Background image: Header

خوش آمدید

لو اسٹوری فورم ، اردو دنیا کا نمبر ون اردو اسٹوری فورم ، ابھی فورم کےممبر بنیں اور اردو کی بہترین کہانیاں پڑھیں ۔

Register Now!
Welcome image
  • PAID PLANS

    ٹاپ پیکیج
    👑

    PREMIUM

    16000
    چھ ماہ کے لیے
    بہترین ڈیل
    💎

    VIP+

    6000
    چھ ماہ کے لیے
    بنیادی ڈیل

    VIP

    3500
    تین ماہ کے لیے

Spy Thriller سنائپر۔۔۔۔از قلم ۔۔۔۔ریاض عاقب کوہلر


قسط نمبر 60
ریاض عاقب کوہلر
میں بری طرح پھنس گیا تھا ۔ان کی نظروں میں آئے بغیر میں ہوٹل سے نکل نہیں سکتا تھا ۔ البتہ یہ ممکن تھا کہ وہ صرف میری نگرانی کر رہے ہوتے اور میں باہر نکل کر انھیں جل دے کر بھاگ جاتا لیکن اس کے بعد کرس کارٹر میرے ہاتھ سے نکل جاتا ۔یقینا میرے غائب ہونے کے بعد وہ بھی منظر عام سے ہٹ جاتا بہتر یہی تھا کہ میں اسے یرغمال بنا کر ہوٹل سے اڑن چھو ہونے کی کوشش کرتا ۔ایک نتیجے پر پہنچ کر میں نے پستول کی نال پر سائیلنسر چڑھایا اورجسم پر چادر لپیٹ کر باہر نکل آیا ۔گیلری سنسان پڑی تھی۔ کمرہ نمبر بتیس اے تک میں دبے قدموں چلتا ہوا پہنچا ۔دائیں بائیں دیکھ کر میں نے گیلری کے خالی ہونے کا یقین کیا اور سائیلنسر کو لاک کے ساتھ لگا کر ٹریگر دبا دیا ۔
”ٹھک ۔“کی آواز ابھرتے ہی میں دروازے کو دھکیلتا ہوا اندر داخل ہوا ۔وہ دونوں ایسی حالت میں نہیں تھے کہ کمرے سے باہر ہونے والی۔” ٹھک ۔“انھیں متوجہ کر سکتی ۔یقینا کرس کارٹر کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ میں ایسی جرات کا مظاہرہ کروں گا ۔میرے آندھی و طوفان کی طرح اندر گھسنے پر وہ ہڑبڑا گئے تھے ۔لڑکی کے منھ سے سریلی چیخ برآمد ہوئی مگر اس وقت تک میں دروازہ بھیڑ چکا تھا ۔
”تولیہ لپیٹ لو ۔“میں نے ہکا بکا بیٹھی لڑکی کو اس کی بے لباسی کی طرف متوجہ کیا ۔
اس نے ہڑبڑاتے ہوئے تولیہ اٹھا کر لپیٹ لیا تھا ۔
”تم اسی طرح کھڑے ہو جاﺅ۔“کرس کارٹر کو میں انگریزی میں مخاطب ہوا تھا ۔
”یقینا تمھیں اپنی جان عزیز نہیں ہے ۔“کینہ توز نظروں سے مجھے گھورتے ہوئے وہ کھڑا ہو گیا تھا ۔
میں ہنسا ۔”یہ کسی صحافی کا لہجہ تو نہیں ہے ۔“
میری بات پر وہ ہونٹ بھینچ کر رہ گیا تھا ۔
اس کی طرف قدم بڑھاتے ہوئے میں نے کہا ۔”گھوم جاﺅ ۔“وہ آہستہ سے گھوم گیا ۔
”اپنے ہاتھ پیچھے باندھ لو ۔“میں نے اگلا حکم دیا ۔یہ کہتے ہوئے میں اس کے قریب پہنچ گیا تھا ۔
ہاتھ پیچھے لاتے ہوئے وہ ایک دم میری طرف مڑکر پستول پر جھپٹا۔مجھے اس سے اسی قسم کی کارروائی کی توقع تھی ۔ پستول والا ہاتھ نیچے کرتے ہوئے میں نے پستول کو اس کی دست برد سے بچایا اس کے ساتھ ہی میرا بایاں مکا نیم دائرہ بناتا ہوا اس کی ٹھوڑی کی طرف بڑھا ۔اس کی سمجھ میں کچھ آنے سے پہلے حواس اس کا ساتھ چھوڑ گئے تھے ۔وہ لہراتا ہوا منھ کے بل نیچے گرگیا ۔اگر فرش پر دبیز قالین موجود نہ ہوتا تو یقینا اس کا تھوبڑا ٹیڑھا ہو گیا ہوتا ۔
”کھڑی ہو جاﺅ۔“میں نے پستول کی نال سے لڑکی کو اٹھنے کا اشارہ کیا ۔اسے میں پشتو میں مخاطب کر رہا تھا ۔
وہ لرزتی ہوئی کھڑی ہو گئی ۔ایسی لڑکیوں کی بزدلی کسی تعارف کی محتاج نہیں ہوتی۔
”اس طرف۔“میں نے پستول کی نال سے اسے غسل خانے کی طرف چلنے کا اشارہ کیا ۔
”مم ....مجھے جانے دو میں کسی کو کچھ نہیں بتاﺅں گی ۔“وہ باقاعدہ کانپنے لگ گئی تھی ۔
”تعاون کرو گی تو یقینا جان بچ جائے گی ۔“
وہ پرجوش لہجے میں بولی ۔”میں ہر قسم کے تعاون پر تیار ہوں ۔“میری بات کا اس نے الٹا مطلب لیا تھا ۔
”ہر قسم کا تعاون چھوڑو ،بس تھوڑی دیر غسل خانے میں گزار لو ۔“اس کی غلط فہمی دور کرتے ہوئے میں نے غسل کا دروازہ کھول کر اندر جھانکا اور مطمئن ہوتے ہوئے اسے اندر دھکیل دیا ۔
کرس کارٹر کسی بھی وقت ہوش میں آسکتا تھا ۔لڑکی سے بے فکر ہوتے ہی میں نے کرس کارٹر کی ٹائی اٹھا کر اس کے ہاتھ پشت پر باندھے تاکہ ہوش میں آنے پر وہ کوئی غلط حرکت نہ کر سکے اور لباس کی تلاشی لینے لگا ۔اس کا پرس اور موبائل فون میں نے اپنی جیب میں منتقل کر دیا ۔تکیے کے نیچے پڑے بریٹا نے مجھے خوش کر دیا تھا ۔گلاک کی طرح یہ بھی اعلا کوالٹی کا پستول تھا ۔جلدی جلدی باقی کمرے کی تلاشی لے کر میں کمانڈر بسم اللہ جان کو کال کرنے لگا ۔
”ہاں ذیشان !“کال وصول کرتے ہی اس نے بے صبری سے پوچھا ۔”کیا آپ کسی محفوظ ٹھکانے پر پہنچ چکے ہیں ؟“
”میں اسی کے کمرے میں ہوں اور اب اسے کسی محفوظ مقام پر منتقل کرنا ہوگا۔“
”کیا مطلب۔“وہ حیرانی سے چیخ پڑا تھا ۔
میں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا ۔”مطلب یہ کہ میں نے اسے بے ہوش کر دیا ہے اور اسی سے احمد کے بارے بھی معلوم ہو جائے گا ۔“
”ہوٹل سے باہر کیسے نکالیں گے ؟“
”آپ دو تین ساتھیوں کو گاڑی دے کر ہوٹل کی جانب بھیجیں میں اسے باہر نکالنے کی سعی کرتا ہوں ۔“
”مطلب ٹاکرا ہو کر رہے گا ۔“اس نے خوش دلی سے قہقہہ لگایا ۔
”اس کے بغیر چارہ بھی نہیں ہے ۔“
”ٹھیک ہے ،میری کال کا انتظار کرنا ۔“اس نے رابطہ منقطع کر دیا ۔اسی اثناءمیں کرس کارٹر کسمساکر اٹھ بیٹھا تھا ۔
میں نے لڑکی کو غسل خانے سے باہر نکال کر کپڑے پہننے کو کہا ۔وہ ابھی تک سخت خوفزدہ تھی ۔ لرزتے کانپتے ہوئے اس نے کپڑے پہن لیے ۔
”اب اسے بھی پتلون پہنا دو ۔“میں کرس کارٹرکی طرف اشارہ کیا ۔
سر ہلاتے ہوئے وہ کرس کا انڈر ویئر اور پتلون اٹھا کر اس کی طرف بڑھ گئی ۔
کرس نے بے چوں و چراں پتلون پہن لی تھی ۔وہ بار بار منھ کھول کر اپنے جبڑے کو ہلا رہا تھا۔ یقینا میرے دائروی مکے نے اس کے جبڑے کو ہلا دیا تھا ۔
”یہ کوٹ بھی اسے اوڑھا دو ۔“میں نے گرم اوورکوٹ اس کی طرف بڑھایا۔وہ کوٹ کافی کھلا تھا ۔لڑکی نے اس کے کندھوں پر کوٹ ڈال کر سامنے سے بٹن بند کر دیے ۔اب محسوس ہی نہیں ہورہا تھا کہ اس کے ہاتھ پشت پر بندھے ہیں ۔
کرس کارٹر کے نزدیک جا کر میں نے پستول جیب میں ڈالااور کہا ۔
”اپنا منھ بند کرو۔“اسے معلوم ہو گیا تھا کہ میں کیا کرنے والا ہوں اس نے منھ بند کر لیا ۔میں نے اپنی دونوں ہتھیلیوں کو اس کے جبڑوں کے دائیں بائیں رکھ کر اندر کی طرف ٹھوکر لگائی ۔اس کے جبڑوں کی ہڈیاں اپنے جوڑوں میں بیٹھ گئی تھیں ۔
”چلو ۔“انھیں آگے بڑھنے کا اشارہ کر کے میں اپنے کمرے میں لے آیا ۔خوش قسمتی سے گیلری اس وقت بھی خالی پڑی تھی ۔اگر کوئی موجود بھی ہوتا تب بھی اسے کچھ معلوم نہ ہو پاتا ۔
”بیٹھ جاﺅ ۔“اپنے کمرے داخل ہوتے ہی میں نے صوفے کی طرف اشارہ کیا ۔میں نے خود بیڈ پر نشست سنبھال لی تھی تھوڑی دیر بعد ہی کمانڈر بسم اللہ جان کی کال آنے لگی تھی ۔
”اسلام علیکم !“میں کال وصول کی ۔
”پانچ منٹ میں دو گاڑیاں ہوٹل کے سامنے پہنچ جائیں گی ۔ہر گاڑی میں تین آدمی سوار ہیں۔“
”ٹھیک ہے ہم بھی باہر آ رہے ہیں ۔“مختصراََ کہتے ہوئے میں نے رابطہ منقطع کر دیا ۔
”انگلش سمجھتی ہو ؟“میں نے لڑکی سے پوچھا اور اس نے اثبات میں سر ہلادیا ۔
”یہاں سے تم دونوں اکھٹے باہر نکلو گے۔لڑکی !....تم کرس کی کمر میں ہاتھ ڈال کر اس کے ساتھ چپک کر چلو گی ۔میں تم سے ایک قدم پیچھے چلوں گا ۔اگر ذرا بھی گڑ بڑ کی کوشش کی تو مسٹر کرس!....یادرکھنا وہ تمھاری زندگی کی آخری بے وقوفی ہو گی ۔استقبالیہ پر جا کر بتاﺅ گے کہ تم ایک دن کے لیے کہیں جا رہے ہو ۔ میں اپنے کمرے کی چابی استقبالین کو واپس کرکے اپنا حساب بے باق کروں گا۔اس دوران تم وہیں ٹھہر کر میرے منتظر رہو گے ۔میں جانتا ہوں کہ نیچے ہال میں تمھاراایک یا اس سے زیادہ ساتھی موجود ہیں ،مگر وہ عمر گھٹانے کے علاوہ تمھاری کوئی مدد نہیں کر سکتے ۔“
وہ ہونٹ بھینچے خاموش بیٹھا رہا ۔
”اب اٹھو اور چل پڑو،چہرے پر بھی ذرا خوش گواری لاﺅ ۔بالکل ویسا ہی موڈ جیسا میری آمد سے پہلے بنایا ہوا تھا ۔“یہ کہتے ہوئے میں اپنے جسم پر چادر لپیٹ لی تھی تاکہ پستول نظر نہ آئے ۔
سیڑھیاں اتر کر ہم ہال میں پہنچے ۔اتنی رات گزرنے کے بعد بھی ہال مکمل خالی نہیں ہوا تھا ۔اکا دکا میز پر اب بھی گاہک بیٹھے نظر آرہے تھے ۔میرے حکم کے مطابق وہ دونوں استقبالیہ کی طرف بڑھنے لگے میں ان کے قریب ہی چل رہا تھا ۔
”ہم کہیں جا رہے ہیں کل تک لوٹ آئیں گے اگر کوئی میرا پوچھنے آئے تو بتا دینا کہ کل شام تک واپس پہنچ جاﺅں گا ۔“کرس کارٹر نے رٹا رٹایا فقرہ دہراتے ہوئے کمرے کی چابی استقبالین کی طرف بڑھا دی ۔
”ٹھیک ہے سر ۔“استقبالین نے کاروباری مسکراہٹ چہرے پر بکھیری ۔
”میں کمرہ چھوڑ رہا ہوں ،بل بنادیں۔“استقبالین سے مخاطب ہوتے ہوئے بھی میرا رخ ان دونوں کی جانب تھا ۔وہ استقبالیہ کاﺅنٹر کے ساتھ کھڑے ہو کر ہال کا جائزہ لے رہے تھے ۔
استقبالین نے پوچھا ۔”سر کمرہ نمبر پلیز ۔“
کمرہ نمبر بتا کر میں نے کمرے کی چابی بھی اس کی جانب بڑھا دی ۔
حساب کتاب کر کے اس نے بل اور میرا پاسپورٹ میری جانب بڑھا دیا ۔بل ادا کر کے میں نے کہا ۔
”ایک منٹ ذرا رجسٹر دکھانا ۔“
”یہ لیں سر ۔“اس نے رجسٹر میری جانب گھمایا۔ایک نظر صفحے پر گھماتے ہوئے میں نے تیزی سے وہ صفحہ پھاڑ کر اپنے ساتھ رکھ لیا ۔
”کک....کیا ....“اس نے کچھ کہنا چاہا مگر پستول کی جھلک دیکھتے ہی خاموش ہو گیا تھا۔
اسی دوران ایک لمحے کے لیے میں کرس کارٹر سے غافل ہوا ۔اس نے کندھے سے لڑکی کو میری جانب دھکا دیا اور بیرونی دروازے کی طرف بھاگا ۔
لڑکی کو کو واپس دھکیل کر میں اس کے پیچھے بھاگ پڑا۔اسی وقت مختلف کونوں سے تین افراد کھڑے ہوئے ۔میں نے فوراََ گھٹنا نیچے ٹیک کر کرس کی پنڈلی پر فائر کر دیا ۔وہ بھاگ رہا تھا لیکن اس کا مجھ سے فاصلہ چند قدموں سے زیادہ نہیں تھا ۔گولی ضائع ہونے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا ۔
وہ اوندھے منھ نیچے گرا ۔تین آدمی پستول نکال کر ہماری طرف بڑھے تینوں مقامی ہی تھے۔ دائیں بائیں میزوں پر بیٹھے گاہکوں کو بھی گڑبڑ کا پتا چل گیا تھا ۔چند نسوانی چیخیں بلند ہوئیں ۔کوئی پولیس کو بلانے کا مشورہ دینے لگا ۔تین چار آدمی دروازوں کی طرف بھاگے کچھ کونوں میں سمٹ گئے تھے ۔
میں بھاگ کر کرس کے قریب پہنچا۔وہ کراہتے ہوئے اٹھ بیٹھا تھا ۔اس کے گریبان میں ہاتھ ڈال کر میں نے زبردستی کھڑا کر دیا۔
اس کے ساتھی بھی قریب پہنچ گئے تھے ۔تینوں کے تیور خاصے بگڑے ہوئے تھے ۔
”اگر کسی نے ہوشیاری کی کوشش کی تو یہ جان سے جائے گا ۔“کرس کی کنپٹی سے پستول لگاتے ہوئے میں نے انھیں دھمکایا۔
”بچے گا تو بھی نہیں ۔“ ایک نے جوابی دھمکی دی ۔
صورت حال کافی بگڑ چکی تھی ۔اگر مزید وقت گزرتا تو پولیس بھی وہاں آجاتی ۔انھوں ایک خاص بے وقوفی کی تھی کہ وہ ایک جانب اکٹھے ہوگئے تھے۔اگر وہ میرے چاروں جانب کھڑے ہو گئے ہوتے تو میں زیادہ خطرے میں ہوتا ۔سرعت سے سوچتے ہوئے میں نے خطرہ مول لینے کا فیصلہ کیا ۔اور کرس کو اپنے سامنے ڈھال کی طرح پکڑتے ہوئے کہا ۔
”میرے تین گننے تک اگر تم لوگوں نے پستول نیچے نہ پھینکے تو یہ جان سے جائے گا۔ ایک....“
انھوں نے میرے گنتی شروع کرتے ہی ایک دوسرے کی جانب دیکھا اور اسی لمحے میں کام کر گزرا ۔بغیر لمحہ ضائع کیے میں نے پستول سیدھا کیا اور ٹریگر کومسلسل دباتا گیا ۔تینوں کے ماتھے میں گولیاں لگی تھیں ۔اتنی تیزی سے پستول سے فائر کر کے کسی کے سر میں گولی مارنا ایک فن ہی تھا ۔مگر وہاں مجھے سراہنے کے بجائے تیز نسوانی چیخیں ابھرنا شروع ہو گئی تھیں ۔
”چلو ۔“میں نے کرس کو دھکیلا ۔
وہ کراہتے ،لنگڑاتے ہوئے آگے بڑھا ۔ہوٹل کے داخلی دروازے کے باہر کھڑے دو ہتھیار بردار دربان یقینا میرے لیے مسئلہ پیدا کردیتے ،مگر اسی وقت دروازے سے چار کلاشن کوفوں والے اندر گھسے ۔ ان میں سے دو کو میں پہچانتا تھا ۔وہ کمانڈر بسم اللہ جان کے ساتھی تھے ۔ایک نے دربانوں پر کلاشن کوف پکڑ کر انھیں ایک طرف ہونے کا اشارہ کیا ۔باقی تینوں میرے قریب آگئے ۔
”کیا حکم ہے ۔“
” وقت نہیں ہے اسے اٹھا کر لے جانا پڑے گا ۔“
اس نے سرہلاتے ہوئے کلاشن کوف ساتھی کے حوالے کی اور کرس کو کندھے پر اٹھا کر واپس مڑ گیا ۔ دروازے کے سامنے ہی دو ڈبل کیبن کھڑی تھیں ۔بیٹھتے ہوئے میں نے ایک آدمی کو احمد کی موٹر سائیکل کی چابی پکڑائی اور پارکنگ میں کھڑی موٹر سائیکل کی جانب اشارہ کر کے کہا۔
”آپ احمد بھائی کی موٹر سائیکل لے آئیں ۔“
وہ سر ہلاتا ہوا نیچے اتر گیا ۔دونوں ڈبل کیبن آگے پیچھے حرکت کرتے ہوئے آگے بڑھ گئیں ۔ میں چادر سے پٹی پھاڑ کرکرس کی پنڈلی سے باندھ دی تھی ورنہ زیادہ خون بہہ جانے سے اس کی جان کو بھی خطرہ ہو سکتا تھا ۔تیز ڈرائیونگ کرتے ہوئے ہم ہوٹل سے دور ہوتے گئے ۔میں کرس کے ہمراہ آگے والی گاڑی میں تھا ۔ تھوڑی دورآتے ہی دوسری گاڑی ہم سے علاحدہ ہو گئی تھی ۔پندرہ بیس منٹ کی ڈرائیونگ کے بعد ہم ایک درمیانے مکان کے سامنے رک گئے ۔ہارن سن کر ایک شخص نے باہر جھانکا اور گاڑی کو پہچانتے ہی دروازہ کھول دیا ۔
وہ ایک درمیانہ سا مکان تھا ۔گاڑی صحن میں کھڑی کر کے ہم نیچے اترے اور مکان میں موجود آدمی کی رہنمائی میں چلتے ہوئے ایک خفیہ کمرے میں پہنچے ۔گو وہ کمرہ دوسرے کمروں کے درمیان ہی میں تھا مگر اس انداز میں بنایا گیا تھا کہ معلوم نہیں ہوتا تھا کہ یہاں کمرہ موجود ہے ۔
اندر گھستے ہی ہم نے فی الفور کرس سے پوچھ گچھ شروع کر دی ۔
”احمد کہاں ہے ؟“میں نے پہلا سوال ہی اپنے گمشدہ ساتھی کے متعلق پوچھا تھا ۔
”کون احمد ۔“اس نے بے پروائی سے کہتے ہوئے خود کو نڈر ظاہر کرنا چاہا۔
”دیکھو مسٹر کرس !....احمد کے بارے تمھیں زبان تو کھولنا پڑے گی ۔آرام سے یا تکلیف برداشت کر کے ۔“
وہ اطمینان سے بولا ۔”اگر خواہ مخواہ تشدد کرنے کا شوق ہے تو آگے بڑھو ۔“
”آری مل جائے گی ۔“میں نے میزبان سے پوچھا ۔
”جی ۔“اثبات میں سر ہلاتے ہوئے وہ باہر نکل گیا ۔
اس کی واپسی تک میں نے اس کی پتلون کا پائنچہ موڑ کر زخمی پنڈلی کو ننگا کر دیا تھا ۔وہ ہونٹ بھینچے میری کارروائی دیکھتا رہا ۔دو تین منٹ بعد میزبان آری لیے نمودار ہوا ۔
”اس کی ٹانگ یہاں گھٹنے سے پکڑو۔“میں نے میزبان ہی کو کہا۔اور اس نے اثبات میں سر ہلاتے ہوئے اس کے گھٹنے کو مضبوطی سے پکڑ لیا ۔
”تت....تم کیا کر رہے ہو ۔“میرا اطمینان بھرا انداز اسے خوفزدہ کر گیا تھا ۔
”زخمی پنڈلی کا کاٹ کر علاحدہ کر دیتا ہوں ،یہ تو اب یوں بھی بے کار ہے ۔“یہ کہتے ہوئے میں نے زخم سے انچ بھر اوپر آری رکھی ۔
”ایک منٹ ....“وہ لرزتے ہوئے ایک پتا دہرانے لگا ۔
میں نے سوالیہ نظروں سے اپنے ساتھیوں کی جانب دیکھا اور انھوں نے اوپر نیچے سر ہلا کر سمجھ جانے کا اشارہ کر دیا ۔
”تیار ہو جاﺅ ۔“کرس کارٹر کو میزبان کے حوالے کر کے میں باقیوں کے ساتھ باہر نکل آیا ۔
انھوں نے کال کر کے دوسری گاڑی کو بھی بلا لیا تھا ۔رستے ہی میں ہمیں دوسری گاڑی نے مل جانا تھا ۔
”کیا ابھی جانا ضروری ہے ۔“بسم اللہ جان کے ایک ساتھی نے پوچھا جس کا نام مجھے بعد میں حیدر معلوم ہواتھا ۔
میں نے کہا ۔”ہاں دیر کرنے سے وہ اسے کسی دوسری جگہ بھی منتقل کر سکتے ہیں ۔“
”ہونہہ۔“حیدر نے اثبات میں سر ہلا دیا ۔حیدر کے علاوہ میرے ساتھ شمال خان اور میر قلم خان بیٹھے ہوئے تھے ۔باقی افراد دوسری گاڑی میں تھے۔ایک چوک پر دوسری گاڑی ہماری منتظر کھڑی تھی ۔ہمارے آگے بڑھتے ہی وہ پیچھے پیچھے چل پڑے ۔
مطلوبہ مکان گنجان آبادی میں تھا ۔وہاں تک ہمیں آدھا گھنٹا لگا تھا ۔ایک چوک پر گاڑی روکتے ہوئے حیدر نے کہا ۔”سامنے پہلی گلی میں دوسرا مکان وہی ہے ۔“
”آپ لوگ یہیں رکو میں جائزہ لیتا ہوں ۔“میں نے نیچے اترنے کے لیے درواز کھولا ۔
”میں جاتا ہوں ۔“میر قلم نے اپنی خدمات پیش کیں ۔
”آپ بس تیاری حالت میں رہنا ۔“میں نے مفلر چہرے کے گرد لپیٹا اورنیچے اتر گیا ۔
”میں بھی ساتھ چلتا ہوں ۔“میر قلم بھی میرے ساتھ ہو لیا تھا ۔
رات ختم ہونے کو تھی ۔سڑکوں پر آمدو رفت نہ ہونے کے برابر تھی ۔دونوں گاڑیاں چوک سے تھوڑا آگے لا کر انھوں نے سڑک کے ایک جانب کھڑی کر دیں ۔میں اور میر قلم چہل قدمی کے انداز میں آگے بڑھنے لگے ۔گو نہ تو صبح کی نماز کا وقت ہوا تھا اور نہ مٹر گشت کا وقت تھا ۔ہماری حرکت شکوک کے دائرے میں آرہی تھی ۔لیکن ہم احتیاط کو نظر انداز کیے آگے بڑھتے گئے ۔گلی کے سامنے سے گزرتے ہوئے مجھے مطلوبہ گھر کے دروازے سے روشنی چھلکتی ہوئی نظر آئی ۔واضح نظر آرہا تھا کہ گھر دروازہ کھلا ہوا ہے ۔
”مجھے لگتا ہے وہ نکل گئے ہیں ۔“آگے جانے کا ارادہ ترک کرتے ہوئے میں گلی میں مڑ گیا ۔
”صحیح کہہ رہے ہو ۔کھلے دروازے کو دیکھ کر تو یہی اندازہ ہوتا ہے کہ دشمن افراتفری میں بھاگ گئے ہیں ۔“میر قلم نے میری تائید میں سر ہلادیا ۔
مطلوبہ مکان کے سامنے پہنچتے ہی مجھے اپنا اندازہ صحیح ہوتا نظر آیا ۔نہ صرف داخلی دروازہ کھلا تھا بلکہ اندر کمروں کے دروازے بھی کھلے ہوئے نظر آرہے تھے ۔وہ روشنی کو جلتا اور دروازوں کو کھلا چھوڑ کر بھاگے تھے ۔
”میرا خیال ہے اندر چل کر جائزہ لے لیتے ہیں ۔“میرقلم نے مشورہ دیتے ہوئے آگے قدم بڑھا دیے ۔میں سر ہلاتا ہوا اس کے پیچھے ہو لیا ۔
مختصر صحن کے بعد برآمدہ نظر آرہاتھا جس کے بعد کمروں کے دروازے تھے ۔میر قلم مجھ سے دو قدم آگے تھا جونھی وہ برآمدے کے قریب پہنچا اچانک ہی مجھے اس کی گردن کے نیچے ایک سرخ نقطہ نظر آیا۔ سیکنڈ کے ہزارویں حصے میں مجھے خطرے کا احساس ہو گیا تھا ۔یقیناوہ لیزر پوائنٹ کا نشان تھا ۔کسی نے ہم پر نشانہ سادھا ہوا تھا ۔
”نیچے لیٹ جاﺅ ۔“خود کو زمین پر گراتے ہوئے میں چیخا ۔لیکن میر قلم کو دیر ہو گئی تھی ۔میرے الفاظ جب تک اس کی سمجھ میں آتے اس کی گردن میں گولی پیوست ہو گئی تھی ۔میری طرح وہ بھی اوندھے منھ ہی گرا تھا لیکن اس کے گرنے میں اس کی مرضی شامل نہیں تھی ۔
نیچے گرنے کے ساتھ میں ساکت نہیں ہوا تھا بلکہ زقند بھر کر میں نے برآمدے کے ستون کے ساتھ آڑ ڈھونڈ لی ۔انھوں نے مکان کے دروازے کھلے چھوڑ کر ہمارے لیے چارہ ڈالا تھا اور ہم بغیر سوچے سمجھے ان کی چال میں آگے تھے ۔گو اس مکان میں گھستے وقت میرے دماغ میں ہلکی سی کھٹک موجود تھی لیکن میں احتیاط نہیں برت سکا تھا ۔
ستون کی آڑ میں آکر میں نے جیب سے پستول نکال کر ہاتھ میں پکڑ لیا ،مگر فائر کرنے والے مخالف مکان کی چھت پر تھے اور پستول کی رینج سے دور تھے۔
میرے سامنے ایک کمرے کا دروازہ تھا ۔ستون کی آڑ میں بہ ہرحال تھوڑا بہت خطرہ موجود تھا۔چھت پر لیٹے فائرر نے مجھے نشانہ بنانے کے لیے چند اور فائر کیے تمام گولیاں ستون میں لگی تھیں ۔ اسی وقت کلاشن کوف کے فائر کی آواز میرے کانوں میں گونجی ۔ اندازے کے مطابق وہ میرے ساتھیوں کا جوابی فائر تھا ۔میرے لیے واپس درواے تک پہنچنا ممکن نہیں تھا ۔میں نے کمرے میں داخل ہونا مناسب سمجھا ۔اور کلاشن کوف کا دوسرابرسٹ فائر ہوتے ہی میں چھلانگ لگا کر کمرے میں داخل ہوا، مگر میری بدقسمتی کہ کمرہ خالی نہیں تھا ۔
”ہاتھ اوپر ۔“انگریزی میں پکارا گیا تھا ۔وہ دو نقاب پوش تھے ایک کے ہاتھ میں پستول تھا ۔ اس کے منھ سے الفاظ کی ادائی ہونے تک میں فائر کر چکا تھا .مجھے ہینڈز اپ کرانے کی حسرت دل میں لیے وہ سر میں گولی کھا کر مردہ چھپکلی کی طرح نیچے گرا،اس کا ساتھی زیادہ چست ثابت ہوا تھا ۔میرے دوبارہ ٹریگر دبانے سے پہلے اس نے بائیں پاﺅں پر گھومتے ہوئے اپنے دائیں پاﺅں سے میرے پستول والے ہاتھ کو نشانہ بنا لیا تھا ۔اس کی ٹھوکر سے پستول میرے ہاتھ سے نکل کر دور جا گرا تھا ۔اس کے بعد بھی اس کی حرکت رکی نہیں تھی ۔دوسرا پاﺅں زمین پر رکھتے ہوئے وہ دوبارہ گھوما اور اس کی دوسری ٹانگ میری چھاتی میں لگی ۔میں دیوار سے ٹکرا گیا تھا ۔اس کے حملوں میں بڑی تیزی تھی ۔میرے جوابی حملے سے پہلے سیدھے ہو کر اس نے اپنا گھٹنا میری ناف میں مارنے کے لیے اوپر اٹھایا ،لیکن اس وقت تک میں سنبھل چکا تھا ۔اس کا وار میں نے اپنے ہاتھوں پر سہا اس کے ساتھ ہی میں نے اپنے سر کی زوردار ٹکر اس کی چھاتی میں رسید کی اور فوراََ ہی مجھے پتا چلا کہ وہ مرد نہیں کوئی عورت تھی ۔میری ٹکر کھا کر وہ دو قدم پیچھے ہٹی اور ایک دم اپنے بائیں پاﺅں پر گھومی ۔اس کا دایاں پاﺅں میرے چہرے کی طرف بڑھا ۔
سر کو ذرا سا نیچے جھکاتے ہوئے میں نے اس کا وار خطا کیا ۔دایاں پاﺅں نیچے لگاتے ہوئے اس نے دوسرا پاﺅں اٹھا کر حملہ کرنا چاہا مگر اس سے پہلے ہی میری زبردست ٹھوکر اس کی پیٹھ پر پڑ چکی تھی ۔
وہ منھ کے بل نیچے گری لیکن اپنے ہاتھوں کو سامنے رکھتے ہوئے اس نے چہرے کو زمین پر لگنے سے بچا لیا تھا ۔اور پھر اسی طرح پڑے رہنے کے بجائے وہ کروٹ تبدیل کرتی ہوئی میری اگلی ٹھوکر کی زد سے دور ہو گئی ۔دو تین کروٹیں لے کر وہ اچھل کر کھڑی ہو گئی ۔اس کے تیز حملے اور قدو قامت مجھے کسی شک میں مبتلا کر رہا تھا ۔شک دور کرنے کے لیے میں نے اگلے حملے سے پہلے چہرے پر لپٹا مفلر کھولا ۔وہ حملے کے لیے پر تول رہی تھی ،میرا چہرہ دیکھتے ہی ٹھٹک کر رک گئی ۔
”ذی تم ؟“میرے کانوں میں جینیفر کی سریلی آواز گونجی ۔میرا اندازہ ٹھیک نکلا تھا وہ جینی ہی تھی ۔میرے جواب دینے سے پہلے تین ہتھیار بردار اندر گھستے چلے آئے تھے ۔چاروں نے نقاب اوڑھے ہوئے تھے ۔
”ہاتھ اوپر ۔“ان میں سے ایک پشتو میں بولا تھا ۔
میں نے فوراََ ہاتھ اٹھا لیے ۔باہر اب تک فائرنگ کا تبادلہ ہو رہا تھا ۔
”ٹریسی جانا ہوگا ۔“ایک دوسرا آدمی جینیفر کو انگریزی میں مخاطب ہوا تھا ۔اس کے انداز سے لگ رہا تھا کہ وہ جینفر سے سینئر یا اس کا ہم رینک تھا ۔
”باہر والوں کو بھی اندر بلا لو اوردو آدمی چند منٹ تک یہیں کمرے کے اندر سے فائر کا جواب دیتے رہو ۔“اس کے ساتھ وہ بولا ۔”ایک آدمی اس کے ہاتھ باندھ دو ۔“
”جی سر !“ایک آدمی نے اثبات میں سر ہلادیا۔ جبکہ دوسرے نے اس کے اشارے پر میرے ہاتھ پشت پر باندھے اور میری تلاشی لے کر جیبوں میں موجود سامان نکال لیا ۔
مجھے حراست میں لے کر وہ کمرے میں موجود اندرونی دروازے کی طرف بڑھے ۔دوسرے کمرے کے کونے میں سیڑھیاں نیچے جا رہی تھیں ۔سیڑھیاں اتر کر ایک چھوٹا سا کمرہ تھا جس کی شمالی دیوار میں تنگ سی سرنگ نظر آرہی تھی ۔جینیفر آگے ہو گئی اس کے پیچھے میں تھا ۔میرے عقب میں باقی آرہے تھے ۔کافی طویل سرنگ تھی ۔اس کے اختتام پر سیڑھیاں اوپر جا رہی تھیں ۔ہم پہلے والے مکان سے قریباََ پانچ چھے مکان دور آگئے تھے ۔
اس دوران میرا دماغ اسی ادھیڑ بن میں مصروف رہا کہ کیا کرنا چاہیے ۔نہ جانے جینی میری کچھ مدد کر پاتی یا نہیں ۔آخر وہ خود امریکن سرکار کی ملازم ہی تو تھی اور جب اس سے ایک سینئر آدمی موجود تھا تو اس کا کیا بس چلتا ۔اگر وہ دھوکے سے مجھے فرار کر دیتی تب بھی اس پر بات تو آسکتی تھی ۔پہلی دفعہ میرا نام لینے کے بعد اس نے دوبارہ مجھے مخاطب کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کی تھی ۔اور اس کا صاف مطلب یہی تھا کہ وہ میرے ساتھ شناسائی ظاہر نہیںکرنا چاہتی تھی ۔
دوسرے مکان کے صحن میں آتے ہی میرے کانوں میں ایک بار پھر فائر نگ کی آواز آنے لگی تھی ۔صحن میں دو گاڑیاں تیاری حالت میں کھڑی تھیں ۔میرے چہرے پر کالا کپڑا چڑھا کر انھوں نے ایک گاڑی کی عقبی نشست پر دھکیلااور اس مکان سے باہر نکل آئے ۔ان کی بات چیت سے یہی معلوم ہو رہا تھا کہ جینی اور دوسرا امریکن اسی گاڑی میں تھے ۔اس کا نام الیگزینڈر تھا اور وہ جینی سے سینئر لگ رہا تھا ۔ موضوعِ گفتگو مجاہدین کا خفیہ ٹھکانہ تلاش کرنے کی جستجو تھی ۔یقینا احمد سے انھیں کچھ معلوم نہیں ہو پایا تھا ۔
گاڑی آدھا پون گھنٹا چلتی رہی ۔رکنے پر ایک آدمی نے مجھے بازو سے پکڑ کر باہر گھسیٹ لیا ۔
تھوڑی دیر بعد میں ایک کرسی پر بندھا ہوا بیٹھا تھا ۔میرے سر پر چڑھا کپڑا انھوں نے اتار دیا تھا ۔الیگزینڈر نے مجھے باندھنے والوں کو کہا ۔
”مجھے غزنی میں موجود دہشت گردوں کے تمام ٹھکانوں کی تفصیل چاہیے ۔اوت تفتیش کرتے ہوئے بس اتنا خیال کرنا کہ اسے مرنا نہیں چاہیے باقی ہاتھ پاﺅں کاٹتے ہو یا ناک کان اس سے مجھے کوئی فرق نہیں پڑنے والا ۔“
”فکر نہ کریں سر !“دونوں نے اطمینان بھرے انداز میں سر ہلادیا ۔جینی ٹریسی والکر کے روپ میں وہاں کھڑی مجھے گہری نظروں سے گھور رہی تھی ۔
جاری ہے
 

قسط نمبر61
ریاض عاقب کوہلر
”چلیں ۔“الیگزینڈر جینی سے مستفسر ہوا ۔
جینی نے پر خیال لہجے میں کہا ۔”سر!.... میرا خیال ہے اس آدمی کو مجھے خود سنبھالنا ہوگا ۔“
”ہاں ،اپنے دونوں آدمیوں کی نگرانی کر لینا ۔اگر صحیح سوال جواب نہیں کرتے تو آپ پوچھ گچھ کر لینا ۔“
”آپ سمجھے نہیں سر!....میرا مطلب ہے پہلے ہمیں کرس کارٹر صاحب کی بازیابی کا بندوبست کرنا پڑے گا ۔“
الیگزینڈر بے پروائی سے بولا ۔”جب دہشت گردوں کے تمام ٹھکانوں کی بابت معلوم ہو جائے گا تو کرس کارٹر بھی بازیاب ہو جائے گا ۔“
جینیفر نے منھ بنایا۔”پہلے پکڑے جانے والے دہشت گرد سے ہم نے کیا اگلوا لیا ہے جو اس سے تمام ٹھکانوں کی بابت معلوم ہو جائے گا ۔“
”تم کیا چاہتی ہو ؟“الیگزینڈر نے مفاہمتی انداز میں پوچھا ۔
وہ جلدی سے بولی ۔”سر ،کرس کارٹر کو آزاد کرانا ضروری ہے ۔“
”ہاں مگر اس کے لیے بہت زیادہ احتیاط کی ضرورت ہے ،یہ نہ ہو اسے آزاد کراتے ہوئے کوئی اور نقصان کرا بیٹھو ۔“
جینیفر اعتماد سے بولی ۔”میں سنبھال لوں گی سر ۔“
”ویسے پہلے کوشش کر لو اگر کچھ معلوم ہو سکتا ہے تو ٹھیک ہے ورنہ پھر کرس کارٹر کی واپسی کا کچھ کریں گے ۔“الیگزینڈر نے حتمی فیصلہ سنادیا ۔ان دونوں کی بات چیت سے مجھے اندازہ ہورہا تھا کہ الیگزینڈر کی نظر میں میں انگلش سے نا بلد تھا ۔اسی وجہ سے وہ یوں آزادی سے بات چیت کر رہا تھا ۔البتہ جینیفر کی بات اور تھی ۔
”ٹھیک ہے سر !“جینیفر نے اثبات میں سر ہلایااور وہ رخصت ہو گیا ۔
”تم دونوں بھی جاﺅ ۔“جینیفر نے دونوں مقامی افراد کو وہاں سے نکلنے کا اشارہ کیا ۔
ان کے جاتے ہی اس نے سب سے پہلے میری بندشیں کھولیں اور پھر ایک کرسی گھسیٹ کر میرے سامنے بیٹھ گئی ۔
”تو میرا اندازہ ٹھیک تھا ،اس دن تم ہی تھے ۔“بغیر کسی تمہید کے وہ مطلب کی بات پر آگئی ۔
میں پھیکی مسکراہٹ سے بولا ۔”تم نے کیسے اندازہ لگایا ۔“
”اتنے فاصلے سے سر میں گولی مارنا کسی عام آدمی کا کام نہیں ہو سکتا ۔“
”پھر بھی میں افغانستان میں موجود نہیں تھا ،اگرکوئی اور ہوتا تو یقینا تم ماری جاتیں ۔“
”صحیح کہہ رہے ہو ،مگر کیا کروں کہ اتنے فاصلے سے یوں صفائی سے فائر کرنے والا تمھارے علاوہ ایک نک سٹیورٹ ہی دیکھا ہے اور نک تو ہمارا اتحادی ہے ۔“
”یہ کون ذات شریف ہے ؟“میں نے انجان بن کر پوچھا ۔حالاں کہ اس کے بارے مجھے کمانڈر اسلام سے معلوم ہوا تھا ۔
”برطانوی فوج کا ایک سپاہی ہے ،اس کی ساتھی لورا براﺅن بھی اچھی نشانہ باز ہے ۔“
”اچھا اب میرے ساتھ کیا کرنا ہے ؟“
وہ شرارتی لہجے میں بولی ۔”تمھارے ساتھ کیا کر سکتی ہوں سوائے محبت کرنے کے ؟“
”بکواس نہ کرو ۔اور میں نے کہا تھا کہ واپس امریکہ چلی جاﺅ ،اس دن بڑی مشکل سے تمھیں بچایا تھا ۔“
”بس دو تین ماہ میں واپس چلی جاﺅں گی ،ملنے آﺅ گے نا ؟“
”ملنے آنا تو شاید مشکل ہو البتہ اپنا فون نمبر بتا دو کال کرلیا کروں گاوہ بھی پلوشہ سے پوچھ کر ۔“ آخری فقرہ میں نے مسکراتے ہوئے ادا کیا تھا ۔
”کہاں ہے وہ آفت کی پرکالہ۔“جینیفر بھی مسکرا دی تھی ۔
”وہ بھی افغانستان آئی ہوئی ہے ۔“
”سچ ،کہاں ہے ؟“اس نے اشتیاق سے پوچھا ۔
میں صاف گوئی سے بولا ۔”یہ تو مجھے بھی معلوم نہیں ۔“
”کیا مطلب ؟“اس کے لہجے میں حیرانی تھی ۔
جواباََ میں نے اپنی گرفتاری اور ثبوتوں کی تلاش وغیرہ کی ساری کہانی اجمالاََ دہرا دی ۔
وہ کہنے لگی ۔”تمھیں مجھ سے رابطہ کرنا چاہیے تھا ۔“
”کیسے رابطہ کرتا ۔اور معاف کرنا تم رابطہ کرنے کی کوشش میں تو اس حالت میں پہنچا ہوں ۔“
”یہ کون سی رابطہ کرنے کی کوشش تھی ۔“اس نے منھ بنایا۔”ہمارے آدمیوں کو قتل کرنا اور انھیں اغواءکرانا مجھے تلاش کرنے کے زمرے میں آتا ہے ۔“
میں نے طنزیہ لہجے میں کہا ۔”تو تم لوگوں نے پاکستان میں کوئی کسر چھوڑی ہے ۔“
”جانتے ہو،البرٹ بروک اور کرنل کولن فیلڈ دونوں اس دن تمھاری گولی کا نشانہ بن گئے تھے۔“
”وہ دونوں میرے مجرم بھی تو تھے ۔“
”بہ ہرحال اس دن حملہ کرنے والوں کو بہت کوشش سے ڈھونڈا جا رہا ہے ۔گو پہلے تو مجھے اندازہ تھا کہ گولی چلانے والے آپ ہیں ،جو بعد میں یقین میں تبدیل ہو گیا تھا لیکن میں نے کسی کو ہلکا سا اشارہ بھی نہ دیا ۔باقی جیسن سمتھ کی جان بچا تے ہوئے میں نے حماقت کا ثبوت دیا تھا ،لیکن اس حماقت کی بدولت بعد میں میرا یقین پختہ ہو گیا تھا کہ فائر کرنے والے واقعی تمھی ہو ۔“
میں نے پوچھا ۔”جیسن کے ساتھ تمھارا کیا تعلق ہے ؟“
”استاد ہے میرا ۔اور اتنی ہمت میں اس لیے کر پائی تھی کہ کولن فیلڈ کے سر میں لگنے والی گولی نے میری سوچوں کو تمھاری جانب موڑ دیا تھا ۔اس کے بعد جب دوسرے افراد کو بھی سر ہی میں گولی لگنا شروع ہوئی تو مجھے معلوم ہو گیا کہ ہو نہ ہوفائر کرنے والا ذی ہے ۔“
”اچھا اب میرے بارے کیا سوچا ہے ۔“
”سوچنا کیا ہے ،ابھی جاﺅ اور کرس کارٹر کو رہا کر دو ۔“
میں ہنسا ۔”تو تم مجھے یونھی جانے دو گی ۔“
”شک ہے کیا ؟“
”نہیں ،مگر اس طرح تم سے باز پرس ہو سکتی ہے ۔“
”نہیں آپ کے بدلے ہمیں کرس کارٹر مل جائے گا نا ۔اور بالفرض وہ آپ کے قبضے میں نہ ہوتا تو میں تب بھی آپ کو چھوڑ دیتی ۔“
”واپس امریکہ کب جا رہی ہو ؟“
”کہا تو ہے دو تین ماہ میں چلی جاﺅں گی ۔“
میں نے پوچھا ۔”البرٹ بروک تو رہا نہیں ،کیا میری بے گناہی کے ثبوت بھی اس کے ساتھ ضائع ہو گئے ہیں۔“
اس نے معنی خیز مسکراہٹ سے پوچھا ۔”اگر تمھیں وہ ثبوت میں لا دوں تو کیا انعام ملے گا ۔“
”کیا انعام چاہیے ۔“
”مجھ سے شادی کر لو ۔“
”پاکستانی ایجنسیوں کے ہاتھوں شاید بچ جاﺅں لیکن پلوشہ مجھے قتل کرنے امریکہ تک بھی پہنچ جائے گی ۔“
اس نے قہقہہ لگاتے ہوئے پوچھا ۔”اتنا ڈرتے ہو اس سے ۔“
”کیا نہیں ڈرنا چاہیے ؟“
”پیلاوشہ کی ذمہ داری میں لیتی ہوں ۔“
میں زچ ہوتے ہوئے بولا ۔”جینی !....تنگ نہ کیا کرو ۔“
”اچھا میں کوشش کروں گی ،وعدہ نہیں کر سکتی میرا نمبر یاد کر لو ۔“اس نے ایک نمبر دہرا تے ہوئے کہا ۔ ”اس پر رابطہ کر کے معلوم کر لینا امریکہ واپسی سے پہلے تمھارا کام کر جاﺅں گی ۔“
اس کا نمبر ذہن نشین کرتے ہوئے میں نے اپنا نمبر دہراتے ہوئے کہا ۔”اپنا امریکہ کارابطہ نمبر بھی بتا دو ۔“
میرا نمبر اپنے سیل فون میں محفوظ کرکے وہ اپنا نمبر بتاتے ہوئے مسکرائی ۔”ابھی تک تمھاری یاداشت ویسی ہی ہے ۔“
اس کے سوال کو نظر انداز کرتے ہوئے میں مطلب کی بات پر آیا ۔”میں احمد کو بھی ساتھ لے کر جاﺅں گا ۔“
”کون احمد ؟“اس نے حیرانی سے پوچھا ۔
”ہمارا جو آدمی آپ کے پاس قید ہے ۔“
اس نے سنجیدگی سے پوچھا ۔”ضروری ہے کیا ؟“
”ہاں ،کیونکہ یہاں میری حیثیت مہمان کی سی ہے ،میں بس اپنی بے گناہی کے ثبوت ہی حاصل کرنے آیا ہوں پھر واپس چلا جاﺅں گا ۔اور اب اگر میں وہاں جا کر کرس کارٹر کی رہائی کی بات کروں گا تو یقینا اچھا نہیں لگے گا ۔“
”اس کا مطلب ہے جلد سے جلد وہ ثبوت تمھارے حوالے کرکے جان چھڑانا بہتر رہے گا ۔“
میں نے معنی خیز لہجے میں پوچھا ۔”مجھ سے جان چھڑانا چاہتی ہو۔“
”ہاں ۔“اس نے اثبات میں سر ہلایا۔”سچ کہوں تو اپنے لیے شوہر دیکھنا شروع کر دیا ہے ۔“
”کس وقت جانا ہو گا ۔“
اس نے کہا ۔”بھوک لگی ہو تو ناشتا منگوا دیتی ہوں ۔“
میں نے نفی میں سر ہلا دیا ۔
چلو ،مگر آنکھیں باندھنا پڑیں گی ۔“
میں ہنسا ۔”مجھ پر اعتبار نہیں ہے ۔“
”ہاں ۔“اس نے صاف گوئی سے اقرار کیا ۔”اس بارے اعتبار نہیں کر سکتی ۔میں جانتی ہوں تمھارے سب سے بڑے دشمن امریکی ہیں ۔“
”تم بھی تو امریکی ہو ۔“
اس نے قہقہہ لگایا ۔”میں تو تمھیں پیاری ہوں نا ۔اور جب بھی پیلاوشہ سے ملاقات ہوئی اسے ضرور بتاﺅں گی کہ تم نے کس طرح میری جان بخشی کی ۔“
”اچھا بتا دینا یار ،فی الحال تو چلیں ناں ۔“
”ٹھیک ہے ۔“وہ سر ہلاتے ہوئے کھڑی ہو گئی ۔تھوڑی دیر بعد ہم گاڑی میں بیٹھے ہم ایک مخصوص سمت میں روانہ تھے ۔احمد بھی ساتھ تھا ۔احمد اور میرے سر پر جینفر کے کہنے پر کالا کپڑا چڑھا دیا تھا اور ہمارے ہاتھ پشت پر بندھے تھے ۔ایک غیر معروف ہوٹل کے سامنے گاڑی روک کر اس نے میرے سر سے کپڑا اتارا اور کہا ۔”اپنے آدمیوں کو کہوکرس کارٹر کو یہاں لے آئیں ۔“
میں نے نفی میں سر ہلایا۔”نہیں ،میں خود جا کر اسے لے آﺅں گا ۔“
”ٹھیک ہے ،میں یہیں بیٹھ کر تمھارا انتظار کروں گی ۔“بغیر کسی تکرار کے وہ اپنے ساتھ موجود تین مسلح مقامی محافظوں کو نیچے اترنے کا اشارہ کرتے ہوئے نیچے اتر گئی ۔
احمد کو کافی زیادہ تشدد کا نشانہ بنایا گیا تھا ۔وہ عقبی نشست پر ٹیک لگائے آنکھیں بند کیے بیٹھا تھا۔اسے مخاطب کیے بغیر میں نے گاڑی آگے بڑھائی اور موبائل فون نکال کر کمانڈر بسم اللہ کو کال کرنے لگا ۔پہلی ہی گھنٹی پر کال وصول کر لی گئی تھی ۔
”جی ۔“اس نے محتاط لہجے میں پوچھا۔
”ذیشان بات کر رہا ہوں ۔“میں نے فوراََ اپنا تعارف کرایا ۔
اس نے بے صبری سے پوچھا ۔”آپ کہاں ہیں ؟“
”میں احمد کے گھر کی طرف جا رہا ہوں ،احمد بھی میرے ساتھ ہے ۔آپ یوں کریں کہ کرس کارٹر کو ایک گاڑی میں بٹھا کر وہیں لے آئیں باقی باتیں بعد میں ہوں گی ۔“
”میں سمجھا نہیں ۔“
”سمجھانے کا وقت بھی نہیں ہے ،فی الحال جو کہا ہے وہ کریں ۔“
”کہیں یہ سب ....“
میں نے قطع کلامی کرتے ہوئے کہا ۔”نہیں میں کسی دباﺅ یا مجبوری کی بنا پر نہیں کہہ رہا ہے ۔ مختصراََ اتنا جان لیں کہ احمد کے بدلے کرس کارٹر کو واپس کرنا ہے ۔“
”ٹھیک ہے ۔“مزید بحث سے گریز کرتے ہوئے اس نے رابطہ منقطع کر دیا ۔
احمد کا مکان میں نے دیکھا ہوا تھا ۔وہاں پہنچ کر ہمیں چند منٹ انتظار کرنا پڑا تھا ۔مکان کو تالا لگا ہوا تھا ہم گاڑی ہی میں بیٹھے رہے ۔
”شمسہ کہاں ہے ؟“گاڑی میں چھائی خاموشی کو احمد کی نحیف آواز نے توڑا ۔
”کون شمسہ؟“میں نے حیرانی سے پوچھا اور پھر ایک خیال کے تحت کہا ۔”شاید ہماری بھابی کا نام شمسہ ہے ۔“
کچھ کہے بغیر اس نے آہستہ سے سر ہلادیا ۔
”وہ محفوظ ہے ۔“میں نے اسے تسلی دی ۔
بسم اللہ جان کے آدمیوں کے پہنچتے ہی میں نے احمد ان کے حوالے کیا وہ کرس کارٹر کی آنکھیں بند کر کے لائے تھے ۔اسے اپنی گاڑی میں منتقل کر کے میں نے انھیں جانے کا کہا اور خود مطلوبہ ہوٹل کی جانب روانہ ہو گیا ۔ہوٹل کے قریب پہنچتے ہی میں نے سے کال کر کے باہر بلا لیا تھا وہ بڑی شدت سے میری منتظر تھی ۔کرس کارٹر کو دیکھتے ہی اس نے میرا شکریہ ادا کرنے میں دیر نہیں لگائی تھی ۔
اس نے گاڑی میں بیٹھتے ہوئے پوچھا ۔”کیا تمھیں واپس چھوڑکے آنا پڑے گا ۔“
”شکریہ ،تم جاﺅ ۔“
”موقع ملتے ہی میں خود رابطہ کروں گی ،تمھیں کال کرنے کی ضرورت نہیں ہے ۔“جاتے ہوئے وہ مجھے سمجھانا نہیں بھولی تھی ۔
اس کے جاتے ہی میں نے ٹیکسی پکڑی اور اپنے خفیہ ٹھکانے کے قریب ایک مناسب مقام پر اتر ااور احتیاط کا مظاہرہ کرتے ہوئے وہاں پہنچ گیا ۔تمام بے صبری سے میرے منتظر تھے ۔احمد کے لیے انھوں نے ایک ڈاکٹر کو بلالیا تھا جو اس کی مرہم پٹی کر رہا تھا ۔میری آمد کے ساتھ حیدر نے بسم اللہ جان کو کال کر کے موبائل فون میری جانب بڑھا دیا ۔
سلام و دعا کے بعد وہ تفصیل پوچھنے لگا ۔
”وہی لڑکی مل گئی تھی یار !مجھے رہا کرنے کا اسے یہی بہانہ مناسب لگا کے میرے بدلے کرس کارٹر کو طلب کر لے ۔میں نے اپنی رہائی کے ساتھ احمد کا بھی مطالبہ کر دیا ۔“
”آپ کا کام تو درمیان ہی میں رہ گیا ۔“
”کوئی بات نہیں ،اللہ پاک کوئی اور سبب بنا دے گا ۔“
اس نے پوچھا ۔”مطلب دوبارہ سے پوری محنت کرو گے ۔“
”فی الحال تو آرام کروں گا چند دن بعد ہی کچھ سوچوں گا ۔“میں نے جینی کی آفر کا ذکر مناسب نہیں سمجھا تھا ۔
”تو پھر یہاں آجاﺅ۔“
میں نے گول مول انداز میں کہا ۔”جب آنا ہو گا بتا دوں گا ۔“اور اس نے الوداعی کلمات کہتے ہوئے رابطہ منقطع کر دیا ۔میں وہیں ٹھہر کر جینی کے جواب کا انتظار کرنا چاہتا تھا ۔مجھے قوی امید تھی کہ وہ کچھ نہ کچھ کر لے گی ۔
احمد اور میں اسی خفیہ کمرے میں رہنے لگے ۔تیسرے دن احمد کی بیوی بھی وہیں آگئی تھی اور اس کی آمد کے ساتھ احمد اور اس کی بیوی کے حوالے ایک علاحدہ کمرہ کر دیا گیا تھا ۔اپنی آمد کے دوسرے دن وہ احمد کو ساتھ لے کر میرا شکریہ ادا کرنے بھی آئی تھی ۔اسے معلوم ہو گیا تھا کہ احمد کی جان میری ہی وجہ سے بچی تھی ۔
شب و روز کافی بے کیفی سے گزر رہے تھے ۔مجھے پاکستان سے آئے ہوئے بھی کئی ماہ گزر گئے تھے اور ابھی تک میں کسی واضح کامیابی کے نزدیک نہیں پہنچا تھا ۔اب تو لے دے کے جینی ہی کی امید باقی تھی ۔کئی بار میرا گھر کال کرنے کو جی چاہا مگر پھر یہ سوچ کر رک گیا کہ انھوں نے پلوشہ کے بارے پریشانی ظاہر کرنا تھی جس کا کوئی جواب میرے پاس نہیں تھا ۔مگریہ سوچ مجھے زیادہ دیر نہ روک سکی ۔ اگلے دن میں نے ابو جان کے نمبر پر کال کر دی ۔
”یار !خود تو پہلے بھی نظر نہیں آتے تھے اس بار تو ہماری بیٹی کو بھی غائب کر دیا ہے ۔“سلام و دعا کے بعد ابو جان کے شکوے شروع ہو گئے ۔
”تو کہاں ہے وہ آپ کے پاس ہی تو چھوڑ گیا تھا ۔“میں الٹا ان سے استفسار کرنے لگا ۔
”اپنے بھائی کے ساتھ وزیرستان گئی تھی بیٹا ،اس کے بعد پتا نہیں چلا ۔“
میں نے انھیں تسلی دیتے ہوئے کہا ۔”اچھا میں وزیرستان جانے کی کوشش کرتا ہوں شاید مل جائے ۔“
”اتنی دیر تو نہیں ہونا چاہیے تھی بیٹا،گلناز بہن بھی بہت پریشان ہے اور تمھاری پھوپھو نے تو رو رو کر برا حال کر لیا ہے ۔“
”اسے کچھ نہیں ہوتا ابوجان وہ لڑکی کم اور لڑکا زیادہ ہے ۔“
ابوجان نے امید بھرے لہجے میں کہا ۔”وزیرستان جانے سے پہلے گھر کا ایک چکر لگا لیتے ۔“
”کوشش کروں گا ابوجان ،مگر مشکل نظر آرہا ہے ۔“میں نے گول مول جواب دیا ۔
”اچھا اپنی پھوپھو جان سے بات کرو۔“ابو جان نے موبائل فون پھوپھوجان کو پکڑا دیا ۔ وہ پلوشہ کے متعلق بہت پریشان تھیں ،انھیں تسلی دے کر میں نے پلوشہ کی ماں گل ناز سے بھی بات کی ،چونکہ ابوجان اور پھوپھو پشتو نہیں جانتے تھے اس لیے وہ بے فکری سے پلوشہ کے بارے محو گفتگو ہو گئی ۔
”بیٹا!.... میں نے اسے منع کیا تھا ،مگر وہ میری کوئی بات ہی نہیں مان رہی تھی ۔اس کا کہنا تھا کہ تمھیں اس کی مدد کی ضرورت ہے اور وہ گھر میں نہیں بیٹھ سکتی ۔تمھاری وجہ سے مجھے بھی زور دینا مناسب نہ لگا ،آخر تمھارے بھی تو ہم پر اتنے احسان ہیں ۔“
”ماں جی اپنوں کا حق ہوتا ہے احسان نہیں ہوا کرتا ۔باقی فکر نہ کریں میں افغانستان ہی میں ہوں اور ایک چھوٹا سا کام کر کے اسے ڈھونڈنا شروع کر دوں گا ۔“انھیں تسلی دے کر میں نے چند منٹ مزید گپ شپ کی اور رابطہ منقطع کر دیا ۔
گھر والوں کی خیریت جان کر مجھے کافی تسلی ملی تھی لیکن اس کے ساتھ پلوشہ کے بارے میں زیادہ فکر مند ہو گیا تھا ۔اس کا کوئی اتا پتا معلوم نہیں ہورہا تھا ۔کمانڈر عبدالحق کو میں نے پہلے سے پلوشہ کے بارے بتایا ہوا تھا کہ مجاہدین سے اس کے بارے معلوم کرتا رہے اور وہ گاہے گاہے معلوم کرتا بھی رہا تھا ، مگر اس کی کوئی خبر نہیں ملی تھی ۔گلگارے نے مجھے مشورہ دیا تھا کہ جہاں میں البرٹ بروک وغیرہ کو ڈھونڈوں گا وہیں پلوشہ بھی مجھے مل جائے گی کہ وہ بھی انھی کو تلاش کر رہی ہو گی ،مگر وہ یہاں کہیں بھی دکھائی نہیں دی تھی ۔اگر اس نے امریکنوںکے خلاف کوئی کام کیا ہوتا تو جینی کو کچھ نہ کچھ سن گن ضرور ہوتی مگر اس نے بھی پلوشہ کے بارے استفسار کر کے گویا لاعلمی ظاہر کر دی تھی ۔
اتنا عرصہ اس سے جدا رہنے کے بعد کبھی کبھی تو یوں محسوس ہونے لگتا کہ وہ میری زندگی میں آئی ہی نہیں اور میں ایک لمبا سپنا دیکھ کر بیدار ہو گیا ہوں ۔پلوشہ کی ہنستی مسکراتی صورت ہر وقت نظروں میں رہنے کے باوجود لگتا تھا کہ اس کا کوئی وجود ہی نہیں ہے ۔ایسی کوئی لڑکی پیدا ہو ہی نہیں سکتی ۔اس کے متعلق مختلف قسم کے اندیشے بھی میرے دل میں سرسراتے رہتے ۔اس کی صلاحیتوں پر بھروسا ہونے کے باوجود میرا دل لرزتا رہتا تھا کہ کہیں وہ کسی ایسی مشکل میں نہ پھنس جائے جس سے نکلنا اس کے لیے ممکن نہ ہو اور اس وقت تو میں بھی اس کی مدد کے لیے موجود نہ ہوتا ۔گوسردار خان ایک مخلص اور غیرت مند دوست تھا۔ پلوشہ کا وہ ہرممکن خیال کرتا مگر مجھے یہ سوچ بھی تسلی نہیں دیتی تھی ۔
٭٭٭
دن بھر میں اس مختصر مکان ہی میں گھومتا رہتا ۔کبھی احمد کے ساتھ گپ شپ کرتا اور کبھی یونھی صحن میں چکراتا رہتا ۔وہاں سے باہر جانے کی ضرورت مجھے کبھی محسوس نہیں ہوئی تھی ۔اس دن میں احمد کے ساتھ بیٹھا رات کا کھانا کھا رہا تھا جب کمانڈر عبدالحق کی کال موصول ہوئی ۔
سلام و دعا کے بعد عبدالحق کہنے لگا ۔”ایک خوش خبری ہے آپ کے لیے ۔“
میں نے جوش بھرے لہجے میں پوچھا ۔”کیا پلوشہ کا پتا چل گیا ؟“
”ان شاءاللہ وہ بھی لگ جائے گا ،لیکن فی الحال ایک اہم امریکن ہاتھ لگا ہے ،اب ہم آپ کی بے گناہی کے ثبوتو ں کا سودا کر سکتے ہیں ۔“
میں نے دلچسپی سے پوچھا ۔”بھلا وہ کیسے ؟“
”کل ایک قافلے پر گھات لگائی ہے اسی میں یہ ہاتھ لگا ہے ۔“
”مگر یوں ایک دم ،اچانک....“
” یہاں آجاﺅ نا پھر گپ شپ کرتے ہیں ۔“
”ٹھیک ہے ۔“کہتے ہوئے میں نے رابطہ منقطع کر دیا ۔احمد بھی ہماری گفتگو کی طرف متوجہ تھا پوچھنے لگا ....
”کیا پلوشہ مل گئی ہے ؟“
”نہیں کوئی امریکن ہاتھ لگا ہے اور اب مجھے وہیں جانا ہو گا ۔“
اس نے پوچھا ۔”اس وقت ؟“
”ہاں ۔“میں نے اثبات میں سر ہلادیا ۔
احمد نے حیدر کو کال کر کے گاڑی منگوا لی ۔میں احمد سے الوداعی ملاقات کر کے وہاں سے نکل آیا ۔حیدر اور اس کے ساتھ دو افراد میرے ساتھ جانے کے لیے تیار تھے ۔
گھنٹے ڈیڑھ کے بعد ہم بغیر کسی رکاوٹ کے مخصوص ٹھکانے پر پہنچ گئے تھے ۔کمانڈر بسم اللہ جان اور عبدالحق بڑے تپاک سے مجھے ملے ۔ان سے جو تفصیل معلوم ہوئی اس کے مطابق گزشتا کل انھیں امریکن قافلے کی آمد کے بارے معلوم ہوا اور وہ ایمرجنسی میں کارروائی کر گزرے ۔ امریکنز نے گاڑیاں بھگانا شروع کر دیں افراتفرای میںایک گاڑی سڑک سے لڑھک کر الٹی ہو گئی ۔باقی گاڑیوں والے اس کے لیے رکے نہیں تھے ۔امریکیوں کی بد قسمتی کہ قافلے کی حفاظت کے لیے ساتھ ہیلی کاپٹربھی موجود نہیں تھا پس جب تک انھیں کچھ سمجھ آتا مجاہدین نے الٹی ہوئی گاڑی سے چار آدمیوں کو نکال لیا تھا ۔ان میں دو محافظ، ایک ڈرائیور اور ایک آفیسر تھا ۔معلوم یہ ہوا کہ کابل سے امریکنز کے غزنی کیمپ کے لیے ایک کمانڈنگ ٓفیسر آرہا تھا جو کیمپ تک پہنچنے سے پہلے مجاہدین کے ہتھے چڑھ گیا تھا ۔یہ دوپہر کا واقعہ تھا اور اب تو رات آدھی سے زیادہ گزر چکی تھی ۔میں نے مذخورہ آدمی سے ملنے کا کام صبح پر ٹالا اور آرام کے لیے لیٹ گیا ۔کمانڈر بسم اللہ جان کے جانے کے بعد بھی عبدالحق اور میں کافی دیر گپ شپ کرتے رہے ۔میں پلوشہ اور سردار کے غائب ہوجانے کے بارے تشویش کا اظہار کرتا رہا ۔اس نے اپنے طور پر تو مجھے تسلی دینے کی کوشش کی مگر میں بچہ نہیں تھا جو ان تسلیوں سے بہل جاتا ۔میری چھٹی حس بار بار کسی بڑی مصیبت کا اعلان کرنے لگتی ۔ کوئی دلیل اور تسلی اس ضمن میں فائدہ نہیں دے رہی تھی ۔عبدالحق سے میں نے جینیفر کی بات اور اس کے مدد کرنے کا ذکر بھی کیا تھا ۔
”آپ کے لیے تو کافی مدد گار ثابت ہوئی ہے ۔“عبدالحق نے دبے لفظوں میں اس کی تعریف کی تھی۔
٭٭٭
صبح ناشتے کے بعد میں کمانڈر عبدالحق کے ساتھ قیدی کو دیکھنے چل پڑا ۔اپنے چہروں پر ہم نے مفلر لپیٹ لیے تھے ،کیونکہ اس آفیسر کو ہم نے سودے میں استعمال کر کے واپس بھیجنا تھا اور ایسے کسی آدمی کے سامنے اصل شکل میں جانا مناسب نہیں تھا ۔وہاں ایک بہت بڑی حیرت میری منتظر تھی ۔قیدی کو دیکھتے ہی میں اچھل پڑا تھا ۔وہ میجر جیمس میتھونی تھا ۔وہ میرا استاد تھا ۔ایک قابل اور ذہین شخص کو یوں کرسی پر بندھا دیکھ کر مجھے دکھ ہوا ۔اس سے میں نے کافی کچھ سیکھا تھا ۔ہمیں اندر داخل ہوتا دیکھ کر وہ ہماری طرف متوجہ ہو گیا تھا ۔اسے پہچانتے ہی میں تیر کی طرح اس کی طرف بڑھا اور اگلے ہی لمحے میں اس کی بندشیں کھول رہا تھا ۔کمانڈر عبدالحق کو میرا جوش دیکھ کر حیرانی ہوئی تھی ،لیکن اس نے مجھے ٹوکنے کی ضرورت محسوس نہیں کی تھی ۔اتنا تو وہ بھی جانتا تھا کہ میں وہ کام کسی خاص مقصد ہی سے کر رہا تھا ۔خود میجر جیمس میتھونی بھی حیرت زدہ رہ گیا ۔اس کی بندشیں کھول کر میں اس کے سامنے آیا اور اپنے چہرے سے مفلر اتار دیا ۔
”ذیشن !....“اس کی حیرت دگنی ہو گئی تھی ۔
”جی سر !“میرے ہونٹوں پر پھیکی مسکراہٹ نمودار ہوئی ۔بے ساختہ اٹھتے ہوئے وہ مجھ سے لپٹ گیا ۔
اس سے معانقہ کر کے میں کمانڈر عبدالحق کو مخاطب ہوا ۔”یہ میرا استاد ہے ،اسے کسی بہتر کمرے میں منتقل کرنا پڑے گا ۔“
”اپنے کمرے میں لے چلتے ہیں ۔“کمانڈر عبدالحق نے فوراََ مشورہ دیا ۔اور میں اپنے استاد کا ہاتھ پکڑ کر اپنے کمرے کی طرف چل پڑا ۔تھوڑی دیر بعد ہم آمنے سامنے بیٹھے تھے ۔عبدالحق چاے وغیرہ کا بندوبست کرنے نکل گیا تھا ۔
”آپ بھی دہشت گردوں کے ساتھ مل گئے ہو ۔“جیمس میتھونی نے چھوٹتے ہی پوچھا تھا ۔
”میرا خیال ہے دہشت گرد کون ہے اس بارے بحث رہنے دیتے ہیں سر !“
وہ خفیف ہوتا ہوا بولا ۔”معذرت خواہ ہوں ۔“
”ایسا کہہ کر مجھے شرمندہ کر رہے ہیں ،آپ میرے استاد ہیں ۔“
وہ ہنسا ۔”اب تو آپ کی قید میں ہوں ۔“
”آپ قیدی نہیں ہیں ،جب چاہیں آپ کو چھوڑ دیا جائے گا ۔“
”اتنی مہربانی کس لیے ؟“
”یہ مہربانی نہیں ہے ۔“
”آپ تو پاکستان آرمی میں تھے اور جہاں تک میری معلومات ہے پاکستان آرمی افغانستان میں کسی قسم کی کارروائی میں ملوث نہیں ہے ۔“
”ٹھیک کہا سر ،میں یہاں اپنے کسی کام سے آیا ہوں ۔“
”اپنا کام ،مطلب وہی جہاد وغیرہ کا شوق ؟“اس کے لہجے میں ہلکا سا طنز شامل تھا ۔
”جہاد کا شوق تو ہے سر ،مگر پاکستان آرمی کا کوئی سپاہی صرف اسی جہاد میں شامل ہوسکتا ہے جس کی اجازت آرمی کی طرف سے ملی ہو ۔“
”پھر ....“اس نے حیرانی ظاہر کی ۔
اب طنز کی باری میری تھی ۔”اس کے پیچھے بھی آپ لوگوں کی مہربانی شامل ہے ۔“
”بھلا وہ کیسے ؟“اس نے کچھ جاننے کی کوشش کی ۔
جواباََ میں نے اس کے سامنے البرٹ بروک اور کرنل کولن فیلڈ کی ساری کارروائیاں دہر ا دیں جو کہ انھوں نے مجھے بلیک میل کرنے کی خاطر کی تھیں ۔
میری بات کے اختتام پر وہ پوچھنے لگا ۔”اور ان کے قتل میں یہی وجہ کارفرما تھی ۔“
”نہیں ۔“میں نے نفی میں سر ہلایا۔”یہاں پر میں اکیلا آیا تھا اور مجھے کچھ مددگاروں کی ضرورت تھی ۔یقینا دنیا میں لے دے کے اصول پر کام چلتا ہے پس مجھے مجاہدین کی مدد کرنا پڑی۔“
”یقینا اتنی دور سے آپ ہی انھیں نشانہ بنا سکتے تھے ۔جب مجھ تک کرنل کولن فیلڈ اور دوسرے آفیسرز کے قتل کی بات پہنچی میرا پہلا خیال تمھاری طرف گیا تھا ،لیکن پھر یہ خیال آیا کہ پاکستان آرمی کا کوئی سپاہی افغانستان میں کیسے آسکتا ہے ۔“
میں نے حیران ہوتے ہوئے پوچھا ۔”کیوں البرٹ بروک اور کرنل کولن فیلڈ کی کارروائی سے آپ بے خبر تھے ۔“
”مجھے کرنل کولن فیلڈ کے قتل کے بعد ہی امریکہ سے بلایا گیا ہے ۔اور مجھے نہیں معلوم کہ انھوں نے کیوں اتنا غلط کام کیا ،کسی کو مجبور نہیں کرنا چاہیے ۔“
”میرے دماغ میں تو یہی خیال تھا کہ شاید آپ ہی نے البرٹ بروک کو میرے بارے مطلع کیا ہو۔“
”نہیں ۔“اس نے نفی میں سر ہلایا۔”اسے کرنل سکاٹ ڈیوڈ یا کرنل جولی روز ویلٹ سے پتا چلا ہو گا ۔“
”ہونہہ!....تو آپ اب کرنل ہیں ۔“
اس نے تصحیح کی ۔”لیفٹیننٹ کرنل ۔“
”جانتے ہیں سر ،آپ کو پکڑنے کی وجہ ، میری بے گناہی کے ثبوتوں کا حصول ہے ۔“
وہ ہنسا ۔”تو گویا اب میرا سودا کیا جائے گا ۔“
”سودا کیا جانا تھا ،لیکن اب تو بغیر کسی معاہدے کے آپ کو رہا کروں گا ۔“
”کیا باقی آپ کی بات مان لیں گے ۔“
”ماننا پڑے گی ،جب ان کا مقصد میری بے گناہی کے ثبوتوں کا حصول تھا تو پھر آپ کے بارے فیصلہ کرنا میرا حق ہے ۔
اس نے ممنونیت سے کہا ۔”شکریہ ذیشن !“
اسی وقت کمانڈر عبدالحق چاے کے ساتھ کچھ کھانے کے لوازمات لے آیا۔
جیمس نے کہا ۔”ویسے میں ناشتا کر چکا تھا ۔“
میں نے کہا ۔”ہم بھی ۔“
کمانڈر عبدالحق چاے کے برتن چھوڑ کر باہر نکل گیا تھا ۔یقینا وہ ہمیں تنہائی میں گپ شپ کا موقع دینا چاہتا تھا ۔یوں بھی وہ انگریزی نہیں جانتا تھا کہ ہماری بات چیت اس کے پلے پڑتی ۔
جیمس کو اپنے بستر پر لٹا کر میں عبدالحق کے بستر پر لیٹ گیا اوردائیں بائیں کی باتیں کرنے لگے ۔تھوڑی دیر بعد ہی اس کی آنکھیں نیند سے بوجھل ہونے لگیں ۔اسے سونے کے لیے چھوڑ کر میں باہر نکل آیا ۔اسے میں نے بتا دیا تھا کہ رات کو اسے واپس چھوڑ آﺅں گا ۔
کمانڈر بسم اللہ جان کو کمانڈر عبدالحق ساری بات بتا چکا تھا ،اس نے کسی قسم کے استفسار کی ضرورت محسوس نہیں کی تھی ۔
٭٭٭
رات کاکھانا کھا کر ہم جانے کے لیے تیار تھے ۔جانے سے پہلے میں نے جینی کو رابطہ کرنے کا میسج کر دیا تھا ۔خفیہ ٹھکانے سے نکلنے سے پہلے ہم نے کرنل جیمس کی آنکھوں پر پٹی باندھ دی تھی ۔رستے ہی میں جینی کی کال آگئی تھی ۔میرے ہیلو کرتے ہی وہ بولی ۔
”ذی!....تمھیں بتایا تھا کہ خود سے رابطہ نہ کرنا ۔“
میں ہنسا ۔”مجبوری تھی یار !“
”ذی ہم پر بہت کڑا وقت آیاہوا ہے ،ایک آفیسر کل سے دہشت گردوں کے قبضے میں ہے ، اسے ڈھونڈنے کے لیے کوئی لائحہ عمل سوچا جا رہا ہے ۔“
میں ہنسا ۔”ویسے امریکہ سے بڑا دہشت گرد کون ہو سکتا ہے ۔“
”مذاق کا وقت نہیں ہے ذی ۔“یہ کہتے ہوئے اسے کوئی بات یاد آئی اور وہ پوچھنے لگی۔ ”جانتے ہو وہ ہے کون؟“
”میں مذاق نہیں کر رہا ۔اور مجھے کیسے معلوم ہو سکتا ہے اس کے بارے ۔“
”ذی تمھیں اپنا استاد جیمس میتھونی تو یاد ہو گا ۔“
”استاد بھی کبھی بھولتے ہیں ،ہمارا مذہب تو استادوں کی تکریم کی اتنی ہدایت کرتا ہے جو تم لوگ سوچ بھی نہیں سکتے ۔“
اس نے ایک دم اشتیاق سے پوچھا۔”کیا تم اس معاملے میں ہماری کوئی مدد کر سکتے ہو ؟“
”اگر میرا جواب ہاں میں ہو اور میں انھیں با حفاظت لے بھی آﺅں تو کیا انعام دو گی ۔“
اس نے قہقہہ لگایا ۔”کیا انعام لو گے ،میں تو کب کی سراپا انعام بنی پھر رہی ہوں تم خود ہی انکار پر مائل ہو ۔“
”بکواس کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہ جانے دینا ۔“
وہ سنجیدہ ہوتے ہوئے بولی ۔”اچھا سچ بتاﺅ ،کچھ کر سکتے ہو ۔“
”جس ہوٹل کے سامنے آخری ملاقات ہوئی تھی وہاں کتنی دیر میں کتنی پہنچ سکتی ہو ۔“
وہ صاف گوئی سے بولی ۔”موجود ہ حالات میں تو بالکل نہیں آسکتی ۔“
”اگر میں کہوں میں جیمس صاحب کو گھنٹے تک وہیں لا رہا ہوں پھر ؟“
”ذی !....میں رابطہ منقطع کر رہی ہوں ۔“اس نے میری بات کو مذاق سے زیادہ اہمیت نہیں دی تھی ۔
”اچھا یہ لو بات کرو ۔“میں نے ساتھ بیٹھے جیمس کو موبائل پکڑا دیا ۔”سر!.... جینی سے بات کریں ۔“
جیمس نے مسکراتے ہوئے کہا ۔”ہیلو گڈ گرل ۔“
”سر !....“اس نے اتنے زور سے کہا تھا کہ میرے کانوں تک اس کی آواز پہنچی تھی ۔
”میری آنکھوں پر پٹی بندھی ہے اور میں اس وقت مسٹر ذیشن کے ساتھ ہوں ۔وہ مجھے کہیں چھوڑنے جا رہے ہیں ۔“
جانے اس نے جواب میں کیا کہا تھا کہ جیمس نے موبائل میری جانب بڑھا دیا ۔
موبائل کان سے لگاتے ہی میں نے پوچھا ۔”یقین آیا ۔“
وہ وارفتگی سے بولی ۔”ذی !....آئی لو یو ،میں بس آدھے گھنٹے میں وہاں پہنچ رہی ہوں ۔“
”کوشش کرنا کہ اکیلی آنا ۔“
”ٹھیک ہے ۔“کہہ کر اس نے رابطہ منقطع کر دیا ۔
غزنی شہر کے مضافات میں پہنچتے ہی میں نے کرنل جیمس کی آنکھوں پر سے پٹی کھول دی ۔ میں اپنے ساتھ بس ڈرائیور ہی کو ہی لایا تھا ۔
ہوٹل کے سامنے ہی ہمیں جینیفر بڑی بے صبری سے منتظر ملی گاڑی کے رکتے ہی وہ آگے بڑھی اور میرے اترتے ہی مجھ سے لپٹ گئی ۔
”ذی !....بہت بہت شکریہ ۔“
میں نے اسے خود سے علاحدہ کرتے ہوئے کہا ۔”یہ نیو یارک نہیں ہے محترمہ۔“
وہ برا منائے بغیر کرنل جیمس میتھونی کی طرف بڑھ گئی ۔
”کیسی ہو آفیسر ۔“جیمس نے اس سے پر تپاک مصافحہ کرتے ہوئے پوچھا ۔
وہ مسکرائی ۔”عمدہ سر ۔“
”اچھا میں چلوں گا ۔“میں ان کی گفتگو میں مخل ہوا ۔
”ٹھیک ہے ۔“جیمس نے مجھ سے الوداعی مصافحہ کیا ۔جینی دوبارہ زبردستی گلے ملی اور وہ دونوں اپنی کار میں بیٹھ گئے ۔میں نے ڈرائیور کو چلنے کا اشارہ کیا ۔تھوڑی دور آتے ہی وہ مجھے مخاطب ہوا ۔
”رات یہیں شہید خان کے گھر گزار لیتے ہیں ،صبح نکل چلیں گے ۔“
شہید خان کا گھر وہی خفیہ ٹھکانہ تھا جہاں احمد بھی ٹھہرا ہوا تھا ۔
”ٹھیک ہے وہیں چلو ۔“میں نے اثبات میں سر ہلا کر کمانڈر بسم اللہ جان کو کال کر کے وہاں رکنے کا بتانے لگا ۔
صبح بھی احمد کے اصرار پر ہم نے واپس لوٹنے کا پروگرام اگلے دن کے لیے موّخر کر دیا تھا ۔ رات گئے مجھے جینی کی کال ملی ۔میری ہیلو کے جواب میں وہ خوشی سے چہکتے ہوئے بولی ۔
”ذی ،تمھاری بے گناہی کے سارے ثبوت میں نے حاصل کر لیے ہیں ۔“
”کیا ....؟“میرا دل خوشگوار انداز میں دھڑکنے لگا تھا ۔
جاری ہے
 

قسط نمبر 62
ریاض عاقب کوہلر
”سچ کہہ رہی ہوں ۔“جینی کھل کھلائی ۔”کیا یقین نہیں آرہا ۔“
”ہاں ۔“میں نے صاف گوئی سے اقرار کیا ۔
”ذی ،حقیقت تو یہ ہے کہ میں اتنی جلدی ان ثبوتوں تک رسائی نہیں پا سکتی تھی ،یہ کرنل جیمس میتھونی کی مہربانی ہے کہ کل جاتے ہی انھوں نے کرنل کولن فیلڈ کی جگہ کیمپ کی قیادت سنبھالی اور سب سے کام یہی کیا کہ تمھاری بے گناہی کے ثبوت میرے حوالے کر دیے ۔“
”جینی !....اگر یہ سچ ہے تو میں بغیر کسی تاخیر کے انھیں حاصل کرنا چاہوں گا ۔“
وہ اعتماد سے بولی ۔”کہاں پہنچاﺅں ۔“
”وہی پرانا ہوٹل بہتر رہے گا ۔“
”نہیں ،اس مرتبہ کسی اچھے ہوٹل میں ملیں گے ،اکھٹے بیٹھ کر کھاناکھائیں گے تھوڑی دیر گپ شپ کریں گے اس کے بعد تم یوں بھی ہمیشہ کے لیے بچھڑ جاﺅ گے ۔“آخری الفاظ کہتے ہوئے اس کی آواز بھرا گئی تھی ۔
”ٹھیک ہے ۔“میں نے فوراََ حامی بھری ۔
اس نے ایک مشہور اور اچھے ہوٹل کا نام لیتے ہوئے کہا ۔”کل دوپہر میں کمرہ نمبر پندرہ میں تمھاری منتظر رہوں گی ۔“
میں نے دوبارہ۔” ٹھیک ہے ۔“کہہ کر رابطہ منقطع کر دیا ۔
اگلے دن دوپہر کو میں اس کے سامنے بیٹھا تھا ۔ہٹ دھرمی کا اظہار کر کے اس نے لیپ ٹاپ کھولا اور وہ تمام وڈیو دکھانے لگی جن کے شروع اور آخر میں ان کی اپنی باتیں اور منصوبے تھے جو وہ مجھے قابو میں کرنے کے لیے بنا رہے تھے ۔دو تین وڈیو دیکھ کر میں نے کہا ۔
”ٹھیک ہے جینی ،یہ لیپ ٹاپ میں لے جاﺅں گا ۔“
”اس یو ایس بی میں تمام ڈاٹا ڈال دیا ہے ۔“اس نے ایک یو ایس بی میرے جانب بڑھائی ۔
یو ایس بی پکڑتے ہوئے میں نے کہا ۔”لیپ ٹاپ بھی لے جاﺅں گا ۔“
وہ ہنسی ۔”بے شک مجھے بھی لے جاﺅ ۔“
میں نے طنزیہ لہجے میں کہا ۔”ویسے شرم کی بات ہے کہ تمھارے سامنے وہ میرے خلاف منصوبے ترتیب دیتے رہے اور تم نہ صرف آرام سے وہ سب کچھ سنتی رہیں بلکہ اپنے قیمتی مشوروں سے بھی انھیں نوازتی رہیں اور مجھے اشارہ تک نہ دیا ۔“
وہ ہنسی ۔”صحیح کہا اور میں اپنے فعل پر بالکل بھی شرمندہ نہیں ہوں ۔“
”گویا مجھ سے پہلے تمھاری ذمہ داریاں ہیں ۔“
”نہیں تم سے پہلے اور تم سے بعد بھی تم ہی ہو ۔“
”جھوٹ بولنے کی بھی کوئی حد ہوتی ہے ۔“میں سچ مچ خفا تھا ۔
”ذی ،ایسا میں نے ملک و قوم کے لیے نہیں اپنے لیے کیا تھا ،میرا خیال تھا کہ شاید اس طرح تم امریکہ جانے کے لیے تیار ہو جاﺅ اور سچ کہوں تو تمھیں بلیک میل کرنے کے منصوبے میں میں پیش پیش تھی ۔“اس نے صاف گوئی سے اعتراف کیا ۔
”تو وزیرستان میں آخری ملاقات کے موقع پر جب میں نے کسی بھی صورت امریکہ کے لیے کام کرنے سے انکار کر دیا تھا ،تب بھی تم نے یہ مواد میرے حوالے کیوں نہیں کیا ۔“
”اس وقت تمام مواد البرٹ بروک کے پاس تھا ،مجھ سے غلطی یہ ہوئی تھی کہ اسے میں نے اپنے اور تمھارے بارے سب کچھ سچ بتا دیا تھا اور اس کے بعدتمھارے معاملے وہ مجھ پر اعتبار نہیں کرتا تھا۔“
”اچھا جانے دو اس بحث کو ،اب ارادہ کیا ہے ۔“
اس نے انکشاف کیا ۔”مہینے ڈیڑھ تک واپس جا رہی ہوں اورجاتے ساتھ شادی کا ارادہ ہے۔“
میں نے مزاحیہ انداز میں کہا ۔”مجھے کیوں سنا رہی ہو ۔“
”سنا نہیں رہی آخری موقع دے رہی ہوں ،اب بھی وقت ہے مجھے روک سکتے ہو ۔“
”کیا فائدہ ،مجھ سے شادی کرنے کے ایک ماہ کے اندر تم اپنے فیصلے پر پچھتانا شروع کر دو گی۔ ہم مشرقی لوگ اپنی بیوی کو اتنی آزادی نہیں دے سکتے جو تمھارے ہاں میسر ہے ۔“
وہ پرجوش لہجے میں بولی ۔”میں پابندی برداشت کر لوں گی ۔بلکہ ایسا ہے کچھ عرصہ میرے ساتھ رہ کر دیکھ لو اگر تمھارے معیار پر پوری نہ اتری تو بے شک شادی نہ کرنا ۔“
”بغیر شادی کے لڑکی ،لڑکے کا اکٹھے رہنا بھی تمھاری ثقافت ہے ،ہمارے ہاں ایسا کچھ نہیں ہوتا ۔“
وہ طنزیہ انداز میں بولی ۔”تم اور پیلاوشہ بھی تو شادی سے پہلے اکٹھے رہتے رہے ہو ،تمھارا کیا خیال ہے میں کچھ نہیں جانتی ۔“
میں جلدی سے بولا ۔”تمھارے پاس نہایت غلط معلومات ہیں ،پلوشہ اور میرے اکٹھا رہنے کا مقصد قبیل خان کا خاتمہ تھا ۔“
وہ وثوق سے بولی۔”ممکن ہے ایک وجہ یہ بھی ہو ،لیکن بھول گئے کیسے پیلاوشہ کے ایک بار پکارنے پر بھاگے چلے آئے تھے ۔مانو یانہ مانو تمھارے دل میں پہلے سے اس کے بارے میں ایسے خیالات موجود تھے ۔“
میں اسے جھڑکتے ہوئے بولا ۔”جب بات کا پتا نہ ہو تو خواہ مخواہ بکواس نہیں کی جاتی ۔“
وہ موضوع تبدیل کرتے ہوئے بولی ۔”اچھا دفع کرو ،یہ بتاﺅ ملنے آﺅ گے کہ نہیں ۔“
”کال پر بات کر لوں گا اور میرا خیال ہے اتنا کافی ہے ۔یوں بھی وہاں آکر تمھارے شوہر سے مار کھانے سے بہتر ہے میں آﺅں ہی نا ۔“
”بڑے آئے مظلوم ۔“اس نے میرا منھ چڑایا ۔اور میں قہقہہ لگا کر ہنس پڑا ۔
”ویسے کوئی دولھا ڈھونڈا بھی ہے یا واپسی ہی پر کچھ سوچو گی ۔“
”کئی مرد عندیہ دے چکے ہیں،بس ابھی جا کر کسی ایک کا انتخاب کرنا ہے ۔“
میں نے کہا ”تمھار ے لیے یہی بہتر ہے ۔کیونکہ ہماری شادی میں پلوشہ کے علاوہ بھی کئی رکاوٹیں ہیں۔“
” بالکل اور سب سے بڑی رکاوٹ ہے تمھاری ناپسندیدگی ۔“اس نے منھ بنایا ۔
میں نے جھلا کر کہا ۔”لڑکیاں چاہے کتنے بڑے عہدے پر کیوں نہ ہوں سوچنا انھوں نے دل ہی سے ہوتا ہے ۔ ہماری شادی میں جو قباحتیں ہیں ان کے بارے میں تمھیں تفصیل سے آگاہ کر چکا ہوں اس کے باوجود تم یہی سمجھتی ہو تو بھاڑ میں جاﺅ ۔“
”پیلاوشہ میں ایسی کون سے بات ہے جو مجھ میں نہیں ہے ۔“وہ میری ناگواری خاطر میں نہیں لائی تھی ۔
”مجھ میں ایسی کون سے بات ہے جو تمھیں اپنے ملک کے پرکشش ، خوب صورت اور اپنے ہم مذہب جوان پسند نہیں آرہے ۔“
”یہ تم اچھی طرح جانتے ہو ۔اور تمھارے اس سوال سے مجھے علم بھی ہو گیا ہے جو تم باور کرانا چاہتے ہو ۔“
”کیا ؟“
”یہی کہ،وہ مجھ سے خوب صورت ہے اور تمھیں زیادہ پیاری ہے ۔“
”جینی ،تم خواہ مخواہ بات کو بگاڑ رہی ہو پلوشہ کے ہوتے ہوئے بھی مجھے مذہب دوسری شادی کی اجازت دیتا ہے لیکن یقین کرو تم بچپن سے جس ماحول میں پلی بڑھی ہو اسے چھوڑنا تمھارے لیے ممکن نہیں ہوگا ،یہ محبت کا بھوت اترنے میں مہینے سے زیادہ نہیں لگے گا ۔“
وہ مسکرائی ۔”اچھا یار چھوڑ و ، خواہ مخواہ صفائیاں دینے کی ضرورت نہیں ہے ۔“
”صفائیاں نہیں دے رہا حقیقت بیان کر رہا ہوں ۔“
”کیا میں واقعی تمھیں پیاری لگتی ہوں ؟“
”ہاں ۔“میں نے اثبات میں سرہلایا۔”اور اس بات پر تمھیں بھی یقین ہے ۔“
اس نے کہا ۔”اورپیلاوشہ ۔“
”وہ بھی ۔“
”سچ کہوں تو پیلاوشہ مجھے بہت پیاری لگی ہے ۔“اس نے انکشاف کیا ۔
”وہ بہت مظلوم ہے اور اس سے بھی زیادہ ہمت والی ہے ۔“
اس نے اشتیاق سے پوچھا ۔”ویسے میرے بارے کیا کہہ رہی تھی ۔“
میں نے قہقہہ لگایا۔”کچھ ایسا نہیں کہا جو بتایا جائے ۔“
وہ منھ بناتے ہوئے بولی۔”جانتی ہوں اس خونخوار بلی کو ۔“نہ جانے کیوں مجھے اس کے لہجے کی گہرائی میں شفقت جھلکتی نظر آرہی تھی ۔
”اچھا مجھے کچھ رقم کی ضرورت ہے ،تھوڑی خریداری کرنا ہے ۔“
”اس وقت تو دو تین ہزار ڈالر ہی ہوں جیب میں ،اگر زیادہ چاہئیں تو منگوا لیتی ہوں ۔“
میں نے بے تکلفی سے کہا ۔”دو ہزار کافی ہیں ۔“
وہ ممنونیت سے بولی ۔”تمھارا رقم مانگنا مجھے اچھا لگا ۔“
ہم کافی دیر گپ شپ کرتے رہے پھر اس سے اجازت لے کر میں وہاں سے نکل آیا ۔الوداع ہوتے وقت وہ کافی اداس ہو گئی تھی ۔لیکن بچھڑنا تو آخر تھا ۔اپنی عادت پر عمل کرتے ہوئے اس نے مجھے خدا حافظ کہا اور میں وہاں سے باہر نکل آیا۔اپنی بے گناہی کے ثبوت میں نے حاصل کر لیے تھے ۔واپسی کا ارادہ کرنے کے ساتھ میرے دل میں کچھ خریداری کا خیال آیا ،کیونکہ میں گلگارے ،رنڑا اور ثمر خان وغیرہ کے لیے کچھ تحائف لینا چاہتا تھا ۔گھنٹا ڈیڑھ خریداری میں لگا کر میں واپس شہید خان کے مکان پر پہنچ گیا ۔ وہاں احمد ،اس کی بیوی اور میزان سے آخری ملاقات کر کے میں ڈرائیور کے ساتھ واپس چل پڑا ۔ عبدالحق اوربسم اللہ جان کو میں کامیابی کی خبر سنا چکا تھا ۔انھوں نے کال ہی پرمجھے بہت بہت مبارک باد دی تھی ۔
”گویا اب واپس جاﺅ گے ۔“رات کو لیٹتے وقت عبدالحق مجھے مخاطب ہوا ۔
”ہاں ۔“میں نے اثبات میں سر ہلادیا ۔
”اور پلوشہ بیٹی کے بارے کیا سوچا ہے ۔“
ایک دم مجھے خیا ل آیا کہ ثبوت ملنے کی خوشی میں میں نے اپنی جان حیات کو بھلا دیا تھا جو میرے لیے جانے کہاں خوار ہوتی پھر رہی تھی ۔
میں نے صاف گوئی سے اعتراف کیا۔”میرے ذہن ہی سے یہ اہم کام نکل گیا تھا ۔“
”چلو اب بتا دو کیاپروگرام ہے ۔“
میں فوراََ بولا ۔”پلوشے کو ڈھونڈ کر واپس جاﺅں گا ۔“
”ایک سودا کرو گے ۔“
”کیسا سودا ؟“میں نے حیرانی سے پوچھا ۔
”پلوشہ بیٹی کو ڈھونڈنے کا کام میں اپنے ذمہ لیتاہوں، میرا مطلب یہ کام میں چند مجاہدین کے ذمہ لگاتا ہوں آپ میرا ایک کام کردیں ۔“
”کون سا کام ؟“
”نک سٹیورٹ نامی نشانہ باز ہمارا کافی نقصان کر چکا ہے ۔“
”میرا خیال ہے پہلے بھی کافی دیر ہو گئی ہے ۔پلوشہ جب تک مل نہیں جاتی مجھے یکسوئی حاصل نہیں ہو گی ۔“
”ایسا کرتے ہیں آپ میرے ساتھ گردیز چلیں میں وزیرستان میں رابطہ کر کے کسی کمانڈر کے ذمہ پلوشہ کی تلاش کا کام لگاتا ہوں ۔آپ کے مطابق آخری بار وہ کمانڈر نصراللہ خوجل خیل سے ملے تھے اس کے بعد کہاں گئے یہ کسی کو بھی پتا نہیں ہے ۔اب میرے خیال میں ان کی تلاش کا کام وہیں شروع کرنا پڑے گا اور اس ضمن میں کافی آدمی استعمال ہوں گے ،تو بہتر یہی ہے کہ آپ میری بات مان لیں ۔“
میں نے معنی خیز لہجے میں پوچھا ۔”گویا ،میرے انکار کرنے پر آپ پلوشہ کی تلاش میں میری مدد نہیں کریں گے ۔“
وہ فوراََ بولا ۔”ایسا میں نے کب کہا ہے ۔“
”آپ پلوشہ کی تلاش کاکام پہلے بھی تو شروع کرا سکتے تھے ۔“میں شاکی ہوا ۔
”ہاں ، آپ کی طرح مجھے بھی امید تھی کہ وہ جلد یا بدیر مل جائے گی ،مگر یہ نہیں سوچا تھا کہ آپ کا کام ختم ہونے کے بعد بھی اس کی کوئی سن گن نہیں ملے گی ۔اور سب سے بڑھ کر آپ نے بھی تو کوئی ایسی بات نہیں کہی تھی ۔“
اس کی بات صحیح تھی پلوشہ کے ضمن میں مجھ سے تھوڑی سے بے پروائی ہو گئی تھی ۔مجھے کسی نہ کسی کو اس کی تلاش میں شروع دن سے لگا دینا چاہیے تھا ۔اس کے ساتھ ہی میرے دماغ میں خیال آیا ۔
”کس کو لگاتا۔“مجاہدین میرے زرخرید یا ملازم نہیں تھے کہ جہاد چھوڑ کر میری بیوی کو تلاش کرتے پھرتے ۔پاکستان آرمی سے میں یوں بھی بھاگتا پھر رہا تھا ،جو دوست کسی قابل تھا وہ پہلے سے میرے کام کے سلسلے میں مصروف تھا اس کے علاوہ میں کر کیا سکتا تھا ۔
”مجھے خاموش پا کر وہ دوبارہ بولا ۔” اگر اس کے علاوہ کوئی حل سوجھتا تو ہم آپ کو بالکل تکلیف نہ دیتے ۔یقین مانو اس خبیث کی ہمت بہت بڑھ گئی ہے ۔اب تو لگتا ہے ہمیں گردیز کیمپ کو خیر باد کہنا پڑے گا اور گردیز کیمپ کے بعد وہ کسی اور جگہ کو تاڑ لے گا ۔آپ کے شاگرد بھی اسے روکنے میں ناکام ہو چکے ہیں ۔صغیر اور اسلم پہلے شہید ہو گئے تھے، ایک ہفتہ پہلے مبین اور احسان بھی باقی نہیں رہے۔“
وہ چاروں میرے شاگرد تھے ،گو انھوں نے صرف نشانہ بازی کے متعلق ہی تھوڑا بہت سیکھا تھا لیکن میرے ساتھ انھوں نے جو دو تین ہفتے گزارے تھے وہ وقت ایک یاد کی صورت میری یاداشت میں محفوظ تھا ۔وہ نک سٹیورٹ کو ہلاک کرنے کی کوششوں میں خود شہید ہو چکے تھے ۔ایک منجھے ہوئے سنائپر کا مقابلہ کرنا ان کے بس سے باہر تھا ۔نک سٹیورٹ کی جینیفر بھی کافی تعریف کر چکی تھی ۔اس کاصاف مطلب یہی تھا کہ وہ ایک خطرناک سنائپر تھا اور ایسے شخص کے مقابل آنے کا مطلب خود کو شدید خطرے میں ڈالنا تھا کیوںکہ وہ اس علاقے میں کافی عرصے سے سرگرم تھا ۔گویا گردیز کا علاقہ اس کے لیے ہوم گراﺅنڈ کی حیثیت رکھتا تھا ۔ اپنی مرضی کے میدان کا انتخاب کر کے مجھے کسی مشکل سے دوچار کرنا اس کے لیے دشوار نہ ہوتا ۔اس سب کے باوجود بھی مجھے جان سے زیادہ پلوشہ کی فکر کھائے جا رہی تھی ۔
”کس سوچ میں گم ہو ۔“مجھے خاموش پا کر وہ مستفسر ہوا ۔
”عبدالحق بھائی آپ نے مجھے مشکل میں ڈال دیا ہے ۔ضروری نہیں کہ ایک سنائپر کے مقالے میں آپ سنائپر ہی کو لائیں ،اس کے خلاف کوئی اور منصوبہ بھی تو بنایا جا سکتا ہے ۔
”ایسا بہت پہلے سوچ کر اس پر عمل کرنے کے باوجود ہم ناکامی کا سامنا کر چکے ہیں ۔“
میں نے ہتھیار ڈالتے ہوئے کہا ۔”پلوشہ کی تلاش کے لیے رابطہ کر لو ۔اس کے علاوہ میری بے گناہی کے ثبوت بھی ایک خاص آدمی تک پہنچانے ہوں ۔“
”ایس ایس زندہ باد۔“عبدالحق نے خوش دلی سے نعرہ بلند کیا تھا۔
٭٭٭
دوسرے دن ہم بسم اللہ جان اور اس کے ساتھیوں سے الوداع ہو رہے تھے ۔کمانڈر بسم اللہ نے مجھ سے معانقہ کرتے ہوئے کہا ۔”ذیشان بھائی !....آپ کی یاد آئے گی ۔“
”آپ کی محبت ہے کمانڈ ر ،یقینا آپ کی مدد کے بغیر میں یہ سب کچھ نہ کر سکتا ۔“
”ہم نے آپ کے لیے اتنا نہیں کیا جتنا آپ نے ہمارے لیے کیا ہے ۔“
میں ہنسا ۔”چلو حساب برابر ہو گیا ۔“
وہاں سے کچھ رستا گاڑی میں بیٹھ کر گئے اور پھر پیدل روانہ ہوئے ہماری منزل پکتیکا کا ٹھکانہ تھی ۔گو ہم گردیز تک گاڑی میں جا سکتے تھے ،مگر میرے پاس جو ثبوت موجود تھے ان کی حفاظت کے لیے گاڑی کے بجائے ہم نے پیدل رستے کو ترجیح دی تھی ۔
راستے میں کوئی خاص واقعہ نہیں ہوا تھا اور ہم خیریت سے اس خفیہ ٹھکانے پر پہنچ گئے تھے ۔ کمانڈر اسلام ہمیں پر تپاک انداز میں ملا۔
”یقینا آپ کامیاب لوٹے ہیں ۔“اس نے چھوٹتے ہی پوچھا ۔
میں نے کہا ۔”الحمداللہ ۔“
باقی افراد سے مصافحہ کر کے ہم بیٹھ گئے ۔ کمانڈر عبدالحق مختصر لفظوں میں کارگزاری سنا نے لگا ۔ اس کی بات کے اختتام پر کمانڈر اسلام تصدیقی انداز میں مجھے مخاطب ہوا ۔”گویا اب واپسی کا ارادہ ہے۔“
”نہیں ۔“میرے بجائے کمانڈر عبدالحق نے جواب دیا ۔”ابھی تک ذیشان بھائی کا ایک کام رہتا ہے ۔“
اسلام نے سمجھ جانے والے انداز میں سر ہلایا۔”یقیناذیشان بھائی نے اپنی بیگم صاحبہ کو ڈھونڈنا ہو گا ۔“
”نہیں ۔“عبدالحق نے ایک بار پھر نفی میں سرہلایا۔”پلوشہ بیٹی کو ڈھونڈنے کے لیے آپ جا رہے ہیں ۔اور اس کی شروعات آپ کریں گے استاد محترم نصراللہ خان خوجل خیل سے مل کر ۔“
”میں سمجھا نہیں ۔“اسلام سچ مچ حیران رہ گیا تھا ۔
”ذیشان بھائی سے ایک معاہدہ ہو گیا ہے ،یہ ہمارے لیے نک سٹیورٹ کا شکار کرے گا اور ہم پلوشہ بیٹی کو ڈھونڈیں گے ۔“
”یہ ہوئی نا بات ۔“اسلام خوشی سے اچھل پڑاتھا۔
اسی دوران رات کے کھانے کا وقت ہو گیا تھا ۔کھانا کھا کر ہم نے عشاءکی نماز پڑھی ،تھکے ہونے کے باوجود ہم کافی دیر بیٹھے گپ شپ کرتے رہے ۔کمانڈر عبدالحق نے اسلام کو تفصیل سے پلوشہ کے ڈھونڈنے کی ترتیب بتا دی تھی ۔لیکن اس سے پہلے اسے اورنگ زیب صاحب کو مل کر میری بے گناہی کے ثبوت ان کے حوالے کرنا تھے ۔اورنگ زیب صاحب کا موبائل فون نمبر میں نے اسے دے دیا تھا ۔ کمانڈر اسلام کو میں نے ایک یو ایس بی بھی دی تھی جو اسے اورنگ زیب صاحب کے حوالے کرنا تھی ۔ ایک یو ایس بی میں نے اپنے پاس رکھ لی تھی جبکہ لیپ ٹاپ میں نے اسی ٹھکانے پر رکھوا دیا تھا ۔ثبوتوں کو گم کرنے کا میں کوئی خطرہ مول نہیں لینا چاہتا تھا ۔
اگلی صبح کمانڈر اسلام ایک ساتھی ہمراہ روانہ ہو گیا ۔شمریز چچا اور ان کے گھر والوں کے لیے میں نے کافی تحائف خریدے تھے وہ تمام سامان میں نے ان کے حوالے کر دیا تھا۔
کمانڈر اسلام نے معنی خیز لہجے میں کہا ۔”مطلب چچا شمریز خان آپ کو بھولا نہیں ہے ۔“
میں نے فلسفیانہ لہجے میں جواب دیا ۔”ایسے لوگ بھلائے جانے کے قابل نہیں ہوتے ۔“
”صحیح کہا ۔“اس نے تائیدی انداز میں سر ہلایااور الوداعی معانقہ کر کے ۔”فی امان اللہ ۔“ کہتے ہوئے رخصت ہو گیا ۔
کمانڈر عبدالحق نے رات ہی کو ایک نزدیکی ٹھکانے سے دو تین آدمی منگوا لیے تھے ،جو دوپہر تک ہمارے پاس پہنچ گئے تھے ۔ہم نے وہ دن بھی وہیں گزارا تھا ۔دوسرے دن ہم دونوں گردیز روانہ ہو گئے ۔کمانڈر عبدالحق بہت جوش میں تھا ۔نک سٹیورٹ نے کافی مجاہدوں کو شہید کیا تھا اور اب وہ بدلہ لینے کے لیے بے چین تھا ۔
مجھے جاننے والے میری نشانے بازی پر اندھا اعتماد کرتے تھے ،ان کے نزدیک میں ایک ہیرو کی طرح تھا ۔جبکہ بذات خود میرے دل میں یہ خوف جا گزیں رہتا کہ آیا میں لوگوں کی توقعات پر پورا بھی اترپاﺅں گا یا نہیں ۔عمومی طور پر لوگ جس آدمی کے لیے خوش اعتقاد ہوتے ہیں اس کے بارے بہت سی باتیں خود سے طے کر لیتے ہیں ۔اور اس کے خلاف بات سننا تو درکنار سوچنا بھی گوارا نہیں کرتے ۔میری نشانہ بازی بھی کچھ لوگوں کے لیے یہی صورت اختیار کر گئی تھی ۔کچھ صلاحیت اور کچھ مبالغہ آئی نے مجھے اس بلندی پر اٹھا دیا تھا جس کا میں خود کو اہل نہیں سمجھتا تھا ۔
ہم دونوں وہاں سے مرناہ گر روانہ ہوئے ۔وہاں سے ہوتے ہوئے ہم ساروبی اور ارگون کے رستے گردیز پہنچ گئے ۔یہ افغانستان کے صوبے پکتیا کا دارلحکومت ہے ۔مجاہدین کا ٹھکانہ شہر سے کافی ہٹ کر پہاڑوں کے بیچ میں تھا ۔رستے میں ہمارے دو دن مزید ضائع ہو گئے تھے ۔وہاں ہم رات کو پہنچے تھے ۔دن کے وقت وں ان پہاڑی سلسلوں میں حرکت کرنا کافی دشوار گزار ہو گیا تھا ۔نک سٹیورٹ نے مجاہدین کی دن کی نقل و حرکت کو محدود کر دیا تھا ۔نہ جانے کس جگہ پر چھپے ہوئے وہ اپنی دور مار رائفل کے ذریعے ان پہاڑوں میں گھومنے والے افراد کو نشانہ بناتا رہتا ۔اس ضمن میں اس نے کافی ایسے افراد کو بھی نشانہ بنا دیا تھا جن کا اس جنگ سے دور دور کا واسطہ نہیں تھا ۔مرد تو کجا وہ عورتوں کو بھی معاف کرنے پر تیار نہیں ہوتا تھا ۔ یوں بھی امریکیوں کے لیے تیسری دنیا کی عوام انسانیت کیا جانوروں کا درجہ بھی نہیں رکھتی ۔ اب اسی نک سٹیورٹ اور اس کی ساتھی لورا براﺅن کے ساتھ میرا ٹاکرا ہونے والا تھا ۔نہ جانے یہ مقابلہ کیا رنگ لاتا ۔
جار ی ہے
 

قسط نمبر 63
ریاض عاقب کوہلر
گردیز کیمپ بھی دوسرے ٹھکانوں کی طرح غاروں کے مجموعے پر مشتمل تھا ۔اور وہ غار جن پہاڑی سلسلوں میں موجود تھے وہ پہاڑی سلسلے کافی دور تک پھیلے ہوئے ہیں ۔وہاں ایک بلند پہاڑی پر نک سٹیورٹ اور اس کی ساتھی لورا براﺅن نے ڈیرا ڈال رکھا تھا ۔اس پہاڑی کی تین اطراف میں بالکل سیدھی ڈھلانیں تھیں جنھیں نقشہ بینی میں ہم ” اسکارپمنٹ “پڑھتے ہیں ۔اوپر چڑھنے کے لیے صرف ایک ہی جانب رستا موجود تھا جہاں پر سخت پہرہ تھا ۔نک سٹیورٹ اس پہاڑی کی بلندی سے کافی دور دور تک نشانہ بنا لیتا تھا۔ویسے وہ مستقل وہاں نہیں رہتا تھا ،کبھی کبھار وہ نیچے اتر کر بھی اپنا شکا ر ڈھونڈنا شروع کر دیتا ۔مجاہدین نے اسے مارنے کے لیے کو ئی دقیقہ فرو گزاشت نہیں کیا تھا لیکن کامیابی سے ہنوز دور تھے ۔ اور اب میری شکل میں وہ ایک نئی کوشش کر رہے تھے ۔اس بار وہ کافی مطمئن تھے ۔البتہ مجھے معلوم نہیں تھا کہ اس ٹاکرے کا کیا انجام ہونے والا ہے ۔اس مرتبہ میرے مخالف ایک ایسا سنائپر موجود تھا جس کی نشانہ بازی کی اس کے دشمن بھی تعریف کر رہے تھے ۔میری طرح وہ بھی سر ہی میں گولی مارتا تھا ۔ جس پہاڑی پر وہ موجود تھا وہاں مستقل ٹھکانہ بنا کر رہنا اتنا آسان نہیں تھا کیونکہ وہاں غار وغیرہ موجود نہیں تھے۔ البتہ امریکن آرمی کے لیے ایسی پہاڑی پر رہائش کی سہولت مہیا کرنا کوئی مشکل نہیں تھا ۔مجاہدین بھی وہاں مورچے وغیرہ بنا کر رہ سکتے تھے لیکن وہ مورچے بالکل کھلے میں ہوتے اور امریکنز انھیں آسانی سے ہیلی کاپٹرسے نشانہ بنا سکتے تھے ۔اس وجہ سے انھوں نے کبھی اس پہاڑی پر رہائش اختیار کرنے کی کوشش نہیں کی تھی ۔
یہ ساری تفصیل مجھے گردیز کیمپ کے کمانڈر ضلع خان سے ملی تھی ۔اگلی صبح میں نے پہلا کام تو یہ کیا کہ ان کے پاس موجود سنائپر رائفلوں کا جائزہ لیا ،تاکہ اپنے لیے ہتھیار کا چناﺅ کر سکوں ۔کسی بھی لڑائی کا حصہ بنتے وقت سب سے زیادہ اہمیت ہتھیار کی ہوتی ہے ۔اور سنائپرز کی جنگ میں تو ہتھیار کا درجہ عام لڑائی سے کچھ زیادہ ہی ہے ۔
ان کے پاس تین ہیوی سنائپر یعنی رینج ماسٹر دو ڈریگنوو،ایک سٹائر سنائپراور ایک گلیل موجود تھیں ۔ان میں سب سے بہتر رینج ماسٹر تھی کیوں کہ اس کی کارگر رینج باقی سنائپر رائفلوں سے زیادہ تھی ۔ اس کے علاوہ میں نے اس پر بہت زیادہ مشق بھی کی ہوئی تھی ۔میں نے تینوں رینج ماسٹر کا معائنہ کیا اور ان میں سے ایک رائفل اپنے لیے منتخب کر لی ۔گھنٹا ڈیڑھ میں نے رائفل کی صفرنگ کی اور پھر رائفل کی صفائی کرنے لگا ۔ یہاں ایک بات قارئین کے گوش گزار کر دوں ۔ایک اچھا سنائپر ایک ہی گولی سے رائفل کو جانچ لیتا ہے کہ وہ نشانہ سادھنے کے مقام سے کتنا دائیں بائیں یا اوپر نیچے مار رہی ہے ۔اور اپنے اندازے سے وہ اسی رائفل سے دوسری گولی چلا کر ہدف کو نشانہ بھی بناسکتا ہے لیکن ایسا کرنا عارضی طور پر تو قابل قبول ہے مستقل بنیادوں پر نہیں ۔جب سنائپر نے ایک رائفل کو مسلسل زیر استعمال رکھنا ہو تب وہ اس کو صفر ضرور کرتا ہے اور اس کے لیے سنائپر کو کم از کم رائفل سے پانچ گولیاں فائر کرنا پڑتی ہیں ۔اور صفر کرنے کے بعد ہی ایک سنائپر اپنے ہتھیار پر اعتماد کرسکتا ہے ۔
دن کا بقیہ حصہ میں نے علاقے سے واقفیت حاصل کرنے اور مختلف لوگوں کو پیش آنے والے حادثات کی تفصیل سننے میں گزارا۔نک سٹیورٹ نے اپنے ٹھکانے سے دو کلومیٹر سے زیادہ فاصلے پر بھی چند آدمیوں کو کامیابی سے نشانہ بنایا تھا ۔یقینا اس نے بلندی کا فائدہ اٹھا کر اپ ہل ،ڈاﺅن ہل تکنیک کا استعمال کر تے ہوئے اہداف کو نشانہ بنایاتھا۔اور یہ بات ظاہر کرتی تھی کہ وہ ایک منجھا ہواسنائپر تھا ۔ میرے بارے بھی جاننے والے یہی کہتے تھے ۔نامعلوم اب ہم دونوں میں سے کس کو کامیابی ملنے والی تھی۔ یہ ایسی جنگ تھی جس میں غلطی کی گنجائش نہیں تھی ۔ اسے اس لحاظ سے بھی فوفیت حاصل تھی کہ اس کا کوئی مخصوص ہدف نہیں تھا ۔مار کے علاقے میں وہ جو حرکت دیکھتا اپنا کام کر گزرتا ۔اس کے برعکس مجھے صرف اسی کو نشانہ بنانا تھا ۔
اگلی صبح طلوعِ آفتاب سے پہلے ہی میں ضلع خان کے ایک آدمی کے ساتھ مخصوص ٹھکانے سے باہر نکل آیا تھا ۔میرا ارادہ کسی ایسی پہاڑی پر ڈیرا ڈالنے کا تھا جہاں سے میں نک سٹیورٹ کی روز مرہ پر نظر رکھ سکتا ۔سب سے بڑا مسئلہ اس کی پہچان کا تھا کہ اس کے بعد ہی میں اسے نشانہ بنا پاتا ۔
گزشتا دن ہی میں نے ضلع خان کے آدمی اکرم کو تفصیل سے چلنے کے طریقہ کار کے متعلق بتا دیا تھا۔چلتے ہوئے آڑ کا استعمال کیسے کرنا ہے ،درختوں کے تنوں اور جھاڑیوں سے کس طرح فائدہ اٹھانا ہے، پس منظر سے کیسے بچنا ہے وغیرہ وغیرہ ۔وہ ایک تربیت یافتہ مجاہد تھا اس لیے اس کے دماغ میں میری باتیں اچھی طرح آگئی تھیں ۔
میں نک سٹیورٹ کے ٹھکانے کے زیادہ سے زیادہ قریب جا کر جائزہ لینا چاہتا تھا ۔ اپنی جگہ سے چلنے سے پہلے میں نے اس کے ٹھکانے کے دائیں بائیں موجود پہا ڑیوں کا دوربین کی مدد سے گہری نظر سے جائزہ لیا تھا ۔اور پھر ایک مخصوص پہاڑی کا چناﺅ کر کے میں نے اکرم کو اپنی منزل سے آگاہ کر دیا تھا ۔
ہم نالے میں اتر کر مطلوبہ سمت کو چل پڑے ۔نالے میں اتر کر ہم دور کے دکھاﺅ سے محفوظ ہو گئے تھے ۔اس لیے ہماری رفتار بھی تیز رہی اور ہمیں درختوں یا پتھریلی چٹانوں کی آڑ وغیرہ لینے کی کوئی خاص ضرورت نہیں پڑی تھی ۔نالے کے اندر جہاں تک محفوظ جا سکتے تھے ہم اطمینان سے گپ شپ کرتے ہوئے چلتے رہے ۔اکرم کا تعلق بنوں سے تھا اور وہ پچھلے کئی سال سے افغانستان جہاد میں شامل تھا۔میں اسے سنائپرز سے بچنے کے لیے ضروری احتیاطوں کے بارے بتاتا رہا ۔اس دوران اس نے کافی سوال بھی پوچھے تھے ۔وہ مجھ سے کافی متاثر دکھائی دیتا تھا ۔باتوں باتوں میں کہنے لگا ۔
”سچ کہوں تو ذیشان بھائی ،آپ کی آمد سے پہلے آپ کے بارے بہت کچھ سن رکھا تھا اور میری خواہش تھی کہ کبھی اپنی آنکھوں کے سامنے آپ کو فائر کرتے ہوئے دیکھوں ۔“
میں نے ہنستے ہوئے کہا ۔”کل رائفل کو صفر کرتے وقت میں کافی گولیاں فائر کی تھیں امید ہے آپ کی تمنا پوری ہو گئی ہو گی ۔“
وہ جلدی سے بولا ۔”نہیں وہ تو آپ پتھروں کو نشانہ بنارہے تھے ۔اور میری خواہش ہے کہ دشمن کے سر میں آپ کی گولی کو لگتا دیکھوں ۔اور اسی وجہ سے میں بڑی کوشش سے آپ کے ساتھ آپایا ہوں۔“
اس کی بات پر میں نے ہلکی سی ہنسی اچھالی ۔لوگوں کی نگاہوں کا مرکز بننا ایک خوش کن بات ہوتی ہے ،لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ بعض اوقات لوگوں کی توقعات پر پورا ترنا نہایت مشکل ہو جاتا ہے ۔ کیونکہ کوئی بھی کارنامہ سرانجام دینے کے لیے قسمت کا شامل حال ہونا ضروری ہوتا ہے ۔اور مقدر کس وقت دغا کر جائے یہ کوئی نہیں جانتا ۔
ہم ایسی جگہ پہنچ گئے تھے جہاں سے آگے چڑھائی تھی اور اس جگہ پر ہم نک سٹیورٹ کے ٹھکانے سے دیکھے جا سکتے تھے ۔ گو ضروری نہیں تھا کہ اس وقت وہ اپنے ٹھکانے ہی پر ہوتا ۔اس کا کسی دوسرے پہاڑ کی چوٹی پر موجود ہونا بھی ممکن تھا ۔یہ بھی ہو سکتا تھا کہ اس وقت وہ نیند کے مزے لے رہا ہوتا۔ اس کے علاوہ بھی کئی احتمال ممکن تھے۔ اور ایک سنائپر کو میدان جنگ میں سارے امکانات کو مدنظر رکھ کر حرکت کرنا پڑتی ہے ۔
اوپر کی جانب حرکت کرتے ہوئے میں نے درختوں ، جھاڑیوں اور پتھروں کی آڑ کا استعمال خود بھی کیا اور اکرم کو بھی بار بار محتاط رہنے کا مشورہ دیتا رہا ۔اوپر پہنچ کر ہمیں مطلوبہ پہاڑی بالکل قریب نظر آنے لگی جہاں پہنچ کر میں نے نک سٹیورٹ کے ٹھکانے کی نگرانی کرنا تھی ۔لیکن اتنے قریب نظر آنے کے باوجود ابھی تک ایک نالا درمیان میں حائل تھا ۔اس لیے وہ تھوڑی سی دوری ختم کرنا بھی ہمیں کافی دشوار لگا تھا ۔دوسری طرف کے نالے میں اتر کر ہم اوپر پہنچ گئے ۔وہ نالہ ہمارا، دو گھنٹے سے زیادہ وقت ضائع کر گیا تھا ۔اور اتنا وقت محتاط سے حرکت کرنے کی وجہ سے لگا تھا ۔
بلندی پر پہنچ کر بھی ہم نک سٹیورٹ والی پہاڑی سے کافی نیچے تھے ۔وہاں اس وقت مورچہ وغیرہ بنانا تو ممکن نہیں تھا البتہ آڑ میں رہ کر میں نے اپنے جسم ،رائفل اور اکرم کو جھاڑیوں کی سبز ٹہنیوں سے چھپا ضرور لیا تھا ۔ایک درمیانی پتھر کے پیچھے لیٹ کر میں نے رائفل کو دو پائی پر لگادیا ۔اس کے بعد فاصلہ ناپنے والے آلے سے مطلوبہ پہاڑی کا درمیان ناپا اور ٹیلی سکوپ سائیٹ پر رینج لگا دی ۔ اکرم خاموشی سے میری کارروائی دیکھتا رہا ۔
”اکرم یاد رکھنا ،کسی بھی قسم کی ناگہانی صورت حال میں آڑ چھوڑنے کی غلطی نہ کرنا ۔اب ہم خطرے کی حدود میں موجود ہیں اور آڑ سے باہر رہنے والا عضوتمھارے جسم کا حصہ نہیں رہے گا ۔“
وہ خوش دلی سے بولا ۔”بے فکر رہیں ذیشان بھائی ، میں محتاط ہوں ۔“
رینج ماسٹر پر لگنے والی لیو پولڈ ٹیلی سکوپ سائیٹ کارکردگی کے لحاظ سے ایک عمدہ سائیٹ ہے۔ عام آنکھ کی نسبت پچیس گنا زیادہ دکھانے کی خاصیت رکھتی ہے ۔میں نے سائیٹ کے سامنے والا اور عقبی کور ہٹائے اور سامنے والے علاقے کا جائزہ لینے لگا ابھی تک میں نے رائفل کو کاک نہیں کیا تھا ۔
جس پتھر کے پیچھے ہم لیٹے تھے وہاں سے ہم لیٹ کر ہی دشمن کی نظر اور فائر سے بچ سکتے تھے ۔
اکرم نے پوچھا ۔”میرا کیا کام ہو گا؟“
”تمھارا کام دائیں بائیں کا جائزہ لے کر کسی بھی ہلکی سی حرکت کے بارے مجھے مطلع کرنا ہے۔میگزین کو لوڈ کرنا وغیرہ وغیرہ ۔“
اس نے اشتیاق بھرے لہجے میں کہا ۔”وغیرہ کا مطلب ہے اس کے علاوہ بھی کوئی کام ہے ۔“
”سنائپر کے ساتھ جو دوسرا آدمی ہوتا ہے اس کے بہت سارے کام ہوتے ہیں ،مگر وہ تم نہیں کر سکو گے ۔“
”مثلاََ۔“یقینا اسے سنائپنگ کے متعلق زیادہ سے زیادہ جاننے کا شوق تھا۔
”ہوا کی رفتار ناپنا اور تیز یا درمیانی ہوا کی صورت میں حساب لگا کر ڈیفلیکشن معلوم کر کے لگانا، فاصلہ ناپنا ،رینج لگانا ،فائر ہونے والی گولی کو جانچنا بھی تمھاری ذمہ داریوں میں آتا ہے ،مگر فی الحال تمھیں ان کاموں کے بارے معلوم نہیں ہے ۔اس لیے کوئی بے احتیاطی کیے بغیر پڑے رہو ۔“اجمالاََ اس کی ذمہ داریاں دہراتے ہوئے میں نے ایک بار پھر اسے محتاط رہنے کی تاکید کر دی ۔
اور اس کی ”ٹھیک ہے ۔“سنتے ہی میں نے سائیٹ سے علاقے کا جائزہ لینا شروع کر دیا ۔ اچانک مجھے ہلکی سی چمک دکھائی دی ۔یہ چمک نک سٹیورٹ کے ٹھکانے والی پہاڑی کے بائیں جانب موجود نسبتاََ ہموار اور ہماری طرف موجود ڈھلان سے آئی تھی ۔میں نے فوکسنگ ناب کو گھما کر منظر کو مزید واضح کیا ۔اس جگہ کا فاصلہ ہم سے ڈیڑھ کلو میڑ ہو گا ۔سبزے کے ڈھیر نے مجھے مزید چونکا دیا تھا ۔میں نے فوراََ رائفل کاک کر کے مطلوبہ رینج لگائی اور اس کے بعد میں شیشے کی چمک پر شست لینے ہی لگا تھا کہ اچانک مجھے شعلہ دکھائی دیا ۔یقینا فائر کیا گیا تھا ۔سیکنڈ کے چوتھائی حصے میں میں نے خود کو نیچے گرایا اور اسی وقت گولی ٹیلی سکوپ سائیٹ کے اگلے عدسے کوتوڑتی ہوئی آئی گلاس سے گزر گئی ۔اور ساتھ ہی گولی چلنے کا ہلکا سادھماکا سنائی دیا ۔گولی کی رفتار آواز سے تیز ہوتی ہے ۔اگر مجھے آئی گلاس سے آنکھ ہٹانے میں آدھے سیکنڈ کی بھی دیر ہوجاتی تو سنائپر رائفل کی طاقت ور گولی میری آدھی کھوپڑی اڑا کر لے جاتی ۔
”ذیشان بھائی،آپ ٹھیک تو ہیں ۔“اکرم گھبراتے ہوئے اٹھ کر میری طرف متوجہ ہوا ۔اسے لگا تھا کہ شاید گولی مجھے لگ گئی ہے ۔
”لیٹ جاﺅ بے وقوف ۔“میں اسی طرح اوندھے منھ لیٹے لیٹے چلایا ۔مگر میرا چیخنا بے کار گیا تھا،وہ گولی سے تیز حرکت نہیں کر پایا تھا ۔ایک تیز کراہ کے ساتھ وہ نیچے گرا اور ہاتھ ہاتھ جھٹکنے لگا ۔سر میں لگنے والی گولی جلد ہی اسے خواہشات کی دنیا سے بہت دور لے گئی تھی ۔میرے باربار محتاط رہنے کی نصیحت بے اثر گئی تھی ۔
میں نے وہیں لیٹے لیٹے گردن کو موڑ کر اس کا جائزہ لیا لیکن وہ ہر قسم کی مدد سے بے نیاز ہو چکا تھا ۔اس کے ساتھ ہی میں خود بھی پھنس گیا تھا ۔ایک سنائپر اپنے کام کے معاملے میں بہت ثابت قدم ہوتا ہے وہ اتنی جلدی اپنے ہدف کا پیچھا نہیں چھوڑتا ۔اگر وہ اپنے شکار کو مردہ بھی سمجھ لے تب بھی وہ منتظر رہتا ہے کہ شاید لاش کے اٹھانے کے لیے کوئی وہاں آجائے اور اسے ایک نیا ہدف مل جائے ۔
اگر میں لیٹے لیٹے بھی پیچھے کی طرف سرکتا پھر بھی پتھر سے ذرا دور ہٹتے ہی میرا جسم نظر آنا شروع ہو جاتا اور پھر ایک ماہر نشانہ باز کے لیے مجھے نشانہ بنانا کوئی مشکل کام نہیں تھا ۔ایک دفعہ میں نے بھی قبیل خان کے کمانڈر روشن خان کو اسی طرف پتھر کے عقب میں گھیرا تھا ۔اور آج میں خود میں گھیرے میں آیا ہوا تھا ۔
دوپہر بارہ ایک بجے کا وقت تھا اور مجھے پکا یقین تھا کہ روشنی ختم ہونے تک تو نک سٹیورٹ نے وہاں سے شست نہیں ہٹانا تھی ۔کیوں اگر اس کی جگہ میں ہوتا تو ایسا ہی کرتا ۔مگر یوں اپنے دشمن سے دبک کر مسلسل وہاں پڑے رہنا میرے لیے نہایت ذلت آمیز تھا ۔ایک سنائپر ہونے کے ناطے مجھے مخالف سنائپر کے حربوں کا توڑ آنا چاہیے تھا ۔اس کے سامنے چار پانچ گھنٹے مسلسل دبکے رہنے سے بہتر تھا میں گولی کھا لیتا ۔
اپنے غصے کو پس پشت ڈال کر میں نے ٹھنڈے دماغ سے اس حالت سے نکلنے کی ترکیب سوچی اور اس پر عمل کرنے کے لیے میں نے ہاتھ بڑھا کر اکرم کی کلاشن کوف سے میگزین اتاری اور اس کے سر پر بندھی چادر کھول کر میگزین پر لپیٹنے لگا ۔چادر کو میں نے اس طرح لپیٹا تھا جیسے انسان کی کھوپری ہوتی ہے۔چادر لپٹی میگزین کو میں نے بالکل دھیرے سے یوں بلند کیا جیسے کوئی آدمی سر اٹھا کر آگے کا جائزہ لینا چاہتاہو ۔میگزین کے چادر لپٹے ہوئے گول حصے کے آڑ سے باہر آنے کی دیر تھی کہ ایک دم میرے ہاتھ کو جھٹکا لگا اور میگزین اڑ کر دور جا گری تھی ۔اس کے ساتھ ہی میں نے عقب کی طرف موجود ڈھلان کی طرف زقند بھری اور دوسری چھلانگ کے ساتھ میں ڈھلان کی پناہ حاصل کر چکا تھا ۔ ایک سنائپر ہونے کی وجہ سے میں جانتا تھا کہ نک کو فائر کرنے کے بعد رائفل دوبارہ کاک کرنا ہوگی۔ اس کے بعد دوبارہ شست قائم کرتے ہوئے دو اڑھائی سیکنڈ لگ جانا تھے ۔اور اتنی مہلت میرے لیے کافی تھی۔
(یہاں قارئین کے دماغ میں یہ سوال آ سکتا ہے کہ کچھ سنائپر رائفلز آٹومیٹک بھی ہوتی ہیں۔اور ممکن تھا کہ اس وقت نک سٹیورٹ کے پاس کوئی ایسی ہی رائفل ہوتی ۔ایسی صورت میں میرا مارا جانا یقینی تھا ۔تو مجھے کم از کم اتنا بڑاخطرہ مول نہیں لینا چاہیے تھا ۔جن قارئین کے دماغ میں یہ سوال اٹھا یقینا وہ چھوٹی سے چھوٹی جزئیات کو نظر انداز نہ کرنے والے قاری ہوں گے ۔بہ ہر حال ان کے سوال کا میں پوچھے بغیر ہی جواب دے دیتا ہوں ۔سنائپنگ میں استعما ل ہونے والی تمام اٹومیٹک رائفلوں کا زیادہ سے زیادہ رینج ہزار میٹر یعنی ایک کلو میٹر تک ہوتا ہے ۔اس سے زیادہ علاقے تک مار کرنے والی یعنی ہیوی سنائپر رائفلز آٹومیٹک نہیں ہوتیں ۔کیونکہ اتنی بڑی رائفل کو اگر آٹومیٹک بنا یا جایا تو یقینا وہ فائر کرنے والے آدمی کے کندھے کو توڑ دے گی ۔اور اس وقت نک سٹیورٹ ڈیڑھ کلو میٹر کے فاصلے سے پر موجود تھا ۔یقینا وہ ہیوی سنائپر رائفل ہی استعمال کر رہا تھا )
ڈھلان کی آڑ میں لیٹ کر میں اندھیرا چھانے کا انتظار کرنے لگا ۔کیوں کہ اپنے ساتھی کی لاش اور اپنے ہتھیاروں کو پھینک کر بھاگ جانا مجھے کسی صورت زیب نہیں دیتا تھا ۔اکرم کی کلاشن کوف اور میری رینج ماسٹر پتھر کے پیچھے ہی پڑ ی رہ گئی تھیں ۔ان تک رسائی اندھیرا ہونے کے بعد ہی ممکن تھی ۔
یونھی لیٹے لیٹے میرا دل دکھ اور ناامیدی سے بھر گیا تھا ۔نک سٹیورٹ مجھے سے کئی گنا بہتر ثابت ہوا تھا ۔وہ اس وقت جنوب مغرب کی جانب اور میں اس سے شمال مشرق کی جانب موجود تھا ۔سورج اس کے دائیں ہاتھ اور میرے بائیں جانب چمک رہا تھا ۔اس طرح کہ ہماری ٹیلی سکوپ سائیٹوں کے سامنے والا عدسے( آبجیکٹ لینز )پر سورج کی روشنی یکساں پڑ رہی تھی ۔جس طرح مجھے اس کی ٹیلی سکوپ سائیٹ کے عدسے کی چمک نظر آگئی تھی ،اسی طرح اس نے بھی میرے عدسے ہی کی چمک سے مجھے نشانہ بنانے کی کوشش کی تھی ۔اور اسے میری خوش نصیبی ہی کہا جا سکتا ہے کہ اس کے ٹریگر دباتے وقت میں اسی کی جانب متوجہ تھا ۔اور فائر سے ہونے والے شعلے کو دیکھ کر حفاظتی اقدام کر گزرا ۔
اس مایوسی کے عالم میں مجھے اپنے پیاروں کی یاد بہت شدت سے آنے لگی ۔پگلی پلوشہ جس کے نزدیک دنیا میں مجھ سے بہتر نشانے باز پیدا ہی نہیں ہو سکتاتھا۔اگر اسے میں کہہ دیتا کہ ایک نشانے باز کے ہاتھوں میں مرتے مرتے بچا ہوں ۔تو یقینا وہ میری جان کو آجاتی ۔مجھے جھوٹا ،فراڈی اور جانے کیا کیا کہتی ۔ میرا یار سردار خان جس کے ہونے سے میری ہمت کئی گنا بڑھ جایا کرتی تھی ۔میری پیٹھ پر تھپکی دے کر لازماََ یہی کہتا ۔
”راجے صاحب،اس فرنگی بے چارے کو کیا پتا کہ اس نے کس کے ساتھ پنگا لیا ہے ۔ چل اب بوتھے پر ہنسی لا اور اٹھ جا ۔“
محترم استاد راﺅ تصور صاحب جن کی گالیاں بھی دعائیں محسوس ہواکرتیں ۔فائر کراتے ہوئے وہ غلط فائر کرنے والے کو اپنے مخصوص انداز میں یوں ڈانٹا کرتے ۔”اوئے بے غیرتا ،اوے بے شرما ، بہت مہنگی گولی ہے جو تم نے ہوا میں اڑا دی ۔اگر تم میں تھوڑی عقل بھی ہوتی تو ٹریگر کو یوں نہ دباتے جیسے کسی کا گلا دبایا جاتا ہے ۔“یقینا اس موقع پر انھوں نے مجھے یہی کہنا تھا کہ” لڑکے جب تمھیں معلوم ہے کہ مخالف ایک اچھا سنائپر ہے اور ٹیلی سکوپ سائیٹ کے شیشے کی چمک دور سے نظر آجایا کرتی ہے تو تم نے پاپ اپ کور (ٹیلی سکوپ سائیٹ کے شیشے پر چڑھانے والا پلاسٹک کا کور)کو ذرا سا جھکا کر کیوں نہ رکھا تاکہ اس کے سائے سے شیشے کی چمک چھپ جاتی ۔خبردار دوباری ایسی غلطی کی تو۔جاﺅ دوبارہ کوشش کرو اور گولی ضائع نہ کرنا ۔“
یا پھر استاد عمر دراز جنھوں نے یہی کہنا تھا ۔”بیٹا اپنے سے کم تر سے مقابلہ کرنا کون سا مشکل ہے ،مزہ تو تب ہے کہ خود سے بہتر کا سامنا کرو۔اور کبھی بھی خود کو کمتر خیال نہ کرنا ۔ہو سکتا ہے تمھاری حکمت عملی میں کوئی غلطی ہو ۔“
اپنے تمام بہی خواہ اور ہمدرد آج مجھ سے کوسوں میل دور تھے ۔بس ان کی یادیں اور محبتیں ہی میرا سہارا تھیں ۔کمانڈر عبدالحق بھی ایک اچھا دوست تھا ،مگر سردار جیسے جگری کا متبادل تو وہ نہیں ہو سکتا تھا ۔ میں کافی دیر یونھی لیٹا رہا۔اچانک میرے کانوں میں وائرلیس پر ہونے والی بات چیت کی آواز آئی ۔جس کے پاس بھی وائرلیس سیٹ موجود تھا اس نے آواز کو مکمل کھولا ہوا تھا ،تبھی تو کافی دور سے وہ آواز میرے کانوں پر میں پڑ گئی تھی ۔
ایک دم چوکنا ہوتے ہوئے میں قریبی جھاڑی میں گھس گیا ۔ ساتھ ہی میں نے کمر سے بندھے ہو لسٹر سے بریٹا نکال لیا ۔یہ قیمتی پستول بھی مجھے ضلع خان ہی سے ملا تھا ۔وہ آدمی ڈھلان کے اوپر چلتے ہوئے آرہے تھے ۔لمحہ بھر بعد ہی مجھے دو آدمی دکھائی دے گئے تھے ۔ان کی حتمی تعدادا کا مجھے اندازہ نہیں تھا ۔وائرلیس سے اٹھتی ہوئی آواز میرے کانوں میں پہنچ رہی تھی مگر بات چیت میری سمجھ میں نہیں آرہی تھی ۔
وہ میری نظروں کے سامنے سے گزر کر آگے بڑھے ،ان کے عقب میں ایک اورمسلح آدمی بھی موجود تھا ۔تینوں بریٹا پستول کی رینج میں تھے ۔مگر جب تک ان کی تعدادکا اندازہ نہ ہو جاتا میں کوئی کارروائی نہیں کر سکتا تھا ۔میں بے حس و حرکت جھاڑی میں دبکا رہا ۔
”یہاں پرایک لاش اور دو ہتھیار پڑے ہیں ۔اوور....“اس دفعہ میرے کانوں میں بولنے والے کی واضح آواز آئی تھی ۔
”نک تو دو لاشوں کا بتا رہا تھا ۔اور تم جانتے ہو اس بارے اس کا اندازہ کبھی غلط نہیں ہوا۔ اوور....“وائرلیس سیٹ سے ابھرنے والی آواز تک بھی میری سماعتوں کی رسائی ہو گئی تھی ۔
”شاید دوسری لاش ان کا کوئی ساتھی اٹھا کر لے گیا ہو۔اوور....“اس نے اندازہ ظاہر کیا ۔
”نہیں یہ جگہ نک کی نگرانی میں تھی ،ایک شخص یہاں سے فرار ضرور ہوا ہے مگر وہ اپنے کسی ساتھی کو اٹھا کر ساتھ نہیں لے گیا ۔اوور....“
”یہاں پر ایک میگزین کے ساتھ گول چادر لپٹی ہوئی ہے اور اس میں گولی پیوست ہے ۔ یہاں سے بھاگنے والے نے یقینا نک کو بے وقوف بنایا ہے ۔اوور....“اس نے کافی باریک بینی سے جائزہ لیا تھا ۔
”خیال کرو ،کہیں آس پاس ہی نہ چھپا ہو ۔اوور....“فوراََ ہی اسے احتیاط کا مشورہ دیا گیا ۔
”اگراسے مرنے کا شوق ہو ا تبھی مرجان سے پنگا لے گا ۔اوور....“اس کا متکبرانہ انداز ظاہر کر رہا تھا کہ وہ خود کو کوئی توپ چیز سمجھتا تھا ۔اس کا ڈیل ڈول اور جسامت بھی اس کے کہے ہوئے الفاظ کے مطابق ہی تھی ۔موٹا تازہ لمبا تڑنگا دیو نما انسان تھا ۔
”لاش کو وہیں چھوڑ دو اور ہتھیار لے کے آ جاﺅ۔اووراینڈ آل۔“انھیں آخری پیغام موصول ہوا ۔
”چلو ہتھیار اٹھاﺅ ۔“اس نے اپنے ساتھیوں کو ہتھیار اٹھانے کا اشارہ کیا ۔اس کی نظریں گھومتے ہوئے چاروں اطراف کا جائزہ لے رہی تھیں ۔ایک دفعہ اس کی اچٹتی ہوئی نظر اس جھاڑی پر بھی پڑی تھی جس میں میں چھپا ہوا تھا ۔
اس کے دونوں ساتھی کلاشن کوفوں کو کندھے سے لٹکا کر وہاں بکھرا سامان سمیٹنے لگے ۔دوربین ، کمپاس ،لیزر رینج فائینڈر ،ونڈ میٹر ،فالتو ایمونیشن وغیرہ ۔میرے لیے وہ سنہری موقع تھا کہ ہتھیار صرف ایک آدمی کے ہاتھوں میں تھا ۔اسے سر میں گولی مار کر میں بڑی آسانی سے باقی دونوں کو ہاتھ اوپر کروا سکتا تھا ۔لیکن کمانڈر ہونے کے ناتے اس سے مجھے زیادہ معلومات حاصل ہو سکتی تھیں ۔اس لیے اس کے سر کا نشانہ سادھنے کے بجائے میں نے اس کے دائیں ہاتھ کو نشانہ بنایا ۔جس میں اس نے کلاشن کوف پکڑی ہوئی تھی ۔بریٹا کی نال پر سائیلنسر چڑھا ہوا تھا اس لیے گولی چلنے کی آواز کے بجائے، وہ مرجان کی چیخ سن کر ہڑبڑائے تھے ۔ کلاشن پر مرجان کی گرفت ختم ہوئی اور کلاشن کوف نیچے گر گئی ۔اس نے دوسرے ہاتھ سے اپنے مضروب ہاتھ کو تھام لیا تھا ۔
اس کے ساتھیوں نے ہاتھوں میں پکڑا سامان پھینکتے ہوئے کندھوں سے لٹکی ہوئی کلاشن کوفیں اتارنے کی کوشش کی ۔لیکن ان کی کوشش اتنی ہی ناکام ہوئی تھی جتنی ہوائی جہاز سے بغیر پیرا شوٹ کے چھلانگ لگانے والے کی اڑنے کی کوشش ناکام ہوتی ہے ۔ان کے سر میں لگنے والی بریٹا کی ایک ایک گولی کافی رہی تھی ۔ان کے تڑپنے کے نظارے سے بے نیاز ہو کر میں مرجان کی طرف متوجہ رہا ۔وہ اپنے بائیں ہاتھ سے نیچے گری کلاشن کوف اٹھانے کی کوشش کر رہا تھا ۔
میں جھاڑی سے باہر آتا ہوابولا ۔”اگر بائیں ہاتھ کو ضائع کرانے کا شوق ہے تو بے شک کلاشن کوف اٹھا سکتے ہو۔“
مجھے کینہ توز نظروں سے دیکھتے ہوئے اس نے ہاتھ میں پکڑی کلاشن کوف نیچے گرا دی ۔ ”ہمارے ساتھی آتے ہی ہوں گے ،تم بچ نہیں پاﺅ گے ۔“وہ مجھے دھمکی دینے سے باز نہیں آیا تھا ۔
”تم اپنے بائیں ہاتھ سے ایک ایک کر کے تمام ہتھیار اور بکھرا ہوا سامان نشیب کی طرف لے آﺅ ۔“ایک پتھریلی چٹان کی آڑ میں بیٹھ کر میں نے اس پر پستول تان لیا ۔گو ان کے وہاں پہنچنے کا مطلب یہی تھا کہ نک سٹیورٹ نے وہاں اپنی نگرانی ختم کر دی تھی ۔لیکن اس کے باوجود میں خطرہ مول نہیں لینا چاہتا تھا ۔
”بہتر ہو گا کہ مجھے جانے دو ۔“وہ میرے حکم پر عمل کر نے پر آمادہ نظر نہیں آرہا تھا ۔
میں اطمینان بھرے لہجے میں بولا ۔”مرجان خان ،بہتر تو یہی ہو گا کہ تم دونوں ٹانگوں اور بائیں ہاتھ کو سلامت رکھتے ہوئے یہ کام سر انجام دو ۔اگر ایک ٹانگ زخمی کرا کے تم زیادہ بہتر کام کر سکتے ہو تو یقینا مجھے اعتراض نہیں ہوگا ۔“
اس مرتبہ اس کی سمجھ میں میری بات آگئی تھی ۔تھوڑی دیر بعد چار کلاشن کوفیں ،رینج ماسٹر اور سنائپنگ کا دوسرا سامان وہ میرے قریب لا کر ڈھیر کر چکا تھا ۔
آڑ میں کر کے میں نے اس کی جامہ تلاشی لی اور پھر اسی کی چادر سے پٹی پھاڑ کر اس کے ہاتھ پر باندھ دی ۔
تھوڑی دیر بعد اکرم کی لاش کو اس کے کندھوں پر لاد کر میں اسے اپنے آگے چلا کر مخصوص ٹھکانے کی طرف روانہ ہو گیا ۔ اپنی پیٹھ پر میں نے رینج ماسٹر کا تھیلا اٹھایا ہوا تھا جبکہ کلاشن میں نے ہاتھوں میں تیاری حالت میں پکڑی ہوئی تھی ۔باقی کلاشن کوفیں میں نے وہیں ایک جھاڑی میں چھپا دی تھیں ۔
سہ پہر ڈھلنے والی تھی اور سورج ڈوبنے سے پہلے میں کسی محفوظ جگہ تک پہنچ جانا چاہتا تھا ۔
مرجان خان زخمی ہاتھ کے باوجود بڑی آسانی سے اکرم کی لاش اٹھا کر چل رہا تھا ۔یقینا وہ کسی مناسب موقع کی تلاش میں تھا جب وہ مجھ پر قابو پاے کی کوشش کرسکتا ۔لیکن اس بے وقوف کو یہ پتا نہیں تھا کہ اس وقت وہ پاک آرمی کے ایک تربیت یافتہ سنائپر کے قبضے میں تھا۔میں اس بارے ذرا سا بھی خطرہ مول نہیں لے سکتا تھا ۔میں ایک مخصوص فاصلہ رکھ کر اس کے پیچھے چل رہا تھا ،یوں کہ نہ تو بھاگ کر مجھے سے دور جا سکتا تھا اور نہ اکرم کی لاش کو مجھ پر پھینک کر کوئی فائد ہ حاصل کر سکتا تھا ۔کلاشن کوف کی ایک سلنگ اکرم کی کمر سے باندھ کر دوسری سلنگ کا پھندا بنا کر میں نے اس کے گلے میں ڈال دیا تھا ۔اور دونوں سلنگوں کو آپس میں جوڑ دیا تھا ۔اس طرح اکرم کی لاش کو پھینک کر وہ بھاگنے کی قطعناََ نہیں سوچ سکتا تھا ۔
میرے ہاتھ میں پکڑئے ہوئے وائرلیس سیٹ پر اسے پکارا جانے لگا ۔
”مرجان خان ،تم کہاں پہنچے ہو ؟اوور....“
”اسے بتا دو تم رستے میں ہو۔“مرجان کے قریب پہنچ کر میں نے اسے رکنے کا اشارہ کرتے ہوئے وائرلیس اس کے منھ کے قریب پکڑ لیا ۔
”ہمیں قریباََ آدھا گھنٹا مزید لگے گا ۔اوور....“اس نے بڑی شرافت سے میرے حکم کی تعمیل کی تھی ۔
”ٹھیک ہے احتیاط سے آنا ۔اوور اینڈ آل۔“اس کا ساتھی مطمئن ہو کر خاموش ہو گیا تھا ۔
واپسی کے سفر میں ہمیں چڑھائیوں سے زیادہ اترائیوں کا سامنا رہا اس لیے مطلوبہ فاصلہ ہم نے بہت جلد طے کر لیا تھا ۔شام کا اندھیر گہرا ہونے سے پہلے میں مرجان خان کے ساتھ اس پہاڑی کی بنیاد میں موجود جس کے قریباََ درمیان میں مجاہدوں کا ٹھکانہ تھا ۔ملگجااندھیرا ہر طرف پھیل گیا تھا ۔میں نے مرجان کو غلط حرکت سے روکنے کے لیے اس کے مزید نزدیک ہو گیا تھا ۔
”رکو ۔“اسے رکنے کا کہہ کر میں نے سامنے جا کر دیکھا ۔وہ پھندے کی گرہ کھولنے کی کوشش کر رہا تھا ۔کلاشن کوف کی نال اس کی ٹھوڑی سے لگا کر میں نے دوسرے ہاتھ سے گرہ کو ٹھیک کر کے باندھ دیا۔اتنی سردی کے باوجود اس کے چہرے اور گردن پر پسینہ بہہ رہا تھا ۔رستے میں میں نے اسے دو تین منٹ سے زیادہ سستانے کاموقع نہیں دیا تھا ۔
”چلو ۔“اسے آگے بڑھنے کا اشارہ کرکے میں نے ٹارچ نکالی اور مخصوص انداز میں جلانے بجھانے لگا ۔فوراََ ہی روشنی کا اشارہ موصول ہو گیا تھا ۔اور پھر توقع کے مطابق دس منٹ بعد تین چار مجاہد نیچے اترتے ہوئے ہمارے قریب پہنچ گئے تھے ۔
اپنی شناخت بتا کر میں نے انھیں مزید قریب بلالیا ۔ایک نے میری پیٹھ سے رینج ماسٹر کا تھیلا اتار کر خود پہن لیا ۔اسی نے تشویش بھرے انداز میں اکرم کی بابت پوچھا ۔
میں دکھی دل سے بولا ۔”اکرم ہم میں نہیں رہا ۔“
”یہ کون ہے ؟“اس نے آہستہ روی سے آگے بڑھتے مرجان کی طرف اشار ہ کیا ۔
”یہ دشمن ہے اور اس کے کندھوں پر اکرم کی لاش ہے ۔“
مزید کوئی بات کیے وہ خاموشی سے آگے بڑھ گیا ۔ٹھکانے پر پہنچتے ہی وائرلیس سیٹ سے مرجان پارٹی کو پکارنے کی آوازیں آنا شروع ہو گئی تھیں ۔میں نے سیٹ کو آف کر دیا ۔اکرم کی لاش کو اس کے کندھوں سے اتار ضلع خان کے آدمیوں نے مرجان کو ہاتھ پاﺅں باندھ کر ایک غار میں بند کر دیا تھا ۔
کھانا کھا کر میں انھیں کارگزاری سنا رہا تھا ۔
”اکرم کو جلد بازی نہیں کرنا چاہیے تھی ۔“میری بات کے اختتام پر کمانڈ عبدالحق نے زبان کھولی ۔
”جب وقت پورا ہو جائے تو پھر کوئی احتیاط کام نہیں آتی ۔“ضلع خان نے اپنے خیال کا اظہار کیا ۔
عبدالحق نے پوچھا ۔”تو ا ب کیا ارادہ ہے ؟“
گہرا سانس لے کر میں خاموش ہو گیا تھا ۔عبدالحق نے ایک دو منٹ میرے جواب کا انتظار کیا۔ مستقل خاموش پا کر وہ مجھے تسلی دینے لگا ۔
”اس میں آپ کی غلطی نہیں ہے ذیشان بھائی ،بلکہ آپ نے تو ایک کے بدلے دو کو موت کے گھاٹ اتارا اور ایک کو قیدی بنا کر بھی لے آئے ہیں ۔“
”میں آرام کرنا چاہتا ہوں ۔“اس مرتبہ بھی عبدالحق کی بات کا جوا ب دیے بغیر میں قہوے کی خالی پیالی دستر خوان پر رکھ کر اٹھ گیا ۔
بستر میں گھستے ہی مجھے مایوسی اور اداسی نے گھیرے میں لے لیا تھا ۔سیر کو سوا سیر ٹکرا جائے تو یہی ہوا کرتا ہے ۔میں اپنی خامیوں کا جائزہ لینے لگا ۔اس وقت مجھے کسی اپنے کی ضرورت بہت شدت سے محسوس ہو رہی تھی ۔اگر پلوشہ میرے ساتھ ہوتی تو اب تک میں اپنی شکست کا غم بھول کر نئے عزم کی جوت جگا چکا ہوتا ۔مگر جانے وہ کہاں گم ہوگئی تھی ۔میری ہمراز ،میری محافظ ،میری ساتھی ،میری بیوی ، میرے کندھے سے کندھا ملا کر ہر مشکل میں کود پڑنے والی ،میری روکھی پھیکی زندگی میں خوشیاں اور سکون بھرنے والی جانے کہاں غائب تھی ۔ا ب تو یوں لگنے لگا تھا جیسے اس کے ساتھ بیتا وقت ایک سہانا سپنا ہی تو تھا ۔اس کی مَدُھرآواز سننے کو میرے کان ترس گئے تھے ،اس کی موہنی صورت کے دیدار کے لیے آنکھوں کی پیاس بڑھ گئی تھی ۔ہاتھوں کو اس کے لمس کی چاہ تھی تو ناک اس کی خوشبوسونگھنے کو بے تاب۔اپنی شکست کو بھلا کر میں اسی کو سوچتاگیا اور اسی سوچوں نے مجھے نیند کی وادیوں میں دھکیل دیا جہاں اب تک وہ مجھ سے بچھڑی نہیں تھی ۔اس کے جاندار قہقہے میری سماعتوں کو رونق بخش رہے تھے ،اس کی شرارتیں میرے ہونٹوں کو ہنسنے پر مجبور کر رہی تھیں ۔اور ا س کی موہنی صورت میری آنکھوں کی پیاس بجھا رہی تھی ۔مجھ سے اٹھکیلیاں کرتے کرتے وہ ایک دم سنجیدہ ہو گئی ۔اور میری گود میں سر رکھے ہوئے اس نے اپنی روشن آنکھیں میرے چہرے پر گاڑتے ہوئے پوچھا ۔
”راجو ،کیا کبھی آپ نے خود سے بہتر نشانے باز دیکھا ہے ؟“
”نک سٹیورٹ مجھ سے بہتر ہے نا گڑیا ۔“اس کے چہرے پر جھکتے ہوئے میں نے صاف گوئی سے اقرار کیا ۔
”آپ کیسے پتا چلا ،کیا کبھی آمناسامنا ہوا ہے ۔“
”ہاں ....“میں اسے گزشتا روز ہونے والے جھڑپ کی تفصیل سنانے لگا ۔
وہ بحث کرتے ہوئے بولی ۔”تو اس کے پہلے گولی چلانے کی وجہ سے وہ بہتر ہو گیا ۔ہو سکتا ہے اس نے آپ کو پہلے دیکھ لیا ہو اور آپ کی نظر اس پر بعد میں پڑی ہو۔“
”اس نے میری ٹیلی سکوپ سائیٹ کے شیشے میں گولی مار کر مجھے مار ہی دیا تھا ۔وہ تو قسمت اچھی تھی جو میں نے بر وقت سر ہٹا لیا تھا ۔“
وہ وثوق سے بولی ۔”قسمت کے بارے تو میں کچھ نہیں کہنا چاہتی ،لیکن یہ آپ کی مہارت ہی تھی جس کی وجہ سے آپ اس کی گولی کا شکار ہونے سے بچ گئے ۔اور اگر اسے ایک لمحے کی دیر ہو گئی ہوتی تو یقینا وہ اپنا سر پیچھے نہ ہٹا پاتا ۔“
میں نے منھ بنایا۔”تم بس مجھے جھوٹی تسلیاں دے رہی ہو ۔“
”راجو ،میری آنکھوں میں دیکھو ۔“اس کی ہلکی نیلی آنکھیں جھیل سیف الملوک سے بھی گہری تھیں ۔میں ان کی اتھاہ گہرائیوں میں ڈوبتا چلا گیا ۔اس کی آواز سرگوشی میں ڈھل گئی تھی ۔”راجو ،میں جھوٹ نہیں کہتی ....اور کبھی مجھے مایوس نہ کرنا ۔مجھے آپ پر بہت مان، بہت بھروسا اور بہت یقین ہے ۔ کبھی کسی ہار نہ ماننا ۔ورنہ آپ کی پلوشے نہیں رہے گی ،غم سے مر جائے گی ۔“
اس کا مایوس لہجہ مجھ سے برداشت نہیں ہوا تھا ۔میں فوراََ بولا ۔”پگلی، ایسی باتیں نہیں کرتے ۔ نک سٹیورٹ تو میرے بائیں ہاتھ کی مار ہے ،میں تو بس مذاق کر رہا تھا ۔“
”جانتی ہوں ۔“اس کے چہرے پر سکون پھیل گیا تھا ۔”اب بس جلدی سے اس کا ٹنٹنا ختم کرو اور میرے پاس پہنچو ۔میرا ایک ایک پل سال بن کر گزر رہا ہے ۔“اسی وقت میری آنکھ کھل گئی ۔اور پھر میں کوشش کے باوجود سو نہیں سکا تھا ۔صبح کی نماز پڑھ کر میں نے ناشتا کیا اور طلوع آفتاب کے ساتھ نئی لیوپولڈ سائیٹ نکال کر اسے صفر کرنے کے لیے غار سے باہر نکل آیا ۔رینج ماسٹر کا پورا تھیلا ہی میں اٹھا کر لے آیا تھا کہ صفرنگ میں فاصلہ ناپنے والے آلے اور ونڈ میٹر وغیرہ کی بھی ضرورت تھی ۔کمانڈر عبدالحق نے مجھے رائفل کے ساتھ غار سے باہر جاتے دیکھ لیا تھا ۔وہ بھی میرے پیچھے چلا آیا تھا۔اس کی آمد سے پہلے میں چند فائر کر چکا تھا ۔
”ذیشان بھائی ،لگتا ہے تیاری شروع کر دی ہے ۔“
”ہاں ۔“میں نے اثبات میں سر ہلایا۔”کل صبح سویرے دوبارہ جا رہا ہوں۔میرے لیے کسی سمجھ دار ساتھی کاانتخا ب کر لو۔“
وہ مسکرایا ۔”یہاں پر مجھ سے سمجھ دار کوئی بھی نہیں ہے ۔“
”تو پھر خود ہی تیار ہو جانا۔“میں نے ایلی ویشن اور ڈیفلیکشن ناب میں مناسب تبدیلی کرتے ہوئے کہا۔
اس نے منھ بنایا ۔”میں تو پچھلی بار بھی تیار تھا ۔“
میں نے قہقہہ لگایا۔”آپ کی زندگی کے کچھ دن بقایا تھے نا تبھی آپ ساتھ نہ جاسکے ۔“
اس کا قہقہہ مجھ سے بھی بلند تھا۔
”اچھا قیدی سے کس وقت پوچھ گچھ کرو گے ؟“
”آخری گولی فائر کر لوں پھر چلتے ہیں ۔“میں رائفل کے پیچھے لیٹ کر صفرنگ کو پرکھنے کے لیے تیار تھا ۔کوئی مناسب پتھر ڈھونڈنے کے لیے میں نے سائیٹ میں دیکھتے ہوئے بیرل کو گھمایا ۔ میں نزدیکی پہاڑی پر کوئی ہدف تلاش کر رہا تھا ۔اچانک مجھے دور ایک پہاڑی پر حرکت نظر آئی ۔یہ وہی پہاڑی تھی جس پر کل اکرم شہید ہوا تھا ۔مذکورہ پہاڑی کا زمینی فاصلہ تو زیادہ تھا مگر ہوائی فاصلہ دو کلومیٹر ہی کے بہ قدر ہوگا ۔وہ پہاڑی ہمارے ٹھکانے سے زیادہ بلندی پر واقع تھی ۔میں نے فوراََ لیزر رینج فائیڈر سے فاصلہ ناپا اکیس سو میٹر بن رہا تھا ۔بلندی کا زاویہ ناپ کر میں نے حسا ب لگایا۔ساڑھے انیس سو میٹر کی رینج نکلی ۔ میں نے فوراََ مطلوبہ رینج لگائی اور آئی گلاس سے مخصوص فاصلہ رکھ کر اپنا گال بٹ پر ٹیک دیا ۔
میری تیزی دیکھتے ہوئے کمانڈر عبدالحق کو بھی شک گزرا تھا۔”خیر تو ہے بڑی تیزی کا مظاہرہ کر رہے ہو ۔“خوش گوار حیرت کے اظہار کے ساتھ اس نے تھیلے سے دوربین اٹھا کر آنکھوں سے لگا لی ۔
”کل ہم جس پہاڑی پر گئے تھے وہاں حرکت نظر آرہی ہے ۔“یہ کہتے ہوئے میں نے سائیٹ میں جھانکتے ہوئے کہا ۔”چھے ....نہیں سات آدمی ہیں ۔“
”آٹھ ،نو ،دس ....تین ڈھلان پر ہیں ۔“کمانڈر نے پر جوش لہجے میں تصحیح کی ۔”مگر فاصلہ کچھ زیادہ نہیں ہے ۔“
اس کی بات کا جواب دینے کے بجائے میں نے ایک ساکن آدمی پر شست باندھی جو شاید وائرلیس پر بات کر رہا تھا ۔لبلبی دباتے ہی ۔ہلکی سی ”ٹھک۔“ہوئی اور مذکورہ شخص اچھل کر نیچے گرگیاتھا ۔ اسے تڑپتے دیکھ کر دائیں بائیں موجود افراد اسے سنبھالنے کے لیے اس کی طرف بڑھے مزید دو کے گرتے ہی باقیوں کی سمجھ میں یہ بات آگئی تھی کہ تڑپنے والوں کو سنبھالنے سے زیادہ اپنے جسم کو آڑ میں رکھنا اہم ہوگا۔تین آدمی مخالف جانب کی ڈھلان میں اتر کر میری نظروں سے اوجھل ہو گئے تھے ،جبکہ ایک میری طرف موجود ڈھلان میں اترنے کی حماقت کر بیٹھا ۔اس کے تین ساتھی اور بھی اس طرف موجود تھے اور اپنے ساتھیوں کی چیخ و پکار سن کر وہ بھی اوپر کی طرف دیکھنے لگے تھے ۔ڈھلان پر موجود آدمیوں کا اپنے مرنے والے ساتھیوں سے اتنا زیادہ فاصلہ نہیں تھا کہ مجھے رینج میں کوئی تبدیلی کرنا پڑتی ۔ میں نے جلدی سے میگزین تبدیل کی کہ پہلے والی میگزین میں صرف تین ہی گولیاں موجود تھیں ۔نئی میزین لگاتے ہی میں نے رائفل کاک کی اور اگلی گولی پناہ کے لیے غلط سمت کا چناﺅ کرنے والے کو لے ڈوبی ۔ڈھلان پر پہلے سے موجود تینوں آدمی آڑ کی تلاش میں اوپر کی طرف بھاگے کیونکہ انھیں گولیاںچلنے کی سمت معلوم ہو گئی تھی ۔چند گز چڑھائی چڑھنا اتنا مشکل نہیں تھا، لیکن ایسی چڑھائی پر بھاگ کر نہیں چڑھا جا سکتا تھا۔اگلی دو گولیوں نے مزیددو کو جدو جہد سے بے نیاز کر دیا تھا ۔تیسرا ایک جھاڑی میں دبک گیا ۔لیکن اس کی بد قسمتی کہ جھاڑی صرف نظری آڑ دے سکتی ہے گولی کے لیے کوئی حفاظت مہیا نہیں کرتی ۔ اس کے ساتھ ہی مجھے دور سے فائر کی آواز سنائی دینے لگی تھی ۔یقینا وہ اندھا دھند فائر کر کے ایمونیشن کو ضائع کر رہے تھے ۔دو تین لمحے جھاڑی پر شست باندھنے کے بعد مجھے اس کا ہیولا نظر آنے لگا تھا ۔اس کے سر وغیرہ کا تو کوئی خاص اندازہ نہیں ہو رہا تھا اس لیے میں نے اندازے ہی سے گولی فائر کر دی ۔جھاڑی میں ہونے والی ہلچل نے مجھے کامیاب فائر کی نوید سنا دی تھی ۔
”یار سنائپر واقعی بہت خطرناک ہوتے ہیں ۔“میرے ساتھ لیٹا عبدالحق پتا نہیں میری تعریف کر رہا تھا یا مذمت ۔
میں نے اپنی شست بلندی پر پڑی لاشوں کی طرف منتقل کرتے ہوئے کہا ۔”فوراََکمانڈر ضلع خان کو کہو کہ ایک پارٹی تیار کرے میں یہیں لیٹے ہوئے دشمن کو لاشیں اٹھانے سے روکوں گا وہ روشنی ختم ہونے سے پہلے کسی لاش کو ہاتھ نہیں لگا سکتے ۔کمانڈر کے آدمی چھپتے ہوئے مناسب جگہوں پر مورچے سنبھال لیں وہ اندھیرا چھاتے ہی اپنے ساتھیوں کی لاشیں اٹھانے آئیں گے ۔اور اس وقت کسی کو واپس نہیں جانا چاہیے ۔“
”ٹھیک ہے ۔“کہتے ہوئے وہ غار کے اندر کی طرف بھاگ پڑا ۔
جاری ہے
 

قسط نمبر 64
ریاض عاقب کوہلر
میں سنائپرز کی ازلی ہٹ دھرمی اور ضد کا مظاہرہ کرتے ہوئے اسی طرف متوجہ رہا ۔ہمیں تربیت کے دنوں میں کئی کئی گھنٹوں تک ایک ہی جانب شست باندھ کر لیٹنا پڑتا تھا ۔پورے دن میں ہدف نے صرف تیس سیکنڈ کے لیے نمودار ہونا ہوتاتھا ۔فائر کرنے کے لیے ایک ہی گولی ہوتی تھی اور ناکامی کی صورت میں استادراﺅ تصورصاحب کا سامنا کرنے کے خیال ہی سے ہماری روح فنا ہونے لگتی ۔سردار خان تو کہا کرتا تھا کہ اگر کوئی ہدف پر گولی نہ مار سکے تو اس کے لیے بہتر یہی ہے کہ وہ اس گولی کو اپنے سر میں مار کر عزت کی موت قبول کر لے ۔ورنہ راﺅ تصور صاحب کی جلی کٹی باتیں سن کر اس نے بعد میں ویسے ہی خودکشی کر لینا ہے ۔ہم سب تصور صاحب سے اتنا ہی ڈرتے تھے جتنا کوا غلیل ،چوہا بلی اور ہرن شیر سے ڈرتا ہے ۔لیکن تربیت کے بعد ہمیں معلوم ہوا کہ بہ ظاہر نہایت سخت دل اور بے رحم نظر آنے والے راﺅ تصور صاحب دل کے کتنے نرم اور ہمدرد انسان ہیں ۔چھوٹی چھوٹی باتوں پر جذباتی ہو کر آنکھیں نم کرنے والے ہمارے شفیق استاد نے بس تربیت کے دنوں میں جلاد کا روپ اختیار کیے رکھا ۔ اورسچ تو یہ ہے کہ ہمارے جتنے بھی استاد تھے اگر ان کی مار اور پھٹکار نہ ہوتی تو ہم کبھی بھی اتنی سخت مشقوں سے نہ گزر سکتے ۔بعد میں سردار خان اکثر راﺅ صاحب کے بے عزتی بھرے وعظ کو سننے کے لیے کافی الٹی سیدھی حرکتیں کر جایا کرتا تھا ،مگر تربیت کے دنوں والی بات پھر کبھی میسر نہ ہوئی ۔ہمارے ایک دوست کہا کرتے تھے کہ اصل مزہ آتا ہی اس بے عزتی کا ہے جو حقیقتاََ بے عزتی محسوس ہو ۔اور جب بے عزتی پند و نصیحت محسوس ہونے لگے تب اس میں وہ مزہ نہیں رہتا ۔
دس پندرہ منٹ کے اندر ہی ضلع خان اپنے دس آدمیوں کے ہمراہ تیار ہو کر وہاں پہنچ گیا۔ وہ خود اپنے آدمیوں کے ہمراہ جا رہا تھا ۔ہدف سے شست ہٹائے بغیر میں نے انھیں مخالف سنائپر کی گولی سے بچنے کے لیے ضروری ہدایات کیں ۔ کمانڈر عبدالحق نے انھیں مطلوبہ پہاڑی کی نشان دہی کرائی اور اس کے ساتھ ہی انھیں مخصوص جگہیں بتائیں جہاں وہ چھپ کر دشمن کا انتظار کر سکتے تھے ۔
”اگرانھیں ذرا سی حرکت بھی نظر آگئی تو دشمن کبھی بھی وہاں آنے کی غلطی نہیں کرے گا ۔یہ بھی ممکن ہے کہ وہ پوری پہاڑی کو گھیر کر شکاریوں ہی کو شکار کر ڈالے ۔اس لیے بڑی احتیاط کا مظاہرہ کرتے ہوئے جاناہے اور فکر نہ کرو اندھیرا چھانے تک وہ اپنے ساتھیوں کی لاشوں کو ہاتھ نہیں لگا سکتے ۔ اوریاد رکھنا مخالف سنائپر کی طرف سے کسی کو بھی نشانہ بنانے کی کوشش کی جائے تو وہاں ٹھہرنے کی ضرورت نہیں ۔اس کا صاف مطلب یہی ہو گا کہ وہ تمھاری موجودی سے واقف ہو گئے ہیں ۔ایسی صورت میں لوٹنے کی کرنا۔ “ میں نے انھیں آخری ہدایت کی ۔
ضلع خان خوشگوار لہجے میں ۔”ٹھیک ہے کمانڈر ۔“کہتے ہوئے اپنے ساتھیوں کے ساتھ نشیب میں اترنے لگا ۔
کمانڈر عبدالحق نے خواہش ظاہر کی ۔”مجھے بھی جانا چاہیے ۔“
”آپ کی یہاں زیادہ ضرورت ہے ۔فی الحال خالی میگزین میں گولیاں بھر دو ۔اور پھر دشمن کی نقل و حرکت پر نظر رکھنا ہو گی ۔“
وہ میرے ساتھ بیٹھ کر میگزین میں گولیاں بھرنے لگا ۔میں مسلسل ہدف کے علاقے کا جائزہ لے رہا تھا ،لیکن لگتا یہی تھا کہ انھیں سختی سے حرکت نہ کرنے کا حکم دے دیا گیا تھا ۔
ایک دم خیال آنے پر میں نے عبدالحق کو کہا۔”کمانڈر ،اندر سے ان کا وائرلیس سیٹ تو اٹھا لاﺅ۔“
وہ اندر کی طرف بڑھ گیا ۔واپسی پر اس کے ہاتھ میں دشمن سے چھینا ہوا وائرلیس تھا ۔میرے ساتھ بیٹھ کر اس نے وائرلیس آن کیا اور چینل تبدیل کرنے لگا ۔جلد ہی اس نے مطلوبہ چینل ڈھونڈ لیا تھا ۔
ایک بھاری سی آواز میرے کانوں میں پڑی ۔”کوئی حرکت بھی نظر نہیں آرہی کمانڈر۔ اوور....“
”ایک آدمی کو اوپر بھیجو مگر احتیاط سے ۔اور تما م لاشیں کو اپنی جانب کی ڈھلان پر اکٹھا کر لو، یہاں سے بیس آدمیوں کی ایک پارٹی بھیج دی ہے ۔اوور....“دوسری آواز تھوڑی مدہم آرہی تھی ،یقینا فاصلہ زیادہ ہونے کی وجہ سے اس آواز مدہم اور کٹ کٹ کر آرہی تھی ۔
پہلی سنائی دینے والی آواز نے کہا ۔”پرلی ڈھلان پر بھی ہمارے چار ساتھی موجود تھے ،ان کی آواز سنائی نہیں دے رہی ۔ اوور....“
”پہلے اوپر والی لاشیں اکھٹی کر لو ،اگر گولی وغیرہ نہیں چلتی تو وہ بھی اٹھا لانا ۔اوور....“
”ٹھیک ہے کمانڈر۔اوور....“
اور کمانڈرکے ۔”اوور اینڈ آل ۔“کہنے کے بعد خاموشی چھا گئی ۔
چند لمحوں بعد ہی قربانی کا ایک بکرا محتاط اندازمیں عقبی ڈھلان سے نمودار ہوا ۔چونکہ میں انھیں یہ تاثر دینا چاہتا تھا کہ جونھی وہ سامنے آئیں گے مارے جائے گے تبھی اس کے سامنے آتے ہی میں نے ٹریگر دبا کر اس کے ناتواں کندھوں سے ساتھیوں کی لاشیں اکٹھی کرنے کا بار ہٹا دیا ۔اب اس کی لاش کی فکر بھی دوسروں نے کرنا تھی ۔اس کا تڑپنا نہیں رکا تھا کہ وائرلیس جاگ اٹھا۔وہی پہلے والا شخص گھبرائی ہوئی آواز میں پکار رہا تھا ۔
”احتشام فار مبین اوور....“
”سنیڈ یوور میسج اوور....“مبین کی مدہم آواز ابھری ۔
احتشام نے کہا ۔”کمانڈر ،شامل خان کو بھیجا تھا وہ بھی باقی نہیں رہا ۔اوور....“
کمانڈر مبین نے جھلائی ہوئی آواز میں کہا ۔”ٹھیک ہے ا ب حرکت نہیں کرنااور آنے والوں کو بھی اندھیرا چھانے کا انتظار کرنے کو کہنا ہے ۔اوور اینڈ آل۔“اس کے لہجے میں شامل جھلاہٹ ظاہر کر رہی تھی کہ کسی نامعلوم سنائپرپر اسے کتنا غصہ آیا ہوا تھا ۔
اچانک وائر لیس سے ایک نسوانی آواز ابھری وہ انگریزی میں بات کر رہی تھی ۔ ”موبن، جب منع کیا گیا ہے تو پھراپنے آدمی کو کیوں سامنے آنے دیا ہے ۔اوور....“اس نے مبین نام کی مٹی پلید کرتے ہوئے غصیلے لہجے میں کہا تھا ۔
مبین نے نادم لہجے میں کہا ۔”سوری میڈیم ،میں نے سوچا شاید وہ خبیث دفع ہو گیا ہو ۔ اوور....“
”نکی ،نے کل بتا دیا تھا نا کہ کوئی پیشہ ور سنائپر ہے ۔اوور....“ اندازے کے مطابق میں لورا براﺅن کی آواز سننے کی سعادت حاصل کر رہا تھا ۔
مبین نے کہا ۔”اب احتیاط کریں گے میڈم ۔اوور....“
میں اور نکی اس کی تلاش میں جا رہے ہیں ،تم اندھیرا ہونے سے پہلے لاشیں نہ اٹھوانا ۔ شاہ اور کاریم ہمارے ساتھ ہیں ۔اوور اینڈ آل۔“کاریم یقینا وہ کریم کو کہہ رہی تھی۔
میں نے فوراََ اٹھ بیٹھا ۔کمانڈر عبدالحق انگلش نہیں جانتا تھا،پوچھنے لگا ۔
”یہ شاید لورا براﺅن تھی ،کیا کہہ رہی تھی ؟“
”ہاں، میرا بھی یہی خیال ہے ۔“میں نے اثبات میں سر ہلاتے ہوئے کہا ۔”وہ میری تلاش میں نکل رہے ہیں ۔اور میرے اندازے کے مطابق انھیں اس رستے سے آنا چاہیے ۔“میں نے شمال مغرب کی پہاڑیوں کی طرف انگلی سے اشارہ کیا ۔”کیوں کہ جنوب کی جانب سے انھیں ایک تو طویل چکر کاٹنا پڑے گا اور دوسرا اس طرف سے آتے وقت وہ میری نظر میں آسکتے ہیں ۔اور نک جیسا سنائپر کبھی بھی ایسی غلطی نہیں کرے گا۔“
”تو ....؟“اس نے سوالیہ نظریں اٹھائیں ۔
”اگر ہم ان سے تیز رفتاری کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس بلندی پر پہنچ گئے تو شاید کوئی کامیابی ہاتھ لگ جائے ۔“میں نے شمال کی جانب موجود ایک اونچی پہاڑی کی طرف اشارہ کیا تھا ۔
عبدالحق بولا۔”اگر ہم چلے گئے تو وہ لاشیں اٹھانے کی کوشش کر سکتے ہیں اور ابھی تک ضلع خان اپنے آدمیوں کے ساتھ وہاں نہیں پہنچ سکا ہے ۔“
میں نے اسے تسلی دیتے ہوئے کہا ”اب وہ حرکت نہیں کریں گے ۔لورا براﺅن اسی متعلق بات کرتے ہوئے اسے ڈانٹ رہی تھی ۔“
”چلو پھر ۔“اس نے فوراََ رضامندی ظاہر کر دی تھی ۔اپنا سامان سمیٹتے ہوئے ہم چل پڑے ۔ وہاں موجود آدمیوں کو ہم نے اپنے جانے کی سمت کا بتا تے ہوئے ضلع خان تک بھی فوراََ یہ اطلاع پہنچانے کا کہا تھا ۔اس کے ساتھ ہی میں نے انھیں تاکید کی تھی کہ وہ غار سے باہر نہ نکلیں ۔کیوں کہ نک سٹیورٹ کا نشانہ وہی پہاڑی اور اس کے دائیں بائیں موجود دو پہاڑیوں نے بننا تھا ۔جہاں پر اس کے ساتھی میرا نشانہ بنے تھے ،وہاں انھیں نشانہ بنانے کے لیے انھی تین بلندیوں سے فائر کیا جا سکتا تھا ۔اور نک جیسے تجربہ کار سنائپر سے بعید تھا کہ وہ یہ اندازہ نہ لگا پاتا ۔اب مجھے اس پر صرف اتنی فوقیت حاصل تھی کہ اس کے ارادے کا پتا چل گیا تھا ۔
رینج ماسٹر کاجھولا میری پیٹھ پر لدا تھا ۔کمانڈر عبدالحق نے ہاتھوں میں کلاشن کوف تھامی ہوئی تھی۔ ہم تیز رفتاری سے چلتے ہوئے اپنے ٹھکانے کی مشرقی جانب اترے اور پھر نالے میں بے فکری سے چلتے ہوئے آگے بڑھ گئے ۔وہ نالہ فرلانگ بھر مشرق کی طرف جا کر شمال کی جانب مڑ رہا تھا ۔میرے پاس چونکہ وزن زیادہ تھا اس لیے کمانڈر عبدالحق مجھ سے دو تین قدم آگے چل رہا تھا ۔رینج ماسٹر کا وزن تقریباََ سترہ کلو گرام ہے ۔گویا یہ ایک رائفل چار پانچ کلاشن کوفوں کے بہ قدر وزنی ہو گی ۔سنائپنگ کا بقیہ سامان البتہ کمانڈر عبدالحق نے اپنے جھولے میں ڈالا ہوا تھا ۔
میری کوشش تھی کہ جلد از جلد ہم اس بلندی پر پہنچ جائیں ۔نالے میں ہونے کی وجہ سے دشمن کی وائرلیس سیٹ پر کی گئی گفتگو ہمیں سنائی نہیں دی رہی تھی ۔
تیز رفتاری سے چلنے کی وجہ ہمارے سانس پھول گئے تھے ۔ا ب نالہ بتدریج بلند ہو رہا تھا ۔ چڑھائی چڑھتے ہوئے مجھے پلوشہ کی یاد آگئی وہ بہت تیز رفتاری سے پہاڑوں پر چڑھتی تھی ۔سر ہلا کر میں نے اس کی یادوں کو دور جھٹکا کیوں کہ اس وقت مجھے ایک شاطر سنائپر سے لڑنے کی حکمت عملی سوچنا تھی ۔ اور پلوشہ کی یاد مجھے ہر چیز سے غافل کردیا کرتی ۔
ایک چھوٹی پہاڑی عبور کر کے ہم دوسری جانب اترے ۔نشیب میں جاتے ہوئے ہمارے قدموں کی رفتار تیز تھی ۔نالے میں پہنچتے ہی اونچائی کا سفر شروع ہو گیا ۔کمانڈر عبدالحق نے بااصرار مجھ سے رینج ماسٹر کا تھیلا لے لیا تھا ۔اب ہم مطلوبہ پہاڑی کی بلندی طے کر رہے تھے ۔اوپر چڑھتے ہوئے ہم نے مشرقی جانب کا انتخاب کیا تھا اور یوں ہم نک سٹیورٹ کی نظروں میں آئے بغیر اوپر پہنچ سکتے تھے ۔ہمارا ٹھکانہ اس پہاڑی کے جنوبی سمت میں پڑ رہا تھا ۔اس ٹھکانے سے نک سٹیورٹ کی جگہ شمال مغرب میں بن رہی تھی جبکہ یہاں سے اس کا مقام جنوب مغرب کی جانب بن رہا تھا ۔ہمیں اس بلندی پر پہنچتے ہوئے ڈیڑھ گھنٹا لگ گیا تھا ۔اوپر پہنچتے ہی ہم نے دو منٹ سستا کر اپنے سانس بحال کیے اور پھر میں فوراََ رائفل کو جوڑنے لگا ۔سب سے آخر میں ٹیلی سکوپ سائیٹ جوڑ رہا تھا ۔اس دوران کمانڈر عبدالحق دوربین نکال کر علاقے کا جائزہ لینے لگا ۔
رائفل جوڑ کر میں نے سب سے پہلے فائر کرنے کے لیے مناسب جگہ تلاش کی اور پھر اس پہاڑی کا ٹیلی سکوپ کی مدد سے جائزہ لینے لگا جس پر میرے خیال میں نک سٹیورٹ نے پہنچنا تھا ۔ یہ بھی ممکن تھا وہ کسی دوسری پہاڑی کا انتخاب کرتا لیکن ایک سنائپر ہونے کے ناتے اگر میں اس کی جگہ ہوتا تو اسی پہاڑی کا انتخاب کرتا ۔اور پھر وہ مجھے نظر آگئے ۔میرا اندازہ غلط ثابت نہیںہوا تھا ۔وہ اس پہاڑی کے شمال مغری کونے سے اوپر چڑھے تھے ۔ان کی تعدادچار تھی ۔لیکن سب بڑا مسئلہ یہ تھا کہ مجھے نک سٹیورٹ کی پہچان نہیں تھی ۔بلکہ نک تو کیا اس فاصلے سے لورا براﺅن کا امتیاز بھی نہیں ہو رہا تھا ۔تمام نے سروں پر گرم ٹوپیاں اوڑھی ہوئی تھیں ۔فاصلہ ناپنے پر مجھے انیس سو میٹر معلوم ہوا تھا ۔ان کا رخ پتھر کی ایک بڑی چٹان کی طرف تھا اور مجھے شک تھا کہ اس چٹان کے جنوبی جانب مورچہ سنبھال کر وہ میری نظر سے اوجھل ہو جاتے ۔اس سے پہلے مجھے اندازے سے نک سٹیورٹ کو پہچان کر کے نشانہ بنانا تھا ۔
ایک آدمی پیٹھ پر جھولا اٹھایا ہوا تھا ،لامحالہ اس جھولے میں سنائپر رائفل نے ہونا تھا ۔اور اس کے ساتھ یہ بھی طے شدہ بات تھی کہ رائفل کو اٹھانے والا نک سٹیورٹ نہیں ہو سکتا تھا ۔باقی تینوں میں سے اندازے سے درمیان میں چلنے والے پر نشانہ سادھتے ہوئے میں نے گولی داغ دی۔ دیر کرنے کی صورت میں انھوں نے بڑی چٹان کی آڑ میں پہنچ کر میری نظر سے غائب ہو جانا تھا ۔گولی کھا کر وہ اچھل کر مخالف سمت میں گرا تھا ،اس کے دائیں بائیں چلنے والے دونوں افرادنے اتنی تیزی سے زمین پر گر کر لڑھکتے ہوئے پتھروں کے عقب میں پناہ لی تھی کہ میں انھیں نشانہ بنانے کی کوشش ہی نہیں کر سکا تھا ۔البتہ سامان اٹھانے والا پہلے تو شاک کی کیفیت میں کھڑا رہ گیا تھا اور پھر شاید کسی کے کہنے پر اس نے حرکت میں آنے کی کوشش کی تھی لیکن اسے دیر ہو گئی تھی ۔یقینا اس کا زمین پر لیٹنے کا سو فیصد ارادہ تھا ،مگر اس کے ارادے کو عملی جامہ میری گولی نے پہنایا تھا ۔غریب اپنی پیٹھ پر لدا تھیلا بھی نہ اتار سکا۔وزنی تھیلے نے اسے سکون سے تڑپنے بھی نہیں دیا تھا ۔
رائفل کو دوبارہ کاک کر تے ہوئے میں نے ان دو پتھروں کو اپنی نظر میں رکھ لیا تھا جس کے پیچھے بقیہ دو آدمی چھپے تھے ۔ان کی تیزی دیکھتے ہوئے مجھے انداز ہ ہو رہا تھا کہ وہ دونوں ہی میرا اصلی ہدف تھے ۔
”میرا خیال ہے اصلی آدمی بچ گیا ہے ۔“کمانڈر عبدالحق میرے ساتھ ہی لیٹ کر دوربین سے جائزہ لے رہا تھا ۔
”یہ بھی آدمی ہی تھے یار ۔“میں ہنسا ۔”کیا آپ کو ربوٹ دکھائی دے رہے تھے ۔“
”میرا مطلب تھا کہ نک سٹیورٹ بچ گیا ۔“اس نے خوش دلی سے وضاحت کی ۔
اسی وقت وائرلیس سیٹ پر نسوانی آواز ابھری ۔یہ وہی آواز تھی جو ہم پہلے بھی سن کر اسے لورا براﺅن سمجھ چکے تھے ۔
”ون ون فار ٹو ون اوور....“
”یس میڈیم ....“ مبین نامی کمانڈر کی آواز ابھری یقینا اسی کا کوڈ نام ٹو ون تھا۔
”موبن،ہم پر حملہ ہوا ہے ،شاہ اور کاریم مارے جا چکے ہیں ۔یہاں کچھ آدمی بھیجو ۔اوور....“ اس کی بات سن کرہمیں نک کے بچنے کی تصدیق ہو گئی تھی ۔
”میڈم، بیس آدمی لاشیں اٹھانے کے لیے بھیجے ہیں ، یہاں پر دس بارہ آدمی ہی بچے ہیں ۔ اور کیمپ سے شام تک مزید نفری نہیں پہنچ سکتی ۔ اوور....“
”کیا وہ اب تک وہاں نہیں پہنچے ۔اوور ....“لورا براﺅن کی آواز میں شامل جھلاہٹ اس کے غصے کو ظاہر کر رہی تھی ۔
”پہنچ تو گئے ہیں ،لیکن اندھیرا ہونے کا انتظار کر رہے ہیں ۔اوور....“
لورا براﺅن نے کہا ۔”انھیں کہو لاشیں اٹھائیں اور واپس آجائیں ۔اوور....“
”مگر سنائپر کا خطرہ تو اب تک موجود ہے نا ۔اوور....“مبین نے اندیشہ ظاہر کیا ۔
”نہیں ،وہ خبیث شاید ہماری ٹرانسمشن سن رہا تھا اس لیے وہ ہمارے خلاف گھات لگانے پہنچ گیا ۔اوور....“یو ں لگ رہا تھا جیسے وہ یہ سب دانت پیستے ہوئے کہہ رہی ہو ۔پچھلے چند ماہ سے وہ مسلسل کامیایاں سمیٹ رہے تھے ۔اب انھیں خاطر خواہ جواب ملا تھا تو غصہ تو انھیں آنا تھا ۔
”مگر اسے کیسے معلوم کہ آپ کہاں جا رہے ہیں ۔“مبین نے حیرانی ظاہر کی ۔ ”یہ نہ ہو آپ پر حملہ کرنے والا کوئی دوسرا شخص ہو ۔اوور....“
”موبن ،یہ بحث کا وقت نہیں ہے ،دیے گئے حکم پر عمل کرو ....جب کہہ دیا کہ وہ وہاں نہیں ہے تو بس نہیں ہے ۔اووراینڈ آل۔“لورا براﺅن نے اسے مزید کچھ کہنے سے روک دیا تھا ۔
میں ساتھ ساتھ کمانڈر عبدالحق کو بھی لورا براﺅن اور مبین کی بات چیت سے آگاہ کرتا گیا ۔اسی وقت مبین اپنے انتظار کرنے والے ساتھیوں کو لاشیں اٹھانے کا حکم بھی دہرانے لگ گیا تھا ۔اس بار وہ پشتو میں بولا تھا اس لیے کمانڈر عبدالحق کو اس کی بات سمجھ میں آ گئی تھی ۔اس کے آدمیوں کا فاصلہ ہم سے زیادہ تھا اس کے باوجود ان کا جواب سنائی دے گیا تھا۔
عبدالحق دعائیہ لہجے میں بولا ۔”اللہ کرے ضلع خان تک ہمارا پیغام پہنچ گیا ہو ۔“
میں نے مشورہ چاہنے والے انداز میں کہا ۔”میرا خیال ہے لورا براﺅن کے ساتھ تھوڑی گپ شپ کرتے ہیں ۔“
عبدالحق نے نفی میں سر ہلایا۔”اس طرح تو انھیں پتا چل جائے گا کہ ہم ان کی ٹرانسمشن سن رہے ہیں ۔“
”انھیں پہلے ہی سے پتا ہے ،لورا براﺅن اس بارے مبین کو اشارہ دے چکی ہے ۔“
”بات چیت کا فائدہ ؟“عبدالحق بات چیت کے حق میں نہیں تھا ۔”اور پہلے اگر شک تھا تو آپ اسے یقین میں بدل دیں گے ۔“
”دشمن کو نفسیاتی طور پر اس کی شکست کا احساس دلانے سے وہ بدحواس ہو کر غلطیاں کرتا ہے ، غصے میں آکر مواقع فراہم کرتا ہے ۔باقی جہاں تک اس سیٹ کا تعلق ہے تو چند گھنٹوں تک اس کی یٹری جواب دے جائے گی اور ہمارے پاس نہ تو اس کی فالتو بیٹری ہے اور نہ اس بیٹری کو چارج کر نے کے لیے اس کے مخصوص برانڈ کا چارجر ۔بہتر ہو گا کہ انھیں اپنے پاس وائرلیس کی موجودی کا یقین دلا کر ان پر نفسیاتی دباﺅ بڑھا دیں ،اس طرح وہ کھل کر بات چیت نہیں کر سکیں گے ۔“
”بڑا دور تک سوچتے ہو یار ۔“اس کا تحسین آمیز لہجہ مجھے بات چیت کی اجازت دینے کے لیے تھا ۔
میرے بات کرنے سے پہلے ہی دور کہیں مسلسل فائر کی آوازیں آنے لگیں ۔
عبدالحق نے خیال ظاہر کیا ۔”لگتا ہے کمانڈر ضلع خان نے اپنا کام شروع کر دیا ہے ۔“
اسی وقت لورا براﺅن مبین کو پکار کر فائرنگ کی وجہ پوچھنے لگی ۔
”میڈم ،لگتا ہے دشمنوں سے ٹاکرا ہو گیا ہے ،میں پوچھ کر بتاتا ہوں ۔ویٹ....“لورا کو انتظار کرنے کا کہہ کر وہ بار بار اپنے آدمی کو پکارنے لگا ۔”احتشام فار مبین اوور....“
تین چار بار پکارنے کے بعد احتشام کی سہمی ہوئی آواز آئی ۔”کمانڈر ،ہم دشمن کے گھیرے میں ہیں ۔جتنے آدمی بھی لاشیں اٹھانے اوپر پہنچے تھے ان میں سے کوئی نہیں بچا ۔میں اور ضیاءایک چٹان کے پیچھے چھپے ہیں ہمیں کمک بھیجو اوور....“
”تمھارے پاس بیس آدمی بھیجے تھے ۔اوور....“مبین چیخ ہی تو پڑا تھا ۔
”میرے خیال میں تو ہم دوبچے ہیں ۔اوور....“احتشام کی سہمی ہوئی آواز اس کے خوفزدہ ہونے کو ظاہر کر رہی تھی ۔یقینا ضلع خان نے ایک دم ہلہ بول کر ان کا صفایا کیا تھا ۔
مبین اسے جواب دیے بغیر لورا براﺅن کو صورت حال بتانے لگا ۔نک سٹیورٹ کی آواز اب تک میں نہیں سن پایا تھا ۔شاید وائر لیس سیٹ لورا کے ہاتھ تھا اس لیے وہی بات چیت کرتی تھی ۔
”فوراََ کیمپ میں بات کر کے ہیلی منگواﺅ ۔اوور اینڈ آل۔“صورت حال دیکھتے ہی لورا نے چیختے ہوئے حکم پاس کیا تھا ۔پیچھے کیمپ سے مبین نے لانگ رینج وائرلیس ہی پر بات کرنا تھی اور وہ ٹرانسمشن ہم نہیں سن سکتے تھے ۔گردیز شہر میں موبائل فون سروس کام کر تی تھی ۔مگر ان پہاڑوں میں سگنل نہیں آتے تھے ۔یا اگر آتے بھی تھے تو انھیں جام کر دیا گیا تھا تاکہ مجاہدین کے رابطے میں رکاوٹ ڈالی جا سکے ۔
”لورا بے بی ،بہت پریشان لگ رہی ہو ۔اوور....“وائرلیس سیٹ پر خاموشی چھاتے ہی میں بول پڑا تھا ۔
”Who is here“اس نے چونکتے ہوئے پوچھا تھا ۔
”شاید دوست نہ کہہ سکو اور دشمن کے نام سے کیا لینا کچھ بھی کہہ سکتی ہو۔اوور....“
”تمھارا انجام بہت برا ہو گا ۔“اس نے نفرت بھرے لہجے میں دھمکی دی ۔
”اتنا غصہ صحت کے لیے اچھا نہیں ہوتا لورا بے بی ،اور تمھیں اس احمق نک نے بھی نہیں بتایا کہ سنائپر تب ہی اپنے شکار کا پیچھا چھوڑتا ہے جب اس کا متبادل بندوبست کر لے ۔خواہ مخواہ اتنے آدمیوں کو مروا دیا ۔اوور....“
”وعدہ کرتی ہوں تم زیادہ عرصہ زمین پر چلتے نظر نہیں آﺅ گے ۔اوور....“غصے کی زیادتی کی وجہ سے اسے دھمکی دینے کے علاوہ کچھ نہیں سوجھ رہا تھا ۔
میں نے اسے چڑایا ۔”اگر تم آڑ سے اپنا ہاتھ بھی باہر نکال کر دکھادو تو میں سمجھوں گا تم واقعی کچھ کر سکتی ہو ۔اوور....“
”اگر اتنے ہی سورما ہو تو مجھے سنائپر رائفل اٹھانے دو، پھر میں دیکھ لیتی ہوں تم کتنے پانی میں ہو۔ اوور....“اس مرتبہ اس کے لہجے میں غصے کے بجائے دلچسپی چھپی تھی ۔
میں نے قہقہہ لگاتے ہوئے کہا ۔”کیا دشمن کو بھی ہتھیار دیے جاتے ہیں لورابے بی ۔ اوور....“
اس نے طنزیہ لہجے میں کہا ۔”نہتے آدمیوں پر ہتھیار تان کر بڑھکیں مارنے والا کوئی نامرد ہی ہو سکتا ہے ۔اوور....“
میں نے ایک اور قہقہہ لگایا ۔”تو تم کون سا مرد ہو ۔اوور....“
”تمھارا نام کیا ہے ۔اوور....“
میں عاشقانہ انداز میں بولا ۔”حسن والے جس نام سے پکار یں مجھے اعتراض نہیں ہوگا۔ اوور....“
اس نے دلچسپی بھرے لہجے میں پوچھا ۔”کیا تم نے مجھے دیکھا ہے ؟اوور....“
”تعریف تو کافی سنی ہے ۔اوور....“میں نے ہوا میں تیر چھوڑا ۔
اس نے تاﺅ دلانے والے انداز میں کہا ۔”اگر اتنی ہی خو ب صورت لگتی ہوں تو مجھے جانے دو ۔ اوور....“
میں نے پوچھا ۔”کیا اپنے ساتھی کو یہیں چھوڑ جاﺅ گی ؟اوور....“
وہ اطمینان بھرے لہجے میں بولی ۔”پہلے اپنی جان کی فکر کرنا چاہیے ۔اوور....“
”اگر جانے دوں تو بدلے میں مجھے کیا ملے گا ۔اوور....“
”کیا چاہیے ۔اوور....“
میں نے کہا ۔”ڈیٹ پر چلو گی ۔اوور....“
”اگر میرا جواب اثبات میں ہوا تو۔اوور....“اس کا شوخی بھرا لہجہ اس کی تہذیب و ثقافت کو ظاہر کر رہا تھا ۔وہ کوئی مشرقی لڑکی نہیں تھی کہ ایسی باتوں پر شرماتی ۔جس تہذیب میں شوہر کی آنکھوں کے سامنے اس کے دوست سے لپٹ کر بوسا دیا جا سکتا ہو ان کے لیے شرم و حیا کوئی معنی نہیں رکھتے ۔
”ٹھیک ہے ،تم اپنے سر سے ٹوپی اتار کر اپنے بالوں کو کھلا چھوڑدو تاکہ میں پہچان کی تصدیق کر سکوں ۔ایسا نہ ہو دھوکے میں تمھارا نامراد عاشق نک بھاگ جائے ۔اوور....“
”اس بات کی کیا گارنٹی ہے کہ تم مجھے جانے دو گے ۔اوور....“یقینا وہ مجھ پر اعتبار نہیں کر سکتی تھی ۔ بس تھوڑی مہلت لے کر ہیلی کاپٹرز کی آمد کا انتظار کر رہی تھی ۔
”جب اعتبار نہیں ہے تو میں کچھ نہیں کہہ سکتا ۔اوور....“
”ایک پاکستانی سنائپر کا نام سنا تھا ،جسے ہمارے کچھ دوست ایس ایس کہہ کر پکارتے تھے ۔کیا تم وہی ہو ۔اوور....“اس مرتبہ وہ مطلب کی بات پر آگئی تھی ۔یقینا میری نشانہ بازی سے ساتھ جو مبالغہ آمیز کہانیاں مشہور تھیں ان تک بھی یہ شہرت پہنچی ہو گی ۔یوں بھی ہم پیشہ ہونے کی حیثیت سے میرا نام اس تک پہنچنا کوئی حیرت نہیں رکھتا تھا ۔مجھ تک بھی تو کافی عرصہ پہلے اس کا نام پہنچ گیا تھا ۔
میں نے قہقہہ لگاتے ہوئے کہا ۔”پتا نہیں یہ ایس ایس کیا بلا ہے ۔اس کی تعریفیں میرے کانوں تک بھی پہنچی ہیں ۔اوور....“
وہ پر اعتماد لہجے میں بولی ۔”اگر تم وہ نہیں ہو تو پھر ہم یونھی تم سے ڈر رہے ہیں ۔یقینا تم ہمیں روک نہیں پاﺅ گے ۔ اوور....“
”شاید تم ٹھیک کہہ رہی ہو ۔بہ ہرحال تم آڑ سے سر باہر نکال کر میرا امتحان لے سکتی ہو ۔اوور“
اسی وقت ایک پتھر کے پیچھے سے کوئی چیز بلند ہوئی ۔یقینا وہ انسانی سر نہیں تھا ۔غور کرنے وہ مجھے کلاشن کوف کے بٹ جیسی نظر آئی تھی ۔یقینا اس نے کلاشن کوف کو الٹا کر کے اس کا بٹ پتھر کی آڑ سے اوپر اٹھایا تھا ۔وہاں گولی کو ضائع کرنا کوئی معنی نہیں رکھتا تھا ۔مگر دشمن کے دل میں ہیبت بٹھانے کا اچھا موقع تھا ۔یا شاید میں نک سٹیورٹ کو اپنی مہارت دکھانا چاہتا تھا ۔بہ ہرحال کچھ بھی تھا ،میں نے کلاشن کوف کے بٹ کے پتھر کی آڑ سے بلند ہونے کے ایک سینکڈ بعد ہی ٹریگر دبا دیا تھا ۔رینج ماسٹر کی گولی نشانہ ڈھونڈنے میں ناکام نہیں ہوئی تھی ۔
رائفل کاک کرکے میں نے فوراََ وائرلیس سیٹ کا بٹن دباتے ہوئے کہا ۔”سوری بے بی ،یقینا تمھارے نازک ہاتھوں کو جھٹکا لگنے کی تکلیف اٹھانا پڑی ہوگی ۔اوور....“
”تمھیں مار نے کا مزہ ہی کچھ اور ہو گا ۔اوور....“ اس مرتبہ رسیور سے مردانہ آواز ابھری تھی۔
”چچ ....چچ....ویسے ایک سنائپر کے لیے شرم کا مقام ہے کہ اتنی دیر سے اپنی جگہ سے ہلنے کی ہمت نہیں کر سکا ۔اوور....“میں نے اسے غیرت دلائی ،مگر وہاں غیرت کرنا اپنی گردن کٹوانے کے مساوی تھا ۔اگر اس کی جگہ میں ہوتاتوبھی وہاں سے ہلنے کی کوشش نہ کرتا ۔گزشتا روز میرے عقب میں موجود ڈھلان قریب تھی اس لیے میں انھیں دھوکا دینے میں کامیاب رہا تھا ۔آج انھیں کم از کم دس بارہ قدم لینے کے بعد آڑ مل سکتی تھی اور اس اتنے قدم لینے کی اجازت انھیں رینج ماسٹر کی گولی نہیں دے سکتی تھی۔ وہ اکٹھے بھاگتے تو یقینی تو نہیں البتہ شاید ایک آدمی کی جان بچ جاتی ۔اور اتنا بڑا خطرہ وہ مول نہیں لے سکتے تھے ۔
وعدہ رہا ،جلد ہی تمھارا ادھار سود سمیت واپس کروں گا ۔اوور....“نک سٹیورٹ کے لہجے میں شامل اعتماد ظاہر کر رہا تھا کہ اسے اپنی نشانہ بازی پر کتنا بھروسا تھا ۔
میں نے طنزیہ انداز میں کہا ۔”اگر بچ گئے تو ۔یوں بھی تھوڑی دیر تک تمھارے گرد میرے آدمیوں کا گھیرا تنگ ہو جائے گا ۔اوور....“
اس مرتبہ اس کی طرف سے کوئی جواب موصول نہیں ہوا تھا ۔
عبدالحق نے لمحہ بھر کی خاموشی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے زبان کھولی ۔”بڑی طویل گپ شپ ہو رہی ہے بھئی ،ہمیں بھی کچھ پتا چلے ۔“
میں نے کہا ۔”بڑی غلطی ہو گئی ہے یار!....آئی کام سیٹ نہیں لایا ،اگر ضلع خان کے آدمیوں سے رابطہ ہوتا تو انھیں اس پہاڑی کو گھیرنے کے لیے بلا سکتے تھے ۔“
کمانڈرعبدالحق نے کہا ۔”جلدی کے منصوبے میں اس طرح کی غلطیاں تو ہوتی رہتی ہیں ۔“
میں مایوسی بھرے لہجے میں بولا۔”بس یہ غلطی ہمارے جدو جہد کو بڑھا دے گی ۔“
وہ پر عزم لہجے میں بولا ۔” لگتا ہے واپس جانے میں مجھے زیادہ سے زیادہ ایک گھنٹا لگے گا۔ تقریباََ سارا رستا اترائی ہے۔ ٹھکانے سے تین چار آدمی ساتھ لے کر میں خود ہی اس پہاڑی کا رخ کر وں گا ۔“
”بھاگو۔“میں نے سوچنے میں وقت ضائع نہیں کیا تھا ۔
”ہو سکتا ہے ضلع خان پارٹی کے ہاتھوں دشمنوں کا کوئی اور وائرلیس لگ گیاہو،ایسا ہوا تو اسی پر رابطہ کریں گے ۔ میں آپ کو کہوں گا عبداللہ کیا حال ہے اور آپ نے فوراََ چینل نمبر پندرہ لگا لینا ہے ۔“ اس نے سرعت سے منصوبہ سوچتے ہوئے بیان کیا اور میرا جواب سنے بغیر دوڑ لگا دی ۔اس دوران میں ایک لمحے کے لیے بھی نک پارٹی کی طرف سے غافل نہیں ہوا تھا ۔
”ون ون فار ٹو ون اوور....“نک مبین کو پکار رہا تھا ۔
”ٹو ون سینڈ یور میسج اوور....“مبین نے جواب دینے میں دیر نہیں لگائی تھی ۔
”شاباش۔“نک نا معلوم اسے کس بات پر شاباش دے رہا تھا ۔اس کے ساتھ ہی خاموشی چھا گئی تھی ۔اچانک ہی مجھے احساس ہوا کہ ”شاباش “فریکونسی تبدیل کرنے کا کوڈ بھی تو ہو سکتا تھا ۔تبھی تو ایک دم خاموشی چھا گئی تھی ۔میں فوراََ ناب گھما نے لگا ۔ایک دو منٹ میں مجھے مطلوبہ فریکونسی مل گئی تھی ۔ واقعی میرا اندازہ صحیح ثابت ہوا تھا ۔شاباش کا مطلب متبادل فریکونسی لگانا ہی تھا ۔مبین اپنی بات ختم کر چکا تھا ۔اس وقت نک بول رہا تھا ۔
”آٹھ آدمیوں کی پارٹی کو فوراََ ہماری طرف روانہ کردو ،اگر ہیلی کاپٹر کی آمد سے پہلے دشمن یہاں پہنچ گیا تو ہم بے دست و پا مارے جائیں گے ۔اوور....“
مبین خوشامدانہ لہجے میں بولا ۔”سر !آپ کے کہنے سے پہلے میں دس آدمی آپ کی طرف روانہ کر چکا ہوں ۔اوور....“
”اپنے ذرائع کو بھی حرکت دو ،معلوم کرو یہ سنائپر کون ہے ؟اوور....“نک میرے بارے جاننے کے لیے بے چین تھا ۔
”جی سر ،کل تک معلوم کر لوں گا ۔اوور ....“
”اوور اینڈ آل۔“نک نے جونھی بات ختم کی میں نے فوراََ پہلے والا چینل لگا لیا ۔کیوں کہ ایک تو اسی پر کمانڈر عبدالحق نے مجھ سے بات کرنا تھی ۔دوسرا اگر نک یہ جانچنے کی کوشش کرتا کہ آیا میں اس کی بات سن سکا ہوں یا نہیں تو لازماََ وہ اسی چینل پر مجھے پکارتا ۔
میں بہ مشکل مطلوبہ چینل لگا پایا تھا کہ لورا براﺅن کی لوچ دار آواز ابھری ۔
”شہزادے ،کہاں غائب ہو ؟“
میں نے لہجے میں خوشی سموتے ہوئے کہا ۔” مجھے شہزادہ کہنے کا مطلب ہے ڈیٹ پکی ہوئی ۔ اوور ....“
وہ شوخی سے بولی ۔”بالکل ،قسم بھی کھا سکتی ہوں ۔مگر تم آﺅ گے نہیں ۔اوور....“
میں اسی کے انداز میں بولا ۔”تو تم آجاﺅ ۔ابھی کھڑے ہو کر میری طرف چلنا شروع کر دو ۔ میری جگہ کے بارے تو تمھیں اندازہ ہو گیا ہو گا ۔وعدہ کرتا ہوں گولی نہیں چلاﺅں گا ۔ اوور....“
وہ ترکی بہ ترکی بولی ۔”میں نے ڈیٹ پر جانے کی حامی بھری ہے ،قیدی بننے کی نہیں۔ اگر میرے ساتھ ڈیٹ پر جانے کا شوق ہے تو کسی شہر میں ملنے کی کوشش کرو ۔ اوور....“
میں نے قہقہہ لگایا ۔”چلو یہ دعوت ادھا ر رہی ۔اوور....“
”اپنا نام نہیں بتاﺅ گے ۔اوور....“اس نے ایک بار پھر مجھے کریدا۔
”تم مجھے عبداللہ خان کہہ سکتی ہو ۔اوور....“میں نے ایسا نام بتایا جو ہر مسلمان خود کو سمجھتا ہے۔
”ایبڈالاّ کھان....“اس کے انگریزی لب و لہجے نے اتنے پیارے نام کا حلیہ بگاڑ دیا تھا ۔
میں جلدی سے بولا ۔”خالی خان کہنا کافی ہو گا ۔اوور....“
وہ بولی ۔”کھان تو یہاں سارے پٹھان ہیں ۔اوور....“
”مگر تمھارے ساتھ ڈیٹ کا حق دار تو صرف میں ہوں نا ....تو بس تم اسی نسبت سے یاد رکھ لینا کہ وہ خان جس کے ساتھ تم نے ڈیٹ پر جانا ہے ۔اوور....“
”ہاہاہا۔“اس نے قہقہہ لگا کر گویا میری حوصلہ افزائی کی تھی ۔مگر جب وہ بولی تو اس کا لہجہ خاصا بدلا ہوا تھا ۔”تو کھان صاحب ،الوداع۔شاید تم زندہ نہ بچ پاﺅ ۔اوور اینڈ آل۔“
اس کے بدلے ہوئے لہجے نے مجھے چونکا دیا تھا ۔لیکن میری حیرانی زیادہ دیر برقرار نہیں رہ پائی تھی ۔ہیلی کاپٹر کے پروں کی پرشور آواز مجھ تک پہنچ گئی تھی ۔میں نے فوراََ ان کی متبادل فریکونسی لگائی ۔ وہ مبین کو اس پہاڑی کی نشاندہی کرا رہی تھی جس پر میں موجود تھا ۔”ایک ہیلی کاپٹر اس پہاڑی پر بھیجنا ۔ وہاں کم از کم دو آدمی موجود ہوں گے ۔انھیں زندہ نہیں بچنا چاہیے ۔پائلٹس سے رابطے میں تو ہو نا ؟ اوور....“
”یس میڈم !اور جو آدمی آپ کے پاس آرہے تھے ،انھیں بھی اس پہاڑی کی طرف روانہ کر دیتا ہوں۔اگر کوبرا کی گن سے بچ بھی گیا تو ہمارے آدمیوں کے ہاتھوں نہیں بچے گا ۔اوور....“
لورا نے پوچھا ۔”تینوں کوبرا آرہے ہیں ۔اوور....“
”نہیں ،دو کوبرااور ایک ایم آئی سیونٹین ہے ۔اوور....“
”گڈ ،ایک کوبرا اور ایم آئی سیونٹین لاشیں اٹھانے بھیج دو ۔اوور....“
مبین نے پوچھا ۔”آپ کے پاس نہیں بھیجنا ۔اوور....“
”نہیں ،اس خبیث کے پاس جیسے ہی ہیلی پہنچے گا ہم دونوں واپسی کی راہ لیں گے ۔اوور اینڈ آل۔“لورا براﺅن نے گفتگو ختم ہونے کا اعلان کیا ۔خبیث کا لقب اس نے مجھے عطا کیا تھا ۔ ہیلی کاپٹروں کی آواز سنتے ہی میں نے رائفل کا بٹ اور دوپائی کلوز کر کے تھیلے میں ڈالی ۔کیوں اتنا وقت میرے پاس نہیں تھا کہ رائفل کو مکمل کھولتا ۔مجھے ہیلی کاپٹروں کی اتنی جلدی آمد کی امید نہیں تھی ۔یقینا گردیز کیمپ میں ان کے پاس ہیلی کاپٹر موجود تھے تبھی تو اس سرعت سے تین ہیلی یہاں تک پہنچ گئے تھے ۔ویسے بھی امریکیوں کو ہیلی کاپٹروں کی کیا کمی ہو سکتی ہے ۔ ان کی بات کے اختتام تک میں جھولا اپنی پیٹھ پر لاد کر کسی پناہ گاہ کی تلاش میں چل پڑا تھا ۔دس آدمی میرے لیے کوئی معنی نہیں رکھتے تھے ۔لیکن کوبرا (گن شپ ہیلی کاپٹر) میرے پر خچے بھی اڑا دیتا ۔ یہ خاص جنگ کے لیے تیار کیا گیا ایک تیز رفتار ہیلی کاپٹر ہے ۔ مچھلی جس طرح پانی میں حرکت کرتی ہے یہ ہوا میں ایسے ہر طرف سے گھوم کر حملہ کرتا ہے ۔عام ہیلی کاپٹرز میں گن کو چلانے والا گن مین بیٹھا ہوتا ہے، جو کسی بھی ہدف پر فائر کرتا ہے ۔لیکن کوبرا کا پائلٹ آٹومیٹک گن سے ہدف پر تباہی پھیرتا ہے ۔اس میں آٹومیٹک 12.7ایم ایم کی گنیں فٹ ہوتی ہیں ۔یہاں یہ بھی بتاتا چلوں کہ ہیوی سنائپر رینج ماسٹر کی گولی بھی 12.7ایم ایم ہی ہوتی ہے ۔اگر ایک گولی انسان کی کھوپڑی کوکئی ٹکڑوں میں تقسیم کر سکتی ہے تو اسی کیلی بر کی درجنوں گولیوں نے کیا تباہی مچانا تھی یہ اندازہ کرنا آپ کے لیے مشکل نہیں ہوگا ۔
میرے پاس چل کر یا بھاگ کر فائر کرنے کے لیے لے دے کے بریٹا پستول ہی موجود تھا ۔ دس کلاشن کوفوں اور ایک کوبرا ہیلی سے فقط بریٹا کے ساتھ مقابلہ کرنا یقینا خود کشی کی آسان کوشش کہی جا سکتی ہے ۔ دشمن کے دس آدمیوں نے مغربی جانب سے آنا تھا ،میرے لیے مشرقی طرف فرار ہونا اتنا مشکل نہیں تھا لیکن اس جانب کوئی ایسی آڑ موجود نہیں تھی جس سے میں کوبرے کے پائلٹ کی نظروں سے بچ پاتا ۔البتہ شمال کی جانب موجود درخت اور جھاڑیاں مجھے نظری آڑ مہیا کر سکتی تھیں ۔سرعت سے فیصلہ کرتے ہوئے میں اسی جانب چل پڑا تھا ۔ہیلی کی آواز لمحہ ہ لمحہ قریب آتی جا رہی تھی ۔اس کی آمد سے پہلے میں جھاڑیوں کے ایک جھنڈ میں گھس کر بے حس و حرکت لیٹ گیا تھا ۔کوبرا بہت نیچی پرواز کرتا ہوا ان جھاڑیوں کے قریب سے گزرا جہاں میں پہلے لیٹا تھا ۔اس کے ساتھ ہی میرے کانوں میں ۔”تڑتڑتڑ۔“ کی بھیانک آواز گونجی ۔وہ گولیوں کی بوچھاڑ کرتا ہوا آگے گزر گیا ۔
میرا دل ہولنے لگا تھا ۔اگر وہ اسی طرح ہر جھنڈ پر گولیوں کے دو تین برسٹ فائر کرتا رہتا تو مجھے نشانہ بنانا اس کے لیے مشکل نہ ہوتا کیوں کہ اس پہاڑی پر جھاڑیوں کے اتنے زیادہ جھنڈ موجود نہیں تھے ۔
چکر کاٹ کر کوبرا واپس مڑا اور اس مرتبہ گولیوں کا برسٹ ساتھ والی جھاڑی پر پڑا تھا ۔جو سوچ میرے دماغ میں آئی تھی ،پائلٹ بھی اس پر عمل پیرا ہو گیا تھا ۔اور جلد ہی میرا نمبر آجانا تھا ۔کوبرا میرے ساتھ والی جھاڑی پر گولیوں کا برسٹ فائر کرتا ہوا آگے گزر رہا تھا ۔
جاری ہے
 

قسط نمبر 65
ریاض عاقب کوہلر
اس وقت میری بچت مغربی سمت کا رخ کرنے میں تھی ۔گو اس طرف سے دشمن اوپرکو آرہے تھے لیکن کوبرے کی گولیوں سے اسی جانب اتر کر بچا جا سکتا تھا ۔لیکن پھر میں نے ایک اور رسک لیا اور کوبرے کے مڑنے سے پہلے ، جھاڑی سے نکل کرچند قدم دور موجود اس جھاڑی میں گھس گیا جہاں کوبرا ابھی فائر کر کے آگے گیا تھا ۔اگر پائلٹ مجھے دیکھ لیتا یا وہ غلطی سے دوبارہ اسی جھاڑی پر فائر کر دیتا تو لورا براﺅن کا مجھے الوداع کہنا حق سچ ہو جاتا ۔
مگر پائلٹ مجھے نہیں دیکھ پایا تھااور نہ اس نے فائر کرنے میں غلطی کی تھی ۔حالانکہ اس وقت اس کا غلطی کرنا اسے کامیا ب کر سکتا تھا ۔اس نے واپسی پر تھوڑی دیر پہلے میرا ٹھکانہ بننے والی جھاڑی پر گولیوں کا چھڑکاﺅ کیا اور آگے گزرتا چلا گیا ۔اس سیدھ میں جتنی جھاڑیاں آئی تھیں ان تمام پر کوبرے کی گولیاں لگی تھیں ۔کوبرے کے سر پر سے گزرتے ہی میں مزید جنوب کی طرف بڑھا ۔اگلی جھاڑی پندرہ بیس قدم دور تھی لیکن کوبرے کے مڑنے سے پہلے میں جھاڑی میں داخل ہو چکا تھا ۔پائلٹ گولیاں برساتے ہوئے ترتیب سے تمام جھاڑیوں کی چھان بین کر رہا تھا ۔یہ بھی ممکن تھا کہ ایک دفعہ فائر کر چکنے کے بعد پائلٹ دوبارہ ایک ایک برسٹ تمام جھاڑیوں پر برسانا شروع کر دیتا ۔
میں جس جھاڑی میں گھسا ہوا تھا اسی سے کوبرے نے فائرنگ کی ابتدا کی تھی ۔اس کے بعد جنوب کی طرف جھاڑیوں کے جھنڈ موجود نہیں تھے ۔اکادکا درخت بلاشبہ موجود تھے لیکن درختوں کے نیچے میں پائلٹ کی نگاہوں سے نہیں چھپ سکتا تھا ۔
چند لمحے سوچنے کے بعد میں نے ایک اور تجویز پر عمل کرنے کا فیصلہ کیا ۔جنوب کی جانب میرے چھپنے کی جگہ سے پچاس ساٹھ گز دور ایک پتھریلی چٹان پڑی تھی ۔اس کی آڑ لے کر میں پائلٹ کی نظر میں آنے سے بچ سکتا تھا ،لیکن اس کے ساتھ یہ بھی ضروری تھا کہ میں پائلٹ کے ساتھ ساتھ اس چٹان کے دائیں بائیں حرکت کرتا رہتا ۔کوبرے کے اگلی جھاڑی پر آگ برسا کر آگے بڑھتے ہی میں آخری جھاڑی سے نکل کر پوری قوت سے دوڑا ۔میری پیٹھ پر لدا رینج ماسٹر کا جھولا مجھے زیادہ رفتار سے بھاگنے نہیں دے رہا تھا لیکن اس وقت زندگی اور موت کی بازی شروع تھی اور یہ بازی کوئی بھی نہیں ہارنا چاہتا ۔یوں بھی پائلٹ کی توجہ ان جھاڑیوں کی طرف مبذول تھی جہاں وہ گولیاں برسا رہا تھا ۔
چٹان کے جنوبی جانب آڑ لیتے ہی میںچڑھے ہوئے سانسوں کو اعتدال پر لانے لگا ۔اس کے ساتھ ہی میرا ذہن تیزی سے اس حالت سے نکلنے کی تجویز سوچ رہا تھا ۔اگر پیدل دشمن اوپر پہنچ جاتا تو یقینا وہ مجھے چوہے کی طرح گھیر کر ہلاک کر دیتے ۔کوبرے کی وجہ سے میں کسی آڑ میں رہ کر بھی ان کا مقابلہ نہ کر پاتا کہ کوبرا سر پر پہنچ کر مجھے بڑی آسانی سے ہلاک کر دیتا ۔بچاﺅکا ایک ہی طریقہ تھا کہ کوبرا وہاں سے چلا جاتا ۔جبکہ پائلٹ کا فی الحال ایسا ارادہ نظر نہیں آرہا تھا ۔اور پھر تنگ آمد بہ جنگ آمد کے مصداق میں نے ایسا فیصلہ کیا جسے عام حالات میں خود کشی ہی کا نام دیا جا سکتا تھا ۔
رینج ماسٹر کا جھولا پیٹھ سے اتار کر میں نے رائفل باہر نکالی ۔اوراس پر سائیٹ لگانے لگا ۔چند سیکنڈ بعد میں دو سو میٹر رینج لگا کر رائفل کے پیچھے لیٹ چکا تھا ۔اس وقت اگر پائلٹ اس طرف دیکھ لیتا تو میرا بچنا محال تھا ۔بھری ہوئی میگزین رائفل سے جوڑتے ہوئے میں نے رائفل کاک کی اور پیچھے لیٹ کر پائلٹ پر نشانہ سادھ لیا ۔کوبرے کی تیز رفتاری میرے لیے نہایت مشکل پیدا کر رہی تھی ،اگر میں سیدھی گولی فائر کرتا تو پائلٹ کو کبھی بھی نشانہ نہ بنا سکتا ۔مناسب لیڈ لے کر ہی میں کامیاب فائر کر سکتا تھا ۔گو کسی بھی متحرک ہدف کو نشانہ بنانے کے لیے لیڈ کا فارمولا موجود ہے ،مگر مسئلہ یہ تھا ایسا تبھی ممکن ہے جب متحرک چیز کی رفتار معلوم ہو ۔اور کوبرے کی رفتار مجھے معلوم نہیں تھی ۔اس لیے مذکورہ فارمولا میرے کسی کام کا نہیں تھا ۔البتہ پیشہ ور سنائپرز کے دماغ میں ایک اپنا اندازے کا میٹر لگا ہوتا ہے ۔اور اس وقت میرا ذاتی اندازہ ہی کام آسکتا تھا ۔ہیلی کی بائیں کھڑکی کا شیشہ کھلا تھا اس لیے میں اس کے مغرب کی طرف مڑنے کا انتظار کرنے لگا ۔میرے پاس زیادہ وقت نہیں تھا کیوں کہ کوبرا جھاڑیوں کے آخری جھنڈوں کو نمٹانے والا تھا ۔پائلٹ کے چکر کا ٹ کر مغرب کی طرف مڑتے ہی میں نے پائلٹ کے سر پر شست لی اور اس کے اپنی رائفل کے متوازی آنے سے پہلے میں نے بیرل کو اندازے سے مناسب لیڈ دے کر دل دل ہی میں اپنے پاک پروردگار کو مدد کے لیے پکارتے ہوئے ٹریگر دبا دیا ۔یہ میری زندگی کا سب سے خطرناک فائر تھا ۔ٹریگر دباتے ہی میں نے جلدی سے رائفل کو دوبارہ کاک کیا مگر اس کی ضرورت پیش نہیں آئی تھی ۔اللہ پاک نے میری مناجات کو قبول فرما لیا تھا ۔ایک دم ہیلی کاپٹر گھوما اور پھر درختوں سے ٹکراتا ہوا زمین بوس ہو گیا ۔ڈھلان میں گرنے کی وجہ سے وہ میری نظروں سے اوجھل ہو گیا تھا ۔لیکن اس کے گرنے سے پیدا ہونے والا دھماکا کافی زور دار تھا۔ہیلی کاپٹر کو نشانہ بنانے کا یہ میراپہلا تجربہ تھا ۔ اس سے پہلے میں مجھے ایسا موقع نہیں ملا تھا کہ میں ہیلی کا نشانہ بنانے کی کوشش ہی کر سکتا ۔
میں نے سرعت سے رائفل کے بٹ اور دوپائی کو کلوز کر کے جھولے میں ڈالا اور جھولے کو پیٹھ پر لاد کر مشرقی ڈھلان اترنے لگا ۔میری رفتار اتنی ہی تیز تھی جتنی کسی نشیب میں اترنے والے ایسے شخص کی ہو سکتی ہے جس کے پیچھے موت لگی ہو ۔اترائی میں دوڑتے وقت سب سے زیادہ مشکل اپنے جسم کو سنبھالنا ہوتا ہے کیونکہ ذرا سا توازن بگڑنے سے انسان کا تھوبڑا بگڑنے میں دیر نہیں لگتی ۔اس کا آسان طریقہ یہی ہے کہ آدمی کو سیدھے کے بجائے ترچھا ہو کر دوڑنا پڑتا ہے ۔یوں کہ پاﺅں کا ٹخنے والا حصہ آگے رکھا جاتاہے اورعام دوڑ کے برعکس ایک ہی پاﺅں مسلسل آگے رہتا ہے ۔میرے دماغ میں دوسرے کوبرے کی آمد کا خطرہ بیٹھا ہوا تھا ۔پہلے والے کو تو میں نے اس کی بے خبری میں مار گرایا تھا اور اس کے عبرت ناک انجام کے بعد دوسرا پائلٹ کبھی بھی ایسی غلطی نہ کرتا۔
اچانک میرے ذہن میں ان کی ٹرانسمشن سننے کا داعیہ پیدا ہوا ۔وائرلیس سیٹ کافی دیر سے بند کر کے میں نے جیب میں ڈالا ہوا تھا ۔کوٹ کی جیب سے وائرلیس نکال کر میں نے آن کیا ۔لورا براﺅن بڑے غصے میں کسی کو لتاڑ رہی تھی ۔
”تمھارے سورما اب تک نہیں پہنچے ۔انھیں کہو جلدی وہاں پہنچ کر معلوم کریں پائلٹ کو کیسے حادثہ پیش آیا ہے ۔اوور ....“
”جی میڈم !وہ بس پہنچنے ہی والے ہیں ۔اصل میں مغربی جانب سے چڑھائی بالکل سیدھی ہے اس لیے انھیں دیر ہو رہی ہے ۔اوور....“کمانڈر مبین کی صفائی دیتی آواز ابھری ۔
”تمام ہیلی کے گرد نہ اکھٹے ہو جائیں ،کچھ کو کہواوپر پہنچ کر دیکھیں ہو سکتا ہے گرنے سے پہلے پائلٹ اس خبیث کو نشانہ بنا چکا ہو۔اوور....“
”ٹھیک ہے میڈم۔اوور....“
”اوور اینڈ آل۔“کہہ کر لورا براﺅن نے بات ختم کی ۔
میں نے پرانی فریکونسی لگائی ۔دو تین منٹ بعد ہی میرے کانوں میں کمانڈر عبدالحق کی آواز آئی ۔
”عبداللہ کیا حال ہے ۔“وہ شاید وقفے وقفے سے مجھے پکار رہا تھا ۔
”معذرت خواہ ہوں دوست میں ذرا مصروف ہوں بعد میں بات ہوتی ہے ۔فی الحال خدا حافظ۔“میں پھولے سانسوں کے ساتھ کہا اور اس کے ساتھ ہی پندرہ نمبر چینل لگادیا ۔اس دوران میری رفتار ذرا سی دھیمی ہوئی تھی لیکن میں نے رکنے کی کوشش نہیں کی تھی ۔آدھے سے زیادہ اترائی میں طے کر چکا تھا ۔اور اب تو چھدری چھدری جھاڑیاں شروع ہو گئی تھیں جو مجھے اچھی خاصی آڑ مہیا کر رہی تھیں ۔ اگر دشمن نشیب میں جھانک بھی لیتا تو مجھے اتنی آسانی سے نہ ڈھونڈ سکتا ۔نیچے نالے میں کوبرے کے فائر سے بچنے کے لیے بھی کافی جگہیں مل جاتیں ۔
”شکر ہے عبداللہ بھائی آپ کی آواز سنی ۔“کمانڈر عبدالحق کی اطمینان بھری آواز ابھری تھی ۔
(یہاں ایک بات قارئین کے گوش گزار کر دوں کہ وائرلیس سیٹ (ریڈیو سیٹ )پر جب ایک آدمی بات کر رہا ہو تو دوسرا صرف سن سکتا ہے اگر دوسرا بھی بٹن دبا کر بات کرنے کی کوشش کرے گا تو دونوں ایک دوسرے کی بات نہیں سن سکیں گے ۔اس لیے تربیت یافتہ افواج میں یہ طریقہ رائج ہے کہ جب ایک آدمی اپنی بات مکمل کر لیتا ہے تو ”اوور“کہہ کر بات کی تکمیل کا بتاتا بھی ہے تاکہ دوسرا اپنی بات کر سکے ۔عام لوگ ”اوور“وغیرہ کا کھٹ راگ نہیں پھیلاتے وہ بس اندازے ہی سے جان لیتے ہیں کہ مخالف کی بات مکمل ہو گئی ہے ۔دہشت گردوں کی گفتگو ایسے ہی بغیر ”اوور“ کہے چلتی رہتی ہے ۔اسی طرح مجاہدین کو بھی میں نے اسی طرح گفتگو کرتے سنا ہے ۔یہاں یہ وضاحت اس لیے کرنا پڑی کہ جن لوگوں کا کبھی ریڈیو سیٹ پر بات چیت کرنے کا اتفاق نہیں ہوا کہیں یہ بات انھیں الجھن میں نہ ڈال دے کہ اسی وائرلیس سیٹ پر بات کرتے ہوئے امریکن وغیرہ ہر بات کے اختتام پر اوور کر رہے تھے اور میں کمانڈر عبدالحق کے ساتھ بغیر ”اوور “کہے کیسے گفتگو کر تا رہا )
”باقی گپ بعد میں ہو گی یہ بتاﺅاس وقت کہاں پر ہو ؟“میں نے پوچھا ۔
”ہم طے شدہ جگہ پر جانے کے لیے نکل چکے تھے ،مگر ہیلی کی آمد کی وجہ سے رستے میں رک گئے ہیں ۔“
”واپس ٹھکانے پر پہنچو ۔وہیں آکر بات کرتے ہیں ۔“
”ٹھیک ہے ۔“اس کی اطمینان بھری آواز ابھری ۔وائرلیس سیٹ جیب میں ڈال کر میں نے دوبارہ اپنی رفتار بڑھا دی ۔نالے میں اتر تے ہی میرے کانوں میں کلاشن کوف کی تڑتڑاہٹ گونجی ۔چار پانچ کلاشن کوفیں اکھٹی ہی گرج رہی تھیں ۔
میں نے سر اٹھا کر دیکھادشمن بلندی پر پہنچ چکا تھا اور وہیں سے وہ نالے میں فائر کر رہے تھے ۔ کلاشن کوف کی کارگر رینج اتنی نہیں تھی کہ وہ مجھے وہاں سے نشانہ بنا سکتے ۔البتہ تعاقب کر کے مجھے نقصان پہنچانا مشکل نہیں تھا ۔ایک بڑے پتھر کی آڑ میں رک کر میں ان کا جائزہ لینے لگا ۔وہ میرے تعاقب کے لیے نشیب میں اترنے لگ گئے تھے ۔نزدیک پہنچنے پر میں ان کا مقابلہ نہ کر پاتا کیوں کہ سنائپر رائفل دور کی لڑائی کے لیے زیادہ موثر ہے نزدیکی اور دو بدو لڑائی میں تو آٹومیٹک اور ہلکی رائفل ہی زیادہ کارآمد ہوتی ہیں ۔ان پیش قدمی میں رکاوٹ ڈالنا ضروری تھا ۔رینج ماسٹر کو جھولے سے نکال کر میں نے پتھر پر لگایا فاصلہ ناپ کر ان کی بلندی کا زاویہ ناپا ،کیوں کہ درست فائر کرنے کے لیے مجھے ان تمام معلومات کی ضرورت تھی ۔البتہ اب میرا اتنا تجربہ ہو چکا تھا کہ ایک منٹ کے قلیل وقت میں میں رینج لگا چکا تھا ۔
پہلا فائر میں نے اس پر کیا جو سب سے آگے تھا ۔اس کی تیز رفتاری گولی لگنے کے بعد بھی برقرار رہی تھی ۔چونکہ میں نے بیرل پر سائیلنسر چڑھایا ہوا تھا اس لیے باقیوں نے اپنے ساتھی کے گرنے کو ٹھوکر لگنے پر محمول کیا تھا ۔لیکن اس کے بعد گرنے والے دو آدمیوں نے ایک دم ان کے قدموں میں رکاوٹ ڈال دی تھی ۔وہ چیخ چیخ کر ایک دوسرے کو آڑ لینے کا کہنے لگے ۔لیکن یہ ضروری تو نہیں تھا کہ تمام کو فوراََ ہی مضبوط آڑ مل جاتی ۔ان کے چھپنے تک دو اور آدمی باقی نہیں رہے تھے ۔باقی تین پتھروں کے پیچھے لیٹ کر اندھا دھند فائرنگ کرنے لگے ۔ان کی تعدادا دس تھی جبکہ میرے تعاقب میں آٹھ آرہے تھے ۔ اس کا مطلب یہی تھا کہ دو ہیلی کاپٹر کے ساتھ رک گئے تھے ۔میں وائرلیس سیٹ نکال کر ان کا مخصوص چینل لگالیا۔ کیوں کہ انھوں نے اس حادثے کی اطلاع توکسی کو دینا تھی ۔
”وہیں لیٹے رہو آڑسے باہر نہ نکلنا ،میں تم لوگوں سے بات کرتا ہوں ۔“میرے کانوں میں مبین کی آواز پڑی ۔یقینا وہ مبین کو اطلاع دے چکے تھے اور اب مبین انھیں حکمت عملی بتا رہا تھا ۔
انھیں انتظار کا کہہ کر وہ لورا براﺅن کو پکارنے لگا ۔”ٹو ون فار ون ون اوور....“
”سینڈ یور میسج اوور....“لورا کی آواز ابھری ۔میں نے محسوس کیا تھا کہ نک سے زیادہ وہ احکام پاس کرتی تھی ۔شاید وہ نک سے سینئر تھی یا پھر اسے کمانڈ کر نے کا کچھ زیادہ ہی شوق تھا ۔
مبین اسے پانچ آدمیوں کی ہلاکت کا بتانے لگا ۔
”یہ الو کے پٹھے اپنی حفاظت بھی نہیں کر سکتے ،ایک حرامی ان کے قابو میں نہیں آرہا ۔ اوور....“ غصے میں مبتلا ہو کر وہ گالیاں بکنے پر اتر آئی تھی ۔
مبین نے کہا ۔”میڈم ،میرا خیال ہے وہاں کوبرا بھیج دیتے ہیں ۔اب بڑے ہیلی کی حفاظت کے لیے کوبرے کی ضرورت نہیں رہی ۔تمام لاشیں ایک جال میں باندھ کر ایم آئی سیونٹین روانہ ہو چکا ہے ۔ اوور....“
”ٹھیک ہے اس کے پائلٹ کو بھی پہلے والے حرامی کا انجام بتا دو۔خالی بھونکنے والے سور اکھٹے ہو گئے ہیں ۔اوور اینڈ آل۔“ لورا براﺅن کا غصہ کم ہونے میں نہیں آرہا تھا ۔
”ہائے بے بی ،اتنے پیارے ہونٹوں سے اتنی گندی گندی گالیاں بکنا کوئی اچھی بات تو نہیں ہے نا ۔اوور....“میں اسے مزید سلگانے سے باز نہیں آیا تھا ۔
”تم ............“اس نے تم کے بعد ایسے الفاظ استعمال کیے تھے جو یہاں لکھنے کی کم از کم مجھے ہمت نہیں ہے ۔شاید انگریزی زبان کی ساری معروف اور غیر معروف گالیاں اسے ازبر تھیں ۔ ہمارے ہاں جو انگلش گالیاں زبان زدِ عام ہیں انھیں ہم اردو گالیوں کے مقابلے میں کم برا سمجھتے ہیں ۔یہ حکمران زبان کا اعجاز ہی ہے کہ گالیاں سننے والا بے ساختہ کہہ اٹھتا ہے ۔
لگتی ہیں گالیاں بھی تیرے منھ سے کیا بھلی
قربان ترے پھر سے مجھے کہہ دے اس طرح
مگر اس نے جو الفاظ منھ سے نکالے تھے ،مرد ہونے کے باوجود مجھے پہلی بار وہ سب سننے کا اتفاق ہوا تھا ۔کسی گالیاں بکنے والے کے جواب میں ویسے ہی الفاظ منھ سے نکالنے کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ آپ بھی اس کی سطح پر آگئے ہیں ۔اور اس میں کوئی شک نہیں کہ گالیاں بکنااپنی کمزوری اور بے بسی کا اظہار کرنا ہے ۔ لورا براﺅن بھی کچھ نہ کر سکنے پر یوں بے ہودگی پر اتر آئی تھی ۔
میں نے قہقہہ لگا کر اسے مزید سلگایا ۔وہ مزید مغلظات بکنے لگی ۔اس کی زبان رکنے پر میں نے پریشان لہجے میں کہا ۔
”یہ گالیاں بکنا کہیں اپنے ڈیٹ کے وعدے سے انحراف کی چال تو نہیں ہے ۔اوور....“
”مسٹر ،میں تمھیں یقین دلاتی ہوں کہ تمھاری موت بہت بری ہو گی ۔“ اس کا غصہ دیکھ کرلگ رہا تھا کہ اگر میں اس کے سامنے ہوتا تو وہ مجھے کچا ہی چبا ڈالتی ۔
”مطلب میرا اندازہ ٹھیک ہے ،تمھارے ساتھ ڈیٹ پر جانے کی خواہش خواب ہی بنی رہے گی ۔اوور....“میں نے یوں دکھ کا اظہار کیا گویا سچ میں وہ میری محبوبہ ہی ہو ۔
”اگر میرے سامنے ہوتے تو تمھیں بتا دیتی کہ تم کتنے کچھ دلیر ہو ۔“
اس سے باتیں کرتے ہوئے میں پتھروں کی آڑ میں لیٹے ہوئے دشمنوں سے ایک لمحے کے لیے بھی غافل نہیں ہوا تھا ۔ان کی موسلا دھار فائرنگ اب گاہے گاہے کی ٹخ ٹُخ میں تبدیل ہو چکی تھی ۔ میری ہمیشہ سے عادت رہی ہے کہ میں فضول ٹریگر دبانے سے پرہیز ہی کرتا ہوں ۔استادوں نے ہمیشہ بلا مقصد کی فائرنگ سے روکا تھا اور میں اس اصول پر سختی سے کاربند رہتا ہوں۔اسی وجہ سے تو دوران تربیت کبھی غلط گولی چلانے کی پاداش میں استاد محترم راﺅ تصور صاحب کے تادیبی وعظ سے بہرہ مند نہیں ہو سکا تھا ۔اس کا یہ مطلب بھی نہیں کہ میں ہمیشہ ہی بے عزتی کرانے سے محفوظ رہا ۔نشانہ بازی سے ہٹ کر خیر سے مجھے بھی درجنوں بار بے عزت ہونے کا شرف حاصل رہا ہے ۔لیکن یہ موقع تفصیل بتانے کا نہیں ہے۔
لورا براﺅن سیدھے منھ بات کرنے پر آمادہ نہیں تھی اور مجھے بھی خواہ مخواہ بے ہودہ الفاظ سننے کا کوئی شوق نہیں تھا ۔اس لیے میں مزید کچھ کہے بغیر دائیں بائیں کسی ایسی جگہ کی تلاش میں نظریں دوڑانے لگا جہاں میں ہیلی کی فائرنگ سے اپنا بچاﺅ کر سکتا ۔یوں بھی نالے میں جابہ جا ایسی چٹانیں بکھری پڑی تھیں جن کے نیچے گھس کر میں اپنا بچاﺅ کر سکتا تھا ۔اس لیے مجھے ہیلی کا اب پہلے جتنا خوف نہیں رہا تھا۔ بلکہ ایک ہیلی کو گرا لینے کے بعد میرا حوصلہ بلند تھا ۔میں چھپ کر ہیلی پر نشانہ سادھ سکتا تھا ۔یوں بھی سائیلنسر کی وجہ سے میری رائفل سے نکلنے والی گولی کی آواز ہی نہیں آتی تھی ۔
پچاس ساٹھ قدم دور مجھے ایک مناسب چٹان نظرآئی جس کے ساتھ کھوہ جیسی بنی تھی ۔میں رائفل کو اسی طرح کندھے پر رکھ کر اس جانب بڑھ گیا ۔دشمن مجھ سے چھے سات سو گز دور تھا اور اتنے فاصلے پرسے کلاشن کوف کی گولی سے مجھے نشانہ نہیں بنایا جا سکتا تھا ۔مطلوبہ چٹان کے پاس جا کر میں نے رائفل کندھے سے اتار کر پیچھے مڑ کر دیکھا تو حیران رہ گیا ۔تین آدمی بڑی تیز ی سے اوپر چڑھ رہے تھے ۔ جس وقت ان پر نظر پڑی وہ ایسی جگہ پر پہنچ چکے تھے کہ میرے نشانہ سادھنے سے پہلے ہی وہ نظر سے اوجھل ہو جاتے ۔اس لیے کسی ایسی کوشش سے گریز کرتے ہوئے میں ان کی طرف متوجہ رہا ۔مجھے لورا براﺅن کے ساتھ مصروف گفتگو پا کرکمانڈر مبین نے کسی اور چینل پر انھیں واپس لوٹنے کا حکم دے دیا تھا ۔ ہیلی کی آواز بھی اب تک میرے کانوں میں نہیں پڑی تھی ۔اور اس کا ایک ہی مطلب ہو سکتا تھا کہ ان کا منصوبہ تبدیل ہو چکا تھا ۔ویسے ہیلی کاپٹر کے نہ آنے کی ایک ٹیکنکل وجہ تو یہ بھی ہو سکتی تھی کہ ہیلی کا فیول کم رہ گیا ہو۔یوں بھی ہیلی کاپٹر ایک ایسی سواری ہے جسے بار بار ایندھن ڈلوانے کی ضرورت پڑتی ہے ۔ اس لیے ہیلی پر مسلسل لمبا سفر نہیں کیا جاسکتا ۔ہر تین چار گھنٹوں کے بعد ہیلی کو فیول ٹینک بھروانے کی ضرورت پڑ جاتی ہے ۔
دشمن کے نگاہوں سے اوجھل ہوتے ہی میں نے رینج ماسٹر کو جھولے میں ڈالا اور اپنے رستے ہو لیا ۔چلتے ہوئے میں وائرلیس سیٹ کے چینل بھی تبدیل کرتا گیا تاکہ کسی جگہ دشمن کی گفتگو سننے کو ملے ، مگر مجھے کامیابی نہیں ہوئی تھی ۔سارے چینلز کھنگالنے کے بعد میں نے پندرہ نمبر چینل لگا کر عبدالحق کو پکارنا شروع کر دیا ۔فوراََ ہی اس کاجواب موصول ہوا تھا ۔ وہ اس وقت اپنے ٹھکانے والی پہاڑی کی بلندی پر چڑھا تھا ۔صورت حال پوچھنے پر اس نے بتادیا کہ دونوں ہیلی کاپٹرز کو واپس جاتے ہوئے اس نے خود دیکھا ہے ۔اور اس کے علاوہ بھی کوئی خاص حرکت نظر نہیں آرہی تھی۔
ٹھکانے والی پہاڑی کے نالے میں پہنچتے ہی مجھے تین مسلح آدمی اپنا انتظار کرتے ملے ۔میرے منع کرنے کے باوجود عبدالحق نے ان آدمیوں کو نیچے بھیج دیا تھا ۔انھوں فوراََ ہی رینج ماسٹر کا جھولا مجھ سے لے لیا تھا ۔مسلسل بھاگ دوڑ اور جان بچانے کی کوشش میں میرے کپڑے نہایت گندے ہو چکے تھے ۔ پسینہ،جھاڑیوں کے پتے اور مٹی وغیرہ لگنے کی وجہ سے میں پورا بھوت بنا ہوا تھا ۔گو ایک سنائپر کو دشمن کی نظر سے چھپنے کے لیے اپنی شکل اور لباس کو خود ہی خراب کرنا پڑتا ہے ،لیکن میری اس وقت کی حالت کے ذمہ دار حالات تھے ۔
ٹھکانے پر پہنچتے ہی سب سے پہلے تو میں نے گرم پانی سے غسل کر کے کپڑے تبدیل کیے ۔ اس کے بعد کھانے کے لیے بیٹھ گیا کہ بھوک سے برا حال تھا ۔شام کی نماز پڑھ کر تمام میری کارگزاری سن رہے تھے ۔کمانڈر ضلع خان بہت خوش تھا ۔دشمن کو کافی عرصے بعد اتنا نقصان اٹھانا پڑا تھا ۔
میں نے پوچھا ۔”ویسے اس پہاڑی پر ہیلی کاپٹر کے اترنے جگہ تو نہیں تھی پھر انھوں نے لاشیں کس طرح اکٹھی کیں ۔“
ضلع خان بتانے لگا ۔”انھوں نے ایک جال نیچے پھینکا اور اس کے ہمراہ چار پانچ آدمی رسی کی سیڑھی سے نیچے اتر گئے ۔تمام لاشوں اکھٹی کر کے انھوں نے جال میں ڈالیںاورپھرجال کے چاروں کونوں میں لگے کنڈوں میں رسی گزار کر ہیلی کاپٹر کے نیچے باندھ دیا ۔ان کے لاشیں اکھٹا کرنے تک دونوں ہیلی ہوا میں چکراتے رہے تھے۔“
میں نے پوچھا ۔”آپ کہاں سے دیکھ رہے تھے ۔“
ضلع خان نے جوا ب دیا ۔”ہم بالکل قریب تھے ۔لیکن اس وقت فائر کرنا موت کو دعوت دینے کے برابر تھا ۔چھوٹے والا ہیلی کاپٹر بہت خطرناک ہے ۔ایک گولی فائر ہونے کے بعد شاید ہم میں سے کوئی نہ بچ پاتا ۔“
میں نے کہا ۔”اچھا اب عشاءکے بعداگلے مرحلے کے لیے تیار رہنا ۔“
”کیا مطلب ؟“کمانڈر عبدالحق اور ضلع خان نے بیک وقت پوچھا تھا ۔باقی بھی میری طرف متوجہ ہو گئے تھے ۔
ان کے سوال کو نظر انداز کرتے ہوئے میں نے ضلع خان سے پوچھا ۔”آپ کے پاس 12.7گنیں کتنی تعدادمیں موجود ہیں ۔“
اس نے کہا ۔”صرف دو ہیں ۔“
میں نے پنڈلی سے بندھا خنجر نکال کر غار کے فرش پر لکیریں کھینچنے لگا ۔دائیں بائیں کی پہاڑیوں کی نشاندہی کر کے میں انھیں تفصیل سے اپنا منصوبہ سمجھانے لگا ۔میرے منصوے کا لب لباب یہ تھا کہ میں ایک اونچی پہاڑی پر مورچہ پکڑ کر دشمن کے آدمیوں کو چن چن کر نشانہ بناتا ۔اس دوران ضلع خان کے آدمی اس پہاڑی کو گھیرے میں لے کر مجھے حفاظت مہیاکرتے رہتے تاکہ دشمن وہاں اپنے آدمی بھیج کر مجھے نقصان نہ پہنچا سکتا ۔اسی طرح ہیلی کاپٹرز کے خلاف وہ ساتھ والی پہاڑی پر 12.7گنیں لگا کر ان کی مدد سے ہیلی کے خلاف کارروائی کر سکتے تھے ۔
ضلع خان بولا ۔”منصوبہ تو بہت اچھا ہے مگر اس طرح ہم میں سے ایک بھی نہیں بچے گا ۔اگر دشمن کو ہماری پوزیشن واضح ہو گئی تو بمباری کرکے تمام پہاڑی کو سرمہ بنا ڈالے گا ۔اور پھر تین چار کوبرا ہیلی کاپٹرز کو دو گنوں سے تباہ نہیں کیا جا سکتا ۔وہ یہاں ڈرون بھی مار سکتے ہیں ،جنگی جہاز بھی بھیج سکتے ہیں ،اس لیے یہ منصوبہ قابل عمل نہیں ہے ۔ہم بس چھاپہ مار کارروائیاں کر سکتے ہیں ۔ایک جگہ پوزیشن سنبھال کر مقابلہ کرنے میں ہمارا سراسر نقصان ہے کیونکہ دشمن کے پاس بہت زیادہ وسائل موجودہیں ۔“
وہ کافی عرصے سے وہاں برسر پیکار تھے اور انھیں مجھ سے کئی گنا زیادہ تجربہ تھا ۔اس لیے میں بحث میں پڑے بغیر بولا ۔”پھر مجھے کیا کرنا چاہیے ؟“
ضلع خان بولا ۔”آپ اس سنائپرکا بندوبست کر دیں اس سے جان چھوٹنے کے بعد ہم اپنے طریقے سے کارروائیاں کرتے رہیں گے ۔“
”تو نک سٹیورٹ کوئی اکیلا سنائپر تو نہیں ہے ۔“
ضلع خان اطمینان سے بولا ۔”صحیح کہا ،مگر اس جیسا اچھا نشانے باز اتنی آسانی سے انھیں دوسرا نہیں ملے گا ۔باقی تربیتی کیمپ میں ہم نے اپنے مخصوص آدمیوں کو نشانہ بازی کی تربیت دینا شروع کر دی ہے جلد ہی ہمیں بھی اچھے سنائپر مل جائیں گے ۔“
”ٹھیک ہے ۔“میں فوراََ اس سے متفق ہو گیا تھا ۔یوں بھی میں خواہ مخواہ ہی اس بکھیڑے میں پھنس گیا تھا ۔مجھے واپس جا کر بہت سارے کام نبٹانا تھے اور میں افغانستان میں کسی اور کے مسائل میں الجھا تھا۔ یہاں جتنے کام میں کر چکا تھا سارے غیر قانونی تھے ۔پاک آرمی کا قانون مجھے کبھی بھی اس کی اجازت نہیں دیتا تھا ۔اب بھی میں جو کچھ کر رہا تھا چوری چھپے ہی کر رہا تھا ۔اگر کسی سینئر کو معلوم ہو جاتا تو مجھے سزا ملتے دیر نہ لگتی ۔
رات کو بستر پر لیٹتے وقت میں عبدالحق سے اگلے دن کے لائحہ عمل کے بارے بات چیت کرتارہا ۔تھکے ہونے کی وجہ سے ہم زیادہ دیر گپ شپ نہیں لگا سکے تھے ۔صبح ناشتے کے بعد میں اس کے ہمراہ اس مخصوص پہاڑی کی جانب روانہ تھا جسے میں نے کل چنا تھا ۔ضلع خان کے ہاتھوں دشمنوں کے دو ریڈیوسیٹ لگے تھے ایک کی بیٹری نکال کر ہم نے اضافی بیٹری کے طور پر ساتھ لے لی تھی۔ضلع خان کے آدمیوں سے رابطے کے لیے ہمارے پاس آئی کام بھی موجود تھا ۔کل جس پہاڑی پر میں نے نک سٹیورٹ اور لورا براﺅن کو پھنسایا تھا وہ ہمارے رستے ہی میں پڑ رہی تھی ۔اپنے ساتھیوں کی لاشیں تو وہ اٹھا کر لے گئے تھے، البتہ گاڑھا خون اب تک بکھرا تھا ۔میں نے عبدالحق کو وہ دو پتھر بھی دکھائے تھے جس کے عقب میں لورا براﺅن اور نک سٹیورٹ نے آڑ لیے رکھی تھی ۔
اس پہاڑی کو عبور کر نے کے بعد میں نے کمانڈر عبدالحق کو محتاط رہنے کا مشورہ دے دیا تھا ۔ دشمنوں کے ٹھکانے اور ہمارے درمیان ایک اور اونچی پہاڑی حائل تھی لیکن پھر بھی احتیاط بہت ضروری تھی ،کیوں کہ وہ جگہ دشمن کے ٹھکانے سے دیکھی جا سکتی تھی اور پھر نک سٹیورٹ جیسا نشانے باز بھی دشمن کی صفوں میں موجود تھا ۔ چھپتے چھپاتے درختوں کے تنوں ،جھاڑیوں اور پتھریلی چٹانوں کی آڑ لیتے ہم آخرکارپہاڑ کی بلندی پر پہنچ ہی گئے تھے ۔وہاں سے دشمن کے ٹھکانے کا ہوا ئی فاصلہ بارہ تیرہ سو میٹر تھا ۔ جس جگہ گزشتا کل میں نے نک سٹیورٹ کو پھنسایا تھا اس جگہ کا دشمنوں کے ٹھکانے سے فاصلہ انیس سو میٹر کے بہ قدر تھا ۔
سب سے پہلے جھاڑیوں کے درمیان ہم نے اپنے لیٹنے کی جگہ بنائی ۔یوں کہ وہاں ہم نہ صرف دشمن کی نظروں سے چھپ سکتے تھے بلکہ سامنے سے ہونے والی فائرنگ سے بھی بچ سکتے تھے ۔ رائفل کو تیار کر کے ہم بھی وہاں لیٹ گئے ۔دشمن کے ٹھکانے کا جائزہ لینے پر ہمیں کوئی چہل پہل نظر نہیں آرہی تھی ۔لازمی طور پر نک سٹیورٹ اور لورا براﺅن نے انھیں آڑ میں رہنے کی سختی سے احکامات دیے ہوں گے ۔ریڈیو سیٹ پر بھی خاموشی چھائی ہوئی تھی ۔
عبدالحق نے پوچھا ۔”ہم کب تک یہاں چھپے رہیں گے ۔“
میں مسکرایا۔”اب وقت کی گنتی بھول جاﺅ ،یہاں سے مر کر یا مار کر ہی واپسی ہو گی ۔“
کمانڈر عبدالحق فلسفیانہ لہجے میں بولا ۔”مجھے لگتا ہے ایک سنائپر کا ساتھ چن کر میں نے اپنے لیے خواری دیکھ لی ہے ۔“
میرے کھل کھلانے پر وہ دوبارہ بولا ۔”جانتے ہو سب سے مشکل کام انتظار کرنا ہوتا ہے ۔اور ایسا انتظار جس کا پھل ملنے کی امید کم ہی ہو وہ طبیعت پر اور بھی گراں گزرتا ہے ۔“
میں نے کہا ۔” یہی سنائپر کی زندگی ہے ۔اور ایسی زندگی ہر کوئی نہیں گزار سکتا ۔“
گپ شپ کرتے ہوئے بھی ہماری نظریں ہدف کی تلاش میں سرگرداں رہیں ۔اس دوران ہمیں تھوڑی بہت حرکت بھی نظر آئی لیکن اب میں اپنے ہدف کے علاوہ کسی کو نہیں مارنا چاہتا تھا ۔کیوں کہ کسی ایک آدمی کے مرتے ہی نک سٹیورٹ مزید چوکنا ہوجاتا ۔
عبدالحق نے پوچھا ۔”ویسے اپنے ہدف کو پہچانیں گے کیسے ؟“
”وہ زیادہ دیر یہاں چھپ کر نہیں لیٹے گا مجھے یقین ہے شکار کی تلاش میں وہ ضرور اپنے ٹھکانے سے نکلے گا اوراس وقت اس کی پہچان ہو جائے گی ۔“
”وہی تو پوچھ رہا ہوں نا ،جب اس کے ہمراہ اور آدمی بھی موجود ہوں گے تو کیسے اس کی پہچان ہو پائے گی ؟“
”جس جگہ بھی وہ فائر کرنے کے لیے لیٹے گا ہمیں اندازہ ہو جائے گا ۔“
کمانڈر عبدالحق کی سمجھ میں میرا فلسفہ آیا تھا یا نہیں لیکن اس نے دوبارہ اس متعلق سوال نہ پوچھا۔دوپہر کو ہم نے ساتھ لایا ہوا کھانا کھایا اور پانی پی کر دوبارہ نگرانی کے لیے لیٹ گئے ۔کھانے کے بعد عبدالحق کو نیند آنے لگی تھی ۔اسے سو جانے کا مشورہ دے کر میں جاگتا رہا ۔یوں بھی ایسے مواقع پر سنائپر نیند کو اپنے قریب نہیں پھٹکنے دیتا ۔میں گاہے گاہے ریڈیو سیٹ آن کر کے مختلف چینلز تبدیل کرتا رہا ۔ کھانا کھانے کے بعد ان کی ذرا سی ٹرانسمشن میں سن پایا تھا،مگر وہ ان کے روزمرہ کے کاموں کے متعلق تھی ۔ ان کی پانی لانے والی پارٹی کسی نزدیکی چشمے پر جا رہی تھی ۔اس پہاڑی پر صرف ایک ہی جانب اترنے کا رستا موجود تھا اور وہ رستا ہماری نظر میں تھا ۔پانی لانے والی پارٹی میری نظرو ںکے سامنے ہی نیچے گئی تھی اور انھیں میں آسانی سے نشانہ بھی بنا سکتا تھا ،لیکن اب میں کسی غیر اہم آدمی کی لاش گرا کر نک سٹیورٹ کو مزیدچوکنانہیں کرنا چاہتا تھا ۔سہ پہر کو عبدالحق کی آنکھ کھلی اور اسے میں نے مشرقی جانب کی ڈھلان پر رات گزارنے کی جگہ ڈھونڈنے کے لیے بھیج دیا ۔
اندھیرا چھانے سے پہلے ہی اس نے ایک غار ڈھونڈ لیا تھا ۔اورکافی ساری خشک لکڑیاں اس نے غار کے اندر اکٹھی کر دی تھیں ۔شام کا اندھیرا پھیلتے ہی میں اس کے ہمراہ غار میں پہنچ گیا ۔ چونکہ دشمن ہم سے مغربی جانب کی پہاڑی پر موجود تھا اس لیے ہم نے بے فکری سے آگ جلائے رکھی ۔ عبدالحق دن کو اچھی خاصی نیند لے چکا تھا اس لیے اس نے مجھے سو جانے کا مشورہ دیا ۔رات کے دو اڑھائی بجے تک وہ جاگتا رہا تھا ۔اس کے بعد مجھے جگا کر سو گیا ۔
میں اچھی خاصی نیند لے چکا تھا ۔عبدالحق نے قہوہ بنا کر رکھ چھوڑا تھا ۔گرم قہوے کی چسکیاں لیتے ہوئے میرے دماغ میں اسی کی یاد تھی جو کبھی بھولی نہیں تھی ۔نہ جانے وہ کہاں تھی ۔کبھی کبھی میرے دماغ میں بہت زیادہ ہولناک خیالات جنم لیتے جنھیں جھٹکنا بھی مشکل ہو جاتا ۔اس وقت بھی میرے دماغ میں اس کی گلا کرتی ہوئی آواز گونج رہی تھی ۔
”راجو ،کہاں غائب ہو گئے ہو ۔کب آﺅ گے میرے پاس ۔میں سختی سے منتظر ہوں راجو جلدی لوٹ آﺅ ۔“
میں اس کے پاس نک سٹیورٹ والا معاملہ نبٹا کر ہی جا سکتا تھا ۔پلوشے کی حسین یادوں کو زبردستی دور جھٹک کر میں موجودہ صورت حال سے نبٹنے کا طریقہ سوچنے لگا ۔صبح تک میں ایک قابل عمل منصوبہ سوچ چکا تھا۔پانی کا چشمہ غار سے ذرا ہی نیچے تھا۔ٹھنڈے پانی سے وضو کر کے میں نے ہموار جگہ پر چادر بچھا کر نماز پڑھی ۔میرے سلام پھیرنے تک عبدالحق بھی وضو کر کے پہنچ گیا تھا ۔میں غار کی طرف بڑھ گیا ۔سورج طلوع ہونے میں تھوڑی دیر تھی لیکن ارد گرد کے مناظر صاف ہو گئے تھے ۔میں جھولے سے لیزر رینج فائینڈر نکال کر بلندی پر پہنچ گیا ۔اور جو منصوبہ بنایا تھا اس کے مطابق پہاڑیوں کا فاصلہ ناپنے لگا ۔تھوڑی دیر بعد میں کمانڈر عبدالحق کو تمام منصوبہ سمجھا رہا تھا ۔
”آپ نے اس سرخ پہاڑی پر پہنچنا ہے ۔“اس پہاڑی کی مٹی کا رنگ سرخی مائل تھا اس لیے وہ دور سے سرخ ہی نظر آتی تھی اور تمام اسے سرخ پہاڑی ہی کہتے تھے ۔”سرخ پہاڑی سے دشمن کا ٹھکانہ تو دو کلومیٹر سے زیادہ دور ہے لیکن جہاں سے وہ پینے کا پانی بھرتے ہیں وہ جگہ پانچ چھے سو میٹر سرخ پہاڑی کی طرف واقع ہے اور نشیب میں بھی ہے ۔اس لیے سرخ پہاڑی سے آپ ان کے پانی بھرنے والوں کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔اگر چشمے کا فاصلہ سرخ پہاڑی سے دو کلومیٹر سے زیادہ بھی ہوا تب بھی اپ ہل ،ڈاﺅن ہل فارمولے کے تحت آپ آسانی سے وہاں سے فائر کر سکیں گے ۔اب آپ کی سر کوبی کے لیے نک کو لازماََ اس اونٹ کی کوہان نما پہاڑی پر جانا پڑے گا کہ اس سے ایک تو سرخ پہاڑی اس کی رینج میں ہو گی دوسرا کوہان شکل کی پہاڑی پر جانے کے لیے اسے رستے میں کوئی خاص خطرہ بھی درپیش نہیں ہو سکتا ۔ سب سے بڑھ کر دونوں پہاڑیوں کی بلندی برابر ہے جو نک کو مزید مذکورہ پہاڑی کی طرف مائل کرے گی۔“
عبدالحق صاف گوئی سے بولا ۔”میرے دماغ میں کافی سوال اٹھ رہے ہیں ۔“
میں اطمینان سے بولا ۔”باری باری پوچھنا شروع کر دو ۔“
”آپ کا کیا خیال ہے میں سنائپر رائفل سے اتنا کامیاب فائر کر لوں گا ۔“
”کامیاب فائر کی ضرورت ہی نہیں ہے ،بس وہاں پر اپنی موجودی کو ظاہر کرنا ہے ۔پانی بھرنے والوں میں سے کسی ایک کو بھی گولی لگ گئی یا انھیں اتنا ہی معلوم ہو گیا کہ ان پر گولیاں چلائی جا رہی ہیں تو سمجھو کام بن گیا ۔باقی آپ نے سنائپر رائفل کے متعلق پچھلے دنوں مجھ سے کافی کچھ سیکھا ہے ،سات آٹھ سو میٹر تک ہدف کو بھی نشانہ بنایا ہے اب آپ کو بلندی سے نشیب میں فائر کرنے کا فارمولا سمجھا دوں گا یہ اتنا مشکل نہیں ہے ۔“جن دنوں مجھے گولی لگی تھی تب گردیز کیمپ سے چار آدمی صغیر ،احسان ،اسلم اور مبین سنائپر رائفل کے متعلق سیکھنے آئے تھے ۔وہ چاروں بعد میں نک کا شکار بن کر شہید ہو گئے تھے ۔انھی کے ساتھ کمانڈر عبدالحق بھی رینج ماسٹر کے متعلق سیکھتا رہا تھا ۔
اس نے اگلا سوال پوچھا ۔”نک اِس پہاڑی پر بھی تو آسکتا ہے ۔“
”اس طرح تو میرا کام اور آسان ہو جائے گا ،مگر وہ یہاں آئے گا نہیں کیوں کہ یہاں سے سرخ پہاڑی کا فاصلہ زیادہ بنتا ہے ۔اسی طرح نک ،چشمے والی جگہ سے بھی فائر کر سکتا ہے۔اور کوئی بے وقوف سنائپر ہی ہو گا جو بلندی پر موجود سنائپر کے ساتھ نشیب میں مورچہ بنا کر لڑائی کرے ،جبکہ میرے خیال کے مطابق وہ بے وقوف نہیں ہے ۔اور بالفرض وہ چشمے والی جگہ ہی سے فائر کرتا ہے تب بھی میرے لیے زیادہ فائدہ ہے ۔“
”اس ساری تگ و دو کا مطلب؟“اس کے سوال جاری تھے ۔
”اسے بل سے نکالنا ۔یونھی لیٹے لیٹے ہم کب تک اس کا انتظار کریں گے ۔اور دشمن کو منصوبہ بنانے کا موقع دینے کے بجائے اسے اپنی مرضی کے میدان میں لانا زیادہ بہتر ہوتا ہے ۔“
”یہاں سے کوہان کی شکل والی پہاڑی کا فاصلہ کتنا ہے ؟“
میں نے کہا ۔”پچیس سو میٹر ۔“
”تو وہاں پر انھیں کیسے نشانہ بناﺅ گے ؟“اس نے حیرانی ظاہر کی ۔
”وہاں پہنچنے سے پہلے وہ اس نالے میں میرا نشانہ بنیں گے جہاں وہ بھاگ کر کہیں پناہ نہیں لے سکتے ۔میرا مطلب میں انھیں آڑ پکڑنے سے پہلے قتل کر دوں گا ۔“
”اس نالے سے تو وہ پہاڑی زیادہ نزدیک ہے ۔“اس نے نک سٹیورٹ کے گزشتا روز والے ٹھکانے کا ذکر کیا ۔
میں نے اثبات میں سر ہلایا۔”ہاں مگر اس بحث کو رہنے دو ۔“
” واپس ٹھکانے پر پہنچنا اور وہاں سے دوسری سنائپر رائفل اٹھا کر سرخ پہاڑی پر دشمن کے پانی لانے والی پارٹی سے پہلے پہنچنا ذرا مشکل دکھائی دیتا ہے ۔“
”وہ ضلع خان کے آدمی اپنے ٹھکانے سے اٹھا کر سرخ پہاڑی پر پہنچیں گے ۔آپ یہیں سے سرخ پہاڑی کا رخ کریں گے ۔آپ کو وہاں پہنچنے میں زیادہ سے زیادہ تین،ساڑھے تین گھنٹے لگیں گے ۔ یعنی دن کے دس بجے سے پہلے آپ وہاں ہوں گے ۔اور دشمن کی پانی پارٹی قریباََ گیارہ بارہ بجے چشمے کا رخ کرتی ہے ۔“
”میں تیار ہوں ۔“اس نے انگوٹھا اٹھا کر اشارہ کیا ۔
رینج ماسٹر کے متعلق اسے یوں بھی کافی کچھ پتا تھا ۔اپ ہل ،ڈاﺅن ہل فائر کے متعلق ضروری باتیں بتا کر میں نے اسے رائفل کی بیرل کے ساتھ زاویہ پیما لٹکا کر بلندی سے نشیب کا زاویہ ناپنے کا طریقہ سمجھادیا۔اس کے بعد میں اسے ضروری احتیاطوں کے بارے ایک بار پھر ہدایات دیں اور جانے کا اشارہ کر دیا ۔آئی کام سیٹ ہمارے پاس ایک ہی تھا اس لیے وہ میں نے اپنے پاس رکھ چھوڑا تھا۔کمانڈر عبدالحق کے لیے ضلع خان کے آدمیوں نے دوسرا آئی کام سیٹ لانا تھا ۔
اسے روانہ کر کے میں نے ضلع خان سے رابطہ کر کے پوچھا ۔
”کمانڈر ،آپ کے پاس ڈریگنوو رائفل موجود ہے نا ۔“
”موجود ہے ۔“اس کا اثباتی جواب سن کر میں نے کہا ۔”ایک ڈریگنوورائفل اور ایک رینج ماسٹر........“میں اسے مختصرا لفاظ میں ضروری ہدایات دینے لگا ۔اس سب سے فارغ ہو کر میں بہتر فائر کرنے کے لیے اپنے مورچے میں مناسب تبدیلیاں کرنے لگا ۔ گھنٹے ڈیڑھ بعد میں رینج ماسٹر کے پیچھے لیٹ کر علاقے کا جائزہ لے رہا تھا ۔نامعلوم میرا منصوبہ کامیاب ہوتا بھی تھا یا نہیں ۔لیکن یونھی ہاتھ پیر ہلائے بغیر لیٹا رہنا بھی تو مناسب نہیں تھا ۔
پونے دس بجے کمانڈر عبدالحق نے مجھے اپنی جگہ پر پہنچ جانے کا مژدہ سنا دیا تھا ۔اس کے ساتھ ہی ضلع خان کے بہروز نامی آدمی نے بھی اپنے جگہ پر پہنچ جانے کی اطلاع دی تھی ۔اب ہمیں دشمن کی پانی والی پارٹی کا انتظار کرنا تھا ۔
میں ٹیلی سکوپ سائیٹ میں دشمن کے ٹھکانے کا جائزہ لیتا رہا ۔ساڑھے دس بجے کے قریب مجھے پانچ آدمی نیچے اترتے دکھائی دیے ۔یہ پانی والی پارٹی تو اس لیے نہیں ہو سکتی تھی کہ وہ ایک جیپ میں نیچے جاتے تھے اور یہ پانچوں پیدل جا رہے تھے ۔دو آدمیوں نے اپنی پیٹھ پر جھولے بھی لادے ہوئے تھے ۔مجھے ایسا لگ رہا تھا کہ نک سٹیورٹ اس پارٹی کا حصہ ہے ۔ان کے ریڈیو سیٹ پر کوئی ٹرانسمشن نہیں ہورہی تھی۔میں مختلف چینل تبدیل کر کے ان کی باتیں سننے کی کوشش کرتا رہا ۔
ان کے ٹھکانے تک پہنچنے کا ایک ہی رستا تھا ۔لیکن پہاڑی کی نصف بلندی پر ایک ہموار پہاڑی تھی جہاں سے مختلف اطراف میں جایا جا سکتا تھا ۔اسے ان کے ٹھکانے کا بیس کہا جا سکتاہے ۔بیس سے پانی کا چشمہ شمال کی جانب نشیب میں موجود تھا ۔ان کا رخ جنوب کی طرف ہو گیا تھا ۔نشیب میں اتر کر وہ ایک نالے میں پہنچ جاتے ۔وہ نالہ کافی چوڑا اور کھلا تھا ۔اگر مجھے مکمل یقین ہوتا کہ وہ نک سٹیورٹ ہی کی پارٹی ہے تو انھیں نالے میں گھیرا جا سکتا تھا ۔اور یقینا اس دن میری قسمت عروج پر تھی کہ اچانک ایک فریکونسی پر مجھے لورا براﺅن کی آواز سنائی دے گئی ۔وہ کمانڈر مبین کو مخاطب تھی لیکن آج وہ صاف گفتگو کے بجائے کوڈ ورڈز میں بات کر رہی تھی ۔اس کا صاف مطلب یہی تھا کہ وہ ہمیں اپنی بات نہیں سمجھنے دینا چاہتے تھے ۔
وہ مبین سے پوچھ رہی تھی ۔”ٹو ون بات ہو گئی ہے ۔اوور....“
مبین نے جواب دیا ۔”یس میڈم ،تین تھرماس بھیج دیں گے ۔اوور....“اب پتا نہیں وہ تھرماس کیا بلا تھی ۔کیونکہ وہ چاے والے تھرماس تو ہونہیں سکتے تھے ۔
”کافی ہیں ،میں اپنی جگہ پہنچتے ہی تمھیں مطلع کر دوں گی ۔اوور....“
”میڈم ،انڈے دو درجن ہی ملیں گے ۔اوور....“
”گزارا ہو جائے گا ،اتنے ہی پرانے انڈے بھی تو موجود ہوں گے ۔اوور....“شاید وہ ہینڈ گرنیڈ کو انڈے کہہ رہے تھے ۔یہ بھی ممکن تھا انڈوں سے مراد کو ئی مخصوص ہتھیار ہو ۔وہ آدمی بھی ہو سکتے تھے ۔میرا ذہن مختلف اندازے لگاتا رہا ۔نالے میں اتر کر وہ پانچوں بڑے آرام سے ٹہلنے کے انداز میں آگے بڑھنے لگے ۔لورا براﺅن، مبین کو بتا رہی تھی کہ وہ نالے میں پہنچ گئے ہیں ۔ان کے جانے کا انداز دیکھ کر میرا ماتھا ٹھنکا ۔یقینا وہ نک سٹیورٹ کی پارٹی نہیں تھی ۔وہ اصل میں میرے لیے پھینکا گیا چارہ تھا ۔ کیونکہ لورا براﺅن مختلف انداز میں بار بار ریڈیو سیٹ پر یہ بتانے کی کوشش کر رہی تھی کہ وہ نالے میں آگے بڑھ رہے ہیں اور انھیں کوئی حرکت دکھائی نہیں دے رہی ۔
میں خاموشی سے ان کی بات چیت سنتا رہا ۔آدھا پون گھنٹا نالے میں پھرنے کے بعد وہ پارٹی واپس لوٹ آئی تھی ۔وہ لوگ بیس سے اوپر کا رخ کر رہے تھے ۔اوپر سے پانی والی جیپ اترتی دکھائی دی۔دس منٹ بعد جیپ چشمے پر پہنچ گئی تھی ۔اور پھر جیپ کے وہاں پہنچنے کے دو منٹ بعد سرخ پہاڑی کی جانب سے فائر کرنے کی ہلکی سی آواز آئی ۔میں اگر پوری طرح اس طرف متوجہ نہ ہوتا تو شاید وہ آواز نہ سن پاتا۔عبدالحق کے پاس موجود رینج ماسٹر پر سائیلنسر نہیں لگایا تھا کیوں کہ ہمارا مطمح نظر ہی دشمن کو اپنی جگہ سے آگاہ کرنے کا تھا ۔ فائر کے ساتھ ہی چشمے والی جگہ پر ہل چل مچ گئی تھی ۔میں مسلسل مختلف چینل تبدیل کر کے ان کی بات چیت سننے کی کوشش میں تھا ۔میری کوشش جلد ہی کامیاب ہو گئی تھی ۔چشمے پر موجود دشمن کے آدمی اپنے زخمی ہونے والے آدمی کی رپورٹ دے رہے تھے ۔
”فوراََ پتھروں کی آڑ لے کر اندازہ لگاﺅ کہ فائر کس طرف سے آیا ہے ۔اوور....“کمانڈر مبین نے انھیں ایسا حکم دیا جس پر وہ پہلے سے عمل پیرا ہو چکے تھے ۔
”ہم آڑ میں ہیں کمانڈراور فائر سامنے سرخ پہاڑی پر سے آرہا ہے ۔اوور....“
”ٹھیک ہے وہیں آڑ میں پڑے رہو ۔اگلے حکم تک کوئی اپنی جگہ سے حرکت نہیں کرے گا ۔ اوور اینڈ آل۔“ریڈیو سیٹ پر خاموشی چھا گئی تھی ۔
اسی وقت فائر کے دو ہلکے ہلکے دھماکے ہوئے ۔یقینا عبدالحق ابھی تک فائر کرنے میں لگا ہوا تھا ۔میں دشمن کے ٹھکانے کی طرف متوجہ رہا ۔ایک تیز رفتار جیپ اوپر سے اترتی نظر آئی ۔بیس پر آکر جیپ رک گئی تھی ۔چار آدمی جیپ سے باہر نکلے وہ جگہ ایسی تھی کہ میں صرف ایک آدمی کو کامیابی سے نشانہ بنا پاتا اور باقیوں کو چھپنے کا موقع مل جاتا ۔
دو آدمیوں نے اپنی پیٹھ پر جھولے لادے اور چاروں بیس کے غربی اور ان کے اپنے ٹھکانے کے شرقی جانب موجود ڈھلان میں اتر کر میری نظروں سے اوجھل ہو گئے ۔ میرے اندازے کے مطابق انھوں نے اس نالے میں چلتے ہوئے چشمے والی جگہ کو پیچھے چھوڑ کر اگلے نالے میں نمودار ہونا تھا ۔وہ بھی کافی وسیع نالہ تھا لیکن وہ جگہ سرخ پہاڑی سے نظر نہیں آتی تھی ۔مجھ سے اس جگہ کا فاصلہ اپ ہل ،ڈاﺅن ہل فارمولے کے مطاق انیس سو میٹر بنتاتھا اور گزشتا روز جس جگہ نک سٹیورٹ نے ٹھکانہ بنایا تھا اس پہاڑی سے وہ مقام چودہ پندرہ سو میٹر سے زیادہ نہیں بن رہا تھا ۔اگر میں اس جگہ ہوتا تو زیادہ آسانی انھیں نشانہ بنا سکتا تھا ،مگر میں نے جان بوجھ کر اس پہاڑی کو نظر انداز کر دیا تھا ۔اور کیوں نظر انداز کیا تھا اس متعلق آپ لوگوں کو بعد میں معلوم ہو جائے گا ۔ اگر وہ اس نالے کو عبور کر کے کوہان کی شکل والی پہاڑی کے دامن میں پہنچ جاتے تب بھی میری رینج سے باہر نکل جاتے ۔
جلد ہی مجھے اپنا اندازہ درست ہوتا نظر آیا ،وہ چاروں بغلی نالے سے نکل کر اس وسیع نالے میں نمودار ہوئے ۔چاروں ایک سیدھی قطار میں چلنے کے بجائے پھیل کر آگے بڑھ رہے تھے اور اس طرح میرا کام اور زیادہ آسان ہو گیا تھا ۔اتنی دور سے بھی ایک آدمی کے کندھوں سے نیچے تک پھیلے ہوئے بال ظاہر کر رہے تھے کہ وہ لورا براﺅن ہے ۔دو آدمیوں کی پیٹھ پر جھولے لدے تھے یقینا وہ معمولی آدمی تھے ۔ اب پیچھے صرف ایک آدمی بچ رہا تھا ۔اور کوئی شک نہیں کہ وہی نک سٹیورٹ تھا ۔یوں بھی اس وقت میں چاروں کو باری باری نشانہ بناسکتا تھا ۔ سر میں گولی مارنے کے بہ جائے میں نے اس کی ٹانگ پر نشانہ سادھا اور ٹریگر دبا دیا ۔وہ فوراََ منھ کے بل گرا تھا ۔لمبے بالوں والی یقینا لورا تھی وہ اسے سنبھالنے کے لیے اس کے ساتھ ہی بیٹھ گئی تھی ۔پھر اس کے ہاتھ میں مجھے ریڈسیٹ نظر آیا اور اگلے ہی لمحے اس کی گھبرائی ہوئی آواز مجھے سنائی دی ۔”موبن ،نک کو ٹانگ میں گولی لگ گئی ہے ۔اوور....“
”ہائے بے بی ۔“مبین سے پہلے میں نے بٹن دبا کر اسے پکارا ۔”ذرا نک سے تو بات کراﺅ ، کہیں زیادہ تکلیف تو نہیں ہورہی ۔“
اس نے گھبرا کر پوچھا ۔”تت....تم کہاں پر ہو ۔“
”کم از کم سرخ پہاڑی پر نہیں ہوں ....اور اگر مجھے ملنا چاہتی ہو تو ٹھیک جس جگہ بیٹھی ہو وہاں سے ناک کی سیدھ میں چلتی آﺅ مجھ سے ملاقات ہو جائے گی ۔اوور....“
وہ گڑگڑائی ۔”پپ....پلیز نک کو چھوڑ دو ۔“
میں نے قہقہہ لگایا ۔”رقیب کو کون زندہ چھوڑتا ہے بے بی ۔باقی اس احمق نک کو کہو کہ کیا میں اتنا گیا گزرا ہوں جو چشمے پر موجود شخص کے سر میں گولی نہ مار سکتا ۔اس وقت بھی میں نے جان بوجھ کر اسے ٹانگ میں گولی ماری ہے تاکہ اسے تڑپا سکوں ۔اوور....“
اس کی شکست خوردہ آواز ابھری ۔”کھان ،میں ہار تسلیم کرتی ہوں واقعی میں تم نے بہت خوب صورتی سے ہمیں گھیرا ۔اوور....“
”کوشش تو تم لوگوں نے بھی کی تھی ،مگر نہایت ہی بھونڈے طریقے سے ۔اوور....“
اس نے حسرت بھرے لہجے میں کہا ۔”کیا مجھے زندہ چھوڑ دو گے ۔“
میں بے نیازی سے بولا ۔”کیا کہہ سکتا ہوں ،ویسے پہلے نک کا تو بندوبست کر دوں نا ۔ اوور....“
”تت ....تم مجھے نظر نہیں آرہے ۔میں مرنے سے پہلے تمھیں دیکھنا چاہتی ہوں ۔اوور....“
میں ہنسا ۔”اتنی دور سے کیسے دیکھو گی ؟اوور....“
”تم بس اپنی جگہ پر ایک بار اٹھ کر دکھادو ،مرنے سے پہلے میں اپنی آخری حسرت پوری کرنا چاہتی ہوں ۔اوور....“
اس کی حسرت بھری آواز سن کر میں نے کہا ۔”اچھا ،اپنی آنکھوں سے دوربین لگاکر دیکھو ،میں اپنی جگہ پر کھڑا ہورہا ۔اوور....“یہ کہتے ہوئے میں نے آئی کام سیٹ اپنے قریب کر لیا تھا ۔
ایک چھوٹے سے وقفے کے بعد میں نے پوچھا ۔”دیکھ لیا ۔“
”ہا ںدیکھ لیا ۔“اس مرتبہ لورا کے بجائے نک سٹیورٹ کی آواز ابھری تھی ۔”اور جانتے ہو اب تم میرے نشانے پر ہو ۔میں واقعی اتنا بے وقوف نہیں تھا کہ اپنے آدمی کی ٹانگ میں لگنے والی گولی کو تم سے منسوب کرتا ۔اور اب تم اپنی جگہ سے ہل کر دکھاﺅ تاکہ میں تمھیں اپنا نشانہ دکھاسکوں ۔اوور....“
میں نے کہا ۔”تم دونوں اب بھی میرے نشانے پر ہو ۔اوور....“
وہ طنزیہ لہجے میں بولا ۔”بے وقوف نہ وہ لورا ہے اور نہ مجھے گولی لگی ہے ....اب یہیں لیٹ کر تھرماس ، میرا مطلب کوبروں کا انتظار کر و۔اتنا تو تمھیں معلوم ہو گیا ہو گا کہ کتنے تھرماس آرہے ہیں ۔ اوور....“
”تت....تم جھوٹ بول رہے ہو ۔“میں ہکلا گیا تھا ۔
اس نے قہقہہ لگایا ۔”اس بات کی تصدیق تم اپنا سر آڑ سے نکال کر کر سکتے ہو ۔اوور....“
میں ایک دم خاموش ہو گیا تھا۔نالے میں موجود زخمی کو لمبے بالوں والا سہارا دے کر آڑ کی طرف لے جا رہا تھا ۔میں نے انھیں یونھی جانے دیا تھا ۔
مجھے چپ دیکھ کر وہ دوبارہ بولا ۔”تم ایشیائی لوگ بس لڑکی کے ذرا سا توجہ دینے پر احمقوں کی طرح ردعمل ظاہر کرنا شروع کر دیتے ہو ۔بہ ہرحال تمھیں مر نے سے پہلے میں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ تمھاری نشانہ بازی نے مجھے متاثر کیا ہے ۔اور تم پہلے نشانہ باز ہو جس سے مجھے ڈر لگنے لگا تھا ۔بہ ہر حال اب چناﺅ تمھارے ہاتھ میں ہے ،کوبروں کی گنوں سے مرنا چاہتے ہو یا مجھے یہ موقع دو گے ۔اوور....“
جاری ہے
 

قسط نمبر 66
ریاض عاقب کوہلر
میں نے تھوک نگلتے ہوئے پوچھا ۔”لورا کہاں ہے ؟“
”نک کے ساتھ ہی ہوں بے بی ۔“وہ ہنسی ۔”سوری کہ اب تم میری ڈیٹ والی آفر سے فائدہ نہیں اٹھا سکو گے ۔اوور....“
”اگر میں کہوں کہ ا ب میںتمھیں مرنے سے پہلے دیکھنا چاہتا ہوں تو۔اوور....“میرے لہجے میں شامل حسرت یقینا اس کے لیے انوکھی نہیں تھی ۔
”اس نے قہقہہ لگایا ۔”ہاں تاکہ تم فوراََمجھے گولی مار سکو،میں جانتی ہوں کہ میں تمھاری رینج میں ہوں ۔اوور....“
میں نے فوراََ کہا ۔”وعدہ کرتا ہوں تمھیں گولی نہیں ماروں گا ۔اوور....“
وہ بے یقینی سے بولی ۔”میں تم پر کیوں اعتبار کروں ۔اوور....“
”تم جانتی ہوہم مسلمان اللہ پاک کا نام لے کر جھوٹ نہیں بولتے ۔تم اپنے سر سے ٹوپی اتار کر کھڑے ہو کر اپنے زلفوں کی جھلک دکھادو ۔اللہ پاک کی قسم تمھیں گولی نہیں ماروں گا ۔اوور....“
اس نے عجیب سے لہجے میں پوچھا ۔”میری زلفیں دیکھ کر کیا کرو گے ۔اوور....“
”ایک حسرت تھی دل میں اگر پوری کر دو ،باقی دو بارہ قسم کھاتا ہوں تمھیں گولی نہیں ماروں گا ، میرا مقابلہ تو نک کے ساتھ ہے نا ۔تھوڑی دیر پہلے جو نقلی لورا مجھے نظر آئی تھی اس پر بھی میں نے گولی نہیں چلائی تھی ۔اوور....“
”میں جانتی ہوں کہ میرا کھڑا ہونا حماقت ہے ،لیکن میں تم پر اعتبار کر کے کھڑی ہو رہی ہوں۔“اس کے ساتھ ہی اپنے سر سے ٹوپی اتار کر وہ زلفیں بکھرائے کھڑی ہو گئی ۔
”بس اسی طرح کھڑی رہو میں تھوڑی دیر تمھیں دیکھنا چاہتا ہوں ۔ اگر گولی چلانا ہوتی تو اب تک چلا چکا ہوتا،تم جانتی تو ہو نا میں کتنا تیز فائرر ہوں ۔اس کے ساتھ میں نک سٹیورٹ کو بتانا چاہتا ہوں کہ میں بھی تم متاثر ہوں دوست ۔اور مرنے سے پہلے جان لوکہ تم نے ایس ایس سے پنگا لینے کی کوشش کی تھی۔ گڈبائی ....“اتنا کہتے ہی میں نے ٹریگر دبا دیا ۔رینج ماسٹر کی گولی کا تیرہ سو میٹر کے فاصلے پر ضائع ہونے کا مطلب سنائپر کی نالائقی ہی ہو سکتی ہے اور میرے استادوں کے خیال میں میں نالائق نہیں ہوں ۔ نک سٹیورٹ کی کھوپڑی کا دایاں حصہ اڑ گیا تھا ۔
شاید قارئین کی سمجھ میں یہ کہانی نہ آئی ہو ۔میں وضاحت کر دیتا ہوں ۔کمانڈر عبدالحق کو بھیجتے وقت مجھے یقین تھا کہ اس کا فائر اتنا پختہ نہیں ہے کہ وہ لمبے فاصلے پر کسی کے سر میں گولی مار سکے ۔اور یقینا اگر اس کی گولی خطا جاتی یا مضروب کو جسم کے کسی اور حصے میں لگتی تواس بات پر نک سٹیورٹ چونک سکتا تھا۔ کیوں کہ اتنا تو اسے بھی معلوم تھا کہ اس کے مقابل کوئی ٹٹ پونجیا سنائپر نہیں تھا ۔ اب یہاں دو احتمال تھے یا تو وہ اس بات کو خاطر میں نہ لاتا اور کوہان کی شکل کی والی پہاڑی کی طرف دوڑ پڑتا ۔کیوں وہیں سے وہ سرخ پہاڑی پر موجود سنائپر کو نشانہ بنا سکتا تھا۔ ایسی صورت میں میں اسے نالے ہی میں گھیر لیتا بالکل اس طرح جیسے نقلی نک اور لورا کو گھیرا تھا ۔دوسرا احتمال یہ تھا کہ شک پڑ جانے پر وہ مجھے گھیرنے کی کوشش کرتا جیسا کہ اس نے کی ۔اس مقصد کے لیے سب سے پہلے اس کی نگاہ اسی پہاڑی پر پڑنا تھی جہاں وہ گزشتا روز پہنچا تھا ۔کیوں اسی جگہ سے کوہان کی شکل والی پہاڑی کے نالے کو بہت اچھی طرح سے رینج میں لایا جا سکتا تھا ۔ اور ایک بار اسے میرے مورچے کی جگہ معلوم ہو جاتی اس کے بعد وہ بڑی آسانی سے مجھے گھیر سکتا تھا ۔ اس مقصد کے لیے اس کے پاس کوبرا ہیلی کاپٹر منگوانے کی سہولت بھی موجود تھی ۔اب میںجس پہاڑی پر موجود تھا اس جگہ سے اپ ہل ،ڈاﺅن ہل کے فارمولے کے تحت تو نالے میں کارگر فائر گرایا جا سکتا تھا ویسے نہیں ۔اور یقینا جس نے سو فیصد درست فائر کرنا ہوتا وہ اس کے بجائے اول الذکر پہاڑی کا انتخاب کرتا ۔مگر میں نے ایسا جان بوجھ کر نہ کیا اور ضلع خان کو کہہ کر دوسری پہاڑی پر دو آدمی ڈریگنوو رائفل کے ساتھ بھجوا دیے ۔اور ضلع خان کو بتا دیا کہ ان کے پاس آئی کام سیٹ بھی ہونا چاہیے ۔انھیں جس جگہ مورچہ بنانا تھا یہ انھیں میں نے یہیں سے بتا دیا تھا ۔نقلی نک کو گولی لگتے ہی جب لورا نے میری جگہ کے بارے استفسار شروع کیا تبھی میں جان گیا تھا کہ اس کا مقصد کیا ہے ۔اس کے استفسار نے میرا کام اور زیادہ آسان کر دیا تھا ۔میں نے آئی کام پر ضلع خان کے آدمی بہروز کو بتایا کہ وہ اپنی جگہ پر کھڑا ہو کر ہاتھ لہرائے اور پھر لیٹ جائے ۔اس نے یونھی کیا اور نک سٹیورٹ کھل کر سامنے آگیا ۔اب جس جگہ بہروز موجود تھا وہ پہاڑی میرے شمالی جانب واقع تھی ۔جبکہ نک کو وہ پہاڑی جنوب مشرق میں پڑتی تھی ۔نک سٹیورٹ نے اس کے خلاف جب مورچہ سنبھالا تو وہ میرے مغربی جانب موجود تھا ۔ اس نے بہروز والی پہاڑی کی جانب سے اپنے سامنے آڑ پکڑی تھی میرے جانب اس کا دایاں بازو آرہا تھا ۔اور جس جگہ میں موجود تھا وہاں سے وہ آسانی سے دکھائی بھی دے گیا تھا ۔لیکن مسئلہ یہ آرہا تھا کہ لورا براﺅن اس کے دائیں جانب بہ طور مددگار بیٹھی تھی ۔اور اس کی وجہ سے میں نک کو براہ راست نشانہ نہیں بنا پا رہا تھا ۔تبھی میں نے لورا براﺅن کو کھڑا ہونے پر اکسایا اور جونھی وہ کھڑی ہوئی نک سٹیورٹ کی کھوپڑی میرے نشانے پر آگئی تھی ۔
”ہیلو بے بی ۔“میں نے دو تین دفعہ لورا براﺅن کو پکارا جو، نک کی کھوپڑی اڑتے ہی ایک دم بیٹھ گئی تھی ۔مگر نک اس کی ہر قسم کی مدد سے دور جا چکا تھا ۔
”تم جیت گئے ایس ایس ۔“خلاف توقع اس نے گالیاں نہیں بکیں تھیں ۔
میں نے مسکراتے ہوئے کہا ۔”آج گالیوں کا برسٹ نہیں چلایابے بی ۔اوور....“
اس نے عجیب سے لہجے میں پوچھا ۔”ایس ایس تم مجھے بھی مار سکتے تھے ۔اوور....“
میں نے قہقہہ لگایا ۔”ہاں مگر پھر ڈیٹ پر کس کے ساتھ جاتا ۔اوور....“اب میں کیا بتاتا ،کہ اسے مارنے کی صورت میں نک سٹیورٹ نے کبھی ہاتھ نہیں آنا تھا ۔اور میرا اصل شکار نک سٹیورٹ تھا وہ نہیں ۔اسی وجہ سے تو مجھے قسم کھا کر اسے اٹھنے پر مجبور کرنا پڑا تھا ۔البتہ نک کو قتل کرنے کے بعد میں اسے بھی گولی مار سکتا تھا ،مگر مسلمان ہونے کے ناتے مجھے یہ زیب نہیں دیتا تھا کہ میں اللہ پاک کی قسم کھا کر اس کے خلاف کرتا ۔ایسا کم از کم مجھ سے نہیں ہو سکتا تھا ۔
وہ پھیکے سے لہجے میں بولی ۔”سمجھ نہیں آتا شکریہ کہوں یا اپنے ساتھی کی موت کے غم تمھیں کوسوں ۔“
”اگر میرا مشورہ مانتی ہو تو کل تک یہاں سے غائب ہو جانا ۔شاید اس کے بعد سامنا ہونے پر مجھے ڈیٹ کا لالچ بھی نہ روک سکے ۔باقی میں اپنی جگہ پر کھڑا ہو رہا ہوں ،تم مجھے دیکھ سکتی ہو ۔پہلے میرا آدمی کھڑا ہوا تھا ۔اور ہاں میں دوربین سے تم پر نگاہ رکھے ہوئے ہوں ۔اور جانتا ہوں کہ تم بھی سنائپر ہو اس لیے بدلہ لینے کو کسی اور وقت کے لیے موّخر کر دو ۔اوور....“یہ کہہ کر میں اپنی جگہ پر کھڑا ہو گیا تھا ۔وہ بھی کھڑی ہو کر میرے جانب ہی دیکھ رہی تھی ۔اب اتنی دور سے مجھے اس کے چہرے پر چھائے تاثرات تو نظر نہیں آرہے تھے کہ وہ غصے میں ہے یا خوش دکھائی دے رہی ہے ۔نیچے جھک کر میں نے رینج ماسٹر کو اٹھا کر کندھے پر رکھا اور عقبی ڈھلان کی طرف بڑھ گیا ۔اس کے پاس اتنا موقع نہیں تھا کہ وہ فاصلہ ناپ کر رینج لگاتی اور مجھے نشانہ بنانے کی کوشش کرتی ۔ یوں بھی وہ مجھ سے خوف زدہ تھی ۔اس لیے اپنی جگہ پر کھڑی میری جانب گھورتی رہی ۔
ڈھلان میں اترتے ہی میں نے جلدی جلدی رینج ماسٹر کو جھولے میں ڈالا اور بہروزاور عبدالحق کو کال کر کے انھیں فوراََ ٹھکانے پر پہنچنے کا کہنے لگا ۔کیونکہ کوبرے کسی وقت بھی پہنچ کر ہماری فتح کو شکست سے دوچار کر سکتے تھے ۔
چلتے ہوئے میں ان کے ریڈیوسیٹ کے چینل بھی تبدیل کرتا گیا ۔ایک فریکونسی پر مبین پانی والی پارٹی کو واپس بلا رہا تھا ۔اس کی تھکی تھکی آواز سن کر معلوم ہو رہا تھا کہ اسے نک سٹیورٹ کی موت کاکافی دکھ ہوا تھا ۔لورا براﺅن کی آواز مجھے سنائی نہیں دے رہی تھی ۔
٭٭٭
ساری کہانی کی ضلع خان اور عبدالحق کو سمجھ تو آگئی تھی لیکن اس کے ساتھ ہی وہ بہت حیران بھی ہو رہے تھے ۔عبدالحق نے کہا ۔
”یار ،میری سمجھ میں یہ نہیں آرہا کہ آپ کو پہلے سے کیسے پتا چل گیا کہ وہ آپ کو سرخ پہاڑی کے بجائے کسی اور جگہ خیال کرے گا ۔“
”کیوں کہ وہ سنائپر تھا ۔اور اسے معلوم تھا کہ میرا نشانہ کیسا ہے ۔تیسری بات یہ کہ وہ خود مجھے گھیرنے کی کوشش کر چکا تھا اور یہ بھی جانتا تھا کہ میں ایسی کوشش کروں گا ۔بس ایک جگہ پر وہ مار کھا گیا کہ اس نے یقینی طور پر مجھے اسی پہاڑی پر موجود سمجھ لیا تھا جہاں بہروز موجود تھا ۔اور وہی پہاڑی ایسی تھی جہاں سے کوہان کی شکل والی پہاڑی کے نالے میں موجود کسی بھی آدمی کو بہت آسانی سے نشانہ بنایا جا سکتا تھا۔ ورنہ جہاں میں موجود تھا اس کا فاصلہ بہ ظاہر اس نالے سے دوکلومیٹر سے زیادہ تھا ۔میں تو بس اپ ہل ڈاﺅن ہل کے فارمولے سے فائدہ اٹھاتے ہوئے کام کر گزرا ۔باقی دشمن کا ٹھکانہ مسلسل میری نظر میں تھا اور میں منتظر تھا کہ کوئی مورچے میں بیٹھ کر اپنا سنائپر ہونا ظاہر کرے ۔“
وہ تعریفی لہجے میں بولا ۔”یار اتنی گہری چال ،یقین کرو میرا تو سر چکرا گیا ہے ۔“
میں نے کہا ۔”بہ ہرحال ،میں نے اپنا کام پورا کر دیا ہے اور اب میں واپس چلوں گا ۔“
ضلع خان نے کہا ۔”دوست آپ جب کہیں روانگی کا بندوبست ہو جائے گا ۔البتہ چند دن خدمت کا موقع دیتے تو ہمیں خوشی ہوتی ۔“
”کمانڈر ،میں نے اب تک غیر قانونی طور پر آپ لوگوں کی مدد کی ہے، جبکہ پاک آرمی کا قانون مجھے قطعناََ اس کی بات کی اجازت نہیں دیتا۔میری افغانستان آمد کا مقصد اپنی بے گناہی کے ثبوتوں کی تلاش تھی نہ کہ امریکن آرمی یا افغانستان آرمی کے خلاف کوئی کارروائی کرنا ۔باقی آپ لوگوں ہی کی وجہ سے مجھے اپنے مقصد میں کامیابی ملی ہے اور اتنی سہولتیں ملی ہیں کہ میں باآسانی کامیاب ہو پایاہوں ۔ اس لیے آپ تمام کا بہت بہت شکریہ ۔البتہ معذرت چاہوں گا ،کہ یہاں مزید کچھ وقت گزارنا میرے لیے ممکن نہیں ہوگا ۔“
ضلع خان مسکرایا ۔”آج کی رات گزارو گے یا ابھی رخصت لو گے ۔“
میں نے جواب دیا ۔”ان شاءاللہ صبح سویرے نکلوں گا ۔“
رات کو انھوں نے میرے لیے خصوصی دعوت کا بندوبست کیا تھا ۔غار کے اندر ہی انھوں نے سالم دنبہ لکڑیوں کے انبار پر بھونا تھا ۔دنبے کے پیٹ سے آلائشیں نکال کر انھوں نے چاول بھر دیے تھے۔ بہت ہی اعلا کھانا تیار ہوا تھا ۔میں ضرورت سے کچھ زیادہ ہی کھا گیا تھا ۔صبح سویرے نماز کے بعد ناشتے سے فارغ ہو کر میں اور کمانڈر عبدالحق جانے کے لیے تیار تھے ۔
سڑک تک جانے میں ہمیں دو تین گھنٹے لگے تھے وہاں سے ہمیں ارگون اور ساروبی تک گاڑی مل گئی تھی ۔وہ گاڑی مجاہدین ہی کی تھی ۔آگے کا رستا پیدل طے کرتے ہوئے ہم پکتیکا پہنچے ،کیونکہ میرا ارادہ کچھ خریداری کرنے کا تھا ۔قریباََ دو ہفتے پہلے میں چچا شمریز کے گھر تحائف بھجوا چکا تھا ۔لیکن خود اسی رستے سے جانے کا ارادہ تھا تو خالی ہاتھ جانا مناسب نہیں لگ رہا تھا ۔رات ہم نے شہر میں گزارنے کے بجائے آگے جانے کو ترجیح دی تھی ۔صبح کے قریب ہم اپنے ٹھکانے پر پہنچ گئے تھے ۔ناشتا وغیرہ کر کے ہم آرام کرنے لیٹ گئے ۔ظہر کی نماز پڑھ کر میں جانے کے لیے تیار تھا ۔کمانڈرعبدالحق نے بھی چھٹی جانا تھا اس لیے وہ بھی میرے ساتھ چل پڑا ۔جن رستوں کو میں نے پچھلی بار جان بچا کر بھاگتے ہوئے طے کیا تھا ان رستوں کو پیدل عبور کرتے ہوئے اچھا لگا تھا ۔عشاءکے قریب ہم غزنی خیل گاﺅں کے مضافات سے گزر رہے تھے ۔رات گزارنے کے لیے سردار سیلاب خان کی بیٹھک ایک بہترین چناﺅ تھا ۔میں کمانڈر عبدالحق کو ساتھ لے کر اسی جانب بڑھ گیا ۔
سیلاب خان مجھے دیکھ کر خوشی سے کھل اٹھا تھا ۔اس نے فوراََ ہی ہمارے لیے خصوصی کھانا تیار کرنے کا حکم دے دیا۔کمانڈررشید جان،الفت بادشاہ،مشر خان ،نوشاد گل ،گل ریز وغیرہ وہاں اکٹھے ہو گئے تھے ۔ان سے رخصت ہونے کے بعد میرا شلوبر قبیلے سے جو ٹاکرا ہوا تھا اور اس کے نتیجے میں شلوبروں کے زخمی اور قتل ہونے والے افراد کی خبر ان تک بھی پہنچ گئی تھی۔میرے ساتھ ان کے رویے میں پہلے سے زیادہ عقیدت جھلک رہی تھی ۔میں نے سردا ر سیلاب کو بتایا کہ ان کے قبیلے میں کوئی غدار موجود ہے کہ جس نے میرے بارے شلوبروں کو اطلا ع فراہم کی تھی ۔
سردار سیلاب خان نے سر ہلاتے ہوئے کہا ۔”ایک نہیں دو تھے ۔دونوں کے سرکاٹ کر شلوبر قبیلے کو بھجوا دیے تھے ۔البتہ ان کے دھڑ یہیں دفن کر نے پڑے۔اور سر کے بغیر جنازہ ہوسکتا ہے یا نہیں اس مسئلے کے بارے چونکہ ہمیں کوئی خاص معلومات نہیں تھیں اس لیے ہم جنازہ نہیں پڑھ سکے تھے ۔“
میں نے کہا ۔”دھڑ کے بغیر جنازہ ہوتا ہے یا نہیں یقینا یہ مسئلہ شلوبروں کو بھی معلوم نہیں ہوگا اور انھوں نے بھی یہی حل سوچا ہو گا جو آپ لوگوں کو سوجھا ۔“
کمانڈر عبدالحق نے لقمہ دیا ۔”غداروں کا یہی انجام ہوا کرتا ہے کہ انھیں نہ تو اپنے ،اپنا تسلیم کرتے ہیں اور نہ غیر ہی اپنانے کو تیا ر ہوتے ہیں ،وہ کیا بھلی سی کہاوت ہے ۔دھوبی کا کتا نہ گھر کا نہ گھاٹ کا ۔“
اسی گپ شپ کے دوران کھانا تیار ہو گیا تھا ۔کھانا کھانے کے بعد بھی سیلاب خان اور باقیوں نے ہمیں اتنی جلدی سونے کی اجازت نہیں دی تھی ۔ان کی شلوبروں کے ساتھ ابھی تک صلح نہیں ہوئی تھی۔ اس ضمن میں دو تین جرگے ہوچکے تھے ۔اب آخری اور حتمی جرگہ ایک ہفتے بعد ہونا تھا ۔ میرے اپنے اتنے مسائل تھے کہ میں دوسروں کے معاملات کی جانب متوجہ نہیں ہو سکتا تھا ۔وہ اپنے قبیلے کی لڑکی کو پھانسی دیتے ، اس کا سر قلم کرتے یا اس کے علاوہ ان کا کوئی اور منصوبہ تھا مجھے اس بارے جاننے میں کوئی دلچسپی نہیں تھی ۔اس لیے ان کی لڑائی کے بارے اجمالاََ پوچھ کر میں نے گفتگو کا رخ تبدیل کر دیا تھا۔
رات کو دیر سے سونے کے باوجود ہم صبح کی نماز اور ناشتے سے فارغ ہو کر جانے کے لیے تیار تھے ۔سردار سیلاب خان نے اپنے قبیلے کے درجن بھر آدمی میری حفاظت کے پیش نظر میرے ساتھ روانہ کر دینا چاہے مگر میں نے منع کر دیا ۔یوں بھی کمانڈر عبدالحق ،شلوبر قبیلے کے ساتھ میری صلح کی بات کر چکا تھا ۔سب سے بڑھ کر وہ میری واپسی سے بھی ناواقف تھے تو مجھے نقصان پہنچانے کا کیا سوچتے ۔اور اتنا تو وہ بھی جانتے تھے کہ میرے خلاف کوئی کارروائی کرنے کا مطلب بھڑوں کے چھتے کو چھیڑنے کے مترادف تھا ۔مجاہدین اتنے بھی کمزور نہیں تھے کہ ایک گاﺅں پر قابو نہ پا سکتے ۔
آتے وقت رستے پر برف پڑی تھی جبکہ اب اپریل کا اختتام تھا برف بالکل ختم ہو گئی تھی ۔ سردی کی شدت میں بھی پہلے جتنا زور باقی نہیں رہا تھا ۔سہ پہر ڈھلے میں اس جگہ سے گزر رہا تھا جہاں میری گلگارے سے آخری ملاقات ہوئی تھی ۔اس کی باتیں اس وقت بھی میری یاداشت میں تازہ تھیں ۔ اس کا گلہ کرنا ،میری جیب میں چوری پیسے ڈالنا ،مجھے واپس اسی رستے سے آنے کی تلقین کرنا ،پلوشہ سے ملنے کی خواہش کرنا وغیرہ ۔کوئی بھی بات مجھے بھولی نہیں تھی ۔صبح سیلاب خان کی بیٹھک سے نکلنے سے پہلے میں نے اسی کے بھیجے ہوئے کپڑے اور سوئیٹر پہن لی تھی ۔رنڑا گڑیا کی بھیجی ہوئی ٹوپی میرے سر پر تھی۔جس وقت میں وہاں سے گزر کر آگے گیا تھا تب وہاں خوب برف پڑی تھی ا ب نالہ میں پانی کی مقدار پہلے سے تھوڑی زیادہ ہو گئی تھی ۔سورج غروب ہونے سے پہلے ہم چچا شمریز کے گھر کے قریب پہنچ گئے تھے ۔دور ہی سے انگھیٹی کا دھواں دیکھ کر میرا دل خوشگوار انداز میں دھڑکنے لگا ، یقینا وہ گھر میں موجود تھے ۔مجھے یوں محسوس ہورہا تھا جیسے میں اپنے ہی گھر میں واپس جا رہا ہوں ۔کبھی کبھی سرِراہ ملنے والے مسافر ایسے ہی دل و دماغ کے قریب ہو جاتے ہیں کہ ان میں اور خون کے رشتوں میں تمیز کرنا محال ہو جاتا ہے ۔پلوشہ بھی تو مجھے یونھی ملی تھی کہ آج اس سے زیادہ میرے دل کے کوئی بھی قریب نہیں تھا ۔یہی حال شمریز چچا اور اس کے بچوں کا تھا ۔اگر میں برف باری میں نہ پھنستا تو شاید میں اس کے گھر کے باہر ہی سے یہ جانے بغیر آگے بڑھ گیا ہوتا کہ اس کے مکین کتنے مخلص ،محبت کرنے والے اور مہمان نواز ہیں ۔
دروازے پر دستک دیتے ہوئے میرے احساسات عجیب سے ہو رہے تھے ۔نہ جانے انھوں نے مجھے دیکھ کر کیا ردعمل ظاہرکرنا تھا ۔دستک دینے کے چند لمحوں بعد قدموں کی چاپ ابھری اور پھر دروازے میں لگی ذیلی کھڑکی کھول کر شمریز چچا کا شفقت بھرا چہرہ نمودار ہوا ۔مجھ پر نظر پڑتے ہی ایک لمحے کے لیے تو وہ گنگ رہ گئے تھے اور اس کے بعد ۔”ذیشان بیٹا!“کہتے ہوئے بڑی گرم جوشی سے مجھے لپٹ گئے تھے ۔مجھے زوردار انداز میں بازوﺅں میںبھینچ کر اس نے میرے ماتھے پر بوسا دیا اور پھر علاحدہ ہو کر کمانڈر عبدالحق سے ہاتھ ملانے لگے۔
”اچھا میں بیٹھک کا دروازہ کھولتا ہوں ۔“گھر میں دوبارہ گھس کر اس نے گھر کے کونے میں بنی ہوئی بیٹھک کا دروازہ کھول دیا ۔مجھے ہلکی سی سبکی کا احساس ہوا تھالیکن میں نے چہرے پر مسکراہٹ ہی طاری رکھی تھی ۔لیکن بیٹھک میں داخل ہوتے چچا شمریز نے میری حیرانی دور کر دی تھی ۔
”اچھا بیٹا ،میں مہمان کے ساتھ بیٹھا ہوں تم باقیوں کو مل لو ،ثمر خان کو کہوکہ مہمان کے لیے گرم پانی کا لوٹا لے آئے ۔“
”جی چچا جان ۔“میں اثبات میں سر ہلاتا ہوا بیگ سمیت بیٹھک میں لگے بغلی دروازے کی طرف بڑھ گیا ۔جونھی میں اندر داخل ہوا رنڑا گڑیا مجھے صحن ہی نظر آگئی تھی اور اسی طرف متوجہ تھی ۔ملگجی روشنی میں بھی اس نے مجھے پہچان لیا تھا ۔
”لالاجان !“وہ چیختے ہوئے میرے طرف بھاگی ۔اس کی چیخ سن کر باورچی خانے میں بیٹھی گلگارے بھی سرعت سے باہر نکلی تھی ۔ثمر خان اندرونی کمرے سے بھا گ کر نکلا ۔رنڑا چھوٹی بہنوں ہی کی طرح قریب آکر مجھ سے لپٹ گئی تھی ۔
”کیسی ہے میری چھوٹی سی بہادر بہن ۔“میں نے اس کے سر پر ہاتھ پھیرا ۔
”لالا جان ،میں آپ کو روز یاد کرتی تھی ۔اور آپ کی سلامتی سے لوٹ آنے کی دعائیں بھی مانگاکرتی تھی ۔“
میں مسکرایا ۔”دیکھ لواللہ پاک نے میری گڑیا کی دعاﺅں کو شرف قبولیت بخشا ہے ۔“
ثمر خان بھی قریب آکر مجھ سے چمٹ گیا تھا۔میں نے اسے دونوں بازوﺅں سے پکڑ کر زمین سے اوپر اٹھا کر اپنے برابر کیا ۔
”تم تو میرے جتنے لمبے ہو گئے ہو یار ۔“میں نے مسکراتے ہوئے اسے چھیڑا ۔
وہ فوراََ بولا ۔”رنڑا سے تو لمبا ہوں نا ۔“
اسے نیچے اتارتے ہوئے میں نے کہا ۔”شرم کرو یار ،بہنوں سے مقابلہ کرتے ہیں کیا ۔“
اسی وقت گلگارے کی دھیمی آواز میرے کانوں میں پڑی ۔”اکیلے آئے ہیں آپ ۔“
”نہیں ایک دوسرا مہمان بھی ہے ۔“میں نے اس کے روشن چہرے پر نگاہ ڈالی ۔اس کی شوخ نیلی آنکھیں مسکرا رہی تھیں ۔
اس نے فوراََ وضاحت کی ۔”میرا مطلب پلوشہ بہن سے ہے ۔“
میں گہرا سانس لے کر خاموش رہا تھا ۔ایک دم میرے چہرے پر اداس نے ڈیرا جما لیا تھا ۔
میری اداسی اس حساس لڑکی سے اوجھل نہیں رہ پائی تھی ،میرا ذہن بٹاتے ہوئے وہ فوراََ بولی ۔ ”اچھا پتا ہے ابھی دستک سن کر میں نے دعا کی تھی کہ یا اللہ یہ آپ ہوں ۔اب اگر مجھے معلوم ہوتا کہ یہ قبولیت کا وقت ہے تو ساتھ کچھ اور بھی مانگ لیتی ۔“
میں نے خوشگوار لہجے میں کہا ۔”بالکل ،اگر میرے ساتھ تم نے پلوشہ کے آنے کی دعا کر لی ہوتی تو کیا ہی بات تھی ۔“
”اچھا آپ کیسے ہیں ؟“اس نے موضوع تبدیل کیا ۔
”بالکل ٹھیک ہوں ۔“
”اندر چلیںنا ۔“اس نے کمرے کی طرف اشارہ کیا ۔
اس کے ہمراہ قدم بڑھاتے ہوئے میں ثمر خان کو بولا ۔”جوان ،مہمان کے لیے گرم پانی کا لوٹا لے جاﺅ ۔“
”جی لالاجی !“کہہ کر وہ باورچی خانے کی طرف بڑھ گیا ۔جبکہ رنڑا اور گلگارے میرے ساتھ انگھیٹی کے سامنے آ بیٹھی تھیں ۔
”آپ کا بھیجا ہوا سامان مل گیا تھا ،شکریہ اور یہ کپڑے پہننے پر بھی بہت بہت مہربانی ۔البتہ یہ فضول ٹوپی سر پر رکھنے کی کوئی خاص ضرورت نہیں تھی ۔“وہ ٹوپی مجھے رنڑا نے بھیجی تھی اس لیے وہ اسے چھیڑ رہی تھی ۔
”فضول کیوں ہے لالاجی میری ٹوپی تو ہر وقت پہن کر رکھیں گے ۔ہیں نا لالاجی !“
میں فوراََ بولا ۔”بالکل ،اپنی بہادر بہن کا اتنا قیمتی تحفہ میں سر سے اتار سکتا ہوں ۔“
رنڑا نے منھ بسورا۔”باجی کہتی ہیں کہ آپ نے جو میرے لیے چیزیں بھیجی تھیں وہ نقلی ہیں اور باجی کے لیے جو سامان بھیجا تھا وہ ان سے اچھا ہے ۔“
میں نے اسے تسلی دیتے ہوئے کہا ۔”اس کی اپنی چیزیں نقلی تھیں اس لیے تمھیں تنگ کرتی ہے پگلی ۔اور پتا ہے میں تمھارے لیے اور تحفے بھی لایا ہوں ۔“
اس نے سرعت سے پوچھا ۔”باجی کے لیے تو نہیں لائے نا ۔“
”مجھے یاد نہیں آرہا ،شاید کوئی چھوٹی موٹی چیز لے لی ہو ،آخر میری چھوٹی سی بہن کی باجی تو ہے نا ۔“
گلگارے متبسم ہو کر ہماری باتیں سن رہی تھی ۔کہنے لگی ۔”اگر میرے لیے کچھ نہیں لائے تو آپ فوراََ یہاں سے چلے جائیں ۔میں نے آپ کو گھر میں نہیں رہنے دینا ۔“
”یہ میرا بھی گھر ہے اور لالاجی یہیں رہیں گے ۔“رنڑا نے میری طرف داری کرنے میں ذرا بھی تساہل نہیں برتا تھا ۔
”تمھارا گھر ہے تو تمھیں رہنے دے رہی ہوں نا ۔“گلگارے نے سنجیدہ منھ بنا کر کہا ۔
”میں باباجان سے بات کرتی ہوں ۔“رنڑا غصے میں کہتی ہوئی کھڑی ہوئی ۔
”ایسے چھیڑ رہی تمھیں ،یہ کون ہوتی ہے مجھے نکالنے والی جاﺅ وضو کے لیے گرم پانی لے آﺅ ۔“ میں نے جلدی سے اسے روکا ورنہ وہ بیٹھک کا رخ کرنے والی تھی ۔
”ابھی لائی لالاجان ۔“وہ باورچی خانے کی طرف بھاگ گئی ۔
اس کے جاتے ہی میں نے کہا ۔”کیوں اسے تنگ کرتی ہو۔“
وہ منھ بناتے ہوئے بولی ۔”تو کیا کروں ،پندرہ سال کی ہو گئی ہے ،میرے برابر قد ہو گیا ہے اور اب تک بچپنا نہیں گیا اس کا ۔“
میں ہنسا ۔”وہ تو تمھارا بھی نہیں گیا ۔“
”اچھا آپ نے میری بہن پلوشہ کے بارے کچھ نہیں بتایا ۔“
”وہ اب تک نہیں ملی ۔“میں دوبارہ اداس ہو گیا تھا ۔
اس نے اشتیاق سے پوچھا ۔”ساری تفصیل بتاﺅ نا ؟“
میں نے رنڑا کو گرم پانی کی بالٹی غسل خانے میں لے جاتے دیکھ کر کہا ۔”رات کو گپ شپ کریں گے فی الحال نماز پڑھ لوں ۔“
”نماز تو میں نے بھی پڑھنا ہے ۔“وہ بھی اپنی جگہ سے اٹھ گئی ۔
٭٭٭
کھانا میں نے عبدالحق کے ساتھ بیٹھ کر کھایا تھا اور قہوہ پیتے ہی ثمر خان مجھے بلانے آگیا تھا ۔
”لالا جان ،باجی آپ کو بلا رہی ہے ۔“
عبدالحق نے کہا ۔”ذیشان بھائی ، میری فکر نہ کرو میں عشاءکی نماز پڑھ کر لیٹ رہا ہوں ،آپ بچوں کو وقت دیں ،صبح تو یوں بھی چلے جانا ہے ۔“
”شکریہ کمانڈر ۔“میں گھر کے اندر گھس گیا ۔ثمر خان مجھ سے پہلے بھاگ کر بہنوں کے پاس پہنچ گیا تھا ۔اور جاتے ہی یہ راز بھی فاش کر دیا کہ لالاجان صبح چلے جائیں گے ۔
”آپ صبح نہیں جا رہے ۔“میرے کمرے میں داخل ہوتے ہی گلگارے حتمی لہجے میں بولی تھی ۔
میں نے اسے ناراض نظروں سے گھورا۔”گویا میں نے اس رستے سے آکر غلطی کی ہے ۔“ اس نے نظریں چرانے کی کوشش نہیں کی تھی ۔گہری نیلی آنکھیں میں برہمی بھر تے ہوئے وہ طنزیہ لہجے میں بولی ۔
”بالکل غلطی تو کی ہے نا ،آخر یہاں کون آپ کا منتظر تھا ۔کون سا کسی نے آپ کے سلامتی سے لوٹ آنے کی دعائیں مانگیں ،کون سا کسی کے لیے آپ بہت اہم ہیں ۔آپ کی ضرورت ہی یہاں کس کو ہے ۔“
”اس بکواس کا مطلب ۔“میں نے اسے ہلکے سے ڈانٹا ۔
”کچھ نہیں ۔“بے رخی سے کہہ کر اٹھتے ہوئے وہ چھوٹی بہن کو مخاطب ہوئی ۔”رنڑا باباجان میرا پوچھیں ہیں تو کہہ دینا نیند آرہی تھی سو گئی ہے ۔“
اس نے اپنے کمرے کی طرف قدم بڑھائے ۔میں نے فوراََ اس کا ہاتھ پکڑتے ہوئے کہا ۔ ”کیا بچوں جیسی باتیں کر رہی ہو اور مذاق رنڑا کا اڑاتی ہو ۔“
وہ بے رخی سے بولی ۔” ہاتھ چھوڑیں ،میں نے سونے جانا ہے ۔“
میں اسے خوش کرتے ہوئے بولا ۔”اچھا صبح نہیں جاﺅں گا ،بس ۔“
اس نے میری طرف رخ پھیرا ،گہری نیلی آنکھوں کی تہہ میں پانی جمع ہو چکا تھا ۔لمحہ بھر مجھے گھورنے کے بعد وہ آہستہ سے بولی ۔”کم از کم ایک ہفتہ ۔“
میں زچ ہوتے ہوئے بولا ۔”پاگلوں والی بات نہ کرو ۔“
”ایک ہفتہ ،یا ابھی سے خدا حافظ ۔“وہ ڈٹ گئی ۔
میں بے بسی سے بولا ۔”تمھیں میرے حالات کا پتا نہیں ہے ۔“
وہ عجیب سے لہجے میں بولی ۔”ہاں ،مگر اپنی حالت کا تو پتا ہے نا ۔“
”اچھا اس بارے بعد میں بات کریں گے ،تم فی الحال بیٹھ تو جاﺅ۔“میں نے اسے چارپائی کی جانب کھینچا ۔رنڑا اور ثمر خان خاموشی سے ہماری بحث سن رہے تھے ۔
گہرا سانس لے کر وہ رنڑا کے ساتھ بیٹھ گئی ۔اس کے چہرے پر اب بھی ناراضی نظر آرہی تھی ۔
رنڑا معصومیت بھرے لہجے میں بولی ۔”لالاجی ،آپ باجی کی بات مان جائیں نا ۔“
”تم کچھ نہیں جانتیں ،تم چھوٹی سی بچی ہو گڑیا ۔“میں نے اسے ہلکے جھڑکا ۔
گلگارے نے منھ بنایا ۔”ہاں بڑے تو صرف آپ ہیں باقی سب بچے ہیں ۔“
”مطلب تم نے مار کھانے کا پورا منصوبہ بنایا ہوا ہے ۔“میں نے اسے دھمکایا۔
اسی وقت شمریز چچا اندر داخل ہوئے ۔”کس کی پٹائی کی بات ہو رہی ہے بھئی ۔“
”کسی کی نہیں چچا جان ،آپ سنائیں مہمان سو گیا ہے ۔“وہ شام سے مسلسل کمانڈر عبدالحق کے ساتھ ہی بیٹھے تھے ۔
”ہاں سو گیا ہے اور سنا ہے ایس ایس افغانستا ن میں بڑی دھوم مچا کر آرہا ہے ۔“
میں پھیکی مسکراہٹ سے بولا ۔”پتا نہیں کمانڈر نے کون کون سے کارنامے مجھ سے منسو ب کر کے آپ کو سنا دیے ہیں ۔“
”چلو آ پ سے سچ سن لیتے ہیں ۔“وہ اپنی رضائی میں گھس کر بیٹھ گیا تھا ۔میرے منع کرنے کے باوجود گلگارے نے میرا بستر بھی وہیں پر لگا دیا تھا ۔میں نے بھی نچلے دھڑ پر رضائی لیتے ہوئے ثمر خان اور رنڑا کو اپنے کمرے میں جا کر سونے کا کہا مگر دونوں نے انکار میں سر ہلادیا تھا ۔
رنڑا بولی ۔”ہم بھی آپ کی باتیں سنیں گے ،کیا پتا آپ کل چلے جائیں ۔“
چچا شمریز نے منت بھرے لہجے میں کہا ۔”ویسے یہ تو زیادتی ہے ذیشان میاں ،ایک دن تو قیام کر لیتے ۔“
”آپ فکر نہ کریں ابا جان یہ ایک ہفتہ کہیں نہیں جانے والے ۔“پر اعتماد لہجے میں کہتے ہوئے وہ مجھے مخاطب ہوئی ۔”آپ ہمیں یہاں سے جانے کے بعد کے حالات بتائیں ۔آپ زخمی کیسے ہوئے تھے اور باقی سب کچھ بھی ۔“
میں اس کی ہفتے والی بات کو نظر انداز کرتے ہوئے انھیں غزنی خیل اور شلوبر گاﺅں کی لڑائی کے بارے تفصیل سے بتانے لگا ۔جس کا اختتام نک سٹیورٹ کی موت پر ہوا ۔
گلگارے نے پوچھا ۔”پلوشہ بہن کی تلاش میں مجاہدین نے کیا پیش رفت دکھائی ہے ؟“
میں نے نفی میں سر ہلایا۔”فی الحال تو کچھ پتا نہیں چلا ۔“
”اچھا اب آرام کر لیں ۔“اس نے رنڑا اور ثمر خان کو اٹھنے کا اشارہ کیا ۔
صبح نماز پڑھ کر میں نے کمانڈر عبدالحق کو مزید ایک دو دن رکنے کا عندیہ دیا ۔
وہ صاف گوئی سے بولا ۔”میں زیادہ سے زیادہ آج کا دن رک سکتا ہوں ۔“
میں بے بسی سے بولا۔”ٹھیک ہے یار میں کوشش کرتا ہوں ،مگر بچے ضد کر رہے ہیں ۔“
وہ معنی خیز لہجے میں بولا ۔”بچوں کی تو خیر ہے کوئی بڑا ضد نہ کر رہا ہو۔اور اگر ایسا ہے تو آپ کو ضرور رکنا چاہیے ۔“
”اچھا میں ناشتا لے کر آتا ہوں ۔“اس کی بات کا جواب دیے بغیر میں گھر کی طرف بڑھ گیا ۔
گلگارے نماز پڑھ کر باورچی خانے میں گھسی تھی ۔میں بھی لکڑی کی چوکی لے کر وہیں بیٹھ گیا ۔ مجھے دیکھ کر اس کے چہرے پر قوس ِقزح کے رنگ جھلملانے لگے تھے ۔
وہ پوچھنے لگی ۔”ناشتا مہمان کے ساتھ کریں گے ۔“
”ہاں ،وہ بس جانے کے لیے تیار ہے ۔میرے کہنے پر ایک دن کے لیے رک گیا ہے ۔“
وہ بے نیازی سے بولی ۔”آپ کو ساتھ لے جانے کے لیے رکا ہے تو اسے ہفتہ رکنا پڑے گا۔“
”گل ،پتا ہے میں پلوشے کے لیے کتنا پریشان ہوں ،پہلے بھی اتنی دیر ہو گئی ہے ۔“میں نے اسے سمجھانے کی کوشش کی ۔
انڈہ فرائی کر دوں یا آملیٹ بنادوں ۔“اس نے گویا میری بات سنی ہی نہیں تھی ۔
میں نے امید بھرے لہجے میں پوچھا ۔”میری بات نہیں مانوگی ۔“
وہ نیازی سے بولی ۔”تو آپ کی مرضی ہی پوچھ رہی ہوں نا ،آملیٹ ،ابلا ہوا یا انڈہ فرائی کھائیں گے ۔“
میرے ہونٹوں پر پھیکی مسکراہٹ نمودار ہوئی ۔”جو مرضی ہے بنا دو۔“
”یہ دو دھ پی لیں ۔“اس نے جست کا کٹورا میرے سامنے رکھا جو گائے کے نیم گرم دودھ سے بھرا ہوا تھا ۔”یہ شہد بھی ڈال لیں ۔میں نے خود اتارا تھا ۔“اس نے ایک کھلے منھ والی خالص شہد کی بوتل بھی میری طرف بڑھا دی تھی ۔
”شکریہ ۔“دودھ میں شہد ملا کر میں نیم گرم دودھ سے لطف اندوز ہونے لگا ۔
”اب گھر جائیں گے یا ،وزیرستان سے پلوشہ کی تلاش شروع کر دیں گے ۔“
”ایک بار گھر تو جاﺅں گا ،کیونکہ اپنی بے گناہی کے ثبوت میں نے بھجوا دیے تھے اور اس کے بعد میرے یہاں رہنے کا کوئی جواز نہیں بنتا ۔
”ہونہہ!“ہنکارا بھرتے ہوئے وہ کچھ سوچنے لگی ۔چند لمحوں بعد اس کی آواز ابھری ۔ ”ویسے پلوشہ کس رستے سے افغانستان میں داخل ہوئی تھی ؟“
”نصراللہ خوجل خیل نے انھیں بھی اسی رستے کے متعلق ہدایات دی تھیں ۔لیکن یہ معلوم نہیں کہ وہ اس رستے سے افغانستا ن میں داخل ہوئے یا کسی اور رستے سے ۔“
”اگراس رستے سے گئے ہوتے تو یقینا کہیں نہ کہیں سے ان کی سن گن مل جاتی ۔انگور اڈے سے آنے والے لوگ عموماََ خواگاابو میں ضرور قیام کرتے ہیں ۔اور ہمارا گھر ایسی جگہ پر ہے کہ یہاں اکثرمہمانوں کی آمدورفت رہتی ہے ۔اس کے علاوہ بھی آپ اس پورے رستے پر سفر کر چکے ہیں اگر وہ اس رستے سے افغانستان میں داخل ہوئے ہوتے تو ان کی کہیں نہ کہیں سے سن گن آپ کو ضرور ملتی ۔سب سے بڑھ کر افغانستان میں سرگرم تنظیموں میں سے انھیں کسی نہ کسی کے ساتھ رابطہ ضرور کرنا چاہیے تھا کیونکہ امریکنز کے خلاف کام کرنے کے لیے ان تنظیموں کا سہارا لینا انسان کی مجبوری بن جاتی ہے ۔اور اگر وہاں کام کرنے والے دو تین گروپوں کے افراد سے پوچھنے کے باوجود ان کا پتا نہیں چل سکا ،بلکہ آپ کی ایک امریکن دوست نے بھی ان کے بارے لا علمی کا اظہار کیا ہے حالانکہ وہ کافی بڑی عہدہ دار ہے ۔“اس نے معنی خیز انداز میں جینیفر کا ذکر کر کے مجھے یہ باور کرانے کی کوشش کی تھی کہ وہ میرے جینی سے تعلق کو اچھی نظرسے نہیں دیکھ رہی تھی ۔
میں نے پوچھا ۔”تمھاری اس ساری کہانی سے کیا نتیجہ نکلتا ہے ۔“
”یہی کہ انھیں افغانستان داخل ہونے سے پہلے ہی کوئی حادثہ پیش آگیا ہویا وہ اپنا ارادہ موّخر کر کے واپس لوٹ گئے ہوں ۔اور اللہ کرے میرا آخری اندازہ ہی صحیح ہو ۔“
بات چیت کے دوران اس کے ہاتھ نہیں رکے تھے دیسی گھی میں پراٹھے بنا کر اس نے چار انڈے فرائی کیے اور گائے کے تازہ دودھ کی گاڑھی چاے بنا کر اس نے خالص دیہاتی اور گھر کا ناشتا تیار کر دیا تھا۔
”بعد میں بات کرتے ہیں ۔“میں ناشتے کے برتن اٹھا کر بیٹھک کی طرف بڑھ گیا ۔چچاشمریز خان ،کمانڈر عبدالحق کے ساتھ بیٹھا تھا ۔ناشتا کر کے میں نے برتن اٹھائے اور گھر میں گھس گیا ۔یوں محسوس ہو رہا تھا جیسے وہ میرا اپنا ہی گھر ہو ۔رنڑا اور ثمر خان جاگ گئے تھے ۔میں ان کے لائے ہوئے تحائف ان کے حوالے کرنے لگا ۔اس میں شک نہیں کہ تحائف کو محبت بڑھانے میں ایک خاص مقام حاصل ہے ۔تحفہ پانے والے کو یہ احساس ہوتا ہے کہ وہ تحفہ لانے والے کے لیے کتنا اہم اور خاص ہے ۔ اور یہ کہ تحفہ لانے والے نے اسے نظروں سے اوجھل ہونے کے بعد بھی یاد رکھا ہے ۔گلگارے اور شمریز چچا کے لیے بھی میں نے تحائف خریدے تھے ۔گلگارے کے بدن پر مجھے وہی لباس نظر آرہا تھا جو دو ہفتے پہلے میں نے کسی اور کے ہاتھ بھجوایا تھا ۔
دن کا زیادہ وقت میں نے گلگارے ،رنڑا اور ثمر خان کے ساتھ ہی گزارا تھا ۔گلگارے نے مجھے یہ خوش خبری بھی سنائی تھی کہ شاید مہینے ڈیڑھ تک ان کے گاﺅں میں بھی موبائل فون کے سگنل آنے لگ جائیں ۔اس نے میرا موبائل فون نمبر بھی اپنے پاس لکھ لیا تھا ۔البتہ اس کی ناراضی کے خوف سے اس کے بعد میں نے جانے کا ذکر نہیں کیا تھا ۔رات کو رنڑا اور ثمر خان کے سونے کے بعد بھی میں چچا شمریز اور گلگارے کے ساتھ گپ شپ کر رہا تھا ۔گلگارے چاے بنا کر لے آئی ۔دوران گفتگو چچا شمریز پوچھنے لگا۔
”صبح جانے کا ارادہ ہے یا نہیں ۔“
میں نے گہرا سانس لے کر گلگارے کی طرف دیکھا جو بہ ظاہر بے نیازی سے چمڑے کے بوٹوں کو گھور رہی تھی جو میں اس کے لیے لے آیا تھا ۔میں دھیمے لہجے میں بولا ۔
”فی الحال تو اجازت نہیں ملی ۔“
”اجازت ۔“چچا شمریز حیران رہ گیا تھا ۔
میں مسکرایا ۔”گل سے پوچھ لیں ۔“
وہ اطمینان سے بولی ۔”ابا جان یہ چند دن تویہیں رکیں گے نا ۔“
”مگر بیٹی ،اسے کافی کام کرنے ہیں ۔“چچا شمریز اسے سمجھانے لگا ۔
”تو ....“اس نے بے نیازی سے کندھے اچکائے ۔
”اسے چھوڑو ذیشان بیٹا ،صبح جانے کی تیاری کرو ۔آپ کا یہاں رہنا مجھے بھی پسند ہے لیکن پہلے آپ کے اپنے کام ہیں ۔البتہ پلوشہ بیٹی کے ملنے کے بعد میں درخواست کروں گا کہ چند دن کے لیے ہمیں خدمت کا موقع ضرور دینا ۔“
وہ ضدی لہجے میں بولی ۔”یہ نہیں جائیں گے ۔“
میں نے فوراََ کہا ۔”چچا شمریز آپ ہمیں تنگ نہ کریں ،جب ایک بار طے ہو گیا کہ میں نہیں جاﺅں گا تو بس بات ختم ۔“
میرا انداز دیکھتے ہوئے وہ کھل کھلا کر ہنس پڑی ۔”سن لیا ابو جان ۔“
”جو مرضی آئے کرو۔“چچا شمریز نے ناراض لہجے میں کہتے ہوئے اپنا سر رضائی میں کر لیا ۔
”آپ بھی آرام کریں ۔“ایک گہری نگاہ مجھ پر ڈال کر وہ چاے کی پیالیاں سمیٹتے ہوئے باہرنکل گئی ۔
صبح نماز پڑھ کر میں نے باورچی خانے میں جا کر شہد ملا نیم گرم دودھ پیا اور ناشتا تیار کر کے میرے حوالے کرتے ہوئے اس نے دھیرے سے پوچھا ۔
”رستے کے لیے دال کے پراٹھے بنا دوں یا سالن تیا رکر دوں ۔“
میںمسکرایا ۔”خوشی سے کہہ رہی ہو ۔“
”اگر پلوشہ بہن کی فکر نہ ہوتی تو ہرگز اجازت نہ دیتی ۔اور شکریہ آپ نے میرا مان رکھا ۔“
”اگر پلوشہ کی فکر نہ ہوتی توکم از کم یہ شہد کی بوتل ختم ہونے تک میں ضرور ٹھہرتا۔“
وہ معنی خیز لہجے میں بولی ۔”دیکھ لیں ،کہیں یہ نہ ہو آپ کی اگلی بارکی آمد سے پہلے میں اتنا شہد اکٹھا کر لوں کہ آپ سے وہ شہد ختم ہی نہ ہو پائے ۔“
”ان شاءاللہ ،اگلی بار تمھاری بہن پلوشے میرے ساتھ ہو گی اور یقینا وہ شہد ختم کرانے میں میری مدد کرے گی ۔“
”ان شاءاللہ ۔“اس نے خلوص بھرے لہجے میں کہا اور میں ناشتے کے برتنوں کے ساتھ بیٹھک کی طرف بڑھ گیا ۔
” کیا ارادہ ہے ؟“ناشتا شروع کرنے سے پہلے ہی عبدالحق مستفسر ہوا ۔
میں نے کہا ۔”بس راستے کے لیے کھانا تیار ہو رہا ہے ۔“
”اور وہ رات والی گفتگو کا کیا ہوا ۔“چچا شمریز مستفسر ہوئے ۔
”منا لیا ہے ،پلوشہ کی گمشدگی پروہ بھی پریشان ہے ۔بس یونھی اپنی اہمیت جتانا چاہتی تھی ۔“
ناشتے کے بعد ہم جانے کے لیے تیار تھے ۔گلگارے نے دال کے پراٹھے بنا کر کپڑے میں باندھ دیے تھے ۔تمام نے دکھی دل سے مجھے الوداع کہا تھا ۔سب سے آخر میں گلگارے میرے قریب آئی ۔
”پلوشہ بہن کے ملتے ہی یہاں آنا ہو گا ۔“
”ان شاءاللہ کوشش کروں گا ۔“
”اکیلے نہیں ،ان کے ساتھ ۔“اس نے انگلی کھڑی کرتے ہوئے مجھے تنبیہ کی ۔
”ہاں اس کے ساتھ گل !....وہ ضروراس لڑکی کو دیکھنا چاہے گی جس کی وجہ سے اس کے راجو کی جان بچی ہے اورجو اس کے راجو کی مسیحا ہے ۔“
”اپنا خیال رکھنا ۔اللہ پاک آپ کو اپنے حفظ و امان میں رکھے ۔“دھیرے سے کہہ کر اس نے مجھے الوداع کہہ دیا ۔
جاری ہے
 

قسط نمبر 67
ریاض عاقب کوہلر
میں کمانڈر عبدالحق کے ساتھ اس رستے پر دوبارہ گامزن ہو گیا کہ جس رستے پر میں نے برف کا عذاب جھیلا تھا ۔اسے میں نے وہ سارا واقعہ بتایا اور ساتھ ہی یہ کہ گلگارے نے کس طرح میری جان بچائی تھی ۔وہ بے ساختہ کہہ اٹھا ۔
”واقعی ایسی لڑکی عزت اور احترام کے قابل ہے ۔اگر اس کے کہنے پر آپ کو مہینا بھی رکنا پڑ جاتا تو آپ کا احسان نہ ہوتا ۔“
”کمانڈر ،میں اسے بہن کی طرح پاکیزہ اور قابل احترام سمجھتا ہوں ،مگر وہ مجھے بھائی نہیں کہتی، مجبوراََ میں بھی اسے نام سے پکارنے لگ گیا ۔“
وہ فلسفیانہ لہجے میں بولا ۔”کچھ رشتوں کو بے نام اور الجھا ہوا چھوڑ دینے پر دل چاہتا ہے اور ایسی حالت میں دل کی بات مان لینا چاہیے ۔باقی زندگی موت کا کیا بھروسا ،ہو سکتا ہے اسے بھی آپ کی زندگی میں داخل ہونے کا کوئی رستا مل جائے ۔“
”میرے پاس اسے امید دلانے کی کوئی گنجائش موجود نہیں ہے کمانڈر۔میری زندگی میں کئی ایسی لڑکیاں آئی ہیں جنھیں میں پسند کرتا تھا بلکہ اب بھی کرتا ہوں ،گل بھی ان میں سے ایک ہے۔ خوب صورت ،شریف ،مخلص،سلجھی ہوئی ۔لیکن بہ خداپلوشہ وہ واحد لڑکی ہے جسے میں نے دل کی گہرائیوں سے چاہا ہے۔ محبت کی ہے اور جو مجھے اتنی ہی ضروری لگتی ہے جتنا کہ سانس لینا ضروری ہوتا ہے ۔دو تین بار مجھ پر ایسا وقت بھی بیتا کہ میں اپنے آخری سانس گن رہا تھا ،ان لمحات میں بھی وہ مجھے نہ بھولی ۔“
وہ مسکرایا ۔”پلو خان کی تو کیا ہی بات تھی ۔بہت ہی ہونہار اور لائق شاگرد تھا ۔ہر چیز کو اتنا جلدی سمجھ جاتا تھاکہ بعض اوقات ہم اساتذہ حیران رہ جاتے ۔خالی ہاتھ لڑائی کرنا،ہتھیار چلانا ،پڑھائی لکھائی ، مختلف زبانیں سیکھنا ،چھاپہ مار کارروائی کے منصوبے بنانا ،گاڑی چلانا ،یہاں تک کہ جسم میں لگی ہوئی گولی کو خنجر کی نوک سے یوں صفائی سے نکال لیتاتھا کہ یقین مانواس طرح ہم سے یہ کام نہیں ہو تا تھا ۔ سب استادوں کا چہتا شاگرد تھا۔اللہ پاک اس پر اپنی رحمت برسائے اور اس کی تمام منازل کو آسان فرمائے ۔“
میں معترض ہوا ”وہ فوت تو نہیں ہوئی یار کہ اس کی مغفرت کی دعا شروع کر دی ۔“
عبدالحق کے چہرے پر پھیکی مسکراہٹ نمودار ہوئی مگر اس نے کچھ کہنے سے گریز کیا تھا ۔
دوپہر کو ایک چشمے کے کنارے بیٹھ کر کھانے کی پوٹلی کھولی ۔اس میں ایک تہہ شدہ کاغذ دیکھ کر کمانڈرعبدالحق نے میری طرف بڑھادیا ۔”یقینا یہ آپ کے لیے ہو گا ۔“
وہ گلگارے کا خط تھا ۔سلام و دعا کے بعد اس نے لکھا تھا ۔
”پتا نہیں زندگی دوبارہ ملنے کا موقع دیتی ہے یا نہیں ،لیکن ایک بات جو میں اب مزید چھپا نہیں سکتی اور آپ کو بتا دینا چاہتی ہوں ۔میرا ارادہ تھا کہ آپ کا دوبارہ سامنا ہونے پر ضرور معذرت کروں گی، آپ آئے اور چلے بھی گئے لیکن مجھے ہمت نہ ہو سکی۔البتہ کاغذ قلم نے مجھے یہ ہمت عطا کر دی ہے ۔اس دن رات کو مورچے میں میں انجانے میں یا غلطی سے آپ کے قریب نہیں ہوئی تھی ۔ہو سکے تو مجھے معاف کر دینا ۔امیدہے اگلی ملاقات تک آپ یہ بات بھلا چکے ہوں گے اور میری بہن پلوشہ سے بھی اس بات کا ذکر نہیں گے ۔ میں نہیں چاہتی کہ پلوشہ بہن کے دل میں میرے بارے کوئی غلط فہمی جڑ پکڑ لے۔پلوشہ مجھے رنڑا کی طرح ہی پیاری ہے ۔اس کے علاوہ نصیر خان بار بار ابوجان کے پاس اپنے بیٹے کے لیے میرا رشتا مانگنے آرہے ہیں ۔اس کا بیٹا فخرالاسلام خان ایک اچھا اور سلجھا ہوا جوان ہے ۔ابو جان بھی یہ اچھا رشتا گنوانا نہیں چاہتے ۔میرا خیال ہے ہاں کر دیتی ہوں ۔کیوں کہ خواہ مخواہ کی امیدیں باندھنا کوئی صحت مندانہ روش نہیں ہے۔ہر لڑکی پلوشہ بہن کی طرح خوش قسمت نہیں ہوتی۔ اسی طرح کوئی بھی اچھے خاندان کی لڑکی اپنی چھوٹی بہن کا گھر اجاڑ کر یقینا اپنا گھر نہیں بسانا چاہے گی اور میں بھی اپنے آپ کو اچھے خاندان ہی کاسمجھتی ہوں ۔باقی مجھے یقین ہے کہ میرے ہاں کرتے ہی وہ ایک ماہ کے اندر اندر شادی پر زور دیں گے ۔فخرالاسلام خان مجھ سے بہت محبت کرتا ہے اور میں نے سوچ لیا ہے کہ ایک محبت بھرے دل کو توڑنا بالکل ہی غلط ہو گا ۔آپ کو پہلے سے بتا رہی ہوں ۔ چند دنوں تک میں کسی اور کے نام سے منسوب ہو جاﺅں گی ۔اگر میری شادی میں پلوشہ بہن کے ساتھ شرکت کی تو میرے دل میں کوئی گلہ نہیں بچے گا ۔ خدا حافظ ....آپ کی چھوٹی بہن رنڑا کی باجی گل ۔“
میرے گل کہنے پر وہ خود کو گل ہی کہنے لگ گئی تھی ۔مجھے خط پڑھتے دیکھ کرکمانڈر عبدالحق آگ جلا نے لگ گیا تھا۔خط پڑھ کر میں نے آگ میں پھینک دیا ۔ گلگارے کا وہ راز میں نے سینے میں دفن کر دیا تھا ۔اپنی محسن کی یہ بات کسی کو بیان کر کے میں اس کے کردار کو ہلکا نہیں کر سکتا تھا ۔یہ اس کی اخلاقی جرّات تھی کہ اس نے اعتراف کر لیا تھا ۔باقی اس کی ذومعنی گفتگو آنکھیں میں چھپی التجا اور اس کے انداز دیکھ کر مجھے پہلے سے اس کے دل میں چھپے جذبات معلوم ہو گئے تھے ۔اور اب تو اس نے خط میں کھل کر اعتراف بھی کر لیا تھا لیکن اس کے اس نے ساتھ اپنے ہوش مندانہ فیصلے سے مجھے خوش بھی کر دیا تھا۔
کھانے اور گرم قہوے سے لطف اندوز ہونے کے بعد ہم نے ظہر کی نماز پڑھی اور دوبارہ کمر باندھ لی ۔اور پھر رات کو بھی رکے بغیر چلتے رہے ۔صبح کی آذان کے وقت ہم انگور اڈے پہنچ گئے تھے ۔ کمانڈر نصراللہ خوجل خیل نے ہمیں بڑے خلوص سے خوش آمدید کہا تھا ۔ساری رات چلنے کی وجہ سے ہم تھکن محسوس کر رہے تھے لیکن ہمارا ارادہ آرام کرنے کا بالکل نہیں تھا ۔چچا نصراللہ خوجل خیل کے پاس ناشتا کر کے ہم گپ شپ کرنے لگے ۔ان کے پاس ہمارے لیے کوئی خوش خبری موجود نہیں تھی ۔کمانڈر اسلام کے بارے معلوم ہوا تھا کہ وہ پلوشہ اور سردار کے بارے پوچھ گچھ کرنے کے لیے ان کے پاس آیا تھا ۔اس کے بعد اس کی کوئی خبر نہیں تھی ۔مجھے کچھ سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ کیا کروں ۔البتہ کمانڈر عبدالحق نے مجھے زبردستی ساتھ چلنے کا کہا ۔اس کا کہنا تھا کہ میں ایک بار اپنے سینئرز سے ملاقات کر لوں ۔مجھ پر لگے الزامات کے ثبوت ملنے کے بعد میرے لیے کیا طے کیا جانا تھا اس کا سامنا کر لوں اس کے بعد میں آرام سے پلوشہ کو تلاش کر سکتا تھا ۔مجھے اس کی بات ماننا پڑی۔ اور ہم چچا نصراللہ سے اجازت لے کر ویگن اڈے کی طرف بڑھ گئے ۔ان سے لی ہوئی کلاشن کوف میں نے ان کے پاس ہی چھوڑ دی تھی کیوں کہ وہ میں اپنے ساتھ آگے تو نہیں لے جاسکتا تھا ۔ڈیرہ اسماعیل خان پہنچ کر کمانڈر عبدالحق مجھ سے الوداع ہوتے وقت عجیب سے لہجے میں بولا ۔
”ذیشان بھائی ،مجھے معاف کردینا یار ۔“
”کیا مطلب ؟“میری چہرے پر حیرانی بھری مسکراہٹ ابھری ۔
وہ گلو گیر لہجے میں بولا ۔”ویسے ہی بس ،دانستہ یا نادانستگی میں کوئی غلطی ہو جاتی ہے نا یار ۔“
میں اس کی پیٹھ تھپتھپاتے ہوئے بولا ۔”وہ تو ہر کسی سے ہو جاتی ہے ،شاید مجھ سے بھی ہوئی ہو۔“
ویگن اڈے سے اس نے پشاور کی گاڑی پکڑی اور میں راولپنڈی روانہ ہو گیا ۔مجھے معلوم تھا کہ گھر جا کر میں نے پھنس جانا ہے اور گھروالوں نے پلوشہ کے بارے پوچھ پوچھ کر میرے دماغ کی لسی بنا دینا ہے ۔اس لیے بہتر یہی تھا کہ میں پہلے اورنگ زیب صاحب سے ملاقات کر لیتا ۔ڈیرہ اسماعیل خان سے راولپنڈی تک میں اپنی نیند پوری کرتا رہا ۔صبح کی آذان کے وقت میں پیرودھائی موڑ پر اتر رہا تھا ۔میرا موبائل فون وغیرہ چونکہ اورنگ زیب صاحب ہی کے پاس رہ گیا تھا ۔اس لیے مجھے ایک دکان دار سے فون مانگ کر اورنگ زیب صاحب کو کال کرنا پڑی ۔وہ سویا ہوا تھا ۔اس کی نیند میں ڈوبی ہوئی ۔”ہیلو ۔“ میرے کانوں میں گونجی ۔
میں نے فوراََ کہا۔ ”اسلام علیکم سر میں ذیشان بات کر رہاہوں اور اس وقت پیر ودھائی موڑ پر کھڑا ہوں ۔“
”وعلیکم اسلام ،مجھے بیس منٹ لگیں گے ۔“ان کی آواز سے غنودگی غائب ہو گئی تھی ۔
میں وہیں پر ان کا انتظار کرنے لگا وہ بتائے گئے وقت سے دو منٹ پہلے پہنچ گئے تھے۔پرتپاک انداز میں مجھ سے چھاتی ملاتے ہوئے انھوں نے میری پیٹھ تھپکی ۔اور میں ان کے ساتھ روانہ ہو گیا ۔
”ویسے ،وہ ثبوت تمھیں خود لانے چاہیے تھے ۔“کار آگے بڑھاتے ہی اس نھوں نے سوال کیا ۔
”بس سر، ایک چھوٹے سے کام کے لیے وہیں رہ گیا تھا اس لیے کسی اور کے ہاتھ بھجوانے پڑے ۔“
وہ مسکرائے ۔”تمھارا چھوٹا کام کسی کے سر میں گولی اتارنا ہی ہو سکتا ہے ۔“
”کچھ ایسا ہی سمجھیں سر ۔“میرے لبوں پر پھیکی مسکراہٹ نمودار ہوئی ۔
”تمھاری کہانی تو تفصیل سے سنوں گا فی الحال یہ سن لو کہ تم پر لگے الزامات تو صاف ہو گئے ہیں لیکن مجھے بے ہوش کر کے تم نے بھاگنے کی جو غلطی کی ہے اس کا مقدمہ ابھی تک باقی ہے ۔“یہ کہتے ہوئے وہ کھل کھلا کر ہنس پڑے تھے ۔
میں ترکی بہ ترکی بولا ۔”ایک فیلڈ ایجنٹ سے ایسی چھوٹی موٹی غلطیاں تو ہوتی رہتی ہیں سر ۔“
”ہاں ،مگر سزا کا سامنا تو کرنا پڑتا ہے نا ۔“انھوں نے کار اپنے گھر کی طرف موڑ دی تھی ۔ ناشتا کرا کر انھوں نے مجھے آرام کا مشورہ دیا۔آرام دہ بستر پاتے ہی میں سو گیا تھا ۔مسلسل دو راتوں سے مجھے بستر نصیب نہیں ہوا تھا ۔ دوپہر کے گیارہ بجے جگا کر انھوں نے مجھے تیار ہونے کا حکم دیا ۔میرے ناپ کی وردی اور بوٹوں وغیرہ کا بندوبست انھوں کر دیا تھا ۔ بارہ بجے مجھے کرنل احمد کے سامنے پیش کیا گیا۔کرنل صاحب کو ساری بات اورنگ زیب صاحب تفصیل سے بتا چکے تھے ۔میرے سابقہ کارناموں کو دیکھتے ہوئے اور میری مجبوری کو مدنظر رکھ کر انھوں نے مجھے خالی وارننگ دینے پر اکتفا کیا تھا۔ اس کے ساتھ ہی انھوں نے مجھے واپس اپنی یونٹ میں بھیجنے کا حکم بھی دے دیا تھا۔اتنی آسانی سے جان چھوٹنے پر میں نے اللہ پاک کا شکر ادا کیا تھا ۔البتہ میری اپنی یونٹ کے کرنل صاحب تک بھی یہ تمام باتیں تحریری صورت میں بھجوا دی گئی تھیں ۔نامعلوم ان کا کیا فیصلہ ہوتا ۔اور مجھے لگ بھی یہی رہاتھا کہ کرنل احمد نے میری سزا وغیرہ کا تعین میری یونٹ کے کرنل صاحب کی صواب دید پر چھوڑ دیا تھا ۔(یہاں پر آرمی کے قانون وغیرہ کے متعلق اس لیے کچھ لکھنے سے گریز کر رہا ہوں کہ اس کے نہ جاننے سے نہ تو کہانی پر کوئی اثر پڑتاہے اور نہ قارئین کے لیے ایسی معلومات جاننا فائدہ مند ہے ۔اس لیے یہ سطور میں نے بالکل ہی اجمالاََ تحریر کی ہیں۔ حالانکہ اپنے مقدمے پر میں کئی صفحات کالے کر سکتا تھا لیکن یہ ایک بوریت بھری کارروائی کا تذکرہ ہوتے )
آرمی میں ایک یونٹ سے دوسری یونٹ میں تبدیلی پر چند دن کی چھٹی ضرور ملتی ہے ۔جسے ”Joining time“کہتے ہیں ۔
”سر ،موو آرڈر پر جتنی زیادہ چھٹی دے سکتے ہیں دے دینا ۔“کرنل صاحب کے دفتر سے باہر آتے ہی میں اورنگ زیب صاحب کو مخاطب ہوا ۔
”دے دوں گا ،مگرکیا کرنا ہے لمبی چھٹی کا ؟“وہ مستفسر ہوئے ۔
میں صاف گوئی سے بولا ۔”سر ،میری بیوی پلوشہ کا اب تک پتا نہیں چلا اس کی تلاش میں جانا چاہتا ہوں ۔“یوں بھی اورنگ زیب صاحب کا ساتھ میرا تعلق سینئر ،جونیئر کے علاوہ بھی کچھ بن چکا تھا ۔ اس لیے میں ان سے کوئی بات خفیہ نہیں رکھنا چاہتا تھا ۔
”کیا ؟“ان کے چہرے پر حیرانی ابھری ۔
”جی سر ،سردار خان اور پلوشہ بھی میری بے گناہی کے ثبوت ڈھونڈنے گئے تھے ۔شاید سردار خان کو تو بھگوڑا ظاہر کر دیا گیا ہو ۔اس کی چھٹی تو کب کی ختم ہو چکی ہو گی ۔“
اورنگ زیب صاحب میری بات کا جواب دیے بغیر مجھے ساتھ لے کراپنے دفتر میں داخل ہوئے ۔مجھے بیٹھنے کا اشارہ کر کے انھوں نے انٹرکام اٹھا کر کلرک کو میرا یونٹ واپسی کا Move Order تیار کرنے کا حکم دیا اور ساتھ ہی یہ بتا دیا کہ Joining Timانتیس دن بھر دے ۔وہ زیادہ سے زیادہ اتنی چھٹی ہی دے سکتے تھے ۔
رسیور رکھ کر اس نے ایک لفافہ میری طرف بڑھایا جس میں میرا سروس کارڈ ،شناختی کارڈ اور موبائل فون وغیرہ موجود تھا ۔یہ وہ سامان تھا جو میری گرفتاری کے وقت یہاں جمع کیا گیا تھا ۔
”شکریہ ۔“میں سامان وردی کی جیبوں میں منتقل کرنے لگا ۔
وہ گھمبیر لہجے میں بولے ۔“سردار اپنے گھر میں ہے حادثے میں اس کی دائیں ٹانگ ٹوٹ گئی تھی ۔اس حادثے کی وجہ سے اسے بھی واپس یونٹ بھیج دیا گیا ہے ۔“
”پپ....پلوشہ ....؟“مجھے اپنی آواز جیسے کھائی سے آتی ہوئی محسوس ہوئی تھی ۔
”اس بارے تمھیں سردار ہی تفصیل بتائے گا ۔“وہ کچھ بتانے پر آمادہ نہیں تھے ۔ان کا دکھ بھر ا لہجہ میرا دل ہولائے دے رہا تھا ۔
”سر کچھ تو بتائیں ۔وہ ٹھیک تو ہے نا۔کیا وہ بھی حادثے کے وقت سردار کے ساتھ تھی ۔“میرا ذہن ماﺅف ہوتا جا رہا تھا ۔کیا سردار کی طرح وہ بھی زخمی تھی ۔اگر ایسا تھا تو مجھے گھر والوں نے کیوں نہیںبتایا تھا ۔انھیں تو لازماََ یہ خبر ہو جانا چاہیے تھی ۔یا ممکن تھا کہ جس وقت میں نے گھر فون کیا تھا اس وقت تک سردار وغیرہ کا حادثہ نہ ہوا ہو ۔
وہ نپے تلے الفاظ میں بولا ۔”ذیشان ،بہت سارے حادثوں کو ،اپنے پیاروں کے بچھڑنے کو اور ان کی معذوری وغیرہ کو ہمیں برداشت کرنا پڑتا ہے ۔اب میں نہیں جانتا کہ پلوشہ کے ساتھ کیا ہواہے یا کچھ بھی نہیں ہوا ۔یہ سردار کو معلوم ہے وہی تمھیں تفصیل سے بتا سکتا ہے ۔سچ کہوں تو میں بس ایک بار ہی سرسری انداز میں سردار سے مل پایا ہوں اور تمھاری بیوی چونکہ کوئی سرکاری آدمی نہیں ہے اس لیے نہ میں نے سردار سے اس کے متعلق کچھ پوچھا اور نہ اس نے کچھ بتانے کی زحمت کی ۔“
”سر ،جھوٹ بول کر مجھے بہلانے کی کوشش نہ کریں ۔“میرے لہجے بد تمیزی کا عنصر نمایاں تھا۔
”مووآرڈر بننے تک اپنی وردی وغیرہ اتار لو ۔“اس نے جیب سے کار کی چابی نکال کر میری طرف پھینک دی ۔
میں زچ ہو کر بولا ۔”آخر آپ مجھے بتا کیوں نہیں دیتے کہ اصل بات کیا ہے ۔“
”اگر معلوم ہوتا تو ضرور بتاتا ۔“اس نے کرسی گھما کر اپنا رخ دیوار کی جانب موڑ لیا تھا ۔
ایک لمحہ سوچنے کے بعد میں ان کے دفتر سے نکل آیا ۔ان کے گھر پہنچ کر میں نے جلدی جلدی وردی اتار کر کپڑے پہنے اور پھر اپنا سامان سمیٹ کر وہاں سے نکل آیا ۔واپسی پر میرا مووآرڈر تیار ہو چکا تھا ۔
مووآرڈر مجھے پکڑاتے ہوئے اورنگ زیب صاحب کہنے لگے ۔”کار کی چابی اپنے پاس رکھو بعد میں واپس کر دینا ۔میں فی الحال سرکاری گاڑی پر گزارا کر لوں گا ۔“
شکریہ وغیرہ ادا کرنے کا تکلّف کیے بغیر میں ان سے مصافحہ کر کے کار کی جانب بڑھ گیا ۔
میرے ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھتے ہی وہ جھک کر نصیحت کرتا ہوا بولا ۔”احتیاط سے جانا ۔تیز رفتاری سے ماضی میں ہوا کام تو تبدیل نہیں ہو سکے گا البتہ تم خود ماضی بن جاﺅ گے ۔“
”جی سر ۔“کہتے ہوئے میں کار موڑ لی ۔موبائل فون کی بیٹری بند پڑے پڑے ختم ہو چکی تھی ۔ سب سے پہلے میں نے اے ٹی ایم سے ضرورت کے مطابق رقم نکالی اور پھر ایک نیا موبائل فون خرید کر اپنا سم کارڈ اس میں منتقل کر دیا ۔ایک ایزی لوڈ کی دکان سے سم کار ڈ ریچارج کر کے میں فوراََ سردار کو کال کر رہا تھا ۔سپیکر سے ۔”آپ کا مطلوبہ نمبر کسی کے استعمال میں نہیں ۔“کی بے ہودہ خبر سن کر میں ابوجان کا نمبر ملانے لگا ۔چونکہ اس بار میں ذاتی نمبر سے کال کر رہا تھا تبھی انھوں نے میرا نام پوچھنے کی ضرورت محسوس نہیں ہوئی تھی ۔
”اسلام علیکم ذیشان بیٹا !“گھنٹی وصول کرتے ہی ابو جان کی مشفق آواز میرے کانوں میں پڑی ۔
”وعلیکم اسلام ابوجان !کیسے ہیں آپ ؟“
”بالکل ٹھیک ہوں بیٹا ۔باقی تمام بھی خیریت سے ہیں بس تم دونوں کی کمی محسوس ہو رہی ہے۔“
ان کی بات سن کر میرا سانس رکنے لگا تھا ۔آخری کوئی تو بات تھی کہ سردار نے گھر میں پلوشہ کے متعلق کچھ بھی نہیں بتایا تھا ۔اسی طرح اورنگ زیب صاحب بھی کچھ بتانے پر راضی نہیں تھے ۔یا شاید سچ مچ انھیں کچھ معلوم نہیں تھا ۔
”چپ کیوں ہو گئے بیٹا ؟“مجھے خاموش پا کر ابوجان مستفسر ہوئے ۔
”بس میں یہ اطلاع دے رہا تھا کہ کل تک ان شاءاللہ میں گھر پہنچ جاﺅں گا۔باقی گپ شپ ملنے پر ہو گی ۔“
”پلوشہ بیٹی تمھارے ساتھ ہے۔“انھوں نے اشتیاق بھرے لہجے میں پوچھا ۔
”گھر آکر بات کرتے ہیں ابوجان ۔اس وقت میں ڈرائیونگ کر رہا ہوں ۔“اس وقت میں ہاں ناں کی حالت میں نہیں تھا ۔
”ٹھیک ہے بیٹا ،اپنا خیال رکھنا ۔“انھوں نے رابطہ منقطع کر دیا ۔
موبائل فون بند کر کے میں نے ساتھ والی سیٹ پر پھینکا اور خود کو تسلی دینے کے لیے کچھ بہتر سوچنے کی کوشش کرنے لگا ،جو اس وقت ممکن نہیں لگ رہا تھا ۔ہر سوچ میرے دل کو بٹھائے جا رہی تھی ۔ ”کیا مجھے معذور پلوشہ منظور تھی ۔“میں نے دل سے پوچھا جس کا جواب نہایت واضح ملا ۔”دل و جان سے منظور ہے بس وہ زندہ ہونی چاہیے میں ساری زندگی اس کی خدمت کروں گا ۔“
اچانک ہی میرے دماغ میں کمانڈر عبدالحق کی ذو معنی گفتگو گونجنے لگی ۔اس نے سرسری انداز میں پلوشہ کے لیے مغفرت کی دعا بھی کر دی تھی ۔پھر گلگارے کے ذکر پر یہ کہنا کہ۔” زندگی موت کا کیا بھروسا ،ہو سکتا ہے اسے بھی آپ کی زندگی میں داخل ہونے کا کوئی رستا مل جائے ۔“ ڈیرہ اسماعیل خان میں مجھ سے الوداع ہوتے وقت اس نے معافی بھی مانگی تھی ۔رسمی معذرت اور کسی غلطی پر معذرت چاہنے میں زمین آسمان کا فرق ہوتا ہے اور اس وقت اس کا انداز رسمی معذرت والا نہیں تھا ۔ اس کا صاف مطلب یہی تھا کہ اسے پلوشہ کے ساتھ پیش آنے والے حادثے کے بارے معلوم تھا لیکن اس نے جان بوجھ کر مجھے لا علم رکھا تھا۔اور یہی وجہ تھی کہ اس نے میری واپسی پر زور دیا تھا ۔یہ بھی ممکن تھا کہ اسے اس بارے نک سٹیورٹ کی موت سے پہلے ہی پتا چل گیا ہو ۔اور مجھے ذہنی انتشار سے بچانے کے لیے اس نے یہ خبر اپنے تک محدود رکھی ہو ۔اور بعد میں شرمندگی کی وجہ سے اظہار نہ کر سکا ہو ۔
ان تمام الجھنوں سے مجھے سردار خان ہی نکال سکتا تھا ۔میں ایک بار سردار کے گھر جا چکا تھا ۔ اور اس وقت جو میری دماغی حالت تھی اس کے بعد اورنگ زی صاحب کی نصیحت پر عمل کرنا ایک مذاق ہی تھا۔راولپنڈی سے سر دار کے گاﺅں تک میں اڑھائی تین گھنٹوں میں پہنچ گیا تھا ۔اس کے گھر کے سامنے کار روک کر میں نیچے اترا سہ پہر کے چھے بج رہے تھے ۔دروازے پر دستک دیتے ہی ایک چھوٹا سا لڑکا دروازے پر آیا ۔
میں نے پوچھا ۔”سردار خان گھر پر ہے ۔“
اس نے اثبات میں سر ہلایا۔”ہاں ماموں جان گھر پر ہی ہیں ۔“اس کے ساتھ ہی اس نے اندر کی طرف رخ موڑ کر ہانک لگائی ۔”ماموں جان آپ کا مہمان ہے ۔“
دروازے کی طرف کھٹ پٹ کی آواز آئی جیسے کوئی بیساکھیوں پر چل رہا ہو ۔میرا دل جیسے ڈوبنے لگ گیا تھا ۔چھوٹے بچے نے دروازے کا ایک کواڑ کھول لیا تھا اور پھر سردار خان میرے سامنے ہوا۔ مجھے دیکھتے ہی وہ سن ہو گیا تھا ۔کوئی لفظ منھ سے نکالے بغیر ہم ایک دوسرے کو گھورتے لگے ۔وہ پہلے سے کافی کمزور ہو گیا تھا ۔دائیں ٹانگ پر گھٹنے سے نیچے پلستر چڑھا ہوا تھا ۔بائیں ٹانگ البتہ محفوظ تھی ۔ اس کے چہرے پر اچھی خاصی داڑھی بھی نظر آرہی تھی ۔
”محسن بیٹا ،بیٹھک کا دروازہ کھولو۔“اپنے بھانجے کو کہہ کر وہ میرے قریب ہوا اور پھروہ میری بانہوں میں تھا ۔چند لمحوں بعد ہم بیٹھک میں آمنے سامنے بیٹھے تھے ۔میں اس سے کوئی سوال پوچھنے کی جرات نہیں کر پارہا تھا ۔وہ بھی خاموش بیٹھا تھا ۔تھوڑی دیر اسی خاموشی میں گزر گئی گفتگو کی ابتداءسردار نے کی تھی ۔
”لی زونا کی کال آئی تھی ،وہ پاکستان آنے کے لیے تیار ہے ۔شاید مہینے ڈیڑھ تک یہاں پہنچ جائے ۔“یہ خوشی کی خبر سناتے ہوئے بھی مجھے لگ رہا تھا کہ جیسے وہ رو رہا ہو ۔
میں خاموش بیٹھا رہا ۔وہ دوبارہ بولا ۔
”اس نے نوکری سے استعفیٰ دے دیا ہے اور اب پاکستان آنے کے لیے کاغذی کارروائی کر رہی ہے ۔“اس کی یہ باتیں ایک ایسی ہی کوشش لگ رہی تھیں جیسے بلی کو دیکھ کر کبوتر آنکھیں بند کر کے جان بچانے کی کوشش کرتا ہے ۔
اسی وقت اس کا کم سن بھانجاٹرے میں شربت کا جگ اور دو خالی گلاس رکھے اندر داخل ہوا بڑی مشکل سے اس نے ٹرے اٹھائی ہوئی تھی ۔ٹرے میز پر رکھ وہ باہر نکل گیا تھا ۔مجھے سخت پیاس محسوس ہو رہی تھی مگر میں نے جگ کو ہاتھ بھی نہیں لگایا تھا ۔
”کیاہوا تھا ؟“میرے منھ سے پھنسی پھنسی آواز برآمد ہوئی ۔ابھی تک مجھے یہ پوچھنے کی ہمت نہیں ہوئی تھی کہ پلوشہ کہاں اور کس حال میں ہے ۔میں کچھ دیر مزید خود کو خوش فہمی میں مبتلا رکھنا چاہتا تھا ۔
میری بات سن کر سردار کسی گہری سوچ میںکھو گیا تھا ۔میری نظریں زمین پر گڑی تھیں ۔اور دل سے دعائیں نکل رہی تھیں کہ سردار کے منھ سے کوئی تسلی آمیز بات نکل جائے ۔وہ کہہ دے کہ بس یار بڑی مشکل سے ہم دونوں کی جان بچی ہے ۔یا ہم مرتے مرتے بچے ہیں ۔اس طرح کی کوئی بات سننے کے لیے میرا پورا وجود ہمہ تن گوش ہو چکا تھا ۔
سردار کی خاموشی طول پکڑنے لگی ۔میں نے بھی اسے بولنے پر نہیں اکسایا تھابس انتظار کی اذیت کو برداشت کرتا رہا۔
”وہ بہت پر عزم تھی ۔اس مکمل یقین تھا کہ وہ اپنے راجو کی بے گناہی کے ثبوت ضرور حاصل کر لے گی ۔کہتی تھی ۔”سردار بھائی، جان دے دوں گی مگر ثبوت حاصل کیے بغیر نہیں لوٹوں گی ۔“
نصراللہ خان خوجل خیل کے گھر سے ہمیں تمھارے رکھوائے ہوئے ہتھیار مل گئے تھے ۔کمانڈر نصراللہ نے افغانستان کے رستے کی طرف ہماری رہنمائی کر دی تھی انگور اڈے سے ہم سر حد تک پہنچے مگر پھر اس کا ارادہ تبدیل ہو گیا۔کہنے لگی کہ افغانستان جا کر ٹامک ٹوئیاں مرنے سے بہتر ہے کہ یہاں سے کسی دہشت گرد کے گروپ میں شامل ہو کر وہاں پہنچیں ۔اس طرح البرٹ بروک وغیرہ کو ڈھونڈنے میں آسانی رہے گی ۔اسے سب سے زیادہ امید جینیفر کے ملنے کی تھی ۔اسے یقین تھا کہ جینی اس کی ضرور مدد کرتی۔سر حد کے قریب جا کر ہم واپس پلٹ آئے تھے ۔اپنی شکل چھپانے کے لیے اس نے ہلکی ہلکی مونچھیں اور داڑھی چہرے پر چپکا کر سر پر پگڑی لپیٹ لی تھی ۔میں نے بال کٹوانے کا مشورہ دیا تو کہنے لگی ۔
”بھائی ،کیوں اپنے دوست سے پٹوانا چاہتے ہیں ۔راجو نے منع کر دیا ہوا ہے اور آپ جانتے ہیں نا کہ ان کی کسی بات کو ٹالنا میرے لیے ممکن نہیں ہے ۔“
میرا چہرہ چونکہ دہشت گرد وں کے لیے نیا تھا اس لیے میں نے حلیہ تبدیل کرنے کی کوشش نہیں کی تھی ۔ اس کا منصوبہ شمالی وزیرستان میں دیگان کے ملک گل بدین کے پاس جا کر کام حاصل کرنے کا تھا۔ کیوں کہ اسے معلوم ہوا تھا کہ ملک گل بدین بھی امریکنز کا خاص بندہ تھا ۔اس نے ماموں کے گھر جا کر اپنے دودھ شریک بھائی کے بارے معلومات حاصل کیں کیونکہ اسی کے ذریعے ہم دہشت گردوں میں جگہ بنا سکتے تھے ۔معلوم ہوا کہ وہ ایک ہی دن پہلے تورے خار روانہ ہوا ہے ۔سنائپر رائفل اس کے ماموں کے گھر چھوڑ کر ،ہم نے بھی ویگن میں بیٹھ کر تورے خار کا رخ کیا ۔وہ رائفل ہم دہشت گردوں میں جگہ بنانے کے بعد وہاں سے بآسانی لے جاسکتے تھے ۔
تورے خار کا ملک فیروز اب صنوبر خان کے بعد دہشت گردوں کا کرتا دھرتا ہے ،لیکن جنوبی وزیرستان میں پلوشہ اور آپ نے بہت کام کیا تھا اس لیے حلیہ تبدیل کرنے کے باوجود وہ ملک فیروز کے پاس کام حاصل نہیں کرنا چاہتی تھی ۔البتہ اس کی بیٹھک میں ایک بار جا کر اپنے بھائی کا پتا معلوم کرنا اتنا مشکل نہیں تھا ۔ہم دونوں دوپہر کے وقت تورے خار پہنچے تھے ۔لیکن اس کی بیٹھک میں گھستے ہی عجیب صورت حال کا سامنا کر نا پڑ گیا تھا ۔ اسے ایک انوکھا اتفاق ہی کہا جا سکتا ہے کہ تورے خار کے سردار فیروز خان کے ہمراہ راج پال بیٹھا قہقہے لگا رہا تھا ۔وہی ہندوراج پال جس نے اپنے ساتھ امریکہ میں سنائپر کورس کیا تھا ۔جب تک میں اپنا چہرہ چھپانے کی کوشش کرتا اس نے مجھے پہچان لیا تھا ۔پہچانتے ساتھ ہی اس نے فیروز خان سے پوچھا کہ پاکستان آرمی کاجوان اس کی بیٹھک میں کیا کرنے آیا ہے ۔
اس کی بات سنتے ہی فیروز خان چونک کر میری طرف متوجہ ہوا اور تب تک میں ایک نتیجے پر پہنچ گیا تھا ۔وہاں گرفتاری دینے کا مطلب خود کو ذبح کرانا ہوتا ۔پلوشہ کو بھی صورت حال کی سنگینی کا احساس ہو گیا تھا ۔میں نے فوراََ کندھے سے لٹکی کلاشن کوف اتار کر سیفٹی لیور برسٹ پر لگاتے ہوئے ٹریگر دبا دیا ۔ میرا نشانہ راج پال ہی تھا مرنے سے پہلے کم از کم ایک دشمن سے تو جان چھوٹ جاتی ۔راج پال چھاتی میں گولی کھا کر تڑپنے لگ گیا تھا ۔فیروز خان کے آدمی ایک لمحے کے لیے ہکا بکا رہ گئے تھے ۔اس وقت پلوشہ نے مجھے باہر کی طرف کھینچا اور ہم بھاگ کر بیٹھک سے باہر نکل آئے پیدل بھاگ کر جان بچانا ناممکن تھا اور خوش قسمتی سے وہاں تین چار گاڑیاں کھڑی تھیں ۔پلوشہ نے فوراََ ایک ڈبل کیبن کا شیشہ توڑا اور اند ر گھس کر اگنیشن کے تار توڑ کر گاڑی کو سٹارٹ کرنے کی کوشش کرنے لگی ۔اس دوران میں نے بیٹھک کے دروازے سے برآمد ہونے والے دو تین دہشت گردوں کا اپنا شکا ر بنا چکا تھا ۔باقی دروازے کی آڑ ہی سے فائرنگ کا جواب دینے لگے ۔پلوشہ نے ڈبل کیبن سٹارٹ کرتے ہی میرے لیے اگلی نشست کا دروازہ کھولا اور میرے بیٹھتے ہی گاڑی بھگا دی ۔اس ڈبل کیبن کے ساتھ کھڑی ہوئی دو گاڑیوں کے ٹائر پھار کر میں نے وقتی طور پر ناکار ہ کر دیا تھا ۔مگر ان کے پاس بیٹھک میں اور گاڑیاں موجود تھیں ۔دشمن کی تین گاڑیاں ہمارے تعاقب میں تھیں ۔پلوشہ بڑی مہارت سے گاڑی بھگائے جا رہی تھی ۔میرے پوچھنے پر اس نے بتایا تھا کہ ہم کسی قابل خان محسود کے پاس وشلام جا رہے ہیں ۔تینوں گاڑیاں پوری کوشش کے باوجود ہمارے قریب نہیں پہنچ پائی تھیں ۔وہ بلا شک و شبہ ایک بہترین ڈرائیور تھی ۔لیکن پھر ہماری بدقسمتی کا ظہور ہوا ۔اس وقت ہم وشلام کے بالکل قریب پہنچ گئے تھے اور بالکل ٹھیک جا رہے تھے کہ اچانک سڑک پر ایک چھوٹا بچہ اچانک ہی ہماری گاڑی کے سامنے آیا ،پلوشہ نے اسٹیرنگ کو بائیں جانب کاٹا ،گاڑی کچی سڑک کے کنارے ایک بڑے پتھر سے ٹکرائی اور لڑھکیاں کھاتے ہوئے نشیب میں گرنے لگی ۔میرے دماغ میں جو آخری احساس زندہ ہے وہ یہی ہے کہ میں نے دروازہ کھول کر باہر چھلانگ لگا ئی تھی ۔اس کے بعد میری آنکھ ہسپتال میں کھلی تھی ۔میرے سرپر گہری چوٹ لگی تھی اور مجھے قریباََ مہینے بعد ہوش آیا تھا۔ میں پشاور کے ایک اچھے ہسپتال میں داخل تھا ۔مجھے وہاں لے کر آنے والا قابل خان محسود تھا ۔وہ پلوشہ کا منھ بولا بھائی تھا ۔اسی کی زبانی مجھے باقی کے واقعات معلوم ہوئے ۔حادثہ ہوتے ہی وہاں لوگ اکٹھے ہو گئے تھے ۔دشمن شاید ہماری موت کی تسلی کر کے ہی وہاں سے ہٹتے مگر میری خوش قسمتی کہہ لو کہ وشلام کے لوگوں نے پلوشہ کو فوراََ ہی پہچا ن لیا تھا ۔وہ حادثے کے بعد بھی ہوش میں تھی ۔ وہ سب سے پہلے ہمیں وانہ لے گئے مگر وہاں کو ئی خاص ہسپتال تو موجود نہیں ہے اس لیے ایمبولینس کروا کر بنوں اور پھر وہاں سے صاف جواب ملنے پر پشاور لے آئے تھے ۔وہ حادثے کے ہفتہ بعد تک زندہ رہی اور پھر ........“سردار نے آنکھوں میں آئی نمی صاف کی اور گلو گیر لہجے میں بولا ۔”اس نے قابل خان کو بتا دیا تھا کہ وہ اپنی بہن سپوگمائے کے پہلو میں دفن ہونا چاہتی ہے ۔ہوش میں آتے ہی مجھے قابل خان نے ساری بات تفصیل سے بتلائی ۔اس نے شناختی کارڈ کے ذریعے میرے گھر والوں کا پتا معلوم کرنے کی کوشش کی تھی مگر میری جیب میں تو نقلی شناختی کارڈ تھا اس لیے اسے کامیابی نہیں ہوئی تھی ۔پلوشہ بھی حادثے کے بعد تھوڑی دیر تو ہوش میں تھی لیکن اس کے بعد وہ مسلسل بے ہوش رہی تھی ۔بس ہمیں چھوڑنے کے فیصلے پر عمل کرتے وقت اسے چند لمحوں کے لیے ہوش آیا اور قابل خان کے سامنے اپنے دفن کی وصیت کر کے وہ چلی گئی ۔کبھی نہ آنے کے لیے ۔میں نے ہوش میں آتے ہی اورنگ زیب صاحب سے بات کی وہ میرے واپس نہ آنے کی وجہ سے پریشان تھے ۔اس کے حکم پر مجھے فوراََ ہی سی ایم ایچ پشاور میں منتقل کر دیا گیا تھا۔ میں نے قابل خان کا شکریہ ادا کر کے اسے رخصت کیا ۔میری ٹانگ وغیرہ پر تو سول ہسپتال والوں نے پلستر چڑھا دیا تھا ۔سی ایم ایچ والوں نے مجھے چند دن رکھ کرسک لیو (فوج میں کسی بڑی بیماری یا حادثے وغیرہ کا شکار ہونے والے شخص کو ملنے والی چھٹی )پر گھر بھیج دیا ۔اور تب سے میں یہیں ہوں ۔“
سردار کی بات ختم ہو چکی تھی ۔میں کہیں دور خلا میں دیکھ رہا تھا ۔نہ میری آنکھوں میں آنسو تھے اور نہ دماغ کسی سوچ پر مرتکز، جانے میں کیا سوچ رہا تھا ۔
”راجے !“سردار نے مجھے آواز دی ۔
میں نے غائب دماغی سے اس کے چہرے پر نگاہ ڈالی ،مگر منھ سے کچھ نہ بولا۔
”راجے وہ چلی گئی ہے یا ر ،میری چنارے کی طرح تمھاری پلوشہ بھی چلی گئی ہے ۔پتا نہیں یہ عورتیں ایسا کیوں کرتی ہیں ۔ جب انھیں پتا چل جاتا ہے کہ ان کے بغیر شوہر کا زندہ رہنا مشکل ہو جائے گا تو اپنی اہمیت جتانے کے لیے یہ مرنے سے بھی دریغ نہیں کرتیں ۔“
میں کچھ نہیں بولا تھا ۔سردار بتانے لگا ....”اس نے اپنی موت کی خبر ماں اور آپ کے گھر والوں تک پہنچانے سے منع کر دیا تھا ۔اس نے واضح انداز میں بتا دیا تھا کہ سب سے پہلے اس کی موت کی بابت تمھیں اطلاع دی جائے اور پھر باقی تمام کو آپ خود ہی بتادیں گے ۔ جب قابل خان محسود نے تمھاراپتا کرایا تو اسے معلوم ہوا کہ تم دو تین دن پہلے ہی افغانستان چلے گئے ہو ۔وہ تمھارے گھر جا کر پلوشہ کی ماں کو ملا تھا ۔بہانہ اس نے یہ بنایا تھا کہ پلوشہ اس کے پاس تھوڑا سامان چھوڑکر آگے افغانستان چلی گئی ہے ۔تبھی پلوشہ کی ماں نے اسے تمھارے افغانستان جانے کے بارے بتا دیا ۔اس کے بعد اسے تو ہمت نہ ہوئی تمھارے گھر والوں کو اطلاع دینے کی اور نہ مجھے ہمت ہوئی ۔کیونکہ جب مجھے ہوش آیا تووہ کب کی دفن ہو چکی تھی ۔“
میرے دماغ میں سائیں سائیں ہو رہی تھی ۔کچھ بھی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ کیا ہو گیا تھا ۔ میرے بدترین اندیشے حقیقت کا روپ دھار چکے تھے ۔ایک دفعہ پہلے بھی وہ مجھے چھوڑ چکی تھی اور اب دوبارہ اس نے وہی کیا تھا ۔پہلے بھی وہ اپنی ماں اور بھائی کی وجہ سے مجبور تھی اور اب اس کے پاس مہلت ختم ہو چکی تھی ۔
مجھے مسلسل چپ دیکھ کر سردار خان نے کہا ۔”یار کچھ تو بولو خاموش کیوں ہو ؟“
لیکن میرے پاس الفاظ ختم ہو چکے تھے ۔سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ سردار کو کیا کہوں ،گلہ کروں یا تسلی دوں ۔کوسوں یا نظر انداز کردوں ۔اس کا کوئی قصور نہیں تھا لیکن انسان کو دل کی بھڑاس نکالنے کے لیے کوئی ہدف تو چاہیے ہوتا ہے ۔اپنے نقصان کا ذمہ دار کسی کو تو ٹھہرانا ہوتا ہے ۔موت ایک اٹل حقیقت ہے ،لیکن دل و دماغ تو موت سے بچنے کے کئی بہانے تراشتے ہیں ،اگر یوں نہ کیا ہوتا تو یوں ہو جاتا اور وہاں نہ گیا ہوتا تو ایسا نہ ہوتا ۔یہ کر لیا ہوتا تو جان بچ سکتی تھی وغیرہ ۔حالانکہ یہ سب بس پچھتاوے کو بڑھانے والی باتیں ہیں ۔
”میں بے قصور ہوں راجا ۔میں بے بس ہو گیا تھا ،میں اسے کبھی بھی مرنے نہ دیتا دنیا کی ہر طاقت سے ٹکرا جاتا مگر افسوس عزائیل ؑ سے تو مقابلہ نہیں کیا جا سکتا ۔“
میں چپ چاپ اٹھ کر بیٹھک کے دروازے کی طرف بڑھ گیا ۔سردار نے مجھے پکار کر روکنے کی کوشش کی مگر میں دروازے سے باہر نکل کر کار میں بیٹھ گیا ۔اس کے بیٹھک کے دروازے تک پہنچنے سے پہلے میں کار آگے بڑھا چکا تھا ۔اور پھر مجھے معلوم نہ ہوا کہ کیسے میں بغیر کسی حادثے کے گھر تک پہنچا تھا ۔ منتشر سوچیں ،بکھرے خیال ،اذیت بھرے احساسات ،آنکھوں سے بہتا پانی اور دردو غم سے بوجھل دل کے ساتھ ڈرائیونگ کرنا اتنا بھی آسان نہیں تھا ۔گھر کا دروازہ بند تھا دستک کے جواب میں ابو جان نے دروازہ کھولا تھا اور ان کی شفقت بھری آغوش میں سر چھپاتے ہی میرے بند ہونٹوں سے درد بھری سسکیاں برآمد ہوئیں ۔ابو جان گھبرا گئے تھے ۔
”کیا ہوا بیٹا ۔“ابوجان کی آواز میں چھپے اندیشے غیرمتوقع نہیں تھے ۔
”وہ چلی گئی ہے ابو جان ،وہ مجھے چھوڑ کر چلی گئی ہے ۔اس کے ساتھ نبھانے کے سارے وعدے اور قسمیں جھوٹی تھیں ۔تمام عورتیں ایک جیسی ہوتی ہیں ۔“
ابوجان نے مجھے زور سے اپنے ساتھ بھینچتے ہوئے پوچھا ۔”کہاں چلی گئی ہے ،بیٹا کس کے ساتھ گئی ہے ؟“
میں نے اذیت بھرے لہجے میں جواب دیا ۔”اکیلی ہی گئی ہے ابوجان ،ایسی جگہ جہاں سے کوئی لوٹا نہیں کرتا ۔“
ہم دروازے کے سامنے ہی کھڑے تھے ۔موسم ایسا تھا کہ گھر والوں نے چارپائیاں صحن میں بچھائی ہوئی تھیں ۔ابو جان مجھے ساتھ لپٹائے ہوئے چارپائیوں کی طرف بڑھ گئے ۔اگلے دو تین لمحوں میں پلوشہ کی ماں اور پھوپھو جان کو پلوشہ کی موت کے بارے معلوم ہو چکا تھا ۔پھوپھو جان دھاڑیں مارتی ہوئی مجھ سے آن لپٹی تھی ۔آن کی آن میں تمام ماحول ماتم زدہ ہو گیا تھا ۔صرف پلوشہ کا معصوم بھائی عدیل بے خبر پڑا سو رہا تھا ۔اس کے علاوہ رات بھرکوئی بھی نہیں سویا تھا ۔میں گھٹنوں پر سر ٹیکے بند آنکھوں سے اس کے ساتھ گزرے لمحات کو فلم کی طرح دیکھتا رہا ۔کوئی پل بھی تو مجھے نہیں بھولا تھا ۔جس وقت وہ پہلی بار میرے سامنے آئی اور جب میں نے آخری بار اسے گلے سے لگاتے ہوئے اس کی کشادہ جبیں پر آخری بار مہر محبت ثبت کی ۔ان لمحات کے درمیان میں موجود ہر لمحہ ،ہر پل اور ہر گھڑی میری یاداشت میں محفوظ تھی ۔ اس کے پیارے ہاتھوں نے میرے جسم کو جس جس جگہ پر چھوا تھا اس لمس کی گرمی اب تک تازہ تھی۔ اس کے سانسوں کی مہکتی خوشبواس وقت بھی میری قوت شامہ محسوس کر سکتی تھی ۔اس کی مدھر آواز میری سماعتوں میں زندہ تھی ۔اس کا چاند سا روشن مکھڑا میری بصارتوں کے سامنے تھا ۔اس کی شوخیاں ،شرارتیں ، محبت بھرے گلے شکوے ،نازواداکچھ بھی تو نہیں بھولا تھا ۔اور بھول بھی کیسے سکتا تھا ،کوئی سانس لینا بھی بھول سکتا ہے کیا....
میں ایک پل بھی جو بھولوں تجھے تو مر جاﺅں
تمھاری یاد کا پہرہ ہے میرے سانسوں پر
صبح کی آذان سن کر ابوجان نے میرے سر پر شفقت بھرا ہاتھ رکھتے ہوئے کہا ۔
”نماز پڑھ لو بیٹا ۔“اور میں خاموشی سے غسل خانے کی طرف بڑھ گیا ۔وضو کر کے ہم مسجد کی طرف بڑھ گئے تھے۔واپسی پر عدیل جاگ گیا تھا ۔مجھے دیکھتے ہی وہ خوشی سے چہکتا ہوا میرے ساتھ لپٹ گیا تھا ۔وہ پلوشہ کو بہت پیارا تھا ۔اس کے سرخ و سفید ملائم گالوں کو پلوشہ کے حیات آفریں لبوں سے اتصال کی سعادت ہزاروں بار حاصل ہو چکی تھی ۔میں بے ساختہ اسے چومنے لگا ۔اس معصوم کو کچھ پتا نہیں تھا کہ گھر پر کیا قیامت بیت چکی تھی ۔اس نے چھوٹتے ہی اپنی باجی کا پوچھا تھا ۔میں اس کا سوال نظر انداز کرتے ہوئے پوچھنے لگا ۔
”میرا بیٹا اسکول جاتا ہے یا نہیں ۔“
”ہاں لالاجان ،اسکول تو جاتا ہوں اور اب مجھے پنجابی میں بات کرنا بھی آگیا ہے ۔“اس نے فخریہ لہجے میں بتایا ۔
”تو کس کلاس میں ہو۔“میں اس کا ذہن بٹانے کے لیے مسلسل سوال کرنے لگا تاکہ اسے سوال کا موقع نہ ملے ۔اسی دوران پھوپھوجان اس کے لیے ناشتا لے آئی تھی ۔پلوشہ کی ماں گھٹنوں میں سر دیے گم سم بیٹھی تھی ۔پلوشہ اس کی بیٹی نہیں بیٹا تھی ۔وہ بہت ،ہمت ،جرات اور حوصلے والی تھی ۔ اس نے ہمیشہ ماں اور چھوٹے بھائی کی حفاظت کی تھی ۔اور اب وہ نہیں رہی تھی یقینا مستقبل کے اندیشے بھی اس کے ذہن میں موجود ہونا تھے کہ پلوشہ کے جانے کے بعد اس کا ہمارے گھر میں رہنے کا کوئی جواز نہیں بنتا تھا ۔یہ اور بات کہ میں انھیں کسی صورت گھر سے دور جانے کی اجازت نہیں دے سکتا تھا ۔پلوشہ اپنے چھوٹے بھائی کو اعلا تعلیم دلانے کی خواہش مند تھی اور اس کی یہ خواہش میں ہر صورت میں پوری کرنا چاہتا تھا ۔
پھوپھو جان سے ناشتا لے کر میں عدیل کو ناشتا کرانے لگا ۔اس نے ایک بار پھر اپنی باجی کے بارے میں پوچھا ،جسے میں آئیں بائیں میں ٹال گیا ۔اسے تیار کرا کے میں نے اسکول بھیج دیا ۔دوپہر تک پلوشہ کی موت کی خبر پورے محلے میں پھیل گئی تھی ۔مرد بیٹھک میں آکر تعزیت کرنے لگے جبکہ عورتوں کی آمد سے ہمارا صحن بھر گیا تھا ۔میں کمرے میں گھسا رہا ۔یہ وہی کمرہ تھا جہاں میں نے اسے آخری بار گلے لگایا تھا ۔اس وقت وہ دلھن کے روپ میں قیامت ڈھا رہی تھی ۔اس کی ریشمی کلائیوں میں کنگن پہنا کر میں نے اسے تسلی دی تھی ۔وہ میرے ساتھ چلنے پر بہ ضد تھی ۔
میں نے حسرت بھرے لہجے میں سوچا ۔” میں اسے ساتھ لے گیا ہوتا تو شاید وہ بچ جاتی ۔“
حجلہ عروسی کو پھوپھوجان نے خوب سجایا تھا ۔اور اب تک وہ سجاوٹ اسی طرح موجود تھی ۔ میرے جانے کے بعد پلوشہ نے گھر میں چند دن سے زیادہ نہیں گزارے تھے ۔اس کے باوجود وہ بیڈ اس کے بدن کی خوشبو سے مہک رہا تھا ۔سہ پہر کو اویس اپنی بیوی ارم کے ساتھ میرے کمرے میں آگیا ۔ میاں بیوی نے دکھی دل کے ساتھ تعزیت کی ،مجھے حوصلہ دیا اور تھوڑی دیر بیٹھ کر ہمدردی بھرے کلمات سے مجھے تسلی دے کر رخصت ہو گئے ۔
٭٭٭
غم جتنا بھی بڑا ہو ،سدا نہیں رہتا ،دکھ کتنا ہی زیادہ ہو وقت کی گرد اسے اپنی لپیٹ میں لے کربھولا بسرا کر دیتی ہے ۔اذیت کی انتہا اگر وقت بیتنے کے ساتھ راحت میں نہیں بھی ڈھلتی تب بھی اذیت میں پہلے جتنا دم خم باقی نہیں رہتا ۔بچھڑنے والا جتنا بھی پیارا ہو اس کے دور جانے کی حقیقت کو تسلیم کر لینا پڑتا ہے ۔آہستہ آہستہ ہم لوگوں کو بھی پلوشہ کی جدائی کا دکھ جھیلنے کی عادت ہوگئی تھی ۔میری چھٹی پوری ہو گئی تھی مگر میں واپس جانے پر تیار نہیں تھا ۔راﺅ تصور صاحب نے کمانڈنگ آفیسر سے بات کر کے مجھے یونٹ کی طرف سے دو ماہ کی مزید چھٹی دلوا دی تھی ۔دوست احبا ب مجھے ملنے اور تسلی دینے آئے تھے۔ اورنگ زیب صاحب نے بھی آکر تعزیت کی تھی ۔واپس جاتے ہوئے میں نے کار کی چابی شکریے کے ساتھ ان کے حوالے کر دی تھی ۔
ایک دن پلوشہ کی ماں گل ناز مجھ سے واپس جانے کی اجازت مانگ رہی تھی ۔
”بیٹا ،میں چاہتی ہوں اپنے بھائی کے پاس انگور اڈے پر چلی جاﺅں ۔“
میں نے پوچھا ۔”یہاں کوئی تکلیف ہے ماں جی ؟“
وہ دکھی لہجے میں بولی ۔”تکلیف تو کوئی نہیں ہے بیٹا ،مگر ا ب ہم کس رشتے سے یہاں رہیں گے ۔“
میں زخمی لہجے میں بولا ۔”تو آپ کا کیا خیال ہے اس بے وفا کے جانے سے ہمارے سارے رشتے ٹوٹ گئے ماں جی ۔“
”پھر بھی بیٹا ....؟“انھوں نے کچھ کہنے کے لیے منھ کھولنا چاہا میں فوراََ قطع کلامی کرتا ہوا بولا ۔
”ماں جی ،آج کے بعد اگر کچھ ایسا کہا تو سچ میں خفا ہو جاﺅں گا ۔اور آپ یقینا نہیں جانتیں کہ ہم دونوں بہت پہلے شادی کر چکے تھے ۔بعد والی شادی تو بس آپ ،ابوجان اور پھوپھو جان کی خاطر کر رہے تھے ۔اور پتا ہے اس نے اپنے علاقے کے رواج کے مطابق کتنی رقم کا مطالہ کیا تھا ۔“پلوشہ کی بات ذہن میں آتے ہی میرے ہونٹوں پر مسکراہٹ کھلنے لگی تھی ۔”پورے پچاس لاکھ ۔اور وہ رقم میرے اکاﺅنٹ میں جمع ہے ۔اس کی ساری رقم آپ کی اور عدیل ہی کی تو ہے ۔اور یہ رقم آپ کی ضروریات کے لیے کافی سے بھی کچھ زیادہ ہے ۔وہ عدیل کو اعلا تعلیم دلانا چاتی تھی ۔کیا آپ چاہتی ہیں کہ میں عدیل کو واپس انگور اڈے بھیج کر اس کی روح کے سامنے شرمندہ ہو جاﺅں ۔“
”بیٹا میرا یہ مطلب نہیں تھا ۔“ان کی آنکھوں میں نمی ابھرآئی تھی ۔
ان کا ہاتھ پکڑ کر میں لبوں سے لگاتا ہوا بولا ۔”آپ پلوشے کی ماں ہیں اور اس کی ہر چیز سے مجھے اتنی ہی محبت ہے جتنی اس سے تھی ۔آپ میری بھی ماں ہیں ۔کبھی دل میں ایسی ویسی بات کو جگہ نہ دنیا۔اس گھر پر آپ کا اتنا ہی حق ہے جتنا میرا یا ابوجان کا ہے ۔یہ پلوشہ کا گھر ہے ۔وہ مجھے چھوڑ کر چلی گئی ہے میں نے اسے نہیں چھوڑا ۔“
”جیتے رہو بیٹا ۔“اس نے دست ِ شفقت میرے سر پر رکھ دیا تھا ۔
یہ مقدس ہاتھ جانے کتنی بار انھوں نے میری پلوشے کے سر پربھی رکھا ہو گا ۔سکون اور اطمینان میرے رگ و پے میں اتر گیا تھا ۔میں ممنونیت بھرے لہجے میں بولا ۔”یہ شفقت بھرا ہاتھ کبھی بھی میرے سر سے نہ ہٹانا ماں جی ۔“
جاری ہے
 

قسط نمبر 68
ریاض عاقب کوہلر
فوجی کی عام دنوں کی چھٹی پر لگا کر گزرتی ہے ۔مگر اب پلوشہ کی جدائی میں میرا ہر دن صدیوں کی مسافت پر مشتمل ہوگیا تھا اس کے باوجود چھٹی کے تین ماہ بیت چکے تھے ۔میں واپس یونٹ پہنچا ۔ دوست احباب ایک بار پھر تسلی دینے اور حوصلہ بڑھانے میرے گرد اکٹھے ہو گئے تھے ۔سردار بھی یونٹ واپس پہنچ گیا تھا ۔ایک بار وہ میرے گھر بھی آچکا تھا لیکن نامعلوم کیوں میں نے اس سے بات چیت کرنا بالکل ہی چھوڑ دیا تھا ۔وہ کئی بار اپنے ناکردہ جرم کی معافی مانگ چکا تھا ،مگر میں خاموش رہ کر اس کی ہر کوشش کو نظر انداز کر دیتا تھا ۔اس کی ٹانگ کا پلستر اتر چکا تھا لیکن ابھی تک وہ مکمل طور پر صحت یاب نہیں ہو سکا تھا ۔ یونٹ واپسی کے دوتین دنوں تک مجھے کسی نے نہیں چھیڑا تھا ۔ایک رات مجھے حکم ملا کہ اگلے دن میری کمانڈنگ آفیسر کے سامنے پیشگی ہے۔
صبح نوبجے میں کمانڈنگ آفیسر کے دفتر میں ان کے سامنے کھڑا تھا ۔انھوں نے مجھے بیٹھنے کا اشارہ کر کے سب سے پہلے پلوشہ کی موت کی تعزیت کی اور اس کے بعد بتایا کہ چونکہ انھیں ہائی کمانڈ کی طرف سے سختی سے مجھے سزا سنانے کا حکم ملا تھا اس وجہ سے انھوں نے میرا حوالداری کا رینک توڑ کر مجھے دوبارہ سپاہی بنا دیا تھا ۔مجھے نہ تور ینک کا شوق تھا اور نہ میں مزید نوکری کرنا چاہتا تھا ۔اس لیے میں نے موّدبانہ لہجے میں کہا ۔
”سر ،میں ڈسچارج ہونا چاہتا ہوں ۔کیوں کہ اب میں خود کو مزیدپاک آرمی کی خدمت کے قابل نہیں سمجھتا ۔“
”شاید تم رینک ٹوٹنے کی وجہ سے دل گرفتہ ہو ۔“انھوں نے خیال ظاہر کیا ۔”اگر ایسا ہے تو فکر نہ کرو ایک سال کے اندر میں تمھیں دوبارہ حوالدار بنا دوں گا ۔لیکن فی الحال تمھارا رینک توڑنا ضروری تھا کیوں کہ نادانستگی ہی میں سہی تم آرمی کا قانون توڑنے کے مجرم ہو ۔“
”نہ تو مجھے اپنے جرم سے انکار ہے اور نہ میں مجھے رینک ہی کا شوق ہے ۔بس اب میں خود کو نوکری کرنے کے قابل نہیں سمجھتا اس لیے بہتر ہو گا کہ مجھے با عزت ڈسچارج کر دیا جائے ۔“میں نوکری چھوڑنے پر مصر تھا ۔
”جاﺅ ،فی الحال آرام کرواور جتنی چھٹی کی ضرورت ہو لے لو ۔اس بارے بعد میں بات کریں گے ۔“انھوں نے میری خواہش پر ذرا بھر دلچسپی کا اظہار کیے بغیر مجھے جانے کا اشارہ کیا ۔اور میں سیلوٹ کر کے ان کے دفتر سے نکل آیا ۔
گھنٹے ڈیڑھ بعد ہی استاد راﺅ تصور صاحب، استاد فیاض ،استادبدرالدین اعوان ،استاد اشفاق تنولی اور میرے دوسرے استادوں نے مجھے گھیرا ہوا تھا ۔تمام نے کھل کر میرے فیصلے کو رد کیا ۔اور بجائے منت کے یہ حکم دیا کہ اگر میں نے ڈسچارج ہونے کی باقاعدہ درخواست دی تو وہ درخواست فوج سے ڈسچارج ہونے کی نہیں ان سے تعلق توڑنے کی درخواست ہو گی ۔اپنے ان استادوں سے میرا تعلق ایسا نہیں تھا کہ میں ان کا حکم ٹال سکتا ۔انھیں مجھ پر کوئی مان تھا تو انھوں نے منت کے بجائے دھونس دھمکی سے کام لیا تھا ۔میں نے ان کے حکم کے آگے خاموشی سے سر جھکا دیا تھا ۔
شام کو حوالدار میجر نے مہینا چھٹی کی راہداری میرے حوالے کی ۔جو میں نے شکریے کے ساتھ واپس لوٹا دی تھی ۔گھر جا کر میں پلوشہ کی یادوں سے مقابلہ نہیں کر سکتا تھا ۔جبکہ وہاں تمام دن اور رات کا بیشتر حصہ دوست احباب کی معیت میں گزرتا تھا اس لیے دشمن جاں کی یادوں سے کچھ افاقہ رہتا ۔ ورنہ تو وہ ہر لمحہ میرے پاس ہی موجود رہتی ۔اسے ہمیشہ مجھ سے بچھڑنے کا خوف ستاتا رہتا تھا۔مجھ سے دور جانے کے خیال سے وہ اکثر رات کو اٹھ کر مجھ سے لپٹ جاتی۔ اور اس وقت ساتھ نبھانے کی ساری قسمیں اور وعدے مجھے دہرانا پڑتے ۔یوں گویا اسے میں نے ہی چھوڑ کر جانا ہے وہ کبھی ایسا کام نہیں کرے گی ۔اور جب وقت آیا تو خود ہی سارے وعدے اور قسموں کو پاﺅں کی ٹھوکر میں اڑا کر اتنی دور چلی گئی جہاں تک میری سوچ کی رسائی بھی ممکن نہیں تھی ۔ایک بار اس نے میری گود میں سر رکھ کر ایک نظم گنگنائی تھی ۔اس کی مدھر آواز میں سنائی ہوئی نظم مجھے آج بھی ایسے ہی یاد تھی جیسے گھڑی بھر پہلے کی بات ہو ....
اگر کبھی میری یاد آئے
تو چاند راتوں کی نرم رنگین روشنی میں ،
کسی ستارے کو دیکھ لینا
اگر وہ نخلِ فلک سے اڑ کر تمہارے قدموں میں آگرے تو
یہ جان لینا وہ میرا دل تھا
اگر نہ آئے ؟
مگر یہ ممکن ہی کس طرح ہے
کہ تم کسی پر نگاہ ڈالو اور اس کی دیوارِ جاں نہ ٹوٹے
وہ اپنی ہستی نہ بھول جائے
گریز کرتی ہوا کی لہروں پہ ہاتھ رکھنا
میں جنبشوں میں تمھیں ملوں گی
تم اوس قطرے کے آنسوﺅں میں تلاش کرنا
میں وسعتوں میں تمھیں ملوں گی
اگر اوس قطرے کے آنسوﺅں میں نہ پاﺅ مجھ کو
تو اپنے قدموں میں دیکھ لینا
کہیں پہ روشن چراغ دیکھو تو جان لینا
ہر اک پتنگے کے ساتھ میں بھی بکھر چکی ہوں
تم اپنے ہاتھوں سے ان پتنگوں کی راکھ دریا میں ڈال دینا
میں، سمندروں میں سفر کروں گی
کسی نہ دیکھے ہوئے جزیرے پہ رک کے تم کو صدائیں دوں گی
سمندروں کے سفر پہ نکلو تو اس جزیرے پہ بھی اترنا۔
نہ جانے وہ کس جزیرے پر رک کر مجھے صدائیں دے رہی تھی کہ اس کی صدائیں میری سماعتوں تک ہی نہیں پہنچ پا رہی تھیں ۔
٭٭٭
تربیتی مشقیں فوج کی روز مرہ ہے ۔ذہن بٹانے کے لیے میں بھی تربیتی مشقوں میں حصہ لینے لگا تھا ۔نئے سنائپرز کو تربیت دے کر میں گویا استاد کے درجے پر ترقی پا گیا تھا ۔میرے عملی تجربات ایسے تھے کہ استاد تصور بھی مجھ سے مشورہ لے کر میری عزت افزائی کرتے رہتے ۔دن بھر کی سخت تربیتی مشقوں کے بعد رات کو اچھی خاصی نیند آتی ۔البتہ کبھی کبھار پلوشہ میرے خوابوں کو رونق بخشنے آجاتی ۔ایک رات وہ میرے خواب میں آئی تو خفا خفا سی تھی ۔
کیا ہوا چندا ؟“اس کی ناراضی بھری نگاہوں کی تاب لانا میرے لیے کہاں ممکن تھا ۔
”آپ میرے سرداربھائی سے خفا کیوں ہیں ؟“
”تمھیں نہیں معلوم ۔“
”اس میں ان کا کوئی قصور نہیں تھا ۔“
”اگر اس نے تمھیں گھر واپس بھیج دیا ہوتا اور اکیلامیری بے گناہی کے ثبوت ڈھونڈنے جاتا تو کبھی بھی یہ حادثہ پیش نہ آتا ۔“
اس نے منھ بنایا ۔”آپ کے خیال میں میں نے ان کی بات فوراََ مان جانی تھی ہے نا .... اور یہ آپ کو کس نے کہا انھوں نے مجھے واپس بھیجنے کی کوشش نہیں کی ۔“
”مگر....“
”چھوڑیں اگر مگر کو اور ابھی ابھی اٹھ کر ان سے خفگی دور کریں ۔“اس کے ساتھ ہی میری آنکھ کھل گئی تھی ۔کمرے میں چلنے والے پنکھے اور ائیر کولر اگست کی گرمی سے لڑنے کی ناکام کوشش میں مصروف تھے ۔میں نے اٹھ کر چاروں طرف نگاہ دوڑائی سردار کی چارپائی مجھ سے تین چارپائیوں کے فاصلے پر پڑی تھی ۔کروٹوں کا تسلسل اس کے جاگنے کو ظاہر کر رہا تھا ۔ہاتھ والا پنکھا تکیے کے نیچے سے نکال کر میں اس کی چارپائی کی طرف بڑھ گیا ۔دیوار سے ٹنگی گھڑی رات کے دو بجنے کا اعلان کر رہی تھی ۔اس کی چارپائی کے سامنے رکتے ہوئے میں دھیمے لہجے میں بولا ۔”اگر نیند نہیں آرہی تو باہر چلتے ہیں ۔“
میرے اندازے کے مطابق وہ جاگ ہی رہا تھا ۔فوراََ اٹھ بیٹھا ۔پاﺅں میں چپل ڈالتے ہوئے وہ اطمینان بھرے لہجے میں بولا ۔”اچھا مشورہ ہے ۔“
ہم دونوں لان میں لگے سنگی بینچ پر بیٹھ گئے تھے ۔سردار میرے ماضی کے رویے کا ذکر کیے بغیر یوں گپ شپ کرنے لگا جیسے ہمارے درمیان کچھ ہوا ہی نہ ہو ۔
”تمھارا بھتیجا سلطان بہت شرارتی ہو گیا ہے یار!.... اور اب اسے نئی ماں کی ضرورت پہلے سے بھی زیادہ محسوس ہونے لگی ہے ۔“
”اس دن تم لی زونا بہن کے بارے کچھ کہہ رہے تھے ۔“
اس نے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ۔”پرسوں آرہی ہے ،میں بھی کل چھٹی لے کر جا رہا ہوں ۔“
میں نے پوچھا ۔”شادی کے بارے کیا سوچا ہے ؟“
وہ ہنسا ۔”دس دنوں کی چھٹی جا رہا ہوں ،کوشش یہی ہو گی کہ کوئی دن ضائع نہ جائے ۔“
”کیوں ائرپورٹ پر نکاح خواں کو بھی ساتھ لے جا رہے ہو ؟“
”نہیں وہ گھر میں بیٹھ کر ہمارے آنے کا انتظار کر یں گے ۔“
میں نے کہا ۔”اس کا مطلب مجھے بھی اپنی چھٹی کا بتا دینا چاہیے ۔“
وہ اطمینان سے بولا۔”میں بتا چکا ہوں ۔“
میں نے حیرانی سے پوچھا ۔”کب ؟“
”آج ہی حوالدار میجر کو بتایا ہے ۔کیوں کہ میں جانتا تھا کہ لی زونا کی آمد کا سن کر تم ضرور میرے ساتھ چلو گے ۔“
”صحیح کہا ۔“میں نے اثبات میں سرہلادیا تھا ۔ہم گھنٹا ڈیڑھ وہیں بیٹھے گپیں ہانکتے رہے ۔ اور پھر مچھروں کی مسلسل یلغار سے تنگ آکر وہ بارک میں گھس گیا ۔جبکہ میں وہیں بیٹھا رہا ۔ سردار خان ایک مخلص دوست تھا ۔اس نے میرے پچھلے دنوں کے رویے کو بالکل نظر انداز کر دیا تھا۔ بیٹھے بیٹھے اچانک میرے دماغ میں جینی کا خیال ابھرا ۔میں نے کلائی سے بندھی گھڑی پر نگاہ دوڑائی صبح کے چار بج رہے تھے ۔گویا ان کے پاس شام کے چھے سات بجے کا وقت ہونا چاہیے تھا ۔کیونکہ نیویارک کا وقت ہم سے قریباََ نو گھنٹے پیچھے ہے ۔میں نے آنکھیں بند کر کے اپنی یاداشت کھنگالی ذرا سی کوشش سے اس کا نمبر مجھے یاد ہو گیا تھا ۔موبائل فون نکال کر میں اس کا نمبر ڈائل کرنے لگا ۔دو تین گھنٹیوں کے بعد کال وصول کر لی گئی تھی ۔میں نے اس کی حیرانی بھری ۔”ہیلو ۔“کے جواب میں پوچھا ۔
”جینی کیسی ہو ؟“
”زی ....“اس نے مجھے پہچاننے میں ایک لمحہ بھی نہیں لگایا تھا ۔”شکر ہے تمھیں میری یاد بھی آگئی ۔جانے کب سے تمھاری کال کا انتظار کر رہی ہوں ۔تمھیں اپنی شادی پر بلانا تھا مگر تمھاری کال ہی نہ آئی مجبوراََ مجھے تمھارے بغیر ہی شادی کرنا پڑی ۔مہینا ہوگیا ہے میری شادی کو ۔“وہ پر جوش لہجے میں بولتی گئی ۔
میں نے اس کے نام کو مزید مختصر کرتے ہوئے کہا ۔”مبارک ہو جی !“
”شکریہ زی !....“
”اچھا کیسا ہے ؟“
”بہت محبت کرتا ہے ۔ اتنا خیال رکھتا ہے کہ بتا نہیں سکتی ۔اس وقت بھی باورچی خانے میں گھسا رات کا کھانا بنا رہا ہے ۔“
میں نے کہا ۔”اسی لیے تو کہتا تھا کہ کسی ہم مذہب اور ہم تہذیب سے شادی کر لو مزے کرو گی۔“
”زی! میں اس موضوع پر بات نہیں کرنا چاہتی ۔اور اتنا تو تم جانتے ہو کہ میں کیا چاہتی تھی ۔ اور سچ کہوں تو میری دلی تمنا اب بھی وہی ہے ۔“
”اگر باورچی خانے میں کھانا بنانے والے شوہر صاحب نے تمھاری بے ہودہ بات سن لی تو دیگچہ تمھارے سر میں دے مارے گا ۔“
”اسے میں تمھارے بارے سب کچھ بتا چکی ہوں وہ تمھاری اس آفت کی پرکالہ کی طرح نہیں ہے ۔“اس نے پلوشہ کا ذکر کرتے ہوئے گویا میرے دل کے زخم کریدے ۔”ویسے کیسی ہے اور کیا اسے معلوم ہے کہ تم مجھ سے بات کر رہے ہو ؟“
میں اس کی بات کا کوئی جواب نہیں دے پایا تھا ۔مجھے خاموش پا کر اس نے بے چینی سے پوچھا۔
”زی ،کیا ہوا خیریت تو ہے نا؟“نہ جانے کیسے اسے میری خاموشی سے کسی گڑبڑ کا احساس ہو گیا تھا ۔
”جینی !....وہ نہیں رہی ۔“ بہ مشکل مختصر سا فقرہ میرے حلق سے برآمد ہوا ۔
”کیا مطلب نہیں رہی ۔“وہ حیرانی سے چیخ پڑی تھی ۔
”تمھیں بتایا تھا نا کہ وہ میری بے گناہی کے ثبوتوں کے حصول کے لیے مجھ سے پہلے نکلی تھی ۔ بس اسی کوشش میں جان سے ہاتھ دھو بیٹھی ۔اور جانتی ہو مرنے سے دو تین دن پہلے وہ تمھیں تلاش کرنے کی کوشش کر رہی تھی ۔کیوں کہ اسے یقین تھا کہ تم اس کی مدد ضرور کرو گی ۔“
”میں اس کی مدد ضرور کرتی زی ،وہ بہت پیاری تھی ۔سچ کہوں تو مجھے اس سے محبت ہو گئی تھی۔وہ اس قابل تھی کہ اسے چاہا جاتا ۔“جینی کی آواز میں شامل دکھ مصنوعی نہیں تھا ۔
”اچھا چھوڑو اس کے ذکر کو ۔کوئی اور بات کرو ۔“
وہ خلوص بھرے لہجے میں بولی ۔”زی اگر کہوتو میں تمھارے پاس آجا تی ہوں یا تمھیں امریکہ بلوا لیتی ہوں ۔اور یقینا میں اب بھی اپنے شوہر کو طلاق دے سکتی ہوں ۔“
”جینی میں جانتا ہوں کہ تم مجھے دل کی گہرائیوں سے چاہتی ہو اور اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ مجھے بھی تم اتنی ہی پیاری ہو ۔لیکن اپنے تعلق کے بارے میں تمھیں پہلے بھی تفصیل سے بتلا چکا ہوں ۔ تم ہمیشہ میری بہت اچھی دوست رہو گی ایسی دوست جسے میں بہت زیادہ محبت کرتا تھا اور ہمیشہ کرتا رہوں گا ۔“
اس نے عجیب سے لہجے میں پوچھا ۔”زی ،تم اس کے لیے بہت زیادہ روتے ہو نا ؟“
میں پھیکی مسکراہٹ سے بولا ۔”نہیں ،بس کبھی کبھی ۔“
”اچھا یاد آیا تم نے بے چارے نک سٹیورٹ کے ساتھ اچھا نہیں کیا تھا ۔“اس نے ایک دم موضوع تبدیل کر دیا ۔
”تم تک یہ بات پہنچ گئی تھی ۔“
”جب اسے گولی لگنے کی بات مجھ تک پہنچی میں سمجھ گئی تھی کہ یہ زی کاکام ہے ۔بعد میں لورا براﺅن سے بھی ملاقات ہوئی تھی اور اس نے تصدیق کر دی کہ نک سٹیورٹ، ایس ایس کی گولی کا نشانہ بنا ہے۔ وہ تم سے بہت متاثر نظر آرہی تھی ۔جب اسے میرے اور تمھارے تعلق کے بارے معلوم ہوا تو کافی دیر تمھارے بارے گپ شپ کرتی رہی ۔“یہ کہتے ہوئے اس نے ہنستے ہوئے پوچھا ۔”ویسے اسے کس خوشی میں زندہ چھوڑ دیا تھا ؟“
میں نے اجمالاََ اسے زندہ چھوڑنے کی وجہ بیان کر دی ۔
بہ ہر حال وہ کسی اور خوش فہمی میں تھی ۔“
میں نے شرارتی لہجے میں پوچھا ۔”ویسے دکھنے میں کیسی ہے ؟“
وہ فوراََ بولی ۔”مجھ سے خوب صورت ہے ۔“
میں اعتماد سے بولا ۔”یہ تو سراسر جھوٹ ہے ۔“
اس نے عجیب سے لہجے میں پوچھا ۔”کیوں ،مجھ سے کوئی لڑکی خوب صورت نہیں ہو سکتی ۔“
”ہاں ۔“
”کیا پیلاوشہ بھی نہیں ۔“
”اس کا ذکر کرنا ضروری تھا ۔“میں نے ناراض لہجے میں اسے جھڑکا ۔
وہ فوراََ بولی ۔”معافی چاہتی ہوں ۔اور لورا کا فون نمبر میرے پاس موجود ہے اگر بات آگے بڑھانا ہو ۔“یقینا مزاحیہ انداز اپنا کر وہ پلوشہ کے دل فگارتذکرے کا کفارہ کرنا چاہ رہی تھی ۔
میں اطمینان سے بولا ۔”تمھارا فون نمبر میرے پاس موجود ہے ۔اور میرا خیال ہے اس کے علاوہ مجھے کسی کے فون نمبر کی ضرورت نہیں ۔“
”آئی لو یو زی !“
”می ٹو اور ا ب نماز کا وقت ہو گیا ہے ،میرا یہ نمبر محفوظ کر لینا اس پر جب چاہو کال کر سکتی ہو ۔“
”ٹھیک ہے زی ،گڈ بائی اپنا بہت بہت خیال کر نا اور ہو سکے تو تم بھی شادی کر لو یقینا تمھیں سنبھلنے کے لیے ایک عورت کی ضرورت ہے ۔“
”اتنے قیمتی مشورے پر شکر گزار ہوں ۔“طنزیہ لہجے میں کہتے ہوئے میں نے رابطہ منقطع کر دیا۔آذان کافی دیر کی ہو چکی تھی ۔میں اٹھ کر مسجد کی طرف بڑھ گیا ۔
٭٭٭
لی زونا کے سر سے لپٹے ہوئے دوپٹے نے مجھے حیران کر دیا تھا ۔سردار کی طرف سے پاکستان آنے کی دعوت ملتے ہی اس نے اسلام قبول کر لیا تھا ۔ان دونوں کا ملاپ دیکھ کر جانے کیوں میرا دل غم سے بھر گیا تھا ۔سردار خان کو تو چنارے بیگم کا متبادل مل گیا تھا ،کیا مجھے بھی پلوشہ جیسا کوئی مل پاتا ۔یہ سوچ آتے ہی میرے دماغ میں نیلی آنکھوں والی گلگارے کا خوب صورت چہرہ لہرایا ۔سر جھٹکتے ہوئے میں نے اس واہیات سوچ کو دماغ سے نکال دیا تھا ۔کہ پلوشہ کی جگہ کوئی لڑکی نہیں لے سکتی تھی ۔اور پھر گلگارے یقینا کب کی کسی کی دلھن بن چکی ہو گی ۔اس نے اپنے آخری خط میں واضح طور پر بتا دیا تھا کہ وہ مہینے کے اندر اندر شادی کر لے گی کیوں کہ وہ پلوشہ کو چھوٹی بہن سمجھتی تھی اور چھوٹی بہن کا گھر اجاڑنا اسے کسی طور گوارا نہیں تھا ۔
لی زونا کے سر پر ہاتھ رکھ کر میں نے اسے خوش آمدیدکہا ۔ائر پورٹ سے ہم ٹیکسی کرا کر مردان روانہ ہو گئے ۔وہ رات میں اور سردار بیٹھک میں رہے تھے جبکہ لی زونا اس کی بڑی بہن کے ساتھ گھر میں تھی ۔ اگلے دن دونوں کا نکاح پڑھا دیا گیا ۔سہ پہر کو مجھے دلھن سے ملنے کا موقع ملا تھا ۔سردار کی بہن نے اسے روایتی دلھن کی طرح اسے سجایا تھا ۔لی زونا کا معصوم چہرہ خوشی سے کھل رہا تھا ۔میں نے اس کے سر پر ہاتھ رکھ کر ایک قیمتی ہار کا تحفہ اسے دیا ۔
وہ پوچھنے لگی ۔”ایک بات کہوں ذیشان بھائی ۔“
”کہو ۔“
”آپ پریشان ہیں یا مجھے ہی ایسا لگ رہا ہے ۔“
”میں واقعی پریشان ہوں میری بہن ۔“میں دکھی لہجے میں بولا ۔”تھوڑے دن پہلے ہی میری بیوی کا حادثے میں انتقال ہو گیا ہے ۔“پلوشہ کو مرے ہوئے ساتھ آٹھ ماہ ہو گئے تھے لیکن یہ کل ہی کی بات لگتی تھی ۔
”بہت افسوس ہوا بھائی ۔“وہ بھی دکھی ہو گئی تھی ۔
”چھوڑو اس دل دکھانے والے موضوع کو۔“میں ہلکے پھلکے انداز میں بولا۔”اگر سردار کوئی گڑبڑ کرنے کی کوشش کرے تو پریشان نہ ہونا تمھارا بھائی یہاں موجود ہے ،فوراََ ہی مجھے کال کرنا ۔“
”جانتی ہوں بھائی !اور مجھے اپنے بھائی پر فخر ہے ۔البتہ سردار پر مجھے بھروسا ہے تو سب کچھ چھوڑ کر یہاں آئی ہوں ،ورنہ اتنا بڑا قدم کوئی یونھی تو نہیں اٹھا لیتا ۔“
وہ سچ کہہ رہی تھی ۔سردار ایک مخلص اور اچھا انسان تھا ۔اس کے ساتھ وہ لی زونا کو دل سے چاہتا تھا یقینا ان کی شادی شدہ زندگی نہایت کامیاب ہوتی ۔
”ویسے مریم بہت پیارا نام ہے ۔اور تمھارے ساتھ بہت جچتا ہے ۔“میں نے اس کے اسلامی نام کو سراہا ۔
وہ خوش ہوتے ہوئے بولی ۔”یہ نام مجھے کلمہ پڑھانے والے مولوی صاحب نے رکھا ہے ۔“
”اچھا چلتا ہوں ۔اللہ پا ک آپ کے رشتے کو خوشیوں بھری طوالت دے ۔باقی گپ شپ بعد میں ہوتی رہے گی ۔“
اس نے اثبات میں سر ہلادیا ۔میں سردار سے اجازت لے کر وہاں سے نکل آیا تھا ۔گو سردار نے مجھے روکنے کی بہت کوشش کی تھی لیکن میری موجودی میں وہ اپنی نئی نویلی دلھن کو پورا وقت نہ دے پاتا۔ وہاں مزید ٹھہر کر میں رنگ میں بھنگ نہیں ڈالنا چاہتا تھا ۔وہاں سے میں نے صوابی کا رخ کیا تھا ۔ رات کا کھانا میں استاد عمر دراز کے ساتھ کھا رہاتھا ۔باقی کی رات میں انھیں پلوشہ کی کہانی سناتا رہا ۔ ان کے سامنے روتے ہوئے مجھے کوئی جھجک محسوس نہیں ہو ئی تھی ۔
”بیٹا !....تم پہلے آدمی تو نہیں ہو جس سے محبوب چھن گیا ہو ۔دنیا بھری پڑی ہے ایسوں سے البتہ عقل مندی کا تقاضا یہی ہے کہ ماضی میں جھانکنے کے بجائے مستقبل پر نظر رکھو ۔اور بہتر یہی ہو گا کہ شادی کر لو اگر کوئی عورت تمھیں پلوشہ کے دکھ سے نجات نہ بھی دے پائی تو اس سے ہونے والے بچے یقینا یہ کام کر لیں گے ۔اور اس کی زندہ مثال خود میں ہوں ۔ایک موذی مرض نے مجھ سے بھی جینے کا سہارا چھین لیا تھا ،مگر پھر امی جان کی کوشش سے وشمہ میری زندگی میں آئی ،مجھے دو خوب صورت بچیوں کا تحفہ دیا اور سمیرا کے بچھڑنے کا دردناک غم نہ ہونے کے برابر رہ گیا ۔“
میں صاف گوئی سے بولا ۔” فی الحال تو ہمت نہیں ہے استاد جی ،البتہ کچھ عرصہ بعد کوشش کروں گا کہ آپ کے حکم پر عمل کر پاﺅں ۔“
وہ ہنس کر خاموش ہو گئے تھے ۔رات کافی بیت چکی تھی انھوں نے مجھے سونے کا مشورہ دیا اور چپ سادھ لی ۔
پلوشہ کا متبادل کوئی لڑکی بھی نہیں ہو سکتی تھی البتہ گلگارے ایک ایسی لڑکی تھی جس سے شادی کرنے کا سوچا جا سکتا تھا ،مگر وہ بہت پہلے اپنی شادی کا بتاچکی تھی ۔جینیفر بھی ایک بہترین انتخاب تھا لیکن وہ بھی کسی اور کی بن چکی تھی اور جس سے اس نے شادی کی تھی وہ اس سے بہت محبت کرتا تھا ۔یوں کسی سے اس کی محبت چھیننا یقینا خود غرضی اور بے حسی کی انتہا ہوتی ۔بلکہ یہ ایک اتفاق ہی تھا کہ گلگارے نے بھی اپنے ہونے والے شوہر کے بارے یہی بتایا تھا کہ وہ اس سے بہت محبت کرتا ہے ۔ان دو نوں کے علاوہ بھی ایک لڑکی میری زندگی کا حصہ بن چکی تھی ۔کشمیری چرواہن رومانہ جو میری زندگی میں آنے والی تمام لڑکیوں سے زیادہ خوب صورت تھی ۔گو پلوشہ مجھے بہت عزیز تھی اور بہت زیادہ پیاری بھی تھی لیکن یہ حقیقت جھٹلائے جانے کے قابل نہیں تھی کہ رومانہ ،پلوشہ سے بھی زیادہ پر کشش اور خوب صورت تھی ۔ اور وہ میری زندگی میں پلوشہ سے پہلے آئی تھی ۔یہ اور بات کہ جب وہ مجھے ملی تو اس سے چند ماہ پہلے ہی وہ کسی اور کی بن چکی تھی ۔یہ الٹی سیدھی سوچیں نیند آنے تک میرے دماغ میں چکراتی رہیں ۔اگلے دو دن میں نے استاد عمر دراز کے پاس ہی گزارے تھے ۔وہاں سے میں گھر آگیا اور بقیہ چھٹی عدیل کے ساتھ گزاری اسے بھی اپنی باجی کی موت کا علم ہو گیا تھا ۔اس کے نین نقش پلوشہ سے بہت زیادہ ملتے تھے اس لیے وہ میرے دل کے بہت زیادہ قریب تھا ۔میں اس کی تعلیم و تربیت میں کسی قسم کی کمی نہیں دیکھنا چاہتا تھا۔ ابو جان کو بھی وہ بہت زیادہ عزیز تھا ۔ایک دن پھوپھو جان رات کے وقت میرے کمرے آئیں ۔ وہ بہت سنجیدہ لگ رہی تھیں ۔چند منٹ دائیں بائیں کی گفتگو کے بعد وہ مطلب کی بات پر آگئیں ۔
”بیٹا ،ایک ضروری بات کرنا تھی ۔“
”جی مجھے بھی کوئی ایسا ہی شک ہو رہا ہے پھوپھو جان!.... بہ ہر حال حکم کریں ۔“میں ذہنی طور پر کسی انجان لڑکی کے رشتے کو ٹھکرانے کے لیے تیار ہو گیا تھا ۔
”دیکھو بیٹا برا نہ منانا مگر سچ تو یہ ہے کہ محلے میں دبی زبان میں گلناز بہن کی یہاں موجودی پر باتیں ہو رہی ہیں ۔“
”کیا مطلب ؟“میں حیران رہ گیا تھا ۔
”بیٹا ،تم جانتے تو ہو کہ ہمارے معاشرے کی کیا ذہنیت ہے ۔گلنار بہن چھوٹی لڑکی نہیں ہے نا بھائی جان پر جوانی ٹوٹی پڑ رہی ہے لیکن باتیں کرنے والوں کی زبان کون پکڑ سکتا ہے ۔“
میرا دماغ بھک سے اڑ گیا تھا ،کوئی اتنی گھٹیا بات سوچ بھی کیسے سکتا تھا ۔لیکن پھوپھوجان بھی تو جھوٹ نہیں کہہ سکتی تھیں ۔”پھو پھوجان کوئی کتنی ہی بکواس کیوں نہ کرلے ،میں پلوشہ کی ماں کو کہیں جانے کی اجازت نہیں دے سکتا ۔بلکہ میں انھیں اپنی سگی ماں ہی کی طرح سمجھتا ہوں ۔“
پھوپھوجان جھجکتے ہوئے بولیں ۔”جب سگی ماں جیسا سمجھتے ہو تو پھر سچ میں ماں بنا کیوں نہیں لیتے ۔“
”مم....مگر پھوپھو جان ....“میں ہکلا کر خاموش ہو گیا تھا ۔
”بیٹا ،میں مولوی صاحب سے پوچھ چکی ہوں ،کوئی شرعی قباحت نہیں ہے ۔گلناز بہن کو بھی میں راضی کر چکی ہوں ،صرف آپ کی مرضی باقی ہے ۔“
”اور ابو جان ۔“
”انھوں نے میری بات کاکوئی جواب نہیں دیا ۔لیکن اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ انھیں کوئی اعتراض ہے ۔“
میں ہنسا ۔”مطلب تمام کام مکمل ہے صرف میرا انتظار تھا ۔“
”بیٹا ،اس طرح گلناز بہن کے دل میں یہاں رہنے کے بارے جو جھجک ہے وہ بھی ختم ہو جائے گی ،معترضین کو بھی اپنی بکواس کا خاطر خواہ جواب مل جائے گا ۔“
”پھوپھوجان ،آ پ نے نہایت خوشی کی خبر سنائی ہے ،کل محلے کے چند بزرگوں کی موجودی میں یہ بابرکت کام کر لیتے ہیں ۔“
پھوپھوجان میرا ماتھا چوم کر رخصت ہو گئیں ۔صبح نماز کے لیے جاتے ہوئے میں نے ابوجان کو شرارتی لہجے میں کہا ۔
”ویسے آپ نے انھیں ،میراماں جی کہنے کا بہت الٹ مطلب لیا ہے ،بہ ہر حال کوئی بات نہیں۔“
وہ باپ تھے کہاں ہار ماننے والے تھے ،ترکی بہ ترکی بولے ۔”تو کیا کروں ،گھر میں ایک دلھن کی موجودی تو ضروری ہے نا ،تم سے تو کچھ ہو نہیں سکتا اب میں بھی نا مرد بن جاﺅں ۔“
میں قہقہہ لگا کر ہنس پڑا تھا ۔”ویسے بہت بہت شکریہ ابوجان ،امی جان کی کمی بہت سختی سے محسوس ہو رہی تھی ۔“
وہ طنزیہ لہجے میں بولے ۔”صحیح کہا ،لیکن اس سے زیادہ کمی بہو کی محسوس ہو رہی ہے ۔“
”مسجد میں دنیا کی باتیں کرنا سخت گنا ہ ہے ۔“میں نے مسجد میں داخل ہونے کا بہانہ کرتے ہوئے ان کی بات کو نظر انداز کر دیا تھا ۔
”جب نکاح کی سنت مسجد میں ادا ہو سکتی ہے تو شادی کی بات میں کوئی مضائقہ نظر نہیں آتا ۔“
اس مرتبہ ان کی بات کا جواب دیے بغیر میں نے سنتوں کی نیت باندھ لی کہ جان چھڑانے کا اس سے آسان طریقہ نظر نہیں آرہا تھا ۔
اسی دن عشاءکی نماز کے بعد مولوی صاحب اور محلے کے چند معززین کی موجودی میں یہ بابرکت کام سر انجام پاگیا تھا ۔پلوشہ کی ماں کو میں پہلے بھی ماں کہتا تھا کہ ساس بھی ماں ہی کا درجہ رکھتی ہے لیکن اب تو وہ سچ میں میری ماں بن گئی تھیں ۔چھٹی کے بقیہ دنوں میں مجھے ابوجان اور امی جان کے چہروں پر چھائی آسودگی ،اطمینان اور خوشی دیکھ کر دلی سکون ملا تھا ۔پلوشہ کی ماں اور بھائی کو میں نے صرف ماں اور بھائی سمجھا نہیں بلکہ بنا بھی لیا تھا ۔
پلوشہ کی ماں پہلے بھی میری ضروریات کا بہت زیادہ خیال رکھتی تھی لیکن اس کے بعد تو ان کا رویہ سچ مچ امی جان کا سا ہو گیا تھا۔نہ جانے میری پلوشے زندہ ہوتی تو اس شادی پر کتنا خوشی کا اظہار کرتی۔ یقینا وہ ہلا گلا کیے بغیر نہ رہتی ۔
سردار اور میری چھٹی اکٹھی ہی ختم ہوئی تھی ۔واپسی پر اس کی حالت بالکل ویسی ہی تھی جو کبھی میری ہواکرتی تھی ۔ہر وقت لی زونا یعنی مریم کی باتیں ہیڈ فون اس کے کانوں سے کم ہی اترا کرتا تھا ۔ مریم کے ساتھ مسلسل انگریزی بول کر اس کی انگریزی پہلے سے بہت بہتر ہو گئی تھی ۔مریم بھی پشتو سیکھنے کی کوشش کرر ہی تھی ۔دونوں اس شادی سے خوش اور مطمئن تھے ۔
ایک دن انجان نمبر سے کال وصول کر کے مجھے گلگارے کی آواز سننے کو ملی ۔
”شکر ہے تمھیں یاد تو ہوں ۔“پہچان ہوتے ہی میں نے شکوہ کیا تھا ۔
وہ دکھی آواز میں بولی ۔”آپ بھولے کب تھے ۔“
”پھر اتنے عرصے بعد گھنٹی کرنے کی توجیہ کیا کرو گی ؟“
اس نے عجیب سے انداز میں پوچھا ۔”آپ کو راجو کہہ سکتی ہوں ؟“
میرے ہونٹوں پر زخمی مسکراہٹ نمودار ہوئی ۔”ایک کہنے والی تو رہی نہیں بھی شوق پورا کر لو۔“
وہ تفصیل بتاتے ہوئے بولی ۔”شادی کے دوسرے ہی دن مجھے پلوشہ بہن کے مرنے کی خبر پہنچی ۔آپ کا دوست کمانڈر عبدالحق چھٹی سے واپسی پر ابوجان کو پلوشہ بہن کے مرنے کی دل فگار خبر بتا کر آگے چلا گیاتھا۔ میں گھر آئی تو رنڑا کی زبانی پتا چلا ۔اس کے بعد ہمت ہی نہ ہوئی کہ خان کلے جا کر آپ سے بات کر سکوں ۔البتہ اب ہمارے گاﺅں میں بھی موبائل فون کے سگنل آ گئے ہیں تو ہمت کر ڈالی ہے۔“
”شوہر کیسا ہے ؟“میں نے تکلیف دہ موضوع سے جان چھڑانا چاہی ۔
وہ اطمینان بھرے لہجے میں بولی ۔”بہت اچھا ،اتنا کہ شادی کرنے پر کوئی پچھتاوا نہیں ہو رہا۔“
”میری گڑیا کیسی ہے ؟“میں نے رنڑا کی بابت پوچھا ۔
گل نے ہنستے ہوئے کہا ۔”یہ لیں خود ہی بات کر لیں ،موبائل فون لینے کے لیے مسلسل ہی بھیک مانگنے کے انداز میں ہاتھ پکڑا ہوا ۔“
”اگلے ہی لمحے میں رنڑا کی پر جوش آواز سن رہا تھا ۔اس کے بعد ثمر خان اور چچا شمریز سے بھی گپ شپ ہوئی ۔آخر میں گل نے چند باتیں کہہ کر مجھے تسلی دی اور ملنے کی درخواست بھی کر دی ۔
”کوشش کروں گا کہ جلد ہی آپ کی طرف چکر لگے ۔“اسے اطمینان دلا کر میں نے الوداعی کلمات کہتے ہوئے رابطہ منقطع کر دیا تھا ۔
جینی بھی ہر دوسرے دن کال ضرور کرتی تھی ۔سردار اور مریم کی شادی کا سن کر وہ مجھ سے کافی خفا بھی ہوئی تھی ۔لیکن رابطہ کرنا نہ چھوڑا ۔میں زیادہ وقت تربیتی مشقوں میں گزارتارہتا ۔بھاگ دوڑ ، جمنازیم،فائرنگ وغیرہ کے شغل میں دن آسانی سے گزر جاتا۔ میری نشانہ بازی پہلے سے بھی نکھر گئی تھی ۔ وزیرستان جاتے وقت ایس ایس میرا اور سردار دونوں کا کوڈ نام تھا ،لیکن اب یونٹ میں مجھے زیادہ تر لوگ ایس ایس ہی کہہ کر بلاتے تھے ۔تعلق رکھنے والے افراد مجھے مختلف ناموں سے پکارتے تھے لیکن راجو صرف پلوشے کہتی تھی ۔
زندگی میں ٹھہراﺅ سا آگیا تھا ۔اور پھر اس ٹھہراﺅ میں کنکر کمانڈنگ آفیسر کے اردلی نے پھینکا ۔ اس وقت میں کنٹین میں بیٹھا سردار کو چھیڑ رہا تھا جب وہ مجھے بلانے وہیں آگیا ۔
”ذیشان بھائی ،کمانڈنگ آفیسر یاد کر رہے ہیں ۔“
”آرہا ہوں ۔“میں نے اثبات میں سر ہلادیا ۔
سردار نے سوالیہ نظروں سے مجھے دیکھا ۔
میں لا علمی کے انداز میں کندھے اچکاتے ہوئے کھڑا ہو گیا ۔تھوڑی دیر بعد میں کمانڈنگ آفیسر عرفان ملک صاحب کے سامنے کھڑا تھا ۔
”بیٹھو ۔“میرے سیلوٹ کا جواب سر کے اشارے سے دیتے ہوئے انھوں نے مجھے بیٹھنے کا اشارہ کیااور جلدی جلدی سامنے کھلی فائل پر دستخط کرتے ہوئے کام نبٹانے لگے ۔فائل میں موجود آخری کاغذ پر دستخط ثبت کر کے انھوں نے فائل میز پر رکھی کام ختم ہونے کی مخصوص ٹرے میںپھینکی اور میری جانب متوجہ ہوکر مسکرائے ۔
”جوان ،میرا خیال ہے تم نے کافی آرام کر لیا ہے اب اگر کام کی بات ہو جائے ۔“
میں نے موّدبانہ لہجے میں کہا ۔”سر ،یقینا یہ آپ کا احسان ہو گا ۔“
”شاباش۔“وہ دیوار پر ٹنگی گھڑی پر نگاہ دوڑاتے ہوئے بولے ۔”تیاری کرو تمھارے پاس زیادہ سے زیادہ تین گھنٹے ہیں، چار بجے کی فلائیٹ سے تم رینج ماسٹر اپنے ساتھ لے کر گلگت جا رہے ہو ۔ باقی کی تفصیل تمھیں وہیں معلوم ہو جائے گی ۔“
جاری ہے
 

قسط نمبر69
ریاض عاقب کوہلر
گلگت ائر پورٹ پر ہمیں لینے کے لیے ایک یونٹ کی دو گاڑیاں آئی ہوئی تھیں ۔ایک فوجی جیپ اور دوسری سنگل کیبن ۔گلگت میں رکے بغیر ہم نے آگے جانا تھا ۔ہمیں خوش آمدید کہنے کے لیے آنے والوں کو ہمارے کام کے بارے کچھ معلوم نہیں تھا ،اس لیے ہم نے ان سے سر کھپانے کی ضرورت محسوس نہیں کی تھی ۔میرے ساتھ دوسرا سنائپر الیاس آیا تھا ۔وہ جہلم سے تعلق رکھنے والاایک نوجوان سنائپر تھا اور پہلی بار کسی مشن پر یونٹ سے باہر آیا تھا ۔وہ خاصا پر جوش تھا ۔
راولپنڈی کی گرمی یہاں نظر نہیں آرہی تھی ۔گلگت سے ہم نے جگلوٹ کا رخ کیا اور وہاں سے استورروانہ ہوئے ۔ نو بجے کے قریب ہم استور پہنچ گئے تھے ۔رات وہیں آرمی کے مہمان خانے میں گزاری اور اگلے دن آٹھ بجے استور سے روانہ ہو گئے ۔
استور میں اچھی خاصی سردی محسوس ہو رہی تھی ۔اور میں جانتا تھا کہ جیسے جیسے ہم آگے بڑھتے جاتے سردی میں اضافہ ہوتا جانا تھا ۔سردار کے مشورے پر میں نے گرم کپڑے اپنے پاس رکھ لیے تھے ۔ الیاس بھی کوٹ وغیرہ ساتھ لینا نہیں بھولا تھا ۔ائر پورٹ ہی سے میں نے ابوجان کو کال کر کے بتا دیا تھا کہ چند دنوں کے لیے ایسی جگہ جا رہا ہوں جہاں شاید بات نہ ہو سکے ۔امی جان سے بھی بات کر کے میں دعائیں لینے میں سستی نہیں دکھائی دی تھی ۔اس بار یونٹ سے نکلتے وقت راﺅ تصور صاحب نے مجھے خصوصی طور پر چند ہدایات کی تھیں ۔
استور سے چلم اور وہاں سے برزل ٹاپ کی بلندی کا سفر طے کرتے ہوئے ہمیں دوپہر ہو گئی تھی ۔برزل ٹاپ کے بعد مسلسل اترائی کا سفر شروع ہو گیا تھا ۔اس علاقے میں میں پہلی بار آیا تھا اس لیے دلچسپی سے دائیں بائیں کا جائزہ لے رہا تھا ۔یوں بھی دائیں بائیں کے مناظر دیکھنے سے تعلق رکھتے تھے ۔ پہاڑ وں سے میرا تعلق بہت پراناہے لیکن یہاں کے پہاڑ کچھ زیادہ ہی بلند تھے ۔نہ جانے کیوں ان بلند پہاڑوں کو دیکھ کر پلوشے کی یادیں زیادہ ہی حملہ آور ہو گئی تھیں ۔یقینا ہم دونوں نے جتنا وقت اکٹھے گزارا تھا وہ پہاڑی علاقے ہی میں گزارا تھا ۔اسی وجہ سے پہاڑوں کو دیکھتے ہی وہ دھم سے آنکھوں کے سامنے آ کودتی تھی ۔
دمبہ باﺅ کا طویل میدان طے کر کے ہم شام ڈھلے مطلوبہ یونٹ کے بٹالین ہیڈکواٹر میں پہنچ گئے تھے ۔سنا یہی ہے دمبہ باﺅ بلندی پر موجود دنیا کا سب سے بڑا میدان ہے ۔رات کا کھانا کھاتے ہی ہمارا بلاوا آگیا تھا ۔یونٹ کے کمانڈنگ آفیسر نے ہم دونوں کو اپنے کمرے ہی میں بلوا لیا تھا ۔اردلی کو چاے کا بتا کر اس نے ہمیں بیٹھنے کا اشارہ کیا ۔
”شکریہ ۔“کہہ کر ہم نے نشست سنبھال لی۔
”تو ذیشان حیدر آپ ہیں ۔“اس نے تصدیقی لہجے میں پوچھا ۔
”جی سر !....یہ الیاس ہے ۔“میں نے اپنے ساتھی کی طرف اشارہ کیا ۔
”ملک صاحب کی مہربانی کہ اس نے بہت جلد ہی آپ کو یہاں بھیج دیا ہے ۔کیا کام کا بتایا ہے؟“
”نہیں سر ۔“میں نے نفی میں سر ہلایا۔
”کام کوئی اتنا مشکل نہیں ہے جوان ،خاص کر جو تمھاری تعریف سنی ہے ذیشان !تو یقینا تمھارے لیے یہ بائیں ہاتھ کا کھیل ہی ثابت ہو گا ۔“لازماََ میرے بارے انھیں ملک عرفان صاحب ہی نے ایسا کچھ بتایا تھا کہ وہ بار بار تعریفی نظروں سے مجھے گھورنے لگتے ۔
میں انکساری سے بولا ۔”کام کے بارے سن کر ہی کچھ اندازہ لگا پائیں گے سر ۔“
وہ تفصیل بتلاتے ہوئے بولے ۔” سردیاں شروع ہونے ہی والی ہیں ۔یہاں پر جولائی ،اگست اور ستمبر کے پہلے ہفتے تک ہم اپنی دوردراز پوسٹوں پرسال بھر کا راشن ذخیرہ کروا دیتے ہیں ۔ یہ کام ویسے تو ہم سوّل مزدوروں سے لیتے ہیں جو خچروں کے ذریعہ تمام پوسٹوں پر راشن پہنچاتے ہیں ۔ لیکن دو پوسٹیں ایسی ہیں جہاں سوّل لوگ راشن پہنچانے سے گھبراتے ہیں ۔اس کی وجہ یہ ہے کہ ایک تو دونوں پوسٹیں کافی بلندی پر واقع ہیں ۔یعنی انیس ہزار فٹ کی بلندی کافی معنی رکھتی ہے ۔اور دوسرا یہ وہ پوسٹیں ہیں جو کارگل جنگ میں ہم نے انڈیا سے چھینی تھیں اور معاہدے کے بعد باقی علاقہ تو واپس کر دیا تھا لیکن ان دونوں پوسٹوں کو معاہدے میں شامل نہیں کیا تھا ۔یہ دونوں پوسٹیں چونکہ ہم سے زیادہ انڈیا کی پوسٹوں کے قریب ہیں اس لیے وہ آئے دن ان پوسٹوں کو نشانے پر رکھتے ہیں ۔عام دنوں میں تو ہمیں فائرنگ کے تبادلے میں کوئی خاص مسئلہ نہیں ہوتا، البتہ راشن کی ترسیل کے دنوں میں ہماری مشکلات بڑھ جاتی ہیں ۔ان دونوں پوسٹوں پر فوجی جوانوں ہی کو راشن چڑھانا پڑتا ہے ۔اور ایک جوا ن جب کندھوں پر آٹے یا چینی کی بوری اٹھا کرمشکل چڑھائی طے کر رہا ہو تب وہ فائر کا جواب نہیں دے سکتا ۔بلکہ اس کے لیے تو اپنی جان بچانا بھی کافی دشوار ہوجاتا ہے ۔ان دونوں پوسٹوں میں فہیم پوسٹ پر ہم راشن سٹور کر چکے ہیںالبتہ خرم پوسٹ پر آدھے سے بھی کم راشن پہنچا پائے ہیں ۔“ یہ تفصیل بتاتے ہوئے کمانڈنگ آفیسر شہزاد اکبر اٹھ کر دیوار کے ساتھ ٹنگے ہوئے نقشے کے پاس پہنچے ۔”یہ فہیم او پی ہے اور یہ خرم اوپی ۔“ انھوں نے دوبلندیوں کی نشان دہی کی ۔”اور یہ انڈیا کی وہ دو پوسٹیں ہیں جہاں سے مسلسل فائر آتا ہے ۔ پہلے وہ یہاں آرٹلری کا فائر کرواتے تھے ۔اور سچ کہوں تو آرٹلری کے فائر سے پھر بھی بچت ہو جاتی تھی آج کل انھوں نے اپنی ان دونوں پوسٹوں پر سنائپر بٹھا رکھے ہیں اور جو ہمارے جوانوں کے لیے مسائل کھڑے کیے رکھتے ہیں ۔اس مرتبہ ہم خرم او پی پر چوتھائی سے بھی کم راشن ذخیرہ کر پائے ہیں ۔اور ہمارے پاس بس دس پندرہ دن ہی بچے ہیں اس کے بعد برف باری نے شروع ہو جانا ہے اور تب راشن کی ترسیل ناممکن ہو جائے گی ۔“
میں بھی نشست چھوڑ کر ان کے قریب پہنچا اور نقشے پر نگاہ دوڑاتے ہوئے پوچھا ۔”اس ضمن میں ہم دونوں کیا کر سکتے ہیں ؟“
”پرسوں آپ کے کمانڈنگ آفیسر ،سر عرفان سے بات ہوئی وہ میرے کورس میٹ ہیں ۔ ہم دونوں اکٹھے ہی PMAسے پاسنگ آﺅٹ ہوئے تھے ۔دوران گپ شپ میں نے انھیں اپنا مسئلہ بتا یا ۔ تب انھوں نے کہا کہ وہ اپنا ایک بہترین سنائپر میرے پاس بھیج رہے ہیں جو کسی بھی آدمی کو انیس سو میٹر سے بھی زیادہ فاصلے پر نشانہ بنا سکتا ہے ۔“
”گویا آپ ہمیں انڈین سنائپر ز کے خلاف استعمال کرنا چاہتے ہیں ۔“انھیں کہہ کر میں ان دونوں پوسٹوں کا انڈیا کی پوسٹوں سے فاصلہ ناپنے لگا ۔
شہزاد اکبر صاحب بتا رہے تھے ۔”انڈیا کی ایک پوسٹ فاروڈ ون اور دوسری کو ٹرپل سیون کہتے ہیں ( اس کی بلندی 17777فٹ تھی۔اور ون ٹرپل سیون سیون کو مختصر کر کے ٹرپل سیون کہتے تھے)آپ دونوں میں سے ایک کو خرم اوپی اور دوسرے کو فہیم اوپی پر جا کر دشمن کے سنائپرز کو منھ توڑ جواب دینا پڑے گا ۔“
”میرا خیال ہے یہ کام ہم فہیم اوپی پر جا کر بہتر طریقے سے سر انجام دے سکیں گے ۔یوں بھی ہم سنائپرز جوڑی میں کام کرتے ہیں اور میرا ساتھی پہلی مرتبہ عملی میدان میں آیا ہے اسے میں اکیلا نہیں بھیج سکتا ۔“
کرنل صاحب معترض ہوئے ۔”مگر فہیم اوپی سے ٹرپل سیون کا فاصلہ دو ہزار سے زیادہ ہے ۔“
میں اطمینان سے بولا ۔”یہ میرا درد سر ہے ،آپ ہمیں کل کا دن دیں اور پرسوں ان شاءاللہ آپ اپنی راشن ذخیرہ کرنے والی پارٹی چلانا شروع کر دیں ۔“
انھوں نے پوچھا ۔”اور کل .... ؟“
میں نے کہا ۔”کل چند جوان خالی جھولے لے کر اوپر چڑھیں گے تاکہ فائر شروع ہونے کے بعد خود کو آڑ میں رکھ کر محفوظ کر سکیں ۔یہ جوا ن بس دشمن کے سنائپرز کے لیے بہ طور چارہ پیش کیے جائیں گے ۔“
”تم دونوں کس وقت نکلو گے ؟“
میں نے پوچھا ۔”یہاں سے فہیم اوپی کا فاصلہ کتنا ہے ؟“
”فاصلہ تو کافی ہے ،مگر اس کی بنیاد تک آپ کو گاڑی چھوڑ کر آئے گی اور اس سے آگے بھی تین چار گھنٹے لگ ہی جاتے ہیں ۔“
”تو ہم ابھی نکلیں گے ۔“
”کیا ۔“انھوں نے حیرانی ظاہر کی ۔”میرا خیال ہے آج رات آرام کرلیں ۔“
میں نے مسکراتے ہوئے کہا ۔”سر ،آرام ضرور کرتے ،مگر ہمارے پاس وقت نہیں ہے ۔جتنا جلدی اپنے کام پر لگیں گے اتناہی بہتر ہے ۔یوں بھی مزدور پیشہ لوگ کام ملنے کے بعد آرام کے بجائے کام ختم کرنے میں دلچسپی رکھتے ہیں ۔“
”یہ سن کر اچھا لگا ۔“انھوں نے تعریفی انداز میں گردن ہلائی ۔
چاے پی کر ہم شہزاد صاحب کے کمرے سے نکل آئے تھے ۔انھوں نے بٹالین کے صوبیدار میجر صاحب کو بلا کر ہمارے آگے جانے کے احکامات دے دیے تھے ۔
ایک گھنٹے بعد ہم اپنے سامان کے ساتھ جیپ میں بیٹھ چکے تھے ۔گو ہمارے لیے آرام کرنا مناسب تھا ،لیکن میں چاہتا تھا کہ الیاس کی تھوڑی تربیت ہو جائے ۔ایک سنائپر کو سخت جان اور پرمشقت زندگی کا عادی ہونا چاہیے ۔طویل پہاڑی سفر کے بعد انسانی جسم آرام کا طلب گار ہوتا ۔مسلسل جاگنے سے انسان چڑچڑا ہو جاتا ہے اور صحیح کام کرنے کے قابل نہیں رہتا ۔لیکن سنائپرز کی تربیت میں انھیں مسلسل بے آرام رکھ کر ان کے چڑچڑے پن کو دور کرنا ہوتا ہے ۔ایک زیر تربیت سنائپر کو گھنٹوں نہیں بلکہ دنوں کے حساب سے جگا کر مقصد پورا کرنے کے قابل بنایا جاتا ہے ۔نیند کے بارے کہاوت مشہور ہے کہ نیند سولی پر بھی آجاتی ہے ،لیکن اس کے ساتھ یہ بھی حقیقت ہے کہ سنائپر کو جب تک وہ خود ہی نہ سونا چاہے اپنی مچان میں نیند نہیں آنا چاہیے ۔
ہمارا یہ مشن کافی آسان تھا اور میں نہیں چاہتا تھا کہ اس آسان مشن کی چھاپ الیاس پر ایسی پڑے کہ وہ ہر مشن کو یونھی آسان اور آرام دہ سمجھتا رہے ۔گو وقت آنے پر اسے معلوم ہو جاتا ،مگر اس وقت شاید وہ ذہنی طور پر تیار نہ ہوتا ۔اور ایسا ہونے کی صورت میں یقینا اپنا نقصان کرا بیٹھتا ۔جبکہ اپنے شاگردکو میں یونھی نقصان اٹھا نے کے لیے نہیں چھوڑ سکتا تھا ۔اپنے پہلے مشن میں میں نے اپنے محترم استاد صادق کو شہید ہوتے دیکھا تھا ۔اس نے اپنی جان دے کر میری جان بچائی تھی ۔اور اسی مشن کا اثر تھا کہ بعدمیں مجھے ہر قسم کے حالات کو برداشت کرنا آگیا تھا ۔گو حالیہ مشن میں جان جانے جیسا تو کوئی معاملہ نظر نہیں آرہا تھا لیکن میں الیاس کو بے آرام تو رکھ سکتا تھا تاکہ اسے بھی معلوم ہو کہ عملی زندگی تربیت سے مشکل ہوتی ہے ۔
ہم دوگھنٹوں کی ڈرائیونگ کے بعد فہیم او پی کے بیس میں پہنچ گئے تھے ۔اس کا بیس بھی سطح سمندر سے چودہ ہزار فٹ بلندتھا ۔جبکہ اس کی بلندی انیس ہزار فٹ تھی ۔گویا پانچ ہزار فٹ کی بلندی ہم نے پیدل طے کرنا تھی ۔رات کا ایک بج رہا تھا جب ہم نے فہیم اوپی کے بیس سے اپنا سفر شروع کیا ۔سردی ٹھیک ٹھاک طریقے سے حال پوچھ رہی تھی ۔تیز ہوا گویا اٹھا اٹھا کر پھینک رہی تھی ۔ہمارے ساتھ آنے والے جوانوں نے الیاس سے رینج ماسٹر کا جھولا لینے کی کوشش کی مگر میں نے انھیں۔”یہ وزن اٹھانا ہماری ذمہ داری ہے دوست ۔“ کہہ کر منع کر دیا تھا۔
بلندی پر پہنچتے ہوئے ہمیں تین گھنٹے لگ گئے تھے ۔میں نے چند منٹ سے زیادہ الیاس کو سستانے نہیں دیا تھا اور فوراََ اسے ساتھ لے کر دشمن کی پوسٹوں کا جائزہ لینے باہر نکل آیا اگلا ایک گھنٹا میں نے اس کے ہمراہ ایسی مناسب جگہ ڈھونڈنے میں گزارا جہاں ہم رینج ماسٹر کو لگا کر فائر کر سکتے تھے ۔
مجھے یقین تھا کہ ہندو بنئے نے اتنی سویرے نہیں اٹھنا تھا اس لیے میں زیادہ دیر الیاس کے ساتھ باہر نہ رہا اوررہائشی بینکر میں گھس گیا ۔اس میں کوئی شک نہیں کہ مصنوعی طور پر خود کو کتنی ہی مصیبت اور جوکھم میں مبتلا رکھو وہ حقیقت سے میل نہیں کھاتی ۔اب الیاس کی خوش قسمتی تھی یا بد قسمتی لیکن اسے پہلا مشن نہایت ہی آسان مل گیا تھا ۔
رہائشی بینکر میں لکڑی کے تختے زمین سے تھوڑا بلندی پر لگا کر سونے کی جگہ بنائی گئی تھی ۔ہم دونوں قریب قریب پڑے بستروں میں گھس گئے ۔
”ایک خاص بات بتاﺅں الیاس ۔“
میرے طرف کروٹ تبدیل کرتے ہوئے وہ بولا ۔”جی استاد جی ۔“
”جانتے ہوئے جب میں اپنے پہلے مشن میں گیا تھا ،اس وقت استاد صادق میرے ہمراہ تھے۔ جاتے ہوئے رستے ہی میں ان کا پاﺅں زخمی ہو گیا تھا ۔مشن کی تکمیل کے بعد ہم دونوں ایک درخت پر چھپے بیٹھے تھے تبھی استاد صادق نے مجھے اپنے پہلے مشن کی کہانی سنائی جس میں ان کے استاد ہاشم نے اپنی جان پر کھیل کر اپنے شاگرد کو جان بچانے کا موقع دیا تھا ۔یہ کہانی سنانے کے اگلے دن استاد صادق نے مجھے پانی لانے کے بہانے بھیجا اور جب میں چھپ کر دشمن کے گھیرے سے نکل گیا تب انھوں نے دشمن پر فائر کھول دیا ۔میں چاہ کر بھی ان کی مدد سے قاصر تھا کیوں کہ انھوں نے سنائپر رائفل کی تمام گولیاںمیرے جھولے سے نکال لی تھیں ۔واپسی پر جب استاد راﺅ تصور صاحب کو میں نے یہ واقعہ سنایا ، تب انھوں نے بڑی عجیب بات بتائی کہ استاد صادق کے استاد ہاشم کو بھی ان کے استاد نے اپنے پہلے ہی مشن میں اسی طرح دشمن کے نرغے میں آنے سے بچایا تھا ۔“
اس نے حیرانی سے پوچھا ۔”اس بات کا کیا مطلب ہوا استاد جی ۔“
میں نے مسکراتے ہوئے کہا۔”اس بات کا مطلب یہ ہے کہ روایت کے مطابق میرا اس مشن میں شہید ہوجانا لازمی ہے۔ کیوں یہ سلسلہ کافی دور سے چلا آرہا ہے ۔لیکن اس مشن کی صورت حال دیکھتے ہوئے تو مجھے نہیں لگتا کہ کچھ ایسا پیش آئے ۔“
وہ گھبرا کے بولا ۔”اللہ پاک نہ کرے ایسا ہو سر !“
”کیوں یار ،شہادت کی موت تو اعلا موت ہے ۔“
الیاس نے پوچھا ۔”کیا ہر سنائپر کے ساتھ یہی ہوتا ہے کہ جب وہ اپنے پہلے مشن پر جاتا ہے تو اس کا استاد اس کے لیے جان قربان کر دیتا ہے ۔“
”ایسا میں نے کب کہا ۔“میں نے نفی میں سرہلایا۔
”تو آپ کی بات کا کیا مطلب ہوا ۔“اس کے لہجے میں حیرانی تھی ۔
”یار ،میری بات کا مطلب تھا کہ خاص سنائپرز کے ساتھ ایسا ہو رہا ہے ۔ایک مخصوص زنجیر ہے ، یعنی میرے استاد صادق ،ان کے استاد ہاشم ،ان کے استاد گل خان ان کے استاد بشیر ....اور اب تمھیں میرے ہمراہ بھیج دیا گیاہے ۔دورانِ تربیت بھی تم میرے خصوصی شاگرد رہے ہو اور جانتے ہو استاد تصور نے آتے وقت میرے کان میں یہی کہا تھا کہ وہ میرے لیے خصوصی دعا کریں گے ۔“
”ان شاءاللہ ،اس بار یہ زنجیر ٹوٹ جائے گی ۔“وہ اعتماد سے بولا ۔”اور یوں بھی آپ کی جان مجھ سے بہت قیمتی ہے ۔آپ ہمارا سرمایہ ہیں استاد جی ۔“
”اچھا تھوڑا آرام کر لو۔“اسے آرام کا مشورہ دیتے ہوئے میں نے آنکھیں بند کر لیں ۔یوں بھی مجھے موت کا خوف پہلے بھی کبھی نہیں تھا اب تو مرنا ایک مذاق ہی لگتا تھا ۔پلوشہ کی جدائی بہت اذیت ناک اور تکلیف دہ تھی ۔ایک دم جب اس کی سوچیں دماغ پر حملہ آور ہوتیں ہر طرف اندھیر اور ظلمت ہی نظر آتی ۔
ہم نے تین چار گھنٹوں سے زیادہ آرام نہیں کیا تھا ۔نو بجے اٹھ کر ہم نے ناشتا کیا اور دن کی روشنی میں دشمن کی پوسٹوں کا جائزہ لینے لگے ۔فائر کرنے کے لیے ہم نے ایسی جگہ کا چناﺅ کر لیا تھا جہاں سے ہم دشمن کی دونوں پوسٹوں پر فائر گرا سکتے تھے ۔دشمن کی ٹرپل سیون نامی پوسٹ کا ہوائی فاصلہ بہ ظاہر دو کلومیٹر سے زیادہ تھا ۔لیکن اپ ہل ،ڈاﺅن ہل فارمولے کے مطابق انیس سو میٹر بنتا تھا ۔ جبکہ فاروڈ ون پوسٹ کا فاصلہ سترہ سو میٹر بن رہا تھا ۔
ہماری طرف سے تیاری کا اشارہ ملتے ہیں ،اس یونٹ کے چند جوان خرم اوپی کی بلندی طے کرنے لگے ۔تمام نے بلٹ پروف جیکٹیں پہنی ہوئی تھیں ۔لوہے کی یہ جیکٹیںگردن سے نیچے ناف تک کے جسم کو گولی اور دھماکے وغیرہ سے اڑنے والے شیل سے محفوظ رکھتی ہیں ۔چونکہ ان میں موجود پلیٹوں کا اچھا خاص وزن ہوتا ہے اس لیے اسے پہن کر چلنے والا خاصی تھکن محسوس کرتا ہے ۔خاص کر جب یہ جیکٹ پہن کرخرم پوسٹ کی دشوار ترین بلندی پر چڑھنا ہو ۔اور سونے پہ سہاگا کہ کندھوں پر سامان بھی اٹھایا ہو ۔
اسی مشکل کی وجہ سے عام دنوں میں فوجی جوان پوسٹ پر سامان چڑھاتے وقت بلٹ پروف جیکٹیں نہیں پہنتے تھے ۔لیکن آج چونکہ دشمن کو دھوکا دینے کے لیے ان کی پیٹھ پر خالی پٹھو لدے تھے اس لیے انھوں نے پلٹ پروف جیکٹس پہن لی تھیں ۔
”سب سے پہلے ہم ٹرپل سیون پر موجود دشمن کے سنائپرز کو نشانہ بنائیں گے ، کیوں کہ ایک تووہ تھوڑا مشکل ہدف ہیں اور دوسرا خرم اوپی پر وہیں سے زیادہ فائر آتا ہے ۔“
”جی استاد جی ۔“الیاس نے اثبات میں سر ہلادیا تھا ۔رینج ماسٹر کے پیچھے میں خود لیٹ گیا تھا۔ اس کے ساتھ ہی میں نے الیاس کو فائر کرتے وقت کچھ ضروری احتیاطوں کے بارے سمجھانا شروع کر دیا ۔گو تمام چیزیں اسے دورانِ تربیت بھی بتائی جا چکی تھیں لیکن اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ علم کے تکرار ہی سے وہ دل و دماغ میں جڑ پکڑتا ہے ۔
الیاس نے ونڈ میٹر سے ہوا کی رفتار ناپ کر ڈیفلیکشن ناب کو مطلوبہ جگہ پر سیٹ کیا ۔دشمن کا درست فاصلہ ناپ کر بلندی سے پستی کی جانب فائر کرنے کے فارمولے کے مطابق مخصوص رینج لگائی اور....”تیار ۔“کہہ کر سپارٹر سائیٹ کو آنکھوں سے لگا لیا ۔
سائیٹ میں جھانکتے ہی مجھے دشمن کی پوسٹ واضح طور پر نظر آنے لگی تھی ۔ہمارے آدمی ابھی تک اس خاص بلندی پر نہیں پہنچے تھے جہاں سے وہ دشمن کی نظروں میں آ سکتے ۔
ہم دونوں اس وقت فہیم اوپی پر موجود تھے ۔وہاں سے خرم اوپی مغرب کی جانب واقع تھی۔ یہ دونوں پوسٹیوں ان مجاہدوں کے نام سے منسوب ہیں جنھوں نے یہاں لڑتے ہوئے جامِ شہادت نوش کیا تھا ۔ دشمن کی پوسٹ ٹرپل سیون شمال مغرب کی جانب اور فاروڈ ون شمال کی جانب موجود تھی ۔ اگست کے گرم مہینے میں بھی فہیم اور خرم اوپی کے شمال کی جانب ڈھلان پر برف کی سفیدی نظر آرہی تھی ۔ اور یہ تازہ برف نہیں تھی ۔یہ کئی سال پرانی برف تھی جو پگھل نہیں پائی تھی اور چھوٹے سے گلیشیر کی صورت میں شمال کی جانب موجودڈھلان پر کافی نیچے تک چلی گئی تھی ۔شمالی ڈھلان پوسٹ کے قریب تو بالکل سیدھی تھی ۔ینی اسی ڈگری کا زوایہ ناتی ڈھلان پر برف نہیں ٹھہر سکتی تھی ۔لیکن سو ڈیڑھ سو گز کے بعد یہ ڈھلان بتدریج کم ہوتے ہوئے نیچے نالے تک چلی جاتی تھی ۔
”ہلچل نظر آرہی ہے ۔“الیاس نے اعلان کیا ۔دوبندے مجھے بھی دوڑتے ہوئے نظر آئے تھے ۔دونوں دو مختلف مورچوں میں گھس گئے تھے ۔ان مورچوں کے ہول کافی چوڑے تھے ۔اور ایک سنائپر کو فائر کرنے کے لیے لازمی بات ہے ہول کی دو اڑھائی فٹ کی چوڑائی کی ضرورت پڑتی ہے تبھی تو وہ سامنے والے علاقے میں اپنی مرضی کے مطابق شست لے سکتا ہے ۔اب یہ ان کی بد قسمتی ہی تھی کہ وہاں میں پہنچ گیا تھا اور میرے لیے دو فٹ کے ہول میں شست لے کر فائر کرنا ایسا ہی تھا جیسا مچھلی کے بچے کے لیے تیرنا یا لنگور کے بچے کا درخت پر چڑھنا ۔
”پہلے دائیں والا مورچہ ۔“الیاس کو بتا کر میں نے دائیں والے مورچے پر شست سادھ لی ۔ اس وقت تک دشمن کے سنائپر تین چار فائر کر چکے تھے ۔ان کی تیزی کو دیکھ کر مجھے اندازہ لگانے میں دیر نہ لگی کہ وہ بس نام ہی کے سنائپرز تھے ۔ورنہ سنائپرز ہوا میں گولیاں نہیں اڑایا کرتے ۔ان کی نالائقی ہی تھی کہ وہ اتنے دنوں تک مسلسل فائر کر کے دشمن کے چار پانچ آدمیوں ہی کو قتل کر پائے تھے ۔ایک اور غلطی میں نے یہ جانچی تھی کہ وہ سنائپرز ہوتے ہوئے بھی کھڑے ہو کر فائر کرر ہے تھے ۔گو ایک سنائپرہر حالت میں فائر کرنے کی اہلیت رکھتا ہے ۔لیکن جب اسے چناﺅ کا اختیاردیا جائے تو وہ لیٹنے کو ترجیح دیتا ہے کیوں کہ اس طرح وہ زیادہ اطمینان سے ہدف کو نشانہ بنا سکتا ہے ۔اب جیسے میں نے وہاں پہنچتے ہی بجائے مورچے کے اندر کھڑے ہو کر فائر کرنے ایک مورچے کی چھت پر فائر کرنے کے لیے جگہ منتخب کی تھی ۔ اپنے سامنے ایک فٹ بلند پتھر کی آڑ رکھ کر میں نے سامنے سے آنے والے فائر کا سدباب بھی کر لیا تھا ۔ یوں بھی دشمن کی دونوں پوسٹیں فہیم اوپی سے نیچی تھیں ۔
مورچے کے اندر چھاﺅں تھی اور رائفل کے پیچھے کھڑا ہوا آدمی صاف نظر نہیں آرہا تھا ۔لیکن ہول سے باہر نکلی ہوئی بیرل کو دیکھ کر مجھے فائر کی جگہ کا اندازہ لگانے میں کوئی دقت پیش نہیں آئی تھی ۔اتنے سال کے تجرنے کے بعد یہ اندازہ لگانا میرے لیے نہایت ہی آسان تھا ۔مخصوص جگہ پر شست سادھ کر میں نے ٹریگر دبایا اور فوراََ ہی شست دوسرے مورچے پر لے جا کر دوسری مرتبہ ٹریگر دبا دیا ۔اس کے بعد بھی میرا کام رکا نہیں تھا ۔دونوں سنائپروں کے گرتے ہی رہائشی بینکر سے دوتین آدمی بھاگ کرباہر نکلے تھے ۔ یقینا انھیں مورچے میں موجود دوسرے آدمی نے اپنے مرنے والے سنائپرزکے بارے بتا دیا تھا ۔پوسٹ کی چاردیواری صرف اتنی تھی کہ آدمی جھک کر ہی فہیم پوسٹ پر موجود سنتری کی نظروں سے اوجھل رہ سکتا تھا ۔ وہ تینوں تیزی کی کوشش میں جھکے بغیر اس جانب دوڑتے ہوئے پہنچے تھے اورالحمداللہ مورچے تک صرف ایک ہی سلامت پہنچ پایا تھا ۔دو کے نصیب میں مزید سانس نہیں لکھے تھے ۔فہیم پوسٹ پر موجود جوانوں نے زوردار نعرہ لگا کر میری حوصلہ افزائی کی تھی ۔وہ دو دوربینوں کی کی مدد سے باری باری یہ نظارہ دیکھنے کی کوشش کر رہے تھے ۔
اس سے پہلے کہ ٹرپل سیون والے یہ خبر فاروڈ ون تک پہنچاتے میں اپنی شست تبدیل کر کے فاروڈون کی جانب موڑ چکا تھا ۔اس مرتبہ کام پہلے کی نسبت بھی آسان تھا ۔الیاس نے جلدی جلدی نئی میگزین بھر کے رائفل کے ساتھ لگا ئی اور ایلی ویشن سائیٹ پر رینج کم کر دی ۔اس جانب دو سنائپروں کے نشانہ بنتے ہی باقی آڑ میں ہوگئے تھے ۔اور پھر ایک دم تیز فائرنگ شروع ہو گئی ۔دشمن بوکھلاہٹ کا شکار ہو کر بے فائدہ ہی ایمونیشن پھونک رہا تھا ۔البتہ اتنی عقل انھیں آگئی تھی کہ وہ آڑ سے باہر نہیں نکل رہے تھے ۔
رائفل کے پیچھے سے اٹھ کر میں نے الیاس کو جگہ لینے کا اشارہ کیا اور خود چھت سے نیچے اتر گیا۔ گو ٹرپل سیون پر تو وہ کامیاب فائر نہیں کر سکتا تھا کہ اس کا فاصلہ زیادہ تھا ،البتہ فاروڈ ون پر موجود آدمیوں کو ضرور نشانہ بنا سکتا تھا۔
فہیم اوپی کے پوسٹ کمانڈر نے صوبیدار اکرم نے بے ساختہ مجھے گلے سے لگا کر میرا ماتھا چوم لیا تھا ۔
”شاباش جوان ،جو تعریف سنی تھی اس سے کچھ زیادہ ہی پایا ہے ۔“
”شکریہ سر ،اب آپ اپنے جوانوں کو بتا دیں کہ وہ راشن چڑھانا شروع کر دیں ۔ان شاءاللہ اب انھیں نشانہ سادھ کر گولی نہیں ماری جا سکے گی ۔“
صوبیدار اکرم نے خوش دلی سے کہا ۔”یہ بات میںآپ کے کہنے سے پہلے بٹالین میں بتا چکا ہوں ۔کمانڈنگ آفیسر بہت خوش ہیں اورخرم اوپی بیس تک راشن پہنچانے کے لیے راشن گاڑیوں میں رکھا جا رہا ہے ۔“
میں چاے پی کر دوبارہ مورچے کے اوپر چڑھ گیا تھا ۔
”استاد جی تین گولیاں چلا ایک آدمی کو جہنم رسید کرنے والے شاگرد کی آپ بے عزتی کریں گے کہ داد دیں گے ۔یہ بھی خیال رہے پہلا مشن ہے ۔“
”دو گولیوں کے ضیاع پر تھپڑمارنا تو بنتا ہے ۔“
وہ ہنسا ۔”تین چار اکٹھے ہی لگا دیں ، مجھے تھپڑ مارنے کے لیے کیا بار بار چھت پر چڑھتے رہیں گے ۔“
میں سنجیدہ لہجے میں بولا ۔”الیاس ،یاد رکھنا ہماراحالیہ مشن بالکل پکنک منانے کی مانند ہے۔ کیوں کہ ہمیں جان کا کوئی خاص خطرہ نہیں ہے ۔جبکہ سنائپر نے عملی زندگی میں فائر کرتے وقت جان ہتھیلی پر رکھی ہوتی ہے ۔گولی کے خطا جانے کا سیدھا سادھا مطلب جان سے جانا ہوتا ہے ۔چلو میں یہاں تو دو گولیوں کے ضیاع کو برداشت کر لوں گا ۔لیکن یہ بھی سوچا ہے کہ مشکل حالات میں پھنسنے پر تمھارا کیا ہوگا۔ اس وقت میرے غصہ کرنے کا یا افسوس کرنے سے بات گزر جائے گی۔“
”معافی چاہتا ہوں سر ۔“اس کا لہجہ ندامت سے پر تھا ۔
”ہمارا کام دشمن کو فائر کی آوازسنانا نہیں ،جسم میں گولی گھسنے کی اذیت محسوس کرانا ہے ۔خالی ٹخ ٹخ تو اس پوسٹ پر موجود تمھارے بھائی تم سے کئی گنا بہتر کر سکتے تھے ۔ایک عام فوجی درجن بھر گولیاں چلا کر بھی دشمن کا ایک آدمی مار لے تو اسے گھاٹے کا سودا نہیں کہا جاتا،لیکن سنائپرکی گولی کبھی بھی خطا نہیں جاتی۔یا تو دشمن کی چھاتی میں گھستی ہے یا لوٹ کر خود سنائپر کو آلگتی ہے ۔اب یہ نہ پوچھنا کہ گولی لوٹتی کیسے ہے ۔یقین مانو ایک گولی درجنوں گولیوں کی شکل اختیار کر کے لوٹتی ہے ۔“
اس مرتبہ اس نے کوئی جواب نہیں دیا تھا ۔سپارٹر سائیٹ آنکھوں سے لگا کر میں نے دشمن کی ٹرپل سیون پوسٹ کی طرف دیکھا ۔ایک مورچے کے ہول سے مجھے دوبارہ رائفل کی بیرل جھلکتی نظر آرہی تھی ۔
الیاس کو ہٹا کر میں فوراََ رائفل کے پیچھے لیٹ گیا ۔دشمن کو یہ باور کرانا ضروری تھا کہ وہ ان مورچوں کے ہولوں کو استعمال نہیں کر سکتے تھے ۔اور اسی سے وہ ذہنی طور پر شکست تسلیم کر کے اپنے دفاعی اقدامات پر توجہ دیتے ۔
دو تین منٹ شست سادھ کر میں نے ٹریگر دبا دیا تھا ۔ایک دم ہول سے جھلکتی رائفل کی بیرل کا غائب ہو جانا ظاہر کر رہا تھا کہ رائفل کے پیچھے کھڑا دشمن تھوڑی دیر پہلے مرنے والے ساتھیوں کے پاس جا پہنچا ہے ۔
”کیا کبھی آپ کی گولی خطا بھی گئی ہے ۔“میرے ساتھ لیٹے الیاس نے تحسین آمیز لہجے میں پوچھا ۔
”میرا خیال ہے اس سوال کا جواب اثبات میں دینا سچ نہیں ہوگا ۔“میں نے شست دشمن کی دوسری پوسٹ کی طرف موڑ دی تھی ۔اس طرف سے بھی بس فائرنگ کی آواز آ رہی تھی کوئی نظر نہیں آرہا تھا۔ دشمن کو اچھی طرح معلوم ہو گیا تھا کہ وہ آڑ سے سر کی قربانی دے کر ہی سر نکال سکتے تھے ۔
دو تین لمحے ٹھہر کر میری ہدایات جاری رہیں ۔”ایک اور بات ذہن میں رکھنا ،جب بھی دشمن پر شست سادھو تو وقت کا دھیان بالکل چھوڑ دو۔یہ نہ ہو گھنٹا ڈیڑھ چابک دستی سے نشانہ سادھنے کے بعد تم سست ہو کر چند لمحے سستانے کا سوچو اور انھی چند لمحوں کا دشمن فائدہ اٹھا جائے ۔“
”جی سر ۔“اس نے اثبات میں سرہلایا۔
”چلو پھر جگہ سنبھالو ۔“میں دوبارہ نیچے اتر گیا تھا ۔
اس دن کامیابی سے راشن کی ترسیل جاری رہی ۔شام کو کمانڈنگ آفیسر شہزاد اکبر صاحب نے ٹیلی فون پر بہ ذات خود مجھ سے بات کی تھی ۔
”بہت عمدہ ذیشان میاں ،تم لوگوں نے تو چند گھنٹوں ہی میں ہمارا مسئلہ حل کر دیا ہے ۔“
میں انکساری سے بولا ۔”شکریہ سر !“
”اب تمھیں ہفتہ بھرہمارا مہمان بننا پڑے گا ۔کیوں کہ تمھارے جاتے ہی انھیں دوبارہ سر اٹھانے کا موقع مل جائے گا ۔“
میں نے کہا ۔”ہم خرم اوپی پر راشن ذخیرہ ہونے تک کہیں نہیں جارہے سر ۔“
وہ مسکرائے ۔”بہت مہربانی جوان ۔“
”اس میں مہربانی کی کوئی بات نہیں سر !....یہ میری ذمہ داری اور فرض ہے کہ اپنے ساتھیوں کے لیے مجھ سے کچھ ہو سکتا ہے تو یقینا میں قدم پیچھے نہیں ہٹاﺅں گا ۔“
”صحیح کہہ رہے ہو برخوردار !....پاک آرمی کا ہر جوان چاہے وہ کسی بھی عہدے رینک کا حامل ہو ،کسی بھی بیج سے تعلق رکھتا ہو وہ یقینا ملک کی سلامتی کے لیے کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کرتا ۔“
میں نے ان کی ہاں میں ہاں ملاتے ہوئے ۔”جی سر۔“کہنے پر اکتفا کیا تھا ۔
کہنے لگے ۔”بہ ہر حال میں کوشش کروں گا کہ جتنا جلدی ہو سکے راشن ذخیرہ کر لیا جائے ۔اسی مقصد کے لیے میں نے عارضی طور پر بٹالین کی چھٹی بھی بند کر دی ہے اور پڑوسی یونٹ سے بھی پچاس جوان تین دنوں کے لیے مانگ لیے ہیں ۔“
”آپ اطمینان سے راشن ذخیرہ کریں سر، ان شاءاللہ دشمن کے سنائپرز کی ذمہ داری میں قبول کرتا ہوں ۔“
اور انھوں نے مجھے شاباش دیتے ہوئے رسیور رکھ دیا ۔
الیاس کو سارا دن میں نے رینج ماسٹر کے ساتھ مصروف رکھا تھا ۔خود البتہ دن کو چند گھنٹے کی نیند لے لی تھی ۔اس کے بعددشمن کے سنائپرز کا فائر نہیں آیا تھا ۔یقینا وہاں پوسٹ پر موجود سنائپرز کا صفایا ہم نے کردیا تھا ۔البتہ جوعام فوجی موجود تھے ،انھوں نے کھسیانی بلی کھمبا نوچے کے مصداق دن بھر ”ٹخ ٹخ ۔“ جاری رکھی تھی ۔
اگلے دن بھی راشن کی ذخیرہ اندوزی کا کام اطمینان سے جاری رہا ۔دن کے ابتدائی تین چار گھنٹے تو میں رائفل کے پیچھے لیٹا رہا مگر ا ب دشمن چوکنا تھا ۔کوئی موقع بھی نہ پا کر میں نے الیاس کو رائفل کے ساتھ یہ اجازت دے کر چھوڑ دیا کہ وہ دس پندرہ گولیاں ضائع کر سکتا ہے۔اس طرح ایک تو دشمن پر فائر کا خوف طاری رہتا اور دوسرا اس کی بھی مشق ہوتی رہتی ۔ خود میں پوسٹ کمانڈر کے ساتھ بیٹھ کر گپ شپ کرنے بیٹھ گیا۔
پہاڑ کی چوٹی پر بنی ہوئی اس پوسٹ پر مسلسل وقت گزارنا واقعی جان جوکھم کا کام تھا ۔سردی کی شدت ،تیز ہوا ،پانی کی کمی ،گھر سے دوری ،تازہ خوراک کی عدم دستیابی ،رہائش کا ناقص انتظام ،گھر رابطے میں مشکلات اور ان جیسے درجنوں مسائل کے ہوتے ہوئے پاک آرمی کے جوانوں کا وہاں وقت گزارنا ہمت و جرات کا ایک نمونہ ہی ہے ۔رہائش کے لیے پتھروں سے بنے ہوئے بینکرجنھیں سیمنٹ اور مٹی وغیرہ کے بغیر ہی ایک دو سرے پر رکھ کر دیوار کی شکل دے دی گئی تھی ۔ان کے سوراخوں سے ہوا کی آمد ایسے ہی جاری رہتی تھی جیسے سوراخ زدہ بوری سے غلہ گرتا رہتا ہے ۔وہ لوگ جو سردیوں میں ہیٹر اور گرمیوں میں اے سی کے سامنے سے ہل جائیں تو انھیں ہسپتال جانا پڑ جائے ۔وہ بھی پاک آرمی پرمنھ اٹھا کر یوں بکواس کرتے ہیں جیسے بے نیاز درویش پر آوارہ کتے بھونکتے ہیں ۔فوج نے پاکستا ن کے لیے کیا قربانیاں دی ہیں اور کیا کیا دے رہی ہے یہ بات وہ ایک دم فراموش کر دیتے ہیں ۔میں یقین سے کہتا ہوں کہ ایسے کسی آدمی کو اگر گھنٹا بھر بھی فہیم اوپی جیسی جگہ پر گزارنا پڑ جائے تو وہ اس کی زندگی کا آخری گھنٹا ثابت ہو گا ۔وہ یہ بات فراموش کر دیتے ہیں کہ ان کی آرام دہ نیندوں کی عمارت کچھ جیالوں کی بے آرامی اور بے سکونی کی بنیاد پر کھڑی ہے ۔ان کے سیر سپاٹے ،بے فکری سے گھومنے پھرنے اور آزادی کی زندگی کے پیچھے ان جوانوں کی ہمت کار فرما ہے جو آزاد ہوتے ہوئے قیدی کی سی زندگی گزار رہے ہیں ،جو بیوی کے ہوتے ہوئے مجرد بنے ہوئے ہیں ،جو کبھی اپنے بچوں کی شرارتوں سے دل بھر کے لطف اندوز نہیں ہوپاتے ۔جنھوں نے بوڑھے ماں باپ کی خدمت کا موقع سال میں چند دن ہی ملتا ہے ۔جو ہمیشہ اپنے گاﺅں میں مہمان اور اجنبی بنے رہتے ہیں ۔جو کسی خوشی کے موقع پر وقت پر نہیں پہنچ پاتے ،جن کے پیاروں کے جنازے ان کے بغیر پڑھ دیے جاتے ہیں ۔جو کبھی کبھار ایسی حالت میں بھی گھر واپس آتے ہیں کہ ان کا پورا یا ادھوراجسم لکڑی کے صندوق میں بند ہوتا ہے ۔بیٹے کے انتظار میں راتوں کو جاگنے والی ماں کو بتا دیا جاتا ہے کہ اب تمھارا انتظار اختتام پذیر ہوا ۔اب وہ کبھی لوٹ کر نہیں آئے گا۔شوہر کی آمد کے لیے نئے کپڑے سلوا کر رکھنے والی بیوی کو بتایاجاتا ہے کہ تمھارے نئے جوڑے کو سراہنے والی آنکھیں باقی نہیں رہیں ۔باپ کی آمد پر نئے کھلونے پانے کے منتظر بچوں کے کانوں میں بس ماں اور دادی کی سسکیاں اور کراہیں ہی گونجتی رہتی ہیں ۔اور ایک گھٹیا بے غیرت کہتا ہے پاک فوج نے آج تک کیا کیا ہے۔
اس میں کوئی شبہ نہیں کہ آج اگر پاکستان میں کوئی ایسا ادارہ موجود ہے جس پر پاکستان کے عوام آنکھیں بند کر کے اعتما د کر سکتے ہیں تو وہ پاک آرمی ہے۔ البتہ انسان ہونے کے ناطے پاک آرمی کے جوانوں سے غلطی کا ارتکاب ناممکنات میں سے نہیں ہے ۔دہشت گردی کے خلاف مسلسل آپریشن کرنے والوں سے نادانستگی میں خطا ہوجانے کو ان کا گناہ نہیں گردانا جا سکتا ۔آپ تصور کریں کہ ایک جوان پاک آرمی کی وردی زیب تن کر کے دہشت گردوں کا کھلا ہدف بن کر جب کسی جگہ کا آپریشن کرتا ہے تو وہاں سول کپڑوں میں دکھائی دینے والا ہر آدمی بہ ظاہر نظر اس کا دشمن اور دہشت گرد ہو سکتا ہے ۔ ایسے وقت میں اخلاقیات اور نرم خوئی دکھانا ایک سپاہی کے لیے ممکن نہیں رہتا ۔تاریخ گواہ ہے کہ کم فہم لوگوں نے ہمیشہ اپنے ہیروز کی ناقدری کی ہے ۔ ایسے لوگ دنیا کو اپنے مطلب کی عینک لگا کر دیکھتے ہیں ۔ چور کوکبھی بھی جاگنے والا چوکیدار اچھا نہیں لگتا۔ایسے لوگ جو پاکستانی ہوتے ہوئے یہود و ہنود کے ایجنڈے پر کام کر رہے ہوں انھیں پاک آرمی سے کیسے لگاﺅ ہو سکتا ہے ۔بہ ہرحال یہ ایک لمبی بحث ہے میں واپس کہانی کی جانب آتا ہوں ۔
باقی کا دن خیریت سے گزرا تھا ۔بس الیاس دشمن کے ایک آدمی کو زخمی کرنے میں کامیاب ہو پایا تھا ۔اور دشمن کو اپنی حدود میں سمٹے رہنے کے لیے اتنا کچھ بھی کافی تھا ۔اگلے دو دن بھی سکون سے گزر گئے تھے ۔سوائے اس کے کہ دشمن کی ٹرپل سیون پوسٹ پر ایک آدمی نے آڑ سے سر نکال کر دوربین کے ذریعے خرم اوپی کا جائزہ لینا چاہا تھا ۔اور اس کی بد بختی کہ اس وقت رینج ماسٹر کے پیچھے میں لیٹا ہوا تھا ۔اور اس کی مزید بد بختی کہ اسی جانب متوجہ تھا ۔بے چارہ اپنے سر کے ساتھ دوربین کا بھی بیڑا غرق کروا گیا تھا۔
ان کی سب سے بڑی خوش قسمتی یہ تھی کہ ان کے آنے جانے کا رستا عقب میں تھا ۔جہاں سے ان کی آمدورفت بغیر کسی مسئلہ کے جاری رہتی ۔پانچویں دن انڈین آرمی کی آرٹلری گنوں کے دہانے کھل گئے تھے ۔لیکن آرٹلری کو درست فائر کرانے کے لیے ایک ایسے دیدبان کی ضرورت ہوتی ہے جو آگے کسی پوسٹ پر بیٹھ کر ہدف پر درست فائر گرا سکے ۔ورنہ تو آرٹلری گنوں کی مثال ایسی ہی ہے جیسا اندھے کے ہاتھ میں غلیل دے دی جائے ۔پہلے دن فاروڈ ون پر ایک دیدبان نے اپنی ذمہ داری نبھانے کی کوشش ضرور کی تھی اور اس کوشش کا جواب اسے چھاتی میں لگنے والی گولی کی صورت میں ملا تھا ۔یہ الیاس کا پہلا شکار تھا جس کا مشاہدہ میں نے بہ ذات خود سپارٹر سکوپ میں کیا تھا ۔اس کے بعد گولہ باری تو جاری رہی مگر گولوں کو ہدف پر گرانے والا کوئی دیدبان سامنے نہ آیا ۔گولہ باری کا ہدف چونکہ خرم اوپی تھی اس لیے الیاس اپنی جگہ پرڈٹارہا ۔
سہ پہر ڈھلے میں مورچے کی چھت پر چڑھا تاکہ دن کی آخری روشنی میں دشمن کی پوسٹوں کا جائزہ لے سکوں ،دشمن کی گولہ باری وقفے وقفے سے جاری تھی ۔تین چار گولے فہیم اوپی کے اطراف میں بھی گرے تھے ۔لیکن فوجی جوان اس گولی باری کے اس لیے بھی عادی ہو جاتے ہیں کہ یہ ان کے لیے کوئی انوکھی اور نئی بات نہیں ہوتی ۔اور یہی چیز ایک تربیت یافتہ فوجی اور ایک عام انسان کے درمیاں فرق کو اجاگر کرتی ہے ۔فوجی کے اعصاب عام لوگوں کی نسبت قوی ہوتے ہیں ۔گولہ بارود کے دھماکے ،گولیوں کی تڑتڑاہٹ اورتوپوں کی گھن گرج مسلسل سن کر اس کے کانوں کو یہ آواز نامانوس نہیں لگتی ۔اور اسی وجہ سے اکثربے ضابطگیاں بھی ہو جاتی ہیں اور بعض اوقات اس کا خمیازہ بھی بھگتنا پڑتا ہے ۔
یقینااس وقت میری بد بختی کا سورج نصف النہار پر پہنچ چکا تھا جب میں دشمن پر آخری نظر ڈالنے مورچے پر چڑھا ۔
الیاس مجھے آتے دیکھ کر رینج ماسٹر کے پیچھے سے ہٹ کر دائیں جانب ہو گیا تھا ۔میں نے لیٹ کر ٹیلی سکوپ سائیٹ سے ٹرپل ون سیون سیون پوسٹ کا جائزہ لیا کیوں کہ الیاس وہاں کامیاب فائر نہیں کر سکتا تھا ۔
کسی قسم کی حرکت نہ ہوتی دیکھ کر میں نے رائفل کے عقب سے اٹھ کر الیاس کو نیچے اترنے کا اشارہ کیا ۔اس وقت میں مورچے کی چھت پر غربی جانب کھڑا تھا جبکہ الیاس میرے دائیں اور مشرقی جانب کھڑا تھا ۔اچانک ہی اس مورچے کے پچیس تیس گز نیچے ڈھلان پر آرٹلری گن کاایک گولہ آکر زوردار دھماکے سے بلاسٹ ہوا ۔پورا مورچہ ہی لرز کر رہ گیا تھا ۔ہم دونوں جلدی سے نیچے بیٹھے تاکہ گولے کے پھٹنے سے چاروں جانب اڑنے والے لوہے کے ٹکڑوں بچ سکیں ۔
گولے کی دھمک ختم ہوتے ہی میں جلدی سے اٹھ کر چلایا ۔”رائفل کو چھوڑ دو الیاس اورنیچے چلو۔“
یہ کہتے ہی میں اٹھا ،الیاس میرے جتنی تیزی نہیں دکھا سکا تھا ایک دم مورچے کی شمالی اور شرقی دیوار لڑھک گئی تھی ۔وہ مورچہ بالکل فہیم اوپی کے شمال مشرقی کونے پر بنا تھا ۔الیاس شمالی جانب پھسلا اور اگر وہ اس جانب گر جاتا اور پتھروں کی لپیٹ میں آنے سے بھی بچ جاتا تب بھی خودکو پہاڑی کی بنیاد تک پہنچنے سے پہلے روک نہیں سکتا تھا کیوں کہ اس جانب کھڑی ڈھلان تھی ۔اسّی ڈگری پر اٹھی ہوئی ڈھلوان لڑھکنے والے کو سنبھلنے کا موقع نہیں دیا کرتی ۔اس وقت میں نے تیزی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس کا بایاں بازو تھام کر اسے اپنی جانب کھینچا ۔ایسا کرتے ہوئے وہ میرے بازوﺅں میں آگیا تھا ۔چھت مشرقی اور شمالی جانب بالکل جھک گئی تھی اسے سنبھال کر میں اپنا توازن بھی کھو بیٹھا تھا ۔جب مجھے لگا کہ ہم دونوں کسی صورت گرنے سے بچ نہیں سکتے ہیں تبھی میں نے اپنے استاد صادق ،اس کے استاد ہاشم اور اس کے استاد گل کی پیروی کرنے میں سیکنڈ کا ہزارواں حصہ بھی نہیں لگایا تھا۔الیاس کو جنوب کی جانب زوردار دھکا دیتے ہوئے میں خود شمال کی جانب گر گیا تھا ۔نیچے گرتے ہوئے خود کو پتھروں کی لپیٹ میں آنے سے بچانے کے لیے میں نے لاشعوری طور پر مغرب کی طرف کھسکنے کی کوشش کی مگرسیدھی ڈھلان مجھے رکنے کا موقع دینے پر تیار نہیں تھی ۔میں جس روایت کی زنجیر میں جکڑا تھا یقینا اس روایت نے اپنی بھینٹ وصول کر لی تھی ۔میری جگہ سنبھالنے کے لیے الیاس پہنچ گیا تھا اور اب میری ضرورت باقی نہیں رہی تھی ۔بہ ظاہر بے ضرر نظر آنے والا مشن میری زندگی کو نگلنے کے لیے تیار تھا ۔دور گہرائی میں مجھے پلوشہ دونوں بانہیں کھولے اپنی منتظر نظر آرہی تھی ۔
جاری ہے
 

Create an account or login to read stories

You must be a member in order to leave a comment

Create account

Create an account on our community. It's easy!

Log in

Already have an account? Log in here.

New posts
Background image: Footer
Back
Top