- Thread Author
- #1
بلوچاں گاؤں جانے کے لیے جیسے ہی اس نے بس پکڑی، رش زیادہ ہونے کی وجہ سے وہ بس میں پیچھے جا کر کھڑا ہو گیا۔
شمشیر من ہی من بہت خوش تھا، 9 سال کی سروس میں پہلی بار اس کی پوسٹنگ گرلز اسکول میں ہوئی تھی، 6 فٹ سے لمبا قد، کسرتی بدن، رعب دار چہرہ، اس کا رعب دیکھنے کے قابل تھا، 32 سال کا ہونے کے باوجود اس نے شادی نہیں کی تھی۔
ایسا نہیں تھا کہ اس کو کسی نے دل ہی نہ دیا ہو، کیا شادی شدہ، کیا کنواری، شاید ہی کوئی ایسی ہو جو اس کو نظر بھر دیکھتے ہی مر نہ مٹے۔
پچھلے اسکول میں 2 میڈموں کو وہ اپنی رنگینیت کے درشن کرا چکا تھا۔ پر عام رائے یہی تھی کہ وہ نہایت ہی سیریس ٹائپ کا آدمی ہے۔
اصلیت یہ تھی کہ وہ کلیوں کا شیدائی تھا، پھولوں کا نہیں۔ اور کلیوں کا رس پینے کا موقع اس کو 6، 7 سال سے نہیں ملا تھا۔۔
یہی وجہ تھی کہ آج وہ خود پر قابو نہیں پا رہا تھا، اس کا انتظار ختم ہونے ہی والا تھا۔۔۔ کہ اچانک بس جھٹکے کے ساتھ رکی اور سامنے کھڑی 26-27 سال تک عورت کا پچھواڑا اس کے لنڈ سے جا ٹکرایا۔۔
اس نے اس عورت کی اور دیکھا تو عورت نے کہا: "سوری رش زیادہ ہے۔۔۔"
"کوئی بات نہیں۔۔۔" شمشیر نے کہا اور تھوڑا پیچھے ہو گیا۔
عورت پڑھی لکھی اور اچھے خاندان کی لگ رہی تھی۔۔ رنگ تھوڑا سانولا ضرور تھا پر پورے شباب پر تھا۔۔
وہ بھی شمشیر کو دیکھ کر اٹریکٹ ہوئے بنا نہ رہ سکی۔۔ کن اکھیوں سے بار بار پیچھے دیکھتی۔۔ اتنے میں اچانک بس ڈرائیور نے بریک لگا دی۔۔
شمشیر کا بدن اک دم اس عورت سے جا ٹکرایا۔۔ وہ گرنے کو ہوئی تو شمشیر نے ایک ہاتھ آگے لے جا کر اس کو مضبوطی سے تھام لیا۔۔
اتفاق کہیے یا بدقسمتی شمشیر کے ہاتھ میں اس کا ایک مما آ گیا۔، جلدی شمشیر نے ساری بات سمجھتے ہوئے اپنا ہاتھ ہٹا لیا۔ اس عورت پر جو بیتی اس کو تو وہ ہی سمجھ سکتی ہے۔۔
افف !!! اتنے مضبوط ہاتھ۔۔۔
سوچتے ہوئے عورت کے پورے بدن میں جھرجھری سی دوڑ گئی۔۔ اس کے ایک بار چھونے سے ہی اس کی پینٹی گیلی ہو گئی۔۔
وہ خود پر شرمندہ ہوئی پر کچھ بول نہ سکی۔۔ ادھر شمشیر نے بھانپ لیا کہ وہ کنواری کلی ہے۔۔ اتنا کسا ہوا بدن شادی شدہ کا تو ہو نہیں سکتا۔۔ اس نے اس سے پوچھ ہی لیا۔۔
"جی میں آپ کا نام جان سکتا ہوں ۔۔؟"
تھوڑا سوچتے ہوئے اس نے جواب دیا: "جی میرا نام عالیہ ہے۔۔"
شمشیر - "کہاں تک جا رہی ہیں آپ۔۔؟"
عالیہ۔۔ "جی بلوچاں گاؤں ہے۔۔ میں وہاں گرلز اسکول میں پرنسپل ہوں .."
سنتے ہی شمشیر چونکا۔۔
یہی نام تو بتایا گیا تھا اس کو پرنسپل کا۔۔ پر کچھ سوچ کر اس نے اپنے بارے میں کچھ نہیں بتایا۔۔
عجیب اتفاق تھا عالیہ کو پکڑتے ہی وہ سمجھ گیا تھا کہ یہاں چانس ہے، دھیرے دھیرے بس میں رش بڑھنے لگا اور عالیہ نے پیچھے گھوم کر شمشیر کی طرف منہ کر لیا۔۔
ایک سیٹ خالی بھی تھی پر جانے کیوں عالیہ کو شمشیر سے دور جانا اچھا نہیں لگا۔۔ اس نے سیٹ ایک بوڑھی عورت کو آفر کر دی۔۔ اور خود وہیں کھڑی رہی۔۔
عالیہ- "کہاں کھو گئے آپ؟"
شمشیر - "کہیں نہیں بس یہی سوچ رہا تھا کہ آپ کی ابھی تک شادی کیوں نہیں ہوئی۔۔"
عالیہ سن کر شرما سی گئی اور بولی - "ج۔۔۔جی آپ کو کیسے معلوم۔۔؟"
شمشیر نے تیر چھوڑا - "آپ کے بدن کی بناوٹ دیکھ کر۔۔ شادی تو ہماری بھی نہیں ہوئی ہے پر دنیا تو دیکھ چکے ہیں۔۔"
عالیہ - "جی ۔۔۔ کیا مطلب۔۔"
شمشیر - "خیر جانے دیں۔۔ پر اتنی کم عمر میں آپ پرنسپل، یقین نہیں آتا۔۔۔"
عالیہ - "ہو سکتا ہے ، پر میں 2 سال پہلے ڈائریکٹ اپوائنٹ ہوئی ہوں۔۔"
یوہی باتوں کا سلسلہ چلتے چلتے عالیہ کو جانے کیا مستی سوجھی کے اس نے الٹیاں آنے کی بات کہی اور شمشیر کے کندھے پر سر رکھ دیا۔۔
شمشیر نے ایک لڑکے کی سیٹ خالی کرائی اور عالیہ کو وہاں بیٹھا دیا۔۔
عالیہ مایوس سی ہو گئی پر جلد ہی اس کے ساتھ کی سواری اٹھ گئی تو شمشیر بھی اس کے ساتھ جا بیٹھا۔۔
عالیہ نے اس کے سینے پر سر رکھ دیا۔۔ شمشیر سمجھ گیا کہ جلد ہی چڑیا پھنسنے والی ہے۔۔ وہ بھی اس کے بالوں میں ہاتھ پھیرنے لگا۔۔
عالیہ نے نیند کا بہانہ کیا اور اس کی گود میں سر رکھ دیا۔۔ اب یہ شمشیر کے بھی برداشت کے باہر کی بات تھی۔۔ پینٹ میں چھپا اس کے اوزار نے انگڑائی لی ۔۔
عالیہ کیونکہ سونے کی ایکٹنگ کر رہی تھی اس لیے وہ بھی اس بات کو تاڑ گئی۔۔ نیند کی ایکٹنگ کرتے کرتے اس نے اپنا ایک ہاتھ سر کے نیچے رکھ دیا۔۔ اب وہ اس کے بڑھتے ہوئے سائز کو فیل کر سکتی تھی۔۔ عالیہ کا چہرہ لال ہوتا جا رہا تھا۔۔ اس کی دبی ہوئی سکس کی آگ سلگنے لگی تھی۔۔
ایسے شاندار مرد کو دیکھ کر وہ اپنی شرم و حیا بھولنے لگی۔۔ آخر اس کے لیے بھی تو وہ ایک انجان مرد ہی تھا ۔۔ اور پھر 2 3 گھنٹے کے لیے حرج ہی کیا تھا۔۔۔
اچانک بس اسٹینڈ پر چائے پانی کے لیے بس رکی۔۔ شمشیر کو بھی احساس تھا کہ وہ جاگ رہی ہے پر انجان بنتے ہوئے اس کے اٹھانے کے لیے کولہوں پر ہاتھ پھیرنے لگا۔۔
2 3 بار ہاتھ پھیرنے کے بعد عالیہ نے بھی جیسے جاگنے کی ایکٹنگ کی - "اوہ سوری۔۔۔"
اگلی قسط جلد پوسٹ ہوگی ۔۔۔