• 📚 لوو اسٹوری فورم ممبرشپ

    بنیادی ڈیل

    وی آئی پی

    5000
    تین ماہ کے لیے
    بہترین ڈیل
    💎

    وی آئی پی پلس

    8000
    چھ ماہ کے لیے
    ٹاپ پیکیج
    👑

    پریمیم

    20000
    چھ ماہ کے لیے

Historic Story قسطنطنیہ کا آخری بادشاہ۔۔۔

Joined
Jun 10, 2025
Messages
934
Reaction score
48,724
Points
93
Location
Karachi
Gender
Male
سن 1453 کا سال تھا۔ قسطنطنیہ، جو ایک ہزار سال سے بازنطینی سلطنت کا دل تھا، اب صرف ایک شہر تک محدود رہ گیا تھا۔ اس کے بازار سنسان تھے، مگر گرجا گھروں میں اب بھی چراغ جلتے تھے اور عظیم کلیسا ’’آیا صوفیہ‘‘ میں دعاؤں کی صدائیں گونجتی رہتی تھیں۔ لیکن شہر کی فصیلیں، جنہیں صدیوں نے ناقابلِ تسخیر ثابت کیا تھا، اب توپوں کے سامنے کمزور دکھائی دیتی تھیں۔

سلطان محمد فاتح کی فوجیں شہر کے گرد خیمہ زن تھیں۔ ان کے لشکر کی کثرت دیکھ کر ایسا لگتا تھا جیسے زمین پر ایک سیاہ سمندر اُمڈ آیا ہو۔ ڈھول کی گونج اور توپوں کی گڑگڑاہٹ رات دن شہر والوں کے دل دہلا رہی تھی۔ سب سے خوفناک وہ بڑی توپ تھی جسے ایک ماہر کاریگر نے تیار کیا تھا اور جو براہِ راست شہر کی فصیل پر دھری گئی تھی۔

شہر کے اندر خوف اور بھوک کی فضا تھی۔ مرد و زن، بوڑھے اور بچے سب دعا کرتے تھے کہ کوئی معجزہ ہو جائے۔ کچھ کہتے تھے کہ فرشتے آسمان سے اتریں گے اور شہر کو بچا لیں گے۔ کچھ کو امید تھی کہ مغربی ممالک کے جہاز مدد کے لیے آئیں گے۔ لیکن قسطنطنیہ کے آخری بادشاہ، شہنشاہ قسطنطین گیارہویں، حقیقت جانتے تھے: اب وہ تنہا ہیں۔

اکیس مئی کی شام، آیا صوفیہ چرچ کے اندر ہزاروں چراغ جل رہے تھے۔ قسطنطین نے اپنی فوج اور سرداروں کو جمع کیا۔ وہ کسی بادشاہ کی طرح نہیں بلکہ ایک بھائی کی طرح بولے:

“میرے عزیزو! لمحہ قریب آ گیا ہے۔ ہم اپنے ایمان، اپنے گھروں اور اپنے شہر کے لیے لڑ رہے ہیں۔ میں تیار ہوں کہ اپنی جان قربان کر دوں۔ جو شخص جانا چاہے، وہ جا سکتا ہے، مگر جو میرے ساتھ رہے گا وہ آخری دم تک میرے ساتھ تلوار اٹھائے گا۔”

ہال میں سناٹا چھا گیا۔ کسی نے بھی دروازے کی طرف قدم نہ بڑھایا۔ سب نے سر جھکا کر عہد کیا کہ وہ بادشاہ کے ساتھ آخری لمحے تک لڑیں گے۔

اگلی رات، توپوں نے آسمان کو دہلا دیا۔ ترک لشکر طوفان کی طرح دیواروں کی طرف لپکے۔ بار بار ان پر تیر اور پتھر برسائے گئے، کھولتا ہوا تیل بہایا گیا، لیکن لشکر کی کثرت ختم ہونے کا نام نہ لیتی تھی۔ کئی گھنٹوں تک شہر کے دروازے بند رہے، مگر ایک چھوٹا سا دروازہ بے دھیانی میں کھلا رہ گیا۔ دشمن فوجی اندر گھس آئے۔ دفاع ٹوٹ گیا۔

شہنشاہ قسطنطین نے اپنی بادشاہی پوشاک اتار پھینکی تاکہ پہچانے نہ جا سکیں۔ پھر تلوار اٹھائی اور دشمن پر جھپٹ پڑے۔ آخری لمحے تک لڑتے رہے۔ کسی نے انہیں دوبارہ نہ دیکھا۔ ان کی لاش کبھی نہ ملی۔ یوں بازنطینی سلطنت اپنے آخری شہنشاہ کے ساتھ مٹی میں دفن ہو گئی۔

صبح تک قسطنطنیہ کی فصیلوں پر عثمانی جھنڈے لہرا رہے تھے۔ سلطان محمد فاتح، جو صرف اکیس برس کے تھے، آیا صوفیہ میں داخل ہوئے۔ ہزاروں لوگ خاموش کھڑے تھے۔ سلطان نے سجدہ شکر ادا کیا۔ اب یہ شہر ’’اِسلام بول‘‘ یعنی اسلام کا شہر بن چکا تھا، جو بعد میں ’’استنبول‘‘ کہلایا۔

مگر عوام میں ایک افسانہ باقی رہا۔ کہا جاتا ہے کہ شہنشاہ قسطنطین مرا نہیں، بلکہ فرشتوں نے اسے سنگِ مرمر میں بدل دیا اور وہ شہر کی زمین کے نیچے سو رہا ہے۔ لوگ یقین رکھتے ہیں کہ ایک دن وہ جاگے گا اور اپنا تخت دوبارہ حاصل کرے گا۔
 

Create an account or login to read stories

You must be a member in order to leave a comment

Create account

Create an account on our community. It's easy!

Log in

Already have an account? Log in here.

New posts
Back
Top