خوش آمدید

لو اسٹوری فورم ، اردو دنیا کا نمبر ون اردو اسٹوری فورم ، ابھی فورم کےممبر بنیں اور اردو کی بہترین کہانیاں پڑھیں ۔

Register Now!
Welcome image
  • If you are unable to access the site, please try accessing it via a VPN.
    Try these VPN apps — CLICK HERE
  • PAID PLANS

    ٹاپ پیکیج
    👑

    PREMIUM

    16000
    چھ ماہ کے لیے
    بہترین ڈیل
    💎

    VIP+

    6000
    چھ ماہ کے لیے
    بنیادی ڈیل

    VIP

    3500
    تین ماہ کے لیے

Family گرلز کالج ڈیوٹی

pajal20

Well-known member
Joined
Jan 5, 2023
Messages
27
Reaction score
608
Location
Pakistan
گرلز کالج ڈیوٹی

پچاس سالہ حمید تین جوان بچوں کا باپ تھا۔ دو بیٹے کالج میں تھے اور بیٹی مہرین بائیس سال کی تھی۔ ایف اے

کے بعد اس نے پرائیوٹ طور پر بی اے کی تیاری شروع کر دی تھی۔ گھر پر ہی کتابیں کھول کر بیٹھتی، نوٹس بناتی، اور امتحانات کی تیاری کرتی۔ کالج کی باقاعدہ کلاسز میں نہیں جاتی تھی۔

مڈل ایسٹ میں پندرہ سال گزار کر جب حمید پاکستان واپس آیا تو جیب میں کچھ بچت تھی مگر مستقبل کی فکر بھی۔ اس نے سوچا کہ ایک گاڑی لے کر کالج کی لڑکیوں کو اٹھانے کا کام شروع کرے تو مہینے کا اچھا خاصا پیسہ بن سکتا ہے۔ قسطوں پر ایک سفید سزوکی پک اپ خرید لی۔ گاڑی چمکدار تھی، سیٹیں صاف، اور اے سی بھی ٹھیک چل رہا تھا۔

پہلے ہفتے ہی کالج کے گیٹ کے باہر کھڑا ہو گیا۔ بورڈ لگا دیا: “کالج ڈیوٹی – محفوظ اور وقت پر”۔ شروع میں چند لڑکیاں ہی بیٹھتی تھیں۔ پھر آہستہ آہستہ گاڑی بھرنے لگی۔ زیادہ تر بیس-اکیس سال کی تھیں۔ حمید کی نظر کبھی کبھی ان کے جسموں پر پھسل جاتی تو وہ فوراً نگاہیں نیچے کر لیتا۔ مگر رات کو جب گھر آتا تو وہی لڑکیاں اس کے دماغ میں گھومتی رہتیں۔

ایک دن ایک نئی لڑکی بیٹھی۔ لمبی سی، گندمی رنگت، کالے بال کندھوں تک، اور شلوار قمیض کے یونیفارم میں بھی جسم کی لکیریں چھپ نہ پا رہی تھیں۔ قمیض قدرے فٹ تھی اور شلوار کی کمر تنگ۔ اس نے سامنے والی سیٹ پر بیٹھنے کی اجازت مانگی۔ حمید نے سر ہلا دیا۔

گاڑی چلتے ہی اس نے پوچھا، “انکل، آپ کب سے یہ ڈیوٹی کر رہے ہو؟”

حمید نے مسکراتے ہوئے جواب دیا، “ابھی چند دن ہوئے۔ تمہارا نام کیا ہے؟”

“زویا۔”

اس کے بعد ہر روز زویا سامنے والی سیٹ پر بیٹھتی۔ کبھی اس کی ران حمید کی کہنی سے ٹکراتی، کبھی گاڑی کے جھٹکے سے ذرا سا جھک جاتی اور اس کی خوشبو گاڑی میں پھیل جاتی۔ حمید اپنے آپ کو روکتا، مگر رات کو وہی زویا اس کے دماغ میں گھومتی رہتی۔

کالج کی ڈیوٹی کے بعد زیادہ تر ڈرائیور ایک الگ واٹس ایپ گروپ میں باتیں کرتے تھے:

“آج فلاں لڑکی کی رانوں پر ہاتھ پھیرا، بہت نرم تھیں۔”

“کل والی نے تو خود میرے ہاتھ کو اپنے ممّوں پر رکھ دیا۔”

“اس نئی والی کے کپڑے اتنے ٹائٹ ہیں کہ بیٹھتے ہی سب کچھ دکھائی دے جاتا ہے۔”

حمید ان سب میسجز کو خاموشی سے پڑھتا، کبھی جواب نہیں دیتا تھا۔ اس نے آج تک کسی لڑکی کے ساتھ ایسا کچھ نہیں کیا تھا۔ نہ ہاتھ پھیرا، نہ چھوا۔ وہ صرف گاڑی چلاتا اور لڑکیوں کو ان کے گھروں پر اتار دیتا۔

اس کا دل اکثر کرتا تھا کہ زویا کی رانوں پر ہاتھ پھیرے، اس کے جسم کو چھوئے، مگر ہمت نہیں ہوتی تھی۔ دوسرے ڈرائیور جو کرتے تھے، وہ کبھی نہ کر سکا۔

ایک دن اس کی بیٹی مہرین کے بی اے کے پیپرز شروع ہونے والے تھے۔ پرائیوٹ امیدوار ہونے کے باوجود اسے کالج میں حاضر ہو کر پیپر دینا تھا۔ یہ اس کی زندگی میں پہلی بار تھا کہ وہ باپ کے ساتھ کالج جا رہی تھی۔ حمید نے صبح ناشتے پر کہا، “آج گاڑی میں جگہ زیادہ ہو گی۔ تم بھی ساتھ چل لو، میں تمہیں کالج چھوڑ آؤں گا۔”

مہرین نے سر ہلا دیا۔ دل میں عجیب سی گھبراہٹ تھی۔ بائیس سال کی عمر میں پہلی بار باپ کے ساتھ کالج جانا… اور وہ بھی اپنے فائنل کے پیپرز دینےکے لیے۔

گاڑی میں رش بہت زیادہ ہو گیا۔ پیچھے سیٹیں بھر چکی تھیں۔ ایک اور لڑکی، جو کافی بھری جسم والی تھی، آگے آنے پر مجبور ہو گئی۔ تینوں آگے بیٹھ گئے۔ مہرین بیچ میں تھی۔

گاڑی چلتے ہی جگہ کی کمی کی وجہ سے مہرین کے نرم کولہے اپنے ابو کی ران سے سکڑ کر ٹچ ہو گئے۔ ہر جھٹکے کے ساتھ وہ مزید دبتے جا رہے تھے۔ حمید نے سانس روک لی۔ اس نے نظر نیچے کیے رکھی، مگر جسم میں ایک عجیب سی گرمی پھیل رہی تھی۔

گیئر چینج کرتے وقت اچانک ہی بے خیالی میں حمید کا دایاں ہاتھ پیچھے ہٹا… اور پھسل کر سیدھا مہرین کی رانوں کے درمیان چلا گیا۔

حمید کی ہتھیلی شلوار کے اوپر سے سرکتی ہوی سیدھا اس کی سگی بیٹی کی جوان چوت کے گرم نرم گوشت سے جا لگی۔ مہرین کے دونوں رانوں کے درمیان، شلوار کے کپڑے کے اوپر سے، اس کی انگلیاں دب گئیں۔ ایک لمحے کے لیے سب کچھ رک سا گیا۔

حمید نے جیسے ہی محسوس کیا کہ اس کا ہاتھ مہرین کی رانوں کے درمیان ہے، ایک دم ہاتھ ہٹا لیا۔ دل زور سے دھڑک رہا تھا، پیشانی پر پسینہ آ گیا تھا۔ اس نے فوراً گیئر پکڑ لیا اور نگاہیں سڑک پر جما لیں۔

حمید سے یہ حرکت ہوی تو بے خیالی اور بہت اچانک تھی

مگر اس اچانک حرکت کی وجہ سے اب مہرین کی نفسیاتی کیفیت بالکل الٹی ہو چکی تھی۔

صبح جب ابو کا ہاتھ اس کی رانوں کے درمیان پھسلا تھا، تو پہلے لمحے میں اسے سخت جھٹکا لگا تھا۔ شرم، خوف، اور ایک عجیب سی گھبراہٹ۔

اس دن مہرین کے اندر کچھ اور ہی حالت ہونے لگی تھی


کالج میں پورے وقت اس کی پھدی گیلی رہی۔ پیپر دینے کے دوران وہ بار بار ٹوائلٹ جاتی، شلوار چیک کرتی، مگر نمی کم نہ ہوتی۔ ہر بار جب وہ بیٹھتی یا چلتی، تو رانوں کے درمیان وہ گرم گیلا پن اسے ابو کے ہاتھ کی یاد دلاتا۔ اس کے ذہن میں بار بار وہی لمحہ گھومتا — ابو کی موٹی انگلیاں، ان کی گرمی، اور وہ دباؤ جو اس نے شلوار کے اوپر سے محسوس کیا تھا۔

شرم تو تھی، بہت گہری شرم۔ وہ جانتی تھی کہ یہ غلط ہے، بہت غلط۔ ابو ہیں، باپ ہیں۔ مگر جسم نہیں مان رہا تھا۔ جب بھی وہ آنکھیں بند کرتی، ابو کا چہرہ، ان کے ہاتھ، اور گاڑی والی سیٹ یاد آ جاتی۔ کبھی کبھی تو وہ جان بوجھ کر سوچتی کہ کاش ابو نے ہاتھ نہ ہٹایا ہوتا… کاش وہ انگلیاں شلوار کے اندر چلی گئیں ہوتیں۔

رات کو جب وہ اپنے کمرے میں لیٹی، تو ہاتھ بار بار اپنی شلوار کے اندر چلا گیا۔ اس نے آنکھیں بند کر کے ابو کا تصور کیا — ان کے ہاتھ، ان کی سانس، ان کا وزن۔ اور پہلی بار اس نے خود کو چھو کر ختم کیا، منہ میں کپڑا دبا کر، تاکہ آواز باہر نہ نکلے۔

ختم ہونے کے بعد شدید شرمندگی ہوئی۔ آنسو نکل آئے۔ مگر جسم پھر بھی چین سے نہ لیٹا۔ سوچ رہی تھی کہ کل دوبارہ گاڑی میں کیسے بیٹھے گی… اور کیا ابو نے واقعی کچھ محسوس کیا تھا، یا صرف حادثہ تھا؟

مہرین اب دو حصوں میں بٹ چکی تھی۔

ایک حصہ باپ کی بیٹی بننا چاہتا تھا۔


دوسرا حصہ… ابو کے ہاتھوں میں مکمل طور پر بہہ جانا چاہتا تھا۔

ادھر دوسری طرف حمید کی نفسیاتی کیفیت بھی اس رات مکمل طور پر بکھر چکی تھی۔

گاڑی میں جب اس کا ہاتھ مہرین کی رانوں کے درمیان پھسلا تھا، تو پہلے لمحے میں صرف حادثہ لگا تھا۔ مگر جیسے ہی اس کی ہتھیلی نے شلوار کے اوپر سے اس کی نرم، گرم چوت کے گوشت کو محسوس کیا، پورے جسم میں ایک کرنٹ سا دوڑ گیا۔ اس نے فوراً ہاتھ ہٹا لیا، مگر نقصان ہو چکا تھا۔ وہ احساس دماغ میں نقش ہو گیا تھا۔

شام تک وہ بار بار وہی لمحہ یاد کرتا رہا۔ مہرین کی رانوں کی نرمی، ان کے درمیان کی گرمی، اور وہ ہلکا سا دباؤ جو اس نے ایک پل کے لیے محسوس کیا تھا۔ سب سے خطرناک بات یہ تھی کہ مہرین نے ٹانگ نہیں ہلائی تھی۔ بلکہ ذرا سی سکڑ گئی تھی… جیسے ہاتھ کو باہر نکالنے کے بجائے اندر ہی رکھنا چاہتی ہو۔

رات کو گھر آ کر اس نے ہاتھ دھوئے، کھانا کھایا اور سونے کے لیے فورن بستر پر لیٹ گیا مگر اس کا دل نہیں مانا۔

مہرین اپنے کمرے میں چلی گئی تھی۔ دروازہ بند تھا۔ حمید اپنے بستر پر لیٹے لیٹے سوچ رہا تھا کہ مہرین کیا سوچ رہی ہوگی۔ کیا وہ گھبرا گئی ہوگی؟ کیا وہ نفرت کرنے لگے گی؟ یا… کیا وہ بھی کچھ محسوس کر رہی تھی؟

اس نے آنکھیں بند کیں تو اس بار اس کے ذیئن اور اس کی بند انکھوں زویا کا چہرہ نہیں، بلکہ اس کی اپنی ہی سگی بیٹی مہرین کا جسم یاد آنے لگا۔ بیٹی کا جسم۔

وہ جسم جو اس نے خود پالا تھا، جسے اس نے بچپن میں گود میں اٹھایا تھا، اب وہی جسم اس کے ذہن میں شہوت کے رنگ میں رنگ رہا تھا۔ یہ خیال آتے ہی اسے سخت نفرت سی ہوئی اپنے آپ سے۔ اس نے اپنے چہرے پر تھپڑ مارا، اٹھ کر پانی پیا، مگر جسم کا جوش ٹھنڈا نہ ہوا۔
بار بار وہ اپنے آپ سے کہتا:
“یہ میری بیٹی ہے۔ میں باپ ہوں۔ میں جانور نہیں ہوں۔”


مگر دل کے کسی گہرے کونے سے ایک اور آواز آتی:

“اس نے ٹانگ نہیں ہٹائی تھی… اس کی پھدی گیلی ہو گئی ہوگی… وہ بھی چاہتی ہوگی شاید…”

حمید نے اس رات کئی گھنٹے جاگ کر گزارے۔ کبھی توبہ کرتا، کبھی خود کو لعنت بھیجتا، کبھی پانی پینے کچن میں جانے کے بہانے مہرین کے کمرے کے باہر جا کر کھڑا ہو جاتا اور پھر واپس آ جاتا۔ اس کے اندر دو آدمی لڑ رہے تھے —

ایک باپ، جو اپنی بیٹی کی حفاظت کرنا چاہتا تھا، اور دوسرا ایک بھوکا مرد، جو اپنی ہی بیٹی کے جسم کی گرمی کو دوبارہ چھونا چاہتا تھا۔

صبح جب اس نے مہرین کو دیکھا، تو اس کی نظر خود بخود اس کی رانوں کی طرف چلی گئی۔ شلوار قمیض میں بھی اس کا جسم نمایاں تھا۔ مہرین نے بھی ایک لمحے کے لیے اس کی طرف دیکھا… اور نگاہیں جھکا لیں۔

اس خاموشی میں دونوں جان گئے تھے کہ اب کوئی چیز پہلے جیسی نہیں رہی۔

اگلے دن صبح کا ناشتہ بالکل خاموش رہا۔ حمید نے چائے کے کپ کو ہاتھ میں پکڑے رکھا مگر چائے ٹھنڈی پڑ گئی۔ مہرین نے روٹی توڑی مگر ایک نوالہ بھی منہ میں نہیں ڈالا۔

مہرین نے برتن سمیٹتے ہوئے ابو کی طرف ایک لمحے کے لیے دیکھا۔ حمید کی نگاہیں اس کی کمر پر تھیں—شلوار قمیض کے نیچےاس کی گانڈ کی جو نرم گولائیاں اب زیادہ نمایاں لگ رہی تھیں۔ کل رات کی نمی اب بھی اس کے جسم میں یادگار کی طرح بیٹھی ہوئی تھی۔ جب بھی وہ جھکتی، رانوں کے درمیان وہ ہلکی سی کھنچاؤ محسوس کرتی جو ابو کے ہاتھ کی گرمی یاد دلاتی۔

دوسرے دن کالج جاتے وقت مہرین آگے نہیں بیٹھی۔

جس کا حمید کو نہ جانے کیوں افسوس ہوا مگر خوشی بھی

کے چلو گناہ سے بچ گیا

مگر پھر واپسی پر مہرین سب سے پہلے آ کر ابو کے ساتھ گاڑی بیٹھ گئی۔

اس دن پرچہ چونکہ سہہ پہر کا تھا جوں رات کے تقریبن بجے ختم ہوا اس واپسی پرسٹوڈینٹ تھوڑی کم تھیں

گاڑی میں جب مہرین آگے بیٹھی تو اس نے جان بوجھ کر درمیان والی اگی سیٹ کا انتخاب کیااور بیٹھتے ساتھ ہی گاڑی کا ڈور لاک کر دیا تاکہ اس کے علاوے اگے کوئی اور نہ بیٹھے۔

حمید نے اپنی بیٹی کی یہ حرکت نوٹ کی مگر خاموش رہا

حمید کی فیورٹ سٹوڈینٹ زویا بھی آج موجود تھی، پیچھے والی سیٹ پر۔ مگر حمید کی ساری توجہ اس وقت سامنے والی نرم رانوں پر مرکوز تھی جو مہرین کی شلوار کے نیچے سے گرم محسوس ہو رہی تھیں۔

واپسی کا منظر اب صرف جسمانی نہیں رہاتھا۔ وہ ایک خاموش جنگ بن چکا تھا جو دونوں کے اندر بیک وقت لڑی جا رہی تھی۔

مہرین کی حالت اس وقت بہت الجھی ہوئی تھی۔ اس کے میں کل والا واقعہ ابھی تک گھوم رہا تھا

جب ابو کا ہاتھ اس کی ران سے ٹکرایا تو اس کے اندر ایک کرنٹ سا دوڑ گیا۔ وہ جانتی تھی کہ یہ غلط ہے—بہت گہرا، بہت کالا غلط۔ مگر جسم نہیں مان رہا تھا۔ اس کی پھدی خود بخود دھڑکنے لگی تھی۔ وہ سوچ رہی تھی—کاش ابو اپنا ہاتھ یہاں رکھ دیں… کاش وہ انگلیاں شلوار کے اندر چلی جائیں… کاش میں ان کے سامنے مکمل طور پر کھل جاؤں۔

اس لیے گاڑی کالج کے گیٹ سے نکلی تو مہرین نے سامنے والی سیٹ پر بیٹھی ایک دم سرک کر اپنے ابو کے ساتھ خود جڑ کر بیٹھ گی اور اپنے گھٹنے قدرے کھول دیے۔ اس شلوار کی کمر قدرے نیچے سرک گئی تھی اور قمیض رانوں کے درمیان سے ہلکی سی اٹھی ہوئی تھی

حمید نے گیئر بدلا۔ تو اس کی کہنی مہرین کی نرم ران سے رگڑ کھائی۔ اس لمحے دونوں نے سانس روک لی۔ نہ کوئی حادثہ تھا، نہ کوئی بہانہ۔ صرف ایک خاموش اقرار۔

حمید کی نگاہیں سڑک پر جمی ہوئیں، مگر ذہن مکمل طور پر اس گرمی میں ڈوبا ہوا تھا جو اس کی کہنی کے نیچے دھڑک رہی تھی۔ وہ سوچ رہا تھا—یہ میری بیٹی ہے۔ بائیس سال کی۔ جسے میں نے گود میں اٹھایا، جس کے بالوں میں میں نے کنگھی کی، جسے میں نے چلنا سکھایا۔ اور اب وہی جسم میرے ساتھ ٹچ ہو رہا ہے

اس خیال نے اس کے اندر ایک گہری نفرت پیدا کی، مگر اس نفرت کے نیچے ایک اور چیز بھی تھی—ایک بھوک جو اب قابو سے باہر ہو چکی تھی۔

حمید کی سانس بھاری ہونے لگیں اس نے نگاہیں سڑک پر جمائے رکھیں مگر اس کا دایاں ہاتھ اب خود بخود مہرین کی ران کی طرف کھنچ رہا تھا۔ ایک لمحے کے لیے اس نے ہاتھ روکا، پھر آہستہ سے، جیسے حادثہ ہو رہا ہو، انگلیوں کے پورے مہرین کی نرم اندرونی ران پر رکھ دیے۔

مہرین کی سانس اٹک گئی۔ مگر اس نے ٹانگ نہیں ہٹائی۔ بلکہ ذرا سی اور کھول دی۔ حمید کی موٹی انگلیاں اب اس کی ران کے بالکل درمیان تک پہنچ چکی تھیں۔ شلوار کے کپڑے کے اوپر سے بھی گرمی محسوس ہو رہی تھی۔ مہرین کے اندر کچھ پگھل سا رہا تھا۔ اس نے دانتوں میں نچلا ہونٹ دبا لیا تاکہ کوئی آواز نہ نکلے۔

پیچھے زویا بات کر رہی تھی کسی اور لڑکی سے، مگر سامنے والی سیٹ پر وقت رک سا گیا تھا۔ حمید کی انگلیاں اب آہستہ آہستہ دائرے بنا رہی تھیں—ہلکے سے، دبے ہوئے، جیسے وہ جان بوجھ کر چھوں رہا ہو۔ مہرین کی رانوں کے درمیان نمی دوبارہ بڑھنے لگی۔ اس نے اپنے کولہے ذرا سا آگے سرکا دیے تاکہ ابو کی ہتھیلی مزید اندر چلی جائے۔

حمید نے گلا خشک محسوس کیا۔ اس نے سر پھیر کر ایک لمحے کے لیے مہرین کی طرف دیکھا۔ مہرین کی آنکھیں بھی اس کی آنکھوں سے مل گئیں۔ اس نظر میں شرم تھی، خوف تھا… اور ایک گہری، گیلے پن والی خواہش بھی۔

حمید نے ہاتھ نہیں ہٹایا۔

اس کے بجائے اس نے انگوٹھے سے مہرین کی ران کے بالکل اندرونی حصے پر دباؤ ڈالا—وہ جگہ جہاں شلوار کا کپڑا پہلے ہی تھوڑا سا گیلا ہو چکا تھا۔ مہرین کی کمر ہلکی سی اٹھ گئی۔ اس نے ابو کا نام منہ میں لیا مگر آواز نہیں نکلی۔ صرف ایک کانپتی ہوئی سانس۔

گاڑی ایک سرخ بتی پر رکی۔ حمید نے اس لمحے کا فائدہ اٹھایا۔ اس کی انگلیاں اب شلوار کی کمر کے اندر گھس رہی تھیں۔ مہرین نے اپنی رانوں کو مزید کھول دیا۔ ابو کی موٹی، گرم انگلی اب براہ راست اس کی پھدی کی نرم، گیلی فولڈز پر پھسل رہی تھی۔

مہرین نے آنکھیں بند کر لیں۔ اس کے ہونٹوں سے ایک بہت ہلکی سی، دبی ہوئی آہ نکلی جو صرف ابو تک پہنچی۔ حمید کی انگلی نے اس گیلی دراڑ کو آہستہ سے دبایا، اوپر سے نیچے تک پھیرا۔

سرخ بتی ابھی سبز نہیں ہوئی تھی۔ حمید نے انگلیاں مزید اندر دھکیل دیں۔ مہرین کی رانوں نے اس کے ہاتھ کو جکڑ لیا۔ اس کی سانس تیز ہو رہی تھی۔ ابو کی انگلیاں اب اس کی گرم چوت کے عین اوپر تھیں۔

مہرین نے ایک ہاتھ سے سیٹ کو مضبوطی سے پکڑ لیا۔ دوسرا ہاتھ بے اختیار ابو کی کلائی پر چلا گیا… اور دبا دیا۔ اندر کی طرف۔ مزید گہرا۔

حمید نے محسوس کیا کہ اس کی بیٹی اس کی انگلیوں پر گیلی ہو کر بیٹھی ہے۔ اس کی پھدی دھڑک رہی تھی۔ ہر بار جب اس کی انگلی اندر جاتی، مہرین کی کمر ہلکی سی کانپ اٹھتی۔

پیچھے والی سیٹ پر باتیں جاری تھیں۔ کوئی نہیں دیکھ رہا تھا۔ صرف وہ دونوں۔

جب بتی سبز ہوئی اور گاڑی چلی، حمید نے انگلیاں باہر نہیں نکالیں۔ وہ انہیں مہرین کی شلوار کے اندر ہی رکھے ہوئے گاڑی چلا رہا تھا۔ کبھی آہستہ دائرے، کبھی گہرا دباؤ۔ مہرین کی آنکھوں سے آنسو نکل آئے تھے—شرم کے نہیں، لذت کے۔

اتنی دیر میں حمید کا گھر ا گیا تو حمید نے اپنا ہاتھ مہرین کی رانوں کے درمیان سے فورن ہٹا لیا

گاڑی جوں کی گھر کے سامنے رکی تو مہرین گاڑی سے نکل کر گھر کے اندر بھاگ گئی۔ اور حمید باقی لڑکیوں کو اترنے چلا گیا

ایک گھنٹے بعد حمید واپس گھر ایا اور گاڑی کو سڑک پر لاک کر کے گھر پہنچا۔

حمید کی بیوی اور اس کے بیٹے ایک فیملی شادی میں شرکت کے لیے دوسرے شہر گئے تھے اور ان کا گھر واپسی آنے میں ابھی دو دن باقی تھے۔ اس لیے حمید کے لیے یہ اج ایک بہت ہی سنہری موقع تھا کہ وہ اپنی سگی بیٹی کے ساتھ مزے کر سکے۔

گھر کے اندر داخل ہوتے ہی حمید نے دیکھا کہ مہرین کا کمرہ بند ہے۔ دروازے کے نیچے سے ہلکی سی روشنی آرہی تھی۔ اس نے کچھ لمحے باہر کھڑے رہ کر سانس قابو کرنے کی کوشش کی، مگر انگلیوں پر ابھی بھی مہرین کی نمی کی چپ چپ کی یاد باقی تھی۔ شلوار کے اندر جو گرمی اس نے محسوس کی تھی، وہ اب دماغ سے نہیں اتر رہی تھی۔

اس نے دروازے پر ہلکا سا دستک دیا۔

“مہرین… کھول۔”

کچھ دیر خاموشی رہی۔ پھر اندر سے ایک دبی ہوئی، کانپتی ہوئی آواز آئی، “آ جائیں… دروازہ کھلا ہے۔”

حمید نے دروازہ کھولا اور اندر داخل ہو کر دروازہ بند کر دیا۔

مہرین بستر کے کنارے پر بیٹھی تھی۔ وہ ہی شلوار قمیض ابھی بھی پہنی ہوئی تھی، مگر قمیض کی بٹنوں میں سے ایک کھلی ہوئی تھی اور شلوار کی ڈوری قدرے ڈھیلی پڑی تھی۔ اس کے بال بکھرے ہوئے تھے، گال سرخ، اور آنکھوں میں شرم اور خواہش کا عجیب امتزاج۔ جب اس نے ابو کو دیکھا تو اس کی رانوں نے خود بخود ایک دوسرے کو دبایا۔

حمید بستر کے کنارے پر بیٹھ گیا۔ دونوں ایک لمحے تک خاموش رہے۔ کمرے میں صرف پنکھے کی آواز گونج رہی تھی۔

آخرکار حمید نے بہت آہستہ آواز میں کہا، “گاڑی میں… جو ہوا… تم نے ٹانگ کیوں نہیں ہٹائی؟”

مہرین نے نگاہیں نیچے کیے رکھیں۔ اس کی آواز تقریباً سرگوشی تھی، “میں… میں ہٹانا چاہتی تھی۔ مگر جسم نے نہیں مانا۔ جب آپ کا ہاتھ… اندر گیا… تو مجھے ایسا لگا جیسے میں جل رہی ہوں۔ میں ڈری ہوئی تھی… مگر رکنا بھی نہیں چاہتی تھی۔”

حمید نے آہستہ سے اپنا ہاتھ بڑھا کر مہرین کی ران پر رکھ دیا۔ شلوار کے کپڑے کے اوپر سے ہی گرمی محسوس ہو رہی تھی۔ “میں تمہارا باپ ہوں، مہرین۔ یہ… یہ حرام ہے۔ میں خود کو نفرت کرتا ہوں۔”

مہرین نے ابو کے ہاتھ کو دیکھا، پھر اس کی آنکھوں میں۔ “میں بھی خود سے نفرت کرتی ہوں۔ مگر کل جو کچھ انجانے میں ہوا اس نے مجھے بدل کر رکھ دیا ہے ابو…

اور آج گاڑی میں جب آپ کی انگلیاں میری شلوار کے اندر گئیں… تو میں دوبارہ گیلی ہو گئی۔ میں روک نہیں پا رہی۔”

حمید کی سانس بھاری ہو گئی۔ اس نے انگلیوں کو آہستہ سے مہرین کی اندرونی ران پر پھیرا۔ “تم جانتی ہو کہ اگر میں نے ایک بار مکمل طور پر چھوا… تو پھر کبھی واپس نہیں جا سکوں گا۔”

مہرین نے سر جھکا کر ابو کے ہاتھ کو اپنی ران پر مزید دبا دیا۔ “پھر مت جانا۔ میں بھی واپس نہیں جانا چاہتی…

سگی بیٹی کے منہ سے یہ بات سن کر حمید ہکا بکا رہ گیا اور اس نے نے مہرین کے قریب ہو کر اس کے ہونٹوں پر ہلکا سا بوسہ دیا۔ پہلا بوسہ ڈرتا ہوا تھا۔ پھر دوسرا زیادہ گہرا۔

مہرین نے ابو کے کندھوں کو پکڑ لیا اور اپنے ہونٹ کھول دیے۔ زبانوں کا ملنا دونوں کے جسم میں ایک کرنٹ سا دوڑا گیا۔

بوسہ توڑتے ہوئے حمید نے سرگوشی کی، “شلوار اتارو۔”

مہرین کے ہاتھ کانپ رہے تھے۔ اس نے کھڑی ہو کر شلوار کی ڈوری کھولی اور آہستہ سے نیچے اتار دی۔ قمیض ابھی بھی پہنی ہوئی تھی، مگر نیچے سے مکمل ننگی۔ حمید کی نگاہیں اس کی گول رانوں، نرم کولہوں اور اس گیلی، قدرے پھولی ہوئی بیٹی کی کنواری شیوڈ پھدی پر جم گئیں۔ اس نے دیکھا کہ مہرین کی رانوں کے درمیان ہلکی سی نمی چمک رہی ہے۔

“بیٹھ جاؤ…” حمید نے کہا، آواز بھاری۔

مہرین بستر پر لیٹ گئی۔ رانوں کو ذرا سی کھول دیا۔ حمید اس کے درمیان بیٹھ گیا۔ اس نے پہلے دونوں ہاتھوں سے مہرین کی رانوں کو سہلایا، پھر آہستہ سے ایک انگلی اس کی گیلی دراڑ پر پھیر دی۔

مہرین کی کمر ہلکی سی اٹھ گئی۔ “ابو… آہستہ…”

“دیکھو مجھے،” حمید نے کہا۔ “آنکھیں بند مت کرو۔”

مہرین نے آنکھیں کھولیں۔ ابو کی انگلی اب اس کی نرم فولڈز کے درمیان دائرے بنا رہی تھی۔ ہر چکر کے ساتھ نمی بڑھ رہی تھی۔ پھر حمید نے انگلی کو آہستہ سے اندر دھکیل دیا۔ مہرین نے دانتوں میں نچلا ہونٹ دبا لیا۔

“اتنی تنگ…” حمید نے سرگوشی کی۔ “اور اتنی گیلی۔ تم واقعی کل دن سے اتنی ہی گرم اور پیاسی ہو؟…

مہرین نے سر ہلایا۔ آواز نکل ہی نہیں پا رہی تھی۔ حمید اپنی انگلی کو چوت میں ہلک سا داخ کر کے آہستہ آہستہ اندر باہر کرنے لگا۔ اس کے انگوٹھے نے چوت اوپر والے نرم دانے پر دباؤ ڈالنا شروع کر دیا۔ مہرین کی سانس تیز ہو گئی۔

حمید نے اپنی چھوٹی انگلی کو چوت کے تھوڑا سا اور اندر کیا۔ تو مزے کے مارے مہرین کا جسم کی کانپ اٹھی اور اس

کی کنواری پھدی کی اندرونی دیواریں نے اپنے باپ کی اس کی انگلی کو جکڑنا شروع کر دیا ساتھ ہی ساتھ مزے کی شدت سے اس کے منہ سے گرم سسکیاں نکل کر کمرے میں پھیلنے لگیں

“ہاے ابو…اف … اس نے سسکتے ہوئے کہا

کچھ دیر بعد حمید نے اپنی انگلی باہر نکالی تو۔ وہ مہرین کی کنواری چوت کے گرم سفید پانی سے چمک اور چپ چپ کر رہی تھی۔ حمیدنے مہرین کی پیاسی چوت کے گرم پانی سے لبریز انگلی اپنی بیٹی کے ہونٹوں کے قریب لے جا کر کہا، “چکھو۔ اپنی کنواری چوت کا نمکین ذائقہ…

مہرین نے بغیر ہچکچاہٹ کے ابو کی انگلی کو منہ میں لے لیا اور چاٹا۔ اپنی ہی میٹھی، نمکین نمی کو۔ حمید کی نظر اس منظر پر جم گئی۔ اس کی بیٹی، جو کبھی اس کی گود میں بیٹھی کھیلتی تھی، اب اپنی ہی پھدی سے بھری اپنے سگے باپ انگلی بے شرمی سے چاٹ رہی تھی۔

“ابو… اب آپ بھی…” مہرین نے سرگوشی کی، چہرہ سرخ۔ “اب میں آپ کو دیکھنا چاہتی ہوں۔”

مہرین کی بات سن کر حمیدسمجھ گیا اور اس نے ایک دم اپنی قمیضں اتار کر اپنی شلوار کا ناڑہ کھولا۔ تواس کا سخت، موٹا لنڈ پہلی بار اپنی سگی بیٹی کی نظروں کے سامنے ننگا باہر نکل آیا۔

باپ کے لن کو دیکھتے ہی مہرین کی آنکھیں پھیل گئیں۔ اس نے ہاتھ بڑھا کر اسے چھو لیا۔ گرم، سخت، اور رگوں سے بھرا ہوا۔ اس نے آہستہ سے اوپر نیچے پھیرنا شروع کر دیا۔

“اتنا بڑا…” اس نے سرگوشی کی۔ “یہ… یہ اندر کیسے جائے گا؟”

حمید نے مہرین کے بالوں میں انگلیاں پھیریں۔ “آہستہ آہستہ۔ میں زبردستی نہیں کروں گا۔ جب تم تیار ہوگی… تب۔”

مہرین نے ابو کے لنڈ کو اپنے منہ کے قریب لے جا کر ہلکا سا بوسہ دیا۔ پھر زبان سے اس کے سرے کو چاٹا۔ حمید کی سانس اٹک گئی۔ اس نے مہرین کے سر کو تھام لیا مگر زور نہیں دیا۔ مہرین نے آہستہ آہستہ اسے منہ میں لینا شروع کر دیا۔ گہرائی کم تھی، مگر اس کی زبان اور ہونٹ محنت سے کام کر رہے تھے۔


کچھ دیر بعد حمید نے اسے روک دیا۔ “اب کافی ہے۔ میں تمہارے اندر ختم نہیں ہونا چاہتا… پہلے تمہیں تیار کرنا ہے۔”

اس نے مہرین کو مکمل طور پر لیٹا دیا، قمیض اتار کر اپنی اگی بیٹی کے جوان گداز مموں کو اپنے ہاتھوں سے ننگا کیا

اور اپنی بیٹی کے خوبصورت جوان اور گھول گھول رس بھری چھاتیوں کو دیکھتے ہی حمید اپنے ہوش کھو بیٹھا اور بولا

“ اف مہرین … کیا زبردست اور شاندار ممے ہیں تمھارے…

یہ کہتے ہی حمید بستر پر ننگی لیٹی مہرین کے اوپر جھکا اور اس کے ممے کے موٹے لمبے براون نپل کو اپنے منہ میں بھر کر چوسنا شروع کر دیا۔ دوسرا ہاتھ نیچے اس کی پھدی میں واپس چلا گیا۔ اب پھر ایک انگلیاں اندر تھی اور انگوٹھا باہر دباؤ ڈال رہا تھا۔ مہرین کی آہیں اب دبی نہیں رہی تھیں۔ وہ ابو کے نام کو بار بار سرگوشی میں دہرا رہی تھی۔

“ابو… میں… میں آ رہی ہوں…”

“آ جاؤ،” حمید نے ممّے سے منہ ہٹا کر کہا۔ “میرے ہاتھ پر آ جاؤ۔”

مہرین کی کمر اچانک سخت ہو گئی۔ اس کی رانوں نے ابو کے ہاتھ کو جکڑ لیا۔ ایک لمبی، کانپتی ہوئی سانس کے ساتھ وہ ختم ہو گئی۔ اس کی پھدی تیزی سے دھڑک رہی تھی اور مزید نمی بہہ نکلی تھی۔

جب اس کے جسم کی کانپ تھم گئی تو حمید نے انگلی باہر نکال کر اسے اپنے سینے سے لگا لیا۔ مہرین ابو کے سینے پر سر رکھے ہوئے تیز سانس لے رہی تھی۔

کچھ دیر خاموشی رہی۔ پھر مہرین نے سر اٹھا کر ابو کی آنکھوں میں دیکھا۔

“آج رات میرے کمرے میں رہو۔ اور مجھے چود دو ابو … میں آپ کو مکمل طور پر اپنے اندر لینا چاہتی ہوں۔ چاہے کتنا بھی درد ہو۔”

حمید نے مہرین کے پیشانی پر بوسہ دیا۔ اس کی آواز میں اب باپ والا ہچکچاہٹ کم اور مرد والی تسلیم زیادہ تھی۔

“میں بلکل چودوں گاتمھیں ..مگر یاد رکھو مہرین… ایک بار میں نے اگر تمھاری کنواری چوت چود دی … تو پھر تم میری بیٹی کم اور میری عورت زیادہ رہ جاؤ گی۔ اور میں کبھی تمہیں چھوڑ نہیں پاؤں گا۔”

مہرین نے ابو کے گلے میں بازو ڈال دیے اور سرگوشی کی، “پھر مت چھوڑنا۔ میں بھی اب صرف آپ کی عورت اور اپنی ہی سگی ماں کی سوتن بننا چاہتی ہوں ابو”

باہر رات گہری ہو چکی تھی۔ گھر خاموش تھا۔ مگر مہرین کے کمرے میں دو جسم اب ایک دوسرے سے چمٹے ہوئے تھے—باپ اور بیٹی—اور دونوں جانتے تھے کہ اب واپسی کا کوئی راستہ نہیں رہا۔

اب حمید بستر پر ننگی لیٹی مہرین کی گداز رانوں کے درمیان بیٹھ گیا۔ اس نے دونوں ہاتھوں سے اس کی رانوں کو مزید کھول دیا اور بولا۔ “درد ہوگا۔ مگر میں آہستہ کروں گا۔ پہلے تمہیں اور گیلا کروں گا تاکہ میرا لنڈ اندر گھس سکے۔”


یہ کہتے ہوے حمید نے سر جھکا کر مہرین کی پھدی پر منہ رکھ دیا۔ زبان سے اس کی گیلی دراڑ کو چاٹا۔ مہرین کی کمر اچانک اٹھ گئی۔ “ابو… نہیں… یہ بہت گندا ہے… آپ میری چوت چاٹ رہے ہیں…” مگر اس نے ابو کے سر کو دھکا نہیں دیا۔ اس کے بجائے انگلیاں اس کے بالوں میں پھنسا لیں اور مزید دبا دیا۔

حمید کی زبان مہرین کی چوت کی گہرائی تک جا رہی تھی۔ وہ اس کے رس کو چاٹ رہا تھا، چوستا تھا، اور کبھی کبھی دانتوں سے اس کے چوت کے نرم دانے کو ہلکا سا کاٹ لیتا تھا۔ مہرین کی آہیں اب کھلی ہو چکی تھیں۔ “آہ… ابو… میری چوت چاٹو… اور گہرا… میں آپ کی بیٹی ہوں اور آپ میری پھدی چاٹ رہے ہیں… میں پاگل ہو رہی ہوں…”

کچھ دیر بعد حمید نے منہ اٹھایا۔ اس کے ہونٹ اور داڑھی مہرین کی پانی پانی ہوی چوت کے رس سے بھیگے ہوئے تھے۔

اس کے بعد حمید نے اپنے سخت لن کو اپنے ہاتھ میں تھاما اور اپنے لوڑے کو اپنی سگی بیٹی کی کنواری چوت کے لبوں پر رکھ کراوپر نیچے رگڑنے لگا۔ اس کے لن کا سرہ بار بار مہرین کی چوت کی گیلی دراڑ پر پھسل رہا تھا۔ “دیکھو… تمہاری چوت میرے لنڈ کو چوس رہی ہے۔ اتنی گیلی ہو چکی ہو کہ میں بغیر زور کے اندر گھس سکتا ہوں۔”

مہرین کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے۔ شرم، خوف، اور لذت سب مل کر اسے توڑ رہے تھے۔ “ڈالو… ابو… ڈالو اندر۔ میں تیار ہوں۔ چاہے کتنا بھی درد ہو… میں آپ کا لنڈ اپنی چوت میں لینا چاہتی ہوں۔ آج رات۔”

حمید نے لنڈ کا سرا اس کی تنگ سوراخ پر رکھ دیا۔ آہستہ سے دباؤ ڈالا۔ مہرین کی پھدی نے پہلے مزاحمت کی، پھر آہستہ آہستہ کھلنے لگی۔ سرہ اندر گھس گیا۔ مہرین نے ابو کے کندھوں کو زور سے پکڑ لیا اور ایک دبی ہوئی چیخ نکالی۔ “آہ… درد ہو رہا ہے… بہت موٹا ہے… آہستہ… براہِ کرم آہستہ…”

حمید رک گیا۔ پسینہ اس کے پیشانی سے بہہ رہا تھا۔ “میں رک جاؤں؟”

مہرین نے سر ہلایا۔ آنسو بہہ رہے تھے مگر آواز میں ایک عجیب سی ہٹ تھی، “نہیں… اور اندر۔ میری کنوارپن توڑ دو۔ میں آپ کی بیٹی ہوں… مگر مجھے اپنی بیوی بنا لو اج..

حمید نے مزید دباؤ ڈالا۔ آہستہ آہستہ، انچ بہ انچ، اس کا موٹا لنڈ مہرین کی تنگ، گرم چوت میں گھستا چلا گیا۔ جب وہ مکمل طور پر اندر پہنچا تو دونوں سانس روکے ہوئے تھے۔ مہرین کی اندرونی دیواریں اس کے لنڈ کو اتنا مضبوطی سے جکڑ رہی تھیں کہ وہ ہل بھی نہیں سکتا تھا۔

“ابو… آپ میرے اندر ہو…” مہرین نے سسکتے ہوئے کہا۔ “آپ کا لنڈ میری چوت میں ہے… میں اب کنواری نہیں رہی… آپ نے مجھے چود لیا…”

حمید نے آہستہ سے ہلکا سا دھکا دیا۔ پھر دوسرا۔ مہرین کی آہیں درد اور لذت دونوں کی تھیں۔ شرم اب بھی تھی—بہت گہری شرم—مگر جسم اب باپ کے لنڈ کی غلامی قبول کر چکا تھا۔ ہر دھکے کے ساتھ اس کی چوت کھلتی جا رہی تھی اور رس مزید بہہ رہا تھا۔

“تم اتنی تنگ ہو…” حمید نے دانت پیس کر کہا۔ “میری بیٹی کی چوت میرے لنڈ کو چوس رہی ہے۔ میں پاگل ہو رہا ہوں… میں اپنی ہی بیٹی کو چود رہا ہوں… اور مجھے مزہ آرہا ہے…”

مہرین نے ابو کے کولہوں کو اپنے ہاتھوں سے پکڑ کر مزید اندر کھینچ لیا۔ “اور تیز… ابو… میری چوت چودو… گندی الفاظ کہو مجھے۔ میں آپ کی رنڈی ہوں آج رات… اپنی بیٹی کی چوت چودو…”

حمید نے رفتار بڑھا دی۔ اب دھکے گہرے اور مضبوط ہو رہے تھے۔ بستر کی کریک مخلوط ہو رہی تھی مہرین کی گیلی آوازوں اور ابو کی بھاری سانسوں سے۔ کمرے میں صرف جسموں کے ٹکرانے اور چوت کی گیلی چپچپی آوازیں گونج رہی تھیں۔

مہرین کی آنکھیں پلک رہی تھیں۔ شرم کے آنسو بہہ رہے تھے مگر منہ سے نکلنے والے الفاظ اور بھی گندے ہوتے جا رہے تھے، “آہ… ابو… میری پھدی پھاڑ دو… اپنے موٹے لنڈ سے اپنی بیٹی کی کنوار چوت چودو… میں آپ کی رنڈی بن گئی… آہ… اور گہرا…”

حمید نے مہرین کے ممّوں کو زور سے دبایا اور اس کے ہونٹوں پر منہ رکھ دیا۔ بوسہ گہرا اور گندا تھا۔ اس کی زبان مہرین کے منہ میں گھومی جا رہی تھی جبکہ نیچے اس کا لنڈ اس کی چوت کو پیٹ رہا تھا۔

“میں جلد ختم ہو جاؤں گا…” حمید نے ہانپتے ہوئے کہا۔ “تمہارے اندر… یا باہر؟”

مہرین نے ابو کے کولہوں کو اور مضبوطی سے پکڑ لیا۔ “اندر… میری چوت میں ڈال دو۔ اپنی بیٹی کے رحم میں اپنا رس بھرو… بس اندر چھودو…”

حمید کی رفتار دیوانی ہو گئی۔ چند گہرے، سخت دھکوں کے بعد اس کا جسم سخت ہو گیا۔ اس نے مہرین کی چوت کے گہرے میں اپنا گرم رس چھوڑ دیا۔ ایک کے بعد ایک لہریں۔ مہرین نے بھی ابو کے لنڈ کو جکڑتے ہوئے دوسری بار ختم کر لیا۔ اس کی چوت تیزی سے دھڑک رہی تھی اور ابو کا رس اس کے اندر سے باہر بہہ رہا تھا۔

دونوں پسینے سے لتھڑے ہوئے ایک دوسرے سے چمٹے رہے۔ کمرے میں صرف ان کی بھاری سانسوں کی آواز تھی۔

کچھ دیر بعد مہرین نے ابو کے سینے پر سر رکھتے ہوئے سرگوشی کی، آواز میں اب بھی شرم اور تھکاوٹ تھی، “ابو… ہم نے بہت بڑا گناہ کیا ہے۔ میں اب کبھی پہلے جیسی نہیں رہ سکتی… مگر… میں دوبارہ چاہتی ہوں۔ تھوڑیدیر بعد… دوبارہ میری چوت چودنا۔”

حمید نے مہرین کے گندے، گیلی بالوں کو سہلایا۔ اس کی آواز میں نفرت اور تسلیم دونوں تھے، “میں جانتا ہوں۔ میں خود سے نفرت کرتا ہوں… مگر میرا لنڈ ابھی بھی تمہاری چوت کے اندر سخت ہو رہا ہے۔ ہم دونوں جہنم میں جائیں گے… مگر آج رات میں تمہیں بار بار چودوں گا۔ اپنی بیٹی کو اپنی رنڈی بنا کر رکھوں گا۔”

مہرین نے ابو کے گلے میں چہرہ چھپا لیا۔ آنسو اب بھی بہہ رہے تھے—شرم کے، لذت کے، اور اس گہرے گناہ کے جو اب ان دونوں کے جسموں میں رچ بس چکا تھا۔

باہر رات مزید گہری ہو چکی تھی۔ اور مہرین کے کمرے میں باپ اور بیٹی اب ایک دوسرے کے جسموں میں کھوے جا رہے تھے—جزبات، شرم، اور گندی خواہش کی ایک ایسی آندھی میں جو اب رک نے والی نہیں تھی۔

صبح حمید اٹھا تو رات کے واقعہ کا سوچتے ہی اسے خیال آیا۔

“اف ایک دم میں کیا بن گیا ہوں…” اس نے دل میں کہا۔ “میں نے اپنی سگی بیٹی کی کنوار چوت توڑ دی… اس کی کوکھ میں اپنا رس ڈال دیا… اور اب میں دوبارہ اس کا انتظار کر رہا ہوں۔ میں جہنمی ہوں… مگر میں رک نہیں پاؤں گا۔”

باہر سے مہرین کے نہانے کی آواز آرہی تھی۔ حمید نے آنکھیں بند کیں۔ اس کے ذہن میں صرف ایک ہی تصویر گھوم رہی تھی—مہرین کی گیلی، سرخ پھدی، جو اب اس کے لنڈ کی عادی بن چکی تھی، اور وہ الفاظ جو اس نے صبح کہے تھے:

“اپنی بیٹی کی چوت چودو…”

مہرین باتھ روم میں گئی تو دروازہ مکمل طور پر بند نہیں کیا۔ پانی کی آواز آرہی تھی جب حمید نے بھی اٹھ کر پیچھے پیچھے چلا گیا۔ اس نے دروازہ دھیرے سے دھکا دیا۔ مہرین ننگی کھڑی تھی، پانی اس کے جسم پر بہہ رہا تھا۔ اس کے بال گیلی ہو چکے تھے اور پیٹھ پر پانی کی دھاریں بہہ رہی تھیں۔ رانوں کے درمیان ابھی بھی ابو کا رس چپک رہا تھا۔

حمید نے دروازہ بند کر دیا۔ مہرین نے مڑ کر دیکھا۔ پانی اس کے چہرے پر بہہ رہا تھا، مگر اس کی آنکھوں میں وہی پرانی شرم اور نئی بھوک دونوں موجود تھیں۔

“آپ آ گئے…” اس نے سرگوشی کی۔ آواز باتھ روم کی گونج میں دب سی گئی۔ “میں سوچ رہی تھی کہ آپ آئیں گے۔”

حمید کا لنڈ پہلے ہی سخت ہو چکا تھا۔ وہ مہرین کے قریب گیا اور پیچھے سے اس کے جسم سے چمٹ گیا۔ اس کا موٹا لنڈ مہرین کی گیلے کولہوں کے درمیان دب گیا۔ دونوں ہاتھ آگے بڑھ کر اس کے نرم ممّوں کو پکڑ لیے۔

“شرم آ رہی ہے…” مہرین نے سر پیچھے ابو کے کندھے پر رکھتے ہوئے کہا۔ پانی دونوں کے جسموں پر بہہ رہا تھا۔ “دن کی روشنی میں… باتھ روم میں… اپنے ابو سے چودوا رہی ہوں۔ میں کتنی گندی ہو گئی ہوں…”

حمید نے اس کے کان کے پاس منہ رکھ کر سرگوشی کی، “میں بھی۔ مگر میرا لنڈ تمہاری گیلی چوت کے بغیر نہیں رہ سکتا۔ موڑ جاؤ۔”

مہرین نے ہاتھ دیوار پر رکھے اور کولہے پیچھے کیے۔ پانی اس کی پیٹھ پر بہہ رہا تھا۔ حمید نے ایک ہاتھ سے اپنے لنڈ کو پکڑا اور سرا اس کی پھدی کی دراڑ پر پھیرنے لگا۔ کل رات اور صبح کا رس ابھی بھی موجود تھا، اس لیے سرا آسانی سے پھسل رہا تھا۔

“ڈالو…” مہرین نے سسکتے ہوئے کہا۔ “آہستہ نہیں… سیدھا اندر ڈال دو۔ میں تیار ہوں۔”

حمید نے دباؤ ڈالا۔ لنڈ ایک ہی دھکے میں آدھا اندر گھس گیا۔ مہرین کی آہ باتھ روم میں گونج اٹھی۔ پانی کی آواز نے اسے تھوڑا دبا دیا، مگر پھر بھی واضح تھی۔ حمید نے مزید دھکا دیا اور پورا لنڈ اس کی گرم، گیلی چوت میں بیٹھ گیا۔

“آہ… ابو… اتنا گہرا…” مہرین نے دیوار کو مضبوطی سے پکڑ لیا۔ “آپ کا لنڈ میری چوت کو چود رہا ہے… صبح والی رس کے ساتھ… آہ…”

حمید نے اس کے کولہوں کو دونوں ہاتھوں سے پکڑ کر دھکے دینے شروع کر دیے۔ پہلے آہستہ، پھر تیز۔ ہر دھکے کے ساتھ مہرین کے ممّے آگے پیچھے ہل رہے تھے اور پانی ان پر بہہ رہا تھا۔ باتھ روم میں صرف جسموں کے گیلی چپچپی آواز اور پانی کی آواز مخلوط ہو رہی تھی۔

“اف کیا مست چوت ہے میری بیٹی کی …” حمید نے دانت پیس کر کہا۔ اس کی آواز میں شرم بھی تھی اور ایک گہری، گندی تسکین بھی۔ “پانی سے بھیگی ہوئی… میرے لنڈ سے پھولی ہوئی… اور اب میں اسے دوبارہ چود رہا ہوں۔ تم میری رنڈی بن چکی ہو، مہرین۔ اپنی باپ کی رنڈی۔”

مہرین نے پیچھے مڑ کرابو کو دیکھا۔ پانی اس کے چہرے پر بہہ رہا تھا، آنسو بھی۔ “ہاں… میں آپ کی رنڈی ہوں۔ اپنی باپ کی گندی رنڈی۔ میری چوت چودو… اور زور سے… میں چاہتی ہوں کہ درد ہو… تاکہ مجھے یاد رہے کہ آپ نے مجھے کیسے چودا…”

حمید نے رفتار اور بڑھا دی۔ اب دھکے اتنے سخت تھے کہ مہرین کی ٹانگیں کانپ رہی تھیں۔ اس نے ایک ہاتھ سے مہرین کے گیلی بال پکڑ کر سر پیچھے کھینچ لیا اور دوسرے ہاتھ سے اس کے ممّے دباتا رہا۔ لنڈ ہر بار گہرائی تک جا رہا تھا اور نکلتے وقت رس اور پانی کی مخلوط چپچپی آواز نکل رہی تھی۔

“آہ… ابو… میں آ رہی ہوں…” مہرین کی آواز ٹوٹ رہی تھی۔ “پانی کے نیچے… اپنے ابو کے لنڈ پر… آہ… چودو… میری چوت پھاڑ دو…”

حمید نے اس کے کولہوں کو زور سے دبایا اور خود بھی ختم ہو گیا۔ گرم رس کی لہریں مہرین کے اندر چھوٹنے لگیں۔ پانی بہہ رہا تھا، مگر ابو کا گاڑھا رس اس کی چوت سے باہر نکل کر رانوں پر سفید دھاریاں بنا رہا تھا۔ مہرین کی ٹانگیں لرز رہی تھیں۔ وہ دیوار سے لگ کر کھڑی رہی، ابو کا لنڈ ابھی بھی اس کے اندر تھا۔

کچھ دیر تک دونوں پانی کے نیچے خاموش رہے۔ صرف سانس کی آواز تھی۔

پھر مہرین نے آہستہ سے کہا، آواز میں تھکاوٹ اور گہری شرم تھی، “ابو… صابن لگاو۔ میری چوت صاف کرو… مگر انگلیوں سے۔ میں چاہتی ہوں کہ آپ اپنے رس کو میری پھدی کے اندر دوبارہ دباؤ…”

حمید نے صابن لیا۔ اس نے مہرین کو سامنے موڑ لیا اور دونوں ہاتھوں سے اس کی پھدی کو صاف کرنے کے بہانے انگلیاں اندر تک لے گیا۔ مہرین کی کمر پھر کانپ اٹھی۔ ابو کی انگلیاں اس کے اپنے ہی رس اور مہرین کی نمی کو ملا کر اندر باہر کر رہی تھیں۔

“لگتا ہے تمھاری یہ گرم چوت کبھی نہیں بھراسکتی مہرین .. حمید نے سرگوشی کی۔ “میں تمہیں صاف کرتا ہوں اور تم دوبارہ گیلی ہو جاتی ہو۔”

مہرین نے ابو کے ہاتھ کو اپنی چوت پر دبائے رکھا۔ “کیونکہ میں آپ کی ہو چکی ہوں۔ گندی، شرمنده، اور بھوکی۔

حمید نے مہرین کے گیلی پیشانی پر بوسہ دیا۔

پانی بہتا رہا۔ دونوں ایک دوسرے کے جسم صاف کرتے رہے، مگر اصل میں وہ خود کو اور زیادہ گندا کر رہے تھے۔ شرم اب بھی تھی—بہت گہری—مگر وہ شرم اب لذت کا حصہ بن چکی تھی

اس دن جب حمید نے گرلز کالج کے سامنے گاڑی روکی تو مہرین نے دروازہ کھولا اور باقی لڑکیوں کے ساتھ گیٹ کی طرف چل دی۔ بائیس سال کی، جوان، گرم جسم والی بیٹی۔ شلوار قمیض میں بھی اس کی رانوں کی گولائی اور کولہوں کی لچک صاف نظر آ رہی تھی۔ وہ دوسری لڑکیوں کے درمیان گھل مل کر اندر جا رہی تھی—بالکل ویسے جیسے کوئی عام کالج کی لڑکی۔

حمید کی نگاہیں اس کی پیٹھ پر جم گئی تھیں۔ مہرین گیٹ کے اندر داخل ہوئی اور بھیڑ میں گم ہو گئی۔

اسی لمحے اس کے ذہن میں دوسرے وین ڈرائیورز کے وہ گندے کمنٹس گھومنے لگے جو وہ روز واٹس ایپ گروپ میں لکھا کرتے تھے:

“آج فلاں لڑکی کی رانوں پر ہاتھ پھیرا… بہت نرم تھیں۔”

“کل والی نے تو خود میرے ہاتھ کو اپنے ممّوں پر رکھ دیا۔”

“اس نئی والی کے کپڑے اتنے ٹائٹ ہیں کہ بیٹھتے ہی سب کچھ دکھائی دے جاتا ہے۔”

حمید نے اسٹیئرنگ کو مضبوطی سے پکڑ لیا۔ اس کا دل تیزی سے دھڑک رہا تھا۔ وہ سوچ رہا تھا—یہ سب ڈرائیور دوسری لڑکیوں کی باتیں کرتے ہیں۔ چھوتے ہیں، ہاتھ پھیرتے ہیں، کبھی کبھی اور بھی آگے بڑھ جاتے ہیں۔ مگر میں؟

اس کے شلوار کے اندر کا لنڈ اچانک سخت ہو کر تن گیا۔

کیونکہ وہ جانتا تھا کہ حقیقت کچھ اور ہے۔

نہ صرف اس کے ہاتھ نے انجانے میں اپنی ہی بیٹی کی گرم ران چھو لی تھی… بلکہ اب اس کا اپنا موٹا لنڈ اس کی سگی بیٹی کی کنوار چوت کا سیل توڑ چکا تھا۔ مہرین کی تنگ، گیلی پھدی کو پھاڑ چکا تھا۔ اس کے رحم میں اپنا گاڑھا رس انڈیل چکا تھا۔ اور مہرین نے خود کہا تھا—“میں آپ کی رنڈی ہوں… اپنی باپ کی گندی رنڈی۔”

حمید نے آنکھیں بند کر لیں۔ گاڑی کے اے سی میں بیٹھا ہوا تھا، مگر پسینہ آ رہا تھا۔ اس کا لنڈ شلوار کے اندر دھڑک رہا تھا—بس اس خیال سے کہ اب اس کی بیٹی کالج کے اندر بی اے کا پیپر دے رہی ہے، اور اس کی چوت ابھی بھی اس کے رس سے بھری ہوئی ہو گی۔

وہ مسکرایا۔ ایک گہری، گندی، شرمناک مسکراہٹ۔

دوسرے ڈرائیور جو کچھ سوچتے ہیں… وہ تو ابھی شروع بھی نہیں کر سکے۔

کیونکہ حمید نے اپنی ہی جوان بیٹی کو چود کر اس کا سیل توڑ دیا تھا۔

اور اب واپسی کا کوئی راستہ نہیں تھا۔


دی اینڈ
 

Create an account or login to read stories

You must be a member in order to leave a comment

Create account

Create an account on our community. It's easy!

Log in

Already have an account? Log in here.

New posts
Back
Top