خوش آمدید

لو اسٹوری فورم ، اردو دنیا کا نمبر ون اردو اسٹوری فورم ، ابھی فورم کےممبر بنیں اور اردو کی بہترین کہانیاں پڑھیں ۔

Register Now!
  • PAID PLANS

    ٹاپ پیکیج
    👑

    PREMIUM

    20000
    چھ ماہ کے لیے
    بہترین ڈیل
    💎

    VIP+

    8000
    چھ ماہ کے لیے
    بنیادی ڈیل

    VIP

    5000
    تین ماہ کے لیے

Life Story گھر ایک جنت ۔۔۔

Joined
Jun 10, 2025
Messages
1,059
Reaction score
53,176
Location
Karachi
Gender
Male
میں والدین کی لاڈلی اور بھائیوں کی بے حد پیاری تھی، لیکن یہ تب تک تھا جب تک میری شادی نہیں ہوئی تھی۔ ہمارا گھر خوشیوں کا گہوارہ تھا۔ اتنی ہم آہنگی کسی اور خاندان میں کہاں ہو گی، جتنی ہمارے ہاں تھی۔ میں نے کبھی سوچا نہ تھا کہ شادی کے بعد زندگی اتنی بدل جائے گی۔ لڑکیاں جب تک ماں باپ کے گھر ہوتی ہیں، انہیں شادی ایک خوبصورت خواب لگتی ہے۔ ذمہ داریوں کا حقیقی احساس کسی کی بیوی بن کر ہی ہوتا ہے۔ سمجھ دار لڑکیاں ان ذمہ داریوں کو قبول کر لیتی ہیں اور ہر طرح سے اس مقدس بندھن کو نبھانے کی کوشش کرتی ہیں، جبکہ مجھ جیسی لاڈلی اور نادان لڑکیاں ہر بات کو معمولی سمجھ کر اہمیت نہیں دیتیں اور آخر میں اپنا سکھ گنوا بیٹھتی ہیں۔

اب میں اصل کہانی کی طرف آتی ہوں۔ آج سے تقریباً بیس برس پہلے کی بات ہے، رشتہ داروں میں ایک ایسے لڑکے سے میری شادی ہوئی جس کے والدین فوت ہو چکے تھے۔ اس کے کندھوں پر تین بہنوں اور ایک چھوٹے بھائی کا بوجھ تھا۔ میرے خاوند کا نام شہزاد تھا اور ہم لاہور میں رہا کرتے تھے۔ یہ کہنے میں مجھے کوئی عار نہیں کہ میرے خاوند نہایت محنتی، نیک اور محبت کرنے والے انسان تھے۔ ان سب بہن بھائیوں کا آپس میں پیار اور اتفاق دیکھ کر رشک آتا تھا، وہ سب مجھ سے بھی بہت پیار کرتے تھے کیونکہ وہ فطرتاً محبت کرنے والے لوگ تھے۔ مجھ جیسی سسرال کم ہی خوش نصیب لڑکیوں کو ملتی ہے۔ ان دنوں شہزاد دواؤں کی ایک کمپنی میں کام کرتے تھے، جبکہ میرے والد صاحب کچہری میں بطور ریڈر ملازم تھے۔ میرے پانچ بھائی تھے، اچھے کھلاڑی ہونے کی وجہ سے وہ بھی بہت جلد اچھی جگہوں پر ملازم لگ گئے تھے۔ ایک بھائی انگلینڈ میں تھا اور چھوٹا ابھی پڑھ رہا تھا۔ ایک چھوٹی بہن بھی تھی جو ابھی طالبہ تھی۔ میں چونکہ سب سے بڑی تھی، اسی لیے والدین اور بھائی مجھ پر جان چھڑکتے تھے۔ میری شادی سے تقریباً ایک سال قبل میری بڑی نند اور ایک دیور کی شادی ہو چکی تھی۔ میرا دوسرا دیور میری شادی کے کچھ ہی عرصہ بعد یورپ چلا گیا، اب صرف دو نندیں ہمارے ساتھ رہتی تھیں۔ چھوٹا سا گھر تھا، اگر کوئی مہمان آ جاتا تو زمین پر بستر لگا کر سونا پڑتا۔ شہزاد اپنی بہنوں سے بے حد پیار کرتے تھے، اس کے باوجود میں نے اپنی نندوں کو شہزاد سے کبھی کوئی فرمائش کرتے نہیں دیکھا تھا۔

شادی کو چار سال گزر گئے لیکن میری گود ہری نہ ہوئی، شاید اللہ کو یہی منظور تھا۔ اسی دوران ہم نے بڑی نند کی بھی شادی کر دی۔ اب صرف چھوٹی نند شاہدہ رہ گئی تھی۔ وہ مجھ سے بہت پیار کرتی تھی، پھر اس کی شادی بھی ہم نے کر دی۔ اس وقت مجھے ایسا لگا جیسے میں نے اپنی بیٹی رخصت کر دی ہو۔ اب میں خود کو اکیلا محسوس کرنے لگی۔ میری شادی کو آٹھ سال گزر چکے تھے اور میں اب بھی ماں نہ بن سکی تھی۔ تنہائی کا احساس کم کرنے کے لیے بھائیوں نے میرے گھر بہت زیادہ آنا جانا شروع کر دیا۔ وہ اکثر کئی کئی دن میرے پاس رہتے۔ شہزاد کی ترقی ہو چکی تھی، وہ اب منیجر تھے اور انہیں کمپنی کی طرف سے گاڑی بھی ملی ہوئی تھی۔ میرے بھائی اکثر اس گاڑی کا استعمال کرتے تھے۔

بھائیوں کے آنے سے جہاں گھر میں رونق ہوئی، وہاں معاملات بھی بدل گئے۔ میرے بھائی ساری ساری رات بیٹھ کر تاش کھیلتے، جس کی وجہ سے شہزاد اپنے دفتر کا کام یکسوئی سے نہ کر پاتے۔ یوں رفتہ رفتہ شہزاد کو بھائیوں کا آنا ناگوار گزرنے لگا اور ان کا رویہ تبدیل ہو گیا۔ اس کے باوجود بھائی میرے خاوند کی مجبوری کو نہ سمجھ سکے۔ مجھے اولاد نہ ہونے کا غم کھائے جا رہا تھا، اس بات کو میرے چھوٹے دیور فضل نے محسوس کیا۔ اس نے یورپ میں ایک فرانسیسی عورت سے شادی کی تھی جس سے اس کا ایک پیارا بیٹا ‘عابد’ تھا۔ اس کی بیوی بچے کا خیال نہ رکھتی تھی، چنانچہ اس نے اپنا بیٹا میری گود میں ڈال دیا۔ اس وقت عابد کی عمر تقریباً تین سال تھی۔

اس عرصے میں بھائیوں کی مداخلت کی وجہ سے شہزاد صاحب نے میرے والدین سے ملنا جلنا بند کر دیا تھا۔ مجھے چاہیے تھا کہ اپنے بھائیوں کو سمجھاتی، لیکن میں نے ایسا نہ کیا اور یہی غفلت گھر کی بربادی کا سبب بنی۔ بھائیوں نے میرے گھر آنا اور میں نے لاہور (میکے) جانا بند نہ کیا۔ اسی دوران شہزاد کا تبادلہ لاہور ہو گیا۔ میں نے عابد کو اسکول داخل کروا دیا۔ اب جیسے ہی وہ اسکول جاتا، میں والدین کے گھر چلی جاتی۔ میں عابد کی چھٹی سے پہلے واپس آنا چاہتی، مگر بھائی اور ماں مجھے روک لیتے اور میں رک جاتی۔ یوں عابد اسکول سے واپسی پر مالک مکان کے گھر سو جاتا اور اکثر کچھ کھائے پیے بغیر ہی رہتا۔ میری گھر میں عدم دلچسپی اور عابد سے لاپرواہی دیکھ کر شہزاد مجھ سے دور ہونے لگے۔ وہ خاموش طبع انسان تھے، پھر بھی انہوں نے مجھے بہت سمجھایا، لیکن میں نہ سمجھی۔ عابد پر بھی میری اس روش کا منفی اثر پڑا اور وہ بگڑنے لگا۔ شہزاد عابد سے پیار کرتے تھے، مگر میری لاپرواہی سے بچہ محرومی کا شکار ہو گیا۔ شہزاد کو دفتر میں بھی عابد کی فکر رہتی۔ جس دن میں میکے نہ جاتی، بھائی خود آ کر مجھے لے جاتے۔ یہ سب دیکھتے ہوئے شہزاد نے اپنے بھائی فضل کو خط لکھا کہ وہ آ کر اپنا بیٹا لے جائے۔ اس طرح عابد واپس یورپ چلا گیا۔ شہزاد جو پہلے ہی دور تھے، عابد کے جانے کے بعد مزید کھچ گئے۔ شاہدہ اور اس کا میاں مجھے سمجھاتے، لیکن میری نادانی برقرار رہی۔

ایک دن جب میں گھر کو تالا لگا کر میکے آئی ہوئی تھی، تو شاہدہ کا فون آیا۔ وہ میرے گھر آئی تھی اور مالک مکان کے فون سے بات کر رہی تھی۔ میں نے اسے کہا کہ میں صبح آؤں گی، آپ وہیں رہ لیں۔ یہ بات انہیں بہت ناگوار گزری اور بات تھی بھی بری؛ وہ کسی اجنبی کے گھر کیوں رہتیں جب کہ میں آدھے گھنٹے کی مسافت پر تھی؟ شاہدہ اور اسلم اسی وقت واپس چلے گئے، لیکن اگلے ہی روز بھائی کے گھر ایک رجسٹری آگئی۔ کھولنے پر پتا چلا کہ میری بربادی اس میں بند تھی۔ یہ شہزاد کی طرف سے طلاق کا پہلا نوٹس تھا۔ میرے پیروں تلے سے زمین نکل گئی۔ میں نے خاوند کو بہت ڈھونڈا مگر بے سود۔ میں پنڈی بھی گئی اور شاہدہ کے سسرالیوں کے سامنے بہت روئی کہ میرا گھر بچا لیں، لیکن شہزاد فیصلہ کر چکے تھے۔ گھر کی چابیاں میرے پاس تھیں اور وہاں ضرورت کا تمام سامان موجود تھا۔ انہی دنوں میرے بڑے بھائی نے نیا بنگلہ بنایا تھا، اس نے مجھ سے چابیاں لیں اور سارا سامان اپنے گھر شفٹ کر لیا۔ شہزاد نے اس کے باوجود بھائیوں کے خلاف کوئی رپورٹ نہ کی، یہ ان کی شرافت تھی۔ سامان لینے کے بعد بھائیوں نے الٹا شہزاد پر مقدمہ کر دیا کہ اس نے بیوی کو تین سال سے چھوڑا ہوا ہے، سامان لے گیا ہے اور خرچہ بھی نہیں دیا۔

کچہری میں والد کے تعلقات کی وجہ سے کیس ہمارے حق میں ہوا اور مجھے طلاق ہو گئی۔ اس کے بعد شہزاد نے دوسری شادی کر لی اور ایک سال بعد صاحبِ اولاد بھی ہو گئے۔ کچہری کے اثر و رسوخ سے بھائیوں نے شہزاد کے خلاف یک طرفہ فیصلہ کروا لیا، جس کے مطابق انہیں تین سال کا خرچہ یعنی تین لاکھ روپے مجھے ادا کرنے تھے۔ جب مجھے پتا چلا کہ شہزاد یہ رقم بھی بخوشی دینے کو تیار ہیں، تو میرا ضمیر جاگ اٹھا۔ مجھے احساس ہوا کہ سارا قصور تو میرا تھا؛ اس شخص نے تو گھر بچانے کی بہت کوشش کی تھی، مگر میری لاپرواہی اور بھائیوں کے رویے نے سب چھین لیا۔ میرا گھر اجڑ گیا کیونکہ میں نے ایک محبت کرنے والے انسان کی قدر نہ کی۔ میں اس سزا کی حقدار تھی، لیکن اس کا ذمہ دار اپنے بھائیوں کو ٹھہراتی ہوں جن کی وجہ سے آج میں تنہا ہوں۔

آج جب میں یہ لکھ رہی ہوں، تو میری چھوٹی بہن بھی بھائیوں کے لاڈ پیار کی وجہ سے سامان سمیت میکے آ چکی ہے۔ یہ کیسے بھائی اور والدین ہیں جن کی محبت نے ہماری زندگیاں برباد کر دیں؟ اب میرے دل سے شہزاد اور ان کے بیٹے کے لیے دعا نکلتی ہے۔ انسان جس کے ساتھ زندگی گزاری ہو، اسے کیسے بھول سکتا ہے؟ وہ بیتے دن اب مجھے سانپ بن کر ڈستے ہیں۔ میرا بس چلے تو وقت کا پہیہ پیچھے گھما دوں۔ ماں باپ کا وہ گھر جس کے بغیر میرا دل نہیں لگتا تھا، اب اجنبی لگتا ہے۔ اس کے در و دیوار میرا مذاق اڑاتے محسوس ہوتے ہیں۔

طلاق ایک ایسی تلخ حقیقت ہے جس سے بہت سی عورتیں میری طرح نہ جیتی ہیں نہ مرتی ہیں۔ میں نے دل بہلانے کے لیے اسکول میں پڑھایا، مگر دھیان کہیں اور ہونے کی وجہ سے ملازمت چھوڑ دی۔ اب سنتی ہوں کہ شہزاد اپنی نئی بیوی اور بچے کے ساتھ بہت خوش ہیں، اور یہ ان کا حق بھی ہے۔ میں بد نصیب ان کے آنگن میں پھول نہ کھلا سکی، مگر وہ اتنے عظیم تھے کہ کبھی مجھے اس کا احساس نہ ہونے دیا۔ میں چاہتی تو اپنی جنت سنبھال سکتی تھی، مگر میں میکے کی خوشیوں میں مگن رہی۔ آج انہوں نے عدالتی رقم بھجوا دی ہے، دل کرتا ہے رقم واپس کر دوں اور معافی مانگوں، مگر شاید اب بہت دیر ہو چکی ہے۔ میری بہنوں سے یہی گزارش ہے کہ وقت رہتے اپنے گھر کی قدر کریں، ورنہ بعد میں صرف پچھتاوا ہی رہ جاتا ہے۔
 

Create an account or login to read stories

You must be a member in order to leave a comment

Create account

Create an account on our community. It's easy!

Log in

Already have an account? Log in here.

New posts
Back
Top