خوش آمدید
لو اسٹوری فورم ، اردو دنیا کا نمبر ون اردو اسٹوری فورم ، ابھی فورم کےممبر بنیں اور اردو کی بہترین کہانیاں پڑھیں ۔
Register Now!
-
PAID PLANS
ٹاپ پیکیج
👑
PREMIUM
16000
چھ ماہ کے لیے
بہترین ڈیل
💎
VIP+
6000
چھ ماہ کے لیے
بنیادی ڈیل
⭐
VIP
3500
تین ماہ کے لیے
You are using an out of date browser. It may not display this or other websites correctly.
You should upgrade or use an
alternative browser.
اور بھی دکھ ہیں زمانے میں محبت کے سوا
راحتیں اور بھی ہیں وصل کی راحت کے سوا
فیض احمد فیض
دائم آباد رہے گی دنیا
ہم نہ ہوں گے کوئی ہم سا ہوگا
ناصر کاظمی
عمر دراز مانگ کے لائے تھے چار دن
دو آرزو میں کٹ گئے، دو انتظار میں
بہادر شاہ ظفر
بیٹھنے کون دے ہے پھر اس کو
جو تیرے آستاں سے اٹھتا ہے
میر تقی میر
کانٹے تو خیر کانٹے ہیں ان سے گلہ ہے کیا
پھولوں کی واردات سے گھبرا کے پی گیا
ساغر وہ کہہ رہے تھے کی پی لیجیئے حضور
ان کی گزارشات سے گھبرا کے پی گیا
ساغر صدیقی
تدبیر میرے عشق کی کیا فائدہ طبیب
اب جان ہی کے ساتھ یہ آزار جائے گا
میر تقی میر
میرے سنگ مزار پر فرہاد
رکھ کے تیشہ کہے ہے، یا استاد
میر تقی میر
ہشیار یار جانی، یہ دشت ہے ٹھگوں کا
یہاں ٹک نگاہ چوکی اور مال دوستوں کا
نظیر اکبر آبادی
مے پئیں کیا کہ کچھ فضا ہی نہیں
ساقیا باغ میں گھٹا ہی نہیں
امیر مینائی
سلسلے توڑ گیا وہ سبھی جاتے جاتے
ورنہ اتنے تو مراسم تھے کہ آتے جاتے
احمد فراز
Create an account or login to read stories
You must be a member in order to leave a comment
Create account
Create an account on our community. It's easy!
Log in
Already have an account? Log in here.
New posts