خان صاحب!“
”کوئی نئی تازی۔“اسلم شکور نے کرسی سے ٹیک لگا لی تھی۔
”ایک مشورہ لینے حاضر ہوا تھا۔“
اسلم شکور خوش دلی سے بولا۔” مجھے خوشی ہو گی۔“
”خان صاحب !ایک بہت بڑ امنصوبہ ہاتھ لگا ہے۔بس رقم کی کمی آڑے آ رہی ہے۔“
” میں کچھ مدد کر دوں ؟“اسلم شکورنے محتاط لہجے میں دریافت کیا۔
”رقم اتنی کم نہیں ہے کہ کسی سے قرض لی جا سکے۔“
”کچھ پتا بھی چلے۔“
”رقم کروڑوں کے ہندسے کو عبور کر رہی ہے۔“ملک طاہر بہت احتیاط سے اپنی گوٹیں کھیل رہا تھا۔یوں کہ اسلم شکور کوذرا بھی شک نہ ہو۔
”منصوبہ کیا ہے،رقم تو بعد معاملہ ہے۔“اسلم شکور اپنی دلچسپی نہیں چھپا سکا تھا۔
” آپ ملک ریاض سے واقف ہیں۔“
اسلم شکور نے تصدیق چاہی۔”آپ بحریہ ٹاﺅن والے ملک ریاض کا ذکرکر رہے ہیں۔“
”بالکل وہی۔“
”اس کا اس معاملے سے کیا تعلق۔“
”صرف اس کی مثال دینا مقصود ہے۔ ایک بحریہ ٹاﺅن کے منصوبے نے اسے شہرت و عزت کی کن بلندیوں تک پہنچا دیا ہے۔یقینا بہت بڑے بزنس مین ہیں مگر آپ کو جاننے والوں کی تعداد بہت محدود ہو گی۔“
”مقصدپر آﺅ۔“اسلم شکورلمبی تمہید سے اکتانے لگا تھا۔
”اگر ہم بھی بحریہ ٹاﺅن کی طرح کسی بڑی کالونی کی بنیاد رکھیں تو مجھے نہیں شک یہ گھاٹے کا سودا ہو گا۔ بیس لاکھ روپے کنال زمین خرید کر ہم چار مرلے کے پلاٹ بیس بیس لاکھ میں بیچ سکتے ہیں۔ مزید کمائی کے لیے تعمیرات میں ہاتھ ڈالا جا سکتا ہے۔ چار منزلہ عمارت میں سولہ فلیٹ آسانی سے بن سکتے ہیں۔اور ایک ایک فلیٹ قسطوں پر پچیس، تیس لاکھ میں با آسانی بک جائے گا۔اب ذرا تیس کو سولہ سے ضرب دیں،یقینا حاصل ضرب آپ کو چیخ چیخ کر دعوت دے گا کہ یہ کر گزرو۔اس کام میں صرف پیسہ نہیں عزت،شہرت اور نیک نامی بھی ہے۔“
”ملک صاحب !آپ مجھے پریشان کر رہے ہیں۔“اسلم شکر سوچ میں پڑ گیا تھا۔
”آپ تسلی سے سوچ لیں۔ایسے مواقع زندگی میں بار بار نہیں ملا کرتے۔ باقی آپ جس کاروبار کو لیے بیٹھے ہیں یہ بہت جلد آپ کے داماد کو وراثت میں ملنے والا ہے۔اور نسل بیٹے سے چلتی ہے بیٹی سے نہیں۔میرے منہ میں خاک،مگر مرنے کے چند ماہ بعد کسی کو آپ کا نام بھی یاد نہیں رہے گا سوائے آپ کی بیٹی کے۔“
”تفصیل سے بتاﺅ،منصوبہ کیا ہے ؟“اسلم شکور نے سگار سلگا کر گہرے کش لینے لگا۔
”یہاں چار پانچ سو ایکٹر کی جگہ خالی پڑی ہے۔میں نے مالک کو ڈھونڈ نکالا ہے اور وہ مناسب قیمت پر زمین فروخت کرنے پر تیار ہو گیا ہے۔ عام لوگ اسے سرکاری زمین سمجھتے ہیں،لیکن میں پراپرٹی ڈیلر ہوں اور ایسی زمینوں کی کھوج میں رہتا ہوں۔پہلے بھی میںنے اسی طرح کے مختلف پلاٹ خرید کر اچھے منافع پر فروخت کیے ہیں لیکن اس زمین کی قیمت میری رسائی سے اوپرہے۔ مجبوراََ مجھے تعاون کے دوسروںکی شمولیت گوارا کرنا پڑی۔چند دوست اس منصوبے میں دلچسپی ظاہر کر رہے ہیں۔ سوموار کو میں نے ایک بیٹھک رکھی ہے جس میں منصوبے کے بارے مفصل گفتگو ہوگی۔آپ کی شمولیت میرے لیے باعث فخر و سعادت ہو گی۔“
”تو آپ چاہتے ہیں میں بھی حصہ دار بنوں۔“
”یہ آپ کی پسند پر منحصر ہے۔میری خواہش تو بس اتنی ہے کہ آپ اپنے قیمتی وقت سے چند گھڑیاں ہمیں بھی عنایت کریں۔“
”کوشش کروں گا۔“
” امید ہے سوموار کو ملاقات ہوگی۔“طاہر جوادنے نشست چھوڑ دی۔
اسلم شکور اسے دروازے تک چھوڑنے کے لیے ساتھ ہو لیا۔
جاری ہے​
 
پشیمان (جدید) قسط نمبر 7
ریاض عاقب کوہلر

”رخسانہ حمید پوچھ رہی تھی کہ لڑکے والے ہمارے گھر آنا چاہتے ہیں۔“
اسوہ نے مشکوک لہجے میں پوچھا۔”کون لڑکے والے ماں جی!“
”تمھیں دیکھنے آ رہے ہیں ؟“نسرین بیگم نے اس کے سر میں لٹھ ماری۔
”مجھے ایسا مذاق بالکل پسند نہیں ہے۔“وہ کرسی کھسکا کر اٹھنے لگی۔
” کہاں جا رہی ہو؟“اسلم شکور کا لہجہ کافی سخت تھا۔
اس نے شاکی نظروں سے باپ کو دیکھا اور سر جھکا لیا۔
”بیٹھو کھانا کھاﺅ۔“اس مرتبہ اس کے والد کے لہجے میں پہلی والی سختی مفقود تھی۔
آنکھوں میںابھرنے والی نمی کو بہ مشکل روکتے ہوئے وہ بیٹھ گئی۔
” آپ کچھ بتا رہی تھیں ؟“اسلم شکورخان، بیوی کی طرف متوجہ ہوا۔
” لڑکے والوں کی رخسانہ حمید سے بات ہوئی تھی۔ وہ اسوہ میں دلچسپی لے رہے ہیں اور ہمارے گھر آنا چاہتے ہیں۔“
” آپ نے کیا جواب دیا؟“
”یہی کہ،شوہر سے مشورہ لے کر بتا دوں گی۔“
اسلم شکور خان بیٹی کی طرف متوجہ ہوا۔”اب تم بتاﺅ،لڑکا ایم این اے کا بیٹا ہے، شاید اگلے انتخاب میں خود بھی ایم این اے بن جائے۔بہت بڑے جاگیر ہیں۔“
وہ سر جھکائے خاموش بیٹھی رہی۔
” کچھ پوچھا ہے ؟“اسلم شکور کے لہجے میں ہلکی سی سختی در آئی تھی۔
”مجھے شادی نہیں کرنا، اگر آپ زبردستی کرنا چاہتے ہیں تو پھر پوچھنے کی ضرورت باقی نہیں رہتی۔“ گلوگیر لہجے میں کہتے ہوئے وہ اپنی خواب گاہ کی طرف بڑھ گئی۔آنکھوں کے پانی کو بعض اوقات روکنا بھی ممکن نہیں رہتا۔جاڑے کی بوندا باندی کے بجائے ساون کی برسات شروع ہوئی اوراس نے تکیے میں منہ چھپا لیا۔ لگ رہا تھا کوئی اس سے عمار کو چھین کر لے جا رہا ہے۔باپ کا سخت لہجہ بھی اسے ہلکان کر رہا تھا۔
دروازہ کھٹکھٹا کر اسلم شکوراندر آیا۔وہ تکیے سے چہرہ اٹھا کر آنسو صاف کرنے لگی۔
”پاپاکی جان رو کیوں رہی ہے۔“اسلم شکور نے اس کے سر پر ہاتھ رکھا۔اور وہ بلکتے ہوئے اس سے لپٹ گئی۔
اس کی پیٹھ تھپتھپاتے ہوئے وہ شفقت سے پوچھنے لگا۔” مجھے رونے کی وجہ نہیں بتاﺅ گی؟“
وہ ہچکیاں لیتے ہوئے گڑگڑائی ”پاپا!میں نے شادی نہیں کرنا۔“
”شادی توکرنا پڑے گی،بے شک یہاں نہ کرو۔“
وہ جلدی سے بولی۔”ہاں،اس جگہ نہیں کرنی۔“
”ٹھیک ہے،نام بتاﺅ،کیا کرتا ہے، خاندان کیسا ہے ؟“
” امیر ہونا ضروری ہے پاپا۔“
”میرے لیے تمھاری پسند اہمیت رکھتی ہے۔“
”آئی لو یو پاپا!“وہ خوشی سے سرشار ہو گئی تھی۔
” جانتا ہوں۔اور اب میرے سوالوں کا جواب دو۔“
” عمارنام ہے،میرا کلاس فیلو تھا۔اوراس کا والد سرکاری محکمے میں کلرک ہے۔“
گہرا سانس لیتے ہوئے اسلم شکور خان نے دونوں ہاتھوں سے سر پکڑا اور گہری سوچ میں ڈوب گیا۔اسوہ امید بھری نظروں سے گھورنے لگی۔
چند لمحوں کے بعد اس کی آوازز ابھری۔”کیا وہ اس قابل ہے کہ کاروبار وغیرہ سنبھال سکے۔“
” اس کا شمار کلاس کے نمایاں لڑکوں میں ہوتا تھا۔نہایت شریف، سادہ،سلجھا ہوا، خوداراور سب سے بڑھ کر قابل بھروسا۔“
”بس اتنی تھوڑی سی خوبیاں۔“اسلم شکور ہنسا۔”اصل خوبی تو تم نے بتائی نہیں۔“
”اصل خوبی ؟“اسوہ حیران ہوئی۔
”ہاں اصل خوبی تو یہ ہوئی ناں کہ وہ ہماری گڑیا کو پسند کرتا ہے اور ہماری گڑیا اسے چاہتی ہے۔“
وہ شرما کر نیچے دیکھنے لگی۔
” کل اسے شام کے کھانے پر بلالو۔“
وہ پریشانی سے ہکلائی۔ ”پپ .... پاپا! .... ایک چھوٹا سا مسئلہ ہے۔“
”کیا؟“
”وہ اپنی تعلیم کی تکمیل سے سال بھرپہلے یونیورسٹی چھوڑ کر چلا گیا تھا۔“
اسلم شکو رہنسا۔”میں کون سا اسے نوکری پر رکھ رہا ہوں۔“
وہ اداسی سے بولی۔”میرے پاس اس کا پتا یا فون نمبر موجود نہیں ہے۔“
”کیا ؟“اسلم شکور ششدر رہ گیا تھا۔
اسوہ نے حقیقت اگلی۔”وہ میری وجہ سے یونیورسٹی چھوڑ کر چلا گیاتھا۔اورتین سال سے غائب ہے۔“
” تم اس کے لیے یہ رشتا ٹھکرا رہی ہو،بلکہ اس کے بعد بھی کوئی رشتا آیا تو تمھیں قبول نہیں ہوگا۔ ایک ایسے لڑکے کی خاطر جس کا اتا پتا بھی تمھیں معلوم نہیں۔یہ بھی معلوم نہیں وہ مر گیا ہے یا زندہ ہے، شادی ہو گئی ہے یاکنوارا ہے۔واہ! بہت اچھا فیصلہ ہے۔ مجھے نہیں معلوم تھا تم اتنی عقل مند ہو۔“
وہ سر جھکاکر اضطراری انداز میں ہاتھ مروڑنے لگی۔
”میں عملی آدمی ہوں۔اس لیے لڑکے کے خاندانی پس منظر کو زیرِ بحث لانے کے بجائے تمھاری خوشی کو مدنظر رکھا۔لیکن تمھیں ایسی حماقت کی اجازت ہر گز نہیں دوں گا۔کل یا پرسوں لڑکے والے تمھیں دیکھنے آ رہے ہیں۔خبر دارجو آئیں بائیں کرنے کی کوشش کی۔ تمھیں شاید کچھ نہ کہہ سکوں مگر اپنے سر میں ضرور گولی اتار دوں گا۔“غصے سے کہتا ہواوہ باہر نکل گیا۔
باپ کی رضامندی سے وہ مکمل خوش بھی نہیں ہو پائی تھی کہ دوبارہ رونے کی وجہ مل گئی۔ والد کی موت اسے کہاں قبول ہو سکتی تھی۔
٭٭٭
و ہ کافی دیر بے حس و حرکت بیٹھی خود کلامی کر تی رہی....
”کہاں چلے گئے ہوعمار، آ جاﺅ نہ دیکھو تمھاری اسوہ بلا رہی ہے۔تم تو مجھے دیکھے بنا ایک پل بھی نہیںرہ پاتے تھے۔لوگوں کے طنز،طعنوں اوراستہزاءکو بھی خاطر میں نہیں لاتے تھے اور کہاں اتنے سال مجھے دیکھے بغیرگزار دیے۔کیا اپنی اسوہ کی یاد نہیں آ تی۔ میری آنکھوں کو جھیل سے تشبیہ دیا کرتے تھے ناں، آکر دیکھو تو سہی یہ آنکھیںجھیل کے بجائے آبشار بن گئی ہیں۔ میری آواز کوکوئل کی بولی سے تشبیہ دیتے تھے ناں،آکرسنوتو سہی کتنا درد بھر گیاتیری کوئل کی آواز میں۔ میری آمد پر تمھیں بہاروں کی آمد کا گماںہوتا تھا، تو اب میری زندگی کو کیوں خزاں بنانے پر تلے ہو ؟کہاں گئی ہیں تمھاری بے تاب نگاہیں جو میرے رخ کے طواف کو بے چین رہتی تھیں۔اب تو یہ چہرہ تمھاری نگاہوں کی تپش کے لیے جانے کب سے ترس رہا ہے۔مرجھا گیا ہے،بے رونق ہو گیا ہے۔ایک دفعہ آ کر دیکھو تو سہی۔پتا ہے اسوہ نے بلکہ تمھاری اسوہ نے راستے کے سارے کانٹے چن لیے ہیں،ساری مشکلیں دور کر دیں ہیں،ساری کٹھن منزلیں طے کر لی ہیں۔ساری کھائیاں عبور کر لی ہیں بس کمی ہے تو تمھاری۔آ جاﺅ ناںاپنی اسوہ کو اپنا لو۔ تمھاری اسوہ مر جائے گی تمھارے بغیر۔اب تو تمھاری غیر موجودی ہی ملاپ کے رستے کا سب سے بڑا کانٹا ہے۔ آ جاﺅ عمار! میں نہیں رہ پاﺅں گی۔عمار آ جاﺅ مجھے تمھاری جتنی محبت کوئی نہیں دے پائے گا۔ کوئی دے بھی کیسے سکتا ہے۔تمام دنیا کے لیے میں ایک خوب صورت لڑکی سہی مگر تمھارے لیے تو تمھاری اسوہ ہوں ناںجسے تم دل کی گہرائیوں سے چاہتے ہو، بس کرو بہت لمبا کر دیا جدائی کو،کہیں جدائی نے تمھیںمیرے بغیر جینا تو نہیں سکھا دیا۔پلیز عمار! آ جاﺅ، اگر تم نے میرے بغیر جینا سیکھ بھی لیاہے تو یقین مانو مجھے تمھارے بغیر جینا بھول گیا ہے۔ میں تو ایک لاش بن گئی ہوں۔آکردیکھو تو سہی اب مجھ سے تمھارے انتظار کی لذت بھی چھینی جا رہی ہے،میرا پیارا ابّاجان ہی نا دانستگی میں میرے خلاف ہو گیا ہے۔عمار! اگر میں کسی اور کے نام ہو گئی تو کچھ بھی باقی نہیں بچے گا۔پھر تم یہ ہونا واپس نہیں لا سکو گے۔ عمار ! پلیز آ جاﺅ تم نہیں جانتے تم میرے لیے کیا ہو؟مجھے معلوم نہیں تھا کہ تم میرے لیے اتنے ضروری ہو۔میری بے خبری کی اتنی بڑی سزا نہ دو،میرا جرم بڑاسہی ہوا تو انجانے میں ہے نا۔تم تو میری ہر بات کو اہمیت دیتے تھے، کب سے میں اتنی غیر اہم ہو گئی ہوںکہ تمھیں میری درد بھری آہیںبھی سنائی نہیں دے رہی ہیں۔پلیز عمار !اب بس کردو۔اگر تمھیں میری ضرورت نہیں رہی، اگر تمھیں مجھ سے بہتر مل گئی ہے تو آ کر میرے لاحاصل انتظار کا تو خاتمہ کر دو۔مجھے کوئی سزا ہی سنا دو،یہ کرب ناک خاموشی مجھ سے سہی نہیں جا رہی۔میں خود کو یقین نہیں دلا سکتی کہ تمھیں میر ی ضرورت نہیں رہی۔یقین کروں بھی تو کیسے ؟میرا وجدان کہتا ہے تم بھی میرے لیے تڑپتے ہو، تم بھی رات بھر کروٹیں بدلتے رہتے ہو،تمھیں اب بھی اپنی اسوہ اتنی ہی پیاری ہے جتناپہلے تھی۔ایسا ہے نا عمار!کہو نا، کہہ دونا کہ تم صرف اسوہ کے ہو صرف اور صرف اسوہ کے۔اور ہاں سن لو اسوہ بھی صرف تمھاری ہے۔ صرف اور صرف تمھاری۔مگر خدارا دیر نہ کرنا،یہ نہ ہو صرف تمھاری اسوہ کسی دوسرے کی تحویل میں چلی جائے۔کسی ایسے کی جو دنیاوی رتبے میں تم سے برتر ہو۔پھر تمھارے ہاتھ ملنے سے کچھ بھی نہ ہوگا۔اس وقت تمھاری اسوہ بھی بے بس ہو جائے گی عمار ! پلیز پلیزپلیز....“
روتے روتے اس کے آنسو خشک ہو گئے تھے۔ جانے کتنے عرصے سے اس نے نماز نہیں پڑھی تھی۔اب تو اسے نماز پڑھنا بھی بھول گیاتھا۔ لیکن انسان پر جب ایسی مشکل آپڑتی ہے جس کادرمان ممکن نہ ہو تو،اسے اپنے رحیم و کریم ربّ کی یاد آتی۔تب اسے خیال آتا ہے کہ مشکل کشا ذات بس ایک ہی ہے۔وہ بھی اپنے ربّ کے سامنے کھڑی ہو گئی۔اسے پتا نہیں تھاکہ رات کے اس پہر عشاءکی نماز اداہو سکتی تھی یا نہیں، مگر وہ نماز پڑھنے لگی اور پھرفرض نماز کے بعد نوافل پڑھتے پڑھتے مصلے پر لیٹ کر سو گئی۔
یہ دل بھ±لاتا نہیں ہے محبتیں ا±س کی
پڑی ہ±وئی تھیں م±جھے کِتنی عادتیں ا±س کی
یہ میرا سارا سَفر ا±س کی خوشبوو¿ں میں کٹا
مجھے تو راہ دکھاتی تھیں چاہتیں ا±س کی
گِھری ہ±وئی ہوں میں چہروں کی بھیڑ میں لیکن
کہیں نظر نہیں آتیں شباہتیں ا±س کی
میں حادثے میں ج±دا ہو گئی ہوں ا±س سے مگر
یہ میرا دل، مِری سانسیں امانتیں ا±س کی
٭٭٭
مہینے بھر کی بھاگ دوڑ کے بعد عمار اور انوارالحق نے کام کی شروعات کر دی تھی۔ عمار کوایک مشہور دکان کی طرف سے پچاس جیکٹس کی مانگ بھی موصول ہو چکی تھی۔ وہ سرگرمی سے تقاضے کی تکمیل میں مصروف ہو گئے۔جیکٹس پر لگانے کے لیے اس نے خوب صورت سا مونو گرام بھی بنایا تھا۔اس پر انگریزی کے دو حرف یو اور اے بڑی ہنر مندی سے لکھے گئے تھے۔وہ دن بھرنمونے کی جیکٹس کے ساتھ بازاروں میں گھومتا رہتا۔اس کا ارادہ پاکستان کے دوسرے بڑے شہروں میں بھی جانے کا تھا،مگر پہلے مرحلے میں وہ مکمل کراچی گھوم لینا چاہتا تھا۔انوارالحق بڑٰ محنت اور لگن سے نئی نئی جیکٹس کے نمونے تیار کر رہا تھاجبکہ اس کے دونوں بیٹے سلائی میں جتے تھے۔
رات گئے تھکا ہارا گھر پہنچتا لیکن بستر پر لیٹتے ہی دشمن جاں اس کے خیالوں میںدھم سے آکودتی۔جانے کب سے وہ آنکھوں کی رسائی سے پرے تھی۔کئی بار دل نے اس کے دیدار کی دہائی دی مگر عقل رکاوٹ بنی رہی۔وہ جانتا تھا دل کے مطالبوں پر کان دھرنے والا خسارے میں رہتا ہے۔دل کو بہلانے کے بجائے اس نے خود کواتنا مصروف کر دیاتھا کہ رات کو بستر پر لیٹنے سے پہلے اس کی یادبس دل کے دروازے کھٹکھٹاتی رہ جاتی۔البتہ فارغ ہوتے ہی وہ پوری اجارہ داری سے اس کی سوچوں و خیالوں پر قابض ہو جاتی۔ اس کی ایک تصویر بھی عمار کے پاس موجود تھی۔ سونے سے پہلے وہ جی بھر کے اسے دیکھا کرتا،مگر اس کا دل کبھی اسوہ کے دیدار سے سیر ہی نہیں ہوا تھا اس لیے یہ وظیفہ درمیان میں چھوڑ کر نیند کی طاقت ور دیوی کے سامنے ہتھیار ڈالنا پڑتے۔
ایک رات اسوہ کی یاد تھکاوٹ اور بے آرام کو بھی خاطر میں نہ لائی۔ یہاں تک کہ اس کا جی کرنے لگا کہ وہ بھاگ کر اس کے پاس پہنچ جائے۔اور پھر اس کی دید کے بدلے جو سزا ملے وہ ہنسی خوشی قبول کر لے گا۔وہ اٹھ بیٹھا،مگر اس سے پہلے کہ بستر چھوڑتا، آنکھوں میں اسوہ کا غضب چہرہ لہرایا۔اور اس کا نفرت بھرا لہجہ عمار کی سماعتوں میں گونجنے لگیں....
” سمجھایا تھا کہ جب تک میرے ہم پلہ نہیں ہو جاتے گھٹیاعادتوں سے باز آ جاﺅ۔نظر آرہی ہے میری کوٹھی،کچھ اندازہ ہورہا ہے کہ اسوہ اسلم شکورخان کس حیثیت کی مالک ہے۔کیا خیال ہے ایک کلاس میں پڑھنے کی وجہ سے ہم برابر ہو گئے ہیں۔احمق انسان میرے لباس اور جوتوں کی قیمت سے تمھاری طبقے کے لوگوں کا سالانہ بجٹ تیار ہو سکتا ہے اور تم مجھے اپنی گھٹیا محبت سے متاثر کرنے کی کوشش کر رہے ہو۔منع نہیں کیا تھا کہ اپنی حیثیت پہچانو۔،میرے نزدیک،تمھاری حیثیت سڑک پر پھرنے والے کتے کے آوارہ پلّے سے زیادہ نہیں ہے۔گھٹیا نسل کے نیچ انسان، تمھیں میرے نرمی سے سمجھانے کا کوئی اثر ہی نہیں ہورہا تھا کیوں ؟“
عمار کی آنکھوں میں نمی اتر آئی تھی۔اسوہ کی تصویر دوبارہ پرس میں ڈال کر وہ سونے کی کوشش کرنے لگا۔
٭٭٭
”اس نے صبح ناشتا بھی نہیں کیااور دوپہر کے کھانے کے لیے بھی نہیں آئی۔“شوہر کے گھر آتے ہی نسرین نے بیٹی کی شکایت لگائی۔
اسلم شکور برہم ہوا۔” ماں ہیں، آپ کو زبردستی کرنا چاہیے تھی۔“
”آپ نے سر پر چڑھایا ہوا ہے۔میری حیثیت اس کے نزدیک خادما جتنی ہی ہے۔“
”ذمہ داری سے جان چھڑانا کوئی آپ سے سیکھے۔“طنزیہ لہجے میں کہتے ہوئے وہ بیٹی کی خواب گاہ کی طرف بڑھ گیا۔
دروازہ کھٹکھٹاکر وہ اندر داخل ہوا۔اسوہ تکیے سے ٹیک لگائے گہری سوچ میں گم تھی۔والد کو دیکھتے ہی جلدی سے اٹھنے لگی۔
”بیٹھی رہی ....بیٹھی رہو۔“اسلم شکور اس کے ساتھ ہی جا کر بیٹھ گیا۔
”پاپاکی جان،بھوک ہڑتال کیوں کی ہوئی ہے ؟“اس نے شفقت بھرے لہجے میں پوچھا۔
”ایسا کچھ بھی نہیں ہے۔“اس کی غمزدہ آواز ابھری۔
” صبح ناشتا بھی نہیں کیا،دوپہر کو بھی کچھ نہیں کھایا۔“
”بھوک ہی نہیں ہے۔“
”یہ سراسر زیادتی ہے بیٹا!ہم تمھیں ایک سراب کے پیچھے زندگی تباہ کرنے کی اجازت نہیں دے سکتے۔“
وہ گڑگڑائی۔”پاپا!....آپ تھوڑی سی مہلت تو دے سکتے ہیں نا۔“
” اسے غائب ہوئے تین سال ہو چکے ہیںمزید کتنی مہلت درکا رہے ؟“
” کچھ بن کرلوٹنا چاہتا ہے۔ اتنی دولت کمانا چاہتا ہے کہ آپ کے سامنے ہاتھ پھیلاتے ہوئے اسے سر نہ جھکانا پڑے۔ بہت خود دار اور حساس ہے پاپا!جب تک وہ خود کومیرے قابل نہیں بنالیتا چھپا رہے گا۔ پاپا میرا یقین کرو وہ آئے گا ایک دن ضرور لوٹے گا۔اس نے دعوا کیا تھا کہ وہ میرے علاوہ کسی سے شادی نہیں کرے گا۔پاپا !پلیز مجھے تھوڑی مہلت دے دیں۔“
”یہ سب جذباتی باتیں ہیں،جوش اور غصے میں کیے ہوئے دعووں کی حیثیت بس اتنی ہی ہوتی ہے کہ نظر سے اوجھل ہوتے ہی بھاپ بن کر اڑ جائیں۔“
وہ لجاجت سے بولی۔”آپ تھوڑی سی مہلت تو دے سکتے ہیں نا،بالکل تھوڑی سی۔“
”مجھے یہ رشتا بہت پسند آیا ہے۔“
”پاپا!صرف ایک ماہ کی مہلت دے دیں پلیز “وہ رُنکھّی ہوئی۔
” ایک ہفتہ ہے تمھارے پاس، اس کے بعد انکار نہیں سنوں گا۔“
وہ گڑگڑائی۔”پاپا!ایک ماہ پلیز۔“
”پہلے وعدہ کرو کہ اس کے بعد کوئی بہانہ نہیں کرو گی اورتمھیں چپ چاپ ہمارا فیصلہ ماننا پڑے گا۔“
” وعدہ کرتی ہوں پاپا!“وہ خوش ہو کر والد سے لپٹ گئی تھی۔
”یہ خوشامد چھوڑو اور کھانا کھالو۔“اسلم شکور ہلکی سی چپت اس کے سر پر مارتا ہوا کھڑا ہو گیا۔
٭٭٭
اسلم شکور خان کے سامنے تین معزّز ین تشریف فرما تھے۔چوتھا ملک طاہر جواد تھا جو اس کے پہلو میں بیٹھاتینوںکا تعارف کرا رہا تھا۔
اس نے ایک ادھیڑ عمر شخص کی طرف اشارہ کیا۔جس کی توند کافی باہر کو نکلی ہوئی تھی۔ ”یہ ہیںشیخ رئیس الدین۔جناب کا تعلق لاہور سے ہے۔ ساتھ سید تبریز شاہ تشریف فرما ہیں۔شاہ صاحب ڈیرہ غازی خان سے تشریف لائے ہیں۔“ملک طاہر نے پستہ قامت اورمنحنی سے تبریز شاہ کی طرف اشارہ کیا۔”اور ان کے ساتھ فیروز خان رئیسانی تشریف فرما ہیں۔رئیسانی صاحب کا تعلق کوئٹہ سے ہے۔“تیسرآدمی بھی شیخ رئیس الدین کی طرح موٹا تازہ ہی تھا۔” آپ تینوں یقینا سیٹھ اسلم شکور خان صاحب سے واقف ہوں گے۔تعارف کے بعد میں سیدھا مدعا پر آتا ہوں۔“وہ زمین کی خریدداری اور کالونی کی تعمیر پر روشنی ڈالنے لگا۔آخر میں وہ کہہ رہا تھا۔
”منصوبے میںہر ایک کتنا حصہ دارہو گا۔یہ طے کر لینے کے بعد ہم عملی طور زمین کے مالک بلکہ مالکان سے بات چیت کریں گے۔زمین کے اصل مالک کا انتقال مہینا بھر پہلے ہوا ہے ورثاءاس کے چار بیٹے ہیں، اس زمین کے علاوہ بھی مرحوم کی کافی جائیداد موجود ہے اس لیے مذکورہ زمین میں،چاروں بیٹوں کا حصہ برابر نہیں ہے۔ شیخ صاحب!آپ کتنا حصہ رکھنا چاہیں گے۔طاہر جواد نے مشاورت کی ابتداءکی۔
” پچاس فیصد میرے ہوئے اور باقی کے پچاس فیصد آپ چاروں بھائی تقسیم کر لیں۔“
”واہ !؟“تبریز شاہ نے طنزیہ لہجے میںکہا۔”شیخ صاحب !سارا منصوبہ ہی آپ کا ہوا، ہماری یہاں ضرورت ہی کیا ہے ؟“فیروز خان رئیسانی بھی شیخ صاحب کوکڑی نظروں سے گھورنے لگا تھا۔
شیخ نے گھبراگیاتھا۔”میں تو آپ کے فائدے کے لیے کہہ رہا تھا،کہ اگر ہماری توقعات کے مطابق نفع نہ ہو تو آپ لوگوں پر کم بوجھ پڑے گا۔“
”رہنے دیں شیخ صاحب!“رئیسانی نے زبان کھولی۔”اگریوں ہے تومیں ساٹھ فیصدرکھنے کو تیار ہوں۔باقی کے چالیس فیصد آپ چاروں بانٹ لینا۔“
تبریز شاہ نے زبان کھولی۔” ہم پانچ ہیںاور ہر آدمی کابیس فیصد بنتا ہے۔اس لیے لڑائی جھگڑے کی ضرورت ہی کیا ہے۔“
ملک طاہر نے زبان کھولی۔”خان صاحب کا حصہ ہو گاپچاس فیصد۔ باقی کا پچاس فیصد ہم چاروں میں تقسیم ہوگا۔ اگر کسی کواختلاف ہے تو وہ بہ خوشی تشریف لے جا سکتا ہے۔“
رئیسانی گویا پھٹ پڑا تھا۔”پچاس فیصد اکیلے خان صاحب کا کیسے ہو سکتا ہے۔“
” سراسر نا انصافی ہے۔“تبریز شاہ نے اس کی ہاں میں ہاں ملائی۔
” ہمیں منظور نہیں ہے۔“شیخ رئیس احمد نے بھی احتجاج کیا۔
طاہر جوادنے بحث ختم کرنے کی کوشش کی،”اتنا بھی منافع بخش منصوبہ نہیں ہے یار!میں اپنا حصہ پانچ فیصد کر دیتا ہوں،آپ تینوں کا پندرہ پندرہ فیصدہوجائے گا۔“
تبریز شاہ طنزیہ انداز میں بولا۔”اپنا شور روم بیچنے کے بعد بھی آپ بہ مشکل پانچ فیصد حصے کی ادائی کر سکیں گے۔ ہم پر احسان جتانے کی ضرورت نہیں۔باقی آپ اپنا پندرہ فیصد خان صاحب کو دے دیں ہم اپنے بیس فیصد سے نیچے آنے کو تیا ر نہیں۔“
ملک طاہرنے تلخی سے جواب دیا۔”شاید آپ بھول رہے ہیں کہ یہ منصوبہ میرا ہے۔
تبریز شاہ ترکی بہ ترکی بولا۔” آپ بھی بھول رہے ہیں کہ تین دن پہلے آپ نے مجھے تیس فیصد کی پیشکش کی تھی۔“
”مجھے بھی آپ نے پچیس فیصد کا کہا تھا؟“رئیسانی کہاں پیچھے رہنے والا تھا۔
”اورمجھے کہا تھا جتنا مرضی ہو حصہ رکھ لوں۔“شیخ رئیس نے لقمہ دیا۔
”تب خان صاحب سے بات نہیں ہوئی تھی۔“ملک طاہر نے انھیں سمجھانے کی کوشش کی۔
رئیسانی نے کہا۔”میرا نہیں خیال خان گروپ آف کمپنیز کے مالک کو فضول منصوبے میں حصہ لینے کی کوئی ضرورت ہے۔“
ملک طاہر نے انکار میں سر ہلایا۔” میں خان صاحب سے وعدہ کر چکا ہوں۔“وہ تینوں طاہر جواد کی بات سننے کو تیار نہیں تھے۔گفتگو تلخ کلامی سے طعن و تشنیع میں تبدیل ہوئی اور تینوں خفا ہو کرچل دیئے۔
دروازے پرقدم روکتے ہوئے رئیسانی نے دھمکی دی۔”ملک صاحب !وہ زمین آپ کی نہیں ہے، اگر ہم منصوبے میں شامل نہیں ہیںتو آپ لوگ بھی اتنی آسانی سے زمین نہیں خرید سکو گے۔“
اسلم شکور خان نے گفتگو میں حصہ لینے کی کوشش نہیں کی تھی۔وہ ملک طاہر کا ممنون و احسان مند تھا جس نے اس کی خاطر اپنے پرانے جاننے والوں کی بھی پروا نہیں کی تھی۔وہ یہ بھی جانتا تھا کہ طاہر جواد اسوہ کو بہوبنانا چاہتا تھا،مگر اسوہ ارشد کو سخت ناپسند کرتی تھی تبھی اس نے طاہر جواد کو کوئی امید نہیں دلائی تھی۔ اس کے باوجود طاہر جواد کی محبت و عقیدت میں کوئی فرق نہیں آیا تھا۔
ملک طاہر سر پکڑ کر بیٹھ گیا تھا۔
اسلم شکورخان نے پوچھا۔”پریشانی کیا ہے؟“
”خان صاحب ! ہم دونوں منصوبہ نہیں سنبھال سکتے۔ تبریز شاہ کی بات درست تھی میں بہ مشکل پانچ فیصد حصے ہی کی ادائی کر سکوں گا۔“
” کتنی رقم درکار ہو گی ؟“
طاہر جوادنے تفصیل بتائی۔”چار سو ایکڑ کا مطلب ہے بتیس سو کنال زمین اور ہمیں فی کنال پندرہ لاکھ روپے کی بھی پڑے تو حساب کر لیں۔پھر زمین کے انتقال پر بھی رقم خرچ ہوگی، وہاں کچھ لوگوں نے جھونپڑے اور کچے مکان بھی بنائے ہوئے ہیں ان سے بھی جگہ خالی کرانا پڑے گی۔ تعمیرات کی شروعات کے لیے بھی رقم درکار ہو گی۔ اور اتنی رقم کا بندوبست ہم دونوں کے بس سے باہر ہے۔“
اسلم شکور نے تجویز پیش کی۔” دونوں فیکٹریاں اور ٹرانسپورٹ کمپنی بیچ کر بھی مطلوبہ رقم پوری نہیں ہوگی،بلکہ مزید رقم ضرورت پڑی تو میں اپنی کوٹھی گروی رکھ دوں گا۔“
”تب بھی آپ ستر فیصد سے زیادہ حصہ دار نہیں بن سکتے۔ہمیں تیس فیصد کا حصہ دار ڈھونڈنا ہوگا۔“
”پھر؟“اسلم شکور نے حل کی جستجو کی۔
طاہر جوا د نے تجویز دی۔” فیروز خان رئیسانی کو تیس فیصد کا لالچ دے کر اپنے ساتھ ملا لیتے ہیں۔“
اسلم شکورہنسا۔”اس طرح سانپ بھی مر جائے گا اور لاٹھی بھی نہیں ٹوٹے گی۔“
” تینوں اپنی اپنی گاڑی میں ہوں گے۔ اس سے پہلے کہ اکٹھے ہو کر سازش کی تیاری کریں میں رئیسانی کو کال کرکےواپس بلا لیتاہوں۔“ طاہرجواد رئیسانی کا نمبر ملانے لگا۔
”رئیسانی صاحب !آپ تو خفا ہی ہو گئے۔“ لمحہ بھرخاموش رہ کر وہ دوبارہ بولا۔” ایسی کوئی بات نہیں،آپ میرے بھائی ہیں۔اور خفا نہ ہوں آپ کے لیے ایک پیشکش ہے .... ہاں صرف آپ کے لیے .... ہم آپ کو تیس فیصد دینے کے لیے تیار ہیں........ ٹھیک ہے آپ کا حصہ پینتیس فیصد ہوگا،خان صاحب کا ساٹھ اور میرا وہی پانچ فیصد ........ ٹھیک ہے اب آپ واپس تشریف لے آئیں کھانااکٹھے کھاتے ہیں .... آپ کال کر کے انھیں ٹرخا دیں،میں اور خان صاحب آپ کے منتظر ہیں۔خدا حافظ۔“
رابطہ منقطع کر کے اس نے مسکرا کر اسلم شکور کی طرف مسکرا کر دیکھا۔ ” مسئلہ حل ہو گیا۔“
اسلم شکور خان نے بھی مسکرا کر اثبات میں سر ہلا دیا تھا۔
٭٭٭
پہلی مانگ کی تکمیل کے ساتھ ہی اس نے انوار الحق اور اس کے بیٹوں کو خصوصی دعوت دی تھی۔ ساری محنت انھی کی تھی۔عمار کا کام تو گاہک تلاش کرنا تھا۔اگلاآرڈرسو جیکٹوں کا ملا اور پھر وہ آرڈر زیر تکمیل تھاکہ غیر ملکی کمپنی سے اکٹھی پانچ ہزار جیکٹس کی مانگ ہوئی۔ مسئلہ یہ تھاکہ دو ماہ کے اندر انھوں نے مال پورا کر نا تھا۔ وہ انوار الحق کے ساتھ بیٹھا اسی مسئلے پر سر کھپا رہا تھا۔آخر نوار الحق عزم سے بولا۔
”عمار بھائی !پیشگی رقم پکڑیں،باقی اللہ مالک ہے۔“
عمار نے اندیشہ ظاہر کیا۔”مگر دو کاریگروں کے ساتھ دو ماہ میں پانچ ہزار جیکٹیں تیارکرنامشکل ہی نہیں ناممکن ہے۔یہ نہ ہو ابتداءہی میں ہم پر ایسا ٹھپہ لگے کہ کمپنی کھڑی ہونے سے پہلے گھٹنوں پر بیٹھ جائے۔“
” آپ چمڑا کپڑا منگوا لیں۔کٹنگ کرنا میرا کام ہے۔باقی سلائی کی دس مشینیں ہمارے پاس موجود ہیں کاریگر بھی تلاش کر لیں گے۔“
”جیسے آپ کی مرضی۔“لمحہ بھرسوچ کر عمار نے آمادگی ظاہر کر دی۔
تھوڑی دیر بعد وہ پرانی ڈاٹسن میں مطلوبہ کمپنی کی جانب جا رہا تھا۔ وہاں ایک اورحیرانی اس کی منتظر تھی۔
” جیکٹس کے نمونے ہم نے ہیڈ افس بھجوائے تھے۔ پرچیزنگ ڈائریکٹر کو بہت پسند آئے ہیں۔ اور انھوں نے پانچ کے بجائے دس ہزار جیکٹس خریدنے میں دل چسپی ظاہر کی ہے۔ آپ کو تین ماہ میں مال کی فراہمی یقینی بنانا ہوگی۔“کمپنی کے ایم ڈی نے لمبی چوڑی تمہید کے بجائے دو ٹوک بات کی تھی۔
”مگر تین ماہ ....“عمار شش و پنج میں پڑ گیا تھا۔
”مال وقت پروصول کرنا ہماری اولین ترجیح ہو گی۔“
عمار لجاجت سے بولا۔”اگر آپ اس مدت میں تھوڑی توسیع کر دیں ؟“
اس نے نفی میں سر ہلایا۔”ہمیں دس ہزار جیکٹس کے لیے بھی دو ہی ماہ کا عرصہ ملا تھا۔ میں نے کوشش کر کے تین ماہ کا وقت حاصل کرلیا، کیونکہ جانتا ہوں آپ نے ابھی کام شروع کیا ہے۔“
عمار سر پکڑ کر سوچ میں پڑ گیا۔ اس کے مستقبل کا مسئلہ تھا۔اگر وہ یہ طلب وقت پر کر دیتا تو نہ صرف بازار میں جگہ بنانے میں کامیاب ہو جاتا بلکہ مالی طور پر بھی مستحکم ہو سکتا تھا۔تھوڑی دیر سوچنے کے بعد اس نے جوا کھیلنے کا فیصلہ کیا۔
”ٹھیک ہے سر !....تین ماہ کے اندر آپ کو دس ہزار جیکٹس مل جائیں گی۔ آپ بس یہ طے کر لیں کہ کون سانمونہ کتنی مقدار میں درکار ہے۔“
اس نے ایک فائل عمار کی طرف بڑھائی۔”اس فائل میں ساری تفصیلات اور معاہدے کی تفصیلات موجود ہیں۔“
معاہدے کا بہ غور مطالعہ کر کے عمار نے اپنے دستخط ثبت کیے اور ایک کاپی اس کی جانب بڑھا دی۔
ایم ڈی نے کہا۔”اپنا اکاﺅنٹ نمبر بھی بتا دیں تاکہ ساٹھ فیصد پیشگی معاوضاآپ کے اکاﺅنٹ میں منتقل کر دیا جائے۔“
عمار نے ایک کاغذ پر اپنا اکاونٹ نمبر لکھ کر اس کی طرف بڑھا دیا۔
”یقینا مجھے یہ بتانے کی ضرورت تو نہیں پڑے گی کہ ناقص مواد یا غیر تسلی بخش کام ہماری ساکھ کو تومتاثر کرے گا ہی آپ کی نوزائدہ کمپنی کو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ڈبو دے گا۔“
”ضرورت تو نہیں تھی،مگر بتا نااچھا لگا۔“عمار خوش دلی سے کہتے ہو ئے اجازت لے کر نکل آیا۔گھنٹے بھر بعد وہ انوار الحق کے سامنے بیٹھا تھا۔
” بہت زیادہ ہے۔“مانگ سن کر انوار الحق سر پکڑ کر بیٹھ گیا تھا۔
”معاہدہ دستخط ہوگیاہے۔اور آج یا کل تک پیشگی رقم میرے اکاﺅنٹ میں منتقل ہو جائے گی۔“
” بہت مشکل کام ہے۔کٹائی کے معاملے میں میں اپنے علاوہ کسی پر بھروسا نہیں کر سکتا،نہ معیار پر سمجھوتہ کر سکتا ہوں۔ایک جیکٹ ہو یا ایک لاکھ میں کٹائی میں فرق نہیں آنے دیتا۔اور پھران جیکٹس کی سلائی کے لیے ہمیں کم از کم پندرہ بیس کاریگروں کی فی الفور ضرورت پڑے گی۔“
”انوار بھائی ! یہ ہمارے پاس پہلا اور آخری موقع ہے۔ کامیاب ہو گئے تو مستقبل روشن، دوسری صورت میں کاروبار ایسا ٹھپ ہو گا کہ ہم سر اٹھانے کے قابل نہیں رہیں گے۔“
” مشکل میں ڈال دیا ہے۔“انوار الحق کی پریشانی قابلِ دید تھی۔
”آپ سو جیکٹوں کی مانگ تو مکمل کریں۔اس بارے کچھ سوچتے ہیں ؟“ عمار کے پاس تسلی کے الفاظ موجود نہیں تھے۔
” کل تک مکمل ہو جائیں گی۔“انوار الحق دھیرے سے بولا۔”لیکن دس ہزار جیکٹیں کیسے بنیں گی۔“
”خیر کرے گا۔“عمارنے ساری پریشانیو ں کا آخری حل بتایا۔
انوار الحق نے ٹھنڈا سانس بھرا۔”اس کے علاوہ کہہ بھی کیا سکتے ہیں۔“
٭٭٭
اسوہ صبح سویرے عمار کی تلاش میں گھر سے نکل کھڑی ہوئی۔آغازاس نے یونیورسٹی سے کیا تھا۔ ریکارڈ کیپرکو چند ہزار پکڑا کر بھی اسے کچھ حاصل نہ ہوسکا۔ کیونکہ وہاں عمار کا پر انا پتا ہی درج تھا۔ یونیورسٹی سے نکل کر وہ عمار کے پرانے گھر کی طرف بڑھ گئی۔مگر نتیجہ وہی ڈھاک کے تین پات ہی نکلا۔
اس کے بعد سارا دن مختلف سڑکوں پر گھومتی رہی۔بے تاب نظریں چاروں جانب عمار کی کھوج میں بھٹکتی رہیں۔دن کا کھانااسی مٹر گشت کی نظر ہو گیا تھا۔سہ پہر کو درمیانہ درجے کے ہوٹل میں اس نے چاے کے ساتھ چند بسکٹ حلق میں اتارلیے۔ ہوٹل کے انتخاب میں بھی عمار کی کھوج کا جذبہ پنہاں تھا۔
شام کی آذان ہورہی تھی جب وہ گھر لوٹی۔ماں کو شاید اصل بات معلوم تھی تبھی اس نے زیادہ باز پرس نہیں کی تھی۔رات کا کھانا اس نے خواب گاہ ہی میں منگوا لیا تھا۔ بستر پر لیٹتے ہی عمار کی شکل اس کی آنکھوں کے سامنے تھی۔
اس کی سمجھ میں کچھ نہیں آ رہا تھا کہ آخر وہ اسے کیسے تلاش کرے۔ جسے سامنے موجود ہونے پر اس نے ہمیشہ ٹھکریا تھا۔اوراب وہ چلا گیا تھا تو اس کا سارا سکون اور چین ہی ساتھ لے گیا تھا۔ پیاسی اور حسرت بھری نظریں جو ہر دم اس کی دید کی مشتاق ہوتیں،اب قصہ پارینہ بن چکی تھیں۔وہ سوچ بھی نہیں سکتی تھی کہ کوئی اسی اتنا پیارا ہو سکتا ہے۔ محبت کا مذاق اڑانے والی کی اپنی زندگی مذاق بن گئی تھی۔اب اس کے لیے یہ تصور کرنا ہی مشکل تھا کہ اس کی زندگی کاساتھی عمار کے علاوہ کوئی اور ہو سکتا ہے۔وہ ساری زندگی عمار کے انتظار میں گزار سکتی تھی۔ لیکن رشتوں کی ان دیکھی زنجیر اسے من مانی کہاں کرنے دیتی۔وہ اپنی خواہشات کا گلا گھونٹ سکتی تھی ماں باپ کی نافرمانی کیسے کرتی۔
٭٭٭
”جی ابو جان !“عمار سلائی شدہ جیکٹس کا جائزہ لے کر پیکنگ کر رہا تھا جب اسے والد کی کال موصول ہوئی۔
”آج دفتر سے لیٹ آﺅں گا، تم ماں کو کوئی سبزی وغیرہ لا دو۔“
”میں تو روزانہ ہی دیر سے جاتا ہوں۔“
”تو آج ذرا پہلے چلے جاﺅ۔“
”آپ والد ہونے کا جتنا چاہے فائدہ اٹھا لیں، کبھی تو میں بھی باپ بنوں گا،دیکھنا کیسے گن گن کر بدلے لیتا ہوں آپ کے پوتے سے۔“
”یہ منہ اور مسور کی دال۔“بشیر احمد نے قہقہہ لگایا۔”پہلے میرے پوتے کی ماں تو پیدا ہونے دو۔“
عمار ترکی بہ ترکی بولا۔”وہ تو ماسٹر بھی کر چکی ہے۔“
”اس کے بعد،شادی بھی نہ کر چکی ہو۔اور تم مجھے پوتوں کا نام لے لے کر خوش کرتے رہو۔“
”آپ شایدمصروف تھے۔“
”ٹرخانے کی تو ڈگری لی ہوئی ہے۔“ بشیر احمد نے ہنستے ہوئے رابطہ منقطع کر دیا۔
عمار،انوارالحق کو بتا ئے بغیر نکل آیا۔والد صاحب کی وجہ سے اسوہ چند گھنٹے پہلے ہی اس کی یادوں میں آ موجود ہوئی تھی۔اور پھر ایک عجیب اتفاق ہوا۔سرخ بتی پر گاڑی روکتے ہوئے اس کی نظر ساتھ والی کار پر پڑی۔ وہ بہ مشکل خود کو اچھلنے سے باز رکھ سکاتھا۔ڈرائیونگ سیٹ پر اسوہ بیٹھی تھی۔اس نے جلدی سے گود میں پڑی سندھی اجرک اٹھا کر چہرے کے گرد لپیٹ لی۔ اجرک وہ گرد و غبار سے بچنے کے لیے ہمیشہ ساتھ رکھتا تھاکیونکہ اس کی ڈاٹسن کی کھڑکیوں کے شیشے بند نہیں ہوتے تھے۔اور اس کی مالی حالت ایسی نہیں تھی کہ وہ ڈاٹسن کی مرمت کراسکتا۔
اسوہ کے سر پر اوڑھے دوپٹے نے اسے کافی حیران کیا تھا۔کالے دوپٹے میں اس کا چہر ہ یوں دمک رہا تھا جیسے بدلیوں کی ٹکڑی میں چاند چمکتا ہے۔جتنی دیر وہ ٹھہری رہی اس کی متلاشی نظریں فٹ پاتھ کی جانب نگراں رہیں۔عمار کو لگا جیسے وہ کسی کی تلاش میں ہو۔
”کہیں مجھے تو نہیں ڈھونڈ رہی۔“اس خیال کے ساتھ ہی اس کے ہونٹوں پر پھیکی مسکراہٹ پھیل گئی تھی۔اتنی نفرت کرنے والی لڑکی کا اسے ڈھونڈنا عجوبہ ہی ہوتا۔
بتی کے سبز ہوتے ہی وہ آگے بڑھ گئی۔عمار کے دل نے بہت واویلا کیا مگر عقل کی کڑی پہرے داری اس کی معاون رہی۔اسوہ سے کچھ بعید نہ تھا کہ اس کے تعاقب سے با خبر ہوتے ہی پولیس کو کال کر دیتی۔اور اس کے کاروبار کی عمارت جن کچی بنیادوں پر کھڑی تھی وہ کسی ایسے حادثے کی متحمل نہیں ہو سکتی تھیں۔
ڈاٹسن کا رخ اس نے سبزی منڈی کی طرف موڑا مگر ا س سے پہلے ہی اسے سڑک کے کنارے سبزی کا ٹھیلا دھکیلتا ہوا ادھیڑ عمر کاباریش شخص نظر آیا اور اس نے فوراََ ہی ڈاٹسن روک لی۔
وہ ٹھیلا روک کر عمار کو امید بھری نظروں سے دیکھنے لگا۔
ایسے آدمیوں سے عمار مول تول نہیں کرتا تھا۔ اس لیے اس نے بغیر ریٹ پوچھے اسے کلو پیاز، ٹماٹر، آلو اور مٹر تولنے کا کہہ دیا۔
وہ خاموشی سے تمام چیزیں تولنے لگا۔اس کے چہرے پر چھائی پریشانی عمار کی نظر سے اوجھل نہ رہ سکی۔یوں تو پاکستان میں مزدوری کرنے والے ہمیشہ ہی پریشانی کا شکار رہتے رہتے ہیں،مگر وہ کچھ زیادہ ہی پریشان نظر آ رہا تھا۔
”خیریت تو ہے بزرگو !پریشان نظر آ رہے ہو ؟“
”۔۔۔۔ہ بیٹا۔“اس نے اکساری سے جواب دیا تھا۔
”پیسے کتنے ہوئے۔“عمار نے زیادہ کریدنا مناسب نہیں سمجھا تھا۔
”دو سو۔“
عمار نے مطلوبہ پیسے اس کے حوالے کیے۔اور واپس مڑنے ہی لگاتھا کہ وہ لجاجت سے بولا۔”اگر آپ مزید سبزی خریدنا چاہیں،تو اس سے بھی سستی لگاﺅں گا۔“
”سبزی تو میں خرید لوں گا،مگر آپ پریشانی تو بتائیں ؟“عمار کودوبارہ اس کی پریشانی کی کھوج ہوئی۔
”بیوی کی طبیعت کل سے خراب ہے،کل بھی اتنے پیسے نہیں بچے کہ اس کی دوائی خرید پاتا۔آج بھی سہ پہر ہونے کو ہے بہ مشکل تین سو کماپایا ہوں۔دو سو روپے ٹھیلے کا کرایہ دے کر سو روپیا ہی جیب میں بچے گا،اس سے بیوی کی دوائی خریدوں یا رات کے کھانے کے لیے روٹیاں۔“
عمار کے دماغ میں کڑواہٹ گھل گئی تھی۔یہ ہماری قوم کا المیہ ہے کہ کسی کے تو کتوں کو بھی امپورٹڈ غذا کھانے کو ملتی ہے۔اور کسی کے بچوں کو بھی بھوکا سونا پڑتا ہے۔
” مجھ سے کچھ رقم ادھار لے لو۔تھوڑے تھوڑے کر کے واپس دے دینا۔“
وہ دکھی لہجے میں بولا۔”بیٹا ہوتے ہی تھوڑے ہیں۔اگر اکٹھے کر سکتا تو ایک ٹھیلا نہ خرید لیتا۔“
”کوئی اور کام کیوں نہیں کرتے ؟“
اس نے فوراََ پوچھا۔”مثلاََ کیا کروں ؟“
مگر عمار کے دماغ میں کوئی ایسا کام نہیں آسکا تھاجو اس کے لیے مناسب ہوتا۔وہ جان چھڑاتا ہوا بولا” تمام آلو،پیاز اور مٹر تول دیں۔ ٹماٹر رہنے دیں کہ یہ جلد خراب ہو جاتے ہیں۔“
”شکریہ بیٹا!“کہہ کر وہ خوشی سے سبز ی تولنے لگا۔
آلو،پیاز کے بھرے تھیلے ڈاٹسن میں رکھ کر عمار اسے رقم ادا کرنے لگا۔
”اللہ پاک آپ کی مشکلیں آسان کرے۔“پیسے لیتے ہوئے اس نے خلوص دل سے دعا دی تھی۔
عمار دل میں خوشی محسوس کرتے ہوئے ڈاٹسن کی طرف بڑھ گیا۔سبزی والا وہیں کھڑا شکر گزار نظروں سے اسے دیکھ رہا تھا۔وہ ڈاٹسن آگے بڑھانے ہی لگا تھا کہ انوارلحق کی گھنٹی آگئیام!“
”ام! آپ پیکنگ کرتے کرتے کہاں غائب ہو گئے ؟“۔۔۔۔
”چند منٹ میں لوٹ رہاہوں۔“
”آپ کو پہلے بھی عرض کیا ہے کہ پیکنگ کے لیے ایک ادھ مزدور رکھ لیں۔“
”ٹھیک ہے،میں کچھ کرتا ہوں۔“رابطہ منقطع کر کے اس نے سبزی والے کو پاس بلایا۔
”بزرگو !آپ کا نام نہیں پوچھ سکا تھا۔“
وہ جلدی سے بولا۔”عبدالحکیم !“
” آپ کا گھر کہاں ہے ؟“
”پاس ہی ہے۔“اس نے قریبی آبادی کی طرف اشارہ کیا۔
” میں یہ سامان گھر چھوڑنے جا رہاہوںواپسی پر مجھے اسی جگہ ملیں، آپ کے لیے ایک آسان کام ڈھونڈ لیا ہے۔“
”کیساکام ؟“اس کے لہجے میں حیرانی تھی۔
”آپ کے مطلب کا ہے۔ ٹھیلے سے زیادہ آمدن ہو جائے گی۔“
اس نے خوش دلی سر ہلایا۔”میں یہ ٹھیلا چھوڑ کر آتا ہوں۔“
”بیوی کو کس وقت ڈاکٹر کو دکھاﺅ گے۔“
”بڑی بیٹی کے ساتھ چلی جائے گی۔“
عمار اثبات میں سر ہلاتے ہوئے گھر کی جانب روانہ ہو گیا۔
”مہینے بھر کی سبزی اٹھا لائے ہو ؟“ماں نے اس کے ہاتھ میں سبزی کے بھرے تھیلے دیکھ کر حیرانی سے پوچھا۔
” ابوجان کو تو گھر کی فکر ہی نہیں ہے۔ساری ذمہ داری میرے سر ڈال دی ہے۔“
سکینہ نے ہنس کر کہا۔” تمھاری شکایت ان تک پہنچا دوں گی۔“
” ماں جی !آپ جانیں اور ابو جان مجھے اس لڑائی میں نہ گھسیٹیں۔“
”کہاں چل دیے۔“اسے گھر سے نکلتے دیکھ کر ماں نے آواز دی۔
”امی جان !کام ادھورا چھوڑ کر آیا ہوں۔“ وہ گھر سے نکل آیا۔
سڑک کنارے عبدالحکیم منتظر نظر آیا تھا۔اسے ساتھ بٹھا کر وہ کارخانے میں پہنچ گیاتھا۔اور اسے فی الفور پیکنگ کا طریقہ سمجھا کر اپنے ساتھ کام پر لگا لیا۔
شام کی نماز انھوں نے قریبی مسجد میں پڑھی تھی۔مسجد سے واپس پر عبدالحکیم نے پریشانی بتائی۔ ” صاحب !رات کو کام کرنا میرے لیے مشکل ہو جائے گا،کیونکہ گھر میں میرے علاوہ کوئی مرد نہیں ہے۔“
”آپ سویرے آ کر عصر کے وقت چھٹی کر لینا۔ابھی تو آپ کو یہ جگہ دکھانا تھی۔“
”شکریہ صاحب جی !“وہ سلام کہہ کر رخصت ہو گیا۔انوارلحق کو بھی عبدالحکیم پسند آیا تھا۔
جاری ہے
 
Status
Not open for further replies.
Back
Top