- Thread Author
- #1
گھریلو عشق
پارٹ ون
لاہور کے ماڈل ٹاؤن کے ایک بڑے گھر میں، جمعہ کی رات تھی۔ بارش ابھی رکی تھی اور باہر کی ہوا میں مٹی کی خوشبو گھلی ہوئی تھی۔ گھڑی میں نو بجے کا وقت تھا۔
خاندان کا سربراہ، خالد احمد، پچاس سال کا، مضبوط جسم والا مرد، صوفے پر بیٹھا اخبار دیکھ رہا تھا۔
اس کی بیوی، فوزیہ، اڑتالیس سال کی، ابھی بھی خوبصورت عورت۔ گول چہرہ، بھری ہوئی چھاتیاں، اور نرم کمر۔ وہ کچن سے چائے کا ٹرے لے کر آ رہی تھی۔ان کے چار بچے گھر میں موجود تھے۔
بڑا بیٹا، حامد، اٹھائیس سال کا، شادی نہیں ہوئی تھی۔ کمپنی میں کام کرتا تھا۔
درمیانی بیٹی، سعدیہ، چھبیس سال کی، کالج میں لیکچرر۔
چھوٹا بیٹا، عمر، چوبیس سال کا، یونیورسٹی کا آخری سال۔
اور سب سے چھوٹی بیٹی، مریم، بائیس سال کی، گھر میں ہی رہتی تھی اور کالج میں پڑھای کے ساتھ ساتھ ماں کے ساتھ گھر کے کام سنبھالتی تھی۔
سب بالغ تھے۔ سب اپنی جگہ پر۔ لیکن گھر کی دیواروں کے اندر کچھ ایسی خاموش لہریں چل رہی تھیں جنہیں ابھی تک کسی نے زبان نہیں دی تھی۔
فوزیہ نے ٹرے میز پر رکھا۔ چائے کے کپ بھرے ہوئے تھے۔
“آؤ سب… چائے پی لو۔” اس نے نرم آواز میں کہا۔
حامد نے ماں کی طرف دیکھا۔ فوزیہ نے آج والا ہلکا سا سبز رنگ کا شلوار قمیض پہنا ہوا تھا جو جسم سے چپکا ہوا تھا۔ قمیض کے بٹن اوپر تک بند تھے، لیکن جسم کی ساخت چھپ نہیں پا رہی تھی۔ حامد نے جلدی سے نظر پھیر لی اور چائے کا کپ اٹھا لیا۔
عمر دیوار کے سہارے کھڑا تھا۔ اس کی نگاہیں باری باری بہنوں پر جا رہی تھیں۔ سعدیہ نے بال کھولے ہوئے تھے، جو کمر تک لٹک رہے تھے۔ مریم سوفا کے کنارے بیٹھی تھی، ٹانگیں سمیٹے ہوئے۔ اس کے پائجامے کی تہ میں رانوں کی نرم لکیر نمایاں تھی۔
خالد نے بیوی کی طرف دیکھا اور مسکرایا۔ “آج کھانا بہت اچھا بنایا تھا تم نے”
فوزیہ نے مسکرا کر جواب دیا، “تمہیں ہمیشہ پسند آ جاتا ہے۔”
رات کا کھانا ہو چکا تھا۔ سب اپنے اپنے کمرے میں جانے والے تھے، لیکن کوئی جلدی نہیں کر رہا تھا۔
مریم نے ماں کی طرف دیکھا۔ “اماں… آپ تھک گئی ہو گی۔ میں برتن دھو دیتی ہوں۔”
“نہیں بیٹی، میں کر لیتی ہوں۔” فوزیہ نے کہا، لیکن مریم اٹھ کر کچن کی طرف چل دی۔
عمر بھی پیچھے پیچھے چلا گیا۔ “میں مدد کر دیتا ہوں۔”
کچن میں روشنی مدھم تھی۔ مریم سنک کے سامنے کھڑی تھی، آستینیں اوپر چڑھا کر برتن دھو رہی تھی۔ عمر اس کے قریب آ کر کھڑا ہو گیا۔ دونوں کے کندھے تقریباً چھو رہے تھے۔
“آج تمہارے بال بہت اچھے لگ رہے ہیں…” عمر نے بہت آہستہ سے کہا۔
عمر کے ہاتھ رک گئے۔ اس نے سر نہیں پھیرا، صرف آواز میں معمولی سا کپکپاہٹ آئی۔ “تم ہمیشہ ایسی باتیں کرتے ہو… ٹھیک نہیں ہے۔”
“میں جانتا ہوں۔” عمر نے جواب دیا۔ اس کی آواز بھی دبی ہوئی تھی۔ “لیکن میں روک نہیں پاتا۔”
مریم نے برتن دھونا دوبارہ شروع کر دیا۔ پانی کے شور میں دونوں کی سانسوں کی آواز مل رہی تھی۔ عمر کا ہاتھ آہستہ سے مریم کی کمر کی طرف بڑھا… لیکن چھو نے سے پہلے رک گیا۔ صرف ایک انچ کا فاصلہ تھا۔
اس وقت باہر سے سعدیہ کی آواز آئی۔ “عمر بھائی… اماں بلا رہی ہیں۔”
عمر نے ہاتھ واپس کھینچ لیا۔ مریم نے آنکھیں بند کر کے ایک لمبا سانس لیا۔
رات گہری ہوتی گئی۔
بارہ بجے کے قریب گھر مکمل خاموش ہو چکا تھا۔ صرف پنکھوں کی آواز تھی۔
حامد اپنے کمرے میں لیٹا ہوا تھا۔ نیند نہیں آرہی تھی۔ ذہن میں ماں کی سبز قمیض اور اس کے جسم کی نرم لکیریں گھوم رہی تھیں۔ اس نے آنکھیں بند کر لیں اور اپنے آپ کو پھٹکارا۔ “یہ غلط ہے… یہ بہت غلط ہے۔”
لیکن جسم نہیں مان رہا تھا۔
اسی وقت فوزیہ اپنے کمرے میں لیٹی ہوئی تھی۔ خالد سو چکا تھا۔ فوزیہ کی آنکھیں کھلی ہوئی تھیں۔ اسے معلوم تھا کہ گھر میں کچھ بدل رہا ہے۔ بیٹوں کی نگاہیں، بیٹیوں کی خاموشیاں… سب کچھ اس نے محسوس کر لیا تھا۔
وہ اٹھی اور پانی پینے کے بہانے باہر نکل آئی۔
گزرنے والے کوریڈور میں روشنی بہت مدھم تھی۔ حامد کا کمرہ آدھا کھلا تھا۔ فوزیہ رک گئی۔ اندر سے حامد کی سانسوں کی آواز آرہی تھی۔ وہ دروازے کے پاس کھڑی رہی… ایک لمحے کے لیے۔ پھر آہستہ سے اندر جھانکا۔
حامد نے پلٹ کر دیکھا۔ ماں کھڑی تھی۔
دونوں کی نظریں ملیں۔
فوزیہ نے کچھ نہیں کہا۔ حامد نے بھی کچھ نہیں کہا۔ صرف خاموشی تھی… اور اس خاموشی میں ایک ایسی کشش جو سالوں سے دبائی جا رہی تھی۔
فوزیہ نے آہستہ سے دروازہ بند کر دیا اور واپس اپنے کمرے میں چلی گئی۔
دل تیزی سے دھڑک رہا تھا۔
صبح ابھی بہت دور تھی۔
اور گھر کی دیواروں کے اندر دبے ہوئے جذبات آہستہ آہستہ جاگ رہے تھے۔
اگلا حصہ اپ سب کے کمنٹس کے بعد ہی پوسٹ ہو گا
پارٹ ون
لاہور کے ماڈل ٹاؤن کے ایک بڑے گھر میں، جمعہ کی رات تھی۔ بارش ابھی رکی تھی اور باہر کی ہوا میں مٹی کی خوشبو گھلی ہوئی تھی۔ گھڑی میں نو بجے کا وقت تھا۔
خاندان کا سربراہ، خالد احمد، پچاس سال کا، مضبوط جسم والا مرد، صوفے پر بیٹھا اخبار دیکھ رہا تھا۔
اس کی بیوی، فوزیہ، اڑتالیس سال کی، ابھی بھی خوبصورت عورت۔ گول چہرہ، بھری ہوئی چھاتیاں، اور نرم کمر۔ وہ کچن سے چائے کا ٹرے لے کر آ رہی تھی۔ان کے چار بچے گھر میں موجود تھے۔
بڑا بیٹا، حامد، اٹھائیس سال کا، شادی نہیں ہوئی تھی۔ کمپنی میں کام کرتا تھا۔
درمیانی بیٹی، سعدیہ، چھبیس سال کی، کالج میں لیکچرر۔
چھوٹا بیٹا، عمر، چوبیس سال کا، یونیورسٹی کا آخری سال۔
اور سب سے چھوٹی بیٹی، مریم، بائیس سال کی، گھر میں ہی رہتی تھی اور کالج میں پڑھای کے ساتھ ساتھ ماں کے ساتھ گھر کے کام سنبھالتی تھی۔
سب بالغ تھے۔ سب اپنی جگہ پر۔ لیکن گھر کی دیواروں کے اندر کچھ ایسی خاموش لہریں چل رہی تھیں جنہیں ابھی تک کسی نے زبان نہیں دی تھی۔
فوزیہ نے ٹرے میز پر رکھا۔ چائے کے کپ بھرے ہوئے تھے۔
“آؤ سب… چائے پی لو۔” اس نے نرم آواز میں کہا۔
حامد نے ماں کی طرف دیکھا۔ فوزیہ نے آج والا ہلکا سا سبز رنگ کا شلوار قمیض پہنا ہوا تھا جو جسم سے چپکا ہوا تھا۔ قمیض کے بٹن اوپر تک بند تھے، لیکن جسم کی ساخت چھپ نہیں پا رہی تھی۔ حامد نے جلدی سے نظر پھیر لی اور چائے کا کپ اٹھا لیا۔
عمر دیوار کے سہارے کھڑا تھا۔ اس کی نگاہیں باری باری بہنوں پر جا رہی تھیں۔ سعدیہ نے بال کھولے ہوئے تھے، جو کمر تک لٹک رہے تھے۔ مریم سوفا کے کنارے بیٹھی تھی، ٹانگیں سمیٹے ہوئے۔ اس کے پائجامے کی تہ میں رانوں کی نرم لکیر نمایاں تھی۔
خالد نے بیوی کی طرف دیکھا اور مسکرایا۔ “آج کھانا بہت اچھا بنایا تھا تم نے”
فوزیہ نے مسکرا کر جواب دیا، “تمہیں ہمیشہ پسند آ جاتا ہے۔”
رات کا کھانا ہو چکا تھا۔ سب اپنے اپنے کمرے میں جانے والے تھے، لیکن کوئی جلدی نہیں کر رہا تھا۔
مریم نے ماں کی طرف دیکھا۔ “اماں… آپ تھک گئی ہو گی۔ میں برتن دھو دیتی ہوں۔”
“نہیں بیٹی، میں کر لیتی ہوں۔” فوزیہ نے کہا، لیکن مریم اٹھ کر کچن کی طرف چل دی۔
عمر بھی پیچھے پیچھے چلا گیا۔ “میں مدد کر دیتا ہوں۔”
کچن میں روشنی مدھم تھی۔ مریم سنک کے سامنے کھڑی تھی، آستینیں اوپر چڑھا کر برتن دھو رہی تھی۔ عمر اس کے قریب آ کر کھڑا ہو گیا۔ دونوں کے کندھے تقریباً چھو رہے تھے۔
“آج تمہارے بال بہت اچھے لگ رہے ہیں…” عمر نے بہت آہستہ سے کہا۔
عمر کے ہاتھ رک گئے۔ اس نے سر نہیں پھیرا، صرف آواز میں معمولی سا کپکپاہٹ آئی۔ “تم ہمیشہ ایسی باتیں کرتے ہو… ٹھیک نہیں ہے۔”
“میں جانتا ہوں۔” عمر نے جواب دیا۔ اس کی آواز بھی دبی ہوئی تھی۔ “لیکن میں روک نہیں پاتا۔”
مریم نے برتن دھونا دوبارہ شروع کر دیا۔ پانی کے شور میں دونوں کی سانسوں کی آواز مل رہی تھی۔ عمر کا ہاتھ آہستہ سے مریم کی کمر کی طرف بڑھا… لیکن چھو نے سے پہلے رک گیا۔ صرف ایک انچ کا فاصلہ تھا۔
اس وقت باہر سے سعدیہ کی آواز آئی۔ “عمر بھائی… اماں بلا رہی ہیں۔”
عمر نے ہاتھ واپس کھینچ لیا۔ مریم نے آنکھیں بند کر کے ایک لمبا سانس لیا۔
رات گہری ہوتی گئی۔
بارہ بجے کے قریب گھر مکمل خاموش ہو چکا تھا۔ صرف پنکھوں کی آواز تھی۔
حامد اپنے کمرے میں لیٹا ہوا تھا۔ نیند نہیں آرہی تھی۔ ذہن میں ماں کی سبز قمیض اور اس کے جسم کی نرم لکیریں گھوم رہی تھیں۔ اس نے آنکھیں بند کر لیں اور اپنے آپ کو پھٹکارا۔ “یہ غلط ہے… یہ بہت غلط ہے۔”
لیکن جسم نہیں مان رہا تھا۔
اسی وقت فوزیہ اپنے کمرے میں لیٹی ہوئی تھی۔ خالد سو چکا تھا۔ فوزیہ کی آنکھیں کھلی ہوئی تھیں۔ اسے معلوم تھا کہ گھر میں کچھ بدل رہا ہے۔ بیٹوں کی نگاہیں، بیٹیوں کی خاموشیاں… سب کچھ اس نے محسوس کر لیا تھا۔
وہ اٹھی اور پانی پینے کے بہانے باہر نکل آئی۔
گزرنے والے کوریڈور میں روشنی بہت مدھم تھی۔ حامد کا کمرہ آدھا کھلا تھا۔ فوزیہ رک گئی۔ اندر سے حامد کی سانسوں کی آواز آرہی تھی۔ وہ دروازے کے پاس کھڑی رہی… ایک لمحے کے لیے۔ پھر آہستہ سے اندر جھانکا۔
حامد نے پلٹ کر دیکھا۔ ماں کھڑی تھی۔
دونوں کی نظریں ملیں۔
فوزیہ نے کچھ نہیں کہا۔ حامد نے بھی کچھ نہیں کہا۔ صرف خاموشی تھی… اور اس خاموشی میں ایک ایسی کشش جو سالوں سے دبائی جا رہی تھی۔
فوزیہ نے آہستہ سے دروازہ بند کر دیا اور واپس اپنے کمرے میں چلی گئی۔
دل تیزی سے دھڑک رہا تھا۔
صبح ابھی بہت دور تھی۔
اور گھر کی دیواروں کے اندر دبے ہوئے جذبات آہستہ آہستہ جاگ رہے تھے۔
اگلا حصہ اپ سب کے کمنٹس کے بعد ہی پوسٹ ہو گا