Background image: Header

خوش آمدید

لو اسٹوری فورم ، اردو دنیا کا نمبر ون اردو اسٹوری فورم ، ابھی فورم کےممبر بنیں اور اردو کی بہترین کہانیاں پڑھیں ۔

Register Now!
Welcome image
  • PAID PLANS

    ٹاپ پیکیج
    👑

    PREMIUM

    16000
    چھ ماہ کے لیے
    بہترین ڈیل
    💎

    VIP+

    6000
    چھ ماہ کے لیے
    بنیادی ڈیل

    VIP

    3500
    تین ماہ کے لیے

Spy Thriller سنائپر۔۔۔۔از قلم ۔۔۔۔ریاض عاقب کوہلر


قسط نمبر 70
ریاض عاقب کوہلر
میرے کانوں میں جو آخری آواز گونجی وہ الیاس کی زور دار چیخ تھی ۔اس نے پوری قوت سے مجھے پکارا تھا ۔”استاد ذیشان ن ن ن........“اس جانب ڈھلان ایسی تھی کہ ایک بار لڑھکنے والا کسی صورت میں سنبھل نہیں سکتا تھا ۔ایک بات جو میرے حق میں جاتی تھی کہ اس طرف پتھر یلی چٹانوں کے بجائے بھربھری مٹی اور کنکروں وغیرہ کی بہتات تھی ۔پتھریلی چٹانیں ہونے کی صورت میں میرے سر کو ٹوٹنے سے بچانا شاید ممکن نہ رہتا ۔میں نے اپنے حواس بحال رکھنے کی پوری کوشش کی ہوئی تھی لیکن میرا دماغ کسی پھرکی کی طرح گھوم رہا تھا ۔پوسٹ پر شاید چیخ و پکار شروع ہو گئی تھی لیکن مجھے الیاس کی پہلی چیخ کے بعد کچھ سنائی نہیں دیا تھا ۔
ایک تسلسل سے لڑھکنے کی وجہ سے مجھے یوں محسوس ہو رہا تھا جیسے کئی مستند باکسر میرے جسم پر مسلسل گھونسے براسا رہے ہوں ۔
اچانک نیچے سے زمین ختم ہوئی اور میرا جسم ہوا میں بلند ہوگیا ۔ مجھے یقین ہو گیا کہ اب میرا بچنا محال ہے ۔لڑھکتے ہوئے جسم کو چوٹیں ضرور لگ رہی تھیں لیکن وہ چوٹیں برداشت کی جا سکتی تھیں ۔ یوں ہوا میں بلند ہو کر پتھریلی زمین پر گرنے سے موت نہ بھی آتی کئی ہڈیوں نے ضرور ٹوٹ جانا تھا ۔
اور پھر میرے جسم کا زمین سے اتصال ہوا ،میں گلیشئر پر گرا تھا ۔اگست کے مہینے کی آخر تھی ۔ برف اوپر سے یوریا کھاد کے دانوں کی طرح بھربھری ہوئی پڑی تھی ،البتہ اس کی نچلی سطح سخت تھی ۔میری ہڈیاں ٹوٹنے سے تو بچ گئی تھیں ، لیکن برف پر تھوڑا سے لڑھکتے ہی ایک دم برف کی اوپری سطح ٹوٹی اور میں ایک کریوس میں لڑھکنے لگا۔ (کریوس ،سخت برف کے اندربنے ہوئے غار نما گہرے گڑھوں کو کہتے ہیں ۔ جو کافی گہرے ہوتے ہیں ۔سیاہ چن گلیشئر میں تو کئی کریوسز ایسے ہیں جو ہزاروں سیکڑوں آدمیوں کو نگل چکے ہیں اور اب تک ان کا پیٹ نہیں بھرا ۔وہ گلیشئر چھوٹا سا تھا مگر اس کریوس کی گہرائی اچھی خاصی تھی ۔ میں خود کو مزید لڑھکنے سے روکنے کی کافی کوشش کی مگر کوئی ایسی چیز نہ ملی جسے پکڑ کر میں خود کو لڑھکنے سے روک سکتا ۔تہہ میں پہنچ کر میں نے اوپر دیکھا کریوس کا منھ نظر نہیں آرہا تھا ۔یوں بھی شام کا ملگجا اندھیرا چھا گیا تھا ۔
مسلسل حرکت کی وجہ سے میرا جسم کافی گرم تھا ۔میں نے جسم کی تمام دکھتی ہڈیوں کو ہاتھ لگا کر اچھی طرح جانچا ،الحمداللہ کو ہڈی ٹوٹی نہیں تھی ۔البتہ تمام جسم میں اچھا خاصا درد ہو رہا تھا ۔لیکن اس وقت مجھے درد سے زیادہ کریوس سے نکلنے کی فکر کرنا تھی ۔گو میں نے سردی کی شدت سے محفوظ رہنے کے لیے گرم لباس پہنا ہوا تھا ۔کیونکہ فہیم اوپی پر چلنے والی تیز ہوا اور سردی وغیرہ سے بچنے کے لیے رہائشی بینکر سے باہر نکلتے ہی گرم لباس کی ضرورت سختی سے محسوس ہوتی تھی ۔ٹریک سوٹ کے نیچے گرم پاجامہ ،موٹا اوور کوٹ،سر پر اونی ٹوپی ،پاﺅں میں سپورٹس شوز وغیرہ ۔مگر اس گرم لباس کی کریوس کی سردی کے مقابلے میں کوئی حیثیت نہیں تھی ۔ایک بھیانک موت میری منتظر تھی ۔میں نے کوٹ کی جیب سے دستانے نکال کر ہاتھوں میں پہن لیے اور باہر نکلنے کی تدبیر سوچنے لگا ۔سب سے بڑا مسئلہ یہ تھا کہ گھپ اندھیرے میں کچھ نظر ہی نہیں آرہا تھا ۔میں نے ٹٹول کر کریوس کی دیواروں کا جائزہ لیا اور اوپر چڑھنے کی کوشش کی مگر ٹھوس برف میں بلند ہونا ممکن نہیں تھا ۔وہاں میری مدد کو کوئی بھی نہیں آسکتا تھا ۔میں انڈیا کی جانب گرا تھا اور انڈین پوسٹ سے اس گلیشئر کا فاصلہ فہیم اوپی سے کم تھا ۔شام کا اندھیرا پھیلتے ہی انڈین فوجی شب دید آلات کی مدد سے اس طرف کی دیکھ بھال شروع کر دیتے تھے ۔اگر فہیم اوپی سے کوئی اتر کر اس جانب کا رخ کرتا تو لازماََوہ فائر کھول دیتے ۔ایک مجھے بچانے کے لیے دس مزید آدمیوں کی قربانی دینے کی ہمت کون کر سکتا تھا ۔
انڈین اور پاک فوج کے جوانوں کے ساتھ گاہے گاہے اس طرح کے واقعات پیش آتے رہتے ہیں ۔اور جوانب کے فوجی ایسے گرے ہوئے آدمی کو اٹھانے کے لیے آنے والی پارٹی سے تعرض بھی نہیں کرتے ۔مگر اب معاملہ اور تھا ۔پچھلے چند دنوں میںہم اپنے سامنے والی پوسٹوں پر موجود دشمن کو کافی جانی نقصان پہنچا چکے تھے اور ایسی صورت حال میں غصے میں مبتلا دشمن کی پوری کوشش یہی ہوناتھی کہ کسی ایک آدمی کو مار کر وہ دل میں بھڑکنے والی آگ کو تھوڑا ساٹھنڈا کرلیں ۔اور بالفرض انھیں معلوم ہو جاتا کہ گرنے والا آدمی وہی ہے جو براہ راست ان کے آدمیوں کو قتل کرنے کا ذمہ دار ہے تو وہ ہر قیمت پر مجھے قتل کرنے کی کوشش کرتے ۔
حقیقت تو یہ تھی کہ اس وقت میرے دماغ میں انڈین فوجیوں کا کوئی خوف نہیں تھا ۔مجھے مرنے سے کبھی بھی ڈر نہیں لگا تھا۔خاص کر ان دنوں تو جو میری حالت تھی اس میں موت ایک نعمت ہی لگتی ہے ۔پھر شہادت کی موت کا تو اپنا مزہ ہے ۔لیکن اس کے باوجو برفانی قبر میں سسک سسک کر ایڑیاں رگڑتے ہوئے جان دینا مجھے گوارا نہیں تھا ۔ایسا شخص ان لمحات میں کس اذیت اور تکلف سے گزرتا ہے اس کا اندازہ کرنے کے لیے کسی ذہنی ورزش کی ضرورت نہیں ہے ۔
چونکہ کریوس کا منھ اوپر سے کھلا تھا اس لیے مجھے سانس رکنے کا کوئی مسئلہ نہیں تھا۔سردی البتہ میری رگوں میں دوڑنے والے خون کو جمانے لگی تھی ۔اس مختصر جگہ میں میں مسلسل حرکت میں تھا ۔لیکن وہ حرکت جسم کو گرم کرنے میں کوئی مدد نہیں دے رہی تھی ۔اگر کوئی کھلا میدان ہوتا اور میں مسلسل دوڑ لگا سکتا تو شاید کوئی فرق پڑ جاتا ۔اب اس محدود و مختصر جگہ پر حرکت کرنا بھلا مجھے کیافائدہ دیتا ۔
آہستہ آہستہ میرے ہاتھ پاﺅں سن ہونا شروع ہو گئے تھے ۔ناک اس طرح ہو گئی تھی جیسے میں اس جگہ برف کا گولا باندھ رکھا ہو۔اس سردی کا مقابلہ کرنا نہ تو کسی سنائپر کے بس میں ہے اور نہ کسی کمانڈو وغیرہ کے ۔وہ تو اللہ پاک کے عذابوں میں سے ایک عذاب ہے اور جو اس کی لپیٹ میں آجائے دردناک موت اس کا مقدر ہی بنتی ہے ۔اس وقت میرے پاس دوا کی کوئی صورت باقی نہیں بچی تھی ۔ایک دعا تھی جو میرے لبوں پر جاری تھی ۔مختلف قرآنی آیات کا ورد کرتے ہوئے کم ازکم یہ اطمینان تو میسر تھا کہ میری موت حالت اسلام میں ہو رہی تھی ۔اگر موت کی آمد کا یقین ہو جائے تو انسان کواپنے گناہ بڑے واضح دکھائی دینے لگتے ہیں ۔میری آنکھوں میں بھی اپنے گنا ہ اجاگر ہو گئے تھے ۔میں زیر لب اپنے رحیم و کریم رب سے ان گناہوں کی معافی مانگنے لگا ۔پھر میری نگاہوں میں اپنے پیاروں کی صورتیں گھومنے لگیں ، مجھے ابو جان کا نوارانی چہرہ نظر آیا ۔ان کے لبوں پر دھیمی مسکراہٹ رقصاں تھی ،پھر امی جان نظر آئیں جوبانہیں کھولے میری منتظر تھیں ۔اسی وقت میری دوسری امی جان ،یعنی پلوشہ کی ماں نے میرے بازو کو پکڑ کر مجھے اپنی جانب کھینچ لیا ۔شاید وہ مجھے خود سے دور نہیں کرنا چاہتی تھیں ۔پھر مجھے جانِ حیات نظر آئی ۔ وہ میری دونوں ماﺅں سے الگ بازو پھیلائے کھڑی تھی ۔”راجو ،میرے پاس آجاﺅ نا........“میں آہستہ سے کریوس میں بیٹھ گیا ہاتھ پاﺅں کی حرکت سست پڑنا شروع ہو گئی تھی ۔میں نے آنکھیں بند کر لیں تھیں ۔ ایک سخت قسم کی تکلیف اور اینٹھن میرے بدن میں شروع ہو گئی تھی ۔
سیدنا فاروقِ اعظم حضرت عمر ؓ نے ایک بار حضرت ابی بن کعبؓ سے پوچھا تھا کہ وقت نزع کی تکلیف کیسی ہوتی ہے ۔تو انھوں نے جوجواب دیااس کا مفہوم کچھ اس طرح سے ہے ۔”یا امیرالمومنین ایک کانٹے دار جھاڑی کو جسم میں داخل کیا جائے اور اس کے کانٹوں سے جسم کے تمام اندرونی اعضاءکو لپیٹ کر منھ کے رستے ایک جھٹکے سے باہر کھینچا جائے تو کیسا محسوس ہو گا ، نزع کے عالم میں ایسی ہی تکلیف محسوس ہوتی ہے ۔“
وہ تکلیف میرا مقدر تھی ۔کہتے ہیں موت جس جگہ لکھی ہو ،وہیں آتی ہے ۔نہ ایک سیکنڈ پہلے نہ بعد میں ۔سیدناعزرائیل ؑ مقرر وقت پر تشریف لے کے آ جاتے ہیں ۔اور اس وقت میں انھی کے انتظار میں آنکھیں بند کیے بیٹھا تھا ۔اب نامعلوم میرے لیے کتنی گھڑیا ں بقایا تھیں ۔اس وقت جو اذیت میرے جسم کو پہنچ رہی تھی اس کے بعد میں یہی دعا کر سکتا تھا کہ وہ جلد از جلد تشریف لے آئیں ۔کبھی کبھی زندگی میں ایسا مرحلہ بھی آتا ہے کہ موت نعمت اور نجات لگنے لگتی ہے ۔ایسی سردی سے ایک بار پہلے بھی میرا پالا پڑ چکاتھا جب میں گہری نیلی آنکھوں والی گلگارے کے دروازے پر زندگی کی بھیک مانگنے پہنچا تھا ۔اس وقت میرے دل میں زندہ رہنے کی خواہش موت سے برسر پیکار تھی ،کیوں کہ اس وقت میری پلوشے زندہ تھی ،اس وقت مجھے اپنی بے گناہی کے ثبوت ڈھونڈنا تھے ،اس وقت مجھے مجاہدین کی مدد کرنا تھی لیکن اب میرے لیے کوئی ایسا کام باقی نہیں تھا جس کی وجہ سے مجھے اپنے زندہ بچ جانے کی امید ہوتی ۔اپنا آخری مشن میں کامیابی سے پورا کر چکا تھا ۔زیادہ سے زیادہ دو دنوں میں ذخیرہ اندوزی کا کام پایہ تکمیل تک پہنچ جانا تھا ۔میری رائفل میرے پسندیدہ شاگرد تک پہنچ گئی تھی ۔اپنی زندگی کی قربانی دے کر میں نے اس روایتی زنجیر میں شہید ہونے والے اپنے سابقہ استادوں کی روحوں کو مایوس نہیں کیا تھا ۔
اچانک میرے کانوں میں تیز فائرنگ کی آواز گونجی ۔انڈین آرمی کی وکرس گن کی تڑتڑاہٹ میں خوب پہچانتا تھا ۔اس حالت میں بھی مجھے ہتھیاروں کے فائر سے ان کی قسم کا اندازہ لگانے میں کوئی دقت نہیں ہوئی تھی ۔جس کا ساری زندگی ہی مختلف قسم کے ہتھیاروں سے پالا پڑ چکا ہو مرتے وقت بھی اس کا لاشور ان آوازوں کو اچھی طرح پہچان رہا تھا ۔اس کے ساتھ ہی میرے دماغ میں اس فائرنگ کے ہونے کی وجہ گونجی ۔یقینا فہیم پوسٹ پر موجود میرے ساتھیوں نے میری تلاش کے لیے نیچے اترنے کی کوشش کی تھی اور اس کا جواب انھیں وکرس کے فائر نے دیا تھا ۔وکرس کا فائر دشمن کی فاروڈ ون سے فہیم اوپی تک تو کارگر نہیں تھا البتہ گلیشئروکرس کی حدود میں آرہا تھا۔
وکرس کے دو تین اور برسٹ میری سماعتوں میں گونجے اور اس کے ساتھ ہی جیسے مجھے الہام ہوا کہ وہ آواز میری سماعتوں اس شدت سے کیسے گونج رہی ہے ۔میں کریوس کی گہرائیوں میں تھا اور وہاں وکرس کے فائر کی اتنی تیز آواز کاپہنچنا ممکن نہیں تھا ۔ایسا صرف اسی صورت میں ہو سکتا تھا کہ کریوس کی تہہ میں ایسا سوراخ ہوتا جس سے وہ آواز مجھ تک پہنچ رہی ہوتی ۔
میری مردہ رگوں میں جیسے نئی زندگی پڑ گئی تھی ۔میں نے آنکھیں کھول کر فائرنگ کی آوازکو غور سے سنا ۔ایک جانب مجھے ہلکی سی روشنی کی جھلک نظر آئی ۔یوں جیسے بتی جل رہی ہو ۔
روشنی کی جگہ پر میں نے دستانے والے ہاتھ کا مکا رسید کیا اور میرا ہاتھ کلائی تک برف سے باہر نکل گیا ۔میرا دل جیسے بلیوں اچھلنے لگا تھا ۔ہاتھ واپس کھینچتے ہی مجھے انڈین پوسٹ پر جلنے والی روشنی نظر آگئی تھی ۔ میں دونوں ہاتھوں سے برف کو دھکیل کر سوراخ کو چوڑا کرنے لگا ۔تین چار منٹ میں میں اتنا سوراخ بنانے میں کامیاب ہو گیا تھا جس سے رینگ کر میں اس برفانی قبر سے باہر نکل سکتا ۔دونوں ہاتھ مضبوطی سے سوراخ کے کناروں پر جما کر میں باہر رینگ گیا ۔میں گلیشئر کی بالکل تہہ میں پہنچا ہوا تھا ۔دو تین کروٹیں لے کر میں برف کی سفیدی سے دور ہوا ۔اس کے بعد پتھریلی زمین تھی ۔سردی کی شدت میں ایک دم کمی ہو گئی تھی ۔گو شام کے اندھیرے میں وہاں سردی کی شدت میں اضافہ ہو جاتا تھا، لیکن کریوس کے اندر کی سردی اور باہر کے موسم میں زمین آسمان کا فرق تھا ۔کریوس کے اندر منفی بیس پچیس درجے سنٹی گریڈ تو ضرور ہو گا ۔جبکہ باہر کا درجہ حرارت منفی دو تین ڈگری سے زیادہ نہیں تھا ۔البتہ دسمبر جنوری میں باہر کا درجہ حرارت بھی منفی تیس ،پینتیس ڈگری سنٹی گریڈ پر پہنچ جاتا تھا اور اس وقت کریوس کا اندرونی درجہ حرارت اس سے دگنا ،تگنا ہوجاتا تھا ۔
چند لمحے زمین پر لیٹے لیٹے میں نے جائزہ لیا ۔جہاں سے میں گرا تھا وہاں اسی رستے سے پہنچنا ناممکن تھا۔ کیوں کہ ایک تو بلندی بالکل ہی سیدھی تھی دوسرا وہ علاقہ انڈین فوج کے سنتری شِب دید آلات سے چھانتے رہتے تھے ۔عام حالات میں وہ چڑھائی ایک نعمت ہی محسوس ہوتی کیوں کہ سیدھی ڈھلان کی وجہ سے دشمن کے جسمانی حملے کا خطرہ صفر فیصد بھی نہیں ہوتا تھا ۔لیکن اس وقت وہ چڑھائی میری واپسی کے راستے کی سب سے بڑی رکاوٹ تھی ۔مجھے اپنے علاقے میں پہنچنے کے لیے ایک لمبا چکر کاٹنا تھا تب جا کر میں پاکستان کی حدود میں داخل ہوسکتا تھا ۔اس جگہ سے حرکت کر کے کہیں دائیں بائیں جانا بھی خاصا مشکل تھا کیوں کہ دشمن کی پوسٹ بالکل سامنے تھی اگر ان کی نظر اس طرف اٹھ جاتی تو انھوں نے مجھے گولیوں سے بھون دینا تھا ۔اس وقت میری حالت منیر نیازی کے اس شعر کے مصداق تھی ....
اک اور دریا کا سامنا تھا منیر مجھ کو
میں ایک دریا کے پار پہنچا تو میں نے دیکھا
مگر میں ایک بڑی مصیبت سے جان چھڑا چکا تھا۔کریوس میں ایڑیاں رگڑنے سے گولی کی موت کہیں آسان تھی ۔یوں بھی میں ساری زندگی گولیوں سے کھیلتا آرہا تھا اور ا ب گولی ہی سے مرنا میرا حق بنتا تھا ۔
میں کھڑا ہونے کے بجائے گھٹنوں کے بل چلتے ہوئے نیچے اور بائیں کی جانب ہٹنے لگا۔ وہاں میں دشمن کی پوسٹ کے بالکل سامنے تھا ۔تھوڑا سا ایک جانب ہوتے ہی میں کھڑا ہو کر دائیں جانب موجود نالے میں حرکت کر سکتا تھا ۔کریوس اور کلاشن کوف کا فائر وقفے وقفے سے جاری تھا ۔اندھیرا گہرا ہوتا جا رہا تھا۔لیکن شبِ دید آلات کی موجودی اس اندھیرے کو بے کار کر دیتی ہے ۔اور انڈین آرمی کے پاس ایسے آلات کثیر تعداد میں موجود ہیں ۔شب دید آلات میں سب سے خطرناک صوفی تھرمل سائیٹ ہے کیوں کہ یہ گھپ اندھیرے میں ہونے والی معمولی حرکت کو ظاہر کر دیتی ہے ۔بلکہ حرکت نہ کرنے پر بھی یہ جانداروں کی نشان دہی بہت آسانی سے کر دیتی ہے ۔اس کے بلیک اینڈ وائیٹ نظارے میں زندہ اشیاءسفید دھوں کی طرح نظر آتی ہیں اور بے جان اشیا ءکالے ڈھبوں کی صورت میں اس لیے جہاں بھی سفید دھبہ نظر پڑے سائیٹ میں جھانکنے والے کو فوراََ کسی زندہ جسم کی موجودی کا ادراک ہو جاتا ہے ۔
حرکت کرنے سے میرا جسم بھی آہستہ آہستہ گرم ہونا شروع ہو گیا تھا ۔کریوس کی جان لیوا سردی دھیرے دھیرے میرے رگ و پے سے دور ہونے لگی ۔میرے دل میں دیکھ لیے جانے اندیشہ موجود تھا ۔اور اس اندیشے نے جلد ہی حقیقت کا روپ دھار لیا ۔تیز فائرنگ کی آواز کے ساتھ گولیوں کا رخ مجھے اپنی جانب ہوتا ہوا محسوس ہواتھا ۔میں نے فوراََ ہی ایک پتھریلی چٹان کی آڑ لے لی۔دائیں بائیں لگنے والی گولیوں نے میری نس نس میں بجلی بھر دی تھی ۔میں زیادہ دیر وہیں پڑا دشمن کی کسی تلاشی پارٹی کا انتظار نہیں کر سکتا تھا ۔فہیم اوپی سے پاکستان کی مایہ ناز گن ،ایل ایم جی کی تڑتڑاہٹ ایک تسلسل سے سنائی دینے لگی ۔یہ تڑتڑاہٹ بھی میرے لیے خطرے کا نشان تھی کیوں اس کی کوئی اچٹتی ہوئی گولی میرا مزاج پوچھ سکتی تھی ۔لیکن اس وقت میں اپنے ساتھیوں تک یہ پریشانی پہنچانے کا کوئی ذریعہ میرے پاس موجود نہیں تھا ۔اورنہ دشمن کی کسی پارٹی کا مقابلہ کرنے کے لیے میرے پاس کوئی ہتھیار موجود تھا ۔
وکرس کے فائر میں ذرا سا ٹھہراﺅ آتے ہی میں بھاگ کر نیچے جانے لگا ۔نالے میں جا کر میں دشمن کی چلائی ہوئی گولیوں سے محفوظ ہو سکتا تھا ۔فی الحال اندھیرا اتنا گہرا نہیں ہوا تھا۔میری آنکھوں کو دائیں بائیں بکھری بڑی چٹانوں کا ادراک اچھی طرح ہو رہا تھا ۔البتہ چھوٹے موٹے پتھرمیری نظروں سے اوجھل تھے ۔تیزی کے ساتھ میں نے درستی کا دامن بھی ہاتھ سے نہیں چھوڑا تھا ۔نیچے گرنے کی صورت مجھے کوئی شدید چوٹ بھی لگ سکتی تھی ۔
ایک بار پھر فائر کی آواز سنتے ہی میں نے قریب موجود ایک پتھر ی آڑ لے لی ۔میرے لیے سب سے مفید بات یہ تھی کہ وہ شست لے کر فائر نہیں کر سکتے تھے ۔صوفی سائیٹ سے وہ میری حرکت تو دیکھ سکتے تھے لیکن وہ سائیٹ وکرس پر نہیں لگائی جا سکتی کہ وہ میرا نشانہ سادھ سکتے ۔یقینا ایک آدمی صوفی نائیٹ سائیٹ میں دیکھ کر فائر کرنے والے کو سیدھائی دے رہا ہوگا ۔اور اس طرح کسی کو نشانہ بنانا ممکن نہیں ہوتا ۔جبکہ وکرس پر لگائی جانے والی شب دید سائیٹ کی رینج اتنی زیادہ نہیں تھی کہ اس سے پانچ چھے سو میٹر پر کارگر فائر کیا سکتا ۔(شبِ دید آلات میں صوفی تھرمل نائیٹ سائیٹ تھرڈ جنریشن ہے اور اس کے متعلق میں کہانی کے ابتداءمیں کافی کچھ لکھ چکا ہوں نئے پڑھنے والے وہیں دیکھ لیں )
میں اس پتھر کے پیچھے زیادہ وقت نہیں گزار سکتا تھا ۔چند گز دور نظر آنے والے دوسرے پتھر کے ہیولے کو نگاہ میں رکھ کر میں سرعت سے وہاں منتقل ہو گیا ۔
فہیم اوپی اوردشمن کی فاروڈون کے علاوہ بھی دور دورسے فائرنگ کی آوازیں آرہی تھیں ۔ پورا سیکٹر ہی فائرنگ کی آوازوں سے گونج اٹھا تھا ۔سرحدی علاقے میں اس طرح ہونا کوئی انہونی بات نہیں ہے ۔تمام پوسٹیں ایک دوسرے کی دیکھا دیکھی فائرنگ شروع کر دیتی ہیں ۔نالے میں اترتے ہی میں کسی مخصوص سمت کو اختیار کرنے کے بارے متذبذب ہو گیا ۔
وہ علاقہ میرا دیکھا بھالا نہیں تھا ۔ میں نے نقشے کے ذریعے اس علاقے کا سرسری جائزہ تو لیا تھا ،لیکن چونکہ اس علاقے میں کسی مشن کے لیے نہیں جانا تھا اس لیے میں نے زیادہ باریک بینی سے نقشہ پڑھنے کی ضرورت محسوس نہیں کی تھی ۔ میرا کام تو بس دشمن کی دو پوسٹوں پر فائر کرنا تھا ۔اور میں نے اپنی پوسٹ سے کہیں بھی نہیں جانا تھا ۔اب جبکہ میں اتفاقی طور پر نیچے آگیا تھا تو مجھے اس علاقے سے واقفیت کی ضرورت محسوس ہو رہی تھی ۔ پہاڑی علاقے میں سمت کو برقرا رکھنا یوں بھی نہایت مشکل ہوتا ہے ۔تمام رستے بھول بھلیوں کی طرح ایک دوسرے میں گڈ مڈ ہو رہے ہوتے ہیں ۔سونے پر سہاگا یہ کہ اس علاقے میں پاکستان ، انڈیا کی سرحد بھی کسی ترتیب سے نہیں بنی ہوئی ۔بالکل ٹیڑھی میڑھی سرحد ہے ۔کہیں انڈین آرمی ،پاکستانی سرحد میں آگے تک چلی آئی ہے اور کہیں پاک آرمی کئی کلو میٹر تک انڈیا میں گھسی ہے ۔ان تمام مسائل کو مدنظر رکھ آپ سوچ سکتے ہیں کہ میں کسی مخصوص سمت کو اختیار کرنے کے لیے کتنا متذذب ہوسکتا تھا ۔مغربی نالے میں اگر سیدھا چلتا جاتا تو آگے بائیں ہاتھ خرم اوپی آتی ،مگر اس جگہ اس کی بلندی عبور کرنا بھی ممکن نہیں تھا ۔اور پھر اس کے سامنے دشمن کی پوسٹ ٹرپل سیون بھی موجود تھی ۔میں جس نالے میں اس وقت موجود تھا گو وہ دونوں ممالک کی افواج نگرانی میں تھا، مگر نالے کے اندر پاکستان سے زیادہ انڈین آرمی کا قبضہ تھا اور اس کی وجہ یہ تھی اس جانب پاک آرمی کے جوان نالے میں اتر نہیں سکتے تھے ۔جبکہ انڈین آرمی کے فوجیوں کی وہاں تک رسائی نہایت آسان تھی ۔اسی طرح انڈین فوجی نہایت آسانی سے نالے میں موجود افراد کو فائر کا نشانہ بنا سکتے تھے جبکہ پاک آرمی کا کوئی مستندسنائپر تو نالے میں کامیاب فائر کر سکتا تھا عام فائر رکی رینج سے وہ نالہ دور تھا ۔
میں نے سرسری طور پر سوچ کر مغرب کی جانب جانے کا فیصلہ کیا اور اس کی وجہ یہ تھی کہ مشرقی جانب رخ کرنے کے لیے مجھے فاروڈ ون کے سامنے سے گزرنا پڑتا ۔
ایک نتیجے پر پہنچتے ہی میں دوڑ پڑا ،مگر یہ دوڑنا میدانی علاقے کی طرح سرپٹ نہیں تھا ۔اس کی وجہ ایک تو آکسیجن کی کمی تھی ،دوسرا دکھاﺅ بھی نہ ہونے کے برابر تھا ۔فاروڈ ون اور ٹرپل سیون کے درمیان ایک نالہ گزر رہا تھا ۔جبکہ خرم اوپی اور فہیم اوپی کے درمیان کوئی نالہ نہیں پڑتا تھا ۔دونوں پوسٹوں کے درمیان ایک دشوار گزار پہاڑی سلسلہ تھا ۔جو خرم اوپی کے بیس کے پاس جا کر نیچے دب جاتا تھا ۔اور وہی جگہ خرم اوپی کا بیس تھی ۔لیکن اس بیس کی چڑھائی نالے کی طرف سے بالکل سیدھی تھی ۔البتہ ون ٹرپل سیون سے گزر کر یقینا رستا موجود ہونا چاہے تھا کیونکہ فہیم اوپی کے پوسٹ کمانڈر کے بہ قول دشمن کے قبضے میں جب یہ اوپی تھی تب وہ اسی طرف سے اپنے آدمی اوپر چڑھایا کرتا تھا ۔اب مجھے اس جگہ تک پہنچنا تھا ۔ ٹرپل سیون پوسٹ کی روشنی نظر آتے ہی میں نے اپنی رفتار آہستہ کر لی تھی ۔اس جگہ سے مجھے احتیاط سے گزرنا تھا ۔اس وقت پوسٹ کے متوازی ہونے میں سو گز کا فاصلہ رہتا ہو گا کہ اچانک ماحول دھماکے کی آواز سے گونج اٹھا ۔گولی میرے قریب سے ”شوں “کر کے گزری تھی ۔میں فوراََ منھ کے بل لیٹ گیا ۔ اس کے ساتھ ہی میرے کانوں میں کسی کی جھلاتی ہوئی آواز آئی ۔
”بے وقوف انسان ،تمھیں کس الو کے پٹھے نے فائر کرنے کا کہا ہے ؟“انھوں نے میرے لیے ناکا بندی کی ہوئی تھی اور میں نے بغیر کسی شک و شبے کے ان کے قابو میں آجانا تھا ۔لیکن ایک آدمی کی بے صبری یا اضطراب نے مجھے چوکنا کر دیا تھا ۔اسی بات پر سینئر اسے ڈانٹ رہا تھا ۔
نیچے لیٹتے ہی میں پیچھے ہٹنے لگا ۔ ہتھیار کی غیر موجودی مجھے بے دست و پا بنا رہی تھی ۔
”اب وہ بھاگ رہا ہے فائر کرو ۔“اس مرتبہ سینئر نے تمام کو اجازت دے دی تھی ۔ایک دم گولیوں کی تڑتڑاہٹ شروع ہو گئی تھی ۔میرے لیٹ جانے کی وجہ سے ہدف انھیں نظر نہیں آرہا تھا وہ بس اندازے سے فائرنگ کر رہے تھے ۔
وہ اپنی جگہ پر موجود رہ کر فائر کر رہے تھے ۔اس کے بجائے اگر وہ آگے بڑھ کر مجھے گرفتار کرنے کی کوشش کرتے تو کامیاب ہو گئے ہوتے ۔محسوس یہی ہو رہا تھا کہ انھیں میرے پاس ہتھیار کی موجودی کا خطرہ تھا ۔اور یہی بات انھیں آگے بڑھنے سے روکے ہوئے تھی ۔ایک پتھر کی آڑ میں رہتے ہوئے میں پچھے کھسکتا رہا ۔چند گز پیچھے ایک بڑی چٹان تک پہنچ کر میں نے چٹان کی آڑ لی اور ترچھا ہو کے بھاگ پڑا ۔جس طرح دشمن نے ٹرپل سیون پوسٹ سے نالے میں اتر کر میرے لیے گھات لگائی تھی ، میرے اندازے کے مطابق انھیں فاروڈ ون سے بھی اترنا چاہیے تھا۔اس کا مطلب یہی تھا کہ اس نالے کے دونوں جانب یعنی مغرب اور مشرق میں دشمن کے مسلح افراد موجود تھے ۔جنو ب کی طرف کھڑی ڈھلانیں اور شمال کی جانب دشمن کی پوسٹیں تھیں ۔اس چوہے دان میں صرف ایک رستا باقی تھا جہاں سے میرے بھاگ نکلنے کی تھوڑی سی امید بقایا تھی اور وہ فاروڈ ون اور ٹرپل سیون پوسٹ کے درمیان موجود نالہ تھا ۔یہ نالہ شمال کی جانب نکل رہا تھا ۔اس نالے میں بھی آگے جا کر تو لازماََ دشمن کی پوسٹوں نے موجود ہونا تھا ۔ لیکن اس وقت مرحلہ تھا اس گھیرے سے نکلنے کا ۔اگر تو دشمن کے سپاہیوں نے اس نالے پر بھی اپنے آدمی کھڑے کیے ہوتے تب تو میرا مارا یا پکڑا جانا یقینی تھا۔عقب میں مجھے دشمن کی للکاریں اور چیخ و پکار سنائی دے رہی تھی ۔دشمن کے ان آدمیوں نے لازماََ فاروڈ ون پوسٹ والوں کو میرے بھاگ نکلنے اور ان کی جانب رخ کرنے کا بتا دیا ہوگا ۔
جلد ہی میں دونوں پوسٹوں کے درمیان موجود نالہ موڑ پر پہنچ گیا تھا ۔مشرقی اور مغربی دونوں نالوں کا پانی شمالی نالے ہی میں گر رہا تھا ۔گویا شمال کی جانب اترائی تھی ۔شمالی نالے میں مڑتے ہی میرے قدموں رفتار میں تیزی آگئی تھی ۔ایک پتھر سے ٹھوکر کھا کر میں تیسری مرتبہ گرا اور اٹھ کر پھر بھاگ پڑا ۔بھاگتے ہوئے میری نظر دائیں جانب ڈھلان پر پڑی پانچ چھے سو گز دور ٹارچوں کی روشنیاں شمالی نالے کی جانب بڑھتی ہوئی نظر آرہی تھیں۔ وہ شمالی نالے پر بھی ناکا لگانے آرہے تھے ۔لیکن شاید انھیں تھوڑی سی دیر ہو گئی تھی ۔اور دیر کی وجہ ان کی غفلت کے بجائے وقت کی کمی تھی ۔کیوں کہ میرے فہیم اوپی سے نالے میں گرنے اور دشمن کو اس بارے معلوم ہونے کے بعد اتنا وقت نہیں گزرا تھا ۔دشمن نے پہلے ان دو رستوں کی ناکا بندی کی تھی جہاں سے میرا بھاگ نکلنا یقینی تھا ۔اور اب جبکہ میں ٹرپل ون پوسٹ کے آدمیوں کی گھات سے بچ نکلا تھا تو انھیں بھی شمالی نالے کا خیال آگیا تھا ۔
ٹارچوں کی روشنی کو دیکھتے ہی میرے قدموں میں تیزی آگئی تھی ۔مسلسل اندھیرے میں رہنے کی وجہ سے میری آنکھوں کی کارکردگی کافی بڑھ گئی تھی ۔گو میں کافی دفعہ ٹھوکر کھا کر گر چکا تھا ،لیکن اس وقت احتیاط سے چلنا میرے لیے ممکن نہیں تھا ۔میرا سانس دھونکنی کی مانند چل رہا تھا ۔آکسیجن کی کمی تیز رفتاری کی راہ میں بہت بڑی رکاوٹ تھی ۔اور چونکہ یہی مسئلہ دشمن کو بھی درپیش تھا اس لیے وہ مجھ سے زیادہ تیز رفتاری نہیں دکھا سکتے تھے ۔یوں بھی میری مثال اس ہرن کی سی تھی جو جان بچا کر بھاگ رہا ہو۔ اور ایسی حالت میں ہرن دنیا کے تیز رفتار جانور چیتے کو بھی مات دے جاتا ہے ۔
میں شمالی نالے میں آگے گزرتا چلا گیا ۔نالہ بتدریج شمال کی جانب بڑھتا جا رہا تھا ۔لیکن اس نالے میں میرا مسلسل بڑھتے رہنا مناسب نہیں تھا ۔میری وہاں موجودی کی خبر یقینادشمن کی ہر پوسٹ تک پہنچ گئی تھی ۔اور ابھی تک میں ایک محدود علاقے ہی میں بھاگ رہا تھا ۔اس محدود جگہ کو گھیرنا دشمن کے لیے مشکل نہیں تھا ۔مجھے بچنے کے لیے اس جگہ سے زیادہ سے زیادہ فاصلہ پیدا کرنا ضروری تھا ۔اور اسی بات میں میری نجات تھی ۔اس کے ساتھ یہ بھی ضروری تھا کہ میں ایسے رستے پر حرکت نہ کرتا جو دشمن کو میرے بھاگنے کی سمت سے آگاہ رکھتا ۔ یہی سوچ کر نالے میں پانچ چھے سو گز آگے جاتے ہی میں نے بھاگنا موقوف کرتے ہوئے بائیں جانب موجود ڈھلان پر چڑھنا شروع کر دیا ۔یوں کہ بلند ہونے ساتھ میرا آگے کا سفر بھی جاری رہا ۔
پہاڑ کی بلندی پر تو اگر آدمی تیز قدموں سے چلتا ہوا جائے تب بھی سانس بہت زیادہ چڑھ جاتا ہے ۔اس وقت بھی میرا سینہ جیسے پھٹنے کے قریب ہو گیا تھا ۔دو منٹ رک کر میں نے سانس بحال کیا اور اس دوران دائیں بائیں کا جائزہ لیتا رہا ۔نالہ ملاپ پر ٹارچوں کی روشنی نظر آنا بند ہو گئی تھی ۔نامعلوم دشمن وہیں رک گیا تھا یا نالے میں آگے بڑھ رہا تھا ۔یہ بھی ممکن تھا کہ ایک پارٹی وہیں رک گئی ہو اور دوسری نالے میں آگے بڑھتی آرہی ہو ۔
اچانک ہی نالہ ملاپ کی جانب زبردست قسم کی فائرنگ کی آواز ابھری ۔نامعلوم وہ تلاشی فائر کر رہے تھے یا کوئی بدقسمت جانور ان کے آگے چڑھ گیا تھا ۔سانس بحال ہوتے ہی میں پھربلند ہونے لگا ۔پہاڑی ڈھلان پر رستا بنا نہ ہونے کی صورت میں سفر کرنا کتنا مشکل اور دشوار ہے اس کے بارے صرف وہی شخص اندازہ کر سکتا ہے جس کا واسطہ پہاڑوں سے پڑ چکا ہو ۔ٹیلی ویژن سکرین کے سامنے بیٹھ کر سرسبز پہاڑوں کے نظارے کرنا اور بات ہے لیکن جب خود انسان کا ان پہاڑوں سے واسطہ پڑتا ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ ان سہانوں نظاروں کے پیچھے کیا مصیبت چھپی ہے ۔
گرتا سنبھلتا میں آگے بڑھتا رہا ۔چند سو گز کے بعد اچانک ہی میں ایسی جگہ پہنچ گیا جہاں رستا بنا ہوا تھا ۔اور یہ رستا خطرے کا بہت بڑا نشان تھا ۔اس علاقے میں رستا صرف انڈین فوج کی آمدورفت ہی سے بن سکتا تھا ۔وہ خالصتاََ سرحدی علاقہ تھا وہاں سول آبادی کافی پیچھے تھی ۔
میں رستے کو نظر انداز کر کے آگے بڑھنے لگا ۔اب میرے قدموں میں تیزی سے زیادہ احتیاط در آئی تھی ۔دشمن کہیں بھی گھات لگا کر بیٹھا ہو سکتا تھا ۔اور تیز قدموں سے جہاں میرا سانس پھول رہا تھا اور گہرے سانسوں کی آواز دور تک سنائی دے سکتی تھی وہیں پاﺅں کے نیچے آکر لڑھکنے والے روڑے اور کنکر بھی میرا راز فاش کرسکتے تھے ۔
مزید سو ڈیڑھ سو گز چلنے کے بعد مجھے اس احتیاط کا پھل مل گیا ۔ایک دم ہی میرے کانوں میں ریڈیو سیٹ کی کھڑکھڑاتی ہوئی آواز پڑی اور میرے قدم رک گئے۔پچاس ساٹھ قدموں کے فاصلے پر بیٹھا کوئی ریڈیو سیٹ پر بات کر رہا تھا ۔
”یس سر ،ہم اپنی جگہ پر پہنچ گئے ہیں۔ اوور....“
پوچھا گیا ۔” نالے میں اترے ہو یا اوپر بیٹھے ہو ؟اوور....“
”قریباََ ڈیڑھ سو گز بلندی پر بیٹھے ہیں ۔اوور....“
”تمھارے ساتھ کتنے آدمی ہیں اور شب دید عینک موجود ہے اوور....“
”ٹوٹل پانچ آدمی ہیں اور شب دید عینک نہیں ہے ۔اوور....“
”کیوں نہیں ہے اوور....“پوچھنے والے کے لہجے میں جھلاہٹ شامل تھی ۔
جواباََ تفصیل بتاتے ہوئے کہا گیا۔”سر، پوسٹ پر تین شبِ دید عینکیں تھیں ۔پوسٹ کمانڈر نے دو تو پوسٹ پر موجود سنتریوں کے حوالے کردیں اور تیسری ہم سے پہلے نکلنے والی پارٹی لے گئی ہے ۔ اوور....“
”اندھیرا ہے ،احتیاط سے کام لینا ۔دشمن غائب ہو چکا ہے اور اندازہ ہے کہ وہ اسی نالے میں موجود ہے اوورینڈآل۔“کہہ کر سینئر نے بات چیت ختم کر دی تھی ۔اس کے ساتھ ہی وہ کسی دوسری پارٹی کو پکارنے لگا تھا ۔وہاں پر موجود آدمی آپس میں باتیں کرنے لگے ۔موضوع میں ہی تھا ۔
”مجھے تو لگتا ہے وہ آگے نکل گیا ہو گا ۔“
”دیپ راج ،تمھارا دماغ خراب لگتا ہے ۔“یہ اسی آدمی آواز تھی جو ریڈیو سیٹ پر بات کر رہا تھا یقینا وہ ان کا سینئر تھا ۔
دیپ راج کی آواز ابھری ۔”سر جی ،نالہ موڑ سے یہاں تک آدھا کلومیٹر فاصلہ بن رہا ہے ، اگر وہ نالے ہی نالے میں بھاگ رہا ہے تو یقینا وہ آگے نکل گیا ہو گا ۔ہمیں یہاں پہنچے ہوئے بہ مشکل پانچ منٹ ہوئے ہیں ۔“
”اطلاع ملتے ہی ہم پوسٹ سے اتر آئے تھے اور پوسٹ سے یہاں تک کا فاصلہ کلومیٹر سے کم ہے ۔“سینئر نے دیپ راج کو سمجھانے کی کوشش کی ۔
ایک اور آواز ابھری ۔”سر پرتاپ ،چھوڑیں اس بے وقوف آدمی کو،اس کی ہر سمے نرالی منطق ہوتی ہے ۔“
ان کی باتوں کو نظر انداز کر کے میں وہاں سے گزرنے کی ترکیب سوچنے لگا ۔وہ جس پوسٹ سے اترے تھے وہ قریب ہی تھی ۔کلو میٹر بھر کا فاصلہ پہاڑی علاقے میں کوئی حیثیت نہیں رکھتا ۔اگر میرے پاس ہتھیار ہوتا تو ان پانچوں کا صفایا کرنا نہایت آسان تھا ۔لیکن اب خالی ہاتھ پانچ مسلح افراد پر ہلہ بولنا ممکن نہیں تھا ۔لازماََ پیچھے میں جو رستا چھوڑ کر آیا تھا وہ ان کی پوسٹ تک ہی جاتا تھا ۔میں بندر چال چلتا ہوا وہاں سے دور ہٹنے لگا ۔(بندر چال ایک فوجی اصطلاح ہے یعنی ایک فوجی کا دشمن کے علاقے میں زمین پر بیٹھ کر اپنے سامنے کے علاقے کو ایک ہاتھ سے ٹٹولتے ہوئے ہوئے بغیر آواز نکالے حرکت کرنا )
چونکہ وہ نیچے نالے کی طرف متوجہ تھے اس لیے میں مزید بلندی پر چڑھنے لگا ۔مزید سو گز اوپر آکر میں کھڑے ہوکر وہاں آگے بڑھ گیا ۔اب ان کی آواز مجھ تک نہیں پہنچ رہی تھی ۔مگر میرا وہاں سے گزرنا زیادہ دیر چھپا نہیں رہ سکا تھا ۔میرے پاﺅں کے نیچے آکر ایک درمیانی جسامت کا پتھر اپنی جگہ سے کھسکا اور لڑھکتے ہوئے نشیب میں گرنے لگا ۔رات کی خاموشی میں مجھے وہ آواز صورِ اسرافیل سے کم درجہ نہیں لگی تھی ۔
پتھر کے لڑھکنے کا جوا ب چند سیکنڈ کے اندر کلاشن کے کوف کے برسٹ کی صورت میں آیا ۔ اس کے ساتھ ہی دشمن کے چیخنے چلانے کی آوازیں بھی آنے لگی تھیں ۔ایک بات میرے حق میں جاتی تھی کہ اس پارٹی کے پاس شب دید آلہ موجود نہیں تھا ۔کلاشن کوف چلانے والے نے بیرل کا رخ لڑھکنے والے پتھر کی طرف رکھا تھا اس لیے گولیاں میری جانب نہیں آئی تھیں ۔لیکن کسی بھی وقت بیرل کا رخ میری جانب ہو سکتا تھا ۔میں وہاں رک کر کسی پتھر کی آڑ بھی لے سکتا تھا ۔لیکن دشمن پارٹی تلاشی لیتے ہوئے اس جانب کا رخ کرتی تو میں پکڑا جاتا ۔اور وہاں سے آگے بڑھنے کی صورت میں کسی اندھی گولی کا شکار بننے کا خطرہ تھا ۔
میں موخّر الذکر خطرہ مول لیتے ہوئے آگے بڑھ گیا ۔اب میں نے اوپر چڑھنے کا سلسلہ موقوف کرتے ہوئے ڈھلان پر ترچھے ہی آگے قدم بڑھا دیے تھے ۔اس طرح میں اوپر چڑھنے کی نسبت ذرا تیز قدموں سے نالے کے متوازی سفر کر سکتا تھا ۔پینتالیس ڈگری زاویے پر جھکی ہوئی ڈھلان میرے نیچے لڑھکنے کے خطرے کو کم کر رہی تھی ۔گولیاں وقفے وقفے سے چل رہی تھیں ۔چونکہ وہ علاقہ سطح سمندر سے چودہ ہزار فٹ سے زیادہ بلند تھا اس لیے وہاں جھاڑیاں ،درخت وغیرہ نظر نہیں آرہے تھے ۔دن کے وقت تومیں دور ہی سے نظر آجاتا ۔اچانک فائرنگ کی آواز تیز ہوئی ۔میں چند قدم پیچھے ایک پتھریلی چٹان چھوڑ آیا تھا ۔فوراََ ہی رکتے ہوئے میں نے اس چٹان کی آڑ لے لی ۔نجانے میں دشمن کو نظر آگیا تھا یا یونھی انھیں ایمونیشن کو ضائع کرنے کا شوق چرایا تھا ۔ عقب میں مجھے دو اڑھائی سو قدم دور دو ٹارچیں روشن نظر آرہی تھیں ۔آنے والوں کا رخ اسی جانب تھا ۔دو ٹارچوں کو روشن دیکھ کر مجھے خیال آیا شاید ان کے دو آدمی ہی اس طرف آرہے ہیں اور باقی وہیں بیٹھے ہیں ۔اگر آنے والے واقعی دو تھے تو میں ہتھیار حاصل کرنے کی کوشش کر سکتا تھا ۔ہتھیار کے علاوہ میں بالکل ہی بے دست و پا تھا ۔اس خیال نے مجھے وہیں لیٹنے پر مجبور کیے رکھا ۔اگر وہ پانچوں ہی اس سمت کو آرہے تھے تب تو میرا بچنا محال ہو جاناتھا ۔لیکن اس کے باوجود میں نے اٹھنے کی کوشش نہیں کی تھی ۔کیوں وہ چھوٹے چھوٹے برسٹ چلا کر مسلسل فائر کرتے ہوئے آگے بڑھ رہے تھے ۔یونھی دو ،دو ،تین ،تین گولیاں چلا کر انھوں نے پوری پوری میگزین ختم کر دی تھی ۔
وہ رک کر ٹارچ کی روشنی میں نئی میگزین لگانے لگے ۔کلاشن کوفیں دوبارہ کاک کر کے وہ چل پڑے نئی میگزین سے انھوں نے فائر نہیں کیا تھا ۔پچاس ساٹھ قدم دور ہی سے ان کی باتوں کی آواز آنے لگی تھی ۔علاقے کو مدنظر رکھ کر وہ آگے پیچھے ہو کر آگے بڑھ رہے تھے ۔اس علاقے میں پھیل کر آگے بڑھنا کافی مشکل ہے ۔ بلکہ زیادہ تر جگہوں پرتو ناممکن ہو جاتا ہے ۔اور اب مجھے واضح طور پر نظر آگیا تھا کہ وہ دو ہی تھے ۔میں ذہنی طور پر ان کے استقبال کے لیے تیار ہو گیا تھا ۔
”کوئی لومڑ وغیرہ ہی تھا ۔“پہلی واضح بات میری سماعتوں میں پہنچی ۔
”صحیح کہہ رہے ہو یار ۔“دوسرے کی آواز سنائی دی ۔
میں جس پتھر کے عقب میں چھپا تھا انھوں نے وہاں چند گز نیچے سے گزرنا تھا ۔اور پھر میری بدقسمتی کہ بیس پچیس گز دور رک کر انھوں نے چاروں طرف ٹارچ کی روشنی پھینکی اور ایک آدمی نے پیچھے مڑ کر زور دار آواز میں پکارا ۔
”سر ،یہاں کوئی بھی موجود نہیں ہے ۔“
”اچھی طرح تسلی کر لی ہے ۔“ان کے سینئر کی آواز ابھری ۔
”جی سر ۔“پہلی بار آواز دینے والے نے جواب دیا ۔اس دوران ٹارچ کی روشنی اسی پتھر پر آکر ٹھہر گئی تھی جس کے عقب میں میں چھپا تھا ۔میں اپنے آپ میں مزید سمٹ گیا تھا ۔
”ٹھیک ہے واپس آجاﺅ ۔“سینئر کی اطمینان بھری آواز گونجی ۔
”اس پتھر کے پیچھے دیکھ لیں ۔“ایک نے مشورہ چاہنے والے انداز میں پوچھا تھا ۔میرے اعصا ب ایک بارپھر تن گئے تھے ۔
”ضرورت نہیں ہے ۔“دوسرا یہ کہہ کر واپس مڑ گیا ۔
”راجیش !....ٹھہرو ،دیکھ لینے میں حرج ہی کیا ہے ۔“پہلے والا مصر ہوا ۔
راجیش رکتے ہوئے بولا ۔”اچھا دیکھ لو میں یہیں پر تمھارا انتظار کر رہا ہوں ۔“
اگر وہ اس پتھر کو نظر میں رکھ کر ہتھیار تانے ہوئے اس جانب کا رخ کرتا تو میں آسانی سے اس پر قابو نہ پا سکتا خاص کر اس صورت میں جب بیس پچیس قدم دور اس کا مسلح ساتھی بھی موجود ہوتا ۔
”رہنے دو ۔“راجیش کی بے دلی دیکھتے ہوئے اس نے بھی ارادہ منسوخ کر دیا تھا ۔میرے تنے ہوئے اعصا ب ڈھیلے پڑ گئے تھے ۔میں وہیں پڑا ان کے دور جانے کا انتظار کرتا رہا ۔آہستہ آہستہ ان کی بات چیت کی آواز معدوم ہونے لگی اور میں اٹھ کر آگے بڑھ گیا ۔
دو تین سو قدم چلنے کے بعد میں ایک بار پھر بلندہونے لگا ۔کیونکہ اس نالے میں میرے لیے زیادہ خطرہ تھا ۔پہاڑی عبور کر کے میں دوسرے نالے میں اتر کر زیادہ محفوظ ہوجاتا ۔ا ب میں آگے جانے کے بجائے مسلسل بلند ہو رہا تھا ۔
جو لوگ پہاڑی علاقے میں رہ چکے ہیں انھیں معلوم ہو گا کہ بلندی کا سفر سیدھی لائن میں طے نہیں کیا جاسکتا ۔آدمی کو زگ زیگ میں چل کر اوپر چڑھنا پڑتا ہے ۔اس طرح گرنے کا خطرہ بھی کم ہو جاتا ہے اور انسان کو چلنے میں بھی آسانی رہتی ہے ۔
آدھے پون گھنٹے بعد میں پہاڑ کی بلندی پر پہنچ چکا تھا ۔ دن کا وقت ہوتا تو میں علاقے کا جائزہ لے سکتا تھا رات کا اندھیرا مجھے ایسی کسی کارروائی کی اجازت دینے پر تیار نہیں تھا ۔اب اگلے نالے میں اتر کر میں واپس جنوب کا رخ بھی کر سکتا تھا ،لیکن مجھے سو فیصد یقین تھا کہ اس نالے کے اختتام پر مجھے دشمن ضرور ملتا ۔کیوں کہ دشمن کی پہلی ترجیح یہی تھی کہ میں واپس پاکستان کی سرحد عبور نہ کر سکوں ۔اور وہاں پر میرا سرحد عبور کرنا یقینا ناممکن ہی تھا۔البتہ اس علاقے سے دور جا کر مجھے سرحد عبور کرنے میں اتنا مسئلہ نہ ہوتا ۔اور ایک دو دن گزرنے کی وجہ سے میری تلاش میں بھی پہلی جتنی تندی نہ رہتی ۔اس سوچ نے مجھے واپس مڑنے سے باز رکھا تھا ۔
نالے میں اترنے کے بجائے میں نے بلندی ہی پر آگے بڑھنا شروع کر دیا۔ ابھی تک میرا رخ شمال کی جانب تھا ۔آسمان پر چمکتا قطبی ستارہ سمت کے تعین کو یقینی بنانے میں اپنا کردار ادا کر رہا تھا۔ دو تین سو گز چلنے کے بعد ڈھلان نیچے کی جانب اترنے لگی ۔اسی لائن میں ایک پہاڑی کا ہیولہ سامنے بھی نظر آرہا تھا لیکن وہاں تک پہنچنے کے لیے پہلے مجھے مکمل نالے میں اترنا پڑتا ۔ مجھے وہ نالہ کافی خطرناک نظر آرہا تھا ۔وہ ایسی جگہ تھی جہاں دشمن ناکا لگا سکتا تھا ،کیوں کہ وہ دونالوں کو ملانے والا ایک مختصر سے نالہ تھا ۔ اوردشمن کی نظر میں میں اپنے دائیں ہاتھ موجود نالے سے بائیں یعنی مغربی جانب موجود نالے میں منتقل ہو سکتا تھا ۔
ایک لمحہ رک کر میں نے خود کو دشمن کی جگہ رکھ کر سوچا کہ وہاں وہ کس جگہ پر اپنے آدمی بٹھا سکتا تھا ۔آیا وہ اس ملاپ والے نالے کو عبور کر کے مغربی نالے میں ناکا لگاتا ۔یا میرے دائیں ہاتھ موجود مشرقی نالے میں پارٹی لگاتا ۔مجھے فوراََ ہی اندازہ ہو گیا تھا کہ دشمن کے لیے مشرقی نالے کے سرے پر آدمی بٹھانا زیادہ مناسب تھا کیوں کہ اس طرح ایک تو وہ میرے مغربی نالے میں مڑنے کی نگرانی کر سکتے تھے ۔دوسرا بالفرض میں مشرقی نالے ہی میں سفر کرنا مناسب سمجھتا تو مشرقی نالہ بھی ان کی نظر میں ہوتا ۔ اس کے برعکس مغربی نالے میں میں صرف اس وقت ان کا نشانہ بنتا جب میں مشرقی نالہ چھوڑ کر مغربی نالے میں انتقال کا سوچتا ۔اور ایک بات تو یقینی تھی کہ دشمن کی نظر میں میں ابھی تک مشرقی نالے ہی میں چھپا تھا یا سفر کر رہا تھا ۔
ایک نتیجے پر پہنچتے ہی میں پچاس قدم پیچھے چل کر مغربی جانب اترنے لگا ۔بلندی کے بجائے نیچے اترتے وقت گرنے کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے ۔اس طرح پاﺅں کے نیچے سے کنکر اور پتھر وغیرہ بھی زیادہ لڑھکتے ہیں ۔اس لیے میں حتی الوسع آرام اور احتیاط سے اتر رہا تھا کہ کنکر اور پتھر وغیرہ میرے پیروں سے ٹکرا کر نیچے لڑھک کر میرا راز نہ فاش کرتے رہیں ۔دشمن نے مجھے پکڑنے یا مارنے کے لیے چاروں طرف اپنی پارٹیاں پھیلا دی تھیں ۔اور کسی بھی جگہ پر ان کی پارٹی موجود ہو سکتی تھی ۔
نالے کی تہہ میں پہنچنے تک مجھے اتنا ہی وقت لگا تھا جتنا اس پہاڑی کی بلندی پر چڑھتے ہوئے لگا تھا ۔ایک بات ذہن میں رہے کہ وزیرستان کے پہاڑ ہیں یا کوئی اورپہاڑی سلسلہ ہے ان میں تمام نالوں کا بہاﺅ کسی مخصوص سمت میں نہیں ہے ۔بھول بھلیوں کی طرح ہر نالے کا اپنا ہی رخ ہے ۔آخر میں آکر البتہ تمام نالے دریا کی صورت اختیار کر لیتے ہیں ۔اور پانی مختلف اطراف میں بہنا شروع کر دیتا ہے ۔کچھ نالوں کا پانی کشمیر کا رخ کرتا ہے اور کچھ نالوں کا رخ پاکستان کی طرف ہو جاتا ہے ۔
مشرقی نالے میں چلتے ہوئے میں مسلسل نشیب میں جا رہا تھا جبکہ مغربی نالے میں جاتے ہوئے مجھے ہلکی چڑھائی کا سامنا کرنا پڑرہا تھا ۔اچانک ریڈیو سیٹ کی کھڑکھڑاتی آواز سن کر مجھے رکنا پڑا ، میرے اندازے کے بر عکس دشمن اس جانب موجود تھا ۔یہ بھی ممکن تھا کہ دشمن نے دونوں جانب اپنے آدمی بٹھائے ہوتے ۔ریڈیو سیٹ پر کسی اور پارٹی کو پکارکر ان سے فائرنگ کرنے کی وجہ پوچھی جا رہی تھی۔ سرشام جس وقت سے میں بھاگا تھا فائرنگ کی آواز وقفے وقفے سے گونج رہی تھی ۔یوں بھی ہندو اس لحاظ سے کافی بہادر ہیں کہ پتے کے کھڑکنے پر بھی میگیزن خالی کر دیتے ہیں اور آج تو یقینی طور پر ایک مسلمان فوجی ان کی صفوں میں موجود تھا جس پارٹی کو ذرا شبہ ہوجاتا وہ فائر کھولنے میں ایک سیکنڈ ضائع نہ کرتی ۔
قدم دھیمے کر کے میں رک گیا اور پھر زمین پر لیٹ کر انھیں جانچنے لگا کہ آیا وہ کتنے آدمی ہیں ۔ اور ان کے پاس شب دید آلات موجود ہیں یا نہیں ۔میرا وہاں سے گزر کر آگے بڑھنا ناگزیر تھا ۔کیوں کہ واپس لوٹنے میں خطرہ کئی گنا بڑھ جاتا ۔مجھے وہاں لیٹے ہوئے پندرہ بیس منٹ ہوئے تھے جب وہ کنٹرول کو سب اچھا رپورٹ دینے لگے ۔یقینا وہ ہر گھنٹے بعد سب اچھا رپورٹ دے رہے تھے ۔
”تھری ٹو فار کنٹرول اوور....“ایک آدمی نے اپنے کال سائن کے ساتھ کنٹرول کو پکارا تھا ۔
”تھری ٹو ،سینڈ یور میسج اوور....“
”آل اوکے اوور۔“اس نے سب اچھا پیش کیا ۔
”تھری ٹو ،محتاط رہنا ....دشمن ابھی تک اسی حدود میں ہے ۔کیپ لسننگ آﺅٹ ....“ کنٹرول نے اسے رابطے میں رہنے کا کہہ کر خاموش ہونے کا اشارہ کیا ۔
کنٹرول کو دوسری پارٹیوں کی طرف سے بھی پکارے جانے کی آوازیں آنے لگی تھیں ۔مختلف پارٹیوں کے، بیس کال سائن میں نے گنے ۔گویا میری تلاش میں بیس پارٹیاں نکلی ہوئی تھیں ۔مجھے ٹکرانے والی یہ چوتھی پارٹی تھی ۔اس سے پہلے ٹکرانے والی پارٹی میں پانچ افراد تھے ۔نامعلوم یہ پارٹی کتنے افراد پر مشتمل تھی ۔جہاں تک غالب گمان تھا ان کی تعداد بھی پانچ ہی ہونا چاہیے تھی ۔ایک پتھر کی آڑ میں لیٹ کر میں ان کا جائزہ لیتا رہا ۔مجھے دو ہیولے ٹہلتے نظر آرہے تھے ۔مجھے مسلسل چلتے ہوئے چار پانچ گھنٹے سے زیادہ ہو گئے تھے ۔اور اس وقت اندازے کے مطابق ساڑھے دس ،گیارہ بجے کا عمل تھا ۔انیس بیس کا چاند دس گیارہ بجے نکل آتا ہے اور اس وقت پہاڑوں کی چوٹیوں پر ہلکی ہلکی روشنی نظر آنے لگ گئی تھی۔ میری کلائی سے گھڑی بندھی ہوئی تھی ۔لیکن گھڑی کی اندرونی لائیٹ جلا کر وقت دیکھنا بے وقوفی تھی اس اندھیرے میں ہلکی سی روشنی بھی دور سے دیکھ لیے جانے کا خطرہ تھا ۔گھپ اندھیرے میں نظر پہلے سے زیادہ کام کرنے لگی تھی اور اس کی وجہ چاند کا طلوع ہونا تھا ۔
”سر راجیو!....کیا اس نرگ واسی کے پکڑے نہ جانے تک ہم تمام یونھی جاگتے رہیں گے ؟“ جھلائے ہوئے سنتری نے مجھے جہنمی کہتے ہوئے دل کی بھڑاس نکالی ۔
”ایک آدمی جاگتا رہے ،باقی دو آرام کرنے لیٹ جاﺅ ۔“راجیو نامی سینئر نے فوراََ ہی اس کی بات مان لی تھی ۔اور اس کی بات سے مجھے اندازہ ہو گیا تھا کہ ان تعداد چار تھی ۔
ایک اور آوازابھری ۔”یہ بھی خوب کہی ،اس سردی میں نیند خاک آئے گی ، لکڑیاں بھی موجود نہیں ہیں کہ آگ جلائی جائے ۔“
”سر راجیو،ایک مشورہ ہے ۔“یہ اسی کی آواز تھی جس نے مجھے کوسا تھا ۔
”بولیے مہاراج ۔“راجیو نے مزاحیہ انداز میں کہا تھا ۔
اس نے مشورہ دیتے ہوئے کہا ۔”سر ،میں اوررنجیت واپس پوسٹ پر چلے جاتے ہیں دو تین کمبل بھی لے آئیں گے اور حلوہ چاے کا بندوبست بھی کر لیں گے ۔یوں بھی اب پوری رات یہیں گزارنا پڑے گی ۔“
”یار ،کوئی گڑ بڑ نہ ہوجائے ۔“ان کا سینئر راجیو نیم رضامند تھا ۔
”کیا گڑبڑ ہو گی سر، نالہ عبور کر کے یہاں تھوڑے ہی فاصلے پر ایک اور پارٹی لگی ہوئی ہے ۔ اور اس بے غیرت کے پاس بھی کوئی ہتھیار وغیرہ موجود نہیں ہے ۔“میری وجہ سے وہ خوار ہو رہے تھے اس لیے مجھے کوسنا تو بنتا تھا ۔
”پھر ایسا ہے ،رنجیت اور پریم چند چلے جائیں گے تم یہیں میرے ساتھ رہو ۔“راجیو نے رضامند ہونے میں دیر نہیں لگائی تھی ۔یقینا اس سردی میں گرم کمبل اور چاے حلوے کا ملنا ایک نعمت ہی تو تھی ۔
”ٹھیک ہے سر ۔“وہ خوش ہوتے ہوئے اپنے ساتھیوں کو بولا ۔”رنجیت اور پریم چند تم دونوں روانہ ہو جاﺅ ۔“
”چلیں رنجیت بھائی ۔“وہ پریم چند کی آواز تھی وہ لہجے سے نوجوان معلوم ہو رہا تھا ۔
رنجیت نے کہا ۔”چلو ۔“اور دوہیولے مغرب کی جانب بڑھ گئے ۔چاند کے بلند ہونے کے ساتھ منظر پہلے سے صاف نظر آنے لگ گیا تھا۔میں پریم چند اور رنجیت کے دور جانے کا انتظار کرنے لگا ۔ ان کے ہیولے مغربی جانب جاتے ہوئے نظر آئے تھے ۔اور اسی طرف ان کی پوسٹ نے موجود ہونا تھا ۔ میں نے اندازہََ آدھا گھنٹا مزید انتظار کیا اور پھر حملے کے لیے تیارہو کر پتھر کی آڑ سے باہر آکر بندر چال چلتا ہوا ان کے قریب ہونے لگا۔
ان کا سینئر راجیو ایک پتھر سے ٹیک لگا کر بیٹھا تھا جبکہ سنتری کھڑے ہو کر نالہ موڑ کی جانب متوجہ تھا ۔اپنے دونوں ساتھیوں کے جانے کے بعد وہ چند منٹ تو گپ شپ کرتے رہے تھے ،مگر ا ب خاموش ہو گئے تھے ۔میرا رخ راجیو کی طرف تھا کیوں کہ بے فکری سے بیٹھے ہونے کی وجہ سے وہ آسان شکا رثابت ہو سکتا تھا ۔
جاری ہے
 

قسط نمبر 71
ریاض عاقب کوہلر
اس تک پہنچنے سے پہلے اگر کوئی آواز وغیرہ پیدا ہوجاتی تو میں نے سخت مشکل میں پھنس جانا تھا۔سنتری نے ٹارچ جلا کر نالے موڑ کی جانب روشنی پھینکی اور سامنے کے علاقے کی نظر ی تلاشی لینے لگا۔اس کا سینئر پتھر سے ٹیک لگا کر سونے کی ناکام کوشش کر رہا تھا ۔سردی بغیر گرم بستر کے سونے کے لیے کہاں چھوڑتی ہے ۔البتہ اس نے گرم لباس پہنا ہوا تھا اس وجہ سے کم از کم وہ آرام سے بیٹھ سکتا تھا ۔ورنہ تو بغیر حرکت کیے کام نہ بنتا ۔
ایک ہاتھ سے پاﺅں کے نیچے آنے والے روڑوں،کنکروں کو جانچ کر میں وہاں آہستگی سے پاﺅں رکھتا اور پھر اگلاپاﺅں رکھنے کے لیے زمین ٹٹولنا شروع کر دیتا ۔چند قدم کا فاصلہ دو سیکنڈ میں طے کیا جاسکتا تھا مگر مجھے وہ فاصلہ طے کرنے میں کئی منٹ لگ گئے تھے ۔
میں راجیو سے دو قدم دور تھا جب سنتری فطری تقاضے سے مغلو ب ہو کر چند قدم مزیددور ہوا اور کھڑے کھڑے ٹینکی خالی کرنے لگا ۔اس کے ساتھ ہی وہ آہستہ آہستہ گنگنارہا تھا ۔اس نے میرا کام اور بھی آسان کر دیا تھا ۔میں نے ایک دم اٹھ کر راجیو نامی سینئر پر ہلہ بول دیا ۔شاید اس کی چیخ کی آواز اپنی پوسٹ تک چلی جاتی مگر میں نے سب سے پہلے ایک ہاتھ اس کے ہونٹوں اور ناک پر رکھ اس کی چیخ کا سدباب کر لیا تھا ۔ہونٹوں پر سختی سے جمائے ہوئے دائیں ہاتھ کو میں نے دائیں جانب کھینچا اور بایاں ہاتھ اس کے سر پر جما کر میں نے بائیں اور نیچے کی جانب زوردار جھٹکا دیا ۔یہ مخصوص جھٹکا گردن توڑنے کا سب سے آسان نسخہ ہے ۔اس نے بے اختیار ہاتھ پاﺅں جھٹکنا شروع کر دیے تھے ۔
میں نے اس کی گردن سے ہاتھ ہٹاتے ہوئے اس کے ساتھ پڑی کلاشن کوف اٹھائی اور سنتری کی طرف بڑھ گیا ۔وہ فارغ ہو کر پتلون کے بٹن بند کر رہا تھا ۔اس کے ساتھ ساتھ وہ اپنی بھدی آواز میں ....
”سندیسے آتے ہیں ،ہمیں تڑپاتے ہیں ....“گنگنا رہا تھا ۔میں نے اس کی طرف بڑھتے ہوئے تمام احتیاط بالائے طاق رکھ دی تھی ۔اس نے بھی میرے قدموں کی آواز کو اپنے سینئر کے قدموں کی آواز سمجھا تھا ۔گولی چلانے سے آواز دور تک جا سکتی تھی ،میں نے کلاشن کو ف کو بیرل کی جانب سے پکڑ کر اس کے بٹ سے گنگنانے والے سنتری کے سر کی سختی کا اندازہ کیا ۔”اوغ۔“کی آواز نکال کر وہ لہراتا ہوا نیچے گر گیا تھا ۔ایک بار اور اس کے سر کو بٹ سے بجاتے ہوئے میں نے اسے اپنے سینئر کے پاس بھیج دیا تاکہ اکھٹے مل کر اپنی غفلت کا سوگ منا سکیں ۔سر کی چوٹ زیادہ دیر تڑپنے کے لیے نہیں چھوڑتی ۔وہ بھی چند بار ہاتھ پاﺅں جھٹک کر ہمیشہ کے لیے ہر قسم کی حرکت سے بے نیاز ہو گیا تھا ۔
میں جلدی جلدی ان دونوں کی تلاشی لینے لگا ۔وہاں دو جھولے بھی پڑے ہوئے تھے جن میں پانی کی بوتلیں اور کلاشن کوف کی اضافی میگزینیں پڑی ہوئی تھیں ۔ایک جھولے میں پانچ فالتو میگزین ڈال کر میں نے اپنی پشت پر لٹکالیا ۔راجیو کی جیب سے سگریٹ اور لائیٹر بھی برآمد ہوا تھا ۔سگریٹ کی ڈبی کو پھینک کر لائیٹر میں نے جیب میں ڈال لیا تھا ۔چونکہ ابھی تک وہاں برف باری شروع نہیں ہوئی تھی اس لیے ان دونوں کے پاﺅں میں عام فوجی بوٹ تھے ۔میرے اپنے پاﺅں میں موجود سپورٹس شوز ان کے جوتوں سے بہتر تھے اس لیے میں نے ان کے جوتے اتارنے کی ضرورت محسوس نہیں کی تھی ۔البتہ راجیو کے ہاتھوں پر چڑھے چمڑے کے دستانے مجھے اپنے کپڑے کے دستانوں سے بہتر لگے تھے ۔اپنے دستانے جیب میںڈال کر میں نے اس کے ہاتھوں سے دستانے نکال کر پہن لیے تھے ۔سنتری کی جیب سے مجھے ایک چاقو بھی مل گیا تھا ۔ایسی چیزیں چونکہ بہت کارآمد ہوتی ہیں اس لیے میں نے چاقو اپنے پاس سنبھال لیا تھا ۔
اس ساری کارروائی میں مجھے دس منٹ سے زیادہ عرصہ نہیں لگا تھا ۔سب سے آخر میں میں نے ریڈیو سیٹ جیب میں ڈالااور آگے بڑھ گیا ۔ریڈیو سیٹ کی آواز میں نے بالکل ہی مدہم کر دی تھی ۔ وہ سیٹ دشمن کی Transmission سننے کے لیے میرا مددگار ہوتا۔ہتھیار ہاتھ میں آنے کے بعد میرا حوصلہ بلند ہو گیا تھا ۔اب میں اس قابل تھا کہ دشمن کو منھ توڑ جواب دے سکتا ۔کلاشن کوف پہلے سے کاک تھی ۔لیکن میں نے دوبارہ کاک کر کے اپنی تسلی ضرور کر لی تھی ۔
ایک تربیت یافتہ فوجی کے پاس جب بھی ہتھیار آتا ہے وہ سب سے پہلے ہتھیار کے لوڈ ان لوڈ ہونے کا جائزہ لیتا ہے ۔ایک بار ہتھیار کی میگزین اتار کر ہتھیار کو خالی کاک کر کے ٹریگر دباتا ہے تاکہ یہ معلوم ہو جائے کہ ہتھیار فائر کے قابل بھی ہے یا نہیں ۔یہ ساری کارروائی ہر تربیت یافتہ فوجی کا روزمرہ ہوتی ہے ۔اور میں تواس لحاظ سے خاص پرزہ تھا کہ سنائپر تھا ۔اور سنائپرحضرات کا نہ صرف ہتھیاروں سے لگاﺅ زیادہ ہوتا ہے بلکہ ان کا تجربہ بھی عام فوجیوں سے کئی گنازیادہ ہوتا ہے ۔
میں کلاشن کوف کو کندھے سے لٹکا کر آگے بڑھ گیا ۔مشرقی اور مغربی نالوں کو ملانے والے نالے کے سامنے سے گزرتے ہوئے میں نے ایک نظر مشرقی نالے میں ڈالی مگر اندھیرے کی وجہ سے دوسرے کنارے پر کوئی حرکت نظر نہیں آ سکی تھی ۔شمال کی جانب وہ نالہ بتدریج بلند ہو رہا تھا ۔تھوڑا سا آگے جاتے ہی ایک رستا بھی نظر آگیا جواوپر کو جا رہا تھا ۔رستے کی موجود ی کا واضح مطلب یہی تھا کہ اس طرف بلندی پر انڈیا کی کوئی پوسٹ موجود تھی ۔میں نے نالے ہی نالے میں آگے بڑھنا مناسب سمجھا تھا کہ رستے پر چلنا زیادہ خطرناک ہو سکتا تھا ۔
پہاڑی نالوں میں ویسے تو چڑھائی یا اترائی بہت ہموار اور دھیمی ہوتی ہے ۔لیکن پہاڑی کے قریب پہنچنے پر یہ ایک دم کھڑی ڈھلان میں تبدیل ہو جاتی ہے ۔اوپر جانے والا رستا نالے کے بائیں جانب پڑ رہا تھا جبکہ میں نے نالے کے دائیں کنارے کو سفر کے لیے اختیار کیا ہوا تھا ۔نالہ غیر محسوس انداز میں مشرق کی جانب مڑ رہا تھا ۔اب قطبی ستارہ مجھے بائیں جانب چمکتا دکھائی دینے لگا تھا ۔
نالے کی ہموار ڈھلان ،مشکل ڈھلان میں تبدیل ہونے لگی تھی ۔بائیں جانب چونکہ کسی پوسٹ کا ہونا یقینی تھا اس وجہ سے میں دوبارہ مشرقی جانب بلند ہونے لگا ۔تھوڑا سا اوپر جاتے ہی مجھے تھوڑے فاصلے پر ایک پوسٹ کی روشنیاں نظر آنے لگ گئی تھیں ۔گو اس پوسٹ سے میرا ہوائی فاصلہ اتنا زیادہ نہیں تھا ،مگر مجھ تک پہنچنے کے لیے انھیں درمیانی نالہ عبور کرنا پڑتا ۔
ترچھا بلند ہوتے ہوئے میں آہستہ آہستہ نالے سے دور ہو گیا تھا ۔اونچائی پر پہنچتے ہی میں دوسری جانب اترنے لگا ۔اس طرف اترائی کافی آسان تھی ۔چاند کی روشنی میرے سفر کو مزید آسان کر رہی تھی۔اچانک میرے کانوں میں تیز فائرنگ کی آواز گونجی جو میرے عقب میں ہورہی تھی ۔میرا رخ شمال مشرق کی جانب تھا۔ریڈیو سیٹ کی آواز بلند کرنے پر مجھے کنٹرول کی سخت آواز سنائی دے رہی تھی ۔ یقینا انھیں مرنے والوں کی خبر پہنچ چکی تھی ۔
”تم کہاں دفع ہو گئے تھے اوور....“
کنٹرول کے سوال پر ایک سہمی ہوئی آواز ابھری جو لازماََ رنجیت کی تھی ۔”سر ،مجھے اور پریم چند کو حوالدارراجیو نے چاے لینے بھیجا تھا ۔اوور....“یقینا انھوں نے واپسی پر اپنے دونوں ساتھیوں کو مردہ پا کر کنٹرول تک یہ بات پہنچائی تھی ۔اور اس مقصد کے لیے انھیں نالہ عبور کر کے اپنی دوسری پارٹی کے پاس جانا پڑا ہو گا کیوں کہ ان کا ریڈیو سیٹ میں اٹھا لایا تھا۔
کنٹرول نے پوچھا ۔”اندازہ ہے دشمن کا رخ کس سمت کو ہوگا ؟اوور....“
رنجیت نے کہا ۔”کوئی خاص اندازہ نہیں ہے سر ،البتہ وہ اپنے ساتھ کلاشن کوف اور اضافی میگزینیں اٹھا کر لے گیا ہے اوور....“
”احمق انسان ،تم لوگوں کی غلطی کی وجہ سے اب وہ مسلح ہو گیا ہے ۔بہ ہرحال انکوائری تو بعد میں ہوتی رہے گی ۔وائرلیس سیٹ حوالدار سدھو کو دو ۔اوور....“
”جی سر ۔“اگلے ہی لمحے ایک نئی آواز آئی جو لامحالہ حوالدار سدھو کی تھی ۔
”سدھو ،تم اپنی پارٹی اور ان دونوں کے ساتھ مل کر راجیو اور مہیش کی لاش کو ان کی پوسٹ تک پہنچادو ۔دشمن آگے نکل گیا ہے اب یہاں پہرہ دینا بے فائدہ ہی ہوگا ۔اوور....“
”راجر ۔“سدھو نے سمجھ جانے کا عندیہ دیا ۔
”ٹھیک ہے ،تم لوگ بتایا گیا کام کرو اور ا ب یہ ذہن میں رہے کہ دشمن کے پاس ہتھیار موجود ہے ۔کیپ لسننگ آﺅٹ۔“اسے بتا کر کنٹرول نے دوسری دو پارٹیوں کو یہ کہہ کر خبردار رہنے کا حکم دیا کہ میرارخ اسی جانب ہے ۔اس کے علاوہ اس نے تین مختلف پارٹیوں کو کسی روبن پوسٹ والے نالے میں پہنچنے کا حکم دیا ۔اب روبن پوسٹ کا علاقہ میری سمجھ سے باہر تھا ۔
مجھے اس نالے میں آگے بڑھنا بھی مناسب نہ لگا اور میں بائیں طرف کی بلندی سر کرنے لگا ۔ اس کے ساتھ ہی میں نے پہاڑی کی چوٹی کا بہ غور جائزہ لے لیا تھا کہ کہیں اس پر کوئی پوسٹ نہ بنی ہو۔مگر مجھے کوئی روشنی وغیرہ نظر نہیں آئی تھی ۔اس کے باجود جب میں بلندی کے قریب پہنچا تو اپنی رفتار آہستہ کر لی ۔لیکن اندازے کے مطابق وہاں کوئی پوسٹ موجود نہیں تھی ۔اگلا نالہ بھی عبور کر کے میں اس سے اگلی پہاڑی پر چڑھ گیا تھا ۔اور اس دوران ملگجا اجالہ پھیلنے لگا تھا ۔مجھے دن گزارنے کے لیے فوراََ ہی کوئی ٹھکانہ ڈھونڈنا تھا ۔پہاڑی کی بلندی پر میں دور سے نظر آسکتا تھا اس لیے میں اگلی ڈھلان پر ہو گیا ۔اس جانب مجھے کسی پوسٹ کے آثار نظر نہیں آرہے تھے ۔البتہ میرے بائیں یعنی مغرب کی جانب دور بلندی پر روشنی جھلک رہی تھی ۔
نالے کی تہہ میں پہنچنے سے پہلے ہی مجھے ایک مناسب دراڑ نظر آگئی تھی وہ ایسی جگہ تھی کہ دشمن میرے سر پر پہنچ کر ہی مجھے ڈھونڈ پاتا ۔گو میرے لیے بہتر تو یہی تھا کہ میں جنوبی ڈھلان پر کوئی ٹھکانہ ڈھونڈتا کیوں کہ اس جانب سورج کی روشنی مجھے خاطر خواہ گرمی پہنچا سکتی تھی ۔اس کے بر عکس شمال کی جانب پہاڑی کے سایے نے مجھے ٹھنڈک ہی میں مبتلا رکھنا تھا ۔لیکن ایک سنائپر کے لیے جسمانی آرام و تسکین سے زیادہ چھپنے اور دشمن سے محفوظ رہنے کی ضرورت اہم ہوتی ہے ۔
دشمن سے حاصل کی ہوئی ٹارچ کی روشنی میں میں نے اس دراڑ کا جائزہ لیا اور پھر اندر گھس کر پاﺅں پسار کر بیٹھ گیا ۔کلاشن کوف میں نے گود میں رکھ لی تھی ۔ریڈیو سیٹ کی آواز ذرا بلند کر کے میں دشمن کی بات چیت سننے کی کوشش کرنے لگا ۔ پہلے والی فریکونسی پر خاموشی چھائی تھی ۔ناب گھما کر میں نے جلد ہی نیا چینل ڈھونڈ لیا تھا ۔کنٹرول پارٹیوں کو مختلف مقامات پر تعینات کر رہا تھا ۔وہ زیادہ تر جن مقامات کے نام لے رہا تھا وہ میر ے لیے نئے اور انجان تھے ۔میں صرف فاروڈ ون اور ٹرپل سیون پوسٹ کے نام سے واقف تھا ۔اس کے علاوہ وہ مکمل علاقہ میر ے لیے بالکل ہی نیا تھا ۔مجھ نہیں معلوم تھا کہ روبن پوسٹ کون سی ہے ،ڈبلیو نالہ کس جگہ واقع ہے یا برہما ٹاپ کس چوٹی کا نام ہے ۔میرے لیے تو ان مقامات کا اندازہ لگانا بھی مشکل تھا ۔
عام طور پر جب کوئی سنائپر ،کمانڈو یا جاسوس وغیرہ کسی مشن کے لیے سرحد عبور کرتا ہے تو جس علاقے میں وہ جا رہا ہوتا ہے اس کے متعلق نقشوں کے ذریعے اسے مکمل طور پر واقفیت دلائی جاتی ہے ۔ لیکن اس دفعہ میرا آنا کسی منصوبے کے تحت تو تھا نہیں اسی لیے میری مشکلات اتنی بڑھ گئی تھیں ۔
میں نے زیادہ دیر وائرلیس سے سر کھپانے کے بجائے آرام کو ترجیح دی اور وائرلیس بند کر کے پتھر سے ٹیک لگا کر بیٹھ گیا ۔سخت تھکن ،سردی اور بھوک کی وجہ سے نیند آنے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا۔ یوں بھی سونا میر ے لیے نقصان دہ تھا ۔جھولے میں پڑی پانی کی بوتل سے پیاس بجھا کر میں جسم کو آرام دینے لگا ۔وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ سردی کی شدت میں تو کمی آنے لگی مگر بھوک میں اضافہ ہوتا گیا ۔سرد موسم میں یوں بھی بھوک کچھ زیادہ ہی لگا کرتی ہے ۔کل صبح ناشتے کے بعد سے میں نے کچھ نہیں کھایا تھا ۔
دوپہر ڈھلے میرے کانوں میں کچھ لوگوں کے بولنے کی آواز پڑی وہ نیچے نالے میں جا رہے تھے ۔پہلے تو میں نے انھیں تلاشی پارٹی سمجھا مگر ان کی بات چیت سے پتا چلا کہ وہ ٹیلی فون کی تار ٹھیک کرنے والی پارٹی تھی ۔اس علاقے میں اکثر ہوا کی شدت یا کسی جانور وغیرہ کے پاﺅں سے اٹکنے کی وجہ سے ٹیلی فون کی تار کٹ جاتی ہے ۔اوررابطے کی بحالی کے لیے پارٹی چلانا پڑتی ہے ۔ آوازوں کے آگے بڑھ جانے پر میں نے احتیاط سے جھانک کر دیکھا ،ان کی تعداد آٹھ تھی ۔حالات کے پیش نظر تمام کے ہاتھوں میں ہتھیار نظر آرہے تھے ۔وہ راستے میں بچھی ہوئی فون کی تار کا معائنہ کرتے ہوئے آگے بڑھ رہے تھے ۔دو تین گھنٹوں بعد وہ اسی رستے سے واپس لوٹے تھے ۔
شام کا اندھیرا پھیلتے ہی میں اپنی کمین گاہ سے نکل کر محتاط انداز میں آگے بڑھ گیا ۔اگر میں وہیں پر مزید دو دن گزار لیتا تو میری تلاش میں وہ تیزی نہ رہتی مگراس طرح بھوک مجھے اتنا کمزور کر دیتی کہ میں صحیح طرح سے چلنے کے قابل بھی نہ رہتا ۔وہاں جھاڑیاں وغیرہ بھی موجود نہیں تھیں کہ ان کے پتے چبا کر میں پیٹ میں لگی آگ پر قابو پانے کی کوشش کر سکتا ۔گو بھوک پیاس برداشت کرنا ایک سنائپرکا خاصا ہوتا ہے لیکن اس کے ساتھ یہ بھی حقیقت ہے کہ مسلسل بھوکا رہنے سے جسم بھی کمزوری کا شکار ہونا شروع ہو جاتا ہے ۔اور ایسی کمزوری جسمانی کارکردگی پر اثر انداز ہونے کے ساتھ سوچنے سمجھنے کی صلاحیتوں کو بھی متاثر کرتی ہے ۔
گو عام حالات میں نالے کے اندر سفر کرنا مناسب رہتا ہے لیکن دشمن کے ناکا لگانے والوں کی نظر بھی عموماََ نالے کی گزرگاہ ہی پرہوتی ہے اس لیے میں نالے میں آگے بڑھنے کے بجائے مخالف سمت کی ڈھلان پر چڑھ کر آگے بڑھنے لگا ۔وہ نالہ آگے جا کر دو حصوں میں تقسیم ہو گیا تھا ۔چونکہ میرا مطمح نظر وہاں سے دور ہٹنا تھا اس لیے میں نے بائیں طرف مڑنے والے نالے کو اختیار کیا ۔اب میرا سفر بتدریج اترائی میں جاری تھا ۔گویا میں مسلسل نشیب میں جا رہا تھا ۔وہ نالا آگے جا کر شمال کی جانب مڑا ، میری کوشش یہی ہوتی تھی کہ نالہ موڑ اور نالہ ملاپ وغیرہ کی جگہ کو میں دائیں بائیں کی ڈھلان پر چڑھ کر عبور کروں ۔کیونکہ دشمن نے ایسی ہی جگہوں پر ناکے لگائے ہوتے ہیں ۔لیکن میری یہ احتیاط کام نہ آئی ۔ نالہ موڑ سے سو میٹر پہلے ہی میں نے بلند ہونا شروع کر دیا تھا تاکہ اوپر ہی اوپر سے وہ جگہ عبور کروں بلندی پر پہنچنے سے پہلے ہی اچانک فائرنگ شروع ہو گئی ۔گولیوں کا رخ میری ہی جانب تھا ۔فائر کرنے والے مشرقی جانب نشیب میں تھے ۔جبکہ میں ان سے شمال کی جانب نالے سے دو اڑھائی سو فٹ بلندی پر تھا ۔ انھوں نے مجھے شبِ دید آلے سے دیکھا تھا ۔
(یہاں ایک بات قارئین کے گوش گزار کر دوں کہ شب دید آلات کی مختلف اقسام ہیں ۔ان میں سے کچھ تو دوربین کی طرح فقط دکھاﺅ مہیا کرتے ہیں اور کچھ ایسے ہوتے ہیں جو مخصوص ہتھیاروں پر لگا کر ان کی مدد سے رات کو بھی فائر کیا جاسکتا ہے ۔عام طور پر انڈین آرمی اور پاک آرمی کے پاس دونوں قسم کے شب دید آلات موجود ہیں ۔لیکن رائفل پر لگا کر فائر کرنے والے آلات زیادہ تر سپیشل گروپس یعنی کمانڈوز وغیرہ کے پاس ہوتے ہیں ۔یہ آلات ہر بٹالین کو مہیا نہیں کیے جاتے ۔عام فوج کے پاس شب دید عینکیں ہوتی ہیں جس سے وہ رات کے وقت علاقے کی دیکھ بھال تو کر سکتے ہیں انھیں رائفل پر لگا کر فائر نہیں کر سکتے ۔اور جو شب دید آلات رائفل اوپر لگائے جاتے ہیں ان سے بھی زیادہ سے زیادہ سو ڈیڑھ سومیٹر تک کارگر فائر گرایا جا سکتا ہے )
پہلی گولی چلتے ہی میں اپنی جگہ پر دبک گیا تھا ۔چند قدم نیچے ایک ابھری ہوئی چٹان تھی میں نے فوراََلڑھکتے ہوئے اس کے پیچھے پنا ہ لے لی ۔
”وہ مارا ۔“میرا لڑھکنا کسی کو غلط فہمی میں مبتلا کر گیا تھا ۔اس نے سوچا شاید میں گولی لگنے کی وجہ سے لڑھکا ہوں ۔اچانک گولیوں کی تڑتڑاہٹ ختم ہوئی ۔اور پھر تین ٹارچوں کی روشنی اس طرف بڑھنے لگی۔ٹارچ جلا کر دشمن کی طرف حرکت کرنا یقینا انتہائی درجے کی حماقت تھی ۔اس کا نیتجہ انھیں فوراََ ہی بھگتنا پڑ گیا تھا ۔اس جانب کلاشن کوف سیدھی کرتے ہوئے میں نے مسلسل پانچ چھے دفعہ ٹریگر دبایا تھا ۔پہلی گولی فائر ہوتے ہی میرے کانوں میں مضروب کی چیخ پہنچی تھی باقی دو نے ٹارچیں بجھانے کی کوشش کی مگر میں انھیں یہ موقع کب دینا چاہتا تھا ۔کلاشن کوف جیسے آٹومیٹک ہتھیار سے تیزی سے فائر کرنا ایک سنائپر کے لیے کوئی مسئلہ نہیں ہے ۔میری چلائی ہوئی تیسری گولی کی گونج ختم ہونے سے پہلے چار پانچ کلاشن کوفیں اکٹھی آگ اگلنے لگیں ۔میں نے اپنا سر آڑ میںکر لیا تھا ۔اس کے ساتھ ہی میں نے ریڈیو سیٹ کی آواز تھوڑی سی بڑھائی ۔کنٹرول ان سے فائرنگ کی وجہ پوچھ رہا تھا ۔وہاں موجودآنند گپتا نامی سینئر اسے ٹاکرا ہونے کی بابت اطلاع دینے لگا ۔
کنٹرول نے پوچھا ۔”تمھاری پارٹی ڈبلیو نالے کے جنوبی سرے پر لگی ہے نا ۔اوور....“
”جی سر ۔اوور....“آنند نے فوراََ اثباتی جواب دیا ۔
”روبن پوسٹ اور چشمہ والی پارٹیاں میں تمھاری طرف بھجوا رہا ہوں ،اسے وہیں گھیرے میں لیے رہو ....بچ کر نہیں جانا چاہیے ۔آﺅٹ ....“اسے خاموش رہنے کا کہہ کر وہ دوسری پارٹیوں کو پکارنے لگا ۔”روبن پوسٹ اوور....“
”روبن پوسٹ فار کنٹرول پیغام نقل کر لیا ہے ۔اوور....“روبن پوسٹ سے فوراََ ہی جواب آگیا تھا ۔
”حوالدار روہیت فار کنٹرول ،پیغام نقل کر لیا ہے ۔اوور....“اس مرتبہ غالباََ چشمہ پارٹی نے جواب دیا تھا ۔
”کیپ لسننگ آﺅٹ۔“کہہ کر کنٹرول مزید پارٹی کمانڈروں سے رابطہ کر کے انھیں وہاں پہنچنے کے احکامات جاری کرنے لگا ۔
میرا وہاں پڑا رہنا سراسر موت کو دعوت دینے کے مترادف تھا اور پتھر کی آڑ سے نکلنا بھی نہایت خطرناک تھا ۔اچانک مجھے لگا کہ سامنے گرجنے والی چار پانچ کلاشن کوف میں صرف ایک فائر کر رہی تھی باقی خاموش ہو گئی تھیں ۔اس کا صاف مطلب یہی تھا کہ وہ مجھے گھیرنے کی کوشش میں تھے ۔میں نے آڑ سے سر نکال کر فائر کرنے والے کی سمت نگاہ دوڑائی ۔اس کے مسلسل فائر کرنے سے اس کی گن کی بیرل سے بار بار چمک پیدا ہو رہی تھی ۔کیوں گولی چلنے سے بیرل سے شعلہ سا لپکتا ہوا محسوس ہوتا ہے ۔فی الوقت میرے دوڑنے کی راہ میں وہی کلاشن کوف حائل تھی ۔ شست سادھنا ممکن نہیں تھا کیوں کہ فرنٹ سائیٹ کی ٹپ کے نظر نہ آنے کی وجہ سے درست فائر کرنا ممکن نہیں رہتا ۔پہلے والے تین آدمیوں پر بھی میں نے اندازے سے فائر کیا تھا ۔یہ علاحدہ بات کہ ایک سنائپر کے اور عام فوجی کے اندازے میں زمین آسمان کا فرق ہوتا ہے ۔سلیکٹیو لیور کو برسٹ پر لگاتے ہوئے میں نے ٹریگر دبا دیا ۔سامنے والا فائر فوراََ ہی رک گیا تھا ۔میں فوراََ اٹھ کر بلند ہونے لگا ۔
چند لمحوں کی خاموشی کے بعد میرے بائیں جانب سے گولیوں کی تڑتڑاہٹ کی آواز آئی،فائر کرنے والے نے بیرل کو آدھے چاند کی شکل میں گھمایا تھا ،جس کا صاف مطلب یہی تھا کہ اسے میری جگہ کے بارے معلوم نہیں تھا ۔گولیوں کی آواز پر میں ایک لمحہ کے لیے قدم روک کر زمین سے چمٹ گیا تھا۔ اور جیسے ہی فائر ،رکا اٹھ کر دوبارہ چڑھنا شروع کر دیا ۔گو اس ڈھلان پر بھاگ کر چڑھنا تو ممکن نہیں تھا البتہ تیز چل کر اوپر پہنچا جا سکتا تھا ۔اور میں یہی کر رہا تھا ۔میرا سانس دھوکنی کی مانند چلنا شروع ہو گیا تھا۔ میرے دائیں ہاتھ سے بھی گولیاں چلنا شروع ہو گئی تھیں ۔اس کا صاف مطلب یہی تھا کہ دشمن میرے تین اطراف میں موجود تھا اور اب صرف سامنے کی سمت بقایا تھی ۔اور اس سمت میں یوں بھی پہاڑ کی بلندی حائل تھی ۔
اوپر پہنچتے ہی ایک لمحے کے لیے میں نے جانے کی سمت کے بارے سوچا اور پھر مخالف سمت میں اترنا شروع کر دیا ۔گو میں جانتا تھا کہ ایک دشمن نالہ موڑ مڑ کر سامنے موجود ہے ،لیکن کسی اور سمت جانے پر میرے پھنسنے کے خطرات زیادہ تھے ۔جبکہ اس ایک دشمن کو دھوکا دے کر میں ان کے گھیرے سے نکل کر آگے بڑھ سکتا تھا ۔
آدھی اترائی میں نے بھاگ کر طے کی تھی اس کے بعد محتاط انداز میں چلنا شروع کر دیا ۔ سامنے چھپا دشمن خاموش تھا ۔اور میرے اندازے کے مطابق اسے مشرقی جانب ہونا چاہیے تھا۔وہاں مغر ب اور شمال سے آنے والے دونالے مل رہے تھے ۔میں پہلے بھی مغر ب سے چل کر مشرق کی طرف آرہا تھا ۔وہ بلندی عبور کر کے میں پھر ایک ایسے نالے میں پہنچنے والا تھا جس کا بہاﺅ مغرب سے مشرق کی طرف تھا ۔پہلا نالہ اس ناکے کی جگہ سے شمال کی طرف مڑ کر آگے نکلتا چلا گیا تھا دوسرا نالہ بھی اس جگہ پر پہلے والے نالے سے مل کر شمال کی طرف مڑ کر ایک بڑے نالے کی شکل اختیار کر گئے تھے ۔ان دونوں نالوں میں پانی بھی بہہ رہا تھا ۔اور جیسا کہ دشمن اس نالے کو ڈبلیو نالہ کہہ رہے تھے اس نسبت سے شمال کی جانب آگے چل کر ایک اور نالے کو اس میں شامل ضرور ہونا چاہیے تھا ،اسی طرح ہی اس کی شکل انگریزی کے حرف ڈبلیو کی طرح بنتی ۔
دشمن کا خاموش رہ کرگھات میں بیٹھنا میرے لیے نقصان دہ تھا ۔تھوڑا سا مزید نیچے آتے ہی مجھے دو بڑے پتھر پڑے نظر آئے جن کے درمیان چند گز کا فاصلہ تھا ۔اپنے دائیں ہاتھ موجود پتھر کے اوپر ٹارچ رکھ کر میں اس کا رخ شمال مشرق کی جانب موڑا اور ٹارچ جلا کر سرعت سے بائیں ہاتھ موجود پتھر کے پیچھے سے گھوم کر مغرب کی جانب نیچے اترنے لگا ۔چار پانچ سیکنڈ بعد ہی کلاشن کی تڑتڑاہٹ گونجی،فائر کرنے والا سو ڈیڑھ سو گز کے فاصلے سے ٹارچ پر گولیاں برسا رہا تھا ۔دو تین برسٹ کے ساتھ ہی ٹارچ ٹوٹ کر بکھر گئی تھی ۔لیکن ٹوٹنے سے پہلے مجھے دشمن کی جگہ کے بارے مطلع کر گئی تھی ۔اگر دن کا وقت ہوتا تو یقینا میں نے صرف ایک گولی ہی فائر کرنا تھی ۔لیکن اس وقت اندھیرے کی وجہ سے میرے لیے شست لینا ممکن نہیں تھا ۔سلیکٹیو لیور کو برسٹ پر لگاکر میں نے بیرل کا رخ مطلوبہ سمت میں کرتے ہوئے ایک دم ٹریگر دبا دیا۔ایک سنائپر کو یوں بے دردی سے گولیاں اڑانا بالکل بھی زیب نہیں دیتا تھا،استاد محترم راﺅ تصور نے اس موقع پر لازماََ یہی کہنا تھا ۔”اوے بے وقوف ،گولیاں بے شک دشمن سے چھینی ہوئی ہیں ،مگر ان پر قبضہ تو اپنا ہے نا ۔“
مگر وہ وقت ایسا نہیں تھا کہ میں استاد کے مشوروں پر عمل کر سکتا ۔ٹریگر سے انگلی ہٹانے سے پہلے ہی مجھے دشمن کی چیخ سنائی دے گئی تھی ۔
”ٹرنچ ۔“کی آواز نے میگزین خالی ہونے کا اعلان کیا ۔خالی میگزین اتار کر زمین پر پھینک کر میں نے بھاگتے ہوئے پشت پر لدے جھولے سے بھری ہوئی میگزین نکالی اور کلاشن کوف پر چڑھاتے ہوئے گن کاک کر لی ۔نالے میں پہنچتے ہی میں نے وائرلیس سیٹ کی آواز بڑھا دی تھی ۔البتہ قدموں کی رفتار میں بھی میں نے کمی نہیں آنے دی تھی ۔
دشمن کی بات چیت سے اندازہ ہو رہا تھا کہ چشمہ اور روبن پوسٹ کی پارٹیاں ٹاکرے والی جگہ کے بالکل قریب پہنچ گئی تھیں ۔کنٹرول چیخ چیخ کر صورت حال کے بارے پوچھ رہا تھا ۔اسے وہاں پہلے سے موجود پارٹی کی طرف سے کوئی جواب موصول نہیں ہو رہا تھا ۔وہاں موجود سینئر آنند گپتا شاید میری گولی کا شکار ہو چکا تھا ۔میرے اندازے کے مطابق وہاں صرف ایک ہی آدمی بچا تھا جو مجھے گھیرے میں لینے کے لیے مغربی نالے کی طرف گیا تھا ۔
اسی وقت حوالدار روہیت کنٹرول کر پکار کر بتانے لگا ۔”سر ،یہاں صرف ایک آدمی زندہ بچا ہوا ہے باقی تمام سورگ باشی ہو گئے ہیں ۔اوور....“
”یہ تمام الو کے پٹھے سوئے رہتے ہیں اور وہ انھیں آرام سے مار کر آگے بڑھ جاتا ہے ۔ اوور....“کنٹرول کا غصہ دیدنی تھا ۔
”سر ہم ڈبلیو نالے میں آگے بڑھ کر اس کا پیچھا کرتے ہیں ۔اوور....“روہیت نے اجازت مانگنے کے انداز میں پوچھا ۔
”روہیت ،ابھی تک تم لوگوں کو یہ اندازہ نہیں ہوا کہ وہ نالے میں سفر نہیں کرتا ،وہ نرگ واسی مسلسل ڈھلان پر سفر کر رہا ہے ۔اوور....“
”تو پھر کیا کریں سر ؟اوور....“
کنٹرول نے کہا ۔”روبن پوسٹ سے آنے والی پارٹی کو بھی اپنے ساتھ ملا کر ڈبلیو نالے میں آگے بڑھو ۔اپنے کچھ آدمی دائیں بائیں بلندی پر چڑھا کر آگے کا رخ کرنا نالے ہی میں نہ بھاگتے جانا ۔ اوور....“
”راجر سر ....“
”روہیت ،بہت احتیاط سے ۔مجھے شک ہے اس آدمی کا فہیم اوپی سے گرنا حادثہ نہیں ہے ۔ یہ کسی منصوبے کے تحت ہی نیچے اترا ہے ۔کوئی عام فوجی اتنا چالاک اور تیز نہیں ہوسکتا ۔یہ ایک تربیت یافتہ کمانڈو لگ رہا ہے ۔اوور....“
”آپ چنتا نہ کریں سر میں محتاط رہوں گا ۔اوور....“
”میں مزید نفری بھی بھجوا رہا ہوں ،کیپ لسننگ آﺅٹ۔“کنٹرول آخری حکم بتا کر خاموش ہو گیا تھا ۔
نالہ مسلسل نشیب میں اتر رہا تھا ۔ا ب تو مجھے کہیں کہیں جھاڑیوں وغیرہ کے ہیولے بھی نظر آنے لگ گئے تھے ۔اندازے کے مطابق جلد ہی میں ایسی جگہ پہنچ گیا تھا جہاں مغرب سے آنے والا ایک اور نالہ وہاں شامل ہو رہا تھا ۔میں شمالی نالے ہی میں آگے بڑھتا گیا ۔پچاس ساٹھ قدم آگے آکر ایک تنگ سا رستا مشرق کی طرف نکل رہا تھا ۔مشرق کی جانب موجود پہاڑی وہاں دو حصوں میں تقسیم ہو گئی تھی۔میں نے شمالی نالہ چھوڑ کرتھوڑی سی بلندی طے کی اور مشرقی نالے میں گھس گیا ۔وہ نالہ کافی تنگ تھا اورعام نالوں کے برعکس اس کی اترائی کسی ڈھلان کی طرح تھی ۔پانچ چھے سو گز آگے جا کر نالہ وسیع ہونے لگا ۔مشکل اترائی بھی بتدریج آسان اور ہموار ہو گئی تھی ۔وائرلیس سیٹ کی بیٹری ختم ہو گئی تھی ۔ اب وہ سیٹ میرے کسی کام کا نہیں تھا ۔اس فالتو بوجھ کو بھی میں نے ایک طرف اچھال دیا تھا ۔
مجھے امید تھی کہ میں دشمن کے گھیرے سے نکل آیا ہوں۔ڈبلیو نالے سے مختلف راستے دائیں بائیں نکل رہے تھے ۔دشمن اتنی آسانی میرے جانے کی سمت کے بارے میں اندازہ نہیں لگا سکتا تھا ۔یوں بھی میں کسی قائدے قانون کے تحت سفر نہیں کر رہا تھا کہ کسی متعین سمت کا رخ کرتا ۔میرا مطمح نظر تو دشمن کے گھیرے سے نکل کر واپس پاکستان کی سرحد کو عبور کرنا تھا ۔فی الحال تو میں دشمن کے گھیرے سے نکل آیا تھا لیکن اس کا یہ مطلب بھی نہیں تھا کہ عقب میں دشمن کی پوسٹیں موجود نہیں تھیں ۔ممکن تھا کہ انھوں نے عقبی پوسٹوں کو بھی مختلف رستوں پر تعینات کر دیا ہو ۔اور اب تک میں دشمن کو کافی نقصان بھی پہنچا چکا تھا ۔ ایسی صورت میں میری تلاش اور زیادہ ضروری ہو گئی تھی ۔وہاں سے زیادہ سے زیادہ دور جانے کی غرض سے میں ہلکے قدموں سے دوڑ کر جا رہا تھا ۔وہاں سے جتنا زیادہ فاصلہ ہوتا اتنا ہی بچت کے امکان بڑھ جاتے۔ بیس کا چاند طلوع ہو کرگھپ اندھیرے سے نبرد آزما ہو گیا تھا ۔
عقب میں چند کلومیٹر دور تیز فائرنگ کی آواز گونجنے لگی ۔شاید کسی بے زبان جانور کی شامت آ گئی تھی ۔دشمن کی بات چیت سننا اب میرے لیے ممکن نہیں رہا تھا ۔
مسلسل پر مشقت بھاگ دوڑ اور بھوک کی وجہ سے میں نقاہت محسوس کرنے لگا تھا ۔سخت سے سخت جان آدمی کو بھی بھوک توڑ کر رکھ دیتی ہے۔بغیر کچھ کھائے مجھے چالیس گھنٹے سے بھی زیادہ وقت ہو گیا تھا ۔اگر کسی جگہ بغیر حرکت کیے بیٹھنا ہوتا تو بھوک برداشت کرنا اتنا مشکل نہ ہوتا لیکن ایسی حالت میں پہاڑی علاقے کا دشوار گزار سفر نہایت ہی مشکل تھا ۔
آگے جا کر اس نالے میں اور نالے بھی شامل ہوئے ،دو تین جگہ سے وہ نالہ تقسیم ہو کر دائیں بائیں بھی مڑا مگر میں سیدھا چلتا رہا ۔خوش قسمتی سے مجھے ابھی تک دشمن کی کوئی پارٹی نہیں ٹکرائی تھی ۔یہ بھی معلوم نہیں تھا کہ عقب میں آنے والا دشمن کون سی سمت اختیار کیے ہوئے تھا ۔خود مجھ سے بھی کسی مخصوص سمت کا تعین نہیں ہو پار ہا تھا ۔میرے ذہن میں بس ہلکا سا جو منصوبہ تھا وہ اس سرحد سے دور جا کر بارڈر پار کرنے کا تھا ۔یقینا وہاں نزدیک کے علاقے میں دشمن بارڈر سیل کر چکا ہو گا ۔اور جب تک میری تلاش کی سر گرمی مانند نہ پڑتی دشمن نے رستوں کی ناکا بندی سے احتراز نہیں برتنا تھا ۔دوسرا نمبر سردی کا تھا ۔کارگل کی ان پہاڑیوں میں سردی شدید نوعیت کی تھی ۔اور ناکافی لباس میں میں نے موسم ہی سے ہار جانا تھا ۔ اس لیے میرے لیے بہتر یہی تھا کہ میں کم اونچے علاقے کا رخ کرتا ۔اس طرح ایک تو حادثے کی جگہ سے زیادہ فاصلہ ہونے کی وجہ سے میری حفاظت کا امکان زیادہ ہوتا ۔دوسرا موسم اتنا سرد نہ ہوتا کہ مجھے بھاری برفانی لباس کی ضرورت پڑتی ۔
وہ نالہ ایک چھوٹی سی وادی میں نکلا ۔اس کے ساتھ ہی مجھے تھوڑے فاصلے پر روشنیوں کی جھلک نظر آئی ۔وہ ایک چھوٹی سی آبادی تھی ۔ایسی آبادیوں میں چھپ کر وقت گزارنا بہت مشکل ہوتا ہے کیوں کہ ایسی آبادیوں پر ایک تو فوج بہت گہری نگاہ رکھتی ہے دوسرا وہاں ایسے سول بھی موجود ہوتے ہیں جو فوج کے لیے جاسوسی کا کام کرتے ہیں اور کسی بھی اجنبی کی آمد کی اطلاع متعلقہ فوج تک پہنچانے میں ایک لمحہ نہیں لگاتے ۔البتہ کسی قابل بھروسا آدمی کے گھر کے کسی اندرونی کمرے میں چھپ کر پڑا رہنے کی صورت میں بچنے کی امید پیدا ہو جاتی ہے ۔
میں نے بغیر کسی شک و شبے کے اس آبادی کو نظر انداز کر کے آگے نکل جانا تھا ،اگر بھوک سے میرا برا حال نہ ہوتا ۔اب تو کسی گھر سے مانگ کر کھانا کھانا میری مجبوری تھی ۔انسان کے جسم کی بنیادی ضروریات میں بھوک اور پیاس ایسی ضرورتیں ہیں جن سے زیادہ دیر مقابلہ نہیں کیا جا سکتا ۔اور اس وقت میرا بھی بھوک سے لڑنے کا کوئی ارادہ نہیں تھا ۔
آبادی میں گھسنے سے پہلے ہی چند آوارہ کتے قریب آ کر مجھے خوش آمدید کہنے لگے ۔ان کے استقبال کے لیے میں نے پہلے ہی سے ایک چھڑی کا بندوبست کیا ہوا تھا ۔چونکہ ان کتوں کا کام ہی کسی اجنبی آدمی اورگیدڑ ،لومڑ وغیرہ کو دیکھ کر بھونکنا ہوتا ہے اور رات کے بیش تر حصے میں ان کا بھونکنا جاری رہتا ہے اس لیے ان کی آواز پر کم ہی کان دھرا جاتا ہے ۔کتوں کو لاٹھی سے ڈرا کر میں ایک قریبی مکان کی چاردیواری میں داخل ہو گیا ۔پہاڑی علاقے میں موجود چھوٹی آبادیوں میں عموماََ گلیوں وغیرہ کا تصور ناپید ہوتا ہے ۔ اسی طرح مکانات کی چاردیواری بھی خال خال بنی ہوتی ہے ۔یہ ثقافت میں نے کشمیر والے علاقے کی بیان کی ہے ،وزیرستان میں تو مکانات کی چار دیواری کمروں سے بھی اونچی بنی ہوتی ہے ۔
جس مکان میں میں گھسا اس کی چار دیواری چار پانچ فٹ ہی بلند تھی ۔میرے مکان میں گھستے ہی کتوں کا بھونکناذرا کم ہو گیا تھا ۔چھوٹا سا صحن عبور کر کے میں دروازے کے قریب پہنچا ۔متوقع طور پر دروازہ اندر سے بند تھا ۔میں نے ہلکے سے دروازہ کھٹکھٹایا ۔
تھوڑی دیر بعد ہی نامانوس لہجے میں کچھ پوچھا گیا ۔
”دروازہ کھولو۔“میں نے یوں درشت لہجہ اپنایا جیسے انڈین فوج اس کے دروازے پر آئی ہو۔ یوں بھی اتنا تو میں جانتا تھا کہ انڈین آرمی گاہے گاہے ان آبادیوں کو تنگ کرتی رہتی ہو گی ۔
فوراََ ہی چٹخنی اترنے کی آواز آئی دروازے کا پٹ وا ہوا ،ایک درمیانی عمر کا مرد دروازے پر کھڑا تھا ۔اس نے ہاتھ میں لالٹین تھامی ہوئی تھی ۔کلاشن کوف کی نال اس کے پیٹ میں چبھوتے ہوئے میں نے اندر دھکیلا اور دروازہ کنڈی کر دیا ۔
”جج ....جی آپ کون ؟“اس نے ہکلاتے ہوئے سوال کیا ۔اس مرتبہ اس نے ٹوٹی پھوٹی ہندی میں بات کی تھی ۔
میں نے اسے تسلی دیتے ہوئے کہا ۔”دشمن نہیں ہوں ،میں نے بس کھانا کھانا ہے اور آگے نکل جاﺅں گا ۔“
”مم....مگر آپ ہیں کون ؟“وہ سخت خوف زدہ تھا ۔
”بتایا تو ہے مہمان ہوں ۔اور اب آگے چلو ۔“میں نے اسے کلاشن کوف سے ٹہوکا دیا ۔
وہ مرے مرے قدموں سے واپس مڑ گیا ۔لالٹین اندرونی کمرے کی دیوار سے لٹکا کر وہ مجھے گھورنے لگا ۔
میں نے پوچھا ۔”گھر میں اور کون کون موجود ہے ؟“
اس نے دھیمے لہجے میں جواب دیا ۔”اکیلا ہوں ۔“
میں نے پوچھا ۔”کھانے کو کچھ موجود ہے ؟دو تین دن سے میں نے کچھ نہیں کھایا ۔“
وہ خفیف لہجے میں بولا ۔”روٹی اور سالن تو نہیں ہے ،البتہ آٹا گوندا ہوا رکھا ہے ۔“
”باورچی خانہ کہاں ہے ؟“
”اسی کمرے میں کھانا پکاتا ہوں ۔“اس نے کونے میں موجود چولھے کی جانب اشارہ کیا ۔
”تو شروع ہو جاﺅ ۔“میں نے اسے آگ جلانے کا اشارہ کیا ۔
ایک جانب پڑی لکڑیاں چولھے میں ترتیب سے جما کر اس نے کپڑے کے ایک ٹکڑے کو جلا کر لکڑیوں کے بیچ میں رکھ دیا ۔آگ کے تیز ہونے تک وہ توا چولھے پر رکھ کر گوندے ہوئے آٹے کا پیڑا بنانے لگا ۔
”دوست میں آپ کو کبھی بھی تکلیف نہ دیتا مگر میں دوروز سے بھوکا ہوں ،انڈین فوج کتوں کی طرح میرا پیچھا کر رہی ہے ۔اور سچ کہوں تو میرا قصور صرف اتنا ہے کہ میں پاکستان آرمی کی ایک پوسٹ سے غلطی سے پھسل کر اس طرف آگرا ۔“اس کی ہمدردی سمیٹنے کے لیے میں نے اپنے متعلق تمام تفصیل اس کے سامنے بیان کر دی ۔وہ کوئی جواب دیے بغیر گرم توے پر روٹی ڈالنے لگا ۔گوندے ہوئے آٹے سے بہ مشکل دو روٹیاں ہی بن پائی تھیں ۔اس نے جیسے ہی پہلی روٹی توے سے اتاری میں گرم گرم روٹی کو جڑ گیا۔سالن یوں بھی موجود نہیں تھا ۔اور نہ مجھ میں اتنا صبر رہ گیا تھا کہ سالن وغیرہ کے بننے کا انتظار کرتا ۔ دوسری روٹی کے بننے تک میں پہلی روٹی معدے میں اتار چکا تھا ۔گرم گرم گندم کی روٹی نے اس وقت جو لطف دیا تھا وہ بیان سے باہر ہے ۔
”یار! سیدھی بات ہے کہ آپ کو مزید آٹا گوندنا پڑے گا ،کیوں کہ ان دو روٹیوں سے میری آنت بھی گیلی نہیں ہوئی ۔البتہ آٹا گوندنے سے پہلے چاے بنانا ضرور ی ہے ۔“
وہ بغیر کسی تکرار کے ایک برتن میں رکھے تازہ دودھ سے چاے بنانے لگا ۔صبح کی چاے کے لیے رکھا گیا دودھ اس ضمن میں کام آیا تھا ۔
”آپ کا نام کیا ہے ؟“
”مشتاق ۔“اس کے لہجے سے مجھے کوئی اندازہ نہیں ہو پارہا تھا کہ وہ بیزار ہے ،غصے میں ہے یا بالکل نارمل ہے ۔اس نے پتیلی میں دودھ ،پانی ،پتی اور چینی اکٹھے ہی ڈال کر چولھے پرچڑھا دی ۔
”مشتاق بھائی ،کیا مجھے آپ کے کپڑوں کا کوئی پرانا جوڑا مل سکتا ہے ۔“وہاں سے آگے مجھے دن کو بھی سفر کرنا پڑ سکتا تھا اور ایسی صورت میں ٹریک سوٹ کے بجائے کپڑوں کا ہونا ضروری تھا۔ٹریک سوٹ میں میں نمایاں لگتا ،کیوں کہ وہ کوئی شہر نہیں تھا ۔وہاں کے مقامی لوگ عموماََ شلوار قمیص میں ملبوس نظر آتے اور میرے لیے بھی انھی کا حلیہ بنانا ضروری تھا ۔
مشتاق نے حسب سابق خاموشی سے اٹھ کر ایک پرانے سے ٹرنک کا ڈھکن اٹھایا اور مٹیالے رنگ کے کپڑوں کا ایک جوڑا میرے جانب بڑھا دیا ۔
ٹریک سوٹ اتار کر میں نے کمرے کے ایک کونے میں لگے ہوئے لکڑی کے پھٹوں پر پھینکا البتہ ٹریک سوٹ کے نیچے پہنا ہوا گرم پاجامہ اور بنیان اتارنے کی ضرورت میں نے محسوس نہیں کی تھی ۔ فوجی جھولا بھی مجھے پھنسا سکتا تھا اس لیے میں نے اس میں رکھی کلاشن کوف کی تین اضافی میگزینیں نکال کر کوٹ کی جیبوں میں منتقل کردیں ۔اس اثناءمیں چاے تیار ہو گئی تھی ۔
میں گرم گرم چاے سے لطف اندوز ہونے لگا جبکہ وہ آٹا گوندنے لگا تھا ۔دو روٹیاں کھانے کے بعد بھوک کی شدت میں کچھ کمی ہوئی تھی لیکن ابھی تک کھانے کی طلب اچھی خاصی محسوس ہو رہی تھی ۔ اس کے آٹا گوندنے تک میں چاے کی دو پیالیاں معدے میں انڈیل چکا تھا ۔
اچانک ہی کتوں کے بھونکنے کی آواز تیز ہو گئی تھی ۔یوں جیسے کوئی اجنبی آبادی میں داخل ہوا ہو۔یہ بھی ممکن تھا کہ کتے کسی جانور وغیرہ پر بھونک رہے ہوں ۔لیکن جلد ہی دروازے پر ہونے والی زور دار دستک نے میرے موّخرالذکر اندازے کو جھٹلا دیا تھا ۔
”پہنچ گئے ہیں کتے ۔“مشتاق کی نفرت بھری آواز بلند ہوئی ۔اب مجھے یہ معلوم نہیں تھا کہ وہ مجھے بہلانے کے لیے انڈین فوجیوں کو کوس رہا تھا یا سچ ہی میں وہ ان سے اتنی ہی نفرت کرتا تھا ۔البتہ زوردار دستک یہ ظاہر کر رہی تھی کہ وہ انڈین فوجی ہی تھے ۔
مجھے لگا میں بری طرح پھنس گیا ہوں ۔وہاں سے بھاگ نکلنا خاصا دشوار تھا ۔کیوں کہ وہاں کوئی اکیلا فوجی تو ہونا نہیں تھا ۔پھر میں مشتاق پر بھی اعتماد کرنے کی حالت میں نہیں تھا ۔
میری سوچوں سے انجان اس نے فوراََ ہی دیوار سے ٹنگی لالٹین اتاری اور کہنے لگا ۔”ادھر ۔“ اس نے کونے میں لگے لکڑی کے پھٹوں کے سامنے سے لٹکی چادر اٹھائی اور مجھے نیچے گھسنے کا اشارہ کیا ۔
یہ تو ممکن ہی نہیں تھا کہ انڈین فوجی ان پھٹوں کے نیچے نہ جھانکتے ۔مجھے متذبذب دیکھ کر وہ پراعتماد لہجے میں بولا ۔
”اعتبار کرو ۔“
ایک دم خطرہ مول لینے کا فیصلہ کرتے ہوئے میں جھک کر ان پھٹوں کے نیچے گھس گیا ۔وہاں کافی کاٹھ کباڑ پڑا نظر آرہا تھا ۔
وہ تیز تیز بولا ۔”کونے میں جو لکڑیا ں پڑی ہیں انھیں ہٹانے پر ایک تختہ نظر آئے گا ۔اس کے نیچے گھس کر تختہ اپنے اوپر برابر کر لو ۔“
دروازے پر ہونے والی دستک اور زیادہ تیز ہو گئی تھی ۔میرے پاس سوچنے کے لیے ایک لمحہ بھی موجود نہیں تھا ۔میں زمین پر ہاتھ ٹیک کر گھٹنوں کے بل چلتا ہواسرعت سے کونے میں پڑی لکڑیوں کے ڈھیر کی طرف بڑھا لکڑیوں کے ڈھیر کو ذرا سا ہٹاتے ہی مجھے تختہ نظر آگیا ۔تختے کو اوپر اٹھا کر میں فوراََ ہی نیچے گھس گیا تھا ۔وہ گڑھا قریباچار پانچ فٹ گہرا ہوگا ۔میرے اندر داخل ہوتے ہی اس نے تختہ بند کیا اور اس کے اوپر دوبارہ لکڑیاں بکھیر کر باہر نکل گیا ۔اب میں مکمل طور پر اس کے رحم و کرم پر تھا ۔میں لکڑی کے تختے سے کان لگا کر اپنی سماعتوں سے کچھ جاننے کی کوشش کرنے لگا ۔
منٹ بھر کے وقفے کے ساتھ ہی بھاری بوٹو ں کی آواز اندر داخل ہوتی ہوئی سنائی دی ۔
”سچ سچ بتاﺅ کوئی یہاں آیا تھا ؟“ایک کرخت آواز میری سماعتوں میں داخل ہوئی ۔
”نن....نہیں صاحب ،کوئی بھی نہیں آیا ۔“مشتاق نے گھگیائے ہوئے لہجے میں جوا ب دیا تھا ۔
”یہ کیا ہے ،رات کے تین بجے تم آٹا کیوں گوند رہے تھے اور یہ چاے کس کے لیے بنائی تھی؟“یقینا اسے چولھے میں دہکتے انگارے ،تازہ گوندا ہوا آٹا اور چاے کی پتیلی نے چوکنا کر دیا تھا ۔
”صص....صاحب روزہ رکھنے کے لیے آٹا گوندا ہے اور چاے بھی بنائی ہے ۔“اسے فوراََ ہی ایک مناسب بہانہ سوجھ گیا تھا ۔
”یہ روزوں کا مہینا تو نہیں ہے ۔“پوچھنے والے کے لہجے میں شکوک کی پرچھائیاں لرزاں تھیں۔
”نفلی روزے رکھ رہا ہوں صاحب ۔“اس مرتبہ مشتاق کے لہجے میں پہلے سے زیادہ اعتماد موجود تھا ۔
”استاد روہیت !....یہ دیکھیں ۔“ایک نئی آواز ابھری تھی ۔نجانے اس نے روہیت کو کیا دکھایا تھا ۔
اس آدمی بات ختم ہوتے ”چٹاخ۔“کی زور دار آواز ابھری ۔یقینا حوالدار روہیت نے مشتاق کے چہرے پر تھپڑ رسید کیا تھا ۔اس کے ساتھ ہی اس نے کرخت لہجے میں گالی بکی ....”کتے کے بچے یہ جھولا تمھارے پاس کہاں سے آیا ۔اور یہ ٹریک سوٹ کس کا ہے ؟“
میرا دل ایک دم ڈو ب گیا تھا ۔تیزی میں ہم سے درستی بھول گئی تھی ۔اگر وہ جھولا اور ٹریک سوٹ ان کے ہاتھ نہ لگے ہوتے تو ہمارے بچنے کی گنجائش موجود تھی ،مگر اب وہ چھوڑنے والے نہیں تھے ۔ مشتاق کی بھی بولتی بند ہو گئی تھی ۔
”بولتے کیوں نہیں ہو ماں ........“روہیت کے منھ سے گندی گندی گالیوں کا سیلاب امڈ آیا تھا ۔”کہاں چھپایا ہے بہن کے خصم کو جلدی بولو۔“گالیاں بکنے کے ساتھ اس نے ہاتھ ،پاﺅں سے بھی مشتاق کو زدو کوب کرنا شروع کر دیا تھا ۔
”وہ کافی دیر ہوئی یہاں سے نکل گیا ہے ۔“مار کھاتے ہی مشتاق نے میرے وہاں آنے کی بات تو اگل دی لیکن اب بھی وہ مجھے حفاظت مہیا کر رہا تھا ۔میرے دل میں اس کے خلوص نے رقت بھر دی تھی ۔میں مجبوری سے وہاں چھپ تو گیا تھا ،مگر میرے دل میں یہ اندیشہ ضرورموجود تھاکہ وہ دھوکا دے گا۔ لیکن ایک مسلمان ہونے کے ناتے اس نے مجھے بچانے کی حتی الوسع کوشش کی تھی ۔
”یہاں تلاشی لو ،ہو سکتا ہے اس کی بہن کا ........اب تک یہیں چھپا ہو۔“روہیت اپنے آدمیوں کوبولا ۔انھوں نے فوراََ ہی لکڑیوں کے بستر کے نیچے جھانکا کہ میرے چھپنے کے لیے سب سے مناسب جگہ وہی تھی ۔مگر مشاق نے اس ضمن میں بہت اچھا بندوبست کر رکھا تھا ۔انھیں تمام کاٹھ کباڑ ہٹائے بغیرلکڑی کا تختہ نظر نہیں آسکتا تھا ،مگر انھوں نے صرف نیچے جھانکنے پر اکتفا کیا تھا ۔اور پھر وہ ساتھ والے کمرے کی طرف بڑھ گئے ،دروازے کو ٹھوکر مار کر کھولنے کی آواز میرے کانوں تک پہنچی تھی ۔
”کچھ نہیں ہے سر ۔“ان مختصر سے کمروں کی تلاشی لیتے ہوئے انھیں دو تین منٹ سے زیادہ نہیں لگے تھے ۔
”سچ بتاﺅ اس پاپی کا رخ کس جانب تھا ۔“روہیت ایک بار پھر مشتاق سے پوچھنے لگا ۔
”اس بارے اس نے کوئی بات بھی نہیں کی صاحب ،بس دروازہ کھٹکھٹا کر اس نے مجھے جگایا اور رائفل دکھا کر کھانا بنانے کو کہا ۔اور زبردستی کپڑوں کا جوڑا پہن کریہاں سے نکل گیا ۔میں نے جو صبح کے لیے آٹا گیلا کیا تھا اس کی روٹیاں بنا کر اسے دی تھیں ۔اور اس کے چلے جانے کے بعد اب صبح ناشتے کے لیے آٹا گوندھ رہا تھا ۔“مشتاق نے جھوٹ سچ ملا کر ایک کہانی بیان کر دی ۔
روہیت نے معنی خیز لہجے میں پوچھا ۔ ”ہونہہ!تو پہلے یہ بات کیوں نہیں بتائی ۔“
”میں ڈر گیا تھا صاحب!“مشتاق گھگیایا۔
”ڈرنا تو تمھیں چاہیے۔“روہت نے قہقہہ لگایا ۔”بہ ہر حال ا ب تم چھٹی کرو، ایک گھس بیٹھے کے سہولت کار کو میں زندہ نہیں چھوڑ سکتا ۔“
”مم....ماف....“اس سے زیادہ مشتاق نہیں بول پایا تھا ۔کلاشن کوف دو مرتبہ گرجی اور مشتاق کی پر اذیت چیخ نے میرے کانوں میں زہر انڈیلا ۔میرے حصے کی گولی اس کا مقدر بن گئی تھی ۔میرا دل ایک دم غم سے بھرگیا تھا ۔
”اس کی لاش ،یہ جھولا اور ٹریک سوٹ باہر لے جاﺅ،کنٹرول کو بتا دیں گے کہ چونکہ اس خبیث کے ساتھ رہنمائی کرنے والا ایک مقامی شخص موجود تھااس وجہ سے وہ ہمیں پکڑائی نہیں دے رہا تھا ۔باقی یہاں بسنے والے دوسرے لوگوں کو بھی اس کی لاش دیکھ کر عبرت حاصل ہو گی اور آئندہ کو کوئی کسی گھس بیٹھے کو پناہ دینے کی غلطی نہیں کرے گا ۔اور شرما تم گھر کو آگ لگا دو ۔“
اس کی موخّر الذکر بات سن کر میرے بدن میں چیونٹیاں رینگنے لگ گئی تھیں ۔وہ گڑھا میرے لیے جہنم کا گڑھا بننے والا تھا ۔
جاری ہے
 

قسط نمبر 72
ریاض عاقب کوہلر
وہ تمام گھروں کی تلاشی لینے میں لگے ہوئے تھے ۔آبادی کے دوسرے ہی گھر سے میرے بارے اطلاع ملتے ہی روہیت نے اپنے باقی آدمیوں کو کال کر کے مشتاق کے گھرکے سامنے اکھٹا ہونے کا حکم دے دیا تھا ۔ اس ارادہ غالباََ میرا تعاقب کرنے کا تھا ۔اس کے ریڈیو سیٹ پر بات کرنے سے ظاہر یہی ہو رہا تھا کہ اس کے ہمرا کافی افراد موجود تھے ۔
شرما نامی آدمی کے آگ لگانے تک وہ وہیں کھڑا رہا ۔ان پہاڑی علاقوں میں بنے ہوئے گھروں میں لکڑی کا بے دریغ استعمال ہوتا ہے اور اب وہ لکڑی کا گھر میرے لیے چتا بننے والا تھا ۔آگ میں جلنے سے بہتر تھا کہ میں گولی کھا کر جان دے دیتا ۔یہ سوچ آتے ہی میں باہر نکلنے کے تیار ہو گیا ۔میں نے ارادہ کر لیا تھا کہ جیسے ہی وہ آگ لگا کر باہر نکلیں گے میں بھی اس چوہے دان سے باہر نکل جاﺅں گا ۔
جیب سے لائیٹر نکال کر میں نے اس گڑھے کا جائزہ لینے لگا ۔وہ پانچ ضر ب پانچ فٹ کی چوکور جگہ تھی ۔غربی جانب لکڑی کا دروازہ بنا دیکھ کر میں چونک گیا تھا ۔ایک دم میں نے آگے بڑھ کر دروازہ کھولا لائیٹر کی روشنی میں ایک تنگ رستا دیکھ کر میرا دل بلیوں اچھلنے لگا تھا ۔یقینا وہ چور رستا تھا ۔اور وہ رستا یہ بھی ظاہر کر رہا تھا کہ مشتاق کا تعلق آزادی کی خاطر لڑنے والے مجاہدین کے کسی گروہ سے تھا ۔ چونکہ میری ایک دم آمد پر وہ شش پنج میں پڑ گیا تھا کہ آیا مجھ پر اعتبار کرے یا نہیں اسی وجہ سے اس نے میرے سامنے اپنی اصلیت ظاہر نہیں کی تھی ۔البتہ انڈین فوجیوں کے پہنچ جانے کے بعد اس کے پاس اتنا وقت ہی نہیں تھا کہ وہ مجھے کچھ بتا سکتا ۔میں اس رستے پر آگے بڑھنے لگا ۔چونکہ وہ رستا نہایت تنگ تھا اس وجہ سے مجھے جھک کر چلنا پڑ رہا تھا ۔وہ سرنگ پچاس ساٹھ گز سے زیادہ طویل نہیں تھی ۔اس کا اختتام ایک اور گڑھے پر ہوا ۔اب وہاں سے باہر نکلنے کی صورت میں جانے کیسی صورت حال کا سامنا کرنا پڑتا ۔میں وہیں بیٹھ کر انڈین فوجیوں کے دفع ہونے کا انتظار کرنے لگا ۔ان کے جانے کے بعد میں اطمینان سے باہر نکل سکتا تھا۔باقی مشتاق کے گھر کو آگ لگ جانے کے بعد وہ سرنگ یوں بھی ظاہر نہیں ہو سکتی تھی ۔ چھت کے ملبے نے گر کر یقینا مشتاق کے گھر موجود گڑھے کو بھر دینا تھا ۔
میں پاﺅں پسار ے دیوار سے ٹیک لگاکر بیٹھ گیا ۔خوراک کے پیٹ میں جاتے ہی مجھے غنودگی سی محسوس ہونے لگی تھی ۔وہاں پر مجھے کوئی خاص خطرہ بھی محسوس نہیں ہو رہا تھا اس لیے میں آنکھیں بند کر کے سونے کی کوشش کرنے لگا ۔زمین دوز گڑھا کافی گرم بھی تھا ۔مجھے جلد ہی نیند آگئی تھی ۔
آنکھ کھلنے پر میں نے کلائی پر بندھی گھڑی پر نگاہ دوڑائی دن کے نو بج رہے تھے ۔میں کافی دیر آرام کر چکا تھا ۔میں نے اٹھ کر کلاشن کوف کندھے سے لٹکائی اور دونوں ہاتھوں کو گڑھے کی چھت پر پڑے لکڑی کے تختے پر ٹیک کر اسے آہستہ آہستہ اوپر اٹھانے لگا ۔میری کوشش تھی کہ کوئی آواز نہ نکلے ۔وہ گڑھا اور اس پر پڑا لکڑی کا تختہ بالکل مشتاق کے گھر جیسا ہی تھا ۔بہت زیادہ احتیاط کے باوجود تھوڑی بہت آواز پیدا ہوئی تھی کیوں کہ اس تختے پر بھی کاٹھ کباڑ پڑا ہوا تھا ۔آہستہ آہستہ میں نے تختہ بالکل ہی اوپر اٹھا دیا اور پھر اچک کر باہر نکل آیا ۔اس کے ساتھ ہی میں نے تختہ واپس بند کر دیا ۔
میں اس وقت لکڑی کے پھٹوں سے بنے ہوئے کسی بستر کے نیچے ہی تھا ۔اور کمرے میں چھائی خاموشی ظاہر کر ہی تھی کہ وہاں کوئی بھی موجود نہیں ہے ۔
میں بے آواز رینگتا ہوا بستر کے نیچے سے نکلا ۔کمرہ واقعی خالی تھا ۔مجھے صحن میں کافی لوگوں کی موجودی کا احساس ہوا ۔ عورتوں کارونا ،بچوں کاشور اور کچھ باتوں کی آوازیں میرے کانوں میں پڑیں ۔ دروازے کی درز سے آنکھ لگا کر میں نے صحن میں جھانکنے کی کوشش کی مگر اس کے سامنے ایک اور کمرہ موجود تھا جس کی وجہ سے میں صحن میں نظر نہیں دوڑا سکا تھا ۔البتہ لگ یہی رہا تھا کہ جیسے کوئی میت والا گھر ہو اور اس میں توکوئی شبہ نہیں تھا کہ گھر کے مکینوں کا مشتاق سے کوئی نہ کوئی تعلق ضرور تھا ۔اس وقت وہاں سے باہر نکلنا مصیبت کو دعوت دینے کے مترادف تھا ۔اور یہ مصیبت میرے ساتھ مشتاق کے احبا ب کی زندگیوں کو بھی نقصان پہنچا سکتی تھی ۔میں باہر نکلنے کا ارادہ ترک کر کے وہیں کھڑا رہا ۔اچانک ہی رونے دھونے کی آوازیں تیز ہوئیں ۔یوں لگا جیسے جنازہ اٹھا کر باہر لے جایا جا رہا ہو۔تھوڑی دیر تک عورتوں کے اونچی آواز میں رونے کی آوازیں سنائی دیتی رہیں اور پھر آہستہ آہستہ وہ شور تھم گیا ۔
مجھے دو تین گھنٹے انتظار کر نا پڑ گیا اور کسی نے بھی کمرے کا رخ نہیں کیا تھا ۔میں بستر پر بیٹھ کر کسی کے وہاں آنے کا انتظار کرتا رہا ۔پھر کسی نے باہر والے کمرے کا دروازہ کھولا، میں ایک دم چوکناہو کر اٹھا اور کمرے کے دروازے کے پیچھے چھپ کر کھڑا ہو گیا ۔آنے والا اسی طرف آرہا تھا ۔دروازے کے بھڑے ہوئے دونوں پٹ وا ہوئے اور ایک عورت اندر داخل ہوئی ۔میں جانتا تھا کہ اگر اس کی نظر ایک دم مجھ پر پڑی تو اس کے منھ سے چیخ بھی نکل سکتی تھی اس لیے جیسے ہی وہ دو قدم آگے بڑھی میں نے فوراََ دروازے کے عقب سے نکل کر اس کے منھ پر ہاتھ رکھ دیا ۔
وہ حیرت سے تڑپی ،اس کے منھ سے ”اوں ....اوں ۔“کی آواز برآمد ہوئی مگر میری گرفت کافی سخت تھی ۔ایک غیر عورت کو یوں اپنے ساتھ لپٹانے سے مجھے خفت تو محسوس ہو رہی تھی مگر مجبوری تھی ۔اسے دروازے کے سامنے سے ایک طرف کر کے میں نے آہستہ سے کہا ۔
”میں دوست ہوں ،شور نہ کرنا ۔تمھیں چھوڑ رہا ہوں ۔“پتا نہیں میرے الفاظ اس کی سمجھ میں آئے تھے یا نہیں مگر اس نے مچلنا بند کر دیا تھا ۔میں نے آہستہ سے اس کے منھ سے ہاتھ ہٹایا وہ آنکھوں میں حیرانی بھرے میری طرف متوجہ ہوئی ۔وہ ایک جوان سال لڑکی تھی ۔میں نے فوراََ آگے بڑھ کر اس کے سر پر ہاتھ رکھ دیا ۔ایک مرد جب کسی لڑکی کے سر پر ہاتھ رکھتا ہے تو اس کا ایک ہی مطلب ہوتا ہے کہ وہ لڑکی اس کی بیٹی یا بہن جیسی ہے ۔یہ ایک بین الاقوامی اشارہ ہے ۔اور الفاظ سے کئی گنا زیادہ موثّر ہے ۔ اس کے چہرے پر ایک دم اطمینان پھیل گیا تھا ۔
”میں مشتاق کا دوست ہوں ۔“میں نے رک رک فقرہ پورا کیا ۔نامعلوم وہ کون سی زبان بولتے تھے اور آیا اردو اس کی سمجھ میں آتی بھی تھی کہ نہیں ۔
اس نے سمجھ جانے والے انداز میں اوپر نیچے سر ہلایااور اس کے ساتھ ہی انگلی سے بستر کی طرف اشارہ کیا گویا پوچھ رہی تھی کہ میں وہیں سے برآمد ہوں ۔
میں نے بھی اثبات میں سر ہلادیاتھا ۔اس نے مجھے بیٹھنے کا اشارہ کیا اور باہر کی طرف بڑھ گئی ۔ اپنے پیچھے دروازہ اس نے بند کر دیا تھا۔ گومیرے دل میں تھوڑا بہت خدشہ موجود تھا کہ کہیں باہر جا کر وہ شور نہ مچا دے ،مگر یہ بھی حقیقت تھی کہ میں اس پر اعتبار کرنے پرمجبور تھا ۔
تھوڑی دیر بعد دروازے کے باہر قدموں کی چاپ ابھری میں حفظ ماتقدم کے طور پر دوبارہ کواڑ کے پیچھے ہو گیا تھا ۔اس مرتبہ وہ لڑکی ایک جواں سال آدمی ہمراہ نمودار ہوئی ۔میں دروازے کے عقب سے نکل آیا ۔آنے والے نے مجھ سے ترتپاک مصافحہ کیا ۔
تھوڑی دیربعد ہم آمنے سامنے بیٹھے تھے ۔اس نے ٹوٹی پھوٹی اردو میں جو کچھ بتایا اس کا لبِ لباب یہی تھا کہ وہ مشتاق کا بہنوئی ہے اور اس کے ساتھ موجود لڑکی مشتاق کی بہن تھی ۔مشتاق کافی عرصے سے آزادی کے متوالوں کا ساتھی تھا ۔اس نے شادی نہیں کی تھی ۔گزشتا رات ہندوﺅں نے اس کے گھر کو آگ لگانے کے بعد گاﺅں کے تمام لوگوں کو اکٹھا کر کے اعلان کیا تھا کہ اس کے بعد بھی اگر کسی نے مجاہدین کو پناہ دینے یا ان کی مدد کرنے کی کوشش کی تو ان کے ساتھ بھی یہی ہو گا ۔حالاں کہ یہی کچھ وہ پچھلی چھے سات دہائیوں سے کرتے آرہے ہیں مگر آزادی کے متوالوں کے دل میں جلتی جوت کو بجھانا اتنا آسان کام نہیں ہے ۔ان ظالموں نے جاتے ہوئے اتنی مہربانی کی تھی کہ مشتاق کی لاش وہیں چھوڑے گئے تھے ۔تھوڑی دیر پہلے ہی مشتاق کی تدفین ہو ئی تھی ۔
آج آزاد وطن کی پر بہار فضاﺅں میں سانس لیتے ہوئے ہماری نوجوان نسل کو آزادی کی قدر نہیں ہے ۔وہ یہ نہیں جانتے کہ آزادی کون سی نعمت ہے اور غلامی کس چڑیا کا نام ہے ۔انھیں بالکل بھی معلوم نہیں کہ غلامی ایسا طوق ہے جو جس قوم کے گلے میں پڑااسے ذلت کی گہرائیوں میں گرا دیا۔قوموں کا عروج اور ترقی آزادی کی مرہون منت ہوتاہے ۔وہی قومیں دنیا میں سر اٹھانے کے قابل ہوتی ہیں جو کسی کی غلام نہ ہوں۔ غلام قومیں اپنے آقا کی دست نگر ہو جایا کرتیں ہیں ،نہ ان کا مذہب محفوظ رہتا ہے ، نہ تہذیب وثقافت ۔آزادی ہی ایک قوم کی پہچان ہے اور آزادی ہی ایک قوم کا فخر۔آزادی رب کریم کی عطا کی ہوئی ایسی نعمت ہے جس کا کوئی نعم البدل نہیں ۔آج اگر ہم آزاد و خود مختار ہیںتو یہ ہمارے ان اسلاف کا کارنامہ ہے ،جنہوں نے اپنا حال ہمارے مستقبل پر قربان کر دیا ، اپنی خواہشات کو ہماری چاہتوں پر نچھاور کردیا، اپنی خوشیوں کے بدلے دکھ درد سمیٹ کرہمارا دامن خوشیوں سے بھر دیا ۔جنہوں نے سکون کے بدلے بے سکونی اور راحت کے بدلے تکلیف مول لے لی لیکن ہمارے لےے ایک آزاد وطن کا تحفہ ، ایک علاحدہ ملک کی نعمت ، اور خود مختاری کی سوغات چھوڑ گئے ۔اگرآج ہم سر اٹھا کر چل رہے ہیں تو یہ سربلندی ان سروں کی مرہون منت ہے جو اپنے شانوں پر باقی نہ رہے اوران عزائم کی عطاکردہ ہے جو وقت کی سب سے بڑی طاقت سے ٹکرا گئے۔ان حوصلوں کی دین ہے جو پہاڑوں سے غم برداشت کر کے بھی اپنے مقصد سے نہ ہٹے۔
لیکن پاکستانی قوم کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ اس ملک خدادادکے معرض وجود میں آتے ہی یہ قوم مخلص حکمران سے محروم ہو گئی ۔قائد اعظم محمد علی جناح کے بعد کوئی ایسا لیڈر ہمارے حصے میں نہ آ پایاجو ذاتی مفاد کو بیچ میں لائے بغیر ملک و قوم کے لیے کچھ بہتر کرتا۔ حکمرانوں کے نام پر ہمیں تسلسل سے ایک مفاد پرست ٹولے سے واسطہ رہا جن کی نظریں حریص گِدھوں کی طرح ہمیشہ غریب عوام کی جیب پر رہیں۔ جن کے دماغوں کے گٹر میں ہمیشہ حرص و ہوس کی گندگی ابلتی رہی ۔ان کے پاپی پیٹوں کی طوالت سوئیٹزر لینڈ کے بینکوں تک جا پہنچی ۔جو خون پینے والی جونکوں کی طرح عوام کے نحیف و لاغر جسموں سے چمٹے ہوئے ہیں۔ایسی جونکیں جو خون پینے کے بعدگوشت کو بھی چاٹ جاتی ہیں ۔انھیں یہ احساس ہی نہیں کہ مستقبل قریب و بعید میں ہماری ترجیحات اور منصوبے کیا ہونے چاہئیں ۔ان کے بعد ہم عوام کا نمبر ہے کہ آج ہم زبانی کلامی نعرے بازیوں اوربلند بانگ دعوﺅں سے دشمن کا مقابلہ کرنے کی کوشش میں لگے ہیں ۔ہم یہ بھول گئے ہیں کہ میدان عمل میں گفتار کے غازیوں کی نہیں کردار کے غازیوں کی ضرورت ہے ۔آزادی کی نعمت اور قدر ان کشمیری ماﺅں بہنو سے پوچھو جو آئے روز اپنے کسی پیارے پر بین کر رہی ہوتی ہیں ۔جن کی نہ عزتیں محفوظ ہیں اور نہ جان و مال ۔آج کشمیری جو آزادی کی جنگ لڑ رہے ہیں اللہ پاک کے فضل سے اگر یہ کامیاب ہو گئے تو شاید ان کی آنے والی نسلیں بھی ہماری طرح ہی اپنے آبا واجداد کی کوششوں کو بھلا کر کشمیر کا وہی حال کر دیں جو ہم نے پاکستان کا کیا ہوا ہے ۔بہ ہرحال یہ لمبی داستان ہے ۔درد مند رو رو کر لوگوں کو اس جانب متوجہ کرتے ہیں اور پڑھنے والوں کے نزدیک یہ فقط لفاظی ہوتی ہے ۔
مشتاق کے بہنوئی کا نام ایو ب تھا ۔اس کی بات ختم ہوتے ہی میں اسے اپنے بارے بتانے لگا۔اسی دوران مشتاق کی بہن طاہرہ کھانا لے آئی تھی ۔ایوب سے پتا چلا کہ وہ کھانا کسی قریبی رشتا دار کے گھر سے آیا تھا ۔مشتاق کی موت کا دکھ ہونے کے باوجود مجھے سخت بھوک لگی ہوئی تھی ۔میں بے تکلف کھانے کو جڑ گیا۔کھانے کے بعد ایوب نے مجھے اسی کمرے میں آرام کا مشورہ دے کر کمرے کے دروازے کو باہر سے بند کر دیا تھا ۔رات کو جب تعزیت والے چلے گئے تھے ۔تبھی طاہرہ بہن میرے لیے کھانا لے آئی ۔ایوب کی وساطت سے میں نے اپنی ندامت اور افسوس اس لڑکی تک پہنچادیا تھا جس کے سگے بھائی نے میرے لیے جان قربان کر دی تھی ۔مگر کشمیر کی بیٹی کا عزم اور حوصلہ بہت بلند تھا ۔اس کے مقدس چہرے سے ہویدا مسکراہٹ نے مجھے بہت سکون دیا تھا ۔اس نے ایو ب کی وساطت سے کہا ۔
”آپ بھی تو میرے بھائی ہیں اورکس نے کہا کہ مشتاق مر گیا ہے ۔قرآن کہتا ہے انھیں مردہ نہ کہو تو میں کیسے اسے مردہ سمجھ لوں ۔“
میں نے بے اختیار ہو کر اس کے سر پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا ۔”ہاں میری بہادر بہن، میں تمھارا بھائی ہوں ۔اور مجھے اپنی بہن پر فخر ہے ۔“
ایو ب نے رستے کے بارے میری تھوڑی بہت رہنمائی کر دی تھی ۔لیکن پہاڑی راستوں کی پہچان اتنی آسان نہیں ہوتی ۔ایک جیسے پہاڑ ،ان سے نکلنے والے نالے ،درختو ں ،جھاڑیوں کے جھنڈ ، بہنے والے چشمے اور آبشاریں یہ تمام یکساں مناظر بغیر کسی نقشے کی موجودی کے راستوں کی پہچان کو مشکوک کر دیتے ہیں ۔ان سے اجازت لے کر میں محتاط انداز سے ان کے گھر سے نکلا ۔میری ذرا سی غفلت ان پر بھی کوئی مصیبت لاسکتی تھی ۔اس گھر سے تھوڑا دور ہوتے ہی میں نے اطمینان بھرا سانس لیا تھا ۔وہ وادی شرقاََ غرباََ پھیلی ہوئی تھی ۔جب شمال سے جنوب کی طرف اس کی چوڑائی تھی جو چارپانچ سو میٹر سے زیادہ نہیں تھی ۔میں نے آبادی کے بیچوں بیچ آگے بڑھنے کے بجائے چوڑائی میں وادی کو عبور کیا اور جنوب کی طرف موجود بلندی پر چڑھنے لگا ۔
جہاں تک میں ایوب کے بتائے رستے پر چل سکتا تھا اسی رستے پر گام زن رہا ۔جونھی اس کی بتائی ہوئی نشانیاں گڈ مڈ ہوئیں میں نے زیادہ سوچنے میں وقت ضائع کیے بغیر اندازے سے ایک جانب قدم بڑھا دیے ۔گھپ اندھیرا جہاں میرے لیے مشکلات پیدا کر رہا تھا وہیں مجھے چھپاﺅبھی مہیا کر رہا تھا۔ دشمن کی پوسٹوں پر چمکنے والی روشنی مجھے دور ہی سے نظر آجاتی اور میں اپنا رستا ذرا تبدیل کر دیتا ۔وہ رات میں بغیر کسی حادثے کے چلتا رہا ۔صبح کا ملگجا اجالہ پھیل گیا جب میں ایک ایسی جگہ پہنچا جہاں جھاڑیوں اور درختوں کا وسیع جنگل موجود تھا ۔جھاڑیوںکے ایک جھنڈ میں گھس کر میں مچان بنانے لگا۔ طلوع آفتاب تک میں اس کام سے فارغ ہو گیا تھا ۔ایوب کے گھر سے چلتے وقت میں نے دو تین روٹیاں مرغی کے شوربے میں چپیڑ کر ساتھ رکھ لی تھیں ۔انھیں معدے میں اتار کر میں آرام کرنے لیٹ گیا۔جھاڑیوں اور درختوں کا وہ جنگل کافی دور تک پھیلا ہوا تھا اور اس میں مجھے تلاش کرنا اتنا بھی آسان نہیں تھا کہ مجھے کوئی خاص خطرہ ہوتا ۔میں بے فکر ہو کر لیٹ گیا ۔
لیکن دشمن کو میرا زیادہ دیر آرام کرنا پسند نہیں آیا تھا ۔باتوں کی تیز آواز سے میری آنکھ کھلی تھی ۔ میں نے فوراََ ہی کلاشن کوف ہاتھ میں تھام کر سیفٹی لیور نیچے کردیا ۔آنے والوں کی تعداد تین تھی ۔ان کی باتوں سے پتا چلا کہ وہ اس جنگل کو گھیر کر تلاشی لے رہے ہیں ۔یہ بات میرے لیے کافی حیران کن تھی کیوں میرے تیئں انھیں میری تلاش یہاں سے کافی آگے کرنا چاہیے تھی ۔
ان کے پاس موجود ریڈیو سیٹ سے مختلف پارٹیوں کی بات چیت کی آواز آرہی تھی ۔میں ان سے بالکل ہی تعرض نہ کرتا اور انھیں آگے بڑھ جانے دیتا اگر وہ اس باریکی سے تلاشی نہ لے رہے ہوتے۔کیوں فائر کرنے کا مطلب اپنی موجودی کا راز فاش کرنا تھا ۔مگر انھیں جھاڑیوں کے جھنڈ کی طرف بڑھتا دیکھ کر میں نے ایک دم درمیان والے آدمی پر شست سادھ لی تھی ۔وہ اس وقت اپنے باقی دو ساتھیوں کو یہ باورکرانے کی کوشش میں تھا ان کا اس جنگل کو چھاننا بالکل ہی بے فائدہ اور فضول ہے ۔میں ٹریگر دبانے ہی لگا تھا کہ اچانک ہی کچھ فاصلے پرتیز فائرنگ کی آواز گونجی ۔وہ تینوں ٹھٹک کر رکے اور پھر اس جانب بھاگ پڑے جدھرسے فائرنگ کی آواز آرہی تھی ۔ان کے وائرلیس سیٹ سے بھی کنٹرول کا استفسار سنائی دے رہا تھا جو وہ فائرنگ کرنے والوں سے کر رہا تھا ۔میرے تنے ہوئے اعصاب ڈھیلے پڑ گئے تھے ۔ مگر میرا یہ اطمینان زیادہ دیر برقرار نہیں رہ سکا تھا ۔جلد ہی وہ مجھے واپس آتے دکھائی دیے ۔ا ن کے زور زور سے باتیں کرنے کی آواز دور ہی سے میرے کانوں میں گونجنے لگی تھی ۔
میں ایک بار پھر ان کے استقبال کے لیے تیار ہو گیا ۔ان کے قریب پہنچنے سے پہلے جنوب کی طرف سے پانچ آدمی نمودار ہوئے ۔ان کا رخ بھی میری جانب تھا ۔درمیان میں موجود آدمی کے کندھوں پر مجھے دور ہی سے کراﺅن چمکتے نظر آرہے تھے ۔وہ کوئی آفیسر تھا ۔ان تینوں نے بھی اپنے آفیسر کو دیکھ لیا تھا۔ قریب پہنچ کر انھوں نے اکٹھے سیلوٹ کیا تھا ۔
سیلوٹ کا جوا ب دیے بغیر آفیسر ان سے صورت حال کے بارے پوچھنے لگا وہ اتنی دور نہیں تھے کہ ان کی آواز میرے کانوں تک نہ پہنچتی ۔آفیسر کے کندھوں پر سجے تین کراﺅن اس کے کیپٹن ہونے کا اعلان کر رہے تھے ۔
”اس تمام علاقے کی ایک ایک جھاڑی کو چھان ماراہے سر مگر یہاں کوئی موجود نہیں ہے ۔“ تینوں میں سے ایک آدمی نے نظر آنے والی تمام جھاڑیوں کی طرف ہاتھ گھما کر اپنی کاکردگی کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا ۔
”شاباش ۔“کیپٹن نے تحسین آمیز انداز میں سر ہلاتے ہوئے کہا ۔”ا ب یوں کروکہ جنو ب کی طرف جا کر وہاں حوالدار مانس کو مل جاﺅ،مزید گھومنے کی ضرورت نہیں ہے ۔جنگل کافی گھنا ہے اور تیس پینتیس آدمیوں سے ہم تمام جنگل نہیں کھنگال سکتے ۔امید یہی ہے کہ رات کو وہ اپنے ٹھکانے سے نکلنے کی کوشش ضرور کرے گا ، اس وقت ہم اسے چھاپ لیں گے ۔اس وقت چاروں طرف کے رستوں پر موجود رہ کر اس کے یہاں سے بھاگنے کو روکو۔“
”جی سر ۔“ تینوں نے اثبات میں سر ہلا کر سیلوٹ کیا اور جنوب کی طرف بڑھ گئے ۔اسی وقت مشرقی جانب سے ایک برسٹ فائرہو ا۔
کیپٹن نے ساتھ کھڑے جوان کوکہا ۔”پوچھو کیا ہوا ہے ؟“
”ون الفا فار آل سٹیشن یہ فائر کس نے کیا ہے ؟اوور....“
”حوالدار روہیت فار ون الفا ،یہ فائر میری پارٹی کے جوان سے ہوا ہے ۔ایک لومڑ تھا جھاڑیوں کے ہلنے پر شک کی بنا پر فائر کیا تھا ۔اوور....“
کیپٹن نے ہاتھ بڑھا کر جوان سے ریڈیو سیٹ لیتے ہوئے پوچھا ۔”روہیت تمھارے ساتھ کتنے آدمی ہیں ؟اوور....“
”چار آدمی ہیں سر ۔اوور....“
”ٹھیک ہے تم جنوب مشرقی جانب دھیان رکھو ،کوئی جنگل سے باہر نہ نکلنے پائے ۔اگلی پوسٹوں اور بٹالین ہیڈکواٹر سے مزید نفری آرہی ہے اس وقت تک ہم نے جنگل کو گھیرے میں لیے رکھنا ہے ۔کیپ لسننگ آﺅٹ۔“وائرلیس واپس جوان کی طرف بڑھا کر وہ مغرب کی جانب بڑھ گیا ۔اس کے ہمراہ موجود چار آدمیوں نے بھی اس کے پیچھے قدم بڑھا دیے تھے ۔
میری سمجھ میں یہ نہیں آرہا تھا کہ وہ اس جنگل پر اتنی توجہ کیوں دے رہے تھے ۔اور میرے وہاں چھپنے کا انھیں اتنا یقین کیوں تھا ۔شاید کسی نے مجھے وہاں گھستے ہوئے دیکھ لیا تھا ۔اس کے علاوہ تو اس بات کی کوئی توجیہ نہیں کی جا سکتی تھی ۔
اس صورت حال سے نبٹنے کے لیے میں سوچ کے گھوڑے دوڑانے لگا ۔اگر ان کی مزید نفری پہنچ جاتی تو میرا وہاں سے بچ کر نکلنا ممکن نہ رہتا ۔کیوں آج کی رات وہ جنگل کو گھیرے رکھتے اور آنے والے دن ایک ایک جھاڑی کو چھان کر مجھے ڈھونڈ نکالتے ۔چند لمحے سر کھپا کر میں نے اسی وقت حرکت میں آنے کا فیصلہ کیا ۔دائیں بائیں کا جائزہ لے کر میں نیچے اترا ،حوالدار روہیت کی پارٹی مشرقی جانب تعینات تھی اور اس سے تھوڑا حساب کتاب بھی رہتا تھا اس لیے میں نے مشرق ہی کا رخ کیا وہ جنگل مغرب کی جانب زیادہ پھیلا تھا اس لیے زیادہ تر پارٹیوں کا رخ اس جانب تھا ۔
رائفل کو تیاری حالت میں پکڑ کر میں جھاڑیوں کی آڑ لیتا ہوا مشرق کی جانب بڑھنے لگا ۔ مغرب کی جانب سے آتا ہوا چوڑا نالہ جنوب کی طرف مڑ گیا تھا ۔جھاڑیوں کے جھنڈ مغربی اور جنوبی نالے میں نہایت کثرت سے پھیلے تھے ۔مشرقی جانب ایک پہاڑی موجود تھی جو جنوب کی طرف آگے بڑھتی گئی تھی ۔شمال کی طرف بھی ایک نالہ موجود تھا جو جنوبی نالے میں شامل ہو رہا تھا ۔اس وقت جنوبی نالے میں سفر کرنا مشرق کی نسبت زیادہ آسان تھا لیکن مجھے مشتاق کی موت کا بدلہ لینے کی خواہش نے مشرق کی جانب گامزن رکھا ۔
اصولاََ تو روہیت پارٹی کو ذرابلندی پر بیٹھنا چاہیے تھا کہ اسی صورت میں وہ اس جانب کی نگرانی کر سکتے تھے ۔میں جھاڑیوں کی آڑ لیتا ہوا کبھی بند رچال ،کبھی چیتا چال اور کبھی زمین پر لیٹ کر رینگتا ہوا جنگل کے جنوب مشرقی کنارے پر پہنچ گیا تھا ۔اسی اثناءمیں میرے کانوں میں وائرلیس سیٹ کی کھڑکھڑاتی ہوئی آواز آنا شروع ہو گئی تھی ۔ایک گھنی جھاڑی کے نیچے لیٹ کر میں نے اس طرف نظر دوڑائی قریب کی ایک ڈھلان پر وہ پانچوں بیٹھے ہنسی مذاق میں مشغول تھے ۔ان میںسے ایک آدمی کھڑے ہو کر اطراف کا جائزہ لے رہا تھا جبکہ بقیہ اطمینان سے ہتھیاروں کو گود میں رکھ کرپتھروں سے ٹیک لگائے ہوئے بیٹھے تھے ۔انھیں اس لیے بھی کوئی خوف نہیں تھا کہ وہ شکاری تھے اور ایک اکیلے آدمیوں کے مقابلے میں ان کی تعداد تیس پینتیس افراد پر مشتمل تھی ۔یہ تو ممکن ہی نہیں تھا کہ وہ اکیلا آدمی ان پر ہلا بول سکتا ۔ریڈیو سیٹ سے ابھرنے والی Transmissionسے مجھے معلوم ہوا کہ مغربی جانب ان کی مدد کے لیے اگلی پوسٹوں سے کچھ مزید نفری پہنچ گئی تھی ۔
”استاد روہیت ،مجھے تو نہیں لگتا کہ وہ ورودھی اب تک یہیں چھپا ہوگا۔“ایک آدمی نے خیال ظاہر کیا ۔اس نے میرے مطلب کی بات پوچھی تھی میں ہمہ تن گوش ہو گیا۔
”سچ کہوں تو میرا بھی یہی خیال ہے ،اسی لیے میں تم لوگوں کے ساتھ کافی آگے نکل گیا تھا لیکن پھر حکم کی تعمیل میں واپس آنا پڑا۔اب میں کیپٹن اندراجیت کوتویقین دلانے سے رہا ۔“
”کیپٹن صاحب کو بھی جانے کی سوجھی ہے ۔“پہرہ دینے والا ان کی گفتگو میں شامل ہوا ۔
حوالدار روہیت بولا ۔”یہ نائیک راہول سنگھ کی کرپا ہے ۔اس نے کیپٹن صاحب کو بتایا ہے کہ اس نے صبح دم دشمن کو جنگل میں گھستے ہوئے بذات خود دیکھا ہے ۔“
سنتری نے منھ بناتے ہوئے پوچھا ۔”تو گولی کیوں نہیں ماری ؟“
روہیت نے جوا ب دیا۔”کیوں کہ اس وقت دشمن کلاشن کوف کی رینج سے دور تھا اور وہ اس پر گولی چلا کر اسے چوکنا نہیں کرنا چاہتا تھا پس اس نے کیپٹن صاحب کو اطلاع دے دی ۔“
”راہول نے لازماََ کسی سور وغیرہ کو دیکھا ہو گا ۔“ایک اور آدمی نے خیال ظاہر کیا ۔
روہیت نے منھ بگاڑ کر کہا ۔”یہ پاکستانی مسلے بھی سور سے کم تو نہیں ہوتے ۔“ان کی گفتگو کا رخ میری جانب مڑ گیا تھا ۔وہ بس مجھے ہی کوستے رہے ۔
ان کا فاصلہ بیس پچیس قدموں سے زیادہ نہیں تھا لیکن وہ ذرا ڈھلان پر تھے اس لیے میں بھاگ کر ان تک نہیں پہنچ سکتا تھا ۔میں ان سے نبٹنے کا ایسا طریقہ سوچنے لگا جس سے باقی لوگ اس طرف متوجہ نہ ہوتے ۔ایک لمحہ سوچنے کے بعد میں پیچھے مڑ کر جھنڈ کے درمیان میں پہنچا اور جس کپڑے میں ایوب نے مجھے روٹی باندھ کر دی تھی ،چاقو کے ذریعے اس کی باریک باریک پٹیاں بنانے لگا ۔تمام پٹیوں کو باندھ کر میں نے ایک لمبی رسی بنائی اور پھر کلاشن کوف سے سلنگ نکال کر اس رسی کے ساتھ باندھ دی۔ اب تک بھی رسی اتنی لمبی نہیں تھی کہ میرا کام ہو سکتا۔میں مفلر کی بھی پٹیاں بنانے لگا ۔پندرہ بیس میٹر لمبی رسی بنا کر میں رینگتا ہوا شمال کی طرف بڑھنے لگا۔رسی کی لمبائی کے بقدر دور جاکر میں نے رسی کاایک سراچھوٹی سے جھاڑی کے تنے سے باندھااور واپس لوٹ آیا ۔ایسی جگہ پر لیٹ کر جہاں میں سنتری کو اپنی نگاہ میں رکھ سکتا تھا میں سنتری کی طرف متوجہ ہو گیا ۔
وہ اپنے ساتھیوں کے ساتھ کسی تکرار کا حصہ بنا ہوا تھا۔ دس پندرہ منٹ بعد جا کر اسے اپنی ذمہ داری پورا کرنے کا خیال آیا اور اس نے چاروں طرف ایک سرسری نگاہ دوڑائی ۔جوں ہی اس کی نظریں مطلوبہ جھاڑی کی طرف اٹھیں میں نے ایک دم رسی کھینچ لی ۔اس نے فوراََ ہی کندھے سے لٹکی کلاشن کوف اتار کر ہاتھ میں پکڑی ۔”جھاڑیوں میں حرکت ہو رہی ہے ۔“اس نے پیچھے مڑے بغیر کہا ۔
اگلے ہی لمحے اس نے فائر کھول دیا ۔دو تین برسٹ فائر کرکے وہ بہ غور جھاڑی کو دیکھنے لگا ۔ ون الفا کی طرف سے فائرنگ کی وجہ پوچھی جا رہی تھی ۔روہیت نے پہلے کی طرح جانورکا بتا کر انھیں ٹالا۔ اور پھر جیسے ہی اس نے ریڈیو سیٹ ہاتھ سے رکھا میں نے فوراََ ہی شست لے کر سنتری کے سر کا نشانہ سادھا اگلے چند سیکنڈ میں چار کے سر میں سوراخ کھل گئے تھے ۔انھیں حرکت کرنے کا موقع ہی نہیں ملا تھا۔ حوالدار روہیت کو میں نے جان بوجھ کر زندہ چھوڑا تھا ۔جونھی اس نے کلاشن کوف سیدھی کرنا چاہی میں نے پانچویں گولی فائر کی جو اس کے دائیں کندھے میں لگی تھی ۔
”اوغ۔“کی آواز نکالتے ہوئے وہ پیچھے گرا اور پھرسیدھا ہوتے ہوئے اس نے دوسرے ہاتھ سے گری ہوئی کلاشن کوف اٹھانے کی کوشش کی ۔میری چلائی ہوئی اگلی گولی اس کے بائیں ہاتھ میں گھس گئی تھی ۔وہ ایک مرتبہ پھر نیچے گرا ۔میں جھاڑی کی آڑ سے نکل کر اس کی طرف دوڑ پڑا تھا ۔ریڈیو سیٹ پر ایک بار پھر فائرنگ کی وجہ پوچھی جا رہی تھی ۔میں نے فوراََ ریڈیو سیٹ اٹھا کراپنا ایک پاﺅں حوالدار روہیت کے منھ پر رکھا اور کہا ۔
”سر!.... یہاں جھاڑیوں میں کافی سور موجود ہیں جو بار بار جھاڑیاں ہلا کر مشکوک کر دیتے ہیں۔ اوور....“میں نے کوشش کی تھی کہ میری آواز سنتری کی آواز جیسی ہو ۔یوں بھی وائرلیس سیٹ پر آواز کافی تبدیل ہو جاتی ہے ۔میں نے یہی سوچا تھا کہ اگر اسے مجھ پر شک ہوا تو روہیت کی کنپٹی پر گن رکھ کر اس سے بات کرا کر ان کا شک دور کروں گا ۔مگر پوچھنے والے کو شک نہیں ہوا تھا ۔وہ میری بات کا جواب دینے کے بجائے تمام کو کیپٹن صاحب کا حکم پاس کرنے لگا۔
”آل سٹیشن ،کیپٹن صاحب نے حکم دیا ہے کہ اس کے بعد کسی نے فضول فائر کیا تو سزا کا حق دار ٹھہرے گا ۔کیپ لسننگ آﺅٹ ۔“
گہرا سانس لے کر میں نے ریڈیو سیٹ جیب میں ڈالا اور حوالدار روہیت کے سر کی طرف اکڑوں بیٹھ گیا ۔
”تو حوالدار روہیت ،تم نے پرسوں رات ایک کمزور ،نہتے شخص کو تشدد کا نشانہ بنا کر گولی مار دی تھی کیوں ....؟“
وہ کینہ توز نظروں سے مجھے دیکھتا ہوا کراہتا رہا ۔
”تمھیں نرگ میں بھیجنے سے پہلے یہ بتاتا جاﺅں کہ تم اور تمھارے ساتھی صرف اسی شخص کی وجہ سے ہلاک کیے گئے ہو ۔بہ ہر حال میرے پاس مزید وقت نہیں ہے کہ تم سے گپ شپ کر سکوں ۔“یہ کہہ کر میں نے ایک ہاتھ اس کی ٹھوڑی اور دوسرا سر پر رکھ کر اپنے ہاتھوں کو مخالف سمت میں جھٹکا دیا ۔اس کا بگڑا ہوا چہرہ مزید بھیانک ہو گیا ۔دو تین سیکنڈ تڑپنے کے بعد اس نے ہاتھ پاﺅں ڈھیلے چھوڑ دیے تھے ۔
میرے پاس وقت بہت کم تھا ۔میں نے فوراََ ایک موٹے آدمی کے جسم سے وردی اتاری اور اپنے کپڑوں کے اوپر ہی وہ وردی ڈال کر میں نے جلدی جلدی چند فالتو میگزینیں اٹھالیں ۔اپنی کلاشن کوف وہیں پھینک کر میں نے حوالدار روہیت کی کلاشن اٹھائی اور ڈھلان پر چڑھنے لگا ۔انڈین آرمی کی وردی کی وجہ سے کسی بھی دیکھنے والے کو مجھ پر شک نہیں ہو سکتا تھا ۔وہ پہاڑی اتنی اونچی نہیں تھی ۔بلندی پر پہنچ کر میں نے پیچھے مڑ کر دیکھا ۔مگر کوئی میری طرف متوجہ نہیں ہواتھا ۔دوسری جان ڈھلان سے اترتے ہی میں نے وردی اتار دی کہ وہ تیزی سے چلنے میں رکاوٹ پیدا کر رہی تھی ۔البتہ وردی کو لپیٹ کر میں نے پاس رکھ لیا تھا کہ پھر کسی موقع پر کام دے جاتی ۔مشرقی ڈھلان سے میں دوڑتے ہوئے نیچے اترا اور پھر نالہ عبور کر کے اگلی ڈھلان پر چڑھنے لگا ۔اس سے اگلے نالے میں اتر کر میں مشرق کی طرف روانہ ہو گیا ۔
میں کافی دیر آرام کرچکا تھا اور پیٹ بھی بھرا ہوا تھا اس لیے تازہ دم تھا ۔سب سے بڑھ کر مشتاق کے قاتل کو کیفر کردار تک پہنچانے پرایک علاحدہ ہی سکون و اطمینان کا احساس ہورہا تھا ۔دن کی روشنی کی وجہ سے میری حرکت دور ہی سے دیکھی جا سکتی تھی اس لیے میں نالوں کی گہرائی، جھاڑیوں اور چٹانوں وغیرہ کی آڑ کو استعمال کرتے ہوئے آگے بڑھ رہا تھا ۔ساتھ ساتھ میں دشمن کی بات چیت پر بھی کان دھرے ہوئے تھا ۔ تمام پارٹیاں کنٹرول کو ہرگھنٹے بعد سب اچھا رپورٹ دے رہی تھیں ۔ایک بار روہیت پارٹی کی طرف سے رپورٹ نہ دیے جانے کو کنٹرول نے کوئی خاص اہمیت نہیں دی تھی کیوں کہ ایک ادھ بار کسی پارٹی سے رپورٹ رہ بھی جاتی ہے ۔مگر دوسرے گھنٹے کے اختتام پر بھی جب روہیت پارٹی کی آواز سنائی نہ دی تو کنٹرول بار بار انھیں پکارنے لگا ۔اس کے باوجودبھی جب ان کی طرف سے خاموشی چھائی رہی تو کنٹرول نے جنوب کی جانب موجود ایک پارٹی کو روہیت پارٹی کی طرف روانہ کیا تاکہ جا کر ان کی خیر خبر لے ۔
بیس پچیس منٹ بعد ہی ریڈیو سیٹ سے ایک گھبرائی ہوئی آواز روہیت پارٹی کی ہلاکت کے بارے کنٹرول کو بتا رہی تھی ۔ایک دم ہی ہلچل مچ گئی تھی۔ کنٹرول فوراََ ہی تمام پارٹیوں کو ہوشیار کرنے لگا ۔ حالاں کہ اس کی کوئی خاص ضرورت نہیں تھی کہ تمام اس فریکونسی پر موجود تھے اور انھیں یہ بات اچھی طرح سنائی دے رہی تھی ۔
انھیں میرے جانے کی سمت کا خاص تعین نہیں ہورہاتھا ۔وہ صرف اتنا ہی اندازہ کر سکتے تھے کہ میں نے مشرقی جانب کی پہاڑی عبور کی ہے اس کے بعد میرا رخ کس جانب ہو گیا ہے اس متعلق وہ وثوق سے کچھ نہیں کہہ سکتے تھے ۔سہ پہر ڈھلنے لگی تھی میرا سفر جاری رہا ۔میں اس جگہ سے زیادہ سے زیادہ دور نکل جانا چاہتا تھا ۔
رات کا اندھیرا چھانے تک دشمن کی Transmissionکی آواز کٹ کٹا کر غائب ہو گئی تھی ۔یقینا میں ان سے زیادہ فاصلے پر آچکا تھا ۔اور پھر نالوں کی گہرائیاں بھی ریڈیو سیٹ کے مواصلات(Communication) میں رکاوٹ بنتے ہیں ۔
میرا سفر تمام رات جاری رہا ۔دو چھوٹی چھوٹی آبادیاں بھی میں نے نظر انداز کی تھیں کیوں کہ میں نہیں چاہتا تھا کہ کسی کو میری وجہ سے مشتاق کی طرح جان سے ہاتھ دھونا پڑیں ۔صبح ہوتے ہی میں ایک کھوہ میں چھپ کر لیٹ گیا تھا ۔میرا ارادہ شام کے وقت جنوب کا رخ کرنے کا تھا کیوں کہ اب وقت آگیا تھا کہ میں سرحد عبور کر لیتا ۔یقینا میں کارگل کے پہاڑوں سے کافی دور نکل آیا تھا ۔اب میں جس علاقے میں تھا وہاں ایک تو سردی کی شدت پہلے جیسی نہیں تھی دوسرا درخت اور جھاڑیاں وغیرہ بھی کثرت سے تھے ۔
شام کااندھیرا چھاتے ہی میں کھوہ سے باہر نکلا اور ستاروں کی مدد سے جنوب کی سمت کا تعین کر کے چل پڑا ۔ایک نالہ جنوب مشرق کی سمت جا رہا تھا ۔میں اسی میں چل پڑا ۔آگے بڑھتے ہوئے میری نگاہیں دائیں بائیں موجود دشمن کی پوسٹوں کا جائزہ لیتی رہیں ۔آگے جا کر وہ نالہ مکمل طور پر مشرق کی جانب مڑ گیا تھا ۔جنوب کی سمت جانے کے لیے مجھے دائیں جانب کی بلندی عبور کرنا پڑتی ۔پہاڑ کی اونچائی دیکھ کر میں نے ہمت ہار دی تھی ۔خواہ مخواہ توانائی ضائع کرنے کے بجائے میں اسی نالے میں چلتا رہا ۔یوں بھی میں کون سا نقشے کے مطابق چل رہا تھا کہ کوئی مسئلہ ہوتا ۔
مختلف نالے اور چھوٹی بڑی ڈھلانوں کا سفر طے کرتے ہوئے میں ایک تنگ نالے سے برآمد ہوا ،میرا رخ جنوب کی طرف تھا ۔سامنے ایک کھلا نالہ تھا۔وہ وسیع نالہ چھوٹی سی وادی کی شکل اختیار کر گیا تھا۔وہاں اچھی خاصی آبادی نظر آرہی تھی ۔جس کا اندازہ مجھے گھروں میں جلنے والی لالٹین اور اسی قسم کی دوسری بتیوں سے ہوا ۔میں ایک کچی سڑک کے کنارے کھڑا تھا ۔ آبادی شرقی جانب پھیلی تھی ۔آبادی کے تین چار سو میٹر جنوب مغرب کی طرف پھیلا ہوا جنگل نظر آرہا تھا ۔صبح صادق ہونے میں گھنٹا،پون گھنٹا باقی تھا ۔میں نے آگے بڑھنے کے بجائے اسی جنگل میں دن گزارنا مناسب سمجھا ۔گو مجھے اچھی خاصی بھوک محسوس ہو رہی تھی مگر اپنے سابقہ تجربے کو یاد کر کے میں نے کسی گھر کا دروازہ کھٹکھٹانا مناسب نہ سمجھا ۔
سڑک عبور کر کے میں جنگل میں گھس گیا تھا ۔دس پندرہ منٹ بعد مجھے ایک چٹان کی آڑ میں جھاڑیوں کا ایسا جھنڈ مل گیا تھا جہاں میں دن گزارنے کے لیے مچان بنا سکتا ۔طلوع آفتاب سے پہلے میں مچان بنا کر لیٹ چکا تھا ۔
بھوک کی وجہ سے مجھے کوئی خاص نیند تو نہ آسکی مگر جسم کو آرام مل گیا تھا ۔دوپہر تک تو میں لیٹا رہا لیکن اس کے بعد کسی چرواہے کو ملنے کے ارادے سے مچان سے باہر آگیا تاکہ اس سے کھانے پینے کی کوئی چیز لے کر پیٹ پوجا کر سکوں ۔آبادی قریب ہی تھی یقینا چرواہوں کی آمد وہاں یقینی تھی ۔مچان سے نکل کر میں قریبی ٹیکری پر چڑھا اور اچانک ہی میرا دل بے طرح دھڑکنے لگا ۔وہ جنگل ،وہ علاقہ میرا دیکھا بھالا تھا ۔یہ وہی جنگل تھا جہاں میں ایک بار پہلے بھی مچان بنا کر چھپ چکا تھا ۔بالکل وہی جنگل جس میں میری ملاقات کشمیری چرواہن رومانہ سے ہوئی تھی ۔وہی رومانہ جو میری زندگی میں آنے والی تمام لڑکیوں سے خوب صورت تھی ۔جو میری خاطر اپنے شوہر سے طلاق لینے پر آمادہ ہو چکی تھی ۔میری یاداشت میں اس سے ہونے والی آخری ملاقات کا منظر ابھرا ....
”اجنبی !....اجنبی ....میں مر جاﺅں گی ۔یوں خفا ہو کر نہ جاﺅ ....لوٹ آنے کا وعدہ کر کے جاﺅ ۔میں اس سے طلاق لے لوں گی ۔“اس نے مجھ سے لپٹنے کی کوشش کرتے ہوئے یہی کہا تھا اور میں اسے تھپڑ مار کر بھاگ پڑا تھا ۔
”پتا نہیں وہ اب بھی وہاں آتی ہوگی یا نہیں ۔اسے ا ب بھی اپنے اجنبی سے پیار ہو گا یا ایک دو بچوں کی ماں بن گئی ہو گی ۔“میرے دماغ میں کئی سوال ابھرے ۔اس کے ساتھ ہی ی دماغ نے مجھے اس جانب کا رخ کرنے سے منع کیا لیکن پھر میں قدموں کو روک نہیں پایا تھا ۔علاقے کی پہچان ہوتے ہی سارے رستے مجھے ازبر ہو گئے تھے ۔میں اسی جانب روانہ ہو گیا ۔کم از کم مجھے اس پر بھروسا تو تھا ۔اور وہ میرے لیے کھانا بھی لا سکتی تھی ۔یوں بھی پلوشہ کے بعد میری زندگی میں کسی کی گنجائش نہیں تھی لیکن اس کے باوجود میں اس طرف بڑھتا گیا ۔
میں مچان سے میں تھوڑا دور ہی تھا کہ بکریاں اور بھیڑیں اس علاقے میں گھومتی نظر آنے لگیں۔ جلد ہی میں گھنی جھاڑیوں کے درمیان پڑی اس خالی جگہ پر پہنچ گیا تھا جہاں میں نے دو انڈین سپاہیوں کو رومانہ کی خاطر موت کے گھاٹ اتارا تھا ۔وہیں اس کے ہاتھ کی بنی لذیز چاے سے لطف اندوز ہوا تھا اور اسی جگہ جانے کتنی دیر مجھ سے لپٹ کر وہ اپنے ریشمی وجود کا احساس دلاتی رہی تھی ۔
وہاں کوئی چادر لپیٹے سویا ہوا نظر آیا اس سے پہلے کہ میں سوئے ہوئے شخص کی جانب بڑھتا ایک جھاڑی کے پیچھے سے قریباََ میرا ہم عمر جوان سامنے آیا ۔قدموں کی آہٹ سن کر میں اس کی جانب متوجہ ہو گیا تھا ۔وہ بھی مجھے حیرانی سے گھور رہا تھا ۔لباس ،حلیہ اور کندھوں سے لٹکی کلاشن کوف میری شخصیت کا تعین کر رہے تھے ۔
سلام ڈالنے کے لیے میرے لب ہلنے ہی لگے تھے کہ اس نے ہونٹوں پر انگلی رکھ کر مجھے خاموش رہنے کا اشارہ کیا ۔اس کا انداز دیکھ مجھے کافی حیرانی ہوئی تھی ۔قریب آکر وہ سرگوشی میں بولا ۔
”اسلام علیکم !“
”وعلیکم اسلام !“میں نے بھی اسی کی طرح دبے لہجے میں کہا تھا ۔
وہ میرا ہاتھ پکڑ کر اسی جھاڑی کی طرف بڑھ گیا جس کے پیچھے سے وہ برآمد ہوا تھا ۔دو پتھروں کے نیچے جلتی ہوئی آگ اور اس پر رکھا چاے کا کٹورا دیکھ کر میں اپنے ہونٹوں پر زبان پھیر کر رہ گیا تھا ۔ وہ کٹورا بھی مجھے جانا پہچانا لگ رہا تھا ۔وہی رومانہ والا کٹورا تھا یا شاید اسی کی طرح لگ رہا تھا ۔
مجھے اپنے ساتھ بٹھاتے ہوئے وہ نادم لہجے میں بولا ۔
”معذرت خواہ ہوں آپ کو اس لیے بولنے سے منع کیا تھا کہ کہیں وہ جاگ نہ جائے ۔“ سوئے ہوئے شخص کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اس کی آواز سرگوشی سے بلند نہیں تھی ۔
”کون ہے وہ ؟“میرے سرگوشی بھرے لہجے میں گہرا اشتیاق شامل تھا ۔
”ہے ایک بدنصیب ۔“اس کے لہجے میں گہرا دکھ در آیا تھا ۔
”شاید آپ بتانا نہیں چاہتے ۔“نہ جانے کیوں مجھے اس کے بارے کرید لگی تھی ۔
”چھوٹی بہن ہے میری ۔“اس مرتبہ اس نے سچ اگل دیا تھا ۔”اور غالباََ آپ کا تعلق کسی جہادی گروپ سے ہے ۔“
”کچھ ایسا ہی سمجھو ۔“میں نے گول مول انداز میں کہا ۔
”کھانا کھاﺅ گے ؟“اس نے میری دل لگتی بات پوچھی ۔
میں نے صاف گوئی سے کہا ۔”دو دنو ں سے کچھ نہیں کھایا ۔“
جھولے سے کھانے کی پوٹلی نکال کر اس نے میرے سامنے رکھ دی ۔
میں نے بغیر کسی تکلف کے پوٹلی کھولی اور کھانے کو جڑ گیا ۔وہ دال کے بنے ہوئے پراٹھے تھے۔میں نے رسمی لہجے میں پوچھا ۔
”میرا ،تمام پراٹھے چٹ کر جانا آپ کوبرا تو نہیں لگے لگا ۔“
وہ مسکرایا ۔”اچھا لگے گا ۔“
”آپ نے اپنی بہن کو بدنصیب کیوں کہا ہے ؟“میں جھجکتے ہوئے مستفسر ہوا ۔نہ جانے کیوں مجھے لگ رہا تھا کہ سویا ہوا وجود رومانہ کا تھا ۔اور اس کی بدنصیبی میں کسی نہ کسی طرح میری ذات بھی ملوث ہو رہی تھی ۔
”میرا نام سکندر ہے کیا آپ کا نام جان سکتا ہوں ؟“چاے کا کٹورا آگ سے اتار کر وہ سٹیل کے مگ میں چاے انڈیلنے لگا ۔
”ابنِ حیدر۔“میں نے اپنے نام کا آخری حصہ بتایا تھا ۔
”تو حیدر بھائی بات یہ ہے کہ فضول اور بے فائدہ کہانی سن کر یقینا آپ کو اچھا نہیں لگے گا ۔ چھوڑیں اسے اپنی سنائیں ،کہاں سے آرہے ہیں اور کہاں جانے کا ارادہ ہے ؟“
”اب تو میرا شوق اور بھی بڑھ گیا ہے ۔اس لیے پہلے میں آپ کی کہانی سنوں گا اور اس کے بعد اپنے بارے بتاﺅں گا ۔یوں بھی میں نے شام ہی کو آگے جانا ہے اور اس میں ابھی کافی وقت پڑا ہے۔“
چند لمحے سوچ میں ڈوبے رہنے کے بعدوہ تفصیل بتانے لگا۔”سچ کہوں تو حیدر بھائی ،ہمیں خود معلوم نہیں اس بے چاری کے ساتھ کیا مسئلہ ہے ۔قریباََ دو سال ہونے کو ہیں ۔میں اپنے بڑے بھائی کے ساتھ مزدوری کرنے شہر گیا ہوا تھا، انھی دنوں اس بدنصیب کے ساتھ کوئی حادثہ پیش آگیا۔اس دن گھر پہنچی تو بہکی بہکی باتیں کر رہی تھی ۔اس کے پاس ایک سفری تھیلا بھی موجود تھا جس میں زنانہ لباس ، شال اور سوئیٹر وغیرہ کے ساتھ پستول اور مردانہ لباس بھی موجود تھا۔ گھر والوں کے پوچھنے پر اس نے کچھ بھی نہ بتایا بس یہی کہتی رہی کہ ۔”وہ چلا گیا ہے ....اجنبی چلا گیاہے ۔“ وہ تھیلا اس نے آج تک سنبھال کر رکھا ہوا ہے ۔اور اس کے بعد اس کی حالت نہ سنبھل سکی۔ اس کا شوہر بھی ہمارے ساتھ محنت مزدوری کرنے شہر گیا ہوا تھا۔ ساس نے اس کی حالت کے پیش نظر اسے میکے بھجوا دیا ۔اس پہلے بھی وہ اپنی اور ساس کے گھر کی بکریاں اکٹھے ہی چرانے کے لیے لایا کرتی تھی ۔اس کی حالت دیکھ کر ابوجان نے اسے گھر سے باہر جانے سے روکنے کی کوشش کی مگر اس نے چیخ چیخ کر آسمان سر پر اٹھا لیا تھا۔مجبوراََ ابوجان کو اس کے ساتھ ہی آنا پڑا ۔وہ جھاڑی دیکھ رہے ہو ۔“اس نے مچان والی جھاڑیوں کے جھنڈ کی طرف اشارہ کیا ۔
”وہاں ایسی جگہ بنی ہوئی جیسے کسی نے وہاں رات گزاری ہو ۔یہ آتے ہی بے تابی سے اسی جھاڑی کی طرف بڑھ گئی ۔ اور پھر یہ اس کا معمول بن گیا ۔ہماری واپسی تک یہ ابوجان کے ساتھ آتی رہی اور اس کی یہی روز مرہ ہوتی کہ صبح سویرے آتے ہی اس جھاڑی میں بنی ہوئی جگہ کو دیکھتی اور اسے خالی پا کر اسی جگہ بیٹھ جاتی جہاں اب سوئی ہوئی ہے ۔اس کے شوہر نے واپس آکر اسے گھر لے جانے کی بہت کوشش کی مگر اس نے انکار کر دیا ۔اور صاف لفظوں میں اس سے طلاق مانگ لی ۔اسفند یار ہمارا چچا زاد بھائی ہے، لیکن کب تک انتظار کرتا ۔پانچ چھے ماہ بعد اس نے مجبور ہو کراسے طلاق دے دی ۔اس سے پہلے ہم نے اسے شہر جا کر ڈاکٹر کو بھی دکھایا ،حکیموں سے بھی دوائی لی ،پیروں اور عاملوں سے بھی رابطہ کیا تعویز وغیرہ لیے دم کروایا مگر اس پر کوئی اثر نہ ہوا ۔بس خاموش رہتی ہے ،کسی سے کوئی بات نہیں کرتی ۔اور بلاناغہ یہاں ہمارے ساتھ آتی ہے ۔ نماز روزے کی بہت زیادہ پابندی کرتی ہے ،تہجد بھی پڑھتی ہے ۔اور لمبی لمبی دعائیں مانگتی ہے ۔اب تو گاﺅں کی کئی عورتیں اپنے بیمار بچوں کواس کے پاس لا کر دم وغیرہ کروانے لگی ہیں ۔یہ بے چاری ساری ساری رات جاگ کر گزار دیتی ہے ۔البتہ یہاں آکر اسے بہت سکون ملتا ہے ۔صبح دم ایک بار آکر جھاڑی میں بنی مچان کو دیکھ کر یہ یہیں بیٹھی رہتی ہے ۔یا چادر تان کر سو جاتی ہے اور جونھی آنکھ کھلتی ہے سب سے پہلے جا کر مچان کو دیکھتی ۔پیر بابا کہہ رہے تھے کہ اس پر بہت طاقت ور جن کا سایا ہے اور انھوں نے جن کو دور کرنے کے ایک دو چلے کاٹے بھی ہیں مگر کوئی فرق نہیں پڑا۔ چونکہ اس میں یہی بات غیر صحت مندانہ ہے کہ یہاں بلاناغہ آتی ہے ، رات رات بھر سوتی نہیں اور کسی سے بات چیت نہیں کرتی ۔اس کے علاوہ کوئی ایسی بات نہیں کہ ہمیں زیادہ پریشانی ہوتی ۔پیر صاحب نے بھی ہمیں منع کردیا ہے کہ اسے یہاں آنے سے نہ روکا جائے ۔ایک دو سیانے یہ کہتے ہیں کہ اسے کسی مجاہد وغیرہ سے محبت ہو گئی ہے ۔مگر اس نے خود کبھی ایسی بات نہیں کی ۔ بس کبھی کبھی ۔”اجنبی کب آﺅ گے ۔“ کے چند الفاظ اس کے ہونٹوں سے ادا ہوتے ہیں ۔اس وجہ سے ہمیں بھی یہی لگتا ہے کہ وہ سیانے سچ کہتے ہیں اسے کسی انجان شخص سے محبت ہو گئی ہے اور یہ اسی کا انتظا رکر رہی ہے ۔نجانے اس کا انتظار کتنا طویل ہے ۔“سکندر کی آواز بھرا گئی تھی ۔
میرے دل کی بھی عجیب حالت ہو گئی تھی ۔رومانہ کی کہانی عجیب موڑ پر آگئی تھی ۔کیا میرے ساتھ جو کچھ ہوا تھا اس کے پسِ پردہ رومانہ کی دعائیں تھیں ۔کیا میری جان حیات پلوشہ کی موت اسی وجہ سے ہوئی کہ میری زندگی میں رومانہ واپس آسکے ، میرا جینیفر جیسی لڑکی ہر آفر کو ٹھکرا دینا ،گلگارے جیسی ثابت قدم لڑکی کاکسی دوسرے سے شادی کر لینا ، حالانکہ وہ مجھے بھی بہت اچھی لگتی تھی ۔پھر میرا پوسٹ سے پھسل کر انڈیا کی جانب نیچے گرنا اور اتنی جدوجہد کے بعد ایک دم وہاں پہنچ جانا ۔یوں جیسے کوئی ان دیکھی طاقت مجھے وہاں کھینچ کر لے آئی ہو ۔کیا یہ سب رومانہ کی محبت کے دم قدم سے ہوا تھا ۔
”پریشان ہو گئے نا ؟“مجھے خاموش پا کر سکندر پوچھنے لگا۔
”ویسے آپ لوگوں نے کسی جوان کو اس مچان والی جگہ پر بٹھا کر اس کا جائزہ لینا تھا کہ یہ کیا کرتی ہے ۔“
”صحیح کہہ رہے ہو ،مگر ایسا کوئی خیال ہمارے ذہن میں نہیں آ سکا تھا ۔“
”اچھا یہ کس وقت جاگتی ہے ۔“کھانا کھانے کے بعد میں نے چاے بھی پی لی تھی ۔
”کبھی کبھی شام تک سوئی رہتی ہے اور کبھی گھنٹے ادھ گھنٹے بعد ہی جاگ جاتی ہے ۔“
”اچھا یوں کرو ،میں مچان میں داخل ہوتا ہوں آپ ذرا اسے جگائیں ،دیکھیں تو کیا کرتی ہے۔“بہ ظاہر میں نے عام لہجے میں ایک تجویز بتائی مگر درحقیقت میں ایک فیصلے پر پہنچ چکا تھا ۔اس کی حالت کا ذمہ دار میں تھا ۔اور اسے اس کے محبو ب سے مزید جدا رکھنا بالکل بھی جائز نہیں تھا ۔کسی پیارے کے بچھڑنے پر دل کی کیا حالت ہوتی ہے یہ مجھ سے زیادہ کون جان سکتا تھا ۔پلوشہ کی جدائی نے مجھ پر جو ظلم ڈھایا تھا یقینا ویسی ہی حالت رومانہ کی بھی تھی ۔بلکہ میں تو چند ماہ میں سنبھل گیا تھا اور زندگی کی طرف لوٹ آیا تھا رومانہ کی محبت مجھ سے بھی کئی گنا بڑھی ہوئی تھی کہ وہ آج بھی اسی جگہ موجود تھی جہاں اس کا محبوب بچھڑا تھا ۔
سکندر نے جھجکتے ہوئے کہا ۔”شاید ایسا کرنا مناسب نہ ہو ۔نجانے کیا ردعمل ظاہر کرے ۔“
”یہ ضروری ہے ۔“اس سے مزید بحث کیے بغیر میں مچان کی طرف بڑھ گیا ۔سکندر چند لمحے تو وہیں سر جھکائے بیٹھا رہا ۔پھر متذبذب حالت میں اٹھ کر سوئی ہوئی بہن کی طرف بڑھ گیا ۔ سر کے قریب بیٹھ کر اس نے روما کے سر پر ہاتھ رکھا ۔
وہ فوراََ ہی اٹھ بیٹھی تھی ۔ایک نظر بھائی پر ڈال کر اس نے مچان کی طرف دیکھا اور اسی طرف آنے لگی ۔اس کاحلیہ بالکل وہی تھا جو میں نے پہلی بار دیکھا تھا۔گہرے سبزاورسرخ رنگ کی ٹخنوں تک آتی کھلی قمیص، سر کے بالوں پر مخصوص انداز میں باندھی ہوئی چادر جو نیند کی حالت میں بھی اس کے سر سے علاحدہ نہیں ہو سکی تھی ۔نجانے مجھے دیکھ کر وہ کیا ردعمل ظاہر کرتی میرا دل بری طرح دھڑک رہا تھا ۔
جاری ہے
 

قسط نمبر73
ریاض عاقب کوہلر
وہ چار پانچ قدم دور تھی جب میں نے مچان سے باہر نکلنے کے لیے پر تولے۔ٹہنیوں میں حرکت ہو تی دیکھ کر وہ ایک دم رک گئی تھی ۔جونھی میں سیدھا ہوا اس نے ایک لمحہ اپنی آنکھوں کو مل کر دیکھا اگلے ہی لمحے .... ”میرے اجنبی ۔“کہتے ہوئے وہ مقناطیس کی طرح مجھ سے آچمٹی تھی ۔”میں جانتی تھی آپ لوٹیں گے ، مجھے اپنے ر ب پر پورا بھروسا تھا کہ میری دعائیں رایگاں نہیں جائیں گی ،میں اپنے اجنبی کا انتظار کر رہی تھی ،کرتی رہتی ....کرتی رہتی یہاں تک کہ موت آجاتی ........“اس کے منھ سے بے ربط باتیں نکل رہی تھیں ۔میرے کندھے پر سر ٹیکے وہ اپنی مدھر آواز میں بولتی رہی ۔میری نظریں اس کے بھائی سکندر کی طرف اٹھیں ۔اس نے رومانہ کو میرے ساتھ لپٹتے دیکھ کر اپنا رخ موڑ لیا تھا ۔
میں نے اس کے کان میں آہستہ سے کہا ۔ ”روما!....تمھارا بھائی بھی یہیں موجود ہے ۔“
ایک دم اس کی گفتگو میں ٹھہراﺅ آیا اور وہ مجھ سے علاحدہ ہو گئی ۔کافی کمزور ہو گئی تھی ۔سرخ و سفید چہرے پر ہلکی سی پیلاہٹ بھی نظر آ رہی تھی ۔
”ابو جان کو ملیں گے نا ۔“ایک قدم پیچھے ہٹ کر وہ میری آنکھوں میں جھانکتے ہوئے ملتجی ہوئی۔
میرے ہونٹوں پر پھیکی مسکراہٹ نمودار ہوئی ۔”ہاں ،اسے لیے تو اتنی دور سے گھسیٹ کر یہاں لایا گیا ہوں ۔“
اس کا چہرہ خوشی سے گلنار ہو گیا تھا ۔”آئیں آپ کو بھیا سے ملاتی ہوں ۔“وہ سکندر کی طرف بڑھ گئی ۔وہ ایک بار پھر آگ کے قریب جا بیٹھا تھا ۔
میرے قریب پہنچتے ہی وہ دھیمے لہجے میں مستفسر ہوا ۔”تو وہ آپ تھے ۔“
”ہاں میں تھا ۔“میں نے اس کے ساتھ ہی زمین پر نشست سنبھال لی تھی ۔رومانہ بھی بھائی کے ساتھ ہی بیٹھ گئی لیکن اس کی ساحرانہ آنکھیں مجھ پر گڑی تھیں ۔نہ جانے ان آنکھوں میں کتنی چاہتیں ، کتنا خلوص ،کتنی عقیدتیں اور کتنی وارفتگی چھپی تھی ۔
”آپ نے گویا مرد کی بے وفائی کی داستانوں کو حقیقت کر دکھایا ۔“اس کے لہجے میں طنز کے بجائے دکھ کی آمیزش تھی ۔
میں نے کہا ۔”میری کہانی سنے بغیر آپ یہ کہنے میں حق بجانب ہیں ۔“
”سنائیں ،سورج کے غروب ہونے میں تو اب بھی کافی دیر ہے ۔“
”ایک شادی شدہ لڑکی کے ساتھ میں کیا تعلق رکھتا ۔“
”یہ آپ کو پہلے سوچنا چاہیے تھا ۔“
”میں لا علم تھا ،اسی جگہ روما سے ملاقات ہوئی تھی ۔میں نے اسے دو انڈین فوجیوں کے چنگل سے رہائی دلائی اور انجانے میں محبت کر بیٹھا ۔“رومانہ کے بجائے میں نے جرم محبت اپنے ذمہ لے لیا تھا کہ اصل بات بتانے میں اس کی سبکی تھی ۔”اس وقت میں کسی مشن پر جا رہا تھا اس لیے میں نے اسے اپنے دل کی بات نہ بتائی ۔واپسی پر میں اس کے لیے کپڑوں وغیرہ کا تحفہ لایا تھا ۔جونھی میں نے اس کے والد سے ملنے کی بات کی اس نے اپنے شادی شدہ ہونے کی بات بتا دی ۔بس حواس باختہ ہو کر میں بھاگ پڑا۔آج پھر ایک مشن سے واپسی ہو رہی تھی ۔دل کے ہاتھوں مجبور ہو کر ادھر کر رخ کر لیا ۔میں اس بات سے بالکل انجان تھا کہ ایک بھولی بھالی لڑکی نے میرے بھاگ جانے کو دل پر لے لیا تھا ۔اگر مجھے پتا ہوتا تو بہت پہلے لوٹ آیا ہوتا ۔“
اس نے کھوئے کھوئے لہجے میں پوچھا ۔”اب کیا ارادہ ہے ؟“
میں نے کہا ۔”آپ کے والد صاحب کو مل کر جھولی پھیلاﺅں گا ۔“
رومانہ کا چہرہ کھل اٹھا تھا ۔سکندر نے ایک نظر بہن کے چہرے پر ڈالی اور پھر پوچھنے لگا ۔
”کیا آپ نے ابھی تک شادی نہیں کی ۔“
میں نے صاف گوئی سے کہا۔”کی تھی ،مگر وہ ساتھ نہ نبھا سکی ۔اس کے مرنے کے بعد ہی تو اس طرف کا رخ کر پایا ہوں ۔“
”آپ کا تعلق مجاہدین کے کس گروپ سے ہے ۔“اس کی پوچھ گچھ جاری رہی ۔
میں نے کہا ۔”میرا تعلق پاک آرمی سے ہے ۔“
پہلی بار مجھے سکندر کے چہرے پر خوشی کی جھلک نظر آئی تھی ۔”یہ سچ ہے ؟“اس نے تصدیق چاہنے والے انداز میں پوچھا ۔
”ہاں ۔“میں نے اثبات میں سر ہلادیا ۔
”اچھا میں بکریوں کو اکٹھا کرلوں ۔“اس نے کھڑے ہو کر لاٹھی سنبھالی ۔اب نامعلوم وہ سچ مچ بکریاں اکٹھا کرنا چاہتا تھا یا ہمیں تنہائی میں بات چیت کا موقع دینا چاہتا تھا ۔
اس کے جھاڑیوں کے پیچھے اوجھل ہوتے ہی رومانہ کے مسکراتے لبوں سے شکوہ پھسلا ۔ ”اتنی دیر لگا دی ،میں تو اب مایوس ہو چکی تھی ۔“
”اب بھی آیا تو نہیں ہوں بھیجا گیا ہوں ۔“
”کیا مطلب۔“وہ حیران رہ گئی تھی ۔
”تم کہہ رہی تھیں نا کہ تمھیں اپنے ربّ پر پورا بھروسا ہے ۔بس سمجھ لو کہ یہ اسی یقین کا کرشمہ ہے جو میں یہاں موجود ہوں ۔“
”صاف صاف بتائیں نا جھوٹے اجنبی ۔“اس کے ہونٹوں پر ملکوتی تبسم پھیل گیا تھا ۔میری واپسی کے ساتھ ہی اس کی شوخی ،شرارت اور ہنسی لوٹ آئی تھی ۔
میں نے تفصیل بتلاتے ہوئے کہا ۔”میں ہفتہ ایک پہلے کارگل کے محاذ پر دشمن سے برسر پیکار تھا ۔ہماری پوسٹ پر دشمن کی گن کا گولہ لگا جس کی وجہ سے میں پھسل کر اس جانب آگر ا۔اور اس کے بعد مسلسل دشمن سے جان بچا کر بھاگتا رہا ۔مجھے معلوم نہیں تھا میرا رخ کس طرف ۔آج صبح سویرے یہاں پہنچا ۔اور جھاڑیوں کے ایک جھنڈ میں مچان بنا کر سو گیا ۔دوپہر کو آنکھ کھلی ۔دو دنوں سے کچھ نہیں کھایا تھا ۔بھوک سے بے تاب ہو کر مچان سے باہر نکلا تو علاقے کو پہچان لیا ۔بس فوراََ ہی اس طرف دوڑا چلا آیا کہ شاید تم سے ملاقات ہو جائے اور ایک بار پھر تم مجھے کھانا کھلا دو ۔یہاں تمھارے بھائی سے ملاقات ہوئی ۔ اس نے تمھارے بارے تفصیل بتلائی اور باقی کی کہانی تمھیں معلوم ہے ۔“
اس نے قریب کھسکتے ہوئے میرا ہاتھ اپنے ملائم ہاتھوں میں تھاما ۔”ابو جان سے ملیں گے نا ؟“ اس نے دوبارہ وہی بات پوچھی جس کا جواب میں اسے اور اس کے بھائی کو علاحدہ علاحدہ دے چکا تھا ۔
میں ہنسا ۔”اعتبار نہیں ہے ۔“
”جھوٹے پر کون اعتبار کرے ۔“اس کی گنگناتی ہنسی ابھری ۔
”جھوٹا میں ہوں یا تم ۔“
وہ ناز سے بولی ۔”آپ ہیں جھوٹے اجنبی ۔“
”پتا ہے مجھے تمھارا نام بھی یاد ہے ۔“
”بتاﺅذرا ۔“
”روما ....“
اس نے ناز بھرے لہجے میں پوچھا ۔”آپ صرف روما کے ہیں نا ۔“
ایک گہرا سانس لیتے ہوئے میں نے کہا ۔”ہاں ،اب صرف تمھارا ہوں ۔“
”کیا مطلب ہے اس بات کا ۔“وہ حیران رہ گئی تھی ۔
”یہاں سے جانے کے بعد مجھے ایک ایسی لڑکی ملی تھی جس جیسی اللہ پاک نے دوسری نہیں بنائی ۔اس نے مجھے محبت دی ،میرا خیال رکھا اور پھر نہایت مختصر وقت کے لیے میری زندگی میں اجالے بکھیر کر ہمیشہ ہمیشہ کے لیے بہت دور چلی گئی ۔“
”اگر آپ کی بیوی زندہ ہوتی تب بھی میں نے آپ ہی سے شادی کرنا تھی ۔“
”مجھ سے شادی کرنے بعد گھر والوں سے ہمیشہ ہمشیہ کے لیے ہاتھ دھونا پڑیں گے ۔“میں نے اس کی توجہ اصل حقیقت کی طرف مبذول کی ۔
”جانتی ہوں ۔“میرا ہاتھ اپنے ہونٹوں سے لگاتے ہوئے وہ پر عزم لہجے میں بولی ۔”یوں بھی لڑکی شادی کے بعد گھر والوں کے لیے پرائی ہو جاتی ہے ۔“
ہم غروب آفتاب تک باتیں کرتے رہے ۔اس دوران اس نے ایک بکری کا دودھ نکال کر میرے لیے چاے بھی بنائی تھی ۔اس کا بکری کو دوہنا ایک خوش کن نظارا ہی تھا اور ا ب وہ میری بیوی بننے والی تھی ۔میں نے اس دلفریب نظارے سے آنکھیں نہیں چرائی تھیں ۔
”یہ ایک دم پرانے والی رومی بن گئی ہے ۔“اسے بکری کے ساتھ مصروف دیکھ کر اس کا بھائی کہے بنا نہیں رہ پایا تھا ۔ملگجا اندھیرا چھاتے ہی ہم وہاں سے چل پڑے تھے ۔آبادی میں داخل ہوتے ہوتے اچھا خاصا اندھیرا چھا گیا تھا ۔
گھر میں روما کا باپ شفیق ،ماں ریحانہ اور بڑا بھائی انوار موجود تھے ۔تینوں نے حیرانی سے مجھے دیکھا تھا ۔مجھ سے بھی زیادہ حیرانی انھیں روما نہ پر ہو رہی تھی جو خوشی سے کھلی پڑ رہی تھی ۔
سکندر نے مجھے ایک کمرے میں لے جا کر بٹھایا ۔رومانہ بھی دوسری چارپائی پر بیٹھ گئی تھی ۔
سکندر جونھی باہر نکلا میں نے رومانہ کو کہا ۔”بے وقوف ،میرے ساتھ اکیلے بیٹھنا مناسب نہیںہے ۔“
اس کے چہرے پر نامعلوم خوف کی جھلک نظر آئی اور اس نے نفی میں سر ہلاتے ہوئے کہا ۔ ”آپ پھر کہیں چلے جائیں گے ۔“
میں نے اسے سمجھاتے ہوئے کہا ۔”اگر کہیں جانا ہوتا تو آتا کیوں ۔“
وہ بھول پن سے بولی ۔”ٹھیک ہے میں دروازے پر بیٹھ جاتی ہوں ،وہیں سے آپ پر نظر رکھوں گی ۔“
میں بے بسی سے بولا ۔”میں قیدی بنا کر تو نہیں لایا گیا یار ۔“
”اجنبی ،مجھے تنگ نہ کریں ۔میں بہت ڈری ہوئی ہوں سمجھے آپ ۔“اس نے کھل کر اپنے ڈر کا اظہار کر دیا تھا ۔
میں نے اسے جذباتی طور پرورغلانا چاہا ۔ ”مجھ پر اعتبار نہیں ہے ۔“
اس نے ذومعنی جواب دیا ۔”آپ پر اعتبار تو پہلے بھی تھا ۔“
”مطلب تم نے میرا ڈراما ضرور بنانا ہے ۔“
اس نے دکھ بھرے لہجے میں پوچھا ۔”آپ چاہتے ہیں کہ میں بے چین اور خوفزدہ رہوں ۔“
میں نے ببے بسی سے سر تھام لیا تھا ۔
اس نے مجھے تسلی دیتے ہوئے کہا ۔”میرے گھر والوں سے شرمانے کی ضرورت نہیں ،وہ میرے کسی کام میں دخیل نہیں ہوتے ۔“
”تم بغیر نکاح کے ایک غیر مرد کے ساتھ اکیلے کمرے میں بیٹھی ہو اور تمھارے گھر والوں کو اعتراض نہیں ہوگا ۔“میں نے ذرا سخت لہجے میں اسے ڈانٹا ۔
وہ ترکی بہ ترکی بولی ۔”آپ مجھ سے شادی کرنے والے ہیں ،غیر مرد کیسے ہو گئے ۔“
میں گہرا سانس لے کر خاموش ہو گیا ۔سکندر میرے لیے کھانا لے آیا تھا ۔
”رومی ،جاﺅ کھانا کھا لو ،تم نے دن کو بھی نہیں کھایا تھا ۔“سکندر میرے سامنے کھانے کے برتن رکھتے ہوئے بہن کو مخاطب ہوا ۔
”مجھے بھوک نہیں ہے ۔“وہ وہاں سے ہلنے پر آمادہ نہیں تھی ۔
”اچھی امی جان لا رہی ہیں ان کی بات سن لو ۔“یقینا سکندر اسے وہاں سے بھیجنا چاہتا تھا ۔
”جو کچھ کہنا ہے یہیں آکر کہہ دیں ۔“اس نے صاف الفاظ میں اپنے ارادے کابتادیا۔
”رومی ،اب بدتمیزی بھی شروع کر دی ۔“سکندر نے اسے ڈانٹا ۔
ایک دم اس کی خوب صورت آنکھوں میں نمی ابھری اور اس نے سر جھکا لیا ۔مگر اٹھنے کی کوشش اس نے پھر بھی نہیں کی تھی ۔
”اس میں رونے کی کیا بات ہے ۔“اس کے آنسو دیکھ کر سکندر پریشان ہو گیا تھا ۔
”کہیں نہیں جاﺅں گی ،میں یہیں اجنبی کے ساتھ ہی بیٹھوں گی ۔میں جانتی ہوں آپ انھیں بھگا دیں گے ۔“اس نے کھل کر اپنے ڈر کا اظہار کیا ۔
اسی وقت اس کا باپ اور بڑا بھائی انوار بھی وہیں آکر بیٹھ گئے تھے ۔
”رومی بیٹا ،جاﺅ کھانا کھا لو ۔“اس کا والد یقینا وہاں ہونے والی بات چیت سے بے خبر تھا ۔
”اسے چھوڑیں ابوجان ،آپ ذرا میری بات سنیں ۔“سکندر نے باپ کو باہر چلنے کا اشارہ کیا۔اور اس کے والد سر ہلاتے ہوئے اس کے ساتھ ہو لیے ۔میں خود کو خاصا ہونّق محسوس کر رہا تھا ۔ رومانہ کی بے وقوفی نے مجھے خجالت میں مبتلا کر دیا تھا ۔صورت حال سے بے خبر انوار مجھ سے حال احوال پوچھنے لگا ۔میرے کھانا کھاتے ہی اس نے برتن اٹھائے اور باہر نکل گیا ۔سکندر اور شفیق اندر داخل ہوئے۔ ان کے چہروں سے مترشح پریشانی میری نگاہوں سے اوجھل نہیں تھی ۔وہ لڑکی والے تھے ،لڑکی بھی ایسی جس کا ذہنی توازن ان کی نگاہوں میں ٹھیک نہیں تھا ۔میں ایک فیصلے پر پہنچ چکا تھا اس لیے بغیر وقت ضائع کیے میں شفیق صاحب کو مخاطب ہوا ۔
”شفیق چچا ایک عرض کرنا تھی ۔“
”کہو بیٹا ۔“وہ میری طرف متوجہ ہو گئے تھے ۔
” اصولاََ یہ بات میرے والدین کو کرنا چاہیے تھی ،مگر معذرت خواہ ہوں کہ وہ پاکستان میں ہیں اور اگر راستے میں انڈین فوج کا کڑا پہرہ نہ ہو تا یقینا میں انھیں ہی زحمت دیتا ۔مگر اب بہ حالت مجبوری مجھے خود ہی یہ بات کرنا پڑ رہی ہے اس لیے میری جسارت کو نظر انداز کر دینا آپ کا بڑا پن ہو گا۔میرا تعلق پاکستان آرمی سے ہے اور میرا نام ذیشان حیدر ہے ۔میں آپ کی بیٹی رومانہ سے شادی کا خواہش مند ہوں اور وعدہ کرتا ہوں کہ اسے خوش و خرم رکھوں گا ۔“
شفیق صاحب نے ایک گہرا سانس لیا ۔”آپ کے ہمراہ رومی کو وداع کرنے مطلب یہی ہے کہ ہم نے اپنی بیٹی کو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے کھو دیا ۔اگر میں اپنی بیٹی کے احساسات سے ناواقف ہوتا تو یقینا میرا جوا ب ناں میں ہوتا ۔اس سے یہ مراد بھی نہ لینا کہ میں پاک آرمی کے کسی جوان کو رشتا دینے پر انکاری ہوں اصل مسئلہ رومی کی جدائی کا ہے ۔لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ اس کی خوشی کے سامنے اس کی جدائی کے دکھ کی کوئی حیثیت نہیں ۔اس لیے میری طرف سے ہاں سمجھو بیٹا ۔“
رومانہ کا چہرہ خوشی سے کھل اٹھا تھا ۔وہ باپ کے نزدیک جاکر ان سے لپٹ گئی ۔شفیق اس کے سر پر ہاتھ پھیرتا ہوا بولا ۔”جانتا ہوں بیٹی !“
امام مسجد رومانہ کا سگا ماموں تھا ۔عشاءکی نماز کے بعد سکندر انھیں بلا لایا تھا ۔
نکاح کا خطہ پڑھ کر انھوں نے شفیق صاحب سے حق مہر کے بارے دریافت کیا ۔
وہ سادگی سے بولے ۔”حق مہر شرعی ہو گا ۔“
میں مخل ہوتے ہوئے بولا ۔”چچا جان ،شریعت تو کوئی حق مہر مقرر نہیں کرتی ۔“
مولوی صاحب بولے۔”بچہ ٹھیک کہہ رہا ہے ۔تو ایسا ہے پچاس ہزار ٹھیک رہے گا ۔“یہ کہتے ہوئے انھوں نے سوالیہ نظروں سے میری جانب دیکھا ۔
”نہیں ۔“میں نے نفی میں سرہلایا۔شفیق صاحب اور اس کے دونوں بیٹوں کے چہروں پر خفت ظاہر ہوئی ،مگر میری اگلا فقرہ سن کر ان کے چہرے خوشی سے کھل اٹھے تھے ۔”کم از کم پانچ لاکھ اور اگر چچا جان یا روما چاہے تواس سے زیادہ بھی بتا سکتے ہیں ۔“
”بیٹا یہ کچھ زیادہ نہیں ہیں ۔“شفیق چچا نے بہ ظاہر ہلکا سا اعتراض کیا ۔
”مولوی صاحب نکاح شروع کریں ۔چچا جان مروت میں ایسا کہہ رہے ہیں ورنہ انھیں اچھی طرح معلوم ہے کہ روما جیسی لڑکی کا یہ حق مہر بہت کم ہے ۔“
مولوی صاحب سر ہلاتے ہوئے ایجا ب و قول کرانے لگے۔رومانہ ذات خود اس محفل میں موجود تھی ۔میری منت کے باوجود وہ وہاں سے ہٹنے پر آمادہ نہیں ہوئی تھی ۔مولوی صاحب کے رخصت ہوجانے کے بعد میں اسے مخاطب ہوا ۔
”اب توکوئی خطرہ نہیں رہا یقینا تمھیں دوسرے کمرے میں جانے پر کوئی اعتراض نہیں ہوگا۔“
رومانہ کے کچھ کہنے سے پہلے شفیق صاحب مسکراتے ہوئے بولے ۔”ا ب اسے جانے کی ضرورت ہی کیا ہے ۔“یہ کہہ کر اس نے ہم باری باری ہم دونوں کے سر پر شفقت بھرا ہاتھ رکھا اور کمرے سے نکل گئے ۔وہ رات رومانہ کے لیے خوشیوں کا پیغام لے کر آئی تھی ۔اپنے اجنبی کے ساتھ جانے وہ کیا کیا باتیں کرتی رہی ۔گزشتا دو سال کی جدائی کی کسر وہ ایک رات ہی سے پورا کرنا چاہتی تھی ۔میں ھی اس کی ہر خواہش کو تسلیم کرتا گیا ۔نیند اس کی آنکھوں سے کوسوں دور تھی ۔میری لائی ہوئی چوڑیاں ،کپڑے اور سوئیٹر وغیرہ اس کے پاس ویسے ہی محفوظ پڑے تھے ۔گلاک نائینٹین پستول بھی ویسے کا ویسا ہی رکھا ہوا تھا۔میری خواہش پراس نے میرے لائے ہوئے کپڑے پہن لیے تھے ۔ان کپڑوں کو دوسال بعد وہ مقام نصیب ہوا تھا جس کے وہ حق دار تھے ۔
شفیق صاحب نے درخواست کی تھی کہ میں اور رومانہ ایک ہفتہ ان کے ساتھ گزاریں ۔ہفتے کے بجائے میں نے پورا مہینا وہاں رہنے پر آمادگی ظاہر کر دی تھی ۔کیوں میں چاہتا تھا کہ انڈین فوجی میری تلاش سے بالکل ہی مایوس ہو جائیں تب رومانہ کے ساتھ سرحد عبور کروں ۔وہ مہینا میں نے قریباََ ایک ہی کمرے میں بند رہ کر گزارا تھا ۔اور اس دوران روما بھی خال ہی باہر نکلتی تھی ۔وہ اپنی خلوص بھری محبتوں اور چاہتوں کے ساتھ مجھ پر یوں ٹوٹ کر برسی کہ میری کئی حسرتوں کو تعبیر کی شکل دے دی تھی ۔اس کی محبت میں ایک قسم کی عقیدت شامل تھی ۔شوہر اور بیوی کا رشتا دنیا کے ہر رشتے سے زیادہ قریبی رشتا ہے۔ قران پاک میں اللہ پاک نے مرد و عورت کو ایک دوسرے کا لباس قرار دیا ہے ۔جس طرح انسان پہنے ہوئے کپڑوں سے کچھ پوشیدہ نہیں رکھ سکتا اسی طرح میاں بیوی کا ایک دووسرے سے نہ تو کچھ راز میں ہوتا ہے اور نہ ہو سکتا ہے ۔وہ مجھے ا ب بھی میرے اجنبی کہہ کر بلاتی ۔یہ میرے ساتھ عجیب معاملہ تھا کہ چاہنے والے مجھے مختلف ناموں سے مخاطب کرتے ۔ماہین اور پھوپھو جان مجھے شانی کہتی تھیں ،جینیفر ذی کہہ کر بلاتی ،روما اجنبی کہتی تھی ،سردار راجا کہہ کر مخاطب کرتا اور میری جانِ حیات پلوشے مجھے راجو کہتی تھی ۔
مہینے گزرتے پتا ہی نہیں چلا تھا ۔ایک شام کو میں اور روما جانے کے لیے تیار کھڑے تھے ۔ اس کے بھائیوں نے سرحد تک ہمارے ساتھ جانا چاہا مگر میں نے سختی سے منع کر دیا تھا ۔اس رستے پر میں دو بار سفر کر چکا تھا اور ایک سنائپر جس رستے پر ایک بار بھی سفر کر لے وہ راستے کے تمام خوبیوں خامیوں سے واقف ہو جاتا ہے ۔ایک جذباتی مکالمے کے بعد روما باری باری تمام گھر والوں سے گلے مل کر وداع ہوئی میںنے انھیں اپنا فون نمبر دے دیا تھا تاکہ جب بھی ان کا دل چاہے وہ شہر جا کر روما سے بات کر کے اس کی خیریت وغیرہ معلوم کرسکیں ۔اس کے ساتھ میں نے یہ بھی وعدہ کیا تھا کہ جب بھی ممکن ہوا قانونی طریقے سے سرحد پار آکر روما کی گھر والوں سے ملاقات ضرور کراﺅں گا ۔
واپسی کے سفر میں میں نے بہت زیادہ احتیاط برتی تھی کیوں کہ میرے ساتھ بیوی بھی تھی ۔ اس کی موجودی میں یقینا میں دشمن کا مقابلہ نہ کر پاتا ۔لیکن کشمیر اور کارگل کی سرحد ایسی ہے جس سے دونوں اطراف کی افواج مکمل طور پر بند نہیں کر سکتی ۔سارے نالوں اور پہاڑیوں پر آرمی کی تعیناتی ناممکن ہے ۔ البتہ کسی جاسوس وغیرہ کی آمد کی پیشگی اطلاع پر مختلف نالوں میں ناکے وغیرہ لگا کر آنے والے کو گرفتار کیا جا سکتا ہے ۔میری وہاں آمد پرانی ہو گئی تھی اس لیے حالات ایک بار پھر معمول پر تھے ۔پوری رات ہم آرام سے سفر کرتے رہے ۔روما ایک کشمیری چرواہن تھی جس کی ساری زندگی انھی پہاڑوں پر گزری تھی ۔ پہاڑی رستوں پر چلنے کے معاملے میں وہ مجھ سے کچھ بہتر ہی تھی ۔پلوشے بھی پہاڑیوں پر لومڑ کی سی تیزی سے حرکت کیا کرتی تھی ۔روما کی بے تحاشا محبت پا کر بھی وہ دشمن جان بھولنے میں نہیں آرہی تھی ۔کیوں حقیقت یہی تھی کہ انسان زندگی میں سچی محبت ایک بار ہی کرتاہے اور وہ میں نے پلوشے سے کی تھی ۔روما مجھے پیاری تھی ،میں اس کا خیال رکھتا تھا ۔اس کی باتوں کو مانتا تھا اسے کسی قسم کی تکلیف دینے کا سوچ بھی نہیں سکتا تھا مگر وہ پلوشے کی جگہ نہیں لے سکتی تھی ۔پلوشہ کی مکمل کہانی میں روما کو سنا چکا تھا ۔اور اس نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے فقط اتنا کہا تھا ۔
”میرے اجنبی کاش وہ زندہ ہوتی ،یقینا میں اسے اپنی چھوٹی بہن جیسی محبت دیتی ۔“ حالانکہ وہ پگلی یہ نہیں جانتی تھی کہ پلوشے کی زندگی کی صورت میں وہ کبھی بھی میری زندگی میں شامل نہ ہو سکتی ۔ لیکن ایسا کہہ کر میں اسے اذیت نہیں دینا چاہتا تھا ۔وہ میری محبت میں اپنے سارے رشتوں کو چھوڑ کر اپنے پیارے وطن کو چھوڑ کر میرے ساتھ جا رہی تھی ،میں اس کی جتنی قدر ،جتنی عزت اور جتنا احترام کرتا کم تھا ۔
پوری رات سفر کرنے کے بعد ہم نے طلوع آفتاب سے کچھ پہلے چھپنے کی ایک جگہ تلاش کر لی تھی ۔گھر سے چلتے وقت روما نے راستے کے لیے پراٹھے بنا کر ساتھ رکھ لیے تھے ۔کھانا کھا کر میں نے اس کا سر اپنے زانو پر رکھا اور اسے سونے کا کہہ کر خود بیٹھا رہا ۔اپنی بیوی کو آرام پہچانا ایک مرد کی ذمہ داری ہوتی ہے اور میں اپنی ذمہ داری سے آنکھیں بند نہیں کر سکتا تھا ۔
دوپہر کو اٹھ کر اس نے زبردستی مجھے سلا دیا تھا ۔شام کو ہما را سفر دوبارہ شروع ہوگیا اور رات کے دو اڑھائی بجے کے قریب ہم پاکستان اور انڈیا کی سرحد کے درمیان موجود چند گھروں کی آبادی کے پاس پہنچ گئے تھے ۔دیکھا جاتا تو وہ گھر بہت غلط جگہ پر بنے تھے کہ دونوں افواج کے فائرنگ کے تبادلے سے انھیں بھی نقصان پہنچ سکتا تھا لیکن وہ لوگ اپنے گھر چھوڑنے پر آمادہ نہیں تھے ۔
اکتوبر کا مہینا شروع ہوگیا تھا ۔سردی کی شدت میں کافی اضافہ ہو گیا تھا ۔اور ا ب برف باری کسی بھی وقت متوقع تھی ۔کارگل کی پہاڑیوں پر تو یقینا اس مہینے میں اچھی خاصی برف پڑ چکی ہوتی ہے ۔ البتہ اس جانب برف باری اکتوبر نومبر میں جا کر شروع ہوتی ہے ۔نالے میں پانی پہلے کی نسبت تھوڑا زیادہ نظر آرہا تھا ۔میں نے اپنے جوتے اتار کر نالہ عبور کرنا مناسب سمجھا کیوں گیلے جوتوں کے ساتھ آگے سفر کرنا پاﺅں کو خراب کر دیتا ۔البتہ روما کو میں نے بازوﺅں میں اٹھا لیا تھا ۔
”جھوٹے اجنبی ،آپ میرا اتنا زیادہ خیال کیوں کرتے ہیں ۔“میرے کندھے پر سر رکھتے ہوئے اس نے خوشی سے سرشار لہجے میں پوچھا ۔
میں نے اس کے کان میں سرگوشی کی ۔”کیوں کہ تم ہو ہی اس قابل کہ تمھارا بہت زیادہ خیال رکھا جائے ۔“
”جھوٹا ۔“وہ ناز سے مسکرا دی تھی ۔چاند طلوع ہو چکا تھا اور اس کی مدہم روشنی میں ہم آگے بڑھنے لگے ۔بارودی سرنگی قطے کے قریب جا کر میں نے ٹارچ کی روشنی پاک آرمی کے جوان کی طرف پھینکی کہ وہاں سے آگے ہم اس کی نظروں میں آئے بغیر نہیں جا سکتے تھے ۔حالانکہ مجھے وہاں سے گزرنے کا رستا معلوم تھا ۔
”کون ؟“ٹارچ کی روشنی پر سنتری چوکنا ہو گیا تھا ۔
میں نے فوراََ جوا ب دیا ۔”دوست ہوں ۔“
اس نے فوراََ ہی مجھے خبردار کیا ۔”آگے نہ بڑھنا ،تم بارودی سرنگوں کے قریب کھڑے ہو ۔“
”تو آکر ہمیں لے جاﺅ۔“رستا معلوم ہونے کے باوجود میں نے خطرہ مول لینا مناسب نہ سمجھا کہ دو سال میں وہاں تبدیلی ہونا بھی ممکن تھا ۔
اگلے تین چار منٹ میں سنتری اور اس کے ساتھ موجود گارڈ کمانڈر وہاں پہنچ گئے تھے ۔میرے ساتھ ایک خاتون دیکھ کر ان کے تنے ہوئے اعصاب کچھ ڈھیلے پڑ گئے تھے ۔اپنا نام نمبر اور یونٹ وغیرہ بتا کر میں شناخت کرائی اور سنتری کی رہنمائی میں ہم نے بارودی سرنگی قطعہ عبور کر لیا ۔تھوڑی دیر بعد ہم دونوں پوسٹ کمانڈر کے سامنے بیٹھے تھے ۔پچھلی بار جب میں نے سرحد عبور کی تھی اس وقت وہاں ایک اور یونٹ تعینات تھی جو اپنا عرصہ پورا کر کے کہیں اور جا چکی تھی ۔البتہ میری یونٹ سے رابطہ کر کے انھوں نے میری شناخت کو یقینی بنا لیا تھا ۔میرے کمانڈنگ آفیسر نے فوراََ ہی مجھ سے بات کرنے کی خواہش کی تھی کیوں کہ ان کے تیئں تو میں مر چکا تھا ۔مجھ سے بات کر کے اس نے خوشی کا اظہار کیا تھا ۔
پوسٹ کمانڈر نے فوراََ ہی اپنا رہائشی بینکر ہمارے حوالے کیا اور خود باہر نکل گیا ۔میں روما کے ساتھ آرام کرنے لیٹ گیا ۔دن چڑھے اٹھ کر ہم نے ناشتا کیا اور اس یونٹ کے بٹالین ہیڈکواٹر کی جان بڑھ گئے جو وہاں سے چھے کلومیٹر دور تھا ۔وہاں سے ہمیں چھتر دو تک گاڑی مل گئی تھی ۔کلاشن کوف میں نے اسی یونٹ میں جمع کرادی تھی البتہ اور یونٹ کمانڈر نے فوراََ ہی مجھے ایک لیٹر بنا کر دے دیا تھا کہ میں ایک نے ایک عدد کلاشن کوف مع پانچ فالتو میگزینوں کے وہاں جمع کرائی ہے ۔پاک آرمی میں ہتھیاروں کے بارے اتنی احتیاط برتی جاتی ہے کہ ہتھیار کو غلط استعمال کرنا تو چھوڑیں اس بارے سوچا بھی نہیں جا سکتا ۔چھتر دو سے ہم سول ویگن میں باغ پہنچے اور وہاں راولپنڈی کی بس میں بیٹھ گئے ۔شام آٹھ بجے کے قریب ہم پیرودھائی پہنچ گئے تھے ۔میں نے فوراََ ہی صوبیدار راﺅ تصور صاحب کا نمبر ملا کر انھیں راولپنڈی آمد کا بتا کر ساتھ یہ بھی بتا دیا کہ میرے ساتھ میری بیوی موجود ہے اور میں گھر جا رہا ہوں ۔
میرے زندہ رہنے کی خبر تمام یونٹ میں پھیل چکی تھی ۔بلکہ اس بارے وہ میرے گھر والوں کو بھی مطلع کر چکے تھے جہاں میرا غائبانہ نماز جنازہ بھی ادا ہو چکا تھا ۔
تصور صاحب نے مجھے خیریت سے لوٹنے کی مبارک باد دی ،اپنے صوبیدار میجر بننے کی خوش خبری سنائی اور یقینا دلایا کہ وہ میری زیادہ سے زیادہ چھٹی کرانے کی کوشش کریں گے ۔
اے ٹی ایم مشین سے پیسے نکلوا کر میں نے تلہ گنگ تک ٹیکسی کروائی اور ابوجان کو کال کر کے اپنی آمد کا بتانے لگا ۔ابو جان میری آواز سن کر خوشی سے بات نہیں کر پا رہے تھے ۔یقینا جوبوڑھاباپ اپنے جوان بیٹے کا جنازہ پڑھ چکا ہو اسے یہ معلوم ہوجائے کہ اس کی موت کی خبر جھوٹی تھی تو اس نے خوشی سے بے قابو تو ہونا ہے ۔گھر کے سامنے ٹیکسی کے رکتے ہی دروازہ کھل گیا تھا ۔ابوجان نے فوراََ ہی مجھے اپنی پر شفقت آغوش میں سمیٹ لیا تھا ۔اس وقت ہماری بیٹھک مرد رشتا داروں سے اور گھر زنانہ رشتا داروں سے بھر اہوا تھا ۔ابوجان کے بعد پھوپھو جان اور امی جان نے مجھے اپنے ساتھ لپٹا لیا تھا ۔چونکہ وہاں کافی مرد موجود تھے اس لیے میں نے امی جان کو کہا ۔
”اپنی بہو کو اندر لے جائیں میں باقیوں سے مل لوں ۔“
میری بات پر اس نے حیرانی بھری نگاہ میرے ساتھ کھڑی رومانہ پر ڈالی اور فوراََ ہی انھیں اپنے ساتھ لپٹا کر اندر لے گئیں ۔میں بیٹھک میں گھس گیا تھا ۔چند لمحوں میں میری شادی کی خبر بھی تمام تک پہنچ گئی تھی ۔تمام سے مل کر شادی اور نئی زندگی کی مبارک باد سمیٹ کر میں ابوجان کے ساتھ گھر میں داخل ہوا تو تمام عورتوں نے روما نہ کو گھیرا ہوا تھا ۔پھوپھو جان اور امی جان کی خوشی دیدنی تھی ۔عدیل بھی ابھی تک جاگ رہا تھا ۔میں نے فوراََ ہی اسے گود میں اٹھا لیا تھا ۔اور پھر مجھے عورتوں کے جھرمٹ میں ماہین بھی نظر آئی ۔وہ مجھے ہی گھور رہی تھی ۔میری نظر پڑتے ہی اس نے اپنا رخ موڑ لیا تھا ۔یہ اس کی ہی ہمت تھی کہ میرے ساتھ ایسا سلوک کرنے کے بعد بھی اس نے میرے گھر آنے کی جرّات کر لی تھی ۔ چونکہ میں نے اسے پہلے ہی دن سے معاف کر دیا تھا اس لیے اسے نظر انداز کر کے رشتا دار خواتین کے مبارک باد کا جوا دیتا رہا۔تمام عورتیں رومانہ کے حسن سے بہت متاثر ہوئی تھیں ۔رات گئے جا کر وہ بھیڑ ختم ہوئی ۔میں نے پلوشہ والے کمرے کے بجائے اس کے ساتھ والے کمرے میں رومانہ کو رکھا تھا ۔کیوں کہ اس کمرے میں میری پلوشہ کی خوشو رچی بسی تھی ۔وہ سیج ابھی تک ویسے ہی قائم تھی ۔اس کے کپڑے اور زیور ویسے ہی پڑے تھے جیسے وہ چھوڑ گئی تھی ۔اور میں انھیں ہمیشہ اسی حالت میں رکھنا چاہتا تھا ۔
اگلے دن ابوجان نے بہت بڑی ضیافت کا بندوبست کیا تھا اور پورے گاﺅں کھانے پر مدعو تھا۔ میری یونٹ کے کافی جوان بھی مجھے ملنے پہنچ گئے تھے ۔تصور صاحب نے آتے ہی مجھے دو ماہ کی چھٹی کی خوش خبری سنا دی تھی ۔الیاس بھی خصوصی طور پر مجھے ملنے آیا ۔میرے گلے لگتے ہی وہ رو پڑا تھا ۔میں نے اس کی پیٹھ تھپکتے ہوئے اسے تسلی دی ۔اسی کی زبانی معلوم ہوا کہ پوسٹ پر خیریت سے ذخیرہ اندوزی ہو گئی تھی ۔البتہ پوسٹ پر موجود جوان اور یونٹ کا کمانڈنگ آفیسر میرے لیے بہت پریشان تھے ۔
رومانہ نے گھر والوں کے ساتھ گھلنے ملنے میں بالکل ہی دیر نہیں لگائی تھی ۔ہمارے پہنچ جانے کے اگلے ہی روز اس کے بھائی سکندرکی کال آئی تھی ۔ ہمارے خیریت سے پہنچ جانے کا سن کر وہ بہت خوش ہوا تھا ۔رومانہ کافی دیر بھائی کے ساتھ مصروف گفتگو رہی تھی ۔
مبارک باد کا یہ سلسلہ کئی دن تک چلتا رہا تھا ۔اور پھر آہستہ آہستہ حالات معمول کے مطابق ہو گئے تھے ۔میری چھٹی کا مہینا گزر گیا تھا ۔اس وقت میں اپنے دوست اویس کی بیٹھک میں بیٹھا گپ شپ کر رہا تھا جب ابوجان نے کال کر کے کسی مہمان کی آمد کی بابت بتایا ۔اویس سے اجازت لے کر میں گھر کی جانب بڑھ گیا ۔بیٹھک میں قابل خان محسود کو دیکھ کر مجھے خوشگوار حیرت کا احساس ہوا تھا ۔اسے پرتپاک انداز میں معانقہ کر کے میں نے بیٹھنے کا اشارہ کیا ۔گفتگو کی ابتداءمیں ہی اس نے گلے شکوے سے کی تھی ۔اس کے تیئں اور تو چھوڑو میں نے پلوشہ کی قبر پر جانا بھی گوارا نہیں کیا تھا ۔
میں پر اذیت لہجے میں بولا ۔”سردار قابل خان ،آپ ٹھیک کہہ رہے ہیں ،لیکن جس کے ریشمی بدن پر مٹی کا ذرہ لگنا مجھے گوارا نہیں تھا اسے منوں مٹی تلے دبا کیسے دیکھتا ۔اور پھر اس نے خود بھی تو ہمارے پاس دفن ہونا گوارا نہ کیا اور اپنے بہن کے پہلو کو اپنے لیے پسند کیا ۔“
اس نے منھ بنایا ۔”یہ بہانے بازی ہی ہے ۔“
اس مرتبہ میں اس کی بات کا جواب دیے بغیر خاموش رہا تھا ۔
مجھے خاموش پا کر وہ کہنے لگا ۔”اچھا میں ایک خاص سلسلے میں حاضر ہوا تھا ۔“
”حکم کروبھائی ۔“
”خوشحال بھائی کی بیٹی اور میرے بیٹے کی شادی ہے اور آپ کا آنا نہایت ہی ضروری ہے ۔“ خوش حال اس کا ماموں زاد بھائی تھا ۔لیکن دونوں میں بلا کی محبت تھی ۔
میں خوش دلی سے بولا ۔”بڑی خوشی کی بات ہے یار ،میری طرف سے پیشگی مبارک باد قبول کر لو ۔“
وہ فوراََ بولا ۔”خیر مبارک ،لیکن میں نے کوئی اور درخواست بھی کی ہے ۔“
”قابل بھائی ،آپ تو جانتے ہیں ہم فوجیوں کی چھٹی نہایت ہی مختصر ہوتی ہے اور خوشی کی ایسی محافل میں شرکت کرنا عموماَ ممکن نہیں رہتا ۔فی الحال تو نہیں البتہ میں جلد ہی آپ کی طرف آنے کی کوشش کروں گا ۔“
”ہونہہ!....جان چھڑا رہے ہو ۔“وہ ایک دم سنجیدہ ہو گیا تھا ۔
”نہیں ایسی کوئی بات نہیں قابل بھائی، لیکن سچ کہوں تو کچھ ایسی مصرفیات درپیش ہیں کہ حقیقت میں میرا آنا مشکل ہوگا۔“میں سچ ہی میں جان چھڑا رہا تھا ۔کیوں اس علاقے میں جا کر دشمن جاں کی یادوں نے مجھے اور زیادہ اذیت پہنچانی تھی ۔قابل خان کی بیٹھک میں میں نے پلوشے کے ساتھ بہت قیمتی لمحات بسر کیے تھے ۔میں ان لمحات کو یاد کرنے سے کتراتا تھا ۔یقینا وہاں جا کر اس کی یادوں نے اودھم مچا دینا تھا ۔
”تو کیا میں اتنی دور سے یہاں جھک مارنے آیا ہوں ،یا میرا آپ پر کوئی حق ہی نہیں ہے ۔“ قابل خان نے اپنے جذبات کے اظہار میں ذرا بھر نرمی نہیں برتی تھی ۔
”میں نے ایسا کب کہا ہے یار ۔“اسے غصے میں دیکھ کر میں نے مفاہمتی لہجہ اپنا لیا تھا ۔
”محترم ،وشلام گاﺅں کے لوگوں نے آپ کے لیے جان کی قربانی بھی دی ہوئی ہے ۔کیا اتنی جلدی بھول گیا ہے کہ آپ کے لیے ہمارے پورے گاﺅں نے علام خیل جیسے بڑے قبیلے سے ٹکر لی تھی ۔ “ وہ اتنا غصے میں تھا کہ اس نے احسان جتلانے میں بھی شرم محسوس نہیں کیا تھا ۔
”یار آپ تو ناراض ہی ہو گئے ہیں ۔“میں پریشان ہو گیا تھا ۔
”ہاں میں ناراض ہوں ۔اور معافی چاہتا ہوں کہ آپ کو اپنا سمجھ کر یہاں آگیا تھا ۔یقینا آپ کا اور ہمارا تعلق بس پلوشہ کی زندگی تک تھا ،خدا حافظ۔“وہ فوراََ ہی کھڑا ہو گیا تھا ۔اس کی جذباتی دھونس کے سامنے میں نے فوراََ ہی ہتھیار ڈال دیے تھے ۔اس کا بازو تھامتے ہوئے میں لجاجت سے بولا ۔
”قابل بھائی ،ایسا توخیر نہیں چلے گا ۔یہاں سے خفا ہو کر تو میں آپ کو نہیں جانے دے سکتا ۔ اور جہاں تک شادی کا تعلق ہے تو میں کیا میرا باپ بھی اس شادی میں شرکت کرے گا ۔“
”باپ کوزحمت نہ دیں صرف آپ کی ضرورت ہے ۔خوشحال بھائی کی بھی یہی تمنا تھی ،نشانہ بازی کا بھی مقابلہ رکھا ہے شاید آپ حصہ لینا چاہیں بس دو دن ہمیں دے دینا تیسرے دن واپس آجانا ۔“ میرا مفاہمتی لہجہ سنتے ہی اس نے ناراضی ختم کر دی تھی ۔
”کب آنا ہوگا ۔“
”اسی جمعہ اور ہفتے کو اتوار کو آپ واپس آجانا ۔“
وہ سوموار کا دن تھا ۔میں نے اثبات میں سر ہلاتے ہوئے کہا ۔”میں جمعرات کی صبح یہاں سے نکلوں گا ۔“
قابل خان نے مسکراتے ہوئے کہا ۔”شکریہ تو خیر نہیں بولوں گا کہ کوئی احسان نہیں کر رہے ہو ہمارا آپ پر پورا پورا حق ہے ۔“
”صحیح کہا ۔“میں بھی مسکرا دیا تھا ۔وہ رات میرے پاس گزار کر قابل خان اگلی صبح واپس لوٹ گیا تھا ۔
جانے سے ایک دن پہلے میں نے رومانہ کو بھی تیا رہونے کا کہہ دیا تھا ،مگر ابوجان ،پھوپھو اور امی جان نے صاف انکار کر دیا تھا ۔وہ رومانہ کو کسی صورت وزیرستان جانے کی اجازت دینے پر تیار نہیں تھے ۔میں نے ھی انھیں پریشان کرنا مناسب نہیں سمجھا تھا ۔بدھ کے دن میں سہ پہر کو گھر سے نکلا راولپنڈی جا کر میں نے دلھادلھن کے لیے تھوڑی سی خریداری کی اور وہاں سے رات کو ڈیرہ اسماعیل خان کی گاڑی پکڑ کر صبح دم ڈیرہ اسماعیل خان پہنچ گیا ۔ڈیرہ اسماعیل خان میں میں صرف ناشتا کرنے رکا اور پھر وانہ کی گاڑی میں بیٹھ گیا ۔وانہ سے وشلام کی ویگن بھی آسانی سے مل گئی تھی ۔میں جمعرات کی شام کو وشلام پہنچ گیا تھا ۔خوشحال خان اور قابل خان مجھے دیکھ کر خوشی سے کھل اٹھے تھے ۔شادی کا ہنگامہ زوروں پر تھا۔نہ چاہتے ہوئے بھی مجھے اسی بیٹھک میں قیام کرنا پڑ گیا تھا جہاں کبھی میں پلوشے کے ساتھ اپنی زندگی کے خوب صورت ترین دن گزارے تھے ۔اب تک بیٹھک کے اس کمرے سے پلوشے کے وجود کی خوشبو آرہی تھی ۔جمعے کے دن نشانہ بازی کے بہت بڑا مقابلے کا انقاد ہوا تھا ۔قابل خان کے بہت زیادہ زور دینے کے باوجود میں نے اس مقابلے میں حصہ نہیں لیا ۔جیتنے والے نے پانچ گولیاں فائر کر کے تین سو میٹر کے فاصلے پر موجود ایک چھوٹے سے شیشے کا نشانہ بنایا تھا ۔وہاں موجود وشلام گاﺅں کے قریباََ تمام لوگ مجھ سے واقف تھے ۔مقابلہ ختم ہونے کے بعد کافی لوگوں کے اصرار پر میں نے کلاشن کوف تھام لی تھی ۔صرف ایک گولی چلا کر میں نے اسی فاصلے پر موجود شیشے کو نشانہ بنالیا تھا ۔لوگوں نے زوردار نعرے سے مجھے سراہا تھا ۔ہفتے کی رات کو خصوصی پروگرام تھا ۔قابل خان نے پشتو کے دو مشہور گلوکار وں کو بلایا ہوا تھا ۔
عشاءکے بعدرباب کے تاراور طبلے کی دھمک سے وشلام گاﺅں کے درودیوار جھوم اٹھے تھے۔ گاﺅں سے باہر انھوں نے پہاڑی کے دامن میں سٹیج بنایا تھا جہاں یہ محفل سجی تھی ۔نجانے کیوں پشتو ساز اور دھن سنتے ہی میری آنکھوں کے سامنے پلوشہ کا خوب صورت وجود تھرکتا ہوا نظر آنے لگتا ۔
”راجو ،میں اپنی شادی میں ناچوں گی ۔“اس کی مدھر آواز میرے کانوں میں گونجی اور میری آنکھیں نم ہونے لگیں ۔اس نے کتنی حسرت سے کہا تھا ....
”راجو ،پتا نہیں کب وہ دن آئے گا جب آپ تھکے ہارے باہر سے آئیں گے اور میں آپ کے سامنے کھانا رکھوں گی ۔جو آپ کو پسند نہیں آئے گا آپ مجھے ڈانٹیں گے اور میں رونے لگ جاﺅں گی اور آپ کھانا پینا بھول کر مجھے منانے لگ جائیں گے اور دیر تک مناتے رہیں گے ۔دیر تک ........“
”ہاں دیر تک مناتا رہوں گا دیر تک ....بس ایک بار واپس لوٹ آﺅ ....“میرے دل میں ایسی حسرت اٹھی جس کا پورا ہونا یقینا ناممکن تھا ،مگراس کے ساتھ یہ بھی حقیقت ہے کہ اللہ پاک کے لیے کوئی چیز ناممکن نہیں ہے ۔
”معجزے صرف انبیا ءپاک کے ساتھ مخصوص ہوتے ہیں راجے میاں ۔“میں نے خود کو جھڑکا اور اپنی توجہ گانے والے کی طرف متوجہ کر لی جواپنی خوب صورت آواز میں ....
”ما نا جانان غوغتو تور و سنڑوں تا گلونہ پہ سر لیا
(محبو ب نے اپنے کالے بالوں کے لیے مجھ سے پھول مانگے ہیں ہیں اے بہار)
چرتہ خوزمونگ کلی تہ ہمرا پے خااوکا۔
(کبھی تو ہمارے گاﺅں میں بھی چکر لگا لو )“
گا رہا تھا ۔میری پلوشہ کے بال بھی تو اب بڑے ہو گئے ہوتے ،کیا وہ بھی بالوں میں لگانے کے لیے پھول مانگنے کی ضد کرتی تو کیا میں بھی یونھی موسم بہار کی منتیں کر رہا ہوتا ۔ایک دم میرے لیے وہاں بیٹھنا دو بھر ہو گیا ۔میں نے ساتھ بیٹھے قابل خان کو کہا ۔
”یار میرے سر میں درد ہے اگر اجازت ہو تو تھوڑا آرام کرنا چاہوں گا ۔“
”یہ بھلا کیا بات ہوئی ۔“وہ خفا ہونے لگا ۔
میں نے فوراََ کہا ۔”معذرت خواہ ہوں ،طبیعت ٹھیک نہیں ہے نا ۔“
وہ مصر ہوا ۔”تھوڑی دیر تو بیٹھو ،ایک خاص آئیٹم سن کر چلے جانا ۔“
”نہیں میں شکریہ ،میرے سر میں بہت درد ہے ۔“میں کھڑا ہو گیا ۔
”اچھا وہ خاص آئیٹم میں ابھی چلوادیتا ہوں آپ بس دو منٹ انتظار کریں ۔“وہ اٹھ کر سٹیج کی طرف بڑھا مگر میں اس کی ناراضی کو نظر انداز کرتا ہوا قناتوں کی چاردیواری سے باہر نکل آیا ۔تھوڑی دور آتے ہی میرے کانوں میں قابل خان محسود کی آواز آنے لگی تھی ۔پتا نہیں وہ کیا کہہ رہا تھا ۔میرا دماغ الجھا ہوا تھا ۔اعلا کوالٹی کا ساﺅنڈ سسٹم ہوتے ہوئے بھی میری سمجھ میں اس کی آواز نہیں آرہی تھی ۔وہ غالباََ وہ کسی مہمان گانے بجانے والی کے بارے کوئی اعلان کر رہا تھا ۔اور پھر اس وقت میں بیٹھک میں داخل ہو رہا تھا جب میری سماعتوں میں ایک عورت کی درد بھری آوازگونجی ۔
داہجران تورے تیارے دی خدایا خیر
(ہجر کے کالے اندھیرے چھاگئے ہیں اللہ خیر )
ٹول غمونہ را پسے دی خدایا خیر
( تمام غم میرے ہی پیچھے پڑے ہیں اللہ خیر)
میرا دل اتنے زور سے دھڑکا گویا اچھل کر حلق میں آجائے گا ۔کیا سماعتیں مجھے دھوکا دے رہی تھیں ۔یا قدرت میرے ساتھ کوئی مذاق کرنے پر تلی تھی ۔میری ٹانگوں نے جسم کا بوجھ اٹھانے سے گویا معذوری ظاہر کر دی تھی ۔میں نے بیٹھک کے دروازے کا پٹ تھام لیا ۔ میرا پورا جسم ہی گوش بن گیا تھا ۔
چرتہ لاڑشمہ فریاد اوکما چاتہ
(کہاں جاﺅں اور کس کو فریاد کروں)
بالکل اسی کی آواز تھی ....
دا امید ڈیوے مہ مڑے دی خدایا خیر
(کہ میری امید کے دیے ہی بجھ چکے ہیں اللہ خیر )
اس آوازکو میں کیسے بھلا سکتا تھا ۔جی ہاں وہ پلوشہ ہی کی آواز تھی ۔اپنی غیر ہوتی حالت کو سنبھال کر میں پیچھے مڑ کر بھاگ پڑا ۔
جاری ہے
 

قسط نمبر 74
ریاض عاقب کوہلر
دو تین قد م لیتے ہی ٹھوکر لگی اور میں منھ کے بل گر گیا۔مجھے کچھ پتا نہیں چل رہا تھا کہ سازندے ساز بجا رہے ہیں یا نہیں ، رباب کے تاروں کو چھیڑا جا رہاہے یا نہیں ،طبلچی اور گھڑا بجانے والوں کے ہاتھ رکے ہوئے ہیں یا مصروف ہیں میرے کانوں میں تو بس اس کی درد سے لبریز آواز گونج رہی تھی ۔
دا شپہ نہ صبا کیگی خدایا لا پس اوگدے گی غمونہ دی او زہ یم
(اس رات کی صبح نہیں ہو رہی یا اللہ یہ اور بھی لمبی ہوتی جارہی ہے اور میرے ساتھ فقط غم ہیں )
پہ لپو لپو اوخکے مہِ پہ مخ باندے بہیگی غمونہ دے او زہ یم
( چہرے پرلگاتار آنسو بہہ رہے ہیں اور میرے ساتھ فقط غم ہیں )
اس کے الفاظ صرف معنوی طور پر درد انگیز نہیں تھے اس کی آواز سے ظاہر ہونے والی اذیت بھی دل کو محسوس ہو رہی تھی ۔میں زمین پر ہاتھ ٹیک کر اٹھا اور پھر دوڑ پڑا ۔پہلے والی چوٹ مجھے بھول چکی تھی۔بلکہ اس وقت میرے دماغ میں کچھ تھا تو وہ پلوشہ کی آواز کے متعلق تھا ۔کیا کسی کی آواز اس قدر مماثل ہو سکتی تھی ....؟
غمونہ دی غمونہ، داہجران تورے تیارے دی ،عجبہَ زندگی دا
(غم ہی غم اور ہجر کے کالے اندھیرے ہیں، عجیب زندگی ہے )
زہ تل خاورے پہ سر یم در پہ در یم اندیخنے دی، عجبہَ زندگی دا
(ہمیشہ سر میں خاک سجائے در بہ در پریشانیاں سمیٹتی ہوں عجیب زندگی ہے )
پہ خپو کے مہِ بیڑی دی، منزلونہ لرے کیگی غمونہ دی اوزہ یم
(پاﺅں میں بیڑیاںہیں ، منزلیں دورہوتی جا رہی ہیں اور میرے ساتھ فقط غم ہیں )
پہ لپو لپو اوخکے مہِ پہ مخ باندے بہیگی غمونہ دی او زہ یم
( چہرے پرلگاتار آنسو بہہ رہے ہیں اور میرے ساتھ فقط غم ہیں )
”وہ زندہ تھی تو کیسے ؟....اسے چھپنے کی کیا ضرورت آن پڑی ،اور جب خود مرضی سے چھپی تو اتنے درد بھرے انداز سے گانے کا کیا جواز....؟“اس کے الفاظ کو سنتا ہوا میں آگے بڑھتا گیا ۔
زندی یما دا وخت اودا حالاتوپہ زندانِ کے یو ازے پہ جڑا
(وقت اور حالات کے ہاتھوں قیدی بنا تنہا آہ بکا میں مصروف ہوں )
خبرو نہ یم پاتے دا اللہ پہ دے جہان کے یواز ے پہ جڑا
(دنیا میں بات کرنے کے بھی قابل نہیں رہا تنہا آہ وبکا میں مصروف ہوں)
ہڈوکی مہ اچیگی بدن غوخے ویلے کیگی ،غمونہ دے او زہ یم
(ہڈیاں خشک ہو رہی ہیں ، بدن کاگوشت گل سڑ رہاہے اور میرے ساتھ فقط غم ہیں )
دا لپو لپو اوخکے مہِ پہ مخ باندے بہ ہیگی غمونہ دے او زہ یم
( چہرے پرلگاتار آنسو بہہ رہے ہیں اور میرے ساتھ فقط غم ہیں )
کیا اسی وجہ سے قابل خان مجھ پر شادی میں شرکت پر زور دے رہا تھا ،یہاں تک کہ وہ احسان جتلانے کی گھٹیااور غیر اخلاقی حرکت سے بھی باز نہیں آیا تھا ۔اور ابھی میرے محفل سے اٹھنے پربھی اس نے میرے خصوصی آئیٹم کوسننے پر کتنا زور دیا تھا ۔یقینا وہ چاہتا تھا کہ مجھ تک پلوشہ کا درد پہنچ جائے .... اس کا دردو غم آواز کی صورت میں فضاﺅں کا سینہ چیر کر مجھے بے حال کرتا جا رہا تھا ....میں پنڈال میں داخل ہوا۔ ارد گرد کے علاقے سے بھی کافی لوگ اکٹھے ہوئے تھے ۔لوگوں کی بھیڑ کو چیرتے ہوئے میں آگے بڑھنے لگا ....اس کی درد بھری آواز گونج ری تھی ۔
داکورا مسافر یم دا ہر چہ یم دا خبرو،زمہ پہ حال خندیگی
(موت کے سفر پر رواں مسافراور ہربندے کی باتوں کا نشانہ ہوں تمام مجھ پر ہنستے ہیں )
قیمت مہِ کلہ شتا داتڑمو اخکو مسافرو، زمہ پہ حال خندیگی
(میرے بہتے اشک جو بے قیمت ہیں اور فقط ہنسی کا باعث بنتے ہیں )
پہ اوچو شونڈوگورامہ یاران رانہ بے لیگی غمونہ دے او زہ یم
(خشک لبوں سے یاروں کو جدا ہوتے دیکھ رہا ہوں ،اور میرے ساتھ فقط غم ہیں )
پہ لپو لپو اوخکے مہِ پہ مخ باندے بہیگی غمونہ دے او زہ یم
( چہرے پرلگاتار آنسو بہہ رہے ہیں اور میرے ساتھ فقط غم ہیں )
اس کی آواز بند ہو گئی تھی ،لوگوں نے تالیاں بجا کر اور نعرے بلند کر کے اس کے درد کو سراہنے لگے۔اس کی نوحہ خوانی اور بین سے لطف اندوز ہونے والے اس آواز کے پیچھے چھپی اذیت کو محسوس نہیں کر سکے تھے ۔یا اگر کی بھی تھی تو اسے کسی گلوگار کے کمال سے تشبیہ دے دی تھی ۔
لوگوں کی بھیڑ کو چیرتا ہوا میں آگے نکلا۔گلوکاروں کے بیٹھنے کے لیے زمین سے چار پانچ فٹ بلند سٹیج بنایا گیا تھا ۔سٹیج کے سامنے دائیں بائیں چارپائیاں پڑی تھیں جن پر مختلف قبیلوں کے سردار ،ملک وغیرہ براجمان تھے ۔سامنے کی طرف بھی چارپائیوں کی دو قطاریں بچھی تھیں اور اس کے بعد عام لوگ، جس کو جدھر جگہ ملی تھی کی بنیاد پر چاروں طرف موجود تھے ۔میں چونکہ خصوصی مہمان تھا اس لیے پہلے سامنے کی چارپائی پر بیٹھا ہوا تھا ۔البتہ ایک بار اٹھ کر جانے کے بعد مجھے آگے جانے کے لیے کافی زور لگانا پڑا تھا۔
وہ مجھے سٹیج پر نظر نہیں آرہی تھی ۔غور سے دیکھنے پر ایک پردہ لگا ہوا نظر آیا وہ اسی کے پیچھے موجود تھی ۔لوگ اس سے ایک اور گانے کی فرمائش کر رہے تھے اور میں تمام سے بے نیاز سٹیج کی طرف بڑھتا گیا چارپائیوں کی قطار سے گزر کر خالی جگہ پر پہنچتے ہی میں بھاگ کر سٹیج تک جاپہنچا ۔سٹیج پر موجود گلوکاراور سازندوں نے شاید مجھے گیت سنگیت کا ایسا شیدائی سمجھا تھا جو دو تین بول سن کر گلوکاروں کی طرف بھاگ پڑتے ہیں ۔شاید لوگ بھی کچھ ایسا ہی سمجھ رہے ہوں ،مگر اس وقت مجھے کسی کی بھی پروا نہیں تھی ۔میں اپنے حواس میں تھا ہی کہاں کہ کوئی سدھ بدھ ہوتی ۔
جونھی میں سٹیج پر چڑھا دائیں بائیں کھڑے انتظامیہ کے آدمیوں نے میرے قریب آنا چاہا ۔ سب سے پہلے قریب پہنچنے والے کی چھاتی پر میری زور دار لات پڑی اور اس کے ساتھ ہی میں نے کوٹ کی جیب سے گلاک نکال کر لہراتے ہوئے دھاڑا ....
”اگر کوئی قریب آیا تو جان سے جائے گا ....“یہ کہتے ہی میں پردے کے پیچھے گھستا چلا گیا ۔ باہر شور مچ گیا تھا ۔پتا نہیں لوگ کیا کہہ رہے تھے ۔کوئی چیخ چیخ کر لوگوں کو سب اچھا ہے کی تسلی دے رہا تھا۔میں تو پردے کے پیچھے موجود وجود کی طرف متوجہ تھا ۔سو فیصد وہی تھی ۔میری پلوشہ ،میری جانِ حیات مگر پہلے سے بہت بدلی ہوئی ۔وہ پہلے والی پلوشہ لگ ہی نہیں رہی تھی ۔صرف ایک چیز جو اس کے جسم پر پہلے سے بہتر نظر آرہی تھی وہ اس کے بال تھے جو اب کندھوں سے نیچے تک جھول رہے تھے ،مگر ان ریشمی بالوں کی بھی بری حالت تھی ،الجھے ہوئے ،روکھے اور بے رونق شایدان میں کئی ہفتوں سے کنگھی نہیں کی گئی تھی ۔ اس کے سرخ و سفید قندھاری اناروں کے مشابہ گال پچک کر اندر کو دھنس گئے تھے ۔موٹی آنکھوں کے گرد گہرے سیاہ حلقے دکھائی دے رہے تھے ۔اس کا گداز جسم ہڈیوں کا ڈھانچہ نظر آرہا تھا ۔ مجموعی طور پر اس نے ایسا حلیہ بنایا ہواتھا جیسا بھیک مانگنے والی عورتوں کا ہوتا ہے ۔یقینا اسے نہائے ہوئے بھی کئی ہفتے گزر گئے تھے ۔
مجھے دیکھتے ہی اس کے ہونٹ کپکپائے اور اس نے جلدی سے اپنی اوڑھنی چہرے پر لپیٹ لی۔ایک ادھیڑ عمر عورت نے اس کی پیٹھ کے پیچھے بیٹھ کر اسے سہارا دیا ہوا تھا ۔ویران آنکھوں میں نمودار ہونے والے پانی کو وہ روک تو نہیں سکی تھی ،البتہ چھپانے کے لیے اس نے چہرہ نیچے جھکا لیا تھا ۔
”بھائی صاحب !....آپ ........“کسی مرد نے مجھے واپس لے جانے کے لیے بازو سے پکڑنا چاہا تھا ۔میں ایک دم گھوما، اس کی بات مکمل ہونے سے پہلے میرا بھرپور مکہ اس کی کنپٹی پر لگا ،وہ اچھل کر نیچے گرا اور ہاتھ پاﺅں ڈھیلے چھوڑ دیے ۔اس کے ساتھ ہی میں دھاڑا ....
”کہا نا اگر کوئی قریب آیا تو جان سے جائے گا ۔“
”ذیشان بھائی !....بات تو سنیں ۔“قابل خان اندر داخل ہوا ۔
”بکواس بند کرو قابل خان !....اور دور ہوجاﺅ میری نظروں سے ،میں تمھارا منحوس چہرہ نہیں دیکھنا چاہتا ۔“پلوشہ کی موت کی جھوٹی خبر اسی نے تو ہم تک پہنچائی تھی ....ہمیں حقیقت سے بے خبر رکھنے والا وہی تو تھا ....
” میری بات تو سن لو ....“ اس نے مجھے منانے کی کوشش کی ۔
”نہیں سننا تمھاری کوئی گھٹیا بات ۔“یہ کہتے ہی میں نے گھٹنوں کے بل پلوشہ کے ساتھ بیٹھتے ہوئے پستول جیب میں ڈالااوراس کے بازوﺅں سے تھام لیا ۔اس کا جسم ہولے ہولے لرز رہا تھا ۔
”میری طرف دیکھو۔“نہ جانے اس وقت میری آواز ،کن کیفیات کا مجموعہ بن گئی تھی ، غصہ ، درد ، پریشانی ،پشیمانی ،اذیت ،حیرانی ....پتا نہیں اور بھی کون کون سے احساس میرے لہجے میں شامل تھے۔
”م....مم....میں آپ کو نہیں جانتی ۔“ کوئل سی آواز میں وہ منمنا کر رہ گئی تھی ۔
”صحیح کہا ۔“میں بھرائی ہوئی آواز میں بولا ۔”اگر جانتی ہوتیں تو یقینا یوں نہ کرتیں ۔“
”مم....میں ........“اس نے کچھ کہنے کی کوشش کی ،میں نے دھاڑتے ہوئے قطع کلامی کرکے کہا ۔
”خاموش،تمھاری بکواس نہیں سننا چاہتا،چلو میرے ساتھ ۔“
وہ جھرجھری لیتے ہوئے کانپی اور اس کے ساتھ ہی اس نے دائیں بائیں پڑی دو بیساکھیاں پکڑلیں ۔میرا دل دھک سے رہ گیا تھا ۔”کیا وہ معذور ہو گئی تھی ؟“یقینا یہی بات تھی ورنہ اسے چھپنے کی ضرورت ہی کیوں پیش آتی ۔
اس سے پہلے کہ وہ بیساکھیوں کے سہارے اٹھنے کی کوشش کرتی ،میں نے دونوں بیساکھیاں اس کے ہاتھ سے چھین کر دور پھینک دیں ۔اگلے ہی لمحے وہ میرے مضبوط بازوﺅں میں تھی ۔وہ پہلے بھی مجھے پھول کی طرح لگا کرتی تھی ،اس وقت تو اس کے جسم پر گوشت کا نام و نشان ہی نہیں تھا ۔نرا ہڈیوں کا ڈھانچہ بنی ہوئی تھی ۔اس کے جسم سے اٹھتی ہوئی ناگوار بو بھی مجھے مشک و عنبر سے زیادہ بھینی بھینی لگ رہی تھی ۔اس کی ہڈیوں کی سختی ریشم و کم خواب سے بھی ملائم محسوس ہو رہی تھی ۔رومانہ جیسی پرکشش لڑکی کی بے تحاشا محبت بھی میرے دل سے اس کی چاہت دور نہیں کر سکی تھی ۔وہ آج بھی پہلے دن کی طرح میرے دل کے سنگھاسن پر براجمان تھی ،بلکہ حقیقت تو یہ ہے کہ پہلے سے کچھ زیادہ ہی محبوب ہو گئی تھی ۔
اسے سینے سے لپٹائے میں نے پنڈال کے عقبی رستے کی طرف قدم بڑھا دیے ۔ قابل خان وہیں کھڑا پشیمان نظروں سے مجھے گھورتا رہا ۔باقی لوگوں کو اس نے آرام سے بیٹھنے کا مشورہ دے دیا تھا ۔ میں پنڈال سے باہر نکلا میرا رخ بیٹھک کی جانب تھا ۔اپنے نحیف بازو میرے گلے میں ڈال کر وہ میرے کندھے پر سر ٹیکے آنسو بہا رہی تھی ۔میں خاموشی سے چلتا رہا ۔
ساﺅنڈ سسٹم پر خوشحال خان کی آواز ابھری وہ لوگوں کو آرام سے بیٹھنے کا مشورہ دے کر محفل جاری رہنے کا پیغام سنا رہا تھا ۔میں بس پلوشہ کے وجود کو محسوس کرتا ہوا بیٹھک کی طرف بڑھتا رہا ۔وہاں بیٹھک میں چند اور مہمانوں کا بھی بسیرا تھا ۔لیکن اندر داخل ہوتے ہی میں نے بیرونی دروازہ کنڈی کر دیا تھا ۔میں نہیں چاہتا تھا کہ کوئی ہماری تنہائی میں مخل ہو۔ ان مہمانوں کو قابل خان اور خوشحال خان خود ہی سنبھال لیتے ۔
کمرے میں داخل ہوتے ہی میں نے بڑے آرام سے پلوشہ کو ایک چارپائی پر لٹایا۔اس کا جسم اب تک ہولے ہولے لرز رہا تھا ۔میری چھاتی اس کے آنسوﺅں سے گیلی ہو گئی تھی ۔جانے وہ خوشی کے آنسو تھے یا اپنے معذوری پر دکھ کے اظہار کے لیے بہائے گئے تھے ۔
اس کے سر کی جانب بیٹھتے ہوئے میں نے اس کا سر اپنے زانو پر منتقل کیا اور صدیوں کی پیاسی نگاہوں کو اس کی دید سے سیراب کرنے لگا ۔اس کی آنکھیں بند تھیں ۔اور وہ بے آواز آنسو بہا رہی تھی ۔
میں نے اسے مخاطب کرنے کی کوشش نہیں تھی ، بس اسے محسوس کرتا رہا ۔میں اس وقت کی کیفیات کو بیان کرنے سے یقینا قاصر ہوں ۔ اس وقت خوش تھا ،اس سے سخت خفا تھا ،پریشان تھا ،اس کی معذوری کو دیکھ کر دکھی تھا یاشاید میرے دماغ میں ان سب سے ہٹ کر کچھ چل رہا تھا ۔
بہت سی دیر گزر گئی پھر اس کی کراہتی ہوئی آواز مجھے کہیں دور سے آتی محسوس ہوئی ۔ ”راجو! مجھے معاف کر دو، میں مجبور تھی ۔“
”کبھی نہیں ،زندگی بھر معاف نہیں کروں گا ۔تم اس قابل ہی نہیں ہو کہ معافی طلب بھی کر سکو۔“پتا نہیں میرے لہجے سے غصہ جھلک رہا تھا یا سخت ناراضی ....
وہ کراہی ۔”راجو ، اب میں آپ کے کسی کام نہیں آسکتی تھی ،نرا بوجھ ہی تو تھی ایسا بوجھ بہت جلد تھکا دیا کرتا ہے ۔“
”بکواس بند کرو ۔میں نے تمھیں جسمانی تسکین کے لیے نہیں اپنا یا تھا۔ نہ شوہر بیوی کا رشتا فقط جسمانی تعلقات تک محدود ہوتا ہے ۔کیا میرے ساتھ حادثہ پیش آجاتا تو میں تمھارے لیے بوجھ کی حیثیت اختیار کر لیتا ۔کیا تمھارا بوجھ قابل خان کو نہ تھکاتا؟....یا وہ مجھ سے زیادہ تمھیں چاہتا ہے ۔اتنا بے گانہ پن ،اتنی بے حسی ....جانتی ہو مجھ پر کیا بیتی ،کس طرح میں اپنی موت کا خواہاں رہا ۔امی جان اور عدیل کی کیا حالت ہے ۔ساری زندگی تم نے ان کا خیال رکھا تو کیا اب وہ بھی تمھارا خیال نہ رکھتے۔چلو میں تو بے حس،بے غیرت اور بے وفا ٹھہرا ۔مجھ پر تمھیں اعتبار نہیں تھا اپنی ماں پربھی اعتبار نہ کیا ۔“
اس مرتبہ کوئی جواب دیے بغیر وہ آنسو بہانے لگی ۔مجھ سے اس کے آنسو برداشت نہ ہوئے اگلے ہی لمحے میں اس کی پلکوں پر جھک گیا تھا ۔
”تم اپنے راجو کے پاس ہو گڑیا ،رونا کس بات کا ....دیکھو اس شب تاریک کی سحر ہو گئی ہے ۔ میں آگیا ہوں نااب تمھیں آنسو بہانے کی ضرورت نہیں ہے ۔پگلی میں ساری زندگی تمھارا خیال رکھ سکتا ہوں،۔تمھارا بوجھ ہے ہی کتنا کہ مجھے اٹھانے میں تکلیف ہو گی ۔پھول کا وزن تونہیں ہوتا ،خوشبو کب کسی پر گراں گزرتی ہے ،موسم بہار سے بھی بھلا آدمی تنگ پڑسکتا ہے ،آنکھیں بھی کبھی سرمے کے بوجھ سے تھکی ہیں ،خوشیوں نے کبھی کسی کی زندگی اجیرن کی ہے ،شب ِوصل کی طوالت بھی کسی کو محسوس ہوسکتی ہے، بتاﺅ میری جان بتاﺅ ۔کیا تمھیں میری محبت میں شبہ تھا یا میرے خلوص میں کوئی کمی نظر آئی تھی ۔“
کوئی جواب دیے بغیر اس نے اپنی بانہیں میرے گلے میں حمائل کیں اور جھجکتے ہوئے اپنے لرزتے لب میری پیشانی پر ٹیک دیے ۔ان لبوں کی حلاوت میری روح تک میں َسرائیت کر گئی تھی ۔کوئی بات کیے بغیر وہ اپنے جذبات کا اظہار کرتی رہی ۔
نہ جانے کس وقت گانے بجانے کی محفل اختتام پذیر ہوئی پھر دروازے پر دستک ہونے لگی اور ہوتی رہی مگر میں بیٹھا رہا ۔دستک دینے والے تھک کر لوٹ گئے تھے ۔صبح تک اس کا سر زانو پر رکھے میں بیٹھا رہا اور آذان کی آواز سن کر غسل خانے کی طرف بڑھ گیا ۔نماز کے بعد پھر دستک کی آواز سنائی دی میں نے کر دروازہ کھولا وہ قابل خان تھا ۔
”تم سے بات نہیں کرنا چاہتا ۔“
اس نے لجاجت سے کہا ۔”ذیشان بھائی، صرف ایک بات سن لیں ۔“
میں خاموشی سے زمین کو دیکھنے لگا ۔میری خاموشی سے شہ پا کر وہ گویا ہوا ۔
”یہ اس کا اپنا فیصلہ تھا ،اس نے مجھ سے قسم لی تھی کہ اگر میں نے اس کے بارے کسی سے بات کی تو وہ مجھے کبھی معاف نہیں کرے گی ۔میں نے اسے اپنی بہن کہا تھا اور چھوٹی بہن کی بات کو میں کیسے رد کرتا۔البتہ آپ تک تو میں نے بات پہنچا دی ہے نا ۔الفاظ میں نہ سہی مگر جو طریقہ بھی اپنایا ہے آپ تک اس کی خبر پہنچ گئی ہے نا ۔اب بھی ناراض ہو گے تو زیادتی کا ارتکاب کرو گے ۔“
”زنانہ کپڑوں کا ایک صاف جوڑا لے آﺅ۔ناشتا ہم تھوڑی دیر بعد کریں گے ۔“اس مرتبہ میں نے نارمل لہجے میں کہا ۔اس کی بات غلط نہیں تھی ۔سارا قصور پلوشہ ہی کا تھا وہ تو بس اس کا ساتھ دینے پر مجبور ہوا تھا ۔
میرا نارمل لہجہ سنتے ہی وہ خوشی سے بولا ۔”شکریہ ذیشان بھائی ۔میں بس ابھی کپڑے لاتا ہوں ۔“ میں اس کے انتظار میں وہیں دروازے پر ٹھہر گیا ۔اس کے گھر کی دیوار بیٹھک سے ملی ہوئی تھی ۔ دو تین منٹ بعد وہ کپڑوں کاایک نیا جوڑا لے کر آگیا ۔اس کے ہاتھ سے کپڑے لے کر میں نے دروازہ کنڈی کیا اور کمرے کی طرف بڑھ گیا ۔
وہ خاموش لیٹی چھت کو گھور رہی تھی ۔میں نے اسے بازﺅں میں بھر کر اٹھالیا ۔اس نے کوئی سوال نہیں کیا تھا کہ اسے کہاں لے جا رہا ہوں ۔ وہ پہلے والی پلوشہ لگ ہی نہیں رہی تھی ۔
غسل خانے میں جاکر میں نے اسے نہلایا ۔گرم پانی کا ڈرم رکھا ہوا تھا ۔ میں نے صابن کی پوری ٹکیہ ہی اس کے جسم پر رگڑ کر ختم کر دی تھی ۔وہ محجو ب اور شرمائی شرمائی سی مفعول بنی رہی ۔نہلا کر اسے بڑے تولیے میں لپیٹ کر کمرے میں لے آیا نئے کپڑے پہنا کر میں نے اسے دوتین تکیوں سے ٹیک لگا کر بٹھایا اور اس کے بالوں میں خوب تیل چپیڑکر کنگھی کرنے لگا ۔ اس کے چہرے پر مجھے بے پایاں سکون پھیلا نظر آرہا تھا ۔کنگھی کرتے ہوئے میں ہولے ہولے گنگنانے لگا....
لٹ الجھی سلجھا جا رے بالم ،میں نہ لگاﺅں گی ہاتھ رے....
وہ بے ساختہ متبسم ہو کر مجھے دیکھنے لگی ۔
”ہنس کیوں رہی ہو ؟“اس کی ناک کی پھننگ کو میں نے ہولے سے مروڑا ۔
”یہ لٹ تو جلد ہی کٹنے والی ہے ۔“
”تم ہاتھ لگا کر تو دیکھو ....“کنگھی کر کے میں نے کوشش کی کہ اس کے بالوں کا جوڑا باندھ سکوں مگر مجھے طریقہ نہیں آتا تھا ۔وہ کھلکھلا دی تھی ۔اس کی ہنسی دیکھ کر لگا جیسے ہر جانب بہار نے ڈیرے ڈال لیے ہوں ۔
”اسی لیے تو کہتی ہوں کہ نہ بال ہوں گے اور نہ آپ کو اتنی تگ و دو کرنا پڑے گی ۔“
میں اطمینان سے بولا ۔”تمھاری زلفیں سنوارنے کو ملازمہ رکھ لوں گا ۔“
”ایک بات مانیں گے ۔“وہ ایک دم سنجیدہ ہو گئی تھی ۔
میں شرارتی لہجے میں بولا ۔”اس قابل تو نہیں ہو کہ تمھاری کوئی بات مانی جائے لیکن سننے میں کوئی حرج نہیں ہے ۔“
میری آنکھوں میں دیکھتے ہوئے اس نے امید بھرے لہجے میں کہا ۔”آپ دوسری شادی کر لیں ۔“
”ٹھیک ہے ۔“میں نے اطمینان بھرے انداز میں سر ہلادیا تھا ۔
”میں مذاق نہیں کر رہی ۔“
میں نے ایک دم دھماکا کیا ۔”میں نے دوسری شادی کر لی ہے ۔“
”کیا ....“اس کے چہرے پر حیرانی ابھری ۔”کب ،کس سے ؟“
”اسی سے جو تمھیں بالکل بھی اچھی نہیں لگتی تھی ۔“
”اس کے لیے دوبارہ کشمیر کی سرحد عبور کر لی ۔“وہ ایک لمحے میں رومانہ تک پہنچ گئی تھی ۔مجھے اس کے لہجے میں دکھ کی جھلک نظر آئی تھی ۔
”نہیں ۔“میں نے نفی میں سر ہلایا۔”مجھے لگتا ہے مجھے زبردستی ہی وہاں بھیجا گیا اور اس کا میری زندگی میں آنا قدرت نے طے کر دیا تھا ۔“
اس مرتبہ وہ خاموش رہی تھی ۔دو تین لمحے اس کے بولنے کا انتظار کرنے کے بعد میں اپنے آخری مشن کی تفصیلات اس کے سامنے بیان کرنے لگا ۔وہ خاموشی سے سنتی رہی ....آخر میں میں کہہ رہا تھا ۔”پلوشے کیا تمھیں نہیں لگتا کہ مجھے اس تک زبر دستی بھیجاگیا تھا۔تمھاری موت کا ڈراما ،جینیفر کے بار بار شادی کی آفر کرنے پر بھی میرا انکار کر دینا ،یوں انڈیا کی جانب میرا پھسل کر گرنا اور پھر بغیر کسی ارادے کے وہاں پہنچنا ۔اور اب دیکھو جیسے ہی اس سے شادی ہوئی تم بھی مجھے واپس مل گئی ہو ۔کیا یہ تمام باتیں ظاہر نہیں کرتیں کہ اس شادی میں میری مرضی سے زیادہ قدرت کی منشا شامل تھی ۔“
”راجو ،صفائیاں کیوں رہے ہیں میری جان ۔مجھے بالکل بھی برا نہیں لگا ۔“اس نے بے اختیار ہو کر میرا ہاتھ تھام لیا تھا ۔دورازے پر دستک ہوئی اور میں اس کے ہاتھ کو لبوں سے لگا کر دروازے کی طرف بڑھ گیا ۔قابل خان ناشتا لیے کھڑا تھا ۔میں نے ایک طرف ہو کر اسے اندر آنے کا رستا دیا ۔وہ خاموشی سے کمرے کی طرف بڑھ گیا ۔ناشتے کے برتن میز پر رکھ کر اس نے پلوشہ کے سر پر ہاتھ رکھا جو قابل خان کو دیکھتے ہی سر پر دوپٹا ٹھیک کرنے لگ گئی تھی ۔
”میری بہن کتنی پیاری لگ رہی ہے ۔“قابل خان شفقت بھرے لہجے میں بولا تھا ۔
وہ پھیکی مسکراہٹ سے بولی ۔”بھیا آپ نے میری ساتھ گہری چال چلی ہے ۔“
”نہیں کوئی چال بھی نہیں چلی ۔“قابل خان صاف مکر گیا تھا ۔”تم نے خود کہا تھا کہ ذیشان کا ذکر تمھارے سامنے نہ کروں اور نہ تمھارے بارے ذیشان کو کچھ بتاﺅں ۔پوچھ لو کیا اسے تمھارے بارے اطلاع دی ہے ۔“
”مجھ پر بار بار زور کیوں دے رہے تھے کہ ان گلوکاروں کی موجودی میں میں گانا سناﺅں ۔ یہاں تک کہ سکینہ کو بھی آپ نے مجھ پر دھونس جمانے کا کہا ۔“سکینہ قابل خان کی بیٹی کا نام تھا جو قریبا پلوشے کی ہم عمر ہی تھی ۔
قابل خان نے صفائی دیتے ہوئے کہا ۔”وہ تو تمھاری زبان سے یہ گیت سن کر مجھے بہت اچھا لگا تھا ،میں نے کہا دوسرے لوگ بھی سن لیں کہ میری بہن کتنا اچھا گاتی ہے ۔اب مجھے کیا معلوم تھا کہ ذیشان بھائی آپ کی آواز کو پہچان لے گا ۔“
”اچھا مذاق ہے ۔“پلوشہ نے اثبات میں سر ہلایا ۔لیکن اس کی آواز سے خفگی کا اظہار نہیں ہو رہا تھا ۔
”تم پاگل ہو ،یقین کرو اگر میں ایسا نہ کرتا تو شاید تم چند ماہ ہی مزید گزار پاتیں اس کے بعد سچ مچ سپوگمائے کے پہلو میں قبر کھودنا پڑ جاتی ۔“یہ کہتے ہی اس نے ایک بار پھر اس کے سر پر ہاتھ رکھا اور یہ کہتے ہوئے باہر نکل گیا ۔کہ ....”ذیشان بھائی ،کھانے پینے کی طرف یہ بالکل ہی توجہ نہیں دیتی ہے ۔“
”فکر نہ کرو دوست ۔“اطمینان بھرے انداز میں کہتے ہوئے میں نے برتن اٹھا کر چارپائی پر رکھے اور خود اس کے ساتھ لگ کر بیٹھ گیا ۔وہ خاموشی سے میرے ہاتھ سے ناشتا کرنے لگی ۔
”امی جان کیسی ہیں ؟“وہ ناشتے کے بعد پوچھنے لگی ۔
”بڑے افسوس کی بات کہ اب وہ تمھاری امی نہیں رہیں ۔“
”کک....کیا ہوا؟“میری بات کا اس نے کوئی دوسرا مطلب لیا تھا ۔
میں اطمینان سے بولا ۔”مطلب یہ کہ اب وہ میری امی بن گئی ہیں ۔“
اس نے منھ بنایا ۔”تو ساس ماں کی جگہ ہی ہوتیں ہیں ۔“
”نہیں جی سچ والی امی جان بن گئی ہیں ۔انھوں نے ابوجان سے شادی کر لی ہے ۔“میں نے دھماکا کیا ۔
”م....مگر کیا ایسا ہو سکتا ہے ۔“اس کی حیرانی میں کئی گنا اضافہ ہو گیا تھا ۔
”بالکل ہو سکتا ہے ،مولوی صاحب سے مشورے کے بعد ہی یہ بابرکت کام سر انجام پایا ہے۔“
پلوشہ کے چہرے پر خوشی کے آثار نمودار ہوئے ۔”کتنی بڑی خوش خبری سنائی ہے راجو ۔“
میں نے حماقت کا ارتکاب کرتے ہوئے کہا ۔”اگر تم ہوتیں تو ضرور اس شادی میں رقص کرتیں ہیں نا ....“
اس کے ہونٹوں سے تیز سسکی برآمد ہوئی اور اس نے سر جھکا لیا تھا ۔اس کی آنکھوں سے نکلنے والوں آنسوﺅں نے مجھے بے چین کر دیا تھا ۔میں تڑپ کر آگے بڑھا اگلے ہی لمحے وہ میری آغوش میں تھی۔
”تم بالکل ٹھیک ہوجاﺅ گی ۔بھروسا رکھو میری جان میں تمھارا علاج کراﺅں گا ۔تم ایک بار پھر اپنے پاﺅں پر کھڑے ہو کر ویسی ہی بن جاﺅگی ۔“
”یہ ممکن نہیں ہے راجو ....ڈاکٹروں کی طرف سے صاف جواب سن کر ہی میں نے اتنا بڑا قدم اٹھایا تھا ۔جب ڈاکٹروں نے کہہ دیا کہ اب مجھے ساری زندگی وہیل چیئر یا بیساکھیوں کے سہارے زندگی گزارنا پڑے گی تبھی میں نے قابل بھائی کو کہا تھا کہ میری موت کی خبر آپ تک پہنچا دے ۔“
”پشاور کے ڈاکٹروں کی بات حرف آخر نہیں ہو سکتی چندا ،طب کی دنیا میں آئے روز کئی معجزات رونماہوتے ہیں ۔مجھے اپنے رب پر پورا بھروسا ہے کہ میری گڑیا بالکل ٹھیک ہوجائے گی ۔“ میں اسے آغوش میں بھر کر تسلیاں دیتا رہا ۔پھر اس کا ذہن بٹانے کے لیے میں اس کی کہانی سننے لگا ۔اس نے بھی کم و بیش وہی باتیں بتائیں جو اس سے پہلے مجھے سردار بتا چکا تھا ۔بس اتنا اضافہ کیا کہ جب اسے ہسپتال لے جایا گیا تو ڈاکٹروں نے اس کے باقی زخموں کا تو علاج کر دیا تھا لیکن ریڑھ کی ہڈی پر لگنے والی چوٹ کے بارے وہ تشویش میں مبتلا تھے ۔اور جب تمام ٹیسٹ وغیرہ کر لیے تو انھوں نے صاف جواب دے دیا تھا کہ پلوشہ کا ٹھیک ہونا ممکن نہیں تھا ۔وہ آپریشن کرکے اس کی ٹانگوں میں ہونے والی ہلکی سی حرکت کو بالکل ختم نہیں کرنا چاہتے تھے ۔انھوں نے کہا تھا کہ دوائیوں کے استعمال سے اس کی کمر کی تکلیف آہستہ آہستہ کم ہو جائے گی مگر وہ چل نہیں سکے گی ۔اس کے کمر سے نیچے کا حصہ بے کار ہو گیا تھا ۔ ٹانگوںمیں بس ذرا سا احساس بیدار تھا کہ جس کی وجہ سے وہ بہ مشکل زمین پر ٹانگیں لگا کر دو بیساکھیوں کی مدد سے تھوڑی بہت حرکت کر لیتی تھی۔قابل خان نے اس کی فطرتی ضروریات کی بجاآوری میں مدددینے کے لیے ایک عورت ملازمہ رکھ چھوڑی تھی ۔اس کا ارادہ یہی تھا کہ کبھی میرے سامنے نہیں جائے گی ۔ اور عدیل کے بڑا ہوے کا انتظار کرے گی جونھی وہ کسی قابل ہوا اسے وزیرستان میں بلا کر اسی کے پاس منتقل ہو جائے گی ۔
وہ بہ مشکل اپنی کہانی سنا کر فارغ ہوئی تھی کہ خوشحال خان وہاں پہنچ گیا ۔اس نے بھی قابل خان سے ملتی جلتی بات کر کے معذرت طلب کی تھی ۔
مزید کسی گلے شکوے کے بجائے میں نے اپنا مطمح نظر بیان کیا ۔”اچھا مجھے گھر تک جانے کے لیے کوئی کار وغیرہ کرائے پر مل جائے گی ؟“
خوش حال خان نے اثبات میں سر ہلا تے ہوئے کہا ۔”ٹانک تک قابل خان آپ کو اپنی کار میں چھوڑ آئے گا آگے جانے کے لیے وہاں سے کرایہ کی کار کا بندوبست کرنا پڑے گا کیوں کہ ہماری گاڑیوں کے کاغذات وغیرہ نہیں ہوتے ۔“
”میں ابھی جانا چاہوں گا ۔“مجھ سے مزید انتظار نہیں ہوپارہا تھا ۔
خوش حال خان سر ہلاتے ہوئے باہر نکل گیا ۔تھوڑی دیر بعد ہم قابل خان کی کار میں وانہ کا رخ کر رہے تھے ۔وانہ تک ہمیں شام ہو گئی تھی وہاں سے ٹانک تک پہنچتے ہوئے رات کے بارہ بج چکے تھے ۔میں عقبی نشست پر پلوشہ کا سر اپنی گود میں لیے بیٹھا تھا ۔اسے آرام پہنچانے کی غرض سے اس کی کمر کے نیچے میں نے نرم و ملائم کورین کمبل بچھا دیا تھا ۔
ٹانک سے تلہ گنگ کے لیے میں نے خصوصی کار کرائے پر لی اور قابل خان کو الوداع کہہ کر ہم چل پڑے ۔دوپہر دس بجے کے قریب ہم گھر کے سامنے اتر رہے تھے۔ ڈرائیور کو کرایہ ادا کر کے میں نے کمبل میں لپیٹ کر اس کے ہلکے پھلکے وجود کو اٹھایا اور گھر میں داخل ہو گیا ۔دسمبر کی آمد ہو چکی تھی ابو جان صحن میںچارپائی ڈال کر دھوپ سینک رہے تھے ۔امی جان اور پھوپھو دوسری چارپائی پر بیٹھی تھیں ۔امی جان اب اچھی خاصی پنجابی بول لیتی تھیں ۔روما بغیر چھت کے کھلے باورچی خانے میں گھسی چاے وغیرہ بنا رہی تھی ۔مجھے اندر داخل ہوتا دیکھ کر تمام میری جانب متوجہ ہوگئے تھے ۔ انھوں نے میرے بازوﺅں میں موجود پلوشہ کے وجود کو حیرانی سے دیکھا تھا ۔پلوشہ نے میری چھاتی میں سر چھپایا ہوا تھا ۔
قریب پہنچتے ہی میں نے کہا ۔”امی جان جگہ دیں ۔“پھوپھوجان اور امی جان نے فوراََ ہی چارپائی خالی کر دی تھی ۔
میں نے جھک کر آہستگی سے پلوشہ کو چارپائی پر لٹایا اس کا چہرہ نظر آتے ہی امی جان کے منھ سے زوردار چیخ نکلی ۔
”میری پلوشے ۔“وہ بے ساختہ اس سے لپٹ گئی تھی ۔روما بھی حیران ہو کرباورچی خانے سے نکل آئی تھی ۔وہ جذباتی ملاپ کافی دیر جاری رہا ۔پلوشہ کو دیکھ کر بھی مجھے روما کے چہرے پر پریشانی کے بجائے خوشی ہی نظر آئی تھی ۔بلا شک و شبہ وہ نہایت ہی مخلص لڑکی تھی ۔اسی اثناءمیں عدیل بھی آدھی چھٹی پر گھر پہنچ گیا تھا ۔اپنی باجی کو دیکھ کر وہ خوشی سے باﺅلہ ہوگیا تھا ۔ہمارے گھرانے کو ایک بار پھر بہت بڑی خوشی ملی تھی ۔
ظہر کی آذا ن سن کر ہمیں وقت کا گزرنے احساس ہوا ۔میں اور ابوجان مسجد کی طرف بڑھ گئے۔
٭٭٭
سہ پہر کو صحن میں سایہ اترتے ہی میں نے پلوشہ کو گود میں اٹھایا اور اسی کمرے لے جا کر سلا دیا جو جانے کب سے اپنے مکین کے لیے چشم بہ راہ تھا ۔
سیج کو دیکھ کر وہ ایک بار پھر رونے لگی تھی ۔
”پاگل نہیں بنتے گڑیا ۔“میں نے اسے ہلکے سے ڈانٹا۔
روما نے اس کے ساتھ بیٹھتے ہوئے اس کا ہاتھ تھاما۔اور پر خلوص لہجے میں بولی ۔”میری چھوٹی سی بہن بالکل ٹھیک ہو جائے گی ۔“
رات کو وہ مصر ہوئی کہ میں روما کے ساتھ جا کر سو جاﺅں ۔
میں اطمینان سے بولا ۔”ایک دن تمھارے ساتھ اور ایک دن اس کے ساتھ ۔“
وہ کراہی ۔”میں آپ کے کس کام کی ۔“
”گڑیا ،بکواس کی ضرورت نہیں ہے سمجھیں ۔“اسے ڈانٹ کر میں اس کے ساتھ لیٹ گیا ۔ رات بھر میں اس سے باتیں کرتا رہا تھا ۔صبح سویرے میں یونٹ جانے کے ارادے سے گھر سے نکل آیا تھا۔ سردار اور باقی دوستوں کو مل کر میں نے پلوشہ کی زندگی کی خبر دی تمام حیران رہ گئے تھے ۔تھوڑی دیر ان سے گپ شپ کر کے میں نے پلوشہ کی سک رپورٹ(فوجی کی فیملی وغیرہ کے علاج کے لیے بننے والا سرکاری فارم ) بنوائی اور واپسی کی راہ لی۔
رات کو میں روما کے ساتھ تھا ۔مگر گھنٹا بھر میرے ساتھ گزار کر وہ پلوشہ کے کمرے میں گھس گئی اور بقیہ رات اس کے ساتھ گزاری ۔ایک دن میں وہ پلوشہ کے بہت قریب آگئی تھی ۔پلوشہ ذرا چڑچڑی اور خفا خفا لگتی تھی۔ مگر روما بغیر ناک بھوں چڑھائے زبردستی اس کی خدمت میں لگی رہی ۔اب پلوشہ کو سنبھالنے والے کئی موجود تھے ۔قابل خان اس کے ساتھ جتنا بھی مخلص ہوتا اس کی ایسی خدمت نہیں کروا سکتا تھا ۔اس کی سگی ماں جو اس پر جان چھڑکتی تھی ،پھوپھوجان جسے اس نے پہلے ہی دن سے اپنی ساحرانہ شخصیت کے زیر اثر کر لیا تھا ،مخلص رومانہ جو اس کی زندگی کی خبر پاکر اتنا ہی خوش نظر آرہی تھی جیسے پلوشہ اس کی سگی بہن ہی تو ہو اور پھر میں خودکہ میرے لیے وہ سانس جتنا ہی اہم تھی ۔
اگلے دن میں نے اویس سے اس کی کار مانگی کیوں کہ اب مجھے پلوشہ کے ساتھ بار بارہسپتال جانا پڑتا ۔پلوشہ کے ساتھ امی جان اور پھوپھو بھی چل پڑی تھیں ۔روما نے بھی ساتھ چلنے کی خواہش کی مگر میں نے اسے منع کر دیا کہ گھر میں بھی کسی کی موجودی تو ضروری تھی ۔ایم ایچ راولپنڈی علاج کی جدید سہولیات سے مزین ہسپتال ہے ۔اگلے ایک دو ہفتے پلوشے کے مختلف ٹیسٹ ہوئے ۔مجھے کافی امید تھی لیکن جب ڈاکٹروں نے تمام رپوٹیں دیکھیں تو نفی میں سر ہلا کر ناکامی کا اظہا رکر دیا ۔میرے دل میں جیسے کوئی چیز ٹوٹ گئی تھی ۔کیا اب میں اپنی پلوشے کو کبھی چلتے ہوئے نہ دیکھ پاتا، کیا اب وہ ہمیشہ محتاجی کی زندگی گزارتی رہتی ،کیا چارپائی اس کا نصیب بن گئی تھی ۔
میرے چہرے پر چھائی مایوسی دیکھ کر اس نے سر جھکایا اور اس کی پیاری آنکھوں سے پانی کے قطرے ٹپکنے لگے ۔
میرا دل جیسے غم سے بھر گیا تھا ۔گھر جا کر میں نے اسے کمرے میں لٹایا ،لیکن میرے پاس اسے تسلی دینے کے لیے کوئی لفظ موجود نہیں تھا ۔روما ساتھ بیٹھ کر اس کی دل جوئی میں لگ گئی تھی ۔
میں دل گرفتہ سا گھر سے نکل آیا ۔اویس کے پاس جا کر میں اسے اپنا دکھ سنانے لگا ۔میں اپنی پلوشے کی حالت پر رو رہا تھا ۔باتوں باتوں میں وہ کہنے لگا ۔
”یار، ویسے ضروری تو نہیں کہ پاکستان میں علاج نہ ہو سکے تو باہر کے ڈاکٹر بھی ناکام ہو جائیں ۔“
اس کی بات سن کر ایک دم میرے دماغ میں جینیفر کی صورت ابھری اگلے ہی لمحے میں موبائل فون نکال کر اس کا نمبر ڈائل کر رہا تھا ۔اس وقت سہ پہر کے چار بج رہے تھے گویا امریکہ میں صبح سات بجے کا وقت ہونا تھا ۔
دوسری تیسری گھنٹی پر جینی کی نیند میں ڈوبی ہوئی آواز آئی ۔”ذی ،اتنا سویرے کیوں کال کی۔“
میں نے سب سے پہلے اس کے کانوں میں خوش خبری انڈیلی ۔”جینی ،جانتی ہو پلوشہ زندہ ہے ۔“
”کیا ،کیسے ،سچ ،مبارک ہو ۔“اس کی آواز سے غنودگی غائب ہو گئی تھی ۔
”ہاں جینی ،مگر اس کے ساتھ پیش آنے والے حادثے میں اس کی ریڑھ کی ہڈی میں گہری چوٹ لگی ہے اب وہ بیساکھیوں کے سہارے چلتی ہے ۔یہاں پاکستان میں ڈاکٹروں نے اس کے علاج سے جواب دے دیا ہے ۔“
اس نے مخلصانہ مشورہ دینے میں ایک لمحہ نہیں لگایا تھا ۔”ذی ،اسے امریکہ لے آﺅ ،مجھے امید ہے وہ ٹھیک ہو جائے گی ،بلکہ ایسا کرو تم فوراََ ہی اس کی رپورٹس کی تصاویر بنا کر مجھے” وٹس اپ“ کرو دو میں یہاں ماہرین سے مشورہ کرتی ہوں ۔“
میں بس دس منٹ میں تمام رپورٹوں کی تصاویر بھیج دیتا ہوں ۔“پرجوش انداز میں کہتے ہوئے میں نے رابطہ منقطع کیا اور گھر کی طرف بھاگ پڑا ۔اویس مجھ سے پوچھتا رہ گیا تھا کہ میں نے انگریزی میں کیا” گٹ مٹ“ کی ہے مگر میرے پاس اس کے سوال کا جواب دینے کا وقت نہیں تھا ۔
گھر جاتے ہی میں نے موبائل فون کے کیمرے سے تمام رپورٹس کی تصاویر بنائیں اور جینی کو بھیج دیں ۔اب مجھے اس کے جواب کا انتظار تھا ۔
جاری ہے
 

قسط نمبر 75
آخری قسط
ریاض عاقب کوہلر
دودنوں بعد ہی جینی نے کال کر کے بتادیا کہ ڈاکٹر سو فیصد تو نہیں البتہ کافی پر امید ہیں ۔باقی حتمی فیصلہ وہ ایکسرے رپوٹس اور مریض سے مل کر کریں گے ۔میں نے فوراََ ہی امریکہ جانے کی تیاری شروع کر دی ۔پہلے مرحلے میں تو میں نے یونٹ جا کر کمانڈنگ آفیسر سے مل کر ساری صورت حال ان کے سامنے رکھ دی ۔پہلے والے کمانڈنگ آفیسر ملک عرفان صاحب چلے گئے تھے ۔ان کی جگہ سیکنڈ ان کمانڈ وسیم صاحب نئے کمانڈنگ آفیسر بنے تھے ۔میرا مسئلہ سنتے ہی انھوں نے میری دو ماہ اور چھٹی کر دی تھی اور اس کے ساتھ ہی انھوں کہہ دیا کہ اگر مزید بھی ضرورت ہوئی تو وہ مجھے چھٹی ضرور دیں گے ۔پاک آرمی میں ویسے تو زیادہ سے زیادہ اکٹھی چھٹی دو ماہ کی مل سکتی ہے ،البتہ کسی خصوصی معاملے میں چھے مہینے اور سال تک بھی کمانڈنگ آفیسر اپنے جوان کو چھٹی پر رکھ سکتا ہے ۔پلوشہ کا پاسپورٹ بنانے سے پہلے شناختی کارڈ بنانے کا مرحلہ تھا ۔وہ مشکل سے ابھی اٹھارہ سال کی ہوئی تھی ۔ اس ضمن میں میجر اورنگ زیب صاحب اور وسیم صاحب نے میری بڑی مدد کی تھی ۔میں نے دونوں بیویوں کے شناختی کارڈ بنوا لیے تھے ۔ میجر اورنگ زیب نے ہنستے ہوئے کہا تھا....
”یار ،تمھیں شادی کرنے کے لیے پاکستان میں کوئی لڑکی نہ ملی ۔“
اس کی بات واقعی حقیقت تھی کیوں کہ روما کا تعلق مقبوضہ کشمیر سے تھا،پلوشے وزیرستان کی تھی ، گلگارے کا تعلق افغانستان سے تھا تو جینیفر امریکن تھی ۔
میں مزاحیہ انداز میں بولا ۔”سر!....ایک شادی گاﺅں سے بھی کی تھی جس کی وجہ سے اب تک سر جھکاہوا ہے ۔“
انھوں نے مجھے تسلی دیتے ہوئے کہا ۔”غلطی اس کی تھی ،تمھارا سر کیوں جھکا ہوا ہے ۔“
میں نے فلسفیانہ انداز میں کہا ۔”سر!.... ہمارے ہاں عورت کی بے راہ روی مرد کے کھاتے میں جاتی ہے ۔“
”جانے دو یار گزری باتوں کو، اس کے بدلے اللہ پاک نے تمھیں دو بیویاں دے دی ہیں ۔ یقین مانو ہم تو ترستے ہی رہے ہیں دوسری شادی کے لیے ۔“
میں نے موبائل فون جیب سے نکالتے ہوئے کہا ۔”میرا خیال ہے تہمینہ باجی کو کال کرنا پڑے گی ۔“
”یہ دیکھ رہے ہو ۔“انھوں نے دونوں ہاتھ جوڑے۔”آفیسر میں آپ کے لیے ہوں یار۔“اور میں مسکراتا ہوا ان کے آفس سے باہر آگیا ۔
میری ان ساری کارروائیوں سے پلوشے ناواقف نہیں تھی ۔غیر متوقع طور پر وہ پرسکون ہو گئی تھی ۔روما اور اس کی خوب بن رہی تھی ۔روما کے خلوص کے سامنے اس ہٹ دھرم نے ہتھیار ڈال دیے تھے ۔ایک دن میں پلوشہ کے کمرے میں داخل ہوا تو اسے روما سے کشمیری زبان میں بات کرتے دیکھ کر حیران رہ گیا تھا ۔مختلف زبانوں کو سیکھنے کی اس میں خاص صلاحیت موجود تھی ۔
”جب روما اردو میں بات کر سکتی ہے تو کشمیری سیکھنے کی کیا ضرورت تھی ۔“میں پلوشہ کو چھیڑے بنا نہیں رہ پایا تھا ۔
وہ اطمینان سے بولی ۔”تاکہ آپ کی موجودی میں ہم خفیہ باتیں کر سکیں ۔“
”اچھا مجھ سے بھی کچھ چھپاتی ہو ۔“اس کی ناک کی پھننگ کو پکڑ کر میں نے آہستہ سے مروڑا۔
وہ جھٹ بولی ۔”جی ہاں، بہت ساری باتیں۔“
”گندی بچی ۔“میں اس کے ماتھے پر جھک گیا ۔یوں بھی تمام گھر والے بشمول اس کے چھوٹے بھائی عدیل کے ہر وقت اس کی دل جوئی میں لگے رہے تھے ۔ حقیقی معنوں میں وہ گھر بھر کی لاڈلی تھی ۔اس ضمن میں روما تو حد ہی عبور کر جاتی تھی ۔شاید سگی بہن بھی پلوشے کے اتنے نخرے برداشت نہ کرتی جو روما کرتی تھی ۔لگتا ہی نہیں تھا کہ وہ سوکنیں ہیں ۔اور ایسا روما کے خلوص کی وجہ سے ممکن ہو پایا تھا ۔ ورنہ پہلے دنوں میں پلوشہ اس سے کھنچی کھنچی رہتی تھی ۔میں ایک دن پلوشہ کے ساتھ ہوتا اور دوسرے دن روما کے ساتھ ۔اور اپنی باری پر روما میرے ساتھ گھنٹا ڈیڑھ بتا کر پلوشہ کے کمرے میں گھس جاتی ۔اس کے بعد رات بھر وہ گپیں ہانکتیں یا سگی بہنوں کی طرح اکٹھے سو جاتی تھیں ۔
ایک رات میں نے روما کے بالوں میںانگلیاں پھیرتے ہوئے کہا ۔”جانتی ہو اگر مجھے پتا ہوتا کہ تمھارا دل تمھارے چہرے سے بھی زیادہ خوب صورت ہے تو پہلی ہی بار تمھیں شوہر سے طلاق دلوا کر ساتھ لے آیا ہوتا ۔“
وہ ناز سے بولی ۔”جھوٹے اجنبی ،جھوٹ بولنا کب چھوڑیں گے ۔“
میں مسکرایا ۔”اچھا اب بھی اجنبی ہوں ۔“
وہ ہٹ دھرمی سے بولی ۔”ہمیشہ رہیں گے ۔“
میں نے اس کے پیٹ پر ہاتھ رکھ کر چھیڑا۔”جب یہ آجائے گا تب بھی ۔“
وہ مجھے چڑاتے ہوئے بولی ۔”ہاں ....بھول گیا ہے جب میں نے پہلی بار نام پوچھا تھاتو جناب نے کیا فرمایا تھا کہ آپ مجھے اجنبی کہہ سکتی ہو ۔اب وہی اجنبی کہوں گی ۔“
”اگر میں معذرت کروں تو ....؟“
”یہ معذرت وغیرہ اپنے پاس رہنے دیں ۔اور میں خفگی سے نہیں کہتی ایسا کہنا مجھے اچھا لگتا ہے ہمیشہ اجنبی کے نام ہی سے آپ کو سوچا ہے ۔“ قریب ہوکراس نے میرے سینے پر سر رکھ دیا ۔ اور میں آہستہ آہستہ اس کی ریشمی زلفوں میں ہاتھ پھیرتا رہا ۔
٭٭٭
شناختی کارڈ کے بعد میں نے پلوشے کا پاسپورٹ بنوایا اور امریکن ایمبسی میں ویزے کی درخواست دے دی۔جینی نے اپنے تعلقات بروے کار لاتے ہوئے دو تین دن کے اندر ہم دونوں کا ویزا لگوا دیا تھا ۔یوں بھی ہم علاج کے سلسلے میں امریکہ جا رہے تھے جس کی وجہ سے کوئی خاص رکاوٹ سامنے نہیں آئی تھی ۔ایک دن ہم دونوں ہوائی جہاز میں بیٹھ رہے تھے ۔طویل پرواز کے بعد ہم نیویارک ائرپورٹ پر اترے جینی اپنے شوہر کے ہمرا ہ ہماری منتظر تھی ۔شوہر کی موجودی کو کسی خاطر میں نہ لاتے ہوئے اس نے گلے سے لگ کر بے باکی سے میرے دونوں گالوں کو چوما اور پھر پلوشہ کی طرف متوجہ ہو گئی۔
”میری بے بی کیسی ہے ۔“اس نے وہیل چیئر پر بیٹھی پلوشہ کا چہرہ ہاتھوں میں بھر کر ماتھے پر بوسا دیا ۔
پلوشہ معصومیت سے بولی ۔”ساری رپوٹیں تو راجو نے بھیج دی تھیں ۔اب تک ویسی ہی ہوں۔“اور جینی کھل کھلا کر ہنس دی ۔
اس کے شوہر کو دیکھ کر میں حیران رہ گیا تھا ۔اس نے ایک سیاہ فام سے شادی کی تھی ۔اس کا نام پال کلفٹن تھا ۔میرے ساتھ معانقہ کرتے ہوئے اس نے سرگوشی کی ۔
”ذیژان برادر،شکریہ کہ تم نے جینی جیسی حسینہ کو میرے لیے چھوڑ دیا ۔“وہ امریکی تھا اور ان کی تہذیب میں ایسی کوئی بھی رقیبانہ جلن موجود نہیں ہے ۔اپنی بیوی کا مجھ سے لپٹنا اور میرے بوسے لینا اس کے لیے عام روز مرہ تھی ۔اسے یہ شرم نہیں تھی کہ میں اس کی بیوی کا پرانا محبوب تھا بلکہ وہ اس بات پر خوشی کا اظہا رکر رہا تھا کہ میں نے اتنی خوب صورت لڑکی کو اس کے لیے چھوڑ دیا تھا ۔
اس کی بے تکلفی کو دیکھتے ہوئے میں نے بھی ویسا ہی انداز اپنایا تھا ۔”ویسے اتنے وسیع ملک میں جینی کو تم ہی ملے ہو ۔“
”ہا....ہا....ہا۔“اس نے بلند بانگ قہقہہ لگایا ۔”جینی کہتی ہے کہ میری شکل تم سے ملتی جلتی ہے ۔“
”جینی ۔“میں جینیفر کی طرف مڑا ۔”اگر اس کی موخّر الذکر بات درست ہے تو یہ بات ہماری دوستی کو ہمیشہ کے لیے ختم کر سکتی ہے ۔“
پال نے ایک اور قہقہہ لگایا ۔جینی نفی میں سر ہلاتے ہوئے بولی ۔”نہیں شکل کی بات تو میں نے نہیں کی تھی ،میں نے کہا تھا کہ پال تمھاری طرح جھوٹ بولتا ہے ۔اور اس کا ثبوت یہ ابھی جھوٹ بول کر دے چکا ہے ۔“
میں ترکی بہ ترکی بولا ۔”جھوٹا ہونا برداشت کر لوں گا ۔مگر یہ شکل کی مماثلت والی بات بالکل بھی قابل قبول نہیں ہے ۔“
وہاں سے ہم ان کی رہائش گاہ میں پہنچے ۔ہماری آمد کا سنتے ہی جینی نے اپنے فرج وغیرہ میں چکن ،گائے اور بکرے وغیرہ کا گوشت بھروا لیا تھا ۔
پال واقعی ہی اس سے بے پنا ہ محبت کرتا تھا ۔اگلی صبح سے ہماری ڈاکٹروں کے پاس آمدورفت شروع ہو گئی تھی ۔میرے استاد کرنل جیمس میتھونی بھی افغان کے محاذ سے انھی دنوں لوٹے تھے ۔جیمس صاحب اور جینیفر نے ہر ہر قدم پر میری مدد کی تھی ۔ان کے تعلقات میرے بہت کام آئے تھے ۔ اس معاملے میں پال بھی پیچھے نہیں رہا تھا ۔نیویارک میں رہائش کا مسئلہ یوں بھی جینی کی وجہ سے حل ہو گیا تھا ۔ جہاں میرے دس روپے خرچ ہوتے وہاں ان لوگوں کی وجہ سے پانچ ہی سے کام نبٹ گیا تھا ۔پیسوں کی میرے پاس کمی نہیں تھی ۔ایک لاکھ ڈالر تو امریکنوں کے دیے ہوئے میرے اکاﺅنٹ میں موجود تھے ۔ پلوشہ کے علاج کے لیے تو میں اپنی تمام جائیداد بھی بیچ سکتا تھا ۔اپنی جان گروی رکھ کر بھی اس کا علاج کروا سکتا تھا ۔
ابتدائی رپوٹس دیکھتے ہی ڈاکٹروں نے مجھے امید دلا دی تھی ۔اور امریکہ پہنچتے ہوئے ہمیں مہینا ہونے والا تھا جب پلوشے کی کمر کا آپریشن ہوا ۔وہ آپریشن ڈاکٹروں کے ایک پینل نے کیا تھا۔اس میں آرتھوپیڈک،نیرو سرجن ،ایل ایس سپائن وغیرہ کے ماہر موجود تھے ۔ طب کے متعلق میں نہ تو اتنی ٹیکنیکل باتیں میں جانتا ہوں اور نہ ان کے درج نہ کر نے سے کہانی پر کوئی اثر پڑے گا ۔بلکہ الٹا یہ باتیں قارئین کی اکثریت کو بور کر دیں گی۔اس لیے میں علاج کی تفصیل سے پہلو تہی کروں گا ۔
آپریشن کے متعلق میں نے گھر بات کر کے بھی بتا دیا تھا ۔تمام مصروفِ دعا ہو گئے تھے ۔نہ جانے کیوں مجھے روما کی دعاﺅں پر سب سے زیادہ بھروسا تھا ۔اسے میں نے خصوصی طور پر دعا مانگنے کی تاکید کی تھی ۔
آپریشن کافی دیر جاری رہا تھا ۔اس دوران میں مسلسل ہی آپریشن تھیٹر کے سامنے ٹہلتا رہا ۔ جینی اور پال بھی میرے ساتھ ہی موجود تھے ۔مجھے معلوم تھا کہ جینی نے واپس نہیں جانا تھا ۔اس وجہ سے اس کے بجائے میں نے پال کو کہا ۔
”میرا خیال ہے آپ کو گھر جا کر آرام کرنا چاہیے ۔“
اس نے مسکراتے ہوئے کہا ۔”پاگل تو نہیں ہوں جوتمھیں جینی کے ساتھ اکیلا چھوڑ کر چلا جاﺅں ۔“وہ ماحول وغیرہ دیکھے بغیر ہر وقت ایسے ہی مذاق کرتا رہتا تھا ۔
”کیا مجھ پر اعتبار نہیں ہے ۔“
وہ اطمینان بھرے لہجے میں بولا ۔”ہے ،مگرجینی پر نہیں ہے ۔“
جینی تپتے ہوئے بولی ۔”اگر تم اگلے ایک منٹ میں غائب نہ ہوئے تو میں سچ میں ذی کے ساتھ کسی کمرے میں بند ہو جاﺅں گی ۔“
پال فوراََ ہی کان دباتے ہوئے وہاں سے بھاگ پڑا ۔جینی مسکرا تے ہوئے زیر لب بولی ۔ ”گدھا ۔“مجھے بھی ہنسی آگئی تھی ۔
اور پھر اللہ کے فضل وکرم اور تمام کی دعاﺅں سے پلوشے کا کامیاب آپریشن ہو گیا ۔ڈاکٹر نے پلوشہ کو پندرہ دن تو مکمل طور پر بیڈ پر لیٹنے کا حکم دیا تھا ۔اس دوران اس کی دواﺅں اوردوسری ضروریات کا میں نے ہر لمحہ خیال رکھا تھا ۔کبھی کبھی وہ میرا ہاتھ تھام کر آنکھوں سے لگاکر اس پر اپنے یاقوتی لب رکھ کر روپڑتی ۔اور میں اسے بہلانے لگ جاتا ۔
پندرہ دن بعد ڈاکٹر کی ہدایات پر پلوشے نے ڈرتے ڈرتے بیڈ سے اٹھنے کی کوشش کی اور پھر میرا سہارا لے کر کھڑی ہو گئی ۔اس لمحے اس کے چہرے پرمجھے ویسی ہی خوشی نظر آئی تھی جب مجھ سے نکاح کرتے وقت اس کے چہرے سے چھلک رہی تھی ۔اور پھر آہستہ آہستہ دو تین قدم لے کر اس نے میرے گلے میں بانہیں ڈال کر رونا شروع کر دیا ۔
اس کا سرسہلاتے ہوئے میں نے پیار بھرے لہجے میں کہا ۔”کہا تھا نا میری گڑیااللہ پاک کے حکم سے ٹھیک ہو جائے گی ۔“
ڈاکٹر نے مجھ سے مصافحہ کر کے مبارک باد دی ۔میرے بعد جینی نے پلوشہ کو گلے سے لگا کر بہت سا پیار کیا تھا ۔
پلوشہ نے فوراََ ہی گھر کا نمبر ملا کر تمام کو یہ خوش خبری سنائی تھی ۔مجھ سب سے زیادہ حیرانی اس بات پر ہوئی تھی کہ اس کی کال امی جان نے وصول کی تھی اور انھیں یہ خبر بتانے کے بجائے اس نے سب سے پہلے رومانہ سے بات کرنے کی خواہش کا اظہار کیا تھا ۔اور سب سے سے پہلے روما ہی کو یہ خوش خبری سنائی تھی ۔
رات کو میرے بازو پر سر رکھ کر وہ ہولے سے بولی ۔”راجو جانتے ہوئے آپریشن سے پہلے میں نے کیا دعا مانگی تھی ۔“
”بتاﺅ ذرا ۔“میں نے دلچسپی ظاہر کی ۔
”میں نے کہا یا اللہ پاک ،اگر میں ٹھیک ہو گئی تو رومی باجی کو ہمیشہ سپوگمائے جتنا پیار کروں گی۔ اور دیکھ لو اللہ پاک نے میری دعا قبول کر لی ۔“رومانہ کو صرف میں روما کہتا تھا ۔باقی تمام اسے رومی کہہ کر بلاتے تھے ۔
”تو اسی لیے سب سے پہلے اسی کو یہ خوش خبری سنائی ۔“
”ہونہہ!....“اس نے اثبات میں سر ہلادیا۔
”تو اب کیا ارادہ ہے ۔“
وہ پر عزم لہجے میں بولی ۔”ان کی ہر بات مانوں گی ،جو کہیں گی عمل کروں گی ۔“
٭٭٭
اگلے تین ماہ بھی ہم امریکہ ہی میں رہے تھے ۔ کیوں کہ آپریشن کے بعد بھی کئی مراحل بقایا تھے۔ اور پھر ایک دن ڈاکٹروں نے ہمیں واپسی کی اجازت دے دی تھی ۔پلوشے اب بڑی حد تک ٹھیک ٹھاک تھی ۔اب اسے کسی کے بھی سہارے کی ضرورت نہیں رہی تھی ۔ڈاکٹروں نے سال بھر کے لیے اسے وزن اٹھانے ،بھاگنے دوڑنے اور مشقت والے کاموں سے منع کیا تھا ۔ان کے مطابق اگلے چند ماہ میں پلوشہ نے بالکل تندرست ہو جانا تھا ۔اور اس کے بعد اسے کسی پرہیز کی ضرورت نہیں تھی ۔
رات کے کھانے پر جینی مجھے اداس نظر آئی ۔
”میں نے خلوص دل سے میاں بیوی کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا تھا کہ ان کا وہ احسان بھلائے جانے کے قابل نہیں ہے ۔“
پال سنجیدگی سے بولا ۔”اگر میرا ذرا سا بھی احسان سمجھتے ہو تو اس کا بدلہ چکاتے ہوئے جانا ۔“
”کیسے ؟“ہر وقت مذاق کرنے والے پال کا سنجیدہ لہجہ مجھے کافی عجیب لگا تھا ۔
”ایک تو جینی کو کہہ دو کہ اپنے موبائل فون کی سکرین پر تمھاری تصویر ہٹا کرمیری تصویر لگادے۔ دوسرا مجھے ایک بے بی چاہیے جبکہ محترمہ نے پانچ سال بعد کی تاریخ دے رکھی ہے ،تیسرا یہ دوستوں کی محفل میں تمھاری تعریف نہیں کرے گی ،چوتھا نوکری چھوڑ کر میری کمپنی جوائن کرے گی اور آخری اس کے بعد مجھے طلاق دینے کی دھمکی بالکل نہیں دے گی۔“اس نے سنجیدہ لہجے میں پھلجڑیاں چھوڑیں۔ پلوشے کے منھ سے قہقہے ابل پڑے تھے ۔جبکہ جینی پال کو غصے سے گھورنے لگی ۔
”یہ دیکھو ۔“جینی نے اپنا موبائل فون میری جانب بڑھایا ۔جس پر پال کی مسکراتی ہوئی تصویر نظر آرہی تھی ۔
میں نے موبائل فون کی سکرین پال کی جانب سیدھی کی ۔”یہ کیا ہے برادر۔“
وہ فوراََ بولا ۔”یقینا اس نے ابھی لگائی ہے ۔“
میں نے کہا ۔”چلیں ایک بات تو پوری ہو گئی ہے نا ۔“
”ہاں مگر یہ نہ ہو ،کہ ادھر تم لوگ جہاز میں بیٹھو اور ادھر میری تصویر بھاپ کی طرف اس سکرین سے اڑ جائے ۔“
میں جینی کو مخاطب ہوا ۔”جی !....نوکری والی بات تو تم ضرور مانوگی ۔“
جینی نے منھ بنایا ۔”میں کرنل بننے والی ہوں ۔“
پال فوراََ بولا ۔”جتنی تنخواہ آرمی سے لیتی ہو اس سے دگنی دوں گا ۔“پال خود بہت بڑے بزنس کا مالک تھا ۔اس کے باوجود وہ مجھے گھر میں اکثر خود کام کرتا نظر آتا ۔
”ٹھیک ہے ۔“غیر متوقع طور پر جینی نے حامی بھر لی تھی ۔
”ہرّا....“پال نے نعرہ بلند کیا ۔
میں نے کہا ۔”میرا خیال ہے کافی ہو گیا ۔“
پال جلدی سے بولا ۔”بے بی والی بات ۔“
اسے کڑے تیوروں سے گھورتے ہوئے جینی مجھے مخاطب ہوئی ۔”ویسے تمھارے مذہب میں ایک مرد چار شادیاں کر سکتا ہے اور تم نے صرف دو کی ہیں ۔“یہ کہتے ہی وہ پلوشے کو بولی ۔”کیا خیال ہے پیلاوشہ ، مجھے برداشت کرلو گی ۔“
پلوشہ مسکرائی ۔”اب تو مجھے تم سے پیار ہو گیا ہے ۔“
پال فوراََ ہی پلوشہ کو مخاطب ہوا ۔”دیکھو چھوٹی لڑکی ، کالا ہو یا گورابھائی ،بھائی ہوتا ہے ۔“
جینی اچانک ہتھیار ڈالتے ہوئے بولی ۔”اچھا ساری شرطیں منظور ہیں ،اگر ذی اور پیلاوشہ ہمارے ساتھ ایک ہفتہ اور گزار لیں ۔“
ایک دم مجھے محسوس ہو گیا کہ وہ تمام منصوبہ انھوں نے ہمیں چند روز روکنے کے لیے بنایا تھا اور پال یہ جانتے ہوئے بھی کہ جینی مجھ سے محبت کرتی ہے اس منصوبے میں بیوی کا حامی بن گیا تھا ۔
میں نے پلوشہ کی جانب دیکھا اسے گھر جانے کی بہت جلدی تھی ۔مگر جینی کی خواہش کو نہیں ٹھکرا سکی تھی ۔منھ بسورتے ہوئے بولی ۔”آپ نے مجھے امریکہ تو گھمایا ہی نہیں ہے ۔“
”پیلاوشہ زندہ باد ۔“جینی نے اسے بے ساختہ بانہوں میں بھر لیا تھا ۔اگلا ہفتہ بھی ہم نے ان مخلص میاں بیوی کے ساتھ گزارا۔ہمارے واپسی کے ٹکٹ بھی انھوں نے کرائے تھے ۔اور پھر ایک دن ہم تحائف سے لدے پھدے گھر وپس لوٹے ۔پلوشہ کو اپنے پاﺅں پر چلتے دیکھ کر تمام کے چہرے خوشی سے گلنار ہو گئے تھے ۔
واپس آکر میں نے چند دن گھر گزارنا ضروری سمجھے تھے کیونکہ روما مجھے خوش خبری سنانے والی تھی ۔انھی دنوں گلگارے کی کال بھی مجھے موصول ہوئی ۔پلوشہ کے بارے جان کر وہ خوشی سے کھل اٹھی تھی ۔اسے اللہ پاک نے اپنی رحمت سے نوازا تھا جس کا نام اس نے پلوشہ رکھا تھا ۔میں پلوشہ کو اس کی کہانی سنا چکا تھا ۔پلوشہ سے کال پر بات کر کے گلگارے نے فوراََ ہی اسے گھر آنے کی دعوت دے دی تھی۔ مجبوراََ مجھے اگلی چھٹی پر گلگارے کے گھر جانے کا وعدہ کرنا پڑا ۔امریکہ سے واپسی کے ایک ہفتے بعد مجھے اللہ پاک نے بیٹے کی نعمت سے نوازا۔جس کا نام پلوشہ نے عبداللہ رکھا تھا ۔اس کی ماں سے زیادہ پلوشہ خوش تھی ۔وہ صرف دودھ پینے کے لیے ہی ماں کے پاس جاتا ورنہ ہر وقت پلوشہ نے اسے اٹھایا ہوتا۔پلوشہ کے رخساروں کی سرخی لوٹ آئی تھی ۔اس کا شاداب جسم پہلے سے بھی صحت مند ہو گیا تھا ۔اور لمبے بال تو گویا ....
ہم ہوئے تم ہوئے کہ میر ہوئے
اس کی زلفوں کے سب اسیر ہوئے
کے مصداق سب پر اپنا جادو چلاتے رہتے تھے ۔اسے اب تک بالوں کی مینڈھیاں بنانانہیں آتی تھیں ۔ یہ کام روما ہی کو کرنا پڑتا ۔وہ اس کے بالوں میں کنگھی کر کے پراندہ باندھ دیتی ۔ایک دن میں نے پلوشہ کے سامنے ہی روما کو کہا کہ ....
”تم نوکر تو نہیں ہو کہ ہر وقت اس کی خدمت میں لگی رہتی ہو ۔اب یہ بچی نہیں رہی اسے خود ہی اپنے بال بنانے چاہئیں ۔“
پلوشے بے پروائی سے بولی ۔”توکیا ،میں سر پر استرا پھروا لوں گی ۔“
روما اسے ساتھ لپٹاتے ہوئے بولی ۔”میری گڑیا کو ضرورت ہی کیا ہے اپنے کام کرنے کی ۔ اس کی روما باجی موجود ہے نا ۔“رومانہ کو تمام رومی کہتے تھے صرف میں روما کہتا اور میری نقل میں وہ خود کو روما ہی کہا کرتی تھی ۔
”سن لیا ۔“پلوشے نے زبان نکال کر مجھے چڑایا اور میں کان دبا کر خاموش ہو گیا ۔
سردار اور مریم بھابی (لی زونا)بھی عبداللہ کی پیدائش پر میرے گھر آئے تھے ۔مریم ابھی اچھی خاصی اردو اور پشتو سیکھ گئی تھی ۔میرے پوچھنے پر وہ ہنستے ہوئے بولی ۔
”ذیشن بھائی ،پشتو اور اردو اس لیے سیکھنا پڑی کہ سردار کی انگریزی اب بھی ویسی ہی ہے ۔“ سردار کے بیٹا سلطان خان نے اماں ،ابا کہنا سیکھ لیا تھا ۔وہ مریم سے بہت زیادہ مانوس تھا ۔بلکہ ایسے جیسے وہ اس کی سگی ماں ہی تو ہو ۔
اسی رات روما میرے بالوں میں انگلیاں پھیرتے ہوئے کہہ رہی تھی ۔”ایک بات مانیں گے۔“
”پہلے کبھی ناں کی ہے ۔“
وہ لجاجت سے بولی ۔”ایک کار خرید لو نا ۔“
”سچ سچ بتاﺅیہ تمھیں کس نے کہا ہے ۔“میں نے نظریں اس کے چہرے پر گاڑ دیں ۔“
وہ صاف گوئی سے بولی ۔”پلوشے کہہ رہی تھی ۔“
”تو وہ خود کہے نا۔“
”اسے شرم آرہی ہے ۔کہہ رہی تھی کہ پہلے ہی اس کے علاج پر اتنا خرچہ آیا ہے ،کار کا سن کر آپ خفا نہ ہو جائیں ۔“
”اور اس کی روما باجی نے کہا ہو گا ،کہ وہ فکر نہ کرے روما اسے کار خرید کر ضرور دے گی ۔“
”ہاں کہا ہے تو ....“وہ ایک دم بگڑ گئی تھی ۔
میں فوراََ ہار مانتا ہوا بولا ۔”ٹھیک ہے یار، لڑتی کیوں ہو ۔“
”اگر آپ نہیں لے کر دیں گے تو میں ابوجان سے بات کر لوں گی ۔“وہ دونوں میرے والد کو ابوجان ہی کہتی تھیں ۔
میں نے کہا ۔”کہا تو ہے کہ لے دوں گا ۔“
”جھوٹا اجنبی ۔“منھ بناتے ہوئے اس نے میرے کندھے پر سر رکھ دیا ۔
دوسرے دن میں نے اکیلے میں پلوشے کے کان سے پکڑا ۔”روما کی کچھ ہوتی سوتی ،مجھے کیوں نہیں کہا کار کے بارے ۔“
وہ شرارتی لہجے میں بولی ۔”آپ کو کہا تو تھا ،بھول گیا ہے شاید ۔“
”بھولا تو نہیں تھا بس موقع ہی نہیں مل سکا۔“
”بس بس رہنے دیں ۔“اس نے منہ بنایا۔
”کیا مجھ پر اعتبار نہیں رہا ۔“
”اپنی جان سے بھی بڑھ کر اعتبا رہے ۔“وہ سنجیدہ ہو گئی تھی ۔”جانتی ہوں اس دنیا میں مجھ سے بڑھ کر آپ کو کوئی عزیز نہیںہے ۔لیکن میں چاہتی ہوں رومی باجی کو اس گھر میں مجھ سے زیادہ اہمیت ملے ۔ وہ جتنی اچھی ہیں ، جتنی مخلص ہیں اگر کبھی ان کے دل ذرا سا بھی ملول آگیا تو میں خود کو معاف نہیں کر پاﺅں گی ۔اسی لیے انھیں کہا کہ آپ سے بات کریں ۔ورنہ راجو اور میری کوئی بات ٹال جائے یہ بھلا کیسے ممکن ہے ۔“
میں نے اسے چڑایا ۔”بڑا پیار کرتی ہواپنی رومی باجی سے ۔“
”وہ ہیں ہی اس قابل کہ اسے چاہا جائے ۔دیکھتے نہیں وہ امی جان سے زیادہ میرا خیال رکھتی ہیں ۔انھیں دیکھ کر لگتا ہے سپوگمائے باجی اب تک زندہ ہیں ۔“
”اچھا کل میں واپس جا رہا ہوں ۔“سب سے پہلے میں اسے ہی یہ خبر دے رہا تھا ۔
وہ لجاجت سے بولی۔”آپ نوکری چھوڑ کیوں نہیں دیتے ۔یہیں پر کوئی کاروبار وغیرہ شروع کر دیں ۔“
”جانتی ہو میری تربیت پر پاک آرمی نے کتنا خرچا کیا ہے ۔اور پھر اگر سارے مرد ہی وطن کی حفاظت کو چھوڑ کر اپنی پیاری پیاری بیویوں کی آغوش میں لیٹ جائیں تو ایک دن ان کی بیویاں ہندوﺅں کے بچے پیدا کر رہی ہوں گی ۔“
وہ نادم لہجے میں بولی ۔”میرا یہ مطلب نہیں تھا راجو ،میں تو بس آپ سے دور رہنے کا سوچ کر گھبرا رہی ہوں۔“
میں فلسفیانہ لہجے میں بولا ۔”یہ گھبراہٹ ،وطن کے ہر رکھوالے کی ماں ،بہن ،بیٹی اور بیوی کی قسمت میں شامل ہے ۔“
”اچھا ایک دن اور ٹھہر جائیں ۔“اس ہٹ دھرم نے آسان سی شرط پیش کی جو میں نے مان لی تھی ۔اگلے دن میںروما اور پلوشے کو ساتھ لے کر ایک شور روم میں پہنچا اور ان کی پسند کی کار خرید لی ۔ شہر سے واپس آتے ہوئے میں اویس کی کار میں تھا جب کہ وہ دونوں نئی کار میں لوٹی تھیں ۔جسے پلوشے ڈرائیو کر رہی تھی ۔ایک بار پلوشے نے کہا تھا کہ وہ اپنی کار چلانا چاہتی ہے اور آج اس کی خواہش پوری ہو گئی تھی ۔
عبداللہ کی پیدائش کے ایک ہفتے بعد میں کئی خوش خبریوں کے ساتھ یونٹ واپس لوٹا تھا ۔تصور صاحب ، استاد فیاض ،الیاس ،شہزاد وغیرہ نے مجھے محبت سے خوش آمدید کہا تھا ۔سردار ابھی تک چھٹی پر تھا۔
٭٭٭
یونٹ میں ہفتہ بھرگزارنے کے بعد ایک دن کمانڈنگ آفیسر نے مجھے اپنے دفتر میں طلب کیا۔
”ذیشان ،کیسے ہو ؟“مجھے بیٹھنے کا اشارہ کرتے ہوئے وہ میرا حال پوچھنے لگے ۔
میں اطمینان بھرے لہجے میں بولا ۔”بالکل ٹھیک ہوں سر ۔“
اس نے مزاحیہ انداز میں کہا ۔”کچھ عہدہ داران کہہ رہے ہیں طویل چھٹی نے تمھاری صلاحیتوں کو زنگ لگا دیا ہے ۔“
میں اعتماد سے بولا ۔”آپ کل ٹیسٹ لے کر جانچ لیں سر ۔“
”آج سردار خان کی بھی چھٹی سے واپسی ہے ۔“مجھے لگا وہ موضوع تبدیل کر رہے ہیں ۔
میں نے اثبات میں سر ہلایا۔”جی سر ۔“
وہ معنی خیز لہجے میں بولے ۔”یقینا ،تم اپنے ساتھ اسی کو لے جانا چاہو گے ۔“
”میں سمجھا نہیں سر ۔“میں نے حیرانی ظاہر کی ۔
انھوں نے اطمینان بھرے انداز میں وضاحت کی ۔”سنا ہے افغان بارڈر پر باڑ لگانے والی یونٹوں کو دہشت گردوں کے سنائپرز کا بہت خطرہ ہے۔خاص کر انڈین سنائپرز دہشت گردوں کا ہر اول بنے ہوئے ہیں ۔“
میرے لبوں پر مسکراہٹ نمودار ہوئی اور میرے دائیں کندھے میں کھجلی ہونے لگی ۔ یقینا رینج ماسٹر کے بٹ کا جانا پہچانا لمس میرے کندھے کو یاد کر رہا تھا۔میں نے بے ساختہ پوچھا ۔”کب جانا ہو گاسر؟“
وسیم صاحب بولے ۔”پرسوں ۔“
میں نے نفی میں سرہلایا۔”کل کا دن ہم رستے میں گزارنا پسند کریں گے ۔“
وسیم صاحب نے قہقہہ لگا یا ۔”اس کا مطلب ہے عہدادران کے اندیشے غلط ہیں ۔“
ان کی مسکراہٹ کو اجازت پر محمول جانتے ہوئے میں نے کہا ۔”شکریہ سر ۔“
ہم نے کافی آرام کر لیا تھااورمادرِوطن ہمیں دوبارہ اپنی خدمت کے لیے بلا رہی تھی ۔ یقینا اس مٹی کا ہم پر بہت زیادہ قرض ہے اور جب تک میری جان میں خون کا ایک قطرہ باقی ہے میں اس فرض سے آنکھیں نہیں چرا سکتا۔ بہ قول شاعر ....
خون دل دے کے نکھاریں گے رخ برگ گلاب
ہم نے گلشن کے تحفظ کی قسم کھائی ہے
اور ....
اے وطن تو نے پکارا تو لہو کھول اٹھا
تیرے بیٹے ترے جانباز چلے آتے ہیں
آخر میں صرف اتنا کہوں گا کہ کہانی کبھی ختم نہیں ہوتی ہمیشہ جاری رہتی ہے ۔ شایدپھر کبھی آپ لوگوں کے سامنے اس کے بعد کے واقعات سنانے کا موقع ملے ۔یہ بھی ممکن ہے کہ زندگی موقع نہ دے ۔لیکن میرے آپ کے ختم ہونے سے کوئی فرق نہیں پڑتا کیوں کہ موت تو اٹل حقیقت ہے ۔البتہ اس ارض وطن کو قیامت کی صبح تک یونھی قائم و دائم رہنا ہے ۔اور یہ تبھی ممکن ہو گا جب ہم میں مادر وطن پر قربان ہونے کا جذبہ اور حوصلہ موجود رہے گا ۔
ختم شد
 

Create an account or login to read stories

You must be a member in order to leave a comment

Create account

Create an account on our community. It's easy!

Log in

Already have an account? Log in here.

New posts
Background image: Footer
Back
Top