- Moderator
- #1
یہ اگست کا ایک روشن دن تھا۔ مسز شوکت وکیل کے دفتر میں بیٹھی تھیں، جو انہیں ان کے مرحوم شوہر شوکت مرزا کی وصیت پڑھ کر سنا رہا تھا۔ وصیت نہایت سادہ تھی۔ چند رشتہ داروں کے لیے معمولی عطیات کے ذکر کے بعد، شوکت مرزا نے اپنی تمام جائیداد بیوی کے نام کر دی تھی۔ وکیل نے نہایت سنجیدگی اور احترام کے ساتھ اپنی بات مکمل کی۔ اس دوران مسز شوکت، جن کا نام روبی تھا، سر جھکائے خاموشی سے سنتی رہیں، پھر انہوں نے ایک ٹھنڈی آہ بھری۔ ان کے زخم ایک بار پھر تازہ ہو گئے تھے۔
وکیل نے تمام کاغذات اُن کے حوالے کیے اور میز پر رکھی فائل سے ایک سربمہر لفافہ نکال کر ان کی طرف بڑھاتے ہوئے کہا: “مجھے ہدایت کی گئی تھی کہ یہ خط آپ تک پہنچا دوں۔ آپ کے شوہر نے اپنی وفات سے کچھ عرصہ قبل یہ ہمیں ارسال کیا تھا۔” مسز شوکت نے سر اٹھا کر حیرت سے لفافہ لیا اور اسے الٹ پلٹ کر دیکھنے لگیں۔ وکیل نے مشورہ دیا: “مسز شوکت! مجھے یقین ہے کہ اس میں کوئی اہم بات ہے۔ بہتر ہوگا کہ آپ اسے گھر لے جا کر تنہائی میں پڑھیں۔”
انہوں نے اثبات میں سر ہلایا اور دفتر سے باہر نکل گئیں۔ فٹ پاتھ پر چلتے ہوئے انہوں نے اپنی انگلیوں سے لفافے کی سطح کو چھوا اور بڑبڑائیں: “شوکت کا الوداعی خط! یہ یقیناً رسمی اور خشک سا ہوگا۔ اُن سے اور کیا توقع کی جا سکتی ہے؟ انہوں نے اپنی زندگی میں کبھی کوئی غیر رسمی کام نہیں کیا۔ غالباً لکھا ہوگا کہ ‘پیاری روبی، امید ہے میری موت سے تم زیادہ دل گرفتہ نہیں ہوگی اور ہماری ازدواجی زندگی کے دوران جن اصولوں پر تم نے ثابت قدمی سے عمل کیا، انہیں اسی طرح جاری رکھو گی۔ ہر کام مستعدی سے کرنا اور دوسروں سے شائستگی سے پیش آنا۔ اپنے سرمائے کی حفاظت کرنا اور اسے احتیاط سے خرچ کرنا۔'”
پھر ان کے ذہن میں ایک دوسرا خیال آیا: “یا شاید انہوں نے کچھ خوبصورت باتیں لکھی ہوں؟ کوئی جذبوں سے لبریز پیغام، محبت بھرا خط یا شکرگزاری کا کوئی گرمجوش اظہار؟ ان تیس برسوں کا اعتراف جو میں نے ان کے ساتھ گزارے۔ شاید کچھ ایسا لکھا ہو جسے میں بار بار پڑھنا چاہوں۔ کوئی نہیں جانتا کہ دنیا سے رخصت ہوتے انسان سے کیا توقع کی جائے۔” مسز شوکت نے یہ سوچا اور خط فولڈر میں رکھ کر تیزی سے گھر کی جانب قدم بڑھا دیے۔
گھر پہنچ کر وہ سیدھی نشست گاہ میں گئیں اور صوفے پر بیٹھ کر لفافہ کھولا۔ اندر اسٹیپل سے جڑے ہوئے پندرہ بیس صفحات تھے۔ ہر صفحہ اسی واضح، صاف اور آگے کو جھکی ہوئی لکھائی سے پُر تھا جس سے وہ برسوں سے واقف تھیں، مگر جب انہوں نے اتنا طویل خط دیکھا—وہ بھی ایسی کاروباری سنجیدگی کے ساتھ، اور جس کے پہلے صفحے پر وہ رسمی جملہ بھی غائب تھا جس سے ان کے ہر خط کا آغاز ہوتا تھا—تو وہ حیران رہ گئیں۔ انہوں نے ایک گہرا سانس لیا، سگریٹ سلگائی اور کش لگانے لگیں۔ انہیں سگریٹ نوشی کی پرانی عادت تھی۔
ان کے ذہن میں خیال آیا: “اگر یہ خط واقعی وہی ہے جس کا مجھے خدشہ ہے، تو میں اسے پڑھنا پسند نہیں کروں گی، لیکن دنیا سے رخصت ہو جانے والے کا آخری خط کیوں نہ پڑھا جائے؟ آخر کیا کروں؟” وہ شش و پنج کا شکار تھیں۔ پھر ان کی نگاہ شوکت مرزا کی اس آرام کرسی پر جا ٹھہری جو کھڑکی کے دوسری جانب رکھی تھی۔ بھورے چمڑے کی گدی والی ایک بڑی کرسی، جس پر برسوں بیٹھنے کی وجہ سے نشست پر ایک گہرا نشان پڑ گیا تھا اور پشت پر بھی ایک بیضوی دھبہ نمایاں تھا۔ شوکت مرزا عموماً اسی کرسی پر بیٹھ کر مطالعہ کرتے، جبکہ وہ ان کے سامنے صوفے پر بیٹھی ٹی وی دیکھتیں، سویٹر بنتیں یا سبزی کاٹ رہی ہوتیں۔
شوکت مرزا کی نظریں کبھی کبھار کتاب سے اٹھ کر روبی پر ٹھہر جاتیں—ایک ایسی نگاہ جو بظاہر متوجہ ہوتے ہوئے بھی عجب بے نیازی لیے ہوتی، جیسے وہ کوئی حساب لگا رہے ہوں۔ روبی کو وہ آنکھیں کبھی پسند نہ تھیں؛ بھوری، سرد، چھوٹی اور آپس میں کچھ زیادہ ہی قریب، جن کے بیچ دو گہری عمودی لکیریں ہمیشہ ناگواری کا پتہ دیتی تھیں۔ تمام عمر وہ آنکھیں انہیں تکتی رہیں اور اب، جبکہ انہیں دنیا سے رخصت ہوئے ایک ہفتہ گزر چکا تھا، تب بھی انہیں کبھی کبھی ایسا لگتا جیسے وہ آنکھیں اب بھی وہیں موجود ہیں؛ دروازوں سے جھانکتی، خالی کرسیوں پر بیٹھی یا رات کے وقت کھڑکیوں سے انہیں دیکھتی رہتی ہوں۔
آخر کار انہوں نے آہستگی سے پرس سے عینک نکالی، صفحات کو اس زاویے پر رکھا کہ کھڑکی سے آنے والی شام کی روشنی ان پر پڑے اور پڑھنا شروع کیا:
“میری پیاری روبی! یہ پیغام صرف تمہارے لیے ہے، جو میری موت کے فوراً بعد تمہیں پہنچا دیا جائے گا۔ اس خط کی ضخامت دیکھ کر پریشان نہ ہونا۔ یہ محض میری ایک کوشش ہے تاکہ تمہیں تفصیل سے بتا سکوں کہ میرا سائنس دان دوست ڈاکٹر بہرام میرے ساتھ کیا کرنے والا ہے اور میں نے اسے اس کی اجازت کیوں دی ہے، اور یہ بھی کہ اس کے ارادے اور امیدیں کیا ہیں۔ تم میری بیوی ہو، تمہیں سب کچھ جاننے کا حق ہے، بلکہ میں تو کہوں گا کہ تم پر یہ جاننا لازم ہے۔
پچھلے چند دنوں میں، میں نے تم سے بہرام کے بارے میں بات کرنے کی بہت کوشش کی، مگر تم نے سننے سے سختی سے انکار کر دیا۔ تمہارا یہ رویہ، جیسا کہ میں تمہیں پہلے بھی بتا چکا ہوں، نہایت نادانی پر مبنی ہے۔ اس کی وجہ تمہاری انا ہے، حالانکہ مجھے پورا یقین ہے کہ اگر تمہیں تمام حقائق معلوم ہو جائیں تو تم فوراً اپنا نقطۂ نظر بدل لو گی۔ اسی لیے میں امید کرتا ہوں کہ جب میں تمہارے پاس نہیں ہوں گا اور تمہارا غم کسی قدر ہلکا ہو چکا ہوگا، تو تم ان صفحات کے ذریعے میری بات زیادہ توجہ سے سنو گی۔ میں حلفاً کہتا ہوں کہ جب تم یہ داستان پڑھ لو گی تو تمہاری عداوت کے جذبات ختم ہو جائیں گے اور ان کی جگہ جوش و جذبہ لے لے گا، اور شاید تمہیں اس بات پر فخر بھی ہو کہ میں نے کیا کیا ہے۔
اب میں اصل بات پر آتا ہوں۔ ڈیئر! میری بیماری کی تفصیل، جس نے زندگی کے بھرپور ایام میں مجھے ڈھیر کر دیا، تم بہتر جانتی ہو۔ اس پر وقت ضائع کرنے کی ضرورت نہیں، سوائے اس کے کہ میں اعتراف کروں کہ ڈاکٹر کو بروقت نہ دکھانا میری حماقت تھی۔ سرطان (کینسر) ان چند بیماریوں میں سے ہے جن پر جدید طب کا بس نہیں چلتا۔ اگر یہ پھیلا نہ ہو تو جراحی (سرجری) ممکن ہے، مگر میرے معاملے میں یہ نہ صرف بہت آگے بڑھ چکا تھا بلکہ اس نے لبلبے پر ایسا حملہ کیا تھا کہ سرجری ناممکن اور زندگی کی امید ختم ہو گئی تھی۔ میرے پاس شاید ایک مہینہ تھا یا زیادہ سے زیادہ چھ ماہ۔ میں جینے کی امید کھو رہا تھا کہ تب ایک دن ڈاکٹر بہرام میرے پاس آیا۔
یہ چھ ہفتے پہلے کی بات ہے، منگل کی صبح، تمہارے بیدار ہونے سے بھی بہت پہلے۔ جیسے ہی وہ اندر آیا، مجھے اندازہ ہو گیا کہ وہ کسی خاص مقصد سے آیا ہے۔ اس کی آنکھوں میں ایک عجیب چمک تھی۔ وہ بولا: ‘شوکت، میرے دوست! کمال ہو گیا، تم وہی آدمی ہو جس کی مجھے تلاش تھی’۔
یہ وضاحت ضروری ہے کہ ڈاکٹر بہرام اگرچہ ہمارے گھر کبھی نہیں آیا اور تم نے اسے شاذ و نادر ہی دیکھا ہوگا، مگر میری اس سے کم از کم دس سالہ دوستی ہے۔ وہ ایک غیر معمولی نیورو سرجن ہے، انتہائی ماہر، اور کچھ عرصہ قبل اس نے بڑی مہربانی سے مجھے اپنے کام کے نتائج دکھائے تھے، خصوصاً انسانی دماغ کے فرنٹل لوبوٹمی پر پڑنے والے اثرات کے بارے میں۔ پس تم سمجھ سکتی ہو کہ جب وہ اس صبح اچانک آ دھمکا، تو ہمارے درمیان ایک طویل گفتگو کا آغاز ہونا ہی تھا۔”
وہ کرسی گھسیٹ کر میرے بستر کے پاس لے آیا اور بولا: “تم چند ہفتوں میں مرنے والے ہو، ٹھیک ہے؟”
بہرام کی جانب سے یہ سوال مجھے برا نہیں لگا۔ کسی ممنوعہ موضوع کو چھیڑنے کی جرات کسی میں کم ہی ہوتی ہے، اسی لیے اس کی بات میں مجھے کچھ دلچسپ سا لگا۔
“تم اسی کمرے میں مرو گے، پھر لوگ تمہیں اٹھا کر لے جائیں گے اور دفنا دیں گے۔ کیا تم جنت جانے کی امید رکھتے ہو؟ یا شاید جہنم؟”
“تم یہ باتیں کیوں کر رہے ہو؟” میں نے پوچھا۔
“بات یہ ہے…” اس نے مجھے گہری نظروں سے دیکھا۔ “کیا تم میری ایک تجویز پر غور کرو گے؟” اس کی للچائی ہوئی نظریں مجھ پر یوں جمی تھیں جیسے میں گوشت کا کوئی بہترین ٹکڑا ہوں جسے وہ خرید چکا ہو اور اب بس اسے تھیلی میں بند کرنے کا منتظر ہو۔
“کیسی تجویز؟” میں نے حیرت سے پوچھا۔
“میں تمہیں تفصیل سے بتاتا ہوں۔ کیا تم میری بات صبر سے سنو گے؟”
“ہاں، کہو جو کہنا ہے۔ تمہاری بات سننے سے میرا کیا بگڑے گا؟” میں نے جواب دیا۔
“الٹا تمہیں بہت کچھ ملے گا، خاص طور پر مرنے کے بعد۔” یقیناً وہ چاہتا تھا کہ میں اس جملے پر چونک جاؤں، مگر خدا جانے کیوں میں ذرا بھی حیران نہ ہوا اور بالکل ساکت پڑا رہا۔
وہ بولا: “شوکت! میں کئی برسوں سے نہایت خاموشی سے ایک کام میں لگا ہوا ہوں۔ میرے انسٹی ٹیوٹ کے کچھ لوگ میری مدد کرتے ہیں، خاص طور پر ڈاکٹر بہروز۔ ہم نے تجربہ گاہ میں جانوروں پر کئی کامیاب تجربات کیے ہیں اور اب میں انسانوں پر یہ خطرہ مول لینے کے لیے تیار ہوں۔ خیال بہت عظیم ہے اور بظاہر ناقابلِ عمل بھی، مگر جراحی (سرجری) کے نقطۂ نظر سے ایسی کوئی وجہ نہیں کہ اسے ناممکن سمجھا جائے۔”
وہ آگے کی طرف جھکا اور اپنے دونوں ہاتھ بستر کے کنارے رکھ دیے۔ اس کی آنکھیں جوش سے دمک رہی تھیں۔ “کچھ عرصہ پہلے میں نے ایک مختصر روسی طبی فلم دیکھی تھی، جو نہایت گھناؤنی مگر حیرت انگیز تھی۔ اس میں ایک کتے کا سر دکھایا گیا تھا جو جسم سے بالکل الگ تھا، لیکن اس کی شریانوں اور وریدوں میں خون کی روانی ایک مصنوعی دل کے ذریعے برقرار رکھی گئی تھی۔ جس بات نے مجھے اپنی گرفت میں لیا وہ یہ تھی کہ کتے کا سر بالکل جیتا جاگتا لگ رہا تھا۔ اس کا دماغ بھی کام کر رہا تھا، جسے کئی تجربات سے ثابت کیا گیا۔ مثلاً جب اس کے ہونٹوں سے ہڈی مس کی گئی تو اس کی زبان باہر نکل کر اسے چاٹنے لگی اور اس کی آنکھیں کمرے میں چلتے ہوئے شخص کا پیچھا کرنے لگیں۔ اس سے یہ نتیجہ اخذ ہوا کہ سر اور دماغ کو زندہ رہنے کے لیے جسم کی ضرورت نہیں، بشرطیکہ آکسیجن سے بھرپور خون کی فراہمی مسلسل جاری رہے۔”
“وہ فلم دیکھنے کے بعد میرے ذہن میں یہ خیال آیا کہ کیوں نہ موت کے فوراً بعد انسانی کھوپڑی سے دماغ نکال کر اسے ایک آزاد اکائی کے طور پر، جب تک ممکن ہو، زندہ رکھا جائے۔ میں کافی عرصے سے کسی ایسے مریض کی تلاش میں ہوں جو اس تجربے کے لیے خود کو پیش کر سکے۔ چونکہ تم میرے دوست اور ایک روشن خیال انسان ہو، اس لیے میرا خیال ہے کہ…”
“مجھے ایسی باتیں پسند نہیں،” میں نے اسے ٹوکا۔
“مجھے بات مکمل کرنے دو، شوکت! تحقیق کے نتائج ظاہر کرتے ہیں کہ دماغ ایک حیرت انگیز اور خود مختار عضو ہے۔ یہ اپنا ‘دماغی رس’ خود پیدا کرتا ہے۔ اس کی نازک ذہنی سرگرمیاں ہاتھ پاؤں، دھڑ، یہاں تک کہ کھوپڑی کی ہڈیوں کی عدم موجودگی سے بھی قطعاً متاثر نہیں ہوتیں، بشرطیکہ جیسا کہ میں نے کہا، اسے مسلسل آکسیجن ملا ہوا خون ملتا رہے۔ میرے عزیز! ذرا اپنے دماغ کا تو سوچو۔ وہ بالکل محفوظ ہے اور تمہاری زندگی بھر کے حاصل شدہ علم سے مالا مال ہے۔ تم نے اسے اس مقام تک لانے میں برسوں محنت کی ہے۔ وہ اب اپنے بہترین اور اچھوتے خیالات ظاہر کرنے ہی والا تھا کہ موت دبے قدموں چلی آئی۔ اب وہ محض اس لیے ضائع ہونے والا ہے کیونکہ تمہارا لبلبہ کینسر زدہ ہو گیا ہے۔”
“بس کرو! یہ ایک ہولناک خیال ہے،” میں نے کہا۔ “اگر تم اسے عملی جامہ پہنانے کے قابل بھی ہو—جس پر مجھے شبہ ہے—تب بھی اس کا کیا فائدہ؟ میرے دماغ کو زندہ رکھ کر تم کیا حاصل کرو گے جب میں نہ بول سکوں گا، نہ دیکھ سکوں گا، نہ سن سکوں گا اور نہ ہی کچھ محسوس کر سکوں گا؟ میری نظر میں اس سے زیادہ بھیانک بات کوئی اور نہیں ہو سکتی۔”
“مجھے پورا یقین ہے کہ ہم تمہیں بات چیت کے قابل بنا لیں گے،” ڈاکٹر بہرام نے جواب دیا، “اور شاید ہم تمہیں کسی حد تک بینائی بھی دے سکیں، مگر اس پر بحث بعد میں ہوگی۔ حقیقت یہ ہے کہ تم بہت جلد مرنے والے ہو، چاہے کچھ بھی کر لو، اور میں تمہیں تمہاری موت سے پہلے چھونے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا۔ سوچو شوکت! کوئی بھی سچا فلسفی اپنے مردہ جسم کو سائنس کے لیے وقف کرنے پر اعتراض نہیں کرتا۔”
“یہ بات پوری طرح درست نہیں،” میں نے جواب دیا۔ “تم میرے ساتھ جو کرنے والے ہو، اس کے بعد تو یہ سوال کھڑا ہو جائے گا کہ میں زندہ ہوں یا مر چکا ہوں؟”
وہ ذرا سا مسکرایا۔ “تمہاری بات میں وزن ضرور ہے، لیکن جب تک تم ایک اور اہم بات نہیں جان لیتے، مجھے یوں مایوس مت کرو۔”
“میں کہہ چکا ہوں کہ میں مزید کچھ نہیں سننا چاہتا۔”
اس نے ایک سگریٹ نکالی اور چاندی کا ایک چھوٹا سا لائٹر نکال کر اسے سلگایا۔ “یہ تحفہ ان ماہر کاریگروں کی طرف سے ہے جو میرے لیے طبی آلات تیار کرتے ہیں۔” میں نے لائٹر کی طرف دیکھا اور پھر نظریں پھیر لیں۔
“تم بس لیٹے رہو اور سنتے جاؤ، میرا خیال ہے یہ سب تمہیں دلچسپ لگے گا،” وہ بولا۔ “جیسے ہی تم اس دنیا سے رخصت ہو گے، اس لمحے وہاں میری موجودگی ناگزیر ہے تاکہ میں ایک لمحہ ضائع کیے بغیر تمہارے دماغ کو زندہ رکھنے کا عمل شروع کر سکوں۔”
“کیا تم اسے میرے سر ہی میں رکھو گے؟”
“ہاں، ابتدا میں۔”
“اور اس کے بعد کیا کرو گے؟”
“اگر تم واقعی جاننا چاہتے ہو تو سنو! تمہیں شاید علم ہو کہ جیسے ہی دل کی دھڑکن رکتی ہے، دماغ کو تازہ خون اور آکسیجن کی فراہمی منقطع ہو جاتی ہے۔ دماغی بافتیں (Tissues) بہت تیزی سے مردہ ہونے لگتی ہیں۔ محض چار یا شاید چھ منٹ، اور پھر سب ختم۔ اگر ذرا بھی دیر ہو جائے تو ناقابلِ تلافی نقصان ہو سکتا ہے، لہٰذا مجھے نہایت تیزی سے کام کرنا ہوگا۔ مشین کی مدد سے یہ عمل آسان ہو جائے گا۔”
“کون سی مشین؟” میں نے پوچھا۔
“مصنوعی دل! ہمارے پاس ڈاکٹر بہروز کی تیار کردہ مشین کا ایک خاصا معقول نمونہ موجود ہے۔ یہ خون میں آکسیجن بھرتی ہے، اس کی حرارت برقرار رکھتی ہے، صحیح دباؤ کے ساتھ خون پمپ کرتی ہے اور بہت سے دیگر کام سرانجام دیتی ہے۔ سب کچھ نہایت سادہ ہے۔”
“مجھے یہ بتاؤ کہ میرے مرتے ہی تم کیا کرو گے؟ شروعات کہاں سے کرو گے؟”
“کیا تم دماغ میں دورانِ خون کے نظام کے بارے میں کچھ جانتے ہو؟” میرے انکار میں سر ہلانے پر اس نے تفصیل سے دماغی نظام کے بارے میں بتایا، پھر بولا:
“تمہارے مرتے ہی میں فوراً تمہاری گردن کی رگوں اور شریانوں میں بڑی کھوکھلی سوئیاں داخل کر دوں گا، جو نلیوں کے ذریعے ‘ہارٹ اینڈ لنگز مشین’ سے جڑ جائیں گی۔ پھر ہم مصنوعی دل کے ذریعے دماغ تک خون کی روانی بحال کر دیں گے، بالکل ایسے جیسے رکی ہوئی ‘جوگولر رگوں’ کو نئے سرے سے متحرک کر دیا گیا ہو۔”
“اور میں اُس روسی کتے جیسا ہو جاؤں گا؟”
“بالکل نہیں۔ اول تو تم موت کے اس لمحے بے ہوش ہو جاؤ گے اور میرا نہیں خیال کہ تم جلدی یا کبھی بھی ہوش میں آ سکو گے، مگر ہوش میں آؤ یا نہ آؤ، تم ایک عجیب سی کیفیت میں ضرور ہوگے: سرد، مردہ جسم اور ایک زندہ دماغ۔”
بہرام خاموش ہو گیا، جیسے اس تصور سے اسے ایک عجیب سا سرور حاصل ہو رہا ہو۔ وہ اپنے منصوبے میں اس قدر کھویا ہوا تھا کہ اسے یقین ہی نہیں آ رہا تھا کہ میں اس کے جوش و جذبے میں شریک نہیں ہوں۔ پھر وہ بولا:
“ہمیں پہلے مرحلے میں کچھ وقت تو مل جائے گا، لیکن یقین کرو، اس کے باوجود ہم وقت کی شدید قلت کا شکار ہوں گے۔ سب سے پہلے ہم تمہیں آپریشن تھیٹر منتقل کریں گے۔ ہارٹ اینڈ لنگز مشین تمہارے دماغ میں مسلسل خون پہنچاتی رہے گی۔ اگلا مسئلہ…”
“مجھے ان تفصیلات میں کوئی دلچسپی نہیں،” میں نے بات کاٹی۔
“نہیں، تمہیں سب سننا ہوگا،” بہرام نے اصرار کیا۔ “یہ ضروری ہے کہ تم پوری طرح جان لو کہ تمہارے ساتھ کیا ہونے والا ہے۔ دیکھو، جب تمہیں ہوش آئے گا تو بہتر ہوگا کہ تم واضح طور پر یاد رکھ سکو کہ تم کہاں ہو اور وہاں کیسے پہنچے۔ کم از کم اپنے ذہنی سکون کے لیے تمہیں یہ سب جان لینا چاہیے۔ ٹھیک ہے؟”
میں چپ چاپ لیٹا اسے دیکھتا رہا۔
“تو اگلا مرحلہ ہوگا تمہارے مردہ جسم سے مکمل دماغ نکالنا، کیونکہ اب تمہارے جسم کو اس کی کوئی ضرورت نہیں رہے گی۔ مجھے ایک طویل اور نہایت نازک آپریشن کرنا ہوگا۔ چنانچہ جب تم میری میز پر لیٹے ہوگے، میں ایک چھوٹی سی مرتعش (Vibrating) آری لوں گا اور تمہاری کھوپڑی کی ہڈیاں کھول دوں گا۔ چونکہ اس وقت تم تکنیکی طور پر مردہ ہوگے، لہٰذا بے ہوشی کی دوا کا کوئی جھنجھٹ نہیں ہوگا۔”
“یہ تمہاری غلط فہمی ہے،” میں نے فوراً ٹوکا۔ “میں بے ہوشی کے بغیر کسی کو بھی اپنے سر کی ہڈیاں کاٹنے کی اجازت نہیں دوں گا۔”
بہرام نے بے پروائی سے کندھے اچکائے۔ “ٹھیک ہے، مجھے کوئی اعتراض نہیں۔ اگر تمہیں اسی سے اطمینان ملتا ہے تو میں تمہیں ہلکی سی بے ہوشی دے دوں گا، بلکہ گردن سے اوپر تمہاری پوری کھوپڑی کو سُن کر دوں گا۔ تمہیں معلوم ہے؟ کبھی کبھی کیسی حیرت انگیز باتیں ہو جاتی ہیں۔ پچھلے ہفتے ایک شخص بے ہوشی کی حالت میں لایا گیا۔ میں نے دوا دیے بغیر اس کی کھوپڑی کھولی اور اندر سے خون کا لوتھڑا نکالا۔ میں ابھی اس کے دماغ کے اندر کام کر ہی رہا تھا کہ وہ ہوش میں آ گیا اور باتیں کرنے لگا۔”
بہرام خاموش ہو گیا اور مسکرا کر اس واقعے کی یادوں میں کھو گیا۔
“مگر مجھے مکمل بے ہوشی چاہیے،” میں نے اصرار کیا۔
“جیسا تم چاہو، شوکت،” وہ بولا۔ “اگلا مرحلہ نہایت پیچیدہ ہے۔ مجھے پورے دماغ کو اس طرح آزاد کرنا ہے کہ اسے آسانی سے نکالا جا سکے اور ساتھ ہی شریانوں اور وریدوں کے سرے اس قابل چھوڑنے ہیں کہ انہیں مشین سے جوڑا جا سکے۔ یہ پوری کارروائی ایک طویل اور صبر آزما جراحی ہے: ہڈیاں تراشنا، اعصاب اور رگوں کو الگ کرنا—یہ سب صبر اور فن کا کھیل ہے۔ اور یاد رہے، میرے پاس وقت کی کوئی قید نہیں ہوگی، کیونکہ مصنوعی دل مسلسل خون پمپ کرتا ہوا تمہارے دماغ کو حیات بخشتا رہے گا۔”
“اب فرض کرو کہ میں نے تمہارا سر اندرونی طور پر پوری طرح صاف کر لیا ہے۔ اس حالت میں دماغ صرف اپنی بنیاد پر جسم سے جڑا رہ جائے گا—ریڑھ کی ہڈی، دو بڑی وریدوں اور چار شریانوں کے ذریعے۔ اب میں ریڑھ کی ہڈی کو گردن کے پہلے مہرے کے ذرا اوپر سے کاٹ دوں گا، مگر یاد رکھنا کہ ایسا کرنے سے دماغ کی جھلی میں ایک سوراخ بن جائے گا، جسے مجھے ٹانکوں سے بند کرنا ہوگا، لیکن یہ کوئی بڑا مسئلہ نہیں۔”
“اس مرحلے پر میں حتمی کارروائی کے لیے تیار ہوں گا۔ میرے سامنے ایک خاص طرز کا برتن رکھا ہوگا، جس میں ‘رنگرز محلول’ بھرا ہوگا—یہ نیورو سرجری میں استعمال ہونے والا ایک خاص مائع ہے۔ پھر میں دماغ کو پوری طرح آزاد کر کے، رگیں اور شریانیں الگ کر کے اٹھاؤں گا اور نہایت احتیاط سے اس برتن میں رکھ دوں گا۔ خون کی رسد لمحہ بھر کے لیے رکے گی، لیکن دماغ برتن میں رکھتے ہی میں فوراً اس کی شریانوں کو مصنوعی دل سے جوڑ دوں گا۔ اب تمہارا دماغ اس برتن میں جیتا جاگتا رہے گا اور ایسی کوئی وجہ نہیں جو اسے کئی برسوں تک زندہ رہنے سے روک سکے، بشرطیکہ خون کی فراہمی اور مشین کی کارکردگی مسلسل برقرار رہے۔”
“کیا واقعی ایسا ممکن ہو سکے گا؟” میں نے حیرت سے پوچھا۔
“بالکل! اور یہ ایک شاندار کامیابی ہوگی۔”
“لیکن… میں نہ دیکھ سکوں گا، نہ سن سکوں گا، نہ سونگھ سکوں گا، نہ محسوس کر سکوں گا اور نہ ہی بول سکوں گا؟” میں نے لرزتی آواز میں پوچھا۔
“اوہ…!” اس نے کچھ بوکھلا کر کہا۔ “میں نے تمہیں آنکھ کے بارے میں نہیں بتایا۔ سنو! میں چاہتا ہوں کہ تمہاری ایک آنکھ اور ‘آپٹک نرو’ (بصری عصب) کو جوں کا توں رہنے دوں۔ آپٹک نرو کوئی عام عصب نہیں بلکہ یہ دماغ ہی کا ایک حصہ ہے۔ اس کی خوبی یہ ہے کہ یہ دماغی جھلی کے ساتھ ساتھ چلتی ہے اور براہِ راست آنکھ کے پچھلے حصے سے جا ملتی ہے۔ اس طرح آنکھ کا پچھلا حصہ دماغ سے جڑا رہتا ہے اور دماغی مائع وہاں تک رسائی رکھتا ہے۔ قوی امکان ہے کہ میں تمہاری ایک آنکھ بچا لوں گا۔ میں نے اس کے لیے پلاسٹک کا ایک چھوٹا سا خول بھی تیار کروا لیا ہے جو پتلی کی جگہ رکھا جائے گا۔ جب دماغ رنگین محلول سے بھرے برتن میں ہوگا، تو آنکھ اس کی سطح پر تیرتی رہے گی۔ افسوس کہ اسے حرکت دینے والے عضلات محفوظ نہیں رہ سکیں گے، لیکن ذرا سوچو، یہ کتنا دلچسپ ہوگا—سکون سے ایک مرتبان میں پڑے رہنا اور وہاں سے دنیا کا نظارہ کرنا!”
“احمقانہ دلچسپی…!” میں نے تلخی سے کہا۔ “اور کان؟ کیا تم میرا ایک کان بھی نہیں بچا سکتے؟”
“نہیں، یہ ممکن نہیں،” اس نے جواب دیا۔
“مجھے کان چاہیے! میں سننا چاہتا ہوں۔”
“تم سمجھ نہیں رہے،” بہرام نے دھیمی آواز میں کہا۔ “سماعت کا نظام آنکھ سے کہیں زیادہ نازک اور ہڈی میں پیوست ہوتا ہے۔ اس کا جو حصہ دماغ سے جڑتا ہے، اسے مکمل طور پر الگ کرنا ناممکن ہے۔”
“کیا تم اسے ہڈی سمیت نکال کر کسی پیالے میں نہیں رکھ سکتے؟”
“نہیں،” بہرام نے دو ٹوک لہجے میں کہا۔ “یہ عمل پہلے ہی نہایت پیچیدہ ہے۔ اور اگر آنکھ کام کر گئی تو سننے کی کیا ضرورت؟ ہم تمہیں تحریری پیغامات دکھا دیا کریں گے۔ مجھے یہ فیصلہ کرنے دو کہ تمہارے لیے کیا ضروری ہے اور کیا نہیں۔”
“میں نے ابھی تک رضامندی نہیں دی،” میں نے کہا۔ “مجھے تمہارا یہ منصوبہ کچھ خاص پسند نہیں آیا۔”
“تو کیا تم مکمل طور پر فنا ہونا پسند کرو گے؟”
“شاید… میں ابھی یقین سے کچھ نہیں کہہ سکتا۔ اور میں بول بھی نہیں سکوں گا؟ تو پھر میں تم سے رابطہ کیسے کروں گا؟ تمہیں کیسے معلوم ہوگا کہ میں ہوش میں ہوں؟”
“یہ تو بہت آسان ہے،” بہرام بولا۔ “ہم الیکٹرو اینسیفالوگراف لگا دیں گے اور برتن میں دماغ کے فرنٹل لوبز پر الیکٹروڈز رکھ دیں گے۔”
“اور اس سے تمہیں سب معلوم ہو جائے گا؟”
“یقیناً! ہر اسپتال میں یہ طریقہ رائج ہے۔”
“لیکن میں تم سے گفتگو تو نہیں کر سکوں گا؟”
“سچ پوچھو تو، میرا خیال ہے کہ تم یہ بھی کر سکو گے۔ لندن میں ڈاکٹر ہارڈی نامی ایک شخص ذہنی اشاروں کو دور تک منتقل کرنے پر دلچسپ تحقیق کر رہا ہے۔ میں نے اس سے رابطہ بھی کیا ہے۔ تم جانتے ہو کہ دماغ سوچتے وقت برقی اور کیمیائی سگنلز خارج کرتا ہے، جو لہروں کی صورت میں نکلتے ہیں—بالکل ریڈیو لہروں کی طرح۔”
“ہاں، میں کسی حد تک واقف ہوں،” میں نے کہا۔
“ہارڈی نے ایک ایسا آلہ بنایا ہے جو اینسیفالوگراف سے کہیں زیادہ حساس ہے۔ اس کا دعویٰ ہے کہ وہ محدود پیمانے پر دماغی خیالات پڑھ سکتا ہے۔ وہ آلہ ایک نقشہ مرتب کرتا ہے جسے ڈی کوڈ کر کے سمجھا جا سکتا ہے۔ کیا تم چاہو گے کہ میں ہارڈی کو بلاؤں؟”
“نہیں، اس کی ضرورت نہیں،” میں نے جواب دیا۔ وہ پہلے ہی یہ فرض کر چکا تھا کہ میں اس تجربے کا حصہ بنوں گا اور یہ بات مجھے ناگوار گزر رہی تھی۔ “اب جاؤ، مجھے تنہا چھوڑ دو۔ جلد بازی سے تم کچھ حاصل نہیں کر سکو گے۔”
وہ فوراً اٹھا اور دروازے کی طرف بڑھا تو میں نے اسے پکارا: “کیا تمہیں واقعی یقین ہے کہ جب میرا دماغ اس برتن میں ہوگا تو وہ بالکل اسی طرح کام کرے گا جیسے اب کر رہا ہے؟ کیا میں سوچنے سمجھنے کے قابل رہوں گا؟ اور کیا میری یادداشت محفوظ رہے گی؟”
“کیوں نہیں!” اس نے جواب دیا۔ “دماغ وہی رہے گا، زندہ سلامت اور جوں کا توں۔ تم ایک غیر معمولی، پاکیزہ اور الگ تھلگ دنیا میں جیو گے۔ تمہیں کوئی خلل نہیں پہنچے گا، یہاں تک کہ درد بھی نہیں، کیونکہ تمہارے پاس درد محسوس کرنے والے اعصاب ہی نہیں ہوں گے۔ ایک طرح سے یہ مثالی کیفیت ہے: نہ اضطراب، نہ خوف، نہ بھوک، نہ پیاس اور نہ کوئی خواہش—بس یادیں اور تمہارے خیالات۔ اور اگر وہ آنکھ کام کر گئی تو تم کتابیں بھی پڑھ سکو گے۔ مجھے تو یہ سب بہت خوشگوار لگتا ہے۔”
“واقعی؟”
“ہاں شوکت، بالکل! تمہارے ذہن میں عظیم خیالات جنم لیں گے۔ ذرا تصور کرو کہ تم کس درجے کی روحانی یکسوئی حاصل کر سکتے ہو۔”
“اور شاید اعلیٰ درجے کی ناامیدی بھی،” میں نے کہا۔
“ناامیدی کیسی؟ جب کوئی خواہش ہی باقی نہ رہے گی تو ناامیدی کہاں سے آئے گی؟ کم از کم جسمانی خواہش تو نہیں رہے گی۔”
“لیکن میں اپنی گزشتہ زندگی کی تمام یادیں تو ساتھ رکھوں گا۔ ممکن ہے میرے دماغ میں اس دنیا میں واپس آنے کی تڑپ جاگ اٹھے۔”
“اس ہنگامہ خیز دنیا میں؟ اپنے پرسکون مرتبان سے نکل کر اس پاگل خانے میں؟” اس نے حیرت سے پوچھا۔
“ایک آخری سوال،” میں نے کہا۔ “تمہارا کیا خیال ہے، تم میرے دماغ کو کب تک زندہ رکھ سکو گے؟”
“کون جانتا ہے؟ شاید برسوں تک۔ وہاں حالات مثالی ہوں گے۔ خون کا دباؤ ہمیشہ یکساں رہے گا، جو حقیقی زندگی میں ناممکن ہے۔ درجہ حرارت معتدل ہوگا اور خون کی کیمیائی ساخت نقص سے پاک ہوگی—نہ میل، نہ وائرس، نہ بیکٹیریا۔ قطعی اندازہ لگانا تو مشکل ہے، مگر میرا خیال ہے کہ ان حالات میں انسانی دماغ دو تین سو سال تک جی سکتا ہے۔ اب اجازت چاہتا ہوں، کل آؤں گا۔”
وہ تیزی سے رخصت ہو گیا اور میں سخت اضطراب کی حالت میں کمرے میں تنہا رہ گیا۔ مجھے اس سارے تصور سے گھن آنے لگی۔ خود کو پانی میں پڑے کسی لیس دار گولے میں تبدیل کرنے کا خیال—چاہے دماغ سلامت ہی کیوں نہ رہے—انتہائی مکروہ، بھیانک اور گھناؤنا محسوس ہو رہا تھا۔ مجھے اس بے بسی کا بھی خوف لاحق تھا جو برتن میں منتقل ہونے کے بعد مجھ پر طاری ہونی تھی: نہ واپسی کی گنجائش، نہ احتجاج کا راستہ اور نہ ہی گفتگو کا کوئی وسیلہ۔ میں مکمل طور پر ان کے رحم و کرم پر ہوتا، جب تک وہ مجھے زندہ رکھنے کی قدرت رکھتے۔ لیکن اگر میں یہ سب برداشت نہ کر سکا تو؟ اگر مجھے ناقابلِ برداشت ذہنی اذیت ہونے لگی تو؟ میرے پاس بھاگنے کے لیے ٹانگیں ہوں گی نہ چیخنے کے لیے آواز۔ میں بس ساکت پڑا رہوں گا اور شاید اگلی دو صدیوں تک اس کرب سے گزرتا رہوں گا۔
میں دیر تک لیٹا ان خوفناک خیالات میں گھرا رہا، یہاں تک کہ بیزاری سی ہونے لگی۔ پھر دوپہر کے قریب یکایک میری سوچ کا دھارا بدل گیا۔ میں نے بہرام کی پیشکش کو منطقی زاویے سے دیکھنا شروع کیا۔ یہ سوچنا بہت اطمینان بخش تھا کہ میرا دماغ چند ہفتوں میں فنا ہونے کے بجائے محفوظ رہے گا۔ مجھے اپنے دماغ پر ہمیشہ ناز رہا ہے؛ وہ ذہین ہے، روشن ہے، معلومات کا گراں قدر ذخیرہ ہے اور نئے نظریات تخلیق کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ میرا دماغ کوئی معمولی شے نہیں! جہاں تک جسم کا تعلق ہے، تو یہ بے چارہ فرسودہ ہو چکا ہے، اسے ضائع کرنے میں کوئی حرج نہیں۔ میری عزیز روبی، تم بھی یہ اعتراف کرو گی کہ اب اس جسم میں کوئی ایسی خاص بات نہیں بچی تھی جسے بچانا ضروری سمجھا جاتا۔
یوں سب کچھ بہت تیزی سے طے پا گیا اور اسی لمحے میری حالت سنبھلنے لگی۔ میں نے سب کو حیران کر دیا، کیونکہ اب جو بھی میرے لیے کھانا لاتا، میں اسے رغبت سے کھا لیتا۔ تھوڑی دیر بعد ہمیشہ کی طرح تم مجھ سے ملنے آئیں۔ مجھے دیکھ کر تم نے کہا کہ میں پہلے سے کہیں بہتر، خوشگوار اور تروتازہ لگ رہا ہوں۔ تم نے پوچھا: “آخر کیا بات ہے؟”
پھر تمہیں یاد ہوگا کہ میں نے تمہیں اطمینان سے بیٹھنے کو کہا اور نہایت نرم لہجے میں وہ سب کچھ سمجھانے کی کوشش کی جو ہونے والا تھا، مگر افسوس کہ تم نے ایک لفظ سننے سے بھی انکار کر دیا۔ میں ابھی تفصیلات تک پہنچا ہی تھا کہ تم بھڑک اٹھیں، اور جب میں نے بات جاری رکھنی چاہی تو تم کمرے سے باہر نکل گئیں۔
خیر روبی، جیسا کہ تم جانتی ہو، اس کے بعد میں نے کتنی ہی بار تم سے اس موضوع پر بات کرنا چاہی، مگر تم اپنی ضد پر اڑی رہیں اور سننے کو تیار نہ ہوئیں۔ یہی وجہ ہے کہ یہ خط وجود میں آیا۔ میں صرف یہ امید کر سکتا ہوں کہ اب تم میں اتنی سمجھ بوجھ ضرور ہوگی کہ تم اسے مکمل پڑھ لو۔
مجھے یہ سب تحریر کرنے میں بہت وقت لگا۔ پہلا جملہ لکھے دو ہفتے بیت چکے ہیں اور اب میں پہلے سے کہیں زیادہ نڈھال ہوں۔ مجھے شبہ ہے کہ میں مزید کچھ لکھ پاؤں گا۔ البتہ میں تمہیں “خدا حافظ” نہیں کہوں گا، کیونکہ ایک خفیف سا امکان موجود ہے کہ اگر بہرام کا منصوبہ کامیاب رہا، تو شاید میں تمہیں دوبارہ دیکھ سکوں—بشرطیکہ تم مجھے دیکھنے کا فیصلہ کرو۔
میں نے ہدایت کر دی تھی کہ یہ خط تمہیں میری وفات کے ایک ہفتے بعد دیا جائے۔ چنانچہ جب تم اسے پڑھ رہی ہو گی، بہرام کو اپنا کام مکمل کیے سات دن گزر چکے ہوں گے۔ شاید تمہیں اب تک نتیجہ معلوم ہو چکا ہو۔ اگر تم نے دور رہنے کا فیصلہ کیا ہے اور کچھ بھی جاننے کی زحمت نہیں کی—جس کا مجھے قوی امکان ہے—تو میں تم سے التجا کرتا ہوں کہ اب اپنا رویہ بدل لو اور بہرام کو فون کر کے میری خیریت دریافت کرو۔ میں نے اسے بتایا تھا کہ شاید ساتویں دن تم اس سے رابطہ کرو گی۔
تمہارا وفادار شوہر، شوکت مرزا
مسز شوکت نے خط کا آخری صفحہ آہستگی سے صوفے پر اپنے پہلو میں رکھ دیا اور اپنے ہونٹ اتنی سختی سے بھینچے کہ نتھنوں کے گرد جلد سفید پڑ گئی۔ کوئی یہ سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ بیوہ ہونے کے بعد آخرکار انہیں سکون مل گیا ہے، مگر ان تمام باتوں کا تصور کر کے ان کے دل میں ایسا ہول اٹھا کہ پورا جسم لرزنے لگا۔ انہوں نے پرس سے ایک اور سگریٹ نکالی، اسے سلگا کر گہرا کش لیا اور سوچنے لگیں کہ بہرام فون کے انتظار میں ہوگا۔ کیا اسے فون کیا جائے؟ شاید نہیں! انہوں نے سگریٹ ختم کی اور اس کے سلگتے سرے سے دوسری سگریٹ جلا لی، پھر ٹی وی کے برابر رکھے ٹیلی فون پر نگاہ ڈالی۔ شوکت نے وصیت کی تھی کہ وہ ڈاکٹر بہرام کو ضرور فون کرے۔
وہ ایک لمحے کو جھجکیں، اور اپنے اندر کہیں گہرائی میں چھپے اس ذمہ داری کے احساس سے نبرد آزما رہیں جسے وہ اب تک جھٹکنے کی ہمت نہیں کر پائی تھیں۔ پھر وہ آہستگی سے اٹھ کر ٹیلی فون کی طرف بڑھیں، ڈائریکٹری سے نمبر تلاش کیا اور ڈائل کر کے جواب کا انتظار کرنے لگیں۔
“میں مسز شوکت مرزا بات کر رہی ہوں۔ براہِ کرم، میری ڈاکٹر بہرام سے بات کروا دیں۔” لائن ملنے پر انہوں نے کہا۔
“جی، انتظار کیجیے۔” چند لمحوں بعد بہرام فون پر موجود تھا۔
“مسز شوکت مرزا! مجھے بہت خوشی ہے کہ آپ نے آخرکار فون کر لیا۔ امید ہے آپ خیریت سے ہوں گی۔” اس کی آواز دھیمی، سپاٹ اور مؤدبانہ تھی۔ “کیا آپ اسپتال آ سکتی ہیں؟ ہمیں کچھ بات کرنی ہے۔ میرا خیال ہے آپ یہ جاننا چاہتی ہوں گی کہ ہماری اس کارروائی کا نتیجہ کیا رہا۔”
انہوں نے کوئی جواب نہ دیا۔ ڈاکٹر نے سلسلہ جاری رکھا: “فی الحال اتنا بتا سکتا ہوں کہ سب کچھ کم و بیش ٹھیک رہا، بلکہ حقیقت تو یہ ہے کہ میری توقعات سے کہیں بہتر! مسز شوکت، وہ نہ صرف زندہ ہے بلکہ ہوش میں بھی ہے۔ دوسرے ہی دن اس نے ہوش سنبھال لیا تھا۔ اس کی آنکھ بھی کام کر رہی ہے، اور ہمیں اس کا یقین اس لیے ہے کہ جب بھی ہم اس کے سامنے کوئی شے رکھتے ہیں تو ‘الیکٹرو انسیفالوگرام’ کی ریڈنگ میں واضح تبدیلی آتی ہے۔ ہم اسے روزانہ اخبار بھی پڑھنے کو دیتے ہیں اور اس کی خوشی کے لیے ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں۔ میں چاہتا ہوں کہ آپ جلد از جلد اسے دیکھنے آئیں۔ میرا خیال ہے وہ آپ کو دیکھ کر خوش ہوگا۔ آپ اسے اپنی موجودگی کا احساس دلا سکتی ہیں؛ مسکرا کر یا ہاتھ ہلا کر۔ آپ بہتر جانتی ہیں، اسے یہ جان کر تسلی ہوگی کہ آپ وہاں موجود ہیں۔”
“ٹھیک ہے،” آخرکار مسز شوکت نے کہا۔ ان کی آواز میں تھکن اور شکستگی نمایاں تھی۔ “میرا خیال ہے کہ مجھے آ کر دیکھ ہی لینا چاہیے کہ وہ کس حال میں ہے۔”
“بہت اچھا! میں جانتا تھا کہ آپ ضرور آئیں گی۔ میں آپ کا انتظار کروں گا۔ سیدھا دوسری منزل پر میرے دفتر میں آ جائیے۔ خدا حافظ۔”
آدھے گھنٹے بعد وہ اسپتال میں تھیں۔ “اسے دیکھ کر گھبرائیے گا نہیں،” بہرام نے راہداری میں چلتے ہوئے کہا۔ “پہلے پہل شاید آپ کو دھچکا لگے، کیونکہ اس کی موجودہ حالت کچھ زیادہ دلکش نہیں ہے۔”
“میں نے اس سے اس کے حسن کی وجہ سے شادی نہیں کی تھی،” انہوں نے سرد لہجے میں جواب دیا۔
ڈاکٹر بہرام نے خفیف سی گردن موڑ کر انہیں دیکھا۔ “کیسی عجیب عورت ہے،” اس نے سوچا۔ بجھی ہوئی بڑی بڑی آنکھیں اور دکھی سے نقش و نگار، جن میں کبھی لطافت رہی ہوگی، اب مکمل طور پر ماند پڑ چکے تھے۔ ہونٹوں کے کنارے جھکے ہوئے اور گال ڈھیلے تھے، گویا برسوں کی بے مسرت گھریلو زندگی نے اس کے چہرے کو آہستہ آہستہ مسخ کر دیا ہو۔
وہ کچھ دیر خاموشی سے چلتے رہے، پھر بہرام نے کہا: “اسے کسی کی آمد کا تب تک پتا نہیں چلتا جب تک آپ اس کی آنکھ کے عین اوپر نہ جھک جائیں۔ آنکھ ہمیشہ کھلی رہتی ہے مگر حرکت نہیں کر سکتی، اس لیے اس کے دیکھنے کا زاویہ نہایت محدود ہے۔ وہ اس وقت سیدھا چھت کو دیکھ رہا ہے اور کچھ سن نہیں سکتا۔ ہم آپس میں جتنا چاہیں بات کر سکتے ہیں۔ ادھر آئیے، پلیز۔”
بہرام نے ایک دروازہ کھولا اور انہیں ایک چھوٹے چوکور کمرے میں لے گیا۔ کمرے کے درمیان ایک اونچی میز پر مرتبان جتنا بڑا ایک چمک دار برتن رکھا تھا، جس سے آدھ درجن باریک پلاسٹک کی نلکیاں نکل کر ایک مشین میں جا رہی تھیں، جس میں خون کی روانی دکھائی دے رہی تھی۔ مصنوعی دل کی مشین مسلسل چل رہی تھی اور اس میں سے دھیمی مگر یکساں دھڑکن جیسی آواز آ رہی تھی۔
“وہ رہا،” بہرام نے مرتبان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا، مگر مسز شوکت کو اندر کچھ نظر نہیں آیا۔ وہ دونوں آگے بڑھے۔ مسز شوکت نے گردن دراز کر کے جھانکا۔ برتن میں صاف شفاف مائع ٹھہرا ہوا تھا اور اس کی سطح پر کبوتر کے انڈے کے برابر ایک بیضوی سا خول تیر رہا تھا۔
“یہ اس کی دائیں آنکھ ہے اور بہت اچھی حالت میں کام کر رہی ہے۔ اس وقت وہ اتنا ہی صاف دیکھ سکتا ہے جتنا پہلے دیکھتا تھا،” ڈاکٹر بولا۔
“مگر چھت کو گھورنے کا کیا فائدہ؟” مسز شوکت نے کہا۔
“اس کی فکر نہ کریں۔ ہم اس کی اکتاہٹ دور کرنے کے لیے پورا پروگرام بنا رہے ہیں، مگر ہم اسے جلد بازی میں نہیں کرنا چاہتے۔”
“اسے کوئی اچھی سی کتاب دے دیجیے۔”
“ضرور دیں گے۔ کیا آپ ٹھیک محسوس کر رہی ہیں، مسز شوکت؟ ذرا اور قریب آئیے تاکہ آپ اسے پورا دیکھ سکیں۔”
وہ میز کے مزید قریب ہو گئیں۔ اب وہ شیشے کے اس مرتبان میں جھانک سکتی تھیں۔ اس کا دماغ ان کی توقع سے کہیں بڑا اور رنگت میں کہیں زیادہ گہرا تھا۔ اس کی سطح پر جابجا پڑی ہوئی شکنیں اور ابھار انہیں نمکین اخروٹ کی یاد دلا رہے تھے۔ چار بڑی شریانوں اور دو وریدوں کے سرے صاف نظر آتے تھے، جو پلاسٹک کی نلکیوں سے بڑی مہارت سے جڑے ہوئے تھے۔ دل کی مشین کی ہر دھڑکن کے ساتھ نلکیاں بیک وقت ہلتی تھیں اور خون کو آگے دھکیلتی تھیں۔
“آپ کا چہرہ بالکل اس کی آنکھ کے اوپر ہونا چاہیے،” بہرام نے کہا، “تب وہ آپ کو دیکھ سکے گا۔ آپ اسے مسکرا کر ہاتھ ہلا سکتی ہیں۔ اگر میری مانیں تو اس سے کچھ اچھے الفاظ کہہ لیجیے۔ وہ سن تو نہیں سکے گا مگر مجھے یقین ہے کہ سمجھ جائے گا۔”
“آپ اجازت دیں تو میں وہی کروں جو مجھے مناسب لگے؟” انہوں نے پوچھا۔
ڈاکٹر بہرام نے اثبات میں گردن ہلائی۔ وہ آگے جھکیں، یہاں تک کہ ان کا چہرہ بالکل خول کے اوپر آ گیا۔ انہوں نے سیدھا شوکت کی آنکھ میں دیکھا۔
“ہیلو ڈئیر، میں روبی ہوں،” وہ آہستہ سے بولیں۔ ایک بے حرکت آنکھ، جس میں کچھ چمک تھی، انہیں گھور رہی تھی۔ “کیسے ہو ڈئیر؟” انہوں نے پوچھا۔
پلاسٹک کا خول مکمل طور پر شفاف تھا، اس لیے آنکھ کی پتلی پوری دکھائی دے رہی تھی۔ پچھلے حصے سے دماغ تک جانے والی ‘آپٹک نرو’ ایک چھوٹی سلیٹی رنگ کی اسپگیٹی کی طرح لگ رہی تھی۔
“شوکت، کیا تم اچھا محسوس کر رہے ہو؟” اپنے شوہر کی آنکھ میں جھانکنا مگر اس کا چہرہ نہ دیکھ پانا، ان پر ایک عجیب کیفیت طاری کر رہا تھا۔ دھیرے دھیرے وہ آنکھ ان کی نگاہوں میں پھیلتی گئی، یہاں تک کہ ایک مکمل چہرے جیسی معلوم ہونے لگی۔ سفید حصے پر سرخ رگوں کا باریک جال بکھرا ہوا تھا اور بھوری آنکھ کے ڈھیلے میں تین چار خوبصورت ہلکے بھورے رنگ کے دائرے تھے۔ درمیان میں کالی پتلی تھی، جس میں ننھی سی چمک نظر آ رہی تھی۔
“ڈئیر، تمہارا خط ملا تو میں فوراً چلی آئی۔ ڈاکٹر بہرام کہتے ہیں تم بہت اچھے ہو۔ اگر میں آہستہ بولوں تو تم میرے ہونٹوں کی حرکت سے شاید کچھ سمجھ لو گے۔”
اچانک آنکھ کی چمک بڑھ گئی۔ شک کی کوئی گنجائش نہیں تھی، آنکھ ان پر توجہ دے رہی تھی۔
“ڈئیر، یہ لوگ تمہیں خوش رکھنے کی پوری کوشش کر رہے ہیں۔ یہ شاندار مشین ہر دم خون رواں رکھتی ہے اور مجھے یقین ہے کہ یہ ہم انسانوں کے ان بے وقعت اور ناکارہ دلوں سے کہیں بہتر ہے۔ وہ کسی بھی لمحے جواب دے سکتے ہیں، مگر تمہارا یہ دل تو ہمیشہ کے لیے ہے۔”
وہ آنکھ کو غور سے دیکھتی رہیں، یہ سمجھنے کی کوشش کرتی رہیں کہ اس میں ایسا کیا ہے جو انہیں غیر معمولی لگ رہا ہے۔ “ڈئیر، تم بے حد اچھے لگ رہے ہو، بہت شاندار۔ سچ کہہ رہی ہوں، واقعی ایسا ہی ہے۔”
انہیں خیال آیا کہ انہیں کبھی بھی شوکت کی آنکھیں اتنی حسین نہ لگی تھیں جتنی اس وقت لگ رہی تھیں۔ ان میں ایک نرمی تھی، شفقت تھی اور ایک طرح کی دلجوئی—وہ صفات جو پہلے کبھی محسوس نہ ہوئی تھیں۔ شاید یہ اس نقطے کی وجہ سے تھا جو بالکل مرکز میں تھا؟ شوکت کی پتلیاں ہمیشہ ننھے سیاہ کانٹوں جیسی لگا کرتی تھیں؛ چمک دار، چبھنے والی، اور آپ کے ارادے بلکہ دل کے کچے خیالات تک بھانپ لینے والی، مگر اب وہ نرم اور مہربان تھیں۔
“کیا آپ یقین سے کہہ سکتے ہیں کہ وہ ہوش میں ہے؟” انہوں نے سر اٹھائے بغیر ڈاکٹر بہرام سے پوچھا، “اور کیا وہ مجھے دیکھ رہا ہے؟”
“جی ہاں، بالکل،” بہرام نے جواب دیا۔
“یہ تو بہت کمال ہے۔ شاید وہ سوچ رہا ہوگا کہ اس کے ساتھ کیا ہوا ہے؟”
“ہرگز نہیں۔ اسے اچھی طرح معلوم ہے کہ وہ کہاں ہے اور کیوں ہے۔ وہ یہ بات بھول نہیں سکتا۔”
“آپ کا مطلب ہے وہ جانتا ہے کہ وہ ایک مرتبان میں ہے؟”
“یقیناً۔ اگر اس کے پاس بولنے کی سکت ہوتی تو اس لمحے وہ اطمینان سے آپ سے باتیں کر رہا ہوتا۔”
“اوہ خدایا!” مسز شوکت نے کہا۔ وہ آنکھ کو ہر زاویے سے پرکھتے ہوئے کچھ سوچ رہی تھیں۔ شوکت مرزا کا اخروٹ نما بڑا دماغ بے رنگ مائع کے اندر بہت سکون سے پڑا تھا۔
“مجھے پوری طرح یقین نہیں کہ یہ صورتحال مجھے پسند ہے، مگر لگتا ہے میں اس کے ساتھ بالکل ٹھیک رہ سکتی ہوں،” وہ سوچ رہی تھیں۔ اب کوئی جھگڑا نہیں ہوگا، کوئی الزام تراشی نہیں، مسلسل تنقیدیں نہیں، قواعد و ضوابط کی پابندی نہیں، سگریٹ نوشی پر ٹوکنا نہیں، شام کو کتابوں کے اوپر سے پڑنے والی وہ سرد نظریں نہیں، اور نہ ہی کپڑے دھونے، استری کرنے یا کھانا پکانے کی فکر ہوگی۔ بس مصنوعی دل کی دھڑکن، جو سننے میں کافی پرسکون ہے اور اتنی تیز بھی نہیں کہ ٹیلی وژن دیکھنے میں رکاوٹ بنے۔
“ڈاکٹر، مجھے لگ رہا ہے کہ میں اسے پسند کرنے لگی ہوں۔ کیا یہ آپ کو عجیب لگتا ہے؟”
“نہیں، میرا خیال ہے کہ یہ قابلِ فہم ہے۔ وہ اس چھوٹے سے برتن میں خاموش پڑا کتنا لاچار لگ رہا ہے۔”
“جی ہاں، آپ نے ٹھیک کہا۔”
“یہ بس ایک بچہ ہے، ایک حقیقی بچہ،” بہرام خاموشی سے پیچھے کھڑا اسے دیکھ رہا تھا۔
“سنو شوکت،” انہوں نے دھیرے سے برتن میں جھانکتے ہوئے کہا، “اب روبی خود تمہاری دیکھ بھال کرے گی، تمہیں کسی چیز کی فکر کرنے کی ضرورت نہیں۔” پھر وہ ڈاکٹر کی طرف مڑیں، “ڈاکٹر، میں اسے گھر کب لے جا سکتی ہوں؟”
“آپ مذاق کر رہی ہیں؟” ڈاکٹر نے حیرت سے پوچھا۔
انہوں نے آہستہ سے سر گھما کر ڈاکٹر کی آنکھوں میں دیکھا اور بولیں، “میں کیوں مذاق کروں گی؟”
“اسے منتقل نہیں کیا جا سکتا۔ یہ ایک سائنسی تجربہ ہے، مسز شوکت۔” بہرام کے چہرے پر ناگواری کا تاثر ابھرا، مگر انہوں نے فوراً اس کی بات کاٹ دی۔
“آپ جانتے ہیں کہ وہ میرا شوہر ہے،” ان کی آواز میں غصہ نہیں تھا۔ وہ نہایت پرسکون انداز میں بول رہی تھیں، جیسے اسے ایک واضح حقیقت یاد دلا رہی ہوں۔
“یہ ایک نہایت نازک معاملہ ہے،” بہرام نے اپنے خشک ہونٹوں پر زبان پھیرتے ہوئے کہا، “آپ بیوہ ہیں، مسز شوکت، اور میرا خیال ہے کہ آپ کو اب یہ حقیقت تسلیم کر لینی چاہیے۔”
“میں جانتی ہوں کہ میں کیا کہہ رہی ہوں،” انہوں نے اپنے پرس سے سگریٹ نکالتے ہوئے کہا اور میز سے ہٹ کر کھڑکی کی طرف چلی گئیں۔ “میں اسے گھر لے جانا چاہتی ہوں۔”
ڈاکٹر نے دیکھا کہ وہ سگریٹ جلا رہی ہیں۔ “کیسی عجیب عورت ہے،” اس نے سوچا۔ وہ اس بات پر خوش ہو رہی ہے کہ اس کا شوہر ایک برتن میں قید ہے۔ اس نے تصور کیا کہ اگر اس کی اپنی بیوی وہاں ہوتی اور اس کی آنکھ یہ سب دیکھ رہی ہوتی، تو یقیناً اسے یہ ہرگز پسند نہ آتا۔
“اب ہمیں واپس چلنا چاہیے،” ڈاکٹر نے کہا۔ وہ اطمینان سے سگریٹ پیتے ہوئے کھڑکی کے پاس کھڑی تھیں۔
“جی ہاں، چلتے ہیں،” وہ بولیں اور میز کے پاس سے گزرتے ہوئے دوبارہ برتن میں جھانکا۔ “ڈئیر، روبی جا رہی ہے۔ میں تمہیں مزید پریشان نہیں کرنا چاہتی، ٹھیک ہے؟ جتنی جلدی ممکن ہوا، میں تمہیں گھر لے جاؤں گی جہاں میں تمہاری صحیح دیکھ بھال کروں گی، اور سنو ڈئیر…” وہ خاموش ہوئیں اور سگریٹ کا ایک گہرا کش لیا۔
اسی لمحے آنکھ میں ایک تیز چمک آئی، جیسے کوئی چنگاری تڑپی ہو، اور اس کی پتلی شدید ناپسندیدگی کے تاثر کے ساتھ سکڑ کر ایک ننھے نقطے کی مانند ہو گئی۔ روبی ٹس سے مس نہ ہوئیں۔ وہ برتن پر جھکی اس آنکھ کو دیکھتی رہیں، پھر انہوں نے ایک اور گہرا کش لیا، دھواں چند سیکنڈ تک پھیپھڑوں میں روکا اور پھر ناک کے نتھنوں سے دو باریک دھاروں کی صورت میں باہر نکالا، جس نے برتن میں موجود آنکھ اور پانی کی سطح کو ایک گہری نیلی دھند سے ڈھانپ دیا۔
“شوکت، اتنا غصہ نہ کرو۔ غصہ کرنا اچھا نہیں لگتا، خاص طور پر اس حالت میں،” انہوں نے سرگوشی کی۔ “کیونکہ اب تم میرے قبضے میں ہو۔ تم صرف وہی کرو گے جو روبی چاہے گی۔ کیا تم سمجھ رہے ہو؟”
بہرام دروازے پر کھڑا ان کا منتظر تھا، اس کا رخ دوسری طرف تھا۔ اس نے سر گھما کر دیکھا کہ وہ کیا کر رہی ہیں۔ “آئیے، مسز شوکت!” وہ چلایا اور ان کی طرف بڑھا۔
“اب بور نہ کرو، میرے پیارے،” انہوں نے سگریٹ کا ایک اور کش لیتے ہوئے کہا۔ ڈاکٹر بہرام قریب آیا اور ان کا ہاتھ تھام کر نرمی سے میز سے پرے ہٹانے لگا۔ “الوداع، ڈئیر، میں جلد واپس آؤں گی،” انہوں نے پکار کر کہا۔
“بس کریں، مسز شوکت،” بہرام نے بیزاری سے کہا۔
“وہ کتنا پیارا اور کتنا معصوم ہے، ہے نا! کیا یہ ایک معجزہ نہیں؟” انہوں نے خوشی سے چمکتی آنکھوں سے بہرام کی طرف دیکھا اور رخصت ہو گئیں۔
کچھ دن بعد مسز شوکت نے ڈاکٹر بہرام کو فون کیا۔ وہ اپنے شوہر کے دماغ کی منتقلی چاہتی تھیں۔ ڈاکٹر نے بارہا سمجھایا کہ یہ ممکن نہیں، دماغ کو یہاں سے ہٹانے سے وہ کام کرنا چھوڑ دے گا، مگر مسز شوکت بضد رہیں۔ وہ روزانہ فون کرنے لگیں، یہاں تک کہ ڈاکٹر نے ان کی کالز لینا ہی چھوڑ دیں۔ ایک دن وہ غصے میں تلملاتی ہوئی دفتر پہنچ گئیں اور دونوں کے درمیان شدید بحث ہوئی۔ ڈاکٹر نے دوٹوک انکار کر دیا: “یہ میرا تجربہ ہے اور اس کا مالک میں ہوں۔”
مسز شوکت نے جواب دیا: “یہ میرے شوہر کا دماغ ہے، اسے میرے حوالے کرو ورنہ میں عدالت جاؤں گی۔” یہ کہہ کر وہ وہاں سے نکل گئیں۔
چند روز بعد مقدمہ شروع ہوا۔ عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد فیصلہ دیا کہ دماغ مسز شوکت کی قانونی ملکیت ہے اور اسے منتقل کیا جا سکتا ہے۔ ڈاکٹر بہرام مایوس تھا، مگر اسے عدالتی فیصلے کے آگے سر تسلیمِ خم کرنا پڑا۔
مقررہ دن سب لوگ وہاں موجود تھے۔ مشین کام کر رہی تھی اور آنکھ چمک رہی تھی۔ مسز شوکت بے حد خوش تھیں۔ وہ دماغ اور مشین کو انتہائی احتیاط کے ساتھ اپنے گھر لے آئیں۔ ڈاکٹر نے سب کچھ ترتیب دیا، مگر جیسے ہی اس نے آنکھ کے مرتبان کی طرف دیکھا، وہ چیخ اٹھا: “ارے! یہ کیا ہوا؟”
آنکھ کی چمک غائب ہو چکی تھی، دماغ نے کام کرنا بند کر دیا تھا اور شفاف پانی تیزی سے سرخ ہو رہا تھا۔ مسز شوکت نے چیخ کر کہا: “نہیں! یہ سب تمہاری غلطی ہے!”
ڈاکٹر نے سرد لہجے میں کہا: “میں نے پہلے ہی خبردار کیا تھا کہ یہ ایک بڑا خطرہ (Risk) ہے۔”
سب لوگ رخصت ہو گئے۔ ڈاکٹر اپنے دفتر میں تنہا بیٹھا تھا—اداس، مگر مطمئن۔ وہ اپنے آپ سے بڑبڑایا: “میرے دوست، تمہاری ضدی بیوی کی وجہ سے یہ سب ہوا۔ میں تمہیں اس انا پرست اور ظالم عورت کے حوالے کیسے کر سکتا تھا؟ آخر کار میں نے تمہیں اس قید سے رہا کر دیا۔ مجھے یقین ہے کہ تم مجھے معاف کر دو گے۔”
وکیل نے تمام کاغذات اُن کے حوالے کیے اور میز پر رکھی فائل سے ایک سربمہر لفافہ نکال کر ان کی طرف بڑھاتے ہوئے کہا: “مجھے ہدایت کی گئی تھی کہ یہ خط آپ تک پہنچا دوں۔ آپ کے شوہر نے اپنی وفات سے کچھ عرصہ قبل یہ ہمیں ارسال کیا تھا۔” مسز شوکت نے سر اٹھا کر حیرت سے لفافہ لیا اور اسے الٹ پلٹ کر دیکھنے لگیں۔ وکیل نے مشورہ دیا: “مسز شوکت! مجھے یقین ہے کہ اس میں کوئی اہم بات ہے۔ بہتر ہوگا کہ آپ اسے گھر لے جا کر تنہائی میں پڑھیں۔”
انہوں نے اثبات میں سر ہلایا اور دفتر سے باہر نکل گئیں۔ فٹ پاتھ پر چلتے ہوئے انہوں نے اپنی انگلیوں سے لفافے کی سطح کو چھوا اور بڑبڑائیں: “شوکت کا الوداعی خط! یہ یقیناً رسمی اور خشک سا ہوگا۔ اُن سے اور کیا توقع کی جا سکتی ہے؟ انہوں نے اپنی زندگی میں کبھی کوئی غیر رسمی کام نہیں کیا۔ غالباً لکھا ہوگا کہ ‘پیاری روبی، امید ہے میری موت سے تم زیادہ دل گرفتہ نہیں ہوگی اور ہماری ازدواجی زندگی کے دوران جن اصولوں پر تم نے ثابت قدمی سے عمل کیا، انہیں اسی طرح جاری رکھو گی۔ ہر کام مستعدی سے کرنا اور دوسروں سے شائستگی سے پیش آنا۔ اپنے سرمائے کی حفاظت کرنا اور اسے احتیاط سے خرچ کرنا۔'”
پھر ان کے ذہن میں ایک دوسرا خیال آیا: “یا شاید انہوں نے کچھ خوبصورت باتیں لکھی ہوں؟ کوئی جذبوں سے لبریز پیغام، محبت بھرا خط یا شکرگزاری کا کوئی گرمجوش اظہار؟ ان تیس برسوں کا اعتراف جو میں نے ان کے ساتھ گزارے۔ شاید کچھ ایسا لکھا ہو جسے میں بار بار پڑھنا چاہوں۔ کوئی نہیں جانتا کہ دنیا سے رخصت ہوتے انسان سے کیا توقع کی جائے۔” مسز شوکت نے یہ سوچا اور خط فولڈر میں رکھ کر تیزی سے گھر کی جانب قدم بڑھا دیے۔
گھر پہنچ کر وہ سیدھی نشست گاہ میں گئیں اور صوفے پر بیٹھ کر لفافہ کھولا۔ اندر اسٹیپل سے جڑے ہوئے پندرہ بیس صفحات تھے۔ ہر صفحہ اسی واضح، صاف اور آگے کو جھکی ہوئی لکھائی سے پُر تھا جس سے وہ برسوں سے واقف تھیں، مگر جب انہوں نے اتنا طویل خط دیکھا—وہ بھی ایسی کاروباری سنجیدگی کے ساتھ، اور جس کے پہلے صفحے پر وہ رسمی جملہ بھی غائب تھا جس سے ان کے ہر خط کا آغاز ہوتا تھا—تو وہ حیران رہ گئیں۔ انہوں نے ایک گہرا سانس لیا، سگریٹ سلگائی اور کش لگانے لگیں۔ انہیں سگریٹ نوشی کی پرانی عادت تھی۔
ان کے ذہن میں خیال آیا: “اگر یہ خط واقعی وہی ہے جس کا مجھے خدشہ ہے، تو میں اسے پڑھنا پسند نہیں کروں گی، لیکن دنیا سے رخصت ہو جانے والے کا آخری خط کیوں نہ پڑھا جائے؟ آخر کیا کروں؟” وہ شش و پنج کا شکار تھیں۔ پھر ان کی نگاہ شوکت مرزا کی اس آرام کرسی پر جا ٹھہری جو کھڑکی کے دوسری جانب رکھی تھی۔ بھورے چمڑے کی گدی والی ایک بڑی کرسی، جس پر برسوں بیٹھنے کی وجہ سے نشست پر ایک گہرا نشان پڑ گیا تھا اور پشت پر بھی ایک بیضوی دھبہ نمایاں تھا۔ شوکت مرزا عموماً اسی کرسی پر بیٹھ کر مطالعہ کرتے، جبکہ وہ ان کے سامنے صوفے پر بیٹھی ٹی وی دیکھتیں، سویٹر بنتیں یا سبزی کاٹ رہی ہوتیں۔
شوکت مرزا کی نظریں کبھی کبھار کتاب سے اٹھ کر روبی پر ٹھہر جاتیں—ایک ایسی نگاہ جو بظاہر متوجہ ہوتے ہوئے بھی عجب بے نیازی لیے ہوتی، جیسے وہ کوئی حساب لگا رہے ہوں۔ روبی کو وہ آنکھیں کبھی پسند نہ تھیں؛ بھوری، سرد، چھوٹی اور آپس میں کچھ زیادہ ہی قریب، جن کے بیچ دو گہری عمودی لکیریں ہمیشہ ناگواری کا پتہ دیتی تھیں۔ تمام عمر وہ آنکھیں انہیں تکتی رہیں اور اب، جبکہ انہیں دنیا سے رخصت ہوئے ایک ہفتہ گزر چکا تھا، تب بھی انہیں کبھی کبھی ایسا لگتا جیسے وہ آنکھیں اب بھی وہیں موجود ہیں؛ دروازوں سے جھانکتی، خالی کرسیوں پر بیٹھی یا رات کے وقت کھڑکیوں سے انہیں دیکھتی رہتی ہوں۔
آخر کار انہوں نے آہستگی سے پرس سے عینک نکالی، صفحات کو اس زاویے پر رکھا کہ کھڑکی سے آنے والی شام کی روشنی ان پر پڑے اور پڑھنا شروع کیا:
“میری پیاری روبی! یہ پیغام صرف تمہارے لیے ہے، جو میری موت کے فوراً بعد تمہیں پہنچا دیا جائے گا۔ اس خط کی ضخامت دیکھ کر پریشان نہ ہونا۔ یہ محض میری ایک کوشش ہے تاکہ تمہیں تفصیل سے بتا سکوں کہ میرا سائنس دان دوست ڈاکٹر بہرام میرے ساتھ کیا کرنے والا ہے اور میں نے اسے اس کی اجازت کیوں دی ہے، اور یہ بھی کہ اس کے ارادے اور امیدیں کیا ہیں۔ تم میری بیوی ہو، تمہیں سب کچھ جاننے کا حق ہے، بلکہ میں تو کہوں گا کہ تم پر یہ جاننا لازم ہے۔
پچھلے چند دنوں میں، میں نے تم سے بہرام کے بارے میں بات کرنے کی بہت کوشش کی، مگر تم نے سننے سے سختی سے انکار کر دیا۔ تمہارا یہ رویہ، جیسا کہ میں تمہیں پہلے بھی بتا چکا ہوں، نہایت نادانی پر مبنی ہے۔ اس کی وجہ تمہاری انا ہے، حالانکہ مجھے پورا یقین ہے کہ اگر تمہیں تمام حقائق معلوم ہو جائیں تو تم فوراً اپنا نقطۂ نظر بدل لو گی۔ اسی لیے میں امید کرتا ہوں کہ جب میں تمہارے پاس نہیں ہوں گا اور تمہارا غم کسی قدر ہلکا ہو چکا ہوگا، تو تم ان صفحات کے ذریعے میری بات زیادہ توجہ سے سنو گی۔ میں حلفاً کہتا ہوں کہ جب تم یہ داستان پڑھ لو گی تو تمہاری عداوت کے جذبات ختم ہو جائیں گے اور ان کی جگہ جوش و جذبہ لے لے گا، اور شاید تمہیں اس بات پر فخر بھی ہو کہ میں نے کیا کیا ہے۔
اب میں اصل بات پر آتا ہوں۔ ڈیئر! میری بیماری کی تفصیل، جس نے زندگی کے بھرپور ایام میں مجھے ڈھیر کر دیا، تم بہتر جانتی ہو۔ اس پر وقت ضائع کرنے کی ضرورت نہیں، سوائے اس کے کہ میں اعتراف کروں کہ ڈاکٹر کو بروقت نہ دکھانا میری حماقت تھی۔ سرطان (کینسر) ان چند بیماریوں میں سے ہے جن پر جدید طب کا بس نہیں چلتا۔ اگر یہ پھیلا نہ ہو تو جراحی (سرجری) ممکن ہے، مگر میرے معاملے میں یہ نہ صرف بہت آگے بڑھ چکا تھا بلکہ اس نے لبلبے پر ایسا حملہ کیا تھا کہ سرجری ناممکن اور زندگی کی امید ختم ہو گئی تھی۔ میرے پاس شاید ایک مہینہ تھا یا زیادہ سے زیادہ چھ ماہ۔ میں جینے کی امید کھو رہا تھا کہ تب ایک دن ڈاکٹر بہرام میرے پاس آیا۔
یہ چھ ہفتے پہلے کی بات ہے، منگل کی صبح، تمہارے بیدار ہونے سے بھی بہت پہلے۔ جیسے ہی وہ اندر آیا، مجھے اندازہ ہو گیا کہ وہ کسی خاص مقصد سے آیا ہے۔ اس کی آنکھوں میں ایک عجیب چمک تھی۔ وہ بولا: ‘شوکت، میرے دوست! کمال ہو گیا، تم وہی آدمی ہو جس کی مجھے تلاش تھی’۔
یہ وضاحت ضروری ہے کہ ڈاکٹر بہرام اگرچہ ہمارے گھر کبھی نہیں آیا اور تم نے اسے شاذ و نادر ہی دیکھا ہوگا، مگر میری اس سے کم از کم دس سالہ دوستی ہے۔ وہ ایک غیر معمولی نیورو سرجن ہے، انتہائی ماہر، اور کچھ عرصہ قبل اس نے بڑی مہربانی سے مجھے اپنے کام کے نتائج دکھائے تھے، خصوصاً انسانی دماغ کے فرنٹل لوبوٹمی پر پڑنے والے اثرات کے بارے میں۔ پس تم سمجھ سکتی ہو کہ جب وہ اس صبح اچانک آ دھمکا، تو ہمارے درمیان ایک طویل گفتگو کا آغاز ہونا ہی تھا۔”
وہ کرسی گھسیٹ کر میرے بستر کے پاس لے آیا اور بولا: “تم چند ہفتوں میں مرنے والے ہو، ٹھیک ہے؟”
بہرام کی جانب سے یہ سوال مجھے برا نہیں لگا۔ کسی ممنوعہ موضوع کو چھیڑنے کی جرات کسی میں کم ہی ہوتی ہے، اسی لیے اس کی بات میں مجھے کچھ دلچسپ سا لگا۔
“تم اسی کمرے میں مرو گے، پھر لوگ تمہیں اٹھا کر لے جائیں گے اور دفنا دیں گے۔ کیا تم جنت جانے کی امید رکھتے ہو؟ یا شاید جہنم؟”
“تم یہ باتیں کیوں کر رہے ہو؟” میں نے پوچھا۔
“بات یہ ہے…” اس نے مجھے گہری نظروں سے دیکھا۔ “کیا تم میری ایک تجویز پر غور کرو گے؟” اس کی للچائی ہوئی نظریں مجھ پر یوں جمی تھیں جیسے میں گوشت کا کوئی بہترین ٹکڑا ہوں جسے وہ خرید چکا ہو اور اب بس اسے تھیلی میں بند کرنے کا منتظر ہو۔
“کیسی تجویز؟” میں نے حیرت سے پوچھا۔
“میں تمہیں تفصیل سے بتاتا ہوں۔ کیا تم میری بات صبر سے سنو گے؟”
“ہاں، کہو جو کہنا ہے۔ تمہاری بات سننے سے میرا کیا بگڑے گا؟” میں نے جواب دیا۔
“الٹا تمہیں بہت کچھ ملے گا، خاص طور پر مرنے کے بعد۔” یقیناً وہ چاہتا تھا کہ میں اس جملے پر چونک جاؤں، مگر خدا جانے کیوں میں ذرا بھی حیران نہ ہوا اور بالکل ساکت پڑا رہا۔
وہ بولا: “شوکت! میں کئی برسوں سے نہایت خاموشی سے ایک کام میں لگا ہوا ہوں۔ میرے انسٹی ٹیوٹ کے کچھ لوگ میری مدد کرتے ہیں، خاص طور پر ڈاکٹر بہروز۔ ہم نے تجربہ گاہ میں جانوروں پر کئی کامیاب تجربات کیے ہیں اور اب میں انسانوں پر یہ خطرہ مول لینے کے لیے تیار ہوں۔ خیال بہت عظیم ہے اور بظاہر ناقابلِ عمل بھی، مگر جراحی (سرجری) کے نقطۂ نظر سے ایسی کوئی وجہ نہیں کہ اسے ناممکن سمجھا جائے۔”
وہ آگے کی طرف جھکا اور اپنے دونوں ہاتھ بستر کے کنارے رکھ دیے۔ اس کی آنکھیں جوش سے دمک رہی تھیں۔ “کچھ عرصہ پہلے میں نے ایک مختصر روسی طبی فلم دیکھی تھی، جو نہایت گھناؤنی مگر حیرت انگیز تھی۔ اس میں ایک کتے کا سر دکھایا گیا تھا جو جسم سے بالکل الگ تھا، لیکن اس کی شریانوں اور وریدوں میں خون کی روانی ایک مصنوعی دل کے ذریعے برقرار رکھی گئی تھی۔ جس بات نے مجھے اپنی گرفت میں لیا وہ یہ تھی کہ کتے کا سر بالکل جیتا جاگتا لگ رہا تھا۔ اس کا دماغ بھی کام کر رہا تھا، جسے کئی تجربات سے ثابت کیا گیا۔ مثلاً جب اس کے ہونٹوں سے ہڈی مس کی گئی تو اس کی زبان باہر نکل کر اسے چاٹنے لگی اور اس کی آنکھیں کمرے میں چلتے ہوئے شخص کا پیچھا کرنے لگیں۔ اس سے یہ نتیجہ اخذ ہوا کہ سر اور دماغ کو زندہ رہنے کے لیے جسم کی ضرورت نہیں، بشرطیکہ آکسیجن سے بھرپور خون کی فراہمی مسلسل جاری رہے۔”
“وہ فلم دیکھنے کے بعد میرے ذہن میں یہ خیال آیا کہ کیوں نہ موت کے فوراً بعد انسانی کھوپڑی سے دماغ نکال کر اسے ایک آزاد اکائی کے طور پر، جب تک ممکن ہو، زندہ رکھا جائے۔ میں کافی عرصے سے کسی ایسے مریض کی تلاش میں ہوں جو اس تجربے کے لیے خود کو پیش کر سکے۔ چونکہ تم میرے دوست اور ایک روشن خیال انسان ہو، اس لیے میرا خیال ہے کہ…”
“مجھے ایسی باتیں پسند نہیں،” میں نے اسے ٹوکا۔
“مجھے بات مکمل کرنے دو، شوکت! تحقیق کے نتائج ظاہر کرتے ہیں کہ دماغ ایک حیرت انگیز اور خود مختار عضو ہے۔ یہ اپنا ‘دماغی رس’ خود پیدا کرتا ہے۔ اس کی نازک ذہنی سرگرمیاں ہاتھ پاؤں، دھڑ، یہاں تک کہ کھوپڑی کی ہڈیوں کی عدم موجودگی سے بھی قطعاً متاثر نہیں ہوتیں، بشرطیکہ جیسا کہ میں نے کہا، اسے مسلسل آکسیجن ملا ہوا خون ملتا رہے۔ میرے عزیز! ذرا اپنے دماغ کا تو سوچو۔ وہ بالکل محفوظ ہے اور تمہاری زندگی بھر کے حاصل شدہ علم سے مالا مال ہے۔ تم نے اسے اس مقام تک لانے میں برسوں محنت کی ہے۔ وہ اب اپنے بہترین اور اچھوتے خیالات ظاہر کرنے ہی والا تھا کہ موت دبے قدموں چلی آئی۔ اب وہ محض اس لیے ضائع ہونے والا ہے کیونکہ تمہارا لبلبہ کینسر زدہ ہو گیا ہے۔”
“بس کرو! یہ ایک ہولناک خیال ہے،” میں نے کہا۔ “اگر تم اسے عملی جامہ پہنانے کے قابل بھی ہو—جس پر مجھے شبہ ہے—تب بھی اس کا کیا فائدہ؟ میرے دماغ کو زندہ رکھ کر تم کیا حاصل کرو گے جب میں نہ بول سکوں گا، نہ دیکھ سکوں گا، نہ سن سکوں گا اور نہ ہی کچھ محسوس کر سکوں گا؟ میری نظر میں اس سے زیادہ بھیانک بات کوئی اور نہیں ہو سکتی۔”
“مجھے پورا یقین ہے کہ ہم تمہیں بات چیت کے قابل بنا لیں گے،” ڈاکٹر بہرام نے جواب دیا، “اور شاید ہم تمہیں کسی حد تک بینائی بھی دے سکیں، مگر اس پر بحث بعد میں ہوگی۔ حقیقت یہ ہے کہ تم بہت جلد مرنے والے ہو، چاہے کچھ بھی کر لو، اور میں تمہیں تمہاری موت سے پہلے چھونے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا۔ سوچو شوکت! کوئی بھی سچا فلسفی اپنے مردہ جسم کو سائنس کے لیے وقف کرنے پر اعتراض نہیں کرتا۔”
“یہ بات پوری طرح درست نہیں،” میں نے جواب دیا۔ “تم میرے ساتھ جو کرنے والے ہو، اس کے بعد تو یہ سوال کھڑا ہو جائے گا کہ میں زندہ ہوں یا مر چکا ہوں؟”
وہ ذرا سا مسکرایا۔ “تمہاری بات میں وزن ضرور ہے، لیکن جب تک تم ایک اور اہم بات نہیں جان لیتے، مجھے یوں مایوس مت کرو۔”
“میں کہہ چکا ہوں کہ میں مزید کچھ نہیں سننا چاہتا۔”
اس نے ایک سگریٹ نکالی اور چاندی کا ایک چھوٹا سا لائٹر نکال کر اسے سلگایا۔ “یہ تحفہ ان ماہر کاریگروں کی طرف سے ہے جو میرے لیے طبی آلات تیار کرتے ہیں۔” میں نے لائٹر کی طرف دیکھا اور پھر نظریں پھیر لیں۔
“تم بس لیٹے رہو اور سنتے جاؤ، میرا خیال ہے یہ سب تمہیں دلچسپ لگے گا،” وہ بولا۔ “جیسے ہی تم اس دنیا سے رخصت ہو گے، اس لمحے وہاں میری موجودگی ناگزیر ہے تاکہ میں ایک لمحہ ضائع کیے بغیر تمہارے دماغ کو زندہ رکھنے کا عمل شروع کر سکوں۔”
“کیا تم اسے میرے سر ہی میں رکھو گے؟”
“ہاں، ابتدا میں۔”
“اور اس کے بعد کیا کرو گے؟”
“اگر تم واقعی جاننا چاہتے ہو تو سنو! تمہیں شاید علم ہو کہ جیسے ہی دل کی دھڑکن رکتی ہے، دماغ کو تازہ خون اور آکسیجن کی فراہمی منقطع ہو جاتی ہے۔ دماغی بافتیں (Tissues) بہت تیزی سے مردہ ہونے لگتی ہیں۔ محض چار یا شاید چھ منٹ، اور پھر سب ختم۔ اگر ذرا بھی دیر ہو جائے تو ناقابلِ تلافی نقصان ہو سکتا ہے، لہٰذا مجھے نہایت تیزی سے کام کرنا ہوگا۔ مشین کی مدد سے یہ عمل آسان ہو جائے گا۔”
“کون سی مشین؟” میں نے پوچھا۔
“مصنوعی دل! ہمارے پاس ڈاکٹر بہروز کی تیار کردہ مشین کا ایک خاصا معقول نمونہ موجود ہے۔ یہ خون میں آکسیجن بھرتی ہے، اس کی حرارت برقرار رکھتی ہے، صحیح دباؤ کے ساتھ خون پمپ کرتی ہے اور بہت سے دیگر کام سرانجام دیتی ہے۔ سب کچھ نہایت سادہ ہے۔”
“مجھے یہ بتاؤ کہ میرے مرتے ہی تم کیا کرو گے؟ شروعات کہاں سے کرو گے؟”
“کیا تم دماغ میں دورانِ خون کے نظام کے بارے میں کچھ جانتے ہو؟” میرے انکار میں سر ہلانے پر اس نے تفصیل سے دماغی نظام کے بارے میں بتایا، پھر بولا:
“تمہارے مرتے ہی میں فوراً تمہاری گردن کی رگوں اور شریانوں میں بڑی کھوکھلی سوئیاں داخل کر دوں گا، جو نلیوں کے ذریعے ‘ہارٹ اینڈ لنگز مشین’ سے جڑ جائیں گی۔ پھر ہم مصنوعی دل کے ذریعے دماغ تک خون کی روانی بحال کر دیں گے، بالکل ایسے جیسے رکی ہوئی ‘جوگولر رگوں’ کو نئے سرے سے متحرک کر دیا گیا ہو۔”
“اور میں اُس روسی کتے جیسا ہو جاؤں گا؟”
“بالکل نہیں۔ اول تو تم موت کے اس لمحے بے ہوش ہو جاؤ گے اور میرا نہیں خیال کہ تم جلدی یا کبھی بھی ہوش میں آ سکو گے، مگر ہوش میں آؤ یا نہ آؤ، تم ایک عجیب سی کیفیت میں ضرور ہوگے: سرد، مردہ جسم اور ایک زندہ دماغ۔”
بہرام خاموش ہو گیا، جیسے اس تصور سے اسے ایک عجیب سا سرور حاصل ہو رہا ہو۔ وہ اپنے منصوبے میں اس قدر کھویا ہوا تھا کہ اسے یقین ہی نہیں آ رہا تھا کہ میں اس کے جوش و جذبے میں شریک نہیں ہوں۔ پھر وہ بولا:
“ہمیں پہلے مرحلے میں کچھ وقت تو مل جائے گا، لیکن یقین کرو، اس کے باوجود ہم وقت کی شدید قلت کا شکار ہوں گے۔ سب سے پہلے ہم تمہیں آپریشن تھیٹر منتقل کریں گے۔ ہارٹ اینڈ لنگز مشین تمہارے دماغ میں مسلسل خون پہنچاتی رہے گی۔ اگلا مسئلہ…”
“مجھے ان تفصیلات میں کوئی دلچسپی نہیں،” میں نے بات کاٹی۔
“نہیں، تمہیں سب سننا ہوگا،” بہرام نے اصرار کیا۔ “یہ ضروری ہے کہ تم پوری طرح جان لو کہ تمہارے ساتھ کیا ہونے والا ہے۔ دیکھو، جب تمہیں ہوش آئے گا تو بہتر ہوگا کہ تم واضح طور پر یاد رکھ سکو کہ تم کہاں ہو اور وہاں کیسے پہنچے۔ کم از کم اپنے ذہنی سکون کے لیے تمہیں یہ سب جان لینا چاہیے۔ ٹھیک ہے؟”
میں چپ چاپ لیٹا اسے دیکھتا رہا۔
“تو اگلا مرحلہ ہوگا تمہارے مردہ جسم سے مکمل دماغ نکالنا، کیونکہ اب تمہارے جسم کو اس کی کوئی ضرورت نہیں رہے گی۔ مجھے ایک طویل اور نہایت نازک آپریشن کرنا ہوگا۔ چنانچہ جب تم میری میز پر لیٹے ہوگے، میں ایک چھوٹی سی مرتعش (Vibrating) آری لوں گا اور تمہاری کھوپڑی کی ہڈیاں کھول دوں گا۔ چونکہ اس وقت تم تکنیکی طور پر مردہ ہوگے، لہٰذا بے ہوشی کی دوا کا کوئی جھنجھٹ نہیں ہوگا۔”
“یہ تمہاری غلط فہمی ہے،” میں نے فوراً ٹوکا۔ “میں بے ہوشی کے بغیر کسی کو بھی اپنے سر کی ہڈیاں کاٹنے کی اجازت نہیں دوں گا۔”
بہرام نے بے پروائی سے کندھے اچکائے۔ “ٹھیک ہے، مجھے کوئی اعتراض نہیں۔ اگر تمہیں اسی سے اطمینان ملتا ہے تو میں تمہیں ہلکی سی بے ہوشی دے دوں گا، بلکہ گردن سے اوپر تمہاری پوری کھوپڑی کو سُن کر دوں گا۔ تمہیں معلوم ہے؟ کبھی کبھی کیسی حیرت انگیز باتیں ہو جاتی ہیں۔ پچھلے ہفتے ایک شخص بے ہوشی کی حالت میں لایا گیا۔ میں نے دوا دیے بغیر اس کی کھوپڑی کھولی اور اندر سے خون کا لوتھڑا نکالا۔ میں ابھی اس کے دماغ کے اندر کام کر ہی رہا تھا کہ وہ ہوش میں آ گیا اور باتیں کرنے لگا۔”
بہرام خاموش ہو گیا اور مسکرا کر اس واقعے کی یادوں میں کھو گیا۔
“مگر مجھے مکمل بے ہوشی چاہیے،” میں نے اصرار کیا۔
“جیسا تم چاہو، شوکت،” وہ بولا۔ “اگلا مرحلہ نہایت پیچیدہ ہے۔ مجھے پورے دماغ کو اس طرح آزاد کرنا ہے کہ اسے آسانی سے نکالا جا سکے اور ساتھ ہی شریانوں اور وریدوں کے سرے اس قابل چھوڑنے ہیں کہ انہیں مشین سے جوڑا جا سکے۔ یہ پوری کارروائی ایک طویل اور صبر آزما جراحی ہے: ہڈیاں تراشنا، اعصاب اور رگوں کو الگ کرنا—یہ سب صبر اور فن کا کھیل ہے۔ اور یاد رہے، میرے پاس وقت کی کوئی قید نہیں ہوگی، کیونکہ مصنوعی دل مسلسل خون پمپ کرتا ہوا تمہارے دماغ کو حیات بخشتا رہے گا۔”
“اب فرض کرو کہ میں نے تمہارا سر اندرونی طور پر پوری طرح صاف کر لیا ہے۔ اس حالت میں دماغ صرف اپنی بنیاد پر جسم سے جڑا رہ جائے گا—ریڑھ کی ہڈی، دو بڑی وریدوں اور چار شریانوں کے ذریعے۔ اب میں ریڑھ کی ہڈی کو گردن کے پہلے مہرے کے ذرا اوپر سے کاٹ دوں گا، مگر یاد رکھنا کہ ایسا کرنے سے دماغ کی جھلی میں ایک سوراخ بن جائے گا، جسے مجھے ٹانکوں سے بند کرنا ہوگا، لیکن یہ کوئی بڑا مسئلہ نہیں۔”
“اس مرحلے پر میں حتمی کارروائی کے لیے تیار ہوں گا۔ میرے سامنے ایک خاص طرز کا برتن رکھا ہوگا، جس میں ‘رنگرز محلول’ بھرا ہوگا—یہ نیورو سرجری میں استعمال ہونے والا ایک خاص مائع ہے۔ پھر میں دماغ کو پوری طرح آزاد کر کے، رگیں اور شریانیں الگ کر کے اٹھاؤں گا اور نہایت احتیاط سے اس برتن میں رکھ دوں گا۔ خون کی رسد لمحہ بھر کے لیے رکے گی، لیکن دماغ برتن میں رکھتے ہی میں فوراً اس کی شریانوں کو مصنوعی دل سے جوڑ دوں گا۔ اب تمہارا دماغ اس برتن میں جیتا جاگتا رہے گا اور ایسی کوئی وجہ نہیں جو اسے کئی برسوں تک زندہ رہنے سے روک سکے، بشرطیکہ خون کی فراہمی اور مشین کی کارکردگی مسلسل برقرار رہے۔”
“کیا واقعی ایسا ممکن ہو سکے گا؟” میں نے حیرت سے پوچھا۔
“بالکل! اور یہ ایک شاندار کامیابی ہوگی۔”
“لیکن… میں نہ دیکھ سکوں گا، نہ سن سکوں گا، نہ سونگھ سکوں گا، نہ محسوس کر سکوں گا اور نہ ہی بول سکوں گا؟” میں نے لرزتی آواز میں پوچھا۔
“اوہ…!” اس نے کچھ بوکھلا کر کہا۔ “میں نے تمہیں آنکھ کے بارے میں نہیں بتایا۔ سنو! میں چاہتا ہوں کہ تمہاری ایک آنکھ اور ‘آپٹک نرو’ (بصری عصب) کو جوں کا توں رہنے دوں۔ آپٹک نرو کوئی عام عصب نہیں بلکہ یہ دماغ ہی کا ایک حصہ ہے۔ اس کی خوبی یہ ہے کہ یہ دماغی جھلی کے ساتھ ساتھ چلتی ہے اور براہِ راست آنکھ کے پچھلے حصے سے جا ملتی ہے۔ اس طرح آنکھ کا پچھلا حصہ دماغ سے جڑا رہتا ہے اور دماغی مائع وہاں تک رسائی رکھتا ہے۔ قوی امکان ہے کہ میں تمہاری ایک آنکھ بچا لوں گا۔ میں نے اس کے لیے پلاسٹک کا ایک چھوٹا سا خول بھی تیار کروا لیا ہے جو پتلی کی جگہ رکھا جائے گا۔ جب دماغ رنگین محلول سے بھرے برتن میں ہوگا، تو آنکھ اس کی سطح پر تیرتی رہے گی۔ افسوس کہ اسے حرکت دینے والے عضلات محفوظ نہیں رہ سکیں گے، لیکن ذرا سوچو، یہ کتنا دلچسپ ہوگا—سکون سے ایک مرتبان میں پڑے رہنا اور وہاں سے دنیا کا نظارہ کرنا!”
“احمقانہ دلچسپی…!” میں نے تلخی سے کہا۔ “اور کان؟ کیا تم میرا ایک کان بھی نہیں بچا سکتے؟”
“نہیں، یہ ممکن نہیں،” اس نے جواب دیا۔
“مجھے کان چاہیے! میں سننا چاہتا ہوں۔”
“تم سمجھ نہیں رہے،” بہرام نے دھیمی آواز میں کہا۔ “سماعت کا نظام آنکھ سے کہیں زیادہ نازک اور ہڈی میں پیوست ہوتا ہے۔ اس کا جو حصہ دماغ سے جڑتا ہے، اسے مکمل طور پر الگ کرنا ناممکن ہے۔”
“کیا تم اسے ہڈی سمیت نکال کر کسی پیالے میں نہیں رکھ سکتے؟”
“نہیں،” بہرام نے دو ٹوک لہجے میں کہا۔ “یہ عمل پہلے ہی نہایت پیچیدہ ہے۔ اور اگر آنکھ کام کر گئی تو سننے کی کیا ضرورت؟ ہم تمہیں تحریری پیغامات دکھا دیا کریں گے۔ مجھے یہ فیصلہ کرنے دو کہ تمہارے لیے کیا ضروری ہے اور کیا نہیں۔”
“میں نے ابھی تک رضامندی نہیں دی،” میں نے کہا۔ “مجھے تمہارا یہ منصوبہ کچھ خاص پسند نہیں آیا۔”
“تو کیا تم مکمل طور پر فنا ہونا پسند کرو گے؟”
“شاید… میں ابھی یقین سے کچھ نہیں کہہ سکتا۔ اور میں بول بھی نہیں سکوں گا؟ تو پھر میں تم سے رابطہ کیسے کروں گا؟ تمہیں کیسے معلوم ہوگا کہ میں ہوش میں ہوں؟”
“یہ تو بہت آسان ہے،” بہرام بولا۔ “ہم الیکٹرو اینسیفالوگراف لگا دیں گے اور برتن میں دماغ کے فرنٹل لوبز پر الیکٹروڈز رکھ دیں گے۔”
“اور اس سے تمہیں سب معلوم ہو جائے گا؟”
“یقیناً! ہر اسپتال میں یہ طریقہ رائج ہے۔”
“لیکن میں تم سے گفتگو تو نہیں کر سکوں گا؟”
“سچ پوچھو تو، میرا خیال ہے کہ تم یہ بھی کر سکو گے۔ لندن میں ڈاکٹر ہارڈی نامی ایک شخص ذہنی اشاروں کو دور تک منتقل کرنے پر دلچسپ تحقیق کر رہا ہے۔ میں نے اس سے رابطہ بھی کیا ہے۔ تم جانتے ہو کہ دماغ سوچتے وقت برقی اور کیمیائی سگنلز خارج کرتا ہے، جو لہروں کی صورت میں نکلتے ہیں—بالکل ریڈیو لہروں کی طرح۔”
“ہاں، میں کسی حد تک واقف ہوں،” میں نے کہا۔
“ہارڈی نے ایک ایسا آلہ بنایا ہے جو اینسیفالوگراف سے کہیں زیادہ حساس ہے۔ اس کا دعویٰ ہے کہ وہ محدود پیمانے پر دماغی خیالات پڑھ سکتا ہے۔ وہ آلہ ایک نقشہ مرتب کرتا ہے جسے ڈی کوڈ کر کے سمجھا جا سکتا ہے۔ کیا تم چاہو گے کہ میں ہارڈی کو بلاؤں؟”
“نہیں، اس کی ضرورت نہیں،” میں نے جواب دیا۔ وہ پہلے ہی یہ فرض کر چکا تھا کہ میں اس تجربے کا حصہ بنوں گا اور یہ بات مجھے ناگوار گزر رہی تھی۔ “اب جاؤ، مجھے تنہا چھوڑ دو۔ جلد بازی سے تم کچھ حاصل نہیں کر سکو گے۔”
وہ فوراً اٹھا اور دروازے کی طرف بڑھا تو میں نے اسے پکارا: “کیا تمہیں واقعی یقین ہے کہ جب میرا دماغ اس برتن میں ہوگا تو وہ بالکل اسی طرح کام کرے گا جیسے اب کر رہا ہے؟ کیا میں سوچنے سمجھنے کے قابل رہوں گا؟ اور کیا میری یادداشت محفوظ رہے گی؟”
“کیوں نہیں!” اس نے جواب دیا۔ “دماغ وہی رہے گا، زندہ سلامت اور جوں کا توں۔ تم ایک غیر معمولی، پاکیزہ اور الگ تھلگ دنیا میں جیو گے۔ تمہیں کوئی خلل نہیں پہنچے گا، یہاں تک کہ درد بھی نہیں، کیونکہ تمہارے پاس درد محسوس کرنے والے اعصاب ہی نہیں ہوں گے۔ ایک طرح سے یہ مثالی کیفیت ہے: نہ اضطراب، نہ خوف، نہ بھوک، نہ پیاس اور نہ کوئی خواہش—بس یادیں اور تمہارے خیالات۔ اور اگر وہ آنکھ کام کر گئی تو تم کتابیں بھی پڑھ سکو گے۔ مجھے تو یہ سب بہت خوشگوار لگتا ہے۔”
“واقعی؟”
“ہاں شوکت، بالکل! تمہارے ذہن میں عظیم خیالات جنم لیں گے۔ ذرا تصور کرو کہ تم کس درجے کی روحانی یکسوئی حاصل کر سکتے ہو۔”
“اور شاید اعلیٰ درجے کی ناامیدی بھی،” میں نے کہا۔
“ناامیدی کیسی؟ جب کوئی خواہش ہی باقی نہ رہے گی تو ناامیدی کہاں سے آئے گی؟ کم از کم جسمانی خواہش تو نہیں رہے گی۔”
“لیکن میں اپنی گزشتہ زندگی کی تمام یادیں تو ساتھ رکھوں گا۔ ممکن ہے میرے دماغ میں اس دنیا میں واپس آنے کی تڑپ جاگ اٹھے۔”
“اس ہنگامہ خیز دنیا میں؟ اپنے پرسکون مرتبان سے نکل کر اس پاگل خانے میں؟” اس نے حیرت سے پوچھا۔
“ایک آخری سوال،” میں نے کہا۔ “تمہارا کیا خیال ہے، تم میرے دماغ کو کب تک زندہ رکھ سکو گے؟”
“کون جانتا ہے؟ شاید برسوں تک۔ وہاں حالات مثالی ہوں گے۔ خون کا دباؤ ہمیشہ یکساں رہے گا، جو حقیقی زندگی میں ناممکن ہے۔ درجہ حرارت معتدل ہوگا اور خون کی کیمیائی ساخت نقص سے پاک ہوگی—نہ میل، نہ وائرس، نہ بیکٹیریا۔ قطعی اندازہ لگانا تو مشکل ہے، مگر میرا خیال ہے کہ ان حالات میں انسانی دماغ دو تین سو سال تک جی سکتا ہے۔ اب اجازت چاہتا ہوں، کل آؤں گا۔”
وہ تیزی سے رخصت ہو گیا اور میں سخت اضطراب کی حالت میں کمرے میں تنہا رہ گیا۔ مجھے اس سارے تصور سے گھن آنے لگی۔ خود کو پانی میں پڑے کسی لیس دار گولے میں تبدیل کرنے کا خیال—چاہے دماغ سلامت ہی کیوں نہ رہے—انتہائی مکروہ، بھیانک اور گھناؤنا محسوس ہو رہا تھا۔ مجھے اس بے بسی کا بھی خوف لاحق تھا جو برتن میں منتقل ہونے کے بعد مجھ پر طاری ہونی تھی: نہ واپسی کی گنجائش، نہ احتجاج کا راستہ اور نہ ہی گفتگو کا کوئی وسیلہ۔ میں مکمل طور پر ان کے رحم و کرم پر ہوتا، جب تک وہ مجھے زندہ رکھنے کی قدرت رکھتے۔ لیکن اگر میں یہ سب برداشت نہ کر سکا تو؟ اگر مجھے ناقابلِ برداشت ذہنی اذیت ہونے لگی تو؟ میرے پاس بھاگنے کے لیے ٹانگیں ہوں گی نہ چیخنے کے لیے آواز۔ میں بس ساکت پڑا رہوں گا اور شاید اگلی دو صدیوں تک اس کرب سے گزرتا رہوں گا۔
میں دیر تک لیٹا ان خوفناک خیالات میں گھرا رہا، یہاں تک کہ بیزاری سی ہونے لگی۔ پھر دوپہر کے قریب یکایک میری سوچ کا دھارا بدل گیا۔ میں نے بہرام کی پیشکش کو منطقی زاویے سے دیکھنا شروع کیا۔ یہ سوچنا بہت اطمینان بخش تھا کہ میرا دماغ چند ہفتوں میں فنا ہونے کے بجائے محفوظ رہے گا۔ مجھے اپنے دماغ پر ہمیشہ ناز رہا ہے؛ وہ ذہین ہے، روشن ہے، معلومات کا گراں قدر ذخیرہ ہے اور نئے نظریات تخلیق کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ میرا دماغ کوئی معمولی شے نہیں! جہاں تک جسم کا تعلق ہے، تو یہ بے چارہ فرسودہ ہو چکا ہے، اسے ضائع کرنے میں کوئی حرج نہیں۔ میری عزیز روبی، تم بھی یہ اعتراف کرو گی کہ اب اس جسم میں کوئی ایسی خاص بات نہیں بچی تھی جسے بچانا ضروری سمجھا جاتا۔
یوں سب کچھ بہت تیزی سے طے پا گیا اور اسی لمحے میری حالت سنبھلنے لگی۔ میں نے سب کو حیران کر دیا، کیونکہ اب جو بھی میرے لیے کھانا لاتا، میں اسے رغبت سے کھا لیتا۔ تھوڑی دیر بعد ہمیشہ کی طرح تم مجھ سے ملنے آئیں۔ مجھے دیکھ کر تم نے کہا کہ میں پہلے سے کہیں بہتر، خوشگوار اور تروتازہ لگ رہا ہوں۔ تم نے پوچھا: “آخر کیا بات ہے؟”
پھر تمہیں یاد ہوگا کہ میں نے تمہیں اطمینان سے بیٹھنے کو کہا اور نہایت نرم لہجے میں وہ سب کچھ سمجھانے کی کوشش کی جو ہونے والا تھا، مگر افسوس کہ تم نے ایک لفظ سننے سے بھی انکار کر دیا۔ میں ابھی تفصیلات تک پہنچا ہی تھا کہ تم بھڑک اٹھیں، اور جب میں نے بات جاری رکھنی چاہی تو تم کمرے سے باہر نکل گئیں۔
خیر روبی، جیسا کہ تم جانتی ہو، اس کے بعد میں نے کتنی ہی بار تم سے اس موضوع پر بات کرنا چاہی، مگر تم اپنی ضد پر اڑی رہیں اور سننے کو تیار نہ ہوئیں۔ یہی وجہ ہے کہ یہ خط وجود میں آیا۔ میں صرف یہ امید کر سکتا ہوں کہ اب تم میں اتنی سمجھ بوجھ ضرور ہوگی کہ تم اسے مکمل پڑھ لو۔
مجھے یہ سب تحریر کرنے میں بہت وقت لگا۔ پہلا جملہ لکھے دو ہفتے بیت چکے ہیں اور اب میں پہلے سے کہیں زیادہ نڈھال ہوں۔ مجھے شبہ ہے کہ میں مزید کچھ لکھ پاؤں گا۔ البتہ میں تمہیں “خدا حافظ” نہیں کہوں گا، کیونکہ ایک خفیف سا امکان موجود ہے کہ اگر بہرام کا منصوبہ کامیاب رہا، تو شاید میں تمہیں دوبارہ دیکھ سکوں—بشرطیکہ تم مجھے دیکھنے کا فیصلہ کرو۔
میں نے ہدایت کر دی تھی کہ یہ خط تمہیں میری وفات کے ایک ہفتے بعد دیا جائے۔ چنانچہ جب تم اسے پڑھ رہی ہو گی، بہرام کو اپنا کام مکمل کیے سات دن گزر چکے ہوں گے۔ شاید تمہیں اب تک نتیجہ معلوم ہو چکا ہو۔ اگر تم نے دور رہنے کا فیصلہ کیا ہے اور کچھ بھی جاننے کی زحمت نہیں کی—جس کا مجھے قوی امکان ہے—تو میں تم سے التجا کرتا ہوں کہ اب اپنا رویہ بدل لو اور بہرام کو فون کر کے میری خیریت دریافت کرو۔ میں نے اسے بتایا تھا کہ شاید ساتویں دن تم اس سے رابطہ کرو گی۔
تمہارا وفادار شوہر، شوکت مرزا
مسز شوکت نے خط کا آخری صفحہ آہستگی سے صوفے پر اپنے پہلو میں رکھ دیا اور اپنے ہونٹ اتنی سختی سے بھینچے کہ نتھنوں کے گرد جلد سفید پڑ گئی۔ کوئی یہ سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ بیوہ ہونے کے بعد آخرکار انہیں سکون مل گیا ہے، مگر ان تمام باتوں کا تصور کر کے ان کے دل میں ایسا ہول اٹھا کہ پورا جسم لرزنے لگا۔ انہوں نے پرس سے ایک اور سگریٹ نکالی، اسے سلگا کر گہرا کش لیا اور سوچنے لگیں کہ بہرام فون کے انتظار میں ہوگا۔ کیا اسے فون کیا جائے؟ شاید نہیں! انہوں نے سگریٹ ختم کی اور اس کے سلگتے سرے سے دوسری سگریٹ جلا لی، پھر ٹی وی کے برابر رکھے ٹیلی فون پر نگاہ ڈالی۔ شوکت نے وصیت کی تھی کہ وہ ڈاکٹر بہرام کو ضرور فون کرے۔
وہ ایک لمحے کو جھجکیں، اور اپنے اندر کہیں گہرائی میں چھپے اس ذمہ داری کے احساس سے نبرد آزما رہیں جسے وہ اب تک جھٹکنے کی ہمت نہیں کر پائی تھیں۔ پھر وہ آہستگی سے اٹھ کر ٹیلی فون کی طرف بڑھیں، ڈائریکٹری سے نمبر تلاش کیا اور ڈائل کر کے جواب کا انتظار کرنے لگیں۔
“میں مسز شوکت مرزا بات کر رہی ہوں۔ براہِ کرم، میری ڈاکٹر بہرام سے بات کروا دیں۔” لائن ملنے پر انہوں نے کہا۔
“جی، انتظار کیجیے۔” چند لمحوں بعد بہرام فون پر موجود تھا۔
“مسز شوکت مرزا! مجھے بہت خوشی ہے کہ آپ نے آخرکار فون کر لیا۔ امید ہے آپ خیریت سے ہوں گی۔” اس کی آواز دھیمی، سپاٹ اور مؤدبانہ تھی۔ “کیا آپ اسپتال آ سکتی ہیں؟ ہمیں کچھ بات کرنی ہے۔ میرا خیال ہے آپ یہ جاننا چاہتی ہوں گی کہ ہماری اس کارروائی کا نتیجہ کیا رہا۔”
انہوں نے کوئی جواب نہ دیا۔ ڈاکٹر نے سلسلہ جاری رکھا: “فی الحال اتنا بتا سکتا ہوں کہ سب کچھ کم و بیش ٹھیک رہا، بلکہ حقیقت تو یہ ہے کہ میری توقعات سے کہیں بہتر! مسز شوکت، وہ نہ صرف زندہ ہے بلکہ ہوش میں بھی ہے۔ دوسرے ہی دن اس نے ہوش سنبھال لیا تھا۔ اس کی آنکھ بھی کام کر رہی ہے، اور ہمیں اس کا یقین اس لیے ہے کہ جب بھی ہم اس کے سامنے کوئی شے رکھتے ہیں تو ‘الیکٹرو انسیفالوگرام’ کی ریڈنگ میں واضح تبدیلی آتی ہے۔ ہم اسے روزانہ اخبار بھی پڑھنے کو دیتے ہیں اور اس کی خوشی کے لیے ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں۔ میں چاہتا ہوں کہ آپ جلد از جلد اسے دیکھنے آئیں۔ میرا خیال ہے وہ آپ کو دیکھ کر خوش ہوگا۔ آپ اسے اپنی موجودگی کا احساس دلا سکتی ہیں؛ مسکرا کر یا ہاتھ ہلا کر۔ آپ بہتر جانتی ہیں، اسے یہ جان کر تسلی ہوگی کہ آپ وہاں موجود ہیں۔”
“ٹھیک ہے،” آخرکار مسز شوکت نے کہا۔ ان کی آواز میں تھکن اور شکستگی نمایاں تھی۔ “میرا خیال ہے کہ مجھے آ کر دیکھ ہی لینا چاہیے کہ وہ کس حال میں ہے۔”
“بہت اچھا! میں جانتا تھا کہ آپ ضرور آئیں گی۔ میں آپ کا انتظار کروں گا۔ سیدھا دوسری منزل پر میرے دفتر میں آ جائیے۔ خدا حافظ۔”
آدھے گھنٹے بعد وہ اسپتال میں تھیں۔ “اسے دیکھ کر گھبرائیے گا نہیں،” بہرام نے راہداری میں چلتے ہوئے کہا۔ “پہلے پہل شاید آپ کو دھچکا لگے، کیونکہ اس کی موجودہ حالت کچھ زیادہ دلکش نہیں ہے۔”
“میں نے اس سے اس کے حسن کی وجہ سے شادی نہیں کی تھی،” انہوں نے سرد لہجے میں جواب دیا۔
ڈاکٹر بہرام نے خفیف سی گردن موڑ کر انہیں دیکھا۔ “کیسی عجیب عورت ہے،” اس نے سوچا۔ بجھی ہوئی بڑی بڑی آنکھیں اور دکھی سے نقش و نگار، جن میں کبھی لطافت رہی ہوگی، اب مکمل طور پر ماند پڑ چکے تھے۔ ہونٹوں کے کنارے جھکے ہوئے اور گال ڈھیلے تھے، گویا برسوں کی بے مسرت گھریلو زندگی نے اس کے چہرے کو آہستہ آہستہ مسخ کر دیا ہو۔
وہ کچھ دیر خاموشی سے چلتے رہے، پھر بہرام نے کہا: “اسے کسی کی آمد کا تب تک پتا نہیں چلتا جب تک آپ اس کی آنکھ کے عین اوپر نہ جھک جائیں۔ آنکھ ہمیشہ کھلی رہتی ہے مگر حرکت نہیں کر سکتی، اس لیے اس کے دیکھنے کا زاویہ نہایت محدود ہے۔ وہ اس وقت سیدھا چھت کو دیکھ رہا ہے اور کچھ سن نہیں سکتا۔ ہم آپس میں جتنا چاہیں بات کر سکتے ہیں۔ ادھر آئیے، پلیز۔”
بہرام نے ایک دروازہ کھولا اور انہیں ایک چھوٹے چوکور کمرے میں لے گیا۔ کمرے کے درمیان ایک اونچی میز پر مرتبان جتنا بڑا ایک چمک دار برتن رکھا تھا، جس سے آدھ درجن باریک پلاسٹک کی نلکیاں نکل کر ایک مشین میں جا رہی تھیں، جس میں خون کی روانی دکھائی دے رہی تھی۔ مصنوعی دل کی مشین مسلسل چل رہی تھی اور اس میں سے دھیمی مگر یکساں دھڑکن جیسی آواز آ رہی تھی۔
“وہ رہا،” بہرام نے مرتبان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا، مگر مسز شوکت کو اندر کچھ نظر نہیں آیا۔ وہ دونوں آگے بڑھے۔ مسز شوکت نے گردن دراز کر کے جھانکا۔ برتن میں صاف شفاف مائع ٹھہرا ہوا تھا اور اس کی سطح پر کبوتر کے انڈے کے برابر ایک بیضوی سا خول تیر رہا تھا۔
“یہ اس کی دائیں آنکھ ہے اور بہت اچھی حالت میں کام کر رہی ہے۔ اس وقت وہ اتنا ہی صاف دیکھ سکتا ہے جتنا پہلے دیکھتا تھا،” ڈاکٹر بولا۔
“مگر چھت کو گھورنے کا کیا فائدہ؟” مسز شوکت نے کہا۔
“اس کی فکر نہ کریں۔ ہم اس کی اکتاہٹ دور کرنے کے لیے پورا پروگرام بنا رہے ہیں، مگر ہم اسے جلد بازی میں نہیں کرنا چاہتے۔”
“اسے کوئی اچھی سی کتاب دے دیجیے۔”
“ضرور دیں گے۔ کیا آپ ٹھیک محسوس کر رہی ہیں، مسز شوکت؟ ذرا اور قریب آئیے تاکہ آپ اسے پورا دیکھ سکیں۔”
وہ میز کے مزید قریب ہو گئیں۔ اب وہ شیشے کے اس مرتبان میں جھانک سکتی تھیں۔ اس کا دماغ ان کی توقع سے کہیں بڑا اور رنگت میں کہیں زیادہ گہرا تھا۔ اس کی سطح پر جابجا پڑی ہوئی شکنیں اور ابھار انہیں نمکین اخروٹ کی یاد دلا رہے تھے۔ چار بڑی شریانوں اور دو وریدوں کے سرے صاف نظر آتے تھے، جو پلاسٹک کی نلکیوں سے بڑی مہارت سے جڑے ہوئے تھے۔ دل کی مشین کی ہر دھڑکن کے ساتھ نلکیاں بیک وقت ہلتی تھیں اور خون کو آگے دھکیلتی تھیں۔
“آپ کا چہرہ بالکل اس کی آنکھ کے اوپر ہونا چاہیے،” بہرام نے کہا، “تب وہ آپ کو دیکھ سکے گا۔ آپ اسے مسکرا کر ہاتھ ہلا سکتی ہیں۔ اگر میری مانیں تو اس سے کچھ اچھے الفاظ کہہ لیجیے۔ وہ سن تو نہیں سکے گا مگر مجھے یقین ہے کہ سمجھ جائے گا۔”
“آپ اجازت دیں تو میں وہی کروں جو مجھے مناسب لگے؟” انہوں نے پوچھا۔
ڈاکٹر بہرام نے اثبات میں گردن ہلائی۔ وہ آگے جھکیں، یہاں تک کہ ان کا چہرہ بالکل خول کے اوپر آ گیا۔ انہوں نے سیدھا شوکت کی آنکھ میں دیکھا۔
“ہیلو ڈئیر، میں روبی ہوں،” وہ آہستہ سے بولیں۔ ایک بے حرکت آنکھ، جس میں کچھ چمک تھی، انہیں گھور رہی تھی۔ “کیسے ہو ڈئیر؟” انہوں نے پوچھا۔
پلاسٹک کا خول مکمل طور پر شفاف تھا، اس لیے آنکھ کی پتلی پوری دکھائی دے رہی تھی۔ پچھلے حصے سے دماغ تک جانے والی ‘آپٹک نرو’ ایک چھوٹی سلیٹی رنگ کی اسپگیٹی کی طرح لگ رہی تھی۔
“شوکت، کیا تم اچھا محسوس کر رہے ہو؟” اپنے شوہر کی آنکھ میں جھانکنا مگر اس کا چہرہ نہ دیکھ پانا، ان پر ایک عجیب کیفیت طاری کر رہا تھا۔ دھیرے دھیرے وہ آنکھ ان کی نگاہوں میں پھیلتی گئی، یہاں تک کہ ایک مکمل چہرے جیسی معلوم ہونے لگی۔ سفید حصے پر سرخ رگوں کا باریک جال بکھرا ہوا تھا اور بھوری آنکھ کے ڈھیلے میں تین چار خوبصورت ہلکے بھورے رنگ کے دائرے تھے۔ درمیان میں کالی پتلی تھی، جس میں ننھی سی چمک نظر آ رہی تھی۔
“ڈئیر، تمہارا خط ملا تو میں فوراً چلی آئی۔ ڈاکٹر بہرام کہتے ہیں تم بہت اچھے ہو۔ اگر میں آہستہ بولوں تو تم میرے ہونٹوں کی حرکت سے شاید کچھ سمجھ لو گے۔”
اچانک آنکھ کی چمک بڑھ گئی۔ شک کی کوئی گنجائش نہیں تھی، آنکھ ان پر توجہ دے رہی تھی۔
“ڈئیر، یہ لوگ تمہیں خوش رکھنے کی پوری کوشش کر رہے ہیں۔ یہ شاندار مشین ہر دم خون رواں رکھتی ہے اور مجھے یقین ہے کہ یہ ہم انسانوں کے ان بے وقعت اور ناکارہ دلوں سے کہیں بہتر ہے۔ وہ کسی بھی لمحے جواب دے سکتے ہیں، مگر تمہارا یہ دل تو ہمیشہ کے لیے ہے۔”
وہ آنکھ کو غور سے دیکھتی رہیں، یہ سمجھنے کی کوشش کرتی رہیں کہ اس میں ایسا کیا ہے جو انہیں غیر معمولی لگ رہا ہے۔ “ڈئیر، تم بے حد اچھے لگ رہے ہو، بہت شاندار۔ سچ کہہ رہی ہوں، واقعی ایسا ہی ہے۔”
انہیں خیال آیا کہ انہیں کبھی بھی شوکت کی آنکھیں اتنی حسین نہ لگی تھیں جتنی اس وقت لگ رہی تھیں۔ ان میں ایک نرمی تھی، شفقت تھی اور ایک طرح کی دلجوئی—وہ صفات جو پہلے کبھی محسوس نہ ہوئی تھیں۔ شاید یہ اس نقطے کی وجہ سے تھا جو بالکل مرکز میں تھا؟ شوکت کی پتلیاں ہمیشہ ننھے سیاہ کانٹوں جیسی لگا کرتی تھیں؛ چمک دار، چبھنے والی، اور آپ کے ارادے بلکہ دل کے کچے خیالات تک بھانپ لینے والی، مگر اب وہ نرم اور مہربان تھیں۔
“کیا آپ یقین سے کہہ سکتے ہیں کہ وہ ہوش میں ہے؟” انہوں نے سر اٹھائے بغیر ڈاکٹر بہرام سے پوچھا، “اور کیا وہ مجھے دیکھ رہا ہے؟”
“جی ہاں، بالکل،” بہرام نے جواب دیا۔
“یہ تو بہت کمال ہے۔ شاید وہ سوچ رہا ہوگا کہ اس کے ساتھ کیا ہوا ہے؟”
“ہرگز نہیں۔ اسے اچھی طرح معلوم ہے کہ وہ کہاں ہے اور کیوں ہے۔ وہ یہ بات بھول نہیں سکتا۔”
“آپ کا مطلب ہے وہ جانتا ہے کہ وہ ایک مرتبان میں ہے؟”
“یقیناً۔ اگر اس کے پاس بولنے کی سکت ہوتی تو اس لمحے وہ اطمینان سے آپ سے باتیں کر رہا ہوتا۔”
“اوہ خدایا!” مسز شوکت نے کہا۔ وہ آنکھ کو ہر زاویے سے پرکھتے ہوئے کچھ سوچ رہی تھیں۔ شوکت مرزا کا اخروٹ نما بڑا دماغ بے رنگ مائع کے اندر بہت سکون سے پڑا تھا۔
“مجھے پوری طرح یقین نہیں کہ یہ صورتحال مجھے پسند ہے، مگر لگتا ہے میں اس کے ساتھ بالکل ٹھیک رہ سکتی ہوں،” وہ سوچ رہی تھیں۔ اب کوئی جھگڑا نہیں ہوگا، کوئی الزام تراشی نہیں، مسلسل تنقیدیں نہیں، قواعد و ضوابط کی پابندی نہیں، سگریٹ نوشی پر ٹوکنا نہیں، شام کو کتابوں کے اوپر سے پڑنے والی وہ سرد نظریں نہیں، اور نہ ہی کپڑے دھونے، استری کرنے یا کھانا پکانے کی فکر ہوگی۔ بس مصنوعی دل کی دھڑکن، جو سننے میں کافی پرسکون ہے اور اتنی تیز بھی نہیں کہ ٹیلی وژن دیکھنے میں رکاوٹ بنے۔
“ڈاکٹر، مجھے لگ رہا ہے کہ میں اسے پسند کرنے لگی ہوں۔ کیا یہ آپ کو عجیب لگتا ہے؟”
“نہیں، میرا خیال ہے کہ یہ قابلِ فہم ہے۔ وہ اس چھوٹے سے برتن میں خاموش پڑا کتنا لاچار لگ رہا ہے۔”
“جی ہاں، آپ نے ٹھیک کہا۔”
“یہ بس ایک بچہ ہے، ایک حقیقی بچہ،” بہرام خاموشی سے پیچھے کھڑا اسے دیکھ رہا تھا۔
“سنو شوکت،” انہوں نے دھیرے سے برتن میں جھانکتے ہوئے کہا، “اب روبی خود تمہاری دیکھ بھال کرے گی، تمہیں کسی چیز کی فکر کرنے کی ضرورت نہیں۔” پھر وہ ڈاکٹر کی طرف مڑیں، “ڈاکٹر، میں اسے گھر کب لے جا سکتی ہوں؟”
“آپ مذاق کر رہی ہیں؟” ڈاکٹر نے حیرت سے پوچھا۔
انہوں نے آہستہ سے سر گھما کر ڈاکٹر کی آنکھوں میں دیکھا اور بولیں، “میں کیوں مذاق کروں گی؟”
“اسے منتقل نہیں کیا جا سکتا۔ یہ ایک سائنسی تجربہ ہے، مسز شوکت۔” بہرام کے چہرے پر ناگواری کا تاثر ابھرا، مگر انہوں نے فوراً اس کی بات کاٹ دی۔
“آپ جانتے ہیں کہ وہ میرا شوہر ہے،” ان کی آواز میں غصہ نہیں تھا۔ وہ نہایت پرسکون انداز میں بول رہی تھیں، جیسے اسے ایک واضح حقیقت یاد دلا رہی ہوں۔
“یہ ایک نہایت نازک معاملہ ہے،” بہرام نے اپنے خشک ہونٹوں پر زبان پھیرتے ہوئے کہا، “آپ بیوہ ہیں، مسز شوکت، اور میرا خیال ہے کہ آپ کو اب یہ حقیقت تسلیم کر لینی چاہیے۔”
“میں جانتی ہوں کہ میں کیا کہہ رہی ہوں،” انہوں نے اپنے پرس سے سگریٹ نکالتے ہوئے کہا اور میز سے ہٹ کر کھڑکی کی طرف چلی گئیں۔ “میں اسے گھر لے جانا چاہتی ہوں۔”
ڈاکٹر نے دیکھا کہ وہ سگریٹ جلا رہی ہیں۔ “کیسی عجیب عورت ہے،” اس نے سوچا۔ وہ اس بات پر خوش ہو رہی ہے کہ اس کا شوہر ایک برتن میں قید ہے۔ اس نے تصور کیا کہ اگر اس کی اپنی بیوی وہاں ہوتی اور اس کی آنکھ یہ سب دیکھ رہی ہوتی، تو یقیناً اسے یہ ہرگز پسند نہ آتا۔
“اب ہمیں واپس چلنا چاہیے،” ڈاکٹر نے کہا۔ وہ اطمینان سے سگریٹ پیتے ہوئے کھڑکی کے پاس کھڑی تھیں۔
“جی ہاں، چلتے ہیں،” وہ بولیں اور میز کے پاس سے گزرتے ہوئے دوبارہ برتن میں جھانکا۔ “ڈئیر، روبی جا رہی ہے۔ میں تمہیں مزید پریشان نہیں کرنا چاہتی، ٹھیک ہے؟ جتنی جلدی ممکن ہوا، میں تمہیں گھر لے جاؤں گی جہاں میں تمہاری صحیح دیکھ بھال کروں گی، اور سنو ڈئیر…” وہ خاموش ہوئیں اور سگریٹ کا ایک گہرا کش لیا۔
اسی لمحے آنکھ میں ایک تیز چمک آئی، جیسے کوئی چنگاری تڑپی ہو، اور اس کی پتلی شدید ناپسندیدگی کے تاثر کے ساتھ سکڑ کر ایک ننھے نقطے کی مانند ہو گئی۔ روبی ٹس سے مس نہ ہوئیں۔ وہ برتن پر جھکی اس آنکھ کو دیکھتی رہیں، پھر انہوں نے ایک اور گہرا کش لیا، دھواں چند سیکنڈ تک پھیپھڑوں میں روکا اور پھر ناک کے نتھنوں سے دو باریک دھاروں کی صورت میں باہر نکالا، جس نے برتن میں موجود آنکھ اور پانی کی سطح کو ایک گہری نیلی دھند سے ڈھانپ دیا۔
“شوکت، اتنا غصہ نہ کرو۔ غصہ کرنا اچھا نہیں لگتا، خاص طور پر اس حالت میں،” انہوں نے سرگوشی کی۔ “کیونکہ اب تم میرے قبضے میں ہو۔ تم صرف وہی کرو گے جو روبی چاہے گی۔ کیا تم سمجھ رہے ہو؟”
بہرام دروازے پر کھڑا ان کا منتظر تھا، اس کا رخ دوسری طرف تھا۔ اس نے سر گھما کر دیکھا کہ وہ کیا کر رہی ہیں۔ “آئیے، مسز شوکت!” وہ چلایا اور ان کی طرف بڑھا۔
“اب بور نہ کرو، میرے پیارے،” انہوں نے سگریٹ کا ایک اور کش لیتے ہوئے کہا۔ ڈاکٹر بہرام قریب آیا اور ان کا ہاتھ تھام کر نرمی سے میز سے پرے ہٹانے لگا۔ “الوداع، ڈئیر، میں جلد واپس آؤں گی،” انہوں نے پکار کر کہا۔
“بس کریں، مسز شوکت،” بہرام نے بیزاری سے کہا۔
“وہ کتنا پیارا اور کتنا معصوم ہے، ہے نا! کیا یہ ایک معجزہ نہیں؟” انہوں نے خوشی سے چمکتی آنکھوں سے بہرام کی طرف دیکھا اور رخصت ہو گئیں۔
کچھ دن بعد مسز شوکت نے ڈاکٹر بہرام کو فون کیا۔ وہ اپنے شوہر کے دماغ کی منتقلی چاہتی تھیں۔ ڈاکٹر نے بارہا سمجھایا کہ یہ ممکن نہیں، دماغ کو یہاں سے ہٹانے سے وہ کام کرنا چھوڑ دے گا، مگر مسز شوکت بضد رہیں۔ وہ روزانہ فون کرنے لگیں، یہاں تک کہ ڈاکٹر نے ان کی کالز لینا ہی چھوڑ دیں۔ ایک دن وہ غصے میں تلملاتی ہوئی دفتر پہنچ گئیں اور دونوں کے درمیان شدید بحث ہوئی۔ ڈاکٹر نے دوٹوک انکار کر دیا: “یہ میرا تجربہ ہے اور اس کا مالک میں ہوں۔”
مسز شوکت نے جواب دیا: “یہ میرے شوہر کا دماغ ہے، اسے میرے حوالے کرو ورنہ میں عدالت جاؤں گی۔” یہ کہہ کر وہ وہاں سے نکل گئیں۔
چند روز بعد مقدمہ شروع ہوا۔ عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد فیصلہ دیا کہ دماغ مسز شوکت کی قانونی ملکیت ہے اور اسے منتقل کیا جا سکتا ہے۔ ڈاکٹر بہرام مایوس تھا، مگر اسے عدالتی فیصلے کے آگے سر تسلیمِ خم کرنا پڑا۔
مقررہ دن سب لوگ وہاں موجود تھے۔ مشین کام کر رہی تھی اور آنکھ چمک رہی تھی۔ مسز شوکت بے حد خوش تھیں۔ وہ دماغ اور مشین کو انتہائی احتیاط کے ساتھ اپنے گھر لے آئیں۔ ڈاکٹر نے سب کچھ ترتیب دیا، مگر جیسے ہی اس نے آنکھ کے مرتبان کی طرف دیکھا، وہ چیخ اٹھا: “ارے! یہ کیا ہوا؟”
آنکھ کی چمک غائب ہو چکی تھی، دماغ نے کام کرنا بند کر دیا تھا اور شفاف پانی تیزی سے سرخ ہو رہا تھا۔ مسز شوکت نے چیخ کر کہا: “نہیں! یہ سب تمہاری غلطی ہے!”
ڈاکٹر نے سرد لہجے میں کہا: “میں نے پہلے ہی خبردار کیا تھا کہ یہ ایک بڑا خطرہ (Risk) ہے۔”
سب لوگ رخصت ہو گئے۔ ڈاکٹر اپنے دفتر میں تنہا بیٹھا تھا—اداس، مگر مطمئن۔ وہ اپنے آپ سے بڑبڑایا: “میرے دوست، تمہاری ضدی بیوی کی وجہ سے یہ سب ہوا۔ میں تمہیں اس انا پرست اور ظالم عورت کے حوالے کیسے کر سکتا تھا؟ آخر کار میں نے تمہیں اس قید سے رہا کر دیا۔ مجھے یقین ہے کہ تم مجھے معاف کر دو گے۔”