خوش آمدید

لو اسٹوری فورم ، اردو دنیا کا نمبر ون اردو اسٹوری فورم ، ابھی فورم کےممبر بنیں اور اردو کی بہترین کہانیاں پڑھیں ۔

Register Now!
Welcome image
  • If you are unable to access the site, please try accessing it via a VPN.
    Try these VPN apps — CLICK HERE
  • PAID PLANS

    ٹاپ پیکیج
    👑

    PREMIUM

    16000
    چھ ماہ کے لیے
    بہترین ڈیل
    💎

    VIP+

    6000
    چھ ماہ کے لیے
    بنیادی ڈیل

    VIP

    3500
    تین ماہ کے لیے

Spy Thriller اسالٹر ۔۔۔سنائپر چوتھا پارٹ ۔۔۔ریاض عا قب کو ہلر

Man mojiMan moji is verified member.

Staff member
Super Mod
Joined
Dec 24, 2022
Messages
11,861
Reaction score
376,497
Location
pakistan
Gender
Male
”شاباش برخوردار!“ انصاری صاحب نے مان سے میری پیٹھ تھپتھپائی، ”مجھے تم پر فخر ہے اور ہمیشہ رہے گا۔“
”شکریہ سر!“ کہتے ہوئے میں نے ان کے اشارے پر نشست سنبھالی۔
انہوں نے رسمی گفتگو جاری رکھی، بولے: ”چھٹی کیسی گزری؟ گھر میں خیریت تو تھی نا؟“
میں نے شکر گزاری کے احساس سے کہا: ”الحمدللہ سر!“
انہوں نے انکشاف کیا: ”تمہاری سابقہ یونٹ کے نئے کمانڈنگ آفیسر فیصل تمہیں واپس بلانے کی کافی کوشش کر رہے ہیں۔“
میں ہنسا اور کہا: ”گویا خوشخبری سنا رہے ہیں آپ!“
انہوں نے جوابی قہقہہ لگایا اور بولے: ”یہ کب کہا ہے کہ تم اپنی یونٹ میں واپس جا رہے ہو؟“
میں نے منہ بناتے ہوئے کہا: ”پھر تو کوئی فائدہ نہ ہوا۔“
وہ شاکی ہوئے: ”جانی! ہمارے ساتھ خوش نہیں ہو؟“
میں نے نفی میں سر ہلایا: ”ایسا کب کہا ہے، بس وہاں دوست زیادہ ہیں اور یہاں اکیلے آپ۔“
انہوں نے بلند و بانگ قہقہہ لگایا اور بولے: ”مذاق کر رہا تھا جوان! میں اچھی طرح جانتا ہوں کہ بعض رشتوں میں تقابل دشوار ہوتا ہے۔“
میں نے موضوع تبدیل کیا اور پوچھا: ”راج کماری کیسی ہے؟“
بولے: ”ٹھیک ٹھاک، ہٹّی کٹّی اور تندرست ہے۔“
میں نے پوچھا: ”ڈاکٹر بننے کا ارادہ ملتوی کر دیا ہے؟“
وہ ہنستے ہوئے کہنے لگے: ”محترمہ باقاعدگی سے میڈیکل کالج تشریف لے جا رہی ہیں۔“
میں نے حیرانی ظاہر کرتے ہوئے پوچھا: ”کہاں؟“
بولے: ”آرمی میڈیکل کالج راولپنڈی۔“
میں نے پوچھا: ”روزانہ آتی جاتی ہیں؟“
بولے: ”مرضی کی مالک ہے یار! کبھی آ جاتی ہے، کبھی چکلالہ والے گھر چلی جاتی ہے۔ راج کماری سے کون پوچھ سکتا ہے!“
میں مدعے پر آیا اور کہا: ”آخری دنوں راج کماری کی ممانی جان سنتوکھی شکلا میرے خلاف سرگرم نظر آئی تھی۔“
انہوں نے اثبات میں سر ہلایا اور بولے: ”کرن چاولہ کے زخمی ہونے سے اس کا کام آسان ہو گیا تھا اور اب تو وہ بدبخت شمشان گھاٹ پہنچ چکا ہے۔ تمہیں خبردار رہنے کی ضرورت ہے، سنتوکھی سے کچھ بعید نہیں کہ کس حد تک چلی جائے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ پہلے وہ وقتی ابال کا شکار رہی ہو اور اب تمہارا پیچھا چھوڑ دے۔“
میں نے اندیشہ ظاہر کیا: ”پری کو تو اس سے خطرہ نہیں ہے نا؟“
انہوں نے کندھے اچکائے اور بولے: ”اس بارے میں اندازہ لگانا مشکل ہے۔“
میں نے جذباتی لہجے میں کہا: ”اگر سنتوکھی تک پیغام پہنچا سکیں تو انہیں بتا دیں کہ اب اگر اس نے کوئی غلط حرکت کی تو اس کے خاندان کا صفایا کر کے ہی انڈیا سے لوٹوں گا۔“
وہ دھیمے انداز میں مسکرائے: ”برخوردار! تمہارے انڈیا سے لوٹتے ہی اس تک یہ پیغام پہنچا دیا تھا کہ اگر اپنے کنبے کی بہتری چاہتی ہے تو دوسروں کے کنبے سے دور رہے۔“
میں نے کہا: ”بہرحال، آپ پری کی حفاظت کے بارے میں مطمئن نہ رہیں۔“
وہ ہنستے ہوئے بولے: ”ڈاکٹر پریوش صاحبہ دو تین بار درخواست کر چکی ہیں کہ انہیں ذاتی محافظ کے لیے راجہ ذیشان حیدر کی خدمات درکار ہیں۔“
میں نے صاف گوئی سے کہا: ”اتنی بھاری ذمہ داری کے متحمل میرے کمزور کندھے نہیں ہو سکتے۔“
انہوں نے قہقہہ بلند کیا اور بولے: ”خیر، تمہارے کندھوں کے لیے تو بوجھ تیار ہے۔ دو دن آرام کر لو، پھر نہ تم یہاں نظر آؤ گے اور نہ راج کماری ضد کرے گی۔“
میں نے ہنس کر ان کا ساتھ دیتے ہوئے کہا: ”بہرحال، مجھے کچھ ہو گیا تو پیشگی وصیت کر رہا ہوں کہ میرا علاج ڈاکٹر راج کماری پریوش سے نہ کروایا جائے۔“
انہوں نے اطمینان سے کہا: ”یہ بات آج رات کھانے پر اسے خود بتا دینا۔“
میں نے کانوں کو ہاتھ لگاتے ہوئے کہا: ”گویا آپ چاہتے ہیں کہ وہ مجھے کھانا کھانے سے پہلے ہی چلتا کر دے! وہ پہلے ہی سپاہیوں کے سخت خلاف ہے، اور اس کے نزدیک حفظِ مراتب کی کیا اہمیت ہے، اس سے آپ لاعلم نہیں ہوں گے۔“
انہوں نے موضوع تبدیل کیا اور بولے: ”تم سے مشن کی تفصیل جاننی ہے، لیکن رات کو اطمینان سے بیٹھ کر بات کریں گے۔“
میں نے نشست چھوڑتے ہوئے اجازت چاہی تو انہوں نے خوش دلی سے سر ہلا دیا۔ میں روایتی سلیوٹ کر کے ان کے دفتر سے نکل آیا۔
شام کی نماز پڑھ کر میں پیدل ہی انصاری صاحب کی رہائش گاہ کی طرف چل پڑا۔ چوکیدار نے مجھے دیکھتے ہی اندر جانے کی اجازت دے دی، وہ مجھے اچھی طرح جانتا تھا۔ انصاری صاحب نشست گاہ میں ٹی وی دیکھتے ہوئے ملے۔ مہمان نوازی کے تقاضے کو پورا کرتے ہوئے وہ کھڑے ہو گئے اور بولے: ”آؤ برخوردار!“
میں نے سلام کر کے ان کا مصافحے کے لیے بڑھا ہوا ہاتھ تھام لیا۔ گرم جوشی سے مصافحہ کر کے انہوں نے مجھے بیٹھنے کا اشارہ کیا۔ میں نے نشست سنبھالی تو انہوں نے شیو مندر کے بڑے پجاری کا ذکر کرتے ہوئے کہا: ”دنیش رام تمہاری بڑی تعریفیں کر رہے تھے۔“
میں نے پوچھا: ”وہ آپ سے سینئر ہیں یا جونیئر؟“
انہوں نے تادیبی انداز میں کہا: ”خیر، اتنا تو تمہیں معلوم ہونا چاہیے کہ یہ سوال مناسب نہیں ہے۔“
میں نے ندامت ظاہر کی: ”معذرت چاہتا ہوں سر!“
اسی دوران میری سماعتوں میں پریوش کی شوخ آواز گونجی: ”کسی کو ایسا کام کرنا ہی نہیں چاہیے کہ بعد میں معافیاں مانگتا پھرے!“
وہ زرد رنگ کے پھول دار لباس میں سرسوں کے پھول کی مانند دکھائی دے رہی تھی۔ سنہری بال پہلے سے کافی لمبے لگ رہے تھے۔
میں نے چوٹ کی: ”معافی مانگ لینا، غلطی پر ڈٹ جانے سے تو اچھا ہے نا!“
انصاری صاحب کھلکھلا کر ہنس پڑے۔ مجھے شاکی نظروں سے گھورتے ہوئے وہ باپ کے پہلو میں بیٹھ گئی اور بولی: ”نہ ہم نے غلطی کی ہے اور نہ معافی مانگیں گے۔“
میں نے بے پروائی سے کندھے اچکائے: ”میرا کام تھا توجہ دلانا، کوئی نہ مانے تو زبردستی نہیں کر سکتا۔“
انصاری صاحب نے مداخلت کی: ”اچھا تکرار چھوڑو اور ذرا مشن کی تفصیل سناؤ۔“
”جی سر!“ کہہ کر میں انڈیا میں گزرے ایام کے بارے میں بتانے لگا۔ میری بات ختم ہوتے ہی پری نے حیرانی ظاہر کی اور بولی: ”کرن چاولہ تو میجر سنیتا جیسوال سے محبت کا دعوے دار تھا نا؟“
میں نے حقارت سے کہا: ”ایسے بے غیرت، محبت جیسے لطیف جذبے سے کہاں واقف ہوتے ہیں!“
اس نے معنی خیز انداز میں کہا: ”ہاں! محبت جیسے لطیف جذبے سے ناواقف شخص کا یہی انجام ہونا چاہیے۔“
اسی وقت ملازمہ نے کھانا لگنے کی اطلاع دی اور ہم کھانے کی میز کی طرف بڑھ گئے۔ مسز انصاری کھانے کی میز پر پہلے سے تشریف فرما تھیں۔ انہوں نے مجھ سے رسمی حال احوال پوچھا، والدین اور اہل خانہ کی خیریت دریافت کی، اور پھر ہم کھانا کھانے لگے۔
کھانے کے بعد ہم دوبارہ نشست گاہ میں آ گئے۔ انصاری صاحب پری سے مخاطب ہوئے: ”تم جاؤ بیٹا! ہم نے ضروری باتیں کرنی ہیں۔“
”جی پاپا!“ کہہ کر اس نے مجھ پر ایک گہری نگاہ ڈالی اور اپنی خواب گاہ کی طرف بڑھ گئی۔
میں سنبھل کر بیٹھ گیا کیونکہ انصاری صاحب اب کوئی اہم بات کرنے والے تھے، اور سرکاری معاملات سے وہ گھر والوں کو دور ہی رکھتے تھے۔
انہوں نے تمہید باندھی: ”وزیرستان کی سرزمین تمہیں پھر پکار رہی ہے۔“
میں نے ہنستے ہوئے کہا: ”اپنی زبان پر تو ہمیشہ لبیک ہی ہوتا ہے سر!“
وہ تفصیل بتاتے ہوئے کہنے لگے: ”تورخار کا ملک فیروز خان دہشت گردوں کی ایک تنظیم کا سرغنہ تھا۔ تین چار سال پہلے پاک آرمی کی جارحانہ کارروائی میں مارا گیا۔ اس کی تنظیم کے زیادہ تر دہشت گرد تو ہلاک ہو گئے لیکن اکا دکا بھاگنے میں کامیاب رہے۔ اب ملک سبطین نامی شخص اس علاقے میں کافی اثر و رسوخ رکھتا ہے۔ اس کے فوج سے اچھے تعلقات ہیں اور اس کی بدولت کئی مرتبہ اہم اطلاعات بروقت موصول ہوئیں، مگر گزشتہ دنوں ایک دو مقامی مخبروں نے انکشاف کیا ہے کہ اس کے دہشت گردوں کے ساتھ بھی رابطے ہیں۔ تم نے اس خبر کی تصدیق کرنی ہے۔ مشن کے بارے میں مزید معلومات تمہیں کل تحریری طور پر مل جائیں گی۔ علاقے سے واقفیت کے لیے ویڈیو وغیرہ دیکھ لینا، میجر تحسین کے پاس مکمل تفصیلات موجود ہیں، وہ تمہیں اچھی طرح سمجھا دیں گے۔“
میں نے پوچھا: ”اکیلے جانا پڑے گا؟“
انہوں نے کہا: ”نہیں، تم ساتھی چن سکتے ہو۔“
میں نے ہچکچاتے ہوئے کہا: ”اگر میں کسی سنائپر کو ساتھ لے جانا چاہوں... میرا مطلب ہے، اپنی سابقہ یونٹ کے کسی ساتھی کا انتخاب کروں؟“
انہوں نے فراخ دلی سے کہا: ”کوئی فرق نہیں پڑتا۔“
میں نے کہا: ”شکریہ سر! میں سردار خان کو ساتھ لے جانا چاہوں گا۔“
سردار خان نے گہرا سانس لیتے ہوئے طنزیہ انداز میں کہا: ”مجھے نہیں لگتا کہ ہم شام تک کسی ٹھکانے پر پہنچیں گے۔“
میں نے کہا: ”خان صاحب! سنائپر کو اتنا نرم و نازک بھی نہیں ہونا چاہیے کہ ذرا سا چلنے پر واویلا شروع کر دے، اور پٹھان تو بڑے جفاکش ہوتے ہیں یار!“
اس نے منہ بناتے ہوئے کہا: ”سخت جان ہونے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ احمقوں کی طرح بغیر تعین کیے جدھر جی چاہے منہ اٹھا کر چل پڑیں۔“
میں نے بے پروائی سے کندھے اچکائے: ”ہماری منزل متعین ہے، اگر تمہیں راستے کا نہیں پتا تو اس میں میرا کیا قصور؟“
اس نے بظاہر سنجیدہ لہجے میں پوچھا: ”جانتے ہو تمہارا سب سے بڑا مسئلہ کیا ہے؟“
میں نے اطمینان بھرے انداز میں سر ہلایا: ”یہی کہ ایک بہادر قوم کے بزدل، جفاکش قوم کے نازک اور غیرت مند قوم کے بے حیا شخص سے دوستی کر رکھی ہے۔“
اس نے نفی میں سر ہلاتے ہوئے کہا: ”غلط اندازے نہ لگایا کرو راجے! تمہارا اصل مسئلہ یہ ہے کہ تم اپنی اوقات نہیں پہچانتے۔ میں حوالدار ہوں اور عنقریب نائب صوبیدار بننے والا ہوں، جبکہ تم فقط سپاہی ہو۔ اور جب ایک سپاہی، حوالدار کی ماننے کے بجائے اپنا حکم چلانے کی کوشش کرے گا تو ذلیل ہی ہوگا نا!“
میں نے منہ بناتے ہوئے کہا: ”مشن کے بارے میں تمام ہدایات میں نے وصول کی ہیں، تو تم سینئر کیسے بن گئے؟“
اس نے طنزیہ لہجے میں کہا: ”ہدایات وصول کرنے کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ ایک سپاہی حوالدار پر حکم چلائے۔“
میں نے پوچھا: ”تو پھر اس کا کیا مطلب بنتا ہے؟“
اس نے سنجیدگی سے کہا: ”یہی کہ کوئی بھی قدم اٹھانے سے پہلے تمہیں مجھ سے اجازت لینی ہوگی۔“
میں نے ہامی بھرتے ہوئے کہا: ”چلو، تم ہی بتاؤ اب کیا کریں؟“
اس نے بے پروائی سے کندھے اچکائے اور بولا: ”میں تو ظاہر ہے آرام کروں گا، اور تمہیں میرے لیے کھانے وغیرہ کا بندوبست کرنا ہوگا۔“
میں نے دانت پیستے ہوئے کہا: ”کچلا کھانا پسند فرمائیں گے یا دھتورہ؟ شاید آک کے پتے بھی مل جائیں، ساتھ گاڑھا گاڑھا دودھ بھی سڑَک لینا! باقی خالص زہر تو یہاں دستیاب نہیں ہوگا کہ تم سے فی الفور جان چھوٹ جائے۔“
اس نے مذہب کا سہارا لیتے ہوئے کہا: ”راجے! امیر کی اطاعت نہ کر کے تم جہنم کے خریدار بن رہے ہو۔“
میں نے اطمینان سے کہا: ”امیر وہ ہوتا ہے جسے مکمل ہدایات دے کر بھیجا جائے، اس لحاظ سے گناہگار تم ہو رہے ہو، میں نہیں۔“
اس نے بگڑ کر کہا: ”بس طے ہو گیا، تمہارے ساتھ یہ میرا آخری مشن ہے! جس بے شرم کو سینئر کی عزت کرنا نہ آتی ہو، اسے ڈالو بھاڑ میں۔“
میں نے بے پروائی سے کہا: ”جان چھوٹی، سو لاکھوں پائے!“
اچانک ہی فضا بلند و بانگ قہقہے سے گونج اٹھی۔ آواز تھوڑے ہی فاصلے سے آئی تھی۔ ہم بغیر ایک لمحہ ضائع کیے قریبی آڑ کے پیچھے ہو گئے۔ ایسے لمحات میں تربیت یافتہ افراد کو آپس میں مشورہ کرنے یا کسی ہدایت کی ضرورت نہیں ہوتی۔
چند لمحوں بعد ہی دو تین بکریاں نظر آئیں، اور ان کے عقب میں دنبوں، بھیڑوں اور میمنوں کا تانتا بندھ گیا۔ سردار نے خیال ظاہر کیا: ”شاید چھپنے کی ضرورت نہیں ہے۔“
میں نے نفی میں سر ہلایا: ”بکروال قابلِ اعتبار نہیں ہوتے، عام طور پر یہی تو دہشت گردوں کے مخبر بنتے ہیں۔“
سردار خان نے چپ سادھ کر اتفاق کیا۔ ریوڑ کے ہمراہ دو نوجوان لڑکے اور ایک ادھیڑ عمر شخص تھا۔ دونوں لڑکے ادھیڑ عمر شخص کو کسی بات پر چھیڑ رہے تھے۔ ان کے گزرنے کے بعد ہم دوبارہ آگے بڑھ گئے۔
سردار نے سلسلہ کلام جوڑتے ہوئے کہا: ”سمجھ میں نہیں آ رہا، جاسوسی کی تربیت تم نے لی ہے اور نگرانی کے لیے مجھے گھسیٹتے پھر رہے ہو۔“
میں نے چڑتے ہوئے کہا: ”یار! صبح سے یہی واویلا سن رہا ہوں۔ پہلے بھی تم یہ سب کرتے رہے ہو، بلکہ تب تو میں نے انٹیلی جنس کا کورس بھی نہیں کیا تھا۔“
اس نے اطمینان سے کہا: ”اس وقت دونوں برابر تھے، اور اب تم خود کو پھنے خان سمجھ کر کمانڈر بننے کی کوشش کر رہے ہو۔“
میں نے پوچھا: ”کیا تمہارا سنائپنگ کا تجربہ مجھ سے زیادہ ہے؟“
اس نے نفی میں سر ہلایا: ”ایسا تو نہیں کہا، مگر...“
میں نے قطع کلامی کرتے ہوئے پوچھا: ”کیا تم مجھ سے بہتر فائٹر ہو؟“
بولا: ”یہ بات نہیں ہے۔“ اس نے وضاحت کرنی چاہی مگر میں بولتا رہا: ”کیا تم بیرونِ ملک مجھ سے زیادہ مشنوں پر جا چکے ہو؟“
بولا: ”نہیں۔“
میں نے کہا: ”کیا جاسوسی کی باقاعدہ تربیت لے چکے ہو؟“
وہ بگڑ کر بولا: ”او ماما! صاف صاف کہو نا، کیا کہنا چاہتے ہو؟“
میں نے سینہ تان کر کہا: ”جب ان سارے سوالات کا جواب نفی میں ہے، تو پھر میں کس خوشی میں تمہاری کمان میں کام کروں؟“
اس نے طنزیہ انداز میں کہا: ”تو پھر مکمل دلیل دو نا! اس کے علاوہ بیویاں بھی تمہاری زیادہ ہیں، محبوباؤں کی تو شاید تم خود بھی گنتی نہ کر سکو، کیونکہ مجھے بمشکل سات تک ہی گنتی آتی ہے۔ بے غیرتی اور بے شرمی میں پی ایچ ڈی ہو، جھوٹ بولنے میں ماہر ہو اور دھوکہ دہی میں کوئی عار محسوس نہیں کرتے۔ یہ خوبیاں بھی گنوانی تھیں نا!“
میں نے تپ کر کہا: ”تم نے بھی دو شادیاں کر رکھی ہیں۔ باقی کسی خاتون کے ساتھ مل کر پیشہ ورانہ کام کرنے سے وہ میری محبوبہ نہیں بن جاتی۔“
وہ دور کی کوڑی لایا: ”اچھا! تو پھر مجھے کوئی رولیکس گھڑی تحفے میں کیوں نہیں دیتا؟“
میں نے کہا: ”جب تم جان پر کھیل کر کسی کو اس کے دشمنوں سے بچاؤ گے تو تمہیں شاید اس سے بھی قیمتی تحفہ مل جائے۔“
اس نے منہ بنایا: ”ایسے تحفے تمہیں ہی مبارک ہوں!“
میں برہم ہوا: ”تو پھر بک بک کیوں کرتے ہو؟“
اس نے بے پروائی سے کہا: ”سینئر جو چاہے کہہ سکتا ہے، تمہارا کام صفائی دینا ہے، نہ کہ تکرار کرنا یا ناک بھوں چڑھانا۔“
میں نے بگڑتے ہوئے کہا: ”ایسے سینئر کی ایسی کی تیسی!“
اس نے اطمینان سے کہا: ”دکھا دی نا اوقات! میں پہلے سے جانتا تھا کہ تم ایک نافرمان، بدتہذیب اور ناہنجار سپاہی ہو۔“
میں نے ترکی بہ ترکی جواب دیا: ”اور تم ایک نالائق، نکمے اور گنوار حوالدار ہو!“
یوں ہی نوک جھونک کرتے ہوئے ہم منزل کے قریب پہنچ گئے۔ سردار نے مشورہ دیا: ”میرا خیال ہے ان جھاڑیوں کی اوٹ میں چھپ جاتے ہیں، ورنہ یہاں سے آگے بڑھنے پر نظر آ جانے کا خطرہ ہے۔ اندھیرا ہوتے ہی ہدف کے قریب تر پہنچنے کی کوشش کریں گے۔“
وہاں سے آگے جھاڑیوں کا سلسلہ ختم ہو رہا تھا۔ ہم پہاڑ کی ڈھلوان پر مسلسل بلندی کا سفر طے کرتے ہوئے ایک ایسے مقام پر پہنچ چکے تھے جہاں سے ایک وسیع حویلی نظر آنے لگی تھی۔ اس کے بائیں یعنی مغربی جانب ایک چوڑا نالہ تھا، جس کے مزید بائیں جانب ہموار ڈھلان پر ایک بستی دکھائی دے رہی تھی جو مندوخیل کی تھی۔ وہاں تیس چالیس کے قریب چھوٹے بڑے مکانات تھے۔ وسیع حویلی اور بستی کے مابین دو ڈھائی کلومیٹر کا فاصلہ تھا اور درمیان سے فقط وہی نالہ گزر رہا تھا جس میں تھوڑی مقدار میں پانی بہہ رہا تھا، جو آگے جا کر قریباً پانچ چھ کلومیٹر بعد ایک بڑے نالے میں مل جاتا تھا۔ حویلی کی عقبی یعنی شمالی سمت ڈھلان مزید بلند ہوتے ہوئے دور تک چلی گئی تھی۔ مشرقی جانب بھی ایک نالہ گزر رہا تھا جس میں قلیل مقدار میں پانی تھا۔
میں سردار کے مشورے سے اتفاق کرتے ہوئے دائیں بائیں جھاڑیوں کا جائزہ لینے لگا۔ دو تین منٹ کی تگ و دو کے بعد ہم ایک گھنی جھاڑی منتخب کر کے اس کے اندر دبک گئے۔
سردار نے استفسار کیا: ”کیا لگتا ہے، ملک سبطین خان سچ میں ملوث ہے یا خبر جھوٹی ہو سکتی ہے؟“
میں نے چڑ کر کہا: ”عقل کو ہاتھ مارو خان صاحب! یہی تو معلوم کرنے آئے ہیں۔“
اس نے منہ بناتے ہوئے کہا: ”تمہاری رائے ہی پوچھ رہا ہوں، کوئی فردِ جرم تو عائد نہیں کر رہا۔“
میں نے خیال ظاہر کیا: ”اگرچہ مقامی مخبر زیادہ قابلِ اعتماد نہیں ہوتے اور عموماً تھوڑی سی رقم کے لیے الٹے سیدھے شوشے چھوڑتے رہتے ہیں، مگر سبطین خان کے ملوث ہونے کے کچھ اور اشارے بھی ملے ہیں۔“
اس نے کہا: ”سنائپر رائفل ساتھ لانی چاہیے تھی۔“
میں نے منہ بناتے ہوئے کہا: ”ہم جاسوسی کرنے آئے ہیں، لڑنے نہیں۔“
اس نے تلخی سے کہا: ”اور اگر نہ چاہتے ہوئے بھی دشمن سے ٹاکرا ہو گیا تو ان دو پستولوں کے سہارے کیا تیر مار لو گے؟“
میں نے بے نیازی سے کہا: ”میں نے سنائپر رائفل لانے سے منع کیا تھا، اسالٹ رائفل لانے سے نہیں۔“
وہ معترض ہوا: ”تو پھر خود کیوں نہیں لائے؟“
میں نے اطمینان سے کہا: ”مجھے تو اب بھی اس کی ضرورت محسوس نہیں ہو رہی۔“
وہ متاسف ہو کر بولا: ”ایک سپاہی کے مشورے پر چلنے والا واقعی کوئی احمق ہی ہو سکتا ہے۔“
میں نے طنزیہ انداز میں کہا: ”باقی لوگ تو یہ بات پہلے سے جانتے تھے، شکر ہے آج تم نے بھی مان لیا۔“
اس نے بوکھلا کر پوچھا: ”کیا مطلب؟“
میں نے کہا: ”یہی کہ تم احمق ہو!“
اچانک میری سماعت سے گفتگو کی دھیمی آوازیں ٹکرائیں۔ آواز اگرچہ مدہم تھی مگر بتدریج واضح ہو رہی تھی، جس کا مطلب تھا کہ بات کرنے والے ہماری ہی طرف آ رہے تھے۔ سردار نے بھی آہٹ پا لی تھی، اس لیے فوراً چپ سادھ لی۔ ہم جس جگہ چھپے تھے وہ بائیں جانب گزرنے والے نالے سے کوئی دس پندرہ گز کی اونچائی پر تھی، اور آوازیں بھی نالے کی سمت سے ہی آ رہی تھیں۔ میں نے ڈھلوان کی طرف سرک کر محتاط انداز میں نیچے جھانکا۔
وہ دو آدمی تھے۔ ایک کے کندھے پر کلاشنکوف لٹک رہی تھی جبکہ دوسرا خالی ہاتھ تھا۔ ان کا رخ مندوخیل کی طرف تھا۔ اگر انہیں ملک سبطین خان کی حویلی جانا ہوتا تو وہ پہاڑ کی ڈھلوان پر چڑھنے کی کوشش کرتے۔ میں نے ہولے سے سرگوشی کی: ”عام راہگیر ہیں۔“ اور دوبارہ جھاڑی میں سمٹ گیا۔
اندھیرا گہرا ہونے تک ہم وہیں دبکے رہے۔ تاریکی بڑھنے کے ساتھ ہی خنکی میں بھی اضافہ ہو رہا تھا۔ پہلے مسلسل چلنے کی وجہ سے جسم گرم تھا، اسی لیے ہم نے اپنی جیکٹیں بیگز میں رکھ لی تھیں۔ سردار نے مشورہ مانگنے کے انداز میں پوچھا: ”میرا خیال ہے اب کوٹ پہن لینا چاہیے۔“
میں نے نفی میں سر ہلایا: ”ابھی چڑھائی باقی ہے، اوپر پہنچ کر پہنیں گے۔“
وہ رینگ کر جھاڑی سے نکلتے ہوئے بولا: ”تو پھر چلیں۔“
میں نے اس کی تقلید کی۔ دو تین منٹ بعد ہم ایک بار پھر بلندی کی جانب گامزن تھے۔ حویلی میں روشنیاں جل چکی تھیں۔ سامنے کی بیرونی دیوار کے دونوں کونوں پر دو بتیاں روشن تھیں، جبکہ عقبی جانب بھی روشنی کا انتظام تھا جس سے اطراف کا علاقہ صاف دکھائی دے رہا تھا۔ یقیناً یہ روشنی رات کی نگرانی میں ہمارے لیے معاون ثابت ہونے والی تھی۔
رکنے کے دوران ہم حویلی تک جانے والے راستے کا بغور جائزہ لیتے رہے تھے، مگر راستے کتاب کے اوراق نہیں ہوتے جنہیں محض دیکھ کر ازبر کر لیا جائے۔ اس کے لیے راستے پر بار بار چلنا پڑتا ہے، تب جا کر اونچ نیچ، موڑ اور رکاوٹیں ذہن نشین ہوتی ہیں۔ پہاڑی علاقے میں گھپ اندھیرے میں حرکت کرنا ازحد دشوار تھا، لیکن مسلسل اندھیرے میں رہنے کے باعث آنکھیں ہیولوں کو پہچاننے کے قابل ہو چکی تھیں۔ ہمارے پاس ٹارچیں موجود تھیں، مگر روشنی جلانے کا مطلب اپنی نقل و حرکت سے دشمن کو باخبر کرنا تھا۔ ہمارے پاس ٹارچ کے شیشوں پر چڑھانے کے لیے مخصوص رنگین کاغذ بھی موجود تھے جس سے روشنی نہایت مدہم ہو کر پھیلنے سے رک جاتی ہے، لیکن چونکہ حویلی زیادہ دور نہیں تھی اس لیے ہم نے خطرہ مول لینا مناسب نہ سمجھا۔
ناواقف راستے کی وجہ سے ہماری رفتار بالکل دھیمی ہو چکی تھی۔ پھونک پھونک کر قدم رکھتے ہوئے ہم نے بیس پچیس منٹ کا راستہ ایک گھنٹے میں طے کیا اور مناسب فاصلہ برقرار رکھتے ہوئے حویلی کی دائیں جانب سے نکل کر عقبی ڈھلان پر چڑھنے لگے۔ حویلی کے متوازی گزرتے ہی ہم نے ٹارچ کے شیشے پر رنگین کاغذ چڑھا کر مدہم روشنی آن کر لی۔ حویلی کے مورچے میں موجود کسی سنتری کو وہ روشنی نظر نہیں آ سکتی تھی، کیونکہ ہماری پیٹھ حویلی کی طرف تھی اور ٹارچ کا رخ پہاڑ کی بلندی کی جانب۔
پہاڑ خاصا بلند تھا، اور جس جگہ ہم موجود تھے وہاں سے چوٹی نظر بھی نہیں آ رہی تھی، لیکن چونکہ ہمارا مقصد محض حویلی کی نگرانی تھا اس لیے ہم حویلی سے ڈیڑھ دو سو گز کا فاصلہ رکھ کر ایک جگہ ٹک گئے۔ وہ پہاڑ کے بازو پر ایک ابھری ہوئی اور قدرے ہموار جگہ تھی، جسے نقشے کی اصطلاح میں ’انڈر فیچر‘ کہا جاتا ہے۔ ہم وہاں پاؤں پھیلا کر بیٹھ گئے۔
سردار بولا: ”مجھے تو سخت بھوک لگی ہے۔“ اس نے بیگ ٹٹول کر بھنے ہوئے چنے نکالے اور گڑ کے ساتھ چبانے لگا۔ جس مشن پر ایک سے زیادہ دن رکنا مقصود ہوتا، ہم بھنے ہوئے چنے یا چنے کے سفوف سے بنے بسکٹ ساتھ رکھتے؛ یہ ہلکی پھلکی اور ٹھوس غذا ہوتی تھی جس کی وجہ سے راشن کا اضافی بوجھ نہیں اٹھانا پڑتا تھا۔
حرکت رکنے سے یکدم سردی کا احساس بڑھ گیا۔ میں نے بیگ سے جیکٹ نکال کر پہنی اور نائٹ ویژن دوربین سے حویلی کا جائزہ لینے لگا۔ خاصی بلندی پر ہونے کے باوجود حویلی کا اندرونی صحن دکھائی نہیں دے رہا تھا، کیونکہ فصیل نما دیواریں اتنی اونچی تھیں کہ ہمارا بلندی پر بیٹھنا بے معنی ہو کر رہ گیا تھا۔ البتہ حویلی کے بیرونی اطراف ہمارے سامنے کھلی ہتھیلی کی طرح عیاں تھے، صرف مرکزی داخلی دروازہ ہماری نظروں سے اوجھل تھا۔
 

Create an account or login to read stories

You must be a member in order to leave a comment

Create account

Create an account on our community. It's easy!

Log in

Already have an account? Log in here.

New posts
Back
Top