خوش آمدید

لو اسٹوری فورم ، اردو دنیا کا نمبر ون اردو اسٹوری فورم ، ابھی فورم کےممبر بن جائیں اور اردو کی بہترین ہر قسم کی کہانیاں پڑھیں ۔

Register Now!
  • 📚 لوو اسٹوری فورم ممبرشپ

    بنیادی ڈیل

    وی آئی پی

    5000
    تین ماہ کے لیے
    بہترین ڈیل
    💎

    وی آئی پی پلس

    8000
    چھ ماہ کے لیے
    ٹاپ پیکیج
    👑

    پریمیم

    20000
    چھ ماہ کے لیے

Love Story کنارے تک نہ پہنچ سکی ۔۔۔

Joined
Jun 10, 2025
Messages
968
Reaction score
49,580
Location
Karachi
Gender
Male
سمندر کی ہوا جب کبھی کراچی کی گلیوں میں داخل ہوتی ہے، تو اپنے ساتھ کئی لمحوں کی نمکین یادیں بھی لے کر آتی ہے۔ یہ بظاہر شور شرابے سے اٹا، ہنگامہ خیز شہر ہے، مگر اسی پرشور ماحول میں ہزاروں خاموش کہانیاں سانس لیتی ہیں۔ صدر کی بوسیدہ عمارتیں، برنس روڈ کے رنگارنگ کھانوں کی مہک، کلفٹن کے ساحلوں سے ٹکراتی لہریں اور لیاری کے تنگ و تاریک راستے… سب اپنی اپنی زبان میں کئی داستانیں سناتے ہیں۔

اسی شہر کے ایک عام سے محلے کی پرانی عمارت کے تیسرے فلور پر رہنے والا لڑکا، شایان مرزا، ہر صبح فجر کے بعد بالکونی میں کھڑا ہو کر سامنے سڑک سے گزرتی بسوں کو دیکھتا رہتا تھا۔ اس کی زندگی بھی انہی بسوں جیسی تھی؛ کبھی چلنے لگتی، اور رک جاتی تو ایسے لگتا جیسے وقت بھی تھم سا گیا ہو۔ اس کا تعلق ایک متوسط گھرانے سے تھا۔ والد ریلوے میں کلرک تھے اور ماں گھرداری میں مگن۔ اس گھر میں جو چیز سب سے اہم تھی، وہ کتابوں کی خوشبو تھی۔ سلیقے سے رکھی ہوئی کچھ کتابیں، بکھرے ہوئے پرانے رسالے، اخبار اور دیوار پر لگی ایک ٹوٹی ہوئی گھڑی؛ بظاہر یہی اس کی دنیا تھی۔

یہ بھی ایسی ہی ایک عام سی صبح تھی، جب اس کی زندگی میں پہلی بار وہ خوشبو داخل ہوئی جو اس کے نصیب کا رخ موڑنے والی تھی۔ جامعہ کے شعبہ تاریخ میں نئے داخلوں کا آغاز تھا۔ طلبہ کا ہجوم، شور، قہقہے اور آنے والے دنوں کے خواب ہر طرف بکھرے ہوئے تھے۔ شایان اپنی فائل سینے سے لگائے راہداری میں کھڑا تھا کہ اچانک اس کے ہاتھ سے کاغذات پھسل کر فرش پر گر گئے۔ وہ انہیں اٹھانے کے لیے جھکا ہی تھا کہ ایک نرم سی آواز اس کی سماعت سے ٹکرائی:

”آپ کے پیپرز گر گئے ہیں۔“

اس نے چونک کر سر اٹھایا۔ سامنے ایک لڑکی کھڑی تھی۔ ہلکے نیلے رنگ کا سادہ سا دوپٹہ، آنکھوں میں یاسیت انگیز سنجیدگی اور چہرے پر ایسی معصومیت جیسے ابھی ابھی کسی عبادت گاہ سے ہو کر آئی ہو۔

”یہ لیں،“ اس نے مسکرا کر فائل تھمائی۔

”شکریہ،“ شایان نے ہکلاتے ہوئے کہا۔ وہ جانے لگی تو نہ جانے کیوں اس نے اس کا نام پوچھ لیا۔

وہ دھیرے سے مڑی اور اپنا نام بتایا: ”میرا نام کاویری داس ہے۔“ شایان ایک لمحے کو ٹھٹکا۔ لہجے، انداز اور نام نے سب کچھ واضح کر دیا تھا؛ وہ ہندو تھی۔ عام طور پر اس عمر کے نوجوانوں کے دل میں کسی بھی لڑکی کی ذرا سی توجہ پر ایک میٹھا سا احساس سرسراتا ہے۔ شایان نے اس احساس کو باہوش و حواس لگام دی کہ مذہب کا فرق تو بڑا نازک معاملہ ہے، پھر بھی اسے لگا جیسے اس لمحے مذہب، روایات اور ثقافتی فرق سب کہیں پیچھے رہ گئے۔ صرف وہ چہرہ اس کی آنکھوں کے سامنے تھم سا گیا، ساتھ ہی اس نے جو خوشبو لگائی ہوئی تھی، وہ اب تک اس کی سانسوں کو مہکا رہی تھی۔

کاویری ڈیفنس کے علاقے میں رہتی تھی۔ اس کا گھر کافی کشادہ مگر خاموش سا تھا، جہاں دیواروں پر قدیم دیوی دیوتاؤں کی تصویریں آویزاں تھیں۔ اس کے والد پرکاش داس ایک سخت گیر تاجر تھے۔ ان کی دنیا اپنے دھرم اور اپنی برادری تک محدود تھی۔

تھوڑا بہت مذہبی تو سب ہی گھرانے ہوتے ہیں، مگر شایان کے معاملے میں قدرت زیادہ سختی سے پیش آئی۔ پھر بھی پتا نہیں کیسے دونوں کی دوستی آہستہ آہستہ پروان چڑھنے لگی۔ پہلے نوٹس کا لین دین، پھر اسائنمنٹس اور لمبی باتیں۔ عمر کے ان بے خبر دنوں میں دونوں نے اپنے اپنے راستے میں حائل دیواروں کو نظر انداز کرتے ہوئے ایک دوسرے سے ملنا شروع کر دیا تھا۔

ایک شام کلفٹن کے ساحل پر بیٹھے کاویری نے پوچھا: ”شایان! تمہیں سمندر کی آواز کیسی لگتی ہے؟“

”سمندر کی آواز؟“ اس نے سوچتے ہوئے کہا، ”ایسے، جیسے کہیں دور سے بہت سارے دیو اور جنات دنیا کو خبردار کر رہے ہوں۔“

”تم بھی بہت عجیب اور الجھی ہوئی باتیں کرتے ہو۔ تم کسی جنم میں شاعر رہے ہو گے، انہی بیچاروں کی آتمائیں بھٹکتی پھرتی ہیں،“ یہ کہہ کر وہ دیر تک ہنستی رہی اور وہ اسے دیکھتا رہا۔ وہ کیا بتاتا کہ ایسی باتیں وہ اس کی یہی ملکوتی ہنسی سننے کے لیے کیا کرتا ہے۔

شہر کے حالات آہستہ آہستہ بدلنے لگے تھے۔ فرقہ واریت کی خبریں، جلوس، نعرے اور دیواروں پر لکھے جملے؛ سب کچھ دلوں کے درمیان دیواریں کھڑی کر رہا تھا۔ کراچی جو کبھی روشنیوں کا شہر کہلاتا تھا، اب اندھیروں سے جوجھ رہا تھا۔ ایک دن یونیورسٹی کے باہر ایک چھوٹا سا ہنگامہ ہوا۔ مذہب کے نام پر نعرے لگے۔ اس دن شایان نے پہلی بار کاویری کی آنکھوں میں خوف دیکھا۔

”یہ… یہ سب کیا ہو رہا ہے شایان؟“ اس نے کانپتی آواز میں پوچھا۔

”انڈیا میں مسلمانوں پر کوئی افتاد ٹوٹتی ہے تو اس کا ردِ عمل یہاں ہوتا ہے، مگر تم مت گھبراؤ، تمہیں کوئی کچھ نہیں کہے گا،“ شایان نے اسے تسلی دی، ”کچھ بھی ہو جائے، ہماری دوستی نہیں بدلے گی۔“ کاویری نے اس کی طرف دیکھا۔ اس کی نظر میں اب یہ محض دوستی نہیں رہی تھی، کچھ اور بھی تھا جسے دونوں کوئی نام دینے سے ڈر رہے تھے۔

گھر واپس آکر شایان نے پہلی بار محسوس کیا کہ محبت صرف دل کا معاملہ نہیں ہوتی، یہ معاشرتی قدروں کی پابند بھی ہوتی ہے۔ جو ان پابندیوں کی پروا نہیں کرتے، وہ اپنے سماج کے باغی کہلاتے ہیں اور بغاوت…؟ اس سے زیادہ وہ سوچ نہیں سکا۔

ماں نے ایک دن اچانک پوچھ لیا: ”آج کل تم بات بات میں کسی ہندو لڑکی کا نام بہت لیتے ہو؟“

شایان چونک گیا، پھر جلدی سے بولا: ”کوئی نہیں امی… کلاس فیلو ہے بس۔“

ماں سمجھدار تھیں، انہوں نے بات کو طول نہیں دیا اور اس کی بات پر اطمینان ظاہر کرتے ہوئے کچن میں چلی گئیں، لیکن شایان کو پہلی بار احساس ہوا کہ کاویری اس کے لیے کیا بن چکی ہے۔

دوسری طرف کاویری کے گھر بھی سرگوشیاں ہونے لگی تھیں۔

”مجھے پتا چلا ہے، تم کسی مسلمان لڑکے کے ساتھ گھومنے لگی ہو…“ اس کے والد نے سخت لہجے میں پوچھا۔ وہ خاموش رہی تو باپ نے حکم سنایا: ”تمہیں ہمیشہ یاد رکھنا ہے کہ یہ مسلمانوں کا ملک ہے۔ وہ ہمیں عزت دیتے ہیں، اپنے برابر بٹھاتے ہیں، مگر ہم سے رشتے داریاں نہیں کرتے۔ اور وہ کیا، ہم خود نہیں چاہتے کہ ہمارے بچوں کی شادیاں پرائے دھرموں میں ہوں۔“

کاویری بھی اتنا تو سمجھ ہی گئی کہ شایان سے دوستی تو رکھی جا سکتی ہے، مگر رشتہ بنانے کی کڑی سزا جھیلنا ہو گی۔ ایک شام بارش کے بعد جب سڑکیں بھیگی ہوئی تھیں، شایان نے پہلی بار اس سے کہا: ”تم نے کبھی اپنے اور میرے رشتے کے بارے میں سوچا ہے؟“

”سوچنا کیا ہے… ہم کلاس فیلوز اور اچھے دوست ہیں۔“

”بس؟“ وہ جیسے تلملا گیا، ”اے لڑکی! میں صاف کہتا ہوں، محبت کرتا ہوں تم سے… کیا سمجھی؟“ اس کی آواز میں وہی دھونس تھی جو مردوں کا وطیرہ ہوتا ہے۔

”محبت آسان نہیں ہوتی شایان، خاص طور پر ہم جیسے لوگوں کے لیے،“ تھوڑے سے توقف کے بعد اس نے کہا۔

”تو کیا تم میری محبت سے انکار بھی کر سکتی ہو؟“ اس کی بے چینی دیدنی تھی۔

”نہیں۔ میں تمہاری محبت سے کبھی انکار نہیں کر سکتی، مگر شایان! ہمارا اختیار صرف محبت کرنے تک ہی ہے۔ اس کے آگے ہمارے خاندان اور ہمارے دھرم ہمیں اجازت نہیں دیتے، اس لیے…“

وہ سمجھ گیا کہ وہ کیا کہنا چاہتی ہے۔ اس حقیقت سے تو وہ خود بھی خوفزدہ تھا، پر محبت… اسے تو عادت ہے کانٹوں میں کھلنے کی۔

ایک شام جب شایان اور کاویری یونیورسٹی سے واپس آ رہے تھے تو بس اسٹاپ پر کچھ لڑکوں نے کاویری کو عجیب نظروں سے دیکھا۔ ان کی سرگوشیاں اور ان کی ہنسی، سب کچھ کاویری کو نشانہ بنانے کے لیے تھا۔

بس میں بیٹھ کر اس نے دھیرے سے کہا: ”شایان! مجھے ڈر لگ رہا ہے۔“

”میں ہوں نا… ڈرنے کی کیا بات ہے۔ مت پریشان ہو،“ شایان نے اپنے الفاظ میں اس استقامت کی کمی محسوس کی جو ایسے حالات میں وقت کی سب سے بڑی ضرورت تھی۔ اس کے ذہن کے کسی نہ کسی گوشے میں یہ بات کلبلا رہی تھی کہ اگر کسی دن کاویری پر کسی بھی نوعیت کا حملہ ہوا، تو وہ اتنے سارے بپھرے ہوئے لوگوں سے اس کی حفاظت کیسے کر سکے گا۔

کاویری نے اس کی طرف دیکھا۔ اس ایک جملے میں اسے جیسے ایک پناہ گاہ مل گئی ہو۔ وہ جانتی تھی کہ جب تک شایان ہے، اسے کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا۔ اگلے چند ہفتوں میں انہوں نے ایک دوسرے کو اپنے اپنے خاندانوں کے بارے میں بتانا شروع کیا۔ کاویری اپنے مندر، اپنی پوجا اور اپنے تہواروں کی کہانیاں سناتی اور شایان خاموشی سے سب سنتا رہتا۔ اسی طرح وہ بھی اسے رمضان کی رونقیں، عید کی خوشیاں اور اپنے گھر کی سادگی کے قصے سناتا۔ دونوں کی دنیا الگ الگ تھی، مگر احساس ایک جیسے تھے۔ دونوں اپنے اپنے دلوں میں ایک دوسرے کے خاندانوں کے لیے وسعت پیدا کرنے کی پہلے سے زیادہ کوشش کرنے لگے تھے۔

ایک دن لائبریری میں بیٹھے ہوئے کاویری نے اچانک پوچھا: ”شایان، اگر کبھی تمہارے گھر والوں کو ہمارے بارے میں پتا چل گیا تو؟“

”کیا مطلب؟“ اس نے چونکتے ہوئے کہا۔

”تم جانتے ہو میں کیا کہنا چاہ رہی ہوں۔“ شایان نے کتاب بند کر دی۔ ”سچ کہوں تو میں نے ابھی تک اتنا آگے سوچا ہی نہیں۔ میں بس اتنا جانتا ہوں کہ تم میرے لیے بہت اہم ہو۔“ کاویری مسکرائی، مگر اس کی مسکراہٹ میں ہلکی سی اداسی گھلی ہوئی تھی۔
☆☆☆

شایان کی ماں بیٹے میں ہونے والی تبدیلوں کو بغور ملاحظہ کر رہی تھیں، لیکن سب کچھ سمجھنے کے باجو دوہ کچھ کہتی نہیں تھیں، البتہ ایک رات

کھانے کی میز پر اس کے والد نے پوچھ لیا۔

آج کل پڑھائی کیسی چل رہی ہے؟“

ٹھیک چل رہی ہے ابو ۔ “ اس نے تسلی بخش جواب دینے کی کوشش

کی۔

مجھے تو ایسا نہیں لگتا۔ میں دیکھ رہا ہوں، تمہارا فون کا استعمال پہلے سے زیادہ بڑھ گیا ہے۔ اکثر کال پر لمبی لمبی باتیں ہوتی ہیں۔“

شایان گھبر ا گیا۔ اس کا مطلب ہے امی نے ضرور امی نے ضرور ابو سے ایسا ویسا ایسا ویسا کچھ کہا وہ کلاس فیلو ہیں کچھ تو اسائمنٹس کے سلسلے میں “ ہے۔

ماں نے معنی خیز نظروں سے اس کی طرف دیکھا، مگر کچھ کہا نہیں۔ ابو نے بھی زیادہ باز پرس کی ضرورت نہیں سمجھی، لیکن ان کے تاثراتسے لگتا تھا، جیسے وہ اس کے جواب سے مطمئن نہیں ہوئے۔ دوسری طرف کاویری کے لئے بھی گھر کی فضا مسلسل اجنبی ہوتی جارہی تھی۔ رات کھانے کے بعد کاویری کے پتانے اسے اپنے کمرے میں بلایا اور کہا۔ ”ہمیں خبر ہے کہ تم آج کل کسی مسلمان کے لڑکے کے ساتھ زیادہ دکھائی دیتی ہو۔ سمجھایا تھا کہ اپنی حد میں رہنا ہے۔“ کاویری سہم گئی۔ ”کون سالڑ کا پا پا؟

”مجھ سے جھوٹ مت بولو۔ مجھے سب پتا چل چکا ہے۔“ وہ خاموش رہی۔ پر کاش داس کی آواز پہلے سے زیادہ سخت ہو گئی۔ ” یاد رکھو! ہم ہندو ہیں۔ ہماری اپنی روایات ، اپنی عزت ہے۔ کسی مسلم لڑکے سے تمہارا رشتہ کرنے کے بارے میں ہم سوچ بھی نہیں سکتے۔“

کاویری کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔ پاپا، وہ صرف میر ادوست ہے۔“

شروعات ایسی ہی ہوتی ہے۔ پہلے دوستی پھر پریم میں اچھی طرحجانتا ہوں کہ ایسے رشتوں کا انجام کیا ہوتا ہے۔ بہتر ہے کہ تم ابھی اپنے پائوں روک لو، نہیں تو ؟“

نہیں تو کیا پا یا اس نے ہمت کر کے پوچھ لیا۔

”ہمارے پاس دو راستے ہیں۔ پہلا یہ کہ تمہیں یونیورسٹی سے اٹھا لیں اور دوسرا وہ رکے پھر بولے۔ ”تمہارا بیاہ اپنی برادری کے کسی لڑکے سے کر دیں۔“

وہ کمرے سے نکل آئی، مگر دل جیسے دھڑکنا بھول گیا۔ اگلے دن یونیورسٹی میں اس نے شایان کو ساری بات بتائی۔ وہ خاموشی سے سنتا رہا۔ پہلی بار اسے احساس ہوا کہ ان کی کہانی اتنی سادہ نہیں، جتنی وہسمجھ رہے تھے.

اب کیا ہو گا؟“ کا ویری نے ڈرتے ہوئے پوچھا۔

ابھی کچھ کہنا مشکل ہے۔ وقت پڑنے پر سوچیں گے اور فیصلہ کریں گے۔ “ شایان نے اسے ڈھل مل سا اطمینان دلایا، جس سے کاویری کے دل کو ذرا سا بھی قرار نہیں آیا۔

کسی سیاسی نوعیت کے واقعے نے اچانک ایسے آگ پکڑی کہ شہر کے حالات آنا آنا فانا خراب ہو گئے۔ تمام تعلیمی اداروں کو نامعلوم مدت کے لئے بند کر دیا گیا۔ اب ملاقاتیں کم ہو تیں، البتہ فون پر لمبی گفتگو پہلے سے زیادہ ہونے لگی، پھر حالات کچھ پر سکون ہوئے تو دونوں مختلف بہانوں سے کبھی صدر کی کسی پرانی بک شاپ پر، کبھی فریزر بال کے باغ میں، کبھی سی ویو کے کنارے ملاقاتیں کرنے لگے۔

ایک شام بارش ہو رہی تھی۔ دونوں فریئر ہال کے برآمدے میں کھڑے تھے۔ بارش کی بوندیں درختوں سے گر رہی تھیں۔

کا ویری نے آ ما نے آہستہ سے کہا۔ ” شایان ! تم نے کی ایان ! تم نے کبھی سوچا ہے ، ہمارا انجام کیا ہو گا؟“

نہیں سوچا اور سوچنا بھی نہیں چاہتا۔“ مگر حقیقت سے کب تک بھا گو گے ؟“

شایان نے اس کی طرف دیکھا۔ ”جو بھی ہو، کوئی اس حقیقت کو نہیں بدل سکتا کہ میں تم سے محبت کرتا ہوں۔“

کاویری کی آنکھیں بھیگ گئیں۔ تو کیا ہماری محبت بس ایک کسک بن کے رہ جائے گی، جو ساری زندگی ہمارے دلوں میں کانٹے کی طرحچھتی رہے گی؟“

اسی لمحے دور کہیں بجلی چمکی۔ اس کی گرج چمک میں شایان کو اس کی بات ٹھیک سے سنائی نہیں دی۔

تم نے کبھی سوچا ہے کہ ہمیں کیا کرنا چاہیے۔ جو تم کہو گی، میں وہ

کرنے کو تیار ہوں۔ بولو ، کیا کروں میں ….؟”ہمیں اپنے گھر والوں کو بتا دینا چاہیے۔ ایک نہ ایک دن تو انہیں پتا چلنا نہ دن ہی ہے۔ کاویری ٹھیک کہہ رہی تھی۔

دونوں نے فیصلہ کیا کہ مناسب موقع دیکھ کر اپنے اپنے گھر والوں کو اس رشتے کے بارے میں پوری سچائی سے بتا دیں گے۔

ایک دن کا ویری نے فون کیا، تو اس کی آواز کانپ رہی تھی۔ ”شایان، پاپا نے میر ایونیورسٹی جانا بند کر دیا ہے۔“

کیا مگر کیوں ؟ شایان کی آواز بلند ہوئی، جسے اس کی امی نے محسوس کر لیا اور اس کی باتوں پر کان لگا دیے۔

ا نہیں ہمارے بارے میں شک ہو گیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے۔ اب میں گھر سے اکیلی باہر نہیں جاسکتی۔ کسی نے شاید ہمیں باہر کہیں ملتے ہوئے دیکھ لیا اور پاپا کو بتا دیا۔ “ کاویری نے اپنی بات پوری کی۔ شایان کے پیروں تلے زمین نکل گئی۔

تو اب ہم کیا کریں گے ، ایک دوسرے کے بغیر اسی وقت اس کی امی اس کے کمرے کے دروازے پر آکر کھڑی ہو گئیں، اس نے بات وہیں روک کر ان سے پوچھا۔ ” آپ کو کوئی کام ہے امی ؟“ بات ختم کر لو ، تو میرے پاس آنا کچھ بات کرنی ہے۔“ یہ کہہ کر وہ چلی گئیں۔

دوسری طرف سہمی ہوئی کاویری کہہ رہی تھی۔ ” مجھے نہیں معلوم … مجھے ڈر لگ رہا ہے۔ یہ لوگ مجھے تم سے دور کر دیں گے۔“

فون بند ہو ا تو شایان دیر تک خالی نظروں سے دیوار کو دیکھتا رہا۔ اسے یہ بھی یاد نہیں رہا کہ امی نے اسے بلایا تھا۔ امی نے اسے پریشان دیکھا ، تو اپنی بات ملتوی کر دی۔ وہ پوچھنا چاہتی تھیں کہ فون پر کون تھا اور اس نے ایسا کیا کہا کہ تمہارے اوسان جاتے رہے ہیں۔

اُس رات وہ بہت دیر تک جاگتا رہا۔ کھڑکی کے باہر سڑکوں پر دوڑتی گاڑیاں اور دل کے اندر اٹھتا ہو ا شور ایک ساتھ چل رہے تھے۔ وہجان گیا تھا کہ آنے والے دن آسان نہیں ہوں گے۔ کاویری اس کے لیے اب صرف ایک لڑکی نہیں رہی تھی، اس کی زندگی کی سب سے بڑی سچائی بن چکی تھی، ایسی سچائی جس کے بغیر اس کی زندگی بے معنی تھی۔ اور اسے پانا، اسے حاصل کرنا کس قدر مشکل تھا، اس کا اندازہ اسے پہلے بھی تھا۔ انسان خوش امیدی کے سہارے ، ایسے راستوں پر قدم اٹھاتا رہتا ہے ، جو اس کی منزل کی طرف نہیں جاتے۔ اسے پتا ہوتا ہے کہ راہ میں پہاڑ جیسی مصیبتیں کھڑی ملیں گی، پھر بھی وہ دل کا کہا مانتا چلا جاتا ہے۔ محبت اسی کا نام ہے کہ سب کچھ جانتے بوجھتے ہوئے بھی دل اسی مرکز کا طواف کرتا ہے ، جہاں سے زندہ واپس لوٹنا ہر کسی کے بس کی بات نہیں ہوتی۔ تو کیا اسے بھی جان ہتھیلی پر رکھ کر اس وادی پر خار سے گزرنا ہو گا؟ یہ سوال اس کے حلق میں کسی کانٹے کی طرح اٹکا ہوا تھا، جس کا جواب اس کے پاس تھا، مگر اس جواب کے آخری کونے پر بدنامی اور موت کار قص جاری تھا۔
☆☆☆

بعض دن انسان کی زندگی میں خاموشی سے داخل ہوتے ہیں، مگر جاتے جاتے سب کچھ بدل دیتے ہیں۔ کاویری داس کے لیے بھی وہ دن کچھ ایسا ہی ثابت ہوا۔ یونیورسٹی کے دروازے اس پر بند ہو چکے تھے اور گھر کی چار دیواری اس کے لیے جیل بنا دی گئی تھی۔ وہ کھڑکی کے پاس بیٹھ کر باہر گزرتی سڑک کو دیکھتی رہتی کہ شاید شایان بھولے سے ہی سہی، کہیں نظر آجائے۔

ادھر شایان کی حالت بھی اس سے مختلف نہ تھی۔ یونیورسٹی جا کر بھی وہ خود کو ادھورا محسوس کرتا۔ لائبریری کی وہ میز جہاں دونوں گھنٹوں بیٹھا کرتے تھے، اب خالی خالی لگتی۔ کینٹین کی چائے اکیلے پینے کا اس کا دل نہیں چاہتا تھا۔ جامعہ کراچی کی وہ راہداریاں جن میں کبھی قہقہے گونجتے تھے، اب ہولناک سایوں کی طرح اس کا پیچھا کرتیں۔ اس نے فون پر کاویری سے بات کرنے کی بہتیری کوشش کی، مگر لگتا تھا جیسے اس کا فون بند کر دیا گیا ہو۔ شایان کے دل میں عجیب عجیب وسوسے جنم لینے لگے۔ وہ سوچتا، کیا سب ختم ہو گیا؟ کیا وہ اب کاویری کو کبھی نہیں دیکھ سکے گا؟ کیا اس کی محبت شروع ہوتے ہی اپنے انجام کو پہنچ گئی؟

بالآخر ایک شام وہ بے چین ہو کر ڈیفنس کی طرف نکل گیا اور کاویری کے گھر کے قریب جا کر دور سے بنگلے کو دیکھتا رہا۔ گیٹ بند تھا اور لان میں خاموشی پھیلی ہوئی تھی۔ اسی گھر کے کسی کمرے میں اس کی زندگی کو محبوس کر کے رکھا گیا تھا۔ کیا وہ اتنی دور آکر بھی اپنی کاویری کو دیکھنے سے محروم رہے گا؟ دل میں ایک ہوک سی اٹھی اور اسی پل اس کی نظر بالکونی پر پڑی۔ ہلکی سی روشنی کے پیچھے ایک سایہ سا نظر آیا۔ اس کا دل زور زور سے دھڑکنے لگا اور اس نے بے چین ہو کر اس سایے کی طرف ہاتھ ہلایا۔ جانے اسے کیوں یقین تھا کہ وہ کاویری ہی ہے، جو اس کی آمد کی امید میں کسی الہامی کیفیت سے جان چکی ہے کہ اس کا شایان اس سے ملنے آیا ہے۔ بہت دیر تک وہ ادھر ادھر منڈلاتا رہا، حتیٰ کہ ٹانگیں شل ہونے لگیں، مگر اسے کاویری کا دیدار نصیب نہ ہو سکا اور وہ مایوس سا واپس لوٹ آیا؛ ایک ایسے خوش کن لمحے کی امید میں جب اچانک اس کے گھر کا دروازہ دستک سے گونج اٹھے اور سامنے کاویری کھڑی ہو۔

اسی رات دیر گئے اس کے موبائل پر ایک انجان نمبر سے میسج آیا: ”میں ٹھیک ہوں، فکر مت کرنا۔ کاویری۔“

پیغام پڑھ کر اس کی آنکھوں میں نمی اتر آئی، جیسے اندھیرے میں کوئی ننھی سی شمع جل اٹھی ہو۔ اس کے بعد اسی طرح انجان نمبروں سے رابطہ بحال ہونے لگا؛ کبھی کسی سہیلی کے فون سے تو کبھی کسی اور نمبر سے۔ باتیں مختصر ہوتیں مگر ان میں صدیوں کی پیاس اور اندیشوں کے ہیولے مسلسل دونوں کے دل و دماغ کو جھنجوڑتے رہتے۔ ایک ہی سوال دونوں کی دھڑکنوں میں سما چکا تھا کہ اب کیا ہو گا؟ ہمیں کیا کرنا چاہیے؟

کاویری نے بتایا کہ اس کے والد اس کی شادی اپنی برادری میں طے کرنے کا سوچ رہے ہیں۔ یہ سن کر شایان پر جیسے بجلی گر پڑی۔ ”میں تمہارے بغیر نہیں رہ سکتی شایان!“ اس کی آواز میں ٹوٹتے خوابوں جیسی کسک تھی۔

”اور میں تمہیں کسی اور کا ہوتے نہیں دیکھ سکتا۔“

ایک دن شایان نے ہمت کر کے اپنے قریبی دوست احمر کو ساری بات بتا دی۔ وہ دیر تک خاموش رہا، پھر بولا: ”دیکھ یار، یہ راستہ آسان نہیں۔ تم دونوں کے خاندان کبھی راضی نہیں ہوں گے۔“

”تو کیا کروں میں؟ اسے چھوڑ دوں؟“

احمر جانتا تھا کہ اس سوال کا جو جواب اس کے پاس ہے، اس کے لیے شایان کا دل کبھی راضی نہ ہو گا۔

”گھر میں میری شادی کی تیاریاں ہو رہی ہیں،“ اس رات کاویری نے روتے ہوئے فون پر اسے بتایا۔

”اب ہمیں کوئی فیصلہ کرنا ہو گا،“ اس نے گمبھیرتا سے کہا۔

”کیسا فیصلہ؟“ کاویری کی ڈری ہوئی آواز اس کی سماعت سے ٹکرائی۔

”ہم بھاگ چلتے ہیں کہیں دور، جہاں ہمیں کوئی تلاش نہ کر سکے۔“ کس مشکل سے اس نے ایک ایسی بات کہی جس کے وہ خود بے حد خلاف تھا۔ یہ خیال کئی بار اس کے دل و دماغ میں سر اٹھاتا رہا تھا، مگر وہ ہر بار اسے کچل کر کسی زیادہ باعزت اور بہتر راستے کی کھوج میں رہا، مگر اسے کوئی حل نظر نہیں آیا۔ اسے معلوم تھا کہ اس کے گھر والے بھی ایک غیر مذہب لڑکی سے رشتہ کرنے پر کبھی نہیں مانیں گے، وگرنہ وہ کم سے کم ایک بار قاعدے سے رشتہ مانگ کر ضرور دیکھتا۔

ایک رات کھانے کے بعد جب گھر کا ماحول نسبتاً پرسکون تھا، اس نے ہمت کر کے کہا: ”ابو، امی! مجھے آپ دونوں سے ایک ضروری بات کرنی ہے۔“

ماں نے چونک کر اس کی طرف دیکھا: ”خیر تو ہے بیٹا؟“

شایان کا سارا جسم پسینے سے بھیگنے لگا۔ ”میں… میں کسی کو پسند کرتا ہوں۔“

کمرے میں ایک لمحے کے لیے خاموشی چھا گئی۔ والد نے عینک درست کرتے ہوئے پوچھا: ”کون ہے وہ لڑکی؟“

”وہ میری کلاس فیلو ہے۔“

”نام کیا ہے؟ کہاں رہتی ہے؟ کون لوگ ہیں؟ ٹھیک سے پوری بات بتاؤ۔“ ابو نے اسے اس مقام پر لا کھڑا کیا جہاں سچ بولے بغیر چارہ نہ تھا۔

”لڑکی کا نام کاویری داس ہے۔“ نام سنتے ہی ماں کے چہرے کا رنگ بدل گیا۔

”یہ کیسا نام ہے؟“ انہوں نے دھیمے مگر سخت لہجے میں پوچھا۔

شایان نے نظریں جھکا لیں: ”وہ غیر مذہب سے تعلق رکھتی ہے امی۔“

جملہ مکمل ہوتے ہی جیسے کمرے کی فضا میں کوئی دھماکہ ہوا۔ اس کے والد ایک دم کرسی سے کھڑے ہو گئے۔ ”دماغ خراب ہو گیا ہے تمہارا؟ ایک غیر مذہب لڑکی ہمارے گھر کی بہو بنے گی، تم نے سوچ بھی کیسے لیا؟ پڑھ لکھ کر یہ گل کھلایا ہے تم نے؟ لعنت ہے ایسی اولاد پر جو اپنے ماں باپ اور خاندان کی رسوائی کا سبب بن جائے۔ ایسی بے تکی اور بے جوڑ شادی کم از کم میرے جیتے جی تو بالکل نہیں ہو سکتی۔“

انہوں نے ایک ہی سانس میں اتنا کچھ کہہ دیا کہ اب مزید کچھ کہنے کی گنجائش ہی نہ رہی تھی۔

”بیٹا، یہ ناممکن ہے۔ ہمارا خاندان اور ہماری برادری کبھی اس رشتے کو قبول نہیں کرے گی،“ ماں نے اسے نرمی سے سمجھانا چاہا۔

”مگر میں اس سے محبت کرتا ہوں امی،“ اس کی آواز دکھ کے بوجھ سے رندھ گئی۔

”جوانی میں محبت نامی بکواس سب کرتے ہیں۔ وقت گزر جانے پر ایک مضحکہ خیز یاد سے زیادہ اس کی کوئی اہمیت نہیں رہ جاتی۔ یہ بچپنا اپنے دماغ سے نکال دو۔ آج کے بعد اس لڑکی سے کوئی رابطہ نہیں کرو گے تم، سمجھ گئے؟ ورنہ مجھ سے برا کوئی نہیں ہو گا۔ میں تمہیں ایسی نادانی نہیں کرنے دوں گا۔“ شایان نے کچھ بولنے کی کوشش کی تو ابو نے سختی سے روک دیا: ”بس! اب اس موضوع پر کوئی بات نہیں ہو گی۔ یہ معاملہ آج اور ابھی اسی کمرے میں دفن ہو گیا ہے۔“

وہ سمجھ گیا کہ ابو اس رشتے کے لیے کبھی نہیں مانیں گے۔ وہ رات شایان کی زندگی کی سب سے بھاری رات تھی۔ اسے اندازہ تھا کہ ردِ عمل سخت ہو گا، مگر اتنا شدید ہو گا، یہ اس نے نہیں سوچا تھا۔ دوسری طرف کاویری کا رشتہ تقریباً طے ہو چکا تھا۔ ایک دولت مند ہندو تاجر کا بیٹا، جسے اس نے کبھی دیکھا تک نہ تھا۔

ایک دن شایان کی ماں نے سمجھاتے ہوئے کہا: ”بیٹا، اپنی ضد چھوڑ دو، یہ رشتہ ہمارے سارے خاندان کو تباہ کر کے رکھ دے گا۔“ وہ رکیں، پھر اس کے بالوں میں انگلیاں گھماتے ہوئے بولیں، ”کوئی اور لڑکی ہوتی تو میں تمہارے ابو کو راضی کرنے کی پوری کوشش کرتی، لیکن کسی ہندو لڑکی کے لیے نہ تمہارے ابو مانیں گے اور نہ ہی مجھے یہ رشتہ صحیح لگ رہا ہے۔ ایسے رشتوں کا انجام بڑا بھیانک نکلتا ہے میرے بچے، اس لیے اسے بھول جاؤ۔“

امی دیر تک اسے سمجھاتی رہیں، زمانے کے پیچ و خم اور خاندان کی باتوں سے ڈراتی رہیں، مگر شایان کے دل نے کسی ایک بات پر بھی صاد نہیں کیا۔ اسے تو کاویری کے علاوہ نہ کچھ دکھائی دیتا تھا، نہ سنائی دیتا تھا۔

دوسری طرف کاویری کی ماں بھی اسے اسی قسم کی باتیں سمجھا رہی تھیں۔ ”بیٹی، تمہارے پاپا تمہارا بھلا چاہتے ہیں۔ وہ لڑکا ہماری برادری کا ہے، اچھا خاندان ہے۔ تمہیں ضد چھوڑ دینی چاہیے۔“

کاویری کے دل میں جیسے کانٹے چبھنے لگے۔ ایک دن دونوں نے آخری بار ملنے کا فیصلہ کیا۔ جگہ وہی تھی؛ فریئر ہال کا قدیم باغ۔ جب کاویری وہاں پہنچی تو اس کی آنکھیں سوجی ہوئی تھیں۔ دونوں دیر تک خاموش بیٹھے رہے۔ ارد گرد بچے کھیل رہے تھے، پرندے چہچہا رہے تھے، مگر ان دونوں کی دنیا میں ویرانی چھائی ہوئی تھی۔

آخر کاویری نے آہستہ سے کہا: ”تو کیا ہم دونوں کو ایک دوسرے کو بھول جانا چاہیے؟“

شایان نے اس کا ہاتھ مضبوطی سے تھام لیا: ”ایک راستہ ہے، اگر تم ہمت کر لو تو؟“

وہ چونک گئی: ”تم بھاگنے کی بات کر رہے ہو؟“

”اس کے علاوہ دوسرا کوئی راستہ نہیں ہے،“ شایان نے ہمت جمع کر کے کہا۔

یہ ایک خطرناک خیال تھا۔ خاندان سے بغاوت، سماج سے ٹکراؤ اور نامعلوم مستقبل؛ سب کچھ داؤ پر لگانا تھا۔ کاویری خوفزدہ ہو گئی: ”میں اپنے ماں باپ کو دھوکا نہیں دے سکتی شایان!“

”تو پھر کہہ دو کہ تم نے مجھ سے جو محبت کی، وہ بس وقت گزاری کا ایک بہانہ تھا،“ شایان کی آواز ٹوٹ گئی۔

”کاش تم لڑکیوں کی مجبوری کو سمجھ سکتے۔ یہ فیصلہ کرنا ایک لڑکی کے لیے کس قدر مشکل ہے، تم نہیں سمجھ سکو گے،“ کاویری کی آنکھوں سے آنسوؤں کی جھڑی لگ گئی۔ محبت اور ذمہ داری کے درمیان کھڑی وہ لڑکی کوئی فیصلہ نہیں کر پا رہی تھی۔

”تو کیا میں سمجھوں کہ تم اپنے ابا کے لائے ہوئے رشتے پر مان جاؤ گی؟“ وہ چپ رہی، کوئی جواب اس کے پاس نہیں تھا۔

پھر ایک شام اچانک کاویری کا فون آیا۔ اس نے شایان کو بتایا کہ اس کی شادی کی تاریخ طے کر دی گئی ہے۔ یہ خبر کسی دھماکے سے کم نہ تھی۔ وہ دیر تک کچھ بول نہ سکا، پھر صرف اتنا کہا: ”کیا تم واقعی کسی اور کی ہو جاؤ گی؟“

دوسری طرف گہری خاموشی تھی۔ شایان کو اب بھی امید تھی کہ کاویری اپنے والدین کے سامنے سر نہیں جھکائے گی۔ دیر تک خاموش رہنے کے بعد کاویری نے اسے ایک مختصر سا میسج کیا:

”ٹھیک ہے، میں تیار ہوں۔“

اگرچہ وہ یہ سننے کے لیے بے چین تھا، پھر بھی اس وقت کاویری کا اپنے حق میں کیا گیا یہ فیصلہ اسے وہ خوشی دینے میں ناکام رہا جس کی وہ توقع کر رہا تھا۔ اگلے چند دن اس نے ایسی تیاریوں میں گزارے جن کا اس کے علاوہ کسی کو کانوں کان پتا نہیں چلا۔ کچھ پیسے جمع کیے، ایک دوست سے مدد مانگی اور ایک منصوبہ بنایا؛ ایسا منصوبہ جو ان دونوں کی تقدیر بدل سکتا تھا۔ جب اس نے یہ سب کاویری کو بتایا تو وہ لرز گئی۔

”یہ بہت خطرناک ہے شایان! ایک بار پھر سوچ لو، میرے گھر والے میرا پیچھا کرتے رہیں گے۔ ہم جہاں بھی جائیں گے، لوگ پہلی نظر میں سمجھ جائیں گے کہ ہم گھر سے بھاگے ہوئے ہیں۔“

”خطرناک تو یہ بھی ہے کہ ہم ساری زندگی ایک دوسرے کے بغیر جیئیں۔“

”کاش ہمیں ایک دوسرے سے محبت نہ ہوئی ہوتی،“ کاویری رو پڑی، ”میں اتنی بہادر نہیں ہوں جتنا تم سمجھتے ہو۔“

”محبت انسان کو بہادر بنا دیتی ہے،“ شایان نے اسے حوصلہ دیا۔

”پتا نہیں کیوں مجھے اتنا ڈر لگ رہا ہے جیسے میں اپنے ڈیتھ وارنٹ پر سائن کرنے والی ہوں۔ شایان! میں اپنے لیے اتنا نہیں ڈرتی جتنا تمہارے لیے ڈرتی ہوں۔ یہ کوئی معمولی فیصلہ نہیں ہے۔ ایک ہندو لڑکی کا ایک مسلمان لڑکے کے ساتھ گھر سے بھاگنا… اخباروں اور چینلوں پر جب یہ خبر پھیلے گی تو ساری دنیا ہماری دشمن بن جائے گی۔ کوئی ہمیں پناہ نہیں دے گا، پھر ہم کیا کریں گے، کہاں جائیں گے؟“

”ایسی باتیں مت کرو، تمہاری باتیں مجھے کمزور کر رہی ہیں۔ ہم دونوں نے جو فیصلہ کیا ہے، ہمیں اس پر قائم رہنا چاہیے،“ شایان نے عزم کے ساتھ کہا۔ کاویری کو وقتی طور پر کچھ حوصلہ ملا، لیکن کچھ ہی دیر بعد وہ پھر اندیشوں میں گھر گئی۔

انہوں نے طے کیا کہ اگلے جمعے کو وہ یہ شہر چھوڑ کر کہیں دور جا کر اپنی نئی دنیا بسائیں گے، مگر یہ ”کہیں“ ان کے حلق میں کانٹے کی طرح پھنسا ہوا تھا کہ آخر وہ جائیں گے کہاں؟
☆☆☆

اس نے یونیورسٹی جانا چھوڑ دیا۔ وہ گھر سے یونیورسٹی کے لیے نکلتا ضرور تھا، مگر یونہی مختلف جگہوں پر بیٹھ کر وقت گزارتا اور پھر گھر آجاتا۔ سوچوں نے اس کے دل و دماغ پر ہتھوڑوں کی طرح برسنا شروع کر دیا تھا۔ اس نے دوستوں سے ملنا کم کر دیا اور زیادہ وقت اپنے کمرے میں بند رہنے لگا۔ ماں اس کی حالت دیکھ کر پریشان ہو جاتی۔

”بیٹا، کیا ہو گیا ہے تمہیں؟ کھانا بھی ڈھنگ سے نہیں کھاتے، سوتے بھی نہیں ہو۔“

وہ صرف اتنا کہتا: ”کچھ نہیں امی، بس طبیعت کچھ ٹھیک نہیں ہے۔“ مگر ماں کا دل جانتا تھا کہ بیٹے کو محبت کا روگ لگ گیا ہے، وہ چاہتے ہوئے بھی اس کے درد کی دوا نہیں کر سکتی تھیں، اس لیے مسلسل دعا کرنا اور پڑھ پڑھ کر اس پر پھونکنا ہی ان کے بس میں تھا، جو وہ کثرت سے کر رہی تھیں۔

کاویری کے والدین اب بھی اس کی نگرانی کر رہے تھے۔ وہ گھر کے ہر کمرے میں کیمروں اور ملازمین کے ذریعے اس کے ہر رابطے پر نظر رکھے ہوئے تھے۔ کاویری کے لیے باہر نکلنا تقریباً ناممکن ہو گیا تھا۔ وہ شایان سے بات کرنے کے لیے ترستی رہتی مگر اسے موقع نہ مل پاتا۔ یہ سوچ اسے کھائے جا رہی تھی کہ وہ گھر سے کیسے نکلے گی؟ جبکہ شادی کا دن آندھی طوفان کی طرح اس کی زندگی کو اڑا کر لے جانے کے لیے بڑھا چلا آ رہا تھا۔

شایان کو یہ پریشانی لاحق تھی کہ کاویری سے کسی بھی شکل میں رابطہ نہیں ہو رہا تھا اور اس نے ٹرین کی ٹکٹیں بھی بک کرالی تھیں۔ بہت سوچ بچار کے بعد، مجبوراً اس نے کاویری کی کلاس فیلو اور دوست نیہا سے مدد مانگنے کا فیصلہ کیا۔ اس دن وہ نیہا کو ساری یونیورسٹی میں تلاش کرتا رہا، مگر وہ چھٹیوں پر تھی۔ اس نے نیہا کو فون کرنے کے لیے جیسے ہی موبائل اٹھایا، سامنے سے اس کا دوست احمر آتا دکھائی دیا۔

شایان نے جلدی سے فون کاٹ دیا اور احمر نے پوچھا: ”کیا بات ہے، کلاس نہیں لے رہے؟“

”ارے یار، جامعہ کی حالت تم بھی جانتے ہو۔ جب دیکھو پروفیسر اور لیکچررز چھٹی پر ہوتے ہیں۔ سرکاری یونیورسٹی ہے نا، یہی ہو گا،“ احمر ہمیشہ کی طرح زیادہ بولنے کے مرض میں مبتلا تھا۔ ”تو مجھے کافی پریشان لگ رہا ہے، مجھے بتا اگر کوئی مسئلہ ہے تو۔“

اس وقت شایان جس ذہنی کیفیت میں تھا، اس نے احمر کو اعتماد میں لے کر ساری بات بتا دی۔

”تیرا ضرور دماغ خراب ہوا ہے شایان! آج کے دور میں ایسی لیلیٰ مجنوں والی محبت کون کرتا ہے؟ او بھائی، یہ سب وقتی جذباتیت ہے۔ چھوڑ یہ سب، اسے بھی سکون سے جینے دے اور خود بھی اپنے مستقبل کے بارے میں سوچ۔ تیرے ماں باپ تو جیتے جی مر جائیں گے اور تیری بہن… اس کا کیا ہو گا؟“ احمر کا بھاشن رکنے کا نام نہیں لے رہا تھا۔

”کیا بکواس کر رہا ہے! اس سب میں میری بہن کو کیوں گھسیٹ رہا ہے؟“ شایان کو غصہ آگیا۔

”بھلے بھئی بھلے، کیا بات ہے۔ بھائی ایک ہندو لڑکی کو لے کر بھاگ جائے تو کیا بہن کو کوئی کچھ نہیں کہے گا؟ جینا دو بھر ہو جائے گا اس کا… اور ان ہندوؤں کا سوچ۔ تو ان کی لڑکی لے اڑے گا تو کیا وہ تیری بہن کو آزادی سے جینے دیں گے؟ سچ کہتی ہیں میری امی!“

”کیا کہتی ہیں تیری امی؟ اب یہ بھی بتا ہی دے،“ شایان نے اسے خود سے دور دھکا دیا۔

”تو تو سچ مچ غصہ کر رہا ہے بھائی! تو دوست ہے میرا، تجھے سمجھانا میرا کام تھا۔ تجھے برا لگ رہا ہے تو نہیں کہتا کچھ،“ احمر نے معاملے کی سنجیدگی محسوس کر لی تھی۔

”اب باتیں مت بگھار، جو پوچھا ہے وہ بتا۔ کیا کہتی ہیں امی تیری؟“ شایان کو اب بھی اس پر طیش آ رہا تھا۔

”امی کہتی ہیں کہ محبت سے زیادہ خود غرض کوئی اور رشتہ نہیں ہوتا، اسی لیے کہتے ہیں کہ محبت اندھی ہوتی ہے۔ اپنی غرض اور اپنا سکھ تو دکھائی دیتا ہے، مگر اس کے نتیجے میں دوسروں پر کیا گزرتی ہے، اس کی پروا نہیں ہوتی۔ پورے پورے خاندان برباد ہو جاتے ہیں اس محبت کے چکر میں۔“

”تیری بکواس ختم ہو گئی ہو تو مجھے یہ بتا سکتا ہے کہ نیہا آج یونیورسٹی کیوں نہیں آئی؟“ شایان نے نرمی سے پوچھا۔

”اس کی طبیعت خراب ہے، لیکن اب تجھے نیہا سے کیا کام پڑ گیا؟“ احمر کو بال کی کھال نکالنے کی عادت تھی۔

”تو نے اس کا گھر دیکھا ہے؟“ شایان کو اپنی منزل کے سوا کچھ دکھائی نہیں دے رہا تھا۔ بس ایک ہی لگن لگی ہوئی تھی کہ اگر کاویری کو وقت پر پتا نہ چلا تو کیا ہو گا؟

”ہاں دیکھا ہے، دو بار جانا ہوا تھا،“ احمر کو یکایک شایان پر ترس آنے لگا۔

”تو لے چلے گا مجھے اس کے گھر؟“ شایان کا یہ سوال احمر کے لیے ایک امتحان تھا۔ احمر سوچ میں پڑ گیا۔

”کیا ہوا؟ مدد نہیں کرنا چاہتا تو صاف کہہ دے،“ شایان کی آواز بھاری ہو گئی۔ وہ جیسے اندر ہی اندر کسی بڑے دکھ سے گزر رہا تھا۔

”دوست کہا ہے تو پھر کیا سوچنا، وہ دوست ہی کیا جو دوست کے کام نہ آئے۔ بس ایک سوال کا جواب دے دے، تو کیا کرنے والا ہے؟“ شایان نے منہ دوسری طرف موڑ لیا، جیسے اپنی ٹوٹتی ہمت کو یکجا کرنے کی کوشش کر رہا ہو۔

احمر کے پاس بائیک تھی۔ وہ شایان کو نیہا کے گھر لے گیا۔ نیہا کی امی دو اجنبی لڑکوں کو دیکھ کر پریشان ہوئیں، لیکن جب احمر نے بتایا کہ وہ پہلے بھی آ چکا ہے اور وہ نیہا کے کلاس فیلو ہیں، تو ان کے چہرے پر اطمینان آگیا۔ تھوڑی دیر بعد وہ دونوں نیہا کے سامنے بیٹھے تھے۔

ساری بات سننے کے بعد نیہا کے چہرے پر خوف کے سائے منڈلانے لگے۔ اس نے فوراً کہا: ”بھئی، میں ایسے چکروں میں نہیں پڑتی۔ مجھے تو پہلے ہی اپنے ابو کی طرف سے مشکل سے اجازت ملی ہے، ایسے میں تم کہہ رہے ہو کہ میں کاویری کے گھر جاؤں اور اسے تمہارا پلان بتاؤں؟ مجھے معاف کر دو شایان، میں یہ کام نہیں کر سکتی۔ آئی ایم سوری۔“

یہ سن کر شایان کو یقین ہونے لگا کہ وہ کاویری کو یہ تک نہیں بتا سکے گا کہ انہیں کب اور کہاں ملنا ہے۔

”کوئی بات نہیں، میں نے بس یونہی تم سے امید لگا لی تھی،“ اس نے اٹھتے ہوئے کہا۔ وہ دونوں جانے لگے تو نیہا نے انہیں روکا، جس سے شایان کی آنکھوں میں بجھتے ہوئے ارمانوں کے دیے پھر سے روشن ہو گئے۔

”ایک ترکیب ہے،“ نیہا نے کہا۔

”کیا؟ جلدی بتاؤ،“ شایان کی حالت دیدنی تھی۔

”تمہارا نمبر اس کے گھر والے پہچانتے ہوں گے، اور میں خود کو اس معاملے میں براہِ راست ڈالنا نہیں چاہتی،“ وہ لمحہ بھر رکی۔ ”اس وقت صرف احمر کا فون ہے جس سے میں کاویری کو تمہارا پیغام پہنچانے کی کوشش کر سکتی ہوں۔“

یہ سن کر احمر کا رنگ اڑ گیا۔ وہ سمجھ گیا تھا کہ جو بھی شایان کا ساتھ دے گا، اس کا کیا حشر ہو گا۔ اس نے مرے ہوئے انداز میں فون نیہا کے حوالے کیا اور دل ہی دل میں دعا کرنے لگا کہ کاویری فون ہی نہ اٹھائے۔

”ہیلو!“ دوسری طرف فون ملتے ہی نیہا نے کہا، تو شایان کی آنکھیں چمک اٹھیں جبکہ احمر کی حالت غیر ہو گئی۔ ”کیا کاویری سے بات ہو سکتی ہے؟ جی میں نیہا ہوں، اس کی کلاس فیلو… اصل میں مس نمرہ نے اسے ایک پیغام دینے کے لیے کہا تھا۔“

دوسری طرف سے کہا گیا کہ جو پیغام ہے وہ انہیں دے دیں، وہ پہنچا دیں گی۔

”اچھا، تو پھر رہنے دیجیے آنٹی! مجھے کاویری سے ہی بات کرنی تھی،“ اتنا کہہ کر اس نے فون کاٹنا چاہا تو دوسری طرف سے طوعاً و کرہاً فون کاویری کو دے دیا گیا۔ نیہا نے فوراً موبائل شایان کے حوالے کر دیا۔

شایان نے نہایت احتیاط سے کہا: ”میں بول رہا ہوں شایان! تم ایسا تاثر دیتی رہو جیسے نیہا سے بات کر رہی ہو۔“

کاویری ایک دم گھبرا گئی، پھر خود کو سنبھالتے ہوئے اوور ایکٹنگ شروع کر دی: ”ہاں، وہ اصل میں میں سکھر گئی ہوئی تھی رشتے داروں کے ہاں، اسی لیے یونیورسٹی نہیں آ سکی… ایک دو دن میں آؤں گی۔“

اس کی بات پوری ہوتے ہی شایان نے اسے پروگرام اور ٹرین کی ٹکٹوں کے بارے میں بتایا، جسے سن کر کاویری کا چہرہ زرد پڑ گیا۔ ماں کی موجودگی کی وجہ سے وہ یہ تک نہ کہہ سکی کہ وہ اس کڑے پہرے سے کیسے نکلے گی۔ اس نے بس اتنا کہا: ”ہاں ہاں ٹھیک ہے، میں پہنچ جاؤں گی۔“

شایان نے اطمینان کا سانس لیا۔ خوف اور خوشی دونوں اس کے چہرے سے عیاں تھے۔ اگلے دو دن وہ بس اپنے اور کاویری کے مستقبل کے بارے میں سوچتا رہا۔ اسے سب سے زیادہ یہ بات پریشان کر رہی تھی کہ اس کے بعد اس کی بہن اقراء کو اس کے جرم کی سزا بھگتنا ہو گی۔ دوسری بات جو کاویری نے کہی تھی کہ ”لوگ سمجھ جائیں گے کہ ہم دو الگ مذہب کے لوگ ہیں“، اس کے بعد ہونے والے سلوک کا سوچ کر اس کی روح کانپنے لگی۔

دوسری طرف کاویری بھی انجام کے ڈر سے مرتی جا رہی تھی۔ اسے یقین نہیں تھا کہ وہ شایان کے ساتھ سکون سے رہ سکے گی، تاہم اس نے نکلنے کا مصمم ارادہ کر لیا تھا۔ اس نے ماں باپ کو یقین دلایا کہ اب اس کے دل میں کوئی محبت نہیں، بس اسے پڑھنے دیا جائے۔ اس نے باپ سے وعدہ کیا کہ وہ کوئی ایسا قدم نہیں اٹھائے گی جس سے ان کی عزت پر حرف آئے۔ یوں پابندیاں نرم کر دی گئیں اور وہ رات کے سناٹے میں گھر سے نکلنے میں کامیاب ہو گئی۔ کچھ فاصلے پر وہ ٹیکسی کھڑی تھی جو اس نے آن لائن منگوائی تھی۔

کچھ ہی دیر میں وہ فریئر ہال پہنچ گئی۔ اسے یقین تھا کہ شایان پہلے ہی پہنچ چکا ہو گا۔ وہ بے تابی سے طے شدہ پوائنٹ پر پہنچی، لیکن وہاں رات کے اندھیرے اور درختوں سے ٹکراتی ہوا کے سوا کچھ نہیں تھا۔ شایان اب تک نہیں پہنچا تھا۔ اس نے بے چینی سے وقت دیکھا، ٹرین کا وقت ہونے والا تھا۔ اس کا فون بند جا رہا تھا، جو کاویری کی امیدوں پر اوس گرانے جیسا تھا۔ وہ خود کو تسلیاں دیتی رہی، بھگوان سے پرارتھنا کرتی رہی، مگر وقت گزرتا گیا اور وہ نہیں آیا۔

دو گھنٹے بعد جب وہ گھر پہنچی تو سب جاگے ہوئے اور پریشان تھے۔ ان کے چہروں سے شکست کا شدید احساس جھلک رہا تھا۔ انہوں نے سمجھ لیا تھا کہ ان کی بیٹی عزت نیلام کر کے جا چکی ہے۔

”کاویری! کہاں تھیں تم؟“ اس کے ماں باپ پکار اٹھے۔

اس نے بیگ کندھے سے اتار کر زمین پر پٹخ دیا۔ اس کا بھائی اسے مارنے کے لیے آگے بڑھا اور چلایا: ”بتاتی کیوں نہیں بے حیا! کہاں گئی تھی؟ بول، ورنہ میں تیرا گلا دبا دوں گا۔“

”جہاں بھی گئی تھی، مگر واپس آگئی ہوں۔ عزت بچ گئی ہے آپ کی،“ یہ کہہ کر وہ مرے ہوئے قدموں سے کمرے کی طرف چلی گئی۔ ماں نے باپ اور بھائی کو حوصلہ رکھنے کی تلقین کی۔ کمرے میں جا کر وہ سسک اٹھی۔ اسے شک نہیں تھا کہ شایان دھوکا دے سکتا ہے، مگر اس نے ایسا کیوں کیا؟ ”ٹھیک کہتی ہے اماں، مسلمان لڑکے دھوکے باز ہوتے ہیں،“ اس نے سوچا۔

وہ اس حقیقت کو کبھی نہ جان سکی کہ شایان تو اس کے آنے سے ایک گھنٹہ پہلے ہی وہاں پہنچ چکا تھا۔ اس نے چھپ کر کاویری کی بے چینی کو دیکھا تھا، جس پر اس کا اپنا دل سو سو بار رویا تھا۔ آنسوؤں کا ایک سیلاب تھا جس پر اس نے بند باندھا اور اپنے پیروں کو ایسی بھاری زنجیریں پہنائیں جن کا بوجھ صرف وہی جانتا تھا۔ دل نے کتنا ہی کہا کہ تیری محبت سامنے کھڑی ہے، ہاتھ بڑھا کر اسے تھام اور بھاگ جا… مگر اس نے دل کو مٹھی میں بھینچ لیا۔ وہ کاویری کو تڑپتا دیکھتا رہا اور آنسو بہاتا رہا، پھر اپنے وجود کی لاش گھسیٹ کر گھر تک لے آیا۔

دروازہ اس کی بہن نے کھولا۔ شایان نے تڑپ کر اسے سینے سے لگا لیا۔ اقراء حیران رہ گئی اور بھائی کو روتا دیکھ کر خود بھی زار و قطار رونے لگی۔ شایان دھیرے سے کہہ رہا تھا:

”تمہیں میرے جرم کی سزا نہیں ملے گی میری بہن… نہیں ملے گی۔“

اس رات دنیا میں کسی کو کوئی فرق نہیں پڑا کہ کیسے ایک سچی محبت، دھوکے کی تہمت سہہ کر فنا ہو گئی۔
 

Create an account or login to read stories

You must be a member in order to leave a comment

Create account

Create an account on our community. It's easy!

Log in

Already have an account? Log in here.

New posts
Back
Top