خوش آمدید

لو اسٹوری فورم ، اردو دنیا کا نمبر ون اردو اسٹوری فورم ، ابھی فورم کےممبر بنیں اور اردو کی بہترین کہانیاں پڑھیں ۔

Register Now!
Welcome image
  • PAID PLANS

    ٹاپ پیکیج
    👑

    PREMIUM

    16000
    چھ ماہ کے لیے
    بہترین ڈیل
    💎

    VIP+

    6000
    چھ ماہ کے لیے
    بنیادی ڈیل

    VIP

    3500
    تین ماہ کے لیے

Spy Thriller بھگوڑا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ریاض عاقب کوہلر

Man mojiMan moji is verified member.

Staff member
Super Mod
Joined
Dec 24, 2022
Messages
11,584
Reaction score
366,432
Location
pakistan
Gender
Male

قسط نمبر 1
ریاض عاقب کوہلر
”مجھ سے تویہ نوکری نہیں ہونے والی۔ تربیت کی شروعات ہے اور گھٹنوں کے بال بیرنگ جواب دے چکے ہیں۔ جسم میں درد کی لہریں یوں اٹھ رہی ہیں جیسے کسی نے ڈنڈوں سے پٹائی کی ہو یا ایک سو چارڈگری کا بخار ہو۔آرام کے لیے یہ نہیں چھوڑتے،چوبیس میں چار گھنٹے بھی تو نیند کو نہیں ملتے۔اور کھانے کی صورتِ حال ملاحظہ ہو۔“ امجد نے ایک ثابت بینگن اُٹھا کر میری آنکھوں کے سامنے لہرایا۔ ” کبھی سنا ہے کہ انڈے اور بینگن یکجا پکائے جائیں اور بینگنوں کو کاٹا بھی نہ جاتا ہو۔‘ ‘
”یہ تربیت ہے بھائی! اس میں کھانے کی حالت بھی یہ ہو گی۔“ میں نے پلیٹ کی طرف اشارہ کیا۔”اور ہمیں جسمانی طور پر مضبوط کرنے کو مشکل مشقیں بھی کرائی جائیں گی۔ فوجی بننے آئے ہیں سکول ماسٹر نہیں، ملک کا دفاع کرنا ہے۔ کرسیوں پر بیٹھ کر چائے نہیں ڈکارنی۔“
”مخاطب تو تمیز سے کر سکتے ہیںناں۔“
” حکم دینے کو عاجزانہ لہجہ اختیار نہیں کیا جاتا۔ اگر ایک استاد حکم دے کہ۔”بھائی جان! براہ مہربانی، دوڑ کر اس دیوار کو ہاتھ لگا آﺅ۔ تو میرا نہیں خیال کہ ہم پیدل بھی چلے جائیں۔“
ظفر نے ٹوکا۔”تکرار چھوڑو اور کھانا کھاﺅ وقت کم ہے ،لباس بھی تبدیل کرنا ہے۔“
” مشورہ پاس رکھو۔“ امجد نے اسے جھڑکا۔
”بھاڑ میں جاﺅاورمیں تو گیا پندرہ منٹ رہ گئے ہیں ”فالن “سے۔“(تربیتی سپاہ کو جمع کرنے کو فالن کہتے ہیں)
ظفربیرک کی طرف بڑھ گیا۔ ہم بھی پیچھے ہو لیے کہ وقت واقعی کم تھا۔سیٹی کسی بھی وقت بج سکتی تھی(فوجیوں کو اکٹھا کرنے کے لیے زور سے سیٹی بجائی جاتی ہے جس کا مطلب ہوتا ہے کہ تمام اکٹھے ہو جائیں)
ہم نے وردی اتار کر جلدی سے خاکی نیکر اور سفید بنیاں پہنی۔ (آج کل تربیتی مراکز میں نیکر بنیان کے بجائے ٹریک سوٹ استعمال ہونے لگے ہیں)۔ ہم بوٹوں کے تسمے باندھ ہی رہے تھے کہ زوردار آواز میںسیٹی بجنے لگی۔سب دوڑ کر گراﺅنڈ میں پہنچ گئے۔ اگلے40منٹ میں ہم کبھی دوڑتے، کبھی ڈڈ ّو چال( مینڈک کی طرح پھدکنا) کبھی لانگ اپ (ٹانگیں اوپر دیوار کے ساتھ اور سرنیچے) تو کبھی فرنٹ رول (قلابازیوں کے ساتھ آگے کی طرف حرکت کرنا) کرتے نظر آئے۔ چالیس منٹ کے اختتام پر ایک مرتبہ پھر سیٹی بجی اور ہم دوبارہ اکٹھے ہو گئے۔ مختلف ٹیمیں بنائی گئیں اور ہر رنگروٹ (تربیتی سپاہی) کو اس کی پسندیدہ گیم کھیلنے کے لیے بھیج دیا گیا۔
تربیتی مرکزمیں ہر قسم کے میدان بلکہ جمنازیم تک موجود تھا۔ کھیل کا دورانیہ ڈیڑھ گھنٹے پر مشتمل ہوتاتھا۔ اختتام پر تمام کو اکٹھا کر کے رات کے لیے احکامات سنائے گئے اور پھر ہم گروپوں کی شکل میں اپنی بیرک میں واپس آگئے۔ رات کو کھانا کھانے کے بعد ایک پیریڈ ستارہ شناسی کے متعلق ہوتا تھا کہ ہم کس طرح ستاروں کے ذریعے اپنی سمت سیدھی رکھ سکیں گے۔
امجد ستاروں کے متعلق کہا کرتا....
” سالے خود حرکت میں رہتے ہیں ہمیں کیا سمت دکھلائیں گے۔“
صبح کو اذان سے پہلے اٹھنا پڑتا۔ کمروں کی صفائی بھی خود ہی کرتے تھے کہ یہ بھی تربیت کا حصہ تھا۔ سات بجے پہلا پیریڈ شروع ہو جاتا جو PT(جسمانی تربیت) کا ہوتا پھر نقشہ بینی (Map Reading)شروع ہو جاتی۔ دوپیریڈ اس کے ہوتے اور اس کے بعد سنگین لڑائی جس سے امجد کو حددرجہ چڑ تھی۔
”یار! ایمونیشن کے کمرے بھرے پڑے ہیں ،پھر بھی ہمیں خالی رایفل سے لڑنا سکھا رہے ہیں۔ ان کا مقصد بس ہمیں بھگوڑاکرنا ہے۔“
”جب سے تربیت شروع ہوئی ہے تم یہی شور مچار ہے ہو کہ نوکری نہیں کرنا ، بھاگ جاﺅں گا۔درخواست دے دوں گا، اب چلے بھی جاﺅ تاکہ ہم تو آرام سے نوکری کر سکیں۔“ ظفر نے اسے جھڑکا۔
”چلا جاتا،پر آپ لوگوں کو ساتھ لے جانے کورکا ہوں۔“
”ام تومارے سات جائے گی یا اپنے گر؟“ عقل خان نے امجد کو ٹوکا۔
”خان صاحب ! میں ان کے متعلق کہہ رہا تھا۔“ امجد نے ہماری جانب اشارہ کیا کیوں کہ اسے معلوم تھا کہ عقل خان میں مذاق کو سمجھنے اور برداشت کرنے کی اتنی بھی اہلیت نہیں تھی جتنی مرچ میں مٹھاس یا پھر لسی میں کا لک ہوتی ہے۔
”اچا اچا پر ٹیک اے “(اچھا اچھا پھر ٹھیک ہے)عقل خان نے بڑا سا سر اثبات میں ہلا دیا۔
l l l
18ہفتوں کی تربیت کے اختتام پر ہمیں ”مڈل بریک“ (تربیت کے درمیان ایک ہفتے کی چھٹی) ملی۔ واپسی پر امجد ایک دن لیٹ تھا۔ رات کی تربیت کے بعد وہ سزا کاٹاکرتا۔ اس کے ہمراہ دیرسے آنے والے کچھ اور لڑکے بھی تھے۔ ایکسٹر ڈرل سے ایک ہفتے کے بعدہی ان کی خلاصی ہو سکی تھی۔
”میرے باپ کی توبہ اگر آئندہ چھٹی سے لیٹ آیا۔“ فالتو تربیت سے جان چھوٹنے پر امجدنے کانوں کو ہاتھ لگائے۔
راشد ہنسا۔”یعنی وقت پر آﺅ گے۔“
” واپس ہی نہیں آﺅں گا۔“
ظفر چڑ کر بولا۔”تمھارا یہ جھوٹ ہم شروع دن سے سن رہے ہیں اورمیرا خیال ہے تربیت کے اختتام تک سننا پڑے گا۔“
امجد نے اسے جھڑکا”میرے جھوٹ سے تمھیں کیا تکلیف۔“
”صرف مجھے نہیں تمام کو تکلیف ہوتی ہے، تمھاری باتوں سے تین چار لڑکے بھگوڑے ہو چکے ہیں۔“
”وجہ میری باتیں نہیں ان کابرتاﺅ ہے۔“ امجد کا اشارہ چند گز دور بیٹھے ہوئے استادوںکی طرف تھا۔
”بتاﺅں انھیں ؟“ ظفر نے دھمکی دی۔ امجد کی منت سماجت سے پہلے سیٹی بجی جو وقفے کے ختم ہونے کا اعلان تھا۔
اگلے چھے ہفتے فائر کی تربیت تھی۔ اس کے بعد جنگی چالوں کے چھے ہفتے اور آخر میں چار ہفتے اختتامی پریڈکی تیاری کے تھے جسے ”پاسنگ آﺅٹ پریڈ “کہتے ہیں۔ آخر وہ دن بھی آگیا جب ہم سنٹر سے وداع ہو کر یونٹوں میں جانے کو تیار تھے۔ خوش قسمتی سے میں اور امجد ایک ہی یونٹ میں پوسٹ ہوئے تھے۔ جب” موومنٹ آرڈر“ لے رہے تھے تب وہاں موجود ایک آفیسر نے مجھے اور امجد کو تربیتی سنٹر کی باکسنگ ٹیم کے لیے روک لیا اور اس طرح ہم باکسنگ مقابلوں کے بعد ہی یونٹ جا سکے تھے۔
l l l
یونٹ میں ہم نے بہ مشکل دو ماہ گزار ے ہوں گے کہ ایک دن حکم ملا،نئے آنے والے تمام کے تمام تربیتی میدان میں جمع ہو جائیں۔وہاں پر ہمیں دوسری یونٹوں کے نوجوان سپاہی بھی نظر آئے۔ ہم یونٹ کی ترتیب کے لحاظ سے کھڑے ہوگئے۔اسی اثناءمیں سبز رنگ کی پھول دار وردی زیب تن کیے چار بندے وہاںپہنچ گئے۔
”یہ کس فوج سے تعلق رکھتے ہیں۔“ میرے لہجے میں حیرت تھی۔
امجدنے جواب دیا۔”ان کا تعلق ایس ایس جی سے ہے۔“
”ایس ایس جی....؟“ میرا لہجہ سوالیہ تھا۔
”مطلب سپیشل سروس گروپ۔“امجد نے وضاحت کی۔”انھیں کمانڈوز بھی کہتے ہیں۔“
”ان کی آمد کا مقصد ؟“
”تمھیں نہیں پتا؟“ امجد نے حیرانی سے پوچھا اور میرا سرنفی میں ہلتے دیکھ کربتانے لگا۔
”یہ ہر سال آتے ہیں اور آرمی کی یونٹوں سے کمانڈو سروس کے خواہش مند افراد کو ساتھ لے جاتے ہیں۔ ان کے ہاں نئے سرے سے تربیت کرنا پڑتی ہے۔کامیاب ہونے والوں کو یہ اپنے پاس رکھ لیتے ہیں اورناکام ہونے والے واپس آجاتے ہیں۔“ امجد کی بات بہ مشکل ختم ہوئی تھی کہ کمانڈو ز کا سینئر اپنا تعارف کرانے لگا۔وہ صوبیدار تھا۔اس نے کمانڈونوکری کے اتنے فوائد اور خصوصیات گنوائیں کہ میں بے ساختہ کہنے لگا۔
”امجد! کیا خیال ہے ۔“
”خیال تو نیک ہے،لیکن ان کی سخت تربیت اپنے بس سے باہر ہے۔“
” کر لیں گے یار!“ میں مصر ہوا۔
”تم ضرور مرواﺅ گے۔‘ ‘ اس نے دہائی دی۔ مگر جب صوبیدارصاحب نے خواہش مند افراد کو سامنے آنے کو کہاتو امجد میرے ساتھ تھا۔ تمام کے ضروری کوائف انھوں نے اپنے پاس درج کیے۔ آخر میں صوبیدار صاحب کہہ رہا تھا۔
”تمام لوگوں کے نام کمانڈو تربیت میں شمولیت کی چٹھیاں اسی ماہ جاری کر دی جائیں گی اکتوبر میں تربیت شروع ہو گی۔“ یہ کہہ کر کمانڈوزرخصت ہو گئے۔ ہم بھی واپس یونٹ پہنچے۔
ستمبر کے آخری ہفتے میں امجداورمیرے نام کمانڈو تربیت کی اطلاعی چٹھی پہنچ گئی تھی۔ اور ہم اپنی رجمنٹ( جو کہ اس وقت گوجرانوالہ چھاﺅنی میں تعینات تھی) سے چراٹ( نوشہرہ) آگئے۔ ہمارا تربیتی مرکز جلوزئی میں قائم کیا گیا۔ جمعرات کو ہم جلوزئی مرکز پہنچے اور ہفتے سے تربیت شروع ہو گئی۔ پہلے مرحلے ہی میں ہمیں 40کلو میٹر پیدل چلنا پڑ گیا،شام کے آٹھ بجے روانگی ہوئی اور صبح کے ساڑھے چار بج چکے تھے جب ہم واپس لوٹے۔
” جانو! یہ شروعات ہے تو بعد میں یہ ہمارے ساتھ کیا کریں گے۔“ امجد کے ہونٹوں پریہ الفاظ تھے کہ ہمارے سینئر کی زوردار آوازابھری۔
”تمام لوگ آرام کریں،ناشتا کریں اور اگر سونا ہے تو بے شک سو جائیں۔ ٹھیک پونے پانچ بجے ساڑھے چار میل دوڑکے لیے دوبارہ فالن ہو گا۔“ اور امجد کا چہرہ جو آرام کا سن کر 200واٹ کے بلب کی طرح چمکنے لگا تھا، اعلان کے اختتامی الفاظ پرتیز ہوا میں رکھے چراغ کی طرح بجھ گیا تھا۔
”ساری رات چلنے کے بعد اتنا زیادہ آرام۔“اس نے منہ بسورا۔”سنا تم نے، پورے پندرہ منٹ کا آرام ہے۔وہ بھی صرف آٹھ گھنٹے مسلسل چلنے کے بعد۔آفرین ہے بھئی ان لوگوں کی چنگیزیت پر۔یار! میں تو چلا واپس۔“
”بے وقوف مت بنو۔“ میں نے اسے جھڑکا۔ ” تربیت مشکل ہے مگر بعد میں سہولیات بھی تو زیادہ ہیں۔“
” کسر نفسی ہے حضور کی۔ وگرنہ تربیت کو باآسانی ناممکن کہا جا سکتا ہے۔اورامید یہی ہے کہ سہولیات کے لیے زندہ نہیں رہیں گے۔“
” تمھیں شکوہ شکایت کے علاوہ بھی کچھ آتا ہے۔تربیت نہیں کرنی توشوق سے واپس چلے جاﺅ، میرا حوصلہ پست کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔“
”تم خفا ہونے لگے یار میں تو یونھی....“
”کیا یونھی....“ میں نے قطع کلامی کی۔
وہ معصومیت سے بولا۔”حقیقت بیا ن کر رہا تھا۔“
نہ چاہتے ہوئے بھی مجھے ہنسی آگئی تھی۔
ہم نے جرابیں تبدیل کیں اورواپس پہنچ گئے۔
تربیت کے آغاز کے ساتھ ہی استادوں نے تمام کو جوڑیوں میں بانٹ دیا تھا۔ اسے عرف عام میں ”بڈی سٹسم“ کہا جاتاہے۔ ساتھی کے انتخاب پر استادوں کی طرف سے کوئی قدغن نہیں تھی اس لیے میں اور امجد وہاں بھی اکٹھے ہی رہے۔شب بھرکی بے آرامی اور تھکن کی وجہ سے ساڑھے چار میل کافی مشکل لگے تھے ،لیکن اتنے نہیں کہ ہمیں کمانڈو بننے سے متنفر کر سکتے۔ حالاں کہ 300افراد نے دوڑنے سے انکار کر دیا تھا۔ کمانڈو تربیت میں چونکہ ہر شخص کی مرضی کا گہرا دخل ہوتا ہے اس لیے ان لوگوں کو تربیت سے علاحدہ کر دیا گیا۔ باقی کا دن آرام سے گزارتھا۔
اگلی صبح PTکا ٹیسٹ تھا۔ آرمی کی نسبت ان کا ٹیسٹ کافی مشکل تھا۔ لیکن ہم جسمانی لحاظ سے تندرست تھے یہ ٹیسٹ پاس کرتے ہوئے کوئی دشواری پیش نہیں آئی تھی۔وقت گزرتا رہا، ہر آنے والا دن پہلے سے سخت ثابت ہوا۔ آئے روز بڑھتی سختی کااندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ تربیت کی ابتدا میں ہماری تعداد2500تھی جو ایک ماہ بعد 1200رہ گئی تھی۔ قریباََڈیڑھ ماہ بعد ہمیں پٹھو(Pack) بھی پہننا پڑ گیا اور وہ بھاگ دوڑ جو ہم بغیر پٹھو کے کرتے ،اب پٹھو پہن کر کرنا پڑتی تھی۔
”جانو!ایک بات کہوں۔“ امجد نے حسب عادت مجھے مختصر نام سے پکارااس وقت ہم فائر کے لیے اپنی باری کاانتظار کر رہے تھے۔
”ماجے صاحب !آپ کو کون روک سکتا ہے۔“
”یار! مجھے ابتدائی تربیت کے استادبہت یاد آتے ہیں بلکہ بہت پیارے بھی لگنے لگے ہیں۔ان قصائیوں کے مقابلے میں وہ فرشتہ رحمت تھے۔“
”تربیت کی سختی اور مشکلات پر رونے پیٹنے کے علاوہ بھی تمھیں کچھ سوجھتاہے۔“
وہ جلدی سے بولا۔”کیوں نہیں،چھٹی کے بارے ،تربیت کے ختم ہونے کے بارے اور اپنی شادی کے بارے ہر وقت فکر مند رہتا ہوں۔“
”چھٹی بھی جلد مل جائے گی۔ تربیت بھی عنقریب اختتام پذیر ہونے والی ہے البتہ شادی ذرا مشکل ہے کہ بہ قول تمھارے،تمھاری ساس بھی اب تک پیدا نہیں ہوئی۔“
اورپھر اگلے ہفتے ہم دو دنوں کے لیے گھر جارہے تھے۔ فوجی اصطلاح میں اسے نائیٹ پاس کہتے ہیں۔ امجد بھی میرے ساتھ ہی چل پڑا تھا کہ کیوں کہ اس کا گھر کراچی میں تھا اور نوشہرہ سے کراچی براستہ سڑک دودن میں پہنچنا تو ممکن تھا۔ واپس آنا بلا شک و شبہ ناممکن تھا۔
امجد کا آبائی گاﺅں مانسہرہ سے تھوڑا سا آگے ہے۔ اس کا والد تلاشِ معاش کے سلسلے میں اپنے کنبے کے ساتھ کراچی جا بسا تھا۔ ان کا کنبہ امجد کے والدین، تین بہنوں اور امجد پر مشتمل تھا۔ امجد تمام بہنوں سے بڑا تھا۔ میں اپنے بہن بھائیوں میں سب سے چھوٹا تھا۔ مجھ سے بڑی ایک بہن اور تین بھائی تھے بڑے کا نام حاکم جان،پھر احمد جان اس کے بعد محمد جان اور تینوں سے چھوٹی جمیلہ آپا تھی۔ ابو جان زمیندار تھے ، تینوں بھائی اپنی زمینیں ہی کاشت کرتے یہی ہمارا ذریعہ آمدن تھا۔ زمینوں سے اتنا کچھ مل جاتا تھا کہ مجھے بھی نوکری کرنے کی ضرورت نہیں تھی۔ میں فقط اپنی خاندانی روایت کی وجہ سے فوج میں بھرتی ہوا تھا ،کیوں کہ پاکستان بننے کے بعد سے ہمارے خاندان کا کوئی نہ کوئی شخص ضرور فوج میں بھرتی ہوتا۔ اور یہ قرعہ¿ میرے نام نکلا تھا۔ دادا جان کے د و بیٹے تھے ہاشم جان یعنی میرے ابو جان اور فاضل جان۔چچا فاضل خود بھی آرمی سے حوالدار رٹیایرڈ ہوئے تھے۔ ان کے بیٹے کم عمر تھے اور سکول پڑھ رہے تھے۔ دو بیٹیاں البتہ جوان تھیں، شازیہ اور سعدیہ۔ شازیہ کی شادی محمد جان بھائی اور سعد یہ کی میرے ساتھ ہوئی تھی۔ جمیلہ باجی کی شادی ماموں زاد اسلم بھائی سے ہوئی تھی۔ اور اس کی دوبہنیں بھائی حاکم جان اوربھائی احمدجان کے نکاح میں تھیں۔ ہم تمام بہن بھائیوں کی اپنی اولادیں بھی تھیں میں خود ایک چاند سے بیٹے کا باپ تھا جس کا نام عدنان تھا۔
” تمھارے والدصاحب اچھے خاصے زمیندار ہیں، تمھیں بھرتی ہونے کی کیا ضرورت تھی؟“ گاڑی سے اُتر کر ہم پیدل چل پڑے۔سڑک سے ہمارا گاﺅں چند کلو میٹر دور تھا۔بس اڈے پر تانگے وغیرہ کھڑے تھے لیکن ہم نے پیدل چلنے کو تر جیح دی تھی۔
” بتایا تو تھاہمارے خاندان میں کسی ایک کو بھرتی ہونا پڑتا ہے۔“
اس نے منہ بنایا۔”خاندان میںتم اکیلے مردہو ۔“
”نہیں، لیکن پڑھا لکھا صرف میں ہوں۔ باقیوں کو بچپن ہی سے کاشت کاری کا شوق تھا۔“
”پڑھائی سے بھاگنااور کاشت کاری میں دلچسپی لینا اسی وجہ سے تھا کہ انھیں بھرتی نہ ہونا پڑے۔“امجد حسب عادت دور کی کوڑی لایا۔
”اگر میں کہوں کہ تم گدھے ہو تو اس میں ذرا بھی مبالغہ نہ ہو گا۔ صرف دُم کی کمی ہے۔ سینگ اس کے بھی نہیں ہوتے۔“
وہ برا منائے بغیر بولا۔”لگتاہے تمھارے بھائی چار سے تین ہونا چاہتے ہیں۔ تبھی خاندانی روایت کا جھانسا دے کر تمھیں فوج میں بھرتی کروا دیا۔“
میں نے طنزیہ انداز میں کہا۔ ”تم کو ن سا واپڈا میں ہو۔“
” غربت کے ہاتھوں مجبور ہوں ورنہ کب کا بھگوڑا ہوچکا ہوتا۔“
میں نے دور سے حاکم بھائی کو آتے دیکھ کر کہا۔” اپنی چونچ بند رکھو۔ بھائی جان آرہے ہیں۔“
”اندھا نہیں ہوں۔“ امجد پہلے بھی میرے گھر آچکا تھا اس لیے انھیں پہچانتا تھا۔
دو دن ہم نے خوب مزے کیے۔ امجد شکار کا بہت شوقین تھا۔ بارہ بور بندوق لے کر ہم سارا دن پرندوں کے پیچھے بھاگتے رہتے۔ہماری واپسی دن ڈھلے ہی ہوتی تھی۔اس وقت ہم بیٹھک میں گپ شپ کر رہے تھے۔
امجد میرے بیٹے عدنان کو لپٹا کر بولا۔ ”عدنان کو دیکھ کر تو میرا بھی جی کرتا ہے جلد از جلد شادی کر لوں۔“
میں ہنسا۔”اتنے لمبے بندے کو کس نے بیٹی دینی ہے۔“
وہ ترکی بہ ترکی بولا۔”زرافہ اونٹ کو لمبائی کے طعنے دے رہا ہے۔اور اگر تمھیں مل گئی ہے تو کوئی ہمارے لیے بھی دیدہ و دل فرشِ راہ کیے بیٹھی ہو گی۔“
”میرے تو چچا کی بیٹی ہے۔“
” ہم بھی ڈھونڈ لیں گے کوئی بیٹی والاچچا۔“اس نے شوخ لہجے میں امید ظاہر کی۔
”ڈھونڈلینایار! فی الحال تو کھاناکھاتے ہیں۔“ میں عدنان کواٹھاکر زنان خانے کی طرف بڑھ گیا۔
اگلے دن ہم ناشتے کے بعد گھر سے نکل پڑے تھے۔ دو ہفتوں کے بعد ہم نے منگلا ڈیم پر تیراکی کی تربیت کے لیے جانا تھا۔ میں تو خیر بچپن ہی سے بہت اچھا تیرا ک تھا ،امجد البتہ تیرنا نہیںجانتا تھااور تبھی خوفزدہ بھی تھا۔
” اتنی سردی میں تیرا کی۔“دانت کٹکٹاتے ہوئے وہ روہانسا ہوا۔
میں نے چڑایا۔”فروری میں کون سی سردی ہوتی ہے اور یوں بھی کمانڈو بننے والا سردی گرمی نہیں دیکھتا، اگر موسم کے اثرات تربیت میں مانع ہو ں تو میدان جنگ میں کیا کریں گے۔“
”کل کی کل دیکھیں گے، آج کا سوچو۔ ایک کلو میٹر مسلسل تیرناہے۔ ہم مچھلی یا بطخ تونہیں ہیں۔“
میں نے قہقہ لگایا۔”بگلے تو ہونا۔‘ ‘
” وقت آنے پرپوچھوں گا بگلا بھگت صاحب۔“ وہ جل بھن کر بولا اور میں نے ایک اور قہقہ اچھال دیا۔
باقی تربیت کی طرح یہ مرحلہ بھی انجام کو پہنچااور پھر وہ لمحات بھی آ گئے جب ہمیں جہاز سے کودنا تھا۔ تب تک ہماری تعداد صرف120رہ گئی تھی۔ حالانکہ تربیت کی ابتدا میں ہم 2500کے قریب تھے۔
”اگر کوئی چھلانگ نہ لگاناچاہے تو؟“ امجد نے جہاز میں سوار ہوتے ہوئے سر گوشی کی۔
میں اطمینان سے بولا۔”وہ زبردستی نیچے پھینک دیں گے۔“
اس نے منہ بنایا”کبھی تسلی نہ دینا،بس ڈراتے رہنا۔“
میں خاموشی سے آنے والے مشکل لمحات کو سوچنے لگا۔ بہ ہر حال یہ وقت بھی بیت گیا اور جتنا ڈرے ہوئے تھے اتنا ہی لطف اندوز ہوئے۔اس کے بعد لانگ مارچ رہ گئی تھی جو 50کلو میٹر پر مشتمل ہوتی ہے۔ اور مع سازو سامان کے کرنا پڑتی ہے ۔سب سے آخری مرحلہ سکیم کا تھا جس میں ایک ہفتہ اپنے بندوبست پر ہمیں جنگل میں گزارنا تھا۔آخر وہ وقت بھی بیت گیاتربیت کے اختتام پر ہمیں چھٹی ملی۔ واپسی پر ہم مکمل کمانڈوتھے اور ہماری چھاتی پرکمانڈوز کی شناخت ”کمانڈو ونگ“ لگ چکا تھا۔
l l l
”نئی بات سنی ہے۔“ شام کا کھانا کھا تے ہوئے امجدنے پوچھا۔
اسے سوالیہ نظروں سے گھورتے ہوئے میں نے نفی میں سر ہلا دیا۔
امجد نے انکشاف کیا۔ ”صبح سے جوڈو کراٹے کا کورس شروع ہے۔“
میں اطمینان سے بولا۔ ”کمانڈو کی پوری سروس ہی مختلف کورسوں پر مشتمل ہوتی ہے اور ہماری تو ابھی شروعات ہوئی ہے۔“
”مارے گئے۔“ امجد نے ماتھے پر ہاتھ مارتے ہوئے منہ بسورا۔ میں ہنس پڑاتھا۔
وقت گزرنے کا پتا ہی نہ چلا اورہم نے تین سال کمانڈو میں گزار دیے اس دوران ہم مختلف پیشہ ورانہ کورس کر کے اپنی قابلت کا لوہا منوا چکے تھے۔
l l l
میں چھٹی پر تھا اورابو جان کے کمرے میں بیٹھا ان کے پاﺅں دبا رہا تھا۔ چچا جان ان سے زمینوں کی بابت کچھ گفتگو کر رہے تھے۔
ہم اب تک اکٹھے رہتے تھے۔ چچا جان، ابوجان کوبڑا بھائی نہیں سرپر ست سمجھتے تھے۔ہم بہن بھائیوں کے ساتھ بھی ان کا رویہ بہت مشفقانہ تھا۔ ہماری غلطیوں پر ٹوکنا یا مناسب سزا دینابھی چچا جان ہی کاکام تھا۔
”عمر بیٹا ! پانی تو پلا دو ؟“ دورانِ گفتگو چچا جان مجھے مخاطب ہوئے اور میں سر ہلا کر کمرے سے باہر نکل آیا۔ چچا جان تازہ پانی پسند کرتے تھے ، میں گلاس اٹھا کر نلکے کی سمت بڑھ گیا۔ تبھی میں نے بھائی محمد جان کو تیز قدموں سے چچا فاضل کے کمرے کی طرف بڑھتے دیکھا۔
”چچا ،ابوجان کے پاس بیٹھے ہیں۔“ میں نے اسے آواز دی۔
وہ سر ہلا کر ابو کے کمرے کی طرف مڑ گیا۔ مجھے لگا کوئی خاص بات ہوئی ہے۔ میں جونھی کمرے میں داخل ہوا محمد جان کی تیز آواز نے میرے اندیشوں کی تصدیق کر دی تھی۔
”چچا جان!آج پھر چودھریوں کے مویشی ہماری فصل میں گھس گئے تھے۔ میں نے چودھری اکبر سے شکایت کی تو وہ الٹا میرے گلے پڑ گیا۔ “
چچا جان ،ابو جان کو مخاطب ہوئے۔ ”میں اسی زمین کی بات کر رہا تھا۔ چودھری انور کے مویشی وقتاً فوقتاً ہماری فصل کااجاڑتے رہتے ہیں۔ یہ سات آٹھ ماہ سے ہو رہا ہے۔پہلے میں نے نظر انداز کیے رکھا کہ شاید انھیں خود شرم آجائے۔ مگربجائے احتیاط کے وہ سینہ زوری پر اتر آئے ہیں۔ میں نے چودھری انور سے بھی شکایت کی تھی۔ کہنے لگاہمارا کھیت چاروں اطراف سے ان کی زمین میں گھراہے۔ اور ہم یہ زمین دے کر بدلے میں جنگل والی زمین لے لیں۔میرے سختی سے انکار کر نے پر بولا،آئندہ احتیاط کریں گے۔اور اس گفتگو کو دو دن نہیں گزرے۔“
ابو جان گہرا سانس لے کرسوچ میں پڑ گئے۔ میں نے چچا کو پانی پیش کر دیا۔
ابوجان اطمینان سے بولے۔” چند دن مزید دیکھو ۔“
”ابو جان! آٹھ مہینے سے تو دیکھ رہے ہیں۔“ بھائی محمد جان دبے لہجے میں بولا۔اگر چچا جان اکیلے ہوتے تو یقینا وہ بھڑک اٹھتا، لیکن ابو جان سے ہم سارے دب کر بات کرتے تھے۔اس کی بات جاری رہی ....
”اب تو انھوں نے ہمیں بزدل سمجھنا شروع کر دیا ہے۔ پچھلے ہفتے ہماری ایک گاے غلطی سے ان کے کھیت میں چلی گئی تھی۔ انھوں نے اتناپیٹاکہ گائے کی پیٹھ پر نشان پڑے گئے اور آج اکبر خان کہہ رہا تھا ، یہ زمین سیدھے طریقے سے ان کے حوالے کر دیں ورنہ لینے کے اور طریقے بھی انھیں آتے ہیں۔“
ابو جان کے چہرے پر دھیمی مسکراہٹ ابھری۔”خیر ہے پُتر! چند دن صبر کرلو۔“
محمد جان سر جھکائے مڑ گیا۔ میں بھی اس کے پیچھے باہر آگیا۔
”آپ نے اسے کہا کچھ نہیں۔“ کمرے سے تھوڑا دورہوتے ہی میں بھائی کو مخاطب ہوا۔ ” بس اس کی تڑیاں سن کر چچا سے شکایت کرنے دوڑ پڑے۔“
” فوجی صاحب!دوبے غیرت پہلوان جو زندگی میںکبھی کشتی نہیں جیتے ،اس کے ہمراہ تھے میں اکیلا تھا۔اور چچاجان نے بھی جھگڑا کرنے سے منع کیا ہواہے۔“
میں نے پوچھا۔”اب تک وہیں ہوں گے؟“
بھائی نے اثبات میں سر ہلادیا۔
”چلو۔“ میں نے بیرونی دروازے کا رخ کیا۔
”ابوجان کو پتا چل گیا تو خفا ہوں گے۔“ محمد جان نے مجھے روکنے کی واجبی سی کوشش کی۔
میں نے تسلی دی۔”ہتھیار تو ساتھ نہیں لے جا رہے۔“
کندھے اچکاتے ہوئے اس نے میر ے ہمراہ قدم بڑھا دئےے۔
چودھری انور ہمارے گاﺅں کا سب سے بڑا زمیندار تھا۔ اس کے تین بچے تھے اکبر خان ، اعظم خان اور ان دونوں سے چھوٹی بیٹی شہلا۔ دونوں بھائی کنوارے ،پرلے درجے کے بدتمیز اور جھگڑالو تھے۔ ان کی بہن کے متعلق سنا تھا کہ اپنے ماموں کے پاس شہر میں رہتی تھی اور ایم بی بی ایس کر رہی تھی۔ چودھری انور ایک بار ناظم بھی منتخب ہو چکا تھا اور خود کو بڑی توپ شئے سمجھتا تھا۔بیٹے ،باپ سے بھی چند قدم آگے تھے۔ بھرتی سے پہلے میں زیادہ تر پڑھائی لکھائی میں مشغول رہا اور بھرتی کے بعد پردیسی ہو گیا اس لیے چودھری اوراس کے خاندان کے متعلق میری معلومات واجبی سی تھیں۔ محمد جان ان کے متعلق کافی کچھ جانتا تھا جو زمینوں تک پہنچتے ہوئے وہ میرے گوش گزار کر چکا تھا۔
”اس وقت وہاں بیٹھے ہیں۔“ جیسے ہی چودھری انور کا ڈیرہ نظر آیا محمد جان نے انگلی سے درختوں کے جھنڈ کی طرف اشارہ کیا۔ دورہی سے چارپائی پر بیٹھے ہوئے تین بندے نظر آرہے تھے۔ تینوں کا رخ ہماری جانب ہی تھا، لیکن ہمارے قریب پہنچنے پر بھی انھوں نے اٹھنے کی زحمت نہ کی۔
” آج تو ڈیرے پر سرکار نظر آرہی ہے۔ ” چودھری اکبر کا مخاطب اس کے ساتھی تھے۔
دونوں ساتھی کھل کھلا کر ہنس دیے تھے۔
”ان میں اکبر کون ہے؟“ میں محمد جان بھائی کو مخاطب ہوا۔
”میں ہوں چودھری اکبر خان۔“ اکبر خان اچھل کر کھڑا ہوگیا۔ دونوں پہلوان بھی جلدی سے کھڑے ہو گئے تھے۔
اکبر خان جسامت میں امجد کے مشابہہ تھا البتہ تربیت نے امجد کے جسم کو مضبوط اور سخت کر دیا تھاجبکہ اکبر خان کے جسم پر فالو چربی چڑھی تھی۔
میں استہزائی لہجے میں بولا۔”کمی کمین کب سے چودھری ہوگئے۔“
وہ دھاڑا۔”بکواس بند کرو۔“
میں متبسم ہوا۔”زبان رکی تو ہاتھ پاﺅں چل پڑیں گے جو تمھیں مہنگا پڑے گا۔“
”تیری تو ....“ وہ باﺅلا ہو کر میری طرف دوڑا، لیکن دو تین فٹ دور ہی تھا کہ میری باہنی ٹانگ حرکت میں آئی۔ چھاتی پر لگنے والی ضرب سے وہ اڑتاہوا چارپائی پر جاگرا۔ میں دونوں پہلوانوں کی طرف متوجہ ہواجو خطرناک ارادے سے میری طرف بڑھ رہے تھے۔
” حریف کے کمزور پہلو پرنظر رکھو، طاقت کے بجائے عقل پر بھروساکرو، پہل پن ہاتھ میں رکھو اور دشمن کے حملہ کرنے سے پہلے حملہ کر گزرو۔“ اپنے استاد صوبیدار مراد صاحب کی باتیں میرے دماغ میں گونجیں یوںجیسے وہ سامنے کھڑے لیکچر دے رہے ہوں۔
چند قدم لے کر میں نے چھلانگ لگائی اور اس سے پہلے کہ دونوں پہلوان محمد جان یا میرے خلاف کچھ کر تے ،ان کے سر پر جا پڑا۔ میرا مقصد چونکہ ان کو عاضی طور پر ناکارہ کرنا تھا اس لیے ایک کی ٹھوڑی پر میں نے دائروی مُکّہ(Counter Punch) جڑ دیا۔ وہ اسی جگہ گر گیاتھا۔ دوسر ے نے مجھے گریبان سے پکڑکر کھینچا۔ چاہتا تو آسانی سے گریبان چھڑا سکتا تھا لیکن میں نے ایسی کوشش نہ کی۔ جونھی اس کے قریب ہوا میں نے بایاں گھٹنا اس کی ٹانگوں کے درمیان اوپر اٹھادیا۔
وہ ”اوغ“ کی آواز سے نیچے جھکا اور ٹھوڑی پر لگنے والی ضرب نے اسے بھی ہوش و خرد سے بیگانہ کر دیاتھا۔
محمد جان اور اکبر خان گتھم گتھا تھے۔ دو سورماﺅں کو بے ہوش کرکے میں ان کی طرف مڑاتب محمد جان اسے نیچے گرا کے تابڑ توڑ مکے برسا رہا تھا ۔ اکبر خان بھی اس کوشش میں مصروف تھا۔
” چھوڑو اس نمونے کو۔“ میں نے محمد جان کو بازو سے پکڑ کر پیچھے کھینچا۔
”دل تو ٹھنڈا کرنے دیتے۔“ محمد جان ہانپتے ہوئے پیچھے ہوگیا۔
میں اکبر خان کی طرف بڑھا وہ محمد جان کے پیچھے ہٹنے پر کھڑاہو گیا تھا۔
”چودھری !بھڑکیں مارنے سے کچھ نہیں ہوتا۔ بندے میں کچھ غیرت بھی ہونا چاہیے۔“
”یہ .... یہ.... تمھیں بہت مہنگا پڑے گا۔“ شرمندگی اور غصے سے اس سے بات نہیں ہو پا رہی تھی۔ میرا ہاتھ گھوما ،زور دارتھپڑ سے وہ کولہوں کے بل گرگیا۔
”اگردوبارہ ہمارے کھیت میں تمھارے مویشی گھسے تو وہاں گھسیڑوں گا جہاں سے نکلے تھے۔اور اب جو کر سکتے ہو کر لینا۔“
اکبر خان آہستگی سے اٹھااورکینہ توز نظروں سے مجھے گھورنے لگا۔ میں نے بھی چند لمحے اسے گھورنے کے بعد محمد جان کو کہا۔
” فی الحال اتنا ہی کافی ہے۔“وہ سرہلاتے ہوئے میرے ساتھ چل پڑا۔ دونوں پہلوانوں نے اپنی جگہ سے ہلنے کی کوشش نہیں کی تھی۔
اگلا دن خاموشی سے گزرا۔یقینا اکبر خان نے شرمندگی کی وجہ سے والد یا بھائی کو کچھ بتانے سے گریز کیا تھا۔
میں نے سارا دن محمد جان کے ساتھ زمینوں پر گزارا۔ اکبر خان بھی اپنی زمینوں پر نظر آیا مگر وہ اکیلا تھا۔
وہ گھر پر میری آخری رات تھی ،صبح میں نے واپس جانا تھا۔ پلک جھپکنے میں دس دن گزرگئے تھے۔
” خیال رکھنا اور بھائی احمد جان کو بھی سارے واقعے سے آگاہ کر دینا۔“ گھر سے چلتے وقت میں نے محمد جان بھائی کوتاکیدکی۔
وہ مسکرا یا ”بڑے بھائی کو نصیحتیں کروگے۔“
”نصیحت نہیں مشورہ ہے۔“ ہاتھ ملا کر میںدروازے کی طرف بڑھ گیا۔ باقی گھروالوں سے میں نے پہلے ہی رخصت لے لی تھی۔
البتہ یونٹ جاتے ہی اپنے سینئر کو Night Passکا بتا دیا۔
اس نے حیرانی سے پوچھا۔”ابھی تو پہنچے ہو ؟“
”سر! گھر میں ایک مسئلہ ہو گیا ہے۔“ میں نے مو¿دبانہ لہجے میں جواب دیا۔
”ابھی جانا ہے؟“ وہ مستفسر ہوا۔
”کل صبح نکلوں گا۔“
اور اس اثبات میں سر ہلا دیا۔میں اپنے کمرے کی طرف بڑھ گیا
” ابھی تک عدنان کی ماں سے جی نہیں بھرا۔“ میرے کمرے میں داخل ہوتے ہی امجد چہکا۔
” کوئی اور مسئلہ ہے۔“میں سنجیدہ تھا۔
وہ مستفسر ہوا۔”کچھ پھوٹو بھی۔“
میں نے سارا واقعہ اس کے گوش گزار کر دیا۔
”تمھارے علاقے میں چودھری کہاں سے آگئے؟“اس نے حیرانی ظاہر کی۔
” ان کا اصل علاقہ گجرات ہے۔وہاں سے اکبر خان کا دادا ہجرت کر کے یہاں آن بسا، کیوں کہ اس کا والد دوسری جنگِ عظیم میں لڑتے ہوئے مارا گیا تھا اور انگریز سرکار نے اس کے اکلوتے بیٹے (اکبر خان کے دادا) کو ایک مربع زمین ہمارے علاقے میں الاٹ کر دی تھی۔ اس کے بعد اکبر خان کے والد نے بھی کافی زمین خریدی اور گاﺅں کا سب سے بڑا زمیندار بن گیا۔“
وہ دروازے کی طرف بڑھا۔ ”میں ذرا اپنے نائیٹ پاس کا بتا دوں۔“
” نائیٹ پاس؟“ میں حیران ہ گیا تھا۔
”تمھارے ساتھ ۔“اثبات میں سرہلاتے وہ کمرے سے نکل گیا۔
اگلے روزہم صبح سویرے ہی روانہ ہوئے۔ میں نے امجد کو روکنے کی بہت کوشش کی لیکن اس نے میری بات ماننے سے انکار کر دیاتھا۔تلخی سے بولا۔
”دو دن کھانا نہیں کھلا سکتے کمینے ، پیسے لے لینا ۔“
میں نے چپ سادھ لی۔ بس سٹاپ پر اتر کر ہم حسب سابق پید ل ہی چل پڑے ۔گھر سے کچھ دور ہی تھے کہ بھائی احمد جان بھاگتا ہوا گھرسے نکلا اس نے ہاتھ میں رایفل پکڑ ی ہوئی تھی۔
” کوئی گڑبڑ ہے۔“احمد جان کی تیزی دیکھتے ہوئے امجد نے خیال ظاہر کیا۔
میں رفتار تیز کرتے ہوئے بولا۔ ”شاید۔“احمد جان نے ہمیں دیکھ لیا تھا اس کا رخ ہماری سمت ہو گیا۔
” چودھری انور خان کے ساتھ جھگڑا ہو گیا ہے چچا اور ابو جان بھی ادھر ہی گئے ہوئے ہیں۔ میں ہتھیار لینے آیا تھا۔“ قریب آتے ہی وہ بغیر تمہید کے شروع ہو گیا۔
”چلو۔“ امجد نے بے صبری ظاہر کی ۔ ہمارا رخ زمینوں کے جانب ہو گیا۔ احمد جان نے ہمیں تفصیلات بتائیں جن کا لب لباب یہ تھا کہ صبح وہ اور محمد جان زمینوں پر گئے وہاں انور خان اس کے دونوں بیٹے اوران کے دوست پہلے سے موجود تھے۔انور خان نے مطالبہ کیا، ہماری زمین کا وہ ٹکڑا جو ان کی زمین کے ساتھ متصل ہے انھیں بیچ دیا جائے ،یابدلے میںہم انور خان کی جنگل کی زمین لے لیں۔ محمد جان نے انور خان کی ہمارے ساتھ متصل زمین خریدنے میں دلچسپی ظاہر کی۔
انور خان نے کہا ”چودھری اپنی زمین اور بیٹی کا سودا کبھی نہیں کرتے۔“
محمد جان بولا” ہم بھی کوئی چوہڑے نہیں ہیں۔“
دو بہ دوباتوںمیں غصے ہو کر انور خان، محمد جان اور احمد جان کو گالیاں بکنے لگا۔ محمد جان نے گالیاں تو نہ بکیں کہ انور خان ،عمر میں کافی بڑا تھا البتہ احمد جان کو بھیجا کہ چچا کو بلا لائے۔ ابو جان بھی چچا کے ساتھ چل پڑے۔ آدھے راستے تک پہنچے تو احمد جان کو خیال آیا کہ ہتھیار بھی ساتھ لے لیناچاہیے تھا۔ اوروہ رایفل لینے کے لیے واپس گھر آگیا تھا۔
احمد جان کے تفصیل بتانے تک ہم زمینوں پر پہنچ چکے تھے۔
فرلانگ بھر دورسے ہی ہمیں چچا فاضل کی گرج دار آواز سنائی دی۔
”انور خان! تم حد سے بڑھ رہے ہو۔“
” حد سے نہیں بڑھ رہا،اصولی بات کر رہا ہوں۔“انور خان کی آواز بھی کافی بلند تھی۔
چچا فاضل دھاڑے۔ ” زبردستی زمین خریدنے کو تم اصول کہہ رہے ہو۔“
انور خان نے جواب دیا۔” تمھارے کھیت کی منڈیر پر چاروں طرف پہرہ کھڑا نہیں کر سکتا۔ہمارے مویشی قریب کیاآتے ہیں تم آسمان سر پر اٹھا لیتے ہو۔“
حاکم بھائی نے کہا۔ ”تمھارے مویشی تمھارے اپنے کھیت میں کیوں نہیں جاتے۔“ تب تک ہم قریب پہنچ چکے تھے۔ انور خان کے ساتھ دونوں بیٹوں کے علاوہ چار بندے اور بھی کھڑے تھے۔ ہمارے پہنچتے ہی طرفین کی گنتی برابر ہو گئی تھی۔ چچا فاضل اور ابو جان ہم پر سرسری نظر ڈال کے انور خان کی طرف متوجہ ہو گئے۔ محمد جان کا چہرہ مجھے دیکھ کر کھل اٹھا تھا۔ جبکہ اکبر خان اور اس کے دونوں ساتھی گھبرا گئے تھے۔
”جانو! اس کی مونچھیں دیکھ یار، جیسے بلی نے منہ میں چوہا پکڑا ہو۔“ امجد نے انور خان پر پھبتی کسی۔میرے ہونٹوں پر مسکراہٹ رینگ گئی تھی۔
”تمھاری یہ جرا¿ت ....“ اعظم خان غضب ناک انداز میں امجد کی طرف بڑھا۔ اس نے امجد کی ظاہری جسامت کو دیکھ کر غلط فیصلہ کیاتھا۔ امجد اور اعظم قد میں برابرتھے، جسمانی لحاظ سے اعظم خان وزنی تھا اوریہی خوش فہمی اسے لے ڈوبی۔کسی کے ٹوکنے سے پہلے وہ امجد کے قریب پہنچ چکا تھا، لیکن یہ قربت اسے مہنگی پڑی چھاتی پر لگنے والی بھرپورٹھوکرسے وہ کولہوں کے بل نیچے جا گرا تھا۔
”لڑائی نہیں۔“ ابو جان فکرمندی سے بولے، لیکن ان کی نصیحت ہمیں روک سکتی تھی غیروں کو نہیں۔ اعظم کے دوست امجد کی طرف بڑھے۔ اکبر خان اور اس کے پہلوان دوست جن کا ٹاکرا میرے ساتھ پہلے ہوچکا تھا، جگہ سے نہیں ہلے تھے۔
ان کے امجد کے قریب پہنچنے سے پہلے میں اچھلااور ایک کے پیٹ میں گھٹنا مارتے ہوئے دوسرے کی ٹھوڑی پربایاں مکاجڑ دیا۔ وہ دونوں بھی آرام سے لمبے پڑ گئے تھے۔ اعظم اٹھ کر سوچ میں پڑ گیاکہ حملہ کرے یا اپنے بھائی اکبر کی طرح تماشا دیکھے۔ اس کی مشکل چچا فاضل اور بھائی حاکم نے آسان کر دی تھی کہ حاکم بھائی نے مجھے اور چچا فاضل نے امجد کوپکڑ لیا۔
”ناں پُتر! جھگڑا نہیں کرتے۔“ چچا فاصل مدبرانہ لہجے میں بولا۔
امجد بولا۔”چچا جان!جھگڑا انھوں شروع کیا ہے۔“
اپنے بیٹے اور اس کے فسادی دوستوں کا حشر دیکھ کر انور خان نے چپ سادھ لی تھی۔
”انور خان اب تو یقین آگیا کہ زمین تمھیں نہیں مل سکتی۔“ ابو جان اسے مخاطب ہوئے۔
”ہاشم جان یہ تو وقت بتائے گا۔“اس نے بیٹوں کو چلنے کا اشارہ کیا۔ تمام ہمیں کینہ توز نظروں سے گھورتے ہوئے رخصت ہو گئے۔
ہم بھی واپس لوٹ آئے۔
”واپس کیوں آئے ہو ؟“چچا فاضل نے مجھ سے بغل گیر ہوکر پوچھا۔
میں نے بہانہ گھڑا۔ ”امجد چھٹی جانے سے پہلے عدنان کو ملنا چاہ رہا تھا ،مجبوراََ مجھے نائیٹ پاس لینا پڑا کہاکیلا خوارنہ ہوتا رہے۔“ چچا سر ہلا تے ہوئے ابو جان کے ہمراہ ہو لیے۔ہم بھی گپ شپ کرتے ان کے پیچھے چلنے لگے۔ابو جان اور چچا تو گھر میں گھس گئے اور ہم نے بیٹھک میں نشست سنبھال لی۔
”اب انور خان جرگہ بلائے گا؟“ بیٹھک میں بیٹھتے ہی امجدنے پوچھا۔
حاکم بھائی نے نفی میں سرہلایا۔ ”جرگہ تو ہم بلائیں گے،کہ پہل انور خان نے کی ہے۔“
”کب ؟“امجد نے دلچسپی ظاہر کی۔
”چچا جان سے پوچھتا ہوں۔“ حاکم بھائی ،چچا جان کے کمرے کی طرف بڑھ گئے۔
”امجدبھائی !چھٹی کتنی ملی ہے ؟“ محمد جان نے پوچھا۔
امجد ہنسا۔”آپ کونہیں معلوم جانو کتنا جھوٹ بولتا ہے۔“
”کیا مطلب؟“محمد جان نے حیرانی ظاہر کی۔
امجد نے وضاحت کی۔”یہی مسئلہ حل کرنے نائیٹ پاس آئے تھے۔“
محمد جان تکلف سے بولا”خواہ مخواہ زحمت کی۔“
امجد نے قہقہ لگایا”انور خان کے دیدار کو اتنی زحمت برداشت کرنا مہنگا سودا نہیں ہے۔“
محمد جان بولا۔”جانو آپ کے لیے چودھری جی کی تصویر لے آتا۔“
امجد نے کانوں کو ہاتھ لگایا۔”اب اتنا حوصلہ بھی نہیں کہ اس کی تصویر پاس رکھ سکوں ۔“ تمام نے ایک ساتھ قہقہ بلند کیا تھا۔
اگلا دن خاموشی سے گزرا۔بھائی حاکم نے بتایا کہ ”ا نورخان نے جرگہ نہ بلوایا تو اگلے دن ابو جان خود جرگہ بلوالیں گے۔“
لیکن اس دن انور خان کی طرف سے ایسی سرگرمی دیکھنے میں نہ آئی۔ اگلے دن ہماری واپسی تھی لیکن امجد نے اصرار کیا کہ جرگہ سن کر چلے جائیں گے۔
” ماجے !لیٹ ہونے کا نتیجہ معلوم ہے۔“ میں نے تشویش ظاہرکی۔
اس نے بے فکری ظاہر کی۔”چند گھنٹوں سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔“ اور میں خاموش ہو گیا۔
شام کوچچا فاضل گاﺅں کے سرکردہ افراد کو اپنا مسئلہ بتا کر جرگے کی درخواست کر چکے تھے۔ صبح10بجے جرگہ شروع ہوا۔ انور خان اپنے دونوں بیٹوں اور دس بارہ حامیوں کے ساتھ موجود تھا۔
چچا فاضل نے جرگے کے ارکان کے سامنے اپنا مسئلہ اور نقطہ ¿ نظر واضح کیا۔اس کے بعد انور علی نے بات کی، اس دن ہونے والی لڑائی کو بھی زیر بحث لایا۔ اس کی کوشش یہی تھی کہ سارا الزام ہم پر آئے۔ آخر میں اس نے خود کو مظلوم ثابت کرنے کودعوا کیا کہ اس کامطلب ہرگز یہ نہیں تھا کہ ہاشم جان کی زمین ہتھیالے۔ بلکہ وہ تو چاہتا ہے کہ اس زمین کے بدلے ہاشم جان منہ مانگی رقم یا من پسند زمین لے سکتا ہے۔
ا طراف کے دلائل سن کرجرگے کے ارکان مخمصے میں پڑ گئے اور آخر میں فیصلہ ہوا کہ کل متعلقہ زمین دیکھ کر فیصلہ کیا جائے گا۔فریقین اپنے گھر وں کو چلے گئے۔
میں پریشانی سے بولا۔ ”فیصلہ تو کل پر ٹل گیا۔“بیٹھک میں ہم اکیلے تھے۔
اس نے اطمینان سے کہا۔” ایک دن لیٹ چلے جائیں گے۔“
میں نے ڈرایا۔”سخت بے عزتی ہوگی۔“
وہ بے پروائی سے بولا۔”پہلی بار ہو رہی ہوتی تو ڈر بھی لگتا۔“
میں نے مشورہ دیا۔”تم چلے جاﺅ میری چھٹی بھی مانگ لینا۔“
اس نے منہ بنایا۔”اردلی ہوں ناں تمھارا۔“
”تو کیا کریں؟“میں جھلا گیا تھا۔
وہ طمانیت سے بولا۔”جرگہ ختم ہونے کا انتظار۔“اور مجھے چپ سادھنا پڑی۔
رات گئے تک میں امجد کے ساتھ گپ شپ کرتا رہا لیکن میرا دماغ جگہ پر حاضر نہیں تھا رہ رہ کر مجھے لیٹ ہو نے کی فکرستہنے لگتی ۔ مختلف اندیشے ذہن میں کلبلاتے رہے۔ انور خان کے ساتھ جھگڑے کا بھی کوئی حل نہیں نکل رہا تھا۔ جاﺅں یا نا جاﺅںادھیڑ بن نے مجھے الجھن میں ڈال دیا تھا۔
“ امجد نے بے زاری سے کہا۔”جانو صاحب!گندم کاپوچھتا ہوں توتمھارا جواب چنے کے متعلق ہوتا ہے۔بکری کے استفسار پر بھینس کا جواب ملتا ہے۔یقینا عدنان کی ماں یاد آرہی ہے۔ بڑی مہربانی، تم تشریف لے جاسکتے ہو، مجھے بھی سونے دو۔“
میں خاموشی سے اٹھ کر سونے چلا آیا۔ سعدیہ نے بھی میری پریشانی بھانپ لی۔
”پریشان کیوں ہو؟“ اس نے میرے بالوں میں انگلیاں پھیرتے ہوئے پوچھا۔
”کچھ نہیں۔“ میں نے اسے ٹالنے کی کوشش کی، لیکن وہ عورت ہی کیا جوٹل جائے۔ عورت نام دکھ درد کے ساتھی کا ہے۔وہ مردی کی الجھنوں کو بتائے بغیر جان لیتی ہے، ذہنی پریشانیوں پر تسلی کے پھاہے رکھتی ہے،جسمانی زخموں پر پیار کا مرہم رکھتی ہے، اس کے ذہن سے بدگمانیوں اور اندیشوں کو رفع کرتی ہے، لیکن شرط یہ کہ مر د سے محبت کرتی ہو اور میرے ساتھ سعدیہ کی محبت کوئی ڈھکی چھپی نہیں تھی۔ وہ بچپن ہی سے مجھے ٹوٹ کر چاہتی تھی اور مجھے تو اس کے بغیر زندگی گزارنا ہی محال لگتا تھا۔ میں نے اپنے سارے مسائل اور سارے اندیشے سعدیہ کو سونپے اور خود سو گیا۔
رات دیر تک جاگنے کی وجہ سے صبح کی نماز بھی قضا ہو گئی تھی۔ بستر سے نکلنے کو جی ہی نہیں کررہا تھا۔ میں جانے کتنی دیر اور بستر میں پڑا رہتا کہ دروازہ کھٹکھٹا کر بھائی محمد جان کمرے میں داخل ہوا اور.... ” ابو جان بلا رہے ہیں۔“۔ کہہ کرواپس مڑ گیا۔
 

قسط نمبر2
ریاض عاقب کوہلر
میں نے جلدی سے ہاتھ منہ دھویا، صبح کی نماز تو نیند کی نذر ہو گئی تھی البتہ ابوجان کو دکھانے کو میں نے سفید ٹوپی سر پر رکھ لی۔ان کے کمرے کے دروازے کو انگلی سے بجا کر اپنی آمد کا اعلان کرتے ہوئے میں داخل ہوا۔چچا فاضل بھی وہیں بیٹھے تھے۔
” بیٹھو۔“چچا فاضل بولا اور میں چارپائی کی پائنتی پر ٹک گیا۔
”امجد پُتر سویا ہوا ہے؟“ ابو جان تسبیح سرہانے کے نیچے رکھ کر مجھے مخاطب ہوئے۔
”پپ.... پتا نہیں ابو جان اب تک اس طرف نہیں گیا۔“
ابو جان تھوڑی دیر سوچ میں ڈوبے رہے اور پھر بولے۔ ”نو جوان ہمیشہ دل سے سوچتا ہے، کیوںکہ جوانی دیوانی ہوتی ہے۔ اسے ہر مسئلے کا حل اپنی ذات میں نظر آتا ہے۔ وہ بھروساکرتا ہے تو اپنے زورِ بازو پر۔یقین کرتا ہے تو اپنی قوت پر، اعتماد کرتا ہے تو اپنی طاقت پر۔اپنے بڑے اسے کمزور اور بے کس نظر آتے ہیں۔ ان کی سوچ تجربہ اور فہم اس کی نظر میں کچھ نہیں ہوتا، لیکن بیٹا !یاد رکھنا، بغیر عقل اور تجربے کے مسائل کو حل کرنا ایسا ہی ہے جیسے پٹرول کے بغیر گاڑی چلانا۔ طاقت سے مسائل حل نہیں ہوتے ،پیدا ہوتے ہیں۔ طاقت بلاشبہ اچھی چیز ہے لیکن اس وقت جب اس کو استعمال کرنے والی عقل بھی ہو اورمیں اس لحاظ سے خوش قسمت ہوں کہ میرے پاس عقل بھی ہے۔“ ابو نے چچا فاضل کی طرف اشارہ کیا۔ ”اور طاقت کے نام پرتمھارے تین بھائی بھی موجود ہیں۔ وہ عمر میں تم سے بڑے ہیں اور طاقت میں بھی کم نہیں ہوں گے۔ اس لیے یہ سوچ کہ تمھارے بغیر یہ چھوٹا سا مسئلہ حل نہیں ہو گابالکل غلط ہے ۔ اس دن انور خان کے بیٹے کی پٹائی کر کے تم لوگوں نے مسئلے کو سلجھانے کی بجائے الجھا دیا ہے۔ شاید تم کہو کہ امجدپرحملہ کر کے پہل اعظم نے کی تھی تو یہ صریحاً خلاف ِحقیقت ہے۔ کیوں کہ امجد پُتر پہلے انور خان کا مذاق اُڑا چکا تھا۔ اگر تم خود کو اعظم کی جگہ رکھ کر سوچو تو اس کا فعل تمھیں برا نہیں لگے گا۔ باپ کے خلاف ہونے والا مذاق کون برداشت کر سکتا ہے۔ کیا خیال ہے....؟“
”جج.... جی.... جی بالکل!“ میں ہکلا گیاتھا۔
” پریشان ہونے کی بالکل ضرورت نہیں۔ انور خان کوہم کافی ہیں۔ جرگہ بیٹھا ہوا ہے اور فیصلہ میں نے ہر دو صورت قبول کرنا ہے۔ چاہے اس میں ہمارا فائدہ ہو یا نقصان۔ تم واپس نوکری پرچلے جاﺅ۔ میرا خیال ہے پہلے بھی لیٹ ہو۔ امجد پُتر کو بھی تم نے بے کارمسئلہ میںگھسیٹ کر خواہ مخواہ تکلیف دی ہے۔ آیندہ خیال رکھنا۔اور ایسی کوئی حرکت بھی مجھ سے پوچھے بغیر نہ کرنا۔ تم دونوں ملک و قوم کا سرمایہ ہو اور یہ سرمایہ میں چند کنال زمین پر قربان نہیں کر سکتا ۔ جرگے کا فیصلہ سننے کی کوئی ضرورت نہیں۔ تمھارا چچا سب کچھ لکھ کر تمھیں چٹھی ڈال دے گا۔“
”جی ابو جان۔“ میں نے آہستہ سے سرہلایا۔
” مہمان کو ناشتا کراﺅ اور جانے کی تیار ی کرو۔ امجد پُتر کوپتا نہ چلے کہ میں تمھاری اس حرکت سے خفا ہوا ہوں۔“اور میں سلام کہہ کر نکل آیا۔
l l l
”چل ماجے !اپنا دانہ پانی تو یہاں پر پورا ہوا۔“ امجد ناشتا کر چکا تومیں نے واپسی کی نوید سنائی۔
”تو جاﺅ نا ،کس نے منع کیا ہے “
”بکواس مت کرو ، ابو جان سخت خفا ہیں۔“
”تو مت کرنا ایسی حرکتیں ۔“
”کیسی حرکتیں؟“ میں نے حیرانی ظاہر کی۔
” چچا جان کو ناراض کرنے والی۔ ”وہ اطمینان سے بولا۔
”گدھے، ابو کو پتا چل گیا ہے کہ ہم چھٹی سے لیٹ ہیں۔“
”تُم نے بتایا ہو گا۔“
میں شاکی ہوا۔” احمق سمجھتے ہو۔“
”پوری دنیا سمجھتی ہے۔“
”انھوں نے کہا کہ چند کنال زمین کی خاطر ملک وقوم کا سرمایہ داﺅ پر نہیں لگاسکتے اور وہ جرگے کا فیصلہ ہر دو صورت ماننے کوتیاربیٹھے ہیں اور مجھے حکم دیا ہے کہ” With No Time“یہاں سے دفع ہوجاﺅں اورتمھیں خود سے دو قدم آگے رکھوں۔“
اس نے منہ بنایا۔”میں تو گویا تمھارے جھوٹ کو تسلیم کر لوں گا۔“
”جب عقل تقسیم ہو رہی تھی تو تم قد لینے قطار میں کھڑے تھے۔“ میں جھلا گیا تھا۔
”تم سے تو چند قدم پیچھے ہی تھا۔“وہ ہار ماننے کو تیار نہیں تھا۔
اسی وقت ابو جان بیٹھک میں داخل ہوئے۔ ہم بے اختیار کھڑے ہو گئے تھے۔
انھوں نے شفقت سے پوچھا۔” کیسے ہوپتر؟“
”زبردست چچا جان۔“
” جب پہلی بار تم آئے تھے تبھی جان لیا تھا کہ مجھے پانچواں بیٹا مل گیا ہے۔ مجھے فخر ہے کہ ہماراذرا سا مسئلہ سنتے ہی تم بھاگے چلے آئے۔ لیکن اتنے چھوٹے مسئلے پر میں اتنا قیمتی سرمایہ برباد نہیں کر سکتا۔ البتہ وعدہ کرتا ہوں کوئی مسئلہ ہماری بساط سے باہر ہوا تو سب سے پہلے تمھیں بلاﺅں گا۔فی الحال تم جاﺅ، جرگے کا فیصلہ سننے کی ضرورت نہیں کیوں کہ فیصلہ جو بھی ہوا مجھے قبول ہو گا۔اور فاضل تمھیں چٹھی لکھ دے۔ اب جلدی کرو تاکہ لیٹ نہ ہو جاﺅ۔“ ابو جان نے امجد کو گلے لگا کر اس کا ماتھا چوما اور پیٹھ تھپتھپا کر چلے گئے۔ امجد جو میرے ساتھ حجت بازی کر رہا تھا ، ہنسی خوشی واپس جانے کو تیار ہو گیا۔دس بجے ہم بس سٹاپ پر پہنچ گئے۔وہاں سے ہر گھنٹے بعد بس گزرتی تھی ۔ دس بجے کی بس میں اتنی زیادہ سواریاں ٹھنسی تھیں کہ ہم سوار ہونے کی جرا¿ت نہ کر سکے۔ دوسری بس نے گیارہ بجے آنا تھا۔
امجد نے مشورہ دیا۔ ”چائے پی لیتے ہیں۔“
اثبات می سرہلاکر میں قریبی چارپائی کی طرف بڑھ گیا۔وہاں کرسیوں اور بینچوں کا نام و نشان بھی نہیں تھا۔دیہاتی ہوٹلوں میں بیٹھنے کو چارپائی ہی کو ترجیح دی جاتی ہے۔
وہاں مزدور، ڈرائیور،کاشت کار،بس کے منتظر اور نکموں کاجم غیفر اکٹھا ہوا تھا۔تمام چارپائیوں پر بیٹھے خوش گپیوں میں مشغول تھے۔ ہم بھی ان کا حصہ بن گئے۔ گیا رہ بجنے میں چند منٹ بقایا تھے جب لوگوں میں ہلچل مچی کہ بس پہنچنے والی تھی۔وہ ہوٹل کے مالک کوچائے وغیرہ کی ادائی کر رہے تھے۔ ہوٹل کا مالک جیرا پہلوان، جوکبھی علاقے کا چمپئن تھاتکیے سے ٹیک لگائے سب سے ہنس ہنس کر باتیں کرتے ہوئے بل وصول کر رہا تھا۔ میں اور امجد بھی اس کے ”ماچے “(بہت بڑی چارپائی)کی طرف بڑھ گئے۔ میں نے رقم نکالنے کو جیب میں ہاتھ ڈالا،اسی وقت ایک شخص موٹر سائیکل گھسیٹتا ہوا پہلوان کی چارپائی کے نزدیک پہنچا۔
”شیر خان کیا حال ہے۔“ اسے دیکھتے ہی جیران پہلوان چہکا۔
”جیرے بھائی! موٹر سائیکل کی چابی دو تھانے جانا ہے یہ کم بخت پنکچر ہو گئی ہے۔“اس نے اپنی موٹر سائیکل سٹینڈ پر کھڑی کر دی۔
”خیر تو ہے ؟“ جیرے پہلوان نے اس کی جانب چابی پھینکتے ہوئے حیرانی ظاہر کی ۔
وہ جیرے کی نئے ماڈل کی موٹر سائیکل کی طرف بڑھتے ہوئے بولا۔”رحمان خیل میں زمین کے تنازعے میں دو قتل ہو گئے ہیں ، تھانے اطلاع دینے جا رہا ہوں تفصیل واپسی پر بتاﺅں گا۔“ اس نے موٹرسائیکل تھانے کی طرف دوڑا دی۔ تھانہ وہاں سے دو میل آگے سڑک کے کنارے واقع تھا۔ قتل کا لفظ سنتے ہی میں نے دس کا نوٹ جیرے پہلوان کی گود میں پھینکا اور بقیہ لیے بغیر اپنے گاﺅں کی طرف دوڑپڑا۔ امجد مجھ سے دو قدم آگے تھا۔
آپ لوگ سمجھ توگئے ہوں گے.... جی ہاں رحمن خیل میرے ہی گاﺅں کا نام ہے۔
l l l
ہم تیز رفتاری کے ریکارڈ توڑتے رحمن خیل کی طرف بھاگ رہے تھے۔ یوں بھی بھاگنا دوڑنا کمانڈو زکا خاصا ہے۔ لیکن وہ دوڑ کمانڈو کے بجائے سو دو میٹر اتھلیٹ کے مماثل تھی۔رحمن خیل کی حدود میں داخل ہونے تک ہمارے سانس پھول چکے تھے۔ مکانات کی حدود کے قریب جا کر امجد رک گیا۔ یہ دوراہا تھا وہاں سے ایک راستا گھر کی طرف اور دوسرازمینوں کی طرف جارہا تھا۔
”کدھر چلیں؟“ اس نے پھولے سانسوں سے پوچھا ۔میں سوچ میں پڑ گیاکیوں کہ ہم حادثے کی جگہ سے لاعلم تھے۔
” پوچھ لیتے ہیں۔“ مجھے مخمصے میں دیکھ کر اس نے مشورہ دینے میں دیر نہیں کی تھی۔
میں اثبات میں سر ہلاتے ہوئے نزدیکی گھر کی طرف بڑھ گیا کہ وہاں کوئی موجود نہیں تھا جس سے معلوم کیا جاتا۔
میرا ہاتھ دستک دینے کو اٹھا مگر اسی لمحے گلی کے موڑ سے محمد جان بھائی نمودار ہوا۔ اور میں اس کی جانب دوڑپڑا۔ امجد نے میری تقلید کی تھی۔
”کیا ہوا؟“ہمارے قریب پہنچنے پر اس نے حیرانی ظاہر کی۔
میں بے صبری سے بولا”بس اڈے پر سنا ہے کہ دو قتل ہو گئے ہیں۔“
”تو....“
میں نے خدشہ بیان کیا۔”ہمیں آپ کی فکر تھی۔“
وہ مسکرایا۔”خیر محمد اور سہراب شاہ کے بیٹوں کے مابین فائرنگ ہوئی ہے جوانب کا ایک ایک بندہ قتل ہوا ہے۔ تبھی آج جرگے کی کارروائی بھی ملتوی ہو گئی ہے۔“
میں نے حیرانی سے پوچھا۔”ان کی تو صلح ہو چکی تھی؟“
محمد جان کے چہرے پر استہزائی ہنسی نمودار ہوئی۔” فوجی صاحب! گنڈا پور وں کی صلح و جنگ بندی کا حال تمھیں اچھی طرح معلوم ہے۔“
میرا استفسار جاری رہا۔”فائرنگ کی کوئی خاص وجہ تو ہو گی نا؟“
”خیر محمد کے بیٹے اکمل کو کل سہراب شاہ کے بیٹے فضل شاہ نے بزدلی کا طعنہ دیا تھا ۔ان کا سامنا امیر خان بیلدار کی شادی میںہوا۔ جھگڑا اسی وقت بڑھ جاتا لیکن امیر خان اور دوسرے لوگوں کے کی کوشش سے بات رفع دفع ہو گئی۔ آج فضل شاہ اپنے ماموں زاد اکبر شاہ کے ہمراہ زمینوں کی طرف جا رہا تھاکہ اکمل خاں کی گولی کا نشانہ بن گیا۔وہ اس کی تاک میں راستے میں چھپا بیٹھا تھا ۔ فضل شاہ کو مار کر وہ خود بھی نہ بچ سکا اور اکبر شاہ کی گولی سے موقع ہی پر ختم ہو گیا۔“
امجد نے منہ بنایا۔”جانو صاحب! اب چلیں کہیں اگلی بس بھی نہ نکل جائے۔“
محمد جان مصافحہ کر کے زمینوں کی جانب بڑھ گیا جبکہ ہم نے بس سٹاپ کارخ کیا۔
امجد نے پوچھا۔”خیر محمد اور سہراب شاہ کاکیا قصہ ہے؟“
میں ندامت سے بولا۔”تم نے ظہور اسلام سے پہلے عربوں کی جہالت کے قصے تو سنے ہوں گے؟“
”بالکل،سیرت کی کتابوں میں تفصیل سے پڑھے ہیں۔“
”ظہورِ اسلام سے پہلے کے عرب اور ہمارے گنڈا پور ایک ہی طرح کی ذہنیت رکھتے ہیں، فرق صرف یہ ہے کہ وہ بت پرست تھے اور یہ کلمہ گو۔ ان کے پاس تیر تلوار تھے اور یہ جدید اسلحہ سے لیس ہیں، جھگڑے انھی کی طرح چھوٹی چھوٹی اور بے معنی باتوں پر کرتے ہیں۔ کتوں کی لڑائی پر قتل۔ مرغوں اور بیٹروں کے مقابلوں پر قتل، خوب صورت اور بے ریش لڑکوں کی وجہ سے قتل ،یہاں تک کہ ہلکی سی گالی گلوچ اور طعنوں پر بھی قتل ہو جایا کرتے ہیں۔ خیر محمد اور سہراب شاہ کی لڑائی بھی یونھی گھٹیا سی بات پر ہوئی۔“
”کچھ پتا تو چلے ؟۔“ امجد نے اشتیاق ظاہر کیا۔
”خیر محمد کا چھوٹا بیٹا اجمل خان کا فی خوب صورت لڑکا ہے قریباً دو سال پہلے سہراب شاہ نے اس کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کی۔ اس نے اپنے والد کو بتا دیا۔ بس ایک دوسرے پر رایفلیں تن گئیں قریب تھا کہ فائرنگ ہو جاتی ایک دو بھلے آدمیوں کی مداخلت سے سہراب خان جرمانہ بھرنے پر آمادہ ہو گیا اور 20کنال اراضی خیر محمد کے حوالے کردی ، کل غالباً اسی زمین کا طعنہ اکمل کو دیا گیا تھا۔“
امجد حیرانی سے بولا۔ ”چھیڑا تو لڑکیوں کو جاتا ہے ۔اور جرمانے میں دیت کیسی؟“
” علاقے کا رواج ہے، البتہ چھیڑ چھاڑ کے بدلے رقم یا اراضی وغیرہ قبول نہیں کی جاتی یہ خیر محمد کی بے غیرتی تھی کہ جرمانہ لینے پر راضی ہو گیا تھا۔ لوگوں کو بے خبر رکھنے کی کوشش کی گئی لیکن ایسے راز کہاں چھپتے ہیں۔“
”تم لوگوں کی چودھری انور خان کے ساتھ اب تک فائرنگ نہیں ہوئی حالانکہ دو دفعہ ہاتھا پائی ہو چکی ہے؟“
”کیوں کہ گنڈا پور ہوکر بھی ابو جان ٹھنڈے مزاج اور سلجھی ہوئی طبیعت کے مالک ہیں۔ دوسرا زیادتی چوں کہ انور خان کی طرف سے ہوئی ہے تبھی انھوں نے فائرنگ کی کوشش نہیں کی۔اور جھگڑا ختم نہیں ہواچودھری کسی وقت بھی اس جہالت کامظاہرہ کر سکتے ہیں۔“
ہم بس اسٹاپ سے چند گز دور تھے کہ بس کا ہا رن سنائی دینے لگا۔ رات گئے ہی ہم یونٹ پہنچے تھے۔ صوبیدارصاحب غصے اور تشویش کی ملی جلی کیفیت میں تھے۔
”کہاں مر گئے تھے ؟“ ہمیں دیکھتے ہی وہ دھاڑے۔
میں سرجھکا کر بولا۔”سر !گھر میں جھگڑا ہوگیا تھا۔“
”اور تم ؟“ وہ امجد کو مخاطب ہوئے۔
”میں بھی عمر کے ساتھ تھا۔“
انھوں نے آنکھیں نکالیں۔” کال کر لیتے یا ٹیلی گرام کر دیتے،اتنی غیر ذمہ داری کا ثبوت دینا ضروری تھا۔“
ہم چپ چاپ سر جھکائے کھڑے رہے کہ فوجی نظم و ضبط کے مطابق ہمارا فعل کسی وضاحت کے قابل نہیں تھا۔
” صبح تیاررہنا دونوں کو کمانڈنگ آفیسر کے سامنے پیش ہونا ہے۔‘ ‘انھوں نے ہمیں جانے کا اشارہ کیا اور ہم خاموشی سے باہر نکل آئے۔
کمرے میں جا کر میں گرنے کے انداز میں چارپائی پر لیٹ گیا۔ ” ماجے صاحب !عزت افزائی کو تیار ہو جاﺅ۔“
” عزت آنے جانے والی چیز ہے میاں!اور گھبرانا تو مجھے چاہئے۔ تمھاری عزت پہلی مرتبہ تونہیں ہورہی جو پریشان ہو۔“اس کی بکواس کا جواب دیے بغیر میں نے آنکھیں بند کر لیں۔
l l l
روزمرہ کے معمولات سے فارغ ہو کر ہم خصوصی تیاری کے بعد دفتر پہنچ گئے۔ کمانڈنگ آفیسر لیفٹیننٹ کرنل سیدا جلال شاہ ایک سخت گیر ڈسپلن پسند آفیسر تھے۔ آفس میں بلا کر ہمارامسئلہ سنے بغیر وہ شروع ہوگئے۔
”سخت ، نکمے اور نالائق ہو، مقرر وقت پر نی پہنچنے کی سزا معلوم ہے؟تمھارا کورٹ مارشل بھی ہو سکتا ہے۔ ایس ایس جی ایک منظم ادارہ ہے اورہمیشہ میری پہلی ترجیح نظم و ضبط رہاہے ۔ دونوں کاسابقہ ریکارڈدیکھ کر میں فقط آرٹی یو(Return To Unit)پر اکتفاکر رہا ہوں۔ورنہ میری نظر میں تم کرٹ مارشل کے لائق ہو۔“بات ختم کر کے ہمیں لے جانے کا اشارہ کیاانھوں نے ہمارا نقطہ نظر جاننے کی ضرورت ہی محسوس نہیں کی تھی۔
امجد نے احتجاج کرنا چاہا۔”سر!ہم نے جان بوجھ کر....“
”کوئی وضاحت نہیں۔“ انھیں ہمارا مسئلہ سننے کے بجائے فوج کے نظم و ضبط سے مطلب تھا۔ ہم سلیوٹ کر کے باہر آگئے۔
یونٹ واپس جانے میں ہماری بڑی سبکی و نقصان تھا۔اتنی مشکل سے کمانڈو کورس کیا تھااور ایک چھوٹی سی بات کی بنیاد پر یونٹ واپس بھیج دیا جاتا۔ لیکن حقیقت تو یہ ہے کہ،فوج کا نظم و ضبط ہے ہی اتنا سخت ۔اس کی سزا میں ہمیں چودہ یا اٹھائیس دن ”پٹھو ٹہلائی“ کی سزا بھی مل سکتی تھی۔
”اس کو کہتے ہیں خیر سے بدھو گھر کو لوٹے۔“ سامان پیک کرتے ہوئے میں نے خود کو کوسا۔
امجد تلخی سے بولا ۔”اسے کہتے ہیں دھوبی کا کتا نہ گھر کا نہ گھاٹ کا۔“
میں نے اسے تسلی دی۔” اتنی چھوٹی باتوں پر پریشان نہیںہوا کرتے۔فوج کی نوکری کرنا ہے یہاں نہ سہی یونٹ میں سہی۔ تنخواہ اور راشن پانی وہاں بھی ملے گا۔“وہ خلاف توقع خاموش رہا۔
سینئر صوبیدار اور کمپنی کمانڈر نے اپنی سی کوشش کی کہ ہماری سزا پر عمل درآمد رک جائے، مگر انھیں کامیابی نہ ہوئی۔ مجبوراََاگلی صبح ہمMove Orderلے کر یونٹ روانہ ہو گئے ۔ہماری سابق یونٹ اس وقت اسکردو میںتعینات تھی۔ یونٹ پہنچتے ہی میں نے خط لکھ کر گھر والوں کو اپنے نئے پتے سے مطلع کر دیاتھا۔
پہلی فرصت میں ہمیں بٹالین کمانڈر سے ملایا گیا، ہماری واپسی پر انھوں نے خوشی کا اظہار کیا تھا۔
l l l
ہفتہ بھر بٹالین ہیڈکواٹر میں گزار کر ہمیں اگلی پوسٹوں پر جانے کا حکم ملا۔بدقسمتی سے ہمیں مختلف پوسٹوں پر جانا تھا۔ گھر سے دوری کے ساتھ اب ایک دوسرے سے جدائی کا دکھ بھی جھیلنا پڑگیا تھا۔ چار ساڑھے چار سال کی رفاقت نے ہمیں بہت قریب کر دیا تھا۔ البتہ یہ طمینان ضرور تھا کہ یہ جدائی عارضی تھی۔
سردی بہت زیادہ تھی گرم لباس بھی ٹھنڈ کا مقابلہ نہیں کر پا رہے تھے۔ لیکن یہ سردی ہمارے لیے نئی نہیں تھی۔ ہم استور(گلگت کی تحصیل ہے) کے مضافات میں واقع رَ ٹّو سکول میں ایک خصوصی کورس کر چکے تھے۔
امجد کی ٹولی بٹالین ہیڈکواٹر ہی سے دوسرے راستے پر روانہ ہوگئی، جبکہ میں اپنی ٹولی کے ساتھ مخالف جانب روانہ ہو گیا۔ کئی گھنٹوں کی مسافت کے بعد ہم پوسٹ پر پہنچ سکے تھے۔پہاڑی علاقوں میں پیدل چلنا اتناآسان نہیں ہے ۔شمالی علاقہ جات میں سب سے بڑامسئلہ رابطے کا تھا۔گوپوسٹ پر ٹیلی فون اور وائرلیس کی سہولیات موجود تھیں، لیکن فون عموماً خراب ہی رہتاکیوں کہ برفانی تودے گرنے سے فون کی تار کٹ جاتی تھی۔ وائرلیس البتہ رابطہ بحال رکھتا لیکن وائرلیس کی بات چیت محفوظ نہیں ہے ۔دشمن آسانی سے سن سکتا ہے ۔ لیکن بہ حالت مجبوری وائرلیس کااستعمال ناگزیر ہو جاتا ہے ۔البتہ احکامات وغیرہ کی ترسیل کو خفیہ زبان استعمال کی جاتی تاکہ راز باقی رہیں۔
ہمارے سیکٹرکی آٹھ پوسٹیں تھیں اور تمام پوسٹیں ایک ہی بیس سے منسلک تھیں بٹالین سے ڈاک وغیرہ بیس تک پہنچائی جاتیں اور اس سے آگے تمام پوسٹیں اپنے سامان کی وصولی کے لیے پارٹیاں روانہ کرتیں۔ پارٹیوں کی نقل و حرکت کا انحصار موسم کی صورتِ حال پر رہتا لیکن عموماً نومبر کے مہینے میں یہ نقل و حرکت 3ماہ کے لیے بالکل روک دی جاتی کیوں کہ اس دوران برف باری شدید ہوجاتی اور اسی وجہ سے برفانی تودے بھی بڑی تعداد میں گرتے تھے۔
گھریلو پریشانی سے قطع نظر یہ علاقہ دل فریب اور دیدہ زیب نظاروں کا مرجع ہے۔ صاف و شفاف فضا میں دور تک پھیلے پہاڑی سلسلے عجیب منظر پیش کرتے ہیں۔ زیادہ بلندی اور درختوں کی غیر موجودی کی وجہ سے گو آکسیجن بہت کم تھی لیکن یہ کمی صرف نقل و حرکت یا جسمانی مشقت کرتے وقت محسوس ہوتی تھی۔پوسٹ پر ہم لوگوں کا واحد کام پہرے داری تھا اور اس کے بعد تمام لوگ تاش، چوسر(لڈو)کھیلنے میں مشغول رہتے یاسفری رضائیوں Sleeping Bags))میں گھس کر گھر اور گاﺅں کی یادوں میں کھو جاتے۔ میں البتہ فارغ اوقات میں ہلکی پھلکی جسمانی مشقوں میں وقت گزارنا پسند کرتاتھا۔حوالدار کامل اورسگنل کا سپاہی ساجد بھی عموماً میری مشقیں دیکھنے آجاتے تھے۔جوڈو کے داﺅپیچ میں چونکہ دوسرے آدمی کی ضرورت پڑتی ہے اس لیے جوڈو کی مشق کرتے وقت میں انھیں شامل کر لیتا اور وہ دونوں بھی کچھ سیکھنے کے شوق میں تختہ مشق بنے رہتے۔ تازہ گری ہوئی برف تو فوم سے بھی زیادہ نرم ہوتی ہے۔ رات کو میں بھی ساتھیوں کے ساتھ تاش کھیلنے میں مشغول ہو جاتا۔ گنڈا پور ہونے کی وجہ سے تاش کا کھیل میری گھٹی میں پڑا تھا۔ پتا بازی اور چالوں میں تو بڑے بڑے جغادری کھلاڑی میری صلاحیتوں کا لوہا مانتے تھے۔ پوسٹ کے ساتھی بے چارے تو فقط پتے پھینکنا جانتے تھے۔تبھی پہلے ہی دن سے تمام نے مجھے اپنا گرو مان لیا تھا۔وہاں مجموعی طوربارہ افراد تھے ۔ایک صوبیدار ایک حوالدار اور باقی تمام سپاہی یا لانس نائیک تھے۔ ایک بندہ ہم نے کھانا پکانے کے لیے مختص کیا ہوا تھا۔
امجد سے وائرلیس سیٹ پرچند مرتبہ گفتگوہو چکی تھی۔ لیکن بات چیت سلام و دعا سے آگے نہیں بڑھی تھی۔ گھر سے رابطے کا واحد ذریعہ خط تھا جس کا میں شدت سے منتظر تھا۔
مجھے پوسٹ پر آئے مہینا ہونے کو تھا جب سیکٹر کے بیس پر تمام پوسٹوں کی ڈاک کھانے پینے کا تازہ سامان پہنچا۔ رات کو جب احکامات وصول ہوئے تب صوبیدار صاحب نے کہا۔
”صبح سویرے پارٹی بھیج دیں گے۔“ڈاک کی آمد کا سن کر تمام خوش ہو گئے تھے۔
محمد علی حسرت سے بولا۔”پتا نہیں کن خوش نصیبوں کے خط آئے ہوں گے۔“
غلام محمد بولا۔”کل پارٹی کی واپسی ہی پر معلوم ہوگا۔“
”تب تک تو خوش ہو لیں۔“ علی محمد نے اپنا سررضائی اندر کر لیاتھا۔آج موبائل فون کو استعمال کرنے والے نہیں جانتے کہ ہم گھر والوں کی سفید کاغذ پر گھسیٹی چند سطور کا کس بے چینی، بے صبری اور شدت سے منتظر رہتے تھے۔گھر، گاﺅں اوراپنے علاقے سے رابطے کا واحد ذریعہ صفحے ڈیڑھ صفحے کی چٹھی ہوا کرتی تھی جو مہینے ڈیڑھ مہینے بعد ہی وصول ہوتی تھی۔
لیکن غلام محمد کا اندازہ غلط ثابت ہواتھا۔رات کے قریباً دو بجے تھے جب ہلکی ہلکی برف باری شروع ہوئی اور صبح تک شدت اختیار کر گئی اور پارٹی کا جانا ملتوی ہو گیا۔ برف باری پورا ہفتہ جاری رہی اور جب رکی اسی دن بٹالین ہیڈکواٹر کی طرف سے حکم ملا ہر قسم کی نقل و حرکت فروری تک بند ہے۔
میں نے علی محمد سے پوچھا۔ ” مطلب ، ہمارا خط ہوا بھی تو اگلے تین مہینوں تک نہیں ملے گا۔“ ہم دونوں پہرے پرکھڑے تھے۔
اس نے امید ظاہر کی۔ ”اگر رانی ہمارے سیکٹر کی طرف آنکلی تو ڈاک لے آئے گی۔“
”رانی....؟“میں نے حیرانی بھرا استفسار کیا۔
وہ ہنسا۔” برف کی رانی۔ سفید رنگ کی کتیاہے۔ ڈاک، سگریٹ نسوار وغیرہ کی ترسیل کے لیے تمام سیکٹرز اسی کو استعمال کرتے ہیں۔“
میں نے پوچھا۔” کسی پوسٹ پرمستقل نہیں ٹکتی ؟“
” حرکت ہی میں رہتی ہے۔ہر پوسٹ والے ایک روزاپنے پاس رکھ کر گوشت وغیرہ سے اس کی تواضع کرتے ہیں اور اگلے دن دوسری جگہ اپنے کام سے بھیج دیتے ہیں۔اگلی پوسٹ والے اپنے کام سے بھیج دیتے ہیں بے چاری مسلسل حرکت ہی میں رہتی ہے۔لیکن یہ بھی حقیقت ہے بہت کام کی چیز ہے۔“
” بتاتے کیسے ہیں کہ اس نے کہاں جانا ہے؟“
” جس پوسٹ پر بھیجنا ہوتا ہے اس کی جانب رانی کا رخ کر کے پیچھے سے تھپکی لگاﺅ تو رانی سمجھ جاتی ہے اوراسی پوسٹ پر پہنچتی ہے۔“
میں تحسین آمیز لہجے میں بولا۔”بڑی مفید کتیا ہے۔“
” اس نے کئی دفعہ لوگوں کو مشکلوں سے نکالا ہے۔ ایک بار ناصراوپی پر صوبیدار صاحب سخت بیمار ہو گیا تھا۔ راستے بند تھے اور ڈاکٹر صاحب نے جو دوائی تجویز کی وہ رانی ہی نے وہاں تک پہنچائی تھی۔ جس سے صوبیدار صاحب کی جان بچی تھی۔یونھی کئی بار لوگوں کے پاس سگریٹ نسوار ختم ہونے کی صورت میں رانی نے انھیں یہ سب کچھ مہیا کیا۔“
میں دل ہی دل رانی کے بیس پر پہنچنے کی دعا مانگنے لگا۔ وہ شاید قبولیت کی گھڑی تھی کہ اگلے دن ہمارے سیکٹر بیس سے بتایا گیا کہ رانی کو ہماری سمت ڈاک دے کر بھیجا جارہا ہے۔“
”کب تک پہنچ جائے گی؟“ میں نے ایک ساتھی سے پوچھا۔
”زیادہ سے زیادہ تین گھنٹوں میں۔“
میں نے حیرانی ظاہر کی۔”ہمیں راستے صاف ہونے کی صورت میں بھی دس گھنٹے لگتے ہیں۔“
اس نے قہقہ بلند کیا۔ ” کیوں کہ کتوں کی رفتار ہم سے کہیں زیادہ ہوتی ہے۔“
اڑھائی گھنٹے بعد ہم تمام رانی کا رستہ تک رہے تھے۔
”وہ رہی۔ “ حوالدار کامل نے دور چٹانوں کی طرف اشارہ کیا۔ غور سے دیکھنے پر مجھے ایک سفید دھبا حرکت کرتا دکھائی دیا۔ اگر اس کا رنگ سفید نہ ہوتا تو شاید کافی دیر پہلے نظر آنا شروع ہو گئی ہوتی۔ اگلے آدھے گھنٹے میں رانی پوسٹ پر پہنچ چکی تھی۔رانی کے سامنے ملک پاﺅڈر سے بنایا ہوادودھ گرم کر کے رکھاگیا اور بیٹھنے کو آٹے کی خالی بوریاں بچھائی گئیں۔ وہ اطمینان سے بوریوں پر بیٹھ گئی تھی۔
صوبیدار صاحب نے اس کے گلے میں لٹکی ہوئی ڈاک نکال لی۔ تمام صوبیدار کے گرد اکٹھے ہو گئے تھے۔
” سپاہی غلام محمد۔“ صوبیدار صاحب نے پہلے خط کا پتا پڑھا۔
”چل بھئی گامے۔“ میں نے غلام محمد کی پیٹھ پر تھپکی لگائی۔صوبیدار صاحب ایک ایک خط نکال کرمتعلقہ افراد کے حوالے کرتے گئے۔ کئی خوش نصیبوں کے دو، دو، تین، تین خط آئے ہوئے تھے۔ ان میں میرا نام بھی شامل تھا۔میرے دو خط آئے تھے۔جونھی صوبیدار صاحب کے پاس خطوط ختم ہوئے تمام اپنا اپنا خط کھول کر پڑھنے میں مصروف ہو گئے۔
میں نے بھی ”بسم اﷲ“ کہہ کر پہلا خط کھولا۔ ا س پر کمانڈو یونٹ کا پتالکھا ہوا تھا۔ غالباً چچا فاضل نے پہلا خط پرانے پتے پر بھیجا تھا اور کمانڈوز نے اسے یونٹ کے پتے پرارسال کر دیا تھا۔ خط میں سلام و دعا کے بعد چچا فاضل نے جرگے کی کارروائی کے متعلق لکھا تھا کہ جرگے نے ہمارے حق میں فیصلہ دیا ہے اور چودھری انور کو منہ کی کھانا پڑی۔ خط پڑھ کر مجھے دلی خوشی ہوئی جو دوسرا خط پڑھ کر تشویش میں بدل گئی تھی۔ چچا جان نے لکھا تھا....
”جتنا جلدی ہو سکے چھٹی لے کر گھر پہنچو حالات بہت خراب ہیں۔ میں تاکیدکر رہا ہوں خط ملتے ہی روانہ ہو جانا۔ چاہے چھٹی ملے یا نہ ملے۔“
خط پر دس دن پہلے کی تاریخ درج تھی۔یقینا راستے میں رکے بغیر یہ مجھ تک پہنچا تھا۔ میں کاغذسے نظر اٹھا کر دائیں بائیں گھمائی چاروں اطراف برف کی چادر اوڑھے پہاڑی سلسلے دکھائی دیئے۔
”چھٹی ملے یا نہ ملے آجاﺅ۔“ میرے دماغ میں چچا فاضلکے لکھے الفاظ گونجے۔
”کیسے آجاو¿ں۔“میں نے خود کلامی کی۔”کچھ کرنا پڑے گا....کچھ تو کرنا ہی پڑے گا۔“ میری سوچوں میں ہلچل مچی تھی۔
l l l
اس رات وائرلیس آپریٹر ساجد تھا۔میں مورچے سے نکل کر ایکسچینج میں پہنچا۔وہاں مٹی کے تیل کا چولھا جل رہا تھا۔اندر داخل ہوتے ہی خوشگوار حدت نے اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا۔
میں نے لجاجت سے کہا۔”ساجد بھائی!سردی بہت زیادہ ہے ،دس بارہ منٹ کے لیے آپ میری جگہ پہرے داری پر چلے جائیںگے ۔“
”کیوں نہیں۔“ وہ خوش دلی سے بولا۔ اور رائفل اٹھاکر نکل گیا۔پہلی بار ایسا نہیں ہورہا تھا کہ اسے حیرانی ہوتی۔پہلے بھی کئی بار ایسا ہو چکا تھا۔ساجد ولی نہایت خوش اخلاق اورتعاون کرنے والا سپاہی تھا۔اس کے باہر جاتے ہی میں وائرلیس پر امجد کی پوسٹ کو پکارنے لگا۔
”ٹاپ تھری فار لیاقت اوور!“
”لیاقت فار ٹاپ تھری سینڈ یور مسیح اوور!“
”نک نیم امجد کو بلاﺅ.... اوور!“
”ویٹ۔اوور!“
”امجد.... اوور!“ چند لمحوں بعد ریسیور سے امجد کی آواز گونجی۔
”امجد تمھارا لاسٹ نمبر اوور۔“ صاف مطلب تھا کہ کوئی خفیہ بات ہے اور امجد اپنے آرمی نمبر(ہر فوجی جوان کو آرمی نمبر دیا جاتا ہے جو سات ہندسوں پر مشتمل ہوتا ہے)کے آخری چار ہندسوں کی فریکوئنسی استعمال کرے۔ اس طرح کسی دوسرے کو پتا نہیں چل سکتا تھا کہ ہم کس چینل پر بات کر رہے ہیں ۔ اور دوسرا امجد بھی اپنے پاس موجود آپریٹر کو کسی بہانے دائیں بائیں کر سکتا تھا۔(وائرلیس سیٹ بھی ایک طرح کا ریڈیو ہی ہوتاہے اس کے مختلف چینل ہوتے ہیںدو سیٹوں پر جب ایک ہی فریکوئنسی لگالی جائے تو دونوں کا رابطہ ہو جاتا ہے۔ کچھ وائرلیس سیٹ ایسے بھی ہیں جن سے کافی دور دور تک بات کی جا سکتی ہے لیکن ایسے سیٹ صرف سگنل کور والوں ہی کوملتے ہیں اور مخصوص اور اہم مقامات پر استعمال ہوتے ہیں)
میں نے مطلوبہ فریکوئنسی سیٹ کی چند ہی لمحوں بعد امجد کی آواز آئی۔ ”جانی اوور!“
”یس.... اوور!“
”بولونا کیا بات ہے۔ میں نے آپریٹر کو چائے بنانے بھیج دیا ہے۔ اوور!“
اور میں نے مختصراً خط کی آمد اور اپنے اندیشوں کے متعلق بتا دیا۔
تفصیل سن کر اس نے پوچھا۔ ” تم کرنا کیا چاہتے ہو.... اوور!“
میں اطمینان سے بولا۔” گھر جانا چاہتا ہوں.... اوور!“
”مشکل بلکہ ناممکن ہے.... اوور!“
”کوئی ترکیب سوچو ، لگتا ہے گھر میں کوئی حادثہ پیش آگیا ہے.... اوور!“
”اﷲ خیر کرے گا یار!برف باری کی وجہ سے نقل و حرکت بھی تو مشکل ہو گئی ہے۔اوور!“
” آج رات بھاگنے کا ارادہ ہے....اوور!“
” بٹالین ہیڈکواٹربات کرو شاید کوئی صورت نکل آئے.... اوور!“
” راستے بند ہیں اور میرے لیے کمانڈنگ آفیسر دس بندوں کی قربانی نہیں دے گا۔ اوور!“ (کیوں کہ پارٹی میں کم از کم دس بندے چلتے تھے)
” اپنی جان سے کھیلنا ضروری ہے.... اوور!“ امجد کی جھلائی ہوئی آواز ابھری۔
”میرے لیے دعا کرنا.... اوور!“
” ایسا ہے تو میں بھی ساتھ چلتا ہوں.... اوور!“
” دونوں برف میں پھنس کر اﷲ کو پیارے ہوگئے تو دشمن سے بدلہ کون لے گا.... اوور!“
” گھر پہنچتے ہی خط ضرور لکھنا۔ ورنہ مجھے پریشانی رہے گی.... اوور!“
”اوور اینڈ آل“ کہہ کر میں نے رابطہ ختم کیا اور مورچے کی طرف بڑھ گیا۔ دس بجے میری ڈیوٹی ختم ہوناتھی۔ دوبارہ میں نے دو بجے اٹھنا تھا۔ رہائشی بینکرمیں تمام لوگ جاگ رہے تھے۔ احمد علی کا بچہ پیداہوا تھا اور اس کی خوشی میں گانے بجانے کی محفل شروع تھی۔ کک انڈوں کا حلوہ، کباب پکوڑے اور چاولوں کی تیاری میں مشغول تھا۔ علی محمد اس کا ہاتھ بٹا رہا تھا۔ (پوسٹوں پر ہمیں انڈوں کا خشک پاﺅڈر ملتا تھا اسی سے ہم آملیٹ اور حلوہ وغیرہ بناتے تھے)
دس بجے پہرا ختم کر کے میں نے اپنا پٹھو اٹھایا اورراشن سٹور میں گھس گیا۔ تمام حوالدار کامل کی طرف متوجہ تھے جو اپنی سریلی آواز میں کوئی گانا گا رہا تھا۔ میرا ذہن چونکہ الجھا ہوا تھا اس لیے گانوں کے بولوں پر توجہ نہ دے سکا۔ ”پیٹرو میکس لیمپ “کی روشنی میں ضروری سامان پٹھو میں بھرااور پٹھو وہیں چھوڑ کر رہائشی بینکر میں آگیا۔ گھر کے متعلق مختلف قسم کے اندیشوں نے مجھے ماحول سے لاتعلق کر دیا تھا۔ میں رضائی میں منہ دے کر تمام ممکنہ مصائب سوچنے لگاجو چودھری انور کے کنبے سے ٹکر لینے کی صورت نازل ہو سکتی تھیں ۔
”طبیعت تو ٹھیک ہے۔“خوش دل خان نے میرے سر سے رضائی ہٹائی۔
میں نے بہانہ گھڑا۔” سر میں ہلکا سادرد ہے۔“
وہ میرا سر سہلاتا ہوا بولا۔”کھانا کھا کر سو جانا۔“
میں اٹھ گیا۔ بھوک بالکل ہی نہیں تھی۔ لیکن راستے کی مشقتوں اور صعوبتوں کو مدِ نظر رکھتے ہوئے کھانا ضروری تھا۔کھانا کھا کر تاش کی بازی جم گئی، میں پہرے دار کی بدلی کوتیار ہونے لگا تاکہ وہ کھانا کھالے۔
خوش دل خان نے مجھے تیار ہوتا دیکھ کرکہا۔ ”عمر جان !آرام کرو میں چلا جاتا ہوں۔“
”مجھے نیند نہیں آرہی۔“کہہ کر باہر نکل آیا۔پہرے پر علی محمد کھڑا تھا۔اس کے رہائشی بینکر میں داخل ہوتے ہی میں نے رائفل مورچے کی دیوار کے ساتھ کھڑی کی اور سٹور میں گھس گیا۔اس کے کھانا کھانے سے پہلے مجھے نکلنا تھا۔ مجھے پتا تھا کہ اس نے رایفل اُٹھا کر ڈیوٹی کھڑے ہو جانا تھا ،کیوں کہ پہلے بھی کئی بار ایسا ہوچکا تھا۔
پوسٹ پر دو پہرے دار ہوتے تھے۔ایک سامنے والے مورچے میں ہوتا تھا جس کا رخ انڈیا کی پوسٹ کی جانب تھادوسرا عقبی جانب کے مورچے میں ہوتا تھا۔جس کا کام نگرانی کے ساتھ پہرے داروں کو وقت پر جگانا بھی ہوتا تھا۔اور عقبی پہرے دار سامنے والے پہرے دار کی طرح چوکنا نہیں ہوتا تھا۔
پٹھو اُٹھا کر میں پوسٹ کے مغربی نالے میں اترنے لگا۔ تازہ برف باری کی وجہ سے برف نرم تھی اور اس میں پاﺅں مکمل دھنس رہے تھے۔اگر برف سخت ہو چکی ہوتی تو نالے کی تہہ تک پہنچنے میں چند منٹ سے زیادہ وقت نہ لگتا۔ جنوری ،فروری میں جب برف سخت ہو جاتی تو نشیب میں چل کر نہیں پھسل کر جاتے تھے۔یوں گھنٹوں کے فاصلے منٹوں ،سیکنڈوں میں طے ہوتے۔ ہمیںیونٹ میں آئے بہت کم عرصہ ہوا تھا، لیکن ہم برفانی علاقے میں رہنے کے طریقہ کارسے اچھی طرح آگاہ تھے اور اس کی وجہ رٹّو کورس تھا جس میں اسی علاقے میں رہنے کے بارے اہم باتیں سکھائی جاتی ہیں۔
ٹاپ تھری سے بیس پر جانے کو عموماً شمالی راستہ اختیار کیا جاتا۔ مغربی سمت میں اتر کر بھی میں نے شمالی جانب ہی مڑنا تھا لیکن یوں کہ بیس راستے میں نہ آتا اور میں ایک دوسرے نالے میں سفر کرتا ہوااپنے سنتریوں سے بچ کر نکل جاتا۔ورنہ رات کے وقت کوئی بھی پہرے دار شب دید آلات میں میری نقل حرکت دیکھ کر گولی چلانے سے نہ رکتا۔اور گولی کمانڈو اور عام شخص میں فرق روا نہیں رکھتی۔
گھپ اندھیرا تھا اور راستہ نظر نہیں آرہا تھا دھند کی وجہ سے میں ستاروں سے بھی رہنمائی نہیں لے سکتا تھا۔ نشیب میں اترنے تک مجھے پون گھنٹا لگ گیا۔ ٹارچ جلائے بغیر میں اندازے سے شمالی نالے میں بڑھ گیا تازہ برف کی وجہ سے میں رینگنے کی رفتار سے حرکت کر رہا تھا۔جس آدمی نے برفانی علاقے میں وقت نہ بتایا ہو اس کے لیے برف میں چلنے کی مشکلات سمجھنا آسان نہیں ہے۔تازہ برف روئی کے گالوں کی طرح مسلسل گر کر ڈھیر کی صورت اختیار کر لیتی ہے۔اور جب اس پر انسانی پاﺅں کا وزن پڑتا ہے تو پاﺅں گھٹنوں یا بعض اوقات رانوں تک اندر دھنس جاتا ہے۔یوں جیسے دلدلی زمین میں چلا جائے۔ریت میں انچ ڈیڑھ انچ پاﺅں نیچے جاتا ہے اور سفر کرنے والے کو اتنی زیادہ مشقت جھیلنا پڑتی ہے تو گھٹنوں تک پاﺅں دھنسنے والامسافر کس رفتار سے حرکت کرے گا یہ سوچنے کے لیے زیادہ ذہانت نہیں چاہیے۔پھر برفانی جوتوں کا وزن ایک علیحدہ مصیبت ہے۔چار پانچ کلو گرام وزنی جوتے پہن کر تیز رفتاری سے حرکت کوئی ربوٹ ہی کر سکتا ہے۔جیتا جاگتا انسان یہ مظاہرہ نہیں کر سکتا۔
اس علاقے میں سرحد کی تقسیم بڑے عجیب انداز میں ہوئی ہے۔ جس جگہ بھی دونوں ملکوں کی آرمی کو پوسٹ بنانے کو مناسب جگہ ملی وہاں پوسٹ بنا لی گئی۔ اس لیے کئی جگہوں پر ہم دشمن کے علاقے میں آگے تک چلے گئے ہیں اور کہیں وہ دور تک ہمارے علاقے میں گھس آئے ہیں۔جوانب میں فائرنگ اور گولہ باری معمول کاشغل تھا۔کچھ ایسی پوسٹیں جہاں دشمن سے فاصلہ میٹروں تک محدود رہ گیا تھا ،وہاں بات چیت،گپ شپ ،طنز و تشنیع اور پھبتیاں کسنے کا رواج عام تھا۔ایسے مواقع بھی آئے جب دشمن کو کھانے پینے کی اشیاءبھی فراہم کی گئیں۔
پوسٹ چھوڑنے سے پہلے میں نے نقشے کا بہ غور جائزہ لیا تھاجس سے بھی مجھے ارد گرد کے علاقے کو سمجھنے میں کافی مدد ملی تھی۔ اگر میں مسلسل تین دن چلنا رہتا تو سڑک تک پہنچ سکتا تھا جہاں سے مجھے سکردو کے لیے گاڑی مل جاتی۔برف بہت زیادہ نرم تھی لیکن میرے ارادوں کو مترلزل کرنے میں ناکام رہی۔ کچھ دور آنے کے بعد راستہ نیچے کی طرف اترنا شروع ہو گیا اور میری رفتار بڑھ گئی۔ ٹاپ تھری سے ہموار نظر آنے والا نالا اب ڈھلوان کی طرح محسوس ہو رہا تھا۔ میںگھرکے خیالوں میں کھو گیا۔ گھر والوں کے بارے سوچ کر راستے کی دشواری کا احساس مٹ گیا تھا۔ ابو جان، چچا جان اور بھائیوں کی شکلیں میرے دماغ میں گھوم رہی تھیں نہ جانے کون مجھے واپسی پر نہ ملتا۔راستے میں ایک دو موڑ آئے میں لیکن میں نے مغربی سمت ہی اختیار کیے رکھی۔
میں نے گھڑی کے چمکتے ڈائل پر نظر دوڑائی، سوئیاں اڑھائی بجنے کا اعلان کر رہی تھیں۔ مجھے چلتے ہوئے تین گھنٹے ہونے گئے تھے۔ چند لمحوں کو رک کر میں نے سانس درست کیا، پٹھو سے پانی کی بوتل نکال ایک دو گھونٹ پانی پیا اور دوبارہ چل پڑا۔ میرا ارادہ تھا کہ صبح روشنی ہونے کے بعد تھوڑی دیر آرام کروں ورنہ چلتا رہوں۔ دو تین دنوں کا راشن پٹھو میں موجودتھا۔صبح آہستہ آہستہ ظاہر ہونے لگی لیکن دھند کی وجہ سے اردگرد کے منظر صاف نظر نہیں آرہے تھے۔میں نے رک کر ہلکا پھلکا ناشتا کیا اور پھر ناک کی سیدھ میں چلنا شروع کر دیا۔
گیارہ بجے کے قریب دھند چھٹنا شروع ہوئی۔ میں نے اپنے چاروں طرف نظر دوڑائی تاکہ بیٹھنے کے لیے کوئی آڑ تلاش کرسکوں۔ سردی کے باعث کسی بھی جگہ دس پندہ منٹ سے زیادہ بیٹھنا مشکل ہو جاتاہے۔ اس لیے میں برفانی علاقے کا مخصوص گرم لباس( جو سنتری ڈیوٹی کے دوران پہنتے تھے) لانانہیں بھولا تھا۔وہ لباس پہن کر چلنا دشوار ترین ہو جاتا ہے کیوں کہ اس صورت میں اتنا پسینہ نکلتا ہے کہ اندرونی لباس گیلا ہوجاتا ہے۔اس لیے سفر کے لیے سفید رنگ کا ہلکا پھلکا لباس استعمال ہوتا ہے جسے ”پارکا “کہتے ہیں ۔
ایک کھو ہ دیکھ کر میں نے پٹھو اتارااور گرم جیکٹ وپاجامہ نکال کر پار کے کے اوپر ہی پہن لیا۔ پٹھو سر کے نیچے رکھ کرمیں برف پر ہی لمبا لیٹ گیا۔ مسلسل چلنے کی وجہ سے تھکن محسوس ہورہی تھی۔ دھند مکمل طور پر غائب ہو گئی تھی۔میں نے دائیں بائیں نگاہ دوڑائی تاکہ اندازہ کرسکوں کتنا فاصلہ طے کر چکا ہوں۔لگتا تھا میں بیس کو کافی پیچھے چھوڑ آیاہوں۔ اردگرد کے مناظر مجھے نامانوس سے لگے میں بے اختیار اٹھ بیٹھا۔ تب میرا دل خوف سے لرز اٹھا کہ میں نے سرحد عبور کرلی تھی اور اب دشمن کے علاقے میں تھا۔ گھر کی پریشانی کی جگہ مجھے نئی مصیبت نے الجھا دیا تھا۔
نالے کے درمیان میرے پاﺅں کے واضح نشان نظر آرہے تھے اور یہ نشان دشمن کو میری آمد سے نہ صرف مطلع کردیتے بلکہ انھیں میری جگہ کی نشان دہی بھی کر سکتے تھے۔ میں فوراََ آڑ میں ہو کر موسم کے خراب ہونے کی دعا مانگنے لگا۔ مگر وہ موسم جو بغیر دعا ہی کے اکثر خراب رہتا تھا آج دعا مانگنے پر بھی صاف ہی رہا۔ اگر شام تک میں دشمن کی نظر سے محفوظ رہتا تو اندھیرا ہوتے ہی میں واپسی کا سفر طے کر سکتا تھا۔ وقت دیکھابارہ بجنے کوتھے۔وہاں شام کے پانچ، ساڑھے پانچ بجے کے قریب اچھا خاصا اندھیرا چھا جاتا تھا اور میں تبھی واپسی کا سفر شروع کر سکتا تھا۔
میں دشمن کی دو پوسٹوں کے درمیان سے گزر کر آیا تھا۔ ایک پوسٹ نالے کی جنوبی ٹیکری پر تھی اسے لالی پوسٹ کہتے تھے اور دوسری شمالی سمت میں لالی پوسٹ سے تھوڑا پیچھے ہٹ کربنی تھی اور لالی ٹو کہلاتی تھی۔ دونوں پوسٹوں کے پاس شب دیدآلات موجودی یقینی تھی ۔لازماََ دھند کی وجہ سے میں ان کی نظروں سے اوجھل رہا تھا۔
میں نے دوبارہ گھڑی دیکھی، سوا بارہ ہوئے تھے۔ وقت رینگ رینگ کر گزر رہا تھا۔ میرے چاہنے سے وقت کی رفتار تیز نہیں ہو سکتی تھی۔ موسم بالکل صاف ہوگیا تھا، اکا دکا نظر آنے والے بادل بھی غائب ہو گئے تھے۔ اب تو فقط یہی دعا مانگ سکتا تھا کہ ”یا الٰہی! دشمن کو چند گھنٹوں کے لیے اندھا کر دے۔ “
لیکن اس دن میری دعائیں بالکل ہی بے اثر رہیں۔چند لمحے بعد ہی مجھے چند سفید دھبے حرکت کرتے نظرآئے۔ چھپنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا اور نہ بھاگ ہی سکتا تھا۔ ہتھیار کے نام پر میرے پاس صرف برف پر چلنے کی مدد گار چھڑی تھی۔ آتشیں اسلحے سے اس کا تقابل چیونٹی و ہاتھی کا مقابلہ کرانے جیسا تھا۔ دشمن اگر خالی ہاتھ ہوتے تو لڑ کر بھاگاجا سکتا تھا۔مگر سوال یہ تھا کہ بھاگ کر کہاں جاتا۔ میرے پاﺅں کے نشان دشمن کو کھینچ کر وہاں لا رہے تھے۔ حفظ ماتقدم کے طور پر میں نے اپنے پٹھو کی تلاشی لی لیکن کوئی ایسی چیز موجود نہیں تھی جو دشمن کو فائدہ دیتی ۔ میری جیب میں ہاتھ کا بنا ہوا نقشہ اور گھر سے آنے والے دونوں خط موجود تھے۔ نقشہ اور کمانڈو کے پتے والے خط کا لفافہ پرزے کیا اور دانتوں سے چبا کر برف میں پھینک دیا۔ کیوں کہ میں نہیں چاہتا تھا دشمن کو میرے کمانڈو ہونے کا پتا چلے۔
 

قسط نمبر3
ریاض عاقب کوہلر
وہ جلدہی قریب پہنچ گئے تھے۔ ان کی تعداد پانچ تھی ۔سب کے ہاتھوں میں ایس ایم جی تھی۔(کلاشن کوف)۔انڈیا کی فوج میں عام طور پر جرمنی کی بنی ہوئی رائفل جی ٹو استعمال ہوتی ہے۔اس کا اصل نام جی ون ہے ۔انڈیا نے تھوڑی بہت تبدیلی کر کے اسے G-2کا نام دے دیا اور پاکستان آرمی میں بھی یہی رائفل تھوڑی بہت تبدیلی کے ساتھG-3 کے نام سے استعمال ہو رہی ہے۔ یہ رائفل قریب و دور ہر دو قسم کی لڑائی میں استعمال ہوتی ہے۔ لیکن برفیلے علاقے میں یہ کام چھوڑ دیتی ہے جو ایک بڑی خامی ہے ۔تبھی اس علاقے میں دونوں ملکوں کی افواج چائنہ یا روس کی بنی کلاشن کوف استعمال کرتی ہیں۔اور اسے فوجی اصطلاح میں ایس ایم جی یعنی شارٹ مشین گن کہتے ہیں۔آج کل پاکستان اور انڈیا میں بھی کلاشن کوفیں بن رہی ہیں۔اسے AK47بھی کہتے ہیں ۔
کلاشن کوفوں کے خوفناک دھانوں کا رخ میری جانب تھا۔ مزاحمت کرنابے فائدہ تھا ۔تبھی ان کے نزدیک پہنچنے سے پہلے میں ہاتھ اٹھائے ان کے سامنے پہنچ گیا۔وہ پچاس ساٹھ قدم کے فاصلے پر رک گئے تھے۔
”آگے جاﺅ۔“ ایک نے درشت لہجے میں حکم دیا۔
میں محتاط قدموںسے قریب ہوا۔ تمام نے گنوں کا رخ میری جانب کیا ہوا تھا اورغلط حرکت پر لبلبی دبانے کو تیار تھے۔ لیکن میرامرنے کاکوئی ارادہ نہیں تھا۔ قریب جا کر میں رک گیا۔
”روی اس کی تلاشی لو۔“ مجھے بلانے والا اپنے ساتھی کو مخاطب ہوا۔یقینا وہ ان کا سینئر تھا۔ اس کے عہدے کا اندازہ لگانا مشکل تھا کیوں کہ پار کے کی وجہ سے اس کا رینک نظر نہیں آرہا تھا۔ یوں بھی اس علاقے میں وردی کا استعمال نہیں ہوتا تھا، لوگ زیادہ تر ٹریک سوٹ وغیرہ استعمال کرتے تھے۔ البتہ عمرسے وہ صوبیدارہی لگتا تھا(بعد میں میرے اندازے کی تصدیق بھی ہو گئی تھی ،وہ صوبیدار ہی تھا)
”جی سر۔“ روی آگے بڑھا۔ کلاشن کوف کندھے سے لٹکائی اور تلاشی لینے لگا۔ میری جیب سے سوائے خطوط کے کچھ نہیں نکلاتھا۔ پانی کی بوتل اور ٹارچ اس نے میری جیب میں رہنے دی تھیں۔
اس نے مایوسی سے سرہلایا۔”کچھ نہیں ہے سر۔“
سینئر نے کہا۔”یہ کاغذ میرے پاس لے آﺅ۔“
میں درخواست گزار ہوا۔”میں ہاتھ نیچے کر سکتا ہوں۔“
”کرلو۔“ وہ مختصراً بولا اورروی سے خطوط لے کر پڑھنے لگا۔یقینا وہ اردو رسم الخط پڑھنا جانتا تھا،ورنہ ہندی اور اردو بولنے میں مماثل ہونے کے باوجود رسم الخط کے لحاظ سے بالکل مختلف ہے۔
دونوں خط پڑھ کر اس نے گہرا سانس لیا۔ ” عمر جان !سامان وغیرہ نہیں ہے تمھارے پاس۔“
”ہے۔“ میں نے اپنے پٹھو کی جانب اشارہ کیا۔
پٹھو کی تلاشی بھی بے کاررہی تھی۔
اس نے معنی خیز لہجے میں پوچھا۔ ” ہتھیار کدھر ہے۔“
”نہیں ہے۔“میں نے نفی میں سرہلادیا۔
روی نے خیال ظاہر کیا۔”صوبیدار صاحب !اس نے ہتھیار برف میں نہ چھپا دیا ہو۔“ تمام دائیں بائیں دیکھنے لگے جیسے سچ مچ کوئی ہتھیار برف میں دفن کررکھا ہو۔
” ڈھونڈو۔“ صوبیدار نے روی کے خیال کو اہمیت دی تھی ۔تمام اثبات میں سرہلاتے ہوئے ڈھونڈنے لگے۔ وہ خود مجھ پر نظر رکھے رہا۔
اس نے تفتیش کا آغاز کیا۔”سرحد پار کرنے کا مقصد۔ ‘ ‘
میںمو¿دب لہجے میں بولا۔ ”سر! غلطی سے آیا ہوں، پوسٹ سے گھر جانے کے ارادے سے بھاگالیکن دھند کی وجہ سے رستہ بھول پڑا۔ یہ خط مجھے کل رات ملے ہیں ۔راستے بند ہونے کی وجہ سے چھٹی کا ملنا مشکل تھا تبھی بغیر چھٹی مانگے بھاگنا پڑا، لیکن بدقسمتی آڑے آگئی ۔“
”کہانی اچھی ہے بالک (بچے) لیکن تفتیش کرنے والوں کتنا متاثر کرتی ہے یہ تمھاری قسمت پر منحصر ہے۔“ یہ کہہ کر وہ وائرلیس پر میری گرفتاری کا بتانے لگا۔
”داس فارٹواوور۔“
”ٹو فار داس، سینڈ یور میسج اوور۔“
”سر ایک ہی پرندہ تھا، پکڑ لیا ہے لیکن چونچ کٹی ہوئی ہے۔ اوور۔“(چونچ کٹی ہونے کا مطلب میرے پاس ہتھیار کا نہ ہونا تھا)
” اسے نمبر5پر پہنچا کرتم لوگ کل واپس آجانا اوور۔“
”ٹھیک ہے سر!.... اوور۔“
”اوور اینڈآل۔“ کہہ کر رابطہ منقطع کر دیا گیا۔ چاروں افراد ناکام تلاش کے بعد ہمارے نزدیک آگئے تھے۔
صوبیدار داس طنزیہ لہجے میں بولا۔ ”تمھارے چھٹی جانے کے شوق نے ہمیں کشٹ (مصیبت) میں ڈال دیا۔“
”اسے کہاں پہنچاناہے سر؟“ وہ میرے ہتھیار کی تلاش میں کافی دور تک نکل گیا تھا، اگر اس میں ذرا بھی عقل ہوتی تو میرے پاﺅں کے نشانات تک ہی تلاشی لیتا۔نرم برف میں تو ذرا سی حرکت بھی بھانڈا پھوڑ دیتی ہے۔
”گجران۔“ صوبیدارداس کے بجائے روی نے جواب دیا تھا۔
اس نے منہ بنایا۔” واپسی کل ہی ہوگی۔“
”پٹھو اٹھاکر لکشمن کے پیچھے چلو۔“ صوبیدار داس نے ہدایت جاری کی۔میں پٹھو کی جانب بڑھ گیا۔ جبکہ لکشمن آگے چل پڑا۔
گرم لباس اتار کر میں نے پٹھو میں ڈالااورلکشمن کے پیچھے ہو لیا۔ باقی میرے پیچھے قطارمیں چل پڑے۔صوبیدار داس سب سے آخر میں تھا۔ میں نے گھڑی پر نگاہ ڈالی تین بجنے کوتھے۔
ہم شام تک چلتے رہے۔ راستے میں چڑھائیوں کی بہ نسبت اترائیاں زیادہ آئی تھیں تبھی ہم کافی فاصلہ طے کر چکے تھے۔ بادل ٹکڑیوں کی صورت آسمان پر جمع ہونا شروع ہو گئے تھے اورتیز ہوا کی وجہ سے اکٹھے ہورہے تھے۔ برف صبح کی نسبت سخت ہو گئی تھی اس لیے پاﺅں بہت زیادہ گہرائی میں نہیں اتر رہے تھے۔ ایک کھڑی چڑھائی کے قریب جا کرآگے جانے والا رک گیاتھا۔
صوبیدار داس نے پوچھا۔ ”کیا ہوا موہن“۔ راستے میں رہنمائی کرنے والے تبدیل ہوتے رہے تھے ،نرم برف کی وجہ سے کسی ایک کا آگے چلنا مشکل تھا۔کیوں کہ آگے چلنے والے کو برف میں رستہ بنانا پڑتا ہے جبکہ پیچھے آنے والے پاﺅں کے نشانات پر آسانی سے چلتے رہتے ہیں ۔
موہن بولا۔”سر!یہاں ایوالانچ(برفانی تودا) گرنے کا خطر ہ ہے۔اگر اجازت ہو تو فائر کر کے تسلی کر لیں۔“(بعض اوقات برفانی تودے کو تحریک دینے کو ہلکی سی آواز کافی ہوتی ہے تبھی خطرے کی جگہوں پرکسی بھی ہتھیار کا فائر کیاجاتایوں برفانی تودہ گرنے والا ہوتا تو حرکت میں آجاتا)
”رہنے دو۔“ صوبیدار داس نے نفی میں سر ہلایا۔ اور موہن آگے بڑھ گیا۔ میں اس کے پیچھے ہو لیا۔ ساری رات کے سفر اور پھر دن کو بھی آرام نہ ملنے کے باعث میں تھکاوٹ محسوس کررہا تھا۔ جسم آرام کا طلب گار تھا، لیکن دشمن کے سامنے کوئی کمزوری ظاہر نہیں کرسکتا تھا۔ برفانی تودے کے خطرے کا سن کر میں چاروں اطراف کا جائزہ لیتے ہوئے بچنے کے امکان پر غور کر رہا تھا۔
سبھی خاموشی سے بلند ہو رہے تھے ،حالاں کہ راستے میں ان کے منہ آوارہ کتے کی” بھوں بھوں “ کی طرح کھلے رہے تھے۔ وہ مجھے کوسنے کے ساتھ پاکستان آرمی کا بھی مذاق اُڑاتے رہے تھے۔ اس کام میں لکشمن پیش پیش تھا۔ پاک آرمی کے خلاف اسے سینکڑوں لطائف اور بے سروپا باتیں ازبر تھیں۔ جنھیں وہ سارے راستے یوں منہ سے اگلتا رہاجیسے پیٹ بھری بھینس تسلسل سے جگالی کرتی ہے ، جبکہ میری کوشش تھی کہ دائیں بائیں کے مناظر میں دماغ الجھا کر دل شکن باتیں سننے سے بچ سکوں۔ لیکن سماعتیں انسان کے اختیار میں نہیں ہوتیں۔تبھی کوشش کے باوجود مجھے سب کچھ سننا پڑا تھا۔
چڑھائی کافی مشکل تھی اس لیے ہماری رفتار بہت سُست ہو گئی تھی۔ ان کی باتوں سے مجھے یہ بھی پتا چلا کہ اس کے بعد گجران تک قابل ذکر چڑھائی نہیں تھی۔ ہم درمیان تک ہی پہنچ پائے تھے کہ اچانک تیز گڑگڑاہٹ ابھری۔ وہ بھیانک آواز میرے کانوں کے لیے نامانوس نہیں تھی۔ بادل گرجنے جیسی بلند آواز بلاشبہ اس آفت کی تھی جسے برفانی تودہ کہتے ہیں۔ اس کی ہلاکت آفرینی سے صرف وہی لوگ واقف ہوں گے جنھیں برفانی علاقے میں رہنے کا اتفاق ہوا ہو۔ اس میں پھنسنا ننانوے فیصد موت تھی۔بچنے کی کوشش عموماََ ناکام ہی رہتی لیکن موت کو سامنے پا کر انسان ہاتھ پاﺅں مارنے سے نہیں ٹل سکتا۔
”تیرا بیڑا غرق ہومُسلے!“ لکشمن اس نازک وقت میں بھی مجھے کو سنے سے باز نہیں آیاتھا۔ میںچڑھائی چڑھتے ہوئے ایسی جگہ کی تلاش میں رہا تھا جہاں برفانی تودہ گرنے کی صورت بچا جا سکے۔ مگر اطراف میں کوئی ایسی جگہ موجود نہیں تھی۔ گڑگڑاہٹ سنتے ہی میں نے سب سے پہلے توپٹھو کندھوں سے نکالا۔ اس کے ہوتے ہوئے میں اپنا دفاع کھل کر نہیں کرسکتا تھا۔ اس وقت میرے دماغ میں رٹّو سکول کے سینئر انسٹر کٹر میجر آفتاب کی ہدایات تازہ ہو گئی تھیں۔
”جوانو!گھبرانے والوں کی اکثریت کوناکامی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔برفانی تودے کی لپیٹ میں آنا ننانوے فیصد موت ہے ۔اورجب بچنے کے امکان موجود ہوں تو کوشش کرنے والے ایک فیصد کا مصداق بن سکتے ہیں ۔ایسی کسی بھی صورت حال کا سامنا کر نا پڑے تو رک کر موت کو گلے لگانے کے بجائے بھاگ کر زندگی سے لپٹنے کی جدجہد کرنا۔حرکت میں رہنا تمھارے بچنے کے امکانات کو بڑھا دے گا۔اور جونھی برف کی باڑھ سے ٹکراﺅ ہو اپنے ہاتھوں کو یوں گھمانا جیسے تیراکی میں چلائے جاتے ہیں۔“
میں اترائی کی طرف دوڑا اور جیسے ہی برف کاسیلاب قریب پہنچاجسم کو ڈھیلا چھوتے ہوئے میں تیراکی کے اندازمیںبازو مارنے لگا۔ وہ تمام زورزور سے بھگوان اور رام کو پکار رہے تھے مگر برفانی تودے نے انھیں زیادہ دیر واویلا کرنے کو نہیں چھوڑا تھا۔ایک دو چیخوں کے بعد برفانی تودے نے ان کی آوازیں بند کر دی تھیں یا شاید میری سماعتوں ہی پرمہر لگا دی تھی۔ وہ بلندی جہاں پہنچنے میں گھنٹا بھر لگا تھا، برفانی تودے نے منٹ سے بھی کم عرصے میں ہمیں واپس نشیب میں پہنچا دیاتھا۔ میں نے حرکت بند نہیں کی تھی بلکہ نرم برف کو دھکیل کر چہرے اور جسم کے لیے کافی جگہ بنالی تھی۔
اپنے استاد کی شفقت بھری آواز میری رہنمائی کر رہی تھی۔”سب سے پہلے اپنے چہرے اور جسم سے برف کو دور دھکیلنا۔اس کے بعد آہستہ سے تھوکنا، اگر تھوک واپس منہ پر گرے تو سمجھ جانا تمھارا منہ اوپر ہے اس کے برعکس ہونے کی صورت میں تمھارا منہ نیچے ہوگا۔ برفانی تودے میں پھنس کرکئی ایسے لوگوں کو بھی ہلاک ہونا پڑا جنھوں نے کوشش ترک نہیں کی لیکن بجائے اوپرجانے کے نیچے ہی نیچے برف کھودتے رہے۔جو بے فائدہ رہا۔اس لیے سب سے پہلے اپنی جدوجہد کی سمت متعین کریں۔“
میں نے آہستہ سے تھوکا۔ تھوک چہرے ہی پرگرا۔میں سمجھ گیا کہ چہرہ اوپر کی سمت ہے۔ میں نے اپنے استاد سے مزیدرہنمائی حاصل کی۔
”اپنی توانائی ضائع نہیں کرنا۔ پہلے اپناایک ہاتھ اوپر کی طرف سیدھا کرو اگر برف کم ہوئی تو ہاتھ برف سے باہر نکل جائے گا۔ ورنہ چہرے کے سامنے برف کھود کر نیچے ڈالتے جاﺅ اور آہستہ آہستہ آگے بڑھتے جاﺅ۔ تیزی کی صورت میں زیادہ آکسیجن ضائع کر بیٹھو گے اور دم گھٹنے سے مرنا پڑے گا۔“
میں نے بایاں بازو اوپر اٹھایا۔ برف گرنے کی وجہ سے کافی سخت ہو گئی تھی، لیکن میرے ہاتھ کو آگے بڑھنے سے نہ روک سکی۔ یہ محسوس کر کے میرا دل بلیوں اچھلنے لگا کہ ہاتھ کلائی کے اوپر سے آزادانہ حرکت کر رہا تھا۔ میں نے جونھی ہاتھ واپس کھینچا تازہ ہوا کاجھونکا اندر آگیا تھا۔چند لمحوں بعد ہی میں سوراخ کو چوڑا کر کے باہر نکل آیا تھا۔
باہر آتے ہی لکشمن پاگلوں کی طرح حرکت کرتانظر آیا۔ اس کے دونوں خالی تھے ۔وہ کبھی ایک جگہ اور کبھی دوسری جگہ پر کھدائی کر کے اپنے ساتھیوں کو تلاش کر رہا تھا۔ کھدائی کے ساتھ وہ زور زور سے آواز یں بھی دے رہا تھا اور آواز ہی سے میں نے اسے پہچانا تھا۔
”صوبیدار صاحب.... موہن.... روی.... شنکر۔“وہ مسلسل پکار رہا تھا۔میری جانب اس کی پیٹھ تھی۔ نجانے وہ کیسے بچ نکلا تھا۔
جونھی اس کا رخ میر ی جانب ہواوہ خوشی سے پکارا۔
”روی ....“
روی بھی میری طرح ہی لمباتھا تبھی اسے مجھ پر روی کا شبہ ہوا۔
”میں عمر جان ہوں۔“ وہ جونھی قر یب آیا میں بول پڑا۔
وہ ہذیانی انداز میں چیخا۔”گندے مسلے.... تم زندہ بچ گئے.... یہ ....یہ سب کچھ تمھاری وجہ سے ہوا ہے، پہلے تمھیں نرگ (جہنم)میں پہنچا دوں پھر باقیوں کو ڈھونڈوں گا۔“ وہ مڑ کر بھاگ پڑا۔ یقینا اس کا ارادہ ہتھیار لینے کا تھا۔لیکن میں اس کے ارادے کے حق میں نہیں تھا۔دوڑنے کے بجائے پانی کے اندرکودنے کے انداز میں میں نے چھلانگ لگائی اور اسے ڈھانپ لیا۔اونچائی کی وجہ سے بھاری لباس کے باوجود مجھے چھلانگ لگانے میں دقت نہیں ہوئی تھی۔
اس کے منہ سے بے اختیار کر اہ نکلی تھی۔
اسے گریبان سے پکڑ کر میں نے استہزائی لہجے میں کہا۔ ”مٹھو!اب تمھاری باری ختم ہوئی۔“
اس نے میرا گلا دبوچنے کی کوشش کی۔ مگر بھر پورتھپڑ کھا کر برف پر جا گرا۔ اس کے انداز سے صاف ظاہر تھا کہ وہ صرف ہتھیار چلانے کی حد تک تربیت شدہ تھا۔ خالی ہاتھوں شاید وہ عام آدمی پر بھی قابو نہ پا سکتا۔
بھاری تھپڑ کھا کر اس نے دوبارہ اٹھنے کی کوشش نہیں کی تھی۔ میں نے دوبارہ اسے گریبان سے پکڑکر سیدھا کھڑا کیا۔
”اب بتاﺅ، پاکستان فوج ہیجڑوں کاجتھاہے یا انڈین آرمی۔“
”مم.... مجھے .... مار کر تم بچ نہیں سکتے۔“ وہ دھمکی دینے سے باز نہیں آیاتھا۔
میں ہنسا۔”وہ تو تمھیں چھوڑ کر بھی نہیں بچوں گا۔“
اس نے جلدی سے پیش کش کی۔” میں سارے علاقے سے واقف ہوں۔تمھیں ،سرحد تک پہنچا سکتا ہوں۔“
” کسی کمینے کی مدد لینے کے بجائے میں مرنا پسند کروں گا۔“میں نے اسے اپنی سمت کھینچا۔ دوسرے ہی لمحے اس کی گردن میرے بائیں بازو کے شکنجے میں تھی۔ ”کٹاک“ کی آواز کے ساتھ ہی وہ اذیت سے ہاتھ پاﺅں جھٹکنے لگا۔ تلاشی لینے پر اس کی جیبوں سے اضافی میگزین، تھوڑی سی نقدی اور چند فوٹو ملے تھے۔ فوٹو میں نے اس کی جیب میں رہنے دئیے ، البتہ پیسے اور میگزین میرے کام آسکتے تھے۔
اسے گھسیٹ کر اس گڑھے میں ڈالا جہاں سے میں خود باہر آیا تھا۔گڑھے کو برف سے پاٹ کر میں اس کا ہتھیارتلاش کرنے لگا۔ تھوڑی سی تلاش کے بعد مجھے اس کا ہتھیار مل گیاتھا۔ اپنا پٹھو مجھے تلاش کرنے پر بھی نہ ملا۔اس کے بغیر خوراک کی ضروریات کا پورا کرنا مشکل ہو جاتا۔بہ ہرحال میں پٹھو ڈھونڈنے کو وہاں کھدائی نہیں کر سکتا تھا اور جتنا جلدی ممکن ہوتاوہاں سے دور جانا بہتر تھا۔
آسمان پر بادلوں کی حکمرانی تھی ستارے نظر نہیں آرہے تھے۔ ایسی صورت میں سمتوں کی پہچان ناممکن ہو گئی تھی۔ میں صرف اندازہ ہی لگاسکتا تھا اور اندازے ہی سے میں آگے بڑھ گیا۔
کچھ قارئین کو میرے سمت کا اندازہ نہ ہو سکنے کی بات ہضم نہیں ہو رہی ہوگی اور یہ وہ خواتین و حضرات ہوں گے جنھیں اپنے شہر سے باہر جانے کاموقع کبھی نہیں ملاہوگا۔البتہ فوجی اور دوردراز علاقوں کا سفر کرنے والوں کومیری مشکل کا اچھی طرح ادراک ہو گا۔
میری کوشش تھی کہ جس راستے پرہم آئے تھے اس سے تھوڑا ہٹ کر چلوں۔ البتہ سمت وہی برقرار رکھی کیوں کہ اسی جانب میں جلد از جلد انڈیا کی حدود پار کرسکتا تھا۔
اپنی پوسٹ سے چلتے وقت پانی کی جوبوتل میں نے جیب میں ڈالی تھی وہ اب تک میری جیب ہی میں تھی۔ میں نے دو گھونٹ پانی پیا۔اسے پانی پینے کے بجائے برف چبانا کہوں تو زیادہ بہتر ہو گا ،کیوں کہ پانی برف میں تبدیل ہو چکا تھا۔ البتہ برف میٹھی تھی کہ اس میں وافر مقدار میں چینی حل تھی۔ تھکن اور بھوک سے برا حال تھا۔ لیکن میں چلنے پر مجبور تھا۔
زندگی کی چاہ سے زیادہ مجھے گھر کی فکر تھی۔کیوں کہ اچھی طرح جانتا تھا ”جلد از جلد گھرپہنچو۔ “ سے چچا جان کی مراد کیا تھی۔ گنڈا پوروں کی دشمنی جتنی آسانی سے شروع ہوتی ہے، اس کا خاتمہ اتنا ہی دشوار اور مشکل ہوتا ہے۔ خاندان کے خاندان دشمنی کی بھینٹ چڑھ جاتے ہیں۔ پتھر دلوں میں اگر کوئی اچھائی ہے تو صرف اتنی کہ عورتوں پر ہاتھ نہیں اٹھاتے، لیکن گولی اور آگ کسی عورت کونہیں پہچانتی ۔کیوں کہ کئی دفعہ ایسا بھی ہوا کہ مخالفین کے گھرکو آگ لگا دی گئی جس کے باعث عورتیں اور بچے تک جل گئے تھے۔مختلف قسم کے اندیشوں اور وسوسوں میں گھرا میں آہستہ آہستہ چلتا رہا۔ گرم جیکٹ اور پاجامہ پٹھو میں رہ گیا تھا اس لیے دس پندرہ منٹ سے زیادہ آرام کو رکنا میرے لیے ممکن نہیں تھا
چلتے ہوئے بہ مشکل گھنٹا سوا گھنٹا ہی ہوا ہو گا کہ ہلکی ہلکی برف باری شروع ہو گئی۔ میں نے سفر جاری رکھا کہ رکنے کا مطلب موت تھا اور برف کی موت ، آگ میں جلنے سے بھی زیادہ بھیانک ہوتی ہے۔ برف باری آہستہ آہستہ تیز ہونے لگی۔ آگے جا کر راستہ دواطراف میں منقسم ہو گیا تھا۔ لمحہ بھر رک کر میں نے راہ کا تعین کیا اور اﷲ کا نام لے کر دائیں راستے چل پڑا۔
ڈھلان پر چلنا ہموار زمین پر چلنے کے مقابلے بہت مشکل ہوتا ہے۔بلندیوں اور گہرائیوں کی مسافت طے کرناکتنا دشوار ہوتا ہے اس کا اندازہ پہاڑوں میں سفر کر کے ہی ہوسکتا ہے۔میں جتنی تفصیل اور باریک بینی سے لکھوں پڑھنے والے کو میری حالت کا اندازہ نہیں ہوسکتا۔
ایک نالہ عبور کر کے میں کنارے کی بلندی پر پہنچا،دور سے ہلکی سی روشنی کی جھلک دکھائی دی۔ انڈیا کی کوئی پوسٹ ہی ہو سکتی تھی میں نے اپنا رخ روشنی کی جانب موڑ لیا کہ کچھ کھانے کی سبیل پیداکی جائے۔ راستہ بتدریج بلندہونا شروع ہو گیا تھا۔ نالے کی شمالی سمت ( اندازے کے مطابق کہہ رہا ہوں وہ کوئی اور سمت بھی ہو سکتی تھی) ایک بلند پہاڑی تھی جس کی قریباََچوٹی پر روشنی نظر آرہی تھی۔ وہ مجھے گشتی پارٹیوں کی رہنمائی کو راستے میں قائم کی ہوئی چوکی لگی تھی۔ ایسی چوکیوں پر سنتری بہت زیادہ مستعدی سے پہرا نہیں دیتے ۔اورموسم بھی ایسا تھا کہ سنتری کا چوکس رہنا قیاس سے بعیدتھا۔ اس کے باوجود پہاڑی کی بلندی طے کرتے ہوئے میں بے حد محتاط رہا۔ روشنی ایک موکھے (سوراخ)سے جھلک رہی تھی۔ یقینا وہ موکھاسنتری کی دیدبانی کو استعمال ہوتا تھا۔
اوپر پہنچ کر میں برف پر لیٹا اوررینگتا ہوا رہائشی بینکر کی جانب بڑھ گیا۔ نرم برف پر لیٹ کر رینگنے کا اپنا ہی لطف ہے،نہ تو کنکر کہنیوں میں چبھ رہے تھے نہ سنگلاخ زمین حرکت میں مزاحم تھی۔
لیکن وہ شغل جاری رکھنے کا وقت نہیں تھا۔جونھی رہائشی بینکر کے نزدیک پہنچا مجھے داخلی دروازہ دکھائی دیا۔دائیں بائیں کوئی مورچہ دکھائی نہ دیا جس کی تلاشی مجھے ضروری معلوم ہوتی۔یقینا رہائشی بینکر ہی میں بیٹھ کر پہرے داری کی جاتی۔ روشن موکھے اور دروازے کے مابین دس فٹ کے بہ قدر فاصلہ تھا۔ کچھ اور نزدیک ہونے پر مجھے گانے سنائی دیے جو ریڈیو کی مرہون منت تھے۔پہرے دار وقت گزارنے کو گانوں سے دل بہلا رہا تھا۔
میں آہستگی سے اٹھا اورکلاشن کوف کو دائیں ہاتھ میں پکڑ کر ایک دم دروازہ کھول کر اندر داخل ہوا۔تیز رفتاری کا یہ فائدہ تھا کہ پہرے دار کو سنبھلنے کا موقع نہ ملتا۔یوں بھی میری کلاشن کوف فائر کرنے کو تیار تھی۔پہرے دارکے پاس اتنی مہلت نہ ہوتی کہ میرا مقابلہ کر پاتا۔مگروہاں مجھے پہرے دار نظر نہ آیا۔ وہ ایک چھوٹی سی گیلری تھی،ریڈیو کو لکڑی کی کرسی پر رکھ کر پہرے دار یا تو دوسرے پہرے دار کو جگانے گیا تھا یا فطرتی تقاضاپورا کر رہا تھا۔ایک لالیٹن دیوار کے ساتھ لٹکی ہوئی تھی۔اور اسی کی روشنی موکھے سے گزر کر مجھے متوجہ کرنے کا باعث بنی تھی۔ دروازے کے ساتھ ہی بیت الخلاءکا دروازہ تھا جس پر بوری لٹکی ہوئی تھی ۔اندر جھانکنے پر کوئی بھی نظر نہ آیا۔
میں دبے قدموں دوسرے دروازے کی جانب بڑھاجہاں کسی کے باتیں کرنے کی مدہم آواز آرہی تھی۔ میں نے محتاط انداز میں دروازے سے کان جوڑ دیئے۔ کوئی وائرلیس سیٹ پر بات کررہا تھا۔ اس کی بلند آواز دروازہ بند ہونے کی وجہ سے نہایت مدہم سنائی دے رہی تھی۔
”پارٹی کے واپس پہنچتے ہی اطلاع دے دوں گا سر.... اوور۔“
”بہت زیادہ محتاط رہنااوور۔“کھڑکھڑاتی آواز میں اسے تاکید کی گئی۔
”ٹھیک ہے سر.... اوور۔“
”اوور اینڈ آل ۔“ رابطہ ختم کر دیا گیا۔
میں دیوار کے ساتھ پیٹھ لگا کر کھڑا ہو گیا کہ سنتری کے باہر آتے ہی اسے سنبھال سکوں۔
چند ہی لمحوں بعد دروازے پر آہٹ ہوئی۔ میں چوکنا ہو گیا لیکن کوئی بھی برآمد نہ ہوا۔ مزید چند لمحے گزارکر میرے صبر کا پیمانہ لبریز ہو ا اور میںاندر گھسنے پر تیار ہو گیا۔گن دونوں ہاتھوں میں پکڑ کر میں نے پاﺅں کی ٹھوکر سے دروازہ کھولا اور تیزی سے اندر داخل ہو گیا۔ اندر دو آدمی ہاتھوں میں تاش پکڑے آمنے سامنے بیٹھے تھے۔ میرے گھستے ہی انھوں نے ہڑبڑا کر اٹھنے کی کوشش کی لیکن میری دھاڑ پرسن ہو گئے تھے۔
”خبر دار،کوئی حرکت کی تو بھون ڈالوں گا۔“
دیوار کے ساتھ ہی ہتھیاروں کا ریک بنا ہوا تھا جس میں تین کلاشن کوفیں پڑی تھیں۔ ایک کلاشن کوف دیوار کے ساتھ کھڑی تھی جویقینا پہرے دار کی تھی۔ ایک کونے میں چھوٹا ساباورچی خانہ بنا ہوا تھا۔ مٹی کے تیل کے تین چولھے بھی پڑے تھے ۔ایک چولھے پر چھوٹے سے دیگچے میں کچھ پک رہا تھا۔
”تت.... تم .... کون ہو؟“ ایک نے ہکلاکر پوچھا۔
”سوال میرے لیے رہنے دوبس جواب کو تیار رہو۔“میں سبک روی سے چلتا ہوا ان کے قریب پہنچا۔”باقی لوگ کہاں ہیں؟“
وہ ہکلایا”بب.... باقی.... باقی بھی ادھر ہی ہیں۔“
میں اطمینان سے بولا۔” یقینا میں تم لوگوں کی گفتگو سن چکا ہوں۔“
”کون سی گفتگو؟“ ایک ہی آدمی مجھے مخاطب تھا دوسراہونٹ بھینچے کینہ توز نظروں سے گھور رہا تھا۔
”وہی بکواس جو تم لوگ وائرلیس سیٹ پر کر رہے تھے۔“
” تو کیا ہوا۔“ کہتے ساتھ اس نے میرے پیٹ میں مارنے کو لات گھمائی اور دائیں ہاتھ سے کلاشن کوف کی بیرل پکڑنے کی کوشش کی۔
اس کی ٹانگ کو حرکت میں دیکھ کر میں اچھل کر ہلکاسا پیچھے ہوا۔ وار خطا ہونے پر وہ ڈگمگا گیا تھا۔ اس سے پہلے کہ سنبھلتا میری بائیں ٹانگ حرکت میں آئی اور وزنی بوٹ ہتھوڑے کی طرح اس کی ٹھوڑی کے نیچے لگا۔ وہ دھڑام سے نیچے گرا۔ اگلے گھنٹے ڈیڑھ میں اس کا ہوش میں آنا مشکل تھا۔
”ٹھوکرایسے لگائی جاتی ہے۔“ دوسرے کو گھورتے ہوئے میں نے تصدیق چاہی۔ ”کیا خیال ہے۔“ مگر وہ خاموش ہی رہا تھا۔
”باقی لوگ کہاں گئے ہیں، یہ تو بتانے کے قابل نہیں رہا۔“
”ایک پارٹی گم ہو گئی ہے تمام لوگ اس کی تلاش میں نکلے ہیں۔“
میں نے حیرانی ظاہر کی۔”پارٹی کیسے گم ہو گئی ؟“
وہ بے پروائی سے بولا۔”شاید برفانی تودے کی زد میں آئی ہویا پھر راستہ بھٹک گئی ہو گی۔“
میں نے پوچھا۔”کب سے گم ہے؟“
”شام سے رابطہ نہیں ہو رہا۔“
یقینا صوبیدار داس کی پارٹی کی تلاش میں قریبی پوسٹوں سے پارٹیاں روانہ کی گئی تھیں۔
” پاکستانی سرحد کتنی دور ہے۔“
”سمجھا نہیں۔“ اس نے حیرانی ظاہر کی۔
”سمجھنے کو چھوڑواور جو پوچھا ہے اس کا صاف جواب دے دو۔“
”یہاں سے تو کافی دور ہے۔ راستے میں ہماری چند پوسٹیں پڑتی ہیں ان سے گزر کر ہی آپ پاکستان پہنچ سکتے ہیں۔“
”فاصلہ کتنا ہو گا ؟“
”اندازاً تیس پینتیس کلو میٹر ہو گا۔“
”کوئی مختصرراستہ؟“
اس نے نفی میں سر ہلادیا۔
”تمھارا نام؟“
وہ چند لمحے میری آنکھوں میں دیکھتا رہا اور پھر بولا۔ ”عبداﷲ....“
”اور اس کا ؟“ میں نے دوسرے کی طرف اشارہ کیا۔
”ہری چند۔“
”کچھ کھانے کو موجود ہے تو میرے حوالے کرو۔ اورمجھے رہنمائی بھی درکار ہے تاکہ پاکستان پہنچ سکوں۔ کیوں کہ غلطی سے سرحد عبور کر بیٹھا ہوںاور میرا اپنے علاقے میں پہنچنا بہت ضروری ہے۔کیا آپ تعاون کریں گے؟“ دوستانہ ماحول پیدا کرنے کومیں نے کلاشن کوف کندھے سے لٹکالی تھی۔
”شمال کی سمت اختیار کرنا مناسب رہے گا،جتنا جلد یہاں سے نکل جاﺅبہتر ہو گا کیوں کہ کسی بھی لمحے باقی یہاں پہنچ سکتے ہیں اور تم اکیلے شاید دس بندوں کا مقابلہ نہ کر سکو۔“
”دیگچی میں کیا ہے؟“ اس کامشورہ نظر انداز کرتے ہوئے میں نے چولہے کی طرف اشارہ کیا۔
”چائے۔ “
”بہت اچھے۔“ لبوں کو تر کر کے کہہ میں نے پیالی بھری اور گرم چائے سے لطف اندوز ہونے لگا۔
میں بہ ظاہر غافل بنا تھا لیکن درحقیقت ذرا سی حرکت پر اسے آڑے ہاتھوں لینے کو تیار تھا۔لیکن عبداﷲ نے ہلنے کی کوشش نہیں کی تھی۔
پیالی خالی کر کے میں نے بقیہ چائے ایک بوتل میں انڈیلی اور عبداﷲ سے پوچھا ”کھانے کو کچھ پڑا ہے۔“
”پارٹی کے لیے حلوہ بنا یا تھا۔“ اس نے ڈھکی ہوئی کڑاہی کی جانب اشارہ کیا۔
میں نے تھوڑا سا حلوہ کھا کر باقی حلوہ ایک مومی لفافے میں ڈال لیا۔” راشن سٹور میں جانا ہے۔“
وہ خاموشی سے چل پڑا۔راشن سٹور رہائشی بینکر کی بغل ہی میں بنا تھا۔ میں نے ایک خالی پٹھو میں دو تین دنوں کا راشن،کلاشن کوف کی تین چار میگزینیں۔ پانی حلوہ چائے اور گرم لباس ڈال کر آگے جانے کو تیار ہو گیا۔
”موسم خراب ہے،کیا شمال کی سمت واضح کر سکتے ہو۔“
اس نے شمال کی سمت ہاتھ اٹھا دیا جو رہائشی بینکر کا عقب بن رہا تھا۔
”عبداﷲ بھائی! بڑی مہربانی۔ آپ کاتعاون یاد رہے گا۔ لیکن آپ کو یونھی چھوڑ دیا تو اپنے ساتھی شک کریں گے۔ اس لےے معذرت مگریہ ضروری ہے۔“ میں نے بجلی کی سی تیزی سے کلاشن کوف کا بٹ اس کے سر میں مارا ۔ وہ ”اوغ“ کی آواز کے ساتھ زمین پر گر گیاتھا۔ اسے اٹھا کر میں نے بستر پر پھینکا اور باہر جانے کو تیار ہو گیا۔
گو اس کے سر پر بٹ مارے بغیر بھی اسے بے ہوش کیا جا سکتاتھا لیکن یوں بھی اس کی شخصیت مشکوک ہو جانا تھی۔انڈین فوج میں موجود مسلمانوں کی مشکلات میری نظر سے اوجھل نہیں تھیں۔بلکہ لبرل اور آزادی مذاہب کا علم بردارملک ،کتنا تنگ نظر اور اقلییوں کے حقوق کا غاصب ہے اس سے ہر ذی شعور اچھی طرح واقف ہے۔
ہری چند اب تک اسی حالت میں پڑا تھا۔ میں بیرونی دروازہ کھول کر باہر نکلا اورشمال کی سمت کو بڑھ گیا۔ بہ مشکل چند قدم اٹھائے ہوں گے کہ میری سماعتوں میں ایک سے زیادہ افراد کے بولنے کی آوازیں پڑیں ۔ میرے قدموں میں تیزی آئی اور سرعت سے وہاں سے دورہونے لگا۔ برف باری کی شدت میں کمی نہیں آئی تھی۔ میں سو ڈیڑھ سوگز ہی دور آپایا تھا کہ مجھے کسی کی چیختی آواز سنائی دی۔
”یہ رہے قدموں کے نشان!“
چند اور آدمیوں کی آواز آئی۔”بالکل یہی ہیں،چلو.... جانے نہ پائے۔“ اور میں بائیں ہاتھ ابھری ہوئی چٹان کے پیچھے لیٹ کر زندگی و موت کا معرکہ لڑنے کو تیار ہو گیا۔ میں کسی بھی قیمت پر گرفتار ہونے پر راضی نہ تھا۔
l l l
”پکڑو،جانے نہ پائے۔“ کی آوازوں کے ساتھ وہ آگے بڑھ رہے تھے۔ لیکن ان کی یہ حرکت نہایت بے وقوفانہ تھی۔ جس کاخمیازہ انھیں دوتین لاشوں کی صورت میں بھگتنا پڑا۔ میری کلاشن کوف سے نکلنے والی گولیوں کی بوچھاڑنے ان کے نعروں کو چیخ وپکار میں تبدیل کردیاتھا۔ مجھے سو فیصد یقین تھا کہ وہ میرے پاﺅں کے نشانات کی سیدھ ہی میں آگے بڑھیں گے۔اور لبلبی دبانے پر ان کی چیخوں نے میرے اندازے کی تصدیق کر دی تھی۔
کچھ گولی لگنے کی اورباقی گولی سے بچنے کو برف پر لیٹ گئے اور جوابی فائرنگ شروع کر دی۔ لیکن آڑ میں ہونے کی وجہ سے میں محفوظ رہا۔ انھوںنے اندھا دھند فائرنگ شروع کردی تھی جبکہ میں نے پہلے چھٹے (برسٹ) کے بعد گولی چلانے کی ضرورت محسوس نہیں کی تھی۔ ہتھیاروں کی لڑائی میں ہمیشہ وہ فریق غالب رہتا ہے جو مخالف کی نفسیات کو مدِنظر رکھے۔وہاں میرے لیے ٹک کر لڑنا ناممکن تھا کیوں کہ جلدیا بدیر ان کوکسی دوسری پوسٹ سے کمک مل جاتی یا میراایمونیشن ختم ہو جاتا ہر دو صورت میرا پکڑا یامارا جانا ضروری تھا۔ لیکن میں بھاگنے سے پہلے اپنے تعاقب کا سدباب کرنا ضروری سمجھتا تھااور یہ تبھی ممکن تھا کہ وہ میرے بھاگنے سے لاعلم رہتے ۔ ان کی دھڑا دھڑ فائرنگ کا جواب دینے کے بجائے میں نے خاموشی اختیار کیے رکھی۔
جلد ہی انھیں محسوس ہو گیا کہ وہ یک طرفہ فائرنگ میں مشغول ہیں۔
کوئی چیخ کر بولا۔ ”دو بندے انھیں پوسٹ پر لے جاﺅ اور سیٹ پر نمبر ٹو کو بھی مطلع کر دینا۔ باقی تمام میرے ساتھ چلیں اسے زندہ یا مردہ پکڑنا ضروری ہے۔“یقینا وہ لاشوں یا زخمیوں کو پوسٹ پر لے جانے کا حکم دے رہا تھا۔
ایک سہی ہوئی آواز ابھری۔”سر! کہیں وہ اب تک یہیں نہ چھپاہوا۔“
سینئر دھاڑا۔”تمھارا باپ اگرموجود ہوتا تو جوابی فائرنہ کرتا۔، اگر ڈرتے ہو تولاشوں کے ساتھ پوسٹ پر چلے جاﺅ باقی میرے ساتھ آئیں۔“
میں آنکھیں پھاڑے ان کے ہیولے دیکھنے کی کوشش کر رہا تھا تاکہ زیادہ سے زیادہ کو جہنم واصل کر کے اپنے تعاقب کے قابل نہ چھوڑوں۔ گو صاف موسم کی صورت میں برفانی علاقے میں چاندنی رات کے بغیر بھی اتنی روشنی ہوتی ہے کہ چالیس پچاس گز کے دائرے میں کسی چیز کا ہیولا دیکھا جا سکے۔ مگر اس وقت آسمان بادلوں سے اٹا ہوا تھا اور برف باری شدت سے جاری تھی ایسی صورت میں آوازوں یا قدموں کی آہٹ ہی سے میں ان کی سمت کا اندازہ کر سکتا تھا۔ البتہ ٹارچ میرے پاس موجود تھی لیکن اسے جلانا اپنی موت کے پروانے پر دستخط کرنے کے مترادف تھا۔ میں ان کے قریب آنے کامنتظر رہا یہاں تک کہ وہ چند قدم کے فاصلے پر پہنچ گئے۔ کلاشن کوف کے حفاظتی لیور کومیں نے پہلے سے خودکار (آٹومیٹک) حالت پر رکھا ہوا تھا۔(کلاشن کوف میں حفاظتی لیور کی تین حالتیں ہوتی ہیں۔ خودکاریعنی جب کلاشن کوف چھٹا(برسٹ)فائر کرتی ہے۔نیم خود کار(سیمی آٹو میٹک)۔جب گولی چلانے کو ہر بار لبلبی(ٹریگر) دبانا پڑتی ہے۔اور محفوظ حالت جبکہ لبلبی دبانا ممکن ہی نہیں رہتا)
میرے لبلبی کے دباتے ہی ان پر قیامت ٹوٹی اور چیخ و پکار سے ماحول گونج اٹھاتھا۔ میں نے میگزین خالی ہونے تک لبلبی کو دبائے رکھا۔”ٹرنچ“ کی آواز سن کر میں نے نئی میگزین لگائی اور کلاشن کوف کاک کر کے ہلکا سا برسٹ چلایا اور رینگتاہوا دور ہٹنے لگا۔ پہاڑی کی آڑ میں آتے ہی میں کھڑا ہو گیا۔ اتنی زیادہ احتیاط کا مقصد اندھا دھند فائرنگ کا شکار ہونے سے بچنا تھا۔ آڑ میں آتے ہی میں بھاگ پڑا۔گو تازہ پڑی ہوئی برف اور پہاڑی ڈھلان پر بھاگنے کا دعویٰ کرنا لاف زنی ہی ہے،لیکن حقیقت یہی ہے کہ میری رفتار اتنی تیز ضرور تھی کہ اس علاقے کی نسبت دوڑنے کا مصداق ٹھہرائی جا سکتی۔
مجھے حتمی طورپر اندازہ نہیں تھا کہ کتنے بندے جہنم واصل ہو چکے تھے البتہ اتنا یقین ضرورتھا کہ وہ میرے تعاقب کے قابل نہیں رہے تھے۔ کچھ دور آنے کے بعد میں نے رفتار کم کر دی ۔سانس دھونکنی کے مانند چل رہا تھا۔یوں لگ رہا تھا جیسے سینہ پھٹ جائے گا۔ مسلسل سفر اوربے آرامی نے میرے اعصاب کو شل کر دیا تھا۔ نیند کی شدت سے میری آنکھیں جل رہی تھیں لیکن میں چلنے پر مجبور تھا۔
صبح کے ملگجے اندھیرے میں ایک کھوہ نظر آئی جس کا منہ برف سے اٹا ہوا تھا۔ بس ایک چھوٹے سے سوراخ سے مجھے اندازہ ہوا کوئی غار ہے۔ ٹارچ جلا کر میں نے اندر جھانکا۔ کافی لمبی غاز نظر آئی۔ میں نے غاز کے منہ سے صرف اتنی برف ہٹائی جس سے آسانی سے اندرداخل ہو سکوں۔ ہوا کی بدولت برف غارکے اندر بھی کافی مقدار میں ڈھیر ہوئی پڑی تھی لیکن میری خوش قسمتی کہ غار کافی لمبا تھا۔ کونے میں جا کر میں نے لیٹنے کی جگہ صاف کی۔ گرم جیکٹ اور پاجامہ نکال کر پہنا۔ بوٹ اتار کر برف جھاڑی، جرابیں تبدیل کیں اور حلوے کو جڑ گیا۔سیر ہوکر باقی حلوہ شاپر میں لپیٹ کر پٹھو میں رکھا اور ٹھنڈی چائے پی کر آرام کو لیٹ گیا۔
برف باری جب تک شروع رہتی ہے سردی زیادہ نہیں ہوتی بہ بشرط اس کے ساتھ ہوا نہ چلے۔ اس وقت بھی ہوا بند تھی اور برف روئی کے گالوں کی طرح مسلسل گر رہی تھی۔ میرے پاﺅں کے نشان زیادہ سے زیادہ ایک ادھ گھنٹے میں برف میں چھپ جاناتھے۔اس کے بعد دشمن کو میری جگہ کا پتا چلاناآسان نہ رہتا۔
حالات کی سنگینی اور گھریلو تفکرات بھی میری نیند کو نہ روک سکے اور میں غافل ہو کر سو گیا۔
کافی دیر سویا رہا۔ تیز گڑگڑاہٹ کی آواز سے آنکھ کھلی۔ وقت دیکھا تو دن کے دو بجنے کو تھے۔
”ہیلی اور اس موسم میں۔“ میں نے حیرانی سے سوچا، لیکن جب غاز کے سوراخ سے آنے والی روشنی پر نظر پڑی تو حیرانی دور ہو گئی تھی۔تیز روشنی موسم کے صاف ہونے کا اعلان کر رہی تھی۔
میں غار کے دہانے کے قریب ہوا۔ سوراخ سے سر گزار کرباہر جھانکا تو سورج آب و تاب سے چمکتا نظر آیا۔ آسمان پربادلوں کا نشان تک نہیں تھا۔ میں باہر نکل کر دھوپ سینکنے کی کوشش ضرورکرتا اگر نظر غار سے پچاس گز دور قدموں کے تازہ نشانوں پرنہ پڑتی۔ غور سے دیکھنے پر وہ نشان اسی سمت کو جاتے دکھائی دیئے جدھر گزشتہ رات معرکہ ہوا تھا۔ ہیلی کی آواز بھی اسی سمت کو جاتی سنائی دی تھی یقینا ہیلی کا مقصد زخمیوں اور لاشوں کی ترسیل تھا۔
میں واپس لیٹنے کی جگہ پہنچ کر سونے کی کوشش کرنے لگا۔ مگر اس بار ناکامی ہوئی تھی۔یادوں کا ریلا سیلاب کی زد میں آئے تنکے کی طرف اپنی مرضی سے مطلوبہ سمت کو بہانے لگا۔ سعدیہ اور عدنان کی صورتیںآنکھوں کے سامنے گھومنے لگیں ، پھر ان کی جگہ امی اور ابو جان کی مقدس شکلوں نے لے لی۔ باری باری تمام رشتہ دار میرے خیالات میں آتے گئے۔
پتا نہیں رحمان خیل میں حالات کیسے تھے۔ آیا میرے بھائیوں میںسے کوئی مارا گیا تھا یا اس کے برعکس انھوں نے مخالفین میں کسی کو مارکر حوالات میں جگہ بنالی تھی۔ اتنا اندازہ بہ ہر حال مجھے بھی تھا کہ حالات سخت خراب ہیں اور گنڈہ پوروں میں حالات کی خرابی کاایک ہی مطلب تھا یعنی ایک یا زیادہ بندوں کا قتل ہو جانا۔ چھوٹے موٹے جھگڑے تو روزانہ کا معمول تھے۔ گنڈہ پوروں جیسی تندخو اور دشمنیاں پالنے کی شوقین شاید ہی کوئی قوم پاکستان میں ہو اور انھی کے متعلق یہ کہاوت مشہور ہے کہ۔
”گنڈہ پور دوست سے زیادہ دشمن بنانے پر خوش ہوتے ہیں۔“
میں دیر تک گھر اور گاﺅں کے خیالات میں کھویا رہا لیکن جونھی روشنی مدہم پڑنے لگی میں نے کوچ کی تیاری شروع کر دی۔ گو میرا دل کچھ بھی کھانے کو نہیں چاہ رہا تھا، لیکن سفر کی سختی کو مدِنظر رکھتے ہوئے میں نے بچا ہوا حلوہ کھانا مناسب سمجھا۔ پٹھو پیٹھ پرلاد کر میں نے کلاشن کوف کندھے پر لٹکائی اور برفانی چھڑی(Icestick) پکڑ کر چلنے کو تیار ہو گیا۔ گو پٹھو وہیں چھوڑ کر میں زیادہ تیزی سے سفر کر سکتا تھا ، لیکن زیادہ عرصہ برف زار میں پھنسا رہنے کی صورت پٹھو میں موجود سامان ہی میری زندگی کا ضامن بن سکتا تھا۔ ایک لحظہ کومیں نے کم ضروری سامان جیسے رسہ یا ایس ایم جی کے اضافی میگزین پھینکنے کا سوچا، لیکن پھر کسی ناگہانی صورت ِ حال میں پھنسنے کے خوف نے مجھے باز رکھا۔
آسمان پر بادلوں کا نام نشان بھی نہیں تھا۔ سورج غروب ہو چکا تھا، لیکن روشنی کافی تھی۔ انڈیا، پاکستان کے مشرق میں واقع ہے ،لیکن اس علاقے میں دونوں ملکوں کی سرحد اتنی ٹیڑھی میٹرھی ہے کہ تعین کرنامشکل تھا۔ نقشے کی موجودی اس مشکل کو آسان کر سکتی تھی لیکن افسوس کہ نقشہ میرے موجود نہیں تھا۔ عبداللہ کے بہ قول مجھے شمال کا رخ کرنا چاہیے تھا۔ تارے نظر آنا شروع نہیں ہوئے تھے اس لیے میںنے غروب آفتاب کے مقام سے شمال کی سمت کا تعین کیا اور اﷲ کا نام لے کر چل پڑا۔ تھوڑا فاصلہ طے کرکے رستہ بتدریج گہرائی میں اترنے لگا۔ میری رفتا برف کے نرم ہونے کے باوجود کافی تیز ہو گئی تھی۔ کوشش تھی کہ دشمن سے مڈبھیڑ نہ ہو، کیوں کہ اس صورت میں ایک تو میرا وقت ضائع ہو تا دوسرا دشمن کی کثیر تعداد سے تن تنہا مقابلہ کرنا آسان نہیں تھا۔دشمن سے بچنے کی غرض سے مجھے برفانی تودوں کے خطرے کا علاقہ بھی عبورر کرنا پڑا۔
صبح کی روشنی پھیلتے ہی میری نگاہیں دن گزارنے کو مناسب جگہ کی تلاش میں سرگرداں ہو گئیں۔ جلد ہی ایک بڑے پتھر کے نیچے اتنی جگہ نظر آگئی جہاں میں آسانی سے لیٹ سکتا تھا ، جبکہ دشمن کی ہوائی اور زمینی دیکھ بھال سے بھی آڑ میسر تھی۔
گرم پاجامہ اور جیکٹ پہن کر میں نے ابلے ہوئے آلوﺅں کا ٹین کھول کر پیٹ بھرااور پٹھو سر کے نیچے رکھ کر لیٹ گیا۔ موسم صاف ہونے کی وجہ سے سردی کافی زیادہ تھی لیکن سورج بلندہونے کے ساتھ خوشگوار حدت پھیل گئی تھی۔ میرا دماغ پریشان کن خیالات کی آما جگاہ بنا رہا،روح فرسا اندیشوں سے میں نیند میں بھی جان نہ چھڑا سکا۔فکر و تشویش نے پرچھائیوں کی شکل اختیار کرلی تھی۔ میں نے اپنے باپ کو پھانسی پر لٹکا ہوا دیکھا۔ پھر میں نے اپنے چچا کو دیکھا کہ اس کا سرگردن سے کٹا ہوا ہے اور وہ ہاتھ کے اشارے سے مجھے اپنی طرف بلا رہا ہے اور میں اس کی طرف جانے کی بجائے چودھری انور کے پیچھے بھاگ رہا ہوں میرے ہاتھ میں ایک بڑا ساٹوکہ تھا جس سے خون ٹپک رہا تھا۔ میں نے دوڑتے ہوئے ٹوکہ اس کی طرف پھینکا لیکن وہ جلدی سے نیچے بیٹھ گیا اور ٹوکہ اس کی بجائے عدنان کو جالگا جو ہاتھ پھیلائے میری جانب دوڑ رہا تھا۔ میرے منہ سے چیخ نکلی اور نیند اکھڑ گئی۔ آنکھ کھلتے ہی میں نے دائیں بائیں دیکھا۔سورج آب و تاب سے چمک رہا تھا، دو بجنے کو تھے۔ سخت پیاس محسوس ہو رہی تھی پٹھو سے بوتل نکال کر میں نے پانی پیا اورسونے کی کوشش کرنے لگا۔ مگر خواب کے بے ترتیب اور بھیانک مناظر میری نگاہوں کے سامنے گھوم رہے تھے۔
”کیا پتا یہ خواب سچا ہوا ور اس کی تعبیر....“ مگر میں اپنے اندربے ترتیب خواب کی تعبیر سوچنے کی جرا¿ت پیدا نہ کر سکا اور سر جھٹک کر پرا گندہ خیالات کو ذہن سے نکال کربرف زار سے نکلنے کی تدبیر سوچنے لگا۔
سورج کے سر چھپاتے ہی میں چل پڑا۔ اردگرد اکا دکا درخت نظر آرہے تھے۔ مطلب میں چودہ ہزار فٹ سے کم بلند علاقے میں تھا۔ کیوں کہ اس سے زیادہ بلندی پر درخت نہیں اُگتے۔ اس علاقے میں کم بلندی پر سبزے کی بہتات درختوں کے جھنڈ ہیں جن میں ہر قسم کے درخت شامل ہیں یعنی پھلدار اور بغیر پھل کے۔ جبکہ چودہ ہزار فٹ سے زیادہ بلندی پر چلے جاﺅ تو اتنے ہی بنجر اور سنگلاخ پہاڑ نظر آتے ہیں حالانکہ پانی ہر دو جگہ وافر مقدار میں موجود ہے ۔کیوں کہ برف پگھلتے ہی ہر جگہ چشمے پھوٹ پڑتے ہیں۔
فرلانگ بھر چلتے ہی مجھے راستہ نظر آیا جو مغرب کی جانب آتے ہوئے وہاں سے شمال کو مڑ گیا تھا۔ اسے غنیمت جانتے ہوئے چل پڑا۔ راستہ تقریباً ہموار ہی تھا۔ تھوڑا سا آگے بڑھنے کے بعد مجھے بائیں ہاتھ عمودی خطرناک ڈھلانیں نظر آئیں جو راستے سے دو تین میٹر ہی دور پڑتی تھیں۔ یہ اتنی سیدھی تھیں کہ برف بھی ان پر نہیں جم سکی تھی ،ان کی پتھریلی اور سنگلاخ سطح واضح نظر آرہی تھی۔ دائیں ہاتھ پر ہموار ڈھلان تھی۔ راستے پر چلنے کی وجہ سے میری رفتار کافی تیز تھی۔ ارادہ تھا کہ دشمن کی پوسٹ جونھی نظر آئی راستہ تبدیل کر لوں گا مگر کسی پوسٹ کے نظر آنے سے پہلے ہی میں ایک ناگہانی آفت میں پھنس گیا تھا۔
چند لوگوں کے بولنے کی آواز تھی جو تھورے فاصلے پر موجود موڑ سے آرہی تھی۔ میںنے دائیں بائیں نظر دوڑائی مگر ایسی جگہ کی تلاش میں ناکام رہا جہاں چھپ سکتا۔ سورج پہاڑوں میں غائب ہوچکا تھا لیکن اتنی روشنی موجود تھی کہ نظر دور دورر تک کام کر سکتی۔ میرے پاس چھپنے کو بہت کم وقت تھا۔ عقبی موڑ بھی فرلانگ بھر دور تھا۔اگر وہاں تک دوڑ کر جاتا تو اس سے پہلے ہی دشمن موڑ مڑ کر سامنے آجاتے۔ اچانک دماغ میں ترکیب ابھری ، سوچنے کا وقت نہیں تھا،میں فوراََعمل کر گزرا۔ پٹھو سے رسی نکال کر میںنے راستے کے بائیں کنارے درخت کے تنے کے ساتھ یوں باندھی کہ رسی برف میں چھپ گئی۔ رسی کا دوسرا سرا مضبوطی سے اپنی کمرکے ساتھ باندھ کر میں بائیں ہاتھ کھڑی چٹانوں کی طرف بڑھ گیا۔ میرے نیچے اترنے تک وہ سامنے آگئے تھے۔ اگر چند سیکنڈ زکی بھی دیر ہوئی ہوتی تو دیکھ لیا جاتا۔ تمام باآوازبلند باتیں کرتے ہوئے قطار میں آگے بڑھ رہے تھے۔ ان کی گفتگو کا موضوع سرحد میں گھس آنے والے تخریب کار تھے جن کی وجہ سے مختلف پوسٹوں سے گشتی ٹولیاں پورے علاقے میں پھیل گئی تھیں۔
ان کی آواز معدوم ہوتے ہی میں نے محتاط انداز میں جھانکا، وہ دوسرا موڑ مڑنے والے تھے۔ میں اوپر آگیا۔ جونھی وہ نظر سے اوجھل ہوئے میں نے درخت کے قریب جا کر پٹھو اتارا اور رسی کھولنے کو نیچے جھکا،اچانک عقب میں غراہٹ ابھری۔ پیچھے دیکھنے پرمیرا خون رگوں میں منجمد ہونے لگا۔ ایک دیوقامت ریچھ سبک روی سے میری جانب بڑھ رہا تھا۔چند قدم دور رک کر ریچھ دونوں قدموں پر کھڑا ہوا۔کلاشن کوف پر میری گرفت سخت ہوئی ،مگر ساتھ ہی فرلانگ بھر دور موجود دشمن کے خیال نے زہریلے بچھو کی طرح دماغ میں ڈنک مارا۔ریچھ کو گولی مارنے کی صورت میرا بچنا ممکن نہ رہتااور گولی نہ چلاتاتب بھی وہ مجھے چھوڑنے والا نہیں تھا۔ریچھ شکار کے قریب جا کر اپنے دونوں پاﺅں پر سیدھا ہو جاتا ہے اور اس وقت وہ حملے کا ارادہ کر چکا تھا تبھی تو غصے میں غراتا ہوا سیدھا کھڑا ہو گیا تھا۔
میرے دماغ میں ا سکول کے زمانے کی پڑھی ہوئی کہانی در آئی جب دو دوست اکٹھے سفر کررہے ہوتے ہیں اورریچھ آجاتا ہے۔ ایک دوست تو درخت پر چڑھ جاتا ہے جبکہ دوسرا جو درخت پر چڑھنا نہیں جانتا تھا کہ وہ سانس روک کر لیٹ جاتا ہے اور ریچھ اسے مردہ سمجھ کر چھوڑ کر چلا جاتا ہے۔
میں اس وقت درخت کے قریب ہی کھڑا تھا اور درخت پرچڑھنا بھی خوب جانتا تھا مگر ان درختوں پر چڑھنا ازحد مشکل تھا، کیوں کہ درخت کے تنے بالکل صاف اور لمبائی میں بہت زیادہ تھے۔ سانس روک لینے کا طریقہ بھی میں نہیں آزمانا چاہتا تھا کہ اس میں بھی بہت زیادہ خطرہ تھا۔
 

قسط نمبر4
ریاض عاقب کوہلر
میں نے سرعت سے نئی تدبیر سوچی اور عمل کر گزرا۔جیسے ہی ریچھ نے ایک قدم بڑھایا، میں اس کی جانب دوڑپڑا۔ اس ردِ عمل پر ایک لمحے کو وہ موذی ساکن ہو گیا تھا۔ میں نے پانچ چھے میٹر کا فاصلہ بجلی کی سی تیزی سے طے کیا اور ریچھ پر چھلانگ لگادی۔ ریچھ اس وقت عمودی ڈھلان کے بالکل کنارے پر کھڑا تھا۔ میرے اچھلتے ہی اس نے ہاتھ مجھے جکڑنے کو بڑھائے، لیکن میری توجہ اس کی گرفت سے بچنے کی بجائے اسے نیچے گرانے پر تھی۔ اس صورت میں میرا اپنا گرنا بھی لازم تھا۔ طاقتور ریچھ کو میں ٹھوکر سے پیچھے نہیں گرا سکتا تھاتبھی میں نے پورا بوجھ اس کے اوپری دھڑ پر ڈالا اور اسے ساتھ لیتا ہوا۔ عمودی ڈھلان سے نیچے گر گیا۔میرا وزن پچاسی نوے کلوگرام کے بہ قدر تو ضرور ہوگا۔ اس کے ساتھ میں نے ریچھ کو دھکیلنے میں پوری قوت صرف کر دی تھی۔
ریچھ کے منہ سے تیز غراہٹ نکلی اور مجھے پکڑنے کے بجائے اسے اپنی فکر پڑ گئی مگروہاں ایساکچھ موجود نہیں تھا جسے پکڑ کر وہ جان بچاسکتا۔ ریچھ کے پاﺅں اکھڑتے ہی ہم دونوں کے پاﺅں سے زمین غائب ہو گئی۔میں نے حواس بحال رکھے اور جیسے ہی رسے کی لمبائی پوری ہوئی مجھے زور کا جھٹکا لگامیں نے فوراََ پاﺅں کا رخ ڈھلان کی طرف کر دیا تھا۔پاﺅں کے بجائے جسم کا کوئی اور حصہ سنگلاخ چٹانوں سے ٹکرانے کی صورت مجھے ناقابل تلافی نقصان بھی پہنچ سکا تھا۔ رسی کے ٹوٹنے کا خطرہ نہیں تھا، کیوں کہ وہ رسی خصوصی طور پر تیار کی گئی تھی ۔وزن میں ہلکی اور کارکردگی میں لوہے کی زنجیر سے بھی مضبوط۔ہمیں پڑھایا گیا تھا کہ وہ رسی پچیس ٹن تک وزن سہار لیتی ہے۔ اس کی لمبائی 40میٹر کے قریب تھی۔
میں عمودی ڈھلان کے قریب پہنچا۔پاﺅں چٹان پر ٹیک کر ایک ہاتھ سے میں نے رسی کو اپنے پیٹ کے سامنے پکڑ کر توازن درست کیا اور پھر آہستہ آہستہ اوپر چڑھنے لگاتھوڑا سا فاصلہ طے کرتے ہوئے مجھے پسینہ آگیا تھا۔ ہموار سطح پر پہنچتے ہی میں نے سانس درست کیا ،رسی کو لپیٹ کر پٹھو میں ڈالا کہ بہ ظاہر بے کار لگنے والی رسی کی وجہ سے میں نے دو خطروں کا کامیابی سے مقابلہ کیا تھا۔
ریچھ سے ٹکراﺅ کی وجہ سے کافی وقت ضائع ہو گیا تھا۔تبھی مجھے رفتار تیز کرنا پڑی۔ دو تین فرلانگ چلنے کے بعد دور ہلکی سی روشنی نظر آئی یقینا وہ دشمن کی پوسٹ تھی۔ اس سے بچنے کو مجھے سفر کی سمت تبدیل کرنا پڑی۔ میں نے اپنا رخ شمال سے شمال مغرب کوموڑ لیا۔
رستے سے ہٹنے کی وجہ سے مجھے کچی برف میں چلنا پڑا اور رفتار پھر آہستہ ہو گئی۔ آدھی رات گزرنے کے بعد موسم خراب ہونا شروع ہو گیاتھا۔ چاروں طرف دھند چھا گئی تھی، چند گزدور بھی کچھ نظر نہیں آرہاتھا ،لیکن خوش قسمتی سے برف باری شروع نہ ہوئی۔ صبح دھند کی وجہ سے میں نے سفر جاری رکھا۔
12بجے کے قریب دھند چھٹنا شروع ہوئی اور میری نظریں کمین گاہ کی تلاش میں سرگردان ہو گئیں۔گھنٹے بھر کی تگ و دو کے بعد بھی مجھے ناکامی ہوئی تھی۔تھکن کی وجہ سے میں برف کے اوپر ہی لیٹنے کا سوچ رہا تھا کہ اچانک ہی نظر برف میں چھپے مورچے پر پڑی۔ پہلے لگا بے خبری میں دشمن کی پوسٹ کے قریب آگیا ہوں، لیکن اردگرد قدموں کے نشان نہ پا کر میں جھجکتا ہوا قریب چلا گیا۔
وہ دشمن کی پوسٹ ہی تھی لیکن خالی پڑی تھی۔یونھی کئی پوسٹیں پاک آرمی نے بھی خالی چھوڑی ہوئی ہیں۔اس کی مختلف وجوہات ہوتی ہیں۔پوسٹ کا مناسب مقام پر نہ ہونا،وہاں راشن وغیرہ کی ترسیل میں مسائل پیش آنا، پوسٹ پر برفانی تودوں کے گرنے کا امکان ہونا۔اس پوسٹ کے قریب کسی اور پوسٹ کا ہونا جس کی وجہ سے اس کی اہمیت باقی نہ رہے۔اس کے علاوہ بھی پوسٹ خالی کرنے کی کئی وجوہات ہوتی ہیں ۔ایسی پوسٹوں کو برباد پوسٹ کا نام دیا جاتا ہے۔
سازو سامان تووہاں موجود نہیں تھا البتہ رہائشی بینکرز کی چھت سلامت تھی۔دروازے پر برف کا ڈھیر موجود تھا۔ میں نے گھسنے کا راستہ بنایا اور اندرہو گیا۔ دیواروں کے ساتھ بستر لگانے کے لکڑی کے تختے اب تک سلامت تھے۔
آلو بھجیا کا ڈبہ (ٹن)کھول کر میں نے پیٹ پوجا کی،پانی ختم ہو چکا تھا اس کی جگہ تھوڑی سی برف چوس لی اور جسم کو رات کے سفر کے لیے تیار کرنے کو لیٹ گیا۔ تھکن اورپیٹ بھرنے کے خمار نے ساری تفکرات سے دور کر دیا تھا۔میں گہری نیند سو گیا۔
تھوڑی دیر ہی سوپایا تھا گا کہ اچانک لگازلزلہ آگیا ہے۔میں لکڑی کے تختے سے نیچے گرااور تڑپ کر اٹھا، مگر آنکھیں کھلتے ہی جھاگ کی طرح بیٹھ گیا۔جسے زلزلہ سمجھا تھاوہ زلزلے سے کہیں بڑی مصیبت تھی۔ میں چاروں طرف دشمن کے نرغے میں تھا ۔ایک نے مجھے لکڑی کے تختے سے اٹھا کر نیچے پھینکا تھا۔جومجھے زلزلے کی طرح محسوس ہوا تھا۔ دس آدمیوں نے مجھے گھیرا ہوا تھا۔ان کے ہتھیاروں کا رخ میرے جانب تھا۔ میری کلاشن کوف بھی ان کے قبضے میں جاچکی تھی۔
”کھڑے ہو جاﺅ۔“ ایک مجھے ٹھوکر لگاتاہواغرایا۔
اٹھنے ہی لگا تھا کہ پیٹھ پردوسری ٹھوکر لگی ، بہ مشکل اپنا چہرہ زمین سے ٹکرانے سے بچا سکاتھا۔
”سنا نہیں کیپٹن صاحب نے کیا کہا ہے؟“ ٹھوکر مارنے والاچلایا ۔ تیسری ٹھوکر لگنے سے پہلے میں کھڑا ہو گیاتھا۔ تمام کے چہرے غیظ و غضب سے تمتما رہے تھے۔
”تمھارے باقی ساتھی کہاں ہیں؟“ کیپٹن میرے نزدیک آ کر مستفسرہوا۔
میں مسکنت سے بولا۔” اکیلا ہوں اور غلطی سے سرحد پار کی ہے۔“
کیپٹن طنزیہ لہجے میں بولا۔ ”غلطی تو تم سے بہت پہلے ہو چکی ہے اور وہ ہے پیدا ہونے کی غلطی۔“
”میں صحیح کہہ رہا ہوں سر!“
اس نے سپاہیوں کو اشارہ کیا۔ ” پٹھو کی تلاشی لو۔“
ایک سپاہی نے میرے پٹھو کو الٹا کر دیا، مگر اس میں سوائے کھانے پینے کے سامان ،فالتو میگزین اور رسی کے انھیں کچھ نہ ملا۔
کیپٹن نے سبزی کا ڈبہ اٹھاکر لیبل پڑھا ۔ ” تمھارے پٹھو میں ہماراراشن کیسے پہنچا؟“
” سر!میں نے سرحد غلطی سے عبورکی اور ایک ٹولی کے ہاتھوں گرفتارہوگیا جس میں صوبیدار داس ،روی اور لکشمن وغیرہ شامل تھے ۔ وہ مجھے گجران پوسٹ پر لے جارہے تھے کہ ہم برفانی تودے کی زد میں آگئے۔میں خوش قسمتی سے بچ نکلا۔یہ پٹھو اور ایس ایم جی مجھے وہیں ملی ۔ اور اب میں واپس جارہا تھا۔“
”واپس تو تمھاری لاش جائے گی بالک !اور رشی پوسٹ پر حملہ تمھارے پِتا(باپ)نے کیا ہے ؟“
”مجھے نہیں معلوم۔“ میں نے انکار میں سرہلایا۔
” بڑے بڑے مان جاتے ہیں تم کس باغ کی مولی ہو۔“کہہ کروہ وائرلیس سیٹ کی طرف متوجہ ہوا۔ ”ٹو الفافارون ون اوور۔“
ایک کرخت آواز آئی۔” سینڈ یوور مسیج اوور۔“
”سر پنچھی پکڑ لیا ہے۔ اب کیا حکم ہے ،اوور۔“
”شاباش، اسے سی پی پر پہنچاﺅ۔ باقی احکام وہیں پر ملیں گے ،آﺅٹ۔“
”اپناپٹھو اٹھاکر باہرنکلو۔“ کیپٹن نے ہدایت دی اور میں خاموشی سے باہر نکل آیا۔ باہر بھی ان کے آدمی موجود تھے۔ میں نے گنے وہ بھی دس ہی تھے۔ مجموعی طور پر 20آدمی مجھے پکڑنے کو بھیجے گئے تھے۔ میں پوسٹ سے باہر رک کرکیپٹن کے اگلے حکم کا انتظار کر نے لگا۔
اس نے دس آدمی آگے اور دس میرے پیچھے رکھ کرواپسی کا سفر شروع کرواد یا۔ رستہ وہی تھا جس پر میں چل کر آیا تھا۔ ان کی باتوں سے پتا چلا کہ جس پوسٹ کو دیکھ کر میں نے رستہ تبدیل کیا تھا وہاں شب دید آلات کے ذریعے مجھے دیکھ لیا گیا تھا۔ پوسٹ پرنفری کم ہونے کی وجہ سے بروقت میرا تعاقب نہ کر سکے اور دوسری پوسٹ سے مدد پہنچنے تک دو تین گھنٹے ضائع ہو گئے تھے۔ یہ بھی معلوم ہواکہ میں پاکستانی سرحد کے بالکل نزدیک پہنچ گیا تھا ۔وہاں سے سرحد صرف دوتین کلو میٹر دور تھی ،انڈیا کی صرف ایک ہی پوسٹ عبور کرنارہ گیا تھا۔بہ قول شاعر....
قسمت کی خوبی دیکھئے ٹوٹی کہاں کمند
دو چار ہاتھ جبکہ لبِ بام رہ گیا
گھر پہنچنے کو میری کوششیں جتنا بڑھ رہی تھیں، اتنی زیادہ رکاوٹیں راہ میں پیدا ہو رہی تھیں۔ کہاجاتا ہے کہ صبر کا پھل میٹھا ہوتا ہے۔اور اب مجھ پر صبر کی حقیقت کھلی تھی۔اگر میں صبر کرتے ہوئے راستے کھلنے کا انتظار کرلیتا تو زیادہ سے زیادہ تین ماہ پوسٹ پر گزارنے پڑتے۔اب نجانے کب تک دشمن کی قید میں رہنا پڑتا۔ بلکہ میری سلامتی ہی داﺅ پر لگ چکی تھی۔ ایک دفعہ تو دماغ میں ایسا فتور اٹھا کہ میں لڑ کر بھاگ نکلنے کو تیار ہو گیا۔ تمام بے فکری سے چل رہے تھے اوراکثریت کے زعم میں احتیاط کا دامن چھوڑے ہوئے تھے۔لیکن پھر میرے جذبات پر عقل غالب آگئی۔ بیس مسلح آدمیوں سے ٹکرانا آسان نہ تھا۔ جبکہ علاقائی خال و خد بھی تیز حرکت میں مانع تھے۔ فلموں، ناولوںمیں شاید یہ آسان دکھائی دے مگر حقیقی زندگی میں ایسا ہونا ناممکن نہیں تو مشکل ترین ضرور ہے۔
شام ہوئی پھررات بھی آہستہ آہستہ گزر گئی، مگرہمارا سفر جاری رہا۔ دوپہر کو ہم سی پی پر پہنچ گئے تھے۔ میرے ہاتھ پاﺅں مضبوطی سے باندھ کر انھوں نے مجھے ایک بینکر میں بند کر دیا۔ باہر دوپہرے دار بھی مقرر کر دیئے تھے۔
تھوڑی دیر بعد ایک آدمی سالن کی پلیٹ اور چند روٹیاں لے آیا۔پہرے دار دروازے پرکھڑے ہوکرنگرانی کرنے لگے۔ کھانا لانے والے نے میرے ہاتھ کھول کر چھا بہ اور پلیٹ میرے سامنے رکھی اور چلا گیا۔تقریباً ہفتہ بھر سے میں نے روٹی نہیں کھائی تھی۔ صرف ڈبّا بند آلو وغیرہ گزاراکیا تھا۔ روٹی دیکھتے ہی بھوک چمک اٹھی اور میں حالات سے بے پروا کھانے کو جت گیا۔ جب تک کھانا کھاتا رہا پہرے دار چوکس رہے۔کھانا لانے والا بعد میں ایک میلا کچیلا جگ پانی کا بھر کر میرے پاس رکھ گیا۔
میں نے سیرہو کر کھانا کھایا۔، جی بھر کے پانی پیا اور ہاتھ بندھوا کر آرام سے لیٹ گیا۔ ایک مہربانی انھوں نے یہ کی کہ پرانی سی سفری رضائی (سلپنگ بیگ )میرے اوپر ڈال دی،ورنہ میرا آرام کرنا ناممکن ہوجاتا۔ بینکر حجم میں بہت چھوٹا تھا۔نیچے کمبل بچھے تھے ان کے علاوہ کوئی قابل ذکر چیز وہاں نظر نہ آئی۔پہرے داروں کی باتیں مجھے واضح سنائی دے رہی تھیں۔ سخت تھکن کی وجہ سے آنکھیں بند ہونے لگیں۔ سونے سے پہلے یہ پتا چل گیا تھا کہ مجھے وہاں سے آگے لے جانے کو ہیلی کاپٹر آنے والا تھا۔
میری آنکھیں دروازے کی چرچراہٹ سے کھلیں۔ آنے والے کے ہاتھ میں لالٹین تھی۔ اندھیرے پر ہلکی پیلی روشنی غالب آگئی تھی۔ لالٹین سنگی دیوار پر لٹکا کر وہ باہر نکلا اور تھوڑی دیر بعد کھانے کے برتنوں کے ساتھ حاضر ہو ا۔
”بیت الخلا جانا ہے۔“میں نے حاجت بیان کی۔
” صوبیدار صاحب سے پوچھ کر آتا ہوں۔“ وہ باہر نکل گیا۔ واپسی پر وہ پہرے داروں کی نگرانی میں مجھے بیت الخلاءکی طرف لے گیا۔دونوں پہرے دارچوکنے انداز میں میرے پیچھے چل پڑے۔ وہ جتنے بھی چوکس ہوتے ان پر قابو پانا میرے لیے خاص مشکل نہیں تھا۔ کیوں کہ وہ مجھ سے ایک قدم پیچھے چل رہے تھے۔ جبکہ انھیں فاصلہ رکھ کرچلنا چاہےے تھا۔لیکن ان پر قابو پانے کے بعد بھی میرا بھاگنا مشکل تھا کیوں کہ پوسٹ پر کم و بیش تیس بندے موجود تھے ۔اور یہ تعداد میرے گمان کے مطابق تھی ورنہ نفری زیادہ بھی ہو سکتی تھی۔ ان دو یا چند اور کو مار کر میں اپنی مشکلات بڑھانے کے علاہ کچھ نہیںکر سکتا تھا۔ اس لیے چپ چاپ بیت الخلاءکی طرف بڑھتارہا۔ کافی بڑی پوسٹ تھی۔ گیلری کی دیواریں پتھروں سے بنائی گئی تھیں۔جن میں درزیں باقی تھیں۔گارے یا سیمنٹ سے انھیں بند کرنے کی کوشش ہیں کی گئی تھی،تبھی ہوا کی سنسناہٹ صاف سنائی دے رہی تھی۔لگ رہا تھا موسم خراب ہے۔ وہاں سردی کی شدت کا ایک سبب تیز ہوا کا چلنا بھی ہے۔
بیت الخلا کی چھت کافی نیچی تھی مجھے سرجھکا کر داخل ہونا پڑا۔ اندر مٹی کے تیل کا دیا جل رہا تھا۔ مدہم روشنی میں مجھے بیت الخلا کی عقبی دیوار کے ساتھ بوری لٹکتی نظر آئی جو ہوا سے ہل رہی تھی۔ میں نے جھانکا ، بوری کے ہٹتے ہی تیز ہوا اندر آئی۔دیے کی لو پھڑپھڑائی اور وہ بجھنے کے قریب ہو گیا میں نے جلدی سے بوری کوموکھے پربرابرکردیا، لیکن اس ایک لمحے میں آسمان پر سوائے اندھیرے کے کچھ نظر نہیں آیا تھا۔ اگر موسم صاف ہوتا تو تارے چمکتے نظر آتے۔حوائج ضرور یہ سے فارغ ہو کر میںباہر نکلا اور پہرے داروں کی نگرانی میں واپس چل پڑا۔ بیت الخلا سے آگے ان کے رہائشی بینکر تھے ۔قید خانے سے ملحق بھی دو تین رہائشی کمرے نظر آرہے تھے۔ پھرگیلری دائیں طرف مڑ جاتی تھی۔اس طرف شاید ان کا باورچی خانہ اور راشن سٹور وغیرہ بنے تھے۔ کھانا کھا کر میں لجاجت سے بولا۔”جناب اگر چائے مل جاتی۔“
تلخی بھرا جواب ملا۔” شکر کرو کہ تمھیں کھانا دیا جارہا ہے۔“
میں نے چپ سادھ لی۔ چائے کی سخت طلب ہو رہی تھی۔ لیکن وہ قیدی ہی کیا جس کی خواہش پوری کی جائے ۔
میں آنکھیں میچ کر اپنی سعد یہ کے پاس پہنچ گیا۔اس کے ہمراہ بیتے پیار بھرے لمحات میری سوچوں میں فلم کی صورت چلنے لگے۔ شادی سے پہلے ہی ہم ایک دوسرے کو چاہتے تھے اور اشاروں کنائیوں میں اس کا اظہار کرتے رہتے، مگر شادی کے بعد یہ چاہت کئی گنا بڑھ گئی تھی۔ کسی کو اپنانے اور اس پر ملکیت جتانے کے احساس ہی میں عجیب لذت پنہاں ہے۔میرے فوج میں بھرتی ہونے پرجدائی کی طوالت کھینچی اور تب ہماری محبت کے دریا نے سمندر کی صورت اختیار کر لی۔عدنان کی آمدنے اس بندھن کومزید پختہ اورمضبوط کر دیا تھا۔آج گھر سے سینکڑوں میل دور اس برف زار میں مجھے تمام سے زیادہ اسی کی یاد آرہی تھی۔ کہتے ہیں انسان خود غرض ہوتا ہے اور شایدیہ خود غرضی ہی تھی کہ مجھے سب سے زیادہ سعدیہ اور عدنان کی فکر کھائے جارہی تھی۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ باقیوں کی طرف سے میں بے فکر تھا۔ مجھے ان کی بھی فکر تھی مگر سعدیہ اورعدنان سے ذرا کم۔ شاید اس لیے کہ مرد ہر قسم کے حالات کا مقابلہ کرسکتے ہیں، تکلیفات کو برداشت کرلیتے ہیں، کسی کی زیادتی کا جواب دے سکتے ہیں۔ جبکہ عورتیں اس معاملے میں کمزور ہوتی ہیں۔
ساری رات میں گھر کے خیالوں میںسویا رہا۔کبھی ہلکی غنودگی آجاتی جسے کوئی بھیانک خواب کافور کر دیتا۔ ہاتھ پاﺅں بندھے ہونے کی وجہ سے بھی میری حالت کافی غیر آرام دہ تھی مگرمجبورقیدی کے پاس احتجاج کا حق نہیں ہوتا۔
اگلے دن موسم زیادہ خراب ہو گیا اور ایسے موسم میں ہیلی کے آنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا۔میرے اوقات اول روز کی طرح گزر رہے تھے۔ چائے صرف صبح کو ملتی تھی ۔اس پرمیں اپنے رب کا جتنا بھی شکر ادا کرتا کم تھا۔ ہاتھ پاﺅں کی بندش کے علاوہ مجھے وہاں پرکوئی تکلیف نہیں تھی، لیکن یہ صورت ِحال مسلسل برقرار نہ رہ سکی۔
پوسٹ پر آئے پانچواں روز تھا۔ میں دماغ میں پیاروں کی یادیں سجائے سونے کی کوشش میں مصروف تھا کہ اچانک دروازہ ایک جھٹکے سے کھلا۔ میں چونک پڑا لیکن ہاتھ بندھے ہونے کی وجہ سے رضائی سے باہر نہ آسکاکہ آنے والے کی صورت دیکھتا۔ اس کی غیظ و غضب میں ڈوبی آواز سن کر معلوم ہوا وہ کیپٹن ہے۔اس کا نام مجھے معلوم نہیں ہو ا تھا۔
اندر آتے ہی اس نے رضائی کھینچ کر دور پھینکی اور مجھ پر ٹھوکریںبرسانا شروع کر دیں۔ غلیظ منہ سے گندی گندی گالیاں نکل رہی تھیں۔ بندھے ہونے کی وجہ سے میں اپنا دفاع بھی نہیں کر سکتا تھا۔ اس کے پاﺅں میں وزنی جوتے تھے۔ ہر ٹھوکر مجھے ہتھوڑے کی طرح لگ رہی تھی۔ میں نے دانت سختی سے بھینچ لیے کہ منہ سے آہ یا سسکی نہ نکلے۔ مگر پسلیوں پر لگنے والی مسلسل چوٹوں نے مجھے کراہنے پر مجبورکر دیا تھا۔
” کتے کے بچے اور کون کون تمھارے ساتھ تھے .... بولو، جلدی بتاﺅ ورنہ میں تمھیں زندہ زمین میں گاڑ دوں گا۔ بکو جلدی بکو....“ اس کے منہ سے مسلسل خرافات نکل رہی تھیں۔ مجھے کچھ پتا ہوتا تو بتاتا۔ مجھے تو یہ بھی واضح نہیں تھا کہ وہ کیا پوچھ رہا ہے۔
مجھے چپ پا کر وہ اورزیادہ جنون میں آگیا۔ سرپرلگنے والی ضربات نے مجھے دنیا و مافیہا سے بے خبر کردیاتھا۔ کمانڈو عام لوگوں سے مضبوط اور زیادہ قوتِ برداشت کے مالک ہوتے ہیںلیکن برداشت کی بھی ایک حد ہوتی ہے اور میں اس حد سے گزرچکا تھا۔
l l l
چہرے پر ٹھنڈا پانی چھڑک کر مجھے ہوش میں لایا گیا۔ میں اسی طرح بندھا تھا۔ کمرے میں کیپٹن کے علاوہ تین افراد کا اضافہ ہو چکا تھا۔ دروازے پر البتہ کافی بھیڑ جمع تھی۔ میراپورا جسم پھوڑے کی طرح دکھ رہا تھا۔
”صوبیدار صاحب !....پوچھو کمینے سے ورنہ میں اس کی کھال اتار لوں گا۔“ مجھے ہوش میں دیکھ کر کیپٹن ادھیڑ عمر صوبیدار کو مخاطب ہوا۔
”اگر زندگی عزیز ہے تو جو کچھ کیپٹن صاحب پوچھ رہے ہیں صحیح صحیح بتادو، ورنہ تمھیں عبرت ناک موت سے کوئی نہیں بچا سکے گا۔“ صوبیدار کا لہجہ نرم تھا مگر الفاظ سخت تھے۔
مجھے چپ دیکھتے ہوئے اس نے دوبارہ پوچھا۔”تمھارے ساتھ کتنی ٹولیوں نے سرحد عبور کی اور ان کے مقاصدکیا تھے؟“
” سرحد عبور کرنے کی وجہ میں پہلے ہی بتا چکا ہوں۔“
کیپٹن دھاڑا۔ ”بکواس نہ کرو،تم بھی تخریب کاروں کے ساتھی ہو۔“
” تم تخریب کار کہتے ہو، ہم انھیں مجاہد سمجھتے ہیں۔ کاش میں بھی انھی میں سے ہوتا۔ مجھ جیسے دنیا دار سے وہ لاکھ درجے اچھے ہیں۔“
کیپٹن ،صوبیدارکو مخاطب ہوا۔”دیکھا رنجیت صاحب!کہہ رہا تھا یہ انھی کا ساتھی ہے۔“
صوبیدار رنجیت دھیمے لہجے میں بولا۔ ”سر! میں اپنی بات پر قائم ہوں اسے تفتیشی ٹیم ہی کے حوالے کرنے میں دھرتی ماتا کی بہتری ہے۔ وہ سب کچھ اگلو لیں گے۔“
”رنجیت صاحب !میرا خون کھول رہا ہے۔“ کیپٹن کی ٹھوکر نے میرے نچلے دھڑ کو نشانہ بنایا۔
”پلیزسر!تھوڑا صبر کریں،اسے آپ ہی کی نگرانی میں بھیجا جائے گاوہاں بھڑاس نکال لینا۔“
کیپٹن غصے سے پھنکارتا ہوا باہر نکل گیا۔
”تمھارا نام....؟“ کیپٹن کے جاتے ہی صوبیدار رنجیت نے پوچھا۔
”عمرجان۔“
”عمر جان !ہڈی پسلی ایک کروا کر منہ کھولنے سے بہتر ہے یونھی سچ اگل دو ۔“
”سر!قسم کھاتا ہوں میں نے غلطی سے سرحد عبور کی ہے۔“
اس نے منہ بنایا۔”میں کیسے یقین کرلوں ۔“
”آپ کو کیسے یقین آئے گا ؟“
” بے فکر رہو،جن کے حوالے کیے جاﺅ گے وہ خود اگلوا لیں گے۔“ کہتے ہوئے صوبیدار رنجیت کمرے سے نکل گیا۔ باقی بھی اس کے پیچھے ہولیے تھے۔ان کے جانے کے بعد ایک سپاہی اندر آیا۔ ”بھا جی! .... کیپٹن سریش تو تمھیں زندہ برف میں گاڑنے لگا تھا، صوبیدار رنجیت کا احسان مانو کہ آڑے آگیا۔“
میں اداسی سے بولا۔”کیپٹن سریش کی مجھ غریب سے کیا دشمنی ہے۔“
”ایک پوسٹ پرگھس بیٹھوں (دہشت گرد)نے حملہ کیا۔کیپٹن سریش کا چھوٹا بھائی لیفٹیننٹ اجیت شہید ہو گیا۔“(مسلمانوں کی دیکھا دیکھی دوسری اقوام بھی اپنی جنگی ہلاکتوں کو شہید کا نام دینے لگے ہیں )
”آپ کا نام؟ “ میں نے سلسلہ گفتگو بڑھانا چاہا کہ شاید کو ئی کام کی بات معلوم ہوجائے۔
” دلیر سنگھ۔“دروازے کی جانب دیکھ کر وہ دھیمی آواز میں بولا۔”اب آرام کرو،کیپٹن صاحب نے تم سے گپیںہانکتے دیکھ لیا تو میری شامت آجائے گی۔“
”مجھے رضائی اوڑھا سکتے ہو؟“
وہ اطمینان سے ہنسا۔”اسی مقصد سے اندر آیا ہوں ۔“
l l l
اگلے دو دن آرام سے گزرے دلیر سنگھ چھپا کر درد کش گولیاں بھی لے آیا تھا۔ان سے میری تکلیف میں خاطرخواہ کمی ہوئی تھی۔ اس دوران موسم ٹھیک رہا۔ دلیر سنگھ سے پتا چلا کہ ہیلی پیڈ تیار ہو گیا تھا اور مجھے لے جانے کو کسی وقت بھی ہیلی پہنچ سکتا تھا۔
میری گرفتاری کا نواں دن تھا جب دوپہر 10بجے کے قریب ہیلی کی گڑگڑاہٹ سنائی دی۔ میں ذہنی طور پرجانے کو تیار ہو گیا۔ مگر ہیلی کا پٹرپوسٹ سے آگے گزر گیاتھا۔ دوبارہ دو گھنٹے بعد اس کی آوازسنائی دی تھی، وہ نیچے اتر رہا تھا۔ چند مسلح افراد نے اندر آکر میرے پاﺅں کی بندشیں کھولیں اور مجھے ہیلی کی طرف لے چلے۔
پائلٹ نے ہیلی کاپٹراسٹارٹ ہی رکھا تھا۔ وہ مال بردار ہیلی تھا اس میںپچیس سے تیس بندوں کے بیٹھنے کی گنجائش ہوتی ہے۔ مجھے ایک سیٹ پر بٹھا کر چاروں جانب رائفل بردار بیٹھ گئے۔ اسی اثنا میں کیپٹن سریش بھی ہیلی میں داخل ہوا۔ اس کا چہرہ دیکھ کر لگا جیسے وہ روتا رہا ہو۔ بعد میں پتا چلااس کے بھائی کی لاش بھی اس ہیلی میں تھی۔ کیپٹن سریش نے مجھ پر ایک قہر بھری نگاہ ڈالی لیکن منہ سے کچھ نہ کہا۔ اس کے بیٹھتے ہی ہیلی کاپٹرآہستہ آہستہ زمین سے اٹھنے لگا۔ آدھے گھنٹے کی پرواز کے بعد ایک جگہ اتار کر اس میں تیل ڈالا گیا دوبارہ ہم گھنٹا ڈیڑھ گھنٹا محو پرواز رہے اور پھرزمین پرآگئے اس دفعہ ہیلی ائیر بیس میں اتارا گیاتھا۔نیچے اترتے ہی سول کپڑوں میں ملبوس دو جوان میری جانب بڑھے۔ایک نے سرعت سے میری تلاشی لی۔ میری گھڑی اتاری اور مجھے بازو سے پکڑ کر کالے شیشوں والی ویگن کی جانب بڑھ گئے۔
ویگن میں بٹھا کر انھوںنے میری آنکھوں پر پٹی باندھی اور ہاتھوں میں ہتھکڑی لگا دی۔ ویگن نا معلوم منزل کی جانب روانہ ہو گئی تھی۔ میںآنے والے ناخوشگواروقت کے لیے خودد کو ذہنی و جسمانی طور پر تیارکرنے لگا۔کیوں کہ اچھی طرح جانتا تھا تفتیش کرنے والوں کا طریقہ کارکیا ہوتا ہے۔ خصوصاً پاکستانی اور انڈین انٹیلی جنس تو تشدد کے ذریعے ملزم سے حقائق جاننے کی کوشش کرتی ہیں۔اور بعض اوقات ملزم ذہنی یا جسمانی طورپر ناکارہ بھی ہو جاتے ہیں ۔البتہ یورپین ممالک کے متعلق جہاں تک مجھے معلوم ہے زیادہ ترنفسیاتی حربے استعمال میں لاتے ہیں۔ لیکن ان کے پاس بھی آخری حربہ جسمانی اذیت دینے ہی کا ہوتا ہے ۔“
گھنٹا بھر سفرکے بعد گاڑی رک گئی تھی۔ مجھے بازو سے پکڑ کرنیچے اتارا گیا اور پھر مختلف موڑ مڑنے اورکئی بار سیڑھیاں چڑھنے ،اترنے کے بعد ایک کمرے میں قید کر دیا گیا۔ جاتے ہوئے یہ مہربانی انھوں نے ضرور کی کہ میری آنکھوں سے پٹی کھول دی۔ کمرے میں ایک بلب روشنتھا۔ کمر ہ سازوں سامان سے بالکل خالی تھا۔ داخلی دروازے سے دائیں دیوار میں ایک چھوٹا دروازہ نظر آیا۔ میرے اندازے کے مطابق وہ بیت الخلا کا دروازہ تھا۔ جھانکنے پر اندازے کی تصدیق ہو ئی تھی۔ قبضے میں لیتے ہی انھوں نے میرے برفانی بوٹ اتروا لیے تھے۔ اور ان جگہ چپل وغیرہ نہیں دیئے تھے اس لیے میں ننگے پاﺅں تھا۔ کمرے کا فرش ٹھنڈا تھا مگرمیں جہاںسے ہو کر آرہا تھا اس کے مقابلے میں یہ ٹھنڈک کچھ بھی نہیں تھی۔ وہاںموسم اپنے پنجاب جیسا محسوس ہو رہا تھا۔میں دیوار سے پیٹھ جوڑ کر بیٹھ گیا۔ میرے ہاتھ بھی ہتھکڑی میں جکڑے ہوئے تھے۔اور جسم پر وہی لباس تھا جو پوسٹ سے بھاگتے وقت پہنا ہوا تھا۔ پچھلے کئی دنوں کے مسلسل استعمال کی وجہ سے لباس سخت میلا تھااور پسینے کی ناگوار بو آرہی تھی۔ دل میں شدت سے یہ خواہش اٹھ رہی تھی کہ نیم گرم پانی سے نہا کر کپڑے تبدیل کرلوں۔مگرخواہش نام ہی نہ پورا ہونے والے خواب کا ہے۔جو پھانس کی صورت دل میں چھپی رہے۔میں صبر سے ان کے اگلے اقدام کا انتظار کر نے لگا۔
وہاں وقت کا اندازہ لگانا ممکن تھا نہ وقت کاٹناآسان۔قید بہ ذات خود ایک بڑی مصیبت ہے، ساتھ جسمانی اذیت کا تڑکا لگ جائے تو سونے پر سہاگااورجب گھر کی پریشانی بھی لاحق ہو توانسان جینے کیا مرنے ”جوگا“ بھی نہیں رہتا۔
بیٹھے بیٹھے تھک گیا تو ٹہلنا شروع کر دیا۔مگر چند فٹ لمبائی چوڑائی پر مشتمل قیدخانے میں کتنی چہل قدمی ہو سکتی تھی۔دو تین قدم لیتے ہی دیوار چڑانے لگتی۔اس شغل کو ترک کر کے ڈنڈ نکالنے لگا۔جسمانی مشقت سے تھکن ہوتی ہے ،تھکن آرام کی متقاضی ہوتی ہے ،آرام نیند لانے کا سبب بنتاہے ، نیند سپنوں کی سوغات لاتی ہے اور سپنے عارضی سہی مگردماغی پریشانیوں سے چھٹکارا دینے کے ساتھ خوشگوار لمحات کا سبب بھی بنتے ہیں۔
ڈنڈ کے بعد میں دوسری مشقیں بھی کرنے لگا،مگر یہ شغل زیادہ دیر جاری نہیں رکھ سکا تھا۔ دروازے کے کھٹکے نے متوجہ کیا۔ دو سوٹڈ بوٹڈآدمی اندر آئے ،انداز میں ضرورت سے زیادہ خود اعتمادی جھلک رہی تھی۔اور کیوں نہ ہوتی کہ وہ کوئی عام قید خانہ نہیں تھاکہ قیدی بھاگنے کی کوشش میں کامیاب ہوپاتا۔ہر ملک کی خفیہ ایجنسیاں قیدیوں کی فرار کی راہ مسدود کرنے کی ماہر ہوتی ہیں اور بات جب پاکستان ، بھارت کی آجائے تو احتیاط کا دائرہ کار اپنی آخری حدود کو چھو لیتا ہے۔ دونوں ممالک ایک دوسرے کے قیدیوں کوخصوصی نگرانی میں رکھتے ہیں۔اور نگرانی میں ذرا سا دقیقہ بھی فروگزاشت نہیں کرتے۔
ایک نے میری ہتھکڑی کھولی اورمجھے دیوار کے ساتھ سیدھا کھڑا ہونے کو کہا۔جبکہ دوسرے نے کیمرا سیدھا کر کے سامنے اور دائیں بائیں سے میری تصویریں لینا شروع کر دیں ۔
چند تصاویر کھینچ کر وہ ساتھی کو مخاطب ہوا۔
”حجام کوبلاﺅ۔“
وہ باہر نکل گیا۔اکیلے آدمی پر قابو پانا میرے لیے چنداں دشوار نہیں تھا لیکن مسئلہ اس اکیلے کا نہیں تھا۔ بلاشبہ پوری عمارت میں بیسیوں مسلح محافظ موجود ہونا تھے۔اور بغیر ہتھیار ان سے ٹکرانامگر مچھ کے کھلے منہ میں سر دے کر اس کے دانت گننے جیسا تھا۔
چند لمحوں بعد جانے والا حجام کے ساتھ لیے لوٹا۔حجام نے پلاسٹک کا سٹول اور اپنے اوزار کی اٹیچی اٹھائی ہوئی تھی ۔
اسٹول پر بٹھا کر اس نے میری شیو کر دی۔ کمانڈو کی ٹریننگ سے پہلے میں شیو کرتاتھا مگربعدمیں چھوٹی چھوٹی داڑھی رکھ لی تھی۔شمالی علاقہ جات میں ٹھنڈکی مہربانی سے میری داڑھی شرعی تقاضوں کو پورا کرنے لگی تھی۔ جو انھوں نے باقی نہ رہنے دی۔ سر کے بال بھی کافی بڑے ہو گئے تھے مگر اس نے بالوں کو نہ چھیڑا اور اپنے اوزار اٹیچی میں ڈال کر باہر نکل گیا۔
کیمرہ مین دوبارہ میری تصاویرکھینچنے لگا۔فارغ ہو کر وہ ساتھی کو مخاطب ہوا۔ ”اسے کپڑے دو۔“
اس نے کپڑوں کا بنڈل میری طرف بڑھایا ۔ ” اپنے کپڑے اتار کر میرے حوالے کر و۔“
میں کپڑے تبدیل کرنے بیت الخلاکی طرف بڑھا۔ کیمرہ مین جلدی سے بولا۔
”کپڑے یہیں تبدیل کرو۔“
”کیوں؟“ میں نے احتجاج کیا۔
کیمرہ مین غرایا۔” چوں چراں نہیں۔“
میں معترض ہونے کا حق نہیں رکھتا تھا۔مجبوراََ ان کے سامنے برہنہ ہونا پڑا۔یقینا ان کا مقصد مجھے برہنہ دیکھنانہیں تھا۔قیدی کے لباس میں کسی ایسی چیز کا احتمال نظر انداز نہیں کیا جا سکتا جسے وہ فرار ہونے ،کسی محافظ کو نقصان پہنچانے یا اپنی جان لینے کے مقصد میں استعمال کر سکے ۔
نیا لباس ہلکے نیلے رنگ کاشلوار نما پاجامہ اوررانوں تک آتی قمیص پرمشتمل تھا۔ مجھے وہ سی ایم ایچ (Combined Military Hospital) میں مریضوں کودیا جانے والا لباس لگاتھا۔
میرے پرانے کپڑے اٹھاکر تینوں چلے گئے۔ دروازہ مقفل کرنا وہ نہیں بھولے تھے۔
نئے کپڑے پہن کر دل میں نہانے کی خواہش دوبارہ جاگی اور میں بیت الخلا کی طرف بڑھ گیا کہ غسل خانہ کی سہولت موجود نہیں تھی ،مگرپانی کو ہاتھ لگانے پر نہانے کی خواہش دم توڑ گئی۔ اتنے زیادہ ٹھنڈے پانی سے نہانا خود اذیتی کے علاوہ کچھ نہیں تھا۔
تھوڑی دیر بعد نئے آدمی داخل ہوئے۔ ایک کے ہاتھ میں میلا سا گدا، کمبل اور چھوٹا سا تکیہ تھا، جبکہ دوسرے نے کھانے کے برتن اٹھائے تھے۔ کھانے میں تین روٹیاں اور پالک نما سبزی تھی۔ کھانا کھائے کافی دیر گزر گئی تھی اس لیے میں تینوں روٹیاں چٹ کر گیاتھا۔کھانا پلاسٹک کےے برتنوں میں بھیجا گیا تھا۔تاکہ برتنوں کو کسی اور مقصد کے لیے استعمال نہ کیا جا سکے۔
خالی برتن کونے میں رکھ کر میں نے گدا فرش پر بچھایا اور کمبل اوڑھ کر لیٹ گیا اس کے علاوہ کرنے کو کچھ نہیں تھا۔دوران تربیت ہمیں فرار کے طریقے سکھائے گئے تھے مگر وہ مروجہ قیدی کیمپوں کے متعلق تھے اور وہاں قابل عمل نہیں ہو سکتے تھے ۔ایسے حالات کے بارے ہمارے استاد کہا کرتے ۔
”یہ بندے کی اپنی صوابدید پرہے کہ ان حالات میں بچنے کو کیا طریقہ کار اپناتا ہے۔لیکن صبر و برداشت سے کام لینا بہت ضروری ہے ،تیزی میں درستی نہ بھولے اور بچ نکلنے کو کسی اخلاقی ضابطے کی قربانی دینا پڑے تو دریغ نہ کرے۔“
میںکمبل میں سر چھپا کر فرار کے طریقے سوچنے لگا۔ مگر کوئی ترکیب ذہن میں نہ آئی ،اُکتا کر سوچوں کا دھاراگھر کی طرف موڑ دیا اورانھی سوچوں میں نیند آگئی۔
صبح ناشتا لانے والوں کی آواز سے آنکھ کھلی۔ گو وقت کا اندازہ لگانامشکل تھا لیکن چائے کے برتن دیکھ کر صبح کااندازہ ہوا۔
حوائج ضرور یہ سے فارغ ہو کر ناشتا کیا جو چائے اور سوکھی سڑی ڈبل روٹی پر مشتمل تھا۔
l l l
اگلے دو دن میں انتظار کی سولی پر لٹکا رہا۔ تاحال کوئی پوچھ گچھ نہیں ہوئی تھی۔تیسرے دن ناشتے کے دو اڑھائی گھنٹوں بعدبلاوا آگیاوہی دو تھے جو تصاویر کھینچنے کو آئے تھے۔ دونوں پستولوں سے مسلح تھے۔ انھوں نقاب سے میرا چہرہ ڈھانپااور بازو پکڑ کر چل پڑے۔
مختلف موڑ مڑنے کے بعد مجھے سیڑھیوں سے اوپر لے جایا گیا۔ میں نے گنتی کی سولہ سیڑھیاں تھیں جن کے بعد اس کے بعد بھی مجھے کافی گھما پھرا کر ایک جگہ بٹھا دیا گیا۔یقینا اس تگ و دو کا مقصد مجھے عمارت کے محل وقوع لاعلم رکھنا تھا۔
پردہ ہٹا تو خود کو ایسے کمرے میں پایا جس کی دیواریں شیشے کی تھیںلیکن باہر کا منظر نہیں آرہا تھا۔یقینا باہر سے اندر دیکھنا ممکن ہوگا۔ کمرے کے وسط میں رکھی کرسی پرمجھے بٹھا دیا گیا۔ چاروں کونوں میں مسلحافراد چوکنے کھڑے تھے۔ میرے سامنے ایک صوفہ سیٹ اور شیشے کی میز پڑی تھی۔ چند لمحوں بعد دروازہ کھلا اور تین افراداندر آئے۔ دو مرد اور ایک عورت تھی۔ مرد تھری پیس سوٹ میں جبکہ عورت کھلے بلاﺅز کی ساڑھی میں ملبوس تھی۔ مردوں کے برعکس عورت کم عمر نظر آرہی تھی اور دیکھنے سے تعلق رکھتی تھی۔ انھوں نے خاموشی نشست سنبھالی۔ سینئر کا اندازہ کرنا مشکل نہ تھا۔اور اس کی وجہ عمر کے تفاوت کے علاوہ دوسرے مرد و عورت کا مو¿دبانہ انداز بھی تھا۔
لمحہ بھر کی جاں گسل خاموشی کے بعد سینئر نے اشارے سے تفتیش کے آغاز کو حکم دیا۔دوسرے مرد نے مرد مو¿دبانہ اندازمیں سرہلایااور میری طرف متوجہ ہوا۔
”تمھارا نام ؟“
”عمر جان۔“
”پاک آرمی سے تعلق رکھتے ہو؟“
”جی سر!“میں نے اطمینان سے جواب دیا کہ اعتراف میں بھلائی تھی۔
وہ غیر جذباتی انداز میں میں پوچھتا گیا۔”نمبر اور رینک ؟“
”نمبر.... اور سپاہی ہوں۔“(قارئین کی معلومات کو بتاتا جاﺅں کہ فوج میں ہر فرد، بلکہ گھوڑوں، خچروں، کتوں اور ہتھیاروں تک کومخصوص نمبر جاری کیے جاتے ہیں)
”تو تمھارا تعلق فرنٹیرفورس سے ہے ؟“آرمی نمبر سے اس نے آسانی سے میری رجمنٹ کا اندازہ لگا لیا تھا۔اور یہ اتنی حیرانی کی بات نہیں ہے کہ جوانب کی فوجیں ایک دوسرے کے بارے ایسی معلومات رکھتی ہیں۔
”جی سر!“میں اثبات میں سر ہلادیا۔
”یونٹ؟“
میں مو¿دبانہ لہجے میں بولا۔”سوری سر!یہ جنیوا معاہدہ کے خلاف ہے۔“
ان کے سینئر کے لبوں پر ہلکی سی مسکراہٹ نمودار ہوئی۔ ”جوان! وہ معاہدہ جنگی قیدیوں کے لیے ہے جبکہ تم تخریب کار ہو۔“
”میں نے غلطی سے سرحد عبور کی ہے ۔اور جونھی علم ہوا انڈیا کی حدود میں ہوںمیں نے واپسی کی کوشش بھی کی ،آپ کی سپاہ نے مجھے سرحد کے قریب سے پکڑا ہے۔“
وہ تیکھے لہجے میں مستفسر ہوا۔”انڈیا کی حدود میں قدم رکھنے کے بعد تم نے کوئی ایسی کارروائی نہیں کی جسے قابلِ مواخذہ سمجھا جائے؟“
میں نے اپنے بھگوڑا ہونے کی وجوہات اور باقی تفصیلات من وعن بتلا دیں صرف رشی پوسٹ پر حملے اور لکشمن کے قتل کا ذکر گول کر گیا۔
” کہانی اچھی ہے ،کوئی خاص جھول بھی نظر نہیں آرہا ہے۔ مطلب گھڑی ہوئی ہے اور مجھے صرف حقائق جاننے میں دلچسپی ہے عمر جان کمانڈو!“
”کمانڈو۔“ میں نے حقیقتاََ حیرانی کا اظہار کیا تھا۔
وہ طنزیہ انداز میں ہنسا۔” تمھیں اپنے کمانڈو ہونے میں شبہ ہے۔‘ ‘
” آپ مجھے کمانڈو سمجھ کر خوش ہیں تو مجھے کوئی اعتراض نہیں۔“
وہ اطمینان سے بولا۔” صوبیدار داس کی پوری ٹولی کی لاشیں تلاش کرلی گئی ہیں۔ پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق لکشمن کے علاوہ تمام کی موت برف میں دبنے سے ہوئی ہے جبکہ لکشمن گردن ٹوٹنے سے مرا ۔ اور اس کی گردن جس مخصوص انداز میں توڑی گئی ہے وہ پاکستانی کمانڈوز کا خاص انداز ہے۔ دوسرا تمھارے پاس موجودکلاشن کوف بھی لکشمن ہی کی تھی۔رشی پوسٹ پر ہمارے چھے جوان جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ان کے جسم میں پائے جانے والے بلٹ اسی کلاشن کوف سے فائر ہوئے ہیں۔ “
”لکشمن کی گردن کسی اور وجہ سے بھی ٹوٹ سکتی ہے اور ضروری نہیں کہ گولیاں اسی کلاشن کوف سے چلائی گئی ہوں، وہ اس قطر کی کسی بھی گن کی ہو سکتی ایسی گنیں کشمیری مجاہدین کے پاس عام ہیں۔“
” بچکانہ باتیں نہ کرو،کیا نہیں جانتے کسی بھی فائر شدہ گولی سے اس ہتھیار کا پہچاننامشکل نہیں جس سے وہ گولی فائر ہوئی ہو۔ جیسے دو بندوں کے انگلیوں کے نشان آپس میں نہیں ملتے۔یونھی فائر شدہ گولیاں مماثل نہیں ہو سکتیں بے شک ایک ہی قطر کی گنوں سے فائر ہوئی ہوں۔“
میں خاموش ہو گیا کہ انھوں نے مکمل تحقیق کے بعد تفتیش کا آغاز کیا تھا۔
اس نے لمحہ بھر توقف کیااور پھر گہرا سانس لے کر بولا۔”بہ ہرحال میرے پاس تمھارے خلاف گواہی بھی موجود ہے۔“ اس نے دروازے کی طرف رخ کر کےپکارا۔”ہری چند۔“
دروازہ کھول کر وہ شخص نمودار ہوا جسے میں نے رشی پوسٹ پر ٹھوکر مار کر بے ہوش کیا تھا۔ وہ وردی میں تھا اندر داخل ہوکراس نے سیلوٹ کرتے ہوئے ۔”جے ہند۔“کہا اور ہوشیار(اٹن شن)کھڑا ہو گیا۔
میری جانب اشارہ کر کے پوچھا گیا۔”اسے جانتے ہو ؟“
”جی سر۔ “اس نے اثبات میں سر ہلادیا۔
”اب بتاﺅ۔“اس نے مجھے گھورا۔
”وہ جان بچانے کی فطری کوشش تھی ،اگر قتل و غارت میرا مقصود ہوتا تو میں ہری چند اور اس کے ساتھی کو بھی قتل کر دیتا۔میں فقط خوراک لے کر رشی پوسٹ سے رخصت ہورہا تھا،مگر انھوں نے ہلہ بول دیا مجبورا جان بچانے کو جوابی گولیاں چلانا پڑیں۔“میں کھل کر سامنے آگیا تھا۔
” تم جاﺅ۔“ وہ ہری چند کو مخاطب ہوا اور وہ سیلوٹ کر کے ”جے ہند۔“کہتاہوا نکل گیا۔
”گپ شپ بہت ہو گئی، اب تم اپنے ساتھیوں کے نام اور سرحد پار کرنے کا مقصداگلو۔“
” اس کے علاوہ میرے پاس بتانے کو کچھ نہیں ہے۔“
وہ مرد کو مخاطب ہوا۔”اسے نمبر چار میں لے جاﺅ۔“
”جی سر۔“ اس نے مو¿ دبانہ انداز میں سرہلایا۔
میری بدبختی کی شروعات ہونے والی تھی۔لیکن بغیر ہاتھ پاﺅں مارے شکست تسلیم کرنا پاکستانی کمانڈو کا شیوہ نہیں ہوسکتا۔سرعت سے فیصلہ کرتے ہوئے میں نے زقندبھری،میرا ارادہ سینئر کو یرغمال بنا کر فرار ہونے کا تھا۔ گو صوفہ سیٹ اور سٹول کے درمیان چند قدم کا فاصلہ تھا اور درمیان میں میز بھی رکھی ہوئی تھی، لیکن چند قدم کا فاصلہ میرے لیے کوئی حیثیت نہیں رکھتا تھا۔
میں پہلی چھلانگ میں میز تک پہنچا اور جونھی دوسری مرتبہ اچھلا ،سینے پر ایک زبردست ٹھوکر لگی ، میں کولہوں کے بل فرش پر گر گیاتھا۔ حملہ سینئر کے ہمراہ بیٹھے قد آور شخص نے کیا تھا۔ میں تیزی میں درستی بھول گیا تھا اور حملہ کرتے وقت اپنے دفاع سے غافل ہو نے کا جو نتیجہ نکلتا ہے وہ مجھے بھی بھگتنا پڑا تھا۔
وہ میز پھلانگ کر آگے آیا۔
”مجھے میجر شرما کہتے ہیں۔“
الفاظ اس کے ہونٹوں ہی پر تھے کہ میں نے زمین پر اپنے ہاتھوں کو ٹیک کر کمر کو جھٹکا دیا اور اس کے مدمقابل کھڑے ہوتے ہی دائیں ٹانگ بجلی کی سی سرعت سے اس کے پیٹ میں ٹکائی ،وہ ”اوغ“ کی درد بھری آوازنکالتاہوا میز کے اوپر سے ہوکر سینئر کے قدموں میں جا گراتھا۔
”اورفدوی کو عمر جان گنڈہ پور کہتے ہیں۔“اطمینان سے کہتے ہوئے میں نے دوبارہ سینئر کو چھاپنا چاہا کہ میجر شرما کو سنبھلنے میں چند لمحے لگ جانے تھے۔ لیکن میرے حرکت کرنے سے پہلے پرکشش لڑکی نے کھلے گریبان میں ہاتھ ڈال کرنامعلوم مقام سے چپٹا سا پستول نکالا۔
”خبر دار!....کوئی بھی غلط حرکت تمھیں نرگ (جہنم)میں پہنچا سکتی ہے ۔“ دلکش چہرے کی طرح اس کی آواز بھی سریلی تھی مگر اس وقت کوئل کی سی بولی مجھے کوے کی کائیں کائیں سے بھی کرخت لگی تھی۔مجھے ٹھٹک کررکنا پڑا۔ دیواروں کے ساتھ کھڑے محافظ بھی اس کی للکار ہی پر ہوش میں آئے تھے۔رائفلیں سونتے وہمیری جانب بڑھے۔
”ہاتھ اوپر۔“ ایک زور سے گرجا اور میرے بازو اٹھ گئے۔
حملہ کرتے وقت میں نے محافظوں کو جان بوجھ کر نظر انداز کیا تھا۔کیوں کہ جب تک وہ صورتِ حال کو سمجھتے میں حالات اپنے موافق کر چکا ہوتا۔لیکن میرامنصوبہ ایک چھوکری نے ناکام کر دیا تھا۔
میجر شرما کھڑا ہوا۔ غصہ اور خفت اس کے چہرے پرنمایاں جھلک رہے تھے۔اس نے بڑھک توماری تھی مگرمیری جوابی کارروائی کا سدباب نہیں کر سکا تھا۔ اور اب یہ شرمندگیمیری ٹھکائی کرکے بھی ختم نہ ہوتی۔ اس دوران ان کا سینئر اطمینان سے بیٹھارہا۔
جونھی میجر شرما غیظ و غضب سے میری جانب بڑھا ،وہ ہاتھ اٹھا کر بولا۔
”نہیں شرما!“ اس کے الفاظ نے جادو بھرااثر دکھایا تھاوہ خاموشی سے بیٹھ گیا۔ لڑکی بھی پستول کو مخصوص مقام پر غائب کرکے بیٹھ گئی۔
سینئر طنزیہ لہجے میں بولا۔” کیا مجھ پر قابو پاکے تم یہاں سے فرار ہوجاتے۔“
میں چپ رہا۔
اس نے ساحر ہ کے نام انکشاف کیا۔”نیلم!“
”جی سر۔“اس کی لوچ دار آواز ابھری۔
” اسے نمبر6میں بھجوادو،اب تفتیش تم کرو گی اور شرماصاحب! تم تفتیش مکمل ہونے تک قیدی کے قریب نہیں پھٹکو گے۔“
دونوں نے ”یس سر“ کہہ کر اثبات میں سرہلا دیاتھا۔
”تم میرے ساتھ آﺅ۔“سینئر نشست چھوڑتے ہوئے میجر شرماکو مخاطب ہوا۔
وہ مو¿دبانہ انداز میں سر ہلاتے ہوئے اس کے ساتھ ہو لیا۔
مجھے لانے والے کمرے میں داخل ہوئے اورہتھکڑی پہنانے لگے۔
ایک نے پوچھا۔”اسے کہاں لے جانا ہے مادام۔ “
”آں.... باں۔“ وہ مجھے گھور رہی تھی ہڑبڑاتے ہوئے بولی۔ ” اسے نمبر چھے میں لے جاﺅ۔“
اور وہ ”یس مادام“ کہہ کر مجھے باہر لے آئے۔پہلے کی طرح میری آنکھیں بند کر کے مختلف راہداریوں سے گھما کر سیڑھیوں کے اوپر نیچے کر کے ایک کمرے میں لے آئے۔ کمرے کے وسط میں لوہے کی کرسی پڑی تھی، دروازے کی دیوار چھوڑ کر باقی دیواروں میں الماریاں بنی تھیں جن میں مختلف اقسام کے اذیت رسانی کے آلات بھرے تھے۔ ایک لمحے کوجی کیا ان پر ٹوٹ پڑوںاور لڑتا ہوا مارا جاﺅں ،یوں کم از کم آسان موت تو ملے گی ، لیکن پھر اچھے موقع کی امید اور زندہ رہنے کی خواہش نے مجھے باز رکھا۔
انھوں نے کرسی پر بٹھاکر لوہے کے کلپوں میں میرے ہاتھ اور پنڈلیاں جکڑ دیں۔اس دوران تین مسلح افراد نے مجھ پر ہتھیار تانے رکھے ۔اب وہ کافی چوکس لگ رہے تھے۔
مجھے جکڑ کر وہ باہر نکل گئے۔ میں نے جسم کو ہلا جلا کر جانچا، کرسی مضبوطی سے فرش میں گڑی تھی اور انسانی طاقت سےبعید تھا اسے زمین سے باہر نکال سکے۔کرسی کے دستوں اور پائیوں جڑے کلپ بھی مضبوط فولاد کے بنے تھے۔ توانائی ضائع کرنے کے بجائے میںآرام سےبیٹھ گیا۔
تھوڑی دیر بعد نیلم دو نئے آدمیوں کے ہمراہ اندر آئی۔ان کے چہروں پرنرمی و ملائمت نام کوبھی نظر نہیں آرہا تھا۔ دونوں الماریوں کی طرف بڑھ گئے اور نیلم میرے سامنے آگئی۔
”تو خیال ہے جان!“ وہ مترنم لہجے میںمستفسر ہوئی۔ ”کچھ یاد آ یا کہ ہمیں زحمت کرنا پڑے گی۔“
میں اطمینان سے بولا۔” کیا سننا چاہتی ہیں۔ جو کہیں دہرا دوں گا۔“
”تمھیں مارنے یا سزا دینے کو ہمیں کسی فرد جرم کی ضرورت نہیں ہے۔اس لیے بے ہودہ ڈرامے چھوڑااور سرحد عبور کرنے کی وجہ پھوٹو۔“
میں نے افسوس ظاہر کیا۔”میری دکھ بیتی بے ہودہ ڈراما کیوں لگی؟“
وہ مدھر انداز میں مسکرائی۔”ایک بار سرحد پار کرتے ہوئے ہمارا جاسوس پکڑا گیا، اس کے شناختی کاغذات مکمل تھے۔تب موقع پر موجود آفیسر نے چھے کلمے سنے گئے جواسے اچھی طرح یاد تھے اور اسی وجہ سے آفیسر نے اسے ایف آئی یو کے حوالے کر دیا کہ یہ لازماً جاسوس ہے ۔اور ایجنسی کی تفتیش پر جاسوس کواقرار کرتے بنی۔“
”میں جاسوس یا دہشت گرد ہونے کا اقرار کر لوں تو میرے جھوٹ پر یقین کر لوگی۔“
اس نے نفی میں سرہلایا۔”فرضی کہانی نہیں چلے گی، تمھارے ملک میں جو کھچڑی پک رہی ہے ہم اس کی خوشبو سونگھ سکتے ہیں۔“
”کیسی کھچڑی؟“
” یہ بتا دیں گے۔“وہ منہ بنا کر باہرنکل گئی۔ دونوں جلاد قریب آئے۔ ایک کے ہاتھ میں تارتھا۔ اس نے سکون سے تار کوکرسی سے جوڑ دیا۔ مجھے بے اختیار جھٹکالگاتھا اور جب تک تار کرسی سے جڑا رہا میں ذبح ہوئے جانور کی طرح جھٹکے لیتا رہا۔لگ رہا بدن سے روح کھینچی جا رہی ہو۔چند سیکنڈز کے بعداس نے تار ہٹایا۔میرا رکا ہوا سانس بحال ہوا،مگر میں دوتین گہرے سانس ہی لے پایا تھا کہ ظالم نے تارکودوبارہ کرسی سے جوڑا۔ میرے منہ سے بے اختیار چیخ نکلی اور پھر یہ چیخیں وقفے وقفے سے جاری رہیں۔ اس دوران میں دو دفعہ بے ہوش ہوا۔ مگر وہ اطمینان و سکون سے لگے رہے۔
تھوڑی دیر بعد انھوں نے بجلی کی تار کو لپیٹ دیااور بڑا سا مومی لفافہ نکال لائے۔لفافہ میرے سر پر چڑھا کر انھوں نے گردن پر کس کر تسمہ باندھ دیا۔یوں میں سانس نہیں لے سکتا تھا۔منٹ بھر بعد ہی میں بن جل کی مچھلی کے تڑپنے لگا۔میرے بے ہوش ہونے سے پہلے انھوں نے لفافہ کھول دیا۔میں گہرے گہرے سانس لے کر آکسیجن کو سینے میں اتارنے لگا۔اس وقت معلوم ہوا کہ ہوا کتنی بڑی نعمت ہے جو اللہ پاک نے ہر ذی روح کے لیے وافر مقدار میں پیدا فرما دی ہے۔انھوں نے دو تین سے زیادہ سانس لینے کی اجازت نہیں دی تھی اور دوبارہ لفافہ چڑھا دیا۔ بجلی کے کرنٹ کی طرح یہ کھیل بھی کافی دیر جاری رہا۔ میرے سر میں سخت قسم کا درد شروع ہو گیاتھا۔ بدن میں گویاجان ہی نہیں رہی تھی۔ لگ رہا تھا تفتیش کے خاتمے تک میرا کام بھی پورا ہو جائے گا۔ مگر جلاد کافی ماہر تھے۔ ان کی پہلی ترجیح قیدی کو زندہ رکھنا تھا، لیکن وہ زندگی بھی ایسی تھی کہ قیدی موت کی خواہش کرنے لگے۔
 

قسط نمبر5
ریاض عاقب کوہلر
دوران تربیت ہمیں فرضی تفتیش کے مرحلے سے بھی گزارا گیا تھا۔مختلف قسم کی اذیتیں دے کر ہماری قوت برداشت کو جانچا گیا تھا اور ہمیں ایسے مرحلے کے لیے تیار کیا گیا تھا۔ لیکن وہ تکالیف اور اذیتیں اس تفتیش کے عشر عشیر بھی نہیں تھیں۔
اگلے مرحلے میں انھوں نے میری کلائیوں کو چھت میں لگی زنجیر میں جکڑا،اور چرخی گھما کر زنجیر کو کس دیا یوں کہ میرے پاﺅں چند انچ ہوا میں بلند ہو گئے تھے۔ اب جسم کا پورا وزن میرے بازوﺅں پر تھا۔میرے پاﺅں سے وزن باندھ کر انھوں نے بازوﺅں کی مشقت بڑھا دی۔وہ بڑی ترتیب اور انہماک سے مجھے نت نئے عذابوں سے روشناس کرا رہے تھے۔اس دوران مجھے تو کیا انھوں نے ایک دوسرے کوبھی مخاطب نہیں کیا تھا۔
کچھ دیر تو میں نے بازوﺅں کو اکڑا کر جسم کو سنبھالا مگر پھر تھک کر بازو ڈھیلے چھوڑنے پڑے۔ جلد ہی محسوس ہونے لگا جیسے بازو کندھوں سے جدا ہو جائیں گے۔ میں ہونٹ بھینچے ناقابلِ برداشت تکلیف جھیلتا رہا۔بہ ظاہر ساد ہ نظر آنے والی سزا پہلی اذیتوں سے کم نہیں تھی۔
اچانک دروازہ کھول کر نیلم اندرآئی اورہونٹوں پر قاتلانہ مسکراہٹ بکھیرتے ہوئے پوچھا۔”اس کی یاداشت بہتر ہوئی۔“
ایک مودّبانہ لہجے میں بولا۔ ”اب تک خاموش ہے مادام۔“
وہ خفگی سے بولی۔ ”بہت خراب،تم گھنٹے میں اس کی زبان نہیں کھلوا سکے۔“
سخت حیرانی ہوئی کیوں کہ میرے خیال میں وہ کھیل کئی گھنٹوں سے جاری تھا۔یقینا وہ نفسیاتی دباﺅ ڈال رہی تھی۔
وہ قریب آئی۔”بہتر ہوگاضد چھوڑ دو۔“ میں خاموش رہا۔
”مٹھو کی تو بولتی ہی بند ہو گئی ہے،ونود! اس کے پاﺅں سے وزن ہٹاﺅ۔“
ونود نے میرے پاﺅں سے وزن اتار دیا۔ بازوﺅں کا بوجھ کچھ ہلکا ہوا مگر تکلیف میں واضح کمی نہیں ہوئی تھی۔ میرا اپنا وزن بھی کچھ کم تو نہیں تھا۔
وہ شرارت سے ہنسی ۔ ”کب تک چپ رہو گے جانِ من۔“
” حقیقت بتا چکا ہوں۔“
”نہ بتاﺅ، ہمیں کون سا جلدی ہے۔“وہ جلادوں کی مخاطب ہوئی۔ ” اسے کل تک سوچنے کا موقع دو،شاید عقل آجائے۔“
اس کے جاتے ہی ونود نے زنجیر کو اتنا ڈھیلا کر دیا کہ میرے پاﺅں آسانی سے زمین پر ٹک گئے۔
ونود نے کہا”صبح ملاقات ہو گی دوست۔“دونوں کریہہ مسوڑھوں کی زیارت کراتے ہوئے باہر نکل گئے۔
وقت معلوم کرنے کا کوئی ذریعہ میرے پاس نہیں تھا۔بس اندازہ تھا شاید شام ہونے والی تھی ۔ صبح ناشتے کے بعد سے بس اذیتیں اور تکلیفیں ہی کھانے کو ملی تھیں اور سخت بھوک محسوس ہو رہی تھی۔بھوک و پیاس بھی تو اذیت دینے کاطریقہ ہی تھا۔مجھے جلد ہی بھاگ نکلنے کی ترکیب سوچنا تھی ورنہ وقت گزرنے کے ساتھ میں نے کمزور ہوتے جانا تھا۔ یہاں تک کہ بے ضرر کیچوے جیسا ہو جاتا۔ایجنسیاں قیدیوں کو یونھی بے بس اور کمزور کر کے رکھتی ہیں تاکہ وہ مر سکے نہ بھاگنے کے قابل رہے۔
میں نے جھٹکے دے کر زنجیر کی مضبوطی کا اندازہ کیا مگر زور آزمائی بے فائدہ رہی۔اسے توڑنا انسانی طاقت سے باہر تھا۔بھاگنے کی تجاویز سوچتے سوچتے میں اونگھنے لگا۔”نیند سولی پربھی آجاتی ہے۔“اس کہاوت کا مجھے اس رات تجربہ ہوا تھا۔ میری آنکھ دروازے کی کھڑکھڑاہٹ سے کھلی تھی۔وہ نیلم تھی ۔آسمانی رنگ کے کھلے گاﺅن تلے اس نے اتنامختصر لباس پہنا تھا جس کا مزید اختصار کوئی مغربی” ڈریس ڈیزائنر“بھی نہ کر پاتا۔بلب کی روشنی اس کے بدن سے یوں منعکس ہو رہی تھی جیسے سورج کی روشنی آئینے میں منعکس ہوتی ہے۔اس کے عقب میںکلاشن کوفوں سے مسلح دو محافظ تھے ۔میں تفتیش کے دوسرے دور کے لیے ذہنی طور پر تیار ہوگیا۔
وہ مخمور انداز میں لہراتے ہوئے میرے قریب آئی،نشیلی آنکھیں کسی مشروب کے مرہون منت دو آتشہ ہو گئی تھیں۔کسی نازنین کی آنکھوں کی سرخی رتجگے کی طرف اشارہ کر کے بہت کچھ باور کراتی ہے۔مگر اس وقت غالباََ آدھی رات بیتی تھی۔شاید صبح تک وہ سرخی مزید بڑھ جاتی....
”جان!.... تھکے تو نہیں۔“ دایاں ہاتھ میری ننگی چھاتی پر پھیرتے ہوئے وہ مخمور لہجے میں بولی۔
میں حیرانی سے کچھ کہنے کے قابل بھی نہیں رہا تھا۔
”بھوک بھی لگی ہوگی ،چلو تمھیں کھانا کھلادوں۔“وہ میرا گال چومتے ہوئے محافظوںکو بولی....
” اسے کھولو۔“
ایک محافظ نے کلاشن کوف سلنگ اَپ کی اورزنجیر کھول کر میرے ہاتھ ہتھکڑی میں جکڑ دیئے۔ بازوﺅں کے نیچے ہوتے ہی مجھے اتنا سکون محسوس ہوا تھا جو بیان سے باہر ہے۔
ان کی نگرانی میں اذیت خانے سے باہر نکلا، نیلم آگے چل رہی تھی۔ موٹاگاﺅن بھی اس کے دلکش نشیب و فراز چھپانے میں ناکام لگ رہا تھا ۔ دو تین موڑ مڑنے کے بعد ہم سیڑھیاں اُترے اور ایک سرنگ میں داخل ہو گئے کچھ دور سیڑھیاں تھیں۔ اوپرچڑھ کرہم ایک پُرتکلف خواب گاہ میں پہنچ گئے۔
”ہمیں اکیلا چھوڑ دو۔“اس نے محافظوں کو جانے کا اشارہ کیا۔
”جی میڈم!“ کہہ کر وہنکل گئے۔
”بیٹھو جان۔“ آرام دہ بیڈ پردھکیل کر وہ میرے ساتھ لگ بیٹھی۔
میں اس التفات کو سمجھنے سے قاصر تھا۔تحیر آمیز لہجے میں پوچھا....
”میری سمجھ میں کچھ نہیں آرہایہ کیا ہورہا ہے؟“
اس کا مترنم قہقہ گونجا ۔”میری بھی۔“
میں ہونقوں کی طرح اسے گھورنے لگا۔
”کبھی کسی کے پیار میں تمھاری نیندیں اڑی ہیں۔“میری چھاتی پر ہاتھ پھیرتے ہوئے وہ وارفتگی سے بولی۔”رات کے دو بج رہے ہیں لیکن کوشش کے باوجود سو نہ پائی۔بلاشبہ تم بہت پیارے ہو۔“
وہ آوارہ آفیسر میری صورت پر مرمٹی تھی۔اسے میرے مضبوط بدن اور شباب سے غرض تھی ۔یقینا اپنی ہوس پوری کر کے اس نے مجھے واپس زندان میں پہنچانا تھا۔لیکن میں اس کی بے راہروی کو فرار کے لیے استعمال کر سکتا تھا۔
”تو پیاروں سے یہ سلوک کیا جاتا ہے۔“اخلاقی اقدار کو پس پشت ڈالتے ہوئے میں نے اس کی وارفتگی کو خوش آمدید کہا۔
وہ اداسی سے بولی۔”ایک کیپٹن اتنی خود مختار نہیں ہو سکتی کہ بھارت ماتا کے مجرم کی سہایتا(مدد) کرسکے۔“ میرے سینے پر اس کے ہاتھ کی گردش جاری رہی۔
میں مایوسی سے بولا۔”آپ کی نظروں میں بھی مجرم ہوں تو کسی اور کے سامنے بے گناہی کیسے ثابت کروں گا۔“
اس نے پھیکے لہجے میں تسلی دی۔”میں کوشش کروں گی کہ تمھارے کام آسکوں،مگر چند دن تشدد برداشت کرنا پڑے گا۔ونوداور وکرم کو میں سمجھادوں گی کہ ہاتھ ہلکا رکھیں اور کوئی ایسی چوٹ نہ پہنچائیں جس سے تم ناکارہ ہوجاﺅ۔“
مجھے سمجھنے میں ذرا بھی دقت نہیں ہوئی تھی کہ وہ بس وقتی عیاشی کومجھے استعمال کرنا چاہتی تھی ورنہ اسے نہ تو میر ے مصائب سے غرض تھی اور نہ میری رہائی سے دلچسپی۔بس اپنی شہوت پوری کرنے تک ہی میرا خیرخواہ رہنا تھا۔ بعد جلادمیں میرے ساتھ کیا سلوک اسے غرض نہ ہوتی۔
”مجھے بھوک لگی ہے۔“گلے شکوﺅں کے بجائے میں مطلب کی بات پر آیاکہ وہ میری محبوبہ نہیں دشمن تھی۔اس کا مقصود لذت کا حصول تھا اور میرا رہائی۔
لبوں پر مدھر تبسم ابھرا۔”جانتی ہوں۔“میرے گالوں کو دہکتے ہونٹوں سے چھو کر وہ لہراتے ہوئے وہ کونے میں دھرے فریج کی طرف بڑھ گئی۔اس کی واپسی مختلف لوازمات سے بھری ٹرے کے ساتھ ہوئی۔
میرے ہاتھ ہنوز ہتھکڑی میں جکڑے تھے۔وہ اپنے ہاتھوں سے کھلانے لگی۔ان لمحوں میں لگ رہا تھا میں اس کا لاڈلا محبوب ہوں جس کے ناز نخرے وہ شوق سے اٹھا رہی ہے۔ لگاوٹ بھرا انداز دیکھ کر کوئی یقین ہی نہ کرتا کہ وہ میری دشمن ہے۔اس کے خوب صورت و دلکش بدن کے جلوے بھی میرے جذبات پر بری طرح اثر انداز ہو رہے تھے۔اگر جان بچانے کی فکر لاحق نہ ہوتی تو میرے بہکنے کا مکمل سامان وسماںموجود تھا۔مگر جب جان پر بنی ہو تو نازک جذبے قابو میں رہتے ہیں اور اس وقت مجھے بھی یہی مرحلہ درپیش تھا۔میں بڑی رغبت سے اللہ پاک کی مختلف نعمتوں سے لطف اندوز ہوتارہا۔کیپٹن نیلم کے ملائم ہاتھوں سے ان نعمتوں کی لذت بڑھ گئی تھی۔اتنی بھول لگی تھی کہ تھوڑی دیر ہی ٹرے صاف ہو گئی۔میں ضرورت سے زیادہ ہی ٹھونس چکا تھا۔
”اور لاﺅں؟“اس نے لگاوٹ بھرے لہجے میں پوچھا۔
” شکریہ۔“ میں نے نفی میں سرہلایا۔
ٹرے تپائی پر رکھ کر وہ قریب کھسکی۔مجھے ملائم بانہوں کاہار پہناتے ہوئے وہ جذبات سے بوجھل آواز میں بولی۔”مجھے بہت سا پیار کرونا۔اتنی ہی رغبت سے جتنی کھانے کی ٹرے صاف کرتے ہوئے دکھائی ہے۔“
اگر ہاتھ کھلے ہوتے تو نیلم اور اس کے محافظوں پر قابو پانا مشکل نہ ہوتا۔میرا خیال تھا اپنا مطمح نظر پورا کرنے کو وہ میرے ہاتھ ضرور کھولے گی،مگر اس کے انداز ظاہر کر رہے تھے وہ ایسا خطر ہ مول لینے کے حق میں نہیں تھی۔اور جس وارفتگی سے وہ لپٹی تھی میرے جذبات میں بھی ہلچل مچی تھی۔نرم و گداز بدن کے اتنے قریب ہونے کے بعد کسی جوان کا احتراز برتنا اتنا ہی مشکل ہے جتنا پاﺅڈری کا نشے کی موجودی میں خود پر قابو پانا۔ لیکن جب جسمانی تقاضے پورے کرنے کے بعد چھتر کھانے کا اندیشہ ہو تو عقل ،جذبات پر غالب رہتی ہے۔مجھے بھی عیاشی کے بجائے جان چھڑانے کی کوشش کرنا تھی۔اگر جلد ہی کوئی ترکیب نہ سوچتا تووقت ہاتھوں سے سرک جاتا۔اور اگلے دن کا تشدد جھیلناپڑتا۔اس کے بعد بدکار کیپٹن مجھے قربت کا موقع دیتی یا نہیں یہ اس کے موڈ پر منحصر تھا۔ موقع گنوانا کوئی عقل مندی نہ ہوتی اور پاکستانی کمانڈو ایسی بے و قوفی نہیں کر سکتا تھا۔
”مجھے چائے پینا ہے۔“اس کی پیش قدمی کے سامنے بند باندھتے ہوئے میں خواہش ظاہر کی۔
جذبات سے بوجھل آواز ابھری۔”تھوڑی دیر بعد پی لینا۔“
اپنے ہونٹوں کو ذرا سی چھوٹ دیتے ہوئے میں شاکی ہوا۔”کیا نہیں چاہتیں،تمھاری طرح ان لمحات سے میں بھی لطف اندوز ہو سکوں ۔“
”کیوں نہیں۔“ وہ بہ مشکل علیحدہ ہوئی۔ ”ابھی منگواتی ہوں۔“ کہہ کر وہ دروازے کی جانب بڑھی۔میں سرعت سے ہاتھوں کو سر سے گھما کر سامنے لے آیا کہ اس پر قابو پانے کو میرے ہاتھو ںکا سامنے ہونا ضروری تھا۔ہتھکڑی میں جکڑے کو یوں سر سے گھماکر سامنے لانا کافی مشکل ہے ۔ایسا ہر کمانڈو بھی نہیں کر سکتا۔ میں نے یہ جمناسٹک مشقوں کے دوران سیکھا تھا۔
نیلم نے دروازے پر جاکرمحافظ کو چائے لانے کا حکم دیا اور دروازہ بند کر کے مستی میں لہراتے ہوئے واپس ہوئی۔جن لمحات کو منانے کا وہ اہتمام کیے ہوئے تھی ایسی صورت حال میں ہوش و خرد کو قریب پھٹکنے کی اجازت نہیں ہوتی۔جذبات ،عقل پریوں قابض ہوتے ہیں جیسے عقاب کمزور چڑیا کو دبوچتا ہے یا بلی چوہے کو جکڑتی ہے۔
قریب پہنچنے پر اچانک ہی اس کی نگاہ میرے ہاتھوں پر پڑی جو پشت کے بجائے سامنے نظر آرہے تھے۔وہ ٹھٹک کر رکی مگر اب دیر ہو چکی تھی۔ہوائے نفس انسان کو تباہی کے دہانے پر لا بے یارومددگار چھوڑ دیتی ہے۔نیلم کو بھی خطرے کا احساس ہو گیا تھا جس کا سدباب اس کے بس سے باہرتھا۔مگر وہ کوشش کرنا ترک نہیں کر سکتی تھی۔اس کا ہاتھ ان بلندیوں کی طرف بڑھا جن کے نشیب میں وہ چپٹا سا پستول دفنائے رکھتی تھی،مگر میں ایک بار مار کھا چکا تھااور” مومن ایک سوراخ سے دو مرتبہ نہیں ڈسا جاتا۔“
اس کے ہاتھ کی حرکت کے ساتھ میں نے اٹھتے ہوئے ٹانگ لہرائی۔اور اس پہلے کہ نازک ہاتھ پستول کی مدد سے آہنی بنتے میرا دایاںپاﺅں جچے تلے انداز میں اس کی گردن سے ٹکرایا۔
درد بھری ”اوغ“ کے ساتھ وہ دبیز قالین پر ڈھیر ہو گئی تھی۔ میرے پاﺅں اب تک ننگے تھے تبھی جچا تلا وار کر سکا تھا۔ہاتھ و پاﺅں انسان کے محکوم ہوتے ہیں۔مگر ان کی صلاحیتوں میں بہت زیادہ فرق ہوتا ہے۔ پاﺅں کی نسبت ہاتھ بہت زیادہ باریک بینی اور نفاست سے کام کرتے ہیں۔
میرا مقصد اسے بے ہوش کرنا تھا۔میں احسان فراموش نہیں تھا کہ اس کی ہمدردی ونرمی کوبھلا دیتا۔ گو اس کا مطمح نظر کچھ اور تھالیکن کسی وجہ سے بھی سہی وہ کام تو آئی تھی۔اور مجھے عقوبت خانے سے فرار کا کوئی رستہ تو نظر آیا تھا۔
میں نے بے جھجک اس کے گریبان میں ہاتھ ڈل کر نشیب میں چھپا چپٹا سا پستول کھینچ لیا۔گو ایسی جگہ جانےکے بعد ہاتھ کا باہر آنا دشوار ہوتا ہے لیکن حالات نے مجھے بے حس کر دیا تھا۔اس وقت پرکشش نسوانی بدن کسی کھردرے مرد کے جیسا لگ رہا تھا۔
دبیز قالین کی وجہ سے اس کے گرنے کا شور نہیں ہوا تھا۔ایک محافظ کو وہ چائے لینے بھیج چکی تھی اور اکیلے محافظ پر ہلا نہ بولنا حماقت ہوتی جو مجھ سے سرزد نہیں ہو سکتی تھی۔
پستول نیفے میں اڑس کر میں نے دروازہ کھولا،اکیلا محافظ ہی کھڑا تھااورمجھے دیکھتے ہوئے چونک پڑا تھا۔
”کیپٹن صاحبہ بلا رہی ہیں ۔“سادہ لہجے میں کہہ کر میں پیچھے ہوا،اس کے تنے اعصاب ڈھیلے پڑ گئے تھے۔
نیلم جس جگہ پڑی تھی وہ دروازے سے ہٹ کر تھی اور اندر آنے سے پہلے اسے نہیں دیکھا جاسکتا تھا۔اس کے داخلے کے ساتھ میں نے لات مار کر دروازہ بند کر دیا۔نیلم کا بکھرا وجود بھی اسے دکھائی دے گیا تھا۔ وہ بدک اٹھا،مگر سنبھلنے سے پہلے میرا گھٹنا اس کے پیٹ کی خبر لے چکا تھا۔
درد بھری آہ کے ساتھ وہ رکوع کے بل جھکا، میں نے ہاتھ باہم ملا کر کہنیوں کوسیدھا کیا اور دائیں کہنی کی ایک بھر پور ضرب اس کی کنپٹی پر جڑ دی ۔ وہ منہ کے بل لمبا پڑ گیا تھا۔
اس کارروائی میں بہ مشکل چند سیکنڈ لگے تھے۔ میں نے محافظ اور نیلم کو باری باری گھسیٹ کر بیڈ کے دوسری طرح پہنچا دیا تاکہ چائے لانے والے محافظ کی نظر داخلے کے ساتھ ہی ان پر نہ پڑے اور خود کلاشن کوف کو بیرل سے پکڑ کر دروازے کے ساتھ دیوار سے پیٹھ ٹیک کر کھڑا ہو گیا۔ مجھے زیادہ دیر انتظار نہیں کرنا پڑاتھا۔ تھوڑی دیر بعد ہی قدموں کی چاپ ابھری ۔ ہلکی سی دستک دے کراس نے لمحہ بھر توقف کیا اور پھر بے تکلفی سے دروازہ دھکیلتے ہوئے اندر آگیا۔کلاشن کوف کندھے سے لٹکا کراس نے ٹرے میں چائے کے برتن اٹھائے ہوئے تھے۔
خالی کمرہ دیکھ کر وہ ٹھٹک کر رکا،مگر میں نے اسے زیادہ دیر حیران نہ ہونے دیااور ہاتھ گھما کر کلاشن کوف کے بٹ سے اس کے سر کی سختی کو جانچا۔درد بھری کراہ کے ساتھ وہ اوندھے منہ گرا ،چائے کے برتن قالین پر بکھر گئے تھے۔
کلاشن کوف کاک کر کے میں نے نال ہتھکڑی کی زنجیر سے لگائی اور حفاظتی لیور کو سنگل فائر پر لگا کر پاﺅں کے انگوٹھے سے لبلبی دبا دی۔
زور دار دھماکے کے ساتھ ہتھکڑی درمیان سے ٹوٹ گئی تھی۔ اب کم از کم میں اپنے ہاتھوںکو استعمال کر سکتا تھا۔ البتہ ہتھکڑی کے حلقے میری کلائیوں میں پھنسے تھے۔انھیں بھی گولی سے توڑا جا سکتا تھا مگر یوں ہاتھوں کے زخمی یا ناکارہ ہونے کاخدشہ تھا۔ جو مجھے کسی صورت گوارنہ تھا۔
دونوں محافظوں کی تلاشی لے کر نقدی نکالی،ایک کی چمڑے کی گرم جیکٹ اتار کر پہنی اور جانے کو تیار ہو گیا۔
اچانک دوڑتے قدموں کی آواز سنائی دی ۔میرے اندازے میں دو آدمی تھے۔میں دوبارہ دیوار سے پیٹھ جوڑ کر کھڑا ہو گیا۔
مگر انھوں نے اندر آنے کے بجائے دروازہ کھٹکھٹا کر نیلم کو آواز دی۔”مادام....مادام....“
وہ بے چاری ہوش میں ہوتی تو جواب دیتی ۔
ایک نے خیال ظاہر کیا۔”کمرہ خالی لگ رہا ہے۔“
دوسری آواز نے اس کا اندازہ رد کیا۔ ”دو تین منٹ پہلے تو فائر ہوا ہے۔“
پہلے نے کہا” دیکھ لیتے ہیں۔“ اس نے محتاط انداز میں دھکیلا،پٹ بے آواز وا ہونے لگا۔
اسی وقت نظر چائے لانے والے محافظ پر پڑی اور مجھے پر اپنی حماقت آشکارا ہوئی ۔وہ بالکل دروازے کے سامنے پڑا تھا۔ لیکن اب دیر ہوچکی تھی ۔جونھی پٹ وا ہوا پہلے کی ہراساں آواز ابھری۔
” گڑبڑ ہے۔“
”کیا ؟“دوسرے نے حیرانی ظاہر کی۔
پہلے والے نے اسے جھڑکا۔”بے وقوف ،لاش نظر نہیں آرہی۔“
دوسرے نے ہکلاتے ہوئے کہا۔”یہ....یہ تو سکھدیو کی لاش ہے۔“
وہ ڈرے ہوئے تھے،نجانے اندر آنے میں کتنی دیر لگاتے جبکہ میرے پاس ضائع کرنے کو منٹ تو کیا سیکنڈبھی موجود نہیں تھے۔یہ بھی ممکن تھا وہ مزید افراد کو بلانے کی کوشش کرتے۔دیر ہوجانے کی خطرات میں اضافہ ہوتا جاتا۔انفنٹری اسکول میں کورس کے دوران پڑھا تھا۔”سوچو اور کر دو....“کیوں کہ بے کار تجزیوں کا ناکامی سے گہرا رشتہ ہے۔
میں نے حفاظتی لیور کو چھٹے(برسٹ) پر سیٹ کیااور ایک دم سامنے آکر ایس ایم جی کی لبلبی دبا دی۔ دونوں چیختے ہوئے ڈھیر ہو گئے تھے۔
( کلاشن کوف اور ایس ایم جی ایک ہی ہتھیار کے نام ہیں فوج میں اسے ایس ایم جی یا شارٹ مشین گن کہتے ہیں جبکہ سول کلاشنکوف یا مشین گن کہتے ہیں۔ اس کا اصل نام AK-47 اسالٹ رائفل ہے۔ یہ روس کے میخائل کلاشن کوف نامی سائنس دان کی ایجاد ہے۔ روس کے بعد چائنہ نے بنائی اور آج کل پاکستان و انڈیا میں بھی بن رہی ہیں۔ ہر ملک کی بنائی ہوئی گن کی ساخت اور کارکردگی میں تھوڑا بہت فرق ہے)
ان کے ہتھیاروں کے میگزین اتار کر جیکٹ کی جیب میں ڈالے اور سیدھا بھاگ پڑھا۔وہ راہداری کا اختتامی کمرہ تھا اس لیے مجھے انتخاب کی زحمت نہیں اٹھانا پڑی تھی۔ میرے پاﺅں اب تک ننگے تھے اوراتنا وقت نہیں تھا کہ بے ہوش یا مرنے والوں کے پاﺅں سے اپنے لیے جوتے منتخب کر سکتا۔ راہداری کا اختتام ایک ہال پر ہوا۔جہاں دو تین کمروں کے دروازے تھے اور درمیان سے سیڑھیاں دوسری منزل پر جا رہی تھیں۔ہال کا داخلی دروازہ لکڑی و شیشے کا تھا۔کمروں کے بند دروازوں کو دیکھتے ہوئے میں داخلی دروازے کے قریب ہوا اور شیشے سے باہر جھانکا۔صحن خالی پڑا تھا،لیکن عمارت کے گیٹ پر ایک مسلح شخص نظر آیا۔۔اس کی نظریں اندرونی عمارت کی طرح اٹھی تھیں۔یقینا فائرنگ کی آواز سن کر وہ بھی شش و پنج میں ہوگا۔گولیوں کے دھماکے سے لبلبی دبانے والے کی پہچان نہیں ہوتی کہ فائر کرنے والا دوست ہے یا دشمن۔میں نے مشین گن کندھے سے لگا کر شست سادھی اور ٹھوکر سے دروازہ کھول کر دو مرتبہ لبلبی دبا دی۔
پندرہ بیس گز کے فاصلے پر گولی خطا ہونے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا۔سینے میں چھید کرا کے وہ اچھل کر دروازے سے ٹکرایااور بے بسی سے ایڑیاں رگڑنے لگا۔
میں نے نئی میگزینچڑھائی کہ پہلے میگزین سے کافی گولیاں فائر کر چکا تھا اور کلاشن کوف کسی بھی وقت دھوکا د ے سکتی تھی۔چوکیدار کوگرا کر میں نے لمحہ بھر توقف کیا اور چاروں اطراف نظر گھماتا رہا ،مگر کوئی نیا شکار سامنے نہ آیا۔البتہ ساتھ والے بنگلے سے لوگوں کے بولنے کی آوازیں آرہی تھیں۔گیراج میں سوزو کی کار اور سفید رنگ کی ڈبل کیبن نظر آرہی تھیں ۔میں دوڑ کر بنگلے کے گیٹ پر پہنچا،چوکیدار کی لاش کو گھسیٹ کر ایک طرف پھینکا اور گیٹ کے دونوں پٹ کھول دیئے۔گلی میں جھانکنے پر ایک دو بنگلوں سے چوکیدار اس طرف آتے دکھائی دیئے۔ سامنا ہونے پر یقین انھیں قتل کرنا پڑتااور میں بے فائدہ خون بہانے کے حق میں نہیں تھا۔اس لیے سرعت سے ڈبل کیبن کے قریب پہنچا، بٹ مار کرکھڑکی کا شیشہ توڑااورڈرائیونگ سیٹ سنبھال لی۔چابی موجود نہیں تھی اس لیے اگنیشن کی تاریں توڑ کر گاڑی اسٹارٹ کرنا پڑی۔اسی اثناءمیں محتاط اندازمیں چلتا ہواساتھ والے بنگلے کا چوکیدار گیٹ پر نمودار ہوا۔لیکن میں نے کلچ دبا کر گیئر لگایا اور ایکسی لیٹر دبا کر کار آگے بڑھا دی۔
چوکیدار نے ہاتھ اٹھا کر رکنے کا اشاہ کیالیکن گاڑی کی رفتار میں کمی نہ آتے دیکھ کر اچھل کر ایک جانب ہو گیا تھا۔
میں رفتار میں ہلکی سی کمی کر کے گلی میں مڑا اور تیز رفتاری سی آگے بڑھ گیا۔سمت کے تعین کا وقت نہیں تھا،اس لیے جدھر منہ آیا گاڑی بھگائے گیا۔گلی میں جا بجاروشنی کا انتظام تھا۔وہ غریبوں کی بستی یا مفلسوں کا محلہ نہیں تھا کہ تاریکی کو پر پھیلانے کی اجازت ہوتی۔اونچے طبقے کے گھر کیا گلیاں بھی روشن ہوتی ہیں۔قریبی بنگلوں کے چوکیدار داخلی درواز ں پر کھڑے نیلم کے بنگلے کی طرف متوجہ تھے،مگر ڈر انھیں قریب جانے کی اجازت نہیں دے رہا تھا۔پرانے پھڈے میں ٹانگ اڑانے والے خال ہی نظر آتے ہیں۔گولیوں کی ”ٹخ....ٹخ“ کے بعد موقع واردات پر جانایقینا حماقت تھی۔اور احمق کہلانا کسے پسند ہوسکتا ہے۔
میں نے پہلاموڑ آتے ہی وہ گلی چھوڑ دی تھی۔دوسری گلی بھی میں جلد ہی چھوڑ دی تھی۔انھی لمحات میں مجھے پولیس گاڑیوں کے سائرن سنائی دینے لگے۔ اونچے طبقے کی حفاظت کو بھارت کی پولیس بھی کوشاں رہتی ہے بالکل طون عزیز پاکستان کی طرح ۔تبھی تو پولیس نے اتنی جلدی حرکت کی تھی۔
دو تین موڑ مڑنے کے بعد میں سڑک پر جا نکلا۔ رات کافی بیت چکی تھی ۔اکا دکا گاڑیاں ہی متحرک نظر آئیںسڑک پر آتے ہی میں رفتار کم کر لی تھی۔
یقینا تھوڑی دیر تک خفیہ ایجنسیوں اور پولیس نے میری تلاش میں پورے شہر کی ناکا بندی کر لینا تھی۔ مجھے فی الفور محفوظ ٹھکانہ ڈھونڈنا تھا ورنہ زیادہ دیر ان کی دسترس سے نہ بچ پاتا۔میری تازہ تصاویر ان کے پاس موجود تھیںجو میری تلاش کو بڑی حد تک آسان کر دیتیں۔
ایک بار جی کیا اسی گاڑی میں شہر سے نکل جاﺅں ،لیکن پھر ارادہ ترک کرنا پڑا کہ اس حالت میں سفر کرنا مناسب نہیں تھا۔میری کلائیوں کے ہتھکڑی کے حلقے اب تک موجود تھے۔کسی بھی عام ناکے پر پولیس والوں کی نظر ان کنگنوں پر پڑ جاتی تو آسمان سے گر ے ہوئے کو کھجور میں اٹکنے سے کوئی نہ بچا سکتا۔یونھی میرے فرار کی خبر ہوتے ہی ایجنسیاں اور پولیس سب سے پہلے شہر سے باہر نکلنے والے راستوں کی ناکا بندی کرتے۔گاڑی کی ساخت اور نمبر بھی وہ پہلی فرصت میں پولیس ناکوں تک پہنچاتے۔ شہر چھوڑنے کا ارادہ ملتوی کر کے میں بچاﺅ کی متبادل تجاویز سوچنے لگا۔ سوچ کے گھوڑے گاڑی سے کہیں تیز رفتاری سے دوڑ رہے تھے لیکن کوئی واضح لائحہ عمل نہیں سوجھ رہا تھا۔سڑک کے کنارے مجھے ہوٹل بھی نظر آئے لیکن میرا حلیہ کسی ہوٹل میں پناہ لینے والا نہیں تھا۔
ایک ویران سڑک پر”ہیڈلائٹس“ کی روشنی میں مجھے راہگیر نظر آیا جس کا ہاتھ لفٹ مانگنے کو اٹھا ہوا تھا۔ میں اسے نظر انداز کرتا ہوا آگے بڑھامگر پھر خیال آیا چھپنے کا ٹھکانہ ڈھونڈے بغیر تو گزارا ممکن نہیں تھا۔اور اس کے لیے زیادہ سوچنے کے بجائے پہلے نظر آنے والے فرد سے ابتداءکرنا ہی بہتر رہتا۔بریک دبا کر میں نے گاڑی روکی اور ریورس گیئر لگا کر راہگیر کے قریب آگیا۔کلاشن کو اس کی نظر سے چھپانے کومیں اپنی جانب کے دروازے کے ساتھ کھڑا کر دیا۔کیبن لائیٹ میں نے بجھا دی تھی۔
وہ سکھ تھا۔ بیٹھتے ہی اس نے پر نام کیا۔ میں نے جواب دے کر گاڑی آگے بڑھا دی۔
”کہاں جانا ہے؟“ میں نے ہلکے پھلکے انداز میں گفتگو کی ابتدا کی۔
”اگلے چوک تک۔“ وہ مختصراً بولا۔
میں لہجے میں خوشگواری سموتے ہوئے بولا۔”جہاں اترنا ہو بتا دینا۔“
”جی۔“ اس کا جواب مزید مختصر ہوگیا۔عجیب کم گو شخص تھا،حالاں سکھ کافی باتونی ہوتے ہیں۔
میں مطلب کی بات کرنے کو مناسب الفاظ ترتیب دیے لگاکہ وہ موقع کھونا مناسب نہ ہوتا۔لیکن میرے بولنے سے پہلے ہی اس کی آواز ابھری....
” یہیں روک دیں۔“
میں نے گہرا سانس لیتے ہوئے بے اختیار بریک دبائی۔”مگر تمھیں چوک تک جانا تھا۔“
ایک لمبے پھل کا خنجر میری آنکھوں کے سامنے لہراتے ہوئے وہ کرخت انداز میں بولا۔”میں تو خیر چوک سے بھی آگے جاﺅں گا تمھیں اتارناہے۔“
میرا قہقہہ بلند ہوا۔ ”اسے کہتے ہیں چور کو مور پڑنا۔“
اس نے خنجر کی نوک میری گردن سے لگائی۔ ”ہنسنے کا نہیں ،گاڑی سے اترنے کا بولا ہے۔“
میں نے بجلی کی سی سرعت سے اس کی کلائی پکڑی اور انگلیوں کے مخصوص دباﺅ سے اس کی کلائی پر زور دیا۔ خنجر اس کے ہاتھ چھوٹ گیا تھا۔میں نے دوسرے ہاتھ سے خنجر اٹھالیا۔وہ ششدر و خوفزدہ سا مجھے گھور رہا تھا۔ایسے سڑک چھاپ کراچی میں بھی کافی پائے جاتے ہیں،کمزور کے لیے شیر اور زورآور کے لیے گیدڑ۔ یہ بھیڑ کی کھال میں بھیڑیئے ہوتے ہیں۔بزدل و ظالم،میں ایسے افراد کو معاف کرنے کا قائل نہیں اس وقت مجھے کسی ایسے ہی کی تلاش تھی۔
”مم ....معافی چاہتا ہوں.... آپ تو بڑے لوگ ہیں جناب۔“انگلیوں کے دباﺅ ہی سے اس پر میری فنکاری کھل گئی تھی۔اور بجائے ہاتھا پائی کے اس نے معافی مانگنے میں عافیت سمجھی۔
”سمجھ دار ہو۔“ میں نے اس کی کلائی چھوڑدی۔
”شش ....شکریہ جناب۔“ کلائی مسلتے ہوئے وہ منمنایا۔ ”مم.... میں جا سکتا ہوں۔“
”کہاں جانا ہے میں چھوڑ دیتا ہوں۔“اس کا خنجر گود میں رکھتے ہوئے میں نے گاڑی آگے بڑھا دی۔
وہ ہکلایا۔”یی ....یا....یہیں اترنا تھا۔“
میں نے تسلی دی۔”گھبراﺅمت،کچھ نہیں کہتا۔“
وہ چاپلوسی سے بولا۔”ہم چھوٹے لوگ ہیں سرکار....استادوں سے ڈر تو لگتا ہے ناں۔“
” یہاں انجان ہوں ۔اور یہ گاڑی چوری کی ہے۔اسے ٹھکانے لگانے میں مدد کر سکتے ہو۔“
وہ بے یقینی سے بولا۔”آ....آپ مذاق کر رہے ہیں؟“
میں نے کیبن لائیٹ جلا کر ہتھکڑی کے درشن کرائے۔”پولیس کی حراست سے بھاگا ہوا ہوں،اس گاڑی کو زیادہ دیر استعمال نہیںکر سکتا۔ٹھکانے نہ لگاپایا تو یونھی چھوڑنا پڑے گا۔“
”مگر........“
میں نے قطع کلامی کی۔”تمھیں نصف حصہ ملے گا۔اور میرے حصے کا آدھا بھی تمھاراہوااور میرے لیے محفوظ ٹھکانہ ڈھونڈناہوگا۔“
”ٹھیک ہے۔“اس نے سرعت سے منظوری دی۔
” یہ رکھو۔“ خنجر اس کی جانب بڑھاتے ہوئے میں نے اعتماد کی فضا قائم کی۔
”شکریہ ۔“کہتے ہوئے اس نے خنجر جیب میں رکھا۔”کمال کے کارخانے کی طرف چلو۔“
میں نے اسے یاد دلایا۔” یہاں اجنبی ہوں ۔“
وہ راستہ بتانے لگا۔ چند موڑ مڑ کر ہم ایک بڑی سی عمارت کے قریب پہنچ گئے۔ اس دوران ہم تعارف کے فریضے سے سبک دوش ہو چکے تھے۔
اس نے اتر کرداخلی دروازے کی گھنٹی بجائی۔
ذیلی کھڑکی کھول کر چوکیدار نمودار ہوا....”ست سری اکال سر دار جی!کافی عرصے بعد نظر آئے ہو۔“
دلیر سنگھ بولا۔”برے دن چل رہے ہیں یار،بڑی مشکل سے کچھ ہاتھ آیاہے۔“
چوکیدار کھڑکی کی طرف مڑا۔”گویا دروازہ کھولنا پڑے گا۔“
دلیر سنگھ واپس گاڑی میں آبیٹھا تھا۔دروازہ کھلتے ہی میں نے ڈبل کیبن آگے بڑھادی۔وسیع صحن میں مجھے رکنے کا اشارہ کر کے وہ نیچے اترنے لگا۔”آپ گاڑی میں رہیں۔“
میں نے کہا۔”اپنی چاددیتے جاﺅ۔“
چادر میرے حوالے کرکے وہ اتر گیا۔میں نے کلاشن کوف کندھے میں ڈال کر اوپر چادر اوڑھ لی۔
تھوڑی دیر بعد دلیر سنگھ ،خرانٹ شکل کے ایک ادھیڑ عمر شخص کے ہمراہ نمودار ہواوہ کارخانے کا مالک کمال خان تھا۔مجھ پر سرسری نظر ڈال کر وہ ٹارچ جلا کرگاڑی کا جائزہ لینے لگا۔میں نیچے اتر گیا تھا۔
ٹائروں پر ہاتھ پھیر کر اس نے بونٹ کھول کر جھانکا،دروازوں کے قفل و شیشے دیکھے،سیٹوں کا معائنہ کیادس پندرہ منٹ لگانے کے بعد وہ دلیر سنگھ کو مخاطب ہوا....
”مانگو....“
”ڈیڑھ لاکھ....“دلیر سنگھ نے مجھ سے مشورے کی ضرورت محسوس نہیں کی تھی۔
کمال نے نفی میں سرہلایا۔”ایک لاکھ کافی رہیں گے۔“
دلیر سنگھ مصر ہوا۔”کھٹارا مال نہیں ہے کمال بھائی۔“
کمال نے منہ بنایا۔”چوری کا تو ہے۔“
”ایک چالیس کرلو۔“دلیر سنگھ ذرا نیچے آیا۔
”ایک دس سے زیادہ نہیں دے سکتا۔“وہ مول تول پر شروع ہو گئے،آخر میں ایک لاکھ بیس ہزار پر سودہ ہو گیا تھا۔
کمال رقم لے آیا جو گنے بغیردلیر سنگھ نے جیب میں ڈال لی۔اس سے الوداعی مصافحہ کر کے ہم باہر آگئے۔
اندھیرے کی وجہ سے چوکیدار یاکمال خان ،میرے ننگے پاﺅں پر غور نہیں کر سکے تھے۔
”یہ اپنے پاس رکھو۔“ باہر آتے ہی دلیر سنگھ نے رقم کی گڈیاں میرے حوالے کر د یں۔جو میں نے جیکٹ کی اندرونی جیب میں رکھ لی تھیں۔
”امیر بھائی!آپ کس جرم میں گرفتار ہوئے تھے۔“میں نے اسے اپنا نام امیر خان بتایا تھا۔
”لمبی کہانی ہے،پھر کبھی سہی۔“ میں نے جان چھڑائی۔
”شاید بتانا نہیں چاہتے۔“اس کے ہونٹوں پر پھیکی مسکراہٹ نمودارہوئی۔
میں فلسفیانہ لہجے میں بولا۔”زیادہ جاننا کبھی کبھی جان لیوا ثابت ہوتا ہے۔“
”ڈراﺅ تو نہیں یار!“اس نے احتجاج کیا۔
”ڈرا نہیں، سمجھا رہا ہوں۔“
اس نے موضوع تبدیل کیا۔ ”جلدی چلو تاکہ صبح ہونے سے پہلے ٹھکانے پر پہنچ سکیں۔“
میں نے رفتار تیز کر دی۔یوں کہ میرا ساتھ دینے کواسے دوڑنا پڑگیا۔
وہ منمنایا۔”خان بھائی !....اتنا بھی تیز نہیں کہا ہے۔“
اور میں نے ہنستے ہوئے رفتار آہستہ کر دی۔ تنگ و چوڑی ،روشن و تاریک اورٹیڑھی میڑھی و سیدھی گلیوں سے گزرتے ہوئے آخرایک چھوٹے سے مکان کے سامنے پہنچ گئے۔مختصر سے صحن اور ایک ہی کمرے پر مشتمل چھوٹا سا مکان تھا۔البتہ کمرہ اچھا خاصا بڑا تھا۔ایک کونے میں واحد چارپائی پڑی تھی۔
”خان صاحب !بیٹھیں۔“اس نے چارپائی کی طرف اشارہ کیا۔
میں نے چادر اتار کر کلاشنکوف کندھے سے اتار ی اور نشست سنبھالتے ہوئے کلاشن کوف کو چارپائی پر رکھ دیا۔
وہ کلاشن کوف کو دیکھ کر حیران رہ گیا تھا۔مگر اس نے تبصرے کی ضرورت محسوس نہیں کی تھی۔
”ان کاکچھ ہو سکتا ہے۔“میں نے اسے ہتھکڑی کے حلقوں کی طرف متوجہ کیا۔
وہ بولا۔”آری سے کاٹنا پڑے گا،جو صبح ہی ممکن ہے۔“
میں نے کہا۔”چابیاں مجھے دو۔“
”عام قفل کی چابی ہتھکڑی کے سوراخ میں داخل ہی نہیں ہوگی۔“
میں مسکرایا۔”مشورہ نہیں چابیاں مانگی ہیں۔“
اس نے کندھے اچکاتے ہوئے چابیاں میرے جانب اچھال دیں۔میں نے ”چابی چین“ کی باریک تار کوسیدھا کیااور ہتھکڑی کے سوراخ میں گھسیڑ دیا۔منٹ بھر میں دونوں حلقے کھول کر میں نے کمرے کے کونے میں اچھال دیئے۔یہ چٹکلے ہم دورران تربیت سیکھ چکے تھے۔
دلیر سنگھ کی آنکھوں میں مرعوبیت ابھری اور وہ تحسین آمیز لہجے میں بولا۔”بے شک آپ استاد ہیں۔“
”یہ معاہدے کے مطابق بانٹ دو۔“میں نے رقم کی گڈیاں اس کی جانب بڑھا دیں۔
اس نے گن کر تیس ہزار میری جانب بڑھائے اور بقیہ رقم جیب میں ڈال لی۔
اس کی وجہ سے نہ صرف مجھے سر چھپانے کا ٹھکانہ ملا تھا بلکہ تیس ہزار کی خطیر رقم بھی ہاتھ آئی تھی جو میری کافی ضرورتوں کو پورا کرسکتی تھی۔
اس نے پوچھا۔”بھوجن (کھانے)کا من ہے؟“
”صرف چائے ۔“
وہ کھڑا ہوا۔”میںلاتا ہوں ۔“
میں نے حیرانی سے پوچھا۔”باہر جاﺅ گے۔“
اس نے اثبات میں سرہلایا۔”یہاں تو رسوئی(باورچی خانہ) نہیں ہے۔“
”پھر رہنے دو۔“
وہ خوش دلی سے بولا۔”چائے کا کھوکا نزدیک ہی ہے۔“
میں نے انکار میں سرہلایا۔”فی الحال سوتے ہیں ،اٹھ کر پیئں گے۔“
”ٹھیک ہے۔“وہ اپنے لیے چٹائی بچھانے لگا۔
میں نے بلا تکلف چارپائی پر لیٹ کرمیلاسا لحاف اوڑھ لیا تھا۔ سخت تھکن کے باوجود مجھے فوراََ نیند نہیں آئی تھی۔میں حالات کا جائزہ لینے لگا۔ دلیر سنگھ ایک سڑک چھاپ غنڈہ تھا۔ایسے آدمی اخلاقیات و اصولوں سے کوسوں دور ہوتے ہیں۔ان کے پیش نظر ہمیشہ پیسہ ہوتا ہے۔میں زیادہ دیر اس کے ساتھ نہیں رہ سکتا تھا۔ اگر ایجنسیاں میری گرفتاری پر کوئی انعام مقرر کر دیتیں تو شاید مخبری کرنے میں دلیر سنگھ ذرا دیر بھی نہ لگاتا۔لیکن اعتبار نہ ہوتے ہوئے بھی میں اس کے ساتھ رہنے پر مجبور تھا۔بھارت سے باہر نکلنے کو مجھے زیر زمین حلقوں تک رسائی کی ضرورت تھی۔اور اس معاملے میں دلیر سنگھ ہی میری اچھی رہنمائی کر سکتا تھا۔بھارت سے نکلنے کی تجویزیں سوچتے ہوئے میں نیند کی میٹھی وادی میں ڈوب گیاتھا۔
میری آنکھ کھٹکا سن کر ہوئی،یوں لگا کسی نے دیوار پھاندی ہو۔کمانڈو سوتے وقت عام آدمی کی طرح غافل نہیں ہوتے۔خاص کر خطرے کی حدود میں کمانڈوز کی حسیات عام حالات سے زیادہ کام کرتی ہیں۔ جاگتے ہوئے بھی کمانڈو کے دماغ کو ماحول کے ادراک کی تگ و دو نہیں کرنا پڑتی۔
آنکھیں کھلتے ہی میں نے فوراََ چارپائی چھوڑی،لیکن اس سے پہلے کہ دروازے کی طرف قدم بڑھاتا،کندھے کی مضبوط ضرب سے کنڈی توڑتے ہوئے دوافراد دندناتے ہوئے اندر گھسے ان کے عقب میں ایک تیسرا شخص بھی موجود تھا۔تینوں مسلح تھے۔میری کلاشن کوف چارپائی کے نیچے پڑی تھی۔اور اسے اٹھانے کی کوشش کرناجان گنوانے کے مترادف تھا۔البتہ کیپٹن نیلم کا لیڈی پستول میری جیب میں موجود تھا۔ میںنے لمحہ ضائع کیے بغیر بجلی کی سی سرعت سے پستول نکال کر کاک کیا۔
”ہاتھ اوپر۔“آگے والا دھاڑا۔
خود کو فرش پر گراتے ہوئے میں نے مسلسل چند بار لبلبی دبائی ، ہلکے دھماکوں کے ساتھ تینوں بندے فرش پر ڈھیر ہو گئے تھے۔میں سرعت سے اٹھا۔تبھی حملہ آوروں کا ایک ساتھی بھی اچھل کر کھڑا ہوگیا تھا۔ اور اس کے پستول کا رخ میری جانب تھا۔
ہمارے بیچ چند قدم کا فاصلہ تھا ،دونوں کے ہتھیارفائر کرنے کو تیار تھے۔جس کا صریح مطلب دونوں کی موت تھا۔
وہ اعتماد سے بولا۔”شاید اپنی قسمت کا فیصلہ ہمیں ان کھلونوں کے ہاتھ نہیں دینا چاہیے۔“
میں نے جائزہ لیا، وہ گٹھے ہوئے بدن کا مضبوط شخص تھا۔ ہلکے گھنگریالے بال ،چھوٹی چھوٹی سانپ کی مانند چمکیلی آنکھیں، سانولارنگ، چھے فٹ کے قریب قد۔ وہ ہر لحاظ سے بہترین لڑا کا لگ رہا تھا۔ مجھے للکار کر اس نے خوداعتمادی بھی ظاہر کر دی تھی۔
”منظور ہے۔“میں نے متفق ہونے میں دیر نہیں لگائی تھی۔اگر اسے خود پر اعتماد تھا تو لڑائی بھڑائی میں مہارت کا میں بھی دعوے دار تھا۔
دلیر سنگھ جو جاگتے ہی ہکا بکا ساہمارا مکالمہ سن رہا تھا ایک دم مخل ہوا۔ ”امیر خان یہ غلطی نہ کرنا، کوبرے سے خالی ہاتھ لڑناممکن نہیں ہے ۔“
کوبرے نے دانت پیسے۔”دلیر سنگھ !تم نے چور سے غدار کے درجے پر ترقی پالی ہے ،یقینا بہت اوپر جاﺅ گے،بس اس بھگوڑے سے مک مکا کر لوںپھر تمھیں بھیجتا ہوں۔“
”واہ گرو دی سوں، میں اسے نہیں جانتا۔“ دلیر سنگھ کا لہجہ رو دینے والا تھا۔
کوبرا زہر خند ہوا۔”گھرمیں تویوں سلایا ہے جیسے بہنوئی ہو تیرا۔“
دلیر سنگھ منمنایا۔”میں نے اسے کار چور سمجھا تھا۔“
”افسوس کہ یہ گاڑی تم سب کے لیے پھندا ثابت ہوئی،کمینہ کمال بھی اسی وجہ سے ہتھے چڑھا ہے۔“
دلیر سنگھ رنکھا ہوا۔” جتنی رقم کمال سے وصول کی ہے ساری واپس کرنے کو تیار ہوں۔“
کوبرے نے مکروہ قہقہ بلند کیا۔ ” اب توکافی وصولیاں ہوں گی۔“
میں نے منہ بنایا۔”کتنی بڑھکیں مارتے ہویار!“
اس کے چہرے پر استہزائی تبسم نمودارہوا۔”کمانڈو صاحب !مار کھانے کو تیارہو۔“
میں نے منہ بنایا۔”مجھے نہیں لگتاایسا کر پاﺅ گے۔“
”کھلونوں کو درمیان سے ہٹاکر فیصلہ کر لیتے ہیں۔“
”ٹھیک ہے۔“ہم نے ایک ساتھ پستول نیچے کیا۔
”پستول جیب میں بھی نہیں رہے گا۔“ اس نے پستول کمرے سے باہر اچھال دیا۔یقینا اسے ہاتھا پائی کی کچھ زیادہ ہی جلدی تھی۔
میں بہ ظاہر سنجیدگی سے بولا۔”تمھیں اتنی جلدی پستول نہیں پھینکنا چاہیے تھا۔“
کوبرے کے چہرے پر مسکراہٹ نمودار ہوئی جو اعتماد سے محروم تھی۔”تت....تم ایسا نہیں کر سکتے۔“
میں اطمینان سے بولا۔”کہتے ہیں جنگ اور محبت میں سب جائز ہوتاہے۔“
” شاید مجھے مار دو، مگر ذہنی سکون کھو دو گے۔“
میں نے قہقہ لگایا۔”ایسا بس تم سمجھتے ہو۔“
”ایک کمانڈو کو کہے سے پھرنا زیب نہیں دیتاعمر جان!“
دلیر سنگھ نے لقمہ دیا۔”اب موقع ہے جان بچا کر بھاگ سکتے ہیں،پستول پھینک دیا توبے موت مارے جائیں گے۔“
”مشورے کا شکریہ دلیر سنگھ۔“میں نے اطمینان سے پستول کمرے سے باہر اچھال دیا۔
کو برا زہر خند ہوا۔ ”تمھیں دلیر سنگھ کی بات مان لینا چاہیے تھی۔“
 

قسط نمبر6
ریاض عاقب کوہلر
” میرے چھپنے کی جگہ کاکیسے پتا چلا؟“
وہ فخر سے بولا۔ ” کوبرا،مجرموں کاخوف سونگھ سکتا ہے۔تم پاتال میں گھس کر بھی مجھ سے نہ چھپ سکتے ۔“
میں نے چوٹ کی۔”سونگھنے کی اتنی تیز حِس تو صرف کتوں میں ہوتی ہے۔“
”کتے کی طرح تو میں تمھیں گھسیٹتا ہو لے جاﺅں گا۔“غضب ناک ہوتے ہوئے وہ اچھلا ، اس کے پاﺅں کی زوردارٹھوکر میری چھاتی پر لگی اور میں کولہوں کے بل گرگیا۔میں نے اٹھنے میں دیر نہ لگائی، لیکن کوبرا اگلے حملے پر تیار تھا۔ بائیں پاﺅں پر گھومتے ہوئے اس کی دائیں ایڑی میری چھاتی کی طرف بڑھی۔جسے میں نے کلائیوں پر روک لیا تھا۔لیکن اس کی حرکت رکی نہیں تھی ۔دایاں پاﺅں زمین پر رکھتے ہوئے اس کا بایاں میرے پیٹ میں لگا،میں اُڑتاہوا چارپائی پر جاگرا۔ میرے سانس رکنے لگے تھے۔ بلاشبہ اس کے حملے میں بہت زیادہ تیزی و مہارت تھی۔ دل چاہ رہا تھا چارپائی پرلیٹا رہوں مگر اس وقت لیٹے رہنے کا مطلب ہمیشہ کا آرام تھا۔اس لیے میں کروٹیں بدلتا ہوا دوسری جانب فرش پر گر گیا۔اسی وقت کوبرا اچھل کر دونوں گھٹنے جوڑتے ہوئے ٹھیک اسی جگہ کودا جہاں لحظہ بھر پہلے میں پڑا تھا۔بروقت ہٹنا کام آگیاتھا۔کوبرے نے چارپائی ہی سے چھلانگ لگاکر میرے فرش سے اٹھتے وجودکو چھاپنا چاہا،مگر میں سنبھل چکا تھا۔جونھی وہ قریب آیاایک دم نیچے بیٹھ کر میں نے ہاتھ اس کی چھاتی پر ٹیکے اور دیوار کی جانب اچھا ل دیا۔ دیوار کے ساتھ ہاتھ ٹیک کر وہ خوب صورتی سے خود کو بچا گیاتھا۔ اس کے رخ موڑنے تک میں دوڑ کر مخالف کونے میں پہنچ گیا تھا۔ اس نے استہزائی قہقہہ بلند کیا۔
”شروعات سے پہلے ہی تمھاری بکری بیٹھ گئی ہے عمر جان۔“
اس کی کوشش مجھے غصہ کرنے کی تھی،لیکن میں نے دماغ کو ٹھنڈا رکھا اور سوچوں کادھارا مشفق استادصوبیدار مراد کی جانب موڑا۔
” سب سے پہلے مخالف کو جانچو، اس کے لڑنے کے طریقے پر نظر رکھو۔غور کروکس ہاتھ اور کس پاﺅں کا استعمال زیادہ کررہا ہے۔ کہیں وہ کھبا (بائیں ہاتھ والا) تو نہیں ہے۔اس کی کمزوری ڈھونڈو۔ اکثریت ایسے لڑاکوں کی ہوتی ہے جو حملہ کرنے میں تو بہت تیز ہوتے ہیں لیکن دفاع سے غافل رہتے ہیں۔کچھ لڑاکے بے جا طیش میں آکر مار کھا جاتے ہیں ۔ یاد رکھنا کتنی ہی مار کیوں نہ کھا لو غصہ نہ کرنا۔لڑتے وقت لباس پر توجہ دینا بھی بہت اہم ہوتا ہے۔کوئی ایسا لباس جو تیزحرکت میں رکاوٹ ڈالے لڑائی کے دوران اتاردینا چاہیے۔“
چمڑے کی جیکٹ اور قمیص میرے تیز حرکت کرنے میں رکاوٹ ڈال رہی تھیں۔ میں نے سرعت سے جیکٹ اور قمیص اتاردی۔
کوبرے نے پھبتی کسی۔” شلوار بھی اتار دو تب بھی بچ نہیں سکتے۔“
میں ترکی بہ ترکی بولا۔”وہ میں کیپٹن نیلم کے سامنے اتاروں گا۔“ میرا تکا نشانے پر لگا،اس کا استہزاءغیظ و غضب میں ڈھل گیا تھا۔
”تیری تو ....“ گالیاں بکتے ہوئے وہ لپکا مگر، میں تیارتھا۔جونھی قریب آکر اس نے بازو گھمایا، نیچے جھک کردفاع کرتے ہوئے میرے سر کی ٹکر اس کے پیٹ میں لگی۔وہ کولہوں کے بل نیچے گرا اور کروٹیں بدلتا ہوا دور ہونے لگا۔میں فرش پر لڑھکتا ہوا قریب ہوا اور اس سے پہلے کہ اٹھنے میں کامیاب ہوتا اسے چھاپ لیا۔ میرے زوردار مکے اس کے تھوبڑے کی طرف بڑھے جنھیں وہ کلائیوں پر سہارنے لگا ۔اور پھر ایک دم کلائیوں کو تھامتے ہوئے اس نے پاﺅں میرے پیٹ میں ٹیک کر دور اچھال دیا۔
الٹی قلابازی کھاتے ہوئے میں سیدھا ہوا اور دوبارہ اس پر پل پڑا،وہ بھی تیار تھا۔ ہم کافی دیر ایک دوسرے کو رگیدتے رہے۔ زندگی میں پہلا موقع تھا کہ کوئی اینٹ کا جواب پتھر سے دے رہا تھا۔ ہمارے سانس دھونکنی کی طرح چل رہے تھے ۔ کوئی بھی ہارماننے کو تیار نہیں تھا اور پھر کو برے کی بدقسمتی کہ میری ٹھوکر سے بچنے کواس نے اچھل کر پیچھے ہونا چاہا مگر دیوار قریب ہونے کی وجہ سے پیٹھ زور سے دیوار سے ٹکرائی۔میرے اگلے وار سے بچنے کواس نے اچھل کر میرے پیٹ میں ٹکر رسید کرنا چاہی۔مجھے بھی کسی ایسے ہی موقع کی تلاش تھی۔ایک دم بائیں پاﺅں پر گھومتے ہوئے میں نے اس کی جانب پیٹھ موڑی، اگلے ہی لمحے اس کی مضبوط گردن میرے بائیں بازو کے شکنجے میں پھنسی تھی۔
میں نے بازو کو مخصوص جھٹکا دیا۔ ”کٹاک۔“کی آواز کے ساتھ اس کی گردن ٹوٹ گئی تھی ۔اسے نفرت سے نیچے پھینک کر میں پھولے سانسوں پر قابو پانے لگا۔وہ اذیت سے ایڑیاں رگڑ رہا تھا۔
دلیر سنگھ بھاگ کر مجھے لپٹا اورمیرے بازوﺅں پر بوسہ دیتا ہوا بولا۔ ”مان گیا استاد....کوبرے کو خالی ہاتھ شکست دیناایک عظیم لڑاکے کے لیے ہی ممکن تھا۔“
”اس کی پیٹھ تھپتھپاتے ہوئے میں نرمی سے بولا۔” میرے لیے لباس اور جوتوں کا بندوبست کرو ہمیں فی الفور یہ جگہ چھوڑنا ہوگی۔“
دلیر سنگھ مستعدی سے بولا ” اپنے پاﺅں کا ناپ بتا ئیں ،میں یوں گیااور لوٹا۔“
”گیارہ نمبر۔“
وہ سرہلاتا ہواباہر نکل گیا۔
میں نے تینوں لاشوں کی جامہ تلاشی لی مگر نقدی اور کار کی چابی کے علاوہ کچھ خاص نہ ملا۔نیلم اور کوبرے کے پستول میں نے پاس رکھ لیے تھے۔نیلم کا چھوٹا پستول کافی کارآمد نکلا تھا۔ میں نے جائزہ لیا دستے کے دونوں جانب چمڑے کے بیلٹ میں سات سات گولیاںلگی ہوئی تھیں۔ میگزین میں بھی سات گولیوں ہی کی گنجائش تھی۔میں نے میگزین دوبارہ بھردیا۔کوبرے پاس بریٹا تھا جو اعلیٰ معیار کا مہنگا پستول ہے۔
میرا ارادہ کلاشن کوف وہیں چھوڑنے کا تھا۔ گوکلاشن کوف اور پستول کی کارکردگی کا تقابل کرنا بے وقوفی ہی ہے۔کیونکہ پستول کی رینج اور نشانے میں درستی کلاشن کوف سے بہت زیادہ کم ہے۔ لیکن کلاشن کوف کو لباس میں نہیں چھپایا جا سکتااور نزدیکی لڑائی میں کلاشن کوف سے پستول ہی بہتر رہتا ہے۔
دلیر سنگھ میرے اندازے سے پہلے ہی لوٹ آیا تھا۔جینز،سپورٹس شرٹ،چمڑے کی جیکٹ ،گرم ٹوپی ، مفلر اور سپورٹس بوٹ ۔تمام اشیاءمجھے پسند آئی تھیں۔
میں نے شاباش دیتے ہوئے کار کی چابی اس کے حوالے کی۔”ان کی گاڑی ڈھونڈ کر دروازے پر لے آﺅ،کیوں کہ لاشیں ٹھکانے لگانا پڑیں گی ،ورنہ بعد میں تمھارے لیے مسئلہ بنے گا۔“
دلیر سنگھ سرہلاتا ہوا باہر نکل گیا۔اورمیں لباس تبدیل کرنے لگا۔
دلیر سنگھ کو ان کی کار قریب ہی مل گئی تھی۔میرے لباس تبدیل کرنے تک وہ لوٹ آیا تھا۔دو لاشوں کو کار کی ڈگی میں اور ایک کو عقبی سیٹ کے درمیان منتقل کر کے ہم جانے کو تیار ہو گئے۔کلاشن کوف کا تحفہ دے کر میں نے اسے حیران کر دیا تھا۔ کمرے کے اندر ہی ایک خفیہ مقام پر کلاشن کوف چھپا کروہ میرے ساتھ چل پڑا۔
”کہاں کا ارادہ ہے۔“کار سڑک پر لاتے ہی وہ مستفسر ہوا۔
میں نے پوچھا۔”یہ کون سا شہر ہے؟“
وہ حیرانی سے بولا”انبالہ ۔“ میں انبالہ کے بارے بس اتنا ہی جانتا تھا کہ کشمیر کی سرحد کے ساتھ جالندھر اور اس کے ساتھ انبالہ آتا ہے۔
میں نے پوچھا۔”یہاں سے نکلنے میں کیا مدد کر سکتے ہو؟“
”پہلے یہ بتائیں کوبرا آپ کو کمانڈو کیوں کہہ رہا تھا؟“
میں نے جان چھڑائی۔”لمبی کہانی ہے،فرصت میں سناﺅں گا۔“
اس نے اگلا سوال پوچھا۔”آپ کا نام عمر جان ہے؟“
”ہاں ۔“میں نے اثبات میں سرہلادیا۔
” آپ کو اس شہر کا نام کیوں نہیں پتا؟“
میں نے منہ بنایا۔”جب کہہ دیا فرصت میں بات ہو گی تو دماغ کی لسی بنانا ضروری ہے۔“
”شاید میرا سوال پوچھنا برا لگا۔“
میں نے منہ بنایا۔”انٹرویو دینے کا وقت نہیں ہے دلیر سنگھ۔“
”تو کیا ارادہ ہے؟“اس نے برا منائے بغیر اگلی کاروائی کا پوچھا۔
”پہلے لاشوں کو ٹھکانے لگانا ہے۔“
اس نے مشورہ دیا۔”کارکو کسی مشہور پارکنگ میں کھڑا کر دیتے ہیں۔“
”بہترین۔“میں نے پسندیدگی سے سر ہلا دیا۔
دلیر سنگھ نے کار مخصوص جانب موڑ دی۔ جلد ہی ہم ایسے بازار میں جا نکلے گئے جہاں کافی بھیڑ تھی۔ اور سڑک کے دونوں جانب گاڑیاں پارک تھیں۔ ایک مناسب جگہ پر دلیر سنگھ نے بھی کار پارک کی اور ہم باہر نکل آئے۔ میں نے چہرے پرمفلر لپیٹ لیا تھا۔
تھوڑی دیر بعد ہم ایک عام سے ہوٹل میں بیٹھے کھانا کھا رہے تھے۔
میں نے مشورہ دیا۔”کھانا کھانے کے بعد ہمیں جدا ہو جانا چاہیے۔“
وہ افسردگی سے بولا۔”مجھ پر اعتبار نہیں ہے۔“
میں نے نفی میں سرہلایا۔”تمھارے ذریعے مجھے ڈھونڈنے والاکوبرا آخری آدمی نہیں ہوسکتا۔“
”اسے میرے بارے کمال خان سے معلوم ہوا ہوگا،اب بس یہ پتا کرانا ہے کہ کمال خان کے کارخانے سے وہ سیدھا میرے مکان پر پہنچایا اس بارے کسی کو مطلع کیا ہے۔“
میں قطعیت سے بولا۔”مجھے بس یہاں سے بھاگنا ہے۔“
اس نے پیش کش کی۔”میرے پاس ایسا ٹھکانہ موجود ہے جہاں آپ لمبے عرصے سے تک چھپ سکتے ہیں۔“
” صرف جان بچانا ہوتا تو تمھاری پیش کش بہترین تھی مگر انڈیا چھوڑنا میرااصل مقصد ہے۔“
”جلد بازی میں پھنس جاﺅ گے،بہتر ہو گا ایک دو دن چھپ کر گزار لو۔“
میں شش و پنج میں پڑ گیا تھا۔اس نے زور دیتے ہوئے کہا۔”حالات کا جائزہ لیے بغیر انبالہ سے فرار اندھے کنویں میں چھلانگ لگانے جیسا ہے۔“
”زیادہ سے زیادہ دودن۔“
”اس دوران میں کمال کی سن گن لینے کی بھی کوشش کروں گا۔آیاوہ کوبرا کے ہاتھوں انجام کو پہنچ گیا ہے یا قید میں ہے۔“
کھانا کھا کر ہم نے ٹیکسی لی اور دلیر سنگھ کے محفوظ ٹھکانے کی طرف بڑھ گئے۔ میں گہری نظر راستوں کا جائزہ لینے لگا تاکہ انجان شہر کے بارے زیادہ جان سکوں۔ میں نے دلیر سنگھ کے ساتھ رہنے کا فیصلہ کمال خان کے بارے جاننے تک مو¿خر کر دیا تھا۔ اگر اسے کوبرا پکڑ کر لے گیا تھا پھر توفی الفور دلیر سنگھ سے علیحدگی میں بھلائی تھی۔کیوں کہ ایجنسیوں کے لیے دلیر سنگھ کے ٹھکانوں کی کھوج مشکل نہیں تھی۔اوراگر کوبرا کمال سے دلیر سنگھ کا پتا معلوم کر کے بغیرکسی کو اطلاع کیے وہاں پہنچا تھا تب دلیر سنگھ کی سنگت مفید ثابت ہوتی۔کوبرے کی موت کے بعد وہ کافی عقیدت و محبت ظاہر کر رہا تھا۔اور ان جذبات سے فائدہ نہ اٹھانا بے وقوفی ہوتی۔
آدھے گھنٹے بعد ہم ایک رہائشی علاقے میں پہنچ گئے تھے۔ٹیکسی والے کو رخصت کر کے وہ مجھے ایک تین منزلہ عمارت کے احاطے میں لے آیا۔داخلی دروازے پر ایک چوکیدار موجود تھالیکن اس نے تعرض نہیں کیا تھا۔ہم سیڑھیاں چڑھ کر دوسری منزل پر پہنچے۔اس نے ایک فلیٹ کی اطلاعی گھنٹی کا بٹن دبا دیا۔ دروازے کے اوپر نمبر73جگمگا رہا تھا۔ دروازہ ایک خوش شکل لڑکی نے کھولا تھا۔وہ آسمانی رنگ کی ساڑھی میں کافی دلکش لگ رہی تھی۔ دلیر سنگھ کو دیکھ کر اس کے چہرے پرخوشی ابھری۔
”تو راستہ بھول ہی پڑے۔“اس نے ایک طرف ہو کر ہمیں اندر آنے کا رستہ دیا۔
دلیر سنگھ عاشقانہ لہجے میں بولا۔”جب تمھاری یاد زور پکڑتی ہے تو بھولنا ہی پڑتا ہے۔“
وہ شاکی ہوئی۔”مجھے نہیں لگتااتنی خوش قسمت ہوں۔“
”جوہی !میری مجبوریاںاچھی طرح جانتی ہو۔“
”میں نے کب گلہ کیا ہے۔“ اس نے دروازہ بند کرتے ہوئے منہ بسورا۔
” یہ شکرادا کر رہی تھیں۔“ دلیر سنگھ نے منہ بنایا۔ وہ کھلا کھلا دی تھی۔
” جواب نہ ہو تو ہنس پڑو، ساری غلطیاں ختم۔“دلیر سنگھ بے بسی سے بولا۔
جوہی نے موضوع تبدیل کیا۔”مہمان کا تعارف تو کرایا ہی نہیں ہے۔“
”نیادوست ہے،دو تین دن چھپنے کی جگہ چاہیے تھی۔“
” چائے لاتی ہوں۔“مجھے لگا وہ دلیر سنگھ کی کارروائیوں سے انجان نہیں تھی۔
”قابل بھروسہ ہے؟“ میری سوالیہ سرگوشی دلیر سنگھ کے کانوں میں گونجی۔
وہ اعتماد سے بولا۔”خود سے زیادہ اس پر اعتبار ہے۔“
”کمال کے کارخانے میں کال کر کے سن گن لو شاید کام کی بات معلوم ہوجائے۔“ میں مطلب کی بات پر آیا۔
”ٹھیک ہے ۔“اس نے نشست چھوڑ دی۔
میں گہری نظر سے ڈرائینگ روم کا جائزہ لینے لگا۔جوہی اور دلیر سنگھ کاآپس میں کیا تعلق تھا اس بارے میں اندازہ ہی لگا سکتا تھا۔تھوڑی دیر بعد جوہی چائے لے آئی تھی۔
” دِلّو کدھر کہاں ہے ؟“ وہ حیرانی سے مستفسر ہوئی۔
”پی سی او تک گیا ہے۔“
چائے کے برتن میز پر رکھ کر وہ قالین پر بیٹھ گئی۔”چینی کتنی ڈالوں۔“ وہ میرے لیے چائے بنانے لگی۔
”دلیر سنگھ کو آنے دو۔“
اس نے خفگی ظاہر کی۔” اس کی غیر موجودی میں زہر پلا دوں گی۔اور یہ مفلر بھی کھول دو، یہاں ایسا کوئی موجود نہیں جس سے پردہ کیا جائے۔“
میں نے مفلرنیچے کر دیا۔
”شکریہ۔“ اس کے لبوں پر شوخ بھراتبسم ابھرا۔
”آپ دلیر سنگھ کی کیا لگتی ہیں؟“ فضول سوالات سے بچنے کو میں نے اس کا انٹرویولینے لگا۔
”کچھ بھی نہیں اور بہت کچھ۔“
”کیا مطلب؟“ میں حیرانی ظاہر کی۔
” ہماری شادی ہوگئی توبہت کچھ ورنہ کچھ بھی نہیں ۔“
میں نے پوچھا۔”انتظار کس بات کا ہے؟“
”دلو شادی سے پہلے غلط دھندے چھوڑ کر چھوٹا موٹا کاروبار کرنا چاہتا ہے۔“
”آپ کیا چاہتی ہیں۔“
وہ متبسم ہوئی۔”جو دلو چاہے۔“
اسی وقت دلیر سنگھ اندر آیا،اس کے چہرے پر پریشانی چھائی تھی۔
”خیر تو ہے؟“ میں نے بے تابی سے پوچھا۔
اس نے ایک اخبار میری جانب بڑھا دیا۔ اندرونی صفحہ پر میری دو عدد تصاویر جگمگارہی تھیں۔ ایک داڑھی والی اور دوسری بغیر داڑھی کے۔نیچے ہندی رسم الخط میں کچھ لکھا تھا مگر میں نہ پڑھ سکا۔
میں نے پوچھا۔”نیچے کیا لکھا ہے؟“
اس نے کہا۔”تمھیں پاکستانی جاسوس اور بڑا دہشت گرد تحریر کیا گیا ہے۔تمھیں پکڑوانے والے کو ایک لاکھ کا انعام ملے گا۔“
’یہ تو ہونا تھا“ میں نے اخبار اس کی جانب بڑھادیا۔
اس نے انکشاف کیا۔”کمال کے بارے ایک دوست سے پتا چلا ہے کہ وہ اور کوبرا کاروباری ساتھی تھے۔“
میں نے حیرانی ظاہر کی۔” کوبرا تو ایجنسی کا بندہ تھا۔“
دلیر سنگھ اطمینان سے بولا۔ ” مجھے پکی اطلاع ملی ہے۔“
میں نے ایک اور نکتہ اٹھایا۔ ”بھول گئے وہ کمال کو کن الفاظ سے یاد کر رہا تھا۔“
”سب ڈراما تھا۔ وہ کمال کا حصے دار تھا ،تبھی کمال نے پہلی فرصت میں نئی ہاتھ آنے والی گاڑی اسے دکھائی اور ہماری بدقسمتی کہ کوبرا کے لیے وہ نئی نہیں تھی اس لیے وہ آسانی سے ہم تک پہنچ گیاتھا۔اورمیرا اندازہ ہے اس نے کسی کو مطلع کیے بغیر ہمیں گرفتار کرنا چاہامگر بے موت مارا گیا۔“
”کمال خان کے ایجنسی کے اور افراد سے بھی تعلقات ہو سکتے ہیں،کوبرے کی لاش ملتے ہی وہ لازماََ ایجنسی والوں سے رابطہ کرے گا۔بہتر یہی ہو گا کہ تم گرفتاری دے کر جان بچانے کی کوشش کرواور مجھے اپنے حال پر چھوڑ دو۔“
”کوبرے کو کس نے مارا ہے۔“ جوہی نے اچانک پوچھا۔
دلیرسنگھ نے خاموشی سے میری جانب انگلی اٹھا دی۔
جوہی نے حیرانی سے کہا۔ ” تم تو کہتے تھے کوبرے سے خالی ہاتھ لڑنا کسی انسان کے بس سے باہر ہے۔“
دلیر سنگھ نے قہقہ لگایا۔”شاید پاکستانی کمانڈوز انسان نہیں ہوتے۔“
جوہی ہکلائی۔”یی....یہ پاکستانی کمانڈو ہے۔“
میں چائے کی پیالی سیدھی کی۔ ” چائے پی لیں۔“
”صبر کرونا بنا دیتی ہوں۔“جو ہی نے مجھے ڈانتے ہوئے پیالی کھینچی۔دلیر سنگھ ہنس پڑاتھا۔ انڈین لڑکیاں ،پاکستان کی عورتوں سے کہیں آزاد خیال ہیں۔مرد عورت کے درمیان ہنسی مذاق اور بے تکلفی کو برا نہیں سمجھا جاتا۔اسلام دیور بھابی کے درمیان پردے کو پسند کرتا ہے اور ہندو معاشرے میں دیور بھابی کے درمیان اتنی بے تکلفی پائی جاتی ہے جس کا ہمارے ہاں تصور بھی نہیں کیاجاسکتا۔
”کتنی چینی ڈالوں۔“
ایک انگلی اٹھا کر میں دلیر سنگھ کی طرف متوجہ ہو ا۔ ”تو کیا سوچا۔“
دلیر سنگھ نے تجویز پیش کی۔” چائے پی کرکمال کی طرف چلتے ہیں۔“
میں نے اندیشہ ظاہر کیا۔”کیا پتا وہ آگے اطلاع دے چکا ہو۔“
دلیر سنگھ نے کہا۔” کوبرے کی لاش ملنے سے پہلے وہ یہ قدم نہیں اٹھاسکتا۔“
جو ہی خفگی سے بولی۔ ” آپ لوگوں کے پاس کوئی اورموضوع نہیں ہے۔“
دلیر سنگھ نے کہا۔”عمر جان کی کہانی سننا کیسا رہے گا۔“
جوہی اشتیاق سے بولی۔”یہ ہوئی ناں کام کی بات۔“
” گھریلو مجبوری کی وجہ سے مجھے چھٹی کی ضرورت پڑی ،برف پڑنے کی وجہ سے راستے بند تھے۔ اور راستوں کی وجہ سے چھٹی بند تھی۔ مجبوراً مجھے بھاگنا پڑا، بدقسمتی سے سرحد عبور کر کے ادھر آنکلا۔انڈین سپاہ نے جاسوس سمجھ کر گرفتار کر لیا۔ کل رات مجھے بھاگنے کا موقع ملا راستے میں تمسے ملاقات ہوئی۔ بعدکے حالات تمھیں معلوم ہیں۔“
دلیر سنگھ نے پوچھا۔”آپ سچ مچ کمانڈو ہیں؟“
”ہاں۔“
”مطلب آپ سے کافی کچھ سیکھ سکتا ہوں ۔“ دلیر سنگھ نے اشتیاق ظاہر کیا۔
”اتنا وقت ہی کہاں ہے۔“
وہ مصر ہوا۔”چند دنوں میں کچھ نہ کچھ تو سیکھ ہی لوں گا۔“
”ہمارا فی الفور علیحدہ ہونا مناسب رہے گا دوست،ورنہ میری وجہ سے تم پر بھی عتاب آسکتا ہے۔“
دلیر سنگھ جذباتی ہو ا۔” اتنا کمینہ نہیں ہوں کہ جان کے خوف سے آپ کا ساتھ چھوڑ دوں۔“
میں نے اسے سجھایا۔” اسی میں دونوں کی بھلائی ہے۔ تمھارے ذریعے وہ آسانی سے مجھے تلاش کر لیں گے۔“
”آپ یہاں چھپ کررہ سکتے ہیں، جو ہیاور میرے تعلق سے کوئی واقف نہیں ہے۔“
”مجھے انڈیا سے نکلنا ہے۔“
جوہی جلدی سے بولی۔” چند دن ہمیں بھی سیوا (خدمت)کا موقع دو۔“
میں صاف گوئی سے بولا۔”زیادہ سے زیادہ آج کا دن رک سکتا ہوں۔“
دلیر سنگھ بولا۔ ”شاید چند دنوں تک تمھاری تلاش میں پہلی سی سرگرمی باقی نہ رہے،تب انبالہسے نکلنے میں مسئلہ نہیں ہوگا۔“
”جب تک میرے انڈیا سے فرار ہونے کی اطلاع کسی معتبر ذرائع سے نہیں ملتی وہ میری تلاش ترک نہیں کر یں گے ۔“
”کل رات تک تو ٹھہر ہی سکتے ہو۔“جوہی نے برتن سمیٹتے ہوئے بحث ختم کی۔
” پھر مجھے آرام کرنے کی جگہ دکھا دیں۔“رضامندی کا اعلان کرتے ہوئے میں نے نشست چھوڑی۔
دلیر سنگھ نے ڈرائنگ روم سے ملحق ایک چھوٹی سی خواب گاہ تک رہنمائی کر دی۔وہاں ایک سنگل بیڈپر صاف ستھرا بستر بچھا تھا۔نہ چاہتے ہوئے بھی دلیر سنگھ پر اعتبار کرنے پر مجبور تھا۔ میں بوٹ اتار کر لیٹ گیا۔ کوبرے نے میری اچھی خاصی ورزش کرائی تھی اور پیٹ بھرنے کے بعد مجھے نیند کی ضرورت محسوس ہو رہی تھی جلد ہی میں ماحول سے غافل ہو گیا تھا۔
l l l
سعد یہ کمرے میں داخل ہوئی اور میرے سرہانے آ کر بیٹھ گئی۔
”بہت تھکے ہو۔“ وہ مدھر آواز میں بولی۔
”ہاں۔“میں اعتراف کیا۔
”کھانا کھاﺅ گے۔“ وہ میرے بالوں میں انگلیاں پھیرنے لگی۔
” تم یونھیملائم ہاتھوں سے میرا سر سہلاتی رہو۔“
” جیسے تمھاری مرضی۔“ وارفتگی سے کہتے ہوئے وہ میرے سر میں کنگھی کرتی رہی۔ اور پھر اچانک وہ نظروں سے اوجھل ہوئی اورمیری آنکھ کھل گئی۔ایک دم یاد آیا کہ میں جوہیکے فلیٹ پر ہوں، لیکن جاگنے پر بھی مجھے بالوں میں انگلیوں کی سرسراہٹ محسوس ہورہی تھی۔سرگھمانے پر جوہی نظر آئی۔
میں جلدی سے اٹھ بیٹھا۔”کک.... کیا بات ہے؟“
وہ بے ساختہ ہنس دی تھی۔ ”ڈر گئے، اتنی بری شکل بھی نہیں ہے یار!“
میں نے چڑ کر پوچھا۔”کوئی کام ہے؟“
”داسی کھانے کا بتانے آئی تھی۔“
میں نادم ہوا۔”تازہ دم ہو کر آتا ہوں۔“
”جلد ی آنا ورنہ میں پھر آجاﺅں گی۔“وہ متبسم ہو کر نکل گئی۔
میں غسل خانے میں گھس گیا۔گرم پانی دیکھتے ہی میں نے نہانے کی خواہش کے سامنے ہتھیارڈال دیئے۔مسلسل دو ہفتوں سے موقع نہیں ملا تھا اور جسم سے ناگوار بو اٹھ رہی تھی۔صابن کی پوری ٹکیہ ہی میں نے جسم پر رگڑ گرڑکر گھلا دی تھی۔کپڑے میں چند گھنٹے پہلے ہی پہنے تھے اس لیے میلے نہیں ہوئے تھے۔
بالوں پر تولیہ رگڑتا ہوا میں باہر نکلا۔وہ کھانے کی میز پر بے صبری سے منتظر تھے۔میں نے ندامت ظاہر کی۔” معذرت خواہ ہوں ،تمھیں انتظار کرنا پڑا۔“
جوہی بے باکی سے بولی۔”نہا کر تو آپ اور بھی پرکشش لگ رہے ہیں۔“
دلیر سنگھ کا قہقہ بلند ہوا۔میں محجوب ہو گیا تھا۔جوہی کی بے باکی میرے لیے حیران کن تھی۔
کھانا خاموش سے کھایا گیا۔ کافی دنوں بعد اتنا اچھا کھانے کو ملا تھا ۔میں نے ڈٹ کرکھایا۔
”چائے یا کافی۔“ برتن سمیٹتے ہوئے جوہی نے پوچھا۔
”چائے بہتررہے گی۔“دلیر سنگھ نے سوالیہ نظروں سے تصدیق چاہی۔ میں نے اثبات میں سر ہلادیاتھا۔
”میں بھیس بدل کرحالات کا جائزہ لینےنکلتاہوں، کوشش کروں گاکمال سے بھی ملاقات ہو جائے۔ اگر واپسی میں دیر ہوجائے تو پریشان نہ ہونا۔“
”میں بھی چلوں گا۔“
اس نے نفی میں سرہلایا۔” ضرورت نہیں،البتہ صبح تک نہ آﺅں تو ناشتا کر کے نکل جانا۔“
”کیا مطلب؟“میں متعجب ہوا۔
وہ صاف گوئی سے بولا۔”مطلب کسی بھی انہونی کی صورت میں چند گھنٹے زبان بند رکھوں گا۔“
”شایدچائے پی کر مجھے الوداع ہوجانا چاہیے۔“
”ایسا کر کے میراخلوص ٹھکرانے کے ساتھ جوہی کا بھی دل توڑو گے۔آپ میرے پہلے دوست ہیں جسے اس نے پسنددیدگی کی سند سے نوازا ہے۔“
میں صاف گوئی سے بولا۔”کل شام تک آخری حد ہے۔“
اس نے پُرخلوص لہجے میں کہا۔”شاید میں آج رات ہی آپ کی انبالے سے رخصتی کا بندوبست کر لوں۔“
میں ممنونیت سے بولا۔”اس سے بڑھ کر اچھی خبر کوئی نہیں ہو سکتی۔“
” اسی وقت جوہی چائے لے آئی۔ چائے پی کر دلیر سنگھ کھڑا ہوگیا۔
”تم کہاں چلے؟“ جو ہی نے حیرانی سے پوچھا۔
”ایک چھوٹا سا کام ہے گھنٹے ڈیڑھ تک لوٹ آﺅں گا۔“اسے مطمئن کرتے ہوئے وہ باہر نکل گیا۔
جوہی برتن سمیٹ کر باورچی خانے میں گھس گئی۔اورمجھے لیٹنے کے علاوہ کچھ نہ سوجھا۔ نیند میری آنکھوں سے کوسوں دور تھی۔رہ رہ کر چچا جان کے آخری خط کے الفاظ میری آنکھوں کے سامنے موت کا رقص کر رہے تھے۔ ”چھٹی ملے یا نہ ملے گھر پہنچو۔“پریشانی بھری سوچیں دماغ پر حملہ آور ہوئیں اور میں جوڑ توڑ میں مصروف ہو گیا۔ جتنی جلدی گھر پہنچنے کی کوشش کر رہا تھا اتنازیادہ رکاوٹیں پیدا ہورہی تھیں۔
اچانک آہٹ ہوئی ،سرگھمانے پر جوہی دکھائی دی۔ میرے چہرے پر ایک دم بے زاری نمودار ہوئی۔ دلیر سنگھ کسی بھی وقت لوٹ کر آسکتا تھا اور ہمیں ایک کمرے میں بند دیکھ کر شاید اس کی آزاد خیالی برقرار نہ رہ پاتی ۔بلکہ ویسے بھی جوہی کا میرے ساتھ بیٹھ کر گپیں ہانکنا بہتر نہیں تھا ۔اس کی دلچسپی پیچھے کیا مقصد چھپا تھا اس سے مجھے کوئی غرض نہیں تھی۔
” شاید میرا آنا ناگوار گزرا ہے۔“اسے میری ناگواری نظر آگئی تھی۔
میں ہکلایا۔”نن....نہیں.... تو“اس کے گھر میںیہ اقرارکرنا یقینا حماقت ہوتی۔
اس نے کرسی گھسیٹ کر نشست سنبھالی۔”ایک مفلس اناتھ (یتیم)لڑکی ہوں۔دلو کی مہربانی سے رہائش بھی ملی اور پڑھائی جاری رکھنے کو رقم بھی مل جاتی ہے۔وہ مجھ سے شادی کرنا چاہتا ہے۔گو شادی سے پہلے بھی ہمارے تعلقات میاں بیوی جیسے ہی ہیں۔باقی آپ کی خوب صورتی سے مجھے کوئی مطلب نہیں ہے۔میں شروع دن سے دلو کے ناجائز دھندوں کی مخالف ہوںمگر اس کا کہنا ہے....
ع ہم نے مانا ہے کہ دلی میں رہیں کھائیں گے کیا
وہ دولت کمانے کو ہر غلط کام میں ہاتھ ڈال دیتا ہے۔اس کے پس پردہ چونکہ میرے خرچ پوراکرنے کی اِچھا(خواہش)ہوتی ہے اس لیے میں تکرار کے بھی قابل نہیں رہتی۔“
میں پھیکی مسکراہٹ سے بولا۔”شاید مجھے رازدار بنانے کی ضرورت نہیں تھی۔“
” ہندو سہی ،لیکن آپ کی کہانی سن کر آپ کی بے گناہی پر یقین آگیا ہے۔اور میں نہیں چاہتی ایک پردیسی کو بیچ کر رقم کھری کی جائے۔“
میں متعجب ہوا۔”میں سمجھا نہیں۔“
اس نے انکشاف کیا۔”آپ خطرے میں ہیں۔“
”کیسا خطرہ؟“ میری بے زاری کا فور ہو گئی تھی۔
اس نے تفصیل بتائی۔”دلیر سنگھ، کمال کے پاس گیا ہے ۔دونوں اکھٹے خفیہ ایجنسی کے آفیسر کے پاس جائیں گے۔یوں دلیر سنگھ اپنی جان بچانے کے ساتھ انعام کا بھی حق دار ٹھہرے گا۔“
”تم اتنے یقین سے کیسے کہہ سکتی ہو۔“
اس نے مزید انکشاف کیا۔”آپ کے سونے کا فائدہ اٹھا کر ہم نے سہ پہر ہی کو سب کچھ طے کر لیا تھا۔منصوبے میں آپ کو نیند کی گولیاں کھلانا بھی شامل تھا،جو مجھے چائے کی پیالی میں ڈالنا تھیں۔“
”کیا؟“ میں گھبرا کر کھڑا ہوا۔ وہ کھل کھلا کر ہنس دی تھی۔
”شما (معذرت)چاہتی ہوں ،منصوبہ یہی تھا، لیکن میں نے عمل نہیں کیا۔“
”مجھے جانا ہو گا۔“ میں جلدی سے بوٹ پہننے لگا۔
وہ خلوص سے بولی۔”اگر چاہو تواپنی سہیلی کا پتا دے سکتی ہوں۔اس کے ہاں چند دن گزار سکتے ہو۔“
میں نے تسمے باندھتے ہوئے پوچھا۔”دلیر سنگھ سے کیا بہانہ کرو گی۔“
وہ اطمینان سے بولی۔”یہی کہ آپ نے ہماری گفتگو سن لی تھی اور اس کے جاتے ہی نکل بھاگے۔“
” شاباش اوراب چلوں گا۔میرا سراغ پا کر دشمن آنے میں دیر نہیں لگائیں گے۔“
”اگر ضرورت ہو تو میرے پاس کچھ رقم پڑی ہے۔“ اس نے خلوص سے پیش کش کی۔
میں نے قریب ہو کر اس کے کندھوں پر ہاتھ رکھے۔”کمی پیسوں کی نہیں تم جیسے مخلص و ہمدردوں کی ہے۔تمھاری نیکی شکریے وغیرہ سے بہت زیادہ ہے۔شاید زندگی پھر ملنے کا موقع نہ دے البتہ تم ہمیشہ میری دعاﺅں اور نیک خواہشات میں زندہ رہو گی۔میری کوئی بات بری لگی ہو تو معاف کرنا۔“
وہ پھیکے تبسم سے بولی۔”اپنا خیال رکھنا اور ہو سکے تو دلیر سنگھ کو بھی معاف کر دینا۔ بھگوان تمھاری رکھشا کرے۔“
اسے ”خدا حافظ“ کہہ کر میں فلیٹ سے نکل آیا۔
گرم ٹوپی اور مفلر اوڑھ کرمیرا چہرہ چھپ جاتا تھا۔ سردی کافی تھی اور کسی کو میرے لباس پر شک نہیں ہو سکتا تھا۔ میں نے رفتار نارمل رکھی کہ تیز رفتاری لوگوں کی توجہ کھینچتی ۔
جونھی میں عمارت کے داخلی دروازے کے قریب ہوا، بائیں طرف سے تیز چمک نظر آئی جو کسی گاڑی کی آمد ظاہر کر رہی تھی۔ میں نے خطرہ مول لینا مناسب نہ سمجھا،دروازے کی جانب پیٹھ کر کے چوکیدار سے پوچھا۔
”پانی مل جائے گا۔“
”بر آمدے میں کولر لگا ہوا ہے۔“ چوکیدارنے اندرونی عمارت کی طرف اشارہ کیا۔
اس وقت گاڑی اندرآنے لگی۔میں داخلی دروازے کے پٹ کے پیچھے پوشیدہ تھا۔وہ کالے رنگ کی ویگن تھی ۔ اندرونی روشنی میں دلیر سنگھ کا منحوس چہرہ صاف نظر آرہا تھا۔اس کے ہمراہ چھے سات افراد موجود تھے۔میری احتیاط کام آگئی تھی۔ویگن کے آگے بڑھتے ہی میں نے باہر کی راہ لی۔
ان کی گاڑی بائیں جانب سے آئی تھی میں نے بھی وہی سمت اختیار کی کہ واپسی پر انھوں نے فطری طور پر دائیںجانب کا رخ کرنا تھا۔ کیوں کہ بائیں طرف سے آتے وقت راستے میں میرا ان سے ٹکراﺅ نہیں ہوا تھا ،البتہ چوکیدار سے پوچھنے پر انھیں میرے فرار کی صحیح سمت معلوم ہو جاتی۔اس لیے سڑک کے بجائے میں نے گلیوں میں سفر کرنا مناسب سمجھا تھا۔
رات کے گیارہ بج رہے تھے۔ سردی جوبن پر تھی۔ صبح ہونے میں چھے سات گھنٹے پڑے تھے۔ دن کو میں کافی آرام کر چکا تھا اور نیند میری آنکھوں سے کوسوں دور تھی اس کے باوجود میں سرچھپانے کا ٹھکانہ ڈھونڈنا چاہ رہا تھا۔دلیر سنگھ کی غداری پر دشمنوں کو میرے منصوبے کی سن گن مل گئی تھی کہ میں انبالے سے فرار کی کوشش میں ہوں۔اب انھوں نے شہر سے نکلنے کے راستوں کی نگرانی پہلے سے بھی سخت کر دینا تھی۔
انبالہ میرے لیے بالکل انجان تھااور سب سے بڑا مسئلہ راستوں سے ناواقفیت کا تھا۔ پولیس اور خفیہ ایجنسی والے میری تلاش کس پیمانے پر کر رہے تھے اس میں بے خبر تھا۔میری حالت سخت اندھیرے میں جنگل میں بھٹکنے والے اس مسافر کی سی تھی جس کے پیچھے بھیڑیئے لگے ہوں اور وہ اندھا دھند بھاگ رہا ہو۔جسے تیز رفتاری کے باعث کسی درخت سے ٹکرا کر زخمی ہونے کا بھی اندیشہ ہو اور رفتار کم کرنے کی صورت میں بھیڑیوںکے ہاتھ آنے کا بھی خوف ہو۔
مختلفگلیوں سے گزرتے ہوئے میںجوہی کے فلیٹ سے کافی دور نکل آیا تھا۔ اکا دُکا راہگیر دیکھ کر مجھے گلیوں میں اجنبیت کا احساس نہیں ہو رہا تھا۔ میں مٹرگشت کے انداز میں آگے بڑھتا رہا۔
گلی کے آخری سرے پردو پویس والوں کو دیکھ کرمیں ایک چھوٹی گلی میں مڑ گیا، جس کا اختتام بڑی سڑک پر ہوا۔ سڑک پر سفر کرنا گلیوں کی نسبت زیادہ خطرناک تھا لیکن میں نے مڑنا مناسب نہ سمجھا۔
فرلانگ بھر آتے ہی ایک بس اسٹاپ نظر آیا۔ایک لڑکی شاید بس یا ٹیکسی کے انتظار میں کھڑی تھی۔ شوخ ساڑھی میں ملبوس وہ ہلکے سانولے رنگ کی قبول صورت لڑکی تھی۔میرے قریب پہنچنے پر بجائے نظر انداز کرنے کے جو عموماً عورتوں کی فطرت ہوتی ہے۔وہ گہری نظروں سے گھورنے لگی۔اس کی آنکھیں دعوت دیتی ہوئی لگ رہی تھیں۔ الحمداللہ میرا واسطہ کبھی غلط عورتوں سے نہیں پڑا لیکن اسے دیکھ کر بے ساختہ ذہن میں” جسم فروش “ کا نعرہ گونجا تھا۔سر جھٹکتے ہوئے میں آگے بڑھ گیا ۔
”بابو رات کے لیے ساتھی چاہئے۔“مجھے بے پروائی سے آگے بڑھتا دیکھ کر اس نے کھلی ڈلی دعوت دی۔
میرے کانوں کی لویں تک گرم ہو گئی تھیں۔ چاہا رفتار بڑھا کر دور بھاگ جاﺅں۔ اچانک سر چھپانے کے خیال نے میرے قدموں کو روکا۔
”جگہ کا بندوبست تمھیں کرنا ہوگا۔“
وہ ایک لمحے کو ہچکچائی اور پھر بولی۔ ” اس کے لیے علیحدہ پیسے دینے ہوں گے۔“
میں نے اثبات میں سرہلا یا۔”منظور ہے، مگر راز داری شرط ہے۔“
”یہ مجھے کہنا چاہیے تھا۔“اس نے قریب آکر میرا ہاتھ تھام لیا۔ بالکل سرد اور جذبات سے خالی لمس تھا۔ایک جسم فروش لڑکی کو پیسے سے غرض ہوتی ہے۔چند ٹکوں کی خاطر حوا کی بیٹی،غیر مرد کے سامنے جسم کا دستر خوان تو سجا دیتی ہے،مگر اس سودے میں محبت،خلوص اور وارفتگی کے لوازمات شامل نہیں ہوتے۔ایک عورت کی جسم فروشی کے پسِ پردہ عیاشی و شہوت پرستی کے بجائے مجبوری ،مفلسی اور ضرورت کی وجوہات ہوتی ہیں۔چونکہ جسم بیچنا آسان حل ہے اس لیے سہل پسند خواتین یہی کرنا پسند کرتی ہیں۔
” معاوضا طے کر لیں۔“مجھے گھٹیا انداز اپنانا پڑا کہ حالات کا تقاضا یہی تھا۔ورنہ عورت کی تکریم و تقدیس تو مجھے بچپن ہی سے سکھادی گئی تھی۔ ماں، بہن، بیٹی اور بیوی جیسے مقدس رشتوں کے علاوہ میں عورت کے کسی روپ سے واقف نہیں تھا۔ یہ تو عملی زندگی میں قدم رکھنے پر پتا چلا کہ مرد کی عیاری عورت کوکس مقام پرلے آئی تھی۔ پھولوں سے نازک اور شبنم کے قطروں سے پاکیزہ صنف کو کتنا پستی میں دھکیل دیا گیا تھا۔ گو اس جرم میں عورت بھی شریک ہے لیکن زیادہ قصور مرد کا ہے۔ عورت کو فطرتی سادگی اور کمزوری نے پھنسایا ہے۔ بہ ہرحال یہ میری رائے ہے ، قارئین اختلاف کاحق رکھتے ہیں۔
وہ بے باکی سے بولی۔”پانچ سواور دو سو کمرے کے۔“
”کمرہ ہوٹل کا ہو گا۔“ میں رک گیا ،کیوں کہ اس صورت میں اس کا ساتھ بے کار تھا۔
وہ ہکلائی ۔”نن.... نہیں.... میرا اپنا گھر ہے۔“
”گھر میں اور کون کون میں۔“ میں نے مطمئن ہو کرقدم بڑھا دیے۔
وہ تلخ ہوئی۔ ”کیا اتنا کافی نہیں کہ کوئی ہماری تنہائی میں مخل نہیں ہوگا۔“
میں اطمینان سے بولا۔”میراارادہ ہے پوری رات گزارنے کا ہے۔بے شک معاوضا دگنا لے لینا۔“
اس نے بے بسی ظاہر کی۔”مم....مگر،میں پوری رات ساتھ نہیں دے سکوں گی۔“
میں نے وضاحت کی۔”مجھے صرف سونا ہے۔“
” ٹھیک ہے۔“اس نے اطمینان سے سرہلا دیا۔
اس کے ہمراہ ٹیڑھی میٹرھی گلیوں سے ہوتا ہواایک بوسیدہ عمارت میں داخل ہوا۔وہ چار منزلہ عمارت کی تیسری منزل پر لے گئی ۔ پرانے سے فلیٹ کادروازہ دھکیل کروہ بے دھڑک اندر داخل ہوئی۔ فلیٹ کی حالت بہت خستہ تھی۔ فلیٹ تین کمروں،باورچی خانے اورغسل خانے پر مشتمل دیا۔ داخلی کمرہ ڈرائنگ روم کے طور پر استعمال ہوتاتھا۔ وہاں پرانی سی دری بچھی تھی اور اور دیوار کے ساتھ دو چارپائیاں پڑی تھیں۔اور قابل ذکر چیز نظر نہ آئی۔ وہ مجھے اندرونی کمرے میں لائی۔ وہاں صرف ایک چارپائی بچھی تھی۔جس پر صاف ستھری پھول دار چادر بچھی تھی ۔اس کی حالت باہر والی چارپائیوں کی نسبت بہتر تھی۔
”بیٹھیں۔“ اس نے چارپائی کی طرف اشارہ کیا۔ میں آرام سے بیٹھ گیا جبکہ وہ منتظر نظروں سے مجھے گھورنے لگی۔
”کیا ہوا؟“مجھے حیرانی ہوئی تھی۔
”شایدآ پ کا پہلا موقع ہے۔“ اس کے اندازے نے میری حیران سوا کر دی تھی ۔
”تمھیں کیسے پتا چلا؟“
وہ متبسم ہوئی۔ ” عورت خریدار کے حوالے ہونے سے پہلے معاوضا وصول کرتی ہے۔“
”معذرت، مجھے واقعی معلوم نہیں تھا۔“ میں نے طے شدہ رقم اس کی جانب بڑھا دی۔
” ابھی آئی۔“رقم لے کر وہ باہر نکل گئی۔
جاری ہے
 

قسط نمبر7
ریاض عاقب کوہلر
میں چارپائی پر لیٹ گیا۔ پتا نہیں وہ چارپائی کتنے رازوں کی امین تھی اور نامعلوم کتنے مرد وہاںاپنی جوانی لٹا چکے تھے۔ کراہت محسوس ہوئی اور میں بے اختیار اٹھ بیٹھا۔
وہ دو تین منٹ بعد اندر آئی۔” آپ کے پاس ایک گھنٹا پھر مجھے جانا ہوگا۔“
”اور ایک گھنٹا تم میری مرضی کی پاپند ہو۔“
”بالکل۔“ بے باکی سے کہتے ہوئے وہ قریب آئی۔
” بیٹھو۔“ میں نے دعوت دی۔
وہ اطمینان سے میرے ساتھ جڑ کر بیٹھ گئی۔
”تھوڑا سا فاصلہ۔“ میں اتنا دورہواکہ اس کے گداز بدن کا لمس محسوس نہ ہواور پوچھا۔ ”تمھارا نام؟“
وہ تلخی سے بولی۔”آپ کو ہوس پوری کرنے سے غرض ہونا چاہیے۔“
میں متبسم ہوا۔”یہ تمھارادرد سر نہیں ہے۔“
وہ جھلا کر بولی۔”شرلا۔“
”شادی شدہ ہو؟“
وہ پھٹ پڑی۔”ہاں ....ہاں شادی شدہ ہوں، ایک بچے کی ماں ہوں، میرا پتی ٹیکسی چلاتا ہے اور اپنی زیادہ تر آمدن شراب نوشی میں اڑادیتا ہے۔ میرا بچہ سخت بیمار ہے ڈاکٹر نے علاج کے لیے بیس ہزار مانگے ہیں۔ جس کے لیے ہفتے بھرسے کوشاں ہوں اور اب تک بہ مشکل چارہزار جمع کرپائی ہوں، بس یا اور کچھ؟.... اب جلدی کرو تاکہ بچے کے پاس جا سکوں۔“
وہ کھڑے ہو کر ساڑھی کے بل کھولنے لگی۔وہ گداز بھرے بدن کی قبول صورت عورت تھی۔کسی مرد کے لیےاسے نظر انداز کرنا یقینامشکل تھا ،مگر میں بد فطرت نہیں تھا۔عورتوں کی مجبوری سے فائدہ اٹھانا مجھے کسی نے نہیں سکھایا تھا۔بلکہ اس کی مجبوری نہ ہوتی تب بھی میں غلاظت بھرے کنوئیں میں نہیں کود سکتا تھا۔ایک مسلمان کے فطرتی تقاضے پورا کرنے کی حدود متعین ہیں۔تجاوز کرنے والے کوجس عذاب کی خوش خبری سنائی گئی اس کا متحمل میں نہیں ہو سکتا تھا۔
”کیا کر رہی ہو۔“ میں نے بو کھلاتے ہوئے اس کے ہاتھ پکڑ لیے۔
”آپ کا مقصد کیا ہے؟“ وہ ششدر رہ گئی تھی۔
”تمھارا خاوند کہاں ہے؟“
وہ نفرت سے بولی۔” کسی شراب خانے میں مدہوش پڑا ہوگا۔بس شادی کرنے اور بچہ پیدا کرنے کا شوق تھا۔“
میری تفتیش جاری رہی۔”کب واپس آئے گا۔“
اس نے کندھے اچکائے۔”بھگوان جانے۔ “
”رضائی یا کمبل لادوپھر بچے کے پاس چلی جانا۔
” سمجھی نہیں۔“
”سمجھناضروری بھی نہیں ہے۔بس اوڑھنے کو کچھ گرم لے آﺅ۔“
اس نے تصدیق چاہی۔”توآپ کو میری حاجت نہیں ہے۔“
”ٹھیک سمجھی ہو،مجھے بس سونا ہے۔“
”بدشکل ہوں یابدہیئت کہ کراہیت کھارہے ہو۔“وہ اپنی ناقدری برداشت نہیں کر سکی تھی۔
میں نے وضاحت کی۔ ”تم لاکھوں میں ایک ہو مگرمجھے صرف رات گزارنے کا ٹھکانہ چاہئے تھا۔“
اس نے بے باکی سے اکسایا۔” شرما کیوں رہے ہو،معاوضا آپ نے ادا کر دیا ہے۔“
میں نے جان چھرائی۔”فی الحال توحاجت نہیں ہے،البتہ رات گئے ضرورت ہوئی تو بلا لوں گا۔“
”اورتب میں نہ آ سکی تو؟“
میں اطمینان سے بولا۔”تو میری قسمت۔“
اس نے منہ بناتے ہوئے کہا۔”ٹھیک ہے۔اور آپ پہلے مرد ہیں جسے گھر میں لائی ہوں۔ صبح جلدی نکلنے کی کوشش کرنا۔میرا پتی نو دس بجے ہی واپس آتا ہے، لیکن بعید نہیں کہ جلدی آدھمکے اور میں کوئی جھگڑا نہیں چاہتی۔“
” سنو۔“ وہ جونھی مڑی میں نے آوازدی۔
”جی۔“وہ متبسم ہو کر پلٹی، میری پکارکااس نے غلط مطلب لیا تھا۔
”بچے کے علاج کوجتنی رقم درکار ہوصبح مجھ سے لے لینا۔“
”آپ اتنی رقم کیوں دیں گے؟“ اس کی آنکھیں حیرت سے پھیل گئی تھیں۔
”یہ تمھارا درد سرنہیں ہے۔“
وہ بے یقینی سے بولی۔” اتنی رقم بغیر کسی غرض سے کیوں دینے لگے۔“
”تم سے جو غرض ہو سکتی ہے اس کی رقم میں ادا کر چکا ہوں۔البتہ یقین نہیں آرہا توابھی لے لو۔“ میں نے بیس ہزار گن کر اس کی جانب بڑھا دیئے۔
وہ ہکا بکاکھڑی مجھے گھور رہی تھی۔
میں شرارت سے ہنسا۔”یہ اصلی نوٹ ہیں،اس سے پہلے کہ میرا ارادہ تبدیل ہوجائے لے لو۔“
اس نے لرزتے ہاتھوں سے پیسے پکڑے۔آنکھوں میں خوشی و شکرگزاری سے نمی اتر آئی تھی۔ گلوگیر لہجے میں بولی۔”آپ بہت دیالو ہیں،کس منہ سے شکریہ ادا کروں۔“
میں ہنسا۔”اسی سے کر لو۔“
”کیا؟“ اسے سمجھ نہیں آئی تھی۔
‘ میں نے وضاحت کی۔ ”تم پوچھ رہی تھیں ناکہ کس منہ سے شکریہ ادا کروں۔ “
وہ کھلکھلا کر ہنس پڑی،ہنستے ہوئے وہ بہت اچھی لگی تھی۔
”چائے لاﺅں ۔“اس کے لہجے میں شکرگزاری ابل رہی تھی۔
میں نے نفی میں سرہلایا۔”اب آرام کروں گا۔“
” آپ کے لیے رضائی لاتی ہوں۔“ وہ کمرے سے نکل گئی ، چند لمحوں بعد ہی صاف ستھری رضائی لیے واپس آئی اور میرے منع کرنے کے باوجود بڑے پیار سے مجھے اوڑھا نے لگی۔
l l l
دن کو سونے کی وجہ سے نیند نہیں آرہی تھی۔ میں بھارت سے نکلنے کی ترکیبیں سوچتا رہا۔ سرحد عبور کرنے کو کشمیر والا راستہ بہتر رہتا کہ پہاڑی علاقوں میں دفاعی انتظامات جتنے بھی سخت ہوں، محفوظ راستے مل ہی جاتے ہیں۔ اس کے لیے مجھے انبالہ سے جالندھر اور پھر وہاں سے مقبوضہ کشمیر کارستہ اختیار کرنا پڑتا۔وہ ایک طویل اور دشوارگزار سفر ہوتا۔ دوسرا راستہ سمندرکا تھا۔ اس کے لیے انبالہ سے ممبئی تک کا طویل سفر درپیش تھا۔
ممبئی کو مجرموں کی جنت ہے ،وہاں کئی جرائم پیشہ افراد مل جاتے جو رقم لے کر مجھے محفوظ راستے سے پاکستان پہنچا سکتے تھے۔ اس کے لیے مجھے بھاری رقم کی ضرورت پڑ سکتی تھی اور رقم کا مسئلہ ممبئی کے جوا¿ خانے آسانی سے حل کر سکتے تھے۔ تاش میں مہارت مجھے رقم جمع کرنے میں مددگار ہوتی۔ لیکن یہ ایک طویل منصوبہ تھا کوئی بڑا پتے باز میرے منصوبے کو خاک میں ملا سکتا تھا۔
میں رقم کے حصول کے متبادل طریقوں پر غور کرنے لگا۔ جس میں چوری ڈکیتی سے لے کر اغوا برائے تاوان تک کے منصوبے شامل تھے اور پھر انھی خیالوں میں میری آنکھ لگ گئی۔
رات کا جانے کو ن سا پہر تھا جب بستر میں کسی دوسرے شخص کی موجودی کا احساس ہوا۔
”کون؟“ یہ جاننے کے باوجود کہ وہ کون ہو سکتی تھی میں نے تصدیق مناسب سمجھی۔
شرلا وارفتگی سے مجھے لپٹی۔ ”میں نے سوچا شاید آپ میری ضرورت محسوس کر رہے ہوں۔“
اس کے گداز بدن کی گرمی نے میرے اندر آگ بھڑکا دی تھی ۔ اگر چند لمحے مزید وہ لپٹی رہتی تو نفسانی خواہشات بے لگام ہو کر مجھے منہ دکھانے کے قابل نہ چھوڑتیں۔
میں غصے سے بولا۔”شرم آنی چاہئے ،اب کون سی سے مجبوری ہے کہ غیر مرد کے بستر میں گھسی ہوئی ہو۔“
وہ ہکلائی۔”ش....شش....شماچاہتی ہوں مہاراج!مم.... مجھ سے بھول ہو گئی۔“
میں نے باز و سے پکڑ کر چارپائی سے نیچے دھکیل دیا۔ اتنا غصہ کرنے کا مقصد اسے کمرے سے باہر نکالنا تھا۔ کیوں کہ جانی پہچانی خواہشیں انگڑائی لے کر بیدار ہو چکی تھیں۔ اس کی مزیدہلکی سی پیش قدمی مجھے ثابت قدم نہ رہنے دیتی۔
”مم........“اس نے کچھ کہنا چاہا۔
”نکل جاﺅ ۔“ میں دھاڑا۔
پرکشش آنکھوں میں نمی چھپائے وہ دوڑتے ہوئے باہر نکل گئی۔ مجھے اپنے رویے پرندامت ہوئی۔ چند ٹکے دے کر ایک عورت کو میں نے اس کے گھر میں بے عزت کر دیا تھا۔ یہ غصہ مجھے خودپر آنا چاہئے تھا۔ جو اپنی کمزوری چھپانے کو شرلا کی طرف منتقل ہو گیاتھا۔ لیکن کیاکرتا کہ عزت بچانے کوایساکرنا مجبوری بن گیاتھا۔قصور اس کا بھی نہیں تھا۔ایک عورت کے پاس سب سے قیمتی چیز اس کی عصمت ہوتی ہے،جو کبھی مجبورہو کراس کے حوالے کرتی ہے ، کبھی ممنون و احسان مند ہو کر اس کی جھولی میں ڈالتی ہے اور کبھی سرکا سائیں سمجھ کر خدمت میں پیش کرتی ہے۔وہ بے چاری بھی میرا شکریہ ادا کرنے آئی تھی لیکن میرا دین اور پیشہ ان عیاشیوں کی اجازت دینے کو تیار نہیں تھا۔
اس کے بعد مجھے صبح تک نیند نہ آئی۔ اذان سن کر میرے قدم غسل خانے کی طرف بڑھ گئے۔ ٹھنڈے پانی سے وضو کرتے ہوئے مجھے بے پایاں لذت و فرحت محسوس ہوئی تھی۔ بستر کی چادر سے فرش جھاڑکر میں ننگے فرش ہی پرنماز پڑھنے لگا۔ انڈیا میں داخلے کے بعد میری پہلی نماز تھی۔سجدے کی لذت چھن جانے کی تکلیف تب معلوم ہوتی ہے جب خود پر بیتے۔ نماز کے بعد میں نے گڑگڑا کر گھر والوں کی عافیت،انڈیا سے بہ خیریت خروج اور ثابت قدم رہنے دعا مانگی۔نماز کے بعد بہت سکون کا احساس ہو رہا تھا۔
دعا مانگ کر میں چارپائی پر بیٹھ گیا۔شرلا نے صبح سویرے جانے کی استدعا کی تھی۔ پتا نہیں اس کا خاوند واپس آیا تھایا نہیں،لیکن مجھے وعدے کے مطابق جانا تھا۔میں اسے بلانے کی ترکیب سوچنے لگا اندھا دھند باہر جانااسے خاوند کے سامنے بے نقاب بھی کر سکتا تھا۔
اسی ادھیڑ بن میں تھا کہ شرلا ٹرے اٹھائے اندر آئی۔ٹرے میں چائے کے برتن ،پراٹھے، آملیٹ اور ابلے ہوئے انڈے نظر آرہے تھے۔
” ناشتا کرلیں۔“نظریں جھکاتے ہوئے وہ بجھے لہجے میں بولی۔اپنی حرکت پر نادم و پشیمان لگ رہی تھی۔
میں نے حیرانی ظاہر کی۔” کیا روزانہ اسی وقت ناشتا تیار کرتی ہو۔“
وہ دکھی دل سے بولی۔”یہ ناشتوں والا گھر نہیں ہے بابو! صرف آپ کے لیے بنایا ہے۔“
”شکریہ، جانے کو تیار بیٹھا تھا۔ ناشتا کرتے ہی نکل جاﺅں گا۔“
”آپ کی اِچھا ہو تو چند دن اور بھی ٹھہر سکتے ہیں۔“ چائے کی پیالی بھر اس نے میری طرف بڑھائی۔
میں نے مزاحیہ لہجے میں پوچھا۔” شوہر سے پٹوانے کا ارادہ ہے کیا؟“
اس نے گھبرا کر نفی میں سرہلایا۔”نن.... نہیں.... ہم چند دنوں کے لیے دہلی جارہے تو گھر خالی رہے گا۔“
میں نے پوچھا۔ ”کیوں؟“
وہ ممنونیت سے بولی۔”آپ کی مہربانی سے اتنے پیسے ملگئے ہیں کہ بچے کا علاج کروا سکیں۔“
” بس میں جاﺅ گے۔“
” اپنی ٹیکسی میں جائیں گے۔ وہاں میری بہن گھر ٹھہریں گے۔“
میں بہ ظاہر شرارت سے بولا۔”مجھے بھی ساتھ لے جاﺅ۔“
”سچ میں۔“وہ خوشی سے اچھل پڑی۔
میں نے سنجیدگی سے کہا۔ ”میں مجرم ہوں اور پولیس سرگرمی سے میری تلاش میں ہے۔“
” پولیس سے بچنا آپ کا اپنا مسئلہ ہے۔“
میں پر جوش ہوا۔”تمھاراشوہر راضی ہو جائے گا،اگر اسے اعتراض نہ ہو تو میں ڈگی میں سفرکر لوں گا۔“
”مگر اتنا کشٹ اٹھانے کی کیا ضرورت ہے، آپ عقبی سیٹ پر بیٹھ جانا۔“
”کہاناں، پولیس شدت سے میری تلاش میں ہے۔“
وہ خوش دلی سے بولی۔” جو آپ کی اِچھا ہو۔“
”اپنے پتی کو منا لینا، میں تھوڑی دیر تک آتا ہوں۔“
وہ اطمینان سے بولی۔”اپنے محسن کو انکار نہیں کرے گا۔“
میں سرہلاتا ہوا فلیٹ سے نکل آیا۔آوارہ گردی میرے لیے نقصان دہ تھی، لیکن میری غرض تازہ اخبار تھی تاکہ حالات کا جائزہ لے سکوں۔ اس کے لیے شرلا کو بھیجنا مجھے خلاف مصلحت لگاتھا۔ مفلر نے آنکھوں کے علاوہ میراتمام چہرہ ڈھانپا ہوا تھا،مجھے آسانی سے پہچاننا مشکل تھا۔البتہ لمبی قامت کسی کو شک میں مبتلا کر سکتی تھی۔ میرا قد چھ فٹ دو انچ کے قریب ہے ، لیکن یہ اتنا بڑا قد بھی نہیں کہ میری خصوصی شناخت کہلاتا۔ سورج نکل آیا تھا اور گلیوں میں لوگوں کی آمد ورفت جاری ہو گئی تھی۔
جلد ہی مجھے بک سٹال مل گیا۔انگریزی کے دو اخبار لے کر میں نے واپسی کا قصد کیاتھا۔
دستک دینے پر دروازہ شرلا نے کھولا۔
اس نے ایک طرف ہو کر مجھے رستہ دیا۔ داخل ہوتے ہی ایک دبلاپتلاکمزور سا شخص دکھائی دیا۔ میرے اندازے میں وہ شرلا کا شوہر تھا۔
”موہن!یہ میرے پتی شنکر ہیں۔“شرلا نے مجھے فرضی نام سے پکارا۔
”آپ سے مل کر خوشی ہوئی۔“میں نے مصافحے کو ہاتھ بڑھایا۔
اس نے بے دلی سے میرا ہاتھ تھام لیا تھا۔ پتا نہیں شرلانے اسے میرے بارے کیا بتایا تھا۔ تعارف کرا کے وہ رسوئی(باورچی خانے) میں گھس گئی ۔میں بھی شنکر کو اکیلا چھوڑ کر اندرونی کمرے میں آگیا تاکہ آرام سے اخبارپڑھ سکوں۔ پہلے صفحے پر میری درمیانے حجمکی تصویر موجود تھی۔تفصیل میں میرانام ،قدو قامت اور کارنامے بیان ہوئے تھے۔ اطلاع دینے والے کے لیے انعام کی رقم ایک لاکھ سے بڑھا کر ڈیڑھ لاکھ کر دی گئی تھی۔ کوبرے اور اس کے ساتھیوں کی موت کا ذمہ دار بھی مجھے ہی ٹھہراگیا تھا۔ دونوں اخباروں میں تھوڑی سی کمی بیشی کے ایک جیسی تفصیل درج تھی۔
اپنے متعلق خبروں کی تفصیل اور تصویر کو پھاڑ کر میں چارپائی کی ادوان میں چھپا دیا تھا۔ڈیڑھ، دوگھنٹوں بعد وہ جانے کو تیار تھے۔
شنکر کی ٹیکسی عمارت کے احاطے میں پارک تھی۔ شرلا نے میرے آرام کی خاطر ڈگی میں کمبل بچھا دیا تھا۔ دائیں بائیں احتیاط سے نظر دوڑاکر میں سرعت سے ڈگی میں گھس گیا۔ شرلا نے رقم کی پوٹلی اور کپڑوں کا سوٹ کیس بھی ڈگی میں رکھ دیا تھا۔ڈگی کو لاک ہونے سے بچانے کو میں نے کمبل کاکونہ قفل کے نیچے رکھ کردیا تھا تاکہ کسی ناگہانی صورت حال میںڈگی میرے لیے چوہے دان نہ بنے۔
سفر یکی شروعات ہوئی۔چند موڑ مڑنے کے بعد ہی سمتوں کا اندازہ لگانا دشوار ہو گیاتھا۔ لیکن اتنا معلوم تھاکہ دہلی ،انبالہ سے جنوب کی سمت میں ہے۔
ایک دو چیک پوسٹوں پر پولیس والوں نے روکا مگر سرسری مکالمے کے بعد جانے دیا۔ دیکھنے میں ٹیکسی کھٹارا لگتی تھی۔ لیکن چلنے میں کافی بہتر تھی۔ایک ویران سڑک پر ٹیکسی روک کر ہم نے کھانا کھایا اور پھر آگے بڑھ گئے۔ شرلا سے پتا چلاہم کرنل اور پانی پت کو پیچھے چھوڑ آئے تھے۔ میں ڈگی میں لیٹا اور ٹیکسی چل پڑی۔ امید تھی کہ انبالہ کی نسبت دہلی میں میرے لےے خطرہ کم ہو گا، لیکن یہ میرا اندازہ تھا۔ انڈین انٹیلی جنس کا پتا نہیں تھا کس پیمانے پر میری تلاش میں سرگرداںتھی۔پاک بھارت ہر دو ممالک میں جاسوسوں کی بڑی تعداد ایک دوسرے کے مخالف متحرک رہتی ہے۔ ایسے جاسوس مستقل بنیادوں پر مخالف ملک میں رہائش پذیر ہو کرآستین کا سانپ بنے رہتے ہیں۔ ان کی پہچان نہایت مشکل ہوتی ہے ،لیکن پتاچل جانے پرکوئی کرامت ہی اسے بچا سکتی ہے، ورنہ متحرک اور فعال ایجنسیاں اسے گھیرنے میں دیر نہیں کرتیں۔
میں بھی انھی حالات سے گزر رہا تھا۔ میری شناخت پہلے ہی دن ہو چکی تھی ،بلکہ میں ان کی حراست سے بھاگا ہوا تھا۔ اب میری گرفتاری ملک کے تحفظ سے زیادہ ان کی انا کا مسئلہ بنی ہوئی تھی۔ میں موت سے نہیں ڈرتا تھا، لیکن گھر کے حالات جانے بغیر مرنے پر تیار بھی نہیں تھا۔ اگرصرف چھپنا مقصود ہوتا تو”را“ یا کسی دوسری ایجنسی کا باپ بھی مجھے نہ ڈھونڈسکتا، لیکن افسوس مجھے انڈیا سے باہر نکلنا تھا۔ ایک ایک منٹ مجھ پر قیامت بن کر گزر رہا تھا۔ جی چاہتا تھا کہ اُڑ کر اپنے گاو¿ںپہنچ جاﺅں،مگر راستے میں بے پناہ رکاوٹیں کھڑی ہو گئی تھیںجنھیں دور کرنا میرے مالک ہی کے بس میں تھا۔
زور دار جھٹکے سے ٹیکسی رکی۔لگا کسی کے بچانے کو شنکر نے ایک دم بریک لگائی ہے۔
اچانک گرج دار آواز سنائی دی۔ ”باہر آجاﺅ ۔“
”مم....مہاراج ہم سے کیا بھول ہوئی ہے۔“مجھے شنکر کی سہمی ہوئی آواز سنائی دی۔
دوبارہ غصے سے کہا گیا۔” سنا نہیں گاڑی سے باہر نکلو۔“
ایک منمناتی آواز ابھری۔”دادا! چھوری کو بھی لے جاتے ہیں۔واردات کے بعد موج میلا کر لیں گے۔“
گرج دار آواز ابھری۔”مشورہ اچھا ہے بالک۔“
”بھائی بھگوان کے لیے جانے دو، ہم نے بچے کو ہسپتال لے جانا ہے۔“
دونوں قہقہہ لگا کر ہنسے۔داداغلیظ لہجے میں بھونکا۔ ”بھگوان سے بہت عرصہ پہلے پیچھا چھڑا چکے ہیں، اب شیطان ہی ہمارا گروہے۔“
ٹیکسی کا دروازہ کھلا، شنکر منمنایا۔”مہاراج بنتی (منت)کرتا ہوں شما (معافی)دے دو۔“
جبکہ شرلا زور زور سے رونے لگی تھی۔ انھوں نے شنکر کو گھسیٹ کر باہر پھینکا ،ان کا ارادہ شرلا اور ٹیکسی دونوں پر قبضے کا تھا۔
میں نے قفل کے نیچے کمبل کا کونہ رکھا ہوا تھاوہ احتیاط کام آگئی تھی۔ ایک جھٹکے سے ڈگی کھول کر باہر نکلا۔ اس وقت ایک منحنی لڑکاشرلا سے بچہ چھیننے کی کوشش کر رہا تھا۔ جسے چھاتی سے لگائے وہ سخت مزاحمت کر رہی تھی۔جبکہ موٹا تازہ بھالو نما شخص شنکر کی سمت بڑھ رہا تھا۔اس کا ارادہ عارضی یا مستقل طور پر شنکر کو خاموش کرنے کا تھا۔ ڈگی کھلنے کی آواز پر وہ چونک کر میری جانب متوجہ ہو ئے تھے۔ دونوں خالی ہاتھ نظر آرہے تھے شاید ہتھیار ان کی جیب میں تھے۔
”ابے پرنس یہ بالک کہاں سے نکلا ہے۔“ دادا منحوس آواز میں گرجا۔
پرنس مزاحیہ لہجے میں بولا۔”دادا میرا خیال ہے اس چھوری کا پریمی ہے ۔“
ہم سڑک پر کھڑے تھے مکالمہ بازی کا وقت نہیں تھا۔اور یہ تو صاف ظاہر تھاکہ وہ لاتوں کے بھوت تھے ۔انھیں سمجھانا وقت کا ضیاع تھا۔
میں نے نظروں انھیںپرکھا ۔پرنس آسان ہدف تھا۔ اس لیے میں نے پہلے اسی کو نشانہ بنانے کا فیصلہ کیا۔ استاد محترم صوبیدار مراد صاحب فرمایا کرتے ، سب سے مخالفین کی تعداد گھٹاﺅ ،کیوں کہ ”ایک اکیلا دو گیارہ“ ہوتے ہیں۔اور پہلے کمزور دشمن کو لڑائی سے باہر کروتاکہ یکسوئی سے مضبوط دشمن سے مقابلہ کر سکو۔
میں چھلانگ لگا کر پرنس پر جا پڑا۔ کنپٹی پر لگنے والے طاقت ور مکے نے اسے انٹا غفیل کر دیا تھا۔ مجھے یقین تھا کہ گھنٹے ڈیڑھ میں اس کا ہوش میں آنا ناممکن تھا۔اب میرے سامنے اکیلا ہدف باقی تھا۔
وہ ساتھی کی حالت دیکھ کر ناقابل بیان گالیاں بکتا ہوا میری جانب لپکا۔ اس نے پہلوانوں کے انداز میں دونوں بازو دائیں بائیں پھیلا لیے تھے۔ میں سمجھ گیا کہ اس کے پاس صرف طاقت تھی۔یا پہلوانوں والے داﺅ پیچ ہو سکتے تھے جو ایسی لڑائی میں زیادہ کام نہیں آتے۔
اس کے قریب آتے ہی میں اچھلا اور دونوں پاﺅں اس کی چھاتی پر مارنے کی کوشش کی۔ وہ بجلی کی سی سرعت سے اپنی جگہ سے ہٹ گیاتھا۔ وارخطا جانے پر بہ مشکل خود کو بری طرح گرنے سے بچایا ورنہ پختہ سڑک پر گر کر کافی چوٹ لگنا تھی۔
جونھی کھڑا ہوا مجھ پر قیامت ٹوٹ پڑی۔ دادا نے عقب سے پوری قوت سے جپھا ڈال دیاتھا۔ میں نے کبھی خود کو کمزور نہیں پایا، لیکن وہ جناتی قوت کا مالک تھا کہ مجھے سانس رکتا ہوا محسوس ہوا۔ اس نے بازوﺅں کے اوپر سے یوں جکڑا کہ کہنی وغیرہ کا وار بھی نہیں کر سکتا تھا۔میں نے سر کو زور سے پیچھے کی طرف جھٹکا دیا کہ اس کی ناک پر چوٹ لگاسکوں، لیکن ناکامی ہوئی کہ اس نے چہرہ بائیں سمت جھکایا ہوا تھا۔اس کے شکنجے سے جلدنکلنا ضروری تھا ورنہ اپنی جناتی گرفت میں میری مدافعاتی طاقت ختم کر کے حقیر کینچوے کی طرح کچل دیتا۔
اس نے مجھے اوپر اٹھایا ہوا تھا کہ زور آزمائی کرنے میں دقت محسوس ہو رہی تھی۔ میں نے بایاں پاﺅں گھٹنے سے موڑکر ایڑی اس کی ٹانگوں کے درمیان دے ماری۔گو پوری قوت استعمال کی تھی مگر اسے خاطر خواہ چوٹ نہ لگی۔صرف اس کی گرفت میں ہلکی سی کمی آئی اوراتنا ہی غنیمت تھا۔ پاﺅں نیچے لگتے ہی میں نے ہاتھوں کی انگلیاں ایک دوسرے میں پھنسائیں اور کہنیوں کو پوری قوت سے دائیں بائیں پھیلادیا۔ اس کے ہاتھ اوپر کو پھسلے۔جونھی کہنیاں آزاد ہوئیں میں نے بائیں کہنی پوری قوت سے اس کی پسلیوں میں دے ماری۔ اس کے منہ سے درد بھری ”اوغ“ نکلی اور میں اس کی گرفت سے نکل گیا۔آزاد ہوتے ہی میں مہلت حاصل کرنے کو چند قدم دوڑتا گیااور یہ احتیاط کام آگئی تھی۔کیوں کہ جیسے ہی مڑا اسے سانڈ کی طرف سر جھکا کر اپنی طرف بڑھتے دیکھا۔ اس کی سخت جانی مجھے ششدر کر گئی تھی۔ کہنی کی شدید ضرب کھا کے بھی اسے کچھ نہیں ہوا تھا۔
جونھی قریب پہنچا میں تیزی سے دائیں سمت میں ہٹا اور اگلے ہی لمحے اس کی موٹی گردن میرے بائیں بازو کے شکنجے میں تھی۔اس کی بے پناہ قوت کی بدولت میں چند قدم گھسٹتا گیا ،لیکن یہ اس کی زندگی کی آخری حرکت تھی۔قدم جماتے ہوئے میں نے بائیں بازو کو مخصوص جھٹکا دیا ۔” کٹاک “کی آواز کے ساتھ اس کا رابطہ زندگی سے منقطع ہو گیا۔ آخری لمحوں میں اس نے میری گرفت سےنکلنے کی پوری کوشش کی تھی مگر اس کی جگہ سانڈ بھی ہوتا تو اپنی گردن نہ چھڑوا سکتاوہ تو پھر انسان تھا۔
اسے نفرت کے ساتھنیچے پٹخ کر جیسے ہی سیدھا ہوا،شرلا وارفتگی سے بھاگتی ہوئی مجھے آلپٹی۔
”بابو!آپ ٹھیک تو ہیںنا۔“
” بالکل ٹھیک ہوں۔“میں نے نرمی سے اسے علیحدہ کیا۔ ”اب جلدی کرو ہم سڑک پر کھڑے ہیں۔“
وہ سرعت سے ٹیکسی کی جانب بڑھ گئی۔
شنکر ٹیکسی کی اگلی سیٹ پر آڑا ترچھا بیٹھا تھا۔ پختہ سڑک پر گرنے سے اسے اچھی خاصی چوٹ لگی تھی۔
”گاڑی چلا لو گے۔“ میں نے ہمدردی سے پوچھا۔ خیال تھا شرلا کومجھ سے لپٹتے دیکھ کر شاید اسے برا لگا ہو۔ مگر اس کے چہرے پر غصہ یا ناراضی نظر نہ آئی ۔صاف ظاہرتھا وہ شرلا کی چھپی ہوئی سرگرمیوں سے واقف تھا۔
وہ جلدی سے بولا۔”بالکل چلا لوں گا،میں تو آپ کے لیے پریشان تھا ہماری خاطر اتنا کشٹ اٹھایا۔“
”ایک دوسرے کی مدد ہی سے کام چلتا ہے۔“کہتے ہوئے میں ڈگی کی طرف بڑھ گیا۔ جبکہ شنکر گاڑی سٹارٹ کرنے لگ گیا۔
ہم انبالہ سے دیر سے نکلے تھے،راستے میں کھانا کھانے اور پھر فضول کے ہنگامے میں کافی وقت ضائع ہوا تھا۔اس لیے رات گئے ہی دہلی پہنچے سکے۔
ایک ویران سی سڑک پرٹیکسی روک کر شنکرنے مجھے ڈگی سے نکالا اور میں پچھلی سیٹ پرمنتقل ہو گیا۔
”کسی ہوٹل کے قریب اتار دینا۔ ”ٹیکسی کے آگے بڑھتے ہی میں شنکر کو مخاطب ہوا۔
شرلاتیزی سے بولی۔ ”آپ ہمارے ساتھ چلیں، میری دیدی کا گھر بہت بڑا ہے۔“
میں نے نفی میں سرہلایا۔ ” میں نہیں چاہتا کہ میری وجہ سے تم لوگوں پر کوئی مصیبت آئے۔“
وہ مصر ہوئی۔ ”ایک ہی رات کی بات ہے۔“
میں حتمی لہجے میں بولا۔”نہیں۔“ شرلا نے اداسی سے سرجھکا کر چپ سادھ لی۔ شنکرنے بھی کوئی مشورہ نہیں دیا تھا۔ ایک چھوٹے سے ہوٹل کے قریب ۔ شنکر نےبریک لگائی۔
”مہاراج یہاں رہائش کا انتظام کافی اچھا ہے اور یہ اتنا مہنگا ہوٹل بھی نہیں ہے۔“
”دھنے واد۔“ میں نیچے اتر آیا۔
شرلا نے خفانظر آرہی تھی۔ شوہر کی موجودی میں اس کی دل جوئی بھی نہیں کر سکتا تھا۔ جھوٹی تسلی سے اسے خوش کرنے کو کہا۔
” اپنی دیدی کا پتا بتا دو، اگر موقع ملا تو میں تمھیں ملنے ضرور آوں گا۔“
شرلا متبسم ہوئی ۔ ”فوجی ہسپتال کے عقب میں گلی نمبر2میں مکان نمبر10۔“
”جونھی موقع ملا ضرور آﺅں گا۔“ میں نے شنکر سے ہاتھ ملاکراس کی طرف ہاتھ بڑھادیا۔
عقیدت بھرے انداز میں ہاتھ تھام کر اس نے ہونٹوں سے لگایا۔”بھگوان تمھاری رکھشا کرے۔“ شنکر نے ٹیکسی آگے بڑھا دی۔انھیں دکھانے کومیں ہوٹل کے دروازے تک گیا لیکن اندرجانے کے بجائے آگے بڑھ گیا۔ میرا ارادہ دہلی سے بھی آگے جانے کا تھا۔ اس مقصد کو مجھے بس اڈے پہنچناتھا۔ تھوڑاسا چلنے کے بعد مجھے خالی ٹیکسی مل گئی تھی۔
”بس اڈے ....“میں پچھلی سیٹ پر بیٹھ گیا۔
”کون سے بس اڈے۔“دہلی بہت بڑا شہر ہے یقینا وہاں ایک سے زیادہ بس اڈے ہوں گے،تبھی اس نے وضاحت مانگی تھی۔
مجھے دہلی کے بس اڈوں کے بارے کہاں کچھ پتا تھا۔البتہ بھارت کے بڑے شہروں کے بارے کچھ نہ کچھ معلومات ضرور تھی۔اور جانتا تھا کہ دہلی سے ممبئی تک راستے میں کون سے بڑے شہر پڑتے تھے۔اڈے کی پہچان اس کی صواب دید پر چھورتے ہوئے میں اطمینان سے بولا۔”اجمیر جانا ہے۔“
ڈرائیور نے سرہلاتے ہوئے گاڑی آگے بڑھا دی۔ مجھے امید تھی کہ سمندر کے راستے میں بغیر کسی خطرے سے دو چار ہوئے پاکستان میں داخل ہو جاتا ۔میں آگے کی سوچنے لگا کہ براہ راست ممبئی کی بس میں بیٹھنا مناسب رہتا یااجمیر جاکر وہاں سے ممبئی کاقصدکرنابہتر رہتا۔ٹیکسی کی نشست سے سرٹیک کر میں نے آنکھیں بند کر لی تھیں۔اچانک ٹیکسی ایک جھٹکے سے رکی۔آنکھیں کھولنے پروہ ایک زیر تعمیر عمارت کے اندر نظرآئی۔
”میں نے لاری اڈے کا بتایا تھا۔“
ڈرائیور جواب دیئے بغیر دروازہ کھول کر نیچے اتر گیا۔
تبھی مجھے گڑبڑ کا احساس ہوا اور میں بھی جلدی سے باہر آ گیا۔ اس اثناءمیں اندرونی کمرے سے تین افرادبرآمد ہوئے۔ تینوں مسلح تھے۔ڈرائیور نے بھی ریوالور نکال کر مجھ پر تان لیا تھا۔
”ہاتھ اٹھانے کا کشٹ کریں گے مہاراج!“
میں نے ہاتھ اٹھاتے ہوئے کہا۔”میرے پاس کیا ہے دوست جو لوٹو گے ، کوئی تگڑی اسامی دیکھنا تھی۔“
ٹیکسی ڈرائیور مکروہ لہجے میں بولا۔” تمھاری تلاشی لینے پر پتا چلے گا بالک۔“
باقی بھی اس کے قریب آگئے تھے۔ وہ چھوٹی موٹی وار داتیں کرنے والا گروہ تھا۔ ان کا کام اکیلے مسافر وں کو لوٹنا، کسی راہگیر کی جیب کا بوجھ ہلکا کرنا،دکان کا تالا توڑ کر نقدی سامان وغیرہ لے اُڑنا ہوتا ہے۔ کسی بڑے کام میں ہاتھ ڈالنے سے یہ لوگ ڈرتے ہیں۔ البتہ وقت پڑنے پر قتل کرنے سے بھی نہیں چوکتے۔ایسے گروہ بھارت کے بڑے شہروں میں وافر مقدار میں ملتے ہیں۔غربت ،افلاس ، بے روزگاری،جوئے کی لت اور شراب نوشی لوگوں کو چوری چکاری ،ڈکیتی اور غیر قانونی دھندوں کی ترغیب دیتی ہے۔ خصوصاً ممبئی تو غنڈوں کا گڑھ ہے۔کراچی میں بھی دو تین سیاسی جماعتوں کی سرپرستی میں غنڈہ راج کو تقویت مل رہی ہے۔سندھ کے باقی شہروں میں بھی چوری ،ڈکیتی عام ہے۔ شام کے بعد اکیلے بندے کا باہر نکلنا دوبھر ہو گیا ہے۔
ڈرائیور شاید ان کا سرغنہ تھا۔درمیانی قامت کے سیاہ رو شخص کو بولا۔”بِّلے اس کی تلاشی لو۔“
بِّلا بڑے اندازسے پستول دائیں سے بائیں ہاتھ میں منتقل کرتا ہوا میری جانب بڑھا۔
میں اس کے استقبال کو تیار ہو گیا۔میلے کپڑوں کوصابن کی رگڑائی او رایسے اچکوںکو خاطر خواہ پٹائی چاہیے ہوتی ہے ۔اس سے پہلے وہ قریب پہنچتاہم کسی گاڑی کی ہیڈ لائیٹ کی روشنی میں نہا گئے تھے۔اور ایسا چار دیواری مکمل نہ ہونے کی وجہ سے ہوا تھا۔ لیکن اچکے ان باتوں سے نہیں گھبراتے ،کہ عام لوگ نظر انداز کر کے گزر جاتے ہیں ۔پرائی آگ میں کون کودتا ہے۔ کوئی بہت نیک ہوا بھی تو تھانے اطلاع دے کر فرض سے سبک دوش ہو جاتا ہے اور پولیس کارروائی کرنے میں جتنی تیز ہے اس سے کون ناواقف ہے۔
مگر ان کی بدبختی یاخوش قسمتی سے ڈرائیور نے یہ منظر دیکھنے کے بعد اپنی گاڑی اسی طرف موڑ لی تھی۔
”یہ کون ماں کا.... ہے۔“ ٹیکسی ڈرائیور نے ناقابل اشاعت گالی بکی۔ لیکن جیسے ہی چندھیائی آنکھوں کورنگ برنگی روشنی والی بتیاں نظر آئیں وہ چیخا۔
”ابے بھاگو، یہ تو پولیس ہے۔“ تمام بھاگ پڑے۔میں بھی سمت کا تعین کیے بغیر دوڑ پڑا۔کیوں کہ وہ میرے لیے اچکوں سے بڑا خطرہ تھا۔ پولیس کا للکارا اور ہوائی فائر سنائی دیا، رکنے کا مطلب گرفتاری تھا، جو مجھے اندھے کنویں میں پہنچا دیتی۔ایک بار قابو میں آجاتا تو ایجنسیوں نے نہ صرف میرا حلیہ بگاڑ دینا تھا،بلکہ پاکستان کی بھی خاطر خواہ بدنامی ہوتی۔
دیوار پھلانگ کے بھی میرے قدموں کی رفتار کم نہیں ہوئی تھی ۔اس سے ملحق دوسری عمارت بھی زیر تعمیر تھی۔پولیس والے اب تک پہلی عمارت کے کمرے کھنگال رہے تھے۔میری زندگی کا پہلا موقع تھا کہ پولیس کو یوں مستعد دیکھا تھا۔شاید کوئی نیا آنے والا آفیسر گشت پر نکلا تھا جو پولیس محکمے کی بدبودار سڑانڈ بھری فضا سے نامانوس تھا۔پرکھا جائے تو انڈیا اور پاکستان کی پولیس ایک جیسی ہی نظر آتی ہے۔اور یہ ایسا بدنصیب محکمہ ہے جو شروع دن سے گھٹیا،ضمیر فروش اور بے دین سیاستدانوں کے ہاتھوں یرغمال بنا ہوا ہے۔ہمیں پولیس والے ہمیشہ ظالم ،بے حس اور لالچی نظر آتے ہیں۔مگر حقیقت یہ ہے کہ بھرتی ہوتے وقت اکثریت ان کی ہوتی ہے جو وطن و عوام کے لیے کچھ اچھا کرنا چاہتے ہیں۔ ایسے لوگ جب پیشہ ورانہ زندگی میں قدم رکھتے ہیں تب انھیں اندازہ ہوتا ہے کہ ماحول اور سالوں سے قائم نظام کا سامنا کرنا کتنا دشوار بلکہ ناممکن ہے۔یوں بے چارے یا تو اسی رنگ میں رنگ جاتے ہیں یاخاموشی سے سرجھکا کر نوکری کے دن پورے کرتے ہیں۔
دوسر ی عما رت کی عقبی دیوار پھلانگ کرمیں پہلی گلی میں گھس گیا۔اب میں دوڑنے کے بجائے تیز قدموں سے چلنے لگا تھا۔” سٹر یٹ لائیٹ “کی روشنی میں گلی دور دور تک خالی دکھا ئی دے رہی تھی۔
مسلسل حادثے مجھے کسی منصو بے پر عمل نہیں کرنے دے رہے تھے۔ سو چتا کچھ تھا ،ہوتاکچھ اورتھا۔ بھا رت کی ز مین میر ے لیے دلد ل بن گئی تھی۔ جتنے ہاتھ پاﺅ ں مار رہا تھا اتنا نیچے دھنستا جارہاتھا۔ اگر ٹیکسی ڈرائیور مجھے بس اڈے لے گیا ہوتا تو شاید دہلی سے نکل چکا ہوتا۔ بہ ہر حال یہ قانون قدرت ہے کہ انسان کے ارادے عموماََ ناکام ہوتے ہیں۔یہ ظاہر کرتا ہے کہ ہوتا وہی ہے جو رب چاہتا ہے۔لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ رب کی رضا کوشش کے بعد ہی آشکارا ہوتی ہے۔مفہوم قرآن ہے [انسان کو اتنا ہی ملتا ہے جتنی وہ کوشش کرتا ہے]اس لیے ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھنا بھی شریعت کی رو سے ناپسندیدہ ہے اس لیے میں کوشش سے با ز نہیں آسکتا تھا۔
شکست تسلیم کرلینا، رب کی رحمت سے مایوسی کا اظہار تھاجویقینا کفر ہے ۔ایک مسلمان اللہ پاک کی رحمت سے کبھی مایوس نہیں ہوتا۔
میں تیز قدموں وہاںسے دور ہٹتاگیا۔ مشکل تھا کہ پولیس ہمارا تعا قب کرتی۔ انھو ں نے واردات ہوتی دیکھ کر جو کارروائی کی تھی یہ بھی امکان سے بڑھ کر تھی۔ دو تین سو گز بعد گلی بائیںجانب مڑئی چند قدم لیتے ہی سامنے دو بند ے دکھا ئی دیے۔ میں نے فوراََپہچا ن لیاتھا۔ ایک ڈرائیو ر اور دوسرا بِلّا تھا۔ با قی دوشا ید کسی اور راستے سے فر ار ہوگئے تھے ۔انھوںنے بھی مجھے پہچاننے میں دیر نہیں کی تھی۔اگر قریب ہوتے توان کی اچھی خبر لیتامگر وہ دس پند رہ گز دور رک گئے۔اُن کے ہاتھ جیبوں میں غائب ہوئے اور ہتھیار لیے باہر آئے۔میں نے بھی بجلی کی سی سُرعت سے کوبرے والا بریٹا ان پرتان لیاتھا۔
lll
عجیب صورت حال تھی۔دوسرے کو مار کر خود بھی مرنا پڑ رہا تھا۔نجانے فیصلہ کرنے میں ہم کتنی دیر لگاتے،کہ اچانک ان کے عقب میں دوڑتے افراد پر نظر پڑی۔ سٹریٹ لائٹ کی روشنی تین پولیس والے دور ہی سے نظر آرہے تھے۔ انڈین پولیس سے اس مستعدی کی توقع نہیں تھی۔ ان کی آمد نے مجھے ششدر کر دیا تھا۔ ایک دم خطرہ کئی گنا بڑھ گیا تھا۔ میں الٹے قدموں کو پیچھے ہٹنے لگا۔قدموں کی آواز پرنے مڑ کر دیکھا۔
اسی وقت پولیس والوں نے ہوائی فائر کیا ۔بلا چیخا ۔”استاد بھاگو....“
میں پہلے ہی حرکت میں آچکا تھا۔اور الٹے قدموں وہاں دور ہٹ رہا تھا۔ مگرجونھی بلے نے بھاگو کا نعرہ بلند کیا۔ میں سیدھا ہوکر پوری رفتار سے بھاگا۔ سپورٹس جوتے مجھے بھاگنے میں سہولت دے رہے تھے۔ دوڑتے ہوئے میںنے پستول کوٹ کی جیب میں ڈالااورموڑ مڑتے ہی اچھل کر نکڑ والے مکان کی دیوارکا کنارا تھامااور سرعت سے اندر لٹک گیا ۔دیوار کی بلند آٹھ فٹ کے بہ قدر تھی۔اس لیے مجھے ذرا بھی دشواری نہیں ہوئی تھی۔ ڈرائیور اوربلے کے موڑ مڑنے سے پہلے میں مکان کے اندر پہنچ گیا تھا۔
”ارے باس وہ پنچھی کدھر اُڑ گیا۔“ مجھے بِلّے کی متحیر آواز سنائی دی۔
”بھاڑمیں جائے۔“ڈرائیور نے جھلاتے ہوئے مجھے کوسا۔
پولیس والوں کے للکارنے کی آوازیں تواتر سے سنائی دے رہی تھیں۔وہ دوڑتے ہوئے آگے نکل گئے۔
سردی جوبن پر تھی اور بندکمروں میں لحافوں میں چھپے لوگ بے فکر سو رہے تھے۔ اس شور شرابے کی آواز شاید ہی ان کے کانوں تک پہنچ پاتی۔ البتہ کتے کا خوف میرے ذہن میں ضرور موجود تھا۔کیوں کہ ایسا ہونے کی صورت میرا بھانڈاضرور پھوٹ جاتا اور وہ گھر میرے لیے چوہے دان ثابت ہوتا، لیکن میری خوش قسمتی کہ کتا موجود نہیں تھا۔
دیوار کی جڑ میں دبکا میں سانس بحال کرتا رہا۔ایک دم دوڑ نے کی وجہ سے میرا سانس بری طرح پھول گیا تھا۔
دوڑتے قدموں کی آواز جیسے ہی معدوم ہوئی۔ میں مکان کی طرف متوجہ ہو گیا۔ وہ ایک درمیانہ مکان تھا۔ تین کمرے ان کے سامنے برآمدہ دائیں بائیں باورچی خانہ اورغسل خانہ ،گلی کی جانب بیٹھک نما کمرہ اور چھوٹا سا صحن۔
سرسری جائزہ لے کر میں اکیلے کمرے کی طرف بڑھ گیا۔اندازے کے مطابق دروازہ باہر سے کنڈی تھا۔بے آواز دروازہ کھول کر میں اندر گھس گیا۔ گھپ اندھیرا تھا۔ دروازے کو بھیڑ کر میں نے دائیں طرف دیوار پرہاتھ پھیر کر بجلی کا بورڈ تلاش کیااور تمام بٹنوں کو باری باری دباتا گیا۔تیسرے بٹن پر کمرہ روشن ہو گیا۔جائزہ لے کر میں نے روشنی بجھا دی تھی۔تین چار پائیاں دیواروں کے ساتھ بچھی تھیں ، ان پر منقش چادریں اور تکیے پڑے ہوئے تھے۔ البتہ ہماری بیٹھکوں کے برعکس گلی کی سمت اس کا کوئی دروازہ نظر نہیں آرہا تھا۔ میں ایک چارپائی پر نیم دراز ہوگیا۔
کھانا کھائے کافی دیر ہو گئی تھی اورسخت بھوک لگی تھی۔ لیکن باورچی خانے کا رخ کرنے کے بجائے انتظار کرنا مناسب سمجھا۔ چند گھنٹے کی بھوک برداشت کرنا چنداں دشوار نہیں تھا ۔دوران تربیت ہمیں کئی کئی دن بھوکاپیاسا رکھا جاتا تھا۔اس لیے ایک دو دن کا فاقہ مجھے بے چین نہیں کر سکتاتھا۔
میں حالات کا تجزیہ کرنے لگا جو روز بہ روز بگڑتے جارہے تھے۔ لڑائی جھگڑا مجھے کبھی محبوب نہیں رہا، گنڈہ پور ہونے کے باوجود مجھے خونخواری پسند نہیں تھی ۔میں حتی الوسع قتل و غارت سے پرہیز کرتا تھا۔ لیکن انڈیا آمد کے بعد حالات نے مجھے قاتل بنا دیاتھا۔ بلاشبہ وہ کافر تھے اور انھیں قتل کرنے کی وجہ اپنا دفاع تھا۔لیکن یوں دھڑا دھڑا لاشیں گراتے جانا بھی تو کوئی پسندیدہ فعل نہیں تھا۔اور قتل وغارت کا جو سلسلہ شروع ہو چکا تھا اس کے رکنے کے آثار نظر نہیں آرہے تھے۔ بلکہ یہ سلسلہ پاکستان پہنچنے پربھی رکتا نظر نہیں آرہا تھا۔
صبح کی اذان اور مختلف گھروں سے بلند ہوتی بھجن کی آوازوں کے ساتھ مجھے اندرونی کمروں کی جانب کھٹ پٹ کی آوازیں سنائی دینے لگیں۔ میں نے دروازے کے قریب ہو کر جھری سے جھانکا تو ایک نورانی چہرے والا شخص غسل خانے سے نکلتانظرآیا۔ آستینیں اس نے کہنیوں تک اڑسی ہوئی تھیں جن سے پانی ٹپک رہا تھا ۔ میرا دل خوشی سے بھر گیاتھا۔اس وقت معلوم ہوا کہ مسلمانوں کو آپس میں بھائی بھائی کیوں کہتے ہیں۔
بزرگ باتھ روم سے نکل کر کمرے میں گھس گیا اور پھر تھوڑی دیر بعد سر پر سفید ٹوپی رکھے وہ بیرونی دروازے کی طرف جاتا نظر آیا۔
میں پیچھے ہو گیا۔ اب ان کی واپسی کا انتظار کرنا تھا۔اگلا اقدام ان سے بات چیت کے بعد ہی طے کر سکتاتھا۔
آدھ پون گھنٹے کے بعد بیرونی دروازے پر آہٹ ہوئی۔جھانکنے پربزرگ ہی دکھائی دیے۔ ہاتھ میں تسبیح پکڑے وہ کمرے کی طرف بڑھے۔
میں نے آواز دی۔”چچاجان بات سنیں۔“
وہ ٹھٹک کر رکے اور چہرے پر حیرانی بکھیرے قریب آگئے۔میں کمرے میں روشنی کر دی تھی۔
”السلام علیکم۔“میں نے سلام کرنے میں پہل کی۔
”وعلیکم السلام ورحمتہ اﷲوبرکاة۔تشریف رکھو بیٹا!غالباً آپ اقبال میاں کے مہمان ہیں۔“
میں نے نفی میں سر ہلایا۔ ”میں بن بلایا مہمان ہوں۔“
”کیا مطلب ؟“ وہ حیران ہوئے۔
” گزشتہ شب جان بچانے کو آپ کے گھر بغیر اجازت کے گھس آیا۔“
” پولیس سے ....“ انھوں نے تصدیق چاہی۔
میں نے وضاحت کی۔”پولیس اورغنڈوں سے ۔“
”برخوردار! یہ گھر مجرموں کو پناہ دینے کا متحمل نہیں ہو سکتا۔بہت ہوگا آپ ناشتا کرکے رخصت لیں۔“
میں دکھی دل سے بولا۔”پولیس سے بھاگنے والا ہمیشہ مجرم تو نہیں ہوتا۔“
وہ روکھے پن سے بولے۔”یہ تعین کرنا میرا کام نہیں ہے۔“
”میرا تعلق پاکستان آرمی سے ہے۔غلطی سے انڈیا کی سرحد پار کر بیٹھااور تب سے مجرموں کی طرح جان بچانے کو بھاگ رہا ہوں۔بھارت سرکار مجھے دہشت گرد اورجاسوس ثابت کرنے پر تلی ہے،حالاں کہ میں حالات کا مارا وہ مظلوم ہوں جوپاکستان جانے کے لیے ہر قیمت ادا کر سکتا ہوں۔“
انھوں نے اندازہ لگایا۔”شاید آپ ہی عمر جان ہیں۔“
میں نے اثبات میں سرہلایا۔”یقینا اخبار میں پڑھا ہوگا۔“
وہ مسکرائے۔ ”پچھلے چند دنوں سے آپ کے متعلق بڑی گرم خبریں شائع ہو رہی ہیں۔“
”ذرہ نوازی ہے بھارت سرکار کی۔“
”کیا خدمت کر سکتا ہوں۔“ان کے لہجے میں اپنائیت در آئی تھی۔
”آپ کیا خدمت کر سکتے ہیں۔“
”آپ کو سرحد پارکرانا میرے بس سے باہر ہے۔البتہ تھوڑی بہت رقم اور چند دن پناہ دے سکتا ہوں ۔“
”مہربانی چچا جان!.... مجھے بس آج کا دن پناہ چاہیے، شام کو رخصت لوں گا۔“
وہ متبسم ہوئے۔ ”چلو غسل کر کے تازہ دم ہو جاﺅپھر ناشتا ملے گا۔“
سورج طلوع ہو چکا تھا۔ صحن میں ہلکی پیلی دھوپ پھیل گئی تھی۔ برآمدے میں درمیانی قامت کا جوان کھڑا تھا جس کا تعارف بزرگ نے اقبال کے نام سے کر ایا۔ ان کا اپنا نام عبدالمنان تھا ۔ان کی بیوی عرصہ ہوا فوت ہو چکی تھی۔جبکہ اولاد میں اقبال اور اس سے چھوٹی بہن رقیہ تھی ۔وہ دونوں شادی شدہ تھے۔اقبا ل خود ایک چھوٹے سے بچے بلال کا باپ تھا۔ اس کی بیوی ماریہ ایک قبول صورت گھریلو خاتون تھی۔ وہ خود دفتر میں کلرک تھا جبکہ عبدا لمنان کا اپنا جنرل سٹور تھا ان کی گزر اوقات بہت اچھے طریقے سے ہو رہی تھی۔
نیم گرم پانی سے نہا کر میری سستی اور کسلمندی دور ہو گئی تھی۔پہننے کو میرے حوالے ایک چادر اور قمیص کی گئی کہ اقبال اور عبدالمنان دونوں کی شلواریں میرے ناپ سے بہت چھوٹی تھیں۔نہا کر باہر نکلا تو ماریہ (اقبال کی بیوی ) باتھ روم میں گھس کر میرے کپڑے دھلائی کرنے لگی۔ باپ بیٹا ناشتے پر میرے منتظر تھے۔ ناشتے میں سبزی کے پراٹھے، آملیٹ، دودھ، دہی وغیرہ شامل تھے۔ نہانے سے میری بھوک مزید چمک اٹھی تھی۔ میں نے ناشتے کے ساتھ خوب انصاف کیاتھا۔
ناشتا کر کے اقبال نے جانے کی اجازت چاہی۔ میںبے تکلفی سے بولا۔’
’ اگر ہو سکے تو واپسی پر دو تین اخبار لیتے آنا۔“
وہ مسکرایا۔ ”ابو جان اخبار چاٹے بغیر سٹور نہیں کھولتے۔ آج آپ کی آمد نے انھیں مصرف رکھا ہے۔“وہ کمرے سے دوتازہ اخبار اٹھا لایا۔
ہم دونوں اخبار پڑھنے لگے۔ مجھے صرف اپنے جاننے میں دلچسپی تھی اور اس کے لیے اخبار کھنگالنے کی ضروت نہیں پڑی تھی ۔پہلے صفحے ہی پرمیری دو تصاویر جگمگارہی تھیں۔ ایک تصویر داڑھی والی اور دوسری بغیر داڑھی کے تھی۔ نیچے پرانے جھوٹ سچ کے ساتھ نئی تفصیلات بھی دی گئی تھیں۔پاکستانی جاسوس کی انبالہ سے دہلی آمد کی نمایاں سرخی نے مجھے حیران کر دیا تھا۔ سڑک پر میرے ہاتھوں قتل ہونے والے اٹھائی گیرے کے علاوہ بھی دہلی میں ہونے والے چند قتل میرے نام سے منسوب کیے گئے تھے۔ سڑک والے قتل کا سہرا میرے سر اس لیے بندھا تھا کہ اس کے ساتھی پرنس کو میں بے ہوش چھوڑ آیا تھا جو بعد میں پولیس کے ہتھے چڑھ گیا تھا۔ جس سے میرا دہلی میں وارد ہونا راز نہیں رہ سکا تھا۔ ٹیکسی ڈرائیور اور بِلّا بھی پولیس کی گرفت سے بچ نہیں سکے تھے۔ ان کی گرفتاری کا سارا کارنامہ ایک مسلمان تھانیدار کو جاتا تھا جس نے جان پر کھیل کر انھیں گرفتار کیا تھا۔ انھوں نے بھی خود کو بے قصور ثابت کرنے کوسارا الزام میرے سردھرا تھا کہ کس طرح میں نے ان سے ٹیکسی چھیننے کی کوشش کی تھی جو پولیس کی مداخلت سے ناکام ہو گئی تھی۔ ان کے بیان پر پولیس نے بھی ازلی بے حسی کا ثبوت دیا تھا ورنہ ان سے صرف اتنا ہی پوچھا جاتا کہ اگر بے قصور تھے تو پولیس کو دیکھ کر بھاگے کیوں تھے۔
میں عبدالمنان سے دوسرا اخبار لے کر پڑھنے لگا۔اس نے ” خوں خوار قاتل دہلی میں ۔“کی سرخی جمائی تھی ۔جس کے ذیل پہلے اخبار والی قصہ کہانی دہرائی گئی تھی البتہ اس محلے میں میری روپوشی کو بنیاد بنا کر لکھا تھا کہ میں اب تک اسی محلے میں ہو سکتا ہوں اور پولیس کو سارے محلے کا گھیراﺅ کرکے گھر گھر کی تلاشی لینے کا مشورہ دیا گیا تھا۔
یہ خبر عبدالمنان بھی پڑھ چکا تھا لیکن اس نے تبصرہ کرنے سے گریز کیا تھا۔
”چچا جان اگر اجازت ہو تو میں تھوڑی دیر آرام کر لوں۔“مطلوبہ خبریں پڑھنے کے بعد مجھے بیٹھنا فضول لگا تھا۔
وہ پُر خلوص لہجے میں بولے۔ ”ماریہ بیٹی نے تمھارے لیے بیٹھک میں بستر لگا دیا ہے۔“
اور میں بیٹھک میں آ کر سو گیا۔ رات بھرکی تھکن اور پھر پیٹ بھرنے کے بعد نیند کی مہربان دیوی نے مجھے آغوش میں لینے میں دیرنہ لگائی۔ میں کافی دیر سوتا رہا دن کا کھانا بھی نیند کی نذر ہو گیاتھا۔گھر میں ماریہ بچے کے ساتھ اکیلی تھی۔اسے غیر مرد کو جگانے کی ہمت ہی نہ ہوئی۔ سہ پہر کودفتر سے لوٹ کر اقبال نے مجھے جگایا۔ تب تک میری نیند پوری ہو چکی تھی اور میں خود کو چاق چوبند وتروتازہ محسوس کررہا تھا۔
”عمر بھائی آپ تو گھوڑے ،گدھے بیچ کر سو رہے ہیں او رشہر میں آپ کی تلاش زوروشور سے جاری ہے۔“
”نئی بات کرویار۔“میں انگڑائی لے کر اٹھ بیٹھا۔
”تازہ دم ہو جاﺅ،اچھی سی چائے پلاتا ہوں۔“
”یہ کام کی بات کی ہے۔“میں غسل خانے کی جانب بڑھ گیا۔ اندرمیرا لباس استری شدہ لٹکا ہوا تھا۔ نہا کر میں نے اپنے کپڑے پہنے اور باہر نکل آیا۔عبدالمنان بھی لوٹ آئے تھے۔ماریہ بہن نے ہمارے سامنے چائے لا کر رکھی۔عبدالمنان نے پیالی اٹھاتے ہوئے پوچھا۔
”بیٹااب کیا ارادہ ہے؟“
میں اطمینان سے بولا۔”کھانا کھا کر رخصت لوں گا۔“
” فی الحال آپ کا باہر نکلنا خطرے سے خالی نہیں ہے۔بہتر ہوتا چند ہفتے یہیں روپوش رہتے۔“
میں نے نفی میں سرہلایا۔”متفق ہوکر بھی ایسا نہیں کر سکتا۔“
”کیوں؟“انھوں نے حیرانی سے پوچھا۔
اور میں نے فوج سے بھاگنے اور گھریلو حالات پر مختصرالفاظ میں روشنی ڈال دی۔
عبدالمنان نے سمجھایا۔”آپ جلدی کرنے میں حق بہ جانب ہیں لیکن خیال رہے یہ شتابی ہمیشہ کی تاخیر میں نہ ڈھل جائے۔“
”کبھی کبھی دیر کرنا بھی باعث نقصان ہوتا ہے چچا جان۔“
”اللہ پاک آپ کی حفاظت کرے۔“وہ بادل نخواستہ راضی ہوئے۔
”عمر بھائی! ہمیں اپنے شہر اور پاکستان کے بارے کچھ بتاﺅ نا۔“ اقبال نے موضوع تبدیل کیا۔ اور میں انھیں دنیا کے سب سے پیارے ملک اور شہر کے بارے تفصیل سے بتانے لگا۔دوران گفتگو مغرب کی اذان ہونے لگی۔ باپ بیٹا تو مسجد کوچل پڑے اور میں وضو کرکے وہیں نماز پڑھنے لگا۔
ان کی واپسی پر پُر تکلف کھانا کھایاگیا۔کھانے کے بعد چائے کا دور چلا۔گپ شپ ہوئی۔اورعشاءکی اذان گونج اٹھی۔ وہ مسجد کی طرف چل پڑے۔میں نے وہیں جائے نماز بچھا دی تھی۔نماز پڑھ کرمیں جانے کو تیار ہو گیا۔وہ جونھی لوٹے میں نے اجازت مانگی۔
عبدالمنان نے خواہش ظاہر کی۔” آج کی رات تو میزبانی کا موقع دیتے۔“
”چچا جان دعاﺅں کی درخواست ہے۔“میں ان سے لپٹ گیا۔
معانقہ کر کے انھوں نے نوٹوں کی گڈی میری طرف بڑھائی۔”راستے میں کام آئیں گے۔“
”پیسے بہت ہیں البتہ آپ کی نشانی کے طور پر میں یہ رکھ لیتا ہوں۔“ میں نے نوٹوں کی گڈی سے ایک نوٹ اٹھا کر جیب میں رکھ لیا۔
اقبال نے گلے مل کر پوچھا۔” اگر کسی چیز کی ضرورت ہو توبلاجھجک مانگ لیں۔“
”بہت بہت مہربانی اقبال بھائی۔“ میں نے علیحدہ ہوکر ماریہ کے سر پر ہاتھ رکھا۔”بہنا!دعاکرناکہ بہنوں کی دعا میں بڑا اثر ہوتا ہے۔“
رات کے آٹھ بجنے والے تھے جب میں ان سے رخصت ہو کر گلی میں نکلا۔کوئی حتمی لائحہ عمل طے نہیں کر سکا تھا لیکن ایک جگہ ٹکنے سے مسلسل حرکت میں رہنا مناسب تھا۔
عبدالمنان کے گھر سے نکل کر میں اس گلی میں بڑھ گیا جہاں ڈرائیور اور بلے سے ٹاکرا ہوا تھا۔وہ گلی ایک بڑی گلی میں جا نکلی۔ایک جوان گلی کی نکڑ پر کھڑا تھا۔میرے نزدیک پہنچنے پرقریب ہوا....
”بھائی صاحب ماچس ہو گی؟“
میں نے نفی میں سرہلا کر آگے بڑھنا چاہا۔ایک دم میرامفلر کھینچتے ہوئے وہ بے تکلفی سے چیخا....
”ابے جیت ! یہ تُو ہے ....“
”شما چاہتا ہوں مہاراج۔“ سٹریٹ لائٹ کی روشنی میں میرا چہرہ دیکھ کر اس نے ندامت سے ہاتھ باندھے ۔ ”میں نے سمجھا کہ اپن کا بیلی اجیت ہے۔“
”کوئی بات نہیں۔“ خوش دلی سے مسکرا کرمیں مفلرلپیٹتے ہوئے آگے بڑھا،لیکن دو قدم لے کر ایک دم پلٹا ، اندازے کے مطابق وہ ہتھیار نکال رہا تھا ۔ جونھی اس کا ہاتھ پستول لیے جیب سے باہر نکلا،میں اپنے دائیں پاﺅں پر گھوم گیا تھا۔ بائیں ایڑی کی ضرب اس کے پستول والے ہاتھ پرلگی۔پستول اس کے ہاتھ سے چھوٹ کر دور جا گرا تھا۔
”عمرجان! کھیل ختم ہو چکا ہے ،تم چاروں طرف سے گھیرے میں ہو۔“ وہ شستہ انگریزی میں بولا تھا۔
جاری ہے
 

قسط نمبر8
ریاض عاقب کوہلر
”کھیل ختم نہیں شروع ہوا ہے دوست۔“ میرا بایاں مکّا بجلی کی سی سرعت سے اس کی ٹھوڑی پر لگا۔ وہ اچھل کر نیچے گرگیا، اٹھنے سے پہلے ہی میرے پاﺅں کی ٹھوکر اس کے سر میں لگی ، سرزورسے گلی کے پختہ فرش سے ٹکرایا اور اس نے ہاتھ پاﺅں ڈھیلے چھوڑ دیے ۔
میں دو تین قدم لے کر پستول اٹھانے کو جھکا ،تبھی فائر کا دھماکا سنائی دیا۔ شوں کی آواز کے ساتھ گولی میرے اوپر سے گزر گئی تھی۔پستول پکڑتے ہی میں اوندھا لیٹا ....دوافراد سامنے سے بھاگ کر آرہے تھے۔دو تین بار مسلسل لبلبی دبا کر میں نے ان کی حرکت کوتڑپنے میں تبدیل کیااور اٹھ کر بھاگ پڑا۔ ان کے تڑپتے پھڑکتے اجسام کو پھلا نگ کرمیں سیدھا بڑھنے لگا۔اسی وقت گلی کے سرے پر دو آدمی نمودار ہوئے وہ پچاس ساتھ گز دور تھے۔ان پر گولی ضائع کیے بغیر میں ذیلی گلی میں مڑ گیا ۔
بیس پچیس گز آگے جا کر وہ گلی دائیں طرف مڑ گئی۔ میں جونھی گھوما سامنے سے ایک مسلح شخص نظر وہ چند قدم ہی دور تھا۔ میں رفتار کم کرنے کے بجائے مزید بڑھائی اور ایک دم چھلانگ لگا دی ۔ میرے سر کی بھرپور ٹکرنے اس کی دو تین پسلیاں تو ضرور توڑ دی ہوں گی۔ منہ سے درد بھری چیخ نکلی اور وہ مرغ بسمل کی طرح پھڑکنے لگا۔ پستول ہاتھ سے چھوٹ کر دور جاپڑا تھا۔میں اٹھ کر دوڑ پڑا۔یقینامیں بری طرح پھنس چکا تھا۔ تمام گلیوں میں خفیہ اہلکار پھیلے تھے۔ کسی گھرمیں گھسنا بھی مفید نہ رہتا کہ وہ علاقے کو گھیر کر گھر گھر تلاشی لیناشروع کر دیتے۔ مجھے عبدالمنان کی بات نہ ماننے پر افسوس ہونے لگا۔ زیادہ نہیں تو دو تین دن ضرور انتظار کرنا چاہیے تھا۔جب گزشتہ شب میں اس محلے میں غائب ہوا تھا تو ایجنسیوں کا وہاں پھیل جانا حیران کن نہیں تھا۔ تمام گلیوں میں انھوں نے ایک دو، دو بندے چھوڑے تھے۔ میرا بڑا مسئلہ علاقے سے ناواقفیت تھی۔ وہ گلیاں کسی طلسمی عمارت کی بھول بھلیاں لگ رہی تھیں۔ رک کر کچھ سوچنا ناممکن تھا۔ مجھے دوڑتے بھاگتے ہی اس جال سے نکلناتھا۔
تھوڑی دور جا کر ایک گلی دائیں ہاتھ مڑ رہی تھی ۔ لیکن گھسنے سے پہلے مجھے گلی کے مخالف سرے پر دو سائے مڑتے نظر آئے ۔میں سیدھا بڑھنے لگا۔ وہ گلی کافی طویل تھی، دائیں بائیں چھوٹی چھوٹی کئی گلیاں نکل رہی تھیں۔موخّرالذکر گلی کے سرے پر نظر آنے والے سائے کسی بھی لمحے اس گلی میں طلوع ہو سکتے تھے اورمجھے پیچھے سے نشانہ بنانا انھیں دشوار نہ ہوتا۔ اس لیے میں بائیں ہاتھ آنے والی پہلی گلی میں مڑ گیا۔ وہ نہایت تنگ گلی تھی۔ جو آگے جا کر ایک کھلی وپختہ گلی میں جا نکلی۔
میں جونھی گلی میں داخل ہوا ایک کوٹھی عالی شان کوٹھی کے دروازے سے سفید رنگ کی کار نکلی اس کا رخ میری ہی جانب تھا۔کار کے رفتار پکڑنے سے پہلے میں قریب ہواور ایک دم اگلی نشست کا دروازہ کھول کر اندر ہو گیا۔ پستول کا رخ میں نے ڈرائیور کی کیا۔ مخدوش حالات میں بھی بہ مشکل حسین جلوے کی تاب لا سکا تھا۔اس کی موٹی موٹی آنکھیں حیرانی و خوف سے مزید پھیل گئی تھیں میں ان گہرائیوں میں ڈوبنے لگا۔کسی کسی کو اللہ پاک اتنا وافر حسن عطا کر دیتا ہے جو بیس پچیس عام لڑکیوں کو بھی پرکشش بنا کر باقی بچ جائے۔
”کک .... کون ہو تم۔“ اس نے ہکلاتی زبان سے پھول بکھیرے۔ شکل کی طرح آواز بھی بے مثال تھی۔ یوں لگاقریب ہی کوئل چہکی ہویاشہنائی نے سر بکھیرے ہوں ،کسی ماہر گویے نے رباب کی تاروں کو چھیڑ دیا ہویاشاہی دربار کی مغنیہ نے سر باندھا ہو۔سر جھٹک میں نے خود کو سنبھالاکہ ہوش گنوانے کا مطلب جان سے جانا تھا۔
”سوال نہیں بس سیدھا چلتی جاﺅ۔“
”مم.... مگر....“
”بکواس بنداور آگے بڑھو۔“ اس کی سنے بغیر میںنے پستول لہرایا۔
یاقوتی ہونٹ بھینچتے ہوئے اس نے کار آگے بڑھا دی۔ میری خوش قسمتی کہ کوئی دشمن بھی اس گلی میں نظر نہیں آیا تھا۔ کار تھوڑا سا آگے بڑھی، مڑ کر دیکھنے پر چھوٹی گلی سے دو افراد پستول لہراتے برآمد ہوئے اور کار پر سرسری نظر ڈال کر گلی عبور کر کے بغلی گلی میں گھس گئے ۔اس وقت عقب میں ایک اور گاڑی کی ہیڈلائٹیں نظر آئیں۔میں گہرا سانس لے کر سیدھا دیکھنے لگا۔
دو مشکوک بندوں کو دیکھ کر میں نے اندرونی بتی بجھا دی تھی ۔اب ہم باہر سے نظر نہیں آرہے تھے۔ گلی میں دو تین اور کاریں بھی متحرک نظر آئیں ۔ وہ رونق میرے حق میں بہتر تھی۔ جلد ہی ہم سڑک پرنکل آئے۔ تھوڑا آگے جاتے ہی پولیس کی دو تین گاڑیاں سائرن بجاتے ہوئے پاس سے گزر گئیں۔
”شاید یہ بتانے کی ضرورت تو نہیں کہ شور مچانے کا نتیجہ تمھاری موت کی صورت نکلے گا۔“ پولیس کی گاڑیاں دیکھ کر میں نے اسے تنبیہ کرنا ضروری سمجھاتھا۔
سڑک پر گاڑیوں کی آمد ورفت جاری تھی۔ ہماری کار درمیانی رفتار سے آگے بڑھتی رہی۔ میں منظم گھیراﺅ سے بچ نکلا تھا۔ دشمن نے چالا کی و عیاری سے اپنے آدمی پورے علاقے میں پھیلائے تھے۔اللہ پاک کی مدد شامل حال رہی تھی ورنہ میری گرفتاری میں کوئی شبہ نہیں تھا۔ اپنی بے وقوفی پر بہت غصہ آیا۔گزشتہ شب پولیس والوں کے آگے بڑھ جانے پر مجھے وہ محلہ چھوڑ دینا چاہئے تھا۔ خفیہ ایجنسیاں پوری قوت سے میرے خلاف سرگرم تھیں۔ذرا سی بے احتیاطی جان لیوا ثابت ہو سکتی تھی۔ میری مشکلات میں علاقے سے ناواقفیت اور دشمن کا میری شکل و صوررت پہچانناسرِ فہرست تھیں۔ مجھے بہت زیادہ احتیاط کی ضرورت تھی اور دشمن کی نفسیات کومدنظر رکھنے میں عافیت تھی۔ میں اندھی کھائی کے کنارے چل رہا تھا ایک غلط قدم بھی کھائی کے اندر گرانے کو کافی تھا۔ دل ہی دل میں خود کو سرزنش کرکے ایسی غلطی نہ دہرانے کا عہد کیا۔
لیکن ضروری نہیں تھا کہ کوئی غلطی ہی مجھے گرفتار کراتی۔دشمن اپنی چالا کی اور عیاری سے بھی مجھ پر قابو پاسکتاتھا۔
معلوم نہیں کار کارخ کدھر تھا۔ لڑکی سے پوچھنا بھی نامناسب تھا کیوں کہ میں نہیں چاہتا تھا اسے علاقے سے میری ناواقفیت کے بارے کچھ معلوم ہو۔
وہ اچانک بولی۔’اگر تاوان کے لیے مجھے اغوا کیاہے توتمھیں مایوسی ہو گی۔پتا جی کومجھ سے زیادہ دولت عزیز ہے۔“
” پیسے نکلوانا جانتا ہوں۔“ میں نے اس کی غلط فہمی دور کرنے کی کوشش نہیں کی تھی۔
اس نے جھجکتے ہوئے پیش کش کی۔” اگرمجھے چھوڑ دو تو ڈیڑھ دو لاکھ کے بہ قدر میرے اکاﺅنٹ میں پڑے ہوں گے۔“
میںنے مصنوعی قہقہہ بلند کیا۔ ”ڈیڑھ دو لاکھ کے لےے تمھیں کون چھوڑ سکتا ہے۔“
وہ میری ذومعنی بات سن کر جھینپ گئی تھی۔
” پستول جیب میں رکھ لو،یہ نا ہو غلطی سے چل جائے ۔“
میں نے کہا۔” ڈر لگ رہا ہے تو جیب میں رکھ لیتا ہوں لیکن اسے نکالنے میں وقت نہیں لگتا۔“
پستول کوٹ کی جیب میں رکھ کرمیں سیدھا ہو کر بیٹھ گیا۔ اس کے چہرے کو مسلسل دیکھنے پر دماغ میں الٹے سیدھے خیالات گردش کرنے لگے تھے۔ وہ خطرناک حد تک حسین و پرکشش تھی۔اور سونے پر سہاگا یہ کہ وہ مدہوش کن خوش بو سے نہائی ہوئی تھی۔
پستول جیب میں رکھے مجھے ایک دومنٹ ہی گزرے تھے کہ اچانک ہی اس نے بریک لگائی۔ میرا سر ڈیش بورڈ سے ٹکرایا۔میں ہاتھ ٹیک کر سیدھا ہو رہا تھا کہ گردن پر سخت ضرب لگی۔گویا سب کچھ منصوبے سے ہورہا تھا۔گردن جسم کانازک حصہ ہے،لیکن موٹے مفلر نے مجھے چوٹ سہارنے میں مدد دی تھی۔
اس کے نرم ، نازک و ملائم دکھنے والے ہاتھوں میں خاصا دم تھا۔ اس سے پہلے کہ وہ دوسری ضرب لگاتی میں جھٹکے سے سیدھا ہوا ، اس کی چاپ میری ران پر لگی تھی۔میں نے فوراََ اس کا داہنا ہاتھ پکڑلیا
اس نے کوشش جاری رکھی اور اپنے بائیں ہاتھ سے میرے چہرے کو نشانہ بنانے کی کوشش کی ۔پہلے میں بے خبری میں مار کھا گیا تھا۔اب مار کھانے کا مطلب میری نااہلی ہوتا۔ دوسرا ہاتھ بھی گرفت میں لیتے ہوئے میں نے زور سے دبایا ، اس کے منہ سے دردبھری کراہ نکلی۔
”چھوڑو مجھے جنگلی، سو¿ر،کمینے....“اس کے منہ سے مغلظات کا لاوا ابل پڑا۔ اتنے خوب صورت ہونٹوں سے ایسے غلیظ الفاظ سننے کاپہلاموقع تھا۔
میں نے بائیں ہاتھ کا بھرپور تھپڑ اس کے چہرے پر جڑ دیاتھا۔ قینچی کی طرح چلتی زبان ساکن ہو ئی اور وہ لہرا کر سیٹ پر گر گئی۔
میں غصے سے دھاڑا۔ ”آرام سے چلو اس کے بعد غلطی کی گنجائش نہیں ہو گی۔ تمھاری گردن توڑنے کو مجھے پستول کی ضرورت نہیں ہے۔“
وہ لرزتی ہوئی اٹھی اور سٹیرنگ پرسر رکھ کررونے لگی۔ میں سخت نادم ہوا۔ اس وقت غنڈے اور غلط شخص کے روپ میں تھا اور ایسے بندے سے جان چھڑانے میں وہ حق بہ جانب تھی۔ مجھے شروع ہی سے اسے حقیقت بتا دینا چاہیے تھی۔
”معافی چاہتا ہوں، تمھیں اغواءنہیں کر رہا ۔ میں تو خود دشمنوں سے بھاگتا پھر رہا ہوں ۔اور پلیز اپنا موڈ ٹھیک کر لو۔“
اس نے سسکی بھری۔ ” جھوٹ بول رہے ہو۔“
”سچ کہہ رہا ہوں، محفوظ مقام پر پہنچتے ہی تمھیں چھوڑ دوں گا۔“
”کھاﺅ بھگوان کی قسم۔“
”اللہ پاک کی قسم یہ سچ ہے۔“
وہ حیران ہوئی ۔”تم مسلمان ہو۔“
”الحمد ﷲ ۔“میں نے فخر سے چھاتی چوڑی کی۔
”کہاں جاﺅ گے؟“اس کے لہجے میں مفاہمت در آئی تھی۔
”دہلی سے قریب ترین شہر کون سا ہے۔“
اس نے الجھن آمیز لہجے میں پوچھا۔” کس جانب،دہلی سے تو سونی پت،فرید آباد، بھائیوادی، غازی آباد، سکندر آباد وغیرہ قریبی قصبے اور شہر ہیں۔“
” مجھے کہاں تک لے جا سکتی ہو ؟“ میں نے دانستہ ممبئی کی سمت کا تذکرہ نہ کیا۔تاکہ کسی کو میرے سفر کی سمت معلوم نہ ہو۔
وہ معذرت خواہانہ لہجے میں بولی۔”پتا جی میری گمشدگی پر سخت پریشان ہوں گے۔“
میں نے منہ بنایا۔ ” گھر سے نکلے تمھیں گھنٹا بھی نہیں ہوا۔“
” اپنی کوٹھی سو دو سو گز دور ایک سہیلی کے گھر جانا تھا اور وہاں جاتے ہی پتا جی کو خیریت سے آگاہ کر دیتی۔ اب پتا جی وہاں گھنٹی کر کے دریافت کر چکے ہوںگے اور جواب منفی میں پا کر متفکر ہوں گے۔“
”میرا خیال ہے تمھارے ابو کافی امیر ہیں۔“
وہ متبسم ہوئی۔”میرا بھی یہی خیال ہے۔“
”تو تمھارے ساتھ محافظ کیوں نہیں رکھتا۔“
”ایک نہیں دو دو محافظ ہوتے ہیں۔غلطی سے آج اکیلی نکل پڑی،سوچا قریب ہی تو جانا ہے۔“
میں نے پوچھا۔”تمھارے دشمن کون ہیں؟“
”میر ے نہیں پتا جی کے دشمن ہیں۔“
”دشمنی کی وجہ؟ “
”کچھ کاروباری رقابت اور کچھ مزدور برادری مطالبے پورے نہ ہونے پر دشمنی پر کمر بستہ ہے۔“
میں متعجب ہوا۔”مزدوروں کی دشمنی میری سمجھ سے باہر ہے۔“
اس نے وضاحت کی۔”پتا جی کے دو کارخانے ہیں۔مزدوروں اور مالک کی ازلی چپلقش چلتی رہتی ہے۔“
” مالک ، مزدور کی چپلقش میں مالک کی اولاد کو کیا خطرہ درپیش ہوگا۔“میری حیرانی دور نہیں ہوئی تھی۔
”پتا جی کی انتظامیہ کے ہاتھوں دو تین مزدوروں کا قتل ہو گیا تھا۔ پتا جی خون بہا کی ادائی سے انکاری ہیں کہ شر پسند عناصر کو شہہ نہیں دینا چاہتے۔ یہ چھوٹی سی غلطی بڑی دشمنی کا سبب بن گئی ۔“
میں طنزیہ انداز میں بولا۔”یہ چھوٹی ہے۔“
” جب دنگا فساد ہو گا تو ہلاکتیں بھی ہوں گی، کسی کی کرنی کا پھل کارخانہ مالک کیوں بھگتے۔“
ہم ایک معروف ہوٹل کے سامنے سے گزر رہے تھے جس کے باہر ”راک لینڈ ہوٹل“ کا بڑا سا بورڈ لگا تھا۔جو رنگ برنگی روشنیوں سے جگمگا رہا تھا۔ جیسے ہی ہماری کار گیٹ کے سامنے سے گزری ایک کھلی چھت والی جیپ ہوٹل سے باہر نکل رہی تھی۔میری نظر اتفاقاً جیپ ڈرائیور کے ساتھ بیٹھے شخص پر پڑی جو کار کو دیکھ کرنہ صرف چونکا تھا بلکہ اس نے ڈرائیور کو بھی متوجہ کر کے کار کی جانب اشارہ کیا تھا۔
دماغ میں خطرے کی گھنٹی بجی اور ہاتھ جیب میں رینگ گیا۔لیکن پھر مجھے اپنی سوچ پر ہنسی آئی کہ کار کی اندرونی روشنی بجھی تھی اور اندھیرے میں وہ مجھے کیسے پہچان سکتا تھا، جبکہ میرے چہرے پر مفلر بھی لپٹا تھا۔
میں لڑکی کی طرف متوجہ ہوا۔”غلطی اگرمزدوروں کی تھی تب بھی سیٹھ صاحب کو کچھ نہ کچھ رقم ادا کر دینا چاہئے تھی۔یوں فضول دشمنی سے جان چھوٹ جاتی۔“
”دشمنی کے اور بھی کئی اسباب ہیں۔پتا جی تمام اسباب ختم کرتے رہے تو دونوں کارخانوں سے ہاتھ دھو بیٹھیں گے۔“
میرا طنزیہ قہقہ گونجا۔”ماشاءاﷲ اچھی تربیت دی ہے پتا جی نے ۔“
اس نے تکرار سمیٹی۔”تمھیںکبھی مطمئن نہیں کر سکوں گی۔اس لیے یہ بتاﺅکہاں اترنا ہے۔“
میں نے کہا۔”کسی دوسرے شہر تک نہیں پہنچانا تو یہیں اتار دو۔“
”دھنے واد۔“ممنونیت سے کہتے ہوئے اس نے رفتار کم کی۔تبھی ایک جیپ آگے بڑھ کر سڑک پر آڑی ترچھی رک گئی۔ وہی جیپ تھی جو مجھے ہوٹل کے سامنے نظر آئی تھی۔
وہ جھلاتے ہوئے بولی ۔”اب یہ کون کمینے ہیں۔“
جیپ سے نکل کر تین مسلح افراد بھاگتے ہوئے قریب آئے اور کار کو گھیرے میں لے لیا۔ایک نے میری کنپٹی پر رائفل تانی جبکہ دوسرے نے لڑکی کے سر پر نال رکھ دی تھی۔
”کک ....کون ہو تم،کیا چاہیے؟“اس نے ہکلا تے ہوئے اندرونی بتی جلائی۔
اسی وقت ڈرائیورکے قریب بیٹھا ہوا شخص ڈرامائی انداز میں اترا۔جونھی کار کی ہیڈ لائیٹ کی روشنی میں اس کا چہرہ نظر آیا،لڑکی بے ساختہ بولی۔”تو یہ کمینہ ہے۔“
وہ قریب آکر بولا۔ ”بے چاری شیتل.... آگئی ہوناقابو میں ۔چاہنے والوں سے کب تک بھاگا جا سکتا ہے۔“
شیتل نے دانت پیسے۔”مسٹر انیل !یہ حرکت تمھیں مہنگی پڑے گی ۔“
اس کا استہزائی قہقہ بلند ہوا۔”غالباً ہیجڑے نما محافظ پراترا رہی ہو،جو خود رو رو کر جان بخشی کی بنتی کرنے والا ہے۔“
شیتل نے للکارا”اگر خود پراتنا ہی وشواس ہے تو میں لڑکی ہو کر تمھیں مقابلے کی دعوت دیتی ہوں۔“
آنکھ میچتے ہوئے وہ ڈھٹائی سے ہنسا۔”ضرور، لیکن اپنے ٹھکانے پر جا کرتاکہ مقابلے کے بعد تمھاری چوٹوں کی مالش بھی کر سکوں۔“ یہ کہتے ہی اس نے ایک دم بوتل نکال کر سپرے کیا۔میری چھٹی حس نے خطرے کا الارم بجایا اور میں نے سانس رولیا، لیکن یہ تدبیر کام نہ آئی تھی۔میرا دماغ اندھیروں میں ڈوب گیا تھا۔
lll
ہوش آنے پر خود کو زمین پر لیٹے پایا۔ سرگھمانے پر شیتل بھی زمین پربکھری نظر آئی۔ اس کا لباس بے ترتیب ہو رہا تھا۔ اس بے ترتیبی میں دیکھنے والوں کی مت مارنے کی کئی وجوہات چھپی تھیں۔حسنِ خوابیدہ کا الگ ہی جادو ہے۔ میرا دل عجیب انداز میں دھڑکنے لگا،مجبوراََنظر ہٹا کر دلکش نظارے سے بصارتوں کو محروم کرنا پڑا۔ سعدیہ کے بعد شیتل پہلی لڑکی تھی جسے دیکھ کر میری دھڑکنیں بے ربط ہوئی تھیں۔
میں اپنا جائزہ لینے لگا۔ پستول غائب تھے۔ نیلم والا پستول میں نے کلائی کے ساتھ باندھا ہوا تھا وہ بھی انھوں کھول لیا تھا۔ پیسوں اور گھڑی کو بھی معاف نہیں کیا تھا۔
وہ شیتل کے دشمن تھے۔اس کا انیل سے ہونے والا مکالمہ ظاہر کر رہا تھا کہ وہ پرانے واقف کار تھے۔اور ان کے درمیان دشمنی کی وجہ شیتل کا باپ نہیں تھا۔
ایک دفعہ تو جی میں آیاشیتل کو اس کے حال پر چھوڑ کر اپنا اُلّو سیدھا کروں اورغنڈوں سے سودہ کر کے دہلی سے نکلنے کی کوشش کروں، مگر پھر اس سوچ پر ندامت ہوئی۔ وہ بے چاری میری وجہ سے پھنسی تھی اسے غنڈوں کے رحم و کرم پرچھوڑنابہت بڑی زیادتی بلکہ ظلم تھا۔ میں نے سر جھٹک کرگھٹیا خیالات سے پیچھا چھڑایا اور دیوار سے ٹیک لگا کر بیٹھ گیا۔ اسی وقت شیتل کے ہونٹوں سے کراہ نکلی اور اس نے کسمسا کر آنکھیں کھول دیں چند لمحے وہ چھت کو تکتی رہی اور پھر دونوں ہاتھوں سے سر تھام کر اٹھ بیٹھی۔چند لمحوں بعدوہ میری طرف متوجہ ہوئی ۔
”غالباً تم ....“
میں نے قطع کلامی کی۔ ”بالکل وہی ہوں جس کے کارن تم اس حالت کو پہنچی ہیں۔“
وہ ہنسی، عجیب خمار آلودمسکراہٹ تھی، آنکھوں میں سرخ ڈورے نظر آرہے تھے جیسے ساری جاگتی رہی ہو۔ میرے ذہن میں بے ساختہ کسی دل جلے کا شعر گونجا....
اس کی آنکھوں میں سرخ دھاگے ہیں
رات کس کے نصیب جاگے ہیں
دل چاہا اسے سنا دوں مگر ہمت نہ ہوئی ۔
وہ فلسفیانہ لہجے میں بولی۔”تمھارا دوش (قصور)نہیں ہے، میری قسمت ہی یہی تھی۔“
میں نے پوچھا۔”کبھی شراب پی ہے ؟“
وہ الجھن آمیز لہجے میں بولی۔”دو تین بار اتفاق ہوا ہے لیکن اتنی نہیں پی کہ مدہوش ہونا پڑے۔ ویسے تم کیوں پوچھ رہے ہو؟“
” لگتا ہے کہ شراب پی کر تم بالکل ایسے ہی لگتی ہو گی۔“
”ہا ....ہا.... ہا“ میرے کانوں میں جلترنگ بجے۔
میں رخ موڑ کر بے ربط ہوتی دھڑکنوں کو سنبھالنے لگا۔سعدیہ کے علاوہ بھی کوئی اتنا پیارا ہنس سکتا ہے کہ دھڑکنیں بے قابوہو جائیںیہ مجھے پہلی بار معلوم ہوا تھا۔
اس نے موضوع تبدیل کیا۔” اپنا تعارف ہی کرا دیں۔ میرے نام کا پتا تو چل گیا ہو گا۔ پتا جی کا نام سیٹھ ہری چرن داس ہے اور میں ان کی اکلوتی بیٹی ہوں۔“
میں نے جان چھڑائی۔” نام اسلم ہے اور کہانی وہی ہے جو کسی بھی حالات کے مارے شخص کی ہو سکتی ہے۔“
”اداکاری اچھی کرلیتے ہو عمر جان۔“اس نے” جان “کی جا کولمبا کھینچا تھا۔
میں کھسیاناہوا۔ ”معذرت ،لیکن مجبوری ہے ہر شخص کے سامنے اپنی اصلیت نہیں کھول سکتا۔“
”میں بھی عوام کی فہرست میں ہوں۔“
میرے منہ سے نکلا۔”ایک اجنبی لڑکی کوخاص سمجھنا دماغی فتور ہی ہو سکتا ہے۔“ بعد میں فقرے کی تلخی کا احساس ہو ا لیکن کمان سے نکلا تیر اور زبان سے نکلے الفاظ واپس نہیں آتے۔
وہ نادم ہوئی۔”معذرت خواہ مجھے ہوں بے تکلف نہیں ہونا چاہیے تھا۔“
میں نے بات سنبھالی۔ ”مذاق کر رہا تھا۔“
اس نے جوابی چوٹ کی۔”اجنبی لڑکی سے مذاق تمھاری پٹائی بھی کرا سکتا ہے۔“
چپ سادھنے میں عافیت نظر آئی۔دیوار سے سر ٹیک کر میں نے آنکھیں بند کر لیں۔
”اے،منہ میں گھنگنیاںکیوں ڈال لی ہیں۔“ وہ زیادہ دیر خاموش نہ رہ پائی۔
میں نے جواب نہ دیا۔
وہ شوخی سے بولی۔”مسٹر جان !....“
”میرا نام عمر جان ہے۔“
اس نے قہقہ بلند کیا۔” میری جان نہیں، صرف جان کہا ہے۔“
میں بھی ترکی بہ ترکی بولا۔”مطلب ایک ہی بنتا ہے۔“
”غلط فہمیاں پالنے والے گھاٹے میں رہتے ہیں۔“
میں نے فضول تکرار سمیٹی۔”انیل تمھارا پرانا واقف کار لگتا ہے۔“
”کمینہ،یونیورسٹی میں میرے ساتھ پڑھتا تھا۔باپ سگریٹ پان کا کھوکا چلاتا ہے اور موصوف کو شیتل ہری چرن داس سے عشق ہو گیاہے ۔ ایک دن پتا جی سے میرا رشتہ مانگے پہنچ گیا۔ پتا جی کا خیال تھا اس کی آمد میری رضامندی سے ہوئی ہے۔انھوں نے مجھے بلایااور ان کے سامنے جناب کو خوب بے عزت کیا۔ پتا جی نے اسے دھکے دے کر گھر سے نکال دیا۔ دو ہفتے پہلے کاواقعہ ہے ۔“
میں ہنسا۔”یقینا فلموں کا رسیا ہوگا تبھی توبراہ راست سیٹھ صاحب تک رسائی حاصل کی۔“
وہ شرارت سے بولی۔”اب تم بھی کچھ پھوٹواخبارتو تمھارے کارناموں سے بھرے پڑے ہیں۔“
میں نے منہ بنایا۔”کیا تم اخبارات کے حقائق سے ناواقف ہو۔“
”تبھی تو پوچھا۔“
بہت سی باتیں حذف کر کے میں نے مختصراً اپنی کہانی دہرا دی۔ وہ اشتیاق سے سنتی رہی۔جونھی میں خاموش ہواپوچھنے لگی۔
”اب کیا ارادہ ہے؟“
میرے جواب دینے سے پہلے قدموں کی چاپ ابھری جو دروازے کے سامنے رک گئی۔ دروازہ کھول کر ایک شخص ٹرے اٹھائے اندر آیا۔ اس کے عقب میں دومسلح افرادتھے ۔
وہ ٹرے ہمارے سامنے رکھ کرواپس مڑ گیا۔میں کھانے کی طرف متوجہ ہوگیا جو ساگ کے سالن اور تندور ی روٹیوں پر مشتمل تھا۔
میں نے کہا۔ ” مطلب دوپہر ہو گئی ہے جو یہ کھانا دے گئے ہیں ۔“
اس نے کندھے اچکائے۔”شاید۔“
”آجاﺅ۔“ میں ٹرے کے قریب ہوا۔
” بھوک نہیں ہے۔“اس نے انکار میں سر ہلایا۔
میںنے اصرار کیا۔”تھوڑا سا تو کھالو۔“
اس نے ایک نوالہ لیا اور پیچھے ہو کر بیٹھ گئی۔ مجھے اچھی خاصی بھوکلگی تھی ،تین چار روٹیاں کھا گیاتھا۔
اس نے حیرانی سے پوچھا۔”آپ کو ایسی حالت میں بھی بھوک لگتی ہے؟“
میں فلسفیانہ لہجے میں بولا۔”کمانڈوز ماحول کو نہیں ضرورت کو مقدم رکھتے ہیں۔“
”نہیں ،بلکہ مردوں کو صرف جان کا خطرہ ہوتا ہے جبکہ عورت کو اس کے ساتھ عزت لٹنے کا بھی خوف ہوتا ہے جو موت سے بھی بھیانک سزا ہے۔“
آزاد خیال لڑکی کے خیال مجھے حیران کر گئے تھے۔ اسی وقت دروازہ کھول کر ایک دبلا پتلا شخص کرسی اٹھائے اندر آیا۔ کرسی فرش پر رکھ کر اس نے برتن سمیٹے اورباہر نکل گیا۔ اس کے ہمراہ آنے والے دومسلح افراد دروازے کے دائیں بائیں کھڑے ہو گئے۔کافی چوکس دکھائی دے رہے تھے۔
چند لمحوں بعد انیل آنکھوں پر سیاہ چشمہ لگائے داخل ہوا اور بڑے انداز سے کرسی پر بیٹھ گیا۔
شیتل کو گھورتے ہوئے وہ استہزائی انداز میں بولا۔”بے چاری سیٹھ زادی ،کس بے چارگی سے زمین پر پڑی ہے۔“
شیتل غصے سے بولی۔”حوالات میں بھی چارپائی نہیں ملتی جو تمھاری آخری منزل ہے۔“
اس کا استہزائی قہقہہ گونجا۔ ” رسی جل گئی پر بل نہیں نکلے۔“
شیتل چلائی۔”تمھیں حساب دینا پڑے گامسٹر۔“
اچانک تیز ہارن سنائی دیا،انیل چونکتاہوا بولا۔۔”میرا خیال ہے رگھو دادا واپس آگیا ہے،گیٹ کھول دو۔“ ایک آدمی سر ہلاتا ہوا کمرے سے باہر نکل گیا۔انیل نشست چھوڑ کرمنتظر نظروں سے دروازے کوگھورنے لگا۔تھوڑی دیر بعد ایک دیوقامت شخص تیزی سے چلتا ہوا اندرآیا۔وہ رگھو دادا تھا۔ چہرے پر زخموں کے تین چار نشان تھے ،نہایت کریہہ اور بھیانک چہرہ تھا۔ عام لوگ تو اسے دیکھ کر ہی کانپ جاتے ہوں گے۔ وہ قد اور جسامت مجھ سے دگنا لگ رہا تھا۔
وہ انیل کو مخاطب ہوا۔ ”بابو !وہ چڑی مار سیٹھ تاوان دینے پر تیار نہیں ہے۔“
انیل اعتماد سے بولا۔ ”دادا آپ فکر نہ کریںمیں اسے جلد ہی راضی کر لوں گا۔“
اس نے سرسری نظر مجھ پر ڈالی اور پھر اس کی نگاہ شیتل پرجا ٹھہری ۔ شیتل کودیکھتے ہی اس کی سانپ جیسی چھوٹی آنکھوں میں حیوانی چمک لہرائی تھی۔ شیتل بے ساختہ سمٹ گئی تھی۔
وہ شیتل کی طرف بڑھا۔ ” سالے سیٹھ کورگھو دادا سے پنگا لینامہنگا پڑے گا۔“اس نے شیتل کا بازو پکڑا اور کھینچ کر ساتھ لے جانے لگا۔
”چھوڑ و مجھے کمینے .... کتے۔“۔وہ چلائی۔
انیل منمنایا۔”رگھو دادا آپ مجھے ایک ہفتے کی مہلت تو دیں۔“
”رگھو دادا ،تاوان لینے کو منتیں کرنے کے بجائے اڑی کرنے والے کو سبق سکھانے میں دلچسپی رکھتا ہے۔“ وہ شیتل کو کھینچتا ہوا دروازے کی طرف بڑھا۔ میں نے بے ساختہ پہلو بدلا،رگھو کے ایک چیلے نے رائفل تانتے ہوئے دھمکی دی۔
”حرکت نہیں۔“میں ساکن ہو گیا تھا۔
”جان !....مجھے اس وحشی سے بچاﺅ۔“ ہاتھ چھڑانے کی ناکام کوشش کے بعد وہ مجھے پکارنے لگی۔
انیل گھبراتے ہوئے آگے بڑھا۔ ”رگھو داداآپ نے شیتل کو ہاتھ نہ لگانے کا وعدہ کیا تھا۔“
وہ سانڈ دروازے کے قریب پہنچ گیا تھا،انیل کی پیش قدمی پر ایک دم مڑااور دائیںہاتھ کا بھرپور تھپڑاسے جڑ دیا۔وہ اُڑتا ہوا میرے قدموں میں آگرا ،رگھو کے ایک ہی تھپڑ نے اسے بے ہوش کر دیا تھا۔
”اسے باہر پھینک دو۔“ اطمینان بھرے انداز میں کہتے ہوئے وہ چیختی چلاتی شیتل کو گھسیٹتا ہوا نکل گیا۔
اس کے آدمی انیل کو گھیسٹ کر باہر نکل گئے۔دروازہ انھوں نے بند کر دیا تھا۔
میری سماعتوں میں شیتل کی چیخیں گونج رہی تھیں۔وہ بھگوان کے واسطے دے کرجان بخشی کی منتیں کررہی تھی۔ میرا خون کھولنے لگا۔میں مٹھیاں بھینچ کربے چینی سے ٹہلنے لگا۔وہ میری وجہ سے اس جنجال میں پھنسی تھی۔اس کی مدد نہ کرنا ناانصافی و بزدلی ہوتی۔بالفرض میں ذمہ دار نہ بھی ہوتا تب بھی ایک پاکستانی فوجی کسی لڑکی کو بے عزت ہوتے نہیں دیکھ سکتا تھا۔سیٹھ زادی ہونے کے باوجود وہ مظلوم ،بے بس اور کمزور حوازادی تھی۔
میں دروازے کی طرف بڑھا، وقت بہت کم تھاکہ رگھو دادا پر شیطان سوارتھااور شیتل کو پامال کرنے میں اس نے دیر نہیں لگانی تھی۔یوں بھی کم بخت اتنی حسین ،پرکشش و جاذب نظر تھی کہ بڑے بڑے پارساﺅں کی مت مار سکتی تھی،رگھو دادا تو غلیظ کردارکا گھٹیا انسان تھا۔شیتل کو دیکھ کر اس نے انیل سے کیے وعدے وعید بھی پسِ پشت ڈال دیئے تھے۔
کمرے کا دروازہ مضبوط لکڑی کا تھا۔اسے توڑ نا آسان نہ تھا،لیکن ایک بات میرے حق میں جاتی تھی۔عام اصول سے ہٹ کر دروازے کے پٹ باہر کو کھلتے تھے۔اندر سے دھکا مار کر کنڈی توڑناممکن تھا۔ زنجیر دروازے کے بیچوں بیچ لگی تھی جو میری جدوجہد و مزید آسان کرنے والی تھی۔
چند قدم پیچھے لے کر میں نے دوڑتے ہوئے بائیں کندھے کی ضرب پٹوں کے درمیان میں لگائی۔ میرے جنونی دھکے سے زنجیرٹوٹ گئی تھی۔میں لڑکھڑاتا ہوا باہر آگیا۔ شیتل کی چیخیںدائیں طرف کے تیسرے کمرے سے آرہی تھیں۔ میں ادھر بھاگ پڑا۔چند قدموں کا فاصلہ میں نے دو تین سیکنڈوں میں طے کیا تھا۔ شیتل کی خوشی قسمتی کہ حیوانی جذبات میں اندھے رگھو دادا کوکمرے کا دروازہ بند کرنا بھول گیا تھا۔ ممکن تھا ایسا اس نے جان بوجھ کر کیا ہو آخر اس کے شغل میں مخل ہو نے کی جرا¿ت کون کر سکتا تھا۔
میں بگولے کی طرح اندر داخل ہوا۔ دیوقامت کر یہہ شکل رگھو دادا کے بدن پر صرف جانگیہ نظر آرہا تھا، جبکہ شیتل مادر زاد برہنہ کمرے کے کونے میں سمٹی ہاتھوں سے خود کو چھپانے کی ناکام کوشش کر رہی تھی۔ رگھو داد کے جسم پر ریچھ کی طرح لمبے لمبے بال تھے۔وہ شیتل کے چیخنے چلانے اور منت زاری سے لطف اندوز ہوتا ہوا آگے بڑھ رہا تھا۔وہ منظر دیکھ کر لگ رہا تھابلے نے ننھی سی چوہیا کوگھیرکر اس کے بھاگنے کے تمام رستے مسدود کر دیئے ہوں۔
مجھے دیکھتے ہی شیتل نے دہائی دی۔
”جان اپنے اللہ کے واسطے مجھے اس درندے سے بچاﺅ۔“
میں بغیر للکارے اس پر حملہ کرنے والا تھا۔ گو یہ مردانگی کے خلاف تھا،مگر ایک لڑکی کی عزت بچانے کو مجھے یہ طعنہ گوارا تھا۔لیکن شیتل نے بھانڈا پھوڑ دیا۔
مستی میں جھومتارگھو پھرتی سے مڑا۔ اس کا کریہہ چہرہ بگڑ گیا تھا۔ اسے ہوشیار پا کر میں الٹے قدموں پیچھے ہٹا۔
رگھو کا استہزائی قہقہ بلند ہوا۔شیتل بھی یہی سمجھی میں بھاگنے کے چکر میں ہوں۔وہ ملتجی ہوئی۔
”جان !مجھے چھوڑ کر مت جاﺅ۔“
میں نے دروازہ کنڈی کیاتاکہ عقب محفوظ رہے۔ورنہ رگھو دادا کے مسلح چیلوں کے پہنچنے پر مجھے بے بس ہونا پڑتا۔دروازہ بند کر کے میں رگھو دادا کی طرف متوجہ ہواوہ ایک سخت حریف کی طرح سامنے کھڑامجھے کینہ توز نظروں سے گھور رہا تھا۔ ایک مرتبہ پھر مجھے زندگی و موت کا معرکہ در پیش تھا۔ رگھو دادا کو زندگی کی قید سے آزاد کر کے ہی میں شیتل کی عزت بچا سکتا تھا۔
lll
وہ بھیانک آواز میں گرجا۔”بالک !بہت بری موت کا چناﺅ کیا ہے۔“
اس وقت دروازے پر دستک ہوئی ۔گھبرائی ہوئی آواز میں کہا گیا۔ ” رگھو دادا!.... قیدی بھاگ گیا ہے۔“
رگھو کا پارہ بلند ہوا۔”تمھارا باپ ادھر ہی ہے۔“
اسے گرگوں کے ساتھ مصروفِ گفتگو دیکھ کر میںنے جیکٹ و قمیص اتار دی کہ اس دیو کے ساتھ لڑتے ہوئے جس تیزی و پھرتی کی ضرورت تھی اس یہ رکاوٹ بنتیں۔
”دادا ہمارے لیے کیا حکم ہے؟“ سہمی ہوئی آواز میں پوچھا گیا۔
وہ دھاڑا۔” اس کی ہڈیاں توڑنے کو رگھو دادا کو کسی کتے کی مدد نہیں چاہئے۔“
میں نے شیتل کو گھورا، کپڑے کا تار تک اس کے بدن پر موجود نہیں تھا رگھو نے لباس پھاڑ کے اس کے جسم سے علاحدہ کیا تھا۔ کندن بدن روشندان سےجھلکنے والی روشنی میں دمک رہا تھا۔چہرے کی طرح اس کا باقی جسم بھی بے مثال و بے نظیر تھا۔وہ ایسا نظارہ نہیں تھا جو کسی مرد کی عقل و خرد کو سلامت رہنے دیتا۔اگر رگھو دادا جیسا سخت حریف سامنے نہ ہوتا توبہ قولِ اقبال....
ع ہے دیکھنے کی چیز اسے بار بار دیکھ
کے مصداق میں لامحدود وقت تک اس کی دید سے آنکھیں سیراب کر سکتا تھا۔اس وقت وہ شرم و حیا سے زیادہ ڈرکے اثر میں تھی۔سرخ و سفید چہرہ خوف سے زرد ہو گیا تھا۔سیاہ غزالی آنکھوں میں نمی بھری تھی ،یاقوتی ہونے گھبراہٹ سے کپکپا رہے تھے۔اس کی واحد امید میں تھا لیکن رگھو دادا اور میری جسامت کا تقابل کر کے لڑائی کے نتیجے کا اندازہ کرنا مشکل نہیں تھا۔اس بے چاری کو بھی یہی لگ رہا تھا کہ میں رگھو دادا کا مقابلہ نہیں کرپاﺅں گا۔
نہ جانے کیوں مجھ پر اس کی برہنگی گراں گزری اور میں نے اپنی جیکٹ اس کی جانب اچھال دی۔
”یہ پہن لو۔“
جیکٹ نے رانوں تک اس کے بدن کو چھپا لیا تھا۔اب وہ پہلے سے زیادہ قابل دید ہو گئی تھی لیکن میں اس نظارے سے بہرہ مند ہونے کی حالت میں نہیں تھا۔
” اسے کب تک چھپاﺅ گے بالک!جس پر دل آجائے اسے رگھو ضرور حاصل کرتا ہے۔“
”کاٹنے کاتو پتا نہیں، بھونک اچھا لیتے ہو۔“میں نے اسے غصہ دلانے کی کامیاب کوشش کی۔
رگھو غصے میں دھاڑتا ہوا بڑھا میں اپنی جگہ ڈٹا کھڑا رہا۔
جاری ہے
 

قسط نمبر9
ریاض عاقب کوہلر
قریب پہنچ کر اس نے پوری قوت سے دایاں بازو گھمایا۔ میں نے جھکا ئی دے کر وار خطا کیا، وہ اپنی جھونک میں گھوم گیا تھا۔ میں نے اس کی تشریف پر بھرپور ٹھوکر رسید کی۔لڑکھڑاتے ہوئے وہ بہ مشکل گرنے سے بچا تھا۔
اس کے سنبھلنے سے پہلے میں دائیں پاﺅں پر گھوم چکا تھا۔ بائیں پاﺅں کی ایڑی اس کی چھاتی سے ٹکرائی اور وہ کولہوں کے بل زمین پر گر پڑا، لیکن کروٹ تبدیل کرتا ہوادور ہوا اور ایک دم اٹھ کر دایاں پاﺅں سامنے سے میری چھاتی پر دے مارا۔ میں نے کہنیاں جوڑکر اس کی ضرب کو روکا،سانڈ کی طرح پلے جسم میں بلا کی طاقت چھپی تھی۔میں بھرپور ٹھوکر سے لڑکھڑا گیا تھا،اس کی اگلی ٹھوکر نے مجھے زمین چٹا دی تھی۔اپنے ہاتھی جیسے پاﺅں سے وہ مجھے مسلسل نشانہ بنانے لگا۔وہ ننگے پاﺅں تھا لیکن ہر ضرب ہتھوڑے کی طرح لگ رہی تھی۔وہ غصے سے پھنکارتے ہوئے مغلظات بک رہا تھا۔
تیسری چوتھی ٹھوکر پر اس کا پاﺅں میرے ہاتھ میں آگیا ،جسے کھینچ کر میں نے نیچے گرا یا۔اور اچھل کر اٹھتے ہوئے پاﺅں کی ایڑی پوری قوت سے اس کے ماتھے پر دے مار ی۔ اس کا سر دھماکے سے زمین سے ٹکرایا، اگر فرش پختہ ہوتا تو اس کا کام ہو گیاتھا،مگر اس کی خوش قسمتی کہ زمین کچی تھی ۔درد بھری کراہ کے ساتھ اس کے منہ سے گندی گالیاں نکلنے لگیں۔
میں نے اسے مزید بھڑکایا۔ ”اٹھوہیجڑے!عورتوں کی طرح کو سنے سے بات نہیں بنے گی۔“
وہ بکتا جھکتا کھڑا ہوا، میں نے ٹانگ لہرا کر چھاتی میں مارنے کی کوشش کی لیکن میری ٹانگ اس کے ہاتھوں میں آگئی۔ اس نے پاﺅں کو ہاتھوں میں دبوچ کر مجھے ہوا میں گھمانا چاہا، اگر وہ کامیاب ہو جاتاتو آسانی سے مجھے کسی دیوارپر دے مارتا، لیکن میں نے پاﺅں واپس چھڑانے کے بجائے ،اچھل کر اپنے دوسرے پاﺅں کی ٹھوکر اس کے چہرے پر دے ماری۔ میرا پاﺅں اس کے ہاتھ سے چھوٹ گیا تھا۔ نیچے گرتے ہوئے ہاتھ ٹیک کر میں نے چہرہ بچایا۔ رگھو دادااپنے کپڑوں کی طرف دوڑایقینا ہتھیار لینے کے چکر میں تھا۔ میں اس کے پیچھے دوڑا ، وہ کپڑوں کے پاس پہنچ کر جھکا،دیر ہونے کی صورت وہ ہتھیار نکالنے میں کامیاب ہوجاتا،میں پانی میں کودنے کے انداز میں اچھلااور ہوا میں تیرتا ہوا اس پر جا پڑا۔ کمر پرمیرے سر کی بھرپور چوٹ کھا کر وہ منہ کے بل گرااور میں نے اٹھ کر ٹھوکروں کی بارش کر دی۔
اس کی پٹائی میں مجھے عجیب لذت آرہی تھی۔یوں جیسے اس نے میری عزت پر ہاتھ ڈالا ہو۔
اس نے پاﺅں پکڑنے کی کوشش کی لیکن میری پھرتی کی وجہ سے کامیابی حاصل نہ ہو سکی وہ لڑھکتاہوا دور ہٹا اور اچھل کر کھڑا ہو گیا۔ پسینہ دھاروں کی صورت ہمارے جسموں سے نکل رہا تھا۔ رگھو تھکے ہوئے کتے کی طرح ہانپ رہا تھا۔ اس کی اکڑ فوں اور دم خم رخصت ہو چکاتھا۔ اسے راہِ فرار نظر نہیں آرہی تھی۔
میں نے پیش کش کی۔” اگر چوڑیاں پہن کر ٹھمکالگاﺅ تو زندگی کی بھیک دے سکتا ہوں۔“
رگھو تیش میںواہی تباہی بکتا آگے بڑھاوہ اپنے دفاع سے غافل ہو گیا تھا۔ جونھی قریب پہنچا میں نے سیدھا پاﺅں اس کی پسلیوں کے نیچے دے مارا۔وہ ”اوغ“ کی آواز کے ساتھ رکوع کے بل جھک گیا مجھے اس کی یہی حالت درکار تھی۔ میں نے اس کی گردن بائیں بازو کی گرفت میں لی....
”اپنے گرو شیطان کو یاد کر لے تیرا انتم سسکارکرنے لگا ہوں۔“
رگھو نے تڑپ کرمیری گرفت سے نکلنا چاہا مگریہ کوشش اتنی ہی ناکام ہوئی جتنا بلی کے منہ میں پھنسے چوہے کی ہوسکتی ہے۔
میں نے بائیں بازو کو مخصوص جھٹکا دیا ۔ ”کڑکڑ“ کی آواز کے ساتھ رگھو کا جسم اذیت سے اینٹھنے لگا تھا۔ میں نے اسے نفرت سے گھما کرزمین پر پھینک دیا۔
شیتل بھاگ کر قریب آئی اور مجھے لپٹ گئی۔
”جان!ٹھیک تو ہونا۔“ملائم بانہوں کا ہار پہناتے ہوئے اس نے وارفتگی سے پوچھا۔
اس کایوں چاہت جتاناٹھیک نہیں تھا ،لیکن کوشش کے باوجود اسے علیحدہ نہ کر سکا۔بڑی مشکل سے بازوﺅ ں پر قابو پایا تھاجو اسے بھینچنے کو بے تاب تھے۔
” کتنا پسینہ بہہ رہا ہے۔“ وہ ایک ہاتھ میرے چہرے پر پھیرنے لگی۔
”سویا نہیں تھامحترمہ! زندگی اور موت کی جنگ لڑ رہا تھا۔“
”میری خاطر،ہے نا؟“ میرے سینے پرریشمی رخسار رگڑتے ہوئے وہ چاہت سے بولی۔
میرے دماغ میں خطرے کی گھنٹی بجی وہ کچھ زیادہ ہی چاہت جتلا رہی تھی۔میرا جوابی ردعمل اسے کسی بڑی غلط فہمی میں مبتلا کر سکتا تھا۔بلاشبہ وہ لاکھوں نہیں کروڑوں میں ایک تھی۔اسے پانے کو بڑی سے بڑی قربانی دی جا سکتی تھی۔لیکن میرے حالات ایسے نہیں تھے کہ اسے پانے کی تمنا یا جستجو کر سکتا۔میں شادی شدہ تھا۔ سعدیہ ،شیتل جتنی خوب صورت و پر کشش نہ سہی میری محبوب تو تھی۔شیتل اس سے دگنا بھی حسین ہوتی، سعدیہ کی جگہ نہیں لے سکتی تھی۔بے شک اس کے بے تحاشا حسن اور چیختے شباب نے مجھے متاثر کیا تھا۔وہ اچھوتی اور انوکھی لگی تھی ،لیکن ہمارے ملاپ میں کئی ان دیکھی رکاوٹیں تھیں۔جوانی کے جوش ،میری وجاہت اور مردانگی سے متاثر ہو کروہ نتائج سے بے پروا اندھی کھائی میں کودنے کو تیا رہو گئی تھی۔لیکن میں بے وقوف کو احمق نہیں تھا۔ کسی لڑکی سے عارضی تعلق رکھنا ، محبت کے دھوکے میں اس شباب سے کھیلنابغیر شرعی تعلق اس سے حظ اٹھانایہ میرے ضمیر و کردار کو منظور نہیں تھا۔لڑکیاں مرودوں کی نسبت زیادہ وفادار ہوتی ہیں۔محبوب کی خاطر بڑے سے بڑے نقصان سے نہیں کتراتیں۔محبت کی ٹھان لیں تو عواقب و نقصانات کا حساب کرنے کبھی نہیں بیٹھتیں۔دماغ کی جگہ دل سے سوچتی ہیں اور شیتل ایک نوجوان لڑکی ہی تھی۔اس کی نظریں چھے فٹ لمبے،مضبوط کسرتی جسم،صاف گندمی رنگ اور لمبے بالوں والے ایک جوان کی ظاہر وجاہت پر ٹکی تھیں۔یہ بھول گیا تھا کہ وہ بھارت سرکار کا مجرم ہے، اس کے ملک کا دشمن ہے، اس کا ہم مذہب نہیں،شادی شدہ اور ایک بچے کا باپ ہے،دشمنوںسے بچنے کو بھاگتا پھر رہا ہے اس کے علاوہ بھی کئی قباحتیں تھیں۔ ہمیں ملے چوبیس گھنٹے بھی نہیں ہوئے تھے۔اس کی پسند ابتدائی مراحل میں تھی۔فی الحال اسے اپنی خاطر میرا جان خطرے میں ڈالنا نظر آرہا تھا۔اور میری قربانی کا خراجِ تحسین پیش کرنے کا ایک ہی طریقہ تھاکہ وہ چاہت کی سوغات پیش کرتی۔اپنے شباب تک میری رسائی کو ممکن بناتی اور ایک لڑکی کے پاس مرد کو خوش کرنے کا اس سے تیربہ ہدف نسخہ نہیں ہوتا۔لیکن مجھے اس کے سیلابی عشق کے سامنے سمجھ داری اور حقائق کا بند باندھنا تھا۔اور آسان حل یہی تھا کہ میں اپنے رویے اور برتاﺅ سے اسے مایوس کروں تاکہ اس کی پسندیدگی حدود سے تجاوز نہ کرپائے۔
میں نے نفی میں سرہلایا۔” تمھاری جگہ کوئی بھی لڑکی ہوتی میں نے یہی کرنا تھا۔“
”کیوں کہ آپ ہیں ہی اتنے اچھے اور پیارے۔“ میرے روکھے پن کو اہمیت نہ دیتے ہوئے وہ تم تمھارا ،سے آپ جناب کے تخاطب پر اتر آئی تھی۔لڑکی کسی کو دل میں بساتے ہی سب سے پہلے اسے عزت و عقیدت کے سنگھاسن پر بٹھاتی ہے۔
” علیحدہ ہونے کی زحمت کرو گی۔اس سانڈ کے مسلح گرگے موجود ہیں۔“بدن سے راحت کے لمحات چھیننا مجبوری تھی کہ اس کا گداز بدن میرے ہوش و حواس پر اثر انداز ہونے لگا تھا۔وہ مزید کچھ دیرلپٹی رہتی تو ہمیشہ کو چمٹ جاتی۔ ایسی حسین مورت جب وارفتگی سے مائل بہ کرم ہو جائے اور ایساانعام دینے پر آمادہ ہو جائے جو دنیا کا کوئی بادشاہ نہ دے سکتا ہو تو لینے والا عقل و خرد سے کام نہیں لے پاتا۔
”آپ کے ہوتے مجھے کسی کا ڈر نہیں ہے۔“
”تھوڑی دیر بعد ہم اپنی اپنی راہ پر گام زن ہوں گے اس لیے چند گھنٹوں کی رفاقت کو خصوصی اہمیت دینے کی ضرورت نہیں ہے۔“ میں نے تلخ حقیقت سے پردہ ہٹایا۔
وہ دھیرے سے علیحدہ ہوئی اور پارپائی پر نشست سنبھال لی۔ اس مضحکہ خیز لباس میں بھی وہ اتنی ہی سندر اور پیاری لگ رہی تھی جتنانئے فیشن کے لباس میں لگتی۔ لباس اور زیورات ہمیشہ سے عورت کی کمزوری رہے ہیں۔ بلا امتیاز ہررنگ، مذہب، نسل اور قوم کے ، عورتیں ان لوازمات کی دلدادہ ہوتی ہیں لیکن درحقیقت یہ عورتوں کا پاگل پن ہے۔ حسن کبھی لباس یا آرائش کا محتاج نہیں ہوتا۔موہنی صورت ہر لباس اور بغیر آرائش کے بھی اتنی ہی پیاری لگتی ہے جتنا قیمتی لباس اور سجاوٹ میں ۔وہ بھی چمڑے کی لمبی جیکٹ میں کچھ زیادہ ہی جاذب نظر لگ رہی تھی۔
اس کے سراپے سے نگاہیں ہٹاکرمیں رگھو کے لباس کی طرف متوجہ ہوا۔ کو برے کا بریٹا اور نیلم کا چھوٹاپسٹل اس کی جیب میں پڑے تھے۔ چوڑے پھل کا لمبا خنجر بھی چمڑے کے غلاف میں لپٹا برآمد ہوا۔
چمڑے کے غلاف کے ساتھ تسمے لگے تھے۔اسے پنڈلی سے باندھ کر میں نے جراب اوپر چڑھا دی۔چھوٹا پستول پتلون کی جیب میں ڈال کر میں نے بریٹا کاک کیا اور باہر جانے کو تیار ہوگیا۔
شیتل خاموشی سے مجھے گھور رہی تھی۔اس کی آنکھوں میں چھپی چاہت کسی تعارف کی محتاج نہیں تھی۔ میری ذرا سی پیش قدمی پر وہ پکے ہوئے پھل کی طرح جھولی میں گرنے پر آمادہ نظر آرہی تھی لیکن افسوس وہ میری منزل نہیں تھی۔میرے کندھوں پر بہت سی ذمہ داریوں کا بوجھ تھااور اتنی گنجائش نہیں تھی نئی ذمہ داری کو دامن کشادہ کر سکتا۔
میں دروازے کے قریب ہوا،کنڈی کھول کر سرباہر نکالا۔کوئی نظر نہیں آیا تھا۔ وہ سادہ سی عمارت تھی، تمام کمرے قطار میں بنے ہوئے تھے۔ان کا دروازہ مشرقی جانب تھا۔عمارت کی شمالی اور جنوبی طرف بھی ایک ایک کمرہ بنا تھا۔ سامنے ایک کھلا اور وسیع برآمدہ تھا اورپھر لمبا چوڑا وسیع صحن تھا۔ تمام کمروں کے دروازے باہر کی جانب کھلتے تھے اس لیے میں نے احتیاط سے جھانکاکہ دور ہی سے دروازے کا پٹ نظر آجاتا۔ بائیں طرف ایک کمرے سے موسیقی کی ہلکی آواز آ رہی تھی۔کوئی ریڈیو یا ٹیپ ریکارڈ پرگانے سن رہا تھا۔
میں نے شیتل کواشارے سے بلایا۔ وہ تو جیسے منتظر بیٹھی تھی بھاگ کر پاس آئی۔چہرہ خوشی سے سرخ گلاب بنا تھا۔میں نے چھوٹا پستول اس کے حوالے کیا۔
”میں بائیں طرف جا رہا ہوں تم دائیں جانب نظر رکھنا۔ کہیں عقب سے نشانہ ہی نہ بن جاﺅں۔“
وہ فکر مند ہوئی۔”برے شبد تو نہ بولیں،بھگوان نہ کرے آپ کو کچھ ہو۔“
”گولی چلا لو گی نا۔“اس کا چاہت جتلانا میں نے نظر انداز کر دیا تھا۔
وہ شرارت سے مسکرائی۔”پتا نہیں۔“
میں مزید تکرار میں وقت ضائع کیے بغیردبے قدموں آگے بڑھ گیا۔وہ ریڈیو کی آواز تھی کیوں کہ قریب ہونے پر میزبان کاسامعین کے خطوط پڑھنا سنائی دیا۔ان کے گپیں ہانکنے کی آوازبھی تسلسل سے آرہی تھی۔موضوعِ سخن شیتل کا حسن و شباب تھا۔رگھو دادا کے بعد وہ بھی بہتی گنگا میں ہاتھ دھونے کو تیار تھے۔رگھو دادا نے ایک دو دن بعد شیتل کو ان کے حوالے کرنا تھا۔اور رگھو دادا کے بعد پہلی باری کے حصول کو وہ رات کو تاش کا مقابلہ کرنے والے تھے۔
نیم وا دروازہ دھکیلتے ہوئے میں ایک دم اندر گھسا۔وہاں تین آدمی موجود تھے۔انھیں للکارنے یا سوال و جواب کا وقت نہیں تھا۔بریٹا سیدھا کرتے ہوئے میں نے مسلسل لبلبی دبائی اور انھیں تمام فکروں سے آزاد کر دیا۔وہ اذیت سے ایڑیاں رگڑنے لگے۔ان کی آنکھوں میں حیرانی و تعجب مرنے کے بعد بھی ختم نہیں ہوا تھا۔ رگھو دادا سے مقابلے کے بعد کسی کا زندہ نظر آنا ان کی نظر میں عجوبہ ہی تھا۔
اسی وقت دو کم آواز کے دھماکے سنائی دیئے۔نیلم والے پستول کی آواز میں خوب پہچانتا تھا۔ میں بھاگ کر باہر نکلا برآمدے میں ایک آدمی اذیت سے تڑپتا ہوا آخری سانس گن رہا تھا۔رگھو دادا کی آمد کے وقت انیل کے علاوہ وہی چار گرگے ہی نظر آئے تھے جو جہنم رسید ہو چکے تھے۔البتہ ایک دبلا پتلا شخص ہمارے لیے کھانا بھی لایا تھا۔اسے انجام تک پہنچا کر ہی ہم بھاگنے کی سوچ سکتے تھے۔
شیتل میری طرف بڑھی۔
”وہیں رہو۔“ اسے واپس جانے کا اشارہ کر کے میں نے لاش کے پاس پڑی کلاشن کوف اٹھا لی۔
وہ جلدی سے کمرے کے اندر ہو گئی تھی۔میں نے بھی اس کے پیچھے گھس گیا۔
”دروازہ کنڈی کر کے یہیں رہنا۔اوردستک کے بجائے میری آواز پر دروازہ کھولنا۔“
”کمرے کا دروازہ یا........“فقرہ ادھورا چھوڑتے ہوئے اس نے مترنم قہقہ بلند کیا۔
میں نے جھڑکا۔”تمھیں لگتا ہے کہ یہ مذاق کا وقت ہے۔“
وہ وارفتگی سے بولی۔”مذاق کون کم بخت کر رہا ہے۔“
میں جھلا کر بولا۔”مسماة شیتل ہری چرن داس صاحب!دست بستہ عرض ہے فدوی کوضائع کرنے کو لحظہ بھی میسر نہیں ہے۔اس لیے سپاس گزار ہوں گا اگرخرافات و فضولیات کے بجائے متعلق فعل پردھیان دو۔“
وہ ہکلائی۔”کک....کیا مطلب،ڈانٹ رہے ہیں یاخوش خبری سنا رہے ہیں۔“
”نصیب کو کوس رہاہوں۔“
وہ شوخی سے بولی۔”نصیب کا کیا دوش،ہمت باندھواور پتا جی سے بات کرو۔“
”دروازہ کنڈی رکھنا۔“میں جھلاتے ہوئے باہر نکلا۔
دروازے سے سر نکال کر وہ کھل کھلائی۔”کنڈی نہیں قفل ہے جناب،صرف آپ کے لیے کھولا ہے۔“
میں جواب دیئے بغیر محتاط انداز میں کمروں میں تلاشی لینے لگا۔مطلوبہ شخص بائیں جانب آخری کمرے میں ملا تھا۔ نامعلوم نشے میں دھت پڑا تھا۔ میں نے ہلایا جلایا مگروہ اٹھنے پر آمادہ نہیں تھا۔ کمرے کی تلاشی لینے پر تھوڑی سی نقدی کے کچھ نہ ملا۔
وہ غالباً ان کا باورچی تھا اور دوپہر کے کھانے کے بعد آرام فرما رہا تھا۔ چارپائی کے نیچے گھٹیاشراب کی تین چار بوتلیں نظر آئیں ۔ انڈیا میں شراب کی بھٹیاں وافر مقدار میں پائی جاتی ہیں اور شوقین حضرات بھی اتنی ہی کثرت سے ہیں۔ مسلمانوں کے علاوہ کسی بھی مذہب کے پیرو کار اس سے احتراز نہیں برتتے۔ بلکہ آج کل تو مسلمانوں کی اکثریت کو اس کی لت لگ چکی ہے۔
باورچی دبلی پتلی مختصر قامت کا تھا ۔اس کا لباس شیتل کو پورا آتا۔ اس کی صاف ستھری پتلون قمیص اٹھا کر میںنے دروازہ باہر سے کنڈی کر دیا۔اس کے علاوہ عمارت میں کوئی نہیں ملا تھا۔میں شیتل کی طرف بڑھ گیا۔ میری آواز سنتے ہی اس نے دروازہ کھول دیاتھا۔میں نے لباس اس کی سمت بڑھایا۔
”یہ کپڑےتمھیںپورے ہوں گے ۔ پہن لو اور میری جیکٹ واپس کرو۔“
”تمھاری جیکٹ تو گویاکھا ہی جاﺅںگی نا۔“ بناوٹی خفگی سے کہتے ہوئے اس نے زنجیر کھولنے کو ہاتھ بڑھایا۔ میرا دل اتنی شدت سے دھڑکا گویا پسلیوں کو پنجرہ توڑ کر باہر آگرے گا۔
”ادھر دفع ہو جاﺅ۔“ میں نے غسل خانے کی جانب اشارہ کیا۔
”ہا.... ہا.... ہا....“اس کا مترنم شرارتی قہقہ بلندہوا۔ ”بے چارے کا دل تو چاہ رہا ہے دیدار کو مگر اوپر اوپر سے رویہ دکھا رہا ہے تاکہ ضد میں آکر میں یہیں لباس تبدیل کر لوں ۔آپ کی یہ حسرت کبھی پوری نہیں ہوگی۔“
میں نے طنزیہ لہجے میں کہا۔”سب کچھ دیکھ چکا ہوں۔“
وہ ہٹ دھرمی سے بولی۔”ہاں ،مگر اتنی جلدی سیری نہیں ہوتی۔کیوں کہ میں ہوں ہی ایسی جسے باربار دیکھنے کو من کرے۔“
میں دھاڑا۔”بکواس کا وقت نہیں ہے۔“
وہ شوخی سے بولی۔”سچ برداشت کرنا آسان تھوڑی ہے۔ غصہ کرنا پڑتاہے۔“
میں پاﺅں پٹختا ہوا باہر نکل آیا۔اس کے لباس تبدیل کرنے تک میں نے احتیاط کی غرض سے عمارت کا ایک اور چکر لگایا۔واپسی وہ تیار نظر آئی۔ باورچی کا لباس اسے فٹ آیا تھا ۔ میری قمیص اور جیکٹ چارپائی پر پڑی تھیں۔اب میر اپسینہ خشک ہو گیا تھااور ہلکی ہلکی خنکی محسوس ہو رہی تھی۔قمیص و جیکٹ پہن کرمیں روانگی کو تیا رہو گیا۔ کلاشن کوف کے دو اضافی میگزین جیکٹ میں ڈال کر اسے مخاطب ہوا۔
”ہمیں جانا ہوگا۔“
وہ منہ پھلائے کھڑی تھی۔
”میں یہیں پر ٹھیک ہوں۔“
خدا حسن دیتا ہے اور نازو ادا حسین خود سیکھ لیتے ہیں۔ اپنی اداﺅں سے کسی کی عقل خبط کرنا ان کے بائیں ہاتھ کا کھیل ہوتا ہے۔ شوخی،بھول پن اورنخرہ ایسے تیر ہیں جو کبھی خطا نہیں جاتے۔
اور شیتل تو حسینوں کی ملکہ اورنازنینوں کی رانی تھی۔ اس کا عام اندازمن موہ لینے والا تھا کجا ناز نخرے اور اداﺅں پر مائل ہونا۔ کسی مرد کے خلاف اس کا میدان میں اترنے کا مطلب بے چارے مرد کا کام سے جانا تھا۔ اسے ٹھکرانے کی ہمت جنید بغدادی،شیخ عبدالقادر جیلانی اور معین الدین چشتی جیسے زاہد اور اللہ پاک کے خصوصی بندے ہی کر سکتے تھے۔مجھ جیسے دنیا دار کا اتنا ظرف نہیں تھا مقابلے کی ہمت کرتا۔ اگر وہ مجھے عام حالات میں ملی ہوتی تو اسے نظر انداز کرنے کی کوشش تو کیا ایسا سوچنا بھی گوارا نہ کرتا۔مگر اس وقت میں حالات کے شکنجے میں یوں جکڑا تھاکہ جیسے پرندہ جال میں پھنسا ہوتا ہے۔جو پھڑپھڑا تو سکتا ہے اڑ نہیں سکتا۔شاعر کہتا ہے۔
جیسا موڈ ہو ویسا منظرہوتا ہے
موسم تو انسان کے اندر ہوتا ہے
اور میرے اندر خزاں کا موسم پھیلا ہوا تھا۔پے در پے حادثات کا سامنا کرنا، گھر کی پریشانی کو سوچنااورجان بچانے کو دربہ در مارا مارا پھرناہی اب میرا نصیب بن گیا تھا۔صنف نازک کے لیے میرے لطیف جذبات پر اوس پڑی ہوئی تھی۔ شیتل کی خواہش تھی کہ میں اپنے رویے پر معذرت خواہ ہو کر اسے مناﺅں ،کسی عاشق کی طرح منت سماجت کر وں۔لیکن ان خرافات کو میرے پاس وقت نہیں تھا۔اسے بازو سے پکڑ کر میں صحن کی طرف دھکیلا....
”زیادہ نخرے دکھانے کی ضرورت نہیں سمجھیں۔“
اس نے ملائم بازوایک جھٹکے سے میری گرفت سے چھڑایا۔”کہہ جود یا نہیں جانا۔“
”بھاڑ میں جاﺅ۔“میں لمبے ڈگ بھرتا ہوا گاڑیوں کی طرف بڑھ گیا۔وہاں شیتل کی شیورلیٹ ، ایک جیپ اور سوزکی کارکھڑی تھی۔مجھے شیتل کی کار بہتر لگی۔ میں نے جیپ اورسوزکی کے ٹائروں میں خنجر سے چھید کیا تاکہ کوئی ان میں ہمارا تعاقب نہ کر سکے اور عمارت کے داخلی دروازے کی طرف بڑھ گیا۔
باہر جھانکنے پر خلافِ توقع چھدرے چھدرے درخت نظر آئے جو دور تک بتدریج گھنے ہو گئے تھے۔آس پاس کوئی اور تعمیر نظر نہ آئی۔مطلب ہم شہر سے باہر تھے۔
میں کار کے قریب آیا۔وہ منہ پھلائے اگلی نشست پر براجمان تھی۔
میں اس کی ناراضی کی وجہ سے بھی آگاہ تھااور خفگی دور کرنے کے فن سے بھی آشنا تھا ،مگر حالات اور پریشانیاں اس اضافی بوجھ کی متحمل نہیں ہو سکتی تھیں۔ شیتل سے تعلقات بڑھانا اپنی منزل کھوٹی کرنا تھا۔میں نے فضول خیالات میں سرکھپانے کے بجائے انڈیا سے نکلنے کی تجاویز سوچنا بہتر سمجھا۔کار اسٹارٹ کر کے میں باہر نکل آیا۔ آگے دوراہا تھا۔اغواءہوتے وقت ہم دہلی کے جنوب مشرقی حصے میں تھے اور اس وقت ہمیں شہرکے مضافات میں موجودہونا چاہیے تھا۔ دہلی واپس لوٹنا اوکھلی میں سر دینے کے مترداف تھا۔ یہ سوچتے ہوئے میں نے کارجنوب کوموڑ دی۔
شیتل نے آنکھیں بند کر کے سیٹ سے ٹیک لگالی میں نے بھی خاموشی میں میں عافیت سمجھی۔راستہ کچا اور ناہموارتھا۔کم رفتار میں بھی جھٹکے لگ رہے تھے۔ میرا ارادہ تھا پختہ سڑک پر پہنچتے ہی کار مع شیتل کے چھوڑ دوں گا۔ اب اسے ساتھ پھرانے کی کوئی وجہ نہیں تھی۔الٹا وہ اضافی بوجھ بن گئی تھی۔
لیکن تقدیر کی ہمیشہ ارادوں سے مخالفت رہی ہے بہ قول خلیل جبران۔ ”میں نے خدا کو ارادوں کی ناکامی سے پہچانا ہے۔“
ہمیں چلتے ہوئے بہ مشکل آدھا گھنٹا ہواہوگاکہ کار یکدم بند ہو گئی۔ میں نے چابی گھما ئی لیکن کار ”گھوں گھوں“ کر کے خاموش ہو گئی ۔لمحہ بھر ٹھہر کر میں نے دوبارہ کوشش کی جس کا حال پہلی کوشش سے مختلف نہیں تھا۔
شیتل کی طنزیہ آواز ابھری۔ ”کمانڈو صاحب!’فیول گیج دیکھنے کی زحمت فرمالیں ،کار میں پٹرول ختم ہو چکا ہے۔“
میں نے منہ بنایا۔”اگرچند ٹکے خرچ کر کے ٹینکی فل رکھتیں تواس مصیبت میں نہ پڑتے۔“
وہ تلخی سے بولی۔” مہاراج کی منت سماجت کر کے کس نے بلایا تھا،ایک تو مفت اپنے ساتھ خوار کیا اوپر سے طعنے سنو۔“
”پتا ہوتا اتنی کنجوس سیٹھ زادی سے واسطہ پڑے گا جسے پٹرول ڈلوانے سے موت پڑتی ہے تو کبھی یہ غلطی نہ کرتا۔“
وہ بگڑ گئی۔”تم بڑے دیالو (سخی)ہو نا۔“وہ بگڑ گئی ،آپ جناب کہنا اسے بھول چکا تھا۔
”بڑے کو تُم نہیں کہتے۔“
وہ ہٹ دھرمی پر اتر آئی۔ ” تمھیں میرا بڑا کس نے بنا یا ہے۔“
”بدتمیز....تمھارے ساتھ سفر کرنا ہی گناہ ہے۔“ کار سے نکل کر میں نے جھٹکے سے دروازہ بند کیا۔
وہ بھی تیزی سے باہر نکلی۔ ”اے،بد تمیز کسے کہا۔“
میں جواب دیئے بغیر آگے بڑھ گیا۔اتنی آسانی سے جان چھوڑنے والی نہیں تھی۔ معلوم تھا پیچھے ہی آئے گی۔
حسب توقع وہ دوڑ کر قریب پہنچی۔ ”جب تک کار تھی میراساتھ پُن (نیکی)تھا جو کار کے خراب ہونے پر پاپ(گناہ) ہو گیا۔“
”ہا ہاہا“ میں نے مصنوعی قہقہ بلند کیا۔
”ہی ....ہی....ہی....“ منہ ٹیڑھا کر کے چڑاتے ہوئے وہ تلخ ہوئی۔ ”زہر لگ رہی ہے تمھاری ہنسی۔“
میں نے ایک اور قہقہ بلند کیا۔ ” جب جی چاہے گا ہنسوں گا۔ کسی کو تکلیف ہوتی ہے تو کانوں میں انگلیاں ٹھونس لے۔“
اس نے پھبتی کسی۔”کہتے ہیں پاگل ہنسنے کو وقت دیکھتے ہیں نہ ماحول۔“
میں نے آنکھیں نکالیں”پاگل کسے کہا ہے؟“
اس نے بے پروائی سے کندھے اچکائے۔”صرف پاگلوں کی نشانی بتلائی ہے۔“
مجھے شرارت سوجھی۔”ایک نشانی یہ بھی ہے کہ جانے کس وقت کیا کر بیٹھیں۔“
”درست۔“ اس نے اثبات میں سر ہلایا۔
” تو میں یہ گیا۔“ میں نے راستہ چھوڑ کر جنگل کی راہ لی۔
”جان.... جان.... کہاں جارہے ہو۔“ وہ چیخ پڑی تھی۔
”پاگل کو کیا پتا۔“ میں نے رفتار بڑھالی۔
اس نے بھاگ کر مجھے ملنے کی کوشش کی مگر کہاں پاکستانی کمانڈو اور کہاں نازک اندام دوشیزہ۔ مزید رکاوٹ اس کے سینڈل تھے کہ جنگل کے ناہموار راستوں پرانھیں پہن کر چلنا دشوار تھا بے چاری دوڑتی کیسے۔
جلد ہی میں گھنے درختوںکے جھنڈ میں پہنچ کر اس کی نظروں سے اوجھل ہو گیا۔ ایک گھنے سے درخت کا انتخاب کرکے میں اوپر چڑھا اور دوشاخے کے ساتھ ٹیک لگالی۔
جلد ہی اس کی آوازسنائی دینے لگی۔
”جان.... پلیز.... سوری.... دوبارہ بدتمیزی نہیں کروں گی۔ آپ کہاں ہیں، جان! مجھے ڈر لگ رہا ہے۔ سامنے آجاﺅ ورنہ میں رونے لگوںگی۔“
میں دوشاخے سے ٹیک لگائے اس کی باتوں سے لطف اندوز ہوتا رہا۔ نامعلوم کیوں اسے تنگ کرنے میں مزہ آرہا تھا۔ حالاں کہ جانتا تھا ہمارا ساتھ زیادہ سے زیادہ چند گھنٹوں کا تھا۔دونوں چاہ کر بھی اکٹھے نہیں رہ سکتے تھے۔سب سے بڑھ کر سعدیہ سے بے وفائی کامیں سوچ بھی نہیں سکتا تھا۔ لیکن پھر بھی ایسی غیر ضروری اور فضول حرکت کر بیٹھا تھا۔
تھوڑی دیر بعد ہی شیتل نظر آگئی تھی ۔جھاڑیوں کے اندر جھانکتے،دائیں بائیں نظریں دوڑاتے وہ آہستہ آہستہ آگے بڑھ رہی تھی۔ گاہے گاہے مجھے آواز بھی دے لیتی تھی۔جونھی وہ پاس پہنچی میں بھیڑیئے کی طرح غرایا۔
وہ خوف سے اچھلی اور زور زور سے مجھے پکارنے لگی۔سرخ گلابیچہرہ پیلا پڑ گیا تھا۔اور پورا بدن بید مجنوں کی طرح لرز رہا تھا ۔”جج....جان....جان مجھے بچاﺅ....“سہمی سکڑی وہ چاروں جانب دیکھ رہی تھی۔ آواز کی سمت کا بھی تعین نہیں کر پائی تھی کہ بھاگ سکتی۔نیلم والا پستول سیدھا تانے وہ پیچھے مڑتی ،کبھی دائیں کا رخ کرتی اور کبھی بائیں مڑ جاتی۔اس کی لبلبی پر رکھی انگلی بھی کانپ رہی تھی۔
میں نے دوبارہ غراہٹ بلند کی۔ اب اسے آواز آنے کی جگہ معلوم ہو گئی تھی۔اس نے سراٹھایاکر دیکھا جہاں میں دانت نکالے بیٹھا تھا۔
”وحشی، جنگلی، گنوار،بدتمیز....“ وہ غصے سے شدت میں کانپتے ہوئے کہتی گئی ۔
میں نے نیچے چھلانگ لگائی۔”پھر بدتمیزی،میں دوبارہ بھاگ جاﺅں گا اور اس بار تلاش بھی نہیں کر سکو گی۔“
”ایک قدم تو لے کر دکھاﺅ“اس نے پستول تان لیا تھا۔
میں نے قہقہہ لگانے پر اکتفا کیاتھا۔وہ بس غصے سے گھورتی رہی۔ میں کوشش کے باوجود نظریں نہیں ملا پا رہا تھا۔ اس کی موٹی غلافی آنکھیں میرے حواس پر سوار ہونے لگیں۔
”اب غصہ تھوکو اور چلو۔“ میں نے قدم آگے بڑھادیے کہ اس کے علاوہ کہنے کو کچھ تھا ہی نہیں ۔
”نہیں جانا تمھارے ساتھ۔“ اس نے پستول پھینکا اور ہاتھوں سے چہرہ چھپا کر رونے لگی۔
ایک مفکر کا قول ہے۔ ”عورت کا سب سے بڑا ہتھیار آنسو ہیں،جو مرد بڑے طوفانوں کے سامنے ڈٹ جاتے ہیں، چند قطروں کے آگے سیلاب میں آئے تنکے کی طرح بہہ جاتے ہیں۔“
اس کے رونے پر میں بھی گھبرا گیا تھا۔ سمجھ میںنہیں آرہا تھا اسے کیسے چپ کراﺅں۔ کسی درندے کے ظاہر ہونے پر مقابلہ کرنا اتنا دشوار نہ لگتا جتنا اسے چپ کرانا لگ رہا تھا۔ایک مرد کو سب سے اچھا محبوبہ کو منانا، اس کے ناز نخرے اٹھانااور اس کے آنسو پونچھنا لگتا ہے۔کیوں کہ اس میں دید ہ دانستہ اور نادانسہ بہت سے مراحل میں قرب کی وہ منازل بھی طے کرنے کا موقع ملتا ہے جو شاید عام حالت سوچا بھی نہ جا سکے۔لیکن وہ پیاری لگنے کے باوجود میری محبوبہ نہیں تھی۔اسے خاص ہونے کے باوجود مقام خصوصیت حاصل نہ تھا۔اس کے بارے جو سوچ سکتا تھا وہ عمل میں نہیں لا سکتا تھا۔اسے مناتے ہوئے چھونے کی جسارت مہنگی پڑتی،وہ موقع ڈھونڈ رہی تھی، قرب کی خواہاں تھی،میری چاہت کی متلاشی اور پیار کی بھوکی تھی۔مجھے اپنے رویے میں نرمی اور لچک لانے سے احتراز برتنا تھا ورنہ اس سے پیچھا چھڑانا دشوارر ہو جاتا۔خاص کر ایسی حسینہ کو دھتکارنا دشوار ترین سے بھی کوئی اگلا مرحلہ ہے۔
لمحہ بھرشش وپنج میں رہنے کے بعد میں نے ندامت بھرے لہجے میں کہا۔”سوری شیتل! صرف مذاق کر رہا تھا۔ دوبارہ ایسے نہیں ہو گا۔“
وہ ہچکیاں لیتے ہوئے بولی۔”کھاﺅ اپنے اللہ کی قسم دوبارہ مجھے چھوڑ کر نہیں جاﺅ گے۔“اس کی ذومعنی بات پر میں سٹپٹا گیا تھا۔
میں نے مطلب کریدنے کے بجائے بات کو گول کیا۔”کہا تو ہے دوبارہ ایسے نہیں ہو گا۔“
وہ مصر ہوئی۔”نہیں اپنے اللہ کی قسم کھاﺅ۔“
میں نے کلائیوں سے پکڑ کر ہاتھ اس کے چہرے سے ہٹائے۔ ”سڑک پرپہنچتے ہی ہمارے راستے جدا ہوجائیں گے۔“
وہ ہٹ دھرمی سے بولی۔ ”مجھے بہ خیریت پتا جی تک پہنچانا آپ کی ذمہ داری ہے ۔“
میں جھلا کر بولا۔” تمھیں سیٹھ صاحب کے حوالے کرکے ہی دفع ہوں گا،اب خوش۔“
وہ کھلکھلا کر ہنس پڑی۔نیک بخت ایک تو بلا کی حسین ،اوپر سے نازو ادا ایسے کہ زاہد صد صالہ توبہ توڑ دے۔
میں نے پستول اٹھاکرجیب میں ڈالا اور اندازے سے چل پڑا۔ سورج زوال پذیر تھا۔ ڈیڑھ دو گھنٹے میں اندھیراپھیل جاتا اور اس سے پہلے ہمیں کسی محفوظ ٹھکانے تک پہنچنا تھا۔
” میرا پستول واپس کرو۔“ بہ مشکل قدم ملا تے ہوئے اس نے مطالبہ کیا۔
” تمھارا کب سے ہوا۔“
”خود میرے حوالے کیا تھا اور دی ہوئی چیز لینا اپنی تھوک چاٹنے جیسا ہے۔“
” ایک ،عارضی استعمال کودیا تھا۔دوسراواپس نہیں لیا تم نے خود پھینکاہے۔“
”مجھے نہیں پتا ۔ پستول میرے حوالے کرو۔“میرابازو پکڑتے ہوئے اس نے لپٹنے کو پر تولے۔
”یہ لومس مصیبت۔“ میں نے زچ ہو کر پستول اس کی طرف بڑھا یا۔
اس نے منہ بسورا۔”یوں تو نہیں لینا۔“
”تو ٹرے میں رکھ کر پیش کروں۔“
” تھوڑا پیار سے کہونا۔“ وہ شوخ ہوئی۔
”محترمہ!میں شادی شدہ ہوں ،ایک بچے کا باپ ہوں اور اپنی بیوی سے اتنی ہی محبت کرتا ہوں جتنا تمھارا باپ دولت سے کرتا ہے۔“
” جھوٹے۔“اس کے ہونٹوں پر اعتماد سے محروم تبسم ابھرا۔
میں سر جھٹک کر آگے بڑھ گیا۔ کوشش تھی کہ جلد از جلد کسی محفوظ مقام پر پہنچ جائیں ،تبھی قدموں کی رفتار تیز رکھی۔ شیتل کو میرا ساتھ دینے کودوڑنا پڑ رہا تھا۔ پندرہ بیس منٹوں ہی میں اس کی بس ہو گئی تھی۔ وہ روہانسی ہو ئی۔
” تھک گئی ہوں۔“
”ٹھیک ہے اپنی مرسڈیز میں آجانا۔“ میں نے طنز کیا۔
”اے ،شادی شدہ ہوکر بھی تمھیں لڑکیوں سے بات کرنے کی تمیز نہیں ہے۔“ وہ دوڑ کر میرے قریب ہوئی۔
میں نے تپ کر کہا۔ ”احمق عورت،سورج گھنٹے ڈیڑھ میں غروب ہو جائے گا اور اس کے بعد جنگل میں سفر کرنا دشوار نہیں ناممکن ہو گا۔“
تیزی کی وجہ معلوم ہونے پروہ قدم ملا نے کی کوشش کرنے لگی ،لیکن نازک اندام دوشیزہ پاکستانی گوریلے کے ساتھ قدم ملا کر سفر کر لیتی تو مجھے اپنی ساری تربیت بے فائدہ نظر آتی۔اچانک اسے ٹھوکر لگی ،تب بے چاری نے دوڑ کر میرے قریب پہنچنے کی کوشش کی تھی ۔گرنے سے پہلے میں نے اسے تھام لیا تھا۔میرے بازوﺅں میں آتے ہی اس کی آنکھیں بند ہو گئی تھیں۔ سردی میں بھی اس کے ماتھے پر پسینہ چمک رہاتھا۔
”شیتل.... شیتل۔“ میں اس کا سرگود میں رکھ کر زمین پربیٹھ گیا۔
”پپ.... پانی۔“ وہ مدہوشی میں بڑبڑائی۔
مگر دور دور تک پانی کا نام و نشان بھی نہیں تھا۔معصوم چہرہ کملا گیا تھا۔ مجھے زیادتی کا احساس ہوا۔ نازو نعم میں پلی سیٹھ زادی کو اتنی مشقت میں ڈال دیا تھا۔ مجھے رعایت کرنا چاہیے تھی۔اپنی سخت جانی اور مضبوطی کے زعم میں ایک کمزور لڑکی کواتنی اذیت دی تھی کہ بے چاری نڈھال ہو کر ہوش کھو بیٹھی تھی۔
ایک لمحہ سوچ کر میں نے اسے کندھے پر اٹھایا اور چل پڑا سورج غروب ہونے کو تھا اوراندھیرا چھانے سے محفوظ ٹھکانہ ڈھونڈ نا ضروری تھا۔
”مم.... میں ٹھیک ہوں۔“ چند قدم ہی چلا تھا کہ اس کی منمناتی ہوئی آواز ابھری۔
میں مزاحیہ لہجے میں بولا۔”بالکل، یہیں پر ٹھیک ہو۔“
گووہ صحت مند اور بھرے بھرے جسم کی مالک تھی۔پچپن ساٹھ کلوگرام کے بہ قدر وزنضرورہوگا۔ لیکن مجھے پھول کی طرح ہلکی لگ رہی تھی۔ دوران تربیت ز خمی اٹھانے کی مشق میں مجھے امجد کو اٹھا کر چلنا پڑتااور وہ امجد کے وزن سے آدھی تھی۔
وہ حیا آلود لہجے میں بولی۔”نیچے اتارو میں چل سکتی ہوں۔“
”ایسا ہوتا تو بے ہوش نہ ہوتیں۔“
”آپ بہت تگڑے ہیں نا،کمزور لڑکی سے مقابلہ کر کے اترا رہے ہیں۔“
”دو کارخانوں کی وارث کمزور کیسے ہوئی۔“میں نے بات کو مذاق میں ٹالا۔
”تو آپ کو اعتراض ہے۔“
”نہیں،لیکن سیٹھ بہت برے لگتے ہیں۔“
”جلو مت.... محنت کرو اور کماﺅ۔“
”نیچے اترو تم نے تو پکی سواری گانٹھ لی ہے۔“ ایک گھنا درخت دیکھ کر میں نے اسے نیچے اتارا۔
” منت کس نے کی تھی، خود ہی شوق تھا خوب صورت لڑکی کو اٹھانے گا۔“
” تمھیں خوب صورت کس نے کہاہے۔“
وہ فخر سے بولی”ساری دنیا کہتی ہے۔“
”براہ مہربانی اس دنیا میں مجھے شامل نہ کرنا۔“ میں مضبوط تنے کے درخت پر چڑھنے لگا۔
”کیا کررہے ہو؟“ وہ حیران رہ گئی تھی۔
”دیکھتی جاﺅ۔“میں اطمینان سے کہہ کر بلند ہونے لگا۔نصف اونچائی پر پہنچ کر مجھے موزوں جگہ دکھ گئی۔ سنائپر کورس کے دوران ہمیں مچان بنانا سکھایا گیا تھا۔سنائپر ایک چھوٹے چست وتیز رفتارپرندے کوکہتے ہیں۔ جو کبھی ٹک کر نہیں بیٹھتا اور اپنا سر تھوڑا سا زمین سے اٹھا کر پھر چھپ جاتا ہے۔ برطانیہ کی فوج میں جو شخص اس پرندے کو نشانہ بنا لیتا اسے ماہر نشانہ باز مانا جاتا تھا۔اور کہا جاتااس نے سنائپر کو نشانہ بنایا ہے۔ رفتہ رفتہ اچھے نشانہ بازوں کو سنائپر کہا جانے لگا اور پھر رفتہ رفتہ ترقی کر کے یہ باقاعدہ فن بن گیا۔اور مختلف ممالک اچھے نشانہ بازوں کو سنائپر بننے کی تربیت دینے لگے۔ان کا کام دشمن ملک کی اہم شخصیات کو نشانہ بناناہوتا ہے ۔اس مقصد کو انھیں چھپنے کی ضرروت پڑتی ہے۔تبھی وہ درختوں پر مچان بنانے زمین کھود کر کمین گاہ بنانے اور علاقے کی مناسبت سے خود کو ڈھال کر چھپنے کے ماہر ہوتے ہیں۔ انڈین آرمی میں سنائپرز کی بڑی تعداد شامل ہے۔پاکستان آرمی بھی پیچھے نہیں۔گو میں نے اور امجد نے اکھٹے سنائپر کا کورس کیا تھا لیکن میری نشانہ بازی اتنی اچھی نہیں تھی کہ اس میدان میں آگے بڑھ سکتا۔امجد بہترین نشانے باز تھا لیکن مجھے چھوڑ کر اس نے بھی سنائپر بننا پسند نہ کیا۔
کورس کی ابتداءمیں مچان بنانے کوہم رسیاں استعمال کرتے تھے بعد میں رسیوں کی جگہ درخت کی چھال اور ٹہنیوں وغیرہ نے لے لی۔ایک سنائپر کو مچان میں کئی کئی دن گزارنے پڑ تے ہیں اس وجہ سے خیال رکھا جاتا ہے کہ مچان آرام دہ ہواور اتنی مضبوط ہو کہ بندہ نیچے نہ گر جائے ۔اس کے علاوہ بھی مچان کی بہت سی خصوصیات ہوتی ہیں مگر وہ سنائپر کے لیے ہوتی ہیں میں نے تو بس رات گزارنے کی جگہ بنانا تھی۔
وہ درخت مچان بنانے کو ہر لحاظ سے موزوں تھا۔ گھنٹے پون گھنٹے میں مَیں دو بندوں کے لیٹنے کی جگہ بنا چکا تھا۔
اندھیرا آہستہ آہستہ گہرا ہورہا تھا۔ سر شام چہچہانے والے پرندے خاموش ہوتے جارہے تھے۔
”اوپر آجاﺅ۔“ کام ختم کرکے میں نے شیتل کو آواز دی ۔وہ درخت کے تنے سے ٹیک لگا کر بیٹھ گئی تھی۔
وہ بے پروائی سے بولی۔”مجھے درخت پر چڑھنانہیں آتا۔“
”تو بیٹھی رہو،میں تو سو رہا ہوں۔“
” مطلبی، خود غرض، احسان فراموش،کٹھور،ظالم کو کمزور کی مدد کرنے کے بجائے سونے کی پڑی ہے ۔“
اس کے کوسنوں پر میرا قہقہ بلند ہوا۔
”ہنس لو،بھگوان پوچھے گا۔“
”بڑی آئی ملّانی۔“میں مچان سے نیچے اترنے لگا۔
اس نے پوچھا۔ ” ملّانی کیا ہوتی ہے؟“
میں نے وضاحت کی۔ ” پجارن۔“
وہ حیران ہوئی۔”بھلاوہ کیوں؟“
میں اتنا نیچے آگیا تھاکہ ہاتھ تھام کر اسے کھینچ لیتا۔
”ہاتھ پکڑلو“۔ایک ہاتھ سے مضبوط ٹہنی پکڑ کر میں نے دوسرا ہاتھ اس کی طرف بڑھایا۔
ایڑیاں اٹھاتے ہوئے اس نے ملائم ہاتھ میری گرفت میں دے دیا۔
”مضبوطی سے پکڑنا، یہ نہ ہو درمیان میں چھوٹ جائے۔“ ایک ہاتھ میں اپنے سینڈل اٹھاتے ہوئے وہ ذومعنی لہجے میں بولی۔
میں نے ایک جھٹکے سے اسے کھینچا ااور پھر پتلی کمر میں ہاتھ ڈال کی اوپر والی ٹہنی پر بٹھا دیا۔ ”یہاں سے آہستہ آہستہ اوپر جاﺅ۔“
”واﺅ....“مچان میں پہنچتے ہی وہ چلائی۔ ” بڑے کاریگر ہو جان! میں توآپ کو ناکارہ سمجھتی تھی۔“
میں استہزائی لہجے میں بولا۔”تم جیسے مجھے بچپن سے جانتی ہونا۔“
وہ وارفتگیسے بولی۔”مجھے تو یونھی لگتا ہے،جیسے ہم صدیوں سے اکٹھے ہوں۔“
”ایسا ہوتا تو میںکب کا پاگل ہو چکا ہوتا۔“
”پاگل کیوں؟“
”تمھاری باتیں سن کر شریف بندے نے پاگل ہی ہونا ہے۔“
وہ مسکرائی۔”اگر آپ جیسے چند اور شریف پیدا ہو گئے تو دنیا بدمعاشوں سے بے نیاز ہو جائے گی۔“
میں نے سخت لہجے میں کہا۔”اب منہبند کرو اور سونے دو۔“ اس کے قریب لیٹ کر میں نے پیٹھ موڑی کہ اس کا سحر انگیز قرب پتھر کو پگھلا دیتا میں تو گناہ گار فوجی تھا۔
اس نے واویلا کیا۔”مجھے سخت بھوک اور پیاس لگی ہے۔“
”کہا تھا ناکہ کھالو، اب پتا چلا میں نے کیوں ڈٹ کر کھایا تھا۔“
وہ روہانسی ہوئی۔”مجھے کیاپتا تھا ایسی صورت حال میں پھنس جائیں گے۔“
” اب بھگتو۔“
”بھگوان کرے آپ کو بھوک لگے اور کھانے کو کچھ نہ ملے۔“
” الحمد اﷲ ایک ہفتہ بغیر کھائے پیے رہ سکتا ہوں ۔“
”جب بھوک لگے گی نا پھر پوچھوں گی۔“
میں جانتا تھا وہ فضول گوئی اور بے فائدہ تکرارمیں ماہر ہے ۔اور جب تک جواب ملتے رہے اس نے خاموش نہیں ہونااس لیے آنکھیں بند کر کے سونے کی کوشش کرنے لگا۔میرے دور ہٹنے اور احتراز برتنے کی وجہ سے وہ بھی انجان نہیں تھی۔دودھ پیتی بچی نہیں تھی کہ مرد، عورت کی قربت کے نتائج سے ناواقف ہوتی۔تبھی اس نے چند انچ کا فاصلہ پاٹنے کی کوشش نہیں کی تھی۔ اس کے گداز بدن کی حدت یقینادماغی خلجان کا باعث بنتی لیکن دور کھسکنے کا نسخہ کار گر رہا اور میں چند لمحوں میں گہری نیند سو گیا۔ ایسے حالات و ماحول میں عام بندے کوسونا کجا لیٹنا دشوار ہو جاتا ہے لیکن میری تربیت اس نہج پر ہوئی تھی کہ ہر ماحول میں خودد کو ڈھال سکتا تھا۔دوران تربیت ہمیں سنگلاخ چٹانوں ،تپتی ریت،کیچڑ،برف ،کانٹوں بھری جھاڑیوں اور کیڑوں مکوڑوں کے بل پر بھی سونا پڑا۔ وہ سخت تربیت اور بے آرامی ہی تو تھی کہ انجان جنگل میں ٹھنڈی رات کی ہول ناکی سے بے نیاز، خوب صورت و پرکشش ساتھی کے حسن کے جلوﺅں سے بے پروا میں چین سے سویا تھا۔
شیتل بے چاری مسلسل جاگتی رہی۔ ایک تو مچان پر لیٹنے کا اس کا پہلا موقع تھا ، دوسرا درندوں سے ڈری ہوئی تھی اورپھر صرف پتلون قمیص سردی روکنے کو ناکافی تھیں۔
نو دس بجے کا عمل ہوگا جب شیتل کے کپکپانے پر میں جاگ گیا۔
”کیا ہوا؟“ میں نے اس کی جانب رخ موڑا۔
”سس.... سردی لگ رہی ہے۔“ وہ کانپ رہی تھی۔
” کوٹ یا سوئیٹر وغیرہ کیوں نہ پہنا۔“
وہ ہکلائی۔”مم.... میں ....جج.... جادوگرنی ہوں۔ آپ ہی بتا دیتے۔ مم.... میرا ایسے حالات سے کب واسطہ پڑا ہے ۔“
“میں نے جھڑکا۔”تمھیں پتا نہیں تھا سردی کا موسم ہے۔“
وہ منمنائی۔”پپ....پر یہ تو معلوم نہ تھا کہ رات جنگل میں گزرے گی۔“
”یہ لو۔“میں نے جیکٹ اتار کر اس کی طرف بڑھادی۔
وہ نادم ہوئی۔”آ.... آپ کیا پہنیں گے؟“
میں اطمینان سے بولا۔”میں برداشت کر سکتا ہوں۔“
اس نے تکرار کیے بغیر جیکٹ پکڑ لی۔
سردی کافی زیادہ تھی،لیکن جتنی بھی ہوتی کارگل کی جان لیوا ٹھنڈ کے مقابل کوئی حیثیت نہیں رکھتی تھی۔درخت کی گھنی شاخیں بھی سردی کے خلاف اچھی خاصی روک تھیں۔جیکٹ اتارنے پر بس اتنا ہوا تھا کہ سو نہیں سکتا تھا۔
جاری ہے
 

قسط نمبر10
ریاض عاقب کوہلر
جیکٹ پہن کر اس کی کپکپاہٹ تھم گئی تھی۔ تھوڑی دیر خاموشی چھائی رہی جسے شیتل کی کومل آواز نے توڑا۔
” ایک بات پوچھوں؟“
”پوچھو۔“
اس نے جھجکتے ہوئے پوچھا۔”آپ نے شادی پسند سے کی تھی یا والدین کی مرضی سے۔“
”مجھے بھی پسند تھی اور والدین کی بھی یہی مرضی تھی۔“
”رشتہ دار ہے؟“
” چچا کی بیٹی ہے۔“
اس نے مایوسی سے پوچھا۔”کیا بہت زیادہ خوب صورت ہے؟“
”خوب صوررت ہونا،پیارا لگنے اور پسند آنے کا معیار نہیں ہے۔“
وہ رشک سے بولی۔”بہت خوش قسمت ہے۔“
میں اداسی سے بولا۔” پتا نہیں خوش قسمت وہ ہے یا میں۔“
”مجھے تو وہ لگتی ہے۔“شیتل نے دھیرے سے میرا ہاتھ تھام لیا تھا۔
میںخاموش رہا۔اس نے سوچوں کو میرے پیاروں کی جانب موڑ دیا تھا۔ سعدیہ کی من موہنی صورت میرے تصور میں در آئی۔ شیتل بلاشبہ اس سے کئی گنا خوب صورت تھی۔ایسی لڑکی پہلے میری نظروں سے نہیں گزری ، لیکن سعدیہ تو سب سے نرالی،سب سے انوکھی اور سب سے پیاری تھی۔شیتل اس کی جگہ نہیں لے سکتی تھی کہ دل کے تخت پر سعدیہ بہت پہلے سے قابض تھی۔عورتوں کو دھوکا دے کر وقتی حظ اٹھانے کا میں قائل نہیں تھا۔کیوں کہ عورت ہمیشہ ہر روپ میں میری لیے قابل احترام رہی ہے اور اس میں میری ٍخاندانی شرافت کے ساتھ گنڈہ پوروں کی ازلی خو بھی شامل ہے۔ گنڈہ پور قوم دشمن کے لیے جتنی تندخو اور خونخوار ہے دشمن کی عورتوں کے لیے اتنی ہی نرم خو اور رحمدل ہے۔ کوئی گنڈہ پور دشمن کی عورت پر ہاتھ اٹھانا گوارا نہیں کرتا۔ البتہ غلطی سے کوئی عورت ماری جائے تو علیحدہ بات ہے۔
شیتل اگر سعدیہ سے پہلے میری زندگی میں آئی ہوئی تو یقینا میں اس کے سحرانگیز حسن سے نہ بچ سکتا، لیکن اب اس کی بدقسمتی کہ میں پہلے ہی کسی کی زلف کا اسیر تھا۔اس سے مستقل تعلق ممکن نہیں تھا،عارضی تعلق جائز نہیں تھا،اب یہی حل باقی تھا کہ وہ اپنی راہ اور میں اپنی راہ لوں۔
”چپ کیوں ہو ؟“اس نے میرا ہاتھ سہلایا۔
” کوئی یاد آگیا تھا۔“
”کون ؟“ اس نے اشتیاق ظاہر کیا۔
”ماں، باپ، بیوی، بیٹا.... کوئی ایک ہو تو بتاﺅں۔“
وہ ملتجی ہوئی۔” اپنے گھر والوں کے بارے کچھ بتاﺅ ناں، اپنے گاﺅں، اپنے شہر اور خاص کر اپنے بارے۔“
اور میں بے ساختہ اسے اپنے اور سعدیہ کے بارے بتانے لگا۔ پھر عدنان ، امی، ابو اور بھائیوں کاذکر کیا۔فوج میں بھرتی اور تربیت کے قصے سنائے، چودھری انور علی اور اس کے بیٹوں سے لڑائی کی وجوہات بیان کیںاور آخر میں اپنے بھگوڑاہونے کابتایا،انڈین فوج کے ہتھے چڑھنے اورفرار ہونے کا راز فاش کیا۔یہاں تک شیتل سے ملاقات تک تفصیل بتا کر چپ سادھ لی۔ انڈیا آمد کے بعد شیتل واحد ہستی تھی جسے میں نے اتنی تفصیل سے اپنے بارے بتایا تھا۔
”جان! آپ نے توہنگاموں سے لبریز جیون گزارا ہے۔ میری کہانی تو بہت مختصر ہے۔ منہ میں سونے کا چمچ لے کر پیدا ہوئی۔ چند سال کی تھی کہ ماتا پرلوک سدھاریں، پتا جی نے دوسری شادی نہ کی ۔ دورانِ تعلیم کافی لڑکوں نے پر ڈورے ڈالے مگر میرے رویے پر انھیں منہ کی کھانی پڑی۔ انیل بھی انھی میں سے ایک تھا۔“
میں ہنسا۔”سیٹھوں کی زندگی میں کیا نشیب آئیں گے۔“
”آپ کو سیٹھوں سے نفرت ہے۔“
میں نے انکار میں سر ہلایا۔ ”صرف حقیقت بیان کی ہے۔“
”اچھا فضول بحث کے بجائے اپنے بارے بتاﺅ۔“
”شایددماغ کا کوئی کل پرزہ ڈھیلا ہے۔اپنے بارے سب بتاتو چکا ہوں ۔“
میرے پیٹ میں انگلی چبھوتے ہوئے وہ کھل کھلائی۔”مجھے تو آپ کے خفیہ معاشقوں کے بارے جاننا ہے۔“
میں صاف گوئی سے بولا۔” کوئی ہوتا تو نہ چھپاتا۔“
وہ بہ ظاہرشرارت سے مسکرائی۔”میں کیسے لگتی ہوں؟“
اس کی بات کا میرے پاس کوئی جواب موجود نہیں تھا، لیکن اسے ٹالنے کی خاطر میں بولا۔
” اچھا برا لگنے کا دارومدار خوب صورتی یا بدصورتی میں مضمر نہیں، محبت ہونے کی وجہ شکل و صورت نہیں ہوتی۔کہتے ہیں لیلیٰ کالے رنگ کی تھی لیکن مجنوںکوپوری دنیا سے پیاری اور دلکش لگتی تھی۔یقینا محبت غیراختیاری جذبہ ہے ۔بعض لوگ خوش شکل چہرہ دیکھ کر اس غلط فہمی میں مبتلا ہوجاتے ہیں کہ انھیں محبت ہو گئی ہے۔اور بعد میں ساری زندگی جلد بازی پر پشیمان رہتے ہیں۔بڑوں کی مخالفت مول کر شادی کرنا مشکل نہیں لیکن نبھانا بہت دشوار ہے۔وقتی پسندیدگی اتنی جلدی اکتاہٹ میں تبدیل ہوتی ہے کہ پچھتاوے ہی مقدر بنتے ہیں ۔“
وہ بیزاری سے بولی۔” بھاشن سننے کا موڈ نہیںہے ،مجھے جواب چاہئے۔“
” پُرپیچ راہوں پر ملنے والاایسا اجنبی جس نے اگلے دوراہے پر جدا ہو نا ہو۔“ میں نے تلخ حقیقت اگلی۔
وہ خاموش ہو گئی۔یقینا خلاف توقع سننے کو ملا تھا۔لیکن میں اسے خوش کرنے کو مصیبت مول نہیں لے سکتا تھا۔
رات کے تین ، چار بج رہے تھے۔ یہ اندازہ میں نے ستاروں کو دیکھ کر لگایا تھا۔ دوران تربیت ہمیں مشہور ستاروں اور جھمکوں سے روشناس کرایا گیا تھا۔ جس کی بدولت سمت کا برقرار رکھنا اور وقت کااندازہ لگانا میرے لیے آسان ہو گیا تھا۔
فلکیات بہت بڑا علم ہے۔ ماہرین فلکیات تو آسمان پر موجود ایک ایک ستارے سے واقف ہوتے ہیں۔عام آدمی بھی کوشش کرے تو ستاروں کے متعلق اتنا علم آسانی سے حاصل کر سکتا ہے کہ سمت کی پہچان یا وقت کا اندازہ کر سکے۔
زمین کی محوری گردش کی وجہ سے ستارے ہمیں حرکت کرتے نظر آتے ہیں۔ ستارے بھی مشرق سے طلوع اور مغرب میں غروب ہوتے ہیںاور جو ستارے سر شام مشرقی افق پر نظر آئیں رات کے تین چار بجے وہ مغربی افق کے نزدیک ڈوبتے نظرآتے ہیں۔ اس وقت بھی میں نے ”اورین“ (Orion)نامی جھمکے اور آسمان دنیا کے سب سے روشن ستارے ”سائرس “ (Sirius)کے ذریعے وقت کا اندازہ لگایا تھا۔
سردی جو بن پر تھی۔ گیدڑ بھیانک و کریہہ آواز میں”ہکوہو۔“ چلا رہے تھے۔
میں نے سونے کی کوشش کی جو ناکام رہی اور میرا ذہن مستقبل کا لائحہ عمل طے کرنے لگاصبح تکمیں اسی ادھیڑ بن میں مصروف رہا۔
سپیدہ¿ سحر نمودار ہوتے ہی اٹھ بیٹھا۔ شیتل سو گئی تھی۔گرم جیکٹ پہن کر وہ کافی حد تک سردی سے بچ گئی تھی۔ میں آہستہ سے نیچے اترا اور ورزش کرنے لگا۔بھاگ دوڑ ہی سے جسم گرم کیا جاسکتا تھا۔ تھوڑی دیر بعد شیتل کی آواز سنائی دی ۔ اس کی آنکھ غالباً پرندوں کی چہچہاہٹ سے کھلی تھی۔
”مسٹر جان !....آپ کہاں ہیں؟“
میں تنے کے قریب ہوا۔”نیچے آجاﺅ تاکہ چلیں۔“
” گر جاﺅں گی۔“
میں نے تسلی دی۔” نیچے کھڑا ہوں تھا م لوں گا۔“
”نہیں اوپر آجائیں۔“اس نے ہٹ دھرمی دکھائی، مجبوراً اوپر چڑھناپڑا۔
میرے سہارے وہ ہمت کر کے اتر آئی۔
”چلو۔“سمت کا تعین کر کے میں قدم بڑھائے۔
”میرا من تو کہتا ہے تمام جیون یہیں بتا دوں۔“
”روکا کس نے ہے۔“
” تو رکو نا ،کہاں چل دیئے۔“وہ متبسم ہوئی۔
” تمھارے اندازے کے مطابق ہم کہاں ہیں۔“ میں نے موحوع تبدیل کیاکہ اس کے الٹے سیدھے سوالوں کا جواب میرے پاس نہیں تھا۔
”کچھ کہہ نہیں سکتی۔“اس نے لاعلمی سے سر ہلایا۔
اچانک میری نظر جھاڑی میں دبکے خرگوش پر پڑی۔
”شش....“ اسے خاموش ہونے کا کہہ کر میں نےجیب سے چھوٹا پستول نکالااور نشانہ سادھ کر لبلبی دبا دی۔ خرگوش اچھل کر گرا اور تڑپنے لگا۔ میں بھاگ کر قریب پہنچا اور اس کی گردن پر خنجر پھیر دیا۔
وہ قریب آئی اور دکھی دل سے بولی۔” اس معصوم کو کیوں ہلاک کیا ۔“
خرگوش کی کھال اتارتے ہوئے میں نے فلسفہ بگھارا۔”اپنی جان بچانے کودوسروں کی قربانی دیناقانون فطرت ہے۔“
“کتنے ظالم ہیں آپ۔“معصومیت سے کہتے ہوئے وہ ایک تنے سے ٹیک لگا کر بیٹھ گئی اورمیری کارروائی دیکھنے لگی۔
میں نے خرگوش کا گوشت الائشوں سے پاک کر کے ایک جھاڑی پررکھااور خشک لکڑیاں اکٹھی کرنے لگا۔بہ قدرِ ضرورت لکڑیاں جمع کر کے میں نے دو پتھروں کا چولھا بنایا،لائیٹر سے آگ سلگا ئی اور خرگوش کو لمبے پھل کے خنجر میں پروکر بھوننے لگا۔ یہ لائیٹر مجھے باورچی کی جیب سے ملا تھا۔
وہ قریب آئی،آگ پر ہاتھ تاپتے ہوئے کراہت سے بولی۔”یہ آپ کھائیں گے؟“
میں نے منہ بنایا۔”اس کی سردی اتارنے کو تو آگ پر نہیں پکڑا۔“
وہ ناک بھوں چڑھاتے ہوئے بولی۔”میں تو کبھی نہ کھاﺅں چاہے بھوک سے مرناکیوں نہ پڑے۔“
”منت کس نے کی ہے۔“میں وقفے وقفے سے خنجر کو گھما رہا تھا تاکہ کوئی جانب کچی نہ رہے۔ جلد ہی خرگوش بھن کر تیار ہو گیا۔
بھنی ہوئی ران سے زور آزمائی کرتے ہوئے میں نے دعوت دی۔ ” تم نے کل سے کچھ نہیں کھایا اورپتا نہیں مزید کب تک کھانے کو نہ ملے۔“
اس نے سرکو دائیں بائیں جنبش دی۔ ” ہمارے دھرم میں ماس (گوشت) کھانا منع ہے۔“
” منع کرنے والے آپ کے بڑے بڑے پجاری خود چھپ کرگوشت سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔“
وہ نیم رضامند ہوئی۔” اسے کھا کر کچھ ہونہ جائے۔“
اس کے انکار میں دراڑ پڑتی دیکھ کر میں نے بھنی ہوئی ران اس کی طرف بڑھائی۔ ”چکھ کر دیکھو،اگر اچھا نہ لگے تو نہ کھانا۔“
”نن.... نہیں۔“ اس نے کمز ور سا احتجاج کیا۔
میں نے ران زبردستی اس کے ہاتھ میں تھمائی۔”چکھو تو سہی۔“
اس نے بے دلی سے ذرا سا کاٹااور کراہت سے چبانے لگی۔
بھنے ہوئے گوشت کے لذیذ ذائقے نے اس کی کراہیت کوجلد ہی لذت میں تبدیل کر دیا تھا۔وہ پُرشوق انداز میں ران کو جڑ گئی اور تھوڑی ہی دیر میں اس کے ہاتھ میں ہڈی بچ گئی تھی۔
میں نے گوشت کا ایک اور ٹکڑا اس کی جانب بڑھا دیا۔ ہم پورا خرگوش چٹ کرگئے تھے۔ میں نے زیادہ تر گوشت شیتل کو کھلا یاتھا، کہ کل سے بھوکی تھی اور اس کے بعد بھی جانے کب کچھ کھانے کو ملتا۔
ہمارا سفر پھر شروع ہو گیا۔فرلانگ بھر چلنے کے بعد ہم اچانک ندی پر جانکلے۔ ندی کا پانی نہایت ہی شفاف تھا۔پانی کا بہاﺅ شمال سے جنوب کی طرف تھا۔سردیوں کی وجہ پانی کی مقدار کم تھی ۔البتہ گرمیوں میں ندی جو بن پر ہوتی ہو گی۔ ہم نے اوک بنا کر ٹھنڈا میٹھا پانی پیا۔یوں لگا دوبارہ زندگی ملی ہو۔
”الحمدﷲ۔“ جی بھر کے پانی پی کر میں نے اپنے مالک کا شکر ادا کیا۔
سردیوں کا سورج پُر لطف تمازت کے ساتھاپنے سفر پر روانہ تھا، ہم بہاﺅ کے رخ چل پڑے۔ شیتل کی وجہ سے میں نے رفتار آہستہ رکھی تھی۔ سورج کے اوپر آتے ہی اس نے جیکٹ میرے حوالے کردی کہ نازک اندام دوشیزہ کوبھاری جیکٹ پہن کر چلنا دشوار تھا۔ جنگل کافی گھنا تھا۔ مجھے امید تھی کہ ندی کے کنارے ہمیں کوئی آبادی ضرور ملے گی۔
اچانک جنگل فائر کی آوازسے گونج اٹھا۔میں شیتل کا بازو پکڑکر جھاڑی کی آڑ میں دبک گیا۔ کلاشن کوف میں نے ہاتھ میں لے لی تھی۔
اس کی ہکلاتی ہوئی سرگوشی ابھری۔”کک....کون ہو سکتا ہے؟“
”شش....“اسے خاموش رہنے کا اشارہ کر کے میں جھاڑی کی آڑ سے جھانکنے لگا۔
دوڑتے گھوڑوں کی ٹاپ سنائی دینے لگی۔ ایک شخص بھاگتا ہوادرختوں کے جھنڈسے نمودار ہوا۔ اس کا رخ ہماری جانب تھا، مگر قریب پہنچنے سے پہلے جھاڑی سے الجھ کر گرا اور پھراٹھ نہ سکا۔ اس کاسانس دھونکنی کی طرح چل رہاتھا۔لمحہ بھر بعد ہی پانچ گھڑسوار نمودار ہوئے۔ تمام مسلح تھے۔ پیدل شخص چونکہ راستے میں گرا تھا اس لیے ان کی نگاہ سے اوجھل نہ رہ سکا وہ اس کے گرد گھیرا ڈال کرکھڑے ہو گئے۔ ایک سوار ہمارے اتنے نزدیک تھا کہ میں ہاتھ بڑھا کراس کے گھوڑے کو چھو سکتا تھا۔
ان کی نظریں گرے ہوئے شخص پر مرکوز تھیں۔
میں نے شیتل کو اشارے سے ملحقہ جھاڑی کی طرف کھسکنے کا کہا تاکہ ان سے دورجا سکیں۔ پرائے پھڈے میں ٹانگ اڑانا مجھے پسند نہیں تھا۔
شیتل رینگتے ہوئے دور ہونے لگی۔
ایک گھڑ سوار گرج دار آواز میں دھاڑا۔” ٹھا کر رنجیت سنگھ!تمھیں مشورہ دیا تھابلونت سے پنگا نہ لے۔ مگر تمھیں بلونت کی طاقت واختیار پر شک تھا۔“
وہ اپنا سر زمین پر ٹیکے پڑا رہا۔
بلونت گھوڑے سے اترا اورٹھاکر کے قریب پہنچ کر اسے ٹھوکروں پر رکھ لیا۔
”اٹھ ٹھا کر! بلا پلس (پولیس)نوں، دیکھتا ہوں تمھیں کتے کی موت مرنے سے کون بچاتا ہے۔“
ٹھاکر لرزتا ہوا اٹھ بیٹھا۔ اس کے سانسیں اب تک ہموار نہیں ہوئے تھے۔ شاید بہت دور سے دوڑتا ہوا آیا تھا۔ وہ ڈھلتی عمرکا کمزور سا شخص تھا۔ اس کے چہرے پر بے چارگی و بے بسی نظر آرہی تھی۔نجانے کیسا ٹھاکر تھا۔ لباس اورشکل سے توعام سا شخص لگ رہا تھا۔
وہ ہانپتا ہوا بولا۔” واہ گرو کی سوں، رام پورہ کا بچہ بچہ تیرے خلاف گواہی دے گا۔ تُو ہتھیارا ہے پاپی ہے........“اور بلونت کی ٹھوکر کھا کر وہ پیچھے الٹ گیا۔
” رام پورہ کو آگ لگا کر شمشان گھاٹ نہ بنا دیا تو بلونت نہ کہنا۔“
”تُو صرف نہتوں اورکمزوروں پر ہاتھ اٹھاسکتا ہے۔ پرائی بیٹیوں کو رسواکرسکتا ہے۔ لیکن پولیس کا مقابلہ کرنا تیرے جیسے کے بس سے باہر ہے۔“
بلونت نے غصے سے پاگل ہو کر ٹھا کر پر ٹھوکروں کی بارش کردی۔
” بھونکتا ہے کتے، پلس نوں بلا،یا کسی اور سورما کو آواز دے جو بلونت کا مقابلہ کرسکے۔“
ٹھاکر کوشش کے باوجود اس کی ٹھوکروں سے بچ نہیں پارہا تھا۔
شیتل کھسکتی ہوئی پندرہ بیس گز دور پہنچ گئی تھی اورباربار اشارے کر کے مجھے بلا رہی تھی۔ لیکن میراضمیر اس بزدلی کی اجازت نہیں دے رہا تھا۔ بلونت کی للکار اور ٹھا کر کی کراہیںپاﺅں کی بیڑیاں بن گئی تھیں۔ غصے کی شدت سے میری کنپٹیاں چٹخنے لگی تھیں۔ان کے جھگڑے کا سبب واضح تھا۔ نیکی بدی کی پرانی چپلقش جو ازل سے شروع ہے ۔ٹھاکر مظلوم اور حق پر تھاجبکہ بلونت بدی کا نمائندہ تھا۔
بلونت اور اس کے ساتھیوں کے پاس پرانی رائفلیں تھیں جنھیں ہر فائر کو کاک کرنا پڑتاہے۔ جبکہ میرے پاس جدید کلاشن کوف تھی۔لیکن انھیں عددی برتری حاصل تھی۔ اس لیے للکارنے میں خطرہ تھا۔بے خبری میں انھیں آسانی سے نشانہ بنایا جا سکتا تھا۔ تمام ٹھا کر رنجیت سنگھ کی طرف متوجہ تھے۔ میں نے شیتل کو زمین پر لیٹنے کا اشارہ کیاتاکہ کوئی اچٹتی ہوئی گولی اسے نہ لگ جائے۔احتراز برتنے کے باوجود کم بخت دل کو اس کی حفاظت کا خیال نہیں بھولتا تھا۔
مجھے کڑی نظروں سے گھورتے ہوئے وہ جھاڑی میں دبک گئی۔وہ میرے جارحانہ اقدام کے حق میں نہیں تھی،لیکن ایک مظلوم کو بے یارو مددگار چھوڑ کر بھاگنا مجھے گوارا نہ ہوا۔بعد میں ضمیر کی عدالت کا سامنا کرنے سے مجھے اس وقت جوکھم اٹھانا بہتر لگا۔
حفاظتی لیورکو چھٹے (برسٹ) پر لگا کر میں کھڑا ہوااور لبلبی دبا کرکلاشن کوف کی نال کو اس سرعت سے گھمایائی کہ پانچوں سوار مردہ چھپکلیوں کی طرح نیچے آگرے۔ ان کے گھوڑے بدک کر دوڑپڑے تھے۔بلونت سنگھ ناگہانی افتاد پر ششدر کھڑا تھا۔
کلاشن کوف کی میگزین خالی ہوتے ہی میں نے نئی میگزین لگانے کے بجائے بریٹا نکال لیا۔
بلونت نے رائفل سیدھا کرنا چاہی مگرتب تک میں لبلبی دبا چکا تھا۔گولی اس کے پاﺅں کے درمیان لگی تھی۔
”رائفل پھینک دو،ورنہ اگلی گولی کھوپڑی میں لگے گی۔“
رائفل پھینکتے ہوئے اس نے ہاتھ بلند کر دیئے۔”تت.... تم .... تمھیں بلونت سے ٹکر لینامہنگا پڑے گا۔“
میں متبسم ہوا۔ ”میں تو ڈر گیا۔“
وہ دھمکی آمیز لہجے میں بولا۔”پچھتاﺅ گے۔“
میں اس کے قریب ہوا۔ ”بزدل کی بڑی نشانی کمزوروبے بس افراد کو بہادری دکھانا ہے۔“
بلونت نے نفرت سے نیچے تھوکا۔” ہتھیار کے بل پر ڈینگیں مارنابھی بہادری نہیں ہے۔“
میں نے دانت پیسے۔”بہادری کا دعوے دار تو تو ہے بھڑوے۔“
وہ اعتمادسے بولا۔”پستول کا سہارا چھوڑ،تمھیں بہادری بھی دکھا دیتا ہوں۔“
میں نے پستول جیب میں ڈالا،بلونت کینہ توز نظروں سے گھورتا ہوا ہاتھ پھیلا کر میری طرف بڑھا۔ اس کا انداز بالکل پہلوانوں جیسا تھا۔ہاتھ یوں دائیں پھیلائے تھے جیسے مجھے وہیں دبوچ لے گا۔
میں اطمینان سے کھڑا رہا۔ جونھی وہ قریب ہوامیری بائیں ٹانگ ہوا میں لہرائی،اور ایڑی پوری قوت سے اس کے منہ پرپڑی ۔ وہ کو لہوں کے بل نیچے گرا ، ہونٹ پھٹ گئے تھے اور سامنے والے دو تین دانت زمین پر آگرے۔ وہ خون تھوکتا ہوادوبارہ اٹھا،اس کی آنکھوں میں نفرت کا الاﺅ جل رہا تھا۔
مگر بہ مشکل سیدھاہوپایا تھا کہ میں نے قدم بڑھا کربھرپور تھپڑاس کے چہرے پر رسیدکیا۔وہ لڑکھڑایا،میں نے دوبارہ اور سہ بارہ بھی تھپڑ جڑ دیاتھا۔اگر چاہتا تو اسے فی الفور قتل کر سکتا تھا مگر میرا ارادہ اسے ذلیل کرنے کاتھا۔
وہ گھٹوں کے بل گرا اور وہیں بیٹھ گیا۔
”یہ بہادری دکھانے کا کون سا طریقہ ہے۔“میری لات اس کی چھاتی میں لگی وہ چاروں شانے چت ہو گیا تھا۔
وہ ہانپتے ہوئے بولا۔”میں ہار مانتاہوں۔ہماری کوئی دشمنی نہیں ہے۔“
”غلط فہمی ہے تمھاری۔“میں نے مخصوص انداز میں اس کے گھنٹے پر چوٹ لگائی۔”کڑکڑ ۔“ کی آواز سے جوڑ نکل گیا تھا۔اس کی تیز چیخ سے ماحول گونج اٹھا تھا۔گھٹنے کو تھام کر وہ دہرا ہو گیا،اس کا بدن رعشے کے مریض کی طرح کانپ رہا تھا۔
میں چھاتی میں ٹھوکر مار کر اسے پیچھے گرایااور مضروب گھٹنے پر پاﺅں رکھ دیا۔
درد بھری کراہ نکلی اور وہ چلایا۔ ”مت مارو۔ بھگوان کے لیے معاف کردومیں غلطی تسلیم کرتا ہوں۔“
”بڑی جلدی بھگوان کی یاد آگئی تھوڑی دیر پہلے تو شیطان کے گلے میں بانہیں ڈالے ہوئے تھے۔“ میں نے اسے ٹھاکر رنجیت سنگھ کے قدموں میں پھنک دیا۔
”ہائے رام!“ تکلیف کی شدت سے اس کا چہرہ مسخ ہو گیا تھا مجروح گھٹنے کو پکڑے وہ مسلسل کانپ رہا تھا۔
” مجھے واہ گرو کے لیے معاف کر دے۔“ مجھے جارحانہ انداز بڑھتا دیکھ کر اس نے رنجیت سنگھ کے پاﺅں پکڑ لیے تھے۔ ”مم.... میں دوبارہ رام پورہ کا رخ نہیں کروں گا بھگوان کی سوگندھ کھا تا ہوں دوبارہ غلط حرکت نہیں کروں گا۔“
رنجیت سنگھ کا دل پسیج گیا تھا۔وہ ملتجی ہوا۔”بیٹا! کافی سزا مل گئی ہے پاپی کو،اگرذرا بھی شرم ہوئی تودوبارہ بری راہ اختیار نہیں کرے گا۔“
”شرم اس میں کہاں ہے ٹھاکر جی!بچھو کو جتنی بار ڈوبنے سے بچاﺅگے ڈنک ہی کھاﺅ گے۔ تو بہتر ہے سر کچل دو۔“ میں نے ایک ہاتھ بلونت کے سر پر رکھا اور دوسرا ہاتھ ٹھوڑی پررکھ کر مخصوص جھٹکا دیا۔ ”کٹاک“ کی آواز سے گردن ٹوٹ گئی تھی ۔ وہ اذیت سے ہاتھ پاﺅں جھٹکنے لگا۔
”واہ گرو تمھیں سکھی رکھے پُتر!“ ٹھاکرنے میرا چہرہ تھام کر ماتھے پر بوسا دیا۔
اسی وقت شیتل بھی جھاڑی سے نکل آئی ۔”آپ ٹھیک تو ہیںنا۔“ اس نے فکر مندی دکھائی۔
میں نے اطمینان ظاہر کیا۔”مجھے کیا ہوگا۔“
وہ ٹھا کر رنجیت سنگھ کی طرف متوجہ ہوئی۔”آپ کیسے ہیں؟“
”واہ گرو کی کرپا سے اچھا ہوںپتری!“
میں ڈاکوﺅں کے گھوڑوں کو پکڑنے کی کوشش کرنے لگا۔تھوڑی کوشش کے بعد تین گھوڑے ہاتھ آگئے تھے۔
انھیں جھاڑی سے باندھ کر میں ٹھاکر کی طرف بڑھ گیا۔
”آﺅ پُتر۔“ مجھے دیکھ کر ٹھا کر اٹھنے کی کوشش کی۔
”ٹھاکرچچا ! بیٹھے رہیں۔“ میں نے ان کے کندھوں پر ہاتھ رکھ دیا
وہ مجھے دعائیں دینے لگے ۔اچانک مجھے شیتل سے جان چھڑانے کی تدبیرسوجھی۔ٹھاکر خیریت سے اسے باپ تک پہنچا سکتا تھا۔
”چچا ٹھا کر!میں ذراجلدی میں ہوں،کیا آپ چھوٹی سی سہائتا (مدد)کر دیں گے۔“
’ وہ جلدی سے بولا۔ ”ایک نہیں دس کام بولوپتر!“
” اسے بہ خیریت گھر تک پہنچا دیں گے، کیوں کہ مجھے فی الفور جانا ہے۔“
”ڈرپوک،بزدل،مطلبی خود غرض! مجھے ایک اجنبی کے حوالے کر کے کہاں جا رہے ہیں۔اتنا ہی بوجھ تھی تو گھر سے کیوں بھگایا،پیار محبت کے سپنے کیوں دکھائے،ساتھ نبھانے کی سوگند کیوں کھائی،مانگ بھرنے کے لارے کیوں دیئے،منگل سوتر پہنانے کا وعدہ کیوں کیا،رات بھر گلے سے لگا کر کیوں سوئے۔اب بیچ منجدھار چھوڑ کر بھاگنے کی فکر میں ہیں۔“شیتل غصے سے پھٹ پڑی تھی۔
الزامات کی بوچھاڑ سن کر میری سٹی گم ہو گئی تھی ۔میں حیرت سے گنگ اسے گھورتا رہ گیا۔
lll
شیتل کی پسندیدگی میری نگاہ سے اوجھل نہیں تھی۔بلکہ رگھو دادا کی موت کے بعد وہ ہاتھ دھو کے میرے پیچھے پڑی تھی ۔جبکہ میں اسے اپنی مجبوریاں اور مسائل تفصیل سے بتا چکا تھا۔ہمارا ملاپ مشکل نہیں ناممکن تھا۔پھر اسے یوں ردعمل ظاہر کرنا نہیں جچتا تھا۔نہ تو اسے میں نے پیار و محبت کے سپنے دکھائے تھے،نہ وعدے وعید کیے تھے ،نہ منگل سوتر یا مانگ بھرنے کی بات ہوئی تھی اورنہ بیچ منجدھار چھوڑ کر جا رہا تھا۔بلاشبہ میری وجہ سے اسے اغواءہونے کی ذلت سہنا پڑی تھی،اس کی عزت پر حملہ ہوا تھا،لیکن اسے بچانے کا سہرا بھی تو میرے سر تھا۔باقی اسے والد تک پہنچانے کا وعدہ کیا تھا تو ٹھاکر کے ذریعے وعدہ ہی پورا کر رہا تھا۔ضروری تو نہیں کہ میں بہ نفس نفیس والد کے پاس چھوڑ آتا۔اتنی سی بات پر الزامات پر اتر آنا حماقت تھی۔
ان بہتانات نے مشتعل کرنے کے بجائے مجھے پریشان کر دیا تھا۔انسان فطرتاََ خود پسند ہوتا ہے۔چاہے جانے کا خواہاں و طلب گار ہوتا ہے۔میں بھی ایک گناہ گار انسان ہی ہوں۔کہتے ہیں کسی کی چاہت سے اعراض کیا جا سکتا ہے غصہ نہیں۔اور جب بات شیتل جیسی دوشیزہ کی ہو تو کوئی اندھا ہی اس کی قربت سے بے نیاز ی دکھا سکتاتھا۔
خوداپنی وجاہت وکشش سے میں ناواقف تھا اور اس کی منطقی وجہ گنڈہ پوروں کی معاشرت ہے کہ بہ قول یونس بٹ صاحب ”سرحد کے کچھ علاقوں میں عورت کا چہرہ نظر آنا ایسا ہے جیسے سڑک پر ہزار کا نوٹ پڑا ہو۔“
ہمارا علاقے میں عورتوں ،مردوں کے میل جول کی گنجائش نہیں ہے ۔ پردے کی پابندی کے ساتھ عورتوں میں تعلیم کا بھی فقدان ہے۔ باقی میں بالغ ہوتے ہی پسندیدہ لڑکی کو حاصل کرنے میں کامیاب ہو گیا تھا جس کی وجہ سے عشق و محبت کی فضولیات سے بچا رہا۔گو ابتداءجوانی میں مجھے گاﺅں چھوڑنا پڑا لیکن مقام ہجرت یونیورسٹی کالج کا ہاسٹل یا جدید ترقی یافتہ شہر نہیں تھا کہ بے راہ روی کا موقع ملتا۔آرمی کا نظم و ضبط اورمسلسل مشکل تربیت نے مجھے ایسے شغل میں مصروف رکھا کہ غم عاشقی و معشوقی کے قریب بھی نہ پھٹک سکا۔فوجی ماحول میں تو صنف نازک تک خواب میں بھی رسائی نہیں ہوتی کہ دن بھر کی ”رگڑا پریڈ “ ہی سپنوں کا مرکز ہوتی ہے۔موبائل فون،انٹرنیٹ،فیس بک،انسٹاگرام، ٹویٹر،ٹک ٹاک جیسی خرافات سے بھی ہمارا بچپن جوانی محفوظ رہے اس لیے بگڑنے کے مواقع نہ ہونے کے برابر تھے۔ البتہ انڈیا آمد کے بعد کیپٹن نیلم کی بے راہ روی،جوہی کی ہمدردی، اور شرلاکی عقیدت نے مجھے تھوڑا بہت سوچنے پر مجبور کیا کہ میری شکل و صورت کسی قابل ضرور ہے۔اور اب اس خیال کو شیتل جیسی دوشیزہ کی وارفتگی تقویت دے رہی تھی۔
ٹھاکر رنجیت سنگھ پر صفائی دینے والی نگاہ ڈال کر میں نے شیتل کو شاکی نظروں سے گھورا۔غزالی آنکھوں میں نمی بھرے وہ سراپا التجا بنی تھی۔نظریں چرائے بغیر وہ مسکنت سے مجھے گھورتی رہی۔میرے پاس تردید کاحق بھی تھا اور جرا¿ت بھی۔اس کے الزامات کا جواب نہ دینا گویاسب کچھ تسلیم کرنا تھا،لیکن ایسا کرنے پر وہ اپنی نظروں میں گرجاتی۔ٹھاکر کے سامنے اس کے کردار کی دھجیاں بکھر جاتیں۔شاید ساری زندگی وہ توہین و تنقیص کے خیالوں میں الجھی رہتی۔میری دوری و جدائی سے بڑھ کراحساس ہتک اسے چین نہ لینے دیتا۔یقینا یہ زیادتی ہوتی۔ اس کا جرم صرف محبت کرناتھااور اس کی سزا دینا ظلم ہوتا۔یہ بھی ممکن تھا جذبات میں آکر وہ کوئی غلط قدم اٹھا لیتی۔میں نے اسے زبردستی اغواءکیا تھا گویاہماری ملاقات کی وجہ میں تھا۔اور اس کی چاہت کسی کوشش کے مرہون منت نہیں تھی۔ محبت جان بوجھ کر نہیں کی جاتی ،ہو جاتی ہے۔چاہنے والے مجبورو بے بس ہوتے ہیں قصوروار نہیں۔
ٹھاکر رنجیت سنگھ بہ غورمجھے گھور رہا تھا۔جہاں دیدہ شخص سے بعید نہیں تھا کہ معاملے کی تہہ تک پہنچ گیا ہو۔لیکن میں نے شیتل کی تردید نہ کر کے اس کی غلط فہمی برقرار رہنے دی۔
”ٹھا کر چچا !کیا اکیلے اپنی بستی تک جا سکیں گے؟“
”پُتر! بستی نزدیک ہے،پرنتو اس سمے میرا تنہا سفر کرنامشکل بھی ہے اور نامناسب بھی۔بلونت سنگھ کا گروہ بہت بڑا ہے۔اگر کسی اور ٹولی سے ٹکراﺅ ہو گیا تو مجھے بچانے کوئی نہیں آئے گا۔“
”آپ کو بستی تک پہنچا دیتے ہیں لیکن پھر فی الفور ہمیں جانا ہو گا۔“میں،کے بجائے ہم بولنے پر شیتل کا چہرہ خوشی سے گلنار ہو گیا تھا۔ملتجی نگاہوں میں چاہت کے دیپ اندھیری رات میں چمکنے والے ستاروں کی طرح ٹمٹمانے لگے۔اگر ٹھاکر چچا نہ ہوتے تو شاید وہ مجھ سے لپٹ گئی ہوتی۔
وہ دعائیہ لہجے میں بولے۔ ”واہ گرو تمھیں سکھی رکھے پُتر!،اگر میری خاطر تھوڑا اور کشٹ اٹھاسکوتو رائفلیں اکٹھی کر دو۔کیوں کہ ان پاپیوں سے مقابلے کو ضرورت پڑیں گی۔“
”ضرور۔“ خوش دلی سے کہتے ہوئے میں نے لاشوں کے ہمراہ بکھری رائفلوں کی طرف بڑھ گیا۔ تمام رائفلیں اکٹھی کر کے میں اس طرح باندھیں کہ گھوڑے کی پیٹھ پر رکھی جا سکیں۔گولیوں کی پیٹیاں بھی چادر میں باندھ کر ایک گھوڑے پر لا دیںاورٹھاکر رنجیت کو سہارا دے کراسی گھوڑے پر بٹھا دیا۔
دوسرے گھوڑے کی رسی کھول کر میں شیتل کے قریب ہوا جو سرجھکائے پشیمان سی کھڑی تھی۔میرے خاموشی سے الزام قبول کرنے نے اسے نادم کر دیا تھا۔
”بیٹھو۔“گھوڑے کی پیٹھ پر ہاتھ پھیرتے ہوئے میں نے اسے دعوت دی۔
نظریں ملائے بغیر وہ منمنائی۔”مم....مجھے ڈر لگتا ہے۔“
میں نے تسلی دی۔” یہ سدھائے ہوئے گھوڑے ہیں کچھ نہیں ہوتا۔“
نفی میں سرہلاتے ہوئے اس نے سحر بھری آنکھیں اٹھائیں جن میں تیرتی نمی بہنے کو بے تاب تھی۔اور ملتجی ہوئی۔ ”مجھے اپنے ساتھ بٹھا لیں نا۔“
میں نے تلخی سے سوچا۔”تاکہ گود میں بٹھاکر گھڑ سواری کرنا بھی الزامات کی فہرست کا حصہ بن جائے۔“لیکن کہہ نہ پایا ۔گہرا سانس لے کر میں آخری گھوڑے کی لگام اس کی زین سے باندھی اور اور خود اچھل کر سوار ہوگیا۔وہ سہارا لے کر میرے عقب میں بیٹھ گئی تھی۔
وہ میرے لیے ایسا کمبل بن گئی تھی جس سے جان چھڑانا دشوار ہو گیا تھا۔اگر سعدیہ اس سے پہلے میری زندگی میں نہ آئی ہوتی اور مجھے گھریلو پریشانیاں لاحق نہ ہوتیں تووہ پہلے دن ہی سے مجھے اسیر کر چکی ہوتی۔ اس کی بدقسمتی کہ حالات موافق نہ ہونے کی وجہ سے میرے نازک جذبات پر اوس پڑی ہوئی تھی۔
میں ٹھاکر کے پیچھے بڑھ گیا۔اس نے ملائم بانہیںبغلوں سے گزار کرمیری چھاتی پرہاتھ باندھے اور سر میرے کندھے پر ٹیک دیا۔یوں جیسے چھوٹی بچی ڈرنے کے خوف سے بڑے کو لپٹتی ہے۔اس کا سحر انگیز لمس مجھے مدہوش کرنے لگا تھا۔ٹھاکر کی وجہ سے اسے ٹوک بھی نہیں سکتا تھا۔یوں بھی ایک گھوڑے پر بیٹھ کر کتنا فاصلہ رکھا جا سکتا تھا۔توجہ بٹانے کو میں رفتار بڑھا کرٹھاکر کے قریب ہوا۔
”ایک بات پوچھوں ٹھاکر چا چا۔“
”اجازت لینے کی ضرورت نہیں ہے پتر!“
”بلونت کا کیامعاملہ ہے ؟“
”وہ راکھشس دھرتی کا ناسور تھا،اس کے کارن کتنی کنواریوں کی عزتیں لٹیں، کتنی عورتوں کے سہاگ اُجڑے،کتنے بچے بے گھر ہوئے، کتنے پر یوار برباد ہوئے اس کا کوئی شمار نہیں ہے۔ وہ پاپی ....“ ٹھا کر رنجیت سنگھ بلونت کے بارے تفصیل سے بتانے لگا۔ جس کا لبِ لباب یہی تھا کہ بلونت علاقے کا نامی گرامی ڈکیت تھا۔ اس کا گروہ پچیس تیس ڈاکوﺅں پر مشتمل تھا۔ علاقے بھرمیں ان کی دہشت بیٹھی تھی۔ پولیس بھی ان کے معاملات کو نظر انداز کیے رکھتی تھی اور روایتی سستی کی بدولت ہمیشہ سانپ نکلنے کے بعد لکیر پیٹنے پہنچتی۔ علاقے کے لوگوں کی خوش قسمتی کہ انسپکٹر اکبر خان وہاں تعینات ہوا، اس کی آمد پر وارداتوں میں واضح کمی ہوگئی۔چھوٹے موٹے غنڈوں سے نبٹ کر وہ بلونت سے نبٹنے کو تیار ہوا۔اور سر کردہ لوگوں کو جمع کر کے بلونت کے خلاف مدد کی درخواست کی۔ اس کی آواز پر صرف رام پورہ کے ٹھاکر رنجیت سنگھ نے لبیک کہا۔ باقی بستیوں کے بڑوں نے بلونت کے خلاف گواہی دینے اور کوئی تعاون کرنے سے معذوری ظاہر کردی۔ان کا موقف تھا انسپکٹر اکبر خان نے ایک دن چلے جانا تھا اوراس کے بعد بلونت ان کی زندگی اجیرن کر دیتا۔حالاںکہ علاقے بھرکا اتحاد بلونت کی بربادی کو کافی تھا۔ مٹھی بھر ڈاکو تمام کا مقابلہ کیسے کرتے۔ مگر یہ سب نہ پاکستان کے عوام سمجھتے ہیں نہ وہ ماننے کو تیار تھے۔ ٹھاکر کی جرا¿ت و حوصلہ اکبر خان کو خوش کر گیا تھا۔ اس نے حفظ ماتقدم کے طور پررام پورہ کی پولیس چوکی پر نفری دگنی کر دی تھی۔
بلونت کو بھی ٹھاکر سنگھ کی پولیس کے ساتھ گٹھ جوڑ کی خبر پہنچ چکی تھی اس نے رنجیت سنگھ کو دھمکانے کوایک کارندہ بھیجاجسے ٹھاکر کے ملازموں نے قابو کر کے پولیس کے حوالے کر دیا۔
اس کے بعد وہ ٹھاکر کی تاڑ میں رہا ۔اس کی حویلی پر تو پولیس کی مداخلت کے خوف سے دھاوا نہ بول سکالیکن ٹھاکر کی بے دھیانی اسے موقع دے گئی۔
ٹھاکردوملازموں کے ہمراہ انسپکٹر اکبر خان کو ملنے رام پورہ سے نکلاان کے پاس کلہاڑیاں تھیں اور تینوں گھوڑوں پرسوار تھے۔ پولیس تھانہ شانتی نگر میں تھا۔ ٹھاکر نے سوچا چوری چھپے شانتی نگر پہنچ جائیں گے۔
بلونت تو کب کا موقع کی تلاش میں تھا۔ وہ جنگل میں گھات لگا کر بیٹھ گیا۔ ٹھاکرکے ملازم توپہلے ہلے میں مارے گئے ۔ ٹھاکر کا گھوڑا بھی گولی لگنے سے ساتھ نہ نبھا سکا۔مجبوراََاسے پیدل بھاگنا پڑا۔بلونت اسے ذلیل و خوار کر کے مارنا چاہتا تھاتبھی اس وقت تک دوڑاتا رہا جب تک وہ گر نہ گیا۔
ٹھاکر کی کہانی ختم ہونے تک ہم جنگل سے نکل آئے تھے۔کھیتوں کے بیچوں بیچ ہوتے ہوئے ہم رام پورہ میں داخل ہوئے۔ وہ ڈیڑھ دوسو گھروں پر مشتمل آبادی تھی۔ جس میں کچے و پختہ مکانات کے علاوہ اکادکاگھاس پھونس کی جھونپڑیاں بھی نظر آرہی تھیں۔ٹھاکر کی حویلی بھی پختہ اینٹوں سے بنی تھی۔اس کی چار دیواری کافی اونچی تھی۔ جنگل کی طرف ٹھاکر کی حویلی سب سے پہلے پڑتی تھی۔
داخلی دروازے پر پہنچ کر میں نے اجازت مانگی۔
وہ لجاجت سے بولا۔ ”پُتر! بغیر بھوجن کیے جانا آپ کو شوبھا نہیں دیتا۔“
میں معذرت خواہ ہوا۔”ٹھاکر چچا،ہم نے کافی سفر طے کرنا ہے ،رک گئے تو رات پڑ جائے گی۔“
”توایک رات ہمیں بھی خدمت کا موقع دو۔چچا کااتنا ادھیکار مان لو ۔“
میں بادل نخواستہ راضی ہوتا ہوا بولا۔” ہمارا ذکر کسی سے بھی نہ کرنا۔ بلونت کی ہلاکت کے ذیل میں بھی ہمارا نام نہیں آنا چاہیے۔البتہ ہمارے رخصت ہونے کے بعد آ پ سچ ظاہر کر سکتے ہیں۔“
”ایسا ہی ہوگا۔“وہ رضامندی سے سرہلا کرنیچے اترا۔اور دروازہ کھٹکھٹانے لگا۔میں بھی اترا اور شیتل کوبازوﺅں میں بھرکر نیچے کھڑا کر دیا۔
ملازم نے باہر جھانکا اور ٹھاکر کو دیکھ کر نکل آیا۔ٹھاکر اسے گھوڑوں کے بارے ہدایات دے کرہمیں ساتھ لیے حویلی میں گھس گیا۔
حویلی کی تعمیر نہایت سادہ تھی۔عمارت دو منزلہ تھی۔ ڈیوڑھی کا کمرہ بھی کافی بڑا تھا۔ گھوڑوں کا اصطبل حویلی کے پچھواڑے بنایا گیا تھا اور اس سے تھوڑا ساہٹ کرملازموں کی رہائش کے تین کمرے بنے ہوئے تھے۔
وہ ہمیں دوسری منزل پر لے گیا۔ایک کمرے کا دروازہ کھول کر وہ خوش دلی سے بولا۔ ”پدھاریئے ،میں بھوجن کا کہہ دوں۔“
میں جائزہ لینے لگا۔ کمرہ سادہ انداز میں سجایا گیاتھا۔ جنوب کی طرف ایک بڑی کھڑکی تھی جہاں سے دور دور تک پھیلے کھیتوں کو دیکھا جا سکتا تھا۔ کمرے کے وسط میں پرانے طرز کی مسہری رکھی تھی۔اس پر کڑھائی کی ہوئی سفید چادر بچھی تھی۔دیوار کے ساتھ لکڑی کی تین چار کرسیاں اور ان کے سامنے ایک میز پڑی تھی۔
اکیلی مسہری کو دیکھ کر میرے دماغ میں خطرے کی گھنٹی بجنے لگی تھی۔نجانے اس نے ہمارے تعلق کو کیا رخ دیا تھا۔
میں نے کرسی پر نشست سنبھالی،شیتل مسہری پر بیٹھ گئی تھی۔ وہ نادم تھی اورمجھ سے نظریں نہیں ملا رہی تھی۔ میں نے بھی اسے چھیڑنا مناسب نہ سمجھا۔میں اگلا لائحہ عمل سوچنے لگا۔گزشتہ رات بے آرامی میں گزری تھی۔ایک پرسکون رات گزار کر میں آگے بڑھ سکتا تھا۔ٹھاکر کے آدمی ہمیں بڑی سڑک تک پہنچا سکتے تھے جہاں سے بمبئی کی گاڑی مل جاتی۔اب شیتل سے جان چھڑانے کا مرحلہ تھا،اسے ممبئی تک ساتھ لٹکائے رکھنا حماقت تھی۔ اور مناسب یہی تھا کہ میں اسے سمجھا بجھا کر ٹھاکر کے حوالے کر جاﺅں یااس کی لاعلمی میں نکل جاﺅں۔اسے گھر پہنچانے دہلی نہیں لوٹ سکتا تھا۔وہاں خطرہ ہی خطرہ تھا۔دہلی میں میری تلاش بڑے پیمانے پر جاری تھی۔کیوں کہ میں آخری بار وہیں نظر آیا تھا اورمیرے دہلی سے نکلنے کاسراغ کسی کے پاس نہیں تھا۔
شیتل کو وہیں چھوڑ دینے کے خیال پر مجھے ہلکا سا افسوس ضرورہوا تھا،لیکن میں مجبور تھا۔ شیتل کی تمنا کو پورا کرنا دشوار ہی نہیں ناممکن تھا۔وہ جتنا زیادہ وقت میرے ساتھ گزارتی اس کی یک طرفہ محبت میں پختگی آتی جاتی۔جدا ہونے میں بھلائی تھی،دوری ہی مسئلے کا بہترین حل تھا،بچھڑ جانے میں عافیت تھی اورعلیحدگی ہی میں بچت تھی۔
دروازہ کھٹکھٹا کر ٹھا کر اندرآیا پیچھے دونو جوان لڑکیاں ،ان سے بڑا لڑکا اور ایک ادھیڑ عمر خاتون داخل ہوئی۔ لڑکیوں کے ہاتھوں میں ٹرے تھے جن میں کھانے پینے کے لوازمات بھرے تھے۔ہم کھڑے ہو گئے۔
”سوچا بھو جن کے ساتھ پریوار کو بھی اپنے محسنوں سے ملوا دوں،میرا پُتر پرکاش ،پتریاں للیتا اور کامنی۔اور یہ میری استری سر لا دیوی ہے۔“ اس نے ادھیڑ عمر عورت کے کندھوں پر بازو رکھا۔ سرلا شرما گئی تھی۔ ہم مسکرادیئے۔
ہم نے ہندوﺅں کی طرح انھیں پرنام کیا۔
” یہ شیتل اور جان ہیں۔“وہ ہمارے تعارف سے بھی سبک دوش ہوا۔
سرلا دیوی ممنونیت سے بولی۔”دھنے واد بیٹا۔“
پرکاش ہونقوں کی طرح شیتل کو گھور رہا تھا۔ستم گر تھی ہی ایسی جاذب نظر کہ دیکھنے والوں کے ہوش اڑ جاتے۔نہ دماغ احتیاط کی تاکید کر پاتا اور نہ دل کو سنبھلنے کی سدھ بدھ رہتی۔
ٹھاکر نے کہا۔” آپ بھو جن کریں، میں ذرا چوکی سے ہو آﺅں۔ملازموں کی لاشیں بھی جنگل میںپڑی ہیں، پولیس کو مطلع تو کر دیا ہے مگر انھیں جگہ معلوم نہیں ہے۔واپسی پر گپ شپ ہوگی۔“
ہم نے اثبات میں سرہلادیئے۔
آپ بھی مہمانوں کو اکیلا چھوڑدو۔“اس نے گھر والوں کو کہا۔
وہ آگے پیچھے چلتے باہر نکل گئے۔
میں کھانے کا جائزہ لینے لگا۔ سبزی، دال چاول ،گرم چپاتیاںاور میٹھے میں کھیر بنی تھی۔ہمیں ہندو سمجھ کر گوشت کا کوئی پکوان شامل نہیں کیا گیاتھا۔
”کھانا کھا لو۔“میں نے شیتل کو دعوت دی۔وہ خاموشی سے قریب آگئی۔ اس کے چہرے پر اداسی و ملال دیکھ کر مجھے بے حد ترس آیاتھا۔جانتا تھا جدائی کے ساتھ میری نظروں سے گرنے کے کرب سے رنجیدہ تھی۔
تھوڑے سے دال چاول کھا کر اس نے کھانے سے ہاتھ کھینچے اور مسہری پر جا بیٹھی۔
شرمندگی و ندامت مجھ سے مخاطب نہیں ہونے دے رہی تھی۔ میرا پختہ ارادہ رات کے پچھلے پہر اسے چھوڑ جانے کا تھا۔ یقینا وہ سخت خفا و اداس ہو جاتی ،شاید میرے فعل کو دوپہر کی گفتگو سے منسوب کرکے خود کو دوش دیتی۔ لیکن میں مجبور تھا۔اس کی دل جوئی کو رک کر منزل کھوٹی نہیں کر سکتا تھا۔اسے خوش کرنے کا تو ایک ہی طریقہ تھا کہ اس کی مانگ بھر کر منگل سوتر گلے میں ڈالتا اور پوتر اگنی(مقدس آگ) کے گرد ساتھ چکر لگاتا۔ یہ لحاظ رکھے بغیر کہ ہندو سے شادی حرام ہے۔
البتہ جاتے جاتے اس کی غلط فہمی دور کرنا ضروری تھا۔اس کی خلوص بھری چاہت ،بے انتہا محبت اور وارفتگی متقاضی تھی اس کے دل اپنی ناراضی کا احساس زائل کرتا جاﺅں۔ورنہ میرے جانے کو وہ کوئی اور رخ بھی دے سکتی تھی۔
میں کرسی چھوڑ کر اس کے قریب جا بیٹھا۔وہ گود میں رکھے گورے ہاتھوں پر نظر جمائے خاموش بیٹھی تھی۔
” خفا ہو۔“میں نے گفتگو کی ابتداءدل جوئی سے کی۔
نمی بھری ساحرانہ آنکھوں سے مجھے گھور کر اس نے انکار میں سر ہلادیا۔
اگلے مرحلے میں اس کے ملائم ہاتھ تھام کرمیں نے غلطی کا اعتراف کیا۔”سوری،تمھیں ٹھاکر چچا کے ہمراہ اکیلے بھیجنے کا فیصلہ غلط تھا۔یقیناتمھارے جذبات کو ٹھیس لگی کہ میں تمھیں والد صاحب تک پہنچانے کا وعدہ کر چکا تھا۔مگر بہ خدا میرا مقصددل آزاری نہیں تھا۔نہ یہ اندازہ تھا کہ میرا چھوڑ جانا تمھیں برا لگے گا۔“ذرا سا توقف کر کے میری بات جاری رہی۔”بلاشبہ تم بہت پیاری،دلکش ،پرکشش اور چاہے جانے کے لائق ہو۔تمھیں حاصل کرنے والا خوش قسمت اپنے مقدر پر پھولے نہیں سمائے گا۔دنیا کا شاید ہی کوئی مردتمھیں ٹھکرانے کی جرا¿ت کر سکے۔مگرمیری بدقسمتی کہ گردن تک مجبوریوں کی دلدل میں دھنسا ہوں۔چاہ کر بھی تمھیں نہیں اپنا سکتا۔ہمارے ملن میں جو رکاوٹیں ہیں تمھاری نگاہ سے بھی اوجھل نہیں ہوں گی۔ بہتر یہی ہے اپنے اپنے رستے ہو لیں۔یہ نہ ہوزیادہ نزدیکیاں ،ہجروفراق کے بوجھ کی متحمل نہ ہوپائیںاور مبادا وہ وقت آجائے کہ بچھڑنا موت سے بدتر لگے۔کیوں نہ بعد کے حزن و ملال اوربے چینیوں سے چھٹکارا پانے کوابھی علیحدہ ہوجائیں۔“
ہاتھ چھڑاکر اس نے پرنام کے انداز میں باندھتے ہوئے گلوگیر لہجے میں کہا۔”آپ پر گھٹیا الزام دھرنے کا مجھے کوئی ادھیکار نہیں تھا۔لیکن اس وقت بے سوچے سمجھے جو منہ میں آیا بولتی گئی۔گزشتہ رات سپنے میں آپ کو جو کرتے دیکھا حقیقت کے انداز میں بک دیا۔یہ جھوٹ مجھے شوبھا نہیں دیتا تھا۔شرمندہ ہوں ، نادم ہوں شماچاہتی ہوں....“
”پلیز شیتل !“ میں نے قطع کلامی کرتے ہوئے اس کے ہونٹوں پر ہاتھ رکھنے کی جسارت کی۔ ” جو کچھ ہوا اسے بھول جاﺅ۔ سمجھو کوئی ایسی بات ہوئی ہی نہیں تھی۔“
” آپ پر بوجھ بن گئی ہوں نا۔“ آنسو پونچھتے ہوئے وہ دکھی ہوئی ۔
جاری ہے
 

Create an account or login to read stories

You must be a member in order to leave a comment

Create account

Create an account on our community. It's easy!

Log in

Already have an account? Log in here.

New posts
Back
Top