بِیتے دِنوں کی یاد بُھلائے نہیں بنے
یہ آخری چراغ بُجھائے نہ بنے
دُنیا نے جب مِرا نہیں بننے دیا اُنھیں
پتھر تو بن گئے وہ پرائے نہیں بنے
خُماربارہ بنکوی
جاہل کو اگر جہل کا انعام دیا جائے
اس حادثۂ وقت کو کیا نام دیا جائے
میخانہ کی توہین ہے، رِندوں کی ہتک ہے
کم ظرف کے ہاتھوں میں اگر جام دیا جائے
مُحسن بھوپالی
گو نہیں رہتا کبھی پردے میں رازِ عاشقی
تُم نے چُھپ کر اوربھی اِس کونمایاں کردیا
اِن بُتوں کی صُورتِ زیبا کو اصغر کیا کہوں
پر خُدا نے، وائے ناکامی! مُسلماں کردیا
اصغر گونڈوی
صحرا ہی غنیمت ہے، جو گھر جاؤگے لوگو
وہ عالمِ وحشت ہے کہ مر جاؤگے لوگو
یادوں کے تعاقب میں اگر جاؤگے لوگو
میری ہی طرح تم بھی بِکھرجاؤگے لوگو
سرشار صدیقی
اِک وہ، کہ آرزؤں پہ، جیتے ہیں عُمْر بھر!
اِک ہم، کہ ہیں ابھی سے پشیمانِ آرزُو
آنکھوں سے جُوئے خُوں ہے روَاں، دل ہے داغ داغ
دیکھے کوئی، بہارِ گُلِستانِ آرزُو
اختر شیرانی
گِراں ہیں رات کےآثار، ذہن و دِل کے لِئے
سُہانے یاد کے لمحے ذرا نِکال کے رکھ
بہل ہی جائیں گے ایّام ہجرَتوں کے خَلِش
خیال وخواب اُسی حُسنِ بے مِثال کے رکھ
شفیق خلش