قسط نمبر50
ریاض عاقب کوہلر
اس وقت بے ہوشی کے عالم میں مجھے بہت گہری کھائی دکھائی دے رہی تھی ۔تیز بارش ہورہی تھی اور میں لمحہ بہ لمحہ کھائی کی طرف پھسلتا جارہا تھا ۔اپنے ہاتھوں کے ناخن چکنی زمین میں گھسیڑنے کے باوجود میں خود کو پھسلنے سے روک نہیں پا رہا تھا ۔اور پھر میں ایک دم کھائی میں لڑھک گیا خوش قسمتی سے آخری کوشش میں پتھر کا ایک ابھرا ہوا کنارہ میری انگلیوں کی گرفت میں آگیا تھا۔ اسے پکڑ کر میں ہوا میں لٹکنے لگا ۔نیچے دیکھنے پر حد نگاہ تک اس کھائی کی تہہ نظر نہ آئی ۔میرے ہاتھ سے پتھر کا کنارہ چھوٹنے کی دیر تھی اس کے بعد یقینا کھائی کی تہہ تک پہنچنے سے پہلے ہی میں نے رب کو پیارا ہو جانا تھا ۔میں نے اوپر اٹھنے کی کوشش کی مگر میرے بازوں میں جان ہی ختم ہو گئی تھی ۔موت لمحہ بہ لمحہ مجھے نگلنے کے لیے آگے بڑھ رہی تھی ۔پتھر کا کنارہ میرے ہاتھ سے چھوٹنا ہی چاہتا تھا کہ اچانک ایک جانب سے پلوشہ بھاگتی ہو ئی نمودار ہوئی ،اگلے ہی لمحے گھٹنوں کے بل بیٹھتے ہوئے اس نے میرے دائیں ہاتھ کو اپنے ملائم ہاتھ میں جکڑ لیا ۔دونوں ایڑیاں چکنی زمیں میں گاڑ کر اس نے پورا زور لگایا اور میں آہستہ آہستہ اوپر آنے لگا ۔ تھوڑی دیر بعد میں ہانپتا ہوااس کے پہلو میں لیٹا تھا ۔
”راجو !....مجھے آواز نہیں دے سکتے تھے ۔“وہ شکوہ کناں ہوئی ۔”اگر مجھے آنے میں تھوڑی دیر ہو گئی ہوتی تو آپ تو گئے تھے نیچے ۔“
”چندا میرا حلق ہی خشک ہو گیا تھا ۔منھ سے آواز ہی نہیں نکل رہی تھی ۔“
”ضروری تو نہیں کہ آپ منھ ہی سے پکارتے ،مجھے کسی اور طرح سے بھی تو متوجہ کر سکتے تھے نا۔“اس کا گلہ جاری رہا ۔”اگر آپ کو کچھ ہو جاتا تو پلوشہ کیسے زندہ رہ پاتی ۔“
میں مسکرایا ۔”گویا مجھ سے زیادہ اپنی موت کی فکر ہے ۔“
وہ بپھرتے ہوئے بولی ۔”ہاں ....ہاں ....ہاں اپنی موت کی فکر ہے ،کیونکہ میرے راجو کے لیے میری زندگی بہت اہمیت کی حامل ہے ۔“
”چندا !....خفا تو نہیں ہوتے ،اب بتاﺅ نہ ایسی حالت میں تمھیں کیسے متوجہ کرتا ۔“
وہ منھ بناتے ہوئے بولی ۔”آپ کے پاس پستول بھی موجود تھا ،اس سے ہوائی فائر کر لیتے۔“
”اوہ ....اس کا تو خیال ہی نہیں رہا تھا ۔“میں نے افسوس بھرے انداز میں سر ہلایا۔
”خیال ہی نہیں رہا تھا ۔“وہ مجھے چڑاتے ہوئے کھڑی ہو گئی ۔اسے یہ بھول گیا تھا کہ زمین کتنی چکنی اور پھسلن زدہ ہے ۔کھڑے ہوتے ہی اس کا پاﺅں پھسلا اور وہ کھائی میں گرتی چلی گئی ۔میں نے ایک دم اسے گرفت میں لینا چاہا مگر کھائی کے اندھیرے اسے نگل گئے تھے ۔میری سماعتوں میں بس اس کی آخری چیخ ہی گونجتی رہ گئی تھی جو وہ میرا نام پکارتے ہوئے چیخی تھی ۔
”راجو....................“اس کے ساتھ ہی مجھے ہوش آگیا ۔اس حالت میں بھی اس بھیانک سپنے سے میرا دل دھک دھک کر رہا تھا ۔میرے ہونٹوں اور زبان پر فوراََ برے خواب کے شر سے بچنے کی دعا مچل گئی اور اس کے ساتھ ہی میرے دماغ میں پلوشہ کی تجویز گونجی ۔
”آپ کے پاس پستول بھی تو موجود تھا ۔آپ ہوائی فائر بھی تو کر سکتے تھے ۔“گویا وہ میرے خواب میں مجھے اس صورت حال سے نمٹنے کی تجویز ہی تو بتانے آئی تھی ۔میں کوشش کر کے اپنا بازو کمر کی طرف لے گیا جہاں میں نے نیفے میں گلاک نائینٹین اڑسا ہوا تھا ۔پستول کو پکڑنے کے لیے مجھے دستانہ اتارنا پڑا تھا ۔میری انگلیاں بس تھوڑی تھوڑی حرکت ہی کر پا رہی تھیں ،بہ مشکل پستول کا دستہ پکڑ کر میں نے پستول کو باہر کھینچا ۔اب پستول کو کاک کر نے کا مشکل مرحلہ درپیش تھا ۔بڑی مشکل سے میں نے دستانے والے ہاتھ کو پستول کے اوپر ٹیک کر اس کی سلائیڈ کو پیچھے کی جانب کھینچنا چاہا مگر کامیاب نہیں ہو سکا تھا ۔دو تین منٹ کی کوشش کے بعد اچانک مجھے یاد آیا کہ میں نے کلاشن کوف کاک کر کے کندھے سے لٹکائی تھی ۔لیکن پھر مجھے یاد آیا کہ کلاشن کوف تو میں چند گز پیچھے پھینک آیا تھا اور وہاں تک پہنچنا میرے لیے ممکن نہیں رہا تھا ۔میں دوبارہ پستول کے ساتھ مغز ماری کرنے لگا ۔چند لمحوں کی کوشش کے بعد سلائیڈ ہلکا سا پیچھے کو کھسکی میں نے ہاتھ پر مکمل زور دے دیا تھا اور پھر وہ مشکل مرحلہ بھی طے ہو گیا ۔سلائیڈ مکمل پیچھے دھکیل کر میں نے اس پر سے ہاتھ ہٹایا ۔سلائیڈ ایک جھٹکے سے آگے بڑھی اور پستول کاک ہو گیا ۔
میں نے ٹریگر گارڈ میں شہادت کی انگلی ڈال کر پستول کی بیرل کا رخ سامنے کی طرف کرتے ہوئے ٹریگر کھینچ لیا۔ دھماکے کے ساتھ میرے ہاتھ کو جھٹکا لگا۔ گولی فائر ہونے کی آواز سے ماحول گونج اٹھا تھا ۔میں نے ایک گولی پر اکتفا نہیں کیا تھا ۔دوسری ،تیسری اور چوتھی بار بھی میں ٹریگر دباتا گیا ۔ہر بار مجھے اتنا ہی زور لگانا پڑا جتنا کہ ایک گہرے کنویں سے پانی کا بڑا ڈول کھینچنے والے شخص کو لگانا پڑ تا ہے۔چوتھی بار ٹریگر دبا کر میں نے بے دم ہو کر اپنی کہنیوں پر سر ٹیک دیا ۔اس کے بعد میری ہمت جواب دے گئی تھی ۔ کئی لمحے بیت گئے یا شاید مجھے ہی لگ رہا تھا کہ وقت تھم گیا ہے ۔ دروازے پر آہٹ ہوئی کسی نے کچھ پکارا تھا مگر شایدمیری سماعتوں نے بھی کام چھوڑ دیا تھا ۔پھر میری آنکھوں نے روشنی کی جھلک دیکھی ۔اور میں نے آنکھیں بند کر لیں ۔
دو ہاتھوں نے مجھے بازو سے پکڑ کر جھنجوڑا ....اور میرے کانوں کے قریب ہی ایک نسوانی آواز آئی ....”ہوش میں.... آﺅ اٹھو ....“شاید وہ اکیلی عورت مجھے اٹھا نہیں پا رہی تھی ۔
”مم.... میں حرکت نہیں کر سکتا ۔“میں زیر لب بڑبڑا کر رہ گیا تھا ۔مجھے مدد بھی ملی تھی تو ایک کمزور عورت کی جو مجھے اٹھا بھی نہیں سکتی تھی ۔
وہ دروازے کی طرف منہ کر کے زور سے چلائی ۔”رنڑا....رنڑا ،بھائی کو ساتھ لے کر یہاں آﺅ ۔“
چند لمحوں بعد مجھے قریب سے ایک لڑکی آواز سنائی دی ۔”جی باجی !....“شاید وہ اس کی چھوٹی بہن تھی ۔
”تم دونوں اس کی ٹانگوں سے پکڑو ،میں بازو تھامتی ہوں ،یہ بے ہوش ہے ،اگر کچھ دیر ایسے پڑا رہا تو زندہ نہیں بچے گا ۔“
”ٹھیک ہے باجی ۔“اس مرتبہ ایک لڑکے کی آواز آئی تھی ۔اور پھر میرا جسم ذرا سا زمین سے بلند ہوا اور وہ مجھے اندر لے جانے لگے ۔طویل صحن عبور کر کے وہ ایک کمرے میں داخل ہوئے ۔کمرے میں انگھیٹی روشن تھی ۔ایک دم مجھے لگا میں جنت میں پہنچ گیا ہوں ۔
”رنڑا جلدی سے خالی چارپائی پر بستر بچھاﺅ ۔اور پیٹی سے موٹے والا لحاف بھی نکال لاﺅ۔“
”جی باجی !“رنڑا سعادت مندی سے بڑی بہن کے حکم پر عمل کرنے لگی ۔
وہ چھوٹے بھائی کو مخاطب ہوئی ۔”ثمر خان !....بھاگ کر باورچی خانے سے چھری اٹھا لاﺅ اس کا گیلااور اکڑا ہوالباس کاٹ ہی کر جسم سے اتارنا پڑے گا۔“
”کون ہے گلگارے بیٹی !“کسی مرد کی تکلیف میں ڈوبی ہوئی آواز میرے کانوں میں پڑی۔
”بابا جان !....کوئی اجنبی ہے ۔فائر کی آواز سن کر میں باہر نکلی تو یہ دروازے پر بے سدھ پڑا تھا ۔شاید ہمیں متوجہ کرنے کے لیے ہی اس نے فائر کیے تھے ۔“باپ کو تفصیلی جواب دیتے ہوئے بھی وہ مسلسل میرا کوٹ اتارنے کی کوشش کر رہی تھی ۔مگر کوٹ بالکل اکڑ گیا تھا ۔اسی وقت اس کا بھائی ثمر خان بھاگتا ہوا وہاں پہنچا ۔
”یہ لیں باجی !“اس نے یقینا بہن کی طرف چھری بڑھائی تھی ۔چھوٹے بھائی کے ہاتھ سے چھری لے کر اس نے جلدی سے میرا کوٹ کاٹنا شروع کر دیا ،کوٹ کے بعد اس نے قمیص اور بنیان بھی کاٹ کر میرے جسم سے علاحدہ کر دی اور پھر اپنا دوپٹا میرے درمیانی جسم پر ڈال کر اس نے میرا زیریں لباس بھی کاٹ کر جسم سے علاحدہ کر دیا تھا ۔میں نیم وا آنکھوں سے اس دوشیزہ کی کارروائی دیکھ رہا تھا ۔مگر میرا جسم حرکت سے معذور تھا ۔میری جان بچانے کے لیے وہ جس حوصلے کا مظاہرہ کر رہی تھی اتنی جرّات کم ہی لڑکیوں کا خاصا ہوتی ہے ۔جتنی دیر میں وہ لباس کاٹ کر میرے جسم سے علاحدہ کرتی اتنی دیر تک اس کی چھوٹی بہن رنڑا ایک موٹا لحاف چارپائی پر بچھا کر دوسرا لحاف میرے اوپر ڈالنے کے لیے تیار کر چکی تھی ۔
”اسے اٹھانے میں میری مدد کرو ۔“اس نے چھوٹی بہن کو آوازدی ۔ایک مرتبہ پھر تینوں نے مل کر مجھے اٹھایا اور نرم بستر پر لٹا دیا ۔اس کے ساتھ ہی گلگارے بی بی نے مجھے وہ موٹا لحاف اوڑھا دیا ۔ خوش گوار حدت میری رگوں میں اترنے لگی تھی ۔
”ثمر خان انگیٹھی میں اور لکڑیاں ڈالو ۔“چھوٹے بھائی کو کہہ کر وہ بہن کو مخاطب ہوئی۔ ”رنڑا!.... دودھ میں ہلدی ڈال کر گرم کر کے لے آﺅ ۔“
وہ دونوں ۔”جی باجی ۔“کہتے ہوئے کمرے سے نکل گئے تھے ۔وہ خود لحاف کے کونوں کو موڑ کر میرے جسم کے نیچے دینے لگی تاکہ لحاف مکمل بند ہو جائے ۔اور ہوا کا گزر بالکل ممکن نہ رہے ۔
میرے جسم میں اٹھنے والا درد تاحال پہلے کی طرح ہی باقی تھا ۔گو گلگارے بی بی نے بہت اچھے طریقے سے مجھے سنبھالا تھا ۔میرا گیلا لباس اتار کر مجھے لحاف اوڑھانے کے بہ جائے اگر وہ براہ راست مجھے انگھیٹی کے قریب ڈال دیتی تو بلا شبہ میرے جسم کو ناقابل تلافی نقصان پہنچنے کا خطرہ تھا ۔ٹھنڈ لگنے والے شخص کو یوں ایک دم آگ کے قریب لے جانا بالکل ہی غلط ہے ۔البتہ مجھے لحاف اوڑھا کر انگھیٹی کی آگ کو زیادہ سے زیادہ دہکانا بہت مناسب تھا ۔یقینا ٹھنڈے علاقے سے تعلق رکھنے کے باعث اسے معلوم تھا کہ ٹھنڈ کا شکار ہونے والے شخص کو کیسے سنبھالا جاتا ہے ۔
میں نے آہستہ آہستہ ہاتھوں کی انگلیوں کو حرکت دینے شروع کر دی تھی ۔میرے پاﺅں ابھی تک سن تھے ۔البتہ نچلے دھڑ میں شدید درد ہو رہا تھا ۔اور ایسا ہونا میرے لیے تسلی کا باعث تھا ۔درد کا احساس ہونے کا مطلب یہی تھا کہ میرا جسم ٹھیک تھا ۔میں پاﺅں کی انگلیوں کو حرکت دینے کی کوشش کرنے لگا ۔آہستہ آہستہ میرے پاﺅں میں بھی درد کا احساس جاگنے لگا تھا ۔میرے کانوں میں اس مرد کے کراہنے کی آواز پہنچی غالبا وہ بھی کسی قسم کی تکلیف میں مبتلا تھا ۔
اسی وقت رنڑا ہلدی ملا دودھ لے کر پہنچ گئی ۔میرے چہرے سے تھوڑی سی رضائی کھسکا کر گلگارے بی بی نے میرا منھ باہر نکالا اور میرے سر کے نیچے تکیہ رکھ کر ایک بڑے چمچ سے ہلدی ملا دودھ مجھے پلانے لگی ۔اس نے مجھے رضائی سے باہر نکالنے کی کوشش نہیں کی تھی۔ہلکا گرم دودھ میرے جسم میں جس جس جگہ تک جارہا تھا مجھے اس کابہاﺅ محسوس ہو رہا تھا ۔میں دودھ کا پورا کٹورا خالی کر گیا تھا ۔دودھ نے مجھے بہت تقویت پہنچائی تھی ۔
دودھ پلا کر اس نے میرا چہرہ دوبارہ ڈھانپ دیا ۔
”رنڑا !....ثمر خان کو ساتھ لے جا کرڈربے سے وہ بڑا چوزہ پکڑ لاﺅ ۔“وہ چھوٹی بہن کو مخاطب تھی ۔
”کیوں باجی !“یقینا اس کی بات سن کر رنڑا حیران ہوئی تھی ۔
”اسے ذبح کر کے یخنی بنانا ہے ۔جب تک اسے اندر سے گرمی نہیں پہنچے گی اس کی سردی دور نہیں ہو گی ۔“
”اچھا باجی !“کہہ کر وہ ثمر خان کو ساتھ چلنے کا کہنے لگی ۔
میرا دل اس کے لیے شکر گزاری کے احساسات سے بھر گیا تھا ۔ وزیرستان کے لوگ غریب ہونے کے باوجود بہت زیادہ مہمان نواز تھے ۔ایک اجنبی کی اتنی زیادہ خدمت اور دیکھ بھال یقینا مہمان نوازی کا منھ بولتا ثبوت تھی۔
چوزہ اس نے خود ہی ذبح کیا تھا ۔میں بس سماعتوں ہی سے ان کی حرکات کا اندازہ لگا رہا تھا ۔ اس دوران ان کے باپ کی کراہتی ہوئی آواز بھی میرے کانوں میں پڑ جاتی ۔وہ مسلسل نہیں کراہ رہا تھا ۔ بلکہ مجھے یوں محسوس ہورہا تھا جیسے کروٹ تبدیل کرنے یا ہلتے جلتے وقت اسے تکلیف پہنچتی تھی ۔
تھوڑی دیر بعد ہی وہ میرے لیے یخنی بھی بنا کر لے آئی تھی ۔کالی مرچ اور نمک کے علاوہ اس نے اس میں کچھ نہیں ڈالا تھا ۔ایک مرتبہ پھر اس نے میرے چہرے سے لحاف ہٹا کر مجھے اپنے ہاتھوں سے یخنی پلائی ۔دیسی چوزے کی یخنی پیتے ہی آہستہ آہستہ میرے پاﺅں کی انگلیوں میں بھی درد کا احساس ہونے لگا ۔جو اس بات کا مظہر تھا کہ میرے پاﺅں پہلے سے بہتر ہو رہے تھے ۔
ہاتھوں کا درد تو ختم ہو چکا تھا ۔میں بار بار مٹھیاں بھینچ کر ہاتھوں کی ورزش کرنے لگا ۔ٹانگوں کا درد بھی آہستہ آہستہ زائل ہو رہا تھا ۔
میری سماعتوں میں لکڑیوں کی کھٹ پٹ آنے لگی ۔یقیناوہ انگھیٹی میں مزید لکڑیاں ڈال رہی تھی۔
”تم دونوں اب اپنے کمرے میں جا کرسو جاﺅ۔“انگھیٹی میں لکڑیاں ڈال کر وہ چھوٹے بہن بھائی کو مخاطب ہوئی تھی۔
”جی باجی !“انھوں بیک زبان ہی کہا تھا ۔لگتا تھا دونوں بہن بھائی کے نزدیک باجی کا حکم حرف آخر کی حیثیت رکھتا تھا ۔
”بابا جان !....قہوہ پیئیں گے ۔“اس مرتبہ وہ باپ کو مخاطب ہوئی تھی ۔
”نہیں بیٹی !....اب بس آرام کرو ۔“
اس نے جلدی سے کہا ۔”تھوڑا سا پی لینا باباجان !....یوں بھی مہمان کے لیے بنانے لگی ہوں ۔“
پہلے ہلدی ملا دودھ ،پھر یخنی اور اب گرم قہوہ وہ مسلسل گرم مشروبات میرے معدے میں انڈیل کر سردی کے خلاف میری قوت مدافعت کو بڑھا رہی تھی ۔ہمیں بھی سردی سے نمٹنے کے لیے جو طریقے پڑھائے گئے تھے ان میں متاثرہ شخص کے جسم کو گرم کرنے کے لیے گرم ماحول اور لباس کے ساتھ زیادہ سے زیادہ گرم مشروبات پلانے کے بارے بھی ہدایات کی گئی تھیں ۔
اس کے باپ نے کہا ۔”ٹھیک ہے بیٹی !“اور اس کے قدموں کی آواز کمرے سے باہر جانے لگی ۔
اب میرے بازوﺅں میں جان پڑ گئی تھی ۔ٹانگوں کا درد بھی مدہم ہونے لگا تھا اور پاﺅں بھی حرکت کرنے لگے تھے ۔البتہ دونوں پاﺅں اور پنڈلیوں میں ہلکا ہلکادرد ضرور محسوس ہو رہا تھا ۔
”یہ لیں بابا جان !“وہ شاید قہوے کی پیالی اپنے باپ کے حوالے کر رہی تھی ۔کراہتی ہوئی آواز میں میں نے شکریہ کے الفاظ سنے اور پھر اس کے قدموں کی آواز میری چارپائی کی طرف بڑھ گئی ۔
پہلے کی طرح ہی اس نے مجھے قہوہ بھی پلایا اور اس کے ساتھ ہی اس کی نرم آواز میری سماعتوں میں گونجی ....
”اب کیسا محسوس ہو رہا ہے ؟“
”پہلے سے بہت بہتر لگ رہا ہے ۔اللہ پاک آپ کواور آپ کے گھرانے کو دنیا اور آخرت کی عزت اور کامیابی دے۔“میرے دل سے خلوص بھری دعا نکلی تھی ۔
”آمین ۔“کہتے ہوئے اس کے ہونٹوں پر ہلکا سا تبسم ابھرا شاید اسے میرے دعائیہ انداز پر ہنسی آئی تھی ۔وہ تیکھے نقوش اور گہری نیلی آنکھوں والی خوب صورت دوشیزہ تھی ۔اس قدر نیلی آنکھیں میں زندگی میں پہلی بار دیکھ رہا تھا ۔میری ناگفتہ بہ حالت دیکھ کر وہ میرے اتنے قریب ہوئی تھی ورنہ شاید میں اس کا چہرہ بھی نہ دیکھ پاتا ۔اس کا اور میرا حساب بالکل ڈاکٹر اور مریض کا سا تھا ۔
میرے چہرے کو ایک بار پھر ڈھانپ کروہ کمرے باہرسے نکل گئی ۔واپسی پر اس نے میرے چہرے پر سے لحاف اتارے بغیر مجھے مخاطب کرتے ہوئے کہا ۔
”سرھانے کے ساتھ کپڑوں کا جوڑا رکھ دیا ہے ۔جونھی خود کو اس قابل سمجھو کہ کپڑے پہن سکو یہ پہن لینا ۔اور کسی چیز کی ضرورت ہو تو مجھے آواز دے لینا میں ساتھ والے کمرے میں ہوں اور جاگ رہی ہوں ۔“
میں نے لحاف منہ سے اتارے بغیر دھیمے لہجے میں کہا ۔”ٹھیک ہے بہن،شکریہ ۔“
اس کے جانے کے بھی میں اسی طرح لیٹا رہا ۔قریباََگھنٹے بھر بعد ایک بار پھر میری سماعتوں میں قدموں کی چاپ گونجی،جو انگھیٹی کے ساتھ جا کر رک گئی تھی ۔لازماََ وہ انگھیٹی میں لکڑیاں ڈالنے آئی تھی ۔لکڑیاں ڈال کر وہ واپس لوٹ گئی ۔میں اب بہت بہتر محسوس کر رہا تھا ۔لحاف کا کونہ الٹا کر میں نے باہر جھانکا ۔وہ کافی بڑا کمرہ تھا ۔کمرے کے ایک کونے میں درمیانی سی انگھیٹی لگی ہوئی تھی ۔جس میں جلنے والی آگ کی تپش سے کمرے میں خوشگوار حدت پھیلی ہوئی تھی ۔انگھیٹی کے مخالف کونے میں لالٹین لٹکی تھی جس کی زرد روشنی کمرے میں پھیلے اندھیرے کے ساتھ برسرِ پیکار تھی ۔لالٹین کے نیچے ایک چوڑی چارپائی پڑی تھی جس پر ایک ادھیڑ عمر شخص لیٹا نظر آیا ۔سر کے علاوہ اس کا باقی جسم موٹے لحاف میں پوشیدہ تھا ۔اس کے چہرے پر گھنی داڑھی نظر آرہی تھی ۔وہ آنکھیں کھولے جانے چھت کی کڑیوں میں کیا تلاش کر رہا تھا ۔اس کی چارپائی کے علاوہ بھی کمرے میں تین چارپائیاں رکھی تھیں جن میں سے ایک پر تو میں لیٹا تھا اور دو پارپائیاں خالی پڑی تھیں ۔ان پر بستر بھی نہیں بچھے تھے ۔
ایک سرسری نظر کمرے میں دوڑا کر میں نے سرھانے کے ساتھ رکھے کپڑے اٹھائے اور لحاف کے اندر ہی زیریں لباس ڈالنے لگا ۔شلوار پہن کر میںاٹھ بیٹھا اور قمیص ڈال کر دوبارہ لحاف میں غائب ہو گیا ۔دودھ اور یخنی سے میری بھو ک کافی حد تم مٹ گئی تھی مگر اب آہستہ آہستہ دوبارہ بھوک محسوس ہونے لگی تھی ،سردی میں یوں بھی بھوک زیادہ لگتی ہے اور مجھے تو کھانا کھائے چوبیس گھنٹے ہونے کو تھے ۔ لیکن مسئلہ یہ تھا کہ میں گلگارے بی بی کو نیند سے اٹھا کر کیسے کہتا کہ مجھے بھوک لگی ہے کھانے کو کچھ لاﺅ۔پہلے بھی اس نے اتنا کچھ کیا تھا اب وہ غریب سو رہی تھی تو مجھے بھوک لگ گئی تھی۔میں نے اسے آواز نہ دینے کا فیصلہ کر لیا تھا مگر میرے اس فیصلے پر اس نے خود ہی پانی پھیر دیا ۔وہ دوبارہ انگھیٹی میں لکڑیاں ڈالنے آئی تھی مجھے جاگتے پا کر وہ سر پر دوپٹا ٹھیک کرنے لگی ۔میں نے بھی اس کے دلکش سراپے سے نگاہیں پھیرکر مخالف جانب دیکھنے لگا ۔ وہ میری محسن تھی ۔اسے سبب بنا کر اللہ پاک نے مجھے دوبارہ زندہ رہنے کا موقع عطا فرمایا تھا ۔میں اس کی جتنی عزت اور احترام کرتا کم تھا ۔یوں بھی مجھے نظروں کی حفاظت کرنا آتا تھا ۔ آج اگر میں پرائی عزت پر ایسی ویسی نظریں گاڑتاتو یقینا میری پلوشہ بھی کسی بدنیت کی گندی نظروں کا شکار بنتی۔
انگھیٹی میں لکڑیاں ڈال کر وہ لوٹی اور میرے قریب رکتے ہوئے پوچھنے لگی ....”کسی چیز کی ضرورت ہے ۔“
”نہیں شکریہ ۔“
”بھوک تو نہیں لگی ؟“پتا نہیں اس نے میرے بھوکا ہونے کا اندازہ لگالیا تھایا روایتی مہمان نوازی کا مظاہرہ کر رہی تھی ۔
’کوئی خاص نہیں ،آپ کو زحمت ہو گی ۔“یہ کہتے ہوئے بھی میں اس کی جانب دیکھنے سے گریز کر رہا تھا ۔
”ارے ،زحمت کیسی ....ابھی لائی ۔“مجھے محسوس ہوا کہ ایسا کہتے ہوئے وہ متبسم ہوئی تھی ۔ اپنے انکار پر ثابت قدم رہ کر میں صبح تک پیٹ کا واویلا نہیں سن سکتا تھا ۔اس لیے خاموش رہااور وہ کمرے سے باہر نکل گئی ۔ہمارے مکالمے سے اس کے والد کی آنکھ کھل گئی تھی ۔یا شاید وہ پہلے ہی سے جاگ رہا تھا اور مجھے سوتا سمجھ کر بات نہیں کر رہا تھا ۔
”جوان اب طبیعت کیسی ہے ؟....اور کیا ہوا تھا ؟“
”الحمداللہ ،ٹھیک ہوں چچا جان !....اورہونا کیا تھا کل صبح برف باری میں پھنس گیا ،بڑی تلاش کے بعد بھی کوئی جائے پناہ نہ ڈھونڈ سکا ،یہاں تک کہ جان کے لالے پڑ گئے ،بس اتفاق ہی تھا کہ آپ کے دروازے تک آپہنچا اورکچھ سانس باقی تھے جو گلگارے بہن کی مدد مل گئی ۔اللہ پاک اسے اجر دے ،عزت اور سلامتی دے ۔“
”آپ کا نام کیا ہے ،آپ اس علاقے کے تو نہیں لگتے ۔“
میں نے اثبات میں سر ہلاتے ہوئے کہا ۔”ذیشان نام ہے اورمیں واقعی اس علاقے کا نہیں ہوں ۔یہاں مجھے اپنے ساتھیوں کی تلاش کی جستجولے آئی ہے۔“
”میرا نام شمریز خان ہے اور اگر آپ کے ساتھی گم ہو گئے ہیں تو شاید انھیں ڈھونڈنا اتنا آسان نہ ہو ۔“اس نے بلا جھجک حقیقت کا اظہار کر دیا تھا ۔
”مگرکوشش تو کرنا چاہیے نا ....ناکامی کے خوف سے ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے رہنا بزدلی کہلاتا ہے ۔“
اس نے متبسم ہوتے ہوئے پشتو کہاوت بولی ۔”کہ غر سومرہ ہم لوڑ وی پہ سر پہ لار وی ۔“ (پہاڑ جتنا بھی اونچا ہو اس پرچڑھنے کا رستا ضرور ہوتا ہے )مگر اس کی ہنسی میں بھی تکلیف کا عنصر واضح چھلک رہا تھا ۔
”صحیح کہا ۔“میں نے اثبات میں سر ہلاتے ہوئے پوچھا۔”ویسے برا نہ منائیں تو پوچھ سکتا ہوں کہ آپ کو ہوا کیا ہے ؟“
”باباجان کوٹانگ میں گولی لگی ہے ۔“چھابے میں گرم روٹیاں اور سالن کا کٹورا رکھے گلگارے بی بی نے اندر داخل ہوتے ہی والد سے پہلے میری بات کا جواب دیا ۔
”کب ،کیسے ؟“میں نے حیران ہو کر پوچھا ۔
”پرسوں ....“لکڑی کی چھوٹی سی میز پر چھابہ رکھ کر اس نے وہ میز اٹھا کر میری چارپائی کے ساتھ رکھ دی ۔”رنڑا اور ثمر خان گھر سے باہر خشک لکڑیاں چن رہے تھے اسی وقت دو آوارہ گرد وہاں سے گزر ے ۔ان بدبختوں نے رنڑا کو اکیلا سمجھ کر پکڑنا چاہا ،رنڑا چیختی ہوئی گھر کی جانب بھاگی ،رنڑا کی چیخیں سن کر باباجان ہتھیار لے کر باہر نکلے ،وہ تینوں میری چھوٹی بہن کا پیچھا کر رہے تھے ۔ ابو جان نے فوراََ ہوائی فائر کیا ،جسے سنتے ہی وہ جوابی فائر کرتے ہوئے وہاں سے بھاگ گئے ۔ باباجان بھی ان کے فائر کا جواب دیتے رہے ،ان بزدل اچکوں کو تو معلوم نہ ہو سکا مگر اس دوران ابوجان کی ٹانگ میں ایک گولی لگ گئی تھی ۔میں اس وقت باورچی خانے میں تھی ۔فائرنگ کی آواز سن کر میں بابا جان کی مدد کو پہنچی مگر وہ وہاں سے غائب ہو گئے تھے۔ہم بابا جان کو اٹھا کر اند ر لے آئے۔سہ پہر ڈھلنے کو تھی ۔ ہم نے سوچا اگلی صبح بابا جان کو ڈاکٹر کے پاس لے جائیں گے کہ ایک تو تھوڑی دیر میں اندھیرا ہونے والا تھا دوسراخان کلے یہاں سے کافی فاصلے پر ہے ۔مگر آج صبح جب ہم آگے جانے کے لیے تیار ہوئے تو موسم خراب ہو گیا اور ہمارا ارادہ پھر دھرے کا دھرا رہ گیا ۔“
”کیا گولی ٹانگ کے اندر ہی ہے ؟“میں نے کھانے کی طرف متوجہ ہوتے ہوئے پوچھا ۔
”جی ....“گلگارے نے اثبات میں سر ہلادیا۔
”ہونہہ!“کہہ کر میں روٹی کا گرم نوالہ توڑ کر منھ کی جانب لے جانے لگا ۔سالن میں اس نے اسی یخنی کو تڑکا لگا کر میرے سامنے رکھ چھوڑا تھا ۔نوالہ چباتے ہوئے میں نے پوچھا ۔”اب موسم کی کیا صورت حال ہے ؟“
”ہوا تو قریباََ رک گئی ہے مگر برف باری جاری ہے ۔“اس نے والد کی چارپائی کے قریب پڑی ہوئی خالی چارپائی پر نشست سنبھال لی تھی ۔
”میرا کچھ سامان باہر رہ گیا تھا ۔کہیں وہ برف ہی میں نہ دب جائے ۔“
”آپ کا پستول تو میں لے آئی تھی ، اس کے علاوہ کیا ہے ۔“
چند گز پیچھے ڈھلان کی جانب میرا سفری تھیلا اور کلاشن کوف پڑی تھی ۔“
” ابھی لائی ۔“وہ اٹھ کر باہر کی جانب بڑھ گئی ۔
”صبح لے آنا ....“میں نے رسمی انداز میں اسے روکنے کی کوشش کی مگر وہ سنی ان سنی کرتے ہوئے باہر نکل گئی ۔میرے روٹی کھانے سے پہلے ہی وہ ہاتھوں میں میرا تھیلا اور کلاشن کوف پکڑے واپس لوٹ آئی تھی ۔تھیلے کے اوپر پڑی نرم برف کو اس نے باہر ہی جھاڑ دیا تھا ،لیکن خود تھیلے کا مضبوط کپڑا گیلا ہو کر اکڑ گیا تھا ۔تھیلے کو انگھیٹی کے سامنے رکھ کر اس نے کلاشن کوف کو دیوار کے ساتھ کھڑا کر دیا ۔اور خود انگھیٹی کے سامنے ہاتھ پکڑ کر کھڑی ہو گئی ۔اس نے موٹا اونی کوٹ پہنا ہوا تھا مگر گرم کمرے سے نکل کر باہر کا رخ کرنے والے سے سردی صحیح حال پوچھتی تھی ۔
میں نے ممنونیت سے کہا ۔”بہت شکریہ ۔“
”ویسے آپ اس طوفان میں کیسے پھنسے ؟“اس نے بھی وہی سوال پوچھا جو پہلے اس کا والد پوچھ چکا تھا ۔جواباََ میں نے وہی باتیں دہرا دیں جو اس کے باپ کو بتائی تھیں ۔اپنی بات کے اختتام تک میں کھانے سے فارغ ہو گیا تھا ۔
برتن سمیٹتے ہوئے وہ پوچھنے لگی۔”کچھ اور چاہیے ؟“
میں نے جھجکتے ہوئے کہا ۔”اگر دودھ والی چاے مل جاتی ....“
”کیوں نہیں ....“خوش دلی سے کہتے ہوئے وہ باپ کی جانب متوجہ ہوئی ۔”بابا جان !.... آپ چاے لیں گے ۔“
اس نے کراہتے ہوئے کہا ۔”بنا رہی ہو تو پی لوں گا ۔“
”شمریزچچا!ایک بات کہوں خفا تو نہیں ہوں گے ۔“
”کھل کر کہوذیشان میاں ۔“وہ بس مسکرانے کی کوشش ہی کر پایا تھا ۔
”جب تک ٹانگ سے گولی نہیں نکلے گی آپ یونھی تکلیف محسوس کرتے رہیں گے ۔بلکہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ زخم مزید بگڑتا جائے گا ۔زیادہ وقت گزرنے پر آپ کو ناقابل تلافی نقصان بھی پہنچ سکتا ہے ۔“
وہ افسردہ لہجے میں بولا ۔”جانتا ہوں ،مگر کیا کیا جاسکتا ہے ۔جب تک موسم ٹھیک نہیں ہو جاتا ہم خان کلے تک نہیں پہنچ سکتے ۔اور گولی بھی نہیں نکل سکتی ۔“
میں نے کہا ۔”اگر تھوڑی تکلیف برداشت کر لو تو شاید میں بھی یہ گولی نکال لوں ۔“
”تکلیف تو اب بھی برداشت کر رہا ہوں ۔“
”اس سے توکچھ زیادہ ہو گی ....لیکن ان شاءاللہ اس کے بعد آرام ضرور آجائے گا اور آپ کو خان کلے جانے کی ضرورت بھی نہیں پڑے گی ۔“
”مگر آپ یوں بغیر کسی اوزار کے ........میرا مطلب ہے گولی ہے کوئی کانٹا تو نہیں ہے کہ سوئی کے ساتھ نکل آئے ۔“اس کے لیے میری آفر حیرانی کا باعث بنی تھی ۔
”یہ میرا درد سر ہے،آپ برداشت کرنے والے بنیں ۔“
وہ فلسفیانہ لہجے میں بولا ۔”سر پر پڑی مصیبت کوجھیلنا پڑتا ہے ۔“
”ٹھیک ہے صبح روشن ہونے پر ان شاءاللہ آپ کی ٹانگ سے گولی نکالوں گا ۔“یہ کہہ کر میں چارپائی سے اٹھ کر اپنے سفری تھیلے کی جانب بڑھ گیا ۔دیوار سے لٹکی جائے نماز اتار کر میں نے انگھیٹی کے سامنے بچھائی اور اپنا تھیلا کھول کر سارا سامان باہر نکال کر جائے نماز پر رکھنے لگا ۔وہ سفری تھیلا پیرا شوٹ کے مضبوط کپڑے کا بنا ہوا تھا اس کے باوجود نمی کا اچھا خاصا اثر اندر پہنچا تھا ۔البتہ تھیلے کے اندر رکھی ہوئی ضروری اشیا چونکہ پلاسٹک کے لفافوں میں بند تھیں اس لیے انھیں کوئی نقصان نہیں پہنچا تھا ۔ورنہ ابتدائی طبی امداد کے تو سارے سامان نے برباد ہو جانا تھا ۔سامان کو انگھیٹی کے سامنے پھیلا کر رکھنے کے بعد میں نے کلاشن کوف کو بھی مکمل کھول کر اس کے پرزے خشک ہونے کے لیے انگھیٹی کے سامنے رکھ دیے تھے ۔ اسی اثناءمیں گلگارے چاے کی پیالیوں کے ساتھ پہنچ گئی تھی ۔چاے کی کیتلی کے ساتھ وہ تین خالی پیالیاں لے آئی تھی ۔ہمیں ایک ایک پیالی پکڑا کر اس نے تیسری پیالی میں اپنے لیے چاے انڈیل لی ۔
چاے بہت اچھی بنی تھی ،بس میٹھا ذرا زیادہ ہو گیا تھا ۔چاے پی کر میں نے گلگارے سے کوئی پرانا خشک کپڑا اور اپنا پستول مانگا ۔اور وہ سر ہلاتے ہوئے چاے کے برتن سمیٹ کر کمرے سے باہر نکل گئی ۔ اس کی آمد ایک پرانی زنانہ قمیص اورگلاک نائینٹین کے ساتھ ہوئی تھی ۔
اس کے ہاتھ سے پراناکپڑا لے کر میں نے کلاشن کوف اور پستول کے پرزوں کو اچھی طرح خشک کیا ۔دونوں ہتھیاروں کی میگزینوں سے گولیاں نکال کر انھیں بھی خشک کیا اور تمام سامان کو انگھیٹی کے سامنے مزید خشک ہونے کے لیے رکھ کر رضائی میں گھس گیا ۔گلگارے کافی دیر کی اپنے کمرے کی طرف چلی گئی تھی ۔شمریز خان بھی اونگھ رہا تھا ۔ میری بھی آنکھیں بند ہونے لگیں ۔رات کے دو بج رہے تھے ۔میرے پاس آرام کرنے کے لیے چار ساڑھے چار گھنٹے موجود تھے ۔طلوع آفتاب کہیں پونے ساتھ بجے ہوتا تھا۔
٭٭٭
اگلے دن موسم کی صورت حال برقرار رہی ۔نماز پڑھ کر میں دوبارہ لیٹ گیا تھا ۔تھوڑی دیر بعد میرے لیے رنڑا ناشتا لے آئی ۔وہ چودہ سال کی تھی مگراچھی صحت کی وجہ سے دیکھنے میں کچھ بڑی ہی لگ رہی تھی ۔اس کے معصوم چہرے پر کئی سوال مچل رہے تھے ۔ناشتا میرے سامنے رکھ کر اس نے خالی چارپائی پر نشست سنبھال لی ۔اسی وقت اس سے چھوٹا بھائی ثمر خان بھی وہاں پہنچ گیا ۔شرماتے ہوئے اس نے مجھ سے ہاتھ ملایا اور بہن کے ساتھ ہی بیٹھ گیا ۔
”تو آپ کا نام ثمر خان ہے ؟“انھیں مانوس کرنے کے لیے میں نے خود ہی گفتگو کی ابتدا کی تھی ۔
”جی لالا۔“اس نے اثبات میں سرہلایا ۔
”اسکول پڑھتے ہو؟“
وہ معصومانہ انداز میں بولا۔”یہاں پراسکول ہے ہی نہیں ،البتہ مولوی صاحب سے قرآ ن پڑھنے جاتا ہوں ۔“
میں نے پوچھا ۔”کہاں جاتے ہو ؟“
”یہیں اپنے گاﺅں میں ۔“
”کیا یہاں اور گھر بھی ہیں ؟“
ثمر خان کے بجائے اس کا باپ شمریز جواب دیتے ہوئے بولا۔”ہاں ذیشان صاحب!.... پہاڑی کے عقب میں ہمارا چھوٹا سا گاﺅں ہے خواگااوبو۔قریباََ بیس پچیس گھر ہوں گے ۔ایک چھوٹی سی مسجد بھی ہے جہاں مولوی صاحب بچوں کو قرآن مجید پڑھاتے ہیں ۔“
”اور میری چھوٹی سی بہن رنڑا بھی وہاں جاتی ہے ۔“
’میں باجی سے پڑھتی ہوں ۔“میرے مخاطب کرنے پر وہ کھل اٹھی تھی ۔میں تھوڑی دیر دونوں بچوں سے عام سے سوالات پوچھتا رہا ،اس دوران ان کی بڑی بہن گلگارے بھی وہاں پہنچ گئی تھی ۔طلوع ِ آفتاب کے باعث اچھی خاصی روشنی بھی ہو گئی تھی ۔میں گلگارے کو مخاطب ہوا ....
”گلگارے بہن !....ایسا کرو ایک برتن میں پانی گرم کر کے لے آﺅ ،صاف نرم کپڑا،قینچی اورایک لمبی رسی بھی لے آﺅ۔“
”خیر تو ہے ۔“میری فرمائش سن کر اسے حیرانی ہوئی تھی ۔
میں مسکرایا ۔”آپ کے باباجان کی خیر نہیں ہے ۔“
اسے ہنوز حیرانی میں مبتلا پا کر میں وضاحت کرتے ہوئے بولا ۔”شمریز چچا کی ٹانگ سے گولی نکالنا بہت ضروری ہے ورنہ دیر ہونے کے ساتھ زخم کے بگڑ جانے کا اندیشہ ہے ۔“
”کیا آپ ڈاکٹر ہیں ؟“
میں نے کہا ۔”ہاں ،کچھ ایسا ہی سمجھو۔“
ایک لمحہ مجھے گھورنے کے بعد وہ رنڑا اور ثمر خان کو رسی لانے کا بتا کر واپس مڑ گئی ۔اس کے چہرے پر تذبذب کے آثار نظر آ رہے تھے ۔
تھوڑی دیر بعد مطلوبہ سامان پہنچ گیا تھا ۔ان تمام کے ساتھ مل کر میں نے شمریز خان کی چارپائی کو اٹھا کر انگھیٹی کے نزدیک کیا اور ثمر خان کو کمرے کا دروازہ مکمل کھولنے کو کہا تاکہ روشنی ہو جائے۔ سارے انتظامات مکمل ہونے کے بعد میں نے کہا ....
”گلگارے بہن !....آپ ان دونوں کو ساتھ لے کر چلی جائیں ۔“
”شش....شاید آپ کو میری مدد کی ضرورت پڑے ۔“اس نے ہکلاتے ہوئے آفر کی ۔یقینا وہ والد کو اکیلا نہیں چھوڑنا چاہتی تھی ۔والد اور بیٹی کا بھی عجیب رشتا ہے ،کمزور اور نازک اندام بیٹی کے بس میں ہو تو والد کی تمام تکالیف اپنے ذمہ لے لے ۔حالانکہ بعض باپ اپنی بیٹی کے بہت سارے حقوق کی ادائی میں غفلت برت جاتے ہیں اس کے باوجود بیٹی کے دل سے اپنے باپ کی محبت کم نہیں ہوتی ۔
”اچھا بچوںکو باہر بھیج دو ۔“میں اصرار کیے بغیر اپنے کام کی طرف متوجہ ہو گیا ۔یوں بھی آپریشن کے دوران مجھے اس کی ضرورت پڑ سکتی تھی ۔شمریز خان کے بدن سے لحاف اٹھا کر میں نے خالی چارپائی پر پھینک دیا ۔اسے گھٹنے سے ذرا اوپر گولی لگی تھی ۔گلگارے یا اس نے خود شلوار کے اوپر ہی سے ایک بڑی چادر زخم پر لپیٹ دی تھی ۔جس کے لپیٹنے کا بس اتنا فائدہ ہوا تھا کہ خون کا بہاﺅ رک گیا تھا ۔ان کا جانے انجانے میں کیا ہوا یہ کام شمریز خان کی زندگی کی ضمانت بن گیا تھا۔ میں نے زخم پر بندھی پٹی کھول کر قینچی سے اس کے زخم پر موجود شلوار کابڑا ساٹکڑا کاٹ دیا تاکہ زخم کے علاج میں کوئی رکاوٹ نہ ہو ۔ ابتدائی طبی امداد کے سامان میں میں نے فورسپ بھی رکھا تھا ۔اس باریک منھ والا آلے سے جسم میں موجود گولی کو پکڑ کر نکالا جا سکتا ہے ۔آپریشن کرنے والے سرجن کے پاس تو کئی قسم کے فورسپ ہوتے ہیں لیکن ہم جیسوں کو تو بعض اوقات کسی باریک دھار کے خنجر سے بھی یہ کام کرنا پڑتا ہے۔البتہ خنجر اور فورسپ میں یہ فرق ہوتا ہے کہ خنجر سے زخم کا منھ بھی چر جاتا ہے اور خنجر سے کام لینے والے کو اس کام میں زیادہ ماہر بھی ہونا چاہیے ۔کیونکہ خنجر کی نوک سے ٹٹول کر گولی کو محسوس کرنا اور پھر نوک ہی کی مدد سے گولی کو زخم سے باہر نکالنا نہایت دشوار اور مشکل ہوتا ہے ۔اس پر مستزاد تکلیف میں مبتلا شخص کی کراہنا اور سسکنا ہوتا ہے ۔ گو طبی لحاظ سے خنجر سے گولی نکالنا شاید سراسر غلط ہو،اس طرح متاثر شخص کواس طریقہ کار سے بھی بہت زیادہ تکلیف کاسامنا کرنا پڑتا ہے مگر یہ وقتی تکلیف بعد میں ہونے والی معذوری یا زخم کے ناسور میں تبدیل ہونے کی اذیت سے بہت بہتر ہوتی ہے ۔
زخم کو دھونے سے پہلے میں نے شمریز خان کو مخصوص طریقے سے باندھ دیا تاکہ وہ تکلیف کی وجہ سے ہل جل کر خود کو مزید زخمی نہ کرا بیٹھے ۔اسے باندھنے کے بعد میں نے گرم پانی سے اس کا زخم دھویا اور زخم پرتھوڑی سپرٹ بھی ڈال دی ۔دھونے اور سپرٹ سے خون کا بہاﺅ پھر جاری ہو گیا تھا ۔کپڑے کا ایک گولا بنا کر میں نے شمریز خان کے حوالے کیا تاکہ وہ دانتوں میں دبا کراپنی چیخ روکنے کی کوشش کر سکے۔ اس کے بعد فورسپ کو اسپرٹ سے تر کرکے میں آپریشن کے لیے تیار تھا ۔
پہلی مرتبہ مجھے پلوشہ کے بدن سے گولی نکالنا پڑی تھی اور اسے تکلیف میں مبتلا دیکھ کر میرے ہاتھوں میں لرزش شروع ہو گئی تھی ۔ لیکن آج مجھے کسی قسم کی جھجک یا پریشانی محسوس نہیں ہو رہی تھی ۔میں اطمینان سے اپنا کام کرنے لگا۔
فورسپ کو زخم کے اند ر ڈالتے ہی شمریز خان کی مٹھیاں اذیت کی زیادتی سے بھینچ گئی تھیں ۔سختی سے آنکھیں بند کرتے ہوئے اس کے منھ سے دردبھری سسکیاں نکل رہی تھیں ۔گلگارے نے بے ساختہ اس کا سر سہلانا شروع کر دیا تھا ۔وہ باپ کے زخم کی جانب نہیں دیکھ رہی تھی ۔کافی ہمت اور حوصلے والی ہونے کے باوجود اس میں اتنی ہمت مفقود تھی کہ براہ راست آپریشن ہوتا دیکھ سکتی ۔ایسا منظر کم لوگ ہی دیکھ پاتے ہیں ۔وہ پلوشہ ہی تھی جو گلگارے سے بھی عمر میں سال دو سال چھوٹی ہو گی اور دیکھنا تو چھوڑو وہ خود اپنے ہاتھوں یہ کام کر گزرتی تھی ۔
فورسپ کی نوک کاگولی سے ٹکرانا مجھے محسوس ہو گیا تھا ۔گولی کواحتیاط سے فورسپ کے منھ میں پکڑ کر میں نے آہستگی سے آلے کو باہر کھینچ لیا ۔گولی کے باہر آتے ہی شمریز خان نے بدن ڈھیلا چھوڑ دیا تھا۔اس نے دانتوں میں پکڑا کپڑا زبان کی مدد سے باہر دھکیلا اوراس کے ساتھ ہی اس کے منھ سے گہرا سانس خارج ہوا ۔
میں نے صاف کپڑا زخم کے منھ پر دبا کر بھل بھل بہتے خون کو روکا اور گلگارے کو کہا ۔
”والد کے جسم سے رسی کھول لو ۔“
میرے اچانک پکارنے پر وہ ہڑبڑا سی گئی تھی ۔اس کے ساتھ ہی اس نے دھیمے لہجے میں ۔ ”جی ۔“کہا اور رسی کی طرف متوجہ ہو گئی ۔اس کے رسی کھولنے تک میں نے زخم کے منہ پر پٹی کو دبائے رکھا۔جونھی وہ رسی کھول کر فارغ ہوئی میں نے کہا ....
”اس پٹی کو یہاں دبا کر رکھو ۔“
اثبات میں سر ہلاتے ہوئے وہ میرے قریب ہوئی ۔میں نے پیچھے ہو کر اسے زخم پر ہاتھ رکھنے کی جگہ دی اور خود دوائیوں کی طرف متوجہ ہوگیا ۔سب سے پہلے میں نے صاف کپڑے سے مناسب لمبائی میں دو تین پٹیاں پھاڑیں ۔پھرپائیوڈین کی بوتل کھول کرمیں نے گلگارے کو پیچھے ہٹنے کو کہا۔
زخم پر تھوڑی سی پائیوڈین ڈال کر ساتھ ہی درد کش اور خون کے بہاﺅ کو روکنے والا سفوف زخم میں بھر دیا ۔اس کے اوپر ایک پٹی تہہ کر کے رکھتے ہوئے میں نے دوسری پٹی زخم پر لپیٹ دی ۔پٹی سے فارغ ہو کر میں نے درد کش ٹیکہ تیار کر کے شمریز خان کو پہلو کے بل لٹایا اور جسم کے پر گوشت حصے میں وہ ٹیکہ لگا دیا ۔اس کے بعد اینٹی بائیوٹک ٹیکہ بھی اس کی رگ میں لگا کر میں اس سے حال پوچھنے لگا ۔
”کافی بہتر محسوس ہو رہا ہے ،درد بھی ختم ہو نا شروع ہو گیا ہے ۔“
”آپ کا بہت بہت شکریہ ۔“گلگارے نے ممنونیت بھرے لہجے میں کہا ۔”آپ تو شاید ہماری مدد کرنے آئے تھے ،میں سمجھ رہی تھی ہم آپ کی مدد کرر ہے ہیں ۔“
”گلگارے بہن !....آپ نے تو مجھے نئی زندگی دی ہے ۔میں نے جو کام کیا ہے یہ آج نہیں تو کل پرسوں تک ڈاکٹر صاحب نے کر دینا تھا ۔اور یقینا وہ مجھ سے بہت بہتر انداز میں یہ کام سرانجام دیتا ۔“
”پتا نہیں موسم نے کب ٹھیک ہونا ہے۔اور ڈاکٹر صاحب کوئی کلومیٹر بھر کے فاصلے پر تو نہیں بیٹھا کہ ہم آسانی سے وہاں پہنچ جائیں ۔اس علاقے میں ڈاکٹر صاحب تک مریض کو لے جاتے ہوئے مریض کی جو حالت ہوتی ہے وہ میں بیان نہیں کر سکتی ۔اور باباجان کی طرح زخمی آدمی کا تو ستیاناس ہو جاتا ہے ۔ گولی نکالنے کے لیے بھی ڈاکٹر صاحب کم از کم پندرہ بیس ہزار روپے طلب کرتا ہے۔ دوائیوں کا خرچ ایک علاحدہ مسئلہ ہوتا ہے ۔آپ نہیں جانتے آپ نے ہمیں کتنی پریشانیوں سے چھٹکارا دلایا ہے ۔“
میں نے مزید تکرار سے بچتے ہوئے کہا ۔”مجھے خوشی ہوئی کہ میں اپنی چھوٹی بہن کے کسی کام آیا ۔“یہ کہہ کر میں گرم پانی سے اپنے ہاتھ اور فورسپ کو دھونے لگا ۔وہ اپنے والد کے سرہانے کے ساتھ بیٹھ کر اس کا سر دبانے لگی تھی ۔تمام سامان سنبھال کر میں نے شمریز خان کو کھلانے کے لیے درد کش اور اینٹی بائیوٹک گولیاں گلگارے کی طرف بڑھا دیں ۔اور ساتھ ہی اسے گولیاں کھلانے کی ترتیب بھی بتا دی ۔
رنڑا اور ثمر خان ساتھ والے کمرے کے دروازے سے بار بار متجسس ہو کر جھانک رہے تھے ۔
”آپ دونوں بھی آجاﺅ۔“میں نے انھیں آوازدی اور وہ بھاگ کر اندر آگئے ۔رنڑا تو آتے ساتھ باپ سے لپٹ گئی تھی ۔
”اب میں بالکل ٹھیک ہوں بیٹی !“وہ اس کا سر تھپتھپانے لگا ۔اللہ پاک کی قدرت بھی عجیب ہے ۔یقینا ان معصوم لڑکیوں نے اپنے باپ کی تکلیف دور ہونے کے لیے خلوص دل سے دعا کی ہوگی اور وہ عظیم رب مجھ جیسے گناہ گار کوان کی مدد کے لیے اس انداز میں گھسیٹ کر وہاں تک لے آیا تھا ۔ورنہ اس سے پہلے میں کبھی بھی کسی غار وغیرہ کی تلاش میں اتنا سرگرداں نہیں رہا تھا ۔ان پہاڑوں میں گھنٹے ادھ گھنٹے کی تلاش کے بعد ہی کوئی نہ کوئی پناہ گاہ مل جایا کرتی تھی ۔گزشتا دن میں شام تک پاگلوں کی طرح پھرنے کے بعد بھی کوئی ٹھکانہ ڈھونڈ نہیں سکا تھا ۔
انھیں باتیں کرتا چھوڑ کر میں اپنی کلاشن کوف اور پستول کے ساتھ مصروف ہو گیا ۔شاید گلگارے میری ہی جانب متوجہ تھی کہ جونھی میں نے کلاشن کوف کے پرزوں کو ہاتھ لگایا وہ فوراََ بولی ۔
”اگر چاہیے ہوتو گھر میں رائفل کا تیل پڑا ہے ۔“
”یہ تو بہت اچھا ہوگا ۔“میں خوش ہو گیا ۔
”ابھی لائی ۔“وہ سرہلاتے ہوئے ساتھ والے کمرے کی طرف بڑھ گئی ۔اس کی واپسی ایک درمیانے حجم کی پلاسٹک کی بوتل کے ساتھ ہوئی جس میں ہتھیاروں پر لگانے والا تیل بھرا تھا ۔یہ تیل ہتھیار کے پرزوں کو زنگ وغیرہ لگنے سے بھی محفوظ رکھتا ہے اور چال والے پرزوں کی حرکت میں بھی آسانی پیدا کرتا ہے ۔
”شکریہ۔“ کہتے ہوئے میں نے اس کے ہاتھ سے تیل کی بوتل پکڑ لی ۔
سہ پہر تک برف باری رک گئی تھی ۔لیکن بادل اب تک ویسے ہی موجود تھے ۔میں اس وقت انگیٹھی کے سامنے نمک ملے گرم پانی کی ادھ بھری بالٹی میں پاﺅں ڈبوئے بیٹھا تھا ۔گزشتاکل میرے پیروں کو جس سردی کا سامنا کرنا پڑا تھا اس کا اثر اب تک ہلکے ہلکے درد کی صورت میں موجود تھا ۔اور اس درد کا بہترین حل نمک ملا گرم پانی ہی تھا ۔
گلگارے اپنے والد کا سر دبا رہی تھی ۔اسے اچھا خاصا بخار ہو گیا تھا ۔میں نے سردرد اور بخار والی گولی بھی اسے کھلا دی تھی ۔رنڑا اپنے چھوٹے بھائی کے ساتھ خشک لکڑیاں اکھٹی کرنے گھر سے باہر نکل گئی تھی ۔اچانک وہ بھاگتے ہوئے گھر میں داخل ہوئی ۔
”بب.... باجی ، اس دن والے آدمی اس طرف آرہے ہیں ۔ان کے ساتھ تین آدمی اوربھی ہیں ۔“یہ بتاتے ہوئے اس کے معصوم چہرے پر خوف کے مارے ہوائیاں اڑ رہی تھیں ۔
جاری ہے
قسط نمبر51
ریاض عاقب کوہلر
لڑکیوں کی جنس ایسی ہے کہ انھیں مردوں کے گندے ارادے کے بارے فوراََ ہی اندازہ ہو جاتا ہے ۔دو روز پہلے ان ظالموں نے اس معصوم کو غلط نیت ہی سے پکڑنا چاہا تھا اور آج ان کی آمد پر وہ ایک دم سہم گئی تھی ۔اس نے فوراََ اندازہ لگا لیا تھا کہ وہ اسی کے لیے لوٹے ہوں گے ۔حالانکہ اس سے بڑی بہن بھی موجود تھی ،مگر ان موذیوں کی نظر ابھی تک گلگارے پر نہیں پڑی تھی ۔
”دروازہ بند کر دیا ہے نا،ثمر خان کہاں ہے ؟“گلگارے نے اطمینان بھرے انداز میں پوچھا ۔مجھے اس کے چہرے پر ذرا بھر بھی خوف نظر نہیں آیا تھا ۔
”میں یہیں ہوں باجی ۔“دروازے کی طرف سے ثمر خان کی آواز آئی ۔
میں نے اپنے پاﺅں بالٹی سے نکالے اور تولیے سے صاف کر کے جرابیں ڈالنے لگا ۔جونھی میں نے بوٹوں میں پاﺅں ڈالے وہ حیرانی سے پوچھنے لگی ۔”آپ کیوں تیار ہونے لگے ۔“
”شاید آنے والے مہمانوں سے کوئی بات چیت کرنا پڑ جائے ۔“
”آپ ان کی فکر نہ کریں ،برساتی مینڈکوں کی طرح یہ اچکے بھی برف باری کے دنوں میں نمودار ہو جاتے ہیں ....اس سے پہلے بھی دو تین بار ان جیسوں سے واسطہ پڑ چکا ہے ، حد درجہ کے بزدل ہوتے ہیں ۔ہوائی فائر سن کر بھی بھاگنے میں دیر نہیں لگاتے ۔“
”تو اب کیا کریں ،یونھی دروازہ بند کر کے بیٹھے رہیں ۔“
”نہیں ،دو تین گولیاں تو ضائع کرنا پڑیں گی ۔میں مورچے پر چڑھتی ہوں ۔“والد کا سر دبانا چھوڑ کر وہ دیوار میں کیل کے سہارے ٹنگی کلاشن کوف اتارنے لگی ۔
اچانک دروازے پر زور دار دستک ہوئی ۔میں نے اپنی طرف دیکھتی گلگارے کو آنکھوں سے استفہامیہ اشارہ کیا۔
وہ فوراََ بولی ۔”کوئی ضرورت نہیں ہے دروازہ کھولنے کی ،میں مورچے پر چڑھ رہی ہوں۔“
”ٹھیک ہے آپ مورچے پر پہنچیں ،میں دروازے پر جا کر ان سے وجہ پوچھتا ہوں ،ہوسکتا ہے مسئلہ بات چیت سے حل ہو جائے ۔“
”یہ لاتوں کے بھوت ہیں ۔“
”پھربھی پوچھنے میں کوئی حرج نہیں ۔اپنی گولیاں اور توانائی خواہ مخوا ضائع نہ کرو۔“گلگارے کو کہہ کر میں نے گلاک نائینٹین کاک کر کے ہاتھ میں تھامااور گرم چادر اوڑھتے ہوئے رنڑا کو کہنے لگا ۔”تم کمرے کا دروازہ اندر سے بند کر دو ۔“
”جی لالا۔“وہ اثبات میں سر ہلانے لگی ۔گلگارے بھی مزید تکرار کیے دوسرے کمرے میں لگی سیڑھی کی جانب بڑھ گئی جس کے ذریعے وہ چھت پر بنے مورچے میں پہنچ سکتی تھی ۔
وقفے وقفے سے ان کا دستک دینا جاری تھا ۔دروازے کے قریب پہنچ کر میں نے رسمی انداز میں پوچھا ۔”کون ؟“
”دروازہ کھولو۔“میری نرم آواز نے اسے لہجہ سخت کرنے کی شہہ دی تھی ۔
دروازے میں بنی ذیلی کھڑکی کی کنڈی کھول کر میں باہر نکلا ،ان میں سے دو دروازے کے قریب جبکہ تین چند قدم پیچھے ہٹ کر کھڑے تھے ۔دستک دینے والوں میں ایک کے ہاتھ میں ایٹ ایم ایم اور دوسرے کے ہاتھ میں کلوز بٹ کلاشن کوف تھی ،جبکہ تھوڑی دور کھڑے افراد میں دو کے ہاتھ میں تیس بورپستول اور ایک نے سنگل بیرل بارہ بور اٹھائی ہوئی تھی ۔
”جی ۔“سلام و دعا اور مصافحے کے بغیر میں نے خشک لہجے میں پوچھا ۔
”میں طالبان کمانڈر ہوں اور پرسوں اس گھر سے میرے آدمیوں پر فائر کیا گیا ہے ۔“گھنے گھنگریالے بال ،لمبی مونچھوں اور ہلکی داڑھی والے ایک آدمی نے دھمکی آمیز لہجے میں گفتگو کی ابتدا کی تھی۔
”تو جن پر گولیاں چلائی گئیں انھوں نے یہ نہیں بتایا کہ اس وقت وہ کس عبادت کی بجا آوری کی کوشش میں تھے ۔“میں نے بہ ظاہر عام سے انداز میں کہا ۔میرے لہجے سے غصے یا خوف کا کوئی اظہار نہیں ہو رہا تھا ۔
”ایسی کوئی بات بھی نہیں ہوئی تھی ۔وہ اپنے رستے پر جارہے تھے کہ ایک نوجوان لڑکی نے انھیں دیکھااور ڈر کر گھر کی طرف بھاگ پڑی۔حالانکہ کہ انھوں نے لڑکی کو کچھ بھی نہیں کہا تھا ۔“
میں نے طنزیہ انداز میں کہا ۔”جانتے ہو جھوٹ بولنے کے لیے بھی اعتماد کی ضرورت ہوتی ہے۔“
اس کے ساتھ کھڑا دوسرا آدمی بپھر کر بولا ۔”جھوٹ نہیں بول رہے ،تم ذرااس لڑکی کو باہر بلاﺅ۔“
”وہ میری چھوٹی بہن ہے اور اس نے ان بزدلوں کا جو حلیہ بتایا ہے وہ بالکل تم دونوں جیسا ہے ۔ تمھاری خوش قسمتی کہ اس دن تم بچ نکلے ،مگر یقین مانو خوش قسمتی ہمیشہ ساتھ نہیں دیا کرتی ۔“
”دھمکی دے رہے ہو ؟“خود کو کمانڈر بتانے والے کا غصہ دیدنی تھا ۔
”نہیں ۔“میں نے اطمینان بھرے انداز میں کہا ۔”جان بچانے کا موقع دے رہا ہوں ۔“
”یقینا تم ہم سے واقف نہیں ہو ورنہ بڑھکیں مارنے کے بجائے اپنی جان بچانے کا سوچتے۔“
میں متبسم ہوا ۔”جانتا نہ ہوتا تو شاید کچھ اہمیت دے بھی دیتا ۔“
”چلو تعارف کرا دیتے ہیں ۔“اس نے کندھے سے لٹکی کلاشن کوف اتاری ۔اس کے ساتھی نے بھی ایٹ ایم ایم رائفل ہاتھ میں تھام لی تھی ۔اچانک ہی ماحول دھماکوں کی آواز سے گونج اٹھا۔ مسلسل تین گولیاں چلائی گئی تھیں اور ساری گولیاں خود کو کمانڈر کہنے والے کلاشن کوف بردار کے سامنے زمین میں لگی تھیں ۔
دھماکے کی آواز سنتے ہی وہ حیرت اور خوف سے اچھل پڑے تھے ۔اس کے ساتھ ہی ان کی نظریں مکان کے سامنے والی دیوار کے دائیں کونے میں نے مورچے کی طرف اٹھیں جہاں سے کلاشن کوف کی بیرل جھانک رہی تھی ۔گلگارے نے اپنا کالا دوپٹا پگڑی کے انداز میں سر پر باندھ کر اس کا ایک پلو چہرے سے بھی لپیٹ لیا تھا ۔مورچے کے ہول سے کلاشن کوف کی بیرل کے ساتھ اس کے چہرے کی بھی جھلک دکھائی دے رہی تھی ۔وہاں سے وہ ایک مرد ہی دکھائی دے رہی تھی ۔اس کے باعتماد فائر نے ثابت کر دیا تھا کہ وہ کلاشن کوف کا استعمال جانتی تھی۔میں نے بھی چادر کے نیچے چھپایا پستول باہر نکال لیا تھا ۔
ایک دو لمحے مورچے کی طرف خوف زدہ نظروں سے دیکھنے کے بعد نام نہاد کمانڈ اپنے ساتھیوں کو بولا ۔
”چلو پھر کبھی سہی ۔“یہ کہتے ہوئے وہ پیچھے مڑا۔
”بات سنو ۔“میں نے اسے مخاطب کرتے ہوئے کہا ۔”اگر دوبارہ اس گھر کی طرف آنا ہو تو اپنے دوسرے ساتھیوں کو بتا کر آنا ،کیونکہ واپسی کے لیے تمھیں ان کے کندھوں کی ضرورت پڑے گی ۔“
”دیکھ لوں گا تمھیں۔“گیدڑ بھبکی دیتے ہوئے وہ دوبارہ چل پڑا تھا ۔
”اگر میرے پانچ گننے تک یہ غائب نہ ہو جائیں تو سب سے آخر والے کو گولی مار دینا ۔“ گلگارے کی جانب رخ کر کے میں نے اس کا نام لیے بغیر کہا ۔اس کے ساتھ ہی میں نے زور سے۔” ایک “پکارا تھا ۔
ان سورماﺅں کی ٹانگوں میں ایک دم جان پڑ گئی تھی ۔میرے تین کہنے تک وہ ڈھلان سے اتر کر میری نظروں سے غائب ہو گئے تھے ۔
میں مسکراتے ہوئے واپس مڑ گیا ۔میرے کمرے میں داخل ہونے تک گلگارے بھی نیچے آ گئی تھی۔اس کے ہونٹوں پر شوخ مسکراہٹ کھل رہی تھی ۔کلاشن کوف کودیوار کے سہارے کھڑا کرتے ہوئے اس نے کہا ۔
”دیکھ لی ان کی بہادر ی۔“
”یقینا آپ کی نشانہ بازی سے ڈر کر بھاگنے پر مجبور ہوئے ہیں ۔“
رنڑا نے فوراََکہا ۔”ہاں لا لا جی !....باجی کا نشانہ بہت اچھا ہے ۔بابا جان سے بھی اچھا ہے۔“
میں نے مزاحیہ انداز میں کہا ۔”خاک اچھا ہے ، اتنے قریب سے بھی تین گولیاں چلا کر ان لٹیروں کو نشانہ نہیں بنا پائی ۔“
”مرد کبھی بھی یہ بات تسلیم کرنے پر تیار نہیں ہوتا کہ کوئی عورت اس سے بہتر انداز میں ہتھیار کو استعمال کر سکتی ہے ۔“میرے مذاق کو جانے کیوں اس نے سنجیدگی سے لے لیا تھا ۔
”گلگارے بہن !....میں مذاق کر رہا تھا ۔“میں نے فوراََ ندامت ظاہر کی ۔
”میں نے بھی آپ کی بات نہیں کی ،ایک تلخ حقیقت سے پردہ اٹھایا ہے ۔“وہ میری ندامت کو خاطر میں نہیں لائی تھی ۔
”ضروری تو نہیں کہ اپنے والد سے اچھی نشانہ بازلڑکی ،ہر مرد سے بہتر ہو ....یقینا آپ سے بہتر کئی مرد نشانہ باز دنیا میں موجود ہوں گے ۔“نہ جانے کیوں مجھے اس کا انداز اچھا نہیں لگا تھا ۔
”آ جائیں ،آپ بھی تو مرد ہی ہیں نا ۔“اس نے مجھے للکارنے میں ایک سیکنڈ بھی ضائع نہ کیا ۔
”میں نے اپنے بارے تو ایسا کچھ نہیں کہا ۔“میں نے پسپا ہونے میں دیر نہیںلگائی تھی ۔
”جس دن خود سے بہتر نشانے باز نظر آگیا مجھے ضد پر جری نہیں پاﺅ گے ۔“
اسی وقت خاموش لیٹے شمریز خان نے تحسین آمیز لہجے میں کہا۔”گلگارے تو میرا بیٹا ہے بیٹا ہے ۔“
”نہیں باباجان !....میں آپ کی بیٹی ہوں اور مجھے عورت ذات ہونے پر فخر ہے ۔“یہ کہتے ہوئے اس نے عجیب سی نظروں سے میری جانب دیکھا اور باپ کے سرہانے کے ساتھ بیٹھ کر اس کا سر دبانے لگی ۔
”شمریز چچا !....آپ کو یقین ہے کہ یہ دوبارہ نہیں آئیں گے ۔“
”ذیشان صاحب،ہمارے علاقے میں مختلف پارٹیاں سرگرداں رہتی ہیں ،ان میں مجاہدین، اسمگلر ، شکاری ،چور اچکے ،دہشت گرد،ناقابل معافی جرم کر کے چھپنے کی غرض سے یہاں آنے والے وغیرہ ۔ان سب کی ترجیحات مختلف ہوتی ہیں ۔ان میں سب سے بڑی مصیبت ازبک اور تاجک دہشت گرد ہوتے ہیں جو پورے پورے گاﺅں پر قابض ہوجاتے ہیں ۔چونکہ ہمارا گاﺅں کچھ زیادہ اچھی جگہ پر واقع نہیں ہے اس لیے کوئی ایسا گروپ ااس طرف متوجہ نہیں ہوا۔البتہ چھوٹے موٹے چور اچکے جو تین تین چار چار کی تعداد میں پھررہے ہوتے ہیں آئے روز تنگ کرتے رہتے ہیں ۔یہ بھی عموماََ اس جگہ ہاتھ ڈالتے ہیں جہاں انھیں مزاحمت نہ ہونے کا یقین ہو ۔ البتہ کسی خاص چیز کے لالچ میں یہ دو تین بار کوشش ضرور کرتے ہیں اور ایسی حالت میں کبھی جان سے جاتے ہیں کبھی وہ چیز حاصل کر لیتے ہیں ۔اور ہمارے پاس ایسی کون سی خاص چیز ہے جس کے پیچھے انھیں بار بار آنے کی زحمت کرنا پڑے ۔“
میرے دماغ میں فوراََ رنڑا کا نام گونجا ۔وہ چودہ پندرہ سال کی ایسی کھلتی ہوئی کلی تھی جس کے پیچھے ہوس کے پجاری ،بھیڑیوں کی طرح دانت نکوسے ہوئے وہاں پہنچے تھے ۔مجھے ان کی گفتگو بھولی نہیں تھی ۔گفتگو کی ابتداءہی میں انھوں نے رنڑا کو بلانے کی بات کی تھی ۔اور کسی بھی جنسی مریض کے لیے سب سے اہمیت کی حامل ایسی لڑکی ہوتی ہے جس پر اس کا دل آجائے ۔مجھے بھی ان درندوں سے یہی خدشہ تھا کہ ان میں کسی کا ایک دل رنڑا پر آگیا تھا اور اب وہ اتنی جلدی پیچھا چھوڑنے پر راضی نہ ہوتے ۔گندگی بھرے ذہن کی سوچوں کو کلاشن کوف کی گولی ہی صاف کر سکتی ہے ۔میں انھیں واپس جانے دینے کے فیصلے پر پچھتانے لگا ۔اپنے خیالات میں میں شمریز خان یا گلگارے کو حصہ دار نہیں بنا سکتا تھا ۔نہ یہ ایسے اندیشے تھے جن پر کسی لڑکی کے باپ سے تبادلہ خیال کیا جا سکتا ۔اس لیے میں نے ان کی خوش فہمی برقرار رکھتے ہوئے چپ سادھ لی تھی ۔
مجھے خاموش پا کر شمریز خان پوچھنے لگا ۔”کن خیالوں میں کھو گئے ہو ۔“
”بس یہ سوچ رہا تھا کہ وہ خبیث دوبارہ کس لیے لوٹے تھے ۔“نہ چاہتے ہوئے بھی میں نے کچھ نہ کچھ اندیشے ان کے دماغ میں ابھارنے چاہے ۔
خاموش بیٹھی گلگارے بولی ۔”کیونکہ پہلے انھیں خاطر خواہ طریقے سے خوش آمدید نہیں کہا گیا تھا ۔“
”بہ ہر حال کچھ بھی ہو میرے جانے کے بعد آپ لوگ محتاط رہنا ۔“
”میرا خیال ہے ہم اپنی حفاظت کر سکتے ہیں ۔باقی دو دنوں میں ہمیں آپ کی عادت نہیں پڑ گئی کہ آپ کے جانے کا دکھ یا کمی محسوس ہو۔“
گلگارے نے کافی تلخ مگر مبنی بر حقیقت بات کہی تھی ۔اور ایسی سچی بات کو ہضم کرنا کافی مشکل ہوتا ہے ۔مگر وہ میری محسن تھی اور میں اسے سخت جواب دے کر اس کا دل نہیں دکھا سکتا تھا ۔
میں نے ۔”آپ ٹھیک کہہ رہی ہیں ۔“کہہ کر چپ سادھ لی تھی ۔
٭٭٭
رات کو کھانے کے خالی برتن میرے سامنے سے اٹھاتے ہوئے گلگارےدھیمے لہجے میں بولی ۔ ”میں اپنی سہ پہر کی گفتگو پر معذرت خواہ ہوں ۔“
میں نے کہا ۔”بہنوں کا بھائیوں سے معذرت کرنا عجیب سا لگتا ہے ۔“
”صحیح کہا ۔میرا نقطہ نظر بھی یہی ہے ۔“اس نے تائیدی انداز میں سر ہلایا۔”بہ ہرحال میں نادم ہوں ۔“نجانے کیوں مجھے اس کا انداز معنی خیز لگا تھا ۔
برتن سمیٹ کروہ باہر نکل گئی جبکہ میں شمریز خان سے طبیعت کا پوچھنے لگا ۔وہ پہلے سے کافی بہتر محسوس کر رہا تھا ۔
آسمان بالکل صاف ہو گیا تھا اس لیے سردی تھوڑی زیادہ محسوس ہو رہی تھی ۔گلگارے باورچی خانے میں برتن رکھ کر واپس لوٹ آئی ۔باپ کو گولیاں کھلا کر وہ اس کا سر دبانے لگی ۔میں لحاف میں چھپ گیا ۔ ایک لڑکی کی موجودی میں مجھے تھوڑا عجیب سا محسوس ہوتا تھا ۔ان لوگوں کا رواج مہمان کو بیٹھک میں سلانے کا تھا ،لیکن وہاں میں جس حال میں پہنچا تھا اس کی وجہ سے مجھے گھر کے اندر جگہ مل گئی تھی اور پھر گھر کے سربراہ کا علاج کرنے کی وجہ سے انھوں نے مجھے بیٹھک کی راہ نہیں دکھلائی تو میرا بھی کچھ حق بنتا تھا۔ سیانے کہتے ہیں کسی کے گھر مہمان بنو تو اپنی نظروں کی حفاظت کرو ۔گو میں گلگارے کو بہن ہی کہتا تھا لیکن اس کے باوجود مجھے تھوڑا سا خود میں سمٹنے کی ضرورت تھی ۔یوں بھی موسم کو صاف دیکھ کر میں نے صبح آگے جانے کا ارادہ کر لیا تھا ۔میں کوئی سیر سپاٹے کے لیے نہیں آیا تھا کہ وہاں کچھ دن گزارنے کی کوشش کرتا ۔ مجھے بہت اہم کام درپیش سے تھے ۔سب سے بڑھ کر اپنی پلوشہ کوتلاش کرناتھا ۔میں نہیں چاہتا تھا کہ میری شریک حیات آگ و خون کی جنگ کا مزید حصہ بنے۔
پلوشہ کا نام ذہن میں آتے ہی میری سوچیں اسی کی ذات پر مرتکز ہو گئیں ۔یوں لگ رہا تھا جیسے اس سے بچھڑے صدیاں بیت گئی ہوں ۔اس کے ساتھ گزرے پل کسی سہانے سپنے کا حصہ لگ رہے تھے ۔اس کا روٹھنا ، منانا ،اس شوخیاں ،شرارتیں اور چنچل پن ،اس کی محبت بھری گفتگو ۔میری چھوٹی سے چھوٹی ضرورت کا خیال رکھنے کا جنون ۔اس کی ہر ادا ،ناز نخرا اور دلربانہ انداز میرے دماغ کے پردہ سکرین پر فلم کی طرح چلنے لگا ۔اور اسی کو سوچتے سوچتے میں نیند کی گہری وادیوں میں ڈو ب گیا ۔جہاں ہر رات کی طرح اپنی آغوشِ محبت وا کیے وہ مجھے بے صبری سے اپنی منتظر نظر آئی ۔
”راجو !....بھول تو نہیں گئے ہو اپنی لاڈلی کو ۔“اس نے شکوہ کرنے میں دیر نہیں لگائی تھی۔
میں نے چاہت بھرے لہجے میں کہا ۔”چندا ،سانس لینا بھی کوئی بھول سکتا ہے ۔“
”چل جھوٹے ۔“وہ ناز بھرے انداز میں مسکرا دی تھی ۔
٭٭٭
اگلی صبح بستر سے نکلنے سے پہلے ہی ہوا کی سائیں سائیں مجھے وہاں مزید رکنے کا مژدہ سنا رہی تھی ۔بے وقت کی برف باری میری راہ کی سب سے بڑی رکاوٹ بن گئی تھی ۔وزیرستان میں برف باری عموماََ دسمبر کے دوسرے ہفتے میں شروع ہوتی ہے ۔اور اب نومبر کے وسط میں ہونے والی برف باری نے اچھا خاصا مسئلہ پیدا کر دیا تھا ۔
ناشتے وغیرہ سے فارغ ہو کر میں نے شمریز خان کی پٹی تبدیل کی ۔اب اس کے زخم میں پہلے جتنا درد نہیں تھا ۔گولیاں وغیرہ گلگارے نے اسے کھلا دی تھیں ۔
ظہر کے بعد برف باری تو جاری رہی البتہ ہوا رک گئی تھی ۔میں رنڑا اور ثمر خان کو لے کر خشک لکڑیاں اکٹھی کرنے کے لیے گھر سے باہر نکل آیا ۔گلگارے نے مجھے منع کرنے کی کوشش کی تھی مگرمیں نے اس کی بات کودرخور اعتناءنہ جانا۔یونھی بے کار بیٹھا رہنا مجھے پسند نہیں تھا ۔
برف ڈیڑھ دو فٹ کے قریب پڑ چکی تھی ۔سپورٹس شوز پہن کر اس برف میں چلنا ممکن نہیں تھا۔ میں نے شمریز خان کے بوٹ ڈال لیے تھے ۔لکڑیاں اکٹھی کرنے کے لیے ہمیں زیادہ دور نہیں جانا پڑا تھا ۔واپسی پر ہم تینوں کے سر پر لکڑیوں کے گٹھے تھے ۔آتے جاتے ہوئے رستے میں اور لکڑیاں اکٹھی کرنے کے دوران رنڑا کی زبان مسلسل چلتی رہی تھی ۔اپنے گھر ،گاﺅں ،والد بہن ، سہیلیوں وغیرہ کے بارے اس نے کوئی پہلو تشنہ نہیں رہنے دیا تھا ۔اپنی گلگارے باجی سے وہ بہت متاثر تھی اور اسی کی طرح بننا چاہتی تھی ۔
خشک لکڑیاں رکھنے کے لیے انھوں نے ایک بڑا کمرہ مختص رکھ چھوڑا تھا ۔وہ کمرہ آدھے سے زیادہ لکڑیوں سے بھرا ہوا تھا ۔لکڑیاں وہاں رکھ کر رنڑا اور ثمر خان تو چھت پر چڑھ گئے ۔ان کے ہاتھ میں لکڑی کے بنے ہوئے مخصوص پھاوڑے تھے جن کی مدد سے وہ چھت پر پڑی برف اتارنے لگے ۔ کہ چھت پر پری برف چھتوں کو نقصان پہنچاتی ہے ۔مجھے چاے کی طلب ہو رہی تھی۔گلگارے باورچی خانے میں مصروف نظر آئی ۔دروازے پر رک کر میں نے پوچھا....
”چاے مل جائے گی ۔“
اس نے خوش دلی سے کہا ۔”ضرور ملے گی ۔آئیں، یہیں بیٹھ کر پی لیں ۔“
مجھے وہاں بیٹھنا مناسب معلوم نہیں ہورہا تھا مگر اس نے دعوت اس خلوص سے دی تھی کہ میں ٹھکرا نہ سکا ۔لکڑی کی چوکی پر میں چولھے کے قریب بیٹھ گیا ۔وہ غالباََ شام کے لیے سالن تیار کر رہی تھی ۔ ہانڈی چولھے سے اتار کر اس نے چھوٹی سی دیگچی چڑھا دی ۔ایک دوسرے پتیلے میں گائے کاتازہ دودھ رکھاتھا ۔ ان کی اپنی دو گائیں اور دس پندرہ بکریاں تھیں ۔
میں نے مشورہ دینے کے انداز میں کہا ۔”ویسے آپ لوگ اگر گاﺅں ہی میں رہتے تو زیادہ بہتر نہ ہوتا ۔ان لچے لفنگے آوارہ گردوں سے بھی جان چھوٹ جاتی اور لوگوں کے ساتھ مل کر رہنے میں اور کئی مسائل بھی حل ہو جاتے ۔“
”ہم پہلے گاﺅں ہی میں رہتے تھے ۔ابھی دوسال ہوئے ہیں یہاں گھر بنائے ہوئے ۔ گاﺅں والا گھر بھی اب تک موجود ہے ۔اور گاﺅں اتنی دوربھی نہیں ہے کلو میٹر ڈیڑھ کا تو فاصلہ ہے ، صحیح موسم میں تو دن میں دو تین بار چکر لگ جاتا ہے ۔“
”پھر بھی یہاں گھر بنانے کی وجہ میری سمجھ سے باہر ہے ۔“
”ایک تو یہاں پانی کا چشمہ بالکل ہی ساتھ ہے ،دوسرا یہ ہماری اپنی زمین ہے یہاں اخروٹ کے پندرہ بیس درخت ہیں جن کی نگرانی ہم یہاں رہتے ہوئے آسانی سے کر سکتے ہیں ،خشک لکڑی بھی وافر موجود ہے ،گاﺅں میں رہتے ہوئے تو ہمیں لکڑی لینے کے لیے یہیں آنا پڑتا تھا ۔ اب ہماری دیکھا دیکھی ماموں جان بھی یہیں گھر بنانے کی سوچ رہے ہیں ۔شاید آنے والی گرمیوں میں وہ کام کی ابتدا کر دیں ۔“اس نے وہاں گھر بنانے کی وجوہات پر مفصل روشنی ڈالی ۔
”ہونہہ!....مطلب میرا مشورہ ٹھیک نہیں تھا ۔“
چاے کی پیالی میری جانب بڑھاتے ہوئے وہ مسکرائی ۔”خیر اتنا بھی برا نہیںتھا کہ آپ پریشان ہو جائیں ۔“
”اور کوئی نئی تازی ۔“میں نے بھاپ اڑاتی چاے کی پیالی تھام لی ۔
ہانڈی دوبارہ چولھے پر چڑھا کر اس نے اپنی پیالی اٹھائی اور دھیمے لہجے میں کہنے لگی۔ ”ہمارے گاﺅ ں کے ایک آدمی نصیر خان نے مجھ سے اپنے بیٹے کا رشتاکرنے کے لیے باباجان کو دس لاکھ کی آفر کی ہے، جبکہ باباجان پندرہ لاکھ مانگ رہے ہیں ۔“
اس کی بات سن کر میں ششدر رہ گیا تھا ۔وہ کوئی ایسی معلومات نہیں تھی جوایک جوان لڑکی کسی اجنبی لڑکے کو بتا پاتی ۔مجھے اس کی بات کا کوئی مناسب جواب بھی نہیں سوجھ رہا تھا ۔
”شاید میری بات آپ کو بری لگی ہے۔“مجھے خاموش پا کر اس نے نظریں جھکاتے ہوئے عجیب سے لہجے میں پوچھا ۔
”اس میں برا لگنے کی کیا بات ہے ؟“میں نے زبردستی کی مسکراہٹ ہونٹوں پر چپکا ئی ۔ ”اور یوں بھی بہنوں کی کوئی بات بھائیوں کو بری نہیں لگا کرتی ۔“
”اوہ ....چاے میں چینی ڈالنا تو بھول ہی گئی تھی ۔“صفائی سے موضوع تبدیل کرتے ہوئے وہ چینی کا ڈبہ کھولنے لگی ۔”آپ نے بھی ذکر نہیں کیا ۔“
”میں کم چینی پیتا ہوں محسوس ہی نہ ہوا کہ چینی بالکل نہیں ہے ۔“
”کیا آپ مجاہدین کے ساتھی ہیں ۔“ چمچ سے چینی حل کرتے ہوئے اس نے اچانک پوچھا ۔
”نہیں ۔“میں نے نفی میں سرہلایا۔
”تو پھر یہاں آپ کی آمد کا مقصد ؟“
”بتایا تو تھا کہ اپنے ساتھیوں کی تلاش میں سرگرداں ہوں ۔“
”ہاںبتایا تو تھا ،مگر اس روکھے پھیکے اور جان چھڑانے کے انداز میں کہ کچھ اندازہ ہی نہیں ہو پارہا ۔“
”کیسا اندازہ ؟“میں نے حیرانی ظاہر کی ۔
”یہی کہ آپ اپنے ساتھیوں کے ساتھ یہاں آئے کیوں ،پھر وہ آپ سے بچھڑے کیسے اور اب افغانستان جیسے دشوار گزار ملک میں انھیں ڈھونڈیں گے کیسے،آپ کا تعلق کس علاقے سے ہے ؟ وغیرہ وغیرہ ۔“
”شاید یہ سب جاننا آپ کے لیے ضروری نہ ہو ۔“میں نے جان چھڑانا چاہی ۔
اس نے فلسفیانہ انداز میں کہا ۔”کسی بھی آدمی کی ضروریات اور ترجیحات کو وہ خود ہی اچھی طرح جانتا ہے ۔“ان پڑھ ہوتے ہوئے بھی وہ بہت نپی تلی اور بامعنی گفتگو کرتی تھی ۔
”میری کہانی بہت لمبی ہے ۔“
”جب دادی جان زندہ تھیں ،میں روزانہ سونے سے پہلے ان سے کہانی سنا کرتی تھی ۔اور ہمیشہ اس بات پر شاکی رہتی کہ ان کی کہانی اتنی جلدی ختم کیوں ہو جاتی ہے ۔آپ بھی اپنی کہانی مختصر کر کے سنانے کی کوشش نہ کرنا ۔ “
اس کے انداز پر مجھے ہنسی آ گئی تھی ۔اس کے ہونٹوں پر بھی تبسم کھلنے لگا ۔
”اچھا رات کو سب کچھ بتا دوں گا فی الحال میں رنڑا اور ثمر خان کا ہاتھ بٹا دوں ۔“وہ چھتیں صاف کر کے صحن میں اتر آئے تھے ۔
”وہ صفائی کر لیں گے ۔“گلگارے نے مجھے منع کیا ۔
”اگر میں بھی ان کی تھوڑی سی مدد کر لوں تو یقینا میری شان میں فرق نہیں پڑے گا ۔“
”اچھا وعدہ کریں رات کو اپنے متعلق سب کچھ بتائیں گے ۔“
”ان شاءاللہ ۔“کہہ کر میں باورچی خانے سے باہر آگیا ۔
بہن بھائی بڑے زور و شور سے صفائی میں مشغول تھے ،میں بھی ان کا ہاتھ بٹانے لگا ۔
٭٭٭
رات کا کھانا شمریز خان اور میں نے اکٹھے بیٹھ کر کھایا تھا ۔رنڑا نے خالی برتن سمیٹے اور ثمر خان کو ساتھ لے کر دوسرے کمرے میں سونے چلی گئی ۔جبکہ گلگارے، والد کو گولیاں کھلانے لگی ۔گولیاں کھلا کر وہ اس کا سر دبانے بیٹھ گئی ۔میں نے اپنی ٹانگیں لحاف میں کر لیں تھیں ۔اس دوران مجھے محسوس ہوا کہ گلگارے مجھے مسلسل گھور رہی ہے ۔میں نے بادل نخواستہ اس کی طرف دیکھا ،وہ فوراََ آنکھوں سے اشارہ کرکے مجھے وعدہ یاد دلانے لگی ۔ باپ کی موجودی میں وہ کھل کر نہیں کہہ پارہی تھی کہ میں اپنی کہانی سناﺅں ۔
اب میں بغیر کسی وجہ کے اپنی کہانی کیسے شروع کرتا ۔لمحہ بھر سوچنے کے بعد میں اس کے والد کو مخاطب ہوا ۔
”شمریز چچا !....کیا آپ میری کچھ رہنمائی کر سکتے ہیں کہ میں اپنے ساتھیوں کو کیسے تلاش کروں ۔“
”میں اس بارے کیا کہہ سکتا ہوں ،یہ تو آپ کو معلوم ہو گا کہ انھوں نے کس مقصد سے افغانستان کی سرحد پار کی اور انھیں افغانستان کے کس شہر یا علاقے میں جانا تھا ۔“
”شہر یا علاقے کے بارے تو مجھے بھی واضح نہیں البتہ ان کا مطمح نظر امریکن ایجنسی کے خلاف کام کرنا تھا ۔“
”تو صاف کہو نا کہ مجاہد ہیں ....اور مجاہدین کی تلاش بہت آسان ہے ۔ان کے کسی بھی کمانڈر کو مل کر آپ اپنے ساتھیوں کو ڈھونڈ سکتے ہیں ۔“
گلگارے نے اپنی گہری نیلی آنکھوں سے خفگی بھرے انداز میں مجھے گھورا ۔اس نے باورچی خانے میں ، مجھ سے دریافت کیاتھا کہ آیا میں مجاہدین کا ساتھی ہوں اس وقت میں نے صاف انکار کر دیا اور اب امریکنوں کے خلاف کام کرنے کی بات پر وہ بھی والد کی طرح مجھے مجاہد سمجھ بیٹھی تھی ۔
”مجاہد نہیں ہیں شمریز چچا ۔“میں نے انکار میں سر ہلایا۔
”ذیشان میاں !....آپ کی باتیں میری سمجھ میں تو نہیں آ رہیں ۔نہ آپ نے اپنے بارے کوئی تفصیل بتائی ہے ۔اب میں کیا اندازے لگاتا پھروں اور کیسے مشورہ دوں ۔“
میں کافی دیر سے ایسے ہی کسی سوال کا منتظر تھا تاکہ گلگارے سے کیے گئے وعدے کے مطابق اپنی کہانی سنا سکوں ۔اس کے لہجے میں اپنے بارے جاننے کا اشتیاق محسوس کرنے کے باوجود میں نے کہا ۔
”شمریز چچا ،میری کہانی کافی طویل ہے ،میں نہیں چاہتا کہ آپ کا وقت ضائع ہو یا آپ بیزاری محسوس کریں ۔“
”چارپائی پر پڑے معذور آدمی کے پاس وقت کی کمی نہیں ہوتی۔“
میں نے جلدی سے کہا ۔”اللہ نہ کرے آپ معذور ہوں ۔“
”میں عارضی معذوری کی بات کر رہا تھا ۔بہ ہرحال آپ اپنی کہانی شروع کریں ،اگر میں نے بیزاری محسوس کی بھی تو آپ پر اپنی بیزاری ظاہر نہیں ہونے دوں گا ۔“
اس کی بات پر میرے ساتھ گلگارے بھی ہنس پڑی تھی ۔
”میرا خیال ہے تم آرام کرو ۔“شمریز نے اسے جانے کی اجازت دی ۔
”بابا جان !آپ جانتے تو ہیں میں کہانیاں سننے کی کتنی شوقین ہوں ۔“اس نے فوراََ انکار میں سر ہلادیا تھا ۔
”جیسے تمھاری مرضی ۔“بیٹی کو کہہ کر اس نے استفہامیہ نظروں سے مجھے گھورا ۔گویا بہ زبان خاموشی کہہ رہے ہوں کہ میں نے اب تک کہانی شروع کیوں نہیں کی ۔
”میرا تعلق پاک آرمی سے ہے ۔“گلا کھنکارتے ہوئے میں نے بات شروع کی ۔میری بات سنتے ہی گلگارے کا چہرہ ٹیوب لائیٹ کی طرح چمکنے لگا تھا ۔میری بات جاری رہی ۔” وزیرستان میں دہشت گردوں کے خلاف کام کرتے ہوئے میرا ٹکراﺅ ایک بہت بڑے دہشت گرد قبیل خان سے ہوا ۔اسی اثناءمیں میری ملاقات ایک لڑکی پلوشہ خان وزیرسے ہوئی ،جو اپنی بہن کی بے حرمتی اور قتل کا بدلہ لینے کے لیے قبیل خان کو ڈھونڈتی پھر رہی تھی ۔ہمارا دشمن ایک ہی تھا اور اسی بات نے ہمیں قریب کر دیا ........“ میں ترتیب سے تمام ضروری باتیں ان کے گوشِ گزار کرتا گیا ۔قبیل خان اور جہانداد خان کی موت ،کس طرح پلوشہ کی وجہ سے میں امریکنوں کے ہاتھ چڑھا ،کس طرح انھوں نے میری وڈیوز بنائیں ،پلوشہ کا دوبارہ ملنا ،شادی ، صنوبر خان کی موت ،اپنی گرفتاری ،فرار اور پلوشہ کا سردار کے ساتھ میری بے گناہی کے ثبوت ڈھونڈنے نکلنے تک میںنے تمام اہم باتیں ان کے گوش گزار کر دیں ۔پلوشہ کے ذکر پر گلگارے کا چہرہ بجھ سا گیا تھا۔یا شاید مجھے ہی کچھ ایسا لگ رہا تھا ۔میری بات ختم ہوتے ہی شمریز خان تحسین آمیز لہجے میں بولا ....
”تو آپ ہیں وہ ایس ایس جو اڑتی مکھی کو بھی نشانہ بنا سکتا ہے ۔“میں نے اسے اپنی نشانہ بازی اور ایس ایس نام کے بارے کچھ نہیں بتایا ۔اب اس کا یوں کہنا مجھے ششدر کر گیا تھا ۔
”آپ کو میرے نام کا کیسے پتا ؟“
وہ مسکرایا۔ ”دیکھ لیں اتنی جادوگری تو ہمیں بھی آتی ہے ۔“
”پھر بھی ۔“میں جاننے پر مصر ہوا ۔
وہ معنی خیز لہجے میں بولا۔”ہمارے گھر میں صرف اچکے اور آوارہ گرد ہی نہیں آتے ،یہاں مجاہدین کا گزر بھی رہتا ہے۔“
”یہ میرے سوال کا جواب نہیں ۔“
”بھائی ،قبیل خان جیسے بڑے سردارکا قتل جس کی جڑیں افغانستان تک پھیلی ہوئی تھیں ،اتنی چھوٹی بات نہیں ہے کہ علاقے میں اس کی شہرت نہ ہوتی ۔اور پھر اس کے قتل میں اس کی اپنی قوم و قبیلے کی لڑکی شامل تھی ....اس کے ساتھ دو قبیلوں کی لڑائی میں ایک سردار کا قتل اور وہ بھی اس انوکھے انداز سے ، آج تک اڑھائی تین کلومیٹر کے فاصلے سے ہم نے کسی کو نشانہ بنتے نہیں دیکھا ۔اور اسے نشانہ بنایا پلوشہ خان وزیر کے محبوب ایس ایس نے ۔اسی طرح قبیل خان کے روشن خان نامی کمانڈر کو ایس ایس نے کلو میٹر بھر کی دوری سے ایک آڑ میں پھنسالیا ،یہاں تک کہ اسے معافی مانگ کر اپنی جان بچانا پڑی ....یہ اور اس جیسی اور بہت سی باتیں ہمیں مجاہدین اوریہاں سے گزرنے والے دوسرے لوگوں سے پتا چلتی رہیں۔آپ کی باتوں میں بس صنوبر خان کی موت اور آپ کی پلوشہ سے شادی میرے لیے نئی بات ہے ۔ باقی آپ نے جونھی اپنی کہانی شروع کی میں نے آپ کو فوراََ پہچان لیا تھا ۔ “
”میں نے بھی ۔“گلگارے بھی پیچھے نہیں رہی تھی ۔”کیونکہ جو لوگ باباجان کے ساتھ بیٹھک میں مصروفِ گفتگو ہوتے ہیں میں ان کی ساری باتیں سنا کرتی ہوں ۔“
میں انکساری سے بولا ۔”خیرمیری نشانہ بازی کے متعلق تو لوگوں نے کچھ زیادہ ہی مبالغہ آرائی سے کام لیا ہے ورنہ اتنا اچھا نشانے باز ہوتا تو اس دن گلگارے بہن کاچیلنج قبول نہ کر لیتا ۔“
وہ سرعت سے بولی ۔”مجھے کیا پتا تھا کہ آپ ایس ایس ہیں ۔“
میں نے کہا۔”اچھا آپ نے ساری کہانی سن لی ہے نا،اب جائیں اورآرام کریں ۔“
”جب نیند آئے گی تو چلی جاﺅں گی ۔“وہ بے پروائی سے والد کا سر دباتی رہی ۔
ایک لمحہ اسے گھورنے کے بعد میں شمریز خان کی طرف متوجہ ہو گیا ۔اس دوران اس نے بھی نظریں چرانے کی کوشش نہیں کی تھی ۔
”شمریز چچا !....اب تو آپ مشورہ دے سکتے ہیں نا ۔“
”ویسے آپ کی بیوی نے کی تو بے وقوفی ہے لیکن اتنا پتا چلتا ہے کہ وہ آپ کے لیے کچھ بھی کر سکتی ہے ۔“
”اس میں تو کوئی شک نہیں ،لیکن اس کی اس بے وقوفی سے مجھے کتنی تکلیف ہوگی اس کا وہ اندازہ نہ کر سکی ۔“
”اس کے لیے سب سے اہم آپ کی جان بچانا تھا ۔اور جن حالات میں اس نے گھر چھوڑنے کا فیصلہ کیا ایسے حالات میں اس سے بہتر کچھ سوچا بھی نہیں جا سکتا ۔“گلگارے ہماری گفتگو میں مخل ہوئی ۔
میں نے فوراََ کہا ۔”ہاں ،آپ بھی عورت ہو ۔اپنی ہم ذات ہی کی طرف داری کرو گی ۔“
”تو کیا کرتی ....آپ کو بے گناہ تشدد کا نشانہ بنتے دیکھتے رہتی ،جبکہ نہ تو وہ ایک گھریلوخاتون ہے ۔اور نہ لڑائی جھگڑا اس کے لیے کوئی نئی چیزہے ۔“ گلگارے اپنے موقف پر ڈٹ گئی تھی ۔
”اگر اسے کچھ ہو گیا پھر ؟“میں نے اندیشہ ظاہر کیا ۔
”اگر وہ ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھی رہتی اور آپ کو کچھ ہو جاتا پھر ؟“
”اسے کچھ تو انتظار کرنا چاہیے تھا ۔“میں نے یوں جھلاتے ہوئے کہا گویا پلوشہ کو گلگارے ہی نے افغانستان بھیجا ہو۔
”انتظار کرنے والے عموماََ گھاٹے میں رہتے ہیں ۔اور معاف کرنا آپ کی باتوں سے لگ رہا ہے گویا چاہت کے اظہار کا حق صرف آپ ہی کو حاصل ہے ۔اگر آپ اس کے افغانستان جانے پر اتنے پریشان ہیں تو خود سوچیں آپ کے ایجنسیوں کے ہاتھوں گرفتاری پر اس پرکیا بیتی ہوگی ۔جبکہ اسے یہ بھی معلوم تھا کہ آپ ایک منظم سازش کا شکار ہو چکے ہیں اور آپ کے خلاف بہت سارے ثبوت ایجنسیوں تک پہنچا دیے گئے ہیں ۔“
”آپ ،اس کی بڑی طرف داری کر رہی ہیں ۔“
”ہاں ،کیونکہ میں اسے حق پر سمجھتی ہوں ۔آپ بے جا ہی اس سے خفا ہو رہے ہیں ۔“
”میں خفا نہیں ،پریشان ہوں ۔اور اس کی وجہ سے مجھے اپنی صلاحیتیں دو محاذوں پر لگانا پڑ رہی ہیں ۔“
”آپ پلوشہ کی تلاش کو چھوڑیں اور اصل کام پر توجہ دیں ۔“وہ باقاعدہ بحث پر اتر آئی تھی ۔ شمریز خان متبسم ہو کر ہماری گفتگو سن رہا تھا ۔
”ایسا کیسے ہو سکتا ہے ۔میرے لیے ہرکام سے اہم پلوشہ کی خیریت ہے ۔“
گلگارے کے چہرے پر عجیب سا تاثر ابھرا جس کی توجیہ سے میں قاصر تھا ۔ایک لمحہ مجھے گھورنے کے بعد وہ گہرا سانس لیتے ہوئے بولی ۔”آپ کی باتوں سے ذرا بھی نہیں لگ رہا کہ آپ وہی ایس ایس ہیں ،جس کے واقعات سن کر ہم باپ بیٹی اتنے زیادہ متاثر ہو گئے تھے ۔“
”کہا تو ہے اس بارے لوگ کچھ زیادہ ہی مبالغہ آرائی سے کام لیتے رہے ہیں ۔“
”اچھا مجھے یہ بتائیں ،پلوشہ خان نے افغانستان میں جا کر کس کو تلاش کرنا ہے ؟“
”البرٹ بروک کو ۔“
”اور پلوشہ کی تلاش کے علاوہ آپ کا مطمح نظر کیا ہے ؟“اس نے دوسرا سوال پوچھا ۔
میں نے فوراََکہا ۔”البرٹ بروک کی تلاش ۔“
”تو جب آپ دونوں کی منزل ایک ہی ہے تو دائیں بائیں ٹامک ٹوئیاں مارنے کے بجائے سیدھا اپنے کام پر توجہ دیں ۔امید ہے پلوشہ خان بھی آپ کو البرٹ بروک کے دائیں بائیں مل ہی جائے گی ۔“
اس کی بات نے مجھے حیران کر دیا تھا ۔اس کا مشورہ رد کرنے کے قابل نہیں تھا ۔میں نے تحسین آمیز انداز میں اس کی طرف دیکھا ۔”ویسے مجھے نہیں معلوم تھا کہ میری چھوٹی بہن اتنی سمجھ دار ہو سکتی ہے ۔“
”صحیح کہا ۔“اس نے منہ بناتے ہوئے اوپر نیچے سر ہلایا۔”مردوں کے نزدیک عورت ہمیشہ فاترالعقل ہی رہی ہے ۔اسی وجہ سے تو باباجان بھی کہتے رہتے ہیں کہ میں ان کی بیٹی نہیں بیٹا ہوں ۔گویا بیٹی سے تو بہادری اور عقل مندی کی توقع عبث ہے ۔“
میں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا۔”خیر یہ تو آپ زیادتی کر رہی ہیں ۔میں نے حیرانی آپ کے عورت ہونے پر نہیں کم عمر ہونے پرظاہر کی ہے ۔اسی طرح شمریز چچا اس وجہ سے آپ کو بیٹا نہیں کہتے کہ ان کی نظر میں بیٹی بہادر نہیں ہو سکتی ۔بلکہ وہ اس لیے ایسا کہتے ہیں کہ کسی کی تعریف کرنے کے لیے عموماََ تشبیہ کا سہارا لیا جاتا ہے ۔جیسے کہا جاتا ہے فلاں تو شیر ہے شیر ۔اگر میں پوچھوں ،کیا ایک جانور انسان سے بہتر ہو سکتا ہے ۔تو آپ کا جواب یقینا نفی میں ہوگا ۔لیکن کبھی کسی نے خود کو شیر کہنے کا برا نہیں منایا ہوگا۔یونھی آپ کا اعتراض کرنا بھی نہیں جچتا۔“
”باتیں بنانا تو مردوں کا خاصا ہے ۔“میری بات سے اختلاف نہ کرنے کے باوجود وہ میری وضاحت قبول کرنے پر راضی نہیں تھی ۔
”اسے چھوڑیں چچا ،آپ کوئی مشورہ دیں نا ۔“میں اس سے بحث کرنا ترک کرتے ہوئے شمریز خان کی طرف متوجہ ہو گیا ۔
وہ مستفسر ہوا۔”ایک بات تو طے ہو گئی نا کہ آپ پلوشہ کے بجائے البرٹ بروک کی تلاش میں نکلیں گے ۔“
”ہاں ۔“میں نے اثبات میں سرہلایا۔”اس سے بہتر مشورہ تو کوئی ہو ہی نہیں سکتا ۔“
”اب رہ گئی البرٹ بروک کی بات تو اس کے متعلق آپ کو مجاہدین سے کوئی رہنمائی نہیں مل سکتی ۔اس ضمن میں یا تو صنوبر خان کے قائم مقام سے مدد مل سکتی ہے کہ اب اسی سے امریکنوں نے کام لینا ہے یا آپ کسی امریکی کو اغواءکر کے البرٹ بروک کے متعلق معلومات حاصل کر سکتے ہیں ۔“
”ہونہہ۔“میں نے پر خیال انداز میں کہا ۔”اس کا مطلب ہے مجھے ملک گلبدین،یا ملک فیروز خان پر ہاتھ ڈالنا چاہیے تھا۔“
”غالباََ آپ تورے خار کے ملک فیروز خان کی بات کر رہے ہیں ۔“
”جی ہاں ۔“میں نے اثبات میں سر ہلایا۔
”اور یہ گلبدین کون ہے ؟“
میں نے جواب دیا ۔” دیگان کا سردار ہے اور شمالی وزیرستان میں دہشت گردانہ کارروائیوں کا کرتا دھرتا ہے ۔“
”بہ ہر حال بہتر یہی ہے کہ اب پیچھے جانے کے بجائے آگے ہی کا رخ کرو ۔یوں بھی آپ کی پلوشہ بھی آگے جا چکی ہے ۔“
میں نے مسکرا کر کہا ۔”آپ نے تو ہر پچھتاوے کا خاتمہ کر دیا ہے۔“
اس سے پہلے کہ وہ کوئی جواب دیتا ،اچانک چھت پر ہلکا سا دھماکا ہوا ،یوں جیسے کوئی دیوار سے نیچے اترا ہو۔کمروں کی چھت سے چاردیواری قریباََ ساڑھے چار پانچ فٹ اونچی تھی ۔میں سوالیہ انداز میں شمریز خان کی طرف دیکھنے لگا تھا ۔میرے کچھ کہنے سے پہلے ویسی ہی آواز دوبارہ ابھری اور میرے دل میں تھوڑا ساشک تھا بھی تو وہ دور ہو گیا ۔ یقینا وہ موذی رات کے اندھیرے کا فائدہ اٹھانے پہنچ گئے تھے ۔ گلگارے کے چہرے پر بھی گہری تشویش اور اندیشے ظاہر ہو گئے تھے ۔حالانکہ چھوٹی موٹی باتوں کو وہ خاطر میں نہیں لایا کرتی تھی ۔
جاری ہے
قسط نمبر52
ریاض عاقب کوہلر
میں فوراََ لحاف سے باہر نکلا ۔بوٹ ڈالنے کا وقت نہیں تھا ۔پاﺅں ہوائی چپل میں ڈال کرمیں نے سر پر گرم ٹوپی رکھی اور اپنی کلاشن کوف کاک کرتے ہوئے ہاتھ میں پکڑلی۔
”شمریز چچا کی چارپائی کو دروازے کے سامنے سے ہٹا دو ۔ثمر خان اور رنڑا کو بھی دروازے کے سامنے نہ آنے دینا ۔“گلگارے کو ضروری ہدایات دیتے ہی میں چھت پر چڑھنے کے لیے دوسرے کمرے کی طرف بڑ ھ گیا ۔
گلگارے نے کچھ کہنے کے لیے لب کھولنے چاہے مگر اس کی بات سننے کے لیے رکا نہیں تھا ۔ دوسرے کمرے کے شمال مغربی کونے میں لوہے کی سیڑھی لگی تھی جس کا اختتام چھت پر بنے ہوئے مورچے میں ہوتا تھا ۔ان کے گھر دو ،مورچے بنے ہوئے تھے ۔ایک گھر کی سامنے کی طرف شمال کی جانب اور دوسراگھر کی عقبی جانب جنوب مغربی دیوار پر ۔دونوں مورچوں پر جانے کے لیے علاحدہ علاحدہ سیڑھیاں لگی ہوئی تھیں ۔مورچوں پر لوہے کے مضبوط دروازے لگے تھے جو اندر کی جانب بند ہوتے تھے ۔
میں سرعت سے سیڑھیوں پر چڑھتا ہوا چھت کے سوراخ سے مورچے میں داخل ہوا ۔ مورچے کے دروازے پر مجھے کھسر پھسر سنائی دے رہی تھی ۔مجھے لگا کوئی دروازے کو کھولنے کی کوشش میں ہے ۔میں دروازے کے قریب ہوا اور ان کی سرگوشیوں کی آواز میرے کانوں میں پڑنے لگی ۔
”سنگین خانا ،دروازہ اندر سے بند ہے ۔اور ہول اتنے چھوٹے ہیں کہ ان سے اندر نہیں گھسا جائے گا ۔“
”تو پھر دوسرے مورچے کا جائزہ لیں ۔“شاید اس مرتبہ بولنے والا سنگین خان تھا ۔
”یقینا وہ بھی اندر سے بند ہوگا ۔“ایک تیسری آواز ابھری تھی ۔”ہمیں صحن ہی میں اترنا پڑے گا ۔“
”لازماََ انھوں کمروں کے دروازے بھی اندر سے بند کیے ہوں گے ۔“یہ وہ پہلا آدمی تھا جس نے سنگین خان کو پکارا تھا ۔
”پھر کیا کریں ؟“سنگین خان کی آواز میں بے چینی تھی ۔
”دیکھ لو ....تمھی اس لڑکی کو حاصل کرنے کے لیے پاگل ہوئے جا رہے ہو ۔اور اتنا تو ہمیں معلوم ہے کہ گھر میں کم از کم دوہتھیار بردارمرد موجود ہیں ۔“تیسرے مرد نے اندیشہ ظاہر کیا ۔
”الفت جان !....کیا میں نے تمھارے لیے کبھی خطرہ مول نہیں لیا ۔“سنگین خان کی آواز میں گہری خفگی پنہاں تھی ۔
”میں نے ایسا کیا کہہ دیا ۔“الفت جان جھلاتے ہوئے بولا ۔”فقط مشورہ ہی دیا ہے نا ۔“
”لڑنے کی ضرورت نہیں اور کوئی ترکیب سوچو کہ ہمیں ناکام نہ لوٹنا پڑے ۔“یہ وہی تھا جس نے سنگین خان کو دروازہ بند ہونے کی اطلاع دی تھی ۔
سنگین خان بولا۔”میرا خیال ہے نیچے اتر کر دیکھتے ہیں ۔اگر دروازے بند ملیں گے تو صبح کا انتظار کر لیں گے ۔جیسے ہی وہ اٹھیں گے ہم انھیں چھاپ لیں گے ۔“
الفت جان طنزیہ لہجے میں بولا۔”مطلب تم اس لڑکی کو حاصل کیے بغیر نہیں جانے والے ۔“
”بالکل بھی نہیں۔“سنگین خان حتمی لہجے میں بولا ۔”جب سے اسے دیکھا ہے میری راتوں کی نیند ہی اڑ گئی ہے ۔اسے پائے بغیر مجھے سکون نہیں آئے گا ۔“
الفت جان نے کہا ۔”اسفند یار !....وزیر بادشاہ اور سلیم جان کو بھی اوپر ہی بلا لو ۔وہ ساری رات باہر تو نہیں کھڑے رہیں گے ۔“
”ٹھیک ہے ۔“اسفند یار اس سے متفق ہوتا ہوا بولا۔وہ یقینا ان آدمیوں کو اوپر لانے کے لیے چل پڑا تھا ،مگر اس کے قدموں کی آواز مجھے سنائی نہ دی کہ وہ نہایت احتیاط سے قدم اٹھا رہا تھا ۔میں نے مورچے کے ہول سے احتیاط سے باہر جھانکا ۔مورچے کے اندر اندھیرا تھا اور میرا نظر آنا ممکن نہیں تھا ۔ برف باری کب کی رک چکی تھی ،آسمان بھی صاف تھا ۔اٹھارہ انیس کے چاند کی روشنی سفید برف پر منعکس ہو کر ماحول کوخوب روشن کیے ہوئے تھی ۔مورچے کے دروازے پر کھڑے آدمی تو مجھے نظر نہ آسکے البتہ اسفند یار دیوار کی جڑ میں قدم رکھتا ہوا دروازے سے دور جاتا نظر آیاگیا۔
مجھے ان کی بے وقوفی پر حیرانی ہو رہی تھی کیونکہ کچی چھتوں پر جتنی بھی احتیاط سے قدم رکھا جائے نیچے موجود آدمیوں کو لازماََ پتا چل جاتا ہے کہ کوئی چھت پر چل رہا ہے ۔البتہ کوئی گہری نیند میں ہو تو علاحدہ بات ہے ۔اس وقت رات کے دو بج رہے تھے ۔شاید انھیں یہ لگا ہو کہ تمام سو رہے ہیں اور یہی بات ان کی اس حماقت کی وجہ بنی ہو ۔واقعی جب انسان کے دماغ پر کسی عورت کے حصول کا بھوت سوار ہو تو اسے اس کے علاوہ کچھ نہیں سوجھتا ۔سنگین خان کے غلاظت بھرے بھیجے میں بھی معصوم رنڑا کا نوخیز اور پر کشش جسم سمایا ہواتھا ،جس کی وجہ سے وہ بار بار شمریز خان کے گھر کے چکر کاٹنے پر مجبور ہو گیا تھا ۔اور اس کا ایک ہی علاج تھا کہ ،گندے خیالات سے بھری کھوپڑی ہی اس کے سر پر باقی نہ رہنے دی جاتی ۔ اس کے علاوہ تو رنڑا کا خیال اس کے ذہن سے محو نہیں ہو سکتا تھا ۔
اچانک ہلکی آہٹ کے ساتھ کسی نے میری پیٹھ پر ہاتھ رکھا ،یقینا وہ گلگارے تھی جو محتاط انداز میں چلتی ہوئی وہاں پہنچی تھی ۔مجھے اندیشہ ہوا کہ کہیں وہ کچھ بول نہ دے ۔میں نے فوراََ مڑ کر اپنا ہاتھ اس کے ہونٹوں پر جمادیا،وہ ایک دم ساکت ہو گئی تھی ۔
اسی وقت سنگین خان نے بے صبری ظاہرکرتے ہوئے کہا ۔”نیچے اتریں ۔“اور اس کے بولنے کے بعد مجھے گلگارے کو کچھ کہنے کی ضرورت محسوس نہ ہوئی کہ اسے ساری صورت حال واضح ہو جانی چاہیے تھی۔اس کے ہونٹوں سے ہاتھ ہٹا کر میں دوبارہ دروازے کی جانب متوجہ ہوگیا ۔
”ٹھہروانھیں اوپر تو آنے دو ۔“الفت خان نے میری دل لگتی بات کہی تھی ۔میں بھی ان کے اوپرہی آنے کا منتظر تھا ۔
”تو وہ آجائیں گے نا ؟“سنگین خان نیچے جا کر جلد از جلد دروازوں کا جائزہ لینا چاہتا تھا ۔ شاید اس کے دل کے کسی کونے میں دروازہ کھلا ہونے کی امید روشن تھی ۔اور نفسانی خواہشات اسے کسی پل چین نہیں لینے دے رہی تھیں ۔
” رسی کے بغیر چھت سے کودو گے تو کتنا دھماکا ہوگا یہ بھی سوچا ہے ۔“الفت جان نے اس کی بے صبری پر ڈانٹا۔”اورہوش سے کام لو ،وہ کہیں سج سنور کر اپنے دولھے سنگین خان کی منتظر نہیں کہ تم مرے جا رہے ہو ۔“
”ہائے الفت جان !....تم نے اسے دیکھا نہیں ورنہ یہ بکواس نہ کرتے ۔یقین کرودودھ کی طرح سفید ،مکھن کے پیڑے کی طرح ملائم اورچاند کی طرح روشن چہرہ ہے اس کا ۔ اگر چہرے کی یہ حالت ہے تو باقی بدن کیسا ہوگا ۔افف....ایک تو یہ بھی چیونٹی کی رفتا ر سے اوپر چڑھ رہے ہیں ۔“سنگین خان رنڑا کی تعریف کرتے کرتے اپنے ساتھیوں کی سستی پر شکوہ کناں ہو گیا ۔اسے بالکل ہی قرار نہیں آرہا تھا ۔نہ جانے گزشتہ رات اس نے کیسے صبر لیا تھا۔
”شاید موسم کی خرابی آڑے آگئی تھی۔“میں نے سوچا مگر اس کے ساتھ مجھے خیال آیا کہ خراب موسم تو ایسے کاموں کے لیے مفید رہتا ہے ۔
اس کی گھٹیا گفتگو گلگارے نے بھی سن لی تھی اور یہ ناممکن تھا کہ وہ بات کی تہہ تک نہ پہنچ گئی ہو ۔اپنی چھوٹی بہن کے متعلق ایسی باتیں سن کر یقینا وہ غصے کے ساتھ خفت بھی محسوس کر رہی ہوگی ۔
میں مورچے کے ہول سے باہر جھانکنے لگا ۔چھت کی اس جانب کوئی دوسرا ہول موجود نہیں تھا اس وجہ سے گلگارے بھی میرے قریب آکر باہر دیکھنے کی کوشش کرنے لگی ۔ایسا کرتے ہوئے وہ بالکل میرے ساتھ جڑ گئی تھی ۔وہ خوش نما ،بھرپوراور گداز جسم کی مالک ایک نو خیز دوشیزہ تھی ۔ جبکہ میں عام خواہشات سے مغلوب ہونے والا ایک گناہ گار جوان اس کی قربت مجھے مہنگی پڑ سکتی تھی ۔اور میں نہیں چاہتا تھا کہ ایک قابل احترام اور پاکیزہ خیالات کی حامل لڑکی کے بارے میرے ذہن میں کوئی گندہ خیال پرورش پاکر ہمیشہ کی شرمندگی میرا نصیب کر دے ۔ یوں بھی شیطان خون کی طرح انسان کی رگوں میں دوڑتا ہے ۔
حفظ ماتقدم کے طور پرمیں نے فوراََ اسے بازو سے تھام کر نرمی سے دور دھکیل دیا ۔گو ایسی حرکت نرمی سے کی جائے یا سختی سے ۔مخالف کو نہایت ناگوار گزرتی ہے ،بلکہ صنف نازک کو تو شرمسار کر دیتی ہے ۔لیکن ایسا کرنا میری مجبوری تھی ۔
وہ کچھ کہے بنا دور ہو گئی ۔البتہ اندھیرے کی وجہ سے اس کے چہرے کے تاثرات مجھے دکھائی نہیں دے رہے تھے کہ میں اس کے غصے یا شرمندگی کا اندازہ کر پاتا ۔
میں دوبارہ ہول سے باہر جھانکنے لگا ۔چھت کا دوسرا کنارہ اتنی دور نہیں تھا کہ مجھے ان کے واضح ہیولے دکھائی نہ دیتے ۔یوں بھی برف پڑ جانے کے بعد چاندنی رات میں ماحول کچھ زیادہ ہی روشن ہو جاتا ہے ۔پہلے وہاں صرف اسفند یار موجود تھا ،اس کے بعد ایک ہیولے کا اضافہ ہوگیا ۔اور دیوار سے ایک تیسرا ہیولہ بھی چھت پر اتر رہا تھا ۔ان کے نیچے موجود دونوں ساتھی ،اوپر پہنچ گئے تھے ۔
میں ان کے ارادوں کو بھی جان گیا تھا اور ان میں سے کسی کی زندگی بھی میرے لیے کوئی معنی نہیں رکھتی تھی ۔نہ میں نے کسی سے کوئی پوچھ گچھ ہی کرنا تھی۔کلاشن کوف کو نیچے ہی سے کاک کر کے آیا تھا کہ ،کلاشن کوف کاک کرنے سے اچھی خاصی آواز ابھرتی ہے ۔ہاتھ سے ٹٹول کر میں نے سیفٹی لیور کو برسٹ پر سیٹ کیا اور باہر نکلنے کے لیے تیار ہو گیا ۔
دروازے کے بولٹ کواگر میں احتیاط سے کھولتا تو ذرا سی بھی آواز نکلنے پر سنگین خان اور الفت جان چوکنا ہو کر سنبھل سکتے تھے ۔اس کے برعکس بولٹ کو ایک جھٹکے سے کھولنے پر آواز تو ضرور اٹھتی مگر ان کے سنبھلنے سے پہلے میں دروازہ کھول چکا ہوتا ۔میں نے دوسری تجویز پر عمل کا سوچا اور دورازے کے بولٹ پر مضبوطی سے ہاتھ جما کر ایک دم بولٹ کھول کر دروازے کے اکیلے پٹ کو اندر کی طرف کھینچ لیا ۔ وہ دونوں اپنے ساتھیوں کی طرف رخ کر کھڑے تھے جو انھی کی طرف چل پڑے تھے ۔بولٹ کھلنے کی آواز پر وہ اچھل کر سنبھلے ....سنگین خان کے منھ سے بے ساختہ ....”کک....کیا ....ہے ۔“نکلا تھا ۔ لیکن یہ وہ آخری الفاظ تھے جو اس کے لبوں سے ادا ہوئے تھے ۔
انسان بھی کتنا انجان اور لاعلم ہے ۔نفسانی خواہشات سے مغلوب ،رنڑا کے نوخیز بدن کو روندنے کا منصوبہ بنانے والے سنگین خان کو یہ معلوم نہیں تھا کہ موت اس کے کتنا قریب پہنچ چکی تھی ۔اس کے ،رنڑا کی چیخیں اور آہیں سننے کے متمنی کانوں میں کلاشن کوف کی بھیانک تڑتڑاہٹ موت کا نغمہ بن کر گونجی ۔اس نے لذت کے عروج کے حصول کا منصوبہ بنایا ہوا تھا اور ربّ نے اذیت کی انتہا اس کے مقدرمیں لکھ دی تھی ۔
کلاشن کوف کے فائرکی آوازاور اپنے دونوں ساتھیوں کے نیچے گرنے پر ایک لمحے کے لیے وہ بد حواس ہو کر ساکت ہو گئے تھے ۔میں نے ٹریگر سے انگلی ہٹائے بغیر بیرل کا رخ ان کی جانب موڑا ۔ان میں سے ایک آدمی نے زیادہ ہوشیار ی دکھانے کی کوشش کی اور فوراََ دیوار پر چڑھ کر دوسری جانب کودنے کی کوشش کی ۔مگر چھت کے ساتھ متصل دیوار پر چڑھنے تک اس کی اپنی کوشش کا عمل دخل تھا ، جبکہ اسے دوسری جانب گرانے میں سراسر کلاشن کوف کی گولیوں کا کمال تھا ۔
سنگین اور الفت جان کے تڑپنے کی رفتار میں ٹھہراﺅ آتا جا رہا تھا ۔جبکہ دوسرے دو ابھی تک اپنے ہاتھ پاﺅں جھٹک رہے تھے ۔وہ ایک معصوم کلی کو تڑپانے آئے تھے ،انھیں خود تڑپنا پڑ گیا تھا ،اسی کو مقدر کہتے ہیں ،یہی موت کی گھات ہوتی ہے ،یہی فرق انسان اور اللہ پاک کے بنائے ہوئے منصوبے میں ہوتا ہے۔ایک طرف انسان تجویز بنا رہا ہوتا ہے اور دوسری جانب اللہ پاک ایک فیصلہ فرما چکا ہوتا ہے۔ اور ہوتا وہی ہے جو اللہ پاک نے مقرر کر دیا ہو۔ وہ ظالم تھے اور ظالموں پر اللہ پاک لعنت فرما چکا ہے ،جبکہ لعنت کا مطلب اللہ پاک کی رحمت سے دور ہونا ہے ۔وہ بھی اپنے گندے منصوبوں اور غلیظ خیالات کے ساتھ توبہ کی توفیق پائے بغیر مردار ہو گئے تھے ۔
گو مجھے یقین تھا کہ دیوار سے کودنے والا میری گولی کھا کر ہی دوسری جانب گرا ہے ۔لیکن اس کے باوجود میں نے ایک بار نیچے جھانک کر دیکھنا ضروری سمجھا ۔اس کی مڑی تڑی لاش دیوار کے ساتھ ہی پڑی تھی ۔
اسی وقت گلگارے بھی مورچے سے نکل آئی ۔مجھے مخاطب کیے بغیر وہ ہاتھ میں موجودٹارچ جلا کر ان کے چہرے دیکھنے لگی ۔ان کے چہروں پر اذیت ثبت ہونے کے باوجود مجھے پہچاننے میں کوئی دشواری نہیں ہوئی تھی ۔وہ وہی پانچوں تھے جو اس دن دھمکانے آئے تھے ۔مورچے کے دروازے کے ساتھ گرنے والے الفت جان اور سنگین خان میں ایک کے پاس تیس بور پستول اور دوسرے کے پاس کلاشن کوف تھی ۔جبکہ دوسرے کونے پر پڑی لاشوں کے پاس بارہ بور بندوق ،ایٹ ایم ایم اور ایک پستول پڑانظر آرہا تھا ۔دیوار سے کودنے والا اپنی رائفل وہیں پھینک گیا تھا ۔
”ان کی لاشوں کا کیا کریں ؟“ میں جانتا تھا کہ وہ خفا ہے اس کے باوجود میں اسے مخاطب ہوا۔
میری بات کا جواب دیے بغیر وہ وہاں پڑے ہتھیار سمیٹنے لگی ۔
”میں نے کچھ پوچھا ہے ۔“میں اسے دوبارہ مخاطب ہوا ۔مگر بے پروائی سے تمام ہتھیار اٹھا کر وہ واپس مورچے کی جانب چل دی ۔مجھے اچھی خاصی سبکی کا احساس ہوا تھا ۔گو میں نے بھی اس کی توہین کی تھی ،مگر میرا مقصد ہرگز ہرگز اس کی توہین یا سبکی کا نہ تھا ۔میں نے فقط حفاظتی تدبیر پر عمل کیا تھا ،مگر وہ جان بوجھ کر میری ہتک کرنے پر تل گئی تھی ۔
سر جھٹک کر میں بھی اس کے پیچھے چل پڑا ۔کمرے میں رنڑا اپنے باپ کی بغل میں گھسی تھی ۔وہ گلگارے کی طرح بننا چاہتی تھی مگر اس کی طبیعت مجھے گلگارے سے یکسر مختلف نظر آئی تھی ۔گلگارے بہادر،دلیر اور حوصلے والی تھی ۔جبکہ رنڑا روایتی لڑکیوں کی طرح ڈرپوک ،سہمی ہوئی اور جلدی گھبرا جانے والی تھی۔ثمر خان البتہ مجھے کافی حوصلے والا لگا تھا ۔جب میں کمرے میں داخل ہوا اس وقت گلگارے باپ کو تمام موذیوں کے مرنے کی اطلاع دے چکی تھی ۔
میں نے اندر داخل ہوکر پوچھا ۔”چچا شمریز !....ان لاشوں کا کیا کریں ۔“
”لازمی بات ہے زمین میں دبانا پڑیں گی ۔“
”اتنا بڑا گڑھاکھودنے میں تو صبح ہو جائے گی ۔“
”گڑھا کھودنے کی ضرورت نہیں ہے ،ہمارے گھر کے شمالی جانب جو اخروٹ کے دو بڑے درخت ہیں ان کی غربی جانب تھوڑی سی ڈھلان اتر کر ایک کافی بڑا گڑھا موجود ہے ۔گلگارے بیٹی آپ کو وہ جگہ دکھا دے گی ۔وہاں پھینک کر اوپر پتھر پھینک دو ۔ایسوں کے لیے ایسی ہی قبر دستیاب ہوا کرتی ہے ۔“
”ثمر خان چلا جائے گا ،مجھے سخت نیند آرہی ہے ۔“وہ اتنی خفا تھی کہ میرے ساتھ جانے پر بھی راضی نہیں تھی ۔
میں نے فوراََ کہا ”ثمر خان، میں چھت پر پڑی لاشوں کو شمالی جانب پھینک کر آتا ہوں ،تم کوئی ٹارچ اور بیلچہ وغیرہ ڈھونڈ لو۔“
”جی لالا۔“کہہ کر اس نے اثبات میں سر ہلادیا ۔میں دوبارہ مورچے کی سیڑھیوں کی طرف بڑھ گیا ۔ایک ایک کر کے میں نے چاروں لاشوں کو شمالی جانب سے دیوار سے باہر پھینک دیا ۔میرے کپڑے تو ان کے گندے خون سے ناپاک ہو گئے تھے ۔لیکن یہ کپڑے شمریز خان کے تھے ۔اس لیے مجھے زیادہ پروا نہیں تھی ۔مورچے کا دروازہ اندر سے بند کر کے میں نیچے اتر آیا ۔گلگارے اپنے لحاف میں گم ہو چکی تھی ۔رنڑا بھی بہن کی موجودی سے حوصلہ پا کر اپنی چارپائی پر پہنچ چکی تھی ۔میں سرسری نظر ان پر ڈالتا ہوا دوسرے کمرے میں پہنچ گیا جہاں ثمر خان چوڑے منہ والے بیلچے اور ٹارچ کے ساتھ میرا منتظر تھا۔
”ذیشان صاحب !....یقینا آپ کو زحمت ہو رہی ہوگی ،مگر میں مجبور ہوں اور ........“
”کیسی باتیں کر رہے ہیں شمریز چچا ۔“میں قطع کلامی کرتا ہوا بولا ۔”اس میں زحمت کیسی ۔ اب عورتیں تو یہ کام نہیں کرسکتی نا ۔اور گھر میں موجود صحت مند مرد اس کام کے لیے جا رہے ہیں ۔کیوں ثمر خان۔“میں آخری فقرہ مسکرا کر کہا تھا ۔
ثمر خان فوراََ چھاتی چوڑی کرتے ہوئے بولا ۔”جی لالا۔“اس کے انداز پر شمریز خان بھی مسکرا پڑا تھا ۔
میں ثمر خان کے ساتھ گھر سے باہر نکل آیا ۔سب سے پہلے میں نے غربی جانب اکیلی پڑی لاش اٹھائی اور ثمر خان کی معیت میں چل پڑا ۔اخروٹ کے دونوں درخت پچاس ساٹھ گز سے زیادہ دور نہیں تھے ۔اور مذکورہ گڑھا ان درختوں سے مزید پچیس تیس گز ڈھلان میں بنا تھا ۔وہ گڑھا اتنا بڑا تھا کہ پانچوں لاشیں آسانی سے اس میں سما جاتیں ۔
میں نے ایک ایک کر کے تمام کی لاشیں گڑھے میں پھینک دیں۔ہر لاش کو اٹھانے سے پہلے میں اس کی تلاشی ضرور لے لیتا تھا ۔ان کی جیبوں سے نکلنے والی تھوڑی بہت نقدی میں اپنے پاس سنبھالتا رہا ، کیونکہ اب وہ ان کے کسی کام کی نہیں تھی ۔صرف ایک آدمی کی جیب سے توقع سے زیادہ رقم برآمد ہوئی تھی جس پر میں حیرانی کا اظہار ہی کر سکتا تھا ۔ گڑھے کو پتھروں سے پاٹنے کے لیے ثمر خان نے بھی میرا ہاتھ بٹایا تھا ۔وہاں جا بجا اتنے پتھر بکھرے تھے کہ ہمیں زیادہ دور نہیں جانا پڑا تھا ۔آدھے گھنٹے کی کوشش کے بعد ان کی لاشیں مکمل۔ طور پر پتھروں سے ڈھک گئی تھیں ۔پتھر پھینکنے کے بعد میں نے بیلچے کی مدد سے گڑھے کی دیواریں بھی گرا کر کنکر بھری مٹی ،گڑھا پاٹنے والے پتھروں پر بکھیر دی تھی ۔اب ان پتھروں کو کوئی مردار خور جانور بھی ہٹا کر لاشوں تک رسائی نہیں پا سکتا تھا ۔البتہ مردہ خور کیڑوں کی چند روزہ ضیافت کا انتظام ہو گیا تھا ۔
لاشوں کو ٹھکانے لگانے کے بعد ہم واپس آگئے ۔ثمر خان کو اس کی چارپائی پر بھیج کر میں خود غسل خانے میں گھس گیا ۔ خون آلود کپڑے اتار کر میں نے کپڑا گیلا کر کے جسم پر لگے خون کے اثرات کو صاف کیا اور پھر صاف ستھرے کپڑے پہن کر باہر آگیا ۔شمریز خان میرے انتظار میں جاگ رہا تھا ۔
ایک بار پھر تہہ دل سے میرا شکریہ ادا کرنے کے بعد ہی اس نے لحاف اپنے اوپر لے لیا تھا ۔
٭٭٭
رات کو دیر تک سونے کی وجہ سے صبح کی نماز پر میں بہ مشکل ہی جاگ پایا تھا ۔نماز پڑھ کر دوبارہ سویا تودیر سے جاگا۔ سورج کافی اوپر آگیا تھا ۔وہ دن خوب روشن اور صاف تھا ۔سفر کرنے کے لیے ایک بہترین دن ،اگر میں کھانا کھا کر نکل جاتا تو اچھا خاصا سفر طے کر لیتا امید تھی کہ خان کلے تک پہنچ جاتا ۔ لیکن میں جانے کے لیے تیار نہیں ہوا ۔میری نگاہوں میں گلگارے کا خفگی بھرا چہرہ گھوم رہا تھا ۔میں نے واقعی اس کے ساتھ زیادتی کی تھی ۔جہاں میں چار پانچ دن گزار چکا تھا وہاں ایک دن مزید رکنے سے کوئی فرق نہیں پڑتا تھا ۔
چارپائی چھوڑ کر میں حوائج ضروریہ سے فارغ ہوا ۔اور ہاتھ منھ دھو کر غسل خانے سے باہر آگیا۔رنڑا نے مجھے بستر چھوڑتے ہوئے دیکھ لیا تھا ۔میرے غسل خانے سے باہر آنے تک وہ ناشتا لے آئی تھی ۔وہاں دودھ والی چاے کا صرف میں ہی شوقین تھا ،باقی قہوے کو زیادہ پسند کرتے تھے ۔ چاے پی کر میں شمریز خان سے گپ شپ کرنے لگا ۔رستے کے بارے ضروری معلومات لینے کے علاوہ میں نے اس سے گرم کوٹ ،پانی پلہ(رین کوٹ) اور لانگ بوٹ بھی مانگ لیے تھے ۔یہ تمام سامان اس کے پاس موجود تھا ۔اور مجھے آگے سفر کے لیے ان چیزوں کی اشد ضرورت تھی ۔
اس نے خوش دلی سے جواب دیا ۔”اس میں پوچھنے کی کیا بات ہے ۔“
میں نے ممنونیت سے کہا ۔”شکریہ شمریز چچا!“
اس نے پوچھا ۔” رات کو جو ہتھیار ہاتھ آئے ہیں ان کا کیا کرو گے ؟“
میں نے اطمینان بھرے لہجے میں جواب دیا۔”بارہ بور ،رنڑا کے لیے بہتر رہے گی ، کلاشن کوف ثمر خان کی ہو جائے گی ،ایٹ ایم ایم آپ رکھ لینا کہ آپ کی کلاشن کوف پر گلگارے قابض ہے ۔ باقی بچے دو پستول تو ان کے بدلے میں میں نے گرم کوٹ ،پانی پلہ اور بوٹ لے لیے ہیں نا ۔“
اس نے نفی میں سر ہلایا۔” یہ تو خیر زیادتی ہے ،اتنے قیمتی ہتھیار آپ کو یونھی نہیں چھوڑ دینے چاہئیں ۔“
”پہلی بات کہ میں یونھی نہیں چھوڑ رہا اور دوسرا ،کیا یہ سارا وزن ساتھ پھراتا رہوں گا۔“
”نہیں ۔“اس نے نفی میں سرہلاتے ہوئے مشورہ دیا ۔”ساتھ پھرانے کی کیا ضرورت ہے بیچ دو ۔خواگااوبو میں ان کے کئی خریدار مل جائیں گے ۔“
”شمریز چچا !....چند ٹکے ،رنڑا اور ثمر خان کی خوشی سے اہم نہیں ہیں ۔باقی یہاں رہتے ہوئے آپ کو ان ہتھیاروں کی بہت ضرورت پڑے گی ۔“
”شکریہ ذیشان صاحب ۔“
”اچھا میں ذرا دیکھ لوں یہ بچے کیا کر رہے ہیں ۔“میں باہر آگیا ۔گلگارے دن کا کھانا بنانے باورچی خانے میں گھسی تھی ۔میں اس سے معذرت کرنے کے لیے ہی رکا تھا اور اس سے بہتر موقع اور کوئی نہیں ہو سکتا تھا ۔دروازے پر کھڑے ہو کر میں پوچھنے لگا ۔
”چاے مل سکتی ہے ۔“
آٹے کے پیڑے بنا کر اس نے سامنے رکھے ہوئے تھے اور اب روٹیاں ڈالنے والی تھی ۔ میری آواز سنتے ہی وہ کوئی جواب دیے بغیر کھڑی ہوئی اور باورچی خانے سے باہر نکل کر رنڑا کو آوازیں دینے لگی۔وہ بھائی کے ساتھ مل کر مویشیوں کے باڑے کی صفائی میں لگی تھی ۔بہن کی آواز سنتے ہی باہر نکل کر پوچھنے لگی ۔
”جی باجی !“
”مہمان کے لیے چاے بنا دو ۔“اس کے لہجے سے ٹپکتی اجنبیت مجھے شرمسار کر گئی تھی ۔
”ٹھیک ہے باجی ۔“سعادت مندی سے کہتے ہوئے اس نے ہاتھ دھوئے اور باورچی خانے میں آگئی ۔
”لالا !....دودھ والی چاے یا قہوہ ۔“
”تمھیں نہیں پتا ،بڑا بھائی کون سی چاے پیتا ہے ۔“
وہ کھل کھلا کر ہنسی ۔”پتا تو ہے ۔“
”تو پھر بناﺅ ۔“
”ٹھیک ہے لالا جان !“اس نے چاے کا پتیلا چولھے پر چڑھا دیا ۔
”ویسے باجی آپ سے خفا تو نہیں ہیں ۔“
”کیا پتا ۔“میں نے منھ بنایا۔”اور مجھے اس کی خفگی کی پروا بھی کب ہے ۔جب میری ننھی سی رنڑا بہن موجود ہے تو کسی دوسرے کے نخرے کیوںاٹھاﺅں ۔“
”دیکھ لیں لالاجی !....آپ نے چلے جانا ہے اور باجی نے میری درگت بنا دینی ہے ۔“
میں نے مزاحیہ انداز میں کہا ۔”درگت کیوں،کل میں نے آوارہ گردوں سے جوبارہ بور بندوق چھینی ہے وہ تمھاری ہوئی۔ گلگارے جونھی رعب جمانے کی کوشش کرے بندوق نکال لینا ۔“
وہ معصومیت سے بولی ۔”مجھے بندوق چلانا ہی نہیں آتا۔“
”چاے پی کر میں تمھیں سکھا دیتا ہوں ۔“
”پتا ہے رات کو جس وقت آپ دشمنوں سے لڑ رہے تھے اس وقت باباجان نے مجھے آپ کے بارے سب کچھ بتا دیا تھا ۔“
”کیا سب کچھ ؟“میں نے حیرانی ظاہر کی ۔
”یہی کہ آپ فوجی ہیں ،بہت اچھے نشانہ باز ہیں ،دلیر اور بہادر ہیں اور ان تمام بدمعاشوں کو زندہ نہیں چھوڑیں گے ۔سچ میں میں اس وقت اتنی ڈری ہوئی تھی ،باباجان کی باتیں سن کر مجھے بہت تسلی ہوئی ۔بعد باباجان کا کہنا سچ ثابت ہوا اورمیرے بہادر لالا نے سب کو قتل کر دیا ۔“
یقینا رات کو اس کا خوف دور کرنے کے لیے ہی شمریز خان نے میری بہادری کے بارے کچھ مبالغہ آرائی کی تھی ۔
میں نے مزاحیہ انداز میں کہا ۔”ان بدمعاشوں کو تمھاری باجی گلگارے نے مارا ہے ۔“
”لالاجی ،باباجان کہتے ہیں جھوٹ مذاق میں بھی نہیں بولنا چاہیے ۔ایسا ہی ہے نا ۔“یہ کہتے ہوئے اس نے بھاپ اڑاتی چاے کی پیالی میرے سامنے رکھی اور اپنے لیے چاے ڈالنے لگی ۔
”تم اپنے لالاکو جھوٹا کہہ رہی ہو۔“میں نے اسے ہلکے سے ڈانٹا ۔
وہ شوخی سے مسکرائی ۔”نہیں لالاجی !....میں نے تو بس تصدیق چاہی ہے ۔“
میں اس کی ہنسی میں شامل ہوتا ہوا بولا۔”ویسے تمھارے باباجان نے بالکل ٹھیک کہا ہے ۔“
چاے پینے کے دوران وہ مجھ سے رات والی ساری بات اگلوا چکی تھی ۔چاے کی پیالی خالی کرتے ہوئے اس نے کہا۔
”اچھا چھت پر چڑھتے ہیں ،آپ مجھے بارہ بور رائفل چلانا بھی سکھا دینا اور وہاں آپ کو ایک خاص بات بھی بتاﺅں گی ۔“
میں نے اس کی تجویز میں ہلکی سی ترمیم کرتے ہوئے کہا ”تو گھر سے باہر جاتے ہیں نا ۔“
وہ مصرہوئی ۔”نہیں چھت پر جانا ضروری ہے ۔“
”اچھا ٹھیک ہے ،میں اوپر جارہا ہوں ،تم رائفل لے آﺅ۔“
اثبات میں سر ہلاتے ہوئے وہ گلگارے کو آوازیں دینے لگی ۔”باجی !....ہم نے چاے پی لی ہے آجائیں ۔“
رنڑا کی آواز سن کر وہ مویشیوں کے باڑے سے باہر نکل آئی ۔رنڑا کو چاے بنانے بھیج کر وہ خود صفائی میں مشغول ہو گئی تھی ۔وہ نہ صرف ناراض تھی بلکہ اپنی ناراضی کا واضح اظہار بھی کر رہی تھی ۔
میں نے اسے گھور کر دیکھا مگر وہ مجھ سے نظریں ملائے بغیرسرجھکائے باورچی خانے میں گھس گئی ۔ایک لمحے کے لیے میرا ارادہ ہوا کہ میں بھی باورچی خانے میں گھس کر اس سے ناراضی کی وجہ دریافت کروں ،مگر پھر مجھے ہمت نہ ہو سکی۔نہ جانے میرے زبردستی پوچھنے پر وہ کیا ردعمل ظاہر کرتی ۔ آخر وہ ایک جوان لڑکی تھی اور اس کا کوئی سخت ردعمل ،شمریز خان کے دل میں غلط فہمی کا بیج بھی بو سکتا تھا ۔ مجھے اپنا دن ضائع کرنے پر افسوس ہوا ۔مجھے آج صبح ہی آگے چلے جانا چاہیے تھا۔یہ سب کچھ سوچتے ہوئے میں چھت پر جانے کے لیے سیڑھی والے کمرے کی طرف بڑھ گیا ۔
چھت بالکل صاف پڑی تھی ۔ان موذیوں کے خون کا ایک قطرہ بھی نظر نہیں آرہا تھا ۔اور اس کی وجہ یہ تھی کہ ان کا گندہ خون برف پر گرا تھا ۔جو صبح ہی صبح رنڑا اور ثمر خان نے اٹھا کر چھت سے نیچے پھینک دی تھی ۔
اسی وقت رنڑا نے چھت پر چڑھ کر مجھے آواز دی ۔”لالاجی !....اس طرف ۔“اس نے مکان کے سامنے شمال کی جانب موجود مورچے کی طرف اشارہ کیا ۔ہم چھت پر چلتے ہوئے اس مورچے کے قریب پہنے ۔مکان کی بناوٹ ایسی تھی کہ اس کے تین اطراف میں کمرے تعمیر کیے گئے تھے جبکہ سامنے والی دیوار کے ساتھ کوئی کمرہ نہیں بنا تھا ۔شمال مشرقی دیوار کے ساتھ جو آخری کمرہ تھا اس کی چھت پرسامنے کے رخ کی دیکھ بھال کے لیے مورچہ بنا یا گیا تھا ۔تمام کمروں کو ملانے کے لیے دروازے لگائے گئے تھے ۔یوں کہ آدمی صحن میں نکلے بغیر پورے کمروں میں گھوم سکتا تھا ۔سامنے والا مورچہ جس کمرے پر بنا تھا اس کی چھت باقی کمروں سے بلند تھی ۔اتنی کہ چھت اور سامنے والی مشرقی دیوار کی بلندی برابر ہو جاتی تھی ۔یوں کہ اس جانب سے آدمی چھت پر لیٹ کر بھی فائر کر سکتا تھا ۔
وہاں پہنچتے ہی میں نے دیکھا کہ رنڑا نے میری کلاشن کوف بھی کندھے سے لٹکائی ہوئی ہے ۔
میں نے حیرانی سے پوچھا ۔”ارے بھئی میری کلاشن کوف کیوں لے آئی ہو ،کیا کلاشن کوف سے بھی فائر کرنا ہے ؟“
”نہیں لالاجی !....کلاشن کوف سے تو آپ نے فائر کرنا ہے ۔“
”میں نے کیوں ؟“
”بتاتی ہوں ۔“معنی خیز انداز میں کہتے ہوئے اس نے ایک جانب انگلی اٹھائی ۔”وہ درخت کا تنا نظر آرہا ہے۔“
میں نے اس کی انگلی کی سیدھ میں دیکھا قریباََ اڑھائی تین سو میٹر کے فاصلے پر درخت کا ایک ٹنڈ منڈ تنا نظر آرہاتھا ،جو زمین سے سات ،آٹھ فٹ بلند تھا ۔”ہاں مگر اس میں کیا خاص بات ہے ۔“
”تنے کے درمیان میں کوئی چیز نظر آرہی ہے ۔“میری بات کا جواب دیے بغیر اس نے اگلا سوال داغا ۔
میں نے اثبات میں سرہلایا۔”ہاں ،لگتا ہے کوئی شیشہ چمک رہا ہے ۔“
وہ میری کلاشن کوف لانے کا مقصد پھوٹتے ہوئے بولی ۔”بس لالاجی !....اسی شیشے کو آپ نے دس گولیوں سے نشانہ بناناہے ۔“
میں ہنسا ۔”تو یہ کام اپنی باجی سے کروانا تھا نا ۔“
”باجی ہی کا تو یہ ہدف ہے ۔اور یقین مانو درجنوں گولیاں ضائع کر چکی ہے ابھی تک اسے کامیابی نہیں ہوئی ۔“یہ بات کہتے ہوئے اس کی آواز سرگوشی میں ڈھل گئی تھی یوں جیسے گلگارے ہم سے دو قدم دور ہی تو کھڑی ہو ۔
”اگر میں بھی اسے نشانہ نہ بنا سکا پھر ؟“
”پھر مجھے معلوم ہو جائے گا کہ گلگارے باجی سچ کہتی ہیں ۔“
میں نے اشتیاق آمیز لہجے میں پوچھا ۔”کیا کہتی ہے وہ ؟“
”کک....کچھ نہیں ۔“وہ ہکلا گئی تھی ۔
”جانتی ہو شمریز چچا کہتے ہیں جھوٹ مذاق میں بھی نہیں بولنا چاہیے ۔“میں نے اس کی باورچی خانے میں کہی گئی بات لٹائی ۔وہ قہقہہ لگا کر ہنس پڑی تھی ....
”لالاجی !....آپ نے ادھا رلوٹانے میں ذرا دیر بھی نہیں لگائی ۔“
”آئیں بائیں نہیں ،اصل بات بتاﺅ ۔تمھاری باجی کیا کہتی ہے ۔“
”وہ ....“کہہ کر وہ ایک دو لمحے کو خاموش ہوئی اور پھر اٹکتے ہوئے بات مکمل کرنے لگی ۔ ”کہتی ہیں کہ ........آپ ....بس ایسے ....مشہور ہو گئے ہیں ........اور.... آپ ....اتنے اچھے نشانہ باز بھی نہیں ہیں ۔“
”اور تم اسی لیے مجھے آزمانے لے آئیں ۔“
”نہیں لالاجی !....یہ بات نہیں ہے ۔“
”اچھا چھوڑو اس موضوع کو ،تمھاری باجی صحیح کہتی ہے ۔مجھ سے یہ نشانہ نہیں لگے گا ۔اب چلو میں تمھیں بندوق چلانا سکھا دوں ۔“
اس نے منھ پھلاتے ہوئے کہا ۔”یونھی فائر کیے بغیر آپ کیسے کہہ سکتے ہیں ۔“
”ہر آدمی کو معلوم ہوتا ہے کہ وہ کتنے پانی میں ہے ۔“
وہ میرے سر ہوگئی ۔”نہیں بس آپ اس شیشے کو نشانہ بنائیں گے ،مجھ سے برداشت نہیں ہوتا کہ کوئی میرے لالا جی کے خلاف بات کرے ،چاہے وہ باجی ہی کیوں نہ ہوں ۔“
”رنڑا ،بات کو سمجھنے کی کوشش کرو ۔“
”آپ نے نہیں ناکرنا فائر ....؟“اس کے لہجے میں ناراضی شامل ہونے لگی تھی ۔گلگارے پہلے سے خفا تھی اب رنڑا کو خفا کرنا مجھے مناسب نہ لگا ۔یوں بھی وہ اتنی عقیدت اور خلوص سے مجھے لالاجی کہتی تھی ۔اور ہر لڑکی کی نظر میں اس کا بڑا بھائی ہیرو ہوتا ہے دنیا کے تمام مردوں سے انوکھا ۔ایک چھوٹی بہن کے سامنے میں اس کے بھائی کو زیرو نہیں کر سکتا تھا ۔
”اچھا ناراض نہ ہو ،کرتا ہوں فائر۔لیکن صرف ایک گولی فائر کروں گا ۔اگرشیشے کو نشانہ نہ بنا سکا تو سمجھ لینا تمھاری باجی ٹھیک کہتی ہے ۔“یہ کہہ کر میں نیچے بیٹھ گیا ۔ کلاشن کوف کی سائیٹ پر تین سو رینج لگاکرمیں نے دونوں کہنیاں اپنے گھٹنوں پر ٹیک دیں ۔یہ سنائپر کی وہ خاص پوزیشن ہوتی ہے جب وہ درخت پر بنی مچان سے کسی ہدف کو نشانہ بناتا ہے ۔پوزیشن درست کر کے میں نے پچھلی سائیٹ کے وی نما کٹاﺅ کو اگلی سائیٹ کی نوک سے ملایااور شیشے پر نظر سادھ لی ۔اس کلاشن کوف کو میں پہلے سے آزما چکا تھا وہ میری نظر کے مطابق ہی صفر تھی اس لیے مجھے اس وقت کلاشن کوف کو جانچنے کی ضرورت نہیں پڑی تھی ۔ شیشے کا دو انچ کا ٹکڑا صرف اپنی چمک کی وجہ سے دکھائی دے رہا تھا ۔اور سورج کی روشنی پڑنے کی وجہ سے وہ اپنے حجم سے کچھ بڑا دکھائی دیتا تھا ۔یہی وجہ تھی کہ گلگارے اسے نشانہ نہیں بنا پا رہی تھی ۔یہ بھی ممکن تھا کہ اس کی کلاشن کوف صحیح طریقے سے صفر ہی نہ ہوئی ہو ۔اور اتنا باریک نشانہ لگانے کے لیے ہتھیار کا مکمل صفر ہونا ضروری ہوتا ہے ،جبکہ ہتھیار کی ایسی صفرکاری کوئی منجھا ہوا سنائپر ہی کر سکتا ہے ۔عام نشانہ بازی میں چونکہ اتنے فاصلے پر لگے ہدف کی لمبائی چوڑائی ایک انسان کے بالائی جسم کے بہ قدر ضرور ہوتی ہے اس لیے عموماََ ہتھیاروں کو اس باریک بینی سے نہیں جانچا جاتا ۔البتہ جہاں تک میری ذات کا تعلق تھا تو میں نے جس ہتھیار کو چند دن بھی پاس رکھنا ہوتا، اسے اپنے طریقے سے صفر ضرور کرتا تھا ۔اور اس وقت میرے ہاتھوں میری ذاتی کلاشن کوف ہی تھی ۔وہ کلاشن کوف جو کمانڈر نصراللہ نے مجھے بہ طور تحفہ عنایت کی تھی ۔
شیشے کی چمک کی وجہ سے اس کا مرکز معلوم کرنا مشکل ہو رہا تھا ۔میں نے اپنی آنکھوں کو ساٹھ ستر فیصد میچ کر شیشے کی چمک کو دھندلایا اور مجھے شیشے کا مرکز معلوم ہوگیا ۔اس کام میں مجھے دو تین سیکنڈ ہی لگے تھے ۔شیشے کا مرکز معلوم ہوتے ہی میں نے بغیر کسی جھجک کے ٹریگر دبا دیا ۔دھماکے کی گونج ختم ہونے سے پہلے شیشے کی چمک ختم ہو گئی تھی ۔لازمی بات ہے ایک نازک شیشے کو کلاشن کوف کی طاقت ور گولی نے درجنوں ٹکڑوں میں تبدیل کر دیا تھا ۔
”اوہ ....نشانہ بن گیا لالاجی !زندہ باد ۔“رنڑا وارفتگی سے چلائی اور اس کے ساتھ ہی منڈیر سے جھک کر گلگارے کو آوازیں دینے لگی ۔”باجی ....باجی ....باجی....“
”ہاں کیا ہے ۔“وہ باورچی خانے سے نکل کر سامنے ہوئی ۔ اس نے شاید یہ سوچا تھا کہ رنڑا نے پہلی مرتبہ گولی چلائی ہے اور یہی خوش خبری اسے دینا چاہتی ہے ۔
”لالاجی ....نے ایک ہی گولی سے شیشے کو نشانہ بنا دیاہے ۔میں کہتی تھی نا لوگ جھوٹ نہیں کہتے ،لالاجی بہت بہادر ،دلیر اور اچھے نشانہ باز ہیں ۔“وہ جوش بھرے انداز میں کہتی چلی گئی تھی ۔
”تمھارا دماغ خراب ہواہے ۔“سر جھٹکتے ہوئے وہ واپس مڑ گئی یقینا اسے میری تعریف پسند نہیں آئی تھی ۔
”کیا سچ مچ لالانے اس شیشے کو نشانہ بنا لیا ہے ۔“ثمر خان جواس کے گلگارے کو مسلسل پکارنے پر صحن میں آیا تھا حیران کن انداز میں پوچھنے لگا ۔
رنڑا جلدی سے بولی ۔”قسم سے سچ کہہ رہی ہوں ،بے شک اوپر آکر دیکھ لو ۔“
”ابھی آیا ۔“وہ خوش ہوتا ہوا سیڑھی کی طرف بھاگ پڑا ۔چند سیکنڈ بعد ہی وہ مورچے کا دروازہ کھول کر باہر نکل آیاتھا۔آتے ساتھ اس کی نظروں مطلوبہ تنے کی جانب اٹھ گئی تھیں۔رنڑا پر جوش انداز میں اسے تفصیل بتا نے لگی ۔میں بس مسکراتے ہوئے ان دو معصوم بچوں کو دیکھ رہا تھا ۔میری نظر میں وہ معمولی سا کام ان کی نظر میں ایک بہت بڑا کارنامہ تھا ۔دو کلومیٹر دور سے ہدف کو نشانہ بنانے والے سنائپر کے لیے دو اڑھائی سو میٹر دور سے کسی ہدف پر گولی مارنا ایک مذاق ہی تو تھا ۔
٭٭٭
رات کو سوتے وقت تک ثمر خان اور رنڑا اسی موضوع کو چھیڑے رہے ۔گلگارے نے اس بحث میں حصہ لینے کی کوئی ضرورت محسوس نہیں کی تھی ۔شمریز خان خود اس شیشے کو نشانہ بنانے کے لیے چند گولیاں ضائع کر چکا تھا۔رنڑا کی زبانی شیشہ ٹوٹنے کی بات سنتے ہی اس نے بس اتنا کہا تھا ۔
”وہ ایس ایس ہے بیٹی ،یہ نشانہ تو اس کے لیے نہایت معمولی بات تھی ۔“
”باجی تو کہتی تھیں ان سے اچھا نشانہ باز کوئی ہو ہی نہیں سکتا اوریاد ہے انھوں نے لالاجی کو للکارا بھی تھا ۔“
شمریز خان محبت سے بولا۔”وہ بھی تو تمھاری طرح بچی ہے ۔“
رنڑا نے منھ بناتے ہوئے دل کے پھپھولے پھوڑے۔”بچی کہاں ہیں ....اتنی بڑی ہو گئی ہیں ۔اور دیکھ لیں ذرا بھی ان کی حکم عدولی کریں پٹائی کرنے سے بھی باز نہیں آتیں ۔“
”تمھیں لالا جی کیا ملے ، بڑی بہن ہی کے خلاف ہو گئی ہو ۔“
رنڑا جلدی سے بولی ۔”خلاف تو خیر نہیں ہوئی ،وہ مجھے بہت پیاری ہیں ۔البتہ لالاجی سے ذرا کم ۔“
شمریز خان نے انکشاف کرتے ہوئے کہا ۔”تمھارے لالاجی کل واپس جا رہے ہیں ۔“
”کیوں ....کس لیے ۔“وہ فوراََ میری جانب متوجہ ہو گئی تھی ۔
میں ہنسا ۔”تو کیا ساری زندگی یہیں پر گزاروں گا ۔“
”کیا فرق پڑتا ہے ،ہمارا اتنا بڑا گھر ہے ۔“
میں اسے ڈراتے ہوئے بولا۔”میری بیوی پلوشہ نے یہ سنا ،نا تو تمھیں جان سے مار دے گی۔“
رنڑا فخر سے بولی ۔”میرے لالاجی کے ہوتے وہ مجھے ہاتھ بھی نہیں لگا سکتی ۔“
”بھول ہے تمھاری ،وہ تمھارے لالاجی کے بھی کان کھینچتی ہے ۔“
”لالاجی !....بابا جان کہتے ہیں کہ جھوٹ....“رنڑا کے منہ میں یہ الفاظ تھے کہ گلگارے اندر داخل ہوئی ۔
”رنڑا ،بڑوں سے تمیز سے بات کیا کرو ۔اور جاﺅ سو جاﺅ ۔“
”جی باجی ۔“وہ دھیمے لہجے میں کہہ کر اٹھ گئی ۔
میں نے کہا ۔”چچا شمریز !....ایک بات پوچھنا تھی ۔“
”پوچھو جناب ۔“وہ میری طرف متوجہ ہوا ۔جبکہ گلگارے میری طرف پیٹھ کر کے باپ کے پاﺅں دبانے بیٹھ گئی تھی ۔
”بڑوں سے تمیز سے بات کرنا ،صرف چھوٹی بہنوں کے لیے ضروری ہوتا ہے یا یہی کلیہ بڑی بہن پر بھی لاگو ہوتا ہے ۔“
شمریز خان نے بلند بانگ قہقہہ لگایا۔”گویا آپ میری گلگارے بیٹی پر الزام لگا رہے ہیں کہ وہ بڑوں کی عزت نہیں کرتی ....اگر ایسا ہے تو بہت زیادتی کر رہے ہیں آپ۔“
”میں نے ایسا تو کچھ نہیں کہا ۔“
”آپ کی بات سے تو مجھے یہی انداز ہ ہوا ہے ۔“
”اچھا اس موضوع کوچھوڑیں چچا شمریز !....آپ مجھے راستے کے بارے مزید تفصیل بتائیں۔“
”بہتر تو یہی ہے کہ چند دن اور یہیں قیام کر لو ،جلد ہی مجاہدین کی کوئی پارٹی یہاں سے گزرے گی ان کے ساتھ آگے چلے جانا۔“
”میرے پاس اتنا وقت نہیں ہے کہ کسی کا انتظار کر سکوں ۔“
اس نے پوچھا ۔”اچھا صبح کس وقت نکلو گے ؟“
”ناشتا کرتے ہی ،قریباََ سات آٹھ بجے تک ۔“
”ہونہہ!....کہہ کر وہ چند لمحے سوچ میں ڈوبا رہا اور پھررستے کے بارے ضروری باتیں بتانے لگا ۔گھنٹا ڈیڑھ بات چیت کرنے کے بعد ہم آرام کرنے لیٹ گئے کہ صبح مجھے سفر بھی کرنا تھا ۔ہماری گفتگو کے دوران گلگارے مسلسل خاموش بیٹھی رہی تھی ۔اور جونھی ہم سونے لگے وہ اپنے باپ کے جسم پر لحاف ٹھیک کر کے اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئی ۔
٭٭٭
صبح نماز کے بعد میںلحاف میں گھس کر ناشتے کا انتظار کرنے لگا ۔ناشتا رنڑا لے کر آئی تھی ۔شمریز خان اور میں نے اکٹھے بیٹھ کر ناشتا کیا ۔میں دو تین پراٹھے کھا گیا تھا تاکہ دوپہر کے کھانے کی حاجت نہ رہے ۔ناشتے کے بعد میں اپنا سفری تھیلا تیار کرنے لگا ۔تھوڑی دیر میں میں جانے کے لیے تیار تھا ۔شمریز سے الوداعی معانقہ کر کے میں نے رنڑا اور ثمر خان کے سر پر شفقت بھر اہاتھ رکھا ۔وہ دونوں میرے جانے سے پریشان ہو گئے تھے ۔
رنڑا نے پوچھا ۔”لالاجی !....آپ واپس کب لوٹیں گے ۔“
”اس بارے تو کچھ نہیں کہہ سکتا ۔“
اس نے منھ بسورا۔”اچھا یہ وعدہ تو کر سکتے ہیں نا کہ اسی رستے سے لوٹیں گے ۔“
”نہیں ۔“میں نے اپنے سر کو دائیں بائیں حرکت دی ۔”مجھے نہیں معلوم کہ میری واپسی کن حالات میں ہو گی ،بلکہ مجھے تو یہ بھی پتا نہیں کہ میں واپس لوٹ بھی سکوں گا یا نہیں ۔“
”لالا جی ،ایسے تو نہیں کہتے ۔“رنڑا کی آنکھیں نم ہونے لگیں تھیں ۔
”اچھا تمھاری باجی کہاں ہے؟کیا اس نے مجھے رخصت نہیں کرنا ۔“میں نے جلدی سے موضوع تبدیل کیا ۔
”وہ تو ناشتا بنا کر گھر سے نکل گئی تھیں ۔“وہ انکشاف کرتے ہوئے بولی ۔”شاید گاﺅں کی طرف گئی ہو ں۔میں نے انھیں کہا بھی تھا کہ لالاجی نے ناشتے کے بعد الوداع ہونا ہے ،مگر مجھے انھوں نے یہ کہہ کر جھڑک دیا کہ یہ معلومات میں اپنے پاس ہی رکھوں ۔“
”شاید کوئی ضروری کام ہو ۔“میں نے کھسیانا ہوکر بات بنائی ۔
”بچی ہے ذیشان صاحب ،میں اس کی طرف سے معذرت خواہ ہوں ۔“شمریز خان نے جلدی سے صفائی دی ۔
جیب سے چار پانچ ہزار کے بقدر رقم نکال کر میں نے ثمر خان اور رنڑا کے ہاتھ پرآدھے آدھے نوٹ رکھے اور باہر کی جانب قدم بڑھا دیے ۔وہ انکار میں سر ہلاتے رہ گئے تھے ۔
گلگارے واقعی مجھ سے سخت ناراض تھی ۔ مجھے معلوم نہیں تھا کہ وہ اتنی حساس ہو گی ۔اور آخری وقت تک مجھے معاف کرنے پر تیار نہیں ہو گی ۔اسے منانے کے لیے میں نے اپنا ایک دن ضائع کر دیا تھا ۔ گو اس کے ساتھ میرا کوئی ایسا جذباتی لگاﺅ تو نہیں تھا کہ میں وہ واقعہ بھول نہ پاتا ،البتہ اس نے میری جان بچا کر جو احسان کیا تھا اس قرض کے بوجھ نے میرے کندھے ضرور جھکا دیے تھے ۔
گھر سے نکل کر میں جنوب کی طرف موجود ڈھلان پر چلنے لگا ۔ڈھلان پر ترچھا چلتے ہوئے میں نالے میں اترسکتا تھا مگر نالے میں برف کچھ زیادہ ہی اکٹھی ہوتی ہے ۔جبکہ تازہ پڑی برف میں چلنا کافی دشوار ہوتا ہے ۔ڈیڑھ دو فٹ پڑی ہوئی تازہ برف میں آدمی کا پاﺅں گھٹنے تک دھنس جاتا ہے ۔پاﺅں کو اوپر کھینچتے ہوئے ٹھیک ٹھاک طاقت استعمال کرنا پڑتی ہے ۔یوں منٹوں کا فاصلہ گھنٹوں میں طے ہوتا ہے ۔اس پر مشقت چلنے سے اتنی تھکن ہوتی ہے کہ چند کلومیٹر چلنا بھی کارِ دار بن جاتا ہے ۔اسی وجہ سے میں نے نالے میں اترنے کے بجائے ڈحلان پر ترچھا چلنا پسند کیا تھا کہ ڈھلان پر زیادہ برف جمع نہیں ہوپاتی ۔
کلومیٹر بھر چل کر مجھے نالے کی تہہ نظر آنے لگی ۔یہ دیکھ کرمیں خوش ہو گیا تھا کہ تہہ میں بہتے پانی کی وجہ سے نالے کے درمیان میں برف مکمل طور پر ختم ہو گئی تھی ۔ میں نے ڈھلوان پر چلنے کا ارادہ ختم کر کے نالے میں اترنے لگا ۔اسی وقت میری نظر پندرہ بیس گز دور گزرنے والے قدموں کے نشانات پر پڑی۔کوئی آدمی وہاں سے پہلے بھی گزرا تھا ۔
ایک لمحے کے لیے میرے دماغ میں خیال گزرا کہ شاید وہ گلگارے کے پاﺅں کے نشان ہوں ،مگر پھر میں نے اپنے خیال کو جھٹلا دیا کہ ان کا گاﺅں خواگا ابو مخالف جانب میں پڑتاتھا اسے اس طرف آنے کی کیا ضرورت تھی ۔
نالے میں اتر کرمیں پانی کے کنارے کنارے چلنے لگا ۔قدموں کے بنے ہوئے دوسرے نشان بھی نالے کی تہہ میں بہتے ہوئے پانی کے پاس آکر ختم ہو گئے تھے ۔میں چلتے ہوئے چوکنے انداز میں دائیں بائیں کا جائزہ بھی لیتا گیا کہ قدموں کے نشان کسی ایسے اچکے کے بھی ہو سکتے تھے جو مجھے دھوکے سے نشانہ بنا لیتا ۔نالے کا رخ مشرق سے مغرب کی جانب تھا ،پانی کا بہاﺅ بھی اسی جانب تھا ۔ مجھے گویا غیر محسوس اترائی میں اترنا پڑرہا تھا اس وجہ سے مجھے چلنے میں کوئی دشواری بھی پیش نہیں آرہی تھی ۔
فرلانگ بھر کے فاصلے پر نالا جنوب کی طرف مڑا مزید پچاس میٹر چلتے ہی مجھے پاﺅں کے نشان اوپر کی جانب بڑھتے نظر آئے ۔اس طرف نظریں دوڑاتے ہی مجھے قریبی ٹیکری پر کوئی بیٹھا ہوا نظر آیا ۔اسے پہچانتے ہی میرا دل عجیب انداز میں دھڑکنے لگا تھا ۔وہ کوئی اور نہیں گلگارے تھی ۔گود میں کلاشن کوف رکھے ایک پتھر پر تشریف ٹیکے وہ سامنے کی جانب دیکھ رہی تھی ۔وہ مجھے دیکھ چکی تھی مگر اس نے نہ تو مجھے مخاطب کیا تھا اور نہ میری جانب متوجہ ہوئی تھی ۔وہ چھوٹی سے ٹیکری نالے کی تہہ سے بیس پچیس گز ہی بلند تھی۔ایک لمحہ رک کر میں نے اس کی جانب گہری نظروں سے دیکھا اور پھر آگے گزرتا چلا گیا ۔ میرا خیال تھا کہ وہ مجھے آگے جاتا دیکھ کر ضرور آواز دے گی ،مگر دس پندرہ قدم چلنے کے باوجود وہ اسی طرح بے پروائی سے بیٹھی ناک کی سیدھ میں دیکھتی رہی ۔
اپنے قدم روک کر میں نے دوبارہ اس کی جانب دیکھا اور پھر ایک فیصلے پر پہنچتے ہوئے اس کے قدموں کے بنے ہوئے نشانات کی طرف بڑھ گیا ۔نہ جانے وہ وہاں کیوں آئی تھی ،مجھے معذرت کا موقع دینے ،مجھ سے مزید شکوے کرنے یا کسی اور مقصد سے ۔بہ ہرحال اس کی سوچ جو بھی تھی اس کی وہاں آمد کی وجہ میں ہی تھا ۔اور وہی وجہ جاننے کے لیے میں اس کی طرف بڑھنے لگا ۔
جاری ہے
قسط نمبر53
ریاض عاقب کوہلر
تھوڑی سی چڑھائی طے کر کے میں اس کے قریب پہنچا ۔مگر میری جانب توجہ دیے بغیر وہ سامنے دیکھتی رہی ۔اس کا چہرہ بالکل سپاٹ نظر آرہا تھا یوں جیسے کوئی آدمی تنہائی میں خالی الذہن ہو کر خلا میں گھور رہا ہو۔
قریب پہنچ کر میں نے گلا کھنکار کر اسے اپنی جانب متوجہ کیا،مگر اس کے انہماک میں کوئی فرق نہ پڑا،اس نے میری طرف دیکھنے کی زحمت گوارا نہیں کی تھی ۔اس کے دائیں جانب پڑے پتھرپر سے برف ہٹا کر میں نے بھی نشست سنبھال لی ۔سفری تھیلا اپنے کندھوں سے نکال کر میں نے نیچے رکھ دیا تھا۔
ایک دو لمحہ سوچنے کے بعد میں نے دھیمے لہجے میں گفتگو کی ابتداءکرتے ہوئے کہا ۔
”مجھے ایسے نہیں کرنا چاہیے تھا ۔میں شرمندہ ہوں اور معافی کا طلب گار ہوں ۔“
اس کے انہماک میں دراڑ پڑی ،میری جانب سرگھماتے ہوئے اس نے گہری نیلی آنکھیں میرے چہرے پر جمائیں جن کی تہہ میں جوار بھاٹا اٹھنا شروع ہو گیا تھا ۔”اور آپ کے معذرت کرنے سے مجھے پہنچنے والی اذیت کا ازالہ ہو جائے گا ۔“
”میں نے تو بس اپنی غلطی کو تسلیم کیا ہے اور یقینا اعتراف جرم سے مجرم معافی کا حق دار تو ہو جاتا ہے ۔“
”حق دار نہیں ،طلب گار کہیں ۔یہ طے کرنا زیادتی کا شکا ر ہونے والے کاکام ہے کہ معاف کیا جائے یا بدلہ لیا جائے ۔“
میں پھیکی مسکراہٹ سے بولا ۔”شاید اتنا بڑا قصور تو نہیں تھا میرا ۔“
”یہ چھوٹی بات نظر آرہی ہے آپ کو ،جانتے بھی ہیں مجھ پر کیا بیتی ؟....میں اپنی نظروں سے گر گئی ،آپ کو آنکھ ملانے کے قابل نہ رہی ،میرے کردار ،پارسائی اور شخصیت کا بت پاتال میں جا گرا۔ میرے احساسات کے اتنے ٹکڑے ہوئے جنہیں سمیٹنے کے لیے شاید ساری زندگی بھی کم پڑ جائے ۔“ اس کی نیلی آنکھیں جھیل کا منظر پیش کرنے لگی تھیں ۔”میں ایسی لڑکی تو نہیں ہوں جیسی آپ سمجھ بیٹھے ،اپنے رشتے کی اطلاع ہی دی تھی نا ،یہی باورکرایا تھا کہ میں آپ کو بھائی نہیں سمجھتی وہ بھی اس وقت جب تک مجھے پلوشہ کے بارے معلوم نہیں ہوا تھا ۔اور میں کچھ بھی سمجھتی رہتی آپ نے تومجھے چھوٹی بہن کہا تھا نا ،اگر مجھ سے آپ کے ساتھ ٹکرانے کی غلطی ہو گئی تھی تو اسے اس انداز میں اجاگر کرنے کیا ضرورت تھی کہ میرے کردار پر انگلی اٹھنے کی نوبت آجاتی ۔اور میں قسم کھا کر کہتی ہوں میں کسی ایسی نیت یا ارادے سے آپ کے قریب نہیں ہوئی تھی جیسا آپ سمجھ بیٹھے ۔اتنے اوچھے ،سستے اور بے قیمت کردار کی مالک نہیں ہوں میں ۔ وہ تو بس حالات ایسے تھے کہ مجھ سے یہ غلطی سرزد ہوئی اور آپ نے مجھے بے توقیر کرنے ، میری عزت خاک میں ملانے اور مجھے اپنی نظروں سے گرانے میں ایک سیکنڈ کی دیر بھی نہ کی ۔“
میرے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ وہ اتنی حساس ہو سکتی ہے ۔میں تو پلوشہ کا عادی تھا جسے شروع شروع میں میں کتنی بار ایسی باتوں پر نہ صرف زبان سے متنبہ کرتا رہا تھا بلکہ ہاتھوں سے پکڑ کر بھی دور دھکیل دیا کرتا تھا اور اس نے میری کسی بات کو مچھر کے پر جتنی بھی اہمیت نہیں دی تھی ۔بلکہ الٹا وہ مجھے مطعون کر دیا کرتی ۔حالانکہ وہ اس وقت میرے لیے مکمل غیر تھی اور میںجو کچھ کہتا تھا وہ بناوٹی نہیں حقیقت ہوا کرتا تھا ۔لیکن وہ الٹا مجھے ہی دھمکانے لگتی ۔یہاں میری ذرا سی غلطی پر گلگارے نے جانے کتنی گہرائی میں اسے محسوس کر لیا تھا ۔مجھے یقین تھا کہ اس کی جگہ اگر پلوشہ ہوتی اور اسے میں نے یونھی دور دھکیلا ہوتا تووہ ایک لحظہ ضائع کیے بغیر دوبارہ مجھ سے آلپٹی ہوتی ۔میرے اندر کہیں دور سے آواز اٹھی ....
”ہاں ،کیونکہ وہ تمھیں شروع دن سے چاہتی تھی اور اس کے قریب ہونے کا مقصد نزدیکیاں ختم کرنا ہی تھا ،گلگارے تو بے خیالی میں قریب ہوئی تھی ۔“
”اچھا روﺅ تو مت ۔“میں نے اس کا سرد ہاتھ اپنی دونوں ہتھیلوں کے بیچ لیا اور خفت سے بولا ۔”بہ خدا میرا نہ تو یہ ارادہ تھا اور نہ یہ خیال ہی جیسا آپ سمجھے بیٹھی ہیں ۔جو کچھ ہوا نادانستگی اور عجلت میں ہوا ۔یقینا میں نے غلط بلکہ بہت ہی غلط کیا تھااور میرے ذہن کے کسی گوشے میں دور دور تک بھی یہ گمان نہیں کہ میں آپ کے کردار پر رائی برابر بھی شک کر سکوں ....حقیقت تو یہ ہے کہ مجھ سے حفظ ماتقدم کے طور پر وہ فعل سرزد ہوا تھا ۔بے شک میں نے آپ کو بہن کہہ کر پکارا ،لیکن اتنا تو آپ بھی جانتی ہیں کہ کسی لڑکی کو بہن کہنے یا سمجھنے سے وہ آپ کی محرم نہیں بن جاتی ۔اس کی حیثیت تب بھی غیر عورت جیسی ہی ہوتی ہے ۔ اسی طرح یہ بات بھی آپ جانتی ہوں گی کہ شیطان مردود انسان کے جسم میں خون کی طرح متحرک رہتا ہے ۔وہ کسی کے دماغ میں گندے اور غلیظ خیالات پیدا کرنے میں ایک لمحے کی بھی دیر نہیں لگاتا ۔ آپ جیسی خوب صورت اور پیاری شکل اللہ پاک نے بہت کم لڑکیوں کو عنایت کی ہو گی ،جبکہ میں ایک گناہ گار اور سستے خیالات کا مالک عام سا جوان ہوں ۔آپ کے بارے میرے دل میں نہایت پاکیزہ، مقدس اور عقیدت مندانہ خیالات بھرے ہیں ۔اتنے زیادہ قریب ہونے پر خدا نخواستہ میرے دل میں کوئی ایسا خیال بھی پیدا ہو سکتا تھا جس پر میں ساری زندگی پشیمان رہتا ۔بس یہی سوچ کر میں عجلت میں کوئی صحیح فیصلہ نہ کر سکا ۔بجائے اس کے کہ میں خود پیچھے ہوجاتا اور آپ یہ سمجھتیں کہ میں آپ کو ہول میں جھانکنے کا موقع دے رہا ہوں ،میں نے آپ کو بازو سے پکڑ دور دھکیل دیا ۔میرا طریقہ اورانداز غلط نہیں بے ہودہ تھا،لیکن معاف کرنا اور نظر انداز کر دینا آپ کے بس میں ہے ۔مجھے اسی وقت احساس ہو گیا تھا ۔ اب تک شرمندگی محسوس کر رہا ہوں ۔آپ میری محسن ہیں ۔مجھے نئی زندگی عطا کرنے میں اللہ پاک نے آپ کو سبب بنا کر بھیجا ہے ....براہ مہربانی درگزر کرو،مجھے معاف کر دو ۔“
اپنے بائیں ہاتھ کی پشت کو اس نے آنکھوں پر پھیرا اور نیچے دیکھتے ہوئے دھیمے لہجے میں پوچھنے لگی ۔ ”پلوشہ کو یہ بات بتاﺅ گے ؟“
”نہیں ۔مگر آپ کے بارے ضرور بتاﺅں گا ۔“
”چھوٹی بہنوں کو تو آپ کہہ کر نہیں پکارا جاتا ۔“بہ ظاہر تو نہیں ،مگر اس کے لہجے کی گہرائیوں میں ہلکے سے دکھ کی آمیزش شامل تھی ۔
میں مسکرایا۔”یہ تم نے بالکل صحیح کہا ۔“
”میں بھی معذرت خواہ ہوں ،کل آپ مجھے منانے کے لیے پورا دن رکے رہے مگر میں نے آپ کو بات کرنے کا موقع ہی نہ دیا ۔“
”تو تمھیں معلوم تھا کہ میں کیوں رکا ہوں ۔“
”بچی تو نہیں ہوں ۔“اس کے ہونٹوں پر پہلی بار مسکراہٹ نمودار ہوئی تھی ۔
”اتنی بڑی بھی نہیں ہو جتنا بننے کی کوشش کر رہی ہو ۔“
”آپ کی پلوشہ سے تو بڑی ہوں نا ۔“
”ہونہہ!....عمر میں کہہ سکتے ہیں ،ورنہ جو کام وہ کرتی ہے اس کے مقابل آپ بالکل چھوٹی بچی نظر آئیں گی ۔“
”ہاں ،وہ میری آئیڈیل ہے ۔میں نے اس کی بہت ساری کہانیاں سنی ہیں اور اسے ملنے کا مجھے بہت شوق ہے ۔“
”دعا کرو وہ مجھے جلدی مل جائے تاکہ میں اسے تمھارے گھر بھیج دوں ،پھر خوب گپ شپ کرنا ۔“
”اچھا دکھنے میں کیسی ہے ؟“گلگارے کی آنکھوں میں گہرا تجسس تھا ۔
میں نے پرس میں رکھی اس کی تصویر نکال کر گلگارے کی طرف بڑھا دی ۔”لو خود دیکھ لو ۔“یہ تصویر میں نے اس کی ماں سے لی تھی ۔تصویر میں ہونٹوں پر ملکوتی تبسم سجائے وہ کیمرے کی طرف متوجہ تھی۔
گلگارے اس کی تصویر کو انہماک سے دیکھتے ہوئے بولی ۔”واقعی اس کے بال تو بالکل چھوٹے چھوٹے ہیں اور بالکل لڑکا ہی لگ رہی ہے ۔“
”شکل کیسی ہے ۔“
”جتنی پیاری ہے اتنی ہی خوش قسمت بھی ہے کہ ،جسے پیار کرتی ہے اسے بھی اس قدر محبوب ہے۔“
”جانتی ہو اس کے ملنے سے پہلے میری زندگی کتنی پھیکی بے رونق اور بے مزہ تھی ۔خاص کر عورت ذات تو میرے نزدیک بالکل اعتبار کے قابل نہیں تھی ۔اور اس دن میں نے تمھیں یہ نہیں بتایا تھا کہ پلوشہ شروع میں مجھ سے کیسے ٹکرائی تھی ....“میں اس کے سامنے پلوشہ ایسی بہت سی باتیں دہراتا گیا جو میں پہلے نہیں بتا سکا تھا ۔
وہ انہماک ،دلچسپی اور مسکراتے ہوئے پلوشہ کی شوخیوں ،شرارتوں بھرے واقعات سنتی رہی ۔ اس دوران وہ گاہے گاہے اس کی تصویر پر بھی نظریں دوڑا لیتی ۔میری بات ختم ہوتے ہی وہ گہرا سانس لیتے ہوئے بولی ۔
”اللہ پاک کا شکر ہے کہ آپ دونوں ایک ہو گئے ہو ۔“
”صحیح کہا ۔“میں نے اثبات میں سر ہلادیا ۔
”پتا ہے میں نے دل میں ایک اور گلہ بھی چھپایا ہوا ہے ۔“پلوشہ کی تصویر میری جانب بڑھاتے ہوئے وہ شکوہ کناں ہوئی ۔
میں دلچسپی سے مستفسر ہوا ۔”بھلا وہ کون سا؟“
”ثمر خان کو آپ نے کلاشن کوف تحفے میں دی ،رنڑا کو بارہ بور ،ابوجان کو ایٹ ایم ایم ، میرے لیے کچھ بھی نہیں ....کم از کم اتنا ہی کہہ دیتے کہ یہ پستول گلگارے کے لیے چھوڑے جا رہا ہوں ۔“
”تمھیں یہ سب کچھ کیسے معلوم ہوا ؟“
”میں دوسرے کمرے میں باباجان اور آپ کی تمام باتیں سن رہی تھی ،جونھی آپ نے باہر جانے کاارادہ کیامیںبھاگ کر باورچی خانے میں گھس گئی ۔“
میں نے اسے چھیڑتے ہوئے کیا۔”چھپ کر باتیں سننا کوئی اچھی عادت تو نہیں ہے نا ۔“
”آپ میرے شکوے کو باتوں میں نہ آڑائیں ....بہ ہرحال آپ کے بتائے بغیر میں نے ایک پستول آپ کی نشانی کے طور پر رکھ لیا ہے ۔“اس نے کندھے سے لٹکے ہوئے کپڑے کے تھیلے سے تیس بور پستول نکال کر میری آنکھوں کے سامنے لہرایا ۔وہ پشاور سے ملحق شہر درہ آدم خیل کا بنا ہوا مقامی ساخت کا پستول تھا ۔ درے میں اچھا اسلحہ بھی بنتا ہے اور ناقص بھی ۔وہ دونوں پستول میں نے دیکھے تھے ، بس گزارے لائق ہی تھے ۔
”پاگل ،یہ ہتھیار میرے نہیں ہیں ....یہ تو ان اچکوں کی نشانی ہیں ۔تمھارے لیے میرے پاس کچھ اور موجود ہے ....لیکن تم نے مجھے موقع ہی نہ دیا ۔“یہ کہتے ہوئے میں نے نیفے میں اڑسا ہوا گلاک نائینٹین نکال کر اس کی جانب بڑھا دیا ۔
اس نے نفی میں سرہلایا۔”نہیں ،یہ میں نہیں لے سکتی ....آپ کو آگے ضرورت پڑے گا ۔“
”میرے لیے یہ کافی ہے ۔“میں نے گود میں رکھی کلاشن کوف کا بٹ تھپتھپایا۔
پستول میرے ہاتھ سے لے کر الٹ پلٹ کرکے دیکھتے ہوئے وہ شرارتی لہجے میں بولی ۔ ”ویسے اتنا مہنگا تو نہیں لگ رہا ،اگر کبھی رقم کی ضرورت پڑے تو کیا اسے دس پندرہ ہزار میں بیچ سکتی ہوں۔“
میں نے سنجیدگی سے کہا ۔”دوسو سے کم ایک روپیا بھی نہ لینا ۔“
”مذاق تو نہ کریں ....“مجھے سنجیدہ دیکھ کر اس کے لہجے میں حقیقی حیرانی ابھر آئی تھی ۔”دوسو میں تو آ ج کل اچھا چاقو بھی نہیں ملتا ۔“
”سچ کہہ رہا ہوں ....دوسو ہزار سے ایک روپیا بھی کم نہ لینا ۔“
”دوسو ہزار ....“وہ اب تک میری بات نہیں سمجھی تھی ۔
”میرا مطلب ہے دو لاکھ ۔“
”کیا ....؟اتنا مہنگا ،میں نے نہیں رکھنا ۔“اس نے ایک دم پستول میری جانب واپس بڑھایا۔
”پاگل ۔“میں نے آگے بڑھ کر اس کے سر پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا ۔”اتنی پیاری بہن کے لیے تو اس سے کئی گنا قیمتی چیز بھی حقیر کہلائے گی ۔“
”آپ جب واپس آئیں گے تو پھر لوں گی ۔فی الحال یہ آپ کو وہاں کام آئے گا ۔“پستول میرے حوالے کرنے کے بہنانے اس نے میری واپسی کے رستے کا بھی تعین کردیاتھا۔
”میرے لیے یہ بہتر رہے گا ۔“میں نے اس کے ہاتھ سے تیس بور پستول لے کر نیفے میں اڑس لیا۔
”مگر ....“
”خاموش ۔“میں نے ہاتھ اٹھا کر اسے بات کرنے سے روکا اور سفری تھیلے سے گلاک کی گولیاں نکالنے لگا ۔سو کے قریب فالتو گولیاں میرے پاس موجود تھیں وہ تمام میں نے گلگارے کی جانب بڑھا دیں ۔
گولیاں میرے ہاتھ سے لیتے ہوئے اس نے مسکرا کر پوچھا ۔”ویسے لالاجی کی لاڈلی بہن رنڑا بی بی نے آپ کو بتا یا تو ضرورہو گا کہ میں نے اس کے سامنے آپ کی کتنی برائیاں کی تھیں ۔“
میں کھل کھلا کر ہنسا۔”ہاں کچھ ایسا کہہ تو رہی تھی ۔“
”کل کاسارا دن اور گزشتا رات ،آپ کی تعریفیں کر کر اس نے میرے دماغ کی چولیں ہلا کر رکھ دیں ۔کم از کم پانچ چھے دفعہ تو بے عزت ہوئی ہوگی مگر باز پھر بھی نہ آئی ۔آپ نے غلطی سے شیشے کو کیا نشانہ بنا لیا اسے آپ سے بہتر نشانے بازپوری دنیا میں دکھائی نہیں دے رہا ۔کل رات جب آپ کے سونے کے بعد میں اپنے کمرے میں گئی وہ جاگ رہی تھی اور اس کے پاس ایک ہی موضوع تھا ،اس کا لالاجی ۔“
”حاسد کہیں کی ،میرے سامنے بھی اس نے اپنی باجی کی کافی تعریفیں کی تھیں ،مگر میں نے تو اسے نہیں ڈانٹا۔“
وہ کھلکھلا کر ہنس پڑی ۔میں بھی مسکرا دیا تھا ۔
”اچھا وہ بڑی چٹان پر پڑا چھوٹا گول پتھر نظر آرہا ہے ۔“اس نے نالے میں پڑے ہوئے ایک بڑے پتھر کی طرف اشارہ کیا جس پر چھوٹا سا گول پتھر رکھا تھا ۔فاصلہ اڑھائی سو میٹر سے زیادہ ہی ہو گا ۔لگ یہی رہا تھا کہ اس نے آتے وقت اس چٹان پر خود ہی وہ پتھر رکھا تھا ۔
میں نے جواب دیے بغیر کلاشن کوف کو کندھے سے لگایا اور لبلبی دبا دی ۔چھوٹا پتھر نظروں سے اوجھل ہو گیا تھا ۔میں نے ہنستے ہوئے ۔”اب نظر نہیں آرہا ۔“
وہ شوخی سے بولی ۔”یہ بات میں رنڑا بی بی کو تو بالکل بھی نہیں بتاﺅں گی ۔“
میں نے مزاحیہ لہجے میں جواب دیا۔”سب جانتے ہیں کہ گلگارے بی بی کتنی حاسد ہے ۔“
وہ سنجیدہ ہوتے ہوئے بولی ۔”اگر حاسد ہوتی تو کسی اور سے حسد کرتی ۔“
”اور کس سے ؟“میں نے بے خیالی میں پوچھ بیٹھا ۔
”کسی سے بھی ،ثمر خان ،باباجان یا پلوشہ وغیرہ سے ۔“بات کو گول مول کر کے بھی اس نے واضح کر دیا تھا ۔
”یقینا اب مجھے چلنا چاہیے ۔“میں اس لا ینحل بحث کو مزیدجاری نہیں رکھ سکتا تھا ۔
اس کے چہرے پر اداسی نمودار ہوئی مگر اس نے مجھے روکنے کی کوشش نہیں کی تھی ۔بغل میں لٹکائے جھولے سے کپڑے کی پوٹلی نکال کر اس نے میری جانب بڑھائی ۔
”آپ کے لیے دال کے پراٹھے بنائے ہیں ۔“
”ہاں اس کی تو بہت ضرورت تھی ۔“میں نے پوٹلی لے کر سفری تھیلے میں ڈال لی ۔ان کے گھر سے چلتے وقت بھی میرے دماغ میں یہ بات موجود تھی کہ رنڑا کو کہہ کر رستے کے لیے کوئی پراٹھے وغیرہ پکوا لوں ،مگر گلگارے کے جانے کی خبر سن کر میں رنڑا کو نہیں کہہ پایا تھا ۔
میں جانے کے ارادے سے کھڑا ہوا ۔وہ بھی اداس چہرہ لیے اٹھی ،ایک لمحہ مجھے گھورنے کے بعد وہ قدم بڑھا کر میرے نزدیک ہوئی اور میری چھاتی پر سر رکھ دیا ۔اس کے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے میں نے اداس لہجے میں کہا ۔”بہنا دعاﺅں میں یاد رکھنا ۔“
”بھائیوں کو تب ایسا کہنا پڑتا ہے جب انھیں بہن کی محبت میں شبہ ہو ۔“یہ کہتے ہوئے وہ مجھ سے آہستگی سے علاحدہ ہو گئی ۔
”نہیں صرف یادہانی کرا رہا تھا ۔“
”پھر بھی مجھے برا لگا ۔“
”اچھا غلطی ہو گئی اور اب تم جاﺅ ۔“
”میں یا آپ ؟“پھیکی مسکراہٹ اس کے چہرے پر نمودار ہو گئی تھی ۔
میں نے دوٹوک انداز میں کہا ۔”تم ....“
”اللہ پاک آپ کو اپنے حفظ و امان میں رکھے لالاجی !“یہ کہتے ہی وہ جھٹکے سے مڑی اور ٹیکری سے اترتی چلی گئی ۔نالے میں اتر کر اس نے ایک بار مڑ کر دیکھا اور پھر واپسی کے رستے پر گامزن ہو گئی ۔ پلوشہ کی طرح اس کے قدموں میں بھی بہت تیزی تھی ۔پہاڑی علاقے کے رہائشیوںکے لیے پہاڑوں پر چڑھنا اترنا معمول کی بات ہوتی ہے ۔میں وہیں کھڑا اسے دیکھتا رہا ۔یہاں تک کہ وہ نالے کے موڑ پر پہنچ گئی ۔وہاں ایک بار پھر رک کر وہ چند لمحے میر ی جانب دیکھتی رہی ،پھر الوداعی انداز میں ہاتھ لہرا نے لگی ۔
میں نے بھی ہاتھ اٹھا کر زیر لب”خدا حافظ ۔“کہا ۔یقینا اس کی طرح میری آواز بھی اس تک نہیں پہنچی تھی مگر میری طرح اسے بھی یقین ہو گا کہ میں نے خدا حافظ کہا ہے ۔
لمحہ بھر ہاتھ لہرانے کے بعد وہ موڑ مڑتے ہوئے میری نظروں سے اوجھل ہو گئی ۔ایک اور قابلِ احترام اور معزز ہستی مجھ سے جدا ہو گئی تھی ۔نہ جانے وہ زندگی میں دوبارہ مل بھی پاتی یا ہمیشہ انھی مختصر گھڑیوں کی یاد کی صورت میں میری یاداشت میں زندہ رہتی۔
میں نے سفری تھیلا اپنی پیٹھ پر لادا ،کلاشن کوف کو دائیں کندھے سے لٹکایااور بوجھل قدموں سے اپنے رستے ہو لیا ۔میں نے کافی وقت گلگارے کے ساتھ گزار لیا تھا ۔سورج کے سامنے چھوٹی چھوٹی بدلیاں آنے لگی تھیں ۔ہاتھوں کو گرم کرنے کے لیے میں نے کوٹ کی جیب میں ڈالے،میرا داہناہاتھ کسی چیز سے ٹکرایااورمیں ایک دم حیرانی بھرے انداز میں رک گیا کہ شمریز خان کے مکان سے رخصت ہوتے وقت میں نے جیب میں کوئی چیز بھی نہیں ڈالی تھی ۔میں نے فوراََ ہاتھ باہر نکالا،وہ ہزار ہزار کے نوٹ تھے جنہیں گول لپیٹ کر ان پر دھاگا پھیرا گیا تھا ۔دھاگا کھولنے پر مجھے نوٹوں کے درمیان ایک چھوٹا سا رقعہ بھی نظر آگیا تھا جو پشتو میں تحریر کیا گیا تھا ۔ٹوٹی پھوٹے شکستہ الفاظ کو دیکھ کر اندازہ ہوتا تھا کہ لکھنے والا واجبی تعلیم رکھتا ہے ۔بلاشبہ وہ رقعہ اور پیسے میری جیب میں گلگارے نے ڈالے تھے ۔میری نظریں اس شکستہ تحریر پر پھسلنے لگیں ۔
سلام کے بعد لکھا تھا ۔بے ہوشی کے وقت آپ کے جسم سے میں نے ہی لباس علاحدہ کیا تھا ۔ لباس کی تلاشی لینے پر تین ہزار روپے کے بہ قدر رقم نظر آئی تھی ۔اور جہاں آپ جا رہے ہیں وہاں آپ کو کافی رقم کی ضرورت پڑے گی ۔یہ میرے اپنے پیسے ہیں ،میں جانتی ہوں کہ اگر میں نے براہ راست آپ کے حوالے کیے تو بڑے ہونے کا فائدہ اٹھا کر آپ مجھے ڈانٹ کر یہ پیسے واپس دے دیں گے ۔اسی لیے مجھے چوری آپ کی جیب میں ڈالنے پڑ رہے ہیں ۔گو یہ تھوڑی سی رقم ہے ،مگر یقین مانو میری ساری پونجی یہی ہے ۔ اگر بہت زیادہ پیسے بھی میرے پاس ہوتے توآپ کو دے دیے ہوتے ۔اپنا بہت بہت خیال رکھنا ۔میرے گزشتا دو روز کے رویے پرلازماََ آپ کا دل دکھا ہوگا ۔بہ خدا میں نے جان بوجھ کر ایسا نہیں کیا ۔بس اپنے جذبات پر قابو نہ رکھ سکی ۔معذرت خواہ ہوں ۔اللہ پاک آپ کو اور میری بہن پلوشہ کو ہمیشہ خوش رکھے ....اللہ حافظ۔“یہ ساری تحریر اس نے پہلے سے لکھ کر اپنے پاس رکھی ہوئی تھی ۔اس کا مطلب تھا کہ وہ صرف اپنا گلہ مجھ تک پہنچانے آئی تھی ورنہ ناراضی وہ پہلے سے ختم کر چکی تھی ۔
اس کا خلوص دیکھتے ہوئے میری آنکھیں نم ہو گئی تھیں ۔میں نے رقم شما رکی ہزار ہزار کے پندرہ نوٹ تھے ،لیکن ان کا وزن اتنا زیادہ تھا کہ شاید قارون کا خزانہ اٹھانے والے اونٹ بھی ان کے بوجھ تلے بیٹھنے پر مجبور ہو جاتے ۔میں نے وہیں کھڑے کھڑے عہد کر لیا کہ اگر زندگی نے وفا کی تو ایک بار گلگارے کو ملنے ضرور لوٹوں گا ۔یقینا اس نے میری جیب میں نوٹ ڈالنے کے لیے ہی میری چھاتی پر سر رکھا تھا ۔میں پہلے ہی اس کا بہت زیادہ مقروض تھا اس نے مزید زیر بار کر دیا تھا ۔اس نیلی آنکھوں والی پاکیزہ خیالات لڑکی نے ہمیشہ میری یاد میں زندہ رہنا تھا ۔
”اللہ پاک تمھارا نصیب اچھا کرے اور تمھیں ڈھیروں خوشیاں نصیب ہوں میری پیاری بہنا!....“زیر لب بڑبڑاتے ہوئے میں نے آنکھوں میں پیدا ہونے والی نمی خشک کی اور آگے بڑھ گیا ۔
ان اچکوں میں سے ایک کی جیب میں مجھے بیس پچیس ہزار کے قریب پاکستانی کرنسی ملی تھی مگر اس بارے میں اسے نہیں بتا سکا تھا ۔اسی وجہ سے اس مخلص لڑکی کو اپنی ساری پونجی میرے حوالے کرنا پڑ گئی تھی ۔میں مسلسل اترائی میں جا رہا تھا ،لیکن زیادہ دیر اترائی کا یہ سفر جاری نہ رہا ۔وہ نالہ شمال کی جانب مڑا اور فرلانگ بھر کے بعد اس کا رخ مشرق کی طرف ہوگیا ۔وہ علاقہ یوں بھی پہاڑ در پہاڑ ہے ۔نہ نالوں کا رخ متعین ہے اور نہ پہاڑی سلسلے کسی ایک سیدھائی میں ہیں ۔انجان آدمی کے لیے تو وہ پہاڑ بھول بھلیوں کی طرح ہیں ۔جو ایک بار ان بھول بھلیوں میں گھس جائے نکلنے کا رستا نہیں ڈھونڈپاتا ۔
میں نے مغرب کی سمت اپنا سفر جاری رکھا اور ایسا کرنے کے لیے مجھے اب اوپر چڑھنا پڑ رہا تھا ۔بلندی کے سفر میں آدمی کی رفتار خود بہ خود دھیمی پڑ جاتی ہے ۔زیادہ تیزی کی کوشش میں تھکن کے ساتھ انسان کا سانس بھی پھولنے لگتا ہے ۔اور میدانی علاقے سے آئے ہوئے آدمیوں کا سانس ،رہائشی لوگوں کی نسبت زیادہ پھولتا ہے ۔سورج کے گرد پھرنے والی آوارہ بدلیاں دھوپ کی راہ میں بہت بڑی رکاوٹ بنی ہوئی تھیں۔گو لگتا تو نہیں تھا کہ برف باری یا بارش ہو گی ،مگر اس بارے وثوق سے کچھ بھی نہیںکہا جاسکتا تھا ۔ یہاں کا موسم تو ایسا ہے کہ تیز دھوپ کی حکمرانی کو بادل چند لمحوں میں زیر کر کے جل تھل کر دیتے ہیں اور زمین پر بارش کا پانی ابھی تک بہہ رہا ہوتا ہے کہ سورج ایک بار پھر پوری آب و تاب سے چمکنا شروع ہو جاتاہے ۔
چڑھائی شروع شروع میں تو نارمل تھی مگر آہستہ آہستہ سخت ہو نا شروع ہو گئی ۔یہاں تک کہ میرے لیے سیدھا اوپر چڑھنا مشکل ہو گیا اور میں ترچھا آگے کا سفر طے کرنے لگا یوں کہ دس پندرہ قدموں کے بعد میں تین چار قدم بلند ہو پاتا ۔
سورج اپنا آدھے سے زیادہ سفر طے کر چکا تھا ۔میرے پاس موجود پانی کی دونوں بوتلیں خالی ہو گئی تھیں اور جس بلندی پر میں موجود تھا اتنی اونچائی پر عموماََ چشمے نہیں ہوتے ۔چشمے زیادہ تر نالوں کی تہہ سے بیس پچیس گز اوپر ہی پھوٹتے ہیں ۔اس پہاڑی کی ڈھلان تو اتنی سیدھی تھی کہ وہاں برف بھی نہیں ٹھہر پائی تھی ۔اب دوسری جانب اتر کر ہی مجھے کوئی چشمہ مل سکتا تھا ۔
اچھی خاصی بھوک محسوس ہو رہی تھی مگر پانی کی غیر موجودی میں مجھے کھانا کھانا مناسب نہ لگا ۔ یوں بھی بھوک پیاس برداشت کرنا ہم سنائپرز کی عادت ثانیہ بن جاتی ہے ۔کئی کئی دن بھوکا پیاسا رہنے والوں کو چند گھنٹے کی بھوک کبھی نہیں ستاتی ۔گھنٹے بھر کی تگ و دو کے بعد میں بلندی پر پہنچ گیا تھا ۔اتنی سردی کے باوجود اس سخت چڑھائی پرمجھے اچھا خاصا پسینہ آگیا تھا ۔چوٹی پر بیٹھ کر میں سستانے لگا ۔اس کے ساتھ ہی میری نظریں سامنے کی جانب اپنی منزل کی تلاش میں سرگرداں رہیں ۔پیچھے رستے میں مجھے چند ویران گھرملے تھے ۔ایک چھوٹی سی آبادی سے بھی میں گزرا تھا ۔اب سامنے کافی دور ایک وادی جیسی نظر آرہی تھی جہاں کافی مکان دکھائی دے رہے تھے ۔شمریز خان کی معلومات کے مطابق جہاں تک میرا اندازہ تھا یہ خان کلے کی آبادی تھی ۔اس اونچی پہاڑی اور خان کلے کی آبادی کے درمیان کوئی خاص بڑی پہاڑی تو نظر نہیں آرہی تھی لیکن اس کے باوجود میں جانتا تھا کہ وہاں تک پہنچنے ہوئے شام کا اندھیرا چھا جانا تھا ۔
چند لمحے سستا کر میں آگے بڑھ گیا ۔دوسری جانب اترائی کافی آسان تھی ۔نیچے اترتے ہوئے خود بہ خود میرے قدموں میں تیزی آگئی تھی ۔اس بلند پہاڑی پر چڑھتے ہوئے مجھے دو اڑھائی گھنٹے لگے تھے اور نیچے میں آدھے گھنٹے میں پہنچ گیا تھا ۔نالے کی تہہ میں پہنچنے سے پہلے ہی مجھے ایک چشمہ نظر آگیا تھا ۔وہیں پتھر کی ایک بڑی چٹان پر اپنا سفری تھیلا رکھ کر میں نے چشمے کے پانی سے وضو کیا ،خوب سیر ہو کر پانی پیا اور دو رکعت عصرکے (سفرکی وجہ سے)پڑھ کر کھانا کھانے بیٹھ گیا ۔ظہر کی نماز میں تیمم کر کے پیچھے ہی ادا کر چکا تھا ۔
گلگارے نے دال کے پراٹھوں کے درمیان تازہ مکھن ڈال دیا تھا ۔ٹھنڈے ہونے کے باوجود ان پراٹھوں سے اٹھنے والی دیسی مکھن اور خلوص کی مہک میرے رگ و پے میں اتر گئی تھی۔ گلگارے نے چار پراٹھے باندھے تھے ،مگر میں بہ مشکل دو ہی کھا سکا تھا ۔باقی دو میں نے رات کے لیے رکھ چھوڑے ۔کھانے کے بعد مجھے چاے کی طلب محسوس ہوئی ،برف پڑنے کی وجہ سے زمین پر بکھری ہوئی لکڑیاں تو گیلی ہو گئی تھیں ،مگر خشک درختوں کے ساتھ لگی ہوئی ٹہنیاں وغیرہ جلانے کے قابل تھیں ۔
ضرورت کے بہ قدر لکڑیاں توڑ کر میں نے آگ جلائی اور چاے بنانے لگا ۔ایک پیالی چاے بنانے میں اتنی دیر نہیں لگی تھی ۔پہلا گھونٹ بھرتے ہی میرے منھ میں بدمزگی سی پھیل گئی تھی ۔پچھلے چار پانچ دنوں سے میں مسلسل تازہ دودھ کی بنی ہوئی بہترین دودھ پتی پیتا رہا تھا اب ایک دم ملک پاﺅڈر کی بنی چاے نے اس اعلاچاے کا ذائقہ یاد دلا دیا تھا ۔ایک مخلص بہن کے ہاتھ کی بنی ہوئی چاے کا مقابلا بھلا وہ روکھی پھیکی اور بد مزہ چاے کہاں کر سکتی تھی ۔
چاے پی کر میں نے بوتلیں چشمے کے تازہ پانی سے بھریں اور تیار ہو کر آگے بڑھ گیا ۔ایک بار پھر نالے کا ہموار سفر شروع ہو گیا تھا ۔تھوڑا ساآگے بڑھتے ہی کلاشن کوف کی تڑتڑاہٹ میرے کانوں میں گونجی ۔کسی نے ٹریگرمکمل دبا کر ایک لمبا برسٹ فائر کیا تھا ۔فائر کی آواز سے اندازہ ہوتا تھا کہ وہ ہوائی فائر کیا گیا ہے ۔اور ایسے ہوا میں کلاشن کوف کا برسٹ فائر کرنا یا تو کسی خوشی کے موقع پر کیا جاتا ہے جیسے ،عید وغیرہ کا چاند دیکھ کر فائر کرنا یا شادی وغیرہ میں شغل کرنا اور دوسری صورت میں کسی کو للکارنے کے لیے یوں ایک لمبا برسٹ ہوا میں پھونک دیا جاتا ہے ۔البتہ یہ بھی ممکن تھاکہ کسی احمق نے یونھی بہ طور شغل یہ حرکت کی ہوتی ،مگر ایسا ہونے کا امکان ذرا کم ہی تھا ۔
میں نے رفتار کم کرنے کی کوشش نہیں کی تھی ۔تھوڑی دیر بعد ہی مجھے اپنا دوسرا اندازہ ٹھیک ہوتا دکھائی دیا کہ وہ برسٹ بہ طور اعلان جنگ تھا ۔پرانے زمانے میں جنگ کا اعلان نقار ہ بجا کر یا سینگ پھونک کر کیا جاتا تھا ،فی زمانہ کلاشن کوف کے برسٹ ہی نے اعلان جنگ کی جگہ سنبھال لی ہے ۔اچانک ہی ایک سے زیادہ ہتھیاروں کے دھانے کھل گئے تھے ۔وہ فائر دو تین کلومیٹر دور ہی ہورہاتھا ۔اور مجھے لگ رہا تھا کہ میں اسی طرح چلتا رہا تو ان مقابلہ کرنے والوں میں جا پھنسوں گا ۔ اس سوچ نے مجھے قدم روکنے پر مجبور کر دیا تھا ۔
مجھے زیادہ دیر سوچ میں مبتلا نہیں رہنا پڑاتھاکہ دو آدمی مجھے نالے موڑ سے نمودار ہو کر اپنی جانب آتے دکھائی دیے ۔دونوں خالی ہاتھ ہی لگ رہے تھے ۔اس کے باوجود میں نے کلاشن کوف کندھے سے اتار کر ہاتھ میں پکڑ لی تھی ۔ان میں ایک ادھیڑ عمر اور دوسرا جواں سال لڑکا ہی تھا ۔شکلوں کی شابہت سے دونوں مجھے باپ بیٹا ہی لگ رہے تھے ۔باپ نظر آنے والے نے ۔”اسلام علیکم!....“ کہتے ہوئے پوچھا۔”ہلکا چرتہ زئے ،دلے مہ زہ ۔“(او لڑکے کہاں جا رہے ہو ،اس طرف مت جاﺅ ۔“
میں فوراََ پوچھا ۔”ولے سہ چل دے؟“(کیوں کیا ہوا ۔)
وہ میرے قریب رک کر اپنے چڑھے سانس درست کرتا ہوا بولا ۔”غزنی خیل اور شلوبر قبیلہ برسر پیکار ہیں ۔جوانب کے آدمی تمھیں مخالف قبیلے کا سمجھ کر قتل ہی نہ کر دیں ۔“وہ شاید بھاگ کر نالہ موڑ تک پہنچے تھے اوراب وہاں سے تیز قدموں سے چلتے ہوئے مجھ تک پہنچے تھے ۔
میں نے پوچھا ۔”یہ سامنے کون سا گاﺅں ہے ؟“
اس نے حیرانی سے پوچھا ۔”اگر آپ کو اتنا نہیں معلوم تو ادھر کیوں جا رہے ہو ۔“
”میں نے تو خان کلے جانا تھا ۔“
”خان کلے تو اس جگہ سے آٹھ دس کلومیٹر دور شمال کی جانب پڑتاہے ۔“اس نے شمال کی جانب ہاتھ کا بھی اشارہ کیا تھا۔
میں نے دوبارہ پوچھا ۔”ویسے یہ گاﺅں ہے کون سا۔“
”شلوبر ....جن پر غزنی خیلوں نے چڑھائی کر دی ہے ۔“
”کیوں ؟“میں مستفسر ہوا ۔
”کسی لڑکی کا چکر ہے ،شلوبر قبیلے کا جوا ن ،غزنی خیل قبیلے کی ایک ایسی لڑکی کو بھگا لایا ہے۔ جس کے باپ نے اپنی بیٹی کا رشتا پشاور میں کسی دوست کے بیٹے سے طے کیا ہوا تھا۔غزنی خیل والوں کو معلوم ہو گیا کہ لڑکی کس کے ساتھ بھاگی ہے ۔اب شلوبر والے اس لڑکی کے بدلے منھ مانگی رقم دینے کو تیار ہیں مگر وہ اپنی لڑکی اور اسے بھگانے والے جوان کا مطالبہ کر رہے ہیں ۔“
”مطلب دونوں کو قتل کرنے کے لیے ؟“میں نے اندازہ لگایا ۔
”جی جناب ۔“اس نے اثبات میں سرہلایا۔”اب آپ بھی اس رستے کو نظر انداز کر دیں ، یہ نہ ہو خواہ مخواہ کسی اندھی گولی کا شکار بننا پڑ جائے ۔“
میں نے حیرانی ظاہر کی ۔”ویسے کیا یہاں سے پاکستان میں بھی لڑکیوں کے رشتے کیے جاتے ہیں ۔“
اس نے منھ بناتے ہوئے کہا ۔”اللہ کے بندے ،آدھا افغانستان تو پاکستان میں موجود ہے۔باقی اپنے ہاں تو لڑکی کا سودا کیا جاتا ہے جس نے زیادہ رقم پھینکی وہ لے گیا ۔“
”تو شلوبر والے بھی تو رقم دے رہے ہیں ۔“
”پہلی بات یہ کہ دشمن قبیلے سے رشتے نہیں کیے جاتے اور دوسرا شلوبرکے جوان نے لڑکی کو بھگا کر پورے غزنی خیل کی عزت اچھالی ہے اور اس کا حل توایک ہی ہے ۔“
میں نے پوچھا ۔”آپ کہاں جا رہے ہیں ؟“
”یہاں سے قریباََ چارکلومیٹر جنوب کی جانب ہمارا گاﺅں ہے شنہ وُنّہ۔ہمارے ساتھ چلنا ہے تو آجاﺅ۔“
میں نے پہاڑوں کے پیچھے چھپتے ہوئے سورج کو دیکھا ،غروب آفتاب میں بیس پچیس منٹ ہی باقی تھے ،رات گزارنے کے لیے وہی جگہ مناسب تھی ،شنہ ونہ جا کر یونھی سفر کی طوالت میں اضافہ ہی ہونا تھا ۔رات کے کھانے کے لیے میرے پاس پراٹھے موجود تھے ،سونے کا بستر میں نے پیٹھ پر لادا ہوا تھا ، تو خواہ مخواہ آنے جانے کا آٹھ دس کلومیٹر فاصلہ کیوں طے کرتا ۔یوں بھی پہاڑی علاقوں میں ایک کلومیٹر فاصلہ طے کرتے ہوئے دانتوں پسینہ آجاتا ہے ۔
”آپ کا بہت شکریہ ۔“میں نے انھیں اپنے فیصلے سے آگاہ کیا ۔اور وہ کندھے اچکاکر بیٹے کے ساتھ آگے بڑھ گیا ۔میں وہیں کھڑا انھیں دیکھتا رہا ۔وہ اسی اونچی پہاڑی پر چڑھ رہے تھے جہاں سے میں اترا تھا ۔
فائرنگ کی آواز میں دم بہ دم اضافہ ہو رہا تھا ۔ایک ساتھ کئی کلاشن کوفیں گرج رہی تھیں ۔اور پھر ان تمام آوازوں پر 12.7ایم ایم کی آواز بھاری پڑ گئی ۔جانے وہ تباہی پھیلانے والا ہتھیار کس کے پاس تھا ۔تھوڑی دیر بعد دو12.7ایم ایم گرجنے لگیں ۔معلوم یہی پڑتا تھا کہ دونوں جانب وہ ہیوی گن موجود تھی ۔یا کسی ایک قبیلے کے پاس دو گنیں موجود تھیں ۔اسی گن گرج میں راکٹ لانچر کے دھماکے بھی سنائی دینے لگے ۔لگتا تھا دو قبیلوں کے بجائے دو ممالک کی فوجیں سرحد پر برسرپیکار ہوں ۔میں وہیں دائیں بائیں گھوم کر شب بسری کے لیے کوئی مناسب جگہ ڈھونڈنے لگا ۔جلد ہی ایک جھکی ہوئی چٹان کے نیچے مجھے مناسب جگہ نظر آگئی تھی ۔اندھیرا چھانے سے پہلے میں جگہ صاف کر کے رات کو جلانے کے لیے ایندھن اکٹھا کر چکا تھا ۔
کھانا میں نے عشاءکی نماز پڑھ کر ہی گرم کرنا شروع کیا ۔دن کاکھانا دیر سے کھانے کی وجہ سے مجھے کوئی خاص بھوک محسوس نہیں ہورہی تھی ،لیکن پراٹھوں کو گرم کرنے پر وہ مجھے اتنے لذیز لگے کہ میں دونوں ٹھونس گیا ۔اس طرف برف باری نہ ہونے کے برابر ہوئی تھی ۔پیچھے جو بڑی پہاڑی میں عبور کر کے آیا تھا برف باری کا زور وہاں تک ہی رہا تھا ۔یقینا اس طرف بلندی کم تھی اس وجہ سے برف نہیں ہوئی تھی۔سردی البتہ کافی زیادہ تھی ۔دسمبر لگنے والا تھا اور سردی نے مزید بڑھنا تھا ۔میدانی علاقوں میں لوگ سردی سے لطف اندوز ہوتے ہیں اور یہاں سردی نہ صرف تکلیف و اذیت کا باعث بنتی ہے بلکہ کاروبار زندگی بھی معطل کر دیتی ہے ۔یوں بھی جب یہاں کی گرمی میدانی علاقے کی سردی کے برابر ہوتی ہے تو سردی کا اندازہ خود کر لیں ۔
آگ پر اچھی طرح لکڑیاں ڈال کر میں سلپنگ بیگ میں گھس گیا ۔وہ سلپنگ اچھا خاصا گرم تھا مگر اس سردی کا مقابلہ کرنے کے لیے اسے بیرونی امداد کی بھی ضرورت تھی ،اس لیے سلپنگ بیگ میں گھستے وقت میں نے گرم کوٹ پہنے رکھا تھا ۔اس کے ساتھ آگ نے بھی اس چھوٹی سی پناہ گاہ کو اچھا خاصا گرم کر دیا تھا ۔مجھے نیند آتے دیر نہ لگی ۔حالانکہ کسی نئی جگہ پر نیند بہت مشکل سے آتی ہے ۔مجھے آج تک یاد ہے کہ جب میں بھرتی ہو کر ٹریننگ سنٹر پہنچا تھاتو ساری رات جاگتا رہا تھا ۔پھر آہستہ آہستہ ایسا عادی ہوا کہ اب جنگل ،بیابان ،صحرا، پہاڑ، پرائے دیس اور بیگانے علاقوں میں مجھے سونے میں کوئی مسئلہ پیش نہیں آتا تھا ۔اس وقت بھی اس چٹان کے نیچے میں یوں سو گیا جیسے عام لوگ اپنی خواب گاہ میں بے فکر ہو کرسوتے ہیں ۔حالانکہ جن حالات اور جیسے علاقے میں میں محو سفر تھا وہاں کچھ ہوتے دیر نہیں لگتی اور ہوا بھی وہی ۔
میں صبح تک کا ارادہ لے کر سویا تھا ۔گھنٹے ڈیڑھ بعد ہی چھاپہ پڑ گیا۔
ان کی تعداد پانچ تھی ۔تمام مسلح تھے ۔آنکھیں کھلتے ہی مجھے پانچ کلاشن کوفیں اپنی جانب تنی نظر آئی تھیں ۔
”جی ،آپ لوگ کون ہو اور کیا چاہیے ؟“گو میں گہری نیند سے جاگا تھا ،مگر میری تربیت اس نہج پر کی گئی تھی کہ آنکھ کھلتے ہی مجھے ماحول کا ادراک ہو جاتا تھا ۔مجھے ایک سیکنڈ کے لیے بھی یہ یاد کرنے کی ضرورت نہیں پڑی تھی کہ میں کہاں ہوںاور مجھ سے دو تین کلومیٹر کے فاصلے پر موجوددو قبائل برسرپیکار ہیں۔
ان میں سے ایک طنزیہ لہجے میں بولا ۔”ہم وہی ہیں جن کا شکار کرنے تم آئے تھے اور اب خود ہمارے شکنجے میں آ گئے ہو ۔“
”میں مسافر ہوں جناب اور کسی کا شکار کرنے نہیں آیا ہوں ۔“
”جھوٹ مت بولو ۔“اس مرتبہ بھی وہی آدمی بولا تھا ۔
”محترم مجھے جھوٹ بولنے کی کیا ضرورت ہے ،میں خان کلے جا رہا تھا رستا بھول کر اس طرف آنکلا،سہ پہر ڈھلے یہاں پہنچا تو تیز فائرنگ شروع ہو گئی تھی ۔یہاں سے گزرنے والے ایک شریف آدمی نے بتا دیا کہ دو قبیلوں میں جنگ چھڑ گئی ہے اور یہ کہ خان کلے اس جانب واقع نہیں ہے ،پس مجھے آگے جانا مناسب نہ لگا یوں بھی میں دن بھر کا تھکا ہوا تھا سوچا رات کو آرام کر لوں صبح خان کلے کی راہ ناپوں گا ۔“
”کہانی اچھی ہے ،مگر تمھارا فیصلہ مشر کرے گا ۔“
”بھائی جان، براہ مہربانی مجھے بے آرام نہ کرو ،مجھے تو یہ بھی معلوم نہیں کہ آپ کس قبیلے کے ہیں ۔“
”بھولے بادشاہ ،ہم اسی قبیلے کے ہیں جس کی تاک میں تم یہاں گھات لگا کر رات گہری ہونے کا انتظار کر رہے ہو.... شلوبر قبیلے کے کسی حلیف کو یوں باتیں نہیں بنانا چاہئیں۔پچھلی لڑائی میں تمھارے دو تین آدمیوں نے چھاپہ مار کر ہمارا کافی نقصان کیا تھا ،اس مرتبہ ہم ایسا کچھ نہیں ہونے دیں گے ۔ کیونکہ ہم سارے رستوں کی نگرانی کر رہے ہیں ۔“اس کی بات سنتے ہی مجھے ساری کہانی پتا چل گئی تھی ۔وہ غزنی خیل قبیلے کے لوگ تھے اور رات کے وقت پہاڑی نالوں اور ایسے رستوں پر گشت کر رہے تھے جہاں سے شلوبر قبیلے کے لوگ چھپ کر ان کے پڑاﺅ تک رسائی حاصل کرتے ہوئے انھیں کوئی نقصان پہنچا سکتے تھے ۔اور ایسا غالباََ ان کی پچھلی لڑائی میں بھی ہوا تھا ،جس کا حوالہ مجھ سے بات کرنے والا آدمی دے چکا تھا ۔
”ایسا کچھ نہیں ہے ۔“میں نے نرمی سے انھیں سمجھانے کی کوشش کی ۔
”ٹھیک ہے ،ہمارے مشر کو مل لو پھر اس کی مرضی جو فیصلہ وہ کرے گا ۔“
میں نے طنزیہ انداز میں کہا ۔”وہ بھی تو آپ کا مشر ہے ۔“
”زیادہ باتوں کی ضرورت نہیں ،تم ہمارے پڑاﺅ سے کلومیٹر بھر کے فاصلے پر مسلح حالت میں موجود ہومیں تم پر اعتبار نہیں کر سکتا ۔“
میں نے زچ ہو کر کہا ۔”میرا لہجہ ،زبان اور شکل یہ واضح نہیںکر رہے ہیں کہ میں یہاں پر بالکل اجنبی ہوں ۔“
”تو ....؟“اس نے بے پروائی سے کندھے اچکائے ۔
”تو یہ کہ مجھے بے آرام نہ کرو جناب۔“
”کہہ دیا نا کہ اس کا فیصلہ مشر کرے گا اور بے آرمی کیسی تھوڑا سا تو فاصلہ ہے تم وہاں ہمارے پڑاﺅ میں بقیہ رات گزار لینا صبح ناشتا کر وا کر ہم خان کلے کی جانب تمھاری رہنمائی کر دیں گے۔“
میں جھلاتے ہوئے سلپنگ بیگ سے باہرنکلا اور اپنا سامان سمیٹنے لگا ۔ان سے متھا مارنا، وقت کا ضیاع ہی تھا ۔یقیناوہ سردار کو اپنی کارکردگی دکھانے کے لیے مجھے اس کے سامنے پیش کرنا چاہتا تھا ۔ میرے سامان سمیٹنے کے دوران وہ ٹارچ روشن کر کے میری کارروائی کا جائزہ لیتے رہے ۔میری کلاشن کوف البتہ انھوں نے اپنے قبضے میں کر لی تھی ۔سفری تھیلا تیار کر کے میں نے پیٹھ پر لادا اور ان کی معیت میں چل پڑا ۔ایک آدمی میرے آگے اور باقی پیچھے چلنے لگے ۔گو میرے پاس تیس بور پستول موجود تھا اورجس بے پروائی سے وہ چل رہے تھے میں چاہتا تو ان پانچوں کو لاشوں میںتبدیل کر سکتا تھا ،مگر کسی بے گناہ کو قتل کرنا مجھے گوارا نہیں تھا ۔وہ غلط فہمی میں مبتلا تھے اورمجھے قوی امیدتھی کہ ان کا سردار مجھ سے بات کرنے والے کی طرح احمق نہیں ہو گا ۔
کچھ دیر نالے میں چلنے کے بعد وہ ترچھا ہوکر نالے کے دائیں جانب موجود ڈھلان پر چڑھنے لگے ۔پانچوں بے فکر ہو کر گپ شپ کرتے جا رہے تھے ۔ان کے انداز سے بھی یہی ظاہر ہو رہا تھا کہ دل ہی دل میں وہ بھی مجھے غیر متعلق شخص سمجھ رہے ہیں ۔ہمارا سفر بتدریج اوپر کی جانب جاری رہا ۔ ادھ پون گھنٹے میں ہم بلندی پر پہنچ کر نسبتاََ ہموار رستے پر چلنے لگے ۔اس دوران ان کے مورچے شروع ہو گئے تھے ۔لوگوں کے باتیں کرنے کی آواز سے پتا چل رہا تھا کہ وہ چوکنا تھے ۔سردی سے مقابلے کے لیے انھوں نے جا بہ جا چھوٹے چھوٹے آلاﺅ روشن کیے ہوئے تھے ۔ایک دو آدمی نے قریب آکر ان سے حال بھی پوچھا تھا ۔اور ان کی آپس کی بات چیت سے مجھے یہ بھی معلوم ہو گیا تھا کہ مجھے وہاں لانے پر اصرار کرنے والے کا نام روشن خان ہے ۔اس سے پہلے بھی ایک روشن خان مجھے ٹکرا چکا تھا جو قبیل خان کا کمانڈر تھا ۔
جلد ہی ہم غزنی خیل کے مشر کے سامنے موجود تھے ۔وہ جس جگہ بیٹھا تھا اس کے تین اطرف میں پتھروں کی دو اڑھائی فٹ دیواریں اٹھائی گئی تھیں ،صرف شمال کی جانب آنے جانے کا رستا رکھا گیا تھا ۔شلوبر قبیلہ اس جگہ سے جنوب مغرب کی طرف موجود تھا ۔
غزنی خیل کے سردار کا نام سیلاب خان تھا ۔اس کی عمر چالیس سے پینتالیس سال کے درمیان دکھائی دے رہی تھی ۔اس کے مورچے میں بھی آگ کا بڑا سا الاﺅ روشن تھا اور اس کے ہمراہ پانچ چھے اور آدمی بھی موجود تھے ۔روشن خان کی بات سننے سے پہلے اس نے مجھے بیٹھنے کا اشارہ کیا اور ایک آدمی کو قہوہ لانے کا کہا ۔
میں نے الاﺅ کے گرد پڑے ہوئے ایک پتھر پر نشست سنبھالتے ہوئے ۔”شکریہ ۔“کہا اور خود ہی تفصیل بتلانا شروع کر دی ۔میری کہانی میں کوئی ایسا جھول نہیں تھا کہ مجھ پر شک کیا جاسکتا ۔ سردار سیلاب خان نے میری بات غور سے سنی اور اختتام پر معذرت کرتے ہوئے بولا ۔
”اپنے آدمیوں کی طرف سے میں معافی چاہتا ہوں کہ غلط فہمی کی وجہ سے آپ کو اتنی زحمت اٹھانا پڑ گئی ۔بہ ہرحال جو ہونا تھا وہ تو ہوچکا ،اب آپ یہیں آرام کریں ،صبح ہم خان کلے کی جانب آپ کی رہنمائی کر دیں گے ۔“یہ کہہ کر وہ روشن خان کی طرف متوجہ ہوا۔
”روشن خان !....تم اتنے بچے تو نہیں ہو کہ دشمن کو نہ پہچان سکو ۔ہم پر حملہ کرنے والانہ تو اکیلا ہوگا اورنہ اپنے ساتھ بستر اور ضرورت کا سامان پھرا رہا ہوگا۔تمھاری اس حرکت سے ایک شریف آدمی کو اتنی زیادہ تکلیف اٹھانا پڑی ۔اب جاﺅ اور دوبارہ کسی ایسے آدمی پر ہاتھ نہ ڈالنا ۔“
”جی سردار ۔“وہ دھیمے لہجے میں کہتا ہوا مورچے سے باہر نکل گیا ۔میرے بات کرنے کے دوران ہی ایک آدمی میرے لیے قہوہ لے آیا تھا ۔اورانھی باتوں کے درمیان ہی قہوے کی پیالی خالی کر کے میں نے نیچے رکھ دی تھی ۔
روشن خان کے جانے کے بعد سردار نے مجھ سے کھانے کی بابت دریافت کیا اور میرے انکار کرنے پر مجھے اسی مورچے میں آرام کرنے مشورہ دیتے ہوئے کہا ۔
”باقی گپ شپ صبح کریں گے ۔“
میں نے ممنونیت بھرے انداز میں سرہلایااور اپنے سفری تھیلے سے سلپنگ بیگ نکالنے لگا ۔ آگ کی وجہ سے وہاں خوشگوار حدت پھیلی ہوئی تھی ۔ایک آدمی ہر چند منٹ بعد آلاﺅ پر اور لکڑیاں ڈال کر آگ کو بجھنے نہیں دے رہا تھا ۔
بستر میں گھس کر میں سونے کی کوشش کرنے لگا ،مگر شاید سونا میری قسمت میں نہیں تھا ۔مجھے لیٹے ہوئے چند منٹ ہی ہوئے تھے کہ اچانک ایک آدمی مورچے میں داخل ہوا ۔اس کے پھولے سانسوں سے مجھے سلپنگ بیگ کے اندر پڑے ہوئے اندازہ ہوگیا کہ وہ وہاں تک دوڑتا ہوا پہنچا تھا ۔
”خیر تو ہے ضمیر خان ۔“اس کے سانسوں پر قابو پانے تک سردار سیلاب خان اس سے استفسار کر چکا تھا ۔
”سردار !....ہمیں گھیر لیا گیا ہے ۔میں نے ابھی مخابرے پر ان کی بات چیت سنی ہے ۔“
”گھیر لیا گیا ہے ۔“سیلاب خان نے حیرانی سے کہا ۔”اکبر خان دماغ جگہ پر ہے ،شلوبر گاﺅں کی افرادی قوت اتنی تو نہیں ہے کہ وہ ہمیں چاروں طرف سے گھیر سکیں ۔“
اکبر خان وثوق سے بولا۔”میام خیل قبیلے کے چنگیزی ان کے ساتھ ہیں سردار!.... چنگیزیوں نے شمالی اور مشرقی جانب سے گھیرا ڈالا ہے ،جنوب اور مغرب میں شلوبر قبیلہ ہے ۔ان کے علاوہ چنگیزی سردار نے کچھ ازبک اور تاجک دوستوں کو بھی ساتھ ملا لیا ہے ۔“
”جھوٹ بول رہے ہوں گے ۔“سردار سیلاب کے لہجے میں شامل اندیشے اس کے اعتماد کی عمارت کے زمین بوس ہونے کا مژدہ سنا رہے تھے ۔
اسی وقت سیلاب خان کو کسی نے ریڈیو سیٹ پر آواز دی ۔”سردار ہمیں شمال کی طرف کچھ حرکت نظر آرہی ہے ،کیا اپنے آدھے آدمیوں کو اس طرف بٹھا دیں ۔“
”ہاں بٹھا دو ۔“سیلاب خان نے مزید استفسار کی ضرورت محسوس نہیں کی تھی ۔
”سردار ،مشرقی جانب بھی حرکت دیکھی جا رہی ہے ۔“یہ کوئی دوسرا آدمی تھا ۔
سیلاب خان کے جواب دینے سے پہلے ہی ایک دم تیز فائر کھل گیا تھا۔گولیوں کی تڑتڑاہٹ کی آوازچاروں طرف سے آ رہی تھی ،گویا اکبر خان کی بات مبنی بر حقیقت تھی ۔مجھے غزنی خیل قبیلے سے کوئی ہمدردی نہیں تھی مگر میں مفت میں گھیرے میں آگیا تھا ۔اب شلوبر یا چنگیزیوں کو یہ باور کرانا کہ میں ان کا ساتھی نہیں ہوں ناممکنات میں سے تھا ۔کیونکہ میں ان کے ساتھ ایسی جگہ موجود تھا جہاں وہ شلوبر قبیلے سے مقابلہ کرنے اکٹھے ہوئے تھے ۔اور یوں بھی بات چیت کی نوبت آنے سے پہلے ہی کوئی گولی میرا پتا پوچھ سکتی تھی ۔جنگ کے دوران استفسارنہیں کیا جاتا اور نہ صفائیاں سنی جاتی ہیں ۔روشن خان میرے لیے نہایت منحوس ثابت ہوا تھا ۔اس کی بے وقوفی مجھے اس حال تک لے آئی تھی کہ جان کے لالے پڑتے دکھائی دے رہے تھے ۔میں سلپنگ بیگ سے باہر نکل آیا کہ اب لیٹے رہنے کی کوئی ضرورت اور گنجائش باقی نہیں بچی تھی ۔اپنا سامان دوبارہ سفری تھیلے میں ٹھونس کر میں اس خطرناک صورت حال سے جان چھڑانے کی تجویز سوچنے لگا ۔افغانستان کی زمین میرے لیے کچھ زیادہ ہی بھاری ثابت ہورہی تھی ۔
جاری ہے ۔
قسط نمبر 54
ریاض عاقب کوہلر
سردار سیلاب خان ریڈیو سیٹ پر اپنے آدمیوں سے رابطے کررہا تھا ۔وہاںبیٹھے باقی آدمی فائرنگ کے شروع ہوتے ہی اپنے اپنے مورچے میں چلے گئے تھے ۔
”سردار!....فائرنگ ہو رہی ہے بیٹھ کر بات کرلو ۔“وہ بات کرتے ہوئے بے چینی سے ٹہل رہا تھا ۔میری بات سنتے ہی ،اس نے بے دھیانی میں سرہلایا اور آگ کے قریب بیٹھ گیا ۔مختلف اطراف سے اسے مسلسل خبریں مل رہی تھیں ۔
”سردار! وہ قریب نہیں آرہے ،بس دور دور سے فائر کر رہے ہیں ۔“
سیلاب خان نے کہا۔”ٹھیک ہے ،جب تک قریب نہیں آتے ،اپنی گولیاں ضائع نہ کرو بس اکا دکا گولی چلا کر ان کے قریب آنے کا انتظار کرو ۔“
فائرنگ کا یہ سلسلہ گھنٹا بھر جاری رہا تھا ،اس کے بعد ایک دم خاموشی چھا گئی تھی ۔لگ رہا تھا جیسے شلوبر اور ان کے حلیفوں نے بس غزنی خیل قبیلے کو یہ یقین دلانے کے لیے فائرنگ شروع کی تھی کہ وہ گھیرے میں آگئے ہیں ۔
فائرنگ کے رکتے ہی ماحول میں عجیب سی خاموشی چھا گئی تھی ،ایک ایسی خاموشی جس کی تہہ میں کئی قسم کے طوفان پوشیدہ تھے ۔رات کی تاریکی میں بغیر نشانہ لیے فائر کرنے والے دن کو انھیں چن چن کر نشانہ بناسکتے تھے کہ وہ چاروں طرف سے گھیرے میں تھے ۔اور اس گھیرے سے ان کا کوئی بندہ باہر نہیں نکل سکتا تھا ۔البتہ اس پہاڑی کی دفاعی صورت حال کا اندازہ میں روشنی ہونے پر ہی کر سکتا تھا۔
”جوان ،میں ایک بار پھر معذرت خواہ ہوں آپ کو روشن خان کی وجہ سے اتنی زحمت اٹھانا پڑی ،بلکہ اب تو آپ بھی ہمارے ساتھ پھنس ہی گئے ہیں ۔“مجھے سوچوں میں گم پا کر سیلاب خان معذرت کرنے لگا۔
میں پھیکی مسکراہٹ سے بولا۔”کسی کو کوسنے سے تو مسئلہ حل نہیں ہو سکتا نا ۔“
”یہی تو دکھ ہے کہ اس کا ازالہ اب نہیں ہو سکتا ،ہمارے دو دشمن قبیلے یکجا ہو گئے ہیں ان کے ساتھ کچھ ازبک اور تاجک دہشت گرد بھی مل گئے ہیں ،یقینا ہمیں بھاری نقصان اٹھانا پڑے گا ۔“
”سردار !....اگر میں ابھی یہاں سے نکل جاﺅں ۔“میں نے مشورہ مانگا ۔
”یقینا ہمارے ساتھ رہنے میں آپ کی جان کو خطرہ ہے اوراس وقت یہاں سے جانے کا مطلب خودکشی کرنا ہی ہوگا۔“
میں پھیکی مسکراہٹ سے بولا۔”خودکشی ہویا لڑائی ، انجام دونوں کا موت ہی ہوتا ہے ۔“
”جنگ میں تمام ہارنے والے مر نہیں جایا کرتے ۔“
میں نے فلسفیانہ انداز میں کہا ۔”دشمن کے آگے گھٹنے ٹیک کر جسم کو مردہ ہونے سے بچایا جا سکتا ہے روح کو نہیں ۔“
وہ ترکی بہ ترکی بولا۔”مہلت کے حصول کے لیے گھٹنے ٹیکنا مصلحت کہلاتا ہے روحانی موت نہیں ۔“
”اگر میں پکڑا گیا تو یقینا انھیں مطمئن کر لوں گا ۔“فلسفیانہ گفتگو کو چھوڑ کر میں اصل موضوع کی جانب پلٹا۔
”ہمارے ساتھ کچھ پشاور کے مہمان بھی موجود ہیں ،جن کی بابت ہمارے دشمن اچھی طرح جانتے ہیں ۔“
”کیا مطلب ؟“اس کا واضح جواب سن کر بھی میں جلدی میں پوچھ بیٹھا تھا ۔
وہ اطمینان سے بولا۔”مطلب یہ کہ وہ آپ کو بھی ہمارا دوست سمجھیں گے ،جبکہ آپ کا لہجہ اور زبان اس بات کی تصدیق کرے گا ۔“
میں بے بسی سے سر ہلا کر رہ گیا تھا ۔
”اچھا اپنی جان بچانے کے لیے کوئی فائر وغیرہ کر لو گے ۔“
میں صاف گوئی سے بولا۔”کسی بے گناہ کی جان لینا مجھے گوارا نہیں ہے ۔ان میں سے کوئی بھی میرا دشمن نہیں ہے ۔بلکہ دیکھا جائے تو ان سے زیادہ میرے دشمن غزنی خیل کے وہ افراد ہیں جن کی وجہ سے مجھے اس جان لیوا صورت حال میں پھنسنا پڑا ۔“
سیلاب نے مدافعانہ لہجہ اپناتے ہوئے کہا ۔”آپ کچھ زیادہ ہی غلط سوچنے لگے ہیں ۔“
”آپ کامیری سوچ کو غلط قرار دینا ظاہر کر رہا ہے کہ آپ نہایت ہی سیدھے سادھے آدمی ہیں اور اتنے سیدھے آدمی کوسرداری نہیں جچتی۔“
وہ جھینپتے ہوئے بولا۔”طنز اچھا کر لیتے ہو ۔“
”ایسی صورت حا ل میں طنز کے علاوہ کیا بھی کیا جا سکتا ہے ۔“
”میرا خیال میں ہم نے آپ کو جان بوجھ کر نہیں پھانسا ۔یہ صورت حال تو ہمارے وہم و گمان میں بھی نہیں تھی ۔“
اس کے مسلسل معذرتی رویے نے میرے دل سے کدورت دور کر دی تھی ۔میں نے اثبات میں سر ہلاتے ہوئے کہا ۔”جانتا ہوں ،یہ خورای مقدر میں لکھی تھی ،روشن خان غریب تو بہانہ ہی بن گیا ۔“
”یہ روشن خان کی پارٹی اب تک واپس کیوں نہیں لوٹی ....“میرے منھ سے روشن خان کا نام سنتے ہی اسے اپنی گشت کرنے والی پارٹی کا خیال آیا ۔خود کلامی کے انداز میں بڑبڑاتے ہوئے وہ ریڈیو سیٹ پر انھیں پکارنے لگا ۔مگر کافی دیر پکارنے کے بعد بھی اسے جواب موصول نہیں ہوا تھا۔
میں نے کہا ۔”آپ نے دیر کر دی سردار!....دشمنوں کے گھیراﺅ کی خبر ملتے ہی انھیں بلا لینا چاہیے تھا۔“
وہ پریشانی کے عالم میں بولا۔”میرے دھیان ہی میں نہیں رہا تھا ۔“
”میدان جنگ میں سرداروں کو ایسی بے دھیانیاں راس نہیں آیا کرتیں ۔“
”جوان آپ اپنی عمر سے بہت بڑی باتیں کر رہے ہیں ۔“اس کے لہجے میں طنز یا غصے کے بجائے حیرانی تھی ۔
”حکمت عمر نہیں تجربے سے آتی ہے سردار۔“
”ہونہہ۔“اس نے معنی خیز انداز میں سرہلاتے ہوئے کہا ۔”کافی تجربے کار دکھتے ہو۔“
اچانک ریڈیو سیٹ بول اٹھا کسی نے ہیجان خیز لہجے میں سردار کو پکارتے ہوئے انکشاف کیا ۔ ”سردار!....روشن خان اور صغیر واپس لوٹ آئے ہیں ....دونوں شدید زخمی ہیں ۔اور روشن خان نے بتایا ہے کہ ان کے تین ساتھی باقی نہیں رہے ۔“
”دونوں کی مرہم پٹی کرو میں وہیں آرہا ہو ں۔“یہ کہتے ہوئے وہ محتاط انداز میں چلتا ہوا مورچے سے باہر نکل گیا ۔جبکہ میں نے پاﺅں پسارتے ہوئے اپنی کلاشن کوف گود میں لی اور سفری تھیلے سے ٹیک لگا کر بیٹھ گیا ۔غزنی خیل والے کافی گھمبیر صورت حال کا شکار ہو چکے تھے ۔ان کے مقابلے میں دو حلیف قبیلے اور خاصی تعداد میں ازبک تاجک دہشت گرد اکٹھے ہوچکے تھے ۔اور ان تمام کے ساتھ تنہا مقابلہ کرناان کے بس سے باہر تھا ۔ یقینا اس گندم کے ساتھ میں نے بھی گھن کی شکل میں پس جانا تھا اور ان سوکھی لکڑیوں کے ساتھ میں نے گیلا ہوکر بھی جل جانا تھا ۔سیلاب خان کے لوٹنے تک میں ان حالات سے جان چھڑانے کی کوئی معقول تجویز سوچتا رہا ۔کوئی ایسا طریقہ جس سے سانپ مار کر بھی میں لاٹھی بچا لیتا ،کوئی ایسی ترکیب کہ آسمان سے چھلانگ لگاتے وقت میں کھجور میں نہ اٹکتا ،کوئی ایسا حل کہ وہ زبردستی کی بلا میرے سر سے ٹل جاتی ،کوئی ایسا ٹوٹکاکہ طویلے کی بلا، بندرکے سر نہ پڑتی ۔
میری سوچوں میں سیلاب خان مخل ہوا تھا ۔اس کے ہمراہ چار آدمی اور بھی تھے ۔مورچے میں جلتا ہوا الاﺅ بجھ چکا تھا بس تھوڑے بہت انگارے دمک رہے تھے ۔فائرنگ ہونے کے بعد کوئی اس پر مزید لکڑیاں نہیں ڈال سکا تھا ۔سردار کے ساتھ آنے والے آدمیوں میں سے ایک نے سردار کے کہے بغیر کافی ساری خشک لکڑیاں اٹھا کر بجھتے ہوئے انگاروں پر پھینکیں ۔اور آگ بھڑکانے لگا ۔
سردار باقیوں کے ساتھ محو گفتگو ہو گیا ۔وہ تمام قبیلے کے مشر تھے ۔ان کی گفتگو سے میں نے اندازہ لگایا کہ روشن خان کے ساتھ گشت پر جانے والوں میں تین آدمی مارے گئے تھے ۔روشن خان اپنے ایک ساتھی کے ساتھ مشکل سے جان بچا کر وہاں تک پہنچا تھااوراب اس کی اپنی حالت کافی تشویش ناک تھی ۔اس کے علاوہ ایک اور آدمی بھی معمولی سا زخمی ہوا تھا ۔بڑا مسئلہ یہ تھا کہ اب ان کی رسد کی راہیں بند ہو گئی تھیں ۔نہ تو وہ مزید ایمونیشن منگوا سکتے تھے اور نہ کھانے پینے کا سامان ان تک پہنچ سکتا تھا ۔صلح کی گنجائش بھی ختم ہو گئی تھی ایسے حالات میں شلوبر قبیلے کے افراد ایسی کڑی اور شرمندہ کر دینے والی شرائط پیش کرتے جو، ان کے لیے کبھی بھی قابل قبول نہ ہوتیں ۔
وہ اس صورت حال سے نمٹنے کے منصوبے بناتے رہے ۔میں خاموش بیٹھا ان کی گفتگو سنتا رہا۔نہ انھوں نے مجھے مخاطب کیا اور نہ میں نے بیچ میں مخل ہونے کی کوشش کی ۔
مشرقی جانب قدرے فاصلے پر چند گولیاں فائر ہوئیں جن سے متصل مغربی جانب سے ایک لمبا برسٹ فائر ہوا ،شمال و جنوب کی طرف سے بھی چند مرتبہ” ٹخ ٹخ۔ “ہوئی اور پھر خاموشی چھا گئی ۔وقفے وقفے سے پہلے بھی گولیاں چلتی رہی تھیں ۔غزنی خیل والوں پر نفسیاتی دباﺅ ڈالنے کے لیے گھیراﺅ کرنے والے انھیں چاروں طرف اپنی موجودی کا احساس دلا رہے تھے۔
ایک آدمی قہوے کی بھری کیتلی کے ساتھ مورچے میں وارد ہوا اور تمام کو گرما گرم قہوے کی پیالی پکڑا دی ۔رات ڈھلنے کے ساتھ ساتھ سردی کی شدت میں اضافہ ہو رہاتھا ۔قہوہ پی کر میں ایک بار پھر اپنا سلپنگ بیگ تھیلے سے باہر نکالنے لگا ۔ان کی گفتگو سے مجھے اندازہ ہو رہا تھا کہ ان کے پاس ان حالات سے نمٹنے کی بس یہی تجویز بچی تھی کہ فی الحال مورچوں میں بیٹھ کر دشمن کا مقابلہ کیا جائے ،بلکہ اسے مقابلے کے بجائے دفاع کہنا زیادہ مناسب رہے گا ۔اس طرح ایک دو دن گزار کر اندازہ ہو پائے گا کہ اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے ۔ان بے وقوفوں کوکافی دیر سے بیٹھا ہوا اونٹ ابھی تک کھڑانظر آرہا تھا ۔
ایک سنائپر کی نیند پر ماحول اثر انداز نہیں ہوسکتا ۔میں بھی گاہے گاہے اٹھنے والی فائرنگ کی ”ٹخ ٹخ ۔“سے بے نیاز سو گیا تھا ۔صبح کے ناشتے کا انتظام ان لوگوں کے پاس نہیں تھا ۔میرے پاس البتہ کچھ چنے اور بسکٹ پڑے تھے جو ظاہر ہے غزنی خیل کے پورے لشکر کی داڑھ بھی گیلی نہیں کر سکتے تھے ۔ اور اکیلے کھانا مجھے بھی گوارا نہ تھا کہ میرے ہمراہ موجود لوگ بھوکے ہوتے اور میں کھانے کو جڑا ہوتا۔قہوہ بنانے کا سامان البتہ ان کے پاس موجود تھا اور میں نے بھی اسی قہوے ہی پر گزارا کیا تھا ۔دن کی روشنی میں فائرنگ کے سلسلے میں تیزی آگئی تھی ۔جوانب میں ایک دوسرے کے آدمی نظر آنے پر ہتھیار کی لبلبی دبانا مجبوری بن جاتی ہے ۔
انھیں گھیرنے والے اگر چاروں جانب سے حملہ کر دیتے تو شاید کامیاب بھی ہو جاتے مگر ایسی صورت میںانھیں بھی کافی جانی نقصان اٹھانا پڑتا ۔کیونکہ غزنی خیل والے جس بلندی پر پڑاﺅ ڈالے ہوئے تھے وہاں تک پہنچنے کے لیے مخالفین کو چڑھائی چڑھنا پڑتی ۔اس کا یہ مطلب بھی نہیں کہ وہ جگہ ارد گرد کی پہاڑیوں سے زیادہ بلند تھی ،بلکہ اس کی وجہ اس پہاڑی کے چاروں اطراف میں موجود نالہ تھا جو اسے تمام پہاڑیوں سے جدا کر رہا تھا ۔
اطراف میں فائرنگ کا شور و غل زیادہ ہوا مجھ سے چپ نہ رہا گیا ۔”سردار !....اپنے آدمیوں کوکہو حتی الوسع گولی چلانے سے پرہیز کریں ،آپ لوگوں کے پاس ایک گولی بھی ضائع کرنے کی گنجائش نہیں ۔ یوں ہوا میں ایمونیشن پھونک دینے سے کچھ حاصل نہیں ہوگا۔ “
”صحیح کہہ رہے ہو ۔“اثبات میں سر ہلا کر وہ ریڈیو سیٹ کی طرف متوجہ ہوا ۔میں نے فوراََ اسے ٹوکتے ہوئے کہا ۔
”دشمن بھی سن رہے ہیں ،ایسی باتیں مخابرے پر نہیںکیا کرتے ۔“
وہ حیرانی سے بولا ۔”تو سنتے رہیں ۔کیا فرق پڑے گا ۔“
”بہت فرق پڑے گا ۔آپ کی کمزوری دشمن کے ہاتھ آجائے گی وہ آپ کا ایمونیشن ختم کرنے کے لیے جھوٹ موٹ کی پیش قدمی کر سکتا ہے ۔اور یقینا ان کی پیش قدمی کو روکنے کے لیے آپ کے آدمیوں کو بے دریغ فائر کرنا پڑے گا ۔“
”یہ بات انھیں یوں بھی معلوم ہے کہ ہم ان کے گھیرے میں ہیں ۔“
”انھیں کیا پتا کہ آپ کے پاس ایمونیشن کا کتنا ذخیرہ ہے ۔اور یاد رکھنا کسی کی کمزوری معلوم ہوجانے کے بعد ہی حکمت عملی کام میں لائی جاتی ہے ۔“
”ہمارے مسلسل فائر نہ کرنے پر بھی تو وہ یہ بات سمجھ سکتے ہیں ۔“
”آپ پر جو شمال کی جانب سے فائر ہوگا ،وہ جنوب والوں کو آپ کا فائر بھی لگ سکتا ہے ۔باقی یہ کس نے کہا کہ آپ کے آدمی بالکل بھی فائر نہ کریں۔جب کسی کو نشانہ بنانا ممکن ہو توبے شک وہ فائر کر سکتے ہیں۔“
وہ مسکرایا ۔”ویسے میں اتنی جلدی قائل نہیں ہوا کرتا ۔“
”تو جلدی کہاں ہوئے ہیں ،اتنی دیر سے تو تکرار کیے جا رہے ہیں ۔“
”پھر بھی ہو تو گیا ۔“اس کا انداز شکست کا احساس لیے ہوئے تھا ۔
”کم رتبہ سے اتفاق کرنا شکست نہیں عقل مندی کی دلیل ہوتی ہے ۔باقی مسلمانوں کو ہر کام مشورے سے کرنے کی ترغیب دی گئی ہے ۔اور اس بارے سرداروں اور عوام میں کوئی تخصیص نہیں رکھی گئی۔“
”آپ کی باتیں ،آپ کے بارے جاننے کے تجسس کو ہوا دے رہی ہیں ۔“
”کسی کو جاننے کا تجسس تعلق رکھنے کے فیصلے کے بعد ہی کیا جاتا ہے ۔اور ہمارے درمیان ایسی کوئی گنجائش نہیں ۔میں جس رستے کا مسافر ہوں وہ آپ کے پڑاﺅ سے بہت دور گزرتا ہے ۔“
وہ کھل کھلا کر ہنسا۔”گزرتا تھا جناب!....اب تو آپ کومقدرکی آندھی نے میرے پڑاﺅ کے قریب نہیں اندر لا پھینکا ہے ۔“اس کی بات پر مجھے بھی ہنسی آ گئی تھی ۔
وہ کسی ضامن خان کو آواز دینے لگا ۔قریب کے مورچے سے ایک جوان وہا ں آگیا اور سیلاب خان اسے فائرنگ کے بارے ضروری ہدایات دینے لگا جو اسے چاروں اطراف میں موجودغزنی خیل لشکر کمانڈروں تک پہنچانا تھیں ۔
سورج کے سامنے کافی دیر سے بدلیاں اکٹھی ہو گئی تھیں ۔ دھوپ کے غائب ہونے نے خوشگوار حدت کا خاتمہ کر دیا جبکہ دھیمی دھیمی ہوا بھی سردی میں اضافے کا باعث بن رہی تھی ۔مسلسل بیٹھنے کی وجہ سے گرم کوٹ نے سردی کے مقابلے میں ناکامی کا اعتراف کیااورمجھے گرم چادر نکال کر لپیٹنا پڑی۔سردار سیلاب خان نے بجھی ہوئی راکھ کو کرید کر چند انگارے ڈھونڈے اور ان پر چھوٹی چھوٹی لکڑیاں رکھ کر آگ دہکانے لگا ۔اپنی پھونکوں سے راکھ اڑانے کے ساتھ ساتھ اس نے انگاروں کی آنچ کو خشک لکڑیوں میں منتقل کر دیا تھا ۔ہلکا سا دھواں اٹھا اور آگ نمودار ہو گئی ۔سیلاب خان ان لکڑیوں کو مزید لکڑیوں سے ڈھانپنے لگا ۔جلد ہی آگ بھڑک اٹھی میں بھی اس کے قریب جا کر بیٹھ گیا ۔سیلاب خان کسی گہری سوچ میں ڈوبا تھا میں نے بھی اس کے خیالات میں مخل ہونے کی کوشش نہ کی اور اسی شغل میں لگ گیا ۔ایسی لڑائی سے ایک بار پہلے بھی میرا پالا پڑ چکا تھا ،لیکن اس وقت پلوشہ میرے ساتھ تھی اور ہم اتنے برے حالات کا شکا ر بھی نہیں ہوئے تھے ۔
اچانک فائرنگ کی رفتار تیز ہوئی ۔اور یہ فائرنگ سیلاب خان کے آدمی کر رہے تھے ۔اس کے ساتھ ہی کسی نے ریڈیو سیٹ پر سیلاب خان کو اطلاع دی کہ ضامن خان دشمن کی گولی کا شکار ہو گیا تھا ۔
سیلاب خان کے آدمیوں کی تیز فائرنگ کے جواب میں دشمن کی طرف سے گولیوں کی بوچھا ڑ آنے لگی ۔جنوب مغربی کونے سے 12.7ایم ایم کی گرج سنائی دے رہی تھی ۔
”آپ کے پاس 12.7ایم ایم موجود نہیں ہے ۔“میں نے خاموش بیٹھے سیلاب خان کو متوجہ کیا ۔
”اس کی گولیاں ختم ہو گئی ہیں ۔“
اسی وقت ریڈیو سیٹ پر ایک اور بری اطلاع ملنے لگی ۔مغربی کونے میں دو آدمیوں کو چھاتی میں 12.7ایم یم کی گولی لگی تھی ۔اور 12.7ایم ایم کی چھاتی میں لگنے والی گولی سامنے سے گھس کر پشت سے نکلتے ہوئے سانس کو ساتھ لیتی جاتی ہے ۔
وہ تمام کو مورچوں کی آڑ میں رہنے کا حکم دینے لگا ۔مشرقی جانب سے بھی ایک دم تیز فائرنگ شروع ہو گئی تھی۔ ریڈو سیٹ پر پاس ہوا کہ اس جانب سے کچھ لوگ آگے بڑھنے کی کوشش کر رہے ہیں ۔ فائرنگ کی پرشور آواز گھنٹا بھر بعد ہی دھیمی ہو پائی تھی اور اس دوران تین چار آدمی اور زخمی ہو گئے تھے ۔ دشمن کے بھی چار آدمی انھوں نے مار گرائے تھے ۔سیلا ب خان کے حکم کے بعد تمام لوگ گولی چلانے میں احتیاط سے کام لے رہے تھے اور اس احتیاط کے نتیجے میں دشمن کے حوصلوں کو بڑھاوا مل رہا تھا ۔لیکن زیادہ گولیاں چلا کر غزنی خیل والوں نے جلد ہی بے دست و پا ہو جانا تھا اس لیے بہتر یہی تھا کہ وہ اپنی دفاعی قوت کو زیادہ سے زیادہ سنبھال کر رکھتے ۔اور ساتھ ساتھ دشمن کا نقصان بھی کرتے رہتے ۔ورنہ زمینی حقائق کے مطابق تو وہ جنگ ہار چکے تھے کہ چند دن کے گھیراﺅ کے بعد انھوں نے بھوک سے گھبرا کر ہی ہتھیار ڈال دینے تھے ۔
خاموشی زیادہ دیر برقرار نہیں رہ پائی تھی اور اس دفعہ ہونے والی فائرنگ ایک نئی افتاد لے کے آئی تھی ۔پانی کا چشمہ جنوب کی سمت میں اس پہاڑی کے تقریباََ نصف بلندی سے بھی تھوڑا نیچے نالے کی طرف تھا ۔وہاں پر غزنی خیل والوں نے اپنا ایک مورچہ بنایا ہوا تھا جس کی حفاظت کے لیے چارافراد بھی موجود تھے ۔شلوبر والوں کوکسی طرح چشمے کی اس جگہ کا اندازہ ہو گیا تھا ۔انھوں نے 12.7ایم ایم کو جنوب مغربی کونے سے اٹھا کر جنوب کی سمت میں پانی کے چشمے پر لے کردیا ،اس طاقتور گن کے اتنی قریب سے مسلسل فائر نے مورچے کے عارضی رکھے ہوئے پتھروں کو بکھیر دیا تھا ۔دو آدمی ہی جان بچا کر واپس لوٹ پائے تھے ۔کھانے کے ساتھ پانی کی سہولت بھی چھن گئی تھی ۔اکادکا آدمیوں کے پاس پلاسٹک کی بھری ہوئی بوتلیں موجود تھیں مگر وہ چند گھنٹوں سے زیادہ کام نہیں دے سکتی تھیں ۔خود میرے پاس ڈیڑھ بوتل پانی موجود تھا ،مگر یہ ڈیڑھ بوتل بھی جانے کب تک ساتھ دے پاتی ۔
شام تک فائرنگ کا سلسلہ وقفے وقفے سے شروع رہا ۔غزنی خیل کے آٹھ آدمی زندگی کی جنگ ہار گئے تھے جبکہ چھے زخمی تھے ۔اور ان زخمیوں میں دو کی حالت تشویش ناک تھی ۔سیلاب خان کو لگا رات کو دشمن کی طرف سے حملے کا خطرہ زیادہ ہے اس لیے سر شام ہی اس نے اپنے کمانڈروں کو اکٹھا کر لیا تھا ۔گزشتا رات اپنی حوصلوں سے دشمن کو ناکوں چنے چبوانے والے کمانڈر ز اس وقت کافی پریشان اور بجھے بجھے سے تھے ۔چوبیس گھنٹے سے انھیں کھانا بھی نہیں ملا تھا۔ کمانڈروں کی شکلیں دیکھ کر باقی جوانوں کی حالت کا اندازہ لگانا دشوار نہیں تھا ۔
ساری صورت حال ان کے سامنے تھی سیلاب خان نے حالات پر روشنی ڈالے بغیر بس اتنا پوچھا تھا کہ ....”آج حملے کا خطرہ زیادہ ہے ایسی صورت حال میں کیا کرنا چاہیے ؟“اور اس کا جواب اسے ایک طویل خاموشی کی صورت میں ملا تھا ۔
چند لمحے انتظار کے بعد اس نے گہرا سانس لیا اور میری جانب رخ کرتا ہوا بولا ۔
”سلیم شاہ !....آپ اس معاملے میں ہماری رہنمائی کر سکتے ہیں ۔“میرے پاس جو شناختی کارڈ موجود تھا اس پر میرا نام سیلم شاہ درج تھا اور عموماََ مجھے یہی نام بتانا پڑتا۔گلگارے وغیرہ کو البتہ میں نے اپنا اصل نام بتایا تھا ۔
ایک لمحہ سوچ کر میں نے مناسب الفاظ کو ذہن میں ترتیب دیا اور پھر گلا کھنکار کر گفتگو کی ابتداءکی ۔”محترم سرادر!....آپ ،بلکہ ہم لوگ جس صورت حال میں پھنسے ہیں بہ ظاہر اس سے نکلنے کا کوئی رستا نظر نہیں آرہا ،لیکن اگر صحیح حکمت عملی اپنائی جائے تو ناممکن کو ممکن میں ڈھالنا مشکل نہیں ہوتا ۔“میں نے ایک لحظہ خاموش ہو کر ان کے چہروں پر سرسری نظر دوڑائی جو آگ کی لپٹوں میں عجیب قسم کی تشویش ، پریشانی اور بیزاری سے بھرے نظر آرہے تھے ۔انھیں میری بات کسی فضول فلسفے سے بڑھ کر اہم نہیں لگی تھی۔لیکن اپنی بات پوری کیے بغیر میں چپ نہیں ہو سکتا تھا ۔آلاﺅ پر اپنی نظریں گاڑ کر میں نے بات آگے بڑھائی ۔”سب سے پہلے تو یہ سمجھ لیں کہ دشمن آج کسی بھی صورت حملہ نہیں کرے گا ،بلکہ اس وقت تک حملہ نہیں کرے گا جب تک اسے یقین نہیں ہوجاتا کہ آپ لوگ مزاحمت کے قابل نہیں رہے ۔ان کی جگہ اگر آپ ہوتے تو یقینا یہی کرتے ،کیونکہ خواہ مخواہ اپنے آدمیوں کی قیمتی جانیں گنوانے کے بہ جائے وہ ایک دو دن صبر کرنا پسند کریں گے ۔اب یہ طے کرنے کے بعد کہ دشمن فی الحال حملہ نہیں کرے گا ہم اپنی کمزوریوں پر نظر دوڑاتے ہیں ....ہمارے پاس کھانے کے لیے روٹی اور پینے کے لیے پانی موجود نہیں ہے ۔جلانے کے لیے لکڑیاں بھی شاید کل تک ختم ہو جائیں تب بھوک پیاس کے ساتھ سردی کا عذاب جھیلنا بھی ہمارا نصیب ہو جائے گا ۔مسلسل استعمال کے بعد ایمونیشن نے بھی ختم ہو جانا ہے ،تب ہماری حالت تر نوالے کی سی ہو جائے گی جسے نگلنے کے لیے دشمن کو ذرا سی بھی تگ و دو نہیں کرنا پڑے گی ........“
”ہمیں صورت حال کا ادراک ہے سلیم شاہ ۔“سیلاب خان نے نرم لہجے میں کہا ۔”آپ یہ مشورہ دیں کہ ان حالات میں کیا کرنا چاہیے ۔“
”میں اسی طرف آرہا ہوں ....کل کا دن ہمیں دشمن کو یہ احساس دلانا ہے کہ ہمارے پاس کھانا بھی موجود ہے اور ہم مقابلے سے دستبردار ہونے کو بھی تیار نہیں ۔کھانے کا جھانسا تو ہم مخابرے پر ایک دوسرے سے بات چیت کرتے ہوئے دے سکتے ہیں اور مقابلے کی دھونس جمانے کے لیے ہمیں ایسے اچھے نشانہ بازوں کی ضرورت پڑے گی جو ان کی آزادنہ حرکت میں رکاوٹ بن سکیں ۔“
”اچھے نشانہ باز تو پہلے بھی اپنی کوشش کر رہے تھے ،کیا تیر مارلیا ۔“اس مرتبہ کمانڈر مشر خان بولا تھا۔
”اس کی وجہ ہے دشمن کا دور ہونا ۔کلاشن کوف کی کارگر رینج تین سو میٹر ہے اور دشمن زیادہ فاصلے پر موجود ہے ۔فاصلہ کم کرنے کے لیے ہمارے نشانہ بازوں کودشمن سے اڑھائی تین سو میٹر دور درختوں پر مچان بنانا پڑے گی ۔اور دن کی روشنی میں وہاں سے فائر کرنا پڑے گا ۔“
”پہلی گولی فائر کرتے ہی ،دشمن انھیں بھون ڈالیں گے ، فاصلہ نزدیک ہونے کی وجہ سے وہ بھی تو رینج میں ہوں گے ۔“کمانڈر رشید جان نے رائے دی ۔تمام کا بات چیت میں حصہ لینا یہ ثابت کر رہا تھا کہ وہ میری باتوں کو غور سے سن رہے تھے ۔
”اچھا سوال ہے ۔اور جواب ہے کہ وہ چھپ کر بیٹھے ہوں گے اور اس وقت فائر کریں گے جب دونوں طرف سے مسلسل فائر ہو رہا ہوگا ۔اس پرشور آواز میں کون اندازہ کرسکے گا کہ ان کے قریب کے درختوں سے بھی فائر ہو رہا ہے ۔“
”ہم دور مار رائفل سے بھی تو انھیں نشانہ بنا سکتے ہیں ۔کل نوشاد گل نے اپنی رائفل سے ان کے چار آدمیوں کو نشانہ بنایا تھا ۔“کمانڈرالفت بادشاہ نے زبان کھولی ۔
”نوشاد گل کے پاس کون سی رائفل ہے ؟“میرے لہجے میں اشتیاق بھرا تھا ۔
”نام کا تو پتا نہیں ہے ۔“الفت خان نے نفی میں سرہلایا۔
”اچھا وہ بعد میں دیکھ لیتے ہیں پہلے یہ بتائیں میری تجویز سے متفق ہو کہ نہیں ۔“
مشر خان بولا۔” ہم اتفاق کر لیتے ہیں اور اس طریقے کو بروے کار لا کر ہم دشمن کے چند بندے زخمی یا ہلاک بھی کر دیتے ہیں تب کیا ہوگا۔پندرہ بیس آدمیوں کے ہلاک ہونے سے پانچ چھے سو کے لشکر کا کیا نقصان ہو گا۔“
”شاید میں بتا چکا ہوں کہ ہمارا مقصد انھیں یہ یقین دلانا ہے کہ ہم لڑائی سے پیچھے ہٹنے والے نہیں ہیں ۔“
”چلو یقین دلادیا کہ ہم لڑائی سے بھی پیچھے نہیں ہٹ رہے اور ہمارے پاس خوراک بھی موجود ہے ،اس کے بعد کیا ہوگا ۔ہمیں کتنا عرصہ بھوکا پیاسا رہ کر انھیں اپنے پیٹ کے بھرے ہونے کا یقین دلانا پڑے گا ۔“مشر خان اس انداز سے بولا تھا گویا قبیلے کا سردار میں ہی ہوں ۔لیکن میں اس کی باتوں کا برا منائے بغیر بولا۔
”بس کل کا دن ،آنے والی رات کو ہم ان پر حملہ کریں گے ۔“
کافی دیر سے خاموش بیٹھے کمانڈر امید علی خان نے منھ بناتے ہوئے کہا ۔ ” پہلے جو مشورے آپ نے دیے ایسی صورت حال میں اس سے اچھا سوچا بھی نہیں جا سکتا ،مگر اب آخر میں آکر آپ نے جو پھلجڑی چھوڑی ہے اس سے پہلے والی باتوں کا مز ہ بھی کرکرا ہو گیا ہے ۔“
میں متبسم ہوا ۔”میری بات مکمل نہیں ہوئی ۔“
امید علی نے بیزاری سے کہا ۔”اگر حملے کی بات کرنا ہے تو نامکمل ہی رہنے دیں ۔“
”امید علی خان!....اگر خود کچھ نہیں سوچ سکتے تو دوسرے کی سن لو ،سلیم شاہ حکم نہیں دے رہا مشورہ دے رہا ہے ۔“یقیناسیلاب خان کو امید علی کی بات پسند نہیں آئی تھی ۔
امید علی سرعت سے بولا۔”معذرت خواہ ہوں سردار ،میرا مقصد سلیم شاہ کی دل آزاری کرنا نہیں تھا۔“
میں مخل ہوتے ہوئے بولا۔”نہیں اپنی سمجھ کے مطابق کمانڈر امید علی نے صحیح کہا ہے ۔البتہ میری بات مکمل ہونے کے بعد انھیں رائے دینا چاہیے تھی ۔“
”آپ جاری رکھیں ۔“سیلاب خان نے مجھے بات مکمل کرنے کو کہا۔
میں سرہلا کر مستفسر ہوا ۔”ہماری تعداد کتنی ہو گی ؟“
سیلاب نے جواب دیا ۔”قریباََ اڑھائی سو ۔“
”ٹھیک ہے ان اڑھائی سو میں سے ستر آدمی کل رات بارہ بجے جنوب مغرب کی جانب زور دار حملہ کریں گے اور............“میں اپنا منصوبہ ان کے سامنے دہرانے لگا ۔ابتداءمیں میری باتوں پر ان کے چہرے پر بیزاری کے آثار نمودار ہوئے لیکن جوں جوں میری بات مکمل ہوتی گئی ان کے چہروں پر دبا دبا جوش ابھر آیا تھا ۔میری بات کے اختتام پر تمام میرے ساتھ متفق ہو گئے تھے ۔
”ویسے مجھ لگ رہا ہے آپ مجاہدین کے کوئی بڑے کمانڈر ہو ۔“سیلاب خان تحسین آمیز لہجے میں بولا ۔”اتنا شاندار منصوبہ کوئی منجھا ہوا کمانڈر ہی بنا سکتا ہے ۔“
میں نے مسکراتے ہوئے اپنی چھوٹی چھوٹی داڑھی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ۔”میری داڑھی آپ کو مجاہدین جیسی لگ رہی ہے ۔“
”شاید حلیہ تبدیل کیا ہوا ہو ۔“وہ اپنا اندازہ منوانے پر مصر تھا ۔
”نہیں ،میں وہ نہیں ہوں جو آپ سمجھ رہے ہیں ۔“اس کے ساتھ ہی میں موضوع تبدیل کرتا ہوا بولا۔”آپ کسی نوشاد گل کے پاس دور مار رائفل کی موجودی کا ذکر کر رہے تھے ۔“
سیلاب نے حیرانی بھرے لہجے میں پوچھا ۔”ہاں ....لیکن آپ نے رائفل کا کیا کرنا ہے ۔“
میں مصر ہوا ۔”آپ نوشاد گل کو تو بلوائیں ۔“
سیلاب خان نے ریڈیو سیٹ پر نوشاد گل کومع ہتھیار وہاں آنے کا حکم دیا ۔اس کے آنے تک وہ میرے منصوبے پر بات کرتے رہے اور اس میں جو بہتری لائی جا سکتی تھی اس پر بھی گفتگو ہوتی رہی ۔ نوشاد پندرہ بیس منٹ بعد ہی وہاں پہنچ پایا تھا ۔اس کے ہاتھ میں کلاشن کوف دیکھ کر مجھے مایوسی ہوئی تھی ۔
”تمھاری اپنی رائفل کہاں ہے ۔“اس کے سلام کا جواب دیتے ہی سیلاب خان مستفسر ہوا ۔
”مورچے میں ہے ۔“وہ سیلاب خان کے سوال پر پریشان نظر آنے لگا تھا۔
سیلاب خان نے کہا ۔”جاﺅ لے آﺅ۔“
”جی سردار!“ کہہ کر وہ واپس مڑ گیا ۔باقی کمانڈر مشاورت میں مگن تھے ۔
اس کے مورچے سے نکلتے ہی سیلاب خان نے کہا ۔”ہمارے ایک آدمی گل ریز کے پاس جی تھری رائفل بھی موجود ہے ۔“
”جی تھری ....؟“اب حیران ہونے کی میری باری تھی ۔
”ہاں ۔“سیلاب خان نے اثبات میں سرہلایا۔”اصل میں نوشاد گل اور گل ریز اس سے پہلے انگور اڈے میں ایک بڑے اسمگلر کے ساتھ کام کرتے تھے ۔اسمگلنگ کے ساتھ وہ سردار دہشت گردانہ کارروائیوں میں بھی ملوث تھا ابھی تھوڑاہی عرصہ ہوا ہے کہ وہ سردار کسی دشمن کے ہاتھوں مارا گیا اور اس کا لشکر قریباََ بکھر گیا ہے۔میرے قبیلے کے بھی چار پانچ آدمی اس کے پاس کام کرتے تھے ۔تین آدمی تو کسی دوسرے سردار کے پاس چلے گئے یہ دونوں گھر واپس آگئے،شاید کچھ عرصہ آرام کرنا چاہتے تھے ۔“
”کس سردار کے پاس کام کرتے تھے ؟“میرا دل عجیب انداز میں دھڑکنے لگا تھا ۔
” صنوبر خان ۔“سیلاب خان سے پہلے مشر خان نے جواب دیا ۔وہ تمام اپنی گفتگو ختم کرکے ہماری طرف متوجہ ہو گئے تھے ۔
صنوبر خان کے نام نے مجھے چونکا دیا تھا ۔اس کا مطلب تھا کہ سیلاب خان کے دو آدمی مجھے پہچانتے تھے ۔لیکن اس کے ساتھ ہی مجھے خیا ل آیا کہ نوشاد گل نے ابھی مجھے دیکھ کربھی کسی قسم کی شناسائی کا اظہار نہیں کیا تھا ۔حالانکہ میں آلاﺅ کے بالکل قریب بیٹھا تھا اوربھڑکتی آگ کی وجہ سے وہاں اچھی خاصی روشنی پھیلی ہوئی تھی ۔
مجھے سوچوں میں گم دیکھ کر وہ آپس میں مصروفِ گفتگو ہو گئے تھے ۔
نوشاد کی واپسی تک میں خیالات میں کھویا رہا ۔اس بار اس نے ہاتھ میں سٹائر سنائپر رائفل پکڑی ہوئی تھی ۔سٹائر ایک عمدہ اور بہترین رائفل ہے ۔آسٹریا کی بنی ہوئی یہ رائفل پاک آرمی کے سنائپرز میں سب سے زیادہ استعمال ہوتی ہے۔میں نے اپنی ابتدائی تربیت اسی رائفل سے مکمل کی تھی ۔ اور اگر قارئین کو یاد ہو تو اپنے پہلے مشن کی تکمیل کے وقت بھی یہی رائفل میرے ہاتھ میں تھی ۔اور ناول کے ابتدائی صفحات میں میں نے اس رائفل کے متعلق ضروری معلومات لکھی تھیں ۔
میں نے نوشاد گل کے ہاتھ سے رائفل لینے کے لیے ہاتھ بڑھایا۔اس دوران میں اس کے چہرے کو غور سے دیکھ رہا تھا ،مگر اس کے چہرے پر چھائے اجنبیت کے گہرے تاثرات مجھے مطمئن کر گئے تھے ۔اس نے بغیر کچھ کہے میری جانب رائفل بڑھا دی
”اس کی کتنی گولیاں ہیں آپ کے پاس ؟“
”سو تھیں ،تقریباََ آدھی فائر کر بیٹھا ہوں ۔“بہ ظاہر اس نے عام سے لہجے میں جواب دیا تھا مگر کہیں گہرائی میں ناگواری کی بو مجھے محسوس ہو رہی تھی ۔شاید میرا استفسار کرنا اسے پسند نہیں آیا تھا ۔
اس کی کیفیات کو نظر انداز کیے میرے سوالا ت جاری رہے ۔”کمانڈر مشر خان بتا رہے تھے کہ اس کی مدد سے آپ نے دشمن کے چار آدمیوں کو بھی نشانہ بنایا ہے ۔“
”بے شک ۔“اس نے تحسین آمیز انداز میں سرہلایا۔
”پچاس گولیوں کے بدلے چار آدمی ....“میں نے پر خیال انداز میں سرہلایا۔
”برا سودا نہیں ہے ۔“کمانڈر رشید نے لقمہ دیا ۔میرا طنز تمام کے سر کے اوپر سے گزر گیا تھا ۔ اگر استاد ِمحترم راﺅ تصورصاحب کو معلوم ہوجاتا کہ ایک شخص سٹائر کی پچاس گولیاں چلا کرفقط چار آدمیوں کو نشانہ بنا پایا ہے تو انھیں اپنے ہوش و حواس کھو کر کومے میں چلے جانے سے کوئی نہیں بچا سکتا تھا اور اگر وہ کومے میں جانے سے بچ جاتے تو مذکورہ فائرر کا بچنا ناممکن تھا، یقینااسی سٹائررائفل سے مذکورہ شخص پر ایک گولی ضائع کر کے وہ اکیاون گولیوں پر مرنے والوں کی تعدادپانچ کر دیتے ۔
انھیں اپنے احساسات سے بے خبر رکھتے ہوئے میں نے اپنا ارادہ ان تک پہنچایا ۔”ایسا ہے کل میں اس رائفل سے فائر کروں گا ....لیکن ابھی سے بتادوں ،کسی آدمی کو ہلاک نہیں کروں گا ،بس زخمی کروں گا ۔“
نوشاد گل نے طنزیہ لہجے میں کہا ۔”ہاںآپ ایس ایس ہو نا کہ پچاس گولیوں پر پچاس آدمی مار گراﺅ گے ۔“
”نوشاد گل ....“سیلاب خان نے اسے تنبیہی نظروں سے گھورا ۔
وہ منھ بنا کر کہنے لگا ۔”سردار !....میں نے صرف مذاق کیا ہے ۔“
میں نے گہرا سانس لیتے ہوئے انجان بن کر پوچھا ۔”ویسے یہ ایس ایس کس بلا کا نام ہے ۔“
الفت بادشاہ نے قہقہہ لگاکر انکشاف کیا ۔”ایس ایس ،نوشاد گل کے سردار کو مارنے والی بلا کا نام ہے ....اسی کی وجہ سے نوشاد گل غریب کی نوکری چھوٹی ۔“
”ہونہہ!....“میں نے اثبات میں ہلاتے کہا ۔”بہ ہر حال اس کی ساری گولیاں مجھے دے دو امید ہے چار سے زیادہ آدمیوں کو نشانہ بنا لوں گا ۔“
اس نے بغل سے لٹکی گولیوں والی تھیلی میرے سامنے پھینکی ۔”اگر چار سے زیادہ آدمیوں کو نشانہ بنا لیا تو یہ رائفل واپس نہیں مانگوں گا ۔“
میں متبسم ہوا ۔”یہ نہ ہو بعد میں مکر جاﺅ ۔“
”اور نہ بنا پائے پھر ؟“یقینا یک طرفہ شرط میں سراسر اسی کا نقصان تھا ۔اور یہ بات اسے فوراََ یاد آگئی تھی ۔
”تو میرا خیال ہے اس سے بہتر کلاشن کوف ،غزنی خیل میں کسی کے پاس نہیں ہوگی ۔“میں نے گود میں رکھی کلاشن کوف کو تھپتھپایا۔
”نوشاد گل ،یہ شرطیں وغیرہ رہنے دو ،سلیم بھائی ہمارے مہمان ہیں ۔“
”نہیں سردار !....منھ سے نکلی بات اوربندوق سے نکلی گولی واپس نہیں آسکتی ۔جو طے ہو گیا سو ہو گیا ....بس اس میں اتنی ترمیم کر لیں کہ اگر ہر دوگولیوں پر میں نے ایک آدمی کو نشانہ نہ بنایاتب بھی نوشاد گل جیتا ہوا تصور کیا جائے گا ۔“گو میں ہرچلنے والی گولی پر بھی یہ دعوا کر سکتا تھا لیکن اس طرح انھیں مجھ پر شک بھی ہو سکتا تھا ۔
”یارسلیم !....کس بچپنے میں پڑ گئے ہو،چھوڑو ان شرطوں کو ۔“سیلاب خان میری بات پر خوش نہیں تھا ۔
”کبھی کبھی شغل میلہ بھی ہونا چاہیے سردار!۔“میں اس کی درخواست ہنسی میں اڑا گیا تھا ۔
نوشاد گل کی آنکھیں البتہ چمکنے لگی تھیں ۔اس بے وقوف کو اندازہ ہی نہیں تھا کہ سٹائر رائفل کیا چیز تھی ۔مجھے پورا یقین تھا کہ اس کے فرشتوں کو بھی معلوم نہیں تھا کہ سٹائر کی ٹیلی سکوپ سائیٹ کو کیسے صفر کیا جاتا ہے ۔ اور کسی سنائپر رائفل کو صفر کیے بغیر اس سے درست نشانہ لگالینا ،اندھے کے پاﺅں تلے بٹیراآنے کے مترادف ہے ۔
”اچھا اب تمام اپنی اپنی جگہ لوٹ جاﺅ اور احتیاط سے رات گزارنا ہے ۔ہر تین آدمیوں میں سے ایک آدمی آرام کرنے لیٹے، اس کے ساتھ اپنے سامنے کے علاقے میںہر کمانڈر درختوں پر ایسی جگہ بنوا لے جہاں سے کل صبح فائر کیا جائے گا ۔“سیلاب خان نے مزید تکرار سے گریز کرتے ہوئے تمام کمانڈروں کوحتمی احکام بتا کر جانے کی اجاز ت دے دی ۔اور نوشاد گل کی طرف متوجہ ہو کر بولا۔”نوشاد گل تم وقتی طورضامن خان کی کلاشن کوف استعمال کر لینا ۔“ضامن خان کل دوپہر ہی کو دشمن کی گولی کا نشانہ بنا تھا ۔ابھی تک اس جوان کی صورت میری نگاہوں میں پھر رہی تھی ۔اسے میرے سامنے ہی سیلاب خان نے اپنا پیغام پہنچانے کے لیے بھیجا تھا۔موت بھی عجیب بے حس اور بے نیازہوتی ہے کہ،نہ تو کسی کے بچپنے پر ترس کھاتی ہے اور نہ کسی کی جوانی پر رحم کرنے کو تیار ہوتی ہے ۔
”جی سردار ۔“کہہ کر نوشاد گل نے اثبات میں سرہلایا اور مورچے سے باہر نکل گیا ۔باقی لوگ اس سے پہلے روانہ ہو گئے تھے ۔
٭٭٭
وہ رات بھی میں نے آرام کرتے گزاری تھی ۔میرے اندازے کے مطابق دشمن نے حملہ کرنے کی حماقت نہیں کی تھی ۔جو فتح وہ بغیر کوئی نقصان اٹھا ئے حاصل کر سکتے تھے ،اس کے لیے جانوں کی قربانی دینا بے وقوفی ہی تو تھی ۔البتہ دو تین مرتبہ پرشور فائرنگ سے انھوں نے غزنی خیل قبیلے کے سونے والوں کی نیند کو ضرور حرام کیا تھا ۔اور ان سونے والوں میں بدقسمتی سے میں بھی شامل تھا ۔
صبح منھ اندھیرے اٹھتے ہی میں نے تھوڑے سے بھنے ہوئے چنے چبائے ۔اور دو تین گھونٹ پانی پی کر سارے دن کے لیے تیار ہو گیا ۔سردار سیلاب خان اونگھ رہا تھا ۔تیمم کر کے میں نے نماز ادا کی اور آگ کو تازہ کرنے لگا ۔اتنی دیر میں سردار سیلاب خان بھی اٹھا بیٹھا تھا ۔
روشنی ہوتے ہی اکادکا فائر کا سلسلہ شروع ہو گیا تھا ۔میں نے سٹائر کی میگزین میں گولیاں بھریں اور اندازے سے سو گز دور پڑے ہوئے چھوٹے سے پتھر پر نشانہ سادھنے لگا ۔وہ پتھر ایک چوڑے تنے کے درخت کی جڑ میں پڑا تھا ۔گولی پتھر تو کیا درخت کے تنے میں بھی نہیں لگی تھی ۔مجھے بس ذرا سا اندازہ ہوا تھا کہ گولی تنے کے دائیں جانب نکلی ہے ۔
کسی بھی ہتھیار یا ٹیلی سکوپ سائیٹ کو صفر کرنے کے لیے دو ہی غلطیاں دور کرنا پڑتی ہیں ۔ اوپر نیچے کی یا دائیں بائیں کی ۔اب پہلی گولی چلا کر ہی مجھے اندازہ ہو گیا تھا کہ رائفل کافی دائیں مار رہی تھی ۔ٹیلی سکوپ سائیٹ میں مناسب تبدیلی کر کے میں نے اگلی گولی چلائی ۔گولی پتھر کے بائیں کنارے کے ساتھ ہی لگی تھی ۔میں دوبارہ سائیٹ میں تبدیلی کرنے لگا ۔اور اسی طرح پانچ گولیاں چلا کر میں نے سائیٹ کو اپنی مرضی کے مطابق صفر کر لیا تھا ۔
میری ساری کارروائی سیلاب خان بھی دلچسپی سے دیکھتا رہا تھا ۔لیکن اس دوران اس نے مجھے مخاطب ہونے کی کوشش نہیں کی تھی ۔
رائفل کی صفرنگ سے مطمئن ہو کر میں نے کہا ۔”سردار !میں کسی دوسرے مورچے کا رخ کرتا ہوں آپ کا مورچہ فائر کرنے کے مناسب نہیں ہے ۔“
” میں بھی چلتا ہوں ۔“اپنی کلاشن کوف تھامتے ہوئے وہ بھی میرے ساتھ جانے کے لیے تیار ہو گیا تھا۔
”اس کی کیا ضرورت ہے ۔“میں نے اسے روکنے کی رسمی کوشش کی ۔
”یہاں بھی کیا کروں گا ....بس مخابرے پر بات چیت ہی کرنا ہے تو وہ وہاں سے بھی ہو جائے گی ۔“
”چلیں ۔“اپنا تھیلا اور کلاشن کوف میں نے وہیں چھوڑ دی تھی ۔
باقی اطراف کی نسبت دشمن کے شمالی مورچے ہم سے زیادہ قریب تھے اور اس جانب چنگیزی قبیلے کے افراد ڈیرا جمائے ہوئے تھے ۔
”اس طرف ۔“مورچے سے باہر نکل کر اسے اپنی جانب سوالیہ نظروں سے گھورتے دیکھ کر میں نے شمال کی جانب اشارہ کیا ۔وہ سر ہلاتے ہوئے میرے ساتھ چل پڑا ۔وہ پہاڑی شمالاََ جنوباََ لمبائی میں پھیلی ہوئی تھی ۔شرقاََ غرباََ اس کی چوڑئی تھی۔اس کے آدمیوں نے پتھر کی بڑی چٹانوں کے عقب میں مورچے بنائے ہوئے تھے کہیں پر گڑھا وغیرہ تھا تو اسے چھپنے کے لیے استعمال کیا تھااور اگر کچھ بھی نہیں تھا تو انھوں نے پتھر کی دیواریں کھڑی کر کے مورچے کی شکل دے تھی ۔رستے میں سیلاب خان نے جوش بھرے انداز میں مجھے یہ بتایا تھا کہ چاروں اطراف میں اس کا ایک ایک اچھا نشانے باز درختوں میں چھپا ہوا تیز فائرنگ کا منتظر تھا ۔چاروں آدمی انھوں نے رات ہی کو مطلوبہ جگہ پہنچا دیے تھے ۔
”ویسے لوگوں کو بھوک تو کافی لگی ہو گی ۔“
وہ پھیکی مسکراہٹ سے بولا۔”بھوک توواقعی میں لگی ہوئی ہے ،لیکن یہ بھی سنا ہے بھوکا بٹیرا زیادہ اچھا لڑتا ہے ۔“
میں فراخ دلی سے آفر کر تے ہوئے کہا ۔”ویسے میرے تھیلے میں کچھ چنے اور تھوڑے بہت بسکٹ موجود ہیں جو چند آدمیوں کی بھوک مٹا سکتے ہیں ۔“
”باقی کیا کریں گے ۔“اس نے ایک سردار کی طرح سوچا تھا ۔جس کے جواب میں میں کندھے اچکانے کے علاوہ کچھ نہیں کرسکتا تھا۔
پہاڑی کے انتہائی شمالی کونے میں جا کر میں نے اپنے لیے ایک مورچہ پسند کیا اور اس میں موجود افراد کو دوسرے مورچوں میں بھیج دیا ۔ابھی ہم پوری طرح مورچے میں بیٹھ نہیں پائے تھے کہ نوشاد گل وہاں پہنچ گیا ۔آتے ساتھ اس نے رات والی بات چیت پر معذرت چاہی ۔مجھے اس کے چہرے پر عجیب سے تاثرات پھیلے ہوئے نظر آرہے تھے ۔
”کوئی بات نہیں نوشاد گل ہو جاتا ہے ایسا ۔“مجھے لگ رہا تھا شاید کسی کمانڈر یا سیلاب خان نے اسے معذرت کرنے کا کہا ہے اسی لیے اس کا لہجہ کچھ عجیب سا ہو رہا تھا ۔
وہ ہچکچاتے ہوئے بولا۔”سلیم بھائی !....میں نے شرط وغیرہ کی بھی بکواس کی تھی ....“
میں نے مسکراتے ہوئے کہا ۔”چھوڑو شرط کو یار!....میں نے بھی یونھی شیخی بگھاری تھی ۔“
اطمینان بھرا سانس لیتے ہوئے اس نے سیلاب خان کو کہا ۔”سردار !.... یقینا آپ کو یہاں میری مدد کی ضرورت پڑے گی ۔“
”شاید سلیم بھائی کو پڑے ۔“سیلاب خان نے اس کے وہاں بیٹھنے پر اعتراض نہیں کیا تھا ۔
میں نے کہا ۔”خالی بیٹھنے کے بجائے ،دوربین لے لو اور دشمن کے وہ آدمی تلاش کرو جو مورچوں سے باہر ہوں ۔“
”ٹھیک ہے باس ۔“مزاحیہ انداز میں کہہ کر وہ سردار سیلاب خان کے ہاتھ سے دوربین لے کر جائزہ لینے لگا ۔یہی کام میں سٹائر کی ٹیلی سکوپ سے کر رہا تھا ۔اچانک مجھے چھے سو میٹر کے فاصلے پر دشمن کے ایک آدمی کی جھلک نظر آئی ۔موچرے کی دیوار سے اس کا بالائی دھڑ جھلک رہا تھا ۔اس کے فاصلے کے بارے میں نے اندازہ لگایا تھا اور یہ ایک سنائپر کااندازہ تھا ۔
ایلی ویشن ناب پر چھے سو میٹر رینج لگا کر میں نے مذکورہ شخص کے دائیں کندھے کا نشانہ لیا ، کیونکہ میں اسے جان سے نہیں مارنا چاہتا تھا ۔گو کسی کو زخمی کرنا بھی اسے نقصان پہنچانے کے زمرے میں آتاہے مگر یہ جان کے ضیاع سے بہت کم تھا ۔اور پھر مجھے اپنی جان بچانے کے لیے کوئی نہ کوئی حرکت تو کرنا تھی یونھی ۔پادری بنے بیٹھے رہنے سے تو کام نہیں چلنے والا تھا ۔
جاری ہے
قسط نمبر 55
ریاض عاقب کوہلر
لبلبی دباتے ہی وہ اچھل کر نیچے گرا تھا ۔
”وہ مارا ....“نوشاد گل کے منھ سے نعرہ بلند ہوا ۔
میں رائفل کو دوبارہ کاک کر کے اسی طرف متوجہ رہا تھا۔میری گولی کا نشانہ بننے والا نیچے گر کر تڑپنے لگا تھا ۔اسے سنبھالنے کے لیے ساتھ والے مورچے سے دو جوان بھاگتے ہوئے نکلے اور جونھی اگلے والا اپنے ساتھی پاس رکتے ہوئے نیچے جھکااور میں نے دوبارہ لبلبی دبا دی ۔زخمی کوسنبھالنے والا خود تڑپنا شروع ہو گیا تھا ۔جبکہ تیسرا ہکا بکا کھڑا تھااور اس کے کچھ سمجھنے سے پہلے میں رائفل کو تیسری مرتبہ کاک کر کے اس کی ٹانگ کو نشانہ بنا چکا تھا ۔
”دوسرا بھی گیا ۔“یہ نعرہ نوشاد کے ہونٹوں پر تھا کہ تیسرا گر گیا تھا ۔اس کے ساتھ ہی اس کے آس پاس موجود مورچوں سے تیز فائرنگ شروع ہو گئی ۔
ان کی دیکھا دیکھی چاروں طرف سے بارش کی طرف گولیاں برسنا شروع ہو گئی تھیں ۔اور وہی موقع تھا جب غزنی خیل قبیلے کے چارچھپے ہوئے نشانہ بازوں نے درختوں کے اوپر سے دشمن کو تاک تاک کر نشانہ بنانا شروع کردیا ۔گو وہ تربیت یافتہ سنائپر تو نہیں تھے اور نہ ان کے پاس سنائپر رائفل ہی موجود تھی کہ دشمن کا زیادہ نقصان کر پاتے ۔لیکن اس کے باوجود ہر نشانہ باز نے دشمن کے ایک ادھ آدمی کو نشانہ بنا ہی لیا تھا ۔یوں زخمی ہونے والے آدمیوں نے انھیں مورچوں میں دبکنے پر مجبور کر دیا تھا ۔اس دوران دشمن کے دو مزید آدمی میرا نشانہ بن کر زخمی ہوچکے تھے ۔
کہتے ہیں جنگ کے دوران مرنے والوں سے زیادہ زخمی ہونے والے نقصان کا باعث ہوتے ہیں ۔اور اس کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ زخمیوںکو سنبھالنا پڑتاہے ۔اس طرح اپنے ساتھ وہ صحت مند آدمیوں کوبھی پابند کر دیتے ہیں ،دوسرا زخم میں ہونے والی تکلیف کی وجہ سے زخمی افراد جو آہ و بکا کرتے ہیں وہ بھی اپنے آدمیوں کا مورال کم کرتی ہے ۔
” سلیم بھائی!.... شکر ہے میں نے اپنی شرط واپس لے لی تھی ۔“پانچویں آدمی کو شکار بنتے دیکھ کر نوشادگل نے مجھے یہ یاد دلانے میں دیر نہیں کی تھی کہ ہمارے درمیان اب کوئی شرط وغیرہ باقی نہیں رہی ہے ۔
سردار سیلاب خان نے طنزیہ لہجے میں کہا ۔”شرط کس وقت ختم ہوئی تھی جناب ،ہمیں تو پتاہی نہیں چلا ۔“
نوشاد نے رونی صورت بنا کر کہا ۔”سردار یہ ظلم نہ کریں ۔“اس کی رونی صورت دیکھ کر سیلاب خان اور میں ہنس پڑے تھے ۔
شمالی جانب سے تو دشمن بالکل ہی مورچوں میں دبک گئے تھے ۔سردارسیلاب خان دشمن کی باتیں سننے کی کوشش کر رہا تھا ۔وہ پہلے جس چینل پر بات چیت کر رہے تھے وہ تبدیل کر دیا تھا ۔جلد ہی اس نے نیا چینل ڈھونڈ لیا تھا ۔دشمن کی باتوں سے یہی پتا چلا کہ زخمی ہونے والوں کے علاوہ ان کے سات آدمی ہلاک ہو چکے تھے ۔اس کے ساتھ ہی تمام کو آڑ میں رہنے کا حکم دیا جا رہا تھا ۔
”کیا خیال ہے ،کسی دوسری جانب کا رخ کریں ۔“ان کی نقل و حرکت کا خاتمہ ہوتے دیکھ کر میں نے مشورہ چاہا ۔
سیلاب خان نے کہا ۔”جو مناسب سمجھو ۔“
وہاں سے ہم جنوب کی طرف آگئے تھے ۔دشمن کے اس نقصان پر غزنی خیل والوں میں خوشی کی ہلکی سی لہر دوڑ گئی تھی ۔
جنوب کی جانب دشمن شمال سے زیادہ فاصلے پر تھا ،لیکن ان کے کچھ مورچے ایسے تھے جو سٹائر کی مار میں آرہے تھے ۔گھنٹے ڈیڑھ کی نگرانی کے بعد مجھے دوبارہ موقع مل گیا تھا ۔دو آدمی کافی محتاط انداز میں اپنے مورچے سے نکلے تھے ۔لیکن ان کی احتیاط کسی کام نہیں آ سکی تھی ۔پہلے کو ٹانگ میں گولی لگنے کے بعد دوسرے نے بھاگنے کی کوشش کی تھی لیکن اس دوران میں دوبارہ رائفل کو کاک کر چکا تھا اور اس کے مورچے میں گھسنے سے پہلے میں اپنے مقصد میں کامیاب ہو گیا تھا ۔
”کیا آپ کی کوئی گولی ضائع نہیں جائے گی ؟“نوشاد گل نے بہ ظاہر مزاحیہ انداز میں کہاتھا مگر اس کے لہجے میں تحسین بھری تھی ۔
”دورانِ جنگ گولیاں ضائع کرنے والوں کوہارنا پڑتا ہے دوست ۔“
”ویسے یہ گولیاں تو آپ ان کے سر میں بھی اتار سکتے ہیں نا ۔“دلشاد گل نے معنی خیز لہجے میں پوچھا تھا ۔
”پتا نہیں یار !....لیکن اس وقت میں کسی کے سر میں گولی اتارنا جائز نہیں سمجھتا ۔“
سیلاب خان جلدی سے بولا ۔”آپ جتنا کر رہے ہیں ،اتنا ہی بہت ہے جناب ۔“
ٓسہ پہر ڈھلنے تک میں اطراف میں جا کر مختلف جگہوں سے غزنی خیل کے دشمنوں کو زخمی کرتا رہا۔چونکہ میری اپنی زندگی کاانحصا ربھی اسی منصوبے کے کامیاب ہونے میں تھا اس لیے میں نے فائر کرتے وقت کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کیا تھا۔
دشمنوں کا کافی نقصان ہو چکا تھا ۔اس دوران جب بھی تیز فائرنگ شروع ہوتی دشمن کے قریب مورچہ سنبھالے غزنی خیل کے چھپے ہوئے نشانہ باز اپنا کام کر جاتے۔ یہ بات دشمن کی سمجھ سے بالاتر تھی کہ آخر تیز فائرنگ کے بعد ان کے تین چار آدمی کیسے ہلاک ہو جاتے ہیں ۔چونکہ ان کے مرنے والے آدمی مسلسل مخصوص مورچوں ہی میں جان سے جا رہے تھے اس لیے انھوں نے وہ مخصوص مورچے خالی کرا لیے تھے ۔میں چونکہ مسلسل گھوم کر مختلف اطراف سے اپنا کام جاری رکھے ہوئے تھا اس لیے میرے خلاف ان کی یہی حکمت عملی کام آئی تھی کہ وہ کم سے کم آڑ سے باہر نکلتے یا ان کے جسم کا کوئی حصہ آڑ سے باہر جھلکتا ۔بہ ہر حال کچھ بھی تھا مجموعی طور پر انھیں معلوم ہو گیا تھا کہ غزنی خیل والے اتنی جلدی ان کے قابو میں آنے والے نہیں ہیں ۔
شام کا اندھیراچھاتے ہی تمام کمانڈروں اور خاص خاص افراد کو سردار سیلاب خان کے مورچے میں بلا کر رات کے لیے حکمت عملی کا جائزہ لیا جانے لگا ۔وہاں قریباََ پندرہ بیس افراد اکٹھے ہو گئے تھے ۔اپنے سفری تھیلے کوہلکا کرنے کے لیے میں نے کھانے پینے کی تمام اشیاءان کے سامنے رکھ دیں تھیں ۔چند لمحوں میں وہ بسکٹ اورخشک چنے وغیرہ ہڑپ کر گئے تھے ۔سیلاب خان نے رسمی سا انکار کیا، لیکن باقیوں نے ذراسا بھی تکلف نہیں کیا تھا ۔
منصوبے کو آخری شکل دے کر تمام اپنے مورچوں میں لوٹ گئے تھے ۔سیلاب خان اور اس کے کمانڈ مجھ سے خاصا مرعوب نظر آرہے تھے ۔سیلاب خان تو دو تین دفعہ بر ملا کہہ چکا تھا کہ میں ان کے لیے غیبی مددگار بن کر آیا ہوں ۔روشن خان غریب جو زخموں کی تاب نہ لا کر جان سے ہاتھ دھو بیٹھا تھا ،اس کے ختم ہو جانے کے بعد سیلاب خان اس کے ،مجھے وہاں لانے کے فیصلے کو سراہ رہا تھا ۔
دس بجتے ہی کمانڈر الفت بادشاہ اورکمانڈر امید علی ستر کے قریب افراد کو ساتھ لے کر جنوب مغرب کی جانب بڑھ گئے تھے ۔باقی تمام افراد کے ساتھ سیلاب خان شمالی نالے کے کنارے پہنچ گیا تھا۔
گیارہ بجتے ہی پرشور فائرنگ کے ساتھ الفت بادشاہ اور امید علی کے آدمیوں نے جنوب مغربی جانب ہلہ بول دیا ۔دشمن اس اچانک اور پر شور حملے سے پہلے تو گبھرا گئے تھے اس کے بعد انھوں نے بھی جوابی فائرنگ شروع کر دی ۔منصوبے کے مطابق الفت بادشاہ اور امید علی نے ریڈیو سیٹ پر ایسی گفتگو کی جس سے ظاہر ہو رہا تھا کہ وہ دشمن کے اگلے مورچوں تک پہنچ گئے ہیں اور چند گھنٹوں میں شلوبر گاﺅں تک پہنچ جائیں گے ۔
اس حملے کو روکنے کے لیے دشمن نے دائیں بائیں کے مورچوں سے مزید نفری اس جانب منگوا لی تھی ۔تمام کی توجہ کا مرکز جنوب مغرب کی طرف ہی تھی۔اگلا گھنٹا سخت فائرنگ کا تبادلہ ہوا ۔الفت جان اور امید علی نے اپنے آدمیوں کو اچھی طرح سمجھا دیا تھا کہ انھوں نے ایک مخصوص حد سے آگے نہیں بڑھنا ہے ۔حملے میں حقیقت کا رنگ بھرنے کے لیے انھوں نے اپنے پاس موجود چند راکٹ بھی فائر کر دیے تھے ۔اسی اثناءمیں دشمن نے نزدیک کے مورچوں سے کافی نفری وہاں طلب کر لی تھی۔توقع کے مطابق کے انھوں نے شمال مغربی اور جنوبی مورچوں سے اپنے آدمیوں کو اکٹھا کیا تھا کہ یہی مورچے زیادہ قریب تھے ۔
ڈیڑھ گھنٹے بعد الفت بادشاہ اور امید علی نے دس پندرہ تیز رفتار جوانوں کو چھوڑ کر باقی نفری شمال کی جانب بھیج دی۔ان آدمیوں کے پہنچتے ہی ہم تمام شمال مغربی جانب کی طرف بڑھنے لگے ۔اس جانب دشمن کی برائے نام نفری ہی موجود تھی ۔تمام کو یہی ہدایت کی گئی تھی کہ جب تک دشمن کی طرف سے فائر نہیں کیا جاتا کوئی فائر نہیں کرے گا ۔دشمن کی ساری توجہ جنوبی محاذ کی طرف تھی ۔ان کے خیال کے مطابق غزنی خیل والے شلوبر گاﺅں تک پہنچنا چاہتے تھے ،کہ ریڈیو سیٹ پر بات چیت کے ساتھ ساتھ غزنی خیل والوں نے اس جانب بھرپور حملہ بھی کر دیا تھا ۔ اوردونوں پارٹیاں ایک دوسرے کی ریڈیو سیٹ پر ہونے والی بات چیت سنتی رہتی تھیں ۔
پیچھے رہنے والے پندرہ جوانوں نے بیس منٹ بعد اپنی جگہ سے پیچھے ہٹ کر اپنے آدمیوں سے آ ملنا تھا ۔شمالی جانب سے غزنی خیل کا پہلا آدمی دشمنوں کو اس وقت نظر آیا جب وہ ان سے سو ڈیڑھ سو میٹر قریب پہنچ گیا تھا ۔نالے میں دشمن کے دو مورچے موجود تھے ۔اپنے تمام آدمیوں کے سامنے سیلاب خان نے دس چاق و چوبند آدمیوں کی ٹولی رکھی ہوئی تھی ۔دشمن کی طرف سے فائر آتے ہی وہ تما م لیٹ گئے تھے پیچھے آنے والے اس ٹولی سے پچاس ساٹھ قدم دور تھے ۔اس ٹولی کے پاس راکٹ لانچر موجود تھا۔ دشمن کا فائر سنتے ہی انھوں نے دو راکٹ مورچے پر فائر کر دیے ۔یوں بھی وہ مستقل مورچے نہیں تھے، بس عارضی طور پر پتھروں کی آڑ بنائی گئی تھی ۔ایسے مورچے رائفل ،کلاشن کوف وغیرہ کی گولیوں کے لیے تو اچھی آڑ ثابت ہو سکتے تھے راکٹ لانچر اور 12.7mmوغیرہ کے لیے کوئی خاص رکاوٹ نہیں تھے۔
راکٹ نے مورچے کی دیوار گرا کر وہاں موجود بندوں کو زخمی کر دیا تھا ۔سیلاب خان کے دو آدمی جھکے جھکے تباہ شدہ مورچے کے قریب پہنچے اور زخموں سے کراہنے والوں کو ہر تکلیف سے نجات دلا دی ۔نالے میں دو مورچے اور بھی موجود تھے وہاں سے تیز فائرنگ کی آواز آنے لگی ۔اس کے ساتھ ہی کوئی اپنے آدمی کو ریڈیو سیٹ پر بلانے لگا ۔”سردار!.... غزنی خیلوں نے شمال کی جانب حملہ کر دیا ہے اور ہمارے پاس نفری کم ہے ۔مزید آدمی بھیجو ۔“
اسی وقت دوسرے کی چیختی ہوئی آواز ابھری ....”یہاں پر کوئی بھی موجود نہیں ہے اور نہ فائر کا جواب آرہا ہے ۔“غالباََ وہ جنوب کی طرف اس جگہ پہنچ گیا تھا جہاں الفت بادشاہ اور امید علی نے اپنے پندرہ آدمی بٹھائے تھے ۔اس وقت تک وہ پندرہ اپنے باقی لشکر کے ساتھ آن ملے تھے ۔
”تمام لوگ شمال کی جانب پہنچو ،دشمن وہاں سے بھاگنے کی کوشش کر رہا ہے ۔“وہ بھاری سی آواز شلوبر کے سردار کی تھی ۔چونکہ میں سعدار سیلاب خان کے ساتھ کافی دیر سے ان کی ٹرانسمشن سن رہا تھا اس لیے مجھے اندازہ لگانے میں کوئی دقت پیش نہیں آئی تھی ۔
دشمن کو غزنی خیل کی چال سمجھ میں آگئی تھی ،لیکن وہ دیر کر بیٹھے تھے ۔ان کے وہاں تک پہنچنے سے پہلے غزنی خیلوں کی راہ میں رکاوٹ ڈالنے والے دونوں مورچوں کو وہ راکٹ لانچر سے تباہ کر کے آگے بڑھ گئے تھے ۔میں سردار سیلاب خان کے ساتھ موجود تھا ۔وہ لڑائی میں وطن کی خاطر نہیں لڑ رہا تھا کہ اپنی جان خطرے میں ڈالتا ۔وہ دو قبیلوں کی لڑائی تھی جس میں میں خواہ مخواہ پھنس گیا تھا ۔میری تھوڑی بہت ہمدردی غزنی خیل کے ساتھ اس لیے تھی کہ میں خود ان کے ساتھ موجود تھا ۔ان سے علاحدہ ہونے کے بعد وہ لڑائی کس انجا کو پہنچتی اس سے مجھے کوئی غرض نہیں تھی ۔
اسی وقت مغرب اور شمال کی جانب سے فائر آنے لگا تھا۔یقینا انھوں نے دور ہی سے فائر کرنا شروع کر دیا تھا ۔
”یہاں سے جلدی نکلو ....“سیلاب خان نے چیخ کر اپنے آدمیوں کو آگے بڑھنے کا کہا ۔
وہ نالہ کافی چوڑا تھا ،تمام تیزی سے آگے بڑھنے لگے ۔
شمال کی جانب دشمن کی کافی نفری موجود تھی ۔اور اپنے عقب کو محفوظ رکھنے کے لیے سیلاب خان نے دوپارٹیاں مقرر کر دی تھیں، جنھوں نے وہیں رک کر دشمن کے تعاقب کو روکنا تھا ۔یہ سارا منصوبہ ہم نے گزشتا رات بیٹھ کر ترتیب دیا تھا ۔
دشمن نے تعاقب کرنے میں دیر نہیں لگائی تھی مگر غزنی خیل والے اس جانب گھیرے سے نکل گئے تھے ۔رات کے وقت تعاقب کرنے میں خطرہ زیادہ تھا لیکن اس کے باوجود وہ تعاقب سے باز نہیں آئے تھے ۔
”مشر خان اور رشید جان کو کہو اپنے آدمی نالہ موڑ کے ساتھ روک دیں ۔“سیلاب خان کے ساتھ آگے بڑھتے ہوئے میں نے اسے یاد دلایا ۔
سیلاب خان نے کہا ۔”انھیں معلوم ہے ۔“
میں نے تیز لہجے میں کہا ۔”معلوم ہے مگر یاد دہانی ضروری ہے ۔ایسے حالات میں سارے منصوبے ذہن سے محو ہو جایا کرتے ہیں ۔“
سیلاب خان بغیر کسی حجت کے رک کر رشید جان اور مشر خان کو آواز دینے لگا ۔وہ سردار تھا لیکن میرے مشوروں پر یوں عمل کررہا تھا جیسے اصل سردار میں ہوں ۔
”مشر خانا ،رشید جانا........“
”جی سردار!“تھوڑے فاصلے پر رشید جان کی آواز ابھری ۔
”مشر خان کے ساتھ اپنی ذمہ داری سنبھالو۔“
”ٹھیک ہے سردار !....ہم تیار ہیں ۔“یہ کہتے ہی وہ اپنے آدمیوں کو آواز دے کر روکنے لگا ۔ نالہ موڑ تک رشید جان نے اپنی پارٹی کے افراد کو روک لیا تھا ۔مشر جان نے اپنے آدمی شمالی جانب اور رشید جان نے غربی جانب ڈھلان پر چڑھا دیے تھے ۔
اپنے تمام آدمیوں کے آگے بڑھتے ہی انھوں نے بے تحاشا فائر کھول کر تعاقب کرنے والوں کی پیش قدمی میں رکاوٹ ڈال دی تھی ۔
دشمن بھرپور انداز میں جوابی فائرنگ کرنے لگا ۔رات کے اندھیرے میں نالے کے اندر تو تیز حرکت کی جا سکتی تھی ڈھلان پر چڑھ کر بغیر روشنی کے تیز حرکت ممکن نہیں تھی ۔سیلاب خان کے آدمی نالے میں حرکت کرتے ہوئے آگے بڑھ رہے تھے ۔جبکہ دشمن کے لیے سامنے کی جانب سے کلاشن کوفوں کی برستی ہوئی گولیاں ایک ایسی رکاوٹ تھیں جس کی وجہ سے وہ قدم آگے نہیں بڑھا پا رہے تھے ۔منصوبے کے مطابق فرلانگ بھر آگے جا کر سیلاب خان نے دوپارٹیاں نالے میں اوپر ڈھلان تک ترتیب سے بٹھائیں اور ریڈیو سیٹ پر مشر خان اور رشید جان کی پارٹیوں کو پس قدمی کا حکم دے دیا ۔دونوں کمانڈر سب سے پیچھے تھے ۔ الفت بادشاہ اور امید علی کی پارٹیوں کی لگی ہوئی جگہ سے گزرتے ہی انھوں نے اپنے بہ حفاظت گزرنے کی اطلاع دے دی تھی ۔
شلوبر اور میام خیل کے آدمیوں کو جب فائرنگ کا جواب نہ ملا تو وہ ایک مرتبہ پھر احتیاط سے آگے بڑھنے لگے ۔وہ سیلاب خان کے آدمیوں کی طرح بے فکری سے آگے نہیں بڑھ سکتے تھے ۔تھوڑا سا آگے بڑھتے ہی انھیں یقین ہو گیا کہ سیلاب خان کے آدمی وہاں موجود نہیں ہیں ۔انھوں نے اپنی رفتار بڑھا دی ۔لیکن جونھی وہ اس جگہ پر پہنچے جہاں الفت بادشاہ اور امید علی کی پارٹیاں تعینات تھیں ،ایک دم ہی ان پر قیامت ٹوٹ پڑی تھی ۔سب سے آگے موجود دس بارہ آدمی پہلے ہی ہلے میں نیچے گر گئے تھے ۔ باقی جوابی فائر کرتے ہوئے وہ رک گئے اور آڑ کی تلاش میں پیچھے ہٹنے لگے ۔
دس پندرہ منٹ مسلسل اور تیز رفتا ر فائر نگ کے بعدالفت بادشاہ اور امید علی خان اپنے آدمیوں کے ساتھ آگے بڑھ گئے ،پہلے والی دو پارٹیوں نے اسی رستے پر اپنی جگہیں سنبھال لی تھی ۔پسپائی کا یہ طریقہ کار انھیں میں نے گزشتا رات بڑی تفصیل اور وضاحت سے سمجھایا تھا ۔
اس مرتبہ شلوبر اور میام خیل والے پھونک پھونک قدم رکھتے ہوئے آگے بڑھے ،لیکن انھیں گزرنا تو اسی رستے سے تھا جہاں غزنی خیل والے گھات لگائے موجود تھے ۔ان کے نزدیک پہنچتے ہی انھیں دوبارہ فائرنگ کا سامنا کرنا پڑ گیا اور پہلے کی طرح دس پندرہ منٹ کی تیز فائرنگ کے بعد وہ پارٹیاں اپنے رستے پر آگے بڑھ گئی تھیں ۔دشمن کو کافی نقصان پہنچ گیا تھا ۔مزید تعاقب کی ہمت ان میں باقی نہیں رہی تھی ۔
ڈیڑھ دو کلومیٹر دور آکر سیلا ب خان نے اپنے تمام آدمیوں کو روک کر اکٹھا کیا اور چالیس چاق و چوبند آدمی عقب میں رکھ کر باقیوں کے ساتھ آگے بڑھ گیا ۔ان چالیس آدمیوں نے پچاس ساٹھ گز کا فاصلہ رکھ کر ان کے عقب میں رہتے ہوئے حرکت کرنا تھی ۔یقینا دشمن بھی کوئی حکمت عملی تیار کر رہا تھا مگر اب وہ پہلے کی طرح بے احتیاطی سے ان کا تعاقب نہیں کر سکتا تھا ۔
مجھے سیلاب خان نے پکا اپنے ساتھ ہی رکھا ہوا تھا ۔گو تمام منصوبہ ہم نے پہلے ہی سے طے شدہ تھا ،اس کے باوجود وہ تازہ حکمت علمی کے لیے مجھ سے مشورے کرتا رہا ۔جلد ہی ہمیں سفر کرنے کے لیے متبادل نالے بھی مل گئے تھے ۔وہ اس علاقے کو پہچانتے تھے اور انھیں اچھی طرح معلوم تھا کہ کن رستوں پر چل کر وہ جلد از جلد غزنی خیل پہنچ سکتے تھے ۔
ہمیں ساری رات چلتے ہوئے گزر گئی تھی ۔ پانی وغیرہ تولوگوں نے رستے میں آنے والے چشموں اور نالوں سے پی لیا تھا مگر بھوک کی وجہ سے قریباََ تمام نڈھال سے تھے ۔جان بچانے کی جبلت ہی تھی جو وہ اتنا سخت مقابلہ کر کے دشمن کے گھیرے سے باہر نکل پائے تھے ۔ جب ہم غزنی خیل کے قریب پہنچے توصبح کا ملگجا اجالا ہر طرف پھیل گیا تھا۔
”دشمن کی تعداد زیادہ ہے وہ غزنی خیل کو گھیرنے کے لیے نہ پہنچ جائیں ۔“ڈھلان سے اترتے ہوئے میں نے اندیشہ ظاہر کیا ۔
سیلاب خان نے چہکتے ہوئے کہا ۔”اب ہمیں ذرا بھی پروا نہیں ہے ۔کھانے پینے کا سامان اور ایمونیشن وافر مقدار میں موجود ہے ۔باقی ہمارے بھی حلیف قبیلے موجود ہیں بس ان کے پاس پیغام بر بھیجنے کی ضرورت ہے ۔“
”مطلب وہ اس طرف کا رخ نہیں کریں گے ؟“میں نے خیال ظاہر کیا ۔
”شاید ،لیکن ہم نے تواعلان جنگ کر دیا ہے اور جب تک شلوبر والے ہمارے مطالبات پورے نہیں کرتے ہم بیٹھنے والے نہیں ہیں ۔اس مرتبہ ہم بہت زیادہ تیاری کے ساتھ حملہ کریں گے ۔“
گاﺅں میں داخل ہوتے ہی سردار نے تمام کو جلد از جلد کھانا کھا کر تیار ہونے کا حکم دیا ۔اس کا ارادہ جنوبی اور مغربی جانب کی پہاڑی پر اپنے آدمی تعینات کرنے کا تھا ۔یہ دونوں پہاڑیاں گاﺅں کے قریب قریب واقع تھیں اور وہاں انھوں نے پہلے سے مورچے وغیرہ بھی بنا رکھے تھے ۔
مجھے سردار سیلاب خان اپنی بیٹھک میں چھوڑ کر گھر میںگھس گیا ۔تھوڑی دیر بعد ایک بوڑھا آدمی چائے اور پراٹھے لے آیا ۔یقینا اس وقت گھر میں جو کچھ تیار تھا سیلاب خان نے میری طرف بھجوا دیا تھا ۔
گندم کی روٹی ایسی چیز ہے جس کا نعم البدل دنیا کی کوئی خوراک بھی نہیں ہوسکتی ۔اور میں دو تین دن سے کھانا نہیں کھا سکا تھا ۔دو تین پراٹھے کھا کر میں سونے کے لیے لیٹ گیا کہ رات بھر کی بھاگ دوڑ کے بعد میں تھکن محسوس کر رہا تھا ۔یوں بھی غزنی خیل والے اب خطرے کی حدود سے نکل آئے تھے اوراپنی لڑائی وہ خود لڑ سکتے تھے ۔نہ تو مجھے ان سے کوئی ہمدردی تھی اور نہ واسطہ کہ میں مزید چچا خواہ مخواہ بننے کی کوشش کرتا ۔
٭٭٭
میری آنکھ کہیں ظہر کی آذان سن کر کھلی تھی ۔وہی بوڑھا شخص جس نے ناشتا لایا تھا بیٹھک کے صحن میں بیٹھا نظر آیا ۔مجھے جاگتے دیکھ کر وہ کھانے کا پوچھنے لگا ۔
”شکریہ چاچا بھوک نہیں ہے ،بس چاے پلوا دیں ۔“کہہ کر میں غسل خانے کی طرف بڑھ گیا۔
میرے نماز پڑھنے تک سیلاب خان وہاں پہنچ گیا تھا ۔
”کیا حال جناب !“خوش دلی سے کہتے ہوئے اس نے چارپائی پر نشست سنبھال لی ۔
میں نے کہا ۔”بالکل ٹھیک آپ سنائیں ۔“اس دوران بوڑھا چا چاے کے برتنوں کے ساتھ نمودار ہوا ۔
سیلاب خان کہنے لگا ۔”فی الحال تو امن ہے ،آدھے آدمی مورچوں پر پہنچ چکے ہیں اور باقی آرام کرر ہے ہیں ۔“
میں نے بوڑھے ملازم کے ہاتھ سے چاے کی پیالی لیتے ہوئے پوچھا ۔”آگے کا کیا ارادہ ہے ؟“
وہ پر عزم لہجے میں بولا ۔”جب تک لڑکی اور اسے لے جانا والا جوان نہیں مل جاتا یہ جنگ جاری رہے گی ۔دو تین دن تک جرگہ بلانے کا ارادہ ہے ،اس کے بعد اگلی حکمت عملی طے کریں گے ۔“
”اگر خفا نہ ہوں تو ایک بات پوچھوں ۔“تازہ دودھ سے بنی چاے سے لطف اندوز ہوتے ہوئے میں مستفسر ہوا ۔
سوالیہ نظروں سے مجھے گھورتے ہوئے اس نے اثبات میں سرہلادیا ۔
”میری سمجھ میں یہ بات نہیں آرہی کہ ایک لڑکی کے لیے آپ نے پہلے بھی اتنے آدمیوں کی قربانی دے دی ،مخالفین کے بھی کافی آدمی قتل ہوگئے ۔حالانکہ وہ لڑکی بالغ ہے اسے اپنی زندگی جینے کا حق ہے ....گو اس کا طریقہ کار غلط ہے مگر اس وجہ سے وہ موت کی سزا وار تو نہیں ٹھہرتی نا ۔“
”ہونہہ!....“گہرا سانس لیتے ہوئے وہ طنزیہ لہجے میں بولا ۔”آپ کے خیال میں ہمارے قبیلے کی ایک لڑکی دشمن قبیلے کے لڑکے کے ساتھ بھاگ گئی ہے اور ہمیں اس بات پر شکر ادا کرتے ہوئے کہ اس لڑکی نے اپنا شوہرخود ڈھونڈ لیاہے خوشی کے شادیانے بجانے چاہیں ۔“
اس کے طنز کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے میں مستفسر ہوا ۔”تو اس لڑکی کے حصول کے لیے اتنے گھرانوں کے چراغ بجھا دیے ہیں مزید کتنی جانیں ضائع کراﺅ گے ؟“
وہ اطمینان سے بولا ۔”اگر آپ کا تعلق قبائلی علاقے سے ہوتا تو یقینا یہ سوال آپ کے ذہن میں نہ اٹھتا ۔“
”تو کیا قبائلیوں کے لیے جان کی کوئی اہمیت نہیں ہے ۔“
”ضرور ہے ،مگر ہماری خودداری اور انا پہلے ہے ،جان کا نمبر بعد میں آتا ہے ۔باقی دشمن قبیلے کے افراد بھی تو مر رہے ہیں ،وہ اپنی غلطی کیوں نہیں تسلیم کرتے ۔“
”وہ رقم ادا کرنے پر تو تیار ہیں اور کیا کریں ۔“میں نے دلیل پیش کی ۔
وہ زہر خند لہجے میں بولا ۔”ہمیں رقم کی نہیں، اس لڑکی کی ضرورت ہے جس کی وجہ سے ہماری بے عزتی ہوئی ہے اور اس لڑکے کی ضرورت ہے جس نے ہماری عزت پر ہاتھ ڈالنے کی کوشش کی ہے ۔“
”تو انھیں مار کر آپ کو کیا ملے گا ؟“
وہ اطمینان بھرے لہجے میں بولا ۔”ہمارے سینوں میں ٹھنڈ پڑ جائے گی اور علاقے بھر میں کوئی غزنی خیل کے پیچھے بات نہیں کر سکے گا ۔“
میں جان چھڑاتے ہوئے بولا۔”معذرت خواہ ہوں ،مجھے ایسا کچھ کہنا ہی نہیں چاہیے تھا۔“
”جلد ہی سمجھ گئے ہو ۔“سیلاب نے بے ساختہ قہقہہ لگایا ۔
میرے ہونٹوں پر پھیکی مسکراہٹ نمودار ہوئی ۔”بہ ہرحال آپ جانیں اور آپ کا کام ،میں نے صبح آگے بڑھ جانا ہے ۔“
”کیا پوچھ سکتا ہوں کہ آپ نے جانا کہاں ہے ۔“
میں صاف گوئی سے بولا ۔”منزل کا تعین تو مجھے خود بھی نہیں ہے ۔“
”اگر میرے لائق کوئی کام ہو تو آپ کے کام آکر مجھے خوشی ہو گی ۔“
”شکریہ سردار ۔“میرے لہجے میں ممنونیت بھری تھی ۔
سیلاب خان نے معنی خیز لہجے میں کہا ۔”اچھا آج رات کو ہم نے آپ کے لیے خصوصی دعوت کا اہتمام کیا ہے،غزنی خیل کے کافی جوان آپ کو ملنا اور دیکھنا چاہتے ہیں۔آپ کا غائبانہ تعارف سن سن کر تمام کے دل میں آپ سے ملاقات کا شوق جاگا ہوا ہے ۔“
”میں سمجھا نہیں ۔“اس کا معنی خیز انداز مجھے حیران کر گیا تھا ۔
وہ میرے سر پر بم پھوڑتے ہوئے بولا ۔”اس میں سمجھنے کی کیا بات ہے جناب ایس ایس!.... وہ ایسے نشانہ باز کو دیکھنا چاہتے ہیں جس کا نشانہ کبھی خطا نہیں جاتا ۔“
”ایس....ایس ۔“میں گڑبڑا گیا تھا ۔
”جی محترم !“سیلاب خان آنکھیں میچتے ہوئے بولا۔”نوشاد گل آپ کو دیکھتے ہی پہچان گیا تھا۔اور آپ کو جوش دلانے کے لیے ہی اس نے شرط لگا ئی تھی ۔اسی رات آپ کے سوجانے کے بعد مجھے مورچے سے باہر بلا کر اس نے سب کچھ بتا دیا تھا ۔چونکہ اسے آپ کی صلاحیتوں کا اچھی طرح اندازہ تھا اس لیے صبح سویرے ہی اس نے اپنی رائفل بچانے کے لیے شرط واپس لے لی تھی۔“
”اسے پہچاننے میں غلطی بھی توہو سکتی ہے ۔“
”اس کی بات سن کر میں نے بھی یہی سوچا تھا ۔لیکن آپ کی نشانے بازی نے یقین دلا دیا۔“
اس مرتبہ میں نے کسی لولی لنگڑی دلیل کا سہارا لیے بغیر خاموشی اختیار کر لی تھی ۔
وہ مجھے تسلی دیتا ہوا بولا ۔”فکر مند ہونے کی ضرورت نہیں ،نوشاد گل اب کسی خان کا ملازم نہیں ہے ۔بلکہ سچ کہوں تو وہ آپ سے بہت زیادہ متاثر ہے ،ہم سب پر بھی آپ کا احسان ہے کہ آپ کی وجہ سے ہم اس گھیرے سے باہر نکل سکے ہیں ۔“
” ایسی کوئی بات نہیں سردار!....نہ تو مجھے پریشانی ہے اور نہ کوئی خوف ۔ بس یہ سوچ کر خفت ہو رہی ہے کہ لوگوں نے میرے بارے کچھ زیادہ ہی مبالغہ آمیزی کی ہوئی ہے ۔“
”نوشاد گل کہہ رہا تھا کہ آپ نے اس کی آنکھوں کے سامنے پلوشہ خان وزیر کے سر پر رکھے گلاس کو نشانہ بنایا تھا۔کیا یہ جھوٹ ہے ؟“
میں جلدی سے بولا۔”اسے اتفاق ہی کہہ سکتے ہیں ۔“
وہ مزاحیہ انداز میں بولا۔”ان کے سردار جہان دادکے سر میں دو کلومیٹر دورسے گولی مارنا، یہ بھی اتفاقاَ ہوا ہوگا، بلکہ سردارجہانداد کے سارے مرنے والے ساتھیوں کے سر میں اتفاقی طور پر گولی لگتی رہی ہو گی اور کل شلوبر اور میا م خیل کے سارے آدمی بھی اتفاقی طور پر ہی زخمی ہوتے رہے ہیں ۔“
میں خفیف ہوتا ہوا بولا ۔”اچھا چھوڑیں اس موضوع کو آپ کی سمجھ میں میرا نکتہ نظر نہیں آئے گا۔“
”اچھا اب تو بتا دیں کہ افغانستان کس سلسلے میں آنا ہوا ۔“اس نے موضوع تبدیل کرنے میں دیر نہیں لگائی تھی ۔
”اپنے کچھ ساتھیوں کی تلاش میں نکلا ہوں ۔“میں نے مجمل سا جواب دیا ۔
وہ مزید کوئی سوال کیے اٹھتے ہوئے بولا ۔”آپ آرام کریں ،شام کو ملاقات ہو گی ۔“اور میں نے اثبات میں سر ہلادیا ۔
٭٭٭
شام کے بجائے سہ پہر ہی کو شام کے کھانے کا بندبست ہونے لگا تھا ۔وسیع بیٹھک کے صحن میں آلاﺅ جلا کر وہ سالم دنبے روسٹ کر رہے تھے ۔اس کے علاوہ بھی مقامی طور کئی مقامی پکوان تیار کیے جا رہے تھے جن میں کابلی پلاﺅ اورافغانی کباب وغیرہ شامل تھے ۔
اسی دوران نوشاد گل اور گل ریز بھی وہاں پہنچ گئے تھے ۔یہ دونوں قبیل خان کے لشکر کا حصہ رہ چکے تھے ،قبیل خان اورجہانداد خان کے قتل کے بعد انھوں نے صنوبر خان کا ساتھ بھی نہیں چھوڑا تھا ۔البتہ صنوبر خان کی موت بعد علام خیل کا کوئی ایسا سردار نہیں بچا تھا جس کے پاس یہ کام کر سکتے پس کسی اور سردار کے لشکر میں شمولیت اختیار کرنے کے بجائے یہ گاﺅں واپس لوٹ آئے تھے ۔دونوں میرے نام اور کام سے اچھی طرح واقف تھے ۔خوش حال خان کے گاﺅں میں ہونے والے جرگے میں گل ریز مجھے دیکھ چکا تھا ، جبکہ نوشاد گل اس وقت قبیل خان کی بیٹھک میں موجود تھا جب میں نے پلوشہ کے سر پر رکھے گلاس کو نشانہ بنایاتھا ۔اس وقت نوشاد گل بڑی مشکل سے پلوشہ کی گولیوں کا نشانہ بننے سے بچ سکا تھا ۔
دونوں مجھ سے مصافحہ کر کے بیٹھ گئے ،ان کے ہمراہ چند اور جوان بھی میرے دائیں بائیں بیٹھ گئے تھے ۔ان کے انداز میں مجھے ایک عقیدت اور مرعوبیت نظر آرہی تھی ۔یوں بھی قبائلی علاقے میں اچھے نشانے باز کو بہت عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے کہ ان کی لڑائی کا دارومدار ہی ہتھیار کے استعمال پر ہے ۔تھوڑی دیر میں تمام بے جھجک ہو کر مجھ سے گپ شپ کر رہے تھے ۔
سیلاب خان کی آمد کے بعد چند منچلوں نے میرا نشانہ دیکھنے کی خواہش ظاہر کر دی ،جس کی تائید تمام حاضرین محفل کرنے لگے تھے ۔ میں نے بھی خواہ مخواہ کی بہانے بازی سے گریز کرتے ہوئے نوشاد گل کے ہاتھ سے سٹائر سنائپر لے لی کہ سٹائر ،کلاشنکوف سے کئی گنا زیادہ بہتر تھی ۔نوشاد گل کو میں نے بیٹھک کی ایک دیوار کے ساتھ ایک سفید چادر لٹکانے کا کہا ۔
اثبات میں سر ہلا کر اس نے ایک آدمی سے چادر لے کر دیوار سے لٹکا دی ۔دوسری دیوار کے ساتھ کھڑے ہو کر میں نے بیس گولیاں تیز رفتاری سے فائر کیں ۔جونھی میں ایک میگزین خالی کرتا نوشاد گل مجھے بھری میگزین پکڑادیتا ۔زیادہ تر لوگ اس بات پر حیران تھے کہ اتنی چوڑی چادر پر نشانہ بازی کرکے میں کون سی مہارت کا ثبوت دے رہا ہوں ۔لیکن کسی نے زبان سے یہ نہیں کہا تھا ۔
فائر ختم کرتے ہی میں نے تما م کو کہا کہ وہ قریب جا کر چادر کو دیکھ لیں ۔چادر کے قریب جا کر وہ حیرانی سے چیخ پڑے تھے ،کیونکہ چادر پرمیں گولیوں کے ذریعے انگریزی زبان میں ایس ایس لکھا تھا ۔ اور ایسا کرنا کسی عام شخص کے لیے ممکن ہی نہیں ہے ۔
یہ مظاہرہ دیکھ کر سیلاب خان نے بے ساختہ کہا ....”اب تو لگتا ہے نوشاد گل آپ کے متعلق کچھ بتا ہی نہیں پایا تھا ۔“
باقی لوگ بھی پہلے سے زیادہ مرعوب نظر آنے لگے تھے ۔جبکہ میں خود کو خاصاخفیف محسوس کر رہا تھا ۔بار بار تعریفی کلمات سن کر مجھے الجھن محسوس ہورہی تھی ۔کوئی میری پیٹھ تھپتھپارہا تھا تو کوئی تعریف میں رطب اللسان تھا ،اور کوئی میرا شاگرد بننے پر تلا ہوا تھا ۔
شام کی نماز کے بعد کھاناکھایا گیا اور اس کے بعد محفل موسیقی تھی ۔رباب اور گھڑے کے ملاپ نے عجیب سماں باندھ دیا تھا ۔مقامی گلوکار کی آواز خاصی دلکش تھی ۔پشتو ٹپے سنتے ہی پلوشہ دھم سے میرے خیالوں میں آکودی تھی۔پشتو ساز پر تو وہ یوں بھی اتنا خوب صورت اوردلکش رقص کرتی تھی کہ دیکھنے والے سحر زدہ ہو جاتے تھے ۔
میرے دماغ میں وہ وقت فلم کی طرح چلنے لگا جب ملک ثقلین کے بیٹے کی شادی میں اس نے جادو بھراخوب صورت رقص پیش کیا تھا ۔
رات گئے تک پروگرام جاری رہا ۔اور پھر میرے آرام کرنے کی درخواست پر پروگرا م اختتام پذیر ہوا ۔
گھروں کو لوٹتے وقت کوئی بھی ایسا آدمی نہیں تھا جس نے مجھ سے مصافحہ نہ کیا ہو۔نوشاد گل جب جانے لگا تو اسے میں نے روک لیا ۔تمام کے رخصت ہونے بعد میرے پاس سیلاب خان اور نوشاد گل ہی رہ گئے تھے ۔میں سردار سیلاب خان کو بولا ....
”سردار !....اگر اجازت ہو تو میں نے نوشاد گل سے چند ضروری باتیں پوچھنا ہیں ۔“
”ہاں ....ہاں کیوں نہیں ۔“جہاں دیدہ سردار فوراََ میرے مطمح نظر تک پہنچ گیا تھا ۔الوداعی مصافحہ کر کے وہ بھی چلا گیا ۔
”نوشاد گل !....کیا میں یہ امید کر سکتا ہوں کہ جو پوچھوں گا آپ اس کا صحیح جواب دیں گے ۔“
”ذیشان بھائی !....سردار قبیل خان اور اس کے بعد بننے والے سرداروں میں سے کوئی بھی نہ تو میرا رشتا دار تھا اور نہ کسی سے میری جذباتی وابستگی ہی تھی ۔میرا ان سے تعلق فقط مالک اور ملازم کا تھا ۔ اس لیے آپ نے جو پوچھنا ہے بے جھجک ہو کر پوچھیں ،اگر مجھے معلوم ہوا تو کبھی نہیں چھپاﺅں گا ۔“وہ میرے اصل نام سے واقف تھا ۔
”البرٹ بروک ،ٹریسی والکر اور کرنل کولن فیلڈ میں سے کسی کو جانتے ہو ؟“
اس نے اثبات میں سر ہلایا۔”تینوں کو جانتا ہوں ۔“
میں نے پر جوش لہجے میں پوچھا ۔”یہ تینوں یا ان میں سے کوئی ایک مجھے کہاں مل سکتا ہے ۔“
”میں نے ایک بار صنوبر خان کے ساتھ البرٹ بروک اورکالی لڑکی کو غزنی میں پہنچایا تھا ۔اب یہ معلوم نہیں کہ وہ مستقل وہیں ہیں یا کہیں اور چلے گئے ہیں ۔“
”میں غزنی تک کیسے پہنچ سکتا ہوں ۔“
”یہاں سے آپ کو خوست جانا ہوگا ،وہاں سے گردیز کے لیے گاڑی ملے گی ،وہاں سے براکئی جانا ہو گا ۔اور وہاں سے غزنی کی گاڑی مل جائے گی ۔یہ میں سڑک کا رستا بتا رہا ہوں ،اگر آپ خوست سے سیدھا غزنی کا رخ کریں تو یہ رستا مختصر ہے مگر بڑی سڑک میسر نہیں ہے ۔اس طرف آپ کو کچے پکے رستوں اور پہاڑی علاقے کو عبور کرنا پڑے گا ۔“
میں نے مزید ضروری معلومات دریافت کیں اور اس کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اسے جانے کی اجازت دے دی ۔
وہ تمام رات میں نے آگے کی حکمت عملی بناتے گزاری ،غزنی ایک بڑا شہر تھا ۔اور وہاں امریکن فوج نے اپنی چھاﺅنی بنائی ہوئی تھی ۔اس حساس علاقے میں گھسنا اتنا بھی آسان نہیں تھا ۔اس کے لیے مجھے کسی ایسے منصوبے کی ضرورت تھی جس میں غلطی کی گنجائش نہ ہوتی ۔مگر ایسا صرف سوچا جا سکتا تھا عملی طور پر اگر یہ ناممکن نہیں تو بہت زیادہ دشوار ضرور تھا ۔سب سے بڑھ کر میں نے کسی کو جان سے نہیں مارنا تھا کہ دور سے گولی چلا کر اپنا کام کر لیتا ۔مجھے تو ان کے کیمپ میں گھس کر اپنی بے گناہی کے ثبوت ڈھونڈنا تھے ۔یہ سراسر جاسوسوں والا کام تھا ۔گو ایک سنائپر کووقت پڑنے پر ہر کام کرنا پڑتا ہے ،لیکن پھر بھی نشانہ بازی اور مار دھاڑ سے جاسوسی ایک الگ کام تھا ۔
صبح ناشتے وغیرہ سے فارغ ہو کر میں نے سیلاب خان کو کہہ کر کاغذ پین منگوایا اور نوشاد گل سے سنی ہوئی معلومات کو ایک نقشے کی صورت میں کا غذ پر اتار لیا ۔راستے کے لیے کھانے پینے کی چیزیں سفری تھیلے میں ڈال کر میں جانے کے لیے تیار تھا ۔اس وقت تک نوشاد گل اور چند اور جوان بھی پہنچ گئے تھے ۔ میں تمام کی معیت میں چلتا ہوا غزنی خیل سے باہر نکلا اور ان سے الوداعی معانقہ کرکے غزنی خیل سے غزنی کی طرف روانہ ہو گیا ۔
خان کلے کو میں پیچھے چھوڑ آیا تھا ۔اب کیندار نامی گاﺅں سے ہوتے ہوئے میں نے خوست پہنچنا تھا ۔کیندار سے خوست کے لیے گاڑی بھی مل جاتی تھی لیکن گاڑی میں سفر کرنے میں یہ قباحت تھی کہ میں کلاشن کوف ساتھ نہیں لے جا سکتا تھا ۔
غزنی خیل سے شمال کی جانب ایک چوڑے نالے میں کلو میٹر ڈیڑھ چلنے کے بعد مجھے مغرب کی طرف مڑنا تھا ۔موسم تقریباََ صاف تھا ۔شمالی جانب ہلکے ہلکے بادل نظر آرہے تھے اور بہ ظاہر بارش یا برف باری کا کوئی امکان نہیں تھا ۔لیکن اس کے ساتھ میں اس بات سے بھی واقف تھا کہ بادلوں کو اکٹھا ہونے میں اتنی دیر نہیں لگنی تھی ۔اس موسم کے ہاتھوں میں ایک بار پہلے بھی مرتے مرتے بچا تھا اب میں اس موسم پر بالکل بھی اعتبار نہیں کر سکتا تھا ۔میرا پختہ ارادہ تھا کہ موسم کے ذرا سا بھی خراب ہونے پر میں بغیر سفر جاری رکھے کسی پناہ گاہ میں گھسوں گا ۔سردی کافی بڑھ گئی تھی ،دسمبر شروع ہونے والا تھا اور دسمبر کی شروعات کے ساتھ ہی پہاڑی علاقے میں مزید برف باری ہونے کا امکان تھا ۔
نالہ موڑ مڑتے ہی ہلکی ہلکی اترائی شروع ہو گئی تھی ۔موڑ مڑ کر میں چند قدم ہی لے پایا تھا کہ اچانک کسی نے زوردار آواز میں للکار کر مجھے رکنے کو کہا ۔
ایک دم میرے قدم رک گئے تھے ،آواز کی سمت دیکھنے پر چار آدمی جھاڑیوں کے جھنڈ سے برآمد ہوتے دکھائی دیے ۔چاروں مسلح تھے ۔یقینا وہ کسی غلط فہمی کی بنا پر مجھے روک رہے تھے ۔
”ہتھیار نیچے پھینک دو ۔“ایک کرخت شکل کے لمبے آدمی نے دور ہی سے حکم جاری کیا ۔
”شاید آپ لوگوں کو کوئی غلط فہمی ہوئی ہے ۔میں ........“
”بکواس بند کرو اور ہتھیار نیچے پھینکو ۔“اس مرتبہ اس نے کلاشن کوف میری جانب تان کر درشت لہجے میں کہا ۔
افسوس بھرے انداز میں سر ہلاتے ہوئے میں نے کلاشن کوف نیچے رکھی ۔
”پیچھے ہو جاﺅ ۔“اس نے ہتھیار سے دور ہونے کا اشارہ کیا ۔
میں چند قدم لے کر ہتھیار سے دور ہو گیا ۔ان چاروں کے چہروں پر چھائے خشونت بھرے تاثرات مجھے حیران کیے ہوئے تھے ۔لمبے آدمی نے قریب پہنچ کر بغیر شناخت پوچھے ، گریبان سے پکڑ کر جھٹکا دیتے ہوئے مجھے دور پھینکا ۔
”تمھارے ساتھ کافی حساب کتاب باقی ہے بے غیرت شخص ۔“اس کے لہجے میں شامل غیظ و غضب مجھے حیران کیے دے رہا تھا ۔اس کے انداز پر مجھے بھی انتہائی غصہ آگیا تھا لیکن اپنے جانب اٹھی تین کلاشن کوفوں کی موجودی میں میں کوئی خطرہ مول نہیں لے سکتا تھا ۔غصے کا کڑوا گھونٹ بھرتے ہوئے میں نے حتی الوسع نرم لہجے میں کہا ۔
”دیکھو بھائی صاحب !....یقینا تمھیں کوئی غلط فہمی ہوئی ہے ۔میں مسافر ہوں اور اس سے پہلے میں نے آپ لوگوں کو نہیں دیکھا ۔“
”تم مسافر تھے ،لیکن غزنی خیل قبیلے کے ساتھ مل کر تم نے ہمارے کتنے بندوں کو ناکارہ کیا اس بات سے یقینا تم واقف ہو گے ۔تمھارا کیا خیال ہے غزنی خیل میں ہمارا کوئی ہمدردموجود نہیں ہے ۔“
اس کی بات سنتے ہی میرے دماغ میں سائیں سائیں ہونے لگی تھی ۔شایدوہ شلوبر قبیلے سے تعلق رکھتے تھے ۔غزنی خیل قبیلے کے کسی غدار نے میرا مکمل راز فاش کر دیا تھا،یہاں تک کہ اس نے شلوبر قبیلے والوں کو میرے جانے کے رستے کے بارے بھی بتا دیا تھا ۔اور یقینا شلوبر قبیلے کے یہ آدمی کافی دیر سے میری گھات میں بیٹھے ہوئے تھے ۔ غزنی خیل قبیلے کے ساتھ کرنے والی ہمدردی مجھے راس نہیں آئی تھی ۔ایسی حالت میں تو سیلاب خان کے آدمی بھی میری مدد کو نہیں پہنچ سکتے تھے کہ انھیں اس بابت کچھ معلوم ہی نہیں تھا ۔میں بہت بری طرح پھنس گیا تھا ۔
مجھے سوچ میں ڈوبا دیکھ کر اس نے طنزیہ لہجے میں کہا ۔”اب تو بولتی ہی بند ہو گئی ہے ۔“
زمین سے اٹھتے ہوئے میں نے اپنے کندھوں سے سفری تھیلے کی ڈوریاں نکالیں اور تھیلے کو زمین پر چھوڑتے ہوئے کھڑا ہوگیا ۔ان کے ارادے مجھے چھوڑنے والے نہیں لگ رہے تھے ۔
میں نے صلح کی ایک اور کوشش کرتے ہوئے کہا ۔”آپ کو ساری بات معلوم نہیں ہے بھائی صاحب !....میں واقعی مسافر ہوں اور غزنی خیل والے مجھے آپ کا آدمی پکڑ کر لے گئے تھے ۔اور اس سے پہلے کہ میں ان کی غلط فہمی دور کر کے اپنا سفر جاری رکھ پاتا ،آپ لوگوں نے انھیں گھیر لیا اور میں بے گناہ پھنس گیا ۔اس کے بعد گزشتا رات وہ گھیرا توڑ کر نکل بھاگے ،میں بھی ان کے ساتھ تھا ۔ اب اس میں میرا کیا قصور ہے ۔“
وہ زہر خند لہجے میں بولا ۔”تمھارا قصور یہ ہے کہ بھاگنے کا سارا منصوبہ تمھارا تھا اور کل دن بھر تم ہمارے آدمیوں کو زخمی کرتے رہے ہو ۔تمھاری ہی ترکیب سے ہمارے کئی آدمی جان سے گئے ہیں ۔“
انھیں خبر دینے والا محاذ پر نہیں گیا تھا ورنہ ہمارا کل کا منصوبہ کامیاب نہ ہوپاتا ۔یقینا اسے کل لڑائی سے لوٹنے والوں ہی سے میرے بارے معلوم ہو پایا تھا اور اپنے کرم فرماﺅں تک اس نے فوراََ ساری بات پہنچا دی تھی ۔میں نے صفائی پیش کرتے ہوئے کہا ۔
”میں نے آپ کے کسی بھی آدمی کو جان سے نہیں مارا ۔“
”انھیں ٹانگوں اور بازوﺅں میں گولی مار کر ناکارہ تو کیا ہے نا ....میں بھی تمھیں جان سے نہیں ماروں گا ،بس دونوں ٹانگوں اور بازوﺅں میں گولی ماروں گا ۔“یہ کہتے ہی اس نے کلاشن کوف میرے جانب سیدھی کی ۔
جاری ہے
قسط نمبر 56
ریاض عاقب کوہلر
اس کے کلاشن کوف سیدھی کرتے ہی میں نے حرکت کرنے کا فیصلہ کر لیا تھا ۔اس کے تیوردیکھ کر واضح لگ رہا تھا کہ وہ جو کہہ رہا تھا ویسا ہی کرنا چاہتا تھا ۔
میں نے ہاتھ سر سے بلند کرتے ہوئے کہا ۔”اچھا میری آخری بات سن لو اس کے بعد جو مرضی آئے کرنا ۔“
”سناﺅ ۔“میری بے بسی سے لطف اندوز ہوتے ہوئے اس نے کلاشن کوف کی بیرل زمین کی طرف جھکائی۔
اس وقت تک میں ایک سرسری نظر تینوں پر ڈال چکا تھا ۔وہ تمام اس کے عقب میں کھڑے تھے اور وہ سب سے آگے کھڑا تمسخرانہ نگاہوں سے مجھے گھور رہا تھا ۔ہمارے درمیان بس دو تین قدموں کا فاصلہ تھا ۔باقی تینوں اس سے چند قدم دور تھے ان تمام کے انداز میں بے پروائی تھی۔
اس کی کلاشن کوف کا رخ نیچے کی طرف ہوتے ہی میں زقند بھرتے ہوئے اس کے قریب ہوا اور اس سے پہلے کہ میرا ارادہ اس پر ظاہر ہوتا میں نے کلاشن کوف کی بیرل کو پکڑ کر اس کے دھانے کا رخ خود سے موڑتے ہوئے اپنے گھٹنے کو زوردار انداز میں اس کی ٹانگوں کے درمیان اٹھا دیا ۔
”اوغ ۔“کی آواز کے ساتھ وہ نیچے جھکا اور میں نے ایک جھٹکے سے کلاشن کوف اس کے ہاتھ سے چھین لی ۔یہ سب کچھ اس سرعت سے ہوا تھا کہ وہ تینوں ہکا بکا کھڑے رہ گئے تھے ۔ان کے وہم گمان میں بھی نہیں تھا کہ کچھ ایسا بھی ہو سکتا ہے ۔میں نے مشاہدہ کیا تھا کہ اس علاقے میں اکثریت ایسے لڑاکوں کی تھی جو صرف ہتھیار کا استعمال ہی جانتے تھے ۔جسمانی داﺅ پیچ سے وہ لوگ نا بلد تھے ۔البتہ مجاہدین کے کیمپوں میں خالی ہاتھ لڑنے کی بھی تربیت دی جاتی ہے ۔دہشت گردوں میں بھی اکا دکا ایسے آدمی مل جاتے ہیں جو ہاتھ پیر کا استعمال جانتے ہوں،مگر ایسے لوگ بہت کم تعداد ہی میں مجھے ٹکرائے تھے۔
کلاشن کوف ہاتھ میں آتے ہی میں نے اس کا بٹ زوردار انداز میں گھٹنوں کے بل جھکے آدمی کے سر میں مارا،وہ منھ کے بل نیچے گر گیا تھا ۔ا س کے ساتھ ہی میں نے بیرل کا رخ ان تینوں کی طرف موڑ دیا ۔ وہ تینوں بھی ابتدائی جھٹکے سے سنبھل کر حواسوں میں آئے ،لیکن انھوں نے ذرا سی دیر کر دی تھی وہ جب تک کلاشن کوف کا رخ میری طرف کرتے میں ٹریگر دبا چکا تھا ۔
دو بندے ٹانگوں میں گولی کھا کر چیختے ہوئے نیچے گرگئے ،تیسرے آدمی نے ٹریگر دبانے کے ساتھ ہی پیچھے کی جانب چھلانگ لگا دی تھی ۔اس نے کلاشن کوف برسٹ پر سیٹ کی ہوئی تھی ۔اگر وہ تیزی میں درستی نہ بھول جاتا تو یقینا آج میں کہانی سنانے کے لیے زندہ نہ ہوتا ۔ٹریگر دباتے ہی چونکہ اس نے پتھر کی جانب چھلانگ لگائی تھی اس لیے بیرل کا رخ مجھ سے بائیں طرف ہو گیا تھا ۔اس کے باوجود مجھے بائیں بازو میں شدید جلن کا احساس ہوا ،اس کے جلد بازی میں فائر کیے گئے برسٹ میں سے ایک بھولی بھٹکی گولی میرے بازو کا مزاج پوچھ چکی تھی ۔
اچانک ڈھلان کی طرف سے شدید فائرنگ ہونے لگی ۔گولیاں میرے دائیں بائیں لگی تھیں۔ اگر میرے سامنے ان کا ایک آدمی بے ہوش نہ پڑا ہوتا تو ان گولیوں کا نشانہ میرے جسم نے بننا تھا۔میں نے فوراََ خود کو زمین پر گرایا اور قریبی پتھر کے پیچھے رینگ گیا ۔میرے بائیں بازو میں جلن تو ہو رہی تھی مگر بازو ٹھیک ٹھاک کام کر رہا تھا ،اس کا صاف مطلب یہی تھا کہ گولی میرے بازو کو چھوتے ہوئے گزر گئی تھی ۔
اب اسی پتھر کو نشانہ بنایا جا رہا تھا جس کے پیچھے میں چھپا تھا ۔اوپر والوں سے زیادہ مجھے اس آدمی سے خطرہ تھا جو نالے ہی میں چھپا تھا ۔آڑ کے دائیں جانب سے اس طرف نظر دوڑانے پر مجھے ایک کلاشن کوف کی بیرل اپنی جانب اٹھی نظر آئی، اس کا باقی جسم پتھر کے پیچھے غائب تھا ۔ایک دو چھوٹے چھوٹے برسٹ چلا کر وہ مجھے اپنے ساتھ الجھانے کی کوشش کرنے لگا ۔
اس کا جسم تو نظر نہیں آرہا تھا فقط کلاشن کوف پتھر کے پیچھے سے جھلک رہی تھی ۔کوئی چارہ کار نہ دیکھ کر میں نے کلاشن کوف کے اوپر نشانہ سادھتے ہوئے ٹریگر دبایا۔اس فاصلے سے نشانہ چوکنے کا سوال ہی پید ا نہیں ہوتا تھا ۔گولی کلاشن کوف کے فرنٹ ہینڈ گارڈ پر لگی تھی ۔کلاشن کوف اس کے ہاتھ سے چھوٹ کر دور جا پڑی ۔
میں نے فوراََ کلاشن کوف کا رخ ڈھلان کی طرف کرتے ہوئے سیفٹی لیور کو برسٹ پر سیٹ کیا اور ٹریگر دبا دیا ۔دو تین گولیوں کے بعد ۔”ٹرنچ ۔“کی آواز نے مجھے کلاشن کوف کے خالی ہونے کی بری خبر سنائی ۔یقینا کلاشن کوف کی میگزین بھری ہوئی نہیں تھی ،کیونکہ میں تو چند گولیاں ہی فائر کر سکا تھا ۔میری اپنی کلاشن ذرا فاصلے پر پڑی تھی ۔وہاں تک جانے کے لیے مجھے دشمن کے سامنے ظاہر ہونا پڑتا جس کا نتیجہ موت کی صورت میں بھی ظاہر ہو سکتا تھا ۔
ٹانگوں پر گولیاں کھانے والے کراہتے ہوئے اپنی جگہ پر تڑپ رہے تھے ۔یقینا انھیں طبی امداد کی ضرورت تھی ورنہ زیادہ خون بہنے کی وجہ سے انھیں جان کے لالے پڑ سکتے تھے ۔
اسی وقت نالے موڑ سے ہونے والی فائرنگ کی آواز نے مجھ پر یہ روح فرسا انکشاف کیا کہ وہاں پر دشمن کی کافی پارٹیاں موجود تھیں ۔وہاں مزید لیٹنا بھی موت کو دعوت دینے کے برابر تھا ۔ تھوڑی دیر بعد انھوں نے مجھے چاروں طرف سے گھیر لینا تھا ۔اور ایک بار اگر میں ان کے ہاتھ چڑھ جاتا تو میری زندگی کی ضمانت ضبط ہوتے دیر نہ لگتی ۔
اس پتھر سے بیس پچیس گز دور جھاڑیوں کا جھنڈ تھا، وہاں تک پہنچ کر میں اپنے فرار میں آسانی پیدا کر سکتا تھا ۔جھاڑیوں تک پہنچنے کے لیے مجھے جلدی کرنا تھی ورنہ دشمن کے نزدیک پہنچنے کے بعد یہ ممکن نہ رہتا ۔دشمن اس لیے بھی دور دور تھے کہ ان کے خیال کے مطابق میں مسلح تھا ۔جبکہ میں بغیر ایمونیشن کے بالکل بے دست و پا ہو گیاتھا ۔
میں ابھی اس صورت حال سے نکلنے کی ذہنی ورزش ہی کر رہا تھا کہ بے ہوش پڑے آدمی کے جسم میں حرکت پیدا ہوئی اور وہ سر جھٹکتے ہوئے اٹھ بیٹھا ،میری کلاشن کوف اس سے دو تین قدم ہی دور پڑی تھی ۔میں نے نیفے میں اڑسا تیس بور نکال کر کاک کر تے ہوئے ہاتھ میں پکڑ لیاتھا ۔
ہوش میں آتے ہی وہ چند لمحے کنپٹی مسلنے کے بعد زمین پر ہاتھ ٹیکتے ہوئے اٹھنے لگا۔اسی وقت خطرہ مول لینے کا فیصلہ کرتے ہوئے میں زقند بھر کر پتھر کے پیچھے سے نکلا اور اس سے پہلے کہ وہ مکمل کھڑا ہو پاتا ،اس کا دایاں بازو مروڑتے ہوئے میں نے اس کی پیٹھ اپنی چھاتی سے لگالی تھی۔
پتھر کے عقب میں چھپا وہ آدمی جس کی کلاشن کوف کو میں نے نشانہ بنایا تھا ۔مجھے اپنے ساتھی کے ساتھ مصروف دیکھ کر اس نے پتھر کے پیچھے سے نکل کر اپنی کلاشن کوف اٹھانا چاہی ۔
بائیں ہاتھ سے اپنے اسیر کی کلائی تھامتے ہوئے میں نے دائیں ہاتھ میں پکڑا تیس بور کلاشن کوف کی طرف بڑھنے والے شخص کی طرف سیدھا کیا اور ٹریگر دبادیا ،مگر گولی فائر نہیں ہوئی تھی ۔اس طرح کے مقامی اسلحے کا سب سے بڑا مسئلہ یہی ہوتا ہے کہ بغیر کسی وجہ کے رک جاتا ہے ۔اس وقت مجھے گلگارے کو تحفہ دیے ہوئے گلاک کی سخت کمی محسوس ہوئی تھی ۔اس بے چاری نے تو اصرار بھی کیا تھا کہ میں پستول اپنے ساتھ لے جاﺅں ۔مگر اس وقت مجھے کسی ایسی صورت حال میں پھنسنے کا گمان نہیں تھا ۔
پستول کو نیچے پھینک کر میں نے اسی لمبے آدمی کو ڈھال کی طرح اپنے سامنے پکڑ لیا ۔اس کے ساتھیوں نے چند ہوائی فائر کیے مجھے نشانہ بنانے کی صورت ان کے اپنے آدمی کو پہلے گولی لگتی ۔پتھر کے چھپے آدمی نے بھی کلاشن کوف اٹھا کر میری جانب تان لی تھی لیکن میرے سامنے ان کا ساتھی ڈھال کی صورت میں موجود تھا ۔
ایک ہاتھ سے اس کا مروڑا ہوا بازو پکڑکر دوسرا بازو میں نے اس کی گردن میں ڈالا اور اسے زبردستی اپنے ساتھ کھینچتا ہوا کلاشن کوف کے قریب پہنچ گیا۔نیچے جھک کلاشن کوف اٹھانے کی صورت میں وہ میری گرفت سے نکل جاتا ۔میں نے ایک پاﺅں سلنگ میں ڈال کر کلاشن کوف کو دھیرے سے زمین سے اٹھایا۔اس دوران اس نے مچل کر میری گرفت سے نکلنا چاہا ۔
اس کے گلے میں ڈالے ہوئے بازو کے پھندے کو مزید کستے ہوئے میں نے اسے خاموش دھمکی دی ۔کسی اکھڑ سے اکھڑ آدمی کو بھی سمجھانے کے لیے زبان سے زیادہ عملی دھمکی کام آتی ہے ۔اسے بھی معلوم ہو گیا تھا کہ حرکت کرنا اس کی گردن کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا سکتا تھا ۔جسم ڈھیلا چھوڑتے ہوئے اس نے تعاون کا اعلان کرتے دیر نہیں کی تھی ۔
کلاشن کوف ہاتھ میں آتے ہی میں نے بیرل اس کی پیٹھ سے لگائی اور اس کے گلے سے بازو نکال لیا ۔کلاشن کوف کی سرد بیرل گردن میں پڑے ہوئے بازو سے بھی زیادہ ڈرانے والی تھی ۔وہ میرے سامنے بے حس و حرکت کھڑا رہا ۔اس کا دوسرا ساتھی مجھے دھمکیاں دینے لگا ۔
”اگر ایک منٹ کے اندر اندر تم غائب نہ ہوئے تو ان دونوں کے ساتھ لیٹے نظر آﺅ گے ۔“ میں نے زمین پر پڑے زخمیوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے دھمکی دی ۔اس نے فوراََ ایک بڑے پتھر کے عقب میں آڑ لے لی تھی۔
میرے پاس وقت کم تھا ،دیر ہونے کی صورت ان کے مزید ساتھی پہنچ جاتے اور میرا پکڑا جانا یقینی ہو جاتا۔اس لمبے آدمی کو اپنے سامنے ڈھال کی طرح رکھ کر میں الٹے قدم پیچھے ہٹنے لگا ۔اس کے ساتھیوں کو میری حکمت علی سمجھ میں آ گئی تھی ۔انھوں نے مجھے دھمکانے کے لیے تیز فائرنگ شروع کر دی ، لیکن ان کی کوئی بھی گولی ان کے ساتھی سے اتصال کیے بغیر مجھ تک نہیں پہنچ سکتی تھی ۔
درختوں کے جھنڈ میں گھستے ہی میں دشمن کی تمام پارٹیوں کی نظر سے اوجھل ہو گیا تھا ۔اپنے قیدی کو میں نے گھٹنوں کے بل بیٹھنے کو کہا ۔
بغیر کسی لیت و لعل کے وہ گھٹنوں کے بل بیٹھ گیا ۔میں نے فوراََ کلاشن کوف کے بٹ سے اس کے سر کی مضبوطی کا اندازہ لگانے کی کوشش کی۔وہ ایک بار پھر منھ کے بل نیچے گر گیا تھا ۔میں مڑ کر بھاگ پڑا ۔ان کے تعاقب سے پہلے میں وہاں سے دور نکل جانا چاہتا تھا ۔وہ گھنی جھاڑیاں میری کافی مددگار ثابت ہو رہی تھیں ۔
دس پندرہ منٹ بعد ہی میرے کانوں میں تیز فائرنگ کی آواز گونجی ۔یقینا انھوں نے اپنے بے ہوش ساتھی کوتلاش کر لیا تھا ۔
غزنی خیل والی لڑائی کے بعداس جھڑپ کے دوران بھی میں نے پوری کوشش کی تھی کہ شلوبر کے کسی آدمی کو جان سے نہ ماروں ۔کیونکہ میں حتی الوسع کسی بے گناہ کے خون سے ہاتھ نہیں رنگنا چاہتا تھا ۔ اور اس کوشش میں مجھے خاطر خواہ کامیابی ہوئی تھی ۔گزشتا روز سے لے کر اب تک شلوبر کا کوئی آدمی میرے ہاتھوں قتل نہیں ہوا تھا ۔البتہ زخمی ہونے والوں کی تعداد دو درجن کے قریب پہنچ گئی تھی ۔
نالے کے درمیان میں درخت موجود نہیں تھے ۔جھاڑیوں کے جھنڈ چونکہ ڈھلان پر تھے اس لیے مجھے ڈھلان پر ترچھا بھاگنا پڑ رہا تھا ۔فرلانگ بھر دور مجھے ان کے چیخنے ،چلانے کی آوازیں آ رہی تھیں نہ جانے وہ کیا حکمت علی تیار کر رہے تھے ۔ان آوازوں پر کان دھرے بغیر میں جھاڑیوں کے درمیان آگے بڑھتا جا رہا تھا ۔آکسیجن لیول کم ہونے کی وجہ سے میرا سانس دھونکنی کی مانند چل رہا تھا ۔
دوڑتے دوڑتے میری نظر نالے کے درمیان میں پڑی ۔ان کے نو دس آدمی نالے کے بیچوں بیچ دوڑتے ہوئے آگے بڑھ رہے تھے ۔ان کا ارادہ مجھ سے آگے بڑھ کر ان جھاڑیوں کے جنگل کو گھیرنے کا تھا ۔اگر ایسا ہو جاتا تو میں نے چوہے دان میں پھنس جانا تھا ۔
ایک دم رک کر میں نے ایسی جگہ پر پوزیشن سنبھالی جہاں سے پورا نالہ میری نظروں کے سامنے تھا ،اس کے ساتھ ہی کلاشن کوف کو سنگل راﺅنڈ پر سیٹ کرتے ہوئے میں نے سب سے آگے والوں کی ٹانگوں پر شست لے کر مسلسل تین بار ٹریگر دبا دیا ۔
دو آدمی منھ کے بل گر کر تڑپنے لگے ۔باقی ایک دم بکھر کے دائیں بائیں پڑے پتھروں کی آڑ میں ہو گئے تھے ۔اس کے ساتھ ہی انھوں نے اندازے سے جوابی فائرنگ شروع کر دی ۔دو تین مزید گولیاں ضائع کر کے میں کروٹ تبدیل کرتا ہوا ایک جھاڑی کی آڑ میں پہنچا اور جھکے جھکے وہاں سے آگے بڑھنے لگا ۔انھیں ابھی تک پتھروں کی آڑ سے نکلنے کی جرّات نہیں ہوئی تھی ۔
تھوڑا سا آگے بڑھتے ہی میں کھڑے ہو کر دوڑ پڑا ۔کلومیٹر بھر آگے نالہ دو حصوں میں تقسیم ہو رہا تھا اور ان کے وہاں تک پہنچنے سے پہلے مجھے اگلے نالے میں پہنچنا تھا ۔کیونکہ جلد ہی انھیں یقین ہو جانا تھا کہ میں آگے بڑھ گیا ہوں اور اس کے بعد وہ تیز رفتاری سے نالہ موڑ تک پہنچ سکتے تھے ۔
میرے بائیں بازو میں ہلکی ہلکی جلن اور اچھا خاصا درد ہو رہا تھا ۔یقینا گولی نے کافی گہری خراش ڈالی تھی ۔اپنے بازو کی جلد پر مجھے خون کی نمی بھی محسوس ہو رہی تھی لیکن میرے پاس اتنا وقت نہیں تھا کہ رک کر بازو پر پٹی وغیرہ لپیٹ سکتا ۔بس اطمینان تھا تو اتنا کہ گولی بازو کو زیادہ نقصان نہیں پہنچا سکی تھی اور رگڑ کھاتے ہوئے نکل گئی تھی ۔
نالے موڑ کے قریب پہنچنے تک میرا سانس دھونکنی کی طرح چل رہا تھا ۔کلومیٹر بھر کا فاصلہ جو میدانی علاقے میں دس بارہ منٹ میں آسانی سے طے ہو جاتا ہے اور تھکن بھی محسوس نہیں ہوتی ،پہاڑی علاقے میں اس سے دگنا وقت لگا کر بھی اتنافاصلہ بہ مشکل طے ہو پایا تھا ۔اور اس کے ساتھ میراسانس یوں پھولا ہوا تھا جیسے میلوں کی مسافت طے کر کے آرہا ہوں ۔
اس جگہ پرتین نالے آکر اس چوڑے نالے میں مل رہے تھے ۔ایک نالہ دائیں طرف سے ، دوسرا بائیں اور ایک نالہ سیدھا آکر اس چوڑے نالے میں مل رہا تھا ۔کیندار نامی گاﺅں کو دایاں نالہ جاتا تھا، لیکن دائیں نالے میں جانے کے لیے مجھے وہ چوڑا نالہ عبور کر نا پڑتا جبکہ دشمن نالے میں موجود تھا اور تیزی سے آگے بڑھ رہا تھا ۔سیدھا جانے کا بھی کوئی فائدہ نہیں تھا ،کہ ایک تو اس نالے میں جھاڑیاں کم نظر آرہی تھیں دوسرا اس نالے میں جاتے ہوئے میں دشمن کو دور سے نظر آسکتا تھا ۔سرعت سے فیصلہ کرتے ہوئے میں بائیں طرف کے نالے میں گھس گیا کہ اس وقت میری پہلی ترجیح اپنی جان کو بچانا تھا۔ کیندارگاﺅں کو بعد میں بھی ڈھونڈ اجاسکتا تھا ۔
بائیں نالے میں مڑتے ہی میں نالے کے دائیں کنارے کے ساتھ آگے بڑھنے لگا ۔ایک خاص فرق یہ پڑا تھا کہ اس جگہ سے چڑھائی شروع ہو رہی تھی حالانکہ پہلے میں اترائی میں بھاگتا ہوا آرہا تھا ۔چڑھائی میں دوڑنا ناممکن تھا ،میں تیز قدموں سے آگے بڑھنے لگا ۔جھاڑیوں کے جھنڈ بتدریج اونچائی کی طرف چلے گئے تھے ۔میں بھی نالے میں سیدھاچلنے کے بجائے ترچھا ہو کر اوپر کی طرف چلنے لگا۔ فرلانگ بھر چلنے کے بعد ہی مجھے عقب میں فائرنگ کی آواز سنائی دی ۔لیکن فائرنگ کا رخ متعین نہیں تھا ۔ اس کا واضح مطلب یہی تھا کہ وہ میرے جانے کی سمت سے آگاہ نہیں تھے اور اندازے ہی سے فائر کر رہے تھے ۔اس نالے کے دونوں کناروں پر گھنی جھاڑیوں کے جھنڈ موجود تھے ،جبکہ سیدھے نالے میں بھی جھاڑیاں موجود تھیں ۔اور وہی جھاڑیاں مجھے چھپنے میں مدددے رہی تھیں ۔
میں نے قدم روکتے ہوئے ایک جھاڑی کی اوٹ سے نالہ موڑ کی جانب نگاہ دوڑائی ،وہاں پندرہ بیس کے قریب مسلح افراد دکھائی دے رہے تھے ۔یقینا وہ میرے جانے کی سمت کا تعین کر رہے تھے۔ گو وہاں سے مجھے ان کے تیور تو نظر نہیں آ رہے تھے البتہ میرا اندازہ یہی تھا کہ وہ سخت غصے میں تھے ۔ وہ مجھے ناکارہ کرنے آئے تھے ،اس کے بجائے اپنے تین چار آدمی زخمی کرا بیٹھے تھے ۔اور اتنے آدمیوں کے گھیرے سے ایک بندے کا یوں آرام سے نکل جانا انھیں ہضم نہیں ہو ریا تھا ۔وہ لمبا آدمی جسے میں نے دو مرتبہ کلاشن کوف کا بٹ مار کر بے ہوش کیا تھا وہ مجھے نمایاں نظر آرہا تھا ۔مجھے یقین تھا کہ اگر میں اب ان کے قابو میں آجاتا تو اس لمبے نے تو مجھے بغیر وضاحت سنے ہی گولی مار دینا تھی ۔
میرے دیکھتے ہی دیکھتے وہ دو پارٹیوں میں تقسیم ہوئے آدھے سیدھے جانے والے نالے میں گھس گئے جبکہ بقایا اس نالے میں آگئے جس میں میں موجود تھا ۔البتہ دائیں مڑنے والے نالے کو انھوں نے نظر انداز کر دیا تھا ۔
اسی وقت میرے ذہن میں یہ خیال آیا کہ اگر وہ نیچے ہی نیچے چلتے ہوئے آگے بڑھتے ہیں تو مجھے وہیں چھپے ہوئے ان کے آگے نکل جانے کا انتظار کرنا چاہیے ،اس کے بعدمیں واپس جا کر کیندار جانے والے نالے میں گھس کر خود کو محفوظ کر سکتا تھا ۔اس طرح ان کے تعاقب سے بھی میری جان چھوٹ جاتی اور میری منزل بھی کھوٹی نہ ہوتی ۔
لیکن جب میں نے اس پارٹی کومزیدتین حصوں میں منقسم ہوتے دیکھا تو مجھے اپنے منصوبے میں ترمیم کرنا پڑی ۔ان میں سے چا رآدمی نالے کے بائیں کنارے کی طرف بڑھے اور پھیل کر ڈھلان پر چڑھنے لگے ۔چار آدمی دائیں ڈھلان پر چڑھنے لگے کہ جس جانب میں چھپا ہواتھا ۔جبکہ باقی نالے کی تہہ میں آگے بڑھنے لگے ۔
اس کے ساتھ دوسری پارٹی کے آدمی جو سیدھے نالے میں گھسے تھے انھوں نے اپنے تین آدمی نالہ موڑ ہی پر چھوڑ دیے تھے۔گویا میں کسی طرح اپنی تلاش میں آنے والوں کی نظر میں آنے سے بچ بھی جاتا تب بھی واپس نہیں جا سکتا تھا ۔
اپنے منصوبے پر مٹی ڈالتے ہوئے میں جھاڑیوں کی آڑ میں آگے بڑھنے لگا ۔ان کی نظروں میں آنے سے بچنے کے لیے مجھے اپنی رفتار کم کرنا پڑی تھی ۔اب آگے بڑھنے کے بجائے میں اوپر چڑھنے پر زیادہ توجہ دے رہا تھا ۔پچاس ساٹھ گز چلنے کے بعد ایک دم چلغوزے کے درختوں کا سلسلہ شروع ہو گیا،ان درختوں کی وجہ سے میں زیادہ تیزی سے سفر کر سکتا تھا،کیونکہ اب کھڑا ہونے کے باوجود میں دور سے نظر نہیں آ سکتا تھا ۔
اس پہاڑی کی بلندی اتنی زیادہ نہیں تھی جلد ہی میں چوٹی کے قریب پہنچ گیا تھا ۔چوٹی سے پچاس ساٹھ گز نیچے ہی درختوں کا سلسلہ ختم ہو رہا تھا ۔پہلے تو میں نے خطرے سے بچنے کا سوچا اور انھی درختوں کے اندر رہتے ہوئے آگے بڑھنے کا فیصلہ کیا ،مگر پھر مجھے خیال آیا کہ دشمن کے بلندی پر پہنچنے کی صورت میں میں دونوں جانب سے گھیرے میں آ جاتا اور اس وقت کسی کی بھی نظر مجھ پر پڑ جاتی تو میرا وہاں سے بچ نکلنا مشکل ہو جاتا ۔یہ خیال آتے ہی میں نے محتاط انداز میں بلندی کی طرف قدم بڑھا دیے۔چھدری چھدری جھاڑیوں اور اکادکا پتھریلی چٹانوں کی آڑ لیتا ہوا میں حتی الوسع کوشش کر رہا تھا کہ کسی کی نظر مجھ پر نہ پڑ جائے ۔بد قسمتی یہ تھی کہ صبح سویرے ہی مجھے دشمن کا سامنا کر نا پڑ گیا تھا اس وجہ سے دن گزرنے ہی میں نہیں آرہا تھا ۔اگر اندھیرا چھا جاتا تو مجھے مزید سہولت مل جانا تھی ۔پھر میں دور سے کسی کو نظر نہ آتا اور اس اندھیرے میںپہاڑی علاقے میں ایک آدمی کو تلاش کرنا کسی بڑے اتفاق ہی کے مرہون منت ہو سکتا تھا ۔اورعموماََ ایسے اتفاقات ظہور پذیر نہیں ہوا کرتے ۔
لیکن اندھیرا چھانے میں ابھی آدھے دن سے زیادہ وقت پڑا تھا ۔اور اتنی دیر ان موذیوں کی نظروں سے بچ کر حرکت کرنا نہایت دشوار تھا ۔سب سے بڑھ کروہ یہاں کے مقامی تھے سارا علاقہ ان کا دیکھا بھالا تھا ۔وہ مجھ سے زیادہ تیزی سے ان پہاڑوں میں سفر کر سکتے تھے اورانھیں سانس کا مسئلہ بھی میدانی علاقوں کے لوگوں کی نسبت کم پیش آتا تھا۔
میں اپنا سفری تھیلابھی پیچھے ہی پھینک آیا تھا ۔اب میرے پاس جیبوں میں موجود نقدی،پنڈلی سے بندھے خنجر اور کلاشن کوف کے علاوہ ضرورت کاکوئی سامان باقی نہیں بچا تھا ۔کلاشن کا ایمونیشن بھی تھیلے ہی میں رہ گیا تھا۔شلوبرقبیلے سے فائرنگ کا تبادلہ ہونے کی صورت میں میں چند گولیوں سے کب تک ان کی پیش قدمی روک پاتا۔
وہ کافی طویل پہاڑی تھی ۔اور اوپر پہنچ کر میں کافی تیزی سے حرکت کر کے کسی مناسب نالے یا دوسری پہاڑی کا رخ کر سکتا تھا ۔اورجتنا زیادہ میں دور ہوتا جاتا میری تلاش میں آنے والوں کاایک دوسرے سے فاصلہ بڑھتا جاتا ۔اس فائدہ یہ ہوتا کہ اگر اتفاقاََ کوئی پارٹی مجھ سے ٹکرابھی جاتی تو دوسرے اس کی مدد کو بر وقت نہیں پہنچ سکتے تھے ۔اور اتنا موم کا پتلا میں بھی نہیں تھا کہ تین چار آدمیوں کے قابو میں آجاتا ۔
میں محتاط انداز میں حرکت کرتا ہوا دھیرے دھیرے سے چوٹی کے قریب پہنچتا جا رہا تھا ۔ایک گھنی جھاڑی کے قریب پہنچ کر میں لمحہ بھر سانس لینے کو رکا ،وہاں سے چوٹی تک پندرہ بیس قدم کا فاصلہ باقی تھا لیکن رستے میں کوئی نظری آڑ میسر نہیں تھی جس کا سہارا لے کر میں اوپر پہنچ سکتا ۔لیکن بلندی پر پہنچنا بھی ضروری تھا اس لیے خطرہ مول لیے بغیر کوئی چارہ نہیں تھا ۔نالے کی طرف نظر دوڑانے پر مجھے کوئی نظر نہ آیا کہ وہاں سے نہ تو نالے کی تہہ نظر آتی تھی اور نہ نالے میں موجود کوئی شخص اس جگہ کو دیکھ سکتا تھا ۔البتہ میرے پیچھے ڈھلان چڑھنے والے افراد مجھے دیکھ سکتے تھے ،اسی طرف نالے کے دوسرے کنارے پر ڈھلان چڑھنے والوں کی نظر بھی اس جانب اٹھ جاتی تو انھیں میں نظر آسکتا تھا ،کیونکہ نالے کی چوڑائی اتنی زیادہ نہیں تھی ۔دل ہی دل میں خدا کو یاد کرتے ہوئے میں نے اوپر کی طرف قدم بڑھا دیے ۔وہ تھوڑا سا فاصلہ میں نے دوڑ کر طے کرنے کی کوشش کی تھی ۔گو بلندی پر دوڑنا قریباََ ناممکن ہوتا ہے کہ آکسیجن کی کمی کی وجہ سے سانس پھولنے تو کیا اکھڑنے لگتا ہے ،لیکن چند قدم لینے میں کوئی مضائقہ نہیں تھا ۔اور پھر میں اوپر پہنچ کر ایک پتھر کی آڑ لینے ہی والا تھا کہ مخالف پہاڑی کی طرف سے تڑتڑاہٹ کی آواز ابھری اور بلا شک و شبہ اس فائرنگ کا نشانہ میری ذات تھی ۔بالکل آخری لمحات میں میں دیکھ لیا گیا تھا بہ قول شاعر ....
قسمت کی خوبی دیکھیے ٹوٹی کہاں کمند
دو چار ہاتھ جب کہ لب بام رہ گیا
گولی چلانے والا کا نشانہ خطا جانے کے باوجود میرا مقصد پورا نہیں پایا تھا ۔نظر آکر میں نے ایک بار پھر انھیں ہدف مہیا کر کے اپنے گرد گھیرا ڈالنے کا موقع دے دیا تھا ۔بہ ہر حال میرے پاس سوگ منانے یا سر پیٹنے کا وقت نہیں تھا ۔دوسری جانب اترنے کے بجائے میں نے بلندی پر ہی آگے بڑھنا شروع کر دیا ۔وہ پہاڑی پانچ چھے سو گز طویل تھی ۔اس کا رخ قریباََجنوب مغرب بن رہا تھا ۔فائرنگ کی آواز تواتر سے آنا شروع ہو گئی تھی ۔گو اب میں ان کی نظروں سے اوجھل تھا لیکن ان کی فائرنگ کے باعث دائیں بائیں پھرنے والی تمام پارٹیاں اس جانب متوجہ ہو گئی تھیں ۔اس کے ساتھ لازمی بات ہے انھوں نے یہ بات مخابرے پر بھی دوسری پارٹیوں کو بتا دی ہو گی ۔تھکن محسوس کرنے کے باوجود میری ٹانگوں میں بجلی بھرگئی تھی اور میں جلد از جلد وہاں سے دور ہو کر کسی ایسی جگہ پہنچنا چاہتا تھا جہاں میری تلاش کے لیے انھیں دوبارہ منتشر ہونا پڑ جاتا ۔ بائیں جانب موجود نالا اس پہاڑی کے ساتھ ساتھ جنوب مغرب کی جانب مڑ رہا تھا ،یقینا نالے کی تہہ میں موجود آدمیوں نے سامنے کی طرف آکر مجھے پکڑنے کی کوشش کرنا تھی ۔البتہ اس پہاڑی کے دائیں جانب جو دو تین نالے لگ رہے تھے میں ان میں سے کسی نالے میں اتر سکتا تھا اور میںنے ایسا ہی کیا ۔ایک نالا چھوڑ کر دوسرے کے نظر آتے ہی میں ڈھلان اترنے لگا۔ اب میرے قدموں میں پہلے سے زیادہ تیزی آگئی تھی ۔میں بہ مشکل ایک تہائی ڈھلان اتر پایا تھا کہ مجھے عقب میں فائرنگ کی آواز سنائی دی ۔وہ چاروں آدمی جو میرے پیچھے پیچھے اس ڈھلان پر چڑھ رہے تھے یہ معلوم ہوتے ہی کہ میں بلندی پر ہوں انھیں نے اوپر پہنچتے ہوئے دیر نہیں لگائی تھی ۔بہ ہر حال ابھی تک وہ مجھ سے دور تھے اور اتنے فاصلے سے وہ مجھے نشانہ نہیں بنا سکتے تھے ۔اپنے قدموں میں مزید تیزی لاتے ہوئے میں حتی الوسع کسی آڑ کو اپنے عقب میں رکھ کر آگے بڑھتا گیا ۔نالے میں اترنے کے بعد ہی میں اگلی چڑھائی چڑھ سکتا تھا ۔
جونھی میں نالے میں اترا ایک مرتبہ پھر عقب میں فائر کی آواز سنائی دینے لگی ۔وہ مجھے اپنی نگاہوں سے اوجھل نہیں ہو نے دے رہے تھے ۔سامنے کی پہاڑی پر زیادہ درخت نہیں تھے لیکن اس پر چڑھنے کے علاوہ میرے پاس کوئی چارہ کار نہیں تھا ۔نیچے اترتے وقت ایک اور پریشان کن بات میرے مشاہدے میں آئی تھی ،کہ جس نالے میں میں اترا تھا وہ اس سیدھے نالے سے ٹکرا رہا تھا جہاں شلوبر قبیلے والوں کی دوسری پارٹی میری تلاش میں گئی تھی ۔اس لیے بجائے نالے میں آگے بڑھنے کے میرا بلندی پر پہنچنا ضروری تھا ۔
دوڑتے دوڑتے میں یہ سب کچھ طے کر چکا تھا ،اس لیے نالے میں رکنے کے بہ بجائے میں نے بلندی کا سفر شروع کر دیا تھا ۔ایک بار پھر میرا سانس پھولنے لگا تھا لیکن وہ وقت سانس بحال کرنے کا نہیں تھا ۔غزنی خیل قبیلے کے ساتھ ہمدردی کرنا مجھے کچھ زیادہ ہی مہنگا پڑ رہا تھا ۔شلوبر قبیلے والے غزنی خیلوں پر آیا ہوا غصہ مجھ پر نکال رہے تھے ۔یا شاید ان کی نگاہ میں میرا قصور ناقابل معافی تھا ۔حالانکہ اپنے تیئں میں نے ان کے کسی آدمی کو موت کے گھاٹ نہیں اتارا تھا ،ورنہ بازو یا ٹانگ پر لگنے والی گولی کو سر میں مارنا میرے لیے کوئی مشکل کام نہیں تھا ۔
میری کوشش یہ تھی کہ کسی چٹان ،جھاڑی یا درخت وغیرہ کی آڑ لے کر چلوں ۔ان کے نالے میں اترنے تک میں کلاشن کوف کی کارگر رینج سے دور نکل جانا چاہتا تھا ورنہ نالے میں کھڑے ہو کر وہ مجھے آسانی سے نشانہ بنا لیتے ۔
(ویسے ایک بات میں قارئین کی معلومات کے لیے پہلے بھی بیان کر چکا ہوں کہ اونچائی اور نشیب میں فائر کرتے وقت کسی بھی ہتھیار کی کارگر رینج بڑھ جایا کرتی ہے ،لیکن یہ سنائپروں کا طریقہ کار ہے اور یہ حساب ایک کلیے کے تحت کیا جاتا ہے ، عام آدمی اس بات سے واقف نہیں ہوتا ہے )
پوری کوشش کے باوجود میں مطلوبہ بلندی تک نہیں پہنچ پایا تھا کہ وہ بھاگتے ہوئے نیچے آرہے تھے ۔میں بہ مشکل دو سو میٹراوپر پہنچا ہوں گا کہ انھوں نے نالے میں پہنچ کر فائرنگ شروع کر دی ۔
فائر کی آواز کانوں میں پڑتے ہی میں فوراََ نیچے لیٹا اور ایک قریب پتھر کی آڑ لے کر جوابی فائرنگ کے لیے تیار ہو گیا ۔وہ چاروں بغیر کسی آڑ کا سہارا لیے نالے درمیان میں کھڑے تھے ۔میری کلاشن کوف کا سیفٹی لیورسنگل راﺅندپرسیٹ تھا ۔مطلوبہ رینج لگا کر میں نے شست لے کر درمیانی آدمی کی ٹانگوں کو نشانہ بنانے لگا۔یوں بھی ان کے رکے ہونے کی وجہ سے وہ آسان ہدف کی صورت اختیار کر گئے تھے ۔لبلبی دباتے ہی مذکورہ آدمی نیچے گر گیا تھا ۔اس کے ساتھ ہی باقی آڑ کی تلاش میں پہاڑی کی جڑ کی طرف بھاگے ۔ان کے چھپنے کا تماشا دیکھنے کے بجائے میں بلندی پر چڑھنے لگا ۔پہاڑی کی جڑ میں چھپنے کی وجہ سے میں بھی ان کی نظروں سے اوجھل ہو گیا تھا ۔اور جلد ہی انھیں اس بات کا احساس ہوجانا تھا ۔ اور میرے گمان کے مطابق تھوڑی دیر بعد ہی ان کی طرف سے فائرنگ شروع ہو گئی ۔وہ نالے کے دوسرے کنارے پر جا کر کسی پتھر وغیرہ کی آڑ لے کر فائرنگ کر رہے تھے ۔اتنی دیر میں میں مزید دور ہو گیا تھا ۔دائیں بائیں پڑے پتھروں سے ٹکرانے والی گولیوں نے مجھے فوراََ ہی یہ باور کر ادیا تھا کہ میں اب تک ان کی رینج ہی میں تھا ۔
ایک مرتبہ پھر مناسب آڑ کے پیچھے لیٹ کر میں ان کی طرف متوجہ ہو گیا ۔زخمی آدمی اب تک اسی جگہ پر موجود تھا ۔زمین پر بیٹھ کر وہ اپنی ٹانگ پر کپڑا لپیٹ رہا تھا کیونکہ خون کے بہاﺅ کو روکنے کے لیے یہ کام نہایت ضروری تھا ۔ میں اگر چاہتا تو آسانی سے اس کا عدم آباد کا ٹکٹ کٹوا سکتا تھا ،لیکن اب تک میں انھیں جان سے مارنے سے گریز کر رہا تھا ۔
میں نے فائر کرنے والوں کی پوزیشنوں کا جائزہ لیا دو آدمی آڑ کے اوپر سے فائر کر رہے تھے اور ان کے سر میں گولی مارنا اتنا مشکل نہیں تھا ۔تیسرا آدمی پتھر کی آڑ کی دائیں جانب سے فائر پر شروع تھا۔ میں نے اسی کے کندھے پر نشانہ سادھ کر فائر کر دیا ۔اس کی چیخ سنتے ہی باقی دونوں مکمل طور پر پتھر کے پیچھے چھپ گئے تھے ۔
میں وقت ضائع کیے بغیر دوبارہ اوپر چڑھنے لگا ۔اس مرتبہ مجھے نشانہ بنانے کے بجائے وہ اپنے ساتھیوں کو سنبھالنے لگے ۔اس دوران میں ان کی رینج سے نکل گیا تھا ۔بلندی پر پہنچتے ہی میں نے دو تین منٹ رک کر سانس سیدھا کیا اور پھر ایک طرف کوبڑھ گیا ۔
دشمن نے اوپر چڑھنے کی کوشش نہیں کی تھی ۔چار میں سے دو زخمی ہو گئے تھے اور زخمی ساتھیوں کو اکیلا چھوڑ کر انھوں نے میرا تعاقب کرنا مناسب نہیں سمجھا تھا ۔یہ بھی ممکن تھا کہ انھوں نے ریڈیو سیٹ کے ذریعے اپنے دوسرے ساتھیوں کو وہاں بلا لیا ہو۔میری بلا سے کوئی وجہ بھی تھی مجھے جلد از جلد وہاں سے دور نکلنا تھا ۔بیٹھے بٹھائے مفت کی مصیبت گلے پڑ گئی تھی ۔نہ روشن خان مجھے اس دن سیلاب خان کے پاس لے جاتا اور نہ میرا سفر کھوٹا ہوتا ۔اس ہنگامے میں پھنسنے پر اگر میرا کوئی فائدہ ہوا تھا توبس اتنا کہ نوشاد گل کے ذریعے مجھے تھوڑی بہت معلومات مل گئی تھی ۔وہ بھی ادھوری سی کہ وہ ٹریسی اور البرٹ بروک کے ساتھ ایک بار غزنی خیل گیا تھا ۔اب نامعلوم وہ مستقل وہیں رہتے تھے یا ایک بار ہی کسی وجہ سے وہاں گئے تھے ۔خیر کچھ بھی تھا اب مجھے ایک بار تو غزنی تک جانا تھا ۔اگر البرٹ مجھے وہاں نہ بھی ملتا تب بھی شاید اس کے بارے کوئی ہلکا سا سراغ مل جاتا ۔البرٹ سے بھی بڑھ کر مجھے میجر جینیفر ہنڈسلے کو تلاش کرنا تھا ۔ قوی امید تھی کہ اس معاملے میں وہ میری مددضرور کرتی ۔گو اس بارے وہ گزشتا ملاقات میں سرسری سی معذرت کر چکی تھی ،مگر اس وقت میں نے اس پر اتنا زور بھی نہیں دیا تھا ۔یہ بھی ممکن تھا کہ وہ واپس لوٹ چکی ہوتی ۔بہ ہر حال یہ بعد کی باتیں تھیں اس وقت تو مجھے جان بچانے کا مشکل مرحلہ درپیش تھا ۔ شلوبر قبیلے کے لوگ پیر تسمہ پا کی طرح میرے پیچھے پڑے تھے ۔میرے تعاقب میں آنے والے گو اس پہاڑی کے نیچے ہی رک گئے تھے مگر ابھی تک میں خطرے کی حدود سے نہیں نکلا تھا ۔
پہاڑی آگے جا کر ایک دوسرے بلند پہاڑ سے مل رہی تھی ،درمیان میں کوئی نالہ وغیرہ بھی نہیں تھا ۔دوسری پہاڑی کی انتہائی بلندی پر مجھے برف کی سفیدی نظر آ رہی تھی ۔میرے پاﺅں میں اس وقت سپورٹس شوز تھے،گلگارے کے والد شمریز خان کے بوٹ میرے سفری تھیلے ہی میں رہ گئے تھے ۔ایک بار تو میں نے اوپر نہ چڑھنے کا سوچا ،کیونکہ برف کی وجہ سے اپنے ساتھ پیش آنے والا حادثہ مجھے بھولا نہیں تھا ،لیکن پھر یہ سوچ کر کہ ۔”میں نے کون سا وہاں رہنا ہے ،اس بلندی کو عبور کر کے آگے گزر جاﺅں گا ۔“
یہ سوچتے ہی میرے قدم ایک بار پھر بلندی کی جانب بڑھ گئے ۔کافی مشکل چڑھائی تھی ۔ مجھے صبح سے مسلسل کبھی دوڑنا پڑ رہا تھا اور کبھی چڑھائیاں چڑھنا پڑ رہا تھا ۔ایسی صورت میں تھکن ہونا اچنبھے کی بات نہیں تھی ۔البتہ میں ایسے حالات میں جینا میرے لیے کوئی نئی بات نہیں تھی ۔ابھی تک مجھ میں کافی جان موجود تھی اور میں اتنا نہیں تھکا تھا کہ گر پڑتا ۔
وہاں نصف بلندی تک درخت موجود تھے ۔ جوں جوں میں بلند ہوتا گیا تیز ہوا کے ساتھ سردی بھی بڑھتی گئی ۔گو چڑھائی چڑھتے ہوئے زیادہ مشقت کی وجہ سے پسینہ آجاتا ہے اور سردی کم ہی لگتی ہے ،مگر انسان کو سردی کے بڑھ جانے کا احساس ضرور ہو جاتا ہے ۔
گھڑی دیکھنے پر سوئیاں ایک کا ہندسہ عبور کرتی نظر آئیں۔مجھے دوڑتے، بھاگتے ،نشیب و فراز عبور کرتے قریباََ ساڑھے پانچ گھنٹے ہورہے تھے ۔کیونکہ غزنی خیل سے میں صبح آٹھ بجے کے قریب روانہ ہوا تھا ۔
مزید آدھے گھنٹے بعد میں اوپر پہنچ گیا تھا ۔چند لمحے میں سستانے بیٹھا لیکن ٹھنڈی ہوا میرا مزاج پوچھنے لگی تھی ۔آرام کا ارادہ ترک کرتے ہوئے میں کھڑا ہو گیا ۔دوسری جانب نیچے اترنے سے پہلے میں نے پیچھے مڑ کر نگاہ دوڑائی ،حد نگاہ تک پہاڑی سلسلے نظر آرہے تھے ۔میرے پاس دوربین موجود نہیں تھی ورنہ میں اپنے دوستوں کی حرکت دیکھنے کی کوشش ضرور کرتا ۔
نیچے اترتے وقت میری رفتار کافی تیز تھی ۔بیس پچیس منٹ میں میں دوسری جانب موجود نالے میں پہنچ گیا تھا ۔نالے میں بہتا پانی دیکھ کر مجھے یاد آیا کہ صبح سے میں پانی نہیں پی سکا تھا ۔ہاتھوں کا اوک بنا کر میں چھوٹے بڑے پتھروں کے درمیان جاری شفاف پانی سے لطف اندوز ہونے لگا ۔خوب سیر ہو کر ٹھنڈا پانی پینے کے بعد میں نالے ہی نالے میں آگے بڑھ گیا ۔بلندی پر چلنے والی تیز ہوا وہاں بالکل ہلکی ہلکی محسوس ہو رہی تھی ۔اس نالے کا رخ جنوب مغرب کی طرف تھا ۔نالے کے بائیں کنارے پر جھاڑیوں کا گھنا جھنڈ تھا جو بلندی کی طرف بتدریج چھدرا چھدرا ہوتا گیا تھا ۔البتہ دائیں جانب اکا دکا جھاڑیاں ہی نظر آرہی تھیں ۔اپنے جسم کو آرام پہنچانے کے لیے میں مناسب رفتار سے چل رہا تھا ۔لیکن سکون شایدمیری قسمت میں نہیں تھا ۔میں نالے موڑ سے سو ڈیڑھ سو گز ہی دور تھا کہ مجھے چھے سات آدمی موڑ مڑ کر اس جانب آتے دکھائی دیے ۔ٹھٹک کر رکتے ہوئے میں نے فوراََ قریبی جھاڑی کی آڑ لی ،مگر میری تیزی کسی کام نہیں آئی تھی ۔انھوں نے مجھے دیکھ لیا تھا اور بغیر سیکنڈ ضائع کیے انھوں نے کلاشن کوفوں کا رخ میری جانب کرتے ہوئے فائر کھول دیا ۔
ایک بار پھر میری دوڑ شروع ہو گئی تھی ۔چڑھائیاں سر کرنا اس دن میرے نصیب میں لکھ دیا گیا تھا ۔میں جھاڑیوں کی آڑ لے کر اوپر چڑھنے لگا ۔کندھے سے لٹکی ہوئی کلاشن کوف میں نے ہاتھوں میں پکڑ لی تھی ۔اگر وہ اسی طرح دوڑتے ہوئے آگے بڑھتے رہتے تو مجھے جلد ہی آلیتے ۔یہ سوچتے ہی میں نے رکتے ہوئے ان کی پیش قدمی میں رکاوٹ ڈالنے کی خاطر تین چار گولیاں فائر کر دیں ۔اپنے زخمی ساتھی انھیں بھولے نہیں تھے ۔وہ فوراََ پتھروں کی آڑ لے کر جوابی فائرنگ کرنے لگے ۔میرے پاس ایمونیشن نہ ہونے کے برابر تھا ،میں ان کے ہر فائر کا جواب نہیں دے سکتا تھا ۔اس لیے مزید گولیوں کی بچت کرتے ہوئے میں نے فائر بند کیا اور جھاڑیوں کی آڑ لے کر اوپر چڑھنے لگا ۔
جیسے ہی ان کی طرف سے فائرنگ رکی میں جھاڑیوں کی آڑ سے نکل کر ایک پتھر پیچھے لیٹا اور نالے کی طرف دیکھنے لگا ۔وہ محتاط انداز میں آگے بڑھنے لگے تھے ۔انھیں چند قدم لینے دینے کے بعد میں نے ایک گولی فائر کی لیکن جس جگہ سے میں فائر کر رہا تھا وہاں سے لیٹ کر انھیں نشانہ بنانا ممکن نہیں تھا۔ البتہ گولی چلنے کی آواز نے انھیں بدحواس ہو کر لیٹنے پر ضرور مجبور کر دیا تھا ۔امید تھی کہ وہ اتنی جلدی اٹھنے کی ہمت نہ کرتے ۔البتہ لیٹے لیٹے انھوں نے فائر ضرور کھول دیا تھا ۔
میں نے رینگتے ہوئے قریبی جھاڑی کی آڑ لی اور اور ایک بار پھر اوپر چڑھنے لگا ۔یہ ایک طویل اور لمبی ڈھلان تھی جو بتدریج اوپر کو اٹھتی گئی تھی ۔نقشہ بینی کی اصطلاحات میں ایسی ڈھلان کو پہاڑ کا بازو کہتے ہیں یعنی پہاڑ کی وہ شاخ جس کی بلندی بتدریج کم ہو کر زمین سے مل جائے ۔
بیس پچیس قدم اوپر جاتے ہی مڑ کر دیکھنے پر وہ مجھے حرکت کرتے نظر آئے ،مگر اب وہ جھاڑیوں کے قریب پہنچ چکے تھے اور میرے گولی فائر کرنے پر وہ زمین پر لیٹ کر آڑ لینے کے بجائے جھاڑیوں کی آڑ لینے کی کوشش کرتے ۔میں نے گولی ضائع کرنا مناسب نہ سمجھا اور قدموں میں تیزی پیدا کر دی ۔یقینا جھاڑیوں کی آڑ لیتے ہی انھوں نے بھی اپنی رفتار تیز کردینا تھی ۔مقامی ہونے کی وجہ سے وہ مجھ سے زیادہ تیز رفتاری سے پہاڑی چڑھ سکتے تھے ۔مگر میری مثال اس وقت ایسے ہرن کی سی ہو گئی تھی جو جان بچانے کے خوف میں وہ چوڑی کھائی بھی پھلانگ جاتا ہے جسے اس کا تعاقب کرنے والا طاقتور شیر عبور نہیں کر سکتا ۔
اکادکا فائر کی میرے کانوں میں تسلسل سے آرہی تھی ۔یقینا وہ گھنی جھاڑیوں کو فائر کے ذریعے چھان رہے تھے ۔کسی جھاڑی میں چھپنے کی تجویز بھی میرے زیر غور تھی لیکن ان کے گھنی جھاڑیوں پر فائر کرنے نے مجھے اس تجویز پر عمل کرنے سے باز رکھا تھا ۔
مختلف مقامات سے اٹھنے والی فائر وں کی آواز سے مجھے یہ اندازہ لگانے میں کوئی دقت پیش نہ آئی کہ وہ پھیل کر آگے بڑھ رہے تھے ۔جھاڑیوں کا جھنڈ زیادہ دیر تک میرا ساتھ نہیں نبھا سکتا تھا ۔میں اسی صورت میں بچ سکتا تھا کہ ان کے جھاڑیوں کے جنگل سے نکلنے سے پہلے بلندی پر پہنچ جاتا ۔
جلدہی میں ایسی جگہ پہنچ گیا تھا جہاں سے آگے اکا دکا جھاڑیاں ہی نظر آرہی تھیں ۔میں نے رفتار مزید تیز کر دی،مگر میں زیادہ دیر اپنی رفتار برقرار نہیں رکھ پایا تھا ۔میرا دل جیسے حلق کے رستے باہر آنے کو تیار ہو گیا تھا ۔مجبورا مجھے بھاگنا ترک کرنا پڑا ۔لمحہ بھر رک کر میں نے اپنے سانس بحال کیے اور پھر تیز قدموں سے اوپر چڑھنے لگا ۔
میں بہ مشکل سو ایک سو بیس گز ہی اوپر پہنچا ہوں گا کہ ایک مرتبہ پھر تیز فائرنگ کی آواز گونجی ۔ چند قدم کے فاصلے پر ایک بڑا پتھر پڑا تھا ۔اس کی آڑ لینے کے لیے میں نے رفتار بڑھائی مگر اس سے پہلے ہی مجھے یوں لگا جیسے میری دائیں ران میں کوئی گرم انگارہ گھس گیا ہو۔میں منھ کے بل نیچے گرا ۔اپنے ہاتھ سامنے ٹیکتے ہوئے میں نے خود کو زیادہ زخمی ہونے سے بچالیاتھا ۔وہاں سے رینگتے ہوئے پتھر تک جانا ناممکن تھا ۔کوشش کر کے میں سیدھا ہوا اورجھک کر پتھر کی جانب بڑھا ۔میری دائیں ٹانگ سے بڑی تیزی سے خون بہنا شروع ہو گیا تھا ۔پتھر کے قریب پہنچنے تک مجھے ایک اور جھٹکا لگا ،اس مرتبہ گولی میری دائیں پنڈلی کا گوشت پھاڑتی ہوئی نکل گئی تھی ۔بائیں پاﺅں پر زور دیتے ہوئے میں نے ایک جھٹکا لیا اور پتھر کے پیچھے پہنچ گیا ۔
آڑ میں جاتے ہی میں نے بغیر وقت ضائع کیے گلے سے لپٹا مفلر کھول کر اپنی ران پر لپیٹنے لگا۔ گولی ران کے اندر ہی رہ گئی تھی ۔مگر اس وقت گولی نکالنے سے زیادہ خون کے بہاﺅ کو روکنا ضروری تھا۔ران پر کس کر مفلر لپیٹنے کے بعد میں نے خنجر نکال کر اپنی قمیص کا دامن پھاڑا اور اسے دو ٹکڑوں میں بانٹ کر پٹی کی شکل دیتے ہوئے پنڈلی پر لپیٹنے لگا ۔
پہلے پہل گولی کا زخم اتنی تکلیف نہیں دیتا مگر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ زخم میں درد اور جلن بڑھتی جاتی ہے ۔خاص کر جس زخم میں گولی اندر ہی رہ جائے وہ زیادہ تکلیف دیتا ہے ۔
دونوں زخموں پر پٹی باندھنے کے بعد میں نیچے کی طرف متوجہ ہوا ۔یقینا دشمن کو معلوم ہو گیا تھا کہ مجھے گولی لگ چکی ہے ۔تین آدمی بڑی تیز رفتاری سے اوپر کی جانب بڑھتے نظر آئے ۔سب سے آگے والے کے سر کا نشانہ لیتے ہوئے میں سانس روکا اور ٹریگر دبا دیا ....بس بہت رعایت ہو گئی تھی ۔میری جان چھوڑنے پر وہ یوں بھی آمادہ نہیں ہورہے تھے ،یہاں تک کہ اب تو سچ مچ مجھے جان کے لالے پڑ گئے تھے ۔وہ اچھل کر پیچھے کو الٹا اور نیچے لڑھکنے لگا ۔اس ساتھ آنے والے فوراََ نیچے لیٹ گئے اس کے ساتھ انھوں نے موسلا دھار فائر کھول دیا ۔میں اس پتھر کے پیچھے محفوظ تھا ۔البتہ ان کی گولیوں سے بچنے کے لیے مجھے اپنا سر بھی آڑ کے پیچھے کرنا پڑ گیا تھا ۔دونوں نے پوری پوری میگزین ہی خالی کر دی تھی ۔جوں ہی ان کا فائر رکا میں نے اس پتھر کے دائیں جانب سے کلاشن کوف کا دہانہ نکال کر شست سادھ لی ۔ایک آدمی کو تو پتھر کی آڑ مل گئی تھی دوسرا یوں ہی لیٹ گیا تھا ۔اس کے ساتھ اس نے یہ بے وقوفی بھی کی تھی کہ کہنیاں ٹیک کر درست فائر کرنے کے لیے اپنا سر زمین سے بلند کیا ہوا تھا ۔ان کی دو میگزینوں کے جواب میں میں نے ایک اور گولی فائر کر دی ۔ہدف نے اٹھا ہوا سر اپنی کلاشن کوف پر ٹیک دیا۔ماتھے میں پیوست ہونے والی گولی نے اسے زیادہ تڑپنے کا موقع نہیں دیا تھا ۔
اتنی دیر میں پتھر کے پیچھے آڑ لیے ہوئے آدمی نے میگزین تبدیل کرلی تھی ۔اپنے ساتھی کا انجام دیکھتے ہی بدحواسی میں اس نے ایک بار پھر ٹریگر یوں دبایا کہ انگلی اٹھانا اسے بھول گیا تھا ۔میگزین زیادہ دیر تک گولیاں فراہم نہیں کر سکی تھی ۔برسٹ کی صورت فائر ہونے والی تیس گولیاں ختم ہونے میں وقت ہی کتنا صرف ہوتا ہے ۔زیادہ تر گولیاں اس پتھر سے ٹکرائی تھیں جو مجھے آڑ مہیا کیے ہوئے تھا ۔کچھ دائیں بائیں زمین میں لگ کر گرد اڑانے کا سبب بنی تھیں ۔
میں اس کے فائر کے رکنے کا منتظر رہا ۔جونھی اس کا فائر رکا میں ایک بار پھر پتھر کی آڑ کے دائیں جانب سے اس طرف جھانکنے لگا ۔(قارئین یہ بات یاد رکھیں کہ دائیں ہاتھ سے فائر کرنے والے فائرر کے لیے کسی بھی آڑ کی دائیں طرف کا استعمال ہی مناسب رہتا ہے ،کیونکہ آڑ کی بائیں جانب کا استعمال کرنے کی صورت میں اس کا زیادہ جسم دشمن کو نظر آسکتا ہے )
وہ پتھر کے عقب میں بے حس لیٹا تھا ۔میرے خیال میں وہ میگزین تبدیل کر رہا تھا ۔مگر منٹ بھر بعد بھی جب اس کی جانب سے فائر نہ ہوا تو مجھے شک ہونے لگا کہ اس کے پاس گولیاں ختم ہو چکی ہیں۔
اسی وقت مجھے درختوں کے جھنڈ سے ان کے باقی چارساتھی آگے بڑھتے نظر آئے ۔یقینا وہ اپنے ساتھیوں کے انجام سے بے خبر تھے تبھی تو یوں بے فکری سے آگے بڑھ رہے تھے ۔وہ بھی چونکہ میری طرف متوجہ تھا اس لیے اسے بھی اپنے ساتھی نظر نہیں آئے تھے ورنہ وہ انھیں ضرور متنبہ کرتا ۔میں نے فوراََ کلاشن کوف کی بیرل کا رخ آنے والوں کی طرف موڑا ،میرا ارادہ کم از کم دو آدمیوں کو نشانہ بنانے کا تھا ۔ درمیان والے آدمی کے سر کا نشانہ لیتے ہوئے میں نے لبلبی دبائی، اپنے پہلے ساتھی کی طرح وہ اچھل کر پیچھے گرا تھا ۔باقی تینوں نے فوراََ آڑ لینے کی کوشش کی لیکن اتنی دیر میں میں ایک اور بار ٹریگر دبا چکا تھا ۔ان کا چوتھا آدمی بھی مجھے مارنے کی حسرت لیے پہلے والے تین کے پاس پہنچ چکا تھا ۔کلاشن کوف کے آٹومیٹک ہونے نے میرے کام کو آسان بنا دیا تھا ۔
بچنے والے دونوں نے فائرنگ شروع کر دی۔ان کے اضطراری فائر سے گھبرا کر ان کے آگے لیٹے ہوا ساتھی گھبرا کربا آواز بلند انھیں فائر سے منع کرنے لگا ۔کیونکہ وہ ان کے اور میرے درمیان میں لیٹا ہوا تھا ۔انھیں منع کرتے کرتے وہ اس پتھر کی اونچائی کا حساب نہیں رکھ پایا تھا جس کے پیچھے وہ چھپا ہوا تھا ۔اس کی کھوپڑی کا عقبی حصہ پتھر کے اوپر سے جھلکا اور مجھے بس اتنا ہی ہدف درکار تھا ۔سو گز سے چلائی ہوئی کلاشن کوف کی طاقتور گولی نے کھوپڑی کے عقب سے گھس کر اسے دنیا کی ہر فکر اور اندیشے سے دور کر دیا تھا ۔
مرنے سے پہلے اس نے بچنے والوں دونوں ساتھیو ں کو مرنے والوں کے انجام سے با خبر کر دیا تھا ۔بلکہ ان دونوں نے بھی دیکھ لیا تھا ٹانگوں اور بازوﺅں میں لگنے والی گولیاں اب سر اور ماتھے میں پیوست ہونا شروع ہو گئی تھیں ۔
اچانک ان میں سے ایک آدمی نے اٹھ کر نیچے کی طرف بھاگنا شروع کر دیا ۔یقینا وہ خوفزدہ ہوگیا تھا ۔لیکن اب چاہے وہ خوفزدہ ہو کر ، چاہے کسی مقصد سے بھاگتے میں انھیں رعایت دینے کے لیے تیار نہیں تھا ۔وہ بہ مشکل تین قدم ہی لے پایا تھا ۔اس سے آگے گولی نے اسے جانے کی اجازت نہیں دی تھی۔اس کے تڑپتے ہوئے جسم کو ایک بڑے پتھر نے نیچے لڑھکنے سے روکا تھا ۔
اب ہم دو بچ گئے تھے ۔ممکن تھا کہ اسے مزید ساتھیوں کی کمک مل جاتی ،مگر فی الحال وہ بھی اکیلا تھا ۔اپنے آخری ساتھی کے ہلاک ہوتے ہی اس نے بھی اپنی کلاشن کو ف کو برسٹ پر سیٹ کرتے ہوئے چھوٹے چھوٹے برسٹ میری جانب فائر کرنے لگا ۔مجبورا مجھے پتھر کے پیچھے سر چھپانا پڑا ۔
اچانک اس کے فائر سے مجھے محسوس ہوا جیسے وہ کھڑا ہو گیا ہو ۔اس کے ساتھ ہی اس کا فائر آہستہ آہستہ دور ہٹنے لگا ۔یقینا وہ بھاگنے کی کوشش میں تھا ۔اور اس مقصد کے لیے وہ مجھے سر اٹھانے نہیں دینا چاہتا تھا ۔وہ ہر برسٹ تین چار گولیوں کا فائر کر رہا تھا ۔میں اس کے فائر ہونے والے برسٹ گننے لگا۔ساتویں اٹھویں برسٹ پر میں نے رسک لیتے ہوئے پتھر سے جھانکا ۔وہ ایک گھٹنا زمین پر ٹیکے نئی میگزین لگا رہا تھا ۔اگر مجھے پتھر سے جھانکنے میں دو سیکنڈ کی بھی دیر ہوجاتی تووہ دوبارہ فائر شروع کر چکا ہوتا۔جب میں نے جھانکا اس وقت وہ کلاشن کوف کو کاک کر رہا تھا ۔جبکہ میری کلاشن کوف پہلے سے کاک تھی اور یقینا وہ مجھ سے تیز رفتا ر فائر نہیں تھا ۔نئی میگزین سے گولی چلانے کی حسرت دل میں لیے وہ اپنے ساتھیوں سے جا ملا تھا ۔
آخری دشمن کے مرتے ہی میں نے اپنا سر پتھر پر ٹیک دیا تھا ۔ایک دم مجھے اپنے زخموں میں ہونے والی تکلیف کا احساس ہونے لگا ۔مجھے نہایت ناگفتہ بہ صورت حال کا سامنا تھا ۔میری دائیں ٹانگ میں دو گولیاں لگی تھیں ۔پٹی باندھنے کے باوجود خون رس رہا تھا ۔اور پوری ٹانگ جیسے پھوڑا بنی ہوئی تھی۔ایسی حالت میں پہاڑی پر چڑھنا تو مشکل ہی نہیں ناممکن تھا ۔البتہ بہت زیادہ ہمت کر کے نیچے اترنے کی کوشش کی جا سکتی تھی ۔
کلاشن کوف کی میگزین اتار کر دیکھنے پر مجھے فقط دو گولیاں نظر آئیں ۔میگزین لگا کر میں نے سیفٹی لگائی اور کلاشن کوف کا بٹ ڈنڈے کی طرح نیچے ٹیک کر اس کے سہارے کھڑا ہوگیا ۔میری ٹانگ میں اتنا شدید درد اٹھا تھا کہ کراہیں روکنے کے لیے مجھے سختی سے ہونٹ بھینچنے پڑ گئے تھے ۔
لمحہ بھر درد کو سہارنے کے بعد میں نے اترائی میں قدم بڑھا دیے ۔چند قدم لینے کے بعد ہی میں بے دم ہو کر بیٹھ گیا ۔درد بہت زیادہ بڑھ گیا تھا ۔دائیں ٹانگ جیسے مفلوج ہوتی جا رہی تھی ۔میں دائیں ٹانگ کونیچے لگانے کے بجائے بائیں ٹانگ پر کودتا ہوا نیچے کی طرف بڑھ رہا تھا ۔اچانک مجھے عقب میں آہٹ سنائی دی میں نے پیچھے مڑ کر دیکھا ،چار مسلح افراد ڈھلان سے نیچے آتے دکھائی دیے ۔
میری کلاشن کوف میں فقط دو گولیاں باقی تھیں ۔میرے اندازے کے مطابق جو آدمی سب سے پہلے میری گولی کا نشانہ بنا تھا ،اس کی میگزین میں گولیاں موجود ہونی چاہیے تھیں ۔وہ وہاں سے تھوڑے ہی فاصلے پر پڑا تھا ۔میں اس قابل نہیں تھا کہ تیزی سے حرکت کرتا ۔لیکن اب زندگی ،موت کا مسئلہ بن گیا تھا ۔میں نے تیزی سے حرکت کرنے کی کوشش کی اور دو تین قدم لیتے ہی میرا بایاں پاﺅں ایک چھوٹے سے پتھر کے اوپر آکر پھسلا ، میں منھ کے بل گر ااوراس کے ساتھ ہی لڑھکتے ہوئے نیچے جانے لگا۔ یوں لگ رہا تھا جیسے میری دائیں ٹانگ پر کوئی ہتھوڑے مار رہاہو۔ کوشش کے باوجود میں خود کوروک نہیں پارہا تھا ۔شاید میری مشکل ایک پتھر کی چٹان نے حل کی تھی ۔شاید میں اس لیے کہہ رہا ہوں کہ اس وقت تک میں اپنے حواس کھو چکا تھا ۔اور ایسے وقت میں جب دشمن سر پر پہنچ چکا ہو بے ہوش جانے کا مطلب زندگی سے ہاتھ دھو لینا تھا ۔میری ساری کوششیں اور تگ و دو رایگاں گئی تھیں ۔بہ قول شاعر
زندگی تم نے کب وفا کی ہے
اپنی خوش فہمی ہی بلا کی ہے
جاری ہے
قسط نمبر57
ریاض عاقب کوہلر
آنکھ کھلتے ہی میں چند لمحے بے دھیانی میں پڑا رہا ۔گو ایک سنائپر کا دماغ ہر وقت چوکنا ہی رہتا ہے اور نیند سے اٹھتے ہی اسے ماحول اور صورت حال کا اچھی طرح ادراک ہوتا ہے ۔مگر اس وقت میں نیند سے نہیں جاگا تھا بلکہ طویل بے ہوشی سے اٹھا تھا ۔
آہستہ آہستہ میرا شعور بیدار ہوا اور مجھے یاد آگیا کہ میں کہاں ہوں ۔مجھے حیرانی اس بات پر تھی کہ ابھی تک میں زندہ کیسے ہوں۔شلوبر قبیلے کے آدمیوں کو تو مجھے بغیر کسی تاخیر کے ہلاک کر دینا چاہیے تھا۔مگر میں نہ صرف زندہ تھا بلکہ ٹانگ، پنڈلی اور بازو پر بندھی ہوئی سفید پٹیاں بھی مجھے یہ باور کر ا رہی تھیں کہ بے ہوشی کے دوران ہی میرا آپریشن وغیرہ ہو چکا تھا ۔میں نے دائیں بائیں نظریں گھمائیں وہ جگہ مجھے کسی غار کی طرح لگی ،کیونکہ کمرے کی دیواریں اتنی کھردری اور بے ترتیب نہیں ہو سکتی تھیں ۔میں فرش پر بچھے ایک نرم گدے پر لیٹا تھا ۔سرہانے کی طرف دیوار میں گڑی کیل کے ساتھ ایک ڈرپ لٹکی تھی جس کا ایک سرا سوئی کے ساتھ میری کلائی سے جڑا تھا ۔میرے پاﺅں کی طرف ایک بیٹری پڑی تھی جس سے منسلک تار چھت میں لگے ایک ڈی سی بلب کو روشن کیے ہوئے تھی ۔دروازے کی جگہ ایک کالے رنگ کا کمبل لٹکا ہوا نظر آرہا تھا ۔اب یہ معلوم نہیں تھا کہ اس کے عقب میں دروازہ موجود بھی تھا یا نہیں ۔ اندر جلنے والے بلب کی وجہ سے رات دن کا اندازہ لگانا بھی مشکل ہو رہا تھا ۔
نہ جانے بے ہوشی کے دوران کتنا وقت گزر گیا تھا ۔میری کلائی پر بندھی ہوئی گھڑی غائب تھی۔ اسی طرح میرا لباس بھی تبدیل کردیا گیا تھا ۔جس طرح میری دیکھ بھال کی گئی تھی ،میرے ساتھ ایسا برتاﺅ شلوبر قبیلے والے تو کسی صورت میں بھی نہیں کر سکتے تھے ۔میں ذہنی ورزش میں مشغول ہو گیا ،لیکن کافی دیر اندھیرے میں ٹامک ٹوئیاں مارنے کے بعد بھی میں کسی نتیجے پر نہیں پہنچ سکا تھا ۔اور پھر میں انھی سوچوں میں غرق تھا کہ پردہ ہٹا کر کوئی اندر داخل ہوا ۔
آنے والے کے چہرے پر نظر پڑتے ہی میرا دل خوش گوار انداز میں دھڑکنے لگا تھا ۔وہ کمانڈر عبدالحق تھا ۔اسی کی وجہ سے میرا تعارف پہلی بار مجاہدین سے ہوا تھا اور اس کے بعد مجاہدین میرے کافی کام آئے تھے ۔
”آپ کو ہوش آگیا ہے۔“محبت بھرے انداز میں کہتے ہوئے وہ قریب آ کر بیٹھ گیا ۔
میں مسکرایا ۔”ہوش تو آگیا ہے مگر سمجھ میں کچھ نہیں آرہا ۔“
”جن مسلح آدمیوں کو دیکھ کر آپ بھاگنے کی ناکام کوشش میں بے ہوش ہوئے تھے وہ آپ کے دشمن نہیں مجاہدین تھے ۔“
میں نے سمجھ جانے والے انداز میں سر ہلایا۔”اس کا مطلب ہے میرا بے ہوش ہو جانا فائدہ مند رہا ،ورنہ میں نے مقابلے سے باز نہیں آنا تھا ۔“
کمانڈر عبدالحق نے قہقہہ لگایا ۔”یقینا ہمارے مجاہدین کے چند سانس بقایا تھے ۔“
میں خفیف ہوتا ہوا بولا۔”خیر ایسی بھی کوئی بات نہیں ۔“
”کسر نفسی ہے آپ کی ،ورنہ وہاں کافی لاشیں بکھری ہوئی نظر آئی ہیں اور تمام کے سر میں گولی لگی تھی ۔“یہ کہتے ہوئے اس نے پوچھا ۔”ویسے آپ کسی افغانی قبیلے سے کیسے ٹکرا گئے ۔یہ لوگ تو پاک آرمی کے دشمن نہیں ہیں ۔“
”لمبی کہانی ہے ۔“
وہ مسکرایا ۔”ایسی حالت میں کہانیاں سنانے کے علاوہ آپ کے پاس کوئی کام نہیں بچا ۔“
”پہلے تو آپ یہ بتائیں کہ مجاہدین وہاں کیسے آگئے اور انھوں نے مجھے پہچانا کیسے ۔“
”پہچانا کہاں ہے ،وہاں آپ اکیلے ہی زندہ بچے تھے اس لیے آپ کو لے آئے ۔یہاں خوش قسمتی سے میں خود موجود تھا ۔بس سب سے پہلے تو آپ کو طبی امدا د دی ،ٹانگ میں پھنسی گولی نکالی ،مرہم پٹی کی اور پھر کمزوری کی وجہ سے ڈرپ لگا دی ۔یہ پانچویں ڈرپ ختم ہوئی ہے ۔“یہ کہتے ہوئے اس نے میری کلائی سے سوئی نکال کر وہاں روئی رکھ کر دبا دی ۔
”گویا مجھے بے ہوش ہوئے دوسرا دن ہے ۔“
”کل شام کو آپ کو یہاں لایا گیا تھا ۔اور ابھی رات کے بارہ بجنے کو ہیں ۔“
”آپ سوئے نہیں ۔“
”ڈرپ ختم ہونے کا انتظار کر رہا تھا ۔“
میں نے پوچھا ۔”یہ جگہ غار کی طرح لگ رہی ہے ۔“
”یہ غار ہی ہے ۔جس جگہ آپ کا دشمنوں سے مقابلہ ہوا ہے اس سے تھوڑے ہی فاصلے پر ہمارا یہ ٹھکانہ موجود ہے ۔“
”یعنی میں نے بے دھیانی میں صحیح سمت اختیار کیے رکھی ۔“
”ہاں ۔“اس نے اثبات میں سرہلایا ۔”اوراب آپ تفصیل بھی بتا دیں کہ یہ لوگ کیوں آپ کے پیچھے پڑے تھے ۔“
جواباََ میں نے غزنی خیل اور شلوبر کی آپس کی لڑائی میں اپنے غلطی سے پھنس جانے کے متعلق بتانے لگا ۔ساری تفصیل سنتے ہی اس نے پوچھا ۔
”آپ نے افغانستان آنے کی وجہ نہیں بتائی ۔“
اس مرتبہ میں نے البرٹ بروک کے ہاتھوں بلیک میل ہونے اور اپنی بے گناہی کے ثبوت ڈھونڈنے کے متعلق ضروری تفصیل دہرا دی ۔پلوشہ کے ساتھ میری شادی کی خبر سن کر وہ خوش ہو گیا تھا ۔
”سب سے پہلے تو شادی کی مبارک ہو ۔“
”خیر مبارک بھائی !....مگر اب نہ جانے وہ کس حال میں ہو گی ۔“میں افسردہ ہو گیا تھا ۔
”پلوخان کسی سے مار کھانے والا نہیں ۔وہ میرا بہت لاڈلا شاگرد تھا۔تمام استادوں سے میں نے اس کی تعریف ہی سنی ہے ۔ایک مشن میں تو وہ میرے ساتھ بھی کام کر چکا ہے ،یقین مانو دل خوش ہو جاتا ہے اس کی کارکردگی دیکھ کر ۔“
”ہاں ،مگر اس وقت وہ پلو خان تھی اور ابھی پلوشہ ہے ۔“
وہ بے تکلفی سے بولا ۔”نام کی تبدیلی سے کچھ نہیں ہوتا یار !“
”بات نام کی نہیں جنس کی تبدیلی کی ہے بھائی !....ایک جوان لڑکی کو دشمنوں کے ہتھے چڑھنے کے بعد کیا مشکلات درپیش آسکتی ہیں اس بارے یقینا آپ مجھ سے بہتر جانتے ہوں گے ۔“
”یہ تو صحیح کہا ۔“اس نے اثبات میں سرہلایا۔”مگر آپ خواہ مخواہ برے گمان نہ پالیں اللہ پاک بہتر کرے گا ۔“
”ایک اسی ذات کا سہارا ہے ۔“میں نے امید ظاہر کی ۔
”تو اب آپ غزنی جائیں گے ۔“
میں نے کہا۔”ارادہ تو یہی ہے ۔“
”آپ کے زخم ٹھیک ہوتے کچھ وقت تو لگے گا اور میرا نہیں خیال کہ اس وقت تک البرٹ بروک وغیرہ آپ کے انتظار میں بیٹھے ہوں گے ۔“
”مجھے اپنا ہتھیار نظر نہیں آرہا ۔“دائیں بائیں نظریں دوڑاتے ہوئے میں نے موضوع تبدیل کیا ۔
”ساتھی وہاں پڑے سارے ہتھیار ہی سمیٹ لائے تھے اوران میں موجودکمانڈر نصراللہ خوجل خیل کی خاص کلاشن کوف پہچاننے میں مجھے ذرا بھی دقت نہیں ہوئی تھی ۔“
میں نے تحسین آمیز لہجے میں کہا ۔”بڑی تیز نظر ہے آپ کی ۔“
”وہ میرے استاد ہیں اور میں نے ان کے ہمراہ ان گنت معرکوں میں حصہ لیا ہے ۔ان کی کلاشن کوف اس لیے بھی خصوصی ہے کہ انھوں نے اعلان کیا تھا کہ یہ کلاشن کوف وہ ایسے شخص کو تحفہ میں دیں گے جو ان کی نظر میں اس کا صحیح حق دار ہوگا۔اورمیرا خیال ہے انھوں نے ایسا آدمی تلاش کرنے میں کوئی غلطی نہیں کی ہے ۔“
میں مزاحیہ انداز میں بولا ۔”یقینا آپ مذاق اچھا کر لیتے ہیں ۔“
”اچھا آپ سچ سچ بتائیں کہ استاد محترم نے یہ کلاشن کوف آپ کے حوالے کرتے ہوئے کیا فرمایا تھا ؟“
مجھے نصراللہ خوجل خیل کی باتیں اچھی طرح یاد تھیں ۔انھوں نے بھی کمانڈر عبدالحق اے ملتی جلتی ہی باتیں کی تھیں ۔یوں بھی مجاہدین کے درمیان میری نشانہ بازی کا کافی چرچا تھا ۔اور اس کی وجہ یہی تھی کہ کچھ تو مجھ میں قدرتی طور پر نشانے بازی کی صلاحیت موجود تھی اور کچھ یار لوگوں کی مبالغہ آرائی نے مجھے شہرت دے دی تھی ۔میں جواب سے پہلو تہی کرتے ہوئے بے پروائی سے بولا۔ ”یہ بعد کا مسئلہ ہے فی الحال تو مجھے بھوک لگی ہے ۔“
”اوہ مجھے خیال ہی نہیں رہا تھا ۔میں آپ کے لیے کچھ کھانے کو لاتا ہوں ۔“خفت بھرے انداز میں کہتے ہوئے وہ غار سے باہر نکل گیا ۔
٭٭٭
افغانستان کے مختلف پہاڑوں میں مجاہدین نے ٹھکانے بنا رکھے ہیں ۔وہ بھی مجاہدین کا ایک محفوظ ٹھکانہ تھا ۔اور میری خوش نصیبی کہ جس جگہ میرا شلوبر قبیلے سے آخری ٹاکرا ہوا یہ ٹھکانہ وہاں سے قریب ہی تھا ۔اس کی حیثیت رستے میں آنے والی ایک چوکی کی سی تھی کہ پاکستانی سرحد عبور کرنے والے مجاہدین وہاں ایک دن گزار کر آگے بڑھ جاتے تھے ۔وہاں مجاہدین کی محدود تعداد ہی رہتی تھی ،اس کے باوجود اس ٹھکانے کے دائیں بائیں ہونے والی کسی بھی کارروائی کو وہ نظر انداز نہیں کر سکتے تھے ۔
اس دن بھی جب میرا شلوبروں سے فائرنگ کا تبادلہ ہورہا تھا انھیں بھی وہ فائرنگ سنائی دے گئی تھی ۔وہاں کمانڈر عبدالحق ہی امیر تھے ۔انھوں نے چار آدمی صورت حال کا جائزہ لینے بھیجے ۔اوران چاروں کو زندہ حالت میں صرف میں ہی ملا تھا ،اس لیے وہ مجھے اٹھا لائے ۔کمانڈر عبدالحق نے مجھے دیکھتے ہی پہچان لیا تھا ۔میری ٹانگ کاآپریشن انھوں نے خود ہی کیا تھا ۔کچھ بے ہوشی کے ٹیکے اور کچھ کمزوری کی وجہ سے مجھے انتیس ، تیس گھنٹوں بعد ہی ہوش آ سکا تھا ۔
میرے ہوش میں آنے کے اگلے دن شلوبر قبیلے کا ایک وفد وہاں پہنچ گیا تھا ۔اپنی لاشیں وہ ایک دن پہلے ہی اٹھا کر لے گئے تھے ۔لیکن اب ان کی آمد کا مقصد اپنے ہتھیاروں کی واپسی اور مجھے تحویل میں لینا تھا ۔کمانڈر عبدالحق کو ساری تفصیل معلوم تھی ۔ان کے ہتھیار واپس کر تے ہوئے کمانڈر عبدالحق نے الٹا انھیں مطعون کیا کہ ان کی وجہ سے ایک مجاہد زخمی ہواہے ۔چونکہ اس ساری کارروائی میں شلوبر قبیلے کی غلطی زیادہ تھی اس لیے جلد ہی انھیں مجھے تحویل میں لینے کے مطالبے سے دست بردار ہونا پڑا۔ میرا غزنی خیل قبیلے کا ساتھ دینا اپنی جان بچانے کی وجہ سے تھا ۔اور جب تک شلوبروں نے مجھے مجبور نہیں کیا ،تب تک میں نے ان کے کسی آدمی کو جان سے بھی نہیں مارا تھا ۔البتہ آخری معرکے میں مجبور ہو کر مجھے انتہائی اقدام اٹھانا پڑا تھا۔اسی بات کو کمانڈر عبدالحق نے نہایت وضاحت سے انھیں سمجھا دیا ،کہ اگر میں چاہتا تو جتنے آدمی زخمی کیے تھے ان تمام کو جان سے بھی مار سکتا تھا ۔اور یہ بات تو انھیں بھی تسلیم تھی کہ میری فائر کی ہوئی گولیوں سے ان کا کوئی بھی آدمی جان سے نہیں گیا تھا سوائے ان سات آدمیوں کے جنھیں مارنا میرے لیے ناگزیر ہو گیا تھا ۔شلوبر وں کو اس لیے بھی خاموش ہونا پڑا کہ کسی قبیلے سے تو وہ دشمنی پال سکتے تھے ، مجاہدین کے لشکر ساتھ ٹکر لینا ان کے لیے ممکن نہیں تھا ۔اس کے ساتھ غزنی خیل قبیلے سے بھی ان کی لڑائی عروج پر تھی اس لیے یہ محاذ انھیں بند کرنا ہی مناسب لگا اورہتھیاروں کی واپسی ہی کو غنیمت سمجھتے ہوئے وہ واپس چلے گئے تھے ۔
ان کے جانے کے بعد کمانڈر عبدالحق نے مجھے ساری تفصیل کہہ سنائی تھی ۔ایک خواہ مخواہ کی مصیبت سے جان چھوٹنے کا سن کر میں نے سکھ بھرا سانس لیا تھا ۔ان سے کوئی بعید نہ تھا کہ کبھی دوبارہ میرے سامنے آنے پر میری جان کے درپے ہو جاتے ۔اب کمانڈر عبدالحق کے سمجھانے کی وجہ سے یقینا میرے خلاف کارروائی کرنے سے پہلے وہ سو بار سوچتے ۔
کمانڈر عبدالحق کی بات ختم ہوتے ہی میں نے شرارت بھرے لہجے میں پوچھا ۔”ویسے آپ نے جھوٹ کیوں بولا کہ میں آپ کا ساتھی ہوں اور مجاہد ہوں ۔“
وہ سنجیدہ لہجے میں بولا ۔”آپ کے مجاہد ہونے میں مجھے تو کوئی شبہ نہیں پھر یہ جھوٹ کیسے ہو گیا۔اسی طرح ساتھی صرف اس کو نہیں کہتے جو آپ کے شانہ بہ شانہ لڑے ،بلکہ وہ آدمی بھی ہمارا ساتھی ہی کہلاتا ہے جو لڑ تو کسی دوسرے محاذ پر رہا ہو لیکن اس کا اور ہمارا مقصد مشترک ہو ۔“
”گویا آپ کے نزدیک میرا اور آپ کا مقصد مشترک ہے ۔“
”بالکل مشترک ہے ،آپ بھی کفر سے برسرِ پیکار ہیں ہم بھی یہی مقصد لیے میدان میں اترے ہوئے ہیں ،بس طریقہ کار تھوڑا مختلف ہے ۔بلکہ آپ نے تو کئی بار اسلحے کی صورت میں مجاہدین کی کھلم کھلا مدد بھی کی ہے ۔اور ایسا کوئی ساتھی ہی کیا کرتا ہے غیر نہیں ۔“
میں مسکرایا ۔”ٹھیک ہے جی میں اپنے الفاظ واپس لیتا ہوں ۔“
کمانڈر عبدالحق میری ہنسی میں شامل ہوتا ہوا بولا ۔”غلط الفاظ واپس لینے ہی میں بھلائی ہوتی ہے ۔“
٭٭٭
زندگی میں ایک دم ٹھہراﺅ آگیا تھا ۔اس سے پہلے بھی میں ایک بار زخمی ہو کر کمانڈر نصراللہ خوجل خیل کی بیٹھک میں صاحب فراش رہ چکا تھا ۔جب میری تیمار دار ،میری جانِ حیات پلوشہ تھی ۔گو اس وقت تک اس سے اقرار الفت تو نہیں ہو پایا تھا اس کے باوجود وہ وقت ایک خوشگوار یاد کی صورت میرے دل میں مقید تھا ۔پلوشہ نے جس طرح میری خدمت کی تھی اور جیسے میرا خیال رکھا تھا ایسا کوئی نہایت ہی محبت کرنے والا ہی رکھ سکتا ہے ۔اور اب وہ پلوشہ جانے کہاں چلی گئی تھی ۔لگتا تھا شاید اسے دیکھے صدیاں بیت گئی ہوں ۔اپنے آرام و سکون کو ٹھوکر مار کر وہ میری بے گناہی کے ثبوت حاصل کرنے گئی تھی ۔اس کے ساتھ میرا یار سردار خان بھی تھا ۔نہ جانے وہ بہن بھائی کہاں بھٹکتے پھر رہے تھے ۔
میرے دن رات نہایت بے کیف گزر رہے تھے ۔عضو معطل بن کر میں کسی کا م کا نہیں رہا تھا ۔ بس آنے جانے والے مجاہدین کی باتین سن کر میں جی کو بہلاتا رہتا ۔اکیلا بیٹھنے کی صورت میں تو پلوشہ فوراََ آدھمکتی تھی ۔بہ قول مومن ....
تم میرے پاس ہوتے ہو گویا
جب کوئی دوسرا نہیں ہوتا
کھانے پینے کا سامان اور روزمرہ ضروریات کا دوسرا سامان وہ پکتیکا سے لے کر آتے تھے ۔
مجھے وہاں ہفتے سے زیادہ ہو نے کو تھا ۔اس دن بھی چار مجاہد آئے ہوئے تھے ۔وہ چھٹی جا رہے تھے ۔ میں بھی کمانڈر عبدالحق کے ساتھ بیٹھا ان کی باتیں سن رہا تھا ۔وہ چاروں قرہ باغ سے آئے تھے۔
کمانڈر عبدالحق اسلام نامی مجاہد کو مخاطب ہوا ۔”اسلام بھائی !....اس مرتبہ کچھ دیر سے چھٹی جا رہے ہو۔“
اسلام نے جواب دیا ۔”یوں تو میرا ارادہ پچھلے ماہ ہی چھٹی جانے کا تھا مگرکام کچھ بڑھ گیا تھا مجبور اََ مہینا بھر مزید گزارنا پڑا ۔“
”تو ان کی چھٹی بھی موّخر کرنا تھی نا ۔“کمانڈر عبدالحق نے مزاحیہ انداز میںباقی تینوں کی طرف اشارہ کیا ۔
اسلام ہنسا۔”کیوں مجھے مروانے کے چکروں میں ہو یار!....ایک تو دشمن نے ہماری حرکت کو محدود کیا ہوا ہے اور تم چاہتے ہو اندرونِ خانہ بھی دشمن کھڑے ہو جائیں ۔“
”یہ تو خیر کمانڈر زیادتی کر رہا ہے ۔“شفیق نامی مجاہد صفائی پیش کرتے ہوئے بولا ۔”انھوں نے خود ہی ہمیں چھٹی کے لیے زور دیا ہے ۔“
عبدالحق پوچھنے لگا ۔”ویسے دشمن کی بات میرے سر پر سے گزر گئی ہے ۔“
اسلام نے حیرانی سے پوچھا ۔”کیا آپ تک یہ خبر نہیں پہنچی ؟“
”کون سی ۔“کمانڈر عبدالحق ہمہ تن گوش ہو گیا ۔میرے کان بھی کھڑے ہو گئے تھے ۔
اسلام تفصیل بتلاتے ہوئے بولا ۔”ایک برطانوی نشانے باز نے حقیقت میں اپنی زندگی اجیرن کر رکھی ہے ۔قریباََبیس بائیس مجاہد اس کی گولی کا شکار ہو چکے ہیں ۔ڈیڑھ دو کلومیٹر کے فاصلے سے بھی کم بخت کی گولی سر ہی میں لگتی ہے ۔ اس کی وجہ سے ہماری حرکت کافی محدود ہو گئی ہے ۔اندھیرے کے تیر کی طرح نہ جانے کس کونے سے نکلتا ہے اور ہمارے دوتین ساتھیوں کو شہید کر کے غائب ہو جاتا ہے ۔ اپنے مخبروں سے ہمیں یہی معلوم ہوا ہے کہ اس کا نام نک سٹیورٹ ہے برطانوی آرمی سے تعلق رکھتا ہے ۔ اس کی مدد گار بھی کوئی برطانوی لڑکی ہی ہے وہ بھی اچھی خاصی ماہرنشانہ باز ہے ۔ ہم اپنی پوری کوشش کے باوجود ان کا کچھ نہیں بگاڑ سکے ہیں ۔“
عبدالحق گہرا سانس لیتے ہوئے بولا ۔”عجیب بات سنا رہے ہو ۔“
اسلام نے کہا ۔”ہونہہ،عجیب سہی مگر حقیقت ہے ۔“
میں ان کی گفتگو میں مخل ہوا ۔”آپ لوگوں کے پاس دور مار ہتھیار نہیں ہے کیا ؟“
اسلام میری طرف متوجہ ہوا ۔”کیوں نہیں ہے ۔چند ماہ پہلے ہی ہمارے ہاتھ تین ہیوی رائفلیں لگی ہیں ۔کمانڈر صدیق بتا رہا تھا کہ وہ رینج ماسٹر ہیں ۔اور دو کلو میٹر تک کسی بھی آدمی کو ان سے نشانہ بنایا جا سکتا ہے ۔ان کا ایمونیشن بھی موجود ہے لیکن دو کلومیٹر تو کیا ہم میں سے کوئی دو تین سو میٹر کے فاصلے پر بھی اس رائفل سے نشانہ نہیں بنا سکتا ۔ہمیں تو بے کار وزن ہی محسوس ہورہی ہیں ۔“
وہ رینج ماسٹر کو بے کار وزن کہہ رہا تھا ۔یقینا ان میں سے کوئی رینج ماسٹر کی افادیت سے واقف نہیں تھا ۔ورنہ وہ کبھی بھی ایسا نہ کہتے ۔میں نے پوچھا ۔”کمانڈر صدیق بھی اس سے فائر نہیں کر سکتا ۔“
”کمانڈر صدیق نے ان رائفلوں کے اندر موجود کتابچے سے ان کانام ہمیں بتایا ہے ۔باقی اس رائفل کے بارے وہ بھی کچھ زیادہ نہیں جانتا ۔“
”صحیح ہے ۔“اثبات میں سر ہلاتے ہوئے میں خاموش ہو گیا ۔
کمانڈر عبدالحق بڑے غور سے میری جانب دیکھ رہا تھا ۔مگر میں جان بوجھ کر انجان بنا بیٹھا رہا ۔
اسلام ،عبدالحق کی طرف متوجہ ہوا ۔”ویسے آپ نے ذیشان بھائی کا مکمل تعارف نہیں کرایا ۔“
”ذیشان بھائی کا تعلق پاک آرمی سے ہے اور انھوں نے کافی بار ہماری مدد کی ہے ۔اب کسی کام کے سلسلے میں افغانستان آنا ہوا ،رستے میں غلط فہمی میں ایک قبیلے سے ٹاکرا ہو گیا ،انھی سے لڑتے ہوئے زخمی ہو گئے ہیں ۔خوش قسمتی سے ہمارے ٹھکانے کے نزدیک ہی یہ لڑائی ہوئی تھی ،بس ہم بھائی کو یہاں لے آئے ۔ہفتہ ڈیڑھ ہی ہوا ہے تب سے یہیں پر ہیں ۔اور جب تک مکمل صحت یاب نہیں ہو جاتے میں انھیں کہیں جانے کی اجازت بھی نہیں دوں گا ۔“
اسلام فوراََ شاکی ہوا ۔”کس قبیلے سے لڑائی ہوئی تھی ،کم از کم آپ کو ان سے گلہ تو کرنا چاہیے تھا۔ جو شخص ہمارا مددگار رہ چکا ہو وہ ہمارا ساتھی ہی ہے اور ہمارے ساتھیوں کو کوئی یوں زخمی کرے اس کی اجازت ہم نہیں دے سکتے ۔“
کمانڈرعبدالحق ہنسا۔”صحیح کہہ رہے ہیں آپ ،گلہ کرنا تو ہمارا بنتا تھا لیکن ایک چھوٹا سا مسئلہ تھا اس لیے مجھے خاموش ہونا پڑا ۔“
”کیسا مسئلہ ؟“اسلام نے حیرانی سے پوچھا ۔
کمانڈرعبدالحق اطمینان سے بولا ۔”یہی کہ اس قبیلے کے دودرجن افراد زخمی ہوئے اس کے علاوہ انھیں سات لاشیں بھی اٹھانا پڑیں ۔“
”کک....کیا مطلب ؟“اسلام ششدر ہی تو رہ گیا تھا ۔اس کے باقی تین ساتھی بھی حیرانی سے مجھے گھورنے لگے تھے ۔
کمانڈرعبدالحق نے منھ بنایا ۔ ”میں نے عبرانی تو نہیں بولی ،سادہ پشتو ہی میں بات کی ہے ۔“
”مگر اکیلا آدمی ....؟“
کمانڈرعبدالحق تحسین امیز لہجے میں بولا۔ ”جی اکیلا آدمی اگر ایس ایس ہو تو بہت کچھ کر سکتا ہے ۔“
”ایس ایس ....“اسلام نے مجھے گھورتے ہوئے کہا ۔”گویا آپ کا مطلب ہے ذیشان بھائی ہی ایس ایس ہے ۔وہی پلو خان ،میرا مطلب پلوشہ کا ساتھی ۔“
”ساتھی نہیں شوہر کہو ....اب محتر م نے پلوشہ بیٹی کے ساتھ شادی کر لی ہے ۔“
”مبارک ہو ذیشان بھائی ۔“اسلام نے فوراََ ہی پر خلوص لہجے میں کہا ۔
”شکریہ دوست ۔“میں نے انکساری سے کہا ۔
اس کے بعد ہم کافی دیر وہاں بیٹھے رہے ،موضوع ِ گفتگو میری ذات ہی بنا رہا ۔اسلام اور اس کے ساتھیوں نے ساری گپ شپ کو پسِ پشت ڈال کر میری کہانی میری زبانی سننے پر اصرار کیا تھا ۔گو میری زیادہ تر باتیں تو ان تک پہنچی ہوئی تھیں مگر کسی اور زبانی پہنچی ہوئی باتوں میں جھوٹ اور مبالغے کی ملاوٹ ضرور ہوتی ہے ۔میں ان کے اصرار کے سامنے زیادہ دیر نہیں ٹک پایا تھا ۔
٭٭٭
اگلے دن کمانڈر اسلام اور اس کے تینوں ساتھی جانے سے پہلے الوداعی ملاقات کے لیے آ گئے تھے ۔میں نے ان سے جانے کے رستے کی بابت دریافت کیا ۔
اسلام نے جو رستا بتلایا وہ خواگا اوبو سے گزر کر ہی جاتا تھا ۔خواگا اوبو گلگارے کا گاﺅں تھا ۔
”خواگا اوبو تو آپ لوگوں نے دیکھا ہے اس کے جنوبی جانب ایک اکیلی حویلی ہے شمریز خان کی ، کبھی ان سے واسطہ پڑا ہے ۔“
اسلام اثبات میں سر ہلاتے ہوئے بولا ۔”بالکل دیکھی ہوئی ہے ،البتہ کبھی ان سے ملنے کی نوبت نہیں آسکی ۔“
اسلام کا ساتھی عبدالصمد بولا ۔”میں نے ان کی بیٹھک میں ایک رات گزاری تھی ۔“
”بس جاتے ہوئے چچا شمریز اور ان کے گھر والوں کو میرے بہت سے سلام و دعا پہنچا دینا اور انھیں کہہ دینا کہ میں بالکل خیریت سے ہوں ۔“
اسلام نے پوچھا ۔”اور کچھ ۔“
”بس اللہ پاک آپ کو خیر سے لے جائے ۔“میں نے معانقے کے لیے ہاتھ پھیلا دیے ۔
انھیں رخصت کرنے میں غار سے باہر تک گیا تھا ۔اب بیساکھی کے سہارے میں اچھا بھلا چل لیتا تھا ۔میرا زخم پہلے سے کافی بہتر ہو گیا تھا ۔بازو کے زخم کا تو کھرنڈ بن کر بھی اتر چکا تھا ۔لیکن پنڈلی اور ران کا زخم اتنی جلدی مکمل ٹھیک نہیں ہو سکتا تھا ۔
اس دن دوپہر کو کھانا کھاتے ہوئے کمانڈر عبدالحق مستفسر ہوا ۔”ذیشان بھائی!.... ایک بات پوچھوں ؟“
میں خفیف ہوتے ہوئے بولا ۔”اس میں اجازت لینے کی کیا ضرورت ہے ۔“
”شکریہ ۔“کہہ کر اس نے پوچھا ۔”کل آپ اسلام بھائی سے دورماررائفل کے استعمال کے بارے کیوں پوچھ رہے تھے ،کیا آپ اس رائفل کو استعمال کرنا جانتے ہیں ؟“
ایک لمحہ سوچ کر میں نے اثبات میں سرہلادیا ۔”جانتا ہوں ۔“
”اگر میںکہوں کہ آپ ہمارے کسی ساتھی کو اس رائفل کا استعمال سکھا دیں تو کیا یہ درخواست منظورہو جائے گی ۔“
میں نے بھرپور قہقہہ لگایا ۔”درخواست اور منظوری ،عبدالحق بھائی !....کچھ زیادہ ہی میٹھا نہیں ڈال دیا ۔“
عبدالحق نفی میں سرہلاتے ہوئے بولا ۔”کسی سے بھی کام لینے کے دو طریقے ہیں حکم دینا یادرخواست کرنا اور ہم آپ سے درخواست ہی کر سکتے ہیں ۔“
”اپنوں کو نہ تو حکم دیا جاتا ہے اور نہ درخواست کی جاتی ہے ۔بس ان تک اپنی خواہش پہنچا دی جاتی ہے ۔“
وہ فوراََ اپنی سابقہ بات سے رجوع کرتا ہوا بولا ۔”تو بس سمجھ لیں کہ میں نے اپنی خواہش آپ تک پہنچا دی ہے ۔“
میں صاف گوئی سے بولا ۔”عبدالحق بھائی !....آپ کی خواہش کو پورا کرنا ،میرے لیے نہایت ہی دشوار اور مشکل ہوتا ۔ لیکن اس حالت میں میں کوئی بھی کام کرنے کے قابل نہیں ہوں اس لیے آپ رائفل اور سیکھنے والے دو تین آدمی یہیں پر بلوا لیں میں انھیں تربیت دے دوں گا ۔“
عبدالحق نے مزاحیہ انداز میں کہا ۔”کہنا تو نہیں چاہیے مگر آپ کازخمی ہونا ہمارے لیے فائدہ مند ہی رہا ہے ۔“
اس کی بات نے مجھے بھی ہنسنے پر مجبور کر دیا تھا ۔
٭٭٭
دودن بعد چار آدمی رینج ماسٹر کے دو بکس لے کر پہنچ گئے تھے ۔اس کے ساتھ وہ رینج ماسٹر کی دو سو گولیاں بھی لائے تھے ۔کمانڈر عبدالحق نے گزشتا دن میرا عندیہ لیتے ہی وائرلیس بیس پر اپنے قرہ باغ کیمپ میں موجود کمانڈر سے بات کر لی تھی ۔اور کوڈ ورڈ میں انھیں رائفلیں ،ایمونیشن اور آدمی بھیجنے کا بتا دیا تھا ۔ اس دعوت کو غنیمت جانتے ہوئے انھوں نے بغیر کسی تاخیر کے چار آدمی اس جانب روانہ کر دیے تھے ۔
ان دنوں میں مجھے وقت گزارنا مشکل ہو جایا کرتا تھا ۔حالانکہ جب پلوشہ زخمی تھی اس وقت ہم نے دو ماہ کے قریب عرصہ یونھی کوئی کام کیے بغیر گزار دیا تھا ۔مگر وہ دوماہ میری زندگی کے سب سے زیادہ تیز گزرنے والے دن تھے ۔رات ،دن لمحوں میں بیت جایا کرتے تھے ۔ اور اب وہی شب روز مہینوں پر محیط ہو گئے تھے ۔
قرہ باغ کیمپ سے آنے والے چاروں جواں سال مجاہد تھے ۔ان میں سے دو تو میرے ہم عمر تھے جن کا نام صغیراور احسان تھا ۔ اسلم مجھ سے سال دو سال بڑا ہو گا جبکہ مبین بہ مشکل اٹھارہ انیس سال کا لڑکا تھا ۔
رات ہی کو میں نے رینج ماسٹر کے دونوں بکس کھول کر سامان کا جائزہ لے لیا تھا ۔سارا سامان مکمل دیکھ کر میں نے اطمینان بھرا سانس لیا تھا ۔ سردار اور میںنے امریکہ میں سنائپرکورس کے دوران اس رائفل کے متعلق بہت تفصیل سے پڑھا تھا ۔اور یہ وہ رائفل جس سے میں سب سے زیادہ فائر کیا ہے ۔ (اس رائفل بارے کہانی کی شروعات میں میں کافی کچھ لکھ چکا ہوں اس لیے اگر کسی کو رینج ماسٹر کے بارے جاننے کا شوق ہو تو انھی صفحات کو دوبارہ پڑھ لے )
”صبح نماز کے بعد تیار رہنا ۔“میں نے چاروں سیکھنے والوں کو تربیت کا وقت بتایا اور وہ سرہلاتے ہوئے چلے گئے ۔
کمانڈر عبدالحق کچھ دیر مزید میرے ساتھ بیٹھا رہا ۔اس کے جانے کے بعد میں سونے کے لیے لیٹ گیا کہ صبح آرام کا موقع نہ ملتا ۔
صبح کی نماز کے بعد ناشتے وغیرہ سے فارغ ہو کر چاروں جوان پہنچ گئے تھے ۔کمانڈر عبدالحق نے بھی ان کے ہمراہ بیٹھ کر سیکھنے میں دلچسپی ظاہر کی تھی ۔
میں نے تمہیدی بات چیت میں رینج ماسٹر کی خوبیوں پر روشنی ڈالی اور انھیں باور کرایا کہ ایک تربیت یافتہ آدمی اس رائفل سے کتنا فائدہ اٹھا سکتا تھا ۔اس کے بعد میں انھیں رائفل کے پرزوں وغیرہ کے بارے تفصیل سے بتلانے لگا کہ کس طرح وہ اس رائفل کو ٹکڑوں میں کھول سکتے تھے ۔وہ سارا دن میں انھیں رائفل کے متعلق ہی پڑھاتا رہا اس کے ساتھ انھیں بھی موقع دیا کہ وہ بار رائفل کو کھولیں جوڑیں ۔ اس کے ساتھ میں انھیں اس رائفل سے مختلف پوزیشنوں سے فائر کرنے کے طریقے بھی بتلاتا رہا ۔وہ سارا کام چونکہ ہم بند کمرے میں بھی کر سکتے تھے اس لیے غار کے اندر بیٹھ کر ہی سکھلائی کرتے رہے ۔
اگلے دن میں میں انھیں غار سے باہر لے گیا تھا ۔سنائپر رائفل میں سب سے زیادہ کام چونکہ ٹیلی سکوپ سائیٹ کا ہوتا ہے اس لیے اس کے بارے جاننا ایک سنائپر کے لیے بہت زیادہ ضرری ہوتا ہے۔ اس کے باوجود کہ وہ سنائپر بننے نہیں آئے تھے لیکن انھیں اچھا نشانے باز تو بننا تھا ۔لیوپولڈ سائیٹ کے بارے ہم سنائپر ہونے کے باوجود پورا ہفتہ پڑھتے رہے تھے ۔میں انھیں وہ سب کچھ تو اس لیے بھی نہیں پڑھا سکتا تھا کہ اس کام میں کافی وقت صرف ہوجاتا ۔میں بس انھیں ضروری اور کام کی باتیں بتاتا رہا ۔لیوپولڈ سائیٹ پر تو عام آدمی صحیح طریقے سے رینج بھی نہیں لگا سکتا ۔ہر فاصلے کے لیے ایلیویشن ڈرم پر مخصوص کلک لگانے پڑتے ہیں ۔تمام کلکس کی ترتیب میں نے انھیں لکھ کر دے دی تاکہ وہ اسے زبانی طور پر یاد رکھیں ۔وہ پورا دن میں انھیں لیوپولڈ سائیٹ ہی متعلق پڑھاتا رہا ۔کمانڈر عبدالحق بھی سیکھنے میں بہت دلچسپی لے رہا تھا ۔رات کو وہ اپنے غار میں کافی دیر تک دن کی سکھلائی کو دہراتے رہے تھے ۔ مجاہدین کا وہ ٹھکانہ غار در غار بنا ہوا تھا ۔یوں جیسے کسی مکان میں کئی کمرے بنے ہوتے ہیں ۔
تیسرے دن میں انھیں فائر کروانے لگا ۔رائفل کے صفر ہونے کے بعدوہ چھے سات سو میٹر کے فاصلے پر آسانی سے چھوٹے چھوٹے پتھروں کو نشانہ بنا رہے تھے ۔عملی طور پر رینج ماسٹر کی کارکردگی دیکھ کر انھیں بہت اچھا محسوس ہو رہا تھا ۔کمانڈر عبدالحق نے بھی درجن بھر گولیاں چلا کر اپنا نشانہ آزمایا تھا ۔ اگلے دو ہفتوں میں میں انھیں مختلف فاصلوں سے فائر کرواتا رہا ۔ان میں سب سے اچھا فائرر مبین تھا جو عمر میں تمام سے چھوٹا تھا ۔وہ پندرہ سو میٹر دور کے ہدف کو نشانہ بنا لیتا تھا ۔چونکہ ان کے پاس گولیوں کی محدود تعداد تھی اس لیے ہر آدمی روزانہ تین چار گولیاں ہی فائر کر پاتا ۔اس سارے تربیتی عرصے کے دوران انھوں نے چند بار میرا فائر دیکھنے کی خواہش کا اظہار کیا تھا مگر زخمی ہونے کا بہانہ کر کے میں نے معذرت کر لی تھی ۔البتہ آخری دن جب ان کے پاس فقط دو گولیاں باقی بچی تھیں ،کمانڈر عبدالحق نے اصرار کیا کہ وہ دونوں گولیاں میں فائر کروں ۔
اس کی حکم نما التجا پر سرتسلیم خم کرتے ہوئے میں نے دونوں گولیوں سے انیس سو میٹر دور دو چھوٹے چھوٹے پتھروں کو نشانہ بنا کر رینج ماسٹر پر ان کا اعتماد مزید پختہ کر دیا تھا ۔
اگلے دن ان چاروں نے واپس جانا تھا ۔کیونکہ قرہ باغ کیمپ میں بڑی بے چینی سے ان کا انتظار ہو رہا تھا ۔رات کو انھیں اپنے کمرے میں بٹھا کر میں نے سنائپنگ کے متعلق اہم باتیں دہرائیں ،کچھ نئے نکتے ان کے گوش گزار کیے تاکہ وہ دشمن کا مقابلہ کرنے کے قابل ہو سکیں ۔
صبح سویرے واپس جاتے ہوئے چاروں بڑی عقیدت سے مجھے ملے تھے ۔میرے دن پھر بے زاری سے گزرنے لگے ۔پنڈلی کا زخم تو قریباََ ٹھیک ہی ہو گیا تھا لیکن ران کا زخم ابھی تک اتنا ٹھیک نہیں ہوا تھا کہ میں آگے بڑھ سکتا ۔سردی کی وجہ سے زخم یوں بھی ٹھیک ہونے میں زیادہ وقت لیتا ہے ۔ اب میں کمانڈر عبدالحق کے ساتھ اپنے ٹھکانے سے پانچ چھے سو میٹر دور چلا جاتا تھا ۔
ایک دن ہم سہ پہر کو لوٹے تو یہ روح فرسا خبر سننے کو ملی کہ صغیربرطانوی سنائپر نک سٹیورٹ کی گولی کا شکار ہو کر جام شہادت نوش کر گیا تھا ۔جبکہ اسلم شدید زخمی تھا ۔گولی اس کے سر سے رگڑ کھاتے ہوئے گہرا زخم چھوڑکرنکل گئی تھی۔وہ بڑی ہمت کا مظاہرہ کرتے ہوئے کیمپ تک واپس پہنچا تھا ۔بعد میں صغیر کی لاش اٹھانے کے لیے جانے والے پانچ آدمیوں میں سے دو آدمی بھی نک سٹیورٹ یا اس کی ساتھی کی گولی کا نشانہ بن گئے تھے ۔یوں لاش اٹھانے کے لیے انھیں رات کا انتظار کرنا پڑ گیا تھا ۔اس بات کو دو دن گزر گئے تھے ۔ اب شہداءکے گھروں تک یہ خبر پہنچانے کے لیے جو دو آدمی جا رہے تھے ان کی زبانی ہم تک بھی یہ خبر پہنچ گئی تھی ۔
اسلم اورصغیردونوں میرے شاگرد تھے ۔تین ہفتے تک ہم دن رات مسلسل ساتھ رہے تھے ۔ اب ایک دم ان کی موت کا سن کرمیرا دل دکھ سے بھر گیا تھا۔ہفتہ بھر پہلے ہی وہ ایک امید لے کر یہاں سے واپس لوٹے تھے ۔برطانوی سنائپرز کو انجام تک پہنچانے کے لیے وہ پر عزم تھے ۔گو ان سنائپرز کی جو کہانیاں مجھ تک پہنچ چکی تھیں اس کے بعد ان چاروں سے مجھے اتنی زیادہ امید تو نہیں تھی کہ وہ ،انھیں ختم کر سکیں گے ۔لیکن یہ تو میرے گمان میں بھی نہیں تھا کہ وہ خود ان کا نشانہ بن جائیں گے ۔حالانکہ میں نے ا نھیں سنائپرز کے حربوں اور چالاکیوں سے اچھی طرح آگاہ کر دیا تھا ۔یقینا وہ میری ہدایات پر صحیح طریقے سے عمل نہیں کر سکے تھے ۔اور یہی وجہ تھی کہ اپنے ساتھی کی لاش اٹھانے کے لیے وہ یوں منھ اٹھا کر بھاگتے چلے گئے تھے ۔حالانکہ میں انھیں اچھی طرح بتلا چکا تھا کہ ایک سنائپرز مخالف کی نفسیات سے کھیلتا ہے ۔ اور اپنے ہدف کا انتظار کرنے کے لیے وہ گھنٹوں نہیں دنوں انتظار کر سکتا ہے ۔گو تمام آدمی یہ بات نہیں جانتے تھے مگر میرے دو اور شاگرد،مبین اور احسان تو وہاں موجود تھے وہ انھیں اس خطرے سے آگاہ کر سکتے تھے ۔اب یہ معلوم نہیں تھا کہ احسان وغیرہ نے انھیں خبردار نہیں کیا تھا یا انھوں نے خود ہی بے پروائی برتی تھی ۔
صغیر ایک ہنس مکھ اور بہادر جوان تھا ۔اس کا تعلق مانسہرہ جیسے خوب صورت علاقے سے تھا ۔ اس کے دل میں اسلام اور پاکستان کی محبت کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی ۔رینج ماسٹر سے فائر کرتے ہوئے وہ اکثر کہتا تھا ....
”استاد ذیشان !....امید کرتا ہوں ان دونوں کی موت میری ہی گولی سے لکھی ہو۔“
جب میں نے انیس سو میٹر سے پتھر کو نشانہ بنایا تھا ،تب اس نے بے ساختہ کہا تھا ۔ ”اگر ان کافروں کو پتا چل گیا کہ ہمارے استاد ایس ایس کا نشانہ کیسا ہے ،یقینا وہ بھاگنے میں دیر نہیں لگائیں گے۔“
کمانڈر عبدالحق نے ہنستے ہوئے پوچھاتھا ۔”بیٹا !....استاد کو چھوڑو ،اپنی سناﺅ ۔“
وہ عزم سے بولا ۔”میں تو انھیں بھاگنے بھی نہیں دوں گا ۔“
آنے والے وقت سے کوئی بھی واقف نہیں ہوتا ۔اگر اسے معلوم ہوتا کہ اس نے انھی سنائپرز کا نشانہ بننا ہے تو شاید ایسے دعوے نہ کرتا ۔اس کی شادی کو ایک ہی سال ہوا تھا ۔محاذ پر آنے سے پہلے اس کی بیوی امید سے تھی ۔اس نے پختہ ارادہ کیا تھا کہ وہ نو ماہ گزارنے کے بعد ہی گھر جائے گا تاکہ اپنی بیوی اور بچے سے ملنے کی دہری خوشی سے لطف اندوز ہو سکے ۔اسے چھٹی سے آئے آٹھ ماہ ہو چکے تھے اور اب ایک مہینا گزار کر اس نے گھر جانا تھا ۔لیکن اجل نے اسے موقع ہی نہیں دیا تھا ۔اپنے محبوب کی آمد کے لیے چشم براہ بیوی کو اس کی شکل دیکھنا بھی نصیب نہیں ہوا تھا ۔
کمانڈر عبدالحق میری غار میں داخل ہوا ۔”ذیشان بھائی! ....آپ تو رو رہے ہیں ۔“اس نے فکرمندی سے پوچھا ۔
مجھے معلوم ہی نہیں ہوا تھا اور میری آنکھوں سے آنسو بہنے لگے تھے ۔”پتا نہیں یار ۔“آنکھوں پر الٹا ہاتھ پھیرتے ہوئے میں نے عجیب سے لہجے میں کہا ۔
”اگر موت کے بعد فنا ہو جانا ہوتا تو کافی گھاٹے کا سودا تھا ۔“ اس نے مجھے سمجھایا تھا یا شاید تسلی دی تھی ۔
”جانتا ہوں ۔“میں نے اس کے چہرے پر نظریں گاڑتے ہوئے کہا ۔”لیکن دکھ اورغم کا احساس قدرتی ہوتا ہے ۔“
”اللہ پاک ان کے درجات بلند کرے ۔“کمانڈر عبدالحق میرے ساتھ ہی بستر پر بیٹھ گیا ۔
دوسرے دن مخابرے پر اسلم کی حالت کے بارے معلوم کیا تو پتا چلا کہ وہ بچ نہیں سکا تھا ۔ یقینا علاج کی بہتر سہولت نہ ہونے کی وجہ سے وہ جانبر نہیں ہو سکا تھا ۔
٭٭٭
اگلے تین چار ہفتے بھی میں کمانڈر عبدالحق کا مہمان بنا رہا ۔مجھے وہاں رکے ہوئے دو ماہ سے زائد عرصہ ہو گیا تھا ۔لیکن بغیر تندرست ہوئے میں اپنا سفر جاری نہیں رکھ سکتا تھا اس لیے جب تک میں مکمل صحت یا ب نہ ہو گیا میں نے وہاں سے ہلنے کی کوشش نہیں کی تھی ۔اسی اثناءمیں کمانڈر عبدالحق اپنے ایک ساتھی کے ساتھ چھٹی کاٹ کر لوٹ آیا تھا ۔اس کے ہمراہ گئے ہوئے باقی دو ساتھی کسی وجہ سے واپس نہیں لوٹ سکے تھے ۔مجھے ابھی تک وہیں موجود پا کر کمانڈر اسلام خوشی سے کھل اٹھا تھا ۔
”شکر ہے ذیشان بھائی آپ یہیں مل گئے ،ورنہ آپ کی تلاش میں کہاں کہاں پھرنا پڑتا۔“
میں مزاحیہ انداز میں بولا ۔”میرا خیال ہے میں نے آپ سے قرض وغیرہ تو نہیں لیا تھا ۔“
”آپ کی ایک امانت ساتھ پھرا رہا ہوں یا ر !“اسلام نے سفری تھیلے سے ایک شاپر نکال کر میری طرف بڑھایا۔
”یہ کیا ہے ؟“میں سچ مچ حیران رہ گیا تھا ۔
”بھول گئے ،آپ نے جاتے وقت مجھے کوئی پیغام دیا تھا ۔“
”چچا شمریز نے بھیجا ہے یہ ۔“میرے چہرے پر مسکراہٹ نمودار ہوئی ۔
وہ معنی خیز لہجے میں بولا ۔”میرے حوالے تو اسی نے کیا ہے ،اب بھیجنے والا کون ہے یہ معلوم نہیں ۔“
”بہت اچھا گھرانا ہے ۔اللہ پاک انھیں اپنے حفظ و امان میں رکھے ۔“
”آمین ۔“اسلام کے ساتھ کمانڈر عبدالحق کے منھ سے بھی دعائیہ کلمہ اداہوا ۔اسلام کی بات جاری رہی ۔”ویسے آپ کا نام لیتے ہی ہماری جو پذیرائی ہوئی اس کا تو ہم نے سوچا بھی نہیں تھا ۔ہمیں تو لگ رہا تھا کہ شمریز آپ کا سگا چچا ہے ۔اور پھر اس کے دونوں چھوٹے بچوں نے ہم سے اتنے سوال کیے کہ بیان سے باہر ہے ۔اپنے لالاجان کے زخمی ہونے کا سن کر تو وہ رونے لگے تھے ۔ جب انھیں ساری کہانی سنائی تب انھیں افاقہ ہوا ، کہ ان کے لالاجان نے زخمی ہونے سے پہلے کتنوں کو زندگی کی قید سے آزادی دلائی ہے ۔کوئی پردے کے پیچھے سے بھی ہماری گفتگو سنتا رہا ہے ۔اور میرا خیال ہے یہ سامان اسی نے بھجوایا ہے ۔“
میں نے جلدی سے کہا ۔”ہاں وہ بھی میری منھ بولی بہن ہے ۔لیکن آپ کو کیسے معلوم کہ کوئی پردے کے پیچھے بھی موجود ہے ۔“
”جب میں آپ کے بارے تفصیل سنا رہا تھا تو اس نے وہیں سے بے ساختہ دو تین سوال پوچھے تھے ۔اور جب اگلی صبح ہم جانے لگے تو شمریز چچا نے بااصرار ہمیں اسی رستے سے واپس لوٹنے کی درخواست کی تھی ۔کل صبح جب وہاں سے نکلے تو یہ سامان تو چچا شمریز نے ہمارے حوالے کیا لیکن یہ سامان آپ تک پہنچانے کی ہدایات پردے کے پیچھے سے موصول ہوئی تھیں ۔“
میں نے کہا ۔”میں شاید دو دن پہلے رخصت ہو گیا ہوتا ،مگر عبدالحق بھائی نے ایک دن اور ایک دن اور کی رٹ لگا کے مجھے زبردستی روکا ہوا تھا ۔“
عبدالحق نے فوراََ کہا ۔”دیکھ لیں ،بڑوں کی بات ماننے میں کتنے فائدے ہوتے ہیں ۔“
”آپ کی وجہ سے بس اسلام بھائی کی مشقت میں کمی ہوئی ہے کہ انھیں امانت سے جان چھڑانے کا موقع مل گیا ۔ورنہ میں جہا ںبھی جاتا اسلام بھائی یہ مجھ تک ضرور پہنچا دیتے ۔کیوں اسلام بھائی ۔“میں نے تصدیق چاہنے کے انداز میں اسلام کی طرف دیکھا ۔
”بلا شک و شبہ ۔“اس نے اثبات میں سر ہلادیا۔
رات کافی ہو گئی تھی ،کچھ دیر مزید بیٹھ کر وہ رخصت ہو گئے ۔میں نے اگلی صبح آگے جانے کا بتادیا تھا ۔اس ضمن میں کمانڈر عبدالحق سے رہنمائی مانگی تو اس نے یہ کہہ کر خاموش کرادیا کہ مجھے رستے کے لیے ایک رہنما مل جائے گا ۔مجھے اس کے علاوہ کیا چاہیے تھا ۔
ان کے جانے کے بعد میں کالے رنگ کے شاپر کو کھولنے لگا ۔اس میں ایک خوب صور ت سوئیٹر،ایک گرم ٹوپی اور ہلکے بھورے رنگ کا کپڑوں کا سلا ہوا سوٹ بند تھا ۔ اس کے ساتھ ہی ایک رقعہ بھی موجود تھا ۔گلگارے کی لکھائی پہچانتے ہوئے مجھے ذرا بھی دقت نہیں ہوئی تھی ۔سلام و دعا کے بعد لکھا تھا ۔
”امید کرتی ہوں کہ یہ سامان جلد ہی آپ تک پہنچ جائے گا ۔آپ نے اسلام چچا کے ذریعے اپنی خیریت کا احوال بھیجا سن کر دل تشکر سے بھر گیا کہ آپ نے ابھی تک ہمیں یاد رکھا ہے۔اوریہ جان کر بہت خوشی ہوئی کہ ہم اس قابل ہیں کہ اب تک آپ کو نہیں بھولے ۔آپ کے زخمی ہونے کا سنا بہت افسوس ہوا۔ اگر ابوجان اجازت دیتے تو یقینا میں آپ کو ملنے وہیں پہنچ جاتی لیکن انھوں نے منع کر دیا ۔ آپ کی گڑیا بہن رنڑا بھی بہت پریشان ہوئی ،مگر جب اسے معلوم ہوا کہ آپ کتنوں کو مار کر زخمی ہوئے تب اسے افاقہ ہوا ۔اور یہ بتانے کی ضرورت تو غالباََ نہیں ہو گی کہ اسلام چچا کی آمد کے بعد سے اب تک روزانہ آپ کا تازہ کارنامہ سننا پڑتا ہے ۔آپ کے معاملے میں نہ تو وہ میرے ڈانٹنے کی پروا کرتی ہے اور نہ مجھ سے ڈرتی ہے ۔آپ کا دیا ہوا پستول اس نے دیکھتے ہی پہچان لیا تھا ۔پہلے پہل تواس نے مجھ پر الزام دھرا کہ میں نے آپ سے چرایا ہے ۔بعد میں بڑی مشکل سے اسے یقین دلایا کہ آپ ہی نے میرے حوالے کیا ہے ۔ثمر خان آپ جیسا نشانہ باز بننے کے لیے روزانہ مشق کرتا ہے ۔دونوں اب پہلے کی طرح مجھ سے نہیں ڈرتے ۔ہر وقت آپ کی واپسی کی دھمکی دیتے رہتے ہیں ۔انھیں تنگ کرنے کے لیے مجھے آپ کی کافی ساری برائیاں کرنا پڑتی ہیں جواباََ وہ لڑنے سے بھی باز نہیں آتے ۔یہ کپڑے میں نے ماموں جان کے ساتھ خان کلے جا کر خریدے ہیں اور سلائی بھی خود کیے ہیں ۔اگر سلائی اچھی نہ لگے تب بھی آپ نے پہننے ضرور ہیں ۔آپ کی گڑیا بہن کو ابھی تھوڑی دیر پہلے ہی پتا چلا ہے کہ میں آپ کے لیے کپڑوں کا جوڑا اور سوئیٹر بھیج رہی ہوں ، چونکہ صبح چچا اسلام نے آگے جانا ہے اس لیے بے چاری کے پاس اتنا وقت ہی نہیں تھا کہ کچھ خرید سکتی۔ لگی منتیں کرنے کہ میں یہ سوئیٹر اس کانام لے کر آپ کے پاس بھجوادوں ۔لیکن آپ کو تو معلوم ہے کہ آپ دونوں بہن بھائیوں کی چاہت مجھے ایک آنکھ نہیں بھاتی اس لیے میں نے سختی سے انکار کر دیا ۔بس ساری رات اسی تگ و دو میں رہی کہ آپ کو کیا تحفہ بھیجے ۔ثمر خان کے لیے ماموں جان شہر سے گرم ٹوپی اور رنڑا کے لیے گرم شال لے کر آئے تھے۔گرم شال تو صرف لڑکیاں ہی اوڑھ سکتی تھیں ۔بے چاری نے ثمر خان کی منتیں کر کے اس سے گرم ٹوپی اس شرط پر مستعار لی کہ ماموں جان سے ٹوپی کی قیمت معلوم کر کے وہ اسے اتنی ہی رقم دے گی ۔اور وہی ٹوپی آپ کو بھجوا دی ۔باقی ابوجان بھی خیریت سے ہیں ۔ان کا زخم بالکل ٹھیک ہو گیا ہے ۔تمام آپ کو ڈھیروں سلام و دعا کہہ رہے ہیں ۔پلوشہ بہن سے جونھی ملاقات ہوتی ہے اسے فوراََ ہمارے بارے تفصیل سے بتلانا اور اسی رستے سے واپس بھیجنا۔ ان سے ملنے کو میرا بہت دل کرتا ہے ۔اور ہاں میں آپ کو بتایا تھا نا کہ نصیر خان نے اپنے بیٹے سے میرا رشتا کرنے کے لیے دس لاکھ کی آفر کی تھی اور ابوجان نے پندرہ لاکھ مانگے تھے ۔اب وہ پندرہ لاکھ دینے کو تیار ہو گیا ہے ۔لیکن ابو جان نے سال ڈیڑھ کی مہلت مانگ لی ہے وہ فی الحال میری شادی نہیں کرنا چاہتے ،شاید میں بھی یہی چاہتی ہوں ۔اجازت چاہوں گی اپنا بہت بہت خیال رکھنا ۔میری پیاری بہن پلوشہ کو جلد از جلد ڈھونڈنا ۔اللہ پاک آپ کا حامی و ناصر ہو .... از طرف گلگارے شمریز خان ۔“
خط کے ہر لفظ سے محبت خلوص اور اپنائیت ٹپک رہی تھی ۔رنڑا گڑیا کی بھیجی ہوئی ٹوپی تو میں نے اسی وقت سر پر اوڑھ لی ۔ خلوص اور اپنائیت کی چاشنی نے ان تحائف کو بہت قیمتی بنا دیا تھا ۔
اگلی صبح ناشتے کے بعد،گلگارے کے بھیجے ہوئے کپڑے اور سوئیٹر پہن کر میں آگے جانے کے تیار تھا ۔کپڑے بالکل میرے ناپ کے مطابق تھے ۔کمانڈر عبدالحق کو اپنے ساتھ جانے پر آمادہ دیکھ کر میں حیران رہ گیا تھا ۔
”میرا خیال ہے آپ کی یہاں زیادہ ضرورت ہے۔“
”صحیح کہا ،مگر میرے علاوہ غزنی تک جانے کا مختصر رستا کسی کو بھی معلوم نہیں ہے اور یوں بھی کمانڈر اسلام میری واپسی تک یہیں رہے گا ۔“
”چلیں پھر بسم اللہ پڑھیں ۔“میں نے اسے آگے بڑھنے کا اشارہ کیا ۔اور وہ سرہلاتے ہوئے آگے ہو گیا ۔
غزنی تک ہم نے پیدل ہی جانا تھا ۔میں نے رستے میں کافی وقت ضائع کر دیا تھا ،نامعلوم البرٹ بروک وغیرہ اب تک غزنی میں تھے یا کہیں اور منتقل ہو گئے تھے ۔لیکن میرے پاس ان کے بارے یہی آخری معلومات تھی اس لیے مجھے ایک بار تو وہاں ضرور جانا پڑتا ۔وہاں جانے کے بعد ہی میں اپنی اگلی منزل کا تعین کرسکتا تھا ۔
جاری ہے
ریاض عاقب کوہلر
تھوڑا سا آگے آتے ہی میں نے پوچھا ۔”یہاں سے ہم مرناہ گرجائیں گے ؟“
”نہیں ۔“اس نے نفی میں سر ہلایا۔”ہم مرناہ گر ،پکتیکا اور زرغون شہر وغیرہ کو نظر انداز کرتے ہوئے پہاڑیوں کے بیچوں بیچ مختصر رستوں سے آگے بڑھیں گے ۔“
میں نے کہا۔”گردیز کیمپ بھی تو رستے ہی میں آتا ہے نا ۔“
”نہیں وہ دوسری جانب ہے ،اس سے کم وقت تو غزنی پہنچنے میں لگے گا۔“
”وہاں سے صغیر شہید پارٹی تو دو دونوں میں ہم تک پہنچ گئے تھے ۔“
وہ گردیز سے ارگون اور ساروبی تک گاڑیوں میں آئے تھے ۔وہاں سے مختصر رستے پر مرناہ گر پہنچ گئے ۔“
میں نے پوچھا ۔”اس کا مطلب گردیز سے میران شاہ والا رستا انھیں قریب پڑتا ہو گا ۔“
”ہاں ۔“اس نے اثبات میں سر ہلایا۔”بہت قریب پڑتا ہے اور گاڑی کا رستا ہے ،مگر وہ رستا ہمارے لیے محفوظ نہیں اس لیے چکر کاٹ کر اس طرف سے آنا پڑتا ہے ۔“
”ہونہہ!“کرکے میں خاموش ہو گیا۔
اس نے میری معلومات میں اضافہ کرتے ہوئے کہا ۔”ویسے پکتیکا کے مضافات میں موبائل فون کے سگنل بھی شروع ہو جاتے ہیں ۔“
”اس کا مطلب آگے شہروں میں موبائل فون کے سگنل آتے ہیں ۔“
”بالکل آتے ہیں ۔AWCC یعنی افغانستان وائرلیس کمونیکیشن،روشن،ADIA وغیرہ۔“
”پھر تو رابطوں میں سہولت رہتی ہو گی ۔“
”بہت زیادہ ۔“اس نے اثبات میں سرہلایا۔”اور اب کام شروع ہے ان شاءاللہ جلد ہی سرحدی پہاڑوں پر بھی سگنل آنے شروع ہو جائیں گے ۔“
میں نے خوش ہوتے ہوئے کہا ۔”گویا اس بہانے چچا شمریز اور ان کے گھر والوں سے بات چیت ہو جایا کرے گی۔“
کمانڈر عبدالحق ہنسا ۔”لگتا ہے بات کافی بڑھ گئی ہے ۔“
”ہاں بھائی ،بہت مخلص گھرانا ہے ۔اس کے ساتھ انھوں نے میری زندگی بھی بچائی ہے ۔“ میں اسے اپنے برف باری میں پھنسنے کی تفصیلات بتانے لگا ۔
عبدالحق نے فلسفیانہ انداز میں کہا ۔”یہ تو اللہ پاک کا نظام ہے ،انسان کو وہاں سے دیتا ہے جہاں سے اس کا گمان بھی نہیں ہوتا ۔“
”بے شک ۔“میں نے تائیدی انداز میں سرہلادیا ۔
عبدالحق ان رستوں کا شناورتھا۔اور پھر کافی عرصے سے اس کا واسطہ پہاڑوں سے پڑ رہا تھا تبھی وہ ڈھلان پر کافی تیزی سے حرکت کرتا تھا ۔دوپہر ڈھلے ہم ایک چشمے کے کنارے دن کا کھانا کھا رہے تھے ۔
کھانے کے بعد گرم قہوے سے لطف اندوز ہوتے ہوئے میں نے پوچھا ۔ ”ویسے بہتر ہوتا کہ آپ مجھے نقشہ بنا کر دے دیتے ۔“
”دراصل میں غزنی کے علاقے میں مصروف عمل مجاہدوں سے آپ کا رابطہ بھی کرانا چاہتا تھا۔“
میں نے حیرانی سے پوچھا ۔”کیا مطلب وہ کوئی اور مجاہد ہیں ؟“
وہ مجھے سمجھاتا ہوا بولا ۔”بالکل ،افغانستان میں مختلف گروپ کفر سے برسرپیکار ہیں اور ہر گروپ کا علاحدہ کمانڈر ہے ۔آپ کو تو بس ہمارے گروپ کے کچھ لوگ جانتے ہیں ،باقی گروپس کے لیے آپ بالکل ہی انجان اور لاتعلق شخص ہوں گے ۔“
میں نے پوچھا ۔”تو کیا افغانستان میں کام کرنے والے تمام گروپس آپ کو جانتے ہیں ۔“
”نہیں ۔“اس نے نفی میں سر ہلایا ۔”لیکن میں انھیں اپنی پہچان کراسکتا ہوں ،تمام چھوٹے کمانڈروں کے پاس بھی مختلف پاس ورڈز اور خفیہ معلومات ہوتی ہیں جن میں میں آپ کو حصہ دار نہیں بنا سکتا اسی وجہ سے مجھے خود آپ کے ساتھ سفر طے کرنا پڑا ۔“
”ویسے افغانستان میں کتنے گروپ کام کر رہے ہیں ۔“قہوہ پی کر ہم آگے چل پڑے تھے ۔
”کافی زیادہ گروپ ہیں ........“وہ ان گروپوں کی تفصیل بتانے لگا ۔شام تک ہم ایک چھوٹی سی آبادی کے قریب پہنچ گئے تھے ۔دونوں نے مشورے سے وہیں رات گزارنے کا فیصلہ کیا ۔ایک بھلے آدمی کے گھر سے ہمیں کھانا اور ٹھکانہ مل گیا تھا ۔صبح سویرے نماز پڑھ کر ہم نے ناشتا کیا اور اللہ پاک کا نام لے کر چل پڑے ۔اگلے دودن ہم نے آرام سے سفر کرتے ہوئے رستے ہی میں گزارے تھے ۔اس دوران ہمیں دریائے غزنی بھی عبور کرنا پڑا ۔ہم دن کو سفر کرتے اور رات کو کسی کے مہمان بن جاتے ۔ تیسرے دن سہ پہر ڈھلے ہم مجاہدین کے ایک خفیہ ٹھکانے تک پہنچ گئے تھے ۔ کمانڈر عبدالحق نے اپنی پہچان کروائی ،فوراََ ہمیں خوش آمدید کہا گیا ۔
رات کے کھانے پر کمانڈر بسم اللہ جان ہماری آمد کی غایت پوچھ رہا تھا ۔
”ایک ذاتی کام ہی سمجھ لو ۔“عبدالحق نے تفصیل بتانے سے گریز کیا تھا ۔شاید میری مرضی معلوم کیے بغیر وہ کچھ نہیں بتانا چاہتا تھا ۔
بسم اللہ جان نے تفصیل جاننے میں دلچسپی ظاہر کیے بغیر کہا ۔”بس یہ بتا دیں کہ ہم کیا مدد کر سکتے ہیں ۔“
عبدالحق نے کہا۔”فی الحال تو کوئی نہیں البتہ جب بھی کسی مدد کی ضرورت ہوئی آپ کوضرور تکلیف دیں گے ۔“
بسم اللہ جان خوش دلی سے بولا۔”خوش آمدید۔“
رات کو جب ہم بستر پر لیٹے تو میں کمانڈر عبدالحق کو مخاطب ہوا ۔”میرا خیال ہے اب آپ کی ذمہ داری بھی ختم ہو گئی ہے ۔“
”نہیں یار !....آپ جس دشمن کے خلاف کام کر رہے ہیں وہ میرا بھی اتنا ہی دشمن ہے ۔“
”ویسے یہاں تک میں پہنچ تو گیاہوں مگر کوئی لائحہ عمل ذہن میں نہیں آرہا ۔“میں نے اس موضوع پر مزید بات نہ کر کے گویا اس کی بات مان لی تھی ۔
عبدالحق اطمینان بھرے لہجے میں بولا۔”پہلے ان کے کیمپ کا جائزہ لے لیں پھر منصوبہ بھی بنا لیں گے ۔“
٭٭٭
اگلے دن ہم نے اپنے ہتھیار مجاہدین کے ٹھکانے پر چھوڑے اور ایک رہنما کو ساتھ لے کر غزنی شہر کی طرف چل پڑے۔ امریکن آرمی کا کیمپ شہر کے مضافات میں تھا ۔ کیمپ کیا پورا قلعہ تھا۔ سیکیورٹی کے اتنے سخت انتظامات کہ حقیقتاََ وہاں پرندہ بھی پر نہیں مار سکتا تھا ۔امریکنز کی رہائش تک چار پانچ حفاظتی حصار بنے ہوئے تھے ۔اتنی فول پروف سیکیورٹی دیکھ کر میرے دماغ میں کیمپ کے اندر گھسنے کا خیال بھک سے اڑ گیا تھا ۔
”میرا خیال میں اندر گھسنے کی کوشش کرنا نری خود کشی ہی ہو گی ۔“میں نے آنکھوں سے لگی دوربین کمانڈرعبدالحق کی طرف بڑھائی۔
میرے ہاتھوں سے دوربین لے کر اس نے آنکھوں سے لگانے کی زحمت کیے بغیر کہا ۔” مجھے پہلے سے معلوم تھا ،مگر میں چاہتا تھا کہ ایک مرتبہ آپ خود جائزہ لے لیں ۔“
میں نے حیرانی سے پوچھا ۔”آپ پہلے یہ کیمپ دیکھ چکے ہیں ؟“
”نہیں ۔“اس نے نفی میں سرہلایا۔”اگر دیکھ چکا ہوتا تو اپنے ساتھ کسی رہنما کو کیوں لاتا ،مگر ان کے تمام کیمپ اسی طرح سے فول پروف بنائے گئے ہیں اور یہ بھی باقی کیمپوں کی طرح ہی ہے ۔ امریکن بس اپنی فلموں ہی میں دلیری دکھا سکتے ہیں ،حقیقتاََ اتنے بزدل ہیں کہ میں بتا نہیں سکتا ۔“
”کیا یہ کیمپ سے باہر نہیں نکلتے ۔“
”نکلتے ہیں ،مگر بہت کم اور خاطر خواہ انتظام کے بعد ایک قافلے کی صورت باہر آتے ہیں ۔ سب سے آگے ایک خصوصی گاڑی چلتی ہے جس میں جیمر نصب ہوتا ہے جس کی وجہ سے کوئی بھی ٹائم بم یا آئی ڈی وغیرہ چال نہیں کر سکتی ۔اور اگر اتفاق سے آئی ای ڈی پھٹ بھی جائے تب بھی آگے والی گاڑی کو کچھ نقصان نہیں پہنچا سکتی ۔عقب میں چلنے والی گاڑیوں میں بھی کئی افغان اور امریکن ہتھیار بردار تیاری حالت میں بیٹھے ہوتے ہیں ۔ہیلی کاپٹر بھی عموماََقافلے کے ساتھ ہی چلتا ہے ۔“
میں نے پوچھا ۔”پاکستان میں تو البرٹ بروک وغیرہ اتنا اہتمام نہیں کرتے تھے ۔“
”کیونکہ وہاں وہ امریکنوں کی حیثیت سے سفر نہیں کرتے ۔وہاں وہ دہشت گردوں کی گاڑیوں میں چھپ کر حرکت کرتے ہیں اور کسی کو معلوم ہی نہیں ہوتا کہ ان گاڑیوں میں کوئی امریکی جا رہا ہے ۔“
اس دن ہم امریکن کیمپ کا چاروں اطراف سے جائزہ لے کر واپس آگئے ۔واپس پہنچتے ہوئے شام ہو گئی تھی ۔صبح ناشتے کے بعد سے ہم کچھ نہیں کھا سکے تھے ،کیمپ پہنچتے ہی ہم نے سب سے پہلے کھانا کھانا پسند کیا ۔رات کو سونے سے پہلے ہم ایک مناسب لائحہ عمل ترتیب دے رہے تھے ۔
میں نے کہا ۔”بھائی مجھے اس کا ایک ہی حل نظر آرہا ہے کہ ان کا کوئی اہم آدمی اپنے قبضے میں کریں اور پھر مذاکرات کے ذریعے اپنی شرائط منوا لیں ۔“
”صحیح کہا۔“عبدالحق نے میری تائید میں سر ہلایا۔”مگر اصل مسئلہ ہی کسی اہم آدمی کو پکڑنے کا ہے ۔ان بزدلوں کے ہوٹل اور تفریح کے دوسرے انتظامات حفاظتی حصار کے اندر ہی کیے گئے ہیں ۔اس طرح نہ انھیں باہر نکلنا پڑتا ہے اور نہ انھیں کوئی خطرہ ہوتا ہے ۔“
”ان کے کیمپ پر تو حملہ کیا جا سکتا ہے نا ۔“
”شاید ،مگر اس طرح ہم انھیں جانی نقصان تو پہنچا سکتے ہیں کسی کو پکڑ نہیں سکتے ۔کیونکہ یہ حملہ دور سے راکٹ وغیرہ پھینک کر ہی کیا جا سکے گا ۔ورنہ کیمپ کے حفاظتی انتظامات تو آپ نے خود دیکھ ہی لیے ہیں ۔“
”شہر میں خریداری وغیرہ کے لیے تو جاتے ہوں گے ۔“
”ضرورت کا سامان انھیں کیمپ کے اندر ہی پہنچا دیا جاتا ہے ۔اور سامان لانے والے مخصوص افراد ہوتے ہیں جنھیں شناخت کے کئی مراحل سے گزر نا پڑتا ہے ۔“
”اب یہی طریقہ رہ گیا ہے کہ ان کے کسی قافلے پر گھات لگائی جائے ۔“
”ہاں ،لیکن وہ تب ہی ممکن ہے کہ ہمیں پہلے سے ان کے قافلے کے جانے کے وقت اور سمت کے بارے معلو م ہو جائے ۔اس صورت میں بھی ہمیں کمانڈر بسم اللہ جان کی مدد کی ضرورت پڑے گی ۔“
میں نے پوچھا ۔”تو کیا کمانڈر ہماری مدد نہیں کرے گا ؟“
”کیوں نہیں ۔“
”بہتر تو یہی ہو گا کہ انھیں ساری بات بتا کر مشورہ مانگا جائے ،شاید وہ کسی دوسری تجویز کی طرف رہنمائی کر دیں ۔“
”ٹھیک ہے کل ان سے بات کر یں گے ۔“کمانڈر عبدالحق میرے ساتھ متفق ہو گیا تھا ۔
٭٭٭
اگلے دن کمانڈر بسم اللہ جان صبح سویرے ہی کہیں نکل گیا تھا ۔ان کی واپسی کہیں رات گئے ہوئے تھی ۔یوں ایک دن بعد ہی ان سے بات ہو سکی۔ ساری بات سن کر وہ گہری سوچ میں کھوگیا تھا۔چند لمحوں بعد اس نے زبان کھولی ۔
”ان کے قافلے تو پندرہ بیس دن بعد حرکت کر ہی لیتے ہیں ،لیکن ایک تو ضروری نہیں کہ ہر قافلے میں کوئی اہم شخصیت موجود ہو ۔اور دوسرا قافلے کی حفاظت کے لیے عموماََ ہیلی کاپٹر بھی ساتھ چلتا ہے ۔ایسی صورت میں قافلے پر حملہ تو کیا جا سکتا ہے کسی کو گرفتار کرنا مشکل ہو تا ہے ۔“
میں پھیکے انداز میں بولا ۔”گویا ہمارا منصوبہ کسی کام کا نہیں ۔“
کمانڈر بسم اللہ جان نے مجھے تسلی دیتے ہوئے کہا ۔”ایک طریقہ توہے ،لیکن اس میں زیادہ محنت کرنا پڑے گی ۔“
ہم نے بیک زبان پوچھا ۔”وہ کیا ؟“
”غیرملکی میڈیا کے کافی نمائندے افغانستان کے بڑے شہروں میں موجود ہیں ،اسی طرح ان شہروں میں کچھ دوسرے مقاصد سے آئے ہوئے امریکی شہری بھی موجود ہوتے ہیں ........“
”مگر ہمیں میڈیا کے نمائندوں یا عام امریکنز سے کیا مطلب ۔“میں نے اس کی بات پوری نہیں ہونے دی تھی ۔
کمانڈر بسم اللہ نے افسوس بھرے انداز میں سر ہلایا۔”میرا خیال ہے میری بات درمیان ہی میں ہے ۔“
میں نے جلدی سے کہا ۔”معذرت خواہ ہوں ۔“
”تو میں کہہ رہا تھا کہ ان میں امریکن سی آئی اے کے کچھ ایجنٹ بھی چھپے ہوتے ہیں ۔اب ان سیکرٹ ایجنٹس کو کیسے پہچانا جا سکتا ہے اس بارے میں بس اتنی ہی رہنمائی کر سکتا ہوں کہ اس کے لیے ایسے افراد کی نگرانی کرنا پڑے گی اور یہ کافی تھکا دینے والا کام ہے ۔“
”گویا اب مجھے جاسوس بننا پڑے گا ۔“
”جی ۔“کمانڈربسم اللہ جان نے اثبات میں سر ہلایا۔”اور شہر میں رہنے کے لیے آپ کے پاس اپنی شناخت موجود ہونا چاہیے یہ نہ ہو دوسروں کو پکڑتے ہوئے اپنی جان پھنسا بیٹھیں ۔“
میں نے کہا ۔”اب کام تھوڑا مشکل ہو گیا ہے ۔“
”نہیں اس کا بھی کوئی نہ کوئی بندوبست کر لیں گے ۔“عبدالحق نے مجھے تسلی دی ۔
میں نے پوچھا ۔”وہ کیسے ؟“بسم اللہ جان بھی اس کی جانب متوجہ ہو گیا تھا ۔
عبدالحق نے کہا ۔”افغانستان میں کافی کنسٹریکشن کمپنیاں کام کر رہی ہیں جن میں پاکستانی مزدور اور انجینئر وغیرہ کام کر رہے ہیں ۔“
”تو ۔“میں نے مزید وضاحت چاہی ۔
”آپ کسی بھی کمپنی میں بہ طور مزدور وغیرہ شامل ہو کر اپنے پاکستانی شناختی کارڈ پر آسانی سے گھوم سکتے ہیں ۔“
میں نے کہا ۔”ویزا وغیرہ بھی تو بنانا ہو گا نا ؟“
”ویسے سردیوں میں تو کنسٹریکشن کمپنیوں کا کام ٹھپ ہو جاتا ہے ۔“اس سے پہلے کہ عبدالحق میرے سوال کا جواب دیتا بسم اللہ جان نے ایک اور نکتہ اٹھایا ۔
”یہ امریکہ نہیں ہے کہ یہاں ویزوں کی اتنی جانچ پڑتال ہو اور نقلی ویزہ بنانا اتنا مشکل نہیں ہے ۔باقی کنسٹریکشن کمپنیاں سائیٹوں کا کام سردی کی وجہ سے روک دیتی ہیں لیکن تھوڑا بہت دفتری سٹاف موجود رہتا ہے ۔“عبدالحق نے ایک ہی سانس میں ہم دونوں کا اعتراض ختم کر دیا تھا ۔
اس کے بعد ہم باقی تفصیلا ت طے کرنے لگے ۔اگلے دن عبدالحق نے وہاں سے کابل جانا تھا کیونکہ اس کی واقفیت جس کنسٹریکشن کمپنی میں تھی وہ کابل کے مضافات میں کام کر رہی تھی ۔وہیں پر اس نے میرے لیے ویزہ وغیرہ بھی بنوانا تھا ۔میں نے بھی اس کے ساتھ چلنے پر اصرار کیا تھا لیکن اس نے منع کر دیا کیونکہ میرا سڑک کے ذریعے کابل جانا کسی طور مناسب نہیں تھا ۔خود عبدالحق کے پاس افغانستان کی شناخت موجودتھی ۔
٭٭٭
اگلے دن کمانڈر عبدالحق مجھ سے اجازت لے کر رخصت ہو گیا ۔ جاتے ہوئے اس نے ایک کیمرے والے موبائل فون میں میری چند تصاویرکھینچ لی تھیں ۔ایک مجاہد کو میں نے اپنے ذاتی کام میں گھسیٹ لیا تھا ۔گو ان مجاہدین کی زندگی کا مقصد ہی کفر کے خلاف برسر پیکار رہنا ہے ،لیکن ان کا طریقہ کار مختلف ہوتا ہے ۔
اس کے جانے کے بعد ایک بار پھر میں فارغ تھا ۔فروری کے وسط میں سردی کا زور ٹوٹنے لگتا ہے مگر یہاں ابھی تک سخت سردی پڑ رہی تھی ۔کمانڈر عبدالحق نے یہی کہا تھا کہ اسے میرے کام میں ہفتے سے زیادہ وقت لگ جائے گا ۔ اب اسے ڈیڑھ ہفتہ بھی لگ سکتا تھا اور دو سے تین ہفتے بھی ۔اس کی واپسی تک مجھے کوئی کام نہیں تھا ۔خود کو مصروف رکھنے کے لیے میں فارغ اوقات میں مختلف ورزشیں کر کے وقت گزارتا رہتا ۔اس طرح پلوشہ کی یادوں سے بھی کچھ افاقہ ہو جاتا اور کسرت بھی ہو جاتی ۔
کمانڈر عبدالحق کو گئے ہوئے ایک ہفتہ ہو گیا تھا جب ایک رات کمانڈر بسم اللہ جان میرے پاس آگیا۔میں سونے کے لیے لیٹ چکا تھا ۔
”آپ غالباََ سو رہے ہیں ۔“مجھے رضائی میں گھسا دیکھ کر وہ واپس مڑنے لگا ۔
میں نے جلدی سے کہا ۔”ارے نہیں بھائی آئیں بیٹھیں،فارغ آدمی کو اتنی جلدی کہاں نیند آتی ہے ۔“
”اچھا ۔“کر کے وہ میرے پاس آکر بیٹھ گیا ۔
”آپ کام میں مصروف ہوتے ہیں اس لیے آپ کے پاس نہیں بیٹھتا ورنہ میرا دل چاہتا ہے کہ رات گئے تک آپ کے ساتھ گپ شپ کروں ۔“
”گویا فراغت آپ کو راس نہیں آرہی ۔“اس نے بہ ظاہر ہنستے ہوئے پوچھا ۔نامعلوم کیوں مجھے اس کا لہجہ معنی خیز لگا تھا ۔
”آپ بالکل صحیح کہہ رہے ہیں ،مجھے مسلسل فارغ رہنا پڑ رہا ہے اور یہ بے کاری نرا سر درد ہی تو ہے ۔“
”ویسے ایک کام تو ہے اس بہانے ہماری بھی مدد ہو جائے گی اور آپ کو بھی ہلنے جلنے کا موقع مل جائے گا ۔“اس کے انداز سے صاف لگ رہا تھا کہ وہ صرف اسی خاطر ہی میرے پاس آیا تھا ۔ اور گفتگو کا رخ اتفاقاََ ایسے موضوع کی جانب مڑ گیا کہ اسے اپنی بات کرنے میں آسانی ہو گئی تھی ۔
میں خوش دلی سے بولا ۔”کمانڈر آپ بے جھجک کام بتائیں ،اگر میرے بس میں ہوا تو انکار نہیں سنو گے ۔“
”عبدالحق بھائی کہہ رہے تھے کہ آپ کا نشانہ بہت اچھا ہے ۔“کام بتانے سے پہلے اس نے تصدیق کرنا ضروری سمجھا تھا ۔
میں نے انکساری سے کہا ۔”لوگ ایسا ہی سمجھتے ہیں ۔“
اس نے متبسم ہو کر کہا ۔”تو لوگوں کے سمجھنے کو نظر انداز تو نہیں کیا جاسکتا نا وہ کیا کہتے ہیں ....
برا کہے جسے دنیا اسے برا کہیے
زبان خلق کو نقارہ خدا کہیے
میں نے مزاحیہ انداز میں کہا۔”گویا آپ کے نزدیک اچھا نشانہ باز ہونا برائی کی علامت ہے۔“
وہ ترکی بہ ترکی بولا ۔”بالکل ،مخالفین کو ایسا آدمی بہت برا لگتا ہے ۔“
”غالباََ آپ یہی چاہتے ہیں کہ وہ مجھے برا ہی سمجھتے رہیں ۔“میں نے جوابی وار کیا ۔
”پرسوں ایک خصوصی تقریب منائی جا رہی ہے ،محکمہ موسمیات کی پیشن گوئی کے مطابق اگلے تین چار دن موسم صاف رہے گا ۔دھوپ سے لطف اندوز ہونے کے لیے یہ محفل ایک کھلی جگہ منعقد ہو گی ۔ ایک بڑا سا کیک کاٹا جائے گا اور اس دوران آپ ہمیں یقین دلا سکتے ہیں کہ دشمن آپ کو یونھی برا نہیں سمجھتے۔“آخری فقرہ اس نے ہنستے ہوئے کہا تھا ۔
”یہ پکی اطلاع ہے ۔“میں ایک دم سنجیدہ ہو گیا تھا ۔
”ہاں ۔“اس نے اثبات میں سر ہلایا۔
”لیکن اس دن میں نے کمانڈر عبدالحق کے ساتھ کیمپ کا جائزہ لیا تھا۔ مجھے تو کوئی ایسی جگہ نظر نہیں آئی جہاں سے ہم کیمپ کے اندر موجود کسی شخص کو نشانہ بنا سکیں ،کیونکہ کیمپ کے نزدیک جو دو ٹیکریاں ہیں وہاں افغان آرمی تعینات ہے ۔“
وہ اطمینان سے بولا ۔”جنوبی ٹیکری پر کل رات ہمارا قبضہ ہو جائے گا ،سارا منصوبہ بنا لیا گیا ہے ۔اور میرا خیال ہے کہ جنوبی ٹیکری سے کیمپ کے اندر مناسب طریقے سے فائر کیا جا سکے گا ۔“
”شاید اس ٹیکری پر بغیر شور شرابہ کیے قبضہ نہ کیا جا سکے ۔“میں نے اندیشہ ظاہر کیا ۔”ایک بھی گولی چل گئی تو بھانڈا پھوٹ جائے گا ۔اور ہم نے وہاں کافی وقت گزارنا ہے ۔“
وہ تیقّن سے بولا ۔”ایسا کچھ بھی نہیں ہو گا ۔اس ٹیکری پر جو لوگ تعینات ہیں ان میں ہمارا ایک آدمی موجود ہے۔ کل رات کو تمام کے کھانے میں زود اثر بے ہوشی کی دوا شامل ہو جائے گی اور اس کے بعد یقینا کوئی مزاحمت کے قابل نہیں رہے گا ۔“
”یہ سارا منصوبہ آپ نے میری نشانہ بازی کی وجہ سے بنا یا ہے یا کوئی اور وجہ ہے ۔“
”ایسے منصوبے ہم وقتاََ فوقتاََ بناتے رہتے ہیں ،کیونکہ ہم دشمن کو آرام سے رہنے نہیں دے سکتے ۔ ویسے یہ منصوبہ پچیس دسمبر کے لیے ترتیب دیا گیا تھا ،لیکن موسم خراب ہونے کی وجہ سے جو تقریب کھلے میدان میں ہونا تھی وہ بند سٹیڈیم میں منائی گئی ۔بس ہم نے اپنا جو آدمی وہاں تک پہنچایا تھا اسے کہہ دیا کہ وہ کسی مناسب موقع کی آمد تک وہیں ٹکا رہے ۔اور اب وہ مناسب موقع آگیا ہے ۔ہم نے جو منصوبہ پہلے بنایا تھا اس کے مطابق ہم وہاں راکٹ فائر کرتے ہیں گو وہ تمام راکٹ اندازے سے فائر کیے جا تے ہیں اور کبھی کبھار ہی کوئی راکٹ نشانے پر لگتا ہے لیکن ہمارا اصل مقصد افراتفری پھیلانا اور انھیں یہ باور کراتے رہنا ہے کہ ہم موجود ہیں ۔“
”تو یہ کام آپ کسی بھی وقت کر سکتے ہیں یوں کسی تقریب کا انتظار کرنے کا کیا مطلب ؟“
”کیونکہ تقریب کے وقت تمام اکھٹے ہوتے ہیں اور ایک بھی راکٹ نشانے پر لگ جائے تو کافی تباہی پھیلا سکتا ہے ،دوسرا ان کے جشن کے موقع پر ایسی کارروائی ان میں زیادہ مایوسی پھیلاتی ہے ۔“
”میرے گولی چلانے سے تو ایک دم افراتفری پھیل جائے گی اور اس صورت میں میں تین چار سے زیادہ افراد کو نشانہ نہیں بناپاﺅں گا ۔شاید آپ کے راکٹوں کو بھی ضائع کرنے کا باعث بن جاﺅں۔“
”ہمارے پاس ایسے موقعوں کے لیے ون او سیون راکٹ ہیں جن کا لانچر نہیں ہوتابس راکٹ ہی کو سیدھائی دے کر ہم مطلوبہ سمت میں ان کا رخ کر کے رکھ دیتے ہیں ۔یوں کبھی کبھار تو ایک آدمی کا بھی نقصان نہیں ہوتا اور کبھی چند افرادہلاک ہو جاتے ہیں ،جبکہ آپ کے فائر سے دو تین تو مردار ہو ہی جائیں گے ۔خاص کر بڑے آدمیوں کی موت سے ان کے مورال پر کافی اثر پڑے گا ۔“
”جب تک میں تقریب کی جگہ کا فاصلہ ناپ نہیں لیتا تب تک یہ کہنا قبل از وقت ہو گا،کہ میں کتنوں کو نشانہ بنا سکتا ہوں ۔اس ضمن میں مجھے کچھ سامان بھی درکار ہو گا ۔“اس کا سارا منصوبہ سمجھ میں آتے ہی میں نے اسے اپنی ضروریات سے آگاہ کرنا مناسب سمجھا ۔
”آپ اپنی ضروریات کے بارے بتائیں ۔“
”سب سے پہلے تو ایک دور مار رائفل چاہیے ہوگی ،اس کے ساتھ دوربین ،ونڈ میٹر ،لیزر رینج فائینڈر ........“میں اسے مطلوبہ سامان کے بارے تفصیل سے بتلانے لگا ۔
وہ اٹھتے ہوئے بولا ۔”چلیں میں آپ کو اپنے پاس موجود سامان دکھا دیتا ہوں جو چیز کم ہوگی اس کا بندوبست ان شاءاللہ کل ہو جائے گا ۔“
میں سر ہلاتا ہوا بستر سے نکل کر اس کے ہمراہ ہو لیا ۔تھوڑی دیر بعد ہم ایک تہہ خانے میں موجود تھے ۔وہاں ہتھیاروں کے درمیان ڈریگنوو اور گلیل سنائپر رائفل کے علاوہ رینج ماسٹر بھی موجود تھی ۔ اور رینج ماسٹر کی موجودی میں دوسری رائفلوں سے مجھے کیا مطلب ہو سکتا تھا ۔یہ تمام امریکن اور افغان فوجیوں سے چھینا گیا سامان تھا ۔سوائے ونڈ میٹر کے مجھے اپنے مطلب کی ہر چیز مل گئی تھی ۔یہاں تک کہ ایک اچھی کوالٹی کا سائیلنسر بھی موجود تھا ۔
”سامان تو قریباََ مکمل ہی ہے ۔“میں نے اطمینان بھرے انداز میں سر ہلایا۔
کمانڈر بسم اللہ جان خوش ہوتے ہوئے بولا ۔”ویسے ان میں سے کافی چیزیں ایسی ہیں جن کے استعمال کے بارے ہم نہیں جانتے تھے ۔ہمارے نزدیک وہ بالکل فالتو تھیں پھر بھی میں نے یہ سوچ کر رکھ چھوڑی تھیں کہ شاید کبھی کام آجائیں ۔آج لگتا ہے میرا یہ فیصلہ مفید ثابت ہوا ۔“
میں نے اثبات میں سر ہلاتے ہوئے کہا ۔”اب سب سے اہم کام یعنی فاصلہ ناپنا رہ گیا ہے کہ اس ٹیکری سے تقریب کی جگہ کا فاصلہ کتنا ہو گا ۔“
”ویسے آپ کتنے فاصلے سے کسی آدمی کو نشانہ بنا لیں گے ۔“
”دو کلومیٹر ۔“میں نے رینج ماسٹر کی رینج کے مطابق کہا ۔
”مطلب کمانڈر عبدالحق کی آپ کے بارے بتلائی گئی بات حقیقت ہے ۔“
”اب میں کمانڈر عبدالحق کو جھوٹا تو نہیں کہہ سکتا نا ۔“میں نے لطیف انداز میں چوٹ کی اور وہ قہقہہ لگا کر ہنس پڑا ۔
مجھے بستر تک پہنچا کر اس نے اجازت لی اور رخصت ہو گیا ۔
٭٭٭
اگلے دن میں نے حفظ ماتقدم کے طور پر رائفل کو صفر کر لیا تھا ۔سائیلنسر کی موجودی میں مجھے فائر کرتے ہوئے کوئی مسئلہ پیش نہیں آیا تھا ۔ رینج ماسٹر رائفل کی تو بور سائیٹنگ بھی ہو جاتی ہے ۔لیکن جب فائر کرنے کی سہولت موجود ہو تو بور سائیٹنگ کی ضرورت باقی نہیں رہتی ۔(بورسائیٹنگ بغیر گولی چلائے رائفل کو صفر کرنے کا طریقہ ہے )
رات کو کمانڈر بسم اللہ جان اپنے کچھ آدمیوں کے ساتھ مذکورہ ٹیکری پر پہنچ گیا تھا ۔انھیں سارے افغان فوجی بے ہوش ہی ملے تھے ۔پوری پوسٹ قبضے میں لیتے ہی اس نے موبائل فون پر کال کر کے اپنے ساتھیوں کو مطلع کر دیا ۔اس کے ایک ساتھی نے مجھ تک بھی یہ اطلاع پہنچا دی تھی ۔
میں نے صبح سویر ے وہاں پہنچنا تھا ۔طلوع آفتاب کے ساتھ ہی میں ایک ڈبل کیبن میں بیٹھا اس ٹیکری کی طرف روانہ تھا جہاں مجاہدین کا قبضہ ہو چکا تھا ۔
ہم نے بہ مشکل آدھا رستا طے کیا تھا کہ کمانڈر بسم اللہ جان کی کال آ گئی ۔اس نے میرے ساتھ بات کرنا چاہی ۔اور میرے ساتھ بیٹھے ہوئے آدمی نے موبائل فون میری جانب بڑھا دیا ۔
وہ سلام وغیرہ کے بعد بولا ۔”ذیشان بھائی !....میرا خیال ہے یہاں آپ کی ضرورت باقی نہیں رہی ۔“
”کیوں ؟“میں نے حیرانی کے اظہار میں دیر نہیں لگائی تھی ۔
وہ مایوس کن لہجے میں بولا ۔”میں نے اس جگہ کا فاصلہ ناپا ہے دو کلومیٹر سے زیادہ فاصلہ بن رہا ہے ۔“
”یہ طے کرنا میرا کام ہے ۔“ٹیکری کی بلندی ذہن میں لاتے ہوئے میں نے اس سے اتفاق نہیں کیا تھا ۔
”جیسے آپ کی مرضی ۔“اس نے میری آمد کو میری صواب دید پر چھوڑ دیا تھا ۔
ڈرائیوربے خوف وخطر ،گاڑی کو اس ٹیکری کے عقب میں لے گیا تھا ۔پہلے والی تین گاڑیاں بھی وہیں چھپا کر کھڑی کی گئی تھیں ۔ہماری رہنمائی کے لیے دو آدمی ٹیکری سے نیچے آئے ہوئے تھے ۔ان کی ہدایات پر ڈرائیور نے گاڑی پہلے والی گاڑیوں کے ساتھ کھڑی کی اور ہم ان کی رہنمائی میں اوپر چڑھنے لگے ۔ٹیکری کے اوپر پہنچتے ہی کمانڈر بسم اللہ جان ہمیں اپنا منتظر نظر آیا ۔اس کے چہرے پر چھائے تاثرات یقینا میرے منھ سے کوئی امید بھری خبر سننے کے خواہاں تھے ۔میں نے بھی اس سے مصافحہ کرتے ہی فاصلہ ناپنے والے آلے (لیزر رینج فائینڈر )کے متعلق دریافت کیا ۔
”آئیں میرے ساتھ ۔“وہ مجھے ساتھ لے کر پوسٹ کی شمالی جانب لے گیا ۔امریکن کیمپ بالکل ہی میرے سامنے تھا ۔ایک وسیع میدان کے بیچوں بیچ تقریب کے لیے جگہ بنائی گئی تھی ۔دھوپ سے لطف اندوز ہونے کی خاطر شامیانے وغیرہ نہیں لگائے گئے تھے ۔یو کی شکل میں صوفہ سیٹ اور کرسیاں ترتیب سے لگائی گئی تھیں ۔ایک جانب چند چوڑی میزیں جوڑ کر کھانا وغیرہ رکھنے کی جگہ بنائی گئی تھی ۔میں نے فاصلہ ناپنے والا آلہ تھامتے ہی ترتیب سے رکھے صوفوں کا فاصلہ ناپا ۔وہ بائیس سو میٹر تھا ۔جبکہ رینج ماسٹر کی کارگر رینج دو ہزار میٹر ہے ۔
”کتنا فاصلہ ہے ۔“فاصلہ ناپتے ہی میں نے کمانڈر بسم اللہ جان سے تصدیق چاہی ۔
اس نے مایوسی بھرے انداز میں کہا ۔”بائیس سو ۔“
اطمینان بھرے انداز میں سر ہلاتے ہوئے میں نے اپ ہل ،ڈاﺅن ہل پروٹیکٹر کے ذریعے ہدف کا زوایہ معلوم کیا ۔وہ جگہ ہماری ٹیکری سے تیس ڈگری نشیب میں تھی ۔کوسائن فیکٹر کو استعمال کرتے ہوئے میں نے رائفل پر لگانے والی رینج معلوم کی جو کہ انیس سو پانچ میٹر بن رہی تھی ۔
(اس سے پہلے غالباََ میں بتا چکا ہوں کہ جب بھی کوئی سنائپر نیچے سے بلندی کی طرف یا بلند مقام سے نیچے کی طرف فائر کرتا ہے تو وہ ہدف کی براہ راست پڑھی جانے والی رینج نہیں لگاتا بلکہ افقی رینج لگاتا ہے ۔اس مقصد کے لیے اسے ہدف چاہے وہ نیچے ہو یا اوپر اس کا زاویہ درکار ہوتا ہے کہ سنائپر سے ہدف کی بلندی یا گہرائی کا کتنا زاویہ بن رہا ہے ۔اور پھر اس زاویے اور فاصلے کو ایک مخصوص تناسب سے جمع تفریق کرنے سے مطلوبہ رینج معلوم ہوجاتی ہے ۔قبیل خان کے جانشین سردارجہانداد خان کو میں نے اسی فارمولے کو بروے کار لاتے ہوئے بلندی کی طرف فائر کر کے کیفر کردار تک پہنچایا تھا ۔)
”میرا خیال ہے فائر کرنے کے لیے یہ جگہ مناسب رہے گی ۔“ایک ہموار سطح دیکھ کر میں نے کمانڈر بسم اللہ جان کو کہا ۔”یہاں ایک کمبل وغیرہ بچھوا دیں تاکہ میں آرادم دہ حالت میں لیٹ کر فائر کر سکوں ۔“
اس نے الجھن آمیز لہجے میں پوچھا ۔”کیا فاصلہ ناپنے میں مجھ سے غلطی ہوئی ہے ؟“
”نہیں ۔“میں نے نفی میں سرہلایا۔”فاصلہ بائیس سو میٹر ہی بن رہا ہے ۔لیکن نشیب میں ہونے کی وجہ سے رائفل پر رینج انیس سو میٹر لگے گی ۔“
”وہ کیوں ؟“اس کی حیرانی برقرار تھی ۔
”اس کیوں کو کھوجنے کے لیے آپ کو میری شاگردی اختیا ر کرنا پڑے گی ۔“ہنستے ہوئے میں رائفل کی میگزین بھرنے لگا ۔
”اس کا فیصلہ آپ کے فائر کے بعد ہی کر سکوں گا ۔“میرے پر اعتماد لہجے نے اسے خوش کر دیا تھا ۔
میں نے برجستہ کہا۔”فائر کے بعد شاید میری پیش کش برقرار نہ رہے ۔“
اس نے قہقہہ لگایا۔”یہ بھی ممکن ہے فائر کے بعد مجھے ہی اپنے مطالبے سے دست بردار ہونا پڑے ۔“
میں نے منھ بناتے ہوئے کہا ۔”ا ب اتنے بھی برے دن نہیں آئے۔“
”چلو دیکھ لیں گے ۔“
دو میگزینیں بھر کر میں نے رائفل کے ساتھ رکھیں ۔اتنی دیر میں میری بتائی ہوئی جگہ پر ایک آدمی نے نرم کورین کمبل بچھا دیا تھا ۔رائفل پر ٹیلی سکوپ سائیٹ لگا کر میں نے صوفوں کی جانب سیدھائی دی ۔ایلی ویشن ڈرم پرمطلوبہ رینج لگائی اوررائفل کو کاک کر کے سیفٹی لگادی ۔اب بس ان کے آنے کی دیر تھی ۔دھوپ خوب روشن تھی تقریب کی جگہ پر ہلکی پھلکی چہل پہل نظر آنے لگی تھی ۔ملازم کھانے کی میز پر برتن وغیرہ لگا رہے تھے ۔کچھ صوفوں اور ان کے سامنے پڑی شیشوں کی میزوں کو صاف کر رہے تھے ۔
رائفل کو وہیں چھوڑ کر میں کھڑا ہو گیا ۔”سادہ کپڑے کی چھوٹی سی جھنڈی درکار ہو گی ۔“
”جھنڈی ....؟“بسم اللہ جان کے لہجے میں حیرانی تھی ۔
”ہاں ۔“میں وضاحت کرتا ہوا بولا ۔”ونڈ میٹر نہیں ہے نا تو ہوا کی رفتار ناپنے کے لیے ایک جھنڈی سامنے لگوا دو ۔“
”اب جھنڈے سے کیسے ہوا ناپی جائے گی؟“کمانڈر بسم اللہ جان کی سمجھ میں میری بات نہیں آرہی تھی ۔اور آ بھی کیسے سکتی تھی ،یہ تو سنائپرز کے اپنے تجربات ہوتے ہیں اور وہ کوئی سنائپر تو نہیں تھا ۔
میں اسے سمجھاتے ہوئے بولا ۔”ہوا کی وجہ سے جھنڈے کا کپڑا اس کے ڈنڈے کے ساتھ ایک مخصوص زاویہ بناتا ہوا لہراتا ہے ۔ہوا جتنی تیز ہوتی ہے کپڑا اتنا ہی سیدھا اڑتا ہے ۔اس زاویے کو ناپ کر ہم سنائپر ز اندازہ لگالیتے ہیں کہ ہوا کی رفتار کیا ہے اور پھر رفتار معلوم کر کے ہم دائیں بائیں فرق ڈالنے والی ناب کے ذریعے ٹیلی سکوپ سائیٹ پر مناسب رینج لگا سکتے ہیں ،اس طرح کہ ہوا گولی پر اثر انداز نہ ہو سکے ۔“
”اتنے بکھیڑے ،مجھ سے تو نہیں پالے جائیں گے ۔“
میں نے کہا ۔”کامیاب فائر کرنے کے لیے ایسے بکھیڑے پالنا پڑتے ہیں کمانڈر جی ۔“کہتے ہوئے میں رہائشی بینکر کی طرف بڑھ گیا ۔ وہ جلدی سے بولا ۔”اپنے چہرے پر کپڑا لپیٹ لو ، ہم نے افغان فوجیوں کو قتل نہیں کرنا ۔“
میں نے اثبات میں سر ہلا کر چہرے پر مفلر لپیٹ لیا ۔اندر موجود مجاہدوں نے بھی اپنے چہرے چھپائے ہوئے تھے ۔اس پوسٹ پر بیس کے قریب افغان فوجی موجود تھے ۔تمام کو انھوں نے باندھ دیا تھا۔ بسم اللہ جان کے دومسلح ساتھی ان کی نگرانی کر رہے تھے اور باقی افغان فوجیوں کا اسلحہ ، ایمونیشن اور دوسری کام کی چیزیں نیچے لے جا کر اپنی گاڑی میں لوڈ کررہے تھے ۔
اندر کا جائزہ لے کر ہم باہر نکل آئے ۔ایک طرف پلاسٹک کی کرسیاں پڑی ہوئی تھیں ۔ ان پر بیٹھ ہم وقت گزارنے لگے ۔تھوڑی دیر تک مجاہدین ایمونیشن اور ہتھیاروں وغیرہ کو دو گاڑیوں میں لوڈ کر چکے تھے ۔آدھے افراد کو کمانڈر بسم اللہ جان نے واپس جانے کا حکم دیا کیونکہ فائر ہونے کے بعد ہم نے وہاں سے فرار ہونا تھا اور مناسب یہی تھا کہ اس سے پہلے سامان والی گاڑیاں اپنے ٹھکانے کی طرف بھیج دی جاتیں ۔
تقریب والی جگہ پر لوگوں کی آمد شروع ہو گئی تھی ۔رائفل کے پیچھے لیٹ کر میں لیوپولڈ سائیٹ کے سے تقریب والی جگہ کا جائزہ لینے لگا ۔رینج ماسٹر کی ٹیلی سکوپ سائیٹ عام انسانی آنکھ سے پچیس گنا زیادہ طاقتور ہے ۔اس میں پورا منظر بالکل صاف نظر آرہا تھا۔آنے والے گورے سائیٹ کے اندر صاف نظر آرہے تھے ۔زیادہ تر تو صوفوں پر بیٹھ گئے تھے البتہ اکادکا دائیں بائیں جوڑیوں میں کھڑے ہو کر بات چیت کر رہے تھے ۔باوردی بیرے انھیں مشروبات پیش کر رہے تھے ۔ غالباََ یہ بتانے کی ضرورت تو نہیں ہو گی کہ وہ کون سا مشروب تھا ۔افغان فوج کے چندآفیسر بھی مجھے صوفوں پر بیٹھے ہوئے نظر آئے تھے۔ان کی پہچان مجھے فوجی وردی کی وجہ سے ہو پائی تھی۔اکادکا خواتین بھی نظر آرہی تھیں ۔
میری نظریں پھسلتی ہوئی ایک لڑکی پر مرکوز ہوئیں اور میں چونک گیا ۔الگ تھلگ بیٹھی ہاتھ میں پکڑے جام سے ہلکی ہلکی چسکیاں لے رہی تھی ۔وہ میجر جینیفر ہنڈسلے تھی ۔لیکن اس وقت بھی وہ ٹریسی والکر کا روپ دھارے ہوئے تھی ۔
تمام کے انداز سے یہی لگ رہا تھا کہ انھیں کسی کا انتظار ہے ۔درمیان میں پڑاٹو سیٹر صوفہ سیٹ خالی پڑا تھا اس کے ساتھ پڑے ہوئے سنگل سیٹ صوفوں پر دو آدمی بیٹھے تھے ۔باقی تمام کرسیاں اور صوفے بھی تقریباََ بھر چکے تھے ۔
پھر ایک لمبے تڑنگے سفید سوٹ والے آدمی کی آمد پر تمام نے اپنی جگہ پر کھڑے ہو کر اسے تعظیم دی تھی ۔درمیان والے صوفے پر نشست سنبھالتے ہوئے اس نے تمام کو بیٹھنے کا اشارے کیا اور سب نے اپنی جگہ پرنشست سنبھال لی ۔میں نے نظر بھر کر سامنے لگے جھنڈے کو دیکھا جو بالکل ہلکے انداز میں ہل کر واضح کر رہا تھا کہ ہوا کی رفتار اتنی زیادہ نہیں تھی کہ گولی کو ہدف سے دائیں بائیں کر سکتی ۔مطمئن ہو کر میں دوبارہ سائیٹ میں دیکھنے لگا ۔جبکہ میرے دائیں ہاتھ کے انگوٹھے نے سیفٹی ہٹا دی تھی ۔
”ذیشان بھائی !....میرا خیال ہے مزید انتظار فضول ہوگا ۔“میرے ساتھ لیٹے بسم اللہ جان نے بھی فائر کرنے کا عندیہ دیا ۔
میں نے درمیانی صوفے پر پھیل کر بیٹھے آدمی کے چہرے پر نشانہ سادھتے ہوئے کہا ۔”میرا بھی یہی خیال ہے ۔بس مہمان خصوصی کا انتظار تھا ۔“یہ کہتے ہی میں نے سانس روکا اور ایک جھٹکے سے ٹریگر دبا دیا ۔اس وقت وہ گلاس کو منہ کی طرف لے جا رہا تھا لیکن اس کے مقدر کا رزق یقینا پورا ہو چکا تھا تبھی گلاس کے ہونٹوں تک پہنچنے سے پہلے رینج ماسٹر کی گولی اس کے ماتھے تک کا سفر طے کر چکی تھی ۔ طاقت ور گولی نے اس کی کھوپڑی کا دایاں حصہ ہی اڑادیا تھا ۔
”وہ مارا ۔“بسم اللہ جان نے پر جوش انداز میں نعرہ لگایا ۔مگر میں نے اس کی بات پر دھیان دیے بغیر رائفل کو دوبارہ کاک کر کے دائیں جانب بیٹھے ہوئے آدمی کی طرف بیرل کا رخ موڑا تمام لوگ ایک لمحے کے لیے سن ہو گئے تھے ۔میرے فائر کرنے سے پہلے دائیں اور بائیں جانب بیٹھے ہوئے دونوں آدمی صوفے پر تڑپنے والے کو مدد دینے کے لیے اس کے قریب ہوئے ،مگر وہ ہر قسم کی مدد سے دور جا چکا تھا ۔ دائیں جانب والے آدمی کے ساکت ہوتے ہی میں نے دوبارہ ٹریگر دبایا اور وہ آدمی بھی اپنی کھوپڑی کے چوتھائی حصے سے ہاتھ دھو بیٹھا ۔رینج ماسٹر کی گولی اس کی کھوپڑی سے گزرکر بائیں طرف موجود آدمی کے کندھے کو بھی زخمی کر گئی تھی ۔ایک نے جان سے ہاتھ دھوئے جبکہ دوسرا زخمی ہو کر تڑپنے لگا تھا ۔صوفے سے نیچے گرنے کی وجہ سے مجھے اس کا صحیح نشانہ نہیں مل رہا تھا ۔اس پر وقت ضائع کیے بغیر میں دوسروں کو نشانہ بنانے لگا ۔سرعت سے میں نے میگزین میں موجود باقی تین گولیاں فائرکیں ۔میرا نشانہ زیادہ تر وہ بنے جو شاک کی سی کیفیت میں اپنی جگہ پر ہکا بکا بیٹھے یا کھڑے رہ گئے تھے ۔
میگزین خالی ہوتے ہی میں نے نئی میگیزین لگائی اور رائفل کاک کر کے اپنا اگلا شکار ڈھونڈنے لگا ۔وہاں چیخ و پکار مچ گئی تھی ۔کچھ لوگ صوفوں کے عقب میں پناہ لے رہے تھے ۔کچھ بھاگ کھڑے ہوئے تھے ۔اور کچھ ہمدردی دکھاتے ہوئے تڑپنے والوں کی مددکی کوشش کررہے تھے ۔میری انگلی نے دو مرتبہ ٹریگر دبا کر مزید دوکو ان کے انجام تک پہنچایا ۔اسی دوران مجھے وہ زخمی ہمت کر کے اٹھتا ہوا نظر آیا ۔اس کے کندھے میں تواتفاق سے گولی لگی تھی البتہ اس کے سر میں میں جان بوجھ کر گولی اتارنا چاہتا تھا ۔اس کے سیدھا ہوتے ہی میری بیرل کا رخ اس کی جانب گھوما اسی وقت کوئی اس کے سامنے آکر کھڑا ہو گیا ۔یہ دیکھ کر میں حیران رہ گیا تھا کہ وہ جینیفر تھی ۔زخمی کو اپنے جسم کے پیچھے چھپاتے ہوئے اس کی نظریں اسی جانب اٹھی تھیں جہاں ہم موجود تھے ۔وہ زبردست سنائپر تھی اور اس کے لیے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں تھا کہ کس جگہ سے فائر کیا جا رہا ہے ۔مگر پھر بھی اس کا یوں بے وقوفوں کے انداز میں کسی کو بچانے کے لیے اپنے جسم کی آڑ مہیا کرنا میری سمجھ سے بالاتر تھا ۔
اچانک ایک خیال میرے ذہن میں لہرایا اور میں چونک گیا ۔”کیا اس نے پہچان لیا تھا کہ فائر کرنے والا میں ہوں اور اسی وجہ سے یوں دلیرانہ انداز میں میرے کھڑی ہو گئی تھی ۔“
اسی وقت ایک دوسرا آدمی ان کے قریب پہنچا ۔یقینا وہ جینیفر کی وجہ سے ہمت کر کے قریب آیا تھا ۔اوریہ بہادری اسے مہنگی پڑی ۔جونھی جینیفر کی نظر اس پر پڑی اس نے چیخ کر اسے واپس جانے کو کہا ۔ گو اس کے الفاظ تو میرے کانوں تک نہیں پہنچے تھے مگر اس کے ہاتھوں کے اشارے اور انداز سے مجھے اندازہ ہوگیا تھا کہ وہ کیا کہہ رہی تھی ۔مگر اس کی یہ نصیحت یا مشورہ بے سود رہا تھا ۔جب تک دوسرے کی سمجھ میں جینیفر کی بات آتی ،رینج ماسٹر کی گولی اسے سمجھا چکی تھی ۔اس کے بائیں کان کے ساتھ لگنے والی گولی نے اسے دائیں جانب اچھال دیا تھا ۔اس کا آدھا جسم صوفے پر اور آدھا نیچے تھااس حالت میں تڑپتے ہوئے وہ کافی مضحکہ خیز نظر آرہا تھا
میں نے دوبارہ رائفل کاک کی لیکن جینیفر وہاں سے ہٹنے پر آمادہ نظر نہیں آرہی تھی ۔میرے ہمراہ لیٹے ہوئے کمانڈر بسم اللہ جان نے کہا ۔”ذیشان بھائی !....دوران جنگ ، لڑائی میں شامل عورتوں مردوں کی تخصیص ختم ہو جایا کرتی ہے ۔“یقینا وہ یہ سمجھ رہا تھا کہ میں جینیفر کے عورت ہونے کی وجہ سے اس پر گولی نہیں چلا پا رہا ۔اس کی بات سن کر مجھے لگا کہ میں جینیفر پر گولی نہ چلا کر کچھ غلط کر رہا ہوں ۔ اس وقت میں اس سے ہونے والی آخری ملاقات کو سوچ رہا تھا جب میں نے اسے بتایا تھا کہ اس کے سامنے آنے کی صورت میں میں اس پر گولی چلانے سے خود کو نہیں روک پاﺅں گا ۔اور اب اپنے الفاظ پر عمل کرنے کا وقت آگیا تھا ۔ میں نے دل ہی دل میں ”الوداع جینی !“ کہا اور میری انگلی کا دباﺅ ٹریگر پر بڑھنے لگا۔
جاری ہے
قسط نمبر 59
ریاض عاقب کوہلر
کوشش کے باوجود میں ٹریگر نہیں دبا سکا تھا ۔میں نے رائفل کے بٹ پر ماتھا ٹیک دیا ۔
مجھے شش و پنج میں مبتلا دیکھ کر کمانڈر بسم اللہ جان ایک مرتبہ پھر بولا ۔”کیاسوچ رہے ہو اتنا وقت نہیں ہے ۔“
اسے جواب دیے بغیر میں نے ایک بار پھر کوشش کی لیکن میرے دل میں نہاں اس کی محبت مجھے ایسا کرنے سے روک رہی تھی ۔مجھ سے ملنے کی خاطر اس نے وہاں تک آنا گوارا کیا تھا اور اب میں کیسے اس کی جان لے لیتا ۔
”ذیشان بھائی اٹھو چلیں ۔“بسم اللہ جان زیادہ انتظار نہیں کر سکا تھا ۔مجھے کہتے ہی وہ اپنے ساتھیوں کو مخاطب ہوا ....”راکٹ فائر کر دو ۔“
جینیفر کو اس کے حال پر چھوڑ کر میں نے ایک سرسری نظر صوفوں کی قطار پر گھمائی ۔ایک کونے میں چھپے شخص کی کھوپڑی نظر آرہی تھی ۔
کاک شدہ گولی سے اسے چھپنے کی ضرورت سے بے نیاز کرتے ہوئے میں اٹھ گیا ۔کمانڈر بسم اللہ جان مجھ سے پہلے کھڑا ہوگیا تھا ۔
”ذیشان بھائی !....ان کا کافی نقصان ہو چکا ہے ،تھوڑی دیر تک وہ پوری قوت سے یہاں حملہ کر دیں گے ۔اور یقینا ہیلی کاپٹر کی وجہ سے ہمیں ناقابل تلافی نقصان پہنچ سکتا ہے ۔“
میری سمجھ میں اس کا تیزی کرنا آگیا تھا ۔میں نے رائفل کو کھولے بغیر کندھے پر رکھا اور نیچے کی طرف دوڑ لگا دی ۔اس وقت تک بسم اللہ جان کے ساتھی راکٹ فائر کر چکے تھے ۔
دس منٹ میں میں نیچے پہنچ گیا تھا ۔بسم اللہ جان اور اس کے ساتھی بھی میرے قریب پہنچ چکے تھے ۔رائفل کو میں نے ڈبل کیبن کی عقبی نشست پر رکھا ۔بسم اللہ جان ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھ گیا تھا۔ گاڑی اسٹارٹ کرتے ہوئے اس نے تیزی سے درختوں کے جھنڈ سے نکالی اور ایک مخصوص جانب بڑھتا گیا ۔ اس کے باقی ساتھی دوسری گاڑی میں بیٹھ کر ہمارے پیچھے ہی چل پڑے تھے ۔دو گاڑیاں اسلحے وغیرہ کی بھر کر وہ پہلے ہی وہاں سے بھیج چکے تھے ۔
کمانڈر بسم اللہ جان سیدھا چلتا رہا ۔وہ کچا رستا آگے جاکر ایک سڑک سے مل گیا تھا ۔وہاں پر اس کے ساتھی ہم سے مخالف سمت مڑ گئے ۔
”باقیوں نے اپنی سمت تبدیل کر لی ہے ۔“میں نے بسم اللہ جان کو مطلع کرنا مناسب سمجھا تھا۔
”انھوں نے ہمارے ساتھ نہیں جانا ۔“مجھے مطلع کرتے ہوئے اس نے جیب سے موبائل فون نکالا اور کسی کا نمبر ملانے لگا ۔رابطہ ہوتے ہی اس نے مختصراََ کہا ۔”ہم آرہے ہیں ۔“اور جواب سنے بغیر رابطہ منقطع کرتے ہوئے ڈرائیونگ کی طرف متوجہ ہوگیا ۔
چار پانچ کلو میٹر کے بعد اس نے گاڑی سڑک سے اتار کر پہاڑی کے دامن میں نظر آنے والے دو گھروں کی طرف موڑدی وہ سڑک سے چھے سات سو گز دور تھے ۔ان گھروں کے قریب گاڑی روکتے ہوئے وہ بولا ۔”رائفل اٹھا لو ۔“کلاشن کوف اس نے ہاتھ میں پکڑ لی تھی ۔
میں نے سر ہلاتے ہوئے عقبی نشست پر پڑی رینج ماسٹر اٹھا لی ۔گاڑی کو رکتے دیکھ کر ایک گھر سے درمیانی عمر کا ایک مردبھاگتے ہوئے باہر نکلا ۔ہم سے رسمی مصافحہ کرکے اس نے ڈرائیونگ سیٹ سنبھالی اور گاڑی واپس سڑک کی جانب موڑ لی ۔
”چلو ۔“بسم اللہ جان نے مجھے آگے بڑھنے کا اشارہ کیا ۔دروازے پر ایک بوڑھا بابا ہمیں منتظر نظر آیا ۔ دونوں سے معانقہ کر کے اس نے خوش آمدید کہا ۔اسی وقت بسم اللہ جان نے مجھے اس ٹیکری کی طرف متوجہ کیا جہاں دو ہیلی کاپٹر اڑتے نظر آرہے تھے ۔انھوں نے وہاں پہنچنے میں دیر نہیں لگائی تھی ۔
گھر میں داخل ہوتے ہی میری نظر دو تین کم عمر بچوں پر پڑی جو صحن میں کھیل رہے تھے ۔ایک کمرے کے دروازے سے ایک جواں سال عورت کا چہرہ جھلک رہا تھا ،مجھے اپنی جانب متوجہ پا کر وہ چہرہ غائب ہو گیا ۔ہم بوڑھے کی معیت میں چلتے ہوئے ایک ایسے کمرے میں داخل ہوئے جو خوب سجا ہوا تھا۔ اندر داخل ہو کر وہ رکا نہیں بلکہ آگے بڑھتا گیا ۔کمرے سے ملحق غسل خانے میں گھس کر اس نے ہمارے اندر داخل ہونے کا انتظار کیا ۔جونھی ہم بھی اندر گھسے اس نے فوراََ دروازہ بند کردیا ۔غسل خانے کی چاروں دیواروں پر پلاسٹک کی زرد رنگ کی شیٹ لگی ہوئی تھی ۔دروازہ بند کر کے اس نے دروازے کے عقب میں آنے والی شیٹ کو ہٹایا اور دیوار کو دھکیلا تو وہ پیچھے ہٹتی چلی گئی دیوار ہٹتے ہی تنگ سا دروازہ نظر آیا۔ وہ بوڑھا اندر داخل ہو گیا اس کے پیچھے بسم اللہ جان اور سب سے آخر میں میں تھا ۔اس تنگ سی گیلری کا اختتام سیڑھیوں پر ہوا جو نیچے جا رہی تھیں ۔بارہ سیڑھیاں اتر کر ہم زیر زمین کمرے میں پہنچے کافی کھلا تہہ خانہ تھا ۔شمالی اور جنوبی دیواروں پر ٹنگے دو بلب تہہ خانے کو خوب روشن کیے ہوئے تھے ۔ چاروں دیواروں کے ساتھ ایک ایک چارپائی لگی ہوئی تھی جن پر صاف ستھری چادریں بچھی ہوئی تھیں ۔ دو چارپائیوں پر موٹی رضائیاں بھی رکھی ہوئی تھیں ۔شاید انھیں ہماری تعدادکے بارے بسم اللہ جان پہلے سے آگاہ کر چکا تھا ۔درمیان میں لکڑی کی ایک میز بھی نظر آرہی تھی جس پر ہاتھ سے کڑھائی کی ہوئی ایک سفید چارد بچھی تھی ۔
بوڑھے نے ہمیں بیٹھنے کا اشارہ کیا ۔
میں نے رینج ماسٹر کو ایک چارپائی پر رکھا اور خود دوسری چارپائی پر نشست سنبھال لی ۔
ہمارے بیٹھتے ہی بوڑھے نے پوچھا ۔”چاے یا قہوہ۔“
”بہرام چچا !ہم نے ابھی تک کھانا نہیں کھایا۔“کمانڈر بسم اللہ جان نے کسی قسم کے تکلف کی ضرورت محسوس نہیں کی تھی ۔
بہرام سر ہلاتا ہوا باہر نکل گیا ۔
”ذیشان بھائی بہت عمدہ ۔“بوڑھے بہرام کے باہر جاتے ہی بسم اللہ جان نے تحسین آمیز لہجے میں گفتگو کی ابتدا کی ۔
میں نے مزاحیہ انداز میں کہا ۔”بتایا تھا نا شاگرد بنانے کی پیش کش محدود مدت کے لیے ہے۔“
بسم اللہ جان نے ہنستے ہوئے کہا ۔”اب تو میں زبردستی شاگرد بنوں گا ۔“
میں نے سنجیدہ ہوتے ہوئے کہا ۔”ویسے سچ تو یہ ہے کہ اتنا وقت ہی نہیں ہوتا کہ کسی کو سکھا سکوں ۔“
”یہ قدرتی صلاحیت ہوتی ہے ذیشان بھائی ،ورنہ حقیقت تو یہ ہے کہ آپ کے سکھانے پر بھی ہم آپ کی طرح نشانہ باز نہیں بن سکتے ۔“
” ہم گاڑی پر یہاں سے دور بھی نکل سکتے تھے۔“میں نے صفائی سے موضوع تبدیل کیا۔
”بہت مشکل تھا ۔دیکھا نہیں تھا اس پوسٹ پر دو ہیلی کاپٹرپہنچ گئے تھے ۔اور اب تک کافی ساری گاڑیاں بھی پہنچ گئی ہوں گی ۔سڑکوں کی ناکا بندی بھی ہو گئی ہو گی ۔وہ سارے علاقے کا گھیراﺅ کرلیں گے ۔اس لیے جب تک ہماری تلاش کی سرگرمی مانند نہیں پڑتی ،ہمیں چند دن یہیں گزارنے پڑیں گے ۔“
میں نے پوچھا ۔”جو آدمی ہماری گاڑی لے گیا ہے اسے کوئی کچھ نہیں کہے گا ؟“
اس نے اطمینان بھرے انداز میں کہا ۔”نہیں اس کے کاغذات وغیرہ مکمل ہیں ،یہ گاڑی بھی اسی کے نام پر ہے ۔اس وقت اس نے ایک آدمی کو گھر سے اٹھا کر ائیر پورٹ پہنچانا ہے ۔اس پر کسی صورت کوئی بات نہیں آ سکتی ۔“
”یہ سب کچھ آپ نے پہلے سے طے کیا ہوا تھا ۔“
”پہلے ہی سے طے کرنا پڑتا ہے یار !“
”بہ قول آپ کے ہم یہاں چند دن رہیں گے،اس دوران کمانڈر عبدالحق واپس آگیا پھر ؟“
”اس کی آمد کی اطلاع ملتے ہی ہم نکل چلیں گے ۔ورنہ خواہ مخواہ خطرہ مول لینا مناسب معلوم نہیں ہوتا ۔“
”ٹھیک ہے ۔“میں نے اطمینان بھرے انداز میں سر ہلادیا ۔
”برا نہ مناﺅ تو ایک بات پوچھوں ؟“
”پوچھو ۔“میں اسے حیرانی سے گھورنے لگا ۔
”آپ نے اس لڑکی کو کیوں کچھ نہیں کہا ۔حالانکہ وہ آپ کے لیے نہایت آسان ہدف تھی ۔“ وہ میجرجینیفر ہنڈسلے کے بارے مستفسر تھا ۔اب میں اسے کیا بتاتا کہ وہ میرے لیے کیا تھی ۔
میں نے کہا ۔” آپ نے اس وقت مجھے اس پر گولی چلانے کی ترغیب بھی دی تھی ۔ویسے آپ کو کیسے معلوم ہوا کہ میں نے اس پر نشانہ سادھا ہوا ہے ۔“
”آپ اتنی تیز رفتاری سے فائر کر رہے تھے اچانک ہی آپ رک گئے ۔اور دوربین میں مجھے بھی وہ لڑکی واضح نظر آرہی تھی ،کہ باقی لوگ چھپنے کے لیے بھاگتے پھر رہے ہیں اور وہ سینہ تانے کھڑی ہے ۔ کوئی وجہ تو تھی نا ۔اس وقت مجھے یہی لگا کہ آپ عورت سمجھ کر اس پر گولی نہیں چلا رہے ۔لیکن بعد میں سوچا تو معاملہ کچھ اور لگا ۔کیوں کہ کوئی امریکن عورت اتنی دلیر نہیں ہو سکتی جو یوں اکڑ کر ایک سنائپر کے سامنے کھڑی رہے جبکہ دائیں بائیں اس کے کئی ساتھیوں کی لاشیں بھی بکھری پڑی ہوں ۔ سب سے بڑھ کر ہماری جانب یوں دیکھ رہی تھی جیسے ہم اسے نظر آرہے ہوں ۔ “
چند لمحے سوچنے کے بعد میں نے کہا ۔”وہ میجر جینیفر ہنڈسلے ہے ۔میرے ساتھ اس نے سنائپر کورس کیا ہے اورافغانستان کے محاذ پر وہ مجھے ملنے کی خاطر ہی پہنچی ہے ۔“
”اسے کیا معلوم کہ آپ افغانستان میں ہیں اور یہ کہ ابھی فائر کرنے والے آپ ہی ہیں ۔اور آپ کو کیسے معلوم کہ وہ آپ کی خاطر یہاں پہنچی ہے ۔“وہ ایک ہی سانس میں کئی سوال کر گیا تھا ۔
”گزشتا کئی ماہ سے میں وزیرستان میں مصروف تھا اور یہ تو آپ جانتے ہی ہوں گے کہ دہشت گردوں کا اصلی سرپرست امریکہ ہی ہے وہاں وزیرستان میں جس دہشت گرد سے میرا ٹکراﺅ ہوا وہ امریکنز کا خاص پرزہ تھا ۔اس کی اور اس کے جانشنین کی موت کے بعد مجھے ایک جرگے میں سامنے آنا پڑا ، وہیں سے میری تصویر امریکنز تک پہنچ گئی ۔چونکہ میں سال بھر پہلے ہی امریکہ سے سنائپر کورس کر کے آیا تھا اس لیے مجھے پہچاننے میں انھیں کوئی دقت نہ ہوئی ۔میجر جینیفر امریکہ کی خفیہ ایجنسی کی میجر ہے اور مجھ سے محبت کی دعوے دار بھی ۔پس مجھے امریکہ کے لیے کام کرنے پر راضی کرنے کے لیے وہ افغانستان آنے پر تیار ہو گئی ........“میں نے جینفر کے متعلق تمام ضروری باتیں کمانڈر بسم اللہ جان کے سامنے دہرا دیں ۔
میری بات کے اختتام پر اس نے پر خیال انداز میں سر ہلایا۔”تو وہ آپ کو ہمارے خلاف استعمال کرنا چاہ رہے تھے ۔“
”ہوں ۔“میں نے اثبات میں سرہلادیا ۔
”ویسے یہ بات اب تک بھی واضح نہیں ہوئی کہ اس میجر کو یہ کیسے معلوم ہوا کہ فائر کرنے والے آپ ہیں ۔“
”جتنی دور سے انھیں نشانہ بنایا جا رہا تھا ،شاید جینی کے نزدیک اتنے فاصلے سے میں ہی کسی کو نشانہ بنا سکتا ہوں ۔“
”اب کی ہے کام کی بات ۔“وہ چہکا ۔”ویسے ایک حبشن سے عشق لڑانے کا خیال آپ کو کیسے آیا۔ اتنی دور سے بھی اس کی بدصورتی مجھ پر اثر ڈالے بغیر نہیں رہ سکی ۔“
یقینا طاقت ور دوربین سے جینیفر کے ٹریسی والکر کے روپ کی کالک اسے واضح ہو گئی تھی۔
میں نے سنجیدہ انداز میں کہا ۔”کمانڈر!.... اگر آپ نے اس کی اصل شکل دیکھ لی تو جو پہلا خیال آپ دماغ میں آئے گا وہ یہی ہو گا کہ اسے مسلمان کر کے نکاح پڑھاﺅں یا اہل کتاب سے نکاح پڑھوانے کی اجازت سے فائدہ اٹھایا جائے ۔“
”مذاق کر رہا تھا یار !“میری سنجیدگی کو اس نے غصے پر محمول کیا تھا ۔
”مگر میں مذاق نہیں کر رہا ،بلا شک و شبہ وہ ایسی ہی ہے ۔“اسی وقت بوڑھا بہرام خان کھانے کے برتن اٹھائے اندر داخل ہوا ۔اور ہم چپ ہو گئے ۔
ہمارے کھانا کھا نے کے دوران بہرام چاچا قہوہ بنا کر لے آیا تھا ۔قہوہ پی کر میں نے بہرام چاچا سے رائفل صاف کرنے کے لیے کپڑا مانگا اور رینج ماسٹر کو کھول کر صاف کرنے لگا ۔بسم اللہ جان آرام کرنے لیٹ گیا تھا ۔
٭٭٭
چند دن ہمیں وہیں گزارنے پڑ گئے تھے ۔اس دوران کمانڈر بسم اللہ جان موبائل فون پر بھی محتاط انداز میں گفتگو کیا کرتا تھا ۔شہر بھر میں مجاہدین کی تلاش میں کافی چھاپے مارے گئے مگر دشمنوں کو کوئی کامیابی حاصل نہیں ہوئی تھی ۔ان کا کافی نقصان ہوا تھا ۔نو آدمی بشمول ایک کرنل اور لیفٹیننٹ کرنل کے ہلاک ہوئے تھے اور ایک لیفٹیننٹ کرنل زخمی ہوا تھا ۔زخمی ہونے والا وہی تھا جسے میجر جینیفرہنڈسلے کی بدولت رعایت ملی تھی ۔مرنے والے قریباََ سارے آفیسر ہی تھے ۔ بس ایک افغانی فوجی غلطی سے مارا گیا تھا ۔وہ بھی اس وجہ سے کہ اس کا باقی جسم صوفے کے عقب میں چھپا تھا اور صرف اس کا سر آڑ سے باہر نظر آرہا تھا ۔مرنے والے سینئر کا نام جان مجھے ایک خوشگوار حیرت ہوئی تھی ۔وہ کرنل کولن فیلڈ تھا ۔یقینا وہ وزیررستان میں حلیہ تبدیل کر کے آیا تھا ۔یہ بھی ممکن تھا کہ وہاں پر اس کے بہروپ میں کوئی اور آیاہو اور اس کا صرف نام استعمال کیا گیا ہو ۔البرٹ بروک بھی مجھے کہیں نظر نہیں آیا تھا ۔شاید وہ بھی حلیہ تبدیل کر کے مجھے ملتا رہا تھا یا پھر وہ وہاں موجود ہی نہیں تھا ۔جینیفر تو ٹریسی والکر کے حلیے میں مجھے نظر آ گئی تھی ۔ اتنے فاصلے سے شکلیں بالکل واضح تو نظر نہیں آتیں لیکن جس کے ساتھ کچھ وقت بتایا جا چکا ہو اس کی پہچان مشکل نہیں ہوتی ۔شکل و صورت ،جسمانی خال و خد اور حرکات و سکنات بھی کسی آدمی کی پہچان میں مدد گار ثابت ہو سکتی ہیں ۔
جینیفر کے معاملے میں میرے دل میں ایک اور دھڑکا بھی موجود تھا ۔اگر اس نے مجھے پہچان لیا تھا تو وہ یہ بات اپنے سینئرز کو بتاسکتی تھی ۔اوراتنے اہم آدمیوں کی اموات کے ذمہ دار کو یقینا وہ پہلی فرصت میں مروانا پسند کرتے ۔لیکن پھر اپنی جینی سے مجھے یہ بات بعید نظر آئی کہ وہ مجھے مروا دے گی ۔ اگر وہ سینہ تان کر میرے سامنے کھڑی ہو سکتی تھی تو مجھے بھی یہ حق حاصل تھا کہ وہ میرے خلاف کسی کارروائی کی ذمہ دار نہ بنتی ۔
اس کارروائی کے بعد کمانڈر بسم اللہ جان نے اپنے تمام ساتھیوں کو انڈر گراﺅنڈ ہو جانے کا حکم دے دیا تھا ۔خود میں اور وہ بھی ہفتہ بھر اسی تہہ خانے میں چھپے رہے ۔اس دوران بہرام چاچا اور اس کا بیٹا دلگیر خان ہماری ضروریات کا خیال رکھتے رہے ۔کمانڈر عبدالحق ابھی تک نہیں لوٹا تھا اس وجہ سے مجھے بھی کوئی جلدی نہیں تھی ۔
حالات کے تھوڑا سا سازگار ہوتے ہی ہم دلگیر خان کی گاڑی میں بیٹھے اپنے ٹھکانے کا رخ کر رہے تھے ۔رینج ماسٹر اور بسم اللہ جان کی کلاشن کوف دلگیر خان ایک دن پہلے بسم اللہ جان کے خفیہ اڈے تک پہنچا چکا تھا ۔اس وقت ہمارے پاس اپنی حفاظت کے لیے ایک ایک پستول موجود تھا ۔ ہم کسی مزاحمت کا سامنا کیے بغیر پہاڑوں میں چھپے خفیہ اڈے تک پہنچ گئے تھے ۔ہمیں پہاڑ کے دامن میں اتار کر دلگیر خان وہیں سے رخصت ہو گیا ۔ہم جب غار در غار ٹھکانے کے پاس پہنچے تو ہمیں پر جوش طریقے سے خوش آمدید کہا گیا ۔انھوں نے منصوبہ اتنا بڑا نہیں بنایا تھا جتنا کہ دشمن کا نقصان کرچکے تھے ۔ اور اس کارروائی کا روحِ رواں میں تھا ۔اس سے پہلے کمانڈر عبدالحق انھیں میری نشانہ بازی کے کافی واقعات سنا چکا تھا مگر حالیہ واقعہ کے تو وہ خود شاہد تھے ۔ان کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ اتنی دور سے یوں کامیاب نشانہ بازی ممکن ہو پائے گی ۔
٭٭٭
عبدالحق کو گئے ہوئے تین ہفتے ہو گئے تھے ۔اس نے کچھ زیادہ ہی وقت لے لیا تھا ۔
تیسرے ہفتے کے اختتام پر وہ لوٹ آیا ۔اس تک بھی میرے حالیہ کارنامے کی خبر پہنچ گئی تھی ۔ ملتے ساتھ اس نے میری پیٹھ تھپکتے ہوئے شاباش کہا تھا ۔وہ بھی کامیاب لوٹا تھا ۔رات کو آرام کے لیے لیٹتے وقت وہ تفصیل بتانے لگا ۔ہماری کارروائی کی تفصیلات وہ پہلے ہی باریک بینی سے کرید چکا تھا ۔مجھے ان تفصیلات کو جاننے میں کوئی خاص دلچسپی نہیں تھی کہ اس نے کس طرح میرے ویزے وغیرہ کا بندوبست کیا اور کیسے ایک کنسٹریکشن کمپنی میں جگہ پیدا کی ۔اس کا خیریت اور کامیابی سے لوٹ آنا ہی میرے لیے کافی تھا ۔ویزے کی ضمن میں خرچ ہونے والی رقم میں نے اس کے حوالے کر دی تھی ۔اب میرے پاس لے دے کے گلگارے بہن کی دی ہوئی رقم ہی باقی بچی تھی ۔اور غزنی جانے کے لیے مجھے پیسوں کی اچھی خاصی ضرورت پڑ سکتی تھی بہ ہر حال وہ بعد کا مسئلہ تھا اس بارے میں کچھ نہ کچھ کر ہی لیتا ،فی الحال مجھے آگے کا لائحہ عمل طے کرنا تھا ۔
جینیفر سے رابطے کی کوئی صورت نظر نہیں آرہی تھی ورنہ مجھے اتنے پاپڑ بیلنے نہ پڑتے ۔مجھے اپنی بے وقوفی پر غصہ آنے لگا ،اگر آخری ملاقات میں میں نے اس سے رابطہ نمبر لے لیا ہوتا تو اتنا مسئلہ پیدا نہ ہوتا ۔
٭٭٭
اس کے ہوٹل میں داخل ہوتے ہی میں بھی اندر گھس گیا ۔اس سے دو میزیں چھوڑ کر مجھے خالی نشست مل گئی تھی ۔بیرے کو قہوہ لانے کا بتا کر میں بہ ظاہر سرسری نظر ہوٹل کے ہال میں دوڑانے لگا ۔
میں پچھلے ایک ہفتے سے غزنی میں موجود تھا ۔میری شناخت کے کاغذات پورے تھے ۔آتے وقت کمانڈر بسم اللہ جان نے چند ساتھیوں کے پتے دیے تھے ،جن سے میں ضرورت کی کوئی چیز بھی مانگ سکتا تھا ۔ کسی کے گھر میں پناہ لینے کے بجائے میں نے ایک سستے سے ہوٹل میں رہنا پسند کیا تھا ۔کیونکہ بغیر اشد ضرورت کے میں کسی کو تنگ کرنا یا خطرے میں نہیں ڈالنا چاہتا تھا۔یہ دوسرا امریکن تھا جس کا میں تعاقب کر رہا تھا ۔اس سے پہلے میں ایک امریکن صحافی کے پیچھے تین دن تک پڑا رہا تھا مگروہ بندہ صاف نکلا ،اب یہ دوسرا تھا اور اس کی بھی کوئی مشکوک حرکت نظر نہیں آئی تھی ۔وہ سارا دن غزنی کے مضافات میں گھومتا،مختلف مقامات کی تصاویر لیتا، مقامی لوگوں سے ملاقات کرتا۔ یوں جیسے وہ کوئی خاص رپورٹ تیار کر رہا ہو۔ہتھیار کے نام پر میرے پاس ایک نائن ایم ایم پستول موجود تھا جو مجھے کمانڈر بسم اللہ جان سے ملا تھا ۔اس پستول سے فائر کر کے میں نے اس کے ٹھیک ہونے کی اچھی طرح تسلی کر لی تھی ۔
شام تک میں اسی صحافی کے تعاقب میں لگا رہا ۔اندھیرا چھانے پر میں اپنے ہوٹل میں لوٹ آیا تھا ۔چونکہ مسلسل ایک ہوٹل میں رہنا مجھے مشکوک کر سکتا تھا اس وجہ سے میں دوتین دن سے زیادہ کسی ہوٹل کو اپنا مسکن نہیں بناتا تھا ۔صبح میرا ارادہ کابل جانے کا بن رہا تھا کیونکہ غزنی میں مجھے اپنے مقصد کا حصول مشکل نظر آنے لگا تھا ۔
رات کا کھانا میں ہوٹل کے ہال ہی میں بیٹھ کرکھاتااور اس بہانے وہاں موجود لوگوں پر نظر بھی ڈال لیا کرتا ۔کھانا کھانے کے دوران ایک مقامی آدمی پر میری نظر پڑی ،اس نے چہرے پر مفلر کی طرح کالے رنگ کی چادر لپیٹی ہوئی تھی ۔داخلی دروازے پر کھڑے ہو کر اس نے ایک طائرانہ نگاہ ہال میں دوڑائی ۔اس کی نظر ایک لمحے کے لیے مجھ پر رکی اور پھر دائیں بائیں کا جائزہ لے کر وہ مجھ سے دو ٹیبل چھوڑ کر بیٹھ گیا ۔چال ڈھال سے وہ کچھ دیکھا بھالالگ رہا تھا، مگر میرے ذہن میں نہیں آرہا تھاکہ اسے کہاں دیکھا ہے ۔گو اس معاملے میں میری یاداشت بہت تیز ہے اور کوئی ایسا آدمی جس سے میرا ہلکا سا بھی واسطہ رہ چکا ہو مجھے بھولتا نہیںہے ،لیکن ذہن پر زور دینے کے باوجود مجھے یاد نہیں آسکا کہ اسے کہاں دیکھا ہے ۔شاید چہرے سے لپٹی ہوئی چادر کی وجہ سے میں اسے پہچان نہیں پا رہا تھا ۔کھانا کھا کر میں نے قہوہ پیا ،اس دوران اس نے بھی اپنے لیے قہوہ منگوالیا تھا ۔قہوہ پی کر بھی وہ وہیں بیٹھا رہا ۔ یوں لگ رہا تھا جیسے وہ کن اکھیوں سے مجھے ہی دیکھ رہا ہے ۔
جونھی میں نشست چھوڑ کر سیڑھیوں کی طرف بڑھا میں نے اسے بھی کاﺅنٹر کا رخ کرتے دیکھا۔ کمرے میں پہنچ کر میں نے چابی کے سوراخ سے آنکھ لگا دی ۔ اندازے کے مطابق تھوڑی دیر بعد ہی مجھے گیلری میں قدموں کی آہٹ سنائی دی جو میرے کمرے کے سامنے آکر رک گئی ۔چابی کے سوراخ سے بھی مجھے اسی کے کپڑوں کا رنگ نظر آرہا تھا ۔میں فوراََ دروازے سے ایک طرف ہوا کیونکہ مجھے شک تھا کہ وہ چابی کے سوراخ سے اندر جھانکنے کی کوشش کرے گا ۔مگر میرے اندازے کے بر عکس دروازے پر ہلکی سی ۔”ٹھک ٹھک ۔“ہوئی ۔
پستول ہاتھ میں تھام کر میں نے اسے چھپانے کے لیے جسم پر چادر لپیٹی اور ایک جھٹکے سے دروازہ کھول دیا ۔
”اسلام علیکم ذیشان بھائی !“اس نے چہرے سے کپڑا ہٹا دیا تھا ۔اب اسے پہچاننے میں مجھے کوئی دقت نہیں ہوئی تھی ۔اس کا نام تو میں نہیں جانتا تھا البتہ امریکی کیمپ پر حملے کے وقت وہ میرے ساتھ ہی تھا ۔
”آپ ۔“میں نے ایک طرف ہٹتے ہوئے اسے اندر آنے کا موقع دیا ۔اس کے اندر گھستے ہی میںنے دروازہ بند کر دیا ۔
”بیٹھو ۔“لکڑی کی پرانی سی کرسی کی طرف اشارہ کر کے میں نے اسے بیٹھنے کا اشارہ کیا ۔
”شکریہ ۔“کہتے ہوئے وہ بیٹھ گیا ۔
”آپ کا نام مجھے نہیں آتا ۔“
”احمد ۔“
”تو احمد بھائی وہیںہال ہی میں مل لیتے ۔مجھے ایسے ہی ڈرا دیا ۔“
”میں نے سوچا آپ مجھے نہیں پہچان پائیں گے ۔اور اپنا تعارف کرانے کے لیے علاحدگی کی ضرورت تھی ۔“
”ہوٹل میں گھستے ہی میں نے آپ کو پہچان لیا تھا ۔بس چہرہ چھپا ہونے کی وجہ سے یاد نہیں آرہا تھا کہ کہاں دیکھا ہے ۔“
”آپ کا پتا مجھے کمانڈر سے معلوم ہوا ہے اور انھی نے مجھے آپ سے ملنے کا کہا ہے ۔“
میں نے پوچھا ۔”خیریت ۔“
”ہاں خیریت ہے ،ایک مشکوک شخص کے بارے اطلاع دینا تھی ۔“
”تو موبائل فون پر بتا دیتے ۔“ کمانڈر بسم اللہ جان نے ایک موبائل فون بھی میرے حوالے کیا تھا ۔
”مناسب یہی ہے کہ میں دور سے اس کی شکل آپ کو دکھا دوں ۔“
میں نے پوچھا ۔”ابھی جانا پڑے گا ۔“
”جی ۔“ اس نے اثبات میں سر ہلایا ۔
تھوڑی دیر بعد آگے پیچھے چلتے ہوئے ہم ہوٹل سے باہرنکل آئے ۔ہوٹل سے تھوڑی دور آتے ہی ہم اکٹھے ہو گئے تھے ۔مجھے ساتھ لیے وہ پیدل ہی ایک جانب روانہ ہو گیا ۔ امریکی کیمپ پر حملے کے بعد وہ چھپنے کے لیے شہر میں آگیا تھا ۔یہاں اس کا اپنا گھر موجود تھا ۔مجھے کمانڈربسم اللہ جان نے جن آدمیوں کے پتے دیے تھے ان میں ایک احمد بھی تھا لیکن یہاں آکر میں کسی سے بھی نہیں ملا تھا ۔اس کی گفتگو کا لب لباب یہی تھا کہ کمانڈر بسم اللہ جان کے دو مخبروں کی لاشیں ایک دن کے فرق کے ساتھ غزنی کے مضافات سے ملیں۔ مخبر عموماََ دونوں جانب سے ملے ہوتے ہیں اس لیے انھیں اپنا راز نہیں بتایا جاتا ۔ دونوں کو مارنے سے پہلے تشدد کا نشانہ بھی بنایا گیا تھا ۔ان میں سے ایک کا تعلق افغان آرمی سے تھا۔ اور اس نے مرنے سے ایک دن پہلے کمانڈر بسم اللہ کے ساتھی بلال سے بات کرکے اپنے تعاقب کی بابت مطلع کیا تھا۔ہر مخبر کے سامنے ایک ہی آدمی کو سامنے لایا جاتا ہے جو اس مخبرسے رابطے میں رہتا ہے۔ اور اس فوجی کے ساتھ بلال کا رابطہ تھا ۔ وہ چھٹی پر گھر آیا ہوا تھا۔بلال نے اسے چھٹی ختم کر کے واپس حاضر ہونے کا مشورہ دیا تھا، لیکن اگلے ہی دن شہر کے مضافات سے اس کی لاش ملی تھی۔بلال فوراََ زیر زمین ہو گیا، البتہ جانے سے پہلے اس نے فوجی کا تعاقب کرنے والے کی پہچان احمد کو کرا دی تھی ۔گزشتا روز ایک دوسرے مخبر کی لاش ملی ۔دوسرے نے بھی کئی بار مجاہدین کو کام کی خبریں پہنچائی تھیں ۔دوسرا ایک صحافی تھا ۔ کمانڈر بسم اللہ جان کو شک تھا کہ دونوں قتل ایک ہی سلسلے کی کڑی ہیں ۔اس نے احمد کو مجھ سے رابطہ کر کے مخبر کا تعاقب کرنے والے کی بابت بتانے کا کہا ۔اور اب احمد مجھے اسی مقصد سے وہاں لے جا رہا تھا ۔ مشکوک شخص کے ٹھکانے تک احمد تمام تفصیل دہرا چکا تھا ۔وہ غزنی کے بہترین ہوٹل میںقیام پذیر تھا ۔ رات اتنی نہیں بیتی تھی ۔ہوٹل کا ہال تقریباََ بھرا ہوا تھا ۔ہم بھی ایک کونے میں خالی میز کے گرد بیٹھ گئے ۔
”دوسری منزل کمرہ نمبر بتیس اے میں رہتا ہے ۔کرس کارٹر نام ہے ۔ شاید کھانے کے لیے نیچے ہال میں آ جائے۔“ دائیں بائیں نظریں دوڑاتے ہوئے اس نے دھیمے لہجے میں کہا ۔
میں نے پوچھا ۔”اگر میں نہ ہوتا تو آپ اس کے ساتھ کیا کرتے ۔“
”ایسے جاسوسوں کو ہم بھی معاف نہیں کرتے ۔“اسی وقت بیرہ ہمارے قریب آیا ۔
”دو کافی ۔“احمد نے اس کے دریافت کرنے سے پہلے بتا دیا اور وہ سرہلاتے ہوئے واپس مڑ گیا ۔احمد مجھے ہوٹل کے بارے ضروری باتیں بتانے لگا ۔کافی پی کر بھی ہم کافی دیربیٹھے رہے۔اور پھر ہم مایوس ہو کر اٹھنے ہی لگے تھے کہ احمد ایک دم میری طرف جھکا ۔
”وہ سفید سوٹ والا سیڑھیوں سے اتر کر آرہا ہے ۔“میں غیر محسوس انداز میں اس طرف متوجہ ہوا ۔گھٹے ہوئے مضبوط جسم اور لمبے قد والا ایک آدمی مجھے سیڑھیوں سے اترتا دکھائی دیا ۔ہال میں طائرانہ نظر دوڑا کروہ ایک خالی میز کی طرف بڑھ گیا ۔اس کے نشست سنبھالنے تک چاق و چوبند بیرہ اس کے قریب پہنچ گیا تھا ۔اس کے آرڈر دینے تک بدیسی لباس میں ملبوس ایک مقامی حسینہ سڑھیاں اترتی ہوئی اس کے قریب پہنچی اور بے تکلفی سے اس کے سامنے بیٹھ گئی ۔لڑکی کی پیٹھ ہماری جانب تھی ۔اس کے انداز سے واضح نظر آرہا تھا کہ وہ اس کے ساتھ ہی رہائش پذیر ہے ۔
”یہ کون ہے ۔“کن اکھیوں سے اسے گھورتے ہوئے میں احمد سے مستفسر ہوا ۔
”اس طرح کی کئی لڑکیاں یہاں مل جاتی ہیں بس جیب کا منھ کھولنا پڑتا ہے ۔“
”میرا خیال ہے چلنا چاہیے ۔“وہاں مزید بیٹھنا مجھے مناسب نہیں لگا تھا ۔
اثبات میں سر ہلاتے ہوئے احمد نے بیرے کو قریب آنے کا اشارہ کیا ۔اور بل ادا کرکے ہم وہاں سے باہر نکل آئے ۔کرس کارٹر لڑکی سے محو گفتگو تھا لیکن اس کی آنکھیں کسی سرچ لائیٹ کی طرح چاروں طرف گھوم رہی تھیں ۔
ہوٹل سے نکلتے ہی میں نے کہا ۔”مجھے کچھ رقم چاہیے ۔“
”چلو ۔“وہ مجھے ساتھ لے کر ایک پلازے کی طرف بڑھ گیا ۔وہاں لگی اے ٹی ایم مشین سے مطلوبہ رقم نکال کر اس نے میرے حوالے کی اور ہم واپس مڑ آئے ۔
میرے ہوٹل کا رخ کرتے ہوئے اس نے پوچھا ۔”اب کیا ارادہ ہے ؟“
”صبح اس ہوٹل میں کمرہ لوں گا باقی لائحہ عمل بعد کا مسئلہ ہے ۔“
”اگر میرے لائق کوئی خدمت ہو تو ضرور بتانا ۔“اس نے پرخلوص لہجے میں آفر کی ۔
”موٹر سائیکل مل جاتی تو اس کے تعاقب میں آسانی رہتی ۔لازماََ اس کے پاس ذاتی یا کرائے کی گاڑی ہو گی ۔“
” ضرور ملے گی ۔مگر اتنی سردی میں موٹر سائیکل کی سواری کچھ مشکل ہوجاتی ہے ۔میں خود ٹیکسی میں آتا جاتا ہوں ۔“
”مجبوری ہے ، شاید بروقت ٹیکسی نہ مل پائے ۔“میں نے خیال ظاہر کیا ۔
”صحیح کہا ۔“اس نے اثبات میں سر ہلادیا۔ہم ہوٹل کے قریب پہنچ چکے تھے ۔اس نے قریب سے گزرتی ہوئی ایک خالی ٹیکسی کو اشارہ کر کے روکا ۔اندر بیٹھتے ہی وہ اپنے گھر کا پتا بتانے لگا ۔وہ پتا پہلے سے میری یاداشت میں محفوظ تھا کہ بسم اللہ جان اس کا پتا میرے حوالے کر چکا تھا ۔البتہ میں نے وہاں جانے کی ضرورت محسوس نہیں کی تھی ۔
گھر کے سامنے اتر کر اس نے ٹیکسی والے کو فارغ کیا اور اطلاعی گھنٹی کا بٹن دبا دیا ۔
میں نے پوچھا ۔”ساتھ کون رہتا ہے ۔“
وہ مسکرایا۔”تمھاری بھابی۔“اسی وقت اندر سے قدموں کی چاپ ابھری اور ایک نسوانی آواز نے پوچھا ۔”کون ؟“
اس نے جواب دیا ۔”احمد ،میرے ساتھ مہمان بھی ہے ۔“
دروازہ کھلتے ہی میری نظر ایک جواں سال خاتون پر پڑی جس نے مہمان کا سن کر چہرہ ڈھانپ لیا تھا صرف اس کی آنکھیں چادر کے عقب سے جھلک رہی تھیں ۔اس پر نظر پڑتے ہی میں نے سر جھکا لیا تھا۔وہ بھی دروازہ کھول کر پیچھے مڑ گئی ۔
”احمد بھائی !....چاے پانی کا تکلف نہ کرنا ۔“میں نے فوراََ اسے منع کیا ۔”بلکہ موٹر سائیکل باہر ہی لے آﺅ۔“
”ایک پیالی قہوہ ،سردی کے ساتھ مقابلہ کرنے میں مدد دے گا ۔“
”پھر کسی وقت سہی ۔“
”ٹھیک ہے ۔“مجھے وہیں رکنے کا اشارہ کر کے وہ اندر گھسا اورلمحہ بھر بعد موٹر سائیکل لیے باہر نکل آیا۔اس کے ہاتھوں میں چمڑے کے دستانے اور موٹر سائیکل کے سیفٹی گارڈ کے ساتھ لٹکا ہیلمٹ دیکھ کر میں نے سکھ کا سانس لیا تھ کہ سردی کے موسم میں بغیر دستانوں اور ہیلمٹ کے موٹر سائیکل چلاناایک عذاب ہی ہوتا ہے ۔
اس سے الوداعی مصافحہ کر کے میں واپس ہوٹل کی جانب بڑھ گیا ۔
وہ رات میں نے اسی ہوٹل میں گزاری ۔کابل جانے کا ارادہ میں نے ترک کر دیا تھا ۔نو دس بجے کے قریب ناشتا کر کے میں اپنا مختصر سامان اٹھا کر نکل آیا ۔دوسرا ہوٹل اتنی دور نہیں تھا کہ مجھے ٹیکسی وغیرہ کا تکلف کرنا پڑتا ۔پندرہ بیس منٹ میں میں وہاں پہنچ گیا تھا ۔ہوٹل کے ہال مجھے اکا دکا گاہک ہی نظر آئے ۔ ایسے ہوٹلوں کی رونق رات کے وقت دیکھنے والی ہوتی ہے ۔
استقبالیے پر جا کر میں نے کمرے کا پوچھا ۔نچلی منزل میں ایک کمرہ خالی تھا مگر میں نے دوسری منزل پر کمرہ لینا پسند کیا تھا۔
کمرے کی چابی میرے جانب بڑھاتے ہوئے استقبالین معنی خیز لہجے میں بولا ۔”سر اگر کوئی خاص خدمت درکار ہو تو بلا تکلف حکم کرنا ۔“
”ضرور۔“چابی پکڑتے ہوئے میں نے منھ بنایا ۔اس کی خاص خدمت سے میں ناواقف نہیں تھا ۔لیکن اس طرح کی غلیظ خدمتوں سے میں یونھی بہتر تھا ۔
تین دنوں کا ایڈوانس کرایہ جمع کرا کے میں سیڑھیوں کی طرف بڑھ گیا ۔
تھوڑی دیر کمرے میں گزار کر میں ہوٹل کے ہال میں آن بیٹھا ۔میں چاہتا تھا کہ میری بے خبری میں وہ باہر نہ نکل جائے ۔ایک سنائپر کو جاسوس بننا پڑ گیا تھا ۔
گو انتظار دنیا کا پر اذیت کا م ہے ،مگر سنائپر بے چارے کا تو انتظار کے ساتھ بہت مضبوط رشتا ہے ۔اپنے شکار کے انتظار میں سنائپر کو کئی کئی گھنٹے بلکہ دن گزارنے پڑ جاتے ہیں ۔
آہستہ آہستہ ہال میں بیٹھے لوگوں کی تعدادبڑھنے لگی ۔میں دومرتبہ چاے منگوا کر پی چکا تھا ۔ اسی اثناءمیں دوپہر کے کھانے کا وقت بھی ہو گیا تھا ۔میں نے بھی کھانا منگوا لیا اور پھر بہ مشکل کھانے سے فارغ ہوا تھا کہ میں نے کرس کارٹر کو سیڑھیاں اترتے دیکھا ۔رات والی تتلی بھی اس کے ساتھ ہی تھی ۔ وہ اب بھی سکن ٹائیٹ پاجامے اور بہ مشکل ناف تک آتی شرٹ میں ملبوس تھی ۔البتہ سردی کی وجہ سے گھٹنوں تک آتے فر کے کوٹ نے چھپنے کے کافی تقاضے پورے کر دیے تھے ۔کوٹ سامنے سے کھلا ہونے کی وجہ سے مجھے دور ہی سے اس کے پیٹ کی سفیدی نظر آگئی تھی ۔ہال میں رکنے کے بہ جائے وہ بیرونی دروازے کی طرف بڑھ گئے ۔اسے دیکھتے ہی میں نے حفظ ماتقدم کے طور پر بیرے کو بل لانے کا اشارہ کر دیا تھا ۔ان کے دروازے کے قریب پہنچنے تک میں نے بل دستخط کر کے واپس بیرے کی طرف بڑھایا اور ان کے پیچھے قدم بڑھا دیے ۔
میرے دروازے سے نکلنے تک وہ پارکنگ میں پہنچ کر سفید رنگ کی کار میں بیٹھ رہے تھے ۔ میں ان پر توجہ دیے بغیر موٹر سائیکل کی طرف بڑھ گیا ۔میرے موٹر سائیکل ان لاک اور اسٹارٹ کرنے تک وہ پارکنگ سے نکل کر سیمنٹ کی روش پر چڑھ چکے تھے ۔میں نے ان کے سڑک تک جانے کا انتظار کیا اور پھر موٹر سائیکل آگے بڑھا دی ۔
شہر میں کسی کا تعاقب کرنے کے لیے موٹر سائیکل ایک بہترین سواری ہے ۔میں محتاط انداز میں کار کا تعاقب کرتا رہا ۔مگر وہ شاید شاپنگ وغیرہ کے لیے نکلے تھے ۔ دو تین پلازوں میں گھوم پھر کر انھوں نے تھوڑی بہت خریداری کی اور واپس چل پڑے ۔اس دوران میں سائے کی طرح ان کے پیچھے لگا رہا تھا ،مگرکرس کارٹر کی کوئی مشکوک حرکت میری نظر میں نہ آسکی۔
اسے ہوٹل کی پارکنگ میں مڑتے دیکھ کر میں آگے بڑھتا چلا گیا تھا ۔ایک چھوٹا سا چکر کاٹ کر میں واپس ہوٹل کی جانب مڑ آیا ۔
ہال میں مجھے وہ نظر نہیں آئے تھے ۔میں استقبالین کی طرف بڑھ گیا ۔ابھی تک صبح والا آدمی بیٹھا تھا ۔
”جی سر !“وہ خوش دلی سے مسکرایا ۔
”ایک چھوٹا سا کام پڑ گیا تھا ۔“
”حکم کریں ۔“ایک آنکھ میچتے ہوئے اس نے معنی خیز لہجے میں پوچھا۔
”ابھی دو منٹ پہلے ایک گورے کے ساتھ براﺅن کوٹ میں ملبوس ایک تتلی یہاں سے گزری ہے ،مجھے تو مقامی لگ رہی تھی ۔حقیقت میں ایسا ہی ہے یا میری نظر کا قصور ہے ۔“
”بڑی تیز نظر ہے آپ کی ۔“اس کے چہرے پر کاروباری مسکراہٹ نمودار ہوئی ۔”بہ ہر حال حکم کریں ۔“
”میرا دل ساتھ لے گئی ہے ،وہی واپس لینا تھا ۔“
”ہاہاہا۔“اس نے کھلے دل سے قہقہہ لگایا ۔”ویسے اس سے بڑھیا مال بھی موجود ہے ۔“
میں نے منھ بنایا۔”بڑھیا مال خاک پسند آئے گا جب دل کسی اور کے قبضے میں ہو ۔“
”پھر تو معذرت خواہ ہوں ،کیونکہ وہ ہمارے ہوٹل سے تعلق نہیں رکھتی ۔“
”دھت ۔“میں نے بیزاری بھرے انداز میں کاﺅنٹر پر مکا رسید کیا ۔
”اگر وہ ہمارے ہوٹل کی ہوتی تب بھی گورے کی مرضی کے بغیر کسی گاہک کو وقت نہ دے پاتی۔“
”کہیں اکیلی بھی جاتی ہے یاوہ خبیث ہر وقت ساتھ ہی چپکا رہتا ہے ۔“
”کبھی دیکھا نہیں ہے ،البتہ آپ کا رقیب کافی دفعہ اکیلے بھی نکل جاتا ہے ۔“
”اگر میں کہوں کہ جب بھی وہ یا لڑکی اکیلے کہیں جائیں تو مجھے فوراََ معلوم ہو جائے ۔“یہ کہتے ہوئے میں نے جیب سے سو ڈالر کا نوٹ نکال کر ہاتھ میں پکڑ لیا تھا ۔
سو ڈالر کے نوٹ کو حریص نظروں سے دیکھتے ہوئے وہ جلدی سے بولا ۔” صبح دس سے شام چھے بجے تک آپ کو یہ اطلاع بغیر کسی رکاوٹ کے مل سکتی ہے ۔“
”آپ کا نام؟“میں نے نوٹ اس کی جانب بڑھاتے ہوئے پوچھا ۔
”شان علی ۔“نوٹ جھپٹتے ہوئے اس نے جیب میں ڈال لیا تھا ۔
”میں اپنے کمرے میں منتظر رہوں گا ۔“اثبات میں سر ہلاتے ہوئے میں سیڑھیوں کی طرف بڑھ گیا تھا۔سارا دن ہوٹل کے ہال میں بیٹھنے سے بہتر تھا کہ نگرانی کا کام میں کسی اور سے لیتا ۔یوں بھی میں نے گورے کے بہ جائے اس لڑکی میں اپنی دلچسپی ظاہر کی تھی تاکہ شان کوکوئی شک نہ ہو ۔
شام چھے بجے کے قریب مجھے انٹرکام پر شان علی کی کال موصول ہوئی ۔”سر !....میں چھٹی کر رہا ہوں آپ کا رقیب اور تتلی کمرے ہی میں ہیں ۔“
”شکریہ ۔“کہہ کر میں نے رسیور رکھا اور تیار ہو کر باہر نکل آیا ۔یوں بھی کافی آرام کر لیا تھا۔ آٹھ بجے تک میرا کوفت زدہ انتظار جاری رہا ۔آٹھ بجے وہ اس لڑکی کے ہمراہ نیچے ہال میں آکر بیٹھ گیا ۔ کھانا کھا کر دونوں تھوڑی دیر بیٹھے رہے ۔ان کے دوبارہ کمرے کا رخ کرنے پر بھی میں وہیں بیٹھا رہا کہ کہیں وہ اکیلا نہ لوٹ آئے ۔مگر مزید آدھا گھنٹا انتظار کے بعد بھی اسے واپس نہ آتے دیکھ کر میں کمرے کی طرف بڑھ گیا ۔میرے اندازے کے مطابق اتنی رات گئے وہ باہر نہ جاتا ۔
دروازہ کنڈی کر کے میں بہ مشکل بوٹ اتار پایا تھا کہ موبائل فون بجنے لگا ۔سکرین پر کمانڈر بسم اللہ جان کا نام چمک رہا تھا ۔
”اسلام علیکم۔“میں نے کال وصول کی ۔
”وعلیکم اسلام !آپ کہاں ہیں ؟“اس کی آواز میں شامل گھبراہٹ مجھے حیران کر گئی تھی ۔
”اسی ہوٹل میں جہاں ہمارا دوست مقیم ہے ۔“
وہ سرعت سے بولا ۔”فوراََوہاں سے نکلنے کی کوشش کرو ،احمد صبح سے غائب ہے ،شاید آپ بھی ان کی نظروں میں آگئے ہوں ۔“
”مگر ....“
”تفصیل بتانے کا وقت نہیں ہے ذیشان بھائی !“اس نے قطع کلامی کی۔
”ٹھیک ہے ۔“رابطہ منقطع کرتے ہوئے میں وہاں سے نکلنے کا سوچنے لگا ۔شاید میںنے دیر کر دی تھی احمد کے ان کے ہتھے چڑھنے کا ایک ہی مطلب ہو سکتا تھا کہ میں کل سے ان کی نظروں میں ہوں۔ اور یقینا اسی وجہ سے کرس کارٹر نے بھی اپنے کسی آدمی سے ملنے کی ضرورت محسوس نہیں کی تھی ۔
جاری ہے